مارچ ۲۰۲۲ء

ایمان اور الحاد: چند اہم سوالات کا جائزہمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ سنن ابی داود (۳)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۸)مولانا سمیع اللہ سعدی 
فکری شبہات کی دلدل اور اہل علم کی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مسجد کا ادارہ اور امام وخطیب کا کردارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بانجھ مزرعۃ الآخرہ سے مولانا سنبھلی کی رحلتڈاکٹر شہزاد اقبال شام 
بچے کو گود دینا، مادہ تولید کی سپردگی اور کرایے کی کوکھ (Surrogacy)ڈاکٹر عرفان شہزاد 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۳)ڈاکٹر شیر علی ترین 

ایمان اور الحاد: چند اہم سوالات کا جائزہ

محمد عمار خان ناصر

انیسویں صدی کے ڈنمارک کے فلسفی سورن کیرکیگارڈ نے مسیحی علم کلام کی تنقید کرتے ہوئے ایمان کی درست نوعیت کو واضح کرنے کے لیے "یقین کی جست (leap of faith) " کی تعبیر اختیار کی تھی۔ کیرکیگارڈ نے کہا کہ ایمان محض عقلی استدلال کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں انسان کی پوری شخصیت شامل ہوتی ہے اور انسان کے جذبات، فکرمندی اور اضطرابات کے مجموعے سے وہ کیفیت وجود میں آتی ہے جب انسان میسر شواہد کی روشنی میں ایمان کی جست لینے پر تیار ہو جاتا ہے۔

Kierkegaard affirms a leap, not because the would-be believer doesn’t have sufficient evidence to leap, but simply because faith cannot be reduced to an intellectual test one passes via assent. No, faith is rooted in passion, in one’s cares and concerns. In entrusting one’s life to God, faith’s movement forward requires a decision each individual must make for him or herself.

انسان کے کسی بھی بڑے اور غیر معمولی فیصلے میں یہ جست شامل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کوئی قدم اٹھانا چاہتا ہے تو اس کو میسر معلومات یہ ثابت کرنے کے لیے کبھی کافی نہیں ہوتیں کہ نتائج یقینی طور پر حسب منشا ہوں گے۔ سو قدم اٹھانے کے لیے ایک یقین خود میں پیدا کرنا پڑتا ہے جس کی حیثیت ایک جست کی ہوتی ہے۔

ابراہیمی مذاہب کے علم کلام میں قابل فہم طور پر ایمان کے عقلی پہلو زیادہ نمایاں کیے جاتے ہیں اور خاص طور پر وجود باری اور توحید پر ایمان کو تقریباً‌ ایک بدیہی قضیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا ہے۔ یقیناً‌ انفس، آفاق اور تاریخ میں ایسے غیر معمولی شواہد موجود ہیں جو ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کو سلیم الفطرت انسانوں کے لیے ایک معقول اور قابل قبول انتخاب بناتے ہیں، لیکن آخری تجزیے میں یقین کی جست کے بغیر انسان ایمان تک نہیں پہنچ سکتا۔ دراصل یہ جست ہی ہے جس کی خدا کی نظر میں قدر ہے۔ ایمان بالغیب کی ساری قدروقیمت اسی میں مضمر ہے۔

ابراہیمی مذاہب کے ذریعے سے غیر معمولی تاریخی معاونات نے ایمان کو وہ حیثیت دیے رکھی ہے جو علم کلام میں بیان کی جاتی ہے۔ کلامی روایت کا یہ اعتماد دراصل اس تاریخی صورت حال کا عکاس ہے جس میں یہ روایت پروان چڑھی۔ تاہم قرب قیامت کے دور میں ایمان کے مددگار عوامل واسباب کا محدود اور کمزور ہوتے چلے جانا آزمائش کی اسکیم کا ایک حصہ ہے۔ صورت حال کا تدریجاً‌ وہاں پہنچنا لازم ہے جب ایمان کے ظاہری اور محسوس مویدات کالمعدوم ہو جائیں اور صرف چند لوگ رہ جائیں جو قرآن کی اس آیت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا مصداق بننے کے اہل ہوں:

رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعنَا مُنَادِیًا یُّنَادِی لِلاِیمَانِ اَن اٰمِنُوا بِرَبِّکُم فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغفِر لَنَا ذُنُوبَنَا وَ کَفِّر عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الاَبرَارِ (آل عمران، آیت ۱۹۳)

"اے پروردگار ہم نے ایک پکار کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ سو اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھائیو۔"

إن سيداً بنى داراً واتخذ مأدبة وبعث داعياً، فمن أجاب الداعي دخل الدار وأكل من المأدبة ورضي عنه السيد، ألا وإن السيد الله، والدار الإِسلام، والمأدبة الجنة، والداعي محمد صلى الله عليه وسلم‏

"ایک بادشاہ نے محل بنایا اور اس میں ضیافت کا اہتمام کیا ہے۔ اس نے لوگوں کو بلانے کے لیے ایک پکارنے والے کو بھیجا ہے۔ تو جو اس پکارنے والے کی بات سنے گا، وہ محل میں جائے گا اور ضیافت سے لطف اندوز ہوگا اور بادشاہ بھی اس سے خوش ہوگا۔ (اور جو نہیں سنے گا، وہ ضیافت سے بھی محروم رہے گا اور بادشاہ کی ناراضی بھی مول لے گا)۔ سنو، اس تمثیل میں بادشاہ اللہ ہے، محل اسلام ہے، ضیافت جنت ہے اور لوگوں کو پکارنے والا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔"


پوسٹ ماڈرنسٹ فلسفی اور ناول نگار البرٹ  کیمیو نے اپنے  ناول کے بنیادی کردار کی زبانی  وجودیت کے فلسفے کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیمیو نے اور ایک پادری کے مابین ایک فرضی مکالمہ قلم بند کیا ہے اور اسے اس طرح سے مرتب کیا ہے کہ زندگی کی معنویت یا مقصد  سے متعلق  کی عدم دلچسپی اور  اس دلچسپی پر  پادری کی ’’جھنجھلاہٹ’’ کو نمایاں کیا جائے۔ بہرحال  یہ مکالمہ اس کی تفہیم میں مددگار ہے کہ وجودی نقطہ نظر، مذہبی انداز فکر کو کیسے دیکھتا ہے۔ البتہ اس مکالمے سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ وجودیت پسند، جن اسباب سے بھی خدا کے وجود یا زندگی کی معنویت میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں، یہ کیونکر فرض کر سکتے ہیں کہ یہ سوال فی نفسہ بھی بے معنی ہے یا سارے انسانوں کے لیے وجودیت پسند ہونا ہی واحد عقلی انتخاب ہے؟

مثلاً‌ کوئی شخص یا گروہ اگر کچھ اسباب سے شادی میں دلچسپی کھو بیٹھے تو یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کے وہ کچھ فلسفیانہ یا عقلی دلائل بھی دے سکتا ہے اور نفسیاتی نقطہ نظر سے بھی اس کیفیت کو سمجھنا ممکن ہے، اور اسی طرح کا ایک مکالمہ کسی میرج بیورو کے نمائندے اور تجرد پسند کے مابین بھی سپرد قلم کیا جا سکتا ہے، لیکن کیا ان کی اس کیفیت کو بنیاد بنا کر یہ فرض کرنے کا بھی جواز ہے کہ شادی سے دلچسپی ہی بے مقصد بات ہے اور سارے انسان ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ بالفاظ دیگر ’’مجھے فلاں سوال میں دلچسپی نہیں’’ کے بیان کو ’’یہ سوال ہی کوئی حقیقت نہیں رکھتا’’ کے مساوی کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

منطق کی اصطلاح میں یہ طرز استدلال مصادرہ علی المطلوب (begging the question ) کی مثال ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ جو نکتہ اصل میں محل نزاع ہے، اسی کو دلیل بنا کر پیش کر دیا جائے۔ وجودی پوزیشن میں معنویت کے سوال سے دلچسپی نہ ہونا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ وجود ہے ہی بے معنی، اس لیے معنویت میں دلچسپی کیسی؟ لیکن مکالمے میں اصل مقدمے پر بات کیے بغیر اس پر مبنی وجودی پوزیشن کو بطور دلیل پیش کیا جا رہا ہے کہ جب ایک وجودیت پسند کو خدا سے دلچسپی ہی نہیں تو اس سے خدا کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟


کارل شمت نے تو جدید سیاسی تصورات کے متعلق نشان دہی کی ہے کہ وہ روایتی مذہبی تصورات ہی کی ایک سیکولر تشکیل ہیں۔ مطلب یہ کہ جدیدیت میں انسانی شعور کی اس تاریخی تشکیل سے جس میں مذہب کا کردار بہت گہرا رہا ہے، ابھی خلاصی حاصل نہیں کی جا سکی۔ نیٹشے یہی بات اخلاقیات کے باب میں کہتا ہے۔ تاہم یہ بات سب سے زیادہ جس سوال سے متعلق درست ہے، وہ زندگی کی معنویت اور اس کی غیر مادی نسبتوں کا سوال ہے۔ الحاد یا اس سے ملتی جلتی پوزیشنوں میں یہ قضیہ بنا لینا تو آسان ہے کہ زندگی بس اپنے مادی ظہور اور اختتام تک محدود ہے اور اس سے ماورا کوئی حقیقت نہیں رکھتی، لیکن انسانی شعور سے اس احساس اور اس خواہش کو کھرچنا ممکن نہیں کہ زندگی کو دوام ہونا چاہیے، انسان کو اس زندگی سے بہتر زندگی ملنی چاہیے اور اس زندگی کا انسان کی ultimate کامیابی اور فلاح سے تعلق ہونا چاہیے۔ چنانچہ کسی پسندیدہ انسان کے مرنے پر کوئی یہ نہیں کہتا کہ اچھا ہے، ایک بے مقصد زندگی کے کرب سے اسے نجات ملی۔ آخرت اور حیات بعد الموت کے مذہبی عقیدوں کی نفی کرنے یا ان کے متعلق تشکیک رکھنے والے یا ان سوالات کو غیر اہم سمجھنے والے، سب کسی نہ کسی انداز میں اس کے لیے ایک بہتر زندگی کی تمنا یا دعا کرتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مشہور شخصیات کے مرنے کے بعد ان کو جنت یا دوزخ میں بھیجنے کی بحثوں کا زیادہ اہم اور قابل توجہ پہلو یہ ہے۔ اور دوسروں کے انجام کے فیصلے کرنے سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اپنے انجام سے غافل نہ ہوں، بلکہ ملی ہوئی مہلت میں اسے اچھا بنانے کی کوشش میں مصروف ہو جائیں۔ حدیث میں کیا ہی اعلی دعا آئی ہے۔

اللھم اجعل الحیاة زيادة لنا فى كل خير واجعل الموت راحة لنا من كل شر. آمین

’’اے اللہ، زندگی کو ہمارے لیے ہر خیر میں اضافے کا اور موت کو ہمارے لیے ہر دکھ سے راحت پا لینے کا ذریعہ بنا دے۔‘‘


انسانوں کے مابین مطلق مساوات کا عقیدہ ایک تہذیبی شعار کے طور پر اگرچہ قبول عام حاصل کر چکا ہے، لیکن یہ قبولیت شعور عامہ کی سطح پر بعض بنیادی فلسفیانہ سوالات سے نظریں چرانے کی قیمت پر ہے۔

ایک بنیادی سوال تو اس قدر کے ماخذ سے متعلق ہے۔ اگر قدر کا ماورائے انسان کوئی ماخذ نہیں اور یہ محض انسانی تشکیل کا نتیجہ ہوتی ہے تو ہر قدر کی طرح مساوات کی قدر بھی کوئی ٹھوس اور پائیدار فلسفیانہ بنیاد نہیں رکھتی۔ کم سے کم علم حیاتیات تو اس کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتا، بلکہ اس کی نفی کرتا ہے۔ اسرائیلی تاریخ دان یووال حراری کی کتاب "سیپئنز"  میں بھی یہ سوال بڑی وضاحت اور صاف گوئی سے اٹھایا گیا ہے۔

حیاتیاتی عدم مساوات کی صورت حال کے جو نفسیاتی اثرات انسانی ذہن پر پڑتے ہیں، ان کا علاج یہ سوچا جا رہا ہے کہ مثلاً‌ جسمانی معذوری وغیرہ کے معاملات کو سرے سے "غیر معمولی صورت حال" کے طور پر دیکھنا ہی چھوڑ دیا جائے اور معذوری کو ایسے ہی ایک معمول کا فرق اور امتیاز سمجھا جائے جیسے مختلف نارمل انسانوں میں ہوتا ہے۔ اسی قسم کا زاویہ نظر اپنا کر خواتین کو درپیش حیاتیاتی عدم مساوات (مثلا ماہواری اور حمل وغیرہ) کے نفسیاتی اثرات کا ازالہ کرنے (اور درحقیقت اس سے نظریں چرانے) کی کوشش ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر جسمانی یا ذہنی معذوری وغیرہ سرے سے کوئی غیر معیاری صورت حال ہی نہیں تو پھر جینیٹکس کے علم اور دیگر طبی وسائل سے ان معذوریوں کو قبل از پیدائش روکنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں، ان کا بھی کوئی جواز اور ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ اسی وقت با معنی بنتی ہیں جب یہ قبول کیا جائے کہ معذوروں کو ’معیاری’ انسانی زندگی حاصل نہیں۔ معلوم نہیں کہ مذکورہ طرز فکر کے علمبردار اس الجھن سے کیسے نمٹتے ہیں اور انسانی زندگی کی بہتری کے لیے جاری طبی تحقیقات کے متعلق ان کا نقطہ نظر کیا ہے؟

نیٹشے اس مفہوم میں بیسویں صدی کا پہلا عظیم فلسفی تھا کہ اس نے بالکل درست طور پر پیش بینی کی کہ مغربی تہذیب میں "خدا مر چکا ہے" اور پھر اس اہم ترین سوال پر توجہ مرکوز کی کہ خدا کے بعد، اب "اقدار" کیا ہوں گی اور کس بنیاد پر طے ہوں گی؟روشن خیالی کے عہد میں جہاں مغرب کی فلسفیانہ روایت عمومی طور پر، مذہب کو نظر انداز کر کے، اخلاقیات کو ایسی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس سے سارے انسانوں کے لیے ایک مشترک اور آفاقی اخلاقیات تشکیل دی جا سکے، نیٹشے نے "آفاقی" اخلاقیات کے تصور پر ہی سوال اٹھا دیا اور کہا کہ تاریخی طور پر (جس کا آغاز وہ مغرب میں یونانی اور رومی عہد سے کرتا ہے) اخلاقیات کی ابتدا طاقتور طبقات اور کمزور ومحکوم طبقات کی باہمی تقسیم سے ہوئی تھی، اور طاقتور جو طرز عمل اختیار کرتے تھے، وہ ان کی اس حیثیت کی وجہ سے بطور امر واقعہ اعلی اور برتر، جبکہ محکوموں کا طرز عمل پست اور ادنی سمجھا جاتا تھا۔

نیٹشے کی رائے میں یہی فطری اخلاقیات ہے اور طاقتور ہی یہ حق رکھتا ہے کہ اپنے ہم سروں کے ساتھ معاملہ کرنے کے بھی اور طاقت کی پوزیشن سے کمزوروں اور کم تروں کے ساتھ برتاو کرنے کے اصول بھی طے کرے۔ انسانی ہمدردی اور رحم دلی وغیرہ کو اخلاقیات کی بنیاد بنانا اس کے خیال میں کمزور طبقات کا ایک ہتھیار ہے جو انھوں نے طاقتوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا اور عملاً‌ ان پر فتح حاصل کر لی۔ نطشے یہودی اور مسیحی اخلاقیات کو اسی وجہ سے "غلامانہ اخلاقیات" قرار دیتا ہے جس نے پوری مغربی تہذیب کو "آلودہ" کر کے جدید دور میں جمہوری تصورات، مساوات اور آفاقی اخلاقیات جیسے فلسفوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ اگر اخلاقی اقدار کا    انسان سے ماورا  کوئی ماخذ نہیں تو  پھر انصاف سے محروم اس کائنات میں انصاف کو قدر بنانے کی کوشش سے کہیں زیادہ معقول پوزیشن نیٹشے کی ہے جو نیٹشے انسان کا اخلاقی جوہر ہمدردی اور رحم کے بجائے قوت کو قرار دیتا ہے۔ کائنات میں جاری وساری قدر صرف طاقت ہے۔ انصاف بھی وہم ہے اور انصاف کی محنت بھی محض خود فریبی ہے۔ اگر انصاف کی قدر انسان کی خود ساختہ ہے تو وہ بے بنیاد ہے۔ کائنات کی مادی تفہیم میں فلسفیانہ طور پر یہی بات درست ہے۔ رحم اور انصاف ویسے ہی دکھ درد کے روبرو انسان کی ایک ذہنی اختراع ہے جیسے، تنویری موقف کے مطابق،  انسان نے  مذہبی عقیدے گھڑ لیے ہیں۔

اقدار  اور اخلاقیات کو انسان کی تخلیق   ماننے ہی کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان عالم طبیعی کی جتنی تسخیر کرتا جا رہا ہے، اتنا ہی اس کے تکبر، سنگ دلی اور حرص میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ طاقت اور اس پر مبنی اقتدار کے احساس میں مسلسل اضافے کو ’’ترقی’’ کا عنوان دے دیا گیا ہے۔ اخلاقیات اور اقدار کو مذہبی ایمان سے آزاد کر دینے کی ایک بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ انسان کو humbleness کا درس دیتا ہے جو لامحدود طاقت کے حریص انسان کو پسند نہیں۔ جدید مغربی تہذیب اگر مسیحی اقدار پر قائم رہ کر مادی ترقی کرتی تو اس کا امکان بہت کم تھا کہ انسان اپنے وسائل اور محنت کو افلاس زدہ انسانیت سے چشم پوشی کر کے WMD جیسا سامان تباہی ایجاد کرنے پر صرف کرتا۔ سرمایہ دارانہ تہذیب میں انسان دوستی، مساوات اور انسانی حقوق جیسے اخلاقی آئیڈیلز اور لامحدود طاقت اور حرص کی جبلتیں مسلسل باہم برسرپیکار ہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اخلاق اور رحم دلی جیسے نازک احساسات کب تک طاقت اور حرص جیسی درشت جبلتوں کی مزاحمت کر سکیں گے۔ طاقتور انسان، کمزور انسان سے اخلاقیات کا درس نہیں لیتا۔ اخلاقیات کے لیے انسان کو دوبارہ اپنے پروردگار کے سامنے جھکنے کی ضرورت ہے۔

دست ہر نا اہل بیمارت کند
سوئے مادر آ کہ تیمارت کند

اللہ اگر رحمن و رحیم، قادر مطلق اور علیم کل ہے تو پھر شر (evil) کا وجود کیوں ہے؟ یہ الٰہیات کے مشکل سوالات میں سے ہے جن کا ہمیشہ سے مذہبی فکر کو سامنا ہے۔ جدید دور میں خدا کے مذہبی تصور پر بے اطمینانی یا اس سے تنفر کے اہم اسباب میں سے ایک سبب یہ سوال بھی ہے۔ بہرحال، مذہبی علم کی رو سے انسان کو وجود اور احوال وجود کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اس دنیا میں دی گئی ہے، وہ اس سوال کا کوئی ایسا تشفی بخش جواب دینے پر جو ہر الجھن کو دور کر دے، قادر نہیں۔ فرشتوں کے سوال پر اللہ تعالٰی نے انسان کے ہاتھوں شر کے ظہور کا امکان پیدا کرنے کی ایک جزوی حکمت بتانے کے بعد آخری بات یہی کہی ہے کہ انی اعلم ما لا تعلمون،  یعنی جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ ممکن ہے، کسی اور جہان میں انسان کو ادراک حقیقت کی اس سے بہتر صلاحیت مل جائے جس سے وہ اس کو سمجھ سکے۔

صوفیہ کی اصطلاح میں اس سے جو ذہنی کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہ "حیرت" یعنی bewilderment ہے جو ایمان کے منافی نہیں، بلکہ احوال وجود کی پیچیدگی کے سامنے انسانی ادراک کے عجز وقصور کا اعتراف ہے۔ مذہبی لحاظ سے یہی متوازن اور مطلوب پوزیشن ہے۔ اگر انسانی ادراک کی کم مایگی کے شعور کے بجائے انسان پر ادراکی صلاحیت کے کامل ہونے کا زعم طاری ہو جائے تو یہی حیرت الحاد میں بدل جاتی ہے۔

بعض لوگ اس پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر انسان کو عقل واقعی خدا نے دی ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس نے عقل سے بڑا سوال عقل میں رکھ دیا ہو یا یہ کہ عقل میں سوال رکھنے کے بعد عقل سے اس سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر دیا جائے؟  تاہم یہ اعتراض درست نہیں۔ اس لیے کہ مذہبی فکر میں سوال سے دستبردار ہونے یا اس کو بے معنی سمجھنے کی بات نہیں کہی جا تی، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ  اپنے موجودہ علمی وسائل کے ساتھ انسانی عقل اس سوال کی تمام جہات کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ جہاں تک عقل سے بڑا سوال عقل میں رکھے جانے  کا تعلق ہے تو  اس میں کوئی عقلی مانع نہیں۔ عقل میں سوال رکھے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے صحیح جواب تک ازخود پہنچنے کی صلاحیت بھی عقل میں رکھی گئی ہو۔

عقل کے ہر سوال کے حتمی جواب تک پہنچنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہونے کا دعویٰ تو جدید تنویری فکر بھی نہیں کر سکتی یا اگر کرتی ہے تو اس کا عقلی جواز  نہیں بتا سکتی۔ ہاں، خود کو اس کا پابند بنا سکتی ہے کہ عقل سے ماورا کسی جواب کو قبول نہیں کرے گی، چاہے خود عقل درست جواب تک کبھی نہ پہنچ سکے۔ یہیں سے تنویری فکر اور مذہبی ایمان میں بنیادی اختلاف واقع ہوتا ہے۔ تنویری فکر   اپنے مخصوص تصور انسان کے تحت  ماورائے عقل کسی جواب کو قابل توجہ نہ سمجھنے کی پابندی خود پر عائد کر لیتی ہے، جبکہ مذہبی ایمان   وحی کے ذریعے سے انسان کو میسر کی جانے والی راہنمائی کو   قابل قدر   مانتا اور اس سے اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔


اسلام میں انسانوں کی آزمائش اور جزا وسزا کے حوالے سے جو الہی ضابطے بیان کیے گئے ہیں، یک نگر انسان پرستی (Exclusive Humanism)  کا ان پر معترض ہونا قابل فہم ہے۔ انسان پرستی  کے مذہب کا بنیادی مسئلہ جزا وسزا کا کسی اصول اور ضابطے پر مبنی ہونا یا نہ ہونا نہیں، بلکہ انسان کو انسان سے بالاتر کسی ہستی کے سامنے جواب دہ ماننا ہے۔ وہ الوہیت کا مرتبہ بطور نوع انسان ہی کو دیتا ہے جو خود تو اپنا محاسبہ کر سکتی ہے، لیکن اپنے اوپر کسی خدا کو حاکم نہیں مانتی۔ اس لیے اس کے ساتھ یہ بحث کہ جنت کن کے لیے ہے اور جہنم کن کے لیے، اور کن اصولوں پر کسی کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا، اصول کو چھوڑ کر فروع کا تصفیہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ چنانچہ ہیومن ازم کے ساتھ یہ گفتگو غیر منطقی ہے۔

اسی طرح ہیومنسٹک موقف کی طرف سے مذہبی عقیدے پر کیے جانے والے اعتراضات بھی خود کلامی کی نوعیت کے ہیں، مذہبی موقف کے ساتھ کسی مشترک بنیاد پر مجادلہ نہیں ہیں۔ مثلاً‌ یہ کیسا خدا ہے جو انتقام لیتا ہے؟ یہ کیسا خدا ہے جس کا چہیتا ایک خاص گروہ ہے اور باقی سب کو وہ جہنم میں پھینک دے گا؟ یہ کیسا خدا ہے جس کے نزدیک انسانوں کے اچھے عملوں کی کوئی قدر نہیں اور وہ ایک خاص عقیدہ نہ رکھنے پر انھیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دیتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس اسلوب کے سارے اعتراضات محض rhetoric ہیں، ان کی کوئی منطقی بنیاد نہیں ہے اور خاص طور پر مذہبی آدمی کے لیے وہ اپنے اندر کوئی استدلالی قوت نہیں رکھتے۔

اگر یہ خدا ہے جو انسان سمیت پوری کائنات کا حاکم ہے اور اس کا صحیح تعارف وہ ہے جو وحی میں انسان کو دیا گیا ہے تو پھر وہ جیسا ہے، ویسا ہی ہے۔ اس کے نزدیک ایمان کی زیادہ اہمیت ہے تو پھر ہے۔ وہ رحیم ہونے کے ساتھ اپنی نافرمانی پر انتقام بھی لیتا ہے تو پھر لیتا ہے۔ اس کو اگر اس کی کوئی پروا نہیں کہ منکر اور نافرمان انسانوں سے جہنم کو بھر دے تو پھر نہیں ہے۔ انسان سرکش ہو کر اور جواب دہی سے اپنے تئیں جان چھڑانے کے لیے خدا کے فیصلوں کو اپنے احساسات اور اغراض کے تابع بنانا چاہے تو اس ہوا پرستی کی خدا کی نظر میں یا مذہبی آدمی کی نظر میں کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟ اور کل اس کے سامنے حاضر ہونے پر یہ فلسفے کتنا بار پا سکیں گے؟

تاہم اس باب میں اسلامی عقیدے کی درست تفہیم بھی ضروری ہے، کیونکہ اس باب میں غیر محتاط "عوامی تعبیرات" میں بات کی نوعیت بہت بدل جاتی ہے۔ قرآن نے جو بات بہت واضح انداز میں کہی ہے، وہ یہ ہے کہ آخرت کا اجر کسی بھی گروہ کے لیے خاص نہیں ہے۔   اسلامی عقیدہ نجات کو کسی "گروہ" کی نسبت سے بیان نہیں کرتا، بلکہ نجات کی شرائط کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ نے کسی "مذہبی گروہ" کے ساتھ یہ عہد وپیمان نہیں کیا کہ جنت خاص اسی کو دے گا۔ پچھلے گروہوں میں سے جن میں یہ زعم پیدا ہو گیا تھا، قرآن نے ان کی گوشمالی کی ہے اور بتایا ہے کہ یہودی ہوں یا مسیحی، صابی ہوں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے، سب کی نجات ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط ہے۔ (البقرۃ)

سورہ بقرہ کی آیت 112 میں بھی یہود اور نصاری کے اس دعوے کے جواب میں کہ جنت میں صرف یہودی یا مسیحی جائیں گے، فرمایا گیا ہے کہ

بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَه لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَه اَجْرُه عِنْدَ رَبِّه وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۱۱۲)

"ہاں کیوں نہیں؟ جس نے بھی اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے"

جن حالات میں ایمان باللہ اور عمل صالح کے جو تقاضے تھے، اگر ان میں سے کسی گروہ نے بھی وہ پورے کیے ہیں تو وہ جنت کا حق دار ہے۔  خدا کے سامنے چہرہ جھکا دینے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کے نبیوں کی دعوت سے واقف ہونے پر اس سے بے توجہی نہ برتے، بلکہ اس پر لبیک کہے۔ اگر کوئی انسان بات سامنے آنے کے باوجود غفلت یا تعصب میں پڑا رہتا ہے تو وہ مجرم ہے۔ محمد رسول اللہ کی بعثت کے بعد اگر آپ پر ایمان لانے اور اس کے عملی تقاضے پورے کرنے والے جنت کے مستحق ہیں تو اس معیار پر پورا اترنے کی وجہ سے ہیں نہ کہ ایک خاص گروہ میں شامل ہو جانے کی وجہ سے۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنے تعصب کی وجہ سے آپ کی دعوت کو درخور اعتنا نہیں سمجھا اور اس کا انکار کیا ہے تو وہ بھی اس "جرم" کی وجہ سے جہنم کا سزاوار ہوگا، نہ کہ کسی خاص گروہ سے باہر ہونے کی وجہ سے۔ مشرک بھی اگر دائرہ نجات سے باہر ہیں تو ایک ٹھہرائے گئے معیار کی وجہ سے باہر ہیں۔

جن انسانوں تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اس انداز سے نہیں پہنچی کہ ان کے لیے قابل توجہ بن سکے، ان کے متعلق  پوری توقع ہے کہ اللہ کے ہاں ان کا عذر مسموع ہوگا۔ تاہم اس کی صحیح حقیقت خدا ہی کے علم میں ہے اور ہم انسان یہ حکم نہیں لگا سکتے کہ کون دنیا سے کیا انجام لے کر گیا ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری اتنی ہے کہ ان کے پاس اللہ کے آخری پیغمبر کی وساطت سے جو "الحق" یعنی واضح اور حتمی ہدایت موجود ہے، وہ خود بھی اسی یقین کے ساتھ اس پر کاربند رہیں اور دوسرے انسانوں کو بھی اس سے روشناس کرواتے رہیں۔

اتنی اصولی اور اجمالی بات قانون خداوندی کے مبنی بر عدل وانصاف ہونے کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے اور علم کلام میں بھی اتنی ہی کہی جاتی ہے۔ عوامی سطح پر عام یہ تعبیر کہ صرف مسلمان جنت میں جائیں گے اور باقی سب جہنم میں، غیر محتاط بات ہے۔ بظاہر اس کا محرک لوگوں کے دلوں میں اسلام کی قدروقیمت بٹھانا ہوتا ہے، لیکن یہ ایک طرف بدعملی اور تساہل کو جنم دیتی ہے اور دوسری طرف خدا کے عدل وانصاف اور حکمت پر بھی سنگین عقلی واخلاقی سوالات پیدا کرتی ہے۔ اسلامی عقیدے کی درست تعبیر وہی ہے جو عرض کی گئی ہے اور اسے ہمیشہ اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(306) فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ

درج ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

لَّوْلَا جَاءُ وا عَلَیْهِ بِأَرْبَعةِ شُہَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ فَأُولَٰئِکَ عِندَ اللَّہِ ہُمُ الْکَاذِبُونَ۔ (النور: 13)

”آخر یہ لوگ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے؟ تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو لازما اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

ان ترجموں سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کے جھوٹے ہونے کی وجہ ان کا چار گواہ پیش نہ کرنا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تو ہر حال میں اللہ کے نزدیک جھوٹے تھے، خواہ وہ چار گواہ پیش کردیتے۔

اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی فَإِذْ کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں ’تو جب کہ‘، ایسی صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ چار گواہ پیش کرکے دنیا کے سامنے سچے بن سکتے تھے، لیکن جب کہ وہ چار گواہ نہیں پیش کرسکے ہیں تو دنیا کے سامنے سچے ثابت نہیں ہوسکے اور اللہ کے یہاں تو وہ جھوٹے ہیں ہی۔

ترجمہ ہوگا: ”آخر یہ لوگ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے؟ تو جب کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں، تو اللہ کے نزدیک بھی یہ لوگ جھوٹے ہی ہیں۔“

(307) الْحَقُّ الْمُبِینُ

درج ذیل آیتوں میں الْحَقُّ الْمُبِینُ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

یَوْمَئِذٍ یُوَفِّیہِمُ اللَّہُ دِینَہُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّہَ ہُوَ الْحَقُّ الْمُبِینُ۔ (النور: 25)

”اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا“۔ (سید مودودی)

”اس دن اللہ ان کا واجبی بدلہ پورا کردے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق اور واضح کردینے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

ان ترجموں میں مبین کا ترجمہ واضح کرنے والا کیا گیا ہے۔ عربی لغت کے مطابق مبین عام طور سے لازم یعنی خود واضح ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ لسان العرب میں ہے:  وَقَالَ الزَّجَّاجُ: بانَ الشیءُ وأَبانَ بِمَعْنًی وَاحِدٍ، خاص طور سے اگر وہ مفعول کی ضمیر کے بغیر آئے۔

قرآن مجید میں المبین بہت سے مقامات پر آیا ہے، اکثر مقامات پر اس کا معنی متعین طور پر واضح اور صریح کے معنی میں ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں بھی یہی معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لحاظ سے درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”اس دن اللہ انہیں ان کی سچی سزا پوری دے گا اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے“۔(احمد رضا خان)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں الحق المبین کا ترجمہ عام طور سے صریح حق کیا گیا ہے۔

فَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ إِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِینِ۔ (النمل: 79)

”پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقینا تم صریح حق پر ہو“۔ (سید مودودی)

”تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

(308) تَسْتَأْنِسُوا

درج ذیل آیت میں تَسْتَأْنِسُوا کا ترجمہ عام طور سے اجازت لینا کیا گیا ہے۔ لیکن لغت میں اس لفظ کے استعمالات سے اجازت لینے کا مفہوم کہیں نہیں ملتا۔ بعض لوگوں نے رضا لینا اور تعارف پیدا کرنا بھی ترجمہ کیا ہے، لیکن وہ بھی اس لفظ کا صحیح مفہوم نہیں ہے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّیٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَیٰ أَہْلِہَا۔ (النور: 27)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو“۔ (سید مودودی)

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تعارف نہ پیدا کرلو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہوا کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو“۔(محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ تجویز کیا ہے:

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک گھر والوں کو احساس نہ دلا دو (انھیں تمہاری آہٹ نہ مل جائے) اور انھیں سلام نہ کرلو۔“

گویا استیناس کا مطلب ہے اپنی موجودگی کا احساس دلانا۔ اس قول کو طبری نے ذکر کیا ہے:

وقال آخرون: معنی ذلک: حتی تؤنسوا أہل البیت بالتنحنح والتنخم وما أشبہہ، حتی یعلموا أنکم تریدون الدخول علیہم. (تفسیر طبری)۔ یہ مفہوم اس لفظ کے لغوی مفہوم کے مطابق ہے۔

(309) یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ

غض البصر کا مطلب نگاہیں نیچی رکھنا ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں ابصار کا ترجمہ آنکھیں کیا ہے، نگاہیں زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح بعض نے غض کا ترجمہ بند کرنا کیا ہے، جب کہ نیچی رکھنا زیادہ مناسب ہے، غَضَّ طرفہ، أی خَفضه وغض من صوته۔ (الصحاح للجوھری)

قُل لِّلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ۔ (النور: 30)

”کہہ واسطے مسلمان مردوں کے کہ بند کریں آنکھیں اپنی“۔ (شاہ رفیع الدین)

”کہہ دے ایمان والوں کو نیچی رکھیں ٹک اپنی آنکھیں“۔(شاہ عبدالقادر)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”مومنوں کو ہدایت کرو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(310) یَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ

وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ (النور: 30)

آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ عام طور سے شرم گاہوں کی حفاظت کرنا کیا گیا ہے۔ جیسے:

”اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“۔ (سید مودودی)

لیکن بعض لوگوں نے شرم گاہوں کو چھپانا ترجمہ کیا ہے، جیسے:

”اور تھامتے رہیں اپنے ستر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور اپنی شرم گاہوں کی پردہ پوشی کریں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہ ترجمہ آیت کے مفہوم کو محدود کردیتا ہے۔ قرآن میں دو مقامات (المومنون: 5 اور المعارج: 29) پر وَالَّذِینَ هُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ آیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ محض ستر کا خیال رکھنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ شرم گاہ کی حفاظت کے وسیع تر مفہوم میں ہے۔

(311) وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ

درج ذیل آیت میں وَلَا یُبْدِینَ کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’نہ دکھائیں‘ کیا ہے۔ ظاہر نہ کرنا یا ظاہر نہ ہونے دینا زیادہ مناسب ہے۔ ایک تو لفظ ابداء کا یہی تقاضا ہے دوسرے یہ کہ زینت کو چھپانے اور ظاہر کرنے کے سلسلے میں ہدایات دی جارہی ہیں، سیاق کلام کے لحاظ سے دکھانے کا یہاں محل نہیں ہے۔

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا۔ (النور: 31)

”اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے“۔ (سید مودودی، بچاکر رکھنے کے بجائے نیچی رکھنا زیادہ موزوں ہے)

”اور کہہ دے ایمان والیوں کو نیچے رکھیں ٹک اپنی آنکھیں اور تھامتے رہیں اپنے ستر اور نہ دکھاویں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے“۔ (شاہ عبدالقادر، یہاں بھی ستر کا خیال رکھنا مراد نہیں ہے۔)

”اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اوپر ’نہ دکھائیں‘ ترجمہ کیا ہے، انھوں نے اسی آیت میں اسی طرح کے دوبارہ آنے والے جملے کا ترجمہ ’نہ ظاہر کریں‘  کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ

”اور نہ کھولیں اپنا سنگار“۔ (شاہ عبدالقادر)

”وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں“۔ (سید مودودی)

”اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں“۔ (احمد رضا خان)

(312) وَتُوبُوا إِلَی اللَّہِ جَمِیعًا

جمیعا کا لفظ قرآن مجید میں عام طور سے ’سب‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، صرف سورۃ الحشر آیت نمبر 14 میں دو مرتبہ ’مجتمع ہو کر‘ کے معنی میں آیا ہے۔ درج ذیل آیت میں دو طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، ’سب مل کر‘ اور ’سب‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی طرف مجتمع ہو کر رجوع کرنے کا حکم نہیں دیا جارہا ہے، بلکہ اس کا حکم دیا جارہا ہے کہ تمام مومن اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَتُوبُوا إِلَی اللَّہِ جَمِیعًا أَیُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ (النور: 31)

”اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو شاید تم بھلائی پاؤ“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے“۔ (سید مودودی)

”اور اے ایمان والو! سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج  بالا ترجموں میں ’سب مل کر‘  اور درج ذیل ترجموں میں ’سب‘  یعنی جمع کی تاکیدہے، اور یہی اس آیت میں موزوں ہے:

”اور توبہ کرو طرف اللہ کے سب اے مسلمانو تاکہ تم فلاح پاؤ“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ“۔ (محمد جوناگڑھی،  تُفْلِحُون کا ترجمہ نجات پانانہیں،فوز و کامرانی پانا ہے، جس میں نجات کا مفہوم بھی شامل ہے)

”اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

(313) وَمَثَلًا مِّنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلِکُمْ

درج ذیل آیت کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ آیَاتٍ مُّبَیِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِّنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلِکُمْ وَمَوْعِظةً لِّلْمُتَّقِینَ۔ (النور: 34)

”ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں، اور ان قوموں کی عبر ت ناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کر چکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں، اور وہ نصیحتیں ہم نے کر دی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں“۔  (سید مودودی، قوموں تک محدود کرنا مناسب نہیں ہے، الذین میں افراد اور قومیں سب شامل ہیں۔ عبرت ناک مثالوں تک محدود رکھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔)

”اور ان لوگوں کی تمثیل بھی سنادی ہے جو تم سے پہلے گزرے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں تمثیل کی بات نہیں ہے، ان لوگوں کے سبق آموز تذکروں کی بات ہے)

”اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی، کہاوتوں کی بات نہیں ہے)

درج ذیل ترجمہ زیادہ موزوں ہے:

”اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(314) نُّورٌ عَلَیٰ نُورٍ

نُّورٌ عَلَیٰ نُورٍ (النور: 35)

عام طور سے اس کا لفظی ترجمہ کیا گیا ہے، جیسے:

”نور پر نور ہے“۔ (احمد رضا خان)

”روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے)“۔ (فتح محمد جالندھری)

”روشنی کے اوپر روشنی“۔ (امین احسن اصلاحی)

نور علی نور‘ عربی کا محاورہ ہے جس کا مطلب بہت زیادہ روشنی ہے۔ اردو محاورے کی رعایت کرتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”روشنی در روشنی“۔

(315)  ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ

ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ (النور: 40)

اس جملے کا عام طور سے لفظی ترجمہ کیا گیا، جیسے:

”غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا)“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اندھیرے ہیں ایک پر ایک“۔ (احمد رضا خان)

”تاریکیوں پر تاریکیاں چھائی ہوئی ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

نور علی نور‘ کی طرح ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ بھی تاریکیوں کی شدت بتانے کے لیے ہے، اردو محاورے کی رعایت کرتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”تاریکی در تاریکی“۔

(316) یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ

فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیبَہُمْ فِتْنةٌ أَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ۔ (النور: 63)

”پس وہ لوگ جو اس کے حکم سے گریز کرتے رہے ہیں اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک دردناک عذاب آ پکڑے“۔ (امین احسن اصلاحی)

یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ کا ترجمہ ’گریز کرتے رہے ہیں‘ کرنا درست نہیں ہے۔ خلاف ورزی کرنا درست مفہوم ہے، جیسا کہ دیگر لوگوں نے ترجمہ کیا ہے:

”رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے“۔ (سید مودودی)

”پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ کہ جو مخالفت کرتے ہیں حکم اس کے سے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”سو ڈرتے ہیں جو لوگ خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا“۔ (شاہ عبدالقادر، فلیحذر تو امر کا صیغہ ہے، اس کا ترجمہ ’ڈرتے ہیں‘ درست نہیں ہے۔)

(317)    سورۃ النور، آیت (43)  کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ترجمے میں مختلف لوگوں سے الگ الگ تسامح ہوا ہے۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یُزْجِی سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهُ ثُمَّ یَجْعَلُهُ رُکَامًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِیہَا مِن بَرَدٍ۔ (النور: 43)

”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے“۔ (سید مودودی)

اس میں مِنْ خِلَالِہِ کا ترجمہ ’اس کے خول میں سے‘ کیا ہے۔ خلال کا لفظ خول کے لیے نہیں آتا ہے۔ یہ خلل کی جمع ہے، جس کے معنی کسی چیز  یا کچھ چیزوں کے درمیان کی جگہ کے بھی ہوتے ہیں اور کسی چیز میں موجود  رخنوں کے بھی ہوتے ہیں۔ دوسری  قابل توجہ بات یہ ہے کہ من جبال میں من کو سبب کا مانا گیا ہے، اور ’پہاڑوں کی بدولت‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ من جبال دراصل من السماء کا بدل ہے۔جس کا مطلب ہے آسمان سے یعنی اس میں موجود پہاڑوں سے نازل کرتا ہے۔

 ”پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

’پہاڑوں میں سے اولے برساتا ہے‘، نہ کہ ’اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے‘۔

”تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے“۔ (احمد رضا خان)

’برف کے پہاڑ‘ کہنا درست نہیں ہے، پہاڑوں سے مراد بڑے بڑے پہاڑ نما بادل ہیں۔ اسی طرح ’کچھ اولے‘ بھی کم زور ترجمہ ہے، ’اولے‘ کہنا کافی ہے۔ من کو تبعیض کا مان کر بھی ’کچھ‘ کہنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے۔

”پس دیکھتا ہے تو مینہ کو نکلتا ہے درمیان اس کے سے اور اتارتا ہے آسمان کی طرف سے پہاڑوں سے کہ بیچ ان کے ہے سردی اولوں کی“۔ (شاہ رفیع الدین)

’کہ بیچ ان کے ہے سردی اولوں کی‘ یہ ترجمہ عجیب سا ہے۔ برد کا ترجمہ اولے ہوگا نہ کہ اولوں کی سردی۔ مزید یہ کہ اگر من برد کو ینزل کا مفعول نہیں بنائیں گے تو مفعول کسے بنائیں گے!

”پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے“۔ (شاہ عبدالقادر)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اولوں کے پہاڑ نازل کرتا ہے، حالاں کہ نازل تو اولے کرتا ہے۔

”پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصوں میں سے اولے برساتا ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)

السماء کا ترجمہ بادل کیا ہے، جبال کا ترجمہ بڑے بڑے حصے کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں محل نظر ہیں۔

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”پھر دیکھتے ہو کہ ان کے بیچ سے مینہ نکلتا ہے اور آسمان سے -اس کے اندر کے پہاڑوں سے- اولے برساتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(جاری)

مطالعہ سنن ابی داود (۳)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: بڑی عمر کے آدمی کے لیے رضاعت کے مسئلے میں اختلاف رہا ہے۔ (کتاب النکاح، باب فی من حرم بہ، حدیث نمبر ۲۰۶۱) ایسے لگتا ہے کہ بہت کم فقہاء اس کے قائل ہیں کہ بڑی عمر میں بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ اکثریت کی رائے تو یہ نہیں تھی، لیکن امام ابن حزم اس کے قائل تھے۔

عمار ناصر: صحابہ میں سے ام المومنین حضرت عائشہ کا ہی ذکر ملتا ہے جو اس کی قائل تھیں۔ بعد میں شاید کچھ تابعین بھی قائل ہوں۔ جمہور کا موقف تو دو سال کی عمر تک رضاعت ثابت ہونے کا ہے، اس کے بعد نہیں۔

مطیع سید: اپنی بیوی کا اگر کوئی دودھ پی لیتا ہے تو کیا اس سے رضاعت کا کوئی تعلق بنتا ہے؟

عمار ناصر: حرمت تو نہیں ثابت ہوتی، لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے۔

مطیع سید: ابن حزم کے نقطہ نظر سے درست نہیں یا ویسے ہی درست نہیں؟

عمار ناصر: فقہا کہتے ہیں کہ بیوی کا دودھ پینا درست نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو جائےتو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

مطیع سید: جب اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو پھر کس حوالےسے فقہا منع کر تے ہیں؟

عمار ناصر: دودھ اصل میں تو غذا ہے اور اس کی اگر چہ قانونی تحدید کر دی گئی ہے کہ اس مدت کے اندر عورت کا دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے، لیکن بہر حال اس عمل سے حرمت کے رشتے کی ایک مناسبت تو ہے۔ اس پہلو سے فقہاء اس کو خلاف احتیاط قرار دیتے ہیں۔

مطیع سید: گویا اس کے پینے سے حرمت بھی نہیں اور گنا ہ بھی نہیں۔

عمار ناصر: کچھ گنا ہ تو ہوگا، لیکن اس کے نکاح پر اس کا اثر نہیں پڑے گا۔

مطیع سید: کچھ قیدی آئے جن میں کچھ حاملہ عورتیں بھی تھیں تو آپﷺ نے ان کے مالکوں کو ان کے ساتھ مباشرت سے منع فرمایا۔ (کتاب النکاح، باب فی وطئ السبایا، حدیث نمبر ۲۱۵۵) اس ممانعت کی کیا وجہ تھی؟ عورت جب حاملہ ہو جاتی ہے تو پھر اس کے بچے کے نسب کا مسئلہ تو باقی نہیں رہتا۔ حمل تو ٹھہر چکا ہوتا ہے۔

عمار ناصر: نہیں، اس میں یہ پہلو نہیں ہے۔ یہاں اس کی رعایت کی گئی ہے کہ جب تک کسی کا بچہ عورت کے پیٹ میں ہے، اس وقت تک وہ عورت گویا اسی کی ملکیت میں ہے۔ اس لیے قیدی خواتین کا استبراء رحم کیے بغیر ان سے ہم بستری کو نبی ﷺ نے ممنوع قرار دیا۔ اس میں نسب کے اشتباہ کا مسئلہ بنیادی نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کی بیوی حاملہ ہے اور وہ اسے طلاق دے دے تو عورت بچے کو جنم دینے کے بعد ہی دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔

مطیع سید: ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’غلاق’ کی حالت میں طلاق کا اعتبار نہیں۔ (کتاب الطلاق، باب فی الطلاق علی غلط، حدیث نمبر ۲۱۹۳) یہاں غلاق کیا مطلب ہے؟

عمار ناصر: محدثین اس کی دو طرح سے تشریح کرتے ہیں۔ بعض اس سے مراد غصے کی ایک ایسی کیفیت لیتے ہیں جس میں آدمی کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جائے۔ بعض دیگر حضرات اس کو جبر واکراہ کے معنی میں لیتے ہیں۔

مطیع سید: کیا زبر دستی لی جانے والی طلاق احناف کے نزدیک واقع ہو جاتی ہے؟

عمار ناصر: زیادہ تر احناف تو اسی کے قائل ہیں۔

مطیع سید: جو قائل ہیں، وہ کس بنیاد پر قائل ہیں؟

عمار ناصر: وہ کہتے ہیں کہ اس نے ہوش وحواس میں طلاق دی ہے، اس لیے نافذ ہونی چاہیے۔

مطیع سید: یہاں اضطرار کا اصول لاگو نہیں ہوتا کہ اس نے کسی نقصان سے بچنے کے لیے یہ الفاظ کہے ہیں؟

عمار ناصر: اصولاً‌ لاگو ہونا چاہیے، لیکن بعض دفعہ احناف بھی ذرا ظاہر پرست ہو جاتے ہیں۔

مطیع سید: اگر آپ سے کوئی پوچھے تو آپ کیا فرمائیں گے؟

عمار ناصر: میری رائے میں ایسی طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے۔

مطیع سید: ہنسی مزاح میں بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ (کتاب الطلاق، باب فی الطلاق علی الہزل، حدیث نمبر ۲۱۹۴) آپ نے کئی دفعہ فرمایا کہ فقہا بعض چیزوں کو قانونی پیراڈائم میں لےجاتے ہیں حالانکہ نبی ﷺ اس تناظر میں بات نہیں فر ما رہے ہوتے۔ بس احتیاط کا ایک پہلو ملحوظ ہوتا ہے۔ تو کیا اس روایت کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے؟

عمار ناصر: اس مسئلے میں ایک رجحان تو یہی بنتا ہے کہ اس طرح کی چیزوں، ہنسی مزاح میں نکاح و طلاق وغیرہ کو قانونی طور پر نافذ نہیں ماننا چاہیے۔ لیکن ذرا غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شریعت اصل میں رشتہ نکا ح کے معاملے میں ذرا مختلف جگہ سے بات کرتی ہے۔ وہ اس معاملے میں لوگوں کو Sensitive رکھنا چاہتی ہے۔ دیکھیں، ظہار سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ ظہار میں آدمی نے بیوی سے یہ کہہ دیا کہ تم میری ماں کی طرح ہو تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اب دومہینے کے روزے رکھ کر اس کی سزا بھگتو۔ اس سے لگتا ہے کہ شریعت اس معاملے میں انسان کو Sensitive کرنا چاہتی ہے۔ نکاح کا رشتہ قائم کرنا یا توڑنا ایسی چیز نہیں ہے کہ آپ اسے ہنسی مزاح کا موضوع بنا لیں۔ اس لحاظ سے یہ بات کہی گئی کہ مزاح میں بھی اگر کسی نے ایسا کہا تو اس کے نتائج قانونی صورت میں اس پر لازم ہوں گے۔ لیکن بہر حال چونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ کہاں اس کا اطلاق کریں اور کہاں نہ کریں۔

مطیع سید: عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ تین طلاقیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں۔ حضرت ابو بکر کے دور میں بھی یہی رہا اورپھر حضرت عمر نے آکر انہیں تین ہی شمار کرنے کا حکم جاری کیا۔ (کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث، حدیث نمبر ۲۲۰۰) لیکن جو ابو رکانہ کی روایت آتی ہے، اس میں ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہارا تین سے کیا ارادہ تھا؟ اگر تین کو ہر حال میں ایک ہی مانا جاتا تھا تو نبی ﷺ نے اس سے ایسا کیوں پوچھا؟ اس سے تو لگتا ہے کہ اگر وہ کہتے کہ میری نیت تین ہی کی تھی تو آپ تین ہی شمار فرماتے۔

عمار ناصر: ابن عباس کی روایت اور ابو رکانہ کی روایت، دونوں میں کافی بحث ہے۔ دونوں کے مختلف طرق ہیں جن میں صورت حال کی تفصیلات مختلف بیان ہوئی ہیں۔ ابن عباس کی روایت کے معروف طریق میں تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کی بات مطلقاً‌ بیان ہوئی ہے، کوئی قید نہیں ہے۔ لیکن ابوداود نے جو طریق نقل کیا ہے، اس کے مطابق ابن عباس نے یہ بات اس عورت سے متعلق کہی جس کو رخصتی یعنی ہم بستری سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو۔ اسی طرح ابو رکانہ کی روایت کے بھی مختلف طرق ہیں۔ بعض میں ہے کہ آپ نے ان سے ان کی نیت پوچھی، اور بعض میں ہے کہ آپ نے ان سے کہا کہ بیوی سے رجوع کر لیں۔ اس پر جب ابورکانہ نے کہا کہ میں نے تو تین طلاقیں دی تھیں تو آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھے معلوم ہے، لیکن پھر بھی تم رجوع کر لو۔ یوں مجتہدین کے لیے کافی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ان میں سے ایک روایت کو دوسری پر ترجیح دے سکیں۔ امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم جو ابن عباس کی اس روایت کو درست سمجھتے ہیں کہ عہد نبوی میں تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، وہ ابو رکانہ کی روایت کو مضطرب قرار دیتے ہیں اور اس سے استدلال نہیں کرتے۔

مطیع سید: ایک بادشاہ کے علاقے سے گزرتے ہوئے حضرت ابرہیم ؑ کو اپنی بیوی سارہ کے متعلق کہنا پڑا کہ یہ میری بہن ہے۔ (کتاب الطلاق، باب فی الرجل یقول لامراتہ یا اختی، حدیث نمبر ۲۲۱۲) اس کی کیا وجہ تھی؟

عمار ناصر: دیگر تفصیلی روایات میں یہ آیا ہے کہ وہ بادشاہ اپنے علاقے سے گزرنے والی ہر خوب صورت عورت کو چھین لیتا تھا اور اس کے شوہر کو قتل کروا دیتا تھا۔ اس لیے حضرت ابراہیم نے اس کے پوچھنے پر توریہ سے کام لیا اور کہا کہ میرے ساتھ میری بہن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آدمی کے ساتھ اس کی بیوی ہوتی تو وہ آدمی کو مروا دیتا تھا اور عورت پر قبضہ کر لیتا تھا، کیونکہ اگر شوہر ہے تو بیوی چھینے جانے پر اس میں نفرت اور انتقام کے جذبات پیدا ہوں گے۔ لیکن اگر بہن ہوتی تو پھر وہ آدمی کو قتل نہیں کرواتا تھا۔

مطیع سید: جب حضرت ابراہیم نے سارہ کو اپنی بہن بتایا تو پھر تو وہ یہ کہہ سکتا تھا کہ اس کانکاح میرے ساتھ کر دو۔ حضرت ابراہیم کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا؟

عمار ناصر: نہیں، یہ نکاح کی بات نہیں تھی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نکاح کے لیےنہیں، بلکہ ویسے ہی عورتوں کو چھین لیتا تھا اور شوہر کو قتل کروا دیتا تھا۔ تو حضرت ابراہیم نے فوری طور پر جو تدبیر سوچی، وہ یہ تھی کہ قتل سے بچنے کے لیے سارہ کو بہن کہہ دیا جائے اور بیوی کو بادشاہ کی دست درازی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے۔ چنانچہ روایت میں یہی ہے کہ جب بادشاہ نے دست درازی کی کوشش کی تو حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کی وجہ سے وہ وقتی طور پر مفلوج ہو گیا اور اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور بادشاہ نے خوف زدہ ہو کر دونوں کو جانے کی اجازت دے دی۔

مطیع سید: حضرت زینب اور ابو العاص کو کئی سال کے وقفے کے بعد دوبارہ اکٹھا کر دیا گیا۔ (کتاب الطلاق، باب الی متی ترد علیہ امراتہ اذا اسلم بعدہا، حدیث نمبر ۲۲۴۰) کیا اس سارے عرصے میں ان کا نکاح ختم نہیں ہو گیا تھا؟

عمار ناصر: اس میں دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کو سابقہ نکاح کے ساتھ ہی جمع کر دیا گیا اور دوسری میں ہے کہ نیا نکاح کروایا گیا تھا۔ احناف نئے نکاح والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔

مطیع سید: والدین میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو حضورﷺ کے سامنے ان کا مسئلہ آیا کہ بچی کس کے پاس رہے گی۔ آپﷺ نے بچی کو درمیان میں بٹھا دیا اور فرمایا کہ جس طرف بچی مائل ہو گی، اسی کو دے دی جائے گی۔ بچی ماں کی طرف مائل ہونے لگی تھی تو آپ ﷺنےدعا فرمائی کہ وہ باپ کی طرف مائل ہو۔ (کتاب الطلاق، باب اذا اسلم احد الابوین مع من یکون الولد، حدیث نمبر ۲۲۴۴) وہ تو نبی ﷺتھے، ان کی دعا قبول ہوگئی۔ ہمارے لیے ایسی صورت میں کیا قانون ہے؟

عمار ناصر: وہ تو آپ ﷺنے بتا دیا کہ قانون یہ ہے کہ اس موقع پر بچے کا اختیار ہے۔

مطیع سید: لیکن یہاں ایسا لگ رہا ہے کہ آپﷺنے اپنا اختیار بھی استعمال فر مایا۔

عمار ناصر: نہیں، آپ نے کوئی اختیار استعمال نہیں کیا۔ آپﷺنے دعا کی تو اللہ نے بچی کے دل میں بات ڈال دی۔

مطیع سید: لعان کے بعد طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی یا دی جائے گی؟

عمار ناصر: یہ استنباطی بحث ہے۔ احناف غالباً‌ اس کے قائل ہیں کہ باقاعدہ طلاق دلوائی جائےگی۔

مطیع سید: آپﷺ سے اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی کہ آپ نے جدائی کروائی یا نہیں؟

عمار ناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں میں تفریق کروانا ثابت ہے۔ عویمر عجلانی کے واقعے میں ایک روایت یہ ہےکہ انھوں نے لعان کے بعد فوراً‌ خود ہی بیوی کو طلاق دے دی۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے دونوں کے درمیان تفریق کر دی۔

مطیع سید: ہلال ابن امیہ کے واقعے میں میاں بیوی کے مابین لعان کے بعد آپ نے فرمایا کہ اگر بچے کی شباہت اس آدمی جیسی ہوئی جس پر شوہر نے الزام لگایا ہے تو پھر شوہر اپنے الزام میں سچا ہے۔ (کتاب الطلاق، باب فی اللعان، حدیث نمبر ۲۲۵۶) یعنی آپ نے بچے کی شکل و صورت سے الزام کی تحقیق میں مدد لی۔ کیا آج ہم اس کی بجائے ڈی این اے وغیرہ سے اس سلسلے میں مدد لے سکتے ہیں؟

عمار ناصر: نہیں، آپ نے یہ نہیں کہا کہ اگر بچے کی شباہت ایسی ہوئی تو اس کا نسب اس سے ثابت ہوگا۔ لعان کے بعد بچے کا نسب تو کسی سے ثابت نہیں ہوتا، صرف ماں کی طرف اسے منسوب کیا جاتا ہے۔ آپ نے صرف یہ فرمایا کہ بچے کی شباہت سے یہ پتہ چل جائے گا کہ شوہر نے جو الزام لگایا، وہ ٹھیک تھا یا نہیں۔ اس کا بچے کے نسب پر کوئی قانونی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ ڈی این اے ٹیسٹ بھی اگر اس حوالے سے کوئی قابل وثوق مدد دے سکتا ہو تو لعان کی صورت مین اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ اگر بیوی الزام قبول نہ کرنے کی صورت میں لعان کے بجائے یہ مطالبہ کرے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ بچہ کس کا ہے تو میری رائے میں بیوی کو یہ حق ملنا چاہیے۔ مقاصد شریعت کی رو سے خود کو بدکاری کے الزام سے بری ثابت کرنا بیوی کا بھی حق ہے اور اگر نسب کی تحقیق ممکن ہو تو پیدا ہونے والے بچے کا بھی یہ حق ہے۔ ہاں، اگر طبی ذرائع سے تحقیق ممکن نہ ہو تو پھر لعان کا طریقہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بچے کی ولدیت ثابت کرنے کے لیے تین آدمیوں کے درمیان قرعہ ڈلوایا۔ (کتاب الطلاق، باب من قال بالقرعۃ اذا تنازعوا فی الولد، حدیث نمبر ۲۲۶۹) حضرت علی قیافہ شناس کو بھی بلا سکتےتھے یا اور کوئی ذریعہ استعمال کر سکتے تھے مگر انہوں نے قرعہ پر فیصلہ کیا جو بالکل تخمینی طریقہ ہے۔

عما رناصر: معروضی حالات جیسے ہوتے ہیں، اسی کے لحاظ سے آپ نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس دور میں آج کے دور کی طرح تحقیق نسب کے زیادہ قابل وثوق ذرائع دستیاب نہیں تھے۔ حضرت علی کو بچے کی ولدیت کا جھگڑا نمٹانا تھا تاکہ قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے تو اس مقدمے میں انھیں یہی ممکن نظر آیا کہ قرعہ اندازی سے اس کا فیصلہ کر دیا جائے۔

مطیع سید: ہو سکتاہے کہ قیافہ شناس بھی اس وقت میسر نہ ہو۔

عمار ناصر: جی، ممکن ہے وہ بھی میسر نہ ہو یا قیافہ پر ان کا اتنا اعتماد نہ ہو۔ ایسے میں معاملے کو نمٹانا ہوتا ہے، جیسے بھی نمٹایا جا سکے۔

مطیع سید: روایت میں یہ بھی وضاحت نہیں کہ جو دوسرے دو آدمی تھے، کیا انھوں نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی تھی؟ ان کو آپ نے پکڑا یا نہیں؟

عمار ناصر: دیگر روایات میں اس کی تفصیل موجود ہےکہ انھوں نے غلط اجتہاد کرتے ہوئے ایک ہی طہر میں اس باندی سے مجامعت کو جائز سمجھتے ہوئے مجامعت کی تھی جس کی وجہ سے ان پر حد جاری نہیں کی گئی۔

مطیع سید: حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حاملہ عورت چھوڑے ہوئے روزوں کا فدیہ دے سکتی ہے۔ (کتاب الصوم، باب من قال ہی مثبتۃ للشیخ والحبلی، حدیث نمبر ۲۳۱۷) کیا اس کے لیے روزوں کی قضا ضروری نہیں؟

عمار ناصر: یہ قابل بحث مسئلہ ہے۔ عام طور پر فقہاء یہی کہتے ہیں کہ چونکہ وہ بعد میں روزے رکھ سکتی ہے، اس لیے قضا کرے۔ لیکن ابن عباس کی اور متعدد تابعین کی رائے یہ ہے کہ چونکہ وہ اس وقت روزے نہیں رکھ پارہی اور اس میں اس کا کوئی قصور بھی نہیں تو اس کے لیے فدیہ دے دینے کی گنجائش موجود ہے۔ بظاہر ذوالوجہین مسئلہ ہے اور اجتہادی ہے۔ پہلے قیاس کو دیکھیں تو یہ بات درست لگتی ہے کہ بعد میں اس کو روزے قضا کرنے چاہییں۔ دوسرے قیاس کو دیکھیں تو فدیے کی گنجائش نکلتی ہے۔

مطیع سید: کیا اس مسئلے کو Case to Case دیکھا جا سکتا ہے؟

عمار ناصر: بالکل، یہ بھی ہو سکتاہے کہ ایسے ہر معاملے کو صورت حال کے لحاظ سے الگ الگ دیکھا جائے۔ قرآن سے تو ترجیح یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان تصوموا خير الكم۔ روزے کی جگہ روزہ ہی رکھا جائےتو بہترہے۔

مطیع سید: عاشورا کا روزہ کیا پہلے فرض تھا؟

عمار ناصر: روایات میں ایسے ہی منقول ہے کہ وہ لازم تھا۔ پھر رمضان کے روزے فرض ہو جانے کے بعد اس کو اختیاری قرار دے دیا گیا۔

مطیع سید: تو کیا یہ اسی نسبت سے رکھوایا جا تا تھا جس نسبت سے یہود رکھتےتھے یا مسلمانوں کے رکھنے کی کوئی اور وجہ تھی؟

عمار ناصر: اس کی ابتدا سے متعلق روایات مختلف ہیں۔ بعض میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش یہ روزہ رکھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اس وقت سے یہ معمول تھا۔ بعض میں ہے کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے اور یہودیوں کو فرعون سے حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کی نجات کے شکرانے کے طور پر یہ روزہ رکھتے دیکھا تو فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی خوشی منانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ ممکن ہے، دونوں باتیں درست ہوں۔ اس کا رواج قریش میں بھی ہو اور نبی ﷺ نے دیکھتے ہوئے کہ کوئی نہ کوئی روزہ تو رکھنا چاہیے، مسلمانوں پر بھی اس کو لازم کر دیا ہو۔ مدینہ میں آنے کے بعد اس دن کا روزہ رکھنے میں اور بھی کئی مصلحتیں تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی نسبت ہوگئی، اور یہودیوں کے ساتھ بھی کچھ موافقت اور ان کی تالیف قلب ہوگئی جس کی آپ ﷺ نے ابتدائی دور میں کافی کوشش بھی کی تھی۔

مطیع سید: شام کے علاقے کے بارے میں جو پیشین گوئیاں بیان ہوئی ہیں، (کتاب الجہاد، باب فی سکنی الشام، حدیث نمبر ۲۴۸۳) ان کا تعلق کس زمانے سے ہے؟ آپ ﷺ نے عرب قوم کے دور اقتدار کے اختتام کی باتیں بھی بیان فرمائی ہیں اور قیامت کے قریب رونما ہونے والے واقعات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ شام کے حوالےسے پیشین گوئیاں کس صورت حال سے متعلق ہیں؟

عمار ناصر: اس کو کافی تحقیق سے دیکھنا پڑے گا۔ پیشن گوئیوں سے متعلق روایتوں میں کافی پیچیدگیاں ہیں اور راویوں نے ایک دور سے متعلق واقعات کو دوسرے دور سے متعلق کافی گڈمڈ بھی کر دیا ہے۔

مطیع سید: ایک صحابی نے نبی ﷺ سے سیاحت کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی سیاحت جہاد میں ہے۔ (کتاب الجہاد، باب فی النہی عن السیاحۃ، حدیث نمبر ۲۴۸۶) اس کا کیا مطلب ہے؟

عمار ناصر: اردو میں جس کو سیر وسیاحت کہتے ہیں، یہاں وہ مفہوم مراد نہیں ہے۔ عہد نبوی کی عربی میں سیاحت ایک مذہبی اصطلاح کے طور پر مستعمل تھی۔ سیاحت ترکِ دنیا کا ایک خاص طریقہ تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ آدمی گھر بار چھوڑ دے اور ساری زندگی مسافروں اور خانہ بدوشوں کی طرح خدا کی زمین میں پھر تا رہے۔ اسی مفہوم میں اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں عبادت کے طور پر گھربار چھوڑنے اور خدا کی زمین میں گھومتے رہنے کی کوئی شکل اگر ہے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آدمی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑا ہو۔ محض گھر سے نکل جانا اور سیر وتفریح کے لیے دنیا میں گھومتے رہنا، یہ یہاں مراد نہیں ہے۔

مطیع سید: آپ ﷺ کو ایسا گھوڑا پسند نہیں تھا جس کا ایک اگلے اور ایک پچھلے پاؤں میں سفیدی ہو۔ (کتاب الجہاد، باب ما یکرہ من الخیل، حدیث نمبر ۲۵۴۷) یہ کیا نبی ﷺ کا کوئی ذاتی ذوق تھا یاکوئی اور وجہ تھی؟

عمار ناصر: بظاہر تو یہ ذوقی بات ہی لگتی ہے۔

مطیع سید: آپ نے اسی طرح کی ایک روایت کے حوالےسے فرمایاتھا کہ نبی ﷺ کے ذوق کی بھی پیروی کرنی چاہیے۔ تو اس روایت میں ہم کیسے اس ذوق کی پیروی کریں؟

عمار ناصر: ذوق کاتعلق اگر کسی عباداتی یا تعبدی پہلو سے ہے تو اس کے متعلق یہ عرض کیا تھا۔ یہ کسی جانور کی پسند یا ناپسند کا معاملہ تو مختلف ہے۔ یہ بالکل طبعی سا ذوق ہے جس کا کسی دینی پہلو بظاہر نہیں ہے۔ اس میں بھی آپ اگر پیروی کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی نوعیت مختلف ہے۔

مطیع سید: یہ جو جانوروں کے گلے میں گھنٹی باندھنے یا سفر میں قافلے کے ساتھ کتا رکھنے کی ممانعت آئی ہے، (کتاب الجہاد، باب فی تعلیق الاجراس، حدیث نمبر ۲۵۵۵) کیا یہ بھی شخصی ذوق ہی تھا؟

عمار ناصر: اس میں ایک روحانی پہلو بھی ہے۔ بعض چیزوں کی مناسبتیں عالمِ غیب سے ہیں تو نبی ﷺ کے سامنے وہ بھی ہوتی ہیں۔ ان کے لحاظ سے یہ فرمایا۔ مثلاً‌ گھنٹی سے فرشتوں کو مناسبت نہیں ہے، شیاطین و جنات کو اس سے مناسبت ہے۔ اسی طرح کتا ہےکہ کتے کے ساتھ جنات و شیاطین کو مناسبت ہے۔ اس وجہ سے آپ کو بھی ان کو ساتھ رکھنا پسند نہیں تھا۔

مطیع سید: کسی اور چیز میں مقابلہ کرنا جائز نہیں، سوائے اونٹ اور گھوڑے کی دوڑ اور تیز اندازی کے مقابلے کے۔ (کتاب الجہاد، باب فی السبق، حدیث نمبر ۲۵۷۴) اس کا کیا مطلب ہے؟

عمار ناصر: مراد یہ ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اور بلامقصد جانوروں میں جو مقابلے کروائے جاتے ہیں، وہ نہیں کروانے چاہییں۔ خاص طور پر ایسے مقابلے جن میں کوئی غیر اخلاقی پہلو بھی ہو، مثلاً‌ جانور ایک دوسرے کو زخمی کرتے ہوں۔ مقابلے ایسے ہونے چاہییں جن سے انسان کسی ہنر میں مہارت پیدا کرے اور اس کا اظہار کرے، جیسے گھڑ سواری یا تیز اندازی کے مقابلے۔

مطیع سید: آج کے دور میں کھیل میں جو شرطیں لگا ئی جاتی ہیں، کیا وہ درست ہیں؟

عمار ناصر: اس میں فقہا تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اگر کوئی تیسرا فریق کھیلنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انعام مقرر کر تا ہے اور لوگ کھیل کر انعام جیتتے ہیں تو یہ درست ہے۔ لیکن اگر کھیلنے والے آپس میں ہی ایسی شرط طے کریں تو اس میں جوے کی شکل بن جاتی ہے جو درست نہیں۔

مطیع سید: یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی مقابلے میں شریک سب کھلاڑیوں سے رقم جمع کی جاتی ہے۔ اس رقم سے انعام خریدا جاتا ہے اور جو جیتے، اس کو انعام دے دیا جاتا ہے۔

عمار ناصر: اس میں اس طرح سے صریح جوئے کی صورت تو نہیں ہے لیکن ایک مشابہت پائی جاتی ہے، اس لیے عام طورپر فقہا اس سے منع کرتے ہیں۔

(جاری)

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۸)

اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا ایک تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

(اہل تشیع کی اہم کتبِ رجال کا رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے فرد ا فردا تجزیہ جاری ہے، پچھلی قسط میں چند کتب کا ذکر آگیا تھا، اس قسط میں یہی سلسلہ آگے بڑھایاگیا ہے۔ )

4۔ منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال

یہ کتاب گیارہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ محدث محمد بن علی الاسترابادی (1028ھ) کی تصنیف ہے، یہ معروف اخباری عالم میرزا محمد امین الاسترابادی کے استاذ ہیں اور حاوی الاقوال کے مصنف شیخ عبد النبی الجزائری کے ہم عصر ہیں، محقق استرابادی کی یہ کتاب شیعہ حلقوں میں الرجال الکبیر کے نام سے معروف ہے، شیخ حیدر حب اللہ نے اس کتاب کو رجالی موسوعات کی پہلی کوشش قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

"وھو عہد التالیف الموسوعی فی الرجال الشیعی الذی لم یعہد ھذہ الموسوعیۃ من قبل"1

کہ محقق استرابادی کی یہ کتاب رجال شیعہ کے اس موسوعاتی دور سے ہے، کہ اس قسم کا موسوعاتی مواد اس سے پہلے معروف نہ تھا۔

کتاب کے مقدمہ میں مصنف کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:

حاولت فیہ ذکر ما وصل الی من کلام علماءنا المتقدمین والمتاخرین وما وقفت علیہ من المقال فی شان بعض اصحابنا من علماءنا المخالفین2

یعنی اس کتاب میں، میں نے اپنے متقدمین و متاخرین علماء کے کلام کو ذکر کرنے کا ارادہ کیا ہے، اور اس کے ساتھ ہمارے مخالفین کی کتب میں ہمارے بعض اصحاب کے بارے میں جن باتوں پر میں مطلع ہوا ہوں، ان کو بھی ذکر کرنے کا ارادہ ہے۔

اس کے بعد مصنف نے شیعہ رجالی تراث میں سے بارہ مصادر اور اہل سنت کے دو مصادر (حافظ بن حجر کی تقریب اور امام ذہبی کا ایک اختصار ) کا نام لیا ہے، اس طرح شیعہ کتب رجال کے ساتھ ساتھ اہل سنت کتب سے بھی شیعہ رجال کے بارے میں معلومات ڈھونڈنے کی کو شش کی ہے، یوں کتاب کے مقدمے سے اس بات کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے کہ مصنف نے متقدمین و متاخرین کا پورا علم رجال جمع کرنے کی تگ و دو کی ہے، چنانچہ شیخ حیدر حب اللہ کتاب کی ضخامت کے حوالے سے لکھتے ہیں:

"ان الکتاب یعد موسوعۃ رجالیۃ کبیرۃ بل من اوسع ما کتب فی الرجال الشیعی حتی عصرہ۔

یعنی یہ کتاب ایک وسیع رجالی موسوعۃ شمار ہوتی ہے ، بلکہ اپنے زمانے تک رجال شیعہ کی سب سے بڑی کتاب ہے۔ کتاب کی طوالت و وسعت کے بارے میں شیخ حیدر حب اللہ کے ان کلمات کے بعد اور خود مصنف کے اس اقرار کے بعد، کہ اس میں متقدمین و متاخرین کا علم رجال سمویا گیا ہے اورمصنف نے مقدمے میں ایک درجن متقدمین کی رجالی کتب کی فہرست بھی دی ہے، جن کے رواۃ کا اس میں استقصاء کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ان سب کے بعد کتاب میں کل 4026 رواۃ کا ذکر ہے، جو رجال ِ شیعہ کی کل تعداد (تقریبا تیس ہزار رواۃ ) کا بمشکل تیرہ فیصد بنتا ہے، جو ظاہر ہے کہ نہایت قلیل تعداد ہے، مصنف نے اتنے تگ و دو کے بعد اپنے پیش رو شیخ عبد النبی الجزائری کی کتاب حاوی الاقوال پر مزید دو ہزار رواۃ کا اضافہ کیا ہے، یہ کتاب بھی حاوی الااقوال کی طرح متقدمین کے کی کتب سے محض مواد کی جمع و ترتیب پر مشتمل ہے، چنانچہ کتاب سے ایک ترجمہ نقل کیا جاتا ہے تاکہ کتاب کا اسلوب کچھ واضح ہوسکے:

ابراہیم بن عبد الحمید الاسدی مولا ھم البزاز الکوفی ق، ثم ظم: ابن عبد الحمید لہ کتاب وفیہ ایضا ابن عبد الحمید واقفی، ثم ضا، ابن عبد الحمید من اصحاب ابی عبد اللہ علیہ السلام۔ ۔ ۔ و فی ست: ابن عبد الحمید، ثقۃ لہ اصل۔ ۔ ۔ وفی جش: ابن عبد الحمید الاسدی مولاھم کوفی، وفی صہ: ابن عبد الحمید وثقۃ الشیخ فی الفہرست۔ ۔ ۔ وفی کش ابراہیم بن عبد الحمید الصنعانی۔ 3

اس ترجمے سے کتاب کا اسلوب بخوبی واضح ہوتا ہے کہ مصنف مختلف رجالی کتب کے لئے ق، ظم، ضا، ست، کش وغیرہ کے رموز لگا (ان رموز کی وضاحت مصنف نے مقدمہ میں کی ہے ) کر ان کی عبارات بغیر کسی تبصرے، تنقیح و تہذیب کے، بعینہ نقل کرتے جاتے ہیں، یوں اگر جرح و تعدیل کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کتاب اس حوالے سے بے فائدہ ہے، کیونکہ اس میں نہ تو علامہ حلی کی طرح ہر راوی کے بارے میں اقوال جرح و تعدیل جمع کرنے کی مرتب کوشش کی گئی ہے نہ شیخ عبد النبی الجزائری کی طرح رواۃ کو ضعف وثقاہت کے اعتبار سے تقسیم کر کے ذکر کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے شیخ حیدر حب اللہ اس کتاب کو منہج کے اعتبار سے ایک مبہم کتاب قرار دیتے ہیں، چنانچہ کتاب کے منہج و اسلوب سے متعلق لکھتے ہیں:

" مع ھذا کانت مقدمۃ الکتاب مقتضبۃ جدا، فلم یبین المیرزا منہجہ و طریقتہ فی الکتاب و الغایۃ من تالیفہ کما ھو داب المولفین قبلہ"4

یعنی اس ضخامت کے باوجود کتاب کا مقدمہ نہایت مختصر ہے، اس میں مصنف نے کتاب کا منہج، اسلوب اور کتاب کی تالیف کی غرض و غایت بیان نہیں کی، جیسا کہ اس سے پہلے مصنفین کا وطیرہ تھا۔

بغیر کسی خاص ترتیب جدید ، تدوین اور اسلوب کے محض متقدمین کے رجالی تراث کو بعینہ نقل کرنا جمع و ترتیب تو کہلائی جاسکتی ہے، اسے باقاعدہ رجالی کتاب کہنا مشکل ہے، ضخامت کی وجہ سے اس کا ذکر یہاں کیا گیا، ورنہ متقدمین کی کتب کے محض مجموعات کو ذکر کرنا تطویل لا طائل ہے، کیونکہ جن رجالی کتب کو اس کتاب میں جمع کیا گیا ہے، ان پر رواۃ کی جرح وتعدیل کے اعتبار سے فردا فردا پچھلے صفحات میں بحث ہوچکی ہے۔

5۔ نقد الرجال

یہ کتاب گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ عالم سید مصطفی بن حسین التفرشی کی ہے، جنہیں مختصرا لتفرشی کہہ دیا جاتا ہے، سید تفرشی مرزا محمد الاسترابادی کے ہم عصر ہیں۔ اس کتاب کا مقصد بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں:

"ولما نظرت في كتب الرجال رأيت بعضها لم يرتب ترتيبا يسهل منه فهم المراد ومع هذا لا يخلو من تكرار وسهو، وبعضها وان كان حسن الترتيب الا ان فيه أغلاطا كثيرة، مع أن كل واحد منها لا يشتمل على جميع أسماء الرجال أردت أن اكتب كتابا يشتمل على جميع الرجال من الممدوحين والمذمومين والمهملين، يخلو من تكرار وغلط، ينطوي على حسن الترتيب ويحتوي على جميع أقوال القوم قدس الله أرواحهم من المدح والذم"5

جب میں نے کتب رجال کو دیکھاتو بعض کتب ایسی ہیں جو ایسی ترتیب کی حامل نہیں ہیں ، جو تسہیل فہم میں معاون ہو، اس کے ساتھ ان کتب میں تکرار و تسامحات بھی ہیں، جبکہ بعض کتب باعتبارِ ترتیب بہترین کتب ہیں، لیکن ان میں کثرت سے غلطیاں موجود ہیں، نیز ہر دو قسم کی کتب تمام رجال کے تذکرے پر مشتمل نہیں ہیں، تو میں نے ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب تیار کروں، جو جمیع ممدوحین، مذمومین اور مھمل رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہو اور تکرار و اغلاط سے بھی پاک ہو، حسنِ ترتیب کی حامل ہو اور رواۃ کے بارے میں قوم(اہل علم ) کے مدح و ذم کے تمام اقوال کا احاطہ کرے۔

اس کے بعد مصنف نے درجہ ذیل نو کتب کو مصادر قرار دیتے ہوئے ان کے رموز بیان کئے:

رجال کشی، رجال نجاشی، رجال طوسی، فہرس الطوسی، رجال ابن الغضائری، رجال ابن شہر آشوب، علامہ حلی کی خلاصۃ الاقوال اور ایضاح الاشتباہ اور رجال ابن داود الحلی،

اس کے ساتھ مصنف نے تصریح کی ہے کہ میری کوشش ہوگی کہ ان مصادر کی عبارت بعینہ نقل کروں، البتہ کبھی کبھا ر ضرورتا تبدیلی کروں گا۔

یہ کتاب موسسۃ آل البیت سے پانچ ضخیم جلدوں میں چھپی ہے، اس کتاب میں شیخ حیدرحب اللہ کے بقول 6604 رواۃ 6 کا ذکر ہے، یوں یہ کتاب استرابادی کی منہج المقال سے دو ہزار زیادہ رواۃ پر مشتمل ہے، یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ شیخ عبد النبی جزائری کی رجال الجزائری میں دو ہزار رواۃ، مرزا محمد استرابادی کی منہج المقال میں چار ہزار رواۃ اور تفرشی کی نقد الرجال میں چھ ہزار رواۃ ہیں، حالانکہ تینوں کے مصادر تقریبا یکساں ہیں، جیسا کہ پچھلے صفحات میں ہم ان کتب کے تذکرے میں نقل کرچکے ہیں، یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے، کہ ان تینوں مصنفین نے متقدمین کے رجالی تراث کا مکمل احاطہ کرنے کے لئے کتاب لکھی تھی اور تینوں کے مصادر بالکل یکساں تھے، تو رواۃ کی تعداد میں اتنا عظیم فرق کیونکر پیدا ہوا ؟پھر خاص طور پر علامہ محمد استرابادی نے مجمع الرجال میں بارہ شیعہ مصادر کو سمونے کے بعدچار ہزار رواۃ پر مشتمل مجموعہ تیار کیا اور اسے حیدر حب اللہ نے اپنے دور کی سب سے وسیع کتاب قرار دیا، جبکہ سید تفرشی نے ان بارہ مصادر میں سے نو کو نقد الرجال میں جمع کرنے کی کوشش کی، تو چھ ہزار رواۃ کا مجموعہ تیار کیا، شیعہ کتب رجال کا جب زمانی اعتبار سے جائزہ لیاجائے تو ایک خاص ترتیب کے ساتھ رواۃ و رجال کا ہر آنے والی کتب میں اضافہ نظر آتا ہے، بالخصوص یہ اضافہ ان کتب میں زیادہ حیرت کا باعث ہے، جو متقدمین کے ایک جیسے تراث کی جمع و ترتیب پر مشتمل ہے، لیکن رواۃ کی تعداد میں پھر بھی ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے، جیسا کہ منہج المقال اور اس کتاب نقد الرجال میں آپ ملاحظہ کرچکے ہیں، اسے تکرار کا نتیجہ کہیں یا آنے والے زمانوں میں رواۃ و رجال کی دریافت کا نتیجہ ؟رواۃ کی تعداد میں یہ اضافہ ہر زمانہ کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ امام خوئی کی کتاب معجم رجال الحدیث میں پندرہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے اور شیخ علی نمازی کی مستدرکات علم الرجال میں اٹھارہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔

رواۃ کی تعداد میں اس حیران کن ارتقائی اضافہ سے قطع نظرسید تفرشی نے اپنی اس کتاب میں مذکورہ ساڑھے چھ ہزار رواۃ میں سے نہایت قلیل تعداد کے بارے میں جرح و تعدیل کا تذکرہ کیا ہے، مقالہ نگار نے موسسہ آل البیت سے طبع شدہ نقد الرجال کی پانچ جلدوں میں سے پہلی دو جلدوں کو صفحہ بہ صفحہ دیکھا، کہ کتنے رواۃ کے بارے میں مصنف نے جرح یا تعدیل کا ذکر کیا ہے، تو یہ اعداد و شمار سامنے آئے:

6۔ الوجیزۃ فی علم الرجال

یہ کتاب بارہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ محدث محمد باقر مجلسی کی ہے، جنہیں شیعہ حلقوں میں علامہ مجلسی کے نام سےذکر کیا جاتا ہے، علامہ مجلسی شیعہ علم حدیث کے اہم ترین ستون سمجھے جاتے ہیں، الکافی کی مفصل شرح مراۃ العقول کے نام سے لکھی ہے، جو الکافی کی سب سے متداول شرح ہے، اس کے علاوہ ایک سو دس جلدوں پر محیط شیعہ روایات کا ایک انسائیکلوپیڈیا بحار الانوار کے نام سے ترتیب دیا ہے، علامہ مجلسی شیعہ علم حدیث کے مرکزی اہل علم میں جانے جاتے ہیں، علامہ مجلسی نے علم الرجال پر ایک جلد پر مشتمل کتاب "الوجیزۃ فی علم الرجال " لکھی ہے، کتاب کے مقدمہ میں شیخ مجلسی لکھتے ہیں:

“التمس منّي جماعة من طالبي علوم أئمّة الدين (صلوات اللّه عليهم أجمعين)، أن أكتب لهم في تحقيق أحوال رجال أسانيد الأخبار، رسالة وجيزة أقتصر فيها على بيان ما اتضح لي من أحوالهم، و اشتهر عند أصحابنا- رضي اللّه عنهم- من أقوالهم، من غير تعرض لخصوص الأقوال و قائليها، و ترك المجاهيل لعدم الفائدة للتعرّض لها، على غاية الإيجاز و الاختصار، ليسهل على الطالبين تحصيلها”7

یعنی مجھ سے طلبہ کی ایک جماعت نے درخواست کی کہ میں حدیث کے رواۃ کی تحقیق کے بارے میں ایک ایسا رسالہ ترتیب دوں، جس میں صرف ان رجال کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا ہو، جن کے احوال میرے سامنے واضح ہوچکے ہیں اور جن کے بارے میں ہمارے اصحاب علم کے اقوال معروف و مشہور ہیں ، نیز اس میں قائلین اور ان کے اقوال کا تفصیلی ذکر نہ کیا گیا ہو، اور اس کے ساتھ مجاہیل رواۃ کا ذکر بھی چھوڑ دیا گیا ہو، کیونکہ ان کےذکر کیا کوئی فائدہ نہیں اور اس رسالہ میں نہایت اختصار سے کام لیا گیا ہو تاکہ طلبہ علم کے لئے اس سے استفادہ آسان ہو۔

اس کے بعد مصنف نے رواۃ کو پانچ اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب میں ثقہ غیر امامی کے لئے (ق)، ثقہ امام کے لئے (ثقہ )ممدوح کے لئے (م)ضعیف کے لئے (ض) اور مجہول کے لئے (م) کا رمز استعمال کریں گے۔ اس کتاب میں مصنف صر ف راوی کا نام ذکر کرتے ہیں اور اس کے آگے اوپر ذکر کردہ رموزِ خمسہ میں سے کوئی رمز (ق، م، ض وغیرہ) ذکر کر دیتے ہیں، بطوِ نمونہ چند تراجم ملاحظہ ہوں:

  1. آدم بن إسحاق، ثقة
  2. آدم بن الحسين النخاس، ثقة
  3. آدم بن المتوكّل، ثقة
  4. آدم بن محمد القلانسي، ض، و غيرهم، م8

اس کتاب کو ہم اہل سنت کتب میں سے تقریب التہذیب سے تشبیہ دے سکتے ہیں، لیکن تقریب التہذیب کے منابع تو تہذیب التہذیب، تہذیب الکمال ، الکمال فی اسماء الرجال وغیرہ جیسی مبسوط کتب ہیں اور تقریب ان سب کا ایک جامع اختصار ہے، اس لئے تقریب کے رموز کو ان مفصل کتب سے باآسانی دیکھا جاسکتا ہے، لیکن الوجیزہ کے منابع و مصاد رمتعین و معلوم ہی نہیں ہیں، اور نہ علامہ مجلسی نے مقدمہ میں کسی خاص مصدر کی طرف اشارہ کیا ہے، کہ کن کتب سے علامہ مجلسی نے رواۃ کے بارے میں یہ اقوال نقل کئے ہیں، لیکن علامہ مجلسی چونکہ ایک منجھے ہوئے محدث ہیں، اس لئے قوی امید ہے کہ علامہ مجلسی نے معتبر مصادر سے رواۃ کی توثیق و تضعیف نقل کی ہوگی، یہ کتاب مصنف کے علم حدیث میں ایک نمایاں مقام ہونےکی بنا پر یقینا شیعہ علم رجال کی تقویم کے حوالے سے ایک بلند پایہ کتاب ہے، لیکن متقدمین کی کتب کی طرح اس کتاب کی بھی اساسی خامی رواۃ و رجال کا عدم استقصاء ہے، اس کتاب میں مکررات سمیت محض 2345 رواۃ کا ذکر ہے، جو کل شیعہ رواۃ کا بمشکل دس فیصد بنتا ہے، یوں ابن داود حلی سے لیکر علامہ حلی تک اور علامہ حلی سے لیکر شیخ مجلسی تک جس جس نے بھی شیعہ رواۃ و رجال کو تقویم یعنی توثیق و تضعیف کے اعتبار سے جمع کرنے کی کوشش کی، تو وہ دو ڈھائی ہزار سے آگے نہ بڑھ سکے، کیونکہ شیعہ کے قدیم رجالی تراث میں رواۃ کی جرح و تعدیل نہ ہونےکے برابر ہے، جیسا کہ ما قبل میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ آچکی ہے، شیعہ تاریخ کے پہلے بارہ سو سال میں علامہ مجلسی سے زیادہ وسعتِ نظر کا حامل محدث نہیں گزرا، جب شیخ مجلسی اپنے وسیع نظر کے باوجودمحض ڈھائی ہزار کے قریب رواۃ کی تقویم جمع کرسکے، تو اس سے شیعہ کتب رجال کا رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے تہی دامن ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

7۔ منتہی المقال فی احوال الرجال

یہ کتاب تیرہویں صدی ہجری کے شیعہ محدث محمد بن اسماعیل مازندرانی کی ہے، جو ابو علی الحائری کے نام سے معروف ہے، اس کتاب میں مصنف نے اپنے زمانے تک تمام موجود رجالی تراث کو سمونے کی کوشش کی ہے، چنانچہ شیخ حیدرحب اللہ نے بائیس رجالی کتب کا ذکر کیا ہے، جن کا مواد حائری نے اپنی کتاب میں جمع کیا ہے اور ہر کتاب کے لئے خاص رمز استعمال کیا ہے، ان رموز کی تفصیل کتاب کے محققین ( محققین موسسۃ آل البیت ) نے کتاب کی پہلی جلد میں دی ہے، 9 چونکہ یہ کتاب متقدمین کی کتب کےمواد کا محض مجموعہ ہے، اس لئے اس کا الگ سے ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہ تھی، لیکن مفصل ہونے کی وجہ سے اس کا ذکر کیا گیا ہے، یہ کتاب استرابادی کی منہج المقال کے ہو بہو مشابہ ہے، بلکہ دقت نظر سے اسی کا چربہ اور نقل معلوم ہوتی ہے، استرابادی کی کتاب کا ذکر ما قبل میں آچکا ہے، اسی وجہ سے شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

"ویظہر الحائری فی ھذا الکتاب متاثرا باستاذہ الوحیدالبھبانی ، بل یذہب المحدث النوری الی ان الکتاب احتوی اتمام تعلیقہ استاذہ، وھذہ احدی اھم اسباب شہرۃھذا الکتاب، ھذا ھو التاثر الاول لہ، کما تاثر ایضابالاسترابادی صاحب منہج المقال، وسیظہر ھذا واضحا فی معالم الکتاب10

یعنی بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس کتاب میں شیخ حائری اپنے استاذ وحید بھبانی سے متاثر ہے، ( وحید بھبانی نے منہج المقال پہ ہی تعلیق لکھی ہے، جسے عموما تعلیقہ الوحید البھبھانی کہا جاتا ہے ۔ )بلکہ محدث نوری تو اس طرف گئے ہیں، کہ یہ کتاب استاذ کی تعلیق کا ہی اتمام ہے، یہ وجہ اس کتاب کی شہرت کے اسباب میں سے اہم سبب ہے، اس تاثر کے ساتھ مصنف استربادی منہج المقال کے مصنف سے بھی متاثر ہیں، جیسا کہ کتاب کی خصوصیات کے بیان میں یہ بات عنقریب واضح ہوجائے گی۔

اس کتاب میں شیخ حیدر حب اللہ کے بقول چار ہزار چار سو انانوے (4479) رواۃ کا ذکر ہے، جبکہ استرابادی کی کتاب میں چار ہزار چھبیس (4026) رواۃ تھے، کما مر۔ اسی طرح یہ کتاب شیخ استرابادی کی کتاب کی طرح رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے کسی خاص تقسیم کے بغیر محض مواد کی جمع و ترتیب پر مشتمل ہے، اس لئے جرح و تعدیل کے اعتبار سے چنداں مفید نہیں ہے، رجالی تراث میں جس جس راوی کے بارے میں کوئی قول جرح یا تعدیل منقول ہے، تو مصنف نے بھی اسے نقل کیا ہے، ورنہ صرفِ نظر کیا ہے، مقالہ نگار نے اس کی پہلی جلد کا جرح و تعدیل کے اعتبار سے صفحہ بہ صفحہ جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ پہلی جلد میں کل 282 راوی ذکر ہیں، جن میں 140 کے قریب رواۃ کے بارے میں توثیق یا تضعیف کا قول نقل کیا گیا ہے، اس سے باقی جلدوں کے رواۃ کی تقویم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اس کے ساتھ اس کتاب کی پہلی جلدوں میں رواۃ کا تذکرہ رجالی تراث سے جمع کرنے میں زیادہ بسط سے کام لیا گیا ہے، لیکن جوں جوں کتاب آگے بڑھتی ہے، رواۃ کے احوال اختصار میں تبدیل ہوتے گئے، یہاں تک کہ کتاب صرف فہرست میں تبدیل ہوئی ہے، چنانچہ پہلی جلد میں محض 282 رواۃ کا ذکر ہے، جبکہ آخری ساتویں جلد میں بارہ سو بیاسی (1282) رواۃ کا ذکر ہے، حالانکہ آخری جلد کے سو صفحات خاتمہ پر بھی مشتمل ہیں، جس میں بعض رجالی قواعدو مباحث ذکر کئے گئے ہیں۔


حواشی

  1. دروس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال، ص 272
  2. منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال، استرابادی، ج1، ص179
  3. منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال، ج1ص304، رقم الترجمہ: 106
  4. دروس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ، ص 272
  5. نقد الرجال، سید تفرشی، ج1، ص 34
  6. دروس فی تاریخ علم الرجال، ص288
  7. الوجیزہ فی علم الرجال، محمد باقر مجلسی، ص 140
  8. الوجیزۃ: ص141
  9. منتہی المقال، ابو علی الحائری، ص19 تا 33، ج1
  10. دروس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ، ص 245-246

(جاری)

فکری شبہات کی دلدل اور اہل علم کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے فضلاء جوں جوں اپنی تعلیم کی تکمیل کے مرحلہ کی طرف بڑھتے ہیں ان کے ذہن میں تذبذب اور شک کی کیفیت ابھرنے لگ جاتی ہے کہ اب آگے کرنا کیا ہے اور اپنے مستقبل کو کس شعبے سے وابستہ کرنا ہے؟ یہ بات بالکل درست ہے اور اس سلسلہ میں میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ اساتذہ کو اپنے شاگردوں پر نظر رکھنی چاہیے اور جس شاگرد کو دینی و معاشرتی ماحول کے جس دائرے کے لیے زیادہ ضروری سمجھتے ہیں اس ماحول میں اسے ایڈجسٹ کرنے کے لیے اس کی راہنمائی کرنی چاہیے۔

مگر میں شک اور تذبذب کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہوں گا جس نے ہماری نئی نسل کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ اور یہ فکری شکوک و شبہات کا فتنہ ہے اور مغربی تہذیب و فلسفہ کی یلغار کا فتنہ ہے جس کے اثرات نئی نسل کے ذہنوں میں مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں لیکن ہم اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ کسی بھی قوم اور ملت میں باہر سے آنے والے فلسفے اور افکار ہمیشہ فکری خلفشار کا باعث بنتے ہیں، ان کا ہوش مندی کے ساتھ سامنا کر لیا جائے تو قومی روایات اور ملی اقدار کو بچایا جا سکتا ہے، جبکہ نظر انداز کر دینے یا بغیر سوچے سمجھے نمٹنے کے باعث قوم اپنی تہذیب و روایات سے محروم ہو جاتی ہے۔

ہمیں اپنے عقائد اور ایمانیات کے حوالہ سے پہلے بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے ادوار کے بعد یونانی فلسفہ ہماری طرف منتقل ہونا شروع ہوا تھا اور اس نے ہمارے عقائد اور ایمانیات کے ماحول میں خلفشار پیدا کر دیا تھا۔ معتزلہ اور دیگر عقل پرست طبقوں نے شکوک و شبہات اور بے یقینی کا طوفان کھڑا کر رکھا تھا اور اس مہم کو عباسی دور میں سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہو گئی تھی۔ اس دور کے کلامی مسائل اور اعتقادی اختلافات پر ایک نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ وہ کم و بیش سب ہی یونانی فلسفہ کی پیداوار تھے جن کا اس دور کے علماء کرام نے سامنا کیا اور اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد و روایات کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا تھا۔ مگر اس کے دو الگ الگ دائرے تھے۔

معتزلہ وغیرہ کی فکری حشرسامانیوں کے مقابلہ میں روایت کے دائرہ میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ سامنے آئے اور خلقِ قرآن کے مسئلہ پر عقل پرستوں کے موقف کو تسلیم کرنے سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ قرآن و حدیث سے کوئی دلیل لاؤ گے تو تمہاری بات سنوں گا، اس کے بغیر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس انکار پر انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور کوڑے بھی کھائے مگر پوری استقامت اور عزیمت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹ گئے۔ جس سے اس محاذ پر اہل سنت کو سرخروئی حاصل ہوئی۔

جبکہ اس کے ساتھ دوسرا دائرہ امام ابوالحسن اشعریؒ اور امام ابو منصور ماتریدیؒ کا بھی تھا جنہوں نے ان فکری فتنوں کا مقابلہ عقل اور درایت کے ہتھیاروں سے کیا۔ انہوں نے خود یونانی فلسفہ پر عبور حاصل کیا اور یونانی فلسفہ کی نفسیات اور زبان میں انہی کے دلائل سے عقل پرستوں کو لگام دی۔ چنانچہ یہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے کہ یونانی فلسفہ کی یلغار سے اہل سنت کے عقائد و روایات کو شکوک و شبہات کے جس طوفان کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا رخ موڑنے کے لیے روایت کے ماحول میں امام احمد بن حنبلؒ جبکہ درایت کی دنیا میں امام ابوالحسن اشعریؒ اور امام ابومنصوری ماتریدیؒ نے علماء اہل سنت کی قیادت فرمائی۔

میں نے یہ صورتحال اس لیے عرض کی ہے کہ آج ہمیں بھی اسی قسم کی فکری یلغار کا سامنا مغربی فکر و فلسفہ کی طرف سے کرنا پڑ رہا ہے اور ہماری نئی نسل مغربی فلسفہ و تہذیب کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔ میری اہل علم و دانش سے گزارش ہے کہ اس طرف اسی طرح کی سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے جس طرح یونانی فلسفہ کی دخل اندازی کے جواب میں امام احمد بن حنبلؒ، امام ابوالحسن اشعریؒ اور امام ابو منصور ماتریدیؒ نے جدوجہد کی تھی۔ جبکہ ہماری معروضی صورتحال یہ ہے کہ روایت کے ماحول میں تو بحمد اللہ کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے اور ہمارے دینی مدارس قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ و ارشادات کے ذریعے روایت کو مضبوط و مستحکم کرنے میں مسلسل مصروف ہیں مگر درایت کے ماحول میں وہ صورتحال ابھی تک سامنے نہیں آئی جس کی ضرورت ہے۔ جبکہ امت مسلمہ کی نئی نسل کو شکوک و شبہات کی دلدل سے نجات دلا کر ایمان و یقین کے ماحول میں واپس لانے کے سلسلہ میں یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔

اس کے لیے میں ایک عرصہ سے یہ آواز لگا رہا ہوں کہ امام احمد بن حنبلؒ کے ساتھ ساتھ ابو الحسن اشعریؒ اور ابو منصور ماتریدیؒ کی جدوجہد کو زندہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم مغربی فلسفہ و نظام کا پوری طرح ادراک کرتے ہوئے اسی کی فریکونسی، طرز استدلال، نفسیات اور زبان میں اس کا جرأت و حوصلہ کے ساتھ سامنا کریں اور اپنے عقائد و روایات کا تحفظ کریں۔ ہمارے ماحول کے طلبہ اور نوجوان اساتذہ خود اس کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس لیے شکوک و شبہات کے ماحول سے نمٹنے کے لیے نئی نسل بالخصوص طلبہ و اساتذہ کی راہنمائی آج کے دور کا سب سے اہم علمی و فکری تقاضہ ہے جس کی طرف ارباب علم و دانش کی سنجیدہ توجہ درکار ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مسجد کا ادارہ اور امام وخطیب کا کردار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کی سیرت چیئر کے زیراہتمام ۱۸ و ۱۹ جنوری ۲۰۲۲ء کو ائمہ و خطباء کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی نشست منعقدہ ۱۸ جنوری  میں کی گئی گفتگو کا خلاصہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ عزت مآب وائس چانسلر صاحب! قابل صد احترام مہمان خصوصی اور معزز شرکاءِ محفل!

 اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے اس پروگرام میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس سے اس عظیم ادارہ کے ساتھ پرانی نسبتیں بھی تازہ ہو رہی ہیں۔ اس کا پہلا دور جامعہ عباسیہ کے عنوان سے ہماری تاریخ کا حصہ ہے جس کی علمی و دینی خدمات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، بالخصوص حضرت علامہ غلام محمد گھوٹویؒ کا نام سامنے آتا ہے اور ختمِ نبوت کے تاریخی مقدمہ بہاولپور کے حوالہ سے حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت علامہ گھوٹویؒ کا تذکرہ نظر سے گزرتا ہے تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ اس کے بعد اس عظیم تعلیمی مرکز کا وہ دور بھی ہمارے سامنے ہے، جب اسے دینی و عصری تعلیمات کے امتزاج کا مرکز بنایا گیا اور اس نے جامعہ عباسیہ سے جامعہ اسلامیہ کا سفر طے کیا، جس میں ملک بڑی بڑی علمی شخصیات نے اسے اپنی جولانگاہ بنایا اور میرے جیسے کارکنوں کو یہ امید لگ گئی کہ دینی و عصری تعلیم کے درمیان جو تفریق برطانوی استعمار کے دور میں پیدا کر دی گئی تھی اسے ختم کر کے اس سے پہلے دور کی طرح دینی و عصری علوم کی یکساں تعلیم کا ماحول دوبارہ دیکھنے کو مل جائے گا، مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور ہم آج اسی تعلیمی ادارہ میں اس سے مختلف ماحول میں کھڑے ہیں۔

میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور اس کے حوالہ سے محترم وائس چانسلر صاحب کی موجودگی میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ میں آج بھی خود کو ذہنی طور پر اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے اسی دور میں کھڑا دیکھتا ہوں جو جامعہ عباسیہ اور جامعہ اسلامیہ کے ملاپ کا دور تھا اور دینی و عصری تعلیمات کے امتزاج کا دور تھا۔ کیونکہ ہماری قومی تعلیم کی اصل ضرورت تعلیم کا وہی دور ہے، ہمیں آج پھر اس طرف واپس لوٹنا ہو گا، ورنہ ہم اس تفریق کو ختم نہیں کر پائیں گے جس نے ہمیں تقسیم کر رکھا ہے۔ میں اپنے موضوع کی طرف آنے سے قبل محترم وائس چانسلر صاحب سے یہ درخواست کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس دور کی طرف واپسی کا راستہ نکالیے، ہم اس میں آپ کے ساتھ ہیں اور اس کو موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی تعلیمی ضروریات کا اصل حل سمجھتے ہیں۔

پہلے تو مسجد کی بات کر لیں کہ ہمارے معاشرے میں مسجد کی حیثیت کیا ہے؟ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ مسجد مسلم معاشرہ میں دل کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ مدرسہ کو دماغ کا مقام حاصل ہے۔ مسجد مسلم سوسائٹی کا اعصابی مرکز ہے اور مسلم آبادی کا زیرو پوائنٹ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں انسان کی آبادی کا آغاز بیت اللہ کے قیام سے کیا تھا ’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکة مبارکا‘‘ میں اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ کے جبر کے ماحول سے نکل کر آزاد ماحول میں قدم رکھا تو قبا کے چند روزہ قیام میں بھی پہلے مسجد بنائی۔ اور پھر مدینہ منورہ میں قیام کیا تو وہاں بھی اپنے گھروں سے پہلے مسجد کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ اس لیے مسجد مسلم آبادی میں زیرو پوائنٹ ہے اور اعصابی مرکز ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز مسجد ہی ہے اور اسی سے مسلم آبادی کا آغاز ہوتا ہے۔

مسجد کے اعمال کا دائرہ بہت وسیع ہے جن میں سے عبادت، وعظ و نصیحت، اور تعلیم و تدریس کا ماحول تو آج بھی قائم ہے۔ مگر مسجد کے بہت سے اعمال آج متروک ہو چکے ہیں جنہیں دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے، ان میں سے دو کی طرف آج کی محفل میں توجہ دلانا چاہوں گا۔

جہاں تک فقہی اختلافات اور ائمہ مساجد کے رویہ کا معاملہ ہے تو اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اختلافات کے دائروں اور سطحوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ زیادہ تر اختلافات فقہی دائرہ کے ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ بات مسلّمہ ہے کہ فقہی اختلاف اسلام اور کفر یا حق و باطل کے دائرہ کا نہیں ہوتا بلکہ اس کا دائرہ خطا اور صواب کا ہوتا ہے۔ فقہی مسائل میں اگر ہم ایک امام کے قول پر عمل کرتے ہیں تو ’’صواب یحتمل الخطاء‘‘ کہہ کر کرتے ہیں۔ اور کسی امام کے قول پر عمل نہیں کرتے تو ’’خطاء یحتمل الصواب‘‘ کہہ کر کرتے ہیں۔ فقہی اختلاف حق و باطل کا نہیں بلکہ صواب و خطا کا اختلاف ہوتا ہے۔ اگر ہم اس اصول کو سمجھ لیں اور اس کی پاسداری کا اہتمام کر لیں تو بہت سے جھگڑے پیدا ہی نہ ہوں۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کے دور میں ہماری نوجوان نسل میں دینی تعلیمات سے بے خبری اور مغربی میڈیا کی فکری یلغار کی وجہ سے جو شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، ان کی طرف سنجیدہ توجہ دینا امام و خطیب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اپنے ماحول کے نوجوانوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کو محبت و پیار اور دلیل اور استدلال کے ساتھ صاف کرنے کی ضرورت ہے اور مساجد کے ائمہ و خطباء کو اس کی تیاری اور اہتمام کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر سر انجام دینے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

بانجھ مزرعۃ الآخرہ سے مولانا سنبھلی کی رحلت

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ہزار سالہ تہذیب اسلامی کے بوجھ تلے دبی، سسکتی اور نالہ کناں دلی نے 23 جنوری2022 کوایک اور تناور اور شجر سایہ دار اپنی خمیدہ کمر سے اتار کر حوالہ مرقد کردیا۔ نہ ہوئے اپنے ملا واحدی کہ زوجات ثلاثہ کے شوہر نامدار ہو کر بھی عاشق صادق جیسی تہمت حسنہ کے سزاوار ہوئے بھی تو اس عروس البلاد دلی کے جو بقیۃ السلف کو لپڑ  لپڑ کھا رہی ہے کہ اس کی جوع البقر ہل من مزید کے وظیفے پڑھے جا رہی ہے۔ اب  کھانے کو  رہ ہی کیا گیا ہے؟ ادب آداب سے کچھ استثناء مانگ کر ورنہ اپنے قبلہ گاہی ملا واحدی سے میں ضرور پوچھتا کہ اپ خود تو یہاں کراچی میں ایک دو نہیں، نو ادبی جرائد کی جولان گاہ آباد کر کے ٹھسے سے بیٹھ گئے ہو اور ہم واہگہ سے ادھر کے بھولے بھالے ناشناسان دلی کو زندگی بھر سیر بھی کرائی آپ نے تو سبز باغوں کی۔ دوسرے بھلے مانس اشرف صبوحی لاہور میں دم سادھے بیٹھ گئے. عاشق صادق  تو وہ بھی مرتے دم تک اسی عروس البلاد ہی کے رہے، پر انہوں نے ملا واحدی جیسا غل نہیں مچایا۔ رہے تیسرے امیدوار دلی خواجہ حسن نظامی ! تو تقسیم ہند سے پیدا شدہ وامق و عذرا کی اس عاشقی معشوقی کے جڑ پکڑنے سے پہلے ہی وہ 1955 میں چرخ نیلی فام کے ادھر کہیں  محمل نشیں ہو کر رہ گئے۔

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی بھی گئے، نور اللہ مرقدہٗ۔ میری نہ تو ان سے کبھی کوئی ملاقات ہوئی, نہ مجھے ان سے خط و کتابت کا اعزاز ملا۔ بس ان کی تحریروں کی اسیری کا اعزازی طوق گلے میں لٹکائے یوں پھر رہا ہوں کہ رازداران اساطیری ادب کہتے ہیں کہ زنگ آلود لوہا سنگ پارس سے مس ہو جائے تو  سونا بن جاتا ہے۔  پس لکھوں تو کیا؟ لیکن میلان سہل پسند  ہو اور ہو بھی بصورت شکرخورہ ہو تو شکر ادھر ادھر کہیں سے مل ہی جاتی ہے۔ عرب کہتے ہیں، تعرف الاشیاء باضدادہا، "چیزیں اپنی شناخت اپنی ضد سے کراتی ہیں۔" چیزوں کو علی الاطلاق لوگے تو ان میں مولانا محترم جیسے انفس متبرکہ بھی آ جاتے ہیں۔ اتنا کہے دیتا ہوں کہ لگ بھگ اڑھائی  عشرے تک مولانا محترم اور میرے چچا مرحوم، ملک خداداد ہم جلیس، ہم نوالہ و ہم پیالہ و ہم دوش رہے۔ 25 سالہ باہمی برطانوی قربت کے بعد اگلے تیس سال چچا نے تو پاکستان میں گزارے۔مولانا البتہ اس آخری حصے میں برطانیہ میں تو رہے لیکن سال میں تین چار ماہ کے لیے ہندوستان آتے جاتے رہے۔ عمر کے آخری حصے میں یہ سلسلہ موقوف کرکے وہ مستقلاً ہندوستان ہی میں رہے۔ یوں یہ دونوں اللہ والے پچاس پچپن سال تک یک جان و دو قالب رہے پچھتر سال سے صبح شام باہم خوخیاتے ان کے دو متحارب ملکوں --- ہندوستان ، پاکستان--- کی ایٹمی توانائی بھی اس تعلق خاطر میں ہلکا سا ضعف نہ پیدا کر سکی۔ تو عرصہ رفاقت کتنا رہا؟ دو چار برس کی بات نہیں، یہ نصف صدی سے بھی متجاوز ہے, ہاں جی ! مجھے تو ہمیشہ  کچھ یوں لگتا رہا کہ میرا ایک اور چچا، یا شاید تایا،ادھر کہیں دلی لکھنؤ میں بھی موجود ہے۔

یادش بخیر ! مدت مدید کی رفاقت کے بعد ایک دن رواروی میں اپنے یہاں کے مولانا زاہدالراشدی محترم کو بتا بیٹھا: "حضور ! آپ سے ایک تعارف اور بھی نکلتا پڑتا ہے"۔مستفسرانہ سکوت مولانا موصوف کا بجائے خود ایک تعارف ہے۔عرض کیا: "آپ سے گاہے ماہے  ملک خداداد صاحب کا ذکر اذکار سنتا رہتا ہوں اور ایسا ہی کچھ ان سے آپ کی بابت بھی ملتا رہتا ہے۔" مولانا مسکرائے، پھر بولے: "تو پھر؟ آگے چلو!" عرض کیا: " ملک صاحب میرے حقیقی چچا ہیں۔" مولانا راشدی ذرا دیر صامت رہے، پھر بولے بھی تو یوں : "تو گویا اب مجھے آپ سے بھی ڈرنا پڑا کرے گا۔ صاحب ! آپ کے چچا تو بڑے خوفناک شخص ہیں. بابا ! ہم تو ان سے بہت ڈرتے ہیں." قارئین کرام !  منجملہ دیگر اضداد کے، مولانا مرحوم کی اسی ایک ضد الموسوم بہ، ملک خداداد ہی سے اندازہ کر لیجئے کہ وہ لگ بھگ اڑھائی عشرے ہمدم دیرینہ رہے بھی تو کیسے خوفناک شخص کے۔  کیوں؟ وجہ؟

وجہ کا ذکر تو آگے چل کر ہوگا۔ لیکن بروایت عبدالسلام اتنا ضرور بتائے دیتا ہوں کہ مولانا مرحوم خود بھی کچھ کم "خوفناک" نہیں تھے. نوے کی دہائی میں دونوں کے ایک اور ہمدم دیرینہ کے ساتھ چچا کی کچھ شکر رنجی سی ہوئی۔معاملے کو سلجھانے کے لیے چچا نے اس دوست کو خط لکھ کر عبدالسلام کے حوالے کیا کہ جاؤ مولانا کو دے آؤ تا کہ وہ اسے پہنچا دیں۔ خط کھلا ہوا تھا کہ دینے سے پہلے مولانا خود پڑھ لیں۔ تحریر کی شدت چچا کی افتاد طبع کی شاہکار تھی، پڑھتے ہی مولانا برافروختہ ہو گئے۔ ہاتھ نچا کر ان الفاظ کے ساتھ خط واپس عبدالسلام کے حوالے کردیا۔ " ابا سے کہہ دو، میں تمہارا ڈاکیا نہیں ہوں". عبدالسلام ہی سے مروی ہے کہ  مولانا کے اس عادلانہ جواب کے باعث ڈیڈی خفا ہونے کی بجائے ان کا زیادہ احترام کرنے لگ گئے۔

 کسی بزرگ نے اپنے ملفوظات میں لکھا ہے کہ مسجد کے باہر لنگڑے فقیر کے پاس بیٹھے کوے کو دیکھ کر میرا استعجاب دو چند ہو گیا۔ ٹوہ لگانے کو قریب جانے کی کوشش کی تو بزرگوارم پر واضح ہوا کہ کوے کی ایک ہی ٹانگ تھی اور یہی لنگڑے فقیر اور ایک ٹانگ والے کوے کا اشتراک زیست تھا۔

مولانا فاضل دیوبند اور ایک از قسم منارہ نور علمی خانوادے میں سے تھے۔ ادھر چچا خدا داد راولپنڈی کی چٹیل اور سنگلاخ زمین میں رہ کر کچھ کر سکے تو ایک مشہور زمانہ شعر کے مصرعے کے مصداق بس بی اے ہی کیا۔ (بد) گمان غالب ہے کہ پھر کہیں سے اکبر الہ آبادی کا وہ والا شعر پورا سنا پڑھا ہوگا۔ چنانچہ خفا ہو کر، تہیہ کر کے نہ تو نوکر ہوئے، نہ پینشن پائی:

ہم کیا کہیں، احباب کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مر گئے

قرآن وسنت کی الہامی راہنمائی کو عام کرنے کی خاطر ادھر کا وہ فاضل دیوبند فقیر اور ادھر کا یہ محض گریجویٹ کوا، دونوں مسجد کے باہر بیٹھے ہیجان کا شکار رہتے تھے۔  اضداد کو تو رکھئے ایک طرف ،یہی دونوں کا نقطہ اتصال تھا، یہی ان کی قدر مشترک تھی۔مولانا مرحوم 1967 میں برطانیہ پہنچے تو چچا کو وہاں لگ بھگ سات سال ہو چکے تھے، چچا نے برطانیہ میں اور کچھ کیا یا نہیں ، اپنے گھر کو انہوں نے پاک و ہند کا ایک ننھا سا مرکز اسلامی ضرور بنا ڈالا۔ وہیں مولانا محترم اور مرحوم چچا طویل عرصہ تک دعوت اسلامی کے نت نئے منصوبے بناتے رہے تھے۔ الحمدللہ،  آج برطانیہ کے طول و عرض میں قائم مساجد اور مراکز اسلامی گننے میں ختم نہیں ہوتے لیکن ساٹھ کی دہائی میں کسی چھوٹے سے مصلے کے لیے مؤذن تک نہیں ملتا تھا۔ اس عالم میں بھی چچا نے میرے عم زاد عبدالسلام کو قرآن حفظ کرایا۔

اب یہ سمجھنا میرے لیے خاصا مشکل ہے کہ وہ کثیر العیال شخص برطانیہ کے ناپے تولے محدود سے وقت میں یہ سب کچھ کیسے کرتا رہا۔ ابھی پار سال 2020 میں ان کی رحلت سے ذرا قبل ملاقات ہوئی تو کمر پکڑے اذیت گزیدگی کی حالت میں بھی حسب معمول وہ کمپیوٹر پر بیٹھے معاون کو ہدایات دے رہے تھے کہ یہ اسلامی خط و کتابت کورس ان خطوط پر شروع کرو، اسے یوں لکھو، یہ کتاب فلاں کو بھیجو۔ میرے پاس ثبوت تو نہیں، پر گمان یہی ہے کہ محض گریجویٹ چچا کی اس اسلامی بیٹری کو انگیخت کرنے میں مولانا محترم کا بھی بڑا حصہ رہا ہو گا۔ میرے لیے یہ جاننا خوشی اور سعادت کا باعث ہے کہ برطانیہ سے چچا کے پاکستان آ جانے پر عبدالسلام اور ان کی نصف بہتر، میری سب سے چھوٹی بہن دونوں کا مولانا محترم سے تعلق، مولانا زاہد الراشدی والے "خوفناک" تعلق سے دھندلا کر نیاز مندانہ پیرائے میں ڈھل گیا۔ یہ تعلق مولانا کے تادمِ رحلت، پہلے سے بہتر خطوط پر قائم رہا۔

مرحوم مولانا محترم کے مالی اثاثہ جات کا تو مجھے کچھ علم نہیں، لیکن ان کے علمی اثاثہ جات لپیٹ کر ایک طرف رکھ دوں تو بھی امید مستحکم ہے کہ چھ مجلدات کی محفل قرآن ہی ان کی نجات کے لئے کافی ہے۔ باقی رہیں دیگر تحریریں اور الفرقان وغیرہ، تو ممکن ہے، یہ کچھ انہیں وہاں، ادھر جنت میں، محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب دلانے میں معاون ثابت ہو، آپ یقیناً اتفاق کریں گے؟ پرسوں پرلے سال علی گڑھ سے برادر بزرگ ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی، ہائے ہائے ! اب مرحوم، ادھر پاکستان آئے تو میں نے انہیں برصغیر کی چھ آٹھ معروف تفاسیر اور مفسرین کے نام سنا کر استفسار کیا: "ڈاکٹر صاحب پاک و ہند میں ان کے بعد اردو میں کیا کوئی نئی تفسیر لکھی جا رہی ہے؟ اگر ہاں تو کون کون لوگ لکھ رہے ہیں اور ان کی جہت کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب ڈبڈباتی آنکھوں سے مجھے تھوڑی دیر تکتے رہے, پھر بات کا رخ بدل دیا۔ صاحبو ! مولانا محترم ہمارے حصے کا فرض کفایہ ادا کر کے رخصت ہوگئے۔ وہ تاریخ انسانی کے اس زوال ناک عہد میں رخصت ہوئے کہ جب ہماری یہ مزرعۃ الآخرہ بانجھ ہو چکی ہے ( الدنیا مزرعۃ الآخرۃ، حدیث ہے جس کا ترجمہ ہے، دنیا آخرت کی کھیتی ہے)۔

 تفسیر، حدیث، ادب، افسانہ، ڈراما، اصول تاریخ، موسیقی، ریاضی، فلسفہ، کسی شعبے میں کوئی جدت، کوئی تخلیق، کوئی ندرت، کوئی صدائے حرف کاف و نون، بدر کامل نہ سہی ادھورا سا ماہ نخشب ہی سہی، یا کوئی ظہور برج طالع ولادت دیکھنے، سننے، پڑھنے کو ملتا تو میں آخرت کی اس بانجھ کھیتی کو نخلستان و گلستان کہہ گزرتا۔ مولانا محترم تو اس حیات ناپائیدار میں ہمیں اتنا کچھ دے کر، اور خود وتنا کچھ سمیٹ کر رخصت ہوئے کہ جنت کے کسی مفروضہ یا موہومہ جاڑے میں در بند ہو کر بھی اصحاب کہف کے مثل، لیکن کھلی آنکھوں، مدت گزار سکتے ہیں۔ رنجیدگی، حزن ، ملال، تاسف، افسوس، آزردگی اور دیگر مماثل جذبے خالق کائنات نے انسان کی نیو میں ڈال رکھے ہیں۔ ان سے برات نہ تو مولانا کے اپنے اہل خانہ کو مل سکتی ہے اور نہ ہم جیسے دیگر متعلقین ان سے پنڈ چھڑا سکتے ہیں۔ میرے اپنے لئے تو یہ حزن یوں دو چند ہے کہ اتنی فکری ہم آہنگی کے باوجود ان سے کوئی ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ رہی مولانا کی رحلت تو پیغمبروں سے زیادہ اللہ میاں کا کوئی چہیتا نہیں ہوتا۔ چنانچہ آئیے !مولانا کی رحلت کو ہم سب مل کر بزبان امیر مینائی یوں بیان کرتے ہیں:

فنا کیسی، بقا کیسی جب اس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آ نکلے، کبھی اس گھر میں جا ٹھہرے

قید حلقہ ہائے زنجیر صبح و شام سے نجات پانے والا وہ ہم سب کا چہیتا, وہ ہمارا مولانا محترم, جب وہ اس اسیری سے اپنا بند قبا چھڑا کر اور ارضی زندان سے نکل کر اپنے آشنا کے بے ثغور و بےکراں آسمانی چوبارے میں جا بیٹھا تو صاحب ! مجھے تو حزن کے پہلو بہ پہلو کچھ رشک سا بھی ہو رہا ہے۔خدا لگتی کہیے ! کسی جدت, کسی تخلیق, کسی ندرت, کسی صدائے حرف کاف و نون سے خالی یہ مزرعۃ الاخرہ کیا ہمارے  آپ کے رہنے کے لائق رہ گئی ہے؟ بہر زمین کہ رسیدم آسمان پیدا است۔ اتنی صحرا نوردی کے بعد وسیع تاکستان نہ سہی، کہیں ننھا سا تمرھندی ہی نظر آ جاتا۔ ان معنوں میں تو مولانا واقعی اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ الا ! اس بانجھ مزرعۃ الآخرہ  سے خالق کائنات اپنے تمام چہیتے احسن تقویم تیزی سے سمیٹ رہا ہے۔ و اخرجت الارض اثقالہا، صاحبو ! مجھ میں تو مالہا کہنے کا بھی یارا نہیں ہے۔

بچے کو گود دینا، مادہ تولید کی سپردگی اور کرایے کی کوکھ (Surrogacy)

ڈاکٹر عرفان شہزاد

اپنے والدین سے پرورش پانا، بچے کابنیادی اور فطری حق ہے۔

والدین کا اپنی اولاد کسی دوسرے کی گود بھرنے کے لیے اس کے سپرد کر دینا بچے کے بنیادی حقوق کے خلاف مجرمانہ اور سنگدلانہ اقدام ہے۔ انھیں ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ بچے کو اپنی ممتا اور شفقتِ پدری سے محروم کر دیں۔ بچہ اوّل و آخر اُنھیں کی ذمہ داری ہے۔ بچے کو دنیا میں لانے کا فیصلہ انھیں اسی وقت کرنا چاہیے جب وہ اس کی ذمہ داری کو خود نبھانے کا ارادہ اور استطاعت رکھتے ہوں۔بچے کو کسی دوسرے کے حوالے سوائے اس مجبوری کے نہیں کیا جا سکتا کہ والدین دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، یا  وہ بچےکو پالنے کے قابل نہیں رہے۔

اس کے باوجود بچے سے اس کے حقیقی والدین کی شناخت چھینی نہیں جا سکتی۔ یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ اس سے اس کا جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ یہی دین کا حکم ہے۔

وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ‏ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (القرآن، 33: 4-5)

اور (خدانے) نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنادیا ہے۔ یہ سب تمھارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، مگر اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ تم منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے۔ پھر اگر اُن کے باپوں کا تم کو پتا نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے حلیف ہیں۔ تم سے جو غلطی اِس معاملے میں ہوئی ہے، اُس کے لیے تو تم پر کوئی گرفت نہیں، لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کر لیا، اُس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔

والدین، بچے کی شخصیت اور پرداخت میں صرف اتنا ہی تصرُّف کر سکتے ہیں جو بچے کے حق میں ہو، اس کے خلاف کسی تصرُّف کا انھیں کوئی حق نہیں۔ جس طرح وہ بچےکو قتل نہیں کر سکتے، اسے بیچ نہیں سکتے، اسی طرح وہ اسے اپنی ممتا اور شفقت سے محروم کر کے کسی دوسرے کے حوالے بھی نہیں کر سکتے۔

یہ کوئی ایثار نہیں کہ اپنے کسی عزیز کی خالی گود بھرنے کے لیے اپنے جگر کا ٹکڑا اسکے حوالے کر دیا جائے۔ ایثار اپنی ذات کے حوالے سے کیا جاتا ہے، اپنا حق چھوڑا جاتا ہے، کسی دوسرے کا حق تلف کرکے کسی کا بھلا نہیں کیا جاتا۔

لے پالک بچے کو جب یہ علم ہوتا ہے کہ جن کو وہ اپنے حقیقی والدین سمجھتا رہا ہے وہ اس کے حقیقی والدین نہیں، اس کے حقیقی والدین کوئی اور ہیں، تو اس کی دنیا اُتھل پُتھل ہو جاتی ہے۔ پھر جب وہ یہ باور کرتا ہے کہ اسے گویا ایک "زائد شے" سمجھ کر کسی کا دل بہلانے یا اس کی تنہائی دور کرنے کے لیے اس کے سپرد کر دیا گیا تھا، تو  اسے اپنی توہین کا احساس ہوتا ہے جو اس کی شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔

یہاں مریم علیھا السلام کی والدہ کا مریم علیھا السلام کی پیدایش سے پہلے انھیں خدا کے نام پروقف کردینے کے واقعے1 سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ والدین کو بچوں کے کیرئیر کے انتخاب اور انھیں کسی دوسرے کے سپرد کر دینے کا حق حاصل ہے۔ درحقیقت، یہ مادرِ مریم کی طرف سے اپنی خواہش کا اظہار تھا کہ وہ انھیں دین کی خدمت اور خداکے نام پر وقف کرنا چاہتی تھیں۔ مگر  مریم علیھا السلام پر لازم نہ تھا کہ شعور کی عمر کو پہنچ کر وہ اس کی پابند رہتیں، ایسے ہی جیسے بچپن کے نکاح کی پابندی شعور اور بلوغت کے بعد واجب نہیں ہوتی۔ یہ اور بات ہے کہ مریم علیھا السلام کی اپنی طبیعت بھی اسی طرف مائل رہی اور والدہ کی خواہش پوری ہوئی۔

 پھر یوں نہیں ہوا کہ ان کے پیدا ہوتے ہی انھیں دین کے خدّام کے حوالے کر دیا گیا ہو۔ یقیناًیہ اقدام ان کی شعوری عمر کے بعد ہی کیا گیا ہوگا۔ قرآن مجید میں اس کی تفصیلات بیان نہیں ہوئیں، مگر اصولی طور پر اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو خدا کے لیے ذبح کر رہے ہیں تو انھوں نے اس پر، بلا کسی تاویل کے، عمل کرنے سے پہلے اپنے بیٹے کی راے لی تھی، اور بیٹے کی رضامندی کے بعد ہی اقدام کیا تھا۔

اللہ تعالی نے اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر مریم علیھا السلام کی والدہ کی اس خواہش کو قبول کیا، مگر یہ کوئی قاعدہ نہ تھا جس کا التزام ضروری تھا۔ چنانچہ اس واقعہ سے کوئی عمومی اصول وضع نہیں کیا جا سکتا کہ والدین کو بچوں کے کیرئیر یا انھیں دوسروں کے حوالے کردینے کا اختیار ہے۔ تاہم، بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایسا کوئی فیصلہ اگر کرنا ہی پڑے تو یہ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب بچے باشعور ہوں اور ان کی رضامندی اس میں شامل ہو۔

بے سہارا بچوں کا معاملہ الگ ہے، انھیں گود لینا ایک نیکی کا کام ہے، مگر اس میں بھی انسانی نفسیات اور جذبات کے مذکورہ بالا پہلوؤں کا لحاظ رکھتے ہوئے، خداوندِ عالم نے یہ لازم قرار دیا ہے کہ بچوں کو ان کے حقیقی باپ کے نام سے، ان کی اصل شناخت ہی سے پکارا جائے۔ باپ اگر نامعلوم ہو، تو انھیں دینی بھائی قرار دیا گیا ہے، لیکن ان کی ولدیت کسی صورت تبدیل نہیں کی جا سکتی2، یہ ایک جھوٹ ہے، جسے گورار نہیں کیا جا سکتا۔

بچے کی جینیاتی شناخت کی حفاظت اور بچے کی نگہداشت میں والدین کی مکمل توجہ میں خلل اندازی سے بچانے کے لیے شریعت میں زنا کو حرام ٹھہرایا گیا ہے، تاکہ والدین کی توجہ اپنے گھرانے باہر نہ بھٹکے۔

جنسی تعلق کی حرمت محض اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس سے میاں اور بیوی کا حق تلف ہوتا ہے، بلکہ اصلاً اس لیے ہے کہ اس سے بچوں کا حق تلف ہوتا ہے: ان بچوں کا حق بھی تلف ہوتا ہے جو جائز تعلق سے وجود میں آئے اور ان کا باپ یا ماں یا دونوں اپنی جنسی آزاد روی کی وجہ سے گھرپر توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتے، اور ان بچوں کا حق بھی تلف ہوتا ہے جو زنا کے تعلق سے وجود میں آئے اور انھیں والدین کی مکمل اور مستقل توجہ اور احساس ذمہ داری میسر نہیں، کیونکہ اس ماں اور باپ کے درمیان مستقل رفاقت کے ارادے سے باندھا گیا معاہدہ (نکاح) نہیں ہے۔

اسی بنا پر مستقل رفاقت کے ارادے کی شق کے بغیر کوئی نکاح، درحقیقت نکاح ہی نہیں، کیونکہ اس میں ممکنہ طورپر وجود پذیر ہونے والے بچوں کو ماں اور باپ دونوں کی باہمی پرورش میسر نہیں ہوتی۔ نکاحِ متعہ کی حرمت کی حقیقت یہی ہے۔

تاہم، بچوں کی پیدائش کے امکان کو اگر معدوم کر لیا گیا ہو تو بھی ایسا نکاح جائز نہیں، اس لیے کہ اِنھیں مرد و و عورت نے کبھی نہ کبھی کسی مستقل رفاقت کے ارادے سے نکاح کرنا اور اولاد پیدا کرنی ہے۔اس لیے اس سے پہلے اس آزاد روی کی اجازت نہیں دی جاسکتی جسے بعد میں بدلنا مشکل ہو جائے یا میاں اور بیوی کے خالص تعلق پر وہ کسی بھی پہلو سے اثر انداز ہو سکے۔

خاندان اور اولاد کی فطری ضرورت اور خواہش سے لوگ عام طور پر عاری نہیں ہوسکتے۔ مستثنیات، جو عیال داری سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، زیرِ بحث نہیں۔ عمومی قوانین مستنثیات کو مد نظر رکھ کر نہیں بنائے جاتے، مگر ان پر بھی عمومی قوانین کی پابندی کرنا لازم ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی طے نہیں کہ ایک شخص جو اس وقت بچوں کی خواہش نہیں رکھتا،  جانے کب اپنا ارادہ تبدیل کر لے۔

اسی لیے شادی کے بعد جو جنسی تعلق مستقل رفاقت کے ارادے سے اپنائے گئے شریک حیات سے ماورا ممنوع ہے، وہ شادی سے پہلے بھی ممنوع رہناضروری ہے۔

اسی اصول پر مادہ تولید کا عطیہ یا سپردگی (سپرم اور ایگ ڈونیشن) کا مسئلہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نکاح کا مطلب محض جنسی تعلق کو جواز فراہم کرنا نہیں ہے، یہ عقدِ نکاح اس تعلق کے نتیجے میں وجود میں آنے والے بچوں کی پرورش اور اس سے پیدا ہونے والے جذباتی تعلق کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے باندھا جاتا ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان اگر مستقل رفاقت کے ارادے سے باندھا گیا رشتہءِ نکاح نہیں ہے، تو ان کے مادہ تولید کے امتزاج سے بچہ حاصل کر کے ان میں سے کسی ایک یا کسی تیسرےکے حوالے کرنا، بچے کو اس کے حقیقی والد یا والدہ یا دونوں سے محروم کرنا ہے۔

یہی صورتحال زنا میں پیش آتی ہے کہ اس تعلق سے پیدا ہونے والے بچے کو باپ یا ماں اور باپ دونوں کی مستقل اور مکمل توجہ اور ذمہ داری میسر نہیں آسکتی۔ اس سے بچے کی حق تلفی ہوتی ہے، جس کا اختیار کسی کو نہیں۔ ایسے بچوں کی ادارہ جاتی یا سرکاری سرپرستی والدین کی پرورش کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ جس سبب سے زنا حرام ہے، مادہ تولید کی سپردگی بھی حرام قرارپاتی ہے۔

نطفے اور بیضے کا عطیہ اعضا کے عطیے جیسا نہیں۔ نطفہ اور بیضہ انسانی وجود کے تشکیلی عناصر ہیں۔ ان سے پورا انسان وجود میں آتا ہے۔ یہ درحقیقت ایک انسان کو عطیہ کرنے کا معاملہ ہے، جس نے باشعور ہونا ہے۔ ایک انسان کو عطیہ کرنے کا اختیار کسی دوسرے انسان کو نہیں ہے، خواہ وہ اس کا والد یاوالدہ ہی ہو۔

اسی بنا پر اسقاطِ حمل کا مطلق اور مکمل اختیار بھی والدین کو ہے، نہ حاملہ کو کہ وہ جب چاہے حمل ختم کر سکے۔ حمل نے اگر انسانی وجود اختیار کر لیا ہے تو اب بلا کسی معقول عذر3 کے اس کا خاتمہ، انسان کا قتل ہے۔ اور ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہےکہ جنین میں انسانی شخصیت کے ظہور کا مرحلہ مذکور ہوا ہے جو جنین کی نشوونما کے دوران میں کچھ وقت کے بعد وقوع پذیر ہوتا ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ‎‏ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ‎ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (القرآن، 23: 12-15)

ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا تھا۔ پھر اُس کو (آگے کے لیے) ہم نے پانی کی ایک (ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا۔ پھر پانی کی اُس بوند کو ہم نے ایک لوتھڑے کی صورت دی اور لوتھڑے کو گوشت کی ایک بندھی ہوئی بوٹی بنایا اور اُس بوٹی کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ پھر یہ کہ قیامت کے دن تم لازماً اٹھائے بھی جاؤ گے۔

"أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ" سے یہی مرحلہ مراد ہے جب جنین کا حیوانی وجود انسانی شخصیت حاصل کرتا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ یہ مرحلہ رحم مادر میں نطفے کے تقرر سے 120 دن کے بعد آتا ہے4۔

اس حیوانی وجود کا اسقاط بھی کسی عذر کی بنا ہی پر جائز ہو سکتا ہے، مگر انسانی شخصیت اختیار کر لینے کے بعد اس کی حرمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اسقاطِ حمل کا فیصلہ والدین کو پوری دیانت داری، خدا خوفی اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ کرنا چاہیے۔

میاں اور بیوی کے مادہ تولید سے زائی گوٹ بنا کر، ادھار کی کوکھ (سروگیسی) میں رکھ کر بچہ حاصل کرنا، جسے اس کے حقیقی ماں باپ کا نام اور گود ملے گی، اسے رضاعت پر قیاس کرتے ہوئے درست قرار دیا جا سکتا ہے: جس طرح رضاعی ماں کے دودھ سے بچے کی پرورش ہوتی ہے، اس معاملے میں یہ پرورش اس کے خون سے ہوتی ہے۔ رضاعی ماں ہی کی طرح سروگیٹ ماں اور اس کے خونی رشتے، بچے کے لیے رضاعی محرم ہو جائیں گے۔ رہا معاملہ سروگیٹ ماں کے بچے کے ساتھ جذباتی تعلق کا، تو وہ تعلق رضاعت میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل انسان کو نکالنا ہے۔ اسی پر مزید قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ رضاعت کی اجرت کی طرح سروگیسی کی اجرت لینا بھی درست ہے۔

 تاہم یہ کرنا چاہیے یا نہیں، اس کا فیصلہ فرد اور سماج کو کرنا ہے۔


حواشی

(1) إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‎فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‎فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا (القرآن، 3: 35-36)
اِنھیں یاددلاؤ وہ واقعہ جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ پروردگار، یہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے، اُس کو میں نے ہرذمہ داری سے آزاد کرکے تیری نذر کردیا ہے۔سوتو میری طرف سے اِس کو قبول فرما، بے شک توہی سمیع و علیم ہے۔ پھر جب اُس نے اُس کو جنا تو بولی کہ پروردگار، یہ تو میں نے لڑکی جن دی ہے ـــــ اور جو کچھ اُس نے جنا تھا، اللہ کو اُس کا خوب پتا تھا ـــــــــــــــــ اور (بولی کہ ) وہ لڑکا اِس لڑکی کی طرح نہ [814] ہوتا۔ (خیر اب یہی ہے ) اور میں نے اِس کا نام مریم رکھ دیا ہے اوراِس کو اور اِس کی اولاد کو میں شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (اُس کے احساسات یہی تھے)، تاہم اُس کے پروردگارنے اُس لڑکی کو بڑی خوشی کے ساتھ قبول فرمایا اور نہایت عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اُس کا سرپرست بنادیا۔
(2) القرآن، 33: 4-5

(3) مثلا حاملہ کی جان کو اس سے شدید خطرہ لاحق ہو۔

(4) عَنْ عَبْدِ الله، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ‏: «‏إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً ۲مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ (صحیح بخاری،رقم :6133)

عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا ــــــ اور آپ صادق بھی تھے اور مصدوق بھی ــــــ آپ نے فرمایا:یہ حقیقت ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کی خِلقت اُس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی صورت میں جمع رہتی ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں لہو کی پھٹکی ہو جاتی ہے، پھر اتنی ہی مدت میں گوشت کی بوٹی بن جاتی ہے۔ اِس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور وہ اُس میں روح پھونکتا ہے۔

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۳)

ڈاکٹر شیر علی ترین

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Moderity کا پہلا باب)


پہلا باب: نوآبادیاتی ہندوستان کے ابتدائی عہد میں حاکمیتِ اعلیٰ کے سوال پر غور وفکر

انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ایک موقع پر  شمالی ہندوستان کے نامور مسلمان مُصلح شاہ محمد اسماعیل دہلی کی مشہور جامع مسجد کے صحن میں بیٹھے درسِ حدیث دے رہے تھے۔ لوگوں کا ایک مجمع تبرکاتِ نبوی کو اٹھائے مسجد میں داخل ہوا اور مسجد کھچا کھچ بھر گئی۔ یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی شان میں بآوازِ بلند درود وسلام پڑھ رہے تھے۔ شاہ اسماعیل اس منظر سے بالکل متاثر نہ ہوئے اور انھوں نے اپنا درس جاری رکھا۔ ان کی طرف سے کسی قسم کا رد عمل نہ پا کر جلوس میں شریک لوگوں کو بڑی ناگواری ہوئی۔ "مولانا! یہ کس طرح کا رویہ ہے؟" ان میں سے ایک نے اسماعیل کو طنزیہ انداز میں کہا۔ "از راہِ کرم کھڑے ہو جائیے اور تبرکاتِ نبوی کے سامنے تعظیم بجا لائیے"1۔

تاہم شاہ اسماعیل پھر بھی  بے توجہی  کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ان کی مسلسل بے توجہی  نے جلوس کو مزید برافروختہ کیا۔ اب انھوں نے ذرا سخت لہجے میں اپنا مطالبہ دہرایا۔ آخر کار شاہ اسماعیل نے جواب دیتے ہوئے کہا: "پہلی بات یہ ہے کہ یہ تبرکات مصنوعی ہیں، حقیقی نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ اس لمحے میں رسول اللہ ﷺ کے نائب کی حیثیت سے ان کے پیغام کی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دے رہا ہوں، اس لیے میں کھڑا نہیں ہو سکتا"۔ اس تلخ جواب نے پہلے سے مشتعل مجمع کو مزید بھڑکایا۔ نوبت   شدید  جھگڑے تک  نہ پہنچنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ مسجد میں شاہ اسماعیل کے پیروکاروں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جتنی کہ ان کے مخالفین کی۔ اس لیے یہ لڑائی صرف زبانی تلخ کلامی اور تو تو میں میں تک محدود رہی2۔

شاہ اسماعیل کے رویے پر شدید برہم ہو کر جلوس نے ان کے خلاف اس وقت دہلی میں مسند نشیں مغل بادشاہ اکبر شاہ (م 1837) کے پاس باضابطہ مقدمہ دائر کیا۔ انھوں نے شاہ اسماعیل پر گستاخئ رسول کا الزام لگایا اور اکبر شاہ سے مطالبہ کیا کہ انھیں اس گستاخانہ رویے کی سزا دے۔ بادشاہ نے اسماعیل کو دربار میں طلب کیا اور اس واقعے کے دن ان  کی طرف سے جامع مسجد میں اختیار کیے کیے گئے طرز عمل کی وضاحت مانگی3۔ دربار میں شاہ اسماعیل نے تسلیم کیا کہ انھوں  نے تبرکات کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ مصنوعی ہیں اور یہ کہ انھیں ان کی تعظیم بجا لانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اکبر شاہ نے انھیں ڈانٹتے ہوئے کہا: "یہ کس قدر نامناسب ہے کہ آپ ان تبرکات کو مصنوعی کہہ رہے ہیں"۔ اسماعیل مسکرائے اور نرمی سے جواب دیا: "جناب، میں نے تو انھیں صرف  زبان سے  مصنوعی کہا ہے، لیکن آپ تو حقیقت میں انھیں مصنوعی  سمجھتے ہیں"۔ اکبر شاہ نے حیرت کے عالم میں پوچھا: "وہ کیسے؟" اسماعیل نے واضح انداز میں کہا: "جناب، سال بھر میں یہ تبرکات دو دفعہ آپ کو  زیارت کروانے کے لیے آپ کے پاس دربار میں لائے جاتے ہیں، لیکن آپ خود کبھی ان تبرکات کی زیارت کے لیے دربار چھوڑ کر نہیں جاتے"۔ یہ سن کر بادشاہ لاجواب ہو گیا۔

شاہ اسماعیل نے دربار میں ایک وزیر سے مطالبہ کیا کہ وہ قرآنِ کریم اور بخاری شریف لے کر آئے۔ جب یہ دو کتابیں ان کے پاس لائی گئیں تو انھوں نے انھیں کچھ وقت کے لیے ہاتھوں میں لیا اور پھر انھیں واپس کر دیا۔ پھر وہ دربار میں جمع لوگوں کے سامنے تقریر کے لیے آگے بڑھے۔ اس تقریر میں شاہ اسماعیل نے اس بات کا پرزور اعادہ کیا کہ تبرکات کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ حقیقی ہیں یا مصنوعی۔ "لیکن اگر ہم ان کے مستند ہونے کو تسلیم کر لیں، تب بھی جو تقدس رسول اللہ ﷺ کے پہنے ہوئے جوتے یا لباس کے ایک ٹکڑے کے ساتھ  وابستہ کیا جاتا ہے، وہ کسی ذاتی شرف کا حامل  نہیں۔ اس کے برعکس قرآن کے کلامِ الہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اسی طرح بخاری شریف یقینی طور پر رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں، اور دین میں قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب یہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا اور رسول ﷺ کا کلام رسول اللہ ﷺ کے پہنے ہوئے لباس سے زیادہ مقدس ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود جب قرآن اور صحیح بخاری کا نسخہ آپ کے سامنے لایا جاتا ہے تو کوئی تعظیم کے لیے کھڑا نہیں ہوتا۔  اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ لوگ تبرکاتِ نبوی کی تعظیم ان کے تقدس کی وجہ سے نہیں بلکہ رسم پرستی کی بنیاد پر کرتے ہیں"4۔

جیسا کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے، انیسویں صدی کے اوائل میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی روشنی میں رسم ورواج کی شرعی حیثیت نے شمالی ہندوستان کے عوامی حلقوں میں بین المسالک اختلافات میں مرکزی حیثیت اختیار کر لی۔ شاہ اسماعیل، جو اس کہانی کے اصل کردار ہیں، ایک نئی ابھرنے والی اصلاحی تحریک کی شکل میں سامنے آئے جس نے عرصہ دراز سے چلے آنے والے رسم رواج کو اگر مذہب کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ قرار نہیں دیا تو بھی انھیں غیر ضروری کہہ کر شد ومد سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ مثال کے طور پر ان کے نزدیک تبرکاتِ نبوی کی تعظیم ایک غیر ضروری انحراف ہے جس نے دین کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ مادی تبرکات کا نبی کی ذات سے کوئی خاص تعلق نہیں؛ وہ صرف اشیا ہیں جو کسی بھی قسم کے پیغمبرانہ  تقدس سے خالی ہیں۔ ان میں وہ چیز نہیں پائی جاتی  جو مذہبی دانشور رابرٹ اورسی (Robert Orsi) کے الفاظ میں، پیغمبر کی "حقیقی موجودگی" میں ہوتی ہے5۔ پُرجوش انداز میں حقیقی اور مادی اشیاء کے درمیان فرق کرنے کے ساتھ ساتھ شاہ اسماعیل جیسے مصلحین نے شاہانہ طرزِ زندگی اور سیاست کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کیا جو ان کی نظر میں دینی اعتبار سے کمزور لوگوں کی افزائش کا سبب تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اشرافیہ کی طرزِ سیاست نے ایسے مذہبی رویے کو پروان چڑھایا ہے جس نے عام لوگوں میں توہم پرستی کو پختہ اور خدائی حاکمیتِ اَعلیٰ کو کمزور کر دیا ہے۔ یہ اشرافیہ مخالف سوچ مذکورہ بالا واقعے سے واضح ہے جس سے عوام کے لگی  بندھی  رسموں کے "نشے" میں مبتلا ہونے اور اس وقت کے مغل بادشاہ کی دینی کمزوری کے درمیان ایک ربط نمایاں ہوتا ہے۔

تاہم تبرکاتِ نبوی کے احترام سے شاہ اسماعیل کے انکار پر جلوس کی مخالفت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اصلاحی تحریک کے علم برداروں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حریف علما کے ایک گروہ نے پوری قوت سے ان کے استناد کو للکارا اور ان روایات کا دفاع کیا جنھیں شاہ اسماعیل تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اس مخالف گروہ کے لیے تبرکاتِ نبوی کا احترام نبی کی عزت وتعظیم کا ایک مثالی راستہ تھا۔ اس لیے جو بھی ان رسموں کی شرعی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے،  وہ رسول اللہ ﷺ کی امتیازی حیثیت اور خصوصی مقام  کی تحقیر کا مجرم ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں روایت اور نبوی دائرۂ اختیار کے حدود پر یہ مناقشے ایک ایسی صورتِ حال سے ابھرے جس کی خاصیت حاکمیتِ اعلیٰ کا بحران ہے۔ 1707ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد آنے والی دہائیوں میں مسلمانوں کی سیاسی تقدیر تیزی سے انحطاط پذیر تھی۔مغلیہ سلطنت کے دو سو سال سے زائد  عرصہ حکومت کے بعد  1757 میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں ایک نئی سامراجی طاقت ملک کے سیاسی منظر نامے پر چھا رہی تھی۔ درج بالا قصے میں مذکور اکبر شاہ صرف براے نام بادشاہ تھا جس کی مؤثر عمل داری محض دہلی کے دارالخلافہ  تک محدود تھی۔ وہ اورنگزیب کے جانشینوں کے اس سلسلے سے تعلق رکھتا تھا جو ایک ایسے ہندوستان پر  حکمران تھے  جس میں حاکمیتِ اعلیٰ بتدریج لیکن فیصلہ کن انداز میں برطانیہ کو منتقل ہو رہی تھی6۔

سیاسی حاکمیتِ اعلیٰ میں اس تبدیلی نے اعتقادی دائرے میں حاکمیتِ اعلیٰ کے سوال پر گرما گرم مباحث کے لیے ماحول کو ساز گار بنا دیا۔ ان اختلافات کے پیچھے یہ سوال کار فرما تھا کہ: خدا، پیغمبر اور عام مسلمانوں کے درمیان تعلق کو ایک  نظریے کی شکل دینے کے لیے کس سیاسی تصور کو بنیاد بنایا جائے؟ کیا یہ سہ گانہ تعلق نظام مراتب کی صورت میں ترتیب دیا جائے  جس میں حاکمِ اعلیٰ یعنی خدا تک رسائی صرف پیغمبر ﷺ کے وسیلے سے ممکن ہے؟ یا خدا اور بندے کے درمیان تعلق ایک یکسر مختلف جمہوریت پر مبنی ہے جو نظام مراتب کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتی ہے؟ مذہبی معاشرت کی تشکیل کے یہ متوازی تصورات روزمرہ زندگی اور اعمال کے کون سے تصورات کا تقاضا کرتے ہیں؟

سیاسی تبدیلی کے اس دور میں انھی سوالات نے ہندوستان کے مسلمان اہل علم کے درمیان کئی مناظروں اور مباحثوں کو جنم دیا۔ زیرنظر کتاب کا یہ حصہ انیسویں صدی کی ابتدائی تین دہائیوں میں ہونے والی انھی مناظرانہ سرگرمیوں کا تجزیہ کرتا ہے جن کی وجہ سے اسلام میں خدائی حاکمیت اور نبوی تقدس کے درمیان تعلق کی متوازی تفہیمات سامنے آئیں۔ جن کرداروں نے ان مناظروں میں شرکت کی، وہ دہلی کے دو نامور مسلمان سنی علماء: شاہ محمد اسماعیل (جن کا ذکر درج بالا قصے میں ہوا) اور فضل حق خیر آبادی تھے۔

ان کے مناظروں کا مرکزی نکتہ اسلام میں شفاعتِ نبوی کے شرعی حدود اور امکان کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کا امکان) اور امکان نظیر (خدا کی حضرت محمد ﷺ کی طرح کا ایک اور نبی پیدا کرنے پر قدرت) کے بیک وقت جنم لینے والے دو اعتقادی مسائل تھے۔ شفاعت نبوی سے مراد قیامت کے دن خدا اور اس کے گناہ گار بندوں کے درمیان سفارشی کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کا کردار ہے جس کی رو سے  حضور ﷺ گناہ گاروں کی طرف سے خدا کے دربار میں پیش ہو کر ان کے گناہ بخشوائیں گے اور انھیں جنت میں جگہ دلوائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ کے منصب شفاعت کے متعلق اسلامی شریعت کے مصادر یعنی  قرآن وسنت میں تفصیلی بحث موجود ہے۔ تاہم اس سفارش کا دائرہ اور خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے حوالے سے اس کے مضمرات شدید بحث ومباحثے کا موضوع رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماقبل جدید اسلامی روایت میں معتزلہ کے کلامی مکتب سے وابستہ علماء نے شفاعت کے عقیدے کو رد کیا۔ معتزلہ نے عقیدۂ شفاعت کو خدائی حاکمیت کے لیے براہ راست  خطرہ قرار دے دیا7۔ جیسا کہ شون مارمن (Shaun Mormon) نے بتایا ہے، قرون وسطیٰ میں، مثلا ً‌ مملوکوں کے زیر حکومت مصر میں بالکل اسی طرح اس سوال پر دقیق بحث ومباحثہ ہوا تھا کہ دنیوی یا شاہی  سفارش میں اور اخروی شفاعت کے درمیان خطِ امتیاز کیا کھینچا جائے8۔

نسبتاً‌ قریبی زمانے  میں عالم عرب میں وہابی مکتب فکر کے حامیوں نے زیادہ جوش وخروش کے ساتھ شفاعتِ نبوی کے عقیدے کی تردید ہے۔ اس کی سب سے حیران کن مثال 1925 میں اس وقت سامنے آئی جب سعودی اداروں نے رسول اللہ ﷺ، ان کے خاندان اور ان کے قریب ترین صحابہ کرام کی قبروں کو اس بنیاد پر مسمار کیا کہ وہ پوجا پاٹ کے مراکز بن گئے ہیں اور اس طرح خدائی حاکمیت اعلیٰ (توحید) کو کمزور کر رہے ہیں۔ اس باب میں شاہ اسماعیل اور فضل حق خیر آبادی کے درمیان جس سوال پر نزاع اور بحث رہی، وہ سعودی حکومت کے آنحضرت ﷺ کے خاندان کی قبروں کو مسمار کرنے سے ایک صدی پہلے پیش آیا۔ اس لیے بہت سے حوالوں سے ان کا مناظرہ اس اعتقادی کشمکش کی نمائندگی کرتا ہے جو آنے والی دہائیوں میں مباحثوں اور مناظروں کے ایک زبردست طوفان میں بدلنے والی تھی ، اور جس کے نتائج بڑے واضح انداز میں مزارات اور قبروں کی مسماری جیسے واقعات کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ اگر چہ شاہ اسماعیل اور فضل حق خیر آبادی کی وجہ سے کوئی اینٹ نہیں گری، لیکن اس تنازع کے نتائج  اتنے ہی حیران کن ہیں۔

فضل حق خیرآبادی نے توہینِ رسالت کے الزام کی بنیاد پر شاہ اسماعیل پر کفر اور واجب القتل ہونے کا فتوی لگایا۔ اس کے جواب میں شاہ اسماعیل نے خیر آبادی پر ایک ایسی  دینی فکر کو پروان چڑھانے کا الزام لگایا جو خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کی خصوصی  حیثیت کو کمزور کرتا اور عوام میں بدعات وخرافات کے ارتکاب کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جیسا کہ اس کتاب کے آئندہ  حصوں میں بتایا جائے گا، ان کے درمیان اس اختلاف نے انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں شمالی ہندوستان کے حریف علما کے درمیان ایک خوف ناک اعتقادی معرکہ آرائی کی صورت اختیار کر لی۔ پہلے حصے کے اس تعارف میں ان شخصیات کے علمی کردار، ان کے مناقشے کی بُنت اور ان کے اختلاف کی اہمیت پر مزید بحث کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ اس سیاسی اور فکری ماحول کے نمایاں خد وخال کو واضح کروں جس میں شاہ اسماعیل اور مولانا خیرآبادی کے درمیان بحث ومباحثہ کا ظہور ہوا۔ اس مقصد کے لیے میں وہ مختلف طریقے دریافت کرنے کی کوشش کروں گا  جن سے سیاسی کلامیات کا تصور   فریقین کے موقف اور کشمکش کے سیاق سباق پر روشنی ڈالنے میں ممکنہ طور پر ممد ومعاون ہو ۔ اس کے بعد میں حاکمیت اعلی ٰ کے تصور میں ان بنیادی تبدیلیوں کا ایک مختصر شجرہ   پیش کروں گا جو مغل  اقتدار  سے برطانوی اقتدار کی طرف انتقال کے دوران میں رونما ہوئیں اور یہ بحث آئندہ ابواب کے لیے ایک پس منظر فراہم  کرے گی۔

سیاسی  قالب  میں مذہبی تصورات: عالمی شمال اور جنوبی ایشیا

حال ہی میں سیاسی قالب میں مذہبی تصورات کی  بحث نے یورپ اور امریکا کے علمی حلقوں میں کافی ہلچل  مچائی ہے۔ اس تصور میں زیادہ تر موضوع بحث جدید سیکولر سیاسیات بالخصوص جدید قومی ریاست کی  مذہبی بنیادوں کی نشاندہی ہے۔ اس تصور کو عموماً‌ جرمن مفکر کارل شمٹ (Carl Schmitt) کی 1922 میں چھپنے والی مؤثر کتاب "سیاسی قالب میں مذہبی تصورات" (Political Theology) سے جوڑا جاتا ہے۔

اس کاوش میں شمٹ نے نہایت عمدگی سے یہ استدلال کیا ہے کہ: "ریاست کے جدید نظریے سے متعلق تمام نمایاں تصورات سیکولر ازم کے قالب میں ڈھالے گئے مذہبی تصورات ہیں"9۔ جدید ریاست مذہب پر قابو پانے اور اس کی جگہ لینے کے باوجود اپنی حاکمیت کی تشکیل میں گہرے طور پر مذہبی ہے۔ شمٹ کی فکر کے ایک تحقیقی مطالعے میں پال کاہن (Paul Kahn) شمٹ کے استدلال کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں: "ریاست ایک سیکولر تنظیم نہیں، جیسا کہ یہ دعوی کرتی ہے"10۔ اس کے بجاے مفروضہ سیکولر ریاست کی حاکمیتِ اعلیٰ قادر مطلق خدا کی طرح ہے جس کا دار ومدار عمومی قاعدے کے برخلاف استثنائی قانون کی  تنفیذ کی صلاحیت پر ہے۔ اس رائے نے ایسے کئی اہل علم کی توجہ حاصل کی ہے جنھوں نے مختلف انداز میں شمٹ کے نظریے کو توسیع دی ہے، اس پر نظرثانی کی ہے اور اسے نقد ونظر کا موضوع بنایا ہے، تاکہ جدید سیکولر سیاسیات کے مذہب پر مبنی سیاسی نظاموں سے کلی انقطاع کے پُرفریب دعوے پر سوال اٹھا سکیں۔ تحقیق کا یہ انداز، جس کا مقصد لبرل سیکولر سیاسیات کی مفروضہ  خصوصی اور استثنائی حیثیت   کا ابطال ہے، علم اور انسانی زندگی کے متعدد شعبہ جات میں سرانجام دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہامل گراہم (Graham Hammil) اور جولیا لَپٹن (Julia Lupton) جس انداز میں سیاسی کلامیات کے تصور کو زیرِ غور لاتے ہیں، اس کی وسعت کو دیکھیں: "وہ   باہمی معاملات، معاہدے اور مقابلے جو سیاسی اور مذہبی زندگی کے درمیان وقوع پذیر ہوتے ہیں، بالخصوص مقدس حکایات، بنیادی نظریات اور  رسومیاتی اشکال  کا اس مقصد کے لیے استعمال کرنا کہ  بادشاہوں، کارپوریشنز اور پارلیمانوں کی حاکمیت قائم ہو، اسے جواز فراہم ہو، اور اس پر غور وفکر کیا جائے"11۔

اس اعتبار سے ایک نظریے کی حیثیت سے سیاسی قالب میں مذہبی تصورات  کا تعلق صرف مذہب تک محدود نہیں۔  ہامل اور لپٹن اپنی کتاب کے آغاز میں پرزور انداز میں بتاتے ہیں: "مذہب اور سیاسی قالب میں مذہبی تصورات  ایک چیز نہیں"12۔ اس کے بجاے سیاسی قالب میں مذہبی تصورات  ایک اہم فکری کلید فراہم کرتا ہے جس سے سیکولر طاقت کے اندازِ کار کو مذہب، قانون، ادب، سیاسیات، سائنس اور اقتصادیات جیسے متنوع لیکن باہم دگر جڑے ہوئے میدانوں میں کھولا جا سکتا ہے۔ میں ان علمی کاوشوں کے زیرِ بار ہوں جنھوں نے سیکولر حکومت کے اختلافات، تناقضات اور کلامیات کو نمایاں کرنے کے لیے سیاسی قالب میں مذہبی تصورات  کی فکر سے کام لیا ہے، اگرچہ میں اس کاوش میں  ذرا الگ انداز سے سیاسی قالب میں مذہبی تصورات  سے تعرض کروں گا۔

مجھے سیاست کی اعتقادی بنیادوں کے بجاے ان سیاسی تصوّرات، مفروضات اور توقعات میں زیادہ دلچسپی ہے جن کی جھلک بظاہر اعتقادی مباحثوں اور مناقشوں میں نظر آتی ہے۔ میری توجہ کا مرکز مذہبی تصورات  اور سیاسیات کا  سنگم ہے، جیسا کہ  وه خدائی حاکمیتِ اعلیٰ پر مباحثوں اور مناقشوں میں ظاہر ہوئے۔ وہ کون سے مناہج ہیں جن میں خدا اور انسانوں کے درمیان تعلق کے بارے میں مناقشات اور استدلالات سیاسی حاکمیتِ اعلیٰ کی  بدلتی  تفہیمات اور مظاہر کے عکاس اور ان پر مبنی ہیں؟13 مختصر یہ کہ آنے والے ابواب میں میں اسی سوال کو پیش نظر رکھ کر بات کروں گا۔

اس سوال نے جس حل طلب مسئلے (problem space) کا کئی پہلؤوں سے احاطہ کیا ہے، وہ کارل شمٹ کی کتاب Political Theology میں موجود ایک اور اہم رائے سے ماخوذ ہے جس کی رو سے "وہ مابعد الطبیعی تصویر جو ایک مخصوص عہد دنیا کے متعلق  بناتا ہے، اس کی ساخت بعینہ وہی ہوتی ہے جسے وہ عہد فوری طور پر اپنے سیاسی نظم کی ہیئت کے لیے بھی مناسب سمجھتا ہے"14۔ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ماورائیت سے  انسانی خود انحصاری تک کا سفر عہدِ جدید کی ابتدا سے یورپ کے سیاسی کلامیات میں بنیادی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔  ]حکومت کے[ جواز (legitimacy) کے جمہوری تصور نے  اپنی حکمرانی کے لیے ایک واحد شارع کی حیثیت سے حاکمِ اعلیٰ کو انتہا پسندانہ انداز میں "نکال باہر کرکے" سابقہ شاہی تصور کی جگہ لے لی۔ مسلمانوں کی بادشاہت کا عہد آخر کار اختتام پذیر ہوا، اس لیے کہ روایتی معنوں میں جواز (legitimacy) کا وجود باقی نہ رہا۔ شمٹ نے اپنے استدلال میں بتایا کہ سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں کلامیات اور سیاسیات دونوں شعبوں میں مطلق العنان حاکمِ اعلیٰ کا تصور رائج تھا۔ نتیجتاً شمٹ نے دعویٰ کیا کہ کسی خاص عہد میں ترتیب دی گئی دنیا کی فکری تصویر کا خاکہ  بعینہ اس دور میں رائج سیاسی نظم کی طرح ہوتا ہے۔ اس لیے انیسویں صدی میں جیسے جیسے سیاسی تصورات اور ریاست سے متعلقہ نظریات روز افزوں انسانی خود انحصاری  (immanence) کے زیر اثر آتے رہے، وہ شاہی طاقت کو کمزور کرتے گئے جس کی جگہ آخر کار ایک یکسر مختلف جمہوریت نے لے لی15۔

جمہوریت کے اس نئے شعور کی وہ فیصلہ کن خاصیت جو اسے اس کے شاہی مد مقابل سے ممتاز کرتی ہے، حالت استثنا کا مکمل استرداد ہے۔ حالت استثنا کلامی معنوں میں ان کرامات وعقائد کی نمائندگی کرتی ہے جو انسانی سمجھ اور تنقیدی شک سے بالا ہوتے ہیں۔ شمٹ نے اسے یوں بیان کیا ہے: "جمہوریت  سیاسی اضافیت کی ایک ایسی تعبیر ہے جو معجزات اور تحکمانہ عقائد سے آزاد ہے"16۔

جیسا کہ مؤرِّخ ڈیوڈ گلمارٹن (David Gilmartin) نے بہت عمدہ انداز میں واضح کیا ہے، حاکمیتِ اعلیٰ کا کوئی تصور، چاہے وہ خدائی ہو یا ریاستی، طاقت کی ایک ایسی صورت کی نمائندگی کرنے کی اَن بوجھی پہیلی سے نہیں بچ سکتا، جو سیاسیات اور روزمرہ زندگی کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے  بھی اس کے ساتھ الجھا ہوتا ہے۔ حاکمِ اعلیٰ کی طاقت بیک وقت اپنے دائرۂ عمل کے اندر اور  باہر موجود ہوتی ہے۔ گلمارٹن اس پہیلی کو بوجھنے کے لیے "]حکومت کے[ جواز" (legitimation)، "طاقت (authority) کا ایسا دعوی جو معمول سے ماورا ہو" اور "حکومت (governance): فی الواقع سماج میں نظم کو بروے کار لانے اور برقرار رکھنے کی خاطر معمول کی کارروائیوں" کے درمیان امتیاز قائم کرتا ہے17۔ موضوع بحث سے قدرے باہر نکلنے کا خطرہ مول لیتے ہوئے یہاں پر حاکمِ اعلیٰ کی طاقت سے متعلق گلمارٹن کے تجزیے کو خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے تحفظ کے لیے مذہبی اصلاح کے تصور میں کار فرما داخلی کشاکش پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے۔ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کو روزمرہ رسم ورواج کے بگاڑ سے تحفظ فراہم کرنے کا معنی خیز اشارہ اس بنیادی تضاد میں مقید رہتا ہے جسے گلمارٹن نے زیرِ غور لایا ہے کہ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ معمول کی زندگی سے باہر رہتی ہے، لیکن اس کے الٹ پھیر سے اسے خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے؛ وہ فانی وجود سے ماورا ہوتی ہے، تاہم وہ اس کا سب سے زیادہ قریبی معمار بھی ہے۔

یہ نکتہ کہ حاکمیتِ اعلیٰ کی یہ کشمکش کوئی مجرّد نظریاتی اور سادہ معاملہ نہیں، اس کی بہت  مفید  وضاحت ہندوستان میں برطانوی استعمار کی حکومت کے بارے میں دو متنازع لیکن باہم معاون ڈسکورسز: "استعمار(Colonialism)" اور "سامراجیت (Imperialism)" سے متعلق متھی مکھرجی (Mithi Mukherjee) کے تجزیے میں کی گئی ہے۔  مکھر جی نے استعمار  کے لفظ کو جس طرح استعمال کیا ہے، اس سے مراد حکمرانی کے وہ معاملات ہیں جو "زمینی فتوحات، طاقت، تشدد، غلبہ اور مفتوح اقوام کو مطیع بنانے سے عبارت ہیں"18۔ اس کے برعکس "سامراجیت نیچرل لا (Natural Law) کے تحت انصاف کے ایک ماورائے قومیت اور بالائے جغرافیہ تصور پر مبنی ہے"، جو استعماری طاقت و حکومت کی ناانصافیوں کو لگام دینے اور ان پر نکتہ چینی کی کوشش کرتی ہے19۔ استعماری طاقت اور سامراجی انصاف کے یہ متوازی ڈسکورسز باہم مل کر کام کرتے تھے، جن میں اول الذکر سماج میں جارحانہ انداز میں سرگرم عمل رہتا ، جب کہ مؤخر الذکر بالکل الگ تھلگ رہ کر باہر سے  اول الذکر کی نگرانی کرتا تھا۔ اس کا مجموعی اثر یہ تھا کہ استعماری ریاست اور مقامی سماج کے درمیان سپریم کورٹ کے ادارے اور وکیل کی شخصیت کو سب سے طاقتور ثالث کے مقام پر فائز کیا گیا۔  استعماری حاکمیت کی ترقی اور استحکام کا حصول  ان دو عوامل  کے باہمی تناو اور  کشمکش کے ذریعے سے کیا جاتاتھا، یعنی ایک طرف طاقت کے بل بوتے پر حکومت اور دخل اندازی اور دوسری طرف نیچرل لا کی  ماورائےجغرافیہ چھتری کے نیچے انصاف کی فراہمی۔

میں چاہتا ہوں کہ ذیل میں حاکمیتِ اعلی سے متعلق ان تاریخی افکار کی روشنی میں اس سوال کا جواب دوں کہ: سیاسی نظریات اور افکار کے بدلتے تصورات کس طرح ان مناہج کی تشکیل کرتے ہیں  جن میں بظاہر خدائی حاکمیت اور خدا و انسان کے درمیان تعلق جیسے کلامی تصورات کو مخصوص سیاسی تناظرات میں غور وفکر کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ میری توجہ کا محور ریاست، سیاست اور حکمرانی سے متعلق  مسلمانوں کے علمی افکار کا مطالعہ نہیں  جو روایتی طور پر سیاسیات سے وابستہ ہیں، (اگر چہ میں گاہے گاہے اس موضوع پر بھی کچھ عرض کروں گا)۔ اس کے بجاے میں چاہتا ہوں کہ سیاسیات اور مثالی حکومت کے ان تصورات پر غور کروں جو بالخصوص رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور سماج کی روزمرہ زندگی کے بارے میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے کردار کے تعلق سے بین المسالک مناقشوں میں نمایاں ہیں۔خدائی حاکمیت اور نبوی اقتدار کے حریف تصورات کس طرح ایک مثالی ریاست کے متوازی رجحانات میں ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں، یہ سوال اس حصے میں کلامیات اور سیاسیات کے باہمی الجھاو اور اس کتاب کے وسیع تر تناظر کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ سیاسی اور کلامی مسائل کے آمیزے کی تحقیق اُس تاریخی تناظر میں خاص طور پر ثمر آور ہو سکتی ہے جسے عبوری دور سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، جب ایک طویل المیعاد سیاسی نظم نابود ہونے کے قریب ہو، اور اس کی جگہ ایک اور نظام لے رہا ہو، مثلاً شاہی نظام سے استعماری نظام میں داخل ہونے کا دور۔ اس قسم کے اشکالیے (problem space) کا خاص طور پر جنوبی ایشیائی اسلام اور مغلیہ سلطنت سے برطانوی نوآبادیاتی نظام کی طرف منتقلی سے بڑا خاص تعلق ہے۔  یہ  طاقت کی بدلتی حرکیات کا ایک تدریجی  عمل تھا جو سترھویں اور اٹھارویں صدی کے درمیان وقوع پذیر ہوا اور یہ  قریب قریب وہی زمانہ جو شمٹ کی تحقیق کا موضوع ہے۔

حاکمیت اعلیٰ سے متعلق بدلتے ہوئے سماجی  نظریات

جیسا کہ مؤرخ کرسٹوفر بیلی (Christopher Baly) نے استدلال کیا ہے، ہندوستان کے ابلاغی اور سیاسی نیٹ ورکس میں وسیع تر تبدیلیاں اور انقلابات، جنھوں نے بالآخر برطانوی راج کو ممکن بنایا، اٹھارویں صدی کے آغاز سے ہی رونما ہو رہے تھے۔ بیلے کے مطابق اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان کے مغلیہ سلطنت سے برطانوی راج میں بدلنے کے وقت تین بنیادی سیاسی اور معاشی تبدیلیاں ظاہر ہوئیں: (1) مرکزی حکومت کا بکھر کر چھوٹی اور منتشر ریاستوں میں تبدیل ہو جانا، (2) دہقان طبقے کی یک جائی اور اس کے نتیجے میں اقتصادیات کے زرعی شعبے میں نمو وترقی، اور (3) متعدد استعماری اور مقامی ایجنٹوں کے درمیان ابلاغ اور جاسوسی کے رسمی وغیر رسمی ہر دو  دائروں میں غیر معمولی ترقی اور تحرک۔  اس آخری رجحان نے قدیم شاہی طبقے اور امرا واشرافیہ کی سیاسی طاقت اور ثقافتی اثاثے کو فیصلہ کن طور پر گھٹا دیا20۔

استعماری راج کی طرف انتقال کے حاکمیتِ اعلیٰ سے تعلق کی نظریاتی اہمیت کا ادراک سیاسی نظریہ ساز سودپتا کاویراج (Sudipta Kaviraj)نے اس طرح سے کیا ہے کہ انھوں نے اس کی زمرہ بندی ماتحتیت سے حاکمیتِ اعلیٰ کی طرف تبدیلی کی حیثیت سے کی ہے۔  کاویراج کا دعوی ہے کہ "استعماری جدیدیت کی آمد سے قبل ہندوستان کی تمام ریاستیں شمولیت/ماتحتیت کے تصور پر پوراا ترتی ہیں: وہ سماج پر حکمرانوں کے ایک گروہ کی حیثیت سے حکومت کرتی تھیں، جو اپنے ماتحت سماج سے الگ تھلگ رہتے، اور اپنی رعیت کے ساتھ جدید قوم پرستی کی طرح کسی مضبوط جذباتی یا ادارہ جاتی بندھن میں بندھے ہوئے نہیں تھے۔ اس طرح سے ان کی، اپنے سماج کی روزمرہ زندگی کی بنیادی ساخت کو متاثر کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود تھی21۔ کاویراج کے مطابق رفتہ رفتہ اور بالخصوص 1857 کی بغاوت کے نتیجے میں ماتحتیت کے اس سیاسی نظام کا تختہ بااختیار استعماری ریاست نے الٹ دیا۔ استعماری ریاست نظریاتی اعتبار سے اپنے پیش روؤں سے نہ صرف اس اعتبار سے ممتاز تھی کہ  وہ اُن سے زیادہ طاقت ور تھی، بلکہ زیادہ اہم اس کا وہ ارادی اور براہ راست انداز تھا جس میں وہ رعایا کو اپنی حاکمیتِ اعلیٰ کے تابع بناتا تھا۔  کاویراج کے نزدیک ماقبل استعماری دور سے استعماری دور میں داخل ہونے سے متعلق گفتگو اس بے جا مفروضے پر مشتمل ہوتی ہے کہ ہم تاریخی طور پر ایک ہی شے کے دو مختلف رخوں کے متعلق بات کر رہے ہیں۔  جب وہ اپنی گفتگو میں ریاستی طاقت کے جدید استعماری اور قدیم اسلامی و ہندوانہ تصورات کا تقابل کرتے ہیں تو آدمی اساسی طور پر "سیاسی طاقت کے دو مختلف اداروں کا سامنا کرتا ہے"22۔ ایک بااختیار ریاست کا تصور جس میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ اپنے رعایا کو براہ راست اپنے احکام کا پابند بنائے اور ان پر اپنا حق جتائے، مکمل طور پر جدید ہے۔ کاویراج آگے جاکر زیادہ فکر انگیز طریقے سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ہندوستانی تناظر میں ریاست کا تصور ہی "جدیدیت کا بنیادی ماخذ ہے"23۔

حاکمیتِ اعلیٰ کے حوالے سے مؤرخ اور ماہر بشریات برنارڈ کوہن (Bernard Cohn) کی کلیدی کاوش کاویراج کے استدلال کو مزید واضح کرتی ہے، جب کہ اسے اس کتاب میں ہمارے موضوع سے زیادہ براہ راست جوڑتی بھی ہے۔ ان کی کاوش مغلیہ سلطنت سے برطانوی راج میں منتقلی کے عبوری دور کے ثقافتی اثرات کے حوالے سے دلچسپ نکات فراہم کرتی ہے۔ کوہن کے مطابق انیسویں صدی کے اوائل میں برطانیہ نے ہندوستانی سماج میں اپنی سیاسی حاکمیتِ اعلیٰ کے قیام کے لیے اپنے مغل پیش روؤں کی  رسمی اصطلاحات کو باقی رکھا، تاہم انھوں نے ان اصطلاحات کو ایسے معنی پہنائے جو سابقہ معانی سے یکسر مختلف تھے۔ برطانوی راج کا مغلوں کی اصطلاحات کا استعمال ایک طرح سے سامراجی حاکمیتِ اعلیٰ کے دو مختلف نظاموں کے درمیان ترجمے کا عمل تھا۔ سب سے نمایاں مقام جہاں پر ترجمے کا یہ عمل وقوع پذیر ہوا، شاہی دربار تھا۔

پوری مغلیہ تاریخ میں شاہی دربار نے مغل حکمرانوں اور ان کی رعایا کے درمیان تعلق وتبادلے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ خاص طور پر مغل دربار میں ادا کی جانے والی تقریباتی رسموں نے مقامی رعایا کو وسیع تر سلطنت کے دائرے میں شامل کرنے کا کردار نبھایا۔ مثلاً ایک رسم جو دربار میں ادا کی جاتی تھی، مقامی اشرافیہ  کی طرف سے مغل بادشاہ کو تحفے تحائف اور سونے کے سکوں، ہاتھیوں، گھوڑوں اور زیورات کی شکل میں قیمتی اشیاء کا نذرانہ پیش کرنا تھی۔ یہ نذرانہ یا پیش کش سلطنت سے وفاداری کی ایک علامتی شکل تھی۔ ایسی کسی پیش کش کی قدر وقیمت کا تعین اس شخص کے مقام اور مرتبے کے مطابق پوری باریک بینی سے کیا جاتا تھا جو اسے پیش کرتا۔  بدلے میں مغل بادشاہ اس شخص کو خلعت پیش کرتا، جو یا تو کپڑے کی بنی کوئی چیز یا کئی کپڑے ہوتے تھے، جو عام طور پر چوغے، پگڑی اور شال پر مشتمل ہوتے تھے۔ باہمی تبادلے کا یہ عمل علامتی اہمیت کا حامل تھا: خلعت تسلسل یا وراثت کی علامت تھی، اور اس تسلسل کا انحصار طبعی بنیاد پر تھا  جس میں خلعت کو وصول کرنے والے اور عطیہ کرنے والے، دونوں کے جسم کپڑوں کے واسطے سے ایک دوسرے سے تعلق قائم کر لیتے تھے24۔

بالفاظِ دیگر اشیا کے سیدھے سادے تبادلے کے بجاے نذرانہ پیش کرنا اور خلعت وصول کرنا "اطاعت، بیعت اور خلعت عطا کرنے والوں کی برتری کے اقرار کے اعمال تھے"۔ مزید برآں حاکمیتِ اعلیٰ اور شاہی نظام کے اس رسمی اظہار نے مقامی سماج کے مخصوص طبقات کو شاہی حکومت کے بنیادی ڈھانچے میں شامل کرنے کا کردار ادا کیا۔ جیسا کہ کوہن نے واضح کیا ہے: "ہندوستان میں حکمرانی کا مقامی نظریہ انضمام کے تصورات اور 'نظام مراتب کے نظریے' پر  مبنی تھا، جس میں نہ صرف ہر کسی کو دوسرے سے الگ رتبہ دیا جاتا، بلکہ جن پر حکومت کی جا رہی تھی، ان کا انضمام بھی کیا جاتا تھا"25۔

تاہم اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں اگر چہ برطانویوں نے نئے ہندوستانی حکمرانوں کی حیثیت سے نذرانوں اور پیش کشوں کی رسم کو برقرار رکھا، لیکن انھوں نے تبادلے کے اس عمل کو جو معنی دیا، وہ قطعی مختلف تھا۔ مغلوں کے برعکس برطانویوں نے ان رسموں کو مادی معنوں میں لیا۔ نذرانوں اور پیش کشوں کو سفارش کی حیثیت سے دیکھا گیا، جسے برطانیہ نے اپنی تجارتی سرگرمیوں سے متعلقہ حقوق کی حیثیت سے پیش کیا۔ انھوں نے "اپنے ثقافتی طور طریقوں کی اتباع میں نذرانوں کو رشوت سے اور پیش کشوں کو خراج سے تعبیر کیا، اور اسے ادلے بدلے کا لین دین تصور کیا "26۔

درباری رسموں کے برطانوی وارثوں نے ایک محتاط انداز میں تشکیل دی گئی شاہی حاکمیتِ اعلیٰ کی صورت گری کو لین دین کی ایک مادی صورت کا معنی دیا۔ جیسا کہ کوہن نے وضاحت کی ہے: "بظاہر مغلیہ رسم ورواج کو برقرار رکھا گیا، لیکن ان کے معانی بدل گئے تھے۔ ہندوستانی حکمرانوں کے سایے میں جو چیز (مقامی آبادی کی سلطنت میں) شمولیت تھی، اب وہ رسم ماتحتیت کی علامت بن گئی، جس میں شاہی شخصیت اور اس کے منتخب کردہ دوست اور خادم کے درمیان، جو حکمرانی کا حصہ بننے والا تھا، کوئی روحانی تعلق باقی نہ رہا27۔

برطانیہ کے استعماری نظام میں 1857 کی بغاوت تک یہ عقدہ لاینحل رہا، جس میں بغاوت کو وحشیانہ طریقے سے کچلا گیا، اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر پر آخر کار مقدمہ چلا کر انھیں جلا وطن کیا گیا۔ اس اہم معرکے کو سر کرنے کے بعد برطانیہ نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1858 کے ذریعے ہندوستان کی سیاسی حاکمیتِ اعلیٰ کو اپنی بادشاہت میں ضم کر دیا۔

زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ علامتی ورثہ جو مغل بادشاہ کی شخصیت سے متعلق تھا، اس کے تقدس کا خاتمہ کیا گیا۔ اپنی  رعایا پر حاکمیت کو جواز بخشنے کے لیے رائج سابقہ پیچیدہ مقامی طریقوں کی جگہ استعماری طاقت کے وحشیانہ اظہار نے لے لی۔ جیسا کہ کوہن نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے: "بادشاہ پر مقدمے کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1858 سے ملا کر دیکھنا چاہیے۔ مغل بادشاہ پر مقدمہ، ان کی جلاوطنی اور مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ایک ایسے انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا جس نے مکمل طور پر سماج کے سابقہ سیاسی نظم کے تَقدُّس کا خاتمہ کر دیا"28۔

کاویراج کے استدلال سے بہت مماثل کوہن کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ ہندوستان میں استعمار کی آمد سے حاکمیتِ اعلیٰ کا فکری سرمایہ بھی خاطر خواہ تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ کے سابقہ تصور کی جگہ، جو مراعات، نظامِ مراتب اور مقامی سماج کے ساتھ جسمانی علائق میں بندھا ہوا تھا، واضح طور پر قوتِ مقتدرہ کی ایک مادی تفہیم نے لے لی۔ کوہن کا تجزیہ خاص طور پر جس چیز کو نمایاں کرتا ہے، وہ  ان دو مثالی تصورات کے درمیان کش مکش ہے  کہ قوتِ مقتدرہ کو کیسے کام کرنا چاہیے، اور فی الواقع یہ کس طرح کام کرتی ہے ۔ کیوں کہ زیادہ سنجیدہ پہلوؤں کو دیکھا جائے تو برطانوی راج کا سیاسی ڈھانچا کسی حوالے سے بھی مغلیہ سلطنت کے اس پہلے ڈھانچے کو اکھاڑ نہیں پھینکتا، جو حسب ونسب اور وساطت وشفاعت سے عبارت تھی۔ حتّیٰ کہ برطانوی راج کے زیرِ سایہ وساطت کا عمل اس بات کی تشکیل میں انتہائی اہم رہا کہ سیاسی اقتدار تک رسائی حقیقت میں کیسے ہوتی ہے،اور سماج کی تشکیل کس طرح سے کی گئی۔ تاہم اس ساختیاتی تسلسل کے باوجود وہ مآخذ، تصورات اور مفاہیم جس نے قوتِ مقتدرہ کی تنظیم کی، مستقل طور پر بدل گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغلیہ سلطنت میں حاکمیتِ اعلیٰ پر بحث ومناقشہ نہیں ہوا، بلکہ مقصود ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف، جو شاہی حکومت سے بہت الگ ہے، انتقال کے عبوری دور میں حاکمیتِ اعلیٰ کی سماجیات میں برپا ہونے والی فکری اور سیاسی تبدیلیوں کو واضح کرنا ہے29۔

حاکمیتِ اعلیٰ کی فکری فضا اور سیاسی صورت گری میں برپا ہونے والی یہ بنیادی تبدیلیاں سماجی نظم اور نظام مراتب کے لیے گہرے مضمرات کی حامل ہیں۔ اپنی تحقیقی کتاب Ashraf into Middle Classes میں مؤرخ مارگریٹ پرناو (Margrit Pernau) نے بتایا ہے کہ انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں برطانوی راج کے استحکام نے شمالی ہندوستان میں سماجی شرف وعزت کے حوالے سے مسلمانوں کے تصورات پر گہرے اثرات مرتب کیے30۔ 1830 کی دہائیوں کے بعد جوں ہی برطانیہ نے زیادہ فیصلہ کن انداز میں سیاسی اقتدار حاصل کیا، اور جوں ہی نوآبادکاروں اور ان کے ماتحت لوگوں کے درمیان سیاسی، ثقافتی، سماجی اور نسلی فاصلے واضح ہونے لگے، سماجی عزت وشرف کے مفاہیم اور عناصر بھی بدلنے لگے31۔ اس وقت تک شرف وعزت کا دائرہ صرف جاگیرداروں اور علما تک محدود تھا، جب کہ سوداگر، تاجر اور دست کار بالکل عام لوگ سمجھے جاتے تھے۔ مزید برآں اسلام کے مرکزی مقامات سے نام ونسب کا تعلق ہونا شرف وعزت کی امتیازی علامت تھی، جو اشراف کو مقامی نومسلموں (اجلاف) سے الگ کرتی تھی، اگر چہ شرافتِ نسب کا دعویٰ سماجی شناخت کے حصول کی ایک تدبیر تھی۔

لیکن  1857 کے نتیجے میں انیسویں صدی کے اواخر میں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیتِ اعلیٰ کی بحالی کے امکان کے خاتمے، ایک ایسے عوامی دائرے کے ظہور جو نوآبادیاتی تعلیمی اداروں سے معمور تھا، اور علمِ دین سے صرف اور صرف علماے کرام کی روز افزوں وابستگی جیسی پیش رفتوں نے شرف وعزت کے ان تصورات کو یکسر بدل دیا۔ خاندان کی اہمیت برقرار رہی، لیکن شرف وعزت بتدریج انفرادی پاک بازی سے جُڑ گئی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جسے پرناو نے "موروثی اقدار سے زندہ اقدار میں تبدیلی" سے تعبیر کیا ہے32۔ یہ تبدیلی ایک دوسری تبدیلی کے پہلو بہ پہلو پیش آئی اور اسے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک ایسے متوسط طبقے کے ظہور نے سہولت بہم پہنچائی جو خود کو سماج کے بالائی اور نچلے طبقے سے ممتاز تصور کرتا تھا۔ اگر چہ اس میں بھی کسی طرح سے یکسانی نہیں تھی، تاہم اس متوسط طبقے، جس نے شرف وعزت کی چادر اوڑھ لی تھی، کی نمایاں خصوصیت شاہانہ طرزِ زندگی اور فضول خرچی کی شدید مخالفت اور دینی اصلاح کی تحریک سے اس کی قربت ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں تقویٰ اور سماجی عزوشرف کے ملاپ نے اہلِ علم اشرافیہ یعنی علماء اور سوداگروں، تاجروں اور دیگر پیشہ ور گروہوں (یعنی متوسط طبقے) کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ سماجی نظم میں یہ اساسی تبدیلی اس بین المسالک مناقشے کے لیے ایک اہم پس منظر مہیا کرتی ہے جس سے اس کتاب میں بحث کی گئی ہے، اور جس کا موضوع پرناو کے پروجیکٹ کے بالکل متوازی ہے۔

اور آخر میں ابتدائی جدید اور جدید جنوبی ایشیا میں حاکمیتِ اعلیٰ کے اشکالیے کی توضیح کے لیے اَظفَر مُعین (Azfar Moin) کی کتاب The Millenial Sovereign ناگزیر طور پر متعلق ہے۔ اس کاوش میں معین نے استدلال کیا ہے کہ سیاسی حاکمیت کی مغلیہ تفہیمات کا دار ومدار بادشاہت وولایت کے باہمی ربط پر تھا۔ بادشاہ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو صوفی ولی کی کرامت کے اصول اور انداز پر منظم کیا جاتا اور سرانجام دیا جاتا تھا جومذہبی اقتدار اور توقعات سے بھرپور ہوتا تھا۔ بادشاہت و ولایت ایک دوسرے کے ساتھ "بغل گیر ہو کر"  مربوط تھے33۔ مُعین کے مطابق حاکمیتِ اعلیٰ کے ایسے مقدس تصور کی اٹھان اور اساس ولی کی کرامت پر تھی، اور یہ تصور عہد جدید سے قبل مسلم سلطنتوں بشمول ہندوستان کی مغلیہ اور ایران کی صفوی سلطنت میں غالب رہا، تاآنکہ استعماری جدیدیت کی تاخت نے اس کو اکھاڑ پھینکا34۔ اس کتاب کا کام وہیں شروع ہوتا ہے جہاں معین نے اپنا کام ختم کیا ہے۔ مجھے اس سوال میں دلچسپی ہے کہ جب اس عہد کے  تقریباً‌ اختتامی دور میں جس کا مطالعہ اظفر معین نے کیا ہے، ایک تصور کی حیثیت سے حاکمیتِ اعلیٰ کے مسئلے کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔

میں بطورِ خاص اس سوال کو زیرِ غور لاؤں گا کہ ہندوستان میں مغل بادشاہت سے برطانوی استعمار کی طرف انتقال کا یہ عبوری دور کس طرح ان مباحثوں اور مناقشوں کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے جو علما کے مابین اور ان کے ہم عصر معاشروں میں  حاکمیتِ اعلی کے تصور پر وقوع پذیر ہوئے؟ میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ اور انسانی شخصیت کے درمیان اس شرعی رشتے کے متعلق سوالات پر توجہ دوں گا جو انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمان اہل علم کے درمیان شدید علمی ہیجان اور کشمکش کے مظاہر کے طور پر سامنے آئے۔

مثلاً ایک ایسے دور میں جب سیاسی حاکمیتِ اعلیٰ روز افزوں انحطاط پذیر تھی، خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے بارے میں کس طرح کے تصورات پیش کیے گئے؟ مسلمان کس طرح اپنی روزمرہ زندگی اس نہج پر گزاریں جس میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کی مکمل خصوصی اور امتیازی حیثیت  کا اقرار ہو؟ حاکمیتِ اعلیٰ کا انحصار کس بات پر ہے؟ کیا خدائی حاکمیتِ اَعلیٰ کا دار ومدار مُعجِزات جیسے استثنائی قانون کی تنفیذ پر ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کی شفاعت والے کردار کو کیسے سمجھا جائے، جب ان کی برکت ورحمت سے گناہ گاروں کو بخشش کی استثنا دی جائے گی؟ استثنا دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا استثنائیت کے خدائی یا پیغمبری  دعووں میں کوئی تضاد ہے؟ جیسا کہ میں بتانے کی کوشش کروں گا، یہ بظاہر کلامی سوالات اس بات سے انتہائی گہرا تعلق رکھتے تھے کہ کس طرح سیاست کے شرعی حدود کے بارے میں تصورات قائم کیے گئے۔ آنے والے صفحات میں، میں شاہ محمد اسماعیل اور علامہ فضل حق خیر آبادی کے درمیان شفاعتِ نبوی کے حدود پر برپا ہونے والے پرجوش مناظروں کے گہرے مطالعے سے کلامی اور سیاسی تصورات کے باہمی تعامل کی تحقیق کروں گا35۔ میں امکانِ کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کا امکان) اور امکانِ نظیر (یعنی اللہ تعالی کا حضرت محمد ﷺ کی طرح کی  ایک اور شخصیت کو پیدا کرنے کا امکان) کے متنازع مسائل میں ان کے حریف مواقف کا تفصیلی تجزیہ بھی پیش کروں گا۔

میں اپنے استدلال میں بتاؤں گا کہ شاہ اسماعیل اور علامہ خیر آبادی کے متقابل کلامی افکار کی اساس سیاسی عوامل کے وہ حریف بیانیے تھے، جس نے انسانی فرد اور خدائی حاکمیتِ اعلی کے درمیان شرعی تعلق کو استوار کیا۔ میں بتاؤں گا کہ بظاہر ان کلامی مناقشوں کے پیچھے یہ بڑا سیاسی سوال کار فرما تھا کہ سیاسی تغیّر وتبدیلی کے حالات میں حاکمیتِ اعلیٰ کو کس طرح سمجھنا چاہیے۔ اس لیے میرا تجزیہ الہیاتی اور سیاسی تصورات کے باہمی تعامل اور یک جائی سے متعلق ہے۔ میری تحقیق کا مرکزی موضوع وہ مناہج ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں کے کلامی مباحث تشکیل دیے گئے اور جن کی بنیاد سیاسی تصورات کی متوازی تفہیمات تھیں۔

اس بحث کی تمہید کے طور پر، میں اس کتاب کے پہلے حصے میں انیسویں صدی کے اوئل کی ایک سنسنی خیز شخصیت شاہ محمد اسماعیل کی حیات اور علمی خدمات کو غور وفکر کا موضوع بناؤں گا  جن کی تحریروں اور سرگرمیوں نے ہندوستانی مسلمانوں میں ایک طوفان بپا کر دیا۔ جنوبی ایشیائی اسلام کی علمی اور سماجی تاریخ پر شاہ اسماعیل نے انمٹ نقوش ثبت کیے، اگر چہ ان کی مذہبی فکر کی پرتیں اور تضادات بہت کم زیر بحث لائے گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے صفحات میں اس خلا کو پر کرنے کے لیے کچھ پیش رفت ہوگی۔ لیکن شاہ اسماعیل کون تھے، اور وہ اس قدر متنازع کیوں ہیں؟ میں اس سوال کے جواب سے ابتدا کرتا ہوں۔


حواشی

  1.  اشرف علی تھانوی، ارواحِ ثلاثہ (کراچی: دار الاشاعت، 2001)، 49۔
  2.  ایضا، 49-50۔
  3.  مرینالانی راجاگوپالن (Mrinalani Rajagopalan) نے اپنی معلوماتی تحقیق Building Histories: The Archival and Affective Lives of Five Monuments in Modern Delhi  (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2016) میں بتایا ہے کہ جامع مسجد، جو دلی کی سب سے بڑی مسجد ہے، جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے سترھویں صدی میں تعمیر کیا، بیسویں صدی میں استعمار مخالف اور سیکولر قوم پرست تحریک کا زبردست مرکز رہی، جو استعماری طاقت کے حدود اور خالص مذہبی مقام کی حیثیت سے مسجد کی روایتی تعریف کا پول کھولتی ہے۔ راج گوپالن کے تجزیے میں اس نکتے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک صدی قبل بھی، جیسا کہ درج بالا واقعے میں بتایا گیا، جامع مسجد وہ مقام تھا، جہاں پر استعماری راج میں انتقال کے عبوری دور میں سماج کی شرعی زندگی کے متعلق سنسنی خیز بین المسالک اختلافات اور حریف تصورات زیادہ واضح طور پر سامنے آئے۔ بین المسالک مناقشے کے لیے ظاہری مقام وعلامت اور استعماری حکومت کے رینگتے ساے کی ایک واضح نشانی کی حیثیت سے جامع مسجد کی نمایاں اہمیت کا سب سے حیران کن مظاہرہ شاہ اسماعیل کی خطیبانہ اور تدریسی سرگرمیوں پر برطانوی ریزیڈنٹ افسر کی طرف سے پابندی ہے، جسے میں اس حصے میں بعد میں بیان کروں گا۔
  4.  اشرف تھانوی، ارواحِ ثلاثہ، 49-50۔
  5.  رابرٹ اورسی، History and Presence (کیمبرج، ایم اے: ہاورڈ یونیورسٹی پریس، 2016)، 10۔
  6.  کرسٹوفر بیلی، Indian Society and the Making of the British Empire (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1988)۔
  7.   Cambridge Companion to Classical Islamic Theology، تدوین: ٹِم وِنٹر (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2010) میں مارسیا ہرمینسن کا مضمون، Eschatology، 308- 324۔
  8.  سٹڈیا اسلامیکا 87 (1998): 125- 139میں شون مارمن کا مضمون: The Quality of Mercy: Intercession in Mamluk Society۔
  9.  کارل سیاسی کلامیات کے بڑے نظریہ سازوں میں سے تھے، جو 1888 سے لے کر 1985 تک حیات رہے۔ وہ اپنے اس نظریے کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں کہ حاکمیتِ اعلیٰ کا حامل وہ ہے، جو استثنا لاگو کر سکتا ہو۔ کارل شمٹ، Political Theology: Four Chapters on the Concept of Sovereignty  (کیمبرج، ایم اے: ایم آئی ٹی پریس، 1986)، 36۔
  10.  پال کاہن، Political Theology: Four Chapters on the Concept of Sovereignty (نیو یارک: کولمبیا پریس، 2012)، 18۔
  11.  گراہم ہامل اور جولیا لپٹن،Political Theology and Early Modernityکا تعارف، تدوین: گراہم ہامل اور جولیا لپٹن (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2012)، 1۔
  12.  ایضا۔
  13.  کلامی مباحثوں اور مناقشوں کی اساس  اور ان میں کار فرما مباحثوں و مناقشوں کی تحقیق میں میں خود کو عُوَیمر انجُم کے اس فکر انگیز نکتے سے شدید متفق پاتا ہوں کہ: "کسی بھی فکری دنیا میں فکر ونظر کے سیاسی دائرے کی بنیاد اساسی عقائد اور عموماً‌ ساکت اور پیشگی مفروضے ہوتے ہیں۔ جدید اہل علم نے اسلام کی سیاسی فکر کو عموماً خلافت پر روایتی مصادر سے سمجھا ہے، لیکن انھوں نے بڑی حد تک علمیات، کلامیات اور قانونی نظریے کو نظر انداز کیا ہے"۔عُویمِر انجم، Politics, Law, and Community in Islamic Thought: The Tamiyyan Moment (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012)، 9۔
  14.  شمٹ، Political Theology ، 46۔
  15.  ایضا، 1-55۔
  16.  ایضا، 43۔
  17.  ڈیوڈ گلمارٹن، Rethinking the Public through the Lens of Sovereignty، جرنل آف ساوتھ ایشین سٹڈیز 38، نمبر 3 (ستمبر 2015): 371- 386۔
  18.  میتھی مکھرجی،India in the Shadows of Empire: A Legal and Political History, 1774-1950 (نیو دلی، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2010)، xv ۔
  19.  ایضا، xvi۔
  20.  کرسٹوفر بیلی، Empire and Information: Intelligence Gathering and Social Communication in India, 1780-1870، (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1999) اور Indian Society (؟)۔
  21.  سودِپتا کاویراج، The Trajectories of the Indian State (رانیکھٹ: پرمننٹ بلیک، 2010)، 51۔
  22.  ایضا۔
  23.  ایضا، 40۔
  24.  The Prevention of Tradition، تدوین: ایرک ہوبزباون اور ٹیرنس رینجر (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1992)، 73،میں برنارڈ کوہن کا مضمون، Representing Authority in Victorian India۔
  25.  ایضا۔
  26.  ایضا، 169 – 170۔
  27.  ایضا، 172۔
  28.  ایضا، 178۔
  29.  اس مسئلے میں میری سوچ ڈیوڈ گلمارٹن کے ساتھ کی جانے والی گفتگو سے متاثر ہے۔
  30.  مارگریٹ پرناو، Ashraf into Middle Classes: Muslims in Nineteenth-Century Delhi(نیو دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2013)۔
  31.  ایضا، 1- 157 اور 179 – 297۔
  32.  ایضاً، 423۔
  33.  اَظفَر مُعین، The Millennial Sovereign: Sacred Kingship and Sainthood in Islam (نیویارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2010)، 5۔
  34.  ایضا، 2 – 22۔
  35.  میں یہ بات ایک بار پھر کہتا ہوں کہ جس مناظرانہ کش مکش کو یہاں زیر بحث لایا گیا ہے، وہ کہیں 1826 میں وقوع پذیر ہوئی ہے، ہندوستانی تاریخ کاا یک ایسا دور جب برطانوی استعمارپہلے سے قابض ہو گیا تھا، لیکن اس نے مکمل طور پر مغلیہ سلطنت کو برطرف نہیں کیا تھا، وہی پیش رفت جو بعد میں 1857 میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اس لیے کئی حوالوں سے اس تاریخی دور کو مغلیہ سلطنت سے برطانوی استعماری راج میں تبدیلی کے آہستہ لیکن حتمی عبوری دور کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے۔