جولائی ۲۰۲۲ء

مذہبی معاشرہ اور لبرل ازممحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۰)ڈاکٹر محی الدین غازی 
سودی نظام سے نجات کی جدوجہدمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قانونِ دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟ڈاکٹر محی الدین غازی 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۷)ڈاکٹر شیر علی ترین 
’’احمدی تراجم اور تفاسیر قرآن‘‘ڈاکٹر حافظ سعید احمد 

مذہبی معاشرہ اور لبرل ازم

محمد عمار خان ناصر

لبرل ازم کی اصطلاح ہمارے ہاں عموماً‌ سماجی آزادیوں کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے اور اس سے مراد انفرادی آزادیوں پر ایسی قدغنوں کو رد کرنا لیا جاتا ہے جو سماج، مذہب یا ریاست کی طرف سے عائد کی جائیں۔ اس مفہوم میں مذہبی معاشرے اور لبرل ازم میں بنیادی تضاد ہے۔ مذہبی معاشرہ سماجی حدود وقیود مذہبی احکام اور ان پر مبنی تہذیبی روایات سے اخذ کرتا ہے۔ لبرل ازم کا فکری منبع اور عملی آئیڈیل جدید مغربی معاشرے ہیں جو عقلیت اور روشن خیالی کو راہ نمامانتے ہیں۔ اس سیاق میں پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں لبرل ازم کی بحث کے حوالے سے کچھ فکری اور کچھ عملی سوالات گذشتہ دو دہائیوں میں مزید اجاگر ہوئے ہیں اور سنجیدہ گفتگو کے متقاضی ہیں۔

سب سے بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ لبرل ازم کا بیانیہ مذہبی معاشرے کے بیانیوں، تصورات اور ثقافتی روایات کے ساتھ کوئی مکالمہ کرنا اور عقلی وانسانی بنیادوں پر معاشرے کی کوئی ہمدردانہ راہنمائی کرنا چاہتا ہے یا ایک بالادست پوزیشن سے کلام کرتے ہوئے مذہبی معاشرے کے تصورات اور آئیڈیلز پر یک طرفہ حکم لگانا چاہتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لبرل ازم کے تمام تر اظہارات ان میں سے دوسرے رویے کی نشان دہی کرتے ہیں اور اس کے نمائندہ طبقات اس حوالے سے ایک التباس پیدا کر کے مذہب اور مذہبی تصورات پر یک طرف حکم لگانا چاہتے ہیں۔ یہ التباس نظریات اور عقائد کے ایک معروضی تقابل کی بحث میں سیاسی طاقت یا تہذیبی غلبے سے پھوٹنے والی ججمنٹس کو شامل کرنا اور ان ججمنٹس کو ایسے انداز میں پیش کرنا ہے جیسے وہ کسی معروضی حقیقت کا بیان ہیں۔ یہ التباس خاص طور پر شریعت اور اسلامی تاریخ کے باب میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے، کیونکہ اخلاقی نوعیت کے ججمنٹس صادر کرنے کا موقع اور میدان یہی ہے۔

نظریات وعقائد اور اعمال ورسوم کے معروضی تقابل میں کوئی ایسی نیوٹرل پوزیشن نہیں ہو سکتی جس پر کھڑا ہو کر کوئی شخص ایک ایسا حکم لگا سکے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقی احکام کچھ بنیادی عقائد سے پھوٹتے اور ان پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثلاً‌ کسی جرم پر سزائے موت دینا اخلاقی ہے یا غیر اخلاقی؟ اس سوال کا کوئی بھی جواب ممکن نہیں جب تک کہ اس سے پہلے انسانی زندگی سے متعلق کچھ بنیادی مفروضات نہ مانے جائیں۔ جب مفروضات مختلف ہوں گے تو لازماً‌ سوال کا جواب بھی مختلف ہوگا۔ اب معروضی تقابل میں بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اس سوال کے جواب میں یہ دو یا تین پوزیشنیں ہیں جو باہم مختلف ہیں۔ ظاہر ہے، ہر ایک پوزیشن کی دوسری پوزیشن کے متعلق ججمنٹ یہی ہوگی کہ وہ غیر اخلاقی ہے، لیکن یہ بیان محض اس پوزیشن کے ایک منطقی نتیجے کا بیان ہوگا اور اس میں یہ بات تسلیم شدہ ہوگی کہ مخالف پوزیشن بھی جواب میں یہی ججمنٹ دینے کی مجاز ہے اور اس کا حق رکھتی ہے۔

اس سے آگے بڑھ کر اگر کوئی پوزیشن دوسری پوزیشن سے متعلق یہ کہے کہ اخلاقیات کے دائرے میں اس کا کوئی جواز ہی نہیں یا یہ کہ وہ ایک جوابی ججمنٹ کا حق نہیں رکھتی یا یہ کہ اس کو معاملات زندگی سے متعلق اپنے عقائد کے مطابق اخلاقی احکام وضع کرنے یا انھیں روبہ عمل کرنے کا حق نہیں تو اب یہ گفتگو معروضی تقابل کے دائرے میں نہیں رہتی۔ یہ تبھی ممکن ہوتی ہے جب ایک پوزیشن کو سیاسی طاقت اور تہذیبی غلبہ حاصل ہو اور وہ طاقت کے بل بوتے پر یہ مطالبہ کرے کہ مخالف پوزیشنیں اپنے اس حق سے دستبردار ہو جائیں کہ وہ اخلاقی احکام کو اپنی اعتقادی اساسات پر استوار کریں گی۔

اسی طرح مثال کے طور پر ہم جنس پرستی کے متعلق جدید تہذیبی نقطہ نظر، مذہبی موقف کے بالکل متضاد ہے۔ اسلامی شریعت کی نظر میں ہم جنس پرستی فطرت کا بگاڑ ہے۔ لوگ کسی بھی معاشرے میں اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اصلاح اور اگر علت، بیماری بن گئی ہو تو ان کے جسمانی ونفسیاتی علاج کا بندوبست کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ مذہبی معاشرے میں حسب ضرورت اس پر تادیبی وتعزیری اقدامات بھی کیے جائیں گے اور اس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سد ذریعہ کا اصول بھی عمل میں لایا جائے گا۔

تاہم جدید دور میں اس حوالے سے ہمدردانہ رویے کا یا ایسے افراد کو بہ نظر مذمت نہ دیکھنے کا مطالبہ اس کو بیماری سمجھنے پر مبنی نہیں، بلکہ اس کو ایک فطری رجحان سمجھنے اور انسانی حق کے طور پر تسلیم کرنے پر مبنی ہے۔ اس زاویہ نظر سے ہم جنس پرستی قابل مذمت نہیں، بلکہ اس کی اخلاقی مذمت کرنا انسانی حقوق کے منافی اور ناروا امتیاز کا مظہر ہے۔ اس مطالبے کو قبول کرنا، ظاہر ہے، مسلمانوں کے لیے ممکن نہیں۔ ہم جنس پرستی ایک منکر ہے اور منکر کو منکر کی حیثیت سے بیان کرنا نیز منکرات میں مبتلا اور خاص طور پر اباحیت کے قائل طبقوں یا افراد کے ساتھ ایسے تعامل سے اجتناب کرنا جس سے ان کے موقف کی تائید ہوتی ہو، مسلمانوں سے دین کا لازمی تقاضا ہے۔

غالب تہذیب اپنی مادی قوت کے زیر اثر مغلوب معاشروں میں کیسے اپنے فلسفوں اور افکار کے لیے پذیرائی کا ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس حوالے سے ایک خاص فرق کو نوٹس کرنا اہم ہے۔ غالب تہذیب چونکہ ذہنی مقلدین کی نہیں بلکہ زندہ دماغوں کی ہوتی ہے، اس لیے وہ انھی افکار واقدار کو فروغ دینے کا کشٹ اٹھاتی ہے جن پر وہ اپنا باقاعدہ موقف طے کر چکی ہو اور اس کی پوری تہذیبی فکر ان کے پیچھے کھڑی ہو۔ موجودہ غالب تہذیب کے تناظر میں انسانی حقوق، جنسی آزادی وغیرہ کے مسائل کی یہی نوعیت ہے۔ لیکن جو افکار ابھی یہ درجہ حاصل نہ کر پائے ہوں، غالب تہذیب پوری سمجھ داری سے ان کی تہذیبی وکالت کی ذمہ داری نہیں اٹھاتی۔ مغلوب معاشروں میں یہ فرق ملحوظ نہیں رکھا جاتا، بلکہ مقامی تہذیبی روایات سے برسرپیکار ہونے اور انھیں منہدم کرنے کے شوق میں جو اینٹ پتھر مل جائے، اسے بصد شکریہ قبول کر کے آزمانا شروع کر دیا جاتا ہے۔

اس کی ایک مثال جانوروں سے متعلق انسان کی اخلاقی ذمہ داری کی بحث ہے جو ہمارے ہاں بہت سے لبرل اہل دانش کو قربانی کی عید کے موقع پر یاد آ جاتی ہے۔ جانوروں کے غذائی استعمال سے متعلق یہ موقف برصغیر میں صدیوں سے بلکہ اسلام سے بھی پہلے سے موجود ہے، تاہم اس کے حاملین اسے اپنے خاص مذہبی یا اخلاقی موقف کے طور پر پیش کرتے ہیں، ایسے ہی جیسے مسلمان سور کے گوشت کو حرام سمجھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ اسے ایک واحد اخلاقی پوزیشن کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ صرف ایک مقابل موقف کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ موجودہ غالب تہذیب کا خمیر چونکہ عقلی واخلاقی حکم لگانے کی اہلیت پر کلی اجارہ داری کے تصور سے اٹھایا گیا ہے، اس لیے مغلوب معاشروں میں اس کے متاثرین ان ناپختہ فلسفوں کو بھی اسی عزم وایقان سے پیش کرنے لگتے ہیں جن پر ابھی غالب تہذیب نے بھی کوئی حتمی پوزیشن نہیں لی۔

جانوروں سے ہمدردی ایک فطری جذبہ ہے اور اس کے زیر اثر یہ احساس پیدا ہونا کہ انسانوں کو اپنی خوراک کے لیے جانوروں کو قتل نہیں کرنا چاہیے، ایک قابل فہم نفسیاتی واقعہ ہے۔ تاہم اسے ایک یونیورسل اخلاقی اصول میں کیسے بدلا جائے، یہ ایک مشکل فلسفیانہ سوال ہے جس کی کچھ پیچیدگیاں اس بک ریویو میں دیکھی جا سکتی ہیں جو 2018 میں شائع ہونے والی اس موضوع کی تازہ ترین کتاب Fellow Creatures پر لکھا گیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ دور جدید کی غالب تہذیبی قوت، ماضی کی تہذیبوں کے برعکس، دنیا سے یہ مطالبہ رکھتی ہے وہ اس کی سیاسی طاقت کے مطالبات کو ایسی ججمنٹس کی حیثیت سے قبول کرے جو آفاقی اور معروضی صداقت پر مبنی ہیں اور ہمارے ہاں کی لبرل دانش اس مطالبے پر لبیک کہتے ہوئے طاقت کے مطالبات کو معروضی حقیقتوں کے التباس میں جواز بہم پہنچانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔

لبرل بیانیوں سے متعلق ایک دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی نمائندگی یا ترجمانی کرنے والوں میں معدودے چند حضرات یقیناً‌ ایسے ہیں فکری بنیادوں پر لبرل ہیں اور لبرل ازم کی فکری بنیادوں سے علمی طور پر بھی واقف ہیں۔ تاہم اکثریت کا مسئلہ نفسیاتی ہے جو مقامی معاشرے کے ماضی وحال اور ماضی وحال کی نمائندہ شخصیات کے بارے میں سخت تنفر اور بے زاری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ صورت حال، اصلاً‌ استعماری جدیدیت کی پیدا کردہ ہے جو اپنے اثرات ومظاہر میں اصل اور معیاری جدیدیت سے کافی مختلف ہے۔ ماضی سے الگ اور مختلف ہونا، جدیدیت کی شناخت کا ایک بنیادی عنصر ہے، تاہم معیاری جدیدیت کا عمومی رویہ خود اپنی روایت کے متعلق تنفر، بے زاری اور استہزا کا نہیں ہے۔ اس کی وجہ وہ اعتماد ہے جو ایک نئی دنیا کی تشکیل میں کامیابی سے پیدا ہوتا ہے۔ استعماری جدیدیت کو متعارف کرانے والی سیاسی طاقت چونکہ مقامی معاشروں کی نئی تشکیل مکمل کیے بغیر یہاں سے رخصت ہو گئی، اس لیے مقامی دانش کا ایک حصہ شدید اضطراب کی کیفیت سے دوچار ہے۔ اس کی تمناوں کی منزل ایسا معاشرہ ہے جو جدیدیت کا کامل مظہر ہو، لیکن سردست یہ ممکن نہیں۔ اس شدید ذہنی دباو کا اظہار مقامی معاشرے، اس کی تاریخ، نمائندہ قومی شخصیات اور ثقافت وغیرہ سے اظہار نفرت اور تحقیر کی صورت میں ہوتا ہے۔

معاشرے کی نئی تعمیر کا جذبہ، مثبت ہوتا ہے اور ہمدردانہ تنقید کی صورت میں سامنے آتا ہے جس میں شرط اولین معاشرے کے ساتھ ایک وابستگی اور تعلق کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ لبرل دوستوں کا یہ طبقہ چونکہ یہ توازن پیدا کرنے سے قاصر ہے، اس لیے اس کے نزدیک اپنی شناخت کے اظہار کا واحد طریقہ تحقیر، تمسخر اور اظہار نفرت رہ جاتا ہے۔ ایسا کوئی بھی طبقہ معاشرے کی تعمیر میں کیا مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، یہ مخفی نہیں اور اسی حقیقت کے ادراک سے ان حضرات کی نفسیاتی کیفیت میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ واضح رہنا چاہیے کہ اظہار نفرت کا یہ رویہ ایک خاص طبقے میں زیادہ مقبول ہے اور ایسا نہیں کہ مذہبی معاشرے کی اقدار اور تصورات سے اختلاف رکھنے والے سبھی لوگ اس کا شکار ہیں۔ لبرل ازم یا سیکولرزم پر یقین رکھنے والے بہت سے سنجیدہ اور باوقار حضرات بھی موجود ہیں جو نظری اختلاف رکھتے ہوئے بھی معاشرے کی مجموعی بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسی ہی بعض شخصیات کی وفات پر دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے مذہبی لوگ بھی اظہار تعزیت کرتے اور دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر، محترم آئی اے رحمان اور پروفیسر مہدی حسن کی وفات پر ایسا ہی ہوا۔ ایسی شخصیات اور بھی ہیں جو ابھی بقید حیات ہیں اور یقیناً‌ ان کے حوالے سے بھی اس روایت کا تسلسل قائم رہے گا۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۰)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(342) بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ

درج ذیل آیت میں بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ کا مندرجہ ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ۔ (الانبیاء: 5)

”وہ کہتے ہیں:  بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے“۔ (سید مودودی)

"They say: Nay, these are confused dreams; nay, he has forged it; nay, he is a poet. So let him bring us a sign, even as the Messengers of the past were sent with signs." (Maududi)

اس ترجمے میں غلطی یہ ہے کہ بل کو قالوا کے بعد میں فرض کرکے ترجمہ کیا ہے، حالانکہ بل، قالوا سے پہلے آیا ہے۔ ”بلکہ وہ یہ کہتے ہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ سابقہ بات کے علاوہ یہ بھی کہتے ہیں، جب کہ ”وہ کہتے ہیں بلکہ“ ایک گنجلک جملہ بن جاتا ہے اور بلکہ کا مطلب سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے۔

دراصل پہلا بل گذشتہ مقولے یعنی ہَلْ ہَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ سے متعلق ہے، اور پھر بعد کے دونوں بل یعنی بَلِ افْتَرَاہُ اور بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ان سے ماقبل مقولے یعنی أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ سے متعلق ہے۔

اس پہلو سے درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”بلکہ کہا انھوں نے پریشان خیال ہیں بلکہ باندھ لیا ہے اس کو بلکہ وہ شاعر ہے، پس لے آؤ ہمارے پاس کوئی نشانی جیسے بھیجے گئے تھے پہلے پیغمبر“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

آیت کا درج ذیل انگریزی ترجمہ عجیب ہے، اس آیت میں مذکور تینوں بل کا ترجمہ بعض کیا گیا ہے، جس کی لغت میں گنجائش نہیں ہے:

"Some say, "These are his confused dreams." Others say, "He has invented it himself," and yet others say, "He is a poet. Let him bring us a sign as previous messengers did." (Waheeduddin Khan)

حالاں کہ مترجم موصوف نے اردو میں درست ترجمہ کیا ہے:

”بلکہ وہ کہتے ہیں، یہ پراگندہ خواب ہیں۔ بلکہ اس کو انھوں نے گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ ایک شاعر ہیں۔ ان کو چاہیے کہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی نشانی لائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ پچھلے رسول بھیجے گئے تھے“۔ (وحید الدین خان)

(343) فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم

قرآن مجید میں ایک جیسی دو آیتیں آئی ہیں، دونوں میں فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم کا ترجمہ کرنے کے تین طریقے اختیار کیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ منھم کو الذین سے متعلق مانا گیا اور ترجمہ کیا گیا:”ان لوگوں میں سے جو مذاق اڑاتے تھے انھیں گھیر لیا“ اس ترجمے پر اشکال یہ ہے کہ وہ لوگ کون ہیں جن میں سے مذاق اڑانے والوں کو عذاب نے گھیر لیا۔ سیاق کلام میں ایسے کسی گروہ کا ذکر تو ہے نہیں۔

دوسرا یہ کہ منھم کا ترجمہ ہی نہیں کیا گیا، ”مذاق اڑانے والوں کو گھیر لیا“ منھم  کو نظر انداز کرکے عبارت کا پورا حق ادا نہیں کیا گیا، یہ اس ترجمے کی خامی ہے، گرچہ پوری آیت  کو سامنے رکھ کر اس جملے کا مطلب سمجھ میں آرہا ہے۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ منھم کو سخروا سے متعلق مانا گیا اور ترجمہ کیا گیا: ”جو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے انھیں گھیر لیا“ یعنی رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کو گھیر لیا گیا۔ یہ درست ترجمہ ہے، گو کہ بہت کم لوگوں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے۔

سَخِرَ مِنْہُ کا مطلب ہوتا ہے کسی کا مذاق اڑانا، درج ذیل آیت میں یہ تین بار اسی معنی میں آیا ہے:

وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَأٌ مِنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ۔ (ہود: 38)

”تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

اس وضاحت کی روشنی میں آپ نیچے دونوں آیتوں کے ترجمے دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ایک ہی مترجم نے دو یکساں مقامات پر الگ الگ طریقہ بھی اختیار کیا ہے۔

(1) وَلَقَدِ اسْتُہْزِیئََ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم مَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِءُونَ۔ (الانعام: 10)

”اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا ساتھ پیغمبروں کے پہلے تجھ سے پس گھیر لیا ان لوگوں کو کہ ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے اس چیز نے کہ تھے ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تیرے پہلے پھر الٹ پڑے ان سے ہنسنے والوں پر جس بات پر ہنسا کرتے تھے“۔ (شاہ عبدالقادر، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا ہے، پھر جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے“۔ (اشرف علی تھانوی، یہ درست ترجمہ ہے)

”اے محمدؐ! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“۔ (سید مودودی)

”اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی“۔ (احمد رضا خان،، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آ گھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی، یہ درست ترجمہ ہے)

”پیغمبر آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں مذاق اُڑانے والوں کے لیے ان کا مذاق ہی ان کے گلے پڑ گیا اور وہ اس میں گھر گئے“۔ (ذیشان جوادی)

(2) وَلَقَدِ اسْتُہْزِیئَ  بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم مَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِءُونَ۔  (الانبیاء: 41)

”اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا تھا ساتھ پیغمبروں کے پہلے تجھ سے پس گھیر لیا ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے جس چیز کا ٹھٹھا کرتے تھے“۔ (شاہ رفیع الدین، کیا تھا کے بجائے کیا گیا درست ہے، جیسا کہ اول الذکر آیت کے ترجمے میں کیا ہے)

”اور ٹھٹھے ہوچکے ہیں کِتے رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر الٹ پڑے ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے جس چیز کا ٹھٹھا کرتے تھے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا“۔(فتح محمد جالندھری)

”اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا“۔ (احمد رضا خان)

”اور پیغمبر آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے جس کے بعد ان کفاّر کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا یہ مذاق اُڑارہے تھے“۔ (ذیشان جوادی)

اس آخری ترجمے میں الفاظ کی رعایت بھی نہیں کی گئی ہے، کیوں کہ یہاں کفار کا لفظ تو آیا ہی نہیں ہے، بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم کا ترجمہ کفار تو نہیں کیا جائے گا۔

”اور آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ہیں ان کے ساتھ یہی (کفار کی طرف سے) تمسخر کیا گیا تھا سو جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے“۔ (اشرف علی تھانوی، یہ درست ترجمہ ہے)

”مذاق تم سے پہلے بھی رسُولوں کا اڑایا جا چکا ہے، مگر اُن کا مذاق اڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آ کر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“۔ (سید مودودی، یہ درست ترجمہ ہے)

(344) وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُون

أَمْ لَہُمْ آلِہَةٌ تَمْنَعُہُم مِّن دُونِنَا لَا یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَ أَنفُسِہِمْ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ۔ (الانبیاء: 43)

”کیا ان کے لیے ہمارے سوا کچھ اور معبود ہیں جو ان کو بچالیں گے؟ نہ وہ خود اپنی مدد کرسکیں گے اور نہ ہمارے مقابل میں ان کی کوئی حمایت کی جاسکے گی“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں کئی خامیاں ہیں، پہلی خامی یہ ہے کہ من دوننا کو أَمْ لَہُمْ آلِہَةٌ سے متعلق ماننے کا تکلف کیا گیا ہے، حالاں کہ وہ تَمْنَعُہُم کے بعد ہے اور بلا تکلف اسی سے متعلق ہونا چاہیے۔ ”کیا ان کے لیے ہمارے سوا کچھ اور معبود ہیں جو ان کو بچالیں گے؟“ کے بجائے ”کیا ان کے لیے کچھ اور معبود ہیں جو ان کو ہم سے بچالیں گے؟“ ترجمہ ہونا چاہیے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ قرآن میں کہیں آلِہَةٌ مِّن دُونِنَا جمع کے صیغے میں نہیں آیا ہے۔ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّہِ آلِہَةً‌ (مریم: 81) اور أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ آلِہَةً‌ (الانبیاء: 24) جیسی تعبیریں آئی ہیں۔

دوسری خامی یہ ہے کہ لَا یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَ أَنفُسِہِمْ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ کا ترجمہ مستقبل کا کیا ہے، جب کہ حال کا ترجمہ زیادہ بے تکلف اور معنی خیز ہے۔ کیوں کہ یہ تو آنکھوں دیکھا حال ہے اور ان کے خلاف ایک کھلی دلیل ہے۔

تیسری خامی یہ ہے کہ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ کا ترجمہ کیا ہے: ”اور نہ ہمارے مقابل میں ان کی کوئی حمایت کی جاسکے گی“ یہاں مِنَّا مقابل کے مفہوم میں نہیں ہے، بلکہ طرف کے مفہوم میں ہے، یعنی ہماری طرف سے انھیں صحبت عطا نہیں کی جائے گی۔ یصحبون میں حفاظت کا مفہوم تو ہے، کیوں کہ جس کی معیت حاصل ہوتی ہے اس کی حفاظت بھی حاصل ہوتی ہے، لیکن جس طرح سے حفظ کے ساتھ من آتا ہے اس طرح صحب کے ساتھ من نہیں آتا ہے۔ یہاں جو من آیا ہے وہ دراصل ”ہماری طرف سے“ کے مفہوم میں ہے۔

ایک اور ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

”کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

اس ترجمے میں أَمْ لَہُمْ آلِہةٌ تَمْنَعُہُم مِّن دُونِنَا کے ترجمہ میں مذکورہ بالا کم زوری موجود ہے، اس کے علاوہ لَا یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَ أَنفُسِہِمْ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ کا ترجمہ ”کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے“ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ یہاں متعین طور پر ان کے مزعومہ معبودوں کی بات ہورہی ہے، ضمیر کا مرجع بھی وہی ہیں۔ اس لیے کوئی بھی کہنا درست نہ ہوگا۔ ظاہر ہے اللہ کی طرف سے اس کے نیک بندوں کو معیت عطا کی جائے گی۔  

درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں؟ وہ نہ تو خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے“۔ (سید مودودی، تائید سے زیادہ معیت لفظ سے قریب تر ہے، تائید اس کا نتیجہ ہے)

”کیا واسطے ان کے معبود ہیں کہ منع کرتے ہیں ان کو درے ہم سے، نہیں کرسکتے مدد جانوں اپنی کو اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے“۔ (شاہ رفیع الدین)

(345) آلِہَةً مِّنَ الْأَرْضِ

أَمِ اتَّخَذُوا آلِہَةً مِّنَ الْأَرْضِ ہُمْ یُنشِرُونَ۔ (الانبیاء: 21)

”کیا انھوں نے زمین کے الگ معبود ٹھہرالیے ہیں، وہ زمین کو شاداب کرتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں کمزوری یہ ہے کہ ’زمین کے معبودوں‘ کے لیے آلِہَةً مِّنَ الْأَرْضِ نہیں کہا جائے گا، بلکہ آلِہَةً للْأَرْضِ کہا جائے گا۔ اسی طرح أنشر کا معروف اور وسیع معنی زندگی عطا کرنا ہے۔ زمین کو شاداب کرنا أنشر کا محدود مفہوم ہے اور زندگی عطا کرنے میں وہ بھی شامل ہے۔

”کیا مقرر کیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ پیدا کرتے ہیں“۔(شاہ رفیع الدین)

”کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں ینشرون کا ترجمہ ’پیدا کرتے ہیں‘ کیا ہے۔ أنشر کا معنی پیدا کرنا نہیں بلکہ بے جان چیز کو زندگی دینا ہے۔

”کیا ان لوگوں نے زمین (کی مخلوقات میں) سے جنہیں معبود بنا رکھا ہے وہ زندہ کردیتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی، عبارت کی رو سے جنھیں کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔)

”کیا ٹھہرائے انھوں نے اور صاحب زمین میں کے وہ اٹھا کھڑا کریں گے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”کیا انھوں نے زمین پر بسنے والوں میں سے معبود ٹھہرالیے ہیں، جو زندگی دیتے ہیں“۔ (امانت اللہ اصلاحی)


سودی نظام سے نجات کی جدوجہد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے وفاقی شرعی عدالت نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جو فیصلہ دیا ہے اس کا تمام دینی حلقوں میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اس پر عملدرآمد کا ہر طرف سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ اس فیصلہ کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ

اس پس منظر میں وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ خوش آئند اور دو حوالوں سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے:

  1. سابقہ فیصلوں پر کیے گئے اشکالات، سوالات اور تحفظات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر ان کا مکمل اور تفصیلی جواب دیا گیا ہے اور بظاہر کوئی اشکال ایسا باقی نہیں رہا جس کا حل اس فیصلے میں موجود نہ ہو۔
  2. یہ فیصلہ صرف بینکاری کے دائرے میں نہیں ہے بلکہ اس میں ملک کے نظامِ معیشت کے تمام شعبوں کو پانچ سال کے اندر اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لینے کا دوٹوک حکم دیا گیا ہے جس پر وفاقی شرعی عدالت کے تمام جج صاحبان اور مسلسل کیس لڑنے والی دونوں جماعتوں اور وکلاء ہم سب کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پوری پاکستانی قوم کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کیا ہے، جس سے ملکی نظامِ معیشت کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے واضح رخ مل گیا ہے۔

اس فیصلہ کے بعد مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور ماہرین معیشت کے متعدد مشترکہ اجلاس ہوچکے ہیں جن میں:

امید ہے کہ سب دوست اپنی اپنی جگہ اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے متحرک ہوں گے اور ملک کو سودی نظام کی لعنت اور نحوست سے نجات دلانے کے لیے کسی محنت اور قربانی سے گریز نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

قانونِ دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟

غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر محی الدین غازی

دین کی دعوت دینے والوں کو اسیر ومحصور کرنے کا سلسلہ تو ہمیشہ سے جاری رہا ہے، لیکن خود دعوت کو پابند سلاسل کرنے کا ایک نیا آئیڈیا ابھی سامنے آیا ہے۔ یہ آئیڈیا ہمیں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ غامدی صاحب نے قانونِ دعوت کے نام سے اپنی کتاب میزان میں ایک باب باندھا ہے اور اس میں دعوت کی اتنی قسمیں کی ہیں، اور ہر قسم کو اس طرح الگ الگ دائروں میں محصور کیا ہے، کہ امت مسلمہ کے عام فرد کے لیے دعوت کا میدان بہت چھوٹا اور قدرے غیر اہم ہوکر رہ جاتا ہے۔

غامدی صاحب دعوت کے بہت بڑے حصے کو بنی اسماعیل کے لیے خاص کردیتے ہیں، ایک حصہ ارباب اقتدار کو دے دیتے ہیں، ایک چھوٹا حصہ علما کو دیتے ہیں، اور ایک بہت چھوٹا حصہ عام مسلمانوں کے ہاتھ میں تھماتے ہیں۔ ذیل میں ہم اس بات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔

بنی اسماعیل میں محصور دعوت

قرآن مجید میں یابنی اسرائیل کہہ کر متعدد بار خطاب کیا گیا ہے، لیکن یابنی اسماعیل، یا عرب، یا اہل مکہ اور یا قریش کہہ کر ایک بار بھی خطاب نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا پیغام آفاقی ہے، اس کے مخاطب سارے انسان ہیں، اس لیے اس کا اصل اور بنیادی خطاب یا ایھا الناس اور یا ایھا الذین آمنوا کہہ کر ہوتا ہے۔

یہود ونصاری کو قرآن مجید یا اھل الکتاب کہہ کر انھیں بھولا ہوا سبق یاد دلاتا ہے۔

قرآن مجید عرب کے مرکزی شہر مکہ میں حضرت محمد ﷺ پرنازل ہوا۔ آپ اور آپ کی قوم کا تعلق بنی اسماعیل سے تھا اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا عین مصداق تھا۔ قرآن مکہ میں نازل ہوا توفطری طور پر قرآن کے اولین مخاطب مکہ کے لوگ اور پھر عرب کے لوگ ہوتے۔عرب کے تمام قبائل کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ سب بنی اسماعیل سے تھے تاریخی طور سے درست نہیں ہے۔ عرب کے مکہ شہر میں بنی اسماعیل کے درمیان اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ پرقرآن مجید کے نازل ہونے کی حکمتوں پر کئی پہلوؤں سے گفتگو کی گئی ہے۔اسے اس آخری رسالت کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ امام حمیدالدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

غرض یہ کہ بنی اسماعیل کے درمیان قرآن مجید نازل ہوا اور اس لحاظ سے وہ قرآن مجید کے اولین مخاطب ٹھہرے۔ لیکن ان کی حیثیت قرآن مجید کے اصل مخاطب کی نہیں تھی۔ قرآن مجید کے اصل مخاطب تورہتی دنیا تک کے تمام انسان ہیں۔

قرآن مجید نے اپنے مخاطبین کو یا ایھا الناس کہہ کر خطاب کیا، وہ خطاب سب سے پہلے اہل مکہ، پھر اہل عرب اور پھر ساری دنیا تک پہنچا۔

قرآن مجید نے دعوت قبول کرنے والوں کو یا ایھا الذین آمنوا کہہ کر مخاطب کیا، وہ خطاب سب سے پہلے مکہ پھر عرب کے مسلمانوں اور پھر دنیا کے تمام اہل ایمان پر منطبق ہوا۔

دراصل زمانہ نزول کے تقاضوں اور کتاب کے اصلی خطاب کے تقاضوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ زمانہ نزول کے تقاضوں کے تحت اس وقت کے حالات اور افراد کا ذکر ضرور ہوگا۔ لیکن اصلی خطاب ان تک محدود رہے یہ ضروری نہیں ہے۔ اصلی خطاب کی وسعتیں اس خطاب کا اسلوب بیان متعین کرے گا۔

قرآن مجید کی تعلیم وہدایت کا عملی ظہور اس کے نزول کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا۔ اس لحاظ سے قرآن مجید کی آیتوں میں عرب کے اس وقت کے حالات اور اقوام کو صاف دیکھا جاسکتا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب کبھی نہیں سمجھا گیا کہ اس کے بعض بہت بنیادی احکام صرف عربوں کے لیے تھے۔

قرآن کے مخاطب صرف عرب یا صرف بنی اسماعیل کبھی بھی نہیں رہے۔ہمیشہ اس کا خطاب سب کے لیے رہا۔ یہ قرآن مجید کا امتیاز ہے۔اس امتیاز کی وجہ سے اس کا خطاب کبھی باسی نہیں ہوسکتا ہے۔ یا ایھا الناس اور یا ایھا الذین آمنوا کے الفاظ قرآن کے خطاب کو ہمیشہ زمانی لحاظ سے تازگی اور مکانی لحاظ سے لامحدود آفاقیت عطا کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔

جاوید احمد غامدی صاحب نے ایسی راہ اختیار کی جو قرآن مجید کے اس امتیاز سے مناسبت نہیں رکھتی ہے۔ انھوں نے جب قانونِ دعوت کے عنوان کے تحت گفتگو کی تو قرآن کی ان آیتوں کو جو دعوت دین کی عظیم ذمے داری امت مسلمہ کے تمام افراد پر عائد کرتی ہیں، بنی اسماعیل کے ساتھ خاص کردیا۔

غامدی صاحب کی پوری گفتگو کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم اقوام کو دعوت دینے کا کام صرف بنی اسماعیل کا ہے۔

غامدی صاحب یہ وضاحت نہیں کرتے ہیں کہ جو ذمہ داری بنی اسماعیل کو انجام دینی ہے، وہ بنی اسماعیل کے ہر فرد کو انجام دینی ہے یا ان کے علما یا حکام کو انجام دینی ہے، حالاں کہ یہ سوال بہت اہم ہے۔

غامدی صاحب، وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ، وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ اور وجیء بالنبیین والشھداء جیسی آیتوں میں مذکور دعوت دین، شہادت حق اور أمر بالمعروف ونھی عن المنکر کے کارہائے عظیم کو ذریت ابراہیم اور خاص طور سے بنی اسماعیل کے لیے خاص کردیتے ہیں۔ ان آیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ذریت ابراہیم کو بھی اللہ تعالی نے اس شہادت کے لیے اسی طرح منتخب کیا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کا حکم دیا، جس طرح وہ بنی آدم میں سے بعض جلیل القدر ہستیوں کو نبوت ورسالت کے لیے منتخب کرتا ہے“۔ (میزان، ص547)

مزید لکھتے ہیں:

”اللہ تعالی نے بنی اسماعیل کو اسی بنا پر درمیان کی جماعت امۃ وسطا قرار دیا ہے جس کے ایک طرف خدا اور اس کا رسول دوسری طرف الناس یعنی دنیا کی سب اقوام ہیں، اور فرمایا ہے کہ جو شہادت رسول نے تم پر دی ہے اب وہی شہادت باقی دنیا پر تمہیں دینا ہوگی“۔ (میزان، ص 548)

ان کے نزدیک دعوت کے نتیجہ میں غلبہ ونصرت کا وعدہ بھی ذریت ابراہیم کے ساتھ خاص ہے، لکھتے ہیں:

”ذریت ابراہیم کا یہی منصب ہے جس کے تحت یہ اگر حق پر قائم ہو اور اسے بے کم وکاست اور پوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتی رہے تو ان کے نہ ماننے کی صورت میں اللہ تعالی ان قوموں پر اسے غلبہ عطا فرماتے ہیں اور اس سے انحراف کرے تو انھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں۔ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل، دونوں اس وقت اسی عذاب سے دوچار ہیں۔“ (میزان، ص 548)

درج ذیل آیتوں کی تفسیر میں بھی غامدی صاحب نے یہ بات کھل کر کہی ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ (البقرۃ: 143)

اس آیت کی تفسیر میں دین کی شہادت کو بنی اسماعیل سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں:

”اس آیت میں یہ نبی ﷺ کی قوم بنی اسماعیل کے لیے آیا ہے۔ سورہ حج (22) کی آیت 78 میں ھو اجتباکم کے الفاظ دلیل ہیں کہ انھیں اللہ تعالی نے دین کی اس شہادت کے لیے اسی طرح منتخب کیا، جس طرح وہ بنی آدم میں سے بعض جلیل القدر ہستیوں کو نبوت ورسالت کے لیے منتخب کرتا ہے۔“ (البیان، ج1، ص 142)

وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّہَا وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیْء َ بِالنَّبِیِّیْنَ وَالشُّہَدَاء۔(الزمر 69)

اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”یعنی ذریت ابراہیم کے لوگ جو زمین پر نبیوں کی دعوت کے گواہ بنائے گئے۔ ان کی نمائندگی ظاہر ہے کہ ان کے مجددین ومصلحین کریں گے۔“ (البیان، ج 4، ص 349)

وَجَاہِدُوا فِیْ اللَّہِ حَقَّ جِہَادِہِ ہُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلّةَ أَبِیْکُمْ إِبْرَاہِیْمَ ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمیْنَ مِن قَبْلُ وَفِیْ ہَذَا لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَہِیْداً عَلَیْکُمْ وَتَکُونُوا شُہَدَاء  عَلَی النَّاسِ فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃ وَآتُوا الزَّکَاۃ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ ہُوَ مَوْلَاکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔

”اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواہ بن جاؤ۔ پس تمہیں چاہیے کہ نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو، وہی تمہارا ولی اور مالک ہے۔ پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا ہی بہتر مددگار ہے۔“ (الحج: 78)

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے غامدی صاحب بنی اسماعیل کے علاوہ دیگر لوگوں کو تبعاً اس میں شریک قرار دیتے ہیں (حالاں کہ یہاں خطاب یا أیھا الذین آمنوا کہہ کر کیا گیا ہے جو اس سے پہلی والی آیت میں ہے اور یہ آیت اسی پر عطف ہے۔) وہ کہتے ہیں:

”نیز یہ حقیقت بھی اس سے واضح ہوتی ہے کہ اصلا اس ذمہ داری کے لیے بنی اسماعیل کو چنا گیا ہے۔ دوسرے سب لوگ جب ان کی دعوت قبول کرکے اسلام میں داخل ہوتے ہیں تو تبعاً اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔“ (البیان، ج 3، ص 376)

غامدی صاحب دین حق کی شہادت کے ساتھ اتمام حجت کے قانون کو بھی بنی اسماعیل سے جوڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

”اوپر جس انتخاب کا ذکر تھا، یہ اس کی وضاحت کردی ہے کہ وہ دین حق کی شہادت کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ شہادت محض دعوت و تبلیغ نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ خدا کی دینونت کا ظہور بھی ہے جس کے تحت یہ اگر حق پر قائم ہوں اور اسے بے کم وکاست اور پوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتے رہیں تو ان کے نہ ماننے کی صورت میں اللہ تعالی ان قوموں پر انھیں غلبہ عطا فرماتے ہیں اور اس سے انحراف کریں تو انھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں۔چناں چہ ان کا وجود ان حقائق کی گواہی بن جاتا ہے جو یہ زبان وقلم سے پیش کرتے ہیں۔ دعوت وتبلیغ کے بجائے‘شہادت’کا لفظ اسی رعایت سے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ درحقیقت اتمام حجت ہے جو اگر ہوجائے تو دنیا اور آخرت، دونوں میں فیصلہ الٰہی کی بنیاد بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد عالمی سطح پر اس اتمام حجت کے لیے اللہ تعالی نے یہی انتظام فرمایا ہے۔“ (البیان، ج 3، ص377)

مذکورہ بالا عبارتوں سے غامدی صاحب کا یہ مدعا بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اقوام عالم کے سامنے اس دین کی شہادت کی ذمے داری بنی اسماعیل نامی کسی مخصوص نسلی گروہ کی ہے۔ غیر مسلموں میں دعوت کے کار عظیم کو بنی اسماعیل کی مخصوص ذمہ داری قرار دیتے ہوئے پوری امت کو اس ذمہ داری سے علیحدہ کردینے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں نکلتا ہے کہ دعوت کا کام محدود سے محدود تر ہوجائے، جب کہ قرآن مجید سے منشائے خداوندی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کام کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے۔

اگر یہ کہا جائے کہ اصل ذمے داری تو بنی اسماعیل کی ہے اوردیگر مسلم اقوام اس میں تبعاً شریک ہیں، تو اس تبعیت کے لیے اول تو واضح دلیل درکار ہوگی، دوسرے یہ کہ پھر دوسری مسلم اقوام کے لیے اس خطاب میں اتنی طاقت نہیں رہ جاتی ہے کہ وہ اس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

بہرحال یہ بات کسی برہان کے بغیر قبول نہیں کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی دین کے سب سے اہم کام کو جو نبیوں کا کام رہا ہے ایمان وعقیدہ سے جوڑنے کے بجائے کسی مخصوص سلسلہ نسب سے جوڑ دے۔ اس باب میں غلطی کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں ان کی ذریت میں سے امت اٹھانے کا مطلب محدود معنوں میں لے لیا گیا۔ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ وہ امت ابتدائی طور سے آل اسماعیل میں سے ہوگی۔ چناں چہ یہی ہوا کہ نبی ﷺ کے جاں نثاروں میں سب سے پہلے آل اسماعیل شامل ہوئے، پھر بعد میں آنے والی پوری امت مسلمہ ان کے راستے پر چل کر اس امت میں شامل ہوتی رہی اور یہ سلسلے قیامت تک جاری رہے گا۔ سورہ جمعہ کی آیت نمبر (2) میں بھی یہی بات کہی گئی کہ اللہ نے اپنے رسول کو امیوں یعنی اہل مکہ یا اہل عرب کے درمیان بھیجا۔ لیکن اس کا مطلب یہ کسی نے نہیں سمجھا کہ امت مسلمہ میں ذمے داریوں کے پہلو سے عرب اور غیر عرب کی تفریق یا تقسیم کی گئی ہے۔

یہی بات اللہ کے رسول نے اس امت کو تیار کرتے ہوئے بتائی تھی، کہ یہ امت نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدہ کی بنیاد پر تیار کی جارہی ہے اور عقیدہ وعمل سے گہری وابستگی ہی بلاتفریق ہر شخص کو اس خیر امت میں شمولیت کا حق دے گی۔ جزیرہ عرب کے ہزاروں غیر عرب غلام ایمان لاکر راست خیر امت میں شامل ہورہے تھے نہ کہ کسی دوسرے درجے کے امتی بن رہے تھے۔ اول روز سے یہ واضح کردیا گیا تھا کہ تاقیامت خیر امت میں شامل ہونے کے لیے کوئی حسب ونسب بنیاد نہیں بنے گا بلکہ خیر امت کے مذکورہ اوصاف ہی بنیاد بنیں گے۔

آج بھی یہ بات کسی طرح قابل قبول نہیں ہے کہ خیر امت میں شامل ہونے کا حق صرف کچھ عرب قبائل کو ہے، اور ہم ہندوستانی مسلمانوں کو نہیں ہے۔ ہندوستان کے غیر مسلموں تک دین کے پیغام کو پہنچانے کی ذمہ داری اولین درجے میں ہندوستانی مسلمانوں کی ہے، اور یہ کسی بھی طرح درست نہیں ہوگا کہ ہم اپنے اہل خانہ کی اصلاح تک خود کو محدود رکھیں اور انتظار کریں کہ عرب کے بنی اسماعیل یہاں آکر دعوت دین کا کام کریں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ کے اندر بنی اسماعیل اور غیر بنی اسماعیل کی تقسیم کبھی نہیں رہی ہے، عہد رسالت میں مہاجرین اور انصار کے الگ الگ امتیازی تذکرے ملتے ہیں، دونوں کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے۔ صحابہ کی مخصوص حیثیت بھی سامنے آتی ہے۔لیکن امت کے اندر بنی اسماعیل اور غیر بنی اسماعیل کی تقسیم غامدی صاحب کے ذہن کی اختراع ہے۔ یہ تقسیم دین کے مزاج کے خلاف ہے اور اس سے بہت سارے مفاسد کا دروازہ کھل سکتا ہے۔سب سے بڑا مفسدہ یہ ہے کہ قرآن کا  وہ بڑا حصہ جو شہادت حق پیش کرتا ہے امت کے عام افراد کے لیے اجنبی ہوجائے گا۔ اس کا علم بردار صرف بنی اسماعیل کو سمجھا جائے گا۔

تعجب خیز بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد بار بنی اسرائیل کا تذکرہ ہوا، اور بنی اسرائیل کے نام سے ہوا۔ لیکن پورے قرآن مجید میں کہیں بنی اسماعیل کا لفظ نہیں آیا، خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسماعیل کی کوئی خصوصی پہچان امت مسلمہ کے اندر متعارف نہیں کرائی اور غامدی صاحب نے کسی واضح دلیل کے بغیر خیر امت کا دائرہ صرف بنی اسماعیل کے لیے خاص کردیا، اور اس پوری امت کو اس سے محروم کردیا جو اب تک یہ سمجھتی آئی تھی کہ ایمان اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے ذریعے اس میں شامل ہوا جا سکتا ہے۔

کیا یہ بات آسانی سے قبول کی جاسکتی ہے کہ وحی الٰہی کی اہم ترین باتیں جیسے دین کی شہادت، اتمام حجت اور اللہ کا قانون دینونت بنی اسماعیل سے خاص طور پر متعلق ہو، اور اس طویل تاریخ میں خود بنی اسماعیل کو اس کا علم تک نہ ہو؟ واقعہ یہ ہے کہ ہمارا پورا علمی ورثہ امت کی اس طرح کی تقسیم سے یکسر خالی ہے۔

صحیح تعبیر وہی ہے جو امت میں ہمیشہ رائج رہی یعنی صحابہ کی جماعت جو رسالت کی اولین علم بردار تھی، اور پھر پوری امت جو صحابہ کی تابع رہی۔بلاشبہ صحابہ کی اکثریت بنی اسماعیل پر مشتمل تھی، لیکن بنی اسماعیل کی کوئی ایسی امتیازی حیثیت نہیں تھی جو صحابہ کے بعد قیامت تک نسل در نسل جاری وساری رہے۔ صحابہ کی جماعت کو خیر امت کہا گیا اور وہ بھی اوصاف کے حوالے سے کہا گیا تاکہ ان اوصاف کے راستے سے خیر امت میں شمولیت کا دروازہ تمام انسانوں کے لیے رہتی دنیا تک کھلا رہے۔

خلاصہ یہ کہ دین حق کی دعوت اور شہادت کی جس ذمے داری کو غامدی صاحب بنی اسماعیل کے لیے خاص بتاتے ہیں وہ پوری امت مسلمہ کے لیے عام ہے۔ نظم قرآن کی روشنی میں یہی موقف امام فراہی نے واضح کیا۔

نظم قرآن کی دلالت

اگر ہم سورہ آل عمران کی آیت 102 سے 110 تک سامنے رکھیں تو یا ایھا الذین آمنوا کے خطاب سے اہل ایمان کو بنیادی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ تمام ہدایات تمام اہل ایمان کے لیے ہیں۔ نظم قرآن کے امام، علامہ فراہی نے نظم کلام کی بھرپور رعایت کرتے ہوئے سب کا مخاطب اس امت کو قرار دیا ہے۔

وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ أُمَّةٌ یدْعُونَ إِلَی الْخَیرِ وَیأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَینْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (یہ بیان ہے اس منصبِ شہادت کے فرائض کا جو اللہ نے اس امت کو دیا ہے۔) وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَہُمُ الْبَینَاتُ۔ پھر اہل کتاب کے برے انجام کا ذکر کیا جب انھوں نے شہادت کے امر کو ضائع کردیا، حالاں کہ وہ شہدا بنائے گئے تھے۔ پھر ان (اہل ایمان) کے منصب کی دوبارہ توصیف کی، اور فرمایا: کُنْتُمْ خَیرَ أُمّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ۔ پس یہ اللہ کے اس قول کا بیان ہے جو سورہ بقرۃ میں آیا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاس (تفسیر سورۃ البقرۃ 143)

غامدی صاحب نظم کلام کو دلیل بنانے کے علم بردار ہیں، لیکن اس باب میں انھوں نے نظم کلام کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے، اور نظم کلام کی اتنی بھی رعایت نہیں کی ہے، جتنی رعایت نظم قرآن کو نہیں ماننے والے کرتے ہیں۔

ان کی تفسیر البیان میں متعلقہ آیات کی تفسیر پڑھتے ہوئے عجیب وغریب صورت حال سامنے آتی ہے، اور نظم کلام بالکل بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔

واعتصموا بحبل اللہ کا خطاب مسلمانوں کے لیے بتاتے ہیں، کہتے ہیں:

”اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں سے یہ مطالبہ ان کی اجتماعی حیثیت میں ہے“۔

اسی آیت میں وکنتم علی شفا حفرۃ کا خطاب عربوں کی طرف موڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں:

 ”یہ اس عظیم احسان کی یاد دہانی ہے جو قرآن کے ذریعے سے عربوں پر ہوا۔“

اسی سیاق میں ولتکن منکم أمة کا خطاب عام مسلمانوں کے لیے قرار دیتے ہیں، کہتے ہیں:

 ”یہ مسلمانوں کو ان کی اجتماعی حیثیت میں حکم دیا ہے کہ اس ہدایت پر قائم رہنے کے لیے اپنے اندر سے کچھ لوگوں کو مقرر کریں جو انھیں بھلائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے رہیں۔ پھر اسی حیثیت سے فلاح کی بشارت بھی دی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ حکم ارباب اقتدار سے متعلق ہے“۔

اور اسی سیاق میں کنتم خیر أمة، کا خطاب بنی اسماعیل کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں:

”یہ بنی اسماعیل کے لیے تسلی اور بشارت ہے کہ ایمان وعمل کے لحاظ سے اس وقت وہ خیر امت ہیں“۔ (البیان،جلد اول، ص 388)

امام فراہی منصب شہادت کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اہل کتاب سے لے کر امت مسلمہ کے حوالے کیا گیا۔ سورہ حج کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں امام فراہی لکھتے ہیں:

 وکذلک اجتبی اللہ المؤمنین لیکونوا شہداء علی الناس، کما أن النبی شہید علی المؤمنین۔

اس طرح اللہ نے مومنوں کو منتخب کرلیا کہ وہ لوگوں کے سلسلے میں شہدا بنیں، جس طرح نبی مومنوں کے سلسلے میں شہید ہے۔ (تعلیقات الفراہی)

جب کہ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ یہ منصب بنی اسرائیل سے لے کر بنی اسماعیل کے حوالے کیا گیا۔ یہ بہت بڑا فرق ہے۔ خاص طور سے آج کے تناظر میں۔ آج اس کا موقع نہیں ہے کہ بنی اسماعیل کو ان کی ذمے داری یاد دلائی جائے، موقع اس کا ہے کہ امت مسلمہ کو اس کی ذمے داری یاد دلائی جائے۔

حکم رانوں میں محصور دعوت

پوری امت پر دعوتی ذمے داری عائد کرنے والی دو اہم آیتوں کو غامدی صاحب ارباب اقتدار کے لیے مخصوص کردیتے ہیں اور اربابِ اقتدار کو بھی دعوت کی کچھ مخصوص راہیں دکھاتے ہیں۔

ایک آیت ہے:

وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّة یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ،

”اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو نیکی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ (آل عمران:104)

اس آیت کے ضمن میں غامدی صاحب لکھتے ہیں:

”آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں نہیں، بلکہ اجتماعی حیثیت میں اس کے مخاطب ہیں، لہٰذایہ حکم ارباب اقتدار سے متعلق ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی خطہ ارض میں سیاسی خود مختاری حاصل ہوجائے تو اپنے اندر سے کچھ لوگوں کو اس کام پر مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلائیں، برائی سے روکیں اور بھلائی کی تلقین کریں۔ یہ ذمہ داری، ظاہر ہے کہ بعض معاملات میں تبلیغ وتلقین کے ذریعے سے اور بعض معاملات میں قانون کی طاقت سے پوری کی جائے گی۔ پہلی صورت کے لیے جمعہ کا منبر ہے جو اسی مقصد سے ارباب حل وعقد کے لیے خاص کیا گیا ہے۔ دوسری صورت کے لیے پولیس کا محکمہ جو مسلمانوں کی ریاست میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا جاتا اور اپنے لیے متعین کردہ حدود کے مطابق اس کو انجام دینے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتا ہے“۔(میزان 554)

دوسری آیت ہے:

الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘ (الحج: 41)

اس آیت کے سلسلے میں غامدی صاحب لکھتے ہیں:

”یہاں سے آگے اب اللہ تعالی نے وہ فرائض بیان فرمائے ہیں جو مسلمانوں کو اگر کسی جگہ اقتدار حاصل ہو تو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر عائد ہوتے ہیں —حکومت کی سطح پر نماز قائم کرنے کے لیے جو سنت رسول اللہ ﷺ نے قائم فرمائی ہے، اس کی رو سے اولا مسلمانوں کے ارباب حل وعقد خود بھی نماز کا اہتمام کریں گے اور اپنے عمال کو بھی اس کا پابند بنائیں گے، ثانیا نماز جمعہ اور نماز عیدین کا خطاب اور ان کی امامت ہر جگہ یہ ارباب حل وعقد اور ان کے مقرر کردہ حکام ہی کریں گے یا ان کی طرف سے ان کا کوئی نمائندہ یہ خدمت انجام دے گا۔“ (البیان ج 3 ص 358)

غامدی صاحب نے پہلے تو ان دونوں آیتوں کو ارباب اقتدار کے ساتھ خاص کردیا، پھر ارباب اقتدار کے کام کو مسلمانوں کی داخلی اصلاح تک محدود کردیا، اور داخلی اصلاح کے کام کو جمعہ کے خطبے اور پولیس کے محکمے میں سمیٹ دیا۔ چناں چہ مسلمانوں کے ارباب اقتدار کی ذمہ داریوں میں غیر مسلم دنیا کو دین کی دعوت دینے کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔

ان دونوں آیتوں کو ارباب اقتدار کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی وجہ ان آیتوں میں موجود نہیں ہے۔ بلکہ آیتوں کے الفاظ، سیاق وسباق، اور اب تک کا امت کا فہم یہی بتارہا ہے کہ ان آیتوں میں پوری امت کو اس کی ذمے داری یاد دلائی گئی ہے۔

پہلی آیت میں ولتکن منکم أُمَّة میں من اگر بیانیہ ہے تو یہ ذمے داری پوری امت کی ہے، اور اگر تبعیض کا ہے تو بھی من حیث الجملہ پوری امت کی ذمے داری ہے،جب تک کسی ایک گروہ کے ذریعے یہ ذمے داری ادا نہیں ہوجاتی۔ بہرحال ذمے داری ارباب اقتدار پر نہیں بلکہ امت پر ہے، امت کا جو فرد فرض کی ادائیگی کے جذبے سے اس میں شریک ہوجائے اس کے لیے فلاح وکام یابی کی بشارت ہے۔ چناں چہ آگے کنتم خیر أُمَّة والی آیت بتاتی ہے کہ عہد رسالت میں فرض کی ادائیگی کا یہ جذبہ پوری امت میں پیدا ہوگیا تھا اور پوری امت اس میں شامل ہوگئی تھی۔

دوسری آیت میں افراد کو اقتدار دینے کی بات نہیں ہورہی ہے بلکہ امت کو غلبہ وتمکین دینے کی بات ہے، کہ جب ایمان والوں کو کسی علاقے میں دین پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنا یہ فرض بھول نہیں جاتے ہیں، بلکہ تن دہی سے ادا کرتے ہیں۔چناں چہ ان فرائض میں زکوٰۃ وصول کرنا نہیں بلکہ زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ ان تعلیمات کی روشن عملی مثال عہد رسالت ہی میں سامنے آگئی تھی۔ اہل ایمان کو مدینہ میں تمکین حاصل ہوئی اور انھوں نے یعنی تمام اہل ایمان نے ان فرائض کو وہاں بحسن وخوبی انجام دیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت انھی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنھیں اپنے گھروں سے نکالا گیا اور انھیں مدینے میں ٹھکانا حاصل ہوا۔ اور پھر یہ لوگ رہتی دنیا تک تمام اہل ایمان کے لیے نمونہ بنے۔

یاد رہے کہ اس آیت میں جو فرائض بیان کیے گئے ہیں وہ غلبہ وتمکین کی صورت میں ضرور انجام دینے ہیں۔ تاہم غلبہ وتمکین حاصل نہ ہو تو بھی ان تمام کاموں کو کرنا ہے کیوں کہ ان کے بغیر غلبہ حاصل ہوہی نہیں سکتا ہے۔ غرض اقامت صلاۃ کی طرح یہ سب مستقل کام ہیں، اہل ایمان جس حال میں ہوں انھیں یہ کام کرنا ہے، یہ ان پر بھی فرض ہیں جن کو زمین میں غلبہ نصیب ہوا اور ان پر بھی فرض ہے جن کو غلبہ نصیب نہیں ہوا ہے۔

امت کے ارباب اقتدارچوں کہ امت کے حقیقی نمائندے ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس کے مکلف ہوتے ہیں کہ امت کی اس ذمے داری کی ادائیگی کے لیے بہتر سے بہتر انتظامات کریں۔ اقامت صلاۃ کے لیے مساجد کی تعمیر، زکاۃ کی ادائیگی کے لیے وصولی اور تقسیم کا انتظام، نیز امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی امت کے منتخب حکم رانوں کی ذمے داری ہے۔

علما میں محصور دعوت

قرآن مجید میں جہاں بھی دعوت کا حکم دیا گیاہے، پوری امت کو دیا گیاہے۔ اس سلسلے میں عالم اور غیر عالم کے درمیان کوئی تفریق نظر نہیں آتی ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے پیش نظر پوری امت کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے اور پوری امت کو دعوت کے لیے سرگرم رکھنا ہے، نہ یہ کہ چند علما ہوں جو داعی ہوں اور باقی غیر عالم اور غیر داعی رہیں۔ درج ذیل آیت سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے:

وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُواْ کَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْہُمْ طَآئفَةٌ لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنذِرُواْ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُون۔

’’اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔‘‘ (التوبہ: 122)

اس آیت سے منشائے الٰہی معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصود تو یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو تفقہ فی الدین ہر مومن پر فرض ہے اور صرف وہ اس فرض سے بری ہے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا ہو۔ اسی لیے اہل مدینہ سے کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ ان میں بعض لوگ تفقہ فی الدین سے آراستہ ہوں اور بعض آراستہ نہ ہوں۔تفقہ فی الدین کے لیے سفر نہ کرنے کی اجازت دراصل صرف ان لوگوں کو دی گئی جو بہت زیادہ دور ہونے کی وجہ سے اس مقصد کے لیے سفر نہیں کرسکتے ہوں، جس طرح حج تمام مسلمانوں پر فرض ہے ماسوا اس کے جو سفر حج کی استطاعت نہیں رکھتا ہو۔اس کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کی وہ آیت سامنے رہنی چاہیے جس میں کہا گیا: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء، اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو وہ علم حاصل کرنا چاہیے جس سے خشیت الٰہی پیدا ہو، چوں کہ خشیت الہی ہر مومن سے مطلوب ہے، لہذا وہ علم بھی سب سے مطلوب ہے، جس سے خشیت الہی پیدا ہو۔ اسی طرح دعوت، انذار، أمر بالمعروف ونھی عن المنکر کا کام ہر مومن سے مطلوب ہے، اور اس کے لیے جو علم اور جو دین کی سمجھ ضروری ہے اس کا حصول بھی ہر مومن پر فرض ہے۔

غرض اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک دین کی سمجھ تمام مسلمانوں تک پہنچانے کا انتظام نہیں ہوجاتا کچھ لوگ لازما دین کی سمجھ حاصل کرکے انذار کام کریں، لیکن جیسے جیسے انتظامات میسر ہوتے جائیں دین کی سمجھ پوری امت میں عام ہوتی جائے اور امت کے اندر دین کی سمجھ رکھنے والے اور نہیں رکھنے والے کی تفریق ختم ہوجائے، جس طرح عہد رسالت کے مدینہ میں یہ تفریق نہیں پائی جاتی تھی۔

غامدی صاحب اس آیت سے یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ علما بننے کی ذمے داری کچھ لوگوں پر عائد ہوتی ہے، اور نبیوں کے بعد ان کی انذار والی ذمے داری بھی انھیں ہی انجام دینی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

 ”دعوت کا یہ حکم علما کے لیے ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے، لیکن ان کی ہر جماعت میں سے کچھ لوگوں کو لازما اس مقصد کے لیے نکلنا چاہیے کہ وہ دین کا علم حاصل کریں اور اپنی قوم کے لیے نذیر بن کر اسے آخرت کے عذاب سے بچانے کی کوشش کریں۔ سورہ توبہ کی اس آیت پر غور کیجیے تو اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دعوت کا جو حکم اس میں بیان ہوا ہے، اس کا مکلف اللہ تعالی نے ہر مسلمان کو قرار نہیں دیا۔“ (میزان، ص 550)

غامدی صاحب کے نزدیک انذار کا کام علما کے لیے خاص ہے، لکھتے ہیں:

 ”دین کا عالم بن کر اپنی قوم کو انذار کیا جائے، اس کی توقع ہر مسلمان سے نہیں کی جاسکتی۔ چناں چہ اللہ تعالی نے یہ بات اس آیت میں صاف واضح کردی ہے کہ تمام مسلمانوں کو نہیں بلکہ ان کے گروہ میں سے چند لوگوں کو اس کام کے لیے نکلنا چاہیے۔“ (میزان، ص 550)

 (یہاں لفظ چند بھی غور طلب ہے) وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ علما امت کی دعوت کا دائرہ کار امت کے اندر ان کی اپنی قوم ہے، وہ بھی وہ علما جو ”پہلے دین کا گہرا علم حاصل کریں“ اور ”قرآن وسنت میں گہری بصیرت پیدا کریں“ وہ لکھتے ہیں:

 ”سورہ توبہ کی یہ آیت دین میں بصیرت رکھنے والوں کو اس بات کا مکلف ٹھہراتی ہے کہ جاھدوا فی اللہ حق جھادہ کے جذبے سے وہ اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق امت کی ہر بستی اور ہر قوم میں اس دعوت کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ وہ اپنی قوم اور اس کے ارباب حل وعقد کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں پوری درد مندی اور دل سوزی کے ساتھ خبردار کرتے رہیں۔ ان کے لیے ہر سطح پر دین کی شرح و وضاحت کریں۔“ (میزان، ص 551)

اصل میں اگر یہ کہا جائے کہ انذار کا کام صرف علما کے کرنے کا ہے، تو بات کچھ اور ہوتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ علما پر انذار کا کام فرض ہے، تو بات بدل جاتی ہے۔ انذار کا کام اہل ایمان کے کرنے کا ہے اور تفقہ فی الدین سے آراستہ ہونا بھی اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ انذار کا کام بہر حال مطلوب ہے، اس کام کے لیے مطلوبہ معیار کے علما تیار نہ ہوسکیں تب بھی اس کام کو ہونا ہے، اور اس معیار کے علما اس کام کے لیے آگے نہ بڑھیں تو بھی یہ کام ہونا ہے۔ اس کام کے لیے شرط لازم صرف مومن ہونا ہے۔ کوئی صاحب ایمان ہے تو وہ انذار کرے، وہ عالم ہوکر اس فرض میں کوتاہی نہیں کرے، اور عالم نہ ہو تو بھی اس فرض سے پہلوتہی نہ کرے۔

علما کے ساتھ گہرے علم وبصیرت کی قید لگانا خود علما کو انذار کے کام سے روک دینے کا باعث بن سکتا ہے، کون ہے جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجائے اور اس کا ادعا بھی کربیٹھے کہ مجھے گہرا علم وبصیرت حاصل ہوگیا ہے، اور اب میں انذار کے مرتبے پر فائز ہوتا ہوں۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انذار کے لیے گہرے علم وبصیرت والا عالم ہونا ضروری نہیں ہے۔ عام فرد جسے دین کی روشنی حاصل ہوجائے وہ انذار کرنے والا بن سکتا ہے۔ درج ذیل آیت اس کی واضح مثال ہے:

وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَیْکَ نَفَراً مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوہُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا إِلَی قَوْمِہِم مُّنذِرِیْنَ۔

”اور جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیے واپس لوٹ گئے۔“  (الاحقاف:29)

واقعہ یہ ہے کہ صرف جنوں کی جماعت نہیں بلکہ انسانوں میں سے بھی جو شخص کچھ آیتیں سن کر ایمان لے آتا تھا وہ اپنے قبیلے کی طرف منذر بن کر روانہ ہوجاتا تھا۔ عرب کے قبائل میں بھی اسلام اسی طرح پھیلا اور ملکوں ملکوں بھی اسلام کی روشنی اسی طرح پہنچی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن آیتوں کو غامدی صاحب ارباب اقتدار اور علما کے ساتھ خاص کرتے ہیں، وہ بھی اولین مخاطب کے لحاظ سے تو اس وقت کے عربوں (بنی اسماعیل) سے متعلق ہیں، تو کیا انھیں بھی بنی اسماعیل کے ارباب اقتدار اور انھی کے علما کے ساتھ مخصوص سمجھا جائے!

بہرحال، قرآن وسنت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا علم حاصل کرنا بھی ہر مسلمان پر فرض ہے اور دین کی دعوت دینا بھی ہر مسلمان پر فرض ہے۔

عام فرد کی دعوت

ایسا نہیں ہے کہ غامدی صاحب امت کے عام افرادکو دین کی دعوت کی ذمے داری سے بالکل بری قرار دیتے ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ مختلف کیٹیگری سے ہوتے ہوئے جب وہاں تک پہنچتے ہیں تو دعوت کا دائرہ بہت چھوٹا ہوکر متعلقین تک محدود ہوجاتا ہے۔ نیز انھیں دعوت کی ترغیب دینے والی آیتیں بھی کم رہ جاتی ہیں، کیوں کہ زیادہ تر آیتیں بنی اسماعیل کی دعوت اور ارباب اقتدار کی دعوت کے لیے خاص ہوچکی ہوتی ہیں۔

عام فرد کی دعوت کے سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:

 ”یہ فرض باپ کو بیٹے کے لیے اور بیٹے کو باپ کے لیے، بیوی کو شوہر کے لیے اور شوہر کو بیوی کے لیے، بھائی کو بہن کے لیے اور بہن کو بھائی کے لیے، دوست کو دوست کے لیے اور پڑوسی کو پڑوسی کے لیے، غرض یہ کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ متعلق ہر شخص کے لیے ادا کرنا چاہیے۔ وہ جہاں یہ دیکھے کہ اس کے متعلقین میں سے کسی نے کوئی خلاف حق طریقہ اختیار کیا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے علم اور اپنی استعداد وصلاحیت کے مطابق اسے راستی کی روش اپنانے کی نصیحت کرے۔“ (میزان، ص 556)

فرد کی دعوت کے سلسلے میں چوں کہ غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ متعلقین کی آپس میں ایک دوسرے کو خیر کی تلقین والی دعوت ہے، اس لیے انھوں نے اس آیت کے ترجمے کو بھی اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی، جس کو وہ مومن افراد کی باہم دگر دعوت کے سلسلے میں رہ نما دلیل مانتے ہیں۔

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ یأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَینْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ (التوبہ: 71) کا ترجمہ کرتے ہیں:

”اور مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ باہم دگر بھلائی کی نصیحت کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔“ (میزان، ص 557)

اس ترجمہ میں ”باہم دگر“ کے الفاظ اضافہ ہیں، کیوں کہ آیت میں یأمرون اور ینھون کے الفاظ ہیں اور ان کے اندر باہم دگر کا مفہوم نہیں پایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے منافقین کے بارے میں آیا ہے، الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ یأْمُرُونَ بِالْمُنْکَرِ وَینْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوف (التوبہ: 67) اور وہاں بھی باہم دگر کا محل نہیں ہے بلکہ عمومی بات ہے، کہ منافقین مسلم معاشرے میں منکر کو فروغ دینے اور معروف کو مٹانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ غامدی صاحب نے البیان میں اسی آیت کا درست ترجمہ کیا ہے:

 ”مومن مرد اور مومن عورتیں، وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ (ان منافقوں کے برخلاف) وہ بھلائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں“۔ (البیان)

غامدی صاحب کے نزدیک اس آیت میں یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر اور سورۃ العصر میں مذکور تواصوا بالحق وتواصوا بالصبر دونوں کا مضمون ایک ہی ہے، الفاظ کا فرق ہے۔ (میزان، ص  555)

غامدی صاحب کی یہ بات درست نہیں ہے۔ سورہ عصر میں تواصوا کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس میں باہم دگر کا مفہوم موجود ہے۔ جب کہ یہاں آیت کے الفاظ عام ہیں، اور ان الفاظ سے مطلق أمر بالمعروف اور نھی عن المنکر مراد ہے۔ سورہ عصر میں الحق اور الصبر کی باہم دگر تلقین کی بات ہے، ظاہر ہے صبر کی تلقین اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کو کریں گے۔ جب کہ اس آیت میں معروف ومنکر کا مسئلہ ہے، جو اہل ایمان کا آپس کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ سارے انسانوں کا مسئلہ ہے۔ اسی لیے تواصی کے بجائے امر ونہی کی بات کہی گئی ہے، معروف ومنکر سے متعلق أمر ونہی کا کام کرنے کی اہل ایمان کو حسب موقعہ آپس میں بھی ضرورت پیش آسکتی ہے، لیکن اصل تو یہ ہے کہ اہل ایمان معروف ومنکر کے سلسلے میں عام طور سے خود آگاہ اور محتاط رہیں گے اور خود کو اس کے لیے تیار کریں گے کہ یہ کام ان سارے انسانوں میں جاکر کریں، جو اس سلسلے میں بے شعوری، غفلت اور کوتاہی کا شکار ہیں۔ غرض الفاظ اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کرتے ہیں کہ امر بالمعروف ونھی عن المنکر سے مقصود سارے انسانوں کو دعوت دینا ہے، اور تواصی بالحق وتواصی بالصبر سے مقصود اہل ایمان کا آپس میں ایک دوسرے کو تلقین کرنا ہے۔

خود ساختہ وعیدیں اور بندشیں

غامدی صاحب علمائے امت اور افراد امت کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے دعوت دینے کی ہدایت دیتے ہیں، اور اس سے باہر نکلنے کے خطرناک عواقب سے ڈراتے ہیں۔

علما سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں:

 ”اس دعوت کے ہر داعی کے لیے اصل مخاطب کی حیثیت اس کی اپنی قوم کو حاصل ہے۔ چناں چہ فرمایا ہے: ”ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم“ آیت کا یہی حصہ ہے جس سے اس دعوت کا دائرہ بالکل متعین ہوجاتا ہے اور اس چیز کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس کے داعی اصل حق داروں کو چھوڑ کر یہ دولت جہاں تہاں دوسروں میں بانٹتے پھریں“۔ (میزان، ص 550)

افراد سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:

 ”آدمی سب سے بڑھ کر اپنے اہل وعیال کو دوزخ سے بچانے کی کوشش کرے۔ اسے متنبہ رہنا چاہیے کہ وہ اگر دوسروں کے دروازے پر دستک دیتا رہا اور اس کے اپنے گھر والے شب وروز جہنم کے لیے ایندھن فراہم کرتے رہے تو ہوسکتا ہے کہ ساری جدوجہد کے باوجود اس کی یہی کوتاہی دنیا اور آخرت میں اس کے لیے وبال بن جائے۔“ (میزان، ص 556)

اپنی قوم اور اپنے گھر والوں کی دعوت وتربیت کی اہمیت مسلم ہے، لیکن اسے کار دعوت کا متعین دائرہ قرار دینے اور اس کی رعایت نہ کرنے والے داعیان حق کو خطرناک انجام کی وعیدیں سنانے کے لیے آفتاب جیسی روشن دلیل کی ضرورت ہے۔ قرآن کی آیتوں کا عموم تو اسے واجب کرتا ہے کہ ہر شخص داعی بنے، اور جو شخص دیگر لوگوں یا دیگر اقوام تک اللہ کے پیغام کو لے کر جائے وہ کسی بھی طرح کی حوصلہ شکنی کا سزاوار نہیں ہو۔ آج دنیا کے چپہ چپہ میں اسلام کی دعوت یقینا انھیں لوگوں کے ذریعے پھیلی ہے جو سارے انسانوں تک پیغام حق پہنچانے کے جذبے سے دور دراز علاقوں تک پہنچے۔

خود محترم جاوید غامدی صاحب نے اس چیز کی دعوت واشاعت کو جسے وہ بلاشبہ دین کی دعوت سمجھتے ہیں، اپنے متعلقین یا اپنی قوم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی بنانے کے تمام وسائل اختیار کیے۔ اسی طرح امت کے دیگر افراد کو بھی اس کا ترغیب سے بھرپور جواز ملنا چاہیے کہ وہ دین کی دعوت کو جتنی دور تک پہنچاسکیں ضرور پہنچائیں۔ ترتیب کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے، اصل اعتراض دعوت کی حصار بندی پر ہے۔

جمعہ اور عیدین کی نماز

“نماز جمعہ اور نماز عیدین کا اہتمام حکومت کرے گی۔ یہ نمازیں صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جائیں گی جو حکومت کی طرف سے اُن کے لیے مقرر کر دیے جائیں گے۔ اِن کا منبر حکم رانوں کے لیے خاص ہوگا۔ وہ خود اِن نمازوں کا خطبہ دیں گے اور اِن کی امامت کریں گے یا اُن کی طرف سے اُن کا کوئی نمائندہ یہ ذمہ داری ادا کرے گا۔ ریاست کے حدود میں کوئی شخص اپنے طور پر اِن نمازوں کا اہتمام نہیں کر سکے گا۔”(جوابی بیانیہ از جاوید احمد غامدی)

جوابی بیانیہ ایک نہایت مختصر دستاویز ہے، جس میں محترم غامدی صاحب نے بہت بنیادی باتوں کا تذکرہ کیا ہے، اس بنیادی مختصر دستاویز میں اس مسئلے کا اس قدر اہتمام کا ساتھ تذکرہ تعجب خیز ہے۔

بہرحال، محترم جاوید غامدی صاحب کے نزدیک یہ بات اتنی اہم ہے کہ انھوں نے اسے جوابی بیانیہ میں کہا اور اس کے علاوہ اپنی کتاب میزان میں یہ بات کم سے کم چار مقامات پر ذکر کی۔ (میزان، قانون عبادات ص 330) (میزان، قانون عبادات، ص 332) (میزان، قانون سیاست، ص 487) (میزان، قانون دعوت، ص 554)

اس کے علاوہ اپنی تفسیر البیان میں یہ بات انھوں نے کم سے کم تین مقامات پر ذکر کی:

البیان۔ ج 1، ص 388، تفسیر سورۃ آل عمران، آیت104؛  البیان، ج 3، ص 358، تفسیر سورہ الحج، آیت 41؛ البیان، جلد پنجم، ص 206، تفسیر سورۃ الجمعۃ، آیت 9۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بات مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تدبر قرآن میں کسی ایک مقام پر بھی نہیں کہی ہے اور میرے علم کی حد تک اپنی کسی کتاب میں نہیں کہی ہے۔

آخر وہ بات جو اسلامی لٹریچر میں کبھی ذرا اہمیت کی حامل نہیں رہی، مشرق ومغرب میں دین کی دعوت پر لکھی گئی کتابوں میں اس نے کبھی جگہ نہیں پائی وہ غامدی صاحب کے یہاں اس قدر اہم کیوں ہوگئی؟

یہ درست ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں میں جمعہ کے سلسلے میں یہ شرط ملتی ہے، لیکن اس کی حیثیت تو ایک فقہی فرعی مسئلے کی ہے، جس کی پشت پر نہ قرآن کی کوئی آیت ہے، نہ کوئی صحیح وصریح حدیث ہے اورجس کی علت بس یہ بتائی جاتی ہے کہ امت کو نزاع سے بچانے کے لیے جمعہ کے خطبہ ونماز کا حاکم کے زیر انتظام رہنا ضروری ہے۔

یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حنفی مسلک میں (صرف حنفی مسلک میں) خطبہ جمعہ کے لیے سلطان کی اجازت کو ضروری بتایا ہے۔ لیکن دور حاضر میں جب ہندوستان میں مسلم حکومت نہیں رہی تو فقہائے احناف نے جمعہ کو بند کرنے کے بجائے اسے عوام کے ذریعے جار ی رکھنے کو ترجیح دی، اسی طرح دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں نے خطبہ جمعہ کے انتظام کو اہتمام کے ساتھ جاری وساری رکھا۔ امام کاسانی کی درج ذیل عبارت اس کے لیے حوالہ بن گئی:

 ''فأما إذا لم یکن إمامًا بسبب الفتنة أو بسبب الموت ولم یحضر وال آخر بعد حتی حضرت الجمعة ذکر الکرخی أنه لا بأس أن یجمع الناس علی رجل حتی یصلی بہم الجمعة۔'' (اگر فتنے کے سبب یا موت کے سبب حاکم نہیں ہو، اور دوسرا والی ابھی نہیں آیا ہو، یہاں تک کہ جمعہ کا وقت ہوگیا ہو تو کرخی نے ذکر کیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لوگ ایک آدمی پر متفق ہوجائیں جو انھیں جمعہ کی نماز پڑھادے۔ بدائع الصنائع)

علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ سلطان کی شرط اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ جمعہ کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔ ایسا نہ ہو کہ باہمی نزاع کی وجہ سے حالات بگڑ جائیں اور جمعہ ہی تعطل کا شکار ہوجائے۔ (شرح فتح القدیر) غرض یہ کہ فقہائے احناف کا مقصد سلطان کی مدد سے جمعہ کے قیام کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ سلطان کی اجازت کے نہیں ہونے کا حوالہ دے کر جمعہ کو بند کرانا۔

علامہ ابن قدامہ نے امت کے تعامل کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

إن الناس یقیمون الجمعات فی القری من غیر استئذان أحد (لوگ بستیوں میں جمعہ قائم کرتے رہے ہیں بنا کسی کی اجازت مانگے۔ (المغنی)

دور حاضر میں جب کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد غیر مسلم ممالک میں بستی ہے، اور جمعہ کا خطبہ ان کی دینی تربیت کا بہت اہم ذریعہ ہے، اور پھرخود بیشتر مسلم ممالک میں لادینی حکم رانوں اور دین بے زار سرکاری عہدے داروں کا دور دورہ ہے، اور انھیں مسلمانوں کی دینی تعلیم وتربیت سے بے زاری بلکہ دشمنی ہے،اور واقعہ یہ ہے کہ عالم اسلام کی بستی بستی میں جمعہ کا منبر مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا اہم ذریعہ بنا ہواہے۔ ایسے میں تمام زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر زور دینا اور بار بار شدت کے ساتھ زور دینا کہ یہ منبرحکومت کے عہدے داروں کے لیے خاص ہے، اور حکومت کی اجازت کے بغیر جمعہ کا قیام ہی نہیں ہوگا، حیرت انگیز ہے۔

جمعہ کے خطبے کے حوالے سے غامدی صاحب کی یہ اپروچ فریضہ دعوت کو دو پہلوؤں سے سکیڑدیتی ہے، ایک تو یہ کہ وہ فریضہ دعوت جو اسلامی حکومت پر متعدد جہات سے واجب ہے اسے خطبہ جمعہ تک محدود کردیتی ہے۔ چناں چہ وہ جہاں بھی اسلامی حکومت کی دعوتی ذمہ داری کو ذکر کرتے ہیں تو خطبہ جمعہ وعیدین اور محکمہ پولیس تک اسے محدود کردیتے ہیں۔ دوسری طرف خطبہ جمعہ جو امت کی دینی تعلیم وتربیت کا زبردست انتظام ہے وہ اسے سرکاری عہدے داروں تک محدود کردیتے ہیں۔

جمعہ کے خطبے کے سلسلے میں محترم غامدی صاحب کی اس اپروچ کے کیا نتائج متوقع ہیں، اور اس کے پوری دنیا کے مسلمانوں پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جمعہ کے نظام کو اپنی گرفت میں لانے کے لیے مسلم ممالک کے استبدادی حاکم بہت زیادہ کوشاں رہے ہیں، لیکن امت کا یہ عرف ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے کہ جمعہ کے خطیب کو دین کا عالم ہونا چاہیے۔ (دین کے عالم سے مراد مدرسے کا سند یافتہ فارغ نہیں بلکہ صاحب علم شخص مراد ہے) عرب بہار کی گزشتہ لہر میں جمعہ کے خطبوں نے غیر معمولی کردار ادا کیا تھا۔ عرب ملکوں میں بہت سے جمعہ کے خطیب محض اس وجہ سے جیل میں بند کردیے گئے کہ انھوں نے حق گوئی سے کام لیا تھا اور جمعہ کے منبر سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض انجام دیا تھا۔

یہ درست ہے کہ بیشتر مسلم ممالک میں جمعہ کا نظام عملًا حکومت کے زیر انتظام ہے، لیکن خطیب عام طور سے دینی عالم ہوتا ہے، اور جس ملک میں استبداد کا شکنجہ جتنا ڈھیلا ہوتا ہے، جمعہ کا خطیب اتنا ہی زیادہ دینی حقائق اور امت کے جذبات کا ترجمان ہوتا ہے۔جمعہ کے نظام کو اہل علم سے چھین کر موجودہ دور کے سرکاری عہدے داروں کے حوالے کرنا اور سرکاری عہدے داروں کے لیے دین دار ہونے کی شرط کو لازم قرار نہیں دینا اس نظام کو مفلوج کردینے کی صورت کے علاوہ اور کیا ہے۔

جمعہ کی ادائیگی امت پر فرض ہے، امت کے منتخب حکم رانوں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اس کے لیے بہتر سے بہتر انتظامات کریں،علم اور دین داری کے پہلو سے لائق وفائق خطیبوں کی فراہمی اور تقرر کریں، نزاعات سے بچانے کی تدابیر کریں، وہ اگر اس ذمے داری کو انجام نہیں دیں گے تو امت خود یہ انتظام کرے گی، لیکن وہ جمعہ کی ادائیگی کے لیے حکم رانوں پر منحصر نہیں رہے گی۔ امت کی پوری تاریخ اس پر گواہ ہے۔

یہ وضاحت بھی قرآن سے ہوتی ہے کہ جمعہ کا خطبہ محض سرکاری فرمانوں کو سنانے کے لیے نہیں ہے، وہ تو امت کو اللہ کے ذکر سے مالا مال امت بنانے کے لیے ہے۔سرکاری عہدے دار یہ کام کرتے ہیں تو بہت خوب، لیکن اگر وہ اس کے اہل نہیں ہیں تو جو اہل ہیں انھیں جمعہ کے خطبے کے لیے مقرر ہونا چاہیے۔

بات جمعہ کے منبر کی ہو یا دعوت کے میدان کی، یہ بات واضح ہے کہ محترم غامدی صاحب کی اپروچ دعوت کو بریک لگانے والی ہے، نہ کہ اسے تیز رفتار کرنے والی۔ یعنی علما کے لیے گہری دینی بصیرت کی شرط لگادی جائے، جمعہ کا منبر سرکاری عہدے داروں کے حوالے کردیا جائے اوردعوت کی ذمے داری بنی اسماعیل کو دے کر انھیں چراغ لے کر تلاش کیا جائے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غامدی صاحب دعوت کے محرکات کی حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ان کے یہاں دعوت اور جہاد کے بیچ گہرا تعلق ہے۔شاید وہ ایسا سمجھتے ہیں کہ دعوت کے جذبے کو قابو میں کرکے جہاد کے جذبے کو بھی قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مذہبی انتہا پسندی کا ایک تصور اپنے ذہن میں تشکیل دیا ہے، جس کا ذمے دار وہ دینی اداروں کو قرادیتے ہیں۔ اس بنا پر وہ قانونِ دعوت اور قانون جمعہ کے ذریعے دینی اداروں کو میدانِ دعوت سے بے دخل کردینا چاہتے ہیں۔ ہمارے اس خیال کا تعلق ان کی نیت سے نہیں بلکہ ان کی گفتگو کے منطقی نتائج سے ہے۔

بہرحال، یہ اپروچ درست نہیں ہے۔ قرآن مجید نے دعوت کے جذبے کو جس قوت کے ساتھ پیش کیا ہے، اس میں کمی کرنا قرآن کی حق تلفی ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ دعوت ہو یا جہاد، اسے غلط رخ سے بچایا جائے اور صحیح رخ دیا جائے۔ نہ یہ کہ اس کو خود ساختہ قسموں اور شرطوں کے حصار میں قید کردیا جائے۔ دعوت تو امت مسلمہ کی منصبی ذمے داری ہے، اس کی جتنی طاقت ور ترغیب قرآن مجید میں ملتی ہے اتنی ہی طاقت ور ترغیب ہماری تشریح میں بھی ملنی چاہیے۔

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۷)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Modernity کا چوتھا باب)


سیاست شرعیہ

شعائر دین کے تحفظ کی سیاست

شاہ اسماعیل نے منصبِ امامت (فارسی میں) اس وقت لکھی جب وہ سکھوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے جس میں بالآخر ان کی شہادت واقع ہوئی۔ ان کی وفات کتاب کی تکمیل میں حائل  ہو گئی، اگر چہ وہ اس کا معتد بہ حصہ تحریر کر چکے تھے۔ منصبِ امامت اگر چہ ایک ایسے زمانے میں تحریر کی گئی جب وہ اور ان کے شیخ سید احمد سرحدی علاقے میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے سرگرم عمل تھے، تاہم یہ کتاب اس تجربے سے براہ راست متعلق نہیں۔ البتہ اس سیاق کو کتاب کے پس منظر میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب کا مطبوعہ نسخہ تقریباً ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل ہے اور یہ اپنی زبان وبیان کے لحاظ سے تقویۃ الایمان سے یکسر مختلف ہے۔

یہ عوام کے لیے لکھی جانے والی کوئی عام فہم کتاب نہیں، بلکہ سیاست کے مقاصد اور سیاسی نظاموں اور حکمرانوں کی مختلف اقسام اور درجات کا ایک گہرا فلسفیانہ مطالعہ ہے۔ اس کتاب کی زبان میں مناظرانہ انداز واضح طور پر کم ہے، اس کے بجائے یہ نسبتاً فلسفیانہ ہے۔ کتاب کو اردو کے بجاے فارسی میں (اگر چہ بعد میں اس کا اردو ترجمہ ہوا) مرتب کرنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاہ اسماعیل  کے ذہن میں اس کے مخاطب علما تھے۔ اس کتاب میں کئی مقامات پر شاہ اسماعیل نے مُسَجَّع مُقَفّٰی نثر لکھی ہے جس کے کچھ نمونے قارئین اس باب میں میری نقل کردہ عبارات میں ملاحظہ کر سکیں گے۔ ذیل میں میری کوشش ہوگی کہ اس انداز میں منصبِ امامت کے مرکزی ابحاث اور استدلالات کو نمایاں کر سکوں جس سے شاہ اسماعیل کی سیاسی فکر کی نمایاں خصوصیات کا ایک نقشہ سامنے آ جائے1۔

اس بحث کا مقدمہ اور خلاصہ یہ ہے کہ مثالی ریاست کا ایک جامع خاکہ پیش کرنے کے بجاے شاہ اسماعیل کی توجہ ایسی سیاسی قیادت اور نظاموں کی تفصیلات پیش کرنے پر ہے جو اخلاقی اصلاح اور اُخروی نجات کے مقاصد کے لیے زیادہ مناسب ہیں۔جیسا کہ میں عنقریب بتاؤں گا، شاہ اسماعیل کی توجہ سیاسی قیادت کے تقویٰ وتدیُّن کے بجاے ان اثرات پر تھی جو وہ معاشرے پر مرتب کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب سے بنیادی چیز شعائرِ اسلام کے تحفظ کا فریضہ تھا، ایک ایسا فریضہ جس کی کے لیے وہ اخلاقی طور پر ایک کمزور قیادت کو بھی برداشت کرنے کے روادار تھے۔

دل چسپ اور اہم بات یہ ہے کہ شاہ اسماعیل نے اسلامی حاکمیت کے زوال کو اسلامی ریاست یا سیاسی طاقت کے بجاے شعائر اسلام کے زوال کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک شعائرِ اسلام کی حیثیت سے رائج اعمال کا خاتمہ غلبۂ کفار کی ناقابل برداشت صورتِ حال کے مترادف ہے۔ اس لیے تمام مسلمانوں پر فرضِ عین ہے کہ وہ موجودہ سیاسی نظم اور قیادت کے خلاف ایک براہ راست بغاوت اور کھلی جنگ برپا کریں، اگر چہ وہ قیادت بظاہر مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو پھر کسی اور علاقے کی طرف ہجرت کرنا ان پر فرض ہے، شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال میں واضح کیا۔

اگر ایک غیر مسلم حکمران مسلمانوں کے دینی شعائر کو تحفظ دے تو کیا وہ اسماعیل کے لیے قابل قبول ہوگا؟ شاہ اسماعیل کی گفتگو میں اس سوال کا جواب ابہام کا شکار ہے۔ ان کی سیاسی فکر میں ریاست کے کسی مربوط تصور کی تفصیلات کو اس قدر اہمیت حاصل نہیں جس قدر روز مرہ کے اعمال پر سیاست کے اثرات کو حاصل ہے۔ اور اُخروی نجات کے لیے اخلاقی اِصلاح پر شدید زور ہی وہ نکتہ ہے جو  موضوعات ومضامین کے اختلاف باوجود تقویۃ الایمان اور منصبِ امامت میں شاہ اسماعیل کے پروجیکٹ کو مربوط کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ان کی نظر میں سیاسی اور اعتقادی حاکمیتِ اعلیٰ کا بنیادی مقصد فرد اور معاشرے کی اخلاقی اصلاح ہے۔

منصبِ امامت میں شاہ اسماعیل کے نقطۂ نظر کے اس مختصر خلاصے کے بعد میں ان کے استدلال میں کار فرما مفروضوں کی مزید وضاحت کرنا چاہوں گا۔ اگر چہ انھوں نے کسی حد تک قرونِ وسطی کی سنی سیاسی فکر کے بنیادی تصورات سے، بالخصوص بغاوت وخروج سے احتراز کے معاملے میں، اخذ واستفادہ کیا ہے، تاہم ان کی فکر کا بیش تر حصہ طبع زاد اور صرف ان کے ساتھ خاص ہے2۔ علاوہ ازیں میں کچھ تفصیل کے ساتھ ابھی جو کچھ پیش کرنے والا ہوں، وہ شرعی/ایمانی سیاست کی ایک ایسی تعبیر ہے جسے بآسانی نہ تو جدید قومی ریاست اور نہ عہد جدید سے ماقبل نظامِ خلافت کے فکری تصور اور زمانے کے نقطۂ نظر سے جانچا جا سکتا ہے۔شاہ اسماعیل کی سیاسی فکر مکمل طور پر مسلمانوں کے غلبے کے دور کے سیاسی عقائد سے متاثر ہے، لیکن اصلاً اس میں ایک متعین ریاست کی خواہش کم اور روزمرہ کے رسم ورواج کے دائرے میں مسلمانوں کے مذہبی شعائر کے احیا اور تحفظ کی جستجو زیادہ ہے۔ اس طرح شاہ اسماعیل کا سیاسی تصور ایک مخصوص معنی میں، جس کی تفصیلات میں عنقریب ذکر کروں گا، مسلمانوں کی سیاسی فکر کا ایک غیر لبرل ماڈل ہے جو ایک کلیدی سیاسی ادارے کی حیثیت سے جدید ریاست کے خوش کن لبرل تصور کو للکارتا ہے۔

شاہ اسماعیل کی کتاب منصبِ امامت میں غوطہ زن ہونے سے پہلے ایک آخری گذارش یہ ہے کہ استعماری جدیدیت کے آغاز میں مرتب کی جانے والی اس فارسی کتاب کے متعلق، جو پوری وضاحت کے ساتھ اُخروی نجات اور روزمرہ کے معاملات میں تقوی اور پاکیزگی پر بحث کرتی ہے، یہ مضمون اس انداز فکر کے حوالے سے ہماری تفہیم کو مزید متنوع اور پیچیدہ بناتا ہے جو امتیازی طور پر مغلیہ حکومت کے عہد شباب سے متعلق ہے، اور جو اساسی طور پر اخلاقیات اور بادشاہت کے تصورات کے زیر اثر ہے3۔

نبوی کمالات اور شفقت کی سیاسی تعبیر

شاہ اسماعیل کے مطابق سیاست کا اولین مقصد انسانوں کی اصلاح ہے، ایک ایسی اصلاح جو ان کی دنیا کو سدھارے، اور آخرت میں بھی ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ سیاست، کمالاتِ نبوی میں سے ہے4۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی سیاسی فکر سیاستِ ایمانی اور سیاستِ سلطانی کے درمیان ایک اہم تفریق پر منحصر ہے5۔ سیاستِ ایمانی کا تعلق کمالاتِ نبوی سے ہے۔ یہ دنیوی امور کی تنظیم کے ساتھ ساتھ اخروی نجات کو بھی یقینی بناتی ہے۔ سیاستِ ایمانی کے پیچھے کار فرما بنیادی طاقت اور محرک انبیا کا اپنی امتوں کے لیے وفورِ شفقت ہے۔ اسی محبت کی وجہ سے وہ اپنے متبعین کی اخلاقی اصلاح میں لگے رہتے تھے۔ اس کے بالمقابل سیاستِ سلطانی ہے، جو حکمران کے شخصی فوائد اور مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اپنی رعیت کے دین کی فکر کے بجاے صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا سلطانی سیاست کا خاصا ہے (ص 30)۔ شاہ اسماعیل لکھتے ہیں: "ایسے حکمرانوں کا اصل مقصد اپنے رعایا کی اخلاقی اصلاح نہیں ہوتا، بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ رعایا کی اطاعت سے اپنی ذاتی خواہشات کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں" (پس مقصودِ ایشان از سیاستِ افرادِ انسان مجرد اصلاحِ حالِ ایشان نیست، بلکہ اصلی مقصد ہمیں است کہ ایشان اطاعت ورفاقت اختیار کنند تا باعانتِ ایشان اغراضِ نفسانیۂ خود بدست آید) (ص 30)۔

سلطانی سیاست کے پیچھے اصل محرک نفسِ اَمّارہ ہوتا ہے، جو کسی حکمران کے اعمال اور فیصلوں کی سمت متعین کرتا ہے۔ نفسِ امارہ جتنا طاقت ور ہوگا، سلطانی سیاست اسی قدر فاسد اور ایمانی سیاست سے دور ہوگی۔ سیاست کی تعریف کچھ اس طرح سے کی گئی کہ وہ نفس امارہ کا اسیر بننے اور کمالات نبوی کے ذریعے اخروی نجات حاصل کرنے کے درمیان ایک مسلسل کشمکش کا نام ہے۔ اس طرح اگر چہ منصبِ امامت اور تقویۃ الایمان دونوں کتابیں اپنے اسلوب اور موضوع کے اعتبار سے ایک دوسرے مختلف ہیں، تاہم وہ ایک ہی وسیع تر فکری ڈھانچے کا حصہ ہیں، یعنی  ایک ایسی سیاست جو نفس کی حاکمیت اور خدا کی حاکمیت کے درمیان کشمکش سے عبارت ہے۔ ان دونوں کا مرکزی موضوع اور مقصد انسانی تجاوزات اور خواہشات کے مقابلے میں خدائی حاکمیت کا تحفظ تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تقویۃ الایمان میں روزمرہ کے اعمال ورسومات پر توجہ مرکوز رکھی گئی، جبکہ منصبِ امامت میں سارا زور سیاسی نظم اور قیادت پر رہا۔ لیکن جیسا کہ ذیل کی گفتگو سے معلوم ہوگا، منصبِ امامت میں شاہ اسماعیل نے ایک جائز سیاسی نظم کے کم سے کم تقاضوں کا ذکر کیا ہے۔ اگر چہ ان کی نظر میں سلطانی سیاست اور ایمانی سیاست کے درمیان تضاد ہے، تاہم وہ کسی بھی ایسے سلطانی نظم کو قبول کرنے کے روادار تھے جو شعائر اسلام کو مٹانے سے گریز کرے۔

کمالاتِ نبوی

شاہ اسماعیل کے سیاسی فلسفے میں اس تصور کو مرکزی حیثیت حاصل تھی کہ متنوع اور قابل قبول سیاسی نظاموں کا ایک سلسلہ موجود ہے۔ کوئی سیاسی ہیئت اس وقت مثالی سمجھی جاتی ہے جب وہ کمالاتِ نبوی سے بھرپور ہو۔ ان کمالات میں (1) وجاہت یعنی فرشتوں اور عباد الرحمان کی نظر میں انبیا کا بلند مقام ومرتبہ (2) ولایت، یعنی انبیا کا علم ودانش اور وجدان وبصیرت (3) بعثت یعنی وہ تعلیم وتربیت جو انبیا اپنی امتوں کو دیتے ہیں – زیادہ گہرے معنوں میں ایک ایسا کمال جو انبیا کے وفورِ شفقت ومحبت سے عبارت ہے (4) ہدایت، جس کا تعلق انبیا کے ان معجزات اور فصاحت وبلاغت کی غیر معمولی صلاحیتوں سے ہے جن کی وجہ سے لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں (5) سیاست، جو ان تمام کمالات کو یکجا کر کے ان کے ذریعے ایک دین دار سماج تشکیل دیتی ہے۔

جتنا زیادہ کوئی سیاسی قائد اور اس کا سیاسی نظم ان نبوی کمالات کو اختیار کرے گا، اتنا زیادہ ان کے نبوی کمالات میں اضافہ ہوگا۔ درحقیقت کامل ترین امام وہی ہے جو ان نبوی کمالات کو پوری طرح اختیار کرے۔ شاہ اسماعیل جرات آمیز انداز میں کہتے ہیں کہ ایسے شخص میں نبی کی تمام صفات آ جاتی ہیں۔ اس کے نبی ہونے میں صرف یہ مانع ہوتا ہے کہ ختم نبوت کی وجہ سے یہ دروازہ بند ہو چکا ہے۔ (54) "وگرنہ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ یہی شخص ہوتا"۔ (در حق مثل ایں شخص تواں گفت کہ اگر بعد خاتم الانبیاء کسے بمرتبۂ نبوت فائز می شد ہر آئینہ ہمیں اکمل الکاملین فائز می گردد) (ص 54)۔

جو شخص تمام کمالات نبوی کو دل وجان سے اختیار کرے، اس کے اور حضور کے درمیان یہی فرق باقی رہتا ہے کہ حضور ﷺ پر مقام نبوت سے سرفراز تھے، اور یہ شخص اس مقام پر فائز نہیں ہو سکتا (درمیان ایں امام اکمل ودرمیانِ انبیاء اللہ امتیازے ظاہر نخواہد شد الا بنفسِ مرتبۂ نبوت) (ص 54)۔ اس کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے چچا زاد/داماد حضرت علی کرم اللہ وجہہ (م 666) کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرتے ہوئے جو الفاظ فرمائے: "تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھا، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا" ان کا مطلب یہی تھا6۔

یہاں ایک اہم نکتہ ذہن میں رہے کہ کمالاتِ نبوی صرف انبیا تک محدود نہیں، بلکہ یہ غیر انبیا بلکہ عام مسلمانوں میں بھی پائے جا سکتے ہیں۔ غیر نبی کبھی بھی کمالاتِ نبوی کے اس مقام پر نہیں پہنچ سکتا جس تک انبیا پہنچے ہیں، شاہ اسماعیل نے محتاط انداز میں واضح کیا۔ تاہم کمالات نبوی میں نبی اور غیر نبی کے درمیان معنوی مماثلت ہو سکتی ہے (ص 52)۔ سیاسی قیادت کے مختلف مناصب اور درجات کا دار ومدار کمالات نبوی میں مماثلت کے درجے کے اعتبار سے ہے۔ ایک سیاسی حکمران میں یہ مماثلت جتنی مضبوط اور جتنے وسیع پیمانے پر ہوگی، اتنا ہی زیادہ وہ نبوی رنگ میں رنگا ہوا ہوگا۔ امامتِ حقیقیہ کی خاصیت یہی تھی کہ تمام کمالاتِ نبوی سے اس کی کامل مشابہت تھی۔

ایسی مثالی قیادت کی بہترین مثال نبی اکرم ﷺ کے بعد خلافت راشدہ کا زمانہ ہے۔ شاہ اسماعیل کے مطابق یہ ایک ایسا عہد تھا جس میں "شمعِ امامت شیشۂ خلافت میں جلوہ گر تھی" (چراغِ امامت در شیشۂ خلافت جلوہ گر گردید) (ص 74)۔ یہی وہ حالت ہے جس میں بنی نوعِ انسان کی تربیت کے باب میں خدا کا احسان اپنی انتہا کو پہنچ گیا (نعمتِ ربانی در بابِ پرورشِ نوعِ انسانی بہ تمام رسید) (ص 74)۔ خلیفۂ راشد ایک مثالی حکمران ہوتا تھا، قطع نظر اس کے کہ وہ عوام کی نظر میں مقبول یا قابل قبول تھا یا نہیں۔ بعض اوقات ایک خلیفۂ راشد کو اپنے عوام کی مکمل تائید حاصل نہیں ہوتی تھی، جیسا کہ حضرت علی کے زمانۂ خلافت میں تھا۔ ایک منتشر حکومت اگر چہ ایک مُنَظم حکومت کے مقابلے میں کم تر تھی، تاہم وہ پھر بھی خلیفہ کی حکومت واقتدار سے منحرف نہ ہوئی (ص 75)۔

شاہ اسماعیل نے واضح کیا کہ بعض خلفا نے بعض دیگر خلفا کے مقابلے میں زیادہ عوامی تائید حاصل کی، بالکل اسی طرح جس طرح بعض انبیا اپنا پیغام لوگوں کو پہنچانے میں دوسروں کی بہ نسبت زیادہ کام یاب رہے، لیکن اس فرق سے ان کے منصبِ امامت میں کسی قسم کی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی۔  تاہم خلافتِ راشدہ مستحکم تھی اور ایمانی سیاست کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے درکار تمام صفات سے متصف تھی۔ خلیفۂ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس مثالی نظام کی ایک بنیادی مثال ہیں۔ یہاں آکر شاہ اسماعیل ایک اہم اور ممکنہ طور پر دور رس اثرات کی حامل توجیہ بیان کرتے ہیں: "خلافتِ راشدہ کسی مخصوص عہد یعنی آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کی تین دہائیوں سے خاص نہیں"۔ یہ مقدمہ قائم کرنے کے لیے شاہ اسماعیل نے "خلیفۂ راشد" کی تعریف اس طرح کی ہے: "خلیفۂ راشد وہ شخص ہے جو منصبِ امامت پر فائز ہو، اور اس کی وجہ سے ایمانی سیاست کے ابواب کا ظہور ہو" (خلیفۂ راشد عبارت است از شخصے کہ صاحبِ منصبِ امامت باشد، وابوابِ سیاستِ ایمان از او ظاہر شود) (ص 77)۔ اسماعیل کے مطابق یہ نمایاں خصوصیت صرف چار خلفاے راشدین یا حضور اکرم صلی اللہ کے زمانے تک محدود نہیں۔ (خواہ در زمانِ سابق ظاہر شود، خواہ در زمانِ لاحق، خواہ در اولِ امت باشد خواہ در اواخرِ آں) (ص 77)۔

مزید برآں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ خلیفۂ راشد کا سابقہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لگایا جائے گا جو کوئی مخصوص شجرۂ نسب یا خاندانی پس منظر مثلاً رسول اللہ ﷺ کے قبیلے قریش سے تعلق رکھتے ہوں۔ جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جو خلافت راشدہ کو تیس سال کے عرصے تک محدود کرتی ہیں، تو شاہ اسماعیل نے ان کی توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے مراد مسلسل اور غیر منقطع زمانۂ خلافت کے تیس سال ہیں۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ایسی مسلسل خلافتیں صرف تیس سال تک رہیں، اس لیے مزید خلافتوں کا امکان ختم نہیں ہوا۔ ایک فرضی قیاس کی صورت میں شاہ اسماعیل نے خلیفۂ راشد کے سایے میں کی جانے والی سیاستِ ایمانی کا موازنہ رات کے ایک طویل اور گھپ اندھیرے کے بعد دن کی نا قابلِ تبدیل روشنی کے ظہور سے کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ دونوں سیاسی نظام گردشِ لیل ونہار کی طرح آتے جاتے ہیں کہ رات کے بعد دن کی روشنی ظاہر ہوتی ہے (تبدل قسمین خلافت را تبدُّلِ لیل ونہار قیاس باید کرد کہ بعد از زمانۂ لیل ونہار آشکارا می گردد) (ص 80)۔ اسی طرح اہل ایمان کو ہمیشہ خلافتِ راشدہ کے الٰہی تحفے کے حصول کی امید اور جد وجہد کرنی چاہیے۔ "انھیں ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے" (ہرگز مایوس نباید شد) (ص 80)۔

سلطانی سیاست اور اس کے اثرات

اگر چہ سیاستِ ایمانی میں داخل خلافتِ راشدہ ایک مثالی تصور تھا، تاہم یہ واحد قابل قبول صورت نہ تھی۔ شاہ اسماعیل نے اپنے مثالی تصور کو ایک حقیقی تجویز سے ملا کر کہا کہ اگر چہ سیاستِ سلطانی پر مبنی نظام خلافتِ راشدہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، پھر بھی اس کی نصرت وتائید ضروری ہے۔  اس اصول میں صرف ایک صورت کی استثنا ہے کہ جب کوئی سیاسی قائد یا نظام صراحتاً کفر کی وکالت کرے، اور ڈھٹائی سے سنتِ نبوی کی مخالفت کرے؛ اس وقت حکمران کے خلاف بغاوت جائز ہو جاتی ہے۔ اسماعیل نے سنتِ نبوی اور انسانی جسم وحواس کے درمیان ایک مماثلت قائم کرکے اس بات کی وضاحت کی۔

وہ کہتے ہیں کہ انسان ظاہری اعضا جیسے پٹھے ہڈیاں وغیرہ اور ان کے مقابلے میں ذرا باطنی حواس جیسے باصرہ، شامہ، سامعہ اور تخیل سے مرکب ہے۔ اسی طرح شرعی قوانین اور احکام کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے، اور ایک باطنی حقیقت جو اصل مقصد سے جڑی ہوتی ہے۔ اس صورت میں شریعت ایک مُجَسم انسان کی طرح ہے (شریعت را بمشابہِ یک شخصِ مجسم باید فہمید) (ص 56)، شاہ اسماعیل نے دعوٰی کیا۔ سیاست کی ساخت بھی بعینہ یہی ہے۔ سیاستِ ایمانی پر مبنی مثالی سیاسی نظام، جو خلیفۂ راشد کے زیرِ سایہ قائم ہو، سیاست اور امامتِ حقیقیہ کے باطنی حقائق کی نمائندگی اور تنفیذ کرتا ہے۔ ایسا حکمران زمین پر نبی کا سایہ ہے جو قانونِ الٰہی کے اساسی تقاضوں کی تنفیذ کرے (ص 56)۔

اس کے بالمقابل سیاستِ سلطانی قانون وسیاست کے ظاہری جسم کی طرح ہے جو قانون وسیاست کی داخلی روح اور گہرے مقاصد سے لاتعلق ہے۔ شاہ اسماعیل نے سیاستِ ایمانی اور سیاستِ سلطانی کے درمیان تعامل کی وضاحت صاف اور میٹھے پانی کے گدلے اور گندے پانی کے ساتھ ملنے اور خلط ہونے سے کی ہے۔ جتنا آلودہ پانی صاف پانی میں ملتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ ناقابل استعمال ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح سیاستِ سلطانی نے سیاستِ ایمانی کو بھی بگاڑ دیا ہے۔ وقت گزرنے ساتھ ساتھ اول الذکر نے آخر الذکر پر غلبہ حاصل کیا اور غالب سیاسی نظام کی حیثیت سے ابھرا (ص 89)۔ لیکن سیاستِ ایمانی اور سیاستِ سلطانی میں سادہ فرق کیا تھا؟ اور اس فرق کی بنیاد کیا تھی؟

شاہ اسماعیل بتاتے ہیں کہ اگر سیاستِ ایمانی کا بنیادی مقصد امت کی اخلاقی اصلاح ہے، تو سیاستِ سلطانی کی غرض وغایت حکمران کی نفسانی اغراض اور خواہشات ہیں۔ خلفاے راشدین، جنھوں نے سیاستِ ایمانی کی کشتی چلائی، کسی بھی پہلو سے خواہشاتِ نفسانی کی تسکین میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اپنی رعیت کی اخروی تربیت کا نبوی مشن ہی ان کا واحد مقصد تھا۔ وہ اطاعتِ الٰہی کے مقابلے میں خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کو شرک کی ایک قسم سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس سلطانی حکمران صرف خواہشاتِ نفسانی کی تسکین میں لگا رہتا ہے۔

اس طرح سے نفس کے تقاضوں کا اسیر بن جانے کی کئی صورتیں ہیں۔ کچھ حکمران فتوحات کے پیاسے ہوتے ہیں، اور کچھ اپنے دوستوں اور معاونین سے اپنے لیے وفاداروں کا مجمع اکٹھا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ کچھ دولت جمع کرنے میں رغبت رکھتے ہیں، اور کچھ جسمانی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کی عادت سے چھٹکارا نہیں پاتے۔ اگر چہ علامات مختلف ہیں لیکن جس بیماری سے یہ نظم سیاست پیدا ہوتی ہے، وہ ایک ہے: خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ اگر چہ سلطانی سیاست میں سیاسی طاقت اور غلبہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہ طرزِ سیاست مجموعی طور پر شریعت کی بنیادوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ شاہ اسماعیل کہتے ہیں: "اس قسم کی سیاست مقام عبودیت کے لیے نقصان دہ ہے" (تخم ایں خار نقصان است در مقامِ عبودیت)(ص 91)۔  

لیکن اس کے باوجود کہ سیاستِ سلطانی سیاستِ ایمانی کو دبانے کے تباہ کن عمل کا ذمہ دار ہوتا ہے، پھر بھی مؤخر الذکر کی کھلی تردید یا اس کے خلاف بغاوت لازم نہیں۔ اصل میں کسی بھی سیاسی حکمران کے خلاف ایسا باغیانہ رویہ صرف انتہائی حالات میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ شاہ اسماعیل کے استدلال میں ایک اہم پہلو حکمرانوں کی خواہشاتِ نفسانی کی اتباع کی سطح پر غور وفکر کرنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس مسئلے کی سطح کو ناپنا ضروری ہے۔انھوں نے حکمرانوں کو چار علیحدہ طبقات میں تقسیم کرکے ان کے متعلقہ سیاسی نظام پیش کیے جن میں سے ہر ایک مختلف معاملہ اور رد عمل چاہتا ہے۔ میں شاہ اسماعیل کے کھینچے گئے خاکے کے مطابق ان طبقات کے نمایاں خد وخال کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ جس طرح وہ ان میں سے ہر طبقے کو دیکھتے اور اس کی خصوصیات بیان کرتے ہیں، وہ ان کی سیاسی فکر پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سیاسی دائرے میں کیے جانے والے اس تجاوز کی حدود کیا ہیں جو ان کے نزدیک قابل قبول تھا۔

سلطنتِ عادلہ

سیاستِ سلطانی کی پہلی قسم وہ ہے جسے شاہ اسماعیل سلطنتِ عادلہ کا نام دیتے ہیں۔ سیاست کی یہ قسم بہت زیادہ خراب اور محل نظر نہیں۔ تاہم اس کے باوجود عادل سلاطین سلطانی سیاست سے جڑی تمام بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ اقتدار کے بھوکے، عیاش، جاہ پرست اور جسمانی لذتوں کے دل دادہ ہوتے ہیں۔ وہ بڑی یادگاریں تعمیر کرنے، عمدہ گھوڑے پالنے، اسلحہ جمع کرنے اور شان دار باغات لگانے کو اپنی بڑی کامیابیاں تصور کرتے ہیں۔ مزید برآں انصاف کی فراہمی کے وقت ان کے فیصلے پر ان کی ذاتی پسند وناپسند اثر انداز ہوتی ہے اور وہ ایک ہی جرم کے مرتکب بعض مجرموں کو اوروں کے مقابلے میں زیادہ رعایت دیتے ہیں (ص 94)۔

تاہم ان کی تمام تر نادانیوں کے باوجود وہ اہل ایمان وتقوی کے عوامی تشخص کو برقرار رکھتے ہیں، اور مذہب کے حدود کے اندر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواہشاتِ نفسانی کی تسکین کے وقت وہ اتنا لحاظ کرتے ہیں کہ شریعت کی حدود کو پامال نہ کریں۔ انھوں نے تباہی کے دہانے پر کھڑے ہو کر خود کو لگام دی ہوتی ہے۔ ان کا نفس انھیں برائیوں پر ابھارتا ہے، لیکن ان برائیوں کے رستے میں خوفِ خدا حائل ہو جاتا ہے۔ شاہ اسماعیل نے ایک دل چسپ مثال سے اس رویے کی وضاحت کی ہے: "مثلاً اس حکمران کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے، اور اس سے جنسی مباشرت کے لیے وہ بے تاب رہتا ہے۔ پھر بھی وہ اپنی جنسی خواہش کی تسکین کو عقد نکاح کے ذریعے ہی پورا کرتا ہے۔ وہ شادی کی خواہش میں مکمل دیوانا ہوجاتا ہے، اور اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وقت اور پیسے کو پانی کی طرح بہاتا ہے۔ لیکن شادی تک انتظار کرکے وہ ایک صریح حرام عمل کے ارتکاب سے خود کو بچاتا ہے، اور حلال کے دائرے کے اندر رہتا ہے" (ص 99)۔ شاہ اسماعیل لکھتے ہیں کہ "ایمان کا شعلہ اس کے دل کے اندر فروزاں رہتا ہے۔ لیکن اس پر خواہشِ نفس کے اندھیروں کا دبیز پردہ پڑا رہتا ہے۔ اور جوں ہی یقین کی بجلی اس کے دل کو روشن کرتی ہے تو وہ روشنی نیت کی خرابی سے جنم لینے والے اندھیروں میں چھپ جاتی ہے" (اصلِ شعلۂ ایمان در دلِ او افروختہ است، فاما دودِ ہواء وہوس بہ او آمیختہ، وبرقِ یقین بر دلِ او درخشندہ فاما ظلماتِ تغیرِ نیتِ او پوشیدہ (ص 100)۔

اگرچہ وہ اپنے ماتحتوں کی اخروی نجات کی کوشش نہیں کرتے، تاہم سلطانی حکمران دیگر امور ریاست مثلاً‌ جنگیں لڑنے، بغاوتوں کو کچلنے اور امن وامان کے قائم کرنے میں چابک دست ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر چہ ایسے حکمران اپنی قوم کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کم ہی کچھ کرتے ہیں، لیکن وہ (مسلمانوں کی سیاسی برتری کو قائم رکھ کر) شریعت کے خارجی مظاہر کا تحفظ کرتے ہیں۔ اسی لیے، شاہ اسماعیل نصیحت کرتے ہیں کہ ایسے حکمرانوں کے ماتحتوں کو ان کی مکمل تائید کرنی چاہیے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس سے سرزد ہونے والے بعض خلافِ سنت اعمال سے چشم پوشی کرنی چاہیے، اور دل وجان سے اس کی خیر خواہی کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کی معمولی کوششوں کو بہت کچھ سمجھنا چاہیے، اور اس کے چھوٹے اعمال کو بڑے اعمال کی نظر سے دیکھنا چاہیے (بعضے امور خلافِ سنت از او ظاہر می گردد، واز آں چشم باید پوشید، ودر خیر خواہی او بجان ودل باید کوشید۔ سعی قلیل او را بجاے کثیر باید شمارد، واعمال صغیر او را بجاے اعمال کبیر) (ص 104)۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے یہ مشورہ دیتے ہیں کہ: "انھیں ایسا سمجھنا چاہیے کہ اگرچہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مگن ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ رب العالمین کے دین کی خدمت بھی کر رہا ہے" (حساب باید کرد کہ ہر چند باستیفاے لذتِ نفسانیہ مشغوف است اما بخدمت گزارئی دینِ رب العالمین موصوف) (ص 104)۔

سلطنتِ جابرہ اور سلطنتِ ضالّہ

شاہ اسماعیل کے مطابق سیاست کے سلطانی نظام کی اگلی دو قسمیں "سلطنتِ جابرہ" اور "سلطنتِ ضالّہ" (گم راہ سلطنت) ہیں۔ جابر حکمران سراپا نفسِ امارہ کے اسیر ہوتے ہیں۔وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کا نفس کہتا ہے، یہ پروا کیے بغیر کہ ان کے اعمال شریعت کے دائرے کے اندر ہیں یا باہر۔ وہ عوام کے سامنے اپنے آپ کو ایک اخلاقی مثال کی صورت میں پیش کرنے کی ذمہ داری سے بھی بے پروا ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کی طرح جابر حکمرانوں کی اخلاقی کمزوریاں کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں جس کا دار ومدار کسی مخصوص حکمران کے مزاج اور رجحانات پر ہے۔ شاہ اسماعیل نے مغل اشرافیہ کی طرف ایک واضح اشارہ کرتے ہوئے ان کمزوریوں میں سے چند کو بیان کیا ہے، مثلاً‌ نشہ کرنا، عمدہ ملبوسات اور غذاؤں کا خوگر ہونا، ناچ گانے کی محفلوں اور شطرنج جیسے کھیلوں کی سرپرستی کرنا۔ ان عادات کے لیے صرف ایک ہی مہارت چاہیے ہوتی ہے اور وہ ہے اسراف۔ نتیجتاً ان عادات نے سوائے اسراف کے اور کسی چیز کو فروغ نہیں دیا (ص 104–7 )۔

حکمران کی جانب سے آرام وآسائش اور خواہشات کی تسکین کو اہمیت دینے کے رجحان نے مملکت کی اخلاقی حالت کا شیرازہ بکھیر دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں ظلم واستحصال میں اضافہ اور  شدت آئی ہے۔ شاہ اسماعیل نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے کہ اسراف کے لیے مسلسل دولت کے حصول کی ضرورت ہے اور دولت جمع کرنے کی نہ ختم ہونے والی ضرورت نے ناانصافی کے متعدد دروازے کھول دیے ہیں، جیسے غریبوں کا استحصال کرنا اور تاجروں اور صنعت کاروں کے مفادات کو بالکل خاطر میں نہ لانا۔ مزید برآں چونکہ سیاسی اشرافیہ کھیل کود اور آرام وآسائش میں مگن ہے، اس لیے سلطنت کا امن وامان اور انصاف کا نظام ناکارہ ہو گیا ہے۔ حکمران کے لحاظ اور نگرانی سے بے پروا رعایا ایک دوسرے کے ساتھ ظلم اور ناانصافی پر اتر آئے ہیں۔ اس طرح سے حکمرانوں کے اسراف وعیاشی نے پوری امت کی اخلاقی عمارت کو متزلزل کر دیا ہے۔ شاہ اسماعیل نے واضح کیا کہ ایسی سلطنت ایک "بڑی مصیبت (بلاے عظیم)" ہے (ص 107)۔

لیکن ان حکمرانوں کی طرف سے دیے گئے تمام مصائب کے باوجود ان کی رعایا کو چاہیے کہ ان کی تائید اور اطاعت کریں۔ شاہ اسماعیل علی سبیل التنزل بتاتے ہیں کہ ان تمام تر تباہ کن رجحانات کے باوجود جابر حکمران "خود کو مسلمانوں میں سے شمار کرتا ہے" (جانِ خود را از مسلمین شمارد) (ص 116)۔ شاہ اسماعیل اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، "اس لیے کبھی کبھی دین متین کی حمایت اور شرع مبین کی غیرت اس کے دل میں جوش مارتی ہے، اور اس کی بنا پر وہ رب العالمین کے کلمے کی سربلندی کی کوشش کرتا ہے (گاہ گاہ حمایتِ دینِ متین وغیرتِ شرعِ مبین از دلِ او می جوشد، وبنا بر آں اعلاے کلمۂ رب العالمین می کوشد) (ص 116)۔

شاہ اسماعیل کے استدلال میں مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر چہ حکمران مذہب کے مقرر کردہ حدود سے بےپروا اور علماے دین کے مشورے سے غافل ہے، تاہم وہ پھر بھی اسلام کو کچھ فائدہ اور غیرمسلموں کو کچھ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ کئی پہلوؤں سے ایسا کر سکتا ہے۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ جابر حکمران اگر چہ خدا سے دور ہے، پھر بھی مسلمان ہونے کی اساس پر اس سے یہ توقع ہے کہ وہ اہل ایمان کو کافروں کے مقابلے میں ترجیح دے گا۔ مثال کے طور پر جب وہ وزیروں مشیروں اور افسر شاہی کے اہم افراد کی تعیناتی کرے گا تو وہ ہمیشہ مسلمانوں کو غیر مسلموں پر ترجیح دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر چہ وہ خدا کا سب سے پسندیدہ شخص نہیں ہے، پھر بھی اس نے مسلمانوں کے معاشرتی مقام کو بڑھانے اور کفار کے مقام کو گھٹانے میں اپنا کردار ادا کیا (ص 115)۔ اس بادشاہ کو "ایک اندھے مشعل بردار (کور مشعل دار)" کی طرح سمجھنا چاہیے (ص 116)۔

دوسری بات یہ ہے کہ بسا اوقات ان حکمرانوں کے تجاوزات بھی نیک نیتی پر مبنی ہوتے ہیں، یا اس کی مناسب توجیہ کی جا سکتی ہے۔ مثلاً حکمران فضول خرچ ہے، اور اپنے خزانے کو عالی شان تعمیرات میں صرف کرتا ہے۔ لیکن خدا سے اپنے تعلق کے اظہار کے لیے عالی شان، خوب صورت اور شان دار مساجد کی تعمیر میں بھی بار بار خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ شاہ اسماعیل اعتراف کرتے ہیں کہ یہ فضول خرچی اور اسراف شریعت کے اعتبار سے غیر مطلوب اور خدا کی نظر میں ناپسندیدہ ہے، لیکن اسے ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ حکمران مساجد کی تعمیر جیسی عبادات میں بے تحاشا اس لیے خرچ کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اخروی ثواب حاصل کر سکے۔ شاید اس کی دلیل یہ ہو کہ "جتنا میں (ان نیک کاموں) میں خرچ کروں گا، اتنا زیادہ مجھے آخرت میں ثواب ملے گا" (ص 115)۔ اس لیے اگر چہ ایسی فضول خرچی غیر مطلوب ہے، لیکن اس کی رعیت کو چاہیے کہ اس کے اخلاص کو مد نظر رکھے۔ اس کی رعیت بالخصوص مذہبی اشرافیہ کو سمجھنا چاہیے کہ جابر حکمران ان کی اخلاقی رہ نمائی اور ہدایت کا عمدہ امیدوار ہے، اور اس کے سامنے حق کا اظہار افضل عبادات میں سے ہے (سلطانِ جابر بلا ریب محتاجِ امر بالمعروف است، واظہارِ حق بحضورِ او افضلِ عبادات)7 (ص 116)۔ تاہم شاہ اسماعیل فورًا ایک تنبیہ کا اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یہ رہ نمائی اور ہدایت کبھی بھی ایسی کشمکش یا مخالفت میں نہیں بدلنی چاہیے جو بغاوت کی حد تک پہنچے۔ امام جابر کے خلاف خروج کرنا شریعت کی رو سے ناجائز ہے (خروج بر امامِ جابر شرعًا جائز نیست)" (ص 117)۔

شاہ اسماعیل کی ذکر کردہ تیسری قسم سلطنتِ ضالّہ میں سلطنتِ جابرہ کی تمام بری صفات موجود ہوتی ہیں، لیکن ذرا زیادہ واضح اور بے لچک انداز میں۔سلطنتِ جابرہ میں موجود تمام خرابیوں اور کمزوریوں کو سلطنتِ ضالّہ میں ریاستی سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے، اور وہ سیاسی اور معمول کی زندگی کی بنیاد میں جگہ پکڑ لیتی ہیں۔ زندگی کے تمام پہلوؤں میں خدائی اور نبوی نظام کے مقابلے میں ایک حریف اخلاقی نظام بسیرا کر لیتا ہے۔ خدا نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، ان کا ارتکاب علی الاعلان کیا جاتا ہے، اور جسے اس نے فرض قرار دیا ہے، اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ شرعی احکامات اور حدود کی ایسی شدید الٹ پلٹ کا اظہار سیاسی حکمرانوں کو "شہنشاہ" جیسے القابات سے پکارنے، سونے اور چاندی کے برتنوں کو استعمال کرنے اور نوروز، دیوالی اور ہولی جیسے غیر اسلامی تہواروں کو منانے سے ہوتا ہے۔ اور چونکہ یہ غلط رسمیں عام ہو گئی ہیں تو جو اعمال صرف اسلام کے ساتھ خاص ہیں جیسے کسی کو سلام کہنا، حج بیت اللہ کرنا، علم وذکر کی مجلسوں میں شریک ہونا اور ان سے استفادہ کرنا، وہ  اس قدر مٹ گئے ہیں گویا وہ حرام ہیں (ص 116 – 20)۔

لیکن اس تمام تر اخلاقی بدحالی کے باوجود شاہ اسماعیل ایک بار پھر ان حکمرانوں کو رعایت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ کم از کم خود کو مسلمان تو پکارتے ہیں۔ شاہ اسماعیل نے واضح کیا کہ "باوجود یکہ ان جیسے حکمران بد تر کفار اور جہنمی لوگوں میں سے ہیں، لیکن یہ اپنی زبان سے ایمان کا دعوٰی تو کرتے ہیں، اس لیے ان کا کفر مستور اور ایمان ظاہر وباہر ہے (ہر چند امثالِ ایں سلاطین فی الحقیقت از قبیلِ کفارِ اشرار اند، و از جنسِ اہلِ النفرہ، فاما از بس کہ بزبانِ خود دعواے اسلام می کنند پس کفرِ ایشان مستور است وایمانِ ایشان ظاہر وشاہد) (ص 120)۔

پس نتیجہ یہ ہے کہ سلطنت میں واقع اخلاقی انتشار کے باوجود مسلمانوں کے کم سے کم دینی شعائر جیسے "اسلامی احکام کے مطابق لڑکیوں کی شادی کرانا، عید منانا اور تدفین کی اسلامی رسموں پر عمل کرنا" عوامی دائرے میں بغیر کسی تعطل کے قائم ہیں (ص 120)۔ ان بنیادی اعمال کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ امت نے ابھی شریعت کو مکمل طور پر خیر باد نہیں کہا ہے۔ کیا اس صورتِ حال میں امت کو سیاسی قیادت کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے؟ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ یہ سوال بحث کے لیے کھلا ہے۔ اس بغاوت کے حق اور مخالفت دونوں کے بارے میں معقول علمی دلائل موجود ہیں۔

اس سوال کے جواب میں ان کا ذاتی موقف اس امر پر منحصر ہے کہ ایسے کسی اقدام کے نتائج کیا ہوں گے۔ وہ اس اقدام کے عملی نتائج کو مد نظر رکھ کر استدلال کرتے ہیں کہ اگر اس سے سیاسی انتشار اور خلا پیدا ہوتا ہے تو یہ غیر مطلوب ہے، لیکن اگر یہ یقینی ہے کہ اس طرح کی بغاوت سے خلافتِ راشدہ یا سلطنت عادلہ کا نظام جنم لے گا تو پھر یہ مطلوب ہے۔ ایک سیدھا اور بے لچک فقہی موقف دینے کے بجائے شاہ اسماعیل کا استدلال اس امر پر منحصر ہے کہ امت کی بہتری کس اقدام میں ہے۔

سیاستِ سلطانی کی پہلی تین قسموں کے خلاف بغاوت کی سخت ممانعت کے مقابلے میں سلطنتِ ضالّہ کے بارے میں ان کا موقف مزید مبہم ہے۔ اس ابہام کو انھوں نے ایک اور انوکھے اور عجیب طریقے سے اور مسجع مقفی انداز میں بیان کیا ہے (اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں): "گم راہ سلطان مفسدین کا سردار اور بدعتیوں کا امام ہوتا ہے۔ اس کی سربراہی دین کے لیے سم قاتل اور اس کی حکومت کتاب وسنت کی رو سے باطل ہوتی ہے۔ لیکن جب تک وہ خود کو اسلام سے منسوب کرتا ہے، اس وقت تک اس کے کفر میں شک ہے۔ اور اس بنا پر اس کے خلاف بغاوت اور کی اطاعت سے خروج دونوں اختلافی مسائل میں سے ہیں (سلطانِ مضل ہر چند رئیسِ المفسدین است وامام المبتدعین، وریاستِ او بہ نسبتِ دین سمتے قاتل وامامتِ او بحکمِ کتاب وسنت و ہمے است باطل، اما از آنجا کہ راہِ معاملۂ اسلام بہ او مسلوک است تکفیر مشکوک بناءً علیہ اظہارِ بغا بر وے وخروج از اطاعتِ او نیز از مسائلِ اختلافیہ است) (ص 122)۔ لیکن شاہ اسماعیل آگے بتاتے ہیں کہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ نہ تو بغاوت برپا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے اور نہ ہی اس شخص پر لعنت ملامت کرنا چاہیے جو بغاوت برپا کرے۔

سلطنتِ کفر

شاہ اسماعیل کے مطابق سلطانی سیاست کی چوتھی اور بدترین قسم "سلطنتِ کفر" کے خلاف اقدام کرنے میں کوئی ابہام، اختلاف، تنبیہ یا غور وکفر کی ضرورت نہیں۔ شاہ اسماعیل نے احتیاط سے واضح کیا کہ سلطنتِ کفر سے مراد ایک ایسا سیاسی نظام نہیں جو کفار کے ماتحت ہو۔ اس میں بھی حکمران مسلمان ہوتا ہے، لیکن وہ پوری ڈھٹائی اور بے پروائی سے احکامِ شریعت کو پامال کرتا ہے۔ دنیوی خواہشات ولذات میں ڈوبا ہوا ایسا حکمران اور اس کے ماتحت بنیادی عقائد جیسے توحید الہی، نبوت اور آخرت پر ایمان سے ہاتھ دھو چکے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلسل ان لوگوں کا تمسخر کرتے ہیں اور انھیں بے وقوف کہتے ہیں جو دنیوی لذتوں اور آسائشوں کا اسیر بننے میں ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنتے۔ ان کے اپنے الفاظ میں "وہ سنتِ نبوی کی پروا کرنے کو حماقت، روزمرہ کی عادات واطوار میں دین کی حدود کی پابندی کو کمینگی اور خدا پر توکل کو کم زوری اور بے عملی سمجھتے ہیں" (124ص )۔

اور یہ وہی نکتہ ہے جس پر شاہ اسماعیل نے جارحانہ انداز میں اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وہ نوحہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ستم بالاے ستم یہ کہ اس استہزائی رویے سے اس کے پیروکاروں اور ماتحتوں کی نظر میں خدائی شریعت کا مقام ومرتبہ گھٹ جاتا ہے۔ نتیجتاً تمام دنیوی معاملات میں سلطانی قانون خدائی قانون پر غالب آ جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بدحواسی تب پیدا ہوتی ہے جب سلطانی نظام کے احکامات پر عمل کرنے کو ذہانت ونکتہ رسی جبکہ شریعت کی نظر میں مطلوب امور کی اتباع کو بے کار اور احمقانہ قرار دیا جاتا ہے (ص 124)۔

ایسے حکمرانوں کو ان کا تکبر اور خود ستائی ناگزیر طور پر اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ وہ نبوت اور بالآخر خدائی کا دعوٰی کر بیٹھتے ہیں۔ اس طرح خدائی حاکمیت کے لیے ان کی بے لگام خواہش نکتۂ عروج کو چھو لیتی ہے اور کفر میں لت پت اور اخروی نجات کے تصور سے بالکل عاری ایک متبادل اخلاقی اور سیاسی نظام وجود میں آ جاتا ہے۔ ایسی سلطنت میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ شاہ اسماعیل اس سوال کے جواب میں کسی ابہام سے کام نہیں لیتے۔ اس صورت میں پوری امت پر فرضِ عین ہے کہ بغاوت کرے، یا اگر ان میں بغاوت کی استطاعت نہیں تو کسی دوسرے مسلم ملک کی طرف ہجرت کریں۔ اس صورتِ حال میں مسلم امت کے سامنے بغاوت یا ہجرت کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں، اس کو ثابت کرنے کے لیے شاہ اسماعیل نے جو استدلال کیا ہے، وہ ان  کی سیاسی فکر کی طرف ایک اہم دریچہ وا کرتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایک ایسی مسلمان سلطنت جس میں تمام کفریہ شعائر کا اظہار ہو، ایسے ہی ہے جسے کافروں نے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے (بمشابہۂ غلبۂ کفار است) (ص 125)۔ ایسی سلطنت کا فرمانروا عوامی دائرے میں کفریہ شعائر کو معمول بنا دیتا ہے۔ شاہ اسماعیل کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ "ایسے حکمران کے خلاف مزاحمت کرنا اور اسے قتل کرنا اسلام کا بنیادی تقاضا ہے" (ص 125)۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر لوگوں کو چاہیے کہ کسی ایسی جگہ کی طرف ہجرت کر جائیں جہاں اسلامی شعائر موجود ہوں (ص 125)۔ یہ استدلال شاہ اسماعیل کی سیاسی فکر اور تصور کے ایک انتہائی اہم پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔

سیاسی قیادت کی اہلیت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہ اسماعیل کی نظر میں حکمرانوں کے عزائم یا انفرادی تقوی کے بجاے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ عوامی دائرے میں اسلام کی طاقت اور کردار پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔  اگر کوئی حکمران اخلاقی برائیوں میں ڈوبا ہوا ہو، تب بھی وہ ان کے لیے قابل قبول ہے، جب تک کہ وہ اسلام کے سیاسی غلبے کو قائم رکھ سکتا ہو اور عوامی دائرے میں دینی شعائر کا تحفظ کر سکتا ہو۔ ایک مسلمان حکمران بغیر قطعی طور پر  ناقابلِ قبول ہے، جب اس کی سلطنت کفار کے ماتحت سلطنتوں کے مشابہ بننا شروع ہو جائے۔ شاہ اسماعیل کے تجزیے کی رو سے کسی حکمران کی اخلاقی پستی اس صورت میں محلّ نظر ہے جب وہ سیاسی طاقت پر نقصان دہ اثرات مرتب کرے، اور لوگوں کی نظر میں شرعی اعمال کی بے توقیری کا سبب بنے۔ شاہ اسماعیل کی سیاسی فکر کی بنیادیں ایک ایسے سلطانی سیاسی عقیدے پر استوار تھیں جو اسلام کے سیاسی غلبے کو دیگر تمام امور پر فوقیت دیتا تھا۔ جب تک یہ مقصد حاصل تھا، وہ ایک مثالی خلافتِ راشدہ سے سنگین انحرافات کو بھی برداشت کرنے کے روادار تھے۔ ان کی برداشت صرف اس صورت میں جواب دیتی تھی جب ایک سیاسی حکمران یا نظام مکمل طور پر کفر کی حاکمیت سے ہم آہنگ ہو جائے۔

سلطانی سیاسی عقائد

اب اس سوال کی طرف مڑتے ہیں جو میں نے اس باب کے آغاز میں اٹھایا تھا: شاہ اسماعیل کی نظر میں سیاست کی مثالی شکلیں کیا تھیں؟ جیسا کہ سابقہ تجزیے سے ثابت ہوتا ہے، ان کی سیاسی فکر میں مثالی سیاست سے لے کر کم از کم قابل قبول سیاست تک وسیع امکانات کا ایک سلسلہ ہے۔ لیکن ان تمام صورتوں میں وہ امت کی اخلاقی اصلاح کے بارے میں غیر معمولی فکر مند نظر آتے ہیں۔ سیاست کا مقصد اخلاقی اصلاح اور نبوی اوامر کی روشنی میں امت کی اخروی نجات کی کوشش کرنی ہے۔ شاہ اسماعیل کہتے ہیں کہ اصل سیاسی حکمران وہ ہے جو امت کو اخروی نجات کی طرف بلاتا (صاحبِ دعوت) ہو۔ تاہم اس کے اندازِ دعوت میں غیرمعمولی تنوع پایا جا سکتا ہے۔ یہ کمالاتِ نبوی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش سے لے کر روحانی پاکیزگی کے لیے بنیادی اعمال کی ادائیگی تک پھیلا ہوا ہے۔ جب تک سیاسی حکمران اس دعوت کو کسی بھی شکل میں سر انجام دیتے رہیں گے، وہ جائز اور قابلِ اطاعت رہیں گے۔ جب اخلاقی اصلاح اور اخروی نجات کی دعوت کی توقع مکمل طور پر ختم ہو جائے تو  اس کے بعد کسی سیاسی نظام یا حکمران کو مشکل سے ہی جواز دیا جا سکتا ہے۔

آخر میں سیاسی قیادت سے متعلق شاہ اسماعیل کے خیالات میں چند بنیادی ابہامات قابلِ ذکر ہیں۔یہ امر بہت قابل غور ہے کہ ان کی بحث کے نظریاتی پہلوؤں کو ان کی اپنی زندگی میں موجود سیاسی حالات اور کرداروں سے مربوط کرنا مشکل ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اشرافیہ کے عادات واطوار پر ان کی تنقید، جس میں پرشکوہ تعمیرات اور شطرنج سے محبت کی مثالیں بار بار دی گئی ہیں، کا رخ مغل اشرافیہ کی طرف تھا۔ تاہم ٹھیک سے یہ بتانا مشکل ہے کہ ان کی اپنی درجہ بندی کے مطابق انیسویں صدی کے اوائل کے ہندوستان میں رائج سیاسی نظام کی شرعی حیثیت کیا تھی؟ ہندوستانی مسلمانوں سے کسی اور جگہ ہجرت کر جانے کا علی الاعلان مطالبہ نہ کرنے سے اتنا تو ثابت ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں ہندوستان "سلطنتِ کفر" نہیں تھا۔ لیکن پھر ہندوستان تھا کیا؟ مسئلہ اس وقت مزید الجھ جاتا ہے، جب شاہ اسماعیل ایسی سلطنت کی حیثیت کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں  جو کسی غیر مسلم کے زیرِ تسلط ہو، اور اس میں شریعت کے تقاضوں پر عمل در آمد کیا جا رہا ہو۔ کیا کوئی بھی غیر مسلم حکمران ناقابلِ قبول ہے، یا صرف وہی جو غیر علانیہ کافر ہو، یا وہ جو علی الاعلان شریعت کی مخالفت کرتا ہو؟

ایک اور دل چسپ ابہام ان کے  شیخ اور سکھوں کے خلاف تحریکِ جہاد کے قائد سید احمد شہید کی حیثیت کے حوالے سے ہے جو بظاہر اس کتاب کے پس منظر میں غالب کلیدی کرداروں میں سے ہیں۔ کیا شاہ اسماعیل کے خیال میں وہ ایک خلیفۂ راشد تھے یا صرف ایک سلطانِ عادل (جو سلطانی سیاست کی پہلی قسم ہے)؟ صاف ظاہر ہے کہ سید احمد کی قیادت وامامت کو، جس نے سکھوں کے خلاف تحریک جہاد سے جنم لیا تھا، جواز عطا کرنا اس کتاب کے لیے ایک اہم پس منظر کی حیثیت رکھتا تھا۔

لیکن اس کتاب کے فکری تصورات کا اطلاق سید احمد پر کیسے کیا جا سکتا ہے، یا بالفاظ دیگر اس کا حقیقی "منصبِ امامت" کیا ہے؟ یہ بتانا مشکل ہے۔ شاید یہ کتاب کا وہ حصہ تھا جس کو لکھنے کا شاہ اسماعیل کو موقع نہیں ملا۔ شاہ اسماعیل کی فکر میں برطانوی استعمار کا تقریباً عدم ذکر ایک اور چبھتا ہوا سوال ہے۔

بہر صورت منصبِ امامت سے سامنے آنے والا ایک مرکزی نکتہ یہ ہے کہ شاہ اسماعیل کی فکری عمارت کی بنیاد ایک سلطانی اسلامی سیاسی عقیدہ ہے جو سیاسی طاقت اور غلبے کو تقوی اور اخروی نجات سے مشروط کرتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی صورت حال، جو تیزی سے ایک نوآبادی سماج میں بدلنے جا رہے تھے، بظاہر ان کی فوری توجہ اور فعال استدلال کے لیے اس قدر اہم نہ تھی۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر منصبِ امامت اور تقویۃ الایمان کی تہہ میں کار فرما توقعات یکساں ہیں، باوجودیکہ ان دونوں کتابوں کے اسلوب اور اہم نکات میں معتد بہ اختلافات ہیں۔ اگر تقویۃ الایمان کا زور خدائی حاکمیت اور مذہب کے روز مرہ کردار پر ہے، تو منصبِ امامت اسی سوال کو سیاسی طاقت وقیادت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دونوں کتابوں کا بنیادی موضوع روزمرہ کی مذہبی زندگی کو اس انداز میں منظم کرنا ہے جس سے خدائی قانون کی حاکمیت کا تحفظ ہو۔

اور آخر میں ان دونوں کتابوں کو آمنے سامنے رکھنے سے شاہ اسماعیل کے فکری رجحان اور مسلک میں لچک کا اندازہ ہوتا ہے۔ تقویۃ الایمان میں انھوں نے واضح طور پر ایک انتہائی نقطۂ نظر اپنایا ہے جس میں الہامی عجلت کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد کی دنیا میں برپا شورش کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کے برعکس منصبِ امامت میں ان کا رویہ نہ صرف یہ کہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے نَپا تلا اور نسبتاً کم معاندانہ ہے، بلکہ واضح طور پر اپنے بہت سے مواقف میں معتدل بھی ہے۔ اس اختلاف کو تناقض کی نظر سے دیکھنے کے بجاے شاہ اسماعیل کی اس قابلیت کے پہلو سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ متنوع مخاطبین اور اغراض کے حساب سے اپنا موقف پیش کرتے تھے۔ اگر ایک طرف عوام کے لیے لکھی جانے والی کتاب تقویۃ الایمان میں تنبیہی اور جلالی انداز مناسب تھا، تو دوسری طرف منصبِ امامت میں پوری احتیاط سے ترتیب دیے گئے سیاسی نظریے کے بیان کے لیے اسماعیل نے دانش مندی  سے اپنا اسلوب بدلا ہے۔ تاہم جیسے میں نے واضح کیا، وہ غالب علمی منہج اور پروجیکٹ ایک ہی تھا جو ان بظاہر متنوع کتابوں پر اثر انداز ہوا۔

اگلے باب میں، میں شاہ اسماعیل کی فکر کے ایک انتہائی متنازع حصے یعنی شفاعتِ نبوی کی حدود پر ان کے نظریے کو زیر غور لا کر ان کے سیاسی عقائد پر بحث جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے میں تقویۃ الایمان کی طرف واپس لوٹتا ہوں۔


حواشی

  1. قرون وسطیٰ اور عہد جدید کے اوائل کے ہندوستان میں بالخصوص اہم فارسی مصادر کی روشنی میں، مسلمانوں کی سیاسی فکر کے ایک مفید جائزے کے لیے دیکھیے: مظفر عالم، The Languages of Political Islam: India, 1200-1800، (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2004)، خاص طور پر ص 35 – 80۔
  2. اسلامی تاریخ کے اوائل اور قرونِ وسطیٰ میں سنیوں کی سیاسی فکر کے لیے دیکھیے: عُوَیمر انجم، Politics, Law, and Community in Islamic Thought: The Taymiyyan Movement (نیو یارک: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012)، 1 – 136۔
  3. دیکھیے: مظفر عالم، Languages of Political Islam، 35 – 80۔
  4. یہ حاشیہ انگریزی متن کے قارئین کے لیے تھا جسے اردو قارئین کے لیے غیر ضروری سمجھ کر حذف کیا گیا۔ مترجم
  5. شاہ محمد اسماعیل، منصبِ امامت (دلی: مطبعِ فاروقی، 1899)، 29 – 30۔ اس کتاب کے تمام حوالہ جات اسی اشاعت سے لیے گئے ہیں، اور متن کے اندر قوسین میں درج کیے گئے ہیں۔
  6. بحوالۂ ایضاً، 55۔
  7. یہاں پر شاہ اسماعیل کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف کا  مشہور ترجمہ "اچھائی کا حکم دینا" ہمیشہ کافی یا درست نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اس صورت میں اچھائی کے حکم کا مفہوم یہ نہیں کہ کوئی شخص طاقت کے مقام پر کھڑا ہو کر دوسرے کو ایک مطلق حکم دے، بلکہ اس کے مفہوم میں سیاسی طور پر طاقت ور شخص کی رہ نمائی، خیر خواہی اور اصلاح بھی شامل ہے۔ یہاں پر (اور دیگر بہت سے مقامات پر) امر بالمعروف کے مفہوم میں نصیحت کے ذریعے نیکی کی طرف رغبت پیدا کرنے کا تصور "اچھائی کا حکم کرنے" سے زیادہ راجح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اچھائی کا حکم دینے کا ایک فوری فیصلہ یا مطلق حکم کی بہ نسبت اخلاقی تشکیل کا ایک عمل ہے۔


’’احمدی تراجم اور تفاسیر قرآن‘‘

ڈاکٹر حافظ سعید احمد


مصنفین
: ڈاکٹر محمد سلطان شاہ، ڈاکٹر خورشید احمد قادری
سن اشاعت: 2022
ناشر: ورلڈ ویو پبلشرز لاہور
صفحات: 149
قیمت: درج نہیں

کسی بھی تحریر یا کتاب کے ترجمے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب اس کا معانی ومفہوم کو غیر قوم میں منتقل کرنا مقصود ہو، الہامی اورتبلیغی مذاہب اپنی تعلیمات کو دوسری اقوام تک منتقل کرنے کی آرزو بھی رکھتے ہیں تاکہ اس فوز وفلاح میں وہ بھی شریک ہو جائیں۔یہی وجہ ہے کہ آخری اور ابدی آسمانی تعلیم انسانیت کوقرآن مجید کی صورت میں میسر آئی،اور اس کتاب کو عربی مبین میں نازل کیا گیا جس کی وجہ سے دوسری اقوام کو اس کے سمجھنے میں دشواری کا پیش آنا ایک فطری عمل تھا۔ اس کےلیے ضروری تھا کہ اس کا ترجمہ مقامی زبان میں کیا جائے۔

سب سے پہلے قرآن مجید کا ترجمہ لاطینی زبان میں ہوا اور اس کے اولین یورپی مترجم Robert of Ketton ہیں۔ اوراس کے بعد انگریزی زبان میں اس کتاب کے ترجمے کا آغاز ہوا۔، اورپندرہویں صدی عیسوی میں جان(John) نے قرآن کا نیا ترجمہ کیا۔ الیگزینڈر راس (Alexander Ross) نے 1649ء میں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ کیا۔ اس کے بعد جارج سیل (Geroge Sale) کاترجمہ 1734ء میں شائع ہوا ایڈورڈ ہنری پالمر (Edward Henry Palmer1840۔1882) نے ۱۸۸۰ میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا۔اسی طرح انگریزی زبان کے ذخیرے میں قرآن مجیدکے تراجم کا اضافہ ہوتا رہا۔

جب انیسویں صدی کے آخر میں مسلمان برصغیر میں مسلمان اپنی فکری اور ثقافتی بقا کی جنگ میں مصروف تھے، تو اسی دور میں غلام احمد نامی ایک شخص نے "نبوت" کے میدان میں قدم رکھنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں، جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں میں خلفشار پیدا کرنا مقصو د تھا۔ ظاہر بات ہے جب اس پر "وحی" کاسلسلہ بھی جاری ہوگیا تو اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے مسلمانوں کے عقائدپرغیر محسوس طریقے سے حملہ کیا جائے اور ان پر اثرا نداز ہونے کے لیے مختلف طریقے وضع کیے جائیں، اس کے لیے فکری لٹریچر کی تیاری بہت ضروری تھی، تو وہاں قرآن مجید کے انگریزی ترجمے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تاکہ اس نام نہاد "دعوت" کو دور دور تک پہنچایا جائے۔ قادیانی مذہب نےاپنی تعلیمات کو قرآن مجید سے جوڑتے ہوئے ترجمے میں تحریف کیا۔ زیرِ نظر کتاب میں قادیانیوں اور لاہوری گروپ کے تراجم کی تحریفات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی۔

کتاب"احمد ی تراجم اور تفاسیرِ قرآن ( ایک تنقیدی مطالعہ)" اس موضوع پر اردو زبان میں راقم الحروف کی اطلاع کے مطابق یہ پہلی جامع کتاب ہے۔ اس سے قبل پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کے مضامین شائع ہوئے، ان کو پروفیسر عبدالواسع نے مرتب کیے اور وہ مستشرقین اور انگریزی تراجم قرآن کے نام سے مکتبہ قاسم العلوم نے اشاعت کا اہتمام کیا تھا۔اس اشاعت پر تاریخ نہیں لکھی گئی لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ زیرِ تبصرہ سے قبل شائع ہوئی تھی، اس میں قادیانی تراجم قرآن کے نام سے ایک مضمون شامل کیا گیا ہے جوتقریباً‌ آٹھ صفحات پر محیط ہے۔ اس کتاب پر دو مصنفین : ڈاکٹر محمد سلطان شاہ اور ڈاکٹر خورشید احمد قادری کا نام درج ہے۔ کتاب بنیادی طور پر تین ابواب پر مشتمل ہے :

باب اول: احمدی (قادیانی) تراجم و تفاسیر قرآن کے نام سے لکھا گیا ہے، ا س کے ابتدائی پانچ صفحات احمدیت اور اس کے فرقے اور قادیانی ترجمہ وتفسیر کی پہچان کے عنوانات کے تحت لکھے گئے۔ بالکل ابتداء میں مصنفین لکھتے ہیں: قادیانیوں نے سات مکمل انگریزی تراجم قرآن شائع کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تراجم میں ایسے تفسیری حواشی ہیں جو ان آیات کی غلط تفسیر کرتے ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت سے متعلق ہیں۔ مسلمان مفسرین کے برعکس زیادہ تر احمدی مفسرین نے تسمیہ کو ( سورۃ التوبۃ کے علاوہ)تمام سورتوں کی پہلی آیت کےطور پر شمار کیا ہے۔ انہوں نے حروف مقطعات کا اس تصور کے تحت ترجمہ کیا ہے کہ وہ خاص عربی الفاظ کے مخففات ہیں۔ احمد ی مترجمین اور مفسرین متن قرآن کریم میں کسی نسخ کے قائل نہیں ہیں (ص:2،3)مصنفین نے قادیانی ترجمہ وتفسیر کی پہچان کے لیے پانچ آیات:آل عمران 3:55، المائدہ 5: 117، النساء 4:157، المومنون، 23:50، الاحزاب 33:40 لکھی گئی ہیں جن کی ترجمہ میں قادیانی مذہب کی روشنی میں تحریف کی گئی ہے۔

اسی باب میں قادیانی مذہب کے نمائندہ تراجم اور تفسیری حواشی کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنفین نے مترجمین کا تذکرہ کرتے ہوئے درج ذیل منہج واسلوب اختیار کیا ہے : (1) مترجم کے حالات زندگی لکھتے ہوئے مصنفین نے بنیادی مصادر کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، اور ہر ممکنہ صورت اختیار کی گئی، بعض جگہوں پر بالمشافہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا اور ایک جگہ پر ایک طالب علم کے انٹرویو کو جگہ دی گئی (2) عمومی طور پرمذکورہ بالاآیات اور بعض جگہوں پر دیگر آیات بھی لکھ د ی گئی ہیں جن میں قادیانی مذہب کے مطابق تحریف کی گئی ہے (3) بعض جگہوں پر حروف مقطعات کے قادیانی مذہب کے مطابق خودساختہ تراجم بھی دے دیے گئے ہیں۔(4) مترجم کی لکھی گئی انگریزی کااردو میں ترجمہ کرتے ہوئے کمال مہارت سے کام لیا گیا ہے (5) آخر میں عبداللہ سعید، ڈاکٹر عبدالرحیم قدوائی کی رائے بھی درج کی گئی ہے اور بعض جگہوں پر مستشرقین کی ترجمہ کے بارے میں رائے بھی لکھ دی گئی ہے۔

اس باب میں ڈاکٹر محمد عبد الحکیم خاں کے ترجمے کو اولین قادیانی مذہب کا ترجمہ میں شمار کیا جاتا ہے، اس کے عقائد کے بیان کے لیے مصنفین نےچار آیات: آل عمران 3:55، المائدہ 5: 117، النساء 4:157، البقرۃ 2:106 کا انتخاب کیا ہے۔عربی عبارت بھی درج ہے اس کے علاوہ انگریزی ترجمہ بھی ذکر کیا گیا ہے، اور انگلش سے اردو ترجمہ رواں انداز میں کیاگیا ہے۔ اس کے ساتھ تفسیری حواشی اور وضاحتیں بھی لکھ دی گئی ہیں۔ مصنفین نے اس کی گمراہی اور انحراف کے پہلو ؤں کو بھی واضح کیا ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس ترجمہ کو لکھنے کے بعد اس مذہب سے علیحدگی اختیار کر لی، عبدالرحیم قدوائی کے بقول غیر مصدقہ روایات ہیں (مستشرقین اور انگریزی تراجم قرآن:ص 25) جبکہ زیرِ تبصرہ کتاب کے مصنفین نے قادیانی مذہب کےبانی کے دو بیان سے یہ واضح کر دیا کہ وہ تائب ہوگئے تھے (دیکھئے: ص 18)

دوسرا ترجمہ مرزا بشیرا لدین محمود احمد کا ہے، جو کہ ایک نامکمل ترجمہ قرآن ہےاس میں اسی مذہب کا پرچار کیا گیا۔ اس کے عقائد کو واضح کرنے کے لیے سورۃ البقرۃ: 2:137 کا انتخاب کیا گیا ہے، عربی عبارت، انگریزی ترجمہ اور تفسیری حاشیہ لکھا گیا ہے۔ تیسرا مترجم مرزا بشیر احمد ہے۔مصنفین نے اس کےعقائد کے بیان کےلیے بھی پانچ آیات:آل عمران 3:55، النساء 4:157، الاحزاب 33:40، سورۃ النور 24:55، سورۃ الصف:61:6 کا ترجمہ دیا گیا ہے۔ تفسیری حواشی لکھتے ہوئے انگریزی لکھنے سے اجتناب کیا گیا ہے۔آخر میں اس ترجمہ کے بارے میں ایک مستشرق ایڈون ای۔کیلوری اور عبدالرحیم قدوائی کی رائے نقل کی گئی ہے۔ چوتھا مترجم پیر صلاح الدین کا تذکرہ کیا گیا ہے پانچ آیات: آل عمران 3:55، المائدہ 5: 117، النساء 4:157،المومنون، 23:50، الاحزاب 33:40 درج کی گئی ہیں، مصنفین نے یہاں بھی عربی عبارت کے ساتھ انگریزی عبارت بھی درج کی ہے اور اردو ترجمہ بھی کیا گیا ہے اور ترجمے میں تحریف کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک اور مترجم پیر معین الدین کا ذکر بھی موجود ہے جس کے بارے میں اس کے مختصر حالات زندگی اور سورۃ الفاتحہ اور سور ۃ البقرۃ ک ترجمہ کیا گیا ہے، بس اتنا ہی معلو م ہورہا ہے۔

فہرست کے مطابق چھٹا، جبکہ متن کی نمبرنگ کے مطابق پانچواں مترجم مولوی شیر علی ہیں اس کے لیے انہوں نے تین آیات:آل عمران 3:55، النساء 4:157، الاحزاب 33:40 کے ترجمے کو بیان کیا ہے۔اس ترجمے کے بارے میں عبداللہ سعید اور پروفیسر ڈاکٹر قدوائی کی رائے بھی دی گئی ہے۔ فہرست کے مطابق ساتواں جبکہ متن کی نمبرنگ کے مطابق چھٹا مترجم ملک غلام فرید ہے ایک صفحات پر اس کے حالات زندگی درج کیے گئے ہیں جبکہ پانچ صفحات اس کے ترجمے کےلیے مختص کیے گئے ہیں پانچ آیات:آل عمران 3:55، النساء 4:157، الاحزاب 33:40 اور البقرۃ 2:222، کا ترجمہ دیا گیا جبکہ سورۃ الاحزاب کے ترجمے کے علاوہ تفسیر بھی دی گئی، اور ختم نبوت کے چار معانی لکھے گئے یہاں اشد ترین ضرورت تھی کہ ان معانی کے بارے میں حاشیہ میں روایتی مسلمانوں کے دلائل لکھے جاتے تاکہ عام قاری کسی الجھن کا شکار نہ ہوتے۔

فہرست کے مطابق آٹھواں جبکہ متن کی نمبرنگ کے مطابق ساتواں مترجم سر ظفرا للہ خان ہے، اس کے حالات زندگی اور ترجمے کے بارے میں پندرہ صفحات لکھے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں مصنفین نے کتاب کے روایتی منہج سے ہٹ کر لکھا ہے، حالاتِ زندگی لکھنے کے بعد چودہ حروف مقطعات کے معنی لکھے گئے ہیں۔ تو اس کے لیے جن آیات کا تذکرہ کیا گیا ان میں غالباََ مصنفین قادیانی عقائد کے بیان کے علاوہ عربی سے انگریزی ترجمہ میں تحریفات اور الحاقات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ فہرست کے مطابق نواں جبکہ متن کی نمبرنگ کے مطابق آٹھواں مترجم اور مفسر حکیم نورا لدین بھیروی ہے۔ اس نے اردو میں ترجمہ قرآن کیا جس کو عبدالمنان نے اپنی بیوی امۃ الرحمن بنت شیر علی کے ہمراہ مل کر انگریزی کے قالب میں ڈھالا۔مصنفین نے اس کے نظریات کے بیان کے لیےآل عمران 3:55، المائدہ 5: 117، النساء 4:157، المومنون، 23:50، الاحزاب 33:40، سورۃ النور 24:55 کا ترجمہ دیا گیا ہے۔ اس ترجمہ قرآن میں سوائے سورۃ الفاتحہ کے تسمیہ کو کسی بھی سورت کی پہلی آیت شمار نہیں کیا گیا۔ مصنفین نے دو حروف مقطعات کے معنی بھی بطور مثال درج کیے ہیں۔

باب اول میں کتاب کے شروع میں دی گئی فہرست کے مطابق 11 مترجمین کا تذکرہ کیا گیا ہے جبکہ لیکن کتاب کے متن کے مطابق 8مترجمین کا تذکر دیا گیا ہے کتاب کے متن کے مطابق پیر معین الدین کے نام کے ساتھ نمبرنگ نہیں دی گئی۔ حکیم نورالدین بھیروی کے ترجمہ قرآن کو اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ لیکن ان کو مترجمین کی فہرست میں لکھا گیا ہے اور مترجمین کو بھی مترجم کے طور پر فہرست کے مطابق شمار کیا گیا لیکن متن میں ان کے حالات زندگی تو لکھے گئے ہیں لیکن نمبرشمار نہیں کیا۔

باب دوم میں لاہوری گروپ کے مترجمین اور مفسرین کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان میں چھ مترجمین اور مفسرین کا تذکرہ کیا گیا ہے۔پہلے صفحہ پر قادیانی اور لاہوری گروپ کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا۔ مولوی محمد علی لاہوری کے ترجمہ قرآن اور حالات زندگی کے بیان کےلیے 15 صفحات مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے عقائد و نظریات کے بیان کےلیے انگریزی زبان میں اس کی تحریر نہیں لکھی گئی بلکہ صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا۔ اس کے نظریات کا پوسٹمارٹم کر تے ہوئے مصنف نے مذکورہ بالا آیات اور 14 حروف مقطعات کے معنی لکھے ہیں جو اس کے ترجمہ میں درج ہیں۔ اس کے ترجمہ قرآن کے بارے میں عبداللہ یوسف علی، سید حبیب الحق ندوی، حافظ غلام سرور، عبداللہ سعید، نیل رابسن اور عبدالرحیم قدوائی کی رائے درج کی جو اس کے ترجمے کے بارے میں مختلف کمزور پہلو واضح کیے۔

دوسرا مترجم ڈاکٹر خادم رحمان نوری ہیں، مصنفین نے حالات زندگی کے علاوہ مذکورہ بالا آیات میں اس کی تحریف کی نشاندہی کی ہے، تیسرا مترجم خواجہ کمال الدین ہے اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے مصنفین نے مخصوص آیات کا حوالہ نہیں دیا۔ چوتھا مترجم ناصر احمد ابن آفتاب الدین احمد ہے اس کے بیان کرتے ہوئے آیات کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ پانچواں مترجم خاں صاحب چوہدری محمد منظور الہٰی ہیں۔ آٹھواں مترجم ڈاکٹر بشارت احمد ہیں۔

باب سوم پچیس صفحات پر مشتمل ایک مضمون ہے جو الحاج غلا م سرور کے انگریزی ترجمہ کا تعا رف ہے، ان کا تعلق عمومی طور پر قادیانی مذہب سے جوڑا جاتا ہے، جس کی مصنفین نے تردید کی کوشش کی۔ مصنفین لکھتے ہیں: حافظ غلام سرور پر غلطی سے احمد ی مترجم قرآن ہونے کا الزام لگا دیا گیا۔ انہوں نے احمدیت سے تعلق کا اقرار کیا ہے نہ ان کے ترجمہ سے ایسے شواہد ملتے ہیں کہ ان کا اس گروہ سے کوئی تعلق ہے (ص149)۔ آپ کا ترجمہ قرآن 1920ء کے عشرے میں منظر عام پر آیا۔یاد رہے کہ "مستشرقین اور انگریزی تراجم قرآن" میں اولین مسلم تراجم کے ذیل میں غلام سرورکوبھی شمار کیا گیا ہے-

کتاب کی پیشکش بہت خوبصورت ہے لیکن انسانی کام غلطی سے مبرا نہیں ہوا کرتا، اس میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے ذیل میں کچھ نکات پیش کیے جارہے ہیں جو دراصل اس غرض سے پیش کیے جارہے ہیں تاکہ اگلے ایڈیشن میں بہتری لائی جاسکے۔

اس طرح کی علمی نوعیت کی کتب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے بیک ٹائٹل پر مصنف کا تعارف لکھا جاتا ہے تاکہ قاری مصنف کے بارے میں جان سکے لیکن زیرِ نظر کتاب میں اس کا اہتمام نہیں کیا گیا،اس کے علاوہ کتاب کے پہلے پانچ صفحات کی تحریر کو بطور مقدمہ درج کیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا، اس کے علاوہ حاشیہ میں یا ایک باب میں حیات عیسی علیہ السلام، ختم نبوت، حروف مقطعات، ناسخ ومنسوخ اور تفسیر بالرائے پر ایک جامع مضمون لکھ دیا جاتا جس سے مسلم علمی روایت کی خبر ہوتی توعامی کے مطالعے کے لیے بھی کتاب بہت فائدہ مند ثابت ہوتی، گو بعض جگہوں پر مصنفین نے ان موضوعات پر تبصرے کیے ہیں لیکن وہ موضوع کے لحاظ سے ناکافی ہیں۔اس کے علاوہ غلام احمد کے حالات زندگی لکھتے ہوئے ایک انگریزی مضمون پر انحصار کیا گیا جو اس کتاب کے شان شایان نہیں ہے۔

پروف ریڈنگ کی ایک غلطی ابتدائی صفحات کی نمبرنگ میں نمایاں ہوگئی ہے،اس کےعلاوہ باب اول میں گیارہ مفسرین کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن متن میں صرف آٹھ مفسرین کا تذکر ہ لکھا گیا جو دو اردو سے انگریز میں ڈھالنے والے مترجم تھے، پتہ نہیں ان کو مترجمین میں شامل کیا گیا ہے یا ان کومفسرین لکھا گیا ہے۔ کتاب پڑھنے سے واضح نہیں ہو رہا کہ یہ دومصنفین کی علمی کاوش ہے یا صرف ایک مصنف نے اس کو لکھا ہے، ص 111 اور ص 113 سے یہ واضح ہور ہا ہے کہ یہ کتاب اصل میں ڈاکٹر محمد سلطان شاہ کی لکھی ہوئی ہے-

اس کتا ب کو ہر اس شخص کی لائبریری میں موجود ہونا چاہیے جس کو قرآن مجید کے مطالعے کا شغف ہے، اور دینی علوم سے ناواقف شخص کو اس کتاب سے پڑھنے سے پہلے کسی عالم دین سے قادیانی مذہب کے بارے میں بنیادی نوعیت کی معلومات حاصل کرنی چاہئیں اور کتاب کے اول حصے میں جن آیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان کو ابتدائی کلاسز میں نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ ختم نبوت کے تصور کو ابتدائی عمر میں طلباء کے دل ودماغ میں راسخ کر دیا جائے اور اس کتاب کے مندرجات کو ایم فل سطح پر اسلام او راستشراق کے ذیل میں متعارف کروایا جائے تاکہ نوجوان اسکالرز علمی میدان میں اس گروہ کا مقابلہ کر سکیں۔