قادیانی مسئلہ: مذہبی بیانیے کی تنقید وتجزیہ کی ضرورت
محمد عمار خان ناصر
حالیہ عید الاضحیٰ کے موقع پر بعض مذہبی تنظیموں کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ مہم چلائی گئی کہ
’’تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی اور عدالتی نظائر قادیانیوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے اور نہ ہی شعائر اسلامی کا استعمال کر سکتے ہیں جس کی خلاف ورزی قابل دست اندازی جرم ہے اور سزا تین سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ لہذا اگر کوئی قادیانی قربانی یا عید کی نماز کا اہتمام کرے تو معززین علاقہ کے ساتھ پولیس انتظامیہ کو اطلاع دیں۔“
راقم الحروف نے اس پر یہ وضاحت جاری کی کہ
’’اہل اسلام یہ ذمہ داری ضرور ادا کریں، لیکن یہ سمجھ لیں کہ آئین اور قانون میں دراصل پابندی کس بات کی ہے۔ سپریم کورٹ کی تشریح کی روشنی میں قادیانیوں کے خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا اسلامی شعائر کے اظہار سے لوگوں کو یہ تاثر دینے پر قانونی پابندی ہے، لیکن وہ اپنی چاردیواری میں ہر وہ مذہبی عمل کر سکتے ہیں جو ان کا مذہب انھیں سکھاتا ہے۔ اس لیے ان کی چار دیواری کے اندر مداخلت کرنے یا اس پر ہنگامہ کھڑا کرنے کا، آئین مسلمانوں کو حق نہیں دیتا، بلکہ قادیانیوں کو مذہبی تحفظ دیتا ہے۔ اس وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرور یہ ذمہ داری ادا کریں۔“
اس وضاحت میں قانون کی جو تشریح پیش کی گئی ہے، وہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر مبنی ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ سال جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی تلخیص الشریعہ کے ایک گزشتہ شمارے میں پیش کی جا چکی ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اپنی عبادت گاہ اور چار دیواری کے اندر احمدی اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں اور اس میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں دیا گیا جس میں بعض مذہبی تنظیمیں یہ مقدمہ لے کر عدالت میں گئی تھیں کہ قادیانیوں کا اپنے گھر میں قرآن رکھنا قانون کے خلاف اور توہین قرآن کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ وہ مسلمان نہیں، تاہم سپریم کورٹ نے اس پر آئینی اور قانونی پوزیشن واضح کر دی کہ عبادت گاہوں یا گھروں کے اندر متعلقہ آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ اقتباس یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا۔ فیصلے کی شق نمبر ۱۰ میں فاضل عدالت نے کہا ہے:
To deprive a non-Muslim (minority) of our country from holding his religious beliefs, to obstruct him from professing and practicing his religion within the four walls of his place of worship is against the grain of our democratic Constitution and repugnant to the spirit and character of our Islamic Republic. It also deeply bruises and disfigures human dignity and the right to privacy of a non-Muslim minority, who like all other citizens of this country enjoy the same rights and protections under the Constitution. Bigoted behaviour towards our minorities paints the entire nation in poor colour, labelling us as intolerant, dogmatic and rigid. It is time to embrace our constitutional values and live up to our rich Islamic teachings and traditions of equality and tolerance. (Crl. P. 916-L/2021)
’’ہمارے ملک کی ایک غیر مسلم (اقلیت) کو اپنے مذہبی عقائد رکھنے کے حق سے محروم کرنا اور اسے اپنی عبادت گاہ کے حدود کے اندر اپنے مذہب کا اظہار کرنے یا اس پر عمل کرنے سے روکنا ہمارے جمہوری آئین کی اساسات کے منافی ہے اور ہمارے اسلامی جمہوریہ کی بنیادی روح اور اوصاف سے متصادم ہے۔ یہ شرف انسانی کو اور ایک غیر مسلم اقلیت کی نجی زندگی کے تحفظ کو بھی بری طرح مجروح اور پامال کرتا ہے ، جو آئین کی رو سے اس ملک کے دیگر تمام شہریوں کی طرح یکساں حقوق اور تحفظات سے بہرہ ور ہیں۔ اپنی اقلیتوں سے متعلق تعصب اور نفرت پر مبنی رویہ پوری قوم کی ایک منفی تصویر بنا دیتا ہے اور ہم پر ایک غیر روادار، غور وفکر سے نفور اور بند ذہن رکھنے والی قوم کے القاب چسپاں کرنے کا موجب بنتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی دستوری اقدار کو دل وجان سے اپنائیں اور برابری اور رواداری کی پر ثروت اسلامی تعلیمات اور روایات کا نمونہ پیش کریں۔“
یہ واضح رہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے میں پہلی دفعہ یہ نہیں کہا گیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اطلاق چاردیواری کے اندر احمدیوں کے مذہبی حقوق پر نہیں ہوتا۔ دراصل جب امتناع قادیانیت آرڈیننس کے خلاف انسانی حقوق کے منافی ہونے کی بنیاد پر عدالتی چارہ جوئی کی گئی تھی تو وفاقی شرعی عدالت نے اسی فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ آرڈیننس احمدیوں کے نجی حدود میں حق عبادت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی شرعی عدالت کے اس فیصلے کا متعلقہ اقتباس نقل کیا گیا ہے۔ یہ قانونی تشریح اس نئی مہم کی اجازت نہیں دیتی جس کو فروغ دینے کی کوشش بعض مذہبی تنظیموں نے کی، یعنی یہ کہ قادیانیوں کو ان کی نجی حدود میں بھی نماز عید کی ادائیگی یا قربانی وغیرہ سے روکا جائے۔
اعلیٰ عدلیہ کی یہ تشریح اس بنیادی نکتے پر مبنی ہے کہ ہمارے آئین اور قانون میں دو چیزوں کی ضمانت موجود ہے:
ایک یہ کہ احمدی کمیونٹی، مسلمانوں سے الگ ایک مذہبی گروہ ہے جو خود کو مسلمان کے طور پر پیش نہیں کر سکتا اور نہ اسلامی شعائر کے اظہار سے عام مسلمانوں کو دھوکے اور اشتباہ میں ڈال سکتا ہے۔ اسی مقصد سے تعزیری قانون سازی بھی کی گئی ہے۔
دوسری یہ کہ بطور ایک مذہبی اقلیت کے احمدیوں کو بھی دیگر تمام اقلیتوں کی طرح اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کے احکام ورسوم بجا لانے کا حق حاصل ہے، یعنی ان کو غیر مسلم قرار دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے اپنے عقیدے کے مطابق جو اعمال وشعائر ان کے مذہب کا حصہ ہیں، ان پر عمل کے حق سے وہ محروم ہیں۔
ان دونوں آئینی ضمانتوں پر بیک وقت عمل کی صورت یہی ہے کہ احمدیوں کو اپنے نجی دائرے میں مذہبی آزادی حاصل ہو اور ان کے مذہبی اعمال ورسوم میں کوئی مداخلت نہ کی جائے، جبکہ عام مسلمانوں کے سامنے یعنی پبلک ڈومین میں ان شعائر کے اظہار سے وہ اپنے مسلمان ہونے کا التباس پیدا نہ کر سکیں۔ یہی آئینی تشریح وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ نے بھی کی ہے اور یہ بالکل واضح اور معقول تشریح ہے۔
البتہ احمدیوں کو دی گئی اس آزادی سے اگر ضمناً پھر بھی مسلمانوں کے لیے اشتباہ والتباس کے کچھ امکانات نکلتے ہیں تو یہ دائرہ علماء اور مذہبی اداروں یا تنظیموں کے کردار ادا کرنے کا ہے۔ وہ پہلے بھی مسلمانوں پر واضح کرتے چلے آ رہے ہیں کہ احمدیوں کو مسلمان امت، مسلمان شمار نہیں کرتی اور اب بھی یہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے آئین اور قانون میں دی گئی ضمانتوں کی نفی کرنا درست نہیں ہے اور نہ احمدیوں کی عبادت گاہوں یا ان کی اپنی خاص بستیوں میں جا کر انھیں اسلامی شعائر سے روکنے کی مہم چلانا کوئی معقول یا قابل عمل طریقہ ہے۔
علماء اور مذہبی تنظیموں کا کردار اس کے بغیر بھی موثر ہے اور مثال کے طور پر انڈیا یا انڈونیشیا جیسے ممالک میں جہاں احمدیوں کی تکفیر کے حوالے سے کوئی ریاستی قانون سازی موجود نہیں، یہ مقصد سماجی سطح پر مذہبی اہل علم اور اداروں کے کردار ہی کی بدولت کامیابی سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اس اصرار یا خوف کی کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں علماء سماجی سطح پر یہ ذمہ داری ادا کریں تو وہ موثر نہیں ہوگی اور اس کے لیے آئینی ضمانت کی ہی نفی کرنا ضروری ہے۔
تقریباً پانچ سال پہلے قادیانی معیشت دان عاطف میاں کی کسی حکومتی کمیٹی میں شمولیت کے مسئلے پر اسی نوعیت کی ایک بحث اٹھی تھی تو اس موقع پر ہم نے اس حوالے سے کچھ معروضات مذہبی حلقوں کے سامنے پیش کی تھیں کہ ۱۹۷۴ء میں ایک طویل جدوجہد کے بعد جو آئینی فیصلہ دینی حلقوں کے مطالبے پر کیا گیا تھا اور جسے بجا طور پر ریاستی قانون سازی کی سطح پر ایک اہم کامیابی شمار کیا جاتا ہے، کیا مذہبی طبقوں کا اس کے بعد کا طرز عمل اور حکمت عملی اس فیصلے کو تقویت پہنچانے کا موجب رہی ہے یا اسے کمزور کرنے اور مشتبہ بنانے کا باعث بن رہی ہے۔ ان معروضات کی اہمیت موجودہ تناظر میں بھی برقرار ہے، اس لیے یہاں انھیں نقل کرنا مناسب ہوگا۔
سعدیہ سعید نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں اس سوال کا سوشیولاجیکل تناظر میں مطالعہ کیا ہے کہ پاکستانی ریاست نے احمدی مسئلے میں تدریجاً اپنی پالیسی کیوں اور کن عوامل کے تحت تبدیل کی ہے۔ سعدیہ نے اس کے تین مراحل متعین کیے ہیں اور انھیں accommodation, exclusion and criminalization کا عنوان دیا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد کی ریاستی پالیسی، مسلم لیگ کی قبل از تقسیم چلی آنے والی پالیسی کے تسلسل میں، احمدیوں کو مسلم شناخت میں شامل کرنے کی تھی اور قائد اعظم نے نہ صرف احمدیوں کو مسلمان قرار دیا بلکہ سرظفر اللہ کو اپنی کابینہ میں بھی شامل کیا۔ یہ صورت حال ۱۹۵۳ تک برقرار رہتی ہے جب احمدیوں کی تکفیر کا مسئلہ عدالتی سطح پر زیر بحث آیا اور عدالت نے علماء کے موقف کو رد کر دیا۔ اس کے بعد ۱۹۷۴ میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کا آئینی فیصلہ کیا گیا اور پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس حوالے سے بعض تعزیری اقدامات کو کتاب قانون کا حصہ بنایا گیا۔ مصنفہ نے اس سوال کا جواب بھی پیش کیا ہے جس کی تفصیل ہمارا موضوع نہیں۔
یہ یقیناً صورت حال کا ایک منظر ہے۔ تاہم صورت حال میں ہونے والی پیش رفت کے صرف یہی ایک پہلو نہیں، بلکہ کچھ اور پہلو بھی ہیں جن سے اہل مذہب دانستہ یا نادانستہ صرف نظر کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ان کا موقف دیرپا مضبوطی اور حفاطت کے حصار میں ہے، جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ آئینی یا قانونی اقدامات کو جب تک علمی وفکری اور اخلاقی سطح پر جواز حاصل رہے، ان کی معنویت اور قدر وقیمت ہوتی ہے۔ جب علمی اور اخلاقی تائید سے وہ محروم ہو جائیں تو بتدریج ان کی ساکھ ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ احمدی مسئلے کے ضمن میں اہل مذہب نے جو انداز فکر اختیار کیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ اسے اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے جسے جذباتیت اور غلط فہمیوں کی شدید دھند میں وہ دیکھ نہیں پا رہے اور ہمارے نزدیک ایک انتہائی بنیادی اعتقادی مسئلے میں ایک متفقہ دینی موقف کا اس صورت حال سے دوچار ہونا مذہبی قیادت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
۱۹۷۴ سے اب تک احمدی مسئلے میں مین اسٹریم مذہبی موقف کو جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، ان کا ذکر اوپر کیا گیا ۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی ایام میں احمدی معیشت دان عاطف میاں کی تقرری کا فیصلہ واپس لینے کے حکومتی فیصلے سے اس فہرست میں ایک اور اضافہ ہوا جس پر اہل مذہب نے اطمینان اور خوشی محسوس کی۔ البتہ ہم صورت حال کے دوسرے پہلو کو واضح کرنا چاہ رہے ہیں جو مذہبی موقف اور حکمت عملی، دونوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔
۱۹۷۴ کا فیصلہ، جیسا کہ سب جانتے ہیں، اس وقت کی مذہبی وسیاسی قیادت کے باہمی اتفاق سے ایک آئینی فورم پر کیا گیا تھا اور ایک بہت اہم سوال کے حوالے سے متفقہ قومی فیصلے کی حیثیت سے اس پر عمومی اطمینان پیدا ہو گیا تھا۔ سیکولر اور لبرل ناقدین کی تنقید سے قطع نظر، مین اسٹریم مذہبی وسیاسی قیادت، جدید تعلیم یافتہ طبقات اور فکری رجحان ساز عناصر (اہل دانش، اہل صحافت وغیرہ) اس فیصلے کے ساتھ کھڑے تھے اور اسے مسلم معاشرے کے ایک بڑے داخلی خلفشار کے قابل عمل اور پائیدار حل کی نظر سے دیکھا جا رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کم وبیش نصف صدی کے بعد بھی صورت حال کیا یہی ہے اور اگر نہیں تو اس کے عوامل کیا ہیں؟
یہ سامنے کی بات ہے کہ اجتماعی فیصلے جس طرح فکری یکسوئی اور مضبوط اخلاقی جواز کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتے، اسی طرح انھیں اپنے تسلسل اور جواز کو برقرار رکھنے کے لیے بھی فکری واخلاقی تائید کا حاصل رہنا ضروری ہوتا ہے۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ چوالیس سال میں جو پیش رفت ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں اس فیصلے کو حاصل فکری واخلاقی تائید اور اس کے نتیجے میں قومی فکری یکسوئی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے یا کم سے کم اسی سطح پر برقرار ہے یا اس میں کمزوری آئی ہے؟ اگر اسے کسی فکری چیلنج کا سامنے ہے تو وہ کیا ہے اور اس کے اسباب کیا ہیں؟
آئیے، اس پہلو سے دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے منظر نامہ کیا ہے؟
منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ
- بین الاقوامی فورم پر اس فیصلے اور اس پر مبنی بعد کے اقدامات نیز احمدیوں کے ساتھ ہونے والے برتاو کے اخلاقی یا قانونی جواز کی تفہیم کے حوالے سے ہمیں مکمل ناکامی کا سامنا ہے۔ احمدیوں کی اس شکایت کو کہ پاکستان میں ان کے بنیادی انسانی ومذہبی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں، کسی دوسری رائے یا اختلاف کے بغیر عالمی رائے عامہ درست تسلیم کرتی اور ان کی تائید اور حمایت کے لیے حکومت پاکستان پر دباو ڈالنے کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتی ہے۔ اس محاذ پر ہماری سفارت کاری کے پاس سوائے شرمندگی اٹھانے اور لاجواب ہونے جبکہ اہل مذہب کے پاس سوائے نظریہ سازش کا حوالہ دے کر جذباتی تقریریں کرنے کے، اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
- ہماری مین اسٹریم سیاسی قیادت اعلی ترین سطح پر بحیثیت مجموعی مذہبی موقف کے حوالے سے نہ صرف بے اطمینانی رکھتی ہے، بلکہ باقاعدہ اس کا اظہار بھی کر چکی ہے۔ میاں نواز شریف، الطاف حسین، عمران خان، آصف زرداری اور بلاول وغیرہ، یہی ہماری سیاست کے نمائندے ہیں اور سب کے سب مختلف مواقع پر احمدیوں کے ساتھ ہونے والے برتاو پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکے ہیں، بلکہ عمران خان اور الطاف حسین تو غالباً خود تکفیر کے فیصلے کو ہی ذہنی طور پر قبول نہیں کرتے۔
- اہل صحافت اور اہل دانش میں سے بہت سے راسخ العقیدہ مذہبی رجحانات رکھنے والے حضرات تکفیر کے فیصلے اور کلیدی مناصب سے احمدیوں کو دور رکھنے کے مطالبے سے سے اتفاق رکھتے ہیں، لیکن اہل مذہب کے عمومی رویے، خاص طور پر احمدیوں کو بطور گروہ ملک دشمن قرار دینے اور ایک مذہبی حکم کے طور پر ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے سے اختلاف کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
- دینی مدارس کے ان گنت فضلاء اور جامعات میں اسلامیات کے اتنی ہی تعداد میں اساتذہ کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو مین اسٹریم مذہبی بیانیے کو غیر معقول اور حد اعتدال سے متجاوز سمجھتے ہیں اور اپنی نجی گفتگووں میں کھل کر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
- پرنٹ میڈیا میں مذہبی موقف کی تائید کی صورت حال جناب آصف محمود ایڈووکیٹ نے اپنے ایک کالم میں بیان کی تھی اور گنتی کے دو تین ناموں کے علاوہ من حیث الجماعت سب کو ’’گونگے شیطان“ قرار دیا تھا۔ نوائے وقت جیسے اخبار نے کچھ سال قبل ایک اہم قومی دن کے موقع پر جماعت احمدیہ کا اشتہار شائع کیا اور اگلے دن صرف مذہبی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے، ایک معذرت نامہ پیش کر دیا ۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ احمدیوں کے حوالے سے کوئی تنقیدی تحریر شائع نہ کرنے کی باقاعدہ ادارتی پالیسی بھی وضع کی گئی ہے۔
- اور اب اس فہرست میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جس میں مروجہ مذہبی بیانیے اور طرز عمل پر یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ ’’ اپنی اقلیتوں سے متعلق تعصب اور نفرت پر مبنی رویہ پوری قوم کی ایک منفی تصویر بنا دیتا ہے اور ہم پر ایک غیر روادار، غور وفکر سے نفور اور بند ذہن رکھنے والی قوم کے القاب چسپاں کرنے کا موجب بنتا ہے۔ “
آئینی فیصلے اور اس پر مبنی اقدامات کے حوالے سے بے اطمینانی پیدا ہونے کی کئی توجیہات ہو سکتی ہیں اور یقیناً مذہبی ذہن ایسی توجیہات کو زیادہ پسند کرے گا جس سے اس کے اختیار کردہ موقف پر نظر ثانی کی ضرورت کم پیش آئے، مثلاً یہ کہ بے اطمینانی رکھنے والے طبقات تک اس موقف کی تفہیم اور ابلاغ میں کوتاہی ہو رہی ہے، یا اسلامی عقائد اور مذہبی حساسیت ایک عالمی فکری یلغار کی زد میں ہیں، یا یہ کہ یہ بے دینی اور دینی بے خبری کے عمومی ماحول کا اثر ہے، وغیرہ۔ لیکن ہماری رائے میں ان توجیہات کا جزوی طور پر تو وزن ہو سکتا ہے، لیکن یہ پوری طرح صورت حال کی عکاسی نہیں کرتیں۔ خاص طور پر تفہیم اور ابلاغ میں کمی کا عذر تو بداہتاً غلط معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ پچھلی پوری ایک صدی میں اگرکوئی ایسا اعتقادی مسئلہ بتایا جائے جس پر اعلی ٰ ترین مذہبی اسکالرشپ نے استدلال وبیان کی انتہائی صلاحیتیں صرف کی ہوں، اس پر کم وبیش ہر معروف مذہبی عالم نے کچھ نہ کچھ لکھا ہو اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں نیز خطباء اور اہل قلم کی طرف سے اس پر تقریروں اور تحریروں کا ڈھیر لگا دیا گیا ہو تو وہ صرف ختم نبوت کا عقیدہ اور احمدی مسئلہ ہے۔ (اس پر صرف بلند پایہ اہل علم کی لکھی گئی علمی تحریروں کا مجموعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ساٹھ کے لگ بھگ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے اور غالباً ابھی مزید کام جاری ہے)۔
تعلیم یافتہ طبقات کیا، ایک معمولی پڑھا لکھا مسلمان بھی اس بحث میں اہل مذہب کے بنیادی مقدمے اور استدلال سے واقف ہے۔ اس لیے یہ عذر کوئی وزن نہیں رکھتا کہ اہل مذہب کی طرف سے مسئلے کی نوعیت اور حقیقت سمجھانے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے اور اس کوتاہی کو اگر دور کر لیا جائے تو مذہبی موقف کے حوالے سے پائی جانے والی بے اطمینانی ختم ہو جائے گی۔ لازمی طور پر خود موقف اور اس کے حق میں پیش کیے جانے والے استدلال میں مسئلہ ہے جو عقل ومنطق کو اپیل نہیں کرتا اور اسی کی وجہ سے مختلف سطحوں پر فہیم اور سنجیدہ ذہنوں میں مذہبی موقف کے حوالے سے بے اطمینانی یا کم سے کم بے اعتنائی کی ایک کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔
چنانچہ لازم ہے کہ پلٹ کر خود مذہبی موقف کے دروبست کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ کمزوری کہاں ہے، اور خاص طور پر یہ کہ ۱۹۷۴ء میں ایک قومی اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد صورت حال میں کون سے ایسے پہلو شامل ہوئے ہیں جنھیں موجودہ بے اطمینانی کا موجب کہا جا سکتا ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(418) فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ
یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ۔ (ابراہیم: 27)
”ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے“۔ (سید مودودی، القول کا ترجمہ ’ایک‘ قول نہیں ہوگا، قول ثابت ترجمہ کیا جائے گا)
”اللہ تعالی ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ کی برکت) سے دنیا اور آخرت میں مضبوط رکھتا ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے“۔ (احمد علی)
مذکورہ بالا تینوں ترجموں میں الْحَیَاۃ الدُّنْیَا کا ترجمہ دنیا کردیا ہے، حالاں کہ یہاں دنیا کی زندگی ترجمہ ہونا چاہیے۔ دونوں میں بہرحال فرق ہے۔ اس پہلو سے درج ذیل ترجمے درست ہیں:
”مضبوط کرتا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں“۔ (شاہ عبدالقادر)
”ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی“۔(محمد جوناگڑھی)
(419) وَمِنْ وَرَائهِ عَذَابٌ غَلِیظٌ
درج ذیل دونوں آیتوں کو دیکھیں تو دو مرتبہ من وَرَائهِ آیا ہے، پہلے مِنْ وَرَاءِہِ جَہَنَّمُ آیا ہے اور آخر میں وَمِنْ وَرَائهِ عَذَابٌ غَلِیظٌ آیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ دو الگ الگ پیش آنے والی چیزیں ہیں، کہ پہلے جہنم پیش آئے گی اس کے بعد سخت عذاب پیش آئے گا، یا جہنم ہی کو بعد میں سخت عذاب کہا گیا ہے۔ اور یہ تکراروعید میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں جو بھی عذاب ہوگا وہ دراصل جہنم کا ہی عذاب ہوگا، اس کے علاوہ جہنم سے ما ورا کوئی دوسرا عذاب نہیں ہوگا۔ ذیل میں درج بعض ترجموں سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جہنم کے بعد ایک اور عذاب بھی ہوگا۔ قرآن کے بیانات سے اس مفہوم کی تائید نہیں ہوتی ہے۔
مِنْ وَرَاءِہِ جَہَنَّمُ وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ۔ یَتَجَرَّعُہُ وَلَا یَکَادُ یُسِیغُہُ وَیَأْتِیہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ وَمِنْ وَرَائهِ عَذَابٌ غَلِیظٌ۔ (ابراہیم: 16، 17)
”اس کے سامنے دوزخ ہے جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائے گا جسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پئے گا۔ پھر بھی اسے گلے سے اتار نہ سکے گا اور اسے ہر جگہ سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن وہ مرنے والا نہیں۔ پھر اس کے پیچھے بھی سخت عذاب ہے“۔ (محمد جوناگڑھی، ایسا نہیں ہے کہ سامنے دوزخ ہے اور پیچھے کوئی اور سخت عذاب ہے۔ دونوں کے لیے مِنْ وَرَاءِہِ آیا ہے۔ جہنم ہی کو دوبارہ عذاب غلیظ کہا گیا ہے۔)
”اور (مزید برآں) اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا“۔ (محمد حسین نجفی)
”اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہوگا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور (پھر) اس کے پیچھے (ایک اور) بڑا ہی سخت عذاب ہوگا“۔ (طاہر القادری)
درج ذیل ترجموں میں وہ غلطی نہیں ہے جو درج بالا ترجموں میں پائی جاتی ہے:
”پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا“۔ (سید مودودی)
”پیچھے اس کے دوزخ ہے۔۔۔اور اس کے پیچھے مار ہے گاڑھی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اس کے آگے دوزخ ہے۔۔۔اور اس کو سخت عذاب کا سامنا ہوگا“۔(اشرف علی تھانوی)
(420) إِنِّی کَفَرْتُ بِمَا أَشْرَکْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ
درج ذیل جملے کا تین طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے:
إِنِّی کَفَرْتُ بِمَا أَشْرَکْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ۔ (ابراہیم: 22)
”میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
ان دونوں ترجموں میں کم زوری یہ ہے کہ شیطان اس بات کا منکر نہیں تھا کہ انھوں نے اسے شریک بنایا تھا۔ یہ تو ایک حقیقت تھی، اس کا انکار کرنے کی گنجائش وہاں کہاں ہوگی۔
”میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا“۔ (ذیشان جوادی)
”تم نے جو مجھے شریک بنالیا تو میں نے اس کا پہلے سے انکار کردیا“۔ (امین احسن اصلاحی)
ان دونوں ترجموں میں کم زوری یہ ہے کہ من قبل کو کفرت سے متعلق مان لیا گیا ہے۔ جب واقعہ یہ ہے کہ پہلے تو اسی کے بہکاوے میں آکر انھوں نے اسے شریک بنایا، تو پہلے وہ کیسے اس عمل سے بیزار یا اس کا منکر ہوتا۔ یہ انکار اور بیزاری تو وہ قیامت کے دن کرے گا، پہلے تو وہ اس کا داعی تھا۔
”میں نہیں قبول رکھتا جو تم نے مجکو شریک ٹھیرایا تھا پہلے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا میں اس سے سخت بیزار ہوں“۔ (احمد رضا خان)
”میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس کے قبل (دنیا میں) مجکو (خدا کا) شریک قرار دیتے تھے“۔ (اشرف علی تھانوی)
یہ تینوں ترجمے اس پہلو سے درست معلوم ہوتے ہیں۔ ان سے تصویر یہ سامنے آتی ہے کہ دنیا میں شیطان کے اکسانے پر انھوں نے شیطان کو شریک ٹھہرایا، اور آخرت میں شیطان خود ہی ان کے اس سابقہ جرم سے خود کو الگ کرنے لگا۔
شیطان کی اسی حرکت کو درج ذیل آیت میں دکھایا گیا ہے:
کَمَثَلِ الشَّیْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ إِنِّی بَرِیءٌ مِنْکَ إِنِّی أَخَافُ اللَّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ۔ (الحشر: 16)
(421) أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ
أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ۔ (ابراہیم: 24)
”جس کی جڑ (زمین میں) اتری ہوئی ہے اور جس کی شاخیں فضا میں (پھیلی ہوئی ہیں)“۔ (امین احسن اصلاحی)
جڑ کے زمین میں اترنے کا مطلب یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ مضبوطی سے جمی ہوئی بھی ہو۔ اس لیے قرآنی تعبیر یعنی ’ثابت‘کا حق اتری ہوئی کہنے سے ادا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا لفظی ترجمہ ہی درست مفہوم ادا کرتا ہے۔ درج ذیل ترجمہ اس پہلو سے درست ہے:
”جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں“۔ (سید مودودی)
(422) دَائِبَیْنِ کا ترجمہ
دأب کا مطلب ہے مسلسل چلتے رہنا۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الدَّأْب: إدامة السّیر، دَأَبَ فی السّیر دَأْباً۔ قال تعالی: وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ (ابراہیم: 33)۔ (المفردات فی غریب القرآن)
دأب کے معنی عادت و دستور کے بھی آتے ہیں لیکن جب دائب کہتے ہیں تو وہ مراد نہیں ہوتا ہے، مسلسل حرکت مراد ہوتی ہے۔
درج ذیل آیت میں دائبین کا ترجمہ ہوگا مسلسل چلنے والے:
وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ۔ (ابراہیم: 33)
”جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور تمہارے نفع کے واسطے سورج اور چاند کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا جو ہمیشہ چلنے میں ہی رہتے ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)
درج بالا دونوں ترجمے درست ہیں۔
جب کہ درج ذیل تینوں ترجموں میں ایک انداز اور ایک دستور ترجمہ کیا ہے، یہ لغت کے موافق نہیں ہے:
”اور سورج اور چاند کو بھی تمہاری نفع رسانی میں لگادیا، دونوں ایک ہی انداز پر گردش میں ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں“۔(فتح محمد جالندھری)
”اور کام میں لگائے تمہارے سورج اور چاند ایک دستور پر“۔ (شاہ عبدالقادر)
درج ذیل ترجمہ اس لیے درست نہیں ہے کہ دائب صرف حرکت کرنے والے کو نہیں کہتے ہیں بلکہ مسلسل حرکت کرنے والے کو کہتے ہیں، دوسرے یہ کہ مسخر کرنا انھیں مسلسل حرکت پر لگانا ہے، نہ کہ وہ حرکت کرنے والے تھے اور انھیں مسخر کیا۔
”اور تمہارے لیے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے“۔ (ذیشان جوادی)
(جاری)
مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۶)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: عبد اللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ ہوا توآپﷺ نے یہودیوں سے پچاس قسمیں اٹھوائیں،جسے قسامت کہا جا تا ہے۔آپ ﷺ نے غالباً ان کی دیت بھی دی۔1یہ پچاس قسمیں اٹھوانا کیا ہماری شریعت میں ہے یا یہ یہود کے قانون کے مطابق تھا؟
عمار ناصر: نہیں، یہود کے ہاں یہ قانون نہیں تھا۔جو عرب میں ایک روایت چلی آرہی تھی، اس میں یہ طریقہ موجود تھا۔
مطیع سید: کیاایسے کیس میں قسامت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس میں کوئی گواہ موجود نہ ہو؟
عمار ناصر:اس کی صورت یہ ہے کہ کسی جگہ کوئی آدمی مقتول ملے اور گواہ وغیرہ کوئی نہ ہو تو کیا اس خون کو ایسے ہی رائیگاں جانے دیا جائے یا اس علاقے کے لوگوں کو مجموعی طور پر اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ عرب میں یہ رواج تھا کہ جہاں مقتول کی لاش ملی ہے، وہاں پہلے مقامی لوگوں سے قسمیں لی جائیں کہ انھوں نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ وہ قاتل کو جانتے ہیں، اور پھر ان پر دیت کی رقم عائد کی جائے۔ فقہاء کے مابین اس حوالے سے کافی بحث ہے۔ مالکیہ اس میں کافی شرائط لگاتے ہیں۔ان کا موقف نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں پر تب ذمہ داری عائد کی جائے گی جب کچھ ایسے قرائن موجود ہوں جو یہ بتائیں کہ اس قبیلے کے ساتھ مقتول کی کوئی دشمنی تھی، ورنہ نہیں۔ باقی فقہا کہتے ہیں کہ اس شرط کی ضرورت نہیں۔ جہاں مقتول ملا ہے، بس ان لوگوں پر دیت کی ذمہ داری عائد کردی جائے تاکہ خون رائیگاں نہ جائے۔تو یہ کافی محلِ اجتہاد بحث ہے۔
مطیع سید؛ کیا یہ مذہبی نوعیت کی چیز تھی یا محض اہل عرب کے ہاں ایک رواج تھا؟
عمار ناصر: اصل میں تو اہل عرب کا رواج ہی تھا، لیکن جب نبیﷺ نے اس کو اختیار کیا توا یک طرح کی توثیق ہوگئی،لیکن اس کے بارے میں فقہا میں بڑی بحثیں ہیں۔ یہ طریقہ اختیار کرنے کا آپﷺ نے قولاً تو حکم نہیں دیا کہ ایسے مقدمات میں ایسے کیا کرو۔ لیکن ایک واقعہ میں اس طریقے کو برتا تو اس میں کئی حوالےسے بحثیں ہیں۔اس واقعہ کی تفصیلات میں بھی روایتیں بہت مختلف ہیں۔بعض میں ہے کہ آپﷺ نے ان سے قسمیں لینے کی بات کی اور اس کے بعد فرمایا کہ تم وہ آدمی بتاؤ جس پر شک ہے، میں اسے تمھارے حوالے کر دیتاہو ں۔بعض روایات میں ایسا لگتا ہے کہ آپﷺ نے قصاص کے لیے کہا،بعض میں لگتا ہے کہ صرف دیت لینے کی بات کی۔تو یہ بھی فقہا میں مختلف فیہ ہے کہ کیا قسامت کی بنیادپر ہم قصاص لے سکتے ہیں یا صر ف دیت ہی لے سکتے ہیں؟ خلفاء کے ہاں جو واقعات ملتے ہیں، ان سے لگتا ہے کہ بعض حضرا ت قصاص لینے کے بھی قائل تھے۔ تابعین کے زمانے میں اس پر کافی بحث بھی ہوئی۔ امام بخاری نے وہ پوری بحث نقل کی ہے۔ عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور میں اہل ِ علم کو جمع کیا اور قانونی نقطہ نظر سے اس طریقے پر جو سوالات پیداہوتے ہیں، وہ اٹھا کر کہا کہ میں چاہتاہوں کہ اس طریقے کو ختم کردوں اور اس پر فیصلے نہ کیے جائیں۔اس پر ابو قلابہ نے ان سے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے،ا س لیے کہ یہ پیچھے سے ایک روایت چلی آرہی ہے اور معلوم ومعرو ف ہو چکی ہے۔
پھر آگے چل کر ابن رشد کو البدایہ میں دیکھیں تو انھوں نے بعض فقہا کے حوالے سے کچھ تنقیدی سوالا ت اٹھا ئے ہیں۔ جمہور کے ہاں تو یہ مانا جاتا ہے کہ قسامت کا طریقہ ٹھیک ہے،اس اختلاف کے ساتھ کہ ان قسموں کی بنیاد پر قصاص ہو گا یا صرف دیت لی جائے گی۔ احناف کہتے ہیں کہ صرف دیت ہو گی۔لیکن بعد میں بعض فقہا نے یہ سوالا ت بھی اٹھائے کہ اصل میں نبی ﷺ نے جو قسامت کے طریقےکا حوالہ دیا تو آپ ﷺ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ یہ کوئی فیصلہ کرنے کا مستند طریقہ ہے۔ آپﷺ دراصل چاہ رہے تھے کہ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں ہم کسی پر بھی الزام عائد نہیں سکتے، کیونکہ کوئی گواہ اور ثبوت موجود نہیں ہیں۔چنانچہ آپﷺ نے انصار کو مطمئن کرنے کے لیے کہا کہ دیکھو، ایسا کر لیتے ہیں کہ یہودیوں سے قسمیں لے لیتے ہیں۔مقصد یہ تھا کہ مقتول کے ورثاء خود ہی متوجہ ہوں کہ یہ تو فیصلہ کرنے کا مناسب طریقہ نہیں ہے۔یعنی آپ کا مقصد اس طریقے کی توثیق کرنانہیں تھا،بلکہ یہ اشارہ کرنا تھا کہ یہ انصاف کے معروف اصولوں کے لحاظ سے ناقابل عمل طریقہ ہے۔ ابن رشد کا رجحان بھی اسی رائے کی طرف لگتا ہے۔
مطیع سید:کچھ لوگ مدینے میں بیمار ہو گئے تھے تو آپﷺ نے انہیں اونٹوں کا پیشاب پینے کا کہا۔2 کیا اونٹوں کا پیشاب پینے کا رواج پہلے سے عرب میں تھا یا آپﷺ نے یہ مشورہ دیا؟
عمار ناصر: عرب کے ہاں یہ رواج موجود تھا۔ وہ پیٹ کی بعض بیماریوں کے لیے اونٹ کا پیشاب بطور دوااستعمال کرتےتھے۔
مطیع سید: ایک عورت کو دوسری عورت نے چوٹ لگائی تو اس کے بچے کی جان ا س کے پیٹ میں ہی ضائع ہو گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی دیت الگ سے عائد کی۔ اس پر ایک شخص نے اعتراض کیا کہ بچے کی دیت دینے کی کیا تک ہے، وہ تو نہ بولا اور نہ چیخا نہ کوئی آواز نکالی۔ ایسے وجود کی تو کوئی دیت نہیں ہوتی۔3 بظاہر اس کی بات بڑی معقول لگتی ہے،لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ یہ کاہنوں کا بھائی لگتا ہے۔
عمار ناصر: اس نے بڑے مسجع قسم کے الفاظ بولے تھے، اس لیے آپﷺ نے فرمایا کہ یہ کاہنوں جیسا کلام کر رہا ہے۔
مطیع سید:گویا اس کی بات پر نہیں،الفاظ پر اعتراض تھا؟
عمار ناصر:نہیں، بات پر ہی اعتراض تھا۔آپﷺ نے فرمایا کہ ایک انسانی جان ہے جس کے بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ وہ پیٹ میں زندہ تھی اور جارح نے اس کو چوٹ لگا کر جان ضائع کر دیا تو اس کی دیت ہو نی چاہیے۔ اس شخص نے اس پر ایک مسجع کلام پیش کر دیا کہ جو بچہ پیٹ سے باہر ہی نہیں آیا اور نہ بولا نہ چیخا، اس کی دیت کیوں دی جائے؟ اس کی نامعقولیت پر آپﷺ نے تبصرہ کیا۔ مراد یہ ہے کہ اگرچہ وہ ایک پورا انسان نہیں بنا تھا، اس لیے پوری دیت اس کی نہیں دلوائی جائے گی،لیکن وہ ایک زندہ وجود تو تھا۔اس کو اگر کسی نے مار دیا ہے تو کچھ نہ کچھ تو سزا ہونی چاہیے۔
مطیع سید: آپﷺ نے فرمایا کہ حدود کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ سز ا نہیں ہونی چاہیے4 جبکہ فقہا اس سے زیادہ کے بھی قائل ہیں۔
عمار ناصر: اس میں بڑی بحث ہے کہ فی حد من حدود اللہ سے کیا مرا د ہے؟یعنی کیا یہ حد اس معنی میں ہے جسے ہم فقہی اصطلاح میں حد کہتے ہیں؟ یا یہ مراد ہے کہ اللہ کے کسی حکم کو توڑنے پر کسی کو سزا دی جائے تو وہ دس کوڑوں سے زیادہ ہو سکتی ہے،لیکن کچھ سزائیں جو عام تادیبی نوعیت کی ہوتی ہیں، ان میں دس سے زیادہ کوڑے نہیں لگانے چاہییں۔میرے خیال میں یہاں یہ دوسرا مفہوم مراد ہے۔جب تک شریعت کا کوئی حکم کسی نے نہیں توڑا، تب تک اس کو دس سے زیادہ کوڑوں کی سزا نہیں دینی چاہیے۔ مثلاً استاد کسی کو سز ا دے رہا ہے یا غلام کو مالک تادیب کررہا ہے یا کسی بد انتظامی پر ماتحت کو سزا دی جا رہی ہے یا باپ بیٹے کو نافرمانی پر سزا دے رہا ہے تو اس کے متعلق آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے۔
مطیع سید: آپﷺ نے فرمایا کہ حد کفار ہ ہے یعنی جس شخص پر حد نافذ ہو ئی، و ہ اس کے لئے کفارہ بن گئی۔5 لیکن بالفرض کسی نے دس لوگوں کو قتل کیا،اس پر حدِ قصاص نافذ بھی ہوگئی، پھر بھی اس کی تو ایک ہی جان گئی۔ اس نے تو دس جانیں لی تھیں، یہ کیسے اس کے جرم کا کفارہ بن سکتی ہے؟ایک ستر سال کا بوڑھا ہے جس نے ایک بیس سالہ نو جوان کو قتل کردیا تو اس کی جان لینے سے نوجوان کا قصاص نہیں ہو جاتا، کیونکہ پوری طرح تلافی نہیں ہورہی۔ تو پھر نبیﷺ کا یہ فرمان کہ حد کا نفاذ کفارہ بن جاتا ہے،کس حوالےسے ہے؟
عمار ناصر: اس کو سمجھنے کے دوطریقے ہوسکتےہیں۔ظاہر ہے کہ جب روایت کوئی بڑا اشکال پیداکر ے تو اس کو حل کرنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ایک یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اس کو بعض چیزوں کے ساتھ مخصوص کردیتےہیں،مثلاً آپ کہہ سکتے ہیں کہ قتل کا معاملہ الگ ہے، وہ اس اصول کے تحت نہیں ہے۔دوسرے گناہ جن کے بارےمیں کوئی دوسری نص یا کوئی عقلی یاقیاسی اصول ایسی کوئی الجھن پیدا نہیں کرتا، ان کا حکم حدیث میں بیان ہوا ہے۔یا یہ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ قتل بھی اس میں شامل ہے لیکن اس میں پھر یہ اور یہ قیود ہیں، مثلاً یہ کہ بہت زیادہ قتل کرنے والے لوگ اس میں شامل نہیں۔ گویا جو بھی فرق ہوتا ہے، اسے پھر آپ قیاساً اس طرح حل کرتے ہیں۔ یعنی قتل اس دائرے میں آئے گا تو یہ اور یہ شرطیں اس پر لاگو ہوں گی، اور یا پھر قتل کو باقی جرائم سے الگ شمار کیا جا سکتا ہے۔تو یہ دونوں طریقے ہو سکتے ہیں۔
مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ نبیﷺ نے ایک گواہ اور ایک قسم سے فیصلہ کردیا۔6 احناف اس کے قائل نہیں۔ وہ کہتےہیں کہ یہ خبر ِ واحد ہے اور قرآن کے مقابلےمیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔
عمار ناصر: میرے خیال میں شہادات کے معاملے میں احناف کے موقف میں جو بنیادی کمزوری ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن میں جو نصاب بیان ہوا ہے، اس کو عدالت کے لیے ضابطہ مان لیا گیا ہے کہ اس کی پابندی ہونی چاہیے۔دومرد ہوں یا ایک مرد ہو اور دوعورتیں، قرآن میں تو عدالت زیرِ بحث نہیں ہے۔قاضی کو اللہ نے نہیں کہا کہ تم نے اس کے مطابق فیصلے کرنے ہیں۔اس میں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی راہنمائی کر رہے ہیں کہ بہتر ہے کہ اس طرح سے کر لو تاکہ اگر کوئی تنازع ہو تو اس کا تصفیہ ہو سکے۔ قاضی تو کسی طرح بھی مخاطب نہیں ہے۔قاضی کے پاس کوئی بھی گواہ نہ ہو، تب بھی اس نے فیصلہ کرنا ہے۔اس لیے میرے خیال میں تو یہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا بڑی قابل فہم بات ہے۔اصل میں تو قاضی مجموعی قرائن وشواہد سے مطمئن ہوگیا ہے کہ مدعی کا دعویٰ ٹھیک ہے۔اب اگر دو گواہوں کی قانونی رسم نہیں پوری ہورہی تواس کی تلافی کے لیے مدعی کی ایک قسم کو بھی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
مطیع سید: فدک کے حوالے سے میراثِ نبوی ﷺ کی تقسیم کے مسئلے میں حضرت فاطمہ ؑ حضرت ابو بکرصدیق کے پاس جاتی ہیں اور وہ انہیں بتاتے ہیں کہ نبی کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔7 اس پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبیﷺ کو تو اس معاملے میں غیرمعمولی حساس ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو واضح طور پر بتا دیتےکہ میراث ِ نبی کا یہ معاملہ ہوتا ہے۔ آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟
عمار ناصر: دیکھیں، مسئلہ تو ہمارے سامنے آیا ہے اور ہم توقع کرتےہیں کہ جو سوال ہمارے سامنے آیا، رسول اللہ ﷺ اس کو کیوں نہیں حل کرکے گئے۔اللہ تعالیٰ کا اور پیغمبر کا یہ انداز نہیں ہے۔ان کی ترجیحات،ان کا چیزوں کو موضوع بنانے کا طریقہ، وہ بالکل اور ہوتا ہے۔
مطیع سید: ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کی بات سے حضرت فاطمہ مطمئن نہیں ہوئیں۔
عمار ناصر: جی، وہ مطمئن نہیں ہوئیں اور روایات میں ہے کہ وہ اس بات پر اپنی وفات تک حضرت ابوبکر سے ناراض رہیں اور ان کے ساتھ کلام نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر کے ساتھ گفتگو میں سیدہ کا استدلال یہ تھا کہ جیسے ہر آدمی کی وراثت تقسیم ہوتی ہے، اسی طرح حضور کی وراثت بھی ہمیں ملنی چاہیے، لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ حضرت ابوبکر نے جو ارشاد نبوی بیان کیا، اس کو سیدہ نے قبول کیوں نہیں کیا یا اس کی ان کے ذہن میں کیا توجیہ تھی۔ ابن سعد کی ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے یہ حدیث بیان کی تو سیدنا علیؓ نے اس پر معارضہ کیا کہ قرآن میں ہے کہ حضرت سلیمان حضرت داود کےوارث بنے اور حضرت زکریا نے اللہ سے دعا کی کہ انھیں اولاد عطا کی جائے جو ان کی وارث بنے۔ حضرت ابوبکر نےکہا کہ یہ تو ٹھیک ہے، لیکن جو بات میں بیان کر رہا ہوں، وہ آپ کے علم میں بھی ہے۔ اس میں بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ حضرت علیؓ اس حدیث کی کیا توجیہ کرتے تھے جو حضرت ابوبکر نے بیان کی۔
ابن سعد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر نے سیدہ فاطمہ سے کہا کہ میں نے تو حضور سے یہ بات سنی ہے، لیکن اگر آپ یقین سے یہ کہہ سکتی ہے کہ مدینہ اور خیبر اور فدک کی یہ زمینیں حضور نے آپ کو دی ہیں تو میں آپ کی بات مان لیتا ہوں۔ سیدہ نے کہا کہ مجھے ام ایمن نے بتایا تھا کہ فدک کی زمین حضور نے مجھے دی ہے۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ اگر آپ نے حضور سے خود یہ بات سنی ہے تو میں آپ کا مطالبہ مان لیتا ہوں۔ سیدہ نے کہا کہ میرے پاس جو خبر تھی، وہ میں نے آپ کو بتا دی ہے۔ (الطبقات الکبریٰ، ذکر میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)
تو یہ اس مسئلے میں ایک مشکل سوال ہے کہ آخر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واضح ارشاد سامنے ہوتے ہوئے بھی اس پر کیوں اصرار کر رہے ہیں کہ فدک اور خیبر وغیرہ کی زمینیں بطور وراثت ان کو دی جائیں۔ میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ شاید یہ حضرات اس کو اس پر محمول کرتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بطور قانون نہیں فرمائی تھی، بلکہ اپنا ایک رجحان ظاہر کیا تھا کہ آپ کو دیا گیا مال دوسرے لوگوں کی طرح بطور جائیداد تقسیم نہ ہو، بلکہ اس سے بس اہل خانہ کی ضروریات پوری کی جاتی رہیں۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ آپ کے ارشاد کی نوعیت یہ تھی تو پھر ان حضرات کا موقف کافی حد تک قابل فہم بن جاتا ہے کہ آپ ان زمینوں کے متعلق کوئی قانونی فیصلہ نہیں فرما کر گئے، بلکہ آپ نے اپنی پسند اور ترجیح بیان فرمائی ہے۔ تاہم قانونی اور شرعی طور پر اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا آپ کے وارثوں کا اختیار ہے، اس لیے اصول کے مطابق ان زمینوں کو تقسیم کیا جائے اور پھر ورثاء اپنی پسند اور اختیار سے جو فیصلہ کرنا چاہیں، کر لیں۔ میرے خیال میں یہ یا اسی سے ملتا جلتا کوئی قیاس ان حضرات کے ذہن میں تھا جس کی وجہ سے وہ اصرار کر رہے تھے اور حضرت عمر کے دور تک کرتے رہے کہ یہ زمینیں بطور ملکیت ان کے حوالے کی جائیں۔
مطیع سید: میں نے ایک معتبر عالم سے سنا، وہ فرمارہے تھے کہ حضرت فاطمہ فدک کی مالکیت مانگنے نہیں گئی تھیں بلکہ وہ یہ چاہ رہی تھیں کہ ان زمینوں کا انتظام و انصرام انہیں دے دیا جائے۔
عمار ناصر: نہیں،یہ بھی صحیح نہیں ہے۔اہلِ بیت کا موقف یہ نہیں تھا۔ ان کا اصل موقف یہ تھا کہ یہ زمینیں ہمیں بطور وراثت ملنی چاہییں،جیسے ہر مرنے والے کے وارثوں کو ملتی ہیں۔ جہاں تک انتظام و انصرام حضرت علی اور حضرت عباس کے سپرد کرنے کا تعلق ہے تو حضرت عمر نے یہ اقدام ان حضرات کو مطمئن کرنے کے لیے کیا تھا، لیکن یہ ان کا اصل مطالبہ نہیں تھا۔
مطیع سید:غلامی کو ممنوع قرار دینے کے حوالے سے قرآن میں کوئی واضح حکم تو نہیں ہے۔
عمار ناصر: قرآن نے آزاد کرنے کی عمومی ترغیب دی ہے،بعض کفاروں میں اس کو شامل کردیا ہے،زکوٰۃ کے مصارف میں بھی شمار کیا ہے، لیکن کوئی قانونی حکم نہیں دیاکہ بطور ایک سماجی ادارے کے اب غلامی ختم کی جا رہی ہے۔
مطیع سید: یہ کہاجاتا ہے کہ قرآن نے اس کو ختم کر نے کی ابتدا کی تھی،تبھی غلامی ختم ہوئی۔ لیکن اگر امریکہ کی مثال لیں توابراہام لنکن نے غلامی کے خاتمے کا جو فیصلہ کیا، اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟
عمار ناصر: جی یہ بھی درست بات نہیں کہ قرآن سے پہلے غلام کو آزاد کرنے کا تصور اخلاقی طور پر موجود نہیں تھا۔ مختلف تہذیبوں میں یہ تصور موجود تھا اور بعض یونانی اور ایرانی حکمرانوں نے غلامی پر باقاعدہ پابندی لگانے کی بھی کوشش کی تھی۔ مغربی تہذیب میں بھی مسیحی اخلاقیات کے زیر اثر یہ بحث موجود رہی ہے۔ جدید دور میں یورپ اور امریکا میں غلامی کے خاتمے میں کلیسا کا اور مسیحی الہیات کا بھی کافی موثر کردار ہے۔ مسلمانوں کے ہاں یہ خیال تو بظاہر پیدانہیں ہواکہ بطور ادارہ غلامی کا خاتمہ کر دیا جائے، لیکن قرآن نے غلاموں کو آزاد کرنے کی جو ترغیب دی تھی، اس سے مسلمانوں کے ہاں غلام کو آزاد کرنا ایک کار خیر کے طورپر جاری رہا اور زیادہ تر معاشروں میں غلامی عوامی سطح پر بہت محدود ہو گئی تھی۔ بعد کی صدیوں میں زیادہ تر بادشاہوں اور اشرافیہ کے مختلف طبقات میں ہی غلام باندیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
مطیع سید: بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق کی رائے بظاہر بعد میں درست نکلی8 کیونکہ ان لوگوں میں سے بہت سے لوگ بعد میں مسلمان ہوئے انہیں ہدایت نصیب ہوئی،اورانہو ں نے دین کے لیے بڑی گراں قدر خدمات بھی سرانجام دیں۔اگر وہ اس وقت قتل کر دیے جاتے تو اسلام سے بھی محروم ہو جاتے۔ لیکن قرآن کی آیات میں اس پر ایک طرح کا عتاب نظر آتا ہے اور حضرت عمر کے موقف سے زیادہ مطابقت رکھتاہے۔
عمار ناصر:ہاں، فیصلوں کے ممکنہ نتائج تو مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن قرآن مجید میں خاص اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ کی منشا تھی، اس کو نمایاں کیا ہے۔اصل میں اللہ تعالیٰ اس موقع پر جو چاہ رہے تھے، وہ بڑا اہم تھا۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ بدر میں دونوں گروہوں کو آپس میں بھڑانے کا سارا بندوبست ہم نے ہی کیا تھا، ورنہ عام اسباب کے لحاظ سے شاید دونوں ہی گروہ اس لڑائی کے لیے آمادہ نہ ہوتے۔تو اللہ تعالیٰ چاہ رہے تھے کہ یحق الحق و یبطل الباطل،جب یہ معرکہ برپا ہو گیا ہے تو اس موقع پر قریش کو خوب زک پہنچائی جا ئے اور کسی قسم کی رعایت سے کام نہ لیا جائے۔
مطیع سید: آپﷺ گدھے پر سوار جارہے تھے،مسلمان اور مشرکین اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے تو عبد اللہ بن ابی نے کہا کہ آپﷺ ہمیں اپنے گدھے کی دھول سے اذیت نہ دیں۔9 بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی کہ جب مومنوں کی دوجماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو صلح کر وادو۔لیکن وہاں تو مسلمان،یہودی اور مشرکین بیٹھے ہوئے تھے، وہاں کون سی مسلمانوں کی دوجماعتیں تھیں؟
عمار ناصر: اصل میں آیتوں کا واقعات پر جو انطباق ہے وہ بعد میں لوگ قیاس سے بھی کرتےہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ آیت بعینہ اسی موقع پر آئی ہو، لیکن بات سمجھانے کے لیے اس آیت کا حوالہ دے دیا جاتا تھا۔اصلاً تو یہ آیت مومنین کے بارے میں ہے، لیکن کچھ لوگ اگر اکٹھے رہ رہے ہوں،مثلاً مشرکین اور مسلمان وغیرہ اکٹھے رہ رہے ہوں تو قرآن یہ تونہیں کہہ رہا کہ آپ وہاں کوئی صلح کے لیے کوئی کردار ادا نہ کریں۔گویا اس ہدایت کا انطباق اس صورت حال پر بھی ہوتاہے۔عبد اللہ بن ابی کے واقعے میں منافقین کو بھی اگر وسیع مفہوم میں مومنوں میں شمار کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اگر چہ مومنوں کی جماعت میں کچھ دوسرے لوگ بھی شریک ہیں، لیکن بحیثیت گروہ یہ مومنوں کا ہی گروہ ہے۔تو اس پر بھی آیت کا انطباق ہو سکتا ہے۔
مطیع سید: آپﷺ نے جو مختلف مواقع پر اشعار پڑھے 10 وہ آپ کے اپنے اشعارتھے یاکسی کے اشعار آپ نے پڑھے؟
عمار ناصر: زیادہ تر آپ نے دوسرے شعرا کے اشعار ہی پڑھے ہیں۔ بطور فن کے آپ نے شاعری نہ سیکھی اور نہ کی۔ البتہ حنین کے موقع پر آپ نے انا النبی لا کذب، انا ابن عبد المطلب کے کلمات پڑھے۔ اس طرح کے جو ارتجالی جملے ہیں، وہ ایک استثنائی بات ہے۔
مطیع سید: عورتوں کے لیے مالِ غنیمت نہیں تھا۔11 لیکن عورتیں ساتھ تو جاتی تھیں اور میدانِ جنگ میں خدمات بھی سر انجام دیتی تھیں۔
عمار ناصر:عورتیں بنیادی طورپر جنگ میں حصہ لینے کی مکلف نہیں تھیں اور نہ وہ بطور جنگجو، میدان میں جاتی تھیں۔ اس لیے مال غنیمت میں ان کی حیثیت ثانوی رکھی گئی۔ انھیں کچھ نہ کچھ دے دیاجاتا تھا، لیکن باقاعدہ ایک مقاتل کی حیثیت سے ان کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا، کیونکہ وہ اس حیثیت سے شریک ہی نہیں ہوتی تھیں۔
مطیع سید: نجدہ بن عامر جو خوارج کا سردارتھا،حضرت عبد اللہ بن عمر اس کے پیچھے نمازپڑھ لیتے تھے۔حالانکہ نبیﷺ نے ان کے بارے میں فرمایاکہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرکمان سے۔
عمار ناصر:یہ ان کی مذہب حالت پر نبیﷺ نے تبصرہ فرمایا تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہی شمار نہیں ہوں گے۔
مطیع سید: یہ بارہ خلفا جو لقریش سے ہوں گے،12 ان کے بارے میں راجح قول کیاہے؟کیا یہ تسلسل کے ساتھ برسراقتدار آئے یا مختلف اوقات میں وقفے وقفے سے آتے رہے؟
عمار ناصر: مجھے شارحین کا رجحان یہی مستحضر ہے کہ یہ وقفے وقفے سے برسراقتدار آئے۔
مطیع سید: نبیﷺ نے حکمرانوں کے قریشی ہونے کو شرط قرار دیا کیونکہ اس وقت عرب کی سیاسی فضا اسی کا تقاضا کر رہی تھی۔تو کیا اس بات کا انصارکو علم نہ تھا جو سعد بن عبادہ کو نبی ﷺ کے بعد خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے؟ان میں سے کسی کو بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ نبیﷺ نے قریشی ہونے کی شرط لگائی ہے؟
عمار ناصر: نہیں، ان کے علم میں تو تھا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تھی۔ لیکن اس میں اہم بات یہ ہے کہ نبیﷺ کی یہ ہدایت تشریعی نوعیت کی نہیں تھی،یعنی آپ دین کا کوئی حکم بیان نہیں فرما رہے تھے جس کے خلاف کوئی رائے نہیں رکھی جا سکتی۔ساری روایات آپ جمع کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺسیاسی انتظام کی ایک وجہ بیان کرکے اس حوالےسے یہ بات کہہ رہے تھے۔ مہاجرین کی طرف سے اس ارشاد کا حوالہ دیا گیا تو اس کا انداز بھی ایسا ہی تھا اور جواباً انصار کے ردعمل سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ دونوں اس کو کوئی تشریعی حکم نہیں سمجھ رہے تھے، بلکہ اس کے علاوہ دوسرے عملی امکانات کو بھی قابل غور مانتے تھے۔ مثلاً انصار کی طرف سے اس کے جواب میں یہ تجویز آئی کہ مہاجرین اور انصار، دونوں میں سے ایک ایک امیر ہو۔ لیکن یہ تجویز ناقابل عمل تھی، یوں حضرت ابوبکر کی خلافت پر عمومی اتفاق ہو گیا۔
مطیع سید:آپﷺ نے حضرت ابوذر کو ایک موقع پر فرمایا کہ تم کمزور ہو، اگر تمھیں دو آدمیوں پر بھی حاکم بنایا جائے تو نہ بننا۔13
عمار ناصر: مطلب یہ ہے کہ انتظامی ذمہ داری اٹھانا تمہارامزاج نہیں ہے۔کمزور ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم میں امانت نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ اس ذمہ داری کے لیے جو ایک خاص صلاحیت چاہیے ہوتی ہے، وہ تم میں نہیں ہے۔
مطیع سید: صحابہ نے نبی ﷺ سے ایک مرتبہ پوچھاکہ کیاہم برے حکمرانوں کے خلاف جنگ نہ کریں جب وہ ہم پر مسلط ہو جائیں تو آپﷺ نے منع فرمادیا۔14 روایات میں ظالم حاکموں کے بارے میں صبر کی ہی تلقین ملتی ہے15 اس کی کیا وجہ ہے؟
عمار ناصر: وجہ یہی ہے کہ اس میں جو خون بہے گا، وہ مسلمانوں کاہی بہے گا۔
مطیع سید: تو فقہا نے ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کا جواز کہاں سے مستنبط کیاہے؟
عمار ناصر:اصل میں آپﷺ نے جو خروج سے منع فرمایا تو اس لیے نہیں فرمایاکہ ظالم کے ظلم کو جائز سمجھا جائے کہ جو وہ کر رہاہے، اسے اس کا اختیار ہے۔یہ اس حوالےسے تھا کہ اس سے مسلمانوں میں فساد اور خون خرابہ ہوگا اور نظام زندگی بالکل منتشر ہو جائے گا، اس لیے یہ راستہ اختیار نہ کیا جائے۔اب جو لوگ کو شش کررہے تھے،وہ اپنے فہم کے لحا ظ سے ایسی صورتِ حال دیکھ رہے تھے کہ ہمارے لیے اپنی کوشش میں کامیابی کا امکان ہے اور اگر کامیابی ہو گئی تو جابر حکمرانوں سے مسلمانوں کو نجات مل جائے گی۔ گویا وہ اس سے خروج کا جواز اخز کرتے تھے کہ اگر ان ظالموں سے جان چھوٹ گئی تو اس دوران میں جو خون خرابہ ہو گا، وہ جسٹیفائی ہو جائے گا۔ تو اس میں بھی ایک اجتہادی گنجائش موجود ہے۔
مطیع سید: آپ نے فرمایا کہ جو جماعت سے نکل گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔16 اس طرح کی روایات بھی آتی ہیں کہ جس کے گلے میں بیعت کا قلادہ نہ ہوا، وہ بھی جاہلیت کی موت مرا۔ لیکن حضرت سعد بن عبادہ نے تو نہ حضرت ابوبکر کی بیعت کی اور نہ حضرت عمر ِ فاروق کی۔
عمار ناصر:میرے خیال میں یہ وعید اصلاً اور براہِ راست تو ان لوگوں کے لیے ہے جو بیعت نہ کریں اور مخالفانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں اور اجتماعیت کو پھاڑنے کی کوشش کریں۔سعد بن عبادہ کا معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اگر چہ حضرت ابوبکر کی بیعت کو قبول نہیں کیا، لیکن عملاً کوئی مسئلہ پیدانہیں کیا۔ بس مسلمانوں کے معاملات سے الگ تھلگ ہو گئے۔
مطیع سید: بیعتِ رضوان پر کچھ صحابہ نے کمنٹس دیے کہ ہم نے موت پر بیعت نہیں کی تھی بلکہ صرف نہ بھاگنے پر بیعت کی تھی۔بعض نے کہا کہ ہم نے موت پر بیعت کی تھی۔17 کیا یہ معاملہ صحابہ کے ہاں واضح نہیں تھا؟
عمار ناصر: یہ الفاظ کا ہی فرق لگتا ہے۔ کچھ صحابہ نے یہ الفاظ کہے ہوں گے کہ ہم موت تک آپ کے ساتھ رہیں گے۔ کچھ نے یوں کہا ہوگا کہ ہم کسی حال میں بھی فرار نہیں ہوں گے۔ نتیجے کے لحاظ سے تو مطلب ایک ہی بنتا ہے۔
مطیع سید: دشمن کے علاقے میں قرآن لے جانے کی ممانعت18 کیا صرف بے حرمتی کی وجہ سے تھی؟
عمار ناصر:بظاہر یہی لگتاہے، کیونکہ اس کی وجہ روایت میں یہ بیان ہوئی ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اس کے علاوہ اگر قرآن کے نسخوں کی حفاظت بھی پیش نظر ہو تو وہ بھی بعید نہیں کہ قرآن کے جتنے نسخے موجود ہیں، انھیں ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
مطیع سید: حضرت ام حرام کے ساتھ نبیﷺ کا رشتہ کس نوعیت کا تھا؟ آپ ان کے ہاں جا کر آرام بھی کر لیتے تھے اور وہ آپ کے سر کی بھی صفائی کر دیتی تھیں۔ کیا وہ بڑی عمر کی کوئی خاتون تھیں؟19
عمار ناصر: نہیں، ان کے زیادہ معمر ہونے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے۔ وہ آپ کی وفات کے بعد حضرت معاویہ کے عہد میں بحری سفر پر جہاد کے لیے گئی تھیں۔ شارحین یہ قیاس کرتے ہیں کہ غالباً ان کے ساتھ کوئی ایسا ایسا رشتہ تھا، شاید رضاعی رشتہ ہو، جس کی وجہ سے وہ آپ کے لیے محرم کے حکم میں تھیں۔
مطیع سید:حضرت ابو ذر کو آپﷺ نے کچھ چیزیں بتائی تھیں۔ جس بگاڑکی طرف آپﷺ نے اشارہ فرمایا تھا20 ان کے مطابق وہ حضرت عثمان کے دور میں ہی شروع ہو گیاتھا۔کیا ان کی طبیعت ایسی غصے والی تھی کہ ان کو چھوٹی چھوٹی باتیں محسوس ہوتی تھیں یا اس دور میں واقعی انحراف شروع ہوگیا تھا؟
عمار ناصر:دونوں ہی چیزیں تھیں۔وہ طبعاً زہد وریاضت کا مزاج رکھتے تھے،خاص طورپر مال ودولت کے پہلو سے، اور کچھ تبدیلی بھی ظاہر ہے، آناشروع ہو گئی تھی۔دونوں ہی چیزیں تھیں۔ جو تبدیلی اس وقت رونما ہو رہی تھی، باقی لوگ بھی اس کو دیکھ رہے تھے،لیکن حضرت ابوذر کے ردعمل میں اور باقی لوگوں کے رد عمل میں فرق تھا۔
مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں یہ بات کہی گئی کہ ان کے پاس کوئی مخفی اورخاص علم ہے جو نبیﷺ نے انہیں بتایا ہے۔21 حضرت علی کے بارے میں یہ ذہنیت کب پیداہوئی؟ کسی اور صحابی کے بارے میں تو اس طرح کی بات پیدانہیں ہوئی۔
عمار ناصر:یہ ان کےدور میں ہی پیداہو گئی تھی،اسی لیے ان کو وضاحت کرنی پڑی اور اپنی تلوار کی میان سے چند لکھے ہوئے احکام انھوں نے نکال کر دکھائے اور کہا کہ میرے پاس یا تو یہ کچھ باتیں ہیں اور یا کتا ب اللہ کا فہم ہے جو اللہ کسی بندے کو دے دے۔
مطیع سید: یہ روایت ٹھیک ہے جس میں بتایا گیاہے کہ جنت میں بھولے بھالے اور شریف لو گ زیادہ ہوں گے؟
عمار ناصر: جی صحیح ہے۔دنیا میں جو ایمان وعمل کی آزمائش ہے، اس میں زیادہ وہی لوگ گرفتار ہوتے ہیں جو تیزی طراری دکھا سکتے ہیں۔جو شریف اور بھولے بھالے لوگ ہوتے ہیں، وہ سادہ سی زندگی گزار کر چلے جاتے ہیں، اس لیے ان پر حساب کتاب کا بوجھ کم ہوتا ہے۔
حواشی
- صحیح مسلم،كتاب القسامۃ والمحاربين والقصاص والديات، باب القسامۃ، رقم الحدیث: 1669، جلد:3،ص:1291
- صحیح مسلم،كتاب القسامۃ والمحاربين والقصاص والديات، باب حكم المحاربين والمرتدين، رقم الحدیث: 1671، جلد:3،ص:1296
- صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الکہانۃ، رقم الحدیث: 5758، ص:1454
- صحیح البخاری، كتاب الحدود وما يحذر من الحدود، باب كم التعزيروالادب، رقم الحدیث: 6848، ص:1667۔ صحیح مسلم،كتاب الحدود، باب قدر اسواط التعزير، رقم الحدیث: 1708، جلد:3،ص:1332
- صحیح مسلم،كتاب الحدود، باب الحدود كفارات لاهلہا، رقم الحدیث: 1709، جلد:3،ص:1333
- صحیح مسلم،كتاب الاقضیۃ، باب القضاء باليمين والشاهد، رقم الحدیث: 1712، جلد:3،ص:1337
- صحیح مسلم،كتاب الجہاد والسیر، باب قول النبی صلى الله عليہ وسلم لا نورث ما تركنا فہو صدقۃ، رقم الحدیث: 1758، جلد:3،ص:1379
- صحیح مسلم،كتاب الجہاد والسیر، باب الامداد بالملائكۃ فی غزوة بدر واباحۃ الغنائم، رقم الحدیث: 1763، جلد:3،ص:1383
- صحیح مسلم،كتاب الجہاد والسیر، باب فيف دعاء النبی صلى الله عليہ وسلم وصبره على اذى المنافقين، رقم الحدیث: 1798، جلد:3،ص:1422
- صحیح مسلم،كتاب الجہاد والسیر، باب غزوة الاحزاب وہی الخندق، رقم الحدیث: 1803، جلد:3،ص:1430
- صحیح مسلم،كتاب الجہاد والسیر، باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسہم، رقم الحدیث: 1812، جلد:3،ص:1444
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقريش والخلافۃ فی قريش، رقم الحدیث: 1821، جلد:3،ص:1453
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب كراہۃ الامارة بغير ضرورة، رقم الحدیث: 1826، جلد:3،ص:1455
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب وجوب الانكار على الامراء فيما يخالف الشرع وترك قتالہم ما صلوا، رقم الحدیث: 1854، جلد:3،ص:1480
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب الامر بالصبر عند ظلم الولاة واستئثارہم، رقم الحدیث: 1845، جلد:3،ص:1474
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ اکمسلمين عند ظہور الفتن، رقم الحدیث: 1848، جلد:3،ص:1476
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب استجباب مبايعۃ الامام الجيش عند ارادة القتال، رقم الحدیث: 1856، جلد:3،ص:1483
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب النہی ان يسافر بالمصحف الى ارض الکفار اذا خيف وقوعہ بايديہم، رقم الحدیث: 1869، جلد:3،ص:1490
- صحیح مسلم،كتاب الامارۃ، باب فضل الغزو فی البحر، رقم الحدیث: 1912، جلد:3،ص:1518
- صحیح مسلم، كتاب الزکوۃ، باب الخوارج شر الخلق والخليقۃ، رقم الحدیث: 1067، جلد:2،ص:570
- صحیح مسلم،کتاب الاضاحی، باب تحريم الذبح لغير الله تعالى ولعن فاعلہ، رقم الحدیث: 1978، جلد:3،ص:1567
(جاری)
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نسبی تعلق کا فائدہ؟
(علامہ ابن عابدین شامی کے رسالے کی تلخیص)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
علامہ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ (م 1252ھ/1836ء) نے اس موضوع پر کا مختصر رسالہ "العلم الظاھر فی نفع النسب الطاھر" کے عنوان سے لکھا ہے، جو ان کے مجموعۂ رسائل کی پہلی جلد کا پہلا رسالہ ہے اور صرف 7 صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس میں انھوں نے اس کے ہر پہلو پر بات کی ہے۔ یہاں اس رسالے کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔
جن نصوص سے اس فائدے کی نفی کی جاتی ہے
ان نصوص میں ایک یہ آیت ہے:
فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَلَآ أَنسَابَ بَينَهُم يَومَئِذ وَلَا يَتَسَآءَلُونَ (المؤمنون، 101)
(پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ ان کے درمیان رشتے ناتے باقی رہیں گے، اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔)
اس آیت کی تفسیر میں قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ قیامت کے دن کسی کو اس کا نسب کچھ فائدہ نہیں دے سکے گا کیونکہ اس دن آدمی اپنے بھائی سے، والدین سے، بیوی بچوں سے دور بھاگے گا اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی؛ نہ ہی نسب پر کوئی فخر کرے گا کیونکہ آخرت میں نسب کا کسی کو کچھ فائدہ ہی نہیں ہوگا۔
دوسری آیت جس سے استدلال کیا جاتا ہے، درج ذیل ہے:
إِنَّ أَكرَمَكُم عِندَ ٱللَّهِ أَتقَىٰكُم (الحجرات، 13)
(درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔)
اسی طرح بعض احادیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔
مثلاً مسند احمد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے موقع پر خطبے میں فرمایا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے، مگر تقوی کی بنا پر۔
اسی طرح صحیح مسلم کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: وَأَنذِر عَشِيرَتَكَ ٱلأَقرَبِينَ (اور تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرو)، (الشعرآء، 214) تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کی سب شاخوں کو اکٹھا کرکے سب کو خبردار کیا کہ وہ خود کو آگ سے بچائیں اور انھیں کہا کہ میں اللہ کے سامنے تمھارے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا لیکن تم سے جو میرا رشتہ ہے اسے میں نبھاؤں گا (سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا)۔ (صحیح بخاری کی روایت میں اس استثنا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا کا ذکر نہیں ہے۔)
اس نوعیت کی بعض دیگر روایات بھی ہیں۔ مثلاً الادب المفرد میں امام بخاری نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن متقی لوگ ہی میرے دوست ہوں گے؛ اور ایسا نہ ہو کہ لوگ نیک اعمال ساتھ لے آئیں اور تم گردنوں پر دنیا کا بوجھ لادے ہوئے آؤ اور مجھے پکارو، تو میں تمھیں کہوں کہ یوں اور یوں۔ صحیحین میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ فلاں خاندان والے میرے دوست نہیں ہیں، بلکہ اللہ اور نیک مومن میرے دوست ہیں۔
اسی طرح صحیح مسلم کی روایت ہے کہ جسے اس کے عمل نے پیچھے کردیا، اسے اس کا نسب آگے نہیں کرسکے گا۔
نسبی تعلق کے اثبات کے لیے نصوص
تاہم دوسری جانب کئی نصوص ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نسبی تعلق کا فائدہ ان کے رشتہ داروں میں ایمان والوں کو ہوگا۔
مثلاً سنن ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر تم ان سے چمٹے رہو تو تم راستے سے نہیں ہٹوگے، ان میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے: اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی رسی ہے اور میرا خاندان، میرے گھر والے؛ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر پہنچیں؛ پس تم دیکھو کہ میرے بعد تم ان دونوں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟
ایسی کئی روایتیں مختلف الفاظ میں دیگر کتب میں بھی روایت ہوئی ہیں۔ مثلاً سنن دیلمی میں عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمھیں اپنے خاندان کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں اور ان کے ساتھ ملنے کی جگہ حوض ہے۔
اسی طرح طبرانی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حوض پر پہلے پہنچنے والے میرے اہلِ خاندان ہوں گے اور وہ ایمان والے جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں۔
کئی اور اسالیب میں اپنے اہلِ خاندان کےلیے خصوصی دعاؤں کا ذکر بھی طبرانی اور دیگر کتب میں آیا ہے۔ اسی طرح صحیح سند سے مستدرک حاکم کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے رب نے میرے خاندان والوں کے بارے میں مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ ان میں جو ایمان لایا تو وہ اسے عذاب نہیں دے گا۔ خصوصاً سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی اولاد کےلیے عذاب سے نجات کا ذکر بھی طبرانی کی روایت میں ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فائدے کی نفی کرنے والی نصوص کا درست مفہوم
جہاں تک المؤمنون کی آیت 101 کا تعلق ہے جس سے اس فائدے کی نفی کےلیے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے، تو ایک تو اس کا سیاق و سباق اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ آیت کافروں کے بارے میں ہے۔ پھر اگر یہ کافروں اور مسلمانوں سب کے بارے میں ہو، تب بھی اس کی تخصیص دیگر نصوص نے کی ہے۔
پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نسبت کی وجہ سے آپ کے اہلِ خاندان کےلیے بعض خصوصی احکام تو دنیا میں بھی ہیں۔ مثلاً زکاۃ ان کو نہیں دی جاسکتی، اور اس حکم میں گنہگار اور نیکو کار کی تقسیم نہیں ہے۔
نیز رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے اہلِ کبائر کو فائدہ ہوگا (اور ہم سب آپ کی شفاعت کے امیدوار ہیں)، تو آپ اپنے خاندان میں ایمان لانے والوں کےلیے خصوصی شفاعت کیوں نہیں کریں گے اور ان کے حق میں آپ کی شفاعت کیوں قبول نہیں کی جائے گی؟
سورۃ الکہف میں جہاں ایک بستی والوں کا ذکر ہے جہاں سیدنا موسی علیہ السلام اور آپ کے ساتھی نے گرتی دیوار کی مرمت کرکے اسے بچالیا تھا، تو آپ کے ساتھی نے بتایا کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کےلیے ان کے بزرگ نے خزانہ چھوڑا تھا اور وہ بزرگ نیکوکار تھے (وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحا)۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ بچے ان بزرگ کی ساتویں پشت میں تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ کی اولاد ان سے کتنے ہی واسطوں بعد کی ہو، ان پر ان برکات کو کیوں مستبعد سمجھا جائے؟
جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور فیصلہ صرف اللہ کا ہی ہوگا، تو یہ بات تو مسلّم ہے کہ کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، سواے اس کے جو اللہ نے اسے دیا ہے، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور آپ کی نسبت سے ملنے والا فائدہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ ہی کے فیصلے میں شامل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کرم نوازی اور رحمت کے آثار میں ہیں۔
البتہ جہاں عمل پر تاکید دینے کا موقع ہو، وہاں اس پہلو پر زور دینا ضروری ہوتا ہے کہ فیصلہ اللہ ہی کا ہے اور کوئی شخص اس فیصلے سے بے فکر ہو کر نہ بیٹھ جائے، لیکن ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور آپ کے ساتھ تعلق کی نسبت کا پہلو بھی بتا دیا (سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا) تاکہ پوری بات واضح ہو اور یہ نبوی بلاغت اور حکمت کا شاندار نمونہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ آپ اپنے اہلِ خاندان اور رشتہ داروں کے متعلق یہ شدید خواہش رکھتے تھے کہ وہ عمل اور تقوی کے معاملے میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
اس زاویے سے دیکھا جائے، تو ان تمام نصوص کی آپس میں تطبیق واضح ہوجاتی ہے اور کسی نص کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ سب کا درست فہم میسر ہوجاتا ہے۔
اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے
یہ بات بہرحال واضح رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حرام کی گئی چیزوں کے متعلق سب سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس وہی اختیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے، اور آپ نے جن چیزوں کی تمنا کی ان میں وہی آپ کو ملیں گی جو اللہ کی مشیئت ہو۔ چنانچہ آپ کی شدید خواہش کے باوجود آپ اپنے چچا ابو طالب کو ایمان لانے پر آمادہ نہیں کرسکے، حالانکہ انھوں نے آپ کی نصرت کی اور انھیں آپ کے والد کا مقام حاصل تھا۔
إِنَّكَ لَا تَهدِي مَن أَحبَبتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهدِي مَن يَشَآءُ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدِينَ۔
(حقیقت یہ ہے کہ تم جس کو خود چاہو ہدایت تک نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے، اور ہدایت قبول کرنے والوں کو وہی خوب جانتا ہے۔)
لَيسَ لَكَ مِنَ ٱلأَمرِ شَيءٌ أَو يَتُوبَ عَلَيهِم أَو يُعَذِّبَهُم فَإِنَّهُم ظَٰلِمُونَ
(تمہیں اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں۔)
اسی طرح نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو نفع نہیں پہنچا سکے کیونکہ وہ ایمان نہیں لایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں نوح علیہ السلام کو فرمایا:
إِنَّهُۥ لَيسَ مِن أَهلِكَ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيرُ صَٰلِح (ہود، آیت 46)
(یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔)
پس سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے مطابق ہوگا ۔
فَلَا يَأمَنُ مَكرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلقَومُ ٱلخَٰسِرُونَ (اعراف، آیت 99)
(پس اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے وہی لوگ بےفکر ہو بیٹھتے ہیں جو آخر کار نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں۔)
رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسوہ
پس رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے اور اس کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے والے تھے۔ یہی حالت صحابۂ کرام اور اہل بیت اور ان کے متبعین کی تھی۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے لشکر تیار کیے، توحید کے علم برداروں کونصرت فراہم کی، بہت سارے ممالک فتح کیے، مسلمانوں کے ساتھ عناد رکھنے والوں کو مغلوب کیا، رسول اللہ ﷺ نے انھیں جنت کی بشارت دی، لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ تمنا کرتے کہ کاش عمر کی ماں نے عمر کو نہ جنا ہوتا! اور فرماتے کہ میں اللہ تعالیٰ کی ڈھیل سے بے فکر نہیں ہوسکتا اور اس سب کچھ کے باوجود وہ بے پروا ہو کر نہیں بیٹھے۔ پس کوئی نسب والا اپنے نسب کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ نےاگر ہمارے ساتھ عدل پر فیصلہ کیا، تو ہم میں بچنے والے تھوڑے ہی ہوں گے۔
یہ بھی جان لینا چاہیے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے جگر کا ٹکڑا تھیں لیکن ان کی کوئی نسبت رسول اللہ ﷺ کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت سے نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی چاہت ہی آپ کی چاہت تھی اور اللہ تعالیٰ جس سے ناراض ہو، تو آپ بھی اس سے ناراض ہوتے خواہ وہ آپ کو سب لوگوں میں محبوب ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اس شخص سے آپ کی محبت کے خاتمے کا سبب بن جاتی۔ پس رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سب سے زیادہ شان والی اور سب سے زیادہ محبوب تھی۔
صحیح سمجھ رکھنے والے کےلیے یہ بات واضح ہے اور جو شخص رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین پر عمل پیرا نہ ہوتا، اس سے آپ کا دور ہوجانا، خواہ وہ آپ کا کتنا ہی قریبی رشتہ دار ہو، اس بات کی دلیل ہے۔ تو جو شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نسبی تعلق کا دعوی کرتا ہے اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام کو پامال کرتا ہے، وہ کیسے یہ گمان کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اس کی کچھ حیثیت ہوگی؟ کیا یہ کند ذہن شخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اس کی حیثیت اللہ تعالیٰ کی حرمتوں سے بڑھ کر ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ جو شخص ایسا اعتقاد رکھتا ہے، اس کے برے خاتمے کا اندیشہ ہے۔
پس اس شخص کو اہل بیت اطہار کے بزرگوں کا کردار دیکھنا چاہیے کہ ان کا بھروسہ کس چیز پر تھا، ان کے اخلاق کیسے تھے اور ان کے اعمال کیسے تھے؟پس اگر یہ شخص اس پر غور کرے گا اور نیک نیتی سے اس پر عمل کرنا چاہے گا، تو اس کےلیے اللہ کی توفیق سے اس راستے پر چلنا آسان ہوگا۔
علامہ شامی کے رسالے کا خلاصہ ختم ہوا۔ آگے میں چند نکات مولانا اصلاحی کی تفسیر سے پیش کروں گا کیونکہ اس موضوع پر موجودہ بحث ان لوگوں نے شروع کی ہے جو اپنی نسبت مولانا اصلاحی کے مکتبِ فکر کی طرف کرتے ہیں۔
یہ بھی نوٹ کیجیے کہ علامہ شامی خود حسینی سادات میں سے تھے۔
قرآن کریم کے تین مقامات: مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر کی روشنی میں
اس بحث میں قرآن کریم میں 3 مقامات خصوصاً قابلِ غور ہیں۔ ان تینوں مقامات پر ترجمہ مولانا اصلاحی کا پیش کیا جارہا ہے۔ (اس سے قبل اس مضمون میں آیات کا ترجمہ مفتی محمد تقی عثمانی کا تھا۔)
پہلا مقام سورۃ المؤمن کی آیت 8 ہے جہاں مومنوں کے حق میں اللہ تعالیٰ کے مقرّب فرشتوں کی دعا کا ذکر ہے اور اس میں یہ بات بھی آئی ہے:
رَبَّنَا وَأَدخِلهُم جَنَّٰتِ عَدنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُم وَمَن صَلَحَ مِن ءَابَآئِهِم وَأَزوَٰجِهِم وَذُرِّيَّٰتِهِم إِنَّكَ أَنتَ ٱلعَزِيزُ ٱلحَكِيمُ
(اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے آباء اور ازواج و دّرّیات میں سے جنت کے لائق ٹھہریں۔ بے شک عزیز و حکیم تو ہی ہے۔)
دوسرا مقام سورۃ الرعد کی آیت 23 ہے جہاں اس دعا کی قبولیت کا ذکر ہے:
جَنَّٰتُ عَدن يَدخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِن ءَابَآئِهِم وَأَزوَٰجِهِم وَذُرِّيَّٰتِهِم وَٱلمَلَٰٓئِكَةُ يَدخُلُونَ عَلَيهِم مِّن كُلِّ بَاب
(ابد کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے ان کے آبا و اجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے۔)
اس آیت کی تفسیر میں مولانا اصلاحی فرماتے ہیں:
"فرمایا کہ ان کے لیے ابد کے باغ ہوں گے جن میں وہ اتریں گے اور ان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کے ساتھ ان کے باپ دادوں اور ان کی ازواج و اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی جمع کر دیا جائے گا جو اپنے اعمال کی بدولت اس کے اہل قرار پائیں گے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی نعمت سے بہرہ مند ہوتا ہے تو اس کی یہ دلی آرزو ہوتی ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شریک ہوں جو اپنے عزیز رہے ہیں یا جنھوں نے اس کو عزیز رکھا ہے۔ اس کی اس فطرت کے تقاضے کا لحاظ کر کے اللہ تعالیٰ اس کے عزیزوں اور قریبوں کو بھی اس کے ساتھ جمع کر دے گا بایں شرط کہ وہ جنت میں جانے کے اہل ہوں۔ یہ شرط ایک بنیادی شرط ہے جو ملحوظ نہ رہے تو وہ نظام حق ہی متزلزل ہو جائے جو ان آیات میں زیربحث ہے لیکن اس شرط سے اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی نفی نہیں ہوتی کہ وہ ان صالحین و ابرار کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کے ان اعزا و اقربا کو بھی ان کے ساتھ جمع کر دے جو اگرچہ باعتبار درجہ و مرتبہ ان سے فروتر ہوں لیکن ہوں وہ جنت کے حق داروں میں سے۔"
یہ تقریباً وہی بات ہے جو علامہ شامی کے رسالے کی تلخیص میں ذکر کی گئی، لیکن اتمامِ حجت کےلیے تیسرا مقام بھی دیکھ لیجیے جو سورۃ الطور کی آیت 21 ہے:
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتهُم ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلحَقنَا بِهِم ذُرِّيَّتَهُم وَمَآ أَلَتنَٰهُم مِّن عَمَلِهِم مِّن شَيء كُلُّ ٱمرِيِٕ بِمَا كَسَبَ رَهِين
(اور جو لوگ ایمان لائے، اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے اور ان کے عمل میں سے ذرا بھی کمی نہیں کریں گے۔ ہر ایک اس کمائی کے بدلے میں گرو ہو گا جو اس نے کی ہو گی۔)
اس آیت کی تفسیر میں مولانا اصلاحی کہتے ہیں:
"اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ایک بشارت: جنت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے جو اہتمام فرمائے گا اسی سلسلہ میں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ ان کی اولاد میں سے جس نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہو گی اللہ تعالیٰ ان کو بھی ان کے ساتھ ملا دے گا اگرچہ وہ ایمان و عمل کے اعتبار سے ان کے درجے کے مستحق نہ ہوں۔ اس یکجائی کے لیے ضابطہ یہ بیان فرمایا کہ وَمَآ أَلَتنَٰهُم مِّن عَمَلِهِم مِّن شَيء اولاد کے ایمان کے کسر کا جبر ان کے والدین کے عمل میں کمی کر کے نہیں کیا جائے گا۔ وہ اپنے اسی مرتبہ پر سرفراز رہیں گے جس کے وہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے مستحق قرار پائے ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے ان کی اولاد کے درجے کو اونچا کر دے گا۔ وَٱتَّبَعَتهُم ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ میں لفظ ایمان کی قید سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ رعایت صرف اسی اولاد کے لیے خاص ہے جس نے ایمان کے ساتھ اپنے بزرگ کی اتباع کی ہو، اگر وہ ایمان سے محروم ہو تو اس رعایت کی مستحق نہیں ہو گی اگرچہ وہ ان کے اتباع کی کتنی ہی بلند آہنگی کے ساتھ مدعی ہو۔ لفظ ’ایمان‘ کی تنکیر سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے مدارج ہیں۔ اگر اولاد کو ایمان کا وہ ادنیٰ درجہ بھی حاصل ہوا جو اس کو جنت کے کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا بھی مستحق ٹھہراتا ہے تو وہ اس رعایت کی مستحق قرار پائے گی۔"
آگے فرماتے ہیں:
" نجات سے متعلق اصل ضابطہ كُلُّ ٱمرِيِٕ بِمَا كَسَبَ رَهِين۔ نجات سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اصل ضابطہ بیان فرما دیا ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے عوض گرو ہے۔ عمل ہی چھڑائے گا، عمل ہی ہلاک کرے گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ ایمان و عمل کے بغیر محض نیکوں سے ظاہری نسبت رکھنے کے سبب سے کوئی جنت میں ان کے پاس پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل انہی پر فرمائے گا جو اپنے ایمان و عمل سے اس کا استحقاق پیدا کریں گے۔"
پھر اس مقام پر مولانا اصلاحی نے اپنے تئیں ایک شبہے کے ازالے کی بھی کوشش کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
"ایک شبہ کا ازالہ: یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ جب نجات کے باب میں اصل ضابطہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے عوض میں گرو ہے تو اولاد کا اپنے سے برتر درجے کے بزرگوں کی صف میں جا پہنچنا کس بنیاد پر ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلق رکھنے والا ہے جو اس نے اپنے باایمان بندوں کے لیے خاص رکھا ہے۔ اس سے اس ضابطہ کی نفی نہیں ہوتی جو كُلُّ ٱمرِيِٕ بِمَا كَسَبَ رَهِين کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ نجات تو بے شک کسی کو ایمان و عمل کے بغیر حاصل ہونے والی نہیں ہے لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کے مراتب و مدارج میں اپنے فضل سے اضافہ بھی نہیں فرمائے گا۔ ان دونوں چیزوں کے دائرے الگ الگ ہیں۔ ان میں باہمدگر کوئی تناقض نہیں ہے۔ "
میرا خیال ہے کہ ان اقتباسات سے بات ان لوگوں کےلیے بھی واضح ہوگئی ہوگی جو اپنی نسبت مولانا اصلاحی کے مکتبِ فکر سے کرتے ہیں۔بس وہ صرف اس سوال پر غور کریں کہ ان تین مقامات پر جو بات کہی گئی ہے کہ اسے کسی شخص کی ساری صلبی اولاد کے بجاے صرف پہلی یا دوسری نسل (بیٹوں، بیٹیوں اور پوتوں پوتیوں، نواسوں، نواسیوں) تک محدود کرنے کی کیا دلیل ہے؟ پھر اگر یہ بشارت ہم میں سے ہر مومن کےلیے ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی اولاد کےلیے یہ کتنی خوش بختی کا مقام ہے؟
ھذا ما عندی، والعلم عند اللہ!
قادیانی مسئلہ اور دستوری و قانونی ابہامات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے قادیانی گروہ کی حالیہ سرگرمیوں کے بارے میں پائے جانے والے ابہامات کی وجہ دستوری تقاضوں اور بعض عدالتی فیصلوں میں ظاہری تضاد کو قرار دیا ہے، اور ایک بیان میں تجویز دی ہے کہ اس ابہام اور کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے دستوری و قانونی طور پر قادیانی گروہ کو ایک مستقل امت کے طور پر تسلیم کرنے کی بجائے غیر قانونی قرار دیا جائے۔ یہ بات موجودہ حالات میں گہرے غور و خوض کی متقاضی ہے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتوں اور اداروں کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔
چند سال قبل بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں اس وقت کے وفاقی وزیر امور مذہبی کی موجودگی میں راقم الحروف نے بھی قدرے مختلف حوالے سے یہی بات کہی تھی جو کانفرنس کے شرکاء کو یاد ہو گی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ملک میں بہت سی جماعتوں کو قانون شکنی اور ملکی سالمیت کے منافی سرگرمیوں کے عنوان سے خلافِ قانون قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف مختلف مراحل میں آپریشن اور کریک ڈاؤن کا اہتمام کیا گیا ہے، تو دستورِ پاکستان کی دفعات اور پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ کو قبول نہ کرنے پر قادیانی گروہ کے بارے میں بھی اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح کا ایکشن لینا چاہیے۔ وہی بات آج مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی نے آئینی ترمیم کے حوالے سے فرمائی ہے اور مجھے ان کی بات سے اصولی طور پر اتفاق ہے۔
۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے تاریخی فیصلہ کو قبول کرنے سے قادیانی گروہ کے واضح انکار اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مسلسل مہم جوئی نے جو مسائل کھڑے کر دیے تھے، انہی کے باعث ۱۹۸۴ء میں امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نافذ کرنا پڑا تھا، مگر اس کے باوجود صورتحال میں کوئی واضح فرق نہیں پڑا اور قادیانیوں کے بارے میں دستوری اور قانونی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کے درمیان آنکھ مچولی بدستور جاری ہے، جس کا اظہار عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کے سلسلہ میں بھی کچھ عرصہ سے ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کا تقاضہ ہے کہ چونکہ قربانی ایک اسلامی شعار ہے اور قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روک دیا گیا ہے اس لیے وہ قربانی نہیں کر سکتے۔ جبکہ قادیانیوں نے متعلقہ فورموں پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور ملکی دستور کے مطابق چار دیواری کے اندر کسی کو عبادت سے نہیں روکا جا سکتا اس لیے گھر کے اندر قربانی سے انہیں روکنا درست نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں گھر کی چار دیواری کے اندر کسی بھی گروہ کی عبادت کو تحفظ دیا گیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ میں یہ صورتحال پیش آئی اور ضلعی امن کمیٹی کے مختلف مکاتب فکر کے ممبر علماء کرام نے اس طرف توجہ دلائی تو جمعیت علماء اسلام پاکستان کے ضلعی سیکرٹری جنرل اور امن کمیٹی کے ممبر بابر رضوان باجوہ نے ایک سوالنامہ مرتب کر کے کچھ مفتیان کرام کی خدمت میں ارسال کیا جس پر میں نے تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والے بعض حضرات کو مشورہ دیا کہ چونکہ مسئلہ قانون کے نفاذ اور تطبیق سے بھی تعلق رکھتا ہے اس لیے اس بات کا اہتمام ہونا چاہیے کہ سرکردہ مفتیان کرام اور ختم نبوت کے لیے کام کرنے والے سرکردہ وکلاء مل بیٹھ کر اس کے بارے میں کوئی موقف اور لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ یہ ابہام دور ہو اور قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے عملاً روکا جا سکے۔
میرے نزدیک اس کے دونوں پہلو اہم ہیں (۱) ایک یہ کہ کسی غیر مسلم کو چار دیواری کے اندر مذہبی سرگرمیوں سے روکنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (۲) دوسرا یہ کہ دستور و قانون اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں اس کے نفاذ اور تطبیق کی عملی صورت کیا ہو گی، اور یہ بھی کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کے حوالے سے ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟
یہ مسئلہ حل طلب ہے، دونوں طبقوں کو مل کر اس کا حل نکالنا چاہیے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ پیش آمدہ مسائل سے اعراض کی بجائے ان کا سامنا کرنا ہی بہتر طریقہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ عرصہ سے میرا ایک سنجیدہ سا تاثر چلا آ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے قادیانیوں کے بارے میں دستوری و قانونی فیصلہ پر عملدرآمد کے بارے میں ابہام کی فضا قائم کر رکھی ہے اور مختلف تشریحات و تعبیرات کا ماحول ان فیصلوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے اس کنفیوژن کو جلد از جلد دور ہونا چاہیے، جس کی ایک صورت وہ ہے جو مولانا مفتی محمد اویس خان ایوبی نے پیش کی ہے کہ قادیانیوں کو مذہبی گروہ تسلیم کرنے کی بجائے غیر قانونی قرار دیا جائے۔ جبکہ اس سلسلہ میں اسٹیبلشمنٹ اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کے لیے غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ اگر سپاہ صحابہؓ، سپاہ محمدؐ، جماعت الدعوۃ اور سنی فورس سمیت بیسیوں جماعتوں کو قانون شکنی کے عنوان سے کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے تو جماعتِ احمدیہ پاکستان کو دستور کے واضح فیصلہ سے انکار کی بنیاد پر کالعدم اور غیر قانونی کیوں قرار نہیں دیا جا سکتا؟ ختم نبوت کی مقدس جدوجہد سے دلچسپی رکھنے والے تمام حلقوں کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رخ پر کام کرنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
حسن و قبح کی کلامی جدلیات اور امام رازیؒ (۲)
مولانا محمد بھٹی
مبحث کا قانونی پہلو1
نفسِ مسئلہ کی مقدور بھر تنقیح کے بعد لازم ہے کہ اس کے مضمرات و اطلاقات کا جائزہ لیا جائے۔ عنوان ہذا کا کلیدی سوال یہ ہے کہ کیا اخلاقی حسن و قبح کی کوئی تکلیفی حیثیت بھی ہے یا نہیں؟ معتزلہ اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں،اور اشاعرہ سوال کی کایا کلپ کر دیتے ہیں۔معتزلہ کا کہنا ہے کہ جو چیز حسَن یا قبیح ہے وہ واجب،مندوب،مباح یا حرام بھی ہے جبکہ اشاعرہ حسن و قبح کو حکم کا ضمنی پہلو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو چیز واجب،مندوب،مباح یا حرام ہے وہ حسن یا قبیح بھی ہے۔گویا اشاعرہ حکم کو اخلاقیات(حسن و قبح) پر مقدم قرار دیتے ہیں اور معتزلہ مزعومہ اخلاقیات کو حکم پر سبقت دیتے ہیں۔معتزلہ کے ہاں اخلاقیات تکلیفی و شرعی احکام کی اصل ہیں جبکہ اشاعرہ کے نزدیک معاملہ معکوس ہے۔یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ اہل سنت والجماعت_اشاعرہ و ماتریدیہ_کا متفقہ موقف یہ ہے کہ کسی بھی شے کے ایجاب(واجب کرنے) اور تحریم(حرام ٹھہرانے) کا حتمی اختیار صرف اللہ رب العزت کو حاصل ہے۔2
معتزلہ کا موقف:
گزارش ہے کہ معتزلہ کا موقف اصولی سطح پر نہایت خجستہ و بے ضرر معلوم ہوتا ہے لیکن جیسے ہی اس کی اطلاقات و مضمرات کو کھنگالا جائے تو اس کا بھیانک رخ بے حجاب ہو جاتا ہے۔معتزلہ کا ماننا ہے کہ جن وجوہِ عائدہ کی بنا پر کوئی فعل برا یا بھلا ٹھہرتا ہے وہی وجوہ عائدہ فعل کو واجب حرام یا مباح بھی ٹھہراتی ہیں۔یعنی موجبِ اصلی وجوہ عائدہ ہیں اور عقل یا شریعت کا کام بس ان احکام موجَبہ پر دلالت یا ان کی نشاندہی کرنا ہے۔ظلم اس لیے حرام ہے کہ وہ ظلم ہے،عقل یا شرع محض اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔ان کے نزدیک نفسِ وجوب میں حکم ربی کو کوئی دسترس نہیں ہے۔ نماز کا وجوب کنندہ بھی حکم ربی نہیں بلکہ نماز سے حاصل ہونے والی عظیم منفعت ہے،حکم ربی محض اس کے وجوب سے ہمیں آگاہ کرتاہے۔مزید براں،اگر ان منافع کا علم عقل کے ذریعے حاصل ہو جائے تو وہی علم اس کے وجوب پر دلالت کے لئے کافی ہوگا،حکم ربی کی کوئی ضرورت نہ رہے گی۔قاضی عبدالجبار لکھتے ہیں:
"لو علمنا بالعقل ان لنا فی الصلاة نفعا عظیما،وانها تؤدی بنا الی ان نختار فعل الواجب و نستحق بها الثواب،لعلمنا وجوبها عقلا"
"اگر ہم بذریعہ عقل یہ جان لیں کہ نماز میں عظیم منفعت ہے،یہ ہمیں فعلِ واجب(شکر منعم) کی ادائیگی کی طرف لے جاتی ہے اور اس کے ذریعے ہم ثواب کے حق دار ٹھہرتے ہیں تو ہم بذریعہ عقل ہی اس کا واجب ہونا بھی جان لیں گے"3
یعنی معتزلہ کے نزدیک نماز کا وجوب کنندہ بھی خدا تعالی نہیں،وجوہ عائدہ ہیں۔خدا نے تو محض اس مخفی وجوب کی نشاندہی کی ہے۔قاضی عبدالجبار خداوند متعال کے وجوب کنندہ ہونے،نہ ہونے بابت ایک استفسار کا جواب دیتے ہوئے حاکمیتِ باری تعالی کےمتعلق کچھ یوں جرات آزماتے ہیں:
"الغرض بقولهم ان الله اوجب،أنه اعلمنا وجوب الواجب،او مكننا من معرفته بنصب الأدلة"
"ان(امت) کا یہ کہنا کہ "اللہ نے(فلاں فعل) واجب کیا ہے" تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے ہمیں واجب کے وجوب سے آگاہ کیا ہے یا پھر دلائل قائم کر کے وجوب کی پہچان ہمارے لیے ممکن بنا دی ہے"4
یعنی خدا تعالی کسی فعل کو واجب نہیں کرتا بلکہ پہلے سے واجب شدہ فعل سے ہمیں محض آگاہ کرتا ہے۔معتزلہ کے اسی موقف کو عموما یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ معتزلہ عقل کو موجب/حاکم قرار دیتے ہیں۔گو کہ براہ راست تو وہ عقل کو وجوب کنندہ یا حاکم نہیں ٹھہراتے تاہم غور کیا جائے تو اس موقف کے نہاں خانوں میں حاکمیتِ عقل ہی دبکی ہوئی ہے۔کیونکہ جب یہ کہا جائے کہ 'وجہ عائد کے واجب کردہ فعل کا علم،شرع کے ساتھ ساتھ عقل پر بھی موقوف ہے اور بعض افعال کے وجوب و حرمت پر عقل کی رہ نمائی ہی کافی ہے' تو یہ بالواسطہ عقل کو ہی موجِب/حاکم قرار دینے کے مترادف ہے۔بالفرض اگر عقل کو موجب نہ بھی قرار دیا جائے جب بھی ان کے ہاں عقل جداگانہ طور پر میں مدارِ تکلیف اور ماخذ دین تو بہرحال رہتی ہے،کیونکہ ان کے مطابق حکم تک رسائی میں عقل بدونِ شریعت بھی ایک کارگر قوت ہے۔گزارش ہے کہ متذکرہ بالا موقف معتزلہ کی عقلی خودسری کا بھرپور اظہار ہے اور اپنے مآل میں شریعت اسلامی کو marginalize کر دینے کے مترادف ہے۔یہی وجہ ہے کہ اشاعرہ بھرپور استدلالی قوت کے ساتھ تردید اعتزال کے اکھاڑے میں قدم زن ہوئے اور شریعت اسلامی کے تفوق کا دفاع کیا۔عصرِ رواں کے متجددین بھی فطرت و عقل کے مبحث میں اسی معتزلی جسارت کا اعادہ کر رہے ہیں گو کہ ان کا ایسا کرنا یکسر مختلف تاریخی موثرات سے اثرپذیری کا نتیجہ ہے۔
ماتریدی زاویۂ نظر:
معتزلہ کے برعکس ماتریدی موقف اس اصول پر استوار ہے کہ موجب و حاکم صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔ماتریدیہ وجوہ عائدہ کو موجب یا حاکم نہیں کہتے اور نہ عقلی حسن و قبح کو مدار تکلیف ٹھہراتے ہیں۔وہ وجوب کو دو حصوں(نفسِ وجوب اور وجوبِ ادا) میں تقسیم کرتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ انسان میں وجوب کی اہلیت بوقتِ تخلیق ہی موجود ہوتی ہے،اسی پل انسان پر اللہ تعالی کی طرف سے بنیادی احکام واجب کر دیے جاتے ہیں۔ماتریدیہ کے اس موقف کی اساس عہد الست ہے۔وہ کہتے ہے ہیں کہ بوقت تخلیق ہی اللہ تعالی نے انسان کے شانوں پر بارِ امانت لاد دیا ہے۔قاضی ابو زید دبوسیؒ(م:۴۳۰ھ) رقم طراز ہیں:
"ان الذمة عبارة عن العهد فى اللغة،فالله تعالى لما خلق الانسان لحمل امانته و اكرمه بالعقل و الذمة حتى صار بها اهلا لوجوب الحقوق له و عليه"
"ازروئے لغت ذمہ عہد کو کہتے ہیں، سو اللہ تعالی نے جب انسان کو تخلیق کیا تو (اسی پل) اس پر بارِ امانت لاد دیا اور اسے عقل و ذمہ کے ذریعے عزت بخشی تاآنکہ وہ ان کے ذریعے حقوق و فرائض کے وجوب کا اہل بن گیا"5
البتہ پیدائش کے بعد صغر سنی کے عذر کی بنا پر اس واجب کی ادائیگی انسان سے ساقط ہو جاتی ہے کیونکہ حکم کی ادائیگی کے لئے شریعت کی طرف سے ادائیگی کا مطالبہ ضروری ہے اور شرعى مطالبے کا مخاطب بننے کے لئے عقلی تمییز اور بدنی قوت کا ہونا ناگزیر ہے۔یعنی حکم تو بوقتِ الست ہی انسان کے ذمہ میں واجب ہے لیکن اس کی ادائیگی جبھی لازم ہوگی جب شریعت فرد سے اس کا مطالبہ کرے گی۔ممکن ہے قارئین کی سطحِ ذہن پر اصولی ہم آہنگی سے متعلق یہ سوال ابھرے کہ پھر حسن و قبح کے عقلی ہونے کا ثمرہ کیا برآمد ہوا؟ گزارش ہے کہ ماتریدیہ حسن و قبح کی پہچان، جسے قاضی ابو زید دبوسی تمییز سے تعبیر کرتے ہیں، کو حکم شرعی کا مخاطب بننے کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں۔یعنی عقلی حسن و قبح کسی شے کو قانونا واجب یا حرام نہیں ٹھہراتا بلکہ انسان کو شریعت کا مخاطب بننے کے قابل کر دیتا ہے۔گویا بھلے برے کی تمیز کا ملکہ حاصل ہو جانے کے بعد انسان مخاطبِ شریعت بننا qualify کر جاتا ہے۔ چونکہ ان کے نزدیک حسن و قبح بلا کسی گہرے سوچ و بچار کے، محض بداہتِ عقل سے ہی حصارِ معلومیت میں آ جاتا ہے لہذا جیسے ہی کوئی شخص سنِ تمیز میں قدم رکھے گا تو خو بہ خود شریعت کا مخاطب بن جائے گا۔
اسی طرح ماتریدیہ عرفانِ حسن و قبح کے عقلی ملکہ کو بوقتِ تخلیق اللہ تعالی کی طرف سے واجب کردہ احکام پر دلالت سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔گویا بذریعہ عقل معلوم ہونے والا حسن و قبح دراصل انہی احکام واجبہ کی یاد دہانی ہے جو بوقتِ الست واجب کیے گئے۔ با ایں ہمہ محض اس عقلی دلالت سے کسی حکم کی ادائگی لازم نہیں ہو گی بلکہ اس حکم کی ادائیگی یا بالفاظ دگر قانونی حیثیت ازروئے شرع ہی لازم و متعین ہو گی۔6 حسن و قبح کے عقلی ہونے کا مفاد بس اسی قدر ہے کہ اس سے آدمی شریعت کا مخاطب بننے کی اہلیت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو اشاعرہ و معتزلہ دونوں کے روبرو ماتریدیہ کا موقف زیادہ متوازن، عمیق اور بصیرت افروز ہے۔
اشعری موقف:
دریں باب اشعری موقف گزشتہ مواقف کی طرح نہایت دوٹوک ہے۔اشعری نظام میں حکم و وجوب کے معاملہ میں نبی اور شریعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔نبی کی آمد سے پیشتر وہ کسی حکم کے قائل نہیں ہیں۔ان کے نزدیک موجب/حاکم محض اللہ تعالی کی ذات ہے اور حکم/وجوب محض سمع و شریعت سے معلوم ہوتا ہے چنانچہ شریعت سے ماقبل بندے کے لئے کوئی حکم نہیں ہے۔يہی موقف امام فخرالدین رازیؒ "المحصول" میں یوں ضبط قرطاس فرماتے ہیں:
"ان قبل الشرع ما ورد خطاب الشرع-فوجب ان لا یثبت شیئ من الاحکام لما ثبت:ان الاحکام لاتثبت الا بالشرع"
"شریعت سے ماقبل چونکہ خطاب شرعی کا ورود نہیں ہوا چنانچہ لازم ہے کہ کوئی بھی حکم ثابت نہ ہو کیونکہ یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ احکام صرف شریعت سے ہی ثابت ہوتے ہیں"7
عرفانِ باری تعالی
انسان پر اولین واجب کیاہے؟اس سوال کے جواب میں تینوں کلامی مکاتبِ فکر یک زبان ہو کر گویا ہوتے ہیں کہ معرفتِ خداوندی کے لئے آیاتِ الہی میں غور و فکر كرنا انسان پر واجبِ اولیں ہے۔فرد پر یہ لازم ہے کہ وہ انفس و آفاق میں موجود خدا کی نشانیوں پر غور و فکر کر کے خدا کا عرفان حاصل کرے۔لیکن جب یہ استفسار کیا جائے کہ انسان پر یہ نظر و فکر واجب کرنے والا کون ہے تو ہر سہ فریق حسبِ اختلافِ اصول،مختلف جوابات ارزاں کرتا ہے۔اشاعرہ کے نزدیک عرفان خدا کے لئے نظر و فکر کا موجب اللہ تعالی ہے اور یہ وجوب شرع سے ہی ثابت ہوتا ہے۔لہذا اگر کسی شخص کو نبی کی دعوت نہ پہنچی ہو تو اس سے معرفتِ خداوندی بابت بھی کوئی پرسش نہ ہوگی۔معتزلہ کے نزدیک اس غور و فکر کو واجب ٹھہرانے والی وجہ شکرِ منعم ہے جس کا حسن ہونا بذریعہ عقل معلوم ہے لہذا عرفان خدا کے لئے انفس و آفاق میں غور و فکر کا وجوب بھی عقلا ثابت ہوتا ہے۔
ماتریدی اصولی نظام کی رو سے بظاہر اس مسئلہ کا جواب یوں ہونا چاہیے تھا کہ غور و فکر کا موجب اللہ تعالی ہے اور اس واجب کی ادائیگی شرع کے مطالبے سے لازم ہوتی ہے۔لیکن یہاں امام ابوحنیفہؒ کا ایک قول آڑے آ جاتا ہے کہ غور و فکر کی ادائیگی حکمِ شریعت کی غیر موجودگی میں بھی واجب ہے اور اس سے بے اعتنائی کا کوئی عذر مسموع نہیں ہے۔قاضی ابو زید دبوسیؒ اس قول کو اصولی سانچے میں موزوں کرنے کے لئے اس کی توجیہہ یوں فرماتے ہیں کہ امام صاحب نے ادائیگی کو بذریعہ عقل لازم نہیں ٹھہرایا بلکہ آپ کی مراد دراصل یہ ہے کہ خدا تعالی نے انسان کو جا بہ جا پھیلی آیات الہی کی صورت میں جو دلائل اور نظر و فکر کے لئے جو مہلت عنایت کی ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی عدم تفکر کا عذر تراشے تو اس کا عذر خدا کے ہاں قابلِ قبول نہ ہوگا8۔قاضى صاحب ایک اور مقام میں اس مسئلہ کو قدرے بسط کے ساتھ موضوعِ سخن بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ معرفتِ باری تعالی کا نفسِ وجوب تو بوقت تخلیق ہی ثابت ہے تاہم چونکہ انسان اہواء و شہوات کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہو کر اس واجب کو فراموش کر بیٹھتا ہے،اس لیے بذریعہ شرع اس واجب کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔گویا نبی کے ذریعے واجب کی ادائیگی کا مطالبہ غافل کو تنبیہ کیے جانے کی مانند ہے۔اس مطالبہ کا مطلب دراصل خوابِ غفلت میں مگن انسان کو جھنجوڑ کر بیدار کرنا ہوتا ہے۔
مزید براں آپ فرماتے ہیں کہ تصویر کے لئے مصور کا ہونا اور عمارت کے لئے کسی معمار کا ہونا بدیہی حقیقت ہے جسے بغیر کسی خارجی راہنمائی کے انسان بُوجھ لیتا ہے۔ایسے ہی زمین و آسمان کا بھی کسی خالق کی تخلیق ہونا ایک بدیہی امر ہے۔عرفان باری تعالی کے معاملہ میں یہ بداہتِ عقلی دراصل نبی کی تنبیہہ کے ہی قائم مقام ہے۔پس جس انسان کے پاس عقل بھی ہو اور مہلت بھی ہو،پھر اس کی عقل اسے خواب غفلت سے بیدار بھی کر رہی ہو اسے کیسے یہ عذر دیا جا سکتا ہے کہ اس نے گوناگوں عجائب سے لدے اور بوقلموں غرائب سے اٹے گیتی و گگن تو دیکھے لیکن یہ نہ جان سکا کہ ان کا کوئی مصور و خالق بھی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بداہتِ عقلی کا یہ جھنجوڑنا نبی کے جھنجوڑنے کے ہی قائم مقام ہے۔اب بھی اگر وہ خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہو تو یہ حجت اور دلیل کے استخفاف اور اس شخص کی ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں،ایسے ہٹ دھرم کے لئے کوئی عذر بروز قیامت کیونکر مسموع ہوگا؟!9
شکرِ منعم کا قضیہ
جیسا کہ سابقہ سطور میں مرقوم ہوا کہ معتزلہ عرفانِ خدا کے وجوب کی بنیاد شکر منعم کو بناتے ہیں۔دریں باب معتزلی موقف کی جڑیں ان کے تصور حسن و قبح میں ہی پیوست ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انواع و اقسام کی نعمتوں سے محظوظ ہوتے شخص سے عقل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ منعِم کا شکر بجا لائے۔عقل شکر کو اچھا اور واجب ٹھہراتی ہے اور ناسپاسی کو قبیح اور حرام جانتی ہے۔لہذا شکر کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ عرفانِ منعم کی جستجو کی جائے اور جانا جائے کہ آخر کون ذات ہے جو یہ انعامات ہم پر ارزاں کر رہی ہے۔ہرچند کہ عقلی حسن و قبح کے استرداد کے بعد شکر منعم کے وجوب پر الگ سے بحث کی زیادہ حاجت نہیں رہتی،با ایں ہمہ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر امام رازی نے اس معتزلی موقف کی بھی خوب خبر لی ہے۔آپ شکر منعم کے عقلی وجوب کی تردید کے لئے برسبیل تنزل عقلی حسن و قبح کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عقلا شکر منعم کی تمام تر سرگرمی بے معنی ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ شکر منعم کے وجوب میں اگر کوئی خارجی غرض اور فائدہ مضمر نہ ہو تو ایسے بے غرض فعل کو عقلی (Rational) بنیادوں پر لازم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ایسا فعل عقلا ایک فعلِ عبث ہے جو معتزلہ کے نزدیک قبیح ہے اور اگر اس سے کوئی غرض براری مقصود ہے تو لازمی طور پر وہ غرض یا تو کسی منفعت کا حصول ہے یا پھر کسی پیش آمدہ مضرت سے خلاصی،اور یہ دونوں موہوم ہیں۔کیونکہ اللہ تعالی اس بات پر قادر ہے اور اس بات كا قوی احتمال موجود ہے کہ وہ بندے کو بغیر شکرگزاری کے بھی منفعت بخش دے اور شکرگزاری کے باوجود مضرت سے دوچار کردے،نیز اگر منفعت کا حصول قطعی بھی ہو تو بھی عقل منفعت کی تحصیل کو واجب و لازم نہیں ٹھہراتی۔اسی طرح اگر شکرگزاری سے مقصود مضرت کو دور کرنا ہو،بایں معنی کہ ناشکری کی صورت میں بندے کو کسی افتاد کا یقین ہو اور وہ شکر کے ذریعے اس کو ٹالنا چاہتا ہو تو یہ بھی موہوم امر ہے،کیونکہ ناشکری کی صورت میں عذاب و سزا سے دوچار ہونے کا جزم و یقین جبھی ممکن ہے جب مشکور کے لئے سپاس گزاری راحت افزا اور ناسپاسی رنج افزا ہو ،جبکہ خدا تو راحت و رنج سے بے نیاز ذات ہے۔لہذا ناشکری پر افتاد کا ٹوٹ پڑنا کوئی لازمی امر نہیں ہے بلکہ شکرگزاری کے باوجود عذاب و سزا کا اندیشہ برقرار رہتا ہے۔بنابریں بہر صورت شکر منعم ازروئے عقل ایک لایعنی سرگرمی قرار پاتی ہے۔
امام صاحب کی حصری تقسیم پر یہ سوال وارد ہوا کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ شکر محض شکر ہونے کی وجہ سے واجب ہو،اس کو اغراض یا منفعت و مضرت سے لازمی طور پر نتھی کرنا کیوں ضروری ہے؟اگر غور کیا جائے تو یہ اشکال ایک داخلی تضاد کا شکار ہے۔معترض فعل کے عقلی(Rational) ہونے پر بھی مصر ہے اور اسے بے غرض بھی منوانا چاہتا ہے۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ از روئے عقل یہی تقسیم ممکن ہے کہ فعل یا تو جلب منفعت پر مبنی ہو یا پھر اس میں دفع مضرت پوشیدہ ہو کہ عقل صرف منفعت کی اور لپکتی اور مضرت سے بھاگتی ہے۔اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ شکر محض شکر ہونے کی بنا پر ہی حسن و واجب ہے تو اس کا معتزلہ کے ہاں بھی منتہائی مطلب یہی ہے کہ شکرگزاری مدح و اجر کا تقاضا کرتی ہے اور ناسپاسی مذمت و عقاب کا حقدار ٹھہراتی ہے۔یہ شکر اور عدم شکر پر منفعت ومضرت کا ترتب نہیں تو اور کیا ہے؟ امام صاحب کے انتقاد پر یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ یوں تو پھر شرعا بھی شکر خداوندی کا واجب ہونا بے کار بلکہ قبیح ٹھہرتا ہے۔ مگر گزارش ہے کہ اگر عقلی حسن و قبح کو کسوٹی بنایا جائے تو بات یقینا ایسی ہی ہے لیکن یہاں امام صاحب اپنا موقف بیان نہیں فرما رہے بلکہ معتزلی موقف کی داخلی ناہمواری کو عیاں کر رہے ہیں۔امام صاحب کا مقصود فریق مخالف کے بنیادی مقدمہ کو برسبیلِ تنزل مان کر اسے اس کے موقف اور اصول کی باہمی کھٹ پٹ اور آپسی ان بن کا احساس دلانا ہے۔10
افعالِ الہیہ پر اخلاقی قیود کا اطلاق
جیسا کہ پیش ازیں مرقوم ہوا کہ معتزلہ اپنے تصورِ اخلاقیات میں آفاقیت کا رنگ بھر کے اسے خدائی افعال تلک وسعت بخشتے اور انسانی عقل سے معلوم شدہ مزعومہ اخلاقیات کو خدا پر وارد کرتے ہیں۔معتزلہ کی یہ اخلاقی توسیع اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا خدا تعالی ان مزعومہ قبائح پر قادر ہے یا پھر خدا کا دامانِ قدرت ایسے افعال کے کر گزرنے سے تہی ہے۔اس سوال کی جواب ارزانی معتزلہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ایک گروہ ایسے افعال پر خدائی قدرت کا ہی انکار کر دیتا ہے جبکہ دوسرا گروہ یہ تو اقرار کرتا ہے کہ خدا ان قبائح پر قادر ہے لیکن اس کا ماننا ہے کہ خدا کی بے نیازی ایسے افعال سے گریز پائی کی متقاضی ہے۔اسی اختلاف کو قاضی عبدالجبار معتزلی یوں سپرد قرطاس کرتے ہیں:
"حكى عن النظام والأسوارى والجاحظ أن وصفه تعالى بالقدرة على الظلم والكذب و ترك الاصلح محال.............والذى يذهب اليه شيوخنا أبو الهذيل واكثر اصحابه وابو على وابو هاشم رحمهم الله أنه تعالى يوصف بالقدرة على ما لو فعله لكان ظلما و كذبا وان كان تعالى لا يفعل ذلك لعلمه بقبحه و باستغنائه عن فعله"
"نظام(م:۲۲۱ھ)،اسوارى(م:۲۴۰ھ) اور جاحظ(م:۲۵۵ھ) سے یہ موقف منقول ہے کہ خدا تعالی کو ظلم و کذب اور ترک اصلح پر قادر قرار دینا محال ہے۔۔۔۔اور ہمارے شیوخ یعنی ابو ہذیل(م:۲۳۵ھ)، ان كے اكثر أصحاب، ابو علی جبائی(م:۳۰۳ھ) اور ابو ہاشم(م:۳۲۱ھ) نے یہ موقف اپنایا ہے کہ خدا تعالی ظلم و کذب ایسے افعال پر قدرت سے موصوف تو ہے تاہم وہ ان کے قبح سے آگاہ ہونے اور ان سے بے نیاز ہونے کی بنا پر ان کو انجام نہیں دیتا"11
اخلاقی اقدار کی معروضیت و اصولیت کی نفی پر ایستادہ اشعری نظام میں معتزلی موقف اور اس کا پیدا کردہ قدرت و عدم قدرت کا سوال بے معنی ہے۔کیونکہ جب حسن و قبح کسی شے کی ذاتی و خانہ زاد خاصیت نہیں بلکہ خدائی حکم کا ہی اطلاقی اظہار ہے تو پھر خدا کے حق میں کسی شے کو اخلاقی طور پر قبیح ٹھہرانے کی سرگرمی مکمل طور پر لایعنی ہو جاتی ہے۔اشعری نظام کی رو سے خدائی افعال بابت معتزلی موقف 'بناء الفاسد علی الفاسد' کا شاخسانہ ہے۔اشاعرہ کا دوٹوک اور بے لاگ موقف یہ ہے کہ خدا پر مزعومہ اخلاقی اقدار کو وارد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خدا موردِ اخلاقیات نہیں منبعِ اخلاقیات ہے۔اشاعرہ کے نزدیک جس طرح خدا کا حکم کردہ فعل لازماً حسن ہے اسی طرح خدا کا اختیار کردہ فعل بھی لازمی طور پر حسن ہے۔امام رازیؒ "نهایة العقول" میں اسی اشعری پوزیشن کو کچھ یوں ارقام فرماتے ہیں:
"انا لانسلم انه یقبح من الله شیئ،بل کل ما یفعله فهو صواب وحسن،وهذا بناء علی نفی الحسن و القبح العقلیین"
"ہم اللہ تعالی سے کسی قبیح کا صدور تسلیم نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالی جو کچھ بھی کرتا ہے وہ صواب اور بھلا ہوتا ہے۔ ہمارا یہ موقف عقلی حسن و قبح کی نفی پر مبنی ہے۔"12
عدل، رعایتِ اصلح اور غرض و علت:
مناسب ہو گا کہ خدا تعالی کی نسبت معتزلہ کی طرف سے گھڑے گئے عدل اور رعایتِ اصلح ایسے مخصوص تصورات بارے راہِ سخن نکالی جائے کیونکہ یہ دونوں تصورات بھی معتزلی حسن و قبح کے خم سے ہی چھلکے ہیں۔بھلا کون ناہنجار ہے جو خدا کی عدل گستری سے مجالِ انکار پاتا ہے،مگر سوال یہ ہے کہ معتزلہ عدل سے مراد کیا لیتے ہیں۔اس سوال کا جواب ارزاں کرتے ہوئے 'المغنی' میں قاضی عبدالجبار معتزلی کا کہنا ہے کہ عدل ہر اس فعل کو کہا جاتا ہے جو غیر کی نفع رسانی یا ضرر رسانی کے پیش نظر انجام دیا جائے۔بعد ازاں وہ ضرر رسانی کے ساتھ 'علی وجہ یحسن' کی قید کا اضافہ فرماتے ہیں یعنی وہ ضرر ظلماً نہ ہو بلکہ کسی گزشتہ جرم کی پاداش میں ہو۔مزید فرماتے ہیں کہ خدائی افعال پر بھی عدل کا اطلاق اسی بنا پر کیا جاتا ہے کہ خدا انہیں مخلوق کے فائدہ یا ضرر کے لئے انجام دیتا ہے۔13رہی 'اصلح للعباد' کی رعایت،تو اس سے معتزلہ کی مراد خدا کا اپنے تمام تر افعال میں بندوں کی بہتری کو پیشِ نگاہ رکھنا ہے۔ان کے نزدیک یہ بات خدا کے لائق نہیں کہ وہ کفر و معاصی کو معرضِ تخلیق میں لا کر بندوں کو عصیان کا موقع فراہم کرے۔ لہذا وہ کفر و عصیان پر مبنی أفعال کا خالق بندوں کو قرار دیتا ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو عدل اور رعایت اصلح پر مبنی معتزلی موقف کی تہہ میں معروضیتِ حسن و قبح کے سنگ بہ سنگ ایک اور اصل بھی کارفرما ہے،وہ یہ کہ خدائی افعال کسی نہ کسی غرض اور علت سے منسلک ہوتے ہیں۔وہ غرض یا تو منفعتِ عباد ہے یا مضرتِ عباد علی وجہ یحسن یا پھر رعایتِ اصلح للعباد!
امام رازیؒ ان مخصوص معتزلی تصورات کے محاکمہ سے پیشتر ان کی اسی اصولی بنیاد کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔آپ کا فرمانا ہے کہ خدائی أفعال معلل بالعلۃ نہیں ہوتے، ان کو کو اغراض و علل(اصلح وغیرہ) پر موقوف قرار دینا ذاتِ باری تعالی کے نقص کو مستلزم ہے،کیونکہ جب بھی کوئی فعل غرض براری کے لئے انجام دیا جاتا ہے تو لازمی طور پر فاعل کے لئے اس غرض کا بر آنا اولی اور بہتر ہوتا ہے کیونکہ اگر غرض کا پورا ہونا اور نہ ہونا دونوں اس کے لئے برابر ہوں تو وہ 'غرض' نہیں کہلائی جا سکتی۔اب اگر یہ مان لیا جائے کہ خدائی افعال اغراض و علل پر مبنی ہیں اور بندے کی منفعت یا مضرت خدا کی اغراض ہیں تو اس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ ان اغراض کا بر آنا خدا کی لئے بہتر اور اولی ہے۔یہ نتیجہ بارگاہِ خداوندی میں نقص کو مستلزم ہے کیونکہ یہ کہنا کہ ان اغراض کا پورا ہونا خدا کے لئے بہتر ہے دراصل یہ ماننا ہے کہ ان اغراض کے بر آنے سے خدا کو ایک گونہ ایسی بہتری اور اولویت نصیب ہوئی ہے جس سے وہ پہلے محروم تھا۔یہ بات خدا تعالی کی اکملیت کے منافی اور اس كے نقص کے مترادف ہے جو اس ذاتِ ستودہ صفات کے حق میں محال ہے۔
مزید براں آپ فرماتے ہیں کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ رب تعالی کسی نہ کسی غرض کے پیش نظر فعل انجام دیتا ہے تو دریں صورت دو احتمال ابھرتے ہیں۔ یا تو خدا فعل کو وسیلہ بنائے بغیر اس غرض کے حصول پر قادر ہے یا نہیں، اگر قادر ہے تو پھر فعل کو وسیلہ بنانا عبث ہے اور اگر قادر نہیں تو یہ عدمِ قدرت عجزِ خدا کو مستلزم ہے جو کہ محال ہے۔14 دریں باب مشہور اشعری متکلم قاضی ابوبکر باقلانی(م: ۴۰۳ھ) کی دلیل ذکر کر دینا بھی فائدہ سے خالی نہ ہو گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ أغراض کی نسبت اس ذات کی طرف درست ہوتی ہے جو جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت کا حاجت مند ہو اور جلبِ منفعت و دفعِ مضرت کی نسبت اس ذات کی طرف درست ہوتی ہے جس پر آلام و لذات کا گزران ممکن ہو۔ خدا تعالی آلام و لذات سے مبرا اور جلبِ منفعت و دفعِ مضرت سے منزہ ہے۔
آپ مزید فرماتے ہیں کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ افعالِ الہیہ کسی علت، باعث یا محرک پر موقوف ہوتے ہیں تو بتایا جائے کہ خلقِ عالم کا فعل جس علت، باعث یا محرک پر موقوف ہے وہ حادث ہے یا قدیم؟ اگر یہ کہا جائے کہ قدیم ہے تو عالم کا بھی قدیم ہونا لازم آئے گا کیونکہ جب علت قدیم ہے تو لازما معلول بھی قدیم ہوگا کہ علت و معلول میں تخلف جائز نہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ خلقِ عالم کی علت حادث ہے تو لازم ہے کہ اس کے حدوث کی بھی کوئی علت ہو اور پھر اس علت کے حدوث کی بھی کوئی علت ہو۔ یہ سلسلہ لانہایۃ تک وسعت پذیر ہو گا جو کہ محال ہے؛ نتیجتا عالم کا وجود ہی محال ٹھہرے گا۔15گزارش ہے کہ خدائی افعال کا کسی علت و غرض پر موقوف نہ ہونا اصلاً {لا یسئل عما یفعل} اور {فعال لما یرید} ایسی آیاتِ قرآنیہ کا مدلول ہے۔امام رازی کے عقلی دلائل کا مقصد دراصل اس مدلولِ قرآنی اور عقیدۂِ حقہ کے گرد دفاعی حصار قائم کر کے معتزلہ کی خودسر عقل کو اس کی 'اوقات' سے آگاہ کرنا ہے۔
افعالِ باری تعالی کے مبنی بر اغراض و علل ہونے کو مسترد کر دینے کے بعد امام صاحب کے لئے یہ سوال نمودار ہوتا ہے کہ اگر خدائی افعال کسی غرض و علت کا شاخسانہ نہیں ہیں تو پھر احکام میں مصلحت اور دورانِ قیاس علت تلاشنے کی تمام تر سرگرمی کا کیا معنی ہے؟دراں حالیکہ اشعری فقہاء بھی خدائی احکام کے مخصوص اوصاف کو حکم کی علت قرار دے کر حکم کو متعدی کرتے ہیں۔امام صاحب 'نہایة العقول' میں اس شبہہ کو فرو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہر چند ہمارا ماننا ہے کہ خدائی افعال معلل بالاغراض نہیں ہوتے اور خدا کا مطمح نظر مصالحِ عباد کی رعایت نہیں ہوتا تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدائی احکام سے مصالحِ عباد کی تکمیل بھی نہیں ہوتی۔یہ عین ممکن ہے کہ کسی فعل و حکم سے خدا کی غرض مصلحت کی رعایت نہ ہو لیکن اس کے باوجود معتد بہ احکام مصلحتِ عباد کے مطابق ہوں۔16 البتہ خدا کے لئے کسی مصلحت کی رعایت واجب نہیں ہے؛ وہ مختارِ کل جو چاہے کر گزرے۔علتِ قیاسی سے متعلق اشکال کو رفع کرتے ہوئے امام صاحب اصول فقہ پر اپنی مایہ ناز تصنیف "المحصول" میں ارشاد فرماتے ہیں کہ قیاس میں بروئے کار لائی جانے والی اصطلاح 'علت' سے مراد حکم کے پیچھے کارفرما کوئی غرض یا داعیہ نہیں بلکہ اس سے ایسا وصفِ معرِّف مراد ہےجو نص سے ثابت شدہ حکم کی نوع کے دیگر افراد کی پہچان کرواتا ہے۔17یعنی قیاسی علت حکمِ خداوندی کا باعث نہیں ہوتی بلکہ یہ محض ایک علامت و نشانی ہوتی ہے جس کا کسی اور شے میں پایا جانا انسان کو اس شے سے متعلق حکم شرعی سے آگاہ کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر علت ایسی علامت ہے جو حکم کے دیگر اطلاقات کو ظاہر کرنے میں معاونت کرتی ہے۔یہ اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ حکم کن کن چیزوں کو شامل ہے۔ جیسے سود کی علت احناف کے نزدیک قدر مع الجنس ہے۔ یہ قدر مع الجنس حکمِ حرمت میں موثر نہیں ہے بلکہ ایک ایسا معرف ہے جو اس حکم کے دیگر اطلاقات کی پہچان کروا رہا ہے؛ جس شے میں قدر مع الجنس کا تحقق ہو گا اس میں سود پایا جائے گا اور اسی پر حرمت کا حکم کا اطلاق ہوگا۔
وجودِ شر اور عدلِ الہی:
معروضی و آفاقی حسن و قبح پر مبنی معتزلی نظامِ اخلاقیات کے لئے پہلے ہی قدم پر ایک اچنبھا یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر حسن و قبح اشیاء کی ذاتی و واقعی صفات ہیں اور خدا تعالی ان قبائح سے پاک و منزہ ہے تو پھر سینہ گیتی پر موجود شر کو کس نے پیدا کیا؟اس سوال نے معتزلہ کے لئے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کی سی کیفیت پیدا کر دی،اگر خدا کو شر کا خالق بتائیں تو اپنا موقف زمیں بوس ہوتا ہے،بصورتِ دیگر تعمیمِ قدرت پر حرف آتا ہے۔بایں ہمہ،معتزلہ نے اپنے مخصوص تصورِ تنزیہہ کو ترجیح دیتے ہوئے قدرتِ خداوندی پر حرف گیری کو قبول کر لیا۔انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ بندہ اپنے افعال کا ازخود خالق ہے،خدا کے دستِ قدرت کو تخلیقِ افعال میں کوئی دخل نہیں۔گویا بارش سے بچتے پرنالے تلے جا کھڑے ہوئے۔معتزلہ کا ماننا ہے کہ بندے کو افعال کی انجام دہی کی مستقل قدرت حاصل ہے اور بندہ اپنی اسی مستقل قدرت کے ذریعے شر کو معرِض وجود میں لاتا ہے۔گزارش ہے کہ تخلیقِ شر کا معتزلی جواب دراصل تحدیدِ قدرت کی جسارت ہے۔مجوس کو یہی سوال درپیش ہوا تو انہوں نے یزداں کو نسبتِ قبح سے بچانے کے لئے 'اہرمن' کی صورت میں دوسرا خدا گھڑ لیا۔معتزلہ نے خدا کی یکتائی پر تو آنچ نہ آنے دی مگر خدا پناہ کہ اسی یکتا خدا کو گویا اپاہج قرار دے دیا۔ملامت کا دغدغہ اور بات کی پچ بھی کیا کیا رنگ دکھاتے ہیں۔
معتزلہ کے برعکس اہل سنت کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ عالم ممکنات میں خدا کے ارادے اور تخلیق کے بنا کوئی بھی شے معرضِ وجود میں نہیں آ سکتی اور نہ ہی کوئی بندہ ارادہ الہیہ سے بالکلیہ آزاد اور مستقل قدرت کا حامل ہے بلکہ اس کی قدرت ہر آن قدرت الہیہ سے وابستگی کا دم بھرتی اور اس کا فعل ہر پل بارگاہِ حق سے اذنِ وجود پاتا ہے۔گزارش ہے کہ خلقِ افعال بابت معتزلی موقف دو گونہ مفروضہ جات پر مبنی ہے۔اول یہ کہ حسن و قبح اشیاء کی خانہ زاد خصوصیت ہے اور دوسرا یہ کہ جو فعل بندوں کے لئے قبیح ہے وہی خدا کے لئے بھی قبیح ہے۔امام رازیؒ نے ان دونوں مفروضہ جات کو بہ یک قلم مسترد کیا ہے۔پہلا فرضیہ تو تنقید کی چھلنی سے ہو گزرا، دوسرے کے متعلق آپ کا فرمانا ہے کہ خدا پر انسانی اخلاقیات کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اپنے اس موقف کو آپ ایک مثال سے موید فرماتے ہیں،آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو یہ جانتے ہوئے ایک مکان میں بند کر دے کہ وہ ایک دوسرے سے غلط کاری میں ملوث ہو سکتے ہیں اور اپنے اس فعل کی جواز سازی کے لئے یہ حیلہ گھڑے کہ میں نے ان کو اس لیے یکجا کیا ہے تا کہ یہ صبر سے کام لیں اور ثواب کے سزاوار ہوں،تو کوئی بھی ذی شعور اس شخص کے اس فعل کو حسن نہیں کہے گا لیکن خدا اگر اپنے بندوں کو اسی ڈھب پر ایک جگہ محصور کر دے تو کوئی بھی خردمند اس خدائی فعل کو قبیح گرداننے کی جسارت نہیں سكتا۔18معلوم ہوا کہ یہ فرضیہ سراسر غلط ہے کہ جو انسان کے لئے قبیح وہی خدا کے لئے بھی قبیح ہے۔گزارش ہے کہ خلقِ افعال یا خلق شر کا معتزلی نظریہ جہاں براہ راست مسئلہ حسن و قبح سے متعلق ہے وہیں ان کے تصورِ عدل و اصلح سے بھی کسبِ فیض کرتا ہے۔معتزلہ کا ماننا ہے کہ خدا کا خالقِ شر ہونا ترکِ اصلح کو مستلزم ہے۔ترک اصلح کی قباحت کا بے اساس و بے بنیاد ہونا گزشتہ سطور میں بیان کیا جا چکا ہے۔
معتزلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ خدائی عدل کا تقاضا ہے کہ وہ کفر و عصیان کو وجود ہی نہ بخشے،بصورت دیگر خدا کا ظالم ہونا لازم آئیگا کہ وہ خود ہی کفر و عصیان کو تخلیق کرتا ہے اور پھر بندوں کو اس کے اختیار پر مبتلائے عذاب بھی کرتا ہے۔امام صاحب اپنی شہرہ آفاق تفسیر "تفسیر کبیر" میں سورة الانبياء كى آیت مبارکہ {فلا تظلم نفس شیئا} کی تفسیر کے ذیل میں اس معتزلی شبہہ کو يوں فرو کرتے ہیں:
"الظلم ھو التصرف فی ملك الغير وذلك في حق الله تعالى محال لانه المالك المطلق"
"ظلم غیر کی ملکیت میں تصرف سے عبارت ہے اور یہ اللہ تعالی کے حق میں محال ہے کیونکہ وہ مالک مطلق ہے"19
امام صاحب کے نزدیک خدا تعالی کے لئے ظلم کے روا یا ناروا ہونے کا اخلاقی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ خدا کے حق میں ظلم سرے سے ہی محال ہے کہ ظلم تو غیر کی ملکیت میں بے جا تصرف کا نام ہے اور جملہ مخلوق اللہ تعالی ہی کی ملک ہے،وہ مالک مطلق جس سے جیسا چاہے معاملہ فرمائے،اس کا ہر معاملہ عدل سے لبالب ہے۔یہیں سے اشاعرہ کا تصور عدل بھی ہویدا ہو جاتا ہے۔امام رازی نے "لوامع البینات" میں اللہ تعالی کے اسم عدل کی جو توضیح کی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک اللہ تعالی کی ذات پر اسم عدل کا اطلاق،کسی اخلاقی معنی کی بجائے خالصتا لغوی(Lexical) معنی میں ہوتا ہے۔خدا کے عدل ہونے سے مراد اس کی ذات کا بایں معنی معتدل و متوازن ہونا ہے کہ وہ ایسے جملہ نقائص سے پاک ہے جو اس کے خدا ہونے کے وجودی معنی میں خلل انداز ہوں۔مزید براں آپ کا فرمانا ہے کہ افعال الہیہ پر عدل کا اطلاق اس معنی میں ہے کہ وہ ظلم پر مبنی نہیں ہوتے۔20یعنی امام صاحب دراصل عدل کو ظلم کی نقیض کے طور پر لیتے ہیں۔گویا آپ کے ہاں خدائی افعال پر عدل کا اطلاق،کوئی اخلاقی حکم نہیں بلکہ خدا تعالى پر اطلاقِ ظلم کے عقلی استحالہ کا بیان ہے۔
چونکہ ہمارا براہ راست موضوعِ بحث خلقِ افعال نہیں،حسن و قبح ہے،لہذا خلق افعال کی تفصیلی کھود کرید سے گریز کرتے ہوئے اس سلسلہ میں اختصارا عرض ہے کہ دریں باب معتزلہ کا موقف خلق و کسب کے التباس پر مبنی ہے۔افعال کا خالق بے شک خدائے قادر ہے مگر افعال کا کاسب بندہ ازخود ہے اور جزا و سزا کا ترتب کسبِ فعل پر ہوتا ہے نہ کہ خلقِ فعل پر!
حکمت الہیہ:
مبحث حسن و قبح میں حکمت الہیہ کی بحث ازبس اہمیت کی حامل ہے۔ہر سہ کلامی فریق کا تصورِ حسن و قبح اس کے تصورِ حکمت کا صورت گر ہے۔بلکہ خدائی افعال بابت ماتریدی زاویہ نظر تو مکمل طور پر ان کے تصورِ حکمت سے وابستہ ہے۔گزارش ہے کہ تینوں مکاتب فکر کے تصور ہائے حکمت باہم ایسی مخاصمانہ چسپیدگی رکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا فہم دوسرے کی تفہیم سے مشروط ہے۔معتزلہ حکمت کو عدل ہی کے معنی میں لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا تعالی کے حکیم ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہ مخلوق کے نفع یا کسی ایسے ضرر کے لئے فعل انجام دے جو کسی سابقہ جرم پر سرزنش کے طور پر ہو۔21حکمت و عدل کے اس تصور کا تفصیلی استرداد پیش ازیں تحرير کیا جا چکا ہے۔معتزلہ کے برعکس،ماتریدیہ کا تصورِ حکمت منفعت و مضرت ایسی اغراض پر بنا نہیں کرتا۔ماتریدیہ حکمت کو خدا کی صفت تکوین کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔امام ابومنصور ماتريدیؒ اپنی گراں مایہ تصنیف "کتاب التوحید" میں حکمت کی تعریف کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:
"تاویل الحکمة الاصابة،وهو وضع كل شيئ موضعه"
"حکمت کا معنی اصابت ہے اور اصابت،شے کو اس کی مناسب جگہ میں رکھنے کا کا نام ہے"22
امام ماتریدی نے اسی تصور حکمت کو بنیاد بنا کر معتزلہ کے تصور اصلح و عدل کا انتقاد سپرد قلم کیا ہے۔آپ کے مطابق خدا کے تمام افعال مبنی بر حکمت و عدل ہوتے ہیں اگرچہ انسانی عقل بعض افعال کی حکمت کے ادراک سے قاصر ہی کیوں نہ ہو۔ اس جہانِ رنگ و بو کے حیطۂ عدم سے معرض وجود میں آنے کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
"لزم القول بضرورة العقل لجواز کون العالم لا عن شیئ و خروج فعله علی الحکمة،وان عجزت عقول حکماء العالم عن ادراکها لخروج وجه الحكمة عن نهاية قوة عقولها"
" اس جہان کے عدم سے وجود میں آنے کو ممکن ٹھہرانا خدائی فعل کو مبنی بر حکمت قرار دینا ضرورتِ عقلی کا تقاضا ہےاگرچہ جہان بھر کے خردمندوں کی عقلیں،دلیلِ حکمت تک بار نہ پا سکنے کی بنا پر اس کے ادراک سے قاصر ہوں۔"23
قاضی ابو زید دبوسیؒ حکمت کی مراد عاقبت حمیدہ بیان کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ خدائی افعال کے مبنی بر حکمت ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ خیر انجام ہوں،یعنی ان افعال سے خدائی عظمت اور کبریائی جھلکتی ہو۔24گزارش ہے کہ قاضی صاحب کی بیان کردہ مراد امام ماتریدی کے اجمال کی تفصیل ہے۔ دونوں مرادات کو ایک کینوس میں یکجا کیا جائے تو ماتریدی نظام میں حکمت کا تصور کچھ یوں نکھر کر ہمارے روبرو ہوتا ہے کہ حکمت خدائی افعال_جو ماتریدیہ کے نزدیک صفتِ تکوین کا مظہر ہیں_میں ایسی اصابت، درستی، استواری اور پختگی کا نام ہے جو خیر انجامی یا عاقبت حمیدہ پر منتج ہو۔گویا خیر انجامی اسی وقت متوقع ہے جب افعال میں اصابت،استواری اور پختگی پائی جائے،اور اس اصابت و پختگی سے مراد یہ ہے کہ ہر شے اپنے مناسب مقام پر رکھ دی جائے۔ماتریدیہ کا کہنا ہے کہ حکمت خدا کے ہر ہر فعل کا جزوِ لاینفک ہے،حتی کہ شر کی پیدائش بھی حکمت الہیہ سے خالی نہیں؛ کیونکہ وہ حوادث جو بظاہر شر دکھتے ہیں انجام کار کے اعتبار سے ان میں طرح طرح کی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ آفات سماوی کبھی عذاب کا تازیانہ بن کر دنیا کو بدکاروں سے پاک کرتی ہیں تو کبھی آزمائش کی گھڑی بن کر ایمان والوں کی بلندیِ درجات کا باعث ہوتی ہیں، نیز انہی آفات سے خدا کی صفت قہاریت و جباریت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ رہی بات خدا کے تخلیق کردہ انسانی أفعال کی تو یہ بات بھی پیش پا افتادہ ہے کہ کسی انسان کا مبنی بر شر فعل دیگر انسانوں کے لئے مختلف پہلوؤں سے رحمت و یافت کا سبب بن جاتا ہے۔معتزلہ اور ماتریدیہ کے تصور حکمت میں ایک فرق تو یہی ہے کہ معتزلہ فعل کے انجام سے پہلو تہی کر کے اس کے فوری نتائج کی بنا پر اسے سراپا شر قرار دیتے ہیں اور پھر خدا تعالی کی قدرت سے اس کو خارج کر دیتے ہیں؛ جبکہ فعل کو دیکھنے کا ماتریدی زاویہ قدرے وسعت کا حامل ہے کہ وہ انجام و عواقب کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی بظاہر شر سے خیر کا پہلو دریافت کر لیتے ہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ معتزلہ اصلح للعباد کے نام پر حکمت کو فرد مرکز بنا ڈالتے ہیں کہ خدائی حکمت کا تقاضا ہے کہ ہر ہر فرد کی مصلحت اس کی انفرادی حیثیت میں ملحوظ رکھی جائے جبکہ ماتریدیہ من حیث المجموع انسانیت کی مصلحت یا خیر کو مد نظر رکھتے ہیں نیز خدا تعالی کی صفات کے اظہار کو عاقبت حمیدہ یا خیر انجامی کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔
اسی مبحث میں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا خدا تعالی معاذاللہ براہ راست اخلاقی قبائح کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ یقینا ہر اہل ایمان کا جواب نفی میں ہو گا۔ ماتریدیہ بھی اپنے تصور حکمت کے تحت خدا سے قبائح کے صدور کا انکار کرتے ہیں۔وہ خدا پر کسی شے کے واجب ٹھہرانے کو تو رد کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ بات خدا تعالی سے مستبعد ہے کہ وہ أفعال شنیعہ کا مرتکب ہو کیونکہ ان میں کوئی حکمت یا عاقبت حمیدہ نہیں پائی جاتی جبکہ خدائی افعال تو حکمت و دانائی کے عکاس اور عظمت و جلال کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ دریں باب اشاعرہ کا موقف پیشتر بیان ہو چکا ہے۔
بعد از تمہید اب ہم امام رازیؒ کے حاصلاتِ فکر کی طرف عود کرتے ہیں تا آنکہ دریں باب اشعری و ماتریدی اختلاف کا مکمل منظر نامہ اپنے اطلاقات سمیت عیاں ہو جائے۔امام رازیؒ "لوامع البینات" میں اللہ تعالی کے اسم حکیم کی شرح کرتے ہوئے اس کے اشتقاقی اختلاف کو پیش نگاہ رکھ کر دو معنی بیان فرماتے ہیں۔آپ کے نزدیک حکیم اگر حکمت سے مشتق ہو تو اس کا معنی ایسی ذات ہے جو معلومات کا خوب خوب ادراک رکھتی ہے اور بایں معنی حکیم سے مراد خدا تعالی کا علیم ہونا ہے۔گویا حکمت دراصل واجب تعالی کے کمالِ علم کا ہی نام ہے۔"المطالب العالیہ" میں بھی آپ نے حکمت کے اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔اسم حکیم کا دوسرا معنی بیان کرتے ہوئے آپ کا فرمانا ہے کہ افعال باری تعالی کی وساطت سے خدا پر حکیم کا اطلاق مصدرِ 'اِحکام' کے تحت ہوتا ہے۔دریں صورت خدا کے حکیم ہونے سے مراد اس کے فعلِ تخلیق میں پختگی،انتظام اور حسنِ تدبیر کا پایا جانا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
"انما المراد منه حسن التدبير فى وضع كل شيئ موضعه"
(افعال میں حکمت) سے یہی مراد ہے کہ ہر شے کو اس کے مناسب مقام میں رکھنے کی بابت بہترین تدبیر کرنا"25
امام صاحب کے متذکرہ بالا کلام میں اگرچہ ماتریدیہ سے ان کا اصولی اتفاق جھلکتا ہے تاہم اگر بیان کردہ دونوں معانیِ حکمت کو اشاعرہ کے اصولی چوکھٹے میں موزوں کیا جائے تو آپ کا تصورِ حکمت کچھ یوں ممتاز ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک افعال الہیہ کا الہی علم و ارادے کے مطابق ہونا حکمت ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اشاعرہ تکوین کو اللہ تعالی کی علی حدہ صفت کی بجائے فعل الہی قرار دیتے ہوئے اسے علم و ارادہ الہیہ سے نتھی کرتے ہیں۔چنانچہ تکوین میں درستی اور پختگی بھی دراصل اللہ تعالی کے علم و ارادہ سے تطابق کا نام ٹھہرتی ہے۔امام رازی کا یہ فرمانا کہ حکمت کا ایک معنی کمال علم ہے،اسی طرف اشارہ کناں ہے کہ افعال میں حکمت دراصل اسی کمالِ علم کا کرشمہ ہے۔یعنی اللہ تعالی چونکہ علیم ہے بنابریں شے کے لئے مناسب وہی مقام ہے جو علم الہی میں معلوم و متعین ہے،عقلِ انسانی اس معلومِ الہی تک بار نہیں پا سکتی۔ اس کے برعکس ماتریدیہ افعال کے ذاتی حسن و قبح کے قائل ہونے اور کچھ افعال کے حسن و قبح کو عقلا معلوم ماننے کی بنا پر بعض اشیاء کے 'مناسب مقام' کو بھی بذریعہ عقل معلوم مانتے ہیں اور خدا سے اس کا خلاف،حکمت کے منافی خیال کرتے ہیں۔کافر کی ممکنہ بخشش کو خلافِ حکمت اور شانِ خداوندی سے بعید تر قرار دیتے ہوئے امام ابو منصور ماتریدیؒ کی مذکور ذیل توجیہ اسی موقف کا اظہار ہے:
"ان العفو عن الکافر عفو فی غیر موضع العفو"
"کافر کو معاف کر دینا عفو کو اس کے(مناسب) مقام سے ہٹا دینا ہے"26
مختصر یہ کہ ماتریدیہ کے نزدیک بعض اشیاء و افعال کا 'مناسب مقام' عقل سے معلوم کیا جا سکتا ہے جبکہ امام رازیؒ کے نزدیک 'مناسب مقام' وہی ہے جس پر اللہ تعالی کسی شے کو براجمان کر دے۔آپ کا فرمانا ہے:
"من تصرف فی ملک نفسہ فاي فعل فعله کان حکمة و صوابا"
جو اپنی ملک میں تصرف کرے وہ جو بھی فعل سرانجام دے وہ مبنی بر حکمت اور درست ہی ہوتا ہے"27
ماحصل یہ کہ اشاعرہ کے نزدیک حکیم وہ ذات ہے جو اپنے علم و اردے کے مطابق فعل سرانجام دے سکے جبکہ سفیہ وہ ہے جو اپنے علم و ارادے کے مطابق فعل انجام دینے سے قاصر ہو۔ “موضعِ کل شئی” وہی ہے جو خدا تعالی کے علم اور ارادے میں ہے اور حکیم ہونا اسی کا نام ہے کہ اپنے اس علم و ارادے کے مطابق ہر شے کو اس کے موضع میں رکھ دے۔ ماتریدی اور اشعری نزاع کی تفہیمِ مزید کے لئے 'مومن کے خلود جہنم' کے مسئلہ پر غور بھی مفید رہے گا۔ماتریدیہ کے نزدیک خدا اگرچہ اس امر پر قادر ہے کہ کسی مومن کو ہمیشک باش جہنم رسید کر دے لیکن ایسا کرنا سراسر ظلم اور خلافِ حکمت ہوگا؛ خدا ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کے افعال پُر از حکمت ہوتے ہیں۔ اس مثال سے "وجوب علی اللہ" بابت ماتریدی موقف بھی مزید نکھر کر سامنے آجاتا ہے کہ وہ خدا پر بندے کی جہت سے کچھ واجب نہیں ٹھہراتے بلکہ قبائح سے پاکی کو اقتضائے حکمت قرار دیتے ہیں۔اسی موقف کو بعض مشائخ ماتریدیہ نے "خدا پر وجوب" اور "وجوب از روئے خدا / وجوب از روئے حکمت" کے مابین خطِ امتیاز کھینچ کر نمایاں کیا ہے۔پانچویں صدی ہجری کے معروف ماتریدی متکلم امام ابوشکور السالمیؒ(م:۴۶۰ھ) "وجوب از روئے حکمت" کی ماتریدی تعبیر کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"والوجوب من الحکمة يكون على وجه المجاز،والغرض منه نفي القبح من اللہ تعالی عند اهل السنة والجماعة"
"وجوب ازروئے حکمت، مجازی طور پر (بولا) جاتا ہے اور اہل سنہ(ماتریدیہ) کے ہاں اس سے محض جناب باری تعالی سے قبائح کی نفی کرنا مقصود ہوتا ہے"28
ماتریدیہ کے برعکس،اشاعرہ کا ماننا ہے کہ اگر خدا کسی مومن کو بلا جرم و تعدی ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بنا دے تو بھی یہ ظلم اور خلاف حکمت نہ ہو گا کیونکہ ایک تو ایسا کرنا دراصل اپنی ہی ملک میں تصرف ہے اور مالک کا اپنی ملک میں کسی بھی طرح کا تصرف ظلم یا خلاف حکمت شمار نہیں کیا جا سکتا، دوسرا یہ کہ اگر خدا ایسا کرے تو یقینا وہ اپنے علم و ارادے کے مطابق ایسا کرے گا اور یہی دراصل حکمت کا تقاضا ہے۔لیکن یہاں یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کیا خدا ایسا کرے گا؟ اس کا تشفی بخش جواب ہمیں امام رازیؒ کی درج ذیل عبارت سے مہیا ہوتا ہے:
"فرب شیئ یعلم انه يجوز ذلك من الله تعالى و ان كنا نعلم قطعا أنه لا يفعله والدليل عليه جملة الامور العادية،فاني قاطع على ان اللہ قادر علی قلب الجماد حيوانا،فاذا خرجت عن داري جوزت أن يقلب الله تعالى من الأواني ولآلات اناسا فاضلين او سباعا ضارية موذية و مع ذلك فانا نعلم قطعا انه ما فعل ذلك فاذا لم يلزم هناك تجويز الوقوع زوال القطع بعدم الوقوع فلم لا يجوز هاهنا مثله؟!"
"کتنے ہی ایسے افعال ہیں جن کا اللہ تعالی سے صدور ممکن ہونا معلوم ہے تاہم ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ ایسے افعال کا ارتکاب نہیں کرے گا۔بطور دلیل امور عادیہ کو ہی لے لیجئے کہ مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ اللہ تعالی بے جان چیزوں کو جیتے جاگتے حیوان بنا دینے پر قدرت رکھتا ہے،سو جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو اس بات کو ممکن قرار دیتا ہوں کہ اللہ تعالی گھر میں موجود برتنوں اور دیگر آلات کو انسانوں یا موذی و خطرناک درندوں میں بدل سکتا ہے،با ایں ہمہ ہمارا اس بات پر بھی پختہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ نے ایسا نہیں کیا ہوگا۔سو جب اس صورت میں محض امکانِ وقوع سے عدمِ وقوع کا پختہ یقین زائل نہیں ہوتا تو دریں باب ایسا کیوں نہیں سکتا؟!"29
گزارش ہے کہ ماتریدیہ اور اشاعرہ کی علمی کشاکشی سنیت و ضلالت کا نزاع نہیں بلکہ دائرہ سنیت میں رہتے ہوئے زاویہ نگاہ کا معمولی اختلاف ہے۔تکوین کو خدا تعالی کی مستقل صفت قرار دیا جائے یا پھر اسے علم و ارادہ الہیہ کا ضمنی پہلو گردانا جائے اس سے کسی قطعی عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی۔اسی طرح ظلم و جور کو ازروئے حکمت شانِ خداوندی سے کوسوں دور ٹھہرایا جائے یا پھر مخبرِ صاڈق کی دان کردہ قطعیت(certainty) کی بنا پر اسے مستبعد قرار دیا جائے،اس سے بھی کسی قطعی عقیدہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔اس کے برعکس معتزلہ کا موقف صراحتا قدرت باری تعالی کے عقیدہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ماتریدی و اشعری زاویہ نگاہ کے اختلاف پر معروف اشعری عالم علامہ تاج الدین سبکی(م:۷۷۱ھ) کا بیان قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے،آپ فرماتے ہیں:
"ان الخلاف الیسیر بیننا و بین الحنفیة فى مسائل معدودة غير طائلة لا يقتضى تكفيرا ولا تبديعا."
"معدودے چند مسائل میں ہمارے اور احناف(ماتریدیہ) کے مابین معمولی اختلاف ایک دوسرے کو کافر یا بدعتی قرار دینے کا تقاضا نہیں کرتا"30
صداقتِ خدا، ثقاہتِ رسول اور وثاقتِ وعد:
معروضیتِ حسن و قبح کو رد کرنے کے ساتھ ہی اشاعرہ کا سامنا صداقتِ ربانی بابت ایک ناقابلِ مفر سوال سے ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر حسن و قبح افعال کی ذاتی خصوصیت نہیں اور خدا کے لئے کسی بھی فعل کا کر گزرنا اس کے حق میں بھلا ہے تو اس کا ناگزیر نتیجہ یہی ہے کہ خدا کے حق میں دروغ گوئی بھی بھلی اور ممکن ہے۔دریں صورت کوئی شخص کیوں کر خدا کے وعد و وعید کا وثوق کرے اور مذہبی اخبار کی سچائی کیوں کر اس کے دل میں گھر کرے؟یہی سوال قدرے مختلف انداز میں ثقاہت رسول سے بھی متعلق ہے،وہ یوں کہ جب خدا کا ہر فعل بھلا ہے تو لازما کسی جھوٹے مدعی رسالت کے ہاتھ پر خدا کی طرف سے بہ طور تصدیق معجزہ کا ظہور بھی بھلا اور ممکن ہونا چاہیے۔دریں صورت نبی اور متنبی کے مابین مابہ الامتیاز کیا ہو گا؟
امام رازیؒ پہلے سوال سے تعرض کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ کذب و صدق،کلام کی دو مختلف کیفیات ہیں اور کلام باری تعالی خدا کا فعل نہیں بلکہ خدا کی صفت ہے۔لہذا جب أفعال الہیہ پر اخلاقی حسن و قبح کا سوال وارد نہیں تو اس صفت پر تو بطریق اولی اخلاقی حسن و قبح کا سوال وارد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اخلاقیات سراسر افعال سے متعلق ہوتی ہیں۔جب یہ بات طے ہو چکی تو اس کے بعد امام صاحب فرماتے ہیں کہ خدا کے کلام کا کذب پر مشتمل ہونا سرے سے ہی محال ہے؛ لیکن کسی اخلاقی حکم کی بنا پر نہیں نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ:
"ان کلامه قائم بنفسه، ويستحيل الكذب فى كلام النفس على من يستحيل عليه الجهل، اذ الخبر يقوم بالنفس على وفق العلم والجهل على الله تعالى محال"
"اللہ تعالی کا کلام،کلام نفسی ہے اور هر اس ذات کے کلام نفسی میں کذب محال ہے جس کا جاہل ہونا محال ہے کیونکہ کلام نفسی علم کے موافق ہوتا ہے اور جہل اللہ تعالی پر محال ہے(لہذا اس پر کذب بھی محال ہے)"31
گزارش ہے کہ کلام نفسی سے ایسا کلام مراد ہے جو حروف و اصوات سے منزه ہو۔تقریبِ فہم کے لئے اس کو مَن ہی مَن میں کی گئی خود کلامی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔اہل سنت کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفتِ کلام حروف و اصوات سے مبرا ہے۔بعدہ عرض ہے کہ امام صاحب کے مطابق کلام نفسی اور علم باہم اس طرح متلازم ہیں کہ گویا کلام نفسی علم کا پرتو ہو۔اب اگر یہ مان لیا جائے کہ کلام نفسی کذب پر مشتمل ہے تو یہ ماننا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے کہ خداوند متعال جہل سے متصف ہے،جبکہ خدائی اور جہالت باہم یک نگر (mutually exclusive) ہیں،جو جاہل ہو اس کا خدا ہونا ممکن نہیں اور جو خدا ہو اس کا جاہل ہونا ممکن نہیں۔کیونکہ علم ایسی صفت ہے جو خدا کے وجودی معنی یعنی اس کے خدا ہونے کو مکمل و اکمل کرتی ہے۔اب اگر خدا میں جہل کو ممکن مانا جائے تو گویا اس کے خدا ہونے میں نقص کو مانا جا رہا ہے۔یوں بات جمعِ نقیضین کی طرف بڑھ جاتی ہے کہ خدا،خدا ہے بھی اور نہیں بھی۔مختصر یہ کہ خدا کے کلام میں کذب کا امکان محال ہے کیونکہ کذب جہل کو مستلزم ہے۔ یاد رہے کہ یہ استحالہ کسی اخلاقی اصول کی بنا پر نہیں بلکہ خدائی میں نقص کے محال ہونے کی بنا پر ہے۔
گزارش ہے کہ بات یہاں مکمل نہیں ہوتی، امام صاحب کا یہ جواب ایک اور سوال کو جنم دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ تو مان لیا کہ کلام نفسی میں کذب محال ہے لیکن کلام مسموع،جو ہم سنتے سناتے اور پڑھتے پڑھاتے ہیں،تو بحالہ امکانِ کذب سے مملو ہے؟ اسی سوال کے ہمراہ مذکورہ بالا ثقاہتِ نبوت اور وثاقتِ وعد و وعید کا سوال بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ مدعی کاذب کے دست باطل پرست پر معجزہ کا اظہار تو تاحال خدا کے لئے ممکن ہی ٹھہرتا ہے۔امام صاحب ان دونوں سوالوں کے جواب میں اسی اصول کا اعادہ فرماتے ہیں کہ امکانِ وقوع عدمِ وقوع کی قطعیت کے منافی نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ کتنے ہی ایسے افعال ہیں جن کا کر گزرنا اللہ تعالی کے لئے ممکن ہے لیکن ہمیں کامل جزم اور پختہ یقین ہے کہ وہ ذات ستودہ صفات ایسا نہیں کرے گی۔محض عقلی امکان کا پایا جانا جزم و یقین کا خون نہیں کرتا کیونکہ کسی فعل کے امکان سے مراد محض یہی ہے کہ اللہ تعالی اس فعل پر قادر ہے۔32
امام رازیؒ نے معجزہ کے سوا بھی اثبات نبوت کا طریقہ بیان فرمایا ہے،جو آپ کے نزدیک معجزاتی اثبات سے بڑھ کر معقول اور کارگر ہے۔آپ کا فرمانا ہے کہ معجزہ کی طرح ناقصین کو کامل بنا دینے کی نبوی اہلیت بھی نبوت کی دلیل ہے،جو اثبات مدعا میں معجزے سے بڑھ کر اثر آفرینی کی حامل ہے۔جیسا کہ پیش ازیں ذکر کیا کہ امام صاحب کے نزدیک انسانی کمال سے مراد انسان کی قوت نظریہ اور قوت عملیہ کا اس درجہ کمال کو پا لینا ہے کہ وہ اشیاء کی راست حقیقت(خدا کے ماسوا کا فانی و محدث ہونا) سے آگاہ اور عمل خیر کے ملکہ سے مالا مال ہو جائے۔آپ کے نزدیک اس کمال کا لازمی نتیجہ حق سے ہمہ تن اعتناء اور مخلوق سے مکمل استغناء ہے۔کمالِ انسانی کی مراد کو قیدِ تحریر میں لانے کے بعد آپ نے کمال و نقص کے اعتبار سے انسانی سلسلہ مراتب(hierarchy) کو حسب ذیل سپرد قلم فرمایا ہے:
۱- عامة الناس،جو سراسر ناقص ہیں۔
۲- اولیاء، جو خود تو کامل ہیں تاہم دوسروں کی تکمیل ان کے بس سے باہر ہے۔
۳- انبیاء،جو خود بھی کامل ہیں اور دوسروں کی تکمیل پر بھی قادر ہیں۔
آپ اپنی بات کو مبرہن کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسانوں میں کمال و نقص شدت و ضعف کے مختلف مدارج میں پائے جاتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض انسان درجہ انسانیت سے اس قدر فروتر ہوتے ہیں کہ بہائم ان پر پھٹکار کریں اور بعض ایسے کامل تر ہوتے ہیں کہ فرشتے ان پر ناز کریں۔جس طرح ناقص تر انسانوں میں سے بعض ضال کے ساتھ ساتھ مضل بھی ہوتے ہیں جو دیگر ہم جنسوں کو نقص کی اتھاہ گہرائیوں میں ٹھیلتے ہیں۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ کامل تر انسانوں میں رشد و ہدایت کے ایسے پیکر موجود ہوں جو دیگر ہم جنسوں کو اوج انسانیت کی طرف گامزن کریں۔غور کیا جائے تو امام صاحب کی دلیل نہ صرف کسی مخصوص دعوائے نبوت کی تصدیق کو شامل ہے بلکہ ضرورتِ نبوت کا بھی احاطہ کرتی ہے۔امام صاحب کے مطابق اثبات رسالت کے اس طریقہ کی کارگری حق اور عملِ خیر کے پیشگی ادراک سے مشروط ہے۔33لیکن سوال یہ ہے اگر حق اور عمل خیر کا ادراک ماقبلِ نبی ممکن ہے تو پھر نبی کی کیا حاجت؟ اغلب یہ ہے کہ حق اور خیر کے پیشگی ادراک سے امام صاحب کی مراد اس کا ظنی اور جزوی ادراک ہے جیسے ایک تشنہ لب کو پانی کا ادراک ہوتا ہے۔گویا حق اور خیر کا کج مج تصور تو انسانی شعور میں پیوست ہوتا ہے لیکن وہ دولتِ یقین سے قطعی محروم ہوتا ہے کیونکہ شعور کے زائدہ تصورات اول و آخر شک میں گھرے ہوتے ہیں۔یقین کی خلقی طلب ہی انسان کو انبیاء کے در پر سر نیاز خم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔انبیاء کے سوا کوئی راہنما انسان کو دولت یقین سے مالا مال کر کے اوج انسانیت تک کی رہبری نہیں کر سکتا۔امام صاحب کے اس کلام ہدایت التیام سے ناقدین کا یہ شبہ بھی کافور ہو جاتا ہے کہ اشعری منہجِ اخلاقیات انسان کو اخلاقی داعیات و اقتضاءات سے تہی دامن اور ایک میکانکی وجود باور کرواتا ہے۔یہ تنقیدی نتیجہ سطحی اور پایاب مطالعہ کی پیداوار ہے۔اشاعرہ کے نزدیک انسانی فطرت میں اخلاقی داعیات اور اقتضاءات ضرور موجود ہیں مگر انہیں کرید کر سامنے لانے پر انسان ازخود قادر نہیں ہے۔یہ داعیات بے قرار سوال کی صورت میں نمودار ہوتے اور جواب نہ پا کر نفسی مالوفات میں جا دبکتے ہیں۔شریعت انہیں اقتضاءات کو کریدتی اور انہیں جوابی اظہار فراہم کرتی ہے یہی وجہ کہ ہدایات و احکام شرع کو دیکھ کر ہر سلیم الفطرت ان پر یوں ٹوٹتا ہے جیسے کسی دشت میں سرگرداں خاک بسر شدتِ تشنگی میں نخلستان کی اَور لپکتا ہے۔
بیانِ طریق کے بعد امام صاحب اس سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ نبوی رہبری کی نوعیت کیا ہوگی؟امام صاحب فرماتے ہیں کہ ناقصین کی تکمیل کا طریقہ نہ تو محض فلسفیانہ ہے اور نہ ہی محض خطیبانہ(rhetoric)۔آپ کے مطابق اگر نبی محض فلسفیانہ دلیل و برہان پر انحصار کرے تو اس صورت میں مقصود پس منظر میں چلا جائے گا اور مجادلہ و مناقشہ کا بازار گرم ہو جائے گا۔لہذا ضروری ہے کہ دلیل کے دستوں کے متصل ہی ترغیب و ترہیب کے اسلحہ سے لیس خطیبانہ آہنگ کی کمک بھی دستیاب ہو۔34گزراش ہے کہ اثبات نبوت اور ضرورت نبوت کے طریق ثانی کی متذکرہ بالا علمی تشکیل کے ڈانڈے امام غزالی کے افکار سے ہوتے ہوئے جاحظ اور ابن سینا سے جا ملتے ہیں۔چونکہ یہ ہمارا براہ راست موضوع نہیں ہے لہذا تطویل سے اجتناب کرتے ہوئے سلسلہ تحریر کو یہیں قطع کر دینا مناسب ہو گا۔ آغازِ مضمون میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اخلاقی اقدار کس سے استناد کرتی ہیں؟ امام رازیؒ کی تحریرات کی روشنی میں اس کا جواب قارئین کے رو بہ رو ہو چکا ہے۔اس دراز سلسلہ میں مبحثِ حسن و قبح کے خاصے اہم گوشے احاطۂِ تحریر میں آ چکے ہیں۔ یقینا مسئلہ کے بعض ضمنی پہلو ہنوز تشنۂ بیان ہیں مگر کیا کیجئے کہ امام رازی کی اقلیمِ علم غیر مختتم اور ہمارا رہوارِ قلم تھکن سے چورہے۔دست بہ دعا ہوں کہ خداوند متعال امام فخرالدین رازیؒ کے تصدق خاکسار کی اس ادنی کاوش کو توشۂ آخرت بنا دے۔آمین
حواشی
- اگرچہ حکم شرعی پر قانون کا اطلاق بوجوہ محلِ نظر ہے تاہم یہاں لسانیاتی مجبوری کے تحت ایسا کیا جا رہا ہے کہ عموما فعل کے وجوبی، صوابدیدی، اولی یا ممنوع ہونے کی حیثیت کو اس کی قانونی حیثیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
- گو یہ بات کلامی و اصولی کتب میں صراحت کے ساتھ مرقوم ہے تاہم اس کی نمایاں جھلک اصولیین کی طرف سے حکم شرعی کی بیان کردہ تعریف میں بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ حکم شرعی افعالِ عبد کے متعلق اللہ تعالی کے خطاب کا نام ہے۔
- قاضی عبدالجبار اسد آبادی،المغنی فی ابواب التوحید والعدل،ج۶-۱،ص۶۴ https://archive.org/details/almoghny-kady-abdelgabar/11 27-10-2020
- ايضا ج۶-۱،ص۶۵
- ابو زید عبیداللہ بن عمر الدبوسی،تقویم الادلہ فی اصول الفقہ(مکتبہ عصریہ،بیروت،۲۰۰۶)ص۴۳۲
- ايضا،ص۴۳۲،۴۳۳،۴۳۴،۴۳۵،۴۶۵
- امام فخر الدين محمد بن عمر رازى،المحصول فى علم اصول الفقه(موسسة الرساله،بيروت،۱۹۹۲)ج۱،ص۱۵۹،۱۶۰
- ابو زید عبیداللہ بن عمر الدبوسی،تقویم الادلہ فی اصول الفقہ(مکتبہ عصریہ،بیروت،۲۰۰۶)،ص۴۵۹
- ايضا،ص۴۶۲،۴۶۳
- امام فخر الدين محمد بن عمر رازى،المحصول فى علم اصول الفقه(موسسة الرساله،بيروت،۱۹۹۲)،ج۱،ص۱۴۷-۱۵۴
- قاضی عبدالجبار اسد آبادی،المغنی فی ابواب التوحید والعدل،ج۶-۱،ص۱۲۷،۱۲۸ https://archive.org/details/almoghny-kady-abdelgabar/11 27-10-2020
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول(دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)،ج۲،ص۱۰
- قاضی عبدالجبار اسد آبادی،المغنی فی ابواب التوحید والعدل،ج۶-۱،ص۳۸ https://archive.org/details/almoghny-kady-abdelgabar/11 27-10-2020
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول(دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)،ج۳،ص۲۹۰،۲۹۱/الاربعين فى اصول الدين(دارالکتب العلمیہ،بیروت،۲۰۰۹)،ص۲۴۵
- قاضی ابوبکر محمد بن طیب باقلانی، کتاب تمہید الاوائل و تلخیص الدلائل ( موسسۃ الکتب الثقافیۃ، بیروت، ۱۹۸۷)، ص ۵۰،۵۱،۵۲
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول (دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)، ج۳،ص۲۸۸
- امام فخر الدين محمد بن عمر رازى،المحصول فى علم اصول الفقه (موسسة الرساله، بيروت،۱۹۹۲ )، ج۵،ص۱۳۵
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول(دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)،ج۳،ص۲۹۵،۲۹۶
- امام فخرالدین رازی،تفسیر کبیر(دارالفکر،بیروت،۱۹۸۱)،ج۲۲،ص۱۷۷
- امام فخرالدین رازی،لوامع البینات شرح الاسماء الحسنہ والصفات (المطبعہ الشرفیہ، مصر،۱۳۲۳ھ)، ص۱۸۴
- قاضی عبدالجبار اسد آبادی،المغنی فی ابواب التوحید والعدل،ج۶-۱،ص۴۸،۴۹ https://archive.org/details/almoghny-kady-abdelgabar/11 27-10-2020
- امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی،کتاب التوحید(دارالاسلام،لاہور،۲۰۱۴)،ص۱۶۴
- امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی،کتاب التوحید(دارالاسلام،لاہور،۲۰۱۴)،ص۲۹۷
- ابو زید عبیداللہ بن عمر الدبوسی،تقویم الادلہ فی اصول الفقہ(مکتبہ عصریہ،بیروت، ۲۰۰۶)، ص۴۶۶،۴۶۷
- امام فخرالدین رازی،لوامع البینات شرح الاسماء الحسنہ والصفات(المطبعہ الشرفیہ،مصر،۱۳۲۳ھ)،ص۲۰۹،۲۱۰
- امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی،کتاب التوحید(دارالاسلام،لاہور،۲۰۱۴)،ص۴۵۹
- امام فخرالدین رازی،لوامع البینات شرح الاسماء الحسنہ والصفات(المطبعہ الشرفیہ، مصر، ۱۳۲۳ھ)، ص۲۱۰
- امام ابو شکور سالمی،التمہید فی بیان التوحید(مرکزالبحوث الاسلامیہ،استنبول،۲۰۱۷)ص۲۷۶
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول(دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)،ج۲،ص۷۴
- تاج الدین ابو نصر عبدالوہاب بن علی السبکی،السیف المشہور فی شرح عقیدة ابی منصور (شعبہ الہیات،جامعہ مرمرہ، استنبول، ۲۰۰۰)ص۱۲
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول (دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)، ج۲،ص۳۳۷
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول (دارالذخائر،بیروت،۲۰۱۵)، ج۲،ص۷۱،۳۳۰،۳۳۱
- امام فخرالدین رازی،المطالب العالیہ من العلم الالہی(دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱۹۹۹)، ج۸،ص۶۱،۶۲
- امام فخرالدین رازی،المطالب العالیہ من العلم الالہی(دارالکتب العلمیہ،بیروت،۱۹۹۹)،ج۸،ص۶۹
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۹)
ڈاکٹر شیر علی ترین
اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ
(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Modernity کا گیارہواں باب)
گیارہواں باب :علم غیب
نبی اکرم ﷺ کے علمِ غیب پر بحث میں مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی مخالفین اس بات پر متفق تھے کہ علم اور نبوت باہم لازم وملزوم ہیں۔ وہ اس بنیادی عقیدے پر بھی متفق تھے کہ خدا کی تمام مخلوقات میں نبی اکرم ﷺ ہی سب سے بڑے عالم، واجب الاتباع اور خدا کی محبوب ہستی ہیں۔ تاہم علم کی تعریف اور علم ونبوت کے درمیان تعلق کے سوالات پر ان کے درمیان شدید اختلاف واقع ہوا۔
ان بنیادی سوالات نے ایک ایسی کش مکش کو جنم دیا،جس کے نتیجے میں آخر کار مولانا احمد رضا خان نے دیوبندی اکابر (مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارن پوری اور مولانا اشرف علی تھانوی) پر کفر کا فتویٰ صادر کیا1۔ اس تکفیر میں بنیادی کردار نبی اکرم ﷺ کے علم غیب کے بارے میں مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی کی دو عبارات تھیں۔ جب سے یہ عبارات منظر عام پر آئی ہیں، ایک صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، لیکن یہ مسلسل تنقید وتجزیے کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ خان صاحب نے علماے دیوبند کی تکفیر ان عبارات کی وجہ سے کی، کیوں کہ ان کی نظر میں یہ ضروریاتِ دین کے خلاف تھیں۔
اس باب میں میں ان عبارات کے سیاق وسباق، ان پر خان صاحب کی تنقید اور آخر میں بیسویں صدی کے ہندوستان کے دیوبندی عالم مولانا منظور احمد نعمانی (م 1997) کی جانب سے خان صاحب کو دیے گئے جوابات کا جائزہ لوں گا۔ اس مناظرانہ بحث کا ایک دقیق جائزہ لینے کے ساتھ میں ان متحارب مناہج کو نمایاں کروں گا، جن کے ذریعے خان صاحب اور ان کے دیوبندی مخالفین نے علم، حاکمیت اور نبوت کے باہمی تعلق کو سمجھا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بریلوی اور دیوبندی مسالک کے اختلاف میں ایک بارودی سرنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
میں دکھاؤں گا کہ بظاہر علم نبوی کی حدود پر مرتکز اس مباحثے میں اصلاً جو موضوع زیر بحث تھا، وہ جدیدیت میں مذہب کی تعریف تھی۔ یہ سوال کہ کیا نبی اکرم ﷺ کے پاس علم غیب ہے یا نہیں، اس امر پر منحصر ہے کہ بذاتِ خود علم کی تعریف کیا ہے۔ اور علم کی حدود کی تعیین منحصر ہے علم کی ان تمام اقسام کی تعریف پر جو مذہبی سمجھی جاتی ہیں۔ نتیجتاً مذہبی علم کی تعریف کو مذہب کی تعریف سے الگ کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے یہ مناظرہ جس قدر زندگی کے ایک زمرے کی حیثیت سے مذہب کی حدود سے متعلق تھا، اسی قدر یہ علم اور نبوت کی متحارب تفہیمات سے بھی تعلق رکھتا تھا۔
آغاز
اس مباحثے کا آغاز اصلاً اس مسئلے سے ہوا کہ عید میلاد النبی میں شرکاے میلاد کو برکتوں سے نوازنے کے لیے رسول اللہ ﷺ محفلِ میلاد میں تشریف لاتے ہیں۔ علماے دیوبند بشمول مولانا گنگوہی، مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی نے اس امکان کو رد کیا۔ انھوں نے بتایا کہ بیک وقت متعدد مقامات میں رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کے عقیدے سے عوام یہ سمجھنے لگیں گے کہ رسول اللہ ﷺ حاضر وناظر ہیں۔ اس لیے وہ ان خدائی صفات سے نبی اکرم ﷺ کو متصف کرنے لگ جائیں گے2۔ شمالی ہندوستان کے معروف عالم مولانا عبد السمیع نے دیوبندی فکر کی کاٹ دار تنقید میں 'انوار ساطعہ' کے نام سے جو کتاب لکھی (جس کا تعارف پچھلے ابواب میں ہو چکا ہے)، اس میں انھوں نے اس استدلال کو رد کرنے کی کوشش کی۔
انوارِ ساطعہ میں مولوی عبد السمیع نے علماے دیوبند کو ان کے اس موقف پر کھری کھری سنائیں کہ متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کا عقیدہ شرک ہے۔ انھوں نے اس کے جواب میں بتایا کہ یہ عقیدۂ توحید کے بالکل منافی نہیں، جیسا کہ دیوبندی کہتے ہیں3۔ مولوی عبد السمیع نے واضح کیا کہ شرک کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے علاوہ کسی اور ہستی کو ایسے علم سے متصف کیا جائے جو صرف خدا کے ساتھ خاص ہے۔ تاہم انھوں نے تاکیداً کہا کہ محفل میلاد کے انعقاد کے تمام مقامات کے علم کو خدا کے علم کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خدا تمام کائنات کے ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے، اور ہر جگہ حاضر وناظر ہے۔ اس لامحدود علم کے مقابلے میں صرف ان مقامات کا علم جہاں محفل میلاد منعقد ہوتی ہے، ایک ذرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔اس لیے اس عقیدے کا کہ نبی اکرم ﷺ بیک وقت کئی مقامات پر حاضر ہوتے ہیں، بالکل بھی یہ مطلب نہیں کہ خدا اور ان کے علم میں برابری ہے۔ نہ ہی اس سے یہ معنی برآمد کیا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ علمِ کلی کی خدائی صفت میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ مولانا عبد السمیع نے باصرار بتایا کہ یہ تشریح صرف اس صورت میں درست ہوتی کہ اگر خدا کا حاضر وناظر ہونا بھی میلاد کی محفلوں تک محدود ہوتا۔ چوں کہ یہ درست نہیں، اس لیے محفل میلاد میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کا عقیدہ بھی توحید کے مخالف یا منافی نہیں، نہ ہی اس میں شرک کا کوئی امکان ہے4۔
مولانا عبد السمیع نے واضح کیا کہ صفاتِ الہیہ وہ ہیں جو صرف خدا کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتیں (يوجد فيه ولايوجد في غيره)۔ مولوی عبد السمیع نے دعوی کیا کہ ہر جگہ حاضر وناظر ہونے کی صفت ان صفات میں شامل نہیں ہے۔ یہ صفت خدا کے ساتھ خاص نہیں۔ مولانا عبد السمیع نے واضح کیا کہ مثلاً موت کے فرشتے (ملک الموت) کی یہ صفت مشہور ہے کہ وہ تمام کائنات میں بیک وقت موجود ہوتا ہے۔ وہ تمام انسانوں، جانوروں، کیڑوں مکوڑوں اور پرندوں تک رسائی رکھتا ہے۔ جہاں کہیں خدا کی کوئی مخلوق مرتی ہے، وہیں وہ موجود ہوتا ہے۔ عبد السمیع نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ شیطان بھی دن رات تمام انسانوں کے پیچھے لگا رہتا ہے (سواے ان لوگوں کے جنھیں خدا نے اپنے فضل سے محفوظ رکھا ہے)۔ خدا نے شیطان کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ہر زمان ومکان میں بیک وقت موجود ہو، جس طرح اس نے ملک الموت کو یہ صلاحیت عطا کی ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ سے اسی صفت کی نفی کر کے علماے دیوبند نے بھرپور طریقے سے ان کا رتبہ شیطان اور ملک الموت سے بھی گھٹا دیا ہے5۔
مولانا عبد السمیع کی نظر میں رسول اکرم ﷺ کے علم کی جامعیت کا انکار کرکے رسول اکرم ﷺ دیوبندی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی عظمتِ شان کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ مولانا عبد السمیع نے وضاحت کی کہ ان کی بات کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ لازماً ہر محفل میلاد میں تشریف لاتے ہیں۔ بلکہ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اس عقیدے کے حامل فرد کو مشرک نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ سے مقام ومرتبے میں کم تر مخلوقات جیسے شیطان اور ملک الموت کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ بیک وقت لاتعداد مقامات میں حاضر وموجود ہوں۔
اس لیے رسول اللہ ﷺ میں اس صفت کا نہ ہونا ناقابل فہم ہے۔ کوئی بھی ایسا شخص جو اشارتاً یہ کہہ دے کہ رسول اللہ ﷺ کا علم شیطان اور ملک الموت سے کم تر ہے، وہ حضور ﷺ کی توہین اور گستاخی کا مرتکب ہے6۔ مولوی عبد السمیع نے علم نبوی کے مسئلے پر دیوبندی مسلک کے خلاف جو الزام عائد کیا، یہ اس کا ایک مختصر خلاصہ ہے۔
مولانا سہارن پوری نے مولوی عبد السمیع کی کتاب انوار ساطعہ کے جواب میں اپنی کتاب براہین قاطعہ میں، جس کا ذکر میں پہلے بھی متعدد مقامات پر کر چکا ہوں، دیوبندی مسلک کا دفاع کرتے ہوئے اس الزام کا جواب دیا۔ اس کتاب کے جس حصے میں، میں غوطہ زن ہونے جا رہا ہوں، اس میں مولانا سہارن پوری نے یہ کوشش کی ہے کہ مولانا عبد السمیع کے اس دعوے کا ابطال کریں کہ علماے دیوبند شیطان کو نبی اکرم ﷺ سے زیادہ علم والا اور نتیجتاً ان سے برترحیثیت والا قرار دیتے ہیں۔ اس تنازع میں ان کا جواب بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے میں، میں اگلے صفحات میں تفصیل کے ساتھ اس کا تجزیہ کروں گا۔
علم اور مقام ومرتبہ میں تفریق: مولانا عبد السمیع کے جواب میں مولانا سہارن پوری کا موقف
اپنے دندان شکن جواب میں مولانا سہارن پوری نے مولانا عبد السمیع کی اس بات کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ دیوبندی، شیطان کو رسول اللہ ﷺ سے بلند رتبہ قرار دیتے ہیں۔ علم اور نبوت پر دیوبندی موقف کی توضیح کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ خدا نے اپنے بندوں میں سے ہر ایک کو خاص مقدار میں علم سے نوازا ہے۔ مزید یہ کہ خدا نے اپنی مخلوق میں جسے جتنا علم دیا ہے، اس سے زیادہ علم سے اس کو موصوف کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے7۔
مولانا سہارن پوری کے نزدیک خدا کی یہ صفت کہ وہ علم عطا کرتا ہے، اور ان کے علاوہ تمام مخلوقات کا علم محدود ہے، بغیر کسی شک وشبہے کے قرآن کریم سے ثابت ہے: "اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں؛ صرف وہی اسے جانتا ہے"8۔ مولانا سہارن پوری نے واضح کیا کہ شرک کا مطلب صرف یہ نہیں کہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کے علم کو مساوی قرار دیا جائے۔ خدا کی کسی بھی صفت کو جیسے اس کے علمِ کلی کا اثبات کسی اور کے لیے کرنا بھی شرک ہے۔
اس اصول کا اطلاق آنحضرت ﷺ سمیت تمام غیر اللہ پر ہوتا ہے9۔ اس کی تائید میں مولانا سہارن پوری حنفی مذہب (جیسا کہ البحر الرائق اور الدر المختار میں ہے) کا ایک حوالہ پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق جو کوئی بھی نکاح کرتے وقت خدا اور حضور ﷺ کو گواہ بناتا ہے، وہ کافر بن جاتا ہے10۔
اس کی وجہ اس عمل کی تہہ میں موجود یہ اعتقاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ عالم الغیب ہیں۔ مولانا سہارن پوری نے تنبیہ کی کہ ایک اہم نکتہ جسے یاد رکھنا چاہیے، یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے علمِ غیب کی صریح نفی کی گئی ہے۔ یہاں پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی کہ یہ عقیدہ شرک تب ہوگا جب خدا اور نبی اکرم ﷺ کے علم کو بالکل برابر قرار دیا جائے۔
مولانا سہارن پوری اپنی بات جاری رکھتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر یہ ماننا پڑے گاکہ عہد نبوی کے مشرکین بھی حقیقت میں کافر نہیں تھے، کیوں کہ وہ تو کسی ایک معبود کے لیے بھی مکمل حاکمیت اور علمِ غیب کا اثبات نہیں کرتے تھے۔ وہ تو کئی جھوٹے خداؤں (معبودان باطلہ) کو مانتے تھے، جن میں سے ہر ایک کے پاس الگ الگ اختیارات تھے۔ مولانا سہارن پوری کے نزدیک اللہ نے اپنے سوا تمام مخلوقات بشمول انبیا، شیاطین اور ملک الموت کو علم کی ایک مخصوص مقدار عطا کی ہے، جس سے ان کا علم نہ بڑھ سکتا ہے نہ گھٹ سکتا ہے11۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ خدا نے اپنی مخلوقات کو جو علم عطا کیا ہے، اس کے اور روحانی رتبے کے درمیان تعلق نہیں ہے، بلکہ مولانا سہارنپوری کے استدلال کی پوری عمارت اس دعوے پر استوار ہے کہ رتبے کا انحصار خارجی دنیا کے علم پر نہیں۔ ایک فرد کم علم ہونے کے باوجود بلند مرتبے کا حامل ہو سکتا ہے۔ مثلاً انھوں نے واضح کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام قرآن میں مذکور حضرت خضر علیہ السلام سے مقام ومرتبے میں کئی گنا بلند وبرتر تھے، لیکن ان کا علمی مکاشفہ حضرت خضر علیہ السلام کے مقابلے میں کم تھا۔ ان دونوں شخصیات کا علم اس حد تک محدود تھا، جو خدا نے انھیں عطا کیا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کے مقام ومرتبے میں فرق تھا۔
مولانا سہارن پوری نے مولانا عبد السمیع کی اس بات سے اتفاق کیا کہ شیطان اور ملک الموت کو جو وسیع علم ملا ہے، وہ قطعی نصوص سے بلا شک وشبہ ثابت ہے۔ تاہم اس کی بنیاد پر کوئی شخص یہ قیاس نہیں کر سکتا کہ مثلاً رسول اللہ ﷺ جیسے بلند مقام ومرتبے والی شخصیت کا علم شیطان اور ملک الموت سے زیادہ نہ ہو تو کم از کم ان کے برابر تو ہونا چاہیے۔ مولانا سہارن پوری نے تجویز کیا کہ اس کے برعکس ایسی نصوصِ قاطعہ موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ علمِ غیب تک رسائی نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً رسول اللہ خود فرماتے ہیں: "اور مجھے پتا نہیں کہ (قیامت کے دن) میرے یا تمھارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا (لا أدري ما يفعل بي ولا بكم)۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے آپ سے علمِ غیب کی نفی کی۔ مولانا سہارن پوری نے بتایا کہ مولانا سمیع کے طرز استدلال میں جو بنیادی خامی ہے، وہ رتبے اور علم کے درمیان فرق نہ کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا رتبہ شیطان سے اونچا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان سے زیادہ علم بھی رکھتے ہیں12۔ علم اور رتبہ متساوی نہیں ہوتے، جیسا کہ مولانا عبد السمیع نے غلط فہمی سے فرض کر لیا ہے۔
مولانا سہارن پوری نے مولانا سمیع پر اس حوالے سے بھی ملامت کی کہ وہ نصوصِ قطعیہ کے مقابلے میں قیاس پیش کرتے ہیں۔ مولانا سہارن پوری نے سختی سے تنبیہ کی کہ عقائد کے مسائل میں قیاس کا کوئی دخل نہیں۔ ان کے لیے نصوصِ قطعیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خارجی دنیا کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے وسیع علم کے حوالے سے نصوصِ قطعیہ موجود نہیں، اور اس وجہ سے مولانا سمیع کا استدلال نادرست ہے۔
اس مقام پر مولانا سہارن پوری نے ایک ایسی بات کہی جو کئی دہائیوں تک ان کی علمی تراث سے متعلق مناظرانہ جنگوں کو بھڑکاتی رہی: "شیطان اور ملک الموت کا تمام دنیا کو محیط علم (علمِ محیطِ زمین) نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے۔ فخرِ موجودات ﷺ کے لیے فاسد قیاس سے ایسے علم کا اثبات اگر شرک نہیں تو اور کیا ہے؟ شیطان اور ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہے، فخرِ ِموجودات کے وسعتِ علم کے بارے میں کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے اس شرک کا اثبات کیا جا سکے؟"13
مولانا سہارن پوری کے نزدیک علم اللہ تعالی کی صفاتِ خاصہ میں سے ہے۔ ان کی نظر میں توحید کی خاطر علم غیب کی خدائی صفت کا تحفظ ضروری ہے۔
مولانا سہارن پوری کی فکر میں خدا نے تمام مخلوقات کو علم کی ایک مخصوص مقدار عطا کی ہے۔ اللہ کے سوا تمام مخلوقات کا علم اس حد تک محدود ہوتا ہے، جو خدا نے اپنے نظامِ علم میں ان کے لیے مقرر کیا ہے۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ توحید کا دار ومدار اسی نظام کے استحکام پر ہے۔ جو کوئی اس نظام میں خلل پیدا کرتا ہے، وہ اس نظام کے خالق یعنی اللہ کی حاکمیت (عقیدۂ توحید) کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے یہ تجویز کرنا کہ نبی اکرم ﷺ محفل میلاد کے دوران بیک وقت متعدد مقامات پر حاضری دیتے ہیں، ان کی نظر میں فاسد ہے۔
سہارن پوری سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کو عطا کردہ علم سے ان کے بڑھ جانے کا تصور شرک ہے۔ ان کے عقیدے کی رو سے علم اللہ تعالی کی طرف سے مخلوق کے لیے ایک تحفہ ہے۔ جب علم کا یہ تحفہ دوسرے لوگوں کو ملا، تو اس سے ان پر خدا کی حاکمیت ثابت ہو گئی۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے: دوسروں کو علم دینے سے خدا نے خود کو حاکمیت عطا کی۔ علم کے تحفے نے حاکمیت کے تحفے کو حاصل کیا۔ سب سے اہم یہ خدا کے علاوہ کوئی ہستی یہاں تک حضور ﷺ کو بھی یہ اجازت نہیں کہ خدا کے عطا کردہ اس تحفے کی حدود سے تجاوز کرے۔
لیکن مولانا سہارن پوری نے علم اور مقام ومرتبے کے درمیان علاحدگی کی جو کوشش کی، وہ ابہامات سے خالی نہیں تھی۔ علم اورمقام ومرتبے کے درمیان علاحدگی کی اس کوشش کا سب سے مشکوک پہلو وہ رتبہ ہے جو اس نے بذاتِ خود علم کو عطا کیا۔ ایک طرف مولانا سہارن پوری کا پورا استدلال اس دعوے پر مبنی تھا کہ علم اور رتبہ متساوی نہیں، یا ان کے درمیان سرے سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ اس موقف کے ذریعے ان کے لیے ممکن ہوا کہ وہ بیک وقت ایک مقدس ہستی کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کا احترام بھی کریں، اور انھیں ایک ایسا انسان بھی مانیں جن کا علم شیطان یا ملک الموت سے کم تر ہے۔
توحیدِ باری تعالیٰ کی مطلقیت کے حوالے سے ان کا استدلال علمِ باری تعالیٰ کی استثنائی حیثیت پر مبنی تھا۔ یہاں پر پیدا ہونے والا بنیادی سوال یہ ہے: اگر علم اور مقام ومرتبہ کے درمیان تساوی نہیں یا سرے سے کوئی نسبت نہیں تو پھر ایک قادر مطلق اور یکتا خدا علم غیب کلی سے کیسے متصف ہو سکتا ہے؟ بالفاظ دیگراگر روحانی کمالات کے مدارج میں کسی ہستی کے مقام ومرتبے کا تعلق علم سے نہیں، تو پھر خدا کی حاکمیتِ مطلقہ اس علم پر کیوں کر منحصر ہو سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں (جیسا کہ ہم اس باب میں تھوڑا آگے دیکھیں گے)، جو مولانا سہارن پوری کے متذکرہ بالا مواقف سے شدید اختلاف کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔ مزید برآں ان کے مخالفین کو ان بیانات کے ساتھ ساتھ اس انداز بیان سے بھی اتنا ہی مسئلہ تھا جس میں انھوں نے اپنا استدلال پیش کیا۔ مولانا سہارن پوری نے رسول اللہ ﷺ اور شیطان کے درمیان موازنے قائم کرنے کے لیے جو لسانی تعبیرات اختیار کیں، ان سے بطور خاص وہ اس الزام کی زد میں آئے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے متعلق احترام کے جذبات نہیں رکھتے۔ رسول اللہ ﷺ کے علم غیب سے متعلق تعبیرات پر ایک اور دیوبندی عالم مولانا اشرف علی تھانوی کو بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
کیا رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب کہا جا سکتا ہے؟ مولانا اشرف علی تھانوی کا موقف
قریب قریب اپنے بزرگ دوست مولانا سہارن پوری کی طرح مولانا تھانوی کو بھی خدشہ لاحق تھا کہ کہیں عوام خدا اور نبی اکرم ﷺ کے علم کوآپس میں گڈ مڈ نہ کر بیٹھیں۔ اپنے ایک نسبتاً مختصر واعظانہ مکتوب 'حفظ الایمان' میں مولانا تھانوی نے اس مسئلے کو موضوعِ بحث بنایا کہ کیا رسول اللہ ﷺکو عالم الغیب کہنا جائز ہے۔ یہ سوال مولانا تھانوی سے ان کے ایک مرید نے پوچھا تھا کہ کیا کوئی شخص جسے اللہ تعالیٰ علم غیب عطا کرے، اس لقب کا اہل ہے؟ سائل کچھ اس انداز میں پوچھتا ہے: "زید کہتا ہے کہ علم غیب کی دو قسمیں ہیں: بالذات اور بالواسطہ۔ وہ کہتا ہے کہ پہلی قسم خدا کے ساتھ خاص ہے، جب کہ دوسری قسم کا علم رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو بھی عالم الغیب کہا جا سکتا ہے۔ کیا یہ موقف درست ہے؟"14
اپنے جواب میں مولانا تھانوی نے قطعیت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب پکارنے کے جواز کو رد کیا۔ مولانا تھانوی نے بتایا کہ خدا ہی وہ واحد ذات ہے جو علمِ غیب کلی کی حامل ہے، اس لیے خدا کے علاوہ اور کوئی مخلوق یہاں تک کہ پیغمبر بھی اس لقب کا مستحق نہیں15۔ خدا کی کسی مخلوق کی طرف اس صفت کی اضافت کرنا شرک کا دروازہ کھولنا ہے۔ انھوں نے واضح کیا: یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہمارے نگہبان (راعنا)، میرے آقا (ربی) جیسی صفات سے متصف کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔ مولانا تھانوی نے مزید بتایا کہ نصوصِ قاطعہ سےمعلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جزوی علمِ غیب حاصل تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات بھی اس پر شاہد ہیں۔ مثلاً نبی اکرم ﷺ خفیہ معلومات تک رسائی کے لیے جاسوسوں اور مخبروں کو بھیجتے تھے۔ اسی طرح انھیں آخرت کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ وہ کب واقع ہوگی۔ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں علمِ غیب کلی حاصل نہ تھا۔ اس وجہ سے عالم الغیب کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے، اور نبی اکرم ﷺ پر نہیں ہوسکتا۔ اس نکتے پر مزید زور دینے کے لیے مولانا تھانوی نے ایک فرضی قیاس پیش کیا، جو آج تک شدید تنازعات کو ہوا دیتا ہے:
بالفرض اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس پر عالم الغیب کا اطلاق درست ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس غیب سے کون سا غیب مراد ہے: بعض غیب یا کل غیب؟ اگر مراد بعض علوم غیبیہ ہیں تو اس میں حضور ﷺ کی کیا تخصیص ہے؟ ایسا علم تو زید، عمرو بلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ تمام جانوروں اور چوپاؤں کو بھی حاصل ہے، کیوں کہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے، جو دوسرے شخص کو نہیں ہوتا۔ تو پھر تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جائے۔۔۔۔ اور اگر مراد تمام علومِ غیبیہ ہیں، تو اس کا بطلان دلیل عقلی ونقلی دونوں سے ثابت ہے16۔
اس اشتعال انگیز قیاس کے ذریعے مولانا تھانوی نے کوشش کی کہ خدا اور نبی اکرم ﷺ کی حیثیت میں فرق کو نمایاں کریں۔ مولانا تھانوی کے نزدیک صرف خدا ہی وہ ہستی ہے جو علم غیب کی خاص صفت سے متصف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ مقام حاصل نہیں ہے۔ لیکن یہ نکتہ پیش کرتے ہوئے مولانا تھانوی نے مولانا سہارن پوری کی طرح ایک ایسا انداز بیان اختیار کیا جو کئی دہائیوں تک دیوبندی مسلک کی علمی تراث کے لیے مسئلہ بنا رہے گا۔ مولانا تھانوی نے علمِ نبوی کا موازنہ جانوروں، چوپایوں اور پاگلوں سے کرکے اپنے مخالفین کو وہ بارود فراہم کیا، جس سے وہ دیوبندیوں کے خلاف یہ استدلال کریں کہ وہ گستاخان رسول ہیں۔
بعینہ یہی وہ استدلال تھا، جو علمِ نبوی سے متعلق دیوبندی نظریات کی تردید کے لیے مولانا احمد رضا خان کی تردید کا سبب بنا، جس کی طرف میں اب متوجہ ہوتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا تھا، مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی کے مذکورہ بالا بیانات نے دیوبندیوں کے خلاف مولانا احمد رضا خان کے فتواے تکفیر کے لیے جلتی پر تیل کا کام دیا۔ دیوبندیوں سے تمام تر اختلافات کے باوجود انھوں نے ان کی تکفیر صرف ان دو عبارات کی بنیاد پر کی، جو ان کی نظر میں ضروریات دین کے خلاف تھیں۔
شیطانی عقائد
حُسام الحرمین وہ فتویٰ تھا جو عرب حنفی علما کی تائید کے حصول کے لیے مرتب کیا گیا تھا۔ اس میں مولانا احمد رضا خان نے مولانا گنگوہی،مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی کو شیطان وہابیوں (وہابیہ شیطانیہ) کا ایک گروہ قرار دیا17۔ انھوں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی توہین اور شیطان کی تعظیم کرتے ہیں۔ انھوں نے سب سے پہلے مولانا سہارن پوری کو اپنا نشانہ بنایا۔ خان صاحب کے نزدیک یہ کہنا کہ اللہ کی محبوب ترین ہستی حضور ﷺ کا علم شیطان یا ملک الموت سے کم تر ہے، ناقابل برداشت ہے۔ خان صاحب کی نظر میں مولانا سہارن پوری کا بیان اور طرز بیان دونوں گستاخانہ تھے۔
ایسے گستاخانہ سوالات پوچھنا کہ: "رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے بارے میں کون سے قطعی نصوص موجود ہیں؟" رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے۔ علاوہ ازیں نبی اکرم ﷺ اور شیطان کے علم کے درمیان موازنہ قائم کرنا ایک ایسی جسارت ہے جس سے رسالت مآب کا مقام ومرتبہ یقیناً مجروح ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے متعلق مولانا گنگوہی اور ان کے پیروکاروں کے رویے پر خان صاحب کی برہمی اور اشتعال کا اندازہ ان کے تیکھے لہجے سے لگائیے۔ وہ لکھتے ہیں:
ہم مسلمانوں سے فریاد کرتے ہیں، ہم سید المرسلین ﷺ پر ایمان لانے والوں سے فریاد کرتے ہیں! آپ غور کریں کہ یہ مولوی (مولانا رشید احمد گنگوہی) علم میں بڑے اونچے پاے کا دعویٰ کرتا ہے، ایمان اور معرفت میں یدِ طولیٰ کا مدعی ہے، اور اپنے حلقے میں غوث اور قطبِ زمانہ کہلاتا ہے، کس طرح منہ بھر کر گالی دے رہا ہے؟ اپنے پیر ابلیس کے علم کی وسعت پر تو ایمان رکھتا ہے،اور اسے نصِ قطعی تسلیم کرتا ہے، مگر جنھیں اللہ تعالی نے تمام علوم سے آگاہ فرمایا، سب علوم سکھا دیے، ان پر اللہ کا فضل کثیر تھا، جن کے سامنے ہر چیز روشن تھی، جنھوں نے ہر چیز کو پہچان لیا تھا، اور جن کے پاس آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اس کا علم تھا، مشرق ومغرب میں جو کچھ ہے اس کا علم تھا، تمام اگلوں اور پچھلوں کا علم حاصل تھا، اور یہ بات قرآن پاک کی کئی آیات میں درخشاں نظر آتی ہے، بے شمار احادیث حضور ﷺ کے وسعتِ علمی کی گواہ ہیں، مگر یہ بدبخت ان کے لیے یوں لکھتا ہے کہ ان کے حق میں کون سی نص آئی ہے؟ کیا یہ نظریہ ابلیس پر ایمان لانے اور حضور ﷺ کے علم سے انکار اور کفر کرنے پر مبنی نہیں ہے؟18
خان صاحب نے مولانا سہارن پوری پر الزام لگایا کہ وہ شیطان کو رسول اللہ سے اعلم (زیادہ علم والا) سمجھتے ہیں۔ مزید برآں انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی اور مخلوق سے کم تر علم والا قرار دینے اور انھیں گالی دینے میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے خان صاحب کی نظر میں مولانا سہارن پوری حضورﷺ کو گالی دینے کے مرتکب ہیں، اور اس وجہ سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں19۔ مزید یہ کہ خان صاحب کے نزدیک سہارن پوری شیطان کے علم کی وسعت کو جس جوش وجذبے سے ثابت کر رہے ہیں، اس سے کہیں زیادہ جارحانہ انداز میں وہ رسول اللہ ﷺ کے وسعتِ علم کی نفی کر رہے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے علمِ غیب کو شرک قرار دے رہے ہیں، لیکن شیطان کے لیے علم غیب ثابت کرنے سے انھیں کوئی مسئلہ نہیں۔ اس لیے خان صاحب بتاتے ہیں کہ مولانا سہارن پوری ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو صفاتِ الہیہ سے متصف کرنے پر بے چین ہیں، لیکن دوسری طرف طرف شیطان کو خدا کا شریک ٹھہرانے سے بالکل نہیں کتراتے۔
خان صاحب نوحہ کناں ہیں کہ اس بے ہودہ عقیدے کا اصل فائدہ صرف شیطان کو ہے۔ خان صاحب ایک خطیبانہ جوش کے ساتھ کہتے ہیں کہ مولانا سہارن پوری بیک وقت رسول اللہ ﷺ کی توہین اور شیطان کی تعظیم کرتے ہیں، کیوں کہ وہ مؤخر الذکر کو خدائی شان وشوکت کے زیادہ حامل قرار دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر مولانا سہارن پوری نے روایت کے مکمل تصور کو الٹ پلٹ کردیا ہے، کیوں کہ انھوں نے حضور ﷺ کا مقام شیطان کو دے دیا ہے۔ خان صاحب نے بتایا کہ ایسا شیطانی عقیدہ دین کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دے گا20۔
نبی اکرم ﷺ کی عزت و حرمت پر ڈاکہ
اس کے بعد خان مولانا اشرف علی تھانوی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے عرب مخاطبین سے مولانا تھانوی کا تعارف کچھ یوں کرتے ہیں:
اس فرقہ وہابیہ کے بڑوں میں ایک اور شخص اسی گنگوہی کا دم چھلا ہے، جسے اشرف علی تھانوی کہتے ہیں۔ اس نے چار اوراق کا ایک چھوٹا سا رسالہ تصنیف کیا ہے، جس میں اس نے تصریح کی ہے کہ غیب کی باتوں کا جیسا علم رسول اللہ ﷺ کو ہے، ایسا تو ہر بچے، بلکہ ہر جانور اور چوپاے کو حاصل ہے۔ اس کی ملعون عبارت کے الفاظ کچھ یوں ہیں: "آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر کسی کے نزدیک صحیح ہو، تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب؟ اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں، تو اس میں حضور ﷺ کی کیا تخصیص ہے؟ ایسا علم غیب تو ہر شخص کو بلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع بہائم وحیوانات کے لیے بھی حاصل ہے۔ اور اگر تمام علومِ غیبیہ مراد ہیں، اس طرح کہ اس سے ایک فرد بھی خارج نہ رہے، تو اس کا بطلان دلیل عقلی ونقلی سے ثابت ہے21۔
خان صاحب نے مولانا تھانوی پر الزام لگایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو جانوروں اور پاگلوں کے مساوی قرار دیا ہے۔ وہ اپنے عرب مخاطبین سے گویا تقاضا کر رہے ہیں کہ وہ ان کے طیش اور غیض وغضب میں ان کا ساتھ دیں۔ خان صاحب گرج دار انداز میں لکھتے ہیں: "دیکھیے اس نے کیسے قرآن کو چھوڑا، اور ایمان کو خیر باد کہا، اور نبی اکرم ﷺ اور حیوان کے درمیان فرق کی کوشش کرنے لگ گیا (انظر كيف ترك القرآن، وودَّع الإيمان، وأخذ يسعى الفرق بين النبي والحيوان)22۔ خان صاحب نے بتایا کہ مولانا تھانوی نے جس سادہ بات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا، وہ یہ ہے کہ خدا کےعلاوہ تمام مخلوقات کو جو علم غیب حاصل ہے، وہ ظنی ہے۔ امور غیبیہ کے متعلق یقینی علم اصالتاً خاص انبیاے کرام علیہم السلام کو ملتا ہے۔ کسی اور کو ایسا یقینی علم نہیں ملتا۔ پھر جلیل القدر انبیا اس علم کو خدا کی دیگر مخلوقات کو منتقل کرتے ہیں23۔
مولانا تھانوی پر خان صاحب کا بنیادی کلامی اشکال یہ تھا کہ انھوں نے اس تصور کورد کیا ہے کہ علم فضیلت کی علامت نہیں۔ خان کی نظر میں علم اور فضیلت کا ایک دوسرے سے تعلق مراتبی (hierarchical) ہے، اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کو تقویت فراہم کرتا ہے۔ خان صاحب بتاتے ہیں: لیکن مولانا تھانوی نے علم اور فضیلت کے درمیان اس نسبت کو مٹا دیا۔ اس کے بجاے مولانا تھانوی کی فکر میں عالم الغیب اللہ اور غیراللہ کے درمیان ایک دو قطبی تقسیم پائی جاتی ہے، جو اپنے علم کی وسعت کے اعتبار سے خدا سے یکسر کم تر ہیں۔ خان اپنی بات جاری رکھتے ہیں کہ یہاں مولانا تھانوی جس بات پر غور نہیں کرتے، وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا دیگر مخلوقات کو حاصل علم ایک جیسا یا یکساں نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان علم کے مراتب ہیں، جو صراحتاً افضل مخلوقات جیسے انبیا واولیا کو دیگر کم فضیلت والی مخلوقات جیسے عام انسانوں اور جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ چوں کہ مولانا تھانوی ان فروق اور مراتب کو نظر انداز کرتے ہیں، اس لیے وہ حضور ﷺ کے علم کا بچوں، پاگلوں اور چوپایوں کے ساتھ موازنہ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔
رسول اللہ ﷺ کے علم غیب پر مولانا احمدرضا خان کی سب سے زیادہ مفصل کتاب الدولة المکية ہے۔ یہ انھوں نے عربی میں اس وجہ سے لکھی ہے کہ خلافتِ عثمانیہ کے علما کو مخاطب بنائیں۔ اس کتاب میں وہ مولانا تھانوی کو توجہ دلانے کے لیے اپنے قارئین کو ایک دل چسپ تجربے کی تجویز دیتے ہیں:
"اگر آپ ان (مولانا تھانوی) کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو ان کے پاس جائیں، اور انھیں اس طرح سے سلام کریں: اے وہ شخص جو علم اور حیثیت میں کتے اور خنزیر کے برابر ہے"۔ خان صاحب نے پیش گوئی کی کہ یہ غیر متوقع سلام سن کر"وہ (مولانا تھانوی) غصے سے جل بھن کر کباب بن جائیں گے، اور ممکن ہے وہ ذلت سے مر جائیں"۔ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہیں: "پھر ان سے پوچھیں: کیا آپ کا علم خدا کے علم کی طرح ہر چیز کو محیط ہے؟" اگر وہ ہاں میں جواب دے، تو اس نے کفر کیا۔ اور اگر وہ نا میں جواب دے تو ان سے کہیے: "پھر آپ کے علم کی کیا خصوصیت ہے؟کیوں کہ کتوں اور خنزیروں کے پاس بھی بعض چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ پھر آپ خود کو عالم کیوں کہتے ہیں، اور کتوں اور خنزیروں کو کیوں نہیں؟" (فإن شئت ترى حقيقة ذالك فأته وخاطبه بقولك: "يا من يساوي الكلب والخنزير في العلم والتوقير". ستراه يحترق غيظا ويكاد يموت غنزا. فسله: هل أحاط بكل شيء علمك كمثل الله سبحانه وتعالى؟ فإن قال نعم فقد كفر، وإن قال لا فقل له: أي خصوصية لك في العلم، فإن العلم ببعض حاصل لكل الكلب والخنزير. فما لك تسمى عالماً دون نظرائك الكلاب والخنازير؟) 24.
خان صاحب کے نزدیک مولانا تھانوی کے استدلال میں بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ علم کی مختلف اقسام میں فرق نہیں کرتا۔ خاص طور پر مولانا تھانوی نے مطلق علم اور علم مطلق ( علم غیب کلی) کے درمیان فرق کو سرے سے نظر انداز کیا ہے25۔ علمِ مطلق سے مراد کسی شے کو فی نفسہ جاننا ہے، بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی اضافی پہلو یا قید ملحوظ ہو۔ ایسا علم خدا کے علاوہ دیگر مخلوقات بشمول نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ خدا نے اپنی مخلوقات میں مختلف ہستیوں کو ان کے روحانی مقام ومرتبے کے اعتبار سے علم دیا ہے۔دوسری طرف علم مطلق سے مراد غیر مشروط طور پر لامحدود علم ہے، جو مخلوق کی گرفت سے ماورا ہے۔ انسان اس علم کے مقدار اور محتویٰ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس علم کی کوئی حد وحساب نہیں۔ اس قسم کا علم صرف خدا کے پاس ہے26۔
خان صاحب نے بتایا کہ مولانا تھانوی کے طرز فکر کی رو سے کسی کو بلند مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب اس کے پاس علمِ مطلق ہو، لیکن وہ فضیلت کے ان مراتب کا کوئی احترام نہیں کرتے، جو خدا کی مخلوق میں مطلقِ علم کے مختلف حاملین کو حاصل ہے۔ اس کے بجاے مولانا تھانوی مطلق علم کے سب حاملین کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ مطلق علم کو اس طرح یکساں سمجھنے کی وجہ سے لیے ان کے لیے ناممکن ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے علم کو باقی دنیا کے علم سے ممتاز کر سکیں۔
خان صاحب کی نظر میں مطلق علم کے اس یک رخے تصور کی وجہ سے مولانا تھانوی نے رسول اللہ ﷺ کی امتیازی حیثیت کی نفی کی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے بلند مقام سے محروم کر دیا۔ خان صاحب نے بتایا کہ مولانا تھانوی نے رسول اللہ ﷺ کا جو موازنہ پاگلوں، جانوروں اور چوپایوں سے کیا ہے، یہ اس گہری اصولی بیماری کا غماز ہے جو ان کی فکر پر مسلط ہے ۔ جیسا کہ وہ وضاحت کرتے ہیں: "مولانا تھانوی مطلق علم کی مختلف اقسام میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھتے؛ ایک دو حرف جاننے میں، اور بے شمار علموں میں جن کی کوئی حد وحساب نہیں ہے۔ وہ فضیلت کو صرف علمِ مطلق کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں مقام فضیلت صرف اسے حاصل ہے، جو کلی علمِ غیب رکھتا ہو۔ اس لیے رسولوں کو علم مطلق کے اعتبار سے جو فضیلت حاصل تھی، وہ انھوں نے ان سے چھین لی"27۔
جیسا کہ اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے، خان صاحب کی نظر میں مولانا تھانوی نے توحید اور نبی اکرم ﷺ کی حیثیت کے درمیان ایک حد سے زیادہ بے لچک تقابل قائم کرکے رسول اللہ ﷺ کی امتیازی حیثیت پر ڈاکا ڈالا ہے۔ اپنے پیش رو علامہ فضل حق خیر آبادی کی طرح، خان صاحب کے اعتقادی تصور میں بھی توحید اور مقامِ نبوت باہم مربوط ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ علمِ الٰہی اور علم نبوی اگر چہ اپنی کمیت اورکیفیت کے اعتبار سے الگ ہیں، تاہم وہ ایک جیسے استدلالی مقام کا حصہ ہیں۔ خان صاحب نے رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کی صفت کو خدا کی طرف سے ایک موعودہ تحفہ قرار دیا۔
شفاعت کی طرح علم بھی خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے بلند مقام اور بے مثال روحانی عظمت کی علامت ہے۔ علم کا تحفہ ہی رسول اللہ ﷺ کو باقی مخلوق سے امتیاز بخشتا ہے۔اپنے محبوب ترین بندے کے لیے یہ خدا کی محبت کی ایک علامت ہے۔ اپنے دیوبندی حریفوں سے ایک بے لچک تقابل کے ساتھ خان صاحب کا موقف یہ تھا کہ حضور ﷺ کو محض خدائی علم حاصل نہیں، بلکہ وہ اس علم میں براہ راست شریک بھی ہیں۔ خان صاحب نے مزید کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے علم غیب کا تحفہ چھیننا خدا کے علم ہی کی تحقیر ہے۔
خان صاحب کی نظر میں جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی شان کو گھٹاتے ہیں، وہ خدا پر بھی افترا پردازی کرتے ہیں۔ توحید باری تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے بلند مقام ومرتبے میں کلی منافات نہیں، جیسا کہ دیوبندیوں نے غلط طور پر فرض کیا ہے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ انھیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔ خان صاحب نے لکھا: "تم کو کبھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو رسول اللہ ﷺ کی شان گھٹاتا ہے، اور وہ اپنے رب کی تعظیم بھی کرتا ہے۔ خدا کی قسم! جو کوئی ان کی شان گھٹائے گا، وہ ضرور بالضرور خدا کی شان بھی گھٹائے گا (لاترى أبدا من ينقص شان محمد وهو معظم لربه، والله إنما ينقصه من ينقص ربه)28۔
خان صاحب نے مولانا تھانوی کو ایک ایسے شخص کی روپ میں پیش کیا جو رسول اللہ ﷺ کی عظمتِ شان گھٹاتا ہے۔ خان صاحب کے نزدیک مولانا تھانوی کے فرضی قیاسات، جو رسول اللہ ﷺ کاپاگلوں، جانوروں اور چوپایوں سے موازنہ کرتے ہیں، نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور مرتبے کی کھلم کھلا گستاخی ہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ ایسے گستاخانہ موازنے اسلام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ خان صاحب نے واضح کیا کہ اگر مولانا تھانوی کے استدلال کو مانا جائے، تو ایک کافر یا اسلام کا دشمن اسی استدلال کے ذریعے توحید باری تعالیٰ کے تصور پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ خان صاحب نے بتایا کہ مولانا تھانوی کے استدلال کو دیکھتے ہوئے کوئی کافر یہ کہہ سکتا ہے:
اگر مسلمان یہ دعوی کریں کہ خدا حاکمِ مطلق ہے، تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے: کیا خدا کی حکومت صرف تمام چیزوں پر ہے یا کچھ چیزوں پر؟ اگر یہ صرف کچھ چیزوں پر ہے، تو اس میں خدا کی کیا خاصیت ہے، کیوں کہ کئی دیگر مخلوقات جیسے انسان، جانور، پاگل، بچے اور چوپاے تک کچھ چیزوں پر حاکمیت کے حامل ہیں؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ خدا ہر چیز پر حاکم ہے، تو پھر اسے نقلی اور علقی دلائل دونوں دلائل سے رد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ 'ہر چیز' کے مفہوم میں خدا بھی شامل ہے، تو پھر وہ اس کی حاکمیت خود اپنے آپ پر بھی ہے۔ اس صورت میں اس کی حاکمیت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ نتیجتاً وہ خدا ہی نہیں رہے گا29۔
خان صاحب کی نظر میں یہ وہ اعتقادی فساد ہے، جو مولانا تھانوی کی فکر نے برپا کیا ہے۔ خان صاحب کے لیے مولانا تھانوی کے انداز بیان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ انھوں نے تصور کو اپنی حدودسے متجاوز کر دیا ہے۔ کیوں کہ جب رسول اللہ ﷺ اور احمقوں اور چوپایوں کے درمیان موازنہ قابل تصور بن گیا، پھر تو اتنی سی کسر رہ گئی کہ اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً توحید کے متعلق بھی لوگ ایسے گستاخانہ موازنے کرنے لگ جائیں۔
حواشی
- خان صاحب نے دیگر بانیانِ دیوبند میں سے مولانا قاسم نانوتوی کی ختم نبوت سے انکار کے الزام میں تکفیر کی ہے۔ یہ الگ موضوع ہے، جس پر اس باب میں بحث نہیں ہے۔
- خلیل احمد سہارن پوری، البراہین القاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعۃ (کراچی: دارالاشاعت، 1987)، 50 – 55۔
- مولانا سہارن پوری کی البراہین القاطعۃ میں مولانا عبد السمیع کی انوار ساطعہ در بیانِ مولود وفاتحہ، 53۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 54 – 57۔
- ایضاً۔
- سہارن پوری، البراہین القاطعۃ، 53۔
- القرآن 6 : 59۔
- سہارن پوری، البراہین القاطعہ، 55۔
- عبد اللہ بن احمد النسفی، البحر الرائق في شرح كنز الدقائق في فروع الحنفية (بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1997)؛ محمد بن علی الحصکفی، الدر المختار في شرح تنوير الأبصار، (کلکتہ، مطبع اشتیاق لیتھوگرافک کمپنی، 1827)۔
- سہارن پوری، البراہین القاطعۃ، 55۔
- ایضاً، 53 – 56۔
- ایضاً، 53۔
- اشرف علی تھانوی، حفظ الایمان (دیوبند: دارالکتاب دیوبندی، تاریخ ندارد)، 2۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 15۔ رسول اللہ ﷺ سے علم غیب کی نفی کے بارے میں مولانا تھانوی نے قرآنِ کریم کی یہ آیت پیش کی: "اگر میرے پاس علمِ غیب ہوتا، تو بہت سے فائدے جمع کر لیتا" (قرآن 7 : 188)۔
- خان نے اس فہرست میں مولانا گنگوہی کو بھی شامل کیا، کیوں کہ انھوں البراہین القاطعہ مولانا گنگوہی کے اشارے پر لکھی تھی۔
- مولانا احمد رضا خان، حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین(لاہور: مکتبۂ نبویہ، 1975)، 24۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 23 – 28۔
- ایضاً، 27۔
- ایضاً، 29۔
- ایضاً۔
- مولانا احمد رضا خان، الدولة المكية بالمادة الغيبية(لاہور: نذیر سنز، 2000)، 272۔
- ا۔ خان، حسام الحرمین،29۔
- اس استدلال کو خان نے الدولة المكية کے کافی حصے میں دہرایا ہے۔
- ا۔ خان، حسام الحرمین،29۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 32۔
(جاری)