جنوری ۲۰۲۲ء

پرتشدد مذہبی بیانیے: خود احتسابی کا وقتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ سنن ابی داود (۱)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۶)مولانا سمیع اللہ سعدی 
خاندانی نظام اور سیڈا معاہدہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
افغانستان کا بحران اور ہمارا افسوسناک طرزعملمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سیالکوٹ کے واقعے پر علماء کرام کا متفقہ اعلامیہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱)ڈاکٹر شیر علی ترین 

پرتشدد مذہبی بیانیے: خود احتسابی کا وقت

محمد عمار خان ناصر

(سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کے  قتل کے پس منظر میں  اس موضوع پر سوشل میڈیا پر پیش کی گئی معروضات)

توہین مذہب کے الزام پر کسی کو مار دینے کے واقعات میں وقفہ جتنا کم ہوا ہے، اس پر معاشرتی ردعمل اور اخلاقی مذمت کی قوت میں بجائے اضافے کے کمی ہوئی ہے۔ ایک معمول کا اظہار افسوس ہر واقعے پر دکھائی دیتا ہے، اور پھر اگلے کسی واقعے کا لاشعوری انتظار ہونے لگتا ہے۔ اگر یہ مشاہدہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے نے نفسیاتی طور پر اس عمل کو نارملائز کر لیا ہے۔

نارملائزیشن میں کسی نئے مظہر کے بار بار اعادے اور تکرار کی وجہ سے انسانی نفسیات اسے ایک طرح سے قبول کر لیتی اور اس پر کوئی غیر معمولی ردعمل دینے کا داعیہ کھو دیتی ہے۔ نارملائزیشن، ہمیشہ معاشرتی حساسیتوں کے ایک بنے ہوئے سانچے میں ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ سانچہ، انصاف کے ایک معاشرتی قدر نہ ہونے اور گروہی جانبداریوں کو عملا فیصلہ کن اصول کی حیثیت سے قبول کرنے سے بنا ہے۔ اس سانچے میں جب نارملائزیشن ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ معاشرتی ضمیر ایسے واقعات کو برا سمجھنا چھوڑ دیتا ہے، بلکہ اسے برا سمجھتے ہوئے یہ قبول کر لیتا ہے کہ جیسے اور سارے معاملات میں گروہی جانبداریاں عملا نتائج کو طے کر رہی ہیں، یہاں بھی کرتی ہیں۔ اگر طاقت کے زور پر ہر گروہ اپنے مجرموں کو بچا لے جاتا ہے تو توہین مذہب کے معاملے میں بھی گروہوں کی عصبیت جاگ اٹھتی ہے اور وہ مجرم کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہونے دیتے۔ ان کے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے سو یہ کافی ہوتا ہے کہ یہ کوئی انوکھی بات نہیں، ہر معاملے میں یہی ہو رہا ہے۔

پھر کچھ گروہ اس سے آگے بڑھ کر یا تو ایسے اقدامات کو جواز یا کم سے کم حسن نیت اور مذہبی جذبے کی رعایت دینے لگتے ہیں۔ یوں ایسے گروہوں کی اصل قوت خود ان کی تعداد نہیں، بلکہ وہ عمومی سانچہ ہوتا ہے جس میں اکثریت ایسی چیزوں کو نفسیاتی طور پر نارملائز کیے بغیر کوئی چارہ نہیں پاتی۔ اس معاملے کی اصل سنگینی اس پہلو سے ہے جو ہماری نظر میں ہونی چاہیے۔


توہین رسالت پر داروگیر کا سوال قرآن میں بھی زیر بحث آیا ہے، تاہم اس کی صورت موجودہ مذہبی موقف سے بالکل مختلف ہے۔ سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس گروہ کو تفصیل سے موضوع بنایا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اہل خانہ اور عام مسلمان خواتین کو مسلسل اسکینڈلائز کرنے کی مہم میں مصروف تھا اور مسلمان سماج کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ قرآن مجید نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دنیا وآخرت میں خدا کی لعنت کے سزوار ہیں۔ انھیں چاہیے کہ اپنی روش سے باز آ جائیں، اور اگر اس تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے تو پھر اے پیغمبر، ہم آپ کو حکم دیں گے کہ ان کے خلاف آپریشن کریں، اور پھر یہ لوگ مدینے میں رہنے نہیں پائیں گے، بلکہ جہاں ملیں گے، ان کو پکڑ کر قتل کر دیا جائے گا۔

اس ہدایت میں قرآن نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے شریعت کا یعنی فقہی اصطلاح میں "حدود" کا نہیں، بلکہ سیاست شرعیہ کا معاملہ ہے۔ کوئی ایک یا چند افراد کیا، اگر پورا ایک گروہ بھی توہین رسالت کو باقاعدہ ایک مہم بنا کر مسلمانوں کے درپے آزار ہو تو اسے تنبیہ کی جائے گی، زجر وتوبیخ اور دوسرے تعزیری اقدامات سے اپنی روش بدلنے پر مجبور کیا جائے گا اور پھر بھی وہ باز نہ آئے تو اس کے خلاف آخری اور انتہائی اقدام کر کے اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

توہین رسالت کے جرم کو قذف کی طرح حدود کے زمرے میں شامل نہ کرنے اور اسے سیاست شرعیہ سے متعلق قرار دینے میں گہری دینی حکمتیں مضمر ہیں۔ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے اور عقلی ونفسي استدلالات کی بنیاد پر اپنی دعوت کو پیش کرتا ہے۔ وہ قرآن اور پیغمبر، دونوں کی حقانیت کو عقل وفطرت کے دلائل پر پرکھنے کے لیے پیش کرتا ہے اور ہر طرح کے اشکالات واعتراضات کا انھی کی روشنی میں جواب دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگوں کے مسلمہ موروثی عقائد کو چیلنج کرتا اور انھیں کفر وشرک قرار دیتے ہوئے لوگوں کو ان سے تائب ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید مخالفانہ ردعمل کا پیدا ہونا ایک فطری انسانی رویہ ہے اور اس ردعمل کو صبر وتحمل کے ساتھ گوارا کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ دعوت دین کو پیش کرتے رہنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں جو ایک دعوتی مذہب اختیار کر سکے۔ اگر اسلام اپنی پہلی ترجیح دعوت کے فروغ کے بجائے ناموس رسالت کے تحفظ کو بناتا اور مسلمان ہر گستاخ رسول کے ساتھ لڑنے بھڑنے اور مرنے مارنے کو اپنی اولین ایمانی ذمہ داری بناتے تو تاریخ میں اس کا ذکر مکے میں پیدا ہونے والے چند "شرپسندوں" کے الفاظ میں ملتا اور بس۔ یہ ترجیحات کا حکیمانہ تعین تھا جس نے اسلام کو ایک نہایت مخاصمانہ صورت حال سے، جس میں ہمہ وقت پورا معاشرہ توہین رسالت کا مرتکب ہو رہا تھا، نبرد آزما ہونے کی طاقت بخشی اور پرامن طور پر دنیا میں پھیلنے والا عالمی مذہب بنا دیا۔

پس توہین رسالت سے متعلق قرآن کی ہدایت یہی ہے کہ جس معاشرے میں مسلمان اصلا غیر مسلموں کے سامنے دعوت دین پیش کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہوں، وہاں ایسے مخالفانہ رویوں پر صبر اور اعراض سے کام لیں اور اشتعال ظاہر کر کے دعوت کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ اور جہاں ان کے پاس سیاسی طاقت ہو اور کوئی بدنہاد گروہ اپنے خبث باطن کے اظہار سے مسلمان جماعت کے احساسات وجذبات کو مجروح کرنے پر تلا ہوا ہو، وہاں پہلے مرحلے میں تنبیہ وتوبیخ سے اسے باز رکھنے کی کوشش کریں اور کسی بھی معقول طریقے سے اس میں کامیابی نہ ہو اور انتہائی اقدام کے بغیر اس فتنے سے گلوخلاصی ممکن نہ دکھائی دیتی ہو تو پھر ریاستی طاقت استعمال کر کے اس کی بیخ کنی کر دیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

’’کفار کی گستاخیوں پر مسلمانوں کو بے حد غصہ آتا تھا۔ وہ نامعقول یہ کرتے تھے، اس سے بڑھ کر اور کیا گستاخی اور موجب غیظ ہوگا۔ خیال کیجیے ، مسلمانوں کو کس قدر ناگوار ہوتا ہوگا کہ جان لینے اور جان دینے کو تیار ہو جاتے ہوں گے، مگر اتنی بڑی گستاخی اور ایسے سخت موجب غیظ پر حق تعالیٰ کی تعلیم سنیے۔ فرماتے ہیں:

لتبلون فی اموالکم وانفسکم الی قولہ وان تصبروا وتتقوا فان ذلک من عزم الامور۔

یعنی جان اور مال میں تمہاری آزمائشیں ہوں گی اور مشرکین اور اہل کتاب سے اذیت کی باتیں سنو گے۔

اس کی تفسیر میں مفسرین نے یہی واقعہ لکھا ہے کہ وہ اپنے اشعار میں مسلمانوں کی بیویوں کا نام لے کر اظہار تعشق کرے تھے۔ اتنی بڑی غیظ وغضب کی بات سننے کے بعد فرماتے ہیں: ان تتقوا وتصبروا۔ الخ۔ اگر تم صبر کرو اور بچو (یعنی جہالت کی باتوں سے) تو یہ بڑی عزیمت کی بات ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: وقل لعبادی یقول التی ھی احسن۔ میرے بندوں سے فرما دیجیے کہ وہ نرم بات کہا کریں۔ ان الشیطان ینزغ بینہم۔ شیطان درمیان میں جھڑپ کرانا چاہتا ہے۔ جب جھڑپ اور لڑائی ہوگی تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں طرف سے عداوت بڑھ جائے گی۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔

یہ حق تعالیٰ کی تعلیم تھی۔ اب حدیث سنیے۔ کفار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کو بجائے محمد کے مذمم کہتے تھے۔ اب خود ہی اندازہ کر لیجیے کہ ایسے سخت الفاظ سن کے مسلمانوں کا کیا حال ہوتا ہوگا، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی سخت بات کو مسلمانوں کے دلوں سے کیسا ہلکا کیا۔ فرماتے ہیں: انظروا کیف صرف اللہ عنی الخ۔ یعنی دیکھو، شتم قریش کو خدا نے مجھ سے کیسے ہٹا لیا۔ وہ شتم اور لعنت کرتے ہیں مذمم کو اور میں تو محمد ہوں (میرا نام محمد ہے، مذمم نہیں۔ وہ مذمم کو برا کہہ رہے ہیں نہ کہ محمد کو)۔

اگرچہ مذمم سے نیت ان کم بختوں کی حضور کی گستاخی کی تھی، مگر حضور ہمارے غیظ وغضب کو ہلکا کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ میاں، یوں دل کو سمجھا لیا کرو کہ ہمارے حضور مبارک کا نام ہے ہی نہیں۔

بہرحال وہ حق تعالیٰ کی تعلیم تھی اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔ جب جہل کے مقابلے میں بھی خدا اور رسول کو خشونت پسند نہیں تو مناظرہ میں کب پسند ہوگی۔‘‘ (التبلیغ ج ۲۰ ص ۱۶۶۵)


مذہبی انتہاپسندی کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار عوامل کے حوالے سے ہمارے ہاں  ایک سے زیادہ بیانیے موجود ہیں جن پر واضح طور پر فکری ونظریاتی تقسیم کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے واقعات کو مختلف بیانیے اپنی اپنی پوزیشن اور اپنے مجوزہ حل کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلا موجودہ صورت حال میں، ایک طبقے نے مذہب کو، دوسرے نے مذہبی طبقوں اور علماء کو، تیسرے نے مقتدر طبقوں کی پالیسیوں کو اور چوتھے نے قیام پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا اور، بالترتیب، ان چاروں مظاہر کے ’’بندوبست " کو مسئلے کا حل قرار دیا۔   مذہبی طبقے نے صورت حال کی ذمہ داری مغرب میں ہونے والے واقعات، عالمی سیاسی دباو، ہماری حکومتوں کے طرز عمل اور مقامی لبرل بیانیوں پر عائد کی۔ اس نکتے پر اشتراک کے باوجود  خود مذہبی حلقوں میں بھی تین الگ الگ پوزیشنز اس موقع پر واضح طور پر سامنے آئی ہیں۔

ایک پوزیشن ان زیادہ تر غیر سیاسی اہل علم کی ہے جنھوں نے اس واقعے کو بنیادی طور پر ایک انسانی واخلاقی مسئلے کے طور پر دیکھا اور بالخصوص مذہب کے سوء استعمال کے پہلو سے یہ مناسب سمجھا کہ مذہبی نمائندوں کی حیثیت سے سری لنکا کے ہائی کمشنر سے مل کر تعزیت کریں اور یوم مذمت منانے کا اعلان کریں۔

دوسری پوزیشن اس مذہبی سیاسی طبقے کی ہے جس نے اس واقعے سے مذہبی طبقوں پر آنے والے دباؤ کو سیاسی زاویے سے دیکھا اور اس دباؤ میں مزید اضافے کی پیش بندی کرنا چاہی۔ مولانا فضل الرحمن نے اسی نقطہ نظر سے واقعے کی مذمت کو بین الاقوامی حالات اور حکومتی پالیسی وغیرہ سے نتھی کر دیا، اور اسی حلقے کی طرف سے علماء کے ہائی کمشنر سے تعزیت کے عمل پر تحفظات بھی ظاہر کیے گئے۔

تیسری پوزیشن تحریک لبیک اور ان کے ہمدردوں کی ہے۔ اگرچہ سیالکوٹ کے واقعے سے ٹی ایل پی نے ایک بیان کے ذریعے سے لاتعلقی ظاہر کی ، لیکن وہ اپنے پھیلائے ہوئے "لبیک لبیک" اور "من سب نبیا فاقتلوہ" کی اس عوامی تعبیر سے خود کو اصولی طور پر اور دوٹوک انداز میں الگ کرنے کی سیاسی طور پر متحمل نہیں۔

واقعے سے پیدا ہونے والی دکھ اور رنج کی کیفیت مدھم ہونے کے بعد یہ تمام بیانیے اپنے اپنے استدلال کے ساتھ اسی طرح میدان میں موجود ہیں جیسے پہلے تھے۔ اگر اس خاصے واقعے میں مذہبی طبقے کو دفاعی پوزیشن لینا پڑی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیانیوں کی مساوات (equation) میں کوئی خاص تبدیلی آ گئی ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی اور واقعہ ایسا رونما ہو گیا جو مخالف بیانیوں کے لیے کسی پہلو سے ناسازگار ہو تو صورت حال الٹ ہو جائے گی اور مذہبی بیانیہ ایک مرتبہ پھر خود کو assert کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔

کیا یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہے گا اور کسی اجتماعی فکری یکسوئی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں؟ ہمارے خیال میں، ایسا نہیں ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ان مختلف بیانیوں کے استدلال کے معروضی تجزیے کا عمل زیادہ گہرائی کے ساتھ جاری رہے تا آنکہ اجتماعی قومی دانش ان سب بیانیوں میں موجود جزوی صداقتوں اور استدلال کے وزن کو جانچتے ہوئے بتدریج ایک ایسا متوازن بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائے جسے قوم کی مجموعی تائید حاصل ہو اور مختلف انتہائیں، عملا اسی متوازن بیانیے کی پابندی پر مجبور ہو جائیں۔ ایک طویل عمل سے پیدا کیے گئے بگاڑ کو راتوں رات سدھارا نہیں جا سکتا۔ ایک متوازن اور متفقہ قومی بیانیے تک پہنچنے میں ابھی کئی صبرآزما مراحل پیش آنے والے ہیں، لیکن ان شاء اللہ آخر قوم اس تک پہنچ ہی جائے گی۔


نومبر کے آخر میں  جامعہ محمدی شریف چنیوٹ اور اقبال عالمی مرکز برائے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے زیر اہتمام "دینی نظام تعلیم اور جدید فکری مباحث" کے عنوان پر ایک ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا تو جدید معاشرے میں مذہب اور اہل مذہب کو درپیش صورت حال کا ایک جائزہ پیش کیا گیا اور "مذہبی علمی روایت کو کیا کرنا چاہیے" کے علاوہ دو باتیں ایسی عرض کیں جو اہل مذہب کو نہیں کرنی چاہییں، یعنی اس حوالے سے موجودہ رویے اور حالت میں بہت سنجیدگی سے بہتری لانے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ان دو باتوں کے ساتھ ایک اور بات بھی شامل کر لی جائے تو یہ تین اہم باتیں بن جاتی ہیں جو مذہب کی پوزیشن اور کردار کو الٹا کمزور کرنے اور نقصان دینے کا موجب بن رہی ہیں۔

پہلی یہ کہ جدید ذہن کے ساتھ گفتگو کے لیے اپنے عصری علم اور فہم کو اس سے بہت بہتر سطح پر لانے کی ضرورت ہے جو اس وقت ہے۔ جدید ذہن کے، مذہب سے عدم اطمینان کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہبی علم اور مذہبی فہم کے متعلق علمی پس ماندگی کا تاثر بہت مستحکم ہے جو کلیتاً‌ تعصب پر مبنی نہیں، بلکہ مذہبی علم وفہم کے عمومی طور پر دستیاب نمونے اس کو کافی جواز مہیا کرتے ہیں۔ ناقص علم اور پس ماندہ ذہن کی بات کو قابل توجہ نہ سمجھنا انسان کا ایک فطری رویہ ہے۔ ناقص فہم اور غیر مستند علم کے ساتھ کسی موضوع پر مذہب کا دفاع کرنے سے کلی احتراز کی ضرورت ہے۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آدمی سردست ضبط سے کام لے اور صحیح معلومات اور بہتر استدلال کی جستجو میں لگ جائے۔

دوسری چیز مذہبی اخلاقیات کی صورت حال ہے۔ انسانوں کی اکثریت کے لیے مذہب، عقل اور استدلال کی راہ سے نہیں، بلکہ روحانی طلب کی تشفی اور عملی اخلاقیات کے راستے سے اپیل پیدا کرتا ہے۔ مذہب ایک سماجی ادارے کے طور پر اگر انھی اخلاقیات سے دوری کا مظہر بن جائے جن کا مذہبی تعلیم پرچار کرتی ہے تو یہ اولاً‌ اہل مذہب سے لیکن مآلاً‌ خود مذہب سے دوری کا سبب بن جاتا ہے۔ علمی اور فکری پچھڑے پن کی صورت حال میں اہل مذہب، معیاری اخلاقیات کا نمونہ ہی معاشرے میں زندہ رکھ سکیں تو یہ کوئی معمولی خدمت نہیں ہوگی۔

تیسری چیز جس کا میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں، وہ پرتشدد مذہبیت ہے۔ یہ رویہ ایک ہاری ہوئی اور خود کو شدید خطرے میں محسوس کرنے والی نفسیات کا مظہر ہے۔ اس نفسیاتی حالت میں گروہ تشدد کو اپنی شناخت کی حفاظت یا درپیش خطرے کو ٹالنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ خود اپنی تباہی کے سفر کو تیز کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ تیسری بات اس لحاظ سے پہلی دو باتوں سے بھی اہم ہے کہ پہلی دو کمزوریوں کی اصلاح کرنا یا نہ کرنا خود اہل مذہب کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس تیسری کمزوری کو ٹھیک کرنے کے لیے معاشرہ اہل مذہب کا انتظار نہیں کرے گا اور نہ مزید انھیں اس کا موقع دے گا کہ وہ خود اس کو ٹھیک کر لیں۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(291) استثناء منقطع کی ایک مثال:

سورۃ الشعراء کی درج ذیل آیتوں میں جن دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے، انھیں عام طور سے شعرا کے دو گروہ مان کر تفسیر کی گئی ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کرتے ہوئے الّا کا ترجمہ استثناء متصل والا کیا گیا ہے۔اس ترجمہ و تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں عام شعرا کی مذمت کی گئی ہے اور ایمان والے شعرا کو ان سے مستثنی کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ شعرا کے دو گروہوں کا ذکر نہیں ہے، بلکہ متبعین کے دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک گروہ شاعروں کے متبعین کا ہے اور دوسرا گروہ ایمان لانے والوں یعنی اللہ کے رسول کے متبعین کا ہے۔ اس طرح گویا دونوں کے متبعین کا کردار سامنے لاکر یہ واقعاتی شہادت پیش کی گئی ہے کہ رسول پر شاعر ہونے کا الزام غلط ہے کیوں کہ رسول کے متبعین قطعی طور پر اس سے بالکل مختلف کردار کے حامل ہیں جو شاعروں کے متبعین کا کردار ہوتا ہے۔ اس تفسیر کے بعد یہ بحث از خود ختم ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید میں بالاطلاق شعرا کی مذمت کی گئی ہے۔

اس تفسیر کی روشنی میں دیکھیں تو ان آیتوں میں شاعر بھی بس وہی مراد ہیں جنھیں لوگ اپنا مقتدا مانتے تھے۔ ان شاعروں کے پاس وحی کی ہدایت موجود نہیں تھی مگر وہ اپنے اوپر الہام ہونے کا دعوی کیا کرتے تھے۔ ابن عاشور کے بقول: وکان بین الکھانۃ والشعر جامع فی خیال المشرکین إذ کانوا یزعمون أن للشاعر شیطاناً یملی علیہ الشعر وربما سموہ الرَّءِیّ۔ مشرکوں کے تصور میں کہانت اور شاعری میں قدر مشترک یہ تھی کہ ان کے گمان کے مطابق شاعر کو شیطان کی طرف سے اشعار کا القا کیا جاتا تھا۔ چنانچہ جو گم راہی، بے راہ روی اور اخلاقی پستی ان شاعروں میں تھی، وہی ان کے متبعین میں بھی دیکھی جاسکتی تھی۔ غرض درج ذیل آیتوں میں ایسے شاعروں اور ان کے متبعین کی مذمت کی گئی ہے، نفس شاعری کی مذمت نہیں کی گئی ہے۔

اس وضاحت کے بعد درج ذیل آیتوں کے ترجمے اور خاص طور سے الّا کے ترجمے پر غور کریں:

وَالشُّعَرَاءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوُونَ۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّہُمْ فِی کُلِّ وَادٍ یَہِیمُونَ۔ وَأَنَّہُمْ یَقُولُونَ مَا لَا یَفْعَلُونَ۔ إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَکَرُوا اللَّہَ کَثِیرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ۔ (الشعراء: 224تا 227)

”رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور اور جنہوں نے نیک عمل کیے اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”بس وہ اس سے مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے“۔(امین احسن اصلاحی)

”سوائے ان کے جو ایمان لائے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مگر جو لوگ ایمان لائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: ”نہ کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اور جنہوں نے نیک عمل کیے“۔۔۔الخ یعنی ایسے لوگ شعرا کی اتباع کرنے والے نہیں ہوتے ہیں۔

بالفاظ دیگر دوسرا گروہ پہلے گروہ سے مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ دونوں بالکل الگ الگ دو گروہ ہیں۔

(292) ذکری کا ترجمہ

مذکورہ ذیل لفظ ذکری کو عام طور سے لوگوں نے علت یا مفعول لہ مان کر ترجمہ کیا ہے:

وَمَا أَھلَکْنَا مِن قَرْیَۃٍ إِلَّا لَہَا مُنذِرُونَ۔ ذِکْرَیٰ وَمَا کُنَّا ظَالِمِینَ۔ (الشعراء: 208،209)

”(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے اور ہم ظالم نہ تھے“۔ (سید مودودی)

”ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے نصیحت کے طور پر اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

ذکری کو منذرون کی علت بنانے سے مفہوم ٹھیک سے واضح نہیں ہوتا ہے، انذار کے اندر تو خود نصیحت کا مفہوم ہوتا ہے، پھر اس کے بعد ذکری لانے سے کیا فائدہ ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں ذکری، منذرون کی علت نہیں ہے بلکہ ایک مستقل جملہ ہے، جس میں مبتدا محذوف ہے اور خبر مذکور ہے، یعنی ھذہ ذکری۔ ترجمہ ہوگا:

”ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے، یہ ایک یاد دہانی ہے، اور ہم ظالم نہ تھے“۔

درج ذیل ترجمے میں بھی اسے مستقل جملہ مانا گیا ہے، البتہ ذکری کو مصدر منصوب اور اس کے فعل کو محذوف مانتے ہوئے:

”نصیحت دیتے ہیں ہم“۔ (شاہ رفیع الدین)

اسی طرح درج ذیل ترجمے میں بھی اسے مستقل جملہ مانا گیا ہے مگر ماضی کا ترجمہ کیا گیا ہے:

”اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے ڈرانے والے بھیج دیے تھے یہ ایک یاد دہانی تھی اور ہم ہرگز ظلم کرنے والے نہیں ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

لیکن ماضی کا ترجمہ کرنے سے اس کی معنویت متأثر ہوتی ہے۔ کہنا تو یہ ہے کہ گذشتہ اقوام کے بارے میں ہم اپنی یہ جو سنت بتارہے ہیں یہ ایک یاد دہانی ہے۔

(293) یُلْقُونَ السَّمْعَ کا ترجمہ

یُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَکْثَرُہُمْ کَاذِبُونَ۔ (الشعراء: 223)

اس آیت کے دو طرح سے ترجمے کیے گئے ہیں:

”سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”شیطان اپنی سنی ہوئی ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”جو کان لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یعنی سنی ہوئی چیز پیش کرنا اور آرہی آواز پر کان دھرنا۔

قرآن مجید کے استعمال کی روشنی میں دیکھیں تو دوسرا مفہوم درست معلوم ہوتاہے، سورۃ ق میں آیا ہے:

إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَذِکْرَیٰ لِمَن کَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیدٌ۔ (ق: 37)

”اِس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سنے“۔ (سید مودودی)

یہاں أَلْقَی السَّمْعَ ہے، جس کا مطلب بالاتفاق کان لگانا ہے، اسے نظیر مان کر مناسب ہوگا کہ یُلْقُونَ السَّمْعَ کا ترجمہ کیا جائے: وہ کان لگاتے ہیں۔ البتہ یہاں کان لگانے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ کان لگانے کی اداکاری کرتے ہیں، گویا وہ سن رہے ہوں حالاں کہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں کچھ سنتے نہیں ہیں۔

(294) مِنَ الْمُخْرَجِینَ کا ترجمہ

قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَہِ یَا لُوطُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِینَ۔ (الشعراء: 167)

”انہوں نے کہا،”اے لوطؑ، اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت لوط علیہ السلام سے پہلے بھی انھوں نے اپنی بستیوں سے لوگوں کو نکالا تھا جن میں انھیں شامل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک اسلوب ہے جس کا مقصود سورت کے قافیوں کی رعایت ہے۔ کہنا بس یہ ہے کہ تمھیں نکال دیا جائے گا۔ درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:

”بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اے لوط تو تو نکالا جاوے گا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(295) مِنَ الْمَرْجُومِینَ کا ترجمہ

اسی طرح سے درج ذیل آیت میں یہ مراد نہیں ہے کہ اور لوگوں کو سنگسار کیا گیا ہے یا پھٹکارا گیا ہے، جن میں حضرت نوح علیہ السلام کو شامل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، بلکہ یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ تم باز نہ آئے تو تمھیں سنگ سار کردیا جائے گا:

قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَہِ یَا نُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِینَ۔ (الشعراء: 116)

”انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمے میں یہ خامی موجود ہے:

”انہوں نے کہا،اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا“۔ (سید مودودی)

بہرحال یہ ایک اسلوب ہے، جو سورۃ الشعراء میں اور بعض دوسری صورتوں میں کثرت سے آیا ہے، اس اسلوب میں کسی پہلے سے موجود اس وصف کے گروہ میں شامل ہونے کی بات نہیں ہوتی ہے، بلکہ صرف اس وصف کو اختیار کرنے کی بات ہوتی ہے۔

(296) فَافْتَحْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا کا ترجمہ

فَافْتَحْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِی وَمَن مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ۔ (الشعراء: 118)

مذکورہ آیت میں فتحا کا دو طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، ایک کھلا اور واضح فیصلہ اور ایک قطعی اور دو ٹوک فیصلہ۔

”اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے“۔ (سید مودودی)

”پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو میرے اور ان کے درمیان بالکل واضح فیصلہ فرمادے“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں کھلا اور واضح کے لیے نہ تو لفظ میں دلالت ہے اور نہ ہی اس مفہوم کا یہاں محل معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے لفظ فتحا سے ذہن اس طرف گیا ہو۔ اصل میں لفظ فَتْحًا یہاں فَافْتَحْ کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ فتح کا مطلب فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ابن عاشور لکھتے ہیں:

الفَتح: الحُکم، وتأکیدہ ب  فَتْحاً لإرادۃ حکم شدید۔ (التحریر والتنویر)

(297) من خلاف کا ترجمہ

درج ذیل آیتوں میں من خلاف کہہ کر جو بات کہی گئی ہے اس کے مفہوم و معنی تو سب پر واضح ہیں، تاہم اردو زبان میں اس کی ادائیگی میں ترجمہ کرنے والوں کو دقت پیش آئی اور انھوں نے مختلف انداز سے مفہوم کو ادا کیا۔ ملاحظہ فرمائیں:

(۱) لَأُقَطِّعَنَّ أَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ۔ (الشعراء: 49)

”میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا“۔ (سید مودودی)

”بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا“۔ (احمد رضا خان)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹوں گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلَافٍ۔ (المائدۃ: 33)

”یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں“۔ (سید مودودی)

”یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) لَأُقَطِّعَنَّ أَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ۔ (الاعراف: 124)

”میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹوں گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا“۔ (ذیشان جوادی)

(۴) فَلَأُقَطِّعَنَّ أَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ (طہ: 71)

”سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”(سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ان تمام مقامات کے لیے ”ایک دوسرے کی مقابل سمت سے“ کی تعبیر تجویز کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ تعبیر مفہوم کے لیے زیادہ مناسب ہوگی۔ ترجمہ ہوگا:

”میں تمہارے ہاتھ پاؤں ایک دوسرے کی مقابل سمت سے کاٹ ڈالوں گا“۔


مطالعہ سنن ابی داود (۱)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: رفع حاجت کے وقت استقبالِ قبلہ سے متعلق مختلف احادیث آتی ہیں۔بعض حدیثوں کے مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ ہو بھی جائے تو خیر ہے، بس کسی کھلے میدان میں قبلہ رخ ہونا منع ہے۔مثلاً‌ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ وفات سے ایک سال قبل میں نے نبی ﷺ کو دیکھاکہ آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کر رہے تھے۔(سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذلک، حدیث نمبر ۱۲) یہ کیا مسئلہ ہے؟

عمارناصر: آپ نے دونوں طرح کی حدیثیں دیکھی ہیں۔حدیثوں میں اختلاف ہے اور اسی لیے یہ ایک اجتہادی بحث ہے۔شوافع کے ہاں کھلی فضا میں اور ایک بند عمارت میں فرق کیا جاتا ہے۔لیکن احناف کھلی فضا پر یہ معارضہ کر دیتے ہیں کہ کھلی فضا میں کو ن سا قبلہ بالکل سامنے ہوتا ہے، وہاں بھی درمیان میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔تو بس ٹھیک ہے، جس رائے پر بھی اطمینان ہو، اس پر عمل کر لینا چاہیے۔

مطیع سید : اگر گھر بناتے ہوئے مستری یا نقشہ نویس کہتا ہے کہ آپ کے گھر میں واش روم کا رخ قبلہ کی طرف کر دیں تو جگہ کی تقسیم بہت مناسب ہو جائے گی تو کیا ہم اس طرح کی گنجائش نکال سکتے ہیں؟

عمارناصر:دیکھیں، ایک تو آپ کا اپنا فہم ہے، اس کے لحاظ سے آپ کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آپ کے علاوہ گھر میں دوسرے لوگ بھی ہیں اور مہمانوں نے بھی آنا ہے۔تو ان سب کے اطمینا ن کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔آپ شافعی تعبیر پر مطمئن ہو کر بیت الخلاء بنا لیں اور کوئی اس میں جائے ہی نا تو یہ بھی تو ٹھیک نہیں۔

مطیع سید: نبی ﷺ نے فرمایا کہ حاجت کے وقت نماز نہ پڑھے، اجازت کے بغیر امامت نہ کروائے اور اکیلے اپنے لیے دعا نہ کر ے۔یہ روایت لکھ کر امام ابو داؤد فرماتے ہیں: ھذا من سنن ِ اھل الشام لم یشرک فیھا احد۔ (کتاب الطہارۃ، باب ایصلی الرجل وہو حاقن، حدیث نمبر ۹۱) اس سے کیا مراد ہے ؟

عمارناصر: سنن سے یہاں مراد ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے میں اہل شام کے ساتھ کوئی شریک نہیں، یعنی یہ شامی راویوں نے ہی نقل کی ہے۔

مطیع سید:میرے ایک دوست ہیں جنہیں ایک ٹانگ کا پولیوہے۔وہ چلنے کے لیے بر یسز لگاتے ہیں جو ان کے جوتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔وہ وضو کے وقت جوتوں کے اوپر ہی مسح کر لیتے ہیں، کیونکہ انہیں دھو کر دوبارہ بریسز لگانے میں دقت بھی ہے اور وقت بھی کافی لگتا ہے۔تو کیا وہ بغیرپاؤں دھوئے ایسا کر سکتے ہیں ؟

عمارناصر:جی، صبح پہلی دفعہ وضو کرتے ہوئے وہ بریسز لگانے سے پہلے پاؤں کو دھو لیں۔پھر اگلے دن تک جوتوں پر ہی مسح کر تے رہیں۔موزوں یا جوتوں پر مسح اسی حالت میں درست ہے جب آپ نے وضو کر کے پاکی کی حالت میں پاؤں پر جرابیں یا جوتے پہنے ہوں۔

مطیع سید: شرم گاہ کو چھو نے سے وضوکا ٹوٹنا، اس حوالے سے بڑی مختلف روایات آتی ہیں۔(کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من مس الذکر وباب الرخصۃ فی ذلک، حدیث نمبر ۱۸۱، ۱۸۲) بعد میں صحابہ کے ہاں بھی بحث چلتی رہی ہے اور دونوں اپنے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں۔

عمارناصر: اس حوالے سے علامہ انور شاہ نےسب سے معقول بات کہی ہے کہ اگر آپ اس کو فقہی مفہوم میں لیں کہ اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں توپھر روایتیں متعارض ہیں۔آپ کو کچھ چھوڑنی پڑتی ہیں، کچھ لینی پڑتی ہیں۔لیکن اگر آپ اس کو نقض ِ وضو کے پہلو سے نہیں، محض پاکیزگی کے احساس کے پہلوسے دیکھیں تو پھر دونوں ٹھیک ہیں۔فقہی طور پر یہ ناقضِ وضو نہیں ہے لیکن اگر آپ کا ہاتھ بغیر حائل کے شرم گاہ کو لگ جائے تو ظاہر ہے، ایک پاکیزہ آدمی اس پر ایک نفور سا محسوس کرتا ہے۔تو اس پہلو سے کہا گیا ہے کہ آدمی وضو کرلے۔

مطیع سید: کیا اس کو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ وضو کے آداب کے خلاف ہے کہ آدمی باوضو ہونے کی حالت میں ایسا کرے؟

عمارناصر:اس طرح کہہ لیں۔حاصل یہی ہے کہ اگرچہ فقہی مفہوم میں تو وضو نہیں ٹوٹا، لیکن بہتر ہے کہ وضوکرلے۔یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس صورت میں وضو کرنا مستحب ہے۔

مطیع سید: اسی طرح آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کی روایات بھی مختلف ہیں۔(کتاب الطہارۃ، باب فی ترک الوضوء مما مست النار وباب التشدید فی ذلک، حدیث نمبر ۱۸۷ تا ۱۹۵) صحابہ بھی موافق و مخالف دلائل دیتے رہے ہیں۔

عمارناصر: وہ بھی ایسی ہی بات لگتی ہے۔بعض روایتوں سے ایسے لگتا ہے کہ اس وضو سے مراد شاید کلی وغیرہ کرنا ہے۔عربی میں وضو منہ دھونے اورکلی وغیرہ کرلینے کے معنی میں بھی آتا ہے۔یا اگر وضو سے اصطلاحی وضو مراد ہے تو وہ استحباب کے درجے میں ہے۔یہ ساری چیزیں اصل میں استنباطی ہیں۔

مطیع سید: ام حبیبہ بنت جحش مستحاضہ تھیں اور ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔(کتاب الطہارۃ، باب من روی ان المستحاضۃ تغتسل لکل صلاۃ، حدیث نمبر ۲۸۹) یہ روایت بڑی کثرت سے آئی ہے ، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو آج کے سہولیات والے دور میں بھی ممکن نہیں کہ ہر نماز سے پہلے آدمی سر دیوں اور گرمیوں میں غسل کرے۔

عمارناصر: جی، معروف روایت ہے۔اصل میں راوی جب قصہ بیان کر تا ہے تو ایک سادہ سا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا وہ ان کے پورے سال کے معمولات نوٹ کر تا تھا؟ ظاہر ہے، نہیں۔تو مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جب ان کو یہ طریقہ تجویز فرمایا تو وہ اس راوی کے مشاہدے یا معلومات کی حد تک عمومی طور پر یا حتی الامکان اس کے مطابق عمل کرتی ہوں گی۔

مطیع سید: ایک خاتون سے آپ ﷺ نے فرما یا کہ وہ ایک غسل کر کے دو نمازیں اکٹھی پڑھ لیا کریں۔(کتاب الطہارۃ، من قال تجمع بین الصلاتین وتغتسل لھما غسلا، حدیث نمبر ۲۹۴) کیا وہ یہی ام حبیبہ تھیں؟

عمارناصر: غالباً‌ یہی تھیں، لیکن مجھے حتمی طور پر مستحضر نہیں۔ایک دو اور خواتین کا بھی ذکر ملتا ہے جو مستحاضہ تھیں۔ممکن ہے، ان میں سے کسی کو کہا گیا تھا کہ ایک غسل کر کے دو نمازوں کو اکٹھا کر لیا کریں۔

مطیع سید:فقہا تو کہتے ہیں کہ حیض کے علاوہ عورت کو جو کچھ آتا ہے، اس پر غسل واجب نہیں ہوتا۔

عمارناصر: ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے وجوب کے معنی میں غسل کا حکم نہیں دیا، یہ استحباب ہی کے درجے میں ہے۔اصل میں تو وہ مریض ہے، اس کا پہلا کیا ہوا وضو ہی اصولی طور پر قائم ہے۔تاہم آپﷺ نے استحباب کے درجے میں فرمایا کہ اگر وہ غسل کرلے تو یہ بہتر ہے۔

مطیع سید:تیمم کے حوالے سے محدثین کا موقف ہے کہ ایک ہی ضرب کافی ہے، جبکہ احناف کہتے ہیں کہ دو ضربیں ہونی چاہییں۔

عمارناصر:روایتیں دونوں طرح کی ہیں اور وہ دونوں ہی ٹھیک ہیں۔ایک ضرب لگا کر تیمم کرلیں تو بھی ٹھیک ہے اور دو الگ الگ ضربیں لگا کر کرلیں تو بھی درست ہے۔

مطیع سید: حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے پوچھا کہ اگر مجھ پر غسل واجب ہو جائے اور ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو کیا میں پھر بھی تیمم نہ کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، تیمم نہ کرو۔ان کو حضرت عمار بن یاسر کی روایت بتائی گئی تو انھوں نے کہا کہ حضرت عمر، عمار کی روایت پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔یعنی وہ بھی قائل نہیں تھے کہ غسل واجب ہونے پر تیمم کیا جا سکتا ہے۔(کتاب الطہارۃ، باب التیمم، حدیث نمبر ۳۲۱)

عمارناصر: حضرت ابن مسعود کا عام موقف تو یہی نقل ہوا ہے، لیکن روایات میں اس کی وضاحت ہے کہ وہ محض احتیاطاً‌یہ کہتے تھے۔صحیح بخاری میں یہ مکالمہ اس طرح منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ اگر ہم لوگوں کو اس کی رخصت دینے لگے تو لوگ تھوڑا سا پانی ٹھنڈا لگنے پر غسل چھوڑ کر تیمم کرنے لگ جائیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جواز کے تو قائل تھے، لیکن کہیں لوگ بلاضرورت تیمم نہ لگیں، اس پہلو سے ذرا شدت اختیار کرتے تھے۔

مطیع سید: آپ ﷺ قضائے حاجت سے واپس آئے تو ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کو سلا م کیا، لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔آپ نے پہلے تیمم کیا اور پھر سلام کا جواب دیا۔(کتاب الطہارۃ، باب التیمم فی الحضر، حدیث نمبر ۳۳۰) یہ کس پہلو سے تھا؟

عمارناصر:یہ کوئی فقہی یا قانونی حکم نہیں ہے۔آپ ﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا کہ پاکی کے بغیر جوا ب دیں۔اس میں دیکھیں، بعض دفعہ جو فوری کیفیت انسان پر طاری ہوتی ہے، اس کا بھی دخل ہوتا ہے۔آپ ﷺ ابھی رفع حاجت سے فارغ ہو کر آئے تھے اور ساتھ ہی کسی نے سلام کہہ دیا۔اگر آپ ویسے ہی بیٹھے ہوں اور فوری طورپر رفع حاجت سے فارغ ہو کر نہ آئے ہوں تو آپ کو احساس نہیں ہوگا کہ میں ناپاکی کی حالت میں ہوں، لیکن بیت الخلاء سے نکل کر آدمی کو تھوڑا سا احساس ہوتا ہے کہ میں ناپاکی کی حالت میں ہوں۔

مطیع سید: ظواہر نے تو اس سے مسئلہ بھی نکا ل لیا ہوگا کہ ناپاکی کی حالت میں سلام کا جواب نہ دیا جائے۔

عمارناصر:میرے ذہن میں نہیں۔میرے خیال میں اس حدتو نہیں گئے ہوں گے، لیکن اگر وہ جانا چاہیں تو اپنے اصول کے تحت جا سکتے ہیں۔

مطیع سید: شدید سردی میں جب گیس بھی نہ ہو تو صبح کے وقت اگر کسی کو غسل کی حاجت ہوتی ہے اور پانی برف کی طرح ٹھنڈا ہے تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے ؟

عمارناصر: ہاں، اگر فوری طورپر گرم پانی کاانتظام نہیں ہے تو تیمم کر کے نمازپڑھ سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر بس چھینٹے مار لینا کافی ہے۔(کتاب الطہارۃ، باب بول الصبی یصیب الثوب، حدیث نمبر ۳۷۵، ۳۷۶) بچے اور بچی کے پیشاپ کو دھونے میں فر ق کیوں رکھا گیا ہے ؟

عمارناصر:حدیث میں تو کوئی وجہ بیان نہیں ہوئی۔شارحین کی طرف سے ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لڑکی کے پیشاب کی بدبو زیادہ ہوتی ہے یا وہ زیادہ گاڑھا ہوتا ہے، اس لیے اس کو دھوئے بغیر بدبو کا ازالہ نہیں ہوتا۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبر ستا ن میں نماز پڑھنے سے اور بابل میں نماز پڑھنے سے منع کیا کیونکہ اس پر لعنت کی گئی تھی۔(کتاب الصلاۃ، باب فی المواضع التی لا تجوز فیہا الصلوۃ، حدیث نمبر ۴۹۰) قبرستان میں نماز کی ممانعت کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، لیکن بابل پر لعنت کیوں کی گئی؟

عمارناصر:گذشتہ قوموں میں سے کسی پر یہاں عذاب آیا تھا۔ایسی جگہ جو خداکے عذاب کے نزول کی جگہ ہو، وہاں پر ٹھہرنا یا عبادت کرنا پسندیدہ نہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی جب تبوک کے سفر میں قوم ثمود کے علاقے سے گزرے تو صحابہ سے فرمایا کہ یہاں سے تیزی سے گزرو۔البتہ یہاں فقہی مفہوم میں نماز کا ادا ہونا یا نا ہونا زیرِ بحث نہیں ہے۔اگر نماز پڑھ لی تو ادا ہو جائے گی۔

مطیع سید: لیکن آج اگر وہاں آبادی بن چکی ہے، شہر آباد ہو چکا ہے تو وہاں تویہ مسئلہ نہیں ہوناچاہیے۔

عمارناصر: اب وہ مخصوص علاقہ اگر جانا پہچانا نہیں رہا تو ظاہر ہے، نماز کی ادائیگی میں بھی فرق ملحوظ نہیں رکھا جا سکتا۔لیکن اگر معلوم ہو کہ کو ن سا علاقہ ہے جہاں پر عذاب اتراتھا تو پھر اس کا علم ہونا انسان کے اندر ایک کیفیت پیدا کرتا ہےکہ یہ علاقہ تو خدا کے عذاب کی جگہ ہے، مجھے تو یہاں رکنا ہی نہیں چا ہیے چہ جائیکہ وہاں نماز ادا کی جائے۔

مطیع سید: اذان اور اقامت کے الفاظ میں فر ق ہے اور اختلافات بھی ہیں۔ان کلمات کا اختلاف کیسے پیداہوا؟

عمارناصر: اصل میں نبی ﷺ سے مختلف طریقے ثابت ہیں۔ہوایہ کہ جب صحابہ مختلف علاقوں میں پھیلے ہیں تو جس علاقے میں کچھ صحابہ چلے گئے، وہاں ان کا عمل جاری ہو گیا۔دوسرےعلاقے میں دوسرے صحابہ کا عمل اختیار کر لیا گیا۔اس دور میں ابھی روایتیں اس طرح مدون نہیں تھیں۔بعد میں جب روایتیں جمع ہوگئیں تو اس سے واضح ہو گیاکہ یہ سارے طریقے رسو ل اللہ ﷺ سے ہی ثابت ہیں۔

مطیع سید: تشبیک (ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسانے) سے کیوں منع فرمایا گیا ؟ (کتاب الصلوۃ، باب ما جاء فی الہدی فی المشی الی الصلاۃ، حدیث نمبر ۵۶۲)

عمارناصر: بس یہ کیفیت پسند نہیں کی گئی۔بعض جسمانی ہیئتیں نماز کی حالت میں پسند نہیں کی گئیں اور اس میں پیغمبر کا ذوق بڑا اہم ہے۔

مطیع سید: کیا یہ ذوق بدل بھی سکتا ہے ؟

عمارناصر:وہ تو اس وقت بھی ہو سکتا ہے، بد ل گیا ہو، لیکن ذوق سے پھوٹی ایک چیز ہے تو اس میں آپ کو ذوق ہی کی پیروی کرنی چاہیے۔یعنی اس کا تعلق علت سے نہیں، علت ایک اور چیز ہے۔قانونی طور پر اس کو متعین کرنا آسان ہوتا ہےکہ اب حکم کی علت بدل گئی ہے۔لیکن یہ جو ذوق کی چیزیں ہوتی ہیں، اس میں تو آپ کو اتباع ہی کرنی چا ہیے۔

مطیع سید: اس میں ہم کیا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اپنے دور کے لحاظ سے کچھ اور چیزیں بھی اس میں شامل کر لیں ؟

عمارناصر: آپ اور چیزیں جو آپ کے عرف میں ہیں یا آپ کے ذوق یا ذاتی احساس کے لحاظ سے لگے کہ بری ہیں یا حالت نماز کے کے منافی ہیں تو آپ ان کو شامل کر سکتے ہیں۔بعض روایتوں میں ہے کہ آدمی جب بیٹھتا ہے تو فرشتے اس کے سامنے آ کر اس دیوار کی طرف جدھر قبلہ ہے، کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں آتا ہے کہ وہ فجر کے وقت مسجد میں آتے تھے تو اگر ان کے سامنے کوئی شخص دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہتا تو وہ اس کو ہٹا دیتےتھے۔یہ چیزیں اس طرح کے روحانی احساس سے پیداہوتی ہیں۔

مطیع سید: نمازی کے سامنے سے گدھے یا کتے کے گزرنے سے نماز کے ٹوٹ جانے کی جو روایت ہے، (کتاب الصلوۃ، باب ما یقطع الصلوۃ، حدیث نمبر ۷۰۲) اس کا کیا مطلب ہے؟

عمارناصر: مطلب یہ ہے کہ نماز کا ایک روحانی ماحول ہوتا ہے، وہ اس سے ٹوٹ جاتا ہے۔قطع اسی مفہوم میں ہے۔علامہ انورشاہ صاحب نے اس اصول کو باربار اور بڑی تاکید سے بیان کیا ہے کہ پیغمبر کی حدیثوں کو ہم ایک فقیہ کے بیانات نہ سمجھیں۔پیغمبر بہت مختلف جگہ سے، بڑی اعلیٰ جگہ سے بات کرتا ہے۔بہت سے مسئلے فقہا کے ہاں اس لیے پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ ہر بات کو فقہی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔

مطیع سید:ایک معذور شخص نے بتایا کہ جب وہ لڑکا تھاتو ایک جگہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔وہ سامنے سے گزرا تو آپ نے اس کو بد دعا دی اور وہ پاؤں سے معذور ہوگیا۔(کتاب الصلوۃ، باب ما یقطع الصلوۃ، حدیث نمبر ۷۰۷) روایت بڑی عجیب لگی کہ آپ ﷺ تو بڑے شفیق تھے۔سامنے گزرنے پر اتنی سخت بددعا دے دی؟

عمارناصر: وہ شخص اس وجہ سے معذور ہوا، یہ اس کا اپنا قیاس بھی ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہوا ہو تو آپ ﷺ کا شفیق ہونا بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے، لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس کا اس طرح بے پرواہی سے آگے سے گزرنا ایک روحانی احساس کے تحت ناگوار گزرا ہو او راس پر آپ نے بد دعا کر دی ہو۔ایسی چیزوں میں ظاہری عمل سے زیادہ وہ رویہ اہم ہوتا ہے جس سے وہ عمل وجود میں آیا۔ایک اور واقعے میں آپ نے ایک آدمی کو دائیں ہاتھ سے کھانے کے لیے کہا تو اس نے برا مانتے ہوئے کہا کہ جی، میں بائیں سے نہیں کھا سکتا۔آپ نے کہا کہ اچھا، اللہ کرے نہ ہی کھا سکو اور اس کا ہاتھ پھر بعد میں مفلوج ہو گیا۔ایسا لگتا ہے کہ آگے سے گزرنے والے نے بھی ایسا ہی کوئی رویہ ظاہر کیا ہو۔

مطیع سید: کیا یہ روایت ٹھیک ہے ؟

عمارناصر: مجھے تحقیق نہیں، لیکن اگر ایسے ہوا ہو تو ایسی ناقا بل ِ فہم نہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راوی کا قیاس ہو۔

مطیع سید: آج کا ذہن اور خاص طورپر مغربی لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ کیسے آپ کے نبی تھے۔ایک بچہ تھا اور اس کی غلطی پر اتنی سخت بددعا دے دی۔

عمارناصر: بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو دیکھنے کا زاویہ بہت ہی مختلف ہو سکتا ہے۔آپ ایک زاویے سے اسے بہت غلط سمجھ سکتے ہیں، لیکن ایک دوسرے زاویے سے وہ بالکل مختلف دکھائی دے گی۔چیزوں کی تفہیم میں زاویہ بڑا اہم ہوتا ہے۔اسی طرح بعض باتیں کچھ ذہنی سانچوں میں قابل فہم بنتی ہیں، کچھ میں نہیں بنتیں۔تو اگر اعتراض پیداہو تو جواب میں زیادہ بہتر یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کی ایسی توجیہ کریں کہ وہ مخاطب کے ذہن کےلحاظ سے قابل فہم ہو تاکہ وہ تشویش میں مبتلا نہ ہو۔مثلاً‌ آپ اس طر ح کی توجیہ کر سکتے ہیں کہ یہ راوی کا قیاس ہے، اس لیے کہ بعض اوقات بات اتنی لطیف ہوتی ہے کہ اس کو سمجھانا بڑ امشکل ہو جاتا ہے۔

مطیع سید: فاتحہ خلف الامام کے بارے میں احناف یہ دلیل دیتے ہیں کہ سورہ اعراف میں کہا گیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس کو سنو اور خاموش رہو۔یہ جہری نمازو ں میں تو چل سکتی ہے، لیکن سری نمازوں کے لیے یہ دلیل کیسے بنے گی ؟

عمارصاحب: جی، سری میں تو یہ دلیل نہیں بنتی۔احناف براہ راست اس سے جہری میں ہی استدلا ل کرتے ہیں، اگرچہ بعض حضرات کھینچ تان کر اسے سری پر بھی منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اصل میں اس آیت کا براہ راست نماز سے تعلق نہیں اور وہ اس تناظر میں نہیں آئی۔اس میں تو یہ ادب بیان کیا گیا ہے کہ قرآن جب پڑھاجا رہا ہو تو اس وقت شور شرابہ نہ کرو اور اس سے بے توجہی نہ برتو۔اس کا نمازسے، یعنی جہری نماز سے بھی کوئی تعلق نہیں۔نماز میں اگر مقتدی قرآن پڑھتا ہے تو اس کی وجہ قرآن سے بے توجہی یا اس کا معارضہ نہیں ہوتا۔وہ چیز ہی بالکل اور ہے۔بہرحال ظاہری الفاظ کی حد تک آپ اس سے جہری نماز کے لیے بھی استدلال کرسکتے ہیں۔بعض آثار میں اس سے خطبہ جمعہ کے وقت خاموش رہنے کا حکم بھی اخذ کیا گیا ہے۔

مطیع سید: اس حوالے سے آپ کے خیال میں کون سا موقف زیادہ بہتر ہے ؟ امام مالک کا، امام شافعی کا یا امام ابوحنیفہ کا ؟

عمارناصر: مجھے امام مالک کا موقف زیادہ معقول لگتا ہے کہ سری نمازوں میں قراءت کی جا سکتی ہے۔اسی طرح جہری نمازوں کی آخری دو رکعتوں میں بھی کی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: کیاانور شاہ صاحب بھی اس کے قائل تھے ؟

عمارناصر: وہ بھی امام مالک کے موقف کے قائل تھے، اگر چہ انھوں نے اس کا جواز فقہ حنفی کے اندر سے ہی نکالنے کی کوشش کی ہے۔احناف کے ہاں ایک کمزور سی روایت ہے جو صاحب ہدایہ نقل کرتے ہیں کہ امام محمد سری نمازوں میں قراءت کے قائل تھے۔مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا تقی عثمانی کا بھی یہی رجحان ہے۔

مطیع سید: یہ ذراموضوع سے ہٹ کر سوال ہے کہ عمر احمد عثمانی صاحب کی فقہ القرآن کیسی کتاب ہے ؟

عمارناصر: اچھی علمی کتا ب ہے۔فقہی ذخیرے کی جو اہم بحثیں ہیں، ان کا انہوں نے محاکمہ کیا ہے۔ان کے بعض نتائج ِفکرسے اتفاق ہے، بعض سے نہیں ہے۔لیکن ان کا جو طرزِ استدلال ہے، اس میں کافی کمزوری ہے۔چیزیں سامنے ہو ں تو آدمی کمزوری سمجھ جاتاہے۔ان کا طرز استدلال اور نصوص کو دیکھنے کا انداز مجھے زیادہ متاثر کن نہیں لگا۔

مطیع سید :حدیث میں ہے کہ بیٹھے ہوئے امام کی اقتدا مقتدی بھی بیٹھ کر کریں۔(کتاب الصلوۃ، باب الامام یصلی من قعود، حدیث نمبر ۶۰۱) آپ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ انور شاہ صاحب اس کے قائل تھے۔

عمارناصر: جمہور تو قائل ہیں کہ یہ ہدایت منسوخ ہو گئی ہے، لیکن حنابلہ جواز کے قائل ہیں۔شاید علامہ انور شاہ صاحب کا رجحان بھی حنابلہ کی طرف ہے، لیکن مجھے مستحضرنہیں ہے۔

مطیع سید: امام ابوداود نے رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرنے کی روایتیں نقل کی ہیں اور ان کو ضعیف بتایا ہے۔(کتاب الصلوۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع، حدیث نمبر ۷۴۸ تا ۷۵۲) اس کے علاوہ صحیح مسلم میں رفع یدین کرنے کو گھوڑوں کی دم سے تشبیہ دینے کی روایت کو احناف دلیل کے طورپر پیش کرتے ہیں، اسے آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

عمارناصر: نہیں، اس کا رفع الیدین جو مشروع ہے، اس سے تعلق نہیں ہے۔رفع یدین ایک اصطلاح بھی ہے، اور رفع یدین کا ایک لغوی مفہوم بھی ہے۔اس روایت میں تو ایسے لگتا ہے کہ لوگ قعدے میں بیٹھے ہوئے، بے توجہی سے ہاتھ اوپر نیچے کررہے تھے۔مثلاً‌ کوئی ہاتھ سے کان پر خارش کر رہا ہے، کوئی ڈاڑھی کھجا رہا ہے، وغیرہ۔لغوی معنوں میں یہ بھی رفع یدین ہے جس کو آپ ﷺنے گھوڑے کی دم سے تشبیہ دی ہے۔گھوڑے کی دم بھی ایک جگہ ٹکی نہیں رہتی، کبھی ادھر اٹھتی ہے، کبھی ادھر اٹھتی ہے۔تو آپﷺ نے اس طرح بے ضرورت ہاتھوں کو حرکت دینے سے منع کیا ہے نہ کہ مشروع رفع یدین کو اس سے تعبیر کیا ہے۔

مطیع سید:یہ جو ذکر ملتا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز کی رکعتیں زیادہ یا کم پڑھا دیں، کیا وہ ایک ہی واقعہ ہے یا مختلف واقعات ہیں ؟

عمارناصر: ایسا مختلف واقعات میں ہوا۔

مطیع سید: ایک واقعے میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺنے سہواً‌ سلام پھیر دیا اور پھر لوگوں سے باتیں کیں اور اس کے بعد باقی نماز پڑھا دی۔(کتاب الصلوۃ، باب السہو فی السجدتین، حدیث نمبر ۱۰۰۸) توہمارے فقہا کیوں کہتے ہیں کہ بات کی تو نماز ٹوٹ گئی، اب دوبارہ پڑھیں ؟

عمارناصر: یہ احناف کا موقف ہے۔احناف کہتے ہیں کہ بنیادی طورپر کلام کرنا تو نماز کے منافی ہے، تو بہتر یہ ہے کہ اس کو ہم اس زمانے پر محمول کریں جب پہلے پہل نماز میں کلا م کی اجازت تھی، پھر بعد میں منسوخ کر دی گئی۔لیکن مالکیہ اس کے قائل ہیں کہ اگر اس طرح کی صورت حال میں نماز کی اصلاح کے لیے کلام کیا گیا ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔کلام کے بعد باقی ماندہ نماز مکمل کی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: نماز کے فوراً‌ بعد ایک صحابی کھڑے ہوکر نفل پڑھنے لگے تو حضرت عمر فاروق نے روک دیا اور کہا کہ یہود عبادت کے اندر فاصلہ نہیں رکھتے۔کیا محض یہود کی مشابہت کی وجہ سے انہوں نے اس سے منع فرمایا ؟

عمارناصر: نہیں، یہود سے مشابہت تو ضمنی وجہ ہے۔مقصد یہ ہے کہ فرض نماز اور نفل نماز کو بالکل الگ الگ نظر آنا چاہیے۔اس کے لیے عام طورپر کہتے ہیں کہ یا تو صفیں توڑ دیں جس سے باجماعت نماز کی ہیئت باقی نہ رہے یا یہ کہ جگہ بدل لیں تا کہ یہ نظر آئے کہ فرض نماز ہو گئی ہے، اب یہ الگ نفل نماز پڑھ رہا ہے۔

مطیع سید: یہود نے ایسا کیا کیاتھا ؟

عمارناصر: یہ پتہ نہیں یہود کے ہاں ایسا کیا تھا۔ممکن ہے عرب میں جو یہود تھے، ان کا ایسا کوئی عمل سامنے ہواور انہوں نے چیزیں گڈ مڈ کر دی ہوں۔مجھے اس کی تحقیق نہیں ہے، لیکن یہ تلاش کرنی چاہیے جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے ہیں۔

مطیع سید: حضرت عبد اللہ بن زبیر کے دور میں ایک ہی دن جمعہ اور عید آگئی تو جمعہ اور عید کی نمازیں اکٹھی پڑھی گئیں۔(کتاب الصلوۃ، باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید، حدیث نمبر ۱۰۷۲)

عمارناصر: جی، صحابہ میں یہ عمل ملتا ہے کہ جمعہ اور عید اکٹھی آجائے تو عید کو تھوڑا موخر کر کے جمعہ کے ساتھ ادا کر لیا جائے تاکہ لوگوں کو بار بار گھر سے آنے کی دقت نہ ہو۔ابن ابی شیبہ میں تفصیلی روایات ہیں۔غالباً‌ نبی ﷺ کے متعلق بھی اس طرح کی کوئی روایت منقول ہے۔یہ ذہن میں رکھیں کہ اس دور میں جمعہ اور عید کی نماز مرکزی مقامات پر ہی ہوتی تھی اور مضافات وغیرہ سے لوگوں کو خاص اہتمام کر کے مکہ یا مدینہ جانا پڑتا تھا تاکہ جمعہ یا عید کی نماز ادا کر سکیں۔اس لیے صحابہ نے جمع بین الصلوتین کی جو سہولت شریعت نے خاص حالات میں دی ہے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جمعہ اور عید کو اکٹھا اد ا کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔

مطیع سید: نبی ﷺ سے جوروایت آتی ہے، اس میں تو ایسے لگ رہا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جماعت ایک ہی کافی ہے۔ایک پڑھ کر چلے جائیں، دوسری گھروں میں جا کر پڑھ لیں۔(کتاب الصلوۃ، باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید، حدیث نمبر ۱۰۷۰)

عمار ناصر: وہ روایت الگ ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ نماز عید کے لیے آئے ہیں، وہ عید پڑھ کرچلے جائیں اور انہیں جمعے کے لیے دوبارہ آنا ضروری نہیں۔یہ الگ مسئلہ ہے کہ دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیں۔

مطیع سید: جمعے کی اذان جس کا حضرت عثمان غنی نے اضافہ فرمایا، یہ کون سی اذان تھی؟ پہلی ہے یا دوسری ؟ (کتاب الصلوۃ، باب النداء یوم الجمعۃ، حدیث نمبر ۱۰۸۷)

عمارناصر:جو مسجد میں ہوتی تھی، وہ تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ہو رہی ہے۔اضافہ جو حضرت عثمان نے جو کیا، وہ مسجد سے باہر اذان کا تھا۔خطبے سے پہلے جو دی جاتی ہے، وہ اصل اذان ہے۔

مطیع سید:وہ اس وقت کی ایک مجبوری تھی۔کیا آج بھی وہ وجہ ہے؟ اگر نہیں تو اس کی کیا ضرورت ہے ؟

عمارناصر:جی، اسے چھوڑ سکتے ہیں۔امام شا فعی اس کے قائل نہیں ہیں۔کتاب الام میں کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک وہ پہلا طریقہ ہی پسندیدہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔

مطیع سید: تو اس اضافی اذان کو کیوں جاری رکھا گیا، چھوڑ کیوں نہیں دیا گیا ؟

عمار ناصر: اصل میں ایک روایت چلی آرہی ہو تو اس کی بھی اپنی ایک حیثیت بن جاتی ہے۔صحابہ سے چلی آرہی تھی، فقہا نے بھی اس کو اختیار کرلیا تو ٹھیک ہے۔بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہے جو شروع تو ایک خاص تناظر میں ہوتی ہیں، لیکن پھر تعامل کی وجہ سے ان کی اپنی اہمیت بن جاتی ہے۔

مطیع سید:سہل بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو منبر پر یا منبر کے علاوہ کبھی دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے نہیں دیکھا۔(کتاب الصلوۃ، باب رفع الیدین علی المنبر، حدیث نمبر ۱۱۰۵)اس سے کیا مراد ہے ان کی ؟

عمارناصر: اصل میں وہ تبصرہ کر رہے ہیں کہ بعض خطباء خطابت کرتے ہوئے ہاتھوں اور بازووں کو جو بہت زیادہ حرکت دیتے ہیں، یہ طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں تھا۔

مطیع سید: گویا یہاں دعا کی بات نہیں ہورہی، تقریرکی بات ہو رہی ہے ؟

عمارناصر: مجھے تو ایسے ہی لگ رہا ہے کہ وہ اس تناظر میں ہے۔

مطیع سید: یہ باب رفع الیدین علی المنبر کے تحت روایت آئی ہے۔

عمارناصر: جی۔مراد یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ادھر ہاتھ چلا رہے ہیں، ادھر ہاتھ اٹھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہاتھ سے اور ایک انگلی کے اشارے سے جو کہنا ہوتا، وہ کہہ دیتے تھے۔

مطیع سید: امام ابوداؤد گوٹھ ما ر کربیٹھنے سے متعلق آپ ﷺ کے منع فرمانے کی روایت لائے ہیں اور ساتھ ہی صحابہ کا عمل بھی نقل کرتے ہیں کہ وہ ایسے بیٹھا کرتے تھے۔(کتاب الصلوۃ، باب الاحتباء والامام یخطب، حدیث نمبر ۱۱۱۰، ۱۱۱۱)

عمارناصر: گوٹھ مار کر بیٹھنا اصولا ً‌ تو منع نہیں ہے۔یہ کسی خاص پہلو سے اس سے منع کیا گیا ہوگا۔ہو سکتا ہے کہ گوٹھ مار کر بیٹھنے سے ستر کے کھلنے کا اندیشہ ہو یا اس لیے منع کیا گیا ہو کہ سستی اور نیند طاری نہ ہو اور آدمی توجہ سے خطبہ سنے۔

مطیع سید: امام جب خطبہ دے رہا ہوتا ہے تو احناف تو کہتے ہیں کہ اس وقت نفل نماز ادا نہ کریں، بلکہ خطبہ سنیں۔لیکن ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ایک آدمی آکر بیٹھنے لگا تو آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کے لیے کہا۔(کتاب الصلوۃ، باب اذا دخل الرجل والامام یخطب، حدیث نمبر ۱۱۱۵)

عمارناصر: یہ سلیک غطفانی کا واقعہ ہے۔احناف یہ کہتے ہیں اور قرائن بھی یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت اصل مقصد اس کو نماز پڑھوانا نہیں تھا۔ورنہ تو ایک عمومی حکم بن جاتا کہ جو بھی آئے اور امام خطبہ دے بھی رہا ہو تو وہ نوافل پڑھے۔اصل حکم تو یہ ہے کہ امام جب آگیا تو خطبہ خود نماز کا ایک حصہ ہے۔مجھے اس میں احناف کی بات زیادہ وزنی لگتی ہے کہ اس صحابی کو ایک خاص مقصد کے لیے آپ ﷺ نے کھڑاکیا تھا۔وہ بیان بھی ہوئی ہے کہ اس پر مفلوک الحالی نمایاں تھی۔آپ نے اس کو کھڑا کر کے لوگوں کو صدقے کی ترغیب دی اور اس کے لیے کچھ سامان جمع ہو گیا۔

(جاری)

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۶)

اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا ایک تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

2۔ اساتذہ و تلامذہ کے بعد کتبِ رجال کا ایک اہم ترین مقصد راوی کا حدیثی مقام یعنی اس کے بارے میں ائمہ محدثین کی کی گئی جرح و تعدیل ذکر کرنا ہے، شیوخ و تلامذہ سے راوی کا زمانہ، طبقہ متعین ہوتا ہے اور جرح و تعدیل سے اس کی روایت کی حیثیت معلوم ہوتی ہے، اس سلسلے میں اہل سنت و اہل تشیع کے رجالی تراث کا ایک تقابلی مطالعہ پیشِ خدمت ہے:

اہل سنت کتب ِ رجال اور جرح و تعدیل

اہل سنت کتب ِ رجال میں ہر راوی کے تذکرے میں خصوصیت کے ساتھ جرح و تعدیل کا ذکر ہوتا ہے، جرح و تعدیل کے یہ اقوال حفاظ محدثین اور جرح و تعدیل کے مستند ائمہ سے سند کے ساتھ نقل کیے گئے ہیں، خواہ اقوالِ جرح ہوں، یا اقوال ِ تعدیل، ذیل میں اس حوالے سے چند تراجم کتب ِ رجال سے نقل کیے جاتے ہیں:

ايوب بن جابر اليمامي وهو أخو محمد بن جابر الحنفي روى عن حماد بن أبي سليمان وأبي إسحاق وعبد الله بن عصم روى عنه أبو داود الطيالسي وخالد بن مرداس والحسين بن محمد المروزي ويوسف بن عدي، يعد في اليماميين سمعت أبي وأبا زرعة يقولان ذلك
حدثنا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد بن حنبل فيما كتب إلي قال قال أبي: أيوب بن جابر يشبه حديثه حديث أهل الصدق
حدثنا عبد الرحمن نا محمد بن إبراهيم عن عمرو بن علي ان ايوب ابن جابر صالح قد روى عنه.حدثنا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال قلت ليحيى بن معين: أيوب بن جابر كيف كان حديثه؟ قال هو ضعيف، قلت هو كان أمثل أو أخوه -محمد؟ قال [ولا واحد منها.
حدثنا عبد الرحمن نا أحمد بن عصام قال كان علي بن المديني يضعف حديث أيوب بن جابر.سمعت أبي يقول: أيوب بن جابر ضعيف الحديث
قال وسئل أبو زرعة عن أيوب بن جابر فقالواهي الحديث ضعيف وهو أشبه من اخيه1

اس ترجمہ میں ابن ابی حاتم رازی نے امام احمد بن حنبل سے سند کے ساتھ ایسا قول نقل کیا، جو اس کی تعدیل کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جبکہ امام یحیی بن معین، علی ابن مدینی، اپنے والد امام ابو حاتم رازی اور امام ابو زرعہ سے اس راوی کی تضعیف نقل کی ہے، یہ سب اقوال مصنف نے ان ائمہ سے سند متصل کے ساتھ نقل کیے ہیں ۔

أبان بن أبي عياش: وهو أبان بن فيروز أبو إسماعيل البصري، عن أنس، كان شعبة سيئ الرأي فيه، حدثنا محمد، ثنا يحيى بن معين، عن عفان عن أبي عوانة، قال: لما مات الحسن اشتهيت كلامه، فجمعته من أصحاب الحسن، فأتيت أبان بن أبي عياش، فقرأه علي عن الحسن، ما أستحل أن أروي عنه شيئا2

اس ترجمہ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے امام شعبہ اور امام ابو عوانہ سے اس راوی کی تضعیف نقل کی ہے۔

إسماعيل" بن أبان الوراق الأزدي أبو إسحاق ويقال أبو إبراهيم الكوفي. روى عن عبد الرحمن بن سليمان بن الغسيل وإسرائيل ومسعر وعبد الحميد بن بهرام وأبي الأحوص وعيسى بن يونس وعبد الله بن إدريس وابن المبارك وخلق. وعنه البخاري وروى له أبو داود1 والترمذي بواسطة وأحمد بن حنبل ويحيى بن معين وأبو خيثمة وعثمان بن أبي شيبة والقاسم بن زكريا بن دينار والدارمي وأبو زرعة وأبو حاتم والذهبي ويعقوب بن شيبة وجماعة من آخرهم إسماعيل سمويه وأبو إسماعيل الترمذي. قال أحمد بن حنبل وأحمد بن منصور الرمادي وأبو داود ومطين: "ثقة" وقال البخاري: "صدوق" وقال النسائي: "ليس به بأس" وقال ابن معين: إسماعيل بن أبان الوراق ثقة وإسماعيل بن أبان الغنوي كذاب" وقال الجوزجاني: "إسماعيل الوراق كان مائلا عن الحق ولم يكن يكذب في الحديث" قال ابن عدي: "يعني ما عليه الكوفيون من التشيع وأما الصدق فهو صدوق في الرواية" قال محمد بن عبد الله الحضرمي مات سنة "216". قلت: وقال البزار: "وإنما كان عيبه شدة تشيعه لا على أنه عير عليه في السماع" وقال الدارقطني: "ثقة مأمون" وقال في سؤالات الحاكم عنه: "أثنى عليه أحمد وليس هو عندي بالقوي" وقال ابن شاهين في الثقات: "قال عثمان بن أبي شيبة إسماعيل بن أبان الوراق ثقة صحيح الحديث" قيل له فإن إسماعيل بن أبان عندنا غير محمود فقال: "كان ها هنا إسماعيل آخر يقال له بن أبان غير الوراق وكان كذابا" وقال أبو أحمد الحاكم: "ثقة" وذكره ابن حبان في الثقات وقال ابن المديني: "لا بأس به وأما الغنوي فكتبت عنه وتركته" وضعفه جدا وقال جعفر بن محمد بن شاكر الصائغ ثنا إسماعيل بن أبان الوراق أبو إسحاق الكوفي: "وكان ثقة"3

اس ترجمہ میں حافظ ابن حجر نے ایک راوی سے متعلق درجہ ذیل 16 کبار ائمہ و حفاظ کے اقوال نقل کئے ہیں:

امام احمد بن حنبل، امام احمد بن منصور رمادی، امام ابو داود، امام محمد بن عبد اللہ حضرمی مطین، امام بخاری، امام نسائی، امام یحیی ابن معین، امام جوزجانی، امام ابن عدی، امام بزار، امام دار قطنی، امام ابن شاہین، امام عثمان ابن ابی شیبہ، امام ابو احمد الحاکم، امام ابن حبا ن، امام ابن المدینی،

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کتب میں راوی کے حدیثی مقام سے متعلق کتنا تفصیلی مواد موجود ہے ۔

اہل تشیع کتبِ رجال اور جرح و تعدیل

اہل تشیع کے اولین مصادر ِ رجال، رواۃ کے بارے میں ائمہ محدثین یا ائمہ (معصومین ) کی توثیق و تضعیف کے تذکرے سے یکسر خالی ہیں، قلیل رواۃ کے بارے میں ایک آدھ قول توثیق یا تضعیف کا مل جاتا ہے، ہر راوی کی تعدیل یا تجریح اور وہ بھی متعدد ائمہ و اہل علم سے، جیسا کہ اہل سنت کے مصادر ِ رجال کا عام طرز ہے، اہل تشیع کی اولین کتب اس وصف سے خالی ہیں، شیعہ محققین کو بھی اس بات کا ادراک ہے، ذیل میں اولا شیعہ محققین کی اس بابت رائے نقل کی جاتی ہے، اس کے بعد بطورِ نمونہ ان کتب سے چند تراجم نقل کئے جائیں گے:

عراق کے معروف شیعہ مجتہد و محقق، جن کی بعض کتب نجف کے حوزہ علمیہ میں درسا پڑھائی جاتی ہیں، شیخ محیی الدین موسوی غریفی اپنی ضخیم کتاب "قواعد الحدیث" میں رجال کے اولین مصادرِ ستہ (رجال نجاشی، فہرست طوسی، رجال طوسی، اختیار معرفۃ الرجال المعروف برجال الکشی، رجال ابن الغضائری اور رجال البرقی ) کے بارے میں لکھتے ہیں:

"ولیس فی تلک الاصول الرجالیہ الستۃ کتاب شامل لجمیع رواۃ احادیثنابحیث یکشف عن حالھم توثیقا و تضعیفا و مدحا و جرحا"4

یعنی ان چھ کتب رجالیہ میں کوئی ایسی کتب نہیں ہے، جو ہماری احادیث کے جمیع رواۃ کے احوال باعتبار ِ توثیق، تضعیف اور جرح و مدح کے واضح کرتے ہوں ۔

اس کے بعد شیخ غریفی نے اصولِ ستہ میں سے ہر ایک کے بارے میں مزید اپنی تحقیقی رائے دی ہے، چنانچہ رجال ِ کشی کے بارے میں رقم طراز ہیں:

"فالشیخ الکشی اقتصر فی کتاب رجالہ علی الرواۃ الذین ورد فیھم احادیث مدحا او ذما و اہمل الباقین جمیعا، وبتعبیر آخرانہ اقتصر علی ذکر الروایات فی حق الرواۃ علی ان کتابہ قد رماہ النجاشی بکثرۃ الاغلاط"5

یعنی شیخ کشی نے اپنی کتاب میں صرف ان رواۃ کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے، جن کے بارے میں کوئی مدح یا ذم کی حدیث منقول ہے اور باقی سب کو چھوڑ دیا ہے، دوسرے لفظوں میں شیخ کشی نے صرف رواۃ کے حق میں منقول روایات ذکر کی ہیں، نیز شیخ نجاشی نے اس کتاب کے بارے میں کثرت ِ اغلاط کا دعوی کیا ہے ۔

شیخ طوسی کی رجال ِ طوسی کے بارے میں شیخ غریفی لکھتے ہیں:

"لم یلتزم بالتصریح بالتوثیق فی کل مورد یقتضیہ فکان غرضہ استقصاء الرواۃ فحسب، وان صرح بتوثیق کثیرمنھم بالعرض، وعلیہ فلا یکون ترکہ لتوثیق راو دالا علی عدم وثاقتہ عندہ ولذا اہمل النص علی توثیق کثیر من وجوہ الرواۃ وثاقتھم"6

یعنی شیخ طوسی نے ہر راوی سے متعلق توثیق کی صراحت نہیں کی ہے، ان کا مقصد صرف رواۃ کا احاطہ تھا، اگرچہ شیخ طوسی نے بہت سے رواۃ کی توثیق بالتبع ذکر کی ہے، لہذا کسی راوی کی توثیق کا ترک کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ راوی ان کے نزدیک ثقہ نہیں ہے، اسی وجہ سے انہوں نے کئی اہم رواۃ کی توثیق ذکر نہیں کی ہے ۔

یہاں اس بات کا اعادہ مناسب ہوگا کہ شیخ طوسی کی کتاب ِ رجال اولین مصادر رجال میں سے عدد رجال کے اعتبار سے سب سے زیادہ ضخیم کتاب ہے، اس کتاب میں تقریبا ساڑھے چھ ہزار رواۃ کا ذکر ہے، اب ان چھ ہزار رواۃ میں سے کتنے رواۃ کی توثیق و تضعیف شیخ طوسی نے ذکر کی ہے، تو معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ اس حوالے سے اپنی کتاب "دروس تمیدیۃ فی تاریخ علم الرجال " میں رقم طراز ہیں:

"ان الطوسی لم یتعہد بتقویم من یورد اسماءھم من الرجال الرواۃ، الا انہ وثق 157 رجلا وضعف 72 رجلا ووصف 50 منھم بالمجاہیل و الباقی سکت عنھم، فلم یصفھم لا بالسلب و الا با لایجاب"7

یعنی شیخ طوسی نے اس کتاب میں رواۃ کی حدیثی درجہ بندی نہیں کی ہے، سوائے اس کے کہ 157 افراد کی توثیق، 72 افراد کی تضعیف کی ہے ، جبکہ 50 افراد کو مجاہیل میں شمار کیا ہے، باقی سے سکوت اختیار کیا ہے، ان کی نہ سلبی اور نہ ایجابی کوئی صفت بیان کی ہے ۔

ساڑھے چھ ہزار رواۃ میں سے صرف 280 رواۃ کے بارے میں جرح و تعدیل کا ذکر کرنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیعہ اولین مصادر رجال اس حوالے سے کتنی تہی دامن ہیں ۔

شیخ غریفی اس کے بعد فہرست طوسی کے بارے میں لکھتے ہیں:

"ولم یجر الشیخ الطوسی فی فہرستہ علی ما وعد فی المقدمۃ من الاشارۃ الی ما قیل فیھم من التعدیل و التجریح حیث اہمل توثیق کثیر من وجوہ الرواۃ"8

شیخ طوسی نے مقدمے میں جو وعدہ کیا تھا کہ رواۃ کے بارے میں منقول جرح و تعدیل کا ذکر کیا جائے گا، اس بات پر شیخ قائم نہ رہ سکے، چنانچہ بہت سے نامی گرامی رواۃ کی توثیق ذکر نہیں کی ۔

اب شیخ نے کتنے رواۃ کی تقویم ذکر کی ہے، تو محقق حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

وثق الطوسی ھھنا 92 شخصا فقط ممن ذکرھم و ضعف 21 فقط منھم9

یعنی شیخ طوسی نے فہرست میں صرف 92 اشخاص کی توثیق اور 21 افراد کی تضعیف ذکر کی ہے ۔جبکہ حیدر حب اللہ کے بقول 912 اشخاص و رواۃ کا ذکر ہے، تو ان میں سے صرف 123 افراد کی توثیق یا تضعیف ذکر کی ہے، اس سے ان کتب رجالیہ میں رواۃ کی جرح و تعدیل پر مشتمل مواد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

شیخ غریفی رجال نجاشی کے بارے میں لکھتے ہیں:

"وقد جرح و ضعف کثیر امن اولئک الرواۃ المولفین کما لم یوثق کثیر منھم"10

یعنی شیخ نجاشی نے کثیر مولفین رواۃ کی تضعیف کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ بہت سے رواۃ کی توثیق بھی ترک کی ہے ۔

اگر قارئین کو شیخ غریفی کا رجال طوسی کے بارے میں "صرح بتوثیق کثیر منھم بالعرض " والا تبصرہ یاد ہے، کہ شیخ غریفی سارھے چھ ہزار میں سے 157 افراد کی توثیق کو کثیر من الرواۃ کہہ رہے تھے ، تو اس "وضعف کثیرا من اولئک الرواۃ" کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنے رواۃ کی تضعیف کی ہوگی؟

شیخ حیدر حب اللہ نے بھی رجال نجاشی کے بارے میں اس جیسا تبصرہ کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

"لم یکن غرض النجاشی کما بینا حیت تالیفہ لکتابہ تقویم رواۃ الحدیث والرجال الذین یذکرھم فیہ الا انہ مع ذلک قیم جمعا ممن ذکرھم علی انحاء"11

یعنی نجاشی کا مقصد اس کتاب کی تالیف سے شیخ نجاشی کا مقصد رواۃ و رجال کی درجہ بندی کرنا نہیں تھا، اس کے باوجود شیخ نجاشی نے کئی طریقوں سے متعدد رواۃ کی تقویم ذکر کی ہے ۔

آخر میں شیخ غریفی رجال برقی کے بارے میں لکھتے ہیں:

"والبرقی لم یذکر فی کتابہ جرحا و لا تعدیلا للرواۃ و انما عد طبقاتھم بدون استیفاء"12

یعنی شیخ برقی نے اپنی کتاب میں رواۃ کی جرح و تعدیل زکر نہیں کی ہے، آپ نے بغیر احاطہ کئے رواۃ کے طبقات کا ذکر کیا ہے ۔

ان مصادر ِ رجالیہ میں سے صرف کتاب الضعفاء المعروف رجال ابن الغضائری وہ واحد کتاب ہے، جس کا مقصد ضعیف رواۃ کا ذکر ہے، لیکن اس کتاب کے بارے میں شیعہ اہل علم کے متعدد اختلافی ابحاث منقول ہیں، جیسے کہ اس کا ا صل مصنف کون ہیں ؟ کتاب کی استنادی حیثیت کیا ہے ؟ اس کتاب کی تضعیفات کا کیا مقام ہے؟اس کتاب کے بارے میں بعض مستند رواۃ کی تضعیف کی کیا تاویلات ہیں، یہ سب مباحث شیخ حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب دروس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ (ص 132 تا ص142 ) بیان کئے ہیں، ان سب اختلافی مباحث کے باوجود یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کتاب میں کل 225 کے قریب رواۃ کا ذکر ہے ۔

ان چھ کتب رجال کے ساتھ اس دور کی دو اور کتب بھی قابلِ ذکر ہیں، ایک معروف شیعہ عالم و مورخ ابن شہر آشوب مازندرانی کی "معالم العلماء فی فہرسۃکتب الشیعۃ واسماء المصنفین قدیما و حدیثا " ہے، جبکہ دوسری کتاب چھٹی صدی ہجری کے شیعہ عالم شیخ منتجب الدین رازی کی "فہرسۃ منتجب الدین " ہے، یہ دو کتب بھی شیعہ علم رجال کی اولین مصادر میں شمار کی جاتی ہیں، اگرچہ انہیں اصول اربعہ یا اصول خمسہ میں نہیں گنا جاتا، لیکن اصولِ رجالیہ کے زمانے کی کتب ہونے کی بنا پر ان کی بھی خاصی اہمیت ہے، یہ دونوں کتب بھی جرح و تعدیل کے اعتبار سے دیگر اصولِ رجالیہ کی طرح تہی دامن ہیں، چنانچہ شیخ حیدر حب اللہ معالم العلماء کے بارے میں لکھتے ہیں:

"نص المازندرانی علی وثاقۃ 44 شخصا و علی ضعف خمسۃ اشخاص آخرین"13

یعنی مازندرانی سے صرف 44 اشخاص کی توثیق اور صرف 5 اشخاص کی تضعیف بیان کی ہے، حالانکہ شیخ حیدر حب اللہ کے بقول اس میں کل 1021 اشخاص کے تراجم بیان ہوئے ہیں، یوں ہزار اشخاص میں سے صرف پچاس رواۃ کے بارے میں توثیق یا تضعیف ملتی ہے ۔ جبکہ فہرسۃ منتجب الدین میں دیگر کتب کی بنسبت اشخاص کی تعریف، توثیق زیادہ ملتی ہے، اگرچہ یہ کتاب بھی اصلا فہرسۃ الطوسی کی طرح شیعہ مصنفین کی ببلوگرافی ہے، اسی وجہ سے شیخ حیدر حب اللہ اس کی توثیق و تضعیف کو اہمیت دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وفائدۃ الکتاب فی مجال التراجم اکثر منھا فی مجال التوثیق و التضعیف"14

لیکن اس کتاب میں ساڑھے پانچ سو کے قریب مصنفین کاذکر ہے، اگر ہم اس کا نصف بھی توثیق پر مشتمل مان لیں، تو پونے تین سو کے قریب رواۃ کی توثیق ثابت ہوتی ہے، جو ظاہر ہے شیعہ رواۃ کی کل تعداد کے اعتبار سے نہایت قلیل تعدادہے، اس کتاب سے چند تراجم نقل کئے جاتے ہیں، تاکہ اس کتاب کی توثیق کا انداز واضح ہوسکے:

"السيد الاشرف بن الحسين بن محمد الجعفري.ثقة، فاضل
السيد مصباح الدين أبو ليلى احمد بن محمد بن احمد الحسينى عدل ثقة
الشيخ وجيه الدين أبو طاهر احمد بن (محمد بن احمد بن) ابى المعالى.فاضل، فقيه، ثقة15"

ان تین تراجم سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان تراجم میں راوی کے ساتھ صرف ثقہ یا فاضل کا لفظ ہے، اہل سنت کتب کی طرح(جن سے تراجم ما قبل میں ہم نقل کر چکے ہیں) متعدد ائمہ جرح و تعدیل سے سند متصل کے ساتھ راوی کی توثیق یا تضعیف کے بارے میں تفصیلی اقوال بالکل نہیں ہیں ۔

یوں اہل تشیع کے اولین مصادر رجال ، جن میں خصوصیت کے ساتھ رجال کے مصادر خمسہ (رجال نجاشی، فہرست طوسی، رجال طوسی، اختیار معرفۃ الرجال المعروف برجال الکشی، رجال ابن الغضائری )بھی شامل ہیں، جو شیعہ علم رجال کا منبع شمار ہوتی ہیں، ان کتب میں رواۃ کی توثیق یا تضعیف کا مواد نہ ہونے کے برابر ہیں، جن کا اقرار خود شیعہ محققین کو بھی ہے، کما مر

حواشی

  1.  الجرح و التعدیل، ابن ابی حاتم رازی، ج2، ص 242، رقم الترجمہ:862
  2.  الضعفاء الصغیر، امام بخاری ص29، رقم الترجمہ:33
  3.  تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی، ج2، ص269، رقم الترجمہ:506
  4.  قواعد الحدیث، الغریفی، ج1، ص191
  5.  ایضا:ج1، ص192
  6.  ایضا:ج1، ص 196
  7.  دروس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ، حیدر حب اللہ، ص 144
  8.  قواعد الحدیث، ج1، ص 194
  9.  دروس تمہیدیۃ ص 158
  10.  قواعد الحدیث، ج1، ص 192
  11.  دروس تمہیدیہ:ص 125
  12.  قواعد الحدیث:ج1، ص 196
  13.  ایضا:ص167
  14.  دروس تمہیدیۃ، ص 165
  15.  فہرست شیخ منتجب الدین، منتجب الدین رازی، ص36

(جاری)

خاندانی نظام اور سیڈا معاہدہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سعودی وزیر خارجہ محترم عادل الجبیر نے ایک اعلامیے میں خاندانی نظام کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدہ سیڈا (CEDAW) کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں گھریلو تشدد کے خاتمے کے عنوان سے منظور کیا جانے والا قانون بھی سیڈا کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے جسے دینی حلقوں نے خلافِ شریعت قرار دے کر مسترد کیا ہے۔ اس تناظر میں مولانا حافظ فضل الہادی (نائب خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ) نے مذکورہ اعلامیہ کا ترجمہ کیا ہے جو پیشِ خدمت ہے۔

’’سعودی عرب نے (سیڈا) CEDAW سے متعلق اقوام متحدہ کی دستاویز کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا ہے۔ سعودی عرب اسلامی شریعت کی دفعات کو کافی سمجھتے ہوئے سیڈا کے عدمِ تعمیل کا اعلان کرتا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ عرب ممالک نے سیڈا سے اتفاق کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو سیڈا معاہدے سے لاعلم ہیں، اس کی وضاحت یہ ہے:

  1. سیڈا کہتا ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اور قرآن کہتا ہے ’’وليس الذكر کالانثٰی‘‘ (اور مرد عورت کی طرح نہیں ہے۔)
  2. سیڈا کا فیصلہ ہے کہ مرد کو تعدد ازدواج کی اجازت نہیں ہے۔ اور قرآن کا اعلان ہے ’’فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنٰی وثلاث ورباع‘‘ (تو پھر جتنی عورتوں سے چاہو نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار۔)
  3. سیڈا کا یہ بھی فیصلہ ہے کہ بچوں کے نام ان کی ماؤں کے نام پر رکھے جائیں۔ اور قرآن کہتا ہے ’’ادعوھم لآباءھم‘‘ (تم ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو۔)
  4. سیڈا کا یہ بھی کہنا ہے کہ عورت کی عدت نہیں۔ اور قرآن واضح کرتا ہے ’’والمطلقات يتربصن بانفسھن ثلاثة قروء‘‘ (طلاق شدہ عورتیں خود تین حیض آنے تک انتظار کرتی رہیں۔)
  5. سیڈا کا یہ بھی فیصلہ ہے کہ مرد کو عورت پر سرپرستی حاصل نہیں ہے اور باپ کو اپنی بیٹیوں کی سرپرستی نہیں۔ اور قرآن کہتا ہے ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ (مرد عورتوں کے نگران ہیں۔)
  6. سیڈا کا کہنا ہے کہ مرد اور عورت کی میراث ایک ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’للذكر مثل حظ الانثيين‘‘ (مرد کا دو عورتوں کے برابر حصہ ہوگا۔)
  7. سیڈا کا کہنا ہے کہ ایک مرد اپنے جیسے مرد سے شادی کر سکتا ہے، ایک عورت اپنے جیسی عورت سے شادی کر سکتی ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’اتاتون الذكران من العالمين‘‘ (جہان کے سارے لوگوں میں سے تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو۔)
  8. سیڈا خواتین کو اسقاطِ حمل کا حق دیتا ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’ولا تقتلوا اولادكم‘‘ (اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو)۔
  9. سیڈا میاں بیوی دونوں کے لیے شادی سے باہر جنسی تعلقات کو جرم نہیں قرار دیتا۔ اور قرآن کہتا ہے ’’ولا تقربوا الزنا انہ كان فاحشۃ وساء سبيلا‘‘ (زنا کے قریب نہ جاؤ، کیونکہ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے)۔
  10. سیڈا کا یہ بھی کہنا ہے کہ عورت جس سے چاہے پابند، جب چاہے جدا، اور جب چاہے دوبارہ جڑ جائے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’محصنات غير مسافحات ولا متخذات أخدان‘‘ (باقاعدہ شادی کرنے والیاں ہوں، نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں۔)
  11. سیڈا کہتا ہے کہ شادی کی عمر اٹھارہ سال کے بعد ہے۔ اور قرآن کہتا ہے ’’وابتلوا اليتامٰی حتٰی اذا بلغوا النكاح‘‘ (اور یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں)

جو شخص سیڈا (CEDAW) کے ساتھ کھڑا ہونا اور اس کا دفاع کرنا چاہتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ تعالٰی کا نافرمان ہے اور اس کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت کا انکار کرتا ہے۔ اس کی سرگرمی دراصل قدامت پسند معاشرے کو تحلیل کرنے کے لیے تندہی سے کام کرنا ہے اور اسے ہوس و بگاڑ کی طرف دھکیلنے کے لیے کام کرنا ہے۔‘‘

افغانستان کا بحران اور ہمارا افسوسناک طرزعمل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ اسلام لاہور ۲۷ نومبر ۲۰۲۱ء کی خبر کے مطابق امارتِ اسلامی افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی محمد امیر خان متقی اپنے وفد کے ہمراہ دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے امریکی حکمرانوں سے مذاکرات کریں گے۔ جبکہ اخبار کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد چوھدری نے اسلام آباد میں اے پی پی کے ملازمین کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ کی جنگ تو ختم ہو گئی اب باتوں کی جنگ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ ساڑھے تین گھنٹے میں ختم ہو گئی تھی جب کابل کے حکمران بھاگ گئے تھے اور امریکہ جنگ ہار گیا تھا مگر اب باتوں اور بیانیہ کی جنگ جاری ہے۔

ہمارے خیال میں فواد چوہدری نے موجودہ صورتحال کے حوالہ سے ایک اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ جب تمہاری جنگ ختم ہو گئی ہے تو اب کیا ہو رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے مرحلہ کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے جس کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے ایک اور دور کا آغاز ہو گیا ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کی وجہ باتوں اور بیانیہ کی جنگ کو قرار دیا ہے اور ہمیں اس حد تک ان کی بات سے اتفاق ہے کہ اب جنگ باتوں اور بیانیہ کی ہے، مگر اس سے اگلی بات بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف باتوں کی جنگ نہیں بلکہ نظریات اور تہذیب و ثقافت کی جنگ ہے جس کے ذریعے میدانِ جنگ میں افغان طالبان کے ہاتھوں واضح شکست سے دوچار ہونے والی قوتیں اس جنگ کے مقاصد کو معاشی دباؤ اور نفسیاتی حربوں کے ذریعے حاصل کرنے کے درپے ہیں، اور امریکی اتحاد اس کوشش میں ہے کہ فلسفہ و نظام اور تہذیب و ثقافت کے غلبہ کا جو ایجنڈا وہ ہتھیاروں کی جنگ میں پورا نہیں کر سکا اس کی تکمیل کے لیے سیاسی، معاشی اور نفسیاتی ہتھیاروں کو بروئے کار لا کر اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کر لیا جائے۔

ہمارے نزدیک اس وقت افغان قوم تین بحرانوں سے دوچار ہے جو زیادہ تر مصنوعی ہیں اور امریکہ اور اس کے حواریوں کی پیدا کردہ ہیں:

اس مقصد کے لیے نہ صرف یہ کہ امارتِ اسلامی افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو ان کی معاشی امداد سے دور رکھنے کے لیے ہر قسم کے دباؤ اور حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حتٰی کہ امارت اسلامی افغانستان کے اس تقاضے کو بھی بے رحمانہ انداز میں نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ اگر خود افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کر دیے جائیں تو وہ کسی اور بیرونی مدد کے متقاضی نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ مسلسل ہو رہا ہے، ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جس میں مغربی ملکوں اور استعماری قوتوں کا کردار تو سمجھ میں آتا ہے مگر مسلّمہ مسلم ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کا طرز عمل کم از کم ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’المسلم اخو المسلم لا یَظلمہ ولا یُسلمہ‘‘ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو ظلم کے لیے کسی اور کے حوالے کرتا ہے۔ جبکہ امت مسلمہ اس وقت خاموش تماشائی دکھائی دے رہی ہے بلکہ جب بھی کسی عملی کردار کا موقع آتا ہے تو اس کا وزن اور جھکاؤ منفی نظر آنے لگتا ہے۔ ان حالات میں مسلم حکومتوں سے کسی خیر کی توقع تو اب نظر نہیں آتی مگر علم و دانش اور رائے عامہ کا وہ میدان ضرور موجود ہے جس میں اربابِ فکر و دانش اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

اس لیے ہم اربابِ علم و دانش سے گزارش کریں گے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اپنے کردار کو مؤثر طریقہ سے ادا کرنے کی کوئی صورت پیدا کریں۔ جبکہ اصحابِ ثروت سے بھی یہی گزارش ہے کہ اس سنگین معاشی بحران میں اپنے افغان بھائیوں کی امداد پر سنجیدہ توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

سیالکوٹ کے واقعے پر علماء کرام کا متفقہ اعلامیہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سات دسمبر منگل کا دن اسلام آباد میں خاصا مصروف گزرا، اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے سیالکوٹ کے سانحہ کے حوالہ سے سرکردہ علماء کرام کی باہمی مشاورت اور سری لنکا کے ہائی کمیشن میں تعزیت اور اظہار یکجہتی کے لیے حاضری کے پروگرام میں شرکت کا پیغام ملا تو اطمینان ہوا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قسم کے اہم مسائل پر کردار ادا کرنے کا عزم کیا ہے۔ دونوں پروگراموں میں حاضری ہوئی اور اس موقع پر دیگر بعض سرکردہ حضرات کی طرح میں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ کونسل اس قسم کے اہم قومی و ملی معاملات میں اس نوعیت کے کردار کا تسلسل قائم رکھے گی۔ اس سلسلہ میں کونسل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ درج ذیل ہے:

’’سیالکوٹ کے دلخراش و افسوسناک واقعہ پر پاکستان بھر کے جید علماء کرام و اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی سربراہی میں سری لنکن سفیر سے ملاقات و اظہار افسوس اور تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مفتیان، عظام و مشائخ کی پریس کانفرنس:

شرکاء پریس کانفرنس: (۱) ڈاکٹر قبلہ ایاز ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل (۲) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان (۳) مولانا انوار الحق حقانی، نائب صدر وفاق المدارس العربیہ(۴) مولانا زاہد الراشدی، سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل (۵) قاری محمد حنیف جالندھری، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ (۶) مولانا عبد الخبیر آزاد، چیئرمین روئیت ہلال کمیٹی (۷) مولانا عبد الخیر زبیر (۸) مولانا پیر نقیب الرحمن (۹) پیر علی رضا بخاری (۱۰) علامہ حامد سعید کاظمی (۱۱) صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن (۱۲) حافظ طاہر محمود اشرفی (۱۳) مولانا مفتی عبد الرحیم، جامعۃ الرشید کراچی (۱۴) ڈاکٹر حبیب الرحمن (۱۵) مولانا محمد طیب طاہری (۱۶) علامہ امین شہیدی (۱۷) علامہ عارف واحدی (۱۸) سینٹر پروفیسر ساجد میر (۱۹) مولانا یوسف کشمیری (۲۰) پیر حبیب الحق (۲۱) پیر حبیب عرفانی (۲۲) پیر خالد سلطان اور دیگر سرکردہ حضرات۔

مشترکہ اعلامیہ:

ہم آج سری لنکن سفارت خانے میں ۳ دسمبر کے اندوہناک واقعہ پر اظہارِ تعزیت اور اظہارِ یکجہتی کرنے آئے ہیں۔ سیالکوٹ کا حالیہ سانحہ ایک المیہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ ہجوم کی صورت میں بے رحمانہ انداز میں ایک انسان کو مارا پیٹا گیا اور بالآخر موت کے گھاٹ اتار کر اس کی لاش جلائی گئی۔ ماورائے عدالت قتل کا یہ ایک بھیانک واقعہ ہے، بغیر ثبوت کے توہین مذہب کا الزام لگانا غیر شرعی حرکت ہے۔ یہ پوری صورتحال قرآن و سنت، آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ملک میں رائج جرم و سزا کے قوانین کے سراسر خلاف ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سمیت پاکستان بھر کے مستند علماء نے بھر پور طریقے سے اس کی مذمت کی ہے۔

عاقبت نا اندیش عناصر کا یہ اقدام ملک و قوم، اسلام اور مسلمانوں کی سبکی کا باعث بنا ہے۔ علاوہ ازیں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کی قومی دستاویز جس میں ایسے ہر قسم کے مسلح اقدام کی نفی کی گئی، یہ اقدام اس سے سراسر انحراف ہے۔ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کو پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور مدارس بورڈز کی تائید حاصل ہے۔ ان شر پسند افراد کے خلاف رائج ملکی قوانین کے مطابق سخت سے سخت قانونی اقدامات کئے جائیں۔ اس تکلیف دہ واقعہ میں امید کی ایک کرن یہ تھی کہ ایک نوجوان ملک عدنان نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس قتل ہونے والے بے گناہ شخص کو بچانے کی بھر پور کوشش کی، اس نو جوان کا یہ اقدام قابل تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کے لیے ’’تمغۂ شجاعت‘‘ دینے کا اعلان کر کے ایک بہت مستحسن اقدام کیا ہے۔

آج کا نمائندہ اجتماع قرار دیتا ہے کہ اسلام میں تشدد اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں ہے، لہذا علماء کرام اعتدال پسندی کو فروغ دیں، انتہا پسندی کو روکنے کے لیے معاشرے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں تاکہ ملک پاکستان امن اور آشتی کا گہوارہ بن جائے۔‘‘

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Moderity کا مقدمہ)

تعارف

ستمبر 2006 میں عابد علی نے، جس کا تعلق شمالی ہندوستان کے شہر مراد آباد سے تقریبًا بارہ میل کے فاصلے پر واقع گاؤں احرار اللہ سے ہے، کئی دہائیوں سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے باوجود اپنی پچھتر سالہ بیوی اصغری علی کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی۔ ۔ چند ہفتے پہلے ان نکاح ٹوٹ گیا تھا، کیوں کہ انھیں ایک مقامی مسلمان مولوی عبد المنان کریمی نے دیگر دو سو افراد سمیت کافر قرار دیا تھا۔ کریمی نے یہ انتہا پسندانہ فتوی اس وقت صادر کیا جب اسے پتا چلا کہ حال ہی میں اس کے گاؤں میں وفات پانے والے ایک بزرگ شخص کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں شرکت کوئی قابل اعتراض امر نہیں تھا۔ تا ہم کریمی کے خیال میں گاؤں کے لوگوں نے مخالف مسلک کے امام کے پیچھے نمازِ جنازہ ادا کرکے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا1۔

کریمی اور وہ دو سو لوگ جنھیں اس نے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا، دونوں کا تعلق سنی اسلام کے معروف بریلوی مسلک سے تھا۔ جنازے کی امامت کرنے والے مولوی ابو حفیظ محمد کا تعلق تاریخی مسلکِ دیوبند سے تھا۔ جنازے کے دن چونکہ مقامی مولوی موجود نہیں تھا، اس لیے ابوحفیظ نے قائم مقام امام کی حیثیت سے نماز جنازہ پڑھا دی۔ کریمی کے نزدیک ایک دیوبندی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کا عقیدہ باطل ہو گیا تھا اور اسی وجہ سے ان میں سے شادی شدہ افراد نکاح ٹوٹ گیا تھا۔کریمی کا پرزور اصرار تھا کہ دائرہ اسلام میں واپسی کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ توبہ کریں، از سرِنو کلمہ پڑھیں، اور عقدِ نکاح کی تجدید کریں۔ اس کے الفاظ یہ تھے: "توبہ کرو، کلمہ پڑھو اور نکاح پڑھواؤ"۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک عوامی تقریب میں سو سے زیادہ جوڑوں نے نکاح کی تجدید کی۔ فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے کریمی نے بڑے پرجوش انداز میں کہا: "یہ شادیاں ہر قسم کی نمود ونمائش سے پاک ہیں۔ صرف دوگواہوں کی موجودگی کی شرط پوری کی گئی ہے"2۔

شمالی ہندوستان میں رونما ہونے والے اس عجیب وغریب واقعے کے چند سال بعد، سرحد پار پاکستان میں واقعات کے ایک غیر مربوط سلسلے نے دیوبندی بریلوی مخاصمت کو غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ اگلا قصہ اس جاری کش مکش کے فریقوں اور علم برداروں کی مزید وضاحت کرتا ہے۔

10جنوری 2011 کو پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مظفر گڑھ کے ایک مقامی امامِ مسجد محمد شریف اور اس کے بیٹے محمد اسلم کو توہینِ رسالت کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی۔ دراصل انھیں 2010 میں اپنے خاندان کے ایک کریانہ سٹور پر عید میلاد النبیؐ کی تقریب سے متعلق اشتہاری پوسٹر کو ہٹانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس تقریب کے منتظمین کے مطابق، جنھوں نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا، شفیع اور اسلم نے پوسٹر کو پھاڑا تھا اور اسے اپنے پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔ باپ اور بیٹے دونوں پر پاکستان کے متنازعہ قانونِ توہینِ رسالت کے تحت مقدمہ بنایا گیا۔ نظری اعتبار سے یہ قانون کسی بھی معروف مذہب کی توہین کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم عملاً اس کا اطلاق اکثر وبیتر ان افراد پر ہوتا ہے جو توہینِ رسالت کے جرم میں ملوث پائے گئے ہوں۔ جرم کی سزا تعزیری جرمانوں سے لے کر سزائے موت تک ہے۔

شفیع اور اسلم کے خلاف عدالتی فیصلہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کے ہیجان انگیز قتل کے چھ دن بعد صادر ہوا۔ سلمان تاثیر کو اس کے ذاتی محافظ ممتاز قادری نے گولی مار دی تھی جس کے خیال میں گورنر نے قانونِ توہینِ رسالت کی مخالفت کرکے سنگین گناہ کا ارتکاب کیا تھا3۔اس سنسنی خیز واقعے کے بعد پاکستان میں متعدد سیاستدانوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے توہینِ رسالت کے قانون کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت میں کہا کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کو ابھارتا ہے، اور اسے ذاتی انتقام کی تسکین کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان احتجاجی جلسوں میں شفیع اور اسلم کے وکیل صفائی عارف گورمانی بھی شریک تھے۔

گورمانی کا دعویٰ تھا کہ اس کے موکلوں کو سزا دیتے وقت عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس کے خیال میں اس کے موکل سنیوں کے درمیان موجود بین المسالک چپقلش کی زد میں آ گئے ہیں۔ گورمانی نے کہا: "دونوں (مدعی اور مدعیٰ علیہ) مسلمان ہیں۔ یہ کیس سنی مسلمانوں کے درمیان دیوبندی بریلوی اختلاف کا شاخسانہ ہے۔ میں ان کی وکالت اس لیے کر رہا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ وہ توہینِ رسالت کے جرم میں ملوث نہیں ہیں"4۔ اس کے موکلوں کا تعلق دیوبندی مکتبِ فکر سے تھا۔

سنی اسلام کے دیوبندی اور بریلوی مسالک میں فرقہ وارانہ چپقلش، جس کی طرف گورمانی نے اشارہ کیا، مسلمان علما کے درمیان مناظرانہ بحثوں کے اضطراب انگیز لیکن اہم سلسلے سے تعلق رکھتی ہے جس کا آغاز انیسویں صدی کے شمالی ہندوستان میں ہوا۔ شفیع کی طرف سے عید میلاد النبیؐ کے اشتہار کی بے حرمتی سے جنم لینے والے تنازع کی طرح انیسویں صدی کے اس مباحثے نے جنوبی ایشیائی اسلام میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دینی مقام اور حیثیت کے حوالے سے متصادم تصورات کو جنم دیا تھا۔ اس نے ایک ایسے پیچیدہ شرعی مسئلے کو موضوعِ فکر بنایا جو کئی صدیوں تک مسلمانوں کے دماغوں پر حاوی رہا، یعنی یہ کہ مسلمان معاشرہ کس طریقے سے حضور ﷺ کی یاد کو تازہ رکھے اور آپ کے اسوہ پر عمل کرے؟

زیر نظر کتاب بریلوی دیوبندی اختلاف کا پہلا جامع مطالعہ ہے۔ یہ ایک مناظرانہ جنگ ہے جس نے جنوبی ایشیا میں اسلام اور مسلمانوں کی شناخت کو انتہائی گہرے انداز میں تشکیل دیا ہے۔ اس مناظرانہ جنگ کو شروع ہوئے لگ بھگ دو سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے، تاہم اس کی گرفت مابعد استعمار دور میں بھی جنوبی ایشیا کے مقامی مسلمانوں اور پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تارکین وطن کی مذہبی حساسیتوں پر آج بھی قائم ہے5۔ اس تنازع کے استدلالات، تحریری سرمایے اور ماحول نے ناقابل تنسیخ طریقے سے اس نہایت اہم سوال کی تشکیل کی ہے کہ جدید دنیا میں، جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں کس چیز کو حقیقی اسلام کا اور ایک معیاری مسلم شناخت کا درجہ حاصل ہے۔

جیسا کہ ان دو واقعات سے، جن سے میں نے بات کا آغاز کیا ہے، معلوم ہوتا ہے، دیوبندی بریلوی اختلاف محض ایک علمی چپقلش کا معاملہ نہیں۔ اس مباحثے کے فریقوں اور علمبرداروں کے درمیان اختلاف کا سلسلہ اسلام کے روزمرہ معمولات کو محیط ہے اور توہینِ رسالت کی تعریف سے لے کر اس سوال تک پھیلا ہوا ہے کہ مسلمانوں کی اخلاقی اور روحانی زندگی کی تشکیل کس نمونے پر کی جائے۔ تاہم عموماً عوامی اور علمی مباحثوں میں بریلوی دیوبندی اختلاف کا مطالعہ ا بعض بظاہر بہت مضبوط لیکن درحقیقت سطحی موازنوں کے فریم ورک میں کیا جاتا ہے، مثلا فقہی اسلام اور صوفی اسلام، خالص اسلام اور عوامی اسلام، تحدید پسند اسلام اور شمولیت پسند اسلام، روایتی اسلام اور احیائی اسلام وغیرہ۔ ان باہم دگر جُڑے موازنوں میں بالعموم جس موازنے کو بریلوی دیوبندی اختلاف کی توضیح کے طور پر شاید سب سے زیادہ پیش کیا جاتا ہے، وہ فقہی/صوفی موازنہ ہے۔ اس اختلاف کو، جیسا کہ میں اس تعارف میں واضح کروں گا، بکثرت اسلام کی صوفی اور فقہی روایات یا فقہ وتصوف کے درمیان ایک دائمی اختلاف کا ایک مظہر سمجھا جاتا ہے۔ بریلوی دیوبندی اختلاف کے داخلی استدلالات کی گہری تحقیق کی روشنی میں، زیر نظر کتاب ایسے تقابلی تشریحات وتوضیحات کی فکری کم مایگی اور کجی سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ تقابلی موازنے انسانی زندگی اور مذہب کے دائرۂ کار کی تحدید کے کے حوالے سے لبرل سیکولر ازم کے انداز فکر کی غمازی کرتے ہیں جس کی ناکامی طے شدہ ہے۔ سادہ فکری پر مبنی اور سیاسی طور پر نقصان دہ اور گمراہ کن ہیں۔

میں ایک ایسے متبادل فکری منہج کی وکالت کرتا ہوں جو مذہب کے حدود کی تعیین کے لیے پیش کیے گئے ان متصادم بیانیوں کو روایت اور تجدید ے دو حریف فکری سانچوں (competing rationalities)کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان سانچوں کو تشکیل دینے والے فریق یہ کوشش کرتے ہیں کہ خاص حکمت عملی کے ذریعے سے دینی روایت کی تعیین وتحدید کے اختیار پر اپنا استحقاق ثابت کر سکیں۔ وہ اپنے مد مقابل بیانیوں کی اہمیت کو گھٹانے کی جدوجہد کرتے ہیں تا کہ قطعیت سے یہ بتا نے کا اختیار صرف ان کے پاس ہو کہ کس چیز کو مذہب سمجھنا چاہیے اور کس کو نہیں۔ اس عمل میں حکمت عملی کے طور پر تکفیر وتضلیل (exclusion) کی کئی صورتیں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر مخالفین کے دلائل کی داخلی بے ربطی کو واضح کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ماضی کے مستند دلائل کے ساتھ ان کا تضاد دکھا کر ان عناصر کی ثقاہت کو نقصان پہنچانا مقصود ہوتا ہے، جنھوں نے مخالف دلائل تشکیل دیے ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ ان کے مقابلے میں معیاری اسلام (normative)کا ایک متبادل اور متوازی تصور پیش کیا جاتا ہے۔

بحث ونزاع کے اس ماحول کو، جس میں برتری حاصل کرنے کے لیے مختلف استدلالی حکمت عملیوں سے کام لیا جا رہا ہو، کبھی بھی تقابلی خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ اس کے بجاے یہ فکر ونظر کے ایک انداز کا تقاضا کرتا ہے، جو بہت قریب سے ان متقابل استدلالات کو جانچے جن کے ذریعے سے ایک علمی واستدلالی روایت کی حدود متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعینہ یہی منہج ہے جس کو اس کتاب میں برتنے کی کوشش کی گئی ہے۔ روایت اور تجدید کے حوالے سے انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کے مابین زیر بحث فکری سانچوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کتاب ان مناہج کو سامنے لاتی ہے جن کے ذریعے سے جدید جنوبی ایشیا میں اسلام کی حدود کا تعین کیا گیا، ان کو توجہ کا مرکز بنایا گیا، اور ان پر بحث ومباحثہ کیا گیا6۔

معاشرتی تشکیل کا مذہبی نظام فکر (Political Theology)

یہ کتاب خاص طور پر یہ نقطہ نظر پیش کرتی ہے کہ بریلوی دیوبندی تنازع کی اساس معاشرتی تشکیل کے مذہبی نظام فکر کا سوال ہے۔ معاشرتی تشکیل کے مذہبی نظام فکر سے میری مراد مذہبی مباحثوں اور سیاسی و سماجی تصورات کا گہرے طورپر باہم وابستہ (interlocking) ہونا ہے۔ان تنازعات کا مرکزی سوال یہ تھا کہ نوآبادیاتی دور میں، جب مسلمان اپنی سیاسی حاکمیت کھو بیٹھے تھے، خدائی حاکمیت اور حضرت محمد ﷺ کے مقام ومرتبہ کے مابین تعلق کو کس طرح سمجھا جائے؟7 خدا اور پیغمبر کے درمیان تعلق کی متخالف تفہیمات نے مذہبی رسوم اور عوام کی روزمرہ زندگی کی شکل وصورت کے بارے میں متوازی تصورات کو جنم دیا۔ بالفاظ دیگر بریلوی دیوبندی تنازع نے خدائی حاکمیت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دینی مقام اور حیثیت اور روزمرہ کی مذہبی رسوم کے درمیان شرعی تعلق کے حوالے سے متوازی تصورات پیش کیے۔ اس تنازع میں زیرِ بحث سوال یہ تھا کہ ایک غیر معمولی اخلاقی اور سیاسی بے چینی کے دور میں خدا، پیغمبر اور معاشرے کے درمیان تعلق کو کیسے سمجھا جائے۔ علم کلام، فقہ اور روزمرہ کے اعمال کے درمیان تعلق وہ فکری دھاگا ہے جو اس کتاب کے مباحث کی شیرازہ بندی کرتا ہے، اور میں اسے مسلمانوں کے مابین داخلی مناقشے اور استدلال کی روایات کی تحقیق کے لیے ایک منہج کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں۔

اس کتاب کا ایک مرکزی موضوع یہ سوال ہے کہ کس طرح سیاسی اقتدار کا خاتمہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو خدائی حاکمیتِ اعلیٰ اور کسی گروہ کی روزمرہ معاشرتی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق پر مناقشوں میں شدت پیدا کرتے ہیں۔ جب برطانوی نوآبادیاتی نظام کے آغاز سے برصغیر پاک وہند کے اکثر حصوں پر مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، تو اکابر مسلمان علما کے لیے اس سے زیادہ فوری نوعیت کا مسئلہ اور کوئی نہیں تھا کہ وہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے دینی سرحدات کو محفوظ کریں۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ کس طرح دو متخاصم گروہ، جن میں انیسویں صدی کے سب سے زیادہ نامور اور کثیر التصانیف علما شامل تھے، اس فوری مسئلے سے نبرد آزما ہوئے۔ یہ کتاب بریلوی دیوبندی چپقلش کی مابعد استعمار باقیات سے زیادہ اس کے دور استعمار کے تناظر سے بحث کرتی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ نئی پیش رفت کی اہمیت کو گھٹانا نہیں، اور نہ ہی اس کا مقصد اس مسئلے کی تاریخی جڑوں کی تلاش ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ تیقن ہے کہ صرف نوآبادیاتی تناظر کے ایک مسلسل اور محتاط مطالعے سے ہی مابعد استعمار دور میں اس کش مکش کی باقیات کو ٹھیک طرح سے سمجھا جا سکتا اور ان کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے8۔ ان متون، کرداروں اور بیانیوں کی ایک گہری تحقیق سے، جو اس مباحثے کے دور آغاز میں موجود تھے، میں اس بات کی تفصیلی تصویر پیش کرنا چاہتا ہوں کہ استعماری جدیدیت کے دور میں کس طرح ایک استدلالی روایت کی حیثیت سے اسلام کی حدود بحث ومناقشہ کا موضوع بنیں۔

بڑی تصویر

اس کتاب کا ارتکاز جنوبی ایشیا میں اسلام کی دو متوازی تحریکوں اور مذہبی تصورات پر ہے جن کی ابتدا انیسویں صدی کے اوائل میں ہوئی۔ ان حریف تجدیدی سلسلوں کے کرتا دھرتا وہ ممتاز علما تھے، جن کی حیات اور علمی مساعی نے جنوبی ایشیا کے مسلم ورثے پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ باوجود شدید اختلافات کے، ان میں بہت سے مشترکات بھی موجود تھے۔ وہ بالعموم مشترکہ علمی شجروں، حوالہ جاتی مصادر، مطالعہ وتشریح کے طور طریقوں اور یکساں جغرافیوں (یعنی دہلی اور شمالی ہندوستان) سے وابستہ تھے۔ علوم اسلامیہ کے ماہر یہ علما ایک جیسے ادارتی مراکز یعنی مدارس میں بیٹھتے تھے جہاں اعتقادی علومِ، اخلاقیات اور خدا پرستی کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں بہت سے مسلمان علما بشمول انیسویں صدی کے ان کرداروں کے جن کی فکر سے اس کتاب میں بحث کی جائے گی، درس نظامی کے تعلیم وتربیت یافتہ تھے۔ یہ بھاری بھرکم (عموما چھ سالہ) نصاب علوم اسلامیہ کے مختلف پہلؤوں (تفسیرِ قرآن، علومِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور منطق) پر مشتمل ہے، البتہ کسی مدرسے کے مخصوص رجحانات کے لحاظ سے مختلف مضامین کو مختلف سطح کی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ درسِ نظامی سترھویں صدی میں جنوبی ایشیا کے مشہور عالم ملا نظام الدین (م 1677) کے نام نامی سے منسوب ہے۔

مسلمانوں کے جن حریف فکری دھاروں کو اس کتاب میں زیرِ بحث لایا گیا ہے، اگر انھیں آج کے رائج نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو وہ اس اعتبار سے بھی ایک جیسے ہیں کہ دونوں کو باہر سے ایک ہی طرح کے دقیانوسی انداز میں دیکھا جارہا ہے۔ مغربی، مسلم اکثریتی، اور غیر مغربی اور مسلم اقلیتی تناظر میں یکساں طور پر مدارس اور ان کے کارپرداز علما کو عام طور سے ایک پُراسرار روایت کے ماہرین کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے جو عہد جدید سے بالکل لاتعلق ہے۔ سب سے بدتر یہ کہ انھیں انتہا پسند علم دشمنی کے نمائندوں کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے جو بنیاد پرستی اور عسکریت پسندی کی آگ بھڑکاتے ہیں9۔ مدرسہ کا خوف اب ایک ایسا عالمگیر مظہر ہے جس میں مختلف اور باہم متضاد نظریاتی وابستگیاں اور دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے گروہ مشترک طور پر مبتلا ہیں۔ ان میں طاقتور نوسامراجی تھنک ٹینکس سے لے کر صہیونی اور مسیحی قوم پرست، بہت سے لبرلز، تجدد پسند اور حتی کہ بعض صورتوں میں مسلم اکثریتی ممالک کے اسلام پسند بھی شامل ہیں۔ اگر چہ مدارس اور علما کی بھونڈی تصویر کشی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے، تاہم نائن الیون کے بعد ان میں ایک غیرمعمولی شدت اور اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب مدارس کو تقریبا طالبان اور دہشت گردی کے ہم معنی قرار دے دیا گیا۔ اس حوالے سے ایک سرگرم صنعت معرض وجود میں آ گئی ہے، جس میں خود ساختہ ماہرین براجمان ہیں جنھوں نے مدارس اور علما کی تحقیر اور بدنامی کو ایک پیشے کے طور پر اختیار کر لیا ہے۔

ہر چند کہ یہ ایک نسبتاً پرپیچ بین المسلکی تنازع پر ایک اختصاصی علمی کتاب ہے، تاہم جنوبی ایشیا کے مسلمان علما اور ان کے علمی مباحثوں کے بارے میں اس مریضانہ بیانیے کی تصحیح اس کتاب کے نمایاں اہداف میں سے ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ اس کا مقصد مدارس کی تقدیس یا اس سے کوئی رومان وابستہ کرنا نہیں۔ جیسا کہ مدارس سے وابستہ بہت سے اہل علم کسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ تسلیم کریں گے کہ ایک شخص مدرسے کی علمی روایات کے بہت سے پہوں بالخصوص صنفی انصاف کے سوالات اور غیر مسلم اقلیتوں سے متعلق رویے کا ناقد ہو سکتا ہے10۔ تاہم جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی روایات کی ایک پیچیدہ اور پُرکار تصویر پیش کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کے داخلی تنازعات کی گہرائیوں، تفصیلات اور ابہامات کو زیرِ غور لایا جائے۔ یہ کتاب اسی نوعیت کی ایک کوشش ہے اور جدید جنوبی ایشیائی اسلام میں علما کے درمیان جنم لینے والے غالبا سب سے طویل المدت اور علمی اعتبار سے عمیق ترین مناظرانہ معرکہ آرائی یعنی بریلوی دیوبندی اختلاف کی بہت قریب سے جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس اختلاف کے گہرے مطالعے سے میرا مقصد جدید جنوبی ایشیا میں اسلام کے علمی پس منظر کے ایک اہم اور معتد بہ حصے (fragment) کی تفصیلی تصویر کشی ہے۔ سو اصل میں یہ مناقشہ کس چیز کے بارے میں ہے، اور کن مرکزی کرداروں نے اس کی صورت گری کی ہے؟ میں اگلے مرحلے میں ان سوالات کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، تاکہ اس پروجیکٹ کے مقصد اور بنیادی استدلال کی توضیح وتشریح کر سکوں۔

روایت اور اصلاح کی متقابل عقلیات

اس پوری کتاب میں، میں ہندوستانی مسلمانوں کی علمی اشرافیہ کے دو مدمقابل دھڑوں کی طرف سے پیش کی جانے والی روایت اور اصلاح کی حریف عقلیات توضیح کروں گا۔ ان میں سے ایک گروہ ان علما کا تھا، جن کے تصور دین کا دار ومدار اس پر تھا کہ خدا کی مطلق طور پر امتیازی حاکمیتِ اعلیٰ کا اثبات کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے حضرت محمد ﷺ کی ایک ایسی تصویر پیش کی جس میں آپ کی بشریت پر اور مختار کل وحاکم مطلق خدا کے حضور آپ کی عبدیت پر بہت زیادہ زور تھا۔ انھوں نے ان رسوم ورواج اور روزمرہ کی عادات واطوار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کی نظر میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کی اہمیت کو گھٹا رہے تھے، یا حضور ﷺ کی تقدیس ایسے انداز میں کررہے تھے جس سے آپ کی بشریت میں شک پیدا ہو۔ اس اصلاحی منصوبے کے بڑے کرداروں میں سے ایک، انیسویں صدی کے ابتدائی عہد کے ہندوستانی مسلمان مفکر شاہ اسماعیل شہید (م 1831) تھے۔ ان کے اس اصلاحی ایجنڈے کو انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں دیوبند کے پیش رووں نے آگے بڑھایاجو ایک دینی مدرسہ اور مسلک تھا جو شمالی ہندوستان کے شہر دیوبند میں 1866 میں قائم کیا گیا ۔

شمالی ہندوستان میں مسلمان علما کے ایک دوسرے گروہ نے اس اصلاحی تحریک کو شدت سے چیلنج کیا۔ انھوں نے اس کے جواب میں یہ استدلال پیش کیا کہ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کو پیغمبر علیہ السلام کے دائرۂ اختیار سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جو مخلوقِ خدا میں سب سے زیادہ کرشماتی اور خدا کی محبوب ترین ہستی ہیں۔ ان کی نظر میں خدا اور پیغمبر کے خصوصی مقام اور اختیار میں باہم کوئی تضاد نہیں، بلکہ وہ ایک دوسرے کی تائید وتوثیق کرتے ہیں۔ مزید برآں انھوں نے استدلال کیا کہ نبی کو، جن پر وحی الہی کا نزول ہوا، محض ایک انسان کی حیثیت سے پیش کر کے ان کی امتیازی حیثیت کو گھٹانا ہے انتہائی قابل اعتراض ہے۔ نتیجتاً ان علما نے ان مذہبی رسوم اور روزمرہ کے اعمال کا دفاع کیا جن کا مقصد حضور ﷺ کی یاد اور کرشماتی شخصیت کی تعظیم تھا۔ شش جہت مفکر مولانا احمد رضا خان اس اصلاح مخالف تحریک کے سرخیل تھے۔ وہ بریلوی مسلک کے بانی تھے، جو ایک دوسرا مسلکی گروہ تھا جو شمالی ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی کی طرف منسوب ہے جہاں مولانا احمد رضا خان کی ولادت ہوئی تھی۔ بریلوی مسلک کئی معنوں میں انیسویں صدی کے عالم فضل حق خیر آبادی (م 1861) کا جانشین تھا، جنھوں نے پرزور انداز میں شاہ محمد اسماعیل کی مخالفت کی تھی۔

اس کتاب کے بڑے مقاصد میں سے ایک مقصد ان مسلکی رجحانات اور تنازعات کا بیان ہے جنھوں نے ان علما کی فکری زندگی کی تشکیل کی، جو بیک وقت عربی، فارسی اور اردو میں قادر الکلام اورتحریر کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے۔ جیسے جیسے ہم اس کتاب میں ہم آگے بڑھیں گے، میں موقع بموقع ان علما کا تعارف تفصیل سے پیش کروں گا۔ سردست اتنی بات کافی ہے کہ یہ جدید جنوبی ایشیائی اسلام میں سب سے زیادہ کثیر التصانیف، بڑے پیمانے پر پیشوا مانے جانے والی اور متنازع شخصیات تھیں، جو بیک وقت نامور فقیہ اور صوفی شیوخ تھے۔ ان کے متضاد اصلاحی پروگراموں نے جدید اسلام کے بیانیے میں سب سے زیادہ تیز وتند اور شدت سے لڑی جانے والی مناظرانہ جنگوں کے ابھارنے میں کردار ادا کیا۔ ان کے تنازعات سے کئی زبانی اور تحریری مناظروں، تردیدات اور جوابی تردیدات، فقہی واعتقادی فتاوی ہائے تکفیر اور حکایت گوئی کی ایسی روایات نے جنم لیا جو بعض علما کی تعظیم کرتی ہیں، اور بعض کا تمسخر اڑاتی ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے میں اپنے "دیوبندی بریلوی مناظرے" کی اصطلاح کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں جو اس کتاب میں تسلسل سے استعمال کی جائے گی۔ یہ کتاب اٹھارویں صدی کے اواخر سمیت انیسویں صدی کے اوائل واواخر چند اہم تاریخی گوشوں سے بحث کرتی ہے۔ اس لیے جب میں بریلوی دیوبندی مناظرے کی بات کرتا ہوں تو میرے ذہن میں یہ وسیع تر تناظر ہوتا ہے، اگر چہ بریلوی ودیوبندی مسالک انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں پیدا ہوئے۔ میرا مُدَّعا کسی غائی (Teleological)بیانیے کی تائید نہیں، جس کی رو سے ان گروہوں کا ظہور ناگزیر تھا۔ اس کی بجائے میں اس اصطلاح کو ایک جامع تعبیر کے طور پر استعمال کر رہا ہوں تاکہ خدائی حاکمیتِ اعلی، نبوی اختیار اور رسومیاتی اعمال کے درمیان تعلق پر انیسویں صدی کے اوائل میں جنم لینے والے اور اس صدی کے نصف آخر میں مسلکی اور گروہی شکل اختیار کر لینے والے مناقشے وضاحت کر سکوں۔

اس مناقشے کی استدلالی فضا بے شمار باہم دگر جُڑے متعدد سوالات سے معمور ہے۔ مثال کے طور پر، ایک مذہبی گروہ کو کن خطوط پر اپنی زندگی کو استوار کرنا چاہیے جس سے خداے مطلق کے سامنے اس کی اطاعت کا اظہار ہو؟ خدا اور انسانوں کے درمیان واسطہ ہونے اور روز قیامت شفیع ہونے کی حیثیت سے پیغمبر کے اختیار کی نوعیت کیا ہے؟ پیغمبر کو کس قسم کا علم حاصل تھا؛ کیا ان کے پاس علمِ غیب تھا؟ ایسے مذہبی رسوم، عقیدت مندانہ اعمال اور روز مرہ کے معمولات کی شرعی حیثیت کیا ہے جن کی نظیر رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کے عمل میں موجود نہ ہو؟ کن حالات میں ایسے اعمال بدعت قرار پاتے ہیں؟ ایک اور نزعی سوال جو اس اختلاف کا سبب بنا، خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان (امکانِ کذب) اور پیغمبر علیہ السلام کی طرح کے کسی دوسرے شخص کی تخلیق کے امکان (امکانِ نظیر) کا سوال ہے۔ یہ سوالات فقہ، علم کلام اور روزمرہ کے دینی اعمال کے ساتھ مشترک طور پر تعلق رکھتے ہیں۔ میں اپنے موقف کا اعادہ کروں گا کہ بریلوی دیوبندی اختلاف، مذہبی شناخت کی تشکیل کے دو متصادم بیانیوں کا اظہار تھاجن میں سے ہر ایک فقہ اور رسومیاتی اعمال کے حدود وقیود کے متعلق متوازی تصورات پیش کیے۔

اس کتاب کا نام Defending Muhammad in Modernity رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ جس مسلکی کش مکش کی تفصیل پیش کرتی ہے، وہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق متقابل تصورات پر مرکوز ہے۔ نبی ﷺ کا کون سے تصور کو ایک مسلمان کی معیاری دینی وابستگی اور روزمرہ زندگی کی بنیاد بننا چاہیے؟ بریلوی دیوبندی نزاع کا مغز یہ سوال ہے، جس نے جدید استعماری دور میں غیر معمولی اہمیت حاصل کر ل۔ استعماری حالات نے جہاں شدید بے چینی پیدا کی، وہیں مثالی مسلمان عوام کی تشکیل کی توقع اور ارادے کو بھی جنم دیا۔ دیوبندی بریلوی اختلاف میں نمایاں ہونے والے حضرت محمد ﷺ کے متوازی تصورات مثالی مسلمان فرد اور مثالی معاشرہ، دونوں کو محیط ہیں جو (ایک لحاظ سے) دو الگ الگ دائرے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت وہ مرکزی حوالہ تھا جس کے ذریعے سے اصلاح کا تصور تشکیل دیا گیا ۔ یہ سارا مباحثہ حضرت محمد ﷺ ہی پر مرکوز تھا۔

وہ تمام اختلافی نکات جن سے اس کتاب میں بحث کی گئی ہے، حضرت محمد ﷺ پر مرکوز ہیں: (قیامت کے دن) آپ کا شفاعت کرنے کا اختیار، بدعات کی صورت میں ان کے اُسوۂ حسنہ سے انحراف، آپ کے علمِ غیب کی نوعیت وحیثیت اور خدا کے لیے ایک دوسرے محمد کو پیدا کرن۔ ایک خاص مفہوم میں یہ کتاب اس داستان کو بیان کرتی ہے کہ کیسے جدید جنوبی ایشیا کے اکابر علما نے حضرت محمد ﷺ کے مقام ومرتبہ کی وضاحت کی کوشش کی، اور معیاری اسلامی تصورات کے دائرے میں آپ کی شخصیت اور اوصاف وخصائص کے متعلق متوازی تصورات پیش کیے۔ اگرچہ ان کے مابین شدید ترین اختلاف موجود تھا، لیکن یہ تمام ہندوستانی علما جن کی داستان اس کتاب میں بیان کی گئی ہے، دینی اصلاح کے لیے حضرت محمد ﷺ سے متعلق اپنے پیش کردہ معیاری اور درست دینی تصور کو بیان اور رائج کرنے اور اس کا دفاع کرنے پر قطعی طور پر متفق تھے۔ جدیدیت میں حضرت محمد ﷺ کا مقام اور حیثیت کیسے سمجھی جائے، اس حوالے سے پرجوش تنازعات میں صرف دیوبندی اور بریلوی تحریکوں کے قائدین ہی شریک نہیں تھے، بلکہ، جیسا کہ کیشیا علی نے ایک اہم استدلال کیا ہے، انیسویں صدی میں حضرت محمد ﷺ کی زندگی سے متعلق مغربی انداز فکر پر بھی مستند اور تاریخی طور پر قابل تصدیق محمد کی تلاش کا پہلو غالب ہے۔ کیشیا علی مزید کہتی ہیں کہ ان کی (یعنی مغربی مصنفین کی) دلچسپی اور جستجو میں اور مسلمان مذہبی مفکرین، روایتی علما اور مغربی تعلیم یافتہ مسلم مصلحین کی جستجو میں ایک اشتراک پایا جاتا ہے11۔

بریلوی دیوبندی مناقشے کا آغاز کرنے والے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ لیکن وہ سوالات اور اختلافات جو انیسویں صدی کی ان شخصیات کے دل ودماغ پر حاوی رہے، تقریبا دو سو سال بعد آج بھی پرجوش بحث ومباحثہ کا موجب ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں میں اس مناظرانہ کش مکش کے موضوعات اور دلائل

نہ صرف دینی تعلیم گاہوں میں، جیسا کہ ارشد عالم کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے، بلکہ عام میل جول کے ماحول، مساجد اور عوامی کتب خانوں جیسے روزمرہ کے مقامات میں بھی سرایت کیے ہوئے ہیں، جیسا کہ نویدہ خان نے اس کی تفصیلات جمع کی ہیں12۔ ڈیجیٹل دور کے آغاز نے اس تنازع کی شدت اور جغرافیائی وسعت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کئی ویب سائٹس پر اور مختلف مناظرانہ چیٹ رومز میں - جو جنوبی ایشیا کے مقامی اور اسی طرح امریکا، برطانیہ اور جنوبی افریقا جیسے ممالک میں رہنے والے مہاجر مسلمانوں سے آباد ہیں – حریف نظریات اور آرا مستقلاً بحث ومناقشہ، ، تنقید وتجزیہ اور انکار وتردید کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں13۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ اختلاف دھندلانے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔

یہ کتاب بریلوی دیوبندی مباحثے یعنی اس کے کلیدی ادوار، استدلالات، بیانیوں اور ابہامات کی پہلی باضابطہ تحقیق ہے جو اٹھارویں صدی کی اہم نظیروں کے ساتھ ساتھ انیسویں صدی کے پورے منظرنامے کو غور وفکر کا موضوع بناتی ہے۔ میرے مصادر میں عربی، فارسی اور اردو کے ایسے مخطوطات جنھیں اس سے پہلے مطالعہ وتحقیق کا موضوع نہیں بنایا گیا، نیز مطبوعہ مآخذ شامل ہیں جن کا دائرہ مناظرانہ متون سے لے کر اصلاحی ادب، خطبات ومکاتیب کے مجموعے، بیانیہ (narrative)تاریخیں، فقہی و کلامی متون، فتاوی جات کے مجموعے اور سوانحی تذکروں تک وسیع ہے۔ فقہی اور کلامی دلائل کی گہری تفہیم پیش کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے جنوبی ایشیا کے نامور علما کی شخصیت کا بھی واضح خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ ان حساسیتوں، اضطرابات اور باہمی کشمکش کو دل چسپ بنا سکوں، جو ان علما کی فکری زندگی اور سفر میں جاری وساری تھے۔ یہ پروجیکٹ متعدد مربوط لیکن کسی حد تک مختلف النوع فکری موضوعات ومسائل سے بحث کرتا ہے۔ چنانچہ میں نے نسبتًا مختلف النوع نظری آلات کے مجموعے سے کام لیا ہے، جس کا سلسلہ سیاسی کلامیات کی تحقیقات سے لے کر سیکولر ازم کے مطالعات، عباداتی رسوم کی تحقیقات، قانونی تعبیر وتشریح کے اصولوں، اور نیریٹو تھیوری تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پوری کتاب میں، میں نے کوشش کی ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان علما کی فکر کو مغربی فلسفیانہ اور ادبی مناقشوں کے ساتھ تقابلی انداز میں پیش کروں۔ میں نے یہ کوشش ایسے انداز میں کی ہے جس سے اول الذکر کی گہرائی، علمی ودینی اہمیت اور خصوصیات واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی متون اور تناظرات کو مطالعات مذہب اور وسیع تر علوم انسانی (ہیومینیٹیز) کے مسائل ومباحث سے مربوط کیا جا سکے۔ ایک مخصوص معنی میں یہ کتاب علوم اسلامیہ اور مغربی علوم انسانی (ہیومینیٹیز) کے مخصوص اجزا میں باہمی مکالمے کی نمائندگی کرتی ہے ایک ایسا مکالمہ جس سے دونوں کی تعمیر وترقی ممکن ہو سکے۔

فکری منہج

فکری اعتبار سے یہ کاوش ان مبنی بر استناد مباحثوں (authoritative discourses) کی تحقیق کرتی ہے جن کا مقصد خاص حکمت عملی کے ساتھ مذہب کے حدود پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ طلال اسد نے واضح کیا ہے، مبنی بر استناد مباحثے سے مراد وہ "مباحثہ ہے جو تسلسل کے ساتھ اپنے یکسر مخالف مواقف کی پیش بندی کرنا چاہتا ہے، اور اس طرح ان مواقف کے اظہار کو روکنے کی کوشش کرتا ہے "14۔ یہ کتاب ان اقدامات اور حکمت عملیوں کو نمایاں کرتی ہے جن کے ذریعے دینی روایت کے باہم حریف پاسبانوں نے ایک دوسرے کی مذہبی حیثیت اور مستند ترجمانی کی اہلیت کی نفی کرتے ہوئے اپنے مذہبی استناد کو تقویت فراہم کی ۔ ان کا مذہبی اقتدار – یعنی ان کا یہ دعوی کہ و ہی مستند راے کی نمائندگی کرتے ہیں –ان کی مناظرانہ چپقلش کی موجودگی اور حالات پر منحصر تھا۔ خاص تاریخی حالات میں رونما ہونے والی اس چپقلش میں ، جس کے نتائج کی پیش بینی ناممکن تھی، باہم فریق بننے نے دونوں کے لیے اس کا موقع پیدا کیا کہ وہ روایت اور اس کی حدود کی تعیین وتحدید کے سوال پر مستند حیثیت کا حامل ہونے کے دعوے کے ساتھ کلام کریں۔ طلال اسد نے بہت عمدہ طریقے سے اسے یوں بیان کیا ہے: " استناد کے دعووں میں مخاصمت کو، نہ کہ باہمی افہام وتفہیم کو، مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے"15۔

مبنی بر استناد مباحثے کے حوالے سے طلال اسد کے پیش کردہ تصور کا گہرا تعلق ان کی اس مشہور رائے سے ہے کہ اسلام کا مطالعہ ایک "استدلالی روایت" (discursive tradition) کی حیثیت سے کیا جائے، جو کہ مغرب میں اسلام کے علمی مطالعے میں سب سے زیادہ مستعمل تصورات میں سے ہے16۔ استدلالی روایت کا تصور اسلام جیسی معیاری روایت میں مذہبی متون، زمان اور روزمرہ زندگی کے باہمی تعامل کے تعقل وتفہیم کے لیے بارآور مواقع فراہم کرتا ہے۔ استدلالی روایت کی حیثیت سے اسلام کے مطالعے سے مراد یہ ہے کہ استدلال، دلیل اور حوالے کے طریق کار کی ان مختلف صورتوں پر غور کیا جائے جن کے ذریعے اس سوال پر مبنی بر استناد بحث ومناقشہ کیا جاتا ہے کہ ایک سماجی گروہ کی عملی زندگی کیسی ہونی چاہیے ۔۔ ماضی کی کون سی روایات اور نظائر کو حال اور مستقبل میں ایک سماجی گروہ کی منظم زندگی کو تشکیل دینا چاہیے؟ استدلالی روایت کے تصور میں یہ سوال بنیاد کا پتھر ہے۔ اور چونکہ اس سوال کے مختلف اور عموما متضاد جوابات ہو سکتے ہیں، اس لیے ایک استدلالی روایت اپنی فطرت میں تنازع اور کشمکش کا مظہر ہوتی ہے۔

طلال اسد نے حال ہی میں چند نکات کی صورت میں، جو بیک وقت فکر انگیز اور مسحور کن ہیں، استدلالی روایت کے حوالے سے اپنے موقف کے اس نہایت اہم پہلو کی توضیح ہے۔ وہ لکھتے ہیں : "روایت، واحد بھی ہے اور جمع بھی۔ کے فعال کرداروں کے لیے روایت میں نہ صرف تسلسلات ہوتے ہیں، بلکہ دخول وخروج کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں۔ روایت غلطیوں کے ساتھ ساتھ بے وفائی کو بھی برداشت کرتی ہے؛ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ (انگریزی میں) روایت (tradition) اور غداری (treason) دونوں کا ماخذ اشتقاق ایک ہے"17۔ اس کتاب اپنے بنیادی مقصد کے لحاظ سے طلال اسد کی اس دعوت کا عملی انطباق ہے کہ اسلام کا مطالعہ استدلالی روایت کی حیثیت سے کیا جائے۔ یہ ان مناہج کی تحقیق کرتی ہے جن میں ایک استدلال روایت یعنی جدید جنوبی ایشیا میں اسلام

مبنی بر استناد مباحثوں کے ایک مخصوص ماحول میں حریف افکار اور نظریاتی منصوبوں سے نبرد آزما ہوئی۔ یہ اس ماحول کا جائزہ لیتی ہے جس میں متخاصم نظریات، عقیدہ اور عمل کی معیاری اور مستند مآخذ سے جواز یافتہ صورتوں کے دائرے سے ایک دوسرے کو نکال باہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مختصر یہ کہ یہ کتاب جنوبی ایشیا میں اسلام کی تاریخ کے ان نازک لمحات کا جائزہ لیتی ہے، جن میں اس کی حدود کی تعیین کے حوالے سے نہایت نمایاں انداز میں بحث ومباحثہ ہو رہا تھا۔

آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ حالیہ عرصے میں استدلالی روایت کے بارے میں اسد کا نظریہ بد قسمتی سے بعض انتہائی غلط تعبیرات کی زد میں ہے۔ اس کی متعدد مثالوں میں سے ایک مثال شہاب احمد کی شاندار کتاب: What is Islam: The Importance of Being Islamic (پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2015) ہے۔ شہاب احمد استدلالی روایت کو بالکل غلط طور پر ایک واجب الاتباع (prescriptive) اور طبقاتی تصور سمجھتے ہیں، جس كا مقصد ایک مستند راسخ الاعتقادی کو محکم کرنا ہے۔ شہاب احمد کے الفاظ میں: "اسد کے، اسلام کو ایک 'استدلالی روایت' کی حیثیت سے پیش کرنے میں ایک دقیق لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک استدلالی روایت کی قطعی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صحیح (correct) بات کو دعوائے استناد کے ساتھ بیان کرنے کی حرکیات کام کر رہی ہوتی ہیں۔"(272)۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ روایت کا ایسا واجب الاتباع اور دعوائے استناد پر مبنی تصور روایت کے اندر ایسے مباحث اور اعمال کے شامل ہونے کی توضیح نہیں کرتا جو واجب الاتباع یا مبنی بر استناد ہونے کا دعوی ٰ نہیں کرتے یا، شہاب کے الفاظ میں، تفتیش ودریافت کا انداز لیے ہوتے ہیں۔ شہاب احمد اس سے یہ اہم نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسد کی استدلالی روایت کے تصور سے " راسخ الاعتقادی اور غیر راسخ الاعتقادی/تجدد پسندی کی ایک نئی ثنویت (binary)" جنم لیتی ہے جو اسلام کے طاقتور بیانات کو راسخ العقیدہ اور نسبتا کم طاقتور بیانات کو تجدد پسند قرار دیتی ہے(274)۔

یہ طلال اسد کی فکر کی ایک نادرست تفہیم ہے۔ اس میں کئی الجھنیں ہیں۔ میں ان میں سے کچھ کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔

اول یہ کہ زیادہ طاقتور یا بااختیار ہونا راسخ الاعتقادی کو یا کم طاقتور ہونا تجدد پسندی کو مستلزم نہیں۔ اسد کے نزدیک راسخ الاعتقادی کوئی ایسی شے یا حالت نہیں، جو تجرباتی معیار پر اور بڑے واضح انداز میں موجود ہو۔ جیسا کہ اسد نے واضح کیا ہے، کہ ستدلالی روایت میں سرگرم افراد راسخ الاعتقادی اور ربط وتوازن کے حصول کی شدید خواہش رکھتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اسے حاصل بھی کرلیں۔ مباحثے ومناقشے کے ذریعے سے ربط وتوازن کے حصول کی یہی خواہش وامنگ ایک سماجی گروہ کی اجتماعی زندگی کی تشکیل کو ممکن بناتی ہے۔ایک استدلالی روایت نہ ختم ہونے والے تنازعات کا اکھاڑہ ہوتی ہے، جنھیں تجرباتی معیارات پر یا تنظیمی انداز میں، سرکاری طور پر مستند درجہ دینا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ راسخ الاعتقادی کا تجرباتی سطح پر قابل پیمائش تصور، جس کے ذریعے زیادہ طاقت زیادہ راسخ الاعتقادی کو جنم دیتی ہے اور کم طاقت، کم راسخ الاعتقادی کو، یہ ایک ایسا اضافہ ہے جو شہاب احمد نے اسد کے نظریاتی منہج پر اپنی طرف سے شامل کیا ہے۔

دوسرا یہ کہ اسد کا استدلالی روایت کے تصور میں قطعیت یا عمودی تسلسل شامل نہیں۔ استدلالی روایت کے تصور کو راسخ الاعتقادی کے فروغ کا ایک آلاتی وسیلہ قرار دینا اس نظریے کو اس کی اہم ترین بصیرت سے محروم کر دینا ہے۔ ایک استدلالی روایت طاقت کے ان رشتوں کو اپنے اندر سموتی ہے، جن کے ذریعے ایک سماجی گروہ عملی زندگی بسر کرتا اور اس پر بحث ومناقشہ کو جاری رکھتا ہے۔ یہ ایک، عملی زندگی میں پیوست اخلاقی استدلال ہوتا ہے "جس میں طاقت کی پشت پناہی کے ساتھ، کچھ منفرد نظریات نہ صرف تصورات کے مربوط مجموعے اور ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں لاتے ہیں، بلکہ ایسی منفرد حساسیتیں، جذبات اور رجحانات بھی پیدا کرتے ہیں جن کی رو سے ایک شخص کچھ مخصوص طریقوں پر عمل کرتا اور ان کے علاوہ دیگر طریقوں پر عمل نہیں کرتا "18۔ استدلالی روایت کو تشکیل دینے والے دلائل میں معیاری اور واجب الاتباع طریقوں کو تحقیق وتفتیش کی نوعیت رکھنے والے عمل سے الگ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسد کی فکر میں صحیح ہونے کا تصور ایک متعین اور مشخص راسخ الاعتقادی کو واجب الاتباع قرار دینے کو مستلزم نہیں ۔ اور اسی خاص وجہ سے استدلالی روایت تو عمودی تسلسل پر مبنتی ہوتی ہے اور نہ وہ طبقاتی ہوتی ہے، کیوں کہ کسی روایت کے زمان کے ساتھ وابستہ اور بحث ونزاع کی خصوصیت سے متصف ہونے کے باعث اس کو کبھی بھی معروضی تسلسل یا استحکام کے سانچے میں سکیڑا نہیں جا سکتا۔ آخری بات یہ کہ طلال اسد کے تصور کی تفہیم میں شہاب احمد کی بنیادی غلط فہمی کا باعث روایت اور طاقت کا نسبتاً ایک سادہ تصور ہے۔ جیسا کہ میشل فوکو نے بہ تکرار واضح کیا ہے، طاقت اور فکری بحث ومباحثہ کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس لیے بحث ومباحثہ کی کوئی بھی صورت، چاہے وہ تحقیق وتفتیش کی نوعیت رکھتی ہو یا نفی وتضاد کی یا کوئی اور، طاقت سے یا اختیار کے ساتھ تعامل سے دامن نہیں بچا نہیں سکتی۔ شہاب احمد غلط طور پر یہ فرض کرتے ہیں کہ تحقیق وتفتیش کی نوعیت کا بحث ومباحثہ طاقت سے مقدم ہوتا ہے، بلکہ کسی بھی قسم کی تحقیق وتفتیش جیسے ہی معرض اظہار میں آتی ہے، فورا طاقت میں پیوست ہو جاتی ہے، اور ہمیشہ اسے ایک منفرد استطاعت اور حساسیت کا درجہ پہلے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ در اصل غیر مبنی بر استناد بحث نزاع کا تصور ہی یہ فرض کرتا ہے کہ ایک مبنی بر استناد بحث ومباحثہ کا سلسلہ پہلے سے موجود ہے۔

اسد کے استدلالی روایت کے تصور کے ساتھ ساتھ ایک اور فکری کلید جو اس کتاب کے مقاصد میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، "مباحثہ کے عارضی ظروف وحالات" ہیں۔ میں نے یہ تصوّر بدھ مت کے عالم اَنَندا اَبِیسیکارا (Ananda Abesekara) سے اخذ کیا ہے۔ چند سال پہلے سری لنکا کے معاصر بدھ مت پر اپنی شاندار تحقیق میں ابیسیکارا نے مذہب، روایت اور اصلاح کے پہلے سے بنے ہوئے (a priori) تصورات کو ان اشخاص پر تھوپنے کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کیا جو کسی دینی روایت کے حدود کو کنٹرول کرنے کے لیے جد وجہد کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں اس کے بجائے ان ہنگامی اور عارضی حالات کی تحقیق کرنی چاہیے، جن میں مخصوص مادی، اداراتی اور علمیاتی حالات مل کر یہ طے کرتے ہیں کہ کون سی چیز مذہب ہے اور کون سی نہیں۔19

باَلفاظِ دیگر بین المسالک (یا بین المذاہب) مذہبی تنازعات میں ظاہر ہونے والی مذہب کی مختلف صورتوں کو واضح طور پر موجود کچھ خانوں میں بانٹ کر، ایک معیار کی حیثیت نہیں دی جا سکتی، بلکہ ان عارضی حالات کی تحقیق کی جانی چاہیے، جو ان تنازعات کو ممکن بناتے ہیں، اور جن میں وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس پراسس کو محیط عارضی احوال کو نمایاں کرنے سے جس میں کسی مذہب کے حدود کے بارے میں بحث ونزاع کی جا رہی ہوتی ہے، یہ طریق فکر کا نتیجہ مآل کار یہ سامنے آتا ہے کہ مذہب کو قطعی ممتاز اور واضح خانوں میں بانٹنا ناممکن ہے۔ مجھے مذہب اور مذہبی زندگی کی تحقیق کے لیے ابیسیکارا کا یہ، احوال وظروف کو اہمیت دینے والا منہج بے انتہا دل کش معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک استدلالی روایت کی منطق اور تنازعات کی تحقیق کے لیے ایک ایسا طریق کار فراہم کرتا ہے، جو مذہب کی تعریف وتحدید کی لبرل سیکولر خواہش کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔ ابیسیکارا بالکل طلال اسد کی طرح (جن کے افکار سے وہ بے انتہا مستفید ہوئے ہیں) اصرار کرتے ہیں کہ مذہب، بالکل زندگی کی طرح، ہمیشہ تعریف وتحدید کی گرفت سے آزاد رہتا ہے۔

اس کتاب میں، میں نو آبادیاتی جنوبی ایشیا میں اسلام کی کہانی میں بحث واختلاف کے بہت اہم احوال وظروف کی تحقیق پیش کروں گا۔ میں روایت اور اصلاح کی ان حریف عقلیات کی تفصیل سامنے لاؤں گا جو ان مخصوص حالات میں نمایاں ہوئیں، اور جن میں اس سوال پر مبنی براستناد مجادلہ کیا گیا کہ کون سی چیز اسلام ہے اور کون سی نہیں۔ اس کاوش کے ذریعے میری کوشش ہوگی کہ یہ واضح کر سکوں کہ ان عقلیات کو اصلاح پسند/غیر اصلاح پسند، فقہی/صوفی اور روایتی/جدید جیسی محدود دوگانہ تقسیمات کی مدد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ متبادل منہج کے طور پر میں تجویز کروں گا اور دکھاوں گا کہ مسلمانوں کے درمیان بریلوی-دیوبندی جیسے بین المسالک تنازعات کے سلسلے کو، جو حاکمیتِ اعلیٰ کے بدلتے تصورات اور حالات سے اثر پذیر تھے، تشکیل معاشرہ کے حریف بیانیوں کی ایک مثال کی حیثیت سے سمجھا جائے۔ یہ حریف بیانیے فقہ، عقائد اور روزمرہ اعمال کے باہمی تعامل کی باہم متضاد تفہیمات کی عکاسی اور اظہار کرتے ہیں۔ ان کی بنیاد خدا، پیغمبر اور سماج کے درمیان تعلق کے متخالف تصورات پر ہے۔ ایک بار پھر عرض ہے کہ یہ اس کتاب کا مرکزی استدلال ہے۔

حواشی

  1. ایک فتوے کے بعد اترپردیش میں 200 شادیاں دوبارہ ہوئیں۔ ٹائمز آف انڈیا، 5ستمبر، 2006۔
  2. ایضًا۔
  3. ممتاز قادری کو حکومتِ پاکستان نے فروری 2016 میں سزا دی۔ لیکن وہ توہینِ رسالت اور انتہا پسندی کے سے متعلق  بحث مباحثے میں اب تک ایک انتہائی متنازعا شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ انھیں عدم برداشت اور انتہا پسندانہ تشدد کی علامت سمجھتے ہیں، جب کہ کئی لوگوں کی نظر میں، بالخصوص شہروں، میں وہ شہیدِ ناموس رسالت ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی نے سیاسی تنظیم تحریکِ لبیک یا رسول اللہ (اے اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں) کی شہرت اور اٹھان  میں دن دوگنا رات چوگنا اضافہ کیا، جس کی قیادت اس وقت  شعلہ انگیز خطیب مولوی خادم رضوی  کر رہے ہیں۔ تحریک لبیک 2018 کے عام انتخابات میں پانچویں بڑی پارٹی کی حیثیت سے سامنے آئی، اور زیادہ تر قانونِ توہینِ رسالت کے تحفظ کے نام پر بیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ (مولانا خادم حسین رضوی   19 نومبر 2020 کو وفات پا گئے۔ تحریکِ لبیک کے موجودہ امیر مولانا سعد حسین رضوی ہیں۔ از مترجم )
  4. عدالت نے امام اور اس کے بیٹے کو توہین رسالت کے جرم میں سزا سنائی۔ ڈان، 11 جنوری، 2011۔
  5.  مہاجر جنوبی ایشیائی مسلمانوں کے مناظروں کے سیاق -جیسے جنوبی افریقا- کے لیے ملاحظہ کریں برانن انگرام کی عمدہ تحقیق: Revival from Below: The Deoband Movement and Global Islam (برکلے: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس، 2018)۔
  6.  اس کتاب میں ذکر کیے گئے کرداروں کا تصورِ اصلاح ہمیشہ بنیادی انقلاب کے ہم معنی  نہیں۔ اس کے بجاے ان کے نزدیک اصلاح ایک طرح کی رفوگری و پیوند کاری  کا عمل ہے، اور عقائد وطرزِ حیات کے غلط رویوں کو راہ راست پر لانا ہے۔اصلاح کے عمل میں دین کی حفاظت اور  تقویت دونوں شامل ہیں۔ مسلمانوں کے علمی افکار اور تاریخ میں اصلاح کے اس تصور کی مزید وضاحت کے لیے Islamic Political Thought میں ملاحظہ  ہو: ابراہیم موسیٰ اور شیر علی ترین، Revival and Reform in Islam، تدوین گرہارڈ باورنگ (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس)، 202-219۔
  7. اس پوری کتاب میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (Divine Sovereignty) کا لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے، جن میں اس کتاب میں مذکور شخصیات نے اسے استعمال کیا ہے، یعنی یہ کہ یہ صرف خدا کی قدرتِ مطلقہ اور اختیارِ کامل ہے جس پر اس کی توحید اور یکتائی قائم ہے۔ اس پروجیکٹ کے سیاق میں توحید کے علاوہ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے مفہوم کی ادائیگی کے لیے قدرۃ (اردو اور فارسی میں قدرت) یا قدرتِ الہٰی اور اختیار کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ ماقبل جدید اور جدید اسلامی فکر میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے تصور کو جن متنوع اور عموما مختلف مفاہیم میں بیان کیا جاتا ہے، ان کی ایک مختلف زاویے سے عمدہ تحقیق کے لیے ملاحظہ ہو: محمد زمان، The Sovereignty of God in Modern Islamic Thought ، جرنل آف رائل ایشیاٹک سوسائٹی 25، نمبر 3 (جولائی 2015)، 389-418؛ اینڈریو مارچ، Genealogies of Sovereignty in Islamic Political Theology، سوشل ریسرچ 80، نمبر 1 (بہار: 2013): 293-320؛ احمد عبد المجید، Reserving Schmitt: The Sovereign as a Guardian of Rational Pluralism and the Peculiarity of the Islamic State of Exception in al-Juwayni’s Dialectical Theology، یورپین جرنل آف پولیٹیکل تھیالوجی، جس کی اشاعت 12 ستمبر 2017 کو آن لائن ہوئی۔
    http://doi.org/10.1177%2F147885117730672
    اس کتاب میں جن علما کی فکر زیرِ بحث ہے، بنیادی طور ان کا تعلق پر دہلی/ہندوستان کے شمالی خطے میدانِ گنگا سے ہے۔ 'ہندوستانی مسلمانوں' کی اصطلاح محدود بھی ہے اور تاریخی اعتبار سے نا مناسب بھی، تاہم اسے میں سہولت اسلوب کی خاطر استعمال کر رہا ہوں، کیوں کہ 'ہندوستانی بولنے والے مسلمان' اور 'شمالی ہندوستان کے مسلمان' زیادہ ثقیل  لگتا ہے، یا ان علما کے تصور کردہ مخاطبین کے اعتبار سے کافی محدود ہے۔ میں تعبیری تنوع کی خاطر 'ہندوستانی مسلمانوں' اور 'جنوبی ایشیائی مسلمانوں' کی تعبیرات بھی  ایک ہی مفہوم کے لیے استعمال کروں گا۔
  8. پاکستان میں بریلوی دیوبندی تنازع کی مفید تحقیق وتجزیے کے لیے ملاحظہ ہو: محمد وقاص سجاد، For the Love of Prophet: Deobandi-Barelvi Polemics and the Ulama in Pakistan (پی ایچ ڈی کا مقالہ، گریجویت تھیالوجیکل یونین، 2018)۔
  9. جنوبی ایشیا میں مدارس کی علمی روایت اور تاریخ کے لیے ملاحظہ کریں: ابراہیم موسی، What is a Madrasa? (چیپل ہل: یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا پریس، 2015)۔ مزید دیکھیں: رابرٹ ہیفنر اور محمد قاسم زمان، مدونین، Schooling Islam: The Culture and Politics of Modern Muslim Education (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2007)۔
  10. جنوبی ایشیا اور اس سے ہٹ کر داخلی تنقید کے ان چند ادوار کے ایک عمدہ تجزیے کے لیے دیکھیے: محمد قاسم زمان، Modern Islamic Thought in a Radical Age: Religious Authority and Internal Criticism (نیو یارک: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012)۔
  11. کیشیا علی، The Lives of Muhammad (کیمبرج، ایم اے: ہاورڈ یونیورسٹی پریس، 2014)، 43۔
  12. ارشد عالم، Inside a Madrasa: Knowledge, Power, and Islamic Identity in India (نیو دلی، روٹلیج، 2011)؛ نویدہ خان، Muslim Becoming: Aspiration and Skepticism in Pakistan (ڈرہم، این سی: ڈیوک یونیورسٹی پریس، 2012)۔
  13. مثال کے طور پر دیکھیے: سنی فورٹ (www.Sunniport.com)، فلاح ریسرچ فاؤنڈیشن (www.falaah.co.uk) اور اہل السنہ فورم (http://ahlussunnah.boards.net)۔
  14. طلال اسد، Anthropology and the Analysis of Ideology، مین، این ایس، 14 (1979): 607-627۔
  15. ڈیوڈ سکاٹ اور چارلس ہرش کائنڈ، مدونین، Powers of the Secular Modern: Talal Asad and His Interlocuters ميں ديكهيے: طلال اسد، Responses (سٹينفرڈ، سی اے: سٹینفرڈ یونیورسٹی پریس، 2016)، 212۔
  16. طلال اسد، The Idea of an Anthropology of Islam (واشنگٹن، ڈی: سنٹر فار کانٹیمپرری عرب سٹڈیز، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، 1986)۔
  17. طلال اسد، Thinking about Tradition, Religion and Politics in Egypt Today، کریٹیکل انکوائری 42، شمارہ 1 (خزاں 2015): 169۔
  18. انندا ابیسیکارا، Thervada Buddhist Encounters with Modernity: A Review Essay، جرنل آف بدھسٹ ایتھکس 25 (2018): 333-371۔
  19. انندا ابیسیکارا، Colors of the Robe: Religion, Identity, and Difference (کولمبیا: یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا پریس، 2003)۔
(جاری)