ستمبر ۲۰۲۲ء

تجارتی اخلاقیات اور ہماری سماجی صورت حالمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
حکم عقلی، غزالی اور علم کلاممولانا مشرف بيگ اشرف 
آزادی کے مقاصد اور ہماری کوتاہیاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
رشدی ایسے کرداروں سے متعلق اہل اسلام کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ڈاکٹر محمد شہباز منج 
دعوت کی شریعتڈاکٹر عرفان شہزاد 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۹)ڈاکٹر شیر علی ترین 
’’مولانا مودودیؒ کا تصور جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘پیرزادہ عاشق حسین 

تجارتی اخلاقیات اور ہماری سماجی صورت حال

محمد عمار خان ناصر

مالکی فقیہ قاضی ابوبکر ابن العربی ؒنے ’’بیع البرنامج“ (یعنی سامان کا معائنہ کیے بغیر صرف فہرست دیکھ کر سامان خرید لینے) کی بحث میں  مالکی فقہاء کا موقف واضح کرتے ہوئے لکھا کہ یہ رفع حرج کے قاعدے کی رو سے جائز ہے، کیونکہ تاجروں کو سامان کھولنے اور پھر دوبارہ باندھنے میں بے حد مشقت ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ مغرب کے آخری کنارے سے ایک تاجر آتا ہے اور مشرق کے آخری کنارے سے آئے ہوئے ایک تاجر سے بازار میں ملتا ہے اور دونوں صرف فہرست دیکھ کر ایک دوسرے سے بندھا ہوا سامان خرید لیتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں الگ ہو جاتے ہیں اور زندگی میں کبھی دوبارہ نہیں ملتے اور ایسی کوئی شکایت نہیں ملتی کہ ان تاجروں نے دھوکا کیا ہو۔ ابن العربی لکھتے ہیں ’’وھی امانة عظیمة وعادة کریمة“، یہ انتہائی عظیم امانت داری اور بہت ہی اعلیٰ عادت ہے۔ (عارضۃ الاحوذی)

یہ کسی دور میں مسلمانوں کی تجارتی  اخلاقیات ہوا کرتی تھی۔  موجودہ صورت حال کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک خبر کے مطابق   ایمازون کمپنی نے  گذشتہ ایک سال کے دوران میں آن لائن تجارت  کے لیے کھولے گئے تیرہ ہزار اکاونٹ بد دیانتی اور  فراڈ کی شکایات  کی بنیاد پر بند کر دیے ہیں ۔ یہ تجارت اور کاروبار میں ہماری اخلاقیات کی عمومی صورت حال ہے جس کا اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ ہم مذہبی ہیں یا غیر مذہبی، کسی ایک سیاسی جماعت  سے وابستہ ہیں یا دوسری سے، اور پڑھے لکھے ہیں یا گنوار۔ بنیادی انسانی اخلاقیات ہماری ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔


قرآن اور حدیث میں عام معاشرتی اخلاقیات کی تلقین عموما ’’مسلمانوں “ کے باہمی حقوق کے حوالے سے کی گئی ہے۔ اس سے یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید غیر مسلموں کے ساتھ ایسا اخلاقی برتاو مطلوب نہیں ۔ امام طحاوی لکھتے ہیں کہ ایک حدیث کے الفاظ ’’لا یسوم احدکم علی سوم اخیہ“ (تم میں سے کسی کا بھائی کسی چیز کا سودا کر رہا ہو تو دوسرے کو درمیان میں اپنی سودے بازی شروع نہیں کرنی چاہیے) سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ اس کی ممانعت مسلمانوں کے حوالے سے ہی کی گئی ہے۔ امام طحاوی اس کی غلطی واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس اسلوب میں ذکر تو (تغلیباً‌) مسلمانوں کا ہوتا ہے، لیکن اخلاقی لحاظ سے اس اصول کی پابندی سب کے لیے مطلوب ہوتی ہے۔ جیسے مثلاً‌ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی آمد ورفت کا راستہ ہے، لیکن وہی راستہ غیر مسلموں کے لیے بھی ہوتا ہے۔ (مختصر اختلاف العلماء ج ۴ ص ۶۱)

اصل یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں دینی واخلاقی تعلیمات کے مخاطب اصلاً‌ مسلمان ہوتے ہیں، اس لیے ایسی اخلاقی ہدایات میں اسلام اور ایمان کے رشتے کا ذکر ذمہ داری کے احساس کو بیدار کرنے اور حاسہ اخلاقی کو اپیل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلق میں اخلاقیات کی پابندی اور اعلی انسانی اوصاف کا اظہار مطلوب یا ضروری نہیں۔ اخوت اور بھائی چارے کا رشتہ مسلمانوں اور اہل ایمان کے درمیان بھی ہے جو ایمان کے تعلق سے خاص امتیازی اہمیت رکھتا ہے، لیکن عمومی انسانی اخوت میں تمام بنی آدم شریک ہیں اور اس میں مذہب اور عقیدے کے اختلاف سے فرق پیدا نہیں ہوتا۔

قرآن مجید تمام انبیاء کا ذکر انھیں ان کی کافر اور منکر قوموں کا ’’بھائی “ قرار دے کر کرتا ہے، کیونکہ ان کی ساری دعوتی سرگرمی اور جوش واخلاص کے پیچھے یہی اخوت، ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ کام کر رہا ہوتا تھا۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے تو اپنی خدمات اور صلاحیتیں مصر کے سرتاپا شرک میں ڈوبے ہوئے معاشرے کی مادی بہبود کے لیے وقف کر دیں تاکہ ملک کے وسائل کی اس طرح حفاظت اور بندوبست کیا جائے کہ خلق خدا بھوکی نہ رہے اور قحط سالی میں بھی اسے غلے کی نایابی کی وجہ سے مشکل پیش نہ آئے۔


معاشرے میں بنیادی اخلاقیات کی پابندی کا ماحول عام ہو، اس کے لیے اولین شرط سماجی انصاف اور ہر سطح پر قانون کی پاسداری ہے۔ طاقتور اگر قانون کے تابع نہیں تو معاشرے میں بنیادی اخلاقیات کی پابندی قدر نہیں بن سکتی۔ انسان بنیادی طور پر حیوان ہے اور ایک اخلاقی وجود بننے کے لیے اسے سخت ریاضت اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ حیوانی جبلت کا ظہور اصلاً‌ چھینا جھپٹی میں ہوتا ہے۔ جو معاشرہ اسی جبلی سطح کی عکاسی پیش کرتا ہو، وہاں ایسے ہی انسان پیدا ہوں گے۔ بڑے پیمانے پر اخلاقیات کے پابند انسان ایسے معاشرے میں ہی بن سکتے ہیں جس میں self-esteem  کا احساس اخلاقیات کی پابندی سے وابستہ ہوجائے اور انسان جھوٹ، دھوکہ اور فراڈ کو خود اپنے لیے باعث توہین سمجھنے لگے۔ یہ ملاپ زیادہ تر انسانوں کے لیے ایک خاص ماحول میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ ماحول سے قطع نظر کرتے ہوئے، افراد سے انفرادی سطح پر یہ توقع کرنا کہ وہ خود سے اچھے انسان بن جائیں، بہت محدود سطح پر ہی درست ہے، سماج کی عمومی تربیت اس اصول پر نہیں ہو سکتی۔ پس اچھے انسان بنانے کی اولین شرط مقتدر طبقوں کا خود کو چھینا جھپٹی کی جبلت سے بلند کرنا ہے۔

شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’منصب امامت“ میں مغلیہ دور کے  اشرافیہ  کے طرز زندگی  پر تنقید کرتے ہوئے  لکھا ہے کہ حکمران طبقوں کی جانب سے آرام وآسائش اور خواہشات کی تسکین کو اہمیت دینے کے رجحان نے مملکت کی اخلاقی حالت کا شیرازہ بکھیر دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں ظلم واستحصال کے اضافے میں شدت آئی ہے۔ شاہ اسماعیلؒ فرماتے ہیں  کہ ایسا اس لیے ہے کہ اسراف کے لیے مسلسل دولت کے حصول کی ضرورت ہے اور دولت جمع کرنے کی نہ ختم ہونے والی ضرورت نے ناانصافی کے متعدد دروازے کھول دیے ہیں، جیسے غریبوں کا استحصال کرنا اور تاجروں اور صنعت کاروں کے مفادات کو بالکل خاطر میں نہ لانا۔ مزید برآں چونکہ سیاسی اشرافیہ کھیل کود اور آرام وآسائش میں مگن ہے، اس لیے سلطنت کا امن وامان اور انصاف کا نظام ناکارہ ہو گیا ہے۔ حکمران کے لحاظ اور نگرانی سے بے پروا رعایا ایک دوسرے کے ساتھ ظلم اور ناانصافی پر اتر آئے ہیں۔ اس طرح سے حکمرانوں کے اسراف وعیاشی نے پوری امت کی اخلاقی عمارت کو متزلزل کر دیا ہے۔

اسی طرح یہ تصور کہ ظاہراً‌ مذہبی ہونے کا عملی اخلاقیات کے ساتھ کوئی تعلق ہے، روزمرہ کے تجربے سے بالکل غلط ثابت ہو چکا ہے اور سیدنا عمر جیسے مذہبی عبقری باقاعدہ اپنے عمال کو یہ سمجھاتے تھے کہ کسی آدمی کے نماز روزے سے دھوکے میں نہ پڑیں اور جب تک اس کو معاملات میں نہ آزما لیں، اس پر اندھا اعتبار نہ کریں۔   حسن بصریؒ نے ایک روایت میں مرسلاً‌ نقل کیا ہے کہ

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَغُرَّنَّ صَلاةُ امْرِئٍ وَلا صِيَامُهُ، مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ صَلَّى، وَلَكِنْ لا دِينَ لِمَنْ لا أَمَانَةَ لَهُ ". (جامع معمر بن راشد، رقم ۸۰۰)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی آدمی کی نماز یا روزہ (اس کو یا لوگوں کو) دھوکے میں نہ ڈالے۔ جو چاہے روزے رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے، لیکن جو امانت دار نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔“

سچ پوچھیں تو ہمارا جو ظاہری دین داری اور فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی مذہب کا تصور ہے، اس سے یہ خوش گمانی پیدا نہیں ہوتی کہ مذہبی آدمی بنیادی اخلاقیات کا اچھا نمونہ ہوگا۔ اس کے بالکل برعکس، یہ امکان زیادہ ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کی دین داری اور تعصب اسے بداخلاقی کا نفسیاتی جواز مہیا کریں گے۔

انسانی رویوں میں اتنے واضح فرق کی اہمیت اور انسانی نفسیات پر اس کے اثرات کو جھٹلانے کے لیے یہ ’’اعتقادی “ قضیہ قطعاً‌ ناکافی ہے کہ عمل جتنا بھی اچھا ہو، ایمان کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایک خاص سیاق میں اور کئی قیود کے ساتھ یہ بات علم الکلام میں درست ہو سکتی ہے، لیکن انسانی سطح پر اخلاقی رویوں کے تقابل کی بحث میں یہ مقدمہ پیش کر کے ہم خدا کے تصور کو بھی مجروح کر رہے ہیں اور ایمان کو بھی مزید مشکل بنا رہے ہیں، اور اس کا نفسیاتی محرک صرف یہ ہے کہ ہم اپنی اجتماعی بدعملی پر خود کو شرمندگی سے بچا سکیں۔ ہمیں ڈرنا چاہیے کہ جس نام کے ’’ایمان “ پر ہم خود کو ’’خیر امت“ باور کیے بیٹھے ہیں، اس کی اس ناقدری پر خدا نے یہ نعمت بھی دنیا کی طاقت ور اور انسانی اخلاقیات کے لحاظ سے ہم سے بہتر قوموں کو دے دینے کا فیصلہ کر لیا تو ہماری جگہ دنیا اور آخرت میں کہاں ہوگی؟

وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(353) وَلَمْ أَکُنْ کا ترجمہ

وَلَمْ أَکُنْ بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔ (مریم: 4)

”لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا“۔ (فتح محمد جالندھری)

درج بالا آیت میں لَمْ أَکُنْ کو عام طور سے ماضی کے معنی میں لیا گیا ہے۔ یعنی اس سے پہلے میں کبھی دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ اس کا حال کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے اور وہ زیادہ مناسب ہے۔ یعنی مجھے یقین ہے کہ میری دعا رد نہیں کی جائے گی۔ لم أکن جس طرح ماضی کے لیے آتا ہے اسی طرح حال کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے:

قَالَ لَمْ أَکُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ۔ (الحجر: 33)

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

”اور اے میرے رب! میں تجھے پکار کے نامراد نہیں ہوسکتا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اسلوب کا ایک اور جملہ اسی سورت میں آیا ہے، اس سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ اور وہ ہے:

وَأَدْعُو رَبِّی عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا۔ (مریم: 48)

غرض یہ کہ وَلَمْ أَکُنْ بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیًّا اور عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا دونوں کا مفہوم ایک ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہاں شقیا کا ترجمہ زیادہ تر محروم کیا گیا ہے۔ حالانکہ شقی، سعید کی ضد ہے۔ یعنی بدبخت۔ ابن عاشور کے بقول: والشقی: الذی أصابته الشقوۃ، وهی ضد السعادۃ۔ (التحریر والتنویر)

یہاں یہ لفظ دعا کی قبولیت کے ضمن میں آیا ہے اس لیے نامراد کی تعبیر زیادہ موزوں ہے۔

(354) ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ کا ترجمہ

(۱) ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہُ زَکَرِیَّا۔ (مریم: 2)

”یہ تیرے رب کے اس فضل کی یاد دہانی ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”ذکر ہے اس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی“۔ (سید مودودی)

”یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی“۔ (احمد رضا خان)

”یہ ذکر اس مہربانی کا ہے جو تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج بالا ترجموں میں رَحْمَتِ رَبِّکَ کا ترجمہ اس فضل، اس رحمت یا اس مہربانی کیا گیا ہے۔ رحمت یہاں مصدر ہے، اس لیے ’اس‘ کا استعمال موزوں نہیں ہے۔ یہاں کسی خاص رحمت کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ تیرے رب کے رحم کرنے کا بیان ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہاں ذکر کا ترجمہ یاد دہانی نہیں بلکہ ذکر اور بیان ہے، جیسا کہ اسی سورت میں آگے بار بار وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ کہا گیا ہے۔ درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”یہ مذکور ہے تیرے رب کی مہر کا اپنے بندے زکریا پر“۔ (شاہ عبدالقادر)

جس طرح مذکورہ بالا آیت میں ’اس رحمت‘ کی بجائے ’رحم کرنا‘ درست ہے، اسی طرح درج ذیل آیت میں ’ایک رحمت‘ کی بجائے ’رحمت‘ درست ترجمہ ہے۔ دونوں جگہ ’رحمت‘ مصدر ہے، یعنی اللہ کا رحم فرمانا۔ رحمت کا کوئی ایک متعین مظہر مراد نہیں ہے۔

(۲) وَلِنَجْعَلَہُ آیةً لِلنَّاسِ وَرَحْمةً مِنَّا۔ (مریم: 21)

”اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت“۔ (احمد رضا خان)

”ہم تو اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اور اس کو ہم کیا چاہیں لوگوں کے لیے نشانی اور مہر ہماری طرف سے“ (شاہ عبدالقادر)

(355) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ کا ترجمہ

سورہ مریم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ’اذْکُر‘ کا لفظ ’فی الکتاب‘ کے ساتھ آیا ہے اور بار بار آیا ہے۔ فی الکتاب کے ساتھ آنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا ترجمہ یاد کرو نہیں کیا جائے بلکہ ذکر کرو، پڑھو، تلاوت کرو وغیرہ کیا جائے۔ کتاب میں لکھی ہوئی چیز کو تو پڑھا اور بیان کیا جاتا ہے، وہ یاد کرنے کا محل نہیں ہے۔

درج ذیل آیتوں میں بعض مترجمین نے ’یاد کرو‘ اور بعض نے ’ذکر کرو‘ ترجمہ کیا ہے، موخر الذکر زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مفسر ابن عاشور لکھتے ہیں: والمراد بالذکر: التلاوۃ، أی اتل خبر مریم الذی نقصه علیک. (التحریر والتنویر، تفسیر سورۃ مریم)

(۱) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ۔ (مریم: 16)

”اور اس کتاب میں مریم کی سرگزشت کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کتاب میں مریم کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو“۔ (سید مودودی)

(۲) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ إِبْرَاہِیمَ۔ (مریم: 41)

”اور کتاب میں ابراہیم کی سرگزشت کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو“۔ (سید مودودی)

(۳) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مُوسَی۔ (مریم: 51)

”اور اس کتاب میں موسی کی سرگزشت کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا“۔ (سید مودودی)

(۴) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ إِسْمَاعِیلَ۔ (مریم: 54)

”اور کتاب میں اسماعیل کی سرگزشت یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو“۔ (سید مودودی)

”اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو“۔(فتح محمد جالندھری)

(۵) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ إِدْرِیسَ۔ (مریم: 56)

”اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو“۔ (سید مودودی)

”اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

(356)  مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا کا ترجمہ

وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا۔ (مریم: 8)

”اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں“۔ (سید مودودی)

”اور میں خود بڑھاپے کی بے بسی کو پہنچ چکا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور میں بوڑھا ہوگیا یہاں تک کہ اکڑ گیا“۔ (شاہ عبدالقادر)

سوکھ جانا یا بے بسی کو پہنچنا وہ باتیں ہیں جن کا ذکر آیت کے الفاظ میں نہیں ہے۔ آیت کے الفاظ بہت زیادہ بوڑھا ہونے کا معنی دے رہے ہیں۔ زیادہ بڑھاپے میں سوکھ جانا یا بے بس ہوجانا ضروری نہیں ہے۔ عتیا کا مطلب اکڑ جانا بھی نہیں ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ہے:

”اور میں کھوسٹ بوڑھا ہوچکا ہوں“۔

(357) حنان کا مطلب

وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَکَاۃً۔ (مریم: 13)

حنان کا اصل معنی شوق و اشتیاق ہے، پھر یہ درد مندی و غم خواری کے لیے استعمال ہوا۔ یعنی دوسروں کے تئیں ہم دردی کے جذبات۔ وحنّ: فی معنی ارتاح واشتاق، ثم استعمل فی العطف والرأفة. (تفسیر الکشاف)

نرم دلی اور سوز و گداز اس کا موزوں اردو متبادل نہیں ہیں، جیسا کہ ذیل کے دونوں ترجموں میں ہے۔

”اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی“۔ (سید مودودی)

”اور خاص اپنے پاس سے سوز و گداز اور پاکیزگی“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

(358) البَرّ کا ترجمہ

برّ کا مطلب حقوق کو پورا پورا ادا کرنا ہوتا ہے۔ وعدے کو وفا کرنا بھی ہوتا ہے۔قرآن مجید میں یہ وفاداری کے معنی میں آیا ہے۔ درج ذیل مقامات پر بَرّ کا ترجمہ فرماں بردار کیا گیا ہے، اس کی بجائے وفادار زیادہ مناسب ہے۔

(۱) وَبَرًّا بِوَالِدَیْهِ۔ (مریم: 14)

”اور وہ اپنے والدین کا فرماں بردار تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور وہ اپنے والدین کا وفادار تھا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَبَرًّا بِوَالِدَتِی۔ (مریم: 32)

”اور مجھے ماں کا فرماں بردار بنایا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور مجھے ماں کا وفادار بنایا ہے“۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) یاد رہے کہ قرآن مجید میں البَرّ اللہ کی صفت کے طور پر بھی آیا ہے۔ وہاں بھی وعدہ پورا کرنے والا مراد ہے۔

إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیمُ۔ (الطور: 28)

”بے شک وہ بڑا ہی با وفا اور مہربان ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)


حکم عقلی، غزالی اور علم کلام

مولانا مشرف بيگ اشرف

اشعری علم کلام کا مشہور متن "ام البراہین" کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:

اعلم أن الحكم العقلي ينحصر في ثلاثة أقسام: الوجوب والاستحالة والجواز. فالواجب ما لايتصور في العقل عدمه، والمستحيل مالايتصور في العقل وجوده، والجائز ما يتصور في العقل وجوده وعدمه.1

ترجمہ: "جان لو کہ حکم عقلی تین ہی طرح کا ہے: وجوب، عدم امکان اور جواز۔ پس واجب وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے معدوم فرض کرنا ناممکن ہو، ناممکن وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے موجود ماننا ممتنع ہو اور جائز وہ ہے کہ عقل اس کے وجود وعدم دونوں کا تصور کر سکتی ہو۔"

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب علم الکلام ایک شرعی علم ہے اور اس میں ان عقائد سے بحث کی جاتی ہے جو شرعی مصادر(کتاب، سنت واجماع) سے ثابت شدہ ہوں، تو کلام کی کتابوں میں گفتگو کا آغاز "حکم عقلی" سے کیوں کیا جاتا ہے؟اور اس سے پہلے  یہ جاننا ضروری ہے کہ "حکم عقلی"   ہے کیا؟ اس تحریر میں ہم حکم عقلی جاننے کی کوشش کرتے  ہوئے اس کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ  جب حکم عقلی سے گفتگو کی جائے، تو منہج استدلال کیا ہوتا ہے۔اور اس کے لیے بنیاد امام غزالی  کو بنائیں گے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ اشارہ ضروری ہے کہ علم کلام مسلمانوں کا وہ علم ہے جسے فلسفے سے تشبیہ دی جاتی ہے اور اسی فن میں مسلمان وحی واسلامی احکام پر مختلف ادوار میں اٹھائے گئے سوالات  کا جواب  دیتے اور اعتراضات کی تردید کرتے آئے ہیں۔نیز امام غزالی رحمہ اللہ تعالی نے تہافت میں ابن سینا وفارابی کی آرا پر جو تنقید اٹھائی اس میں بھی وہ کلامی منہج برتتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں علم کلام کی طرف توجہ ہوئی ہے۔ کوئی اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کی طرف آیا اور کوئی اسے ضرر رساں سمجھ کر اس کی طرف تنقید کے لیے آیا۔ راقم سطور کا تعلق پہلے گروہ سے ہے جو اس کے احیا کو بہت اہم  اور مسلمانو ں کے کلامی  واصولی بنیادوں کو نظر انداز کر کے جدید  سائنس اورفلسفے کے اٹھائے گئے سوالات واعتراضات کی روشنی میں وحی وشرع کی وضاحت کے در پے ہونے کو  خیر کا پیش خیمہ نہیں سمجھتا۔چناچہ کلامی منہج سے ناواقفیت کی وجہ سے ہمیں کلام اورخاص طور سے غزالی پر ایسی نکتہ چینی سننے کو ملتی ہے جو کلامی منہج کی روشنی میں کوئی معنے نہیں رکھتی۔ مثلا یہ کہ غزالی نے فلاسفہ سے گفتگو کرتے ہوئے معجزے  کی دلیل وحی  کو قرار دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا ۔یہ معجزے کے امکان کا  بس ایمان کی بنیاد پر دعوی ہے کوئی عقلی دلیل نہیں۔ اور یہ کہتے ہوئے "امکان" اور "وقوع" میں فرق اوجھل رہتا ہے۔ نیز بعض لوگ یہ  سمجھتے ہیں کہ جب امام غزالی نے سبب ومسبب کے درمیان "رشتہ ضرورت" کا انکار کیا، تو گویا انہوں نےاس کے "وقوع  "پر بھی قلم نسخ پھیر دیا۔اسی طرح، متکلم جب خدا کو ثابت  کرتا ہے، تو پہلے ہی سے خدا  پر ایمان لا چکا ہوتا ہے اور اس طرح یہ سرگرمی کوئی عقلی سرگرمی نہیں رہتی اور ایسے کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ دلیل کے منطقی وعقلی بنیادیوں پر درست ہونے کے لیے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ  مستدل(دلیل دینے  والا) کا ایما ن کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ استدلال میں مقدمات کیا ہیں اور کیا ان  مقدمات سے نتیجہ  کی سوت پھوٹی ہے یا نہیں ؟اس لیے، کلامی منہج کو سمجھنا ضروری ہے اور اس تحریر میں  ہم گفتگو "حکم عقلی" سے کریں گے۔

حکم عقلی:

عربی زبان میں حکم  "فیصلے" کو کہتے ہیں جسے منطق وغیرہ میں قضیہ (Proposition )کہا جاتاہے۔ چناچہ سورة الحج کےاخیر میں قرآن مشرکین کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے:

ﵟوَإِن جَٰدَلُوكَ فَقُلِ ٱللَّهُ أَعلَمُ بِمَا تَعمَلُونَ ۔ ٱللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ ٱلقِيَٰمَةِ فِيمَا كُنتُم فِيهِ تَختَلِفُونَ (آیت ۶۸، ۶۹)

ترجمہ: " اگر یہ آپ سے کٹ حجتی کرتے رہیں، تو آپ (بس) یہ کہہ دیجیے کہ تم جو (کٹ حجتی اور باطل اعتراضات)کرتے ہواس سے اللہ تعالی خوب واقف ہے،(اور معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کر دیجیے ، اے نبی جی کہ)اللہ تعالی بروز قیامت تمہارے بیچ اس حوالے سے فیصلہ فرما دے گا جس میں  تمہارے درمیان اختلاف رہا۔"

اور فیصلے کا تانا بانا دو اطراف سے بنتا ہے کہ ایک چیز کو دوسرے چیز کے لیے ثابت کیا جاتا ہےیا اس کی نفی کی جاتی ہے۔ چناچہ جب یہ فیصلہ کیا جائے کہ: "فلاں بندہ قاتل ہے"، تو فلاں بندہ کے لیے قتل کے عمل کو ثابت مان لیا گیا یا اگر یہ کہا جائے کہ : " اس وقت مینہ نہیں برس رہا "، تو یہاں   حال میں بارش کے برسنے کی نفی کی گئی۔

جس چیز یا شخص پر حکم لگایا جائے یا اس کی نفی کی جائے، اسے موضوع ، محکوم علیہ  وغیرہ کے نام سے یا د کیا جاتا ہے ۔ اس مثال میں "فلاں بندہ" موضوع یا محکوم علیہ ہے جبکہ جس امر کو ثابت کیا جائے یا اس کی نفی کی جائے، اسے محمول یا محکوم بہ کہتے ہیں۔ اس مثال میں "قتل" محکوم بہ ہے۔

اگر کسے فیصلے کا ماخذ شریعت ہو، تو اسے حکم شرعی کہتے ہیں۔ جیسے یہ کہنا کہ: "نماز فرض ہے"۔ یہاں نماز پر فرضیت کا حکم لگایا گیا ہے اور "نماز" موضوع جبکہ "فرضیت" محمول ہے۔

اس کے برعکس، اگر فیصلے کی بنیاد انسانی عقل ہو، تو وہ "حکم عقلی " کہلاتا ہے اور  اس سیاق میں عقل  سے مقصود کسی چیز کے وجود یا عدم وجود کے حوالے سے گفتگو ہے۔ اس لیے، عقل کے تین بنیادی احکام ہیں:

۱: وجوب : جب انسانی عقل کے لیے کسی معاملے کا عدم ناقابل تصور ہو، تو وہ واجب اور اس کا حکم وجوب۔

۲: ممتنع: جب انسانی عقل کے لیے کسی معاملے کا وجود ناقابل تصور ہو، تو وہ محال اور اس کا حکم امتناع۔

۳: ممکن: جب انسانی عقل کے لیے  نہ کسی معاملے کا وجود ناقابل تصور ہو، نہ عدم، تو وہ ممکن اور اس کا حکم امکان۔   

پس واجب ومحال میں انسان کسی تصور  کے حوالے سے باقاعدہ دعوی کرتا ہے کہ وجود اس کی ذات کا تقاضا ہے یا وجود کی کرنیں اس پر پھوٹ ہی نہیں سکتیں۔ اس کے برعکس، ممکن میں انسان  اپنی لاعلمی کا اقرا رکرتا ہے کہ کسی تصور کے بالمقابل اس کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر اس کے وجود کو واجب ولازم یا ممتنع وناممکن گردانے۔

اور یہی سے یہ پہلو نکلتا ہے کہ اگر کوئی ممکن کے وجود کا دعوی کرتا ہے، تو اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ :

۱: اس کی علت پائی گئی،

۲: اور اس سےپہلے، اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ علت اس ممکن کی علت بھی ہے۔

لیکن اگر کوئی صرف ممکن ہونے کا دعوی کرتا ہے تو اسے اس کی دلیل نہیں دینی ۔ اسی لیے، ممکن کی اپنی علت کے رشتے سے تین حالتیں  ہیں:

۱: واجب لغیرہ: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ممکن کی علت پائی گئی، تو ممکن کا وجود لازم ہو جاتا ہے۔ اسے "واجب لغیرہ" کہتے ہیں۔ یعنی یہ اگرچہ ممکن ہے لیکن چونکہ علت ومعلول کے اصول کے تحت جب علت پائی جائے، تو معلول ضرور پایا جاتا ہے،اس لیے اس ممکن کا وجود لازم ہوا۔ اور اسی لحاظ سے، اسے "واجب لغیرہ" کہتے ہیں کہ ایک غیر – یعنی علت – کی وجہ سے اس کا وجود ضروری ہو گیا۔

۲: ممتنع الوجود لغیرہ: اوپر یہ بات گزری کہ ممکن الوجود میں وجود ضروری ہے نہ عدم ۔اسی لیے، جب تک ہمیں  علت  کے وجود کا علم نہ ہو،  ممکن کے وقوع کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر ہمیں اس امر کا علم ہو کہ  ممکن کی ایک یا محدود علتیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی نہیں پائی گئی ، تو بلاشبہ ہم اس کے حوالے سے یہی فیصلہ کریں گے کہ وہ موجود نہیں۔ پس جب تک ممکن کی علت کا عدم وجود متحقق ہو، وہ ممتنع لغیرہ ہے۔

۳: ممکن محض: جب کسی ممکن کے وقوع وعدم وقوع سے صرف نظر کر دیا جائے، تو وہ ممکن محض ہے۔

ان پانچ صورتوں  اور ان میں  موجود دعوی یا عدم دعوی کو ذیل کے جدول سے سمجھا جا سکتا ہے:

غزالی کی عبارات:

ہم امام غزالی کے ہاں ان امور کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ امام صاحب پہلے واجب کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

«وأما الواجب الوجود فهو الذي متى فرض معدوما غير موجود لزم منه محال، ثم الواجب وجوده ينقسم إلى ما هو واجب لذاته وإلى ما هو واجب لغيره»2

ترجمہ: "واجب الوجود  وہ ہے کہ اگر اسے معدوم فرض کر لیا جائے، تو کوئی محال لازم آئے۔پھر واجب دو طرح کا ہے: واجب ذاتی وواجب لغیرہ۔"

اس کے بعد، وہ واجب ذاتی کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

أما الواجب لذاته فهوالذي فرض عدمه محال لذاته لا بفرض شيء آخر، صار به محالا فرض عدمه3

ترجمہ: "واجب ذاتی وہ ہے کہ اسے معدوم فرض کرنا  بذات خود ناممکن ہو، کسی دوسرے (خارجی) عنصر کی وجہ سے اسے معدوم فرض کرنا ناممکن نہ ہوا ہو"

اور اخیر میں ممکن پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

«والحاصل أن كل ممكن بذاته فهو واجب بغيره، فالممكن إن اعتبرت علته وقدر وجودها كان واجب الوجود، وإن قدر عدم علته كان ممتنع الوجود، وإن لم يلتفت إلى علته لا باعتبار العدم ولا باعتبار الوجود كان له في ذاته المعنى الثالث، وهو الإمكان، فإذن كل ممكن فهو ممتنع وواجب أي ممتنع عند تقدير عدم العلة، فيكون ممتنعا بغيره لا لذاته أو ممكنا من حيث ذاته إذا لم تعتبر معه علته نفيا وإثباتا»4

ترجمہ: "الغرض   ہر وہ امر جو ممکن کے قبیل سے ہو ، تو واجب لغیرہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس کی علت کو پیش نظر رکھا جائے اور  مان لیا جائے کہ علت پائی گئی، تو وہ واجب الوجود ہے۔ اور اگر یہ تسلیم کر لیاجائے کہ اس کی علت معدوم ہے، تو وہ ممتنع الوجود ہے۔ لیکن اگر اس کی علت کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ یہ دیکھا جائے کہ وہ پائی گئی نہ یہ دیکھا جائے کہ وہ معدوم ہوئی،تو ذاتی لحاظ سے وہ امکا ن سے متصف ہے۔"

حکم عقلی سے وابستہ چند احکام:

اس سے امام غزالی مندرجہ ذیل نتائج حاصل کرتے ہیں:5

۱: ایک امر ایک ہی وقت میں واجب لذاتہ اور واجب لغیرہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے یہ پہلو نمایاں ہوا کہ ایک امر کو "واجب" اور دوسرے کو اس کی علت کی وجہ سے موجود قرار دینا دو الگ نوعیت کے دعوے ہیں کیونکہ واجب وجود کے تصور کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسے کسی علت کی نیاز نہیں بلکہ اس کا وجود ضروری ہے۔

۲: واجب لغیرہ دراصل ممکن  لذاتہ ہے کیونکہ جسے واجب لغیرہ کہا جاتا ہے وہ ایسا امر ہے کہ اسے معدوم یا موجود فرض کرنے سے کوئی ذاتی محال لازم نہیں آتا ۔ البتہ چونکہ اس کی علت یا سبب پائے جاتے ہیں او رعلت وسبب کے پائے جانے سے معلول یا مسبب ضرور بضرور پائے جاتے ہیں، اس لیے اس امر کا وجود واجب ہو جاتا ہے۔

۳: جو بات ابھی واجب لذاتہ اور واجب لغیرہ کے حوالے سے کہی گئی وہی بات ممتنع لذاتہ اور ممتنع لغیرہ کے حوالے سے ہے۔

۴: ممتنع لذاتہ کی مثالیں: ایک ہی چیز کا  ایک ہی وقت میں سیاہ وسفید ہونا، ایک ہی قضیے یا بات کا  ثابت ومنفی ہونا۔

۵: واجب لغیرہ کی مثال: یہ فرض کرنا کہ آج قیامت قائم ہوئی لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور ایسا اس وجہ سے کہ اللہ تعالی کے علم ازلی میں ہے کہ ایسا نہیں ہونا۔ یہ واجب لذاتہ نہیں  بلکہ واجب لغیرہ کی مثال ہے۔ دراصل اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ اس کائنات میں وہ باتیں جو پیش آسکتی تھیں لیکن نہیں وقوع پذیر ہوئیں، اگرچہ اپنی ذات میں ممکن ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالی کے علم ازلی میں ہے کہ انہوں نے نہیں ہونا ، اس لیے وہ ممعتنع لغیرہ ہیں۔اس کی ایک دوسری مثال یہ ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی سےنوازا اور وہ فوت ہو گیا۔اب اس کا تیسرا بیٹا یا بیٹی ہونا اگرچہ بذات خود ممکن ہے، لیکن  وہ اللہ تعالی کے علم ازلی کے  پیش نظرممتنع ہے۔

۶:  ہم نے دیکھا کہ جب ممکن ذاتی کی علت پائی جائے، تو وہ واجب لغیرہ ہو جاتا ہے کیونکہ ممکن کا مطلب ہی یہ ہے کہ وجود اس کی ذات کا تقاضا نہیں بلکہ کسی  دوسرے سے حاصل ہوا۔ اس لحاظ سے، واجب لغیرہ کا تصور اس کی علت  کے تصور پر مقدم ہے۔

غزالی وعلم کلام سے حکم عقلی کی کچھ مثالیں:

ذیل میں ہم  امام غزالی سے اس حوالے سے دو مثالیں پیش کرتے ہیں جس سے "حکم عقلی" کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے:

رویت باری تعالی:

کیا قیامت کے دن ایمان والے اللہ تعالی کا دیدار اپنی آنکھوں سے کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں تین مختلف آرا پائی جاتی ہیں:6

امام غزالی رحمہ اللہ تعالی جب اس مسئلے میں تحقیق کرتے ہیں تو اپنے کتاب کے پہلے قطب میں اس کا تذکرہ فرماتے ہیں جو "ذات" سے متعلق  مباحث میں ہے کہ مثلا اللہ تعالی کی ذات جسم سے پاک ہے، جوہر وعرض سے پاک ہے۔ نیز اس میں اللہ تعالی کے وجود پر دلیل کھڑی کی جاتی ہے۔ آپ اس کی وجہ میں دو امور واضح کرتے ہیں:

  1. اللہ تعالی کی رویت کے مسئلے کو ذات باری تعالی سے متعلق "قطب" (یعنی باب) میں لانے کی وجہ یہ ہے کہ معتزلہ نے رویت کا انکار اس بنیاد پر کیا کہ جو ذات جہت سے پاک، وہ اس سے پاک ہے کہ اسے دیکھا جا سکے۔
  2. ہمارا (یعنی اشاعرہ کا ) کہنا ہے کہ دیکھنے کے لیے علت "وجود" ہے۔ پس جو چیز یا ذات موجود ہے اسے دیکھنا "جائز عقلی" ہے۔
  3. اور یہاں سے فورا امام صاحب اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ "جائز عقلی"  ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ "بالفعل" (In Actuality)بھی ایسا ہو۔ بلکہ بعض خارجی عناصر کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ  انسان بالفعل کسی چیز کو نہ دیکھ سکے۔  وہ اسے یوں سمجھاتے ہیں کہ دیکھو جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں دریا میں جو پانی ہے وہ پیاس بجھاتا ہے یا فلاں گاگر میں موجود شراب   مدہوش وبد مست کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پیاس پانی کے پینے اور مدہوشی می نوشے سے ہوتی ہے۔لیکن اس تعبیر کی بنیاد یہ ہے کہ پانی اور شراب  میں یہ استعداد (Potentiality)ہے ۔ یہی سے وہ واضح کرتے ہیں کہ اس باب میں گفتگو کے دو پہلو ہیں:
    • جواز عقلی۔ اس کے لیے امام غزالی دو عقلی دلائل لاتے ہیں اور اس پر گفتگو کرتے ہوئے بالکل بھی قرآن، حدیث  یا شریعت کا حوالہ نہیں دیتے۔
    • وقوع۔ البتہ جب بات وقوع کی آتی ہے تو وہ واضح کرتے ہیں کہ اسے صرف شریعت ہی سے جانا جانا سکتا ہے اور اس کے لیے وہ کتاب وسنت سے دلائل کھڑے کرتے ہیں۔

امام صاحب کی عبارت ملاحظہ ہو جس سے ان کا منہج واضح ہوتا ہے:

«فالنظر في طرفين: أحدهما في الجواز العقلي، والثاني في الوقوع الذي لا سبيل إلى دركه إلا بالشرع، ومهما دل الشرع على وقوعه فقد دل أيضاً لا محالة على جوازه ولكنا ندل بمسلكين واقعين عقليين على جوازه»9

ترجمہ: "پس (اس باب میں) تحقیق دو پہلووں سے ہے: ایک عقلی جواز کے پہلو سے اور دوسرا اس کے وقوع کے پہلو سے جسے شریعت کے بنا نہیں جا نا جا سکتا۔نیز اگرچہ جب کسی معاملے کی بابت شریعت سے ثابت ہو گیا کہ وہ ہو گی تو بلاشبہ  یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ   عقلی طور سے جائز ہے، لیکن ہم اس کے عقلی جواز پر دو عقلی دلائل بھی پیش کریں گے۔"

اس عبارت سے واضح ہے کہ متکلم کا منہج کیا ہے۔ متکلم کے پاس ایک طرف "حکم شرعی" ہے اور دوسرے طرف "حکم عقلی"۔ اور اس کا مقدمہ ہے کہ حکم شرعی اور حکم عقلی کبھی بھی باہم دست وگریباں نہیں ہوتے۔لیکن جب وہ فلسفی سے گفتگو کرتا ہے یا کسی ایسے سے اسلامی فرقے سے گفتگو کرتا ہے جو کسی حکم کے جواز عقلی کا منکر ہو، تو وہ اس کے لیے  صرف یہ نہیں کہتا کہ چونکہ شریعت نے ایسا کہا ہے اس لیے اسے ماننا ہو گا کیونکہ فلسفی بحیثیت فلسفی کے، کتاب وسنت کو بنیاد نہیں بناتا اور اسلامی فرقہ جسے محال عقلی سمجھتا ہے وہ  وحی میں موجود ایسی نصوص کی تاویل کرتا ہے جیسے معتزلہ "نظر" کی تاویل انتظار سے کر دیتے ہیں۔ اس لیے، متکلم جواز عقلی کے منکر کی دلیل کا جواب عقلی بنیادوں ہی پر دیتا ہے۔

اور ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ کسی امر کے "جواز عقلی" کا انکار دراصل یہ دعوی کرنا ہے کہ وہ تصور ناممکنات میں سے ہےاور  ایسے دعوی کرنے والے کو دلیل دینی ہوتی ہے جبکہ اس کے "جواز عقلی" کے قائل کے ذمے میں دلیل نہیں بلکہ ناممکن ہونے کے دعوی کرنے والے کی دلیل کو توڑنا ہوتا ہے۔ اگروہ جواز عقلی پر اپنے اور فریق مخالف کے اتفاقی مقدمات سے کوئی اثباتی دلیل لاتا ہے تو ایک اضافی معاملہ اور احسان ہے۔ آداب مناظرہ ومکالمہ کے لحاظ سے، یہ اس کی ذمے داری نہیں۔

یہاں سے، ایک اور پہلو بھی واضح ہوا کہ کسی متکلم کی گفتگو کے حوالے سے جب تک یہ واضح نہ ہو کہ خطاب کس سے ہے، اس کے منہج استدلال پر کوئی بات کہنا درست نہیں۔

اسباب ومسببات کا اقتران:

امام غزالی رحمہ اللہ تعالی نے فلاسفہ کی تردید سے پہلے ان کا تفصیلی مطالعہ کیا اور اس کے بعد جب وہ ان کی تردید کے لیے کمر بستہ ہوئے، تو انہوں نے "مقاصد الفلاسفہ" کے نام سے رسالہ لکھا جو دراصل تہافت کا مقدمہ ہے اور اس میں انہوں نے واضح کیا کہ  وہ کون سے نظریات ہیں جن کی امام صاحب تردید کریں گے۔ بالفاظ دگر، اس مقدمے سے امام صاحب نے اپنا "مخاطب" طے کر دیا۔ اور اس کتاب میں ان کا  خطاب ابن سینا  و فارابی  سے ہے جیسا کہ انہوں نے تہافت کے شروع  میں واضح کیا ۔

اس لیے، امام غزالی پر کوئی   تنقید اس وقت تک برمحل نہیں ہو سکتی، جب تک ان کے کلام کو ان کے خطاب کے تناظر میں نہ رکھا جائے۔ چناچہ اگر کوئی بندہ ان مقدمات ہی کا انکار کر دے جن پر امام صاحب کے ہاں علم کلام کھڑا ہے یا جنہیں ابن سینا وفارابی تسلیم کرتے ہیں ، تو ظاہر ہے کہ وہ ایک الگ معاملہ ہے جیسے کوئی سوفسطائی  یہ کہہ دے کہ وہ "وجود" کو مانتا ہی نہیں۔ سب سراب ہے، سب دھوکا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس کے ساتھ  امام صاحب گفتگو کررہے  ہیں نہ اس کی اس بات کو امام صاحب کے مخاطب ابن سینا وفارابی مانتے ہیں۔

تہافت کا ایک مشہور باب  "اسباب ومسببات کے رشتے "سے متعلق ہے اور اس کی شہرت کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی مشابہت ہیوم کے ہاں موجود اسباب پر گفتگو سے ہے ۔ اسباب ومسببات میں رشتہ "اقتران"  ہے یا "ضرورت" کا ۔اس حوالے سے امام صاحب اور اشاعرہ کا بالعموم نقطہ نگاہ یہ ہے کہ یہ "اقتران" ہے، ضرورت نہیں۔امام صاحب جن لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے ان کا دعوی تھا کہ یہ رشتہ "وجوب وضرورت" کا ہے۔ اس لیے، سبب ومسبب میں جدائی "ناممکنات" میں سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں چونکہ ان کے مخطاب کا دعوی تھا اس لیے اس نے دلیل بھی دی اور امام صاحب نے اس کی دلیل توڑی ہے۔ امام صاحب گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں:

«الاقتران بين ما يعتقد في العادة سبباً وما يعتقد مسبباً ليس ضرورياً عندنا بل كل شيئين ليس هذا ذاك ولا ذاك هذا، ولا إثبات أحدهما متضمن لإثبات الآخر ولا نفيه متضمن لنفي الآخر، فليس من ضرورة وجود أحدهما وجود الآخر ولا من ضرورة عدم أحدهما عدم الآخر مثل الري والشرب والشبع والأكل والاحتراق ولقاء النار والنور وطلوع الشمس والموت وجز الرقبة والشفاء وشرب الدواء وإسهال البطن واستعمال المسهل وهلم جرا إلى كل المشاهدات من المقترنات في الطب والنجوم والصناعات والحرف، وإن اقترانها لما سبق من تقدير الله سبحانه يخلقها على التساوق لا لكونه ضرورياً في نفسه غير قابل للفرق بل في المقدور خلق الشبع دون الأكل وخلق الموت دون جز الرقبة وإدامة الحيوة مع جز الرقبة وهلم جرا إلى جميع المقترنات، وأنكر الفلاسفة إمكانه وادعوا استحالته»10

ترجمہ: "عام طور سے، جسے سبب ومسبب سمجھا جاتا ہے وہ ہمارے ہاں "ضروری" نہیں۔ بلکہ ہر ایسے دو امور جو ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں  اور ایک   کا  اثبات  یا نفی اپنے اندر دوسرے کے اثبات یا نفی کو نہیں لیے ہوئے ،  تو ایک کے وجود  یا نفی سے  "بالضرورۃ" دوسرے کا وجود  یا نفی نہیں برآمد ہوتے۔ مثلا، پانی پینا اور سراب ہونا، کھانا اور پیٹ بھرنا، آتش   رسیدی وسوختی،  طلوع خورشید وروشنی، گردن زنی وموت، دوا  داروکرنا اور شفایاب ہونا،دست آور دوا لینا اور پیٹ کا جاری ہونا اور اسی طرح دوسرے مشاہدے پر مبنی امور جن کا تعلق طب، علم نجوم اور دیگر صنعت وحرفت سے ہے۔ان تمام ہم راہ وہم زمان جوڑوں   کا ملاپ اللہ تعالی کی تقدیر ازلی کی وجہ سے ہے کہ وہ انہیں اسی طرح پیدا کرتا ہے، ایسا نہیں کہ ان دونوں کی ذوات "بالضرورۃ" ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہیں   کہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو سکیں۔ بلکہ (اللہ کی )قدرت  میں ہے کہ کھائے  بنا پیٹ بھر جائے، گردن زنی کے بغیر موت طار ی ہو جائے بلکہ گردن زنی کے باوجود  سانسیں چلتی رہیں اور اسی طرح دوسرے ہم زمان امور۔فلاسفہ ان کے امکان  سے انکاری ہیں اور عدم امکان کے مدعی ۔"

یہاں امام صاحب نے پہلے واضح فرمایا کہ اس گفتگو میں دو طرح کے امور شامل نہیں:

 ہم بات ختم کرنے سے پہلے اس طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ غزالی کی اسباب ومسببات کی تحقیق میں  یہ اعتراض کرنا کہ غزالی نے کسی دلیل کی بغیر اسباب ومسببات کے رشتہ ضرورت کا انکار کیا، دراصل غزالی یا متکلم کے پورے نظام کے اوجھل ہونے کی وجہ سے ہے۔ غزالی اس مرحلے تک پہنچے سے پہلے یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ کائنات "حادث" ہے اور اس میں موجود ہر ہر چیز، خواہ وہ سبب ہو خواہ مسبب، حادث ہے اور اسے پیدا کرنے والی ایک ذات ہے جو کم از کم زندگی، علم، قدرت اور ارادے سے متصف ہے۔اس لیے، جب ہم  نے دو امور کو حادث مان لیا (اور وہ دونوںایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں نیز ان میں ایک دوسرے کے ضمن  میں بھی نہیں پایا جاتا ہے)، تو اس کے بعد یہ دعوی کرنا کہ ان میں "ضرورت" کا رشتہ ہے، ایک بے معنی بات ہے کیونکہ "ضرورت" کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک چیز واجب ہے اور وجود اس کی ذات کا حصہ ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ علم کلام کا منہج سمجھنے کے لیے "حکم شرعی" اور "حکم عقلی" دونوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے، علم کلام ایک طرف اصول فقہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے (اور یہی سے اصول فقہ وکلام میں مشترک مباحث کا وجود واضح ہوتا ہے) تو دوسری طرف  یہ عقلی مباحث کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے (اور یہی سے کلام کے ایک جزو کا علم اصول فقہ کا مقدمہ ہونا واضح ہوتا ہے)۔

بلاشبہ، ہم یہ دعوی نہیں کر رہے کہ "حکم شرعی" اور "حکم عقلی" کی باہم دگری وتعامل ایک سادہ معاملہ ہے۔ بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ وجدلی تعلق ہے اور بعض اوقات ایک متکلم حکم عقلی کو اصل مان کر حکم شرعی کی اس کے مطابق تشریح کر رہا ہوتا ہے اور دوسرے اس جھول کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اشاعرہ کا معتزلہ پر اور ابن تیمیہ کا اشاعرہ پر اور خود اشاعرہ کا ابن تیمیہ پر ، تسلسل عالم کے قضیے میں، اعتراض اسے جدلی رشتے کا شاخسانہ ہے۔


حواشی

  1. متن أم البراهين، ص 28
  2. معيار العلم في فن المنطق، ص 344
  3. معيار العلم في فن المنطق ص345
  4. معيار العلم في فن المنطق، ص346
  5. معيار العلم في فن المنطق، ص345 – 347
  6. المسايرة، ص 49 ومابعدها، الاقتصاد في الاعتقاد ص42 ومابعدها، شرح الأصول الخمسة، ص232 ومابعدها، مجموع الفتاوى، 16/ 84
  7. لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر [الأنعام: 103] ۔ یہاں قاضی عبد الجبار معتزلی نے کلامی منہج کی رعایت کرتے ہوئے، رویت کی نفی پر نقلی دلیل لانے سے پہلے باقاعدہ واضح کیا کہ کسی مسئلے پر نقل سے استدلال کب درست ہے اور وہ رویت کے مسئلے میں کیسے پایا جاتا ہے۔
  8. مجموع الفتاوى، 11/ 362
  9. الاقتصاد في الاعتقاد للغزالي، ص42
  10. تہافت الفلاسفۃ، ص237
  11. یہ "عقلی رشتے" سے کچھ الگ نہیں بلکہ ایک ہی امر کی دو تعبیریں ہیں۔


آزادی کے مقاصد اور ہماری کوتاہیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۱ اگست ۲۰۲۲ء کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علومِ اسلامی کے زیر اہتمام ’’یومِ آزادی‘‘ کے سلسلہ میں تقریب سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یومِ آزادی کے حوالے سے اس تقریب کے انعقاد اور اس میں شرکت کا موقع دینے پر صدر شعبہ پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی اور ان کے رفقاء کا شکرگزار ہوں۔ اس موقع پر جن طلبہ اور طالبات نے قیامِ پاکستان اور حصولِ آزادی کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے وہ میرے لیے خوشی کا باعث بنے ہیں کہ ہماری نئی نسل اپنے ماضی کا احساس رکھتی ہے، حال سے با خبر ہے، اور مستقبل کے خطرات پر بھی اس کی نظر ہے جو میرے جیسے لوگوں کو حوصلہ دے رہی ہے کہ ہمارے مستقبل کی قیادت اپنی ذمہ داریوں کا شعور رکھتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے مزید برکات و ترقیات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

قیامِ پاکستان کو پون صدی گزر چکی ہے اور ایک نئے ملک کے طور پر اس کے وجود میں آنے کے محرکات میں عام طور پر جن عوامل کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں سے تین چار کا آج کی گفتگو میں تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انگریزوں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا تھا اور فرنگی استعمار سے آزادی کے لیے سب لوگوں نے مل کر جدوجہد کی۔ جدوجہد کے اس دائرے میں دوسری ہم وطن قومیں بھی ہمارے ساتھ شریک تھیں ہندو، سکھ، مسیحی اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں نے اس جدوجہد میں حصہ لیا اور سب نے مل کر وطن کو بیرونی تسلط سے آزاد کرایا۔ جبکہ اگلے تین دائرے مسلمانوں سے متعلق ہیں۔

قیامِ پاکستان کے یہ محرکات مختلف طبقات کی طرف سے ذکر ہوتے رہتے ہیں اور یہ سب نہ صرف درست ہیں بلکہ ایک دوسرے سے مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کے بنیادی عوامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں پنجاب یونیورسٹی کے علمی ماحول میں تحقیق اور ریسرچ کی دنیا کے لوگوں کے درمیان کھڑا گفتگو کر رہا ہوں اس لیے یہ توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے یہ مقاصد ابھی تک ادھورے ہیں اور ہم ان میں سے کوئی ایک بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکے۔

ملک کے تمام جامعات اور بڑے علمی مراکز کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ اور ریسرچ سکالرز سے میری گزارش ہے کہ آزادی اور قیام پاکستان کے مذکورہ عوامل و مقاصد میں ہماری ناکامی اور کوتاہی تو سب کے سامنے ہے مگر اس کے اسباب کا جائزہ لینا اہل دانش کا کام ہے اور ملک کے علمی مراکز کی ذمہ داری ہے۔ میں نوجوان اہلِ دانش سے گزارش کروں گا کہ ان موضوعات کو اپنی ریسرچ کا موضوع بنائیں اور اگلی نسل کو بتائیں کہ ہم آزادی اور قیام پاکستان کے مقاصد اب تک کیوں حاصل نہیں کر پائے اور اپنی ان کوتاہیوں کی تلافی ہم کس طرح کر سکتے ہیں؟

اس کے ساتھ ہی میں اپنے پیشرو مقرر محترم ڈاکٹر محمد امین کی ایک بات کو دہراتے ہوئے اس کے ساتھ ایک گزارش کا اضافہ کرنا چاہوں گا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ ہم نے قیام پاکستان کے وقت بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ سے ایک وعدہ کیا تھا کہ ہمیں الگ ملک مل جائے تو ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و قوانین کی عملداری قائم کریں گے، مگر ہم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا جس پر آج اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا ہے اور ہم قومی سطح پر خلفشار اور افراتفری کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اس ارشاد کی تائید کرتے ہوئے یہی بات دوسرے انداز سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ’’لئن شکرتم لازیدنکم‘‘ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو نعمتوں میں اضافہ کروں گا لیکن اگر ناشکری کی تو ’’ان عذابی لشدید‘‘ میرا عذاب بھی سخت ہو گا۔ اسی طرح ایک مقام پر قرآن کریم میں مذکور ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ان کے حواریوں نے آسمان سے تیار کھانے نازل کیے جانے کا تقاضہ کیا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تیار کھانے اتار دیتا ہوں لیکن اب اگر ناشکری کی تو ایسی سزا دوں گا جو کسی اور کو نہیں دی ہو گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس نعمت کی ناشکری کرنے والوں کی شکلیں بدل دی گئیں۔ یہاں مفسرین کرامؒ نے لکھا ہے کہ عمومی نعمتوں کی ناشکری بھی سزا کا باعث ہوتی ہے مگر مانگی ہوئی نعمت کی ناشکری اس سے کہیں زیادہ سزا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پاکستان ہم نے اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا تھا جو بہت بڑی نعمت ہے بالخصوص ایسے ماحول میں جب پوری دنیا میں ریاست کا تعلق مذہب سے ختم ہو کر رہ گیا تھا حتٰی کہ خلافتِ عثمانیہ بھی ختم ہو گئی تھی۔ اس ماحول میں مذہب اور مذہبی احکام و ثقافت کے عنوان سے نئی ریاست کا وجود میں آنا نعمتِ عظمٰی سے کم نہیں تھا، مگر ہم پون صدی سے ناشکری اور ناقدری کے ماحول میں ہیں اور اس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار اور اس میں کوتاہی کی تلافی کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

سیلاب کے متاثرین اور ہماری قومی ذمہ داری

بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی صورت حال انتہائی پریشان کن اور اضطراب انگیز ہے۔ یہ وقت بحث ومباحثہ کا نہیں، متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے جو کچھ بس میں  ہو، کر گذرنے کا ہے۔ عربی ادب کی ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص نہر میں ڈوب رہا تھا اور ایک شخص اس کو کنارے پر کھڑا ہو کر احتیاط نہ کرنے پر ملامت کر رہا تھا۔ ڈوبنے والے نے  آواز  دی، میرے بھائی، پہلے مجھے ڈوبنے سے بچاو، پھر جتنی چاہے ملامت کر لینا۔

آج ہمیں یہی صورت حال درپیش ہے۔ ملک بھر میں مساجد کے ائمہ وخطبا اور منتظمین کو سب سے زیادہ اس کام کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور باہمی رابطہ ومشاورت کے ساتھ کوئی علاقائی مرکز قائم کر کے منظم او رمربوط محنت کرنی چاہیے۔  سب احباب سے گذارش ہے کہ وہ اس کارخیر میں شریک ہوں اور باقی سب کاموں پر اسے ترجیح دیتے ہوئے  سرگرم ہو جائیں تاکہ ہم اپنے متاثرہ اور بے یار و مددگار بھائیوں کی امداد اور بحالی میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈال سکیں۔

رشدی ایسے کرداروں سے متعلق اہل اسلام کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟

ڈاکٹر محمد شہباز منج

رشدی اور اس جیسے دیگر کرداروں سے متعلق اہل اسلام کے رویے پر بات کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رشدی اور اس کی بدنام ِ زمانہ کتاب پر ایک سرسری نظر ڈال لی جائے۔ رشدی ہندوستانی نژاد برطانوی امریکی ناول نگار اور ادیب ہے۔ قبل ازیں بھی اس کے بعض ناول شائع ہوئے تھے، لیکن اس کو زیادہ شہرت و پذیرائی " شیطانی آیات" کی اشاعت کے بعد ملی۔ ادبی ناقدین کے مطابق " سٹینیک ورسز" رشدی کے اپنے مخمصوں کی عکاس ہے، جو خود اس کو برطانوی استعمار کا ایک شکار ظاہر کرتی ہے۔ یہ اصل میں معاصر انگلینڈ میں ہندوستانی تارکینِ وطن کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی ہے۔ اس کے دو مرکزی کردار جبریل فرشتہ اور صلاح الدین چمچہ ہندوستانی مسلم پس منظر کے دو اداکار ہیں۔ یہ کہانی گویا فرشتہ کے کرادر کے ذہن کے خوابوں کی کچھ سلسلہ وار کڑیاں ہیں۔

ایک سلسلہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی ایک افسانون داستان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ایک توحید پسند انسان مشرک لوگوں میں توحید پر مبنی مذہب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حیثیت شیطانی آیات والے واقعے کو حاصل ہے، جس کے مطابق ایک موقع پر حضورﷺ کے زبان سے قرآن کی تلاوت کے دوران کچھ ایسے کلمات نکل گئے، جس میں اہل مکہ کی بعض دیویوں کی سفارش کے مقبول ہونے کی بات کی گئی تھی، لیکن بعد میں ان الفاظ کو شیطان کی آمیزش قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔

یہ واقعہ بدقسمتی سے مسلم لٹریچر میں بھی بیان کیا گیا ہے، اگرچہ محققینِ اسلام اس کو ایک جعلی واقعہ قرار دیتے ہیں، لیکن بہر حال یہ مسلم لٹریچر میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہندوستانی کسان لڑکی عائشہ کا کردار ہے، جو جبریل فرشتہ سے وحی وصول کرتی ہے اور اپنی کمیونٹی کو مکہ کی زیارت پر لے جانے کے لیے تیار کرتی ہے، ایک اور سلسلہ بیسویں صدی کے آخر کے ایک غیر ملکی جنونی مذہبی رہنما امام کا کرادر پیش کرتا ہے، جو بالواسطہ طور ایرانی مذہبی رہنما روح اللہ خمینی پر طنز کی ایک صورت دکھائی دیتا ہے۔

اگرچہ رشدی نے کئی موقع پر واضح کرنے کی کوشش کی اس کا یہ ناول اسلام کے خلاف نہیں ہے، مثلا 28 دسمبر 1990 کو نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دینے ہوئے اس نے کہا کہ " اس کا ناول کبھی توہین آمیز نہیں تھا۔ اس کے مطابق جبرائیل کی کہانی دراصل یہ بتاتی ہے کہ کیسے انسان کو ایمان کے ضائع ہونے سے تباہ کیا جاسکتا ہے۔ اس نے مزید واضح کرنے کی کوشش کی کہ مذاہب پر حملوں والے کردار مذاہب کے ابتدائی عمل کے نمائندے ہیں اور مصنف کے نقطہ نظر کی نمائندگی نہیں کرتے۔ " مگر اس توجیہ کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ رشدی اپنے کرداروں اور ان کے ناموں کو جس طرح استعمال کرتا ہے، اس میں اس نوع کے مسلم کرداروں کی توہین نکلتی ہے۔ اس لیے اس کو توہین آمیز کہنا بے جا نہیں۔ اس کے عنوان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رشدی اس کو عنوان کے ذریعے ایٹریکٹو بنانا چاہتا تھا، ورنہ کہانی کے پلاٹ سے اس کا عنوان بظاہر میچ نہیں کرتا۔

شیطانی آیات جسے مسلم لٹریچر میں قصۂ غرانیق سے تعبیر کیا جاتا ہے، ایک اکیڈمک بحث ہے، جو مسلم اور مغربی مصنفین میں اس سے پہلے بھی بحث و جرح کا موضوع رہی ہے اور اب تک بھی ہے، اس کو ناول میں ایک سلسلے کے طور پر بیان کرنا تو چلو ایک الگ بات ہے، لیکن اس کو ایسے ناول کا عنوان بنا نا، جس میں مختلف مسلم مقدس شخصیات کے ناموں کو بھی توہین آمیز انداز سے ڈپکٹ کیا گیا ہو، اسلام کے حوالے سے مصنف کے برے اردوں کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس ناول کا دفاع اس حوالے سے کرنا کسی طرح ممکن نہیں کہ اس میں اسلام کی توہین شامل نہیں۔

ایسے واقعات پر اہلِ اسلام کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟

اب ظاہر ہے کہ اس طرح کے توہین آمیزرویے پر مسلمانوں کی طرف سے سخت ردعمل فطری بات ہے۔ لیکن اس سخت رد عمل کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ سخت ردعمل کی ایک صورت تو پاپولر رویہ ہے، جس کی رو سے یہ سمجھا اور قرار دیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص کو قتل کر دیا جائےاور اس کے لیے کسی اصول و قانون کی پابندی ضروری نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاصر اصولی و نظریاتی تناظر میں اصولی، علمی و قانونی انداز سے ڈیل کیا جائے۔ دونوں رویوں کے اپنے اپنے اثرات و نتائج ہیں۔ اگر ہم اسلام اور مسلمانوں کے فائدے کے تناظر میں جائزہ لیں تو ہمارے نزدیک پہلا رویہ دوسرے کے مقابلے میں سخت نقصان دہ نظر آتا ہے، اور قرآنی اصول اثمھما اکبر من نفعھما (ان کا نقصان ان کے نفعے سے بڑا ہے)کے تناظر میں دیکھیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ دوسرا رویہ اختیار کریں جس میں فائدہ زیادہ ہے۔

قتل کے جواز کا رویہ اختیار کرنے سے چند در چند نقصانات اس طرح سے سامنے آتے ہیں کہ مثلاً‌ جب کسی ایسے شخص کو قتل کیا جاتا یا قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ایک تو مسلم مخالف لوگ اسے مسلمانوں کی انتہا پسندی و دہشت گردی کی دلیل کے طور پر پیش کرنے لگتے ہیں، اور دوسرے جس مقصد کے لیے مسلمان یہ اقدام کرنا چاہتے ہیں، وہ حاصل ہونے کی بجائے الٹا اس کو نقصان پہنچتا ہے۔ وہ اس طرح کہ بہت سے لوگ بہ طور ِخاص مغربی ماحول میں اسے آزدیِ اظہار کے خلاف سمجھتے ہوئے اس پر اپنی پختگی کے اظہار کے طور پر مزید توہین کے مرتکب ہوتے ہیں یا اس کا پروگرام بناتے ہیں، ان لوگوں کا نظریہ(چاہے مسلمان اس کے کتنے بھی مخالف ہوں) واضح طور پر یہ ہے کہ ہم کو آزادی ِاظہار کے لیے کوئی بھی قربانی دینی چاہیے؛ہم اس کو دبانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔

اس نظریے پر عمل کا نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ بہت سے مزید لوگ توہین کے مرتکب ہوتے ہیں، یوں اہل اسلام کا جو مقصد توہین روکنے کا تھا، معاملہ اس کے الٹ ہو جاتا ہے، یعنی توہین اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایک اور چیز جو اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے، وہ یہ سامنے آتی ہے کہ وہ شخص جو بالکل غیر اہم ہوتا ہے، پوری دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے اور بہت سے لوگ اس کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے اور اس کے فالور بن جاتے ہیں، جس کے نتجے میں اس کا لٹریچر جو صرف چند لوگوں تک محدود ہوتا ہے، لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، جس سے نہ صرف متعلقہ شخص کو مالی فائدہ ہوتا ہے، بلکہ او ر بہت سے لوگ اسی راستے سے فائدہ سمیٹنے کا رویہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ذرا سلمان رشدی اور اس کے متعلقہ ناول کی مثال لیجیے :

سلمان رشدی کا پہلا ناول گریمس جو 1975 میں شائع ہوا، کو اددبی حلقوں میں بالکل توجہ نہیں ملی اور اسے مکمل اگنور کیا گیا۔ اس کے دوسرے ناول مڈنائٹس چلڈرن، جو 1981 میں شائع ہوا، کو البتہ تھوڑی پذیرائی ملی، اسے بوکر پرائز سے نوازا گیا، لیکن یہ پرائز 1969 سے دیا جاتا ہے اور اس سے پہلے بارہ سال تک مختلف ادیبوں کو دیا جاتا رہا، اب بھی دیا جاتا ہے، اس کو پچاس سال سے اوپر کا عرصہ ہو گیا، لیکن اس پرائز کے حاملین میں سے کتنوں کے لوگ صرف نام بھی جانتے ہیں! اس کے بعد بھی رشدی کی بعض کتابیں اور ناول آئے، لیکن اس کو بہت زیادہ اہمیت پھر بھی حاصل نہ ہوئی۔ اس کو اصل شہرت "سٹینک ورسز "یا "شیطانی آیات " کے بعد اس وقت ملی جب اس پر شدید مسلم ردعمل پر تشدد مظاہروں کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ کتاب ستمبر 1988 میں شائع ہوئی۔ جنوری 1989 کے وسط تک برٹش بک سیلر ڈبلیو ایچ سمتھ ہفتے میں بمشکل اس کی ایک سو کاپیاں فروخت کرتا تھا، لیکن فروری 1989کے وسط میں پاکستان میں اس کے خلاف زبردست مظاہروں کے بعد جب ایرانی مذہبی رہنما روح اللہ خمینی نے رشدی کے خلاف قتل کا فتوی جاری کیا، تو اس کے بعد یہ کتاب اتنی تعداد میں فروخت ہوئی کہ ڈینئل سٹیل کی دوسرے نمبر پر بیسٹ سیلر کتاب "سٹار" سے بھی پانچ گنا زیادہ فروخت ہوئی۔ مئی 1989 یعنی مسلم ردعمل کے صرف چار مہینوں کے اندر اس کتاب کی سات لاکھ پچاس ہزار کا پیاں فروخت ہوئیں اور رشدی نے صرف ایک سال میں اس کتاب کی فروخت سے دو ملین ڈالر کمائے، اور یہ کتاب امریکہ کی وائکنگ پبلشنگ کمپنی کی اب تک کی بیسٹ سیلر کتاب ہے۔

اوپر کی بحث سے ہم نے واضح کر دیا کہ اس حوالے سے جو رویہ مسلمانوں نے اپنا یااس کا فائدے کی بجائے بہت زیادہ نقصان ہوا، اس کے نتیجے میں رشدی کو بہت زیادہ پذیرائی ملی؛مالی فائد ہ ہوا توہین آمیز مواد پھیلا اور بہت سے ایسے ذہنوں کو بھی اس طرف متوجہ کیا جو دوسری صورت میں کبھی متوجہ نہ ہوتے۔ لیکن اس پر سوال پیدا ہوتا کہ کیا مسلمانوں کو ایسے کام پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ ضرور کرنا چاہیے، لیکن اس ضمن میں معاصر نظری و عملی حرکیا ت کو پیش رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ ان حرکیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اعتراض و نقد کی صورتیں درج ذیل ہیں :

  1. کسی ادبی یا علمی یا اس تناظر میں پیش کردہ کام کا جواب اسی فن اور انداز سے دینا چاہیے، اس طرح جتنے لوگوں کے اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ان کو اس کے خلاف دلیل مل جائے گی۔
  2. اس کے خلاف، اگر کسی جگہ میسر ہو، تو قانونی اقدام کیا جائے، اور اگر قانونی اقدام کی کوئی صورت نہ ہو تو اس کے لیے قانون بنوانے کے لیے معاصر مسلمہ طریقِ دباؤ، جیسے اس پر علمی تحریروں اور پر امن احتجاج اور ریلیوں وغیرہ کے ذریعے متعلقہ معاشروں کو ایسی قانون سازی پر قائل کیا جائے اور اس کے لیے انھی کے قوانین سے حوالے تلاش کرکے پیش کیے جائیں۔ مثلا توہین رسالت کو قابل تعزیر جرم قرار دلوانے کے لیے مغرب میں ہولوکاسٹ کے انکار کے جرم ہونے وغیرہ سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اسی طرز پر اسے بھی جرم ہونا چاہیے۔

تاہم جہاں آپ رہتے ہیں وہاں کے قانون کا احترام ہونا چاہیے۔ کسی بھی مذہبی جواز سے اس کی مخالفت دین کے حوالے سے بھی نقصان دہ ہے، اور اس کا دینی جواز بھی کوئی نہیں۔ مذہب بھی آپ پر اس قانون کی پا بندی لازم ٹھہراتا ہے، جس کی پابندی آپ نے اپنے عہد کے لحاظ سے قبول کی ہے۔ یعنی آپ جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کے قانون کی پابندی آپ پر شرعا ضروری ہے، اس لیے کہ آپ نے اسی قانون کے تحت وہاں رہنا قبول کیا ہے، جب آپ اس کی مخالفت کرکے کوئی ماورائے قانون اقدام کریں گے تو شرع کی بھی مخالفت ہوگی۔ اگر آپ کو اس کا قانون شریعت کے خلاف لگتا ہے، تو آپ وہاں رہنا قبول نہ کریں۔ یہ بات شرعاً‌ درست نہیں کہ آپ قانون کی پابندی کا وعدہ کریں اور پھر اس کو توڑدیں۔

دعوت کی شریعت

جناب ڈاکٹر محی الدین غازی کے جواب میں

ڈاکٹر عرفان شہزاد

ہمارے محترم دوست، جناب ڈاکٹر محی الدین غازی نے جاوید احمد صاحب غامدی کی کتاب، “میزان” میں بیان کردہ "قانون دعوت" پر نقد کیا ہے جو بعنوان، "قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟" ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان کے شمارہ جولائی 2022 میں شائع ہوا ہے۔ زیر نظر تحریر کا مقصود غازی صاحب کے اس نقد کا تجزیہ کرنا ہے۔

غازی صاحب کے نقد کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت دین پوری امت کی ذمہ داری ہے جس پر تفقہ فی الدین یا کسی خاص نسل (ذریت ابراہیم) یا حکومت کی شرائط عائد کرنا، دعوت دین کی حصار بندی کرنا اور اسے عملاً معطل یا غیر مؤثر کرنے کے مترادف ہے۔

غازی صاحب نے دعوت دین کے نازک فریضے کی عمومی فرضیت کے اپنے موقف پر کوئی براہ راست استدلال نہیں کیا۔ انھوں نے دعوت دین کی ذمہ داریوں کی تخصیصات کی نفی کر کے اس کی عمومیت کا تحقق فرض کر لیا ہے۔ حالانکہ یہ اگر کوئی عمومی فرض ہے تو اس کا مشتقل اثبات کرنا ضروری ہے۔

ہمارا موقف یہ ہے کہ جس طرح دین میں عبادات، نکاح و طلاق، سیاست و جہاد وغیرہ کی شریعت دی گئی ہے، اسی طرح دعوت دین کی بھی باقاعدہ شریعت قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔ ہماری علمی روایت میں اس کی طرف کما حقہ توجہ نہ ہوسکی۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے مجددانہ کاموں میں سے ایک بڑا اور اہم کام یہ بھی ہے کہ انھوں نے دعوت دین کی شریعت کو قرآن مجید کی براہ راست نصوص سے متعین کر کے پیش کیا ہے۔

دعوت کے تین پہلو ہیں:

دعوت دین یا انذار، شہادت حق اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر دعوت دین نہیں ہے یہ جانی مانی بھلائیوں کے کرنے اور جانی مانی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور نصیحت ہے۔ یہ اختیار کے ساتھ بھی ہوتی ہے اور بغیر اختیار کے بھی۔

غامدی صاحب نے دعوت کی ذمہ داری کو پیغمبروں کی دعوت، ذریت ابراہیم کی دعوت، علما کی دعوت، نظم اجتماعی (حکومت) کی دعوت، علما کی دعوت اور فرد کی دعوت میں تقسیم کیا ہے۔

پیغمبروں کی دعوت

پیغمبروں کی دعوت جن دعاوی اور خدائی نگرانی اور اس کی محسوس مداخلت و معیت کے ساتھ ہوتی تھی وہ اب نہیں ہو سکتی۔ مثلا پیغمبر خدا سے حکم پا کر آخری چارہ کار کے طور پر مباہلہ کا چیلنج بھی دے سکتا تھا، وہ اب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اب کوئی اپنے تئیں اتمام حجت کے بعد لوگوں کو یہ الٹی میٹم نہیں دے سکتا کہ وہ اگر اس کے انذار یا دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے تو خدا کے عذاب کا شکار ہو جائیں گے۔ اس انجام کے معلوم ہونے کا اب کوئی ذریعہ نہیں رہا۔

ذریت ابراہیم کی دعوت

عالمی سطح پر دعوت دین کا کام ذریت ابراہیم کی ذمہ داری ہے۔ ان کی اصل ذمہ داری شہادت حق ہے۔ اس کے لیے وہ دعوت دین بھی دیں گے۔ شہادت حق کیا ہے؟

"شہادت کے معنی گواہی کے ہیں۔ جس طرح گواہی سے فیصلے کے لیے حجت قائم ہو جاتی ہے، اُسی طرح حق جب اِس درجے میں واضح کر دیا جائے کہ اُس سے انحراف کی گنجایش باقی نہ رہے تو اُسے شہادت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی فرد یا جماعت کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرما تے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ اُن کے ذریعے سے اِسی دنیا پر برپا کر دیتے ہیں۔ اُنھیں بتا دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہیں گے تو اِس کی جزا اور انحراف کریں گے تو اِس کی سزا اُنھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اُن کا وجود لوگوں کے لیے ایک آیت الٰہی بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گویا اُن کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اِس کے ساتھ اُنھیں حکم دیاجاتا ہے کہ جس حق کو وہ بچشم سر دیکھ چکے ہیں، اُس کی تبلیغ کریں اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ لوگوں تک پہنچادیں۔ یہی شہادت ہے۔ یہ جب قائم ہو جاتی ہے تو دنیا اور آخرت، دونوں میں فیصلۂ الٰہی کی بنیاد بن جاتی ہے۔" (البیان)

اور یہ گواہی صرف ذریت ابراہیم ہی دے سکتی ہے۔ اور اسی بنا پر بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل دونوں کو خدا نے شہدا یعنی گواہ کہا ہے۔

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (3: 99)

اِن سے پوچھو، اے اہل کتاب، تم اُن لوگوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہوجو ایمان لائے ہیں؟ تم اِس میں عیب ڈھونڈتے ہو، دراں حالیکہ تم اِس کے گواہ بنائے گئے ہو؟ (اِس پر غور کرو) اور (یاد رکھو کہ)جوکچھ تم کررہے ہو، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔

وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ (22: 78)

اور (مزید یہ کہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے) اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو، جیسا کہ جدوجہد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمھیں چن لیا ہے اور (جو) شریعت (تمھیں عطا فرمائی ہے، اُس) میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔ تمھارے باپ ـــ ابراہیم ـــ کی ملت تمھارے لیے پسند فرمائی ہے۔ اُسی نے تمھارا نام مسلم رکھا تھا، اِس سے پہلے اور اِس قرآن میں بھی (تمھارا نام مسلم ہے)۔ اِس لیے چن لیا ہے کہ رسول تم پر (اِس دین کی) گواہی دے اور دنیا کے سب لوگوں پر تم (اِس کی) گواہی دینے والے بنو۔ سو نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔ وہی تمھارا مولیٰ ہے۔ سو کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار!

ذریت ابراہیم پر ان کے انبیا اور رسولوں اور خود ان کے اپنے وجود سے جس طرح شہادت حق قائم ہوئی ہے وہ دوسری اقوام پر نہیں ہوئی۔ وہ انبیا کی اولاد ہیں۔ اپنے آباؤاجداد کو خدا سے وحی پاتے انھوں نے دیکھا، سمندر کے پھٹنے کا نظارہ انھوں نے کیا، پہاڑ کو اپنے سر پر معلق انھوں نے دیکھا، خدا کو بادلوں میں بولتے انھوں نے سنا، من و سلوی ان کے لیے اترا، بادلوں کا سایہ ان پر فگن ہوا، بدر کے یوم فرقان کا مشاہدہ انھوں نے کیا، فتح مکہ کی پیشین گوئی انھیں کے ہاتھوں پوری ہوئی، رسولوں کے غلبے کی سنت اللہ آخری دفعہ محمد رسول اللہ کے ذریعے سے ان کے سامنے اور ان کے ہاتھوں پوری ہوئی ،خدا کی معیت کے محسوس نشان ان کے سامنےکھولے گئے ہیں۔ پھر ان کی یہ قومی تاریخ قومی ورثے کی صورت میں متواتر، اجماعی اور مسلمہ تاریخ کے طور پر ان کے ساتھ نقل ہوتی چلی آئی۔ چنانچہ جس طرح تاریخ کے تواتر اور اجماع کی بنا پر یہ بات یقینی ہے کہ سکندر اعظم کا وجود تھا اور اس نے معلوم دنیا کا ایک بڑا حصہ فتح کیا تھا، اسی طرح ذریت ابراہیم کے ساتھ خدا کی مداخلت اور معیت کی ان کی قومی تاریخ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے جو ان کے تواتر اور اجماع سے منتقل ہوئی ہے۔ یعنی اسے ان کی پوری کمیونٹی بیان کرتی ہے اور ان سب کے سب کا جھوٹ پر جمع ہونا ممکن نہیں۔ خیال رہے کہ مسلمہ تاریخ سے جزئی واقعات اور مسلمہ واقعات کی جزئیات مراد نہیں ہوتیں۔

ایک کمیونٹی کی متواتر اور اجماعی تاریخ، نہ کہ دیو مالا، انھیں کی گواہی سے مسلمہ حقیقت مانی جاتی ہے۔ علم کی یہی روایت ہے۔

جیسے رسول غیب کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس پر گواہ بنتا اور اس کی گواہی لوگوں کے سامنے دیتا ہے، اسی طرح دیگر اقوام کے لیے ذریت ابراہیم کا مشاہدہ حق، مسلمہ تاریخ کی صورت میں وہ گواہی ہے جس پر دیگر اقوام کو ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے۔

ذریت ابراہیم کی شہادت کا دوسرا پہلو، ان کا اپنا وجود ہے جو خدا کے عہد کا نشان بن کر ہر زمانے کے لوگوں پر حق کی گواہی ثبت کرتا ہے۔ اس عہد کے مطابق اگر آل ابراہیم ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پورے اتریں اور شہادت حق دیگر اقوام تک بے کم و کاست پہنچاتے رہیں تو دنیا میں اپنے مقابل قوموں پر سرفرازی پائیں گے ورنہ انھیں کے ہاتھوں ذلیل ہوں گے۔ بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل دونوں کی قومی زندگی کے عروج و زوال کے کئی ادوار اس عہد کی مسلسل تاریخ ہے۔ اسی کے ذیل میں بنی اسرائیل کے لیے یہ مزید تصریح قرآن مجید میں آئی ہے کہ قیامت تک کے لیے وہ مسیحیوں کے آگے مغلوب رہیں گے۔ نیز، قیامت تک ان پر کوئی نہ کوئی مسلط ہوتا رہے گا جو انھیں ان کی خدا سے بے وفائی کی سزا دیتا رہے گا۔ یہ سب ہم ان کی پوری تاریخ، جو دور جدید تک چلی آتی ہے، دیکھ سکتےہیں۔ یہ شہادت حق ہے۔ یہ نسل پرستی نہیں ہے، ایک ایسی ذمہ داری جس کو اٹھانے سے دیگر اقوام کانپ اٹھیں گی۔

یہ ذریت ابراہیم کی مسلمہ تاریخ ہے جس کی تائید ان کی معاصر تواریخ سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی یہی حیثیت ہے جس کی بناپر دعوت دین کا معاملہ محض دلیل کا نہیں، بلکہ شہادت (evidence) کا بن جاتا ہے۔ اہل علم نے ذریت ابراہیم کے ساتھ خدا کی معیت کے ان کھلے مسلمہ حقائق کی تاریخی شہادت کی وہ اہمیت نہیں سمجھی، جس کی یہ مستحق ہے۔

مذکورہ بالاسورہ الحج کی آیت میں مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ یہ گنجایش ہی نہیں چھوڑتا کہ غیر اسمعیلیوں کو اس میں شامل کیا جا سکے۔ اس لیے مذکورہ شہادت حق انھیں کی ذمہ داری ہے جو انھوں نے دیگر اقوام کے سامنے دینی ہے۔ یہ کام انھوں نے قومی سطح پر کرنا ہے اور اس کے لیے منظم کوششیں کرنا ہیں۔

علما کی دعوت:

قومی سطح پر دعوت دین یا انذار کے کام کے لیے دین میں گہری بصیرت پیدا کرنا دعوت دین کی ذمہ داری کا تقاضا ہے جسے خود قرآن نے بیان کیا ہے۔ یہ علما کی دعوت ہے۔

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (9: 122)

یہ تو ممکن نہیں تھا کہ مسلمان، سب کے سب نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکلتے تاکہ دین میں بصیرت پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو (اُن کے اِن رویوں پر) خبردار کرتے، جب اُن کی طرف لوٹتے، اِس لیے کہ وہ خدا کی گرفت سے بچتے؟

غامدی صاحب لکھتےہیں:

"دین کا علم حاصل کر لینے کے بعد دعوت کی جو ذمہ داری اُنھیں ادا کرنی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے’’انذار‘‘ اور صرف’’انذار‘‘ ہے، یعنی یہ کہ حیات اخروی کی تیاریوں کے لیے لوگوں کو بیدار کیا جائے۔ یہ اگر غور کیجیے تو بعینہٖ وہی کام ہے جو اللہ کے نبی اور رسول اپنی قوم میں کرتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’انذار‘‘ کا کام آپ کے بعداِس امت کے علما کو منتقل ہوا ہے اور ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری اب قیامت تک اُنھیں ہی ادا کرنی ہے۔" (میزان)

علما یہ انذار اپنی قوم کے مسلم اورغیر مسلم دونوں ہی کو کریں گے۔ اس دعوت یا انذار کا لازمی ردعمل ہوتا ہے۔ لوگ سوال، شبہات اور اعتراضات پیش کرتے ہیں جن کا جواب دینے کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ جس طرح زندگی کے ہر شعبہ میں فرائض کی انجام دہی کے لیے ایک کوالی فیکیشن مقرر کی جاتی ہے، اسی طرح تفقہ فی الدین دعوت دین کی کوالی فیکیشن ہے۔

یہاں محض دین کا علم یا دین کی سمجھ کی شرط نہیں، بلکہ دین میں گہری بصیرت پیدا کرنے کا تقاضا ہے۔ یہ انبیا کا مشن ہے اور نازک ترین ذمہ داری ہے جسے ہر گز عامی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ رعایتیں نہ برتنے ہی کا نتیجہ ہے کہ دعوت دین کی مد میں افراط و تفریط نے ایک طرف دعوت دین کے عمل کو بری طرح گہنایا ہے، اسلام کے مخالفین اور معترضین کو اسلام پر حملہ آور ہونے کے لیے آسان چارہ مہیا کیا ہے تو دوسری طرف عائلی حقوق کی پامالی سے ان گنت انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔

دعوت دین کے لیے علم و تفقہ کی شرط کے ابطال کے لیےغازی صاحب نے قرآن مجید میں جنّوں کے واقعہ سے جو استدلال کیا ہے وہ بے محل ہے۔ جنوں نے قرآن سنتے ہی اپنی قوم کو جو انذار کیا وہ ان کی صواب دید کا بیان ہے، ذمہ داری کا نہیں۔ جب دعوت کی ذمہ داری کا بیان قرآن مجید میں آیا ہے تو باقاعدہ اصولی انداز میں اس کی کوالی فیکیشن بیان ہوئی ہے جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب کوئی شخص اپنے طور پر انذار کا یہ فریضہ انجام دینے لگتا ہے تو اسے منع بھی نہیں کیا جا سکتا، تاہم، اس کے ساتھ اہل علم کی معیت ہونا پھر بھی ضروری ہے تاکہ دعوت دین ناقص نہ رہ جائے جو غلط فہمیوں کا باعث بن جائے۔ 

فرد کی دعوت:

فرد کی دعوت کی ذمہ داری اپنے متعلقین کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نصیحت تک محدود ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر دعوت دین نہیں ہے، بلکہ جانی مانی بھلائیوں کے کرنے اور جانی مانی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور نصیحت ہے۔ فرد کے اختیار کی نوعیت سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی نوعیت تبدیل ہوگی۔ جہاں اختیار ہے وہاں وہ حکم دے سکتا ہے اور جہاں اختیار نہیں وہ صرف نصیحت کی جائے گی۔

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ  إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (9: 71)

مومن مرد اور مومن عورتیں، وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ (اِن منافقوں کے برخلاف) وہ بھلائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ عنقریب اپنی رحمت سے نوازے گا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔

نظم اجتماعی کی دعوت:

نظم اجتماعی کی صورت میں فرد کا یہی انفرادی فریضہ اب قانونی اختیار کے ساتھ اجمتماعی فریضہ بن جاتا ہے:

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ  وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (22: 41)

وہی کہ جن کو اگر ہم اِس سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتما م کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ (اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا) اور سب کاموں کاانجام تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا م ویسے تو سبھی حکومتیں اپنے تصورات کے مطابق کرتی ہیں مگر مسلم حکمرانوں کے لیے امر بالمعروف کی خاص صورت، جمعے کا منبر مقرر کیا گیا ہے۔ جمعہ کا منبر مسلم حکمرانوں کی نشست اور استحقاق ہے یہ رسول اللہ ﷺ سے لے کر امت مسلمہ کی پوری تاریخ کی مسلسل روایت رہی ہے۔ استدلال اس پر کرنا پڑتا ہے کہ جمعہ کے منبر صرف حکمرانوں کا حق نہیں ہے بلکہ علما کا بھی حق ہے۔ غامدی صاحب کا موقف یہی ہے کہ یہ علما کا حق نہیں ہے، تاہم، جمعہ کے علاوہ ہفتے کے سارے دنوں میں مسجد کا منبر ان کے لیے موجود ہے وہ جب چاہیں لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں۔ محض جمعہ کا منبر ان سے لے لینے سے ان کے عوامی روابط میں فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے یہ تاثر کہ اس طرح حکمران علما کو ڈکٹیٹ کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے، درست نہیں۔ خاص طور پر جمہوری سماجوں میں یہ ممکن نہیں۔

ان استدلالات کے برعکس غازی صاحب نے دعوت دین کی ذمہ داری ہر مسلمان فرد پر عائد کرتے ہیں اور استدلال میں "یا ایھا الذین امنوا" اور "ایا ایھا الناس" کے عمومی خطابات پیش کیا ہے کہ دین کے مخاطب بلا واسطہ اور بالواسطہ تمام لوگ ہیں اس لیے دعوت دین کی ذمہ داری بھی تمام لوگوں کی ہے۔ دعوت دین کی ذمہ داری کی عمومیت ثابت کرنے کے لیے یہ کوئی استدلال نہیں ہے۔ دین کی دعوت تو ہر ایک کے لیے ہے، مگر دین کی دعوت دینے کی ذمہ داری بھی کیا ہر ایک پر عائد ہوتی ہے؟ یہ استدلال تو یہاں نہیں ہو سکتا۔ کیا جہاد کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے؟ کیا حج کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے؟ بلکہ دین کا ہر ہر حکم ادا کرنا کیا سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہوتا ہے یا وہ اپنی شرائط کے پورا ہونے کے بعد افارد پر لاگو ہوتا ہے؟ شریعت کے اس عمومی قاعدے سے دعوت دین کو استثنا دینے پر اصرار کیوں ہے؟

غازی صاحب نے غامدی صاحب کی کتاب، "میزان" میں 'قانون دعوت 'کے زیر عنوان شامل آیات قرآنی پر غامدی صاحب کی ترجمانی پر بھی نقد کیا ہے۔ غازی صاحب "خیرامت" اور "امت وسط" سے پوری امت مراد لیتے ہوئے دعوت دین کی ذمہ داری ان سب پر عائد کرتے ہیں۔ حالانکہ "خیر امت" والی آیت امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور "امت وسط" والی آیت شہادت حق کی ذمہ داری کو بیان کرتی ہے۔ دونوں میں دعوت دین کی ذمہ داری کا بیان نہیں ہے۔ اس لیے دعوت دین کی ذمہ داری کی عمومیت پر ان سے استدلال نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ مذکورہ آیات میں ساری امت مراد ہے یا بنی اسمعیل اور جماعت صحابہ، تو غامدی صاحب نے اس سے صرف جماعت صحابہ کو مراد لیا ہے۔ آیات ملاحظہ کیجیے:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ (3: 110)

(ایمان والو، اِس وقت تو اللہ کی عنایت سے) تم ایک بہترین جماعت ہو جو لوگوں پر حق کی شہادت کے لیے برپا کی گئی ہے۔ تم بھلائی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر سچا ایمان رکھتے ہو۔ اور یہ اہل کتاب بھی (قرآن پر) ایمان لاتے تو اِن کے لیے بہتر ہوتا۔ (اِس میں شبہ نہیں کہ) اِن میں ماننے والے بھی ہیں، لیکن (افسوس کہ) اِن میں زیادہ نافرمان ہی ہیں۔

 "خیر امت"، سندِ تحسین ہے جو محض اسلام قبول کر لینے کے مترادف نہیں کہ ہر مسلمان اس کا مستحق قرار پائے۔ یہ اعزاز ہے جسے جماعت صحابہ نے اپنے قابل تحسین اعمال اور کردار کی بدولت حاصل کیا تھا۔ اب یہ اختیار کس کا ہے اس امت کو اس کے تمام اچھے برے لوگوں سمیت بھی خیر امت قرار دے، اور کون ہے جو اپنے یا اپنے گروہ کے لیے بہترین ہونے کا دعوی کر سکے؟

"امت وسط" کا لقب شہادت حق کے تناظر میں ہے جو بنی اسمعیل کا امتیاز ہے۔ اس کی تفصیل پیشتر گزر چکی۔

‎‏ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا  (2: 143)

 اور (جس طرح مسجد حرام کو تمھارا قبلہ ٹھیرایا ہے)، اُسی طرح ہم نے تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے۔

اسی طرح سورہ آل عمران کی درج ذیل آیت میں بھی بھلائیوں کی دعوت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم ہے، نہ کہ دعوت دین کا۔

وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّة یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ، (3: 104))

اور چاہیے کہ تمھارے اندر سے کچھ لوگ مقرر ہوں جو نیکی کی دعوت دیں، بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکتے رہیں۔ (تم یہ اہتمام کرو) اور (یاد رکھو کہ ) جو یہ کریں گے، وہی فلاح پائیں گے۔

اس آیت میں ایک جماعت بنانے کی جو ہدایت ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے۔ مسلمانوں کی یہ ایک جماعت مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے اختیار کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے وہ جماعتیں مراد نہیں لی جا سکتیں جو مسلمان اپنے طور پر قائم کر کے دعوت و ارشاد کا کام کرتے ہیں۔ ان میں آپس میں کوئی نظم و ربط نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات رقابت و تفرق ہوتا ہے۔ البتہ، نیک نیتی اور مطلوبہ شرائط اور قابلیت کے ساتھ نجی طورپر یہ کام کرنا قابل تحسین ہیں، مگر آیت میں ذمہ داری کا بیان ہے اور وہ ایک ہی جماعت کی ذمہ داری کا بیان ہے جو حکومتی نظم کے بنا ممکن نہیں۔ غامدی صاحب نے امر بالمعروف کے لیے مسجد کے منبر اور نہی عن المنکر کے لیے پولیس کے محکمہ کی درست نشان دہی کی ہے جو ایک ہی نظم کے تحت کام کرتے ہیں۔

غازی صاحب نے سورہ حج کی آیت 41 تمکین فی الارض کو بغیر حکومت کے کسی جگہ مسلمانوں کے امن و سکون سے رہنے کے معنی میں بھی لیا ہے۔ یہ معنی لینا کسی طرح درست نہیں۔ یہ آیت ہجرت مدینہ کے بعد ان آیات کے تناظر میں نازل ہوئی ہے جن میں جہاد اور معابد کے دفاع کا مضمون بیان ہوا ہے۔ چنانچہ تمکین فی الارض سے بغیر حکومت اور اختیار کے کسی جگہ مسلمانوں کا محض امن و سکون سے رہنا مراد نہیں لیا جا سکتا:

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ‎ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ‎ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (22: 39-41)

(چنانچہ) جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دے دی گئی ہے، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ وہ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے، صرف اِس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ (یہ اجازت اِس لیے دی گئی کہ) اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کنیسے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، سب ڈھائے جا چکے ہوتے۔ اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اُس کی مدد کے لیے اُٹھیں گے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ زبردست ہے، وہ سب پر غالب ہے۔ وہی کہ جن کو اگر ہم اِس سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتما م کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ (اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا) اور سب کاموں کاانجام تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

البتہ مسلمان اپنے طور پر جماعت بنا کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کریں تو یہ فرد کے ذمے اس فریضے کی ادائیگی کے زمرے میں آئے گا۔ اس کے لیے سورہ حج کی اس آیت سے استدلال کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ کام دعوت و ارشاد اور نصیحت کے طرز پر ہوگا، قانونی اختیار کے ساتھ نہیں، جو آیت بالا کا تقاضا ہے۔

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۹)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا پانچواں باب)


فضل حق خیر آبادی اور محبتِ نبوی کی سیاست

تقویۃ الایمان کی اشاعت کے ساتھ ساتھ دلی میں شاہ اسماعیل کی اصلاحی سرگرمیوں نے شہر کے اہل علم اشرافیہ کے درمیان بحث ومباحثہ اور استدلالات کی ایک گرما گرم فضا تشکیل دی تھی۔ خاص طور پر کتاب کی نسبتاً زیادہ متنازعہ عبارات پر بحث ومباحثہ اور تجزیے ہو رہے تھے۔ اس وقت ماحول میں اس قدر انتشار تھا کہ 1826 میں ایک مشہور عوامی مناظرے میں شاہ اسماعیل کا اپنا چچا زاد محمد موسٰی دہلوی (م 1864) ان کے خلاف صف آرا تھا1۔ جوں جوں جامع مسجد میں شاہ اسماعیل کے خطبات مزید لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے گئے، اسی رفتار سے ان کے خیالات کو دبانے کے لیے مخالف تحریک بھی زور پکڑتی گئی۔ اس تحریک کے سرخیل دلی کا بااثر اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے عالم علامہ فضل حق خیر آبادی تھے۔

خیر آبادی جو کہ شاہ اسماعیل سے عمر میں بیس سال چھوٹے تھے، برصغیری اسلام کی تاریخ میں انتہائی اہم شخصیت ہیں، تاہم ان کی فکر تاحال مغربی اہل علم کی بہت کم توجہ حاصل کر پائی ہے۔ شمالی ہندوستان کے شہر خیر آباد میں پیدا ہونے والے، فضل حق خیر آبادی کو آج انتہائی شدت سے برطانوی استعمار کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے لیے یاد کیا جاتا ہےجس کی وجہ سے ان پر غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا اور ہندوستان سے جزائر انڈمان، جسے آج میانمار کہا جاتا ہے، جلا وطن کیا گیا۔ وہاں دو سال کا عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ 1861 میں وفات پا گئے۔ اپنی اسارت کے دوران خیر آبادی نے فصیح وبلیغ عربی میں، جس کا بیش تر حصہ مُسَجَّع ومُقَفّیٰ نثر میں ہے، " باغی ہندوستان " (الثورۃ الہندیۃ) کے نام سے کتاب لکھی۔ یہ کتاب نہ صرف خیر آبادی کی زندگی سے متعلق دل چسپ نکات پر مشتمل ہے، بلکہ اس فیصلہ کن دور کے ہندوستان کے وسیع سیاسی عہد کو بھی زیر بحث لاتی ہے2۔ کتاب کے مقدمے میں موجودہ الفاظ سے ان کے اس درد اور یاس کا اندازہ ہوتا ہے، جس میں وہ اپنی شکست اور استعماری طاقت کے سخت شکنجے کے نیچے اَسارت کے آخری ایام گزار رہے تھے۔ "میری یہ کتاب ایک دل شکستہ، نقصان رسیدہ، حسرت کشیدہ اور مصیبت زدہ انسان کی کتاب ہے، جو اب تھوڑی سی تکلیف کی بھی طاقت نہیں رکھتا، اپنے رب سے جس کے لیے سب کچھ آسان ہے، مصبیت سے نجات کا امیدوار ہے" (فإن كتابي هذا كتاب أسير كاسر خاسر، على ما فات منه حاسر، مبتلى بكل عسير لا يطاق ولو في أن يسير، منتظر لفرج على ربه يسير)3۔

خیرآبادی کی علمی شہرت کی وجہ اسلامی فلسفہ ومنطق پر ان کی تحریریں اور عربی شعر وشاعری میں ان کی نغز گوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے تقریباً چار ہزار اشعار کہے۔ خیر آبادی کے تلامذہ کا متنوع اور وسیع سلسلہ نہ صرف پورے ہندوستان بلکہ وسطی ایشیا، ایران اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیلا ہوا تھا۔ خیر آبادی مکتبِ فکر کا علمی گڑھ شمالی ہندوستان، بالخصوص خیرآباد، بدایون، رام پور اور سہارن پور جیسے شہر تھے۔ خیر آبادی کے علمی مزاج کی ایک نمایاں خصوصیت، جس کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار فضل حق کے عظیم الشان والد اور استاد فضل امام خیر آبادی (م 1829) کا تھا، یہ تھی کہ اس میں فلسفہ اور منطق جیسے غیر منقولی اور معقولی مضامین پر زیادہ زور تھا۔

فضل امام خیر آبادی، جنھوں نے دلی میں ایک نامی گرامی مدرسے کی بنیاد رکھی تھی، (دیگر کتابوں کے ساتھ ساتھ) منطق میں مشہور نصابی کتاب "المرقاۃ" کے مصنف تھے۔ اسی طرح فضل حق خیر آبادی نے اپنے والد کی کتابوں پر شروحات اور معقولات کے اہم موضوعات پر مشہور کتابیں لکھنے کے ساتھ وسیع پیمانے پر رائج درسی کتاب "الہدیۃ السعیدیۃ" لکھی4۔

خیر آبادیوں کا علمی ورثہ علامہ فضل حق کے شاگردوں نے آگے بڑھایا، جن میں زیادہ قابل ذکر ان کے کثیر التصانیف صاحب زادہ عبد الحق خیر آبادی اور ان کے جگری دوست اور فکری حلیف فضل رسول بدایونی (م 1872) کے بیٹے عبد القادر بدایونی (م 1901) تھے۔خیر آبادیوں کو برصغیر اور اس کے باہر اپنے غیر معمولی علمی عظمت کا احساس تھا، اور اس کے اظہار میں وہ کوئی باک محسوس نہیں کرتے تھے۔ مثلاً‌ ایک بار مولوی اکرام اللہ شہابی نامی ایک شخص نے عبد الحق خیر آبادی سے پوچھا: "بھائی! انسانی تاریخ میں کتنے لوگ ایسے ہیں جنھیں حکیم مانا جا سکتا ہے؟" عبد الحق نے خود اعتمادی سے جواب دیا: "دنیا میں ساڑھے تین حکما ہیں: پہلا معلم اول ارسطو، دوسرا (دسویں صدی کا مشہور مسلمان فلسفی) معلم ثانی الفارابی (م 951)، تیسرا میرے والد فضل حق خیر آبادی اور باقی آدھا آپ کا یہ دوست"5۔ عبد الحق کے اس خوش کُن دعوے پر بات ہو سکتی ہے، لیکن خیر آبادی مکتب بالخصوص فضل حق خیر آبادی (اس کے بعد خیرآبادی سے مراد وہی ہوں گے) کی علمی خدمات کے اثرات کا اعتراف نہ کرنا مشکل ہے۔ برصغیر کی علمی تاریخ میں ان کے مقام کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ ان کے فکری مخالفین کی طرف سے  مرتب کردہ سوانحی تذکروں میں، مثلاً عبد الحی حسنی (م 1922) کی مشہور کتاب نزھۃ الخواطر میں ان کا ذکر کچھ اس طرح سے ہے: "وہ اپنے زمانے میں عربیت، فلسفہ اور منطق کے سب سے بڑے عالم تھے"6۔

آزُردہ، خیر آبادی اور بدایونی کی تکون

اپنے طلبہ اور خاندان کے افراد کے علاوہ خیر آبادی اور ان کے مکتب فکر سے انتہائی قریب جڑے ہوئے دو اور اہل علم مفتی صدر الدین آزردہ (م 1868) اور فضل رسول بدایونی تھے۔

خیر آبادی اور بدایونی کی عمر میں تقریباً ایک سال کا فرق تھا، اور وہ آزردہ سے عمر میں کوئی دس سال چھوٹے تھے۔ ان تینوں کے درمیان بہت سے مشترکات تھے۔ یہ تینوں شاعری اور معقولات کے دل دادہ تھے، ایک دور میں برطانوی استعمار کے ملازم رہے، جوش وخروش سے 1857 کی جنگِ آزادی میں شریک ہوئے، اور تینوں فضل امام خیر آبادی کے شاگرد تھے7۔ علاوہ ازیں شاہ اسماعیل سے انتہائی بے زاری میں بدایونی اور فضل حق دونوں ایک جیسے تھے۔ شاہ اسماعیل کے خلاف مناظروں اور تردیدات کے سلسلے میں کئی نام آتے ہیں، تاہم بدایونی اور خیر آبادی اس سلسلے کے بانی مبانی تھے۔ بدایونی بیک وقت عملی طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے عالم بھی تھے کہ ان کی مناظرانہ پھرتیوں کی وجہ سے انھیں خدا کی شمشیرِ بَراں (سیف اللہ المسلول) کا لقب دیا گیا، ایک ایسا لقب جو عام طور پر حضور ﷺ کے چچا زاد اور داماد حضرت علی بن ابو طالب کرم اللہ وجہہ سے منسوب کیا جاتا ہے8۔ بدایونی نے شاہ اسماعیل کے نظریات کی تردید میں کئی کتابیں لکھیں، جن میں "البوارق المحمدیۃ لرجم الشیاطین النجدیۃ"، "الفوز المبین بشفاعۃ الشافعین"، "سیف الجبار المسلول علی اعداء الابرار"، "احقاق الحق وابطال الباطل" اور "المعتقد المنتقَد" شامل ہیں9۔ سواے آخری کتاب کے جو عربی میں ہے، باقی تمام کتابیں اردو میں لکھی گئیں10۔

خیر آبادی کی کاوشوں کی طرح، جن کا تجزیہ اس باب میں پیش کیا جا رہا ہے، بدایونی کی کتابوں کے موضوعات بھی شفاعتِ نبوی، علمِ نبوی اور ختم نبوت ہیں۔ ان کی تنقیدات کئی جگہ پر ایک دوسرے سے آکر مل جاتی ہیں، اور بدایونی نے عموماً خیر آبادی کی کتابوں سے اخذ واستفادہ کیا ہے، اور ان کے حوالے دیے ہیں۔ میرے پاس گنجائش نہیں کہ بدایونی کی علمی کتابوں کا تفصیلی جائزہ پیش کر سکوں، لیکن انیسویں صدی کے اوائل کے علمی تناظر میں اس کی اہمیت کے پیش نظر میں یہاں ان پانچ بنیادی فکری مقاصد اور استدلالات کا خلاصہ پیش کرتا ہوں جو ان کی مناظرانہ تحریروں میں جاری وساری ہیں:

(1) شاہ اسماعیل اور محمد بن عبد الوہاب کو روایتی سنی حنفی مسلک کے خلاف ایک مشترکہ بین الاقوامی سازش کے کرداروں کے طور پر پیش کرنا،

(2) یہ ثابت کرنا کہ بر صغیر میں شاہ اسماعیل کے مخالف اہل علم میں وہ بذات خود اور خیر آبادی، عالم عرب میں موجود خلافت عثمانیہ کے حنفی علما کے قریبی دوست اور حلیف ہیں،

(3) شاہ اسماعیل کے اصلاحی ایجنڈے کو شاہ ولی اللہ اور ان کے صاحب زادوں کی فکر کے مخالف ثابت کرکے اسے ولی اللہی خاندان کے علمی شجرے سے کاٹنا،

(4) اس تصور کی تردید کے لیے کہ بدایونی/خیرآبادی مکتب فکر محض معقولی مصادر اور طرزِ استدلال پر انحصار کرتی ہے، اپنے موقف کے اثبات کے لیے استدلال میں قرآن وسنت کے نصوص کو بکثرت پیش کرنا،

(5) شاہ اسماعیل کو ایک جدید معتزلی کے طور پر پیش کرنا، جو رسول اللہ ﷺ کے بلند مقام ومرتبے مثال کے طور پر مقام شفاعت کا مخالف ہے11۔

یہ استدلالات اور اندازِ فکر، بالخصوص ان میں سے اول الذکر تین، انیسویں صدی کے اواخر میں مولانا احمد رضا خان کی کتابوں میں کثرت سے دہرائے گئے ہیں، جیسا کہ میں کچھ تفصیل سے نویں، دسویں اور گیارھویں باب میں بیان کروں گا۔ پس مناظرانہ کش مکش میں احمد رضا خان بہت سے حوالوں سے بدایونی کے فکری جانشین تھے۔ اس لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ احمد رضا خان نے بدایونی کی سب سے اہم تنقیدی کتاب "المعتقد المنتقد"12 پر "المعتمد المستند بناء نجاۃ الابد" کے نام سے ایک اہم شرح لکھی۔

شاہ اسماعیل کے خلاف بدایونی کی مناظرانہ شہرت اور تصنیفات کی کثرت کے برعکس آزُردہ کے رویے کے حوالے سے تاریخی مصادر کافی حد تک مبہم ہیں۔ مثلاً‌ خیر آبادی کے اس فتوے پر، جس میں شاہ اسماعیل کو کافر قرار دیا گیا تھا، آزردہ کے دستخط تھے، تاہم امکانِ نظیر (یعنی خدا کی یہ قدرت کہ وہ حضرت محمد کا ایک مثیل پیدا کرے) کے مسئلے میں انھوں نے شاہ اسماعیل کے حق میں لکھا13۔ اور بظاہر شاہ اسماعیل کے ساتھ خیر آبادی کی دشمنی سے آزردہ بڑی حد تک بے چین رہتے تھے، اور کئی بار یہ بے چینی اپنے جگری دوست سے اختلاف اور تنقید کا باعث بھی بنتی۔ لیکن آزردہ شاہ  اسماعیل کے سخت انداز بیان کے بھی شدید ناقد تھے، باوجودیکہ وہ کئی اختلافی مسائل میں ان کے ہم نوا تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو دلی میں بڑھتے ہوئے مناظرانہ درجۂ حرارت میں بالآخر کمی لانے میں دل چسپی تھی۔

تصور کی حدود کی پہرے داری: خیر آبادی کا رد عمل

خیر آبادی کی طرف واپس لوٹتے ہوئے عرض ہے کہ اس باب کے سیاق میں ان کے حالات زندگی کا ایک اہم نکتہ انیسویں صدی کے اشرافیہ کے ایک متمول فرد کی حیثیت سے ان کا معاشی پس منظر ہے۔ خیر آبادی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جس کے ہندوستان میں مغلوں کے شاہی خاندان سے گہرے تعلقات اور روابط تھے۔ اپنے والد فضل امام خیر آبادی کی طرح انھوں نے بھی مغل دربار کے ایک اعلی ترین عہدے دار کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی تھیں۔ مزید بر آں، مغل سلطنت کے زوال کے بعد بھی خیر آبادی نے برطانوی سلطنت میں ایک اہم عہدے دار کی حیثیت سے اپنی خدمات جاری رکھیں، تا آنکہ برطانیہ نے ان پر بغاوت کا الزام لگا کر انھیں ہندوستان سے جلا وطن کر دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ استعماری انتظامیہ کی نظر میں ان کا اس قدر احترام تھا کہ دلی کے برطانوی ریزیڈنٹ افسر نے ان کی درخواست پر شاہ محمد اسماعیل کو جامع مسجد میں خطبہ دینے سے منع کردیا تھا۔ یہ درخواست اس وقت منظور کی گئی جب خیر آبادی نے بتایا کہ شاہ اسماعیل کے خطبات دلی کے اندر فرقہ وارانہ امن اور ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ یہ پابندی چالیس دن تک برقرار رہی۔ سوانحی تذکرے اس بابت خاموش ہیں کہ برطانوی استعمار سے ان کے اتنے قریبی تعلقات اس قدر تیزی سے کیوں خراب ہوئے جس کے نتیجے میں انھیں ریاست کا دشمن قرار دیا گیا اور جلاوطنی میں عمر قید کی سزا دی گئی۔جنگ آزادی 1857 کے برپا کرنے میں ان کا مُبینہ کلیدی کردار ہی شاید وہ بنیادی سبب ہے جس سے ان تعلقات نے پلٹا کھایا14۔

خیر آبادی کا اشرافی پس منظر ان کے سوانح حیات میں پوری تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ مثلاً‌ جب وہ نوجوان لڑکے تھے اور شاہ عبد العزیز کے گھر، جو اس کے حریف شاہ اسماعیل کے چچا تھے، حدیث کے اسباق پڑھنے کے لیے جاتے تھے تو ہاتھی پر سفر کرکے جاتے تھے، اور اس مقصد کے لیے خاص طور پر ایک خادم ان کے ساتھ رہتا تھا۔ خادم کی ذمہ داری تھی کہ وہ خیر آبادی کے سر پر چھتری کا سایہ رکھ کر دھوپ سے ان کی حفاظت کرے۔ بعد میں ان کے مخالفین ان کے اشرافی پس منظر کا حوالہ دے کر انھیں  تقوی وطہارت سے خالی باور کرانے کی کوشش کرتے تھے۔ مثلاً‌ نزھۃ الخواطر میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: "ان کا لباس علما کے لباس کے بجاے شاہانہ ہوتا تھا" (كان زيه زي الأمراء دون العلماء)15۔

شاہ محمد اسماعیل اور فضل حق خیر آبادی دونوں انیسویں صدی کے اوائل کے شہری اور علمی عہد میں جی رہے تھے۔ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا، شاہ اسماعیل کے نامی گرامی تایا شاہ عبد العزیز اور ان کے چچا شاہ عبد القادر (جس کا ذکر دوسرے باب میں ہوا ہے) علم حدیث میں خیر آبادی کے اہم اساتذہ تھے۔  باوجود یکہ ان کا ایک ہی علمی شجرے سے تعلق تھا، ان کے سماجی تصورات میں شدید مخالفت تھی۔ خیر آبادی کی نظر میں شاہ اسماعیل کی الہیاتی فکر گستاخانہ ہونے کے ساتھ ساتھ تخریبی تھی۔ ان کی نظر میں خدائی حاکمیت کے دفاع کے بہانے سے شاہ اسماعیل نے ایک نیا دین ایجاد کیا  تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کی گستاخی اور توہین پائی جاتی تھی۔ شاہ اسماعیل کے اصلاحی ایجنڈے میں خیر آبادی کو جو چیز سب سے زیادہ خطرناک معلوم ہوئی، وہ یہ تھی کہ شاہ اسماعیل  نے ایک ایسے اخلاقی نظام کے امکان کا سوچا جس میں پہلے سے چلے آنے والے مقدس مراتب، امتیازات اور خصوصی حیثیات کی توہین پائی جاتی تھی۔ خیر آبادی کے نزدیک اگر عوام کو بہکا کر ان کے سامنے دنیا کا ایک ایسا تصور پیش کیا جائے جس میں مراتب کی توہین ہو، یا جس میں حضور ﷺ کے مرکزِ کائنات ہونے کا انکار ہو، تو دین کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

شاہ اسماعیل کی پیدا کردہ کش مکش کا مرکزی نکتہ وہ منہاج ہے جس کے ذریعے انھوں نے قابل تصور خیالات کی حدود کو چیلنج کیا۔ ایک بار جب یہ قابلِ تصور ہوگیا کہ خدا کئی لاکھ نئے محمد پیدا کر سکتا ہے یا وہ اپنے وعدے سے مکر سکتا ہے تو دین کا تصور لامحالہ مسخ ہو گیا۔ مثلاً خیر آبادی کے معاصر سوانح نگار اسید الحق بدایونی (انھیں خیر آبادی کے معاصر فضل رسول بدایونی سے گڈ مڈ نہ کیا جائے) کے دل چسپ تجزیے کو ملاحظہ کریں کہ انبیا، اولیا اور دیگر بزرک ہستیوں کے متعلق شاہ اسماعیل کی گستاخی اور بے احتیاطی  نے بعد میں (مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب سے) "انکارِ ختم نبوت کی راہ ہموار کی"16۔ اس لیے بدایونی اور خیر آبادی کے بہت سے پیروکاروں کی نظر میں شاہ اسماعیل فتنۂ قادیانیت کے پیش رو تھے، کیونکہ انھوں نے وہ حالات پیدا کیے جن سے مرزا غلام احمد (م 1908) جیسے مدعیانِ نبوت کے لیے رستہ ہموار ہو گیا17۔ خیر آبادی کے لیے بذات خود شاہ اسماعیل کا ناقابل معافی قصور یہ مفروضہ تھا کہ نبی ﷺ کی رفعتِ شان اور خدائی حاکمیت کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن ہے۔ خیر آبادی کی نظر میں پیغمبر کی شخصیت اور خدا کی ہستی ایک ہی کونیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ اس لیے کوئی ایسی کوشش جو اخروی نجات کے باب میں رسول اللہ ﷺ کے کردار کی نفی کرے، صرف انتشار پھیلا سکتی ہے۔

شاہ اسماعیل کے ساتھ خیر آبادی کی علمی نوک جھوک کا تصنیفی زمانہ اور ترتیب کچھ یوں تھی۔ 1825 میں تقویۃ الایمان کی اشاعت کے بعد خیر آبادی نے "تقریرِ اعتراضات بر تقویۃ الایمان" کے نام سے فارسی میں ایک بہت مختصر تردید شائع کی۔ ان چند صفحات کا مرکزی موضوع امکانِ نظیر تھا، جس میں شاہ اسماعیل کے اس دعوے کی تردید تھی کہ "خدا لاکھوں اور محمد پیدا کر سکتا ہے"۔ اس کے جواب میں شاہ اسماعیل نے "یک روزہ" لکھی، جس کا ذکر میں گذشتہ صفحات میں  کر چکا ہوں۔ اس کے بعد خیر آبادی نے "تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی" کے عنوان سے فارسی میں تقویۃ الایمان اور یک روزہ دونوں کی ایک اور تفصیلی تردید لکھی۔ ذیل میں میرے تجزیے کا بیش تر حصہ اس کتاب کے ایک دقیق مطالعے پر مبنی ہے18۔ یہ تمام واقعات 1825 کے ہنگامہ خیز سال میں پیش آئے، جن کے صرف چند مہینے بعد شاہ اسماعیل نے سکھوں کے خلاف عسکری تحریک برپا کی جس میں ان کی وفات ہوئی، جس کی وجہ سے یہ مختصر لیکن شدید تنازع غیر ارادی طور پر رک گیا۔

خیر آبادی نے تحقیق الفتوی کے بالکل آغاز میں شاہ اسماعیل اور ان کے عقائد سے متعلق اپنی شدید ناراضی اور تحقیر کا اظہار یوں کیا ہے:

"اس کا بے فائدہ کلام، جو جھوٹے اقوال اور عجیب وغریب باتوں پر مشتمل ہے، درستی اور سچائی کے ساتھ ذرہ برابر تعلق نہیں رکھتا [ایں کلام لا طائل از اکاذیبِ اقاویل واعاجیبِ اباطیل ہرگز از راستی مساسے وبصدق التباسے ندارد]۔ شفاعت کی اقسام بیان کرتے وقت اس نے متعدد گستاخیوں کا ارتکاب کیا ہے اور اس نے متقدمین اور متاخرین کے اجماع کے برعکس اشرف الاشراف حضور ﷺ کے بلند مقام ومرتبے کو گھٹایا ہے۔ اس عمل سے اس نے اپنے ایمان کی آبرو ضائع کی ہے، اور جاہل عوام کے تاریک دلوں میں فتنہ اور گم راہی کا بیج بویا ہے‘‘19۔

خیر آبادی نے شاہ اسماعیل پر انبیا، اولیا اور فرشتوں کی توہین کا الزام لگایا، اور ان پر "کافر اور واجب القتل" ہونے کا فتوی صادر کیا (235)۔ ذیل میں میں اس بات کا جائزہ لینے جا رہا ہوں کہ وہ اس عجیب نتیجے تک کیسے پہنچے۔ شفاعت نبوی اور امکانِ نظیر یا امکانِ کذب پر شاہ اسماعیل کے خیالات کی تردید کا جائزہ لینے سے میرا مقصد انیسویں صدی میں ہندوستان کی اسلامی فکر میں ایک حریف سیاسی عقیدے کا بیان ہے۔

محبت امتیاز کی علامت ہے

شفاعت نبوی پر فضل حق خیر آبادی کی فکر ان عناصرِ اربعہ سے مرکب تھی: (1) خدا اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان ایک امتیازی محبت وقربت کا رشتہ ثابت کرنا؛ (2) نبی اکرم ﷺ کو ایک انتہائی محبت کرنے والی، مخلص اور طاقت ور شخصیت کی صورت میں پیش کرنا، جو مسلسل گناہ گار بندوں کے گناہوں کو بخشوانے کی خاطر شفاعت کرتی ہے؛ (3) شفاعت کے ایک قطعی درجاتی ماڈل کا اثبات کرنا، جس میں خدا کی بارگاہ کی نسبت سے انبیا، اولیا اور عام لوگوں کے درمیان ایک واضح اور ناقابل سمجھوتہ حد قائم کی گئی ہو؛ اور (4) تقویۃ الایمان میں شاہ اسماعیل کے اس دعوے کی تردید کہ بارگاہِ الہی میں صرف شفاعت بالاذن جائز ہے۔

شاہ اسماعیل پر خیر آبادی کا بنیادی الزام یہ تھا کہ اول الذکر نے مقام نبوت کی رفعتِ شان کی تنقیص کی ہے۔ خیر آبادی نے استدلال کیا کہ وہ مقام اور اعزاز جو خدا نے حضور ﷺ کو عطا کیا ہے، انتہائی خاص ہے۔ کسی بھی دوسری ہستی کو آپ کی طرح اختصاص حاصل نہیں (سبحانہ آں جناب را بہ فضل وکرامت اختصاص باشد کسے دیگر را از خلق) (283)۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ شفاعت کی حیثیت میں کوئی بھی حضور ﷺ کا ہم سر نہیں، اور یہی بات حضور ﷺ کے انفرادی مقام ومرتبے پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔ گناہ گاروں کے لیے حضور ﷺ کے مقامِ شفاعت نے انھیں دیگر تمام مخلوقات سے امتیاز عطا کیا ہے، اور تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ خاص ہستی کی حیثیت سے آپ کے مقام ومرتبے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔شفاعت حضور ﷺ کے امتیاز کے اثبات کا ذریعہ ہے۔ یہی وہ بنیادی خاصیت ہے، جس نے حضور ﷺ کو امتیاز عطا کیا۔

خیر آبادی نے مزید بتایا کہ شفاعت وہ بنیادی مقام ہے جو آخرت میں حضور ﷺ کی رفعتِ شان کے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ بالفاظِ دیگر اس دنیا میں منصبِ نبوت کے ساتھ وابستہ عظمت کا تسلسل آخرت میں شفاعت کی نعمت سے ہوگا۔ اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے خیر آبادی نے تیرھویں صدی کے مشہور مفسرِ قرآن عبد اللہ بن عمر البیضاوی (م 1826) کا حوالہ دیا ہے، جو کہتے ہیں: "دنیا میں وجاہت نبوت ہے اور آخرت میں شفاعت ہے" (الوجاهة في الدنيا نبوة، وفي الآخرة الشفاعة)20۔

خیر آبادی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ آخرت میں حضور ﷺ کا مقام ومرتبہ دنیوی مقام ومرتبہ سے کہیں زیادہ بلند وبرتر ہوگا۔ روزِ قیامت کو اللہ تعالیٰ ان کے مثالی کردار اور اطاعت کے بدلے میں انھیں یہ اختیار دیں گے کہ وہ اپنی امت کے حق میں شفاعت کریں۔ شفاعت فرائض نبوت کی ادائیگی کے بدلے میں انعام واکرام ہے؛ یہ شانِ نبوت کی تصدیق اور بدلہ دونوں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، خیر آبادی کے نزدیک شفاعت کی نعمت منصبِ نبوت کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہے۔ شفاعت آخرت میں نبی ﷺ کی رفعتِ شان کی ابدیت کو ممکن بناتی ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی شفاعت کے اختیار پر سمجھوتے کی کوئی کوشش نبوت کی حیثیت پر براہ راست حملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیر آبادی کی نظر میں شفاعت پر شاہ اسماعیل کا استدلال موجب کفر ہے۔

علاوہ ازیں خیر آبادی کی نظر میں شاہ اسماعیل کا اشتعال انگیز بیانیہ خاص طور سے محل نظر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ خدائی حاکمیت (توحید) کے توہین آمیز بیانات اور خدائی حاکمیت کے بارے میں ان کے مجوزہ استدلال کے درمیان کوئی جوڑ نہیں۔ مثال کے طور پر "خدا کی یہ قدرت کہ وہ لاکھوں اور محمد پیدا کر ڈالے"، ایک غیر ضروری گستاخی ہے جس کا خدائی حاکمیت (توحید) کے احیا سے کوئی جوہری تعلق نہیں۔  خیر آبادی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں، "فرض کرو، اگر کوئی اپنی بادشاہت چلانے میں کسی وزیر یا مشیر کا مکمل محتاج ہے، بادشاہ وہی کرتا ہے جو اس کا وزیر اسے کہتا ہے کہ کرو، اب اس بادشاہ کی حاکمیت کو بحال کرنے کی خاطر یہ کہنا بے مقصد ہے کہ بادشاہ لاکھوں نئے وزیر بنا سکتا ہے، یا وہ عوام کو وزارت سونپ سکتا ہے۔ یہ بادشاہ کو اپنی بادشاہت میں حکم چلانے میں کس طرح وزیر کی مداخلت کا مسئلہ حل کر سکتا ہے؟" (332)۔

خیر آبادی نصیحت کرتے ہیں کہ شاہ اسماعیل کو بس اتنا کہہ دینا چاہیے تھا: "خدا کی حاکمیت کے دائرے میں کسی کو مداخلت کی گنجائش نہیں" (بیستے گفت کہ کسے را در کارخانہ جاتِ الہی مداخلت ہیچ گونہ نیست) (333)۔ یہ سیدھا سادہ موقف اختیار کرنے کے بجاے شاہ اسماعیل نے ایک نیا راگ الاپنا شروع کر دیا جس نے ان کے استدلال کو تقویت پہنچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، اور اس عمل میں وہ حضور ﷺ کی گستاخی بھی کر بیٹھے۔ یہ بیک وقت ایک گم راہ فکر اور بے ادبی کی نشانی ہے۔

خیر آبادی کی نظر میں بے مقصد گستاخانہ اظہارات کے ساتھ ساتھ شاہ اسماعیل نے حضور ﷺ سے خدا کے تعلق کے اعتقادی تصور میں محبت کی غیرمعمولی اہمیت کو نظر انداز کیا ہے۔ خیر آبادی کے عقیدے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ خدا اور حضور ﷺ کے درمیان مُحِب ومحبوب جیسا گہرا رشتہ ہے۔

اس نے بتایا کہ محبوب کے ناز اٹھانا محبت کے رشتے کی افزائش اور کام یابی کا بنیادی تقاضا ہے۔ اس لیے جس طرح ایک سچا عاشق کبھی ایسے قول وفعل کا مرتکب نہیں ہوتا جس سے اس کے محبوب کی دل آزاری ہو، یا جس سے وہ مایوس ہو، یا جس سے اس کی توہین ہو، بالکل اسی طرح خدا اپنی محبوب ترین ہستی حضور اکرم ﷺ کی تسلی واطمینان کا بہت خیال رکھتا ہے۔

مزید برآں محبت و دل داری کا کوئی رشتہ تب قائم رہ سکتا ہے جب ہر کسی کے حق میں محب اپنے محبوب کی سفارش قبول کرے۔ اس لیے شاہ اسماعیل کے موقف کے بالکل برعکس خیر آبادی نے بغیر کسی اگر مگر کے خدا کی بارگاہ میں شفاعت وجاہت اور محبت کو جائز قرار دیا۔

چونکہ خدا نے حضور ﷺ کو اپنی محبوب ترین ہستی قرار دیا ہے، اس لیے وہ گناہ گار لوگوں کے حق میں ہمیشہ ان کی سفارش قبول کریں گے۔ حضور ﷺ اور خدا کے درمیان شدید محبت کے رشتے کو ثابت کرنے کے لیے خیر آبادی نے مشہور حدیثِ قدسی کا حوالہ دیا: "جب میں کسی بندے کو اپنا محبوب بناتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے"21۔ اس تصنیف کی بنیادی خصوصیت وہ انداز ہے جس میں یہ محبت کی بے پناہ طاقت پر زور دیتی ہے۔ خدا کا اپنے محبوب سے تعلق محض ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں، اس کے بجاے یہ محبت محبوب کے دل ودماغ اور ہر ادا میں رچ بس جاتی ہے۔ اس لیے، خیر آبادی کی نظر میں، حدیث قدسی سے بغیر کسی ابہام کے نہ صرف خدا کی نظر میں اس کے محبوبین کے بلند مقام ومرتبہ کا اثبات ہوتا ہے، بلکہ اس حدیث سے خدائی اور نبوی وجودیات کے درمیان بے پناہ قربت اور ناقابل تفریق تعلق کے عمومی استدلال کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔

مزید برآں خیر آبادی نے اس بات پر زور دیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کو مختلف مراتب اور مقامات دے کر پیدا کیا ہے (سبحانہ آفریدگانِ خود را بمراتبِ متفاوتہ ومدارجِ متباعدہ آفریدہ) (268)۔ تمام ہستیوں سے محبت اور تعلق کے پیش نظر بہت باریکی سے اور بغیر کسی لحاظ کے مختلف مراتب اور متفرق درجات متعین کیے گئے ہیں جن میں خدا نے اپنی بارگاہ کے مقربین کو ان کے درجات کے مطابق مقام ومرتبہ عطا فرمایا (ہر یکے از مقربانِ بارگاہِ خدا علی قدرِ تفاوتِ درجاتہم وعلی حسب مراتبھم منزلتے ومکانتے بکشیدہ) (268)۔ کسی کی سفارش کی قبولیت کا دار ومدار اس بات پر ہے کہ بارگاہِ الہی میں اس کا مقام ومرتبہ کیا ہے۔ زیادہ درست الفاظ میں، سفارش کی اجازت سفارش کرنے والے سے خدا کی محبت کی دلیل ہے۔

محبت، طاقت، امتیاز

خیر آبادی کے تصور میں محبت کو طاقت سے الگ کرنا ناممکن ہے۔ امتیازی رتبہ محبت کی دین ہے۔ محبت ہی اخروی مقام ومرتبے کی تعیین میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ سفارش بھی محبت ہی کی دین ہے، ایک ایسا تحفہ جو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہستی کے بلند مقام ومرتبے کی علامت ہے۔ اس لیے انبیاے کرام اور اولیاے عظام کی دعائیں اور سفارشیں دیگر عوام اور گناہ گار لوگوں کی بنسبت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔ خیر آبادی نے ان مقامات ومراتب کے اثبات کے لیے اس قرآنی آیت کا حوالہ دیا: "وہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض نے خدا سے کلام کیا ہے، اور بعض کو دیگر سے بلند درجات دیے گئے ہیں"22۔

خیر آبادی، شاہ  اسماعیل کے ساتھ اس نکتے پر متفق تھے کہ خدا قادر مطلق، وحدہ لا شریک اور ہر قسم کے تغیر وتبدل سے پاک ہے۔ اسی طرح تمام مخلوقات، چاہے وہ انسان ہوں، فرشتے، انبیا، ان پڑھ، بادشاہ یا غلام، سب پر فرض ہے کہ وہ خدا کے سامنے کامل بندگی کا اظہار کریں۔ اس بنیادی عقیدے میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ خیر آبادی اس بات پر بھی اتنا ہی زور دے رہے تھے کہ خدا کی وحدانیت اور اس کی مخلوق کے مقامات ومراتب میں، جو اس نے خود ترتیب دیے ہیں، کوئی تناقض نہیں۔ خدا کی بارگاہ میں ہر ہستی کو ایک مخصوص منصب اور عالی رتبہ عطا کیا گیا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ جیسے بعض ہستیوں کو انتہائی قربت اور عزت دی گئی ہے، اسی طرح دیگر لوگوں کو مردود وگمراہ کر دیا گیا ہے۔ بارگاہ الہی میں ہر کسی کو اس کی عزت اور مقام کے اعتبار سے درجہ دیا گیا ہے۔  خدا کے محبوب کا کبھی وہ مقام نہیں ہو سکتا جو مردود کا ہے وغیرہ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ گناہ گاروں کی خاطر سفارشیوں کے سفارش کی قبولیت اور اثر انگیزی کا دار مدار بھی خدا کے ان سے تعلق کی گہرائی پر ہے۔ بالفاظ دیگر کسی سفارشی کو سفارش کی اجازت ملنے کا انحصار خدائی محبت کے نظام میں اس کے مقام ومرتبے پر ہے۔ علاوہ ازیں، اور یہ سب سے اہم ترین نکتہ ہے، خدا کا کسی کی سفارش کو قبول کرنا اس کے مقام ومرتبے کا اعتراف ہے (263 – 265)۔

سفارش کا واضح مقصد کسی مجرم کے جرائم معاف کرانا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سفارش کا عمل خدا کی محبوب ہستیوں کے ممتاز مقام ومرتبہ کی تصدیق کرتا ہے۔ خیر آبادی کے الفاظ میں: "کسی کی سفارش کو قبول کرنا محبت کے آثار میں سے ہے" (334)۔ اس نکتے کی تائید میں انھوں نے ایک شعر نقل کیا ہے (ترجمہ): کسی نے ایک عاشق سے پوچھا: کہ فراق اور وصال دونوں میں کون سا بہتر ہے؟ عاشق نے جواب میں کہا: وہی جس سے معشوق کو خوشی ملتی ہو۔ بگفتا وصل بہ یا ہجرانہ دوست۔۔۔۔ بگفتا ہر چہ میلِ خاطرِ اوست (288)۔

خیر آبادی نے دعوی کیا کہ بارگاہ الہی میں کوئی ہستی  اس قدر معزز، بلند مرتبت اور محبوب ترین نہیں جس قدر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ انھوں نے لکھا: "قیامت کے دن انبیا کے علاوہ کسی کو بھی بارگاہِ الہی میں بولنے کی اجازت نہیں ہوگی" (275)۔ شاہ اسماعیل کے برعکس، جن کی نظر میں نبی اکرم ﷺ کی طرف سفارش کی غیر معمولی صلاحیت کی نسبت خدائی حاکمیت کے لیے ایک خطرہ ہے، خیر آبادی کے نزدیک خدائی حاکمیت اور نبی علیہ السلام کا امتیازی مقام ایک دوسرے کے مؤید ہیں23۔

خیر آبادی نے واضح کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ وہ ایک مشہور حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: "ایک ایمان دار مسلمان کے لیے رسول اللہ ﷺ کو اپنی ذات، والدین، اولاد اور تمام انسانیت سے بڑھ کر محبوب ماننا چاہیے" (400)۔ اس کے ساتھ خیر آبادی کی نظر میں خدا کی قدرت اور پیغمبر ﷺ کی عظمت کے درمیان کوئی تضاد نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی انھی کائناتی صفات کی تصدیق ہی سے ایک بندہ خدا کے حضور اپنی بندگی کا اعتراف کرتا ہے۔ خیر آبادی نے استدلال کیا کہ یہ موقف قرآن میں وہاں صاف طور پر مذکور ہے جہاں  خدا اپنے پیغمبر سے کہتا ہے: "جو لوگ سے آپ سے بیعت کر رہے، در حقیقت وہ خدا سے بیعت کر رہے ہیں، خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے"24۔ خیر آبادی نے متعدد احادیث کا حوالہ بھی دیا ہے جو ان کی نظر میں ناقابل تردید انداز میں رسول اللہ ﷺ کے عالی رتبے کا اثبات کرتی ہیں: مثلاً شُرَیح بن یونس فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین میں گشت کرتے  ہیں اور اس گھر کی کثرت سے زیارت کرتے ہیں جس میں احمد یا محمد نام رکھنے والا کوئی شخص ہو" (295)۔ اور "قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کو صرف اپنی امت کی سفارش کے اور کسی چیز کی فکر نہیں ہوگی۔ جب تمام انبیا اپنے انجام کی خاطر پریشان ہو کر رو رو کر کہہ رہے ہوں گے: نفسی نفسی (میری جان بچ جائے)، ایسے میں رسول اللہ ﷺ رو رو کر امتی امتی ( میری امت بچ جائے) کہہ رہے ہوں گے (322)۔

خدائی قدرت اور نبوی مقام کے درمیان تعلق کے تصور کو شاید سب سے بہتر انداز میں بیان کرنے لیے ان کی نقل کردہ احادیث میں یہ موزوں ترین ہے:

"قیامت کے دن انبیاے کرام کے لیے منبر رکھے جائیں گے جن پر وہ بیٹھ جائیں گے۔ میرا منبر خالی رہے گا، میں اس پر نہیں بیٹھوں گا۔ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے حبیب! تم کیا چاہتے ہو کہ تمھاری امت سے کیسا معاملہ کروں [ماتريد أن أصنع بأمتك]؟  میں عرض کروں گا: اے پروردگار! ان کا حساب جلدی فرما۔ پس انھیں بلایا جائے گا اور ان کا حساب لیا جائے گا۔ ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو اللہ تعالی کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے، اور بعض میری شفاعت سے" (327 – 28)۔

نیز اپنی امت کی اخروی نجات کے لیے حضور ﷺ کی بے انتہا فکرمندی بھی ملاحظہ فرمائیں، جیسا کہ اس حدیث میں ہے: "اور میں شفاعت کرتا رہوں گا حتی کہ مجھے ایسے لوگوں کے ناموں کے دفتر دے دیے جائیں گے جن کے لیے جہنم کا حکم ہو چکا ہوگا، اور مجھے جہنم کا داروغہ کہے گا: یا رسول اللہ! آپ نے اپنی امت میں خدا کے غضب کی کچھ بھی سزا نہیں رہنے دی" (328)۔

خلاصۂ کلام یہ کہ شفاعتِ نبوی پر خیر آبادی کی بحث میں دو بنیادی استدلالات یہ تھے: (1) اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کے حق میں محمد ﷺ کی سفارش ہمیشہ قبول کرتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کی بارگاہ میں محبوب ترین اور بلند ومقام ومرتبے پر فائز ہیں۔ اور (2) قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ سفارش کے طلب گاروں کی مسلسل سفارش کریں گے، تا کہ ان کی مغفرت اور جنت میں ٹھکانے کو یقینی بنائیں۔

سفارش اور سینہ زوری میں فرق

خیرآبادی کے تصورِ شفاعت پر ایک بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر خدا اپنے محبوب (نبی ﷺ) کی ہر سفارش قبول کرتا ہے تو پھر اپنی بارگاہ کے معاملات کو سنبھالنے میں خدا کی اپنی حاکمیت کا کیا ہوگا؟ دوسرے لفظوں میں اگر خدا اپنے پیغمبر کی سفارش کو رد نہیں کرتا تو پھر خدا کی تشریعی قدرت کی حیثیت کیا ہے؟ خیر آبادی اس ممکنہ اعتراض کو سفارش اور تحکم کے درمیان فرق پر زور دینے کے ذریعے زیر بحث لائے ہیں۔ "ہر دانا ونادان یہ جانتا ہے کہ سفارش ایک چیز ہے اور سینہ زوری اور۔ سفارش میں سینہ زوری نہیں ہوتی" (ہر عاقل ونادان می دانند کہ سفارش دیگر است وتحکم دیگر است۔ در سفارش تحکم نہ می باشد) (264)۔ یہ وضاحت خیر آبادی نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کی ہے، کیونکہ ان کی نظر میں اسے بالکل ایک واضح نکتے کی تشریح پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ خدا کا کسی کی سفارش کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے علاوہ کسی اور ہستی کو اس کے کارخانۂ قدرت میں مداخلت کا حق ہے۔ خدا اپنے مقربین اور محبوبین کی سفارش کو اس لیے قبول کرتا ہے تاکہ اپنی بارگاہ میں ان کے بلند مقام ومرتبے کو واضح کرے۔ تاہم کسی سفارش کی قبولیت یا تردید کا فیصلہ صرف اس کا ذاتی استحقاق ہے۔ مختصر یہ کہ خدا اپنے مُقَرّبین کی سفارش کسی دباو یا نقصان کی وجہ سے نہیں بلکہ محبت کی وجہ سے قبول کرتا ہے (263 – 70)۔

خدائی اور نبوی قدرت وعظمت کے درمیان ہم آہنگی پیدا  کرتے ہوئے اس مقام پر خیر آبادی کو ایک منطقی تضاد کا سامنا تھا۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ خدا اپنی بادشاہت میں حاکمِ مطلق مختارِ کل ہے جو کسی سے حکم وصول نہیں کرتا۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ بارگاہِ الٰہی میں حضور ﷺ کو ایسا بلند مقام ومرتبہ حاصل ہے کہ ان کی سفارش کبھی رد نہیں کی جاتی۔ کیا اس سے خدا اور نبی ﷺ کے اختیار میں الجھن کا خطرہ نہیں پیدا ہوتا؟ خیر آبادی کی نظر میں بالکل نہیں پیدا ہوتا۔ وہ بنیادی فرق علّیت (causality) کا ہے جو اختیار کی ان دو قسموں کو الگ کرتا ہے۔ خدا کسی کے خوف یا دباو میں آکر سفارش قبول نہیں کرتا، بلکہ سفارش کرنے والے سے محبت کی خاطر قبول کرتا ہے۔

خیر آبادی آگے دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر خدا دباو میں آکر سفارش قبول کرتا ہے پھر تو اس کے پاس اپنی بادشاہت کے لیے درکار حاکمیت ہی موجود نہیں۔ ایسی صورت میں وہ ایک بے اختیار بادشاہ ہے جو صرف براے نام حکمران ہے۔ حقیقت میں اس کے وزیر ہی حکومت کے تمام امور پر مسلط ہیں۔ سیاسی طور پر ایسا بے اختیار  بادشاہ وہی کرے گا جو اس کے وزیر مشیر اس سے کروانا چاہیں گے۔ اسے یہ خوف لاحق ہوگا کہ اگر وہ ان کے مطالبات پورے نہ کرے تو اس کے نتیجے میں اس کی کمزور اور ظاہری حکومت بھی جاتی رہے گی۔ چونکہ ایسا بادشاہ بالکل اپنے وزیروں کے تابع ہے، اس لیے اس کا کسی کی سفارش کو قبول کرنا اطاعت وفرمان برداری ہے نہ کہ سفارش قبول کرنا (فرمان برداری واطاعت است، نہ قبولِ شفاعت) (264)۔ ایسی صورت، خیر آبادی نے بتایا، بارگاہِ الٰہی میں ممکن ہی نہیں۔

خیر آبادی نے شاہ اسماعیل پر سخت تنقید کی کہ سفارش اور سینہ زوری کے درمیان اس قدر اہم فرق کی طرف ان کا دھیان کیوں نہیں گیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سفارش کی درخواست اور سینہ زوری مکمل پر طور دو الگ چیزیں ہیں ۔ یہ خوف نہیں بلکہ کسی محبوب کے بلند مقام ومرتبہ کے اعتراف کی خواہش ہے جو کسی حاکم اعلیٰ کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ کسی سفارشی کی درخواست کو قبول کرے۔

خیر آبادی نے استدلال کیا کہ شاہ اسماعیل جس بات کے سمجھنے میں ناکام رہے، وہ یہ تھی کہ محبت سفارش کی قبولیت کی واحد وجہ ہے، جو کسی بھی خوف یا دباو سے آزاد ہوتی ہے۔ خیر آبادی نے شاہ اسماعیل کو اس بات کے لیے بطور خاص تنقید کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے گناہ گاروں کی بخشش کے واسطے رسول اللہ ﷺ کی دست گیری کو باطل ٹھہرایا، اور عوام میں ناامیدی کا زہر پھیلایا ہے۔ خیرآبادی نے نسبتاً تیکھے انداز میں لکھا: "ہم نافرمان گنہ گاروں، شفاعت کے امیدواروں کو غلط فہمی (اور جہالت) سے منسوب کرکے وہ خود غلطی میں پڑا گیا ہے، اور دوسروں کو غلطی میں ڈالنے کی کوشش کی ہے، کیوں کہ ثابت ہو چکا کہ حضور ﷺ کی شفاعت اہل کبائر کے لیے یقینی ہے، لہذا سفارش کے امیدواروں کو غلط فہمی میں مبتلا اور خطاکار کہنا بہت بڑی خود فراموشی، غلط فہمی اور بد دینی ہے۔ خدا کرے جو شفاعت سے نا امید ہو، نا امید رہے" (ایں قائل امیدواری را بہ فراموش کاری نامیدہ، بہ گناہ گارانِ بے طاعت امیدوارانِ شفاعت را بغلط کاری نسبت کردہ، خود در غلط وتغلیط افتادہ۔۔۔۔ ہر کہ از شفاعت نومید باشد نومید ماند) (330)۔

خیر آبادی نے اس بات پر بھی شاہ اسماعیل کی گرفت کی کہ انھوں نے شفاعت بالاذن کے تصور کو مکمل طور پر مسخ کرکے پیش کیا ہے۔ شاہ اسماعیل نے شفاعت بالاذن کی صورت کچھ یوں بیان کی تھی کہ ایک بادشاہ، سفارش کی درخواست موصول ہونے سے پہلے مجرم کو معاف کرنے کا فیصلہ کر چکا ہو۔ اس صورت میں سفارش کا مقصد صرف بادشاہ کے اصولی رجحان کی تائید ہے؛ یہ بادشاہ کے فیصلے کی علت نہیں۔ خیر آبادی نے اس استدلال کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے بتایا کہ سفارش کو بے مقصد اور فالتو ہونے سے بچانے کے لیے لازمی ہے کہ وہ مجرم کی براءت کی اصل علت ہو (335)۔

خیر آبادی کے نزدیک شاہ اسماعیل کا یہ نکتہ کہ شفاعت بالاذن صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب بادشاہ نے پہلے سے مجرم کو معافی دینے کا ارادہ کر لیا ہو، سفارش کو بالکل لغو اور بے کار بنا دیتا ہے (در ایں صورت شفاعت لغو وباطل است)۔ خیر آبادی نے اعتراض کیا کہ سفارش کا فائدہ ہی کیا ہے اگر ایک بادشاہ نے سفارش موصول ہونے سے پہلے گنہگار پر رحم کر دیاہو؟ اس نے اپنا نقطۂ نظر سمیٹتے ہوئے کہا: "سفارش اس صورت میں کارآمد ہے، جب وہ مؤثر ہو" (335)۔ خیر آبادی نے اپنے تجزیے کو سمیٹتے ہوئے شاہ اسماعیل کی علمی حیثیت پر بالواسطہ انداز میں ایک تبصرہ داغا: "یہ قائل یا تو جاہل ہے جو اپنے آپ کو عالم ظاہر کرنا چاہتا ہے، اسے سفارش کا معنٰی ہی معلوم نہیں، یا عالم ہے جو جہالت کا مظاہرہ کر رہا ہے کہ سفارش کا معنی الٹ دکھاتا ہے" (قائلِ یا جاہل متعلم است کہ معناے سفارش در فہم او نہ می آید، یا عالم متجاہل است کہ معناے سفارش واضح گونہ می نماید) (330)۔

شمٹ کے نظریات کی رو سے، خیر آبادی شاہی معاشرتی تصور کے سب سے بہترین محافظ تھے۔ وہ نہ صرف استثنائی صورت – شفاعت کے خصوصی اختیار– کے قائل تھے، بلکہ انھوں نے اسے ایک عام آدمی کے لیے بارگاہ الہی میں گناہوں کی معافی کے لیے اسے ایک ضروری شرط بھی قرار دیتے تھے۔ خیر آبادی نے کھل کر یہ واضح کیا کہ روز محشر کوئی بھی شخص حضور ﷺ کی سفارش کے بغیر بخشش کا پروانہ حاصل نہیں کر سکتا۔ اس سیاق میں بطور خاص راہ نما نکتہ یہ ہے کہ نبوی اختیار کی حدود کے لیے ان کے تشکیل کردہ استدلال میں ان کی جانب داری اور سماجی مقام کا اظہار کس طرح ہوا۔ ایک بار پھر میرے مقاصد کے لیے جس قدر ان کا استدلال اہم ہے، اسی قدر اس استدلال کی زبان اہم ہے۔

شفاعت پر خیر آبادی کی فکر میں مغل افسر شاہی (bureaucracy) کی علامتیت (symbolism) سرایت کیے ہوئے ہے۔ مثلاً روز قیامت کا منظر پیش کرتے ہوئے خیر آبادی نے رسول اللہ ﷺ کی ایک واضح تصویر کشی کی ہے کہ وہ گنہ گاروں کی طرف سے سفارش کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی فائلوں (دفاتر) کی چھان پھٹک کر رہے ہوں گے۔ نبی ﷺ بذات خود تمام فائلوں کو نظر سے گزاریں گے، اور اپنے ہر درخواست گزار کو بخشش کا پروانہ عطا کریں، جس کے نتیجے میں اسے جنت میں ٹھکانہ ملے گا۔ درحقیقت خیر آبادی کا یہ تصور کہ دربارِ الہی میں نبی ﷺ کی حیثیت سب سے بلند مرتبت افسر کی ہے، گہرے طور پر ایک ایسے پروجیکٹ سے مربوط ہے جس کا مقصد نظام مراتب اور امتیازات پر قائم ایک سیاسی اور قومی مزاج کا تحفظ تھا۔

(جاری)

حواشی

  1. فضل رسول بدایونی، عقیدۂ شفاعت کتاب وسنت کی روشنی میں (بدایون: تاج الفحول اکیڈمی، 2009)، 84؛ محمد موسیٰ دہلوی شاہ اسماعیل کے چچا شاہ رفیع الدین دہلوی کے صاحب زادے تھے۔
  2. مارگریٹ پرناو نے بہت عمدہ طریقے سے اس کتاب کی تاریخ کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ جیل میں اس کتاب کی تکمیل کے بعد یہ "کاغذ اور کپڑے کے کباڑوں میں خفیہ طریقے سے ان کے بیٹے کو ہندوستان بھیجی گئی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے نے اس کتاب کے پارچوں کی از سر نو تدوین کی، اور اسے ان ہندوستانی علما کے پاس بھیج دیا جنھوں نے 1857 کے بعد مکہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ وہاں سے یہ پارچے پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر واپس آگئے۔ عوام میں اس کا ذکر پہلی بار 1914 میں ہوا"۔ پرناو اس کتاب کی تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں، جس سے میں اتفاق کرتا ہوں، کہ: "کتاب کے مواد اور ساخت میں تحریفات کے وقوع سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، لیکن فی الحال ایسی کسی تحریف کا کوئی ثبوت موجود نہیں"۔ مارگریٹ پرناو، Ashraf into Middle Classes: Muslim in Nineteenth-Century Delhi (نیو دلی، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2013)، 229 – 30.
  3. فضل حق خیر آبادی، الثورۃ الہندیۃ (باغی ہندوستان) (لاہور: مکتبۂ قادریہ، 1977)، 252۔
  4. برصغیر میں اسلامی علم الکلام اور فلسفے میں خیر آبادی مکتبِ فکر کی خدمات کی ایک عمدہ تحقیق کے لیے ملاحظہ کیجیے: The Oxford Handbook of Islamic Theology، اسد احمد اور رضا پورجوادی، “Theology in Indian Subcontinent” تدوین: سَبین شمتکے (آکسفرڈ: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2016)، 606 – 24۔
  5. اسید الحق بدایونی، خیر آبادیات (لاہور: مکتبۂ اعلیٰ حضرت، 2011)، 24 – 25۔
  6. عبدالحئی حسنی، نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر، ج 5 (دار عرفات: طیب اکیڈمی،1993)، 586۔
  7. اسید الحق بدایونی، خیر آبادیات، 89 – 102۔
  8. یہ لقب عام طور پر حضرت علی سے منسوب کیا جاتا ہے۔
  9. فضل رسول بدایونی، البوارق المحمدیۃ لرجم الشیاطین النجدیۃ (لاہور: دارالاسلام، 2014)؛ فضل رسول بدایونی، الفوز المبین بشفاعۃ الشافعین، مجموعۂ رسائل بدایونی کے ذیل میں (کراچی، دارالنعمان، 2010)؛ فضل رسول بدایونی، سیف الجبار المسلول علی اعداء الابرار (لاہور: مکتبۂ رضویہ، 1973)؛ فضل رسول بدایونی، احقاق الحق وابطال الباطل (بدایون: تاج الفحول اکیڈمی، 2007)؛ فضل رسول بدایونی، المعتقد المنتقَد (استنبول: حقیقت کتابوی، 1985)۔
  10. فضل رسول بدایونی، مجموعۂ رسائل، 7 – 95۔
  11. فضل رسول بدایونی، مجموعۂ رسائل؛ البوارق المحمدیۃ؛ "الفوز المبین؛ سیف الجبار؛ احقاق الحق؛ اور المعتقد المنتقَد۔
  12. بدایونی نے یہ کتاب مکہ کے ایک عالم کی درخواست پر لکھی تھی۔
  13. ایضاً، 131۔
  14. برطانویوں کے ساتھ خیر آبادی کے تعلقات اور 1857 کی جنگ آزادی میں اس کے کردار کے ایک تفصیلی جائزے کے لیے دیکھیے: Indian Economic and Social History Review 43، نمبر 1 (مارچ 2006) میں: جمال ملک، Letters, Prison Sketches, and Biographical Literature: The Case of Fazl-e-Haq Khairabadi in the Andaman Penal Colony ، 77 – 100۔
  15. الحسنی، نزهة الخواطر، 586۔
  16. اسید بدایونی، خیر آبادیات، 107۔
  17. احمدیوں کے عقیدۂ نبوت اور اسلامی فکر میں اس کی حیثیت کے لیے دیکھیے: یوحانن فرائیڈمین کی کلاسیک، Prophecy Continuous: Aspects of Ahmadi Religious Thought and Its Medieval Background (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 1989)۔ مزید دیکھیے عادل خان کی عمدہ کتاب، From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia (بلومنگٹن: انڈیانا یونیورسٹی پریس، 2015)۔
  18. خیر آبادی نے لگ بھگ 1848 اور 1853 کے درمیان امکان نظیر کی تردید ایک اور بنیادی اور معروف کتاب "امتناع نظیر" کے نام سے لکھی۔ یہ خیر آبادی کی جانب سے شاہ اسماعیل کی تردید پر سید احمد کے شاگرد حیدر علی ٹونکی (م 1865) کا جواب الجواب ہے۔ (اسید بدایونی، خیر آبادیات، 135، 162 – 71)۔
  19. فضل حق خیر آبادی، تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی (لاہور: مکتبۂ قادری، 1979)، 261؛ آنے والے حوالہ جات اسی اشاعت سے لیے گئے، اور بین القوسین متن میں دیے گئے ہیں۔ احمد دلال نے بتایا ہے کہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے احیا پسند بڑے مسلمان اہل علم میں سے محمد بن عبد الوہاب اس حوالے سے منفرد تھے کہ انھوں نے ایسے اعمال کی بنیاد پر دوسرے مسلمانوں کی تکفیر کی جو ان کی نظر میں خدائی حاکمیت (توحید) پر سمجھوتے کے نتیجے میں اعتقادی نافرمانی کے مترادف  تھے (احمد دلال،”The Origins and Objectives of Islamic Revivalist Thought: 1750-1850”، جرنل آف امیریکن اورینٹل سوسائٹی 113، نمبر 3 [1993]: 341 – 59)۔ اس نکتے کی روشنی میں یہ بات مفید ہوگی کہ انیسویں صدی کے ہندوستانی تناظر میں زیر بحث مناقشے میں خیر آبادی اور بعد ازاں احمد رضا خان نے، جو ابن عبد الوہاب کے مسلکی مخالفین تھے، اپنے مخالفین پر کفر کے فتوے لگائے۔ اس کا مقصد محض یہ بتانا نہیں کہ تکفیر صرف اور صرف وہابیوں کا کام نہیں، بلکہ یہ بھی واضح کرنا ہے کہ ایسے فتووں کا سبب اعتقادی خرابی کے متنوع مفاہیم ہیں جن میں کسی کو حضور ﷺ کے مقابلے میں لاکھڑا کرنا بھی شامل ہے۔ تکفیری استدلالات اور نظریات جو تکفیر کے تیروں کا محرک بنے، بڑی حد تک متنوع تھے، اور ان کا نشانہ بننے والے اہداف غیر متوقع تھے۔
  20. بحوالہ خیر آبادی، تحقیق الفتوی، 265۔
  21. خیر آبادی، تحقیق الفتوی، 267۔ حدیث قدسی سے مراد وہ حدیث ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو روایت کرتے ہیں۔
  22. القرآن 2 : 253۔
  23. نبوات کے متعلق ایسی روایات کے ایک عمدہ جائزے کے لیے دیکھیے: کارل ارنسٹ، “Muhammad as the Pole of Existence”، کیمبرج کمپینین ٹو محمد، مدونین: جوناتھن براکپ (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2009)۔ نیز دیکھیے: اینے میری شمل، And Muhammad Is His Messenger: The Veneration of the Prophet in Islamic Piety (چیپل ہل: یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا پریس، 1985)۔
  24. القرآن 48 : 10۔

’’مولانا مودودیؒ کا تصور جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘

پیرزادہ عاشق حسین

’’مولانا مودودیؒ کا تصور جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘

مصنّف: مراد علی

ناشر: شیبانی فاؤنڈیشن،اسلام آباد

صفحات: 276

رابطہ: 923335915287+

ای میل: shaybanifoundation.pk@gmail.com

مولانا مودودی کے حوالے سے مشرق و مغرب میں جن موضوعات کو زیادہ تر مشق سخن بنایا گیا ان میں "جہاد" اور " سیاسی اسلام" سر فہرست ہیں۔ مغرب سے تعلق رکھنے والے محققین نے کئی وجوہات کی بناء پر مولانا مودودی کو مکمل طور پر نہیں پڑھا کیونکہ آپ کی فکر سے متعلق چند بنیادی چیزیں ایسی ہیں کہ جن تک ان کی رسائی ممکن نہ تھی لہذا انہوں نے انتہائی علمی بد دیانتی سے کام لے کر اسلامی انتہا پسندی (Islamic Extremism)، اسلامی بنیاد پرستی (Islamic Fundamentalism) اور عسکریت پسندی کو مولانا مودودی اور ان کی فکر کے ساتھ نتھی کیا اور کہا گیا کہ مولانا مودودی ہی موجودہ زمانے میں دنیا سے کفر مٹانے کے اصل نظریہ ساز ہیں۔ عالمی سطح پر عسکریت پسندوں کو بنیادی غذا انہی کی فکر سے ملی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کی جس کتاب کو ہدف تنقید بنایا گیا وہ " الجہاد فی الاسلام" ہے۔ حالانکہ کسی بھی فکر پر تنقید کرنے یا اس پر تحقیق کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس فکر کے ایک ایک جزو پر نظر ہو اور مجموعی موقف اختیار کرنے یا کسی کی طرف کوئی بات منسوب کرنے کیلئے ہر پہلو کو پیش نظر رکھنا لازمی ہے۔ مشرق کی طرف خاص طور پر اردو دان طبقے کی طرف نظر دوڑائیں تو ادھر بھی مولانا مودودی کے تصور جہاد پر تنقید کرنے والے اہل علم نے محدود لٹریچر کی بنیاد پر رائے قائم کرکے مولانا کی طرف کہیں تو "شوکت کفر" والی بات منسوب کی اور کہیں ان کے موقف کو "پریشان خیالی" سے تعبیر کیا۔

اس پورے پس منظر میں اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ مولانا مودودی کے تصور جہاد پر کوئی ایسا شخص قلم اٹھائے جس کی نہ صرف مولانا کے لٹریچر پر گہری اور دقیق نظر ہو بلکہ ساتھ ہی اس کے اندر یہ ملکہ/مہارت بھی ہو کہ وہ اس تصور جہاد پر کئے جانے والے اعتراضات کا جائزہ بھی لے سکتا ہو اور پھر اس کا موازنہ فقہی تراث سے بھی کرسکتا ہو۔ زیر نظر کتاب فاضل مصنف نے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاکر اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کماحقہ کوشش کی ہے اور وہ قرض جو کہ اہل علم کے ذمے تھا اسے بھر پور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فاضل مصنف کی اس کتاب میں اسی موضوع سے متعلق مباحث کو تحقیق کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے مولانا کے نظام فکر کی بنیادی خصوصیات واضح کی ہیں، ان کے تصور تصور جہاد کی تفصیلات کو بھی بیان کیا ہے، اس کی فقہی بنیادیں بھی واضح کی ہیں اور اس پر مبنی نظام فکر اور تصور جہاد پر کئے جانے والے اعتراضات کا محاکمہ بھی کیا ہے۔

فاضل مصنف اور نوجوان محقق برادرم مراد علی کا تعلق اپر دیر خیبر پختونخوا سے ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کی ہے اور اب یہیں سے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں ایم ایس کر رہے ہیں۔ آپ اقبال انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے تحقیقی منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ملک کے مؤقر جرائد میں آپ کے کئی تحقیقی مقالات بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ستمبر2020ء میں  انہوں نے "شیبانی فاؤنڈیشن" کے نام سے ایک تحقیقی ادارے کی داغ بیل ڈالی اور دو سال کے مختصر عرصے میں انتہائی اعلی معیار پر مبنی چار تحقیقی کتب شائع کیں۔ اس کے علاؤہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام انہوں نے کئی اہم علمی موضوعات پر سیمینارز اور ویبینارز کا انعقاد کیا۔

برادرم مراد علی سے میرا تعلق چار ساڈھے چار سال پر محیط ہے۔ 2018 میں ہماری پہلی ملاقات ہوئی، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اکٹھے رہے۔ اکثر اوقات علمی موضوعات اور سلگتے مسائل پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ ان کے علمی اور تحقیقی کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتا رہا ہوں اور سب سے بڑھ کر زیر بحث کتاب کی پروف خوانی کی ذمے داری راقم کے ذمے تھی جو کہ میرے لئے انتہائی فخر کی بات ہے۔ پروف ریڈنگ کے دوران میں نے کتاب ہذا کے لفظ لفظ کو پڑھا ہے اور کئی مقامات پر تو باقاعدہ ڈیرے ڈالے ہیں لہذا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ فاضل مصنف نے اپنی اس تحقیق کے دوران انتہائی علمی دیانت داری سے کام لیا ہے۔ یہ کتاب چونکہ فاضل مصنف کی کم و بیش پانچ سالہ مطالعے اور غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ اسے منظر عام پر لانے کیلئے فاضل مصنف نے جس محنت شاقہ اور لگن سے کام لیا ہے وہ انتہائی قابل رشک ہے کیونکہ میں خود اس کا گواہ ہوں۔ لہذا مجھے یہ بات کہنے میں ذرا بھی باک نہیں ہے کہ بر صغیر میں فکر مودودی پر کام کرنے والے محققین میں فاضل مصنف کا نام صف اول میں شامل کئے جانے کے مستحق ہے۔

کتاب مجموعی طور پر معلومات سے بھر پور ہے۔ یوں تو اس کا ہر ایک باب ایک سے بڑھ کر ایک ہے لیکن میرے نزدیک سب سے اہم اس کے دو ابواب ہیں: باب دوم: "مولانا مودودی کی فکر کی تفہیم کے بنیادی اصول" اور سب سے اہم ترین باب نہم: مولانا مودودی اور شدت پسندی" ہے۔

زیر نظر کتاب (9) نو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب کا عنوان " الجہاد فی الاسلام کا تاریخی پس منظر" ہے جس میں فاضل مصنف نے مولانا کی تصنیف الجہاد فی الاسلام کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے کہ برطانوی سامراج سے مرعوب  مسلمان اہل علم جب معذرت خواہانہ لہجے میں اسلام کا دفاع کر رہے تھے تو کس طرح مولانا مودودی نے اپنے پیش روؤں کی طرح معذرت خواہانہ لہجہ اپنانے کے بجائے پورے اعتماد اور ایقان کے ساتھ اسلام کا تصور جہاد دنیا کے سامنے پیش کیا۔

کتاب کے دوسرے باب کا عنوان " مولانا مودودی کی فکر کی تفہیم کے بنیادی اصول" ہے۔ یہ باب نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے مولانا کی فکر جہاد کے مآخذ سے بحث کی ہے اور یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ مولانا کی فکر جہاد کو سمجھنے کے لئے صرف الجہاد فی الاسلام کا مطالعہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لئے مولانا کی دیگر تصانیف جن میں خاص طور پر تفہیم القرآن ، رسائل و مسائل، اسلامی ریاست ، تفہیمات ، سود کا ضمیمہ نمبر(3)، اور تصریحات وغیرہ کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے اندر جگہ جگہ مولانا نے اس موضوع کو زیر بحث لایا ہے اور مختلف وضاحتیں دی ہیں۔ یہ بات اس لئے زور دیکر کہی گئی ہے کیونکہ مولانا کی فکر جہاد پر مشرق و مغرب میں جو بھی تنقید ہوئی ہے اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہی ہے کہ مولانا کی فکر جہاد کو صرف الجہاد فی الاسلام سے لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کے تیسرے باب کا عنوان "اخلاقی و کلامی اور قانونی و فقہی فرق" ہے۔ اس باب کے اندر فاضل مصنف نے مولانا مودودی تصور جہاد کے حوالے سے جس انتہائی اہم پہلو کو سامنے لایا ہے وہ یہ ہے کہ مولانا مودودی نے جہاد کے حوالے سے دو (٢) پہلوؤں سے بحث کی ہے۔ ایک اخلاقی اور کلامی ہے اور دوسرا قانونی اور فقہی۔ اس کی وضاحت میں فاضل مصنف فرماتے ہیں کہ مولانا نے اپنی تصانیف الجہاد فی الاسلام، خطبات، دینیات وغیرہ میں جہاد کے اخلاقی اور کلامی پہلو کو اجاگر کیا ہے جبکہ تفہیم القرآن میں جابجا، اور بالخصوص سود کے ضمیمہ نمبر (٣) میں جہاد کے قانونی اور فقہی پہلو پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس طرح باب سوم میں فاضل مصنف نے زیادہ تر بحث جہاد کے اخلاقی اور کلامی پہلو پر کی ہے۔

جہاں تک جہاد کے قانونی اور فقہی پہلو کا تعلق ہے تو فاضل مصنف نے باب چہارم سے لیکر باب ہشتم تک مختلف عنوانات کے تحت اسی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور تفصیل سے اس پر کلام کیا ہے اور تقریبا ایک سو کے قریب صفحات اس پر خرچ کئے ہیں۔

کتاب کے سب سے آخری اور اہم ترین باب کا عنوان "مولانا مودودی اور شدت پسندی" ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے انتہا پسندی کو مولانا مودودی کی فکر کے ساتھ جوڑنے کی کوششوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اور مختلف عنوانات کے تحت تفصیل سے واضح کیا ہے کہ کیوں یہ نسبت غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس باب میں فاضل مصنف مولانا مودودی کی دستوری قانونی اور تحریکی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر بات کرتے ہیں اور دلائل سے ثابت کرتے ہیں کہ مولانا کی قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کی پوری کی پوری جدوجہد قانونی اور دستوری تقاضوں کے عین مطابق تھی۔ اور باب کے آخر پر نتائج بحث کو ان الفاظ میں سمیٹتے ہیں کہ:

"ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا مودودی اپنے مطلوبہ نظریہ کے نفاذ کے لیے خفیہ تحریک، فوجی انقلاب، مسلح جدوجہد، قتل و غارت اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ مولانا مودودی کو کئی بار جیل میں ڈالا گیا، پھانسی کی سزا سنائی گئی، آپ پر ہر دور میں ارباب اقتدار نے گھیرا تنگ کیا ، آپ کو قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں، آپ کی جماعت کے مجلے اور اخبارات پر پابندیاں لگائی گئیں لیکن آپ نے کبھی اپنے اصول سے ذرا بھی انحراف نہیں کیا۔ دور ایوب مولانا مودودی کی زندگی کا دور ابتلاء (Ordeal) ہے۔ آپ پر ہر جانب سے غیر اخلاقی اور غیر قانونی حملے کئے گئے، اجتماعات پر پابندی لگائی گئی، آپ کے کارکنوں کو شہید کردیا گیا لیکن آپ نے پھر بھی تشدد کا راستہ اختیار نہ کرنے اور قانون کو ہاتھ میں نہ لینے کی نصیحتیں بار بار دہرائیں".

میں سمجھتا ہوں اس آخری باب کا مطالعہ نہ صرف مولانا مودودی کے ناقدین کے لئے ضروری ہے بلکہ مولانا کی فکر سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی اس باب کا بغور مطالعہ نہایت مفید اور ضروری ہے۔ جس کے نتیجے میں امید کی جاسکتی ہے  کہ مولانا کی فکر سے متعلق بہت ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی اور بہت سارے مفروضات غلط ثابت ہو جائیں گے۔ 

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو برادرم مراد علی کا کام نہایت شاندار اور بر وقت ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ موضوع سے متعلق سارا مواد اس میں یکجا ہوگیا ہے جو کہ محققین کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ نیز فاضل مصنف نے نہ صرف یہ کہ مولانا کی چھوٹی بڑی ساری تصانیف کو کھنگالا ہے بلکہ ان کی نشری تقاریر، ان کے خطوط حتی کہ ان کی تنقید میں لکھی گئی کم و بیش ہر قابل ذکر تحریر سے خوب استفادہ کیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ کوئی بھی بات بغیر دلیل اور حوالے کے نقل نہیں کی ہے۔

 فاضل مصنف برادرم مراد علی علمی اور تحقیقی حلقوں کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ کتاب لکھ کر  ایک دینی اور فکری ضرورت کی تکمیل کی ہے۔ امید ہے کہ اس کاوش کو قدر و مقبولیت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور اس سے خاطر خواہ استفادہ کیا جائے گا۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی یہ کوشش اپنی بارگاہ میں قبول کرے، اسے ان کے لئے دنیا و آخرت میں کامیابیوں کا ذریعہ بنائے اور انہیں مزید ایسی علمی اور تحقیقی کوششیں جاری و ساری رکھنے کی توفیق دیتا رہے۔