معاشرتی آداب واحکام کا جبری نفاذ
محمد عمار خان ناصر
سعودی عرب، ایران اور افغانستان میں قائم مذہبی حکومتوں میں معاشرے کی اسلامی تشکیل کا جو تصور اور حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے محل نظر ہے۔
دینی اعتبار سے اس میں دو بڑی خرابیاں ہیں:
ایک یہ کہ جن دینی اقدار اور آداب کی پابندی کو رواج دینے کا اصل طریقہ وعظ ونصیحت اور اخلاقی تربیت ہے (جبکہ قانونی اقدام کو کسی انتہائی سنگین اور واضح تجاوز تک محدود ہونا چاہیے) ان کو ریاستی طاقت کے زور پر نافذ کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
دوسری یہ کہ جن مسائل میں ایک سے زیادہ دینی تعبیرات موجود یا ممکن ہیں، ان میں کسی ایک خاص تعبیر کو بزور قانون نافذ کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں باتیں خود دینی اخلاقیات اور تصورات سے متصادم ہیں۔
دنیوی اعتبار سے اس کا بنیادی نقص یہ ہے کہ اس میں دینی اقدار کے تحفظ یا غلبے کو تھیاکریسی کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے جس کو، واضح اسباب سے، آج کا اجتماعی انسانی شعور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس امتزاج کے نتیجے میں معاشرے میں مذہبی احکام واقدار کا فروغ اور جبر، لازم وملزوم بن کر سامنے آتے ہیں جس کا انسانی شعور اور نفسیات پر قطعاً کوئی مثبت اثر مرتب نہیں ہوتا۔
تیسرے نکتے کے حوالے سے مزید یہ عرض ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں علماء کے، سیاسی اقتدار کی اعلی ترین ذمہ داری یعنی خلافت وامامت سے الگ رہنے کا انتظام نہایت حکیمانہ تھا۔ یہ تقسیم کار اس بات کی گنجائش رکھتی تھی کہ معاشرے کے اخلاقی حالات جیسے بھی ہوں، مذہبی علماء ریاستی اختیار کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے الگ رہتے ہوئے، پوری توجہ علم اور عمل کی سطح پر دینی راہ نمائی پر مرکوز رکھیں۔ ان کی ذمہ داری دینی آئیڈیلز کو تصور اور نمونے کی سطح پر زندہ رکھنا ہو، نہ کہ معاشرے کو لازمی طور پر ایک مکمل اور بے عیب اسلامی معاشرہ بنا کر دکھانا۔
بدقسمتی سے اس انتظام کی معنویت اور حکمت، مذکورہ تینوں حکومتوں میں بالکل درخور اعتنا نہیں سمجھی گئی۔ سعودی عرب میں اب اس کے ادراک کی ابتدا ہو گئی ہے۔ باقی دونوں حکومتیں بھی جتنا جلدی اس کا ادراک کر لیں، ان کے لیے بھی اور دین ومعاشرہ کے باہمی تعلق کے لیے بھی بہتر ہوگا۔
عدالت میں زیربحث مقدمات سے متعلق غیر عدالتی فیصلے
گذشتہ دنوں ایک سوال یہ زیر بحث رہا کہ اگر توہین رسالت کے کسی ملزم کے خلاف تفتیشی اداروں کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم واقعی جرم میں ملوث ہو اور مختلف علماء کرام نے بھی صورت حال کا جائزہ لے کر الزام کی درستی پر اطمینان ظاہر کیا ہو تو کیا ملزم کا یا اس کے متعلقین کا یہ شرعی وقانونی حق ختم ہو جاتا ہے کہ جب تک عدالتی فیصلہ جرم کے ثبوت پر مہرتصدیق ثبت نہ کر دے، ملزم کو عدالتی وغیر عدالتی سطح پر مجرم قرار دینے سے گریز کیا جائے اور ملزم اور اس کے متعلقین کو قانونی دفاع کا پورا موقع دیا جائے ؟
اسلامی قانون، عدل وانصاف میں "غیر جانب داری" کے حوالے سے کتنا حساس ہے، اس کا اندازہ اس فقہی بحث سے کیا جا سکتا ہے کہ اگر قاضی کے ذاتی علم کے مطابق کسی شخص نے ارتکاب جرم کیا ہو تو کیا وہ اس کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے؟ فقہاء کا کہنا ہے کہ جن معاملات کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، یعنی اللہ کا کوئی حق بندے پر نافذ کرنا مطلوب ہے، جیسے حدود کے مقدمات، ان میں قاضی بالاتفاق اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔ وہ گواہیوں اور دیگر قانونی شواہد کا پابند ہے جو اس کے سامنے پیش کیے جائیں اور نقد وجرح کے عمل سے گزر کر درجہ اعتبار کو پہنچ جائیں۔
جہاں تک انسانوں کے باہمی لین دین یا دیگر معاملات کا تعلق ہے تو حنفی فقہاء یہاں بھی اسی اصول کے قائل ہیں، جبکہ بعض شافعی اہل علم ایسے معاملات میں علم القاضی کو فیصلے کی جائز بنیاد تسلیم کرتے ہیں۔ قصاص کے مقدمات سے متعلق حنفی روایت میں کچھ اختلاف اقوال بھی ہے، لیکن متاخرین کا کہنا ہے کہ فرض کریں، اصولاً اس کی گنجائش ہو بھی تو ہمارے دور میں قاضی حضرات اتنے دیانت دار نہیں ہیں کہ ان کو یہ اختیار دیا جا سکے۔
یہ بحث عدالتی نظام کے اس فرد سے متعلق ہے جس کے پاس باقاعدہ فیصلہ کرنے کی قانونی اتھارٹی موجود ہے۔ باقی تمام اطراف جن کے پاس ایسی کوئی اتھارٹی بھی نہیں، ان کی ذمہ داری اور حدود کیا ہیں اور کیا ہونی چاہییں، وہ اس سے واضح طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔
خواجہ سرا کمیونٹی: بنیادی مسئلہ
خواجہ سرا طبقے سے متعلق گذشتہ دنوں میں متعدد فورمز پر گفتگو کا موقع ملا۔ ایک بات جو ہر جگہ عرض کی گئی، یہ ہے کہ مسئلے کی اصل جڑ ایسے افراد کا خاندانی نظام سے نکال دیا جانا اور نتیجتا انھیں اس پر مجبور کر دینا ہے کہ وہ اپنی الگ کمیونٹی بنا کر زندگی گزاریں اور زمانے کے سرد وگرم کا سامنا کریں۔
ایسا ہمارے معاشرے میں کن تاریخی اسباب سے ہوا، یہ ایک غور طلب سوال ہے۔ یہ علم میں آیا کہ بعض مغربی مصنفین نے اس ضمن میں ہندوستان میں استعماری ریاستی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، لیکن سردست ہمیں اس کا مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ بعید نہیں کہ اس سے پہلے بھی ایک الگ طبقے کے طور پر ان کی شناخت بن چکی ہو اور استعماری پالیسی نے اس کو مزید بڑھاوا دے دیا ہو۔
لیکن تاریخی اسباب جو بھی ہوں، ایسے افراد کو گھر اور خاندان کے فطری ماحول اور انسانی رشتوں سے محروم کر کے مجبور کر دینا کہ وہ اپنے لیے گرو اور چیلے کی صورت میں ایک الگ سماجی پناہ گاہ بنائیں اور سماج کا ایک حقارت زدہ اور دھتکارا ہوا طبقہ قرار پائیں، مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ اس طبقے پر سستی اور بے ہودہ تفریح مہیا کر کے، بھیک مانگ کر اور جسم فروشی کر کے روزی روٹی کمانے کا جو سماجی داغ لگا ہوا ہے، وہ صرف اس بنیادی مسئلے کے منطقی اور ناگزیر نتائج ہیں۔
تاہم اس کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ، صرف اس طبقے تک محدود نہیں رہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ خود کو مصنوعی طور پر خواجہ سرا کہلانے والے افراد بھی ایک بڑی تعداد میں اس نیٹ ورک کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور اس پیشے کے ساتھ وابستہ مالی مفادات بہت سے افراد کو مسلسل اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔
صورت حال میں ایک تیسری، اور غالبا سب سے اہم اور دور رس تبدیلی سرمایہ داری اور غالب تہذیب کے بعض ڈسکورسز کی باہمی معاونت سے اب سامنے آ رہی ہے۔ ایل جی بی ٹی کے حقوق کا بیانیہ ایک پوری عالمی مارکیٹ کو بنیادیں فراہم کرتا ہے اور اس نوعیت کی بحثیں اپنے فکری اور مادی وسائل کے ساتھ غیر مغربی معاشروں پر ایک تہذیبی جارحیت کے انداز میں حملہ آور ہیں۔
2018 کے ایکٹ میں، سماج کے ایک حقیقی اور جینوئن مسئلے کو موضوع بناتے ہوئے اور بعض بہت ضروری اقدامات کو حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل کرتے ہوئے، تعیین صنف کے حوالے سے ایک تہذیبی اور اعتقادی نزاع کو بالکل بلا ضرورت اور بلاجواز اس میں گھسیڑ دینا اسی صورت حال کا ایک مظہر ہے۔ جن لابیوں یا اشرافیہ کے جن طبقات نے یہ سب کیا ہے، اگر پورے شعور کے ساتھ کیا ہے تو بھی، اور اگر اس تہذیبی نزاع کی نزاکت کو سمجھے بغیر فکری سادگی سے دنیا کے ایک چلتے ہوئے ڈسکورس کو اپنا لیا ہے تو بھی، دونوں صورتوں میں ان کی قوم کے سامنے جواب طلبی ہونی چاہیے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(359) وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا
وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ (مریم: 46)
”تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور اور دفع ہو!“۔ (امین احسن اصلاحی)
”جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا“۔ (سید مودودی)
عام طور سے لوگوں نے ملیا کو زمانا (محذوف) کی صفت مانا ہے۔ لیکن لفظی ترکیب سے قریب تر یہ ہے کہ ملیا کو ھجر کی صفت مانا جائے جو مفعول مطلق ہے۔اس صورت میں ھجر کی طوالت کا نہیں بلکہ اس کی شدت و زیادتی کا اظہار ہے۔ یعنی پورے طور پر دور ہوجاؤ یا بالکل دور ہوجاؤ۔ ابن عاشور لکھتے ہیں: وہذہ المادۃ تدل علی کثرۃ الشیء. (تفسیر التحریر والتنویر، زیر بحث آیت کی تفسیر میں) درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
”تم مجھ سے بالکل دور ہوجاؤ“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
گویا زور دور ہونے کی مدت پر نہیں بالکل دور ہونے کی کیفیت پر ہے۔
(360) أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں ترجمے کے حوالے سے دو باتیں محل نظر ہیں۔ ایک یہ کہ شقیا کا ترجمہ محروم ہونا نہیں بلکہ نامراد ہونا ہے۔ خاص طور سے جب کہ سیاق دعا کا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت میں دعاء مختلف مشتقات کی صورت میں تین بار آیا ہے اور تینوں بار بندگی کے مفہوم میں نہیں بلکہ دعا یعنی پکارنے کے مفہوم میں ہے۔ اس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ دعاء کا اصل مطلب پکارنا ہی ہے، دوسری دلیل یہ ہے کہ اسی سورت کی چوتھی آیت میں قریب قریب اسی اسلوب میں یہ لفظ آچکا ہے۔ وہاں اس کا معنی پکارنا اور دعا مانگنا ہی ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَأَدْعُو رَبِّی عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا۔ (مریم: 48)
”میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں، میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا“۔ (سید مودودی، خدا کو چھوڑ کر، کی بجائے خدا کے سوا ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ ترجمہ زیر بحث پہلوؤں کے حوالے سے درست ہے۔)
”اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”میں آپ لوگوں کو اور ان چیزوں کو جن کو آپ لوگ خدا کے سوا پوجتے ہیں چھوڑ کر علیحدہ ہورہا ہوں اور صرف اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا۔ امید ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں“۔ (احمد رضا خان)
(361) مِنَ النَّبِیِّینَ کا ترجمہ
أُولَئِکَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ۔ (مریم: 58)
”یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے نبیوں میں سے اپنا فضل فرمایا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”یہ ہیں جن پر ا للہ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے“۔ (احمد رضا خان)
”یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
ان ترجموں سے یہ تأثر جاتا ہے کہ اللہ نے کچھ نبیوں پر فضل کیا، اور ان کا یہاں ذکر ہوا۔ دراصل لوگوں نے یہاں مِنَ النَّبِیِّینَ میں من کو تبعیض کے معنی میں لیا ہے، جس کی وجہ سے ایسا ترجمہ کیا ہے۔ درست بات یہ ہے یہاں من بیانیہ ہے، اس کی روشنی میں حسب ذیل ترجمہ ہوگا:
”یہ انبیاء ہیں جن پر اللہ نے اپنا فضل فرمایا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(362) فَسَیَعْلَمُونَ کا ترجمہ
فعل مضارع پر سین داخل ہوجائے تو وہ مستقبل کا مفہوم دیتا ہے۔ لیکن درج ذیل ترجمے میں فَسَیَعْلَمُونَ کا ترجمہ ’معلوم ہو جاتا ہے‘ کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔
حَتَّی إِذَا رَأَوْا مَا یُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ فَسَیَعْلَمُونَ مَنْ ہُوَ شَرٌّ مَکَانًا وَأَضْعَفُ جُنْدًا۔ (مریم: 75)
”یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!“۔ (سید مودودی)
دراصل یہ پورا جملہ مستقبل کے لیے ہے۔ اس لیے ترجمہ ہوگا:
”یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور۔“
(363) وردًا کا ترجمہ
لغت میں اس کا زیادہ تر استعمال پانی کی گھاٹ پر جانے کے لیے ہوتا ہے۔ لسان العرب میں ہے: والوِرْدُ ووُردُ الْقَوْمِ: الْمَاءُ.
اور چوں کہ پانی کی گھاٹ پر جانے والا شخص پیاسا ہوتا ہے، اس لیے اس میں کبھی پیاس کا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ زمخشری کے الفاظ میں: والورد: العطاش لأنّ من یرد الماء لایردہ إلا لعطش وحقیقة الورد: المسیر إلی الماء۔ (تفسیر الکشاف)
بہرحال بیشتر مفسرین اور مترجمین ’وردا‘ کا مطلب ’پیاسے‘ لیتے ہیں۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:
وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِینَ إِلَی جَہَنَّمَ وِرْدًا۔ (مریم: 86)
”اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے“۔ (سید مودودی)
”اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے“۔ (احمد رضا خان)
”اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور گناہ گاروں کوسخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں ورد اور اس کے مشتقات کئی جگہ آئے ہیں، اور سب جگہ ان کا مطلب کسی جگہ پہنچنا ہے۔ دوسری جگہوں پر یہ پیاسے کے معنی میں نہیں آیا ہے۔
اسی لیے مولانا امانت اللہ اصلاحی آیت کا ترجمہ حسب ذیل کرتے ہیں:
”اور مجرموں کو ہانک کر جہنم کے گھاٹ پر پہنچائیں گے“۔
ابن عطیہ کہتے ہیں: ویحتمل أن یکون المصدر والمعنی نوردہم وِرْداً وہکذا یجعلہ من رأی فی القرآن أربعة أوراد فی النار۔ (المحرر الوجیز)
(364) أَوْلَی بِہَا صِلِیًّا کا ترجمہ
ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالَّذِینَ ہُمْ أَوْلَی بِہَا صِلِیًّا۔ (مریم: 70)
”پھر ہم ان لوگوں کے سب سے زیادہ جاننے والے ہوں گے جو اس جہنم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ سزاوار ہوں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے“۔ (سید مودودی)
یہاں أعلم اور أولی دو الفاظ أفعل کے وزن پر آئے ہیں، ان کا ترجمہ اسم تفضیل مان کر بھی ہوسکتا ہے اور اسم مبالغہ مان کر بھی۔
ظاہر ہے یہاں تفضیل ماننے کا موقع نہیں ہے، یعنی یہ بحث نہیں ہے کہ کون سب سے زیادہ جانتا ہے یا کون سب سے زیادہ جہنم کا سزاوار ہے۔ اس لیے مبالغہ مان کر ترجمہ کرنا درست ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل ترجمے میں ہے:
”اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
(365) السِّرَّ وَأَخْفَی کا ترجمہ
وَإِنْ تَجْہَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّہُ یَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَی۔ (طہ: 7)
”اگر تو اونچی بات کہے تو وہ تو ہر ایک پوشیدہ، بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
اس آیت کا ترجمہ عام طور سے حسب بالا طریقے سے کیا گیا ہے اور وہی درست معلوم ہوتا ہے۔
جب کہ درج ذیل ترجمے میں تقابل کا اسلوب برتنے کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے ہیں۔ السِّرَّ وَأَخْفَی کا ترجمہ ’علانیہ اور پوشیدہ‘ کرنا تو کسی طرح درست نہیں ہے۔
”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ، سب کو جانتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ: ایک تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر محمد شہباز منج
ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 ء پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور ان کے اعتراضات میں سب سے بڑا اعتراض اس ایکٹ کو ہم جنس پرستی سے متعلق قرار دے کر کیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں جو تاثرات سامنے آرہے ہیں ان کے حاملین کو دو انواع میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک زیادہ سخت موقف والے اور دوسرے نسبتاً کم سخت موقف والے۔زیادہ سخت موقف والے احباب کا خیال ہے کہ اس ایکٹ کے ذریعے لبرل لوگ مغربی تہذیب کے نقش قدم پر ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور نسبتاً کم سخت موقف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ میں ٹراسن جینڈرز کو جو مراعات دی گئی ہیں، ان کے نتیجے میں ہم جنس پرستی فروغ پائے گی۔ ہم ان سطور میں اس بڑے اعتراض یا تاثر کو ایکٹ کے متن کے تناظر میں سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرکے کسی معروضی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
پہلی چیز لفظ ٹرانس جینڈر کو ایکٹ کا عنوان بنانے اور اس کی تعریف متعین کرنے سے متعلق ہے۔ اس سلسلے میں بحث کا اہم نکتہ اور قابل اعتراض پہلو یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ایکٹ میں خنثی یا کھسرے (Intersex)، یونخ (Eunuch) ، خواجہ سرا اور ٹرانس جینڈر مرد اور ٹرانس جینڈر عورت سب کو ٹرانس جینڈر کے عنوان کے تحت لایا گیا ہے، جس سے ایک ابہام پیدا ہو گیا ہے۔ خنثی، کھسرے، خواجہ سرا یا یونخ کے مسائل اور ان کو ایڈریس کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کو کوئی مسئلہ نہیں، ان کے حقوق خود اسلامی روایت میں موجود ہیں، اصل مسئلہ ٹرانس جینڈر مرد یا عورت کا ہے، یہ تصور ہی سرے سے خود تراشیدہ اور غیر فطری ہے؛ ٹرانس جینڈر مرد یا عورت تو اصل میں اور اپنی پیدایشی شناخت کے اعتبار سے مکمل مرد یا عورت ہوتے ہیں، بعد میں کسی وقت کسی نفسیاتی عارضے یا شوق اور خواہشِ نفس کے تحت وہ اپنی پیدایشی شناخت سے برعکس شناخت اختیار کرتے یا کرنا چاہتے ہیں، جو اسلامی روایت اور مسلمانوں کے لیے بالکل اجنبی اور مغرب سے درآمد کردہ چیز ہے۔ اب ہم اس بحث اور موقف کا تجزیہ کرتے ہیں:
مذکورہ نکتہ یا اعتراض Transgender Persons (Protection of Rights) Act, 2018 کی شق 2 کی ذیلی شق 1اور پھر اس کی ذیلی شق n کے تحت تین نکات میں بیان کی گئی ٹراسن جینڈر پرسن کی تعریف سے متعلق ہے۔ یہاں ہم یہ تینوں نکات نقل کرکے اس پر بات کریں گے:
(i) Inter-sex (Khunsa) with mixture of male and female genital features or congenital ambiguities, or
( ii) Eunuch assigned male at birth, but undergoes genital excision or castration; or
(iii) a Transgender Man, Transgender Woman, Khawajasira or any person whose gender identity and/or gender expression differs from the social norms and cultural expectations based on the sex they were assigned at the time of their birth.
پہلے نکتے میں انٹرسیکس جس کو بریکٹ میں خنثی کہا گیا ہے ، کی تعریف کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پیدائشی لحاظ سے مرد اور عورت دونوں کی مشترک خصوصیات رکھتے ہیں، دوسرے پوائنٹ میں یونخ کی تعریف متعین کی گئی ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو پیدائشی طور پر مرد ہوتے ہیں لیکن بعد میں کسی وجہ سے خصی ہو جاتے ہیں، اور تیسری ذیلی شق میں ٹرانس جینڈر مرد اور عورت اور خواجہ سرا کی تعریف کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی صنفی شناختت ان سماجی و ثقافتی تصورات سے مختلف ہوتی ہے، جو پیدائش کے وقت ان کی شناخت کی بنا پر متعین کی گئی ہو۔
یہ تعریفیں جان لینے کے بعد اب آتے ہیں بحث کے اس نکتے کی طرف کہ ٹرانس جینڈر کا کھسرے یا یونخ یا خواجہ سرا سے کچھ لینا دینا نہیں ؛ یہ تو ایک نفسیاتی یا شوقیہ مخلوق ہے؛ اسے اس ایکٹ کے ذریعے تحفظ دینا غیر اسلامی ہے۔اس سلسلے میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اس ایکٹ کا عنوان خواجہ سرا یا کھسرے وغیرہ کے حقوق کا تحفط ہو تو کوئی مسئلہ نہیں، اس کا عنوان ٹرانس جینڈر رکھنا غیر اسلامی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اعتراض جزوی طور پر درست اور جزوی طور پر غلط ہے:
1) غلط اس لیے ہے کہ جب کسی ڈاکیومنٹ میں ایک چیز کی تعریف متعین کر دی گئی ہو تو اس کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے ، کیونکہ اس سے متعلق قانونی اور عدالتی معاملات میں اسی کا حوالہ شامل ہوتا ہے۔نیز ہمارے یہاں جب سے ٹرانس جینڈر کی اصطلاح آئی ہے عمومی طور پر اس سے مراد انٹرسیکس یا کھسرے وغیرہ ہی لیا جاتا ہے ( یہ تو اب موجودہ بحث میں کرید کرید کر لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ الگ مخلوق ہے ، تو وہ اس پر شور ڈالنے لگے ہیں) ،یہی وجہ ہے کہ جب بل پیش ہوا تو علما حضرات نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا، جس کی ایک اہم وجہ واضح طور پر یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اس میں ٹراسن جینڈر سے مراد کھسرے اور خواجہ سرا ہی سمجھ رہے تھے۔(ابھی بھی عوام اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی جو موجودہ بحث سے واقف نہیں، یہ کہتے میں نے خود دیکھے ہیں کہ یار بے چارے کھسروں کے حقوق سے مولویوں کو کیا مسئلہ ہے ؟)دوسری بات یہ ہے کہ تیسرے نکتے میں ٹرانس جینڈر مین اور ٹرانس جینڈر وومن کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جس سے یہ ابہام دور ہو سکتا ہے کہ ٹرانس جینڈر مرد اور عورت اگرچہ پیدائشی طور پر کامل مرد اور عورت ہی ہوں ، لیکن (خواہ کسی نفیساتی بیماری یا ہوائے نفس کی خاطر ہی یہ روپ اختیار کریں) یہ بہر حال مکمل مرد اور عورت کی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ پھر ایکٹ کی اس شق میں ان کو واضح طور پر شق کے عنوان ٹرانس جینڈر سے الگ کرکے ٹرانس جینڈر مین اور ٹرانس جینڈر وومن کہا گیا ہے نہ کہ فقط ٹرانس جینڈر، جس سے واضح ہے کہ کم ازکم ایکٹ کی رو سے ٹرانس جینڈر اور ہے اور ٹراسن جینڈر مین اور ٹرانس جینڈر وومن اور۔تیسری بات یہ کہ بالفرض ایکٹ کے عنوان سے ٹرانس جینڈر کا لفظ نکال کر اس کی جگہ خنثی، کھسرا، یونخ یا خواجہ سرا یا یہ سب الفاظ رکھ دیے جائیں، لیکن نفسیاتی اور طبی اعتبار سے کوئی ایسا واقعی شخص بھی پایا جائے جو ان لوگوں کی تعریف پر پورا نہ اترتا ہو اور ٹرانس جینڈر مرد یا عورت کی تعریف پر پورا اترتا ہو، تو اس کو اعتراض ہوگا کہ مجھے ایکٹ میں ایڈریس نہیں کیا گیا۔
2) اور زیر بحث اعتراض درست اس طرح سے ہے کہ ہمارے قوانین اور اس میں افراد وغیرہ کی تعریفوں کے تعین میں معاشرتی تصورات و نظریات کا لحاظ رکھا جانا ضروری ہے۔اگرچہ مغرب میں ایسا نہ ہو، لیکن ہمارے معاشرے میں پیدایشی لحاظ سے کسی مکمل مرد یا عورت کا بعد میں مخالف صنف میں ڈھلنا بہر حال ایک مکروہ اور نا پسندیدہ رویہ ہے، جو عملی طور پر روایتی ہی نہیں بہت سے لبرل لوگوں کو بھی خوش نہیں آتا، اور بلاشبہ بہت سی سماجی ، ثقافتی اور قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا اس ایکٹ کا عنوان تبدیل کیا جائے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہ نہ کوئی الہامی چیز ہے اور نہ شیطانی۔ انسانوں کی اپنی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے وضع کی گئی ایک اصطلاح ہے، جس کا تعلق ہماری سماجی و معاشرتی حاجات سے ہے۔ اصطلاحیں اور الفاظ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف معانی پہنتے رہتے ہیں، قبل ازیں ہم سمجھتے تھے کہ ٹرانس جینڈر ایسی مخلوق ہے ،جو نارمل مرد یا عورت نہیں ہوتے بلکہ کھسرے یا خواجہ سرا وغیرہ ہوتے ہیں، تو ہمیں اس لفظ یا اصطلاح میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا تھا، یہی وجہ ہے ( جیسا کہ اوپر بھی عرض کیا گیا ) کہ علما نے بھی اس کو نارمل بات سمجھا اور پورے معاشرے نے بھی، اب اگر ہم بال کی کھال کھال اتار اتار کر لوگوں کو اس سے بدکا چھوڑیں گے اور وہ عمومی طور پر یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ اس سے مراد نفسیاتی مسائل کی بنا پر یا شوقیہ جنس تبدیل کرنے والے لوگ ہی ہیں، تو ایکٹ کا عنوان تبدیل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، لبرلز کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے ، اس لیے کہ ٹرانس جینڈر کی اصطلاح کے نیچے اگر کھسروں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو بالفرض کوئی جینوئن ٹرانس جینڈر ہوا تو کھسروں کی اصطلاح کے نیچے اس کا کام بھی چل ہی جائے گا۔
اب آتے ہیں ایکٹ کے باب دوم اور شق 3 کی طرف جو ٹرانس جینڈر کی شناخت کو تسلیم کرانے سے بحث کرتی ہے۔ اس شق کی چار ذیلی شقوں میں سے پہلی شق میں قرار دیا گیا ہے کہ ٹرانس جینڈر پرسن کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اسے اس کی اپنی خیال کردہ (Self-Perceived) شناخت کی حیثیت سے شناخت کیا جائے۔ دوسری شق کے مطابق یہ ٹرانس جینڈر پرسن اپنی اس ذاتی محسوس کردہ شناخت کے مطابق خود کو نادرا اور دیگر حکومتی شعبوں میں رجسٹر کروانے کا اختیار رکھتا ہے۔ تیسری شق کہتی ہے کہ یہ ٹرانس جینڈر 18 سال کی عمر تک پہنچنے پر اپنی اس سیلف پرسیوڈ شناخت کے مطابق اپنا نام اور صنف نادرا میں درج کرانے کا مجاز ہے اور اسی کے مطابق وہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ وغیرہ حاصل کر سکتا ہے۔ چوتھی شق ٹرانس جینڈر پرسن کو اجازت دیتی ہے کہ وہ نادرا سے پہلے سے حاصل کردہ شناختی کارڈ میں اپنی نئی سیلف پرسیوڈ شناخت کے مطابق اپنا نام یا شناخت تبدیل بھی کر اسکتا ہے۔
ان شقوں پر مذہبی حلقوں کی جانب سے یہ بحث ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے سیلف پرسیوڈ شناخت کوئی شناخت نہیں ہوتی، اصل شناخت یہ ہوتی ہے کہ کوئی شخص پیدائشی طور پر کیا ہے اور معاشرہ اس کو کیا سمجھتا ہے؟ ان شقوں پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان کا دفاع کم ازکم ہمارے معاشرتی پس منظر کے لحاظ سے بہت مشکل ہے، بہ طور خاص چوتھی شق تو صنفی شناخت کو ایک تماشا بناتی دکھائی دیتی ہے۔ اس شق کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ نادرا میں صنف کی تبدیلی کو کسی بھی قسم کی شہادت یا طبی رپورٹ وغیرہ سے مشروط نہیں کیا گیا۔ ٹرانس جینڈر کی واقعی یا غیر واقعی صنف سے قطع نظر اس پر یہ قوی اعتراض وارد ہوتا ہے کہ آخر 18 سال کی عمر میں ایک ٹرانس جینڈر نے اپنی ایک صنف درج کرا لی، تو اب اسے بدلنے کے لیے کوئی سوال تو کیا جانا چاہیے کہ بھئی اب آپ کو کیا مسئلہ ہوا؟ ہمیں کیسے پتہ چلے کہ اب آپ واقعی دوسری صنف بن گئے ہیں؟ یہ بات درست ہے کہ ہر کوئی ایسا نہیں کرے گا ، لیکن یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ بعض تماش بین اور آوارہ مزاج لوگ اسے تماشے اور آورگی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اگر سیلف پرسیوڈ شناخت کو ایک فرد کا حق مان بھی لیا جائے تو اس کو یہ اختیار دینا نوع بنوع پیچیدگیوں کا باعث ہے کہ وہ جب چاہے بغیر کسی شہادت کے نادرا وغیرہ میں جا کر اپنی صنف تبدیل کرا لے۔مثلاً ایک اشو یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص جو نادرا میں پہلے عورت تھا، اب مرد بن جائے کہ اسے اپنے باپ کی جاییداد سے زیادہ حصہ ملے، یا اس کو ہم جنسی پرستی کا شوق چڑھے اور وہ اپنی صنف تبدیل کرا کے بظاہر مخالف اور فی الاصل اپنی ہی جنس سے شادی رچا لے، وغیرہ وغیرہ۔
اس پر کوئی ہم سے سوال کر سکتا ہے کہ بھئ آپ صرف صنف کی تبدیلی کے اندراج کے بعد کسی شہادت کے بغیر دوسری صنف میں ڈھلنے کے اختیار پر اعتراض کر رہے ہیں، لیکن یہ سوال نہیں اٹھا رہے کہ ایک پیدایشی کامل مرد یا عورت کو یہ اختیار دیا ہی کیوں جائے کہ وہ اپنی مرضی سے دوسری صنف بن جائے، تو اس پر عرض ہے کہ ہمارے نزدیک اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی کو واقعی کوئی ایسا مسئلہ ہو، جس میں اسے اپنی پیدایشی صنف سے مخالف جانا واقعی مجبوری بن گئی ہو، اس لیے ہمارے نزدیک اس اختیار کو مطلق سلب کرنا تو مذہب کا تقاضا بھی نہیں ، اس لیے کہ سب کو علی الاطلاق شوقیہ ٹرانس جینڈ رزکہنا کم ازکم ہمارے بس میں نہیں، اور یہ شاید کسی بھی شخص اور بہ طورِ خاص کسی بھی مذہبی عالم کے لیے ممکن نہیں کہ وہ سب کے سب ٹرانس جینڈرز کے طبی اور نفسیاتی مسائل سے مکمل آگا ہی حاصل کر کے سب پر ایک ہی حکم لگا سکے۔
ایک اور پہلو اس بحث کا یہ ہے کہ ٹرانس جینڈر مرد اور عورت اگر واقعی خواجہ سراوں اور کھسروں وغیرہ کی سی صنف میں آتے ہیں تو یہ قابلِ رحم اور ہمدردی و توجہ کے مستحق لوگ ہیں ، ان کے حقوق متعین کرنے میں اول الذکر لوگوں کی طرح حساسیت کوئی بری بات نہیں ، لیکن اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ ان میں یا تو طبی یا نفسیاتی سطح پر کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے یا یہ ہواے نفس کی خاطر کبھی ایک اور کبھی دوسری صنف میں جانا چاہتے ہیں۔اگر تو طبی و نفسیاتی مسئلہ ہے تو ان سے ہمدردی ہونی چاہیے اور ان کے اول الذکر لوگوں ہی کی طرح حقوق متعین کرنے اور مانے جانے چاہییں، لیکن اگر ان کا مسئلہ ہواے نفس ہے تو یہ کم ازکم ہماری سوسائٹی کے نارمز سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے اسے ہمارے ہاں مسئلہ بنا کر پیش کرنا مسئلہ ہی پیدا کرے گا ، حل نہیں نکالے گا۔
ایکٹ کے سات ابواب اور 21 شقوں میں سے قابلِ بحث امور یہی ہیں، بقیہ میں عموماً متعین کردہ ٹرانس جینڈرز کے ساتھ معاشرتی اور قانونی سطح پر کسی قسم کا امتیاز نہ برتنے اور ان کے حقوق فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، جو ظاہر ہے ہمارے عمومی اخلاقی نظریات کے مطابق ہے، جس کو سب تسلیم کرتے ہیں، تنازعہ اصل میں کسی مکمل مرد یا عورت کے اپنی آزاد مرضی سے دوسری صنف بن کر وہ حقوق حاصل کرنے کا ہے، جو ہمار ے لوگوں کے نزدیک ہیجڑوں ، کھسروں اور خواجہ سراوں وغیرہ کے لیے تو درست ہیں، لیکن ٹرانس جینڈرز کے لیے نہیں۔
نتائجِ بحث
اس بحث کوسمیٹتے ہوئے ا گر ہم اپنے نتائج مرتب کریں تو کچھ یوں ہو سکتے ہیں:
1) زیرِ بحث ایکٹ کے ٹراسن جینڈرز کے حقوق کی حفاظت کا ایکٹ کہلانے میں بنیادی طور پر کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ جب ہے کہ اس کے ذریعے معاشرے میں ہم جنس پرستی اور آوارہ مزاجی کی راہ کھلتی ہو۔
2) مذکورہ عنوان سے جب ایکٹ منظور کیا گیا تو اسے کم ازکم علما کی جانب سے خاموش حمایت اس لیے حاصل ہوئی کہ ان کے نزدیک اس سے مراد خواجہ سراؤں اور کھسروں وغیرہ کے حقوق کا بل تھا ( جیسا کہ معاشرے میں عموما بھی یہی سمجھا جاتا رہا ہے، اور موجودہ بحث سے پہلے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی یہی سمجھتے تھے)، جس پر ظاہر ہے ان کے نزدیک بھی کوئی اعتراض نہیں بنتا تھا۔
3) الفاظ اور اصطلاحات میں معاشرتی پس منظر اور فہم و پرسپشن کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، اس لیے اب اگر عوام اور ممبرانِ پارلیمنٹ اس پر قائل ہو جاتے ہیں کہ ایکٹ میں ٹرانس جینڈر کی اصطلاح تلے ہم جنس پرستی کے فروغ کا خدشہ ہے، تو اس کا عنوان تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ معاشرتی پرسپشن ہی کی بات ہے، اس سے زیادہ محض مبالغہ ہے۔
4) ہمارے نزدیک ٹرانس جینڈر مرد اور عورت کو محض ہوائے نفس کے علمبردار سمجھنا بھی مبالغہ آرائی ہے، جب تک طبی اور نفسیاتی سطح پر یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ ایسا کوئی جینوئین کیس نہیں ہو سکتا، اور ایسا کم ازکم مذہبی علما کے لیے ممکن نہیں اور نہ یہ ان کا شعبہ ہے۔
5) ایکٹ میں سیلف پرسیوڈ شناخت کے حوالے سے ٹرانس جینڈر کو جو مطق اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایک دفعہ اپنی ایک صنف ڈکلیئر کرانے کے بعد جب چاہے بغیر کسی پوچھ پرتیت کے دوبارہ دوسری صنف بن جائے، بہت سی معاشرتی ، اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں کا باعث ہے، اسے کسی نہ کسی شہادت سے مقید کرنا ضروری ہے۔ اول تو رجسٹریشن کے وقت بھی اگر کسی کی سیلف پرسیوڈ شناخت اس کی پیدایشی یا معاشرتی شناخت کے خلاف ہے، تو اس پر اسے کوئی نہ کوئی شہادت لانی چاہیے، تاہم یہاں لازم نہ بھی کیا جائے تو دوبارہ تبدیل کرانے پر شہادت لازمی ہونی چاہیے۔
ایکٹ کو ختم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس کو ذکر کردہ مجوزہ اصلاحات و ترامیم کے بعد نافذ العمل رکھا جا سکتا ہے۔
ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ -ملی مجلسِ شرعی کا موقف
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء کے متعلق ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف ملاحظہ ہو:’’ٹرانس جینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ“۔ خواجہ سرا ملک میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں، کچھ اوریجنل ہیں ، کچھ تکلف کے ساتھ ہیں اور کچھ کو اب مزید تکلف کے ساتھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اللہ رب العزت نے مرد اور عورت دو جنسیں پیدا کی ہیں، تیسری جنس اللہ تعالی نے نہیں بنائی۔ خواجہ سرا یا خنثیٰ وغیرہ کوئی الگ جنس نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ معذور افراد ہیں۔ جیسے نابینا معذور ہے، کوئی الگ جنس نہیں ہے، پیدائشی بہرہ معذور ہے، کوئی الگ جنس نہیں ہے، اسی طرح پیدائشی گونگا الگ جنس نہیں ہے، بلکہ معذور ہے۔ بالکل اسی طرح خواجہ سرا بھی معذور افراد ہیں کہ وہ ایک صلاحیت سے محروم ہیں اور معذور کے درجے میں ہیں، یہ الگ جنس نہیں ہے کہ ان کو الگ جنس کے طور پر متعارف کروایا جائے ۔ان کے حقوق ہیں ، شریعت ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، اور ان کے معاملات کا فیصلہ پوری توجہ سے کرتی ہے۔ مگر ہوا یہ کہ ۲۰۱۸ء میں مستقل عنوان دے کر ان کو ایک الگ جنس کے طور پر پیش کیا گیا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے نام سے قانون سازی کی گئی۔ اس میں اصولی غلطی یہی تھی، کیونکہ خواجہ سرا کوئی الگ جنس نہیں ہے بلکہ یہ معذور افراد کا ٹائٹل ہے، جیسے گونگے، بہرے ، نابینا اور لنگڑے ہیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ان کا حق ہے۔
دوسری بات یہ ہوئی کہ اس عنوان سے جو قانون سازی کی گئی، اسی عنوان کے مغالطے کی وجہ سے اصل بات کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی۔ حالانکہ قومی اسمبلی میں جب یہ قانون پیش ہوا تو قائمہ کمیٹی میں دو خواتین ممبران جمعیۃ علماء اسلام کی نعیمہ کشور صاحبہ اور جماعت اسلامی کی عائشہ سید صاحبہ نے تفصیل کے ساتھ اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے، اس بارے میں علماء سے پوچھا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل سے بات کی جائے۔ لیکن اسمبلی کے آخری سیشن، جس کے بعد اسمبلی تحلیل ہو گئی اور الیکشن کا ہنگامہ شروع ہوگیا ،اس میں اس بل کو پاس کر دیا گیا، اس لیے لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی۔ مگر جب لوگوں نے اس کو پڑھا اور اس کی طرف توجہ ہوئی تو اعتراض ہوا کہ یہ تو شریعت کے خلاف ہے اور جب شریعت کے خلاف ہے تو ملک کے دستور کے بھی خلاف ہے۔
اس پر کچھ دنوں سے بات چل رہی ہے، کئی علماء نے اس پر لکھا ہے، لیکن ابتدائی موقع پر توجہ اس لیے نہیں ہوئی کہ ایک تو اسمبلی تحلیل ہو گئی تھی، اسمبلی میں اس کے بعد اس پر تفصیل سے بحث نہیں ہوئی۔ اور دوسرا یہ کہ اس کا ٹائٹل معذوروں کے حقوق کے تحفظ کا تھا۔ اس ٹائٹل کی ہمدردی کے نیچے سب کچھ چھپ گیا۔ اب ظاہر ہو رہا ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ مختلف دینی حلقے اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے۔
مثلاً اس میں ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص بالغ ہو، وہ نادرا میں درخواست دے جس میں ہر شخص اپنی جنس خود طے کرے گا کہ میں مرد ہوں یا عورت۔ اور وہ جو جنس طے کر دے گا، نادرا پابند ہے کہ اس کے مطابق اس کو شناختی کارڈ جاری کرے۔ مثلاً ایک شخص نادرا میں حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میں عورت ہوں، تو نادرا تحقیق نہیں کرے گا، بلکہ اس کے حلفیہ بیان پر اس کو عورت کا شناختی کارڈ جاری کرے گا۔ یا اگر کوئی عورت حلف نامہ داخل کرتی ہے کہ میں مرد ہوں تو نادرا کے ذمے تحقیق نہیں ہے، بلکہ اس کے حلفیہ بیان دینے پر اس کو مرد کا شناختی کارڈ جاری کرے گا۔
بہت سے دیگر ملکوں میں بھی یہ قانون ہے، لیکن وہاں میڈیکل چیک اپ شرط ہے۔ اگر کوئی شخص دعوٰی کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کا میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے۔ یہ بات تو سمجھ آتی ہے، لیکن مذکورہ قانون کے مطابق صرف دعوٰی اور حلفیہ بیان دینے پر نادرا پابند ہے کہ اس کے مطابق اس کو شناختی کارڈ جاری کرے اور پھر تمام قوانین اس شناختی کارڈ کے مطابق اس پر جاری ہوں۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نادرا میں خود کو عورت رجسٹر کروا لیتا ہے جو کہ مشکل نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے حلفیہ بیان ہی کافی ہے اور پھر وہ کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو یہ شادی قانوناً درست شمار ہو گی۔ یہ مرد کی مرد سے شادی صرف ریکارڈ کے فرق کے ساتھ قانوناً درست ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی عورت خود کو نادرا میں مرد لکھوا لیتی ہے تو وہ مرد کی طرح وراثت کی برابر حقدار شرعاً تو نہیں ہے مگر قانوناً ہو گی۔ اس قانون کے بہت سے مفاسد سامنے آرہے ہیں، جوں جوں اس کا ایک ایک پرت کھل رہا ہے اس کی خرابیاں واضح ہو رہی ہیں۔‘‘
اس پر سترہ ستمبر کو لاہور میں تمام مذہبی مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کا اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پر اس قانون کو مسترد کیا گیا اور اسے شریعت اور دستور کے خلاف قرار دیا۔
اس حوالے سے دو مطالبے چل رہے ہیں: اس وقت سینیٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد صاحب نے ترمیمی بل پیش کر رکھا ہے کہ اس قانون میں چند ترامیم کر دی جائیں تو یہ کسی درجے میں قابل قبول ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کے دعوے پر اس کو شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے بلکہ میڈیکل چیک اپ کروایا جائے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے اس طرح کی کچھ ترامیم پیش کر رکھی ہیں۔ جبکہ جمعیۃ علماء اسلام کے سینیٹر عطاء الرحمٰن جو مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ہیں، انہوں نے قرارداد پیش کی ہے کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے اور اس کے متبادل قانون لایا جائے۔
مشترکہ اجلاس میں ان دونوں سینیٹر حضرات کے موقف کی تائید اور اس قانون کے غیر شرعی اور غیر دستوری ہونے کا اعلان کیا گیا ہے اور ملک بھر میں اس کے خلاف رائے عامہ کی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہماری تمام مکاتب فکر کے علماء، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان اور تمام طبقات سے تعاون کی درخواست ہےـ آج میں نے کچھ ڈاکٹر صاحبان سے رابطہ کیا ہے کہ میڈیکل فورم سے بھی بات آنی چاہیے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہ قانون کہ جو مرد بھی اپنے آپ کو عورت کہہ دے وہ عورت ہے، اور جو عورت اپنے آپ کو مرد کہہ دے وہ مرد ہے، یہ کیسا قانون ہے؟
مشترکہ اجلاس نے فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق ملک میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کیا جا رہا ہےـ۔ میری سب حضرات ، علماء، وکلاء، ڈاکٹر حضرات، تاجر برادری اور جو بھی قوم اور ملت سے تعلق رکھتا ہے، اور جس کا بھی قرآن و سنت اور شریعت کے احکام پر یقین ہے، ان سب سے درخواست ہے کہ وہ اس میں شریک ہوں اور تعاون کریں۔ اللہ تعالی ہم سب کو مل جل کر اپنے ملک کے قوانین کو مغرب کی تہذیب کے منحوس اثرات سے بچا لینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
توہینِ مذہب کے مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ
ادارہ
(سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے کا درج ذیل ترجمہ جناب ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کے تعاون سے پیش کیا جارہا ہے اور یہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے جسے اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے:https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/crl.p._883_l_2022_urdu.pdf
بعدالتِ عظمٰی پاکستان
(اپیلیٹ اختیارِ سماعت)
موجود:
جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
جناب جسٹس سید منصور علی شاہ
فوجداری درخواست نمبر 833-ایل آف 2022ء :
(فوجداری متفرق نمبر 18600-بی آف 2022ء میں لاہور ہائی کورٹ، لاہور، کے فیصلے مؤرخہ 12 مئی 2022ء کے خلاف)
سلامت منشا مسیح (اپیل کنندہ) --- بنام --- ریاست و دیگر ۔۔
مسئول علیہان:
اپیل کنندہ کے لیے: جناب عبد الحمید رانا، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے)
ریاست کےلیے: چودھری محمد سرور سدھو، ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل، پنجاب۔ جناب عاصم افتخار، تفتیشی افسر/ ایس پی ماڈل ٹاؤن، لاہور۔ سہیل کاظمی، ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن، لاہور۔
شکایت کنندہ کے لیے: سید رفاقت حسین شاہ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
تاریخ سماعت:
23 اگست 2022ء
حکم
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ:
اس درخواست کے ذریعے درخواست گزار پولیس تھانہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان (‘پی پی سی‘) کی دفعات 295-اے، 295-بی اور 295-سی کے تحت درج شدہ ایف آئی آر نمبر 61، مؤرخہ 13 فروری 2021ء، سے بننے والے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت چاہتا ہے۔ دفعہ 295-اے اس جرم کے بارے میں ہے جو ”دانستہ اور بدنیتی کے ساتھ شہریوں کے کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرے۔۔۔ اس طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے یا اس کی کوشش کرے“۔ دفعہ 295-بی قرآن مجید کے کسی نسخے کی قصداً توہین ، اسے نقصان پہنچانے یا بے حرمتی کرنے کو جرم قرار دیتی ہے ۔ اور دفعہ 295-سی ”حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی توہین “ کو جرم قرار دیتی ہے۔ 295-اے کے جرم پر دس سال تک کی سزا دی جاسکتی ہے، دفعہ 295-بی عمر قید کی سزا مقرر کرتی ہے، جبکہ 295-سی سزاے موت مقرر کرتی ہے۔
2۔ اس مقدمے کی بنیاد بننے والے واقعے کی اطلاع پولیس کو 13 فروری 2021ء کو رات 11 بج کر 20 منٹ پر دی گئی اور ایف آئی آر رات 11 بج کر 30 منٹ پر درج کی گئی۔ شکایت کنندہ (مسئول علیہ نمبر 2) نے، جو خواجہ رفیق شہید انٹرمیڈیٹ کالج واقع والٹن روڈ لاہور (‘کالج‘)کا طالب علم ہے، قرار دیا کہ وہ تین دیگر طلبہ، اپنے دوستوں (‘چار دوست‘) ،کے ساتھ ماڈل ٹاؤن پارک (‘پارک‘) آیا ہوا تھا جہاں درخواست گزار اپنے ایک دوست کے ساتھ، جو کہ دونوں مسیحی تھے، تبلیغ اور گستاخانہ باتیں کررہے تھے۔ یکم اپریل 2021ء کو درخواست گزار کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل قید میں رہا ہے۔ اس کی درخواستِ ضمانت فاضل سیشنز جج اور فاضل جج ہائی کورٹ نے مسترد کردی؛ دونوں فاضل ججز نے ضمانت مسترد اس لیے کی کہ انھیں ایف آئی آر کے مندرجات اور چار دوستوں کے بیانات پر مکمل اعتماد تھا۔
3۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر ایک کِتابچے ”زندگی کا پانی“ کا حوالہ دیتی ہے جس میں کوئی گستاخانہ مواد نہیں ہے؛ ایف آئی آر کا اندراج 8 گھنٹوں کی بلا جواز تاخیر کے بعد ہوا حالانکہ ماڈل ٹاؤن تھانہ پارک کے قریب واقع ہے؛ چار دوستوں نے، جن میں ہر ایک کے پاس موبائل فون تھا، وقوعے کو ، جو تقریباً تیس منٹ تک جاری رہا، ریکارڈ نہیں کیا؛ چار دوستوں نے ظاہر نہیں کیا کہ ان تیس منٹوں میں ان کی جانب سے کیا کہا گیا تھا، اور یہ کہ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ وہ کسی کو تیس منٹ تک گستاخانہ باتیں کرنے دیں اور آرام سے ایک طرف کھڑے ہو کر چپ چاپ سنتے رہیں؛ پارک کا انتظام ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے پاس ہے جس نے پارک کےلیے دن رات مسلسل محافظین کا بندوبست کیا ہوا ہے لیکن نہ تو کسی محافظ نے، نہ ہی پارک میں آنے والے کسی اور شخص نے شکایت کی نہ اپنے بیانات ریکارڈکروائے؛ اور وہ دو مسیحی نرے احمق ہوں گے اگر انھوں نے چار نوجوان مسلمانوں کے سامنے وہ کچھ کہا جس کا ان پر الزام لگایا گیا ہے، وہ بھی ایسے پارک میں جہاں تمام نہ سہی، زیادہ تر لوگ مسلمان ہوں۔
4۔ فاضل ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل پنجاب (‘اے پی جی‘) ضمانت کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پولیس رپورٹ[1] (چالان) جمع کرائی جاچکی ہے، فردِ جرم عائد کردی گئی ہے اور ٹرائل کورٹ نے پانچ گواہوں کے بیانات تحریر کرلیے ہیں اور استغاثہ کے پانچ گواہوں کی گواہی باقی ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر ملزم کو ضمانت کی رخصت عطا کرنا مناسب نہیں ہوگا، اور ایف آئی آر کے مندرجات اور چار دوستوں کے بیانات کی رو سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کی فردِ جرم اس پر عائد کی گئی ہے۔ جناب سید رفاقت حسین شاہ ، جو شکایت کنندہ کی نمائندگی کررہے ہیں، فاضل اے پی جی کے موقف کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو گواہ گواہی دے چکے ہیں ان پر جرح نہ کرکے درخواست گزار مقدمے کی تکمیل میں تاخیر کررہا ہے۔
5۔ ہم نے مقدمے کے فریقوں کے وکلا کے دلائل سنے اور ریکارڈ پر موجود دستاویزات کے علاوہ فاضل اے پی جی کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ مقدمے کی تفتیش پولیس کے سپرنٹنڈنٹ (‘ایس پی‘) نے کی۔[2] ہمارے پوچھنے پر فاضل اے پی جی اور ایس پی نے بتایا کہ ایف آئی آر میں مذکور کتاب (زندگی کا پانی) میں کوئی توہین آمیز مواد نہیں ہے۔ پھر ہم نے معلوم کیا کہ کیا گرفتاری کے وقت یا بعد میں جرم ثابت کرنے والا کوئی مواد درخواست گزار سے برآمد کیا گیا ہے، اور ہمیں بتایا گیا کہ ایسا کوئی مواد برآمد نہیں کیا گیا۔ ایس پی نے ہمیں بتایا کہ پارک کا اس کالج سے فاصلہ، جہاں یہ چار دوست پڑھتے ہیں اور جہاں سے یہ اس پارک میں آئے تھے، تقریباً دس کلومیٹر ہے لیکن ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے جو یہ دکھائے کہ یہ وہاں کیوں گئے؟ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ درخواست گزار لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں خاکروب کے طور پر ملازم ہے۔
6۔ ہم نے ایف آئی آر بھی پڑھی اور چالان بھی جس میں ایف آئی آر ہی کی باتیں دہرائی گئی ہیں اور اس میں کوئی اضافی ثبوت نہیں ہے جس سے ملزم کا جرم ثابت ہوتا ہو۔ فرد جرم 5 اپریل 2022ء کو فاضل ایڈیشنل سیشنز جج نے عائد کی جسے یہاں نقل کیا جاتا ہے:
کہ تم ملزم نے اپنے شریک ملزم /ایوب مسیح (اشتہاری مجرم) کے ساتھ مل کر 13 فروری 2021ء کو 4 بج کر 35 منٹ پر ماڈل ٹاؤن پارک لاہور میں قرآن مجید کی بے حرمتی کی، اور توہین آمیز کلمات کہے اور حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی توہین کی۔ پس تم ملزم سلامت مسیح اور تمھارے شریک ملزم ایوب مسیح (جو تب سے اشتہاری مجرم ہے) نے زیرِ دفعہ 295-اے، 295-بی اور 295-سی، مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان، جرم کیا ہے، جو اس عدالت کے اختیار کے تحت آتا ہے۔
اور میں حکم دیتا ہوں کہ تم ملزم سلامت مسیح پر اس عدالت میں مذکورہ بالا فردِ جرم کی رو سے مقدمہ چلایا جائے۔
فرد جرم کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں متعدد بنیادی خامیاں ہیں اور اس میں فردِ جرم عائد کرنے کے متعلق کئی اہم مقررہ شرائط نہیں پائی جاتیں۔[3] ضروری ہے کہ فردِ جرم میں جرم کی مختصر توضیح ہو اور ساتھ ہی ان حالات کا مختصر ذکر ہو جن سے وہ جرم تشکیل پاتا ہے۔ فردِ جرم میں (جس طرح وہ عائد کی گئی ہے) تین جرائم کو ملا کر ایک جرم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ہر جرم کے الگ عناصر ہیں لیکن فردِ جرم ایسا نہیں کہتی۔ ضروری ہے کہ فردِ جرم ملزم کو اس کے خلاف مقدمے سے پوری آگاہیدے جس کا اس نے جواب دینا ہے، اور اس کا اس قابل ہونا ضروری ہے کہ وہ اس جرم کے خلاف دفاع کرسکے جس کا اس پر الزام عائد کیا گیا ہے۔[4] درخواست گزار کے خلاف قرآن مجید کی بے حرمتی کا الزام عائد نہیں کیا گیا تھا (نہ تو ایف آئی آر میں اور نہ ہی چالان میں)، لیکن پھر بھی اس پر دفعہ 295-بی کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔
7۔ درخواست گزار کے خلاف استغاثہ کا مقدمہ چار دوستوں کے بیانات پر مبنی ہے ۔ ہم نے ان کی گواہی کا جائزہ لیا ہے جو اس بات سے شروع ہوتی ہے کہ درخواست گزار کے شریک ملزم نے کتاب ”زندگی کا پانی“ پیش کی اور ”دونوں ملزمان نے قصداً مسیحیت کی تبلیغ شروع کی“۔ مسیحیت کی تبلیغ کوئی جرم نہیں ہے، نہ ہی اسے جرم بنایا جاسکتا ہے کیونکہ ”مذہب پر عقیدہ رکھنا، عمل کرنا اور اس کی تبلیغ” بنیادی حق ہے۔[5] وہ اس کے بعد کہتے ہیں کہ دونوں ملزمان نے حضرت محمد ﷺ کی ازدواجی حیثیت پر بات کی اور اس کا موازنہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کیا اور ذومعنی جملہ کہااور پھر قرآن مجید اور بائبل کے متعلق بات کی۔ ہم مبینہ توہین آمیز الزامات نہیں دہرارہے کیونکہ اس سے گریز ضروری ہے، اور اس لیے بھی کہ وہ غیر ضروری اذیت اور اشتعال کا باعث بن سکتے ہیں۔[6]
8۔ بدقسمتی سے ایسے مقدمات کی بہت تشہیر ہوتی ہے جس کا غلط اثر ہوتا ہے اور اس سے منصفانہ سماعت کا حق بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ غیر ذمہ دارانہ اور سنسنی خیز نشر و اشاعت کے ذریعے بار بار وہ کچھ دہرایا جاتا ہے جو مبینہ طور پر ملزم نے کہا یا کیا ہوتا ہے؛ جبکہ اسے دہرانے والے شاید خود وہی جرم کررہے ہوں۔ مذہب سے متعلق جرائم بہت سنگین ہیں اور دفعہ 295-سی کے جرم پر صرف موت کی سزا مقرر ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ افراد پر یہ یقینی بنانا لازم ہے کہ عدل کے نفاذ میں کوئی بے انصافی نہ ہوجائے۔ عدالتوں نے اس حقیقت کا نوٹس لیا ہے کہ کئی بار حساب برابر کرنے کےلیے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں اور مذموم مقاصد کےلیے یا غلط محرکات کی وجہ سے مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔[7]
9۔ فوجداری نظام کے تبدیل ہونے اور اسلامی اصولوں پر قائم ہونے سے قبل انسانی زندگی اور بدن پر اثر انداز ہونے والے جرائم[8] کو ریاست کے خلاف جرائم تصور کیا جاتا تھا۔ اب ان جرائم کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایسے جرائم ہیں جن سے متاثرہ افراد یا ان کے ورثا کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس عدالت کی شریعت اپیلیٹ بنچ کے ایک پانچ رکنی بنچ نے اس تبدیلی کی توضیح یوں کی ہے:
”اسلامی احکام کی رو سے۔۔۔ متاثرہ فرد یا اس کے ورثا کا ابتدا سے آخر تک پورے معاملے پر، بشمول اور مجرم کے، مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ وہ چاہیں تو اس کی اطلاع نہ دیں۔ وہ چاہیں تو مجرم کے خلاف استغاثہ نہ کریں۔ وہ چاہیں تو اپنی آزادانہ مرضی سے استغاثہ چھوڑ دیں۔ وہ چاہیں تو مجرم کو کسی بھی مرحلے پر سزا کی تنفیذ سے قبل معاف کردیں۔ جرم اور مجرم کی معافی کےلیے وہ مالی یا کوئی اور عوض لے سکتے ہیں۔ وہ صلح کرسکتے ہیں۔ وہ مجرم سے قصاص لے سکتے ہیں۔ ریاست رکاوٹ نہیں بن سکتی، لیکن اپنی حد تک بھرپور کوشش کرتی ہے کہ ان کا مقصد پورا ہونے اور ان کے حقوق کے مناسب استعمال میں ان کی معاونت کرے۔“[9]
مجموعۂ ضابطۂ فوجداری، 1898ء (‘مجموعہ‘) کی دفعہ 345 اور دوسرے جدول میں بھی ترمیم کرکے قتل کے علاوہ زخم کی بہت سی اقسام[10] کو قابلِ صلح بنادیا گیا۔ تاہم ”مذہب سے متعلق جرائم“[11] میں کوئی بھی جرم قابلِ صلح نہیں ہے (سواے کسی شخص کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے نسبتاً معمولی جرم کے[12] جس پر زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید کی سزا ہے)۔ مذہب کے متعلق جرائم کے بارے میں ریاست کی حیثیت غالب ہے اور ان جرائم پر استغاثے کےلیے ریاست ذمہ دار ہے ۔ایسے مقدمات میں جب نجی شکایت کنندہ بہت ہی زیادہ دلچسپی لے تو اس سے اس کے قابلِ اعتبار ہونے پر شک ہوسکتا ہے اور یہ فساد یا کسی غلط محرک کی علامت ہوسکتی ہے۔تاہم چند ایک مقدمات میں دیکھا گیا کہ شکایت کنندگان بڑا جتھا بنالیتے ہیں اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں جو استغاثہ اور عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موجودہ مقدمے میں شکایت کنندہ، جو ایک طالب علم ہے، لاہور سے اسلام آباد اس مقصد کےلیے آیا کہ ضمانت کی مخالفت کرے۔ اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس معاملے کی پیروی کےلیے ریاست اور اس کے قانونی افسران موجود تھے۔ اور جب ہم فاضل اے پی جی اور ایس پی سے سوالات پوچھ رہے تھے، تو شکایت کنندہ اور اس کے وکیل اے پی جی اور ایس پی کو جوابات فراہم کررہے تھے۔
10۔ درخواست گزار تقریباً ڈیڑھ سال سے قید میں ہے اور اس ساری مدت میں (جیسا کہ اوپر ذکر کر دیا گیا) اس سے کوئی ایسا مواد برآمد نہیں کیا گیا جس سے اس کا جرم ثابت کیا جاسکے۔ ایس پی اور فاضل اے پی جی کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کا موبائل فون بھی چیک کیا گیا، لیکن اس سے بھی کوئی ایسا مواد نہیں ملا جس سے جرم کو ثابت کیا جاسکے، نہ ہی ایسا مواد ملا جس سے اندازہ ہو کہ درخواست گزار کا رجحان اس فعل کی طرف تھا جس کا اس پر الزام لگایا گیا ہے۔ ایف آئی آر اور چالان کے مطابق درخواست گزار تبلیغ کررہا تھا لیکن اس بات کی تائید کےلیے کوئی مواد نہیں ہے اور اس بات کا وزن کم ہوجاتا ہے جب اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ درخواست گزار کوئی مبلغ نہیں بلکہ ایک عام خاکروب ہے۔ استغاثہ کا پورا مقدمہ چار دوستوں کی گواہی پر قائم ہے۔ تاہم ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے ان کی گواہی کیتائیدہوسکے۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تائید کا ہونا ضروری ہے؟
11۔ تائید (corroboration) سے مراد ہے تقویت اور تصدیق، اور تائیدی ثبوت اس ثبوت سے الگ ہوتا ہے جس کووہ تقویت دیتاہے۔[13] تائید سے عدالتی فیصلوں میں غلطیوں کا امکان کم ہوجاتا ہے اور یہ عقل کا تقاضا ہے۔ تائید کا مقصد مجرم کی سزا یقینی بنانا اور بے گناہ کو سزا سے بچانا ہے۔ تاہم تائیدی ثبوت کسی بے اعتبار گواہ یا ثبوت کو بااعتبار نہیں بنا دیتا۔[14] اس مقدمے میں درخواست گزار کے خلاف صرف چار دوستوں کی گواہی ہے۔ ہمیں جرائم کی سنگینی کی بات ذہن میں رکھنی ہے اور یہ بھی کہ دفعہ 295-سی کے جرم کےلیے مقرر کی گئی صرف سزاے موت ہی ہے۔ اس لیے عقل کا تقاضا ہے کہ ان کے بیانات کو، جو اس مرحلے پر غیر یقینی نظر آتے ہیں، دوسرے ثبوتوں سے تائید ملے جو واقعاتی، دستاویزی اور/یا سائنسی ہوسکتے ہیں۔ اسلامی اصول بھی بعض حالات میں گواہی کےلیے تائید کے ہونے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔[15]
12۔ ملزم کے بنیادی حقوق متعلقہ بہ منصفانہ سماعت اور قانونی طریقہ[16] کی ضمانت ضروری ہے، بالخصوص ان مقدمات میں جن میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اشتعال دلانے والوں نے جذبات مشتعل اور برانگیختہ کردیے، اور ہجوم اکٹھا کرکے اسے ابھارا کہ قانون اپنے ہاتھ میں لے، جس نے ملزم کو زخمی کیا اور یہاں تک کہ قتل بھی کردیا، قبل اس کے کہ اسے عدالت مجرم قرار دیتی۔ خواہ عدالت کسی شخص کو مجرم قرار دے کر اسے سزاے سنائے، تب بھی اس سزا کا نفاذ اگر کسی ایسے فرد نے کیا جسے اس کےلیے اختیار نہ دیا گیا ہو، تو اسلامی اصولوں کے مطابق ایسا شخص افتیات (ریاست کا حق ضائع کرنے) کےلیے ذمہ دار ٹھہرتا ہے جس پر اسے سزا دی جائے گی۔[17]
13۔ اسلامی اصول[18] مذہب کے متعلق جرائم کو خدا کے خلاف جرائم قرار دیتے ہیں؛ فقہاء کی اصطلاح میں، جو انھیں حدود میں شمار کرتے ہیں، یہ ”خدا کے حقوق “سے متعلق ہوتے ہیں۔حد کے جرم میں کسی ملزم کا جرم ثابت کرنے کےلیے اسلامی اصولوں کی رو سے ثبوت کا سخت ترین، یا بہترین، معیار مقرر کیا گیا ہے اور کوئی شبہ ملزم کو بری کردیتا ہے۔ نبی ﷺ کی ایک مشہور مستند حدیث[19] میں، جس کی روایت کئی صحابہ نے کی ہے، آیا ہے:
ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ
(شبہات کی موجودگی میں سزاؤں سے گریز کرو۔)[20]
دوسرے خلیفۂ راشد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس اصول کو ان الفاظ میں دہرایا:
ادْرَءُوا الْحُدُودَمَا اسْتَطَعتُمْ
(سزاؤں سے گریز کرو جس حد تک تم کرسکتے ہو۔)[21]
اس عدالت نے دفعہ 295-سی کے ایک مقدمے میں اس اصول کو ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے: ”یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہیں ہوگا کہ یہ اصول (شک کا فائدہ) اسلامی قانون میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ: قاضی کسی مجرم کو چھوڑنے کی غلطی کرے تو یہ کسی بے گناہ کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔“[22]
میکگل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر وائل بی حلاق (1995-) نے بہت خوبی کے ساتھ واضح کیا ہے:
”حدود جرائم پر سخت سزاؤں کا مقصد لوگوں کو ان کے ارتکاب سے باز رکھنا (زجر) تھا اور اس لیے عملاً ان کا نفاذ کم ہی کیا گیا۔۔۔ ان کے ارتکاب پر اس دنیا میں سزا نہ ہونے کی صورت میں مجرم ابدی جہنم میں جا گرتا، مابعد الموت زندگی کا ایسا تصور جس کے نتیجے میں اخلاقی ذمہ داری کا احساس نفسیات میں راسخ ہوجاتا۔ حدود کے اطلاق میں بہت زیادہ ااحتیاط کا ماخذ یہ قاعدہ تھا جو ایک حدیث سے نکلا تھا کہ “معمولی ترین شبہے کی موجودگی میں بھی” ان سے گریز ضروری ہے۔“[23]
14۔ اسلامی قانون کے اصولوں کی پابندی ، منصفانہ سماعت اور قانونی طریقے کے بنیادی حقوق کا اطلاق جن کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے، اور معقول طریقے پر عمل پیرا ہونا تاکہ یہ یقینی بنایا جائےکہ مذہب سے متعلق جرائم میں کسی بے گناہ کو غلطی سے سزا نہ ملے،ان سارے امور کا تقاضا ہے کہ جب صرف گواہوں کی غیر یقینی گواہی ہو، تو اس کے ساتھ تائیدی ثبوت کا ہونا ضروری ہے۔ بسا اوقات پارسائی کا جذبہ، اخلاقی جوش اور/یا اشتعال بھی فوجداری مقدمات میں عمومی معیارِ ثبوت ، یعنی ”معقول شبہے سے بالاتر“،[24] کو دھندلا کردیتا ہے اور استغاثہ کو ایک پہلے سے طے شدہ ہدف کی طرف دھکیلتا ہے۔
15۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفتیشی ایس پی نے دو ملزمان کی بات نہ مانی اور چار دوستوں کی بات قبول کی ۔ ایسی ترجیح کےلیے کوئی معقول وجہ بیان کرنا تو درکنار، سرے سے کوئی وجہ ہی ذکر نہیں کی۔ کسی تفتیشی افسر کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کے ساتھ امتیاز برتے یا مذہبی بنیاد پر ترجیح دے۔[25] دفاع کا بیانیہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔[26] اس بات کا ذکر بھی بے جا نہیں ہوگا کہ وفاقی شرعی عدالت[27] نے بعض معروف علماے اسلام کی آرا نقل کی تھیں جنھوں نے راے دی تھی کہ جہاں گستاخی کا ارتکاب بھی کیا گیا ہو، وہاں بھی اگر ملزم نے توبہ کرلی تو اسے سزا نہیں دینی چاہیے۔[28]
16۔ ہمیں بتایا گیا کہ درخواست گزار کا پیشہ عوامی مقامات کی صفائی ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ مذہبِ اسلام ذہن، بدن اور ماحول کی صفائی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اس سے محبت رکھتا ہے۔ قرآن مجید کا کہنا ہے:
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلمُتَطَهِّرِينَ
یقیناً، اللہ محبت کرتا ہے توبہ کرنے والوں سے، اور محبت کرتا ہے پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے۔[29]
نبی پاک حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
اَلطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ
صفائی نصف ایمان ہے۔[30]
نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے مشاہدہ کیا کہ آپ خود گھر کے معمولی کام کیا کرتے تھے۔[31] پہلے خلیفۂ راشد ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک بوڑھی نابینا خاتون کے گھر جا کر اس کا کوڑا کرکٹ اور گندگی صاف کرتے تھے۔[32]
17۔ اب ہم آگے بڑھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا مقدمے کے اختتام سے قبل درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے؟ یہ ہیں مقدمے کے حقائق اور ریکارڈ پر موجود ثبوت جنھوں نے ہمیں اس درخواستِ ضمانت کا فیصلہ کرنے میں مدد دی ہے۔ چار دوست اپنے کالج سے پارک میں آئے جو ان کے کالج سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ، لیکن انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ انھوں نے اتنی دور واقع پارک کو کیوں چنا، یا یہ کہ وہ کالج سے وہاں کیسے پہنچے؟ اہم بات یہ ہے کہ پارک میں موجود دوسرے لوگوں یا پارک میں تعینات محافظین نے درخواست گزار پر الزام کےلیے انگلی نہیں اٹھائی، نہ ہی ان کو تفتیش میں شامل کیا گیا۔ چار دوستوں نے گواہی دی کہ درخواست گزار ”قصداً مسیحیت کی تبلیغ“ کررہا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خیال میں یہ جرم تھا (جبکہ ایسا نہیں ہے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا)۔ درخواست گزار کے مبلغ ہونے کے متعلق ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا، جس سے ان کی گواہی کا وزن کم ہوجاتا ہے۔ پھر شکایت کنندہ نے پولیس کو اطلاع دینے میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگائے، اگرچہ پولیس تھانہ مزعومہ موقع واردات کے بالکل قریب تھا۔ مسلمہ طور پر درخواست گزار، جوکہ ایک خاکروب ہے، چار دوستوں کی بہ نسبت بہت کم تعلیم یافتہ ہے جس کی وجہ سے یہ بات قبول کرنا مشکل ہوجاتی ہے کہ انھوں نے ان اس کے مزعومہ بیانات کا جواب نہیں دیا ہوگا، اور تیس منٹ تک خاموش کھڑے رہے ہوں گے۔ نیز درخواست گزار سے جرم ثابت کرنے والا کوئی مواد برآمد نہیں کیا گیا۔ یہ تمام عوامل اسے مزید تحقیق کا مقدمہ بنا دیتے ہیں اور درخواست گزار کو ضمانت کا مستحق کردیتے ہیں۔
18۔ اس لیے درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے، اس شرط پر کہ وہ مبلغ 50 ہزار روپے کا مچلکہ، مع ایک ضامن اسی مقدار کے مچلکے کے ساتھ،جو ٹرائل کورٹ کےلیے قابلِ اطمینان ہو، جمع کرائے۔اس درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اعتراض شدہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے اس درخواست کو مذکورہ شرائط کے ساتھ منظور کیا جاتا ہے۔
19۔ ہم نے انتہائی احتیاط کی ہے کہ مقدمے کی صحت و عدم صحت کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے درخواست گزار یا ریاست کے مقدمے پر غلط اثر پڑے، سواے اس بات کے جو ضمانت کی درخواست کا فیصلہ کرنے کےلیے ضروری تھی۔ تاہم چونکہ درخواست گزار کا مقدمہ آئین اور قانون کے مطابق نہیں چل رہا تھا، تو ہم اپنا فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہوتے اگر ہم مذکورہ خامیوں کی نشاندہی نہ کرتے۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کے فاضل جج بھی ان امور کی طرف توجہ کریں گے۔
20۔ اس حکمنامے کی نقل چاروں صوبوں اور اسلام آباد وفاقی علاقے کے محکمہ ہاے استغاثہ کی طرف اطلاع اور عمل درآمد کےلیے بھیج دی جائیں تاکہ وہ یقینی بنائیں کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کے باب 15 میں مذکور مذہب کے متعلق جرائم کی تفتیش آئین اور قانون کے مطابق اسی طرح سرانجام دی جائے جیسا کہ یہاں بتایا گیا اور واضح کیا گیا۔
نوٹ: یاد رہے کہ عوامی سہولت کے پیش نظر فیصلے کا اردو مفہوم ترجمے کی شکل میں جاری کیا جارہاہے۔ تاہم عدالتی یا سرکاری استعمال کے لیے انگریزی فیصلے کی طرف رجوع کیا جائے۔ (آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آرٹیکل 251)
جج
جج
اسلام آباد
23 اگست، 2022ء
اشاعت کےلیے منظور شدہ
حوالہ جات
[1] زیرِ دفعہ 173، مجموعۂ ضابطۂ فوجداری، 1898ء۔
[2] مجموعۂ ضابطۂ فوجداری، 1898ء، کی دفعہ 156-اے لازم کرتی ہے کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت جرم کی تفتیش ایسا افسر کرے جو پولیس کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے کم نہ ہو۔
[3] مجموعۂ ضابطۂ فوجداری، 1898ء، کا انیسواں باب زیرِ عنوان”فرد ہاے جرم کی صورت“۔
[4] ایس اے کے رحمانی بنام ریاست (2005 ایس سی ایم آر 364، فقرہ 20، ص 381-382)؛ محمد بخش بنام ریاست، وفاقی شرعی عدالت کا ایک فیصلہ (2021 ایم ایل ڈی 1725، فقرہ 7، ص 1730)۔
[5] دفعہ 20-اسے، آئین اسلامی جمہوریۂ پاکستان۔ مزید دیکھیے: ایس ایم سی نمبر 1 آف 2014ء (پی ایل ڈی 2014 سپریم کورٹ 699، ص718)۔
[6] پنجاب ریلیجس بکس سوسائٹی بنام ریاست، تین فاضل ججز پر مشتمل بنچ کا فیصلہ (پی ایل ڈی 1960 لاہور 629، ص 640)۔
[7] یہ امور ان مقدمات میں بھی نوٹ کیے گئے ہیں: محمد محبوب بنام ریاست (پی ایل ڈی 2002 لاہور 587، فقرہ 30، ص 601)؛ ایوب مسیح بنام ریاست (پی ایل ڈی 2002 سپریم کورٹ 1048)۔
[8] مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کا باب 16۔
[9] وفاقِ پاکستان بنام گل حسن خان (پی ایل ڈی 1989 سپریم کورٹ 633، ص 684-685)۔
[10] مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کے باب 16 کے تحت جرائم۔
[11] مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کا باب 15۔
[12] مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298۔
[13] ارشاد احمد بنام ریاست (1990 پی سی آر ایل جے 374، 383-اے)۔
[14] ڈائریکٹر آف پبلک پروسیکیشنز بنام کلبورن (]1973[ اپیل کیسز 729) جس میں دار الامراء نے قرار دیا تھا(ص 746) کہ: ”تائید صرف اس گواہ کو دی جاسکتی ہے، یا وہ دے سکتا ہے جس پر اس کے بغیر اعتبار کیا جاسکتا ہو۔اگر کسی گواہ کی گواہی خود اپنی کمزوری کی بنا پر ساقط ہوجائے، تو اسے تائید کی ضرورت، یا اس کی جانب سے کسی کو تائید دیے جانے کی اہلیت، کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔“ اور ڈائریکٹر آف پبلک پروسیکیشنز بنام بورڈمین (]1975[ اپیل کیسز 421) میں دار الامراء نے قرار دیاتھا (ص 455) کہ: ”جب تک کسی گواہ کی گواہی ذاتی طور پر قابلِ اعتبار نہ ہو، وہ نہ کسی کو تائید فراہم کرسکتا ہے، نہ ہی یہ سوچا جاسکتا ہے کہ اسے تائید کی ضرورت ہے۔“ ارشاد احمد بنام ریاست (1990 پی سی آر ایل جے 374، 385-بی)۔
[15] ابو عیسیٰ الترمذی (824-892)، سنن، کتاب 11، حدیث 1180؛ ابو بکر السرخسی (1009-1090)، المبسوط، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1997ء، ج16، ص 122۔
[16] آئین اسلامی جمہوریۂ پاکستان، دفعہ 10-اے۔ نوید اصغر بنام ریاست (پی ایل ڈی 2021 سپریم کورٹ 600، 618 ایچ)۔
[17] سرخسی، المبسوط، ج 9، ص 121؛ ابن عابدین الشامی (1784-1836)، رد المحتار، مصطفیٰ البابی، القاھرۃ، ج 3، ص 176؛ ابن عبد البر الاندلسی (978-1071)، التمهید، وزارۃ الاوقاف والشؤون الاسلامیۃ، المغرب، 1967ء، ج 21، ص 256؛ ابو اسحاق الشیرازی (1003-1083)، المهذب، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 2002، ج3، ص 258۔ مثال کے طور پر اگر کسی جنگی مجرم کو گرفتاری کے بعد سزاے موت کا مستحق قرار دیا گیا ہو اور اسے کسی شخص نے ریاست کی اجازت کے بغیر قتل کردیا، تو اس شخص کو افتیات کے ارتکاب پر سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرخسی، شرح السیر الکبیر، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1997ء، ج3، ص 126۔
[18] اگرچہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں ایسا نہیں کہا گیا۔
[19] نبی ﷺ کی روایت۔
[20] ابو یوسف (729-798)، کتاب الخراج، دار المعرفۃ، بیروت، 1979، ص 152؛ علاؤ الدین الحصکفی (1616-1677)، مسند أبي حنیفة، کتاب الحدود، حدیث 4؛ ابو عیسیٰ الترمذی (824-892)، سنن، کتاب 15، حدیث 1424۔
[21] محمد بن الحسن (749-805)، کتاب الأصل، دار ابن حزم، بیروت، 2014، ج 7، ص 150۔
[22] ایوب مسیح بنام ریاست (پی ایل ڈی 2002 سپریم کورٹ 1048، 1056 بی)۔
[23] Sharia: Theory, Practice, Transformation, Cambridge University Press 2009, part II, chapter 10, p. 246.
[24] نوید اصغر بنام ریاست (پی ایل ڈی 2021 سپریم کورٹ 600، 617 ایف)؛ سلمان رفیق بنام قومی احتساب بیورو (پی ایل ڈی 2020سپریم کورٹ 456)؛ رحمت بنام ریاست (پی ایل ڈی 1977 سپریم کورٹ 515، ص 527 ای)۔
[25] آئین اسلامی جمہوریۂ پاکستان کی دفعات 14، 20، 25 (1) اور 26 (1)۔
[26] عبید اللہ بنام ریاست (1991 ایس سی ایم آر 1734، 1736 بی)۔
[27] محمد اسماعیل قریشی بنام پاکستان (پی ایل ڈی 1991 وفاقی شرعی عدالت 10)۔
[28] ایضاً۔ مولانامفتی غلام سرور قادری، فقرہ 5، ص 17، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، فقرہ 6، ص 17، اور مولانا سعد الدین شیرکوٹی، فقرہ 10، ص 18۔
[29] سورۃ البقرۃ (2)، آیت 222۔ نیز دیکھیے، آیت 151۔
[30] مسلم بن الحجاج القشیری (815-875)، صحیح مسلم، باب 2، حدیث 223۔
[31] محمد بن اسماعیل البخاری (810-870)، صحیح البخاري، باب 10، حدیث 676۔
[32] ابن عساکر (1106-1176)، تاریخ دمشق، دار الفکر، بیروت، 1995ء، ج 30، ص 322۔
مولانا مودودی کے جہادی تصورات
مراد علی کی علمی کاوش کا جائزہ
احمد حامدی
مراد علی صاحب کو اللہ تعالی نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتے رہنا ان میں سے ایک ہے۔ مراد علی، مولانا مودودی اور ان کے کام کے ساتھ اس حد تک لگاؤ رکھتے ہیں کہ مولانا مودودی سے متعلق مواد دیوانہ وار جمع کرتے رہتے ہیں۔ مولانا مودودی کے کام سے واقف بھی ہیں اور واقفیت میں اضافہ کرتے رہنے کے لیے ہمہ وقت تیار بھی رہتے ہیں۔ طویل اقتباسات کو یاد رکھنا اور مولانا کی آرا کو آج کے مسائل پر لاگو کرتے رہنا ان کی ایک اور خوبی ہے اور فیس بک پر موجود لوگ اس سلسلے میں ان کی کاوشوں سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ میں نے ان کو اس حال میں قریب سے دیکھا ہے جب وہ مولانا مودودی کی پوری پوری کتابیں کمپوز کیا کرتے تھے۔ سید مودودی کی فکر کے ساتھ ان کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اُن کی فکر کے ساتھ تحریکی لوگوں کے رویے پر شاکی رہتے ہیں اور اس کو آگے نہ بڑھا سکنے کا شکوہ کرتے رہتے ہیں۔ اپنی نئی کتاب میں بھی ایک دو جگہ وہ یہی شکوہ کرتے نظر آئے ہیں۔
حال ہی میں "مولانا مودودی کا تصور جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ" کے عنوان سے ان کی کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے قبل اسی قسم کے عنوانات کے تحت ان کے مضامین "ماہنامہ ترجمان القرآن" اور "ماہنامہ الشریعہ" میں شائع ہو چکے ہیں۔ کچھ سال قبل ان مضامین پر میں نے ایک مختصر سا تبصرہ ایک فیس بک پوسٹ کی صورت میں کیا تھا، صاحبِ مضامین کا جواب آیا کہ ابھی کتاب آنا باقی ہے لہذا مکمل تبصرہ بحث کی تکمیل تک مؤخر رکھیں۔ میرا خیال ہے کہ اب اِس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد بحث کم از کم اس حد تک مکمل ہو چکی ہے کہ اس پر تبصرہ کیا جا سکے۔
اگر ہم کتاب کے مباحث اور مضامین کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بندہ بیک وقت فقہ حنفی اور مولانا مودودی کی محبت میں گرفتار ہے لیکن حنفی فقہ کی محبت غالب ہے لہذا تعارض کی صورت میں ہمیشہ مولانا مودودی ہی کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس دور میں جب معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی آزاد مجتہد ہونے کے منصب سے نیچے نہیں اترتا، مراد صاحب کا فقہ اور روایت سے تمسک اور اس پر اعتماد قابل تعریف ہے لیکن کسی دوسرے کی فکر پر حنفیت اور روایت ، اس حال میں نافذ کرنا جبکہ صاحب فکر نے خود کو اُس کا ہر حال میں پابند نہیں بنایا، بالکل غلط ہے۔ چونکہ یہ غلطی کتاب کی روح ہے لہذا اجزا کی صورت میں موجود خوبی کی داد دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر اجزا کی صورت میں دیکھا جائے تو باب چہارم سے آگے کے مباحث قابلِ تحسین ہیں لیکن صاحبِ کتاب نے ان مباحث کو بھی باب دوم میں موجود روحِ کتاب کے اندر صَرف کر دیا ہے۔
جس چیز کو میں کتاب کی روح کہتا ہوں وہ مولانا کے تصوراتِ جہاد کو دو اقسام میں تقسیم کرنا ہے۔ تصوراتِ جہاد کو قانونی اور اخلاقی خانوں میں تقسیم کرنا ہی اِس کتاب کا مرکزی نکتہ ہے، اگر ہم اس بحث کا خلاصہ کریں تو درج ذیل نکات بنیں گے:
- جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا مودودی کے ہاں علت القتال شوکتِ کفر ہے، وہ غلطی پر ہیں۔ دراصل یہ رائے صرف الجہاد فی الاسلام سے قائم ہوئی ہے، مولانا کی پوری فکر کو مدنظر رکھ کر یہ رائے نہیں بنی۔ ایسے لوگوں میں عنایت اللہ سبحانی اور ڈاکٹر محمد رفعت شامل ہیں۔
- مولانا مودودی کے ہاں شوکتِ کفر جہاد کی علت نہیں ہے بلکہ محاربہ علت القتال ہے۔ اور حنفی فقہ میں بھی محاربہ ہی علت القتال ہے۔
- عمار خان ناصر صاحب کے مطابق مولانا کے جہادی تصورات متعارض ہیں۔ تعارض کو دور کرنے کے لیے دو طریقے ہو سکتے تھے، ایک یہ کہ مولانا کی فکر کو تاریخی ترتیب سے دیکھا جائے اور آخری رائے معلوم کر لی جائے۔ دوسرا یہ کہ متعارض آرا کو اخلاقی اور قانونی قسموں میں تقسیم کر دیا جائے۔ پہلا طریقہ اس لیے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مولانا مودودی متعارض آرا کو آخر تک ساتھ ساتھ چلاتے رہے ہیں۔ "الجہاد فی الاسلام "کے بعد "سود کا تیسرا ضمیمہ" اور اس کے بعد پھر سے "جہاد فی سبیل اللہ" لکھنا اسی بات کی نشانی ہے۔
- جن اقتباسات سے شوکتِ کفر کے علت القتال ہونے کی رائے بن رہی ہے وہ اقتباسات قانونی (عملی) نہیں ہیں بلکہ اخلاقی، کلامی، نظری، غیر فقہی، غیر تاریخی ہیں۔
- مولانا مودودی کے تصورات جہاد دو قسم کے ہیں: اخلاقی اور قانونی
- اخلاقی تصوراتِ جہاد کے مآخذ: الجہاد فی الاسلام؛ جہاد فی سبیل اللہ؛ خطبات کا متعلقہ حصہ
- قانونی تصوراتِ جہاد کے مآخذ: سود کا تیسرا ضمیمہ؛ اسلامی ریاست اور خلافت و ملوکیت میں خارجہ پالیسی سے متعلق حصہ؛ جسٹس منیر رپورٹ پر تبصرہ وغیرہ
- الجہاد فی الاسلام مولانا مودودی کی نوجوانی اور تشکیلی دور کی کتاب ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ کتاب متحدہ ہندوستان میں لکھی گئی ہے، اور اس پر اپنے زمانے اور ماحول کا بھی اثر موجود ہے۔
تعجب کا مقام یہ ہے کہ مراد صاحب کے مطابق جو کتاب تشکیلی دور کی ہے اور قانونی کی بجائے اخلاقی ہے، اسی سے وہ علت القتال بھی نکالتے ہیں۔ عنایت اللہ سبحانی صاحب نے الجہاد فی الاسلام سے شوکتِ کفر کو علت القتال کے طور پر اخذ کیا ہے۔ مراد علی کے مطابق یہ علت غلط ہے، کیونکہ اس میں مولانا کی پوری فکر کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور "الجہاد فی الاسلام" کو اخلاقی نکتہ نظر کی بجائے قانونی حیثیت سے دیکھا گیا ہے۔ لیکن اسی اخلاقی نوعیت رکھنے والی کتاب سے وہ محاربہ کو بطور علت نکال لاتے ہیں۔ اس کتاب کا جو حصہ شوکتِ کفر کو علت القتال قرار دیتا ہے اس کو صاحبِ کتاب نے اخلاقی کہا ہے لیکن جہاں سے محاربہ کو علت القتال قرار دینے کا امکان نکلتا ہے، وہاں وہ اس اخلاقی نوعیت کو پس پشت ڈال کر قانونی نکتے بھی نکال لاتے ہیں۔ اسی طرزِ عمل کی بنا پر کہنا پڑ رہا ہے کہ مراد صاحب بیک وقت فقہ حنفی اور مولانا مودودی کی محبت میں گرفتار ہیں لیکن مولانا مودودی کی محبت ثانوی ہے جو ہر نازک موقع پر قربان کر دی جاتی ہے۔
مراد صاحب ایک جگہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مولانا کا کوئی "غیر تاریخی، غیر فقہی" تصور قابل قبول نہیں ہو سکتا، ایسی آرا "محلِ نظر" ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مودودی، مراد صاحب کی نظر میں "محل نظر " ہیں جو فقہ حنفی کے ان تعبیرات کے خلاف ہیں جو ڈاکٹر عمران احسن نیازی اور ڈاکٹر مشتاق صاحب پیش کرتے ہیں۔ جو لوگ ڈاکٹر مشتاق صاحب اور ان کے افکار سے واقف ہیں وہ جب اس کتاب کو پڑھیں گے تو انہیں یقیناً ایسا محسوس ہوگا کہ مراد صاحب کی زبان میں ڈاکٹر مشتاق صاحب بول رہے ہیں۔ سلیم احمد نے از راہِ انکسار کہا تھا کہ ہمارا تو کُل سرمایہ محمد حسن عسکری ہیں۔ لیکن میں بطور افسوس کہہ رہا ہوں کہ مراد صاحب کا کُل سرمایہ مشتاق صاحب بن چکے ہیں۔ مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ اس "تشکیلی دور" میں مشتاق صاحب کا شدید فکری اثر، مراد صاحب کی فکر کو یک رخا بنا دے گا۔ میرے خیال میں صاحبِ تصنیف کے لیے ضروری ہے کہ اپنے نتائجِ تحقیق میں موجود سقم کو دور کرنے کے لیے درج ذیل سوالات کے واضح جوابات مہیا کریں:
- کیا اخلاقی اور قانونی تقسیم مولانا مودودی نے خود کی ہے؟ یا کہیں سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مولانا مودودی "الجہاد فی الاسلام "کو قانونی حیثیت نہیں دیتے تھے؟ ( یاد رہے کہ مراد صاحب اس تقسیم کے حق میں خطبات کے حوالے سے مولانا مودودی کی ایک رائے کا حوالہ دیتے ہیں، جو بالکل غلط ہے۔ اس میں دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر لاگو کیا گیا ہے۔)
- کیا مراد علی صاحب، عمار خان ناصر صاحب کے بتائے ہوئے تعارض کو دور کرنے کے لیے یہ تقسیم کر رہے ہیں؟
- کیا مولانا مودودی اس تعارض سے بے خبر تھے؟ یا وہ اس تعارض کو نقصان دہ نہیں سمجھتے تھے؟ یا وہ ان متعارض آرا میں تطبیق کو ایسا مشکل کام نہیں سمجھتے تھے، جس کے لیے ان کو خود وضاحت کرنی پڑے؟ کیا یہ ناممکن ہے کہ ان، بظاہر متعارض آرا سے ایک ایسی روایت نکلے جو جدید دور کے مسلمانوں کے مسائل حل کر دے اور جہادی فکر کو ایک نئی سمیت دے؟
- کیا اس تقسیم سے مولانا مودودی کی اجتہادی آرا ، یا ان کی فکر میں اجتہادی زور کا خاتمہ نہیں ہوگا؟
- کیا تعارض کو رفع کرنا ضروری ہے؟ اگر دو مختلف آرا کا وجود تسلیم کر لیا جائے تو کیا یہ کوئی بہت بڑی خرابی ہوگی، جس کا وجود بڑے مفکرین کے ہاں نہیں ملتا؟
- اگر ہر بندہ، ہر ناپسندیدہ رائے کو اخلاق کے خانے میں ڈال کر اس کو عملاً معطل کر دے، تو کیا یہ مولانا مودودی کی فکر کو درگور کرنے کے مترادف نہ ہوگا؟
- کیا مولانا مودودی خود پر یہ لازم کر چکے ہیں کہ ان کی آرا لازماً فقہ حنفی کے مطابق ہوں گی؟
- کیا اخلاقی تصورات اور افکار کا مقصد محض ایک وعظ اور موٹیویشنل تقریر ہے جس کا فکر و عمل پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے؟
"کلامی اور اخلاقی" خانہ، مراد صاحب کا بنایا ہوا وہ کباڑ خانہ ہے جس میں مولانا مودودی کی ہر وہ رائے پھینکی جائے گی جو فقہ حنفی کے خلاف ہے۔ صاحبِ کتاب، کلامی، اخلاقی، نظری وغیرہ کو جس طرح مترادفات کی صورت میں بلاتامل استعمال کرتے ہیں اور جس بے دردی کے ساتھ مولانا کی آرا کو ان خانوں میں ڈالتے ہیں اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ کوئی کباڑ خانہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی ان آرا کو ڈالا جائے گا جو مراد صاحب کے مطابق کسی عملی نظام، کسی اجتہادی رائے اور کسی قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہوسکتیں۔ مولانا مودودی کے جہادی فکر کے ایک بڑے حصے کو اخلاقی بنا دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ الجہاد فی الاسلام میں موجود تصورات مولانا مودودی کی نوجوانی اور تشکیلی دور کی چیزیں ہیں جن پر اپنے زمانے کے ماحول کا خاصا اثر پایا جاتا ہے اور مولانا کی فکر کا یہ حصہ مسلمانوں کو محض جگانے اور بیدار کرنے کے کام آیا ہے۔ تعارض کو رفع کرنے کا یہ عجیب طریقہ ہے کہ متعارض آرا میں سے ایک رائے کو کہیں تقسیم اور کہیں خاص کرکے بالکل بے اثر بنا کر چھوڑ دیا جائے اور دوسری رائے کو برقرار رکھا جائے۔ بعض تعارضات اگر رفع نہیں ہو سکتے تو ان کو ہوبہو برقرار رکھنے میں کیا قباحت ہے۔ مفکرین کے ہاں متعارض چیزیں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں۔ ایک اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مولانا مودودی خود اور سید سلیمان ندوی "الجہاد فی الاسلام" کو اسلام کا قانونِ جہاد کہتے ہیں لیکن مراد صاحب کے مطابق یہ کتاب قانونی نہیں اخلاقی ہے۔
صاحب کتاب شکوہ کناں ہے کہ تحریکی لوگ قانونی مباحث اور فقہ سے اعتنا نہیں کرتے۔ میرا خیال ہے کہ فقہ کو جاننا بہت ضروری ہے لیکن فقہ کی آستان پر کسی مفکر کو بھینٹ چڑھا دینا، فقہیت کے اعتبار سے جتنا بھی نیک کام ہو، بہرحال علمیت اور دیانتداری کے خلاف ہے۔ اعتنا کا مطلب اگر جاننا ہے تو بے شمار تحریکی لوگ فقہ کو جانتے ہیں بلکہ مراد بھائی اگر اپنے اردگرد کے تحریکیوں کو ہی دیکھ لیں تو ان کو اپنی رائے غلط نظر آئے گی لیکن اگر فقہ سے اعتنا کا مطلب وہی کچھ ہے جو صاحب تحقیق نے اپنی کتاب میں کیا ہے، تو یہ اعتنا سے زیادہ فقہ پرستی ہے جس کے لیے مولانا کی فکر کو وہ بے دردی سے کاٹ چکے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی اعتنا سے بے اعتنائی بہتر ہے۔
مراد صاحب ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر مشتاق صاحب سے کہا کہ سود کا تیسرا ضمیمہ "الجہاد فی الاسلام" اور "اسلامی ریاست" میں بطور ضمیمہ شامل ہونا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ دنیا اس عمل کو علمی دیانت میں شمار کرتی ہے یا نہیں لیکن میں کم از کم اس کو علمیت کے خلاف سمجھتا ہوں۔ ان دو کتابوں میں اگر کوئی اس ضمیمے کو شامل کرے گا تو وہ اپنی دانست میں خواہ کتنا ہی بڑا خیر خواہِ مودودی بن جائے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوگی۔ ضمیمے کی شمولیت کے بعد ان کتابوں کی حیثیت بالکل مختلف ہو جائے گی۔ "اسلامی ریاست" پروفیسر خورشید صاحب کی مرتب کردہ کتاب ہے، اگر پروفیسر صاحب خود بھی ضمیمہ شاملِ کتاب کر دیں تو کتاب کی حیثیت بدل جائے گی کیونکہ موجودہ "اسلامی ریاست" کو مولانا مودودی کی تائید حاصل ہے، جبکہ ضمیمے والی کتاب کو مولانا مودودی کی تائید حاصل نہ ہوگی۔
چونکہ اس کتاب کے مباحث کی بنیاد، اخلاقی و قانونی کی تقسیم ہے، اسی وجہ سے میرا زیادہ روز اسی تقسیم کی غلطی کو واضح کرنے پر ہے اور میں اس تقسیم کو غلط اس بنیاد پر سمجھتا ہوں کہ نہ تو مولانا مودودی نے اس تقسیم کی طرف کہیں اشارہ کیا ہے اور نہ ہی مولانا نے خود کو ہر حال میں فقہ حنفی کا پابند کہا ہے۔ وہ حنفی فقہ کے ایسے پیروکار نہیں ہیں جیسے مراد صاحب اور ان کے اساتذہ ہیں۔ مولانا مودودی ایسے حنفی نہیں ہیں جو حنفی آرا کو ہر حال میں درست سمجھتے ہیں اور اپنے اوپر کسی اجتہادی رائے کو حرام کر دیتے ہیں۔ وہ حنفی فقہ کو ایک کل کے طور پر تو اپنے لیے حد سمجھتے ہیں لیکن جزئیات میں اختلاف بھی کرتے ہیں اور حنفی آرا سے مختلف رائے بھی دیتے ہیں۔
اس کتاب میں مراد صاحب کا جو کام لائق تعریف ہو سکتا ہے اس کو بھی انہوں مذکورہ تقسیم میں صَرف کرکے اپنا نقصان کیا ہے ورنہ اس تقسیم کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو بہت سارا کام بہت مفید اور لائق تحسین بھی ہے۔
اس بحث کو کئی طرح سے مزید پھیلایا جا سکتا ہے۔ مثلاً تعارض کو رفع کرنے کے لیے تقسیم کی بجائے تطبیق کا طریقہ استعمال کیا جائے۔ دونوں آرا کے درمیان بُعد کو تحریکی اور نئے اجتہادی مزاج کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ کسی ایک کتاب کی بنا پر مولانا کے حوالے سے کوئی رائے متعین کر دینا درست نہیں۔ ظاہر ہے ان کی یہ بات بالکل درست ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اس رویے کی بھی مذمت ہونی چاہیے کہ کوئی سکالر اپنی من پسند بات کو پوری فکرِ مودودی پر حَکم بنا کر رکھ دے، جیسا کہ ڈاکٹر مشتاق صاحب اور ان کے متعلقین سود کے تیسرے ضمیمے کو پوری فکرِ مودودی پر نافذ کر دیتے ہیں۔ ہر بڑے مفکر کے ہاں کہیں کہیں تعارض اور دو یا دو سے زائد مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ مولانا مودودی کی فکر میں بھی اس کا امکان موجود ہے۔ لیکن بہرحال یہ اصول طے ہونے چاہییں کہ آدمی کس رائے کو کس بنا پر ترجیح دے گا۔ اگر یہ طے نہ ہو یا ترجیحات کا کوئی تعین مفکر کی فکر سے براہ راست نہ نکلتا ہو تو اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر آرا میں ترجیحات کا تعین غلط قرار پائے گا۔
کتاب پر تبصروں کی روایت میں یہ بھی شامل ہے کہ طباعت پر بھی بات ہو۔ یہ کتاب پہلی نظر میں پرکشش لگتی ہے ، کتاب کی کٹنگ اور بائنڈنگ بہت اچھی ہے۔ کچھ چیزیں ایسی بھی نظر آئی ہیں کہ اگر ان پر مزید محنت کی جاتی تو بہتر سے بہترین کا سفر طے ہو جاتا۔ میرے پاس جو کاپی ہے اس میں صفحات مختلف رنگوں کے لگے ہوئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کاغذ کی کوالٹی بھی مختلف ہے۔ اندرونی صفحات میں کتاب کا عنوان، کتاب کے عام خط سے مختلف ہے، جو بھلا نہیں لگتا۔ یہ خوبی قابل داد ہے کہ پروف کی غلطیاں بہت ہی کم ہیں۔ ایک خرابی ایسی بھی ہے جس کا شمار بڑی غلطیوں میں ہوتا ہے۔ میں نے جگہ جگہ نوٹ کیا ہے کہ ربط کی بہت کمی ہے۔ کہیں کہیں ایسا تاثر ملتا ہے کہ اقتباس مکمل نہیں ہوا اور اس کا کچھ حصہ پرنٹ ہونے سے رہ گیا ہے۔ باب سوم میں فساد کی بحث کے فوراً بعد حرابہ کی بحث اس طرح چل پڑتی ہے کہ قاری ذہنی طور تیار نہیں ہوتا اور ربط کا کوئی جملہ تک موجود نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درمیان میں کچھ صفحات پرنٹ یا بائنڈ ہونے سے رہ گئے ہیں۔ باب اول میں بعض جملوں کی تکرار بھی طبیعت کو بوجھل کر دیتی ہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے بنیادی افکار
محمد یونس قاسمی
ڈاکٹر فضل الرحمان 21 ستمبر 1919 کو پاکستان میں پیدا ہوئے۔ حفظ قرآن اور دیگر ابتدائی تعلیم اپنے گھر اورمقامی سکول سے حاصل کی۔ 1942 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی ادب میں امتیازی نمبروں کے ساتھ ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفرڈ یونیورسٹی میں Avecena's Psychology پر شاندار مقالہ لکھا جس پر انہیں 1949 میں ڈی فل کی ڈگری سے نوازا گیا۔ وہ 1950-1958 تک ڈرہم یونیورسٹی میں فارسی زبان اور اسلامی فلسفہ کے استاذ رہے۔ 1958 میں وہ مونٹریال کی میک گل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں وہ 1961 تک علمی خدمات انجام دیتے رہے۔
1962 میں انہیں پاکستان میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ ( موجودہ ادارہ تحقیقات اسلامی ) کا ڈائریکٹرجنرل نامزد کیا گیا جہاں انہوں نے 1968 تک اسلام کو اس کے بنیادی اصولوں کے لحاظ سے عقلی اور لبرل انداز میں بیان کرنے، عالمگیر بھائی چارے، برداشت اور سماجی انصاف جیسے اسلامی اصولوں پر زور دینے، جدید دنیا کی فکری و سائنسی ترقی میں اسلام کے متحرک کردار کوسامنے لانے، سائنس ، ثقافت اور فکر ونظر کے شعبوں میں اسلام کی خدمات پر تحقیق کو فروغ دینے اور اسلامی تاریخ ، فلسفہ ، قانون اور فقہ میں تحقیق کا دائرہ بڑھانے جیسے اہم امور کے حوالے سے خدمات انجام دیں۔ 1969 میں انہیں شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی فکر کا پروفیسر مقرر کیا گیا اور 1987 میں شکاگو یونیورسٹی نے پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو ان کی شاندار علمی شراکت کے اعتراف میں ہیرالڈ ایچ سوئفٹ کے اعزاز سے نوازا۔ 26 جولائی 1988 کو پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن دل کی سرجری کی پیچیدگیوں کے باعث 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
پروفیسرڈاکٹر فضل الرحمن کا کام چار دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے دس کتابیں لکھیں،درجنوں جرائد کے لیے مقالات لکھے،بہت سارے انسائیکلوپیڈیا کے لیے مضامین اور کئی کتابوں کے جائزے (Book reviews)لیے۔اس سارے کام کو دیکھتے ہوئے ان کے فکری فریم ورک کو چار چیزوں میں تقسیم کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔
1. قرآن کریم کی آفاقیت
2. تصور سنت اور تصور اجماع
3. روایتی تعبیرات سے اختلاف اور
4. حدیث سے متعلق موقف
ہم ذیل میں انہی چار عنوانات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
1. قرآن کریم کی آفاقیت
قرآن کریم کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا بنیادی تھیسز یہ ہے کہ اس کتاب کو ایک اکائی کے طور پر کبھی پڑھاگیا نہ سمجھا گیا ہے۔ اکثر یہی ہوتا آیا ہے کہ اس کی آیات کو الگ الگ کرکے ان کا ترجمہ و تشریح کی گئی ہے جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مختلف موضوعات مثلاً خدا، انسان، معاشرے اور یوم آخرت وغیرہ کے بارے میں قرآن کا مجموعی نقطہ نظر کیا ہے اور اس ضمن میں اس کی ہدایات اور تعلیمات کا باہمی ربط کیسے بنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ اس طرح کے امتزاجی ( (Syntheticمطالعے کے بغیر کوئی بھی شخص اپنے اندر قرآن کا صحیح ذوق پیدا نہیں کرسکتا۔
ڈاکٹر صاحب کے خیال میں قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے قرآن کے مضامین و مندرجات کا گہرا مطالعہ کرکے انہیں آج کی صورت حال میں اس طرح پیش کیا جانا چاہیے کہ قرآن کا اصل مقصد پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آجائے۔ یہودی اور عیسائیوں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ وہ ہمیشہ یہ کام کرتے ہوئے قرآن کو یہودیت یا عیسائیت کی بازگشت قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ انہیں یہ کام کرتے ہوئے روایتی تفسیری ادب سے ہٹ کر بات کرنا پڑتی ہے ، یوں کوئی یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا خیال یہ ہے کہ اب یہ خطرہ مول لینے کا وقت ہے اس لیے کہ اس کے بغیر قرآن کو آج کی زندگی سے موزوں، برمحل اور Relevent ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ قرآن کا مرکزی مطمح نظر اس زمین پر ایک ایسا معاشرتی نظام قائم کرنا ہے، جس کی بنیاد عدل اور اخلاق پر ہو۔ڈاکٹر صاحب کے نزدیک فرد اور معاشرہ ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔
قرآن جب نازل ہوا تو مکے کی سوسائیٹی میں دوبنیادی خرابیاں بہت نمایاں تھیں اور ان کے اثرات بہت گہرے تھے۔ ایک متعدد بتوں کی پرستش جس نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم پیدا کررکھی تھی۔ دوسرا انسانوں کے درمیان معاشرتی اور اقتصادی تفاوت جس میں ایک طبقہ تاجر پیشہ لوگوں اور امیروں کاتھا جبکہ دوسری طرف بہت غریب اور نادار لوگ تھے جنہیں دووقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے کہ مکی آیات میں جہاں قرآن نے عربوں کو بہت سے خداؤں کی بجائے ایک خدا کا تصور دیا جو اس دنیا کا خالق ، مالک اور ہرشئے پر قادر ہے، وہیں قرآن معاشرے کے کھاتے پیتے لوگوں اور تاجر پیشہ افراد کی شدید مذمت بھی کرتا ہے کہ وہ اپنا مال سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں اور اسے مستحقین پر خرچ نہیں کرتے۔ قرآن ایسے لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اور وعید سناتا ہے۔
جب تک حضور نبی کریم ﷺ مکے میں تھےدولت کی درست تقسیم اور غریبوں پر خرچ کرنے کی نصیحت اور تلقین کی جاتی رہی۔ لیکن مدینہ میں ہجرت کے بعد جب وہاں اسلامی مملکت کی داغ بیل ڈالی گئی تو ایک طرف ربا کو حرام قرار دیا گیا اور دوسری طرف زکوٰۃ کا نظام قائم کیا گیا۔اس نظام کی بدولت اللہ کا رزق جو پہلے چند لوگوں کے ہاتھوں میں تھا اب غریب اور بے کس لوگوں تک پہنچنے لگا۔ اس کے ساتھ قرآن نے شوریٰ کا نظام متعارف کروایا تاکہ معاشرتی اور انتظامی معاملات کو ٹھیک طرح سے ادا کیا جاسکے۔ پھر قرآن نے باہمی اختلاف اور ایک دوسرے کے خلاف سازش کرنے کی مذمت کی اور مساوات کو معاشرے کا بنیادی پتھر قرار دیا۔ بعد میں اسلامی قانون کے ماہرین نے قرآن کے حکم مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان کے لیے چار طرح کے بنیادی حقوق پر زور دیا: 1۔ زندگی کا حق 2۔ مذہب اختیار کرنے کا حق3۔ روزگار اور جائیداد کی ملکیت کا حق اور 4۔ شخصی عزت و آبرو کا حق۔ یہ وہ حقوق ہیں جن کی حفاظت کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
پروفیسرڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ قانونی مطالبات اور اخلاقی ہدایات کے درمیان موجود فرق کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم یہ فرق قائم نہ کرپائے تو قرآنی اصلاحات کو سمجھنےمیں ایک بنیادی غلطی کے مرتکب ہونگے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ فرق ملحوظ نہ رکھتے ہوئے مسلم فقہی روایت صحیح راستے سے ہٹ چکی ہے۔ اس پر وہ متعدد مثالیں پیش کرتے ہیں۔
ایک زیادہ شادیوں کا مسئلہ ہے کہ قرآن کا حکم ہے کہ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ یتیم بچیوں کی میراث کا انتظام کرنے میں انصاف نہیں کرسکتے تو ان میں سے جو پسند ہوں، بے شک دو دو، تین تین یا چار چار سے نکاح کرلو، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ایک سے زیادہ بیویوں سے انصاف نہیں کرپاوگے تو پھر ایک ہی کافی ہے تاکہ تم بے انصافی سے بچ سکو۔ قرآن آگے جاکے مزید کہتا ہے کہ تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں انصاف ہرگز نہیں کرسکو گے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا یہ ہے کہ اب یہاں فقہاء و مفکرین نے یہ قانونی اجازت تو لے لی ہے کہ دودو ، تین تین یا چار چار سے شادی کرلو مگر اس کے ساتھ موجود اخلاقی شرط کو خاوند کے ضمیر کے سپرد کردیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ماننا یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت کچھ خاص حالات اور خاص مقاصد کے پیش نظر دی گئی تھی، بلکہ انہوں نے لکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی روایت کو بیک قلم موقوف کرنا ممکن نہیں ، اس لیے ایک اخلاقی شرط عائد کردی گئی تاکہ معاشرہ اخلاقی منزل کی طرف بڑھ سکے۔ یہاں پر ڈاکٹر صاحب غلامی کی مثال پیش کرتے ہیں کہ اس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا، قرآن نے اس روایت کو یکلخت ختم نہیں کیا مگر اس کے ساتھ شرائط عائد کردیں اور غلام نہ رکھنے ، انہیں آزاد کرنے کی ترغیب دی۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں جتنے بھی قانونی یا نیم قانونی احکام وضع کیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ ہمیشہ ایک قانونی بنائے منطقی ہوتی ہے جو سارے معاملے کی روح ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک قرآن کے یہ قانونی بنائے منطقی آفاقی اور ابدی ہیں۔ ان قانونی بنائے منطقی کی بنیاد پر سامنے آنے والے احکام و قوانین ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک تغیر وتبدل کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قوانین و احکام کو حالات کے مطابق اور حالات کے ساتھ ساتھ تغیر پزیر ہونا چاہیے اور یہ کام قرآن کے ماتحت تبھی ممکن ہے جب قرآن کے ظاہری احکام یا الفاظ کی نہیں بلکہ نصوص کی علت اور قانونی بنائے منطقی کی تعمیل کی جائے۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک قرآن کریم کے احکام کا بڑی گیرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے اور ان کے تاریخی و سماجی پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ قرآنی احکام کے قانونی بنائے منطقی اور علل کا استخراج پوری ذمہ داری کے ساتھ کیا جاسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی ایک عمل مسلمانوں کا ایک نیا مستقبل تعمیر کرسکتا ہے۔
یہ ایک بنیادی فریم ورک ہے جو ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے قرآنی نصوص سے بنایا ہے۔ اس فریم ورک کو عملی طور پر استعمال میں لانے کے لیے ڈاکٹر فضل الرحمٰن جو منہج اور میتھڈ استعمال کرتے ہیں ، اس میں ڈبل موومنٹ تھیوری کا تصور سامنے آتا ہے، معروضیت اور تاریخیت کی بحث سامنے آتی ہے، اسی میتھڈ کے استعمال سے سنت، حدیث، اجتہاد اور اجماع سے متعلق روایت پسندوں سے مختلف افکار سامنے آتے ہیں۔ انہیں تفصیل سے سمجھنے کے لیے ڈاکٹر صاحب کی کتاب اسلام، قرآن کے بنیادی موضوعات اور اسلامی منہج فکر کا تاریخی تناظر کا مطالعہ مفید رہے گا۔ہمارے پیش نظر یہاں پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا تصور سنت اور تصور اجماع ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے مقالات سے جو ان کا تصور سنت سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ دعوت اسلام کو عملی شکل دینے کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی کی گئی جدوجہد کا نام سنت ہے۔ ان کے مطابق سنت کے بغیر قرآن مجید کو نہیں سمجھا جاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن اور سنت میں تشابک و تلازم کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال، دعوت اور جدوجہد کے تمام پہلو سنت رسول کے زمرے میں آتے ہیں۔ڈاکٹر فضل الرحمن کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے کسی قول و فعل کو ان کی دعوت اور اسکی عمومی روح سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان کے نزدیک سنت کو سمجھنے کے لیے پوری پیغمبرانہ زندگی کو ایک ناقابل تقسیم وحدت کے طور پر پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ سنت میں چونکہ عمل کا تصور مضمر ہے، اس لیے سنت کی تطبیق مختلف احوال میں مختلف طریقوں پر ہوتی رہے گی۔ مختلف احوال میں مختلف طریقوں پر اس کی عملی تطبیق کا ہوتے رہنا ، سنت کی ماہیت میں داخل ہے۔ اس لیے اس سے سنت کی ناقابل تقسیم وحدت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن احادیث کے تمام مشمولات کو تاریخی طور غیر صحیح قرار نہیں دیتے بلکہ انہیں سنت رسول سے ماخوذ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسری صدی ہجری کے اندر بتدریج ایک مرحلہ ایسا آیا کہ یہ تمام ماخوذات جو سنت رسول سے مستنبط تھے، سلسلہ روایات کے ذریعے خود سنت رسول کے دائرے میں شمار ہونے لگے۔ڈاکٹر فضل الرحمن روایات میں اختلاف اور تضاد کی بنا پر انہیں رسول اللہ ﷺ کے اقوال تو تسلیم نہیں کرتے مگر انہیں دینی حجیت سے خالی بھی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں نے یہ روایات خود سے نہیں گھڑیں بلکہ رسول اللہﷺ کی تعلیمات سے اپنی فہم ودانش کے مطابق انہیں اخذ کیا ہے اور اسی کو وہ ”سنت جاریہ“ قرار دیتے ہیں۔مذکورہ بالا تصور سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سنت ایک متحرک اور مسلسل متغیر رہنے والا عمل ہے کیونکہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک عہد رسالت کے بعد سنّت کا صحیح مفہوم صرف یہی نہیں تھا کہ اس سے مراد خود آنحضرت ﷺ کی سنّت ہی ہو بلکہ سنّت نبویﷺ کی جو توضیح کی جاتی تھی وہ بھی سنّت سمجھی جاتی تھی۔قرآن کے اخلاقی اصولوں کو معاصر حالات سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ان کی عملی تطبیق کرنا سنت ہے اور یہ سنت کسی متعین حکم کا نام نہیں بلکہ سنت کا مطلب سنت جاریہ ہے۔
اب اس آخری مفہوم میں سنّت اجماع امت کے ہم پلہ نظر آتی ہے جو لازمی طور پر ہر دور میں ایک وسعت پذیر طریقہ رہاہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا خیال ہے کہ جب حدیث کی تحریک نہایت شدت کے ساتھ چل رہی تھی تو سنّت، اجتہاد اور اجماع کے درمیان جو ایک فطری تعلق تھا وہ ختم ہو گیا تھا۔اجماع بھی کسی حکم کی متعین شکل کو ہمیشہ کے لیے طے نہیں کرتا ، بلکہ سنت کی طرح متغیر اور ارتقا پذیر رہتا ہے۔ اسی سے قرآن کے اخلاقی اصول ہردور کے لیے بامعنی اور متعلق رہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن جیسے سنت اور اجماع کے تصورات میں اہل روایت سے مختلف ہیں، اسی طرح تصور حدیث پر بھی ان کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ ان کے نزدیک حدیث و سنت کے مابین گہرا ربط پایا جاتا ہے اور وہ حدیث کو سنت جاریہ کی تحریری شکل قرار دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ احادیث کا بیشتر حصہ در حقیقت قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی سنّت جاریہ ہے، جس کی نسبت انہوں نے اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کے نزدیک اس اجتہاد کا نقطہ آغاز فقہا کی اپنی شخصی اور انفرادی رائے تھی لیکن مرور زمانہ کے ساتھ الحاد و بے دینی کے رجحانات، نیز غلات کے خلاف ایک زبردست کشمکش کے بعد اسے اجماع کی سند حاصل ہوگئی یعنی امت کے سواد اعظم نے اسے تسلیم کرکے اس کی پابندی قبول کرلی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہیے کہ قرون اولیٰ کی زندہ اور جاری سنّت، حدیث کے آئینہ میں عکس پذیر ہوئی مگر اس فرق کے ساتھ کہ اس میں راویوں کے سلسلہ اسناد کا اضافہ ہوگیا لیکن اس جزوی فرق کے علاوہ ایک اہم اور بنیادی فرق یہ پیدا ہوا کہ جہاں سنّت بڑی حد تک اور بنیادی طور پر عمل سے متعلق تھی، کیوں کہ وہ مسلمانوں کے کردار اور عملی طور و طریق کے معیاروں کا تعین کرتی تھی، وہاں حدیث نہ صرف فقہی اور قانونی معیاروں کے قیام کا ذریعہ بن گئی بلکہ عقائد اور اصول دین پر بھی موثر ہونے لگی۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک احادیث سے تاریخ سازی کا کام لیا جانے لگا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حدیث کی شکل میں معاصرانہ واقعات کو ماضی کی طرف پھیر دیا جانے لگا تاکہ اس کے ذریعہ امت مسلمہ کی زندگی کو ایک مخصو ص روحانی، سیاسی، اور معاشرتی نمونہ پر ڈھالا جاسکے۔ احادیث کے باب میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے امام شافعی کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان سے روایت کردہ احادیث میں سے بعض کو بیان کرکے اس پر اپنی تنقید لکھی ہے، بالخصوص پیش گوئیوں والی احادیث پر وہ بہت معترض نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی اس تنقید پر جوابی تنقیدبھی لکھی گئی جس میں بڑا کام مولانا محمد یوسف بنوری اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی کاہے ۔ان تنقیدوں کے جواب میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اپنے نقطہ نظر کو مزید واضح کیا کہ وہ احادیث کا کلیتاً انکار نہیں کررہے بلکہ وہ احادیث کی جانچ پرکھ میں ”تاریخی تنقید “ اور ”داخلی شہادت“ کا تصور پیش کررہےہیں جس کی مدد سے وہ کسی بھی حدیث کو فرمان نبوی ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ان کے نزدیک ”تاریخی تنقید“ اور ”داخلی شہادت“ کا مطلب حدیث کا شان نزول تلاش کرنا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن ”تاریخی تنقید“ اور ”داخلی شہادت“کے نتیجہ میں اجماع سے متعلق اور بعض دیگر روایات کو رسول اللہ کی طرف منسوب کرنے سے گریز ضرور کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اسکی دینی حجیت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور انہیں بنیادی دینی صداقت کی حامل روایات قرار دیتے ہیں۔
معترضین نے ڈاکٹر صاحب کے تصور حدیث کو جوزف شاخت کے تصور حدیث کا چربہ قرار دیا ہے مگر ڈاکٹر صاحب اور جوزف شاخت میں ایک بڑا فرق موجود ہے، جس کے نتیجہ میں اگرچہ وہ دونوں ایک ہی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں مگر فرق ضرور ہے اور وہ یہ ہے کہ جوزف شاخت کلیتاً احادیث کو رسول اللہ ﷺ کے فرامین نہیں مانتے مگر پروفیسرڈاکٹر فضل الرحمٰن احادیث کا کلیتاً انکار کرنے کی بجائے ان کے ردو قبول کے لیے ایک معیار مقرر کردیتے ہیں۔
(جاری)
قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟
ڈاکٹر عرفان شہزاد کے نقد پر کچھ وضاحتیں
ڈاکٹر محی الدین غازی
راقم کامضمون”قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟“ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان کے شمارہ جولائی 2022 میں شائع ہوا۔ اس پر ہمارے دوست ڈاکٹر عرفان شہزاد کا نقد ماہنامہ الشریعہ کے شمارہ ستمبر 2022 میں شائع ہوا۔ یوں تو ہمارا موقف پوری وضاحت کے ساتھ آچکا ہے، اور جو باتیں اس نقد میں کہی گئی ہیں ان کی بھی وضاحت موجود ہے، کیوں کہ ان کے مضمون کا بیشتر حصہ غامدی صاحب کے نکات کا اعادہ ہے۔ تاہم شہزاد صاحب کے اٹھائے گئے کچھ نکات کا جواب دینا ضروری محسوس ہوتا ہے۔
شہزاد صاحب نے ہمارے نقد کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:
”غازی صاحب کے نقد کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت دین پوری امت کی ذمہ داری ہے جس پر تفقہ فی الدین یا کسی خاص نسل (ذریت ابراہیم) یا حکومت کی شرائط عائد کرنا، دعوت دین کی حصار بندی کرنا اور اسے عملاً معطل یا غیر مؤثر کرنے کے مترادف ہے۔“
اس کے بعد اس خلاصے پر نقد کرتے ہوئے لکھا ہے:
”غازی صاحب نے دعوت دین کے نازک فریضے کی عمومی فرضیت کے اپنے موقف پر کوئی براہ راست استدلال نہیں کیا۔ انھوں نے دعوت دین کی ذمہ داریوں کی تخصیصات کی نفی کر کے اس کی عمومیت کا تحقق فرض کر لیا ہے۔ حالانکہ یہ اگر کوئی عمومی فرض ہے تو اس کا مستقل اثبات کرنا ضروری ہے۔“
یہاں دو باتیں کہی گئی ہیں:
(۱) دعوت دین کے نازک فریضے کی عمومی فرضیت کے اپنے موقف پر کوئی براہ راست استدلال نہیں کیا۔
(۲) انھوں نے دعوت دین کی ذمہ داریوں کی تخصیصات کی نفی کر کے اس کی عمومیت کا تحقق فرض کر لیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ دونوں ہی باتیں درست نہیں ہیں۔
(۱) ہم نے دعوت دین کے فریضے کی عمومی فرضیت کے لیے براہ راست قرآن مجید کی ان آیتوں سے استدلال کیا ہے، جو صریح عموم کے ساتھ تمام ایمان والوں کو مخاطب کرتی ہیں۔
(۲) ہم نے دعوت دین کی ذمہ داریوں کی تخصیصات کی نفی کرکے اس کی عمومیت کا تحقق فرض نہیں کیا ہے، بلکہ دعوت دین کی ذمے داری کے عام ہونے کی واضح اور صریح دلیلوں کی بنا پر بے دلیل تخصیصات کی نفی کی ہے۔
ہم اپنی بات دو مثالوں سے واضح کریں گے۔
قرآن کی درج ذیل آیتیں شہادت حق کی ذمے داری بیان کرتی ہیں:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا ارْکَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ وَجَاہِدُوا فِیْ اللَّہِ حَقَّ جِہَادِہِ ہُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلّةَ أَبِیْکُمْ إِبْرَاہِیْمَ ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمیْنَ مِن قَبْلُ وَفِیْ ہَذَا لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَہِیْداً عَلَیْکُمْ وَتَکُونُوا شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃ وَآتُوا الزَّکَاۃ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ ہُوَ مَوْلَاکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔ (الحج: 77، 78)
جب یہاں خطاب صاف صاف یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا سے ہے، تو پھر شہادت حق کی ذمے داری ایمان والوں کی ہوئی، یا صرف بنو اسماعیل کی؟ ان آیتوں میں ارْکَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ بھی آیا ہے، فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃ وَآتُوا الزَّکَاۃ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ بھی آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سارے احکام تمام اہل ایمان کے لیے ہیں یا صرف بنی اسماعیل کے لیے؟
اسی طرح درج ذیل آیت دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمے داری بیان کرتی ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُون۔ وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُون۔ وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون۔ وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَاء ہُمُ الْبَیِّنَاتُ وَأُوْلَئکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (آل عمران: 102 – 105)
اور اسی سیاق میں آگے:
کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلَوْ آمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْراً لَّہُم مِّنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَ۔ (آل عمران: 110)
یہاں بھی خطاب یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ سے ہے، تو یہاں مذکور فرائض کو انجام دینے کی مکلف امت پوری امت مسلمہ ہے، یا صرف بنو اسماعیل؟
قرآن مجید میں تو کہیں ایک بار بھی بنو اسماعیل کا نام نہیں آیا اور یہاں امت کے سب سے بڑے فریضے کو امت سے لے کر بنو اسماعیل کے ساتھ خاص کردیا جارہا ہے۔
شہادت حق کے فریضے کو بنو اسماعیل کے ساتھ خاص کردینے کی بنیاد کیا ہے اور اس سے فائدہ کیا ہوگا؟ اس سے قطع نظر، سنگین بات یہ ہے کہ یہ طریقہ استدلال وہاں تک لے جاتا ہے جہاں آدمی یہ کہے کہ قرآن صرف بنو اسماعیل کی ہدایت کے لیے نازل ہوا، امت مسلمہ صرف بنو اسماعیل ہیں اور قرآن کے جملہ احکام بنو اسماعیل کے لیے خاص ہیں۔ بلکہ فریضہ شہادت کو بنو اسماعیل کے ساتھ خاص کرنے سے زیادہ آسان قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺکو بنو اسماعیل کے ساتھ خاص کردینا ہے۔ ہمارے ان احباب کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ نظریہ سازی اور استدلال کی جو راہ وہ اختیار کر رہے ہیں وہ کہاں تک جاتی ہے۔
اللہ تعالی نے ایسی ہر گمرہی کا دروازہ بند کرنے کے لیے قرآن مجید میں یا ایھا العرب اور یا بنی اسماعیل کے الفاظ استعمال ہی نہیں کیے، بلکہ یا ایھا الناس اور یا ایھا الذین آمنوا کے الفاظ سے خطاب کیا۔
ہم دوبارہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اہل مکہ اور پھر اہل عرب کی یہ خصوصیت تو ضرور ہے کہ وہ اس دعوت کے پہلے مخاطب اور امت مسلمہ کی عمارت کی پہلی اینٹ تھے۔ لیکن وہ اصل مخاطب یا کل مخاطب نہیں تھے اور وہ کل امت مسلمہ یا اصل امت مسلمہ نہیں تھے۔ دراصل اسی حیثیت میں ابراہیم علیہ السلام اور اہل عرب کے رشتے کو قرآن مجید میں اجاگر کیا گیا ہے۔
شہزاد صاحب لکھتے ہیں:
”غازی صاحب نے سورہ حج کی آیت 41 تمکین فی الارض کو بغیر حکومت کے کسی جگہ مسلمانوں کے امن و سکون سے رہنے کے معنی میں بھی لیا ہے۔ یہ معنی لینا کسی طرح درست نہیں۔ یہ آیت ہجرت مدینہ کے بعد ان آیات کے تناظر میں نازل ہوئی ہے جن میں جہاد اور معابد کے دفاع کا مضمون بیان ہوا ہے۔ چنانچہ تمکین فی الارض سے بغیر حکومت اور اختیار کے کسی جگہ مسلمانوں کا محض امن و سکون سے رہنا مراد نہیں لیا جا سکتا۔“
واضح کردیں کہ ہم نے تمکین کا مطلب امن و سکون سے رہنا مراد ہی نہیں لیا۔ بلکہ ہم نے تو یہ کہا کہ یہاں افراد کی صورت میں ارباب اقتدار کی بات نہیں بلکہ پوری امت کو غلبہ وتمکین حاصل ہونے کی بات ہورہی ہے۔ ہمارے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
”دوسری آیت میں افراد کو اقتدار دینے کی بات نہیں ہورہی ہے بلکہ امت کو غلبہ وتمکین دینے کی بات ہے، کہ جب ایمان والوں کو کسی علاقے میں دین پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنا یہ فرض بھول نہیں جاتے ہیں، بلکہ تن دہی سے ادا کرتے ہیں۔چناں چہ ان فرائض میں زکوٰۃ وصول کرنا نہیں بلکہ زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ ان تعلیمات کی روشن عملی مثال عہد رسالت ہی میں سامنے آگئی تھی۔ اہل ایمان کو مدینہ میں تمکین حاصل ہوئی اور انھوں نے یعنی تمام اہل ایمان نے ان فرائض کو وہاں بحسن وخوبی انجام دیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت انھی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنھیں اپنے گھروں سے نکالا گیا اور انھیں مدینے میں ٹھکانا حاصل ہوا۔ اور پھر یہ لوگ رہتی دنیا تک تمام اہل ایمان کے لیے نمونہ بنے۔“
ہماری اس تفسیر کی تائید قرآن خود کرتا ہے، یہاں کہا گیا:
الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃ وَآتَوُا الزَّکَاۃ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔ (الحج: 41)
”یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے“۔(جالندھری)
دوسری جگہ کہا گیا:
أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ۔ (الانعام: 6)
”کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے“۔ (جالندھری)
تیسری جگہ کہا گیا:
وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُون۔ (الاعراف: 10)
”اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کیے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو“۔(جالندھری)
قوم عاد کے سلسلے میں کہا گیا:
وَلَقَدْ مَکَّنَّاہُمْ فِیْمَا إِن مَّکَّنَّاکُمْ فِیْہِ وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعاً وَأَبْصَاراً وَأَفْئِدَۃً۔ (الاحقاف: 26)
”اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیے تھے“۔ (جالندھری)
گویا قرآن میں تمکین جہاں بھی جمع کے صیغے میں آیا ہے، پوری قوم کا غلبہ مراد ہے اور غلبہ سے وابستہ پوری قوم کی ذمے داری مراد ہے۔ جہاں تمکین واحد کے صیغے میں آیا وہاں فرد کا اقتدار اور اس سے وابستہ ذمے داری مراد ہے۔ جیسے ذوالقرنین کے بارے میں کہا: إِنَّا مَکَّنَّا لَہُ فِیْ الْأَرْضِ وَآتَیْْنَاہُ مِن کُلِّ شَیْْء ٍ سَبَباً (الکہف: 84) یا یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہا: وَکَذَلِکَ مَکَّنِّا لِیُوسُفَ فِیْ الأَرْضِ (یوسف: 56)
شہزاد صاحب کہتے ہیں:
”غازی صاحب دعوت دین کی ذمہ داری ہر مسلمان فرد پر عائد کرتے ہیں اور استدلال میں "یا ایھا الذین آمنوا" اور "یا ایھا الناس" کے عمومی خطابات کو پیش کیا ہے کہ دین کے مخاطب بلا واسطہ اور بالواسطہ تمام لوگ ہیں اس لیے دعوت دین کی ذمہ داری بھی تمام لوگوں کی ہے۔ دعوت دین کی ذمہ داری کی عمومیت ثابت کرنے کے لیے یہ کوئی استدلال نہیں ہے۔ دین کی دعوت تو ہر ایک کے لیے ہے، مگر دین کی دعوت دینے کی ذمہ داری بھی کیا ہر ایک پر عائد ہوتی ہے؟ یہ استدلال تو یہاں نہیں ہو سکتا۔ کیا جہاد کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے؟ کیا حج کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے؟ بلکہ دین کا ہر ہر حکم ادا کرنا کیا سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہوتا ہے یا وہ اپنی شرائط کے پورا ہونے کے بعد افراد پر لاگو ہوتا ہے؟ شریعت کے اس عمومی قاعدے سے دعوت دین کو استثنا دینے پر اصرار کیوں ہے؟“
یہاں شہزاد صاحب عجیب باتیں کہہ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز پڑھنا، زکات دینا، جہاد کرنا، حج کرنا اور دین کے تمام عمومی احکام کی تعمیل کرنا ہر مسلمان کی ذمے داری ہے۔ البتہ وجوب اور صحت کی شرطیں ہیں جن سے ان احکام کی عمومیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ شرطیں متغیر ہوتی ہیں، کبھی کسی فرد پر پوری ہوسکتی ہیں، اور کبھی اسی فرد پرپوری ہوجاتی ہیں۔ ایک شخص آج صاحب استطاعت نہیں ہے تو اس پر حج فرض نہیں ہے، کل صاحب استطاعت ہوجائے گا تو حج فرض ہوجائے گا۔ بہرحال حج کی فرضیت کا خطاب عمومی طور پر سب مسلمانوں سے رہے گا۔ قانون حج میں وجوب اور صحت کی ان شرطوں کو بتایا جائے گا۔ اسی طرح قانون دعوت میں بھی وجوب اور صحت کی شرطوں کو تو بتایا جائے گا لیکن اس کے عموم کو باقی رکھا جائے گا۔
بالفاظ دیگر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح نماز (شرائط کے ساتھ) سب پر فرض ہے اسی طرح دعوت بھی (شرائط کے ساتھ) سب پر فرض ہے، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ہمیں اعتراض اس پر ہے کہ دین کا ایک عمومی حکم کسی ایک نسل یا قبیلے یا گروہ کے ساتھ خاص کر دیا جائے۔ اس کی نظیر شریعت میں نہیں ملتی ہے۔
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۰)
ڈاکٹر شیر علی ترین
اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Modernity کا پانچواں باب)
توہین آمیز دعوے: ناممکن کو ناممکن رہنے دیں
خیر آبادی کی تنقید کا تجزیہ مکمل کرنے کے لیے میں امکان کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان) اور امکان نظیر (خدا کا حضرت محمد ﷺ کی نظیر پیدا کرنے کا امکان) سے متعلق شاہ اسماعیل کے خیالات کی تردید کے لیے ان کے استدلال کے کلیدی پہلوؤں کا نمایاں کرتا ہوں۔ یاد کریں کہ اس سیاق میں شاہ اسماعیل کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ایسے واقعات کبھی وقوع پذیر نہیں ہوں گے، اور اسی وجہ سے یہ بالواسطہ ناممکن (ممتنع بالغیر) ہیں، تاہم وہ اپنی اصل کے اعتبار سے ناممکن (ممتنع بالذات) نہیں۔ خدا نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ کبھی وہ ایک اور محمد کو پیدا کرے گا، لیکن اگر وہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے؛ امکان کبھی وقوع کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس خیر آبادی کی نظر میں یہ موقف عقلی ونقلی دونوں اعتبار سے ناقابل دفاع ہے، اور اخلاقی طور پر بھی ناپسندیدہ اور متنازع ہے۔ ایک اور محمد کے امکان کا مطلب ایک اور نبی کا امکان ہے جو قرآن کریم کی نص قطعی کو غلط قرار دینے کا تقاضا کرتا ہے (152 – 153)۔ اس لیے کہ قرآن کی ایک مشہور آیت میں پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے: "محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں؛ (اس کے بجاے) وہ خدا کے رسول اور خاتم النبیین ہیں"1۔
خیر آبادی نے اپنے قارئین اور عوام سے تقاضا کیا کہ وہ شاہ اسماعیل کے دعووں کو ہلکا نہ لیں۔ وہ یہ دعوی نہیں کر رہا کہ کوئی اور ہستی محمد ﷺ کے ساتھ انسانیت میں شریک ہے؛ اس دعوے میں کوئی اعتقادی مسئلہ نہیں اور یہ بمشکل ہی کسی اختلاف کا موضوع بن سکتا ہے۔ خیر آبادی نے شدید تنبیہ کی کہ شاہ اسماعیل نے یہ نہیں کہا، بلکہ ایک ایسی ہستی کے امکان کا دعوی کیا ہے جو محمد ﷺ کے ساتھ ان کے اوصاف کاملہ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام کمالات میں سب سے اعلی کمال یعنی نبوت میں شریک ہو۔
خیر آبادی نے اپنے قارئین کو خبر دار کیا کہ وہ شاہ اسماعیل کی شعبدہ بازی سے ہوشیار رہیں کہ وہ محض دکھاوے کی خاطر ایک اور محمد کے وقوع کے بجاے صرف امکان کا اثبات کر رہے ہیں۔ شاہ اسماعیل کا اصل مقصد اور زور ایک دوسرے محمد کی پیدائش کے وقوع پر ہے، چاہے وہ اس کے برعکس جس چیز پر بھی اصرار کرے، اور یہ بات اس اسلوب سے واضح ہے جس میں انھوں نے یہ دعوے کیے ہیں۔ خیر آبادی نے بطور خاص اپنے قارئین کو توجہ دلائی کہ وہ اردو کی اس ترکیب "کر ڈالے" کا معنوی جائزہ لیں اور تجزیہ کریں، جو شاہ اسماعیل نے تقویۃ الایمان میں امکانِ نظیر کے لیے استدلال کرتے وقت استعمال کی ہے (اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکمِ کن سے چاہے تو کروڑوں نبی وولی وجن وفرشتے، جبرئیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے)۔ یہ ایک دل چسپ استدلال تھا جس میں خیر آبادی نے، جو خود فارسی میں لکھ رہے تھے، اردو کے معنوی پہلوؤں پر تحقیق کی ہے۔ خیر آبادی نے واضح کیا کہ اگر شاہ اسماعیل کا مقصد محمد کی امکانِ نظیر کا اثبات ہوتا تو وہ اس کے لیے "کر سکے" (یعنی خدا چاہے تو ایسا کر سکے) کی سیدھی اور سادہ تعبیر استعمال کر سکتے تھے (348)۔ "کر ڈالنے" اور "کر سکنے" کے درمیان فرق یہ ہے کہ مؤخر الذکر سے مراد کسی عمل کے شروع کرنے کا امکان ہے، جب کہ اول الذکر کسی عمل کے واقعی سرانجام دینے پر زور دیتا ہے۔
"کر ڈالنے کا مطلب فعل کا واقع کرنا اور وجود میں لانا ہے، نہ کہ اس فعل پر قادر ہونا اور کر سکنا" (معنی "کر ڈالنا" القاء فعل وبوجود آوردن است، نہ قدرت وتوان بر آں) (348)۔
خیر آبادی نے نتیجہ نکالتے ہوئے کہا کہ اگر شاہ اسماعیل کا مقصد خدا کا لاکھوں محمد پیدا کرنے کی قدرت یا امکان کا اثبات ہوتا تو وہ "کر ڈالنا" کے بجاے "کر سکنا" کی تعبیر استعمال کرتے (ترجمۂ قدرت وتوان در زبانِ اردو 'کر سکنا' است نہ 'کر ڈالنا') (348)۔
لیکن خیر آبادی کی نظر میں معنوی مسائل شاہ اسماعیل کے سراسر گمراہ کن اور خطرناک آرا کا صرف ایک پہلو تھے۔ اس سے زیادہ خطرے کی بات یہ تھی کہ شاہ اسماعیل نے قرآنی آیات سے جس انداز میں خدا کی اس قدرت کا اثبات کیا کہ وہ جان دار اور بے جان ہستیوں کو صرف لفظ "ہوجا!" (القرآن 3 : 59؛ 36 : 81 – 82) سے پیدا کر سکتا ہے، وہ انتہائی ناقص تھا۔ اس تفسیری نکتے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کا اطلاق محمد ﷺ کی ذات پر نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں خیر آبادی نے اصرار کیا کہ شاہ اسماعیل کا استدلال صرف اس صورت میں درست مانا جا سکتا ہے جب ان قرآنی آیات کو ان کے اپنے سیاق سے مکمل کاٹ کر مطالعہ کیا جائے۔ مثلاً اس آیت کو لیجیے جسے شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال میں پیش کیا ہے: "بھلا جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو (دوبارہ) پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں! جب کہ وہ سب کچھ پیدا کرنے کی پوری مہارت رکھتا ہے۔ اس کا معاملہ تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کر لے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ: 'ہو جا' بس وہ ہو جاتی ہے"2۔
اس آیت کو اپنے لیے استدلال میں پیش کرتے وقت شاہ اسماعیل کی علمی ناکامی یہ ہے کہ ان کو یہ پتا نہیں چلا کہ اس کے مخاطبین کون ہیں۔ خیر آبادی نے شاہ اسماعیل کو سمجھایا کہ اس آیت کے اصل مخاطبین وہ ضدی کافر ہیں جو آخرت کا انکار کرتے تھے، اور خدا کی اس قدرت کی تردید کرتے تھے کہ وہ روز قیامت کو انسانی جسم اور ہڈیوں کو دوبارہ جوڑ کر پیدا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس سے چند آیات پہلے مذکور ہے، کفار مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتے تھے: "کون ہڈیوں کو (از سرِ نو) زندہ کر سکتا ہے، جب وہ ریزہ ریزہ ہو چکی ہوں؟" (من يحي العظام وهي رميم)3۔ مذکورہ آیت اس اعتراض کا جواب تھا۔ اگر خدا زمین وآسمان جیسی بڑی اور طاقتور مخلوقات کو پیدا کر سکتا ہے تو وہ معمولی اور حقیر انسانی جسموں، ہڈیوں اور اعضا کو کیوں از سرِ نو پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھ سکتا؟ (پس مدلولِ آیت تصحیح قدرت بر اعادۂ ابدان ورفع استبعادِ منکران است") (364)۔ خیر آبادی نے زور دے کر بتایا کہ "ان کی طرح (مثلھم) کی تعبیر"سے انسانی جسم کی کمزوری اور حقارت کی طرف اشارہ ہے" (مراد از مثال در ایں جا مثال است در اجزاے بدنی۔۔ مثال در کوتاہی وحقارت است) (364)۔ اس لیے اس میں جامع الکمالات نبی اکرم ﷺ کی نظیر کی طرف ایک خفیف اشارہ بھی نہیں۔
"مثل سے مراد یہ نہیں کہ وہ تمام کمالات میں مماثل ہو، کیوں کہ حشر جسمانی اور اعادۂ ابدان سے، تمام کمالات میں مماثل ہونا کسی طرح تعلق اور مناسبت نہیں رکھتا" (ذکر مثال در جامعِ کمالات از بیانِ حشرِ جسمانی واعادۂ ابدان بوجہے تعلق ومناسب ندارد) (364 – 65)۔ ایسی قرآنی آیت پیش کرنا جو اول الذکر معنی میں ہو، اور اس سے مؤخر الذکر معنی کے لیے استدلال کرنا کسی بھی عالم فاضل کی شان سے بعید ہے۔ خیر آبادی نے نتیجہ نکالتے ہوئے کہا کہ قرآنی آیت کی ایسی انوکھی تفسیر شاہ اسماعیل جیسے بیان ومعانی کے عالمِ یگانہ کی تفسیر دانی کی دلیل ہے!
خیر آبادی کے تجزیے کے مطابق علم تفسیر میں شاہ اسماعیل کی نارسائی کی ایک اور دلیل امکان نظیر کے لیے درج ذیل قرآنی آیت سے استدلال ہے: "اللہ کے ہاں اسماعیل کی مثال آدم علیہ السلام کی ہے۔ اس نے اسے مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے کہا 'ہو جا' سو وہ ہو گیا"4۔ خیر آبادی کی نظر میں، شاہ اسماعیل گذشتہ مثال کی طرح یہاں بھی قیاس مع الفارق سے کام لے رہا تھے۔ بن باپ کے پیدا ہونے میں مسیح اور آدم علیہما السلام کے درمیان جو مماثلت ہے، اس کا انطباق نبی اکرم ﷺ کی دوبارہ تخلیق (امکانِ نظیر) پر نہیں ہو سکتا۔ خیر آبادی نے واضح کیا کہ شاہ اسماعیل کے استدلال میں بنیادی نقص یہ ہے کہ وہ اوصاف کی مختلف قسموں کو درخورِ اعتنا سمجھنے میں ناکام رہے۔
انھوں نے اپنے قارئین کو متوجہ کیا کہ اوصاف دو قسم کے ہیں: وہ جن کا دو چیزوں کے درمیان اشتراک ممکن (ممکن الاشتراک) ہو، اور وہ جو ممکن الاشتراک نہ ہوں (366)۔ حضرت آدم اور حضرت عیسی علیہما السلام دونوں کی باپ کے بغیر پیدائش پہلی قسم کے اوصاف میں سے ہے۔ بغیر باپ کے آدم علیہ السلام کی پیدائش عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس وصف میں شرکت سے مانع نہیں۔ تاہم اس کے برعکس حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت ایک ایسا وصف ہے جس سے متصف ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ کوئی دوسرا فرد اس صفت سے متصف نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر شاہ اسماعیل کا قیاس اور نتیجتاً ان کا استدلال مکمل طور پر باطل ہو جاتا ہے۔
اس مقدمے کو قابل سماعت بنانے کے لیے، خیر آبادی نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ شاہ اسماعیل کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ حضور ﷺ کے تمام اوصاف کو پہلی قسم سے ثابت کریں جن کا اشتراک ممکن ہو (در صورتِ قابلِ سماعت تواند بود کہ ایں قائل او باثبات رساند کہ جامعِ اوصاف کہ در ذاتِ ستودہ صفاتِ آں حضرت۔۔۔ موجود بودہ اند از قسم اول یعنی ممکن الاشتراک اند) (367)۔ اس سے ایک لاینحل تناقض جنم لیتا ہے۔ اگر محمد ﷺ کی صفتِ ختم نبوت میں ان کے ساتھ کوئی شریک ہو سکتا ہے تو پھر یہ ختم نبوت ہے ہی نہیں۔ اور اگر ختم نبوت اپنی اصل کے اعتبار سے صرف محمد ﷺ کے ساتھ خاص ہو تو پھر ایک دوسرے محمد کا امکان موجود ہی نہیں۔ شاہ اسماعیل کا استدلال جس طرف بھی آگے بڑھتا ہے، خم ٹھونک کر اس کا ناطقہ بند کیا جاتا ہے۔
نہیں، خدا جھوٹ نہیں بول سکتا!
خیر آبادی اپنا تجزیہ جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعینہ نظری اصطلاحات کے ذریعے سوچنا وہ بے احتیاطی اور نالائقی ہے جس نے خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان (امکانِ کذب) کے حق میں شاہ اسماعیل کے استدلال کو دور از کار بنا دیا ہے۔ وہ شاہ اسماعیل کے اس استدلال پر بطورِ خاص غضب ناک ہیں کہ اگر خدا جھوٹ بولنے کی قدرت نہیں رکھتا تو پھر انسانی قدرت اس کی قدرت سے بڑھ جائے گی۔ خیر آبادی نے شاہ اسماعیل پر ملامت کی کہ اس گمراہ کن استدلال میں جس بات پر غور نہیں کیا گیا، وہ یہ کہ قدرت کی دو قسمیں ہیں: قدرتِ کاملہ جو صرف خدا کے ساتھ خاص ہے، اور قدرتِ ناقصہ جو خدا کی مخلوق کی صفت ہے۔ دوسری قسم جس میں نقص وعیب کے اعمال مثلاً جھوٹ بولنا شامل ہیں، وہ پہلی قسم سے مرتبے میں انتہائی فروتر ہے (بمراتب غیر متناہیہ ناقص است) (354) قدرت کی ان دونوں قسموں میں زمین وآسمان کا فرق اور امتیاز ہے۔
اس لیے اگر انسان کسی نقص مثلاً جھوٹ بولنے کی قدرت رکھتے ہیں اور خدا نہیں رکھتا، تو اس سے کسی بھی صورت میں خدا کی قدرتِ کاملہ کی نفی نہیں ہوتی۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ انسانوں کی قدرت خدا کی قدرت سے بڑھ گئی۔ خیر آبادی نے ایک بار پھر شاہ اسماعیل کو سمجھایا کہ اس کے اثبات کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ انسانی قدرتِ الٰہی قدرت پر مشتمل ہے۔ "شاید 'زیادہ' کے لفظ کا معنی ان کے خیال شریف میں نہیں آیا ہوگا" خیر آبادی نے طنز بھرے لہجے میں کہا (شاید معنی لفظ 'زیادت' بخیال شریف نگزاشت) (354)۔ خیر آبادی نے واضح کیا کہ تعبیر وتشریح کی تمام جھنجھٹوں کو تو جانے دیں، صرف یہ سوال اٹھانا کہ خدا جھوٹ بولنے کا قبیح اور شرم ناک فعل سر انجام دے سکتا ہے، شاہ اسماعیل کے دماغ میں موجود زہریلے خیالات پر دلالت کرتا ہے۔ "وہ (اسماعیل) تسلیم کرتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک شرم ناک نقص ہے، پھر بھی اسے خدا کی طرف جھوٹ بولنے کے امکان کی نسبت کرنے میں کوئی باک نہیں۔ اس سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ وہ خدا کے ناقص اور عیب دار ہونے پر راضی ہے" (352)۔
خیر آبادی کی نظر میں شاہ اسماعیل کی طرف سے ارادی طور پر ایسے گستاخانہ استدلالات بغیر کسی شک وشبہہ کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ محمد ﷺ، دیگر انبیا، فرشتوں اور اولیا کے متعلق ان کے توہین آمیز بیانات ایک گرما گرم مباحثے میں کوئی جذباتی ردعمل نہیں۔ اس کے بجاے ان بیانات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اصل عقیدہ کیا ہے۔ وہ شخص جس کے گستاخانہ بیانات کے ہتھوڑے سے خدا کی ذات تک محفوظ نہیں، اس سے کیا بعید ہے کہ وہ خدا کی مخلوق بشمول نبی ﷺ کی گستاخی کرے، خیر آبادی نے نتیجہ اخذ کیا۔
خبر لیجیے دہن بگڑا
خیر آبادی کو شاید شاہ اسماعیل کی بدنامِ زمانہ گستاخیوں سے کہیں زیادہ ان تعبیرات اور عوام پر ان کے ممکنہ اثرات سے مسئلہ تھا جن کے ذریعے شاہ اسماعیل نے اپنی ان آرا کے لیے استدلال کیا تھا۔ اس منہاج میں تعبیر کا سوال بھی کلیدی تھا جس نے خیر آبادی کی تنقید کو ان کے سیاسی الہیات سے جوڑا۔ تقویۃ الایمان میں حضور ﷺ سے متعلق شاہ اسماعیل کے مفروضہ دعووں کو حضور ﷺ کی شان میں گستاخی ثابت کرنے کے لیے خیر آبادی نے چند اثر انگیز نکات کا ایک مجموعہ پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس بات کا انحصار کہ کون سا کلام گستاخانہ یا توہین آمیز ہے، اس کلام کے سچ یا جھوٹ ہونے پر نہیں بلکہ اس کلام کے متکلم اور تناظر پر ہے۔
اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے خیر آبادی ایک بار پھر شاہی دربار کی منظر کشی کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک فرضی مثال پیش کی کہ سوچو، اگر ایک بادشاہ اپنی شان وشوکت کے اظہار کے لیے اپنے دربار کے انتہائی مقرب اور مکرم وزیر اعظم سے کہے: "اگر میں چاہوں تو تم سے وزارت چھین لوں، رعایا کے کسی معمولی آدمی کو تمھارے منصب پر فائز کردوں، اور تمھیں جیل بھیج دوں، یا تمھیں تختۂ دار پر لٹکا دوں"۔ باوجودیکہ یہ الفاظ کافی سخت ہیں، پھر بھی ایک طاقت ور بادشاہ کی زبان سے یہ کلام وزیر کی شان میں تخفیف نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی معمولی سپاہی یہ کہے کہ اگر بادشاہ چاہے تو وہ یہ سب کام سر انجام دے سکتا ہے تو یہ ایک معزز وزیر کی انتہائی تذلیل ہے (370)۔
اسی طرح الہیاتی دائرے میں وہ قرآنی آیات جن میں آپ ﷺ کی انسانی حیثیت کو اس طرح واضح کیا گیا ہے جیسے: "میں تمھاری طرح ایک انسان ہوں" (القرآن 18 : 110) حضور ﷺ کی عظمتِ شان کے منافی نہیں (371)۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ لیکن حضور ﷺ کی امت کے ایک معمولی فرد کو ان الفاظ کے کہنے کا حق حاصل نہیں؛ اور ایسا کرنا حضور ﷺ کی توہین کے مترادف ہوگا۔ ایک ممکنہ اعتراض کے اٹھنے سے پہلے اس کا جواب دیتے ہوئے خیر آبادی نے واضح کیا کہ قرآن کریم کی ان آیات کی تلاوت کو گستاخی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہاں پر ان کا استدلال دل چسپ تھا۔ ایسا اس لیے ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتے وقت ایک انسان صرف اللہ تعالیٰ کے کلام کو دہرا رہا ہوتا ہے؛ یہ الفاظ قاری کے اپنے نہیں ہوتے، اور اسی وجہ سے ان میں موجود معانی کے لیے وہ جواب دہ بھی نہیں ہوتا (372)۔ لیکن قصداً ایسے جملے کہنا کہ "خدا کئی لاکھ نئے محمد پیدا کر ڈالے" سراسر ان آداب کے خلاف ہے جنھیں حضور ﷺ سے متعلق کسی قسم کی گفتگو میں برتنا ضروری ہے۔
خیر آبادی نے بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ شاہ اسماعیل نے پوری ڈھٹائی سے حضور ﷺ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کی ہے۔ علاوہ ازیں اس نے ایسے مبہم اعتقادی چیستان جیسے "ممتنع بالذات" اور "ممتنع بالغیر" کے تصورات جنھیں صرف خواص اہل علم سمجھ سکتے ہیں، بنا کر عوام کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ خیر آبادی کی نظر میں اگر شاہ اسماعیل کے دلائل مکمل طور پر مضبوط اور درست بھی ہوں، تب بھی انھیں خواص اہل علم کے بجاے عامۃ الناس کے سامنے پیش کرنا ان میں فکری انتشار اور الجھن کے بیج بوئے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ خیر آبادی کو تقویۃ الایمان کی زبان، مثالوں اور عام فہم اردو سے سخت چڑ تھی۔ وہ حسرت آمیز انداز میں لکھتے ہیں: "اسماعیل کو کیا ضرورت تھی کہ اپنی کتاب عام فہم زبان میں لکھتے؟ اور توحید کے اثبات کے لیے کیا لاکھوں دوسرے محمد پیدا کرنے کے امکان کے علاوہ کوئی اور مثال نہیں تھی؟" (445)5۔
شاہ اسماعیل نے اس الزام کا جواب کس طرح دیا ہوگا کہ وہ ایک گستاخ ہیں جو معصوم عوام کے عقیدے کو خراب کر رہے ہیں؟ جو اشارے انھوں نے چھوڑے ہیں، ان سے واضح ہے کہ انھوں نے اپنی اصلاحی فکر اور جد وجہد کی ایسی خطرناک تصویر کشی سے شدید اختلاف کیا۔ خیر آبادی کی نظر میں جو بات انتشار وافتراق کا سبب تھی، شاہ اسماعیل کے لیے وہ اخلاقی زوال اور شکست وریخت کے ایک تاریخی لمحے میں درکار واضح اور صحیح فکر کی نمائندگی تھی۔ ادب آداب اور مقام نبوت کے نام پر ان حساس اعتقادی مسائل کو عوام کی نظروں سے چھپانے کے بجاے زیادہ دانش مندانہ رویہ یہ ہے کہ ان کو طشت از بام کیا جائے، شاہ اسماعیل نے بتایا۔ بلکہ انھوں نے دعوی کیا کہ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے عوام میں الجھن، اضطراب اور بے چینی روز افزوں ہے۔
اس الزم کے جواب میں کہ شاہ اسماعیل نے حضور ﷺ کی گستاخی کی ہے، انھوں نے یک روزہ میں لکھا: "خدا کے ہاں حضور ﷺ کی عبدیت کا اثبات کسی قسم کی بے ادبی یا عوام کو گمراہ کرنا نہیں، بلکہ حضور ﷺ کی عبدیت کا اظہار دین کے حتمی مقاصد میں سے ہے" (تنقیصِ آں جناب بہ نسبتِ حضرتِ حق اصلاً اساءتِ ادب بآں جناب واضلال عوام نیست، بلکہ اظہارِ عبودیتِ آں جناب است کہ از اتم مقاصدِ دین است6۔ خلاصۂ کلام یہ کہ کون سی چیز گستاخی ہے اور کون سی نہیں، اس سوال کے جواب میں شاہ اسماعیل اور خیر آبادی دونوں کی آرا خدائی حاکمیت، حضور ﷺ کی شخصیت اور رفعتِ شان اور عوام کے روز مرہ اعمال کے حریف تصورات پر مبنی تھیں۔ بالفاظ دیگر آداب کلام سے متعلق ان کا اختلاف ان کے دیگر عمومی اختلافات کی طرح ان کی، متوازی سیاسی الہیات سے متاثر تھا۔
متوازی سیاسی الہیات
اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں خیر آبادی یا شاہ اسماعیل کے الہیاتی اور سیاسی تصورات کے درمیان سادہ عِلّیت (causality) کا فرق تجویز نہیں کرتا۔ اس کے برعکس میں دینیات اور سیاسیات کو ایسے دو الگ فکری دائروں کے طور پر دیکھنے میں تردد کرتا ہوں، جن میں ایک کو دوسرے کے لیے بآسانی علت قرار دیا جا سکتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کے اس حصے میں، میں نے کوشش کی ہے کہ عمومی تصور کے برعکس، سیاست کے عام طور پر نظر انداز کیے گئے ان تصورات کی تحقیق کروں جو خدائی حاکمیت اور نبوی اختیار جیسے بظاہر اعتقادی تصورات پر مرکوز استدلالات کی بنیاد بنتے ہیں۔ میں نے دینیات اور سیاسیات کی علیت کے بجائے معاصرت (synchronicity) کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ اس حصے میں بیان کیا گیا مناظرانہ دور سیاسی الہیات کے دو یکسر حریف بیانیوں کو سامنے لاتا ہے۔
شاہ اسماعیل نے ایک ایسے وسیع تر سیاسی پروگرام کے حصے کے طور پر حضور ﷺ کی بشریت پر زور دیا، جو انفرادی آزادی کے امکان کو خدائی حاکمیت کی مطلق یکتائی (توحید) پر غیر مشروط ایمان سے جوڑتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کی نظر میں استثنا کو قانونی شکل دینے کی قدرتِ الہیہ میں کسی قسم کا خلل پیدا کرنا ناگزیر طور پر اس کی حاکمیت کی یکتائی (توحید) کو کمزور کرتا ہے۔ اس کے برعکس خیر آبادی کے نزدیک ایک ایسے کائناتی درجات ومراتب کا تصور بھی کفر تھا جس کا مرکز حضور ﷺ کی ذات نہ ہو۔ مزید برآں، ان کی نظر میں (قانون سے) استثنا ایک ایسا تحفہ تھا جو بارگاہ الہی میں کسی ہستی کو دیے جانے والے اعزاز کا اعتراف تھا۔ شفاعت کے خدائی تحفے نے ایک معزز وبرتر ہستی کی حیثیت سے حضور ﷺ کے مقام ومرتبے کو محفوظ کیا۔ مزید برآں اسی تحفے نے آخرت میں حضور ﷺ کی رفعت شان کے تسلسل کو یقینی بنایا۔
اس لیے خیر آبادی کی نظر میں شفاعت کا تحفہ چھیننے کی کوئی بھی کوشش ایک ناقابل برداشت اعتقادی خرابی ہے، اور دین کی منطق ومعقولیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا ہےجو حضور ﷺ کی استثنائی حیثیت کی وجہ سے قائم تھی۔ یہی وہ بنیادی خطرہ تھا جس نے انھیں شاہ اسماعیل کی تکفیر پر مجبور کیا۔ شاہ اسماعیل اور خیر آبادی دونوں کی نظر میں سیاسی اور الہیاتی تصورات ناگزیر طور پر باہم گندھے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کے سیاسی الہیات کے دھارے ایک دوسرے کے سراسر مخالف تھے۔
استعماری طاقت اور مقامی اصلاحی تحریکوں کے درمیان تعامل
شفاعتِ نبوی پر فضل حق خیر آبادی اور شاہ محمد اسماعیل کا اختلاف انیسویں صدی کے اوائل کے ہندوستان میں حاکمیت اعلیٰ کی سماجیات کے بارے میں ایک اہم تصویر فراہم کرتا ہے۔ یہ تنازع برصغیر کی سیاسی تاریخ کے ایک مخصوص موڑ پر کھڑا ہوا جب برطانوی استعمار کو عروج اور مغلیہ سلطنت کو زوال ہو رہا تھا۔ جیسا کہ کارل شمٹ نے بتایا ہے، سیاسی اور الہیاتی تصورات ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ گندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مغربی جدیدیت کے بیانیے کی خصوصیت ایک ایسی سیاسی الہیات کا ظہور ہے، جس میں حاکمیت کا مرکز جدید شہری کی ذات کو منتقل ہوا۔ علاوہ ازیں اس نئے سیاسی عقیدے میں ایک ایسا عقلی بیانیہ مستور تھا جس نے مذہب کی استثنائی حیثیت پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کی، کیونکہ استثنا کو قانونی شکل دینے کے اختیار پر جدید ریاست بتدریج اپنا حق جتا رہی تھی۔
لیکن اس باب میں بیان کردہ مناظرانہ دور کس طرح شمٹ کے سیاسی الہیات کے تصور کے حدود کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ ذرا زیادہ کھل کر بات کی جائے تو کیا اس اختلاف کو ایک نئے ابھرنے والے جدید سیکولر شعور اور ایک روایتی سماجی تصور کے درمیان کش مکش کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا ہم شاہ اسماعیل کو ایک ایسے مقامی مصلح کی حیثیت سے دیکھ سکتے ہیں جو اپنی سیاسی الٰہیات کے ذریعے ایک جدید عقلی تصور کو فروغ دے رہا تھا، جو توسّل، امتیازات اور مراعات کا ناقد تھا؟ بالفاظِ دیگر کیا خدائی حاکمیت کے لیے بظاہر خطرہ بننے والی رسومات کو ناجائز قرار دینے سے ان کا مقصد برصغیر میں ایک نئی ابھرنے والی، استعمار کی پروردہ پروٹسٹنٹ اسلامی جدیدیت کا اظہار تھا؟ چند وجوہات کی بنیاد پر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے، شاہ اسماعیل کا وجودی الہیاتی (ontotheological) فکری منہج ناگزیر طور پرہندوستانی مسلمانوں کی ایسی شناخت کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو عوامی دائرے میں خدائی حاکمیت کی تصدیق کرے۔ اس لیے ان کی ماورائی الہیات کا مرکزی موضوع جس قدر خدا ہے، اسی قدر ایک اصلاح شدہ ہندوستانی فرد کی تشکیل بھی ہے۔ شفاعت نبوی کے خلاف شاہ اسماعیل کا استدلال قوم پرستانہ معنی میں عوامی حاکمیت کی آب یاری کی دعوت نہیں۔ تاہم ان کے سیاسی الہیات کا مرکزی نکتہ ایک ایسے فرد کی تشکیل ہے جو خدائی حاکمیت کی یکسر یکتائی کی تصدیق سے خدا کی انتہائی قربت حاصل کرے۔ اس قسم کی وجودی الہیاتی (ontotheological) سیاسی الہیات، حاکمیت کے جدید تصور سے متعلق شمٹ کے بیان سے بالکل ہم آہنگ نظر آتی ہے جہاں: "لوگوں کا ارادہ خدا کے ارادے کے مماثل بن جاتا ہے؛ لوگوں کی آواز ہی میں خدا کی آواز سنائی دیتی ہے"7۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں امریکا کی تبلیغی وتبشیری (evangelical) روایت کے مؤرخین مثلاً جان ماڈرن (John Modern) اور مائیکل وارنر (Michael Warner) نے بتایا ہے کہ امریکی سیکولرازم اور اصلاح مذہب کی تاریخ ایک دوسرے سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں8۔
ان مصنفین نے بتایا ہے کہ مذہب کی قدیم صورت پر ایونجیلیکل فرقے کے لوگوں کی تنقید مذہب کی ایک ایسی اخلاقی تفہیم کے لیے شدید اہم تھی، جو داخلی تزکیے اور ماورا (transcendent) کی قربت پر زور دیتی ہو۔ نتیجتاً مذہب کے اس نئے تصور نے اخلاقی اور سیاسی پروجیکٹ کی حیثیت سے سیکولرزم کی سہولت کاری اور فروغ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سیکولر طاقت اور ایونجیلیکل اصلاح کے درمیان تعلق کے ماڈل کا شاہ اسماعیل کے پروجیکٹ پر بیک وقت انطباق ہو بھی سکتا ہے، اور نہیں بھی۔
ایک طرف شاہ اسماعیل جیسے مصلحین کی اصلاحی تحریکیں انیسویں صدی کے ہندوستان میں برطانیہ کی متعارف کردہ ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی صورتِ حال کی مرہونِ منت ہیں۔ زبانوں کو عام فہم بنانا، جس کے نتیجے میں اردو ہندوستان کے اہل علم اشرافیہ کے درمیان رابطے کی زبان کے طور پر ابھری، نشر واشاعت میں توسیع، تجارت وابلاغ کے ذرائع کا پھلنا پھولنا، یہ وہ تمام تغیرات ہیں جنھوں نے شاہ اسماعیل جیسے مسلم مصلحین کی اصلاحی تحریکوں کی نمو وافزائش میں اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً تقویۃ الایمان کی اشاعت وترسیل جس پیمانے پر ہوئی، برطانیہ کی متعارف کردہ ٹیکنالوجی سے پہلے اس کا تصور بھی ناممکن تھا9۔ لیکن ان سب کے باوجود مسلم اصلاحی تحریکوں کو استعماری جدیدیت کی پیداوار قرار دینے کی کچھ حدود ہیں جنھیں واضح کرنا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔
خدائی حاکمیت کی بحالی کی خواہاں مسلم اصلاحی فکر اور مذہب کے جدید استعماری بیانیوں کے درمیان ایک واضح قربت کا ادراک کوئی مشکل بات نہیں۔یہ دونوں فکری دھارے اس کوشش میں تھے کہ فرد (یا مومن) کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ بغیر کسی توسّل کے براہ راست ایک ماورائی حقیقت (خدا یا اس کے برعکس) تک رسائی حاصل کر سکے۔ ان دونوں کا مقصد ماورا کی اولیت کا تحفظ تھا۔ تاہم اس واضح قربت کا یہ مطلب نہیں کہ ان دونوں دھاروں کے درمیان تعلق تنفیذ (imposition) یا رد عمل کا ہے۔
شاہ اسماعیل کے اصلاحی پروجیکٹ کا مخصوص دھارا اور تصور اگر چہ استعماری طاقت کی پیدا کردہ صورت حال کی مرہون منت ہے، تاہم وہ پروٹسٹنٹ اسلام کے منہاج میں پوری طرح سے ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ برصغیر کی دیگر اصلاحی تحریکوں سے، جو عام طور پر جدید استعماری علم کی پیداوار تصور کی جاتی ہیں، موازنہ کرکے اس نکتے کی تنقیح کی جا سکتی ہے۔
شاید اس نکتے کی سب سے عمدہ مثال استعماری ہندوستان میں سکھ اصلاحی فکر پر اروند منڈیر کی کاوش میں پائی جاتی ہے10۔ ذیل میں میرا مقصد منڈیر کے استدلال سے اختلاف نہیں، بلکہ اس کے برعکس مجھے اس کا تجزیہ انتہائی اطمینان بخش معلوم ہوتا ہے۔ سکھ اصلاحی فکر سے متعلق اس کے منہج پر بحث کرنے کے بجاے میں چاہتا ہوں کہ برصغیر میں استعماری طاقت کے ساتھ مذہبی اصلاح کے تعامل کی متنوع مثالوں کی بنت میں موجود باریک لیکن نمایاں اختلافات کی نشان دہی کروں۔
اس پیچیدہ تجزیے کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کے لیے منڈیر رقم طراز ہے کہ سکھوں کی اصلاحی تحریکوں مثلاً سنگھ سبھا (جو 1873 میں قائم ہوئی) نے سکھ مذہب کو ایک عالمی توحیدی مذہب کی حیثیت سے پیش کیا جس کے پاس واضح الہیات ہیں۔ انھوں نے ایسا استعمار کے علمی دھارے کی تقلید اور ردعمل میں کیا جو کسی دین میں قادر مطلق خدا کی عدم موجودگی کو عیب سمجھتا ہے ۔
عالمی مذاہب کی انجمن میں شمولیت کے لیے اس عیب کو دور کرنا ایک بنیادی شرط تھا۔ اس عیب کو دور کرنے کی جستجو میں سنگھ سبھا کے مصلحین نے "سِکھی" کی تبدیلی اور تشکیل نئی سکھ مت (neo-Sikhism) کے جدید مذہب سے کی، جس میں سارا زور قادر مطلق خدا کی ہستی (توحید) پر ہے۔ منڈیر نے اس عمل کے لیے "مذہب سازی" کی اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے انداز میں غالب اور پہلے سے موجود استعماری محاورے کو اپنی روایت کی تشکیلِ نو کے لیے تصرف کیا جائے جو غالب محاورے کے مذہبی تصور سے ہم آہنگی رکھتا ہو۔ تاہم عالمی مذاہب کی انجمن میں، جو مغربی اور مسیحی تصور کی پیداوار ہے، داخلے کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ "مذہب سازی" ان ابہامات اور امکانات کو بھی بے دخل کرتی ہے جو کسی روایت کے ماقبل استعماری ورثے میں موجود ہوتے ہیں11۔
یہاں پر میرے مقصد کے لیے منڈیر کی گفتگو کا سب سے نمایاں پہلو وہ انداز ہے جس میں وہ طاقت کے اس نظام مراتب کو پیش کرتا ہے، جس میں کوئی بھی فکر استعمار سے مستعمر تک آنے کا سفر طے کرتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ استعمار/مستعمر کے تعلق کو استعمار کے محاورے (یا 'پہلے محاورے') اور اس محاورے کے درمیان جو استعمار سے تعامل کے ذریعے مستعمر تشکیل دیتا ہے، درجات کے فرق کی اصطلاح میں بیان کیا جائے۔ پہلا محاورہ برطانیہ نے فراہم کیا۔ اس میں استعمار کے ادارے، نظریات، زبان اور فکری ورثہ شامل ہے – ہندوستانیات، نسلیات (ethnography) اور مشنری لٹریچر کے ذریعے مقامی روایات پر ان کی تنقید کو فی الحال جانے دیں12۔
درجہ بندی کے اس نظام کے مطابق، یہ استعماری محاورے کے تسلط کا نتیجہ تھا کہ مقامی علمی اشرافیہ کے علمی افکار اور اصلاحی تحریکوں کا تصور وتشکیل ممکن ہوا۔
برصغیر میں انیسویں صدی کے اواخر میں دیگر اصلاحی تحریکوں کے افکار میں بھی مقامی مذہب کی استعماری عقلیت سے ہم آہنگی کی ایسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں۔ پس منظر اور مقاصد کے اختلاف کے باوجود یہاں پر براہمو سماج، آریہ سماج، علی گڑھ سکول، اور سنہالی بدھ مصلحین، جن کے لیے گناناتھ اوبیسیکرے (Gananath Obeysekere) نے "پروٹسٹنٹ بدھ ازم" کی اصطلاح استعمال کی ہے، کا ذکر کیا جا سکتا ہے"13۔
باوجودیکہ ان سب تحریکوں میں واضح مشترکات ہیں، شاہ اسماعیل کا معاملہ ان اصلاحی دھاروں سے نسبتاً مختلف ہے۔ شاہ اسماعیل انیسویں صدی کے أواخر سے چند دہائیاں قبل وفات پا چکے تھے جب یہ اصلاحی دھارے پھلے پھولے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ ان کی بنیادی تربیت ان تحریکوں کے پیش روؤں کے برعکس، جو یا تو استعماری عہد میں سراپا ڈوب گئے تھے یا انگریزی اداروں کے تعلیم یافتہ تھے، بالکل مختلف انداز میں ہوئی تھی۔ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جس سے یہ ثابت کیا جائے کہ شاہ اسماعیل مذہب کے بارے میں استعماری علوم سے واقف تھے، یا انھوں نے برطانوی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے خدائی حاکمیت کی بحالی کے لیے ان کی کوشش یا توسل پر ان کی تنقید کو جدید استعماری علم کی دین نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اس کے بجاے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ شاہ اسماعیل کا اصلاحی پروگرام مذہب کی ایک جدید پروٹسٹنٹ تفہیم سے مشابہ ہے، لیکن اس کی پیداوار نہیں ہے۔ خدائی حاکمیت پر ان کی فکر مذہبی استناد کے استعماری بیانیوں سے مماثل ہو سکتی ہے، لیکن یہ استعماری فکر کا چربہ نہیں ہے۔ وہ فکری مفروضے اور استدلالات جو اس کے اصلاحی ایجنڈے میں کار فرما تھے، ان پر استعماری طاقت کی طرف سے نہیں تھوپے گئے تھے، اگر چہ اس طاقت نے وہ حالات پیدا کر دیے تھے جو اس ایجنڈے کی اشاعت میں معاون تھے۔
ایک ابھرنے والے استعماری نظام کے حالات نے، جس میں سیاسی اقتدار زوال پذیر تھا،یقیناً شاہ اسماعیل جیسے مصلحین کی اصلاحی تحریکوں کو ممکن بنایا۔ علاوہ ازیں ایسا بھی نہیں کہ شاہ اسماعیل نے استعماری طاقت سے کوئی اختلاف یا سمجھوتا نہیں کیا۔ انھوں نے یقیناً کیا جس کی سب سے بہترین مثال دلی میں برطانوی ریزیڈنٹ کی جانب سے ان کے خطبات پر بابندی اور بعد ازاں بحالی ہے۔ اس واقعے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں ایک نئی طاقت موجود تھی۔
تاہم استعمار اور مقامی اصلاحی فکر کے درمیان تعامل پر غور وفکر کے بارے میں مفید ہوگا کہ ایک طرف استعماری طاقت کی پیدا کردہ ٹیکنالوجیکل اور ادارتی صورتِ احوال اور دوسری طرف اس کے علمی کردار کے درمیان امتیاز قائم کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں کے درمیان تعلق ہے۔ لیکن یہ امتیاز قائم کرنا شاہ اسماعیل جیسے مصلحین کی اصلاحی فکر کی ایک زیادہ گہری تفہیم کو ممکن بناتا ہے، جس کی اٹھان استعماری طاقت کی غاصبانہ موجودگی کے باوجود اختلاف کے اس کے علمی غلبے سے متاثر نہ تھی۔
یہ واضح ہے کہ شاہ اسماعیل کے اشتعال انگیز بیانات اور خیر آبادی کی جانب سے ان کے جواب ایک ایسے عہد میں وقوع پذیر ہو رہے تھے جس میں استعماری ریاست بتدریج لیکن یقینی طور پر توسیع پذیر تھی۔ لیکن اخلاقی سوالات اور اضطرابات، جو ان کے استدلالات کی جان تھے، ایک طویل المدت اسلامی فکری روایت کا حصہ تھے، جنھیں مشکل سے ہی جدید پروٹسٹنٹ فکر کی پیداوار یا اس سے ماخوذ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے نئے سیاسی اور ادارتی حالات کو علمی اثرات اور تسلط کے بیانیے سے گڈ مڈ کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ توسل اور قادر مطلق خدا کی ہستی پر زور دینے میں مسلم اصلاحی اور جدید پروٹسٹنٹ تنقید کی ظاہری مشابہت کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دونوں تنقیدات ایک جیسی ہیں۔
یہاں پر میں ایک متوقع غلط فہمی کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ میرے نکتے کا مطلب یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میں استعماری طاقت کی حدود اور مقامی لوگوں کے کردار کے درمیان کوئی حد فاصل قائم کرنے کی کوشش میں ہوں۔ اس طرز استدلال میں کئی بنیادی فکری پیچیدگیاں ہیں، جسے اروند منڈیر، ڈیوڈ سکاٹ اور اَناندا ابیسیکارا جیسے اہل علم نے اپنے اپنے انداز میں نمایاں کیا ہے14۔ مثلا مستعمَر کے کردار کو صرف استعماری حکومت کے مزاحمت کار یا اس کا تختہ الٹنے والے کی نظر سے دیکھنا طاقت کی ایک سادہ تفہیم پر مبنی ہے جس میں طاقت کو لازماً منفی حیثیت میں دیکھا جاتا ہے، اور اس کے تعمیری کردار سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ مقامیوں کے کردار کے پیچھے پڑنے کا نتیجہ یہ ہے کہ طاقت کے بارے میں میشل فوکو کی زیادہ تر تعلیمات ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہیں۔
یہ بھی پیش نظر رہے کہ، جیسا کہ ابیسیکارا نے بہت عمدگی سے واضح کیا ہے، استعماری طاقت کے حدود فرض کرنا اس خام مفروضے کو دوام بخشتا ہے کہ طاقت کی تجرباتی پیمائش ممکن ہے، اور اس لیے ہر کوئی استعمار سے اس پیمائش کے مطابق معاملات طے کر سکتا ہے15۔علاوہ ازیں مقامیوں کے کردار کو استعماری اثر سے الگ کرنے کی خواہش اس مغالطہ آمیز مفروضے پر منحصر ہے کہ " 'اثر' کوئی ایسی چیز ہے، جو کسی کے کردار سے باہر واقع ہوتا ہے، اور یہ کہ کردار 'اثر' پر مقدَّم ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو استعماریت اور لبرل ازم کے اندر ایک پیچیدہ اور نیا شجرہ رکھتا ہے"16۔ منڈیر نے استعماری طاقت اور مستعمر اشرافیہ کے درمیان تعامل کے مکالماتی یا تعاملاتی (interactionist) ماڈل کی پیچیدہ ساخت پر بھی روشنی ڈالی ہے جو مقامیوں کے کردار کو واضح کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ جیسا کہ اس نے عمدگی سے واضح کیا ہے، ایسا کوئی ماڈل "ابلاغ کے ایک خفیہ ماڈل پر منحصر ہے، جس میں فریقین کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے آزادانہ گفت وشنید کے قابل ہیں"17۔ دوسرے لفظوں میں مقامی کردار کی کھوج ان شرائط وماحول میں طاقت کی حرکیات کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتی ہے، جن میں مقامی مبینہ طور پر استعمار کے ساتھ مکالمے میں داخل ہوتا ہے۔
مجھے مقامی کردار کی بازیافت میں کوئی دل چسپی نہیں۔ یہاں میرا نکتہ کافی الگ ہے۔ میں نے اس حصے میں مذکورہ مناظرانہ دور کے چند مخصوص پہلوؤں کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے، تاکہ اس دور کے مطالعے کے غلط رجحان کی ایک اور مثال کے خلاف متنبہ کروں جس میں مقامی مذہبی فکر اور استعماریت کا ملغوبہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں استعماری طاقت کا اثر ونفوذ ایک نئے دھارے میں ظاہر ہوتا ہے، جسے استعماری تسلط اور مقامی تسلیم ورضا کے مراتب میں نہیں سمویا جا سکتا۔
واضح بات دہرانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے عرض ہے کہ مذہب اور استعماری فکر کے درمیان تعامل کے اعتبار سے برصغیر کی اصلاحی تحریکوں نے مختلف شکلیں اختیار کی ہیں۔ ان اصلاحی تحریکوں کے درمیان اختلافات اور تغیرات کو نمایاں کرنا اس لیے مفید ہے کہ کوئی شخص مقامی مذہبی فکر کی علمی بنیادوں کو استعماری تشکیلِ نو کی ایک یکساں سکیم میں شامل نہ کرے۔ اسی وجہ سے مجھے ضروری معلوم ہوا کہ شاہ اسماعیل کے معاملے کی خاص نوعیت پر زور دوں۔ اگر چہ استعماری طاقت سے اس کا میل ملاپ تھا، لیکن میل ملاپ کا یہ انداز منفرد اور خاص تھا۔
ایک بار پھر عرض ہے کہ شاہ اسماعیل کی فکر کے استناد یا اصالت کے دعوے سے میرا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ اس کی فکر بالکل استعمار کے زیرِ اثر نہیں۔ میرا مدعا یہ نہیں کہ استعماری طاقت نے مقامی فکر کو متاثر نہیں کیا۔ اس کے بجاے شاہ اسماعیل کی مثال اصلاحی تحریکوں کو اس انداز سے دیکھنے کا امکان فراہم کرتی ہے جس میں نہ تو ان تحریکوں میں مقامی کردار کی باقیات کو تلاش کیا جاتا ہے، نہ ہی انھیں استعماری جدیدیت سے ٹھکرایا جاتا ہے۔ نتیجتاً مقامیوں کے کردار کے پیچھے پڑنا اور مقامی مذہبی فکر کو استعماری طاقت سے جوڑنا دونوں ایک غیر اطمینان بخش سرگرمیاں ہیں۔مقامیوں کے کردار کی تلاش یا مقامی مذہبی فکر کو استعمار سے جوڑنے میں کسی ایک پہلو کو لینے سے ان مناہج، استدلالات اور اختلافات کو زیادہ باریک نظر سے دیکھنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو کسی روایت کو تشکیل دینے والی زندگی اور فضیلت کی امتیازی صورتوں کی تشکیل اور ان پر بحث ومباحثے کی بنیاد بنتے ہیں۔ کسی فکری روایت کی شرائط ومقاصد کا ایک باریک جائزہ ہی اس کتاب کے آخری چند ابواب کا موضوع ہے۔
جاتے جاتے عرض ہے کہ شاید یہ وقت ہے کہ ہم تسلسل/انقطاع والے اشکالیے سے آگے نظر دوڑائیں، جو گزشتہ چند دہائیوں سے کافی حد تک برصغیری مطالعات، بالخصوص برصغیری مذاہب پر حاوی ہے ۔ یہاں میں ڈیوڈ اسکاٹ کے دانش مندانہ استفسار سے رہ نمائی لے رہا ہوں، جب وہ یہ سوال اٹھاتا ہے: "کیا کسی منہاج کو معمول پر لانے کا دور بعینہ وہ نہیں ہوتا جس میں انھی سوالات کے پس منظر کی از سر نو تشکیل وتحقیق ضروری ہوتی ہے جن سوالات کے ذریعے وہ پہلی بار وجود میں آیا تھا؟؛ تاکہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا وہ اب بھی معمول کے اشکالیے سے متعلق کچھ سنجیدہ جواب فراہم کر رہا ہے جو پہلی بار ابھرنے کے وقت کر رہا تھا"18۔ اسکاٹ کی بات پر غور کرنے سے یہ حیرت ہوتی ہے کہ تسلسل/انقطاع والے اشکالیے کا اب بھی کوئی خاص فائدہ ہے جو پہلے کبھی تھا؟
یہ سوال کہ "کیا استعماری دور ماقبل استعماری دور سے بالکل منقطع ہے یا یہ اس کا تسلسل ہے" ایک طرح سے فرسودہ ہو گیا ہے، اور اس سوال کے جس قسم کے جوابات دیے جاتے ہیں، وہ بھی کئی حوالوں سے طے شدہ ہیں۔ اس سوال کا سب سے واضح جواب تو یہ ہے کہ ہاں، یقیناً ان ادوار میں تسلسل وانقطاع دونوں ہیں۔ اس لیے تسلسل یا انقطاع کے عمومی بیانیے پیش کرنے کے بجاے ہمیں یہ زیادہ بامقصد معلوم ہوتا ہے کہ ایسے نئے اشکالیوں کی کھود کرید اور شناخت کریں جو مخصوص فکری ذخائر سے پیدا ہوئے ہوں۔
حریف سیاسی الہیات کا تصور، جس پر گزشتہ ابواب میں بحث ہو چکی ہے، ایک ایسے ہی نئے اشکالیے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ قوم پرستانہ سیاست کی راہ داریوں کے بجاے مسلمان کرداروں کے دینی خدشات، جذبات اور مذہبی فکر سے ماخوذ ہے۔ میں مقامی مذہبی فکر کی طرف واپسی کی وکالت نہیں کر رہا۔ میں بس یہی واضح کرنا چاہ رہا ہوں کہ ایک ایسے سوال وجواب کے اشکالیے پر کیوں اصرار کیا جا رہا ہے جس کی وہ سابقہ علمی اہمیت اور فائدہ باقی نہ رہا؟ یہ اصرار ایسے نئے سوالات اٹھانے کے رستے میں رکاوٹ بنتا ہے جو ایک فکری تراث کی بنیاد بننے والی خاص اخلاقی رخوں سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ میں برصغیری اسلام اور مذاہب کے مطالعے کے لیے ایسے نئے سوالات اور اشکالیوں کی تشکیل کی وکالت کر رہا ہوں جو اہم متون اور سیاقات کے دقیق اور بھرپور مطالعے کے نتیجے میں سامنے آئے ہوں۔ اس طریق کار سے ان تجزیاتی آفاق کی توسیع اور تدقیق توقع ہے جو برصغیری مطالعات کی جان ہیں، خاص طور پر برصغیر کی 'علما' روایت کے تعلق سے۔
بات سمیٹتے ہوئے عرض ہے کہ اس حصے میں، میں نے ان استدلالات اور عقلیات کی تحقیق کی ہے جن کے ذریعے ایک فکری روایت کی حدود پر ایک مخصوص مناقشے میں استنادی طریقے سے بحث کی گئی۔ میں نے انیسویں صدی کے اوائل کے مسلم ہندوستان کے ایک مخصوص مناظرانہ دور پر، جس میں مذہب اور اصلاح کی حدود پر شدید کش مکش جاری تھی، اپنی توجہ مرکوز کرکے اس اندازِ استدلال کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کے ساتھ میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس مناظرانہ دور میں واضح طور پر سامنے آنے والی روایت کے دو حریف تصورات کو روایتی/جدید، صوفی/فقہی، مذہبی/لامذہبی یا آزاد خیال/قدامت پسند جیسے تقابلی خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ یہ مناسب نہیں کہ شاہ اسماعیل اور خیر آبادی کے فکری مباحثوں میں زیر بحث علوم، استدلالات اور مقاصد کے بارے میں بنے بنائے مفروضوں سے لیس ہو کر داخل ہوا جائے۔ روایت اور اس کی حدود سے متعلق ان اہل علم کے تشکیل کردہ حریف بیانیے ان کے مناظرانہ تعامل کی عارضی صورت حال کے اندر قبول کیے گئے۔ ان کے مناقشے کی مخاصمانہ فضا نے انھیں مجبور کیا کہ ایک دوسرے کے استدلال کا سامنا کریں، اور اسے شرعی لحاظ سے کمزور ثابت کریں، جس نے انھیں یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ استنادی انداز میں بتائیں کہ کون سی چیز اسلام ہے اور کون سی نہیں۔ خیر آبادی کے استدلال کی انفرادیت اس امر پر منحصر تھی کہ وہ شاہ اسماعیل کو (مستند اسلامی عقائد) کا ’’مخالف” ثابت کریں، اور یہی حال شاہ اسماعیل کا بھی تھا۔ ان میں سے ہر ایک کی فکری بقا دوسرے کی راے کو غلط یا کم زور ثابت کرنے پر منحصر تھی۔
شاہ اسماعیل اور خیر آبادی کے درمیان شخصی معرکہ 1831 میں شاہ اسماعیل کی وفات پر ختم ہوا۔ تاہم نبوی اختیار پر جو اختلاف انھوں نے شروع کیا تھا، آنے والی دہائیوں میں، جیسے جیسے استعماری حکومت کے قدم مزید مضبوط ہونے لگے، جنگل کی آگ کی طرح پھیلنا شروع ہو گیا۔ اگلے چند ابواب میں، میں انیسویں صدی کے نصفِ آخر کے شمالی ہندوستان میں بین المسلمین اختلافات کے اس دوسرے تناظر پر اپنی توجہ مبذول کرنے جا رہا ہوں۔ موضوعی اعتبار سے اب میں اس باب میں مذکورہ حریف سیاسی الہیات کے تعلق سے روز مرہ کی زندگی میں فقہ اور شرعی عمل کی حریف تفہیمات پر غور کروں گا۔ یاد رکھیں کہ الہیات، قانون اور رسمی اعمال کا تعامل ہی وہ فکری تانا بانا ہے جس سے یہ کتاب بُنی گئی ہے۔
خدائی حاکمیت کی انفرادیت کو ثابت کرنے والے سیاسی الہیات کا اطلاق ایک ایسے فقہی تصور پر کیسے کیا گیا جو روز مرہ کے اعمال کو اس انداز میں منضبط کرتا ہے جس سے اسی حاکمیت کی تصدیق ہوتی ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو پہلے اور دوسرے حصے کے درمیان ربط کی وجہ ہے۔ میں اسلام میں ایک انتہائی اختلافی اصطلاح 'بدعت' پر اپنی توجہ مرکوز رکھ کر اس سوال کا جواب دوں گا ، جو بیک وقت فقہ، عقائد اور روزمرہ کے اعمال سے تعلق رکھتی ہے۔
حواشی
- القرآن 33 : 40۔ "ختم/خاتم" کی اصطلاح کی دل چسپ تشریحات اور تغیرات پر ایک عمدہ بحث کے لیے دیکھیے: فرائیڈ مین، Prophecy Continuos.
- القرآن 36 : 81 – 82۔
- القرآن 36 : 78۔
- القرآن 3 : 59۔
- اس جملے کے ساتھ اسماعیل نے تقویۃ الایمان پر اپنے ابتدائی اور مختصر جواب کو ختم کیا ہے۔ یہ متن تحقیق الفتوی کے مطبوعہ نسخے کے آخر میں ظاہر ہوتا ہے۔
- شاہ محمد اسماعیل، یک روزہ (ملتان: فاروقی کتب خانہ، تاریخ اشاعت ندارد)، 25۔
- کارل شمٹ، Political Theology: Four Chapters on the Concept of Sovereignty (کیمبرج، ایم اے: ایم آئی ٹی پریس، 1986)، 44۔
- دیکھیے: جان ماڈرن، Secularism in Antebellum America (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2011)، اور مائیکل وارنر، “The Evangelical Public Sphere,”، اے ایس ڈبلیو روزن باخ لیکچرز، یونیورسٹی آف پنسلوینیا، مارچ 2009، http://repository.upenn.edu/rosenbach/2/.
- کتاب کی تاریخ اور خاص طور پر انیسویں صدی کے شمالی ہندوستان میں نشر واشاعت کو کاروبار بنانے سے مطالعے کے اطوار اور عوام پر جو اثرات مرتب ہوئے، اس کی ایک شان دار تحقیق، اگر چہ یہ تھوڑی بعد کے دور سے متعلق ہے، کے لیے ملاحظہ کیجیے: الرائک سٹارک، An Empire of Books: The Naval Kishore Press and the Diffusion of the Printed Word in Colonial India (نیو دلی: پرمننت بلیک، 2007)۔
- منڈیر، Religion and the Specter، 175 – 239۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 61۔
- گناناتھ ابیسیکرے، “Religious Symbolism and Political Change in Celon”، ماڈرن سیلون سٹڈیز 1، نمبر 1 (1970): 43 – 63۔ اَنندا ابیسیکارا نے خوب صورت انداز میں واضح کیا ہے کہ ابیسیکرے کا مطلب یہ نہیں کہ پروٹسٹنٹ بدھ ازم اور پروٹسٹنٹ ازم دونوں ایک ہیں۔ اس کے بجاے پروٹسٹنٹ بدھ ازم ایک ایسی اصطلاح ہے جو انیسویں صدی کے سیلون میں ایک استدلالی روایت پر پرکشش استعماری طاقت کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پروٹسٹنٹ ازم تاریخ کے کسی بھی دور میں، بشمول جدید استعماری دور کے، کوئی ناقابل تبدیل یک رخا نظریہ یا منفرد شے نہیں ہے۔ جیسا کہ بارٹن سکاٹ نے برصغیر کے تناظر میں شان دار انداز میں بتایا ہے: "پروٹسٹنٹ لفظ کے بار بار استعمال کی قابلیت نے اس امر کو یقینی بنا دیا ہے کہ جب بھی اس کا حوالہ دیا جائے گا، وہ اپنے اصلی مفہوم سے منحرف ہوگا، اور اس وجہ سے اصلی مفہوم کی یکسانیت پر سوال کھڑا کرے گا"۔ جے بارٹن سکاٹ، Spiritual Despots: Modern Hinduism and the Genealogies of Self-Rule (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2015)، 132۔
- ایضاً، 78 – 85؛ ڈیوڈ سکاٹ، Conscripts of Modernity: The Tragedy of Colonial Enlightenment، (درہم، این سی: ڈیوک یونیورسٹی پریس، 2004)، 98 – 132؛ انندا ابیسیکارا، “Religious Studies’ Mishandling of Origin and Change: Time, Tradition, and Form-of-Life in Buddhism,”، کلچرل کرٹیک 98 (ونٹر 2018): 8۔
- ابیسیکارا، “Religious Studies’ Mishandling,”، 8 – 9۔
- ابیسیکارا، “Protestant Buddhism”۔
- منڈیر، Religion and the Specter، 78
- ڈیوڈ سکاٹ، Refashioning Futures: Criticism after Postcoloniality (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1999)، 8 – 9۔