دسمبر ۲۰۲۲ء

فوج کا متنازعہ کردار اور قومی سلامتی کے لیے مضمراتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۲)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ: تعارف و خدماتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۱)ابو الاعلیٰ سید سبحانی 
توہین مذہب کے ایک مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۲)ڈاکٹر شیر علی ترین 

فوج کا متنازعہ کردار اور قومی سلامتی کے لیے مضمرات

محمد عمار خان ناصر

(اس عنوان پر سوشل میڈیا پر وقتاً‌ فوقتاً‌ پیش کی گئی  منتخب معروضات)

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ میری امت جب جہاد کو ترک کر کے کاشت کاری میں مشغول ہو جائے گی تو عزت اور سرفرازی ذلت اور نکبت میں بدل جائے گی۔ (اس کی اسناد میں کچھ مسائل ہیں، لیکن امام ابن تیمیہ کی رائے میں اس کے متعدد طرق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بات بے اصل نہیں ہے، یعنی فی الجملہ اس کی نسبت قابل اعتماد ہے۔)

ان احادیث کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس میں کاشت کاری کی مذمت بیان کرنا مقصود ہے؟ ظاہر ہے نہیں، کیونکہ زراعت کی فضیلت اور برکات پر الگ سے بے شمار احادیث موجود ہیں۔ یہ زرعی دور تھا اور اسلامی ریاست کے مستقل محاصل کا دار ومدار بھی زراعت پر ہی تھا، اس لیے اس پیشے کی مذمت یا اس کی اہمیت کو کم کرنا تو مقصود نہیں ہو سکتا۔

امام یحیی بن آدم نے مکحول سے اس کا جو ایک مرسل طریق نقل کیا ہے، اس سے اس حدیث کا صحیح مدعا سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب میری امت زراعت میں مشغول ہو جائے گی تو ’’پھر وہ بھی باقی لوگوں جیسی ہو جائے گی۔“ غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں ’’امت “ سے مراد عرب مسلمانوں کی وہ جماعت تھی جس کو مسلمانوں کی سلطنت کے انتظام وانصرام اور استحکام کی ذمہ داری دی گئی تھی، جبکہ زراعت یہاں زمینوں اور جائیدادوں کے حصول اور ان کی دیکھ بھال میں مشغول ہو جانے کی تعبیر ہے۔

مسلمانوں کی عرب قیادت سے جس کردار کی توقع تھی اور جس پر اس سلطنت کے استحکام اور ان کی قیادت وسیادت کے تسلسل کا انحصار تھا، وہ یہ تھا کہ وہ اپنی توجہ سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت اور حسب مصلحت ان کی توسیع پر مرکوز رکھیں اور فتوحات سے حاصل ہونے والے وسائل میں حصہ داری اور مراعات کی دوڑ میں شریک نہ ہوں۔ جیسے ہی وہ اس مسابقت کا حصہ بنیں گے، اپنے اس کردار کو بھی کمپرومائز کریں گے اور سیاسی عمل کو اپنے تابع رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر خود سیاسی حرکیات کے زیراثر آ جائیں گے جس کا آخری نتیجہ اقتدار سے محرومی کی صورت میں نکلے گا۔ اب یہ تاریخی وتہذیبی لحاظ سے کتنی گہری بات تھی، یہ سمجھنے کے لیے ابتدائی صدیوں کی اسلامی تاریخ کا ایک سرسری مطالعہ بھی کافی ہے۔

ہمارے تناظر میں اس تہذیبی اصول کی کیا معنویت ہے؟ اس کے لیے پاکستانی فوج کے قومی وسیاسی کردار پر اس کو منطبق کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ قوم سازی اور قومی شناخت کی تشکیل میں فوجی ادارے کا کردار ہمارے ہاں بنیادی رہا ہے۔ فوج کی حریف سیاسی قوتوں کے تمام تر اعتراضات کے باوجود قومی شعور نے بحیثیت مجموعی فوج کے اس کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور ہر طرح کے سیاسی اور عسکری بلنڈرز کے باوجود بطور ادارے کے، فوج کا احترام برقرار اور اس کے قومی کردار کی اہمیت مسلم رہی ہے۔ تاہم اب یہ ادارہ اور خصوصاً‌ اس کی اعلی قیادت جس طرح اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ثانوی مقام دیتے ہوئے مراعات اور وسائل پر حق جتانے کی دوڑ میں لگ گئی ہے، وہ یقینی طور پر اسی صورت حال کے مماثل ہے جس کو مذکورہ حدیث میں، جہاد چھوڑ کر زراعت میں مشغول ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ادارے نے یہ رخ کن اسباب یا مجبوریوں سے اختیار کیا ہے، یہ وہ بہتر جانتا ہے، لیکن اس کا انجام کیا ہے، وہ بتانے کے لیے تاریخ کافی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات اب ظاہر ہونا بھی شروع ہو چکی ہیں۔


ابن خلدون نے بادشاہت کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے یہ اصول بہت خوبی سے سمجھایا ہے کہ قومی وسائل میں سے اشرافیہ کے کن طبقات کو کن حالات میں ترجیحی حصہ دینا بادشاہ کی مجبوری ہوتا ہے۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ بادشاہ کو نظام مملکت چلانے کے لیے دو طبقوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک اہل قلم اور دوسرے ارباب سیف۔ اہل قلم ایک عمومی عنوان ہے جس میں ہر طرح کی مہارت رکھنے والے طبقے شامل ہیں جن کی بادشاہ کو ضرورت ہوتی ہے، مثلاً‌ انتظامی صلاحیت رکھنے والے وزراء، اہل قلم، ادبا، مورخین، شعرا وغیرہ، جبکہ  اہل سیف کا مصداق واضح ہے۔

ابن خلدون کہتے  ہیں کہ جب سلطنت کی ابتدا ہو، تب بھی اہل سیف کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور جب سلطنت کا آخری وقت ہو اور داخلی عدم استحکام کی وجہ سے بیرونی خطرہ ہو تو بھی دفاع کے لیے اہل سیف کو ترجیحی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ البتہ جب سلطنت ایک دفعہ مستحکم ہو جائے تو اس میں اہل سیف کی اہمیت بس ہنگامی حالات کے لیے ہوتی ہے، جبکہ مملکت کو چلانے کے لیے اہل قلم کا کردار بنیادی اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔

معروضی صورت حال کے لحاظ سے بادشاہ کو اہل سیف یا اہل قلم کے لیے قومی خزانے میں سے خصوصی مراعات دینی پڑتی ہیں۔ مثلاً‌ جب اہل سیف کی اہمیت ہوگی تو ان کا رتبہ، مراعات اور سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ میں حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔ اسی طرح استحکام کی حالت میں چونکہ اہل قلم کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے تو رتبے، مراعات، بادشاہ کے ساتھ قریبی تعلقات وغیرہ میں بھی انھی کو ترجیح ہوگی۔

معمولی غور سے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ اصول آج کے جمہوری نظام حکومت پر کیسے منطبق ہوتا ہے اور یہ کہ کسی ملک کے استحکام کی صورت میں کن طبقات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور مسلسل خطرے سے دوچار ہونے کی حالت میں کون سے طبقات  زیادہ مراعات کے حقدار قرار پاتےہیں۔


سابق آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ مارچ میں اپنی ایک تقریر میں کہا کہ معاشرے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کمزور آدمی کے لیے قانون کچھ اور ہو اور طاقتور کے لیے کچھ اور، کمزور کو قانون پکڑ لے اور طاقتور کو کچھ نہ کہے۔

یہ تو کامن سینس کی بات ہے اور خوشی ہے کہ طاقتور ترین ادارے کو اس کا احساس ہے، لیکن کیا کوئی کسی طریقے سے ان کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ جنگل جیسے ملک میں اس صورت حال کی ذمہ داری میں خود وہ کیسے اور کتنے شریک ہیں؟ کیا طاقتور کو تحفظ فراہم کرنے کے اس نظام کی جو hierarchy بنتی ہے، وہ اس سے بے خبر ہیں؟

ان کو ملکی نظام، وسائل اور پالیسیوں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے فرماں بردار سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جن کو بدلے میں ان کی پشت پناہی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو جاگیرداروں، وڈیروں، چودھریوں، شاہوں اور مخدوموں کی حمایت درکار ہے جو بدلے میں قومی وسائل میں حصہ اور اپنے علاقوں کا اقتدار چاہتے ہیں۔ علاقے کے اقتدار کے لیے کارکنوں اور کارندوں کو دست وبازو بنانے کی ضرورت ہے جن کے اپنے جائز وناجائز مطالبات اور گلی، محلے، شہر کی سطح پر چودھراہٹ کی خواہشیں ہیں۔ ان کی خواہشیں پوری کرنے اور انھیں قانون کی گرفت سے بچا کر رکھنے کے لیے سرکاری مشینری کی معاونت درکار ہے۔ سرکاری مشینری اسی معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی ہے جنھیں اپنی جگہ وسائل، اقتدار واختیار اور قانون سے تحفظ چاہیے جو سیاسی نمائندے اور خود سرکاری مشینری کے مختلف حصے امداد باہمی کے طور پر ایک دوسرے کو مہیا کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس پورے سسٹم میں بالکل نچلی سطح پر زیادتی کرنے والے چھوٹے طاقتور کو قانون سے جو تحفظ مل رہا ہے، کیا اس کا منبع اسی سطح پر ہے یا وہ فراہمی تحفظ کی اس پورے نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ جب پورے سسٹم کا ننگا اور برہنہ پیغام یہ ہے کہ طاقت کے بقدر تحفظ ملنا یقینی ہے تو اس کی حتمی  ضمانت آخر کہاں سے مل رہی ہے؟

اگر طاقتور ہمیں تقریروں سے بہلانے کے بجائے خدارا بیٹھ کر اس سوال پر غور فرما سکیں تو خلق خدا کو کچھ نہ کچھ انصاف مہیا کرنے کا چارہ ہو سکتا ہے۔


مغربی استعمار کے زیر تسلط رہنے والے ممالک  کی بعد از استعمار   سیاسی واقتصادی صورت حال کامطالعہ کرنے والے ایک مغربی مصنف  Dietmar Rothermund نے  لکھا ہے کہ ان میں سے بیشتر ممالک میں فوج اپنے افسروں اور سپاہیوں کو عام لوگوں سے بہتر معیار زندگی اور مراعات مہیا کرتی ہے، اس لیے جب ان مراعات کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو فوج ایک ادارے کے طور پر اپنے تحفظ کے لیے فوری طور پر حرکت میں آتی ہے۔ واضح چین آف کمانڈ اور یکجان ہونے کے جذبے کی وجہ سے سیاسی بحرانوں میں فوج فوری اقدام کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری دور میں یہ فوجیں اپنی حکومتوں کے اقتدار کو چیلنج نہیں کرتی تھیں (کیونکہ ان کی طرف سے مراعات اور وسائل کی تخفیف کا خطرہ نہیں ہوتا تھا)، لیکن بعد از استعمار بیشتر حکومتوں کو اپنی افواج کی طرف سے بار بار بغاوتوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بہت سے لیڈروں کو فوج کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔

(The Routledge Companion to Decolonization, 254)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں مروج  یہ تجزیہ بہت سادگی پر مبنی ہے کہ سیاسی نظام میں مداخلت اقتدار کے بھوکے "کچھ" جرنیلوں کی شرارت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد کا نہیں، پاور اسٹرکچر کا مسئلہ ہے اور فوجی ادارہ بطور ادارہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ پوزیشن رکھتا ہے اور رکھنے پر مجبور ہے۔ اس لیے وقتی نوعیت کی شرمندگی اور پسپائی سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی  ضرورت نہیں۔ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ اس کو اصل بنیادوں پر ایڈریس کیا جائے گا تو حل ہوگا، ورنہ یہی کولہو رہے گا اور یہی بیل۔


اس تناظر میں معروف  کالم نگار جناب عرفان صدیقی نے اپنے ایک تازہ کالم میں  جس بنیادی سوال کی طرف  توجہ دلائی ہے، ہمارے خیال میں   اس پر  سنجیدہ قومی مباحثے کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے:

’’نئے سپہ سالار کو اپنے رفقا کے تعاون سے جائزہ لینا ہوگا کہ فوج کے اندرونی نظام کی کون سی چُولیں کسنے کی ضرورت ہے۔

کون سی باتیں فوج کے وقار کو مجروح کرتی اور چوپالوں کا موضوع بنتی ہیں۔

ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹیز کے وسیع وعریض اور مسلسل فروغ پذیر نیٹ ورک

درجنوں صنعتی وکاروباری منصوبے

پلاٹوں کی خریدوفروخت کا کاروبار

پُرکشش سول عہدوں کا حصول

مارشل لائوں کے باعث سول معاملات میں تجاوزات کا معاملہ

عمومی عالمی جمہوری روایات کے برعکس دفاعی بجٹ کا پارلیمنٹ سے پوشیدہ رہنا

ریٹائرمنٹ کے بعد وسیع زمینی رقبوں کا تحفہ اور ایسے دیگر معاملات اور مفادات کا جائزہ لینا ہوگا جن کا دوسرے جمہوری ممالک میں کوئی تصور نہیں۔

شہداء، غازیوں اور جوانوں کی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو خصوصی استثنا دیا جاسکتا ہے۔“


اگر یہ سوال قوم کی تقدیر سے تعلق رکھنے والا ایک بنیادی سوال ہے کہ قومی وسائل کی تخصیص کیسے ہو رہی ہے، یعنی قوم کا کون سا طبقہ کتنے وسائل سے مستفید ہو رہا ہے اور یہ سوال بہرحال سیاسی قوتوں نے اٹھانا ہے تو اگلا اہم سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قوتیں، داخلی تقسیم سے قطع نظر، اس سوال کے حوالے سے یکسو ہیں؟ یعنی کیا وہ اس پر متفق ہیں کہ اس پر یک جان ہو کر وسائل کی تخصیص کا معاملہ سیاسی قوتوں کے اختیار میں لے آئیں؟ جواب نفی میں ہے، کیونکہ اس وقت تمام سیاسی قوتوں کی ترجیح یہ نہیں، بلکہ وسائل میں حصہ داری حاصل کرنا ہے جس کے لیے "ان" کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے۔

چلیے، سیاسی قوتیں متفق نہیں ہیں تو اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ موجودہ متحارب قوتوں میں سے کس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ جتنی اسپیس بنے، اس میں ہی اس سوال کو آگے بڑھانا چاہیں گی؟ بات کا رخ واضح رکھنے کے لیے یہ وضاحت پیش نظر رہنی چاہیے کہ سوال، وسائل کے صحیح استعمال کے بارے میں نہیں، بلکہ ان کی تخصیص کے بارے میں ہے۔ مطلب یہ سوال زیربحث نہیں کہ کون سی سیاسی قوت وسائل کا درست استعمال کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ کون سی سیاسی طاقت، وسائل کی موجودہ تخصیص میں تبدیلی اور نظرثانی کی بات کر سکتی ہے؟

اس حوالے سے ممتاز  تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے ایک تجزیے کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ لکھتی ہیں  کہ سیاسی جماعتیں جنرلز کی سیاست میں مداخلت پر تو تنقید کرتی ہیں، لیکن قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ جو جنرلز نے کی ہے، اس کو موضوع بنانے کے لیے ابھی آمادہ نہیں۔ کیونکہ اس کام میں سول اور فوجی قیادت، دونوں حصہ دار ہیں۔ اس مسئلے پر دونوں کے درمیان اصل معرکہ اس وقت بپا ہوگا جب کبھی قومی وسائل اتنے محدود ہو جائیں کہ دونوں کو اس پر لڑنا پڑے کہ کس کو زیادہ حصہ ملے گا۔ فی الحال چونکہ وہ نوبت نہیں آئی، اس لیے کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہیں آ رہی اور پاکستان ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے بحران کی طرف لڑھکتا رہے گا۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(374) موعد کا ترجمہ

موعد، وعد سے مشتق ہے، لیکن اس میں ہمیشہ وعدے کا مفہوم نہیں ہوتا ہے، کبھی موعد صرف وقت مقررہ کے لیے بھی آتا ہے۔ درج ذیل آیتوں میں موعد وقت مقررہ کے معنی میں ہے نہ کہ وعدہ کیے ہوئے وقت کے معنی میں:

(۱) بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَوْعِدًا. (الکہف: 48)

”بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے“۔ (احمد رضا خان)

”بلکہ تم نے گمان کیا کہ ہم تمہارے حساب کے لیے کوئی یوم موعود نہیں مقرر کریں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”لیکن تم تو اسی خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں“۔ (محمد جونا گڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲) وَتِلْکَ الْقُرَی أَہْلَکْنَاہُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِکِہِمْ مَوْعِدًا۔ (الکہف: 59)

”اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی بربادی کا ایک وعدہ رکھا تھا“۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:

”اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا“۔ (سید مودودی)

”اور ان کی تباہی کے لیے ایک وقت مقرر کردیا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) بَلْ لَہُمْ مَوْعِدٌ لَنْ یَجِدُوا مِنْ دُونِہِ مَوْئِلًا۔ (الکہف: 58)

”بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کی گھڑی مقرر ہے جس سے وہ سرکنے کی ہرگز جگہ نہیں پائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے“۔ (سید مودودی)

مذکورہ بالا آیت میں ایک اور پہلو قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ موئل کا ترجمہ سرکنے کی جگہ، بھاگ نکلنے کی راہ وغیرہ کیا گیا ہے۔ موئل دراصل پناہ کی جگہ کو کہتے ہیں۔ والمَوْئِلُ: الملجأُ۔ (لسان العرب)

درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”لیکن ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور وہ اس کے مقابل میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(375) غداء کا ترجمہ

شام کے کھانے کو عربی میں عَشاء کہتے ہیں اور دن کے کھانے کو غَداء کہتے ہیں، خواہ وہ صبح میں کھایا جائے یا دوپہر میں۔ ابن عاشور کے الفاظ میں:  والغداء: طعام النہار مشتق من کلمۃ الغدوۃ لأنہ یؤکل فی وقت الغدوۃ، وضدہ العشاء، وہو طعام العشی۔ (التحریر والتنویر)

اردو میں ناشتہ صبح کے مختصر کھانے کو کہتے ہیں۔ اس لیے غداء کا ترجمہ ’کھانا‘ کرنا مناسب ہے، ’ناشتہ‘ یا ’صبح کا کھانا‘ اس کا درست متبادل نہیں ہے۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَاءَنَا۔ (الکہف: 62)

”پھر جب آگے چلے کہا موسی نے اپنے جوان کو: لا ہمارے پاس ہمارا کھانا“ (شاہ عبدالقادر)

”جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لیے کھانا لاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جب یہ دونوں وہاں آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ ہمارا کھانا دے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”پھر جب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ“۔ (احمد رضا خان)

”آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا، لاؤ ہمارا ناشتہ“۔ (سید مودودی)

”پھر جب دونوں (وہاں سے) آگے بڑھ گئے تو موسی نے اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارا ناشتہ تو لاؤ“ (اشرف علی تھانوی)

پہلے تینوں ترجمے بہتر ہیں۔

(376) أَنْ أَذْکُرَہُ کا ترجمہ

قَالَ أَرَأَیْتَ إِذْ أَوَیْنَا إِلَی الصَّخْرَۃِ فَإِنِّی نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِیہُ إِلَّا الشَّیْطَانُ أَنْ أَذْکُرَہُ وَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا۔ (الکہف: 63)

”خادم نے کہا،آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوجوان کے دوبار نسیان کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک نسیان مچھلی کا خیال رکھنے سے متعلق، اور دوسرا نسیان مچھلی کے دریا میں نکل جانے کا ذکر کرنے سے متعلق۔ عام طور سے مفسرین و مترجمین کی یہی رائے ہے۔

”اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں“۔ (محمد جوناگڑھی)

جب کہ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ یہاں ایک ہی نسیان کا تذکرہ ہے اور وہ مچھلی کا خیال رکھنے سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق ترجمہ ہوگا:

”تو میں مچھلی کو بھول گیا۔ اور یہ شیطان ہی تھا جس نے اس کو یاد رکھنے سے مجھے غافل کردیا۔ اور اس نے عجیب طرح اپنی راہ دریا میں نکال لی“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ’أن أذکرہ‘ کا اور کھول کر ترجمہ کرتے ہیں:

”تو میں مچھلی کا خیال نہ رکھ سکا اور یہ شیطان ہی تھا جس نے اس کا خیال رکھنے سے مجھے غافل کردیا اور اس نے عجیب طرح اپنی راہ دریا میں نکال لی۔“

ذکر کا مطلب صرف نام لینا ہی نہیں ہوتا ہے، بلکہ یاد رکھنا اور خیال رکھنا بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کے درج ذیل جملے میں ہے:

 فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ۔ (البقرۃ: 152)

”تو تم مجھے یاد رکھو میں تمھیں یاد رکھوں گا“۔

یہاں اللہ کا بندوں کو یاد رکھنا دراصل اس کا اپنے بندوں پر نظر عنایت فرمانا ہے۔

گویا حضرت موسی کے رفیق سفر نے پہلے تو یہ اعتراف کیا کہ وہ مچھلی کا خیال نہیں  رکھ سکا، پھر اس نے یہ وضاحت کی کہ شیطان کے غفلت میں ڈالنے کی وجہ سے یہ لاپرواہی ہوئی اور پھر اس نے یہ بتایا کہ اس نسیان (لاپرواہی) کے نتیجے میں مچھلی عجیب طرح سے دریا میں نکل بھاگی۔ اس طرح تینوں جملوں کی ترتیب واضح ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں رائج ترجمہ و تفسیر میں ان تینوں جملوں میں بے ربطی دکھائی دیتی ہے۔ مچھلی کے بھاگ نکلنے کا ذکر بعد میں ہے اور اس بھاگنے کا تذکرہ نہ کرنے کا ذکر پہلے ہے۔ دوسری بات یہ کہ اصل بھول تو مچھلی کے سلسلے میں لاپرواہی کرنا ہے، نہ کہ اس کے بھاگنے کا ذکر نہ کرنا، پھر شیطان کی طرف ایک چھوٹی بھول کو منسوب کیوں کیا گیا؟ بڑی بھول کے لیے شیطان کو کیوں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا؟

مضبوط بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مچھلی کا خیال نہ رکھنا ہی وہ بات ہے جس سے شیطان نے غافل کیا۔ جہاں تک اس واقعہ کو ذکر نہ کرنے کی بات ہے، تو اس کی وجہ نسیان نہیں بلکہ  حضرت موسی علیہ السلام کی ناراضی کا خوف رہا ہوگا، جیسا کہ عام طور سے ایسے موقع پر ہوتا ہے۔

(377) ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ کا ترجمہ

قَالَ ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ۔ (الکہف: 64)

”موسیٰؑ نے کہا،اسی کی تو ہمیں تلاش تھی“۔(سید مودودی)

”(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”موسیٰ نے کہا یہی تھا جس کی تلاش میں ہم تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں تلاش کا لفظ موزوں نہیں ہے۔ حضرت موسی اس طرح کی چیز یا مقام کی تلاش میں نہیں نکلے تھے۔ وہ تو ایک منزل مقصود کے ارادے سے نکلے تھے۔ اور یہ جو پیش آیا وہ اس منزل مقصود تک پہنچنے کی ایک علامت تھی۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”اس نے کہا یہی ہمارا مقصود تھا۔“

درج ذیل ترجمہ بھی مناسب ہے:

”موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے“۔ (احمد رضا خان)

(378) زُبَرَ الْحَدِیدِ کا ترجمہ

آتُونِی زُبَرَ الْحَدِیدِ۔ (الکہف: 96)

درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

”مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو“۔ (سید مودودی)

”مجھے لوہے کی چادریں لادو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ“۔(امین احسن اصلاحی)

درج بالا آیت میں زبر الحدید کے دو ترجمے کیے گئے ہیں، لوہے کے ٹکڑے اور لوہے کی چادریں اور تختے۔ لغت کے مطابق زبر ٹکڑوں کو کہتے ہیں، ان کا چادر یا تختے کی شکل میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ لسان العرب میں ہے:

”وزُبْرَۃُ الْحَدِیدِ: الْقِطْعَةُ الضَّخْمَةُ مِنْہُ، وَالْجَمْعُ زُبَرٌ“۔

لوہے کے ٹکڑے ترجمہ کرنا اس لیے بھی زیادہ موزوں ہے، کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس قوم کے پاس لوہے کی چادریں بنانے کی ٹکنالوجی تھی یا نہیں؟ زیادہ امکان ہے کہ وہ اس سے ناواقف تھے اور یہ کام ذوالقرنین نے کیا۔

سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوہے کے ٹکڑے جمع کرکے انھیں پگھلا کر بڑی بڑی چادریں بنائی گئیں اور ان سے تانبا پلائی ہوئی آہنی دیوار بنائی گئی۔

بہرحال، لوہے کے ٹکڑے کہنے میں عموم ہے، اس میں چادروں کی شکل کے ٹکڑے بھی (اگر رہے ہوں گے تو) شامل ہوجائیں گے۔ چادریں کہہ کرایک چیز متعین کردینا مناسب نہیں ہے۔

(379)  دکّاء کا مطلب

پہاڑ یا دیوار یا کسی چیز کو توڑ کرکے گرادیا جائے تو اسے دکّ کہتے ہیں۔ الدَّکُّ: ہَدْمُ الْجَبَلِ وَالْحَاءِطِ وَنَحْوِہِمَا۔ (لسان العرب)

اس انہدام کے نتیجے میں اس جگہ زمین ہموار ہوجاتی ہے، اس لیے ہموار ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہوگیا۔

درج ذیل آیت میں بھی دیوار کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردینے کی بات ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کی زمین ہموار ہوجائے گی۔ لیکن یہاں زمین کے ہموار ہونے کی نہیں بلکہ دیوار کے منہدم ہوجانے کی خبر دی جارہی ہے۔

فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّی جَعَلَہُ دَکَّاءَ۔ (الکہف: 98)

درج ذیل دیگر ترجمے دیکھیں:

”پس جب میرے رب کے وعدے کا ظہور ہوگا، اس کو ہموار کردے گا“۔ (امین احسن اصلاحی، زمین ہموار ہوگی نہ کہ دیوار)

”جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا“۔ (سید مودودی، پیوند خاک کرنا دوسری بات ہے اور منہدم کرنا دوسری بات)

”جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا“۔ (فتح محمد جالندھری، دیوار منہدم ہوگی، زمین ہموار ہوگی)

”پھر جب آوے وعدہ میرے رب کا گرادے اس کو ڈھاکر“(شاہ عبدالقادر)

”پس جب آوے گا وعدہ پروردگار میرے کا، کردے گا اس کو ریزہ ریزہ“ (شاہ رفیع الدین)

آخری دونوں ترجمے زیادہ مناسب ہیں۔

(380)  وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا

الَّذِینَ کَانَتْ أَعْیُنُہُمْ فِی غِطَاءٍ عَنْ ذِکْرِی وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا۔ (الکہف: 101)

اس جملے کے درج ذیل ترجمے دیکھیں:

”جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ سے پردہ پڑا رہا اور وہ سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔“ (امین احسن اصلاحی)

”جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ سے پردہ پڑا رہا“ کے بجائے ”جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ کے جواب میں پردہ پڑا رہا“ ہونا چاہیے۔

”اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے“(سید مودودی)

”جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھی اور (امر حق) سن بھی نہیں سکتے تھے“ (محمد جوناگڑھی)

یہاں ذکر کا زیادہ مناسب ترجمہ یاد نہیں بلکہ یاددہانی اور نصیحت ہے۔

وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا کا ترجمہ ہوگا اور وہ سن نہیں سکتے تھے۔ جب کہ ”وہ سننے کی تاب نہیں لاتے تھے“ یا ”کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے“ درست ترجمہ نہیں ہے۔ کیوں کہ یہاں مسئلہ تاب لانے یا تیار ہونے کا نہیں ہے، یہاں مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے ایسی غفلت میں خود کو مبتلا کر رکھا ہے کہ وہ سننے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔مزید یہ کہ لفظ ’استطاع‘تیار اور آمادہ ہونا یا تاب لانے کے لیے استعمال ہوتا بھی نہیں ہے۔

(381)  سدّین کا ترجمہ

سدّ کا مطلب آڑہوتاہے، یعنی وہ چیز جو خالی جگہ کو بھر دے یا راستے کو بند کردے۔ وہ پہاڑ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور دیوار کی صورت میں بھی۔ درج ذیل آیت میں سدّین یعنی دو کا تذکرہ ہے اور یہاں دو پہاڑ مراد ہیں نہ کہ دو دیواریں۔ جب کہ ذوالقرنین نے جو سد تعمیر کیا اسے دیوار کہا جائے گا۔ بعض مترجمین نے سدین کا ترجمہ دو دیواریں کیا ہے جو درست نہیں ہے۔ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِہِمَا قَوْمًا لَا یَکَادُونَ یَفْقَہُونَ قَوْلًا۔ (الکہف: 93)

”یہاں تک کہ دو پہاڑوں کے درمیان کے درے تک جا پہنچا۔ ان دونوں پہاڑوں کے درے میں اس کو ایسے لوگ ملے جو کوئی بات سمجھ نہیں پاتے تھے“۔ (امین احسن اصلاحی)

پہاڑوں کے درے میں نہیں بلکہ پہاڑوں کے پاس۔ دون یہاں قریب کے معنی میں ہے۔ اگر درہ مراد ہوتا تو بینھما ہوتا، دونھما نہیں ہوتا۔

”یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی“۔ (سید مودودی)

”یہاں تک کہ جب دو دیواروں کے درمیان پہنچا ان دونوں کے پرے اس نے ایک ایسی قوم پائی جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

لَا یَکَادُونَ یَفْقَہُونَ قَوْلًا کا ترجمہ ”جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔“ درست نہیں ہے۔

”یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(382)  خَرْج کا ترجمہ

خرج کا اصل مطلب خراج، ٹیکس ہوتا ہے۔ اجرت کا مفہوم بھی اس لفظ سے ادا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے خرج کا ترجمہ خرچ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔

فَہَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلَی أَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ سَدًّا۔ (الکہف: 94)

”ہم آپ کے لیے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کے لیے خرچ کا بند و بست کردیں اور آپ ہمارے اور کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

’خرچ  کا بندوبست کردیں‘کی جگہ ’پیداوار کا کچھ حصہ متعین کردیں گے‘اس جملے کا بالکل درست مفہوم ہے۔ خرج اصل میں پیداوار سے کچھ حصہ نکال کر دینے کے لیے آتا ہے۔

”سو کیا ہم لوگ آپ کے لیے کچھ چندہ جمع کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان میں کوئی روک بنادیں۔“(اشرف علی تھانوی)

یہاں بھی خرج کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ چندہ جمع کرنے کے لیے تو یہ لفظ آتا نہیں ہے۔

درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”سو کہے تو ہم ٹھیرادیں تیرے واسطے کچھ محصول اس پر کہ بنادے تو ہم میں اور ان میں ایک آڑ“(شاہ عبدالقادر)

(جاری)


مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۲)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: جس کی بیٹی نکاح سے ناراض ہو جائے، وہ مر دود ہے۔1 یہاں مر دود سے کیا مراد ہے؟

عمار ناصر: مطلب یہ کہ اس کو فسخ کر دیا جا ئے گا۔

مطیع سید: نکاح ہو گا ہی نہیں؟

عمار ناصر: یعنی اس کو رد کر دیا جا ئے گا، قائم نہیں رہنے دیا جائے گا۔

مطیع سید: اگر رخصتی بھی ہو گئی ہے تو کیا وہ اس کو طلاق دے گا؟

عمار ناصر: اس کا تعلق صورت حال کی نوعیت سے ہے۔ اس پر کوئی ایک ہی اصول یا کلیہ نہیں لاگو ہوگا۔ بعض صورتوں میں آپ کو اس کو منعقد مان کر فسخ کی طرف جانا پڑے گا۔ بعض صورتوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اس میں یہ فقہی گنجائش ہوتی ہے، اور فقہا کا اختلاف بھی ہے۔

مطیع سید: ولیمہ کی کیاحیثیت ہے؟ کیا یہ ضروری ہے، سنت ہے یا محض ایک دینی رسم ہے؟

عمار ناصر: فقہی لحاظ سےسنت ہے۔ مسلمانوں کے معاشرتی نظام اور دینی رسومات میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

مطیع سید: عورتوں کے بارے میں فقہا کہتے ہیں کہ کھانا پکانا اورگھر کا کام کاج، اصلاً‌ ان کی ذمہ داری نہیں۔ احناف کہتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری صرف دوکام ہیں، حق مباشرت اور گھر میں رہنا۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ کیااحناف قانونی مفہوم میں کہہ رہے ہیں؟ اس طرح تو گھر کا نظا م چل ہی نہیں سکے گا۔

عمار ناصر: یہ ساری چیزیں کلچر سے تعلق رکھتی ہیں اور عرف پر مبنی ہوتی ہیں۔ قرآن نے ایک اصول بیان کر دیا جو بہت صحیح ہے کہ ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف۔ معروف کے لحاظ سے جو ان کی ذمہ داریاں ہیں، اسی کے لحاظ سے ان کے حقوق ہیں۔ جس کلچر میں ہماری فقہ مدون ہوئی ہے، اس میں عام طورپر گھروں میں خادموں اور باندیوں کا ہونا معمول کی بات تھی اور ان کو گھر کا ناگزیر حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس میں یہ تصور پیداہوا کہ جب گھر میں خادم اور باندیاں ہیں تو وہ انھی کاموں کے لیے ہیں، تو بیوی کی اصل ذمہ داری یہ نہیں ہے۔ تو حقوق وفرائض کے تعین میں ایک بڑا دخل عرف کا بھی ہے۔ اُس کلچر میں یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ ہمارے ہاں کا کلچر مختلف ہے۔ ہمارے ہاں بعض ایسے خاندان ہیں جن میں روایت چل رہی ہے کہ گھر میں کام کے لیے ملازمہ اور خانسامے ہوتے ہیں۔ اس میں اگر آپ بیوی کو گھر کے کام کا کہہ رہےہیں تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گاکہ آپ ا س کی تحقیر کرناچاہ رہے ہیں کہ گھر میں نوکر چاکر موجود ہیں، لیکن آپ اسے کہہ رہے ہیں کہ کام کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کی حیثیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ عام گھروں میں خواتین پر ہی گھر کے کام کاج اور کھانا پکانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تو ہمارے عرف میں اس فقہی جزئیے کا اطلاق نامناسب ہوگا۔

مطیع سید: حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ سے حضر ت عمر نے ہی منع کیا ہے۔2 گویا صحابہ میں اس بات پر اتفاق نہیں تھا کہ متعہ کو آنحضرت ﷺ نے ممنوع ٹھہرایا تھا؟

عمار ناصر: جی، صحابہ کے بیانات سے اور خود حضرت عمر کے ارشادات سے بھی قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے عمومی معاشرتی مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے اجتہاداً‌ متعہ کو ممنوع قرار دیا تھا۔ متعہ کے نصاً‌ ممنوع ہونے پر صحابہ کے مابین اتفاق رائے نہیں تھا۔ حضرت علیؓ خیبر کے موقع پر کی جانے والی ممانعت کا حوالہ دیتے تھے، لیکن ابن عباس اس کے باوجود اضطرار کی حالت میں متعہ کے جواز کے قائل تھے۔

مطیع سید: حضرت عائشہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ کوئی غیر محرم بالغ مرد ہے جو گھر میں آتا جاتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو دودھ پلا دو اور پھر وہ تمھارے پاس آ جا سکتا ہے۔3

عمار ناصر: یہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے بارے میں ہے۔ ابو حذیفہ نے انہیں منہ بولا بیٹا بنایا ہواتھا اور وہ انھی کے گھر میں رہتے تھے، وہیں پلے بڑھے تھے اور گھر کے فرد کی طرح ان کا آناجانا تھا۔ جب متبنیٰ کے متعلق یہ حکم آیا کہ وہ حقیقی اولاد نہیں ہیں تو ان کی اہلیہ نے یہ سوال آپ کے سامنے رکھا کہ اب ابوحذیفہ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات دکھائی دیتے ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو دودھ پلا دو تو اس سے ابوحذیفہ کے دل کا تردد ختم ہو جائے گا۔ پھر وہ پہلے کی طرح گھر میں آتا جاتارہے۔

مطیع سید: لیکن قرآن میں دودھ پلانے کی عمر دو سال ذکر ہوئی ہے۔ یہاں ایک بالغ مرد کو دودھ پلا کر رضاعت ثابت کی جا رہی ہے۔ تو کیا قرآن کے مطلق حکم کو حدیث مقید کرسکتی ہے؟

عمار ناصر: اصولیین کے ہاں اس پر لمبی چوڑی بحث ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ قرآن کا حکم ہو یا حدیث کا، اس میں تخصیص کی ایک نوعیت یہ ہے کہ اصل حکم میں ترمیم کرکے شارع کوئی تبدیلی کر دے۔ ایک و ہ تخصیص ہوتی ہے کہ آپ اصل میں شارع کے منشا کو سمجھ کر اور دیگر نصوص کی روشنی میں قیاسا َ کہتے ہیں کہ یہ حکم یہاں نہیں لاگو ہونا چاہیے۔ اس صورت میں آپ حکم میں کوئی ترمیم نہیں کررہے، بلکہ کہہ رہے ہیں کہ اصل میں کہنے وا لے کا منشا بھی یہی ہے۔ تو یہ جو قیاسی تخصیص ہے، یہ دراصل ترمیم نہیں ہوتی۔ اصل میں کسی حکم کے انطباق کو یا اطلاق کو آ پ خود شارع کے دوسرے بیانات کی روشنی میں متعین کرتے ہیں۔ یہ تخصیص میں سمجھتا ہو ں کہ قرآن کے حکم میں ایک فقیہ بھی اجتہاداً‌ کر سکتا ہے، تو پیغمبر کیوں نہیں کر سکتا؟

مطیع سید: بہت سی احادیث کے بارے میں احناف یہ موقف اختیارکرتے ہیں کہ قرآن میں چونکہ یہ حکم مطلق ہے، اس لیے ہم اسے حدیث سے مقید نہیں کر سکتے۔

عمار ناصر: میری رائے میں احناف کا یہ موقف محل نظر ہے۔ لیکن اس میں کافی تفصیلی مباحث ہیں جو اصول فقہ کی کتابوں میں دیکھنے چاہییں۔

مطیع سید: آپ ﷺنے ایک موقع پر ایک قیافہ شناس کی رائے پر خوشی کا اظہار کیا جس نے دو آدمیوں کی جسمانی مشابہت دیکھ کر یہ کہا تھا کہ یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔4 جبکہ احناف کہتے ہیں کہ قیافہ شناس کی بات پر نسب کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

عمار ناصر: اس روایت کے بارے میں احناف کہتے ہیں کہ یہاں یہ بات نہیں کہی جارہی۔ ایک بچہ جس کا نسب پہلے سےمعلوم نہیں ہے اور آپ محض ایک قیافہ شنا س کے بیان پر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، روایت میں تو یہ زیرِ بحث نہیں ہے۔ روایت میں تو یہ بات ہے کہ زید بن حارثہ کا اسامہ کا والد ہونا تو نسب کے معروف قواعد کے لحاظ سےثابت تھا۔ البتہ بعض لوگ الٹی سیدھی باتیں کرتے تھے اور اس نسب پر شبہے کا اظہار کرتے تھے تو جب ایک قیافہ شناس نے بھی یہ کہہ کر تصویب کر دی کہ یہ باپ بیٹا ہیں تو اس سے جو لوگوں کے ذہن میں جو شبہات تھے، وہ ختم ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس سے آپ یہ نہیں اخذ کر سکتے کہ کوئی اور ثبوت نہ ہو تو بھی آپ صرف قیافہ شناس کے کہنے پر ثبوت ِ نسب کا فیصلہ کردیں گے۔

مطیع سید: روایت میں آتا ہے کہ اگر آدمی دوسری شادی کرے تو نئی بیوی اگر کنواری ہو تو اس کے پاس سات دن اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن رہے۔ پھر اس کے بعد بیویوں میں دنوں کی برابر تقسیم شروع کرے۔5 احناف کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ نئی بیوی کنواری ہو یا ثیبہ، سب کے لیے برابر دن ہوں گے اور دلیل قرآن سے دیتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ ان کے مابین عدل کرو۔

عمار ناصر: احناف کا استدلال مضبوط نہیں لگتا۔ عدل اپنی جگہ برحق ہے، لیکن ایک نئی دلہن آئی ہے تو اس کا کچھ اضافی حق بنتا ہے۔

مطیع سید: اگر حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت خیانت نہ کرتی۔6 یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

عمار ناصر: میرا تاثر بھی یہی ہے کہ یہ چونکہ حضرت ابو ہریرۃ سے مروی ہے اور ان کی نسبت سے بعض اسرائیلیات بھی آ گئی ہیں، اس لیے روایت کے مضمون سے ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی وہیں سے آئی ہے۔ بہرحال شارحین نے، جو حضرت آدم کو بہکانے سے متعلق بعض روایات ہیں کہ حوا نے ان کو بہکا پھسلا کر ممنوعہ پھل کھلانے پر آمادہ کیا، اس کی روشنی میں اس کی تشریح کی ہے۔

مطیع سید: فاطمہ بنت قیس کی روایت میں آتا ہے کہ عورت کو جب تیسری طلا ق دے دی جائے مرد پر اس کی عدت میں نان نفقہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔7 لیکن احناف کہتے ہیں کہ نان نفقہ اس کے ذمے ہوگا۔

عمار ناصر: اس روایت پر فقہا میں اختلاف ہے۔ امام شافعی اس روایت کو لیتے ہیں لیکن کئی اکابر صحابہ نے اس روایت کو نہیں لیا۔ حضرت عمر نے بھی نہیں لیا، حضرت عائشہ نے بھی نہیں لیا۔ احناف کا موقف بھی اس روایت کے خلاف ہے۔ اصولی طور پر چونکہ تیسری طلاق کے بعد بھی بیوی شوہر کی عدت میں ہے اور اس نے وہ پابندی اس کے لیے ہی قبول کی ہے، اس دوران میں وہ کسی اور جگہ نکاح بھی نہیں کر سکتی ہے تو خرچہ بھی اسی پر آنا چاہیے۔

مطیع سید: روایت میں آیا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو پسلی سے پیداکیا،8 یہ کیا کوئی تمثیل ہے؟

عمار ناصر: محدثین کے ہاں دونوں طرح سے اس کی تشریح ملتی ہے۔ بعض اس کو لفظی معنوں میں لیتے ہیں اور اس کی تائید میں بعض اسرائیلی روایات بھی موجود ہیں جن میں یہ ہے کہ انھیں آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیداکیا گیا۔ لیکن کچھ دوسرے اہل علم اس کو استعارے کا اسلوب بھی کہتے ہیں۔

مطیع سید: اگر استعاراتی اسلوب لیں تو پسلی سے کیا مراد ہے؟

عمار ناصر: کجی کے معنوں میں ہے، کیونکہ روایت کے جو پورے الفاظ ہیں، ان میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ ایسا اسلوب ہے جیسے خلق الانسان من عجل کا ہے، یعنی انسان جلد بازی کے خمیر سے پیداکیا گیا ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ استعارے کا اسلوب ہے۔ یعنی عورت کی طبیعت میں ایک خلقی کجی ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو تو وہ نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس کے تخلیقی عمل کی طرف اشارہ ہو کہ چونکہ اس کو پسلی سے پیداکیاگیا ہے، اس لیے جس طرح پسلی میں ایک خم ہے، عورت کا مزاج بھی ایسا ہی ہے۔ اگر پسلی سے پیداہوئی ہو تو میرے خیال سے بعید بات نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ساری انسانیت کی ابتدا ایک نفس سے ہوئی ہے۔ ایک نفس سے پھر اللہ نے اس کا جوڑا پیدافرمایا۔ اس سے لگتا ہے کہ مستقلاً‌ آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور پھر آدم سے آگے حوا کو تخلیق کیا گیا۔

مطیع سید: ایسا بھی ممکن ہے کہ جس طرح اللہ نے آدم کو الگ سے پیدا کیا، اسی طرح سے حواکو بھی الگ سے پیداکیا ہو؟

عمار ناصر: اگر خلقکم من نفس واحدہ کو ظاہری معنوں میں لیں تو پھر یہ بات کہنا مشکل ہے۔ اصل تو ایک جان ہونی چاہیے جس سے آگے نسل چلی ہو۔ اگر ایک فرد الگ پیدا کیا گیا اور دوسرا الگ تو پھر ایک نفس والی بات درست نہیں ہو سکتی۔ بہرحال یہ متشابہات میں سے ہے۔ اس کی پوری حقیقت جاننا ممکن نہیں۔

مطیع سید: آپﷺ نے کوئی عورت بطور باند ی رکھی؟

عمار ناصر: جو زیادہ عا م اور معروف موقف ہے، اس کے مطابق ماریہ قبطیہ باندی ہی تھیں۔

مطیع سید: ایک دفعہ کوئی شکایت بھی ان کے حوالے سے آپﷺ کے سامنے آئی تھی جس پر آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ایک آدمی کی تفتیش کے لیے بھیجا تھا؟

عمار ناصر: جی، چونکہ سیدہ ماریہ کو آپﷺ نے ازواج کے ساتھ نہیں رکھا ہواتھا، تھوڑا ہٹ کر ان کے لیے الگ رہائش تھی تو ایک شخص گھر کا ضروری ساز وسامان ان کو پہنچانے کے لیے ان کے پاس آتا جاتا تھا۔ اس پر لوگوں نے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت علیؓ کو بھیجا کہ جا کر اس شخص کو قتل کر دو۔ انھوں نے جا کر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص تو مخنث ہے، یعنی اس کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہے۔ اس واقعے میں ایک بڑا اشکال یہ ہے کہ آپ نے بغیر تحقیق کے کیسے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا؟ اور یہ کہ اگر وہ مجرم تھا تو صرف اس کو کیوں سزا دی، سیدہ ماریہ کا کیوں مواخذہ نہیں کیا؟ شارحین اس کی توجیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے علم میں تو صحیح حقیقت حال تھی، لیکن آپ نے لوگوں کے شبہات اور منفی تاثر کے ازالے کے لیے حضرت علی کو مامور کیا تاکہ ایک ظاہری تحقیق اور تفتیش کے ذریعے سے بھی لوگوں پر واضح ہو جائے کہ وہ جو الزامات لگا رہے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔

مطیع سید: کیا ان کے لیے بھی خاص دن مقرر تھا؟

عمار ناصر: نہیں، ان کے لیے کوئی باقاعدہ دن مخصوص نہیں تھا، جس طرح ازواج کے لیے دنوں کی تقسیم تھی۔


حواشی

  1. صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب اذا زوج ابنتہ وہی كارہۃ فنكاحہ مردود‌‌ ، رقم الحدیث: 5138، ص: 1323
  2. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب النکاح، ‌‌باب نہی رسول الله صلى الله عليہ وسلم عن نكاح المتعۃ آخرا، رقم الحدیث: 5117، ص: 1318
  3. صحیح مسلم، كتاب الرضاعۃ، باب رضاعۃ الكبير، رقم الحدیث: 1453، جلد: 2، ص: 1076
  4. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب فضائل الصحابۃ، ‌‌باب مناقب زيد بن حارثۃ، رقم الحدیث: 3731، ص: 945
  5. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب النکاح، ‌‌‌باب اذا تزوج الثيب على البكر، رقم الحدیث: 5214، ص: 1341
  6. صحیح مسلم، كتاب الرضاعۃ، باب لولا حواء لم تخن انثى زوجہا الدهر، رقم الحدیث: 1470، جلد: 2، ص: 1092
  7. صحیح مسلم، كتاب الطلاق، باب المطلقۃ ثلاثا لا نفقۃ لہا، رقم الحدیث: 1480، جلد: 2، ص: 1114
  8. صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الوصاة بالنساء، رقم الحدیث: 5186، ص: 1332

(جاری)

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ: تعارف و خدمات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ضبط و ترتیب: حافظ خرم شہزاد

(بزم شیخ الہند گوجرانوالہ کے زیر اہتمام یکم نومبر ۲۰۲۲ء کو اِفتتاحی ماہانہ فکری نشست سے گفتگو)

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہے کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمات، فکر اور مشن کے تعارف کے لیے ’’بزم شیخ الہند‘‘ کے نام سے ہم کچھ دوستوں نے جن میں حضرت مولانا قاری محمد یوسف عثمانی، ہمارے بھائی عبد المتین چوہان مرحوم اور دیگر رفقاء بھی شامل تھے ،بہت پہلے ایک کام کا آغاز کیا تھا جس کے تحت فکری نشستیں ہوا کرتی تھیں، پھر زمانے کے ساتھ ساتھ کام ٹھنڈا پڑ گیا۔ اب ہمارے بہت باذوق ساتھی حافظ خرم شہزاد صاحب جو ما شاء اللہ صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ فکر بھی ہیں اور صرف متفکر نہیں بلکہ فکر دلانے والے بھی ہیں۔ انہوں نے اس کام کے شروع کرنے کا ارادہ کیا اور ویسے بھی ہمارے ساری فکر اور جدوجہد کی بنیادی علمی، فکری اور تحریکی شخصیت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز ہیں تو میں نے مشورہ دیا کہ انہی کے نام سے دوبارہ کام مناسب رہے گا۔ اب بزم شیخ الہندؒ کو دوبارہ متحرک کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے، حافظ خرم شہزاد صاحب اور ان کے رفقاء مبارک باد اور شکریے کے مستحق بھی ہیں اور یہ خوشی کی بات ہے کہ یہ کام اب اگلی نسل کو منتقل ہو رہا ہے اور یقینا یہ باعث مسرت اور سعادت بات ہے ۔ آج اس بزم کی پہلی ماہانہ فکری نشست ہے جس میں موضوعِ بحث حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو بنایا گیا ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کا تاریخ میں تعارف دو حوالوں سے ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مذہبی حلقوں کی جو نئی تقسیم ہوئی تھی اس میں دیوبندی مکتبۂ فکر کا بانی اور نقطۂ آغاز کہا جاتا ہے۔ ۱۸۵۷ء اور یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے پہلے ہمارے ہاں مسلم معاشرے میں جو مذہبی دائرہ بندی تھی اس کے عنوانات اور تھے، ۱۸۵۷ء کے بعد جہاں اور بہت سی باتیں تبدیل ہوئیں تو اس کے ساتھ ہمارے مذہبی حلقوں کے دائروں کا تعارف بھی تبدیل ہوگیا۔

دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث مکتبۂ فکر ۱۸۵۷ء کے بعد کی ایجاد ہیں اس سے پہلے ان ناموں سے ہمارا کوئی تعارف نہیں تھا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد سارے ملک اور قوم نے سارے معاملات کا آغاز زیرو پوائنٹ سے کیا تھا اور یہاں اس وقت تین چار فکری حلقے بن گئے تھے۔ ایک فکری حلقہ علی گڑھ کی صورت میں سر سید احمد خان مرحوم کا تھا۔ ایک مکتبہ فکر دیوبندی کہلایا جس کا آغاز ۱۸۶۶ء میں دارالعلوم دیوبند کے قیام سے ہوا تھا، اور ایک مکتبہ فکر بریلوی کہلایا جو اسی دور کے ایک بزرگ تھے انہوں نے اپنا ایک فکری اور اعتقادی تعبیرات کا دائرہ متعین کیا اور وہ بریلوی کہلائے۔ اسی طرح سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک کے بعد اہل حدیث کے عنوان سے کچھ حضرات نے اپنا تشخص الگ کیا ہے۔ مسائل کا اختلاف تو ہوتا ہی ہے مگر یہ سوچ اور فکر کا اختلاف ہے۔ یہ نئے تعارف ہیں ،علی گڑھ، دیوبند ، بریلوی اور اہل حدیث ۱۸۷۵ء کے بعد کی تقسیم ہے اور اس میں جو ایک مستقل مکتب فکر علمی، فکری ، تحریکی اور سیاسی مکتبہ فکر جو دیوبندی کہلاتا ہے اس کے بانی، امام، زیرو پوائنٹ، اور نقش اول دو تین شخصیات ہیں ،حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور ان کے شیخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ہیں۔ حضرت نانوتویؒ کا ایک تعارف تو یہ ہے کہ ان سے اور مولانا گنگوہیؒ سے دیوبندی مکتبہ فکر کا آغاز ہوتا ہے۔

تاریخ میں ان کا دوسرا تعارف یہ ہے کہ وہ ایک نئے تعلیمی نظام کی بنیاد تھے اور ایک تعلیمی نظام کا آغاز ان سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ۱۸۵۷ء میں سب مدارس ختم ہوگئے تھے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے کچھ باقی رکھے ہوئے تھے لیکن انگریزوں نے باقی سارے مدارس ختم کر دیے تھے کوئی ایک مدرسہ اور وقف بھی باقی نہیں رہا تھا، از سر نو زیرو پوائنٹ سے کام شروع ہوا تو دیوبند میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ۱۸۶۶ء میں مدرسہ قائم ہوا، اس کے بانیوں میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒکے علاوہ حاجی عابد حسینؒ اور مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ بھی تھے۔ چونکہ یہ زیادہ متعارف تھے اس لیے تاریخ مولانا نانوتویؒ کادارالعلوم کے بانی کا تعارف کرواتی ہے کہ ایک تعلیمی نظام کا آغاز ان سے ہوتا ہے۔

ان کا ایک تاریخی تعارف ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں حصہ لینا بھی ہے ،اس کا تھوڑا سا پس منظر عرض کر دیتا ہوں کہ ہوا یوں کہ ۱۷۵۷ء سے بہت پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے پہلے کی آئی ہوئی تھی اور وہ ایک تجارتی کمپنی تھی، برطانیہ ،فرانس اور ہالینڈ کی الگ الگ کمپنیاں تھیں جو اس زمانے میں کام کر رہیں تھی۔ ان کی آپس میں چپقلش بھی تھی لیکن ان میں برٹش برطانیہ والی ایسٹ انڈیا کمپنی آگے بڑھی ہے ۔ یہ مستقل ایک موضوع ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کیسے قائم ہوئی ،کیسے اجازت ملی، کیسے آگے بڑھی اور کیا کام کیا؟ لیکن ۱۷۵۷ء میں بنگال میں نواب سراج الدولہ شہیدؒ وہاں کے حکمران تھے ،اُن سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی چپقلش ہو گئی کچھ ٹیکسوں، پابندیوں اور کچھ قوانین کی بنیاد پر! تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے بغاوت کر دی اور اس کے نتیجے میں کمپنی کو کامیابی ہوئی، سراج الدولہ شہید ہوئے اور بنگال پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں ان کے حوصلے بڑھے، بنگال کے بعد انہوں نے میسور، اور لکھنؤ پر قبضہ کیا اور لمبی جنگیں ہوئیں۔

اس کا ایک درمیان کا پوائنٹ یہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے بڑھتے جب دہلی زد میں آگیا تو اس وقت مغلوں میں شاہ عالم ثانی کی بادشاہت اور حکومت تھی، جب انہوں نے دہلی کو خطرے میں محسوس کیا کہ کمپنی کی پیشرفت یہاں تک آگئی ہے کہ اب اگلا ٹارگٹ دہلی ہوگا تو پھر مذاکرات ہوئے اور مذاکرات میں وہی ہوا جو کچھ مذاکرات میں ہوا کرتا ہے۔ مذاکرات اور گفتگو میں آپس میں ایک معاہدہ طے پایا، معاہدے میں شاہ عالم ثانی نے انڈیا کے مالیاتی نظام ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیا۔ وہ تقسیم یہ تھی کہ بادشاہ تو شاہ عالم ہی رہیں گے ،بادشاہت بھی مغلوں کی رہے گی، سکہ اور نام بھی ان کا چلے گا لیکن مالیاتی کنٹرول ایسٹ انڈیا کمپنی کرے گی۔ میں اس کی مثال دیا کرتا ہوں جیسے آج کل بھی یہی ہے کہ نام اور ٹائٹل ہمارا ہے اور مالیاتی کنٹرول آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے۔

بالکل یہی پریکٹیکل شکل یہ تھی جو آج آئی ایم ایف کی ہے کہ مالیاتی کنٹرول اُن کے ہاتھ میں ہے اور باقی نظام ہمارے نام پر ہے۔شاہ عالم ثانی کا کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہو گیا، اس کے تحت شاہ عالم بادشاہ ہے، اس کا اس عنوان سے اعلان ہوا کہ’’زمین خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ یہ تین جملے تھے اور اس کے ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا نمائندہ بٹھا دیا۔ اس اعلان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہؒ کے جانشین اور ہمارے علمی اور دینی حلقے کے امام حضرت شاہ عبد العزیز محدثِ دہلویؒ نے فتویٰ دے دیا کہ اب ہندوستان دارالحرب ہوگیا ہے اور جہاد فرض ہوگیا ہے اور اس کے خلاف بغاوت اور خروج کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور پھر اعلان کر کے اسی نظم کے تحت بالاکوٹ کی جنگ ہوئی ہے اس نتیجہ میں انہوں نے پشاور پر قبضہ کیا اور پھر وہ مظفر آباد جا رہے تھے تو راستے میں رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ نے گھیرے میں لے کر شہید کر دیا۔ ۱۸۳۱ء کی بالاکوٹ کی جنگ ہو چکی تھی اور اس کے بعد حالات اتنے دِگرگوں ہو گئے کہ دہلی کے مرکز کے بڑے بزرگ شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے اور اس کے بعد بغاوت، خروج اور جہاد کی جو نئی آبیاری ہوئی ہے یعنی ۱۸۳۱ء سے لے کر ۱۸۵۷ء تک درمیان کے عرصے میں ملک بھر میں تیاری ہوتی رہی، مختلف مقامات پر بنگال، صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) پنجاب میں بھی جس نے بعد میں ۱۸۵۷ء کی اجتماعی شکل اختیار کر لی تھی۔

اس کی تفصیلات کا موقع نہیں، میں صرف یہ حوالہ دینا چاہوں گا کہ ۱۸۵۷ء کا معرکہ پورے ملک میں ہوا اور انگریزوں کے خلاف بغاوت ہوئی تھی، اس میں اِس حلقے نے بھی شاملی کے محاذ پر حصہ لیا تھا۔ اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ جب جنرل بخت خان نے بغاوت کر دی تو اِس حلقے کے لوگوں نے تھانہ بھون میں آپس میں مشاورت کی اور اس میں ایک ترتیب طے پائی کہ’ ہم نے بھی بغاوت کرنی ہے اور جہاد کرنا ہے‘ تو اس میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کو امیر المومنین بنایا گیا جو اس وقت شیخ المشائخ تھے، اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کو جنگ کے لیے کمانڈر انچیف اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو قاضی القضاۃ بنایا گیا۔ ایک سسٹم طے کیا اور اس کے تحت بغاوت ہوئی ،جنگ لڑی اور شاملی کا محاذ فتح ہوا ۔ میں نے الحمد للہ وہ مقام دیکھا ہے ،ہم جب آخری بار دیوبند کے پروگرام میں انڈیا گئے ہیں تو مولانا اللہ وسایا صاحب ،اللہ پاک سلامت رکھے ہمارے بڑے باذوق بزرگ ہیں ، تھوڑا بہت ذوق میرا بھی ہے۔ تو ہم نے وہ سارے ایس او پیز سے نکل کر شاملی کا محاذ بھی دیکھا ہے ، تھانہ بھون بھی دیکھا ہے، مولانا اللہ وسایا نے اس کی تفصیل لکھی ہے۔ تو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ناکام ہو گئی تھی۔ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس وقت سب کچھ انگریزوں نے قبضہ کر لیا تھا، مدارس بند کر دیے اور سارا سسٹم ختم کر دیا تھا۔

اس کے بعد دیوبند سے پرائیویٹ سطح پر مدرسے کا آغاز ہوا۔ پہلے مدارس کی پوزیشن یہ ہوتی تھی کہ نواب صاحبان، بادشاہ اور ریاستیں علماء کو جاگیریں دے دیتی تھی اور وہ مدرسہ بناتے تھے ۔لیکن ۱۸۷۵ء میں ہم بالکل زیرو پوائنٹ پر جا کر کھڑے ہوگئے تھے۔ اس وقت جو پہلا مدرسہ بنا ہے وہ ۱۸۶۶ء میں دیوبند میں مدرسہ عالیہ کے نام سے ان میں حاجی عابد حسین، مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہم بھی تھے ۔اس مدرسے کا بانی بھی مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کو کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تاریخ میں تعارف تین حوالوں سے ہے، جنگ آزادی میں کردار کے حوالے سے ،دیوبندی مکتبہ فکر اور دارالعلوم دیوبند کے بانی کے حوالے سے ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی خدمات کے دائرے اور بھی بہت سے ہیں، بنیادی طور پر وہ ایک متکلم تھے۔ یعنی وقت کے فکری، اعتقادی فتنوں کو محسوس کر کے اُن کا مقابلہ کرنا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے عقائد ، اس کی تعبیرات وتشریحات کو نئی نسل تک پہنچانا۔ یہاں ہر دور میں متکلم رہے ہیں مگر اُس دور کے سب سے بڑے متکلم حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ تھے۔اس حوالے سے میں ایک بات کہا کرتا ہوں کہ ایک دائرہ فقیہ کا ہوتا ہے لہٰذا ہمارے فقہی امام مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ہیں ،اور ایک دائرہ متکلم کا ہے لہٰذافکری امام اور علم کلام میں ہمارے پیشواحضرت نانوتویؒ ہیں اور روحانیات میں ہمارے امام حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔یہ ہماری تکون ہے۔ روحانیات، سلوک ،تصوف میں ہماری ساری نسبتیں حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ پرجمع ہوتی ہیں۔اورفقہی حوالے سے ہمارے عقائد اور مسائل کی تعبیرات وتشریحات مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور ہمارے فکری، فلسفہ ، جدید مسائل ، علم کلام اس میں ہماری انتہاء حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ہیں ،لہٰذا اِس تکون سے دیوبندیت نے جنم لیا ہے۔ کسی نے مجھ سے ایک سوال پوچھا کہ دیوبندیت اور بریلویت میں کیا فرق ہے؟ میں نے کہا ۱۸۵۷ء کے بعد مسائل، عقائد، تعبیرات میں مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی تعبیرات کو ’’دیوبندیت‘‘ کہتے ہیں اور مولانا احمد رضا خان کی تعبیرات کو ’’بریلویت‘‘ کہتے ہیں۔ یہ تعبیرات کے فرق سے الگ الگ دائرے ہوئے ہیں ۔

اس وقت کے جو اعتقادی فتنے اور فکری خطرات تھے ،ایک طرف عیسائیت بڑھ رہی تھی کیونکہ ۱۸۵۷ء کے بعد ایک یلغار عیسائیت نے کی ہے ویسی ہی یلغار جیسے اندلس کے فتح کے بعد اسپین نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے کی تھی۔ ملکہ ازابیلہ نے جبر، تبلیغ، دعوت سے سارا ماحول تبدیل کرنے کی کوشش کی، اندلس کو دوبارہ اسپین بنانے میں انہیں سو سال بھی نہیں لگا ،اس سے کم عرصہ میں ماحول تبدیل ہو گیا تھا۔ اب آپ کو اگر اسپین جانے کا موقع ملے تو وہاں ’’عائشہ اسٹریٹ‘‘ ملے گی عائشہ نہیں ملے گی، ’’علی روڈ‘‘ ملے گا علی نہیں ملے گا، وہاں شاید ’’عثمان پارک‘‘ بھی مل جائے لیکن عثمان نہیں ملے گا، بس پرانے نام چلے آرہے ہیں اور وہ تبدیل کر رہے ہیں۔

یہاں (برصغیر میں) بھی یہی پروگرام اور اُن کی فرنٹ لائن یہ تھی کہ ان (مسلمانوں) کو عیسائی بنا لیا جائے۔ لہٰذا پادریوں نے قریہ قریہ بستی بستی یلغار کی اور ہمارے علماء نے الحمدللہ اس کا سامنا کیا، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور ان کے ساتھ پورا گروپ ہے اور اس کی پوری ایک تاریخ ہے، وہ بھی ۱۸۵۷ء کے جہاد کے شرکاء میں سے ہیں ۔ علمی طور پر اُن کی کتاب ’’اظہار الحق‘‘ آج تک عیسائی مسلم کلامیات پر سند مانی جاتی ہے اور عملی طور بھی جہاد میں۔ اس وقت جو بڑے پادری فنڈر سامنے آئے تھے اس کا مقابلہ بھی اسی گروپ نے کیا تھا۔

اسی طرح اس زمانے میں ایک یلغار اتحادِ مذاہب کے حوالے سے بھی تھی یعنی مکالمہ بین المذاہب، ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا۔ اس پر ’’میلہ خداشناسی‘‘ کے نام سے ایک میلہ لگا کرتا تھا ، اس میں ہندو، آریا سماج، سکھ اور مسلمان بھی شریک ہوتے تھے اور ساری پبلک جمع ہوتی تھی، تین تین، چار چار، پانچ پانچ دن مجمع جمع رہتا تھا اور سارے مذاہب کے مقررین اور متکلمین اس میں آکر بحث کرتے تھے اور پھر لوگ فیصلہ کرتے تھے۔ اس میں ہمارے بزرگ بھی جاتے تھے، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور دوسرے حضرات بھی تشریف لے گئے تھے۔ وہاں ایک محاذ یہ تھا کہ اپنے مذہب اور عقائد کو عقلی بنیاد اور کامن سینس سے ثابت کرنا ہے۔ میں درمیان میں ایک فرق واضح کرتا چلوں کہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ کار کیا رہا ہے؟ دوسرے مذاہب سے جب آپ کسی مسئلے پر گفتگو کریں گے تو وہاں آپ کے اپنے دلائل نہیں چلیں گے، کسی عیسائی سے بات کرتے ہوئے قرآن پاک کا حوالہ آپ کو کام نہیں دے گا کیونکہ یہ ہمارا اپنا حوالہ ہے ،کسی سکھ سے گفتگو کرتے ہوئے آپ کو حدیث کام نہیں دے گی کیونکہ یہ ہمارے آپس کے دلائل میں سے ہے۔ اس کے ساتھ مسلّمات سے بات کرنی ہوگی ۔یہ بات ہم بسا اوقات بھول جاتے ہیں اور اس بات کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا جس سے بھی مکالمہ کریں دلیل مسلمات میں سے ہوتی ہے یک طرفہ دلیل، دلیل نہیں ہے۔ آج بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دوسرے مذاہب کے حوالے سے آپ اپنے دلائل سے بات نہیں کریں گے، بلکہ ان دلائل سے بات کریں گے جو دونوں کے درمیان تسلیم شدہ ہیں۔ اور آج کی دنیا میں مسلمات میں سب سے بڑا مسلمہ اصول ’’کامن سینس‘‘ ہے۔ لہٰذا آج یہودیوں اور عیسائیوں سے گفتگو کرنے کے لیے آپ کو کامن سینس سے ہی بات کرنا ہو گی، اسی طرح دہریوں کے ہاں کامن سینس کے علاوہ کوئی اور دلیل چلتی ہی نہیں ہے۔ میلہ خدا شناسی کے نام سے ایک دائرہ یہ تھا کہ عقل، کامن سینس، محسوسات اور وقت کی زبان میں اپنے مذہب اور مسائل کو ثابت کرنا ہوتا تھا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور یہ حلقہ اس کا بھی ایک میں کردار تھا۔

ہمارے ہاں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ ’’ہمیں ایسے مباحثوں میں شریک نہیں ہونا چاہئے ‘‘ یہ سوچ درست نہیں ہے۔ ہمیں اس میں شریک ہونا چاہیے نہیں بلکہ شریک ہونا پڑے گا۔ آج کی دنیا میں خدا کے انکار، دہریت، سیکولرازم، مذہب کے انکار اور قیامت کے انکار پر جو فکری مباحث ہیں ہم اُن سے لاتعلق رِہ کر دین کی خدمت نہیں کر سکتے۔ معلوم نہیں ہمارے ہاں یہ سوچ کہاں سے آگئی ہے کہ ’’ہمارا ان چیزوں سے کیا تعلق ہے‘‘ لہٰذا آج کے جو مسائل ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ خدا کا انکار ہے، آج دنیا اور انسانی سوسائٹی کی بنیادی تقسیم بلیورز اور نان بلیورز کی ہے، جو اہل مذاہب خدا اور آخرت کو مانتے ہیں وہ بلیورز اور جو نہیں مانتے یہ نان بلیورز کہلاتے ہیں۔ ہم اُن سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، اُن سے بات کرنی پڑے گی اور مباحثے میں شریک ہونا پڑے گا۔ خیر اس کا ایک دائرہ میلہ خدا شناسی کے نام سے تھا، حضرت نانوتویؒ اور ان کے رفقاء بھی اس کا ایک بنیادی کردار تھے انہوں نے اس مکالمے سے گریز نہیں کیا اس میں شریک ہوئے ہیں اور اپنے مذہب اور مسائل کو عقل، منطق، لاجک اور کامن سینس سے ثابت کیا ہے۔

ایک تقسیم اور ذہن میں رکھ لیں کہ ہمارے ہاں سوسائٹی کی تقسیم میں لاجک اور دلیل کی بنیاد پر جو طبقہ سب سے نمایاں ہوا ہے وہ ’’دیوبندی‘‘ کہلاتا ہے، رویات، درایت اور بیلنس بھی ہے۔ ایک طبقے کی بنیاد خالص درایت پر ہے جیسے سر سید احمد خان ہیں ،ایک طبقے کی بنیاد خالص روایت پر ہے ہمارے اہل حدیث دوستوں کی اور ایک طبقے کی بنیاد سماجی روایات پر ہے جیسے بریلویت۔ لہٰذا لاجک اور کامن سینس کے طور پر سب سے نمایاں ’’دیوبندی‘‘ طبقہ ہے۔ اقبالؒ نے بھی یہی کہا ہے کہ ’’ہر پڑھا لکھا مسلمان دیوبندی ہے‘‘ یعنی جو پڑھی لکھی، دلیل اور لاجک سے بات کرتا ہے۔ بالکل ہندوؤں میں اسی زمانے میں ایک نیا فرقہ ایجاد ہوا تھا جس کو ’’آریاسماج‘‘ کہتے ہیں اس کا بانی پنڈت دیانند سرسوتی ہے اور یہ بھی پڑھے لکھے ہندو کہلاتے ہیں۔ یہ لاجک سے بات کرنے میں مشہور تھے، اس پر ایک مثال عرض کرتا ہوں اور دوسرا علماء کرام سے التماس کرتا ہوں کہ پڑھا کریں۔

پنڈت دیانند سرسوتی بڑا پڑھا لکھا فلسفی اور مفکر آدمی تھا۔ کسی کے گمراہ یا کافر ہونے سے اس کی علمیت کی نفی نہیں ہوتی۔ یہ بھی ہمارے ہاں ایک مسئلہ ہے کہ ’’جس کے ساتھ ہمارا اتفاق نہیں وہ جاہل ہے‘‘ ایسا نہیں ہے۔ کسی کے فکر، مذہب اور عقیدے سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا علم ہی چھن گیا ہے، بلکہ اس کے پاس علم ہے۔ پنڈت دیانند سرسوتی نے ایک کتاب لکھی، اس میں مذاہب کا تقابل کیا ہے، حق باطل سے ہٹ کر عقلی دنیا میں وہ بہت بڑی کتاب ہے، عیسائی ، بدھ مت، مسلمان کیا ہیں؟ تقابلِ مذاہب پر وہ کتاب ہے۔ اس میں مسلمانوں پر بھی تبصرے ہیں اس میں ایک مستقل باب ہے قرآن پاک پر ایک سو سترہ (۱۱۷) عقلی اور کامن سینس قسم کے اعتراضات ہیں۔ اور ایک نئی نسل کو متاثر کرنے کے لیے وہ دلائل کافی ہیں، خالی الذہن آدمی کو اگر پڑھا دیں تو وہ (اپنے مذہب سے) چھلانگ لگا دے گا۔

آج بھی جو سوالات نئی نسل کے ذہنوں میں ڈالے جا رہے ہیں اور یہ نئی نسل دینی اعتبار سے خالی الذہن ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہمارے بچوں اور بچیوں کے ذہنوں میں جو سوالات ڈالے جا رہے ہیں اور مسلسل ڈالے جا رہے ہیں اس نسل کے ذہنوں میں جو دینی اعتبار سے خالی الذہن ہے اور ہم شکایت یہ کر رہے ہیں کہ وہ گمراہ ہو رہے ہیں، تو وہ گمراہ کیوں نہیں ہوں گے! خالی برتن میں جو کچھ ڈال دے گا وہی کچھ ہو گا۔ کیا ہم نے اُس برتن میں کچھ ڈالا ہے جو دوسرے سے شکایت کریں؟ جب برتن خالی ہے تو جو مرضی ڈالے گا۔ یہی صورت اُس وقت تھی ۔تو عرض کر رہا تھا کہ دیانند کی کتاب میں سادہ سے سوالات ہیں مثلاً اس نے لکھا ہے کہ ’’دیکھو! ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب حق ہے اس میں آجاؤ! مگر مسلمان ابھی تک اس کام میں لگے ہوئے ہیں ، صبح اٹھ کر وضو کرتے ہیں اور کھڑے ہو کر اللہ سے کہتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے، یعنی ابھی تک ان کے پاس سیدھا راستہ نہیں ہے۔‘‘

ایک خالی الذہن بچے کے لیے یہ سوال کافی ہے کہ ابھی تک سیدھا راستہ نہیں ہے تب ہی مانگ رہے ہیں ۔ایک سوال اس نے یہ کیا کہ ’’دیکھو! مسلمان ہمیں کہتے ہیں کہ ہندو بت پرست ہیں، ٹھیک ہے ہم پتھر کی مورتی بناتے اور اس کو پوجتے ہیں اور آپ نے پتھر کا کوٹھا بنایا ہوا ہے اور اس کے اردگرد گھومتے ہیں، پتھر کو چومتے ہیں، وہاں بھی پتھر کو پوجتے ہیں اور ہم بھی پتھر کو پوجتے ہیں تو فرق کیا ہے؟‘‘

اس کتاب میں اس قسم کے سوالات ہیں۔ اس پر ہمارے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تو آمنا سامنا اور مناظرہ بھی ہوا ہے، حضرت کے رسالہ ’’قبلہ نما‘ ‘میں اِن سوالات کے جوابات کا ذِکر ہے۔ اگر میری یہ بات ہضم ہو جائے تو میں عرض کروں گا کہ دیانند سرسوتی کے اس فکری فتنے کے جواب میں تین بزرگ سامنے آئے ہیں، (۱) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۲) اہل حدیث حضرات میں حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی کتاب ہے ’’حق پرکاش‘‘ جو اس کے جواب میں لکھی گئی ہے (۳) بریلوی بھی میدان میں آئے ہیں، مولانا نعیم الدین مراد آبادی نے اس حوالہ سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ نئی نسل کے ذہن میں وقت سوالات کھڑے کرتا ہے اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اس دور کے فکری امام بھی ہیں، انہوں نے سوالات کا سامنا کیا ہے نظرانداز نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا کہ ’’چھوڑو یار! رہنے دو‘‘ بلکہ انہوں نے سامنا کیا اور جواب دیا ہے۔ ان کے جواب پر پنڈت دیانند نے مانا اور تسلیم کیا۔

یہاں ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں، میلہ خدا شناسی میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ایک ہندو پنڈت سے مناظرہ ہو رہا تھا، مکالمہ لاجک، دلیل اور منطق سے ہوتا ہے۔ ہندو پنڈت نے جب دیکھا کہ میں شکست کھا رہا ہوں تو اس نے پینترا بدلا اور کہا ’’مولوی صاحب چھوڑو اس بات کو یہ باتیں ہوتی رہے گی، کھانے کا مقابلہ کر لو!‘‘ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے فرمایا، ’’ٹھیک منظور ہے‘‘۔ یہ سن کر ساتھی پریشان ہوگئے کہ مولوی صاحب تو کھاتے ہی کچھ نہیں ہیں، یہ تو ہلکی پھلکی خوراک کھاتے ہیں اور کھانے کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔ جب بات آگے بڑھی اور فیصلہ ہونے تک پہنچی تو مولانا قاسم نانوتویؒ نے فرمایا ’’ٹھیک ہے مقابلہ کھانے کا ہے، لیکن کھانے کا نہیں ہوگا بلکہ نہ کھانے کا ہوگا۔ مجھے اور اسے پنجرے میں بند کر دو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے۔‘‘

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے علوم و افکار کی بات بڑی لمبی ہے، اور میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس پر کچھ عرصہ پہلے حضرت مولانا محمد اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے انڈیا میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ پر محاضرات کروائے تھے، انڈیا میں چھپے ہیں ہمیں ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ بات کو سمیٹتے ہوئے کہوں گا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی شخصیات سے عقیدت اور محبت بھی رکھتے ہیں، ان کے نام نے نعرے بھی لگاتے ہیں، مگر انہیں پڑھتے نہیں ہیں۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے تعلیمی، فکری اور سیاسی دائرے کو پڑھنا چاہئے۔

میں اس پر اپنی بات کو ختم کروں گا کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ سے مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے اپنی یادداشتوں میں یہ بات نقل کی ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے مدرسہ بنایا ہے اس کا مقصد کیا ہے؟ حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا ’’دیکھو! تعلیمی کام کرتے رہو میں کسی میں رکاوٹ نہیں بنتا، لیکن میرے استاذ نے یہ مدرسہ کیوں بنایا تھا؟ ۱۸۵۷ء میں جو کچھ نقصانات ہوئے تھے اس کی تلافی اور متبادل تلاش کرنے کے لیے یہ مدرسہ بنایا تھا‘‘۔ کیونکہ۱۸۵۷ ء میں ہمارا سب کچھ لُٹ گیا تھا اور ہم زیرو پوائنٹ پہ کھڑے ہوگئے تھے ۔ ہم اپنے نقصانات کا اندازہ کر لیں، ایک تقسیم کار ہے۔

ایک بات اور عرض کروں گا کہ ہم میں سے ہر آدمی سارے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ فیل ہو جاتا ہے اس لیے کہ ہم میں ابھی تک تقسیم کار نہیں آرہی۔ ہمیں تقسیم کار کرنا ہوگی، آپس میں کام بانٹنا ہوگا اور نقصانات کا اندازہ کرنا ہوگا، جو علمی بھی ہیں، فکری بھی ہیں، سیاسی بھی ہیں، اور تہذیبی بھی ہیں۔ ہمیں فکری حلقوں کو اس وقت کی ترجیحات کا جائزہ لینا ہو گا۔ چلیں پچھلے نقصانات تو جو ہوگئے سو ہوگئے تھے، ہمیں اس وقت کے نقصانات کا جائزہ لینا ہوگا کہ اب کہاں کہاں سے کیا کیا نقصانات آ رہے ہیں ، ہمیں سوچ سمجھ کر ترجیحات قائم کر کے، اپنے بزرگوں کی تعلیمات کو پڑھ کر اور اُن سے واقفیت حاصل کر کے اُن کی راہنمائی میں ہمیں اپنی ترجیحات طے کرنی ہو گی اور اُن بزرگوں سے راہنمائی حاصل کرنا ہوگی، اللہ پاک اُن کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہمیں اُن سے شعوری راہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ بہت خوش آئند ہے جس پر حافظ خرم شہزاد اور ان کے ساتھیوں کو مبارک باد دوں گا کہ وقتاً فوقتاً ہم کسی بزرگ کی شخصیت کو سامنے رکھ کر بیٹھیں، باتیں کریں، اُن کی خدمات کا جائزہ لیں، اُن میں اپنے لیے راہنمائی کے راستے تلاش کریں اور دیکھیں کہ ہم نے اُن کے مشن کو آج کے دور میں کیسے باقی رکھنا اور آگے بڑھانا ہے۔ اور ہماری یہ ڈبل ذمہ داری ہے کہ اُن کے مشن کو باقی رکھنا اور آگے بڑھانا! کیا وہاں سامنے کام رُک گئے تھے؟ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی وفات کو کتنا عرصہ ہوا ہے اور کیا ان کے بعد کوئی فتنہ کھڑا نہیں ہوا؟ ہمارے آج کے چیلنجز کا سامنا کس نے کرنا ہے؟ اب چیلنجز، طریقہ کار اور ہتھیار مختلف ہوگئے ہیں اس لیے اب ہماری ڈبل ڈیوٹی ہے۔ پچھلے بزرگوں کے مشن کے مشن کو زندہ رکھنا اور آج کی ضروریات کا اندازہ کر کے اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا، ہم تو بوڑھے ہوگئے ہیں نئی نسل کو کم از کم سمجھا تو دیں کہ یہ کام کرنے کا اور ایسے کرنے کا ہے۔ اللہ پاک اس پروگرام کو کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں اپنے فرائض سرانجام دیتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین


حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کچھ عرصہ قبل کراچی حاضری کے دوران ان کی بیمارپرسی کا موقع ملا تو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا آخری دور یا دآ گیا، انہوں نے بھی ضعف و علالت کا خاصا عرصہ بسترِ علالت پر گزارا تھا اور میں ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً‌ و شیبة‘‘ کا اظہار ہے کہ جس بزرگ کے ساتھ ان کی جوانی کے دور میں پیدل چلنا بھی ہمارے لیے مشکل ہوتا تھا، آج وہ اپنے ہاتھ سے منہ میں لقمہ ڈالنے کی سکت نہیں رکھتے ’’ رہے نام اللہ کا‘‘۔

حضرت مفتی صاحبؒ کو دیکھ کر ماضی کے بہت سے مناظر ذہن میں تازہ ہو گئے اور تھوڑی دیر ان کے سامنے کھڑے رہ کر حسرت کے ساتھ وہاں سے نکل آیا، اب وہ اس مرحلہ سے بھی گزر گئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند فرمائیں اور ان کے سب متعلقین کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ اپنے والد گرامی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، دینی اور سیاسی روایات کے امین و پاسدار بھی تھے۔ اور ان کی مختلف النوع سرگرمیاں دیکھ کر حضرت مفتی اعظمؒ کی یاد تازہ ہو جایا کرتی تھی۔ بڑے مفتی صاحبؒ کی تو صرف زیارت کاشرف حاصل ہوا تھا، یا والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ سے وقتاً‌ فوقتاً‌ ان کا تذکرہ سنتے رہتے تھے جو ان دونوں کے استاذ محترم تھے اور علمی و فقہی مسائل میں ان کا مرجع بھی تھے کہ کسی بھی ضرورت کے وقت وہ راہنمائی اور فتوٰی کے لیے ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔

البتہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانیؒ دامت فیوضہم کے ساتھ نیازمندی کا تعلق عرصہ سے چلا آ رہا ہے، دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور محبتوں سے فیضیاب ہوتا آ رہا ہوں، بلکہ حضرت مفتی صاحبؒ کے ساتھ اندرون ملک بہت سی مجالس میں شرکت کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ کے بعض اسفار میں بھی رفاقت رہی ہے جو میری زندگی کے بہترین ایام میں سے ہے۔

مفتی صاحب مرحوم کے ذوق کا یہ پہلو میرے لیے ہمیشہ باعث توجہ رہا ہے کہ وہ علمی و دینی مجالس میں روایتی خطاب کی بجائے عوام اور علماء دونوں کے لیے راہنمائی کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور اجاگر کرتے تھے جن میں سے بعض باتوں کا میں اپنے مختلف کالموں میں ذکر کر چکا ہوں۔ موقع و محل کے مطابق ضرورت کے امور کو محسوس کرنا اور اس کے مطابق راہنمائی کرنا ان کا خاص ذوق تھا جو یقیناً‌ علماء کرام کے لیے مشعل راہ ہے۔ وہ تربیت و اصلاح کی طرف بطور خاص توجہ دیتے تھے اور جہاں اس حوالہ سے کوئی کمی یا کوتاہی دیکھتے اسے نظرانداز کرنے کی بجائے اس کی نشاندہی کر کے اصلاح کی طرف متوجہ کرتے تھے۔

مفتی صاحبؒ متعلقہ امور میں مشورہ کرتے تھے اور مشورہ قبول بھی کرتے تھے اور حوصلہ افزائی کا معاملہ کرتے تھے۔ میں نے امریکہ کے ایک سفر میں ان سے گزارش کی کہ ہمیں اپنے فضلاء اور منتہی طلبہ کو موجودہ عالمی فکری و تہذیبی ماحول سے روشناس کرانے اور آج کے علمی، فکری اور ثقافتی مسائل پر ان کی تیاری کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ بالخصوص بین الاقوامی قوانین و معاہدات اور ان کے عملی و تہذیبی اثرات سے انہیں آگاہ کرنا چاہیے جو ہمارے ہاں عام طور پر نہیں ہوتا۔ انہوں نے میری اس گزارش سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ مجھے دو تین بار اس بات کا موقع فراہم کیا کہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے شرکاء کے سامنے مختلف نشستوں میں اپنے ذوق کے مطابق عالم اسلام اور مغرب کی فکری و تہذیبی کشمکش کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کر سکوں۔

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ صاحبِ علم اور صاحبِ عمل تو تھے ہی، صاحبِ نسبت اور صاحبِ کردار بھی تھے۔ نئی نسل بالخصوص نوجوان علماء کرام کی ایسی جامع الاوصاف شخصیات سے شعوری ماحول میں وابستگی ہمارے دور کی اہم دینی ضروریات میں سے ہے، اور اس حوالے سے میری گزارش عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ بڑی شخصیات کے افکار و فیوض کو تحریری صورت میں پڑھنےکے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ ملاقاتوں اور مجالس کے ذریعے ان سے استفادہ زیادہ موثر اور نفع بخش ہوتا ہے اور نوجوان علماء کرام کو اس طر ف توجہ دینی چاہیے۔ گوجرانوالہ میں ایک بار تشریف آوری کے موقع پر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ جامعہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکادمی میں بھی رونق افروز ہوئے اور آج کی فکری اور تعلیمی ضروریات پر اکادمی کی نشست میں بہت پرمغز گفتگو کی جو ہمارے لیے راہنمائی اور حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔

حضرت مفتی صاحبؒ ہم سے رخصت ہو گئے ہیں لیکن ان کی یادیں ان کی کمی کا احساس دلاتی رہیں گی۔ البتہ دل کو یہ تسلی ہے کہ ان کے بھائی اور ہم سب کے مخدوم حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم ہمارے درمیان موجود ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے رہبر و راہنما ہیں بلکہ دنیائے اسلام میں پاکستان کی علمی پہچان اور اہلِ حق کی آبرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور حضرت مفتی محمد رفیع صاحبؒ کے فرزند مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی اپنے والد گرامی کی تعلیمی اور اصلاحی جدوجہد کا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی قیادت میں جامعہ دارالعلوم کراچی کو اپنے علمی، فکری اور دینی سفر میں مسلسل پیشرفت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔


ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۱)

ابو الاعلیٰ سید سبحانی

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی تحریک اسلامی ہند کے ایک مایہ ناز فرزند تھے، بہت کم عمری میں تحریک سے وابستہ ہوئے اور تادم زیست وابستہ رہے، لیکن یہ وابستگی کوئی عام سی وابستگی نہ تھی، بلکہ آخر دم تک تحریک اور امت کے لیے غیرمعمولی حد تک فکرمند رہے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ایک عظیم ماہرِ اسلامی معاشیات تھے اور عالمی سطح پر انہوں نے اسلامی معاشیات کے حوالہ سے نہ صرف ایک پہچان بنائی تھی، بلکہ دنیا بھر میں اسلامی معاشیات کے حوالے سے ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جاتا تھا۔ عالم اسلام کا سب سے بڑا ایوارڈ شاہ فیصل ایوارڈ بھی اسی سلسلہ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی خدمات کا ایک میدان اسلامی معاشیات تھا، اور دوسرا میدان اسلامی فکر۔ خاص بات یہ ہے کہ ان دونوں ہی میدانوں میں ان کی خدمات بہت ہی نمایاں اور موثر رہیں۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا خانوادہ ایک علمی خانوادہ تھا۔ آپ کے آباء واجداد سندھ کے راستے عرب سے ہندوستان آئے تھے۔ یہاں سلاطین کی حکومت میں ان کے خاندان کو قاضی کا درجہ حاصل تھا۔ ہندوستان میں ان کے اہل خاندان اعظم گڑھ کے قریب ’’قاضی کی سرائے‘‘ میں سکونت پذیر ہوئے تھے۔ 1920 کے قریب ڈاکٹر صدیقی کے والد حکیم عبدالقدوس اپنے بڑے بھائی کے ساتھ قاضی کی سرائے سے گورکھپور منتقل ہوگئے، اور وہیں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی ولادت 21 اگست 1931 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم محلہ کے مکتب میں ہوئی اور پھر اسلامیہ انٹرکالج گورکھپور میں داخل ہوگئے۔

اسلامیہ انٹرکالج میں تعلیم کے دوران یکے بعد دیگرے دو واقعات پیش آئے، ان دونوں واقعات نے ڈاکٹر صدیقی کی زندگی کو ایک رخ دینے میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا:

(۱) ساتویں جماعت میں زیرتعلیم تھے، اسی دوران 1943 میں ایک نوجوان’’تمکوہی‘‘ قصبے سے گورکھپور شہر منتقل ہوا اور اتفاق سے ڈاکٹر صدیقی کے دوسرے گھر میں کرایے دار ہوا، اور اتفاق پر اتفاق یہ ہوا کہ ان ہی کے کالج اور ان ہی کے کلاس میں اس کا داخلہ بھی ہوگیا۔ قدرت کا کرنا تھا کہ یہ نوجوان علوم و افکار کی دنیا سے لے کر عملی اور حرکی زندگی تک ڈاکٹر صدیقی کا بہترین رفیق ثابت ہوا، اور تقریباً ستر سال کی بے مثال رفاقت کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اس نوجوان کا نام ڈاکٹر عبدالحق انصاری تھا، جو تحریک اسلامی کے عظیم مفکر اور کچھ عرصے کے لیے جماعت اسلامی ہند کے امیر ہوئے۔ ڈاکٹر انصاری شروع میں ڈاکٹر صدیقی کے دوسرے گھر میں کرایے دار تھے، لیکن بہت جلد ہی وہ ڈاکٹر صدیقی کے اپنے گھر میں ایک فیملی ممبر کی طرح رہنے لگے تھے۔ ڈاکٹر عبدالحق انصاری اور ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی رفاقت بہت ہی مثالی تھی، اور یہ رفاقت دونوں کی شخصیت سازی میں غیرمعمولی طور پر معاون ثابت ہوئی۔ دونوں کی زندگی میں کئی پہلووں سے یکسانیت پائی جاتی تھی۔ دونوں ایک ساتھ تحریک سے وابستہ ہوئے، دونوں نے اپنے لیے تحریک کا فکری محاذ منتخب کیا، دونوں نے تحریک اسلامی کی بڑے پیمانے پر فکری خدمات انجام دیں، دونوں اجتہادی مزاج رکھتے تھے اور جرأتمندانہ سوچ کے حامل تھے، دونوں کے تحقیقی ذوق اور علمی کمال کا تحریک اور تحریک کے باہر کی دنیا میں اعتراف کیا جاتا تھا۔

(۲) اسلامیہ انٹرکالج میں، ہائی اسکول کی تکمیل سے پہلے ہی آپ دونوں کا تعارف مولانا مودودی کے لٹریچر اور ان کی قائم کردہ تحریک’’جماعت اسلامی‘‘سے ہوا، عبدالحق انصاری مرحوم ستر سالہ رفاقت کے بعد اس دارفانی سے کوچ کرگئے، لیکن تحریک اسلامی سے جو رفاقت قائم ہوئی وہ تقریباً اسی سال تک یعنی آخری سانس تک باقی رہی۔ تعلیم کا پورا سلسلہ تحریکی تقاضوں کے مطابق جاری رکھا، غوروفکر کا پورا سلسلہ تحریک کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جاری رکھا، اختصاص کا میدان تحریک کے وژن کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا، تصنیف و تالیف اور ترجمہ کا ایک زبردست کام تحریک اسلامی کے مشن، وژن اور طریقہ کار کو نگاہوں میں رکھتے ہوئے انجام دیا۔

ان دونوں واقعات یا ان دونوں رفاقتوں کے ڈاکٹر نجات صاحب مرحوم کی زندگی پر بہت گہرے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اسکول کی تعلیم کے دوران ہی انہوں نے ڈاکٹر عبدالحق انصاری کے ساتھ مل کر تحریک کے لیے عملی جدوجہد شروع کردی تھی، اس سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

’’ہم نے لٹریچر حاصل کیا، لائبریری بنائی، مختلف رسائل وجرائد منگوانے شروع کیے، اور طلبہ ساتھیوں کے درمیان کام کا آغاز کردیا، ان تمام سرگرمیوں میں عبدالحق صاحب ہمارے ساتھ شریک ہوتے تھے، البتہ وہ شروع ہی سے خشک مزاج رکھتے تھے، کافی سنجیدہ تھے، چنانچہ تفریحی اور ادبی سرگرمیوں میں وہ کم دلچسپی لیتے تھے اور مجھے ان میں کافی دلچسپی تھی‘‘۔ (دیکھیں: ماہنامہ رفیق منزل، نومبر 2012)

ہائی اسکول کی تکمیل کے مرحلہ میں ان دونوں کے ساتھ ایک اور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات ڈاکٹر صدیقی مرحوم کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’جب ہم نے مولانا مودودی کالٹر یچر پڑھا، اور اس میں دیکھا کہ مولانا مودودی نے کس طرح موجودہ تعلیمی نظام پر تنقید کی ہے اور ایک نئے تعلیمی نظام کا خاکہ پیش کیا ہے، اس وقت ہمارے دل میں شوق پیدا ہوا کہ ہم اس تعلیم کو ترک کر کے دینی تعلیم حاصل کریں، ہم دونوں کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ ہم انجینئر بنیں، لیکن ہم لوگ اپنے آپ میں کچھ اور فیصلہ کر چکے تھے، ہائی اسکول کرنے کے بعد ہم دونوں نے ترک تعلیم کا فیصلہ کرلیا، اور پھر میں ملیح آباد گیا، جہاں جماعت اسلامی کا مرکز تھا، میں نے وہاں مولانا ابواللیث صاحب سے ملاقات کی، اور ان سے درخواست کی کہ ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے اور اب ہم چاہتے ہیں کہ جماعت ہماری تعلیم کانظم کرے، اس انداز پر جس کا مولانا مودودی کے لٹریچر میں ذکر ملتا ہے۔ لیکن مولانا ابواللیث صاحب نے وسائل اور افراد کی قلت کا عذر پیش کرتے ہوئے معذرت کر لی، چنانچہ میں واپس گورکھپور چلا گیا، وہاں ہم دونوں تقریباً دو ماہ تک اسکول نہیں گئے، یہ ہائی اسکول کے بعد کا زمانہ تھا۔اسکول کے پرنسپل کو جب معلوم ہوا کہ ہم دونوں نے تعلیم ترک کر دی ہے تو انہوں نے کچھ اساتذہ سے، جو ہم سے قریب تھے، کہا کہ ان کو سمجھا کر اسکول واپس لائیں، چونکہ ہم دونوں ہی اسکول کے ممتاز طلبہ میں شمار ہوتے تھے، چنانچہ بعض اساتذہ کے کہنے کے بعد ہم دو ماہ تاخیر کے ساتھ گیارہویں جماعت میں داخل ہوگئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب ہمارا دل کسی بھی طرح اس تعلیمی نظام سے مطمئن نہیں تھا۔ گورکھپور سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد میں تو علی گڑھ چلا گیا، اور وہاں بی۔اے میں داخلہ لے لیا، جبکہ انصاری صاحب عربی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو چلے گئے‘‘۔

اس سلسلہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں:

’’1950 کے اوائل میں ہم ادارہ ادب اسلامی کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعدادکو لے کر رامپور پہنچے، جہاں ان دنوں جماعت کا مرکز تھا۔ ادارہ ادب اسلامی کا با قاعدہ قیام تو بعد میں ہوا لیکن اس دور میں ہم لوگ اسی نام سے کام کیا کرتے تھے۔ رامپور میں ہم نے دوبارہ مولانا ابواللیث صاحب کے سامنے اپنا مطالبہ پیش کیا، اور کہا کہ ملیح آباد میں آپ نے جو عذر پیش کیا تھا، اس کی گنجائش اب نہیں باقی رہ گئی ہے، رامپور بڑا شہر تھا، اور علمی شخصیات بھی وہاں بآسانی مل سکتی تھیں، چنانچہ ابواللیث صاحب نے گفتگو وغیرہ کی اور آخر میں ہم سے کہا گیا کہ آپ لوگ یہیں قیام کریں، آپ کی تعلیم کا نظم کیا جائے گا، چنانچہ میں نے اور حمیداللہ صاحب نے علی گڑھ کی تعلیم ترک کردی اور جنوری 1950 سے وہیں قیام کیا، اور چند ماہ بعد جب با قاعدہ ثانوی درسگاہ کا آغاز جولائی 1950 میں ہوا تو انصاری صاحب بھی ندوے سے اپنا تعلیمی سال مکمل کر کے رامپور آگئے، اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جماعت نے ثانوی درسگاہ کے قیام کا فیصلہ ہماری سچی طلب اور مستقل اصرار کے بعد لیا تھا۔‘‘

ثانوی درسگاہ کا قیام تو جماعت اسلامی ہند کا مرکزی فیصلہ تھا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس درسگاہ کے حقیقی موسس اور محرک ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم اور ڈاکٹر عبدالحق انصاری مرحوم ہی تھے، انہی کی سچی طلب اور مستقل اصرار پر جماعت اسلامی ہند نے اس ادارہ کو قائم کیا تھا، اور اتفاق کی بات ہے کہ یہی اس درسگاہ کے بالکل ابتدائی طلبہ بھی تھے۔ ثانوی درسگاہ کا پورا تصور اور اس تصور کی کامیابی اور ناکامی اسی سچی طلب پر قائم تھی، ورنہ افراد سازی کے ایسے مصنوعی طریقے جن کے پیچھے سچی طلب، سچا جذبہ اور سچی محنت نہ ہو، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی 1950 میں اور ڈاکٹر عبدالحق انصاری 1952 میں جماعت االامی کے رکن ہوئے تھے، جبکہ آپ دونوں 1946سے ہی جماعت کے کاموں میں پوری طرح سرگرم رہنے لگے تھے۔ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں وہ چاہتے تھے کہ اجتماعیت سے وابستگی کے تقاضوں کی تکمیل ہو اور جہاں کوئی مشکل درپیش ہو ذمہ داران سے رابطہ کرلیا جائے، تاکہ کوئی بھی کام پورے اطمینان کے ساتھ انجام دیا جائے۔

1947 میں ہائی اسکول کی تکمیل کے بعد جب جماعت نے اپنے محدود وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے کی تعلیم کا مناسب بندوبست کرنے سے معذرت کردی، تو قریب دو ماہ کے گیپ کے بعد اسلامیہ کالج کے اساتذہ اور پرنسپل کی کوششوں کے نتیجہ میں دوبارہ دونوں افراد تعلیمی سلسلہ شروع کرنے پر آمادہ ہوئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے سے متعلق مولانا ابواللیث اصلاحی مرحوم کو ایک تحریر ارسال کی تھی، وہ شائد جماعت کے نظم سے اجازت طلبی کے قسم کی تحریر رہی ہوگی۔ اس تحریر کے جواب میں 16 اگست 1947 کو مولانا ابواللیث اصلاحی مرحوم نے ایک خط تحریر کیا تھا، یہ خط اس زمانے میں عصری تعلیم سے متعلق جماعت کے موقف اور رجحان کو بھی بیان کرتا ہے، اس خط سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے اس سے پہلے مرکز سے ایک اور خط ارسال کیا جاچکا تھا، جو کسی وجہ سے نجات صاحب تک نہیں پہنچ سکا تھا، چنانچہ اس خط میں اسی خط کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا ابواللیث اصلاحی مرحوم رقمطراز ہیں:

’’بہرحال جو خط آپ کو بھیجا گیا ہے اس کا مفہوم یہی ہے کہ جو حالات آپ نے بیان فرمائے ہیں ان کے تحت اگر آپ اپنی موجودہ تعلیم جاری رکھنا چاہیں تو آپ اس کے مجاز ہیں۔ موجودہ تعلیم کے نقائص سے دل کچھ ایسا متاثر ہے کہ اس کے لیے اجازت دینے کی ہمت نہیں پڑتی۔ جب آپ کے سامنے مجبوریاں ہیں تو مجبورا ہمیں آپ کے اس فیصلے کو برداشت ہی کرنا پڑے گا۔ آپ ماشاء اللہ خود سمجھ دار ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ اس تعلیم کو اچھے مقصد ہی کے لیے حاصل کریں گے اور اگر خدانخواستہ بعد کو کسی مرحلہ میں محسوس کریں گے کہ اس میں مفاد سے زیادہ مضار ہیں تو اس کو بے تامل ترک کر دیں گے۔ ہمارے ہر کام کا محور وہ نصب العین ہونا چاہیے، جو ایک مومن کا حقیقی نصب العین ہے اور اس کو ہر حال میں عزیز رکھنا چاہیے۔‘‘ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ69)

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا وژن بہت ہی واضح تھا، چنانچہ انہوں نے کبھی ادھر ادھر مڑ کر نہیں دیکھا، ہمیشہ نصب العین کی خدمت پیش نظر رہی۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد بی اے کرنے لگے، لیکن ثانوی درسگاہ کے قیام کی بات آئی تو یونیورسٹی کی تعلیم ترک کرکے خوشی خوشی درسگاہ سے وابستہ ہوگئے۔

ثانوی درسگاہ کا زمانہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کی زندگی کا ایک بہت ہی اہم پڑاؤ تھا، ثانوی درسگاہ میں جہاں ایک طرف اعلی صلاحیتوں کے حامل، ذہین اور تلاش و جستجو کا مزاج رکھنے والے ساتھیوں کا ایک اچھا گروپ مل گیا، وہیں پڑھنے لکھنے کا ایک شاندار ماحول، اور بہترین اساتذہ کی ایک ٹیم نصیب ہوگئی۔

ثانوی درسگاہ کے ماحول اور سرگرمیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نجات اللہ صدیقی صاحب فرماتے ہیں:

’’وہاں ہم سبھی مختلف ڈسکشنز اور مباحثوں میں شریک رہتے تھے، مختلف موضوعات پر گفتگو بھی ہوتی تھی، وہاں کا نظم کچھ اس طرح تھا کہ ہم بعد نماز عصر اپنے طور پر جدید علوم کا مطالعہ کر سکتے تھے، اس میں ایک صاحب تھے شاہ ضیاء الحق صاحب، جو ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھیوں میں سے تھے اور جماعت کے شوری کے ممبر تھے، وہ ہمارے نگراں مقرر کیے گئے تھے۔ مولانا ابواللیث صاحب کی خصوصیت تھی کہ جہاں رہتے وہاں لوگوں سے اچھے روابط قائم کرتے اور ان کو کافی قریب کرلیا کرتے تھے، رامپور میں بھی مولانا نے کچھ ایسا ہی کیا، چنانچہ وہاں شاندار تاریخی لائبریری ’’رضا لائبریری‘‘ سے ہمارے لیے استفادہ آسان ہوگیا۔ رامپور کی دو بڑی شخصیات مولا نا عبدالوہاب خاں رام پوری اور ان کے بھائی مولاناعبدالسلام خاں سے استفادہ کا موقع بھی ملا۔ اس کے علاوہ وہاں ہم نے مولانا ابواللیث اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، مولانا جلیل احسن ندوی، مولانا ایوب اصلاحی وغیرہ مختلف علمی شخصیات سے بھر پور استفادہ کیا۔ میرا مزاج شروع ہی سے عبدالحق صاحب سے کچھ مختلف تھا، میرا معمول تھا کہ روزانہ صبح سویرے چہل قدمی کے لیے نکلتا تھا، کچھ ملاقاتیں کرتا، کچھ ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتا‘‘- (رفیق منزل، نومبر 2012)

ثانوی درسگاہ کے تعلق سے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی بہت واضح سوچ رکھتے تھے، ثانوی درسگاہ کے مقصد قیام سے متعلق وہ اپنی کتاب ’’اسلام، معاشیات اور ادب‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یہ درسگاہ 1950 میں قائم ہوئی تھی اور بوجوہ 1960 میں بند ہوگئی۔ مقصد یہ تھا کہ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چار سالہ کورس کے ذریعہ عربی، قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر علوم اسلامیہ کی اتنی تعلیم دے دی جائے کہ آئندہ وہ جدید علوم میں سے کسی علم میں اسلامی نقطہ نظر سے علمی اور تحقیقی کام کرسکیں‘‘۔ (صفحہ11)

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے ساتھ ثانوی درسگاہ میں دوران تعلیم یہ خوش آئند واقعہ پیش آیا کہ یہاں ان کو فکر فراہی سے متعارف ہونے اور علامہ فراہی کے شاگرد رشید مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم سے استفادہ کا موقع نصیب ہوگیا۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اس سے متعلق فرماتے ہیں:

’’ثانوی درسگاہ سے اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد میں، انصاری صاحب اور حمیداللہ صاحب قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسۃ الاصلاح گئے، وہاں علامہ فراہی کے تلمیذ خاص مولانا اختر احسن اصلاحی رحمہ اللہ، جو جماعت کی مرکزی مجلس شوری کے رکن تھے، ان سے قرآن مجید پڑھا۔ مدرسۃ الاصلاح میں سب سے خاص بات یہ رہی کہ ہمیں علامہ فراہی کے خاص نوٹس استفادہ کے لیے فراہم کیے گئے، جن میں سے بیشتر اب شائع ہوچکے ہیں۔ میں اور انصاری صاحب وہاں سے چھ ماہ کے بعد واپس چلے آئے، البتہ حمیداللہ صاحب ایک سال تک رہے‘‘۔ (رفیق منزل، نومبر 2012)

مدرسۃ الاصلاح میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی حسب پروگرام مولانا اختر احسن اصلاحی اور دوسرے بڑے اساتذہ سے قرآن مجید اور نظم قرآن کا درس لیتے، اور ساتھ ہی وہاں طلبہ کو باقاعدہ انگریزی وغیرہ کچھ عصری مضامین بھی پڑھاتے تھے۔ ہمارے بڑے ابا مولانا امانت اللہ اصلاحی مرحوم بتاتے تھے کہ اس دوران نجات صاحب نے ان کے کلاس کے طلبہ کو انگریزی زبان پڑھائی تھی۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب فکر فراہی سے کس حد تک متاثر تھے، اس پر الگ سے اور بھرپور اسٹڈی کرنے کی ضرورت ہے، البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ علامہ فراہی رحمہ اللہ کی چیزوں سے خاص دلچسپی رکھتے تھے، قرآن مجید سے ان کو خاص شغف تھا، اور ان کی تحریروں میں قرآن مجید سے استفادہ اور استدلال کا پہلو کافی نمایاں نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ثانوی درسگاہ آنے سے پہلے ہی مولانا مودودی کے لٹریچر سے متاثر ہوکر اس بات کا فیصلہ کرچکے تھے کہ معاشیات کے میدان میں ہی ان کو کام کرنا ہے، چنانچہ ثانوی درسگاہ سے قبل انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لے لیا تھا، اور بی اے میں اپنے لیے عربی اور انگریزی زبانوں کے علاوہ معاشیات کا مضمون منتخب کیا تھا۔ لیکن ثانوی درسگاہ کے قیام کا فیصلہ ہوا تو بی اے چھوڑ کر وہ درسگاہ سے وابستہ ہوگئے تھے۔ مدرسۃ الاصلاح سے واپس آنے کے بعد ان کے سامنے ایک بڑا سوال مستقبل کا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر معاشیات کے میدان میں اکیڈمک لیول پر کوئی بڑا کام کرنا ممکن نہ تھا، چنانچہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اکنامکس ڈپارٹمنٹ میں جاکر ایک فری اسٹوڈنٹ کے طور پر ایم اے معاشیات کی کلاس جوائن کرلی۔ اور پھر 1956 میں باقاعدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے اکنامکس میں داخلہ لیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا ذاتی فیصلہ تھا، جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران ان کے اس فیصلے سے بہت زیادہ مطمئن نہیں تھے۔ جماعت اسلامی کا یہ دور عجیب وغریب کنفیوژن کا دور تھا، ایک طرف موجودہ نظام کی نوعیت کے تعین کا مسئلہ تھا، موجودہ نظام، جس کا ایک حصہ تعلیمی نظام بھی تھا، اس کے مکمل بائیکاٹ کا رجحان تھا، دوسری طرف اپنی علمی وفکری ضرورتوں کی تکمیل کا مسئلہ تھا، ظاہر سی بات ہے کہ متبادل کھڑا کرنے کے لیے نہ اس وقت جماعت کے پاس وسائل تھے اور نہ آج ہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ اس وقت مرکزی مجلس شوری میں بھی زیر بحث آیا، واقعہ کی تفصیل ڈاکٹر صدیقی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’جب ہم لوگ یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو ہمارے خلاف کافی ہنگامہ کیا گیا کہ یہ لوگ باطل نظام کا حصہ بن رہے ہیں، اس سے ثانوی درسگاہ کا مقصد فوت ہورہا ہے وغیرہ وغیرہ، حتی کہ شوری میں ہماری رکنیت کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا، اور ثانوی درسگاہ بند کرنے کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ یہاں سے نکل کر طلبہ یونیورسٹی کی طرف چلے جارہے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ رفیق منزل، نومبر 2012)

ڈاکٹر صدیقی اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ہمارا تجربہ ہے کہ درسگاہ کے فارغین نے جو کچھ بھی کام کیے ہیں، وہ انہی نے کیے ہیں جو بعد میں یونیورسٹی کی طرف چلے گئے۔ علی گڑھ میں ہماری اعلی تعلیم کا بنیادی مقصد تحریک ہی کی خدمت تھا، ورنہ ہم اگر اسی نظام کا حصہ بننا چاہتے تو اس کے لیے بہترین وقت انٹرمیڈیٹ کے بعد کا تھا، جب کہ ہمارے والدین کی شدید خواہش تھی کہ ہم انجینئر نگ کر یں۔ لوگ مولانا مودودی کی تحریروں کی روح نہیں سمجھ پائے، مولانا مودودی کا یہ مقصد بالکل نہیں تھا کہ ہم ان اداروں کا رخ ہی نہ کریں، جس کا اظہار بعد میں مولانا مودودی کی طرف سے کیا بھی گیا۔‘‘ (حوالہ سابق)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹر صدیقی نے 1958 میں معاشیات سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1960 میں معاشیات سے ہی ایم اے کیا۔ ان دونوں مراحل میں انہوں نے یونیورسٹی میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں وہ یونیورسٹی میں ایک نمایاں پہچان اور طلبہ کے درمیان بہت ہی عزت ومرتبہ رکھتے تھے۔ یہ دور یونیورسٹی میں اشتراکی رجحانات کے عروج کا دور تھا، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور ان کے ساتھیوں نے وہاں اسلامی رجحان رکھنے والے طلبہ کو جمع کرنے اور ان کو یونیورسٹی میں ایک موثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا۔

ایم اے معاشیات کے بعد آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات سے ہی پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا، پی ایچ ڈی میں آپ کا موضوع تھا:

‘‘A Critical Examination of the Recent Theories of Profit’’

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی پی ایچ ڈی 1966 میں مکمل ہوئی۔

مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کی شخصیت کا ایک امتیازی پہلو یہ تھا کہ ان کی شخصیت میں زبردست جامعیت پائی جاتی تھی، وہ ایک طرف عصری علوم میں مہارت رکھتے تھے، دوسری طرف دینی علوم میں گہری دسترس رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زمانے کی زبان میں پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ گفتگو کی، اور ان کو دنیا بھر میں شوق سے سنا اور پڑھا گیا۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی اٹھان بھی بالکل اسی طرز پر ہوئی تھی، انٹرمیڈیٹ تک انہوں نے عصری تعلیم حاصل کی اور اس میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اس کے بعد ثانوی درسگاہ اور مدرسۃ الاصلاح سے وابستہ ہوئے اور وہاں بھی انہوں نے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہاں سے دوبارہ یونیورسٹی کی طرف گئے اور وہاں بھی امتیازی پوزیشن کے ساتھ اعلی تعلیم مکمل کی۔ چنانچہ مولانا مودودی کی طرح ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی شخصیت میں بھی زبردست جامعیت پائی جاتی تھی، وہ عصری علوم میں بھی گہری نگاہ رکھتے تھے اور دینی علوم کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ اسلامی معاشیات، اسلامی فکر اور مقاصد شریعت پر ان کے کاموں میں دینی وعصری علوم کی یہ جامعیت بہت صاف نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی زندگی کا ایک قابل ذکر حصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزرا، پی ایچ ڈی کی تکمیل کے بعد 1961 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے، تقریباً پندرہ سال تک اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1975 میں آپ کا پرموشن ہوا اور آپ ریڈر یا اسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ 1977 میں اسلامیات کے حوالے سے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو شعبہ اسلامیات میں پروفیسر اور انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کا ڈائرکٹر بنا دیا گیا۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی یونیورسٹی کی دنیا میں کھو جانے والی شخصیت نہیں تھے، یونیورسٹی کے یہ مناصب ان کے لیے پاؤں کی بیڑیاں نہیں بن سکتے تھے۔ انہوں نے اس دوران بھی اپنے طے کردہ اصل محاذ یعنی اسلامی معاشیات پر علمی وتحقیقی کام جاری رکھا اور اس کے لیے اپنی استعداد کی حد تک ہندوستان میں بھی اور ہندوستان کے باہر جہاں جہاں ممکن ہوسکا ایڈووکیسی کا کام کرتے رہے۔ قریب 1976 میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اسلامی معاشیات کے موضوع کو متعارف کرانے اور اس کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانے کے لیے ایک پرپوزل تیار کیا اور اسے وائس چانسلر پروفیسر اے ایم خسرو کے سامنے پیش کردیا۔ لیکن بوجوہ اس وقت اس کو شامل نصاب نہ کیا جاسکا، البتہ ایک عرصے کے بعد 1994 میں اسلامی معاشیات کو ایک آپشنل پیپر کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔

1972 میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کو پہلی بار مغربی دنیا کا تفصیلی سفر کرنے کا موقع ملا۔ امریکی تنظیم کنسلٹیٹیو کمیٹی آف انڈین مسلم (CCIM) اور مسلم اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن (MSA) کی دعوت پر آپ امریکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ امریکہ میں آپ نے چار ماہ قیام کیا، اور اسی دوران آپ برطانیہ، فرانس، لیبیا اور سعودی عرب بھی گئے۔ یہ سفر اسلامی معاشیات کی انٹرنیشنل ایڈووکیسی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ سعودی عرب میں آپ نے اس موقع پر فریضہ حج بھی ادا کیا۔

1976 میں آپ نے دوسری مرتبہ سعودی عرب کا سفر کیا، یہ سفر سعودی عرب میں منعقد اسلامی معاشیات پر پہلی عالمی کانفرنس کے سلسلہ میں ہوا، اس کانفرنس کے انعقاد میں جہاں بہت سے افراد کی کوششوں کا دخل تھا وہیں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا بھی ایک اہم رول تھا، سعودی عرب میں منعقد یہ کانفرنس اسلامی معاشیات کے فروغ کے سلسلہ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی، سعودی حکومت نے ایک طرح سے اس کانفرنس کی سرپرستی کی، دنیا بھر کے اسکالرس کو مدعو کیا گیا، اور پھر اس سلسلہ میں ٹھوس کام انجام دینے کے لیے مختلف پہلووں سے منصوبہ بندی کی گئی۔

یہ سفر آپ کی زندگی کا ایک نیا موڑ ثابت ہوا، اور آپ اس کے دو سال بعد سعودی عرب منتقل ہوگئے، ہندوستان سے سعودی عرب منتقل ہوجانے کا آپ کا یہ فیصلہ نہ تو ملازمت کے حصول کے لیے تھا، نہ ہی کسی دوسری ذاتی غرض کے لیے تھا، یہ فیصلہ خالص اپنے مشن کے لیے تھا اور معاشیات پر ان کے بڑے علمی پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے یہ ایک طرح کی ہجرت تھی۔ اس سفر کا بیک گراؤنڈ وہ خود کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’کچھ عرصہ پہلے 1976 میں کئی برس کی کوششوں کے بعد اسلامی معاشیات کی پہلی بین الاقوامی کانفر نس مکہ مکرمہ میں منعقد ہوئی، جس نے ان بہت سے لوگوں کو قریب آنے کا موقع دیا جو انفرادی طور پر اس میدان میں کام کر رہے تھے، وہاں ایک تحقیقاتی مرکز قائم کرنے کی سفارش کی گئی، سیاسی حالات اور مالی ضروریات دونوں کے پیش نظر اس مرکز کا ہندوستان میں بلکہ پاکستان میں یا کسی اور جگہ قائم ہونا بھی ممکن نہ تھا۔ جامعہ ملک عبدالعزیز میں مرکز کا قیام طے ہوا۔ ہمیں اس ملک میں رہ کر یہ کام کرنے کی نزاکتوں کا احساس تھا اور ہے۔ مگر کام جس مرحلہ میں ہے اور اس وقت تھا اس کے پیش نظر یہاں سے کام کرنے کے مصالح کا پہلو غالب تھا اور اب بھی ہے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کام کے لیے ان افراد میں سے چند کا یہاں ہونا ضروری تھا جو اس کا واضح تصور رکھتے تھے اور عرصہ دراز سے اس کا تجربہ رکھتے تھے۔ چنانچہ شروع ہی سے مجھ سے اصرار کیا گیا۔ فورا بعض وجوہ سے میرا آنا ممکن نہ ہوا، چنانچہ اوائل 1977 میں میں نے برادرم فضل الرحمن فریدی کے آنے کی تجویز پیش کی جو بعض وجوہ سے سال بھر بعد عملی شکل اختیار کر سکی، پھر آخر 1978 میں یہاں بغیر میری درخواست کے تقرر نامہ موصول ہوا، اور اصرار کیا گیا کہ میں آجاؤں اور میں نے یہاں آنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 319)

چنانچہ 1978 میں آپ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے بحیثیت پروفیسر وابستہ ہوگئے۔ یہاں آپ تقریباً بائیس سال تک مقیم رہے، اور 2000 تک آپ وہاں تدریس اور تحقیق کا کام انجام دیتے رہے۔

2001 میں آپ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سینٹر فار نیئر ایسٹرن اسٹڈیز سے وابستہ ہوگئے، 2002 اور 2003 میں آپ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک جدہ کے اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے وزیٹنگ اسکالر کے طور پر وابستہ رہے۔

2006 کے اگست اور ستمبر میں آپ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا میں متعدد توسیعی لکچر دیے۔

2010 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے آپ کو ڈپارٹمنٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے پروفیسر ایمریٹس بنانے کا فیصلہ کیا۔

یہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے تعلیمی وتدریسی سفر کی ایک ہلکی سی جھلک تھی۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم پر یہ اعتراض شدت سے کیا جاتا تھا کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر بیرون ملک کیوں منتقل ہوگئے، جبکہ ہندوستان کی اسلامی تحریک اور یہاں کے اکیڈمیا کو ان کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس سلسلہ میں ایک بہت ہی دلچسپ خط وکتابت جناب جاوید اقبال صاحب (سابق منیجر مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی) اور ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے درمیان ہوئی، گفتگو کے کچھ اہم اقتباسات یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔ جاوید اقبال صاحب مارچ 1983 میں اپنے ایک خط میں نجات اللہ صدیقی صاحب کو ان کی تحریروں اور جماعت اسلامی ہند کے افراد کے درمیان ان کی حیثیت اور مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بہرحال، ایک زمانہ وہ تھا کہ آپ اپنے ملک میں مادہ پرست اور لادینی سیاست کی قیادت کو چوٹی سے پکڑ زمین پر پٹخ دینا چاہتے تھے، اب وہ وقت بھی آیا جبکہ ملک وملت کو آپ کی شدید ضرورت تھی، تب آپ نے ترک وطن کا فیصلہ کرلیا، چاہے عارضی ہی سہی۔‘‘ (حوالہ سابق: 316)

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی خوبی تھی کہ وہ ہر بات کا بہت سنجیدگی سے اور بہت معقول انداز سے جواب دینے کی کوشش کرتے تھے، جاوید اقبال صاحب کے خط کا جواب بھی انہوں نے بہت ہی خوب صورت انداز میں دیا ہے، یہ پورا جواب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، ذیل میں اس کے کچھ اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں:

’’جاوید اقبال صاحب بات یہ ہے کہ جس انقلاب کے ہم خواہاں ہیں اس کے لیے بہت سے میدانوں میں مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ شروع کے دور میں ایک ضروری کام انقلابی جوش پیدا کرنا تھا، لیکن آگے صرف جوش سے کام نہیں چلتا، اس جوش کو قابو میں لا کر مسلسل محنت کی شکل دینے کی ضرورت ہے، انقلاب کے لیے در کار بہت سے کاموں کی نشاندہی عصر حاضر میں تحریک اسلامی کی تجدید کرنے والوں نے بالخصوص مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے اچھی طرح کی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ وقت نکال کر ذیل کی دو کتابوں کو دوبارہ دیکھ لیں:

(۱) نشان راہ (جو الگ سے بھی چھپا ہے اور تنقیحات میں بھی شامل ہے)

(۲) تعلیمات بالخصوص مقالہ ’’نیا نظام تعلیم‘‘۔

ان تحریروں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک فکری انقلاب ناگزیر ہے۔ اس فکری انقلاب کے لیے دو کاموں کی ضرورت ہے۔ اول یہ کہ ہر میدان علم کی نسبت سے قرآن و سنت کی روشنی میں بنیادی نکات متعین کر کے ان علوم کی اسلامی تشکیل نو عمل میں لائی جائے۔ دوم یہ کہ مغرب کی مادہ پرست تہذیب نے ان علوم کی جو تشکیل کر رکھی ہے اس کو علمی تنقید کر کے بے بنیاد، غلط اور انسانیت کے لیے مضر ہونا ثابت کر دیا جائے۔‘‘ (حوالہ سابق: 317-318)

آگے اس خط میں بہت ہی اختصار کے ساتھ نجات اللہ صدیقی مرحوم نے اپنی پوری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے، اس میں اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیوں چلے گئے تھے، پھر وہاں تعلیم ادھوری چھوڑ کر ثانوی درسگاہ کیوں چلے آئے تھے اور پھر ثانوی درسگاہ سے واپس یونیورسٹی کی دنیا میں کیوں چلے گئے، لکھتے ہیں:

’’میں نے اور میری طرح بعض اور دوستوں نے ان تحریروں سے یہ سبق سیکھا ہے کہ تحریک کی خدمت کے لیے ایک میدان علم چن لیں اور اس کے ذریعہ مذکورہ بالا دونوں کام انجام دے کر اسلامی تحریک کی خدمت اور اسلامی انقلاب کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے اپنی زندگی لگادیں۔ میں نے یہ فیصلہ اپنی عمر کے اٹھارہویں انیسویں سال میں (1950-1949) بلکہ اس سے کچھ پہلے ہی کر لیا تھا۔ ہمارے لیے یہ ممکن بھی تھا اور موزوں بھی کیونکہ ہم طالب علم تھے (جو رفقاء جماعت اس وقت عمر کے چالیسویں سال میں تھے، ظاہر ہے کہ ان کے لیے ایسا فیصلہ نہ ممکن تھا، نہ موزوں ہوتا)، میں نے انجینئرنگ کی لائن کی تعلیم چھوڑی، جس کے لیے انٹرمیڈیٹ سا ئنس کیا تھا اور مسلم یونیورسٹی میں عربی اور اکنامکس کے ساتھ بی اے میں داخلہ لیا۔ پھر یہ تعلیم ناقص نظر آئی تو جنوری 1950 میں رام پور منتقل ہوگیا۔ جہاں ثانوی درس گاہ جماعت اسلامی قائم ہوئی تھی۔ اس سے فارغ ہو کر کچھ عرصہ سرائے میر پھر کچھ عرصہ علی گڑھ میں مزید مطالعہ وتحقیق کا سلسلہ رہا۔ اس مرحلہ پر 1956 میں یہ واضح ہو گیا کہ دور جدید میں علمی و تحقیقی کام، وہ بھی ایسا کام جو قدیم جدید کو جامع ہو یونیورسٹی میں رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے، ہم خوداتنے وسائل نہیں اکٹھا کر سکتے۔‘‘ (حوالہ سابق: 318)

یہ خط بہت طویل ہے، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا بڑا حصہ یہاں درج کیا جارہا ہے، یہ خط نجات اللہ صدیقی کی کہانی خود ان کی اپنی زبانی ہے، میرے خیال سے یہ خط نجات اللہ صدیقی کی زندگی کو سمجھنے والوں کے لیے ایک اہم ترین دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، آگے لکھتے ہیں:

’’جو لوگ مجھے قریب سے جانتے اور دیکھتے رہے ہیں وہ گواہی دیں گے کہ ہر مرحلہ میں میرے لیے اصل کام اسلامی معاشیات کو سمجھنے سمجھانے، مرتب کرنے اور اس عمل کے لیے چند اور لوگوں کو منظم کرنے کا کام رہا ہے۔ معاشی ضروریات کی تکمیل کے لیے ملازمت اور اس کے تقاضے اس لیے پورے کیے گئے کہ وہی اصل کام کے لیے بنیاد فراہم کرتے تھے اور خدا کا شکر ہے کہ اکنامکس کا استاذ ہونے کی وجہ سے وہ اصل کام میں مددگار بھی ہوتے رہے۔۔۔‘‘ (حوالہ سابق: 319)

سعودی عرب قیام کے دوران ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اسلامی معاشیات کے حوالہ سے کئی طرح کی خدمات انجام دیں، اس سلسلہ میں انہوں نے ایک طرف انٹرنیشنل ایڈووکیسی کا کام انجام دیا، وہیں دوسری طرف عرب دنیا کی یونیورسٹیز میں اسلامی معاشیات کا سبجیکٹ متعارف کرانے کی پوری کوشش کی، بلکہ متعدد یونیورسٹیز میں اسلامی معاشیات کو داخل نصاب کرانے میں انہیں غیرمعمولی کامیابی بھی حاصل ہوئی، اس سلسلہ میں جس پروجیکٹ پر وہ کام کررہے تھے اس کے اہم ترین پروگرامز کچھ اس طرح تھے:

علم معاشیات اور معاشی نظام کے حوالے سے تقریباً ڈیڑھ سو موضوعات پر مشتمل ایک کتابچہ تیار کیا گیا اور اس کو دنیا بھر کے تین سو علماء اور ماہرین معاشیات کی خدمت میں ارسال کیا گیا کہ اگر وہ ان موضوعات پر تحقیقی مقالہ یا کتاب لکھیں۔ اس پر ان لوگوں کو معقول معاوضہ دینے، اور ان کے کام کی بڑے پیمانے پر اشاعت کی یقین دہانی بھی موجود تھی۔ ان مقالات اور کتابوں پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور ان کے ساتھی نظرثانی کرتے اور انہیں اکیڈمک معیار کے مطابق ایڈٹ کرکے شائع کرنے کا اہتمام کرتے تھے، اس سے اکیڈمیا میں اسلامی معاشیات کا موضوع نہ صرف متعارف ہوا، بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی۔

اس اسکیم سے تقریباً سو سے زائد وہ اسکالرس اور پروفیسرس وابستہ ہوئے جن کا تعلق امریکہ اور دوسرے ممالک کی یونیورسٹیز سے تھا۔

اس کے علاوہ ہر سال دو سال پر کانفرنس اور سیمینار منعقد کرتے، جن میں اسلامی معاشیات کے اہم موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا تھا۔

ان کوششوں کے نتیجہ میں درجنوں یونیورسٹیز میں بی اے اور ایم اے میں اسلامی معاشیات کا سبجیکٹ پڑھایا جانے لگا۔

ریسرچ اسکالرس کی ایک بڑی تعداد نے پی ایچ ڈی کے لیے اسلامی معاشیات سے متعلق کسی نہ کسی موضوع کا انتخاب کیا۔

اسلامی معاشیات سے متعلق اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے باقاعدہ پروگرامز کیے گئے۔

اسلام آباد پاکستان میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس کا قیام عمل میں آیا، ملیشیا اور بنگلہ دیش میں بھی اس سلسلہ کی اہم کوششیں ہوئیں۔

اس پروجیکٹ سے متعلق یہ تمام باتیں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے خود قلم بند کی ہیں۔

جاوید اقبال صاحب کے نام اس خط کے آخر میں ہندوستان کی تحریک اسلامی سے وابستہ بہت سے افراد کے نامناسب رویے پر نجات اللہ صدیقی مرحوم کا درد چھلک پڑتا ہے، وہ اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے صاف طور پر لکھتے ہیں:

’’میں جو آپ سے’’نشان راہ‘‘ اور ’’نیا نظام تعلیم‘‘ دوبارہ پڑھنے کو کہہ رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ مذکورہ بالا کام اور اسلامی انقلاب کے در میان رشتہ سمجھ لیں، جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے دوست یہ خیال کر سکتے ہیں کہ میں یہاں دولت کمانے آیا ہوں۔جولوگ ایسا خیال کریں ان سے میرا کوئی شکوہ نہیں۔ والی اللہ المشتکی

میرا اللہ جانتا ہے کہ میں جس کام کے لیے ثانوی درس گاہ گیا تھا اسی کام کے لیے اس مرحلہ میں سعودی عرب آیا ہوں۔ میں اپنی محدود قوتیں اور اوقات عمر کے فرق کا لحاظ رکھتے ہوئے جس طرح وہاں صرف کرتا تھا اسی طرح یہاں اسی کام کے لیے صرف کررہا ہوں‘‘۔ (حوالہ سابق: 320-321)

(جاری)


توہین مذہب کے ایک مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مقدمے کے حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ سہراب والا، تحصیل و ضلع میانوالی، میں ایک شخص نصر اللہ خان کے خلاف 30 اگست 2021ء کو ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ملزم نے مختلف مواقع پر دعوے کیے ہیں کہ اس نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کو بھی دیکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بھی دیکھا ہے اور اس کے اس طرح کے دعووں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ (ایف آئی آر نمبر 337 آف 2021ء مورخہ 30 اگست 2021ء) چنانچہ اس کے خلاف مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-اے کے تحت مقدمہ درج کرکے پولیس نے تفتیش شروع کردی۔ ملزم نے اس ایف آئی آر کو کالعدم کرنے اور مقدمہ ختم کرنے کےلیے ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کردی جس پر لاہور ہائی کورٹ کے یک رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کے بعد یہ درخواست منظور کرکے اس کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیا ہے (رٹ درخواست نمبر 60241 آف 2021ء، نصر اللہ بنام ایس ایچ او ، تھانہ صد، میانوالی)۔

سیشن کی عدالت کے بجاے ہائی کورٹ کیوں؟

آگے بڑھنے سے قبل اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ ملزم نے عام طریقہ اختیار کرنے کے بجاے رٹ درخواست کا راستہ کیوں چنا؟ عام طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے خلاف مقدمے میں سیشن کی عدالت میں اپنا دفاع کرتا اور ایسی صورت میں استغاثہ پر لازم ہوتا کہ وہ اس کے خلاف جرم ثابت کرے، اور جرم ثابت نہ کرسکنے کی صورت میں سیشن کی عدالت اسے بری کردیتی۔ تاہم اس نے سیشن کی عدالت میں مقدمہ لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کے بجاے ہائی کورٹ کا رخ کیا اور براہِ راست وہاں درخواست دائر کرکے ایف آئی آر ہی ختم کرنے کی استدعا کردی۔

جہاں تک مقدمہ ختم کرنے کےلیے ہائی کورٹ میں رٹ درخواست کا تعلق ہے، استثنائی حالات میں یہ درخواست دائر کی جاسکتی ہے اور ہائی کورٹ مطمئن ہو، تو وہ استثنائی حالات میں مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے، قبل اس کے کہ سیشن کی عدالت فیصلہ سنادے  اور پھر اپیل ہائی کورٹ میں آجائے، لیکن اس سلسلے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہائی کورٹ میں رٹ درخواست کی سماعت اور فوجداری عدالت میں فوجداری مقدمے کی سماعت میں فرق ہوتا ہے۔ ہائی کورٹ اس صورت میں ٹرائل کورٹ کے طور پر مقدمہ نہیں دیکھتی، بلکہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ ملزم کے وہ بنیادی حقوق تو متاثر نہیں ہورہے جن کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔ موجودہ مقدمے کے تناظر میں دیکھیں، تو ہائی کورٹ نے صرف یہ دیکھنا تھا کہ منصفانہ سماعت (fair trial) کا حق تو متاثر نہیں ہورہا؟ یعنی مثلاً کیا اسے دفاع کا مناسب موقع فراہم کیا جارہا ہے یا نہیں؟ کیا اس کے دفاع کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی گئی ہے؟ کیا اسے اپنے خلاف ثبوت اور شواہد دیکھنے سے روکا گیا ہے؟ کیا اسے گواہوں پر جرح سے روکا گیا ہے؟ کیا اسے اپنی مرضی کا وکیل کرنے سے محروم رکھا گیا ہے؟ وغیرہ۔ باقی رہا یہ معاملہ کہ اس نے واقعتاًجرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں، یا اس کے خلاف ثبوت کس نوعیت کے ہیں، گواہ قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں؟ وغیرہ، تو یہ امور ہائی کورٹ اس رٹ درخواست کی سماعت کے موقع پر نہیں دیکھ سکتی تھی، نہ ہی ان امور پر وہ کوئی فیصلہ دے سکتی تھی۔ یہ امور تو اس کے سامنے تب آتے، جب سیشن کی عدالت ملزم کے خلاف فیصلہ کرکے اسے سزا سنادیتی اور پھر وہ اپیل میں ہائی کورٹ میں آتا۔ بدقسمتی سے موجودہ فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے رٹ درخواست اور اپیل میں فرق کو نظر انداز کرکے ان امور پر بھی بحث کی ہے اور ان پر حتمی راے دی ہے جو اس مرحلے پر بحث میں نہیں آسکتے تھے۔

کہیں قانون کو حقوق کی خلاف ورزی کےلیے تو استعمال نہیں کیا جارہا؟

یہ امور بحث میں کیوں آگئے اور جسٹس شیخ نے ان پر حتمی راے دینی کیوں ضروری سمجھی؟ اس سوال کا جواب جسٹس شیخ نے فقرہ نمبر 15 اور 16 میں دیا ہے جو کچھ یوں ہے کہ اگر مقدمہ دائر کرکے قانونی کارروائی شروع کرنے کے نتیجے میں ایسی صورت بن جائے کہ قانونی طریقِ کار کا غلط استعمال (abuse of the process of law) کرکے ملزم کے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہو جن کے تحفظ کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے، تو پھر ہائی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرے سے مقدمہ ہی ختم کردے تاکہ ملزم کے بنیادی حقوق محفوظ ہوجائیں۔ موجودہ مقدمے میں ایسا کیا تھا، جس کی بنا پر جسٹس شیخ اس نتیجے پر پہنچے، اس پر آگے بحث آرہی ہے، لیکن اس وقت اس بات پر توجہ کریں کہ اس فیصلے میں میں ہائی کورٹ نے ملزم کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ ختم کرنے کا حکم تو دے دیا، لیکن اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے والے کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ دائر کرنے پر قانونی کارروائی شروع کرنے کا حکم نہیں دیا!  سوال یہ ہے کہ جب آپ نے یہ نتیجہ نکالا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والے دراصل قانونی طریقِ کار کا غلط استعمال کررہے ہیں، تو ان کے خلاف کارروائی کا حکم آپ نے کیوں نہیں دیا؟ کیا آپ کے خیال میں ملزم کے بنیادی حقوق کے تحفظ کےلیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اس کے خلاف دائر مقدمہ ختم کردیا جائے اور اس کے بعد اس کی مرضی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے یا نہ کرنے جنھوں نے اس کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا تھا؟ یہ ہمارے عدالتی نظام کی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر نہ صرف یہ کہ انصاف نہیں ہوپاتا بلکہ مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پہلو پر مزید بحث کو کسی اور وقت کےلیے اٹھا رکھتے ہیں۔

اب آئیے اس سوال پر کہ ہائی کورٹ اس نتیجے پر کیسے پہنچی کہ موجودہ مقدمے میں قانونی طریقِ کار کا غلط استعمال ہورہا ہے؟ درخواست گزار (جو فوجداری مقدمے میں توہینِ مذہب کا ملزم تھا) کے وکیل کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ ایف آئی آر میں یہ تو کہا گیا ہے کہ ملزم نے اللہ تعالیٰ کو اور رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کو خواب میں دیکھنے  کا دعوی کیا ہے اور یہ بھی دعوی کیا ہے کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے، لیکن ان امور سے وہ جرم وجود میں نہیں ہوتا جس کا اس پر الزام ہے کیونکہ اس کےلیے ایسے الفاظ یا افعال کا ہونا ضروری ہے جو توہین آمیز ہوں، اور ایف آئی آر میں ایسے الفاظ یا افعال کا ذکر ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف سرکار کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کا موقف یہ تھا کہ ملزم نے قصداً اور بدنیتی کے ساتھ ایسی کہانیاں گھڑی ہیں جن سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور یہ کہ اس کے خلاف گواہوں کے بیانات بھی باضابطہ طور پر ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ ان امور کی بنا پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی راے یہ تھی کہ ملزم کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں اور مقدمہ ختم نہیں کرنا چاہیے بلکہ سیشن کی عدالت کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔

دفعہ 295-اے کی تعبیر و تشریح

فریقین کے وکیلوں کے دلائل مختصر ذکر کرنے کے بعد جسٹس شیخ نے اپنا تجزیہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کی تاریخ سے شروع کیا اور بتایا کہ 1860ء میں انگریزوں نے مجموعۂ تعزیراتِ ہند کے نام سے جو قانون نافذ کیا، اس کے باب پندرہ میں توہینِ مذہب کی مختلف صورتوں کے متعلق دفعات 295 تا 298 شامل کی گئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان دفعات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے کثیر المذاہب معاشرے میں مذہبی بنیادوں پر دنگا فساد کی روک تھام ہو۔ چنانچہ ان دفعات کے ساتھ بالعموم دفعہ 153-اے بھی متعلق ہوجاتی تھی۔ تاہم یہ انتظام اس وقت ناکافی ثابت ہوا جب راج پال کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی کتاب کے متعلق لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اس پر دفعہ 153-اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس موقع پر توہینِ مذہب کے باب میں دفعہ 295-اے کا اضافہ کیا گیا جس میں قرار دیا گیا کہ اگر کسی نے قصداً اور بدنیتی کے ساتھ اپنے الفاظ یا افعال سے کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا، تو اس کو اس دفعہ کے تحت سزا دی جائے گی۔

اس کے بعد اس دفعہ کی تعبیر و تشریح کےلیے جسٹس شیخ نے بھارتی مصنفین، ایک انگریز مصنف اور 1950ء اور 1960ء کی دہائی سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں سے طویل اقتباسات پیش کیے ہیں اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ موجودہ مقدمے کے حقائق پر دفعہ 295-اے کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اس مقدمے میں ملزم کے خلاف ایسا کوئی الزام نہیں ہے کہ اس نے خواب وغیرہ کے جو دعوے کیے تھے وہ اس نے قصداً اور بدنیتی کے ساتھ کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کےلیے کیے تھے۔ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کیونکہ ابھی تو سیشن کی عدالت میں مقدمہ جاری تھا، استغاثہ کے دو گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جاچکے تھے اور انھوں نے دیگر امور کے علاوہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کی بات خصوصاً کی تھی۔ ایسے میں سوال صرف یہ باقی رہتا تھا کہ کیا ملزم نے مذہبی جذبات قصداً مجروح کیے اور یہ کہ کیا اس نے ایسا بدنیتی سے کیا؟ قانونی اصطلاح میں کیا  mens rea یا قصد مجرمانہ کا عنصر موجود تھا یا نہیں؟ اس سوال کا جواب مقدمے کی سماعت پوری ہونے سے قبل صرف ایف آئی آر دیکھ کر کیسے دیا جاسکتا تھا؟

مقدمہ ختم کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟

ایک لمحے کےلیے مان لیجیے کہ واقعتاً اس عنصر کی موجودگی کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور اس بنا پر جسٹس شیخ نے نتیجہ نکالا کہ دفعہ 295-اے کا اطلاق نہیں ہوتا اور مقدمہ ختم کردینا چاہیے، تو فیصلہ یہیں پر ختم کردینا چاہیے تھا، لیکن جسٹس شیخ نے آگے بڑھ کر ان امور پر بھی تفصیلی راے دی جس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی۔ مثلاً انھوں نے دو صفحات اس بات کی توضیح میں لکھے کہ خواب ہوتے کیا ہیں، انسان خواب کیوں دیکھتے ہیں، خواب کا کوئی مطلب بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ انھوں نے اس ضمن میں سگمنڈ فرائڈ، کارل یونگ، ایلن ہوبسن اور رابرٹ میکالےکی آرا ذکر کی ہیں اور آخر میں نتیجہ یہ نکالا ہے کہ کسی شخص پر اس بنا پر مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے خواب میں کیا دیکھا ہے! سوال یہ ہے کہ کیا جسٹس صاحب بھول گئے تھے کہ ملزم پر مقدمہ اس وجہ سے دائر نہیں کیا گیا تھا کہ اس نے خواب میں کیا دیکھا ہے، بلکہ اس بنا پر قائم کیا گیا تھا کہ وہ اپنے خواب دعووں کی صورت میں بیان کرکے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرتا ہے؟

بہرحال، مقدمہ ختم کرنے کا حکم دینے کی وجہ یہ ہو کہ ملزم کےلیے mens rea  کا عنصر ثابت نہیں کیا جاسکا یا یہ کہ خواب میں جو کچھ بھی دیکھا جائے اس کی بنا پر کسی پر مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا، یہ دونوں بنیادیں نہایت کمزور ہیں۔ پہلی بنیاد اس وجہ سے کمزور ہے کہ اس کا فیصلہ تو ثبوت اور شواہد دیکھنے کے بعد سیشن کی عدالت ہی کرسکتی تھی یا پھر اس کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں آتی، تو اس وقت ہائی کورٹ کرلیتی؛ موجودہ مقدمے میں جب ابھی ثبوت اور شواہد ہائی کورٹ نے دیکھے ہی نہیں تو وہ اس بنیاد پر فیصلہ کیسے کرسکتی تھی؟ دوسری بنیاد اس کےلیے کمزور ہے کہ ملزم پر مقدمہ اس بنا پر نہیں دائر کیا گیا تھا کہ اس نے خواب میں کیا کچھ دیکھا ہے، بلکہ اس بنا پر قائم کیا گیا تھا کہ وہ اپنے خوابوں کو دعووں کی صورت میں پیش کرکے دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح کرتا ہے۔

پھر بھی اگر ان دو بنیادوں پر ہائی کورٹ صرف مقدمہ خارج کرنے کے حکم تک محدود رہتی، تو یہ کئی دیگر کمزور فیصلوں کی طرح ایک عام سا کمزور فیصلہ ہوتا، لیکن جسٹس شیخ نے اس پر بھی اکتفا نہیں کیا، بلکہ آگے بڑھ کر ایک اور مسئلے پر بھی راے دی ہے اور اس راے کو بنیاد بنا کر حکم بھی جاری کیا ہے۔ اس پر بحث ضروری ہے۔

مجرم یا نفسیاتی مریض؟

جسٹس شیخ نے ایک اور مصنف کی راے پر انحصار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مختلف نفسیاتی امراض کا شخص بعض اوقات گستاخانہ الفاظ بولتا ہے یا ایسے افعال کا ارتکاب کرتا ہے جنھیں توہینِ مذہب کہا جاسکتا ہے۔ ایسے مریضوں کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ انھیں سزا دینے کی کوشش کی جائے۔ اس کے بعد ایک دفعہ پھر انھوں نے منصفانہ سماعت کے بنیادی حق کی اہمیت واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ منصفانہ سماعت کے حق میں پولیس کی جانب سے مناسب تفتیش بھی شامل ہے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ تفتیش غیر جانب دارانہ اور غیر متعصبانہ ہونی چاہیے۔ ان امور کےلیے انھوں نے ایک دفعہ پھر بھارتی عدالت کے فیصلے پر انحصار کیا ہے حالانکہ ہمارے ہاں اس موضوع پر عدالتی نظائر کی کمی نہیں ہے۔ بہرحال ان امور پر بنا کرتے ہوئے انھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پاکستان کے قانون کی رو سے ذہنی امراض کے شکار افراد کو تحفظ حاصل ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے خصوصاً دو قوانین کا حوالہ دیا ہے۔ ایک مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 84 اور دوسری ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 464۔ انھوں نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی قرار دیا  کہ اگر ملزم یا اس کے وکیل کی جانب سے دماغی صحت کا عذر نہ بھی پیش کیا جائے، تب بھی عدالت کو خود اس بات کا نوٹس لینا چاہیے۔ اس کے ساتھ انھوں نے عالمی تنظیمِ صحت کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان میں 4 فی صد یعنی تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ ان ساری باتوں سے انھوں نے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ جب بھی پولیس کسی جرم کی تفتیش کرے، اور بالخصوص جب وہ توہینِ مذہب کے باب کے تحت کسی جرم کی تفتیش کرے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے ملزم کا دماغی معائنہ کروا کر متعین کرے کہ اس کی ذہنی حالت درست ہے یا نہیں۔

فاضل جسٹس صاحب کے اس حکم پر میرے دو سوالات ہیں۔ ایک یہ کہ جب ان کے سامنے مقدمے میں درخواست گزار نے سرے سے ذہنی مریض ہونے کا عذر پیش ہی نہیں کیا، نہ ہی اس کا ثبوت پیش کیا، نہ ہی اس دعوے اور ثبوت کے خلاف دوسرے فریق کے دلائل یا شواہد سنے گئے، تو وہ اس سوال پر فیصلہ کرکے حکم کیسے دے سکتے تھے؟ آخر کیوں ہمارے بعض فاضل جج صاحبان موقع نکال کر ان سوالات کو اپنے فیصلے میں شامل کرلیتے ہیں جو مقدمے میں ہوتے ہی نہیں ہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ سوالات ان کی اپنی کسی پرانی ذہنی الجھن سے متعلق ہوتے ہیں اور اب انھوں نے موقع نکال کر اس الجھن پر اپنی راے حکم کی صورت میں دوسروں پر لازم کرنا ضروری سمجھا؟ جج صاحبان کا کوئی بھی مذہبی یا لبرل نظریہ ہوسکتا ہے لیکن مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں انھی قانونی سوالات تک محدود رہنا پڑے گا جو مقدمے میں ان کے سامنے آئے اور جن پر فریقین کی جانب سے دلائل اور شواہد پیش کیے گئے۔ اپنا نظریاتی ایجنڈا آگے بڑھانے کےلیے اپنے منصب کا استعمال جج صاحبان کےلیے مناسب نہیں ہے۔

دوسرا سوال اس سے زیادہ اہم ہے کہ ذہنی بیماری کا عذر ہو، ذاتی دفاع کا عذر ہو، اکراہ اور زبردستی کا عذر ہو، یا کوئی اور قانونی عذر، یہ سارے عذر استثنا کی حیثیت رکھتے ہیں اور استثنا کا بارِ ثبوت اسی پر ہوتا ہے جو قانون سے اپنے لیے استثنا کا دعوی کرتا ہے۔ مثلاً الف نے ب کو قتل کردیا لیکن الف کا کہنا یہ ہے کہ اس نے یہ قتل ذاتی دفاع میں کیا ہے، تو یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری ہوگی اور اگر وہ یہ ثابت نہیں کرسکا، تو اسے قتل کی سزا دی جائے گی۔ یقیناً “ملزم قانون کا محبوب فرزند ہوتا ہے”، اور اس وجہ سے الف پر ب کا قتل ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہوگی، لیکن جرم ثابت ہوجائے (خواہ استغاثہ نے ثبوت پیش کیا ہو یا ملزم نے خود ہی آزادانہ اقرار کیا ہو)، تو اس کے بعد ملزم کی حیثیت مجرم کی ہوجاتی ہے اور اگر اس کا دعوی ہے کہ جرم کے باوجود اسے سزا سے استثنا حاصل ہے، تو اس استثنا کا ثابت کرنا اسی کی ذمہ داری ہوگی۔ فاضل جسٹس صاحب نے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 84 کا حوالہ تو دیا لیکن پتہ نہیں کیوں ان کی توجہ اسے طرف نہیں گئی کہ یہ دفعہ جس باب میں ہے اس کا عنوان ہے: “عمومی استثناءات” (general exceptions)! ان کو عمومی استثناءات اس لیے کہتے ہیں کہ یہ تمام جرائم کی سزا سے بچنے کےلیے پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن ہیں یہ استثناءات ہی۔ (بعض جرائم کےلیے مخصوص استثناءات بھی موجود ہیں، جیسے باپ نے بیٹے کو قتل کیا، تو باپ سے قصاص نہیں لیا جاسکتا۔)

فیصلے میں کیا نہیں ہے؟

یہاں تک تو ان امور پر بحث ہوئی، جو اس فیصلے میں مذکور ہیں۔ اس کے بعد آخر میں ہم ان امور کا ذکر کریں گے جو اس فیصلے میں مذکور نہیں ہیں حالانکہ ان کا ذکر بہت ضروری تھا اور وہ موجود ہوتے، تو شاید فیصلہ مختلف ہوتا، یا کم از کم اس میں وہ کمزوریاں نہ ہوتیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا۔

جسٹس شیخ نے، جیسا کہ ذکر ہوا، اس فیصلے میں پاکستان سے کیا دیگر ممالک سے بھی عدالتی نظائر پیش کیے، قانونی دلائل کے علاوہ سگمنڈ فرائڈ، کارل یونگ اور دیگر ماہرینِ نفسیات کی آرا بھی ذکر کیں، خوابوں کے تجزیے بھی کیے، سب کچھ کیا، لیکن جس بات کی طرف ان کا دھیان نہیں گیا، وہ یہ ہے کہ وہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں ایک عدالت کے جج ہیں، ایک ایسے ملک میں جس کا آئین اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے اعلان سے شروع ہوتا ہے، جس کے آئین میں تصریح کی گئی ہے کہ یہاں کوئی قانون اسلامی شریعت سے متصادم نہیں بنایا جائے گا اور تمام موجودہ قوانین کو اسلامی شریعت سے ہم آہنگ بنایا جائے گا، اور جس کے قانونی نظام میں صراحت سے کہا گیا ہے کہ عدالتیں قانون کی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ تعبیر و تشریح اپنائیں گی۔ عام قوانین اور عام مقدمات میں بھی یہ ذمہ داری عدالتوں پر ہے(دیکھیے، قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4)، لیکن بالخصوص یہاں تو مقدمہ ہی توہینِ مذہب کا تھا۔ کیا جسٹس صاحب کو قانون کی تعبیر کرتے ہوئے “قرآن و سنت میں مذکور احکامِ اسلام” (دیکھیے، آئین کی دفعہ 227) کی طرف رجوع کرکے یہ دیکھنا نہیں چاہیے تھا کہ کیا ان احکام کی رو سے خواب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا دعوی کرنا یا صحابۂ کرام کو دیکھنے کا دعوی کرنا اور پھر لوگوں میں اس بیان کرنا قابلِ سزا جرم بنتا ہے یا نہیں؟ اگر ہاں، تو کن صورتوں میں، اور اگر نہیں، تو کیوں نہیں؟ اسی طرح کیا جسٹس صاحب کےلیے ضروری نہیں تھا کہ وہ سگمنڈ فرائڈ اور کارل یونگ کے تجزیے پیش کرنے سے قبل یہ دیکھتے کہ قرآن و حدیث میں خوابوں کی کتنی قسمیں ذکر ہوئی ہیں؟ خوابوں کے متعلق آیات و احادیث کی تشریح مسلمان اہلِ علم مفسرین، محدثین، فقہاء، اصولیین اور متکلمین نے کیسے کی ہے؟ خواب اور الہام کا کیا تعلق ہے؟ سچے خواب کیا ہوتے ہیں؟ ان کی تعبیر کیسے پیش کی جاتی ہے؟ ان امور پر بحث کیے بغیر کیسے آپ یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ جب مسلمانوں کے ہاں کوئی خواب میں اللہ تعالیٰ کو یا صحابۂ کرام کو دیکھنے کا دعوی کرتا ہے، اور یہ دعوی وہ لوگوں کے سامنے کرتا ہے، تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ خوابوں کی حقیقت کے متعلق جدید دور کے مباحث کی طرف توجہ نہ کریں، لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے ملک میں اور مسلمانوں کے سماج میں کسی عمل کا مفہوم متعین کرنے کےلیے مسلمانوں کے علوم کو ہمارے جج صاحبان درخورِ اعتنا کیوں نہیں سمجھتے، بالخصوص جبکہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں قانون کی تعبیر ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری بھی ہے؟


انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۲)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا ساتواں باب)


ساتواں باب: قانون، حاکمیت اور شرعی عمل کی حدود


حد اور تجاوز کا باہم دگر انحصار: بدعت کی پہچان  کے  اصول

مسلم فکر میں بدعت (جس کا لفظی معنی نئی چیز ہے) بیک وقت شدید متنازع، مبہم اور لچک دار اصطلاحات میں سے ہے۔ بدعت بیک وقت دین/روایت کی حدود اور ہمیشہ ان حدود سے تجاوز کے منڈلاتے خطرے اور امکان کا اظہار ہے۔ حدود اور تجاوز، جیسا کہ مشل فوکو نے تاکید کی ہے، ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے اور ایک دوسرے کے لیے تشکیلی عناصر ہیں؛ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے امکان، اور بقولِ کَسے، اِستحالہ (impossibility) کے لیے شرط ہے۔ اس نے اسے عمدگی سے یوں بیان کیا ہے: "حد اور تجاوز ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں، چاہے ان کی کمیت جو بھی ہو، کہ کوئی حد موجود ہو نہیں سکتی اگر وہ ناقابل تجاوز ہو، اور  تجاوز بے معنی ہوگا اگر یہ ایک ایسی حد کو پار کرے جو اوہام اور سایوں سے مرکب ہو۔ لیکن کیا اس عمل سے باہر حد کی اپنی ایک زندگی ہو سکتی ہے، جو پُروقار طریقے سے اس کے اندر سے گزرتا ہے، اور اس کی نفی کرتا ہے؟1

یہاں فوکو کے الفاظ ان فکری مضمرات کا احاطہ کرتے ہیں جو اسلام میں تجاوز کی علامت کی حیثیت سے بدعت کے تصور پر سایہ فگن ہیں۔ بدعت کے ارتکاب کا معنی سنتِ نبوی کی حدود سے تجاوز ہے، لیکن خطرے یا تجاوز کا وقوع ہی ان حدود کی تشکیل کرتا ہے۔ سنت وبدعت، دین کی حدود اور ان حدود سے تجاوز، بہت گہرائی میں  باہم دگر مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔میری ڈگلس (Mary Douglas) کی کلاسیکی تصنیف Purity and Danger میں ایک اہم استدلال سے  مدد لیتے ہوئے کہ ناپاک اور پاک باہم دگر مربوط ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ سنت وبدعت لازم وملزوم ہیں۔

ڈگلس  نے پوری فصاحت سے اسے ایسے الفاظ میں  بیان کیا ہے جو نمایاں انداز میں اس فکری منہج کے مشابہ ہیں  جو سنت وبدعت کے درمیان تعلق کو بنیاد فراہم کرتا ہے: "اگر ناپاک ہونا کوئی نامناسب چیز ہے، تو ہمیں سلیقے سے اس کے قریب جانا چاہیے۔ ناپاکی یا گندگی وہ ہے جسے کسی نمونے میں اس لیے شامل نہیں کیا جا سکتا تاکہ (اس کی پاکی) اپنی جگہ برقرار رہے"2۔

بدعت کا تصور اصلاً دو مشہور احادیث سے ماخوذ ہے: "ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جانے والی ہے"، اور "جو کوئی ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرے، جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے"3۔ تاہم بدعت کے مفہوم میں جو تجاوز ہے، اسے معاصر ایجابی قانون (positive law) میں خلاف ورزی (violation) کے معنی کے ساتھ بمشکل ہی جوڑا جا سکتا ہے۔ کسی پر بدعت کے ارتکاب کا حکم لگانا اس پر یہ الزام لگانا ہے کہ اس نے سنتِ نبوی کی تخفیف کی، سلف صالحین کے راستے کی خلاف ورزی کی، اور سب سے زیادہ اہم یہ کہ اس نے آقا اور غلام کے درمیان موجود اس بنیادی عہد کو توڑ دیا، جو ایک بندے کو خدا سے جوڑتا ہے۔

بدعت بڑے پیمانے پر بین المسالک تضلیل کے لیے ایک اہم اصطلاح ہے، کیوں کہ اس میں وسعت ہونے کے ساتھ ساتھ لچک بھی ہے؛ اس کا اطلاق عبادات، عقائد اور روزمرہ کی عادات واطوار میں مزعومہ تجاوزات پر ہوتا ہے۔

ماریبل فائرو (Maribel Fierro) بدعت پر ماقبل جدید اسلامی دور کی متعدد علمی کتابوں کی ایک موسوعی تحقیق میں یہ بتاتی ہے کہ جن چیزوں پر بدعت کا اطلاق کیا جاتا ہے، ان کا سلسلہ قرآن کی تلاوت کے قابلِ اعتراض طریقوں سے لے کر مسجد کے جائے دخول میں پنکھوں کی تنصیب تک دراز ہے!4 وہ عقائد، اعمال اور اطوار جن پر بدعت کی اصطلاح کا اطلاق ہو سکتا ہے، بہت زیادہ ہیں اور وہ مختلف اصلاحی تحریکوں اور مزاجوں کو محیط ہیں۔ برصغیر کے وہ علما، جن کی بدعت سے متعلق فکر کو زیادہ تر اس حصے میں زیر بحث لایا گیا ہے، وہ ایک طویل المدت علمی روایت کے جانشین تھے، اور اس معمور تصور کی مجموعی علمی اور سماجی تاریخ میں وہ اپنا انفرادی حصہ ڈال رہے تھے۔

بدعت کی اصطلاح سے متعلق ناخوش گوار رمزیت (symbolism) آج بھی قائم ودائم ہے۔ مثلاً اسلام میں بدعت کے اطلاق پر اپنے ایک مضمون میں معاصر مسلمان امریکی دانشور عمر فاروق عبد اللہ لکھتے ہیں: "کسی چیز پر بدعت کے اطلاق میں عموماً سرعت سے کام لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نئے خیالات کو دبایا جاتا اور تخلیقی سوچ کو مشکل بنایا جاتا ہے۔ بعض مسلمانوں کے لیے یہ اصطلاح ایک زور آور ہتھوڑا بن گیا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے خیالات کو منواتے اور دوسروں کے خیالات کو مکمل طور پر دباتے ہیں"5۔ جیسا کہ عبد اللہ کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے، اسلام میں تخلیق اور ایجاد اور رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین کے مثالی طرز عمل کو برقرار رکھنے کے حکم پر عمل کرنے کے درمیان ایک مخمصہ موجود رہا ہے جو آج بھی اتنا ہی پریشان کن ہے جتنا یہ صدیوں پہلے تھا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی کے تصور میں بدعت کی حدود متعین کرنے کے لیے معیارات کیا ہیں، اور اسی بات کو ذرا وسعت دے کر یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ ایک استدلالی روایت کی حیثیت سے اسلام کی حدود کی معیارات کیا ہیں؟ دراصل یہ سوال کہ کوئی نئی چیز کب بدعت بنتی ہے، اس سوال کے مانند ہے کہ اسلام اور اس کی حدود کی تعیین کس چیز سے ہوتی ہے6۔

اس باب میں، میں ان مناہج کا جائزہ لوں ہوگا  جن کی روشنی میں دیوبندی مکتبِ فکر اور ان سے پہلے شاہ محمد اسماعیل نے اس بنیادی سوال کو موضوع بحث بنایا۔ چونکہ اس مسئلے پر ان علما کے خیالات میں واضح یکسانیت ہے، اس لیے وضاحت کی غرض سے اس باب کا بیشتر حصہ، نہ کہ سارا باب، دیوبند کے ابتدائی دور کے سب سے زیادہ کثیر التصانیف مفکر مولانا اشرف علی تھانوی کے افکار سے بحث کرے گا۔

اپنے پیروکاروں میں حکیم الامت کے لقب سے معروف مولانا اشرف علی تھانوی جدید برصغیر کے مسلمان علما میں سب سے زیادہ بااثر اور وسیع پیمانے پر پڑھے جانے والے عالم ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے۔ انھوں نے تفسیرِ قرآن، علوم حدیث، فقہ واصول فقہ، تصوف اور فلسفے سمیت علوم اسلامیہ کے تقریبا تمام پہلوؤں پر تفصیل سے لکھا۔ مولانا تھانوی بیک وقت ایک کامل فقیہ اور چشتی سلسلے کے ایک نامور صوفی تھے۔ وہ اترپردیش کے قصبے تھانہ بھون میں پیدا ہوئے، اور بیس سال کی عمر میں 1883 میں دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے7۔ ان کی علمی زندگی نہ صرف بانئ دیوبند رشید احمد گنگوہی سے، بلکہ انیسویں صدی کے سلسلۂ چشتیہ کے ممتاز ہندوستانی صوفی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بھی متاثر تھی۔

حاجی صاحب رشید احمد گنگوہی، قاسم نانوتوی اور اشرف علی تھانوی سمیت دیوبند کے تمام پیش روؤں کے صوفی شیخ رہے۔ اگر چہ وہ باضابطہ عالم نہیں تھے، لیکن بلا شبہ وہ نوآبادیاتی ہندوستان کے سب سے کرشماتی اور وسیع پیمانے پر مانے جانے صوفی شیخ تھے۔ مولانا تھانوی کی طرح حاجی امداد اللہ کی جنم بھومی بھی تھانہ بھون تھی۔ انھیں مہاجر مکّی کا لقب اس لیے ملا کہ جنگ آزادی 1857 کے بعد ان پر برطانیہ کی طرف سے جنگ میں شرکت کا الزام لگا، جس کی وجہ سے انھوں نے مکہ مکرمہ ہجرت کی۔ حاجی صاحب نے اپنی بقیہ ساری زندگی مکہ مکرمہ میں جلاوطنی کی حالت میں گزاری، جہاں پر مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی اور غیر ہندوستانی مریدین ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوتے رہے۔ مولانا تھانوی 1884 میں حاجی صاحب سے بیعت ہوئے، جب وہ اپنے پہلے حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ گئے تھے۔ حاجی صاحب نے ایک صوفی شیخ کی حیثیت سے مولانا تھانوی کی شخصیت میں تشکیلی کردار ادا کیا۔ نتیجتاً تھانوی نے حاجی صاحب کے سلسلے کو تسلسل اور ترقی دینے میں بنیادی کردار ادا کیا، جیسا کہ ہم اسے آخری باب میں زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھیں گے۔

1883 میں دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا تھانوی نے اترپردیش کے شہر کانپور کے ایک مدرسے جامع العلوم میں 14 سال تک تدریس کی۔ 1897 میں وہ اپنے آبائی قصبے تھانہ بھون واپس لوٹ آئے اور اس خانقاہ کی قیادت سنبھال لی، جو ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ان کے شیخ امداد اللہ چلاتے تھے۔ تھانہ بھون میں قیام کے دوران مولانا تھانوی نے بڑی تعداد میں مریدوں کی روحانی تربیت کی، اور ایک کثیر التصانیف اور مقبولِ عام مصنف کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا۔ انھوں نے دیوبندی مسلک سے قریبی تعلق استوار رکھا، اور کئی سالوں تک اس کے سرست کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ مولانا تھانوی کا حلقۂ ارادت پورے ہندوستان میں تھا۔ ان میں سب سے ممتاز ان کے بھتیجے مولانا ظفر احمد عثمانی (م 1974) اور مفتی محمد شفیع (م 1976) تھے، جو 1947 میں تقسیم کے بعد پاکستان کی نمایاں مذہبی شخصیات ابھر کر سامنے آئیں8۔

مولانا تھانوی کے علمی ورثے کا ایک بڑا حصہ بدعت کے موضوع سے خاص ہے9۔ اس تصور سے متعلق ان کی گفتگو متنوع قسم کی تحریری اصناف میں پائی جاتی ہیں، جن میں مقبول اصلاحی تصانیف، فتاوی جات اور وہ ملفوظات شامل ہیں، جو بڑی باریک بینی سے ان کے مریدوں نے مرتب کی ہیں۔ یہ استدلالی ذخائر ایک مذہبی مصلح کی حیثیت سے تھانوی کے سماجی تصورات اور زیادہ عموم کے ساتھ دیوبندی مسلک کے بارے میں بصیرت افروز نکات فراہم کرتے ہیں۔

آئندہ گفتگو میں، میں ان کی فکر کے چند اہم گوشوں کا تجزیہ اس امید سے کرتا ہوں کہ ان مناہج کو قلم بند اور نمایاں کروں جن کے ذریعے علماے دیوبند نے اعتقادات اور احکامِ دینیہ میں بدعت کی حدود کو متصور کیا۔ اگر چہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ علماے دیوبند نے متعدد مقبول عام رسموں اور اطوار کی مخالفت کی، لیکن انھوں نے یہ کام کیسے کیا ، یہ سوال مغرب کی علمی حلقوں میں معتد بہ توجہ حاصل نہ کر سکا۔ انھوں نے تعبیر وتشریح کے کن اصولوں کو بروے کار لا کر سنت وبدعت کی حدود کاتعین کیا؟ ان کی نظر میں بدعت کا بنیادی تصور کیا تھا؟ ان کے اخلاقی اصلاح کے تصور میں پائے جانے والے ابہامات کون سے تھے؟ یہ وہ چند سوالات ہیں  جنھیں میں اس باب میں زیر بحث لاؤں گا۔ تاہم ابتداء میں میں چاہتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ اس طریق کار کی وضاحت کروں گا جس کی روشنی میں میں سنت وبدعت کو دیکھتا ہوں، تاکہ اسلام میں بدعت کے تصور سے متعلق میرے نظریے کا خلاصہ سامنے آجائے۔

اسلام میں سنت وبدعت کی تصور سازی (Theorization)

سنت (normativity) کی اصطلاح سے میری مراد وہ اعتقادی وابستگیاں اور عملی احکام کے نمونے ہیں، جن کا مطالبہ کسی سماج سے اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ ان کی مدد سے اخلاقی پاکیزگی اور فضائل کا حصول کریں۔ فلسفی کرسٹین کورسگارڈ نے اپنی کتاب Sources of Normativity میں اس تصور کو کچھ یوں بیان کرتی ہیں: "اخلاقی معیارات (ہمیشہ) پابندی کا مطالبہ رکھنے والے  (normative) ہوتے ہیں۔ وہ محض وہ رستہ نہیں بتاتے جس کے مطابق ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ بلکہ وہ ہم پر حق جتاتے ہیں؛ ہمیں حکم کرتے ہیں، پابند بناتے ہیں، تجویز کرتے ہیں، یا ہدایت کرتے ہیں"۔ اسی طرح وہ بتاتی ہیں کہ "علم، حسن اور معنی جیسے تصورات فضیلت اور انصاف کی طرح سب کے سب ایک مستقل پہلو لیے ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ کیا سوچنا، کیا پسند کرنا، کیا کرنا اور کیا ہونا چاہیے"10۔ اسلام جیسی دینی روایت میں مستند  طریقے (normativity) کے مصادر ہمیشہ متنوع، متعدد اور باہم مربوط ہوتے ہیں، جو ماہر علما کے علمی استناد سے لے کر متوارث اجتماعی عمل کی مجموعی وزن تک پھیلے ہوتے ہیں۔ میں سنت (normativity) کی اصطلاح کو راسخ العقیدگی (orthodoxy) کی اصطلاح پر فوقیت دیتا ہوں کیوں کہ مذہبی استناد کے موضوع پر سرگرم عمل مختلف حریف مدعیوں کو زیادہ حد تک ابہام اور لچک فراہم کرتا ہے11۔  راسخ العقیدگی کی اصطلاح، اگر چہ یہ تسلیم بھی کیا جائے کہ وہ مستقل اختلاف کا موضوع ہے، یہ غلط تاثر پیدا کرتی ہے کہ حقیقت میں نام اور پتوں کی ایک ایسی فہرست بنانا ممکن ہے، جس میں راسخ العقیدگی کے محافظین کی شناخت اور نام زدگی ممکن ہو۔ اسلام میں ایک مقتدر کلیسائی ادارے کی عدم موجودگی میں راسخ العقیدگی کی اصطلاح کی تحقیقی قدر وقیمت محل نظر دکھائی دیتی ہے۔ مزید برآں، اور زیادہ دو ٹوک انداز میں، 'مسلک' (sect) کی طرح 'راسخ العقیدگی' بھی ان اصطلاحات میں سے ہے جنھیں جوں ہی استعمال کیا جائے، "]مسیحی[ سیاسی کلامیات کی مشین" ان کو جکڑ لیتی ہے12۔

Two: The Machine of Political Theology and the Place of Thought کے عنوان سے اپنی عمدہ تحقیق میں فلسفی رابرتو اِسپَزِیتو (Roberto Esposito) ثابت کرتے ہیں کہ مسیحی سیاسی کلامیات اور جدید سیکولر ازم میں فکری یکجائی ہے13۔ علاوہ ازیں وہ اس مشین جیسے عمل کے بارے میں بتاتے ہیں جس کے ذریعے سیکولر سیاسی کلامیات خود کو ان اصطلاحات میں زبردستی گھساتی ہیں، جو غیر مغربی روایتوں اور ثقافتوں کی تحقیق کے دوران استعمال ہوتی ہیں14۔ جیسا کہ اسپزیتو نے واضح کیا ہے: "لسانیات کا پورا تانا بانا، جو ہمارے فکری مقولات (categories) کو کمزور کرتا ہے، سیاسی کلامیات کی اصطلاحات سے متاثر ہے"۔ اِسپزیتو کی فکر سے شہہ پاتے ہوئے اور اس کی شرح کرتے ہوئے اروند منڈیر زیر بحث مسئلے کو کچھ یوں سمیٹتے ہیں: "(خاص طور پر جدید) مغربی زبان وفکر کی کارروائیوں میں ایسے مابعد الطبیعاتی آلات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، جن کا بنیادی فریضہ اختلاف کو شناخت کے ڈھانچوں (مثلاً تناقض سے پاک اتحاد، تمثیل، انفرادیت، شخصیت)  تک محدود کرکے (شخصیات، ثقافتوں، تصورات کے درمیان) اختلاف کو وجود میں لانا ہے15۔

منڈیر کے ذکر کردہ شناخت کے ان ڈھانچوں کی فہرست میں "راسخ العقیدگی" کو شامل کرنا مفید ہوگا، جنھیں سیکولر مسیحی سیاسی کلامیات کی مشین ترتیب دے کر "عمومی انطباق (translation)" کے ایک عمل کے ذریعے دوسرے سیاقات کو برآمد کرتے ہیں16۔  انطباق کی یہی پرفریب لیکن طاقتور کلامیات ہی ہیں جنھیں علوم اسلامیہ میں راسخ العقیدگی کی اصطلاح کے دفاع یا احیا کے لیے کی جانے والی متعدد کوششیں زیر غور لانے میں ناکام ہو چکی ہیں17۔ گِل اَنیجر (Gil Anidjar) سے استفادہ کرتے ہوئے عرض ہے کہ یہ اصطلاح ان مسیحی سیاسی کلامیات کے "خون" میں تر ہے جو سیکولر تصوریت کی بنیاد ہے، اور اس بنا پر اسلام اور دیگر جنوبی ایشیائی مذاہب کی تحقیق میں اس قدر آزادی اور خوشی سے اسے رائج ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے18۔ یہ اصطلاح جدید برصغیر کے علما کے مباحثوں اور مناقشوں کی تحقیق کے مخصوص سیاق کے حوالے سے بھی کار آمد نہیں۔

برطانوی ہندوستان میں بڑے مسلم اصلاحی مکاتب فکر، جیسے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث سب کے سب پڑھے لکھے مذہبی اشرافیہ کی اسی نام نہاد راسخ العقیدگی کا حصہ تھے؛ ان کے درمیان اختلاف سنت کی تشریح میں تھا، اورنتیجتاً ان شرعی توقعات میں تھا، جو وہ اپنے عوام کے لیے رکھتے تھے۔ راسخ العقیدگی بمقابلہ آزاد خیالی (heterodoxy) کا یہ دوگانہ تصور سنت کو بدعت سے جدا کرنے والی حدود کے متعلق متعدد اختلافی آرا کی تصویر سامنے لانے میں بھی بالکل کار آمد نہیں ہے۔

اسلام میں شرعی احکام کی حدود پر علمی مناقشوں کے تجزیے کے لیے سنت (normativity) کی اصطلاح زیادہ لچک اور فکری گنجائش فراہم کرتی ہے۔

سنت (normativity) کی اصطلاح کو اختیار کرنے کے لیے مجھے بطور خاص ماہر بشریات /سماجیات پائرے بوردیو (Pierre Bourdieu) کا تصورِ 'عادت' (habitus) بڑا دل چسپ معلوم ہوا۔ یہ تصور اس کی دو کتابوں The Logic of Practice اور An Outline of a Theory of Practice میں پیش کیا گیا ہے۔ بوردیو 'عادت' کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے: "تاریخ کی ایسی پیداوار جو تاریخ کے پیدا کردہ حالات سے ہم آہنگ انفرادی اور اجتماعی اعمال کو جنم دیتا ہے۔ 'عادت' ماضی کے ایسے تجربات کی براہ راست موجودگی کو یقینی بناتا ہے، جو ہر جاندار میں ادراک اور فکر وعمل کے نظاموں کی شکل میں ودیعت کیے گئے ہوتے ہیں، اور جو تمام رسمی قواعد اور مفصَّل اَحکام سے زیادہ بااعتماد طریقے سے بدلتے زمانے کے ساتھ اعمال کی 'درستگی' (واوین کا اضافہ میری طرف سے ہے) اور ان کی اصل شکل کو برقرار رکھنے کی ضمانت فراہم کرتے ہیں"19۔  بوردیو کے نزدیک 'عادت' متشکل تاریخ کی ایک شکل ہے، جو ایسے نئے تجربات کی تشکیل کرتی ہے، جو ماضی کے تجربات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ساختوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔'عادت' اور سنت کے درمیان تعلق کی بہتر تصویر اس وقت سامنے آتی ہے جب بوردیو لکھتا ہے: "'عادت' ان تمام 'معقول' اور 'عقل سلیم پر مبنی' رویوں کو پیدا کرنے کا کام کرتی ہے جو ان ضابطہ بندیوں کی حدود میں ممکن ہو، اور جس کی 'ایجابی منظوری' (واوین کا اضافہ میں نے براے تاکید کیا ہے) دی جا سکتی ہے، کیونکہ وہ ایک مخصوص میدان کی عقلی خصوصیت کے ساتھ معروضی انداز میں ہم آہنگ ہوتے ہیں، جس کے معروضی مستقبل کی وہ پیش بینی کرتے ہیں"20۔

بوردیو کی 'عادت' کی اصطلاح سے زیادہ قریب اس کے 'اجماع' (doxa) کا تصور ہے جس کا مطلب ہے: جسمانی آہنگوں اور مظاہر کا ایسا مجموعہ جسے سماج کے افراد ایک ثابت کونیاتی نظم کی حیثیت سے حق سمجھتے ہیں، اور جسے آزادانہ (یعنی دوسروں کے درمیان کوئی ایک) نہیں، بلکہ ایک بدیہی فطری نظم کے طور پر سمجھا جاتا ہو، جو بغیر کسی سوال یا نکتہ چینی کے بار بار وقوع پذیر ہوتا رہتا ہو"21۔ اسلام میں سنت کی اصطلاح کی نظریہ سازی میں ایک مرکزی سوال یہ ہے کہ استنادی مذہبی مباحث کا ایک مجموعہ کسی سماج کے روزمرہ اعمال میں کس طرح متشکل ہوتا ہے؟ اس سیاق میں بوردیو کا یہ نکتہ بطور خاص قابل غور ہے کہ "جس قدر معروضی نظام پائیدار ہوں گے، اور زیادہ بھرپور انداز میں پیروکاروں کے اعمال میں خود کو وقوع پذیر کریں گے، اسی قدر 'اجماع' (doxa)، جسے حق مانا گیا ہے، کے میدان کی حدود وسیع ہوں گی"22۔

اسلام میں مسلمانوں کے درمیان بدعت کی حدود پر اختلافات میں کار فرما اقداری توقعات اور تنازعات پر بحث کو گہرائی میں لے جانے کے لیے مجھے بوردیو کے 'عادت' اور 'اجماع' کے جڑواں تصورات مفید معلوم ہوتے ہیں۔ ایک مخصوص معنی میں مسلم فکر میں بدعت کے مباحث مثالی 'اسلامی عادات' کے متوازی تصورات پر مبنی ہیں، یا زیادہ واضح انداز میں ایک ایسی 'عادت' پر، جس کی تجسیم اور تشکیل سنت کے ذریعے ہوئی ہو۔ یہاں جس بات پر زور دینا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ سنت محض فقہی احکام کے استنباط کے لیے ایک قانونی مصدر کی اصطلاح نہیں۔ اس کے بجاے اس کا اطلاق زندگی کے تمام ان اعمال واطوار پر ہوتا ہے، جو فطری اور طبعی 'عادات' کی شکل اختیار کر لیتے ہیں – ایک کامل نمونہ، جس کے پیچھے متشکل تاریخ کھڑی ہو۔ جیسا کہ بوردیو نے ہمیں تنبیہ کی ہے: "عادت ایسے حقائق کو مسترد کرنے سے، جو اس کے ساتھ جڑے سابقہ مجموعی حقائق پر سوال اٹھاتے ہوں، اگر ان کا ایک دوسرے سے سامنا حادثاتی طور پر یا جبرًا ہو جائے، بالخصوص ایسے حقائق کا سامنا نہ کرنے سے اور ان نئے حقائق کے اندر انتخاب کے ذریعے سے، اپنی ثبات اور 'تبدیلی' کے خلاف اپنے دفاع کو یقینی بناتی ہے۔23

یہ نکتہ کہ 'عادت' تبدیلی کے مقابلے میں اپنا دفاع کرتی ہے، بطور خاص ثبات وتغیر کے اس باہمی تعامل سے متعلق ہے جو اسلام میں سنت وبدعت کے مناقشے میں کار فرما رہتا ہے۔ سنت ایک مُصدَّقہ معیاری 'عادت' پر دلالت کرتی ہے جو ایک مشترک تاریخ اور روایت رکھنے والے سماج کی تشکیل کرتی ہے۔اس لیے سماج اور اس کی تاریخ اور روایت سب کو ایسے نئی معلومات اور بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا چاہیے، جو اس کی پاکیزگی کو متاثر کرتے، اس کے ثبات کو کمزور کرتے، اور نتیجتاً مباحث کے ایک ایسے مجموعے کی حیثیت سے جو اپنے پیروکاروں سے مجسم تصدیق کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت پر سمجھوتہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف بدعت، جو سنت کے برعکس ہے، منظم سرگرمی کی ان غیر مصدًقہ عادات واطوار پر دلالت کرتی ہے جو سنت کی پہلے سے چلے آنے والی متفقہ ساخت کی مخالفت میں متعارف کیے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں بدعت کے تعبیری پہلوؤں میں گہرائی سے غوطہ زن ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اس کے بیانیاتی (narratological) پہلو پر مختصر غور وفکر کروں، تاکہ اس کے علمی اور شرعی پہلو مزید واضح ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے میں قرون وسطی اور جدید اسلام کے ابتدائی عہد کے سب سے باوقار عالم کی فکر کی طرف رجوع کرتا ہے، جنھوں نے بدعت کے موضوع پر لکھا ہے۔ میری مراد چودھویں صدی عیسوی کے معروف اندلسی/غرناطی مالکی فقیہ امام ابواسحاق ابراہیم الشاطبی ہیں۔  

بدعت بیانیے کی روپ میں: سنت، بدعت اور اجنبیت

بدعت جس قدر ایک اعتقادی، فقہی اور کلامی اصطلاح ہے، اسی قدر یہ ایک بیانیے کے روپ میں بھی ہے۔ دراصل اس کے بیانیے والے انداز پر غور وفکر اس اصطلاح سے متعلق تجزیاتی نقطۂ نظر اور منہاج کو وسعت اور گہرائی دینے کے امکانات رکھتا ہے۔ زیادہ تخصیص کے ساتھ عرض ہے کہ بدعت کے موضوع پر مسلمانوں کے علمی مناقشے ایک ایسے بیانیے میں ملفوف ہوتے ہیں جنھیں 'اجنبیت کا بیانیہ' کہا جا سکتا ہے، جس میں ابتداے اسلام میں کفار کے ہاتھوں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی اجنبیت اور جلاوطنی کے ایک مثالی بیانیے کو بعد میں آنے والے تعصب و عناد کے ہر ایک ایسے واقعے کے لیے بنیادی خاکے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو سنت کے مشعل برداروں کو بدعت کے علم برداروں کے مقابلے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ راہ سنت پر کار بند ہونا اجنبیت کو مستلزم ہے، لیکن یہ اجنبیت ایک فرد اور سماج کی قرآن، سنت اور سلفِ صالحین کی تعلیمات سے غیر مشروط وابستگی کی دلیل بھی ہے۔ ذیل میں میں ان اخلاقی دعووں اور خواہشات کی تفصیل سے وضاحت کروں گا جو بدعت پر مسلمانوں کے علمی اور اصلاحی مباحث میں اجنبیت کے ایک ایسے بیانیے میں کار فرما ہیں۔ جیسا کہ ادبی مفکر ہیدَن وائٹ (Hayden White) نے عمدگی سے بتایا ہے: "چونکہ سچائی کی ہر ایک سرگزشت میں بیانیت موجود ہوتی ہے، اس لیے ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اخلاقیات یا اخلاقی قوتِ مُحَرِّکہ بھی موجود ہوتی ہے۔۔۔۔ کیا ہم اخلاقی شکل دیے بغیر (سچائی کو) بیانیے کا روپ دے سکتے ہیں؟24"

ایسے بیانیے کی تشکیل کی ایک مؤثر اور رہ نما توضیح کے لیے میں بدعت کے تصور اور اطلاق پر سب سے زیادہ اصولی اور سب سے زیادہ تفصیلی ماقبل جدید کاوش الاعتصام پر بالاختصار بحث کروں گا۔ اس کتاب کو چودھویں صدی کے مالکی فقیہ ابراہیم الشاطبی نے تصنیف کیا ہے۔ الشاطبی سقوطِ غرناطہ سے مکمل سو سال پہلے وفات پا گئے۔ فقہ اور اصول فقہ پر ان کی کاوشیں (جیسے ان کی دوسری شان دار کتاب الموافقات) جدید مسلم فکر کے اوائل میں عمدہ ترین اور مؤثر ترین تصور کی جاتی ہیں25۔ اگر چہ تھوڑی دیر میں میں بدعت کے تعبیری پہلوؤں پر اس کی بحث کے منتخب پہلوؤں پر کلام کروں گا، تاہم یہاں پر میں الاعتصام میں اس کے شان دار تعارفی باب پر اپنی توجہ مرتکز رکھتا ہوں۔

اس تعارف میں الشاطبی نے بدعت پر اپنی کتاب  کو حضور ﷺ کی اس مؤثر حدیث پر مسلسل غور وفکر کا نتیجہ قرار دیا ہے: "اسلام کی ابتدا اجنبیت میں ہوئی، اور یہ پھر اجنبی بن جائے گا، تو اجنبیوں کے لیے خوش خبری ہے" (بدأَ الإسلامُ غريباّ وسيعود بدأ غريباًو فطوبىٰ للغُرَباء)۔ پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی تشریح سے اس حدیث نبوی کے کئی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "یہاں پر کسی کے اجنبی یا نووارد ہونے کو کئی حوالوں سے مثالی بتایا گیا ہے۔ یہ زمان ومکان کے ایک مخصوص جبر کو فرض کرتا ہے۔ ایسے سخت حالات میں سچائی کے متلاشی اکثریت کے ظلم وجبر سے دربدر اور حاشیے میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ حاشیے میں دھکیلے گئے اپنی تکالیف میں در بدر پھرتے ہیں اور ایک دوسرے سے اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔ اس در بدری کی جسمانی اور روحانی ظلم وجبر سے لے کر سیاسی اور کئی ممکنہ دیگر صورتیں ہیں"26۔ اجنبیت، جو کہ عموماً ایک خوف ناک صورت حال تصور کی جاتی ہے، در اصل الٰہی اور نبوی رحمتوں کی اس خوب صورتی سے بندھا ہوتا ہے، جو یہ حدیث بتاتی ہے۔ مزید برآں یہ ارشادِ نبوی اجنبی اوائل کے بیانیے کو ایک ایسے غائی فلسفے (teleology) سے جوڑتا ہے جو انھی اوائل کی طرف لوٹتا ہے۔ جس انداز میں یہ حدیث بیانیت اور زمنیت کو یک جا کرتا ہے، اس میں تکرار کی صفت بہت اہم ہے۔ پال ریکوئر (Paul Recoeur) نے اسے کچھ یوں بیان کیا ہے: "بیانی تکرار ابتدا کو خاتمہ اور خاتمے کو ابتدا سمجھنا ممکن بناتا ہے تاکہ زمان کو، کسی طرز عمل کے ابتدائی حالات کی تکرار کے طور پر اس کے آخری نتائج میں، پیچھے جا کر سمجھنا سیکھا جا سکے۔ اس طرح سے پلاٹ انسانی عمل کو نہ صرف یہ کہ زمان 'میں'  راسخ کرتا ہے، بلکہ یہ اسے حافظے میں بھی قائم رکھتا ہے"27۔

الشاطبی کی نظر میں حضور ﷺ کی یہ حدیث ایک مسلسل اور بار بار وقوع پذیر ہونے والی جنگ کو بیان کرتی ہے: خدائی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اپنے آبا واجداد کی رسم روایات کی پیروی کے درمیان جنگ۔

 اسی جنگ نے حضور ﷺ کو اپنے ہی سماج میں اجنبی بنا دیا، اور وہی لوگ ان پر طنز واستہزا کے تیر برسانے لگے، جو اس سے پہلے ان کے عزیز ترین دوست اور اقارب تھے۔ اس انداز میں الشاطبی نے حضور ﷺ کو دیے جانے والے مصائب میں پنہاں ذہنی اذیت کی بپتا سنائی۔ "تمام اصحاب امن نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا، ان کا عزیز ترین دوست بھی ان کے لیے درد ناک عذاب کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ان کے قریب ترین رشتہ ان کی دوستی سے سب سے زیادہ دور بھاگنے لگے۔ اور جو لوگ ان پر سب سے زیادہ مہربان تھے، وہی ان کے خلاف حد درجہ سنگ دل ہو گئے۔ تو کون سی اجنبیت اس اجنبیت کے برابر ہو سکتی ہے" (وصارَ أهلُ السِلْمِ كلُّهم حرْباً عليه، عادَ الوليُّ الـحَمِيم كالعَذاب الأَليم، فأقرَبـُهم إليه نسباً كان أبعدَ الناسِ عن مُوالاتِه، وأَلصقُهم به رحِماً كانوا أقسى قلوباً عليه، فأي غُرْبةٍ تُوازي هذه الغربة)28۔  حضور ﷺ کو اپنے مشن میں اس قسم کی مزاحمت کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ اس لیے کہ انھوں اس چیز کو چیلنج کیا "جس کے لوگ عادی بن گئے تھے"  (خرج عن معتادهم) (13)۔ سنت اور بدعت کے بیانی پلاٹ میں ایک اور اساسی چیز ان راسخ عادات کی طاقت اور ترغیب  ہے، جو احکام الہی کی مخالفت میں ہوتے ہیں۔

حضور ﷺ جزیرۃ العرب میں مشرکین اور دیگر غیر مسلموں کے درمیان طویل عرصے سے رائج عادات کے تسلسل میں مداخلت کی، اور اسی وجہ سے ان کے اصحاب کی مختصر جماعت سے لوگوں نے کنارہ کشی کی۔

لیکن اس ناگزیر دشمنی کے باوجود انھوں نے خدا کی اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا، جس نے ان میں شدید مصائب میں بھی ہمت پیدا کی، اور انھیں متحد رکھا۔ خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا یہی وہ تصور ہے جو الشاطبی کی کتاب الاعتصام (مضبوطی سے پکڑنا) کی وجہ تسمیہ بنا۔ یہ قرآن کی ایک مشہور آیت سے ماخوذ ہے: "اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور تفرقے میں مت پڑو"29۔ اس قرآنی آیت سے اپنی کتاب کا عنوان اخذ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ الشاطبی کی نظر میں سنت نبوی سے انحراف اور بدعات کا ارتکاب کسی اعتقادی یا اخروی خلاف ورزی سے بڑھ کر ہے۔ بدعت سماج کے سیاسی نظم، اتحاد اور طاقت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ الشاطبی کی نظر میں یہ انفرادی نجات اور سماجی استحکام اور ہم آہنگی کے لیے ایک دوہرا خطرہ تھا۔

 بدعت کے تباہ کن اثرات پر الشاطبی کا استدلال ایک منفرد بیانیے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد والی صدیوں میں اسلام کے ظہور کی کہانی اور اس کہانی میں اپنے مقام کو اجنبیت اور در بدری کے جذباتی تاثرات میں بیان کیا ہے۔ جیسے جیسے اسلام پھیلتا گیا، رسول اللہ ﷺ کی اس پیشن گوئی کے مطابق کہ: "میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی"،  اس میں بدعات کا اضافہ ہونے لگا،  بعینہ جس طرح اس سے پہلے یہودیت ومسیحیت کے ساتھ ہوا۔ رفتہ رفتہ لیکن حتمی طور پر اسلام کے اثرات اور وحدت متاثر ہونے لگی، کیونکہ عوام اہل سنت پر بدعات وخرافات غالب آ گئیں" (فتكالبت على سواد أهل السنة البدعة والأهواء) (15)۔

  سادہ لیکن مؤثر ترغیبی الفاظ میں الشاطبی نے اتباع سنت اور اجنبیت کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم کیا۔ "اہل حق اہل باطل کے مقابلے میں ہمیشہ کم رہے ہیں" (إن أهل الحق في جنب أهل الباطل قليل) (15)۔ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں: "کوئی طبقہ اجنبی اس وقت بنتا ہے، جب وہ اپنے اہل وعیال کو کھو دیتا ہے، یا ان کی تعداد کم ہو جاتی ہے، اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب نیکی برائی میں اور برائی نیکی میں بدل جائے، سنت بدعت کی اور بدعت سنت کی صورت اختیار کر لے30" (الغربة لا تكون إلا مع فقد الأهل أو قلتهم، وذلك حين يصير المعروف منكرًا والمنكرُ معروفًا، وتصير السنة بدعةً والبدعةُ سنةً) (15)۔

الشاطبی کی نظر میں سنت اور بدعت کے درمیان ایک معکوس تعلق ہے۔ جب بھی کوئی بدعت جنم لیتی ہے، اس کے مقابلے میں ایک سنت مر جاتی ہے" (ما من بدعة تحدُثُ إلَّا ويـَموتُ من السُنَنِ ما هو في مُقَابَلَتِها) (19)۔ انھوں نے ایک ریاضی دان کی طرح دو جمع دو چار کے انداز میں لکھا، اور اپنے نکتۂ نظر کے اثبات میں نبی اکرم ﷺ کے مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (م 687) کی روایت پیش کی ہے: "لوگوں پر ابھی ایک سال بھی نہیں گزرتا، لیکن وہ اس میں کوئی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، اور کسی سنت کو مار دیتے ہیں" (ما يأتي على الناس من عام إلا أحدثوا فيه بدعةً أو أماتوا فيه سنة) (19)۔ اس لیے الشاطبی کے نزدیک سنت کے علم برداروں کی اجنبیت پہلے سے معلوم ایک رجعت پسندانہ زمنی نمونے کی اتباع ہے۔ علما کی ہر آنے والی نسل اپنے سے پہلی نسل کے مقابلے میں اپنے اردگرد کی دنیا میں سنت نبوی کے معدودے چند آثار دیکھتی ہے۔ اس نکتے پر زور دینے کے لیے الشاطبی نبی اکرم ﷺ کے ایک قریبی صحابی حضرت ابو الدرداء (م 652) (جو اموی عہد کے دمشق کے ایک نامور عالم اور فقیہ تھے) اور ان کی بیوی ام الدرداء  کا واقعہ سناتے ہیں۔ باوجود یکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کو ابھی چند دہائیاں گزری تھیں، وہ اپنے ارد گرد کی دنیا کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ایک دن ابوالدرداء اپنے گھر میں غصے سے داخل ہوئے۔ "آپ کیوں غصے میں ہیں؟" ان کی بیوی نے پوچھا۔ انھوں نے جواب دیا: "خدا کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے امر (چھوڑی ہوئی سنتوں) میں کسی چیز کو (باقی) نہیں دیکھ رہا، سواے اس کے وہ باجماعت نماز پڑھتے ہیں" (والله ما أعرف شيئًا من أمر محمد إلا أنهم يُصلُّون جميعًا) (16)۔

 الشاطبی اپنے آپ پر اس واقعے کی بعینہ تطبیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب میں نے اپنا علمی سفر شروع کیا، اور عوام کو مخاطب کرنا شروع کیا، تو میں نے دیکھا کہ میں ہر طرف سے طرح طرح کی بدعات میں گھرا ہوا ہوں۔ جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں: "میں نے خود کو اپنے زمانے کے اکثر لوگوں میں اجنبی محسوس کیا" (وَجَدْتُ نفسي غريبًا في جمهور أهل الوقت) (16)۔ الشاطبی کی اجنبیت کی عجیب وغریب کہانی اس لائق ہے کہ اسے ان کے اپنے الفاظ میں بیان کیا جائے، کیونکہ وہ ایک بڑی حد تک بیانیت، سنت اور اجنبیت کے درمیان اس تعامل کی تصویر کشی کرتے ہیں، جس کا نقشہ میں نے ان آخری چند صفحات میں کھینچنے کی کوشش کی ہے:

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے اس پر غور کیا کہ لوگ جن چیزوں کے عادی بن گئے ہیں، میں ان کی مخالفت کی شرط پر سنت کی اتباع کروں۔ اس صورت میں یہ ناگزیر ہے کہ میرے ساتھ بھی وہی معاملہ پیش آئے جو رسوم کی مخالفت کرنے دیگر لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے، بالخصوص اس صورت میں جب ان اعمال کے مرتکبین اپنے ہی عمل کو سنت نہ کہ کوئی اور چیز سمجھتے ہوں۔ تاہم اس صورت میں مجھے ایک بھاری بھر کم بوجھ اٹھانا پڑتا، لیکن اس کے ساتھ اس کا اجر وثواب بھی بڑا تھا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ میں سنت اور سلف صالحین کی مخالفت کی شرط پر لوگوں کی اتباع کروں، جس سے میں گمراہی کے سایے تلے آ جاؤں، میں اللہ سے اس صورت کی پناہ چاہتا ہوں۔ تاہم اس صورت میں میں بدعت کی موافقت کرتا، اور مخالفین کے بجاے موافقین میں شمار ہوتا۔ (17)

آگے الشاطبی زیادہ پرزور انداز میں لکھتے ہیں: "لیکن میں نے دیکھا کہ اتباع سنت میں ہلاکت  میں ہی نجات ہے" (رأيت أن الهلاك في اتباع السنة هو النجاة)۔ اور یہ کہ لوگ مجھے اللہ کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ اس لیے میں نے بعض مسائل میں تدریج سے کام لینا شروع کیا تو میرے خلاف قیامت کھڑی کی گئی، اور مجھ پر مسلسل لعنت ملامت ہونے لگی۔  عتاب اپنے تیر میری طرف پھینکنے لگا، اور میری طرف بدعت وضلالت کی نسبت ہونے لگی، اور مجھے جاہلوں اور کند ذہنوں کا مرتبہ دیا گیا (فقامت على القيامة، وتواترت على الملامة، وفوّق إليّ العتاب سهامه، ونسبت إلى البدعة والضلالة، وأنزلت منزلة أهل الجهل والغباوة) (17)۔

الشاطبی نے ایک لے میں اپنی بلند ہمتی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دعوی کیا: "میں مسلسل ان بدعات کے پیچھے لگا رہا جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ کی، اور ان سے ڈرایا ہے۔۔۔۔۔ اور میں ان سنتوں کی تلاش کرتا رہا، جس کی روشنی ان بدعات کی وجہ سے بجھنے کے قریب تھی، تاکہ میں اپنے عمل سے ان کی چمک بحال کروں، اور قیامت کے دن ان کو زندہ کرنے والوں میں شمار ہو جاؤں" (أبحث عن السنن التي كادت تطفئ نورها تلك المحدثات، لعلي أجلو بالعمل سناها) (19)۔

دیکھیے الشاطبی نے کس طرح اپنے علمی کاوشوں کا بیانیہ ترتیب دیا، گویا کہ سیرتِ نبوی بیان کر رہے ہیں۔ بدعت کو بیانیے کے روپ میں بیان کرنا رسول اللہ ﷺ کے ایک وارث اور نبوی اختیار کی حیثیت سے اس کے اپنے مذہبی استناد کی تشکیل کے ساتھ گہرے طور پر مربوط تھا۔ کارِ نبوت کے ابتدائی دور میں رسول اللہ ﷺ کی طبعی، جذباتی اور نفسیاتی اجنبیت کی مثال راہ سنت میں کسی شخص کے مقام کو متعین کرتی ہے۔  بالفاظِ دیگر اجنبیت کا استعارہ زمانی دائرے میں تاریخ کے درست سمت میں کھڑے ہونے اور اخروی دائرے میں نجات پانے پر دلالت کرتی ہے۔ سب سے اہم یہ کہ ہر عہد میں وارثینِ نبوت کو اسی طرح کی اجنبیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حضور ﷺ کے صحابی حضرت اویس قرنی (م 657) نے، جن کی طرف شیخ کی طبعی موجودگی کے بغیر اس کے ساتھ روحانی تعلق یا ارادت قائم کیے جانے کے معروف صوفی عمل (طریقۂ اویسیہ) کی نسبت کی جاتی ہے، اس تصور کا خلاصہ بہترین انداز میں بیان کیا ہے: "نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے سے کوئی شخص مومن کا دوست نہیں رہتا" (إن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لم يَدَعْ للمؤمنِ صديقًا) (19)۔


حواشی

  1.   مدون: جیرِمی کیرٹ، Religion and Culture میں شامل مشل فوکو، A Preface to Transgression (نیو یارک: روٹلج، 1999)، 60۔
  2.   میری ڈوگلس، Purity and Danger (لندن: روٹلج، 2002)، 50۔
  3.   محی الدین النووی، الاربعین (قاہرہ: مکتبۃ الخانجی، 2005)، 5-7۔
  4.   ماریبل فائرو، The Treatises against Innovations (kutub al-bida’)، Der Islam 68، شمارہ نمبر 1 (1992): 204 – 46۔ یہ مثالیں صفحہ 211 – 16 اور 220 پر موجود ہیں۔
  5.   Voices of Islam، جلد 5، مدون: امید صافی (ویسٹ پوسٹ، سی ٹی: پریجر، 2007) میں عمر فاروق عبد اللہ کا مقالہ بعنوان: Creativity, Innovation and Heresy in Islam، ص 15۔
  6.   یہاں پر میں اسلام میں بدعت سے متعلق مہران کامراوا کے نقطۂ نظر سے شدید اختلاف رکھتا ہوں۔ اس نے اپنی مرتب کردہ کتاب Innoavation in Islam  میں بدعت کو اصلاح کی متقاضی "غالب قدامت پسندانہ بے مقصدیت" کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ "تخلیق وایجاد کی راہ میں رکاوٹوں" کی نشان دہی کے بجائے، جس کا مقصد ان پر قابو پانا ہو، تجزیاتی اعتبار سے کہیں زیادہ یہ کاوش مفید ہے کہ سنت وبدعت اور کفر وضلالت کے ان حریف تصورات کی تحقیق کی جائے جو استنادی مباحثوں اور مناقشوں کی مخصوص صورتوں میں بدعت کی اصطلاح پر مرتکز ہیں، یا اس اصطلاح سے پھوٹتے ہیں۔ ایسا طرز فکر ممکن ہے کہ اس طرح کے غلط سوالات کی تشکیل کو روکے کہ "مغرب کیوں کر ترقی یافتہ اور جدید بنا، جب کہ مسلم دنیا پیچھے رہ گئی؟" یا ایسے فضول عمومی تہذیبی دعووں کی بیخ کنی کرے کہ: "وہ دن گئے جب ریاضی، فلکیات، توپ سازی، صنعت، دواسازی، فلسفہ اور طبیعیات میں مسلمانوں کے کارنامے یورپ کے سائنسی انقلاب کے لیے راہ ہموار کرتے اور اس کی بنیاد کا کام کرتے۔ اسلام کا اپنا داخلی سائنسی انقلاب ختم ہو گیا، اس میں دریافت کی روح پژمردہ ہو گئی، اور عالمی تہذیب میں اس کا کردار اب یورپ سے بہت کم تر ہو گیا ہے"۔ ایسی باتیں سراسر مضحکہ خیز ہیں۔ مہران کامراوا، مدوِّن، Innovation in Islam: Traditions and Contributions (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 2011)، صفحہ نمبر 1 اور 3۔
  7.  محمد قاسم زمان، Islam in Modern South Asia (آکسفرڈ: ون ورلڈ پبلیکیشنز، 2008)، 17۔
  8.   ایضاً، 30۔
  9.   تھانوی کے علمی تراث کو تاریخی ترتیب کے ساتھ تین مقالوں میں عمدگی کے ساتھ زیر بحث لایا ہے: درخشان خان، Fashioning the Pious Self: Middle Class Religiosity in Colonial India (پی ایچ ڈی مقالہ، یونیورسٹی آف پینسلوینیا، 2016)؛ علی میاں، Surviving Modernity: Ashraf Ali Thanvi and the Making of Muslim Orthodoxy in Colonial India (پی ایچ ڈی مقالہ، ڈیوک یونیورسٹی، 2015)؛ فریحہ خان، Traditionalist Approaches to Shari’ah Reform: Molana Asharaf Ali Thanwi’s Fatwa on Women’s Right to Divorce (پی ایچ ڈی مقالہ، یونیورسٹی آف مشیگن – این آربر، 2008)۔
  10.  کرسٹین کورسگارڈ، The Sources of Normativity (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1996) 8، 9۔
  11.  دیکھیے بریٹ ولسن، Failure of Nomenclature: The Concept of Orthodoxy in the Study of Islam، کمپیریٹو اسلامک سٹڈیز 3، نمبر 2 (2007): 169 – 94۔
  12.  رابرتو ایسپزیتو، Two: The Machine of Political Theology and the Place of Thought (نیو یارک: فوردھام یونیورسٹی پریس، 2016)۔
  13.  میں اروند منڈیر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اسپزیتو کی کتاب کی طرف مجھے توجہ دلائی۔
  14.  اسپزیتو، Two، 23۔
  15.  اروند منڈیر، Decolonizing Secularism’s ‘Conceptual Matrix’، کمپیریٹو سٹڈیز آف ساؤتھ ایشیا، افریقا اور دی مڈل ایسٹ 38، نمبر 2 (2018): 443 – 51۔
  16.  دیکھیے اروند منڈیر، Religion and the Specter of the West: Sikhism, India, Postcoloniality, and the Politics of Translation (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009)۔
  17.  مثلا دیکھیے: رابرٹ لینگر اور اوڈو سائمن، The Dynamics of Orthodoxy and Heterodoxy: Dealing with Divergence in Muslim Discourses and Islamic Studies، ڈائی ویلٹ ڈیس اسلامز: انٹرنیشنل جرنل فار دا سٹڈی آف ماڈرن اسلام 48، اشاعت ¾ (2008): 273 – 88۔
  18.  گل انیدجر، Blood: A Critique of Christianity (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2016)۔ اپنی شاہ کار کتاب What is Islam? The Importance of Being Islamic میں شہاب احمد نے شریعت کے بارے میں میرے ایک سابقہ نظریے پر -میری نظر میں صحیح۔ توضیح کی ہے کہ مسلم فکر اور تاریخ میں شریعت کی تنفیذ صرف اور صرف علما کا دائرہ نہیں (اگر چہ وہ اس معاملے میں کسی حد تک علما کے کردار کی اہمیت کو گھٹاتے ہیں)۔ اس توضیح نے میری تعبیر کی ترتیبِ نو کو بہتر بنانے میں مجھے فائدہ دیا۔ تاہم میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ راسخ العقیدگی پر میری تنقید میں شریعت کا مصدر (اختصاصی علم/ اقتدار وغیرہ) میرا مرکزی نکتہ نہیں تھا۔ اس سے کہیں زیادہ میرے استدلال کا بنیادی مقصد یہ کوشش تھا کہ بین المسالک اختلافات کو ان فکری سانچوں کے خوف ناک حصار سے آزاد کراؤں، جو سیکولر سیاسی الہیات کی حرکیات کو قائم رکھتے اور آگے بڑھاتے ہیں، جیسا کہ میں نے اوپر واضح کیا۔ تاہم جاتے جاتے میں یہ واضح کردوں کہ راسخ العقیدگی کی اصطلاح سے شہاب احمد کی وابستگی بادی النظر میں ایک حد تک حیران کن اور پہیلی جیسا معلوم ہوتا ہے۔ کیا اس کی کتاب کا مرکزی نکتہ اسلام میں راسخ العقیدگی کی غالب اور فقہی تناظر کی تفہیمات کو تہہ وبالا کرنے کا قابل قدر پروجیکٹ نہیں؟ لیکن زیادہ گہرے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ راسخ العقیدگی کی اصطلاح اور اس سے توقع کو ترک کرنے میں اس کی ہچکچاہٹ حقیقت میں اس قدر حیرت انگیز نہیں۔ کیوں کہ اس کی کتاب کا ایک اور بنیادی خیال راسخ العقیدگی کے ایک تصور (جو فقہی تناظر پر مبنی ہے) کو ایک دوسرے تصور (جس کی بنیاد محبت، فلسفے، شاعری وغیرہ ہے) سے بدلنا ہے۔ حریف راسخ العقیدگی کا یہ تصور خاص طور پر اس کے کھلے عام لفظوں میں تاریخیت اور تجربیت پر مبنی متعدد دعووں میں سامنے آیا ہے، جس کی رو سے مسلمانوں کے لیے مخصوص کتابوں اور مصنفین کی "مرکزیت" اور "اثرات" کو معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کتنی بار اس کتاب کا حوالہ دیا گیا، یا اس کے قارئین کتنی تعداد میں تھے (احمد، What is Islam، 7 – 106)۔ راسخ العقیدگی کی غالب تفہیمات کو ختم کرنے جب کہ اس کے پے بہ پے راسخ العقیدگی کی نئی عمارتیں تعمیر کرنے کی متناقض خواہش وہ بنیادی فکری تضاد ہے، جو اس کی پوری کتاب میں نمایاں ہے۔
  19.  پائرے بوردیو، The Logic of Practice (Stanford, CA: Stanford University Press, 1990)، 54۔ جان لیجیے کہ اجماع (doxa) اور راسخ العقیدگی (orthodoxy) کسی طرح بھی ایک نہیں۔
  20.  ایضاً، 55۔
  21.  ایضاً۔
  22.  پائرے بوردیو، Outline of a Theory of Practice (سٹینفرڈ، سی اے: سٹینفرڈ یونیورسٹی پریس، 1990)، 166۔
  23.  بوردیو، Logic of Practice، 60 – 61۔
  24.  مدون: ڈبلیو جے ٹی مچل، On Narrative (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 1980) میں ہیدن وائٹ کا آرٹیکل، The Value of Narrativity، 22 – 23۔
  25.  الشاطبی اور ان کی قانونی فکر کے لیے مزید ملاحظہ کیجیے: خالد مسعود، Shatibi’s Philosophy of Islamic Law (کوالالمپور: اسلامک بک ٹرسٹ، 2002)۔
  26.  ابراہیم موسی، Ghazali and the Poetics of Imagination (چیپل ہل: یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا پریس، 2005) 43۔
  27.  پال ریکوئر، Narrative Time، مچل کے On Narrative میں، 179۔
  28.  ابراہیم الشاطبی، الاعتصام (بیروت: دار الکتاب العربی، 2005)، 13۔ اس کتاب کے دیگر حوالے بھی اسی اشاعت سے ہیں، اور متن کے اندر بین القوسین درج کیے گئے ہیں۔
  29.  القرآن 3 : 103۔
  30.  یہاں پر میں نے منکر کے معروف تراجم جیسے 'برائی'، 'غلط' اور 'مردود'  نے نہیں کیا۔ اس کے بجاے میں نے اسی معنی میں بامحاورہ ترجمہ کیا ہے، جو الشاطبی کا مقصود ہے، یعنی "خلافِ سنت اور عوام میں رائج اور مقبول"31۔ دیکھیے: اشرف علی تھانوی، اصلاح الرسوم (لاہور: ادارۂ اشرفیہ، 1958) اور شاہ محمد اسماعیل، ایضاح الحق (کراچی: قدیمی کتب خانہ، 1976)۔

(جاری)