تحریک انصاف کا بیانیہ: بنیادی سوال
محمد عمار خان ناصر
سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے تھوڑی بہت دلچسپی کی وجہ سے میں اس سوال پر غور کرتا رہتا ہوں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی پر سیاسی تنقید جن بنیادوں پر کی جا رہی ہے، وہ کیوں خان صاحب اور ان کے ہمدردوں اور سپورٹرز کو اپیل نہیں کرتی۔ اس تنقید کا غالباً سب سے نمایاں پہلو خان صاحب کے قول وفعل کا تضاد یا دوہرے اخلاقی یا سیاسی معیارات ہیں۔ یعنی وہ جن بنیادوں پر مخالفین پر تنقید کرتے ہیں، خود انھی کاموں کو اپنے لیے درست سمجھتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ کئی ایسی چیزوں کا خود اعتراف بھی کرتے ہیں، جیسے مثلاً ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں خریدنا یا سیاسی جوڑتوڑ یا اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی عمل میں مداخلت وغیرہ کے سوالات ہیں۔
غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تنقید دراصل خان صاحب اور ان کے حامیوں کے اصل بیانیے کو موضوع ہی نہیں بناتی۔ اگر اس پورے بیانیے کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ بنیادی طور پر متعارف سیاسی اخلاقیات یا جمہوری تصورات یا آئینی ضابطوں کی پابندی کی کہیں بھی کمٹمنٹ نہیں کرتا جن کو توڑنا یا ان کی خلاف ورزی کرنا ان کے نزدیک کوئی قابل اعتراض عمل ہو۔ عمران خان کا بیانیہ بنیادی طور پر ایک ’’اخلاقی “ بیانیہ ہے جو سیاسی اصول وضوابط سے بالاتر ہے اور مروجہ سیاسی اصول اور نظام اس بیانیے کی تکمیل کے لیے محض ایک ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بیانیہ بالکل صاف اور واضح ہے اور یہ کہتا ہے کہ موجودہ سیاسی قوتیں اخلاقی طور پر اقتدار میں آنے کا حق نہیں رکھتیں اور انھوں نے طاقت کے زور پر معاشرے اور ریاستی نظم میں جو اثر ورسوخ پیدا کر رکھا ہے، ریاست کے تمام اداروں بشمول فوج اور عدلیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کو ختم کرنے میں عمران کی مدد کرے۔ اس اعلی تر مقصد کے لیے عمران خان کو الیکٹیبلز کو ساتھ ملانا پڑے یا کچھ کرپٹ عناصر کو دے دلا کر ان کی تائید حاصل کرنی پڑے تو یہ ایک عملی مجبوری اور ضرورت ہے۔
اس سادہ اور واضح بیانیے کو پیش نظر رکھا جائے تو بالکل سمجھ میں آ جاتا ہے کہ قول وفعل کے تضاد کی تنقید کیوں اس بیانیے میں کوئی بڑا ڈینٹ نہیں ڈالتی۔ اخلاقی وجمہوری اصولوں کی پاسداری یا پامالی اس بیانیے کا بنیادی استدلال ہے ہی نہیں۔ بنیادی استدلال ایک خاص تعریف کے مطابق ’’ایماندار “ اور ’’کرپٹ “ ہونا ہے۔ ایماندار سیاسی طاقت ان اصولوں کی خلاف ورزی کرے تو چونکہ اس کا مقصد درست ہے، اس لیے اس اعتراض کا کوئی وزن نہیں۔ مخالف سیاسی طاقتوں کا بنیادی مقصد چونکہ غلط ہے، اس لیے یہ تمام طریقے اگر وہ استعمال کریں تو وہ قابل اعتراض ہیں۔ یہ موقف چاہے پی ٹی آئی کے حامی زبان سے واضح طور پر بیان کریں یا نہ کریں، ان کی ذہنی تفہیم بہرحال یہی ہے۔
اس لحاظ سے، میرے خیال میں پی ٹی آئی کے بیانیے پر اب تک کی غالب سیاسی تنقید ناکافی ہے۔ اس تنقید میں بنیادی نکتے کو موضوع نہ بنانے کا نقصان یہ ہے کہ فکری پولرائزیشن گہری ہوتی جا رہی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگ سرے سے یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ آخر پورا ریاستی سسٹم اور ملک کی بہت بڑی اکثریت کی نمائندگی کرنے والی سیاسی قوتیں ہاتھ دھو کر عمران خان کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی ایک ہی تفہیم باقی بچتی ہے، یعنی حق کے مقابلے میں باطل کا مجتمع ہو جانا اور قومی آزادی کے سوال پر بیرونی طاقتوں کا مقامی میر جعفروں کی سرپرستی کرنا۔ یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کو سیاسی بحث ومباحثہ میں موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔
تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف جو بیانیہ پیش کیا تھا اور جس سے ایک پوری نسل متاثر ہوئی، اس کے بنیادی التباس کو نہ سمجھنے بلکہ اس کا شکار ہو جانے کی وجہ سے پوری مذہبی فکر آرمی پبلک اسکول پشاور کے اندوہناک واقعے تک دو ذہنی اور تضاد کا نمونہ بنی رہی اور اپنے گول مول موقف سے دہشت گردی کے بیانیے کو بالواسطہ تائید مہیا کرتی رہی۔
بیانیہ بڑا واضح اور جذباتی لحاظ سے بہت طاقتور تھا: ایک کافر ملک نے ایک مسلمان ملک پر حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے شرعاً جہاد فرض ہو چکا ہے۔ افغانستان کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے مسلمانوں پر بھی جہاد فرض ہے۔ ریاست پاکستان نے اس کے بالکل برعکس، امریکی کیمپ کا حصہ بن کر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے جو شرعاً کفر ہے۔ اس لیے پاکستانی ریاست اور اس کے نمائندہ اداروں کا حکم بھی کفار کا ہے جن کے خلاف جہاد فرض ہے۔
اس دوٹوک اور انتہائی طاقتور بیانیے کا مذہبی فکر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ سارے مقدمات اسلامی فقہ سے ہی ماخوذ تھے۔ علماء کرام اور ساری مذہبی جماعتیں ایک طرف یہ کہتی رہیں کہ ہم اس موقف کی حمایت نہیں کرتے، کیونکہ اس سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچے گا، لیکن ان کے پاس استدلال کو رد کرنے کی نہ جرات تھی اور نہ علمی بنیاد۔ چنانچہ یہ کہہ کر ایک طرح سے اس کو تائید ہی مہیا کی جاتی رہی کہ یہ ردعمل ریاست کے غلط فیصلے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اس لیے ریاست کو ان عناصر کے خلاف اقدام کے بجائے اپنی پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے۔
ہمارے نزدیک بالکل یہی صورت حال آج پی ٹی آئی کے بیانیے کی بن چکی ہے اور اس پر درست سوال نہ اٹھانے کی وجہ سے قوم کا ایک بڑا حصہ عمران خان کے گمراہ کن بیانیے کا شکار ہو چکا ہے۔
ٹی ٹی پی اور عرب عسکریت پسندوں کے تکفیری بیانیے کا مین اسٹریم مذہبی فکر کے پاس تو، جیسا کہ عرض کیا گیا، ذہنی الجھاؤ اور تضاد فکری کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔ البتہ متعدد اہل علم نے فقہی وکلامی اور سیاسی واخلاقی اصولوں کی روشنی میں اس کو موضوع بنایا اور اس کی غلطی واضح کی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب اور ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی تحریریں کتابی صورت میں بھی دستیاب ہیں۔ راقم نے بھی ایک تسلسل کے ساتھ اس بیانیے کے مختلف پہلوؤں پر تنقیدی معروضات پیش کیں جنھیں ایک مجموعے کی شکل دینے کا کام جاری ہے۔
میری تنقید میں ایک اہم سوال جو اٹھایا گیا، وہ یہ تھا کہ کسی بھی صورت حال کی نوعیت اور اس میں مسلمانوں کی دینی ذمہ داری متعین کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ عسکریت پسند صورت حال پر جو شرعی حکم لگا رہے ہیں اور اس کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داری طے کر کے خود کو اس فریضے کی انجام دہی کے لیے مامور کر رہے ہیں، وہ یہ کس حیثیت سے کر رہے ہیں؟ بالفاظ دیگر انھیں یہ استحقاق کس بنیاد پر حاصل ہوا ہے کہ وہ اپنے فہم کے مطابق جس نتیجے پر پہنچے ہوں، نہ صرف پوری مسلمان امت یا کسی خاص مسلمان ملک کو اس کا پابند قرار دیں بلکہ امت کی طرف سے کوئی فیصلہ یا اقدام کرنے کا اختیار بھی خود کو تفویض کر دیں؟
یہ وہ سوال تھا جو اس بحث میں نہیں اٹھایا جا رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ اس کے اٹھانے سے اس پورے گمراہ کن بیانیے کی بنیادی غلطی بالکل واضح ہو گئی اور ایک جذباتی ذہنی کیفیت پیدا کر کے فقہی وشرعی تلبیسات کو بطور دلیل استعمال کرنے کا رجحان بتدریج دم توڑتا چلا گیا۔ یہ سوال ویسے تو مختلف اسالیب میں متعدد تحریروں میں اٹھایا گیا، لیکن یہاں نمونے کے طور پر دو اقتباسات پیش کرنا مناسب ہے:
’’اس معاملے میں آخری بات میں ان حضرات سے جو عسکری جدوجہد کے راستے سے ملکی نظام کی تبدیلی کے طریقے پر یقین رکھتے ہیں، یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک تو آپ معاشرے کی معروضی صورت حال سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ جو کامیابی کے عملی امکانات ہیں، ان پر بھی یا تو توجہ نہیں دے رہے یا کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ یہاں فوج کی طاقت کا ذکر ہوا، وہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آپ اس کو کیسے حل کریں گے؟ اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ دیکھیں،۱س ملک میں اسلام کے نام لیوا، اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والے کوئی ایک طبقہ نہیں ہے۔ صرف جماعت اسلامی یا تنظیم اسلامی نہیں ہے یا جو گروہ عسکری جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، وہی نہیں ہیں۔ یہ سب اسلام کے نام لیوا ہیں۔ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں کہ سب اسلام کے لیے کوشش کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک گروہ اٹھ کر اپنی حکمت عملی باقی سب پر ٹھونسے؟ حکمت عملی تو اجتہادی معاملہ ہے۔ آپ نے یہاں آگے بڑھنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرنا ہے؟ یہاں کی جو مذہبی قوتیں ہیں، اہل علم ہیں، یہاں کی جو مذہبی قیادت ہے، اس وقت تک کی صورت حال تو یہی ہے کہ وہ اس طریقے سے اتفاق نہیں کرتی، اس کو غلط سمجھتی ہے، اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سو اگر کوئی گروہ اٹھ کر یہ کہتا ہے کہ میری نظر میں چونکہ یہی طریقہ صحیح ہے، اور باقی سب کی رائے یا ان کا اجتہاد چونکہ ہماری نظر میں غلط ہے تو ہم اس کی کوئی پروا نہیں کرتے، ہم اپنی حکمت عملی ٹھونسیں گے تو یہ طرز فکر ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ اجتہادی معاملات میں آپ اپنی رائے دوسروں پر نہیں ٹھونس سکتے۔ اجتہادی معاملات میں آپ کو اجتماعیت سے کام لینا ہوتا ہے۔ جس رائے پر متعلقہ لوگوں کا عمومی اتفاق ہو، اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ (الشریعہ، مارچ ۲۰۱۵)
’’طاقت کے توازن کو نظر انداز کرنے کے علاوہ تشدد اور تصادم کی مذکورہ حکمت عملی کے نتیجے میں کئی اہم مذہبی واخلاقی اصول بھی مجروح ہوئے۔ مثال کے طور پر زیادہ تر مثالوں میں عسکری تصادم کے فیصلے کو قوم کی اجتماعی نمائندگی حاصل نہیں تھی، بلکہ چند گروہوں نے اپنے تئیں یہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر کے اس کے نتائج کو پوری قوم پر مسلط کر دیا، حالانکہ اسلامی شریعت کی رو سے کسی علاقے میں مسلح مزاحمت کا حق چند افراد یا کسی ایک گروہ کا حق نہیں، بلکہ پوری قوم کا اجتماعی حق ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کے جواز کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی تائید اور پشت پناہی حاصل ہو اور قوم اس کے لازمی نتائج کا سامنا کرنے اور اس کے لیے درکار جانی ومالی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ اگر قوم اپنی مجموعی حیثیت میں ایسے کسی فیصلے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو یا اس کے لیے آمادہ نہ ہو تو کسی گروہ کا ازخود کوئی فیصلہ کر کے اسے عملی نتائج کے اعتبار سے ساری قوم پر تھوپ دینا شرعاً واخلاقاً درست نہیں ہے۔‘‘ (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۱۷)
میرے نزدیک عمران خان کے بیانیے اور سیاسی طرز فکر سے متعلق بھی بنیادی ترین سوال کی حیثیت اب اسی کو حاصل ہے۔ اس کا ایک واضح جواب طلب کیے بغیر عمران خان کے بیانیے پر کسی قسم کی سیاسی گفتگو محض وقت کا ضیاع ہوگا۔
قوم کے اجتماعی معاملات سے متعلق کسی بھی بیانیے کے لیے اس سوال کا جواب دینا کہ وہ قوم اور اس کے نمائندہ طبقات کے لیے اس بیانیے کو اجتماعی رائے سے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار مانتا ہے یا نہیں، کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ بیانیے دسیوں ہو سکتے ہیں اور ہر بیانیے کو اپنا استدلال پیش کرنے اور اس کے لیے عملی جدوجہد کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن کیا کوئی بھی بیانیہ یا اس کے علمبردار اپنے تئیں یہ فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ پوری قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرنا ان کے ہاتھ میں ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا طبقہ قوم کی نمائندگی کا جواز نہیں رکھتا؟
یہ وہ سوال ہے جو ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں بار بار زیر بحث آیا ہے اور اس حوالے سے دو واضح رجحان ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایک رجحان سید احمد شہید کی تحریک مجاہدین، ٹی ٹی پی، جامعہ حفصہ کے ذمہ داران اور ٹی ایل پی کی صورت میں ہے جو صرف بیانیہ اور اس کا استدلال قوم کے سامنے رکھنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ خود ہی اپنے آپ کو وہ مجاز اتھارٹی بھی قرار دیتا ہے جسے فیصلہ یا اقدام کرنے کا حق حاصل ہے۔
دوسرا رجحان قائد اعظم کی زیر قیادت مسلم لیگ کی صورت میں اور قیام پاکستان کے بعد مولانا مودودی کی جماعت اسلامی کی صورت میں اپنا ظہور کرتا ہے۔ قائد اعظم نے ایک ایسے ماحول میں جہاں سیاسی منظر نامے پر تحریک خلافت، جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار اسلام جیسی قوتیں غالب تھیں، جدوجہد کا آغاز کیا اور طویل جدوجہد کے بعد سیاسی عمل کے ذریعے سے اس مرحلے تک پہنچ گئے جب مسلمانوں نے قطعی انداز میں اپنا اجتماعی فیصلہ ان کے حق میں دے دیا کہ مسلم لیگ ہی سیاسی قضیے میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔
مولانا مودودی کے بیانیے اور حکمت عملی میں یہ نکتہ کتنی اہمیت رکھتا ہے، اسے مولانا کی اپنی زبان سے اس اقتباس میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ اگر پاکستان خدا نخواستہ ایک غیر اسلامی اور سیکولر ریاست میں بھی تبدیل ہو جائے تو وہ اپنا بیانیہ قوم کے سامنے رکھنے اور رائے عامہ کو قائل کرنے کی جدوجہد ازسرنو شروع کر دیں گے:
’’واضح طور پر سمجھ لیجیے کہ یہاں اسلامی نظام کا قیام صرف دو طریقوں سے ممکن ہے:
ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت زمام کار ہے، وہ اسلام کے معاملے میں اتنے مخلص اور اپنے ان وعدوں کے بارے میں جو انھوں نے اپنی قوم سے کیے تھے، اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہلیت ان کے اندر مفقود ہے، اسے خود محسوس کر لیں اور ایمان داری کے ساتھ یہ مان لیں کہ پاکستان حاصل کرنے کے بعد ان کا کام ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام تعمیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہوں۔ ۔……..
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک عمومی تحریک اصلاح کے ذریعے سے اس میں خالص اسلامی شعور وارادے کو بتدریج اس حد تک نشو ونما دیا جائے کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچے تو خود بخود اس سے ایک مکمل اسلامی نظام وجود میں آ جائے۔
ہم اس وقت پہلے طریقے کو آزما رہے ہیں۔ اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان کے قیام کے لیے ہماری قوم نے جو جدوجہد کی تھی، وہ لاحاصل نہ تھی بلکہ اس کی بدولت اسلامی نظام کے نصب العین تک پہنچنے کے لیے ایک سہل ترین اور قریب ترین راستہ ہمارے ہاتھ آ گیا، لیکن اگر خدا نخواستہ ہمیں اس میں ناکامی ہوئی اور اس ملک میں ایک غیر اسلامی ریاست قائم کر دی گئی تو یہ مسلمانوں کی ان تمام محنتوں اور قربانیوں کا صریح ضیاع ہوگا جو قیام پاکستان کی راہ میں انھوں نے کیں اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نقطہ نظر سے اسی مقام پر ہیں جہاں پہلے تھے۔ اس صورت میں ہم پھر دوسرے طریقے پر کام شروع کر دیں گے جس طرح پاکستان بننے سے پہلے کر رہے تھے۔‘‘ (ابوالاعلیٰ مودودی: ’’اسلامی ریاست۔ فلسفہ، نظام کار اور اصول حکمرانی‘‘، مرتب: خورشید احمد، اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ، لاہور، اکتوبر ۲۰۱۰ء، ص ۶۳۶، ۶۳۷)
سوال یہ ہے کہ عمران خان کے انداز فکر کی جڑیں ان میں سے کس رجحان میں ہیں اور ان کی سیاسی فکر کا شجرہ نسب کس سے جا ملتا ہے؟
گذشتہ ایک دہائی کے سیاسی اتار چڑھاؤ پر معمولی نظر رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ عمران خان افتاد طبع اور انداز فکر کے اعتبار سے پہلے رجحان کے حامل ہیں۔ خاص طور پر اقتدار سے محرومی پر انھوں نے جس طرح کے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ان کی نفسیاتی ساخت کی بہت واضح ترجمانی کرتا ہے۔
ان کی سیاسی کارکردگی یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اصل بیانیے کو قربان کر تے ہوئے انھوں نے الیکٹبکز کی ایک بڑی تعداد کو پارٹی میں قبول کر کے 2013 کا الیکشن لڑا۔ پھر حکومت بنانے کے لیے انھیں ایسے کئی سیاسی عناصر کے ساتھ بھی معاملہ کرنا پڑا جن پر وہ اس سے پہلے نفرین بھیجتے تھے۔ یہ سارا بندوبست مقتدر قوتوں کی مکمل تائید سے کیا گیا جسے اپنے اصولی اور ابتدائی موقف کے برعکس عمران خان نے قبول کیا۔
اقتدار میں آنے کے بعد جب وہ متوقع کارکردگی پیش کرنے میں ناکام رہے تو انھوں نے تدریجاً یہ اعتراف کرنا شروع کر دیا کہ انھیں حکومتی معاملات کا تجربہ نہیں تھا، ان کے پاس مناسب ٹیم نہیں تھی اور انھوں نے پہلے سے کوئی ہوم ورک نہیں کیا ہوا تھا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد بھی انھوں نے کئی غلط فیصلوں کا اعتراف کیا۔ وہ اور ان کے حواری برملا یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی اس کارکردگی کی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت بہت گر گئی تھی اور منتخب اراکین عوام کا سامنا کرنے سے کتراتے تھے۔
اس ساری صورت حال میں اپنی حکومت کے خاتمے کو حقیقت پسندانہ انداز میں سیاسی شکست کے طور پر قبول نہ کرنے اور ردعمل میں مرنے مارنے پر اتر آنے کی وجہ وہی انداز فکر ہے جو انھیں یہ باور کراتا ہے کہ اس ملک کی تقدیر سنوارنے کے لیے قدرت نے انھیں چن لیا ہے اور انھوں نے کچھ کر کے دکھایا ہو یا نہ ہو، اقتدار بہرحال انھی کا حق ہے۔ اس سے انھیں محروم کرنے کی کوشش کو ایک سیاسی عمل کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا، یہ لازماً قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے کی سازش ہے جس کی ذمہ داری عالمی طاقتوں کے فیصلے، کرپٹ سیاسی عناصر کی ملی بھگت اور ریاستی اداروں کی فعال یا خاموش تائید پر عائد ہوتی ہے۔ یوں پورا نظام عمران خان کا "مجرم" ہے جس کے محاسبے کے لیے قوم کو اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سڑکوں پر نکل آنا چاہیے۔
اس تناظر میں عمران خان کے سیاسی بیانیے اور اس کے استدلال پر گفتگو کی اہمیت بہت ثانوی ہو جاتی ہے۔ بنیادی ترین اور اہم ترین سوال یہ بن جاتا ہے کہ عمران خان کو اس مقام پر آخر کس نے براجمان کیا ہے؟ اگر وہ اور ان کے معتقدین خود ہی انھیں یہ حیثیت دے دینے کے مجاز ہیں تو ان کے طرز عمل میں اور ان عناصر کے طرزعمل میں کیا بنیادی فرق ہے جن کا اس بحث میں اوپر ذکر کیا گیا ہے؟
ہذا ما عندی واللہ تعالی اعلم
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(336) فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَیْہِ
درج ذیل آیت کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین کو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کا اثر ترجموں میں بھی نظر آتا ہے۔
وَذَا النُّونِ إِذ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَیْہِ۔ (الانبیاء: 87)
”اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصے سے لڑکر پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور مچھلی والے پیغمبر (یعنی یونس علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیے، جب وہ اپنی قوم سے خفا ہوکر چل دیے اور انھوں نے یہ سمجھا کہ ہم ان پر اس چلے جانے میں کوئی دار و گیر نہ کریں گے“۔ (اشرف علی تھانوی، دار و گیر کرنا اس کا معنی نہیں ہے)
”اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا، یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے“۔ (سید مودودی، گرفت کرنا اس کا معنی نہیں ہے)
”اور ذوالنون، کو (یاد کرو) جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے“۔ (احمد رضا خان، تنگی کرنا اس کا معنی نہیں ہے)
”اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
قرآن مجید کے استعمالات کی روشنی میں دیکھیں تو قدر علیہ کا مطلب کسی پر قابو پانا ہوتا ہے۔ درج ذیل مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے:
(۱) وَأُخْرَیٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہَا۔ (الفتح: 21)
”اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۲) أَیَحْسَبُ أَن لَّن یَقْدِرَ عَلَیْہِ أَحَدٌ۔ (البلد: 5)
”کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۳) إِلَّا الَّذِینَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَیْہِمْ۔ (المائدۃ:34)
”مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ“۔ (سید مودودی)
لیکن اس مفہوم کو اختیار کرنے میں مفسرین کے سامنے دشواری یہ تھی کہ ایک نبی کے سلسلے میں یہ کیسے کیا مانا جاسکتا ہے کہ وہ یہ گمان کرلے کہ اللہ اسے اپنے قابو میں نہیں کرسکتا ہے۔ کیوں کہ یہ گمان کرنے والا تو اسلام کے دائرے سے خارج ہوجائے گا۔
اس لیے بعض مفسرین نے کہا یہاں تنگی میں ڈالنے کا مفہوم ہے۔ اور اس کے لیے قرآن کی ان آیتوں سے استشہاد کیا جن میں روزی تنگ کرنے کی بات آئی ہے، جیسے:
وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاہُ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہُ۔ (الفجر: 16)
”اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
لیکن اس توجیہ کی کم زوری یہ ہے کہ قدر علیہ اور قدر علیہ الرزق دو الگ الگ اسلوب ہیں۔ یہ دونوں ہم معنی نہیں ہیں۔ قدر الرزق کا مطلب تو رزق کم کرنا ہے، لیکن صرف قدر علیہ کا مطلب یہ نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کے استعمالات سے ظاہر ہے۔
بعض مفسرین نے اس جملے کو سزا کا فیصلہ کرنے کے معنی میں لیا لیکن وہ بھی تکلف سے بھرپور توجیہ ہے۔ قرآن مجید میں تو اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ ظن کا مطلب یہاں سمجھنا یا گمان کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس طرح بھاگے تھے جیسے وہ بھاگتا ہے جسے یہ گمان ہو کہ وہ قابو میں نہیں آئے گا۔ ہم روز مرہ میں یہ اسلوب استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پر کسی مفرور کو پکڑ کر کہا جاتا ہے: ”تم سمجھ رہے تھے کہ ہمارے ہاتھ نہیں آؤ گے۔“ حالاں کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ ایسا سمجھ رہا ہو، بس یہ ہے کہ اس کے عمل سے ایسا لگ رہا تھا۔
اس طرح ترجمہ ہوگا:
”اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا گویا کہ ہم اس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔“
(337) اذا ماضی کے لیے نہیں ہوتا
وَتَرَی الْأَرْضَ ہَامِدَۃً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَاءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن کُلِّ زَوْجٍ بَہِیجٍ۔ (الحج: 5)
”اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی“۔ (احمد رضا خان)
”اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی“۔ (سید مودودی، ’اگانے لگتی ہے‘ أَنبَتَتْ کا درست ترجمہ ہے)
”اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے“۔(فتح محمد جالندھری)
آخری ترجمہ درست ہے، یعنی زمانہ حال کا بیان ہے نہ کہ زمانہ ماضی کا۔
(338) وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ کا ترجمہ
ذوقوا کا ترجمہ دیگر مقامات پر تو چکھو کرنا درست ہے، لیکن درج ذیل مقام کا تقاضا ہے کہ ’چکھتے رہو‘ ترجمہ کیا جائے، کیوں کہ وہ پہلے سے جہنم میں تھے، نکلنے کی کوشش کرتے اور دوبارہ لوٹائے جاتے اور ان سے یہ کہا جاتا۔
کُلَّمَا أَرَادُوا أَن یَخْرُجُوا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ أُعِیدُوا فِیہَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ۔ (الحج: 22)
”جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا“۔ (سید مودودی، وہ تو پہلے سے جہنم کا مزا چکھ رہے ہیں، پھر ’چکھو اب‘ کیوں کہا جائے گا)
”جب وہ چاہیں گے کہ اس رنج (وتکلیف) کی وجہ سے دوزخ سے نکل جائیں تو پھر اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو“۔ (فتح محمد جالندھری)
آخری ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی گئی ہے۔
(339) وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ
وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَیٰ أَجَلٍ مُّسَمًّی۔ (الحج: 5)
”اور ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں“۔ (محمد حسین نجفی)
”ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں صرف نطفے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ پل رہے انسان کا ذکر ہے، خواہ وہ نطفہ ہو یا مضغہ ہو یا علقہ ہو۔ اس پہلو سے آخری ترجمہ درست ہے۔
(340) مفعول بہ کا ترجمہ جس کا فعل محذوف ہو
(سورۃ الانبیاء کے کچھ مقامات)
سورۃ الانبیاء میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ ہے، شروع میں کچھ نبیوں کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ ان سے پہلے یا بعد میں آتینا کہہ کر بتایا ہے کہ انھیں کیا عطا کیا۔ جیسے: وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَیٰ وَہَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِیَاءً۔ اس کے بعد پھر بہت سے نبیوں کے ناموں کو ذکر کیا۔
جن نبیوں کا صرف نام ذکر کیا ہے انھیں نصب کی حالت میں رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں کوئی فعل محذوف ہے۔ وہ محذوف فعل کیا ہے؟ اس پر سیاق کلام سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
ترجمہ کرنے والوں نے یہاں تین طریقے اختیار کیے، بعض نے فعل کو محذوف رکھتے ہوئے ہی ترجمہ کیا۔ اکثر نے اذکر یعنی یاد کرو محذوف مان کر ترجمہ کیا۔ اور صاحب تدبر وصاحب تفہیم نے فضل و نعمت سے نوازنے کا مفہوم محذوف مانتے ہوئے ترجمہ کیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اسی آخری طریقے کو ترجیح دی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ پورا سیاق اللہ کے اس خاص فضل وکرم کے بیان کا ہے جو اس نے اپنے چنندہ بندوں پر کیا۔ شروع میں کچھ کے ساتھ اس کا ذکر کرکے سیاق کلام متعین کردیا اور پھر صرف ناموں کو نصب کی حالت میں ذکر کرکے قاری کو خود وہ مفہوم اخذ کرنے کا موقع دیا گیا۔ صاحب تدبر وصاحب تفہیم دونوں سے محذوف فعل کے علاوہ مفعول ثانی کو بیان کرنے میں کہیں کہیں کچھ فروگذاشت ہوگئی ہے، ذیل میں اس کی نشان دہی بھی کردی گئی ہے۔
وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَیٰ وَہَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِیَاءً وَذِکْرًا لِّلْمُتَّقِینَ۔ (الانبیاء: 48)
”پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ’ذکر‘ عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھَلائی کے لیے“۔ (سید مودودی)
وَلَقَدْ آتَیْنَا إِبْرَاہِیمَ رُشْدَہُ مِن قَبْلُ۔ (الأنبیاء: 51)
”اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے“۔(سید مودودی)
”اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت عطا فرمائی“۔ (امین احسن اصلاحی، رشد کا مطلب ہدایت نہیں ہوتا ہے، بلکہ سمجھ بوجھ ہوتا ہے)
وَلُوطًا آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا۔ (الأنبیاء: 74)
”اور لوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا“۔(سید مودودی)
”اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور لوط کو بھی ہم نے قوت فیصلہ اور علم کی نعمت عطا فرمائی“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں ’بھی‘ کا محل نہیں ہے)
وَنُوحًا۔ (الأنبیاء: 76)
”اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو)“۔ (فتح محمد جالندھری)
”نوح کے اس وقت کو یاد کیجئے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی“۔ (سید مودودی، ’یہی‘ غیر ضروری ہے۔ اور ہم نے نوح کو نعمت دی)
”اور نوح کو بھی“۔ (امین احسن اصلاحی، ہم نے اپنی ہدایت بخشی۔ یاد کرو، پہلے جملے کا محل نہیں ہے اور دوسرے جملے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ’ہم نے نوح پر اپنا فضل کیا‘ مناسب ہے۔)
وَدَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ۔ (الأنبیاء: 78)
”اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے“۔(محمد جوناگڑھی)
”اور اِسی نعمت سے ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو سرفراز کیا“۔ (سید مودودی، ’اسی‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ ’اور ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو نعمت سے سرفراز کیا‘)
”اور داؤد اور سلیمان پر بھی ہم نے اپنا فضل کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)
وَأَیُّوبَ۔ (الأنبیاء:83)
”ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوبؑ کو دی تھی“۔ (سید مودودی، یہاں بھی یہی کی ضرورت نہیں ہے۔ نعمت متعین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ’اور ہم نے ایّوبؑ کو نعمت دی تھی‘)
”اور ایوب پر بھی (ہم نے رحمت کی)“۔ (امین احسن اصلاحی)
وَإِسْمَاعِیلَ وَإِدْرِیسَ وَذَا الْکِفْلِ۔ (الأنبیاء: 85)
”اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے“۔ (سید مودودی، یہی کی ضرورت نہیں ہے۔ ’اوراسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو بھی نعمت دی‘)
”اور اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل پر بھی (ہم نے فضل کیا)“۔(امین احسن اصلاحی)
وَذَا النُّونِ۔ (الأنبیاء: 87)
”اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا“۔ (سید مودودی)
”مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو!“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ذوالنون پر بھی ہم نے (رحم کیا)“۔ (امین احسن اصلاحی، ’فضل کیا‘ بہتر ہے، جیسا کہ دیگر مقامات پر کیا ہے)
وَزَکَرِیَّا۔ (الأنبیاء: 89)
”اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور زکریّاؑ کو“۔ (سید مودودی، یہاں بھی نوازنے کا ذکر کرنا مناسب تھا)
”اور زکریا پر بھی (فضل کیا)“۔(امین احسن اصلاحی)
وَالَّتِی أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیہَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاہَا وَابْنَہَا آیَۃً لِّلْعَالَمِینَ۔ (الأنبیاء: 91)
”اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی“۔ (سید مودودی، یہ بھی اسی سیاق میں ہے، اس لیے نوازنے کا ذکر ہونا چاہیے تھا)
”اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اس (پاک دامن بی بی) پر بھی اپنا فضل کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)
(341) اعتصام بِاللَّہ کا مفہوم
عاصم کا مطلب ہوتا ہے بچانے والا۔ اعتصم کا مطلب ہوتا ہے بچنے کے لیے کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ لینا: نابغۃ کا شعر ہے:
یظَلّ، من خوفہِ، المَلاحُ مُعتصِمًا
بالخیزرانۃِ، بعدَ الأینِ والنجدِ
”ڈر کے مارے ملاح کشتی کا پچھلا حصہ تھامے رہتا ہے، جب کہ وہ تھکا ہارا عاجز و درماندہ ہوچکا ہوتا ہے۔“
پکڑنے والی چیز کے علاوہ جب یہ کسی بچانے والی ہستی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو پکڑنے کا معنی نہیں ہوتا ہے بلکہ سہارا لینا اور رشتہ تھام لینا ہوتا ہے۔ اعتصام بحبل اللہ کا مطلب تو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا ہے لیکن اعتصام باللہ کا ترجمہ اللہ کو مضبوطی سے پکڑنا نہیں بلکہ اس کا سہارا لینا اور اس کا رشتہ تھام لینا کیا جائے گا۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل ترجموں پر نظر ڈالیں:
(۱) وَمَن یَعْتَصِم بِاللَّہِ فَقَدْ ہُدِیَ إِلَیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ۔ (آل عمران: 101)
”جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا“۔ (سید مودودی)
”اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا“۔ (احمد رضا خان)
”جو شخص اللہ تعالیٰ (کے دین) کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھادی گئی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہی ہے جس کو صراط مستقیم کی ہدایت ملی“۔ (امین احسن اصلاحی، ’وہی ہے‘ نہیں رہے گا۔ ’اس کو‘ رہے گا)
(۲) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا۔ (آل عمران: 103)
”اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا“۔(فتح محمد جالندھری)
”سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو“۔ (سید مودودی)
”اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۳) وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ۔ (النساء: 146)
”اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں“۔ (محمد جوناگڑھی، اعتصام کا مطلب کامل یقین رکھنا نہیں ہے)
”اور اللہ کا دامن تھام لیں“۔ (سید مودودی)
”اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی“۔ (احمد رضا خان)
(۴) فَأَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَاعْتَصَمُوا بِہِ۔ (النساء: 175)
”اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے“۔ (سید مودودی، پناہ ڈھونڈنے کے لیے یہ لفظ نہیں آتا ہے، ’سہارا لیں گے‘ ہونا چاہیے۔)
”تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی“۔(احمد رضا خان)
”پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پس جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑ لیا“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۵) وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ۔ (الحج: 78)
”اور اللہ کو مضبوط پکڑو“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ“۔ (سید مودودی)
”اور اللہ کو مضبوط تھام لو“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو“۔ (احمد رضا خان)
”اور اللہ کا سہارا لیے رہو“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
ان تمام ترجموں میں اللہ کا سہارا لینا، اللہ کی رسی مضبوط تھامنا، اللہ سے وابستہ ہوجانا، اللہ کا دامن تھام لینا وغیرہ درست ترجمے ہیں۔
اللہ کو پکڑنا مناسب ترجمہ نہیں ہے۔
اسی طرح اللہ کے دین کو پکڑنا یا اللہ کی ہدایت کی رسی کو پکڑنا بھی اس لفظ کو محدود کردیتا ہے۔ دین و ہدایت اعتصام باللہ کا تقاضا ضرور ہے، لیکن اس لفظ کی خاص معنویت ہے۔ اس سے یہاں خطرات کو محسوس کرنا، اپنے بچاؤ کی فکر کرنا اور بچنے کے لیے اللہ کا سہارا لینا مراد ہے۔ انسان یہ سمجھے کہ اس دنیا میں اللہ کا سہارا ہی اصل سہارا ہے اور اس سے بے نیاز ہونا بڑی نادانی ہے۔
مشائخ احناف کے تصور دلالۃ النص پر چند سوالات
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل
ان سوالات کا مقصد نفس مسئلہ کو سمجھنا ہے۔ حنفی اصول فقہ کے مطابق حدود و کفارات میں قیاس کااجراء جائز نہیں کہ قیاس ظنی ہے جس میں شبے کا امکان ہوتا ہے اور شبے سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں نیز حدود شارع کی مقرر کردہ مقدارات ہیں جن میں رائے کا عمل دخل جائز نہیں۔ تاہم احناف کے نزدیک دلالۃ النص کے ذریعے حدود و کفارات کے احکام کا پھیلاؤ جائز ہے۔ چونکہ دلالۃ النص اور قیاس دونوں سے بظاہر منصوص حکم پھیل کر فرع پر جاری ہوتا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ دلالۃ النص اور قیاس میں کیا فرق ہے؟ یہاں ہم مشائخ احناف کے نزدیک اس کے تصور پر بحث کرتے ہیں۔ مشائخ احناف کے مطابق:
1) دلالۃ النص لفظ کی لغوی دلالت کا معاملہ ہے نہ کہ شرعی دلالت کا، احناف قیاس کو شرعی تاثیرات کا معاملہ کہتے ہیں اور ان دونوں میں شعورا اسی بنا پر فرق کرتے ہیں، نیز
2) اس کی دلالت ایسی واضح ہوتی ہے کہ اسے سمجھنے کے معاملے میں عامی اور مجتہد دونوں برابر ہیں۔
دلالۃ النص کی دلالت قیاس کے مقابلے میں قوی تر ہونے کی بنا پر حدود و کفارات میں دلالۃ النص کے اجراء کو احناف جائز کہتے ہیں۔ یاد ر ہے کہ دلالت کی تقویت کے لحاظ سے احناف دلالۃ النص کو عبارۃ النص سے نیچے رکھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ عبارت النص کے مساوی قوی لغوی دلالت نہیں بلکہ اس سے کم تر ہے۔
درج بالا بیان میں "لغوی دلالت" سے کیا مراد ہے؟ اس سے ذہن میں تین امکانات آتے ہیں:
1) باعتبار وضع لفظ کا مفہوم،
2) باعتبار عرف لغوی لفظ کا مفہوم،
3) تیسرا امکان بطریق استعمال ہے، یعنی سیاق کلام میں لفظ کےاستعمال کا کسی معنی کو ظاہر کرنا ۔
اس اعتبار سے دلالۃ النص کے تحت پیش کردہ مثالوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔
1) اگر کسی نے کہا کہ "میں زید کو ایک روپیہ نہ دوں گا"، تو دو روپے یا اس سے زائد رقم دینا بطریق اولی منع ہوگا کیونکہ دو روپے میں ایک روپے کا مفہوم شامل ہے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن میں آیا کہ جو شخص ایک ذرے کے برابر عمل کرے گا اسے اس کا اجرملے گا۔ تو ایک سے زیادہ پر عمل کا اجر بطریق اولی ثابت ہوا اور یہ لغوی دلالت "بطریق وضع" کی صورت ہے ۔
2) لیکن اگر کسی نے کہا کہ "فلاں کے پاس ایک ٹکا بھی نہیں ہے " ، یہاں دو ٹکوں کی نفی تو بطریق وضع لازم آئے گی مگر ایک سے کم کی نفی لازم نہیں آئے گی بلکہ اس کے لئے اہل زبان کے عرف کو دیکھنا ہوگا، یعنی اگر وہ محاورتاً ایک ٹکے کی نفی سے ہر قسم کے مال کی نفی مراد لیتے ہیں تو پھر آدھے ٹکے کی نفی بھی درست ہوگی ۔ اسی طرح اگر کہا کہ "فلاں شخص کو ڈھیر مال بھی دو تو خیانت نہیں کرتا" تو ڈھیر سے کم مقدار مال بطریق اولی اس میں شامل ہوگا کہ وہ ڈھیر میں شامل ہے مگر ڈھیر سے زیادہ مثلا دو ڈھیر بطریق وضع اس میں شامل نہیں ہوگا۔ البتہ بطریق عرف اسے مراد لینے کی گنجائش ہوگی ۔
3) قرآن نے کہا کہ والدین کو "اف " نہ کہو اور سیاق کلام سے واضح ہوا کہ مقصد والدین کا احترام ہے (جیسا کہ ارشاد ہوا : لَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ)۔ چنانچہ لفظ کے استعمال کے مقام نے "اف" کے مفہوم کو واضح کردیا اور یوں والدین کو مارنے، گالی دینے اور قتل وغیرہ کرنے کی ممانعت بطریق اولی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہوگئی۔ یاد رہے کہ لفظ "اف" سے لغوی طور پر مارنے کی ممانعت بطریق وضع لازم آنا ضروری نہیں کیونکہ یہ لفظ "مارنے"کے مفہوم کو شامل نہیں (جیسے دو میں ایک کا مفہوم شامل ہے) بلکہ ایسا ممکن ہے کہ "اف" کہنے سے منع کرنے کے باوجود زیادہ ایذا دینا جائز ہو۔ مثلا ایک بادشاہ کسی محترم شخص (مثلا کسی دوسرے ملک کے بادشاہ) کو کسی جرم کے سبب قتل کرناچاہتا ہے اور جلاد کو کہتا ہے: "اسے اف تک مت کہنا، بس قتل کردو" تو یہ کلام قابل فہم ہے۔ اسی قبیل کی مثال یہ ہےکہ شارع نے یتیم کا مال (ناجائز طریقے پر ) کھانے سے منع کیا ہے، سیاق کلام سے واضح ہے کہ مقصود صرف کھانا نہیں بلکہ ضائع کرنا ہے، لہذا اس کے مال کو جلانا بھی اسی مفہوم میں شامل ہوا۔
احناف کے نزدیک درج بالا سب مثالیں دلالۃ النص میں شامل ہیں۔ تاہم ان کے سوا چند ایسی مثالیں بھی ہیں جو دلالۃ النص کی درج بالا تشریح پر بمشکل پورا اترتی ہیں۔ دو مثالوں پر غور کرتے ہیں:
1) نص میں باندی پر بدکاری کی سزا آزاد عورت کے مقابلے میں نصف قرار دی گئی ہے۔ کیا غلام پر بھی یہی حکم لاگو ہوگا؟ احناف اسے دلالۃ النص قرار دیتے ہوئے غلام پر بھی یہی حکم جاری کرتے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہےکہ لفظ باندی کے مفہوم میں لغوی اعتبار سے غلام کی شمولیت کا طریقہ کیا ہے؟ ظاہر ہے نہ بطریق وضع اور نہ ہی بطریق عرف لفظ باندی غلام کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہاں اس حکم کی بنیاد باندی ہونا نہیں بلکہ "غلامیت" کا وصف ہے تو اسے ہی قیاس کرنا کہتے ہیں، یعنی وصف مشترک کی بنا پر ایک جزئی کے حکم کو دوسرے پر جاری کرنا۔ اس استدلال کو یتیم کا مال کھانے یا والدین کو اف کہنے کی طرح "بطریق استعمال "قرار دینا بھی مشکل ہے کیونکہ سیاق کلام سے اسے سمجھنا ممکن نہیں، چہ جائیکہ عامی بھی اسے سمجھ سکے۔ احناف اسے قیاس اس لئے نہیں کہتے کیونکہ ان کے نزدیک حدود میں قیاس جائز نہیں اوراس لئے وہ اس حکم کو دلالۃ النص کے تحت پھیلاتے ہیں۔
2) حدیث میں آتا ہے کہ جب ایک اعرابی نے اپنی بیوی کے ساتھ روزے کی حالت میں مجامعت کرلی تو آپﷺ نے اس پر کفارہ عائد کیا۔ احناف کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر روزے کی حالت میں کھا پی لے تب بھی اس پر کفارہ عائد ہوگا اور اس کی بنیاد ان کے نزدیک یہ ہے کہ کفارہ عائد کئے جانے کی وجہ جانتے بوجھتے روزہ توڑنا اور اس کی اہانت کرنا تھا نہ کہ مجامعت کرنا، لہذا کھانا پینا بھی دلالۃ النص کے طریقے پر مجامعت کے مفہوم میں شامل ہے۔ یہاں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے جو باندی والی مثال پر پیدا ہوا کہ آخر کھانے پینے کو مجامعت کے مفہوم میں شامل کرنے کی "لغوی بنیاد" کیا ہے نیز اس میں اور قیاس میں کیا فرق ہے؟ مزید یہ کہ "روزہ ٹوٹنا" ایک شرعی مفہوم ہے نہ کہ لغوی معاملہ، اسے دلالۃ النص قرار دیتے ہوئے لغت کا معاملہ کس مفہوم میں مراد لیا جائے؟ یہاں بھی احناف کے نزدیک اسے قیاس نہ ماننے کی وجہ یہی ہے کہ حدود و کفارات میں ان کے نزدیک قیاس جائز نہیں۔ امام جصاص و امام سرخسی کے ہاں اعرابی والی مثال پر بحث دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرات اس حکم کی توجیہہ معین نص کے خاص الفاظ سے بھی کرتے ہیں جس کے بعد یہ دلالۃ النص کے بجائے عبارت النص کی صورت بن جاتی ہے اور اسے دلالۃ النص کی مثال کہنا درست نہیں رہتا۔1
ایک ممکنہ توجیہ اور اس کے مسائل
ممکنہ طورپر ایک توجیہ یہ ذہن میں آتی ہے کہ دلالۃ النص میں "شریعت یا شارع کا عرف"بھی مراد ہے، یعنی شرع کے احکام کا استقراء کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شارع نے بعض قسم کے احکام میں بعض قسم کے اوصاف و فروق کا لحاظ نہیں رکھا، لہذا اگرچہ آیت کسی خاص جزئی کا حکم بیان کررہی ہو مگر دیگر خود بخود اس میں شامل سمجھے جائیں گے۔ چنانچہ بدکاری کی سزا میں تخفیف کا حکم اگرچہ باندی کے لئے آیا ہے، تاہم اسے غلام کے لئے بھی مانا جائے گا کیونکہ حکم کی بنیاد "غلامیت " کا وصف ہے نہ کہ مرد و عورت ہونا۔ اس توجیہ سے تین سوالات جنم لیتے ہیں:
پہلا مسئلہ- مشائخ کی عبارات کی توجیہ کیا ہوگی؟
مشائخ احناف شعوری طور پر اس بات کی نفی کرتے ہیں، یعنی وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ لغت کا معاملہ ہے نہ کہ شرعی احکام پر مبنی عرف کا۔ چنانچہ اس توجیہ کو ماننے کے لئے مشائخ کی صریح عبارات کی توجیہ و تاویل کرنا ہوگی۔ ان عبارات کو اس توجیہ کے ساتھ کیسے ایڈجسٹ کیا جائے؟
امام دبوسی، سرخسی (م 483 ھ) و بزدوی (م 482 ھ) رحمہم اللہ نے دلالۃ النص کو جن الفاظ میں پیش کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:
- امام دبوسی نے پانچ باتیں صریح الفاظ میں واضح فرمائی ہیں:2
الف) دلالۃ النص لغوی مفہوم سے ثابت ہونے والا حکم ہے (فمن حيث كان الموجب ثابتاً بمعنى النص لغة) نہ کہ شریعت کے احکام سے (لأن معناه بلا خلل فيه معروف باللغة لا بالشريعة)
ب) یہ معنی فی الفور اور بلاخلل سمجھ آنے والا ہوتا ہے، برخلاف قیاس جہاں غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے
ج) اس لغوی دلالت کو عامی (یعنی غیر مجتہد) بھی سمجھ لیتا ہے (حتى فهمه كل من عرف معنى النص لغة كما لو كان النص عاماً)
د) اگر کسی زبان میں لفظ "اف" کا مطلب ایذا نہ ہو تو اس زبان والے پر اس کی یہ دلالت ثابت نہ ہوگی (حتى لا يحرم على قوم لا يعقلون معناه أو كان عندهم هذا اسماً لضرب كرامة)
ھ) قیاس کا مطلب شرعی مفہومات و تاثیرات کے پھیلاؤ سے معلوم ہونے والا حکم ہوتا ہے نہ کہ لغت سے (فالقياس منا: استنباط علة من النص بالرأي ظهر أثرها في الحكم بالشرع لا باللغة)
چنانچہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ دلالۃ النص کا مطلب "شریعت کے عرف" کا لحاظ رکھتے ہوئے حکم کو پھیلانا بھی ہے۔
- امام سرخسی3 کی عبارت بھی یہ بتاتی ہے کہ دلالۃ النص میں جسے لغوی دلالت کہا جاتا ہے اس کا شرعی احکام پر مبنی عرف سے تعلق نہیں اور اسی بنا پر یہ قیاس سے الگ ہوتا ہے نیز آپ فرماتے ہیں کہ یہاں فقہیہ و غیر فقہیہ دونوں برابر ہیں (ويشترك فِي معرفَة دلَالَة النَّص كل من لَهُ بصر فِي معنى الْكَلَام لُغَة فَقِيها أَو غير فَقِيه)۔ نیز آپ بھی امام دبوسی کے تتبع میں "اف" والی مثال میں فرماتے ہیں کہ جسے اس لفظ کا مطلب نہ معلوم ہو یا جس کا تعلق ایسی قوم سے ہو جن کی زبان میں یہ لفظ اکرام کے معنی میں بولا جاتا ہو اس کے لئے یہ حکم ثابت ہی نہیں ہوسکے گا کیونکہ یہ لغت کا معاملہ ہے۔ اسی طرح آپ نے قیاس اور دلالۃ النص کا جو فرق کیا ہے وہ بھی یہی واضح کررہا ہے کہ ان کے ہاں دلالۃ النص کا "شریعت کے عرف والی لغوی دلالت" سے تعلق نہیں، شرعی امور کی تاثیرات کا تعلق قیاس سے ہے۔
- امام بزدوی بھی یہی فرماتے ہیں کہ دلالۃ النص اجتہاد و استنباط سے ثابت شدہ شرعی احکام کا معاملہ نہیں ہے بلکہ لغت کا معاملہ ہے نیز اسے سمجھنے میں عامی و مجتہد سب برابر ہیں۔4
پس اگر یہ بات مان لی جائے کہ دلالۃ النص شریعت کے عرف کا معاملہ ہے تو مشائخ احناف کی ان صریح عبارات کی کیا توجیہہ کی جائے جو اس کی نفی کرتی معلوم ہورہی ہیں ۔
دوسرا مسئلہ- کیا مجتہد و عامی اسے سمجھنے میں مساوی ہوسکتے ہیں؟
اس توجیہ کے بعد اس بات کا کیا مطلب رہا کہ دلالۃ النص کو سمجھنے میں عامی و مجتہد دونوں برابر ہیں ؟ مشائخ احناف دلالۃ النص کے نزدیک لغوی دلالت پر مبنی حکم کا ایسا پھیلاؤ ہے جسے سمجھنے میں مجتہد و عامی دونوں مساوی ہوتے ہیں۔ امام دبوسی نے دلالۃ النص کے مفہوم کو سمجھانے کے لئے دس مثالوں کا تذکرہ کیا ہے، یہاں ہم ان میں سے تین مثالیں پیش کرتے ہیں۔5
قرآن نے زانی پر حد کی سزا کا اجرا کیا، بعض علماء (جیسے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ) نے لوطی پر بھی اس بنا پر اسے جاری فرمایا کہ ان کے نزدیک زنا کا مطلب شرم گاہوں کا ملاپ ہے نیز یہ کہ اس کی حرمت اس لحاظ سے بڑھ کر ہے کہ خاتون کے ساتھ مباشرت نکاح سے جائز ہوجاتی ہے جبکہ مرد کے ساتھ اس کی ممانعت دائمی ہے نیز یہ کہ اس میں انسانی نسل کا بھی ضیاع ہے۔ تاہم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عمل قوم لوط زنا کے مساوی نہیں کہ ایک تو مفعول کے لحاظ سے اس عمل میں ویسی شہوت نہیں پائی جاتی جیسے زنا میں مفعول میں پائی جاتی ہے نیز یہ کہ اس میں زنا کی طرح انسانی نسل کا ضیاع نہیں پایا جاتا۔ پس آپ لوطی پر حد جاری کرنے کے قائل نہیں۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اس معاملے کے منصوص سے اولی و مساوی ہونے میں اختلاف عامی میں نہیں ہوا بلکہ ائمہ مجتہدین کے مابین ہوا۔ ایسے میں عامی سے یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ وہ اس معاملے کو سمجھ سکے؟
- کھانے پینے سے روزے کا کفارہ لازم آنا
جماع سے کفارہ لازم آنے کی وجہ روزے کی افطار ہے نہ کہ بیوی سے تعلق کرنا، اگر یہی سبب ہوتا تو کفارہ لازم نہ آتا (کیونکہ بیوی سے جماع ازخو د جائز ہے) اور روزہ توڑنے کا معنی ، جو کہ ایک شرعی اسم ہے، کھانے پینے میں بھی مساوی طور پر شامل ہے۔ روزے کا مطلب شہوت کو روکنا ہے اور اس اعتبار سے کھانا پینا و جماع مساوی معنی میں ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ قیاس نہیں بلکہ قیاس وہ ہے جو امام شافعی نے کیا کہ اگر کسی کو زبردستی کچھ کھلایا پلایا جائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا جیسے بھولے سے کچھ کھانے سے نہیں ٹوٹتا کیونکہ دونوں میں ارادہ نہ پایا جانا مشترک ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک جماع پر تو کفارہ لازم آتا ہے مگر کھانے پینے سے نہیں کیونکہ آپ اسے جماع کی خصوصیت قرار دیتے ہیں۔ اب اگر یہ ایسا لغوی معاملہ ہوتا جیسے عامی بھی سمجھ سکتا ہے تو امام شافعی جیسے مجتہد اور عربی دان پر یہ کیوں کر مخفی رہا؟
- قتل عمد اور یمین غموس پر کفارہ
شارع نے قتل خطا پر کفارہ عائد کیا ہے، امام شافعی کے مطابق قتل عمد پر بطریق اولی کفارہ عائد ہوگا کیونکہ خطا ایسا عذرہے جس سے حقوق اللہ ساقط ہوتے ہیں ۔ لہذا اصول کا تقاضا یہ تھا کہ قتل خطا پر کفارہ عائد نہ ہوتا ، لیکن جب غلطی کے باب میں شرع نے کفارہ واجب کیا تو عمداً ایسا کرنے پر بطریق اولی ہوگا۔ اسی طرز پر امام شافعی کہتے ہیں کہ جس طرح یمین منعقدہ (مستقبل کی بات پر قسم کھا کر) توڑنے پر کفارہ ہے اسی طرح یمین غموس (ماضی کی بات پر جھوٹی قسم کھانے) پر بطریق اولی کفارہ ہوگا کیونکہ موخر الذکر میں جھوٹ پایا جانا زیادہ واضح ہے۔ احناف کے نزدیک یمین غموس پر کفارہ نہیں ۔ اس کی وجہ امام دبوسی یہ بتاتے ہیں کہ کفارہ ان امور پر لازم نہیں آتا جو سراسر ممنوع و حرام ہوں بلکہ کفارہ ان امور پر لازم آتا ہے جن میں اباحت و ممانعت دونوں پہلو پائے جائیں۔ پس قتل عمد چونکہ اصلا حرام ہے لہذا اس پر کفارہ عائد نہیں ہوگا اور اسی طرح یمین غموس چونکہ اصلا حرام ہے اس لئے اس بھی کفارہ عائد نہ ہوگا ۔ یمین منعقدہ میں یہ دونوں پہلو اس لحاظ سے جمع ہوگئے کہ ایسی قسم اصلا جائز ہے مگر زیادہ قسمیں کھانے کو پسند نہیں کیا گیا۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ امام شافعی جو استدلال فرما رہے ہیں، پہلی مثال کے برعکس اس کا جواب متعلقہ عمل میں کسی ایسی جہت کا دکھانا نہیں جس سے وہ کم معنی کی حامل ہوجائے (جیسا کہ لوطی کی مثال میں ہوا کہ امام ابوحنیفہ نے اس میں ایسی جہات واضح فرمائیں جس سے اس کی حرمت زنا کم تر ہوگئی) بلکہ امام دبوسی نے اس کا جواب شریعت کے ایک الگ و مستقل اصول (کفارات مباح و ممانعت لئے ہوئے امور میں ہوتا ہے) سے دیا ۔ کیا عامی اس اصول کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا اعرابی والی (یا کسی دوسری) مثال میں عامی اس اصول کا لحاظ رکھ سکتا ہے؟
تیسرا مسئلہ- دلالۃ النص اور قیاس میں فرق کیا ہے؟
آخری سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ اس کے بعد قیاس اور دلالۃ النص میں کیا فرق ہے؟ دلالۃ النص کے ضمن میں امام دبوسی ہی کی پیش کردہ چند مثالوں پر غور کرتے ہیں۔
- گھروں میں گھومنے والی بلی کی نجاست کا حکم
آپﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ بلی کا جھوٹا نجس نہیں کیونکہ وہ طوافین (یعنی عام طور پر گھروں میں گھومنے پھرنے والیوں ) کی طرح ہے۔ امام دبوسی کہتے ہیں کہ بلی کے جھوٹے کی نجاست کی تطہیر عبارت النص کے طور پر جبکہ گھروں میں گھومنے والے دیگر جانوروں جیسے کہ سانپ (یا چھپکلی وغیرہ) کے جھوٹے کی تطہیر دلالۃ النص سے ثابت ہوئی۔ اس مثال سے معلوم ہوا کہ منصوص علت (اگرچہ صریح نہ ہو) پر مبنی حکم کا پھیلاؤ دلالۃ النص ہے۔ "صریح منصوص علت" سے مراد ایسے الفاظ کا استعمال ہے جو بااعتبار وضع لغوی طور پر سببیت کے مفہوم کا فائدہ دیتے ہیں، جیسے "کی" (تاکہ) یا "من اجل ذٰلک" (اس لیےیا اسی وجہ سے) وغیرہ الفاظ۔
آپﷺ نے استحاضہ (حیض کی مدت سے متصل دورانئے میں خاتون کو آنے والے خون) کے بارے میں فرمایا کہ یہ رگ سے نکلنے والا خون ہے، اس کے نکلنے کے بعد ہر نماز کے لئے وضو کیا جائے۔ پس خون کی نجاست کا یہ حکم جسم کے دیگر مقامات سے نکلنے والے خون پر بطریق دلالۃ النص ثابت ہوگا۔ یہاں بھی علت اگرچہ صریح طور پر منصوص نہیں، تاہم اس سے ثابت ہونے والے حکم کا پھیلاؤ امام دبوسی کے نزدیک دلالۃ النص ہے۔
ان دو مثالوں سے واضح ہوا کہ غیر صریح منصوص علت کے پھیلاؤ سے حاصل ہونے والا حکم دلالۃ النص کی کیفیت لئے ہوتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ احناف کے نزدیک وہ علت جو قیاسی حکم کا فائدہ دیتی ہے، وہ دلالۃ النص والی علت یا معنی سے مختلف کیسے ہے؟ کیا مشائخ احناف کے ہاں اخذ علت کے ایسے طرق بھی موجود ہیں جو صراحتا منصوص و غیر منصوص کے سوا ہوں؟
مشائخ احناف دلالۃ النص اور قیاس کے مابین اس بنیاد پر فرق کرتے ہیں کہ دلالۃ النص لغوی دلالت سے جبکہ قیاس شرعی تاثیرات سے حاصل ہونے والا حکم کا پھیلاؤ ہے۔ یہاں یہ سوال اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ "شرعی تاثیر " سے کیا مراد ہے؟ مشائخ کے نزدیک اس سے مراد کسی وصف کا کسی حکم میں اثر ظاہر ہونا ہے (یہ تعریف بذات خود سرکلر نوعیت کی محسوس ہوتی ہے)۔ یہ اثر کیسے ظاہر ہوتا ہے یا با الفاظ دیگر اس اثر کا علم کیسے ہوتا ہے؟ اس کا جواب مشائخ کے نزدیک نصوص و اجماع کے بیانات ہیں۔ اس مقام پر آکر اصل مشکل سامنے آتی ہے: آخر دلالۃ النص اور قیاسی علت میں فرق کی بنیاد کیا ہے؟ اسے یوں سمجھئے کہ مسالک علت کیا کیا ہیں؟ امام دبوسی و سرخسی کے ہاں اس عنوان سے کلام نہیں ملتا، البتہ امام سرخسی قیاس کی بحث میں اس سوال سے بحث کرتے ہوئے کہ "کسی نص کا معلول ہونا کیسے معلوم ہوتا ہے"، اصول السرخسی میں اس کے طرق کو یوں بیان کرتے ہیں کہ کسی نص کی تعلیل چار طرح ہوتی ہے:6
الف) کسی نص سے، جیسا کہ ارشاد ہوا لَا يكون دولة بَين الْأَغْنِيَاء مِنْكُم،
ب) فحوی النص سے، جیسے آپﷺ کا یہ فرمان کہ اگر چوہا جمے ہوئے گھی میں گرجائے تو چوہا نکال کر آس پاس والے گھی کو پھینک دو اور باقی استعمال کرلو لیکن اگر گھی مائع حالت میں ہو تو سارا گھی پھینک دو، اس حدیث میں علت کی طرف اشارہ ہے۔ یہی معاملہ ربا کی علت کا ہے یعنی وہ بھی اسی طرح فحوی النص کے قیبل سے ہے،
ج) نص میں مذکور حکم پر استدلال سے، جیسے استحاضہ کے خون والی مثال،
د) اور قائلین قیاس کے اجماع سے
غور کیجئے کہ دلالۃ النص میں بھی انہی جیسے امور کی بنا پر حکم پھیلایا جاتا ہے جیسا کہ اوپر دی گئی دو مثالوں سے واضح ہوا۔ مزید غور طلب بات یہ ہے کہ امام دبوسی (اور اسی طرح امام سرخسی) استحاضہ والی مثال کو دلالۃ النص کے تحت رکھتے ہیں جبکہ یہاں امام سرخسی اسے تعلیل کے مسلک "استدلال" کے تحت لارہے ہیں۔ ایسے میں یہ مزید سوال ذہن میں آتا ہے کہ قیاسی علت کے مسلک استدلال اور دلالۃ النص کی لغوی دلالت میں فرق کیا رہا؟ تیسری قابل غور بات یہ ہے کہ امام سرخسی کے مطابق ربا کی علت استدلال نہیں بلکہ فحوی النص کے قبیل سے ہے جبکہ یہ مشائخ دلالۃ النص اور قیاس کا فرق سمجھاتے ہوئے مسئلہ ربا کو قیاس کی مثال کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔ پس اگر ربا قیاس کی مثال ہے جس کی علت فحوی النص کے قبیل سے ہے، تو یہ دلالۃ النص سے الگ کیسے ہوئی؟
مزید آگے بڑھتے ہوئے جب مشائخ احناف کے ہاں قیاس کی بحث (فصل فی الرکن) میں یہ دیکھا جائے کہ کسی وصف کی "شرعی تاثیر" ظاہر ہونے کی کیفیت یا صورتیں کیا ہیں، تو امام سرخسی و بزدوی اس کی مثال میں استحاضہ کی مثال بھی ذکر کرتے ہیں7 جہاں خون کی تاثیر حکم نجاست میں ظاہر ہوئی جبکہ اسی مثال کو دلالۃ النص بھی کہا گیا جو کہ لغوی علت ہوتی ہے۔
پس ان سب امور کے پیش نظر یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ مشائخ احناف کے ہاں دلالۃ النص اور قیاس میں فرق کی بنیاد کیا ہے؟ ان کے بیانات کی روشنی میں کیا دلالۃ النص اور قیاس میں "کم و زیادہ غور و فکر کی ضرورت " کے سوا بھی کوئی اصولی فرق ہے؟
مراجعات
أصول البزدوي، للبزدوی، دار السراج، مدینۃ المنورۃ، طبعۃ الثانیۃ، 2016 ء
أصول الفقہ، لأبي بكر السرخسي، دار المعرفۃ، بيروت، (تاريخ الطباعۃ غير موجود)
الفصول في الأصول، للجصاص الرازي، وزارۃ الأوقاف الكويتيۃ، 1994 ء
المبسوط، للسرخسي، دار المعرفۃ، بيروت، 1993ء
تقويم الأدلۃ في أصول الفقۃ، لأبي زيد الدبوسي، دار الكتب العلميۃ، بيروت، 2001
حواشی
- امام سرخسی کے الفاظ یوں ہیں: وَلَنَا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْطَرْتُ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ: مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَلَا سَفَرٍ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً» وَإِنَّمَا فَهِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سُؤَالِهِ الْفِطْرَ بِمَا يَحُوجُهُ إلَيْهِ، كَالْمَرَضِ وَالسَّفَرِ. وَذَكَرَ أَبُو دَاوُد أَنَّ الرَّجُلَ قَالَ: شَرِبْتُ فِي رَمَضَانَ۔۔۔وَقَالَ عَلِيٌّ ": - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إنَّمَا الْكَفَّارَةُ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ (المبسوط: 3 / 73)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب اس حکم کو لفظ "فطر" کے عموم کے تحت رکھتے ہیں۔ اسی طرح امام جصاص فرماتے ہیں: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: قَدْ أَوْجَبْتُمْ الْكَفَّارَةَ عَلَى الْآكِلِ فِي رَمَضَانَ قِيَاسًا عَلَى الْمُجَامِعِ. وَالْأَثَرُ إنَّمَا وَرَدَ فِي الْمُجَامِعِ. قِيلَ لَهُ: لَيْسَ (هَذَا) كَمَا ظَنَنْتَ؛ لِأَنَّهُ قَدْ وَرَدَ فِي إيجَابِ الْكَفَّارَةِ لَفْظٌ يَقْتَضِي ظَاهِرُهُ وُجُوبَهَا عَلَى كُلِّ مُفْطِرٍ، وَهُوَ مَا رُوِيَ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْطَرْتُ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ بِالْكَفَّارَةِ» وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ جِهَةِ الْإِفْطَارِ، وَظَاهِرُهُ يَقْتَضِي وُجُوبَهَا عَلَى كُلِّ مُفْطِرٍ (الفصول فی الاصول: 4 / 108)
- آپ کے الفاظ یوں ہیں: وأما الثابت بدلالة النص: فما ثبت بالاسم المنصوص عليه عيناً أو معنى بلا خلل فيه، ولكن في مسمى آخر هو غير منصوص عليه. فمن حيث كان الموجب ثابتاً بمعنى النص لغة بلا خلل لم يكن الحكم في المحل الذي لا نص فيه ثابتاً قياساً شرعياً، لأن معناه بلا خلل فيه معروف باللغة لا بالشريعة۔ ومن حيث ثبت في محل لا نص فيه لم يكن منصوصاً عليه بعينه فسميناه دلالة النص لأن الحكم أبداً يعم بعموم موجبه فالمحل المنصوص عليه وإن كان خاصاً فالموجب عام فدل عمومه على عموم الحكم لما لا نص فيه. مثال قوله تعالى: {فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما} فالتأفيف حرام نصاً والشتم والقتل دلالة النص حتى فهمه كل من عرف معنى النص لغة كما لو كان النص عاماً، وذلك لأن الحرام بالنص التأفيف وإنه اسم وضع لكلام فيه ضرب إيذاء واستخفاف فصار حراماً بمعناه لا بصورة النظم حتى لا يحرم على قوم لا يعقلون معناه أو كان عندهم هذا اسماً لضرب كرامة فكانت الصورة محلاً للمعنى. ولما كان سبب الحرمة معناه وهو الإيذاء وإنه بقدره موجود في كلمات أخر وأفعال من الضرب والقتل مع زيادة ثبتت الحرمة عامة، ولم يكن قياساً۔ فالقياس منا: استنباط علة من النص بالرأي ظهر أثرها في الحكم بالشرع لا باللغة متعدية إلى محل لا نص فيه كما قلنا في قوله صلى الله عليه وسلم: "الحنطة بالحنطة" إنه معلول بالكيل والجنس بالرأي لأنه ليس بعين الحنطة ولا عين معناها لغة، ولا ما أوجبه النص (تقویم الادلۃ: 132)
- فَأَما الثَّابِت بِدلَالَة النَّص فَهُوَ مَا ثَبت بِمَعْنى النّظم لُغَة لَا استنباطا بِالرَّأْيِ لِأَن للنظم صُورَة مَعْلُومَة وَمعنى هُوَ الْمَقْصُود بِهِ فالألفاظ مَطْلُوبَة للمعاني وَثُبُوت الحكم بِالْمَعْنَى الْمَطْلُوب بِاللَّفْظِ بِمَنْزِلَة الضَّرْب لَهُ صُورَة مَعْلُومَة وَمعنى هُوَ الْمَطْلُوب بِهِ وَهُوَ الإيلام ثمَّ ثُبُوت الحكم بِوُجُود الْمُوجب لَهُ فَكَمَا أَن فِي الْمُسَمّى الْخَاص ثُبُوت الحكم بِاعْتِبَار الْمَعْنى الْمَعْلُوم بالنظم لُغَة فَكَذَلِك فِي الْمُسَمّى الْخَاص الَّذِي هُوَ غير مَنْصُوص عَلَيْهِ يثبت الحكم بذلك الْمَعْنى وَيُسمى ذَلِك دلَالَة النَّص فَمن حَيْثُ إِن الحكم غير ثَابت فِيهِ بتناول صُورَة النَّص إِيَّاه لم يكن ثَابتا بِعِبَارَة النَّص وَمن حَيْثُ إِنَّه ثَابت بِالْمَعْنَى الْمَعْلُوم بِالنَّصِّ لُغَة كَانَ دلَالَة النَّص وَلم يكن قِيَاسا فَالْقِيَاس معنى يستنبطه بِالرَّأْيِ مِمَّا ظهر لَهُ أثر فِي الشَّرْع ليتعدى بِهِ الحكم إِلَى مَا لَا نَص فِيهِ لَا استنباط بِاعْتِبَار معنى النّظم لُغَة كَمَا فِي قَوْله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم الْحِنْطَة بِالْحِنْطَةِ مثل بِمثل جعلنَا الْغلَّة هِيَ الْكَيْل وَالْوَزْن بِالرَّأْيِ فَإِن ذَلِك لَا تتناوله صُورَة النّظم وَلَا مَعْنَاهَا لُغَة وَلِهَذَا اخْتصَّ الْعلمَاء بِمَعْرِفَة الاستنباط بِالرَّأْيِ ويشترك فِي معرفَة دلَالَة النَّص كل من لَهُ بصر فِي معنى الْكَلَام لُغَة فَقِيها أَو غير فَقِيه لأَجله ثبتَتْ الْحُرْمَة وَهُوَ الْأَذَى حَتَّى إِن من لَا يعرف هَذَا الْمَعْنى من هَذَا اللَّفْظ أَو كَانَ من قوم هَذَا فِي لغتهم إكرام لم تثبت الْحُرْمَة فِي حَقه (اصول السرخسی: 1 / 241)
- وَأَمَّا الثَّابِتُ بِدَلَالَةِ النَّصِّ فَمَا ثَبَتَ بِمَعْنَى النَّصِّ لُغَةً لَا اجْتِهَادًا وَلَا اسْتِنْبَاطًا مِثْلُ قَوْله تَعَالَى {فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ} [الإسراء: 23] هَذَا قَوْلٌ مَعْلُومٌ بِظَاهِرِهِ مَعْلُومٌ بِمَعْنَاهُ، وَهُوَ الْأَذَى وَهَذَا مَعْنًى يُفْهَمُ مِنْهُ لُغَةً حَتَّى شَارَكَ فِيهِ غَيْرُ الْفُقَهَاءِ أَهْلَ الرَّأْيِ وَالِاجْتِهَادِ (اصول البزدوی: 300)
- تقویم الادلۃ: 133 – 134
- ثمَّ تَعْلِيل النَّص قد يكون تَارَة بِالنَّصِّ نَحْو قَوْله تَعَالَى {لَا يكون دولة بَين الْأَغْنِيَاء مِنْكُم} ۔۔۔ وَقد يكون بفحوى النَّص كَقَوْل النَّبِي عَلَيْهِ السَّلَام فِي السّمن الَّذِي وَقعت فِيهِ فَأْرَة إِن كَانَ جَامِدا فألقوها وَمَا حولهَا وكلوا مَا بَقِي وَإِن مَائِعا فأريقوه فَإِن فِي هَذَا إِشَارَة إِلَى أَنه مَعْلُول بعلة مجاورة النَّجَاسَة إِيَّاه، وَكَذَلِكَ خبر الرِّبَا من هَذَا النَّوْع كَمَا بَينا وَقد يكون بالاستدلال بِحكم النَّص كَقَوْلِه عَلَيْهِ السَّلَام فِي دم الِاسْتِحَاضَة إِنَّه دم عرق انفجر فتوضئي لكل صَلَاة، وَقد يكون على اتِّفَاق الْقَائِلين بِالْقِيَاسِ (اصول السرخسی: 2/ 149)
- اصول السرخسی: 2/ 187 ، اصول البزدوی: 592
سلامتی کونسل اور امارت اسلامی افغانستان
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ایک قومی اخبار نے ۲۶ مئی ۲۰۲۲ء کو یہ خبر شائع کی ہے:
’’اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان حکومت سے کہا ہے کہ وہ خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادی کو سلب نہ کرے۔ سلامتی کونسل نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم، ملازمت، شخصی آزادی اور معاشرے میں انہیں مساوی حقوق کی عدم فراہمی عالمی برادری کی توقعات پر پورا نہیں اترتیں۔ خواتین ٹی وی میزبانوں کو چہرے کا پردہ کرنے اور انہیں گھر سے بوقت ضرورت ہی باہر نکلنے جیسی پابندیاں باعث تشویش ہیں۔ لہٰذا طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ افغان خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرتے ہوئے ایسے تمام قوانین کو ختم کرے۔‘‘
اس سے قبل امریکی حکومت کی طرف سے بھی اس قسم کی تنبیہ سامنے آ چکی ہے اور اب اسی کو سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ توجہ طلب ہے۔
بنیادی حقوق اور مرد و عورت کی مکمل معاشرتی مساوات کے حوالے سے ہم ان کالموں میں بیسیوں مرتبہ اظہارِ خیال کر چکے ہیں اور ہمارا یہ واضح نقطہ نظر ہے کہ بنیادی حقوق اور مرد و عورت کی مساوات کے حوالے سے موجودہ عالمی فلسفہ و نظام کے بارے میں مسلم دنیا کے تحفظات ہیں جن کا تعلق دین و مذہب کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت سے بھی ہے اور انہیں نظر انداز کرنا قرآن و سنت پر ایمان رکھنے والے کسی مسلمان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحفظات و شکایات کا اظہار دنیا کے کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر علاقے کے مسلمانوں کی طرف سے ان کا مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ بہت سے مسلم حکمران بالخصوص او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے سابق سربراہ مہاتیر محمد بھی عالمی رائے عامہ کو اس طرف بارہا توجہ دلا چکے ہیں اور ان پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
ہمارا موقف مختصرًا یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے عالمی منشور اور بہت سے بین الاقوامی معاہدات میں دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے مجموعی عقائد اور تہذیبی روایات کو نظرانداز کر کے اس فلسفہ و نظام کی بنیاد صرف یورپ اور امریکہ کے معاشرتی پس منظر اور تجربات پر رکھی گئی ہے، جبکہ مشرقی دنیا بالخصوص مسلم معاشروں کا پس منظر اور تجربات اس سے قطعی مختلف ہیں۔ اور اس طرح مغرب یعنی امریکہ اور یورپ اپنی تہذیب و ثقافت کو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی معاہدات کے عنوان سے باقی تمام دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہیں جو کسی طرح بھی قرینِ قیاس اور قابلِ قبول نہیں ہیں اور ان پر متعلقہ تمام فریقوں کو اعتماد میں لے کر نظرثانی کرنا ضروری ہو گیا ہے جس کے لیے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم دونوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔
مغرب اس معروضی حقیقت کا ادراک کرنے میں بلاوجہ لیت و لعل سے کام لے رہا ہے کہ مسلم اُمہ دنیا کے کسی خطہ میں اپنے عقیدہ و ثقافت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ مسلم عوام قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو اپنے معاشرتی ماحول میں نافذ و جاری دیکھنا چاہتے ہیں۔ مغرب کا یہ مغالطہ ابھی تک دور نہیں ہو رہا کہ یورپ اور امریکہ کے لوگ اگر مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبردار ہو گئے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیے مغرب کے پاس اس کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ کم از کم مسلم دنیا کی حد تک ’’مرغ کی ایک ٹانگ‘‘ کی ضد ترک کر کے مسلمانوں کی قیادتوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور پوری دنیا پر اپنا تسلط ہر قیمت پر قائم کرنے کی ہٹ دھرمی چھوڑ کر مسلم عقیدہ و ثقافت کا معاشرتی وجود و کردار تسلیم کرتے ہوئے عالمِ اسلام پر اپنا فکر و فلسفہ مسلط کرنے کے طرزعمل پر نظرثانی کرے۔
ہمارے نزدیک امارتِ اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے اور انہیں سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اپنی شرائط ہر صورت میں منوا لینے کے موجودہ عالمی رویہ کے پیچھے بھی مغرب کی یہی ضد اور ہٹ دھرمی کارفرما ہے۔ جبکہ اس کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلم دنیا کے بیشتر حکمران اپنے دین و ایمان کے تقاضوں اور اپنے ملکوں کے عوام کے جذبات و احساسات کی پاسداری کرنے کی بجائے عالمی ایجنڈے کے عنوان سے مغربی فکر و فلسفہ کی بالادستی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں سے گزارش کریں گے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کریں اور مسلم عقیدہ و ثقافت کو ایک زندہ معاشرتی حقیقت تسلیم کر کے اس کے ساتھ مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ جبکہ مسلم حکمرانوں سے ہماری استدعا ہے کہ وہ بھی آنکھیں کھول کر اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ مسلم امہ کو دنیا میں کہیں بھی اپنے عقیدہ و ثقافت اور اسلام کے معاشرتی کردار سے دستبردار کرنا ممکن نہیں رہا۔ اور اس کے لیے عالمی فورم پر مسلم حکمران اپنے دین و عقیدہ اور مسلم امہ کی غالب اکثریت کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی ذمہ داری ادا کریں کہ مسلم ممالک کے حکمران ہونے کی وجہ سے ان کا فریضہ یہی بنتا ہے۔
دوسری طرف امارتِ اسلامی افغانستان سے بھی ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ تہذیبی ارتقا اور بین الاقوامی معاہدات و مسلّمات کو یکسر نظرانداز کرنا بھی قرینِ قیاس نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب جاہلیت کی تمام روایات و اقدار کو یکسر مسترد کر دینے کی بجائے ’’خذ ما صفا و دع ما کدر‘‘ کے اصول پر جو باتیں قابل قبول تھیں انہیں برقرار رکھا تھا، اور جو باتیں عقیدہ اور اصول کے منافی تھیں انہیں مسترد کر دیا تھا۔ آج بھی یہی اصول اختیار کرنا ہو گا کہ جو امور شرعی اجتہاد کے دائرہ میں قبول کیے جا سکتے ہیں ان کے بارے میں رویہ میں لچک پیدا کرنا ہو گی۔ ہم امارتِ اسلامی افغانستان کے علماء کرام کو یاد دلانا چاہیں گے کہ عرف و تعامل کا تغیر مسائل و احکام کے تغیر کا باعث بنتا ہے۔ حتٰی کہ ’’عموم بلوٰی‘‘ بھی ان معاملات میں اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً عورت کے چہرہ کے پردہ کے بارے میں ہی غور کر لیا جائے کہ احناف متقدمین کے ہاں چہرہ اور ہاتھ پردہ میں شامل نہیں ہیں، جبکہ متاخرین نے بھی معاشرتی تغیرات کے باعث انہیں پردہ میں شامل کیا ہے۔ یہ بات ہم نے مسئلہ اور فتوٰی کے طور پر نہیں بلکہ مثال کے طور پر ذکر کی ہے اور ہماری گزارش ہے کہ امارتِ اسلامی افغانستان کو
- مذہب اور ثقافت کے معاملات کو باہم گڈمڈ کرنے کی بجائے ہر ایک کو اسی کے دائرے میں ڈیل کرنا چاہیے۔
- اجتہاد کی شرعی حدود میں جن امور کی گنجائش بنتی ہے انہیں یکسر مسترد نہیں کرنا چاہیے، اور
- ایسے معاملات کو روایتی طرز عمل کی بجائے افغانستان اور عالمِ اسلام کی سرکردہ علمی شخصیات کی مشاورت سے طے کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ مسلم حکومتوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنے مغرب نوازی کے طرزعمل پر نظرثانی کریں اور امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور معاشی امداد کا اہتمام کریں، جبکہ اس نازک مرحلہ میں امت مسلمہ کے سرکردہ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی و فکری حوالے سے افغان قوم و قیادت کی معاونت اور راہنمائی کا کردار ادا کریں۔
دستور کا احترام اور اس کے تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کے دوران کہا ہے کہ دستور اور اداروں کا احترام نہیں ہو گا تو ملک میں افراتفری پیدا ہو گی، جبکہ سپریم کورٹ بار کے صدر جناب احسن بھون نے کہا ہے کہ دستور کو ملک کے تعلیمی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہم نے دونوں باتوں کی تائید کی ہے مگر اس سلسلہ میں موجودہ عمومی تناظر کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ ملک میں وقفہ وقفہ سے دستور کے تحفظ، عملداری اور بالادستی کی بحث بہت عجیب معلوم ہوتی ہے جو کسی اور ملک میں دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ دستورِ پاکستان کے بارے میں بے یقینی اور تذبذب کی فضا کو قائم رکھنا کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پھر سے دستوری مسائل کو کسی نہ کسی حوالے سے موضوع بحث بنانے کو اس مہم کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز کو یہ دستور پہلے ہی کافی عرصہ کے بعد اور متعدد دستوری بحرانوں سے نکل کر نصیب ہوا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد پہلا باضابطہ دستور ۱۹۵۶ء میں نافذ ہوا تھا جو ۱۹۵۸ء کے مارشل لاء کی نذر ہو گیا۔ دوسرا دستور ۱۹۶۲ء میں سامنے آیا جسے ۱۹۶۹ء کے مارشل لاء نے ختم کیا اور اس کے بعد ملک دولخت ہو گیا۔ جبکہ موجودہ دستور ملک کا تیسرا آئین ہے جو ۱۹۷۳ء میں تمام سیاسی و دینی جماعتوں نے متفقہ طور پر طے کیا تھا اور منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے اس کا نفاذ ہوا تھا۔ اسے بھی دو بار فوجی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا، پہلی مرتبہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ۱۹۷۷ء میں مارشل لاء نافذ کیا اور دوسری بار جنرل پرویز مشرف نے نیم مارشل لاء کے ذریعے دستوری عمل میں رکاوٹ ڈالی۔
مگر ان دونوں جرنیلوں نے یہ مہربانی کی کہ دستور کو منسوخ کرنے کا انتہائی قدم نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے یہ ابھی تک موجود چلا آ رہا ہے۔ اور اس کے پیچھے شاید کسی درجہ میں یہ احساس ہر سطح پر پایا جاتا ہے کہ کہیں ہم ایک بار پھر ۱۹۷۰ء کی پوزیشن سے دوچار نہ ہو جائیں۔ بہرحال دستور موجود و نافذ ہے مگر دستور پاکستان کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات کے بادل وقفہ وقفہ سے امڈتے دکھائی دینے لگتے ہیں اور تازہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی محسوس ہوتی ہے کہ ملک میں حالات کو اس موڑ تک بہرصورت لے جایا جائے کہ کوئی نئی مداخلت خدانخواستہ اس دستور کو بھی ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دستوروں کی صف میں کھڑا کر دے۔
ایک طرف ملک کی سیکولر لابیاں ہیں جو عالمی سیکولر حلقوں اور اداروں کی مکمل پشت پناہی اور سپورٹ کے ساتھ مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ دستورِ پاکستان کی نظریاتی اساس یعنی اسلامی نظریہ اور مسلم تہذیب کو اس سے خدانخواستہ کسی نہ کسی طرح الگ کر کے ملک کو سیکولر جمہوریہ کی حیثیت دے دی جائے۔ ان عناصر کو نظریہ پاکستان، قرارداد مقاصد اور دستور کی اسلامی دفعات سے خدا واسطے کا بیر ہے اور وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی اور تہذیبی تشخص کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے درپے ہیں۔
دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو دستورِ پاکستان کو اس بنیاد پر غیر اسلامی قرار دے کر اس کی نفی کر رہے ہیں کہ اس میں حکومت کے قیام کا ذریعہ عوامی رائے اور ووٹ کو تسلیم کیا گیا ہے، جو ان حضرات کے نزدیک جمہوریت کا حصہ ہے اور وہ اسے اسلام کے منافی تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ دستورِ پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ پر رکھی گئی ہے اور پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ البتہ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو دیا گیا ہے جسے غیر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حکمرانی نامزدگی یا طاقت کے حوالے سے قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ امت کا عمومی اعتماد اس کی اساس تھی۔ جس کی وجہ سے فقہاء اسلام اسلامی حکومت کی تشکیل کی سب سے پہلی اور اولیٰ صورت عوامی رائے کو ہی قرار دیتے آ رہے ہیں۔ مگر بہرحال ایک طبقہ ملک میں موجود ہے جو دستورِ پاکستان کو اسلامی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جبکہ تیسرا طبقہ ان قوتوں پر مشتمل ہے جو دستور کی نظریاتی اساس اور تہذیبی امتیاز کی بحث میں پڑے بغیر عملی طور پر اسے اسلام اور جمہوریت دونوں کے تقاضے پورے کیے بغیر اپنے ایجنڈے پر چلا رہی ہیں۔ چونکہ اقتدار اور حکمرانی کے ذرائع زیادہ تر اسی طبقہ کے پاس چلے آ رہے ہیں اس لیے عملاً اس کا ایجنڈا ملک میں کارفرما رہتا ہے اور اس طبقہ کے مختلف گروہوں کے درمیان جب بھی پاور شیئرنگ میں اتار چڑھاؤ کی صورت پیدا ہوتی ہے تو دستور پھر سے بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس لیے ہمارے خیال میں یہ کشمکش نہ نظریاتی ہے نہ عوامی بلکہ طبقاتی اور گروہی ہے جس پر ہمیں ’’میگنا کارٹا‘‘ کا دور یاد آنے لگتا ہے جسے برطانیہ میں انسانی حقوق کی پہلی بنیاد کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ معاہدہ اصل میں بادشاہ اور جاگیردار طبقوں کے مابین آپس میں اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ تھا جس میں چند باتیں عوام کے حقوق کی بھی شامل کر دی گئی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی شاید اسی طرح کے معاملات سے دوچار ہیں جو ان قوتوں کے مابین تقسیم کار مکمل ہونے تک جاری رہیں گے۔
البتہ ہم ان حلقوں اور عناصر کو توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں جو قیامِ پاکستان کے تہذیبی پس منظر، دستور کی نظریاتی اساس، اسلامی احکام و قوانین کے لیے عوام کی خواہش اور اپنے ملی مسائل و مشکلات سے دلچسپی اور ان کا شعور رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے فریضہ اور کردار سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ ہماری اصل قومی ضرورت ملک کی وحدت و سالمیت، قومی خودمختاری، دستور کی بالادستی و عملداری، بیرونی ڈکٹیشن سے نجات، اور اسلامی تعلیمات و احکام کا فروغ و نفاذ ہے۔ ان کا شعور و ادراک رکھنے والے طبقات اور حلقوں کو منظم و متحرک ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ ’’پاور شیئرنگ‘‘ کی جنگ لڑنے والوں کے دنگل میں ہماری ان نظریاتی اور تہذیبی بنیادوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود رہے گا۔
آئین کی رو سے احمدیوں کے مذہبی حقوق
سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
بعدالت ِعظمی پاکستان
(اپیلیٹ اختیار ِ سماعت)
موجود:
جناب جسٹس سید منصور علی شاہ
جناب جسٹس امین الدین خان
کریمنل پٹیشن نمبر 916-ایل/2021ء
(کریمنل متفرق نمبر 31929 آف 2021ء میں لاہور ہائی کورٹ، لاہور، کے حکمنامے مؤرخہ 24 مئی 2021ء کے خلاف)
طاہر نقاش و دیگر (درخواست گزاران)
بنام
ریاست و دیگر (مسئول علیہان)
درخواست گزاران کے لیے:
مرزا محمود احمد، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ۔شیخ عثمان کریم الدین، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ۔
ریاست کے لیے:
مرزا عابد مجید، ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل، پنجاب۔ سید زاہد حسین، ڈی ایس پی۔ ارشد علی، انسپکٹر/ تفتیشی افسر۔ عبد الرشید، ایس ایچ او
شکایت کنندہ کے لیے:
جناب شوکت رفیق باجوہ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ۔ بہ تعاون حافظ مصعب رسول، ایڈووکیٹ
تاریخ سماعت: 12 جنوری 2022ء
فیصلہ
جسٹس سید منصور علی شاہ۔ درخواست گزاران لاہور ہائی کورٹ کے 24 مئی 2022ء کے حکم نامے کے خلاف اپیل کی اجازت مانگ رہے ہیں جس میں ان کی وہ درخواست مسترد کی گئی تھی جو انھوں نے اپنے خلاف قراردادِ جرم میں تبدیلی/ اضافے کو زیر دفعہ 561-اے، مجموعۂ ضابطۂ فوجداری ("سی آر پی سی")،چیلنج کیا تھا، اور جس میں 4 جنوری 2021ء اور 3 مئی 2021ء کو بالترتیب ٹرائل کورٹ اور نگرانی کی عدالت کے جاری کیے گئے حکمناموں کو برقرار رکھا گیا تھا۔
2۔ مختصر الفاظ میں، درخواست گزاران اور ایک اور شخص کے خلاف مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان 1860ء ("پی پی سی") کی دفعات 298-بی اور 298-سی کے تحت ایف آئی آر نمبر آف 2020ء مؤرخہ 3 مئی 2020ء اس الزام پر درج کی گئی کہ انھوں نے احمدی/قادیانی ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے طرز پر بنایا تھا اور اس کے اندر دیواروں پر شعائرِ اسلام بشمول (الف) کلمۂ طیبہ، (ب) بسم الله الرحمان الرحیم، (ج) یا حيّ یا قیّوم) لکھوایا تھا اور اپنی عبادت گاہ کے اندر قرآن مجید کے نسخے رکھے ہوئے تھے۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ عبادت گاہ کا نقشہ مسجد کے طرز پر تھا اور بجلی کے بل میں بھی اس عبادت گاہ کو مسجد کے طور پر ذکر کیا گیا تھا۔ ان الزامات پر ان کے خلاف مقدمہ شروع ہوا اور ٹرائل کورٹ، یعنی مجسٹریٹ کی عدالت، نے 23 نومبر 2020ء کو ان کے خلاف پی پی سی کی دفعات 298-بی اور 298-سی کے تحت قراردادِ جرم عائد کی۔
3۔ بعد میں شکایت کنندہ نے سی آر پی سی کی دفعہ 227 کے تحت قراردادِ جرم میں تبدیلی کی درخواست اس بنیاد پر دائر کی کہ اس مقدمے میں پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا بھی اطلاق ہوتا ہے اور قراردادِ جرم میں ان کا اضافہ ہونا چاہیے۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے حکمنامے مجریہ 4 جنوری 2021ء کے ذریعے قرار دیا کہ درخواست گزاران کے خلاف الزامات پر پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا اطلاق ہوتا ہے اور اس لیے اس نے یہ درخواست منظور کرلی۔ درخواست گزاران نے ٹرائل کورٹ کے اس حکمنامے کے خلاف نگرانی کی درخواست دائر کی لیکن ایڈیشنل سیشنز جج نے اپنے حکمنامے مؤرخہ 3 مئی 2021ء کے ذریعے یہ درخواست مسترد کردی۔ درخواست گزاران نے ان دونوں حکمناموں کے خلاف ہائی کورٹ میں سی آر پی سی کی دفعہ 561-اے کے تحت درخواست دائر کی لیکن اس کا انجام بھی یہی ہوا اور اسے بھی معترضہ حکمنامے مؤرخہ 24 مئی 2021ء کے ذریعے مسترد کردیا گیا۔
4۔ درخواست گزاران کے فاضل وکیل نے استدلال کیا کہ ایف آئی آر میں مذکور الزامات پر پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کااطلاق نہیں ہوتا۔ صرف عوامی سطح پر احمدیوں کی جانب سے خود کو مسلمان کے طور پر پیش کرنے یا اپنے عقیدے کو اسلام قرار دینے اور عوامی سطح پر وہ خطابات، توضیحات اور القابات استعمال کرنے، جنھیں اسلام کی بعض مقدس شخصیات اور مقامات کےلیے مخصوص کیا گیا ہے، کے ذریعے احمدی مذہب کی تبلیغ کو ہی قانون، یعنی پی پی سی کی دفعات 298-بی اور 298-سی، نے روکا ہے،جیسا کہ ظہیر الدین بنام ریاست1 نے اس کی تعبیر پیش کی ہے، لیکن نجی سطح پر احمدیوںپر اپنا مذہب ماننے یا اپنے عقیدے کے مطابق اس پر عمل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس مقدمے میں درخواست گزاران مسلّمہ طور پر اپنی نجی عبادت گاہ میں موجود تھے، اور شعائرِ اسلام کا اظہار اور قرآن مجید کے نسخوں کا رکھنا ان کی نجی عبادت گاہ کے اندر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اس وجہ سے وہ قرآن مجید کی بے حرمتی یا رسولِ پاک کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد نہیں ہے کہ درخواست گزاران نے ایسے کسی فعل کا ارتکاب کیا ہو؛ اس لیے موجودہ مقدمے میں پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا اطلاق نہیں ہوتا۔
5۔ سرکاری مستغیث نے بھی اور شکایت کنندہ کے وکیل نے بھی ظہیر الدین کیس اور اس کے علاوہ مجیب الرحمان بنام وفاقی حکومت2، جہانگیر جوئیہ بنام ریاست3، خورشید احمد بنام حکومت پنجاب4 پر انحصار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاران کی عبادت گاہ عوامی مقام ہے اور وہاں شعائرِ اسلام کے اظہار پر اور قرآن مجید کے نسخے اور دیگر مواد جو ان سے برآمد ہوا ہے رکھنے پرپی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ غیر مسلموں/احمدیوں کی جانب سے کلمۂ طیبہ یا قرآن محض پڑھنے سے ہی کلمے، قرآن مجید اور رسولِ پاک کی توہین ہوتی ہے۔
6۔ ہم نے فریقین کے وکلا کے دلائل کا بغور جائزہ لیا اور مقدمے کا ریکارڈ بھی دیکھا۔ ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ جرم کی اطلاع اور تفتیش کے دوران میں برآمد شدہ مواد کی بنا پر کیا ان جرائم کا اطلاق ہوتا ہے جنھیں پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی میں قابلِ سزا قرار دیا گیا ہے؟
7۔ اوپر جن مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے ان پر مسئول علیہان کے فاضل وکلا نے بہت انحصار کیا یہ ثابت کرنے کےلیے کہ موجودہ مقدمے پر پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا اطلاق ہوتا ہے۔ تین بنیادی مقدمات، مجیب الرحمان، خورشید احمد اور ظہیر الدینیا تو قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کے خلافِ اسلام افعال (ممانعت اور سزا) آرڈی نینس، 1984ء، کے ذریعے وجود میں لائی گئی پی پی سی کی دفعات 298-بی اور 298-سی، یا احمدیوں کی جانب سے اپنے مذہب کے عوامی اظہار یا تبلیغ کو روکنے کےلیے انتظامی احکامات کی دستوری حدود سے بحث کرتے ہیں۔ ان مقدمات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی پی سی کی دفعات 298-بی اور 298-سی دستورِاسلامی جمہوریۂ پاکستان 1973ء کی حدود کے اندر ہیں، اور اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے سے روکنے کےلیے ایسے انتظامی احکامات کو برقرار رکھا گیا ہے۔
8۔ ظہیر الدین کیس میں اس عدالت نے یہ قرار دیا تھا کہ پی پی سی کی دفعات 298-بی اور 298-سی دستوری حدود کے اندر ہیں اور دستور کی دفعہ 20 کے خلاف نہیں ہیں۔ ظہیر الدین میں بنیادی امر یہ تھا کہ احمدیوں کی جانب سے عوامی سطح پر صد سالہ جشن اور تقریبات منانے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے، جس سے ان میں اشتعال اور عداوت پیدا ہوگی، اور اس طرح امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگا جس سے شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔ عدالت نے مزید یہ قرار دیا کہ دستور کی دفعہ 20 کے تحت "مذہبی آزادی " کی جو ضمانت دی گئی ہے اس کا تحفظ صرف ان مذہبی افعال کو حاصل ہے جو مذہب کا لازمی اور ضروری حصہ ہیں، جبکہ (اُس مقدمے میں) اپیل کنندگان یہ دکھانے میں ناکام رہے تھے کہ صد سالہ تقریبات ان کے مذہب کا لازمی اور ضروری حصہ ہیں، اور یہ افعال صرف عوامی سطح پر اور عوام کی نظروں کے سامنے، سڑکوں اورگلیوں میں یا عوامی مقامات پر، سرانجام دیے جانے تھے ۔ تاہم اس عدالت نے اگرچہ ان انتظامی احکامات کو برقرار رکھا تھا جن کے ذریعے احمدیوں کو عوامی سطح پر صد سالہ جشن اور تقریبات منانے سے روکا گیا تھا، لیکن اس کے ساتھ واضح طور پر قرار دیا تھا کہ احمدی یہ افعال نجی سطح پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ ظہیر الدین میں ججز کی اکثریت کی جانب سے لکھا:5
حکمنامے کا مقصد آخری ہدایت میں واضح کردیا گیا ہے کہ کوئی اور ایسا کام نہیں کیا جائے گا جو بلا واسطہ یا بالواسطہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل یا مجروح کردے۔ ان قیود سے صاف طور پر مراد صرف وہ افعال ہیں جو عوامی سطح پر عوام کے سامنے سرانجام دیے جانے تھے، نہ کہ وہ افعال جو نجی سطح پر سرانجام دیے جانے تھے۔
اسی طرح مجیب الرحمان میں پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ کی جانب سے چیف جسٹس فخرِ عالم نے درج ذیل الفاظ لکھے:6
یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا اور غیر مسلموں کو مسلمان امت کو منتشر کرنے کےلیے مسلمان برادری کے حقوق اور مراعات کے خلاف تجاوز کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔مزید یہ کہ اس سے مرزا صاحب پر قادیانیوں کے ایمان رکھنے کے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔۔۔ نہ ہی اس سے ان کے اس حق میں مداخلت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں یا اس کے احکام کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کریں۔
مسلمانوں کی شریعت غیرمسلموں کو اپنے عقیدے کے مطابق اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کو پورا تحفظ دیتی ہے۔۔۔ اسی وجہ سے رسولِ پاک ﷺ اور آپ کے محترم خلفاء نے بہترین شرائط، بشمول مشرکین اور غیر مسلموں کےلیے مذہبی آزادی کے، تسلیم کیں، خواہ وہ مسلمانوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں یا نہ ہوں۔
پس نہ تو ظہیر الدین اور نہ ہی مجیب الرحمان نے احمدیوں کو اپنی عبادت گاہ میں اپنے مذہب کے مطابق اپنے مذہب پر عمل اور اس کے اظہار سے روکا یا اس پر پابندی عائد کی ہے۔
دستوری اقدار اور بنیادی حقوق
9۔ اس عدالت اور وفاقی شرعی عدالت کی مذکورہ بالا ملاحظات ہمارے دستور کے دیباچے میں مذکور دستوری اقدار سے ہم آہنگ ہیں جو ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم بحیثیتِ قوم متحمل مزاج ہوں، آزادی، مساوات اور سماجی انصاف پر یقین رکھیں اور اپنی اقلیتوں کا احترام کریں اور انھیں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اپنی ثقافتوں کی ترقی اور اپنے جائز مفادات کے تحفظ کےلیے کافی مواقع فراہم کریں۔پاکستان کے تمام شہریوں کو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، دستور کے تحت بنیادی حقوق ، بشمول قانون اور عوامی اخلاقیات کے ماتحت مرتبے میں مساوات، حریتِ فکر، اظہار، عقیدہ، ایمان اور عبادت، کی ضمانت دی گئی ہے۔ دستور اس بات پر زور دیتا ہے کہ جب ہم ان اقدار کا احترام کریں گے، تو صرف تبھی ہم، پاکستان کے لوگ، ترقی کرسکیں گے اور دنیا کی اقوام کے اندر اپنا جائز اور باوقار مقام حاصل کرسکیں گے اور امن، ترقی اور انسانیت کی خوشحالی کےلیے اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں گے۔
10۔ دستور کی دفعہ 14 ہر شخص کےلیے تکریم کی ضمانت دیتی ہے۔ انسانی تکریم اپنے اندر یہ تصور سموئے ہوئے ہے کہ ہر شخص بنیادی مساوی قدر رکھتا ہے۔ یہ سادہ لیکن گہرا تصور تین عناصر پر مشتمل ہے: اول، انسانی کنبے کا ہر فرد قدر رکھتا ہے – کسی کو مسترد یا نظر نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اس کے ساتھ بدسلوکی یا برا رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے جیسے ان کا انسان ہونا بے معنی ہو؛ دوم، ہر شخص کی قدر دوسرے ہر شخص کے برابر ہے اور کسی کی زندگی کسی دوسرے شخص کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں ہے؛ سوم، انسانی تکریم انسانی شخصیت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اس سے الگ نہیں کی جاسکتی۔7 ہمارے ملک کے کسی غیر مسلم (اقلیت) کو اس کے مذہبی عقائد ماننے سے محروم رکھنا، اسے اپنی مذہبی عبادت گاہ کی چاردیواری کے اندر اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کے اظہار سے روکنا ہمارے جمہوری دستور کی اساس کے بھی خلاف ہے اور ہماری اسلامی جمہوریہ کی روح اور کردار کے بھی منافی ہے۔ یہ انسانی تکریم کو بھی بری طرح مسخ اور پامال کرتا ہے اور کسی غیر مسلم اقلیت کی حقِ خلوت (پرائیویسی) کو بھی، جبکہ وہ دستور کی رو سے ملک کے دیگر شہریوں کی طرح برابر کے حقوق اور حفاظتیں رکھتے ہیں۔ ہماری اقلیتوں کے ساتھ عدم برداشت کا رویہ پوری قوم کی غلط تصویر کشی کرتا ہے اور ہمیں غیر متحمل مزاج، متعصب اور غیر لچکدار دکھاتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی دستوری اقدار اور مساوات اور برداشت کے متعلق بہترین اسلامی تعلیمات اور روایات کو قبول کرلیں۔
11۔ دستور کی دفعہ 20 (اے) ہر شہری کو ، قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کی حدود کے اندر، اپنے مذہب پر عمل اور اس کی ترویج کا حق دیتی ہے۔ دفعہ 20 (بی) قرار دیتی ہے کہ ہر مذہبی گروہ یا فرقے کو اپنے ادارے قائم کرنے، ان کی دیکھ بھال کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا حق ہے ۔دفعہ 22 کے تحت دستور قرار دیتا ہے کہ کسی شخص کو کسی تعلیمی ادارے میں کسی مذہب کی تعلیم حاصل کرنے یا اس کی کسی مذہبی رسم میں شامل ہونے یا عبادت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، اگر ایسی تعلیم، رسم یا عبادت اس کے اپنے مذہب کے بجاے کسی اور مذہب کی ہو۔ دفعہ 22 (3) (اے) قرار دیتی ہے کہ کسی مذہبی گروہ یا برادری کو اس سے نہیں روکا جاسکتا کہ وہ اس برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو کسی ایسے تعلیمی ادارے میں اپنی مذہبی تعلیم دے جس کا نظم و نسق کلی طور پر اسی برادری یا گروہ کے پاس ہو۔دفعہ 25 نے طے کیا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور انھیں قانون کا یکساں تحفظ حاصل ہے۔
12۔ اگرچہ دستور کی دفعہ 260 (3) اعلان کرتی ہے کہ احمدی/قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن یہ نہ تو بطورِ پاکستانی شہری ان سے قطع تعلق کرتی ہے، نہ ہی انھیں ان بنیادی حقوق سے محروم کرتی ہے جن کی ضمانت دستور نے دی ہے۔ دستور تمام شہریوں کو یکساں سلوک، حفاظت اور تحفظ فراہم کرتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہوں یا ٖغیر مسلم۔ دستور کی دفعہ 4، جو قانون کے تحفظ اور قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتی ہے،اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے ۔
پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی
13۔ اس دستوری تناظر میں ہم اس سوال کے جواب کی طرف بڑھتے ہیں کہ کیا موجودہ مقدمے میں پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا اطلاق ہوتا ہے؟ اس مقصد کےلیے ضروری ہے کہ ہم ان دفعات میں دی گئی ہیں ان جرائم کی تعریفات دیکھیں۔ چنانچہ یہ دفعات یہاں پیش کی جارہی ہیں:
دفعہ 295-بی قرآن مجید کی توہین وغیرہ
جوکوئی قرآن مجید کے کسی نسخے کو یا اس کے کسی اقتباس کی قصداً توہین کرے، یا اسے نقصان پہنچائے، یا اس کی بے حرمتی کرے، یا اس کا استعمال گستاخانہ انداز میں یا کسی غیر قانونی مقصد کےلیے کرے، تو اسے عمر قید کی سزا دی جائے گی۔
دفعہ 295-سی رسول پاک ﷺ کے خلاف گستاخانہ کلمات وغیرہ کا استعمال
جو کوئی الفاظ کے ذریعے، خواہ وہ بولے گئے ہوں یا لکھے گئے ہوں، یا نظر آنے والی علامات کے ذریعے، یا اشارتاً یا کنایتاً یا دلالتاً، بلا واسطہ یا بالواسطہ، نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے اسمِ گرامی کی توہین کرتا ہے، تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
دفعہ 295-بی کے تحت جرم کے وجود میں آنے کےلیے ضروری ہے کہ ملزم نے قرآن مجید کے کسی نسخے کی یا اس کے کسی اقتباس کی قصداً توہین کی ہو ، یا اسے نقصان پہنچایا ہو، یا اس کی بے حرمتی کی ہو، یا اس کا استعمال گستاخانہ انداز میں یا کسی غیر قانونی مقصد کےلیے کیا ہو۔جرم کی اطلاع میں ایسا کوئی الزام نہیں ہے جس سے یہ جرم بنتا ہو۔ ماتحت عدالتوں نے قرار دیا ہے کہ کسی غیر مسلم/احمدی کی جانب سے صرف کلمہ یا قرآن مجید کے پڑھنے سے ہی دفعہ 295-سی کا اطلاق ہوگا۔ یہ ہمارے خیال میں نہ صرف بہت کھینچ تان کر کیا گیا ہے، بلکہ اس میں جرم کے بنیادی عناصر، یعنی مجرمانہ قصد اور مجرمانہ فعل، ہی نہیں پائے جاتے۔ صرف وہ کچھ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت کسی غیر مسلم کے ذہن میں جو کچھ پایا جاتا ہے، اس جرم کی تشکیل کےلیے کافی نہیں ہے۔ پی پی سی کی دفعہ 295-بی کے اطلاق کےلیے ایسے ظاہری عمل (مجرمانہ فعل) کا ہونا ضروری ہے جو دکھائے کہ قرآن مجید کے کسی نسخے کی یا اس کے کسی اقتباس کی قصداً توہین کی گئی، یا اسے نقصان پہنچایا گیا، یا اس کی بے حرمتی کی گئی، یا اس کا استعمال گستاخانہ انداز میں یا کسی غیر قانونی مقصد کےلیے کیا گیا۔موجودہ مقدمے میں ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے جو یہ ثابت کرے۔
14۔ اسی طرح پی پی سی کی دفعہ 295-سی کے تحت جرم کے وجود میں آنے کےلیے ضروری ہے کہ ایسے الفاظ ہوں، خواہ وہ بولے گئے ہوں یا لکھے گئے ہوں، یا نظر آنے والی علامات ہوں، یا ایسا اشارہ، کنایہ یا دلالت ہو جن کے ذریعے ، بلا واسطہ یا بالواسطہ، نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے اسمِ گرامی کی توہین ہو۔ موجودہ مقدمے میں عبادت گاہ کے اندر کلمے کا اظہار، جس میں رسولِ پاک حضرت محمد ﷺ کا نام تھا، ایسا فعل نہیں تھا جو اس جرم کے عناصر کی تشکیل کرے۔ کسی احمدی کے ذہن میں کلمہ پڑھتے وقت کیا تھا، اس سے پی پی سی کی دفعہ 295-سی کا جرم وجود میں نہیں آتا جب تک اس کی جانب سے اس کے ساتھ کوئی ایسا ظاہری عمل نہ ہو جس سے رسولِ پاک حضرت محمد ﷺ کے اسمِ گرامی کی توہین ہوتی ہو۔ موجودہ مقدمے میں ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے جو یہ ثابت کرے۔
15۔ ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ دستوری جمہوریت میں قوانین کا ہدف مفاد عامہ ہوتا ہے اور وہ فرد کی آزادیوں کا لحاظ کرتے ہیں اور اس میں کم سے کم مداخلت کرتے ہیں۔ چنانچہ تعبیرِ قانون کا یہ ضابطہ تشکیل دیا گیا ہے جس کی رو سے ضروری ہے کہ سزا کے قانون کی محدود تعبیر کی جائے جس کا فائدہ ملزم کو پہنچے۔ اس محدودیت کا انحصار قانون کی شدت پر ہے۔ تاہم یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ سزاؤں کے تمام قوانین کی محدود تعبیر کی جائے گی، تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ عدالت یہ دیکھے گی کہ جس جرم کا الزام لگایا گیا ہے وہ استعمال شدہ الفاظ کے سادہ مفہوم میں آتے ہیں اور الفاظ کو کھینچ تان کر اس پر لاگو نہیں کرے گی۔ بہ الفاظِ دیگر، محدود تعبیر کے اصول کا تقاضا ہے کہ قانون کے الفاظ کی ایسی تعبیر اختیار نہ کی جائے کہ اس کے مفہوم میں وہ افعال بھی شامل ہوجائیں جنھیں مناسب تعبیر نہ کہا جاسکے۔ تاہم محدود تعبیر کا اصول اس بنیادی اصول کے تابع رہے گا کہ ہر قانون کا مفہوم مقننّہ کے صریح یا واضح ارادے کی روشنی میں متعین کیا جائے گا۔8 اس مقدمے میں جن افعال کا الزام لگایا گیا ہے، ان پر پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا اطلاق نہ تو ان دو دفعات کے الفاظ کے سادہ مفہوم کی رو سے ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے پیچھے موجود مقنّنہ کے صریح یا واضح ارادے کا چشمہ لگا کر۔
16۔ ان اسباب کی بنا پر ہمارا موقف یہ ہے کہ موجودہ مقدمے کے حقائق اور حالات میں ٹرائل کورٹ اور نگرانی کی عدالت نے پی پی سی کی دفعات 295-بی اور 295-سی کے تحت قابلِ سزا جرائم کے وجود میں آنے کےلیے ضروری عناصر کا درست جائزہ نہیں لیا اور ظہیر الدین کیس کا صحیح مفہوم سمجھنے میں ناکام رہیں، اور ان دونوں حکمناموں کو برقرار رکھ کر ہائی کورٹ نے قانوناً غلطی کی۔ اس لیے اس درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کیا جاتا ہے: معترضہ حکمنامہ منسوخ کیا جاتا ہے، سی آر پی سی کی دفعہ 561-اے کے تحت درخواست گزاران کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور ٹرائل کورٹ اور نگرانی کی عدالت کے فیصلے غیر مؤثر کیے جاتے ہیں۔ درخواست گزاران کے خلاف مقدمہ قراردادِ جرم مؤرخہ 23 نومبر 2020ء کی بنیاد صرف پی پی سی کی دفعات 298-بی اور 298-سی کے تحت قابلِ سزا جرائم کے بارے میں ہی چلایا جائے گا۔
جج
جج
اسلام آباد
12 جنوری 2022ء
اشاعت کے لیے منظور شدہ
حواشی
- 1993 ایس سی ایم آر 1718۔
- پی ایل ڈی 1985 ایف ایس سی 8۔
- پی ایل ڈی 1987 لاہور 458۔
- پی ایل ڈی 1992 لاہور 1۔
- ص 1757۔
- ص 93۔
- Erin Daly & James R. May, Dignity Law, Global Recognition, Cases, and Perspectives. 2020. HEIN
- N.S Bindra’s Interpretation of Statutes, 12th edition (2017) LexisNexis, pp 824-5, 836.
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۶)
ڈاکٹر شیر علی ترین
(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Moderity کا تیسرا باب — اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ)
حاکمیت الہیہ اور عقیدہ توحید کا احیا
شاہ محمد اسماعیل کی علمی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی تصورات میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کا احیا ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ کے بارے میں ان کی بحث تباہ کن اخلاقی زوال کے ایک بیانے میں ملفوف ہے۔ شاہ اسماعیل کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستانی مسلمانوں نے خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ کو تقریباً بھلا دیا ہے۔ انھوں نے اس اپنے تجزیے کی اساس اس مشاہدے پر رکھی ہے کہ انبیا، اولیا اور دیگر غیر خدائی ہستیاں عوام کی مذہبی زندگی میں رچ بس گئی ہیں۔ "ان لوگوں کا خیال ہے کہ ہم دنیا میں جو چاہے کریں، کوئی صاحبِ کرامت ولی یا نبی ہماری شفاعت کر دے گا یا ہمیں خدا کے عذاب سے بچا لے گا۔ یہ رویہ انتہائی احمقانہ اور غلط ہے۔ آخرت میں خدا کے رحم وکرم اور عفو ودرگزر کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ ان عوام نے اولیا، شہدا پر اندھا اعتماد کر کے خدا کو بھلا دیا ہے۔ وہ مکمل گمراہ ہو گئے ہیں"1۔
اگر چہ ان خیالات کا اظہار شاہ اسماعیل کی کئی کتابوں میں ہے، تاہم ان کی مختصر ترین مگر سب سے زیادہ متنازع کتاب "تقویۃ الایمان" میں اس موضوع پر پوری قوت کے ساتھ بحث کی گئی ہے2۔ یہ کتاب امریکی ٹریکٹ سوسائٹی (1825) کے قیام کے ایک سال بعد لکھی گئی، جو نشر واشاعت پر انحصار کرنے والی ان متعدد تنظیموں سے ایک تھی جہاں سے نمایاں امریکی اصلاح پسندوں (evangelicals) نے اپنی جد وجہد کا آغا ز کیا3، اور جن کے ساتھ باہمی دل چسپی کے کئی امور پر یکساں موقف رکھنے کی وجہ سے شاہ اسماعیل بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔ تقویۃ الایمان آج تک گرما گرم مباحثوں اور مناظروں کا باعث ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی اولین اشاعت کے بعد اس کی تردید میں اب تک 250 سے زیادہ کتابیں لکھی جا چکی ہیں4۔
تقویۃ الایمان کا شمار ان اولین اردو کتابوں میں ہوتا ہے جو متخصِّص اہل علم کے بجاے عامۃ الناس کے لیے سادہ اور عام فہم زبان میں لکھی گئی تھی۔یہ ہندوستان کی اسلامی تاریخ کے ایک ایسے دور میں چھپی جب اردو تدریجی لیکن فیصلہ کن انداز میں مذہبی اور ادبی اشرافیہ کے درمیان رابطے کے زبان کی حیثیت سے فارسی کی جگہ لے رہی تھی۔ تقویۃ الایمان کا تحریری انداز عوام کی ذہنی سطح کے مطابق ہے۔ کتاب کی تمام فصول کا آغاز کسی قرآنی آیت یا حدیث سے ہوتا ہے جس کے بعد اسماعیل اس کا ترجمہ اور تشریح پیش کرتے ہیں۔ عوام کے لیے کتاب کو عام فہم بنانے کی کوشش کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انھوں نے بار بار اللہ کے نام کے ساتھ عرف عام میں مستعمل "صاحب" کا لاحقہ لگایا ہے۔ اپنے تصور میں خالص اسلام کو بیان کرنے کے لیے وہ بار بار "ٹھیٹھ اسلام" کی عامیانہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں، ایسی اصطلاح جو عموماً کسی شخص کی نسلی یا علاقائی شناخت کے اصلی اور خالص ہونے کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جیسا کہ "ٹھیٹھ" پنجابی۔
تقویۃ الایمان کے مقدمے میں شاہ اسماعیل واضح کرتے ہیں کہ انھوں نے یہ کتاب عام فہم اردو میں اس لیے لکھی تاکہ عامۃ الناس بآسانی اس کے مطالب سمجھ سکیں۔ مزید برآں وہ اپنے قارئین سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اس تصور کو رد کریں کہ قرآن وسنت تک رسائی صرف علما کے لیے ممکن ہے۔ شاہ اسماعیل اسے یوں بیان کرتے ہیں: یہ جو عوام الناس میں مشہور ہے کہ اللہ اور رسول کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے اس کے لیے بڑا علم چاہیے، ہم میں وہ طاقت کہاں کہ ان کا کلام سمجھیں، اس راہ پر چلنا بڑے بزرگوں کا کام ہے، ہماری کیا طاقت ہے کہ اس کے موافق چلیں، بلکہ ہمارے لیے یہی باتیں کفایت کرتی ہیں جن پر چلے جاتے ہیں، سو یہ بات بہت غلط ہے۔ اس واسطے کہ اللہ صاحب نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید بہت صاف وصریح ہے۔ اس کا سمجھنا مشکل نہیں۔ چنانچہ سورۃ البقرہ میں فرمایا ہے: "اور بے شک ہم نے آپ پر کھلی باتیں اتاریں، ان سے منکر وہی ہوتے ہیں، جو لوگ فاسق ہیں"5۔
عام فہم زبان میں لکھنے کی مشق دراصل اس معاصر رجحان کا حصہ بننا تھا جس کا مقصد دینی فکر کو عامۃ الناس کے لیے قابلِ فہم بنانا تھا۔ یہ رجحان "موضح القرآن" کے نام سے ان کے تایا شاہ عبد القادر کے ترجمۂ قرآن میں، جو 1790 میں لکھا گیا اور 1829 میں چھپا، زیادہ واضح طور پر نظر آتا ہے6۔ اس ترجمے کے ذریعے شاہ عبد القادر نے اپنے والد شاہ ولی اللہ کی مقامی زبانوں میں ترجمۂ قرآن کی تحریک کو جاری رکھا ، جنھوں نے باوجود شدید مخالفت کے پہلی بار قرآن مجید کو فارسی میں ترجمہ کیا تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں عوام کے لیے لکھی جانے والی اصلاحی کتابوں میں صرف تقویۃ الایمان واحد کتاب نہیں تھی۔ اس طرح کی کتابوں کی ایک اور نمایاں مثال "نصیحۃ المسلمین" کے عنوان سے اسماعیل کے نسبتاً ایک کم معروف معاصر خرم علی (م 1855) کا کتابچہ ہے جو تقریباً 1824 میں چھپا7 اور حیرت انگیز طور پر تقویۃ الایمان کے اسلوب، فصاحت اور پیغام سے مماثلت رکھتا ہے۔
تقویۃ الایمان میں شاہ اسماعیل نے خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کے احیا کے لیے موجودہ معاشرے میں اخلاقی زوال کی ایک مخصوص داستان سنا کر اپنے استدلال کو تقویت پہنچائی ہے۔ ان کے نزدیک عوام کے میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کے متعدد حریف نشو ونما پا رہے ہیں۔ اس داستان کی رو سے ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بھاری اکثریت، جس میں عوام اور خواص دونوں شامل ہیں، کفر وشرک کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
وہ اس پر تنبیہ کے ساتھ طنز کا تڑکا ملاتے ہوئے لکھتے ہیں:
سو سنا چاہیے اکثر لوگ پیروں کو، پیغمبروں کو، اماموں کو، شہیدوں کو، فرشتوں کو، پریوں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیں۔ ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ ان کی منتیں مانتے ہیں۔ حاجت برآنے کے لیے ان کی نذر نیاز کرتے ہیں۔ بلا کے ٹالنے کے لیے اپنے بیٹوں کی ان کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ کوئی اپنے بیٹے کا نام عبد النبی رکھتا ہے، کوئی علی بخش، کوئی حسین بخش، کوئی پیر بخش، کوئی مدار بخش، کوئی سالار بخش، کوئی غلام محی الدین، کوئی غلام معین الدین8۔
شاہ اسماعیل نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہے کہ لوگ خدا کی مطلق حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) پر ایمان سے دست بردار ہو گئے ہیں یا ملحد بن گئے ہیں۔ اس کے بجاے خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ عوام کی روز مرہ زندگی میں رائج چند رویوں، اعمال اور رواجوں سے مجروح ہو رہی ہے جو کسی شرعی دلیل کے بجاے عرف ورواج پر مبنی ہیں۔ شاہ سماعیل کے نزدیک ایسے اعمال اور رسوم ورواج کی تعداد اور اقسام بہت زیادہ ہیں اور وہ عقائد سے لے کر روز مرہ کے معمولات تک میں سرایت کر چکے ہیں۔ ان تمام یا ان میں سے اکثر کا احاطہ یہاں نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کی چند مثالیں یہ ہیں: انبیا یا اولیا کے لیے علمِ غیب ثابت کرنا، ولی سے اولاد مانگنا، بغیر کسی شرعی جواز کے کچھ جانوروں یا پابندیوں کو مقدس ماننا، انبیا اور اولیا کے میلاد اور عرس کی تقریبات منعقد کرانا اور ان میں شریک ہونا، اور یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ ذاتی طور پر برکات کے نزول کے لیے ان اجتماعات میں تشریف لاتے ہیں، ضرورت وتکلیف کے وقت میں اولیا کو مدد کے لیے پکارنا، شطرنج اور مشاعروں جیسی لایعنی سرگرمیوں میں پوری پابندی اور اہتمام کے ساتھ شریک ہونا جیسے وہ نماز اور روزہ کی طرح دین کے فرض احکامات ہوں، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ ایک فوت شدہ ولی زندہ انسانوں کو کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
شاہ اسماعیل اور شاہ ولی اللہ: اصلاح کے تغیر پذیر مناہج
جس اصلاحی مشن کا آغاز شاہ اسماعیل نے کیا ، وہ انیسویں صدی کے لیے یکسر نیا، غیر متوقع یا منفرد نہیں تھا۔ اٹھارھویں صدی یا اس سے بھی قبل مسلمان اہل علم نے عوام میں رائج رسموں اور رواجوں پر بکثرت تنقید کی ہے۔ مثلاً اپنی آخری وصیت میں شاہ اسماعیل کے دادا شاہ ولی اللہ نے نکاح بیوگان سے گریز جیسی "ناپاک رسموں" کی سختی سے مخالفت کی ہے۔، وہ اسے ہندؤوں کے اثرات کا نتیجہ سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان اس سے دور رہیں۔ انھوں نے غمی وشادی کی تقریبات میں فضول خرچی کے رجحان پر بھی ہندوستانی مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ "ہماری مذموم عادات میں سے ایک عادت فضول خرچی ہے"۔9
ایک دوسری مثال اٹھارھویں صدی کے نقشبندی صوفی اور حنفی فقیہ اور شاہ ولی اللہ کے مشہورِ زمانہ معاصر مرزا مظہر جان جانان (م 1781) کے خلیفۂ مجاز قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م 1810) کی ہے10۔ فقہی مسائل کے بارے میں (فارسی میں) اپنی کتاب "ما لا بدَّ منہ" میں قاضی صاحب نے "شطرنج، پتے کھیلنا بالخصوص جب اس پر شرطیں لگائی جائیں، کبوتر بازی، کبوتروں کی لڑائی، مرغوں کی لڑائی وغیرہ" جیسے رسوم ورواجات کو واشگاف انداز میں ناجائز قرار دیا ہے جو بڑے پیمانے پر عوام میں رائج تھیں۔11 اسی سال کی عمر میں، جب ان کی موت کا وقت کا قریب تھا، قاضی صاحب نے اپنی موت کے بعد ادا کی جانے والی رسموں کے بارے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے اپنے ورثا کے نام ایک واضح ہدایت یہ ہے: "میرے مرنے کے بعد میری دہم، بستم، چہلم، شش ماہی اور سال منانے کی دنیوی رسمیں بالکل ادا نہ کریں۔ حضور ﷺ نے واضح طور پر تین دن سے زیادہ سوگ کو منع فرمایا ہے، اور (میت پر) چیخ وپکار اور عورتوں کے نوحہ کو بھی ممنوع قرار دیا ہے"12۔
انیسویں صدی کے اوائل اور بعد ازاں اواخر میں برصغیر میں شاہ اسماعیل اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے مصلحین کی سرگرمیوں میں اس نوعیت کے مسائل کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ اس طرح سے برصغیری اسلام کی تاریخ میں اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے درمیان ایک واضح تسلسل پایا جاتا ہے۔ عوام میں رائج رسوم ورواجات پر کاٹ دار تنقید اور ان اقدار میں شدید دل چسپی جو خدائی حاکمیت اور روزمرہ کے اعمال کے درمیان ربط کی نگرانی کرتیں ہیں، جدید استعماری دور کی پیداوار نہیں تھی۔ تاہم اس تسلسل کے باوجود شاہ اسماعیل جیسے عالم کی فکری زندگی چند بنیادی حوالوں سے اپنے پیش روؤں سے مختلف ہے۔ میں ان میں سے تین پہلووں کا یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔
پہلی چیز یہ ہے کہ ان کے ہاں مستند مذہبیت کے لیے روزمرہ کی زندگی اور اعمال کو ایک فیصلہ کن میدان اور معیار قرار دینے کے رجحان میں شدت آئی ہے۔ جس وسعت کے ساتھ اسماعیل نے روز مرہ کے رسوم ورواج کو اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں اپنے اصلاحی دائرے میں شامل کیا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ اس سے پہلے کی تاریخ میں شادی بیاہ کی تقریبات، مرغوں کی لڑائی اور پتنگ بازی جیسے اعمال پر اس طرح کی واضح بحثیں بمشکل ملتی ہیں، جس طرح کہ انیسویں صدی کی اصلاحی تحریروں میں نظر آتی ہیں۔ دوسری یہ کہ نشر واشاعت کی ٹیکنالوجی، ڈاک کا نظام اور ریل گاڑی کے عام ہونے کی وجہ سے نہ صرف اصلاحی اور اصلاح مخالف آوازیں ایک وسیع حلقے تک پہنچنے لگیں، بلکہ ایک متعین اور مشخص عوامی طبقہ کا تصور بھی ابھرا جو اصلاح اور شرعی احکام کے متوازی تصورات کے حامی اور پیروکار بن سکتے ہوں۔13 تیسری یہ کہ انیسویں صدی میں براہ راست اور بالواسطہ زبانی اور تحریروں مناظروں میں ایک غیر معمولی اضافہ اور شدت سامنے آئی۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اٹھارویں صدی سے انیسویں صدی تک کے اصلاحی مناہج میں ایک باریک لیکن انتہائی اہم فکری تبدیلی رونما ہوئی۔ اس تبدیلی کو جاننے کے لیے شاہ ولی اللہ اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل کے اصلاحی مناہج کے درمیان موازنہ اور تقابل مفید رہے گا۔ باوجود یکہ تصوف پر ان دونوں کی تحریروں مثلاً شاہ ولی اللہ کی "لمعات" اور "سطعات" اور شاہ اسماعیل کی "عبقات" میں کافی حد تک مماثلت ہے، شاہ ولی اللہ کی افتاد طبع اپنے پوتے کی جارحانہ اور انتہا پسند طبیعت سے واضح طور پر مختلف تھی۔ میں یہاں شاہ ولی اللہ کے سوانح میں سے ایک واقعہ نقل کرنا چاہوں گا تاکہ قارئین اس تقابل کی ایک بہتر تفہیم حاصل کریں۔ یہ واقعہ مولانا عبید اللہ سندھی (م 1944، بیسویں صدی کے ایک دیوبندی عالم/انقلابی کارکن اور ولی اللہی فکر کے ایک نمایاں شارح) کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے سیاسی نظریے اور فکری ورثے پر اپنی مشہور کتاب "شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک" میں مولانا سندھی درج ذیل واقعہ بیان کرتے ہیں:
ایک بار ایک معروف عالم دین مولانا محمد فاخِر الہ آبادی (م 1760) شاہ ولی اللہ سے ملنے کے لیے دلی آئے14۔ ایک مقامی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے مولانا فخر (جو کہ ایک غیر مقلد عالم تھے) نے رفع الیدین کیا برصغیر کے احناف اور غیر مقلدین15 کے درمیان شدید متنازع فیہ عمل تھا۔ جب مسجد میں موجود احناف نے الٰہ آبادی کے اس عمل کو دیکھا تو وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک ہنگامہ برپا ہوا۔ ہجوم تشدد پر آمادہ تھا، لیکن جب انھیں پتا چلا کہ یہ باہر سے آیا ہوا شخص شاہ ولی اللہ کا مہمان ہے تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔ لوگ الٰہ آبادی کو شاہ ولی اللہ کے گھر تک لے گئے تاکہ وہ اس مسئلے میں اپنا فیصلہ سنائیں۔ جب انھوں نے شاہ ولی اللہ کی راے مانگی تو شاہ صاحب نے ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر کہا: "آرام سے! رفع الیدین کی تائید میں احادیث ملتی ہیں۔ میں خود بھی کبھی کبھار کر لیتا ہوں"۔ یہ سنتے ہی ہجوم منتشر ہو گیا۔ جب وہ چلے گئے تو الہ آبادی نے حیرت کے عالَم میں شاہ ولی اللہ سے پوچھا: "مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ بھی رفع الیدین کرتے ہیں"۔ شاہ ولی اللہ نے مسکراتے ہوئے کہا: "اصل میں میں رفع الیدین نہیں کرتا، لیکن اگر آج میں نے ایسا نہ کہہ دیا ہوتا تو وہ آپ کو مار دیتے"۔ انھوں نے مزید بتایا: "حکیم وہ نہیں جو بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو اپنے مخالفین میں بدل دیتا ہے"16۔
شاہ ولی اللہ کے نزدیک اس وقت عبادات میں باریکیوں پر زور دینے کے مقابلے میں معاشرتی نظم کو برقرار رکھنا افضل تھا اور یہی موقف بعد میں ایک صوفی شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے پیش کیا جن کے بارے میں ہم بارہویں باب میں مزید جانیں گے۔ اسی وجہ سے شاہ صاحب نے ایک ہنگامے کو بہترین انداز میں رفع دفع کیا۔ اس کے برعکس ان کے پوتے اسماعیل کے نزدیک روزمرہ کی زندگی کی ایک باریک تنظیم سے ہی معاشرتی نظم کا حصول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بغیر دنیا اخلاقی انتشار میں مبتلا رہتی ہے اور اپنے علاج کے لیے ایک ایسی جارحانہ تدبیر کی ضرورت مند ہوتی ہے جس کی ترتیب اور تنفیذ مذہبی مصلح کا کام ہے۔
میرے نزدیک اندازِ فکر کا یہ اختلاف محض دادا اور پوتے کے درمیان افتادِ طبع کا اختلاف نہیں تھا۔ اس کے بجاے یہ ان وسیع تر تبدیلیوں اور انقلابات کی پیداوار تھا جن کی وجہ سے ہلچل اور مسابقت سے بھرپور انیسویں صدی میں برصغیری اسلام کے عبوری سفر کا آغاز ہوا۔ میں کتاب کے پہلے حصے کے آخر میں اور پھر چھٹے باب کے آغاز میں ان تسلسلات اور تغیرات کی طرف واپس آؤں گا جنھوں نے برصغیری اسلام کے ماقبل استعمار سے مابعد استعمار دور میں داخلے کے اس عبوری سفر کو ممکن بنایا۔ لیکن اس سے پہلے میں اسماعیل کے سیاسی نظریات اور اصلاحی پروجیکٹ کو زیرِ بحث لانا چاہتا ہوں۔
خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کا تحفظ: مذہب کو بدعات سے لاحق خطرات
شاہ اسماعیل کے معاشرتی تخیل میں یہ مفروضہ سرایت کیے ہوئے تھا کہ انسانوں اور شریعتِ الٰہی کے درمیان ایک ہمہ وقت اور مسلسل کش مکش برپا ہے۔ جیسا کہ میں اس کتاب کے دوسرے حصے میں نسبتاً تفصیل سے بیان کروں گا، شاہ اسماعیل اور ان کے بعد دیوبند کے پیش روؤں کے تصورِ بدعت میں احکامِ الٰہیہ میں تغیر پیدا ہونے کا تصور مرکزی اہمیت کا حامل تھا۔ شاہ اسماعیل نے بدعت کی تعریف اس طرح سے کی کہ ہر وہ عادت یا رسم جس کی انجام دہی شرعی حکم نہ ہو اور اس کے باوجود اسے اس التزام اور جذبے سے سرانجام دیا جائے کہ وہ شرعی عمل کا روپ دھار لے، بدعت ہے۔
اس انداز سے ایک غیر شرعی عمل کو دین کے دائرے میں شامل کر لینا بدعت ہے، کیونکہ یہ تنہا اور مطلق شارع کی حیثیت سے خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ کو چیلنج کرنا ہے ، کیونکہ وہی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے کہ کون سا حکم شرعی ہے اور کون سا غیر شرعی۔ اس لیے شاہ اسماعیل کی فکر میں فقہ، عقیدہ، ایمان اور عمل میں تفریق ناممکن ہے۔ "بدعت اپنے جوہر کے اعتبار سے عقیدے کے مسائل میں سے ہے۔ کسی عمل کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ مفید ہے، حالانکہ خدا نے اسے مفید نہیں کہا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی عمل نقصان دہ ہے، حالانکہ خدا نے اسے نقصان دہ نہیں قرار دیا، یہ بدعتِ حقیقی کی تعریف ہے"17۔
چنانچہ عقیدہ شاہ اسماعیل کے نزدیک پختہ اعتقادات کا کوئی داخلی مسئلہ نہیں، بلکہ علم کا ایک متحرک موضوع ہے۔ عقیدہ وعلم اس طرح باہم گندھے ہوئے ہیں کہ انھیں جدا کرنا ناممکن ہے۔ کسی عمل کے نقصان دہ ہونے کا علم اس کے بارے میں یہی اعتقاد رکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ "آپ اسی چیز پر یقین رکھتے ہیں، جس کا آپ کو علم ہو" کا محاورہ شاہ اسماعیل کی فکر کی بنیاد تھا۔ مزید برآں بدعت ایک ایسی صورت حال کو ظاہر کرتی ہے جس میں علم وعقیدہ کے درمیان خدا کے مقرر کردہ تعلق میں انسان اپنی طرف سے نیا اضافہ کر کے خلل ڈالتا ہے۔ اس لیے بدعت کا مفہوم اپنی طرف سے کسی چیز کو ایجاد کرنا ہے، جس میں ایک بندہ اپنی مرضی سے شریعت میں ایک ایسے حکم کا اضافہ کرتا ہے جسے خدائی جواز حاصل نہ ہو، اور نتیجتاً اس سے شریعت اور اس کے حدود کی تعیین میں مطلق صاحب اختیار کی حیثیت سے خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کی مخالفت لازم آتی ہے۔
شاہ اسماعیل نے بتایا کہ علم، عقیدہ اور عمل کے اس میدان کو خدا کی طرف سے منظور شدہ احکام وضوابط سے ہم آہنگ بنانے کے لیے یہ ناگزیر تھا کہ ایسے افراد اور پھر ایسے عوام کی تربیت کی جائے جن کے لیے کسی قسم کی ایسی فکر اور سرگرمی فیصلہ کن طور پر ناقابلِ برداشت ہو جو خدا کی حاکمیتِ مطلقہ میں کسی شک وشبہہ کا سبب بنتی ہو18۔
حاکمیتِ اعلیٰ کے خاص دائرے اور شعائر
لیکن اطاعت وبندگی کی وہ کون سی علامات ہیں جو خدا نے صرف اپنی ذات کے ساتھ خاص کی ہیں؟ فکر وعمل کے وہ کون سے مخصوص اور اعلیٰ وارفع دائرے ہیں جن کے ذریعے انسان خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کا اقرار اور تصدیق کریں، اور جو غیر اللہ کے لیے نہ بجا لائے جا سکیں؟ اس بنیادی سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ اسماعیل نے شرک کی چار اقسام بیان کی جن میں سے ہر ایک کا تعلق کچھ ایسے مخصوص اعمال سے ہے جو صرف اور صرف خدا کے ساتھ خاص ہیں، اور اسی وجہ سے کسی دوسرے فرد کے لیے انھیں نہیں بجا لایا جا سکتا۔ شرک کی ان اقسام میں ۱۔ علم میں شرک، ۲۔ تصرف (فطرت کے عام قانون سے ہٹ کر فیصلہ کرنے کی قدرت) میں شرک، عبادت میں شرک اور عادات (روزمرہ کے رسم ورواج اور اعمال واطوار) میں شرک شامل ہیں۔ میں شاہ اسماعیل کی تشریح کے مطابق ان کی وضاحت کرتا ہوں۔
شرک فی العلم میں وہ تمام اعمال اور اطوار شامل ہیں جو خدا کے عالم الغیب ہونے کے تصور کو کمزور کرتے ہیں۔ مثلاً کسی ولی کے نام کا مسلسل ورد کرنا، اس عقیدے سے اسے پکارنا کہ وہ سنتا ہے، یا یہ خیال کرنا کہ تمام انسانی عوارض جیسے بیماری، ناداری، زندگی اور موت سے اصحاب کشف وکرامت شخصیات واقف ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ شرک فی العلم سے مراد علم کی ان اقسام کو غیر اللہ کے لیے ثابت کرنا ہے جو صرف خدا کے ساتھ خاص ہیں19۔
شرک فی التصرف سے مراد یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی کی جان لینے، دعائیں قبول کرنے، شر کو دفع کرنے، بیماری لانے اور شفا دینے کو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے مانا جائے۔ یہ وہ صفات ہیں جو صرف خدا کے ساتھ خاص ہیں، اور اسی وجہ سے غیر اللہ کے لیے ان کا اثبات نہیں کیا جا سکتا۔
شرک فی العبادات سے مراد یہ کہ وہ عبادات، اعمال اور سرگرمیاں جو خدا نے اپنی عبادت کی علامات کے طور پر اپنے ساتھ خاص کی ہے، انھیں کسی اور کے لیے بجا لایا جائے۔ مثلاً رکوع کرنا، سجدہ کرنا، ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، خدا کے نام پر صدقہ خیرات دینا، اس کے نام کا روزہ رکھنا، حج بیت اللہ کے لیے دور دراز سے سفر کر کے آنا، حاجی کا ایسا انداز اختیار کرنا جو اسے دیگر تمام لوگوں سے ممتاز کرے، حرمِ مکی میں فضول گپ شپ اور شکار سے اجتناب کرنا، کعبہ کے گرد طواف کرنا، کعبہ پر غلاف چڑھانا، حجرِ اسود کو بوسہ دینا، حرم کے درختوں اور گھاس کا نہ کاٹنا، اور حرم میں جانور نہ چَرانا تمام وہ اعمال ہیں جو خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کے شعائر کے طور پر متعین کیے گئے ہیں۔
ان اعمال اور عبادات کی بجا آوری جو صرف مخصوص مقامات میں مشروع کیے گئے ہیں، کسی ایسی جگہ میں کرنا بھی بدعت ہے جہاں پر یہ مشروع قرار نہیں دیے گئے، مثلاً اولیا کے مزاروں کی زیارت کے مواقع پر ان اعمال کو بجا لانا۔ بالفاظِ دیگر شرک فی العبادات سے مراد شاہ اسماعیل کے نزدیک خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ کے ساتھ مخصوص اعمال کو دیگر سیاقات میں بجا لانا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ تمام کام صرف اپنی عبادت کے لیے خاص کیے ہیں۔ سو اس قسم کے کام کسی اور کی تعظیم کے لیے نہیں کرنے چاہییں۔ کسی کی قبر پر چلے جانا یا دور دراز سے کسی کے تھان کا قصد کرنا، سفر کی رنج وتکلیف اٹھا کر اور میلے کچیلے ہو کر وہاں پہنچنا، وہاں جاکر جانور چڑھانا، منتیں پوری کرنا، کسی قبر یا مکان کا طواف کرنا، اس کے گرد وپیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، گھاس نہ اکھاڑنا اور اسی قسم کے دوسرے آداب بجا لانا اور ان سے کچھ دین ودنیا کے فائدہ کی توقع رکھنا، یہ سب شرک کی باتیں ہیں۔ ان سے بچنا چاہیے، کیوں کہ یہ معاملہ خالق ہی سے کیا جانا چاہیے۔ کسی مخلوق کی شان نہیں کہ اس سے یہ معاملہ کیا جائے"20۔
شرک فی العادات یعنی روزمرہ کی عادات اور معمولات میں شرک ان چار اقسام میں سب سے زیادہ عام قسم ہے۔ یہ وہی قسم ہے جو اشرافیہ کے طرز زندگی پر شاہ اسماعیل کی وسیع تر تنقید کو ان کے کلامی فکر سے زیادہ صراحت کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس قسم میں شامل چند اعمال میں سے روزمرہ کی گفتگو میں دوسرے لوگوں کی حد سے زیادہ تقدیس کرنا، جیسے کسی کو "جنابِ عالی" یا "قبلہ" جیسے القاب وآداب کے ساتھ پکارنا، یا اپنے نام ونسب پر فخر کرنا، جیسے کوئی پٹھان، راجپوت اور مغل خاندان سے تعلق ہونے پر فخر کرے، اور ادب واحترام کی خاطر نیک لوگوں یا بزرگوں کے ہاتھ چھومنا شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ شرک فی العادات میں روزمرہ کی زندگی میں غیر اللہ کو وہی تقدس دیا جاتا ہے جو صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ شرک کی یہ تمام اقسام ہندوستانی مسلمانوں میں پنپ رہی تھیں۔
روایت بطور اصل معیاری نمونے کا اعادہ
شاہ اسماعیل کے اصلاحی بیانیے کے مطابق ابتدائے اسلام میں جس طرح آنحضرت ﷺ اور ان کے تشکیل کردہ نومسلم معاشرے اور مشرکین، یہودیوں اور عیسائی دشمنوں کے مابین ایک کشمکش تھی، بعینہ وہی صورت حال اب انیسویں صدی کے ہندوستان میں وقوع پذیر ہے۔ اگر چہ کردار بدل گئے ہیں، لیکن کہانی وہی ہے۔ مختلف لباسوں میں ملبوس اہلِ بدعت راہِ سنت کی، جو خدا کی حاکمیتِ مُطلَقہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے عبارت ہے، مخالفت کر رہے ہیں، اور بے سوچے سمجھے اپنے آبا واجداد کی پیروی کر رہے ہیں۔ کیا یہ وہی جاہلیت نہیں ہے جس کی اصلاح کے لیے اسلام اور پیغمبر اسلام کو بھیجا کیا گیا تھا؟ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اسلام کے مخالفین کی طرح انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمان بھی اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ بدعات وخرافات میں مکمل ڈوبے ہوئے ہیں۔ بہت سے دعوی تو مسلمانی کا کر رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ شرک وبدعت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انبیا اور اولیا کی تعظیم کے بہانے سے یہ لوگ بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں، اور انھیں اپنے گناہوں کا احساس تک نہیں ہوتا۔ شاہ اسماعیل جاہلیت کی اس صورت حال کی ایک واضح تصویر کشی کرکے اس اضطراب انگیز صورت حال کی اصلاح کے لیے اپنا پروگرام تجویز کرتے ہیں۔ اپنی ذات پر عموماً کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں وہ لکھتے ہیں:
"ایمان کے اکثر دعوے دار شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی ان سے کہے کہ تم دعوی تو ایمان کا کرتے ہو، مگر شرک میں گرفتار رہتے ہو، کیونکہ شرک وایمان کی متضاد راہوں کو ملا رہے ہو، تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم شرک نہیں کر رہے بلکہ انبیا واولیا سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے عقیدت مند ہیں۔ شرک تو تب ہوتا جب ہم انھیں اللہ کے برابر سمجھتے۔ ہم تو انھیں اللہ کے بندے اور مخلوق ہی سمجھتے ہیں۔ اللہ نے انھیں قدرت وتصرف بخشا ہے۔ یہ اللہ ہی کی مرضی سے دنیا میں تصرف کرتے ہیں۔ ان کو پکارنا اللہ کو پکارنا ہے اور ان سے مدد مانگنا اللہ ہی سے مدد مانگنا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے پیارے ہیں، جو چاہیں کریں۔ یہ ہمارے سفارشی وکیل ہیں۔ ان کے ملنے سے رب مل جاتا ہے اور ان کے پکارنے سے رب کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔ جتنا ہم انھیں مانیں گے، اسی نسبت سے ہم اللہ کے نزدیک ہوتے چلے جائیں گے"21۔
شاہ اسماعیل کی طرف سے اپنے اصلاحی مشن کے خلاف پیش کیے جانے والے اس ممکنہ استدلال کی تردید سے ہمیں واضح اشارات ملتے ہیں کہ ان کی نظر میں روایت کا تصور اور زمان کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کیا تھی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ بالکل وہی بہانے ہیں جو ابتداے اسلام میں مشرکین اور کفار پیش کیا کرتے تھے۔وہ اپنے قارئین کو یاد دلاتے ہیں کہ عہد نبوی کے مشرکین بھی اپنے بتوں کو خدا نہیں، بلکہ خدا کی مخلوق سمجھتے تھے۔ وہ بھی خدا کا کھلا نہیں کرتے تھے، کیونکہ وہ ان بتوں کے لیے خدائی طاقتوں کے قائل نہ تھے۔ لیکن بتوں کے نام پر قسم کھانے اور ان کے سامنے معافی کے لیے گڑگڑانے جیسے اعمال خدائی حاکمیت اعلیٰ (توحید) کی نفی کرتے تھے۔ اس لیے کہ یہی وہ اعمال ہیں جو خدا نے اپنی حاکمیت کے شعائر کے طور پر متعین کیے ہیں، اور اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے انھیں بجا لانا اس کی حاکمیتِ اعلیٰ کو چیلنج کرنا ہے۔
شاہ اسماعیل کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے خدا نے یہود ونصاری کی سرزنش کی تھی، کیونکہ وہ اپنے انبیا اور اولیا کی حد سے زیادہ تعظیم کرتے تھے، اگر چہ وہ بتوں کی طرح ان کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ یہ مضمون بہت عمدگی سے درج ذیل قرآنی آیت میں بیان ہوا ہے: انھوں نے خدا کے بجاے اپنے علما اور درویشوں کو رب بنا لیا اور مسیح بن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک خدا کی پرستش کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور وہ مشرکوں کے شرک سے پاک اور بلند وبرتر ہے22۔
یوں شاہ اسماعیل اپنے قیاس کو وسعت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انبیا واولیا کی حد سے زیادہ تعظیم کے ذریعے معاصر ہندوستانی مسلمانوں نے ویسے ہی خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کو مجروح کیا ہے جیسے مشرکین نے ابتداے اسلام میں کیا تھا۔ دونوں کا جرم ایک تھا: خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کے ساتھ مخصوص اعمال کو غیر خدائی ہستیوں کے لیے بجا لانا۔ آگے شاہ اسماعیل بتاتے ہیں کہ اسی طریقے سے ہندوستانی مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کی حد سے زیادہ تعظیم کرکے آپ کی بشریت کی نفی کی ہے، جیسے مسیحیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کے مقام پر فائز کر دیا تھا۔ شاہ اسماعیل کے مطابق نبی ﷺ نے خود اپنی امت کو اس بابت عیسائیوں کی پیروی کے بارے میں خبردار کیا تھا: تم میری تعظیم میں اس طرح مبالغہ مت کرنا جس طرح مسیحیوں نے عیسیٰ بن مریم کی شان میں مبالغہ کیا۔ میں تو صرف خدا کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے خدا کے بندے اور اس کے پیغمبر کے نام سے پکارا کرو"23۔
ایک اور موقع پر آپ نے اپنے صحابہ کو تنبیہ کی: میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اس مرتبے سے آگے بڑھاؤ جس پر اللہ نے مجھے رکھا ہے۔ میں محمد، عبد اللہ کا بیٹا، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں"24۔ شاہ اسماعیل کے نزدیک ان نبوی تنبیہات کا مقصد خدائی حقیقت (حقیقتِ اُلوہیہ) اور حقیقتِ محمدیہ کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچنا تھا، ایک ایسی حد جسے عشق نبوی کے نام پر ہندوستانی مسلمان پامال کرتے رہتے ہیں۔یہ بعینہ وہی تجاوز ہے جو مسیحیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اور مشرکین مکہ نے اپنے بتوں کو خدائی صفات سے متصف کر کے کیا ہے۔ بالفاظِ دیگر شاہ اسماعیل کی نظر میں اگر چہ ان دو ادوار کے درمیان زمانی فاصلہ ہے، لیکن انیسویں صدی کے اوائل کا اسلام اور ساتویں صدی کے عرب میں حضور ﷺ کی بعثت کا وقت دونوں اخلاقی اور جمالیاتی اعتبار سے ایک ہی مقام پر ہیں۔
اس مقام کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ اس میں خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کی یکتائی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ مزید برآں حضور ﷺ کے بعد شاہ اسماعیل جیسے مصلحین کا یہ فرض ہے کہ وہ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کے مقابلے میں کھڑے ہونے والی دیگر حقیقی یا فرضی ہستیوں کا اپنی تبلیغی اور اصلاحی سرگرمیوں کے ذریعے سے قلع قمع کریں۔ اگر چہ میدان جنگ تبدیل ہو گیا ہے، لیکن معرکہ آج بھی وہی ہے۔
شاہ اسماعیل نے اپنے بیانیے میں جس طرح آنحضرت ﷺ کے دور کو اپنے اصلاحی دور کے مماثل قرار دیا ہے، اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ روایت اور زمان کے تعامل کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ جیسا کہ ہندوستانی مسلمانوں اور اوائلِ اسلام کے یہود ونصاری کے درمیان موازنے میں دکھایا گیا، شاہ اسماعیل کی نظر میں عہدِ نبوت کی کہانی نوآبادیاتی ہندوستان میں ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ روایت کے ایک ایسے تصور میں جس میں ایک نقطۂ آغاز بار بار وقوع پذیر ہو سکتا ہو، انتقال (translation) کا کردار ملاحظہ کیجیے25۔ شاہ اسماعیل کی نظر میں عہد نبوت ان کے اپنے زمانے میں مکمل طور قابلِ انتقال ہے، (یعنی اسی جدوجہد کا آج بھی اعادہ کرنے کی ضرورت ہے)۔ ان دو زمانی ادوار کے درمیان مکمل انتقال کے امکان کا دعوی کر کے شاہ اسماعیل نے یہ کوشش کی کہ روایت کو ایک بنیادی اور معیاری نمونے کے طور پر پیش کر کے جو بار بار وقوع پذیر ہو سکتا ہے، روایت اور بدعت کے درمیان چپقلش کی ایک کہانی ترتیب دی جائے۔ شاہ اسماعیل کے تخیل میں حال کی اصلاح کا دار ومدار ایک ایسی روایت کا وارث بننے کے امکان میں ہے جس نے ایک جست میں تاریخ کا سفر طے کیا ہو۔ ان کے ہاں ماضی، میراث کے ترکے کی طرح ہمیشہ مکمل طور پر قابل انتقال ہے۔ مزید برآں قادر مُطلق خدائی ہستی نے، جو کسی تغیر وتبدل سے پاک ہے، ماضی وحال کے درمیان تفریق کو مؤثر طریقے سے مٹا دیا ہے۔ ماورا خدا کی قیومیتِ مُطلَقہ نے زمان کی حرکت پذیری کو شکست دے دی ہے۔ اس مبدا کو قادرِ مطلق خدا کی کلی ہستی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ اسماعیل نے اس تصور کو مسترد کیا کہ مذہب کے پیروکاروں کی جمالیاتی حساسیتوں اور عملی تجربات میں واقع ہونے والے زمانی تغیرات اور ملحقہ تبدیلیوں کے مطابق روایت کی حدود میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ ایسی ترمیمات کی ضرورت نہیں، کیونکہ عہد نبوی اور زمانۂ حال مکمل طور پر باہم قابلِ انتقال ہیں۔ حیرت کا دھچکا اس وقت لگتا ہے جب شاہ اسماعیل پوری صراحت سے مکمل انتقال کے اس امکان کی تصدیق کے لیے عہد نبوی اور اپنے زمانے کے درمیان یکسانی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: "بچے اس وقت بھی پیدا ہوتے تھے، عورتوں کو ماہواری آتی تھی، بچوں کا ختنہ کیا جاتا تھا، لوگ شادیاں کرتے تھے، وہ بیمار ہو کر مرتے تھے، قبریں بھی کھودی جاتی تھیں۔ پھر یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ ان حالات میں حضور ﷺ کیا کرتے تھے؟ اور ان کے بعد خلفاے راشدین روز مرہ کے یہ اعمال کس طرح سر انجام دیتے تھے؟"26
اس بیان سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ شاہ اسماعیل کی نظر میں روایت ماضی کی ایک تعبیر کی نمائندگی کرتی ہے جسے حال میں بآسانی از سرِ نو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انتقال کی یہ خواہش ایک لاینحل مسئلے میں الجھی ہوئی تھی۔ وہ ایک ایسے نبوی دور کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی متلاشی تھی جس کا دوبارہ وقوع پذیر ہونا عملاً ناممکن تھا۔ شاہ اسماعیل کا اصلاحی پروجیکٹ (ان کے بہت سے دیگر پروجیکٹس کی طرح؟) یہ لاینحل گتھی نہیں سلجھا سکا۔
امکانِ نظیر اور امکانِ کذب
شاہ اسماعیل کی کلامیات کا ایک انتہائی متنازعہ پہلو وہ اصطلاحات ہیں جن کے ذریعے سے انھوں نے خدائی حاکمیتِ اَعلی (توحید) کی قطعی یکتائی کے حق میں استدلال کیا۔ انھوں نے بتایا کہ قادر مطلق خدا کے مقابلے میں دیگر تمام ہستیاں، چاہے وہ انبیا ہوں یا جنات، شیاطین، بھوت پریت، پریاں، یا اولیا، سب یکساں طور پر کم تر ہیں۔ نہ صرف ان کے استدلال بلکہ ان کے طرزِ استدلال نے بھی غم وغصہ اور تنازعات کو جنم دیا۔ انھوں نے پرشکوہ انداز میں لکھا: "اگر آدم علیہ السلام سے لے کر دنیا کے خاتمے تک تمام انسان اور جنات، جبریل امین اور حضرت محمد ﷺ کی طرح بن جائیں تو بھی خدا کی بادشاہت اور شان وشوکت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا، اور اگر وہ تمام شیطان اور دجال بن جائیں، تب بھی اس کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ ہر حال میں قادروں کا قادر اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ کوئی اسے نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتا"27۔ ایک عجیب انداز میں توحید فی الحکم کا اثبات کرتے ہوئے انھوں نے وہ بات کہی جو آج تک ان کی کتاب کا انتہائی متنازعہ موقف سمجھا جاتا ہے: خدا اس قدر طاقت ور ہے کہ ایک لمحے میں اپنے 'کُن' سے وہ لاکھوں نئے پیغمبر، اولیا، جنات، فرشتے، جبریل اور محمد ﷺ پیدا کر سکتا ہے28۔
شاہ اسماعیل کے سب سے بڑے مخالف علامہ فضل حق خیر آبادی نے اپنی کاٹ دار تنقید میں اس دعوے کو بڑی شدت سے رد کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ محمد ﷺ کے نظیر کے امکان کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے، اور ختم نبوت کے دعوے سے مکر سکتا ہے۔علامہ خیر آبادی کہتے ہیں کہ اس سے خدا کی ذات میں عیب کا امکان ثابت ہوتا ہے، کیونکہ جھوٹ بولنا ایک عیب ہے۔ اس دعوے کے جواب میں شاہ اسماعیل نے اپنی ایک کتاب "یک روزہ" میں مزید ایک ایسے تنازع کا جواز فراہم کیا جس نے برصغیر کے مسلمان اہل علم اور عوام کو آنے والی کئی دہائیوں تک الجھائے رکھا۔ یہ نزاع امکان کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان) سے موسوم ہے۔
کہا جاتا ہے کہ شاہ اسماعیل نے رسالہ "یک روزہ" اس وقت لکھا جب وہ جامع مسجد میں نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ کسی نے ان کو علامہ خیر آبادی کی کتاب پکڑا دی۔ نماز ادا کرنے کے بعد شاہ اسماعیل مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے اور ایک دن میں یہ کتاب لکھ ڈالی۔ اسی وجہ سے اسے "یک روزہ" کہا جاتا ہے۔ اس کتاب میں خیر آبادی کی تنقید کے جواب میں دفاعی پوزیشن لینے کے بجائے شاہ اسماعیل نے پرزور انداز میں یہ موقف اختیار کیا کہ ہاں، خدا جھوٹ بول سکتا ہے یا اپنے وعدے کے خلاف کر سکتا ہے۔ مثلاً خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فرعون، ابو لہب اور ہامان کو جہنم میں بھیجے گا، لیکن وہ اس وعدے کے برخلاف انھیں جنت میں بھی بھیج سکتا ہے۔ شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال میں کہا کہ خدا کے لیے جھوٹ بولنے کے امکان کی نفی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کسی ایسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا جس کی قدرت انسانوں کو بآسانی حاصل ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ انسانوں کی قدرت خدا کی قدرت سے زیادہ ہے۔
آگے چل کر شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال کو امکان اور وقوع کے درمیان فرق پر استوار کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر چہ خدا لاکھوں نئے محمد پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، یا اپنے ہی وعدے کےخلاف کر سکتا ہے، لیکن وہ فی الواقع ایسا نہیں کرتا29۔ ان کا استدلال مختصرًا کچھ یوں ہے کہ کوئی بیان یا وعدہ اسی وقت جھوٹا ثابت ہو سکتا ہے جب وہ عملاً واقع ہو جائے، اپنے وقوع سے پہلے اسے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔"30
اگر ہم مفکر جیارجیو اگیمبن (Giorgio Agamben) کے مطابق ارسطو کی فکر میں امکان اور وقوع کے درمیان فرق قائم کریں تو شاہ اسماعیل کے استدلال کی تنقیح وتوضیح اچھے انداز میں ہو سکتی ہے۔ اگیمبن بتاتے ہیں کہ ارسطو کے تصور میں امکان، وقوع پر مقدم ہوتا ہے اور اس کے لیے راہ ہموار کرتا ہے، لیکن یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اساسی طور پر امکان، وقوع کے تابع ہوتا ہے۔ ارسطو امکان کے آزادانہ وجود کو برقرار رکھنے کا پورا خیال رکھتا ہے۔ مثلاً باجا بجانے والے کے پاس یہ امکان رہتا ہے کہ وہ باجا بجائے، باوجودیکہ وہ اس وقت باجا نہ بجا رہا ہو۔ اسی طرح ماہر تعمیرات کے پاس یہ امکان رہتا ہے کہ وہ عمارت بنائے، اگر چہ وہ اس وقت نہ بنا رہا ہو31۔ اگیمبن نے ارسطو سے یہ دل چسپ نکتہ اخذ کیا کہ اپنے آزادانہ وجود کو برقرار رکھنے کے لیے امکان میں یہ صلاحیت ضروری ہے کہ وہ وقوع میں داخل نہ ہو۔ اگیمبن نے اسے یوں بیان کیا ہے: "اگر امکان اپنا تسلسل چاہتا ہو، اور فوراً وقوع میں آ کر خود کو کھونا نہ چاہتا ہو، تو یہ ضروری ہے کہ اس میں امکان سے وقوع میں داخل نہ ہونے کی صلاحیت ہو32، یعنی اس امکان کی خاصیت ہی عدم وقوع ہو، یا ارسطو کے الفاظ میں یہ امکان ہمیشہ عدم امکان (im-potentiality [adynamia]) ہی رہے۔
اگیمبن کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ وہی مقام ہے جہاں امکانِ محض اور وقوع دونوں برابر ہیں۔ بعینہ یہی بات شاہ اسماعیل کہتے ہیں کہ "خدا لاکھوں محمد پیدا کر سکتا ہے" یا "اپنے وعدے کے خلاف کر سکتا ہے" جیسے دعووں کا مقام یہی برابری والا ہے، جہاں پر قدرت وتصرف کا امکان کبھی وقوع کے دائرے میں داخل نہیں ہوتا۔ اس کے بجاے اپنی ذات پر ایک پابندی لگا کر یہ امکان خود اپنے آپ کو مُعَلّق رکھتا ہے، اور اس صورت میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے دونوں امکان برابر رہتے ہیں۔
شاہ اسماعیل کا یہ نظریہ کہ خدا اپنے وعدے کے خلاف کر سکتا ہے، یا ایک لاکھ نئے محمد پیدا کر سکتا ہے، درحقیقت ان کی فکر اور علمی سرمایے کا سب سے کانٹے دار اور متنازعہ پہلو ہے۔ اس لیے میں شاہ اسماعیل کی طرف سے "یک روزہ" میں پیش کیے جانے والے کلیدی دلائل ونکات کا بالاختصار ذکر کرتا ہوں، تاکہ اس انتہائی اہم کتاب کی چند جھلکیاں پیش کر سکوں جسے شاذ ونادر ہی موضوعِ تحقیق بنایا گیا ہے۔ اس سے قارئین کو علامہ خیر آبادی کی جانب سے پیش کیے گئے جواب کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی جسے میں آئندہ ابواب میں بیان کروں گا۔
شاہ اسماعیل کا استدلال اگر چہ قرآن تک محدود نہیں، لیکن اساسی طور پر انھوں نے ان قرآنی آیات کو پیش کیا ہے جن میں خدا کی قدرت کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کے دن انسانوں اور دیگر مخلوقات کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ان آیات کو ذکر کرنے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ چند آیات پر غور کرنے سے ہم یہ مقصد معلوم کرسکتے ہیں۔ مثلاً شاہ اسماعیل نے سورۃ یس کی آیات نمبر 81 اور 82 کا حوالہ دیا ہے: "بھلا جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو (دوبارہ) پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں! جب کہ وہ سب کچھ پیدا کرنے کی پوری مہارت رکھتا ہے۔ اس کا معاملہ تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کر لے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ: 'ہو جا' تو وہ ہو جاتی ہے"33۔
شاہ اسماعیل نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ اس آیت میں روزِ قیامت کا ذکر ہے، اس لیے "ان جیسوں" کے الفاظ سے مراد انسانوں کے ساتھ ساتھ تمام اشیا ہیں جنھیں از سرِ نو زندہ کیا جائے گا34۔ اس آیت کے مطابق تمام انسانی افراد کو قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جائے گا، اس لیے یہ قدرتِ الٰہیہ میں شامل ہے35۔ اب یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے کہ پیغمبر ایک انسان تھا جسے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا36۔ ان مقدمات کو ملاتے ہوئے اس آیت کے مطابق یہ خدا کی قدرت میں شامل ہے کہ وہ ایک اور محمد کو پیدا کرے37۔ اس لیے کہ خدا کی قدرت میں شامل ہے کہ وہ ان مخلوقات کی نظیر پیدا کرے جنھیں قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اسماعیل نے فاتحانہ انداز میں اپنی بات کو یوں سمیٹا ہے کہ "تقویۃ الایمان میں میرا نکتہ یہی تھا" ۔
اسی طرح انھوں نے ایک اور دل چسپ قرآنی آیت پیش کی ہے جس میں ایک بار پھر "ہو جاؤ، اور وہ ہو گیا" کا پرکشش جملہ موجود ہے۔ یہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 59 ہے: "اللہ کے نزدیک عیسٰی کی مثال آدم جیسی ہے۔ اللہ نے انھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا: "ہو جاؤ، پس وہ ہو گئے"38۔ یہ آیت اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آدم علیہ السلام کی طرح بغیر باپ کے قادرِ مطلق خدا کے لفظِ "کن" سے پیدا ہوئے تھے۔ شاہ اسماعیل کے مطابق خدا کی نظر میں حضرت عیسٰی اور حضرت آدم علیہما السلام کی پیدائش میں مماثلت سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی ہستی کو وجود میں لانے کی قدرت ہی اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس طرح کی ایک دوسری ہستی کو پیدا کر سکتا ہے۔
"یک روزہ" کا یہ مرکزی نکتہ ہے: نبی اکرم ﷺ کا نفس وجود ہی بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی نظیر پیدا کرنا خدا کی قدرت میں شامل ہے39۔ شاہ اسماعیل واضح کرتے ہیں: "اس دلیل کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ بہر صورت محمد کا وجود خدا کی قدرت میں شامل ہے، تو محمد کی نظیر کا وجود بھی اس کی قدرت میں شامل ہے"40۔ وہ کتاب کے فارسی متن میں ایک عربی جملہ لکھتے ہوئے اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے کہ " قرآنی تصریح کے مطابق قدرتِ الہیہ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے مثلین کا حکم ایک ہے (لأن حكم المثلين واحدٌ في الدخول تحت القدرة وعدمه بمنطوق القرآن)"41۔
"یک روزہ" میں مخصوص قرآنی آیات کو پیش کرنے کے علاوہ شاہ اسماعیل کا مرکزی استدلال یہ تھا کہ خدا کا اپنے وعدے کے خلاف کرنا یا ایک اور محمد کو پیدا کرنا اصلاً ناممکن (ممتنع بالذات) نہیں، بلکہ بالواسطہ ناممکن (ممتنع بالغیر) ہے۔ یہ دو اصطلاحات یعنی ممتنع بالذات اور ممتنع بالغیر، امکان کذب اور امکان نظیر کے قضیے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ ممتنع بالذات ایک عقلی عدم امکان کی طرف اشارہ ہے، یعنی ایک ایسی چیز جو اپنی اصل اور جوہر میں ناممکن ہو۔ اس کے برعکس ممتنع بالغیر سے اشارہ ایسے عدم امکان کی طرف ہے جو اپنی اصل کے بجاے کسی اور چیز کی وجہ سے، بالفاظ دیگر بالواسطہ، ناممکن ہو۔
یہ ذہن میں رہے کہ شاہ اسماعیل اپنے مخالفین مثلاً علامہ خیر آبادی کے ساتھ اس بات پر بالکل متفق تھے کہ فی الواقع محمد ﷺ کی نظیر نہ کبھی ممکن ہوئی نہ ممکن ہے، اور نہ کبھی ہوگی۔ واقعتاً محمد کی نظیر پیدا ہونا ناممکن ہے۔ اس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ اصل اختلاف عدم امکان کی حیثیت میں ہے۔ شاہ اسماعیل کے نزدیک امکانِ کذب یا امکانِ نظیر بالذات نہیں، بلکہ بالواسطہ ناممکن تھا۔ خدا اگر چاہے تو وہ یہ کر سکتا ہے تاہم اس نے ایسا نہیں کیا اور نہ کرے گا، کیونکہ ایسا کرنا اس کے الٰہی منصوبے کے مطابق نہیں۔ اس کے برعکس علامہ خیر آبادی کے نزدیک، جیسا کہ ہم عنقریب ملاحظہ کریں گے، یہ اعمال اصلاً اور بالذات ناممکن ہیں۔ شاہ اسماعیل کے نقطۂ نظر پر بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض ہے کہ ان کے استدلال کے پیچھے مرکزی خیال یہ تھا کہ: "ہر ممتنع بالغیر ممکن بالذات ہوتا ہے، اور ہر ممکن بالذات خدا کی قدرت کے تحت شامل ہے"42۔
اس اصول کی بنیاد پر انھوں نے یہ دعوی کیا کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر کا عدم امکان اور غیر موجودگی بالذات نہیں بلکہ بالواسطہ ہے، اس لیے ان کی نظیر کا وجود اصل میں ممکن ہے۔ اور چونکہ واضح طور پر خدا اس چیز کو وجود میں لا سکتا ہے جو اصل ممکن ہو، تو اس سے ثابت ہو گیا کہ خدا کو یہ قدرت بھی حاصل ہے کہ وہ ایک اور محمد کو پیدا کرے، یا وہ اپنے وعدے کے خلاف عمل کا فیصلہ کر لے۔ شاہ اسماعیل، ایک ایسے مصنف کی طرح جو اپنی کتاب سے متعلق عمومی تاثر کی تصحیح کرنا چاہ رہا ہو، گزارش کرتے ہیں کہ یہی وہ بات تھی جو وہ تقویۃ الایمان میں کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ان وضاحتوں سے، جیسا کہ ہم عنقریب دیکھیں گے، ان کے مخالفین کی ہرگز تسلی نہیں ہوئی، بلکہ اس سے ان کی تلخی میں مزید اضافہ ہوا کہ ان کی نظر میں یہ ایک معمولی حیثیت کے حامل مولوی کی علمی اعتبار سے فضول گستاخیاں تھیں۔
"یک روزہ " کے لکھنے کے جلد ہی بعد شاہ اسماعیل سکھوں کے خلاف جہاد کے لیے نکل پڑے۔ تاہم وہ اپنے پیچھے برصغیر کے مسلمان اہل علم اور عوام کے لیے بکثرت ایسے اعتقادی مسائل چھوڑ گئے جن کی وجہ سے لوگوں میں بحث ومباحثہ اور اختلاف وتفریق کا ماحول گرم رہا۔ اگر یہ مانا جائے کہ "یک روزہ " حقیقتاً ایک دن میں لکھی گئی تھی تو پھر ایسی کتابیں چند ہی ہوں گی جنھیں مرتب کرنے میں اتنا کم وقت لگا ہو اور انھوں نے مستقبل میں کئی نسلوں پر اس قدر دیر پا اثرات مرتب کیے ہوں۔
شاہ اسماعیل کی فکر اور سیاسی نظریے کے چند دیگر پہلوؤں پر بحث کرنے سے پہلے مجھے اجازت دیجیے کہ تفریحِ طبع کی خاطر چند لمحوں کے لیے آپ کو ہندوستان سے باہر کی دنیا کی سیر کراؤں۔
شاہ اسماعیل کا ہم مسلک مسیحی مفکر
خدائی حاکمیتِ اعلی (توحید) کے احیا کے لیے شاہ محمد اسماعیل اپنے جوش وخروش میں بڑی حد تک گیارھویں صدی کے اطالوی مسیحی مصلح پطرس دامیانی (م 1072) کے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ بڑی حد تک شاہ اسماعیل کی طرح دامیانی بھی ایک زبردست مناظر تھا جو خدائی حاکمیتِ اعلی (توحید) کے سوال میں گہری دل چسپی لیتا تھا، جیسا کہ اس کی سب سے مؤثر کاوش De divina omnipotia (خدائی علمِ غیب) سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے43۔ اپنی کتاب میں دامیانی نے اپنے پیش رو متعدد مسیحی مفکرین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان میں قابل ذکر اور سب سے زیادہ نمایاں عالم مقدس جیروم (م 420) تھا، جس نے خدائی قدرت کی محدودیت پر کچھ اس انداز سے دلیل پیش کی تھی کہ خدا اپنے کیے کو واپس نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر بکارت کو لیجیے۔ اس نے دعوی کیا کہ "اگر چہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی عورت کی زائل شدہ بکارت کو دوبارہ نہیں لوٹا سکتا"44۔
ایسے من موجی خدا کے تصور سے سینٹ جیروم خاصا غیر مطمئن تھا جو اپنی مرضی سے سب کچھ کر گزرتا ہو۔ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کو محدود کرنے کی کوشش میں اس نے "قدرتِ مُطلقہ" اور "قدرت منظمہ" کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیا۔ قدرت مطلقہ دیگر مخلوقات سے خدا کی یکتائی کو ثابت کرتی ہے، جبکہ قدرتِ منظَّمہ سے اس کا اشارہ خدا کے قدرت کی محدودیت کی طرف تھا۔ اگر ایک طرف قدرتِ مطلقہ لامحدود ہے، تو دوسری طرف قدرتِ مُنَظمہ ایسے خدائی تعقل کے زیر اثر ہے جو قابل اعتماد اور مُرتّب ہونے کی وجہ سے انسانیت کے لیے قابلِ فہم ہے۔
لیکن دامیانی کو، جو مقدس جیروم کے سات صدیوں بعد آیا، یہ فلسفیانہ جوڑ توڑ کسی ایسی چیز کو محدود کر دینا معلوم ہوا جو اپنی اصل میں لا محدود ہے۔ اس نے مقدس جیروم کو براہ راست جواب دیتے ہوئے لکھا: "آخر ہم اس میں شک کی جرات کر کیسے سکتے ہیں کہ خدا ایک زائل شدہ بکارت کو واپس لا سکتا ہے؟ خدا ماضی کو کالعدم کر سکتا ہے تو کسی عمل کو کیوں نہیں کر سکتا کہ کوئی حقیقی تاریخی واقعہ سرے سے پیش ہی نہ آیا ہو"45۔ شاہ اسماعیل کے اس نظریے کے ساتھ کہ "خدا لاکھوں نئے محمد پیدا کر سکتا ہے" دامیانی کے اس دعوے کی حیرت انگیز مماثلت کو دیکھیے:
“God has no need of any creature and is judged by no necessity to create, out of that nothing into existence draw this natural world of ours . . . imposing upon it its customary laws. Incapable in his omnipotence and in his eternal present of suffering any diminution or alteration of his creature power, that natural order he could well replace, those laws at any moment change.”
’’خدا کو کسی مخلوق کی حاجت نہیں ہے اور اس (کی قدرت کو) تخلیق کے ضروری ہونے سے نہیں جانچا جا سکتا۔ اس نے عدم سے ہماری اس فطری کائنات کو وجود دیا اور اس کو ان قوانین کے تابع بنایا جو اس میں جاری ہیں۔ اس کی قدرت کے قدرت مطلقہ ہونے اور اس کی ذات کے زمان سے ماورا ہونے کی بدولت چونکہ اس کی تخلیقی قدرت میں کوئی کمی یا تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی، اس لیے وہ کائنات کے فطری نظام کی جگہ کسی دوسرے نظام کو وجود میں لا سکتا ہے اور ان قوانین کو کسی بھی لمحے میں تبدیل کر سکتا ہے۔“
بالفاظ دیگر دامیانی کے نزدیک خدا کی مطلق حاکمیتِ اعلیٰ کا دار ومدار اس کی اس قدرت پر ہے کہ وہ پہلے سے موجود کسی امر کو کالعدم کر سکتا یعنی پلک جھپکنے میں ماضی کو بدل سکتا ہے یا نہیں۔ شاہ اسماعیل کا عقیدہ بھی، کافی حد تک دامیانی کی طرح، حاکمیتِ اعلیٰ کی ایک ایسی تفہیم پر مبنی تھا جس کی اساس توحید فی التصرف (یعنی اپنے کیے ہوئے کسی بھی فیصلے کو بدل دینے) کی قدرتِ مُطلَقہ تھی۔
یہاں تک میں شاہ اسماعیل کے اعتقادی حاکمیتِ اعلیٰ کے تصور اور ان کے پسندیدہ معاشرتی واخلاقی نظم کی تشکیل کے لیے اس تصور کے مضمرات پر بحث کر رہا تھا۔ ان کے سیاسی نظریات کی زیادہ جامع تفہیم کی خاطر یہاں ایک سوال کو موضوعِ بحث لانا مناسب ہوگا: سیاسیات کے کس تصور کو انھوں نے پیش کیا اور اس کی تبلیغ کی؟ ان کی نظر میں مثالی سیاسی ہیئت، ڈھانچے اور سیاسی قائدین کے اَجزاے ترکیبی کیا تھے؟
اگلے باب میں، میں شاہ اسماعیل کی ایک اور یادگار کتاب "منصبِ امامت" کی روشنی میں، جسے میری معلومات کے مطابق ابھی تک تفصیلی تحقیق وتجزیہ کا موضوع نہیں بنایا گیا ، ان سوالات کا جواب دوں گا۔ اس کتاب میں انھوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ ایک سیاسی نظریہ ترتیب دیا ہے۔ آنے والے صفحات میں، میں ان کی سیاسی فکر کے کلیدی پہلووں کو، جیسا کہ وہ اس کتاب میں پیش کی گئی ہے، اجاگر کروں گا۔ میں ان مناہج کی طرف بھی اشارہ کروں گا جو اس کتاب کو شاہ اسماعیل کے وسیع تر اصلاحی پروجیکٹ سے جوڑتے ہیں جو ان کی دوسری کتابوں مثلاً تقویۃ الایمان میں پیش کیا گیا ہے۔ اُسلوبِ تالیف، طرز بیان، اہم مرکزی نکات، مشکل ہونے کی سطح اور مخاطبین، ان سب پہلووں سے یہ دونوں کتابیں ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ ایک مربوط اصلاحی ایجنڈے کے اجزا کے طور پر ترتیب دی گئی ہیں۔ اگلے باب میں اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حواشی
- شاہ محمد اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی: صدیقی ٹرسٹ، تاریخ اشاعت ندارد)، 48۔
- تقویۃ الایمان دراصل اسماعیل عربی میں "رد الاشراک" کے نام سے لکھی گئی ایک کتاب تھی جس کے پہلے حصے کا شاہ اسماعیل نے بذات خود اردو میں ترجمہ کیا اور یہی ترجمہ آج تقویۃ الایمان کے نام سے معروف ہے۔ بعد میں رد الاشراک کا باقی حصہ مولوی سلطان محمد نے "تذکیر الاخوان" کے نام سے اردو میں ترجمہ کرکے شائع کیا۔ غلام رسول مہر (م 1971)، جو شاہ اسماعیل کے معروف سوانح نگار ہیں، بتاتے ہیں کہ 1837 سے لے 1854 تک اس کتاب کے چار قلمی اور مطبوعہ نسخوں نے بعد والی اشاعتوں کے لیے بنیاد فراہم کی۔ ان چار میں سے دو اشاعتوں میں ایک 1847 میں مطبع دارالعلوم، دلی اور دوسری 1854 میں مطبع مُحسنی، کلکتہ سے چھپی۔ غلام رسول مہر تفصیلات دیے بغیر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ "ان اشاعتوں میں متعدد اقتباسات میں تبدیلی کی گئی تھی"۔ (تقویۃ الایمان پر غلام رسول مہر کا مقدمہ، 37- 38)۔ میں نے بنیادی طور پر تقویۃ الایمان کے دو مطبوعہ نسخوں پر اعتماد کیا ہے، ایک وہ جو صدیقی ٹرسٹ کراچی سے چھپا ہے، اور دوسرا وہ جو مطبع احمدی لاہور (تاریخ اشاعت ندارد) سے چھپا ہے۔ حوالہ جات میں متعین نسخے سے حوالہ دینے کا التزام کیا گیا ہے۔
- جان ماڈرن، Secularism in Antebellum America (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2011)، 62۔
- شمالی ہندوستان میں پریس کے ابھرنے کے بعد تقویۃ الایمان اور ان جیسی دیگر اصلاحی کتابوں کی وسیع پیمانے پر نشر واشاعت کے لیے دیکھیے: ہارلن اوٹو پیئرسن، Islamic Reform and Revival in Nineteenth Century India: The Tariqa-i-Muhammadiyah (دلی: یودا پریس، 2008)۔
- اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 44؛ قرآن 2: 99۔
- شاہ عبد القادر، موضح القرآن (کلکتہ: مطبع نامعلوم، 1829)۔
- خرم علی، نصیحۃ المسلمین، ایم اس اردو 13 بی، برٹش لائبری کا ذخیرۂ مخطوطات، لندن۔
- اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 48-49۔
- شیخ محمد اکرام، رُودِ کوثر (لاہور: ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، 2005)، 572۔
- قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی فکر وحیات بالخصوص ان کے فقہی آرا کا پس منظر جاننے کے لیے Islamic Studies Presented to Charles J. Adams، تدوین: وائل حلاق اور ڈونلڈ لٹل (لائڈن: ای جے بریل، 1991) میں دیکھیے: ساجدہ علوی، “Qazi Sana Allah Panipati, an Eighteenth-Century Indian Sufi Alim: A Study of His Writing in Their Sociopolitical Context”، 11 – 26۔
- قاضی ثناء اللہ پانی پتی، ما لا بُدَّ منہ (کراچی: قدیمی کتب خانہ، 1956) 98 – 99۔
- ایضاً، 118۔
- جدید برصغیر میں عوام کے بدلتے تصورات پر مزید معلومات کے لیے دیکھیے: برانَن اِنگرام، بارٹَن سکاٹ اور شیر علی ترین (مدَوّنین)، Imagining the Public in Modern South Asia (لندن: روٹلیج، 2016)۔
- فاخر الٰہ آبادی برصغیر میں مسلک اہلِ حدیث کے، جس نے انیسویں صدی میں ایک زیادہ واضح گروہ کی صورت اختیار کی، اولین اور ممتاز اہل علم میں سے تھے۔ انھوں نے قرۃ العینین فی اثبات سنۃ رفع الیدین کے نام سے ایک اہم فارسی کتاب لکھی تھی جس میں انھوں نے نماز کے دوران رفع یدین کی سنیت کو ثابت کیا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ شاہ محمد اسماعیل نے اسی موضوع پر اپنی کتاب میں، جس کے بعینہ یہی مقاصد اور حیرت انگیز طور پر من وعن یہی نام (تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین) ہے، الٰہ آبادی کی کتاب سے بھرپور اخذ واستفادہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ الٰہ آبادی کے ساتھ شاہ ولی اللہ کی رفاقت سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب نہ صرف یہ کہ اہل حدیث علما سے سماجی تعلق کے حوالے سے نرم رویہ رکھتے تھے، بلکہ اٹھارویں صدی میں رائج متنوع نظریات پر مبنی تحریکوں میں اس قدر جمود نہیں تھا۔ حنفی فقہ سے اگر چہ شاہ صاحب کا تعلق بعض اوقات مبہم تھا، اور انھوں نے یہ نقطۂ نظر بھی پیش کیا تھا کہ چاروں سنی مذاہب سے اخذ واستفادہ کرکے ایک مخلوط فقہ ترتیب دی جائے، تاہم اصولی طور پر وہ ایک حنفی عالم کی حیثیت سے اپنی اصولی شناخت سے جڑے رہے۔ لیکن یہ شناخت مخالف مسلک کے لوگوں کے ساتھ دوستی اور سماجی تعلق کے رستے میں رکاوٹ نہیں بنی۔
- غیر مقلد عالم سے مراد وہ شخص ہے جو برصغیر میں رائج فقہ حنفی سمیت اہل سنت کے چار فقہی مذاہب میں سے متعین طور پر کسی ایک مذہب کی تقلید نہیں کرتا۔ برصغیر کے تناظر میں ان مسلکی اختلافات پر تفصیلی بحث کے لیے چھٹا باب ملاحظہ کیجیے۔
- عبید اللہ سندھی، شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک (لاہور: سندھ ساگر اکیڈمی، 2008)، 82۔ مختلف کتابوں میں یہ واقعہ مختصر یا طویل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں میں نے تفصیلی واقعہ نقل کیا ہے۔
- شاہ محمد اسماعیل، ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح (کراچی: قدیمی کتب خانہ، 1976)، 73۔
- اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 48-173۔
- دل چسپ بات یہ ہے کہ شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال میں بتایا کہ علم کی ان مخصوص اقسام کو غیر اللہ کے لیے ماننا بدعت ہے، چاہے یہ اقسام کسی اور شخص کی ذاتی ہوں، یا خدا کی طرف سے عطا کردہ (عطائی) ہوں۔ علم اور حاکمیتِ اعلیٰ کے تعلق پر زیادہ تفصیلی بحث گیارھویں باب میں کی گئی ہے۔# اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 61۔
- اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 61۔
- ایضاً، 49 – 50۔
- قرآن 9: 31۔ اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 55۔
- ایضاً، 165۔
- ایضاً، 173۔
- یہ نکتہ میں نے استعمار اور سکھ اصلاح پر اروند مندیر کی شان دار کتاب سے لیا ہے۔ دیکھیے: اروند مندیر، Religion and the Specter of the West: Sikhism, India, Postcoloniality, and the Politics of Translation (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009)۔ یہاں پر میرے تجزیے کا بیش تر حصہ مندیر کی فکر کے مرہونِ منت ہے۔
- شاہ محمد اسماعیل، تقویۃ الایمان (لاہور)، 38۔
- شاہ محمد اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 101۔
- ایضاً، 100۔
- شاہ محمد اسماعیل، یک روزہ (ملتان: فاروقی کتب خانہ، تاریخ ندارد)۔ اس اختلافی بحث میں امکانِ کذب کے لیے امکانِ خلافِ وعید جیسی کم مشہور اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔
- ایضاً۔
- جیارجیو اگیمبَن، Homo Sacer: Sovereign Power and Bare Life (سٹینفرڈ، سی اے: سٹینفرڈ یونیورسٹی پریس، 1988)، 44 – 45۔
- ایضاً، 45۔
- قرآن 36 : 81 – 82۔
- اسماعیل، یک روزہ، 2۔
- ایضاً، 3۔
- ایضاً۔
- ایضاً۔
- قرآن 3 : 59۔
- اسماعیل، یک روزہ، 4۔
- ایضاً۔
- ایضاً۔
- ایضاً۔
- جین اِلشتائن، Sovereignty, Gov, and Self (نیو یارک: بیسک بکس، 2008)، 21۔
- ایضاً۔
- فرانسس اوکلے، Politics and Eternity: Studies in the History of Medieval and Early-Modern Political Thought (لائڈن: بریل، 1999)، 43 – 44۔