اپریل ۲۰۲۳ء

مشرقی معاشرے اور عورت کی تقدیس وتکریممحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۹)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مدرسہ اور یونیورسٹی کا تاریخی تعلقمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۴)ابو الاعلیٰ سید سبحانی 
شاہ ولی اللہ ؒکے کلامی تفردات: ایک تجزیاتی مطالعہ (۱)مولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۵)ڈاکٹر شیر علی ترین 
فکرِ استشراق اور عالمِ اسلام میں اس کا اثر و نفوذڈاکٹر سید متین احمد شاہ 
مولانا محمد یوسف رشیدیؒ اور مولانا قاری جمیل الرحمان اختر ؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

مشرقی معاشرے اور عورت کی تقدیس وتکریم

محمد عمار خان ناصر

مشرقی معاشروں میں عورت کی تقدیس اگر ایک قدر کے طور پر مانی جاتی ہے تو خواتین کو عدم تحفظ کی اس عمومی صورت حال کا سامنا کیوں ہے جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں؟

اس سوال کا ایک جواب تو ساحر لدھیانوی کی مشہور نظم سے ملتا ہے جس میں طوائف کلچر کے تناظر میں ثنا خوانان تقدیس مشرق سے کافی چبھتے ہوئے سوال پوچھے گئے ہیں۔ یہ تنقید ایک خاص پہلو سے معاشرت میں پائے جانے والے تضاد اور منافقت کی نشان دہی کرتی ہے۔ تقدیس کی جگہ آزادی کو قدر قرار دینے والا جدید لبرل بیانیہ اس سے آگے بڑھ کر اس مفروضے پر ہی سوال اٹھا دیتا ہے کہ مشرقی معاشرت واقعتاً‌ عورت کو تکریم دیتی ہے۔ اس بیانیے کی رو سے مشرقی معاشرت اصلا عورت پر جبر اور استحصال کی عکاس ہے جس کو جواز دینے کے لیے عزت اور تکریم کے تصورات کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔ تکریم کا اصل معیار انفرادی خود مختاری اور آزادی ہے جس کی عملی صورت مغربی معاشرت میں ہم دیکھتے ہیں۔ گویا اس نقطہ نظر کے مطابق یہ سوال کسی نئی وضاحت کا متقاضی ہی نہیں کہ عورت کو آج عدم تحفظ کی صورت حال سے کیوں واسطہ ہے۔ عورت کا جو مقام مشرقی معاشرت میں مانا گیا ہے، یہ اس کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہے اور تہذیبی قدروں میں ایک پیراڈائم شفٹ کو قبول کیے بغیر اس صورت حال سے نہیں نکلا جا سکتا۔

سوال کا دوسرا جواب اس نقطہ نظر میں سامنے آتا ہے جو اس صورت حال کی بنیادی ذمہ داری صنفی اظہارات کو فروغ دینے اور اس بے حجابی کو آزادی کا ایک پیمانہ قرار دینے والے جدید تصور معاشرت پر عائد کرتا ہے۔ اس موقف کی رو سے عورت کی تکریم حیا اور ستر وحجاب کے تصورات کے ساتھ وابستہ ہے۔ جدید معاشرت ان قدروں کی پامالی کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہے جس کی بدولت عورت کو تلذذ اور جنسی لطف اندوزی کی نظر سے دیکھنے کی نفسیات غالب ہوتی جا رہی ہے۔ خواتین کو درپیش عدم تحفظ کی صورت حال اسی کا براہ راست نتیجہ ہے۔

کیا ان دونوں جوابات میں سے کوئی ایک کلی طور پر درست اور دوسرا کلی طور پر غلط ہے؟ یا دونوں میں جزوی صداقتیں موجود ہیں جن کو تسلیم کرنے سے صورت حال کی بہتر تفہیم سامنے لائی جا سکتی ہے؟

اہل دانش کی کافی بڑی تعداد کا رجحان اسی طرف معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ روایتی مشرقی معاشرت میں عورت کی تکریم ایک قدر کے طور پر موجود ہوتے ہوئے عورت کی سماجی آزادی اور اختیار کے جو حدود طے کیے گئے ہیں، وہ متوازن نہیں ہیں اور جبر اور استحصال کی بہت سی صورتوں کو متضمن ہیں۔ ان اہل دانش کے تجزیے کی رو سے، دور جدید کی متعارف کردہ سماجی تبدیلیوں سے عورتوں کے لیے سماجی کردار کے مواقع اور آزادیاں بڑھی ہیں اور روایتی طور پر خواتین کا میل جول اپنے خاندان کے افراد تک محدود ہونے کا رواج متاثر ہوا ہے جسے ہماری مجموعی پدرسرانہ نفسیات قبول نہیں کر رہی۔ یوں گھر کے ماحول سے باہر متحرک ایسی خواتین کے لیے جنھیں عہدے یا منصب وغیرہ کا تحفظ حاصل نہ ہو، تکریم کا زاویہ نظر مفقود ہے جس کا نتیجہ عمومی عدم تحفظ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

یہ موجودہ صورت حال کے تجزیے کے تین بنیادی زاویے ہیں اور تینوں کا استدلال کافی حد تک واضح ہے۔ ان تینوں تجزیوں میں ایک خاص طرز معاشرت کی وکالت بھی موجود ہے۔ چنانچہ پہلے نقطہ نظر کے مطابق خواتین کو اپنے اسی دائرہ کار تک محدود رہنا چاہیے جو روایتی معاشرت میں قرار دیا گیا ہے اور جس کو مذہبی تشریحات کی تائید بھی حاصل ہے۔ دوسرے نقطہ نظر کی مجوزہ معاشرت وہی ہے جو مغربی انفرادیت پسندی کے معیارات پر پوری اترتی ہو۔ اور تیسرے نقطہ نظر میں مشرقی معاشروں کے لیے متوازن طرز معاشرت وہ ہے جس میں تکریم وتقدیس اور خاندانی تحفظ کی روایتی قدروں کے ساتھ ساتھ خواتین کے متحرک سماجی کردار کو بھی پوری اہمیت دی جائے اور گھر سے باہر کے ماحول میں بھی ان کے لیے تکریم واحترام کے رویے اور مکمل تحفظ کو نئی معاشرتی تشکیل کا حصہ بنایا جائے۔

یہ تینوں زاویے، ایک بڑے فکری اور تہذیبی اختلاف کے مظاہر ہیں جن کا تصفیہ یا محاکمہ یہاں مقصود نہیں۔ تاہم ہمارے نقطہ نظر سے ایک خاص پہلو پر جو موجودہ حالات میں بہت بنیادی اور اہم پہلو ہے، ان تینوں کے مابین مفید اور تعمیری مکالمے کی گنجائش بلکہ ضرورت موجود ہے۔ یہ پہلو خواتین کو درپیش عدم تحفظ کی صورت حال ہے جس کی اہمیت یا نزاکت سے کوئی بھی فریق انکار نہیں کر سکتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگر ایسے معاشرے کی تشکیل ایک مسلمہ مقصد ہے جس میں خواتین محفوظ ہوں تو کیا مذکورہ مختلف الخیال طبقے اس کی ناگزیر ضروريات اور درکار اقدامات پر باہم اتفاق کر سکتے ہیں؟

ہمارے نزدیک اس بحث میں دونوں فریق کچھ اہم پہلووں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

مثلاً‌ لبرل نقطہ نظر اس چیز کو عموماً‌ پیش نظر نہیں رکھتا کہ عورت کو عدم تحفظ کی صورت حال کا سامنا اپنی خلقی اور حیاتیاتی خصوصیات کی وجہ سے ہوتا ہے اور آج سے نہیں، ہمیشہ سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عورت کا غیر محفوظ یا مردانہ جارحیت کا ہدف ہونا ایک فطری صورت حال ہے، انسانی معاشروں کی پیدا کردہ نہیں۔ انسانی معاشروں کی تگ ودو تو اس state of nature کو اپنی نوعی وسماجی ضروریات کے تحت بدلنے اور اخلاقی ضابطوں کے تحت لانے کی رہی ہے۔ جدیدیت کے علمی ڈسکورسز کے زیر اثر آج ہمارے لیے ماقبل جدید معاشروں پر مختلف قسم کے تاریخی اور اخلاقی حکم لگانا آسان ہے، لیکن اس سے یہ حقیقت بدل نہیں جاتی کہ تمدنی ارتقا کی مختلف سطحوں پر تمام انسانی معاشرے عورت کے، جارحیت یا objectification کا ہدف بننے کے امکانات کو محدود کرنے اور اسے کسی نہ کسی انداز میں تحفظ دینے کی سعی کرتے رہے ہیں۔ آج انفرادی آزادی کے مواقع پیدا ہو جانے کے تناظر میں عورت کو فراہم کیے گئے یہ تحفظات ہمیں جبر دکھائی دیتے ہیں ، لیکن ہم یہ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ "جبر" ایک دوسری قسم کے عدم تحفظ اور استحصال کے سدباب کے لیے روایتی معاشروں نے اجتماعی ضرورتوں کے تحت اختیار کیا تھا۔

روایتی معاشرت میں ایسی تبدیلیاں جن سے انفرادی آزادیوں کی بہت زیادہ گنجائش پیدا ہو جاتی ہے، بنیادی طور پر مغربی معاشروں کا تاریخی تجربہ ہے جس کے ساتھ وابستہ نتائج اور مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے سماجی میکنزم بنانے کا موقع بھی اہل مغرب کو میسر رہا ہے۔ ان میں اہم ترین میکنزم جدید ریاست کا نظام ہے جس کی نئے خطوط پر تشکیل اس دور کے بالکل آغاز میں شروع ہو چکی تھی جسے اب ہم جدید دور کہتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایتی معاشرت کے سٹرکچرز ٹوٹنے سے پہلے مغربی معاشرے ریاست کی صورت میں تنظیم معاشرت کا ایسا میکنزم وجود میں لا چکے تھے جس نے انارکی یا لاقانونیت کے لیے جگہ خالی نہیں چھوڑی، بلکہ نئے اسٹرکچرز کو کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مشرقی معاشروں کی صورت حال اس سے مختلف رہی ہے۔ یہاں ماڈرنائزیشن کا عمل اصلاً‌ مغربی اثرات کے تحت شروع ہوا ہے اور اپنی ساخت میں مقامی معاشرت کے لیے اجنبی ہونے کی وجہ سے ابھی تک کسی ٹھکانے پر نہیں پہنچا۔ اس پر مزید پیچیدگی ان اقداری تبدیلیوں نے پیدا کر دی ہے جن کو ہم جدیدیت کا عمومی عنوان دیتے ہیں۔ خواتین کو ملنے والی آزادیوں اور مواقع کے ساتھ ایک طرف تہذیبی اضطراب اور دوسری طرف عدم تحفظ کے مسئلے کا پیدا ہو جانا اسی صورت حال کا ایک جزو ہے۔ یعنی مجموعی معاشرتی نفسیات اس تبدیلی کے ساتھ معاملہ کرنے کا کوئی مسلمہ اخلاقی فریم ورک نہیں رکھتی اور ریاست، اپنی ادھوری اور ناتمام تشکیل کی وجہ سے اس پراسیس کو مطلوبہ رخ دینے اور ضروری عملی اقدامات کی صلاحیت سے محروم ہے۔

روایتی مذہبی موقف اس بحث میں اس بات کی اہمیت کو عموماً‌ نظرانداز کر دیتا ہے کہ مذہبی اخلاقیات اور قانون میں مرد وعورت کے حقوق وفرائض کے حوالے سے ’’عدل “ کا جو فریم ورک دیا گیا ہے، اس کا تصور کی سطح پر موجود ہونا کافی نہیں۔ اس کے رو بہ عمل ہونے کے لیے خاص معاشرتی حالات اور شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ ان میں سے اہم ترین شرط یہ ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق اور مسائل پر بات کرنے کی آزادی اور داد رسی کے ذرائع تک رسائی حاصل ہو۔ قرآن اور حدیث اور آثار صحابہ سے مثالیں اور شواہد بیان کرتے ہوئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس ماحول میں اس بنیادی شرط کے پائے جانے کی وجہ سے ہی یہ ممکن تھا کہ شریعت کا بیان کردہ ’’عدل “ عملاً‌ تحقق پذیر ہو۔ مثلاً‌

پس خواتین کےساتھ عدل وانصاف کے حوالے سے اسلامی معاشرت کے امتیاز کو واضح کرنے کے لیے صرف اصولی تعلیمات کا حوالہ دینا کافی نہیں، اس کو یقینی بنانا زیادہ ضروری ہے کہ ان معاشرتی أصول واقدار کے مطابق خواتین کو عملاً‌ بھی سماجی آزادیاں اور حقوق دستیاب ہوں۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۹)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(400) لَنُبَوِّئَنَّہُمْ کا ترجمہ

درج ذیل دو آیتوں کے ترجموں میں کچھ قابل توجہ امور ہیں۔

وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا فِی اللَّہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَۃِ أَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ۔ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ۔ (النحل:41-42)

پہلا ترجمہ:

”اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی بعد اس کے کہ ان پر ظلم ڈھائے گئے، ہم ان کو دنیا میں بھی اچھی طرح متمکن کردیں گے اور آخرت کا اجر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش وہ جانیں۔ (یہ ان مہاجرین کے لیے ہے) جنھوں نے استقامت دکھائی اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

قابل توجہ امور:

پہلی بات: بوّء کا معنی ٹھکانہ دینا اور بسانا ہوتا ہے نہ کہ متمکن کرنا اور اقتدار دینا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ متعدد بار آیا ہے اور سب جگہ ٹھکانے اور بسیرے کے معنی میں ہی ہے۔ اور یہاں اسی مفہوم کا محل بھی ہے،کہ جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں اپنا گھر بار چھوڑا، اللہ تعالی انھیں بہترین ٹھکانہ نصیب فرمائے گا۔

دوسری بات: (یہ ان مہاجرین کے لیے ہے) قوسین میں اس اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنا کافی ہے کہ ”وہ جنھوں نے استقامت دکھائی۔“

تیسری بات: لو کا ترجمہ کاش کرنا اللہ کی شان کے پہلو سے مناسب نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا: اگر کہیں وہ جانتے ہوتے۔ (یعنی منکرین)

دوسرا ترجمہ:

”جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش جان لیں وہ مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے)“۔ (سید مودودی)

قابل توجہ امور:

پہلی بات: لو کانوا یعلمون کا ترجمہ ”کاش جان لیں“ مناسب نہیں ہے، بہتر ترجمہ یہ ہے: ”اگر کہیں وہ جانتے ہوتے“۔

دوسری بات: لو کانوا یعلمون کا ترجمہ کرنے کے بعد فل اسٹاپ (ختمہ) لگنا چاہیے۔ کیوں کہ الذین صبروا  یعلمون کا فاعل نہیں ہے، اس کا فاعل تو وہ منکرین ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیتوں میں بھی ہے۔ صبر و توکل والے تو بخوبی جانتے ہی ہیں بلکہ ایمان رکھتے ہیں، ان کے بارے میں یہ کیوں کہا جائے گا کہ ”کاش جان لیں وہ مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے)“۔

تیسری بات: الذین صبروا کا ترجمہ وہ مظلوم جنھوں نے صبر کیا موزوں نہیں ہے۔ بہتر ترجمہ ہوگا: وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا۔

چوتھی بات: وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ کا ترجمہ ہوگا: اور جو اپنے رب کے اوپر بھروسہ رکھتے ہیں۔

پانچویں بات: (کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے) قوسین میں اسے ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ جملہ اس کے بغیر مکمل ہے۔

تیسرا ترجمہ:

”جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

 ظُلِمُوا کا مطلب ظلم کا نشانہ بننا ہے نہ کہ ظلم کو برداشت کرنا۔

درج ذیل ترجمے میں مذکورہ بالا خامیاں نہیں ہیں:

”اور جنھوں نے گھر چھوڑا اللہ کے واسطے بعد اس کے کہ ظلم اٹھایا، البتہ ان کو ہم ٹھکانہ دیں گے دنیا میں اچھا اور ثواب آخرت کا تو بہت بڑا ہے، اگر ان کو معلوم ہوتا۔ جو ثابت رہے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا“۔ (شاہ عبدالقادر)

(401) إِلَہَیْنِ اثْنَیْنِ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں الھین کے ساتھ اثنین بھی آیا ہے، اس لیے ترجمہ دو معبود کرنے کے بجائے دو دو معبود کرنا چاہیے۔

وَقَالَ اللَّہُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَہَیْنِ اثْنَیْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلَہٌ وَاحِدٌ۔(النحل: 51)

”اور اللہ نے فرمادیا دو خدا نہ ٹھہراؤ وہ تو ایک ہی معبود ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

إِنَّمَا هُوَ إِلَہٌ وَاحِدٌ کا ترجمہ عام طور سے کیا گیا ہے، ”معبود وہی ایک ہے“۔ ھو ضمیر کا مرجع اللہ کو مانا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ یہاں ھو ضمیر شان ہے، یعنی: معبود ایک ہی ہے۔

 اس طرح آیت کا ترجمہ ہوگا:

”اور اللہ نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود ایک ہی ہے۔“

(402)  کَمَنْ لَا یَخْلُقُ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں کَمَنْ لَا یَخْلُقُ کا مفعول بہ مذکور نہیں ہے۔ ترجمے میں اس کا لحاظ کرنا چاہیے۔

أَفَمَنْ یَخْلُقُ کَمَنْ لَا یَخْلُقُ۔ (النحل: 17)

”پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، دونوں یکساں ہیں؟“۔ (سید مودودی)

یہاں ”کچھ بھی“ زائد ہے۔

”تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے“۔ (فتح محمد جالندھری)

یہاں ”اتنی مخلوقات“ اور ”کچھ بھی“ زائد ہے۔

”تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا؟“۔ (محمد جونا گڑھی)

یہاں ”کرسکتا“ کی ضرورت نہیں ہے۔

”تو کیا جو بنائے وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے“۔ (احمد رضا خان)

یہ مناسب ترجمہ ہے، اس میں کوئی زائد از لفظ اضافہ نہیں ہے۔ دراصل یہاں موازنہ ہے اس میں جو خالق ہے اور اس میں جو خالق نہیں ہے۔

(403) مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ کا ترجمہ

اسرار کا مطلب چھپانا اور اعلان کا مطلب ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ یہی اس کا صحیح ترجمہ ہے۔ کھلا اور چھپا یا ظاہر وباطن ان الفاظ کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ اسرار کا لفظ بتاتا ہے آدمی نے کسی خاص نیت سے کسی بات کو پوشیدہ رکھا ہے۔ کسی چیز کے باطن یا پوشیدہ ہونے کے لیے اسرار ضروری نہیں ہے۔ انسان کے ارادے کے بغیر اس کی بہت سی چیزیں دوسروں سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔ یہاں انسانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اللہ ا ن چیزوں کو بھی جانتا ہے جن کو وہ چھپاکر سمجھتے ہیں کہ کوئی جان نہیں سکے گا۔

(۱) وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ۔ (النحل: 19)

”اور اللہ ہی تمہارے باطن و ظاہر دونوں سے باخبر ہے“۔ (ذیشان جوادی)

”حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی“۔ (سید مودودی)

”اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمہ درست ہے۔

(۲)  وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ۔ (النمل: 25)

”اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو“۔ (سید مودودی)

(۳)  وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ۔ (التغابن: 4)

”اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو“۔ (فتح محمد جالندھری) چھپاکر کرنا ہی نہیں بلکہ کسی بھی چیز کو چھپانا مراد ہے۔

”اور ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جن کا تم اظہار کرتے ہو یا جنہیں تم چھپاتے ہو“۔ (ذیشان جوادی) ترتیب الٹ گئی ہے۔ چھپانے کا ذکر پہلے ہے۔

”جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب اس کو معلوم ہے“۔ (سید مودودی)

آخری ترجمہ درست ہے۔

(۴) أَوَلَا یَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ۔ (البقرۃ: 77)

”کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدگی اور ظاہرداری سب کو جانتا ہے؟“۔ (محمد جوناگڑھی) پوشیدگی اور ظاہر داری سے دونوں لفظوں کا مفہوم ادا نہیں ہوتا ہے۔ پوشیدگی کا مطلب چھپانا نہیں بلکہ چھپنا ہوتا ہے اور ظاہر داری کا مطلب بھی ظاہر کرنا نہیں ہوتا ہے۔

”کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمہ درست ہے۔

(۵) أَلَا حِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَہُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ۔ (ہود: 5)

”سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے“۔ (احمد رضا خان)

”تو آگاہ رہیں کہ یہ جب اپنے کپڑوں کو خوب لپیٹ لیتے ہیں تو اس وقت بھی وہ ان کے ظاہر و باطن دونوں کو جانتا ہے“۔ (ذیشان جوادی، یہاں بھی ترتیب الٹ گئی ہے، اسرار پہلے اور اعلان بعد میں ہے۔)

”خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی“۔ (سید مودودی)

”آگاہ ہو یہ (اس وقت بھی اس کی نظر میں ہوتے ہیں) جب اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں۔ وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

آخری ترجمہ درست ہے۔ البتہ اس میں قوسین والے جملے کی ضرورت نہیں ہے۔ کپڑے لپیٹتے ہیں کے بعد فل اسٹاپ (ختمہ) نہیں رہے گا۔ ترجمہ اس طرح ہوگا:

 ”آگاہ ہو یہ جب اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔“

(۶) لَا جَرَمَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ۔ (النحل: 23)

”اللہ یقینا اِن کے سب کرتوت جانتا ہے چھپے ہوئے بھی اور کھلے ہوئے بھی“۔ (سید مودودی)

”فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

آخری ترجمہ درست ہے۔

(۷) إِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ۔ (یس: 76)

”اِن کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”ہم ان کی پوشیدہ اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمہ درست ہے۔

(404)  کفیلا کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں کفیلا کے عام طور سے دو ترجمے کیے گئے ہیں۔ ایک گواہ اور دوسرا ضامن۔

وَأَوْفُوا بِعَہْدِ اللَّہِ إِذَا عَاہَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیدِہَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّہَ عَلَیْکُمْ کَفِیلًا إِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ۔ (النحل: 91)

”اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے“۔ (سید مودودی)

”اور تم اللہ کو گواہ بھی بناچکے ہو“۔ (اشرف علی تھانوی)

”درآنحالیکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ ٹھہراچکے ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کرکے اللہ کو اپنا ضامن“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو“۔ (احمد رضا خان)

”کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو“۔ (محمد جوناگڑھی)

دونوں ہی ترجمے کچھ اشکال رکھتے ہیں۔ کفیل کا ترجمہ گواہ تو لغت کے لحاظ سے ثابت نہیں ہے۔ اور جہاں تک ضامن کی بات ہے تو انسان اللہ کے نام سے جب عہد کرتا ہے یا قسم کھاتا ہے تو وہ اللہ کو ضامن نہیں بناتا ہے۔ اگر وہ عہد پورا نہ کرے تو اللہ کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ہے،  وہ خود اپنی عہد شکنی کا پورے طور سے ذمے دار ہوتا ہے۔ کفیل بمعنی ضامن کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اس کے عہد پورا نہ کرنے کی ذمے داری ضامن پر ہوگی، اور ظاہر ہے یہ مراد نہیں ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ یہاں اس لفظ کا ترجمہ سرپرست اور نگہبان ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں ک ف ل کے دیگر کچھ مشتقات آئے ہیں، ان مقامات پر سرپرستی کا مفہوم ہے۔ جیسے:

وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ إِذْ یُلْقُونَ أَقْلَامَہُمْ أَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ۔ (آل عمران: 44)

 اور: وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا۔ (آل عمران: 37)

 نیز: فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّکُمْ عَلَی مَنْ یَکْفُلُہُ۔ (طہ: 40)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”جب کہ تم اللہ کو اپنا سر پرست و نگہبان بنا چکے ہو۔“

غالبا شاہ ولی اللہ بھی یہی رائے رکھتے ہیں، ان کا ترجمہ ہے:

”وہر آئینہ ساختہ اید خدارا بر خویش نگاہ بانندہ“۔

امام طبری کی رائے یہی ہے۔

یَقُولُ: وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّہَ بِالْوَفَاءِ بِمَا تَعَاقَدْتُمْ عَلَیْہِ عَلَی أَنْفُسِکُمْ رَاعِیًا یَرْعَی الْمُوفِی مِنْکُمْ۔ (تفسیر طبری)

مطلب یہ ہوا کہ جب اللہ سے تم نے عہد کیا ہے اور اسی کے حضور پختہ قسمیں کھائی ہیں اور تم یہ بھی مانتے ہو کہ وہی تمہارا نگہبان و سرپرست ہے، تو پھر تمہارے دل میں عہد شکنی اور قسم توڑنے کا خیال نہیں آنا چاہیے۔ تمھیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تمہارا سرپرست و نگہبان ہے وہ تمہارے عہد وپیمان کی تکمیل میں تمہاری مدد کرے گا۔

(جاری)


مدرسہ اور یونیورسٹی کا تاریخی تعلق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۵ مارچ کو جامعۃ الرشید کراچی کے سالانہ کانووکیشن اور الغزالی یونیورسٹی کی تعارفی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ پہلی نشست کی صدارت کا شرف ملا جبکہ تیسری نشست میں کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب، تمام معززین مہمانانِ خصوصی، شرکاء محفل اور وہ طلباء کرام جو آج مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کر کے اسناد لے کر جا رہے ہیں! جامعۃ الرشید کے سالانہ کانووکیشن میں حاضری اور الغزالی یونیورسٹی کی تعارفی تقریب میں شرکت میرے لیے سعادت کی بات ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔

جامعۃ الرشید کے ساتھ میری بہت سی نسبتیں ہیں، ان میں سے ایک نسبت کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نور اللہ مرقدہٗ اور میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز دورہ حدیث کے ساتھی تھے، انہوں نے اکٹھے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے دورہ حدیث پڑھا تھا۔ اس نسبت کے اظہار کے بعد عرض کرنا چاہوں گا کہ ’’الغزالی یونیورسٹی‘‘ میری زندگی بھر کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ میں اس وقت جامعۃ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کے سنگم پر کھڑا ہوں تو تھوڑی سی تاریخ بیان کرنا چاہوں گا اور مدرسہ اور کالج کے تعلقات کے دو چار مراحل ذکر کرنا چاہوں گا۔ مدرسہ اور کالج کی لڑائی کا تو ہم ذکر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے تعلقات کی تاریخ پر بھی ہماری نظر رہنی چاہیے۔

(۱) دیوبند میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے مدرسہ عربیہ بنایا تھا اور سر سید احمد خان مرحوم نے علی گڑھ میں کالج بنایا تھا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ علی گڑھ کالج میں دینیات کے شعبے کے سربراہ حضرت مولانا عبد اللہ انصاریؒ تھے جو حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے داماد تھے اور سر سید احمد خان مرحوم کی طلب پر وہاں بھیجے گئے تھے۔ یہ مدرسہ اور یونیورسٹی کا پہلا تعلق تھا۔

(۲) پھر ’’نیشنل مسلم یونیورسٹی‘‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ تاریخ کا طالب علم ہوں، میرا یہ سوال ہے کہ ہماری تین بڑی تحریکات (۱) تحریکِ خلافت (۲) تحریکِ آزادی (۳) تحریکِ پاکستان جن میں دونوں اداروں کے تربیت یافتہ حضرات نے مشترک کردار ادا کیا تھا۔ تحریکِ خلافت میں بھی علماء اور سیاستدان اکٹھے تھے، تحریکِ آزادی میں بھی اور تحریکِ پاکستان میں بھی۔ ان میں یہ ملاپ کہاں سے آیا تھا؟ دونوں کو لیڈرشپ کے میدان میں کس نے اکٹھا کیا تھا؟ اس کا نقطہ آغاز شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ ہیں جو دونوں کا خلا پر کرنے کے لیے علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں ’’نیشنل مسلم یونیورسٹی‘‘ تشکیل پائی تھی جو آج بھی ’’جامعہ ملیہ‘‘ کے نام سے دہلی میں کام کر رہی ہے۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں دونوں طبقوں کی مشترک قیادت اس سوچ کا نتیجہ ہے جو نیشنل مسلم یونیورسٹی نے دی تھی۔

(۳) تیسرے نمبر پر یہ ذکر کروں گا کہ پاکستان بننے کے بعد ایک مرحلہ بہاولپور کی اسلامی یونیورسٹی ہے جو پہلے جامعہ عباسیہ تھا، اسے یونیورسٹی کا ٹائٹل دے کر ہم نے ملاپ کا مرکز بنایا تھا۔ علامہ شمس الحق افغانیؒ، علامہ سعید احمد کاظمیؒ، مولانا عبد الغفار حسنؒ اور دیگر اکابر نے آج کی جدید تعلیم یافتہ قیادت کے ساتھ مل کر ایک مشترک ادارہ بنایا تھا جو ریاستی سطح پر تھا۔ اگرچہ وہ اپنے ہدف پر قائم نہیں رہ سکا، یہ بات اپنی جگہ پر ہے، لیکن بہرحال یہ مدرسہ اور کالج کے تعلق کا تیسرا مرحلہ ہے۔

درمیان میں ایک کوشش ہم نے بھی کی تھی، جسے ریکارڈ پر لانا چاہوں گا کہ ۱۹۹۲ء میں گوجرانوالہ میں ہم نے اٹھائیس ایکڑ جگہ خرید کر عمارت تعمیر کر کے ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے نام سے ایک ادارے کا آغاز کیا تھا جس کا پہلا نام ’’نصرۃ العلوم اسلامی یونیورسٹی‘‘ رکھا گیا تھا۔ ہمارے دونوں بزرگ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ اس کے سرپرستِ اعلیٰ، اس کے ٹرسٹی اور اس کے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ ان کی سرپرستی میں ہم نے وہ ادارہ بنایا تھا جو کہ اب جامعۃ الرشید کے ایک شعبے کے طور پر ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے۔

ان مراحل کے بعد آج جب میں جامعۃ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کو دیکھ رہا ہوں تو ماضی کی ان ناکامیوں کو محمود غزنویؒ کے پہلے سولہ حملے شمار کرتے ہوئے جامعۃ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کو سترہواں حملہ سمجھ رہا ہوں جو کامیابی کی طرف گیا ہے۔ اور میں حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم اور ان کے تمام معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت نے ہمارا وہ خواب شرمندہ تعبیر کیا جو ہم نے ۱۹۹۲ء میں گوجرانوالہ میں بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے۔ میں آج اس خواب کی تعبیر صرف دیکھ نہیں رہا بلکہ اس خواب کی تعبیر کے عملی مرحلے میں شریک بھی ہوں، اللہ تعالیٰ برکتیں، رحمتیں، کامیابیاں، ثمرات اور قبولیت و رضا سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

ایک اور بات کہہ کر بات سمیٹوں گا۔ تاریخ اور سماجیات کا طالب علم ہوں۔ میں خود کو اس وقت سو سال پہلے کے ماحول میں دیکھ رہا ہوں کہ ’’نیشنل مسلم یونیورسٹی‘‘ بنی تھی جس نے ’’جامعہ ملیہ‘‘ کی شکل اختیار کی۔ اس نے متحدہ ہندوستان کو تحریکِ خلافت کی قیادت فراہم کی تھی، تحریکِ پاکستان اور تحریکِ آزادی کی مشترک قیادت فراہم کی۔ آج میں پھر سے تاریخ کو خود کو دہراتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور دعا گو ہوں کہ جامعۃ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی مستقبل میں ہماری ایسی تحریکات کی نرسری بنے اور میں اس حوالے سے مستقبل کو روشن دیکھ رہا ہوں کہ ہمیں مشترک دیانت دار قیادت ملے گی جس کی راہنمائی میں پاکستان بحران سے نکلے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور صرف خود نہیں نکلے گا بلکہ عالمِ اسلام اور ملتِ اسلامیہ کو بحران کی دلدل سے نکالنے میں ہراول دستہ ثابت ہو گا۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۴)

ابو الاعلیٰ سید سبحانی

فکر اسلامی کی ازسر نو تشریح کی ضرورت

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم مولانا مودودیؒ کے نام اپنے ایک خط میں اپنی تحریر ”معاصر اسلامی فکر“ کے حوالہ سے بدلتے ہوئے حالات میں فکر اسلامی سے متعلق مختلف امور ومسائل کی از سر نو تعبیر وتشریح پر بھی زور دیتے ہیں:

”ڈیڑھ دو سال پہلے آپ کی خدمت میں ”معاصراسلامی فکرکے چند توجہ طلب پہلو“ کے عنوان سے ایک مقالہ بھیجا تھا، جس کے ذریعہ آپ کے سامنے یہ احساس پیش کرنا مقصود تھا کہ عصر حاضر میں اسلامی زندگی کی تشریح وتعبیر کے ذیل میں بہت سے امور پر تحریک کا موقف ازسرنو تعیین وتشریح کا طالب ہے، جب تک یہ کام نہیں انجام پاتا جدید انسان ہماری قیادت پر اعتماد نہیں کرسکتا۔ کم سے کم اسے یہ اطمینان تو ہو کہ ہم نے ان امور کے سلسلہ میں غوروفکر کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور رائے بدلنے کی پوری گنجائش ہے! صورت حال یہ ہے کہ ہماری پچھلی بہت سی باتوں پر اب اپنوں کو بھروسہ نہیں رہا۔ خاص طور پر جن لوگوں کو علم حاصل کرنے اور خود سوچنے سمجھنے کا موقع ملا وہ مسائل کے اس پورے باب میں دوسری رائیں رکھتے ہیں جس باب کا ذکر میں نے مقالہ میں کیا ہے۔ دوسروں کو مطمئن کرنے یا اپنی طرف بلانے میں جب ان مسائل سے متعلق وہ مخصوص رائیں پیش نظر رہتی ہیں جو تحریکی حلقوں کی طرف منسوب ہوچکی ہیں تو خود یہ بات تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ اس بات کی اہمیت بڑھتی چلی جائے گی اور اس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ جب سے مغربی ممالک میں اسلامی تحریک کا کام بڑھا ہے اس طرح کے مسائل کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اور اب ضرورت اوپر اوپر سے صرف بعض عملی مسائل پر اظہار رائے میں لچک اختیار کرنے کی نہیں بلکہ اصولی طور پر ان مسائل کے حل کے طریقے، انفرادی آزادی کے حدود، اجتہاد واختلاف کی گنجائش اور قرآن کریم اور سنت ثابتہ کے متعلقہ نصوص کی تعبیرنو کی ہے“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب)

”معاصر اسلامی فکر“ پر مولانا مودودی کے خدشات:

مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ نے ڈاکٹر صدیقی کی تحریر ”معاصر اسلامی فکر“ سے متعلق الگ الگ تین خطوط میں اپنے کچھ احساسات اور کچھ خدشات کو بیان کیا ہے، ذیل میں ان خطوط سے متعلقہ اقتباسات درج کیے جارہے ہیں:

پہلا مکتوب (6ستمبر 1970):

”اس وقت ہم خصوصاً یہاں جن نازک حالات سے گزر رہے ہیں ان میں پہلے ہی ہمارے راستے میں بے شمار کانٹے ہیں، کجا کہ آپ چند اور کانٹوں کی نشاندہی کرکے یہاں نئی بحثیں چھڑوادیں۔ ہندوستان کی حد تک تو یہ صرف علمی بحثیں ہوں گی، لیکن ہمارے لیے یہ عملی پیچیدگیاں بن جائیں گی۔ بہت سے مسائل ایسے ہیں جن سے صرف اس وقت تعرض کرنا چاہیے جب کسی جگہ عملاً اسلامی نظام قائم ہوجائے اور ہم اس پوزیشن میں ہوں کہ ان مسائل پر جو رائے بھی قائم کریں اس کو نافذ کرنے کی طاقت ہمیں حاصل ہو۔ اس سے پہلے ان پر تفصیلی بحثیں کرنا اپنی راہ کی مشکلات کو بڑھانے کا موجب بن جائے گا۔ اس لیے بعض بحثوں سے ہم قصداً احتراز کررہے ہیں“۔

دوسرا مکتوب (10نومبر1970):

”آپ کا مقالہ میں نے دیکھ لیا ہے، اس میں بہت سے ایسے مسائل چھیڑدیے گئے ہیں جنہیں اس وقت پاکستان میں چھیڑدینا ہمارے لیے مزید مشکلات کا موجب ہوجائے گا۔ اس لیے یہاں تو اس کی اشاعت ممکن نہیں ہے۔ آپ چاہیں تو ہندوستان میں اسے شائع کردیں، کیونکہ وہاں اس کی حیثیت محض علمی بحث کی سی ہوگی“۔

تیسرا مکتوب (26نومبر1970):

”میرا خیال یہ ہے کہ جن مسائل پر آپ نے بحث کی ضرورت ظاہر کی ہے ان کو مسائل کی شکل میں چھیڑنے اور شائع کرنے کے بجائے ان میں سے کسی ایک یا چند مسائل پر خود تحقیقی بحث کریں۔ اور دوسرے ان رفقاء کو جو اس قسم کے تحقیقی کام کرنے کے اہل ہیں دوسرے مسائل کی طرف توجہ دلائیں، یہ ایک مثبت طریقہ ہوگا جس سے زیادہ بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے“۔

معاصر اسلامی فکر اور مولانا علی میاں ندویؒ کا اعتراف

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ”معاصر اسلامی فکر“ کا مسودہ اشاعت سے قبل وقت کے بڑے اہل فکر ونظر کی خدمت میں ارسال کیا تھا، یہ مسودہ مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی کی خدمت میں بھی ارسال کیا گیا تھا، مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ نے مسودہ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر صدیقی کے نام اپنے دو خطوط میں اس مقالہ کا تذکرہ کیا ہے، ان خطوط کے ذریعہ نہ صرف مولانا ندوی مرحوم نے تائید نوٹ کرائی، بلکہ اس کام کی اہمیت کا کھل کر اعتراف بھی کیا، اور اس سلسلہ میں کچھ حد تک عملی رہنمائی بھی فرمائی، یہ دونوں مکتوب ذیل میں درج کیے جارہے ہیں:

پہلا مکتوب (19اپریل 1970):

”مضمون فکرانگیز اور پرمغز ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس طریق فکر سے سو فیصدی اتفاق ہو۔ آپ نے جن مسائل کو اٹھایا ہے اور جن کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان سے انکار نہیں، لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ آپ قرآن مجید اور سیرت نبوی سے براہ راست ان کا حل طلب کریں اور ان کے قلب وجگر میں اترنے کی کوشش کریں، جہاں تک میرے سوچنے کے طریقے کا تعلق ہے میری عربی کتاب النبوۃ والانبیاء فی ضوء القرآن اور الارکان الاربعۃ میں وہ ذہن بہت حد تک سامنے آگیا ہے، پھر بھی میں نے آپ کی تحریر سے استفادہ کیا اور اس کے بہت سے حصوں سے اتفاق ہے“۔

دوسرا مکتوب(17 مئی 1970):

”آپ کا مقالہ ”معاصر اسلامی فکر“ آپ کے پاس بھیج رہا ہوں، جیسا کہ میں نے پہلے لکھا تھا کہ یہ ایک پرمغز اور فکرانگیز رسالہ ہے۔ آپ نے بڑے اہم سوالات اٹھائے ہیں جن کو زیادہ دنوں تک نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور ان کو نظرانداز کرنے کی اس عالم اسباب میں اکثر وہی سزا ملتی ہے جو متعدد آزاد ہونے والے ممالک اور مسلم معاشرہ میں اِس دور میں ملی ہے اور وہ زیادہ تر اسلامی تحریکوں اور ان کے قائدین کے حصہ میں آئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان مسائل پر کون غور کرے یا وہ لوگ ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں اور جو اہل ہیں ان کو ترکی کے پچھلے دور کے علماء کی طرح اپنی دوسری مصروفیتوں سے فرصت نہیں۔ مجلس تحقیقات شرعیہ کا قیام اسی سلسلہ کی ایک ناچیز کوشش تھی مگر اس کو ابھی تک کوئی موزوں آدمی نہ ملا۔ ہمارے صاحب ثروت طبقہ کو نہ اس کی سمجھ ہے نہ توفیق کہ جو نوجوان فاضل اس کی اہلیت رکھتے ہیں اور قدیم وجدید پر ان کی ایک حد تک نظر ہے ان کو معاشی حیثیت سے بے فکر اور اس کام کے لیے فارغ کردیں۔ میں پہلے بھی اس کام کے لیے زیادہ موزوں نہ تھا اور اب تو نظر کی کمزوری نے بالکل ہی معذور کردیا ہے۔ اگر کبھی امنگ پیدا ہوتی ہے تو ”تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے“ کا مصرعہ پڑھ کر خاموش ہوجاتا ہوں۔ آپ ان سوالات میں سے ایک ایک کو لے کر خود ہی جواب دینے کی کوشش کریں اور اپنا فکرومطالعہ پوری احتیاط وتوازن کے ساتھ پیش کریں، تو شائد یہ بات دوسروں کے لیے تحریک بن جائے اور اس کا کوئی اچھا نتیجہ نکلے۔ بہرحال میں نے اس تحریر سے استفادہ کیااور اب شکریہ کے ساتھ آپ کو واپس کررہا ہوں۔“ (حوالہ سابق، صفحہ 59)

معاصر اسلامی فکر، مولانا عبدالماجد دریابادی کا احساس:

مولانا عبدالماجد دریابادی علیہ الرحمہ معاصر اسلامی فکر میں مذکور امور ومسائل سے متعلق اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں:

”یہ سارے مسائل ہیں واقعی نازک اور جب تک خود مخاطبین کی ہی ذہنیت بدل نہ جائے پوری کامیابی کی توقع بھی نہیں“۔ (حوالہ سابق)

معاصر اسلامی فکر پر نظرثانی کا کام

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کا یہ مقالہ پہلی بار مجموعہ خطوط ”اسلام، معاشیات اور ادب“ میں ضمیمہ کے طورپر شائع ہوا۔ اس کے بعد ماہنامہ ترجمان القرآن لاہورمیں شائع ہوا، اور پھر ترجمان القرآن کے شکریہ کے ساتھ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ نے اس مقالہ کو ”عصر حاضر میں اسلامی فکر۔ چند توجہ طلب مسائل“ کے عنوان سے اپنے یہاں اس نوٹ کے ساتھ شائع کیا کہ ”ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا شمار عالم اسلام کے نامور اصحاب علم اور ماہرین معاشیات میں ہوتا ہے۔ زیرنظر تحریر میں انہوں نے نہایت بالغ نظری کے ساتھ ان مباحث کی نشاندہی کی ہے جو دین وشریعت کی تعبیر وتشریح اور امت مسلمہ کو درپیش فکری چیلنجوں کے حوالے سے عالم اسلام کے علمی حلقوں میں زیربحث ہیں“۔ (جولائی 2002ء، صفحہ20)

2006ء میں مولانا امین عثمانی ندوی مرحوم، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی گزارش پرڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اس مقالہ پر نظرثانی فرمائی، مولانا امین عثمانی کی خواہش تھی کہ مقالہ پر چونکہ ایک عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران ڈاکٹر صدیقی نے دنیا بھر کے اسفار بھی کیے ہیں اور دنیا بھر کے مفکرین کے ساتھ تعامل بھی رہا ہے، چنانچہ ان کی روشنی میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں اس پر نظرثانی کردی جائے۔ چنانچہ ڈاکٹر صدیقی مرحوم نے اس مقالے میں حواشی کے تحت متعدد اہم اضافی نوٹس درج کرائے، اور متعدد جگہوں پر اپنی رائے میں تبدیلی بھی ظاہر کی ہے۔ اس طرح یہ مقالہ پہلی بار کتابی صورت میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سے شائع ہوا۔ اس کے مقدمہ میں ڈاکٹر صدیقی مرحوم لکھتے ہیں:

”2006ء کے اواخر میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اس میں اٹھائے گئے سوالات پر مزید غوروبحث کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے مجھ سے فرمائش کی کہ، اس حقیقت کے پیش نظر کہ مقالہ لکھے کافی وقت گزرا اور اس عرصے میں دنیا کچھ سے کچھ ہوگئی، اس میں اضافہ کروں تاکہ اسے اہل فکرونظر کے سامنے تبادلہئ خیالات کے لیے پیش کیا جائے۔ میں نے یہ اضافے متن مقالہ میں کرنے کی بجائے حاشیہ میں کیے ہیں تاکہ ایک تاریخی امانت میں کسی تصرف کے بغیر تازہ افکار سامنے رکھ سکوں۔ واضح رہے کہ یہ مقالہ، یا اس پر تازہ اضافے، کسی معروضی بحث کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک طالب علم کے مطالعہ، مشاہدات اور تأثرات کا نتیجہ ہیں جو تبادلہ آراء کی غرض سے پیش کیے جارہے ہیں۔ میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا شکرگزار ہوں کہ اس نے یہ موقع فراہم کیا۔“ (مقدمہ)

معاصر اسلامی فکر کا دوسرا ایڈیشن

2016ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی سے شائع کیا گیا، یہ وہی ایڈیشن ہے جو 2006ء میں فقہ اکیڈمی سے شائع ہوا تھا، البتہ اس ایڈیشن میں مولانا امین عثمانی ندوی مرحوم کے مختصر مقدمہ بعنوان ”اشارہ“ کا اضافہ ہے۔ مولانا عثمانی مرحوم مقدمہ میں لکھتے ہیں:

”مایہ ناز مفکر محترم ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے حکمت و دانائی سے احیاء و تجدید کے مضامین کو سامنے رکھتے ہوئے معاصر فکر اسلامی کے ان نئے سوالات کو اپنا موضوع سخن بنایا جن کاتعلق عملاً مستقبل میں کام کرنے اور مستقبل کی فکری منصوبہ بندی سے تھا،ان کا یہ فکر انگیز مضمون ہند و پاک کے جرائد میں کافی پہلے شائع ہوا، ایک مدت کے بعد اندازہ ہوا کہ ان بیش قیمت موتیوں کو دوبارہ منظر عام پر لانا مناسب ہوگا، چنانچہ صاحب مقالہ سے گزارش کی گئی کہ وہ اس میں ضروری اضافات فرمادیں۔ انھوں نے علمی دیانت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ضروری حاشیوں کا اضافہ کیا اور ان حواشی میں اہم اشارات درج کیے، حالانکہ یہ اشارات بذات خود مستقل مضامین کے نکات ہیں۔“ (صفحہ6)

مولانا امین عثمانی مرحوم کی خواہش تھی کہ 2016ء کے ایڈیشن میں بھی ڈاکٹر صدیقی مرحوم کی جانب سے نظرثانی کا کام ہوجائے، جس کی جانب ایک ہلکا سا اشارہ مذکورہ اقتباس میں بھی موجود ہے، اس سلسلہ میں مولانا امین عثمانی مرحوم نے 19 اپریل 2016کو ڈاکٹر صدیقی کے نام ایک مکتوب بھی ارسال کیا تھا، اس کے مشمولات اس طرح تھے:

”معظمی ومحترمی! السلام علیکم۔ میں خود حاضر ہوکر ایک بات کہنا چاہ رہا تھا لیکن ای میل کے ذریعہ ہی گزارش کرتا ہوں کہ آپ کی ایک قیمتی تحریر ’معاصر اسلامی فکر‘ جو ہم نے شائع کی تھی، اس کے نسخے ہمارے یہاں کافی پہلے ختم ہوچکے اور دوبارہ وہ اب تک چھپ نہیں سکی۔ برادر ابوالاعلی صاحب چاہتے ہیں کہ اسے شائع کریں، البتہ ساتھ میں ہماری بھی اور ان کی بھی یہ خواہش ہے کہ اگر روزانہ تھوڑا تھوڑا سا وقت آپ دے دیں اور اس میں ضروری اضافات کرادیں تو ایک بہت قیمتی چیز اہل علم کے ہاتھوں تک جلد سے جلد پہنچ جائے گی۔ اگر روزانہ پندرہ منٹ بھی آپ کا قیمتی وقت مل جائے تو ابوالاعلی صاحب آپ کے پاس بیٹھ کر ضروری نکات بشکل اضافات نوٹ کرلیں گے اور پھر آپ کو دکھا بھی دیں گے۔ والسلام، امین عثمانی“۔

لیکن اس وقت تک ڈاکٹر صدیقی مرحوم صحت کے اعتبار سے کافی کمزور ہوگئے تھے، استحضار بھی پہلے جیسا نہیں تھا، کچھ وقت دہلی میں رہتے تھے اور زیادہ وقت بچوں کے ساتھ امریکہ میں گزرتا تھا، چنانچہ یہ ایڈیشن بغیر کسی اضافے کے جوں کا توں شائع کردیا گیا۔

آئندہ سطور میں ”معاصر اسلامی فکر“ میں موجود کچھ اہم نکات کو پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی:

نفاذ اسلام اور عوامی تائید کا حصول

اسلامی تبدیلی ایک ہمہ گیر تبدیلی کا نام ہے، ذہنی اور فکری تبدیلی کا پہلو اس کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے، معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور نظم وانصرام کا پہلو اس تبدیلی کے اہم ترین عناصر میں شمار کیا جاسکتا ہے، عوامی تائید اور قیادت کی منتقلی اس تبدیلی کے لیے بہت ضروری ہے، لیکن محض عوامی تائید کا حصول اور قیادت کی منتقلی سے بات پوری نہیں ہوتی ہے، اس تناظر میں ڈاکٹر صدیقی مرحوم کے درج ذیل پیراگراف پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، پہلا پیراگراف 1970 کے متن کا ہے، جبکہ دوسرا پیراگراف 2006 کے ایڈیشن سے ہے، اس پیراگراف میں گزشتہ موقف پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ 1970 کی عبارت یہ ہے:

”آج مسلمان دانشوروں میں ایک معتد بہ عنصر موجود ہے جو پورے اسلام کو اختیار کرنے کا عزم رکھتا ہے، اور شریعت کو نہ صرف واجب العمل سمجھتا ہے بلکہ قابل عمل سمجھتا ہے، اور دور جدید میں اسے نافذ کرنے کا عزم بھی رکھتا ہے۔ یہ عنصر متحرک اور فعال ہے اور متعدد مسلمان معاشروں میں اس نے عوام کے ایک بڑے طبقے کا اعتماد حاصل کرکے ان کی قیادت شک وریب میں مبتلا یا کمزور ایمان رکھنے والے اور دین ودنیا کے درمیان تفریق کرنے والے دانشوروں سے بڑی حد تک چھین بھی لی ہے۔ لیکن ابھی عوام کی غالب اکثریت کی اس نئی اسلامی قیادت کے ساتھ وابستگی زیادہ تر جذباتی ہے جس کے سبب وہ غیر اسلامی قیادت کے تسلط کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے او راس راہ میں قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ابھی نہ عوام کا نظام اقدار بدلا ہے، نہ اس بگڑے ہوئے ”مذہبی مزاج“ کی اصلاح ہوئی ہے جو اسلام کے نام پر لوگوں کو علماء اور اسلامی قیادت کے پیچھے لاکھڑا کرتا ہے، مگر معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور امور مملکت کے نظم وانصرام کے سلسلے میں فیصلہ کن طاقت کا حق دار سیکولر قیادت ہی کو سمجھتا ہے۔“ (صفحہ 13-15)

اس متن پر 2006 کا تنقیدی حاشیہ درج ذیل ہے:

”نفاذ اسلام کے داعیہ او راس سلسلہ میں عوامی تائید کے حصول کے تعلق سے متن میں جو کچھ کہا گیا ہے اسے گزشتہ بیس برسوں کی تاریخ کی روشنی میں، پڑھ کر آج منھ بدمزہ ہوجاتا ہے۔ خواہی نہ خواہی، دور جدید میں شریعت کو ’نافذ کرنے کے عزم‘ کی مثال طالبان قرار پاتے ہیں مگر اس مثال کو اسلامی قبول کرنے سے عقل عام اور فطرت سلیم اِبا کرتی ہے۔ آنکھیں بند کرکے چند حدود کے نفاذ کو اسلامی نظام کا قیام نہیں کہا جاسکتا۔ رہیں وہ کوششیں جو پاکستان، ایران اور سوڈان میں کی جاتی رہیں تو وہ سیاست، دکھاوے اور لیپاپوتی کے کثیف غلافوں میں ملفوف ہونے کے سبب ابھی طبع مسلم پر کوئی ایجابی تأثر چھوڑنے میں ناکام ہیں۔متن مقالہ میں قیادت کی تبدیلی پر بڑازور ہے، جیسے کہ یہی فتح مبین کی کنجی ہو۔ آج یہ بھولے پن کی بات Naive معلوم ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں اسلامی زندگی کا انحصار مسلم معاشرہ کے کسی گوشے میں موجود نئے لیڈروں کی قیادت وسیادت بروئے کار آنے میں نہیں۔ اس کے لیے فرد مسلم کی سرچشمہ ہدایت سے راست وابستگی، اسی سے کسب شعور Inspiration اور دور جدید کے زمینی حقائق سے ہم آہنگ اسلامی زندگی کے ایک ایسے تصور Vision کی ضرورت ہے جس میں مقاصد کو ذرائع پر اور اصل دین کو شرائع پر فوقیت حاصل ہو۔“(صفحہ 15)

سنت کے حوالے سے مطلوبہ موقف

”سنت“ کے حوالے سے جدید اسلامی لٹریچر میں کافی جدید بحثیں موجود ہیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے بھی اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے، ڈاکٹر صدیقی اوّل تو ذخیرہ حدیث پر مزید بحث وتحقیق پر زور دیتے ہیں، ڈاکٹر صدیقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک اسلامی کے بڑے رہنماؤں کا یہی موقف تھا، تیسرا نکتہ یہ کہ جدید دنیا کے مسائل کے تناظر میں بحث وتحقیق کا یہ کام بہت ضروری ہوگیا ہے، اور آخری اوربہت ہی اہم نکتہ سنت میں مصالح اور مقاصد کے اعتبارپر تحقیق کا کام ہے، چنانچہ”سنت“ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

”اصولی طور پر اس ذخیرہ سے استفادے میں ماضی کی بحث وتحقیق کو حرف آخر سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق وتدبیر کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہ بات روایت ودرایت یا تاریخی تحقیق اور قرآن کریم کی رہنمائی میں عقلی جانچ پرکھ دونوں کے بارے میں صحیح ہے۔ چند مجموعوں میں درج ہر روایت کو لفظاً ومعناً رسو ل کریمؐ کی طرف منسوب کرنے اور مستشرقین کی اتباع میں احادیث کے پورے ذخیرہ کی صحت کو مشکوک سمجھنے کے دو انتہا پسندانہ رویوں کے درمیان یہی وہ مسلک اعتدال ہے جو تحریک اسلامی کے رہنماؤں نے اختیار کیا ہے۔ اصل مسئلہ زیر غور مسائل میں اس موقف کو عملاً برت کر دکھانے اورانتہا پسندانہ موقفوں پر علمی تنفید کا ہے۔ یہ کام بھی از حد تشنہ ہے۔

روایت ودرایت کے اعتبار سے احادیث کی از سر نو تحقیق اور جدید مسائل کی نسبت سے سنت کی تنقیح کی سب سے زیادہ اہمیت ان دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل میں ہے، جن میں دور جدید میں اسلامی موقف کی از سر نو تعیین اس لیے ضروری ہوگئی ہے کہ متعلقہ احوال وظروف یکسر بدل گئے ہیں۔ اس دائرہ میں متعدد مسائل کے ضمن میں یہ سوال بہت اہم ہوگیا ہے کہ سنت ان مقاصد ومصالح کے اعتبار سے اور ان کے حصول کے لیے مزاج شریعت سے مناسبت رکھنے والے طریقے اختیار کرنے کا نام ہے، جن کا اعتبار نبیؐ نے اپنے زمانے کی دستوری سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کی تطہیر وتنظیم میں کیا تھا، یا خود ان متعین قواعد وضوابط کا نام ہے جو آپؐ نے وضع کیے تھے۔“ (صفحہ:23-24)

2006 کے ایڈیشن میں اس پر نوٹ چڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”گزشتہ تین دہائیوں کے تجربات کی روشنی میں اس فقرہ کی آخری چار سطروں کی طرف از سر نو دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں سنت کی تشخیص، فہم اور تطبیق کا مسئلہ مسلکی تصلب، بسا اوقات تعصب، کاشکاررہا جس کے سبب اس پر عالمانہ بحث وتحقیق کا حق نہ ادا ہوسکا۔ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ دستوری، سیاسی اور سماجی مسائل میں، اپنے اپنے فہم کے مطابق ’سنت‘ کی تطبیق نے گزشتہ دنوں جو شکلیں اختیار کیں ان پر اکثر اسلامیانِ عالم کا منھ بدمزہ ہے۔ مسئلہ کی از سر نو تنقیح او رتحقیق ناگزیر ہے۔

سنت کے فہم کے لیے، خاص طور پر اگر اس کا تعلق دستوری، سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے ہو، پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ جس مسئلہ سے زیر غور سنت کا تعلق ہے اس میں ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے زمینی حقائق کیا تھے۔ لوگوں کی عادات کیا تھیں، ان کے درمیان عرف کیا تھا۔ نبیؐ نے جو حکم دیا اس کے نتیجہ میں صورت واقعہ میں کیا تبدیلی درکار تھی۔ نبی کے اس تصرف (Intervention) کا مقصود کیا تھا۔ اگلا قدم یہ ہے کہ ہم اسی مسئلہ سے متعلق اپنے زمانہ کے ارضی حقائق (Ground Realities) کو سمجھیں، آج کے عادات واعراف کو نوٹ کریں، پھر دیکھیں کہ اس مقصود نبوی کی تکمیل کے لیے صورت واقعہ میں کیا تبدیلی درکار ہے اور اسے بروئے کار لانے کے لیے کیا پالیسی اختیار کرنا مناسب ہے۔

ظاہر ہے کہ اس پورے عمل، سنت نبوی کی روایت اور درایت کے معیاروں پرتشخیص، ساتویں صدی میں اہل عرب کے حالات کی تحقیق، حکم نبوی کے مقصود کی تعیین، پھر عصر حاضر کے احوال کو سمجھنا اور ان حالات میں مقاصد شریعت کی تحصیل کے لیے موزوں پالیسی تک پہنچنا، اس کا م میں قدم قدم پر رائیں مختلف ہوں گی۔ اس اختلاف آراء سے اسلام کے بتائے ہوئے شورائی طریقہ سے عہدہ برآہونا ہوگا۔ اس کے لیے اختلافی مسائل میں اظہار خیالات اور تبادلہ آراء کی وہ فضا بحال کرنا ہوگی جو اسلام کے دور زرّیں میں پائی جاتی تھی مگر اب بوجوہ مفقود ہے۔ رواداری اور علمی بحث ومناقشہ میں مختلف یہاں تک کہ متضاد آراء کو سننے اور دلیل کا جواب اینٹ پتھر کی بجائے دلیل سے دینے کی روایت کو پھر سے زندہ کرنا ضروری ہے۔“

اسلامی حدود اور تعزیرات پر ایک اضافی نوٹ:

حدود وتعزیرات کے سلسلہ میں بھی ڈاکٹر صدیقی مرحوم جدید سوالات کو پیش کرتے ہیں، اور پھر اس باب میں بھی مقاصد شریعت کی روشنی میں غوروفکر پر زور دیتے ہیں، لکھتے ہیں:

”متن میں اٹھائی گئی بحثیں اب کافی آگے بڑھ چکی ہیں۔ خاص طور پر آزادئ ضمیر اور اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے یا ناپسندی کی صورت میں مذہب چھوڑنے کا مسئلہ بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ آج دنیا کے ہر ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ شاذ ونادر کو چھوڑ کر ان تمام ملکوں میں انہیں اپنے مذہبی آداب ورسوم کے ساتھ رہنے اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی آزادی حاصل ہے۔ مغربی ممالک سے مسلسل نئے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو آزادیاں مسلمان غیر مسلم اکثریت کے ممالک میں عزیز رکھتے ہوں ان سے مسلم اکثریت والے ممالک کے غیر مسلموں کو محروم رکھا جائے۔ عدل وانصاف کا تقاضا ہے کہ دوہرے معیار نہ اختیار کیے جائیں۔جہاں تک دوسرے حدود کا سوال ہے، ان کے نفاذ کو ’شبہات‘ کی بنا پر معطل یا مؤخر کرسکنے پر اتفاق ہے۔ نفسیات، جنینیات(Genetics) اور جرم وسزا سے تعلق رکھنے والے دوسرے علوم کے اضافات اورانکشافات نے نئے شبہات کو جنم دیا ہے جن سے صرف اس بنا پر صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ قدیم فقہی لٹریچر میں ان کا ذکر نہیں ملتا۔ سزائیں مقصود نہیں ہوا کرتیں بلکہ اعلی مقاصد کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس باب میں مقاصد شریعت کی روشنی میں غوروفکر کی ضرورت ہے۔“ (صفحہ31-32)

عائلی قوانین میں اصلاح

گزشتہ ایک صدی میں اسلامی عائلی قوانین کی اصلاح اور اس پر بحث وتحقیق کا کافی کچھ کام ہوا۔ عرب دنیا کے ممالک میں خاص طور پر اس موضوع پر مختلف پہلووں سے کام کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صدیقی نے عائلی قوانین میں اصلاح کو بھی معاصر فکر اسلامی کو درپیش ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے، خاص طور پر غیرمسلم ممالک کے مسلمانوں کے تناظر میں اس مسئلہ پر خصوصی غوروفکر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”چونکہ یہ مسئلہ غیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ تعدد ازدواج کے حق کی تحدید اور ضابطہ بندی، طلاق کے اختیار کو بعض آداب کا پابند بنانا، حق خلع کی تجدید، مطلقہ کے حقوق، ایک ساتھ تین طلاقوں کا مسئلہ، صغیرہ کے نکاح، ولایت اجبار اور خیار بلوغ کے مسائل، نیز یتیم پوتے کی وراثت کے ضمن میں جبری وصیت کا مسئلہ اس دائرے کے چند ایسے مسائل ہیں جن پر غور وفکر ضروری ہے۔“ (صفحہ38-39)

2006 میں اس پر لگائے گئے اضافی نوٹ میں ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کو لے کر چل رہی سیاست اور مسلم قیادت کی سردمہری پر بہت ہی معنی خیز تبصرہ کرتے ہیں، نیز بدلتے ہوئے حالات میں ان مسائل پر بھی مقاصد شریعت کی رعایت کرتے ہوئے ایک متوازن رائے تک پہنچنے پر زور دیتے ہیں:

”مسلم پرسنل لاز کا مسئلہ ہنوز سیاست اور سیادت کی چکی کے دوپاٹ کے درمیان بربادی کا شکار ہے۔ متن مقالہ میں مذکور حساس اختلافی مسائل پر نئے غور وفکر کے ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ تکنیکی ترقی، عام خوش حالی، معلومات کی فراوانی، خواندگی اور تعلیم میں اضافہ وغیرہ نے انسانی سماج میں عورت اور مرد کے باہم تعلق اور خاندان کی تنظیم پر جو اثرات ڈالے ہیں ان کو سمجھ کر اس باب میں مقاصد شریعت کی تحصیل اور ایک نئے توازن کی بحالی کی کوشش کی جائے۔“

مسلمان اقلیتوں کا سیاسی مسلک

غیرمسلم ممالک میں موجود مسلم اقلیتوں کا سیاسی موقف کیا ہونا چاہیے اور ان ممالک کی سیاست میں مسلم اقلیتوں کا کیا رول اور کردار ہونا چاہیے، اس پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تحریروں میں کافی زور دیا ہے، معاصر اسلامی فکر میں بھی اس پر توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اب تک یہ سمجھا گیا ہے کہ انسانوں کو حاکمیت الٰہ کی طرف دعوت دینا اس بات کو  مستلزم ہے کہ جس ملک میں حاکم اعلیٰ جمہور کو قرار دیا گیا ہو اس کے سیاسی نظام سے کنارہ کش رہا جائے۔ یہ موقف نظر ثانی کا محتاج ہے۔ قانون سازی، تشکیل حکومت اور انتظام ملکی میں فعال حصہ لے کر اپنی سیاسی قوت میں اضافہ اور تعلیمی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ خود ملک کی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا زیادہ آسانی سے ممکن ہوگا۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حاکمیت الٰہ کا عقیدہ اور اس کی طرف دعوت اصولی طور پر ایسا کرنے میں مانع ہے۔ اس مسئلے پر کھل کر بحث ومذاکرہ ہونا چاہیے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ بحث مسلم ممالک کے اسلامی مفکرین کی شرکت سے محروم رہے۔ اگر مستقبل میں اسلامی تحریکوں کا منتہائے نظر صرف مسلم ممالک میں اسلامی نظام کا قیام نہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی انقلاب ہے تو اس مسئلے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔“ (صفحہ41)

یہ کچھ اہم فکری مباحث ہیں جو ڈاکٹر صدیقی مرحوم کے مقالہ ”معاصر اسلامی فکر“ سے بطور نمونہ پیش کیے گئے۔ صحیح بات یہ ہے یہ پورا ہی مقالہ بہت ہی سنجیدہ غوروفکر کا طالب ہے۔ فکر اسلامی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ بہت ہی مفید ہوگا۔

معاصر اسلامی فکر کے موجودہ ایڈیشن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ:

1970 کے زمانے میں جبکہ برصغیر کی اسلامی تحریکات ابھی بالکل ابتدائی نوعیت کے مباحث میں الجھی ہوئی تھیں، اس زمانے میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم دنیا بھر کے افکار کا نہ صرف مطالعہ کررہے تھے، بلکہ تحریک اسلامی کو درپیش فکری وعملی چیلنجز پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی۔

2006کے ایڈیشن میں موجود حواشی کا مطالعہ اس پہلو سے بہت اہم ہے کہ اسلامی مفکرین کے یہاں فکری ارتقاء کس طرح رونما ہوتا ہے، اور ان کے لیے اپنی چیزوں پر تنقیدی نظر رکھنا کس قدر ضروری ہوتا ہے، اور اس کے مثبت اور ایجابی نتائج کیا ہوتے ہیں۔ یہ ایک اہم پہلو ہے، اس لحاظ سے مولانا مودودی کے افکار کا بھی مطالعہ کیا جانا چا ہیے۔ 

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے معاصر اسلامی فکر میں جن فکری امور ومسائل کی نشاندہی کی ہے، آج نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی برصغیر کی اسلامی تحریکات کے یہاں ان کے سلسلہ میں کوئی واضح اور قابل ذکر فکری پیش رفت نظر نہیں آتی۔


شاہ ولی اللہ ؒکے کلامی تفردات: ایک تجزیاتی مطالعہ (۱)

مولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری

اصحاب علم نے شاہ ولی اللہ دہلوی کی فکر و شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا ہے۔ لیکن متعدد ایسے پہلو ہیں جن پر تفصیلی وتحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے۔ان میں سے ایک پہلو شاہ صاحب کے کلامی تفردات کا ہے۔ ان کا مطالعہ دو وجہوں سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے: ایک وجہ تو یہ ہے کہ شاہ صاحب، جیسا کہ شبلی نے لکھا ہے ،دور زوال  وانحطاط  کی سب سے عظیم و عالی دماغ شخصیت ہیں۔(۱) دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ برصغیر کی  اسلامی فکری روایت پر شاہ صاحب کی فکرونظر کے نقوش دوسری کسی شخصیت کے مقابلے میں زیادہ  گہرائی کے ساتھ مرتسم ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں شاہ صاحب سے قبل بر صغیر ہند کی تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلامی فکر وثقافت کی نمائندہ  متعدداہم شخصیات پیدا ہوئیں لیکن ان کی اپنی مساعی فکر کے امتیازات کے باوجود ان کا فکری سرمایہ شاہ صاحب کی طرح نسبتاً‌ ہمہ جہت اور دور رس نہیں ہے۔شاہ صاحب کا کمال وصف ان کی جامعیت ہے۔ وہ  اسلامی علوم میں بیک وقت معقولات ومنقولات :تفسیر، حدیث،فقہ،کلام،فلسفہ اور ان کی مختلف شاخوں پر ماہرانہ دسترس رکھتے تھے۔اس لیے ان کے یہاں فکر اسلامی کی روایت کے ساتھ تعامل کے حوالے سے عقل ونقل کے استعمال کا بہت ہی خوبصورت امتزاج نظر آتا ہےجس کا سب سے اہم مظہر ان کی کتاب" حجۃ اللہ البالغہ" ہے۔

تفرد پسندی اور اسلامی فکری روایت میں اس کے عملی نقوش

تفرد پسندی کی اصولی حیثیت کیا ہے؟ اسلام کی فقہی وتفسیری روایات میں اس پر بحثیں ہوتی رہی ہیں جو’ قول شاذ‘ کے عنوان سے ملتی ہیں۔امام غزالی   نےشاذ کی تعریف  یہ کی ہے: الشاذ عبارۃعن الخارج عن الاجماع بعد الدخول فیہ۔’’شاذوہ قول یاموقف ہے جواجماع کا حصہ ہونے کے بعد اس سے  علاحدہ  ہوگیاہو‘‘۔ (۲) آمدی  بھی اس سے ملتی جلتی تعریف کرتے  ہیں ۔ان  کے مطابق: الشاذ ھو المخالف بعد الموافقة، لا من خالف قبل الموافقة-’’شاذ ایسا مخالف قول یا موقف ہے جو موافقت کے بعد، نہ کہ موافقت سے پہلے ،اختیارکیا گیا ہے‘‘۔(۳)

 اصولی طور پر کسی مسئلے کی تائید میں آرا ومواقف کی کثرت اس کے صواب ودرست ہونے کا مضبوط قرینہ ہے۔ چاہے متعلقہ مسئلے کا تعلق دینی امور سے ہو یا دنیاوی امور سے۔ عقل انسانی اس معیار کو قبول کرتی  اور مختلف متنازعہ فیہ امور میں اس اصل سے کام لیتی ہے۔ اصول فقہ وحدیث میں اسے تقریبا مسلمہ امر تصور کیا جاتا ہے۔تاہم اہل اصول کے نزدیک یہ بھی مسلم ہے  کہ کسی رایے کو اختیار کرنے والوں کی کثرت اس کے صواب وبرحق ہونے کی قطعی اور شافی دلیل نہیں ہے۔ فقہائے عراق  وحجازکے استنباط کردہ مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جن میں وہ  اکثریت کےمقابلے میں مختلف آرا رکھتے ہیں۔ ابن حزم فرماتے ہیں کہ: ولقد اخرجنا علی ابی حنیفة والشافعی ومالک مئین کثیرۃ من المسائل قال فیھا کل واحد منھم بقول لا نعلم احدا من المسلمین قال قبله-’’ امام ابوحنیفہ ،شافعی اور مالک کے بہت سے ایسے مسائل ہمارے علم میں آئے  جن سے متعلق انہوں نے ایسی بات کہی جوبات ان سے پہلے کسی نے نہیں کہی تھی‘‘۔(۴) لیکن یہ معاملہ ائمہ مجتہدین اور علماء اسلاف واخلاف تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس روایت کا سرا صحابہ کرام سے ملتا ہے۔ اجلہ صحابہ مختلف مسائل میں نہایت شاذ اور جمہور صحابہ کے مواقف سے متصادم آرا رکھتے تھے۔ جماعت صحابہ میں عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن مسعود سر فہرست ہیں جن کی متفرد تفسیری وفقہی آرا پر  علمی حلقوں میں گفتگو رہی ہے ۔ مشہور ہے کہ عباسی خلیفہ منصورنے امام مالک سے کہا کہ ابن عباس کی رخصت،ابن عمر کی شدت پسندی اورعبد اللہ ابن مسعود کے شاذ اقوال سے بچتے ہوئے ایک کتاب لکھ دیں۔(۵) تابعین میں  نخعی ،شعبی،کعب احبار وغیرہ سے کثرت سے شاذ اقوال منقول ہیں۔

صحابہ وتابعین کی یہی روایت بعد کی نسلوں میں منتقل ہوئی۔چناں چہ  نص کو دانتوں سے پکڑنے اور قیاسات اور عقل وخرد کی موشگافیوں سے احتراز کرنے والی شخصیات کے یہاں بھی مخالف جمہور ایسی آرا مل جاتی ہیں جن پر   ہردور کےعلمی وفکری حلقوں میں ردوکد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی روایت   اسی فکری ماحول میں پروان چڑھی ہے۔ان متفرد اقوال سے متعلق اصحاب علم کا مجموعی موقف یہ رہا ہے کہ ان کی اتباع محض رخصتوں کی جستجو اور ان پر عمل کے لیے نہ ہو۔ امام ذہبی کہتے ہیں:  من یتتبع رخص المذاھب وزلات المجتھدین فقد رق دینہ۔’’جومختلف مذاہب میں پائی جانےوالی رخصتوں  اور مجتہدین کی لغزشوں کی تلاش وجستجو میں رہتا ہے ،اس کا دین کمزور ہوجاتا ہے‘‘۔(۶)

یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ منفرد یا شاذ سے موسوم کی جانے والی بہت سی  آرا واقوال کی حیثیتیں تبدیل بھی ہوتی رہتی ہیں۔ چناں چہ ایک نسل کے علما  ومجتہدین کے شاذ تصور کیے جانے والے اقوال  ان کی بعد کی نسلوں میں  قبولیت  اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔صرف خلافت کے مسئلے کو سامنے رکھ کر دیکھیں۔ جمہور   کے نزدیک نہ توغیرقریشی کی اور نہ ہی  بیک وقت دو لوگوں کی خلافت منعقد ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس رایے اہل بدعت کی تھی لیکن وہی رایے جمہور علما کا مسلک بن گئی۔تفرد کے حوالے سے اہل الرایے زیادہ مشہور ہیں لیکن اہل الحدیث کے یہاں بھی اس کی کم مثالیں نہیں ہیں ۔اوپر ابن حزم کا قول گزرا جس میں امام ابوحنیفہ کے ساتھ انہوں نے امام شافعی و امام مالک کو بھی شمار کیا ہے جن کے بہت سے اقوال اس معنی میں شاذ ہیں کہ ان سے قبل کوئ ان کا قائل نظر نہیں آتا  ۔خود یہی حال ابن حزم ،ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے  محتاط اکابر علما کا ہے جو امور شریعت میں قیاس و اجتہاد کے شدید مخالف ہیں لیکن ان کے یہاں بھی بہت سے (کلامی وفقہی)تفردات  پائے جاتے ہیں۔چناں چہ مثلا ابن تیمیہ عرش باری کے قدم  اور ابن قیم فنائے جہنم کے قائل تھے۔(۷) علمائے سلف کے درمیان پائے جانے والے تفردات کواگر جمع کیا جائے متعدد  جلدیں تیارہوجائیں گی۔

تفردپسندی کے اسباب اورشاہ صاحب کا موقف

دین کی تفہیم وتعبیر کے حوالے سے شاہ ولی اللہ نے بھی متعدد مسائل میں جمہور علمائے امت سے الگ ہٹ کر اپنی آرا قائم کی ہیں۔اس کا تعلق  فقہ واجتہاد اور کلام دونوں سے ہے۔ اس تحریر میں  ہم شاہ صاحب کے  صرف کلامی تفردات سے بحث کریں گے۔

 سب سے پہلے یہ دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کلامی وفلسفیانہ مسائل میں شاہ ولی اللہ کی تفرد پسندی کے اسباب کیا ہیں؟  اس کے مختلف اسباب میں سے سب سے اہم سبب، جو مشترکہ طور پر دوسروں کے یہاں بھی پایا جاتا ہے، وہ شاہ صاحب کا  مجتہدانہ مزاج ہے۔قرون اولی کے اصحاب علم کے طرز پر دلائل و براہین کی روشنی میں جمہورکے مروجہ موقف سے ہٹ کر نیا موقف اختیار کرنے میں وہ کوئ تامل محسوس نہیں کرتے۔ تاہم فقہ میں ان کے یہاں اجتہاد کے مقابلے میں تقلید کا پہلوغالب ہے ۔لیکن کلام وفلسفہ میں ان کی مجتہدانہ طبیعت  با ضابطہ طور پرتقلیدکی پابند نہیں ہے،جس کا  اظہار شاہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ کے مقدمے میں کیا ہے۔

ان کی کلامی وفلسفیانہ  فکر کا سب سے اہم پہلو دین وشریعت کے درمیان عقلی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جس کےلیے وہ مختلف سطحوں پرفکری طورپرکوشاں رہے۔چناں چہ ایک طرف انہوں نے اسلامی فکرکے بنیادی ڈھانچے، الہیات کی تشکیل نوکواپنا موضوع بنایا اوراس حوالے سے متعدد تصانیف قلم بند کیں ۔دوسری طرف انہوں نے دین کی عملی بنیادوں کوجواحکام شریعت سے عبارت ہیں،عقلی تفہیم پراستوارکرنے کی کوشش کی۔ الہیات  سے متعلق انہوں نے اپنا ایک منفرد نظام فکر وضع کیا جس پر ابن عربی کے وجودی فلسفے کے اثرات غالب ہیں۔ ابن عربی  کے بعدبظاہر انہوں نے سب سے زیادہ غزالی کی فکرسے خوشہ چینی کی ہے جس کے  واضح اثرات  ان کی کلامی فکرپرنظر آتے ہیں۔

مختلف امور دونوں شخصیات میں مشترک نظر آتے ہیں جیسے:علوم معقولات ومنقولات دونوں پردست رس،اس فرق کے ساتھ کہ حدیث میں غزالی کمزور ہیں جب کہ روایت ودرایت دونوں میں  شاہ صاحب  کا پایہ  بہت بلند ہے،فلسفہ و کلام کے ساتھ تصوف کی بہم آمیزی اور فلسفہ وکلام میں اہل سنت واہل بدعت دونوں کے مختلف مکاتب فکر سے استفادے کا رجحان، چناں چہ غزالی کی طرح وہ بھی اخوان الصفاء اور دیگر مبتدع گروہوں کے فلسفیانہ افکار کے خوشہ چیں ہیں۔غزالی کی طرح  متعدد مابعد الطبیعاتی مسائل میں فلاسفہ کے طرز پر وہ  نصوص میں تاویل کا رجحان رکھتے ہیں۔ دونوں کے یہاں ان  فلسفیانہ اصطلاحات واسالیب کی چھاپ نظرآتی ہے جن کی تشکیل وفروغ میں اہل سنت سے باہرکے فرقوں نے اہم رول ادا کیا۔(۸) سطعات  اور بعض دیگر تحریروں میں شاہ صاحب کی مابعد الطبیعاتی فکرپراشراقی فلسفے کے اثرات کوصاف طور پرمحسوس کیا جاسکتا ہے۔ علوم ولی اللہی کے شارحمولانا عبید اللہ سندھی  بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ شاہ صاحب کسی بھی صاحب علم کی بات کوخواہ وہ کسی بھی مذہب وملت سے تعلق رکھتا ہو،اس شرط کے ساتھ قبول کرلیتے ہیں کہ وہ ان کی فکرکے  مطابق ہو۔(۹)

شاہ صاحب نے مختلف کتابوں میں بہت سے مسائل کے حوالے سے اپنے متفردانہ موقف کا برملا اظہار کیا ہے، لیکن عام طور پر اس کی توجیہ واستدلال سےگریز کیا ہے۔ البتہ حجۃ اللہ البالغہ میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ اس پر پیدا ہونے والے سوالات و اعتراضات سے بحث کی ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کلامی مسائل دو طرح کے ہیں: منصوص مسائل جو آیات و احادیث اور صحابہ وتابعین کے اقوال ومواقف سے ثابت ہیں۔ ان مسائل کے بارے میں آگے چل کر امت میں دو رجحانات پیدا ہوئے۔ ایک گروہ نے ظاہر نصوص کو اختیار کیا جب کہ دوسرے گروہ نے ایسی نصوص میں تاویل کی روش اختیار کی۔ ان مسائل کے ذیل میں قبر کا سوال وعذاب، قیامت میں اعمال کا وزن، رؤیت باری اور کرامات اولیاء جیسے مسائل آتے ہیں۔ مسائل کی دوسری نوع وہ ہے جو  منصوص ہے۔ ان کے معانی و مفاہیم پر نہ قرآن وحدیث سے روشنی پڑتی ہے اور نہ صحابہ کے اقوال سے۔ شاہ صاحب کے بقول انہوں نے اس دوسری قسم کے مسائل میں متقدمین سے اختلاف کیا ہے اور انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ ان مسائل میں غورو خوض کرکے اپنا موقف متعین کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مسائل کی توضیح ان کی تفہیم پر موقوف ہے۔(۱۰)

شاہ صاحب فرماتے ہیں ان مسائل میں تاویل کی راہ اختیار کرنے اور نہ کرنے والےدونوں ہی گروہ راہ حق پر ہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے پر اپنی برتری کا اظہار کرے۔(ھذا القسم لست استصح ترفع احدی الفرقتین علی صاحبتھابانھا علی السنة۔) (۱۱)  کیونکہ دونوں ہی فریق مختلف مسائل میں تاویل کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ دوسری شکل تو صرف یہ رہتی ہے کہ ان مسائل میں سرے سے غوروخوض نہ کیا جائے جس طرح سلف (صحابہ و تابعین) نے غور وخوض نہیں کیا ۔(وان ارید قح السنة فھو ترک الخوض فی ھذہ المسائل رأسا کما لم یخض فیھا السلف(۱۲) گویا اشاعرہ و ماتریدیہ کے مطابق شاہ صاحب کا موقف یہ ہے کہ عقل سے بظاہر متعارض نصوص میں تاویل کی جا سکتی ہے۔ محدثین کے مسلک کے مطابق اس کا انکار صحیح نہیں ہے۔

شاہ صاحب کے کلامی تفردات پر ایک  نظر

اب ہم شاہ صاحب کے تفردات پرنظرڈالتے ہیں۔شاہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں اپنے چند  کلامی تفردات کا ذکران الفاظ میں کیا ہے:

وستجدنی اذا غلب علیَّ شقشقة البیان وامعنت فی تمھید القواعد غایة الامعان، ربما اوجب المقام ان اقول بما لم یقل به جمھور المناظرین من اھل الکلام کتجلی اللہ تعالی فی مواطن المعاد با لصور والاشکال و کاثبات عالم لیس عنصریا یکون فیہ تجسد المعانی والاعمال باشباح مناسبة لھا فی الصفة وتخلق فیه الحوادث قبل ان تخلق فی الارض وارتباط الاعمال بھیئات نفسانیة وکون تلک الھیئات فی الحقیقة سببا للمجازاة فی الحیاة الدنیا وبعد الممات والقول بالقدرالملزم ونحوذلک۔

’’جب مجھ پربیان کا جوش غالب ہوگا اور  قاعدوں کی تمہید بیان کرنے میں مجھ کو نہایت غور کرنا پڑے گا تو  بمقتضائے کلام میرے قلم سے وہ باتیں نکلیں گی  جن کے مناظر متکلمین میں سے کم لوگ  قائل  رہے ہیں۔ مثلا اس  بات کا قائل ہونا کہ اللہ تعالی آخرت میں مختلف شکلوں  اور صورتوںمیں تجلی فرمائے گا اور ایک ایسے عالم کو ثابت کرنا جس کی ترکیب عنصری نہیں ہے ۔اس میں اعمال اور معانی ایسے قالبوں میں جو وصف میں ان اعمال وغیرہ کے مناسب ہوتے ہیں، مجسم ہو کر ظاہر ہوتے ہیں اور قبل اس کے کہ زمین پر واقعات کی شکل میں وہ ظہور پذیر ہوں ،وہ پہلے ہی سے اس عالم (عالم مثال ) میں ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ نیز اس بات کا قائل ہونا کہ اعمال کو نفس کی حالتوں سے ایک خاص تعلق ہے اور دنیا و آخرت میں جزا پانے کا حقیقتاوہی باعث ہوتے ہیں اور تقدیر  ملزم (مبرم)کا قائل ہونا وغیرہ‘‘۔ (۱۳)

  لیکن دوسرے مقامات پرشاہ صاحب نے بہت سے دوسرےمسائل میں بھی تفرد کی روش اختیار کی ہے ۔ان  پر ایک نظر ڈالنے سے جو بڑے اور اہم تفردات سامنے آتے ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں، جن پر اس مقالے میں گفتگو کی  گئی ہے:

 عالم مثال کا قول، قدم عالم کا قول، معجزہ شق القمرکا’ انکار‘،واقعات انبیاء کی فلسفیانہ تاویل، قرآن کے الفاظ کی رسول اللہ کی طرف نسبت وغیرہ۔ ان تفردات میں سے چند کو علامہ زاہد الکوثری نے شدید طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شاہ صاحب کے اس نوع کے افکار و آراء کو انہوں نے فکری اضطراب (اضطراب فکری) سے موسوم کیا ہے (۱۴) اوراس کی ایک بنیادی وجہ یہ لکھی ہے کہ وہ  فلسفۂ وحدت والوجود کے قائلین میں سے ہیں۔ انہوں نے شیخ ابو طاہر کے والد ابراہیم کورانی شافعی کی کتب و رسائل سے خصوصی استفادہ کیا جن میں حشویہ، اتحاد وحلول کے قائلین اور فلاسفہ و متکلمین کے گرے پڑے اقوال کے درمیان جمع و تطبیق کی کوشش کی گئی ہے۔(۱۵) کلامی مسائل کے حوالے سے انہوں نے شاہ صاحب کے تین تفردات کا ذکر کیا ہے :معجزہ ٔ شق القمر کا’ انکار‘  یا اس کی جمہور کے نقطہ نظر کے خلاف تاویل ،عالم مثال  کا تصورقبول کرنا اورقدم عالم کا قائل ہونا۔ ہم سب سے پہلے ان مذکورہ تین تفردات پر گفتگو کریں گے۔

 عالم مثال کا تصور:

شاہ صاحب نے اپنی متعدد کتب ورسائل میں عالم مثال پر گفتگو کی ہے ۔حجۃ اللہ البالغہ، سطعات،لخیر الکثیر، التفہیمات الالہیہ وغیرہ۔ لیکن باضابطہ اور تفصیلی گفتگو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں کی ہے ۔انہوں نےعالم المثال پر ایک مکمل باب قائم کیا ہے جو مبحث اول کا دوسرا باب ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:

اعلم انہ دلت احادیث کثیرۃ علی ان فی الوجود عالما غیرعنصری تتمثل فیہ المعانی باجسام مناسبة لھا فی الصفة وتتحقق ھنالک الاشیاء قبل وجودھا فی الارض نحوا من التحقق۔

’’جاننا چاہیے کہ اکثر حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسا عالم موجود ہے جس کی ترکیب عناصر سے نہیں ہے۔اس میں ہرایک جسمانی چیز کی مناسب صفت اورحالت میں وہ چیزیں جومعنوی ہیں ،صورت پکڑتی ہیں اور قبل اس کے کہ یہ چیزیں زمین پرظاہرہوں،پہلے اس عالم میں موجود ہوجایا کرتی ہیں‘‘۔ (۱۶)

دلیل میں ان احادیث کو پیش کیا ہے جن میں اعراض و کیفیات کو مجسم انداز میں دکھایا گیا ہے ،جیسے قیامت کے دن    انسان کے اعمال :نماز،روزہ اورزکوۃ وغیرہ کا محسوس ومجسم شکل میں سامنے آنا۔(۱۷) موت کا مینڈھے کی شکل میں لایا جانا اور پھر اسے جنت و دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جانا (۱۸)   یا اسی طرح دنیا کا ایک بڑھیا کی شکل میں حاضرہونا۔وغیرہ۔(۱۹) ان جیسی احادیث کی بنیاد پرشاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے تین میں سے کوئی ایک موقف اختیارکرنا ضروری ہے: یا توان احادیث کے ظاہر کی بنیاد پر عالم مثال کا اقرارکیا جائے، محدثین کا  منہج اسی کامتقاضی ہے،یایہ سمجھاجائے کہ دیکھنے والے کوایسا محسوس ہوتا ہے ،خارج میں ایسے واقعات  کا کوئی وجودنہیں ہوتا۔ یا یہ کہ ا سے محض تمثیل تصورکیا جائے لیکن  صرف تیسرے معنی پران کومحمول کرنا شاہ صاحب کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔(۲۰)

ڈاکٹر فضل الرحمن  کہتے ہیں  کہ عالم مثال کا خیال سب سے پہلے شہاب الدین سہروردی(مقتول، م،۱۱۹۱)نے پیش کیا، ابن عربی( م،۱۲۴۰) اور ملا صدرا نے اسے پروان چڑھایا۔ شاہ ولی اللہ کا رول اس حوالے سے یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مابعد الطبیعاتی فلسفےمیں اسے  وسعت کے ساتھ استعمال کیا۔ (۲۱)  لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کا ابتدائی تصور ابن سینا نے’’ الشفاء ‘‘اور ’’الاشارات ‘‘میں معاد سے متعلق مباحث میں پیش کیا۔ سہروردی نے اسے ایک خیال کی شکل دی لیکن دونوں نے یہ اصطلاح استعمال نہیں کی۔ سہروردی کے شارح  شمس الدین الشہرزوری ( م،۱۲۸۸)نے  غالبا باضابطہ طور پر پہلی مرتبہ  اس اصطلاح کا استعمال کیا اور اسے آگے بڑھایا ۔ابن عربی  نے   عالم المثال کے بجائے ’عالم الخیال‘ کے ذریعے اس تصورکووسعت کے ساتھ استعمال کیا۔ا ن کے بعد ان کے شارحین کے ذریعے عالم المثال کی اصطلاح اور اس کے تصور کو فروغ حاصل ہوا اور ملا صدرا سے ہوتا ہوا شاہ ولی اللہ تک پہنچا۔ شاہ صاحب سے قبل  نہ صرف صوفیہ بلکہ فقہا ومحدثین کی ایک جماعت   بھی اس تصور کی حامل رہی ہے جس میں تاج الدین سبکی،سیوطی،ملا علی قاری وغیرہ شامل ہیں۔شاہ صاحب اس کو بظاہر  اپنے تفردات میں اس لیے شمار کرتے ہیں کہ یہ تصور اور اصطلاح اصلا صوفیہ کے یہاں مقبول رہی ہے،محدثین وفقہا نے بہت کم ہی اس سے اعتنا کیا ہے بلکہ زیادہ تر انہوں نےصوفیہ کے حوالے سے ہی اس کا ذکرکیا ہے۔

شاہ صاحب کی اس حوالے سے دو انفرادیتیں ہیں: ایک یہ کہ انہوں نے اپنے مابعدالطبعیاتی فلسفے میں  عالم مثال کے تصور کو اساسی اور مرکزی جگہ دی ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے نصوص کو اس کا ماخذ قرار دیا اور اس تصور کے بنیادی خدو خال کو تفصیل کے ساتھ ان پر منطبق کرنے کی کوشش کی ۔جیساکہ سطور بالا میں ان کی پیش کردہ عبارت سے واضح ہے  کہ ان کی نظر میں بہت سی احادیث اس پردلالت کرتی ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو عالم المثال کے تصور کو اختیار کرنا شاہ صاحب کا کوئی تفرد نہیں ہے ۔صرف اس معنی میں اس کو تفرد کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ پوری صراحت کے ساتھ اس تصور کو معقول کے بجائے منقول سے برآمد کرنے کی کوشش کی۔

شاہ صاحب کے عالم مثال کے تصور پر اعتراض کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ افلاطونی فلسفے سے ماخوذ ہے۔زاہد الکوثری  نے بھی یہی اعتراض کیا ہے۔  جس کی ان کے بقول شریعت  اور عقل  دونوں لحاظ سے  کوئی اصل نہیں ہے۔(لم یثبت وجودہ فی الشرع ولا فی العقل) (۲۲) لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاہ صاحب کے تصورکا اصل ماخذ افلاطون کا تصورعالم المثل( world of ideas) یا عالم الاشکال (world of forms)نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اوپر کی مثالوں اور حوالوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے، شاہ صاحب نے اسے خود اسلامی فلسفہ و تصوف کی روایت سے اخذ کیا ہے ۔خاص طورپر ابن عربی کے وجودی اور شہاب الدین سہروردی مقتول کے اشراقی فلسفے میں اس کے نقوش بہت واضح ہیں۔

 تاہم بظاہر یہ دعوی کرنا بہت مشکل ہے کہ افلاطون کے تصور عالم المثل   کا اسلامی( شیعی و سنی دونوں) روایتوں میں تشکیل اور فروغ پانے والے عالم المثال کے فلسفے میں کوئی دخل نہیں رہا ہے۔زیادہ صحیح بات یہ نظر آتی ہے  کہ وجودی اور اشراقی صوفیہ نے  نوافلاطونیت کے زیر اثر ابتدائی سطح پر اس تصور کوقبول کیا۔ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ اسلام کی کلامی  وفلسفیانہ روایت کا خمیر یونانی و ایرانی فلسفے کے آب و گل سے ہی تیار ہوا ہے اور نو افلاطونیت نے اس میں ایک اہم عنصر کا کردار ادا کیا ہے۔  وجود کی ماہیت کیا ہے  اورقدیم سے  حادث  کے صدور اور عالم ناسوت  سے عالم جبروت وملکوت کےتعلق کی کیا نوعیت ہے؛  اس نوع کی بحثیں یونانی فلسفے کے زیر اثر اسلامی فکر کا حصہ بنیں۔ عالم مثال کے تصور کواسی پرقیاس کرنا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کا ابتدائی تصور یونانی فلسفےسے اسلامی فکر کا حصہ بنا  اورشاہ صاحب نے اسے دراصل یونانی کے بجائے اسلامی فکرسے اخذ کیا۔

معجزہ شق القمر سے’ انکار‘: 

شاہ صاحب کا دوسرا تفرد معجزہ شق القمر سےایک نوع کا’ انکار ‘ہے۔ شاہ صاحب اسے  معروف معنی میں معجزے کے بجائے قرب قیامت کی پیشین گوئی قرار دیتے ہیں۔ ’التفھیمات الالھیۃ‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

 اما شق القمر، فعندنا لیس من المعجزات، انماھو من آیات القیامة کما قال اللہ تعالیٰ: اقتربت الساعة وانشق القمرولکنہ صلی اللہ علیہ وسلم اخبرعنہ قبل وجودہ فکان معجزة من ھذا السبیل ۔۔۔ ولم یذکر اللہ سبحانہ شیئا من ھذہ المعجزات فی کتابه ولم یشر الیھا قط۔

’’ جہاں تک شق قمر کے معجزے کی بات ہے تووہ ہمارے نزدیک  معجزات میں سے نہیں ہے، وہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس کے وقوع سے پہلے خبر دی ہے اس لحاظ سے یہ معجزہ ہے---اللہ سبحانہ نے ان معجزات میں سے کسی معجزہ کا ذکر اپنی کتاب ( یعنی قرآن) میں نہیں کیا ہے اور نہ مطلق اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔‘‘(۲۳)

اس کی مزید وضاحت انہوں نے دوسری جگہ  کی ہےجس کے مطابق، یہ ضروری نہیں ہے کہ عین قمر کا انشقاق ہوا ہو بلکہ بظاہر حقیقت یہ ہے کہ دیکھنے والوں کوایسا محسوس ہوا ہو۔ چناں چہ ’تاویل الاحادیث ‘میں لکھتے ہیں:

ولیس یجب ان یکون انشقاقه البتة انشقاقا لعین القمر بل یمکن ان یکون ذلک بمنزلة الدخان وانقضاض الکوکب والخسوف و الکسوف مما یظھر فی الجو لأعین الناس۔

’’یہ ضروری نہیں ہے کہ عین قمر کا انشقاق ہوا ہو بلکہ ممکن ہے اس کی شکل ایسی ہو جیسےآسمان میں دھوئیں یا ستاروں کے ٹوٹنے  اورکسوف وخسوف (سورج اورچاند گرہن)کی کیفیت دیکھنے والوں کومحسوس ہوتی ہے‘‘۔(۲۴)

یوم تأتی السماء بدخان مبین ( جس دان آسمان ایک کھلے ہوئے  دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا۔: الدخان:۱۰) کی تفسیر میں عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ حقیقت پرمحمول نہیں ہے بلکہ ایک بار مکے میں قحط آیا تو  اہل مکہ کو بھوک کی وجہ سے آسمان دھواں دھواں نظر آتا تھا  ۔اسی طرح ابن ماجشون مالکی کا قول ہے کہ  قیامت میں اللہ تعالی دیکھنے والوں کومختلف شکلوں میں نظر آئے گا۔ (۲۵) شاہ صاحب کے مطابق ،اس طرح کے حادثات و اقعات نبی کے لیے اس  طرح معجزات بن جاتے ہیں کہ  نبی ان کی خبر پہلے ہی دے دیتا ہے یا وہ خدا کے قانون مجازات کے مطابق ہوتے ہیں جیسے عاد وثمود کی ہلاکت ہود اورصالح علیہما السلام کے لیےبمنزلہ معجزہ تھی۔(۲۶) شاہ صاحب کا موقف یہ ہے کہ خوارق ومعجزات کے بارے میں یہ سارے امکانات موجود ہیں جن کے تناظر میں ان کی حقیقت کوسمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔لیکن اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام معنوں میں جسے معجزہ کہا جاتا ہے بہرحال وہ خدا کی قدرت سے باہر نہیں ہے ۔چناں چہ انہوں نے اس معجزے کی جوتاویل کی ہے وہ  ان کے بقول بربنائے امکان واحتمال ہے نہ کہ بربنائے  یقین۔(۲۷) اسی تنا ظر میں شاہ صاحب کے اس نقطہ نظر کی حقیقت کوبھی سمجھاجاسکتا ہے کہ قرآن میں رسول اللہ کے کسی معجزےکا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔(۲۸)   بعض اصحاب علم  جن میں علامہ خطابی شامل ہیں کے  نزدیک  قرآن کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی معجزہ  تواتر کی حدتک نہیں پہنچتا۔(۲۹) لیکن یہ جہاں تک  شاہ صاحب  کا معاملہ ہے وہ رسول اللہ کے معجزات کے متواترا ثبوت کے توقائل  ہیں البتہ کسی معجزے کے قرآن میں مذکورہونے کے قائل نظرنہیں آتے۔

 انشقاق قمر کے حوالے سےشاہ صاحب کا موقف اور ان کی تشریح جمہور کے مسلک سے ہٹی ہوئی نظرآتی ہے۔تاہم  اس کے قائلین علمائے اسلاف میں موجود رہے ہیں ۔تفسیر قرطبی میں ہے :

قال قوم لم یقع انشقاق القمر بعد وھومنتظرای اقترب قیام الساعة و انشقاق القمر وان الساعة اذا قامت انشقت السماء بما فیھا من القمر وغیرہ وکذا قال القشیری وذکر الماوردی ان ھذا قول الجمھور وقال لانہ اذا انشق ما بقی احد الا راہ لانہ آیة والناس فی الآیات سواء۔ و قال الحسن اقتربت الساعة فاذا جاءت انشق القمربعد النفخة الثانیة و قیل وانشق القمر ای وضح الامر وظھر والعرب تضرب بالقمر مثالا فیما وضح ۔۔۔وقیل انشقاق القمروانشقاق الظلمة عنه بطلوعه فی اثنائھا۔

’’بعض لوگ اس کے قائل ہیں کہ انشقاق قمرکا واقعہ اب تک ظہورپذیر نہیں ہوا اوروہ ہواچاہتا ہے۔چناں چہ جب قیامت  واقع ہوگی تو آسمان سمیت اس کی تمام چیزیں جیسے چاند وغیرہ پھٹ جائیں گے۔قشیری کا قول  یہی ہے۔ اور ماوردی کہتے ہیں کہ جمہور کا یہی موقف ہے۔ان کے بقول اگرچاند شق ہوتا تو یہ واقعہ ہرکسی کے مشاہدے میں آتا۔ اس لیے کہ یہ خدا کی نشانی ہے اور وہ تمام لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔حسن کہتے ہیں کہ قیامت قریب ہے لہذاجب وہ قائم ہوگی توچاند نفخہ ثانیہ کے بعد دوٹکڑے ہوجائے گا۔اورایک تاویل یہ کی گئی ہے کہ قرآن کا بیان کہ چاند پھٹ گیا،اس کا مطلب یہ ہے  کہ بات واضح ہوگئی۔عرب کسی چیز کونہایت واضح ہوجانے کے لیے چاند پھٹ جانے کا محاورہ استعمال کرتے تھے۔۔۔۔اسی طرح ایک قول یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا کا مطلب ہے کہ اندھیرا  اس کے طوع ہونے سے دورہوگیا‘‘۔ (۳۰)

 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس موقف کے قائلین اسلاف میں قابل ذکر تعداد میں رہے ہیں۔ ورنہ ماوردی اسے قول جمہور قرار نہ دیتے اور حسن بصری جیسی شخصیت اسے  روز    قیامت پر محمول نہ کرتی۔ البتہ شاہ صاحب کا اس واقعہ کو قرب قیامت کی پیشین گوئی پر محمول کرتے ہوئے  رسول اللہ کا معجزہ قرار دینا محل نظر  محسوس ہوتا ہے ۔ کیو ں کہ اس طرح تو قرب قیامت کی تمام ہی پیشین گوئیاں معجزہ قرار پائیں گی۔ معجزہ کی تعریف میں یہ داخل ہے کہ وہ رسالت کی تصدیق اور منکرین پر اتمام حجت کے لئے   عطا کیا جاتاہے ۔

علامہ زاہد الکوثری نے معجزہ شق القمر کے تعلق سے شاہ صاحب کےموقف پر  تنقید کرتے ہوئے اس نکتے کا اظہارکیا ہے کہ: ولیس سحر الاعین من شان رسل اللہ ''اللہ کے رسولوں کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ شعبدہ بازی دکھائیں"۔(۳۱)  گویا علامہ کوثری کے نزدیک سحر اورمعجزے میں فرق یہ ہے کہ سحر میں  خارق عادت کے طورپرجوچیز نظر آتی ہے وہ نظر کا دھوکا ہوسکتا ہے جب کہ معجزے کے لیے لازم ہے کہ شے عادی میں تغیر کے لحاظ سے  دیکھنے والوں کوجوکچھ نظر آتا ہو وہ بعینہ حقیقت پرمحمول ہو۔ لیکن شاہ صاحب کا موقف اس کے بر خلاف نظر آتا ہے۔ وہ اس فرق کے ساتھ سحر اورمعجزے کےدرمیان تفریق کے قائل نظر نہیں آتے۔

معجزہ انشقاق قمر کی بحث کے تناظرمیں خود  نفس معجزات کے حوالے سے شاہ صاحب  کے موقف کوسامنے رکھنا ضروری ہے۔اس کے بغیرشاہ صاحب کے موقف کی  حقیقت  مکمل طور پرسامنے نہیں آسکتی۔ شاہ کاموقف یہ نظرآتا ہے کہ رسول اللہ کو کلی معجزے کی شکل میں تو اصلا قرآن دیا گیا تھا، باقی    بظاہر خوارق   کی شکل میں جوامور آپ   ﷺ سے صادر ہوئے جیسے، دعا سے مریض کا صحت مند ہو جانا یا کھانے پینے کی اشیاء میں برکت   کا ہونا؛   ان کی  حیثیت جزئی معجزات کی ہے۔(۳۲) جس کی تائید ان کی نظر میں اس سے بھی ہوتی ہے کہ یہ صفات صرف انبیا کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ مفہمین اور اولیا  میں بھی پائی جاتی ہیں۔ان کی کرامتیں اسی قبیل سے ہیں۔(۳۳) شاہ صاحب کے نزدیک انہیں خوارق بس اس لیے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ  قلیل الوقوع ہوتے ہیں۔شاہ صاحب لکھتے ہیں:

 والحق ان کل ما یسمی خرقا فانه من الامور العادیة لکن لما کان  اسبابھا قلیلة الوقوع لا یظھر الا قلیلا حیث کان العامة لا یتوقعونھا سمیت  خوارق۔ وربما کان للخارق نظیر مالوف عندھم او ما ھو اتم منه فی الخرق فلا یلتفت الیہ العامة۔

’’حقیقت یہ ہےکہ جن چیزوں پرخرق عادت کا اطلاق کیا جاتا ہے،وہ معمول کے امور  ہوتے ہیں لیکن چوں کہ ان کے اسباب کا وقوع بہت کم ہوتا ہے اس لیے ان کا ظہور بھی کم ہی ہوتا ہے۔اب چوں کہ عوام کوایسے واقعے کی توقع نہیں ہوتی، اس لیے انہیں خوارق سے موسوم کردیا جاتا ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خرق عادت کے طورپرجوواقعہ سامنے آتا ہے اس جیسی یا اس سے بڑھ کرکوئی نظیرپہلے سے عوام کی نگاہ میں ہوتی ہے ایسے میں وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے‘‘۔(۳۴)

معجزات کے حوالے سے شاہ صاحب کا تصور  ایک حد تک معتزلہ سے متاثر نظر آتا ہے جومعجزے  کے اقرار وقبول کے ساتھ اس کے قلیل الوقوع ہونے کے قائل ہیں۔ابومسلم اصفہانی کی طرح شاہ صاحب بھی قرآن میں مذکور مختلف انبیا کے معجزات کی تاویل کرتے نظرآتے ہیں۔(جس پرگفتگو آگے آرہی ہے)

حواشی وتعلیقات

(۱)  شبلی نعمانی،علم الکلام، اعظم گڑھ، دار المصنفین،۱۹۹۳ص،۱۰۵

(۲) ابوحامد الغزالی، المستصفی ، الریاض: دار المیمان للنشروالتوزیع، سال اشاعت غیرمذکور،ص،۲۷۷

(۳)سیف الدین الآمدی،  الاحکام  فی اصول الاحکام ،(ج،۱)الریاض، دار الصمیعی للنشروالتوزیع،۲۰۰۳، ۲۳۸

(۴) ابومحمد ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام،ج،۳، بیروت:دار ابن حزم، ۲۰۱۶ص،۵۷۹

(۵) ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون،۱؍۱۸ ،مکتبہ شاملہ

(۶) شمس الدین الذھبی،سیر اعلام النبلاء ج،۸ص،۹۰ مکتبہ شاملہ

(۷) ابن تیمیہ کے موقف کی تفصیل اور اس پررد کے لیے دیکھیے : رسالۃ فی الرد علی ابن تیمیہ فی مسئلۃ حوادث لا اول لھا،تحقیق:سعید عبد اللطیف فودہ،اردن: ناشر،محقق خود،۱۹۹۸،ص،۵۹ وما بعد، ابن حجر نے بھی فتح الباری میں ابن تیمیہ پراس تعلق سے شدید رد کیا ہے اور  مرقاۃ الطارم(ص،۶۱) اورفیض الباری (ج،۶،ص،۵۷۴) میں انورشاہ کشمیری نے بھی جابجا اس پررد کیا ہے۔ ابن قیم کے موقف اس کے حق میں دلائل کے لیے ملاحظہ کیجیے :حادی الارواح الی بلاد الارواح ،المکۃ المکرمۃ: دار عالم الفوائد للنشروالتوزیع،  ج،۲،ص،۷۱۸۔۷۹۲

(۸) مبتدع فرقوں کے غزالی کی فکر پراثرات  کے حوالے سے تنقید کے لیے دیکھیے: ذکی مبارک: الاخلاق عند الغزالی، قاہرہ: دارالشعب،  بدون سن ص ،۷۵

(۹) مولانا عبید اللہ سندھی کا مقالہ’’ امام ولی اللہ کی حکمت کا اجمالی تعارف‘‘ ،الفرقان،(بریلی)شاہ ولی اللہ نمبر،۱۳۵۹ھ،ص،۲۳۸

(۱۰)   شاہ ولی اللہ دہلوی ،حجۃ اللہ البالغۃ (تحقیق وتعلیق سعید احمد پالن پوری)ج،۱،الباب الثانی، ذکرعالم المثال، دیوبند: مکتبہ حجاز، ۲۰۱۰ ، ص،۶۰

(۱۱) ایضا،ص،۶۱

(۱۲) ایضا

(۱۳) حجۃ اللہ البالغہ ،ص،۵۷۔۵۸

(۱۴)محمد  زاہد الکوثری،حسن التقاضی فی سیرۃ الامام ابی یوسف القاضی، مصر:دار الانوار،۱۹۴۸،ص،۹۵

(۱۵)  ایضا،ص،۹۴

(۱۶)  حجۃ اللہ البالغہ ج،۱،ص،۷۰

(۱۷) مسند احمد ، حدیث نمبر،۸۷۲۷

(۱۸) ترمذی، حدیث نمبر،۲۵۵۸

(۱۹) اس طرح کی بہت سی احادیث کوشاہ صاحب نے عالم مثال کےثبوت  میں پیش کیا ہے۔ دیکھیے،حجۃ اللہ البالغۃ،ص،۷۲،۷۱

(۲۰)  ایضا،۷۵

(۲۱) دیکھیے:Fazlur Rahman: Revival and Reform in Islam, ed. Ebrahim Moosa, Noida: One World Publications, 2006, p.175

(۲۲) حسن التقاضی،ص،۹۷۔۹۸

(۲۳) شاہ ولی اللہ الدہلوی ، التفھیمات الالٰھیہ ،(ج،۲)  گجرات:المجلس العلمی ڈھابیل، ۱۹۳۶، ص: ۵۷۔۵۸

(۲۴)شاہ ولی اللہ الدہلوی  ،تاویل الاحادیث،(تحقیق وتقدمۃ، غلام مصطفی القاسمی) حیدرآباد،(پاکستان): اکادمیۃ الشاہ ولی اللہ الدھلوی:۱۳۸۵ھ ص،۱۰۲۔۱۰۳ 

(۲۵)  ایضا ،۱۰۳،یہی دونوں مثالیں شاہ صاحب نے عالم مثال کے  اثبات کے لیے بھی دی ہیں۔ حجۃ اللہ البالغۃ،ص،۷۴

(۲۶)   تاویل الاحادیث،ایضا،ص،۱۰۲

(۲۷) ایضا ،ص،۱۰۴

(۲۸) التفھیمات الالھیۃ ، ج،۲،ص،۵۸

(۲۹) انورشاہ کشمیری،  فیض الباری  علی صحیح البخاری مع حاشیۃ البدر الساری الی فیض الباری (ج،۴)حاشیہ،دیوبند: مکتبہ فیصل ،۲۰۱۷ص،۴۵۷۔۴۵۸

(۳۰) ابوعبد اللہ القرطبی، الجامع لاحکام القرآن،ج،۱۷، بیروت: دار الکتب العلمیہ،۱۹۸۸ ص،۸۳

(۳۱) حسن التقاضی،ص،۹۷

(۳۲)  التفھیمات الالھیۃ، ج،۲ص،۸۴

(۳۳) شاہ ولی اللہ الدہلوی، تاویل الاحادیث،ص،۱۰۱

(۳۴) ایضا،ص،۱۰۱

(جاری)


انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۵)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا آٹھواں باب)



توحید کی احیا کے لیے نیکی کی ممانعت: مسئلۂ عید میلاد النبی

انیسویں صدی کے مسلمان اہل علم کے درمیان عید میلاد النبی پر جتنے پرجوش مناظرے ہوئے ہیں، اتنے کسی اور مسئلے پر نہیں ہوئے ہیں۔ استعماری دور میں مسئلۂ میلاد پر کش مکش دور حاضر میں اس عمل کے متعلق پائے جانے والے تنازعات کی ٹھوس بنیاد ہے۔ ابتداءً گیارھویں صدی میں مقبول ہونے والا میلاد آج تقریباً تمام مسلم معاشروں میں وسیع پیمانے پر رائج ہے۔ یہ اسلامی کیلنڈر کے تیسرے مہینے ربیع الاول کے بارھویں دن منایا جاتا ہے۔ یہ حضور ﷺ کا یوم ولادت ہے۔ اگر چہ عموماً یہ ایک تہوار کی شکل میں ہوتا ہے، تاہم یہ مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ البتہ میلاد کی سب سے بنیادی خاصیت یہ ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی شان میں نعتیں پڑھی جاتی ہیں، جن کا آغاز آپ ﷺ کی پیدائش کے ذکر سے ہوتا ہے، اور پھر آپ کی سیرت وفضائل بیان کیے جاتے ہیں1۔

میلاد پر مناقشہ اس کے مخالفین وموافقین دونوں کی طرف سے جذباتی ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ برصغیر کے تناظر میں میلاد میں سب سے زیادہ متنازع عمل 'قیام' ہے۔ قیام سے مراد حضور ﷺ کی تعظیم کی خاطر کھڑا ہونا اور انھیں سلام پیش کرنا ہے، اور اس کے نتیجے میں آپ کی طرف سے برکات کا حصول ہے۔ اس عمل کے دوران عام طور پر نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اس عمل کی قدر وقیمت کا دار ومدار اس اعتقاد پر ہے کہ رسول اللہ ﷺ شرکاء پر برکات کے نزول کے لیے اس مجلس میں بذات خود حاضر ہوتے ہیں۔ قیام کے مخالفین کہتے ہیں کہ بیک وقت میلاد کے مختلف اجتماعات میں حضور ﷺ کے حاضر ہونے کے اعتقادمیں رسول اللہ ﷺ کو خدا کے مرتبے پر فائز کیے جانے کا خطرہ ہے ۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس عمل میں خدا کے حاضر وناظر اور مختار کل ہونے کی صفات سے پیغمبر کو متصف کرنے کا خدشہ  ہے۔ مزید برآں حضور ﷺ کی تعظیم کی خاطر کھڑا ہونا ایک ایسا تعظیمی عمل ہے جو آپ کی بشری حیثیت کو کمزور کرتا ہے۔

اس کے برعکس، جیسا کہ میں اگلے دو ابواب میں تفصیل سے بتاؤں گا، قیام کے حامی اسے ایک انتہائی متبرک عمل سمجھتے ہیں کیونکہ یہ خدا کی محبوب ترین ہستی یعنی حضور ﷺ کی تعظیم کا عمل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ توحید کے لیے خطرہ ہونے کے بجائے قیام رسول اللہ ﷺ کے بے نظیر روحانی مقام ومرتبے کا عملی اقرار ہے۔ قیام سے متعلق مناقشے کے علاوہ میلاد متعدد اہم کلامی اور فقہی مسائل کو یکجا کرتا ہے، جو استعماری ہندوستان میں حریف مسلمان اہل علم کے اعتقادی اختلاف میں اساسی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور ان مسائل میں غیر واجب اعمال کے لیے وقت کا تعین (توقیت الوقت)، غیرمسلموں کے مذہبی اعمال جیسے کرسمس کے ساتھ مشابہت (تشبہ)، ممکنہ طور پر گناہ کے اعمال جیسے گانا بجانا، محفل موسیقی جمانا، محفل میلاد کی سجاوٹ کے لیے چراغاں کرنا، اگربتیاں جلانا، خوشبو لگانا جیسے اعمال شامل ہیں۔

ان مسلکی اور ظاہری پہلوؤں کے ساتھ مولد ایک سنجیدہ اصولی مسئلہ اٹھاتا ہے اور وہ ان نئے اعمال اور رسوم کی شرعی حیثیت ہے جو شریعت نے صراحتاً نہ تو منع کیے ہیں، اور نہ انھیں جائز قرار دیا ہے۔ میلاد ایک ایسے رسم کی مثالی صورت ہے، جو حضور ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے عمل سے ثابت نہیں، لیکن اسے حضور ﷺ کی یاد منانے کے نیک مقصد کے لیے برتا جاتا ہے۔

یہ مسئلہ قرونِ وسطیٰ اور عہد جدید کے اوائل میں اسلام کی فقہی روایت میں کافی مختلف فیہ رہا ہے۔ کچھ اہل علم نے میلاد کو نیک ترین اعمال کی حیثیت سے سراہا ہے، جبکہ بعض نے اس کی شرعی حیثیت پر گہری تشکیک کا اظہار کیا ہے۔ میلاد سے متعلق امام ابن تیمیہ (م 1328) اور جلال الدین السیوطی (م 1505) رحمہما اللہ کی آرا ان متقابل رجحانات کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ فقہ شافعی کے  نامور عالم علامہ سیوطی میلاد کے پرجوش وکیل تھے۔ سیوطی کے نزدیک اگر چہ میلاد کی ابتدا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے کافی عرصے بعد ہوئی، لیکن یہ بدعتِ حسنہ ہے کیونکہ اس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی مدح اور ان کی یاد منانا ہے۔ اس رسم کے ذریعے مسلمان حضور ﷺ کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اور آپ کی بعثت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں۔ سیوطی نتیجہ نکالتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ مقاصد قطعاً نیک ہیں،  اس لیے میلاد کے شرعی جواز میں کوئی شک نہیں2۔

ابن تیمیہ، جو قرون وسطی کے ایک کثیر التصانیف عالم ہیں اور جو سیوطی سے کئی صدیاں پیش تر گزرے ہیں، اس بات میں سیوطی کی موافقت کرتے ہیں کہ میلاد منانا کئی نیک مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: "جو شخص میلاد مناتا ہے، وہ اپنے نیک ارادے اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے عظیم اجر کا مستحق ہو سکتا ہے"3۔ ابن تیمیہ نے اگر چہ مولد میں خیر کے ممکنہ پہلو کو تسلیم کیا، اس کے باوجود وہ اسے بدعت سمجھتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے اسوۂ حسنہ میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ ابن تیمیہ نے نے اپنے استدلال میں بتایا کہ جب صحابہ کرام نے، جو رسول اللہ ﷺ کے عاشق زار تھے، اور نیکی کے کاموں میں سب سے آگے تھے، میلاد نہیں منایا، تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ میلاد نہیں منانا چاہیے4۔ میلاد کے بارے میں سیوطی اور ابن تیمیہ کی مخالف آرا اس عمل کی شرعی حیثیت سے متعلق ابہام کی ایک جھلک فراہم کرتے ہیں5۔ میلاد ایک ایسے رسم کی مثالی صورت ہے جو اگر چہ دینی مصالح کا حامل ہے، لیکن یہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے اسوۂ حسنہ سے ثابت نہیں۔ پھر اس کو کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

اپنے ماقبل جدید پیش روؤں کی طرح استعماری ہندوستان میں مسلمان اہل علم نے اس مسئلے کو زیادہ جوش وخروش کے ساتھ موضوع بحث بنایا۔ اس کے حامیوں اور مخالفوں دونوں نے اپنے مواقف کے دفاع میں تفصیل سے لکھا۔ دیوبند کے پیش رو نے ، جیسا کہ اس کہانی میں عکاسی کی گئی جس سے یہ حصہ شروع ہوا تھا، ہندوستان میں رائج میلاد کی پرزور مخالفت کی۔ یہاں بھی مولانا اشرف علی تھانوی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے دیوبندی موقف کو اپنے ایک رسالے 'طریقۂ مولد شریف' میں سب سے زیادہ جامع انداز میں واضح کیا6۔ اس رسالے میں مولانا تھانوی نے ایک منظم فقہی استدلال ترتیب دیا جس کا مقصد میلاد کو ایک مذموم بدعت ثابت کرنا تھا۔ 

اس باب میں، میں میلاد کے مسئلے پر مولانا تھانوی کے فقہی فریم ورک کا ایک دقیق تجزیہ پیش کروں گا۔ اس تجزیے کے ذریعے میں چاہتا ہوں کہ بدعت کے موضوع پر دیوبندی آرا کے ان فکری دلائل کی ایک ٹھوس وضاحت پیش کروں جس کا ذکر پچھلے باب میں ہوا۔ وہ کون سے مخصوص طریقے ہیں جن کے ذریعے مولانا تھانوی نے مجالسِ میلاد کے عدم جواز کا دعوی کیا اور اس دعوے کے لیے عقلی ونقلی دلائل فراہم کیے۔ ان کے استدلال سے علم، زمان اور عبدیت/اطاعت کے درمیان تعلق کے حوالے سے ان کے تصور کے متعلق کیا منکشف ہوتا ہے؟  کس استدلالی حکمتِ عملی کے ذریعے وہ روایت اور اس کی حدود کے نگہبان کے طور پر اپنی حیثیت کو تسلیم کراتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جنھیں میں زیرِ بحث لاؤں گا۔

طریقۂ مولد شریف میں مولانا تھانوی نے میلاد جیسی رسم کی، جو شریعت کی رو سے نہ صراحتاً جائز ہو نہ ناجائز، لیکن اس کی نظیر آپ ﷺ اور صحابہ کرام کے اسوۂ حسنہ میں موجود نہ ہو، شرعی حیثیت کو متعین کرنے کے لیے پانچ اصول وضع کیے ہیں۔ مولانا تھانوی کے اصولی منہاج میں بنیادی اہمیت اس فقہی قاعدے کو حاصل ہے کہ جب کسی عمل میں حلال اور حرام دونوں پہلو جمع ہو جائیں، تو ترجیح حرام والے پہلو کو دی جاتی ہے۔ ان اصولوں میں سے ہر ایک اصول کا ایک دقیق جائزہ ہمیں اس کے فقہی تصورات اور اصولی حساسیت کی نسبتاً گہری تفہیم کا موقع فراہم کرے گا۔

اصول 1: "اگر کوئی غیر واجب عمل واجب عمل کی حیثیت اختیار کر لے، تو اسے ترک کرنا چاہیے" (46)۔

جیسا کہ میں نے اس پورے باب میں استدلال کیا ہے، تھانوی کے اصلاحی پروجیکٹ کا مرکزی نکتہ غیر واجب رسوم کے مقابلے میں واجبات دینیہ کی اولیت کا تحفظ ہے، جنھیں عوام بآسانی غیر واجب رسوم کے ساتھ خلط کر سکتے ہیں۔ بالذات جائز ہونے کے باوجود یہ رسوم بدعات کی صورت اختیار کر گئی ہیں، کیونکہ وہ ایسی خصوصیات کے مشابہ بن گئی ہیں، جو صرف دینی واجبات کے ساتھ مختص ہیں۔ یہ اصولی تجاوز اس وقت یقینی بن جاتا ہے جب ایک سماج ایسے شخص کو لعنت ملامت کرتا ہے اور اسے عذاب کا مستحق سمجھتا ہے، جو اپنی مرضی سے ان رسوم میں شرکت سے گریز کرتا ہے۔

مولانا تھانوی کے نزدیک میلاد ایک ایسی رسم کی مثالی صورت ہے۔ تھانوی اپنے قارئین کو بار بار یاد دہانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بالذات میلاد نہ صرف یہ کہ مباح ہے بلکہ مستحب ہے۔ تھانوی کی نظر میں محفلِ میلاد کا انعقاد اور اس میں شرکت دینی اعتبار سے مفید اعمال ہیں، لیکن یہ صرف اس صورت میں جب یہ مروجہ حدود وقیود سے آزاد ہوں۔ مثلاً‌ اگر کچھ لوگ بغیر دعوت دیے اتفاقا کہیں نشست کریں، یا وہ  میلاد کے علاوہ کسی  مقصد کے لیے جمع ہوں، اور اس مجلس میں وہ زبانی یا قرآن کی تلاوت سے رسول اللہ ﷺ کے کردار، ذاتی خصوصیات، معجزات اور فضائل کو ایسے انداز میں ذکر کریں، جو صحیح احادیث کے موافق ہوں، تو ایسی مجلس بغیر کسی تحفظ کے جائز ہے۔

تاہم مولانا تھانوی کہتے ہیں کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام میلاد کو اس کی اصل اور جائز حیثیت سے اوپر اٹھا کر واجب سمجھنے لگتے ہیں۔اس صورت میں میلاد مذموم بدعت بن جاتی ہے۔ مزید برآں اگر میلاد میں شرکت پر اصرار اس جوش وجذبے کے برابر یا اس سے متجاوز ہو جائے،  جس کے ساتھ واجب اعمال کی ادائیگی ہوتی ہے، تو ایسا اصرار شریعت کی برتر حیثیت پر سمجھوتے کے مترادف ہے۔ اور جیسا کہ تمام مباح اعمال کے متعلق حکم ہے کسی ایسے شخص کو ملامت کرنا جو میلاد میں اپنی رغبت سے شریک ہونے سے گریز کرتا ہے، حدود سے تجاوز کی کلیدی علامت ہے۔ تھانوی کے نزدیک جب اپنی مرضی سے میلاد میں شرکت سے گریز پر سماج کی طرف سے تنقید ہونے لگے تو اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ عوام اسے واجب سمجھنے لگے ہیں۔

اس بحث میں مولانا تھانوی نے بار بار التزام ما لا يلزم (یعنی ایسی چیز کی پابندی کرنا جو شرعاً لازم نہ ہو) کی تعبیر استعمال کی ہے۔ اگر کسی غیرواجب عمل پر اصرار اس حد تک پہنچ جائے کہ اس سے گریز کرنے والے شخص پر لعن طعن کی جائے، تو پھر وہ لوگ جنھوں نے ایسے اعمال پر اصرار کا ماحول تشکیل دیا ہے، ایک صحیح وثابت شدہ سنت کے مد مقابل عمل کے ایجاد کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تھانوی کے نزدیک ایسے افراد بدعتی ہیں۔ ایسے لوگ اس لائق ہیں کہ انھیں سزا دی جائے، ان سے کنارہ کشی اختیار کی جائے، اور انھیں قابل نفرت بنایا جائے، تاکہ وہ اپنے معاشروں دوسرے عوام کے دین کو خراب کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں۔

مولانا تھانوی کے نزدیک میلاد میں حرمت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس میں ایسی قیود ہیں جن کی کوئی اصل شریعت میں نہیں۔ مثال کے طور پر سال میں ایک دن کا تعین (ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ) جس کو میلاد کا انعقاد کیا جاتا ہے، لوگوں کی اپنی طرف سے ایجاد کردہ ایک اضافی قید کی مثال ہے۔ تھانوی نے اپنے استدلال کو تقویت فراہم کرنے کے لیے ایک حدیث کا حوالہ دیا: "رات کی نماز اور دیگر عبادات کے لیے صرف جمعے کی رات کو خاص مت کرو، اور نہ ہی روزے کے لیے جمعے کے دن کی تخصیص کرو"(47)۔

اصول نمبر 2: "ہر جائز بلکہ مستحب عمل ناجائز اور حرام بن جاتا ہے، اگر اس میں کوئی ناجائز عمل یا شرط شامل ہو جائے" (47)۔

تھانوی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی تقریب کی دعوت کو قبول کرنا مستحب ہے، بلکہ احادیث مبارکہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔تاہم اگر تقریب میں کوئی ناجائز عمل سرانجام پا رہا ہو تو پھر اس میں شرکت ناجائز قرار پائے گی (48)۔ یہ اصول دینی واجبات کے خالص پن کو برقرار رکھنے کے لیے مولانا تھانوی کی فکر مندی کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں یہ تشخیص پر مرتکز ایک ایسے سماجی تخیل کی بھی غمازی کرتا ہے، جو میلاد جیسے متنازعہ دینی اعمال کی شرعی حیثیت متعین کرنے کے پیچھے کار فرما ہے۔ تھانوی کی نظر میں شریعت ایک انسانی جسم کی طرح ہے، جسے تمام تخریبی اور فاسد اثرات سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس لیے اگر عید میلاد النبی جیسا نیک عمل بھی مفسدات کا شکار ہوجائے، تو اسے ترک کرنا چاہیے، تاکہ امت اجتماعی نقصان سے بچ جائے۔ تھانوی نے جو مفسدات گنوائی ہیں، وہ ان کی نظر میں عوامی دین داری کے تصور پر خوب روشنی ڈالتی ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ ان رسموں کا سارا ارتکاز اور زور حواس کی جذباتی تربیت پر ہے:

دو بنیادی اخلاقی اصول جو میلاد میں شامل فاسد اثرات کی تنقید میں مولانا تھانوی کی فکر پر حاوی ہیں، سادگی اور سنجیدگی ہیں۔ دراصل سادگی اور سنجیدگی ان انتہائی اہم دینی اقدار میں سے ہیں جس پر دیوبندی مسلک استوار ہے۔ دیوبند کے پیش رو بشمول مولانا رشید احمد گنگوہی،مولانا خلیل احمد سہارن پوری اور مولانا تھانوی متفقہ طور پر دینی اعمال کی ایسی تمام صورتوں کے مخالف تھے جو مسلمانوں کے درمیان غیر ضروی جوش وجذبے اور خواہشات کو ابھارتی ہوں۔ ان کی نظر میں ایسا اخلاقی نظام جو جذباتی اسراف کو برداشت کرتا ہو، عوام میں سنت وبدعت کے درمیان امتیاز کی صلاحیت کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

دیوبندیوں کے وسیع تر اصلاحی بیانیے سے ہم آہنگ ہو کر مولانا تھانوی نے ایسے نیک اعمال کی وکالت کی، جن میں مسلمان سادگی اور سنجیدگی پر کار بند رہیں، اور جو انھیں اس قابل بنائیں کہ وہ اسراف، شان وشوکت کے عوامی اظہار اور عیش پرستی کو عیب اور باعث عار سمجھنے لگیں7۔ اس لیے مولانا تھانوی جیسے مصلحین کی اخلاقی اصلاح کے پروجیکٹس کو 'نجی دائرے' کی طرف واپسی کے سفر کے طور پر سمجھنا، جس کا مقصد صرف اور صرف پاکیزہ بندوں کی تربیت ہے، غلط ہے۔ اس کے برعکس بدعت پر مولانا تھانوی کی فکر کی امتیازی خصوصیت فرد کی اخلاقی اصلاح اور سماج کے سیاسی نظام کے درمیان ربط ہے۔ اُن کی فکر میں نجی اور عوامی دائرے کے درمیان کسی امتیاز کا کوئی ذکر  نہیں۔ میں اس باب کے اختتام میں اس نکتے کی طرف واپس آؤں گا۔

اصول نمبر 3: "یہ علماے دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ  عوام کے دین وایمان کی حفاظت کریں" (48)۔

مولانا تھانوی نے بتایا کہ چونکہ لوگ علما کے پیچھے چلتے ہیں، اس لیے علما کو عوامی دائرے میں دین پر عمل کے حوالے سے انتہائی حزم واحتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مولانا تھانوی کی راے میں یہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے کی اخلاقی و دینی تربیت اور حفاظت کریں۔ اس لیے اگر کسی مباح عمل کو عوام کی طرف سے فرض سمجھنے کا خطرہ پیدا ہو جائے، تو علما پر لازم ہے کہ وہ اس عمل کو ترک کریں۔ دوسروں کے لیے مثال ہونے کی بنا پر علما سے تقاضا ہے کہ وہ اپنے ان اعمال کے حوالے سے محتاط رہیں، جو معاشرے میں عام لوگوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مولانا تھانوی تسلیم کرتے ہیں کہ علما اپنے وسیع علم کی بدولت واجب اور غیر واجب اعمال میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم چونکہ عوام ان کی تقلید کرتے ہیں، اس لیے عوام کے دین وایمان کی حفاظت کی خاطر انھیں ایسے مستحب اعمال سے بھی دست بردار ہونا چاہیے، جنھیں عوام غلطی سے فرض سمجھ سکتے ہیں۔ مولانا تھانوی نے زور دے کر کہا کہ علما کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کو اعتقادی اور اخلاقی فساد سے تحفظ فراہم کریں۔

مولانا تھانوی نے اپنے استدلال کی وضاحت میں اپنی بنائی ہوئی دو اصطلاحات  پیش کیں۔ ان میں سے ایک اصطلاح کو وہ 'ضررِ لازمی' اور دوسرے کو 'ضررِ متعدّی' کہتے ہیں۔ مولانا تھانوی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ لازمی ضرر سے مراد ایسی صورت ہے جہاں ایک ضرر رساں عمل میں شرکت کی وجہ سے صرف  اس میں شریک شخص کو نقصان پہنچتا ہو۔ اس کے برعکس متعدی ضرر سے مراد ایسا ضرر ہے جس کا نقصان صرف اس شخص تک خاص نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ تھانوی نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کوئی جائز عمل انفرادی ضرر کا باعث بننے کی وجہ سے ممنوع قرار پاتا ہے، ، اسی طرح ایک عمل تب بھی ممنوع ٹھہرتا ہے، اگر وہ متعدی ضرر کا سبب بنے۔ مثال کے طور پر "ایک شخص بیمار ہے، اور ڈاکٹر نے اسے اجازت دی کہ وہ روزہ توڑے۔ اس صورت میں اس کا کھانا پینا اصلاً جائز ہوگا۔ تاہم اگر اس اجازت سے یہ امکان ہو کہ کوئی دوسرا شخص اس کی صورتِ حال کو دیکھ کر روزہ توڑ دے گا، تو پھر یہ بظاہر جائز عمل بھی ناجائز قرار پائے گا (57)۔

اس لیے علما کو چاہیے کہ وہ ایسے غیر واجب اعمال پر کڑی نظر رکھیں، جو ایسی شرعی حدود کے ساتھ گھل ملنے کا امکان رکھتے ہوں، جو مباح اعمال کو واجب اعمال سے الگ کرتے ہیں، اور نتیجتاً لازمی یا متعدی ضرر کا سبب بنتے ہوں۔ مزید برآں علما کو چاہیے کہ ایسے اعمال کو لازماً ترک کریں، جو کسی بھی مرحلے پر اپنی شرعی حیثیت کو پھلانگ کر برتر حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا تھانوی بتاتے ہیں کہ وفات کے دن میت کے خاندان سے تعزیت کرنا مسنون اعمال میں سے تھا۔ تاہم جب سے لوگوں نے اس رسم کو واجب عمل کی حیثیت دی ہے، علما نے اسے ممنوع اور واجب الترک قرار دیا۔ اسی طرح خدا کے سامنے شکر کی خاطر سجدہ ریز ہونا ایک روایت تھا اور رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جائز تھا لیکن جب لوگوں نے اسے سنتِ مقصودہ سمجھنا شروع کیا، تو اسے ناجائز قرار دیا گیا۔

تاہم تھانوی نے اس اصول میں ایک اہم قید کا اضافہ کیا: اگر کوئی واجب شرعی عمل کئی غیرشرعی رسوم کی شمولیت سے فاسد ہو جائے، پھر اس عمل کو بالکلیہ ترک کرنے کے بجاے فاسد اعمال سے اس کی تطہیر اور اصلاح کرنی چاہیے۔ مثلاً اگر کسی جنازہ میں نوحہ کرنے والی عورت شامل ہوجائے، تو جنازہ یا تدفین کے عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے، بلکہ نوحہ کرنے والی عورت کو خاموش کرنا چاہیے۔  لیکن جہاں تک غیر ضروری یا غیر واجب عمل کی بات ہے، جیسے کسی مجلس میں شرکت کی دعوت قبول کرنا، تو ایسی دعوت سے انکار لازم ہے، جس میں مکروہ یا فاسد سرگرمیاں ہو (49)۔ مولانا تھانوی کے نزدیک مباح اور واجب اعمال کے متعلق اصول میں یہ ایک اہم فرق ہے۔  جیسا کہ مجھے اگلے باب میں واضح کرنے کا موقع ملے گا، یہ بعینہ وہی نکتہ ہے، جس پر دیوبند کے پیش رو اپنے بریلوی مخالفین سے واضح اختلاف رکھتے ہیں۔

لیکن اس اصولی پہلو سے قطع نظر، یہ بحث عوام کے بالمقابل طبقۂ علما کے ایک فرد کی حیثیت سے مولانا تھانوی اپنے کردار کو جس طرح تصور کرتے تھے، اس سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔ ان کے سماجی تخیل میں علما پر مسلسل یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود کو ایک قابل تقلید نمونے کی حیثیت سے پیش کریں۔اگر علما عوام کے سامنے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، تو اس سے عوام کے دینی رجحانات پر ضرر رساں اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر وہ اپنی اس صلاحیت کو کہ لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں، سنجیدگی سے لیں تو وہ اخلاقی طور پر ایک مضبوط اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس سیاق میں مولانا تھانوی اور دیگر متعدد ہندوستانی مسلمان مصلحین (دیوبندیوں اور بریلویوں دونوں) نے ایک خطیبانہ تعبیر استعمال کی ہے جس کی رو سے وہ عوام کو  مال مویشی کے ایک گلے کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اس احساس کا اظہار وہ عربی کے ایک مشہور کہاوت 'العوام کالانعام' (یعنی عوام جانوروں کی طرح ہیں) سے کرتے ہیں، اور برصغیر کے مختلف الخیال علما یہ کہاوت بار بار استعمال کرتے ہیں۔ اس تناظر میں عوام سادہ اور کم فہم ہیں، اور انھیں مستقل طور پر  گلہ بانوں کی ایک جماعت کی ضرورت ہے، جو انھیں دینی رہ نمائی اور اخلاقی ہدایات فراہم کریں۔ لیکن یہ بڑا عجیب رویہ ہے کیونکہ مولانا تھانوی جیسے علما جس قسم کے انداز فکر کو فروغ دے رہے ہیں وہ تو کافی پیچیدہ اور لسانی اعتبار سے مشکل ہے۔ پھر حیرت ہےکہ یہ مباحث اور ان میں موجود پیچیدہ افکار ان 'عوام کالانعام'  کے لیے کیسے قابل فہم ہو سکتے ہیں، جن کی اصلاح اور اخلاقی تطہیر کے لیے وہ کوشاں ہیں۔ شاید اور کسی بھی چیز سے زیادہ عوام کو جانوروں کے برابر قرار دینا دراصل ان علما کے دینی استناد کو سہارا فراہم کرتا ہے، جنھوں نے اس کہاوت کا استعمال کیا۔ گلہ بان اور اس کے ریوڑ سے علما اور عوام کے درمیان تعلق کی تصویر کشی کرکے یہ کہاوت علما کے شرعی استناد اور عوام کے مزعومہ تقلیدی رجحان اور انحصار کو باہم جوڑتی ہے۔

اصول نمبر 4: "زمانی، مکانی اور تجربی مشاہدات ان معاملات میں مختلف نتائج پیدا کرتے ہیں، جو عارضی طور پر مکروہ (مکروہِ عارضی) ہوں" (49)۔

جیسے پہلے ذکر ہوا کہ قرون وسطی اور عہد جدید کے اوائل میں نامور مسلمان فقہا جیسے علامہ سیوطی نے میلاد کو مطلقا جائز اور مثالی رسم قرار دیا ہے۔ اس حقیقت نے مولانا تھانوی کے لیے ایک شرعی چیلنج پیدا کیا، کیونکہ میلاد کے حوالے سے ان کی مخالفت ان اکابر اہل علم کی مخالفت پر محمول کیا جا سکتا تھا۔ مولانا تھانوی نے اس چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کے لیے یہ اصول وضع کیا۔ مولانا تھانوی پوری قطعیت سے بتاتے ہیں کہ ان متقدمین علما نے میلاد کو اس لیے مستحب قرار دیا تھا، کیونکہ ان کی زندگی میں اس میں وہ مفسدات نہیں تھے جو بعد میں شامل ہو گئے۔  جیسا کہ وہ  لکھتے ہیں: "اگر ان فقہا کو آج میلاد کا حکم بتانا پڑے، تو وہ بھی اسے حرام قرار دیں" (49)۔ اس لیے تھانوی کے نزدیک کسی عمل کا حکم ہر زمان ومکان میں ایک جیسا یا ابدی نہیں ہوتا۔ یہ ممکن ہے کہ آج مکروہ قرار دیا جانے والا ایک عمل گزشتہ دور میں مباح قرار دیا گیا ہو۔

 مولانا تھانوی نے رسوم کے حوالے سے اسی انداز استدلال کو جغرافیائی اختلافات پر بھی منطبق کیا: یعنی کوئی عمل ایک علاقے میں (وہاں پر رائج حالات کی مناسبت سے) جائز ہو سکتا ہے، جب کہ وہی عمل کسی دوسرے علاقے میں ناجائز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دو ماہر فقہا  کسی ایک مسئلے کے متعلق اپنے تجربے اور مشاہدے میں اختلاف کی بنیاد پر دو مختلف مواقف اختیار کر سکتے ہیں۔ مولانا تھانوی نے اپنے استدلال میں بتایا کہ اگر کوئی فقیہ کسی مباح عمل کے ساتھ جڑے اخلاقی فسادات سے آگاہ نہیں ہے تو اسے اس عمل کو جائز بتانے میں کوئی اشکال نہیں ہوگا۔ تاہم ایک دوسرے فقیہ کا تجربہ اور مشاہدہ اسے اس عمل کو مکروہ قرار دینے پر آمادہ کر سکتا ہے، اور اس لیے وہ اس عمل کو ناجائز قرار دے سکتا ہے۔

مولانا تھانوی نے اپنے مخالفین کے اعتراضات کا قلع قمع کرتے ہوئے باصرار بتاتے ہیں کہ "یہ اختلاف محض ظاہری ہے نہ کہ حقیقی۔ یہ صرف صوری نہ کہ معنوی" (49)۔  اس طرح مولانا تھانوی میلاد کی حرمت والے موقف پر قائم رہنے میں کام یاب ہوگئے، اور اس کے ساتھ انھوں نے قرونِ وسطی کے نامور عالم علامہ سیوطی سے اپنی وفاداری بھی برقرار رکھی، جن کا موقف اس موضوع پر ان سے مختلف ہے۔ 

مولانا تھانوی کے تعبیری منہاج کے مطابق کسی عمل کی اخلاقی حیثیت ان حالات سے مشروط ہے، جن میں یہ سرانجام دیا جاتا ہے۔ آخر کار اضافیت پر مبنی اس منہاج نے ایک مصلح عالم کی حیثیت سے مولانا تھانوی کے استناد کو بڑھاوا دیا، اس طرح کہ کسی مخصوص زمان ومکان میں کسی عمل کی شرعی حیثیت کے تعین کا اختیار ان کے پاس رہا۔ کار اصلاح سرانجام دیتے ہوئے مولانا تھانوی نے ایک ایسے اخلاقی نظام کی سرپرستی کی کوشش کی، جو الٰہی شریعت کی توقعات اور حدود کا محافظ ہو۔ لیکن یہ توقعات اور حدود ہیں کیا؟ اس کے تعین کا دار ومدار مولانا تھانوی اور حال کے متعلق ان کے جائزے پر رہا۔ انھوں نے خدا کی مرضی کو معلوم کرنے کے لیے اپنی مرضی کا استعمال کیا۔ 

مزید برآں مولانا تھانوی کا تعبیری اسلوب پوری گہرائی کے ساتھ زمان کی ایک مبہم تفہیم اور اس تفہیم کا سماج کی اقدار کی تشکیل کے ساتھ تعلق سے جڑا تھا۔ ایک طرف مولانا تھانوی کا فقہی منہاج زمان کے ایک متحرک تصور میں پیوست  تھا۔اس متحرک تصور کی رو سے اختلافی رسوم واعمال کے شرعی احکام بدلتے زمانے اور سماجی حالات کے مطابق تبدیل ہوئے اور ہونے چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر چہ علامہ سیوطی جیسے بزرگ عالم نے میلاد کو مستحب قرار دیا تھا، لیکن جب وہ حالات تبدیل ہوئے جن میں میلاد سرانجام دیا جاتا تھا، اس لیے اس کی شرعی حیثیت بھی بدل گئی۔ کسی عمل کی شرعی حیثیت ان حالات کے مطابق متحرک اور تغیر پذیر رہتی ہے، جن کے تحت وہ سرانجام پاتا ہے۔

اس صورت میں شریعت ایک لچک دار استدلالی فضا ہے، جو ان بدلتے زمانی حالات سے خود کو ہم آہنگ کرتی ہے جن میں وہ فعال ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یہ خواہش کہ حضور ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمام ازمنہ وامکنہ میں قابل عمل رہے (یہ خواہش مولانا تھانوی کے اصلاحی پروجیکٹ میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے)،  زمان کو غیر متغیر اور مستقل فرض کرتی ہے۔

تھانوی کی فکر میں زمان کے مسئلے پر ابہام کو ایک اور پہلو مزید واضح کرتا ہے۔مخصوص زمانی اداوار میں پائے گئے خارجی حالات کے مطابق فقہی آرا اختیار کرنے کی ضرورت کے بارے میں اپنے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے تھانوی بتاتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت تھی، کیونکہ مرد وعورت کے درمیان کشش کا امکان نہ تھا۔ تاہم بعد میں بدلتے حالات کی بنیاد پر صحابہ کرام نے اس عمل کو ممنوع قرار دیا" (50)۔

اس مثال میں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ایک بنیادی زمانی منہاج کا کام دیتا ہے، جس کے مطابق حال کو ڈھلنا چاہیے۔  اس احساس کی تہہ میں کار فرما زمنیت کے ماڈل میں تاریخ کا ایک ایسا الہامی اسلوب جان ڈالتا ہے، جس میں حال کی زندگی ساتویں صدی کے ایک الہام (عہد نبوی) کی تصویر میں منکشف ہوتی ہے۔ تاریخ کا ایسا الہامی تصور تبدیلی اور حرکیت کا مخالف ہے؛ یہ زمان کے ایک ایسے تصور کو فرض کرتا اور اس سے پرورش پاتا ہے، جو مستقل اور غیر متبدّل ہو۔ تاہم اگر چہ تھانوی تاریخ اور زمان کی ایک الہامی تفہیم کو قبول کرتے ہیں، لیکن زمان کے ایک متحرک تصور کو اختیار کرنے سے بھی انھیں کوئی مسئلہ نہیں۔صحابہ کرام کی طرف سے خواتین کی مسجد میں آنے کی ممانعت سے، جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے عمل سے ایک واضح تبدیلی اور انحراف ہے، یہ امر بالکل بدیہی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ اس مثال میں مولانا تھانوی نے ایک طرف فقہی لچک کی حمایت کی، اور بدلتے سماجی حالات کے مطابق  احکام کی تبدیلی کی گنجائش کی تائید کی۔ الہامی ماڈل کے برعکس قانون کے بارے میں اس لچک دار اور متحرک رویے نے حال کو ایک ایسے زمانی تناظر کی حیثیت عطا کی، جو کسی سماج کے لیے شرعی و اخلاقی پروگرام کی تشکیل کے لیے سب سے زیادہ مناسب تھا۔ نتیجتاً قانون اور تاریخ کے الہامی تصور کے برعکس جو زمان کو مستقل ہونے پر مجبور کرتا ہے، یہ بعد والا رویہ زمان کی حرکیت کی تائید کرتا ہے۔ تب یہ امر واضح ہے کہ مولانا تھانوی نے بدعت کے حوالے سے اپنا پسندیدہ استدلال وضع کرنے کے لیے اپنے افکار میں زمان کے استقلال اور تحرک کو حکمتِ عملی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ ان کی فکر میں مستقل اور متحرک زمان دونوں بیک وقت موجود اور باہم معاون ہیں، جو ایک لاینحل لیکن تعمیری ابہام کی غمازی کرتے ہیں۔ 

صحابہ کرام کے عہد میں مساجد کے اندر خواتین کی موجودگی کی ممانعت کی جو وضاحت مولانا تھانوی نے کی ہے، اس کے اندر ایک اور ابہام بھی پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ کون سے تاریخی اسباب ہیں، جن کی بنا پر وقت گزرنے کے ساتھ انسانی فطرت میں ایسی جوہری تبدیلیوں کو تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ مثلاً مولانا تھانوی کس بنیاد پر یہ استدلال کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں مرد وزن کے درمیان کشش موجود نہ تھی، اور آپ علیہ السلام کی وفات کے فورًا بعد پیدا ہوئی؟ مولانا تھانوی ان ابہامات کو نہیں چھیڑتے۔ تاہم ان کے استدلال کے منطقی ربط سے زیادہ دل چسپ تاریخ اور زمان کا وہ تصور ہے جو یہ استدلال فرض کرتا اور تشکیل دیتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے دینی عروج وزوال کا جو بیانیہ مولانا تھانوی کے استدلال میں کار فرما ہے، اس یقین کے ساتھ نتھی ہے کہ ایک شخص تاریخ میں جتنا پیچھے کی طرف سفر کرتا ہے، اتنا ہی اسے اسلام اپنی خالص شکل میں ملے گا۔ اس میں عہد نبوی ایک غیر فاسد اخلاقی نظام کے ایک حتمی ماڈل کا کام دیتا ہے۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ اپنے حال میں زمان کے منفی تجزیےنے دین کی اخلاقی پاکیزگی کے نگہبان کی حیثیت سے مولانا تھانوی کی اپنی حیثیت کو استناد عطا کیا۔ حال کے ایک یاس انگیز تصور نے ایسے پیغمبری مصلحین کے استناد کی ضرورت پیدا کی، جو عوام کو بدعات سے ہٹا کر سنت کے رستے پر ڈال سکیں۔ حقیقت میں مولانا تھانوی کے دینی فرائض کی کڑی علمیاتی تحقیق کا پورا پروجیکٹ بالکل اہم نہ ہوتا، اگر یہ ایک عالم گیر اخلاقی زوال کے بیانے میں ملفوف نہ ہوتا۔

المختصر مولانا تھانوی نے ماضی کے ایک مثالی معاشرے کے تصور اور حال اور مستقبل کی ایک مکروہ تصویر کے درمیان تقابل پیدا کرکے اپنے دینی استناد کو تقویت پہنچائی۔ مولانا تھانوی کی فکر میں مثالی معاشرہ (نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کا عہد) ہمارے پیچھے ہے؛ یہ تاریخ کا ایک ایسا عہد ہے جسے سماج کی عادت (habitus) کو تبدیلی کے ایک جامع اور مسلسل پروگرام کے ذریعے واپس لایا جا سکتا ہے،اور اسی طرح سے ماضی کی گم شدہ میراث کو حال میں پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن واپسی کی یہ خواہش ہمیشہ ناآسودہ رہی۔ یہ عدم امکان کبھی بھی وقوع سے ہم کنار نہ ہوا۔

یہاں میں یہ اضافہ کرتا چلوں کہ عہد نبوی کو زمانۂ موجود میں واپس لانے کی ناآسودہ خواہش اخلاقی بحران کی اس الہامی ضرورت کو ایندھن فراہم کرتی ہے، جو 'فسادِ زمان' کے مقبولِ عام اصلاحی استدلال میں پایا جاتا ہے۔ یہ  ایک ایسا استدلال ہے جسے مولانا تھانوی نے بدعت سے متعلق اپنے افکار میں بار بار پیش کیا ہے۔ اس تصور میں زمان کی علامت مجازی طور پر عوام کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو ایسی عادات واطوار کو بڑھاوا دیتے ہیں، جو ہر آنے والے عہد میں فساد کے شماریے (index) میں معتد بہ اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ مزید برآں مولانا تھانوی کے افکار میں بیک وقت مثالی اور مکروہ زمنیتوں کے لاینحل تناقض کی موجودگی ہی سنتِ نبوی کے ایک سرپرست اور احیا کے علم بردار کی حیثیت سے ان کے استناد کو تقویت فراہم کرتی ہے۔

اصول نمبر 5: "ایک ناجائز عمل اس بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کہ سماج کے لیے متعدد مصالح اور بہبود کا حامل ہے۔ اگر اس عمل کے ساتھ جڑے مصالح شریعت کی رو سے ضروری نہ ہوں، تو پھر وہ عمل ناجائز رہتا ہے" (50)۔

اس اصول کو وضع کرنے کا بنیادی مقصد میلاد کے حامیوں کے اس استدلال کا جواب دینا تھا کہ اس رسم میں موجود کچھ مفید مصالح  ہیں جیسے غریبوں کو کھانا کھلانا، غیرمسلموں میں اسلام کی تبلیغ اور دینی طبقے کا پھلنا پھولنا، جن کی وجہ سے اسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ مولانا تھانوی نے اس کے جواب میں بتایا کہ میلاد سے پیدا ہونے والے اجتماعی مصالح اس سے جڑے  مضر اثرات کا ازالہ نہیں کرتے۔ مولانا تھانوی کے مطابق اگر میلاد کے ساتھ جڑے مجوزہ مصالح شرعاً ضروری نہیں، یا ان کے حصول کے لیے دیگر ذرائع موجود ہیں، تو پھر یہ مصالح میلاد کے لیے وجۂ جواز نہیں بن سکتے۔ مثلاً ایک شخص یہ استدلال کر سکتا ہے کہ میلاد جیسی رسم سماج کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ مولانا تھانوی کی نظر میں یہ مصلحت میلاد کے جواز کے لیے کافی نہیں۔ اس کے سماجی تخیل میں ایک متحرک سماج کی تشکیل سے زیادہ اہم فوری اور قابل توجہ حکم شریعت کی مستقل حدود کا تحفظ ہے۔

قانون الٰہی کی سالمیت برقرار رکھنا دیگر تمام مصالح پر فوقیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ مولانا تھانوی نے تعلیق کی ہے: "اچھی نیت سے ایک مباح عمل عبادت کا درجہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن ایک مکروہ عمل کبھی مباح نہیں بن سکتا، اگر چہ اس میں ہزار مصالح اور مفید مقاصد ہوں" (50)۔ 

وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: "مثلا کوئی ظلم وناانصافی سے مال جمع کرتا ہے، اس نیت سےکہ  وہ اسے غریبوں میں بانٹے گا۔ اس صورت میں ظلم وناانصافی جائز نہیں قرار پائے گی، اگر چہ اس بظاہر نیک عمل سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ ملنے کی امید ہو" (50)۔

مولانا تھانوی احکامِ الہی کے ایک وکیل کی حیثیت سے

یہ پانچ اصول وضع کرنے کے بعد مولانا تھانوی نے ان اصولوں کی روشنی میں میلاد کا جائزہ لیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پہلے اس بات کی تعیین ضروری ہے کہ لوگ میلاد میں شرکت کو فرض سمجھتے ہیں یا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس بات کا یقین حاصل کرنا چاہیے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر رائج میلاد مختلف فاسد رسوم کی وجہ سے بگڑ گیا ہے یا نہیں۔ مولانا تھانوی ان دونوں سوالوں کا جواب قطعی طور پر اثبات میں دیتے ہیں۔جیسا وہ لکھتے ہیں:

جس بات کا یقین ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ کیا ہمارے زمانے میں یہ مباح اعمال فساد کا سبب بن رہے ہیں؟ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ان اعمال میں فساد ہے، تو پھر انھیں ناجائز ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر یہ جائز رہیں گے۔ اور یہ یقین تجربے اور مشاہدے کی رو سے بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔میلاد کے بارے میں اپنے سالہا سال کے تجربے کی روشنی میں بلا جھجھک یہ کہہ سکتا ہوں کہ عوام کے اندر تقریباً ہر فرد اس رسم کو شرعی فریضہ سمجھتا ہے، اور ان تقریبات میں اس طرح شرکت کرتا ہے کہ گویا یہ شریعت کے فرائض یا مرتبے میں اس سے بھی برتر ہیں (51)۔

مولانا تھانوی نے میلاد کو علی الاطلاق یعنی اپنے جوہر کے اعتبار سے اور بالذات ناجائز قرار نہیں دیا۔  وہ اس بات پر قائم رہے کہ اصلاً میلاد جائز ہے۔ تاہم انھوں نے اس کے جواز کے لیے نہایت کڑی شرائط مقرر کیں۔ ان کے مطابق اگر اس محفل کے شرکا اپنے قول وفعل سے یہ ظاہر کریں کہ وہ میلاد کو ایک غیر واجب رسم سمجھتے ہیں، تو پھر یہ جائز رہے گا۔ وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ مولانا تھانوی تجویز کرتے ہیں کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ محفل میلاد سے جڑی قیود میں کچھ تنوع پیدا کریں- ایسی قیود جن پر شدت کے ساتھ کاربند ہونے کی وجہ سے وہ شریعت کی طرح بن گئی ہیں۔ 

میں چاہتا ہوں کہ تھانوی کے اپنے الفاظ میں وہ طریق کار واضح کروں، جس کے ذریعے وہ میلاد کو ایک غیر واجب رسم بنانے کا طریقہ بتاتے ہیں:

اگر مٹھائیوں کی تقسیم محفل میلاد کا ایک مستقل جزو ہے، تب متعدد مواقع پر شرکا کو اس عمل میں تبدیلیاں کرنی چاہیے، مثلاً‌ انھیں چاہیے کہ وہ فقرا کو تنہائی میں نقدی یا کپڑے یا گندم دیں۔ اور بعض اوقات انھیں اس موقع پر صدقہ خیرات دینے مکمل گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح جب محفل میلاد میں رسول اللہ ﷺ کے ذاتی فضائل وخصوصیات کا بیان ہو، اور کوئی وفورِ جذبات کی وجہ سے اٹھ کھڑا ہو، تو اس قیام کے لیے کسی وقت کی تخصیص بالکل معقول نہیں۔ جب کسی شخص پر وجد طاری ہو جائے تو وہ کھڑا ہو جائے، چاہے یہ ابتدا میں ہو یا درمیان یا محفل میلاد کے آخر میں۔ اس کے ساتھ بعض اوقات اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بیٹھے رہنا چاہیے۔ مزید برآں صرف محفل میلاد کے مقام پر جذبات سے مغلوب ہو کر قیام نہیں کرنا چاہیے۔ میلاد کے علاوہ ایسے دیگر مواقع پر بھی اس وجد اور قیام پر عمل کرنا چاہیے، جہاں نبی اکرم ﷺ کے فضائل وخصائص بیان ہوتے ہوں (52)۔

یہاں پر مولانا تھانوی کی بحث میں ایک نکتے کے حوالے سے دلچسپ تبدیلی سامنے آتی ہے جس کی طرف میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ سادگی پر تمام زور کے باوجود ان کے مسلکی تصور میں پھر بھی جذبات کی کچھ گنجائش ہے۔ وہ جذبات کے بالکلیہ استیصال کے قائل نہیں،بلکہ ان کے درست استعمال اور تصرف کو اخلاقی اعتبار سے راست باز اور ثابت قدم بندے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ مولانا تھانوی یہ بتانے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ایسے کسی بندے کو تلاشنا تقریبا ناممکن ہے جو ان تمام شرائط پر پورا اترتا ہو، یعنی وہ شخص جو میلاد کو سرانجام دیتے وقت اسے ایک فرض عمل کے ساتھ گڈمڈ نہ کرے۔ وہ طنزیہ انداز میں بتاتے ہیں: "ایسا شخص عنقا سے بھی زیادہ نایاب ہے" (51)۔

مولانا تھانوی کے تعبیری منہاج کا دار ومدار ایک ایسے تصور پر جسے اخلاقیات کے اضافی اسلوب (relativistic mode of ethics) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مولانا تھانوی کے مطابق کسی عمل کی شرعی حیثیت ان خارجی عوارض سے طے پاتی ہے جن کے تحت وہ سرانجام پاتا ہے۔ یہ تعبیری اسلوب بھی ان کے اپنے دینی استناد کو تقویت فراہم کرتا ہے۔ کسی عمل کے ذاتی اور جوہری حسن وقبح سے صرف نظر کرکے بحث کا رخ ان احوال وظروف کی طرف موڑ دینے سے جن کے تحت یہ عمل انجام پاتا ہے، تھانوی نے  ایک عالم کی حیثیت سے اپنی قانون سازی کے اختیار کو تقویت دی۔ یعنی آخر الامر وہ ہی ہیں جو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ خارجی عوارض مثبت ہیں یا منفی، صالح ہیں یا فاسد۔

اپنی کتابJustice Miscarried: Ethics, Aesthetics and the Lawمیں قانونی مفکرین کوستاس دوزیناس (Costas Douzinas) اور رونی وارنگٹن (Ronnie Warrington) بتاتے ہیں کہ انسانوں کی قانون سازی کے اختیارات میں تدریجی توسیع جدیدیت میں قانونی پیش رفت کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جدیدیت کے زیر اثر "جدید شعور اور آزاد ارادہ قانون ساز بن گئے ہیں: ماتحت بذات خود قوانین کا جائزہ لیتے ہیں، اور انھیں رد کر سکتے ہیں، اور ان کو دوسرے قوانین سے بدل سکتے ہیں، اگر وہ ان معیارات پر پورا نہ اترتے ہوں، جو حالات اور عقائد کے مطابق تغیر پذیر ہوتے ہیں"8۔  بعینہ طریقۂ مولد شریف میں مولانا تھانوی نے مخصوص قانونی معیارات وضع کیے ہیں، جو دینی فرائض کو استدلال کے ایک انتہائی منظم طریقے سے بنیاد فراہم کرتے ہیں، اور جس کے وضع کرنے میں انسانی عقل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جو اعمال صراحتاً جائز نہ ہوں نہ ہی قطعاً حرام ہوں، ان کی شرعی حیثیت کے تعین کو خارجی عوارض پر منحصر کرنے سے مولانا تھانوی نے خود کو مجتہد کے درجے پر فائز کر دیا۔ الٰہی منشا اور اختیار کے ترجمان کی حیثیت سے مولانا تھانوی نے خود کو ایک سادہ حقیقت کو معنی عطا کرنے والے کی حیثیت دی۔

دیوبند کو 'باطنی اصلاح' کی تحریک سمجھنے کی غلطی

خلاصہ یہ کہ آخری دو ابواب میں میں نے دکھایا کہ بدعت سے متعلق شاہ محمد اسماعیل اورمولانا اشرف علی تھانوی کے مباحث کو تقویت پہنچانے کے لیے شریعت کے تصور میں مرکزی نکتہ شریعت کی متعین کردہ علمیاتی حدود اور روزمرہ کی عادات واطور کی سمت متعین کرنے والے وجودیاتی نمونوں کے درمیان ہم آہنگی کے حصول کی خواہش تھی۔ ان علما کی نظر میں کوئی عمل اس وقت بدعت بنتا ہے جب یہ شریعت کی عطا کردہ 'حلال'، 'مباح'، 'واجب'، 'مکروہ' یا 'حرام' حیثیت سے تجاوز کر جاتا ہے، وہ حیثیت جو کسی عمل کو شریعت کی مخصوص تعبیر وتشریح کے نتیجے میں دی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شریعت کی مستقل اقدار علم کا ایک جامع منہج ہیں، اور چاہیے کہ انفرادی عادات اور اعمال کو ان کے مطابق ڈھلیں اور ان سے ہم آہنگ ہوں۔ جب شریعت کے علم اور اکتسابی عادات کے درمیان یہ ہم آہنگی ٹوٹ جاتی ہے، تو بدعات رونما ہوتی ہیں۔ علمیاتی انتشار وجودیاتی اور سماجی پراگندگی کا سبب بنتا ہے۔ یہاں یہ ملاحظہ کرنا مفید ہوگا کہ علم وعمل کی یہ الجھن بوردیو کے نظریۂ عادت (habitus) میں مرکزی نکتے کی حیثیت رکھتی ہے، جیسا کہ مائیکل دی سرتیو (Michel De Certeau) نے واضح کیا ہے۔

دی سرتیو بتاتا ہے کہ بوردیو کے ماڈل میں کسی سماج کی عادات کو اس کے معروضی عقائد سے جوڑے رکھنے کے لیے کلیدی متغیر (variable) اکتسابی علم ہے۔ دی سرتیو کے مطابق بوردیو کا نظریہ "اعمال کا عقائد سے ان کی اصل کے ذریعے ہم آہنگی کی وضاحت کی کوشش کرتا ہے۔ 'اصل' سے مراد عقائد کو (اکتساب کے ذریعے) باطن کا حصہ بنانا اور اعمال کے حاصلات (جس کو بوردیو 'عادات' کہتا ہے) کو خارج کا حصہ بنانا ہے۔ اس طرح ایک زمانی پہلو سامنے آتا ہے: اعمال (جو تجربے کا اظہار ہیں) حالات (جو عقائد کا مظہر ہیں)سے  صرف اس صورت میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہو سکتے ہیں، اگر عقائد باطن/خارج کا حصہ بننے کے عمل کے دوران مستحکم (stable) رہیں9۔

عقائد اور اعمال کے درمیان تعلق کی تقریباً یہی صورت مسلمانوں کے ان اصلاحی مباحث میں دیکھی جا سکتی ہے، جن کا مقصد شرعی احکام کی ایک بالادست ساخت کی حیثیت سے شریعت کی اولیت کا تحفظ ہے۔ شریعت کی طے کردہ علمیاتی حدود اور معیارات کی بقا اور استحکام کو صرف ان اکتسابی میلانات کو خارجی صورت عطا کرنے کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے جو عوامی سطح پر ان حدود اور معیارات کی تنفیذ اور تصدیق کرتے ہیں، لیکن یہ حدود اور معیارات کبھی ایک طے شدہ امر نہیں رہے۔ 'شرعی میلانات' کے حوالے سے کس کا موقف سماج کی عادت (habitus) کا رخ متعین کرے، اس پر اختیار حاصل کرنےکی  کش مکش ہمیشہ سے ایک جاری رہنے والا عمل ہے، جس پر نہ ختم ہونے والے اختلافات رہے ہیںَ۔ بالفاظ دیگر ایک معیاری عقیدے پر اختلاف اس عقیدے کی عدم موجودگی پر دلالت کرتا ہے؛ کیونکہ ایسے عقیدے کی موجودگی میں متبادل ترجیحات ناقابلِ تصور اور شعور کے خانے سے محو ہو جاتے ہیں۔ میری رائے میں حریف عقائد پر یہ کش مکش  بدعت کے مفہوم اور دائرۂ کار پر بین المسالک اختلافات کے رزمیوں میں کار فرما بنیادی بیانی پلاٹ (narrative plot) کا کام دیتا ہے۔

ان آخری دو ابواب میں جو تجزیہ کیا گیا ہے اس سے باربرا مٹکاف (Barbara Metcalf) کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ بانیانِ دیوبند نے دینی اصلاح کا ایک ایسا پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کا بنیادی زور نجی دائرے میں شخصی پاکیزگی پر تھا۔ دیوبند مدرسے کے ابتدائی دور سے متعلق اپنی شان دار کتاب میں مٹکاف نے یہ موقف اپنایا کہ دیوبندی نظریے کی بنیادی خصوصیت 'داخلی تبدیلی' ہے، یعنی ایک مسلمان کی حیثیت سے فرد کی اصلاح پر از سرِ نو زور دینا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں علماے دیوبند نے "ریاست اور سماج کی تشکیل کے مسائل سے اک گونہ پہلو تہی کرکے انفرادی مسلمانوں کی اخلاقی تربیت کی طرف اپنا رخ موڑ دیا"10۔

دیوبند سے متعلق اپنی بلند پایہ تحقیق میں محمد قاسم زمان نے مٹکاف کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ "بیسویں صدی میں علماے دیوبند کی سرگرمیوں کی عوامی اور سیاسی پہلو کی وضاحت نہیں کر سکتا"11۔  قاسم زمان کا نکتہ تسلیم ہے، لیکن یہاں پر میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ باربرا مٹکاف کے موقف میں اس سے بھی زیادہ ایک بنیادی مشکل ہے اور وہ یہ مفروضہ ہے کہ عوامی یا نجی دائرہ  زندگی کے الگ میدانوں کی حیثیت سے بنے بنائے طور پر ایک دوسرے سے ممتاز ہیں۔ مٹکاف کا فکری دائرۂ کار ایسے کرداروں کے سر داخلی/خارجی اور اجتماعی/انفرادی جیسے لبرل سیکولر تقابلات منڈتی ہے جنھوں نے نہ تو اپنی زندگیاں ان تقابلات کی حدود کے تحت گزاریں، اور اپنے اصلاحی تصورات ان کی روشنی میں ترتیب دیے۔

جیسا کہ میں نے اس حصے میں بار بار بتایا ہے کہ بدعت کے حوالے سے دیوبندیوں کے مباحث بیک وقت فقہ، کلام اور روزمرہ کے اعمال کے سنگم پر واقع ہیں۔ ایک مسلمان کی اخروی نجات کا امکان ایک ایسے عوامی دائرے کی نگرانی پر منحصر ہے جو یک سر اور مطلق خدائی حاکمیت (توحید) کے عقیدے کا اعتراف کرے۔ کسی مسلمان کے انفرادی تزکیے کے لیے ایک ایسے سماج کی تعمیر کی ضرورت ہے، جو روزمرہ زندگی میں قانونِ الہی کی حدود کو عملی شکل دینے کے لیے ہمہ تن یک سو ہو۔ دیوبند کی اصلاحی تحریک کی بنیادی خصوصیت اسلام کو باطن کا حصہ بنانا یا 'سماج کی تنظیم سے رخ پیرنا نہیں' جیسا کہ مٹکاف نے موقف اپنایا ہے۔ اس کے برعکس دیوبند کے پیش رو سماج کو اس انداز میں بدلنا چاہتے تھے، جس سے ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی تخیل میں خدائی حاکمیت کی اولیت بحال ہو۔ فرد کی اصلاح کے ہدف کو سماج کی تنظیمِ نو کے مقصد سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا تھانوی جب شمالی ہندوستان میں رائج شادی بیاہ کے رسوم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تو اس سے ان کے علمی تراث میں ایک قابل ذکر اور واضح انداز میں فرد، سماج اور عقائد کا ربط معلوم ہوتا ہے۔ روزمرہ کے عوامی رسموں کی ایک جامع تنقید کے طور پر اپنی مقبول عام تصنیف 'اصلاح الرسوم' میں مولانا تھانوی نے ان رسموں کا ایک تفصیلی شجرہ بیان کیا ہے12۔ وہ شادی بیاہ سے متعلقہ رسموں کی مقررہ ترتیب اور سماجیاتی پہلؤوں کو موسوعی اور تصویری تفصیلات کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اور ان سینکڑوں مراحل کو ترتیب وار بیان کرتے ہیں، جو صرف شادی میں پیش آتے ہیں۔ ان رسموں کی جزئی تفصیلات سے مولانا تھانوی کی واقفیت سے ایک آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شادی بیاہ کی رسموں کی تحقیق ان کا اگر مستقل پیشہ نہ بھی تھا، لیکن ایک پسندیدہ مشغلہ ضرور تھا۔ تاہم جہاں مولانا تھانوی ان رسموں کا شجرہ بیان کرنے میں باریک بین ہیں، وہیں وہ بمشکل اپنے پیروکاروں سے ہم دردی کا کوئی اظہار کرتے ہیں۔ بلکہ وہ تو شادی بیاہ جیسی تقریبات کو علی الترتیب 'قیامتِ صغری' اور 'قیامتِ کبری' جیسے اخروی نام دیتے ہیں۔ شادی میں سر انجام دیے جانے والے 'خوف ناک رسموں' کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مولانا تھانوی نے پرزور لیکن دلچسپ اناز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کیا ہے، جو یہاں پر میرا بنیادی نکتہ ہے۔ وہ طنز بھرے لہجے میں شکایت کرتے ہیں: "پہلے پہل ایک قبیلے کے مرد اکٹھے ہو جاتے اور ایک مقامی نائی کو شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے دلہن کے گھر والوں کے نام خط پہنچانے کے لیے دیتے۔ اب لوگوں میں یہ رسم اس قدر پختہ ہو گئی ہے کہ اگر شدید بارش ہو، سڑکیں سیلاب کی وجہ سے بند ہوں، اور نائی کے مستقل ڈوب جانے کا بھی خطرہ ہو، تو بھی وہ اس رسم سے باز نہیں آتے۔ آپ بتائیں کہ یہ ایک ایسی چیز کو خود پر لازم کرنا نہیں ہے، جسے خدا نے لازم نہیں کیا ؛ یہ سنت کے مخالف ایک نئے عمل کی بنیاد رکھنا نہیں، جو شریعت کو چیلنج کرتا ہے؟"13

مولانا تھانوی کےاگلے فقرے میرے لیے سب سے زیادہ دل چسپ ہیں: "یہ لوگ کس قدر احمق ہیں۔ وہ ایک شخص کو پیغام پہنچانے کے لیے ایک روپیہ اور چار آنے دیتے ہیں، حالانکہ یہی کام وہ پچاس پیسوں میں ایک لفافہ اور ڈاک ٹکٹ خرید کر کر سکتے ہیں۔ وہ یہ خط  سیدھا ڈاک سے کیوں نہیں بھیجتے؟ اور اگر وہ خواہ مخواہ خط کو ایک واسطے کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں، تو پھر انھیں اس کے لیے مقامی نائی کے بجاے سماج کا کوئی زیادہ معزز فرد کیوں نہیں ملتا"14۔ یہ احساسات عمدگی سے کلام، قانون اور دین دار عوام کے درمیان ربط کی تصویر  کشی کرتے ہیں۔شادی بیاہ کی رسمیں شریعت کی حاکمیت کے لیے خطرہ ہونے سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔  یہ اس نظام اور مراتب ودرجات میں بھی خلل ڈالتا ہے، جو دین دار عوام کی تشکیل اور تحفظ کا کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اخراجات اور وقت دونوں کی بچت کرنے والے ڈاک کے نظام کی افادیت پسندانہ حمایت سے مولانا تھانوی کے اصلاحی پروجیکٹ اور استعمار کے استدلالی اور ادارتی نظام کی فراہم کردہ ساز وسامان کے درمیان حیرت انگیز تعامل کا بھی پتا چلتا ہے۔ تاہم مولانا تھانوی کے افادیت پسندانہ اقدام کا وزن اس حد تک نہ بڑھایا جائے کہ اسے ان کے علمی مزاج کے لیے ایک تشکیلی عنصر کے طور پر مانا جائے۔ ان کے افادیت پسندانہ اقدام کو عوام کی روزمرہ زندگی اور اخروی نجات کے حوالے سے ان کی جذباتی اصلاحی فکر سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ عوام کی دین داری سے جذباتی محبت اور عوام کی دینی وابستگی کو قائم رکھنے کی افادیت پسندانہ عقلیت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں15۔ جذباتیت اور عقلیت دونوں باہم یک جا اور ناقابل علیحدگی تھے۔

اس مختصر بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض ہے کہ علماے دیوبند کی دینی فکر کی تصور سازی کرتے وقت داخلی/خارجی، شخصی پاکیزگی/عوامی مذہب، فرد/سماج یا عقلی/جذباتی جیسی تقسیمات بنانا درست نہیں ہے۔ یہ تقسیمات روایت اور اس کی حدود کے تصورات کی حد بندی کرنا چاہتی ہیں، تاہم انھیں ان بنے بنائے خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ اگلے باب میں بالخصوص بدعت کے مسئلے پر دیوبندی مسلک کی ایک کاٹ دار تنقید کا جائزہ لیتے ہوئے میں روایت اور اصلاح کی ایک ایسے متقابل تفہیم سے بحث کروں گا، جس کی وکالت دیوبند کے بنیادی حریف مولانا احمد رضا خان بریلوی  نے کی۔ فاضل بریلوی نے سنتِ رسول کے معتمد نگہبانوں کی حیثیت سے دیوبند کے پیش رؤوں کی ثقاہت کو غیر مستند ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مزید برآں انھوں نے ان کی اصلاحی تحریک کو بدعت قرار دیا، جو روایت کے سابقہ اور موجودہ مستند نمائندوں کی آرا کے برعکس ہے اور اس طرح انھوں نے ان کے تسلسل میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی۔ اگلا باب پوری وضاحت سے اس پر بحث کرتا ہے کہ فاضل بریلوی نے کس طرح اپنے دیوبندی مخالفین کو بدعتی قرار دیا، جو ہندوستان میں اسلام کے لیے ایک نیا خطرہ تھے۔


حواشی

  1. دیکھیے: ماریون کاٹز، The Birth of Prophet Muhammad: Devotional Piety in Sunni Islam (لندن: روٹلیج، 2007)۔
  2. جلال الدین السیوطی، حسن المقصد في عمل المولد، الحاوي للفتاوى کے اندر (بیروت: دار الکتب العلمیۃ، 1975) 1: 192۔
  3. تقی الدین ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقيم في مخالفة أصحاب الجحيم (قاہرہ: المکتبۃ التوفیقیۃ، 2000)، 2 : 123۔
  4. ایضاً
  5. میلاد کے جواز پر ماقبل جدید مسلم اہل علم کے فقہی مباحث کے لیے دیکھیے: راکوئل یوکیلیس، Innovation or Deviation: Exploring the Boundaries of Islamic Devotional Law (پی ایچ ڈی مقالہ، ہاورڈ یونیورسٹی، 2006)، 200 – 239۔
  6. اشرف علی تھانوی، طریقۂ مولد شریف (لاہور: ادارۂ اسلامیات، 1976)۔ آنے والے حوالہ جات اسی اشاعت سے ہیں، اور متن میں بین القوسین دیے گئے ہیں۔ یہ رسالہ اصلاً 1899 میں بدعت کے موضوع پر مولانا تھانوی کی مفصل کتاب 'اصلاح الرسوم' کے ایک باب کے طور پر چھپی۔  میلاد سے متعلق یہ حصہ بعد میں طریقۂ مولد شریف کے نام سے علاحدہ چھپا۔ میں نے بعد والی اشاعت سے اصلی متن کا تقابل کیا ہے، اور مجھے اس میں کوئی تغیر وتبدیلی نہیں دکھائی دی۔
  7. 'عیش پرستی' سے میری مراد چراغاں کرنا، حد سے زیادہ تزئین وآرائش کرنا، مرد وزن کے اختلاط کی اجازت دینا، خوش شکل لڑکوں کو گانے کی اجازت دینا جیسے اعمال ہیں، جس کی وجہ سے سماج ایسی بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے، جو اپنی بُنت میں ایک سادہ شخصیت کے فروغ اور بعد میں ایک ایسے سماج کی تربیت سے، جو روزمرہ کے اعمال میں سادگی کی مثالی صورت اپنائے، کے ضد میں ہے۔
  8.  کوستاس دوزیناس اور رونی وارنگٹن، Justice Miscarried: Ethic, Aesthetics and the Law (نیو یارک: ہارویسٹر ویٹشیف، 1999)، 83۔
  9. مایکل دی سرتیو، The Practice of Everyday Litfe (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 1984)، 50۔
  10. باربرہ مٹکاف، Islamic Revival in British India: Deoband, 1860-1900 (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1982)، 351۔
  11. محمد قاسم زمان، The ‘Ulama in Contemporary Islam: Custodians of Change (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2002)، 13۔
  12. اشرف علی تھانوی، اصلاح الرسوم (لاہور: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، 1958)، 10 – 40۔
  13. ایضاً، 48۔
  14. ایضاً۔
  15. مولانا تھانوی کی فکر میں جذباتی اور افادیت پسندانہ دونوں پہلؤوں کے یک جا اظہار کے بارے میں غور وفکر کے لیے میں نے کافی حد تک علی میاں اور مارگریٹ پرناو (Margrit Pernau) کی بات چیت سے استفادہ کیا ہے، جیسا کہ میں نے مولانا تھانوی کی فکر اور خدمات کے مختلف پہلؤوں پر ان کی ذاتی کاوشوں سے استفادہ کیا ہے۔

(جاری)

فکرِ استشراق اور عالمِ اسلام میں اس کا اثر و نفوذ

ڈاکٹر سید متین احمد شاہ

مغربی دنیا اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے احوال کے نئے مطالعات کے دور سے گزر ر ہی ہے۔ مغرب کی یہ فکری تحریک، جسے عرفِ عام میں استشراق (Orientalism) سے تعبیر کیا جاتا ہے، اپنا تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی سے پندرھویں صدی عیسوی تک کا پہلا مرحلہ وہ ہے جس میں اسلام اور مغرب کا تعلق سیاسی اور حربی نوعیت کا ہے۔یہ عہد اسلام کے غلبے کا عہد ہے جس میں اسلام نے دنیا میں اپنی تہذیب کے جھنڈے گاڑے اور اسلامی علوم وافکار نے اس دور میں زندگیوں پر گہرے اثرات چھوڑے۔

دوسرا مرحلہ یورپ کی نشاتِ ثانیہ کا ہے جس میں تاریخ اپنا نیا سفر شروع کرتی ہے۔اس دور کے ظہور میں اساسی کردار میراثِ مشرق کا مغربی زبانوں میں ترجمے کا ہے جس کا اثر مغربی مفکرین نے قبول کیا۔ اسی دور میں مشرقی ادب ،کے بعض فن پارے مغربی زبانوں میں ڈھلے جیسے ’’ألف ليلة وليلة‘‘ جس کا فرانسیسی ترجمہ سترھویں صدی کے آخر میں ہوا اور پھر اسے دیگر زبانوں میں منتقل کیا گیا۔اسی دور میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ مغرب میں کیا گیا اور اسلام اور اس کی تاریخ کے بارے میں اہلِ یورپ کی کتابیں اور قرآنِ کریم کے تراجم سامنے آنے لگے، یورپی اہلِ تحقیق نے علومِ شرقیہ کے مخطوطات کی کھوج لگائی اور انھیں منصۂ شہود پر لانا شروع کیا۔استشراقی مطالعات کی سلبیات سے قطعِ نظر اس بات کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں کہ آج بہت سے بنیادی علمی مصادر، جن کو پانے کی حسرت علامہ شبلی نعمانی جیسے محققین کی تحریروں میں ملتی ہے، کے ظہور میں ہم اس استشراقی تحریک کے انگریز، فرنچ، جرمن اور اٹلی کے اہلِ علم کے سپاس گزار ہیں جن کی محنت سے یہ مصادر ہم تک پہنچ سکے۔انیسویں صدی کے نصفِ ثانی میں ان استشراقی تحقیقات کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنسوں کا آغاز ہوا اور ان حضرات کے مشرقی اہلِ علم سے بھی روابط استوار ہوئے۔ اس طرح کی کانفرنسوں میں ہمیں عرب دنیا کے معروف شاعر استاد شوقی اپنا کلام اور عبداللہ باشا فکری اپنی تحقیقات پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

استشراق کا تیسرا مرحلہ وہ ہے جس میں اہلِ مغرب کے مطالعات کی تگ وتاز اسلام کے کلاسیکی مصادر ، قرآن اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے مطالعے تک محدود نہیں رہتی ، بلکہ اس میں اسلامی دنیا میں احیا وتجدید کے رجحانات، اس کی شخصیات اور اصلاحی و تجدیدی تحریکوں اور ان کے سیاسی، عمرانی ، مذہبی اور دیگر اثرات کے مطالعے کی طرف توجہ زیادہ مبذول ہوئی ہے۔ اس دور میں اسلام کئی پہلوؤں سے مغرب کی یونی ورسٹیوں میں زیرِ مطالعہ بننے کا رجحان پروان چڑھا ہے۔ اس مرحلے میں واضح طور پر ’دینی‘ اور ’لادینی‘ کی تقسیم کے پیکار کے تحت مذاہب کے مطالعے کا رجحان بیدار ہوا ہے اور ان کے درمیان مشترکات کی تلاش کی سعی شروع ہوئی ہے، تہذیبوں کے تصادم کے نظریات وضع کیے گئے ہیں اور تاریخ کے خاتمے کے تصورات پیش کیے گئے ہیں۔ نائن الیون کے روایت شکن اور روایت ساز واقعے کی صراحی سے قطرے قطرہ نئے حوادث ٹپکے ہیں اور دینی تعبیرات ونظریات کی تسبیح کے نئے دانے شمار ہوئے ہیں۔

تحریک استشراق کے نتیجے میں علومِ شرقیہ کے مطالعے کا ایک چوتھا مرحلہ بھی شمار کیا جا سکتا ہے جس کے اثرات مسلم دنیا میں اس وقت نفوذ کر رہے ہیں اور وہ ہے Continental Philosophy کے تناظر میں خصوصاً نصوصِ شرعی کا مطالعہ؛ Continental Philosophy کی روایت کا آغاز مغربی فلسفے میں کانٹ(Kant) کے افکار سے ہوتا ہے (اگرچہ ہر علم وفن کی طرح اس کے جذور قدیم یونان میں بھی ملتے ہیں۔)۔ اس رجحانِ فکر نے مندرجہ ذیل فلسفیانہ رجحانات کو جنم دیا:

علومِ دینیہ اور نصوصِ سماوی کے مطالعات کے مستقل رجحانات مغربی دنیا میں اس Continental Philosophy کے وجود پذیر ہونے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ اس میں اوپر ذکر کردہ رجحانات میں سے خاص طور پر آخری تین رجحانات کا سماوی نصوص کے فہم پر اثر اب نہ صرف مستقل تحریک کی شکل میں ڈھل چکے ہیں، بلکہ ان کا تنقیدی مطالعہ بھی علومِ اسلامیہ کے حامل اہلِ علم کے ذمے ایک فرضِ کفایہ بھی ہے جس کی طرف کوئی خاص توجہ ہمارے دینی حلقوں میں نظر نہیں آتی۔ دینی مدارس میں تو اس حوالے سے بیداری پیدا ہونے میں شاید وقت لگے گا، لیکن یونی ورسٹیوں میں علومِ اسلامیہ کے شعبہ جات میں بھی ان رجحانات کے سنجیدہ مطالعے اور پھر علومِ اسلامیہ سے ان کے تعلق اور ان کے تنقیدی مطالعے پر کوئی مطالعاتی مواد شاملِ درس ہوتا نظر نہیں آتا۔اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ استشراقی مطالعات کے تاریخی ارتقا کے اس رجحان میں شاید پہلی بار مغرب کی مضبوط ترین عقلی روایت نے حصہ ڈالا ہے۔اس سے پہلے مطالعاتِ علومِ دینی کے مناہج بالعموم مسلم روایت کے استوار کردہ مناہج کے زیادہ قریب تھے، لیکن تحلیلی فلسفے کے بعد مغرب میں پروان چڑھنے والےContinental Philosophy کے رجحان نے مطالعات کی اس نئی روش کو خالص عقلی اور فلسفیانہ پس منظر بخش دیا ہے اور ، جب کہ ہمارے یہاں علومِ اسلامیہ کا حامل اسکالر کی ان علوم میں کوئی خاص مضبوط بنیاد نہیں ہوتی۔

اس اعتبار سے یہ وقت کا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کی طرف متوجہ ہونا ناگزیر ضروریات میں سے ہے۔ عرب دنیا اور ایران کے علمی حلقوں میں اس حوالے سے بیداری نسبتاً خوش آئند ہے جن کی تحقیقات وتصانیف سے اس سلسلے میں مدد لی جا سکتی ہے، لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ علومِ اسلامیہ کے طلبہ میں تدریس کے لیے فلسفہ(کانٹی نینٹل)، جدید لسانیات، خصوصاً Semantics اور Literary Theory کے ماہرین کے علم سے استفادہ کیا جائے۔اس کے ساتھ مسلم روایت کے علوم میں سے اصولِ فقہ، اصولِ تفسیر اور علمِ بلاغت کے ساتھ اعتنا ناگزیر ہوگا، تاکہ مسلم اور مغربی روایتوں کے ہرمینیاتی آلات کے مابہ الاشتراک اور مابہ الافتراق وجوہ کی بصیرت حاصل کی جا سکے۔

ہمارے ہاں اس طرف سب سے پہلے ایک بڑی شخصیت نے توجہ ضروری کی ہے، لیکن اس کا پس منظر دینیات کا نہیں، بلکہ ادب کا ہے۔ وہ شخصیت اردو ادب کے قدآور نقاد جناب حسن عسکری ہیں۔ الجزائر کے ایک معروف مصنف ومفکر محمد ارکون ہیں جن کی اکثر کتابیں فرانسیسی میں ہیں، تاہم عربی میں ان کا بڑا حصہ ترجمہ ہو چکا ہے۔ انھیں مسلم فکری مطالعات میں Deconstructionist شمار کیا جا سکتا ہے۔ محمد حسن عسکری نے انھیں 25 نومبر 1958ء میں خط لکھا کہ وہ جس طرزِ مطالعہ کو دینیات کے باب میں فروغ دینا چاہتے ہیں، وہ خطرناک ہے۔ اس حوالے سے جناب ڈاکٹر عزیز ابن الحسن ، ناصر بغدادی کے حوالے سے لکھتے ہیں:’’چونکہ ساختیات بنیادی طور پر سیکولر تاویلات اور تصورات سے مشتق ہے، لہذا قرآنِ مجید اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے وہ اس نظریے کے مضرب رساں مضمرات سے کماحقہ واقف تھے۔ اس مضمون میں انھوں نے محمد ارکون جیسے اسلام کے مردِ آگاہ اور صاحبِ علم کو ان امکانی نقصانات سے باخبر کیا ہے جو قرآنِ مجید کی قراءت کو لسانیاتی، ساختیاتی، ثقافتی، بشریات اور دیگر علوم کے حوالے سے کی جانے (والی تعبیر) سے پہنچنے کا احتمال ہے۔ ‘‘(2)

یہ بات ذرا طوالت اختیار کی گئی، لیکن اس سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ استشراق کے جدید ترین رجحانات کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے اور اس پر بھی علمی مواد کی تیاری کی ضرورت ہے۔

اس تحریکِ استشراق اور عالمِ اسلام میں اس کے اثرات کے بھرپور مطالعے کی ناگزیر علمی ضرورت کو ڈاکٹر محمد شہباز منج کی زیرِ تبصرہ کتاب ’’فکرِ استشراق اور عالمِ اسلام میں اس کا اثرونفوذ‘‘ نے خوب صورتی کے ساتھ پورا کیا ہے۔کتاب کے جملہ مندرجات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ بالا مراحل میں زیادہ تر پہلے دو مراحل کے مطالعے اور ان کے اثرات سے متعلق ہے۔ کتاب کے مرکزی عناوین حسبِ ذیل ہیں:

ان میں سے ہر ایک عنوان ذیلی طور پر کئی عناوین میں منقسم ہے۔

مصنف نے تاریخِ استشراق پر گفت گو کرتے ہوئے اسے عمومی طور پر پیغمبرِ اسلام ﷺ سے دشمنی کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والے رحجان کے طور پر پیش کیا ہے اور تاریخ کے مختلف ادوار میں اس سے نکلنے والے نتائج اور اثرات کو نمایاں کیا ہے؛ چناں چہ عہدِ رسالت ، قرونِ وسطیٰ اور عہدِ جدید ، تینوں ادوار میں اس دشمنی کے مختلف مظاہر کوعلمی انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ اس تحریک کے اغراض واہداف میں سے دینی، سیاسی، معاشی اور علمی اہداف کو واضح کیا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف استشراق، استعمار اور تنصیر وتبشیر کو ایک ہی تصویر کے مختلف رخ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ کتاب میں زیادہ تر استشراق کے مسلم معاشروں میں مختلف میدانوں پر مرتب ہونے والے سلبی اثرات کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے، تاہم مصنف کو’’مشرق سے ہو بے زار ، نہ مغرب سے حذر کر‘‘ کے مصداق اس بات کا اعتراف ہے کہ ’’کسی دوسرے کے علم وتہذیب کا اثرہر حال میں برا نہیں ہوتا، اس کی مذمت وتردید اور اس سے بچاؤ کی تدابیر پر زور تغلیباً ہوتا ہے، ورنہ اس میں کچھ خیر کے پہلو بھی ہوتے ہیں، اور ان پہلوؤں کا تعلق مذہب اور کلام سے بھی ہو سکتا ہے اور دنیا ومادیت سے بھی۔عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے عقائد وایمانیات اور تصورِ زندگی کے بنیادی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ان پہلوؤں کو نہ صرف نظر انداز نہ کرے، بلکہ جہاں مفید پائے، کام میں لانے سے ہرگز نہ چوکے۔‘‘(3) چناں چہ وہ مسلمانوں کو ’’خُذْ مَا صَفَا وَ دَعْ مَا كَدَر‘‘ کا رویہ اپنے کی تلقین کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اس رجحان پر نقد کرتے ہیں، جو تہذیبِ مغرب کو ایک ایسا پیکج قرار دیتے ہیں جس میں اخذ وترک(Pick and Choose) ممکن نہیں۔وہ لکھتے ہیں:”راسخ العقیدہ اسلامیت کے اس حلقے سے راقم کو ہمیشہ شکایت رہی ہے جو" خذ ما صفا ودع ما كدر" کے رویے کو غیر اسلامی قرار دینے پر اپنی صلاحیتیں صرف کرتا اور ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ مغربی فکروتہذیب ایک پیکج ہے ؛ آپ اس کے معاملے میں اخذ وترک (Pick and Chose) کا رویہ نہیں اپنا سکتے۔ آپ یا سب کچھ قبول کر دیں یا ہر چیز رد کر دیں۔ “(4)

تاہم استشراقی تحریک کے ایجابی فوائد پر یہ گفت گو نہایت تشنہ رہ گئی ہے(جو محض چند صفحات پر مشتمل ہے۔) اور کتاب سے اس کے بارے میں تاثر بالعموم سلبی نوعیت ہی کا سامنے آتا ہے۔ یہاں اگر ان پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا جاتا کہ مستشرقین نے اپنی ان علمی سرگرمیوں میں خود مسلم تراث کی کئی کتابوں کو پہلی بار منظرِ عام پر لایا، مخطوطات کی اشاعت کی، تراجم میں حصہ لیا تو مناسب ہوتا۔(5)

یہاں اس بات کو پیشِ نظررکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مختلف علوم وفنون میں اپنے نشو وارتقا کے مراحل سے گزرنے کے بعد تقسیم در تقسیم اور اس کے نتیجے میں مستقل بالذات Science بنے کا عمل جاری رہتا ہے، تحریکِ استشراق کو بھی اس کلیے سے شاید استثنا دینا ممکن نہ ہو؛ چناں چہ یہ درست ہے کہ استشراق، استعمار اور تنصیر میں ایک گونہ توافق اور اہداف میں یکسانی رہی ہے، لیکن استشراق اب ایک خالص علمی تحریک کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔اسے اپنے دیگر مقاصد سے کلیتاً جدا کرنا اگر ممکن نہ بھی ہو، تب بھی اس طرح کے ’اہداف‘ کے بارے میں اس بات کی تنقیح کی ضرورت ہے کہ آیا وہ دانستہ حاصل کیے جاتے ہیں یا خود بخود ایک عمل کے نتیجے میں منطقی اور علمی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔

استشراقی کام نے جن دینی مباحث کو جنم دیا، مصنف نے ان میں سے وحی الہی، معجزات وخوارق، قرآن اور اس کی حیثیت ، حدیث اور اس کا مقام، سیرتِ طیبہ، معاد، جہاد، تعدد ازواج، اسلامی قانون وعقوبات وغیرہ کے حوالے سے ان فکر کے پیدا کردہ مباحث اور ان کے نتائج پر گفت گو کی ہے۔ ان امور کے حوالے سے مستشرقین کے دعواے غیر جانب داری پر نقد کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں:’’مستشرقین کے ہاں اسلام کے حوالے سے تعصب اور عدمِ معروضیت کا رویہ پایا جاتا ہے۔ چناں چہ وہ اپنے اسلامی مطالعات میں موضوعی اندازِ فکر ونظر کے حامل رہے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص کے لیے اسلام کی غیر حقیقی اور مسخ شدہ تصویر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ اسلام کو لوگوں کے سامنے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ ان کو کوئی غیر معمولی اور خاص وقعت کی چیز محسوس نہ ہو، بلکہ اس کے برعکس انسانی ترقی وتمدن کی راہ میں مزاحم دکھائی دے۔‘‘(6)

مذکورہ بالا موضوعات پر استشراقی فکر پر گفت گو کرتے ہوئے اس فکر کے سلبی امور ہی سامنے آتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم سماج پر ان بحثوں کا اثر زیادہ تر منفی ہی رہا ہے اور تشکیک واضطراب کا باعث بنا ہے۔

عالمِ اسلام پر اس کے اثرات پر بحث کرتے ہوئے دو طبقوں پر گفت گو کی گئی ہے: اہلِ اقتدار اور اہلِ علم۔اہلِ اقتدار میں سے ترکی کے ضیاء گوک الپ ، مصطفیٰ کمال اور بعض دیگر افراد پر گفت گو کی گئی ہے۔ اہلِ علم میں سے چودہ افراد کی فکر زیرِ بحث لائی گئی ہے۔ ان میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن، ڈاکٹر طٰہٰ حسین، محمد عبدُہُ، رشید رضا، قاسم امین، علی عبدالرزاق، طنطاوی جوہری، سرسید، مولوی چراغ علی، ممتاز علی ، سید امیر علی، محمد علی لاہوری، غلام احمد پرویز اور مرزا غلام احمد قادیانی شامل ہیں۔ ان اہلِ علم کے افکار کو ان کی بنیادی کتابوں سے اخذ کر کے بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے ان کے تجدد پسندانہ افکار واضح ہوتے ہیں۔

کتاب کے منہج کے بارے میں مصنف کہتے ہیں:" اس کتاب کے مطالعے میں یہ بات پیشِ نگاہ رہنی چاہیے کہ یہاں مستشرقین کے افکار ونظریات کا تجزیہ یا اسلامی عقائد وتصورات سے متعلق ان کے اعتراضات کے جوابات دینے کی کوشش نہیں کی گئی، نہ ہی مختلف حوالوں سے ان سے متاثر و مرعوب مسلم اہلِ فکروقلم کے افکار و نظریات کا تفصیلی نقد وتجزیہ پیش کیا گیا ہے۔اس کے لیے الگ بحث و تحقیق کا منصوبہ پیشِ نظر ہے۔ "(7)

مصنف نے کتاب میں اسی منہج کو پیشِ نظر رکھا ہے اور اپنی طرف سے نقد و تبصرہ سے گریز کیا ہے، تاہم بعض مقامات پر ان کی اپنی راے بھی شامل ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ص 163 پر حاشیہ نمبر 178 میں وہ ڈارون کے نظریۂ ارتقا کے محرکات پر نقد کرتے ہیں۔ (8) اسی طرح ص 263 ، حاشیہ 182 میں سید امیر علی کی فکر پر نقد کرتے ہوئے کچھ تفصیل سے کلام کیا ہے۔ (9)

بعض مقامات پر مصنف دوسرے اہلِ علم کا نقدو تبصرہ بھی باحوالہ نقل کرتے ہیں، مثال کے طور پر ایک جگہ مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ اور ڈاکٹر محمد البہی کے تبصرے اور نقد کو شامل کتاب کیا ہے۔(10)

ایک مستقل عنوان ”استشراق، تجدد اور راسخ العقیدگی: چند تاثرات و معروضات“ کے الفاظ کے ساتھ ہے جس میں مصنف اپنا نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔

کتاب کے صفحہ 286 پر مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار پر گفت گو کی گئی ہے۔ مرزا صاحب باتفاقِ اہل سنت اسلام سے خارج ہیں، اس لیے انھیں عالمِ اسلام کے دیگر اہلِ تجدد کے ساتھ شمار کرنا کچھ محل نظر معلوم ہوتا ہے۔ یہی حال محمد علی لاہوری کا ہے جو مرزا کو مجدد مانتے ہیں۔کتاب کے ص 272 پر محمد علی لاہوری کے افکار پر بحث کی گئی ہے۔ محمد علی لاہوری قادیانیوں کے لاہوری گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اہلِ سنت بالعموم تکفیر کے قائل ہیں۔(11)

مصنف جہاں عالمِ اسلام میں تجدد کے پھیلنے پر گفت گو کرتے ہیں، وہاں اس کے اسباب میں راسخ العقیدہ مسلمانوں کے طرزِ عمل کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں:

” اگر راسخ العقیدہ اسلامیت ان سائنسی و سماجی وغیرہ جدید امور کو بھی خواہ مخواہ اسلام کے لیے خطرہ نہ سجھ لیا کرے، جن کا اسلام سے اس حوالے سے کوئی تعلق نہیں تو سچ یہ ہے کہ تجدد کامیاب تو کیا ہو، پیدا ہی نہ ہو۔ تجدد کے پیدا ہونے کی وجہ اسلامی راسخ العقیدگی میں جدیدیت کی نفی ہے۔راقم الحروف اس تناظر میں دوستوں سے عرض کیا کرتا ہے کہ مستشرقین اور ان کے افکار کا تو ہے ہی، تجدد کے وجود میں مولویوں کے تشدد کا حصہ بھی کچھ کم نہیں۔ اسلام بلاشبہ ایک متحجر دین نہیں ہے۔وہ ان چیزوں کو جو اس کے بنیادی تصورات و نظریات سے نہیں ٹکراتیں، کھلے دل سے قبول کرلیتا ہے۔ لہٰذا چھوٹی چھوٹی چیزوں کو خواہ مخواہ خطرہ بنا کر راسخ العقیدہ تجدد کو راہ دیتے ہیں۔ “(12)

اسی طرح اہلِ تجدد کی ہر بات کو رد کرنے کے بجائے مصنف اس بات کے قائل ہیں کہ عقائد کے سوا بعض دیگر میادین میں ان کی آرا سے استفادہ کرنے میں حرج نہیں۔ ان کی ہر بات کو رد کرنے کے پیچھے پڑ جانا صحیح رویہ نہیں ہے۔یہی تبصرہ ان کا مغربی تہذیب کے حوالے سے بھی ہے۔(13)

زیرِ تبصرہ کتاب اردو میں اپنے موضوع پر بہت عمدہ اضافہ ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی نظر اپنے موضوع پر بہت وسیع ہے۔ معلومات کو بہت سلیقے سے اخذ کر کے ایک منطقی ترتیب میں پرویا گیا ہے۔

کتاب میں مصادر ومراجع کی فہرست کے ساتھ ایک جامع اشاریہ بھی دیا گیا ہے جس سے کتاب سے استفادہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔

حواشی

  1. Simon Critchley, Continental Philosophy: A Very Short Introduction (Oxford: Oxford University Press, 2001), 13.
  2. عزیز ابن الحسن، ’’ساختیاتی مباحث اور حسن عسکری‘‘ مشمولہ سہ ماہی جی(لاہور)، جولائی – اکتوبر 2012ء، ص 111، بحوالہ، ناصر بغدادی، ’’ساختیات اور عسکری صاحب‘‘،مشمولہ بادبان، شمارہ 1 ص 125، 126۔
  3. محمد شہباز منج، فکرِ استشراق اور عالمِ اسلام میں اس کا اثرونفوذ(لاہور: القمر پبلی کیشنز، 2016ء)، 310۔
  4. منج، نفسِ مصدر، 310، 311۔
  5. استشراق پر لکھنے والے مسلم مصنفین میں ایک معروف مصنف محمد خلیفہ حسن ہیں۔ ان کی عربی زبان میں ایک کتاب ، زیرِ تبصرہ کتاب کے موضوع سے ملتی جلتی ہے: آثار الفكر الاستشراقي في المجتمعات الإسلامية (مسلم معاشروں میں استشراقی فکر کے اثرات)۔ اس کتاب میں انھوں نے جہاں تحریکِ استشراق کے مسلم معاشروں پر سیاسی، معاشی ، دینی، علمی اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے، وہیں تحریکِ استشراق کے ایجابی پہلوؤں پر بھی مستقل فصل قائم کی ہے۔اس سے موضوع کا دوسرا رخ بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔(دیکھیے: محمد خلیفہ حسن، آثار الفكر الاستشراقي في المجتمعات الإسلامية(ہرم:عين للدراسات والبحوث الإنسانية و الاجتماعية، 1997ء )، 129 تحت عنوان:الفصل السابع-الآثار الفكرية الإيجابية للاستشراق۔
  6. منج، مصدرِ سابق، 105۔
  7. منج، مصدرِ سابق، 28۔
  8. منج، مصدرِ سابق، 163، 164۔
  9. منج، مصدرِ سابق، 263۔
  10. دیکھیے: منج، مصدرِ سابق، 167 و مابعد۔
  11. لاہوری گروپ کی تکفیر کے حوالے سے دیکھیے: مولانا سرفراز خان صفدر، مودودی صاحب کا ایک غلط فتوی اور ان کے چند دیگر باطل نظریات(گوجرانوالہ: مکتبہ صفدریہ، 2004ء)۔
  12. منج، مصدرِ سابق، 305۔
  13. ایضا، 308 و مابعد۔

مولانا محمد یوسف رشیدیؒ اور مولانا قاری جمیل الرحمان اختر ؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا محمد یوسف رشیدی کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر بھی داغِ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں دینی و تعلیمی جدوجہد کے سرگرم راہنما اور میرے انتہائی معتمد ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی گہرے دوست تھے جو یکے بعد دیگرے ہم سے رخصت ہو گئے ہیں۔

مولانا محمد یوسف رشیدی کے والد گرامی امیر التبلیغ حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ کے تبلیغی رفقاء میں سے تھے جو قیامِ پاکستان کے وقت میوات سے ہجرت کر کے تحصیل ڈسکہ کے قصبہ میترانوالی میں آ بسے۔ ان پر تبلیغی جماعت اور حضرت امیر التبلیغؒ کی صحبت کا اثر نمایاں تھا اور انہوں نے ایک مسجد اور مدرسہ کی بنیاد رکھی جو آج مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے پورے علاقہ کی تبلیغی، دینی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ان کے فرزند مولانا محمد یوسف رشیدی نے جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں تعلیم پائی جبکہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا اور جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے ساتھ ان کا عمر بھر قریبی تعلق رہا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے گہرے عقیدت مندوں میں سے تھے، اور اس کے ساتھ حضرت مولانا محمد طارق جمیل دامت برکاتہم اور راقم الحروف کے ساتھ بھی قلبی عقیدت و تعلق رکھتے تھے۔

مولانا محمد یوسف رشیدی نے علاقہ بھر میں مسلکی، تعلیمی، تبلیغی اور تحریکی محاذوں پر سرگرم کردار ادا کیا، مختلف دیہات میں دینی مدارس کا قیام اور قرآن کریم کی تعلیم کا فروغ ان کا سب سے بڑا مشن تھا جس کے لیے وہ آخر عمر میں بھی شدید علالت کے باوجود متحرک رہے۔

مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر کے والد گرامی مفسر قرآن حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ ہمارے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے دورہ حدیث کے ساتھی تھے اور انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے اکٹھے شرفِ تلمذ حاصل کیا تھا۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خاص تربیت یافتہ علماء کرام میں سے تھے۔ انہوں نے باغبانپورہ لاہور میں مسجد امن اور اس کے ساتھ مسجد حنفیہ قادریہ کی بنیاد رکھی جس میں زندگی بھر دینی، علمی اور تحریکی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ایک عرصہ جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے امیر رہے اور حضرت لاہوریؒ کے جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے رفیق کار کے طور پر شیرانوالہ میں سالانہ دورۂ تفسیرِ قرآن کریم پڑھاتے رہے، ان کا ترجمہ و حواشی شائع ہو چکے ہیں۔

مولانا قاری جمیل الرحمٰن اخترؒ ان کے فرزند و جانشین تھے اور ان کے قائم کردہ دینی اداروں کی نگرانی کرتے آ رہے تھے۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں ان کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ باضابطہ تعلق تھا اور دونوں کے ذمہ دار حضرات میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

مجھے جماعتی زندگی اور نصف صدی کے تحریکی ماحول میں جن بزرگوں اور دوستوں کا مسلسل اور بے لچک اعتماد حاصل رہا ہے ان میں مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا قاری سعید الرحمانؒ اور مولانا فداء الرحمان درخواستیؒ کے ساتھ مولانا قاری جمیل الرحمان اخترؒ کا نام بھی سرفہرست تھا۔ انہوں نے ہر موقع پر ساتھ دیا اور مشکل مواقع پر اعتماد اور حوصلہ سے نوازا، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کے خاندان و رفقاء کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔