عورت کی تکریم اور اہم سماجی وقانونی مسائل
محمد عمار خان ناصر
(خواتین سے متعلق معاشرتی رویوں اور مختلف قانونی وسماجی مسائل کے حوالے سے سوشل میڈیا کے لیے وقتاً فوقتاً جو توضیحات قلم بند کی گئیں، ان کا ایک انتخاب یہاں پیش کیا رہا ہے۔)
عورت کی تکریم کا تصور اور سماجی رویے
ہمارے سماجی تناظر میں عورت کا وجود، شناخت اور حیثیت تسلیم کیے جانے یا نہ کیے جانے کی کشمکش کی تین تکونیں ہیں، یعنی گھر، گھر سے باہر عمومی معاشرہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی منڈی۔ گھر اور منڈی دو متوازی قوتیں ہیں جو معاشرے کو اپنی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان دونوں کے درمیان معاشرہ اپنے رویے، اخلاقیات اور حدود وضوابط متعین کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
گھر روایتی سماجی اخلاقیات کے دائرے میں عورت کو تحفظ وتکریم اور کفالت فراہم کرنے کا بندوبست ہے جس کے ساتھ پابندیوں اور قدغنوں کا ایک ایسا مجموعہ وابستہ ہے جو عورت کو بڑی حد تک ایک ملکیتی شے بنا دیتی ہیں اور بہت سی صورتوں میں غیر انسانی شکل بھی اختیار کر لیتی ہیں۔ تحفظ اور ملکیت کا یہ امتزاج جدید معاشی نظام سے وجود میں آنے والی معاشرت میں فٹ نہیں بیٹھتا اور دن بدن اپنی گرفت کھوتا جا رہا ہے۔
جدید معاشی نظام عورت کو ان قدغنوں سے آزادی کی ضمانت اور پابندیوں سے بغاوت کا حوصلہ اور وسائل دیتا ہے، تاہم ہمارے سیاق میں یہ نظام عورت کو اس بغاوت کا اور اپنی آزادی کو بروئے کار لانے کا سب سے قیمتی معاوضہ جس میدان میں دیتا ہے، وہ صنفی حسن اور صنفی تلذذ کا میدان ہے۔ اس نوعیت کی "آزادیاں" خریدنے کے لیے پوری منڈی اہلاً وسہلاً کا بورڈ آویزاں کیے ہوئے ہے۔
اس کشمکش میں عورت کے لیے انفرادی ملکیتی حیثیت سے آزادی حاصل کر کے بازار نمائش میں اجتماعی ملکیتی حیثیت قبول کرنے کا فیصلہ تو بہت آسان اور پرکشش ہے، لیکن ظاہر ہے، یہ ایک خاص طبقے کا ہی انتخاب ہو سکتا ہے۔ عورت بطور صنف اجتماعی طور پر یہ انتخاب کرنا بھی نہیں چاہتی اور بازار بھی اس کے مواقع فراہم نہیں کرتا۔
معاشرہ اس وقت انھی دو ملکیتی نظاموں کے درمیان کشمکش سے گزر رہا ہے۔ معاشرے کا آئیڈیل یہ ہے کہ عورت کو فرد کے طور پر بھی اور صنف کے طور پر بھی تقدس اور احترام کے ساتھ آزادی اور اختیار سے بہرہ مند کیا جائے تاکہ جو تحفظ وتکریم اس کو گھر دیتا ہے، وہ ملکیتی شے بننے سے مشروط نہ رہے اور جو آزادی اس کو جدید معاشی نظام دیتا ہے، اس کے اظہار کا میدان صرف بازار حسن نہ ہو، بلکہ وہ اسی تکریم اور تحفظ کے ساتھ تمام معاشرتی سرگرمیوں کا حصہ بن سکے جو اسے گھر میں دی جاتی ہے۔
گھر کے رشتوں کو جو احترام دیا جاتا ہے، اسی احترام کو صنف کے حوالے سے معاشرتی قدر بنانے پر محنت کی ضرورت ہے۔ رشتوں کا احترام ان خاص افراد تک محدود ہوتا ہے جن سے رشتہ ہوتا ہے۔ صنف کا احترام ہوگا تو وہ جو بھی ہوگی اور جہاں بھی ہوگی، قابل احترام ہوگی۔ اس تناظر میں "آزادی" کا مغربی فلسفہ اور جسم اور مرضی جیسے سلوگن ہمارے سیاق میں مددگار نہیں، بلکہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے ہیں۔ ان کا پیغام اور تاثیر عورت کی تکریم نہیں جو ایک اخلاقی احساس ہے۔ ان کا پیغام ایک طرف انفرادیت کے نفسی احساس اور صنفین کے مابین بے گانگی اور منافرت کو فروغ دینا اور دوسری طرف نسوانی جسم کو جنس بازار بنانے میں سرمایہ دارانہ منڈی کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ اس کی خرید وفروخت کرنے والے کسی اخلاقی ججمنٹ کا موضوع نہ بنائے جا سکیں اور "آزادی" کی قدر کے تحت ان کو قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
تکریم کو معاشرتی قدر بنانا انسانوں کے باہمی تعلق کو ایک اخلاقی اصول پر استوار کرنا اور سماج میں محاسبے کا ایک خودکار میکنزم تشکیل دینا ہے۔ آزادی کو نقطہ حوالہ بنانا اس کے برعکس صنفین میں ایک بے گانگی اور کشمکش پیدا کرنا ہے جس میں تحفظ کی بنیادی ضمانت ریاست کا ڈنڈا ہے۔ جہاں ریاست یہ تحفظ مہیا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو، وہاں عدم تحفظ کے مظاہر پر صرف لعن طعن ہو سکتا ہے یا کچھ قوانین بنوا کر حصول طاقت کا نفسیاتی احساس پیدا کیا جا سکتا ہے۔ دونوں طریقے نتیجے میں غیر موثر رہتے ہیں اور صرف فرسٹریشن کو بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
آئیے، اپنے معاشرے کو، اپنی اقدار کو، اپنی ریاست کو اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنے وسائل کو خود اپنی نظر سے دیکھنا سیکھیں۔ مستعار اور اجنبی تصورات کے سحر میں گرفتار ہو کر خود کو تباہ نہ کریں۔
بیوی کی تادیب کے حوالے سے شوہر کا اختیار
بعض دفعہ شان نزول، کسی قرآنی ہدایت کا صحیح تناظر سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ شوہر کو بیویوں کی تادیب کا اختیار دینے اور ایک آپشن کے طور پر ان کی پٹائی کی اجازت بھی اسی نوع کی چیز ہے۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کی سرکشی پر اسے تھپڑ مار دیا تو وہ اپنے والد کے ساتھ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئی۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے شوہر سے قصاص لے سکتی ہے، یعنی بدلے میں اسے تھپڑ مار سکتی ہے۔ وہ یہ اجازت لے کر ابھی جا ہی رہی تھی کہ جبریل یہ آیت لے کر آ گئے اور آپ نے انھیں واپس بلا کر کہا کہ ہم نے کچھ اور ارادہ کیا تھا، لیکن اللہ کا ارادہ کچھ اور ہے اور اللہ ہی کا ارادہ بہتر ہے۔
اس پس منظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کا اصل مقصد گھر کے نظم میں شوہر کی حیثیت کو واضح کرنا ہے۔ اس کا اصل اثر نفسیاتی ہے اور گھر کے ڈسپلن کو قائم رکھنے میں یہ شوہروں کے اختیار کو واضح کرتی ہے تاکہ سرکش بیویاں متنبہ رہیں۔ تاہم دین کو جو اصل رویہ مطلوب ہے، وہ وہی ہے جو اسوہ حسنہ سے واضح ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی خود اپنی بیویوں یا خادموں کے خلاف یہ اختیار استعمال نہیں فرمایا، بلکہ بعض شوہروں کی طرف سے اختیار کے سوء استعمال کو دیکھتے ہوئے ایک موقع پر اس پر پابندی بھی لگا دی۔ لیکن اس کا الٹا نتیجہ نکلا اور شوہروں کے لیے انھیں سنبھالنا مشکل ہو گیا تو پھر دوبارہ اجازت دینی پڑی۔
اس تناظر میں ماضی قریب کے ممتاز تیونسی علامہ ابن عاشور نے واضح کیا ہے کہ شوہروں کو اپنی بیویوں کو مارنے کی جو اجازت دی گئی، وہ ان لوگوں کے عرف کے لحاظ سے ہے جو اس کو معیوب نہ سمجھتے ہوں اور ان کے ہاں اسے شوہر کا ایک معمول کا اختیار مانا جاتا ہو۔ مزید یہ کہ یہ چونکہ محض ایک اجازت ہے جو کئی شرائط کے ساتھ مشروط ہے، مثلاً ناجائز تعدی نہ کرنا، اور اس میں معاشرتی عرف کا بھی لحاظ ہے، اس لیے حکومت اس اختیار پر پابندی لگا سکتی اور اسے قابل تعزیر عمل قرار دے سکتی ہے۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بیوی کی طرف سے سرکشی کے رویے پر اس کی تادیب کا معاملہ یک طرفہ نہیں ہے، بلکہ اسلامی فقہ میں زوج ناشز یعنی سرکش شوہر کی تادیب کا بھی ایک پورا ضابطہ بیان ہوا ہے جو ہمارے ہاں کہیں زیر بحث نہیں آتا۔ جامعۃ الکویت کے کلیۃ الشریعہ کے أستاذ مسعود صبری نے اپنی ایک تحریر میں ان تعزیری وتادیبی اقدامات کی اچھی وضاحت کی گئی ہے جو سرکش شوہر کے خلاف کیے جا سکتے ہیں۔
ان فقہی احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ
۱۔ اگر عورت، شوہر کی شکایت کرے تو قاضی ان کے ہمسایوں کو یہ ذمہ داری دے سکتا ہے کہ وہ ان کے احوال کی نگرانی کریں اور شوہر کو زیادتی سے روکیں۔ اگر ہمسایے ذمہ دار نہ ہوں تو قاضی شوہر کو پابند کر سکتا ہے کہ وہ کسی ایسی جگہ پر گھر لے کر بیوی کو رکھے جہاں ارد گرد کے لوگ ان پر نظر رکھ سکیں۔
۲۔ شوہر کے خلاف شکایت آنے پر قاضی اس کو بھی پہلے زبانی وعظ ونصیحت اور پھر سخت سرزنش کرنے اور آخر میں جسمانی سزا کا طریقہ اختیار کر سکتا ہے۔
۳۔ اگر شوہر زیادتی سے باز نہ آئے اور بیوی تعزیر کی طالب ہو تو قاضی کو آخری چارے کے طور پر اس پر مناستب تعزیری سزا بھی نافذ کرنی چاہیے۔
۴۔ اگر شوہر، بیوی کے کسی بھی حق کی ادائیگی میں کوتاہی کر رہا ہو تو قاضی جبرا اس کو اس کا حق دلوائے گا۔
۵۔ اگر بیوی کو زیادتی سے محفوظ رکھنے کے لیے شوہر کو کچھ عرصے کے لیے بیوی سے الگ کر دینے کی ضرورت پیش آئے تو قاضی کو اس کا اختیار بھی حاصل ہے تاآنکہ شوہر اصلاح احوال کر لے۔
۶۔ اس کے علاوہ یہ بھی اس قانون کا حصہ ہے کہ شوہر کی طرف سے تشدد کے ارتکاب پر بیوی جسمانی طور پر مجروح ہو تو اس پر قصاص ودیت کا قانون جاری ہوگا۔
رشتہ نکاح میں زوجین کے باہمی حقوق واختیارات
سوالات
1۔ موجودہ زمانے میں شوہر کی طرح بیوی بھی کمائی کرتی ہے. دونوں مل کر گھر کے مالی معاملات دیکھتے ہیں۔ تو کیا بیوی پر یہ لازم ہے کہ وہ گھر کی ذمہ داریوں کے علاوہ بھی اپنی تمام تر کمائی شوہر کو دے یا اپنے خرچ کا حساب اس کو دے؟ کیونکہ وہ خدا کے بعد شوہر کے آگے جواب دہ ہے؟
2۔ اکثر یہ سنا ہے کہ بیوی نفل عبادت بھی شوہر کی مرضی سے کرنے کی پابند ہے، اس لئے اگر وہ اپنی تنخواہ یا اور مال میں کسی کی مدد کرتی ہے تو اسے شوہر سے اجازت لینی پڑے گی۔
3۔ مرد شریعت کی رو سے ہر بات کو عورت پر لازم کر دیتا ہے. کیا ان حقوق کی کوئی فہرست ہے جو شریعت نے مرد کو دیے ہیں تاکہ جہاں بات عورت کے کمپرومائزز کے باوجود نہ سنبھل سکے، وہاں یہ فہرست دکھائی جا سکے؟
4۔ کیا بیوی خاندانی رشتہ داریاں اور تعلقات بھی مرد کی مرضی کے تحت نبھائے گی مثلاً رحمی اور غیر رحمی رشتہ داری میں خوشی اور غمی میں شرکت یا پیشہ ورانہ تعلقات؟
جوابات
پہلے دونوں سوالوں کا جواب میرے نزدیک نفی میں ہے۔ اگر بیوی کماتی ہے تو گھر کی ذمہ داریوں میں شرکت کے حوالے سے باہمی مفاہمت سے جو بات طے ہو، بیوی اسی کی پابند ہے۔ ساری کمائی شوہر کو دے دینے کی پابند نہیں اور نہ اپنی کمائی میں اپنی صوابدید سے کوئی بھی تصرف کرنے میں وہ شوہر کو جواب دہ ہے۔ نفل عبادت میں بھی وہ وہاں شوہر کی اجازت کی پابند ہے جہاں عبادت سے گھر کی ذمہ داریوں یا شوہر کے حقوق پر کوئی زد پڑتی ہو۔ یہ کوئی مطلق اصول نہیں ہے۔
تیسرے سوال سے متعلق یہ کہنا ہے کہ حقوق کی ایسی کوئی متعین فہرست شریعت نے نہیں دی جو ہر ہر حالت میں کسی کمی بیشی کے بغیر حتمی قرار دی جا سکے۔ حقوق اور ذمہ داریوں میں عرف اور باہمی مفاہمت کا بہت دخل ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے "ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف" کا اصول بیان کیا ہے۔ کسی معاشرے میں جو طریقہ معروف اور مروج ہو اور زوجین میں اس پر باہمی مفاہمت ہو گئی ہو تو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ تاہم معروف اور رواج چونکہ شریعت کا حکم نہیں، اس لیے اس پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے یعنی تنقید اور اصلاح کے عمل سے اس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
البتہ شوہر کو بیوی پر جو حق حاصل نہیں، وہ شاید گنوائے جا سکتے ہیں۔ انھی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بیوی کی ملکیت میں اس کی رضامندی اور باہمی مفاہمت کے بغیر کوئی حق نہیں جتا سکتا۔ شریعت نے اس کو ایسا کوئی اختیار نہیں دیا۔ اگر دونوں مل کر گھر کا خرچ چلاتے ہیں تو آمدن میں تصرف کے لیے ایک حد تک دونوں کی باہمی رضامندی کا نکتہ شامل ہو جاتا ہے جیسے باہمی مفاہمت کے اصول کے تحت طے کیا جا سکتا ہے۔ اگر دونوں کی کل آمدن کو جمع کرنا گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ضروری ہے تو مفاہمت سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اصولاً یہ واضح رہنا چاہیے کہ شوہر کا بطور شوہر کے یہ شرعی حق نہیں ہے کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں بھی اس کی اجازت یا صواب دید کی پابند ہو۔
چوتھے سوال سے متعلق بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ رشتہ داری کے حقوق اور سماجی تعلقات کے باب میں بھی عرف ہی کا اصول بنیاد ہے، لیکن یہ صرف عورت کے لیے نہیں ہے، شوہر بھی عرفی اخلاقیات کا پابند ہے۔ رشتہ داروں کی خوشی غمی میں شرکت کے حوالے سے جو بھی عرف ہو، شوہر اور بیوی کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔ پیشہ ورانہ تعلقات مثلاً کولیگز کی خوشی غمی میں شرکت بھی عرفا ملازمت کا حصہ ہوتی ہے۔ اگر عورت کے ملازمت وغیرہ کرنے پر باہمی مفاہمت ہے تو یہ چیزیں بھی خود بخود اس کا حصہ ہیں۔
خواتین کی گواہی کا مسئلہ
اسلامی قانون میں خواتین کی گواہی کا مسئلہ ان دنوں پھر زیربحث ہے جس کا پس منظر بنک کے ذریعے سے مالیاتی لین دین میں خواتین کو درپیش مشکلات ہیں۔ قانون شہادت مجریہ 1984 کے مطابق مالی معاملات سے متعلق کسی دستاویز پر دو مردوں یا ایک مرد اور دو خواتین کے دستخط ہونے ضروری ہیں۔ اس تناظر میں بنک اپنے کام کو عملاً آسان بنانے کے لیے مالیاتی دستاویزات پر دو مردوں ہی کے دستخط قبول کرتے ہیں تاکہ تین یا چار افراد کا ڈیٹا جمع نہ کرنا پڑے اور فارم پر بھی دو ہی افراد کے دستخطوں کی جگہ رکھی جاتی ہے۔ اس صورت حال میں خواتین کو، جو اب معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے شریک ہو رہی ہیں، مختلف قسم کی دقتوں کا سامنا ہے جس کی تفصیل ۳ اپریل کو ٹربیون میں شائع ہونے والے اس مضمون میں دی گئی ہے۔
https://tribune.com.pk/.../two-women-still-equal-one-man
یہ ایک نامناسب صورت حال ہے جس کا متعلقہ قانونی اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔ جہاں تک شرعی وفقہی پہلو کا تعلق ہے تو یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس پر دور جدید میں کافی بحث ہو چکی ہے اور بہت مضبوط علمی بنیادوں پر یہ تعبیر سامنے آ چکی ہے کہ قرآن کی متعلقہ آیت میں ’’قانون’’ کے بجائے ’’ارشاد’’ کی نوعیت کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ قرض کے لین دین میں جھگڑے اور حق تلفی سے بچنے کی جتنی بھی ممکن ہو، پیش بندی کر لی جائے اور کہیں خواتین پر گواہی کی ذمہ داری ڈالنی پڑے تو اس میں ان کو سہارا بھی فراہم کیا جائے۔ اس میں عدالت کو کسی خاص ضابطے کا پابند نہیں ٹھہرایا گیا اور نہ خواتین کی گواہی کو مردوں سے کم معتبر قرار دینا مقصود ہے۔ ماضی کے اہل علم میں سے بھی علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم نے اس نکتے کو بہت وضاحت سے بیان کیا ہے۔
یہ ذہن میں رہے کہ مروجہ قانون شہادت بھی کلیتاً جمہور کی فقہی آرا پر مبنی نہیں ہے۔ مثلاً مالیاتی معاملات اور حدود وغیرہ کے علاوہ باقی تمام معاملات میں ایک مرد یا ایک عورت یا کسی بھی دوسرے ذریعہ ثبوت کو کافی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی کلاسیکی فقہی موقف سے کافی حد تک مختلف بات ہے۔
(b) in all other matters, the Court may accept, or act on the testimony of one man or one woman or such other evidence as the circumstances of the case may warrant.
اس وجہ سے ہماری رائے میں فقہاء کے روایتی موقف کا احترام رکھتے ہوئے، کوئی وجہ نہیں کہ جہاں بہت سے دوسرے اجتہادی مسائل میں قانونی اسلامائزیشن میں غیر معروف یا غیر روایتی آرا کو اختیار کیا گیا ہے، اس مسئلے میں بھی خواتین کی گواہی اور دستخط کو یکساں قانونی حیثیت دیتے ہوئے انھیں درپیش دقتوں اور مشکلات کا ازالہ نہ کیا جائے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۳۲۴) عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ
درج ذیل جملے میں عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ ’اپنے دودھ پیتے بچے‘ کیا گیا ہے، لیکن اس نکتے کی طرف عام طور سے دھیان نہیں گیا کہ أَرْضَعَتْ فعل ماضی ہے مضارع نہیں ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہیے:
یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ. (الحج: 2)
”جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی“۔ (سید مودودی)
”جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی“۔ (احمد رضا خان)
”جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی“۔ (محمد جوناگڑھی)
درج ذیل ترجمے عبارت کے مطابق ہیں:
”جس دن دیکھیں گے اس کو بھول جاوے گی ہر دودھ پلانے والی جس کو دودھ پلایا تھا“۔(شاہ رفیع الدین)
”جس دن اس کو دیکھو گے بھول جاوے گی ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلائے کو“۔ (شاہ عبدالقادر)
عبارت کے مطابق ترجمہ کرنے سے مفہوم کی وسعت بڑھ جاتی ہے، اس میں وہ تمام بچے شامل ہوجاتے ہیں جنھیں اس نے دودھ پلایا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ ہر ماں اپنے بچوں سے غافل ہوجائے گی۔
(۳۲۵) کُتِبَ عَلَیْهِ کا ترجمہ
درج ذیل آیتوں کا ترجمہ کرتے ہوئے کُتِبَ عَلَیْهِ کا ترجمہ بعض لوگوں نے درست نہیں کیا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن یُجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطَانٍ مَّرِیدٍ۔ کُتِبَ عَلَیْہِ أَنَّہُ مَن تَوَلَّاہُ فَأَنَّہُ یُضِلُّہُ وَیَہْدِیہِ إِلَیٰ عَذَابِ السَّعِیرِ۔ (الحج: 3و4)
”بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔(سید مودودی، شیطان کے نصیب میں یہ لکھا ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے)
”جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گم راہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا“۔(امین احسن اصلاحی، شیطان کی یہ ڈیوٹی تو نہیں ہے)
دراصل یہاں نہ تو شیطان کے نصیب کی بات ہے اور نہ ہی اس کی ڈیوٹی کی بات ہے، بلکہ اس کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا ذکر ہے۔ اس پہلو سے درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:
”جس کی نسبت (خدا کے یہاں سے) یہ بات لکھی جاچکی ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)
”جس کے بارے میں خدا کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے“ (امانت اللہ اصلاحی)
(۳۲۶) وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ
بوّأ کا معنی ہے بسانا، ٹھکانا دینا۔ جوہری لکھتے ہیں: وبوَّأت للرجل منزلاً وبوّأتہ منزلاً بمعنی، أی ہیَّأتہ ومکَّنت لہ فیہ. (الصحاح)
قرآن مجید میں یہ لفظ کئی مقامات پر آیا ہے اور عام طور سے اس کا یہی ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ درج ذیل آیت میں اس کا ترجمہ جگہ بتانا، تجویز کرنا یا مقرر کرنا وغیرہ کیا گیا ہے۔ اس سے ایک تو لفظ کا پورا حق ادا نہیں ہوپاتا ہے، دوسرے یہ کہ آگے محذوف ماننا پڑتا ہے کہ جب انھوں نے وہاں گھر بنالیا تو انھیں لوگوں میں حج کی منادی کا حکم دیا گیا۔ جب کہ اگر بوّأ کا حقیقی مفہوم بغیر کسی تاویل کے لیا جائے تو محذوف ماننے اور بعد کی آیتوں کو کسی اور زمانے سے متعلق ماننے کے تکلف کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ابراہیم پر جو لام ہے اس کی وجہ سے یہ مفہوم لیا گیا ہے، حالاں کہ وہ تاکید کے لیے ہے، جیسے شکرتہ اور شکرت لہ۔ ترجمے ملاحظہ کریں:
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ أَن لَّا تُشْرِکْ بِی شَیْئًا وَطَہِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ۔ (الحج: 26)
”یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو“۔ (سید مودودی)
”اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا“۔ (احمد رضا خان)
”اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی“۔ (محمد جوناگڑھی)
درج ذیل ترجمے میں بوّأ کا حقیقی مفہوم اختیار کیا گیا ہے:
”اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے ابراہیم کے لیے ٹھکانا بنایا بیت اللہ کی جگہ کو“۔ (امین احسن اصلاحی)
”یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کی جگہ بسایا تھا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(۳۲۷) مکان سحیق
وَمَن یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرِّیحُ فِی مَکَانٍ سَحِیقٍ۔ (الحج: 31)
”اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے“۔ (سید مودودی)
یہاں سحیق کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ سحیق اگر کسی چیز کے لیے کہا جائے گا تو اس سے مراد یہ ہوگا کہ وہ چیز تباہ ہوگئی اور اگر جگہ کے لیے کہا جائے تو دور دراز جگہ مراد ہوگی۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ سحیق مکان کی صفت ہو اور اس سے مراد ایسی جگہ ہو جہاں انسان کے چیتھڑے اڑجائیں۔ کیوں کہ سحیق جب تباہی کے لیے آتا ہے تو تباہ کرنے والی چیز کے لیے نہیں بلکہ تباہ ہونے والی چیز کے لیے آتا ہے، اس وقت وہ اس چیز کی صفت ہوتا ہے نہ کہ جگہ کی صفت۔
بہرحال درست ترجمہ وہی ہے جو عام طور سے کیا گیا ہے:
”اب یا تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں، یا ہوا اس کو دور دراز مقام پر ڈال دیتی ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(۳۲۸) أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً
السماء کا ترجمہ آسمان ہونا چاہیے، لیکن صاحب تدبر نے ایک مقام پر اس کا ترجمہ آسمانوں اور ایک دوسرے مقام پر بادلوں کردیا ہے:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (الحج: 63)
”دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی، ہی کا اضافہ بھی درست نہیں ہے)
وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (إبراہیم: 32)
”اور بادلوں سے پانی اتارا“۔ (امین احسن اصلاحی)
وَاللَّہُ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (النحل: 65)
”اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا“۔ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہ درست ہے البتہ یہاں ہی کا اضافہ درست نہیں ہے)
(۳۲۹) وَالْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُمْ
قسا القلب کا مطلب دل کا سخت ہونا ہے۔ یہ تعبیر مختلف صیغوں سے قرآن میں کئی جگہ آئی ہے۔ جیسے:
فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکْرِ اللَّہِ۔ (الزمر: 22)
”تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے“۔ (سید مودودی)
وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَةً۔ (المائدۃ: 13)
”اور ان کے دل سخت کر دیے“۔ (سید مودودی)
درج ذیل الفاظ کا بھی یہی ترجمہ ہونا چاہیے تھا، لیکن صاحب تفہیم نے اس کا مختلف ترجمہ کیا:
وَالْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُمْ۔ (الحج: 53)
”اور جن کے دل کھوٹے ہیں“۔ (سید مودودی)
ایک بات تو یہ ہے کہ دل کھوٹا نہیں ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قاسیۃ کا مطلب کھوٹا ہونا نہیں بلکہ سخت ہونا ہوتا ہے۔ درست ترجمہ وہی ہے جو دوسروں نے کیا ہے اور خود صاحب تفہیم نے درج بالا مقامات پر کیا ہے۔
(۳۳۰) ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ
ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوب کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ لَن یَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیئًا لَّا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ۔ (الحج: 73)
”لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور“۔ (سید مودودی)
”بڑا بودا ہے طلب کرنے والا اور بڑا بودا ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں“۔ (احمد علی)
”عابد بھی لچر اور ایسا معبود بھی لچر“۔ (اشرف علی تھانوی)
اس آیت میں الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ کے مختلف معنی لیے گئے ہیں، کچھ لوگوں نے عابد ومعبود ترجمہ کیا ہے، جو الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔ کچھ نے مدد چاہنے والے اور جن سے مدد چاہی جائے ترجمہ کیا ہے، یہ بھی الفاظ سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ مطلوب اسے کہتے ہیں جسے طلب کیا جائے نہ کہ وہ جس سے طلب کیا جائے۔ عام طور سے لوگوں نے طالب سے مراد غیر اللہ کو پکارنے والے اور مطلوب سے مراد وہ اصنام لیے ہیں جنھیں وہ پکارتے ہیں۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں طالب سے مراد اصنام اور مطلوب سے مراد وہ مکھی ہے جو ان سے کچھ لے بھاگی ہے۔ یہ ایک بلیغ منظر کشی ہے کہ گویا مکھی مطلوب اور وہ اصنام اس کے طالب ہیں۔ ضعف تعجب کا صیغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ مکھی تو کم زور ہے ہی یہ اصنام اس مکھی سے بھی زیادہ کم زور ہیں۔
درج ذیل ترجمہ الفاظ کے مطابق ہے:
”بودا ہے چاہنے والا اور جو چاہتا ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)
(۳۳۱) لَا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ کا ترجمہ
درج بالا آیت کے جملے میں لَا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ کا یہ ترجمہ دیکھیں:
”اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں!“۔ (امین احسن اصلاحی)
یہاں لَا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ کا ترجمہ کیا ہے ’وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے‘ یہ درست نہیں ہے، بلکہ جو عام طور سے کیا گیا ہے وہ درست ہے، جیسے:
”چھڑا نہ سکیں وہ اس سے‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
(۳۳۲) ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ مِن قَبْلُ
اس آیت میں ضمیر ھو کا مرجع ابراہیم ہے یا اللہ، اس میں اختلاف ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی اس رائے کو ترجیح دیتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ نام رکھا۔ بہرحال ’ہُو‘ کا ترجمہ ’اس نے‘ ہونا چاہیے، تاکہ قاری اس کا مرجع متعین کرنے میں آزاد رہے۔ بعض لوگوں نے ہُو کا ترجمہ ’اللہ‘ کیا ہے۔
مِّلّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ مِن قَبْلُ وَفِی ہَٰذَا۔ (الحج: 78)
”قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم ؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام”مسلم“ رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)“۔ (سید مودودی)
”تمہارے باپ ابراہیم کا دین، اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں“۔ (احمد رضا خان)
دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی“۔ (محمد جوناگڑھی)
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
”دین تمہارے باپ ابراہیم کا، اس نے نام رکھا تمہارا مسلمان حکم بردار پہلے سے اور اس قرآن میں“۔ (شاہ عبدالقادر)
(۳۳۳) مِّلّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ
درج بالا آیت میں مِّلّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ کے مختلف ترجمے کیے گئے ہیں، عام طور سے لوگ مِلّةَ سے پہلے کوئی فعل محذوف مانتے ہیں۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی ھذہ مبتدا محذوف مانتے ہیں اور ترجمہ کرتے ہیں: ”یہ تمارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے“ قرآن مجید میں یہ اسلوب متعدد مقامات پر آیا ہے۔
(۳۳۴) فِی اللَّہِ کا ترجمہ
قرآن مجید میں ’فی سبیل اللّٰہ‘ کی تعبیر تو کثرت سے آئی ہے، جس کا معنی ’اللہ کے راستے میں‘ ہے، البتہ کہیں کہیں ’فی اللّٰہ‘ کی تعبیر بھی ہے، اس کا ترجمہ ’اللہ کی خاطر‘ ہونا چاہیے۔
(۱) وَجَاہِدُوا فِی اللَّہِ حَقَّ جِہَادِہِ۔ (الحج: 78)
”اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے“۔ (سید مودودی)
”اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا“۔ (احمد رضا خان)
”اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں ’فی سبیل اللّٰہ‘ نہیں بلکہ ’فی اللّٰہ‘ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ’اللہ کی راہ میں‘ کرنے کے بجائے ’اللہ کی خاطر‘ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ زمخشری لکھتے ہیں: فِی اللَّہِ أی فی ذات اللہ ومن أجلہ۔ (تفسیر الکشاف)
درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:
”اور محنت کرو اللہ کے واسطے جو چاہیے اس کی محنت“۔ (شاہ عبدالقادر)
(۲) وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا فِی اللَّہِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۔ (النحل: 41)
”جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں بھی اللہ کے واسطے یا خاطر زیادہ مناسب ہے۔ زمخشری لکھتے ہیں: فِی اللَّہِ: فی حقہ ولوجہہ۔ (تفسیر الکشاف)
”جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور جنھوں نے گھر چھوڑا اللہ کے واسطے بعد اس کے کہ ظلم اٹھایا“۔ (شاہ عبدالقادر)
(۳۳۵) لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ
درج ذیل جملے کے ترجمے ملاحظہ کریں:
لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ۔ (الحج: 28)
”تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں“۔ (سید مودودی)
”کہ پہنچیں اپنے بھلے کی جگہوں پر“۔ (شاہ عبدالقادر)
”تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لیے حاضر ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)
یہاں شھد کا ترجمہ دیکھنا، پہنچنا، اور حاضر یا موجود ہونا کیا گیا ہے، اسی طرح منافع کا ترجمہ فائدے، فائدے کے کام اور فائدے کی جگہیں کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ تجویز کرتے ہیں:
”تاکہ وہ شریک رہیں ان فائدوں میں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں“۔
(جاری)
مطالعہ سنن ابی داود (۵)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: احناف مسجد میں نماز ِ جنازہ کے قائل نہیں ہیں حالانکہ مسجد میں نماز جنازہ کی روایت آتی ہے۔ (کتاب الجنائز، باب الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد، حدیث نمبر ۳۱۸۹)
عمارناصر: احناف کے ہاں تعامل سے بھی حکم اخذ کیا جاتاہے۔ عمومی عمل یہی رہا ہے کہ نماز جنازہ مسجد سے باہر ادا کی جائے۔ عہد نبوی کا جو واقعہ ہے، اس کی مختلف تو جیہات کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ کوئی خاص کیفیت تھی، باہر بارش ہورہی تھی یا کوئی اور وجہ تھی تو اس سے آپ عمومی ضابطہ اخذ نہیں کر سکتے۔
مطیع سید: ایک صحابی نے نذر مانی کہ بیت اللہ کی فتح پر میں بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوں گا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہیں پڑھ لو۔ (کتاب الایمان والنذور، باب من نذر ان یصلی فی بیت المقدس، حدیث نمبر ۳۳۰۵) کیاہم نذرکی ظاہر ی صورت کو چھوڑ سکتے ہیں؟
عمارناصر: جی، بعض صورتوں میں چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ دیکھتےہوئے کہ مقصد کسی مقدس اور عبادت والے مقام پر نماز پڑھنا ہے، آپ نے اس شخص سے کہا کہ اس کے لیے اتنا سفر کرنے کے بجائے یہیں مدینہ میں نماز پڑھ لے۔
مطیع سید: ایک دوست نے کہا کہ مجھ سے ایک گناہ سر زد ہو گیا تو میں نے نیت کی کہ میں تین روزے رکھوں گا، لیکن اب تین روزے بہت مشکل لگ رہے ہیں۔ تو کیا اس کی کوئی اور صورت ہو سکتی ہے؟
عمارناصر:نہیں، مشکل لگنا تو کوئی وجہ نہیں۔ اگر باقاعدہ روزوں کی ہی نیت کی تھی تو پھر رکھنے پڑیں گے۔ زیادہ مشکل لگ رہا ہے تو سردیوں میں رکھ لیں۔
مطیع سید: کان سے نکالے گئے سونے کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں خیر نہیں۔ (کتاب البیوع، باب فی استخراج المعادن، حدیث نمبر ۳۳۲۸) یہ بات نبی ﷺ نے کس مفہوم میں ارشاد فرمائی؟
عمارناصر: اس کا بھی یقیناً کوئی خاص سیاق ہے، ورنہ کان سے سونا نکالنے یا نکالے ہوئے سونے کو استعمال کرنے کی ممانعت تو نہیں۔ شارحین کہتے ہیں کہ شاید کان سے سونا نکالنے کا جو طریقہ یا اس کی جو شرائط وغیرہ اس وقت مروج تھیں، ان میں کوئی خرابی تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھی یا پھر کوئی اور وجہ ہوگی جس کی وجہ سے آپ نے یہ تبصرہ فرمایا۔ واللہ اعلم
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام سے فرمایا کہ جو چیز تمھارے پاس موجود نہ ہو، وہ کسی کو نہ بیچو۔ (کتاب البیوع، ابواب الاجارۃ، باب فی الرجل یبیع ما لیس عندہ، حدیث نمبر ۳۵۰۵) کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چیز ہماری ملکیت میں نہیں ہوتی، لیکن گاہک آتا ہے تو ہم کسی سے چیز لے کر اس کو دے دیتے ہیں۔ تو کیا یہ غلط ہے؟
عمارناصر: نہیں، یہ ٹھیک ہے۔ روایت میں دراصل احتیاط اور سد ذریعہ کے طور پر اس سے منع کیا گیا ہے۔ اصل میں چیز ابھی ملکیت میں نہ ہو تو اس کی فروخت سے بسااوقات تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، خاص طور پر پرانے دور کی منڈی کو اگر ذہن میں رکھیں۔ آپ نے چیز کا سودا کر لیا ہے، لیکن اب وہ بازار میں آپ کو مل نہیں رہی تو اس میں ایک تو وعدہ خلافی ہو جاتی ہے اور دوسرا یہ جھگڑ ے کا سبب بن سکتا ہے۔
مطیع سید: جس نے قرآن کے بارے میں اپنی کوئی رائے دی، وہ اگر ٹھیک بھی ہوئی تو اس نے غلطی کی۔ (کتاب العلم، باب الکلام فی کتاب اللہ بغیر علم، حدیث نمبر ۳۶۵۲) کیا یہ صرف احتیا ط کے پہلو سے ہے؟
عمارناصر: اپنی طرف سے رائے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بات ایسے ہی ذہن میں آگئی اور وہ بیان کر دی گئی۔ اس میں غیر ذمہ داری کا ایک رویہ جھلک رہا ہے۔ بات تکے سے ٹھیک ہو گئی، لیکن بات کہنے والا اہل نہیں تھا یا اس نے پوری طرح غور نہیں کیا تھا یا اس کی کوئی سند اس کے پا س نہیں تھی تو یہ انداز قابل مذمت ہے، چاہے تکا ٹھیک لگ گیا ہو۔
مطیع سید: گھوڑے کے گوشت کو احناف مکروہ قرار دیتے ہیں جبکہ حدیث میں تو اس کی اجازت آئی ہے۔ (کتاب الاطعمۃ، باب فی اکل لحوم الخیل، حدیث نمبر ۳۷۸۸) احناف کی کیا دلیل ہے؟ کیا وہ بھی کسی روایت کی بنیاد پر کر اہت کا حکم لگاتے ہیں؟
عمارناصر: یہ امام ابوحنیفہ کی رائے ہے، امام ابویوسف اور امام محمد اس سے اتفاق نہیں کرتے اور انھی احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کراہت اس پہلو سے کہتے ہیں کہ گھوڑا اصل میں گوشت کھانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ سواری کے لیے ہے۔ آپ اس کو گوشت کھانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں گے تو دوسرا پہلو متاثر ہوگا۔
مطیع سید: تو اس بات کو کیا گدھے پر بھی قیاس کر سکتے ہیں؟
عمارناصر: نہیں، امام ابوحنیفہ اس پر قیاس تو نہیں کرتے۔ البتہ یہ استدلال وہ کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں گھوڑے، گدھے اور خچر کا ذکر سواری کے جانور کے طور پر ہوا ہے۔ وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً (النحل، آیت ۸) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں کا اصل مقصد تخلیق سواری ہے۔
مطیع سید: حضرت جویریہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی بات کی اور ان کے رضامندی ظاہر کرنے پر یہ نکاح ہو گیا۔ (کتاب العتق، باب فی بیع المکاتب اذا فسخت الکتابۃ، حدیث نمبر ۳۹۳۱) یعنی حضرت جویریہ نے خود اپنے نکاح کا معاملہ طے کیا۔ کیا اس روایت سے احناف دلیل لیتے ہیں کہ عورت خود نکاح کر سکتی ہے؟
عمارناصر: یہ واقعہ بھی دلیل بن سکتا ہے، لیکن اس خاص واقعہ کے علاوہ احناف کی ایک توعقلی دلیل ہے کہ لڑکی اگر بالغ ہے تو وہ اپنا فیصلہ کر سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ قرآن مجید نے بھی نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی ہے جس سے لگتا ہے کہ عورت اس معاملے میں خود اختیار رکھتی ہے۔ تو دو دلائل ہیں۔ ایک نقلی دلیل ہے کہ قرآن کی آیات میں نسبتِ نکاح عورت کی طرف کی گئی ہے اور دوسری عقلی دلیل ہے کہ اگر وہ بالغ ہے تو اس نے خود اپنا فیصلہ کرنا ہے۔
مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ ایک غلام کا اگر ایک حصہ آزاد کیا جائے تو اس کو مکمل طور پر آزاد کرنا ضروری ہے (کتاب العتق، باب فی من اعتق نصیبا لہ من مملوک، حدیث نمبر ۳۹۳۳) جبکہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جتنا حصہ آزاد کیا گیا، بس اتنا ہی آزاد ہے، باقی حصے آزاد نہیں ہوں گے۔ (کتاب العتق، باب فی من روی انہ لا یستسعی، حدیث نمبر ۳۹۴۰)
عمارناصر: حدیث کے دیگر طرق میں ا س کی وضاحت موجود ہے۔ اگر ایک غلام کئی افراد کے درمیان مشترک ہے اور ان میں سے ایک مالک اپنا حصہ آزاد کر دے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آزاد کرنے والے کے مال میں گنجائش ہو تو وہ ذمہ دار ہے کہ باقی مالکوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کر کے پورے غلام کو آزاد کر دے۔ لیکن اگر اس کے مال میں گنجائش نہ ہو تو پھر اس کے حصے کا غلام آزاد ہو جائے گا اور باقی مالکوں کی ملکیت باقی رہے گی۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر آزاد کرنے والے کے مال میں گنجائش نہ ہو تو پھر غلام کو موقع دیا جائے گا کہ وہ کہیں سے رقم جمع کر کے اپنے باقی مالکوں کو ادا کر دے اور مکمل آزادی حاصل کر لے۔
مطیع سید: ایک صحابی وفات پا گئے۔ انہوں نے ایک غلام مدبر کیا ہوا تھا، یعنی اس سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی وفات پر وہ آزاد ہو جائے گا۔ آپ ﷺنے اس صحابی کی وفات کے بعد اس غلام کو فروخت فرما دیا۔ (کتاب العتق، باب فی بیع المدبر، حدیث نمبر ۳۹۵۵) ایسا کیوں کیا گیا؟
عمارناصر: اس کی وجہ روایت میں نقل ہوئی ہے کہ مرنے والے کے ذمے قرض تھا، اور غلام کے علاوہ ادائیگی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ ایسی صورت میں قرض داروں کا حق مقدم ہے۔ مرنے والے کی وصیت کو منسوخ کر کے پہلے قرض داروں کا قرض ادا کیا جائے گا۔
مطیع سید: احناف کاموقف یہ ہے کہ مدبر کیے ہوئے غلام کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
عمارناصر: احناف کا یہ موقف غالباً عام حالات میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس غلام کو مالک نے کہہ دیا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو جا ؤ گے تو اس کو بنیادی طورپر آزادی کا پروانہ دے دیا گیا ہے۔ ایسے غلام کو مالک اب فروخت نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر ایسی کوئی خاص صورت حال ہو جیسی اس واقعے میں بیان ہوئی ہے اور مرنے والے کے پاس مدبر کے علاوہ کوئی مال نہ ہو اور ادھر قرض خواہ کھڑے ہوں تو میرے خیال میں احناف شاید اس صورت میں اسے فروخت کرنے پر پابندی نہیں لگاتے۔ اس کی احناف کی فقہی کتب سے تحقیق کر لینی چاہیے۔
مطیع سید: ولد الزنا شرّالثلاثة۔ (کتاب العتق، باب فی عتق ولد الزنا، حدیث نمبر ۳۹۶۳) ولد الزنا اپنے والدین سے بھی بدتر ہے۔ اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے؟
عمارناصر: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ روایت پیش کی گئی تو انہوں نے اس کی توجیہ یہ کی کہ ولد الزنا شر الثلاثة اذا عمل بعمل ابویه۔ یعنی اگر وہ بھی کردار کے لحاظ سے انھی جیسا ہو اور اسی راہ پر چل رہا ہو تو پھر وہ ان دونوں سے بد تر ہے۔
مطیع سید: قرآن حکیم کے حروف کے حوالےسے بہت سی روایات آتی ہیں۔ کچھ صحابی کہتے ہیں کہ ہم ایک لفظ کو زبر سے پڑھتے تھے، کچھ کہتے ہیں کہ زیر سے پڑھتے تھے، جیسے ھیتَ لک اور ھیتُ لک۔ ایک روایت میں قولوا حطة نغفر لکم کی جگہ قولوا حطة تغفر لکم آیا ہے۔ (کتاب الحروف والقراءات، حدیث نمبر ۴۰۰۶) کئی جگہ حرکات میں اور کئی مقامات پر صیغوں میں تبدیلی آتی ہے۔ جب قرآن مجید کو مصحف میں اکٹھا کیا گیا تو اس میں یہ کیسے طے کیا گیا کہ دونوں میں سے یہ حرکت اور یہ صیغہ لیا جائے گا؟
عمارناصر: اس بنیاد پر تو مصحف کو جمع کیا ہی نہیں گیا کہ کسی لفظ کو پڑھا کیسے جائے گا۔ مصحف کو جمع کرنے کی وجہ اور اس کا اصول تو کچھ اور تھا۔ اصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو قرآن سکھایا اور اس کے ساتھ ان کو اجازت دی کہ بہت سے الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔ مثلًا یہ کہ بعینہ ان لفظوں کے علاوہ ملتے جلتے اور ہم معنی لفظ بھی پڑھے جا سکتے تھے جن سے مفہوم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح لہجوں کا اختلاف تھا، اس میں بھی وسعت رکھی گئی۔ بعض مقامات پر ایک لفظ کو غائب یا حاضر کے مختلف صیغوں میں پڑھا جائے تو مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اس کی بھی اجازت دی گئی۔ بعض جگہوں پر لفظوں کی کمی بیشی بھی نظر آتی ہے۔ ایک قراءت میں ایک لفظ موجود ہے، دوسری میں نہیں ہے۔ مشہور مثال ہے: وما خلق الذکر والانثی جو بعض قراءتوں میں یوں ہے: والذکر والانثی۔ بعض جگہ الفاظ کی تقدیم وتاخیر ہے۔ جیسے معروف قراءت میں ہے: اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح جبکہ ایک قراءت میں ہے : اذا جاء فتح اللّٰہ والنصر۔ اس طرح کے مختلف طریقوں سے قرآن کو پڑھنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ پابندی عائد کر دی جاتی کہ قرآن کو بالکل اسی طریقے پر پڑھا جائے جو سکھایا گیا ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی کمی بیشی نہ ہوتو بہت بڑی مشکل پیدا ہو جاتی۔ خاص طور پر عام لوگ جو زیادہ تر امی تھے اور پڑھے لکھے نہیں تھے، اس معاملے میں بہت حساس ہو جاتے اور غلطی کے خوف سے قرآن کی تلاوت کی طرف راغب ہونے کے بجائے اس سے گریز کرنے لگتے۔ ان سب مصلحتوں سے قراءت میں مختلف نوعیت کے اختلاف کی اجازت دے دی گئی۔ اجازت کی نوعیت بھی ایک طرح کی نہیں تھی۔ بعض جگہ آپ ﷺ خود ایک سے زیادہ طریقوں سے پڑھنا سکھا دیتے تھے۔ بعض جگہوں پر ایسے معلوم ہو تا ہے کہ صحابہ نے وسعت کو دیکھتے ہوئے اجتہادا ًبھی کچھ قراءتیں اختیار کرلیں۔ اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ گویا اس معاملے میں خاصی لچک تھی۔
حضرت عثمان کے دور میں جب بعض علاقوں میں ایسے اختلافات سے جھگڑے پیدا ہونا شروع ہو گئے اور لوگوں نے ایک دوسرے کی تکفیر شروع کر دی تو اس کی کو شش کی گئی کہ ان اختلافات کو بڑھنے سے روکا جائے اور جتنا ممکن ہو، ان کو محدود کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک غلط فہمی عام طور پر پائی جاتی ہے اور علوم القرآن کے ماہرین یہ مفروضہ نقل کر دیتے ہیں کہ حضرت عثمان نے جو نسخے مرتب کروائے تھے، ان میں قراء ت کے ہر طرح کے اختلاف کو متن میں سمو دینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور عقلاً بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ جہاں اعراب کا اختلاف ہے یا ایک لفظ کے صیغے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن وہ لکھا ایک ہی طرح سے جاتا ہے، ایسے اختلافات کو کیسے متن میں واضح کیا جا سکتا تھا۔ یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کچھ لوگوں کی قراءت میں بعض منسوخ آیات شامل تھیں تو انھیں مصحف میں شامل نہ کر کے ان کی تلاوت واشاعت کا راستہ روک دیا گیا۔ اسی طرح الفاظ کی کمی بیشی یا تقدیم وتاخیر پر جو اختلافات مبنی تھے، وہ بھی مصحف کے مدون کرنے جانے سے خارج ہو گئے۔ لیکن کسی لفظ کو پڑھنے کے جو مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، ان کو ختم کرنا یا محدود کرنا مصحف عثمانی کے ذریعے سے ممکن نہیں تھا اور نہ یہ اس کا مقصد تھا۔
کسی لفظ کی قراءت جن جن طریقوں سے ہو سکتی ہے، وہ زبانی ہی نقل ہو رہے تھے اور مصحف کی تدوین کے بعد بھی نقل ہوتے رہے۔ قرآن بنیادی طور پر زبانی نقل ہواہے اور اس کی قراءتیں بھی زبانی ہی نقل ہوئی ہیں۔ چنانچہ جن قراء توں کو حضرت عثمان نے متن میں شامل نہیں کیا تھا، ان کی تلاوت بھی کلیتاً فوری طور پر موقوف نہیں ہو گئی۔ لوگ ان کے مطابق بھی پڑھتے رہے اور لوگوں کو سکھاتے بھی رہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت تو معروف ہے جو ایک زمانے تک کوفہ میں رائج رہی اور ان کے شاگردوں کے حلقے میں اس کو مصحف عثمانی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ بعد میں پھر جب ان قراءتوں کو کتابوں میں مدون کیاگیا تو عمومی طور پر اس چیز کو ایک معیار کے طور پر قبول کر لیا گیا کہ مصحف عثمانی کا متن جن قراءتوں کی گنجائش اپنے اندر نہیں رکھتا، انھیں متفق علیہ اور معیاری قراءت شمار نہ کیا جائے، بلکہ شاذ قراءت کے زمرے میں رکھا جائے۔
مطیع سید: پھرکس دور میں یہ چیزیں کیسے طے ہوگئیں؟
عمارناصر: جیسے ہی علم قراءت مدون ہونا شروع ہوا تو رفتہ رفتہ قراءتوں کی زمرہ بندی ہونا شروع ہوگئی۔ کچھ قراءتوں کو مستند قرار دے دیا گیا اور اس کے لیے یہ معیار بنا یا گیا کہ وہ مصحف کے مطابق ہو، عربی قواعد کے مطابق ہو، اور اس کی سند موجود ہو۔ اس کے مطابق قراءتوں کی چھانٹی کرکے کچھ کو مستند قرار دے دیا گیا اور کچھ شاذ قرار پائیں۔ اس عمل کو مکمل ہوتے ہوئے تقریباً دو تین سو سال لگے ہیں اور اس میں بھی اہم اختلافات موجود رہے ہیں۔
مطیع سید: کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسے الفاظ بولے ہیں کہ ان میں قراءت کے اختلاف کی گنجائش پیدا ہو جائے؟
عمارناصر: علم القراءت میں اس پر کافی بحث ہے۔ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ جتنے مختلف طریقے ہیں، یہ سارے اللہ کی طرف سے اتارے گئے تھےاور رسول اللہ ﷺ نے خود ان کی تعلیم دی تھی۔ لیکن بعض کہتے ہیں کہ لوگوں کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ بعض حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے جیسے سہولت ہو، قراءت کر لیا کریں۔ بہرحال علمائے قراء ت نے جو معیار وضع کیا کہ کوئی بھی قراءت تبھی مستند شمار ہو گی جب اس کی سند موجود ہو تو اس کی بنیادپر آپ کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی مختلف قراءتیں علمائے قراءت کے ہاں متداول ہیں، ان کی سند اگر صحابی تک پہنچتی ہے تو قرین قیاس ہے کہ صحابی نے وہ نبی ﷺ سے سیکھی ہوگی۔
مطیع سید : سونے کی انگو ٹھی کی ممانعت اور چاندی کی اجازت توسمجھ میں آتی ہے، یہ لوہے کی انگوٹھی کی ممانعت کس پہلو سے ہے؟ (کتاب الخاتم، باب ما جاء فی خاتم الحدید، حدیث نمبر ۴۲۲۳)
عمارناصر: اس کی وجہ حدیث میں ہی یہ بتائی گئی ہے کہ لوہا جہنمیوں کا زیور ہے۔ مطلب یہ کہ اہل جہنم کو لوہے کے طوقوں اور زنجیروں میں جکڑا جائے گا، اس مشابہت کی بنیاد پر لوہے کی انگوٹھی نہ پہنی چاہیے۔ یہ ممانعت اسی ایک روایت میں آئی ہے اور اس کی سند میں بھی کچھ ضعف ہے۔ بہرحال زیادہ تر فقہاء اس کی روشنی میں اس کو حرام قرار دیتے ہیں، لیکن بعض فقہاء کے نزدیک اس کی ممانعت نہیں ہے۔ وہ ایک دوسری حدیث سے اخذ کرتے ہیں کہ لوہے کی انگوٹھی پہننا جائز ہے۔
مطیع سید: مجدد کے بارے میں روایات آتی ہیں (کتاب الملاحم، باب ما یذکر فی قرن المائۃ، حدیث نمبر ۴۲۹۱) تو ہمیں اس کا کیسے اندازہ ہو گا کہ کوئی شخص مجدد ہے؟ کیا وہ خودبتاتا ہے یا اس کے کام سے ہمیں معلوم ہوگا یا امت اس کے مجدد ہونے کا فیصلہ کر تی ہے؟
عمارناصر: لوگ اس کو ایسے سمجھتے ہیں جیسے یہ کوئی منصب ہے جس پر کسی کو فائز کیاجاتا ہے۔ اصل میں یہ امت میں دین کو زندہ رکھنے کا ایک انتظام ہے، کوئی منصب نہیں ہے جس پر کوئی فائز ہو۔ اور یہ کام اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت مختلف لوگوں سے لیتے ہیں۔ کسی سے جزواً اور کسی سے زیادہ وسیع پیمانے پر لیتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کو بتایا جائے کہ تم مجدد ہو اور وہ اس کا اعلا ن کرے۔ اگر اس کا کام دین کے اس وقت کے تقاضے کو پورا کر رہا ہے تو اسی سے اندازہ ہو جائے گا۔ فرض کریں کسی کو نہ پتہ چلے، تب بھی کام تو اس نے کر دیا اور جو مقصد تھا، وہ پورا ہوگیا۔ دین کے احیا ء اور تجدید کی جو ضرورت تھی، وہ اس نے پوری کر دی اور اللہ کے ہاں اجر کا حقدار بن گیا۔
مطیع سید: روایت کے الفاظ سے تو بظاہر کوئی ایک شخص سمجھ میں آتا ہے۔
عمارناصر: نہیں، حدیث کے الفاظ ہیں: من یجدد لھا دینھا۔ فصیح عربی میں من واحد کے لیے خاص نہیں، جماعت کے لیے بھی بالکل عام ہے۔
مطیع سید: آج کل جو زلزلے وغیرہ آتے ہیں، کیا ان کو عذاب کہہ سکتے ہیں یا آزمائش کہیں گے؟
عمارناصر: اس میں کئی پہلو ہوتے ہیں۔ تنبیہ بھی ہے، عذاب بھی ہے اور بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کے لیے آخرت کی سزا سے کفارے کی بھی صورت ہے۔
مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کے خروج کے واقعات چھ ماہ کے اندر اندر رونما ہو جائیں گے۔ (کتاب الملاحم، باب فی تواتر الملاحم، حدیث نمبر ۴۲۹۵) ایسا ہوا تو نہیں۔
عمارناصر: یہ مشکل روایت ہے۔ قسطنطنیہ کی فتح تو کب کی واقع ہو چکی ہے، لیکن دجال کاخروج نہیں ہوا۔
مطیع سید: کیا اس روایت کے الفاظ میں کچھ فر ق آگیا ہے یا سند وغیرہ کا مسئلہ ہے؟
عمارناصر: میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ پیشین گوئیاں بہت الجھی ہوئی ہیں، ان میں راویوں کے قیاسات بہت مل گئے ہیں۔ ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا کافی مشکل ہے۔ اس خاص روایت کی سند میں بھی کچھ مسائل ہیں۔
مطیع سید: یہ بھی آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت کو بیک وقت آپس میں اور دشمن سے لڑنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ (کتاب الملاحم، باب ارتفاع الفتنۃ فی الملاحم، حدیث نمبر ۴۳۰۱) مجھے لگتا ہے کہ کئی موقعوں پر تاریخ میں ایسے ہوا ہے۔
عمارناصر: اس پیشین گوئی کو اگر محدود تناظر میں لیا جائے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک خاص عر صے کی بات ہو رہی ہے جس سے زیادہ تر پیشین گوئیوں کا تعلق ہے تو پھر یہ قابل فہم ہے۔ اس خاص دور سے متعلق اپنی امت کے لیے آپ نے کئی دعائیں بھی فرمائیں جن میں سے ایک یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بیک وقت دو آزمائشوں میں نہ پڑیں کہ آپس میں بھی لڑ رہے ہوں اور دشمن بھی حملہ آور ہو جائے۔
مطیع سید: ایک حدیث میں بصرہ کا ذکر آیا ہے۔ (کتاب الملاحم، باب فی ذکر البصرۃ، حدیث نمبر ۴۳۰۶) یہ شہر تو غالباً نبی ﷺ کےبعد حضرت عمر نے آباد کیا تھا تو روایت میں اس کا نام کیسے آ گیا؟
عمارناصر: روایت میں بھی پیشین گوئی کے طور پر ہی ذکر ہے کہ میری امت کے لوگ اس نام کا ایک شہر بسائیں گے یا اس شہر میں اتریں گے۔ تو پیشین گوئی میں تو آنے والے وقت کے کسی واقعے کا ذکر ہو سکتا ہے۔
مطیع سید: بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جس کا ہاتھ چوری کے جرم میں نبیﷺ نے کاٹ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں سے امانتاً چیزیں لیتی تھی اور پھر لے کر مکر جاتی تھی۔ (کتاب الحدود، باب فی القطع فی العور اذا جحدت، حدیث نمبر ۴۳۹۵) لیکن احناف کہتے ہیں کہ یہ عمل چوری کے زمرے میں نہیں آتا۔
عمارناصر: اجتہادی مسائل میں روایات کی تاویل وتوجیہ کی کافی گنجائش ہوتی ہے، مثلاً اس روایت سے متعلق احناف کہتے ہیں کہ امانتاً چیزیں لے کر مکر جانے کا ذکر اس عورت کے تعارف کے طور پر کیا گیا ہے، نہ کہ اس کے ہاتھ کاٹنے کی وجہ کے طور پر۔ ہاتھ اس لیے کاٹا گیا کہ اس نے عام مفہوم میں باقاعدہ چوری کی تھی۔ بہرحال جمہور محدثین اس روایت کو ظاہر پر لیتے ہیں جو مجھے تو صحیح لگتا ہے۔ احناف کی نظر بعض دفعہ قاعدے قیاس پر زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے جس سے حکم کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔
مطیع سید: ایک موقع پر آپﷺ نے قتل کے ایک معاملے میں فرمایا کہ اگر مدعی قصاص معاف نہیں کر ےگا تو وہ قاتل و مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر لے کر جہنم میں چلا جا ئے گا۔ (کتاب الدیات، باب الامام یامر بالعفو فی الدم، حدیث نمبر ۴۴۹۸) حالانکہ قصاص معاف کرنا یا نہ کرنا تو آدمی کا اختیار ہو تا ہے۔
عمارناصر: اس واقعے کی تفصیل صحیح مسلم وغیرہ میں آئی ہے۔ صورت یہ تھی کہ دو آدمی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے کے لیے گئے اور کسی بات پر توتکار ہوئی جس پر ایک نے دوسرے کے سر پر کلہاڑا دے مارا اور وہ مر گیا۔ مقتول کا بھائی قاتل کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے آیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے جان بوجھ کراس کو قتل کیا ہے، جبکہ قاتل کا کہنا تھاکہ مجھ سے حالت اشتعال میں یہ گناہ سرزد ہواہے، میرا قتل کرنے کا قصد نہیں تھا۔ قرائن بظاہر ایسے تھے کہ اس کی بات ٹھیک لگ رہی تھی، لیکن مدعی قصاص لینے پر مصر تھا اور ظاہر ہے، اس کے بھی جذبات تھے۔ جذبات میں مدعی انتقام کے لیے بہت پرجوش ہو جاتا ہے۔ تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکیمانہ انداز اختیار فرمایا کہ مدعی سے کہا کہ اچھا بھائی، یہ تمھارے حوالے ہے، تم اس سے قصاص لے لو۔ جب وہ اس کو لے کر جانے لگا تو ساتھ ہی یہ تبصرہ کر دیا کہ اگر قاتل کی بات ٹھیک ہے کہ اس نے قصداً قتل نہیں کیا تو پھر قصاص لینے والا دونوں مقتولوں کے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔ یہ گویا مدعی کو متنبہ کرنے کے لیے تھا کہ ایسے معاملے میں احتیاط سے کام لیتے ہوئے معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ تو یہ بات سمجھانے کا ایک اسلوب تھا جو موثر ثابت ہوا اور مدعی نے یہ بات سن کر قاتل کو چھوڑ دیا۔
مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ تبع لعین تھا یا نہیں اور میں نہیں جانتا کہ عزیر نبی تھے یا نہیں۔ (کتاب السنۃ، باب فی التخییر بین الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، حدیث نمبر ۴۶۷۴) اس کا کیا مطلب ہے؟ حضرت عزیر کا ذکر تو قرآن مجید میں بھی ہے۔
عمارناصر: تبع کے بارے میں سیرت ابن ہشام میں کافی تفصیل موجود ہے۔ یہ زمانہ جاہلیت میں یمن میں قوم سبا کے بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا۔ قرآن میں ذکر ہے کہ اس قوم پر ان کے اعمال کی وجہ سے ہلاکت آئی۔ تبع کئی بادشاہوں کا لقب تھا۔ ان میں سے ایک کے متعلق آتا ہے کہ اس نے یہودیت قبول کر لی تھی اور اس کے زیر اثر یمن میں یہودی مذہب عام ہو گیا تھا۔ اس روایت میں غالباً اسی کا ذکر ہے کہ اس کے دین اور عقیدے کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں۔ شارحین کہتے ہیں کہ بعض دیگر احادیث میں ہے کہ تبع نے اسلام قبول کر لیا تھا، اس لیے اس کو برا مت کہا کرو۔ اگر یہ روایات صحیح ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ لاعلمی کی بات آپﷺ نے اس وقت فرمائی ہوگی جب آپ کو اس کے بارے میں ابھی وحی سے معلومات نہیں ملی تھیں۔ حضرت عزیر کا قرآن میں ذکر تو ہے، لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے ایک برگزیدہ بندے تھے، تاہم ان کے نبی ہونے کی کوئی واضح اور قطعی دلیل قرآن میں نہیں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس حوالے سے کوئی حتمی بات وحی میں نہیں بتائی گئی تھی۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مخاطب کر کے ناقصات عقل و دین کے الفاظ ارشاد فرمائے۔ (کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، حدیث نمبر ۴۶۷۹)
عمارناصر: اس کی وضاحت حدیث میں ہی موجود ہے۔ عقل کے لحاظ سے ان کو اس پہلو سے کم تر کہا گیا کہ بیشتر دنیوی امور میں ان کو تجربہ اور ممارست نہیں ہوتی اور ان معاملات میں تنہا عورتوں پر ویسے ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی جیسے مردوں پر ڈالی جا سکتی ہے۔ مثلاً مالی لین دین کے معاملات میں گواہ بننا اور معاملے کی تفصیلات وغیرہ کو ٹھیک طریقے سے یاد رکھنا۔ دین کے لحاظ سے ان کے ساتھ ایسی خلقی کمزوریاں لگی ہوئی ہیں کہ فرائض دین کی ادائیگی میں بھی انھیں مردوں کے مقابلے میں کچھ رعایتیں دینی پڑتی ہیں اور بہت سی دینی ذمہ داریوں کا ان کو مردوں کی طرح مکلف بھی نہیں ٹھہرایا گیا۔
مطیع سید: ایک چیز محسوس ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والے جو گمراہ فرقے تھے، آپﷺنے عموماً ان کا نام نہیں لیا۔ لیکن ایک روایت میں قدریہ کا نام لے کر فرمایا کہ قدریہ اس امت کے مجوس ہیں۔ (کتاب السنۃ، باب فی القدر، حدیث نمبر ۴۶۹۱)
عمارناصر: مجھے بھی اس روایت کے بارے میں تردد ہے کہ یہ شاید بعد میں کسی نے وضع کی ہے۔
مطیع سید: ان کے متعلق یہ بھی ہے کہ یہ دجال کا گروہ ہو گا، ان کی عیاد ت نہ کرو اور ان کا جنازہ نہ پڑھو۔ (کتاب السنۃ، باب فی القدر، حدیث نمبر ۴۶۹۲) سوال یہ پیداہوتا ہے کہ یہ دجال کا گروہ ہوگا تو ان کی نماز جنازہ کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا، تو یہ کس بات سے منع کیاگیا ہے؟
عمارناصر: مراد یہ ہے کہ ان کا تعلق دجال ہی کے سلسلے سے ہوگا۔ یعنی دجال کے ظہور سے پہلے یہ اسی زمرے کے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوں گے۔
مطیع سید: انصارکا ایک بچہ جنازے کے لیے لایا گیا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہے کہ اس بچے کے لیے خوشخبری ہے کہ نہ اس نے کوئی گناہ کیا اور نہ وہ گناہ کو جانتا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ عائشہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ نے جنت اور جہنم کو بنایا اور ان کے لیے لوگ بھی پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔ (کتاب السنۃ، باب فی ذراری المشرکین، حدیث نمبر ۴۷۱۳) یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔
عمارناصر: اس سوال سے متعلق حدیثوں میں اختلاف ہے۔ بعض میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو مشرکین ہوئے، ان کی اولاد کا بھی وہی حکم ہے جو خود ان مشرکین کا ہے۔ اگر یہ اصول ہے تو اس میں اشکالات بہت زیادہ ہیں، لیکن یہ روایت اسی کے مطابق ہے۔ بعض دوسری روایات میں ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ کچھ اور روایات میں یہ آیا ہے کہ ایسے نابالغ بچوں کو قیامت کے دن آزمایا جائے گا کہ وہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں اور اس آزمائش کے مطابق ان کے انجام کافیصلہ کیا جائے گا۔ اب کیا حقیقت حال ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مطیع سید: ایک ہیجڑا ازواج مطہرات کے پاس اور عام مسلمانوں کے گھروں میں آتا جاتاتھا۔ اس کی کسی بات کی وجہ سے آپ ﷺنے اسے علاقہ بدر کر دیا۔ کسی نے کہا کہ اس کو قتل کیوں نہ کر دیا جائے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ نہیں، وہ نماز پڑھتا ہے۔ (کتاب الادب، باب فی الحکم فی المخنثین، حدیث نمبر ۴۹۲۸) کیا وہ اگر نماز نہ پڑھتا ہوتا تو اسے قتل کر دیا جاتا؟
عمارناصر: نہیں، آپﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جب وہ مسلمان ہے تو اسے کیوں قتل کیا جائے؟ یہ کسی قانون کا بیان نہیں، بلکہ سوال کرنے والے کے سوال میں جو عجلت اور ناسمجھی ہے، اس پر متنبہ کرنے کا ایک انداز ہے۔
مطیع سید: آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کے مختلف حصوں میں سے اب صرف سچا خواب باقی رہ گیا ہے۔ (کتاب الادب، باب ما جاء فی الرویا، حدیث نمبر ۵۰۱۷) پھر یہ کشف، الہام، القا وغیر کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جس کا ذکر صوفیہ کرتے ہیں؟
عمارناصر: بعض اہل علم مثلاً غامدی صاحب اس کو بہت اطلاق پر رکھتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ اب ختم نبوت کے بعد غیب سے کسی خبر یا اشارے کا امکان بس اچھے خواب کی صورت میں ہی باقی رہ گیا ہے۔ صوفیہ جو باقی چیزیں بیان کرتے ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بظاہر الفاظ اس کی تائید کرتے ہیں، لیکن اصل میں حدیث کا جو اسلوب ہے، اس پر اگر آپ غور کریں تو اس سے ایسا کوئی کلی ضابطہ اخذ نہیں ہوتا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے مبشرات کا ذکر کیا اور اس کی مثال کے طورپر ایک چیز یعنی خواب کا ذکر کر دیا۔ تو اس سے اسی نوعیت کی جو کچھ دوسری چیزیں ہیں، ان کی نفی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ وہ بھی اس کے تحت آجاتی ہیں۔ اگر یہ مفہوم مراد لیا جائے تو یہ حدیث کے الفاظ کے خلاف نہیں ہوگا۔
مثلاً حدیث جبریل میں آپ ﷺ نے واضح کیا کہ احسان کیا ہے؟ تو احسان تو ایک عمومی چیزہے، کسی عمل کے کرنے کے ایک رویے کا نام ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت اس کیفیت میں کریں کہ گویا اس کو سامنے دیکھ رہے ہیں۔ اب یہ ایک پہلو ہے جو مثال کے طورپر آپ نے بیان کردیا۔ یہ مراد نہیں کہ احسان کا تعلق اسی خاص معاملے اور اسی خاص صورت سے ہے۔ اسی اسلوب کو اگر اس روایت پر منطبق کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ نوعیت کے لحاظ سے نبوت کے اجزا میں سے مبشرات ہی رہ گئی ہیں۔ مبشرات وہ ہوتی ہیں جن میں انسان کو غیب کی کوئی خبر دے دی جائے۔ اس کی ایک شکل رویا صالحہ ہے اور باقی صورتیں بھی اسی نوعیت کی ہیں۔ اس کے علاوہ نبوت کے دوسرے بنیادی خصائص مثلاً منصب یا معجزات وغیرہ دیا جانا، وہ ختم کر دیے گئے ہیں۔
مطیع سید: آپﷺنے کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونے سے منع فرمایا، (کتاب الادب، باب فی قیام الرجل للرجل، حدیث نمبر ۵۲۳۰) لیکن ایک موقع پر حضرت سعد بن معا ذ کے متعلق فرمایا کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
عمارناصر: آپﷺ نے اصل میں اپنے لیے اس پروٹوکول سے منع فرمایا۔ آپﷺ اپنے لیے اس کو پسند نہیں فرماتے تھے، لیکن دوسروں کے متعلق منع نہیں کیا۔ حضرت سعد والا واقعہ ویسے اس مسئلے سے متعلق نہیں ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زخمی تھے اور انہیں سواری پر لایاگیا تو آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اٹھ کر ان کو سہارا دو اور اترنے میں ان کی مدد کرو۔
مطیع سید: جس نے بیری کا درخت کاٹا، اللہ اس کے سر کو دوزخ میں ڈال دے۔ (کتاب الادب، باب فی قطع السدر، حدیث نمبر ۵۲۳۹)
عمارناصر: عرب کے ریگزار میں بیری کے درخت سایے کا کام دیتے ہیں۔ تو کوئی آدمی بلا ضرورت فائدہ عامہ کی چیز کو کاٹ دے، اس پر وعید کی گئی ہے۔
مطیع سید: گھروں میں سانپ وغیرہ پائے جاتے ہوں تو ان کے بارے میں آپﷺ نے حکم فرمایا کہ ان کو تین دفعہ ڈراو اور پھر اس کے بعد بھی دکھائی دیں تو انھیں مار دو۔ (کتاب الادب، باب فی قتل الحیات، حدیث نمبر ۵۲۵۶) یہ شاید ان کے جنات ہونے کی وجہ سے فرمایا؟
عمارناصر: جی، اسی وجہ سے فرمایا۔ مراد یہ ہے کہ گھروں میں جو چھوٹے سانپ وغیرہ ہوتے ہیں، ان کو مارنے سے پہلے ان کو وارننگ دے دو۔ ممکن ہے، وہ جنات ہوں۔ اگر وارننگ کے بعد بھی گھر میں دکھائی دیں تو پھر ان کو مار سکتے ہو۔
مطیع سید: تو کیا جو گھروں سے باہر سانپ رہتے ہیں، ان کے جنات ہونے کا امکان نہیں ہوتا؟
عمارناصر: امکان تو ان کے متعلق بھی ہے، لیکن ماحول سے تھوڑا سا فرق پڑ جاتا ہے۔ اصل میں تو سانپ کے بارے میں آپ کو تجربے سے پتہ ہوتا ہے کہ یہ موذی چیز ہے تو خطرہ محسوس ہونے پر اس کو آپ مار سکتے ہیں۔ جو گھروں میں رہ رہے ہیں اور گھر کے ماحول کا حصہ ہیں، ان کے بارے میں بھی یہی حکم ہے، بس ایک گونہ احتیاط بتائی گئی ہے کہ ان سے آپ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو مارنے سے پہلے ان کو وارننگ دے دیں۔
مطیع سید: مباہلہ جس طرح نبی ﷺ کےدور میں تھا، کیا آج بھی اسی طرح کیا جا سکتا ہے؟
عمارناصر: محدثین ذکر تو کرتے ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں تھا اور آپ کے بعد آپ کی امت بھی ضرورت پڑنے پر مباہلہ کا طریقہ اختیار کر سکتی ہے، لیکن ہماری تاریخ میں صحابہ کے ہاں یا بعد کے دور میں اس کا کوئی خاص ذکر نہیں ملتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کو اللہ تعالیٰ نے جو خاص آیات ِبینات دی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ علامہ انور شاہؒ نے فیض الباری میں نقل کیا ہے کہ جب مرزا قادیانی کے دور میں یہ مباہلوں وغیرہ کا سلسلہ شروع ہو ا تو شیخ الہند مولانا محمود حسن اس پر سخت ناراض ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو تو اللہ کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی اور آپ نے اس ہدایت پر نصاریٰ کو مباہلے کی دعوت دی تھی اور آپ ﷺ اگر ان کے خلاف دعا کر تے تو وہ اللہ کی طرف سے قبول ہو جانی تھی، لیکن اللہ کا عام قاعدہ یہ نہیں ہے۔ عام قاعدہ تو حق وباطل کے التباس اور آزمائش کاہے۔ شیخ الہند نے کہا کہ خدانخواستہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی آزمائش کے لیے اس مباہلے میں مرزا غلام احمد کو کامیاب کردیتےتو اس سے جن لوگوں کا ایمان جاتا، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی؟ مولانا مودودی کے بعض مکاتیب میں بھی اسی طرح کی رائے ملتی ہے۔
مطیع سید: میرے ذہن میں بھی یہ الجھن تھی کہ اس طرح تو مباہلہ ہمارے ہاتھ میں حق و باطل میں فرق کا ایک یقینی پیمانہ بن جاتا ہے اور آزمائش کی ساری خدائی سکیم بے معنی ہو جاتی ہے۔
عمارناصر: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بنایا ہی نہیں۔
(مکمل)
وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے چند گذارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ملک میں حکومت تبدیل ہو گئی ہے اور جن مراحل سے یہ عمل گزرا ہے بلکہ ابھی گزر رہا ہے اس سے ہمارے اس معاشرتی مزاج کا ایک بار پھر اظہار ہوا ہے کہ ملک میں کوئی کام ہماری مرضی کے مطابق ہو رہا ہو تو وہ ہمارے خیال میں دستور کا تقاضہ بھی ہوتا ہے، شریعت کا حکم بھی ہوتا ہے، ملکی مفاد بھی اسی سے وابستہ ہوتا ہے، اور قومی سلامتی کا راستہ بھی وہی قرار پاتا ہے۔ لیکن وہی کام اگر ہمارے ایجنڈے، اہداف اور نقطۂ نظر سے ہم آہنگ نہیں ہے تو اس سے سازش کی بو آنے لگتی ہے، قومی وحدت خطرے میں پڑ جاتی ہے، ملکی سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے، اور دستور و قانون کے تقاضے پامال ہوتے نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ عمومی مزاج ہمارے معاشرتی ماحول میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ اس سے ہٹ کر کسی اور لہجے میں سیاسی بات کرنے سے زبانیں ناآشنا ہو چکی ہیں۔
ہمارا سیاسی ماحول قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی بیرونی مداخلت کا شکار چلا آ رہا ہے جس کا آغاز پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کے دور میں ہو گیا تھا کہ ان کی بیرون ملک سرگرمیاں اور ان کے ذریعے غیر ملکی دخل اندازی کا تسلسل ان کی برطرفی کے لیے ایک عوامی تحریک پر منتج ہوا تھا، اور تب سے ہم کسی تعطل کے بغیر سیاسی، معاشی اور تہذیبی ہر سطح پر بیرونی سازشوں کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ سازشیں کامیاب بھی ہوتی ہیں اور ناکام بھی۔ بعض سازشیں بے نقاب ہو جاتی ہیں جبکہ بہت سی مخفی رہ کر اپنے مخصوص دائروں میں کام کرتی رہتی ہیں۔ یہ کھیل جاری ہے اور جب تک ہم بحیثیت قوم دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کے حقیقی ماحول کی طرف نہیں آتے یہ سب کچھ اسی طرح جاری رہے گا، ایک دوسرے پر الزامات بھی لگتے رہیں گے، بلیک میلنگ بھی ہوتی رہے گی اور سیاسی خلفشار بار بار جنم لیتے رہیں گے کیونکہ ملک کو خودمختاری، سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور تہذیبی شناخت سے محروم کرنے والوں کا یہ ہتھیار ہمیشہ کارگر رہا ہے۔
اس تناظر میں موجودہ خلفشار اور سیاسی رسہ کشی کے واقعاتی پہلوؤں سے قطع نظر نئی حکومت بالخصوص وزیراعظم میاں شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے معروضی تقاضوں کے حوالے سے ہم کچھ گزارشات پیش کرنا چاہیں گے، اس امید کے ساتھ کہ وہ ان پر غور فرمائیں گے اور قومی پالیسی کے امور طے کرتے ہوئے ملک کے ایک بڑے طبقہ کی ان خواہشات کو بھی سامنے رکھیں گے:
- پہلی بات یہ ہے کہ ملک میں موجودہ تبدیلی اور نئی حکومت کا قیام بہرحال دستوری طریقہ کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے اور عدلیہ کی نگرانی میں ہوا ہے اور اس کی تکمیل کے مراحل اسی دائرہ میں طے پا رہے ہیں، جس میں دیگر ریاستی اور قومی اداروں کا مجموعی تعاون بھی جھلک رہا ہے جو بہرحال خوش آئند ہے۔ ہمارے خیال میں ملک کو دستور و قانون کے ٹریک پر رکھنے کا یہی طریقہ درست اور ضروری ہے۔ وزیراعظم سے گزارش ہے کہ ان کی حکومت جن مذکورہ ذرائع سے تشکیل پائی ہے اس ٹریک کو مضبوط کرنے اور اس کے تسلسل کو قومی مزاج کا حصہ بنانے کے لیے موثر عملی اقدامات کریں کہ اسی سے ملکی مفاد وابستہ ہے۔
- دوسری بات یہ ہے کہ قائد اعظم مرحوم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر واضح طور پر کہا تھا کہ ہماری معیشت مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات پر استوار ہو گی، جو بدقسمتی سے ابھی تک نہیں ہو سکی۔ اور اس سلسلہ میں دستور کی واضح ہدایت اور عدالتِ عظمٰی کا دوٹوک فیصلہ بھی ہمیں اسلامی معیشت کے ٹریک پر لانے میں کامیاب نہیں ہوا اور ہم بدستور عدالتی اپیلوں اور کیسوں کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں تازہ معلومات کے مطابق وفاقی شرعی عدالت دو عشروں سے چلنے والے کیس پر سماعت مکمل کر کے ملک میں رائج سودی قوانین کے مستقبل کے بارے میں آئندہ دو چار روز میں کوئی حتمی فیصلہ سنانے والی ہے۔ وزیراعظم محترم سے ہماری درخواست ہے کہ اگر یہ فیصلہ دستورِ پاکستان، شرعی احکام اور عدالتِ عظمٰی کے سابقہ فیصلوں کی بنیاد پر قومی امنگوں کے مطابق سامنے آیا تو اسے قبول کر لیا جائے اور پھر سے اپیلوں کے چکر میں نہ پڑا جائے۔ یقیناً نظام کے تسلسل کے حوالہ سے مسائل پیش آئیں گے، انہیں فیصلہ کو نظر انداز کر کے اور اپیلوں کے چکر میں پڑ کر حل کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ ان عملی مسائل کے حل کے لیے شریعت اور معیشت کے ماہرین اور دنیا کے دیگر ملکوں میں غیر سودی معیشت کا تجربہ کرنے والے اداروں کی مشاورت و تعاون سے حل کرنے کا راستہ نکالا جائے، اس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوں گے اور قوم بھی مطمئن ہو گی کہ ہم نے اس دلدل سے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
- تیسری گزارش ہمارے نزدیک یہ ضروری ہے کہ آئی ایم ایف، سیڈا، فیٹف اور دیگر بیرونی اداروں کے کہنے پر ہم نے آنکھیں بند کر کے ان کے بھیجے ہوئے کچھ قوانین منظور و نافذ کر رکھے ہیں جس میں (۱) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نگرانی آئی ایم ایف کے سپرد کر دینے کا عمل، (۲) مذہبی اوقاف کا قانون اور (۳) خاندانی نظام و قوانین میں ردوبدل کا ایکٹ سرفہرست ہیں۔ ان پر نظرثانی کا اصولی اعلان تو فوری طور پر کیا جائے جبکہ نظرثانی کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے دستوری اداروں کے ساتھ ساتھ متعلقہ علمی و فکری حلقوں کو اعتماد میں لے کر عملی طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔
- جبکہ چوتھی گزارش یہ ہے کہ کشمیر، فلسطین اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کا مضبوط ردعمل اور کردار سامنے آنا ضروری ہے جس کے لیے امارتِ اسلامی افغانستان کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور عالمِ اسلام کے اِن مسائل پر عالمی رائے عامہ بالخصوص مسلم امہ کو بیدار کرنے کی عالمی مہم کو ازسرنو منظم کیا جائے۔
عدالتی فیصلوں پر شرعی تحفظات کا اظہار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
وراثت کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی طرف ہم نے ملک کے اصحابِ علم کو ایک مراسلہ میں توجہ دلائی تھی جس پر علماء کرام کے ایک گروپ ’’لجنۃ العلماء للافتاء‘‘ نے فتوٰی کی صورت میں اظہار خیال کیا ہے اور اس پر مولانا عبد الستار حماد، مولانا عبد الحلیمم بلال، مولانا جاوید اقبال سیالکوٹی، مولانا عبد الرحمٰن یوسف مدنی، مولانا سعید مجتبٰی سعیدی، مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر اور مولانا عبد الرؤف بن عبد الحنان کے دستخط ہیں۔ ان دوستوں کی کاوش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم اس کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی مطالبات پر پاکستان میں قانون سازی اب زیادہ تر عدالتی فیصلوں کے ذریعے ہو رہی ہے اور اس سے بہت سے شرعی قوانین خاموشی کے ساتھ متاثر ہوتے جا رہے ہیں، مثلاً
- قصاص کے قانون کو ختم کرنے کے بیرونی مطالبے پر قانون کو تبدیل کیے بغیر یہ طریق کار اختیار کر لیا گیا ہے کہ قصاص کے مقدمہ کے تمام مراحل مکمل ہو جانے حتٰی کہ رحم کی اپیل مسترد ہو جانے کے بعد بھی کسی کو پھانسی کی سزا نہیں دی جا رہی اور ایسا سالہا سال سے ہو رہا ہے۔
- نکاح و طلاق کے باب میں خلع کو مطالبہ طلاق کی بجائے طلاق کا نوٹس قرار دے کر خلع کی درخواستوں کو مسلسل اسی دائرہ میں نمٹایا جا رہا ہے جو اب عدالتی ماحول کا حصہ بن چکا ہے۔ اس میں خاوند کو طلب کیے بغیر اور اس کا موقف سنے بغیر یکطرفہ فیصلے ہو رہے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے خلع کا قانون عملاً تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔
- توہینِ رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی لائے بغیر اس کے مقدمہ کے اندراج کا پروسیجر بدل دیا گیا ہے جس سے قانون اپنے تقاضوں کے مطابق مؤثر نہیں رہا۔
- گزشتہ دنوں ایک اعلیٰ عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کو مطلقاً ناجائز قرار دے دیا تھا جس پر ملی مجلس شرعی پاکستان کے تحت سرکردہ علماء کرام اور وکلاء کا مشترکہ موقف اس کالم میں ہم پیش کر چکے ہیں کہ یہ شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔
اس طرح شرعی قوانین کے متن میں کوئی تبدیلی لائے بغیر عدالتی فیصلوں اور پروسیجر کی تبدیلی کے ذریعے ملک میں نافذ شدہ اسلامی قوانین میں عملی ترامیم کا سلسلہ جاری ہے جس پر ذمہ دار علماء کرام کو کم از کم اپنی رائے کا اظہار ضرور کرنا چاہیے تاکہ ان مسائل پر شرعی موقف عوام کے سامنے آتا رہے۔ ہماری گزارش ہے کہ تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علماء کرام کو اس صورتحال پر سنجیدہ توجہ دے کر شریعت اسلامیہ کی علمی و دینی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دینے کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔ جبکہ مشترکہ طور پر موقف کی تشکیل اور اس کے اظہار کے لیے ملی مجلس شرعی پاکستان سب کی خدمت میں حاضر ہے۔
’’سوال
حال ہی میں عدالتِ عظمٰی نے خواتین کی وراثت سے متعلق یہ فیصلہ جاری کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی وراثت سے حصہ لے لیں، بعد میں ان کی اولاد اس کا دعوٰی نہیں کر سکتی۔ اس فیصلے پر مفتیان کرام کی طرف سے شرعی تبصرہ اور بروقت اظہار رائے کرنا بہت ضروری ہے۔ (ابو عمار زاہد الراشدی)
جواب
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔
قرآن حکیم میں ہے ’’للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدین والاقربون مما قل منہ او کثر نصیباً مفروضاً‘‘ (النساء ۷) ’’آدمی کے لیے حصہ ہے اس جائیداد میں سے جو اس کے والدین اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں۔ اسی طرح عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس ترکہ سے جو والدین یا قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ زیادہ ہو یا کم ہو، یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصہ ہے۔‘‘
ہمارے ہاں معاشرتی روٹین یہ ہے کہ عورتوں کو حصہ دیا ہی نہیں جاتا، اگر دیا جاتا ہے تو پھر قطع تعلقی کر دی جاتی ہے۔ عورتیں بسا اوقات اس لیے بھی خاموش رہتی ہیں کہ اگر میں نے اپنا حصہ لے لیا تو میرے بھائی مجھ سے قطع تعلقی کر لیں گے۔ لہٰذا خاموشی کا مطلب دستبرداری سمجھنا درست نہیں بلکہ ان کا جو حق بنتا ہے وہ دینا چاہیے۔ اگر ایسی حالت میں وہ معاف بھی کر دے تو پھر بھی معاف نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ ابھی تک تو وہ اس کی مالک ہی نہیں بنی تو معاف کیسے کر سکتی ہے؟ پہلے اس کو مالک بنا دیا جائے، اس کو ہر قسم کے پریشر اور دباؤ سے آزاد کیا جائے، پھر وہ اپنی مرضی اور خوش دلی سے کچھ دن گزرنے کے بعد دے دیتی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں عدالت کا فیصلہ درست نہیں ہے کہ اگر کوئی خاتون زندگی میں اپنا حصہ وصول نہیں کر سکی تو اس کا حصہ ختم ہو جائے گا۔ جب اللہ نے اس کا حصہ مقرر کیا ہے تو کس اصول کے تحت اسے روکا جا سکتا ہے؟ لہٰذا وہ حصہ اسی کا ہے اور جس کے پاس بھی پڑا ہے اس کے پاس بطور امانت ہے، جسے ادا کرنا ضروری ہے۔ خاتون کی وفات کے بعد وہ بطور وراثت اس کی اولاد کو منتقل ہو جائے گا جس کا وہ مطالبہ کر سکتے ہیں، لہٰذا عدالتِ عظمٰی کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔‘‘
امپورٹڈ قوانین اور سیاسی خلفشار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(پاکستان شریعت کونسل کے ایک مشاورتی اجلاس کے بارے میں پیش کی گئی معروضات)
- امارت اسلامیہ افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کیے بغیر باہمی تعلقات کو معمول کی سطح پر نہیں لایا جا سکتا جو دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنے اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہم نئی حکومت کو یاددہانی کے طور پر یہ کہنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ڈکٹیشن پر منظور کیے گئے ایسے امپورٹڈ قوانین پر نظرثانی ناگزیر ہے جو پاکستان کی نظریاتی اساس دستور کے تقاضوں اور شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری قومی خودمختاری کے لیے سوالیہ نشان ہیں اور ان سے بہرحال گلوخلاصی کرانا ہوگی۔
- پاکستان شریعت کونسل کی جدوجہد کا میدان علمی و فکری ہے اس لیے حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کشمکش اور انتخابی سیاست سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے، البتہ ہمارا ایجنڈا واضح ہے کہ (۱) ملک کی نظریاتی اساس (۲) دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات (۳)قومی خود مختاری (۴)بیرونی مداخلت کی روک تھام، اور (۵) مسلم تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کے لیے پاکستان شریعت کونسل گزشتہ تین عشروں سے اپنی استطاعت کے دائرے میں مانیٹرنگ اور کوتاہیوں کی نشاندہی کا فریضہ سر انجام دیتی چلی آ رہی ہے، اور ہمارا یہ کردار آئندہ بھی اسی طرح ان شاء اللہ تعالی جاری رہے گا۔
- موجودہ سیاسی خلفشار اور اس کے اسباب و نتائج پر ہم پوری نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اس قسم کے خلفشار کی فضا کو قائم رکھنا عالمی اور مقامی سیکولر لابیوں کا مستقل ایجنڈا ہے، جس کے لیے مختلف دائروں کے جو لوگ استعمال ہو رہے ہیں ان پر نظر رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ البتہ اس فضا میں دو باتیں کسی حد تک ہمارے لیے اطمینان کا باعث ہیں:
- ایک یہ کہ ساری خرابیوں کے باوجود آئینی طریقہ کار مسلسل آگے بڑھ رہا ہے جس کے لیے عدلیہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ دیگر ریاستی ادارے تعاون کر رہے ہیں۔ ملک کو سیاسی خلفشار سے نجات دلانے کا یہی راستہ صحیح ہے اور تمام اداروں حلقوں اور طبقات کو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
- دوسری بات قابلِ اطمینان یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کا کردار اس میں قائدانہ ہے، جو ایک نظریاتی سیاسی جماعت ہے اور دستورِ پاکستان کی تشکیل اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد میں اس کا کردار ہمیشہ مؤثر رہا ہے۔ ہم اس پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور پاکستان شریعت کونسل کے مقاصد کے دائرے میں انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، بالخصوص بائیس متفقہ دستوری نکات اور دستورِ پاکستان کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے دیگر دینی حلقے اور نظریاتی جماعتیں بھی آگے آئیں اور قومی خود مختاری، نفاذِ شریعت اور مسلم تہذیب کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
- پاکستان کو سیاسی فکری معاشی اور تہذیبی خلفشار کی دلدل میں دھکیلنے والے عالمی اور مقامی سیکولر حلقوں کی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، ہم ان سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ان خواہشات میں ہمیشہ کی طرح ان شاء اللہ تعالی اب بھی ناکام ہوں گے اس لیے کہ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت اسلامی نظام مسلم تہذیب اور قومی خودمختاری کے ساتھ شعوری وابستگی رکھتی ہے اور اس کے لیے پہلے کی طرح ملک کے عوام اب بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
- کشمیر اور فلسطین کے نہتے عوام پر مظالم بڑھتے جا رہے ہیں اور عالمی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اور مسلم حکومتیں دنیا بھر میں اپنے مظلوم بھائیوں کا ساتھ دینے کے بجائے قابض قوتوں اور ظلم ڈھانے والوں کو خاموش حمایت فراہم کر رہی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔ ہمیں اس حوالے سے کم از کم یہ کردار ضرور ادا کرتے رہنا چاہئے کہ مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کی مذمت میں آواز بلند کرتے رہیں اور یہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور انصاف پسند حلقوں کی ذمہ داری ہے۔
صغر سنی کی شادی پر عدالتی فیصلے کا جائزہ
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
گزشتہ شمارے میں امریکی ریاستوں میں کم عمری کی شادی کی کم سے کم عمر پر گفتگو مکمل ہو گئی تھی. آج یورپی دنیا کا مختصر جائزہ لینا پیش نظر ہے۔ ممکن ہے، قارئین کو اس طوالت میں اکتاہٹ محسوس ہو، تاہم اس کا مقصد مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا ہے۔ یوں یہ معلوم ہو سکے گا کہ دنیا بھر میں اس معمولی حیثیت کے اور غیر اہم مسئلے کو پاکستان اور مسلم دنیا میں ”انتہائی اہم“ مسئلہ بنانے کا سبب آخر ہے کیا؟
تمام یورپ میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، سوائے اسکاٹ لینڈ کے، جہاں زوجین کے لیے 16 سال عمر ہے۔ پھر بتا دوں کہ قانونی عمر وہ ہوتی ہے جس پر فرد آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکتا ہے۔ اسے والدین، معاشرے یا ریاست کی رضامندی کی ضرورت نہیں رہتی۔ قانونی عمر سے کم شادی کی عمر (وہی صغرسنی)مختلف یورپی ممالک میں مختلف ہے جہاں عدالت، والدین اور سماجی کارکن کی مرضی سے شادی ممکن ہوتی ہے۔ 48 یورپی ممالک میں سے 24 ممالک میں عدالتی رضا مندی پر شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے۔ والدین کی رضامندی سے مشروط ایسے ممالک کی تعداد 6 ہے۔ اینڈورا (Andorra) میں عدالتی رضامندی پر شادی کی عمر 14 سال ہے۔ لیتھوانیا میں یوں 15 سالہ عمر میں شادی ممکن ہے۔ ترکی میں یہ عمر 17 سال ہے۔ لیکٹنسٹائن (Liechtenstein)، بلجیم، فن لینڈ، فرانس، یونان، آئس لینڈ، لکسمبرگ اور سلوونیا میں شادی کی کم از کم کوئی عمر نہیں ہے۔ ان ممالک میں کہیں والدین کی رضامندی پر عدالتی منظوری درکار ہوتی ہے۔کہیں عدالتی منظوری ہی اصل ہوتی ہے اور والدین کو محض سنا جاتا ہے۔ کہیں والدین کے ساتھ سماجی کارکن کا کردار بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود مذکورہ آٹھ ممالک میں شادی کی کم از کم عمر کی کوئی زیریں حد نہیں ہے۔
ادھر اپنے ملک میں بعض حلقوں کا ایک ہی واویلا رہتا ہے کہ کم از کم عمر 18 سال کی جائے۔ والدین، غربت، معاشرتی مسائل اور والدین کا کوئی خاص ذاتی مسئلہ ان لوگوں کے نزدیک مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ بہت پہلے ایک دن میں گھومتے گھومتے اینٹوں کی بھٹی پر جا نکلا۔ مرد و زن غربت کا بدنما اشتہار بنے کام میں جتے ہوئے تھے۔ دیکھا بارہ پندرہ سالہ لڑکا لڑکی کام کے ساتھ ساتھ باہم اٹھکیلیاں بھی کر رہے ہیں۔ ایسے لگا کہ ان کی لگاوٹ معاشرتی قدروں کو پامال کر رہی ہے۔ان کے بزرگوں سے استفسار کیا تو معلوم ہوا۔ "جی، دونوں میاں بیوی ہیں۔" فقیہانہ جستجو "کیوں" کی طرف لے گئی، پتا چلا پورا خاندان برادری اس بیگار پر لگا ہوا ہے۔ ان دونوں خالہ زادوں کی لگاوٹ جب معاشرتی اقدار کی بیرونی سرحد کے قریب جا پہنچی تو بزرگوں نے یوں فیصلہ کیا: ”جب ان دونوں نے ابھی چوری چھپے اور بعد میں یہی کچھ کرنا ہے تو کیوں نہ ان کی شادی کر دی جائے، تو صاحب جی ہم نے ان کی شادی کر دی۔“ کچھ دیر تک تو میں سٹپٹا کر رہ گیا۔ ہمت کر کے گفتگو کو انٹرویو کی شکل دے ڈالی۔
”پولیس یا کسی اور نے آپ کو پکڑا نہیں؟“
جواب ملا:
”جی وہ! وہ جی ہم نے ان کی شادی دھوم دھام (یہی الفاظ تھے) سے کی تو ادھر ادھر سے بہت لوگ آئے۔ بڑے داروغہ جی تو نہیں آئے، پر تھانہ محرر خود تشریف لائے تھے۔ پھر صاحب جی! ایک ہفتے بعد ایک ویگن میں فیشنی عورتیں اور چند مرد اچانک آ دھمکے پہلے ہماری تصویریں بنائیں۔ پھر دولہا دلہن سے کچھ باتیں پوچھیں جب وہ اپنی مرضی کے سب کام کر چکے تو ہمیں دھمکانے لگے کہ یہ شادی غیر قانونی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اشارے سے ہمیں کہا تم لوگ جاؤ اپنا کام کرو۔ ہم بے سوچے سمجھے کام میں جُت گئے۔ رات کو چاچا تاج ولی کہنے لگے، او نیک بختو! سمجھا کرو، شادی تو غیر قانونی ہو گئی، دوپہر کا مرغن کھانا سب ویگن والوں نے ٹھیکہ دار کے ڈیرے پر مزے لے کر کھایا۔ جب وہ رخصت ہونے لگے تو میں ہاتھ جوڑے، دھوتی سنبھالے ان کی ایک بڑی دھانسو قسم کی لیڈر عورت کے آگے جا کھڑا ہو گیا۔ نخوت سے بولی: بابا ، جلدی بولو، ہمیں دیر ہو رہی ہے، کیا بات ہے؟ میں غریب کیا کہتا، یہ ضرور کہا میم جی! ہم ٹھیکہ دار کے زر خرید غلام ہیں۔ جب تک ہمارا قرضہ نہیں اترتا، ہم، ہمارے بچے، عورتیں، بوڑھے، بیمار سب ان کے غلام ہیں۔ میم جی ہم نے ریڈیو پر سنا تھا کہ بچوں سے مشقت کرانا بھی جرم ہے۔ میم جی، ہم نے سوچا شاید آپ نے ٹھیکہ دار سے اس بارے میں کچھ پوچھا ہو۔ آپ نے پولیس سے کوئی بات کی ہو تو ہمیں بتا دیں، وہ کیا جواب دیتی، منہ بنائے دفع ہو گئی۔ اب جاؤ تم سب اپنا اپنا کام کرو۔ یہ کہہ کر چاچا کروٹ بدل کر سو گیا۔“
تھوڑا حساب کیا تو اندازہ ہوا کہ صغرسنی کی شادی کی مخالف این جی او اور اس پر واویلا کرنے والے اداروں کو سال بھر کام سے روک کر ان کے مالی وسائل چائلڈ لیبر کے خاتمے پر لگائے جائیں، ان ”فیشنی عورتوں“ کے سیمینار بند کر کے وسائل اینٹوں کی صنعت میں غلامانہ زندگی بسر کرنے والوں کے قرض اتارنے میں لگا دیئے جائیں تو ہزاروں خاندان ٹھیکہ داروں سے نجات حاصل کر کے آزاد زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور تمام مغربی دنیا جب صغر سنی کی شادی پر وہی نقطہ نظر رکھتی ہے جو ہمارے علما کا ہے تو پاکستان میں اس کے خلاف واویلا کرنے والوں کا مقصد کیا ہے؟ یہ ”فیشنی عورتیں“ اور ان کے ساتھی چاہتے کیا ہیں؟ مسئلہ کیا ہے؟ یہ سمجھ لیا جائے تو کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔ ان لوگوں کی تاریں ہلانے والوں نے اور غیر ملکی کرنسیوں میں وسائل فراہم کرنے والوں نے فی الحقیقت ہمارے علما اور دینی طبقے کو ایسے کام میں لگا رکھا ہے جس کا سرا کبھی کسی کو نہیں ملے گا۔ کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ یہ کام عشروں سے ہو رہا ہے۔ صغرسنی کی شادی پر علما کے شرعی دلائل پر الجھن کی شکار ایک نسل تیار ہو کر معاشرتی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہے تو ان لوگوں کے سیمینار بابت صغر سنی انہی دلائل پر ویسے ہی چل رہے ہوتے ہیں۔ اب ان کا ہدف اگلی نسل ہوتا ہے۔ دلائل کا جواب اور جواب الجواب علما کرام کی طرف سے اب بھی اسی مواد پر مشتمل ہوتا ہے جو نصف صدی سے ہمارے دینی طبقے کا اثاثہ ہے۔ یوں الجھن کی شکار ایک اور نسل تیار ہو کر معاشرے میں ضم ہو چکی ہوتی ہے۔ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔
جہاں تک میں سمجھا ہوں اور شاید درست ہی سمجھا ہوں گا کہ اس مشق کا مقصد یہ ہے کہ ایک عام شخص اور نوعمر لڑکے لڑکی کے ذہن میں صغر سنی کی شادی کے حوالے سے سیرت طیبہؐ کا جو عمومی نقش ہے، اس پر خراشیں ڈال کر نبی اکرم ؐ کی ذات والا صفات کے بارے میں شکوک و شبہات کو عام کیا جائے۔ میری پیشگی معذرت قبول ہو، اس کام میں مال پیسہ بنانے والے تو کچھ کما رہے ہیں لیکن ہمارے علما نادانستگی میں وہی کچھ کر رہے ہیں جو مدمقابل لوگوں کے غیر ملکی آقائے ولی نعمت چاہتے ہیں۔ یہ لوگ عورت کی صحت، ہجوم آبادی، غربت اور پرورش اطفال جیسے رنگین لبادوں میں دلائل کا رُخ صغر سنی کی شادی کی طرف کرتے ہیں تو سامعین اور قارئین بڑی حد تک ان کے ہمنوا بن چکے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کے ذہن میں سیرت طیبہ جھلملانا شروع ہو جاتی ہے۔جواب میں علما کی طرف سے ان لوگوں جیسے عقلی دلائل نہیں آتے۔ علما اور دینی طبقے کی دلیل وہی ایک نکاتی رہتی ہے کہ اسوۃ حسنہ ہمارا چراغِ راہ ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن کچے ذہن، خام فکر اور جاہلیت جدیدہ کی تعلیم سے آراستہ یہ نسل ان مذکورہ سیمیناروں کی اسیر ہو چکی ہوتی ہے ؎
مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہے
مشرق و مغرب میں اِک عامل ہے اک معمول ہے
مخصوص اسکولوں میں تعلیم پانے والے یہ شاہیں بچے چند ہی سالوں میں زاغ و شپرک (کوے چیلیں) بن کر شام کو KFC اور میکڈونلڈ نوچ رہے ہوتے ہیں۔ چند سالوں میں ہنس کی چال چلتے چلتے یہ کوے جب کالج یونیورسٹی میں پہنچتے ہیں تو آراستہ و پیراستہ ہالوں اور ریستورانوں میں مرغن پکوانوں کے ساتھ اب نئے شکاری سیمیناروں کے پھول گجرے لیے ان کا استقبال کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے ذہن میں وہ کچھ انڈیلتے ہیں کہ ؎
جسم و جاں کیسے کہ عقلوں میں تغیر ہو چلا
تھا جو مکروہ اب پسندیدہ ہے اور مقبول ہے
دین اور سیرت طیبہ پر اس مخلوق کا علم بمنزلہ صفر ہوتا ہے۔ ایسے عالم میں ایک طرف سے اس کچے ذہن پر بذریعہ سیمینار عورت کی صحت، غربت، ہجوم آبادی، پرورش اطفال، بے روزگاری کے دلائل کی گولہ باری ہو رہی ہو اور دوسری طرف سے، اللہ معاف کرے، نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر، رخصتی کس عمر میں ہوئی۔ جی ایک روایت میں …… جی ایک اور روایت میں جس کی سند متصل ہے …… اور ساتھ رسولؐ اللہ کی عمر، پھر دونوں کی عمروں کا موازنہ، صاحب ! یہ کچھ کسے سمجھ آئے گا؟ محترم علمائے کرام! یہ دلائل اسی ذہن میں قرار پکڑ سکتے ہیں جو ان مصطلحات، اس محاورے، اس روزمرہ سے آشنا بلکہ ان کا رمز آشنا ہو۔ آپ کو پھر یاد دلائے دیتا ہوں کہ حضرت موسیٰ ؑنے سنپولیوں کا مقابلہ اژدہے سے کیا تھا، سانپ سنپولیوں کے مقابلہ میں ایک بڑا اژدھا۔
کم سنی کی شادی کے مخالف عدالتی ذہن کو عہدِ حاضر کی اس کی اپنی زبان میں جواب دیا جانا چاہیے۔ جسمانی اعتبار سے دو عاقل بالغ افراد کو مغربی دنیا اتنی آزادی دیتی ہے کہ اسکولوں میں لڑکے لڑکیاں کچھ بھی کریں آزاد ہیں، استاد مداخلت کرے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سزاوار! ارے بھئی ہم ملا بھی تو یہی کچھ کہتے ہیں بلکہ ہمارا کہا ہوا زیادہ وزن رکھتا ہے۔ تمہارے ہاں لڑکا اپنا کام مکمل کرنے کے بعد مطلقاً آزاد۔ آثار و باقیات سمیٹے تو لڑکی اور اس کے والدین، بھلا کیوں؟ ہم ملا کہتے ہیں اس حیوانی تعلق کو انسانی عہدو پیمان میں ڈبو کر لڑکے کو ذمہ دار بناؤ،جس کا طریقہ نکاح ہے، بولو جواب دو ! عورت کو ہم حقوق د ے ر ہے ہیں یا تم؟۔ کیا فرمایا، کم سن بچی کی شادی معمر مرد سے؟ ارے امریکہ یورپ میں ہر سال ایسی ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں اور انسانی حقوق کے نام پر ہوتی ہیں اور ابتدائے آفرینش سے ہو رہی ہیں۔ محترم علمائے کرام میری عاجزانہ رائے میں اس انسانی مسئلے کے لیے وہی دلائل وضع کیا کریں جو مخالفین کی اپنی دنیا کے ہیں۔ سیرت طیبہ میں سے دلائل کی دنیا الگ ہے جو کچے ذہنوں میں جگہ نہیں پکڑ سکتے۔ امید ہے، علمائے کرام ان معروضات پر غور کریں گے۔ ورنہ یہ عمل محرم راز خالق کائنات کی سیرت پر خراشیں ڈالنے کا موجب بنے گا۔ محرم راز خالق کائناتؐ کا دفاع اس طریقے سے تو نہیں ہو سکتا۔
کوشش کی جائے گی کہ آئندہ کبھی اس مسئلے کے دوسرے پہلو پر بھی گفتگو کی جائے۔
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۵)
"Defending Muhammad in Modernity"
ڈاکٹر شیر علی ترین
ترجمہ : محمد جان اخونزادہ
شاہ اسماعیل کا علمی و فکری سرمایہ
اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شاہ اسماعیل نے انیسویں صدی کے اوائل کے ہندوستان کی انتہائی اہم کتابیں سپرد قلم کیں۔ انھوں نے فقہ، کلام، منطق، سیاسیات اور تصوف کے متعدد موضوعات اور علوم پر کتابیں لکھیں1۔ مزید برآں انھیں عوام کے لیے سہل ومقبول اور خواص اہل علم کے لیے مشکل اور دقیق کتابیں لکھنے میں غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ اس کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ شاہ اسماعیل کی کلامی، فقہی اور سیاسی فکر کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی تمام پیچیدگیاں قارئین کے سامنے رکھی جائیں۔ میں ان کی شدید متنازع کتاب "تقویۃ الایمان" کے تفصیلی تجزیے کے ساتھ ساتھ سیاست شرعیہ سے متعلق ان کی نسبتاً کم مشہور کتاب "منصبِ امامت" اور سنت وبدعت سے متعلق ان کی کتاب "ایضاح الحق" پر بھی روشنی ڈالوں گا۔ ان کے فکری ورثے پر وسیع غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر چسپاں کیے گئے "سادہ فکر سلفی" کے لیبل کے برعکس وہ ایک باریک بیں اور نکتہ رس مفکر ہیں۔ شاہ اسماعیل کی فکر کو منفرد بنانے والے تضادات، تناقضات اور ابہامات کا نقشہ کھینچنا بھی اس کتاب کے مقاصد میں شامل ہے۔ ضخیم اور متنوع علمی کاوشوں کے باوجود عہد حاضر میں شاہ اسماعیل کے متعلق کوئی بحث ان مناظرانہ جھنجھٹوں سے جان نہیں چھڑا سکتی جو ان کی سوانح حیات کا جُزوِ لاینفک ہیں۔ انیسویں صدی کے اواخر میں بریلوی اور دیوبندی مسالک کے پیش روؤں کے درمیان کش مکش نے ان کی شخصیت کو مزید تقسیم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت سی مناظرانہ بحثوں کا مرکزی موضوع شاہ اسماعیل کے چند شدید متنازعہ بیانات ہیں۔
درحقیقت برصغیر (اور بسا اوقات برصغیر سے باہر بھی) کے سنی مسلمانوں کے درمیان چپقلشوں کے مناظرانہ پس منظر میں شاہ اسماعیل کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس کے متعلق ان کے حامی اور مخالف دونوں اپنی آرا میں یکساں شدت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں اور بعد میں بھی شاہ اسماعیل کے حامیوں بالخصوص دیوبند کے پیش روؤں کے نزدیک وہ ایک عظیم مصلح تھے جنھوں نے مسلم ہندوستان میں ایک شدید دینی زوال کے وقت میں اصلاح کا علم بلند کیا2۔ ان کے نزدیک شاہ اسماعیل ایک ایسا نجات دہندہ تھے جنھوں نے بیک وقت عوام اور اہل علم دونوں کے دلوں میں خالص توحید کی دھاک بٹھا دی۔
اس کے برعکس ان کے مخالفین کے نزدیک وہ ایک قابل اعتراض فکر کے مالک تھے جنھوں نے نبی اکرم ﷺ اور دیگر اولیاے کرام کی اہانت کرکے ہندوستان میں پہلی بار سنیوں کے درمیان نفرت کا بیج بویا۔ عہد حاضر کے مشہور بریلوی عالم یاسین اختر مصباحی نے اسے یوں بیان کیا ہے: "اگر اسلام کو شاہ اسماعیل کے معیارات پر جانچا جائے تو ہندوستانی تاریخ کے گزشتہ پانچ سو سال کے مسلمانوں کی اکثریت کافر ٹھہرتی ہے۔ تقویۃ الایمان کی اشاعت سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کے دو گروہ تھے: شیعہ اور سنی۔ ان کے گمراہ کن ایجنڈے کے نتیجے میں سنی معاشرہ لاتعداد گروہوں اور دھڑوں میں تقسیم ہو گیا3"۔ شاہ اسماعیل کے مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے حضور اکرم ﷺ کی دینی حیثیت کو گھٹایا اور مقدس رسوم وروایات کے تقدس کو پامال کیا۔ نوآبادیاتی اور آج کے ہندوستان کے گہرے مناظرانہ ماحول میں شاہ اسماعیل پر ان کے مخالفین اولین "ہندوستانی وہابی" کا لیبل چسپاں کرتے ہیں4۔ مزید برآں ان کے مخالفین کی کوشش ہوتی ہے کہ شاہ ولی اللہ کے سلسلے سے ان کا تعلق کاٹ دیں۔ وہ انھیں طنزیہ انداز میں ولی اللہی خاندان کی کالی بھیڑ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں جو اس لائق بھی نہیں کہ اسے عالم کہا جائے۔
مثال کے طور پر عہد حاضر کے ایک بریلوی مناظر سید محمد نعیم الدین نے جس تحقیر آمیز اور طنزیہ انداز میں شاہ اسماعیل کی نوجوانی کا رویہ بیان کیا ہے، اسے ایک بار ملاحظہ فرمائیں:
"شاہ اسماعیل اپنے اساتذہ کے لیے باعث عار تھا۔ وہ ہمیشہ گھر کے کام سے غافل رہتا، درس میں خلل ڈالتا اور اپنے نامعقول اور باغیانہ رویے کی وجہ سے دوسرے طلبہ کے لیے بھی انتشار کا سبب بنتا۔ اس کا بنیادی مشغلہ پتنگ بازی، جسمانی ورزش اور وقت کا ضیاع تھا۔ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے شاہ اسماعیل اپنے خاندان کے بڑوں بالخصوص اپنے ممتاز چچا شاہ عبد العزیز کے لیے ہمیشہ پریشانی کا سبب بنتا۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ دیوبندی علما نے شاہ ولی اللہ کے خاندان میں سے ان کے سب سے نالائق بندے کو اپنا مذہبی رہ نما چُنا، جب کہ اس خاندان کے دیگر عالی مقام اصحابِ علم سے اغماض برتا"5۔
مذکورہ بالا بیان میں موجود مبالغے سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کی زندگی میں شاہ اسماعیل کی اصلاحی سرگرمیوں نے ان کے خاندان کے معزز حنفی علما کے لیے اضطراب کا کافی سامان پیدا کیا تھا۔ مثال کے طور پر مسلم ہندوستان میں حنفی روایات کے برعکس شاہ اسماعیل نے نماز میں رفع یدین کے عمل کی تبلیغ وتائید کی۔ یہ عمل ہندوستان کے حنفی اور غیر مقلد اہل علم کے درمیان شدید متنازع تھا۔ جب اسماعیل کے چچا شاہ عبد العزیز کو خبر ملی کہ ان کا بھتیجا اس عمل کی تائید کر رہا ہے اور اس کی وجہ سے تنازع جنم لے رہا ہے تو انھوں نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ وہ میری نہیں سنے گا"6۔ شاہ عبد العزیز نے اپنے چھوٹے بھائی شاہ عبد القادر سے کہا کہ اسماعیل کو سمجھائے کہ وہ غیرضروری مسائل کھڑے نہ کریں۔ شاہ عبد القادر نے جواب میں کہا: "جیسے آپ کا حکم! لیکن وہ میری بھی نہیں سنے گا، بلکہ وہ جواب میں حدیثیں پیش کرنے لگے گا"7۔ پھر شاہ عبد القادر نے یہ کام اپنے بیٹے اور اسماعیل کے چچا زاد شاہ محمد یعقوب دہلوی (جن کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے) کے ذمے لگایا۔
شاہ یعقوب نے شاہ اسماعیل سے بات کی اور انھیں رفع الیدین جیسے اشتعال انگیز مسائل کونہ چھیڑنے کی نصیحت کی۔ جیسا کہ ان کے چھوٹے چچا نے پیش گوئی کی تھی، شاہ اسماعیل نے جواب میں حدیث کا حوالہ دیا۔ انھوں نے شاہ یعقوب سے کہا: "اگر عوام کے فتنے کا خیال کیا جائے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہوگا کہ جو کوئی میری امت کے فساد کے وقت میری سنت پر عمل کرے تو اسے سو شہیدوں کے برابر اجر ملے گا8۔ کیونکہ جو کوئی سنت متروکہ اختیار کرے گا، عوام میں ضرور شورش ہوگی"۔ شاہ اسماعیل کا جواب سن کر شاہ عبد القادر نے آہ بھر کر کہا: "بابا ہم تو سمجھے تھے کہ اسماعیل عالم ہوگیا، مگر وہ تو ایک حدیث کا مطلب بھی نہیں سمجھا۔ یہ حکم تو اس وقت ہے جب کہ سنت کے مقابل خلافِ سنت ہو، جب کہ اس مسئلے میں سنت کا مقابل خلافِ سنت نہیں بلکہ ایک دوسری سنت ہے، کیونکہ جس طرح رفع الیدین سنت ہے، اسی طرح ارسال بھی سنت ہے"9۔
ایک تخیلاتی حکومت کے قیام کی جدوجہد
شاہ اسماعیل کی علمی وفکری زندگی کے علاوہ ان کی سعی وجہد اور سوانح کا کافی حصہ خیبر پختون خوا (جسے پہلے شمال مغربی سرحدی صوبہ کہا جاتا تھا) میں سکھوں کے خلاف 1826 سے لے کر 1831 تک شمالی ہندوستان کی تحریکِ مجاہدین سے تعلق رکھتا ہے جس میں وہ ایک مرکزی تھے۔ سید احمد کی دل آویز شخصیت کے زیرِ سایہ شاہ اسماعیل اور دیگر پانچ سو علما اور عوام نے سکھوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، تاکہ اس خطے کے پختون مسلمانوں کو سکھا شاہی ظلم وجبر سے نجات دلائیں۔ تحریکِ جہاد کے تصور نے اغوا کی ایک الم ناک داستان سے جنم لیا تھا۔ جب سید احمد 1819 میں رام پور میں تھے تو افغانستان سے کچھ پشتون لوگ ان سے ملنے کے لیے آئے۔ انھوں نے ایک دل خراش داستان سنائی جس نے سید احمد کا دل دہلا دینے کے ساتھ انھیں برافروختہ بھی کر دیا۔ پنجاب میں سفر کرتے ہوئے یہ پشتون اپنی پیاس بجھانے کی خاطر ایک کنویں کے پاس رک گئے۔ انھوں نے کنویں پر چند سکھ خواتین کو کام کرتے دیکھا۔ ہندوستانی زبانوں سے ناواقفیت کی بنا پر انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے ان سے پانی مانگا۔ انھیں ابتدا میں حیرت اور بعد میں دہشت کا دھچکا لگا جب ان عورتوں نے ادھر ادھر دیکھ کر یہ اطمینان کر لیا کہ کوئی انھیں دیکھ نہیں رہا اور پھر پشتو میں گفتگو شروع کر دی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سکھ نہیں بلکہ مختلف قبائل اور علاقوں کی افغان خواتین ہیں جنھیں سکھ اغوا کرکے پنجاب میں لائے ہیں اور یہاں وہ ان کی داشتاؤں کی حیثیت سے رہ رہی ہیں۔ "اے سید احمد! ان عورتوں کو کفر سے بچانے کے لیے کچھ کیجیے"، ان افغانوں نے التجا کی۔ "ان شاء اللہ میں جلد ہی سکھوں کے خلاف جہاد کا آغاز کروں گا"10، سید احمد نے بھرپور تیقن کے ساتھ جواب دیا۔
سید احمد سے متعلق سوانحی تذکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساری زندگی بالخصوص ٹونک میں قیام کے دوران عسکری تربیت کے ذریعے جہاد کی تیاریوں میں مصروف رہے۔ سکھ اور پشتون مسلمانوں پر ان کی مبینہ ظالمانہ حکومت نے انھیں ایک ٹھوس ہدف مہیا کیا کہ وہ اپنی زندگی بھر کی تربیت کو روبعمل لا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سید احمد کے مرکزی معاونین اور منصوبہ ساز شاہ عبد العزیز کے دو رشتہ دار تھے: ان کے بھتیجے شاہ محمد اسماعیل اور ان کے داماد عبد الحی بڈھانوی۔ اسماعیل اگر ایک شعلہ بیان مقرر اور زبردست عسکری کمانڈر تھے تو اس کے برعکس عبد الحی زیادہ تر تنہائی پسند تھے جن کی خاموش اور ساکن طبیعت کی وجہ سے وہ سید احمد کے بنیادی سیاسی مشیر اور منصوبہ ساز کی حیثیت سے بطور خاص مناسب ٹھہرے11۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، عبد الحی بھی ایک نمایاں حنفی عالم تھے اور ان کی وجہ سے ایک ایسے مشن کے مسلکی تنوع میں اضافہ ہوا جس میں ایک اچھی خاصی تعداد غیر مقلدین (جو چاروں فقہی مذاہب میں سے کسی ایک کی تقلید نہیں کرتے) کی تھی۔
جو راستہ ان مجاہدین نے اختیار کیا، وہ جدید قومی ریاست کی سرحدات اور حدود کا پابند نہیں تھا۔ وہ شمالی ہندوستان میں واقع راے بریلی سے گوالیار، اجمیر اور راجستھان کے علاقے ٹونک سے ہوتے ہوئے سندھ میں حیدر آباد اور شکار پور تک اور بلوچستان میں درۂ بولان سے ہوتے ہوئے قندھار تک پہنچے، جہاں سے وہ کابل اور بالآخر درۂ خیبر کے رستے سے پشاور پہنچے۔
پشاور اور اس کے گرد ونواح (بالخصوص پنجتار) میں قیام کے دوران سید احمد نے نہ صرف دہلی اور شمالی ہندوستان کے علما اور عمائدین سے، جن کے ذریعے انھیں اس مہم کے لیے نقدی اور افرادی قوت کی رسد مل رہی تھی، بلکہ پورے افغانستان اور وسطی ایشیا کے سیاسی قائدین اور قبائلی زعما کے ساتھ بھی براہ راست رابطہ رکھا۔ ان کی اور ان کی بالائی قیادت کی اس مہم کے بارے میں کیا خیالات تھے؟ شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے کردار، مشن اور دائرۂ کار کو ان لوگوں کے سامنے کیسے پیش کر رہے تھے جن سے وہ اپنی تائید اور امداد کا مطالبہ کر رہے تھے؟
سید احمد نے ہرات کے سلطان شاہ محمد کو ایک خط لکھا تھا جس کے مندرجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تحریک جہاد کے ابتدائی دور کا ہے، جس میں ان چند سوالات کے جوابات کی طرف رہ نما اشارے ہیں12۔ سید احمد نے تحریک جہاد کی غرض وغایت اور تناظر کو اس انداز میں واضح کیا ہے: "جہاد کرنا اور فتنہ وفساد کو فرو کرنا ہر زمان ومکان میں ایمان کے اہم ترین ارکان میں سے ہے۔ بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب اہل کفر کی شورش اور سرکشی اپنی آخری حد کو پہنچ گئی ہے۔ شعائر دین مسخ ہو گئے ہیں، اور سلاطین اسلام کی حکومتیں برباد ہو گئی ہیں۔ ہندوستان کے تمام علاقوں سمیت سندھ وخراسان میں ایک عظیم فتنہ برپا ہو چکا ہے۔ اس دوران سرکش کافروں کے استیصال میں غفلت برتنا اور فسادی باغیوں13 کے کچلنے میں سستی کرنا عظیم معصیت اور بدترین گناہ ہے"14۔
اس خط میں کئی چیزیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی یہ کہ، جیسا کہ میں باب نمبر ۴ میں شاہ اسماعیل کی سیاسی فکر پر بحث کے دوران نسبتاً زیادہ تفصیل سے واضح کروں گا، سید احمد نے جہاد کو جواز دینے کے لیے جس تباہی کا حوالہ دیا ہے، اس میں بجاے مسلمانوں کے علاقے چھن جانے کے شعائر دین کے پا مال ہونے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ان کی نظر میں عوامی دائرے میں اسلام کا کردار اور مسلمانوں کی شناخت سیاسی اقتدار یا کسی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ دوسری یہ کہ سید احمد کی جانب سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے علاقوں میں سندھ اور خراسان کو، جسے وہ بار بار اپنے خطوط میں دہراتے ہیں، شامل کرنے کے دو مطلب ہیں۔ پہلا یہ کہ ان کے خیال میں تحریکِ جہاد ایک بین الاقوامی مہم تھی جو کسی مخصوص علاقے بالخصوص برطانوی ہندوستان تک محدود نہ تھی۔ اور دوسرا یہ حکمتِ عملی پر مبنی اقدام تھا جس کا مقصد ان علاقوں کے سیاسی اشرافیہ کو یہ یقین دلانا تھا کہ یہ تحریک مجاہدین سے کہیں زیادہ ان کے اپنے حق میں ہے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ہمدردی، توجہ اور تعاون حاصل کیا جائے۔
درحقیقت اپنے خطوط میں سید احمد نے بار بار بڑی نزاکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک طرف ایک مذہبی قائد (امام) کی حیثیت سے خود کو منوانے کی کوشش کرتے ہیں جو صرف ایک شرعی حکومت کا قیام چاہتا ہے، جب کہ دوسری طرف اپنے آپ کو ایک سیاسی حاکم (سلطان) کی حیثیت سے الگ رکھا ہے جو موجودہ حکم رانوں اور ان کی حکومت کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔ اصل میں اس میں دور اندیشی سے زیادہ اپنے سیاسی مقاصد کے بارے میں مختلف گروہوں اور قبیلوں میں گردش کرنے والی چہ میگوئیوں کو ٹالنے کا محرک نمایاں تھا۔ مثال کے طور پر شاہ محمود کے نام اسی خط کے آخر میں، اور دیگر افغان وپختون سرداروں کے نام خطوط میں انھوں نے اپنے دائرۂ کار کی وضاحت کچھ یوں کی ہے: "چوں کہ اہل کفر وفساد کے خلاف جہاد نصبِ امام کے بغیر ناممکن ہے، اس لیے نامور (مقامی) علماے دین نے میرے ہاتھ پر بیعت کی، اور مجھے اپنا امام بنا لیا، خطباتِ جمعہ بھی میرے نام سے پڑھے جاتے ہیں"۔ یہ تمہید باندھنے کے بعد وہ اصل بات پر آتے ہیں: "دینی امامت اور دنیوی سلطنت کے مناصب کے درمیان بہت بڑا فرق ہے"15۔
اپنے مخاطب کو مزید یقین دہانی کی خاطر لکھتے ہیں: "ایک مذہبی قائد (امام) کی تعیناتی کا مقصد صرف جہاد کرنا اور بغاوت وفساد کو دبانا ہے، نہ کہ ملکوں وشہروں کو نوآباد کرنا اور ضلعوں وعلاقوں پر قبضہ جمانا"۔ سید احمد نے اپنی بات ایک دل چسپ بیان پر ختم کی: "امام اور اس کے متبعین بذات خود مقصود نہیں ہوتے، بلکہ ان کا مقصد حکومت وسلطنت کو اس کے حق داروں تک واپس لوٹانا ہوتا ہے"16۔ سید احمد نے انتقالِ اقتدار کی اس مدت کو غیرحتمی اور مبہم چھوڑ دیا۔ تاہم ایک امام کی حیثیت سے اپنے مذہبی وسیاسی اقتدار کو سیاسی حکم رانوں کے اقتدار سے ممتاز کرنے کی کوشش سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خطے کے بااثر افراد کی تائید حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ ان کے دعوی اقتدار کو چیلنج نہ کریں۔
ابتدا میں بظاہر یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی۔ کچھ عسکری فتوحات کے بعد، جس کے نتیجے میں خطے سے سکھوں کی پسپائی ہوئی، 1827 میں سید احمد کو مقامی سیاسی اور مذہبی عمائدین کی تائید سے امیر المؤمنین بنایا گیا۔ پشاور میں یوسف زئی قبیلے نے بطور خاص انھیں خوش آمدید کہا۔ اپنے خطوط اور تقریروں میں سید احمد اور شاہ اسماعیل دونوں اپنے نئے ماحول کو بلاد/دیار/اوطانِ یوسف زئی سے یاد کرتے ہیں17۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت وتائید میں اضافہ ہوتا گیا اور دیگرعلاقوں جیسے سوات، ننگرہار، بونیر اور پکھلی سے مختلف قبائل جیسے آفریدی، خٹک، مہمند، خلیل کے لوگ بھی شامل ہونے لگے۔ تاہم جس انداز سے سید احمد اپنے خطوط میں اپنی تحریک اور کردار کا دفاع کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دائرۂ کار کے حوالے سے مسلسل شکوک وشبہات جنم لے رہے تھے۔ مثال کے طور پر پشاور کے ایک بااثر قبائلی رہ نما یار محمد خان تھے جن کے ساتھ سید احمد کے تعلقات میں کئی نشیب وفراز آئے اور بالآخر شدید تلخی میں بدل گئے۔ ان کے نام1827 سے لے کر 1830 کے درمیان اپنے ایک خط میں اس نمائشی التجا کو ملاحظہ کریں: "میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں"، سید احمد نے پرزور انداز میں کہا: "میری دعوتِ جہاد اور کفر وفساد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہونا پوری سچائی اور دیانت کے ساتھ دولت، مقام ومرتبہ، شہرت، سیاسی طاقت، اقتدار، نام ونمود اور دوسروں پر برتری کی خواہش سے آلودہ وداغ دار نہیں"۔ ایک دل نشیں استدلالی انداز میں سید احمد نے مزید واضح کیا ہے کہ انھیں اس مشن کے لیے "خدائی الہام اور غیبی اشارات کے ذریعے مامور کیا گیا ہے"18۔ اس لیے اس مشن کو آلودہ کرنے کے لیے "کسی شیطانی سرگوشی اور نفسانی خواہش کی کوئی گنجائش نہیں"19۔
سید احمد کی یقین دہانیوں کے باوجود اقتدار کے کھیل میں شریک ہو کر بھی اپنی شرکت کو ظاہر نہ کرنا ایک ایسا نازک کام تھا جس کا زیادہ دیر تک چلنا مشکل تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحریک جہاد کو حاصل مقامی پشتونوں کی تائید کم ہوتی گئی اور بالآخر وہ کھلی مخالفت میں بدل گئی۔ تعلقات کی اس تدریجی لیکن جوہری تبدیلی میں عُشر کے ادارے کے قیام اور زیادہ مہر دینے پر پابندی جیسے قوانین کے نفاذ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے پشتون قبائلی سرداروں نے سید احمد کے پسندیدہ لقب "امیر المؤمنین" کے استعمال کو ناپسند اور مسترد کیا۔ ان کے خیال میں یہ ان کی حاکمیت کے لیے براہ راست خطرہ تھا۔
شمالی ہندوستان کے مصلحین کے لیے ان اقدامات کا مقصد ایک ایسے سماج کی تشکیل تھا جو قانون الہی پر کار بند ہو۔ لیکن مقامی پشتونوں کے لیے یہ قوانین عرصۂ دراز سے رائج قبائلی اقدار کے خلاف تھے، اور انھوں نے اس طرزِ حیات میں خلل پیدا کر دیا تھا جس کے ساتھ وہ عادی تھے۔ قانون اور سماج آپس میں کس طرح تعامل کرے؟ اس سوال کی تہہ میں کار فرما فلسفیانہ اختلاف ایک نہ ختم ہونے والی دشمنی میں بدل گیا۔ یہ دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ متعدد طاقت ور پشتون قبائلی سرداروں نے جب سید احمد اور ان کے پیروکاروں کو خطے سے نکالنے کے لیے ایک ہمہ گیر مہم کا آغاز کیا تو سکھوں کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لیے ۔ اس کا نتیجہ سیاسی اور عسکری تباہی تھا۔ چند افراد کو چھوڑ شمالی ہندوستان کے مصلحین سکھوں اور پشتونوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس مہم میں سید احمد کے ساتھ شاہ اسماعیل بھی دسمبر 1831 میں پشاور سے کچھ دو سو پچاس کلومیٹر دور قصبے بالا کوٹ میں مارے گئے۔ عبد الحی تین سال قبل 1828 میں اس وقت وفات پا چکے تھے جب تحریک جہاد کے راستے میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو گئی تھیں۔ طُرفہ یہ کہ ہندوستان میں سید احمد کے بہت سے پیروکاروں نے ان کی موت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یہ خیال کیا کہ وہ اپنی مافوق الفطرت صلاحیتوں کو بروے کار لا کر کہیں چھپ کر جی رہے ہیں۔ یہ بعینہ وہ رویہ تھا جس کے خلاف وہ اور شاہ اسماعیل آخری دم تک لڑتے رہے!20
تحریکِ جہاد اور اس میں بدلتی وفاداریوں اور اتحادوں کی داستان ایک اثر انگیز جاسوسی فلمی منظر نامے کے طور پر پیش کیے جانے کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ منظرنامہ پنجابیوں، پشتونوں، شمالی ہندوستان کے باسیوں، علما، جنگ جؤوں اور عامیوں کے کرداروں اور جاسوسی مشنوں، سازشی تحریکوں، سیاسی ساز باز، خیالی توقعات، خوف ناک اندیشوں اور ایکشن سے بھرپور عسکری جھڑپوں کے پلاٹوں سے بھرپور ہے۔ تحریک جہاد کی علمی اور سیاسی تاریخ، جو اہم عربی فارسی وعربی مآخذ کی روشنی میں پوری تفصیلات بالخصوص ان پانچ سالوں کے دوران سید احمد اور اسماعیل کے خطوط کے ذخیرے کو سامنے لائے، ابھی لکھا جانا باقی ہے۔ یہ تفصیلات اس کتاب کا موضوع نہیں، لیکن میں اختصار کے ساتھ اندرونی تنازعات اور اختلافات کے ساتھ ان حریف مذہبی تصورات کا کچھ حصہ دکھانا چاہتا ہوں جو تحریکِ جہاد کی بنیاد بنے اور تحریک کے دوران کئی بار باہم ٹکرائے۔ اس مقصد کے لیے میں بالاختصار ایک ایسی دل چسپ کتاب کو موضوع بحث بنانے جا رہا ہوں جو ایک ایسے شخص نے لکھی ہے جو تحریکِ جہاد میں بھرپور شرکت کے بعد اسے بیچ راستے میں چھوڑ کر دلی واپس ہو گیا، اور اپنے ذاتی مشاہدات خود قلم بند کیے۔
ایک منحرف کی دلچسپ داستان
سید محبوب علی دہلوی (متوفی 1864۔ اس کے بعد انھیں محبوب علی لکھا جائے گا) دہلی کے ایک ممتاز حنفی عالم تھے جو اپنے عہد کے دیگر سر برآوردہ علما کی طرح شاہ عبد العزیز اور شاہ عبد القادر کے تربیت یافتہ تھے۔ محبوب علی نے 1815 کے آس پاس سید احمد سے بیعت کی جب سید صاحب دہلی میں تھے۔ وہ جون 1927 میں لگ بھگ چار سو آدمیوں کی فوج لے کر تحریکِ جہاد میں شامل ہوئے21۔ پشاور کے قریب پڑاو کے دوران محبوب علی نے سرحدی علاقے کے طول وعرض کا سفر کیا اور پوری جاں فشانی سے تحریکِ جہاد میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
اپنے قیام کے تقریباً چھ ماہ کے دورانیے میں انھیں سید احمد کی جنگی حکمت عملی اور طریقِ کار سے شدید اختلاف پیدا ہوا۔ ان کی نظر میں یہ خوف ناک حد تک سخت گیر ہونے کے ساتھ غیر محتاط طریق کار پر مبنی تھی۔ ان کی نظر میں سید احمد کا سخت گیر اندازِ قیادت، جس میں اختلاف، تنقید اور مشورے کے لیے بہت کم گنجائش تھی، معکوس نتائج پیدا کر رہا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ محبوب علی سید احمد کے اختیار کردہ لقب امیرالمؤمنین کو شرعی اصولوں کے خلاف سمجھتے تھے، کیونکہ شرعی اعتبار سے اس لقب کا تقاضا یہ تھا کہ سید احمد کی بیعتِ امارت سے انکار کرنے والے ہر شخص پر سزاے موت نافذ کی جائے۔ بظاہر سید احمد کو (مخالفین کے لیے) یہ سزا تجویز کرنے میں کوئی تردد نہیں تھا۔ محبوب علی نے اپنے استدلال میں کہا: اس لقب پر پورا اترنے کے لیے ضروری ہے کہ سید احمد امیرالمؤمنین کا منصب سنبھالنے سے پہلے جنوبی ایشیا کی علما برادری سے اتفاق راے حاصل کریں۔ مزید برآں جنگی کمک کے نقطۂ نظر سے اقتدار کا ایسا بڑا دعویٰ تحریک جہاد کے لیے نہ صرف یہ کہ غیر ضروری بلکہ اس مقصد سے توجہ ہٹانے والا بھی ہے۔ پشاور میں اپنی آمد کے ایک سال بعد 1828 میں محبوب علی نے بالآخر یہ واضح کیا کہ سید احمد کے ساتھ ان کے اختلافات لاینحل ہو گئے ہیں، اور اسی وجہ سے وہ دہلی واپس آگئے22۔ اہم بات یہ ہے، اور یہ ایک ایسا نکتہ ہے جسے میں اس کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر ایک بار پھر دہراؤں گا، کہ تحریکِ جہاد کے انتظامی امور پر سید احمد کے ساتھ بھرپور اختلاف کے باوجود وہ اس کی کامیابی کے شدید خواہاں تھے۔ سید احمد پر ان کی ذاتی تنقید تحریکِ جہاد کے سیاسی اور اخلاقی دائرۂ کار سے مجموعی وابستگی پر اثر انداز نہ ہو سکی، اور وہ سید احمد اور شاہ اسماعیل کی مشن کی کامیابی کے لیے دعا گو رہے۔
تاہم دہلی واپسی پر محبوب احمد کو سید احمد کے پرجوش حامیوں کی طرف سے زبردست ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جو انھیں غداری اور بے وفائی کا طعنہ دے رہے تھے ۔ کچھ لوگوں نے براہ راست میدان جنگ سے اس کی واپسی کو مسلکی رنگ دیا۔ ان کی نظر میں چونکہ وہ ایک حسینی سید تھے، اس لیے سید احمد کے مشن سے ان کی وابستگی مضبوط نہیں تھی۔ اسی ردعمل اور طنز وتشنیع کے تناظر میں محبوب علی نے ایک یادگار اور ضخیم کتاب لکھی (جو اصلاً فارسی میں ہے، لیکن اس کے کچھ حصے عربی میں ہیں، اور اس کی تقریباً ایک ہزار لوحات ہیں) لکھی جس کا نام "تاریخ الائمۃ فی ذکر خلفاء الامۃ" ہے23۔
اس نایاب کتاب میں، جو آج تک قلمی نسخے کی شکل میں ہے، محبوب علی نے کوشش کی ہے کہ تاریخ میں مسلمان علما پر کیے جانے والے انواع واقسام کے حملوں اور مزاحمت کی ایک علمی تاریخ لکھ کر خود اپنی تاریخ قلم بند کریں۔ انھوں نے اپنی اس کتاب کا تعارف، جسے لکھنے میں انھیں 1828 سے لے کر 1836 تک آٹھ سال کا عرصہ لگا، کچھ اس انداز میں کروایا ہے: "اس کتاب میں خدا کے خلفا کے واقعات تفصیل سے لکھ کر بتاؤں گا کہ ان کے مخالفین اور دشمنوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ یہ کتاب لوگوں کے لیے آخرت کی یاد دہانی کا کام بھی دے گی، اور ان کے دلوں کو اُخروی ثواب کے حصول پر آمادہ کرے گی"24۔ یہ اقتباس کتاب کے مقصد کو بالکل ٹھیک ٹھیک بیان نہیں کرتا، کیونکہ کتاب کا ایک بڑا حصہ فقہ اسلامی کی روشنی میں متنازعہ رسوم اور بالخصوص اولیاء اللہ کے مزاوروں پر حاضری (زیارت قبور) کے محاکمے کے لیے وقف ہے25۔ بہر صورت کتاب کے آخر میں محبوب علی نے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے تحریک جہاد کے دوران اپنے تجربات ومشاہدات خاصی طوالت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ ذیل میں محبوب علی کے اپنے الفاظ میں ان واقعات کے چند اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ میں نے کتاب کے مختلف حصوں سے انھیں نقل کیا ہے، تاکہ قارئین کو ان کے براہ راست تجربات اور مشاہدات کا ایک منتخب لیکن معلوماتی اور نمائندہ اقتباسات فراہم کیا جا سکے۔ ذیل میں نسبتاً ایک لمبی عبارت دی جا رہی ہے، لیکن میں قارئین سے درخواست کروں گا کہ وہ اسے آخر تک پڑھنے کی زحمت کریں۔ محبوب علی اس داستان کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
"میں 17 شعبان 1242 ہجری (اندازاً 15 مارچ 1827) کو چار سو آدمیوں کو لے کر کفار سے جہاد کے ارادے سے دہلی سے روانہ ہوا۔ چند مہینے سفر کے بعد ہم بہاول پور کے رستے سے پشاور کے قرب وجوار میں واقع کھنڈ میں پہنچے۔ اس وقت مجاہدین کے امیر سید احمد پنجتار (پشاور سے تقریباً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر) تھے، جبکہ عسکری کارروائیوں کے امیر ابوعمر26 اسماعیل پکھلی (جسے آج ہزارہ کہا جاتا ہے) میں تھے۔ شمالی ہندوستان، سندھ اور خراسان کے متعدد مجاہدین بھی ان کے ساتھ تھے۔ پشاور کے مقامی سردار یار محمد خان اور ان کے بھائی، سید احمد کے شدید مخالف تھے۔ ان کی مخالفت سے نمٹنے کے لیے سید احمد انھیں مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے بجائے انھیں بزور بازو اطاعت گزار بنانا چاہتے تھے۔
مجھے مسلمانوں کے دو برسرپیکار گروہوں کے درمیان فتنہ کھڑا ہونے کا خدشہ تھا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ جہادی اُمور الہامات کے ذریعے نمٹائے جا رہے ہیں، حالانکہ مسلمانوں کے لیے شرعی طریقِ کار مشورے کا ہے۔ ایک شخص جس کا نام سید شاہ (جس نے سید احمد سے انتہائی قربت حاصل کی تھی) تھا، کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ درانی کا جاسوس ہے۔ انھی کے مشورے پر سید احمد نے اسماعیل کو (پشاور میں اپنے پاس رکھنے کے بجاے) پکھلی بھیجا، جو حکمتِ عملی کے اعتبار سے ایک بڑی غلطی تھی۔
جب میں نے یہ صورتِ حال دیکھی تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ آدمی (سید احمد) معاملات پر اپنی گرفت کھو رہا ہے۔ اس لیے جب میں (پنجتار میں) ان سے ملا تو میں نے انھیں خلوت میں بتایا: "اے سید! جہاد دین کا سب سے اہم ترین فریضہ ہے، اور اسے مشورے ہی سے سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ اور جنگ (اپنے مخالفین) کے ساتھ چال چلنے کا نام ہے۔ لیکن آپ تو کسی کے ساتھ بھی چال نہیں چل رہے، اس کے بجاے آپ کے ساتھ چالیں چلی جا رہی ہیں۔ اب یہ نہ کہنا کہ میں امیر المؤمنین یا زمین پر خدا کا خلیفہ ہوں جس کی اطاعت ہر فرد پر واجب ہے۔ صبر سے کام لیں، اور مقامی لوگوں سے نفرت نہ کریں، نہ ہی اپنے منصوبے ان پر ظاہر ہونے دیں۔ اس وقت تک انتظار کریں جب ہندوستان سے بارہ ہزار مزید فوجی آپ کے ساتھ آکر شامل نہ ہو جائیں، اس وقت پوری طرح اپنے اختیارات کو بھرپور انداز میں استعمال کریں۔ میری رائے سننے کے بعد سید احمد نے مجھے جواب میں کہا: "تم میرے مقصد کو ایک ایسے وقت میں برباد کر رہے ہو جب وہ تکمیل کے قریب ہے۔ تمھیں میری اطاعت میں اس طرح خاموش رہنا چاہیے جیسے کہ یہ پہاڑ میرے سامنے خاموش کھڑا ہے"۔
میں نے انھیں التجا کی: "پشاور کے سرداروں کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپ دیجیے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی بیعت سے نہ روکیں، اور آپ کی فوج میں شامل ہونے والے مجاہدین کا رستہ نہ روکیں"۔ انھوں نے میری درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا: "یہ ممکن نہیں۔ یار محمد کے دل میں رتی برابر بھی ایمان نہیں۔ وہ تمھیں اسی وقت قتل کر دے گا"۔ میں نے جواب میں کہا: "اگر وہ مجھے قتل کرے پھر تو اچھا ہے۔ اس کی وجہ سے بغیر کسی شک وشبہے کے آپ کا ان کے خلاف جنگ لڑنا جائز ہو جائے گا"۔ انھوں نے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس لیے میں نے دوبارہ ان سے درخواست کی: "اچھا پھر مجھے 'لاہوری کتے' (رنجیت سنگھ) کے پاس نمائندہ بنا کر بھیج دیجیے۔ میرے ذریعے انھیں یہ پیغام بھجوا دیں کہ "مسلمانوں کے اصولوں کے مطابق ہم اپنے دشمنوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام قبول کریں یا (اطاعت گزاری کے ثبوت کے طور پر) جزیہ دینا قبول کریں۔ میرے ذریعے سے اس کو یہ پیغام بھیجیں"۔ اس تجویز کے جواب میں سید احمد نے کہا: "میں ایسا نہیں کروں گا۔ وہ (رنجیت سنگھ) ہمارا مذاق اڑائے گا، اور کوئی کافر مسلمانوں کا مذاق اڑائے یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے"۔ جب میں نے معاندانہ رویہ دیکھا تو مجھ پر کھل گیا کہ یہاں پر میرا مزید قیام اختلاف وانتشار کو بڑھاوا دے گا، اس لیے میں نے سید احمد (اور تحریکِ جہاد) کو خدا حافظ کہا اور واپس دہلی لوٹ آیا27۔
ایک طرف محبوب علی شمال مغرب میں ایک ناکام عسکری تحریک سے پریشان تھے، تو دوسری طرف دہلی واپسی پر انھیں عوام کی طرف سے غدار اور واجب القتل قرار دیے جانے کی پھبتیوں نے رنجیدہ کر دیا ۔ انھوں نے پریشانی کے عالم میں لکھا ہے: "علما وحکم رانوں سے جاہلوں کی اندھی عقیدت نے دنیا کو بگاڑ کر رکھا ہے"28۔ اہم بات یہ کہ محبوب علی صرف ان لوگوں کے شاکی نہیں جنھوں نے ان پر طنز وتشنیع کی اور ان کی جان کے درپے ہوئے، بلکہ وہ ان لوگوں کے بھی شاکی ہیں جنھوں نے سید احمد پر ان کی موت سے پہلے اور بعد میں طنز وتشنیع کی اور فتوے لگائے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: "کچھ جاہل لوگوں نے مجاہدین کے امیر (سید احمد) سے بھی اپنی نفرت کا اظہار کیا، اور مجاہدین کو مفسدین سمجھا۔ ایسے تمام الزامات لگانا حرام ہے، کیونکہ یہ ملت کے سیاسی نظم کو بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں"29۔ وہ ذرا تلخ لہجے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ، جس سے جہاد کے متعلق ان توقعات پر افسوس اور خوش گمانی کا اشارہ ملتا ہے جو شرمندۂ تکمیل نہ ہو سکیں، لکھتے ہیں: "اس معاملے میں لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ مجاہدین کی کام یابی کے لیے ہمہ وقت دعاے خیر کریں، وہ جیسے بھی ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں۔ انھیں چاہیے کہ سید احمد رحمہ اللہ کے لیے دعاے رحمت کریں، کیوں کہ وہی پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند کیا اور کافروں کا سامنا کرنے میں کام یاب ہوئے"30۔
سید احمد سے محبوب علی کے قطع تعلق اور ان کی عسکری اور سیاسی بصیرت پر تحفظات کے باوجود تحریک جہاد کے برتر مقاصد اور توقعات سے متعلق ان کا حسن ظن آخر دم تک قائم رہا۔ محبوب علی کی نظر میں جنگ کا مقصد سیاسی اعتبار سے فتح یا شکست کا حصول نہیں تھا۔ اس کے بجاے ایک منصفانہ سیاسی نظام کی خواہش وجد وجہد ان کا مطمح نظر تھا۔ اپنی کہانی میں محبوب علی بظاہر تمام کرداروں میں سب سے زیادہ متاثر کن نظر آتے ہیں۔ وہ ایک دور اندیش عسکری منصوبہ ساز، علمی طور پر پختہ اور سیاسی لحاظ سے سمجھ دار تھے۔ وہ طرح طرح کی انتہا پسندانہ حملوں کا شکار ہوتے ہیں، لیکن کسی کو بھی ان کی کہانی میں پیش کردہ اندرونی تنقید کی شان دار مثال کو جاننے کے لیے پاسبانِ عقل کو رخصت دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ محبوب علی کی داستان سے پوری وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص بیک وقت کسی شخصیت یا تحریک کا شدید ناقد ہوتے ہوئے بھی اس کے برتر اخلاقی اور سیاسی امکانات کے ساتھ جُڑا ہوا اور اس کا ثنا خواں ہو سکتا ہے۔
مزید برآں مسلکی اعتبار سے محبوب علی ان لوگوں کے شدید ناقد ہیں جو ایسے علما پر وہابی کا لیبل لگاتے ہیں جو شفاعتِ نبوی اور زیارتِ قبور جیسے عقائد واعمال سے روکتے ہیں۔ ان کی کتاب کا باقی حصہ شمالی ہندوستان میں "مخالف وہابی" مناظروں کی ایک کاٹ دار تنقید پر مبنی ہے۔ محبوب علی ان لوگوں کی تنقیدات پر بھی اتنے ہی برافروختہ ہیں جتنا وہ خط تقسیم کی دوسری جانب ان لوگوں سے نالاں ہیں جو سید احمد سے میدان جہاد میں غداری کے الزام پر ان کے قتل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ محبوب علی اپنے غصے کا رخ ان لوگوں کی طرف پھیرتے ہوئے کہتے ہیں:
یہ لوگ الزامات لگانے میں بہت بے دھڑک واقع ہوئے ہیں۔ "فلاں اولیا کی ولایت کا منکر ہے، یا وہ وہابی ہو گیا ہے"۔ ان کی اس طرح کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے خود کو اولیاء اللہ سمجھنا شروع کر دیا ہے اور کسی جگہ بیٹھ کر جو بھی ان کی جی میں آتا ہے، بک دیتے ہیں۔ انھیں احساس تک نہیں کہ افترا پردازی اور بہتان تراشی ایک بُری بلا ہے، جس کی وجہ سے دین اور دنیا دونوں برباد ہو سکتے ہیں۔ وہ روافض (شیعوں کے لیے بولا جانے والا توہین آمیز لفظ جس کا لفظی معنی "منکرین" ہیں) کی طرح اپنے تمام مخالفین پر تبرّا کرتے ہیں، اور انھیں ائمۂ دین کے منکر قرار دیتے ہیں"31۔
اگر چہ محبوب علی کو حضرت فاطمہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے نسبی تعلق پر ناز ہے، لیکن ان کی مسلکی رواداری شیعہ کی تائید نہیں کرتی۔ شیعہ ان کے لیے مسلمانوں میں شامل ایک گروہ ہے جو ان کی رواداری کی حدود سے خارج ہے۔ یہ تمام نکات ایک واضح لیکن عموماً نظر انداز کردہ رائے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ علما دیگر انسانی کرداروں کی طرح پیچیدہ اور مشکل لوگ ہیں جنھیں آسانی سے بنے بنائے خانوں تک محدود اور تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
"خدائی مددگاروں" کا قابل اعتراض بیانیہ
اس طرح کی پیچیدگی تاریخ دان عائشہ جلال کی معلوماتی لیکن بڑی حد تک مسائل سے بھرپور کتاب Partisans of Allah میں بالکل مفقود ہے۔ ان کے نزدیک سید احمد اور شاہ محمد اسماعیل کی تحریکِ جہاد نے "مذہب بطور ایمان وعقیدہ " اور "مذہب بطور امتیازی شناخت" کو خلط ملط کر کے "جہاد کے ساتھ جڑے اعلیٰ اخلاقی اقدار" اور عملیت پر مبنی افہام وتفہیم کو کمزور کر دیا32۔ یہ درجہ بندیاں جو سیکولر لبرل الٰہیات کی پیداوار ہیں، مبہم ہونے کے ساتھ ساتھ نامناسب بھی ہیں۔ اس الہیات کی رو سے اچھا مذہب یا "مذہب بطور ایمان وعقیدہ" ایک ہمہ گیر داخلی واردات سے عبارت ہے۔ اس کے برعکس برا مذہب عوام کی رسوم و عبادات، امتیازی علامات اور ان علامات کو قائم اور برقرار رکھنے کے لیے تشدد کے استعمال سے سروکار رکھتا ہے۔
عائشہ جلال کے نزدیک سید احمد اور شاہ اسماعیل دونوں مسلم کرداروں کا وہ تسلسل ہیں جنھوں نے قرآن میں بیان کردہ جہاد کے "اعلیٰ اخلاقی اقدار" کو تج کر جہاد کو "داخلی وروحانی" مقاصد کے بجاے مادی اور عملی نتائج کے لیے استعمال کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مادیت وروحانیت اور عملیت وتصوریت کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ممکن ہے؟ عائشہ جلال اس علیحدگی کے ممکن ہونے پر غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتیں۔
اچھا مذہب یعنی "مذہب بطور ایمان وعقیدہ" وہ ہے جو پرامن انداز میں روحانی تزکیے کے حدود تک محدود ہو، اور ایسے مذہب کے ہنگاموں سے بالکل دور ہو جو مذہبی اعمال کی اساس پر دوسروں سے امتیاز کا داعی ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے نظریۂ مذہب کا اطلاق نظریۂ جہاد پر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اچھا جہاد، جہاد بالقلب یا اعلی اخلاقی اقدار کا جہاد ہے۔ اس کے برعکس برا جہاد توسیع پسندی، عملی منصوبہ بندی، مذہبی امتیازات کی تحدید اور تشدد کے استعمال کا نام ہے۔ یہ وضاحت ضروری ہے کہ جہاد اکبر، یعنی دنیوی خواہشات اور بندھنوں سے جسم کی حفاظت وتربیت اور جہادِ اصغر یا مسلح جنگ کے درمیان فرق مسلمانوں کی علمی تراث میں موجود ہے33۔ لیکن فقہ اسلامی اور تصوف کے درمیان تعلق کی طرح جہاد اکبر واصغر کا باہمی تعلق بھی تقابل اور تقسیم (binary) کے بجاے درجہ بندی (hierarchy) کا تعلق ہے۔
عائشہ جلال نے سید احمد کی تحریک جہاد کی ناکامی اور مسلمانوں کے روحانی زوال کی جو وجوہات بیان کی ہیں، ان کا تعلق مسلمانوں کی تاریخ کے عروج وزوال کے ایک مشہور عام بیانیے کے ساتھ ہے۔ اس بیانیے کے مطابق قرآن میں عدل وانصاف پر مبنی اور اخلاقی طور پر جہاد کا جو ایک ترقی یافتہ تصور دیا گیا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کم زور ہو گیا۔ یہ اس لیے ہوا کہ مسلمان علما سیاسی فوائد اور سیاسی اشرافیہ کے اقتدار کے کھیلوں پر فریفتہ ہو گئے، جس نے جہاد کے اخلاقی تصورات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور اسے سیاسی اور مادی مقاصد کے لیے ایک دنیوی ہتھیار میں بدل دیا۔ عائشہ جلال کے اپنے الفاظ میں: "مسلمان معاشرے کی نمائندہ شخصیات نے اسلامی عقیدے کے ایک فطری جُز کی حیثیت سے اخلاقیات کو حاشیے کی طرف دھکیل دیا۔ اس طرز عمل کے مضمرات اس وقت زیادہ واضح ہوئے جب اسلامی قانون نے خود کو ان اخلاقی تصورات سے بالکل الگ کردیا جو قرآن میں بیان کیے گئے تھے۔ رفتہ رفتہ جہاد کا وسیع قرآنی تصور غائب ہو گیا، اور اسلام کی فقہی روایت میں اس نے ایک محدود مفہوم اختیار کر لیا۔ قدیم فقہی مصادر جہاد کے روحانی اور اخلاقی مفاہیم سے پہلو تہی کرکے جنگ کے مادی پہلوؤں پر زیادہ زور دیتے ہیں"34۔
اخلاقی اور مادی امور کے درمیان تفریق اور خالص مذہب کے بنیادی ماخذ کے طور پر قرآن کریم کی ظاہری تکریم، جسے بعد میں آنے والی نسلوں کے فقہا نے آلودہ کر دیا- یہ وہ مواقف ہیں جن سے کسی انتہائی متشکک پروٹسٹنٹ کے چہرے پر بھی خوشی سے مسکراہٹ بکھر جائے گی۔ اسلامی تاریخ کے حوالے سے بھی عائشہ جلال کا مطالعہ ان کے اپنے الفاظ میں "اسلام کی فارسی اور عربی شکلوں" کے درمیان لسانی ونسلی کش مکش کے ایک سراسر محل نظر موقف پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق "فارسی اثرات عام ہوئے، اور آج تک موجود ہیں، جب کہ عربوں کے اثرات نے شدت پسند مذہبی تحریکوں کی شکل اختیار کر لی35"۔ یہ ایک مضحکہ خیز رائے ہے۔ شدت پسند مذہبیت اور فارسی رواداری کے درمیان ایک دوگانہ (binary) تقابل تاریخی اور علمی اعتبار سے بے سروپا ہے36۔
عمومی طور پر عائشہ جلال کا علمی منہج بھی سید احمد اور شاہ اسماعیل کی تحریک جہاد کے تجزیے کی بنیاد ہے۔ تحریک جہاد کے حوالے سے غلام رسول مہر (سید احمد کے سوانح نگار) کے کام کا بڑی محنت کے ساتھ ایک مفید خلاصہ پیش کرنے کے بعد عائشہ جلال ایک الٰہیات دان کا لبادہ اوڑھ کر سید احمد اور شاہ اسماعیل کو "جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے شعور کو آلودہ کرنے" پر لعنت ملامت کرتی ہیں37۔ وہ مزید دعویٰ کرتی ہیں کہ: "انھوں نے اپنی تعلیمات کے روحانی پہلو کو خیرباد کہا، اور اپنے گرتے مقصد کو سہارا دینے کے لیے انسانی دل کے بدترین جذبات کو مخاطب بنایا"38۔ اس دوران وہ شارحین میں سب سے زیادہ ماہر اور غیر جانب دار ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر(م 1900) کے، جو استعماری دانش کا نچوڑ ہے، بے کم وکاست حوالے دیتی ہیں! جی ہاں، کوئی اور نہیں، بلکہ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر!
مناظرے کے اَکھاڑے میں باضابطہ اترنے کے اعلان کے بعد عائشہ جلال سید احمد اور شاہ اسماعیل کے "مداحوں کے جھرمٹ" کو چیلنج کرتی ہیں کہ وہ "ہنٹر کے چبھتے ہوئے الزامات کا جواب دیں"39۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مجھے سید احمد کی تحریکِ جہاد کے دفاع یا قرآن کریم کے "اعلی اقدار" سے اس کی اخلاقی ہم آہنگی یا انحراف میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ایسی کوئی کاوش مذہب کے علمی مطالعے کے ساتھ بالکل میل نہیں کھاتی۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ میرے پاس وہ دینی مہارت نہیں جو اس طرح کی کسی سرگرمی کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بجاے میری دلچسپی مخصوص کرداروں کو یک رُخے افراد کے طور پر پیش کرنے، جن کے پیش نظر صرف سیاسی مقاصد تھے، اور ان کی فکر، کتابوں اور علمی زندگی کی تفصیلات یا باریکیوں کو توجہ نہ دینے کی علمی اور تاریخی کمزوری کی نشان دہی کرنے سے ہے۔ اس طریقِ کار سے جہاد اور بطورِ خاص برصغیر کے اسلام کی کوئی گہری اور درست تصویر پیش کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ قاری حیرت میں ڈوبا رہتا ہے کہ اس کتاب میں "خدائی طرف دار" سے آخر کون لوگ مراد ہیں: مصنفہ کے زیرِ تحقیق لوگ یا خود مصنفہ؟
جہاد وتشدد اور سیاسیات سے ان کے قریبی تعلق کے ایک نسبتاً زیادہ عمیق اور مفید تصور کے لیے بجا طور پر طلال اسد کی بصیرت افروز کلاسیک On Suicide Bombing کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس پوری تحریر میں طلال اسد ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسیات اور تشدد کے بارے میں عام طور پر فرض کردہ تضاد کے بارے میں تنقیدی سوچ سے کام لیں اور اس پر سوال اٹھائیں۔ یہ فرض کردہ تضاد مغرب کی لبرل سیاسیات کی معقولیت اور خود کش بمبار کی شکل میں پرتشدد غیر لبرل کرداروں کی نامعقولیت کے موازنے کو جائز قرار دیتا ہے۔ On Suicide Bombing خود ستائی پر مبنی ایسے لبرل بیانیے کے خلاف ایک زبردست فردِ جرم ہے40۔ طلال اسد نے جس طرح سے جہاد اور سیاست کے ناقابلِ علیحدگی تعلق کے بارے میں سیاسی مفکّرہ روزین یوبن (Roxanne Euben) کے تجزیے کو استعمال کیا ہے، یہاں پر وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔
وہ لکھتی ہیں: "جہاد نہ تو دنیوی طاقت کے حصول کی ایک اندھی اور خونی ذہنیت کی جد وجہد ہے، نہ ہی اُخروی زندگی میں داخل ہونے کا کوئی دروازہ ہے۔ اس کے بجائے یہ سیاسی کارروائی کی ایک صورت ہے، جس میں، حنہ ارنت (Hannah Arendt) کی اصطلاح میں، ابدی زندگی کا حصول پوری گہرائی کے ساتھ ناگزیر طور پر ایک دنیوی جدوجہد سے جڑا ہوتا ہے- اور وہ زمین پر ایک منصفانہ معاشرے کا قیام یا بحالی ہے"41۔ اسد اور یوبن، سید احمد اور اسماعیل کی تحریکِ جہاد میں کار فرما اخلاقی اور سیاسی پروجیکٹ کے لیے ایک انتہائی مفید علمی منہج فراہم کرتے ہیں۔ "شدت پسند" اسلام کی عینک سے یا اس کے اخلاقی پہلوؤں سے اس تحریک پر کلی انداز میں تنقیدی حکم لگانا اس کے سیاسی کردار اور ثمرات کے نسبتاً زیادہ گہرے مطالعے کی راہ میں رکاوٹ میں پیدا کرتا ہے۔
مابعد نوآبادیاتی تشریحات
ایک بار پھر شاہ اسماعیل کی طرف واپس آتے ہیں۔ تحریک جہاد، جس کے لیے انھوں نے اپنی جان قربان کی، ان کی زندگی کے دیگر پہلوؤں کی طرح متضاد تشریحات کا موضوع بن چکی ہے جن کے لیے مسلکی اختلافات اور مابعد نوآبادیاتی قومی بیانیے ایندھن کا کام دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک سکھوں کے خلاف شمالی ہندوستان کی تحریکِ جہاد دینی اصلاح کا ایک اہم دور تھا، جو صرف مقامی پشتون قبائل اور ان کے سرداروں کی غداری کی وجہ سے ناکام ہوئی جو اپنے "نجات دہندگان" کے درپے ہو گئے تھے42۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق "شہداے بالاکوٹ" نے، باوجود اپنی عسکری ناکامی کے، جنوبی ایشیا میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مستقبل میں کی جانے والی تمام کوششوں کے لیے راستہ ہموار کیا۔ بیسویں صدی کے مشہور ہندوستانی-پاکستانی اسلام پسند سیاسی مفکر اور جماعت اسلامی کے بانی سید اَبوالاعلی مودودی (م 1979) نے ایک مقام پر لکھا ہے: "جنوبی ایشیا میں اسلام کی بارہ سو سالہ تاریخ میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کی برپا کردہ تحریک کو صحیح معنوں میں جہاد کہا جا سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمان حکم رانوں نے متعدد جنگیں لڑیں، لیکن ان میں سے کوئی حکم الٰہی کی اساس پر نہیں تھی۔ یہ محض جنگیں تھیں نہ کہ اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد۔ بس یہی دو شخصیات ہیں جنھوں نے اپنے تمام ذاتی اور سیاسی مقاصد کو بالاے طاق رکھا اور خدا کی زمین پر خدا کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے جنگ لڑی"43۔
تاہم یہی کہانی جب شاہ اسماعیل کے مخالفین مثلاً بریلوی حضرات بیان کرتے ہیں تو یہ مکمل طور پر ایک مختلف بیانیے میں بدل جاتی ہے۔ اس بیانیے کے مطابق شاہ اسماعیل اور ان کے رفقا نے سیاسی طاقت کے حصول کے لیے ایک ایسے سماج میں، جس میں دیگر مسلمان بس رہے تھے، خون ریزی اور فتنہ وفساد برپا کرنے کی ایک افسوس ناک نظیر قائم کی۔ مزید یہ کہ اگر وہ حقیقت میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کی حکومت سے نجات دلانا چاہتے تھے تو انھوں نے سکھوں سے لڑنے کے لیے سینکڑوں میل کا سفر کرنے کے بجاے شمالی ہندوستان کے اندر ہی برطانوی استعمار کے فوری خطرے کو ٹالنے کے لیے اپنی توانائیاں کیوں صرف نہیں کیں44۔ اس کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت تحریکِ جہاد کے اصل بانی برطانوی ایجنٹ تھے جن کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں میں فکری اور مسلکی اعتبار سے پھوٹ ڈالنا تھا۔
جواب میں سید احمد اور شاہ اسماعیل کے حامی ان کی تحریروں سے ایسے حوالے دینے میں پھرتی دکھاتے ہیں جو انگریزوں کی مخالفت میں ہوتے ہیں۔ سید احمد کے خطوط وخطبات دونوں کے مجموعوں کے تعارف میں ان لمحات کا ذکر ہوتا ہے جس میں انھوں نے انگریزوں کو برا بھلا کہا ہوتا ہے، یا ان سے لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہوتا ہے۔ سید احمد انھیں گاہے گاہے "کفار فرنگ" یا "ذلیل عیسائیوں" سے یاد کرتے ہیں۔ مثلاً اگست 1827 میں امیرِ بخارا نصر اللہ خان (م 1860) کے نام کچھ طویل خط میں سید احمد نے انگریزوں کا کئی بار نسبتاً ناگواری کے انداز میں ذکر کیا ہے، اور ایک مقام پر لکھا ہے: "فرنگی کافر جنھوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا ہے، اور انتہائی تجربہ کار، ہوشیار، فریبی اور مکار ہیں"45۔
لیکن انگریزوں سے شاہ اسماعیل اور سید احمد کے تعامل سے متعلق الزامی اور دفاعی دونوں قسم کے بیانیوں کا حاصل ان کرداروں پر قوم پرستانہ خواہشات اور اندیشوں کو تھوپنا ہے جنھوں نے سیاسیات کو جدید ریاست کی محدود عینک سے کبھی دیکھا نہیں۔ مثلاً اَمیرِ بُخارا کے نام اپنے خط میں انگریزوں پر سید احمد کی کاٹ دار تنقید میں ایک سامراج مخالف غصہ کم اور امیر کو برطانوی اقتدار کے منڈلاتے خطرے کے بارے میں تنبیہ زیادہ نمایاں ہے۔ یہ دراصل ایک ماوراے سرحدات تحریک جہاد کو سندِ جواز فراہم کرنا تھا جس کی قیادت سید احمد خود کر رہے تھے اور جس کا پہلا مرحلہ سکھوں سے لڑائی تھی۔ اس تحریک پر "انگریز کے ایجنٹ" یا "سامراج مخالف" کی باہم متقابل سیاسیات (binary politics) کا بآسانی اطلاق نہیں ہو سکتا۔ بہر صورت شاہ اسماعیل کے موافقین ومخالفین دونوں اپنے اُن فکری رجحانات مثلاً سامراج مخالف قوم پرستانہ سیاسیات کی روشنی میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں جن کے وہ قائل نہ تھے۔ ان کا تذکرہ دو حریف بیانی مناہج کے درمیان معلق رہتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ جب "شاہ محمد اسماعیل" کا نام مختلف بیانی تصورات میں داخل کیا جاتا ہے تو بعض لوگوں کے ہاں وہ "دیوبندی فکر کے پیش رو"، "جنوبی ایشیا کی اسلامی تاریخ کے پہلے حقیقی شہید" (جیسا کہ مودودی صاحب کا نقطۂ نظر ہے)، اور بعض کے ہاں "اولین ہندوستانی وہابی" وغیرہ بن جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض تعریف وتوصیف اور کچھ مذمت وتردید کے پل باندھتے ہیں، لیکن ان دونوں میں جو بات مشترک ہے، وہ یہ بیانی خواہش ہے کہ تاریخ کے ہنگامے سے شاہ اسماعیل کے ورثے کی ایک متعین تفہیم اخذ کی جائے۔ آنے والی بحث میں مجھے اس تراث کے لیے تاریخیت (historicity) پر مبنی حل کی تلاش یا اس کی تفہیم کے لیے کوئی دوسرا بیانیہ تشکیل دینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ درحقیقت شاہ اسماعیل کی شخصیت سے جڑے کثیف مناظرانہ تناظرات کو دیکھتے ہوئے یہ ناممکن ہے کہ تاریخی طور پر اس تنازع کا حل نکالا جائے جو ان کے ذکر چھیڑتے ہی کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے بجاے یہ زیادہ نتیجہ خیز ہوگا کہ ان کی تراث کا اس طرح سے جائزہ لیا جائے جو ان کے اپنے سماجی تصورات کو واضح کرے، اور ان کی زندگی سے متعلق انواع واقسام کے خود ساختہ مفروضوں کی کمزوری کو نمایاں کرے۔ اس طریق کار کی روشنی میں جن اہم ترین موضوعات پر بحث کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک خدائی حاکمیت (توحید) سے متعلق ان کے نظریات ہیں، جن پر میں اگلے صفحات میں بحث کروں گا۔
حواشی
1. حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) پر ان کی بے حد مقبول اور خوف ناک حد تک متنازع کتاب تقویۃ الایمان کے علاوہ اسماعیل کی دیگر نمایاں کتابوں میں عبقات، جو (وحدت الوجود کے موضوع پر) شاہ ولی اللہ کی کتاب لمعات کی شرح ہے؛ منصبِ امامت، جس کا موضوع سیاستِ شرعیہ ہے (جس پر باب چہارم میں تفصیلی بحث آ رہی ہے)؛ اور ایضاح الحق، جو بدعت کے تعبیری اصولوں اور فقہی قواعد سے متعلق ہے، شامل ہیں۔
2. بانیانِ دیوبند کے ساتھ ساتھ شاہ اسماعیل کے پرجوش حامیوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان اور بیسویں صدی کے نامور عالم مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (م 1999) بھی شامل ہیں۔ مولانا ندوی نے ان کی کتاب تقویۃ الایمان کا عربی ترجمہ کیا اور انھیں مشرق وسطی میں مقبول عام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
3. بحوالۂ سید محمد نعیم الدین، اطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان، (بمبئی: رضا اکیڈمی، 1998)، 206۔
4. شاہ اسماعیل پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان اٹھارھویں صدی عیسوی کے عرب مصلح محمد بن عبد الوہاب کی معروف کتاب التوحید سے سرقہ کی ہے۔ تاہم اس دعوے کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جو اسماعیل کو محمد بن عبد الوہاب کے متبعین یا فکر سے جوڑتا ہو۔
5. نعیم الدین، اطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان، 38۔
6. تھانوی، ارواح ثلاثہ، 74۔
7. ایضاً، 75۔
8. ایضاً۔
9. ایضاً۔
10. شیخ محمد اکرام، موجِ کوثر (لاہور: ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، 2014)، 21۔
11. ایضاً، 37۔
12. اس خط کا تعلق سید احمد کے (اور شاہ اسماعیل کے چند) خطوط، تقاریر اور خطبات کے اس مجموعے سے ہے جسے مولانا غلام حسین نامی شخص نے سید احمد کی وفات کے تقریباً پچاس سال بعد 1883 میں اپنے ہاتھ سے نقل کیا۔ غلام حسین کا تعلق پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے تھا، اور وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا، جس کا سید صاحب کے علمی شجرے سے قریبی تعلق تھا۔ ایک کامل عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کی دیگر کئی نایاب کتب نقل کیں۔ ان کا کتب خانہ، جس کی حفاظت کا اہتمام ان کے جانشین نہ کر سکے، لاہور کے ایک تاجرِ کتب عبد الرشید نے خریدا اور پھر 1975 میں انھی کے اشاعتی ادارے مکتبہ رشیدیہ سے غلام حسین کے نقل کردہ نسخے کا قلمی نسخہ چھپا۔ اس بحث میں، میں نے قلمی نسخے کی صورت میں چھپنے والی کتاب پر انحصار کیا ہے۔
13. فسادی باغیوں سے سید صاحب کی مراد افغانستان اور خراسان کے "باغی" قبائل اور گروہ ہیں۔ یہ ایک نعرہ تھا جس کے ذریعے انھوں نے تحریکِ جہاد کو علاقائی طور پر مقبول بنانے کی کوشش کی۔
14. سید احمد شہید، مکاتیبِ سید احمد شہید (لاہور: مکتبہ رشیدیہ، 1975)، 18۔
15. ایضاً۔
16. ایضاً۔
17. مثال کے طور پر دیکھیے: ایضاً، 18؛ شاہ محمد اسماعیل، مکتوباتِ شاہ اسماعیل دہلوی، غیر مطبوعہ قلمی نسخہ، ایم ایس 102، ص 26، پنجاب یونیورسٹی لائبریری کے قلمی نسخوں کا سیکشن، لاہور۔
18. سید احمد، مکاتیب، 13۔
19. ایضاً۔
20. پشتونوں کے شمال مغربی خطے میں سید احمد اور ان کی تحریک کے آثار کے لیے ثنا ہارون کی عمدہ تحقیق بعنوان: Frontier of Faith: Islam in the Indo-Afghan Borderland ملاحظہ فرمائیں۔ پشتون قبائل کے نقطۂ نظر سے تحریکِ جہاد کی ایک دل چسپ تاہم بعض مقامات پر دستاویزی تحقیق کے لیے ملاحظہ فرمائیں: الطاف قادر، Sayyid Ahmad Barailvi: His Movement and Legacy from the Pakhtun Perspective (نیو دلی: سیج پبلی کیشنز، 2015)۔
21. خوشتر نورانی، برٹش گورنمنٹ اور تحریک جہاد: ایک تحقیقی مطالعہ (دہلی: ادارۂ فکر اسلامی، 2014) 55-152۔
22. ایضاً، 155-56۔
23. یہاں پر کیے گئے تجزیے کے لیے میں نے اس کتاب کے دو نسخوں کے مختلف حصوں سے استفادہ کیا ہے۔ پہلا نسخہ تقریباً دو سو لوحات پر مشتمل ہے جس میں محبوب علی نے زیادہ تر بحث زیارتِ قبور پر کی ہے۔ اور دوسرا نسخہ معاصر محقق خوشتر نورانی کی کتاب "برٹش گورنمنٹ اور تحریک جہاد" میں عربی میں محبوب علی کے عینی مشاہدات کی تدوینِ جدید ہے۔ خوشتر نورانی کی تحقیق کا مقصد سید احمد کی تحریک جہاد کو برطانوی استعمار کو ایک سہولت کار کے طور پر ثابت پیش کرنا ہے، اور اس سے بظاہر اس تحریک کے ایک منحرف کے آنکھوں دیکھے حال میں ان کی دل چسپی کی وجہ واضح ہوتی ہے۔ تاہم محبوب علی کی یاد داشتیں علی الاطلاق نورانی صاحب کے پراجیکٹ کے حق میں نہیں۔ بہر صورت میں نے بنیادی طور پر نورانی صاحب کے کام سے استفادہ محبوب علی صاحب کی کتاب کے چیدہ مباحث تک رسائی کے لیے کیا ہے جو بد قسمتی سے اس قلمی نسخے میں شامل نہیں تھے جو میرے پیشِ نظر تھا۔ جس وقت یہ کتاب اشاعت کے لیے پریس میں جا رہی تھی، اس وقت یہ قلمی نسخہ میری رسائی سے باہر تھا۔ میں پروفیسر جاوید مجددی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے مجھے تاریخ ائمہ کی دست یابی اور اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا۔
24. دیکھیے خوشتر نورانی کی کتاب تحریک جہاد میں: سید محبوب علی، تاریخ الائمۃ فی ذکر خلفاء الامۃ، ص 157۔
25. سید محبوب علی، تاریخ الائمۃ فی ذکر خلفاء الامۃ، قلمی نسخے کی تصویر 319، پنجاب یونیورسٹی لائبریری کا ذخیرۂ مخطوطات، لاہور۔
26. ابو عمر بیٹے کی نسبت سے شاہ اسماعیل صاحب کی کنیت تھی۔
27. سید محبوب، تاریخ الائمۃ، نورانی کی تحریک جہاد کے ضمن میں، ص 183-196۔
28. ایضاً، 194۔
29. ایضاً۔
30. ایضاً، 195۔
31. سید محبوب، تاریخ الائمۃ، لوحات 2-3۔ (ترجمے میں فارسی متن کو بنیاد بنایا گیا ہے، مترجم)
32. عائشہ جلال، Partisans of Allah: Jihad in South Asia (کیمبرج ایم اے: ہاورڈ یونیورسٹی پریس، 2008)، 16۔
33. جہاد پر مسلمانوں کی ماقبل جدید اور جدید علمی کاوشوں کے لیے ملاحظہ فرمائیں: جوناتھن بروکوپ (مرتب)، Islamic Ethics of Life: Abortion, War and Euthanasia (کولمبیا: یونیورسٹی آف ساوتھ کیرولینا پریس، 2003)۔ نیز دیکھیے: پال ہِک، “Jihad” Revisited، جرنل آف ریلیجیس ایتھکس 32، نمبر 1 (بہار 2004): 95-128۔
34. عائشہ، Partisans of Allah، 8 -9۔
35. ایضاً، 36۔
36. اسلامی فکر وتاریخ کے اس طرح کے نسلی ولسانی مطالعے میں موجود مسائل کے لیے دیکھیے: گریگَری لپٹن، Rethinking Ibn Arabi (نیو یارک: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2018)۔ عربی شدت پسندی/فارسی رواداری کے باہمی تضاد (binary) تصور بالخصوص برصغیر کے تناظر میں موجود چند فکری اور تاریخی نقائص کے لیے دیکھیے: سیما علوی، Sher Ali Tareen, Review of Muslim Cosmopolitanism in the Age of Empire، انٹرنیشنل جرنل آف ساوتھ ایشین سٹڈیز 15، نمبر 1 (جنوری 2018): 126-31۔
37. یہاں پر ان تقابلات: عقیدہ/ایمان، اندرونی/بیرونی، تصوراتی/عملی، دینی/دنیوی، کلی/جزئی اور جہاد کے تناظر میں سب سے زیادہ مناسب: تشدد/سیاسیات میں کار فرما سیکولر لبرل تصورات پر ایک نظر ڈالیں۔ عام طور پر یہ بالکل ایک سادہ انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔
38. ایضاً، 106۔
39. ایضاً۔
40. طلال اسد، On Suicide Bombing (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009) 7-64۔
41. روزین ایل یوبن، Jihad and Political Violoence، کرنٹ ہسٹری 101 (نومبر 2002): 365۔
42. اس نقطۂ نظر کی بہترین ترجمانی کے لیے دیکھیے: شیخ محمد اکرام، موجِ کوثر۔
43. عبد اللہ بٹ، شاہ اسماعیل شہید (لاہور: تعمیر پرنٹنگ پریس، 1974)، 19 پر سید ابوالاعلی مودودی کا پیش لفظ۔
44. اس قسم کے بیانیوں کی ایک عمدہ مثال کے لیے ملاحظہ کیجیے: غلام راجا، امتیازِ حق: فضل حق خیر آبادی اور شہید دہلوی کے سیاسی کردار کا تقابلی جائزہ (لاہور: مکتبۂ قادریہ، 1979)۔
45. سید احمد، مکاتیب، 28۔
(جاری)