غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مساجد کا حکم
محمد عمار خان ناصر
گذشتہ دنوں کراچی میں ایک مسجد کے انہدام سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم قومی سطح پر زیربحث رہا اور اس کی موزونیت یا غیر موزونیت پر مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے۔ اس ضمن میں کسی خاص مقدمے کے اطلاقی پہلووں سے قطع نظر کرتے ہوئے، اصولی طور پر یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی مساجد کا فقہی حکم کیا ہے ۔ چونکہ عموماً اس حوالے سے جو فقہی موقف اور استدلال سامنے آ رہا ہے، وہ ادھورا اور فقہ وشریعت کی درست اور مکمل ترجمانی نہیں کرتا، اس لیے کچھ اہم توضیحات یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
پہلی بات جو اس بحث میں بہت عام کہی گئی، وہ یہ تھی کہ مسجد اگر کسی کی زمین غصب کر کے بھی تعمیر کی گئی ہو تو تعمیر ہو جانے کے بعد اسے گرانا جائز نہیں، بلکہ اس کی تلافی مالک کو زمین کی قیمت اور تاوان وغیرہ ادا کر کے کی جا ئے گی۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے اور نہ صرف دین وشریعت کا ابتدائی فہم رکھنے والا شخص اس کی غلطی کو واضح طور پر سمجھ سکتا ہے، بلکہ اس پر مستند اداروں کے فتاویٰ بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر جامعہ الازہر کے فتوے کے مطابق ایسی زمین پر مسجد کی تعمیر جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور اگر مسجد بنا لی جائے تو بھی اس کو مسجد نہیں سمجھا جائے گا اور زمین کے مالک کو اسے گرا دینے کا حق حاصل ہے۔
اسی طرح جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی کے فتوی نمبر 144202200526 میں کہا گیا ہے کہ
’’شرعی مسجد کی جگہ خالص اللہ کے لیے وقف جگہ ہوتی ہے اور جگہ وقف کرنے کی ایک شرط اس جگہ کا مالک ہونا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ غاصب زمین کا مالک نہیں ہوتا، لہذا غصب شدہ زمین میں مسجد بنانے سے وہ مسجد شرعی مسجد نہیں کہلائے گی۔ نیز زمین غصب کرنا اور اس پر مسجد بنانا گناہ ہے۔"
غصب شدہ زمین پر بنائی گئی مسجد کو شرعی تحفظ دینے کے موقف سے جو عمومی تاثر بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ بس جہاں مسجد کا نام آ جائے، سب اخلاقی اور قانونی ضابطے معطل ہو جاتے ہیں اور جہاں بھی جیسے بھی ایک دفعہ مسجد بن جائے، اس کو شرعی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ نوعیت کے لحاظ سے ویسا ہی ایک تاثر ہے جیسا توہین مذہب کے معاملے میں عام ہو گیا ہے کہ جہاں گستاخی کا کوئی واقعہ ہو جائے تو پھر مذہبی جذبات ہی بنیادی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، اور قانون ضابطوں کو ان کے تابع ہو جانا چاہیے۔ ہمارے نزدیک اس تاثر کا ازالہ اور ان کے پیچھے کارفرما انداز فکر کی غلطی واضح کرنا بھی دینی نقطہ نظر سے اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی انتظامی یا عدالتی فیصلے کی ناموزونیت پر سوالات اٹھانا۔
دوسری اہم بات جو اس حوالے سے کہی گئی، یہ ہے کہ سرکاری املاک کا حکم انفرادی ملکیت سے مختلف ہے اور سرکاری زمین پر اگر لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت حکومتی اجازت کے بغیر بھی مسجد تعمیر کر لی ہو تو اس کو گرایا نہیں جا سکتا، بلکہ حکومت پر اس کی قانونی منظوری دینا لازم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بات علی الاطلاق اور اس عموم کے ساتھ درست نہیں جس طرح پیش کی جا رہی ہے۔ حنفی فقہ کی کتب میں اس مفہوم کی جزئیات یقیناً موجود ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ جو زمینیں ملکیت عامہ کی نوعیت رکھتی ہوں، یعنی کسی کی انفرادی ملکیت میں یا کسی خاص مقصد کے لیے وقف شدہ نہ ہوں، وہاں اگر علاقے کے مسلمان دینی ضرورت کے تحت مسجد تعمیر کر لیں تو یہ درست ہے اور اسے بھی شرعی مسجد کا درجہ حاصل ہوگا اور وہ تمام احکام اس پر جاری ہوں گے جو ایک مسجد پر ہوتے ہیں۔ ان فقہی جزئیات کی بنیاد دراصل اس قانونی مفروضے پر ہے کہ ایسی جگہیں مفاد عامہ کے لیے ہوتی ہیں اور حکومت کی طرف سے عوام کو ایک طرح کی خاموش اجازت حاصل ہے کہ وہ حسب ضرورت انھیں مسجد کے لیے خاص کر لیں۔ فقہاء کی مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ حکام وقت کی طرف سے لوگوں کویہ اجازت عمومی طور پر اور ہمیشہ کے لیے حاصل رہنا کوئی شرعی تقاضا ہے اور وہ اس کو حکومت کی پیشگی اجازت سے مشروط نہیں کر سکتے۔
پس ان فقہی تصریحات سے استشہاد اسی صورت میں پر درست ہو سکتا ہے جب حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی قانون سازی موجود نہ ہو۔ اس صورت میں اسے اجازت سکوتی پر محمول کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کو لوگوں کے ایک فیصلے یا اقدام پر کوئی اعتراض نہیں۔ اسی کو فقہ میں دلالتاً اجازت دینا کہا جاتا ہے۔ تاہم اگر حکومت نے باقاعدہ سرکاری املاک کے متعلق ایک قانون سازی کر دی ہو اور بغیر سرکاری اجازت کے کسی بھی جگہ کو تصرف میں لانا ممنوع قرار دیا ہو تو پھر مذکورہ فقہی جزئیات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا ۔ ہمارے دور میں، یہ معلوم ہے کہ حکومتوں کی طرف سے سرکاری املاک کے متعلق ، بالخصوص شہری آبادیوں میں، ایسی کوئی خاموش اجازت لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی، بلکہ ایسا کرنے کو خلاف قانون اور جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ان جزئیات کو آج کے حالات پر منطبق کرنا اور یہ نتیجہ نکالنا کہ سرکاری املاک پر مسجد بنانے کے لیے کسی حکومتی اجازت کی ضرورت نہیں اور ایسی جو بھی مسجد بنا لی جائے، وہ حکومتی اجازت کے بغیر بھی شرعی مسجد ہوتی ہے جسے گرانا خود حکومت کے لیے بھی جائز نہیں، قطعی طور پر فقہاء کے موقف کی درست ترجمانی نہیں ہے۔
اس تناظر میں، دار العلوم دیوبند کے مختلف فتاویٰ جات میں تمام ضروری فقہی وشرعی قیود کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس مسئلے کی جو نوعیت واضح کی گئی ہے، ہمارے نزدیک وہ زیادہ مستند اور درست تعبیر ہے اور اسی حوالے سے ان فتاویٰ جات کا ایک انتخاب ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
- ’’سرکاری زمین پر سرکاری اجازت کے بغیر مسجد کی تعمیر درست نہیں، تاہم اگر مسجد بنائی گئی تو کوشش کرکے سرکار سے اجازت بھی لے لی جائے، اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا مگر مسجد شرعی میں نماز ادا کرنے کی طرح ثواب نہ ملے گا الا یہ کہ حکومت کی طرف سے اجازت مل جائے۔” (فتویٰ نمبر 67272)
- ’’سرکاری زمین میں سرکار کی اجازت سے مسجد تعمیر کرنی چاہیے، سرکاری زمین میں بغیر سرکار کی اجازت سے مسجد تعمیر کرنا صحیح نہیں، اگر کسی جگہ سرکاری زمین پر مسجد تعمیر کرلی گئی ہے تو کوشش کرکے حکومت سے اجازت لے لینی چاہیے تاکہ وہ شرعی مسجد بن جائے۔ (۲) راستہ کی زمین پر مسجد تعمیر کرنا یا مسجد کے کسی کام میں لانا درست نہیں۔” (فتویٰ نمبر 58857)
- ’’جو راستہ شارع عام ہے، اس کو مسجد کی توسیع میں شامل کرلینے کے لیے حکومت سے اجازت ضروری ہے۔” (فتوی نمبر 145278)
- ’’سرکاری زمین پر سرکار کی اجازت کے بغیر مسجد کا وضو خانہ، حمام و غیرہ بنانا جائز نہیں ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں مسجد سے ملی ہوئی سرکاری زمین پر وضو خانہ، حمام و غیرہ بنانا جائز نہیں ہے۔ ” (فتویٰ نمبر 63790)
- ’’جہاں سے ہائی ٹینشن بجلی کے تار گذرے ہوں، جب اس کے نیچے بلڈنگ بنانا غیر قانونی ہے تو مسجد بنانا بھی غیر قانونی ہوگا، پس ایسی صورت میں مالک زمین کو چاہیے کہ پہلے وہ متعلقہ محکمہ سے رابطہ کرکے تار ہٹوائے یا ان کی منظوری ختم کرائے ، اس کے بعد مسجد کی تعمیر کا کام شروع کرائے ؛ تاکہ مسجد کو کسی طرح کا خطرہ نہ ہو اور لوگ بلا خوف وخطر مسجد آکر نماز باجماعت ادا کرسکیں۔” (فتویٰ نمبر 159187)
- "وہ مصلیٰ مسجد شرعی نہ ہوگا یعنی وہاں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا۔” (فتویٰ نمبر 169425)
- ’’مسجد کے ایسے حصے میں نماز ادا ہوجائے گی، البتہ غیر قانونی جگہ کو حکومت سے منظوری لیے بغیر مسجد میں شامل کرنا جائز نہیں، وہ جگہ مسجد شرعی نہیں کہلائے گی، اس لیے اس جگہ کو مسجد میں شامل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ سرکار سے کسی طرح اجازت حاصل کی جائے خواہ قیمتاً ہی سہی، سرکار سے اجازت لیے بغیر اس جگہ کو مسجد میں شامل نہ کیا جائے۔” (فتویٰ نمبر 9092)
- ’’مسجد کی تاریخ ساٹھ سال پرانی ہے تو اس کو آپ حضرات باقی رکھیں، اگر اس کی زمین اب بھی حکومت کی ملکیت ہے تو اب باضابطہ طور پر حکومت سے اجازت حاصل کرلی جائے، اجازت مل جانے پر وہ مسجد، مسجدِ شرعی کہلائے گی۔” (فتوی نمبر 17357)
- "ماضی میں کبھی، سڑک کا کوئی حصہ مسجد میں شامل کرلیا گیا گیا تھا، اب جب مسجد کی تعمیر نو ہورہی ہے تو سڑک کا وہ حصہ خارج کردیا جائے، تعمیر میں نہ لیا جائے اور مسجد صرف اپنی اصل جگہ پر تعمیر کی جائے، اور اگر سرکار کا متعلقہ محکمہ سڑک کا وہ حصہ مسجد کے نام منظور کردے تو اُس حصے کو مسجد میں شامل کرنے میں کچھ مضائقہ نہ ہوگا، سرکار کی اجازت ومنظوری کے بعد وہ حصہ شرعاً وقانوناً مسجد کا ہوجائے گا۔” (فتویٰ نمبر 603728 )
- ’’اگر حکومت سے باقاعدہ مسجد کے نام زمین الاٹ کراکے سرکاری زمین پر مسجد بنائی جائے یا روڈ کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کرلیا جائے بشرطیکہ مسجد کی توسیع میں اس کی ضرورت ہو اور اس کی وجہ سے راستہ بہت تنگ ہوکر لوگوں کے لیے زحمت ودشواری کا باعث نہ ہوجائے تو اس میں کچھ حرج نہیں، جائز ہے۔ ” (فتوی نمبر 58336)
- ’’اگر واقعی وہ زمین قبرستان کی ہے تو چونکہ وقف کی بیع باطل ہے ؛اس میں بیع کا نفاذ نہیں ہوتا ؛اس لیے اس زمین پر دوکان یا مکان بناکر بیچنا درست نہیں،آپ اس بیع کو ختم کرکے رقم واپس لے لیں اور جو کچھ تعمیر کرا رکھا ہے اس کو منہدم کرکے ملبہ کو اپنے استعمال میں لائیں،یہ آپ سے غلطی ہوئی کہ آپ نے بلا تحقیق زمین خرید لی ،اور بائع پر ضروری ہے کہ اس زمین کو قبرستان کی کمیٹی کے حوالہ کردے ،اس کے لیے اس زمین کو فروخت کرنا جائز نہیں۔” (فتوی نمبر 165214)
- ’’صورت مسئولہ میں جس زمین پر مسجد بنائی گئی ہے اگر وہ زمین ننانوے سال کے لیے پٹہ پر لی گئی ہے ، تو ایسی زمین پر مسجد شرعی نہیں بن سکتی، کسی زمین کے مسجد شرعی بننے کے لیے ضروری ہے کہ مالک زمین نے اس کو مسجد کے لیے وقف کیا ہو، پٹہ کی زمین پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی، لہذا ایسی زمین میں شرعا وقف کا تحقق نہیں ہوتا؛ ہاں ضرورت کے وقت ایسی زمین میں جماعت خانہ بنایا جاسکتا ، جس میں پنج وقتہ فرض نمازیں جماعت کے ساتھ اداء کی جاسکتی ہیں ، اس میں انشاء اللہ جماعت کا ثواب ملے گا، صورت مسئولہ میں جبکہ الگ سے کسی مسجد کا نظم مشکل ہے ، تو متعلقہ شخص کے ساتھ حکمت اور حسن تدبیر سے بات کر لی جائے ، تاکہ جماعت خانہ میں نماز جاری رہے ۔” (فتویٰ نمبر 146164)”
مذکورہ فتاویٰ سے متعلق مکمل سوال وجواب دیکھنے کے لیے دار العلوم کے دار الافتاء کی ویب سائٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
https://darulifta-deoband.com/
دار العلوم کے ان فتاویٰ جات سے درج ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:
۱۔ سرکاری زمین پر حکومتی اجازت کے بغیر مسجد کی تعمیر جائز نہیں۔ اسی طرح مسجد کی توسیع کے لیے بلا اجازت سرکاری زمین کو مسجد کا حصہ بنانا بھی جائز نہیں۔ مسجد کے متعلقات مثلاً وضو خانہ اور بیت الخلاء وغیرہ کے لیے بھی سرکاری زمین بلا اجازت استعمال کرنا جائز نہیں۔ (فتویٰ نمبر 67272 ، فتویٰ نمبر 58857، فتوی نمبر 145278، فتویٰ نمبر 63790)
۲۔ جس جگہ پر قانون کے مطابق کوئی بھی عمارت بنانا، ناجائز ہو، وہاں مسجد بنانا بھی ناجائز ہے۔ مسجد کو اس حوالے سے کوئی استثنا یا خصوصیت حاصل نہیں۔ (فتویٰ نمبر 159187)
۳۔ اگر کسی جگہ بغیر اجازت مسجد بنا لی گئی ہو یا کسی حصے کو مسجد میں شامل کر لیا گیا ہو تو اس کی حیثیت جائے نماز یا مصلیٰ کی ہے جس پر مسجد کے احکام لاگو نہیں ہوتے اور اس میں نماز کی ادائیگی پر مسجد کی نماز کا ثواب بھی نہیں ملتا۔ (فتویٰ نمبر 169425، فتویٰ نمبر 9092)
۴۔ اجازت وہی معتبر ہے جسے قانونی طور پر اجازت شمار کیا جاتا ہو۔ اگر کسی سرکاری جگہ پر نماز باجماعت کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہو اور سرکاری افسران نے بھی اس پر اعتراض نہ کیا ہو تو اس کے باوجود قانونی طور پر حکومتی اجازت ملنے تک وہ مسجد شرعی نہیں بنے گی، یعنی افسران کی رضامندی یا خاموشی کو سرکاری اجازت شمار نہیں کیا جا سکتا۔ (فتوی نمبر 17357)
۵۔ اگر ماضی میں سرکاری زمین کا کوئی حصہ بلا اجازت مسجد میں شامل کر لیا گیا ہو تو اسے سرکاری اجازت سے ہی مسجد میں شامل رکھا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اس کی اجازت نہ دے تو نئی تعمیر میں اس کو مسجد سے خارج کر دینا ضروری ہے۔ (فتویٰ نمبر 603728 )
۶۔ اگر مسجد کی توسیع سے گزرگاہ تنگ ہوتی ہو اور لوگوں کی آمد ورفت متاثر ہوتی ہو تو سرکاری اجازت کے باوجود مسجد کی توسیع کرنا درست نہیں ہے۔ (فتوی نمبر 58336)
۷۔ اگر غلطی یا لاعلمی سے کسی دوسرے مقصد مثلاً قبرستان کے لیے وقف کی گئی جگہ پر مسجد بنا لی گئی ہو تو علم میں آنے پر اس کو منہدم کرنا اور قبرستان کو جگہ واپس کرنا شرعاً ضروری ہے۔ (فتوی نمبر 165214)
۸۔ کرایے کی جگہ پر یا عارضی اور محدود مدت کے لیے حاصل کی گئی جگہ پر قائم کی گئی مسجد کی حیثیت بھی مصلیٰ کی ہے، اس پر مسجد شرعی کے احکام جاری نہیں ہوتے۔ (یہی حکم مختلف اداروں میں نماز کے لیے خاص کی گئی جگہ کا ہے جنھیں باقاعدہ مسجد کے طور پر وقف نہ کیا گیا ہو)۔ (فتویٰ نمبر 146164)
ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم
حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کی وفات
محمد عمار خان ناصر
ممتاز اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلیؒ کئی سال کی علالت کے بعد گذشتہ دنوں انتقال فرما گئے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلیؒ سے پہلا تعارف غالباً نوے کی دہائی میں ان کی تصنیف ’’واقعہ کربلا“ کے حوالے سے ہوا تھا۔ رسمی طالب علمی کا دور تھا۔ کتاب انڈیا سے چھپی تھی، لیکن متنازعہ موضوع کی وجہ سے اس کا غیر قانونی ایڈیشن پاکستان سے بھی چھپا اور بڑے پیمانے پر فروخت ہوا۔ عم مکرم مولانا عبد الحق خان بشیر نے اس پر ایک تفصیلی تنقید ماہنامہ ’’حق چاریار’’ میں شائع کی جس میں بنیادی طور پر کتاب کے قابل نقد اقتباسات اور اکابر دیوبند کی آرا سے ان کا اختلاف نمایاں کیا گیا تھا۔ والد گرامی ان دنوں برطانیہ میں تھے اور اس حوالے سے انھوں نے عم مکرم کو ایک خط بھی لکھا جس کی نقل ریکارڈ میں کہیں محفوظ ہوگی۔
۲۰۰۱ء کے بعد الشریعہ کی ادارت کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تو اس میں مباحثہ ومکالمہ کا ایک مستقل سلسلہ شروع کیا گیا جو روایتی مذہبی حلقوں کے لیے بہت تعجب انگیز اور باعث اضطراب تھا۔ نہ صرف دیوبندی حلقے بلکہ دیگر مکاتب فکر کے ذمہ دار حضرات نے اس پر ناپسندیدگی ظاہر کی، کیونکہ اس میں بہت سے نازک مسائل پر مختلف نقطہ ہائے نظر ادارے کی طرف سے صحیح یا غلط کا کوئی حکم لگائے بغیر پیش کیے جا رہے تھے جس سے، ناقدین کے خیال میں، مستند مسلکی یا مذہبی موقف کے قابل بحث اور قابل اختلاف ہونے کا تاثر پیدا ہوتا تھا۔ مباحثہ ومکالمہ کے اس سلسلے کی جن اہل علم نے واضح طور پر تائید اور سرپرستی فرمائی، ان میں حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلیؒ بھی تھے۔ ان کا خط الشریعہ میں شائع شدہ ہے جس میں انھوں نے لکھا کہ یہ نیا طرز باعث دلچسپی ہے اور خاص طور پر برادرم میاں انعام الرحمن کی تحریروں کی خصوصی توصیف کی جو ان دنوں الشریعہ میں سنجیدہ موضوعات پر مستقل لکھا کرتے تھے۔
مولانا سنبھلیؒ، اس کے بعد سے، علالت کے آخری چند سال نکال کر، نہ صرف مجلے کے مستقل قاری رہے، بلکہ اپنے خطوط، تبصروں اور کئی اہم موضوعات پر اپنی تحریروں کے ذریعے سے مجلے کی علمی سرپرستی بھی فرماتے رہے۔ ۲۰۰۳ء میں مسجد اقصیٰ کی تولیت پر راقم کا تفصیلی موقف شائع ہوا تو جن بڑے اہل علم کی طرف سے اس پر حوصلہ افزائی موصول ہوئی، ان میں بھی مولانا سنبھلیؒ کا نام نمایاں تھا۔ مولانا کا یہ خط بھی الشریعہ میں شائع شدہ ہے۔ طالبان کی حکومت کے سقوط کے کچھ سال کے بعد مولانا نے ’’خواب جو بکھر گیا“ کے عنوان سے طالبان کی پالیسیوں کا ایک تنقیدی جائزہ پیش کیا جو الشریعہ میں شائع ہوا اور کافی بحث ونقد کا موضوع بنا۔
الشریعہ اور والد گرامی کے توسط سے مولانا علیہ الرحمہ کے ساتھ ناچیز کا ایک خاص ذاتی تعلق بھی استوار ہو گیا اور وہ بزرگانہ شفقت کے ساتھ کئی مسائل میں اپنے ذاتی ملاحظات سے بھی نوازتے رہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے حلقے سے متعلق ان کی رائے کافی منفی تھی جس کا وہ کھلا اظہار بھی فرماتے تھے۔ ۲۰۰۱ء میں والد گرامی اور المورد کے اہل قلم کے مابین تین چار اہم موضوعات پر ایک تفصیلی مباحثہ ہوا جو الشریعہ اور اشراق کے علاوہ بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوا۔ مولانا نے اس پر والد گرامی کو تفصیلی خط لکھا جس میں فرمایا کہ غامدی صاحب کو فکری طور پر مولانا اصلاحی کی طرف منسوب کرنا درست نہیں اور وہ دراصل مولانا مودودی کے حلقے کے آدمی ہیں۔ راقم کا المورد اور غامدی صاحب کے ساتھ تعلق بھی مولانا کے علم میں تھا اور کافی سال کے بعد انھوں نے ایک خط میں راقم کو لکھا کہ علمی استفادہ تو خود انھوں نے بھی مولانا اصلاحی سے بہت کیا ہے، لیکن اس کے لیے باقاعدہ غامدی صاحب کے ادارے سے میری وابستگی کیوں ضروری تھی؟
زندگی اور صحت کے آخری سالوں میں مولاناؒ نے اپنی ساری توجہ ’’محفل قرآن“ پر مرکوز کر دی تھی جس کی متعدد جلدیں، الفرقان میں قسط وار اشاعت کے بعد، شائع ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک جلد جو سورۃ البقرۃ اور آل عمران پر مشتمل ہے، مولانا علیہ الرحمہ نے خاص طور پر بھجوائی اور اس پر تبصرے کا حکم دیا۔ افسوس، اس مقصد سے کتاب کے تفصیلی مطالعے اور نوٹس وغیرہ لینے کے باوجود تبصرہ لکھنے کی نوبت نہیں آ سکی اور مولانا کی تعمیل ارشاد نہ ہو سکی جس پر بہت شرمندگی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کو بلند درجات عطا فرمائے، ان کو اپنے سلف صالح کے ساتھ جوار رحمت میں جگہ دے، اور ان کی علمی ودینی خدمات کے سلسلے کو ان کے اخلاف کے ذریعے سے جاری رکھے۔ اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ، آمین۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۵)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۲۹۸) ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ
تذکیر کا مطلب یاد دلانا ہوتا ہے، یہ یاد دہانی سمع اور بصر دونوں راستوں سے ہوسکتی ہے، کتابِ وحی کی آیتوں کو سنا کر بھی اور کتابِ کائنات کی نشانیوں کو دکھا کر بھی۔
درج ذیل آیت میں تذکیر اپنے اسی وسیع مفہوم میں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آگے صُمًّا وَعُمْیَانًا آیا ہے۔ صم کا مطلب بہرے اور عمیان کا مطلب اندھے ہے۔ سنائی جانے والی تذکیر یعنی آیاتِ وحی کی تکذیب کرنے پر بہرے کہا گیا اور دکھائی جانے والی تذکیر یعنی کائنات کی نشانیوں کا انکار کرنے پر اندھا کہا گیا۔
بعض لوگوں نے تذکیر کا ترجمہ سنانا کیا ہے جو موزوں نہیں ہے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:
وَالَّذِینَ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَعُمْیَانًا۔ (الفرقان: 73)
”جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے“۔ (سید مودودی)
”اور جب انہیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور وہ کہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے“۔ (احمد رضا خان)
”اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعہ سے یاددہانی کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے“۔ (امین احسن اصلاحی، البتہ تفسیر میں قرآن کے ذریعہ سے تعلیم وتذکیر لکھا ہے، جو درست نہیں ہے۔ مرئی اور مسموع دونوں طرح کی آیات یہاں مراد ہیں۔)
(۲۹۹) مَنْ أَضَلُّ سَبِیلًا
وَإِذَا رَأَوْکَ إِن یَتَّخِذُونَکَ إِلَّا ھُزُوًا أَہَٰذَا الَّذِی بَعَثَ اللَّہُ رَسُولًا۔ إِن کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ آلِہَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَیْہَا وَسَوْفَ یَعْلَمُونَ حِینَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِیلًا۔ (الفرقان: 41، 42)
”یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ”کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے“ اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا“۔ (سید مودودی)
یہاں مَنْ أَضَلُّ سَبِیلًا کا ترجمہ مختلف طرح سے کیا گیا ہے:
کچھ لوگوں نے تفضیل کا ترجمہ کیا ہے، جیسے:
”کون زیادہ گمراہ تھا“۔ (طاہر القادری)
”زیادہ بہکا ہوا کون ہے“۔ (ذیشان جوادی)
”راہِ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟“۔ (محمد حسین نجفی)
”سب سے زیادہ بے راہ کون ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
سیاق کلام کو دیکھیں تو تفضیل کا ترجمہ مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہاں مختلف گم راہوں کے درمیان موازنے کا محل نہیں ہے بلکہ رسول کا مذاق اڑانے والوں کے گم راہ ثابت ہونے کی بات ہے۔
درج ذیل ترجمے درست ہیں:
”سیدھے رستے سے کون بھٹکا ہوا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”کون شخص بہت گم راہ ہوا ہے راہ سے“۔ (شاہ رفیع الدین)
”کون بہت بچلا ہے راہ سے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”پوری طرح راہ سے بھٹکا ہوا کون تھا؟“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۳۰۰) وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا
ترتیل رتل سے ہے، جس کے معنی حسنِ ترکیب کے ہوتے ہیں۔ لسان العرب میں ہے: الرَّتَلُ: حُسْن تَناسُق الشَّیء، وثَغْرٌ رَتَلٌ ورَتِلٌ: حَسَن التَّنْضِیدِ مُستوی النباتِ، وَقِیلَ المُفَلَّج، وَقِیلَ بَیْنَ أَسنانہ فُروج لَا یَرْکَبُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔
ترتیل کی نسبت اگر متکلم یا مصنف کی طرف کی جائے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ کلام کو عمدہ ترتیب وترکیب کے ساتھ پیش کیا اور اگر اس کی نسبت قاری کی طرف کی جائے تو مطلب ہوتا ہے کہ زبان سے کلام کو خوبی کے ساتھ ادا کیا۔ لسان العرب میں ہے: ورَتَّلَ الکلامَ: أَحسن تأْلیفہ وأَبانَہ وتمَہَّلَ فِیہِ. والتَّرْتِیلُ فِی الْقِرَاءَ ۃِ: التَّرَسُّلُ فِیہَا وَالتَّبْیِینُ مِنْ غَیْرِ بَغْیٍ۔
وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کَذَٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا۔ (الفرقان: 32)
اس آیت کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
”منکرین کہتے ہیں ”اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟“ ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے“۔ (سید مودودی)
”اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا“۔(احمد رضا خان)
”اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ہم نے اس کو تدریج واہتمام کے ساتھ اتارا“۔ (امین احسن اصلاحی)
وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا کا عام طور سے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ہم نے ٹھہر ٹھہر کر یا تدریج کے ساتھ اتارا۔ سوال یہ ہے کہ اس سے کیا نئی بات معلوم ہوئی؟ ٹھہر ٹھہر کر نازل ہونا تو ایک عیاں حقیقت تھی جس پر کافروں کو اعتراض تھا۔ اسی بات کو دوبارہ کہنے کا کیا فائدہ ہے۔
دراصل اس آیت میں مذکور کفار کا اعتراض ہی یہی تھا کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہونے کے بجائے ایک ہی بار میں کیوں نہ اتار دیا گیا۔ اس کے جواب میں دو باتیں کہی گئیں، ایک بات تو یہ کہ اس طرح نبیﷺ (اور آپ کے مومن ساتھیوں)کے دل کی تقویت کا مسلسل سامان ہوتا رہے گا۔ یہ گویا تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنے کی حکمت بیان کردی گئی۔ اس کے بعد دوسری بات یہ کہی گئی کہ تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کے باوجود یہ بہترین ترتیب میں ہے۔ اس کے حسنِ ترتیب میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ یہ گویا قرآن کی معجزاتی خوبی بیان کی گئی کہ طویل عرصے تک تھوڑا تھوڑا نازل ہونے والا کلام آخر کار کتنی عمدہ ترتیب میں ہے۔ اسے علامہ طاہر بن عاشور یوں بیان کرتے ہیں:
والترتیل یوصف به الکلام إذا کان حسن التألیف بین الدلالة. واتفقت أقوال أئمة اللغة علی أن هذا الترتیل مأخوذ من قولہم: ثغر مرتل، ورتل، إذا کانت أسنانه مفلجة تشبه نور الأقحوان. ولم یوردوا شاہدا علیه من کلام العرب. والترتیل یجوز أن یکون حالة لنزول القرآن، أی نزلناہ مفرقا منسقا فی ألفاظه ومعانیه غیر متراکم فہو مفرق فی الزمان فإذا کمل إنزال سورة جاءت آیاتہا مرتبة متناسبة کأنہا أنزلت جملة واحدة، ومفرق فی التألیف بأنه مفصل واضح. وفی هذا إشارة إلی أن ذلک من دلائل أنه من عند اللہ لأن شأن کلام الناس إذا فرق تألیفه علی أزمنة متباعدة أن یعتوره التفکک وعدم تشابه الجمل۔ (التحریر والتنویر)
مولانا امانت اللہ اصلاحی وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں:
”اور ہم نے اسے بہترین ترتیب دی“۔
(۳۰۱) لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ
مذکورہ بالا آیت (الفرقان: 32) میں لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ کا ترجمہ عام طور سے حسب ذیل کیا گیا ہے:
”تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
حسب ذیل ترجمہ عام ترجموں سے مختلف ہے:
”کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں“۔ (سید مودودی)
عبارت کے لحاظ سے یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ تو یہی ہے کہ ”تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں“ البتہ تفسیر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دل کو مضبوط کرنے سے مراد اسے یاد کرلینے اور سمجھ لینے کی مضبوطی ہے۔ جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں ہے: لنقوی بتفریقہ فؤادک علی حفظہ وفہمہ۔ تاہم یہ تفسیر کم زور معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ قرآن تو دل پر نازل ہورہا تھا، ایک ساتھ نازل ہوتا تو وہ بھی محفوظ ہوجاتا۔ یہاں تو عمومی معنوں میں دل کا ثبات مراد لینا ہی بہتر معلوم ہوتا ہے۔
(۳۰۲) اتَّخَذُوا ہَٰذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا
درج ذیل آیت میں مَہْجُورًا کی تین طرح سے تفسیر کی گئی ہے، مارودی لکھتے ہیں: فیه ثلاثة أوجه: أحدها: أنہم ہجروه بإعراضہم عنه فصار مہجوراً، قاله ابن زید. الثانی: أنہم قالوا فیه هجراً أی قبیحا، قاله مجاهد. الثالث: أنہم جعلوہ هجراً من الکلام وہو ما لا نفع فیه من العبث والہذیان، قاله ابن قتیبة۔ (النکت والعیون) یعنی قرآن کو چھوڑ دینا، قرآن کے سلسلے میں بد کلامی کرنا اور قرآن کو بے سود کلام قرار دینا۔ اردو میں اس کا ترجمہ بھی تینوں طرح سے کیا گیا ہے:
وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا۔ (الفرقان: 30)
”اور کہا رسول نے اے رب میرے قوم میری نے ٹھہرایا ہے اس قرآن کو جھک جھک“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا“۔ (سید مودودی)
”اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرایا“۔(احمد رضا خان)
”اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اس قرآن کو پس انداز کردہ چیز بنایا“۔ (امین احسن اصلاحی)
یہاں مھجورا کے ساتھ اتخذوا آیا ہے۔ لفظ اتخذ کا اصل مطلب پکڑنا ہے، لفظ میں وسعت کی وجہ سے بنانا، اختیار کرنا اور اپنے کسی عمل کا ہدف بنانا بھی اس کے وسیع مفہوم میں شامل ہوا۔ قرآن مجید میں اتخذ بہت زیادہ بار ذکر ہوا ہے، اور ہر جگہ اس کا یہی مفہوم ہے۔ اگر ہم مہجور کا مطلب چھوڑا ہوا لیں تو اتخذ کے ساتھ یہ لفظ بے میل معلوم ہوتا ہے۔ درج ذیل لفظی ترجمے میں یہ چیز ظاہر ہورہی ہے:
”قوم میری نے پکڑا ہے اس قرآن کو چھوڑا ہوا“۔ (شاہ رفیع الدین)
اوپر کی گفتگو کی روشنی میں پہلے دونوں ترجمے زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ تجویز کرتے ہیں: ”میری قوم اس قرآن کے بارے میں بکواس کرتی رہی“ اس مفہوم کو دیگر کئی مقامات پر ھزوا سے بھی تعبیر کیا گیا، جیسے ”وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَمَا أُنْذِرُوا ہُزُوًا“۔(الکہف: 56)
(۳۰۳) اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا
وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَیٰ یَدَیْهِ یَقُولُ یَا لَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا۔ (الفرقان: 27)
”اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا“۔ (فتح محمد جالندھری، کھائے گا کہنے کی ضرورت نہیں ہے، اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کہے گا)
”اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی راہ اختیار کی ہوتی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا،کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا“۔ (سید مودودی)
اس آخری ترجمہ میں تین باتیں قابل غور ہیں، ایک یہ کہ ویوم کا ترجمہ (اور اس دن) چھوٹ گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یدیہ مثنی ہے اس کا ترجمہ اپنا ہاتھ نہیں اپنے ہاتھ ہوگا۔ اور تیسری بات یہ کہ یہاں رسول کا ساتھ دینا مراد نہیں بلکہ رسول کے راستے پر چلنا مراد ہے۔ کیوں کہ لفظ سبیل آیا ہے۔ رسول کے اختیار کیے ہوئے راستے کو اختیار کرنے میں معیت کی معنویت بھی واضح ہوجاتی ہے۔
(۳۰۴) أَضَلَّنِی عَنِ الذِّکْرِ
لَّقَدْ أَضَلَّنِی عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَاء نِی۔ (الفرقان: 29)
”اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بیشک اس نے مجھے بہکادیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے“۔ (احمد رضا خان)
”اس نے مجھے گم راہ کرکے اس یاددہانی سے برگشتہ کیا، بعد اس کے کہ وہ میرے پاس آچکی تھی“۔ (امین احسن اصلاحی، یاد دہانی سے برگشتہ کرکے مجھے گم راہ کیا)
”اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی“۔ (سید مودودی، نصیحت نہ ماننے کی وجہ سے اس کے بہکاوے میں آیا)
مذکورہ بالا جملے میں لَّقَدْ أَضَلَّنِی کا ترجمہ تو بالکل واضح ہے کہ اس نے مجھے گم راہ کیا۔ گم راہ راستے سے کیا جاتا ہے یاد دہانی سے نہیں، اس لیے لَّقَدْ أَضَلَّنِی عَنِ الذِّکْرِ کا ترجمہ یاددہانی یا نصیحت سے گم راہ کرنا موزوں نہیں معلوم ہوتا ہے۔ یہاں عن سے پہلے فعل محذوف ہے، جس کا مطلب ہے یاد دہانی سے غافل و برگشتہ کرکے۔
صحیح ترجمہ یوں ہے:
”اس نے مجھے گم راہ کردیا اس یاددہانی سے برگشتہ کرکے بعد اس کے کہ وہ میرے پاس آچکی تھی“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)
(۳۰۵) فَہِیَ تُمْلَیٰ عَلَیْہِ
وَقَالُوا أَسَاطِیرُ الْأَوَّلِینَ اکْتَتَبَہَا فَہِیَ تُمْلَیٰ عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا۔ (سورۃ الفرقان: 5)
”اور کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے فسانے ہیں جو اس نے لکھوائے ہیں تو وہ اس کو صبح شام لکھ کر تعلیم کیے جاتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”وہی لکھوائے جاتے ہیں اس پاس صبح اور شام“۔ (شاہ عبدالقادر)
ان دونوں ترجموں میں املاء کا ترجمہ لکھ کر تعلیم کرنا اور لکھوانا کیا گیا ہے۔ اس پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو وحی لکھی ہوئی شکل میں تو دی نہیں جاتی تھی اور نہ ہی آپ لکھی ہوئی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ اصل میں لفظ املاء کا مطلب لازمی طور پر لکھوانا نہیں ہے، بلکہ القا کرنا ہے۔ جس پر القا کیا جارہا ہے وہ اسے لکھ بھی سکتا ہے اور سن کر ذہن میں محفوظ بھی کرسکتا ہے۔
تفسیر جلالین میں تملی کا ترجمہ تُقرَأ کیا گیا ہے، جو مناسب ہے۔
علامہ ابن عاشور املاء کا مفہوم بتاتے ہیں: والإملاء: ہو الإملال وہو إلقاء الکلام لمن یکتب ألفاظہ أو یرویہا أو یحفظہا۔ (التحریر والتنویر)
اس پہلو کو سامنے رکھیں تو درج ذیل دونوں ترجمے موزوں تر معلوم ہوتے ہیں:
”اور وہ اِسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں“۔ (سید مودودی)
”پس وہ پڑھے جاتے ہیں اوپر اس کے صبح وشام“۔ (شاہ رفیع الدین)
(جاری)
مطالعہ سنن ابی داود (۲)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: مغرب کی دو رکعتیں چھوٹ جائیں تو ہم ان دونوں میں قعدے کا اہتما م کر تے ہیں۔کیا یہ حدیث میں آیا ہے یا استنباطی چیز ہے؟
عمار ناصر: یہ استنباطی چیز ہے۔
مطیع سید: اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی دونوں میں سے پہلی رکعت میں قعدے میں نہیں بیٹھتا تو سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا؟
عمار ناصر: جی، سجدہ سہو نہیں آئے گا۔ امام کے ساتھ اگر آپ کی ایک رکعت چھوٹ گئی ہے تو جس رکعت میں آپ شامل ہوئے ہیں، آپ اس کو چاہے اپنی پہلی اور جو امام کے بعد پڑھیں گے، اس کو دوسری اور تیسری شمار کرلیں یا اس کے برعکس امام کے ساتھ جو رکعات پڑھ رہے ہیں، ان کو دوسری اور تیسری شمار کرلیں جبکہ چھوٹی ہوئی رکعت کو پہلی شمار کرلیں۔ یہ آپ کی نیت پر منحصر ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ان دونوں طریقوں کی تصویب منقول ہے۔
مطیع سید: مروان بن حکم نے خطبہ پہلے اور نماز عید بعد میں پڑھنے کا طریقہ نکالا۔ایک صحابی نے فرمایا کہ تونے یہ بدعت نکالی ہے۔(کتاب الصلوۃ، باب الخطبۃ یوم العید، حدیث نمبر ۱۱۴۰) بعض کہتے ہیں کہ وہ اصل میں حضرت علی پر تبرا کرتا تھا اور صحابہ نماز کے بعد اٹھ کر چلے جاتے تھے، اس لیے اس نے خطبہ پہلے رکھ دیا۔کیا یہ ایسے ہی تھا؟
عمار ناصر: اموی عمال کی یہ روش تو روایات میں بیان ہوئی ہے۔ لیکن اس وقت میرے ذہن میں نہیں کہ مروان نے جو خطبے کو مقدم کرنے کا طریقہ اختیار کیا، اس کی وجہ بھی یہی تھی۔ بعض دیگر روایات میں ہے کہ خطبے کو نماز سے مقدم کرنے کا طریقہ اس سےپہلے حضرت معاویہ نے بھی اختیار کیا تھا۔ وجہ یہی بیان ہوئی ہے کہ نماز کے بعد لوگ خطبہ سننے کے لیے نہیں ٹھہرتے تھے تو انھوں نے ترتیب بدل دی۔
مطیع سید: حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں بلاخوف ومطر نمازیں اکٹھی پڑھنے کا ذکر آتا ہے۔ (کتاب صلاۃ السفر، باب الجمع بین الصلاتین، حدیث نمبر ۱۲۱۰) ایک شیعہ دوست کہتے ہیں کہ آپ لوگ کبھی بھی اکٹھی نہیں پڑھتے۔ کیا شیعہ نے مستقل نمازیں اکٹھی کرلیں تو اہل سنت نے رد عمل میں کبھی کبھار بھی ایسا کرنا چھوڑ دیا؟
عمار ناصر: نہیں، رد عمل میں ایسا نہیں ہوا۔ اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ نمازیں اصل میں اپنے الگ الگ اوقات میں مشروع کی گئی ہیں تو انھیں اپنے وقت میں ہی پڑھنا چاہیے اور کوئی وجہ ہو، کوئی جواز ہو توپھر ان کو جمع کرنا چاہیے۔یہ جمہور فقہاء کے نزدیک ہے، احناف تو جمع کے قائل ہی نہیں، ،یعنی سفر میں بھی قائل نہیں۔ خوف اور بارش کے بغیر جمع سے متعلق ابن عباس کی جو روایت ہے، چونکہ وہ ایک ہی روایت ہے تو اس سے واضح نہیں ہوتا کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔یہ روایت مختلف تعبیرات قبول کرلیتی ہے۔ وہ احناف کی تعبیر بھی قبول کرلیتی ہے جو کہتے ہیں کہ آپﷺ نے اگر مدینے میں نمازیں جمع کی ہیں تو یہ جمع ِ صوری تھی، یعنی بظاہر اکٹھی پڑھی جا رہی تھیں،لیکن حقیقت میں ایک نماز کو آخری وقت تک موخر کر کے دوسری نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھا جا رہا تھا۔وہ شیعہ حضرات کی تعبیر کو بھی قبول کرلیتی ہے کہ کوئی عذر نہیں تھا، محض لوگوں کو یہ بتا نے کے لیے نمازیں جمع کی گئیں کہ اس کی بھی سہولت ہے۔ ایک تیسری تعبیر بھی ہو سکتی ہے کہ ابن عباس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نمازوں کو جمع کرنے کی وجہ محض خوف یا بارش نہیں ہے،عذر کی کئی اور بھی شکلیں ہو سکتی ہیں۔ بعض دفعہ کسی کام میں مصروفیت ہوتی ہے یا کوئی اور ایسی وجہ ہو سکتی ہے کہ نمازوں کو جمع کرنا ایک مجبوری بن جاتی ہے۔ اس کو بارش یا خوف کی حالت میں محصور نہ سمجھو۔تو وہ دو تین طرح کی تعبیرات قبول کرلیتی ہے۔
مطیع سید: کیا تہجد پہلے تمام مسلمانوں پر فرض تھی یا شروع سے ہی بس آپﷺ پر فرض تھی اور مسلمان تطوعاً پڑھتے تھے؟ عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ یہ پہلے لوگوں پر فرض تھی، پھر اسے منسوخ کر دیا گیا۔ (کتاب التطوع، باب نسخ قیام اللیل والتیسیر فیہ، حدیث نمبر ۱۳۰۴)
عمار ناصر: مفسرین عام طورپر یہ کہتے ہیں کہ شروع میں اصل میں یہی نماز تھی جو فرض کی گئی تھی، پھر بعد میں اس کو نفل کا درجہ دے دیا گیا۔ البتہ مجھے ایسے یاد پڑتا ہے کہ شاید علامہ انور شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ یہ ایسا نہیں ہے۔ یہ عام لوگوں پر فرض نہیں تھی۔
مطیع سید: سبعۃ احرف کی کافی روایات ہیں۔ (کتاب الوتر، باب انزل القرآن علیٰ سبعۃ احرف، حدیث نمبر ۱۴۷۵ تا ۱۴۷۸) ان کی کچھ سمجھ نہیں آتی۔
عمار ناصر: یہ بڑامشکل مسئلہ ہے۔ سبعہ احرف والی روایت میں کئی طر ح کے سوالات ہیں۔خاص طور پر سبعہ کی تعیین کرنا کہ قراءتیں کس لحاظ سےسات ہیں، بڑاہی مشکل ہے۔ اس کی کوئی ایسی توجیہ یا تعبیر جو پوری طرح سمجھ میں آتی ہو، میرے علم میں نہیں ہے۔ علامہ سیوطی نےتو کہہ دیا کہ یہ متشابہات میں سے ہے۔
مطیع سید: علامہ انور شاہ صاحب نے اس کے بارے میں کوئی رائے دی ہے؟
عمار ناصر: اس وقت ذہن میں نہیں ہے۔
مطیع سید: اگر ہم اس سے لہجے مراد لیں تو وہ توسات سے زیادہ ہیں۔
عمار ناصر: لہجوں پر یہ منطبق نہیں ہوتی۔
مطیع سید: غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں بعد میں عجم کی شامل کی ہوئی ہیں۔
عمار ناصر: یہ بات بنیادی طورپر تمناعمادی وغیرہ نے کہی ہے۔غامدی صاحب اس طرح سے نہیں کہتے، ان کی بات مختلف ہے۔
مطیع سید: امام ابو داؤد نے باب فی تعجیل الزکوٰۃ کا عنوان باندھا ہے، ،یعنی زکوٰۃ وجوب سے پہلے ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ (کتاب الزکوٰۃ، باب فی تعجیل الزکوۃ، حدیث نمبر ۱۶۲۳) تو کیا ہم اسے پر دوسری عبادات کو قیاس کر سکتے ہیں؟
عمار ناصر: نہیں۔عبادات میں نوعیت کے لحاظ سے فرق ہے۔ نماز کے اوقات بتائے گئے ہیں تو اسے اوقات کے لحاظ سے متعین کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ اس خاص وقت میں ہی مطلوب ہے۔اس میں بھی خاص حالات میں پہلے پڑھ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔روزے اور حج کا بھی یہی معاملہ ہے۔ لیکن زکوۃ میں ایسا نہیں ہے کہ اس کا کوئی خاص وقت رکھا گیا ہے جس میں سب نے زکوۃ ادا کرنی ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ سال گزرنے پر وہ آپ پر لازم ہوگی۔ ظاہر ہے، ہر آدمی کا سال الگ ہوگا۔ تو یہ نوعیت کا فرق ہے کہ زکوۃ فر ض سال کے بعد ہوتی ہے، لیکن یہ مطلب نہیں کہ آپ پہلے نہیں دے سکتے۔ اگر آپ نے دینی ہے اور لوگوں کی ضرورت موجود ہے تو آپ پہلے بھی دے سکتےہیں۔
مطیع سید: حضرت ابن عباس فرماتےہیں کہ ان کے والد حضرت عباس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ دیے۔ (کتاب الزکوٰۃ، باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم، حدیث نمبر ۱۶۵۳) حضرت عباس تو بنو ہاشم میں سے تھے، کیا زکوٰۃ ان کے لیے جائز تھی؟
عمار ناصر: احادیث میں صدقہ کی تعبیر کافی وسیع معنی میں آتی ہے۔ زکوٰۃ کے علاوہ بیت المال میں آنے والے دیگر محصولات پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے، حضرت عباس کو یہ مال فے میں سے دیے گئے ہوں۔ مال فے میں خمس رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اقربا کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ ممکن ہے، اس میں سے ان کو اونٹ دیے گئے ہوں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی حصے میں سے دیے ہوں۔
مطیع سید: حج کا احرام باندھنے کے بعد صحابہ نے اس کو عمرے میں تبدیل کر لیا۔آگے لکھا ہے کہ یہ بات صحابہ کے ساتھ خاص تھی۔ (کتاب المناسک، باب الرجل یہل بالحج ثم یجعلہا عمرۃ، حدیث نمبر ۱۸۰۸) ان کے ساتھ خاص ہونے کی کیا وجہ تھی؟
عمار ناصر: اصل تو یہی ہے کہ آپ جس عبادت کے لیے احرام باندھ کر نکلے ہیں، اسی کو پورا کریں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصول سے ہٹ کر صحابہ کو احرام تبدیل کرنے کا حکم دیا تو اس کے خاص ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک خاص مصلحت کے تحت کیا گیا تھا۔ آپﷺ اور صحابہ روانہ تو حج کا احرام باندھ کر ہوئے تھے،لیکن راستے میں آپ کو خیال آیا کہ ایک بڑا غلط تصور چلا آرہا ہے جس کی اس موقع پر اصلاح ضروری ہے۔ وہ یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حج کے سفر میں عمرہ کر نا گناہ ہے۔تو آپ ﷺ نے عام قاعدے کے خلاف صحابہ سے کہا کہ وہ اسی احرام میں عمرے کی نیت کر لیں اور عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیں۔یہ ایک خاص صورت حال میں کیا گیا تھا۔ عام ضابطہ یہی ہے کہ جس عبادت کی نیت سے احرام باندھا ہو، اسی کو مکمل کریں۔
مطیع سید: حدیث میں دوسرے کی طرف سے حج کرنے کی اجازت آئی ہے۔ (کتاب المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ، حدیث نمبر ۱۸۰۹) کیا کسی دوسرے کی طرف سے حج وہی شخص کر سکتا ہے جس نے پہلے حج کیا ہوا ہو؟ کیا یہ ضروری ہے؟
عمار ناصر: کوئی نص تو میرے علم نہیں ہے، لیکن یہ عقلی اور قیاسی طورپر سمجھ میں آتی ہے۔ آدمی کے ذمے پہلے اس کا اپنا حج ہے،وہ ادا کرے، پھر کسی دوسرے کی طرف سے فریضہ ادا کرے۔ یہ معقول بات ہے۔
مطیع سید: ایک آدمی غریب ہے، اس پر حج فر ض ہی نہیں۔ اس کو کسی نے کہا کہ آپ کو میں خرچ دیتا ہوں، آپ میرے والدین کی طرف سے حج کر آئیں۔ تو کیا یہ درست نہیں ہوگا؟
عمار ناصر: اس رائے کے مطابق درست نہیں ہوگا۔ نیابتاً حج کے لیے ایسے آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے جو پہلے اپنا فریضہ ادا کر چکا ہو۔بہرحال چونکہ استنباطی مسئلہ ہے، اس لیے آپ چاہیں تو اختلاف بھی کر سکتے ہیں۔
مطیع سید: غریب آدمی پر تو فرض تھا ہی نہیں، اس پر اپنا فریضہ ادا کرنے کی شرط کیسے لگائی جا سکتی ہے؟
عمار ناصر: یہاں دوسرے کی طرف سے ادا کرنے کی اہلیت کی بات ہو رہی ہے۔ اس پر فرض نہیں تھا، یہ ٹھیک ہے۔ جب اس نے اپنا حج نہیں اداکیا تو فقہا یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی دوسرے کی طرف سے ادا کرنے کااہل نہیں ہے۔
مطیع سید: احرام کی حالت میں عورت دستانے اور نقاب نہ پہنے۔ (کتاب المناسک، باب ما یلبس المحرم، حدیث نمبر ۱۸۲۶) متقدمین تو چہرے کے پردے کے قائل نہیں تھے تو کیا یہ دستا نے بھی اس دور میں چلتے تھے؟
عمار ناصر: متقدمین چہرے کے پر دے کے وجوب کے قائل نہیں تھے، جواز کے تو قائل تھے۔بہت سی خواتین کر تی بھی تھیں، احرام کی حالت میں چہرے کو ڈھانپنا ممنو ع ہے۔
مطیع سید : دستا نے بھی اس دور میں تھے کہ جس کا ذاتی ذوق ہو، پہن لے؟
عمار ناصر: دستانے تو ضروری نہیں، پردے کی نیت سے ہی پہنے جاتے ہیں۔ سردیوں میں موسم کے لحاظ سے بھی پہنے جاتے تھے۔
مطیع سید: کب یہ کہا گیا کہ چہرے کا پر دہ بھی نا لازمی ہے؟
عمار ناصر: کافی بعد میں متاخرین کے ہاں یہ رجحان پیدا ہوا۔ائمہ اربعہ کے ہاں تو نہیں ملتا۔
مطیع سید: آپ نے اپنے دادا جان کے بارے میں بھی یہی لکھا ہے کہ وہ اس کے وجوب کے قا ئل نہیں تھے۔
عمار ناصر: احناف کے ہاں تو یہی ہے۔البتہ متاخرین حنابلہ اور امام ابن تیمیہ وغیرہ کے ہاں وجوب ہے۔سعودیہ میں ابن تیمیہ کی رائے کی بنیادپر اس کو قانوناً بھی لازم کر دیا گیا تھا۔احناف کے ہاں ہندوستان میں بعض لوگوں نے کچھ شدت اختیار کی ہے۔
مطیع سید: احرام کی حالت میں نکاح کی ایک طرف ممانعت کی روایات آتی ہیں، (کتاب الحج، باب المحرم یتزوج، حدیث نمبر ۱۸۴۱) دوسری طرف یہ بھی آتا ہے کہ آپ ﷺنے حضرت میمونہ سے احرام کی حالت میں نکا ح فرمایا۔ (کتاب المناسک، باب المحرم یتزوج، حدیث نمبر ۱۸۴۴)
عمار ناصر: اس نکاح کے بارے میں روایتیں متعارض ہیں۔ایک میں ہے کہ آپ ﷺنے احرام میں کیا اور دوسری میں ہے کہ آپﷺ احرام سے نکل چکے تھے۔محدثین کے ہاں احرام سے نکل جانے والی روایت کو عام طورپر قبول کیا جاتا ہے۔
مطیع سید: امام داؤود لکھتے ہیں کہ ابن عباس کو وہم ہواہے، حالتِ احرام میں آپ ﷺ نے نکاح نہیں کیا۔
عمار ناصر: جی محدثین یہی کہتے ہیں کہ ابن عباس کو غلط فہمی ہوئی ہے۔
مطیع سید: لاینکح ولا یُنکح میں نکاح سے مرا دیہ بھی لے سکتے ہیں کہ عقد نکاح نہیں، بلکہ نکاح کے بعد خلوت کرنا مراد ہے؟
عمار ناصر: احناف یہ تاویل کر تےہیں، لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ عقد نکاح ہی مراد ہے۔ لاینکح ولا یُنکح ۔ یعنی خود بھی نکاح نہ کرے اور دوسرے کا بھی نہ کروائے۔
مطیع سید: احرام باندھنے میں کندھے کو ننگا رکھنا (کتاب المناسک، باب الاضطباع فی الطواف، حدیث نمبر ۱۸۸۴) یہ بھی رمل جیسی وقتی کوئی چیز تھی یا مستقل حکم ہے؟ حضرت عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے ان دونوں چیزوں کا یعنی رمل اور اضطباع کا پس منظر ایک ہی بیان کیا۔ (کتاب المناسک، باب الاضطباع فی الطواف، حدیث نمبر ۱۸۸۷)
عمار ناصر: حضرت عمر کی رائے یہی تھی کہ اگرچہ یہ طریقہ ایک خاص موقع پر مشرکین کو مسلمانوں کی ہمت اور حوصلہ دکھانے کے لیے اختیار کیا گیا تھا اور اب اس کی ضرورت نہیں، لیکن چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ عمل کیا جاتا رہا، اس لیے اس کو جاری رکھنا چاہیے۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حرمت والے مہینوں کے اپنی جگہ پر واپس آ جانے کاذکر فرمایا۔ (کتاب المناسک، باب الاشہر الحرم، حدیث نمبر ۱۹۴۷) یہ حرمت کے مہینے کیا پچھلی شریعتوں سے چلے آرہے تھےیا اہل عرب نے خود طے کرلیے تھے؟
عمار ناصر: قرآن ِ مجید سے یہی پتہ چلتا ہے کہ عرب کے ماحول میں حج اور عمرے کی عبادت کو محفوظ کرنے کے لیے یہ مہینے باقاعدہ مقرر کیے گئے تھے۔ حرمت کے مہینوں کا حج اور عمرہ کے ساتھ باقاعدہ تعلق ہے اور ان کی حکمت یہی ہے۔ اسی لیے حج کے لیے تین مہینے اکٹھے اور عمرے کے لیے ایک مہینہ الگ رکھا گیا ہے تاکہ لوگ آسانی سے آکر حج ادا کر سکیں اور واپس بھی جا سکیں۔قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں ان کی مشروعیت کے پس منظر اور حکمت پر تفصیلی بات کی ہے۔
مطیع سید: چونکہ وہ حج اور عمرے کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے خود یہ طے کر لیا کہ ان مہینوں میں جنگ نہیں کریں گے؟
عمار ناصر: نہیں، خود نہیں طے کیا۔یہ دینِ ابراہیمی کی روایت کا حصہ تھا۔
مطیع سید: اب ان حرام مہینوں کی کیا حیثیت ہے؟
عمار ناصر: فقہاء میں یہ بحث ہے کہ کیا یہ حرمت قائم ہے یا ختم ہو گئی ہے۔ جمہور فقہاء اس کو برقرار مانتے ہیں، جبکہ احناف کا کہنا ہے کہ یہ حرمت منسوخ ہو چکی ہے۔ اب یہ نسخ والی بات تو دلیل کے اعتبار سے کمزور معلوم ہوتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں ان مہینوں کی حرمت کا ضابطہ بیان فرمایا جو آپ کی وفات سے تین مہینے پہلے کی بات ہے۔ لیکن امت کے تعامل کو دیکھیں تو وہ بظاہر احناف کا موید ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد صحابہ کے دور میں اس کا ذکر نہیں ملتا کہ صحابہ ان مہینوں میں جنگ سے گریز کرتے ہوں۔ قیاسی طور پر بھی بعض استنباطات کی گنجائش نکلتی ہے۔ مثلاً اگر حج اور عمرے کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے ان مہینوں میں لڑائی ممنوع کی گئی تھی تو پھر یہ حکم جزیرہ عرب تک محدود ہونا چاہیے، یعنی باقی دنیامیں آپ لڑ سکتے ہیں۔پھر یہ کہ عرب میں بھی صورتحال اس طرح سے نہیں رہی۔ تو یہ ایک اجتہادی بحث بن جاتی ہے۔
مطیع سید: منیٰ میں قیام کے دوران قصر نماز پڑھنا یہ کیا حج کے احکام کا حصہ ہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی وجہ سے نماز قصر کی تھی؟ (کتاب المناسک، باب الصلاۃ بمنی، حدیث نمبر ۱۹۶۰)
عمار ناصر: یہ بھی استنباطی بحث ہے کہ کیا قصر، حج کے عمل کا حصہ ہے یا حاجی، مسافر ہونے کی وجہ سے قصر کرتے ہیں۔ فقہا میں یہ بحث چلتی ہے۔
مطیع سید: آپ ﷺ نے حلق کروایا۔ہزاروں کے مجمع کےسامنے کروایا، ،(کتاب المناسک، باب الحلق والتقصیر، حدیث نمبر ۱۹۸۱) پھر اس کی مقدار کے بارے میں اختلاف کیوں ہے؟جیسے امام شافعی کہتے ہیں کہ تین بال بھی کٹوالے تو بھی ٹھیک ہے، لیکن احناف کا موقف اور ہے۔ وہ پورے سر کے بال کٹوانے کا کہتے ہیں۔
عمار ناصر: نہیں، اس اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حضورﷺ نے حلق پورا کروایا تھا یا نہیں۔ وہ تو معلوم ہے، ،لیکن سر منڈوانا لازم نہیں۔ اگر کسی نے سر منڈوانا ہے تو ظاہر ہے پورے سرکو ہی منڈوانا ہے۔بحث، بالوں کے قصر میں ہوتی ہے کہ اگر بال چھوٹےکروانے ہیں تووہ کتنے کفایت کر جائیں گے۔چونکہ بنیادی طور پر اس کی حیثیت ایک علامت کی ہے تو شوافع کہتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے، علامتاً دو تین بال کٹوالیےتو بھی کافی ہے۔
مطیع سید: آپﷺ جب خانہ کعبہ میں بت گرا رہے تھے تو کہا جاتا ہے کہ وہاں سے اس مینڈھے کے سینگ بھی ملے جو حضرت ابراہیم ؑ نے قربان کیا تھا۔آپ ﷺنے غالباً ان پر پردہ ڈال دینے کا حکم دیا۔کیا یہ واقعی اسی مینڈھے کے سینگ تھے؟
عمار ناصر: عرب میں زبانی روایت تو چلی آ رہی تھی کہ یہ اسی مینڈھے کے سینگ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تصویب یا تغلیط کے متعلق کوئی بات منقول نہیں، البتہ بعض روایات میں ہے کہ آپ نے کعبہ کے کلیدبردار سے کہا کہ وہ ان سینگوں کو ڈھانپ دے تاکہ کعبے میں نماز ادا کرنے والوں کی توجہ ان کی طرف مبذول نہ ہو۔ اب حقیقت حال کیا تھی، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس وقت میری روح میرے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔(کتاب المناسک، باب زیارۃ القبور، حدیث نمبر ۲۰۴۱) کیا یہ روایت ٹھیک ہے؟
عمار ناصر: ابو داؤد کی روایت کےاس جملے پر محدثین کو تحفظات ہیں کہ یہ جملہ ٹھیک نہیں ہے۔
مطیع سید : آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
عمار ناصر: اس روایت کی یہی سند ہے اور محدثین اس پر مطمئن نہیں ہیں۔سلام کا جواب دینے کی اور بھی روایتیں ہیں، لیکن یہ جملہ جو اس روایت میں ہے، اس پر محدثین مطمئن نہیں ہیں۔
مطیع سید: مصاہرت کے حوالے سے جو احناف کہتے ہیں کہ شہوت سے کسی عورت کو چھونے سے مصاہرت کا رشتہ ثابت ہو جاتا ہے تو کیا کوئی کسی غیر عورت کو غلطی سے یہ سمجھ کر شہوت سے چھو لے کہ یہ میری بیوی ہے، ،تب بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟
عمار ناصر: نہیں غلطی سے نہیں، ارادے سے کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھوا تو رشتے کی حرمت قائم ہوجائے گی۔ جس عورت کو آدمی نے شہوت کے ساتھ چھو لیا، اس کی ماں کے ساتھ نکاح اس پر حرام ہو جائے گا، کیونکہ اس کو ایک طرح سے اس کی ساس کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔قرآن نے تو اصل میں نکاح کی صورت میں یہ حکم بیان کیا ہے۔ احناف نے اس میں ایک لطیف استدلا ل کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھو لینے کی نوعیت بھی یہی بن جاتی ہے۔
مطیع سید: ذوالکفل کا نام قرآن مجید میں آتا ہے لیکن اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔صحابہ کی طرف سے بھی کوئی سوال نہیں اٹھا۔
عمار ناصر: ذوالکفل نام سے زیادہ ایک لقب لگتا ہے۔قرآن نے بہت سی شخصیات کا یا واقعات کاذکر مخاطبین کے ہاں جو تصور عام تھا یا جو معلومات موجود تھیں، ان پر انحصار کرتے ہوئے کیا ہے۔
مطیع سید: تو کیا وہ تصورات یا معلومات بھی ہمیں کچھ ملتی ہیں؟
عمار ناصر: بعض میں مل جاتی ہیں، بعض میں نہیں ملتی۔
مطیع سید: ایک غیر مسلم کا قرآن پر یہ اعتراض بن سکتا ہے کہ ایسی ایک شخصیت کا ذکر دیا جس کا کچھ اتا پتہ نہیں۔
عمار ناصر: یہ قرآن پر تو اعتراض نہیں بنتا۔قرآن نے ایک شخصیت کا ذکر کیا ہے جو اس کے مخاطبین کومعلوم تھی۔ اب اگر وہ معلومات جو ان کو معلوم تھیں، ہمیں نہیں پہنچیں تو یہ تاریخ کا مسئلہ ہے، اس میں قرآن پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
مطیع سید : بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذوالکفل اصل میں کپل سے معرب ہوا اور یہ اشارہ ہے کپل دسو کی طرف جو مہاتما گوتم بد ھ کا علاقہ تھا۔یعنی یہاں گوتم بدھ مراد ہیں۔
عمار ناصر: یہ سارے قیاسات ہیں۔
مطیع سید: ایک شخص نے اپنی بیوی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی کہ وہ جو بھی ہاتھ لگانا چاہے، اس کو روکتی نہیں لیکن میں اس کے بغیر رہ نہیں سکوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔(کتاب النکاح، باب النہی عن تزویج من لم یلد من النساء، حدیث نمبر ۲۰۴۹) ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے، ،حالانکہ رواۃ اس کے سارے ثقہ ہیں۔
عمار ناصر: ابن جوزی درایتاً اس روایت کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کا اشکال یہ ہے کہ وہ آدمی کہہ رہا ہے کہ بد کر دار و بدکار عورت ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کو ساتھ رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ تو یہ نہیں ہو سکتا۔ اس پہلو سے وہ درایتاً اس پر سوال اٹھاتے ہیں۔
مطیع سید: یہ صلوٰۃ اور سلام میں فرق کیا ہے، جو ہم درود میں پڑھتے ہیں؟
عمار ناصر: صلوٰۃ کا لفظ رحمت کے لیے اور سلام سلامتی کے لیے آتا ہے۔ رحمت کی تعبیر بہت عام ہے، سلامتی اللہ کی رحمت اور عنایت کی ایک خاص صورت ہے۔
(جاری)
علمِ رجال اور علمِ جرح و تعدیل (۷)
اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ
مولانا سمیع اللہ سعدی
اہل تشیع کے دیگر مصادر رجال اور جرح و تعدیل
اہل تشیع کے اولین مصادر رجال کا اقوال جرح و تعدیل کے اعتبار سے ایک جائزہ سامنے آچکا ہے،کہ ان کتب میں رواۃ کی تقویم نہ ہونے کے برابر ہے،اس کے بعد اہل تشیع کی بعد کے زمانوں میں لکھے جانے والی کتب ِ رجال کا فردا فردا ایک جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کتب میں جرح و تعدیل کا مواد کم اور کیف کے اعتبار سے کس درجہ کا حامل ہے؟ان کتب میں سے متعدد کتب ایسی ہیں،جو ان اولین مصادر رجال کی جمع و ترتیب یا ان پر شروح و حواشی کی صورت میں ہے جیسا کہ احمد ابن طاووس کی التحریر الطاووسی (یہ کتاب حسن بن زین الدین العاملی کی تیار کردہ ہے،جو انہوں نے ابن طاووس کی کتاب حل الاشکال فی معرفۃ الرجال سے تیا رکی ہے) ،جو رجال کے اولین مصادرِ خمسہ (رجال الکشی،رجال الطوسی،فہرسۃ الطوسی،رجال النجاشی اور رجال ابن الغضائری) کا مجموعہ ہے،اس لئے ان جیسی کتب کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ ان سب کتب پر فردا فردا بحث ما قبل میں آچکی ہے،البتہ ان کتب پر بحث ہوگی،جو مستقل تالیفات شمار ہوتی ہیں:
1۔ رجال ابن داود الحلی
ان کتب میں سے سب سے پہلی اور اہم کتاب "رجال ابن داود " ہے،جو ساتویں صدی ہجری کے شیعہ محقق ابن داود الحلی کی تصنیف ہے،شیعہ کتب رجال میں یہ سب سے اولین تصنیف ہے،جو جرح و تعدیل کی اساس پر لکھی گئی ہے،چنانچہ محقق حیدر حب اللہ اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ظہر فی ھذا لکتاب ابداع جدید فی تقسیم مادۃ الرجالیہ لم یسبقہ الیہ غیرہ من الرجالیین فیما نعلم،حتی ان الشہید الثانی قال فی حقہ "سلک فیہ مسلکا لم یسبق بہ احد من الاصحاب"1
یعنی "اس کتاب میں رجالی مواد کی تقسیم میں نئی صورت گری کی گئی ہے،جو ہمارے علم کے مطابق سابق رجالیین میں سے کسی نے نہیں کی،یہاں تک شہید ثانی نے بھی اس کتاب کے بارے میں فرمایا کہ مصنف نے ایسا اسلوب اختیار کیا ہے،جس کی طرف کسی نے اس سے پہلے سبقت نہ کی "
چنانچہ آگے اس ابداع کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ حیدر حب اللہ نےلکھا ہے کہ اس کتاب میں پہلی بار رجال کو جرح و تعدیل کے اعتبار سے ممدوحین اور مجروحین و مجہولین میں تقسیم کر کے ذکر کیا گیا ہے، اس کتاب میں سے چند تراجم نقل کئے جاتے ہیں تاکہ اس کا منہج و اسلوب سامنے آسکے:
"زكريا بن يحيى الواسطي ق (جخ، جش) ذكر ابن نوح ثقة.2
زياد بن سابور أخو بسطام الواسطي ق (جخ) ثقة.3
هاشم بن أبي هاشم قر (جخ) مجهول.4
المنهال بن عمرو الأسدي سين (جخ) مهمل5
رجال ابن داود سے چند تراجم کا نمونہ سامنے آچکا ہے،ان تراجم کو تراجم کی بجائے فہارس کہنا زیادہ انسب ہوگا،کہ راوی کا نام ہے اور اس کی توثیق یا تضعیف کے بارے میں صرف ثقہ یا مجہول و مہمل کا لفظ ہے فقط، رواۃ کی ان تقویمات میں ایک اساسی سقم یہ ہے کہ شیخ ابن داود رواۃ اور کتب ِ حدیث کے مصادر اساسیہ کے مصنفین کے ہم عصر نہیں ہیں،قریب تین صدیوں کے بعد کی شخصیت ہیں،تو آپ نے ان تقویمات کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ تقویمات متقدمین اہل علم سے مروی ہیں، ائمہ (معصومین) سے منقول ہیں؟یا اگر ابن داود کی اپنی توثیقات ہیں تو کس بنیاد پر اور کن اصولوں کے تحت وہ رواۃ کی توثیق یا تجریح کا فیصلہ کرتے ہیں؟ شیخ ابن داود نے مقدمہ میں بھی ان امور مہمہ میں سے کسی امر کی وضاحت نہیں کی،جبکہ اس کے برخلاف اہل سنت کتب رجال سے جو تراجم ہم نے نقل کئے،ان میں خصوصیت کے ساتھ رواۃ کی تجریح یا تعدیل کے بارے میں متقدمین اہل علم کے اقوال سند کے ساتھ منقول تھے،جیسا کہ تہذیب التہذیب سے جو ترجمہ نقل کیا گیا،اس میں صرف ایک راوی کے بارے میں سولہ کبار محدثین کے اقوال منقول تھے۔
ان اہم ابحاث کے معدوم ہونے کے ساتھ یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ یہ کتاب ایک مجلد پر مشتمل ایک مختصر کتاب ہے،شیخ حیدر حب اللہ کے بقول اس کتاب میں 1744 رواۃ کو ممدوح اور 565 رواۃ کو مجہولین کی درجہ بندی میں ذکر کیا گیا ہے،یوں کل 2300 کے قریب رواۃ کا ذکر ہے،جو اہل تشیع کے کل رواۃ کے اعتبار سے نہایت قلیل تعداد ہے۔ اس کے ساتھ مزید بات یہ ہے کہ اس کتاب کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں علمائے شیعہ میں بڑے پیمانے پر اختلاف ہوا ہے،کیونکہ اس میں متعدد جہات سے اغلاط پائی جاتی ہیں،جن کی تفصیل حیدر حب اللہ نے مکمل تفصیل دی ہے،چنانچہ شیخ لکھتے ہیں:
لاحظ المتتبعون من الرجالیین وجود مشاکل فی ھذا الکتاب،کالاخطاء الواردۃ فی ضبط الاسماء،وفی النقل من المصادر وفی مقدمتھم السید مصطفی التفرشی فی کتابہ نقد الرجال الذی رصد فیہ بشکل مکثف اھم الملاحظات علی الکتاب"6
یعنی بعد میں آنے والے علمائے رجال نے اس کتاب میں کئی مشاکل پائے ہیں،جیسا کہ اسماء کو ضبط کرنے میں ہونے والی اغلاط،مصادر سے نقل میں غلطیاں،ان میں سب سے قابل ذکر سید مصطفی تفرشی ہیں،جنہوں نے اپنی کتاب نقد الرجال میں مفصل انداز میں کتاب کے بارے میں اپنے ملاحظات بیان کئے ہیں۔ اس کے بعد تفرشی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"کتابہ ھذا مشتمل علی اغالیط لا تحصی واشتباہات لا تستقصی،یعرفھا من تامل فیہ و نظر فی ظاہرہ و خافیہ"
یعنی ان کی یہ کتاب لا تعداد اغلاط اور بے شمار التباسات پر مشتمل ہے،ہر وہ آدمی ان کو جان سکتا ہے جو،اس کے ظاہر و مخفی مقامات میں دقت ِ نظر سے دیکھے۔
اس کے بعد شیخ حیدر حب اللہ نے اس کتاب کے معتمد ہونے اور اسے بطور ِ مصدر لینے یا نہ لینے کے بارے میں علمائے شیعہ کے تین مواقف بیان کئے ہیں،الرفض التام،القبول التام اور القبول المعتدل یعنی اسے مکمل لے لینا،مکمل ترک کر دینا،یا اس کے ساتھ اعتدال کا رویہ اپنانا،کہ اغلاط کے ملاحظہ کے ساتھ اس کو لیا جائے۔
2۔ خلاصۃ الاقوال فی معرفۃ الرجال
جرح و تعدیل کے نکتہ نظر سے لکھی گئی اس دور کی دوسری اہم ترین کتاب معروف شیعہ محدث اور امام ابن تیمیہ کے ہم عصر ابو منصور حسن بن مطہر حلی،جنہیں عام طور پر علامہ حلی کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے،کی تصنیف ہے،علامہ حلی کا اہل تشیع میں جو مقام ہے،وہ کسی پر مخفی نہیں،علامہ حلی کی شہرت کی وجہ سے اس کتاب کو بھی خاصی مقبولیت ملی،بعد کے اہل علم نے اس پر شروح و حواشی کثرت سے لکھے،علامہ حلی مقدمہ میں کتاب کی تالیف کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"فان العلم بحال الرواة من أساس الأحكام الشرعية، وعليه تبتني القواعد السمعية، يجب على كل مجتهد معرفته وعلمه،ولا يسوغ له تركه وجهله، إذ أكثر الاحكام تستفاد من الاخبار النبويةوالروايات عن الأئمة المهدية، عليهم أفضل الصلوات وأكرم التحيات،فلا بد من معرفة الطريق إليهم، حيث روى مشايخنا رحمهم الله عن الثقةوغيره، ومن يعمل بروايته ومن لا يجوز الاعتماد على نقله.فدعانا ذلك إلى تصنيف مختصر في بيان حال رواة ومن يعتمد عليه،ومن تترك روايته، مع أن مشايخنا السابقين رضوان الله عليهم أجمعين صنفوا كتبا متعددة في هذا الفن، الا ان بعضهم طول غاية التطويل مع اجمال الحال فيما نقله، وبعضهم اختصر غاية الاختصار، ولم يسلك أحد النهج الذي سلكناه في هذا الكتاب، ومن وقف عليه عرف منزلته وقدره وتميزه عما صنفه المتقدمون.7
یعنی احوال رواۃ کا علم احکام شرعیہ کی بنیاد ہے اور اسی پر قواعد کی بنا ہے،لھذا ہر مجتہد پر اس علم کی معرفت واجب ہے اور اس کے بارے میں بے خبری کا ترک ضروری ہے،کیونکہ اکثر احکام نبی ﷺ کی احادیث اور ائمہ (علیھم السلام) کی روایات سے ماخوذ ہیں،تو ان ائمہ تک خبر کی طریق کی معرفت ضروری ہے،کہ ہمارے مشائخ نے ثقہ سے روایت لی ہے یا کسی اور سے،اور کن رواۃ کی روایت پر عمل جا ئزہے اور کن رواۃ کی روایت پر عمل ناجائز؟اس وجہ سے ہم احوال رواۃ میں ایک مختصر تصنیف کی طرف متوجہ ہوئے جو معتمد و غیر معتمد رواۃ کے احوال پر مشتمل ہو،باوجودیکہ ہمارے مشائخ نے اس فن میں متعدد کتب تصنیف کی ہیں،مگر بعض بظاہر تو لمبی کتب ہیں مگر احوال کے اعتبار سے مجمل ہیں،جبکہ بعض انتہائی اختصار کی حامل ہیں،لھذا کسی نے ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا،جو ہم نے اس کتاب میں اپنایا ہے،جو اس کتاب سے واقف ہوگا،تو اس کتاب کی متقدمین کی کتب کی بنسبت قدر و منزلت اور اس کا امتیاز جان سکے گا۔
علامہ حلی کے اس اقتباس میں ایک تو اس بات کا اعتراف نظر آتا ہے کہ خاص جرح و تعدیل کے اعتبار سے متقدمین کی کتب ناکافی ہیں،اسی وجہ سے وہ اپنی کتاب کو متقدمین کی کتب سے عالی و ممتاز قرار دے رہے ہیں اور اسے اسلوب و منہج میں یکتا کہہ رہے ہیں،اب اس کتاب سے چند تراجم نقل کئے جاتے ہیں،تاکہ کتاب کا منہج و اسلوب واضح ہوسکے:
- الحسن بن الحسين اللؤلؤي، كوفي، روى عنه محمد بن أحمد بن يحيى.قال النجاشي: انه ثقة كثير الرواية له كتاب، وقال الشيخ الطوسي رحمه الله: ان ابن بابويه ضعفه.وقال النجاشي: كان محمد بن الحسن بن الوليد يستثني من روايةمحمد بن أحمد بن يحيى ما رواه عن جماعة، وعد في جملتهم ما تفرد به الحسن بن الحسين اللؤلؤي، وتبعه أبو جعفر بن بابويه رحمه الله علی ذلك8
- حفص بن سالم، يكنى أبا ولاد، الحناط - بتشديد اللام، وتشديد النون بعد الحاء المهملة - ثقة، كوفي، مولى، جعفي، له أصل.وقال ابن فضال: انه حفص بن يونس المخزومي، روى عن أبي عبد الله(عليه السلام) ، ثقة لا بأس به.وقال ابن عقدة: حفص بن سالم خرج مع زيد بن علي، وظهر من الصادق (عليه السلام) تصويبه لذلك.9
ان دو تراجم سے اتنی بات تو واضح ہوتی ہے کہ علامہ حلی کی کتاب واقعی متقدمین کی کتب سے ممتاز اور منہج و اسلوب میں انفرادیت کی حامل ہے،کہ اس کتاب میں راوی کے بارے میں علمائے جرح و تعدیل کے اقوال نقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس کتاب کا اسلوب اہل سنت کی کتب رجال کے اسلوب کے مماثل ہے،یاد ش بخیر!علامہ حلی کی اس کتاب کا پس منظر عموما یہ بیان کیا جاتا ہے کہ علامہ حلی نے یہ کتاب امام ابن تیمیہ کے اس اعتراض کے جواب میں لکھی ہے،کہ اہل تشیع کے ہاں علم رجال و جرح و تعدیل کا کوئی وجود نہیں ہے،اس پس منظر کی طرف شیخ حیدر حب اللہ نے بھی اشارہ کیا ہے اور اپنے تئیں اس بات کو رد کرنے کی کوشش کی ہے،اس کے واقع میں ثبوت و عدم ثبوت سے قطع نظر، علامہ حلی نے اس کتاب میں اہل سنت کی کتب رجال کا اسلوب و منہج اپنانے کی جو کاوش کی ہے،اس سے اس پس منظر کو تقویت ملتی ہے،واللہ اعلم
لیکن کتاب کے اس امتیاز کے باوصف یہ کتاب انتہائی مختصر کتاب ہے،ساڑھے پانچ سو کے قریب صفحات پر مشتمل ایک متوسط حجم کی جلد میں چھپی ہے،شیخ حیدر حب اللہ کے بقول اس کتاب میں معتمد رواۃ میں 1227 رواۃ اور غیر معتمد رواۃ میں 510 رجال کا ذکر کیا گیا ہے،یوں کل ملا کے اس کتاب میں صرف ساڑھے سترہ سو رواۃ کا ذکر ہے 10حالانکہ شیعہ رواۃ کی کل تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس ہزار کے لگ بھگ ہے،کیونکہ شیخ خوئی کی معجم رجال الحدیث میں پندرہ ہزار کے قریب رواۃ ہیں،جبکہ شیخ علی نماز ی کی مستدرکات علم الرجال،جس میں ایسے رواۃ کا ذکر ہے،جو جملہ کتب رجالیہ میں مذکور نہیں ہیں،اس میں اٹھارہ ہزار سے زائد رواۃ کا ذکر ہے،یوں 33 ہزار رواۃ بنتے ہیں، تو ایک محتاط اندازہ بھی لگا لیں تو تیس ہزار رواۃ بن جاتے ہیں،جبکہ علامہ حلی کی کتاب میں صرف ساڑھے سترہ سو رواۃ کا ذکر ہے،جو رواۃ کی کل تعداد کا بمشکل پانچ فیصد بنتا ہے،یوں علامہ حلی کی کتاب اہل تشیع کے علم رجال کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے بلا شبہ ایک اچھی کاوش ہے،لیکن اس میں کل رواۃ کے صرف پانچ فیصد کا احاطہ کیا گیا ہے،جو ظاہر ہے،علمی لحاظ سے بالکل ناکافی تعداد ہے۔
اب یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ علامہ حلی نے اتنے کم رواۃ کا ذکر کیوں کیا؟علامہ حلی کے منہج و اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ توجیہ کی جاسکتی ہے کہ چونکہ علامہ حلی نے اس کتاب میں رواۃ کے بارے میں جرح و تعدیل کے اقوال ذکر کرنے کا التزام کیا ہے،اور متقدمین کے پورے ذخیرے میں صرف یہی رواۃ ہی علامہ حلی کو ملے،جن کے بارے میں کسی نہ کسی کتاب اور کسی نہ کسی عالم کا قول ِ جرح و تعدیل مل جاتا ہے،جبکہ متقدمین کے تراث میں باقی تمام رواۃ جرح و تعدیل کے ابحاث سے مسکوت عنہ ہیں،پچھلے صفحات میں متقدمین کے اولین مصادر رجالیہ خمسہ کا رواۃ کے جرح و تعدیل کے اعتبار سے ایک مفصل تجزیہ سامنے آچکا ہے،اس تفصیل کی روشنی میں یہ توجیہ بعید نہیں ہے،واللہ اعلم
یہ بات یاد رہے کہ اہل تشیع کے علمی تراث کے بارے میں عموما مخالفین کا نظریہ یہ ہے کہ اہل تشیع کے تراث میں خواہ حدیثی تراث ہو یا رجالی،اس تراث میں دورِ صفوی میں مصنوعی اضافہ کیا گیا ہے، اس نظریے کے مطابق اہل تشیع کا رجالی تراث ہی اتنے رواۃ پر مشتمل تھا،اس لئے علامہ حلی نے اتنے رواۃ کا ذکر کیا ہے،لیکن مضامین کے اس سلسلے میں ہم نے چونکہ مخالفانہ و مخاصمانہ الزامات و دعاوی سے صرف نظر کیا ہے،بلکہ اہل تشیع و اہل سنت ہر دو فریقوں کے ہاں موجود تراث کا تقابل کیا گیا ہے،اس لئے اس دعوی اور اس کی تاریخی ثبوت یا عدم ثبوت کے بارے میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔
3۔ حاوی الاقوال فی معرفۃ الرجال
یہ کتاب گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ محقق شیخ عبد النبی جزائری کی ہے،اسے رجال الشیخ عبد النبی الجزائری بھی کہہ دیا جاتا ہے،یہ کتاب بھی اصلا متقدمین کے تراث کی جمع و ترتیب پر مشتمل ہے،لیکن مصنف نے اس میں ابداع سے کام لیتے ہوئے متقدمین کی کتب میں موجود رواۃ کو چار اقسام میں تقسیم کر کے بیان کیا ہے:
رجال الحدیث الصحیح
رجال الحدیث الحسن
رجال الحدیث الموثق
رجال الحدیث الضعیف
اس میں پہلی قسم کے تحت 1045 رواۃ،دوسری قسم میں 83 رواۃ، تیسری قسم میں 59 رواۃ اور آخری قسم میں 1171 رواۃ کو بیان کیا ہے،یوں کل ملا کے 2360کے قریب رواۃ کو بیان کیا ہے،جو ظاہر ہے کہ کل شیعہ رواۃ کے اعتبار سے نہایت قلیل تعداد ہے اور کل رواۃ ِشیعہ کا بمشکل 7 فیصد حصہ بنتا ہے،اس کتاب میں مصنف نے اپنی طرف سے سوائے مقدمہ و خاتمہ کے کچھ نہیں لکھا،بلکہ متقدمین کا تراث ہی نقل کیا ہے،چنانچہ مقدمہ میں اپنی کتاب کا منہج بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اعلم ان کل رجل ذکرہ النجاشی فی کتابہ ذکرتہ اولا بعبارتہ من غیر تغیر۔۔ثم اتبعتہ بکلام العلامہ فی الخلاصہ من غیر تغییر ایضا۔۔ثم اتبعتہ کلام الخلاصۃ بالحواشی المنسوبۃ الی الشہید الثانی ان وجدتھا،ثم اتبع بکلام الشیخ فی کتاب الرجال و الفہرست محافظا علی اللفظ ما امکن۔۔۔ھذا کلہ فی الفصول الثلاثۃ الاول،و اما فی الفصل الرابع فانی قد اقتصرت علی ما ذکرہ النجاشی و العلامہ فی الخلاصہ،سواء کان فی بابہ او فی غیرہ،و اتبعت کلاھما بباقی الکلام علی النہج المذکور فی الفصول الثلاثۃ11
یعنی میں ہر اس راوی کا پہلے ذکر کروں گا،جس کو نجاشی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے،نجاشی کی عبارت میں بغیر کسی تبدیلی کیے، اس کے بعد علامہ حلی کا خلاصہ سے کلام بلا تغییر نقل کروں گا،،پھر اس کے بعد میں شہید ثانی کے حواشی کی عبارت بغیر تبدیلی کے لاوں گا م،اگر مجھے ملی،پھر اس کے بعد شیخ طوسی کی رجال و فہرست کی عبارت لاوں گا،حتی الامکان الفاظ کی رعایت کرتے ہوئے،یہ ترتیب پہلی تین فصلوں (یعنی پہلی تین اقسام) میں ہوگی،جبکہ فصل رابع میں میں نجاشی و علامہ حلی کے کلام پر اکتفاء کروں گا،خواہ اسی جگہ انہوں نے کلام کیا ہو یا کسی اور جگہ،پھر ان کے کلام کے بعد میں باقی کلام فصول ثلاثۃ کی ترتیب کے مطابق نقل کروں گا۔
یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ مصنف گیارہویں صدی (المتوفی 1021ھ) سے تعلق رکھتے ہیں،تو انہوں نے رواۃ پر متقدمین کے کلام کو استقصاء کے ساتھ نقل کرنے کی کوشش کی ہے،یوں ماضی کے سات سو سالہ تراثِ رجال میں شیخ جزائری کو دو ہزار سے کچھ اوپر رواۃ ملے،جن پر ماضی کے اہل علم نے جرحا و تعدیلا گفتگو کی ہے،اس سے اہل سنت کتب رجال اور اہل تشیع کے تراث ِ رجال کا تقابل بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کے صرف ایک محدث امام ابن ابی حاتم رازی نے علم رجال کے تدوین کے زمانے میں ہی الجرح و التعدیل لکھ کر اٹھارہ ہزار رواۃ کے بارے میں اہل علم کے اقوال و جرح و تعدیل بیان کردئیے،جبکہ شیخ عبد النبی جزائری سات صدیوں کے رجالی تراث کو کھنگالنے کے بعد بھی صرف ڈھائی ہزار کے قریب رواۃ کے بارے میں شیعہ محدثین کے کلام ِ جرح و تعدیل کو نقل کر سکے۔
حواشی
- دروس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال،ص 188
- رجال ابن داود،رقم الترجمہ: 643
- ایضا: رقم الترجمہ: 651
- رقم الترجمہ: 1670
- رقم الترجمہ: 1606
- دروس تمہیدیۃ: ص 191
- خلاصہ الاقوا فی معرفۃ الرجال،ابن مطہر حلی،ص43
- خلاصۃ الاقوال: ص102
- ایضا: ص127
- دروس تمہیدیۃ: ص 204-205
- حاوی الاقوال فی معرفۃ الرجال،عبد النبی الجزائری،ص95۔96
(جاری)
امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں ۱۲ جنوری کو پاکستان شریعت کونسل فیصل آباد کی ایک نشست میں گفتگو)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج کو اپنی ناکامی کے اعتراف کے ساتھ وہاں سے واپسی کو کچھ عرصہ گزر چکا ہے، امارتِ اسلامی افغانستان نے اپنی حکومت قائم کر لی ہے جسے پورے افغانستان میں کنٹرول حاصل ہے ،امن و امان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے، اور نئے حکمران بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں موقع دیا جائے وہ دنیا اور عالمی ماحول کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں وقت دیا جائے تاکہ وہ افغان قوم کے تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر اپنا نظام طے کر سکیں اور چار عشروں کی طویل اور خوفناک جنگ کے اثرات کو سمیٹتے ہوئے افغان عوام کے عقیدہ و ثقافت کی بنیاد پر مستقبل کی نقشہ بندی کر سکیں۔
مگر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا بلکہ معاشی بحران اور سیاسی دباؤ کے ذریعے پیشگی شرائط کے ساتھ انہیں شکست خوردہ قوتوں کے ایجنڈے کے مطابق افغانستان کے مستقبل کا نظام تشکیل دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلم حکومتیں بھی اس معاملہ میں افغان بھائیوں کا ساتھ دینے کی بجائے مغربی قوتوں کے لیے سہولت کاری کا ماحول قائم رکھے ہوئے ہیں۔
اس معاملہ میں یہ پہلو بطور خاص قابل توجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغان اسٹیبلشمنٹ کی اپنے دور کی آٹھ ماہ کی تنخواہیں نئی حکومت کے ذمہ واجب الادا چھوڑ کر گئے ہیں، افغانستان کے اثاثے بہت سےمغربی ملکوں میں منجمد کر دیے گئے ہیں، اور افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کر کے دنیا بھر میں ان کے ہمدردوں اور بہی خواہوں پر ان کی امداد و تعاون کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ افغان قوم اس وقت شعب ابی طالب میں محصور ہے اور ان کی مخالف اقوام و ممالک نے ان کے معاشی بائیکاٹ کا غیر اعلانیہ معاہدہ کر رکھا ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے، حتٰی کہ جو تھوڑی بہت مدد وہاں جا رہی ہے وہ بھی محاصرہ کرنے والوں کی مرضی اور طریق کار پر موقوف ہے۔
بعض دوست سوال کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے اور خاص طور پر مسلمان ممالک ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس سوال کو سمجھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے اور اس کا حقیقت پسندانہ جواب تلاش کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ میرے خیال میں اصل بات یہ ہے کہ سیکولر عالمی قوتوں نے یہ دیکھ کر کہ امت مسلمہ اسلام سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مذہب کو ذاتی اور اختیاری دائرے میں شامل کر لینے پر آمادہ نہیں ہے، انہوں نے یہ بات حتمی طور پر طے کر لی ہے کہ مسلمانوں کا اسلام ’’شریعت لیس‘‘ ہونا چاہیے یعنی وہ قرآن و سنت کے شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کو اپنے ممالک میں ضروری نہ سمجھیں بلکہ اس حوالہ سے باقی دنیا کے سیکولر ایجنڈے سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ جس پر مسلم دنیا کے مقتدر حلقے تو شریعت کے بغیر اسلام کو عملاً قبول کر چکے ہیں مگر عالمِ اسلام بحیثیت امت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ شریعت کے احکام و قوانین پر عمل نہ کر سکنا الگ بات ہے اور احکامِ شریعت سے دستبرداری اس سے مختلف چیز ہے۔ یہ اصل کشمکش ہے جس میں عالمی سیکولر طاقتیں ایک طرف ہیں عالمِ اسلام کی رائے عامہ دوسری طرف ہے۔ جبکہ مسلم دنیا کے برسر اقتدار حلقے اپنی پالیسیوں اور طریق کار کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے کیمپ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ چنانچہ دنیائے اسلام کے دینی حلقے اور دینی مدارس و مراکز بھی سیکولر حلقوں کی طعنہ زنی اور کردارکشی کا ہر سطح پر صرف اس لیے مسلسل نشانہ بنے ہوئے ہیں کہ ان کے خیال میں عام مسلمانوں کی شرعی احکام کے ساتھ کمٹمنٹ اور وابستگی کا باعث یہ دینی حلقے اور مدارس و مراکز ہیں۔
اس پس منظر میں امارت اسلامی افغانستان اور افغان عوام بھی اسی منفی طرز عمل کا نشانہ بنے ہوئے ہیں حتٰی کہ چار عشروں کی طویل جنگ سے تباہ شدہ افغان معاشرہ اور قحط و افلاس کا شکار افغان قوم کو موجودہ معاشی بحران میں انسانی بنیادوں پر غیر مشروط امداد و تعاون کےحق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے جو بلیک میلنگ کی بدترین شکل ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے تمام طبقات بالخصوص علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ دینی ذمہ داری اور قبر و حشر میں جوابدہی کو سامنے رکھتے ہوئے مظلوم افغان بھائیوں کی جو کچھ بھی ہو سکے امداد کریں جس کی معروضی صورتحال میں عملی صورت یہ ہے کہ:
- امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے مطالبہ کو زیادہ سے زیادہ منظم کیا جائے اور ہر سطح پر آواز بلند کی جائے۔
- قانونی اور اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے ان کی ہر ممکن مالی مدد اور معاشی تعاون کا اہتمام کیا جائے۔
- دنیا پر واضح کیا جائے کہ مغربی ممالک میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی اور موجودہ معاشی بحران میں افغان قوم کی مدد کا غیر مشروط ہونا بھی انسانیت کا تقاضہ ہے۔
- اور اپنے افغان بھائیوں کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دعاؤں کا التزام کیا جائے کہ اللہ رب العزت انہیں اس آزمائش اور امتحان میں بھی سرخروئی سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
مولاناعتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کی وفات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
چنددن قبل معروف عالم دین، مفسرِقرآن اوردانشورومحقق مولاناعتیق الرحمن سنبھلی نوے سال سے زیادہ کی عمرمیں وفات پاگئے۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
وہ عرصہ درازسے علیل چل رہے تھے۔موصوف دارالعلوم دیوبندکے فارغ التحصیل اورمولانامحمدمنظورنعمانی رحمہ اللہ کے فرزنداکبرتھے۔قلم کے دھنی اوراپنی بات آزادانہ طورپر کہنے والے مصنف تھے۔صاحب اسلوب اورصاحب فکرانسان تھے۔تقریباً تین دہائی قبل سے وہ لندن میں مقیم تھے اوراس لیے شاعرکی زبان میں کہہ سکتے تھے کہ ؎
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق ومغرب کے مے خانے
جب وہ ہندوستان میں تھے توبرسوں تک پہلے ندائے ملت اورپھرمشہوراصلاحی مجلہ الفرقان (بانی: مولانا محمد منظور نعمانیؒ) کی ادارت کرتے رہے جن میں انہوں نے اپنے پختہ سیاسی نظریات کے ساتھ ملت کی اصلاح اورتربیت شعور کا کام انجام دیا۔وہ علم وتحقیق کی آبروتھے۔ بہت سلجھاہودماغ ااوررواں قلم پایاتھا۔جس موضوع پر قلم اٹھاتے، بڑے اعتمادکے ساتھ تجزیاتی اسلوب میں گفتگوکرتے۔طالبان اورامریکہ کی پہلی جنگ میں انہوں نے طالبان کی شکست کے اسباب کا جائزہ لیا۔ اسی طرح مسلمانوں میں اہانت رسول کو لے کریاحجاب کے مسئلہ میں جوغیرضروری حساسیت پائی جاتی ہے، اس کی نشان دہی کی۔افغانستان پر لکھے ان کے مقالہ پر بھی ردعمل ہوااورندوۃ العلما کے ایک دوسرے سنبھلی استادمولانابرہان الدین سنبھلی مرحوم نے اس کا جواب لکھااورطالبان کے موقف کی ستائش کی۔پھر غالباً ترجمان (جدید)دارالعلوم دیوبندمیں جواب الجواب بھی آیا۔
ہندوستانی مسلمانوں کا موجودہ حالات میں سیاسی، تعلیمی کیالائحہ عمل ہوناچاہیے، اس کی برابررہنمائی کرتے رہے۔لندن چلے جانے کے بعدان کی تحریریں زیادہ ترمعروف علمی وفکری مجلہ الشریعہ(گوجرانوالہ پاکستان) اور الفرقان اورترجمان (جدید)دارالعلوم دیوبندمیں شائع ہوتی تھیں جس کے مدیر مولانا ڈاکٹروارث مظہری صاحب ہیں۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پرانہوں نے علامہ ابن القیم کی بحث کی خاصی گرفت کی ہے اوراس مسئلہ پر حنفی نقطہ نظرکی وکالت کی ہے۔مغرب میں رہنے والے مسلمان کس اندازمیں اپنی دینی شناخت کوبرقراررکھتے ہوئے وہاں کے معاشروں سے ایڈجسٹ کریں اوران کے لیے فائدہ مندثابت ہوں، اس پر بھی ان کے مضامین میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
مشاجرات صحابہ کے نازک باب میں انہوں نے انقلاب ِایران کے سیاق میں گفتگوکرتے ہوئے اپناموقف پیش کیاہے جومدلل اورتجزیاتی ہے اورکسی قسم کی عقیدت سے مبراہوکراختیارکیاگیاہے۔بہتوں کواس سے اختلاف ہے اور ہوناچاہیے، مگروہ ناصبی ہرگزنہ تھے جیساکہ بعض فیس بکی لکھاریوں نے ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے۔سیدناعثمان بن عفان ذی النورین سیدناامیرمعاویہ، سیدناعمروبن العاص سیدناحضرت مغیرہ رضی اللہ عنہم کادفاع اوران پر لگائے گئے تاریخ کے الزامات کی تحقیق وصفائی لاریب ”نصب“نہیں ہوسکتی وہ ان جلیل الشان لوگوں کا حق ہے۔انہوں نے سیدناحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مقام ومرتبہ کا پوراپاس ِادب رکھاہے۔یزیداوراس کے عمال کے اقدامات کی توجیہ کی ہے۔یزیدپر لگے گھنونے الزامات کا دفاع کیاجوان سے پہلے بہت سے ائمہ کباربھی کرچکے ہیں۔ تاہم لوگ اس بات کوبالکل نظراندازکردیتے ہیں کہ مولانانے اپنی تحقیق میں سیدنامعاویہ کے یزیدکواپناجانشین بنانے کی حمایت نہیں کی بلکہ نتائج کے لحاظ سے اس کوغلط ہی قراردیاہے۔اتفاق واختلاف کی بات الگ، یہ کتاب ”واقعہ کربلاکا حقیقی پس منظر“ایک معرکۃ الآراکتاب ثابت ہوئی اوراس پر برصغیرمیں خوب لے دے بھی مچی۔
اس کے بعدمولاناعتیق الرحمن سنبھلی نے حیات نعمانی لکھی جس میں انہوں نے اپنے والدبزگوارکا نقش جمیل کچھ اس طرح پیش کیاکہ اس عہدکی پیچیدہ ملی صورت حال بھی قاری کے سامنے آجاتی ہے اورموجودہ زمانہ میں ملی کاموں کا طریقہ بھی سمجھ میں آتاہے۔
مولاناسنبھلی کا تیسرابڑاکارنامہ ان کی تفسیر”محفل قرآن“ہے۔جووہ عرصہ درازتک ایک کالمی درس قرآن کی صورت میں الفرقان میں لکھاکرتے تھے۔اسی تاریخی مناسبت کوباقی رکھتے ہوئے اس کانام محفل ِقرآن ہی رکھا گیا ہے۔راقم سطورنے اس تفسیرکی ابتدائی دوجلدیں حرفاً حرفاً پڑھی ہیں اوروہ گواہی دیتاہے کہ اس نے اس مختصر تفسیرکو عصرحاضرکی دوسری بہت سی معروف ومتداول تفسیروں سے کہیں بڑھ کربہترومفیدترپایاکیونکہ وہ غیرضروری مباحث وتفصیلات سے مکمل گریز کرکے صرف قرآن کی آیات کے مفہوم ومدعاپر فوکس کرتے ہیں۔اکثرمقامات پر سلف کے فہم ہی کوترجیح دی ہے، بہت کم اپنی الگ رائے بیان کی ہے۔حدیث وسیرت اورفقہ کوبھی سامنے رکھا ہے۔ طرزبیان عقلی ومنطقی ہے۔
راقم خاکساربرسوں تک ماہنامہ افکارملی دہلی کا مدیر رہا۔ مولانالندن میں اس کے خریدارتھے اورانہوں نے اپنی کئی کتابیں تبصرے کے لیے گاہے بگاہے بھجوائیں۔چنانچہ راقم کے کی تبصرے ان کی کتاب واقعہ کربلاکا حقیقی پس منظر (انگریزی ایڈیشن پر) حیات نعمانی اورتفسیرکی دوجلدوں پر شائع ہوئے۔واقعہ کربلاوالی کتاب پر تبصرہ الشریعہ کے علاوہ عالمی اسلامی یونورسٹی اسلام آبادکے شائع ہونے والے مجلہ فکرونظرمیں بھی چھپااورمولانانے شکریہ کا ایک خط بھی راقم خاکسارکے نام لکھا۔یہاں یہ کہنابھی غالباً ضروری ہوگاکہ جدیدتفاسیرمیں انہوں نے تدبرقرآن کی بڑی تعریف کی ہے۔ نمازکی اہمیت پر جابجاروشنی ڈالنے کی بنیادپر دوسرے قرآنی نظم اورعربی لغت کی رعایت کی بنیادپر اگرچہ اس کا اظہاربھی کھل کرکردیاہے کہ صاحب ِتدبرنے بعض صحابہ کی شان میں نازیباالفاظ استعمال کیے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔(اشارہ سزائے رجم کے سلسلہ میں حضرت ماعزؓکے بارے میں مولانااصلاحیؒ کے ریمارک کی طرف ہے)۔
پروفیسرفریدہ خانم (صاحب زادی مولاناوحیدالدین خاں رحمہ اللہ)کی کتاب مولانامودودی کی تعبیردین پر نقدکے سلسلہ میں شائع ہوئی۔اِس کتاب پر راقم نے افکارملی میں ایک مثبت تبصرہ کیاکردیاکہ ایک مخصوص حلقہ کی باسی کڑھی میں ابال آگیا اور اس تبصرے کی تردیدمیں کئی مضامین افکارمیں شائع ہوئے۔میرے تبصرہ کے بعد مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا مکتوب آیا۔ انہوں نے پروفیسرموصوفہ کی کتاب منگوا کرپڑھی اوراپنے والدگرامی کے حوالہ سے واقع ہوئی حوالہ کی ایک بڑی فروگزشات کی طرف توجہ دلائی۔اسی موقع سے مولانانے راقم کولکھاتھاکہ جب مولانا مودودی علیہ الرحمہ کی کتاب ”قرآن کی چاربنیادی اصطلاحیں“منظرعام پر آئی توغالباً سب سے پہلے انہوں نے الفرقان میں اس تعبیرِدین پر پہلانقدکیاتھا۔خاکسارنے ان سے گزارش کی کہ وہ مقالہ فراہم کرایاجائے۔انہوں نے بھی تلاش کروایا، لیکن تاحال ان کا ناقدانہ تبصرہ کہیں ملانہیں۔ممکن ہے کہ کہیں الفرقان کی فائلوں میں دباہو۔تاہم اِس سے یہ پتہ چلاکہ مولاناموصوف بھی مولانامودودی کی تعبیردین سے اختلاف رکھتے تھے۔
مولاناسنبھلی کثرت سے مطالعہ کرتے اورعلماء کے حلقہ میں راقم کی رائے میں اِس لیے ممتازتھے کہ مشرق ومغرب دونوں کوبہت قریب سے دیکھنے اوربرتنے کی بناپر ان کی تحریروں میں حقیقت پسندی معروضیت ا ورعدم جذباتیت اورانصاف پسندی پائی جاتی ہے، یک رخاپن نہیں ہے۔اوراس لیے مغربی فکرکے نقدکے ساتھ مغرب والوں کی بعض اخلاقی قدروں کی ستائش انہوں نے کی جوکہ علما کے حلقہ میں یکسرناپیدہے۔ساتھ ہی وہ موجودہ زمانے کے چیلنجوں اورمطالبات پر بھی گہری نظررکھتے تھے۔اسلام کے تعلق سے مغرب میں کیاکچھ لکھاپڑھاجارہاہے، اس کی انگریزی سے اپنی واقفیت کی بناکرفرسٹ ہینڈمعلومات رکھتے۔ملی ضرورتوں کے ادراک کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کے نصاب ونظام پر بھی انہوں نے لکھاہے۔الفرقان کے اداریوں پر مشتمل ان کے کچھ مضامین کا مجموعہ ”مجھے ہے حکم اذاں“کے عنوان سے چھپ چکاہے۔ضرورت ہے کہ ان کے منتخب علمی فکری اورتنقیدی مضامین بھی شائع کیے جائیں۔
بعض مباحث پر انہوں نے مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ اوردوسرے اکابرسے اختلا ف بھی کیامگران کے پورے احترام کومدنظررکھتے ہوئے۔مولاناابوالحسن علی ندوی کی کتاب المرتضی ٰ کا بھی انہوں نے ناقدانہ جائزہ لیاتھاجس کودوبارہ شائع کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کی زبان وبیان مولویانہ وواعظانہ نہیں بلکہ سنجیدہ، دانشورانہ، شگفتہ اورمنطقی اوراستدلالی اسلوب کے حامل ہیں۔مولانامرحوم کے اخلاف میں جہاں تک راقم کی واقفیت ہے، بھائیوں، پوتوں، نواسوں اوربھانجوں میں بھی یہی صفات عالیہ منتقل ہوئی ہیں اوربلامبالغہ کہاجاسکتاہے کہ:
این خانہ ہمہ آفتاب است
مولاناسنبھلی اِس سے قبل بھی کئی بارسخت بیمارپڑے تھے مگرشایدقدرت ان سے ترجمہ وتفسیرکا کام مکمل کراناچاہتی تھی چنانچہ وہ ہرباربسترسے اٹھ کرپھرجانفشانی سے اِس کام میں لگ جاتے گویاشبلی وعتیق میں یک گونہ مشابہت یوں ظاہرہوئی کہ شبلی رحمہ اللہ نے اپنے اخیرایام سیرت نبوی علی صاحبہا الف الف تحیہ وسلام میں بسرکیے تومولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے اپنی حیات مستعارکے آخری لمحات کتاب اللہ کے فہم وتفسیرمیں گزارے۔
خداکاشکرہے یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا۔ اللہم انزل علیہ شآبیب رحمتک
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲)
"Defending Muhammad in Modernity"
ڈاکٹر شیر علی ترین
ترجمہ : محمد جان اخونزادہ
آگے بڑھنے سے پہلے اس کاوش کے بنیادی اشکالیے کو واضح کرنے کے لیے، میں ان وسیع تر نظری اور سیاسی اہداف کو واضح کرنا چاہوں جو اس سے مقصود ہیں۔ آئندہ سطور میں، میری خصوصی دلچسپی یہ واضح کرنے سے ہوگی کہ مسلمانوں کے مابین بریلوی دیوبندی جیسے اندرونی اختلافات کو کیسے مذہب سے متعلق نئی عالمی سیاسی حکمت عملی کا جزو بنایا جاتا اور ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اچھے مسلمانوں اور برے مسلمانوں کی تقسیم کا تنقیدی جائزہ
عہد حاضر میں علمی اور غیر علمی دونوں حلقوں میں بریلوی دیوبندی اختلاف کو عموماً اسلام کی فقہی اور صوفی روایتوں یا فقہ اسلامی اور تصوف کے درمیان ایک دائمی کش مکش کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ علما جو عید میلاد النبی منانے کی مخالفت کرتے ہیں، انھیں شریعت، اصلاح اور خالص اسلام کے علمبرداروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس لگے بندھے مفروضے کی نسبت عموماً دیوبندیوں کی طرف کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو ان اعمال کا دفاع کرتے ہیں، انھیں تصوف، عوامی اسلام اور اسلام کے ایک نرم تصور کے حامیوں کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس تقسیم میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بریلوی اور دیوبندی دونوں بیک وقت صوفی شیوخ اور فقہ کے نامور علما تھے۔ بریلوی مسلک کبھی بھی صرف اولیا کی پرستش تک محدود نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ معاشرتی تشکیل کے ایک ایسے بیانیے کا نمائندہ رہا ہے جس کی بنیاد ایک اعلیٰ علمی اور تصنیفی روایت پر ہے۔ اسی طرح دیوبندی روایت صوفیانہ پہلوؤں سے تہی دامن نہیں۔
مزید برآں، بریلوی دیوبندی مشائخ نے اپنے پیش روؤں کی طرح اپنے آپ کو ان خانوں میں تقسیم نہیں کیا ، اور نہ ہی فقہی/صوفی جیسے سادہ موازنوں میں خود کو محدود کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ صبح جاگتے ہوئے وہ صوفیانہ اعمال کے لیے کمر کس لیتے ہیں، اور شام ہوتے ہی فقہی روپ اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً جب معروف ومشہور دیوبندی عالم مولانا اشرف علی تھانوی (جن کے بارے میں ہم اس کتاب میں آگے مزید بہت کچھ پڑھیں گے) سے پوچھا گیا کہ فقہ اور تصوف کے درمیان کیا تعلق ہے، تو انھوں نے جواب دیا: "میں اخلاقی اعمال کے سلسلے میں فقہا کے فیصلوں پر زیادہ اعتماد کرتا ہوں، لیکن میرا یہ فیصلہ خالص عقل پر مبنی ہے، کیوں کہ طبعی طور پر مجھے صوفیہ کے طور طریقوں سے محبت ہے"1۔
اسی طرح، مقبول عام تصویر کے برعکس، بریلوی مکتب فکر کے بانی اور اس کتاب کے بنیادی کردار مولانا احمد رضا خان محض صوفی نہیں تھے۔ درحقیقت وہ فقہاے مجتہدین کی رائے کو صوفیائے کرام کی رائے کے مقابلے میں ثانوی یا کم اہم سمجھ کر رد کرنے کے رجحان کے شدید ناقد تھے۔ اپنی قابل ذکر کتاب "مقال العرفاء فی اعزاز الشرع والعلماء" میں انھوں نے ما قبل جدید دور کے صوفی بزرگوں کے کئی حوالے جمع کیے ہیں (جن میں زیادہ قابل ذکر مشہور صوفی شیخ عبد القادر جیلانی متوفی 1166ء ہیں)، جو اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ فقہی تعلیمات کی مضبوط اساس کے بغیر تصوف کی حقیقت تک رسائی ہو سکتی ہے2۔ اس لیے اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اعلیٰ حضرت اور مولانا تھانوی دونوں کے لیے فقہ اور تصوف ایک مشترک دینی سوچ کا حصہ ہیں، جنھیں ایک دوسرے کے مقابل خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔
اس کتاب میں فقہی/صوفی موازنے کے خلاف میرا یہ دعویٰ ہے کہ علمی اور تاریخی دونوں اعتبار سے یہ ناقص ہے۔ یہ مسلمانوں کے درمیان استدلال ومناقشے کی روایات اور اختلافات کی پیچیدگیوں کو ایک آسان فہم لیکن مسخ شدہ بیانیے کے ذریعے مستور کر دیتا ہے۔ اگر چہ دیوبند کے پیش رو علما بھی اپنے ارد گرد رائج صوفیانہ اعمال کے متعدد مظاہر کے شدید ناقد ہو سکتے ہیں، لیکن مسلمانوں کے درمیان بریلوی دیوبندی اختلاف وتنازع کو فقہی غُلو یا صوفیانہ تساہل کے درمیان نزاع تک محدود کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔ فقہی/صوفی موازنے کااچھے/برے مسلمان کے نسبتاً ایک وسیع تر، زیادہ طاقت ور اور نتیجتاً زیادہ نقصان دہ بیانیے کے ساتھ گہرا تعلق ہے3، جس میں "اچھائی" کا پیمانہ اچھے مذہب کے سیکولر لبرل تصور سے ہم آہنگی ہے۔ اچھے مذہب کا یہ تصور بالعموم ایک مخصوص انداز میں امریکا کے سامراجی مفادات وخواہشات سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔
اچھے/برے مسلمان کے موازنے کو، جیسا کہ الزبتھ ہرڈ (Elizabeth Hurd) کی حالیہ کاوش سے ظاہر ہوتا ہے، "عقیدے کے دو چہروں" کے ایک وسیع تر عالمی بیانیے میں سمویا گیا ہے، جو بین الاقوامی تعلقات اور پبلک پالیسی کے حلقوں میں جاری بیش تر گفتگو پر حاوی رہتا ہے۔ اس تقسیم میں اچھا مذہب وہی ہے جو آسانی سے قابو میں آئے اور جو امدادی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی مہمات جیسے نولبرل (neo-liberal) مفادات ومقاصد کے لیے کارگر ہو۔ اس کے برعکس برا مذہب وہ ہے جسے نگرانی اور تادیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جو آسانی سے تشدد، عدم برداشت اور انتہا پسندی کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اسے مسلسل سدھائے رکھنا ضروری ہے۔ ہرڈ بتاتی ہیں کہ اچھے اور برے مذہب کے درمیان امتیاز قائم کرنے کی اس کوشش میں مصنوعی طور پر مذہب اور مذہبی پیروکار کے ایک نئے تصور کی تشکیل شامل ہے جو سیاست سے الگ ہو۔ پالیسیوں کی تنفیذ کی ضرورت کا یہ بیانیہ جو اچھے اور برداشت والے ایسے مذہب کو مضبوط بنائے جو تاریخی پیچیدگیوں، مقامی سیاقات، اندرونی اختلافات اور روزمرہ عملی زندگی کی حرکیات سے سروکار نہ رکھے۔ لیکن فکری اِفلاس کے باوجود -یا شاید اس کی وجہ سے- "مذہبی آزادی" کے لیے وسیلے کے طور پر اچھے مذہب کا تصور ایک انتہائی منافع بخش صنعت کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس نئے مذہب کے بزعم خویش ماہرین بشمول محققین، سرکاری ملازمین، صحافیوں اور سفارت کاروں پر دولت وطاقت کی بڑی نوازشات ہیں۔ ان لوگوں سے تھنک ٹینکس، ادارے، حکومتی محکمہ جات جیسے امریکی محکمۂ داخلہ کا دفتر براے مذہب وعالمی معاملات (US State Department Office of Religion and Global Affairs)، جس کا آغاز 2013 میں ہوا، آباد ہیں4۔
جنوبی ایشیا میں اسلام کے قضیے کے حوالے سے "عقیدے کے دو رخ" والے بیانیے نے تصوف کی، جسے آخر کار بریلوی مسلک کے مساوی قرار دیا گیا ہے، پرزور حمایت کی شکل اختیار کر لی ہے، تاکہ شریعت پر مُصِر دیوبندی مسلک کے مزعومہ خطرے کو روکا اور کم کیا جا سکے۔ اس استدلال کی بطور خاص ایک مکروہ مثال واشنگٹن ڈی سی میں واقع تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن (Rand Corporation) کی وہ رپورٹ ہے جو 2003 میں Civil Democratic Islam: Partners, Resources and Strategies کے عنوان سے وسیع پیمانے پر شائع ہوئی۔ تین خود ساختہ "ماہرین اسلام" جن میں اس منصوبے کا نگران ناول نگار چیرائل بينارڈ (Cheryl Benard) بھی شامل ہے، کے تصنیف کردہ 70 صفحات کے اس رسالے کا مطمح نظر یہ ہے کہ "اسلام کے ارتقائی عمل میں تعمیری معاونت فراہم کرکے" جمہوریت کو فروغ دیا جائے5۔ من جملہ دیگر امور کے، اس رپورٹ کا مطمح نظر یہ ہے کہ "اسلامی بنیاد پرستی" کے مسئلے سے "نبٹنے" اور "متمدن وجمہوری اسلام کے فروغ" کی خاطر "ممکنہ ہم خیالوں" کی حیثیت سے مختلف قسم کے مسلمانوں کی خوبیوں اور نقائص کی نشان دہی کرے6۔
یہ دستاویز مسلمانوں کی مختلف اقسام کی طرف سے، جنھیں سادگی سے "سیکولرز"، "بنیاد پرستوں"، "روایت پسندوں" اور "جدیدیت پسندوں" کے خانوں میں بانٹا گیا ہے، متوقع تعاون کا جائزہ لیتا ہے۔ جس طرح کسی میلہ مویشیاں میں جانوروں کی مردانگی کو جانچا جاتا ہے، اسی طرح اس کتابچے کے مصنفین جدیدیت پسندوں کو "جدید امریکی جمہوریت کی اقدار اور روح سے سب سے زیادہ ہم مزاج پاتے ہیں"7۔ سیکولر مسلمان بظاہر فطری اتحادی ہوتے، اگر وہ "بائیں بازو کے نظریات" اور "امریکا مخالف سوچ" کے حامل نہ ہوتے8۔ اس ملغوبے میں تصوف کو بالاتفاق کسی خانے میں نہیں بٹھایا جا سکتا تھا، اس لیے بینارڈ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں: "صوفی ان خانوں میں کسی بھی خانے میں ٹھیک طرح سے نہیں بیٹھتے، لیکن ہم انھیں جدیدیت پسندوں میں شامل کرتے ہیں"۔ اس موقف کے حق میں کوئی وضاحت دیے بغیر وہ صوفی ازم کو کچھ یوں پیش کرتے ہیں: "اسلام کی ایک وسیع اور علمی تشریح۔۔۔ اپنی شاعری، موسیقی اور فلسفے کے ذریعے تصوف مذہبی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر پل کا کردار ادا کرتا ہے"۔ من جملہ دیگر پالیسی سفارشات کے، یہ دستاویز کہتی ہے کہ: "ان ممالک میں جن میں صوفیانہ روایات موجود ہیں، سکول کے نصاب، اقدار اور ثقافتی زندگی میں صوفیانہ اثر ورسوخ کی پرزور حوصلہ افزائی کی جائے۔"9
اسی طرح کا ایک موقف واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک ورڈ (World Organization for Resource Development and Education - WORDE) کی 2010 میں Traditional Muslim Networks: Pakistan’s Untapped Resource in the Fight Against Terrorism کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں سامنے لائی گئی ہے10۔ایک دل چسپ سادگی کے ساتھ یہ رپورٹ "بین الاقوامی امدادی برادری" سے مطالبہ کرتی ہے کہ "انتہا پسند نظریات کی حامل قیادت کے مقابلے میں معتدل مذہبی قائدین کی سرگرمیوں کے وسیع سلسلوں کو مالی معاونت فراہم کرکے ان کو تقویت فراہم کی جائے"11۔
رینڈ دستاویز کی طرح اس رپورٹ میں بھی معتدل اتحادی اور انتہا پسند دشمن واضح طور پر متعین اور جانے پہچانے ہیں۔ بریلوی مرکزی دھارے کے معتدل صوفی ہیں، جب کہ دیوبندی (جنھیں اس پوری رپورٹ میں دیوبندی وہابی12 نام سے پکارا گیا ہے) شریعت پرست انتہا پسند ہیں، جن کے تعلیمی ادارے "انتہا پسندی کے مراکز" ہیں13۔ رپورٹ کا اختتامی نتیجہ یہ ہے کہ بریلویوں سے تعلقات استوار کرنے اور ان کی (مالی یا دیگر طریقوں سے) معاونت کرنے سے دیوبندیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک سفارش ایک اور با اثر تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن (Heritage Foundation) کی رپورٹ میں سامنے لائی گئی ہے14۔ ان رپورٹوں کا نتیجہ اس اندرونی دباؤ میں اضافہ ہے کہ پاکستان میں بریلوی اداروں کو تائید وتقویت پہنچائی جائے، جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں نئی "صوفی یونیورسٹیاں" بنائی جائیں۔
نہ صرف مغربی ریاستی اور غیر ریاستی طاقتیں صوفی ازم کو اسلام کے ایک معتدل، غیر سیاسی اور نرم رخ کی حیثیت سے فروغ دے رہے ہیں بلکہ، جیسا کہ فیٹ میوڈینی (Fait Muedini) نے واضح کیا ہے، بہت سے مسلم اکثریتی ممالک (جیسے الجیریا، مراکش اور پاکستان) کی حکومتیں بھی اس دوڑ میں پیش پیش ہیں15۔ وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کے خیال میں صوفی ازم سیاسی لحاظ سے بے ضرر ہے، اور اس لیے ریاست کو اس سے کوئی خطرہ نہیں۔ مزید برآں، کسی صوفی سلسلے کی تائید ایک سیاسی لیڈر کو "مذہبی استناد" دلا سکتی ہے۔ اثر رسوخ میں فرق کے باوجود، یہ ایک یک طرفہ عمل نہیں، کیوں کہ صوفی گروہ بھی وسائل تک نسبتاً زیادہ رسائی رکھتے اور حلقۂ ارادت میں توسیع کے ذریعے ریاستی سرپرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں16۔ صوفیوں اور سیاسی اشرافیہ کے درمیان تعاون کی یہ روایت کوئی نئی ایجاد نہیں۔
قرونِ وُسطیٰ اور عہدِ جدید کے اوائل میں مسلم ممالک کے بادشاہوں میں یہ دستور بالکل عام تھا کہ وہ اپنے سیاسی اقتدار کو تقویت پہنچانے کی خاطر صوفی شیوخ کے اثر ورسوخ سے استفادہ کرتے تھے، اور اس کے بدلے میں صوفیا بھی سرکاری سرپرستی کے فوائد وثمرات سمیٹتے17۔ در حقیقت یہ دو طرفہ مفید بند وبست تصوف کے بنیادی مخمصوں میں سے ہے: ایک طرف دنیوی آسائشوں کو ترک کرنے پر زور دینا، جب کہ دوسری طرف دنیوی حلقۂ ارادت اور سرپرستی کے اداروں پر انحصار کرنا18۔ لیکن ماقبل جدید سیاقات سے تمام تر مشابہتوں کے باوجود جدید دور میں صوفی ازم کا ریاستی فروغ یک سر مختلف اور غیر متوقع ہے۔ آج صوفی ازم کی تمام تر تعظیم کا بنیادی مقصد اسے "خالص شرعی اسلام" کے مقابلے میں حریف کے طور پر فروغ دینا ہے۔ صوفی ازم کو اس بنیاد پر معتدل یا اچھے اسلام کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ اصلاً اس شریعت یا برے اسلام کا حریف ہے جو ہمیشہ سے انتہا پسندی کے خطرے کا حامل رہا ہے۔
صوفی ازم کو اسلام کے ایسے پر امن تصور کی حیثیت سے پیش کرنا جو اسلام کی قانونی روایت کا مد مقابل ہو، اسلامی شریعت اور تصوف دونوں کا ایک بے سر وپا تصور ہے۔ یہ لگا بندھا مفروضہ اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ راہ سلوک پر چلنے کے لیے شرعی احکام پر عمل درآمد ایک بنیادی تقاضا ہے۔ صوفیا شریعت کو مسترد نہیں کرتے۔ اس کے بجاے وہ اسے بلند تر روحانی تزکیے کی پہلی سیڑھی سمجھتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں صوفی فکر میں شریعت و تصوف کے درمیان تعلق کو متحارب سلسلوں کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کے برعکس خدائی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ پہلی سیڑھی کا درجہ رکھتا ہے۔ درجہ بندی کے اس نظام کی بہتر وضاحت ان تین ہم قافیہ الفاظ سے ہوتی ہے: شریعت (الٰہی قانون)، طریقت (راہ سلوک)، حقیقت (اللہ تعالیٰ تک رسائی)19۔ درجہ بندی اور تقابل ایک چیز نہیں۔
تصوف کو امن اور "اچھے مسلمانوں" کے ہم معنی اور اسلامی شریعت کو تشدد کے خطرے اور "برے مسلمانوں" کے برابر قرار دینا مغربی مستشرقین کی ذہنی اختراع ہے جو تا حال یورپی وامریکی اور بہت سے غیر مغربی (بشمول مسلم اکثریتی) حلقوں میں راسخ ہے۔ جیسا کہ ماہر بشریات کیتھرائن ایونگ (Katherine Ewing) نے اسے اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے: "تصوف اور اسلام یا تصوف اور عوامی رسموں کے درمیان اختلافات کو انیسویں صدی کے متعدد محققین نے اس انداز میں نمایاں کیا ہے جس میں تصوف اپنی نفیس باطنی واردات کی وجہ سے 'اچھا' ہے، یا اس کے برعکس جہاں تصوف توہم پرستانہ رسومات کی وجہ سے 'برا' ہے، وہاں اسلام اپنی عقلیت پسندی اور خالص توحید کی وجہ سے 'اچھا' ہے۔ تاہم اس الٹ پھیر سے قطع نظر، جسے انیسویں صدی کے متعدد لکھاریوں نے پیش کیا ہے، نو آبادیاتی ماحول میں یہی اختلاف بذاتِ خود اور اس کی سیاسی اور مؤثر طاقت تصوف کے مابعد ارتقا کے لیے فیصلہ کن اہمیت کی حامل رہی"20۔
شرعی بمقابلہ صوفی کا بھدا اور شرانگیز مفروضہ جہاں نو سامراجی امریکی تھنک ٹینکس کی پالیسی دستاویزات میں پایا جاتا ہے، وہیں اس طرح کے کئی دیگر سطحی موازنوں کی مثالیں جنوبی ایشیائی اسلام سے متعلق سنجیدہ تحقیقی کاوشوں میں بھی ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر پنینا وربر (Pnina Werber) کا مضمون The Making of Muslim Dissent: Hybridized Discourses, Lay Preachers, and Radical Rhetoric Among British Pakistanis لیجیے21۔ اس مضمون میں، جس کا بنیادی موضوع برطانیہ میں مقیم جنوبی ایشیائی مسلمانوں کی مسلکی شناخت کا تصور ہے، وربنر دیوبندیوں اور بریلویوں کے درمیان موازنہ کچھ اس طرح کرتا ہے:
"دیوبندیوں کے ہاں انفرادی تربیت کی حیثیت سے انفرادی عقلیت پر زور کے ساتھ شرعی استدلال (صوفیوں کے صوفیانہ علم کے بالمقابل) کو بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اولیا کے مزارات کے احاطے میں جاری رسم ورواج کے دفاع میں ]دیوبند کی[ اصلاحی تحریک کی بھرپور اور منظم مخالفت کی گئی۔ یہ اصلاح مخالف تحریک بریلویت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں "فاضل علما" کے دو طبقے ابھر کر سامنے آئے۔ مصلح فقہا اور صوفی فقہا، جو مسلسل ایک دوسرے کے خلاف مذہبی کش مکش میں برسرِ پیکار ہیں"22۔
ان بیانات کے بارے میں کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ محلِّ نظر ہیں۔ وربنر الفاظ کے نوآبادیاتی ورثے کو مثلاً "اولیاء کے احاطے میں جاری رسم ورواج"، جسے وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے استعمال کرتا ہے، نظر انداز کرتا ہے۔ حقائق کے لحاظ سے اس کا تجزیہ بھی درست نہیں، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ دیوبندی اور بریلوی علما دونوں نامور فقہا اور صوفیا تھے۔ لیکن یہاں پر سب سے زیادہ قابل توجہ امر وہ انداز ہے جس میں بریلوی دیوبندی کش مکش کو اس مفروضے پر مبنی قرار دیا گیا ہے کہ شریعت وطریقت پہلے سے جانے پہچانے اور الگ تھلگ استدلالی دائرے ہیں "جو مسلسل ایک دوسرے کے خلاف مذہبی کش مکش میں برسرِ پیکار ہیں"۔ یوں اصلاح کی پھبتی اور اس کے نتیجے میں "مصلح" کا لیبل ان علما پر چسپاں کیا گیا ہے جو "تصوف کے مقابلے میں شرعی استدلال کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں"، جبکہ ان کے مخالفین کو آرام سے "صوفی فقہا" کے خانے میں محصور کیا گیا ہے۔ صوفی فقہا اور مصلح فقہا کی تقسیم سے اس طرف اشارہ ہے کہ جو فقہا تصوف کو کم توجہ دیتے ہیں، وہ زیادہ اصلاح پسند ہوتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ بے سر وپا مفروضہ ہے کہ جو شریعت کو جتنا زیادہ سنجیدہ لے گا، اس کے مذہبی رویے اور عمل میں شدت کا رجحان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ زیادہ وسیع تناظر میں ایسی تقسیم حریف مذہبی روایات کو اصلاحی/صوفی اور شرعی/صوفی جیسے بنے بنائے موازنوں میں محصور کر دیتی ہے، جبکہ ان حالات وواقعات کو ملحوظ نہیں رکھتی جن میں یہ روایات دعوائے استناد کے ساتھ ان دائروں کے حدود طے کرنے کے لیے باہم برسرپیکار ہوتی ہیں۔
اس رجحان کی ایک دوسری مثال جنوبی ایشیائی اسلام کے نامور فرانسیسی مؤرخ مارک گیبوریو (Marc Gaborieau) کے کام میں پائی جاتی ہے۔ اپنی کتاب Un autre Islam: Inde, Pakistan, Bangladesh میں گیبوریو استدلال کرتے ہیں کہ جدید جنوبی ایشیا میں اسلام کی فکری تشکیل علما کے دو الگ اور متوازی گروہوں نے کی ہے۔ ان کی راے میں ایک طرف "مُصلحین" ہیں۔ گیبوریو کی راے میں اصلاح پسند لہر کا آغاز 1740 میں اٹھارویں صدی کے مشہور عالم شاہ ولی اللہ (م 1762ء) سے ہوتا ہے، جو انیسویں صدی کے اواخر تک اور اس کے بعد بھی جدیدیت پسند مصلحین مثلاً چراغ علی (م 1895)، دیوبند کے پیش روؤں اور اہل حدیث علما کی صورت میں جاری ہے۔ جب کہ اس سلسلے کی دوسری طرف ایک علمی روایت ہے جس کو ان علما نے تشکیل دیا ہے جنھیں گیبوریو غیر اصلاحی یا غیر اصلاح شدہ سے تعبیر کرتا ہے۔ اس غیر اصلاحی تحریک کا آغاز شاہ ولی اللہ کے فرزند شاہ عبد العزیز (م 1823) سے شروع ہوتا ہے، اور انیسویں صدی میں بریلوی مکتب فکر سے وابستہ علما نے اسے آگے بڑھایا ہے۔23
دو صدیوں میں پھیلے متعدد کرداروں اور روایات کو ایسے عمومی خانوں میں تقسیم کرنے کے اس تاریخی انداز نظر کی بے اعتدالی ایک طرف، یہ موقف انتہائی بے باکی سے جنوبی ایشیائی اسلام کی متناقض تصویر کشی کے ذریعے سے مقامی مذہبی روایات پر اصلاح کی ایک خود ساختہ تعریف بھی مسلط کرتے ہیں۔ گیبوریو کی تصویر کشی کے برعکس، جیسا کہ میں باب نہم میں بتاؤں گا، بریلوی علما نے بھی اپنے کردار کو مصلحین کے روپ میں دیکھا جن کو طویل عرصے سے رائج رسوم واعمال کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دیوبند کے پیش روؤں کے ساتھ ان کے شدید اختلاف کی بنیاد کم یا زیادہ اصلاح نہیں، بلکہ اصلاح کے تقاضوں اور ضروریات کے مختلف اور متوازی تصورات تھے۔
جنوبی ایشیائی اسلام کی ایسی متضاد تصویر ذرا نسبتاً واضح انداز میں پاکستان میں مذہب اور عوامی ثقافت پر ڈیوڈ پینالٹ (David Pinault) کی کتاب Notes from a Fortune-Telling Parrot: Islam and the Struggle for Religious Pluralism in Pakistan میں ملتی ہے24۔ جس انداز میں وہ بریلویوں اور دیوبندیوں کے درمیان تقابل کرتا ہے، وہ کافی اچھے طریقے سے بریلوی دیوبندی کش مکش کے بارے میں عوام اور اہل علم کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ پینالٹ دیوبندیوں کی تعریف "خالص اسلام کے پیروکار جس سے طالبان نے جنم لیا" سے کرتے ہیں25۔ آگے چل کر وہ ہمیں بتاتے ہیں: "بریلوی کی اصطلاح ان سنیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو قدیم صوفیانہ اعمال پر عمل پیرا ہیں"26۔ پینالٹ کی مختصر لیکن معنی خیز تعریفات کے مطابق بریلوی دیوبندی اختلاف تصوف کے غالی مخالفین، "جن کی کوکھ سے بالآخر طالبان نے جنم لیا"، اور "قدیم صوفیانہ اعمال" کا دفاع کرنے والوں کے درمیان ایک کش مکش سے عبارت ہے۔
اس بیانیے میں کار فرما مفروضہ تصور یہ ہے کہ اسلام مختلف نظریات کا ایک منظرنامہ ہے جس میں سخت گیر مذہبیت اور تصوف جیسے متوازی اور الگ الگ دھارے پائے جاتے ہیں۔ اس منطق کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان عوام اور علما دونوں کو ان متضاد اور حریف تصورات سے انتساب کی بنیاد پر پہلے سے بنے بنائے خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ یہاں پر یہ اضافہ ضروری ہے کہ اسلام کی ایسی بکھری تفہیم کا مُحرک وہ نو استعماری (neo-colonial) کاوشیں ہیں، جو تصوف کو اسلام کے ایک ایسے "پرامن/غیر سیاسی" تصور کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہیں، جو مذہب کی زیادہ "متشدد/سیاسی" تشریحات کا حریف ہے27۔
شریعت/طریقت والے موازنے کی نسبتاً کم اشتعال انگیز مگر محلِّ نظر ایک آخری مثال عامر مفتی کی پیچیدہ کتاب Enlightenment in the Colony ہے۔ بیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمان دانشور اور اردو کے ادبی نقاد محمد حسن عسکری (جو مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید بھی رہے) کی فکر اور کاوش پر بحث کرتے ہوئے عامر مفتی لکھتے ہیں:
"اس مقام پر عسکری کا وسیع تر پروجیکٹ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ جدید عوامی دائرے کو روایتی مناظرہ بازی کے دائرے میں مکمل طور پر بدل دے۔ تاہم ہمیں اسے اسلامی بنیاد پرستی کے منصوبے کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ ان کے کم محتاط ناقدین حسب معمول کرتے آئے ہیں؛ کیوں کہ ان کی منتشر کاوشیں اپنی کلیت میں فی نفسہ شرعی یا فقہی کے بجاے قرونِ وسطیٰ کے اس صوفی نقطۂ نظر کی تشکیل نو کرتی ہیں، جس کی تعبیر وتشریح بیسویں صدی کے مفسر مولانا اشرف علی تھانوی نے کی، اور جو اپنی اصل میں اس شدید عقلیت پسند اور شدید حرفیت پسند عملی اسلام پسندی سے بالکل ایک الگ تصور ہے جو اب پوری دنیا کی خبروں کی شہ سرخیوں کی زینت بن رہی ہے"28۔
اگر چہ عامر مفتی کی حسن عسکری کو بنیاد پرستی کے چنگل سے آزاد کرنے کی کوشش ایک لحاظ سے قابل تعریف ہے (باوجودیکہ وہ بنیاد پرستی کو بالکل عمومی معنی میں لے رہے ہیں)، لیکن انھوں نے 'شریعت یا اسلامی قانون' اور 'قرون وسطیٰ کے صوفی نقطۂ نظر' کے درمیان جو تقابل قائم کیا ہے، میں اس کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ اس موقف میں دو بنیادی مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ فقہ و تصوف کے درمیان بذات خود یہ موازنہ ہے۔ یہ مفروضہ کہ تصوف، چاہے قرونِ وسطیٰ کا ہو یا عہد جدید کا، شریعت یا اسلامی قانون کو نکال باہر کرکے چل سکتا ہے، مولانا تھانوی جیسے عالم کی نظر میں بالکل بے معنی ہے۔ لیکن زیادہ اہم بات مفتی کی اس کوشش پر دھیان دینا ہے کہ انھوں نے حسن عسکری کو 'شدید عقلیت پسند اور شدید حرفیت پسند عملی اسلام ازم' کے گناہ سے پاک ثابت کرنے کے لیے یہ وضاحت کی کہ ان کی بنیاد 'قرونِ وسطی کے تصوف' میں تھی29۔ اس سکیم کے مطابق قرونِ وسطیٰ کا تصوف جدید بنیاد پرستی سے جنم لینے والے تشدد کے لیے ایک اعتدالی قوت کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ 'شریعت یا اسلامی قانون نہیں بلکہ صوفی نقطۂ نظر' کے جملے سے پتا چلتا ہے کہ بنیاد پرستی کے تریاق کی حیثیت سے تصوف کی طرف رجوع اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ایک شخص جتنا زیادہ شریعت پر کاربند رہتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ بنیاد پرستی کا شکار بنتا ہے۔ یہ بعینہ وہی مفروضہ ہے جو معاصر نولبرل کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ صوفی ازم کو 'اچھے اسلام' کی حیثیت سے بیچا جائے، جو 'برے' بنیاد پرست اسلام کے خوف سے چھٹکارا دلانے کا ضامن ہے۔ عامر مفتی کا تصوف کو شریعت اور بنیاد پرستی سے 'الگ' بتانا ناقابل دفاع اور کئی مسائل سے بھرپور چیستاں ہے۔
یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس تنقید سے میرا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں ان دانشوروں کی کاوشوں کو سامراج کے نو لبرل گماشتوں سے جڑی مذموم سیاسیات کی طرح قرار دے رہا ہوں۔ اس کے بجاے، جیسا کہ صبا محمود نے ایک الگ تناظر میں استدلال کیا ہے، انداز نظر کی یہ غیر متوقع یکسانی دراصل اچھے مذہب کے ایک سیکولر تصور سے باضابطہ وابستگی کی دل کشی اور پھیلاو کو ظاہر کرتی ہے30۔
میرا نقطۂ نظر یہ ہے: جنوبی ایشیائی اسلام (یا کسی بھی استدلالی روایت) کے اختلافی ماحول کی توضیح مصلح/غیر مصلح، احیا پسند/روایت پسند، تصوف مخالف/صوفیانہ اور آزاد خیال/قدامت پسند جیسے موازنوں سے کرنا ان اعتقادی آرا کو واضح کرنے کے بجاے دھندلا دیتا ہے جو اس روایت کی تعمیر کرتی ہیں۔ یہ کتاب ایسے تشریحی موازنوں کی افادیت کو مسترد کرتی ہے۔
اچھے مسلمان/برے مسلمان کے بیانیے سے آگے جانے کے لیے راہ عمل کے طور پر یہ کتاب کسی روایت کے ان داخلی استدلالات اور حکمت ہاے عملی کی تفصیلی جانچ کی کوشش کرتی ہے، جن کے ذریعے اس کی حدود پر بحث ومناقشہ ہوتا ہے۔ اس کتاب کا اساسی مفروضہ یہ ہے کہ سطحی تعمیمات اور تقابلی تشریحات کو از کار رفتہ ثابت کرنے کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ ان لوگوں کی آواز سامنے لائی جائے جن کے متعلق یہ تعمیمات کی جا رہی ہیں۔ ان متون، سیاقات اور مسلکی دل چسپیوں کے گہرے مطالعے کے ذریعے، جنھوں نے دیوبندی بریلوی اختلاف کی تشکیل کی، میں یہ بتاؤں گا کہ اس مناقشے کو شرعی مصلحین اور مدہوش متصوفین کے درمیان تنازع تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام، مذہب اور جنوبی ایشیا کے مطالعے میں اس کتاب کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے میں اس استدلال کے مختلف حصوں کی مزید توضیح کرنا چاہتا ہوں۔
کتاب کا مرکزی نکتہ
نو آبادیاتی ہندوستان کی مسلم اصلاحی تحریکوں پر متعدد عمدہ تحقیقات سامنے آنے کے باوجود، نامور مسلمان علما کی دینی فکر مزید تفصیلی اور گہری تحقیق کا بهرپور تقاضا کرتی ہے31۔ موجودہ تحقیقات میں جنوبی ایشیائی اسلام کی فکری/تصنیفی روایات کے بجاے سماجی، ادارتی اور سیاسی تاریخ پر نسبتاً کافی زیادہ توجہ دی جاتی ہے32۔ چند استثناآت کو چھوڑ کر، جنوبی ایشیائی اسلام کے بہت سے مؤرخین بظاہر ان تشریحی استدلالات اور واقعات میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے جن سے جنوبی ایشیا کے مسلمان علما کی فکری تشکیل ہوئی ہے۔ یہ ایک قابل افسوس فروگزاشت ہے، کیوں کہ ان اکابر علما کے مذہبی مباحثے اور مناقشے، جنھوں نے جنوبی ایشیا کی استدلالی روایت کی تشکیل کی ہے، ان کی حیات وکردار کے مرکزی اجزاء ہیں۔ یہ صرف اشاعت کا مسئلہ نہیں، نہ ہی ایک تاریخی خلا کو پُر کیے بغیر چھوڑ دینا ہے۔ مذہبی متون کی تفصیلات اور تہہ در تہہ نزاکتوں کی طرف عدم توجہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی احیائی فکر کے متعلق مفروضاتی یا دقیانوسی تاثرات کو جنم دیتی ہے۔ اصلاح کی حدود اور معانی کا واضح بیان – بیانیے اور داخلی اختلافات – کے بارے میں ہماری تفہیم ناقص اور غیر مفید تعمیمات سے ماخوذ ہوتی ہے۔
عام طور پر مشہور ہے کہ علماے دیوبند نے عید میلاد النبی جیسی رسومات پر تنقید کی، جب کہ بریلویوں نے ایسے اعمال کا دفاع کیا۔ لیکن ان کے استدلالات کے انداز کے سوال نے ابھی تک قابل ذکر توجہ نہیں حاصل کی ۔ میلاد نبوی منانے یا نہ منانے میں ان باہم مخالف علما کے لیے کون سا امر زیرِ غور تھا؟ کن استدلالی طریقوں سے انھوں نے اپنے اعتقادی مسلک کو استناد بہم پہنچایا اور اپنی روایت کے مد مقابل بیانیوں کو کیسے غیر مستند ٹھہرایا؟ ان کے سماجی اور مذہبی تصورات کی تشکیل میں قانون، تاریخ اور زمان کے کن تصورات نے اپنا کردار ادا کیا؟ ان کے افکار میں کہاں پر ابہام اور عدم استحکام پایا جاتا ہے؟
ایک استدلالی روایت کی حیثیت سے ہندوستانی مسلمانوں کی اصلاحی تحریکات کا مفید بیانیہ ترتیب دینے کے لیے اس طرح کے سوالات انتہائی اہم ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ علما کے درمیان عقائد، شریعت اور رسومات کے غیر اہم مسائل پر بظاہر پراسرار اور معمولی تکرار درحقیقت حاکمیت اعلیٰ، سیاسیات اور سماجی نظم کے گہرے سوالات کا تشکیل کنندہ اور ان سے مربوط ہے۔ ان بنیادی کرداروں نے، جن کی فکر کو اس کتاب کے صفحات میں زیرِ بحث لایا گیا ہے، انتخابی سیاست اور جمہوری اداروں یا نظاموں میں بالکل شمولیت اختیار نہیں کی۔ تاہم جیسا کہ صبا محمود نے نہایت عمدگی سے استدلال کیا ہے، ان اصلاحی تحریکوں کی جو باقاعدگی سے روحانی تزکیے اور نجات کے معاملات میں لگی ہوتی ہیں، سیاسی طاقت انفرادی اور سماجی تبدیلی کے لیے ان کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے33۔ صبا محمود کے اشارے سے رہ نمائی لیتے ہوئے یہ کتاب کچھ تفصیل کے ساتھ ان استدلالات، مباحثات اور تنازعات کو قلم بند کرتی ہے جس نے دین دار افراد اور عوام کے بارے میں علما کے مابین متقابل تصورات کی تشکیل کی۔ روایت و اصلاح کی حریف عقلیات جنھوں نے ان کے سیاسی کردار اور امکانات کی تشکیل کی، ان کا ایک دقیق جائزہ دیوبند جیسے اصلاحی منصوبے کو 'غیر سیاسی' قرار دینے کو ناقص ثابت کرتا ہے۔ جیسا کہ میں اپنے مقام پر بتاؤں گا کہ یہ موقف سیاست کے ایک نمایاں طور پر محدود اور لبرل تصور پر مبنی اور اسے بڑھاوا دینے کے لیے ہے۔
ایک بار پھر کہتا ہوں کہ بڑے پیمانے پر ایسی فکری لغزشیں ہندوستان کے نمایاں جدید مسلم مصلحین کے افکار وآرا پر ناکافی توجہ سے جنم لیتی ہیں۔ انیسویں صدی کے علما جیسے شاہ محمد اسماعیل شہید اور علامہ فضل حق خیر آبادی، جن کا تعارف اوپر ہوا، مناسب توضیحی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ میں اس کتاب کے پہلے حصے میں بتاؤں گا، شفاعت نبوی کے حدود پر شاہ اسماعیل شہید اور علامہ خیر آبادی کے درمیان ایک گرما گرم مباحثہ نوآبادیاتی ہندوستان میں بین المسالک اختلافات کی کہانی میں ایک بنیادی صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے۔
شاہ اسماعیل آج تک ایک انتہائی متنازعہ شخصیت اور بے شمار تنقیدوں اور جوابی تنقیدوں کا موضوع رہے ہیں۔ تاہم ہندوستان مسلمانوں کی احیائی روایت میں اس اہمیت کے باوجود، ان کی مذہبی اور سیاسی فکر پر بنیادی مغربی ماخذ سابق مؤرخ ہارلن پیئرسن (Harlan Pearson) کا مقالہ: Islamic Reform and Revival in Nineteenth-Century India: The Tariqah-i-Muhammadiyah ہے34۔ باوجود ایک متاثر کن کاوش ہونے کے، پارسن کا تجزیہ بڑی حد تک برطانیہ کی سرکاری دستاویزات پر مبنی ہے، جبکہ مقامی زبانوں کے مصادر کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس لیے گاہ بگاہ اندرونی مذہبی مباحثوں کے متعلق چند مباحث کے باوجود وہ ان کے اندرونی استدلالات، توقعات اور ابہامات کی ایک تفصیلی اور دقیق تصویر کھینچنے میں ناکام رہے ہیں۔
زیادہ عموم کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیائی مطالعات کے میدان میں مسلمانوں کی علمی روایات کی تحقیق نسبتاً ایک نوزائیدہ مرحلے میں ہے۔ ابراہیم موسیٰ نے اس صورت حال کی تلخیص مناسب انداز میں کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
نوآبادیاتی ہندوستان میں اسلام کے مؤرخین کو پہلے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ خطے میں 'علما' کی روایت کا گہرا علم رکھنے کا دعوی کریں گے تو یہ دعویٰ حقیقت کا عکاس نہیں ہوگا۔ مؤرخین تا حال تقریباً مستقل طور پر نوآبادیاتی یا قومی سیاسیات سے جڑی بین الاقوامی شخصیات جیسے علی گڑھ کے بانی سرسید احمد خان، لاہور میں مدفون فلسفی شاعر علامہ اقبال، انڈین نیشنل کانگریس کی نامور شخصیت مولانا ابو الکلام آزاد یا پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ کوئی پانچ دہائیاں قبل جنوبی ایشیا میں دینی فکر کے فروغ میں روایتی علماے دین کے کردار پر کسی قابل ذکر تحقیق کی تلاش بے سود تھی۔ اگر چہ کچھ علما 1857 کے ہنگامے میں ملوث تھے، اوران میں علامہ فضل حق خیر آبادی کا نام نمایاں طور پر ذکر کیا جاتا ہے، پھر بھی ان کے حالات زندگی، علمی کاوشوں اور جس طرح سے انھوں نے بیسویں صدی کے مسلم ہندوستان میں کلامی پیش رفت کو متاثر کیا، اس کے بارے میں بہت کم کچھ کہا گیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں استدلالی روایت کی حیثیت سے اسلام کی ایک جامع تصویر سامنے لانے کے لیے روایتی علما کی کاوشیں تلاش وتحقیق کی مستحق ہیں35۔
اگر چہ ڈاکٹر موسی کی بات ایک دہائی سے زیادہ پرانی ہے، لیکن یہ اب بھی کافی حد تک درست ہے۔ میری یہ کتاب نوآبادیاتی جنوبی ایشیا میں اہم ترین علمی شخصیات کے مذہبی خیالات کو توجہ کا مرکز بنا کر مسلمانوں کی علمی روایات کی ایک باریک بین تصویر پیش کرتے ہوئے ان خلاؤں کو پر کرتی ہے۔ میں اپنے قارئین کو جنوبی ایشیا کی جدید مسلم علمی روایات کے استدلالات، تنازعات اور تفسیری مناہج کی ایک تفصیلی اور کثیر الجہت سیر کراؤں گا۔ نوآبادیاتی جنوبی ایشیا میں بین المسالک مناقشوں کا جائزہ لیتے ہوئے میں کئی مواقع پر ما قبل جدید اسلامی مصادر پر بھی ڈیرے ڈالوں گا، تاکہ جنوبی ایشیا سے آگے ان مناقشوں کے فکری شجروں کو نمایاں کر سکوں۔ اس حوالے سے بھی یہ کتاب جنوبی ایشیا کی مسلم احیائی فکر پر موجودہ اکثر کاوشوں سے مختلف ہے جن میں بیک وقت عربی، فارسی اور اردو کے مصادر سے اعتنا کرنے کا اہتمام شاذ ونادر ہی کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے یہ کتاب جنوبی ایشیائی مطالعات، علوم اسلامیہ اور زیادہ وسیع انداز میں مطالعۂ مذہب جیسے مضامین کو یکجا کرتے ہوئے ان کے اندر نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علما کی علمی روایت کے استدلالی تناظر سے جنم لینے والے عربی، فارسی اور اردو مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے میں نے کوشش کی ہے کہ عموماً حاشیے میں دھکیلے گئے جنوبی ایشیا کے اہم ترين علمی ذخیرے کی بازیافت کرکے اسے سامنے لاؤں۔
ابواب کی ترتیب (The Arc of the Book)
اس کتاب کے ابواب کی ترتیب تاریخی کے بجاے موضوعی ہے، اگر چہ ایک طرح سے وہ تاریخی ترتیب کے مطابق ہیں، کیوں کہ وہ انیسویں صدی کے آگے پیچھے ترتیب دیے گئے ہیں۔ تاہم یہ کتاب تاریخی ترتیب پر علمی تاریخ نہیں ہے۔ اس کے بجاے یہ ان اسنادی اور بہت سے مواقع پر مخالف بیانیوں کے ان مخصوص حالات کا جائزہ لیتی ہے، جن کا مقصد اسلام کے حدود کی تعیین تھی۔
حصۂ اول ودوم کا آغاز واختتام مختصر تعارفی ابواب کے ساتھ کیا گیا ہے، جو آنے والے ابواب میں شامل سیاسی تناظر اور فکری ماحول کو زیر بحث لاتے ہیں۔ حصۂ اول: 'معاشرتی تشکیل کے حریف بیانیے' کا موضوعِ بحث انیسویں صدی کے اوائل ہیں، جس میں گاہے گاہے اٹھارھویں صدی کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ ان مناظرانہ مباحث پر مشتمل ہے جو شاہ اسماعیل شہید اور ان کے ناقدی کے درمیان، جن میں فضل حق خیر آبادی سرِ فہرست ہیں، اہم ترین دینی مسائل جیسے اسلام میں شفاعتِ نبوی کے حدود پر سامنے آئے۔ ان دو (بشمول کچھ دیگر) علما کے، معاشرتی تشکیل کے متوازی بیانیوں پر توجہ دیتے ہوئے میں نے جنوبی ایشیا کی مسلم احیائی فکر کے ان دو حریف دھاروں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے جنھوں نے انیسویں صدی کے اواخر میں مضبوط مسلکی شناخت کی حیثیت اختیار کر لی۔ معاشرتی تشکیل کے متوازی بیانیوں کا تصور ان متوازی مناہج کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں انیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان کی مغلیہ سلطنت سے برطانوی نوآبادیات کی طرف انتقال کے عبوری دور میں، جو سیاسی بے یقینی کے حالات سے عبارت تھا، خدائی حاکمیتِ اعلیٰ اور نبوی دائرۂ اختیار کے درمیان تعلق کو سمجھا گیا۔ سیاسیات کی کون سی اصطلاحات اور تصورات خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کے سوال پر دینی مناقشوں کی بنیاد بنے؟ کس طرح سیاسیات اور کلامیات بغل گیر ہو کر ایک دوسرے کو بارآور بناتے ہیں؟ روایت کی وہ کون سی حریف عقلیات ہیں جو معاشرتی تشکیل کے متوازی بیانیوں کی وجہ سے ابھر کر سامنے آئیں؟ یہ وہ اساسی فکری سوالات ہیں جو اس کتاب کے حصۂ اول کے پانچ ابواب کی تشکیل کرتے ہیں۔
باب اول: " ہندوستان کے نوآبادیاتی عہد کی ابتدا میں حاکمیتِ اعلیٰ کے سوال پر غور وفکر" اس تاریخی اور اعتقادی ماحول کا پس منظر پیش کرتا ہے، جس پر آنے والے ابواب میں بحث کی گئی ہے۔ معاشرتی تشکیل کے مذہبی بیانیوں (Political Theology) کی اصطلاح کو جس طرح اس کتاب میں برتا گیا ہے، اسی کے تناظر میں مغل حکمرانوں سے برطانیہ کی طرف حاکمیتِ اعلیٰ کے انتقال کے عبوری دور میں فکری اور سماجیاتی ماحول میں جنم لینے والے چند کلیدی تغیرات اور تسلسلات پر بحث کی گئی ہے۔ آئندہ دو ابواب: "اخلاقی اصلاح کی توقعات اور خدشات" اور "حاکمیتِ اعلیٰ کی از سرنو تقویت" (Re-energizing Sovereignty) شاه اسماعیل شہید کی اصلاحی فکر اور کاوشوں سے بحث کرتے ہیں، جس میں خدائی حاکمیت کی بحالی، یعنی شمالی ہندوستان کے مسلمانوں میں رائج رسم رواج کے منفی اثرات سے خدائی حاکمیت کے عقیدے کو بچانے کے لیے ان کی کاوشوں سے خصوصی اعتنا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں ابواب ان کی مشہور اور متنازع فیہ اردو کتاب "تقویۃ الایمان" اور ان کے نسبتاً کم معروف لیکن تقویۃ الایمان ہی کی طرح متنازع فیہ فارسی رسالہ "یک روزہ" کا عمیق مطالعہ ہے۔ اس کے ساتھ ان ابواب میں ان کی عوامی اصلاح کی کوششوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ چوتھا باب: "دینی سیاسیات" ان کی اہم لیکن نسبتًا کم معروف فارسی کتاب "منصبِ اِمامت" پر تفصیلی بحث کے ساتھ سیاسیات اور سیاسی قائدین کی مثالی صورتوں سے متعلق ان کے تصور اور نظریے کو کچھ تفصیل کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔ پانچواں باب: "نظریۂ شفاعت" میں شفاعتِ نبوی کے سوال اور علامہ فضل حق خیر آبادی کی طرف سے شاہ اسماعیل شہید کی تردید پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ باب قارئین کو ایک صاحبِ علم کی حیثیت سے علامہ خیر آبادی اور خیر آبادی مکتبِ فکر کا تعارف بھی کراتا ہے۔
اور آخر میں کتاب کے اس حصے کے ایک مختصر نتیجۂ بحث میں، میں نے استعماری حکومت اور سابقہ ابواب میں مذکور مقامی اصلاحی فکر کے درمیان تعامل کے نظریے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے خاص طور پر اس سوال پر غور وفکر کیا ہے کہ کیا شاہ اسماعیل جیسے مصلح، مفکر اور کارکن کی فکر وکاوش کو جنوبی ایشیا میں ابھرنے والے ایک اسلامی اصلاحی رجحان (protestant sensibility) کی ایک مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ اس امکان کے چند پہلوؤں سے اتفاق کے باوجود میں نے ایسی کسی نظریہ سازی میں پائے جانے والے اہم مسائل کی نشان دہی کی ہے۔ میری راے یہ بھی ہے کہ استعماری طاقت اور مقامی فکر کے درمیان تعامل کی نوعیت کے حوالے سے (ماضی کے) تسلسل یا انقطاع کی بحث کا پورا ڈھانچہ (problem space)، جو جنوبی ایشیا اور جنوبی ایشیائی مذاہب سے متعلق تحقیقات میں غالب رہتا ہے، اب شاید اس افادیت کا حامل نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا، اور اس تناظر میں، میں " معاشرتی تشکیل کے متوازی مذہبی بیانیوں " جیسے نئے نظری سانچوں کی ضرورت واضح کرنا چاہتا ہوں۔
دوسرا حصہ: "حریف مسالک" انیسویں صدی کے اواخر میں بریلوی دیوبندی تنازع کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔ ایک تعارفی باب (چھٹا باب) بعنوان: "نوآبادیاتی حکومت کے سایے میں اصلاحِ مذہب" ایک بار پھر اگلے تجزیے کے لیے میدان ہموار کرتا ہے۔ یہ قانون، مذہب اور سیاسیات کے حوالے سے نوآبادیاتی تشکیلِ نو کے بنیادی خد وخال بیان کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے سنی علمامیں ابھرنے والے مسالک کو زیرِ غور لاتا ہے۔ اگلے چند ابواب دیوبندی اور بریلوی مسلک کے پیش روؤں کے ان مباحثوں کا جائزہ لیتے ہیں جو فقہ وشریعت کے کانٹے دار مسائل پر ان کے اختلاف کا سبب بنے: اسلام میں بدعت کی تعریف وحدود۔ بدعت سے مراد وہ اعمال اور طرز حیات ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کی مخالف ہو۔ لیکن وہ کون سے اعمال ہیں اور ان کی تعیین کیسے ہو، ایسے سوالات ہیں جو ہمیشہ شدید تنازع اور اختلاف کو ہوا دیتے ہیں، جیسا کہ انیسویں صدی کے مسلم ہندوستان میں ہوا۔ ساتواں باب: "قانون، حاکمیت اور شرعی عمل کے حدود" ان استدلالات کو سامنے لانے کے ساتھ جن کے ذریعے دیوبند کے پیش روؤں نے بدعت کی حدود کا تصور واضح کیا اور اس پر بحث ومناقشہ کیا، دیوبند کے اصلاحی پروگرام کے بنیادی عناصر کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
فکری طور پر میں خدائی حاکمیت کی برتری کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل مذہبی بیانیے اور روزمرہ زندگی میں شرعی اعمال کے حدود کی تحدید کے لیے فکرمند شرعی تصور کے درمیان ممکنہ روابط کی تفتیش بھی کر رہا ہوں۔ میں بتاؤں گا کہ دیوبندی فکر کے مطابق فقہ وکلام کا مرکزی سوال یہ ہے کہ ایک نیا عمل بدعت کی حدود میں کب داخل ہوتا ہے۔ اپنے پیش رو شاہ اسماعیل شہید کی طرح (جن کی انھوں نے بھرپور تائید کی) اُن کے اصلاحی منصوبے کا مرکزی نکتہ روزمرہ زندگی کو اس طرز پر از سرِ نو مرتب کرنا ہے جو خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کی یکتائی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ اگر کوئی مُستحب رسم ورواج جیسے میلاد منانے سے خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کو خطرہ لاحق ہو، یا وہ اسے کم زور کرے تو وہ بدعت کے زمرے میں آئیں گے اور اس وجہ سے انھیں چھوڑنا ہوگا۔ شاہ اسماعیل اور دیوبند کے پیش روؤں کے لیے اصلاحی عمل رائج عادات، رسوم ورواجات اور سماجی تقریبات میں مکمل انقلاب برپا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ انھوں نے اپنے کردار کو ان مداخلت کاروں کی حیثیت سے تصور کیا جو تاریخ کا دھارا موڑ دیتے ہیں۔ مزید برآں انھوں نے اصلاح کے لیے تجدید کے اس ماڈل کو زمان اور تاریخ کی ایک ایسی تصور سازی کے ذریعے استناد بہم پہنچایا جس کا محوری نکتہ یہ ہے کہ مسلمان ایک معیاری عہد (یعنی دور رسالت وصحابہ) سے مسلسل دوری اور انقطاع کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ آٹھواں باب: "حاکمیت کی بحالی کے لیے نیک کاموں کا سد باب: میلاد اور اس کے اضطرابات" (Forbidding Piety to Restore Sovereignty: Mawlid and its Discontents) میلاد النبی ﷺ منانے پر معروف دیوبندی عالم مولانا اشرف علی تھانوی کے استدلالات کو سامنے رکھ کر بدعت کے متعلق دیوبندی نظریات کی تطبیق کی ایک مخصوص مثال پیش کرتا ہے جو جنوبی ایشیا میں ابھی تک سب سے زیادہ متنازع رسم ہے۔
نواں باب: "حصولِ خیر: اصل مفاہیم کی بحالی کی حیثیت سے اصلاح" اسلام میں بدعت وروایت کی حدود کا ایک حریف بیانیہ سامنے لاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح بریلوی مسلک کے بانی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان نے بدعت کے موضوع پر دیوبندی نظریات کی تردید کی۔ خان صاحب نے اپنے دیوبندی حریفوں کی سخت سرزنش کی کہ ان کی نظر میں انھوں نے بدعات کی مخالفت کی آڑ میں طویل المیعاد رسوم وعبادات کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا۔ خان صاحب کے نزدیک اصلاح ایسے شرعی خیر کے حصول سے عبارت ہے جو ہر آنے والے والے لمحے میں پہلے سے رائج اعمال کی شکل میں نمایاں ہے، نہ کہ خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کے تحفظ کی خاطر احتیاطی بنیادوں پر ایسے اعمال کو نکال باہر کرنا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی یاد اور احترام میں منائے جانے والے رسومات کو ناجائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کی تردید میں خاص طور پر متشدد واقع ہوئے تھے۔ خان صاحب اور ان کے بریلوی پیروکاروں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی کائناتی مرکزیت پر سوال اٹھانا اور ان کے روحانی رتبے کی استثنائی حیثیت کی تحقیر کرنا دین کی پوری عمارت کو منہدم کرنے کے مترادف ہے۔ خان صاحب نے بتایا کہ دیوبند کے پیش رو خدائی حاکمیت کی بحالی کے لیے اپنے گمراہ کن اور جاہلانہ جوش وجذبے میں اس قسم کی استدلالی بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
یہ باب اس استدلال کے بنیادی خد وخال کو واضح کرتا ہے۔ لیکن ان تمام تر تلخ اختلافات اور تنازعات کے باوجود خان صاحب اور ان کے دیوبندی حریفوں کے اصلاحی ایجنڈوں کے درمیان چند واضح مقامات پر مماثلت اور یکسانیت بھی ہے۔ اگلا باب (دسواں): "مماثلتیں" روزمرہ کی دینی زندگی کی تنقید واصلاح کے متعلق بریلوی سوچ اور فکر کو نمایاں کرنے کے برتر مقصد کے لیے اِن اتفاقی نکات کا جائزہ لیتا ہے، تاکہ اس مشہور غلط فہمی کا ازالہ کیا جا سکے کہ دیوبندی مکتب فکر رسوم ورواجات کے بارے میں عوامی چال چلن کے ناقد جب کہ بریلوی اس کے حامی ہیں۔ جیسا کہ میں اس باب میں بتاؤں گا، احمد رضا خان عوام کے عادات واعمال، بالخصوص عورتوں کی عادات ورواجات کی تنقید میں اپنے دیوبندی حریفوں سے اگر آگے نہیں، تو ان سے پیچھے بھی نہیں ہیں۔
گیارھواں باب: "علم غیب: علم عطائی پر بحث ومناقشہ" رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے سوال پر مرکوز ہے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود، صرف اسی مخصوص سوال کے تناظر میں مولانا احمد رضا خان نے دیوبند کے پیش روؤں کی تکفیر کی (انھیں دائرہ اسلام سے خارج کافر قرار دے دیا)۔ یہ باب علم، حاکمیت اور نبوی معجزے کے درمیان تعلق کے ان متقابل تصورات کا تجزیہ کرتا ہے جو خان صاحب کے اس عجیب وغریب فتوے کا سبب بنے۔ میری راے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے علم کی حیثیت ووسعت کے متعلق اس مناقشے میں اصلاً زیر بحث علم اور مذہب کی تعریف ہے۔
اس کتاب کا تیسرا اور آخری حصہ ایک ہی باب "داخلی اختلافات" (بارھواں باب) پر مشتمل ہے۔ یہ متنازع مذہبی سوالات پر دیوبندیوں کے درمیان تنازعات اور اختلافات کو زیر بحث لاتا ہے۔ بطورِ خاص یہ دیوبند کے پیش روؤں اور ان کے صوفی شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (م 1899) کے درمیان اختلافات پر بحث کرتا ہے۔ حاجی امداد اللہ ایک ممتاز صوفی شیخ تھے جو ہندوستان اور دیگر مقامات میں اپنے دیوبندی مریدوں، دیگر بہت سے علما اور عوام کی نظر میں محترم تھے۔ وہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان سے مکہ ہجرت کر گئے، جب انگریزوں نے انھیں اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے پر گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ وہ 1899 میں اپنی وفات تک مکہ میں رہے۔ اپنے دیوبندی مریدوں کی انتہائی عزت کرنے کے باوجود انھوں نے ذرا دھیمے لیکن قابل توجہ انداز میں متنازع دینی سوالات پر ان سے اختلاف کیا۔ یہ باب ان کے درمیان سمجھوتے اور ان باریک اختلافات کی تحقیق کے لیے وقف ہے۔ ایک نامور صوفی شیخ اور ان کے مریدوں کے درمیان اختلاف کی اس مثال سے میں ثابت کروں گا کہ وہ اختلافات کے جن داخلی استدلالات کو سامنے لائے ہیں، انھیں شرعی/صوفی تقابل کے خانوں میں کیوں نہیں بانٹا جا سکتا۔ میں اس یادگار بیانیے کو بھی نمایاں کروں گا کہ کس طرح دیوبند کے پیش روؤں نے محبت، عقیدت اور اختلاف کے درمیان تطبیق پیدا کی۔
تتمہ میں میں علومِ دینیہ اور جنوبی ایشیائی مطالعات میں اس کتاب کے اہم فکری مضمرات اور کردار پر بحث کروں گا۔ میں خاص طور پر ان مناہج پر غور کروں گا جن سے ایک دینی روایت کے اخلاقی استدلالات کا ایک محتاط جائزہ، جیسا کہ اس کتاب میں برتا گیا ہے، مذہب کی ان حالیہ تحقیقات میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے، اور اس کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے، جنھوں نے مذہبی/سیکولر تقابل پر سوال اٹھایا ہے۔ میری راے ہے کہ زندگی سے متعلق متبادل افکار سے پردہ اٹھانا، جیسا کہ کسی روایت کی داخلی کاوشوں میں دکھایا جاتا ہے، لبرل سیکولرزم کی آفاقیت کے عمومی مفروضے پر سوال اٹھانے کے پروجیکٹ کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ آخر میں ایک مختصر پس نوشت بعنوان: "داخلی 'غیر' کو توجہ سے سننا" میں، میں معاصر جنوبی ایشیا میں اپنے اس کام کی سیاسی مداخلت (یعنی ممکنہ یا متوقع فکری اثرات) پر سوچ بچار کروں گا، اور ساتھ اپنے ذاتی موقف کے حوالے سے چند افکار پیش کروں گا۔
لیکن پہلے چند نکات کی وضاحت ضروری ہے۔ چونکہ اس کتاب کا تعلق ایک ایسی رواں بحث سے ہے،جو ہمیشہ تنازعات کا سبب بنتی اورغیر معمولی توجہ حاصل کرتی ہے، اس لیے مناسب ہے کہ میں اس حوالے سے اپنا موقف واضح کروں۔ میں نے یہ تحقیق مذہب کے علمی مطالعے کی روایت میں سر انجام دی ہے۔ اگر چہ میں مسلمان ہوں اور میرا تعلق جنوبی ایشیا (پاکستان) سے ہے، لیکن میں اس مناقشے کا نہ تو شراکت دار ہوں اور نہ ہی اس کے شراکت دار افراد اور جماعتوں سے میرا کوئی تعلق ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ کسی موقف یا مسلک کے حق میں یا اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے نہ ہی یہ اس اختلاف کا کوئی حل ہے۔ اس کے بجاے میں نے بھرپور کوشش کی ہے کہ اس کے استدلالات، شراکت داری اور ابہامات کا بیان اور تحقیق اس انداز سے کروں کہ جنوبی ایشیا کے تناظر میں مسلم علمی روایات کی تفہیم کی گہرائی اور نزاکتوں میں اضافہ کر سکوں۔
تاہم مجھے "غیر جانب دار"، "جذبات سے عاری" محقق کے طور پر نہ دیکھا جائے جو اُن شخصیات میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتا جن پر وہ تحقیق کرتا ہے۔ ان کے مسلکی مواقف کے متعلق غیر جانب دار ہونے کے باوجود میں نے ان کی فکر کی تفہیم وترسیل کی بھرپور کوشش میں گزشتہ کئی سال صرف کیے ہیں، اور ظاہر ہے کہ اس کتاب میں پیش کیے جانے والے علما اور ان کی کتابوں سے میں نے ایک قریبی رشتہ استوار کیا ہے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے، اور میں علمی حوالے سے ان کا مرہونِ منت ہوں۔ آنے والے صفحات میں سوانحی تذکروں سے نہیں، بلکہ مذہب کے علمی مطالعے کے طریق ہاے کار اور اصولوں کی روشنی میں، میں ان کی تذکرہ کروں گا ۔ اس منہج میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ روایت کی تہہ در تہہ باریکیوں اور تنازعات سے پردہ اٹھایا جائے، جب کہ لبرل سیکولر فکریت کے اعتدالی دعووں اور مفروضوں کا بھی قلع قمع کیا جائے۔ یہ دہری توقع اس کتاب کا مغز ہے۔ میں تتمّے میں اس مسئلے پر مزید بات کروں گا۔
ایک دوسری وضاحت بھی ضروری ہے۔ اس کتاب میں بہت سے مقامات پر میں نے حکایات اور حکایات کے زیر اثر تاریخوں اور سوانحی تذکروں کے مقامی ذخیروں سے حوالے دیے ہیں۔ یہ توضیحی اور تجزیاتی سے لے کر وقائع نگاری اور عقیدت پر مبنی مصادر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ میری طرف سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں ان مصادر سے استفادہ صرف ان کی ظاہری حیثیت کی بنیاد پر نہیں کرتا، نہ ہی میں انھیں تجربی حقائق کے ذخائر کے طور پر لیتا ہوں جو پیش آنے والے واقعات کے متعلق سوالات کا یقینی جواب فراہم کرتے ہیں۔ مجھے بہ نسبت اس سوال کے ان سیاسی اور مسلکی کاوشوں میں زیادہ دل چسپی ہے جو یہ حکایات کسی استدلالی روایت کی اخلاقی تشکیل اور تزویراتی عمل کے لیے سرانجام دیتی ہیں۔ مزید برآں انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا کے مسلم احیائی ورثے میں حکایات ایک بنیادی و مؤثر آلے اور طرز استدلال کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس روایت کی خصوصیت ہی حکایات پر مبنی تحریری سرمایے کی فراوانی ہے۔ اس لیے ان حکایات سے استفادے سے میرا مقصد یہی ہے کہ اس پورے ذخیرے کی بنت میں جو استدلالی تصورات کارفرما ہیں، ان کو سمجھا اور علمی گفتگو کا حصہ بنایا جائے۔
میں نے، جہاں کہیں ممکن تھا اور جہاں پر معلومات دست یاب تھیں، کسی تحریر کی تصنیف کے متعلق موجود سلسلۂ سند/تحریری ثبوت یا مناقشوں پر بھی مختصر نوٹس کا اضافہ کیا ہے، اگر چہ اس پوری کتاب میں میری توجہ تحریری سرمایے کی مادی تاریخ کے بجاے استدلالی مواد پر مرکوز ہے۔ ان اکثر کتابوں کے اصل قلمی نسخے دستیاب نہیں جن کا تجزیہ اس کتاب میں کیا گیا ہے، اور متعدد سوانحی، بالخصوص بیسویں صدی کے اواخر کی حکایات کا دار ومدار زبانی روایت پر ہے، یا وہ عقیدت پر مبنی تاریخ کے انداز میں سامنے آئے ہیں۔ اس لیے اس بات پر زور دینا مفید ہے کہ اس کتاب میں جن مرکزی شخصیات کی زندگیوں اور افکار سے بحث کی گئی ہے، ان کے بارے میں ہم تک معلومات مختلف شارحین کے دستاویزات کے توسط سے پہنچی ہیں، اور ان کی مسلکی وابستگیوں اور افکار کی خصوصیات سے متاثر ہیں۔ مزید برآں جن متون کے ذریعے ہم ان شخصیات سے متعارف ہوتے ہیں، بالخصوص وہ جو بعد میں عربی سے فارسی اور اردو میں یا فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئے، عام طور پر ایسی کئی شخصیات کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہوتے ہیں جن کا تعلق ایک مخصوص زمانی عرصے سے ہوتا ہے۔36 ایسے متون کے معاملے میں جہاں کہیں ممکن ہوا، میں نے اپنے تجزیے کی بنیاد اصل زبان پر رکھی ہے، جب کہ اس کے ترجمے کو بھی بعد میں کسی مخصوص اعتقادی نقطۂ نظر کے لیے حک واضافے کی تحقیق کے خاطر غور وفکر کا موضوع بنایا ہے۔
ان تنقیحات اور ضروری وضاحتوں کے ساتھ میں یہ عرض داشت بھی پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کسی کو یہ زحمت بھی کرنی چاہیے کہ وہ اس ترتیب کو توڑے جس میں ان یورپی وامریکی ثانوی مصادر کے مقابلے میں ہمیشہ مشکوک ٹھہرنے والے مقامی مصادر کی تحقیر کی جاتی ہے، جن کو یہ اختیار سونپا گیا ہے کہ وہ ان کی تاریخی ثقاہت کی تحقیق، تجزیہ اور تعیین کریں۔ میں ایسی سرپرستی کو نخوت زدگی سمجھتا ہوں۔ تمام تحریریں (بشمول زیر نظر تحریر کے) ذاتی آرا اور حساسیتوں پر اگر مبنی نہیں تو متاثر ضرور ہوتی ہیں، اور ان میں مختلف قسم کے فوائد اور گہرائیاں یا نقائص اور خطرات ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر تمام تر تعصبات اور صریح جانبدارانہ مواقف کے باوجود جنوبی ایشیائی اسلام سے متعلق یہاں کی مقامی مسلم وقائع نگاری اپنی تفصیلات، گہرائی اور جزئیات تک میں بہت سے مواقع پر یورپی اور امریکی دانش سے کافی بلند ہے۔ اس کتاب کو لکھتے ہوئے میں نے تشکیک اور تسلیم کے علمی مناہج کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس توازن کو ملحوظ رکھنے کی کوشش سے، امید ہے کہ ان تہہ بر تہہ استدلالات اور مقاصد کے ساتھ جو کسی استدلالی روایت کی تشکیل کرنے والوں کے پیش نظر ہوتے ہیں، ایک زیادہ گہرا اور زیادہ ہمدردانہ تعامل کیا جا سکتا ہے۔
حواشی
- اشرف علی تھانوی، ملفوظاتِ اشرفیہ (ملتان: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، 1981)، 132۔
- احمد رضا خان، مقال عرفاء فی اعزاز شرع و علماے شریعت و طریقت (کراچی: ادارۂ تصنیفاتِ امام احمد رضا خان، تاریخ اشاعت ندارد)۔
- محمود ممدانی، Good Muslim, Bad Muslim: America, the Cold War , and the Roots of Terror (نیو یارک: پینگوئن رینڈم ہاؤس، 2005)۔
- الزبتھ ہرڈ، Beyond Religious Freedom: The New Global Politics of Religion (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2015)۔
- چیرائل بینارڈ، اینڈریو رِڈِل اور پیٹر ولسن، Civil Democratic Islam: Partners, Resources, and Strategies (سانٹا مانیکا، سی اے: رینڈ، 2003)، 25۔
- ایضاً، 47۔
- ایضاً، 37۔
- ایضاً، 25۔
- ایضاً، 29۔
- ہدیہ میراحمدی، مہرین فاروق اور ولید زیاد، Traditional Muslim Networks: Pakistan’s Untapped Resource in the Fight Against Terrorism (واشنگٹن، ڈی سی: WORDE، 2010)۔
- ایضاً، 2۔
- وہابی کی اصطلاح عالمِ عرب کی اٹھارھویں صدی کی مسلم اصلاحی تحریک، جس کی بنیاد شیخ محمد بن عبد الوہاب (م 1798) نے رکھی، کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ باوجود اعتقادی مماثلتوں کے، معمولی ثبوت کی بنیاد پر دیوبندیوں کو وہابیوں کی طرح قرار دینا نوآبادیاتی دور کا الزام ہے۔ حقیقت میں اصلاح کے یہ دو دھارے اساسی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وہابی چاروں سنی مسالک کی تقلید کو اگر مسترد نہیں کرتے تو اسے قرار واقعی اہمیت بھی نہیں دیتے، جب کہ دیوبندیوں کے نزدیک فقہی مسلک سے وابستگی بنیادی قدر ہے۔ برطانوی مستشرق ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (م 1900) نے ہندوستانی وہابی کی اصطلاح کو مقبولِ عام بنایا۔ مسلکِ دیوبند کے مخالفین مثلاً بریلوی، دیوبندیوں کو مسلسل اس مقصد سے وہابی کہتے آئے ہیں کہ ان کی استنادی حیثیت کو کم زور کریں، اور انھیں انتہا پسند بنیاد پرستوں کی حیثیت سے پیش کریں۔ دیوبندی وہابی اصطلاح کو بغیر کسی جھجھک یا غور وفکر کے اختیار کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ WORDE کے مصنفین کو نوآبادیاتی دور کی ان مناظرانہ باقیات کا علم نہیں۔
- میراحمدی، فاروق اور زیاد، Traditional Muslim Network، 13۔
- دیکھیے: لیزا کرٹس اور حیدر ملک، Reviving Pakistan’s Pluralist Traditions to Fight Extremism (واشنگٹن، ڈی سی: ہیریٹیج فاؤنڈیشن، 2009)۔
- فیٹ میوڈینی، Sponsoring Sufism: How Governments Promote “Mystical Islam” in Their Domestic and Foreign Policies (نیو یارک: پالگریو میکملن، 2015)، 2۔
- ایضاً
- دیکھیے: اظفر معین، The Millennial Sovereign: Sacred Kingship and Sainthood in Islam (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2010)۔
- دیکھیے: نائل گرین، Sufism: A Global History (چیچِسٹر: وِلی بلیک وِل، 2012)۔
- کارل ارنسٹ، The Shambala Guide to Sufism (بوسٹن: شمبالا پبلیکیشنز، 1997)، 18-32۔
- مدونین: کیتھرین ایونگ اور روزمیری Introduction to Sufi Politics: Rethinking Islam, Scholarship, and the State in South Asia and Beyond کے لیے کیتھرین ایونگ کا لکھا گیا تعارف (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، زیرِ طباعت)۔ اس استدلال کی مکمل توضیح اور پاکستان میں صوفی ازم کے لیے اس کے مضمرات پر ایونگ کا کچھ عرصہ پہلے لکھا گیا مقالہ: Arguing Sainthood: Modernity, Psychoanalysis, and Islam (ڈرہم، این سی: ڈیوک یونیورسٹی پریس، 1997) ملاحظہ کریں۔
- پنینا وربنر، The Making of Muslim Dissent: Hybridized Discourses, Lay Preachers, and Radical Rhetoric among British Pakistanis، امیریکن ایتھنالوجسٹ 23، شمارہ 1 (فروری 1996): 102-129۔
- ایضاً، 106-111۔
- مارک گیبوریو، Un autre Islam: Inde, Pakistan, Bangladesh (پریس، البن میشل، 2007)، 142۔
- ڈیوڈ پینالٹ، Notes from the Fortune-Telling Parrot: Islam and the Struggle for Religious Pluralism in Pakistan، (لندن: ایکوینوکس، 2008)۔
- ایضاً، 9۔
- ایضاً، 42۔
- اس استدلال سے جڑے مزید فکری مسائل اور جن مہلک سیاسی ایجنڈوں کو یہ بڑھاوا دیتا ہے، ان کی تفہیم کے لیے دیکھیے: گریگری اے لپٹن، Secular Sufis: Neoliberalism, Ethnoracism, and the Reformation of the Muslim Other، مسلم ورلڈ 101، شماره 3 (2011): 427-440 اور Frequencies: A Genealogy of Spiritualityمیں شیر علی ترین کا مضمون: Park 51۔ یہ ایک آن لائن پروجیکٹ ہے، جسے جان ماڈرن اور کیتھرائن لوفٹن نے شروع کیا ہے، سوشل سائنس ریسرچ کونسل، دسمبر 2011، http://frequencies.ssrc.org/2011/12/13/park-51
- عامر مفتی، Enlightenment in the Colony: The Jewish Question and the Crisis of Postcolonial Culture (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2007)، 19۔
- "انتہائی عقلیت پسند اور انتہائی حرفیت پسند عملی اسلام ازم" بھی سرسری نظر میں بیک وقت بے تکی اور مبہم ہے۔ اسلام ازم کی تحقیق میں اس طرح کے انتہائی سیکولرسٹ مناہج کے مطالعے کے لیے عرفان احمد کی عمدہ تحقیق ملاحظہ کریں: Religion as Critique: Islamic Critical Thinking from Mecca to Marketplace (چیپل ہل: یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا پریس، 2017)۔
- صبا محمود، Secularism, Hermeneutics, Empire: The Politics of Islamic Reformation، پبلک کلچر 19، شمارہ 2 (2006): 323-347۔
- ہندوستان کی اصلاحی تحریکوں پر ہونے والی چند تحقیقات میں شامل ہے: باربرا مٹکاف، Islamic Revival in British India: Deoband, 1860-1900 (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1982)؛ فرانسس روبنسن، The Ulama of Farangi Mahall and Islamic Culture in South Asia (نیو دلی: اورینٹ لانگ مین، 2001)؛ محمد قاسم زمان، Custodians of Change: The Ulama in Contemporary Islam (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2006)؛ ڈیٹرک ریٹز،Islam in the Public Sphere: Religious Groups in India, 1900-1947 (نیو دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2006)؛ اوشا سانیال، Devotional Islam and Politics in British India: Ahmad Raza Khan Barelwi and His Movement, 1870-1920 (دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 1996)؛ اور ہارلن اوٹو پیئرسن، Islamic Reform and Revival in Nineteenth-Century India: The Tariqah-Muhammadiya، (دلی، یودا پریس، 2008)۔
- اسد زمان کی عمدہ کاوش Custodians of Change اس عمومی چلن سے ایک اہم استثنا ہے۔ اردو اور عربی دونوں طرح کے مصادر کا احاطہ کرتے ہوئے یہ کتاب جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی علمی روایت کی پیچیدگیوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ تاہم اس کی زیادہ تر توجہ پاکستان میں روایتی علما کے مابعد نوآبادیاتی تناظر پر ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے دیوبندی مفکر مولانا اشرف علی تھانوی کے بارے میں زمان کی نسبتاً حالیہ تحقیق: Asharf Ali Thanawi: Islam in Modern South Asia (آکسفرڈ: ون ورلڈ پبلیکیشنز، 2008) اسلام اور نوآبادیاتی ہندوستان کو زیادہ براہ راست موضوع بحث بناتی ہے۔ تھانوی کی فکر کے ان گوشوں کو مزید کچھ گہرائی کے ساتھ جن کو ابھی تک موضوع بحث نہیں بنایا گیا، جائزہ لینے کے لیے میں نے اس کتاب پر انحصار کیا ہے۔ (دیکھیے: ساتواں اور آٹھواں باب)۔
- صبا محمود، Politics of Piety: The Islamic Revival in and the Feminist Subject (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2005)، 35۔
- ڈیوک یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ سے اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل کے بعد پیئرسن علمی دنیا کو خیرباد کہہ کر نجی شعبے میں کام کرنے چلے گئے۔
- ابراہیم موسیٰ، The Deoband Madrasa، تدوین: ابراہیم موسیٰ، خصوصی اشاعت، مسلم ورلڈ 99، شمارہ 3 (جولائی 2009): 427۔
- میں اس نکتے کی وضاحت میں مارگرٹ پرناو کی ترغیب کے لیے شکر گزار ہوں۔
(جاری)
اہم قومی مسائل پر ملی مجلس شرعی کا موقف
ادارہ
۱۳ جنوری ۲۰۲۲ء کو لاہور پریس کلب میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے صدر مولانا زاہد الراشدی، مجلس کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا حافظ محمد عمران طحاوی کی گفتگو کا خلاصہ
- سانحۂ سیالکوٹ کے حوالے سے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون ایک بار پھر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ ایک طرف قانون پر صحیح طور پر عمل نہ ہونے سے لاقانونیت کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے اور دوسری طرف اس قانون کا فرقہ وارانہ حلقوں میں غلط استعمال اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا باعث بن رہا ہے۔ دونوں پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص مجلس تمام علماء کرام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ عوام کو اپنے خطبات اور دروس کے ذریعے تحمل و بردباری کا درس دیں کہ کوئی بھی ذاتی عناد کی بنا پر محض الزام تراشی کرتے ہوئے بلا دلیل ہر کسی کو کافر و گستاخ کہہ کر ناحق قتل نہ کرے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اس سلسلہ میں ملی مجلس شرعی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد عمران طحاوی نے سیالکوٹ کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام کے ساتھ میٹنگ کے حوالہ سے جو رپورٹ اور تجاویز پیش کی ہیں وہ اخبار نویس دوستوں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔
- حکومتِ پاکستان کا افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے مسلسل گریز شدید معاشی و غذائی بحران سے دوچار افغان عوام کی مدد میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر حکومتوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت کو فی الفور تسلیم کر کے افغان عوام کی غیر مشروط امداد کی راہ ہموار کی جائے اور تمام متعلقہ معاملات معاشی حصار کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ اگر موجودہ صورتِ حال مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے تو باقی مسائل بھی مذاکرات کے ذریعے ہی طے پانے چاہئیں۔
- ملک میں کچھ لبرل عناصر کے ذریعے قومی نصابِ تعلیم سے تیزی کے ساتھ اسلامی روایات و تعلیمات نکال کر سیکولر نصاب بنایا جا رہا ہے جو لمحۂ فکریہ ہے۔ اس کے بارے میں ایک رپورٹ ملی مجلس شرعی نے جاری کی ہے۔ جس کی بنیاد پر ہم حکومت سے تعلیمی پالیسی پر فوری نظرثانی کے مطالبے کے ساتھ تمام محب وطن سیاسی و دینی حلقوں اور جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دستورِ پاکستان کے مطابق ملک کے تعلیمی ماحول کو اسلام اور نظریہ پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
- یہ بات ملک اور بیرون ملک کے تمام سیکولر حلقوں کو یاد رکھنی چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علماء کرام، دینی حلقے اور عوام پاکستان کو اس کی تہذیبی شناخت اور نظریاتی اہداف سے الگ کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
- مدینہ مسجد کراچی کے حوالہ سے ہم کراچی کے عوام کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ مسجد کو شہید کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے ورنہ اس سے نقصِ امن کا خطرہ پیش آئے گا۔ نیز اس سلسلہ سلسلہ میں علمی و دینی قیادت کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
- سانحۂ مری ایک قومی المیہ ہے جو ہماری معاشرتی اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ ہم ان کے خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحہ اور المیہ کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے اور آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔