نومبر ۲۰۲۲ء

سیاست شرعیہ کا مفہوم، نوعیت اور اہمیتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ صحیح بخاری و صحیح مسلم (۱)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
دینی جدوجہد کے مورچےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ اور اُن کی دینی خدماتپروفیسر ڈاکٹر انعام الحق غازی 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۱)ڈاکٹر شیر علی ترین 

سیاست شرعیہ کا مفہوم، نوعیت اور اہمیت

محمد عمار خان ناصر

مسلم تہذیب کی تشکیل وتعمیر میں دینی نقطہ نظر سے تین چیزوں کا کردار رہا ہے اور ان تینوں کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کو دوسری کا متبادل نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تین چیزیں یہ ہیں:

۱۔ شریعت

۲۔ سیاست شرعیہ

۳۔ فقہ

ہماری بحثوں میں سارا ارتکاز شریعت اور فقہ پر رہتا ہے، سیاست شرعیہ ایک مستقل موضوع کے طور پر زیرغور نہیں آتی۔ اس کو فقہ کا حصہ سمجھنا یا اس کے اندر ضم کر دینا غلط ہے، اس لیے کہ یہ اپنے اصول اور حدود اور دائرہ کار کے لحاظ سے فقہ سے بہت مختلف ہے۔ فقہ بنیادی طور پر جزئی سوالات میں شرعی حکم اجتہاداً‌ طے کرنے کا عمل ہے جو فقیہ کا وظیفہ ہے۔ فقیہ ایسے سوال یا صورت حال سے متعلق اپنی رائے دیتا ہے جو اس کے سامنے رکھی جائے اور اس کی بنیادی ذمہ داری مسئول عنہ امر کا حکم یعنی جواز یا عدم جواز بیان کرنا یا جزئی سطح پر کوئی متبادل صورت وغیرہ تجویز کر دینا ہے۔ معاشرے، اجتماع اور تہذیب کو درپیش بڑے سوالات کو موضوع بنانا یا پبلک پالیسی تشکیل دینا بنیادی طور پر فقیہ کا اختیار یا ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ ’’سیاست شرعیہ“ کا دائرہ ہے جس میں ذمہ داری اور اختیار کا تعلق ارباب حل وعقد سے ہے اور فکری وسائل فراہم کرنے کا کام معاشرے میں موجود اہل علم ودانش کے تمام طبقات سے متعلق ہے۔

ہماری تاریخ میں کئی مواقع پر فقہاء یا مذہبی علماء بھی سیاست شرعیہ کے دائرے میں مددگار کی حیثیت سے اولو الامر کی راہ نمائی اور معاونت کرتے رہے ہیں۔ اس علم کی مستقل حیثیت اور اس کے الگ حدود وضوابط پر بھی ہماری روایت میں گفتگو موجود ہے۔ فقہاء میں سے الجوینیؒ، عز الدین بن عبد السلامؒ، ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ جیسے اہل علم نے اس کے مختلف پہلووں پر کلام کیا ہے اور اس کے کئی مباحث اس لٹریچر میں بھی ملتے ہیں جسے ’’نصیحۃ الملوک“ یا انگریزی میں Mirrors for Princes کا عنوان دیا جاتا ہے۔ (جس کی مثال مغربی سیاسی لٹریچر میں میکیاولی کی ’’دی پرنس“ ہے)۔ خصوصاً‌ ابن قیم نے ’’اعلام الموقعین“ میں اس کی اہمیت بہت عمدگی سے واضح کی ہے۔

فقہ اور سیاست شرعیہ کے فرق اور امتیاز کو ملحوظ نہ رکھنے یا ان کو گڈمڈ کر دینے کا ایک اثر یہ ہے کہ خلفائے راشدین کے بہت سے فیصلوں اور اقدامات کی تفہیم اور توجیہ میں ہمارے اہل علم کو بہت مشکل پیش آتی ہے، اس لیے کہ وہ انھیں ’’فقہ “ کے پیراڈائم میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ’’سیاست شرعیہ“ سے تعلق رکھتے ہیں اور فقہی حدود وقیود کے لحاظ سے ان کی توجیہ ہو ہی نہیں سکتی۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ جیسے بالغ نظر عالم نے اسی وجہ سے یہ قرار دیا کہ ’’منصب الخلفاء فوق الاجتھاد ودون التشریع“، یعنی خلفائے راشدین کا منصب اجتہاد سے اوپر اور تشریع سے کم تر ہے۔ شاہ صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس طرح کے اقدامات خلفائے راشدین نے کیے، وہ ایک عام فقیہ نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ نوعیت کے لحاظ سے تشریع سے مناسبت رکھتے ہیں، تاہم تشریع چونکہ رسول اللہ پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے ’’دون التشریع“ ایک منصب ماننا پڑے گا جس پر خلفائے راشدین کو فائز قرار دیا جا سکے۔

شاہ صاحب کی یہ بات تعبیر کے لحاظ سے ذرا منفرد ہے، تاہم خلفائے راشدین کے فیصلوں کی نوعیت سے متعلق یہ فقہاء کے عمومی رجحان کے مطابق ہے جو یہ ہے کہ خلفائے راشدین کے اس طرح کے فیصلوں کو، خصوصاً‌ جب ان کے ساتھ دیگر صحابہ کا اتفاق اور تائید بھی شامل ہو جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک پیشگی تصویب حاصل ہے۔ اس توجیہ کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح کے اجتہادات کی آزادی صرف خلفاء تک محدود رہتی ہے، بعد کے فقہاء تک اس کی توسیع نہیں کی جا سکتی۔

ایسے فیصلوں کی مثالیں معروف ہیں۔ البتہ ایک ذرا کم بیان ہونے والی مثال یہ ہے کہ سیدنا عمر نے مقام ابراہیم (وہ پتھر جس پر حضرت ابراہیم نے کھڑے ہو کر کعبہ کی تعمیر کی) کو، جو پہلے کعبہ کی دیوار کے ساتھ متصل تھا، وہاں سے ہٹا کر کچھ فاصلے پر نصب کر دیا۔ اب اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ فیصلہ اجتہاد کے ان حدود سے کافی باہر ہے جس کی پابندی بعد کی فقہی روایت میں عموماً‌ کی گئی ہے اور کسی بھی عام فقیہ یا مجتہد کے لیے اپنی اجتہادی رائے سے یہ فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ ابن کثیر کو بھی اس کا احساس ہے، چنانچہ وہ اس کی شرعی توجیہ اس حدیث کی روشنی میں کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ’’میرے بعد ابوبکر اور عمر کی اقتدا کرنا۔“ (تفسیر ابن کثیر)

اس توجیہ میں کئی مشکلات ہیں۔ مثلاً‌ ایک تو اس کے نتیجے میں یہ ماننا لازم آتا ہے کہ تشریع بنیادی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس کے کچھ جزوی پہلو آپ کے بعد خلفائے راشدین کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچے۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ادراک تھا، اسی لیے آپ نے پہلے سے یہ ہدایت فرما دی کہ ابوبکر اور عمر یا خلفائے راشدین جو بھی فیصلے کریں، ان کی پابندی کی جائے۔ اس سے ایک قانونی انداز کا حل تو نکل آتا ہے اور اس نوعیت کے اجتہاد کا دائرہ عموماً‌ کھلا رکھنے کا بھی سد باب ہو جاتا ہے، لیکن اصولی اور نظری طور پر ایک کافی مشکل سوال پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر کچھ تشریعی فیصلوں کا اختیار خلفائے راشدین کو تفویض کیا گیا تھا تو کیا یہ اتنا ہی مطلق اختیار تھا جیسے پیغمبر کا تھا؟ ظاہر ہے، یہ بات کوئی بھی نہیں مانتا۔ مثلاً‌ سیدنا عمر اگر اپنے اجتہاد سے حجر اسود کی جگہ تبدیل کر کے اسے کسی دوسرے کونے میں نصب کرنا چاہتے تو کیا ان کو یہ اختیار حاصل تھا؟ بظاہر یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن اگر مقام ابراہیم کی صورت میں ایک شعیرے کی جگہ تبدیل کی جا سکتی تھی تو حجر اسود بھی تو ایک شعیرہ ہے، اس کی جگہ کیوں تبدیل نہیں کی جا سکتی تھی؟ اسی طرح سیدنا عمر تراویح کو ایک باقاعدہ جماعت کی صورت دے سکتے تھے، لیکن کیا ان کو یہ اختیار بھی تھا کہ وہ کسی دوسری نفل نماز کو بھی اسی طرح اجتماعی صورت میں رائج کر دیں؟ بظاہر نہیں۔ حضرت عثمان نے جمعے کے لیے ایک اذان کا اضافہ فرمایا تو کیا ان کو یا کسی بھی دوسرے خلیفہ کو یہ اختیار بھی تھا کہ وہ باقی تمام نمازوں کے لیے بھی اسی طرح دو دو اذانیں مقرر کر دیں؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلے کسی مطلق تشریعی اختیار کے تحت نہیں تھے، بلکہ تشریع کے تابع اور کچھ خاص اصولوں کے پابند تھے۔

ان وجوہ سے ہمارا رجحان یہ ہے کہ خلفاء کے ایسے فیصلوں کی توجیہ ’’پیشگی تصویب“ کے اصول کے بجائے سیاست شرعیہ کے زاویے سے ہونی چاہیے اور ان کو بطور نظائر سامنے رکھتے ہوئے ان سے اصول اخذ کیے جانے چاہییں کہ امت کے دینی ودنیوی مصالح کی تکمیل کے لیے کیسے اور کس نوعیت کے اقدامات ارباب حل وعقد کو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضرورت خلفاء کے دور تک محدود نہیں، بلکہ ہمیشہ باقی رہے گی، بلکہ نبوت ختم ہو جانے کے بعد دراصل سب سے زیادہ اہمیت اسی کی ہے۔ ہمارے تناظر میں فکری سطح پر ایک تو ہم نے ’’فقہ “ کو ’’سیاست شرعیہ“ کے دائرے میں دخیل کر لیا ہے جس سے جنم لینے والی پیچیدگیوں کی کوئی انتہا نہیں اور عملی سطح پر ’’مذہبی سیاست“ اور سیاست شرعیہ میں التباس کر کے اہل حل وعقد اور سماج کے دوسرے دانش مند طبقات کو تشکیل معاشرہ کے عمل سے بے دخل کرنے کا انتظام کیا ہوا ہے۔ سیاست شرعیہ کی مستقل اہمیت اور اس کے اصل حدود وضوابط کی فکر وعمل کی سطح پر بحالی اس وقت مسلم معاشروں اور اسلامی تہذیب کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۳۶۶)  لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ

لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔ (الکہف: 2)

”تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے“۔ (امین احسن اصلاحی)

ان دونوں ترجموں میں لِیُنْذِرَ کا فاعل اللہ تعالی کو مانا گیا ہے۔ قرآن مجید کے استعمالات دیکھیں تو یہ کام ہر جگہ رسول اور کتاب کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ صحیح توجیہ یہ لگتی ہے کہ لِیُنْذِرَ کا فاعل پیچھے مذکور عبد یا کتاب ہے، اور لَدُنْہُ  کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مزید یہ کہ لَدُنْہُ کا تعلق عذاب سے ہے نہ کہ انذار سے۔ درج ذیل دونوں ترجمے اس پہلو سے درست ہیں:

”تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے“۔ (سید مودودی)

”تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اس کی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳۶۷) وَازْدَادُوا تِسْعًا

وَلَبِثُوا فِی کَہْفِہِمْ ثَلَاثَ مِاءَۃٍ سِنِینَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ (الکہف: 25)

”وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو سال اور زیادہ گزارے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو سال مزید برآں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور مدت گزری ان پر اپنے کہوہ میں تین سو برس اور اوپر سے نو“۔ (شاہ عبدالقادر)

اس آیت کے مذکورہ بالا ترجمے الفاظ کے مطابق ہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں تو تین سو سال رہے اور پھر نو سال مزید زندہ رہے۔ وَازْدَادُوا تِسْعًا کے اسلوب نے دونوں مدتوں کو الگ الگ بتادیا۔ جب کہ درج ذیل ترجمہ یہ بتارہا ہے انھوں نے یہ پوری مدت غار میں گزاری۔

”اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

درج ذیل ترجمہ عجیب ہے، بغیر کسی قرینے کے نو دن فرض کرلینا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ نو سال کے لیے تو واضح قرینہ موجود ہے کہ اس سے پہلے سال کا ذکر ہے۔

”اور یہ لوگ اپنے غار میں تین سو برس رہے اور اس پر نو دن کا اضافہ بھی ہوگیا“۔ (ذیشان جوادی)

درج ذیل ترجمہ عام ترجموں سے مختلف ہے:

”اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے میں کم زوری یہ ہے کہ لبثوا  کا فاعل اصحاب کہف کو اور ازدادوا کا فاعل تعداد بتانے والوں کو مانا ہے، پھر لبثوا کو اللہ کی دی ہوئی خبر کے بجائے لوگوں کا بیان قرار دیا گیا ہے۔ آیت کا مفہوم واضح ہے، اس کی تفسیر میں اس قدر تکلف کی ضرورت نہیں تھی۔ آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات یہی ہے کہ اللہ تعالی نے یہ دونوں خبریں دی ہیں، جس کے بعد کہا کہ واللہ أعلم بما لبثوا، کہ وہ کتنا عرصہ رہے اس کا علم اللہ کو ہے۔

(۳۶۸)  استثنا منقطع کا ترجمہ

لَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا إِلَّا سَلَامًا۔ (مریم: 62)

”وہ لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

اس ترجمے میں استثنا منقطع کا پورا لحاظ ہے۔ سلام لغو سے مستثنی نہیں ہے، بلکہ اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ پیرایہ استثنا کا ہے، لیکن دو الگ الگ باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لغو نہیں سنیں گے اور دوسری یہ کہ سلام سنیں گے۔

”وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے“۔ (سید مودودی)

اس ترجمہ میں بھی استثنا منقطع کا لحاظ ہے، لیکن سلام کا ترجمہ ’ٹھیک ہی سنیں گے‘، درست نہیں ہے۔ اس سے یہ مفہوم  نکلتا ہے کہ انھیں سننے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی، جو سنیں گے ٹھیک سنیں گے۔ غالبا مترجم کا مقصود یہ ہے کہ عیب سے پاک باتیں سنیں گے۔ سلام کا ترجمہ سلام ہی بہتر ہے۔

درج ذیل ترجموں میں کم زوری یہ ہے کہ وہ استثنائے متصل کا مفہوم دیتے ہیں۔ گویا سلام کو لغو سے مستثنی کیا گیا ہے، حالاں کہ سلام تو لغو میں شامل ہی نہیں ہے۔ ظاہر ہے مترجمین کا یہ مقصود بھی نہیں ہے، لیکن عربی کے استثنائے منقطع کا ترجمہ اردو میں مختلف طریقے سے ہوگا۔

”وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اس میں سوائے سلام کے کوئی فضول بات نہ سنیں گے“۔ (احمد علی)

”وہ وہاں سلامتی کی صداؤں کے سوا کوئی بے ہودہ بات نہیں سنیں گے“۔ (محمد حسین نجفی)

(۳۶۹)  جنۃ کا ترجمہ

عربی میں جنۃ کا اصل مطلب باغ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ جنت یعنی آسائشوں کے مقام کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب کہ اردو میں جنت کا مطلب آسائشوں کا مقام ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جنت کا لفظ دونوں معنوں میں آیا ہے، اس کا لحاظ ترجمہ کرتے وقت عام طور سے کیا جاتا ہے۔ البتہ سورہ کہف میں جہاں دو باغوں والے شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے، مولانامودودی نے ترجمہ کرتے ہوئے عام مترجمین سے ہٹ کر ایک الگ جہت اختیار کرنے کی کوشش کی۔ اس واقعہ میں پہلے جَنَّتَیْنِ کا لفظ آیا، جس کا ترجمہ دو باغ کیا۔

وَاضْرِبْ لَہُمْ مَثَلًا رَجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِہِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ أَعْنَابٍ۔ (الکہف: 32)

”اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے“۔ (سید مودودی)

پھر الجنتین کا ترجمہ بھی دو نوں باغ کیا۔

کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ آتَتْ أُکُلَہَا۔ (الکہف: 33)

”دونوں باغ خوب پھلے پھولے“۔(سید مودودی)

اس کے بعد جنتہ کا ترجمہ اپنی جنت کردیا۔

وَدَخَلَ جَنَّتَہُ۔ (الکہف: 35)

”پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا“۔ (سید مودودی)

اور تفسیر میں اس کی توجیہ بھی کی: ”یعنی جن باغوں کو وہ اپنی جنت سمجھ رہا تھا۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اردو ترجمے کا انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے جنت کے بجائے باغ ترجمہ کردیا گیا۔

Then he entered his vine-yard (syed Maududi)

غور طلب بات یہ ہے کہ اسی واقعے میں آگے پھر جنت کا لفظ دو بار آیا۔ اور دونوں جگہ باغ کے مالک نہیں بلکہ دوسرے شخص کی زبان سے ادا ہوا ہے، پھر بھی وہاں ترجمہ جنت ہی کیا ہے۔

وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّہُ۔ (الکہف: 39)

”اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ“۔ (سید مودودی)

فَعَسَی رَبِّی أَنْ یُؤْتِیَنِ خَیْرًا مِنْ جَنَّتِکَ وَیُرْسِلَ عَلَیْہَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ۔ (الکہف: 40)

”تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے“۔ (سید مودودی)

پورے واقعہ کو سامنے رکھیں، تو جنت کا ترجمہ جنت کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔شروع سے باغوں کا تذکرہ ہے، تو سب جگہ باغ ہی ترجمہ ہونا چاہیے۔

(۳۷۰) خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا

درج ذیل آیت میں خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تیرے رب کے نزدیک بہتر ہے ثواب کے اعتبار سے، دوسرے یہ کہ تیرے رب کے یہاں ملنے والے ثواب کے اعتبار سے بہتر ہے۔ یعنی عِنْدَ رَبِّکَ کو خیر سے متعلق مانا جائے یا ثوابا سے متعلق۔

وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ أَمَلًا۔ (الکہف: 46)

”اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور (آئندہ کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ باعتبار ثواب اور باعتبار امید تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجموں میں عِنْدَ رَبِّکَ کو خیر سے متعلق مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ جب کہ درج ذیل ترجموں میں عِنْدَ رَبِّکَ کو ثوابا سے متعلق مانا گیا ہے۔

”تمہارے رب کے یہاں ملنے والے ثواب کے اعتبار سے اور امید کے اعتبار سے بہتر ہیں“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

”اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی“۔ (احمد رضا خان)

معنوی لحاظ سے دیکھیں تو موخر الذکر ترجموں میں زیادہ معنویت ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ یہ اس ثواب کی بات ہے جو اللہ کے یہاں ملنے والا ہے۔ علاوہ ازیں اس مفہوم کی تائید قرآن کی دوسری آیتوں سے بھی ملتی ہے، جیسے: ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَاللَّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الثَّوَابِ۔ (آل عمران: 195)

(۳۷۱) فَظَنُّوا أَنَّہُمْ مُوَاقِعُوہَا

درج ذیل آیت میں ظن کا ترجمہ گمان کرنا یا یاخیال کرنا نہیں بلکہ سمجھ لینا اور یقین کرنا ہوگا۔ مجرم جب گرفت میں آچکے ہوں، اور جہنم سامنے نظر آرہی ہو، تو گمان و خیال کا موقع نہیں ہوتا ہے۔

وَرَأَی الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّہُمْ مُوَاقِعُوہَا۔ (الکہف: 53)

”اور دیکھیں گے گناہ گار آگ کو پس گمان کریں گے یہ کہ وہ گرنے والے ہیں اس میں“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور دیکھیں گے گناہ گار آگ کو پھر اٹکلیں گے کہ ان کو پڑنا ہے اس میں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے اور گمان کریں گے کہ وہ اسی میں گرنے والے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳۷۲)  وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِآیَاتِ رَبِّہِ فَأَعْرَضَ عَنْہَا وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ۔ (الکہف: 57)

”اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منھ پھیرے اور اُس برے انجام کو بھول جائے جس کا سر و سامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے میں دو باتیں توجہ طلب ہیں، ایک تو بلاضرورت برے انجام کو محذوف ماننا، دوسرے یہ کہ جو لوگ آخرت اور جزا و سزا پر ایمان ہی نہیں رکھتے ہیں اور برے انجام کا تصور ہی نہیں رکھتے ہیں، وہ اپنے اعمال کے انجام کو کیوں یاد رکھیں گے؟

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وہ پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۳۷۳)  أَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا

وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا۔ (الکہف: 54)

”لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“۔ (احمد رضا خان)

”لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“۔(فتح محمد جالندھری)

پہلی بات یہ ہے کہ جدل کا اصل مطلب جھگڑا کرنا نہیں بلکہ بحث کرنا ہوتا ہے۔ بحث کبھی جھگڑے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں دوسروں سے انسان کا موازنہ مقصود نہیں ہے، کہ وہ دوسری چیزوں سے زیادہ بحث مباحثہ کرتا ہے، یا جھگڑا کرتا ہے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ بحث کرنا اس کی نمایاں ترین صفت ہے۔ وہ کوئی اور کام اتنا نہیں کرتا جتنا کہ بحث کرتا ہے۔ کسی بھی کام سے زیادہ بحث کا کام کرتا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی درج ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”اور انسان سب سے زیادہ بحث کرنے والا واقع ہوا ہے“۔

(جاری)

مطالعہ صحیح بخاری و صحیح مسلم (۱)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: آپ ﷺ وضو کے دوران ناک اور منہ میں پانی ڈالتےتھے اور آپ ہمیشہ ڈالتے رہے۔1 پھر ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں، اس کے بغیر بھی وضو مکمل ہو جاتا ہے؟

عمار ناصر: یہ استنباط ہے۔ استنباط اسی کو کہتے ہیں کہ دلائل کا یا نصوص کاجوانداز اور اسلوب ہے، اس سے شارع کی منشا کو سمجھا جائے۔ شارع چیزوں کو اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ طریقوں سے اپنی منشا واضح کرتا ہے۔ قرآن نے جب بیان کیا ہے کہ وضو کرو تو چہرہ دھوؤ تو اس سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ وضو میں فرض تو چہرہ دھونا ہی ہے۔ اس کے علاوہ جو زائد امور احادیث میں بیان ہوئے ہیں، وہ فرض نہیں ہو سکتے ورنہ قرآن وضو کا ادھورا طریقہ بیان نہ کرتا۔

مطیع سید: کیا ایسے لوگ بھی رہے ہیں جو اسے فرض قرار دیتے ہوں؟

عمار ناصر: ظاہریہ کے ہاں غالباً‌ ایسا ہے۔

مطیع سید: ایک جنگ کے موقع پر وضو میں بعض صحابہ کی ایڑیاں خشک رہ گئیں۔ انہوں نے ایڑیوں پر مسح کر لیا تھا، ایسے الفاظ آتے ہیں۔2 یہاں مسح سے کیا مراد ہے؟

عمار ناصر: مطلب یہ کہ صحیح طرح ایڑیوں کو دھویا نہیں تھا، بس گیلا ہاتھ پھیر کر کام چلانے کی کوشش کی۔

مطیع سید: مجھے مسح سے ایسے لگا کہ شاید ان صحابہ نے قرآن کی آیت سے مسح کا استدلال کیا ہو۔

عمار ناصر: نہیں، یہاں یہ معاملہ نہیں تھا۔ یہاں مسح کر نے کا مطلب یہ ہے کہ جلدی میں انہوں نے بس ہاتھ پھیر لیا، ٹھیک طریقے سے دھویا نہیں۔

مطیع سید: گھر بناتے ہوئے ہم بیت الخلا میں قبلہ رخ نہ ہونے کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت میں تو بڑا واضح آتا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ کی پشت اس طرف تھی۔3 تو اتنی صاف اور واضح روایت کے ہوتے ہوئے ہم کیوں تاویل کرتے ہیں کہ نہیں، انہوں نے آپﷺ کو صحیح طرح دیکھا نہیں ہوگا ؟ یہی تاویل عموماً‌ شارحین کرتے ہیں۔

عمار ناصر: اس میں ایسا ہوتا ہے کہ جب آپ کے سامنےدوسرے دلائل زیادہ قوی ہوں جن میں ممانعت آئی ہے یا جن میں آپ کا فہم بتا رہا ہے کہ یہ کوئی عمومی بات نہیں ہے تو یہی کرتے ہیں کہ قوی دلیل کی روشنی میں اس کے مخالف شواہد کی تاویل کرتے ہیں۔

مطیع سید: عمامہ پر مسح آج بھی کیا جاسکتا ہے؟

عمار ناصر: بالکل کیا جا سکتا ہے۔ حنفی فقہاء کہتے ہیں کہ گیلا ہاتھ کسی حد تک سر پر پھیرلیں تاکہ مسح کا فرض براہ راست سر کے مسح سے ادا ہو جائے۔ پھر باقی مسح عمامہ کے اوپر سے کرلیں۔

مطیع سید: ہم درود میں اللھم صل علی محمد وعلی آلِ محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آلِ ابراھیم کی دعا کرتے ہیں۔ آلِ ابراہیم کا تو ہمیں پتہ ہے کہ اللہ نے ان کو نبوت عطا فرمائی یعنی یہ ان پر خدا کا کرم تھا۔ آپ ﷺ کی آل کو کس چیز سے نوازا گیا ہے جو یہاں درود شریف میں بیان ہواہے ؟

عمار ناصر: تشبیہ ظاہر ہے، ہر پہلو سے تو نہیں ہوتی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد پر دین کے حوالے سے اللہ کی خاص عنایا ت ہوئیں۔ وہ چونکہ ماضی کی بڑی روشن مثال ہے تو اس پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یعنی جیسے ان کی اولاد کو اس مقصد کے لیے چن لیا گیا اور دنیا کی قوموں میں ان کو ایک خاص مقام دیا گیا تو اسی طرح محمد اور آلِ محمد ﷺ پر بھی خصوصی رحمت اور عنایت کی جائے۔ اس میں من کل الوجوہ تشبیہ نہیں ہوتی اور یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ جیسے ان میں انبیا آئے تھے، آل محمد میں بھی نبی ہوں گے۔

مطیع سید: رفع الیدین کرنے اور نہ کرنے کی ایک توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ نبیﷺ نے کبھی کیا اور کبھی نہیں کیا، لہذا دونوں طریقے درست ہیں۔ لیکن صحابہ کے ہاں ایسی اپروچ نہیں دکھائی دیتی۔ یا تو صحابہ کرتے تھے یا نہیں کرتے تھے۔ کبھی کرنااور کبھی نہ کرنا تو کسی صحابی سے ثابت نہیں ہے، نہ ہی یہ ثابت ہے کہ کسی صحابی نے کہا کہ دونوں طریقے ہی درست ہیں، جیسے چاہو، عمل کرو۔

عمار ناصر: کسی صحابی کے بارے میں اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ وہ ہمیشہ رفع یدین کرتےتھے۔ روایات میں مطلقاً‌ بیان ہوا ہے کہ وہ رفع یدین کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے کسی صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے زندگی کے معمول کی تحقیق کر کے اسے بیان نہیں کیا، صرف اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے، اسی طرح مختلف صحابہ کو دیکھنے والوں نے بھی اپنے جزوی مشاہدات ہی بیان کیے ہیں۔ کسی بیان سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ متعلقہ صحابی کا پوری زندگی کا مسلسل عمل بیان کیا جا رہا ہے۔

مطیع سید: احناف نے رفع الیدین کرنے کی روایات کو کیوں نہیں لیا ؟

عمار ناصر: امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو غیر ثابت سمجھتے تھے۔ انھوں نے روایت پر تنقید کی ہے۔ بعد میں امام طحاوی نے ایک دوسرا استدلال پیش کیا اور کہا کہ یہ عمل ثابت تو ہے، لیکن یہ پہلے دور کا ہے جو بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔ آج کل زیادہ تر یہی استدلال احناف کے ہاں مقبول ہے۔ البتہ علامہ انور شاہ اور دیگر متاخرین نے اس سے اختلاف کیا ہے اور دونوں طریقوں کو ثابت اور غیر منسوخ قرار دیا ہے۔

مطیع سید: صحیح مسلم میں جو روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا،4 جب اس روایت کو باب کے عنوان سے امام مسلم نے واضح کر دیا کہ سلام کے وقت رفع یدین سے متعلق ہے تو پھر ہمارے ہاں لوگ اس سے ترک ِ رفع الیدین کی دلیل کیسے لیتے ہیں؟

عمار ناصر: یہ درست بات ہے۔ حنفی علماء نے بھی اس استدلال کی تردید کی ہے کہ یہ رکوع والے رفع یدین سے متعلق نہیں ہے۔ البتہ صحیح مسلم کے عنوانات کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خود امام مسلم کے اپنے قائم کردہ نہیں ہیں، بلکہ بعد میں کسی نے روایات کے مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے شامل کیے ہیں۔

مطیع سید: صلوۃ الخوف کوقرآن بڑی تفصیل سے بیان کرتا ہے، حالانکہ بظاہر یہ بڑی وقتی سی چیز لگتی ہے۔

عمار ناصر: ویسے تو اللہ تعالیٰ کی جو ترجیحات اور جو اہمیت رکھنے والی چیزیں ہیں، ان کوہم انسانی پیمانوں سے نہیں سمجھ سکتے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور حیثیت اور آپ سے متعلق حدود وآداب کو بیان کرنا تو قرآن مجید کا خاص موضوع ہے۔ صلوۃ الخوف کا مسئلہ اصلاً‌ اسی پہلو سے بیان ہوا ہے، اس کا ایک فقہی مسئلہ ہونا ضمنی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے مسلمان یہ گوارا نہیں کرتے تھے کہ کسی اور کی امامت میں نماز ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس جذبے کی تصویب فرمائی ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک حل بتا دیا ہے کہ ایسی صورت حال میں سارے مسلمان اس طرح آپ کی امامت میں باری باری نماز ادا کر سکتے ہیں۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہےکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں چیزوں کے کون سے پہلو اہم ہیں۔ قرآن نے جس پہلوسے اس کو بیان کیا ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ نماز سے متعلق ایک چھوٹا سا اور وہ بھی کبھی کبھار پیش آنے والا مسئلہ ہے اور قرآن نے اس سے اعتنا کرلیا ہے۔ قرآن کے سامنے وہاں جو مسئلہ ہے، وہ پیغمبر کی ذات ہے اور اس کے حوالے سے ایک سوال پیداہوگیا کہ پیغمبر کے ہوتے ہوئے مسلمان نہیں چاہتے کہ کسی اور کے پیچھے نماز پڑھیں اور قرآن ا ن کی اس خواہش کو نہ صرف بنظر ِ تحسین دیکھ رہا ہے بلکہ اس کا ایک پورا طریقہ بتارہا ہے۔

مطیع سید: کیا فقہاء نے اسے نبیﷺ کے دور کے ساتھ مخصوص کیا ہے ؟ یہ بھی رائے دی جاتی ہے کہ چونکہ آپﷺ کی امامت میں سارے نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس لیے اس کو اس قدر اہتمام سے بیان کیا گیا۔

عمار ناصر: مجھے اس میں امام ابویوسف کا موقف ٹھیک لگتا ہے۔ امام ابو یوسف کا یہ موقف ہے کہ اتنے تردد کی ضرورت کیا ہے؟ اب ہمیں ایسی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو کون سا امام ہے جس کے پیچھے سارے مسلمان اصرار کریں کہ ہم تو اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟ وہ باری باری الگ الگ جماعت کر سکتے ہیں۔ قرآن تو بیان شروع ہی یہاں سے کرتا ہے کہ اذا کنت فیھم، یعنی آپ ان کے اندر موجود ہوں اور انھیں نماز پڑھا رہے ہوں تو پھر یہ طریقہ ہوگا۔

مطیع سید: آپﷺ نے ایک منقش چادر کے بارے میں فرمایا کہ یہ ابو جہم کو دے دو۔5 آپﷺ نے خود یہ چادر استعمال کرنی پسند نہیں فرمائی لیکن انہیں دینے کو کہا۔ کیا وہ مسلمان نہیں تھے۔ کیا وجہ تھی ؟

عمار ناصر: نہیں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے۔ یہ ابوجہم تو چادروں کی خریدو فروخت کرنے والے تھے اور انھی سے یہ منقش چادر خریدی گئی تھی۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ چادر اسے واپس دے کر کوئی سادہ چادر لے آؤ جس کے نقش ونگار نماز میں اپنی طرف متوجہ نہ کریں۔

مطیع سید: سیاہ کتا شیطان ہے،6 اس سے کیا مراد ہے ؟ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت، گدھا اور کتا، ان تینوں میں سے کوئی آگے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

عمار ناصر: اس کو بعض ظاہریہ اس معنی میں لیتے ہیں کہ نماز فقہی طور پر فاسد ہو جاتی ہے۔ عام طور پر محدثین اس کو اس معنی میں نہیں لیتے۔ قطع سے مراد یہ ہے کہ نماز کا ایک روحانی پہلو بھی ہے جس میں فرشتوں کے حضور کی اور ان کی دعاؤں کےساتھ شرکت کی بڑی اہمیت ہو تی ہے۔ دیکھیں، نماز ی کے آگے سے آپ گزرتے ہیں تو اس سے نماز کے ماحول میں اور روحانی کیفیت میں ایک طرح کاخلل پیدا ہو جاتا ہے۔ نماز کا اپناایک روحانی ماحول بھی ہوتا ہے۔ اس میں اگر کتا سامنے سے گزر گیا ہے تو اس سے بھی ایک طرح کا خلل آ جاتا ہے۔ عورت کے بارے میں بعض شارحین یہ کہتے ہیں کہ یہ بات مطلقاً‌ ہر عورت کے بارے میں کہی گئی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ماہواری کی کیفیت میں عورت کا گزرنا مراد ہے۔ اس پہلو سے بھی کہتے ہیں کہ جب آپ نماز میں یکسوئی کی حالت میں کھڑے ہوں، اس حالت میں اگر عورت آپ کے سامنے سے گزر ے تو آپ کی یکسوئی میں خلل واقع ہو سکتا ہے۔

مطیع سید: فقہ میں نماز کے اند ر عملِ قلیل اور عملِ کثیر کا فرق بتایا گیا ہے، جبکہ احادیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ بچوں کو نماز کے دوران میں اٹھا لیتے تھے اور سجدے میں جاتے ہوئے انھیں زمین پر بٹھا دیتے تھے۔7 یہ عمل تو فقہ کی اصطلاح میں عمل قلیل نہیں ہے۔ تو پھر کس بنیاد پر عملِ قلیل اور عملِ کثیر کی تقسیم کی گئی ہے؟

عمار ناصر: کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو آپ خاص محل میں تو قبول کر لیتے ہیں، لیکن اس کو ایک عمومی ضابطہ سمجھنے کے بارے میں آپ کا مجموعی فہم دین یہی کہے گی کہ ایسا نہیں ہے۔ نماز اصل میں تو یہی ہے کہ سکون اور اطمینان کے ساتھ اور نماز سے غیر متعلق اعمال کے ساتھ مشغول ہوئے بغیر ادا کی جائے۔ اب آپ اگر اس طرح کے اعمال کو عمومی اجازت پر محمول کرنا چاہیں تو آپ کا فہم دین آپ کو بتائے گا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں توجیہ کے کئی پہلو نکالے جا سکتے ہیں، مثلاً‌ یہ کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھا۔ لیکن توجیہ آپ جو بھی کر لیں، اصل بات یہ ہے کہ نماز کے متعلق دین کی مجموعی ہدایات اس سے مانع ہیں کہ اس طرح کے اعمال کو نماز کی حالت میں ایک عام اجازت قرار دیا جائے۔

مطیع سید: نماز کے بعد جو باجماعت دعا ہوتی ہے، اس کی کوئی روایت ہے ؟

عمار ناصر: اس طرح معمولاً‌ تو ثابت نہیں، بعد میں کسی دور میں اس کا رواج ہوا ہے۔ ہمارے بعض پرانے اہل علم مثلاً‌ شاطبی وغیرہ اسے بدعات میں ہی شمار کرتے ہیں۔

مطیع سید: علامہ انور شاہ صاحب کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بھی اس کے قا ئل نہیں تھے۔

عمار ناصر: ثبوت کا تو کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ یعنی آج کل جس طرح ہم معمولاً‌ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتے ہیں، اس طرح معمولاً‌ حضورﷺ کے زمانے میں ہوتی تھی، یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا۔ تو اصل سوال یہ ہے کہ اس کو ایک معمول کے طور پر اختیار کرنے کی کیا حیثیت ہے ؟ شاطبی کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے۔

مطیع سید: احناف کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

عمار ناصر: متقدمین احناف کا موقف میرے ذہن میں نہیں، لیکن دیوبندی علماء مختلف الرائے ہیں۔ بعض جیسے مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحبؒ بہت سخت مخالف تھے، جبکہ بعض قائل تھے، جیسے مفتی کفایت اللہ صاحبؒ نے اس پر باقاعدہ ایک رسالہ لکھا ہے۔ ہمارے دادا حضرت مولانا سرفراز صفدر صاحبؒ بھی فرض نماز کے بعد جواز اور استحباب کے قائل تھے، لیکن نوافل کے بعد اجتماعی دعا کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ علامہ انور شاہ صاحبؒ نے کسی بحث میں یہ لکھا ہے کہ بہت سے امور میں کسی چیز کا فی نفسہ ثابت اور مشروع ہونا کافی ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر اسے معمولاً‌ اختیار کیا جا سکتا ہے، چاہے شارع نے خود ا س کو معمول بنانے کا اہتمام نہ کیا ہو۔ میرے خیال میں، اس رائے میں کافی وزن ہے۔

مطیع سید: نبیﷺ نے سردی اور گرمی کے متعلق فرمایا کہ یہ جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔8 یہ آپ ﷺ نے کن معنوں میں فرمایا؟ آج کا جدید ذہن اس کو کیسے سمجھ سکتا ہے، کیونکہ سائنس تو ہمیں اس تبدیلی کی وجہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا کم یا زیادہ ہونا بتاتی ہے؟

عمار ناصر: ایسے بیانات بنیادی طور پر متشابہات کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی صحیح حقیقت کو سمجھنا مشکل ہے، بس بالاجمال یہ ماننا کافی ہے کہ موسم کی تبدیلی کا تعلق ایک سطح پر کائنات کے اس نظام سے بھی ہے جس میں جنت اور جہنم واقع ہیں۔ البتہ اس سے اس کی نفی نہیں ہوتی کہ ایسی چیزوں کے ان اسباب کو جانا اور متعین کیا جائے جو عام انسانی علم کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ کائناتی نظام کی الگ الگ سطحیں ہیں اور اپنی اپنی سطح پر دونوں باتیں درست ہیں۔

مطیع سید: ایک دفعہ آپ ﷺ نے ظہر کی چار کی بجائے پانچ رکعتیں پڑھادیں اور بعد میں صرف سجدہ سہو کرلیا، چھٹی رکعت ساتھ نہیں ملائی۔9 حنفی فقہا تو چھٹی رکعت ملانے کا کہتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نمازی چوتھی رکعت میں تشہد میں بیٹھا ہو، پھر تو بعد میں دو رکعتیں مزید پڑھنے سے فرض نماز ادا ہو جائے گی، ورنہ نہیں ہوگی۔ لیکن یہاں تو نبی ﷺ کا واضح عمل ہمارے سامنے موجود ہے۔

عمار ناصر: صدرِاول میں فقہا کے لیے یہ مسئلہ تھا کہ روایتیں اس طرح سے منقح اور مدون ہوکر ساری تحقیق کے ساتھ ان کو نہیں پہنچی تھیں۔ بہت سی روایتیں تو پہنچی ہی نہیں تھیں۔ بہت سی ایسی تھیں جو اس طرح باوثوق ذریعے سے نہیں پہنچی تھیں جس سے وہ ان کی صحت پر مطمئن ہو جاتے۔ اس لیے ان کے لیے ایسی چیزوں میں قیاس سے کام لینے کی یاکسی روایت پر عمل نہ کرنے کی زیادہ گنجائش تھی۔

مطیع سید: تو کیا آج بھی اس کی تاویلات کی گنجائش ہے؟

عمار ناصر: متاخرین احناف نے اس طرح کے مباحث میں کافی سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً‌ اس روایت میں چوتھی رکعت میں تشہد میں بیٹھنے کا ذکر نہیں جس کی احناف عموماً‌ یہ تاویل کرلیتے ہیں کہ روایت میں اس کا تو ذکر نہیں کہ آپ نے چھٹی رکعت شامل نہیں کی۔ ہو سکتا ہے، آپ نے کی ہو۔ لیکن مفتی تقی عثمانی صاحب کے درسِ ترمذی کے مرتب نے حاشیے میں اس پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ معروف روایت میں تو اس کا ذکر نہیں، لیکن بعض روایتوں میں اس کی صراحت موجود ہے۔ انہوں نے طبرانی کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وضاحت ہے کہ آپﷺ چوتھی رکعت میں نہیں بیٹھے تھے۔

مطیع سید: اسی واقعے میں آپ ﷺ نے لوگوں سے کچھ بات چیت کی اور جب واضح ہوگیا کہ آپ سے سہو ہوا ہے تو دوبارہ نماز ادا کرنے کے بجائے صرف سجدہ سہو فرما لیا۔10 کیا گفتگو کرنے سے نماز ٹوٹ نہیں گئی تھی؟

عمار ناصر: اسی سے مالکیہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر اصلاح ِ نماز کے لیے بقدر ضرورت کوئی گفتگو ہوئی ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ آپ اسی پر بِنا کر سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ کو میں نے دیکھا ہےکہ آپ تشہد میں مسلسل انگلی ہلاتے ہیں۔ یہ کس روایت کے تحت ہے ؟ صحیح بخاری یا صحیح مسلم کے مطالعے میں تو ابھی تک ایسی روایت نہیں آئی۔

عمار ناصر: صحیحین میں غالباً‌ نہیں آئی، لیکن بہت سی روایتیں ہیں۔ کئی صحابہ نے آپ ﷺ کا یہ عمل نقل کیا ہے کہ آپ تشہد میں دعا کرتے ہوئے اپنی شہادت کی انگلی کو ہلاتے رہتے تھے۔

مطیع سید: اس کے پیچھے کیا تصور ہے؟

عمار ناصر: بس یہ دعا کی علامت ہے۔ آپ دعاکررہے ہیں اور یہ توحید کی بھی علامت ہے۔

مطیع سید: لیکن احناف توایسا نہیں کرتے۔

عمار ناصر: وہی مسئلہ ہے کہ تمام روایتیں اس طر ح ائمہ تک قابلِ اطمینان طریقے سے نہیں پہنچیں۔ احناف تک جو روایتیں نہیں پہنچیں، میں نے اس پر تھوڑا سا کام کیا تھا۔ بہت سے مسائل ہیں جن میں ان تک روایتیں نہیں پہنچیں۔ بعض جگہ تو وہ تصریح بھی کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے یہ روایت ہے، اس کے علاوہ کوئی روایت ہے تو ہمیں بتاؤ۔ اسی لیے امام محمدجب بعد میں مدینہ گئے تو بہت سے مسائل میں اسی بنیاد پر انھوں نے امام ابوحنیفہ کی رائے سے اختلاف کیا کہ ان کے سامنے کچھ قابل اعتماد روایات ان کی رائے کے خلاف آ گئی تھیں۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے دعا کی کہ بخار کو جحفہ کی طرف بھیج دیاجائے۔11 کیا جحفہ کوئی آباد علاقہ تھا یا کوئی ویران خطہ تھا؟

عمار ناصر: مجھے معلوم نہیں۔ ہو سکتاہے، اس وقت وہاں آبادی ہو۔

مطیع سید: اگر آباد تھا کہ تو آپﷺ بخارکو وہاں بھیجنے کے بجائے بخار کا خاتمے کی دعا بھی تو فرما سکتے تھے۔ مدینے سے بخار کو وہاں کیوں بھیج دیا گیا؟

عمار ناصر: جی یہ بھی دعا کرسکتے تھے لیکن دعا میں یہ چیز بھی دیکھنی ہوتی ہے کہ اللہ کے کسی تکوینی قانون کے تحت وباآئی ہے تو وہ تو اپنا کام پورا کر کے جائے گی۔ اللہ کی بعض سنن کو ہم اس طرح نہیں سمجھتے۔ ممکن ہے، اللہ کے قانون میں یہ ہو کہ یہ وبا جو آئی ہے، اس نے اپناحصہ لےکر ہی جانا ہے۔ البتہ اس کی شاید گنجائش ہو کہ ایک علاقے سے اسے دوسرے علاقے کی طرف بھیج دیا جائے۔ جحفہ اس وقت اگر آباد تھا تو معلوم نہیں، وہاں مسلمانوں کی آبادی تھی یا مشرکین کی۔ ممکن ہے، ایسے مشرکین ہوں جو بددعا یا عذاب کے مستحق ہوں۔ یا ہو سکتا ہے، یہ پہلو ہو کہ اگر اس وبا کی زد میں لوگوں نے آنا ہی ہے تو وہ مدینہ کے لوگ نہ ہوں، کیونکہ ہجرت کے بعد ویسے ہی یہاں کی آب وہوا اور وبا وغیرہ کی وجہ سے مہاجرین کےلیے یہاں ٹھہرنے میں کافی دقت تھی۔ تو اس نوعیت کے کئی امکان قابل غور ہو سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبر کاعذاب جانوربھی سنتے ہیں۔12 پھر یہ علمی اختلاف کیوں پیداہواکہ قبر یہی ہے اور یہیں پر عذاب ہو رہاہے یا کہیں اور ہو رہاہے ؟ اگر جانور عذاب کو سنتے ہیں تو پھر تو یہیں اسی قبر میں ہورہاہوگا۔ جویہ کہتے ہیں کہ اس قبر میں عذاب نہیں ہوتا، کیا ان کے سامنے یہ روایت نہیں ہے؟

عمار ناصر: یہ بحثیں صحابہ اور تابعین کے ہاں تو موجود نہیں ہیں۔ بعد کے دور میں متکلمین نے چھیڑیں۔ متکلمین میں بعض ایسے ہوتے ہیں جو نص سے قریب تر رہنے کو ترجیح دیتےہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں جو کچھ پیدا ہونے والے عقلی سوالات کی روشنی میں ایک تعبیر کر لیتے ہیں اور روایتوں کی تشریح اس کے تحت کرتے ہیں۔ یہی کچھ اس معاملے میں بھی ہوا ہے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو قبر ہے، اصل میں یہاں عذاب و ثواب نہیں ہے۔ ان کا اشکال یہ ہے کہ جو لوگ ڈوب کر مرگئے یا جنہیں جانور کھاگئے، ان کا عذاب وثواب کہاں ہوتا ہے؟ وہ تو کسی قبر میں نہیں ہیں۔ اس سے وہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ عذاب وثواب کسی دوسرے عالم میں ہوتا ہے۔ اس کی روشنی میں وہ پھر ان احادیث کی توجیہ وتاویل کر لیتے ہیں جن میں اس مٹی کی قبر میں عذاب وثواب کا ذکر آیا ہے۔

مطیع سید: تو اس سلسلے میں کیا موقف اختیا رکر نا چاہیے؟

عمار ناصر: میراخیال یہ ہے کہ جو اس طرح کی چیزیں ہیں، ان میں کوئی ایک کلی قسم کا موقف یا نظریہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یعنی آپ باقاعدہ کوئی کلیہ بنائیں، کوئی نظریہ بنائیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے، اس کی ضرورت نہیں ہے۔ نصوص سے جو بات بھی ثابت ہو، بس اس کو ویسے ہی مان لینا چاہیے، اس سے کوئی کلی قاعدہ یا اصول نہیں بنانا چاہیے۔ اگر آپ قرآن میں دیکھیں تو آپ کو دونوں تینوں طر ح کے شواہد مل جائیں گے۔ بعض ایسے ہیں جن سے عذابِ قبر نہ ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً‌ سورۃ یسین میں تصریح ہے کہ کفار کو جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ حیران ہوں گے کہ من بعثنا من مرقدنا ھذا، ہم تو سوئے ہوئے تھے، کس نے ہمیں اٹھا دیا۔ مطلب یہ کہ درمیان کے دور کا انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ اس طرح حدیثوں میں کچھ ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یہ جو قبر میں پڑا ہوا جسم ہے، اسی کے ساتھ عذاب و ثواب کا تعلق ہے۔

بعض ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ مثال کے طور پر شہدا ء کو پرندوں کے جسم دے دیے جاتے ہیں اور وہ ان اجسام میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اب ان چیزوں کی کھود کرید میں پڑنے کی بجائے یہ کہہ دینا زیادہ درست ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہاں بھی ہو اور کسی دوسرے جہان میں بھی ہو۔ یا یہ کہ کچھ انسانوں کے ساتھ یہاں ہو اور کچھ کے ساتھ وہاں ہو۔ تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کااور پیغمبر کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ جو مرنے اور جی اٹھنے کے درمیان کا عرصہ ہے، اس میں اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں۔ اب اس میں اس بحث کا کیا فائدہ ہے کہ اس جسم کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ جسم ِ مثالی کے ساتھ ہوتا ہے ؟ عذاب بہرحال بندے کو ہوتا ہے اور اس کی تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اس جسم کو ہو یا جسمِ مثالی کوہو، اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔

مطیع سید: کیا خاص طور پر جمعہ کا روزہ رکھنا منع ہے؟ روایت میں اس کی ممانعت آئی ہے۔13

عمار ناصر: حدیث میں ہے کہ صرف جمعے کو روزے کے لیے خاص نہ کیا جائے، بلکہ اگر روزہ رکھنا ہو تو اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی کوئی دن ساتھ ملا لیا جائے۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ جمعے کے دن اس طرح روزے کا اہتمام کرنے سے روکنا مقصود ہے جس سے یہ لگے کہ یہ دن روزے کے ساتھ کوئی خاص مناسبت رکھتا ہے۔ اگر یہ پہلو نہ ہو اور اہتمام کے بغیر کبھی روزہ رکھ بھی لیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں۔ بعض شارحین کہتے ہیں کہ شاید اس پہلو سے آپﷺ نے منع کیا کہ جمعہ کے دن لوگوں کو کچھ مشقت اٹھا کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جانا ہوتا ہے تو آپ نے عام لوگوں کی مشقت کا لحاظ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔

مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ آپ نے کسی کو مٹھی بھرکر درہم دیے۔ راوی بتاتا ہے کہ یہ پانچ سو درہم تھے۔14 یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہاتھ میں پانچ سو درہم آجائیں ؟ اتنا چھوٹا سکہ تو اس وقت غالباً‌ نہیں ہوتاہوگا۔

عمار ناصر: یہ تو درہم کا حجم دیکھنے سے ہی کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے، دونوں ہتھیلیاں ملا کر درہم اٹھائے گئے ہوں اور ان کی تعداد پانچ سو بن جاتی ہو۔

مطیع سید: ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اوربال نہ کٹوانا،15 یہ حکم استحبابی ہے، یہ کیسے معلوم ہوا؟روایات میں تو ظاہراً‌ تاکیدی حکم ہی دیا گیا ہے۔

عمار ناصر: اصل میں ہر حکم کے بارے میں فقہا مجموعی دلائل اور کسی حکم کے گر دو پیش کے قرائن سے یہ متعین کرتے ہیں کہ اس کا فقہی درجہ کیا ہے۔ اس حوالے سے احناف نے ایک بڑا اہم عقلی اصول بیان کیا ہے کہ شریعت میں کوئی حکم جو تمام مسلمانوں سے متعلق ہو یعنی عموم بلویٰ کی نوعیت رکھتا ہو، وہ اگر کسی خبر واحد میں آیا ہو تو وہ واجب نہیں ہو سکتا، وہ صرف مستحب ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر شارع کی نظر میں وہ واجب ہوتا تو پھر اس کا ابلاغ کسی خبر واحد سے نہیں، بلکہ شہرت اور تواتر کے ساتھ کیا گیا ہوتا۔ ناخن اور بال نہ کاٹنے کی روایت بھی چونکہ خبر واحد ہے، اس لیے خصوصاً‌ احناف کے اصول کے مطابق یہ واجب نہیں ہو سکتا۔

حواشی

  1.  صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الطہارۃ، باب فی وضوء النبی صلى الله عليہ وسلم، رقم الحدیث: 235، جلد: 1، ص: 210
  2.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب العلم، ‌‌باب من اعاد الحديث ثلاثا ليفهم عنہ، رقم الحدیث: 96، ص: 99
  3.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب الوضوء، ‌‌‌‌باب التبرز فی البيوت، رقم الحدیث: 148، ص: 113
  4.  صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، باب الامر بالسكون فی الصلاۃ والنہی عن الاشارة باليد ورفعہا عند السلام، رقم الحدیث: 430، جلد: 1، ص: 322
  5.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، ‌‌باب اذا صلى فی ثوب لہ اعلام ونظر الى علمہا، رقم الحدیث: 373، ص: 167
  6.  صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، باب قدر ما يستر المصلی، رقم الحدیث: 510، جلد: 1، ص: 365
  7.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، ‌‌باب اذا حمل جاريۃ صغيرة على عنقہ فی الصلاة، رقم الحدیث: 516، ص: 197
  8.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب مواقیت الصلاۃ، ‌‌باب: الابراد بالظہر فی شدة الحر، رقم الحدیث: 536، ص: 202
  9.  صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السہو فی الصلاة والسجود لہ، رقم الحدیث: 572، جلد: 1، ص: 401
  10.  صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السہو فی الصلاة والسجود لہ، رقم الحدیث: 572، جلد: 1، ص: 401
  11.  صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب مقدم النبیﷺ واصحابہ المدینۃ، رقم الحدیث: 3926، ص: 988
  12.  صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر، رقم الحدیث: 586، جلد: 1، ص: 411
  13.  صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم الجمعۃ، رقم الحدیث: 1985، ص: 522
  14.  صحیح البخاری، کتاب الشھادات، باب من امر بانجاز الوعد، رقم الحدیث: 2683، ص: 691
  15.  صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب نہی من دخل عليہ عشر ذی الحجۃ وہو مريد التضحيۃ ان ياخذ من شہره او اظفاره شيئا، رقم الحدیث: 1977، جلد: 3، ص: 1565
(جاری)

دینی جدوجہد کے مورچے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(مجلس احرار اسلام  پاکستان کی سالانہ کانفرنس میں گفتگو )


حضرت خواجہ ناصرالدین خاکوانی، امیر محترم سید محمد کفیل شاہ بخاری، اکابر علمائے کرام، محترم بزرگو اور دوستو!

میں   حسب معمول سب سے پہلے دو باتوں پر  مجلس احراراسلام کا شکریہ ادا کروں گا۔  ایک تو اس پر کہ انہوں نے مورچہ قائم رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالی اس مورچے کو قائم رکھیں، کیوں کہ ابھی اس مورچے کے بہت سارے کام باقی ہیں۔ اور دوسرا اس بات پر کہ مجھے بھی اکثر حاضری کا موقع دے دیتے ہیں۔ میری یہاں حاضری صرف نسبت کو تازہ کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے ہوتی ہے کہ کن بزرگوں اور کس قافلے سے ہماری نسبت ہے اور کس  تسلسل سے ہے۔  اللہ تعالی اس قافلے اور تسلسل کو قائم رکھیں۔  اسی پر زندگی گزارنے کا موقع دیں اور اسی پر موت عطا فرمائیں۔

  یہ مجلس احرار اسلام کی سالانہ کانفرنس ہے اور بہت اہم مقام پر ہے۔  میں کوئی تقریر کرنے کی بجائے اس وقت ہمیں قومی سطح پر دینی جدوجہد کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں اور اس مورچے اور اس جیسے مورچوں کے حوالے سے جن مسائل کا ہمیں سامنا ہے، ان کی ایک فہرست عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کہاں کہاں پھنسے ہوئے ہیں اور کیا کیا مسائل درپیش ہیں اور وہ مسائل کس لیول پر ہیں؟   ان مسائل کی فہرست پیش کروں گا اور پھر اپنی فکر اور سوچ کے مطابق اس کی وجہ عرض کروں گا کہ ہم کیوں پھنسے ہوئے ہیں؟ اور پھر فیصلہ آپ پر چھوڑ کر اجازت چاہوں گا۔  

ہمیں اس وقت پاکستان میں سب سے پہلا مسئلہ دستور کے حوالے سے درپیش ہے۔  اس سے پہلے ہم کہا کرتے تھے کہ دستور کی بالادستی اور پاسداری ہونی چاہیے۔  بڑی مشکل سے اور طویل جدوجہد کے بعد ہم نے 1973ء میں ایک متفقہ دستور حاصل کیا تھا اور نافذ کیا تھا۔  وہ دستور دینی مکاتب فکر کے ہاں بھی متفقہ تھا، سیاسی جماعتوں کے ہاں بھی متفقہ تھا اور علاقائی قومیتوں کے ہاں بھی متفقہ تھا۔  پوری قوم اس پر متفق تھی اور اصولی طور پر اب بھی متفق ہے اور متفق چلی آ رہی ہے۔  ہم اب تک یہ کہہ رہے ہیں کہ دستور کی بالادستی اور عملداری قائم ہونی چاہیے، دستور کے مطابق ملک کا نظام چلنا چاہیے اور تمام اداروں اور طبقات کو دستور کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ یہ ہمارا اصولی موقف ہے اور ہم یہ بات کرتے چلے آرہے ہیں۔

  لیکن میں انتہائی تکلیف کے ساتھ اپنے قلق کا اظہار نہیں کر سکتا جو میں چند دنوں سے محسوس کر رہا ہوں کہ اب ہمیں دستور کی بقاء اور تحفظ کی بات کہنا پڑ رہی ہے اور ایک سیاسی کارکن کے طور پر مجھے محسوس ہورہا ہے کہ شاید ہمارا اگلا سب سے بڑا نعرہ اور سب سے بڑی جدوجہد کا عنوان یہی ہوگا۔ میری ان مقامات پر نظر ہے جہاں سے دستور کو سبوتاژ کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اور ذہن سازی کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں اور دونوں طرف سے یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کی طرف سے بھی جو دستور کو قائم نہیں دیکھنا چاہتے اور بدقسمتی سے ان حلقوں کی طرف سے بھی جو دستور کی دفعات اور اسلامی شقوں پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر کے اس طرف سے بھی دستور کی رٹ کو چیلنج کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔  مجھے دونوں طرف سے دستور کو خطرہ نظر آ رہا ہے۔  اللہ میری بات غلط کرے لیکن شاید اب ہمیں قومی سطح پر سب سے بڑی جنگ دستور کے تحفظ کی لڑنی پڑے گی۔  میں آپ سے احرار کے فورم پر کھڑے ہو کر عرض کر رہا ہوں کہ اس کے لیے ابھی سے تیاری شروع کریں۔

دستور ہمارے ملک کی وحدت کی علامت، ہمارے اسلامی تشخص اور  ہمارے ایمانی جذبات کی علامت ہے۔  خدانخواستہ کہیں سے بھی اس کو نقصان پہنچ گیا تو شاید عالم اسباب میں  ہماری قوم دستور جیسی  کسی دستاویز  پر متفق نہ ہو سکے۔

 ہمیں عالمی سطح پر جو دوسرا بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ عقیدہ ختم نبوت کی دفعات کا مسئلہ ہے،  جس سے متعلق ہم سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے۔  یو این کے ادارے، یورپی یونین، آئی ایم ایف اور بین الاقوامی ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف جو دستوری اور اصولی فیصلے موجود ہیں وہ فیصلے واپس لیے جائیں یا کم از کم غیر مؤثر بنائے جائیں۔  عالمی سطح پر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے ہم سے یہ مطالبہ جاری ہے۔  لیکن الحمدللہ دو مسئلے ایسے ہیں کہ جن پر ہماری قوم کسی کی بات نہیں سن رہی۔  نہ اقوام متحدہ کی بات سن رہی ہے اور نہ یورپی یونین کی بات سن رہی ہے۔  ان میں سے ایک ختم نبوت کا مسئلہ ہے اور دوسرا تحفظ ناموس رسالت کا مسئلہ ہے۔  اور میرے جیسے کارکنوں کا یہی آخری سہارا ہے کہ یہ ہماری آخری دفاعی لائن ہے جس کو کوئی کراس نہیں کر پا رہا ۔اللہ تعالی اس دفاعی لائن کو سلامت رکھیں۔

ختم نبوت کے حوالے سے ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے اور قادیانیوں کے حوالے سے ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے اور 1974 کے بعد سے تسلسل کے ساتھ یہ مطالبہ جاری ہے۔  کئی دفعہ ان مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش ہوئی ہے اور ایسے فیصلے ہوئے ہیں، لیکن آپ حضرات کی بیداری اور بیدار مغزی کے عمل نے ان کے سامنے رکاوٹ ڈالی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی ہمارے جذبات اور ہماری دینی حمیت اور غیرت ایسی کسی بھی کوشش کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔

 تحفظ ناموس رسالت کے مسئلے پر بھی ایسی ہی صورتحال ہے اور وہی تقاضے ہیں بلکہ اب تو ایک تقاضا  اور بڑھ گیا ہے۔  پہلے یہ مطالبہ تھا کہ توہین رسالت پر قتل کی سزا کا قانون ختم کیا جائے۔  اب اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ مطالبہ ہے کہ موت کی سزا ہی سرے سے ختم کی جائے۔  چاہے وہ قصاص کے طور پر ہو، یار جم کے طور پر ہو، یا توہین رسالت کے جرم پر ہو،  سرے سے موت کی سزا ہی ختم کی جائے۔  شرائط اور دباؤ کے ساتھ ہم سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے اور ہم ایک عرصے سے اس دباؤ کا شکار ہیں کہ موت کی سزا ختم کرو تو یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاملات صحیح ہو سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔  تجارتی مراعات موت کی سزا ختم کرنے کے ساتھ مشروط ہیں وغیرہ۔ اب ہم اس مقام پر کھڑے ہیں۔  

 اس کے علاوہ ہمیں شروع سے ہی خاندانی نظام کا مسئلہ درپیش ہے۔  ہماری تہذیب و ثقافت اور کلچر، دوسرے لفظوں میں اسے مشرقی کلچر، پاکستانی کلچر یا مسلم کلچر کہہ لیں۔  ہماری ایک تہذیب ہے، ہماری ثقافت چلی آ رہی ہے، ہم اس پر قائم ہیں اور اپنی تہذیب و ثقافت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہیں ہوں گے۔  لیکن خاندانی نظام میں مسلسل قوانین میں ترمیم کے ذریعے ہمارے اس سسٹم کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 1962ء میں پہلا قانون آیا تھا اور پھر قوانین پر قوانین آ رہے ہیں۔  میں صرف مثال کے طور پر عرض کرنا چاہوں گا تفصیل کا موقع نہیں ہے کہ طریقہ واردات کیا ہے؟ قانون کا عنوان کچھ اور ہوتا ہے اور اس قانون کے اندر کچھ اور ہوتا ہے۔

 آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے گھریلو تشدد کے خاتمے کے عنوان سے ایک قانون منظور اور نافذ ہوا۔  اس کی باقی تمام شقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، میں صرف مثال کے طور پر بات عرض کروں گا کہ گھریلو سسٹم میں خاندان اور میاں بیوی کے درمیان تنازعات اور جھگڑے ہو جاتے ہیں۔ میاں بیوی کے جھگڑے کو ختم کرنے کا پراسس قرآن مجید نے بیان کیا ہے:  ان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا۔  قرآن پاک کہتا ہے کہ اگر میاں بیوی میں جھگڑا ہو جائے تو یہ جھگڑا عدالتوں میں نہ لے جائیں بلکہ گھر بیٹھ کر اس کو حل کریں اور خاندان کے اندر اسے طے کریں۔ میاں بیوی دونوں کے خاندانوں کا ایک ایک نمائندہ بیٹھ کر اسے طے کرے۔ قرآن مجید نے جو یہ پراسس دیا کہ میاں بیوی کا کوئی جھگڑا اور تنازعہ باہر لے جانے کی بجائے گھر کی چار دیواری میں گھر کے ماحول میں طے کیا جائے، اس قانون کے تحت یہ سارا پراسس ختم کردیا گیا ہے۔ میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا تو ہمارا قانونی پراسس یہ ہے کہ بیوی ایس ایچ او کو فون کرے اور ایس ایچ او خاوند کو گرفتار کرکے اسے کڑا ڈال لے اور اس کے بعد عدالت میں خاوند سے پوچھا جائے گا کہ جھگڑا کیا ہے؟ یوں پورے کا پورا خاندانی نظام تتربتر کردیا گیا ہے۔

  جو ٹرانس جینڈر پرسن کا ایکٹ ہے یہ 2018ء سے نافذ ہے۔ دوست پوچھتے ہیں کہ یہ قانون 2018ء میں نافذ ہوا تھا تو ابھی تک خاموشی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خاص تکنیک ہے۔  اس بات سے آپ اندازہ کر لیں کہ یہ قانون سینٹ اور قومی اسمبلی میں 2017ء میں پیش ہوا تھا، دو جماعتوں کے نمائندوں نے جمعیت علماء اسلام کی نعیمہ کشور اور جماعت اسلامی کی نمائندہ عائشہ سیدہ نے فورم پر بڑی مضبوطی سے اس قانون کی مخالفت کی تھی، لیکن یہ قانون آخری سیشن میں پاس ہوا اور اس کے دو گھنٹے بعد اسمبلی تحلیل ہو گئی اور ساتھ ہی ملک میں الیکشن کا ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور یہ سارا معاملہ الیکشن کے نیچے دب گیا۔ یہ تکنیک اختیار کی گئی تاکہ کوئی بات نہ کر سکے۔  بعد میں اس کے پرت کھلتے گئے تو واضح ہوتا گیا کہ یہ کچھ ہوا ہے۔

 اس کی تفصیلات کا موقع نہیں ہے، لیکن ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا ہے؟ مختصر عرض کروں گا کہ اس کا عنوان خواجہ سراؤں کے حقوق کے متعلق ہے۔  خواجہ سرا قوم کا معذور طبقہ ہے، جس کی تعداد پاکستان میں بہت کم ہے۔ اوریجنل خواجہ سرا اور بتکلف خواجہ سرا بننے والوں کی تعداد کا کیا تناسب ہے؟ لیکن جو اوریجنل خواجہ سرا ہیں، شریعت نے اس کا حل نکالا ہے کہ جس میں مرد کی علامتیں زیادہ ہوں وہ مرد شمار ہوگا اور جس میں عورت کی علامتیں زیادہ ہوں وہ عورت شمار ہوگی۔  احکام شرعیہ میں یہ واضح طور پر موجود ہے۔  خنثیٰ مشکل جس کی جنس کی سمجھ نہ آ رہی ہو فقہاء نے اس کے احکام بھی ذکر کئے ہیں۔

 میں نے ڈاکٹر صاحبان کی ایک مجلس میں سوال کیا کہ باقی تمام مسائل میں میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے تو اس معاملے میں میڈیکل ٹیسٹ کیوں نہیں ہوتا؟   باقی معذوریوں کو میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں کیا جا سکتا؟اس پر اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت تھی؟ لاکھ میں دو آدمی  اس نوعیت کے ہوں گے تو ان کے مسئلے کا سادہ سا حل ہے کہ جو چند افراد ملک میں ایسے ہیں تو اس کا میڈیکل حل نکالو۔  کیا ان کا میڈیکل نہیں ہو سکتا، کیا میڈیکل والے فوت ہو گئے ہیں، ان کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے ؟

 لیکن ہوا یہ ہے کہ چند خواجہ سراؤں کے مسئلے کو بنیاد بنا کر کہ ہم نے ان کی معذوری اور مجبوری کو ڈسکس کرنا ہے، پوری قوم کو خواجہ سرا بنانے کا پروگرام دے دیا گیا ہے۔ عنوان یہ ہے کہ ہم نے خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اور پریکٹیکل طور پر پوری قوم کو خواجہ سرا بنانے کا ایجنڈا دے دیا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق ملک کا کوئی بھی شہری کوئی بھی مرد نادرا سے اپنے آپ کو عورت رجسٹر کروا  سکتا ہے اور کوئی بھی عورت اپنے آپ کو مرد رجسٹر کروا سکتی ہے اور نادرا پابند ہے کہ وہ جو حلفیہ بیان دے اس کے مطابق اسے رجسٹر کرے۔

 میں نے یہ عرض کیا کہ ہمارا خاندانی نظام جسے 1962ء میں چھیڑنا شروع کیا تھا اور چھیڑ تے چھیڑتے اب اس مقام پر آ گئے ہیں کہ مرد اور عورت کی جنس ہی مشکوک ہو گئی ہے اور پوری قوم کو خواجہ سرا بنانے کا ایجنڈا قوم کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔

میں نے چند  قومی مسائل کا ذکر کیا۔ دستور، ختم نبوت کے قوانین، ناموس رسالت کے تحفظ کا قانون اور خاندانی نظام۔ اب میں اوقاف کی طرف آتا ہوں۔ ہمارے ہاں انگریزوں کے دور میں جب برطانوی حکومت نے 1857ء میں یہاں قبضہ کیا تھا  تو اوقاف کے پرانے قوانین منسوخ کر دیے تھے اور نئے قوانین نافذ کیے تھے تو میں یہ تاریخی حقیقت عرض کرنا چاہوں گا کہ آزادی کی جنگ علماء اور دینی جماعتوں نے لڑی تھی، لیکن اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ مسلمانوں کے تشخص کی جنگ، اوقاف کی جنگ اور مسلمانوں کے اپنے معاملات میں شریعت کے قوانین کی جنگ سرسید احمد خان نے لڑی تھی کہ مسلمان الگ قوم ہے، اس کا اپنا تشخص ہے،ان کی اپنی تہذیب ہے، جسے محفوظ رہنا چاہیے اور اوقاف کی جنگ بھی انہوں نے لڑی ۔میں ریکارڈ کی بات سامنے لانا چاہوں گا۔ یہ بات کہ اس ملک میں مسلمانوں کے اوقاف مسلمانوں کے مذہبی قوانین کے دائرے میں رہنے چاہییں، یہ لڑائی سرسید احمد خان، جسٹس امیر علی اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح نے لڑی۔  وائسرائے کی ۔۔۔۔ کونسل میں قائد اعظم کی تقریر ہے کہ ہمارے اوقاف کے معاملات میں ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہمارے تمام قوانین شریعت کے قانون کے مطابق طے کیے جائیں۔

 انگریزوں نے ہمیں یہ حق دیا تھا کہ وقف کے مسائل اور خاندانی نظام کے مسائل شریعت کے مطابق ہوں گے۔ انگریزوں نے تو ہمیں یہ حق دیا تھا لیکن آج میں بڑے دکھ کے ساتھ عرض کروں گا کہ وہ مذہبی آزادی اور وقف کا تحفظ جو ہمیں انگریزوں نے دیا تھا اس اوقاف ایکٹ کے تحت ہم سے چھین لیا  گیا ہے۔ وہ حقوق جو سرسید احمد خان، جسٹس امیر علی اور قائد اعظم مرحوم نے جنگ لڑ کر حاصل کیے تھے کہ ہمارے اوقاف کے قوانین اور خاندانی قوانین شریعت کے مطابق ہوں گے، آج گھریلو تشدد کے خاتمے کے عنوان سے اور اوقاف ایکٹ کے حوالے سے وہ تمام مذہبی آزادیاں ہم سے سلب کر لی گئی ہیں اور ہم خاموش تماشائی ہیں۔ یہ سب ابھی ہمارے سامنے ہوا ہے۔

قومی مسائل کی فہرست تو لمبی ہے۔ ان میں سے ایک مسئلہ اور عرض کر دیتا ہوں۔ پاکستان بنتے ہی طے ہوا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم  نے سٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارے ملک کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں ہوگا، بلکہ اسلامی اصولوں پر ہوگا۔ قائد اعظم کا یہ خطاب ریکارڈ پر ہے۔ اس کے بعد ہمارے ملک کے ہر دستور نے یہ وعدہ کیا کہ ہم سودی نظام سے ملک کو نجات دلائیں گے۔ 1973ء کے دستور نے گارنٹی دی کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کم سے کم عرصے میں سودی نظام کو ختم کرے۔  پھر اسلامی نظریاتی کونسل نے سودی نظام کی تعیین اور اس کی متبادل صورتیں سارا سسٹم مکمل کیا اور  اس کے مطابق وفاقی شرعی عدالت نے سودی قوانین کے خاتمے کا فیصلہ دیا، متبادل قوانین دیے اور پورا سسٹم دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس فیصلے کی بنیاد پر اسے قائم رکھا اور اس پر فیصلہ دیا کہ ہم سود کو ختم کریں گے۔ اس کے بعد نظر ثانی کی اپیل ہوئی اور فیصلہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت میں گیا۔ وفاقی شرعی عدالت نے انیس سال کے بعد فیصلہ دیا کہ  وہ فیصلہ ٹھیک تھا اور حکومت سے کہا کہ سودی نظام ختم کرو۔

 لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعظم محترم  نے ٹاسک فورس قائم کی، لیکن میں بڑے تعجب سے یہ بات کہوں گا۔ میں نے ٹاسک فورس کے ایک اہم ادارے کو خط لکھا کہ جناب !آپ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے ٹاسک فورس کا بھی حصہ ہیں اور آپ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے سٹے بھی لے لیا ہے۔ ادھر  عمل درآمد کی میز پر بیٹھے ہیں اور ادھر عدالت میں سٹے لے کر کھڑے ہیں، یہ کیا تضاد ہے؟  اور اب دوبارہ غیر معینہ مدت کے لیے۔۔۔۔۔۔

 یہ میں نے صرف چند مسائل کی ایک جھلک عرض کی ہے۔ باقی مسائل کی فہرست کو  چھوڑتے ہوئے عرض کروں گا کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ کیا ہے؟  ایک مذہبی اور سیاسی کارکن کے طور پر میں اس کی جو وجہ سمجھتا ہوں وہ عرض کرتا ہوں۔

 پہلی بات یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہمارے قومی ادارے اور کسی استثناء کے بغیر ہمارے تمام ریاستی ادارے نہ اسلام کے نظام میں سیریس ہیں ، نہ سودی نظام کے خاتمے میں سیریس ہیں اور نہ  ہی قومی خودمختاری میں سیریس ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔  ہم ایڈھزم،” ڈنگ ٹپاؤ“ کی پالیسی پر چل رہے ہیں کہ وقت گزارو۔ ان تمام مسائل کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تمام ریاستی ادارے ان معاملات میں سیریس نہیں ہیں۔ ہماری سنجیدگی کا حال یہ ہے کہ ہم ٹاسک فورس میں بھی بیٹھے ہیں اور سٹے کی اپیل میں بھی کھڑے ہیں۔

 ان مسائل کی دوسری وجہ بیرونی مداخلت ہے۔ ہم نے جتنے بھی اس طرح کے کام کیے ہیں وہ سب بیرونی مداخلت پر کیے ہیں۔ ختم نبوت کے قوانین کو ختم کرنے کرنے کے لیے اندر سے آواز آئی یا باہر سے آواز آرہی ہے؟  بیرونی دباؤ ہے۔ ناموس رسالت کے قانون کو جس خطرے کا سامنا ہے وہ اندر سے ہے یا باہر سے ہے؟  خاندانی نظام کے حوالے سے جو قوانین بنائے گئے ہیں یہ ہم نے طے کیے ہیں یا باہر سے آئے ہیں ؟  اوقاف کے قوانین ہم نے بنائے ہیں یا باہر سے آئے ہیں؟  گھریلو تشدد کا قانون۔۔۔۔۔ نے بھیجا ہے، سٹیٹ بینک کو بیرونی نگرانی میں دینے کا قانون آئی ایم ایف نے بھیجا ہے۔ مسلسل   بیرونی مداخلت ہے جو ہمارے قوانین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔ اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ اب ہمیں ان ساری باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سب سے بڑی جنگ بیرونی مداخلت کے خلاف لڑنی ہوگی۔  ہمارے ملک کی قانون سازی بیرونی مداخلت سے پاک ہونی چاہیے، ورنہ دستور کی بالادستی بھی سوالیہ نشان ہے اور ملک کی خودمختاری بھی سوالیہ نشان ہے۔ہمیں دستور کے تحفظ اور بالادستی کے لیے بیرونی مداخلت کے خاتمے اور بیرونی مداخلت کا راستہ روکنے کے لیے بحیثیت قوم متحد ہونا ہوگا اور تمام طبقات، تمام جماعتوں اور تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ ایسٹ انڈیا کمپنی سب کچھ بہا کر لے جائے گی۔  اللہ تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرمائیں۔

مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ اور اُن کی دینی خدمات

پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق غازی

پیدائش

مولانا محمد علی صدیقیؒ   ( 12 مارچ 1910تا  16 دسمبر 1992)   المعروف مولانا محمد علی کاندھلوی یکم ربیع الاول ۱۳۲۷ ہجری  بمطابق 12 مارچ 1910عیسوی  بروز پیر ضلع مظفر نگر کے قصبہ کاندھلہ کے محلہ مولویاں میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ نے آپ کا نام علی احمد رکھا جب کہ آپ کے والد گرمی پیار سے آپ کو  حیدر کہتے تھے۔ بعد  میں آپ محمد علی کے نام سے پکارے جانے لگے۔1

خاندان

 مولانا ؒ چار بھائی  اور دو بہنیں تھیں۔ بھائیوں کے نام بالترتیب حکیم محمد عمر، حکیم محمد عثمان اور  مولانا بشیر احمد ہیں۔ مولاناؒ کے والدِ گرامی کا نام مولانا حکیم صدیق احمدؒ تھا۔ آپ حضرت  مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے ارشد تلامذہ اور اجل خلفاء میں سے تھے یعنی علمِ ظاہر اور علمِ باطن دونوں میں حضرت گنگوہی سے فیض یاب تھے۔ آپ نسباً‌ حضرت  صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد ہونے کی وجہ سے صدیقی تھے۔  مونالا کے والدِ گرامی زمینداری اور طبابت کے ساتھ ساتھ شیخ ِطریقت بھی تھے اور آپ کا  حلقۂ   ارادت  کافی وسیع تھا۔جمعہ کے روز خصوصیت سے ارادت مندوں کا جھمگٹا رہتا تھا۔ مولانا کے والدِ گرامی حکیم صدیق احمدؒ نے طبابت کا پیشہ حضرت گنگوہی ؒ کی ہدایت کے مطابق اختیار کیا تھا۔ یہ علم نہیں  ہو سکا کہ آپ نے علمِ طبابت کس سے حاصل کیا، تاہم  آپ کے دادا (مولانا محمد علی صدیقی ؒکے پڑدادا) حکیم رحیم اللہ ایک جید اور حاذق طبیب تھے اور دور دور تک آپ کی شہرت تھی۔ آپ اُن لوگوں میں  شامل تھے جو حضرت سید احمد بریلویؒ کے ساتھ جہادِ بالاکوٹ میں شریک تھے۔ انہی حکیم رحیم اللہ کے والد  حکیم عزیز اللہ اور دادا حکیم حفیظ اللہ بھی طبابت کرتے تھے۔ حضرت مولاناؒ کے والدِ گرامی مولانا صدیق احمدؒ کو فقہ میں بھی خداداد ملکہ تھا۔ تمام ہمعصر  ان کی فقاہت کا لوہا مانتے تھے۔ فقہ حنفی پر اُن کی نظر صرف مقلدانہ نہیں بلکہ محققانہ تھی۔ انہوں نے فقہ حنفی  کا بڑا علمی اور تحقیقی مطالعہ کیا تھا۔ دلائل کو عنوان بنا کر ایک مبسوط کتاب بھی لکھی تھی جو اکثر تو محفوظ نہ رہ سکی تاہم حضرت مولانا ؒ کی کاوش سے بچے کھچے کچھ اوراق جمع کیے گئے تو پوری کتاب الطہارۃ بن گئی جو کہ دو سو (200) صفحات پر مشتمل تھی۔ فقہ پر دلائل کی فراہمی پر انہوں نے کس قدر محنت کی ہو گی اور کتنا عرصہ لگایا ہو گا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کہ صرف کتاب الطہارۃ کی ترتیب  میں انہوں نے کم و بیش ساٹھ ۶۰ حدیث کی کتابوں  سے اور 30 فقہ کی کتابوں سے استفادہ کیا۔

مولانا محمد علی صدیقیؒ کے والدِ گرامی ایک جامع شخصیت تھے۔ وہ مفسرقرآن تھے، محدث تھے، فقیہ تھے، روحانی بیماریوں کے لیے مرشدِ کامل اور جسمانی بیماریوں کے لیے طبیب حاذق تھے۔ آپ 1921ء میں جب  کہ مولاناؒ کی عمر صرف  گیارہ سال تھی اس دار فانی سے رخصت  ہو گئے2۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ مولانا کا شجرہ نسب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔  یہاں اُن کے شجرہ نسب کا  بیان مقصود نہیں البتہ اُن کے خاندان کے ایک جلیل القدر بزرگ کا مختصر تذکرہ فائدے سے خالی نہیں ہو گا یعنی ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف عالم دین اور احتساب کے ادارے کے بانی قاضی ضیاء الدین سنائی  (641ھ-718ھ) ،جو کہ سلطان علاء الدین خلجی (1296-1316 عیسوی )کے دور میں محتسب کے منصب پر فائز رہے ۔  قاضی صاحب دیانت داری اور تقوی میں مقتدائے وقت تھے۔ حکومت کی جانب سے احتساب کا کام ان کے سپرد تھا۔ حضرت  سلطان الھند شیخ نظام الدین اولیاء ؒ  کی محفلِ سماع پر ہمیشہ اعتراض کرتے تھے۔ جب قاضی صاحب مرضِ وفات میں مبتلا ہوئے تو شیخ نظام الدین اولیاء ؒ  ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ قاضی صاحب کو جب اطلاع ہوئی تو اپنی دستار شیخ المشائخ کے لیے راستے میں بچھوا دی۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے دستار زمین سے اٹھا کر آنکھوں سے لگا لی۔ جب شیخ المشائخ  اُن کے سامنے پہنچے  تو  قاضی صاحب نے شرم کے مارے آنکھیں نہ ملائیں۔ حضرت نظام الدین ؒ اٹھ کر باہر تشریف لائے ہی تھے کہ قاضی صاحب کی وفات ہو گئی۔ شیخ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمانے لگے:  

"ایک ہی ذاتِ گرامی شریعت کی حمایت کرنے والی تھی، افسوس کہ وہ بھی نہ رہی"۔

قاضی ضیاء الدین سنائی ؒ جب پہلی بار احتساب کی نظر سے حضرت بو علی شاہ قلندرؒ کے پاس  گئے تو اُنہوں نے دو تین بار تیز نگاہ سے اُن کی طرف دیکھا لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔ جب مولانا سنامیؒ  چلے گئے تو  لوگوں نے قلندرؒ صاحب سے کہا کہ آج  تو ضیاء الدین سنائی نے آپ پر بڑی سختی کی، فرمایا:

"دو تین بار میں نے چاہا کہ اس پر حملہ کر دوں لیکن اُس نے شریعت کی زرہ پہن رکھی تھی، میرے تیر نے اس پر اثر نہ کیا"۔

قاضی ضیاء الدین سنائی ؒ نے دہلی  میں ہفتہ وار درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تو اس میں معاشرے کے تمام طبقات کے لوگ شریک ہونے لگے اور بقول مؤلف تاریخِ فیروز شاہی، شرکاء کی تعداد تین ہزار تک ہو جایا کرتی تھی۔ قاضی  ضیا ء الدینؒ نے احتساب کے متعلق ایک معرکۃ الآراء کتاب "نظام الاحتساب" کے نام سے تحریر کی جس میں احتساب کے بنیادی خدوخال، اُصول، اہمیت اور نفاذ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ قاضی ضیاء الدین کے جاری کردہ فتاوی کو "الفتاوي الضيائية" کے نام سے  جمع بھی کیا گیا جو شریعت ، شرعی احکام کے استنباط اور اجتہادی طریقوں کا مرقع تھا3۔

بچپن ( چند واقعات) 

یہاں حضرت مولانا محمد علی صدیقیؒ کے بچپن کے چند واقعات کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اُس ماحول کے بارے میں علم ہو سکے جس میں  مولانا نے پرورش پائی۔

تعلیم و تربیت

مولاناؒ نے حفظِ قرآن پاک اپنی والدہ محترمہ سے شروع کیا اور تیسویں کی ۱۶ سورتیں اُن سے  حفظ کیں۔ اس کے علاوہ قاعدہ بغدادی بھی اپنی والدہ محترمہ سے ہی پڑھا۔ بعد میں حافظ رحیم بخش کے ہاں دس سال کی عمر میں مکمل قرآن ِ پاک حفظ کیا۔ مولانا نے 1921ء تا 1922ء بڑوت میں اپنے بڑے بھائی حکیم محمد عمر کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی۔ 1923ء میں آپ اپنے ماموں مولانا اشفاق الرحمنؒ کی تربیت میں رہے۔ 1924ء  سے 1927ء تک مولاناؒ نے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور  میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں اُن کے اساتذہ میں مولانا مفتی جمیل الرحمن تھانوی، قاری محمد داؤد، مولانا مسعود احمد کے  نام زیادہ نمایاں ہیں۔

مولانا نے1928 اور1929 کے دوران دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی۔ رسمی تعلیم کا سلسلہ1929  تک جاری رہا، جب کہ مولانا کی عمر 19 سال تھی۔

اس کے علاوہ مولانا نے1937ء میں مولوی فاضل، 1938ء میں فاضل فارسی اور 1940ء میں  عربی فاضل کی اسناد حاصل کیں۔

زمانہ طالبِ علمی کے چند واقعات

یہاں مولاناؒ کے زمانہ طالبِ علمی کے چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں تا کہ ہم اُن کی دینی، ذہنی  اور فکری ساخت سے بہترانداز میں آشنا ہو سکیں:

 مولانا کے مشائخ

مولانا محمد علی صدیقیؒ کے اکابر و مشائخ وہ تاریخ ساز شخصیات ہیں جنہوں نے دینِ اسلام اور کلمۂ حق کی بلندی  کے لیے ساری زندگی لگا دی۔ اُن کا ذکر مولانا ؒکی وصیت  کی روشنی  نقل کیا جاتا ہے:

 مولاناؒ، حضرت  مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا ذکریاؒ سے بیعت تھے ۔ وہ  مولانا احمد علی لاہوریؒ کے پاس  کم  رہے تاہم اُنہیں حضرت مولانا حسین مدنیؒ اور حضرت مولانا محمد ذکریاؒ کے پاس لگاتار دو دو ماہ شب و روز گزارنے اور اُن بزرگوں کی خلوت و جلوت  دیکھنے کا موقع ملتا رہا۔ اِن کےعلاوہ جن بزرگوں کے فیضانِ نظر اُنہیں ملا اور  جن کی صحبت سے دین کی صحیح نعمت اور قلب کی صحت نصیب ہوئی  اُن کے نام درج ذیل ہیں:

مولاناؒ کا مسلک

 مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ  فکر و نظر کےا عتبار سے خالص اہل السنہ و الجماعت  سے تھے۔  مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں امامت کو نہ صرف مسلمانوں کی ضرورت  بلکہ اُن کا فرض  گردانتے کہ وہ اس  کے لیے اجتماعیت کا ڈھانچہ بنائیں۔ اُن کے خیال میں بہتر  یہ ہے کہ یہ ضرورت مسلمانوں میں سے اہل تقوی اور فتوی کے مشورے سے ہو۔ اگر شورائی نظم کی سعادت نہ مل سکے تو فوجی غلبہ سے بھی  یہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ اجتماعی ضرورت کی۔ اُن  کا عقیدہ تھا کہ  نہ امام اللہ کی جانب سے مقرر ہوتا ہے اور نہ معصوم ہوتا ہے ، امام کی بعثت اور عصمت عقیدۂ  ختم نبوت سے متصادم ہے۔ مولاناؒ  پوری جماعتِ صحابہ کی عدالت کے قائل تھے اور سب کو مرحوم و مغفور اور رضی اللہ عنہم کا مصداق سمجھتے تھے۔ اُن کے مسلک کے مطابق  قرآن اگر نبوت کی صداقت کی علمی دلیل ہے تو صحابہ ٔ       کرام صداقت ِ نبوت کی عملی دلیل ہیں۔

 وہ قرآن کو حرف بحرف منزل من اللہ، ہر تحریف سے پاک  اور کتابت اور روایت دونوں لحاظ سے متواتر سمجھتے،  اس میں شک   کو ایمان سے محرومی گردانتے۔  مسلمانوں میں نزاعِ باہمی اور تفریق کی ہر صورت کو اللہ سبحانہ کی بہت بڑی نافرمانی سمجھتے۔ فقہائے مجتہدین او رائمۂ محدثین دونوں کا احترام کرتے اور علم و عمل میں دونوں سے استفادہ کرنے کے قائل تھے۔ اُن کی نظر میں محدثین اگر الفاظِ نبوت کے محافظ ہیں  تو فقہائے کرام اُن کے معانی کے نگران ہیں۔ جیسے ائمۂ حدیث بہت ہیں مگر مشہور صرف چند ہیں، ایسے ہی ائمۂ مجتہدین بھی بہت ہیں مگر مشہور صرف چھ ہیں۔ فقہ حنفی کو دوسرے فقہوں کے مقابلہ میں اجتماعی فکر کا نتیجہ سمجھتے ،  اُن کے نزدیک حنفی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اُنہیں فہمِ اسلام کی غرض سے قرآن دانی اور سنت شناسی میں اپنی سمجھ پر نہیں بلکہ امام  ابوحنیفہؒ ، امام ابو یوسف ؒاور امام محمدؒ کی  فہم و بصیرت پر بھرپور اعتماد ہے۔اُن کے خیال میں حنفی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محدثینِ کرام کے دامانِ احترام کو ہاتھ لگایا جائے، دوسرے مجتہدین میں سے کسی درجہ میں  سوئے ادب کیا جائے۔ وہ نسبتِ صوفیا کو بہت بڑی نعمت سمجھتے7۔

مولاناؒ سیالکوٹ میں

 مولانا محمد علی کاندھلوی ؒکا سیالکوٹ آنے  اور پھر یہیں قیام کر لینے کا ایک پس منظر ہے جوانہوں نے اپنی غیر مطبوعہ خود نوشت سوانح حیات "میرے ماہ و سال" میں بالتفصیل بیان کیا ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ  یہاں اُس پس منظر سے متعلق ضروری باتوں کا ذکر کر وں:

1929ء میں مولاناؒ دیوبند میں تھے کہ جمعیت علمائے ہند نے انگریز کے خلاف کانگریس کی تحریک  میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ جمعیت کے امروہہ  کے اجلاس میں کیا گیا۔ سول نافرمانی کی اس تحریک کے سلسلہ میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے جامع مسجد دیوبند میں ایک جلسہ  میں پُر جوش تقریر کی جسے سن کر مولانا محمد علی صدیقؒی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس تحریک میں حصہ لیں گے۔ یوں وہ حضرت مدنیؒ کے سیاسی سفر میں ہم رکاب ہو گئے اور پورا ایک ماہ حضرت مدنیؒ کے ساتھ گزارا ۔ پھر والدۂ محترمہ سے اجازت لے کر 1930 میں دہلی آ گئے اور دفعہ 144 کی موجودگی کے باوجود کمپنی باغ میں جلسہ منعقد کیا، گرفتار ہوئے اور دہلی،  لاہور اور ملتان جیل میں رہے۔ مارچ 1931 میں رہائی ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت مولاناؒ کو  پنجاب کے علماء اور سیاسی لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا اور آپ کے ذہن میں اس علاقے میں دین کا کام کرنے کا داعیہ پیدا ہوا۔

25 نومبر 1931 جمعہ کا دن مولاناؒ مجلس ِ احرار کی کشمیر ایجیٹیشن کے سلسلہ میں جامع مسجد دہلی سے لاہور  کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں آ کر ایک جلسہ میں تقریر کی  جس کی صدارت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کر رہے تھے۔ اگلے روز سیالکوٹ آئے۔ یہاں مختلف مقامات پر تقاریر کیں۔ صرف رام تلائی میں 13 تقریریں کیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے گرفتاری سے بچتے رہے،      یہاں تک  کہ گرفتار ہو  گئے اور آپ کو اڑھائی سال جیل کی سزا دی گئی۔ سیالکوٹ جیل میں مقامی لوگوں، علماء، سیاسی ورکروں اور دانشوروں سے میل جول کا مزید موقع ملا اور یہاں کے مذہبی اور فکری رویوں سے آگہی ہوئی تو دل میں یہ بات پختہ ہو گئی کہ دین کا کام اسی علاقے میں کریں گے۔

 مارچ 1934ء میں مولاناؒ  جیل سے رہا ہو کر واپس کاندہلہ پہنچے اور اپنی والدہ ماجدہ کی حالت دیکھی تو یہ سوچ غالب آنے لگی کہ فکرِ معاش کی طرف توجہ کی جائے تا کہ والدۂ محترمہ کی خدمت کی جا سکے۔اِنہی دنوں سیالکوٹ جیل کے ایک قریبی ساتھی  اور مولاناؒ کے مداح ڈاکٹر فیروز الدین صاحب دہلی آئے اور انہوں نے مولانا کو بذریعہ خط اطلاع کر کے وہیں بلا لیااور پھر ایک دلچسپ ترکیب سےمولانا ؒ کو سیالکوٹ لے آئے۔ یہ واقعہ مولاناؒ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:

"ڈاکٹر فیر وز الدین  کا چار روز قیام  تھا۔ چار روز اُن کے ساتھ رہا۔ 29 تاریخ کو ان کی روانگی تھی۔ رات کو وہ بمبے ایکسپریس سے جانے والے تھے۔ میں ان کو اسٹیشن روانہ کرنے گیا۔ اسٹیشن پر میں  نے  پلیٹ فارم ٹکٹ لے لیا۔ اُن کی مشایعت کی خاطر گاڑی چلنے تک بیٹھ گیا۔ گاڑی نے چلنے کا وسل کیا۔ میں نے اُترنے کی کوشش کی، مجھے یہ کہہ کر بٹھا لیا کہ اس گاڑی کے چلنے میں دیر ہے۔ بالآخر میں اُترنے لگا تو کہنے لگے: ٹھہرو ٹھہرو۔۔۔گاڑی تیز ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ چلو اگلے اسٹیشن پر اُتر جاؤں گا۔ اسٹیشن آیا، میں نے اُترنے کی کوشش کی لیکن مجھے یہ کہہ کر روک لیا کہ ٹھہرو جی، گاڑی کافی ٹھہرے گی۔گاڑی پھر چل دی۔ اب انہوں نے راز کھولا کہ میں نے آپ  کا ٹکٹ لے لیا ہے۔ اب میں پریشان ہوا۔ میں نے کہا کہ میں پھر آؤں گا۔ ابھی میرے حالات اچھے نہیں ہیں۔ بولے کہ کیا حالات ہیں اور کیا چیز رکاوٹ ہے؟ میں  نے کہا کہ میری والدہ بڑی عسرت اور تنگی میں زندگی گزار رہی ہیں۔ بولے فکر نہ کیجئےکہ اس کا انتظام ہو جائے گا۔ بالفعل میں اُن کو دو سو روپیہ کا منی آرڈر آپ کی جانب سے روانہ کر آیا ہوں۔ اب میں چپ ہو گیا"8۔

سیالکوٹ میں خدمت دین

سیالکوٹ آنے کے بعدمولاناؒ کا قیام کچھ عرصہ تو ڈاکٹر فیروز الدین صاحب  کے گھر  میں رہا، جس کے دوران مطالعہ کے علاوہ یہاں مختلف مسالک کے علماء سے ملاقاتیں رہیں جن میں مولانا غلام فریدؒ، مولانا ابراہیمؒ، مولانا احمد دینؒ اور مولانا یوسف ؒسرِفہرست تھے۔

12 اگست 1934ء کو مولانا نے مولانا غلام فریدؒ کے مشورے سے ائمۂ         مساجد کے بچوں کے لیے قصبہ چٹھی شیخاں میں فلاحِ دین و دنیا کے نام سے مدرسہ قائم کیا۔ مولاناؒ یہاں رائج  طریقے سے چندہ جمع کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اس لیے یہ وقت بڑی تنگی میں گزرا۔ مولاناؒ اور پندرہ طلبہ کا گزارا ایک آنہ سیر  کے حساب سے خریدی گئی سوکھی روٹیوں کو چھاجھ میں بھگو کر کھانے پر تھا۔

1935ء میں ڈاکٹر فیروز الدین نے خادم  علی روڈ پر ½ کنال زمین خریدی اور اس میں مدرسہ کے لیے عارضی طور پر چار کمرے بنا دیے اور پھر مدرسہ فلاحِ  دین و دنیا کو یہاں منتقل کر دیا گیا۔ شہر میں  آجانے کی وجہ سے اور حاجی محمد علی ایگزیکٹو انجینئر کی مسجد واقع ایبٹ  روڈ میں جمعہ پڑھانے کی وجہ سے مولاناؒ کا یہاں تعارف اور شہرت بڑھنے لگی اور عام تعلیم یافتہ طبقہ مولاناؒ کے قریب ہونے لگا۔

سیالکوٹ شہر میں اُس وقت کی مشہور کاروباری اور سماجی شخصیت حاجی شہاب الدین نے  دارلعلوم  الشہابیہ کے نام سے ایک دینی درسگا ہ  کی بنیاد رکھی۔ حاجی شہاب الدین کے حاجی محمد علی ایگزیکٹو انجینئر سے تعلقات تھے اور موخر الذکر  مولاناؒ کے مداح بن چکے تھے۔   14 فروری 1936 کو مولاناؒ اور حاجی شہاب الدین کے درمیان   دارلعلوم  الشہابیہ  میں کام  کرنے کے سلسلہ میں بڑی پُرمغز اور دلچسپ گفتگو ہوئی جس میں دہلی سے آئے ہوئے حاجی شہاب الدین کے ایک سمدھی بھی شامل ہو گئے۔  گفتگو کے دوران جب    حاجی شہاب الدین نے مشاہرے کی بات کی تا مولاناؒ کا جواب تھا:  میں دین فروش نہیں کہ مشاہرہ لے کر کام کروں، میں تا ایک ادنی داعی ہوں اور داعی سائل نہیں ہوتا۔ حاجی شہاب الدین جہاں دیدہ اور مردام شناس شخصیت، اسی ملاقات میں دارلعلوم مولاناؒ ے سپرد کر دیا  اور عمر بھر مولاناؒ کے کام میں کوئی مداخلت نہ کی ۔مولانا محمد علی صدیقی کاندہلویؒ اُسی روز یعنی 14 فروری 1936 کو رات دس بجے تک بمع سامان دارالعلوم الشہابیہ تشریف  لے آئے اور پھر دنیا سے رحلت تک یعنی 16 دسمبر 1992 تک تقریبا 57 سال یہیں دین کی خدمت سر انجام دیدتے رہے ۔  مولاناؒ کے اندر خدمتِ دین، اخلاص اور لگن اس قدر رچ بس گئی تھی کہ 14 فروری کو آپ رات دس بجے دارالعلوم الشہابیہ میں قدم رنجہ فرماتے ہیں اور اگلے ہی روز یعنی 15 فروری 1936 کو درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں جس میں ہر مکتبۂ فکر مثلا بریلوی، شیعہ، اہل حدیث،  چکڑالوی اور مرزائی شامل ہوتے ہیں اور سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔  ایک 26 سالہ نوجوان  جو علم،  مطالعہ، ذوق، گہرائی اور صحبت کےاعتبار سے ایک بحرِ بیکراں  تھا  کے لیے مشکلات تو پیدا ہونا ہی تھیں؛ چنانچہ درسِ قرآن کے اس سلسلسہ کے نتیجہ میں مولاناؒ کے خلاف ایک طوفان بپا ہوگیا جس کے بڑے اسباب میں حسد، ذاتی وگروہی مفادات،  ممکنہ سیاسی ردو بدل کا خوف بھی شامل تھا۔

 مولانا کی تصانیف

حضرت مولانا کی تصانیف کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؛ مطبوعہ و غیرمطبوعہ۔ یہاں  ا ُن کی چند اہم تصانیف اور تحریروں  کا مختصرتعارف پیش کیا جاتا ہے:

مطبوعہ تصانیف

1۔ معالم القرآن

یہ مولاناؒ کی تحریر کردہ تفسیرِ قرآن کریم ہے جس کی تصنیف کا سلسلہ آپ نے 1974 میں شروع کیا اور تا دم واپسیں اس پر کام جاری تھا۔ آپ کی زندگی میں اس کی 12 جلدیں شائع ہو گئیں تھیں۔ معالم القرآن کی ہر جلد ایک پارے پر مشتمل ہے اور مولانا ؒ ہر جلد کے آغاز میں اصطلاحاتِ قرآنی اور شرعی و قانونی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ معالم القرآن کی چیدہ چیدہ خصوصیات میں اُس کا معاصرانہ اُسلوب، شرعی مسائل کی تنقیح، استنباط کے طریقوں کی تشریح، جدید قانونی مسائل کا شریعت کی روشنی میں تجزیہ قابلِ ذکر ہیں۔  راقم کےعلم کے مطابق معالم القرآن پر کچھ لوگوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تحقیقی مقالات بھی  تیار کئے ہیں  جو پنجاب یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے علومِ اسلامیہ کے شعبوں کے زیرِ نگرانی لکھے گئے9 ۔

2۔ امام اعظم اور علم الحدیث

یہ کتاب امام ابوحنیفہ ؒ کے علم الحدیث میں حقیقی مقام کے تعین میں  معرکۃ الآراء کتب کی فہرست میں نمایاں ترین  ہے۔ بلکہ اُردو زبان میں اس نوعیت کی تحقیقی کاوش شاید ہی کوئی اور ہو۔  مولاناؒ نے اِس کتاب کی تکمیل صرف 17 دنوں میں کی۔  کم وقت میں یہ کام سر انجام  دینے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں کہ   علم و فکر کی دنیا میں ہوتا یوں ہے کہ ایک تصنیفی خاکہ ذہن میں جنم لیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی صورت مزید واضح ہوتی رہتی ہے اور اس کے مصادر و مراجع بھی متعین ہوتے رہتے ہیں،  جب کے انسان اپنی روزمرہ دیگر مصروفیات میں مشغول بھی رہتا ہے پھر کچھ وقت فراغت کا مل جاتا ہے تو تصنیف قرطاس پر منتقل ہو جاتی ہے۔ اِس عمل میں غیر معمولی  تیزی اُس وقت دکھائی دیتی ہے جب مصنف مخلص، صحبت یافتہ اور جذبہ قربانی سے معمور ہو۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران مولاناؒ کو یہ فرصت ملی تو اُنہوں نے اس کتاب کی تکمیل صرف 17 دنوں میں کر ڈالی10۔

4۔ نقوش زنداں

    1953 میں قادیانیوں کو غیر مسل قرار دینے کے لیے  ملکی سطح پر ایک بہت بڑی تحریک کا آغاز ہوا۔ سیالکوٹ شہر میں دارلعلوم  الشہابیہ اس تحریک کا مرکز بنا اور قیادت مولاناؒ نے کی۔ جلسے ، جلوس ، احتجاج اور مولاناؒ کی شعلہ بیانی نے  حکمرانوں  کی نیندیں حرام کردیں۔ اس تحریک کے دوران مولاناؒ دو بار گرفتار ہوئے۔  اُسی زمانۂ اسیری  کے دوران مولاناؒ نے   اپنے احباب، تلامذہ اور متعلقین کو  زندگی کے مختلف موضوعات پر دینی نقطۂ نظر سے تقریبا ۳۹ خطوط لکھے، ۳۱۳ صفحات پر مشتمل  یہ کتاب اُنہی خطوط کا مرقع ہے11۔ 

5۔ اسلام کا نظام اذکار

317 صفحات پر مشتمل  اس کتاب  میں قرآن  و سنت کے پیش کردہ اُصول اور قوانینِ فقاہت کی روشنی میں اس بات کی تشریح کی گئی ہے کہ صرف نبی کریمﷺ کا بتایا ہوا نظامِ اذکار ہی ایسا نظام ہے جو صحیح معنی میں روحانی ارتقا  ءکا ذمہ دار ہے 12۔

متفرق  مضامین اور کتابچے

 علاوہ از ایں  مولاناؒ کے  رشحاتِ قلم  سے  کئی کتابچے اور دیگربے شمار تحریریں نکلیں اور زیورِ طبع سے آراستہ  بھی ہوئیں ۔  اُن کے اپنے جاری کردہ ماہنامہ مجلے "رشاد" میں  راقم کے پاس موجود سال  1972-1973 کے  دوران شائع  ہونے والے 7 شماروں  میں مختلف موضوعات پر 27 مضامین ہیں ۔ سیالکوٹ کے قیام  کے آغاز میں   مولانا کاندھلویؒ نے  ایک کتاب تاریخ الحدیث کے نام سے لکھی اور اس کو طبع بھی کروا یا، مذہبِ اہلِ سنت اور میرا مسلک کے نام سے کتابچے  لکھے جو اپنے وقت پر چھپتے رہے اور جن میں سے اکثرکا    نسخہ تلاش کرنا شاید اب  آسان نہ ہو۔ مولانا ؒ     دینی  مدارس کے طلبہ کے لیے نصاب سازی میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور اس سلسلہ میں کئی ایک درسی کتابیں بھی تالیف کیں، اس باب میں ان کی عربی زبان سکھانے کے بارے میں   تصنیف کردہ کتابیں سرِ فہرست ہیں۔

غیر مطبوعہ تصانیف

1۔ میرے ماہ و سال

یہ مولاناؒ کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ حضرت کی وفات کے فورا بعد جب راقم  نے ان کے کاغذات کی چھان بین کی تو پنسل سے لکھے ہوئے یہ اوراق ملے جس میں انہوں نے سال بہ سال اپنی زندگی کے متعلق بتایا  ہے۔  تلاش، بسیار کے بعد مجھے جو اوراق مل سکے وہ صرف 1943 تک کے ہیں۔ مسسلسل کوششوں کے با وصف1943کے بعد والے واقعات کا مواد مجھے نہیں مل سکا۔ تاہم میسر مواد کا مخطوطہ میرے پاس ہے اور میں اسے مولاناؒ کی چند ایک اور غیر مطبوعہ تحریروں کے ساتھ طبع کروانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔  اس کتاب میں  مولانا کا انداز  واقعے اور موقع محل کے اعتبار سے بہت ہی دلچسپ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسلوب میں ایک خاص چاشنی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے  مولاناؒ کی زندگی کے ایسے گوشے بھی سامنے آتے ہیں جن کا اُن کے قریبی احباب کو بھی شاید علم نہ رہا ہو۔ بالخصوص مشکلات اور صبر آزما مراحل جن سے آپ کو گزرنا   پڑا۔شروع کے صفحات سے معلوم ہوتا ہے کہ "میرے ماہ و سال" کو مولاناؒنے 1980 میں تحریر کرنا شروع کیا تھا۔

2۔ قاضی ضیاء الدین سنائی اور اُن کا عہد

برصغیر پاک و ہند میں شریعت کے لیے جدو جہد کرنے والوں میں قاضی ضیاء الدین سنائیؒ کی شخصیت نمایاں ہے۔ آپ مولاناؒ کاندھلوی کے جدِ امجد بھی تھے۔ قاضی ضیاء الدین سنائیؒ کی شخصیت، افکار، جدوجہد، علمی مرتبے اور ردً بدعات میں جرأتِ رندانہ کے متعلق لیگل سائز کے اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ تقریبا 150 صفحات لکھے ہیں جو میری رائے میں کتابی شکل میں آتے آتے تین ساڑھے تین سو صفحات بن  جائیں گے۔

3۔ ترتيب أحاديث الجامع الصحيح للإمام البخاری وسردها مفصلة على أسامى الصحابة13

  26 لیگل صفحات پر  مشتمل   ہاتھ سے لکھے ہوئے عربی زبان کے اس کتابچے میں  مولاناؒ نے بخاری شریف کی 184 صحابہ اور صحابیات سے مروی روایات کو ترتیب وار جمع کیا ہے۔ اس کتابچے کے آغاز میں مولاناؒ نے   اپنے اُن  شیوخ کا بھی ذکر کیا ہے جن سے اُنہوں نے  روایتِ حدیث کی اجازت لی ۔ کتاب کا تعارف کی بابت مولاناؒ لکھتے ہیں:

 ترجمہ: "یہ بخاری کی احادیث کی مفصل فہارس کی ایک قسم ہے جس کی ضرورت علومِ حدیث میں تحقیق کرنے والوں کو پڑتی ہے۔ اس کی ضرورت ان لوگوں کو بھی پڑتی ہے جو سیاست، معاشرت اور اخلاق کے موضوعات پر مقالات لکھتے ہیں"14۔

وفات

16 دسمبر 1992 عیسوی  بروز بدھ بمطابق 20 جمادی  الثانی 1413 ہجری مولاناؒ معمول کے مطابق   صبح  9بجے طلبہ کو پڑھارہے تھے کہ آپ کی طبیعت خراب ہوئی، ہسپتال لے جایا گیا  تاہم وہ رضائے الہی سے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی تدفین سیالکوٹ کے معروف قبرستان " بابل شہید" میں کی گئی۔



حواشی

  1.   میرے ماہ و سال از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ   ( مخطوط) ص: ۱ اس کا مخطوطہ راقم کے پاس ہے۔  ارادہ  ہے کہ میسر مواد                     (1943 تک کا ہی  مجھے ملا ہے)   کو مولانا کی وصیت ،خطوط  اور دیگر چند تحریروں کے ساتھ طبع کروادیا جائے۔
  2. میرے ماہ وسال   از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ ( مخطوط) ص:  ۹
  3.  قاضی ضیا  ءالدین سنامی اور اُن کا عہد از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ  ( مخطوط) خلاصہ صفحات: ۴۰۔ ۶۰ ( اس کتاب کا مخطوطہ راقم کے پاس ہے اور جلد زیورِ طبع سے آراستہ ہوگا)
  4. میرے ماہ وسال از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ  ( مخطوط) صفحات: ۹، ۱۰، ۱۱، ۱۲
  5. میرے ماہ وسال از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی ؒ ( مخطوط)  متفرق صفحات۔
  6.  وصیت نامہ مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی  (مخطوط)  صفحات ۵۔ ۶  یہ وصیت نامہ  مولانا  نے 31 جنوری،  1990 عیسوی میں تحریر کیا۔ اِس میں  اُنہوں نے اپنے حالاتِ زندگی کا بھی   مختصرا ذکر کیا ہے۔ اسے مولاناؒ کی خود نوشت سوانح کے ساتھ طبع کروانے کا ارادہ ہے۔
  7.  وصیت نامہ  از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی ؒ(مخطوط)  صفحات  ۴۔۵
  8. میرے ماہ وسال  از مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ ( مخطوط) ص:  ۲۳
  9. معالم القرآن، مولانا محمد علی صیدیقیؒ،ادارہ تعلیماتِ قرآن سیالکوٹ، جلد: ۱ تا ۱۲،توریخِ طباعت 1974 تا 1992  مزید دیکھئے: https://besturdubooks.net/maalim-ul-quran
  10.  دیکھئے:  https://www.rekhta.org/ebooks/imam-e-aazam-aur-ilm-ul-hadees-maulana-muhammad-ali-siddiqui-kandhlawi-ebooks?lang=ur
  11.   نقوشِ زنداں، مولانا محمد علی صدیقی، مکتبہ قاسمیہ رنگ پورہ روڈ سیالکوٹ 1962   مزید دیکھئے: https://toobaa-elibrary.blogspot.com/2021/01/blog-post_22.html
  12.  اسلام کا نظامِ اذکار، مولانا محمد علی صدیقی، دارلعلوم الشہابیہ سیالکوٹ، 1990 ص: ۱  ۔ مزید دیکھئے:  https://toobaa-elibrary.blogspot.com/2021/01/blog-post_21.html
  13.  اس کتابچے کا مخطوطہ راقم کے پاس ہے۔
  14.  ترتيب أحاديث الجامع الصحيح للإمام البخاری وسردها مفصلة على أسامى الصحابة  از مولانا مغمد علی صدیقی کاندھلویؒ( مخطوط) ص: ۶

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۱)

"Defending Muhammad in Modernity"

ڈاکٹر شیر علی ترین

ترجمہ : محمد جان اخونزادہ

چھٹا باب:
استعماری طاقت کے سایے میں اصلاحِ مذہب

1890 میں جمعہ کے روز  بیرون ملک سے آئے ہوئے ایک سیاہ فام عالم  (اس کے اصل وطن کے بارے میں روایت خاموش ہے) اترپردیش ہندوستان کے قصبے دیوبند میں وارد ہوا۔ مقامی سماج اور ان کے دینی اعمال میں دلچسپی کے باعث اس نے حاجی محمد عابد حسین سے، جو اس قصبے کے ممتاز مدرسے دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے نسبتاً کم معروف ہیں، درخواست کی کہ اسے جامع مسجد میں خطبہ پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ عابد حسین نے مذکورہ مہمان کی درخواست برضا ورغبت قبول کی، اسے دیوبند کی جامع مسجد میں لے آئے، اور اسے منبر پر رونق افروز کیا۔ اتفاق سے دیوبندی سلسلے کے ایک اور بانی اور نامور دیوبندی عالم رشید احمد گنگوہی بھی وہاں آئے ہوئے تھے اور نمازِ جمعہ میں شریک تھے۔ چونکہ یہ رسول اللہ کی ولادت کا مہینہ ربیع الاول تھا، اس لیے مہمان خطیب نے پورا خطبہ عید میلاد النبی کے فضائل پر دیا۔

مولانا گنگوہی ہندوستان میں رائج میلاد کے شدید مخالف تھے۔ ان کی نظر میں یہ ایک مذموم بدعت تھی، جس کی کوئی نظیر سلف صالحین کے عہد میں نہیں تھی۔ مزید برآں، مولانا گنگوہی کی نظر میں، میلاد میں یہ خرابی بھی در آئی تھی کہ جاہل عوام نے اس رسم کو طرح طرح کے منکرات کی محفلوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ جوں جوں مولانا گنگوہی خطبے میں میلاد کے فضائل پر دلائل سنتے گئے، میلاد کے حوالے سے اپنے موقف کی وجہ سے ان کے غصے اور اضطراب  میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایک مقام پر خطبے کے دوران ہی ان کا صبر تمام ہوا اور انھوں نے خطیب کو ٹوک کر کہا: "مولانا! مہربانی کرکے اپنا خطبہ سمیٹ لیجیے"1۔

خطیب نے، جو مولانا گنگوہی سے اچھی طرح واقف نہ تھا، انھیں خطبے کے آداب سکھاتے ہوئے ڈانٹا: "خاموش! خطبۂ جمعہ کے دوران کلام کرنا حرام ہے"۔ "آپ مجھے مت سکھائیں کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام"۔ مولانا گنگوہی نے برہم ہو کر ترکی بہ ترکی جواب دیا، "آپ اس لائق ہیں کہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو منبر سے نیچے اتار دیا جائے۔ فقہ کے اصولوں کی رو سے ہونا یہ چاہیے کہ خطبہ مختصر دیا جائے اور نماز لمبی پڑھی جائے۔ آپ بالکل اس کے برعکس کر رہے ہیں"۔ "خاموش"، خطیب نے انھیں پھر ڈانٹ ڈپٹ کی۔

کچھ نمازی مولانا گنگوہی کے ساتھ خطیب کے گستاخانہ رویے پر برافروختہ ہوئے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے امامت کے لیے مولانا گنگوہی سے درخواست کی ، لیکن انھوں نے اس خدشے کی بنیاد پر انکار کردیا  کہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ انھوں نے یہ تماشا اس لیے کھڑا کیا کہ خود خطبہ دیں اور جمعہ کی نماز پڑھائیں۔ آخر کار دیوبند کے ایک اور نامور عالم اور مولانا گنگوہی کے رفیقِ خاص محمد یعقوب نانوتوی نے جمعہ پڑھایا۔ نماز کے بعد مولانا گنگوہی جلد مسجد سے باہر چلے گئے۔ بعد ازاں بیرونی مہمان نے مولانا یعقوب نانوتوی سے کہا: "اس وہابی2 کو یہاں بلائیں جو خطبے کے درمیان کرخت انداز میں مداخلت کر رہا تھا، اور کافی دیر تک ایک مسخرے کی طرح اناپ شناپ بکتا رہا "3۔

مولانا نانوتوی چاہتے تھے کہ مہمان کو جواب دیں، لیکن خدشہ تھا کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو پہلے سے برافروختہ نمازی کسی انجام کی پروا کیے بغیر ہنگامہ نہ کھڑا کر دیں۔ اس لیے انھوں نے خود کو کسی قسم کے رد عمل سے باز رکھا اور ایسے ظاہر کیا کہ انھوں نے یہ توہین آمیز کلمات سنے ہی نہیں، اور سنتیں ادا کرنے میں مصروف رہے۔ اس طرز عمل سے انھوں نے ممکنہ طور پر پیدا ہونے  والے فساد اور بلوے کا راستہ مسدود کر دیا4۔

یہ واقعہ تلخ مناظروں کی اس فضا کی ایک واضح تصویر فراہم کرتا ہے جو انیسویں صدی کے اواخر میں شمالی ہندوستان کے مسلمان اہل علم پر سایہ فگن تھی۔ جیسا کہ اس حکایت سے معلوم ہوتا ہے، سنتِ نبوی کی حدود، بالخصوص عید میلاد النبی جیسی عوامی تقریبات کی شرعی حیثیت پر مناقشے کا نتیجہ شدید مسلکی تقسیم تھا۔ مولانا گنگوہی کے رد عمل کا تعلق نہ صرف سماجی رسوم کی شرعی حیثیت سے تھا، بلکہ اس کے ساتھ اتنی ہی اہمیت اس بات کی بھی تھی کہ رسمی عبادات کے مرکز مسجد میں، جو ایک عوامی  مقام ہونے کے  باوجود  شدید گروہی تقسیم کے بھی زیر اثر ہے، عوام کی سرپرستی اور رہ نمائی کا حق کسے حاصل ہے5۔ یہ حکایت اہل علم اشرافیہ کے علمی مناقشوں اور روزمرہ زندگی کے اعمال میں فرقہ وارانہ تناو کے درمیان قریبی تعلق کو بھی واضح کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تناو پورے شمالی ہندوستان کے مختلف مسلمان گروہوں کے درمیان باہمی تکفیر اور الزام تراشی میں بدل گیا۔

ہندوستان کے نامور علما کے لیے شرعی احکام سے متعلق متنازعہ سوالات پر گرما گرم بحث ومباحثہ کوئی نیا عمل نہیں تھا۔ حتّیٰ کہ پندرھویں اور سولھویں صدی میں، جب کہ اسلامی حکومت کا دور عروج تھا، انفرادی طور پر کئی مسلمان اہل علم تلخ اور عموماً بہت انفرادی نوعیت کے علمی تنازعات میں الجھے رہتے تھے۔ یہ رجحان انیسویں صدی کے پہلے نصف کے اوائل تک جاری رہی، جیسا کہ پچھلے حصے میں ہم نے شاہ محمد اسماعیل اور مولانا فضل حق خیر آبادی کے درمیان بحث ومباحثے میں دیکھا۔ تاہم انیسویں صدی کے اواخر کا مناظرانہ جوش وجذبہ کئی حوالوں سے اہم اور سابقہ ادوار سے مختلف تھا۔

خاص طور پر 1857 کی جنگ آزادی کے بعد (جس میں برطانیہ نے مسلمانوں کو شکست فاش سے دو چار کیا) ہندوستان کے اہل علم کی اشرافیہ دینی اصلاح کے متوازی پروگراموں کے ساتھ مخالف مسالک میں بٹ گئی۔

الٹا مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت کے خاتمے نے ایک بے مثال علمی جوش وخروش کے لیے راستہ ہموار کر دیا جس میں علما کے متحارب گروہ اس سوال سے نبرد آزما تھے کہ برطانوی استعمار کے تحت پیدا ہونے والی نئی صورت حال میں دین اور مسلمانوں کی اصلاح کیسے کی جائے۔6

2 اگست، 1858 کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے ذریعے برطانیہ کی طرف سے ہندوستانی رعایا پر حاکمیت کے باضابطہ اعلان میں یہ واضح کیا گیا کہ تمام ہندوستانی رعایا کو "قانون کا مساوی اور غیر جانب دارانہ تحفظ حاصل ہوگا۔۔۔ اور انھیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہوگا"7۔ استعماری ریاست کی طرف سے مقامی مذہبی آبادیوں کو قانونی تحفظ دینے کی ظاہری رواداری کو اس لبرل سیکولر اقدام سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا جس میں مذہبی عقائد واعمال اور مباحث کو ریاست اور اس کے قوانین سے خارج کرنے کے باوجود انھیں اس کا تابع اور محکوم بنا کر رکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ ڈیوڈ گلمارٹن (David Gilmartin) نے بتایا ہے، یہ بندوبست استعماری ریاست کے مزعومہ کلی (آفاقی)، عقلی اور سائنسی دائرے اور مقامی ثقافتوں اور آبادیوں کے دائرے کے درمیان، جس کی تحدید ان کی جزئی (مخصوص) اقدار اور خصوصیات (مذہبی، قبائلی وغیرہ) کرتی ہیں، استعماری تقسیم کا نتیجہ ہے8۔

کلی (آفاقی) اور جزئی (مخصوص) کے درمیان اس فرق نے استعماری ریاست کی آفاقیت اور نتیجتاً اس کی انفرادیت کو قائم کرنے میں توقع سے بڑھ کردار ادا کیا۔ اس نے عوامی دائرے، جو قانون اور سیاسیات کے چل چلاو کی نگرانی کرتا ہے، اور نجی دائرے کے درمیان، جو مذہبی حساسیتوں اور اعمال کو جگہ دیتا ہے، ایک مصنوعی لیکن شدید انقطاع پیدا کر دیا۔ اس لیے گلمارٹن نے عمدگی کے ساتھ واضح کیا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر کے سیاق میں عوامی اور جزئی کے حوالے سے گفتگو  کرنا عوامی اور  نجی کے نسبتاً معروف فرق کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے۔ مقامی مذہبی آبادیوں کی خصوصیات کو تسلیم کرنا اور ان کے تحفظ کا دعوی کرنا ہی وہ وصف ہے جس سے استعماری ریاست کی آفاقیت اور برتری اور قانون وسیاست کے معاملات پر کنٹرول کا حصول کیا گیا9۔ لیکن جیسا کہ جولیا سٹیفنز (Julia Stephens) نے ثابت کیا ہے، قانون کے ذریعے مذاہب کی حفاظت کے امکان نے مذہبی آزادی اور قانونی تحفظ کے درمیان تعلق کے اردگرد واقع ابہامات میں صرف اضافہ کیا ہے، جو شدید نوعیت کے متنوع مناظروں اور صورتِ احوال کو جنم دے رہے ہیں10۔ اگرچہ استعمار نے زندگی کے ایک منفرد اور نجی دائرے کی حیثیت سے مذہب کا اخراج اس مقصد کے لیے کیا تاکہ وہ ریاست کے تحفظ اور نگرانی میں آ سکے، تاہم اس اقدام کا الٹا اثر یہ ہوا کہ اس سے یہ دائرہ مزید متناقض، مناظرانہ اور مسابقت آمیز بن گیا۔

کسی بھی تصور (زیر بحث معاملے میں مذہب) کی تعریف وتحدید کی جتنی زیادہ کوشش کی جاتی ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی تعریف اور حدود میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں11۔ یہ کوئی اتفاقی امر نہیں کہ برصغیر میں انیسویں صدی میں بین المذاہب اور بین المسالک مناظرانہ تلخیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مزید یہ کہ انیسویں صدی کی مناظرانہ معرکہ آرائیاں صرف ایک مجسم حقیقت اور مسابقی تصور کے طور پر مذہب کی سیاسی اور علمیاتی تشکیلِ نو کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس میں مختلف ٹیکنالوجیز جیسے پرنٹنگ پریس، ریلوے اور ڈاک کے نظام نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ اروند منڈیر نے خوب صورتی سے واضح کیا ہے، استعماری ہندوستان میں مذہبی مناقشوں کے دو علیحدہ لیکن ایک دوسرے سے مربوط میدان بیک وقت سرگرمِ عمل تھے۔ ایک بین المذاہب مناظروں کا میدان، جس میں ہندو، مسلمان، سکھ اور مسیحی مشنریاں ایک دوسرے کے مد مقابل تھیں۔ خارجی 'غیر' کے ساتھ اس اختلاف میں انفرادی مذہبی شناختوں کی حقانیت زیر بحث تھی۔ دوسرا میدان داخلی 'غیر' کے ساتھ مکالمے کا تھا۔ یہ داخلی تعصبات استناد اور روایت کی حدود کے متعلق متخالف تصورات سے پیدا ہوئے تھے۔

پہلے دائرے کا موضوع دوسروں کے ساتھ اپنی ذات کے تعلق کا تھا، جب کہ دوسرا دائرہ مستند ذات کی خصوصیت کے گرد گھوم رہا تھا12۔ منڈیر کے نکتے پر غور کرنے سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں جنم لینے بین المذاہب مناقشوں کے واقعات کے درمیان حیرت انگیز مماثلت ہے۔ مثال کے طور پر ہندوؤں، مسلمان اور سکھوں کے بڑے مصلحین اور اصلاح مخالف بزرگوں کو لیجیے۔ یہ اگر چہ واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف اور الگ ہیں، تاہم ان کے مباحثوں اور اختلافات کے اغراض ومقاصد، تشکیل اور لائحۂ عمل میں حیرت انگیز مماثلت ہے13۔

اگر چہ مسلمان اہل علم کی ایک بڑی تعداد نے اصلاح کی خواہش ظاہر کی ، تاہم ان کے اصلاحی افکار میں کافی تنوع ہے، جس سے متعدد استدلالات، مناقشے اور مناظرے جنم لیتے ہیں14۔ ان اصلاحی تحریکوں میں سب سے ممتاز دیوبند ہے، جو ایک مدرسہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکتب فکر بھی ہے۔ مدرسہ دیوبند1866 میں شمالی ہندوستان کے قصبے دیوبند، اترپردیش میں ہندوستان کے نامور مسلمان اہل علم نے قائم کیا۔ رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی (م 1877) بطور خاص وہ ہردل عزیز علما تھے جنھوں نے مذہبی تعلیم کے اس ادارے کی بنیاد رکھی جس نے برصغیری اسلام کی علمی، سماجی اور سیاسی تاریخ کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ آج لگ بھگ 150 سال بعد ہندوستان میں اپنے اولین ادارے سمیت مدرسہ دیوبند پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ ایشیا میں پڑوسی اور دور پار کے ممالک جیسے جزائرِ غرب الہند، جنوبی افریقہ، برطانیہ اور امریکا میں شاخوں کے وسیع سلسلے کے ساتھ پوری آب وتاب کے ساتھ قائم ہے۔ صرف برصغیر میں دیوبندی مدارس کی تعداد تقریباً پچاس سے ساٹھ ہزار ہے، جن میں زیادہ تر ہندوستان میں ہیں۔

لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر چہ متعدد ممالک میں بہت سے مدارس اپنے آپ کو دیوبند سے منسوب کرتے ہیں، لیکن دیوبند کے قصبے میں ابھی تک قائم اولین مدرسے کے ساتھ ان کا تعلق براے نام یا بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ دیوبند کا لفظ جہاں مدرسے کی صورت میں ایک ادارے کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہیں جدید دنیا میں اس سے سنی اسلام کا ایک مخصوص نظریہ یا طرز فکر بھی مراد لیا جاتا ہے۔ مزید برآں استعماری اور مابعد استعماری برصغیر میں دیوبندی مسلک کبھی یک رخا یا یکساں نہیں رہا۔ جیسا کہ اس کتاب کے آخری باب میں بتایا گیا ہے، فقہ اور عملی احکام کے اہم سوالات پر دیوبندی علما کے درمیان، جن میں اکابرِ دیوبند بھی شامل ہیں، بسا اوقات اختلاف بھی واقع ہوا ہے۔

علاوہ ازیں انیسویں صدی کے اواخر سے لے کر آج تک دیوبندی علما کے درمیان سیاسیات، سیاسی وابستگی اور انتخابی جمہوریت میں شرکت پر بھی اختلاف رہا ہے، جس میں بعض اوقات کافی شدت بھی آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض نامور دیوبندی علما (جیسے شبیر احمد عثمانی، م 1949) نے تحریک پاکستان کی نہ صرف تائید کی بلکہ اس میں کلیدی کردار ادا کیا، جب کہ دوسروں (بطور خاص حسین احمد مدنی) نے اس کی بھرپور مخالفت کی15۔

مزید یہ کہ کچھ دیوبندی علما جیسے مولانا اشرف علی تھانویؒ شدت سے تزکیۂ نفس اور رواج ورسوم کی درستی کے ذریعے عوام کی اصلاح کے مثالی تصور کے قائل تھے، جبکہ کچھ دوسرے علماء، جیسے ان کے معاصر عبید اللہ سندھی (م 1944) کو اگر  رسم ورواج کی اصلاح میں کوئی دلچسپی تھی بھی تو بہت  کم تھی۔ مثلاً‌ سندھی اصلاح کو انقلابی سیاست اور سماجی ومعاشی انصاف کی عینک سے دیکھتے تھے۔  انھوں نے یہ نظریہ بیسویں صدی کے وسط میں افغانستان، سوویت روس اور ترکی کے اسفار کرنے کے بعد پیش کیا16۔ اس لیے دیوبندی مسلک میں متعدد اور بیک وقت متضاد نظریاتی دھارے پائے جاتے ہیں۔

انیسویں صدی کے اواخر کے ہندوستان میں اور آنے والی دہائیوں میں روایتی طرز پر تعلیم پانے والے علما میں سے دیوبندیوں کے بڑے مخالفین بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر نے پوری شدت سے ان کے استناد کو چیلنج کیا۔ ان متخالف اعتقادی مسالک – دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث – نے زندگی کی مثالی اقدار کے باہم دگر جڑے مگر متوازی بیانیے اور ان اقدار کی تعبیر وتشریح کے مناہج تشکیل دیے۔

دیوبندی اور بریلوی مکاتبِ فکر کے برعکس اہل حدیث مکتبِ فکر نے اہل سنت کے مُسلّمہ چار فقہی مذاہب کی تقلید کو مسترد کیا۔ انھوں نے احکامِ دینیہ کے مصادر کو قرآن وسنت تک محدود کرنے پر دلائل دیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر چہ اہل حدیث نے فقہی مذاہب اور ائمہ کے واسطے کے بغیر قرآن وسنت تک رسائی کے مقبولِ عام دعوے کی وکالت کی، تاہم اس تحریک کی کئی بنیادی خصوصیات اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھیں۔ مثال کے طور پر اہل حدیث مکتب فکر سے انتساب رکھنے والے کثیر التصانیف اور مشہور ومعروف عالم صدیق حسن خان (م 1890) کا علمی اور سماجی پس منظر لیجیے۔ واضح طور پر  شاہانہ مزاج رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی شادی بھی ریاست بھوپال کی شہزادی سے ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں انھوں نے زیادہ تر  عربی زبان کو ہی ذریعہ اظہار بنایا  تاکہ عرب دنیا میں اہل حدیث مکتبِ فکر کی علمی دھاک بٹھا سکیں۔ یہ  ایک ایسی سوچ تھی جس کی وجہ سے ان کی فکر ہندوستانی عوام کے لیے مشکل دے ہی قابل رسائی ہو سکتی تھی۔

نواب صدیق حسن خان کے ہاں تعبیر وتشریح میں تقلید سے انکار، شاہانہ معاشرت اور عربی اشرافیت (elitism) سب ایک ساتھ پائے جاتے تھے۔ تعبیر وتشریح کے مناہج میں اختلاف کے علاوہ اہل حدیث علما کا اپنے احناف معاصرین کے ساتھ پنج وقتہ نماز سے متعلق تین اعمال یعنی  ہاتھ اٹھانے (رفع الیدین)، سورۂ فاتحہ کے بعد زور سے آمین کہنے (آمین بالجہر) اور امام کے پیچھے فاتحہ کہنے (قراءت خلف الامام)  کی شرعی حیثیت پر بھی تنازع تھا۔ اس کے برعکس بریلوی اور دیوبندی علما کے درمیان مخاصمت رسول اکرم ﷺ کی شان سے متعلق حریف تصورات اور سنتِ نبوی کی حدود پر مرتکز تھی۔

جیسا کہ اگلے تین ابواب میں واضح ہوگا، ان کے تنازعات کا مرکزی موضوع یہ سنجیدہ سوالات تھے کہ عوام اپنی روزمرہ زندگی میں سنتِ نبوی پر کس طرح عمل کریں، اور دینی اعمال کو بدعات کے خطرات سے کیسے محفوظ کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے علم کی حیثیت اور حدود بھی بنیادی نکاتِ اختلاف میں تھیں (اس پر گیارھویں باب میں بحث ہوگی)۔

مسلک کیا ہے؟

1866 میں دیوبند مدرسے کے ایک تحریک کی صورت میں ابھرنے اور اہل حدیث اور بریلوی مسالک کی تشکیل نے برصغیری اسلام کے علمی منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس وقت سے علم کی تخلیق واشاعت نے ایک بے نظیر مسلکی صورت اختیار کر لی۔ اس گروہی یک جہتی اور اتحاد کی بہترین عکاسی 'مسلک' کے لفظ سے ہوتی ہے جو نوآبادیاتی برصغیر میں کسی ممتاز اصلاحی تحریک کے لیے بہت مشہور اصطلاح بن گئی ہے۔ حقیقت میں مسلک کا یہ تصور مسلم ہندوستان میں انیسویں صدی کے نصفِ آخر سے پہلے کبھی اس قدر متعارف نہیں تھا۔ پھر مسلک ہے کیا؟

مسلک ایک تغیر پذیر اور عام طور پر ایک مبہم اور کثیر المعانی اصطلاح ہے۔یہ عربی زبان کے لفظ 'سلوک' (چال چلن) سے ماخوذ ہے، اور بنیادی طور پر اس کا تعلق کسی بندے کی پرہیز گاری اور اخلاقی تعلیم وتربیت سے ہے۔ تاہم جدید برصغیر کے تناظر میں لفظ مسلک کا اخلاقی مفہوم شریعت کے متخالف نظریات کے ساتھ نہ صرف بندھا ہوا ہے، بلکہ شاید اس سے مغلوب ہو گیا ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر کے بعد مسلک واضح طور پر ایک مسابقتی تصور بن گیا ہے۔ یہ نہ صرف ایک دینی فکر پر دلالت کرتا ہے، بلکہ شریعت پر حق جتلانے والے دیگر مدعیوں کے مقابلے میں واحد مدعی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس لیے اس تصور کی بنیاد میں ہی ایک لاینحل تضاد اور ابہام ہے۔

کسی مسلک سے تعلق رکھنا یا اس کی طرف منسوب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دین کی یہی ایک تعبیر ہی حق ہے، تاہم متعدد مسالک کی موجودگی اور دوسرے حریفوں کے وجود پر مسلکی شناخت کا انحصار شریعت کی شکست وریخت اور عدم استحکام کو تجویز کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر مسلک، شریعت کے متعلق ایک ایسا ادعا ہے جو شریعت سے متعلق کسی مطلق ادعا کی غیر موجودگی اور عدم امکان کا اعلان کرتا ہے۔

مسلک کے تصور میں کار فرما تضاد کی سب سے اچھی وضاحت دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کرداروں کے درمیان مسلکی شناخت کے اخذ و رَد کے بارے میں تذبذب کی موجودگی سے ہوتی ہے۔ کسی مسلکی شناخت کو قبول کرنا اور برتنا علمی استناد اور روایت کی وہ امتیازی علامات عطا کرتا ہے جو کسی مخصوص مسلک کو اس کے حریف مسالک سے ممتاز کرتی ہیں۔لیکن بریلوی اور دیوبندی جیسے القابات کو ترک کرنا سنی مذہب کے ادعا کے لیے اس انداز میں راہ ہموار کرتا ہے جو 'مسلکی' اختلافات اور امتیازات سے بالا ہے۔ چونکہ یہ ایک دوسرے کے بالکل متضاد نہیں، اس لیے کسی مسلک کی جزئیت اور سُنّی مذہب کی کلیت بہر حال ایک تعمیری تضاد میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں، اس لیے یہ اخذ ورد کے بظاہر متضاد رویوں کے پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

لیکن اب میں مختصراً‌ اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ مسلک ہے کیا؟ دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث جیسے متخالف مسالک کے درمیان اختلافات کا خلاصہ کیا ہے؟ المختصر، مسلک علم وعمل اور تعبیر وتشریح کے اصولوں کے باہمی تعامل سے وجود میں آتا ہے۔ کسی مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مسلک کا پیروکار ایک ایسے ممتاز مسلکی گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو ایسے تین بڑے سوالات پر مبنی ہے جن کے تین متغیرات (variables) ہیں:

(1) علم: بنیادی فقہی، اخلاقی اور اعتقادی مسائل سے نمٹنے کے لیے روایت کے کون سے مصادر سے استفادہ کرنا چاہیے؟

(2) تعبیر وتشریح کے اصول: فقہی روایت کے ماقبل جدید ورثے کو جدید دنیا میں کیسے اور کن تعبیری اصولوں کی بنیاد پر واضح کیا جائے؟ اور

(3) عمل: مستند علم اور تعبیر وتشریح کے اصولوں (1 اور 2) کے نظریے سے رسم ورواج اور روزمرہ زندگی کا کون سا خاکہ سامنے آتا ہے؟

علم، تعبیر اور عمل کا یہ سنگم جنوبی ایشیا کے مسلکی اختلافات اور مناظروں کی بنیاد ہے۔

بریلوی دیوبندی اختلاف کی اساس اصولِ تعبیر اور عمل کا اختلاف ہے۔ فقہی مسائل میں شدید اختلافات کے باوجود دونوں مکاتب فقہ حنفی کی تقلید پر متفق ہیں۔ تاہم اہل حدیث مکتب فکر مسلمہ فقہی مذاہب کی حجیت کو ہی مسترد کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں وہ اپنے حنفی حریفوں سے عملی احکام کے معاملے میں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مسلک کی اصطلاح کو سمجھنے کے لیے ممکنہ طور پر سب سے کارگر تجزیاتی طریق کار یہ ہے کہ علم، اصولِ تعبیر اور عمل کے درمیان تعامل پر غور کیا جائے۔

انیسویں صدی کے اواخر میں شمالی ہندوستان میں سنی اسلام کی نظریاتی تشکیل نے، جو متخالف مسالک کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی، مناظروں کی شدت میں بے تحاشا اضافہ کیا۔ تمام اصلاح پسند گروہ بشمول دیوبندیوں، بریلویوں اور اہل حدیثوں نے اس برپا شدہ مناظرانہ معرکہ آرائی میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا۔ ان مناظروں میں سب سے زیادہ معروف مناظرے بریلویوں اور دیوبندیوں کے درمیان ہیں، جن سے یہ کتاب بحث کرتی ہے۔اس کش مکش نے بریلوی اہل علم کے اکابر، جیسے بانئ مسلک مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی حریفوں بشمول مدرسۂ دیوبند کے بانیوں مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی، اور ان کے جانشینوں جیسے مولانا خلیل احمد سہارن پوری (م 1927) اور مولانا اشرف علی تھانوی کو الجھائے رکھا17۔ باوجود یکہ یہ دونوں مسالک ایک ہی حنفی فقہی مذہب سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے نبی اکرم ﷺ کی سنت کی حدود اور عوامی دائرے میں اس کی تنفیذ پر ایک دوسرے کی مخالفت کی۔

لوئی ڈوماں (Louis Dumont) نے جدید ہندوستان میں ہندو سماج کے تناظر میں بتایا ہے کہ "بطورِ حاکمِ اعلیٰ بادشاہ کے خاتمے سے۔۔۔۔ عوام نے ایک اجتماعی فرد کی حیثیت سے، جس کا وجود ایک خطے میں تھا، دھرما کی جگہ لے لی18۔ بعینہ استعماری ہندوستان کے سیاق میں نبی اکرم ﷺ کی سنت ایک ایسے استعارے کے طور پر سامنے آئی جو پوری کلیت میں شریعت کی نمائندگی کر رہی تھی۔ شریعت کا مرکز اب شدت کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی ذات بن گیا۔ کسی واضح اور معقول سیاسی طاقت کی غیر موجودگی میں نبی اکرم ﷺ کا اسوۂ حسنہ بنیادی استدلالی مقام کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا، جہاں شمالی ہندوستان کے علما کے حریف دھڑے اپنے مذہبی استناد کے لیے استدلال اور بحث ومباحثہ کرتے، لیکن ان میں سے ہر دھڑے نے سنت کی تعریف کافی مختلف بلکہ متضاد طریقے سے کی۔ اس حوالے سے دیوبندی بریلوی مناقشے کی صورت حال بطور خاص بہت توضیحی ہے۔

دیوبندیوں کے اصلاحی پروگرام میں نبی اکرم ﷺ کے مقام کا ایک مساوات پسندانہ تخیل تھا۔ مثلاً دیوبندی علما کی نظر میں کسی کو نبی اکرم ﷺ کا بھائی کہنا کوئی گستاخانہ یا بے ادبی پر مبنی طرز عمل نہیں، بلکہ نبی اکرم ﷺ کی انسانی صفات کے اعتراف کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ دیوبندیوں نے اپنے استدلال میں بتایا کہ معروف حدیث: "میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں" کا مطلب وحی الہی کے وصول کرنے والے کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کے منفرد مقام کا اعتراف ہے۔ دیگر تمام انسانی صفات کے اعتبار سے وہ دوسرے انسانوں ہی کی طرح ہیں۔ اس لیے دیوبندی علما کے نزدیک یہ اعتقاد رکھنا ناقابل برداشت ہے کہ نبی اکرم ﷺ علم غیب کے حامل ہیں۔ جیسا کہ میں آٹھویں باب میں بتاؤں گا، عید میلاد النبی جیسی رسموں کی مخالفت میں، جس میں بیک وقت کئی محفلوں میں نبی اکرم ﷺ بذات خود حاضر ہوتے ہیں، ان کے اس اعتقادی موقف کا مرکزی کردار تھا۔ شاہ محمد اسماعیل کی طرح دیوبند کے پیش روؤں کے لیے نبی اکرم ﷺ کا کمالِ نبوت ان کے کمالِ انسانیت کے مرہونِ منت تھا۔

جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک بار دیوبندی مکتبِ فکر کا موازنہ اپنے حریفوں سے کرتے ہوئے کہا: "بدعتی حضور کو الٰہ مانتے ہیں مگر ناقص۔ ہم انھیں عبد مانتے ہیں مگر کامل۔ تو تم حضور کی تنقیص کرتے ہو، اور ہم کمال کے قائل ہیں"19۔ مولانا تھانوی نے نبی اکرم ﷺ کی بشریت سے متعلق دیوبندیوں کے موقف کے دفاع میں پنج وقتہ نمازوں میں پڑھے جانے والے تشہد سے استدلال کیا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں"۔ مولانا تھانوی نے واضح کیا کہ اس تشہد میں جس امر پر غور کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی عبدیت کو ان کی رسالت پر مقدم کیا گیا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کے مقامِ عبدیت کو آپ کے مقام رسالت پر فوقیت حاصل ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی بشریت ان کی شخصیت کا سب سے بنیادی وصف ہے20۔

اس کے برعکس بریلوی نظریے کے مطابق خدا اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان تعلق میں سب چیزوں سے بڑھ کر حیثیت محبت کو حاصل ہے۔  مولانا فضل حق خیر آبادی کی طرح، جن کی بریلوی بہت توقیر کرتے ہیں، ان کے نزدیک ایسا کوئی شرعی استدلال جو خدا کی محبوب ہستی کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کے مقام ومرتبے کو کمزور کرتا ہے، مثلا گناہ گاروں کے حق میں اس کی شفاعت پر سوال اٹھانا یا میلاد کو بدعت کہنا، ناقابلِ قبول ہے۔ مزید برآں کسی کے لیے ایسا کہنا تو درکنار، سوچنا بھی نہ صرف تحقیر آمیز بلکہ گستاخی ہے کہ وہ حضور ﷺ کو اپنا بھائی سمجھے۔ کوئی ایسی بات یا طرز عمل جو صرف نظری اعتبار سے بھی نبی اکرم ﷺ کے مقام کو گھٹائے، بریلویوں کے لیے ناگوار ہے۔

مثال کے طور پر مولانا احمد رضا خان کے نزدیک حضور اکرم ﷺ کے ساتھ خدا کی قربت وحی کے زمانے اور حکمت سے مربوط ہے۔ قرآن ایک ہی قسط میں نازل ہونے کے بجائے دوعشروں سے زیادہ مدت میں آہستہ آہستہ اس لیے نازل ہوا کہ خدا اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان محبت کا رشتہ پروان چڑھے۔ سلسلۂ وحی کی تکمیل پر حضور ﷺ کا قرآن سے متعلق علم اور اس علم کے ذریعے ماضی ومستقبل (ماکان ومایکون) کے تمام واقعات کا علم خدا کا نبی اکرم ﷺ سے محبت کا ایک اظہار ہے21۔ محبت، علم اور وحی کے امتزاج نے نبی اکرم ﷺ کے علم غیب پر، جس کا جائزہ گیارھویں باب میں پیش کیا گیا ہے، اور جو مولانا احمد رضا خان اور ان کے پیروکاروں کے لیے بہت اہم اور حساس ہے، کش مکش کو جنم دیا۔لیکن جیسا کہ میں نے اس کتاب کے تعارف میں ذکر کیا ہے، یہ امر خصوصاً محل نظر ہے کہ دیوبندی بریلوی مخاصمت کو عوامی صوفی ازم کے حامیوں (بریلوی) اور فقہی قدامت پسندی کے علم برداروں (دیوبندی) کے درمیان جنگ سے تعبیر کیا جائے۔

دیوبندی اور بریلوی دونوں فقہ حنفی اور تصوف سے گہرا ربط وضبط رکھتے ہیں۔ ان کا باہمی اختلاف اس سوال پر تھا کہ استعماری صورت حال کے زیر اثر ایک سنی حنفی مسلمان کے حقیقی معنی کیا ہیں۔ ان کے اختلاف کی بنیاد سنت نبوی کے متوازی تصورات تھے، نہ کہ مخالف فقہی مذاہب سے انتساب۔ مسالک اور فقہی مذاہب کے درمیان فرق کے لیے یہ بے حد اہم ہے کہ دیوبندی بریلوی تنازع کی تہہ میں کار فرما علمیاتی قربت وتعلق کو تسلیم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں گروہ اپنے عمومی خیالات اور اپنے ان پیروکاروں کے اعتبار سے، جن کی تائید وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایک دوسرے کے بہت مشابہ ہیں  جس کی وجہ سے ان کے مناظرے عموماً بہت طنز آمیز اور ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

دیوبندی بریلوی مناظرے انیسویں صدی کے اواخر میں شروع ہوئے، جب شاہ محمد اسماعیل کی وفات پر چند دہائیاں گزر چکی تھیں۔ تاہم شاہ اسماعیل کی شخصیت ان مناظروں کا مرکزی موضوع تھی۔ دیوبند کے پیش روؤں نے خم ٹھونک کر ان کے خیالات کا دفاع کیا، اور انھیں ایک مثالی مذہبی مصلح کی روپ میں پیش کیا۔ مثلاً ایک مقام پر تقویۃ الایمان کی متنازعہ عبارات پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا رشید احمد گنگوہی نے واضح کیا: "تقویۃ الایمان ایک حیران کن کتاب ہے جو قرآن وحدیث کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اس کے مصنف کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ جو کوئی انھیں کافر یا گمراہ کہتا ہے، وہ خود شیطان ہے، اور اس پر خدا کی طرف سے لعنت ہے"22۔

تعبیری منہج کے اعتبار سے شاہ اسماعیل کی اصلاحی فکر دیوبند کے پیش روؤں سے زیادہ غیر مقلدین کی فکر کے مماثل ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ تقویۃ الایمان میں شاہ اسماعیل نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ قرآن وحدیث جیسے دین کے مصادر سے استفادہ کے لیے انھیں علما پر تکیہ نہیں کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں اگر چہ شاہ اسماعیل فقہ حنفی میں خوب ماہر تھے، لیکن انھوں نے حنفی مذہب کو اپنی شناخت کے طور پر پیش نہیں کیا۔ بلکہ جیسا کہ میں نے دوسری باب میں بیان کیا، متعدد متنازع مسائل جیسے رفع الیدین میں شاہ اسماعیل اپنے خاندان کے حنفی علما کی روش سے ہٹ گئے تھے، اور اس کی وجہ سے ان میں کافی بے چینی بھی پیدا ہوئی تھی۔ اس لیے بظاہر یہ عجیب معلوم ہوتا ہے کہ دیوبند کے پیش روؤں نے، جو کٹڑ حنفی تھے اور اہل حدیث مکتب فکر کے شدید مخالف تھے، شاہ اسماعیل کو اس قدر جذباتی انداز میں قبول کیا اور ان کا دفاع کیا۔ لیکن چند عوامل ایسے ہیں جو اس ظاہری تضاد کی وضاحت کر سکتے ہیں۔

پہلا یہ کہ انیسویں صدی کے اواخر کے اہل حدیث علما کے برعکس شاہ اسماعیل نے کسی فقہی مذہب کی تقلید سے انکار نہیں کیا، نہ ہی ماضی کے معتبر حنفی علما کی تنقیص کی۔ شاہ اسماعیل کی فکر میں کسی فقہی مذہب کی تقلید کے سوال پر کوئی قابل ذکر علمی رائے موجود ہی نہیں، جو دیوبندی علما کی حنفی حساسیتوں کو ان کے خلاف ابھار سکتی۔

دوسرا یہ کہ شاہ اسماعیل کی شخصیت میں دیوبند کے پیش روؤں کو اپنے اصلاحی ایجنڈے کے لیے ایک بہترین ترجمان مل گیا۔ شاہ اسماعیل کا سارا زور توحید کے احیا پر تھا اور روز مرہ کے عملی احکام میں بدعت کی حدود پر ان کے خیالات دیوبندی فکر سے بہت زیادہ مماثل تھے۔ اس لیے تعبیری ذوق میں اختلافات کے باوجود اس فکری قربت نے شاہ اسماعیل اور دیوبندی پیش روؤں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد کو ممکن بنایا۔

دیوبندی جس قدر شاہ اسماعیل کے علمی اور سیاسی کارناموں کے دل دادہ تھے، مولانا احمد رضا خان اور ان کے بریلوی پیروکار ان سے اتنے ہی نالاں تھے۔ مولانا احمد رضا خان کے لیے شاہ اسماعیل اور ان کے دیوبندی مداح ایک ہی علمی شجرے کا حصہ تھے، جس نے توحید کے احیا کی ایک گمراہ کن جستجو میں حضور ﷺ کے مقام ومرتبے کو گھٹایا۔ فضل حق خیر آبادی کی طرح مولانا احمد رضا خان نے شاہ اسماعیل اور اکابر دیوبند کی فکر پر تابڑ توڑ حملے کیے، اور انھیں برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک شدید خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے انیسویں صدی کے اواخر کے ہندوستان میں بریلوی دیوبندی مناظرے کئی حوالوں سے اس کش مکش کی علمی طور پر نسبتاً زیادہ منقح اور گروہی  ارتکاز کے ساتھ سامنے آنے مجادلاتی  سلسلے ہیں جو شاہ اسماعیل اور خیر آبادی کے درمیان کئی دہائیاں پہلے فکری معرکہ آرائی کی صورت میں ظاہر ہوئے۔

ان تنازعات میں ایک بنیادی دینی سوال، جو سنی مسلم مفکرین کی فکر پر حاوی تھا، یہ تھا: نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کی سنت میں نئے اضافے کی حدود کیا ہیں؟َ بالفاظِ دیگر عبادات اور رسمی اعمال کے دائرے میں اضافہ کب بدعت بن جاتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں، اسلام میں کسی عمل پر بدعت کے اطلاق کے لیے بنیادی ضابطہ کیا ہے؟ یہ وہ چند سوالات ہیں جن پر آئندہ باب میں بحث ہوگی۔

حواشی

  1.   اشرف علی تھانوی، ارواح ثلاثہ (کراچی: دار الاشاعت، 2001)، 209 – 10۔
  2.  وہابی کی اصطلاح کو استعماری جنوبی ایشیا میں مسلم انتہا پسندی کی علامت کے طور پر استعمال کرنے کے لیے دیکھیے: الیس مارگنسٹائن فوئرسٹ، Indian Muslim Minorities and the 1857 Rebellion: Religions, Rebels and Jihad (لندن: آئی بی ٹورس، 2017)۔ اگر چہ فوئرسٹ کا سارا زور اس اصطلاح کے اس نامبارک مفہوم پر ہے، جو برطانوی مستشرقین کی کاوشوں سے رائج ہوا ہے، تاہم یہ بات دل چسپ ہے کہ ایک "سیاہ فام  بیرونی مسلمان عالم" نے اس مخصوص واقعے میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں "وہابی" اصطلاح کسی کو گمراہ قرار دینے کے لیے ایک علامت کے طور پر ہندوستان سے باہر بھی مستعمل تھی۔
  3.  یہ معلوم نہیں کہ سیاہ فام عالم کس زبان میں مقامی اہل علم سے بات کرتا تھا، تاہم اندازے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فصیح عربی ہوگی، کیونکہ یہ اس وقت بھی اور اب بھی مسلمان اہل علم اشرافیہ کے درمیان رابطے کی زبان ہے۔
  4.   اَیضاً۔
  5.  استعماری جنوبی ایشیا میں بین المسالک تنازعات کے مرکز کے طور پر مسجد کے کردار کے لیے ملاحظہ کیجیے: ثنا ہارون کا آنے والا مضمون، The Fragmentation of South Asian Mosque Practice under the Colonial State، یہ ایک غیر مطبوعہ مضمون ہے، جو مصنفہ کی ملکیت میں ہے۔
  6.  برطانوی استعمار کے خلاف مسلمانوں کے علمی ردعمل کے پیچ در پیچ سلسلے اور اس دور میں مسلمانوں کی ابھرنے والی اصلاحی، احیائی اور جدید تحریکات کے شاید سب سے عمدہ اور فیصلہ کن تجزیے کے لیے دیکھیے، محمد قاسم زمان کی حال میں چھپنے والی شان دار کتاب: Islam in Pakistan: A History (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2018)، 14-53۔
  7.   مدونین ایرک ہوبزباون اور ٹیرینس رینجر، The Invention of Tradition (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1992) 165 میں برنارڈ کوہن کے مضمون Representing Authority in Victorian India میں منقول ہے۔
  8.  ڈیوڈ گلمارٹن، Democracy, Nationalism, and the Public: A Speculation on Colonial Muslim Politics، ساتھ ایشیا 14، نمبر 1 (1991): 123-40۔
  9.  ایضاً۔
  10.  جولیا سٹیفنز، The Politics of Muslim Rage: Secular Law and Religious Sentiment in Late Colonial India، ہسٹری ورک شاپ جرنل 77 (2014): 45-64۔
  11.  جنوبی ایشیا میں ایک منقح اور مسابقتی تصور کی حیثیت سے مذہب کی استعماری تشکیلِ نو کی ایک متاثر کن تحقیق کے لیے ملاحظہ کیجیے ٹینا پوروہٹ کی شان دار کتاب: The Aga Khan Case: Religion and Identity in Colonial India (کیمبرج، ایم اے: ہارورڈ یونیورسٹی پریس، 2012)۔
  12.  اروند منڈیر، Religion and the Specter of the West: Sikhism, India, Postcoloniality, and the Politics of Translation (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009)۔
  13.  استعماری جنوبی ایشیا میں بین المسالک اور بین المذاہب مناظروں کے متنوع اور مماثل سلسلوں کے نسبتاً تفصیلی تجزیے کے لیے دیکھیے مجموعۂ مقالات، مدون کینِتھ جونز، Religious Controversy in British India: Dialogues in South Asian Languages  (البانی: سٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک پریس، 1992)۔ مسلم مسیحی مناظروں کے تجزیے کے لیے دیکھیے: اروِل پاول، Muslims and Missionary in Pre-Mutiny India (رکمنڈ، سری: کرزن پریس، 1993)۔
  14.  اپنے فکر انگیز تحقیقی مقالے میں ایس اکبر زیدی نے ایک مفید تنبیہ کی ہے کہ ان مباحثوں اور مناظروں کا سلسلہ صرف بڑے اصلاحی گروہوں کے نامور علما اور قائدین تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں انیسویں صدی کے اواخر کے شمالی ہندوستان کے "اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں" (17) نسبتاً کم معروف اردو لکھاری اور صحافی بھی شامل تھے۔ زیدی نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ اس دور میں ان مناظروں کی شدت اور کثرت دونوں ایک متحدہ ہندوستانی مسلمان قومیت کی موجودگی کے تصور کے خلاف جاتی ہے۔
  15.  تحریک پاکستان میں علماے دیوبند کے کردار کے لیے دیکھیے: وینکٹ دھولیپالا، Creating a New Medina: State Power, Islam, and the Quest for Pakistan in Late Colonial North India (نیو دلی: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2015)۔ حسین احمد مدنی کی مخالفت کے لیے دیکھیے: باربرا مٹکاف، Husain Ahmad Madani: The Jihad for Islam and India’s Freedom (لندن: ون ورلڈ پریس، 2008)۔ بیسویں صدی کے اواخر میں دیوبند کی سیاسی فکر میں پیش رفت کے لیے دیکھیے: محمد قاسم زمان، The Ulama in Contemporary Islam: Custodians of Change (پرنسٹن این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2002)، 87 – 111، اور After September 11: 2001 Essays Archive، سوشل سائنس ریسرچ جرنل، 2001 میں بابرہ مٹکاف، ‘Traditionalist’ Islamic Activism: Deoband, Tablighis, and the Talibs۔
    http://essays.ssrc.org/sept11/essays/metcalf.htm.
  16.  دیکھیے: محمد قاسم زمان، Modern Islamic Thought in a Radical Age: Religious Authority and Internal Criticism (نیو یارک: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012)، اور شیر علی ترین، Revolutionary Hermeneutics: Translating Qur’an as a Manifesto for Revolution، جرنل آف ریلیجئس اینڈ پولیٹیکل پریکٹس 3، نمبر 1-2 (2017): 1-24۔
  17.  یہاں یہ وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ نانوتوی اور خان ایک دوسرے کے خلاف براہ راست محاذ آرا نہیں ہوئے۔ تاہم بعد میں دیوبندی فکر پر خان کے حملوں کا محور نانوتوی کے نظریات تھے بالخصوص ان کی کتاب تحذیر الناس میں امکان نظیر کے حوالے سے ان کا موقف۔
  18. لوئس ڈیومنٹ، Religion, Politics, and History in India: Collected Papers in Indian Sociology (دا ہیگ: موٹن، 1971)، 118، بحوالہ گیانندرہ پانڈے، The Construction of Communalism in Colonial North India (دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 1990)، 4۔
  19.  بحوالہ محمد اقبال قریشی، بدعت کی حقیقت اور اس کے احکام (لاہور: ادارۂ اسلامیات، 2000)، 27۔
  20.  اشرف علی تھانوی، الافاضات الیومیۃ، جلد 3 (ملتان: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، تاریخ اشاعت ندارد)، 235 – 37۔
  21.  احمد رضا خان، الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (لاہور: نذیر سنز، 2000)، 289۔ میرے پیش نظر اس کتاب کی لاہور اور کراچی کی دونوں اشاعتیں ہیں، اور حوالے کے وقت متعلقہ اشاعت کے حوالے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
  22.  رشید احمد گنگوہی، فتاوی رشیدیہ (کراچی: محمد: کارخانۂ اسلامی کتب، 1987)، 423۔

(جاری)