اگست ۲۰۲۲ء

خانگی تنازعات- تمام فریقوں کی تربیت کی ضرورتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ سنن النسائی (۱)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
مولانا عتیق الرحمن سنبھلیؒ کی صحافتمحمد اویس سنبھلی 
قومی و دینی خود مختاری کی جدوجہد اور علماء کراممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۸)ڈاکٹر شیر علی ترین 

خانگی تنازعات- تمام فریقوں کی تربیت کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

(خانگی تنازع سے متعلق ایک عزیزہ کے استفسار پر یہ معروضات پیش کی گئیں۔ شاید بہت سی دوسری بہنوں کے لیے بھی اس میں کوئی کام کی بات ہو، اس لیے یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔)


آپ کے معاملات کے متعلق جان کر دکھ ہوا۔ اللہ تعالی بہتری کی سبیل پیدا فرمائے۔

جہاں تک مشورے کا تعلق ہے تو ناکافی اور یک طرفہ معلومات کی بنیاد پر یہ طے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کہاں کس فریق کی غلطی ہے۔ دیانت دارانہ مشورہ، ظاہر ہے، وہی ہو سکتا ہے جس میں کسی ممکنہ غلطی کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ کیا جائے۔ لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ آپ کی کیا انڈرسٹینڈنگ تھی اور پھر کہاں کس کی طرف سے خرابی شروع ہوئی۔

البتہ عمومی مشاہدے کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سسرال سے الگ گھر میں آزادانہ رہنے کی خواہش اگرچہ فطری اور کافی حد تک بجا ہے، لیکن ہمارے معروضی حالات میں بسا اوقات مرد کے لیے کئی اسباب سے اس کا انتظام ممکن نہیں ہوتا۔ مرد پر بیوی بچوں کے ساتھ بوڑھے ماں باپ کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اگر ماں باپ کے پاس کسی کے رہنے کا کوئی انتظام نہیں اور بیوی بھی اس ذمہ داری میں کسی قسم کا ہاتھ بٹانے سے انکار کر دے تو مرد دوہری مشکل میں پڑ جاتا ہے جس کا اثر بدیہی طور پر بیوی بچوں کے ساتھ رشتے پر بھی پڑتا ہے۔ معاش کی ذمہ داریاں ویسے ہی بہت بھاری اور ناقابل برداشت ہو گئی ہیں اور ان مختلف قسم کے بوجھوں تلے کسی آدمی کے لیے معمول کی نفسیاتی زندگی بسر کرنا آج کے دور میں ممکن نہیں رہا۔ یہ صورت حال زیادہ تقاضا کرتی ہے کہ باہمی رشتوں میں ایک دوسرے کی مجبوریوں اور حالات کو ہمدردانہ سمجھنے کی کوشش کی جائے اور باہمی تعاون اور ایثار کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اس لحاظ سے اگر سسرال میں آپ کے ساتھ کوئی کھلی بدسلوکی نہ کی جا رہی ہو تو میرا مشورہ یہی ہوگا کہ سردست الگ رہائش کا مطالبہ چھوڑ کر اپنی استطاعت کے مطابق کچھ ذمہ داریاں اٹھاتے ہوئے سسرال کے ساتھ رہنا قبول کریں۔ اگر ذمہ داریوں کا بوجھ ناقابل تحمل ہو تو اس پر بے شک اسٹینڈ لیں اور کہیں کہ میں اس حد تک ذمہ داری لے سکتی ہوں، اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن پھر جو ذمہ داری لیں، اس کو خوش دلی اور خلوص کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا اور استخارہ بھی کریں کہ آپ کو بہتر فیصلہ کرنے کی توفیق اور راہ نمائی عطا فرمائے۔ آمین


خانگی ذمہ داریوں میں شوہر کا ہاتھ بٹانے کے ضمن میں اوپر جو معروضات پیش کی گئی ہیں، ان کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو اتنا ہی اہم ہے۔ ماں باپ سے متعلق ذمہ داریوں کی ادائیگی میں حسب ضرورت شوہر کی معاونت کرنا ایک الگ معاملہ ہے اور بیٹے کی بیوی کو پورے سسرال کی خادمہ سمجھنا ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔ دونوں کو قطعاً‌ کنفیوز نہیں کرنا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر کے والدین کو واقعتاً‌ خدمت وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے یا اس کا انتظام الگ سے موجود ہے تو پھر بہو کو لازماً‌ ساس سسر کے ساتھ ہی رکھنا اور ان کی طرف سے اس کو اپنا استحقاق سمجھنا، غیر صحت مند رویہ ہے۔ یہ توقع دراصل مشترک خاندانی نظام کے روایتی کلچر سے پیدا ہوتی ہے جس میں لڑکی کی شادی صنفی تعلق کی حد تک تو لڑکے سے ہوتی ہے، لیکن اس کے حقوق، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین پورا سسرال کرتا ہے اور ان سب کو خوش رکھنا ایک اچھی بہو کے فرائض میں شامل سمجھا جاتا ہے۔  یہ قطعاً‌ ناروا رویہ ہے اور ناچاقی کے اسباب میں زیادہ تر اسی طرح کے اسباب کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں تینوں فریقوں کی تربیت کی ضرورت ہے۔

  1. ساس سسر اور دیگر سسرالی رشتہ داروں کو یہ سکھانا چاہیے کہ نکاح کا رشتہ میاں بیوی میں قائم ہوا ہے اور اپنے باہمی معاملات کو طے کرنا انھی کا اختیار ہے۔ شوہر کے رشتہ داروں کو گھر میں اپنی حیثیت کی وجہ سے میاں بیوی کے معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے اور نہ بہو کو باقی اہل خانہ کی نیم منکوحہ کا درجہ دے کر اس سے معاملہ کرنا چاہیے۔
  2. شوہروں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ انھیں اپنی دو طرفہ ذمہ داریوں میں ایک توازن قائم کرنا ہے اور اس کے لیے وہ اگر ابتدا ہی سے میاں بیوی کے معاملات میں اپنے اختیار کو جتانا اور استعمال کرنا شروع کر دیں تو تھوڑے بہت تناؤ کے بعد ایک مناسب توازن قائم ہو جائے گا۔ اگر وہ معاملے کو بیوی اور سسرالی رشتہ داروں کے درمیان چھوڑ دیں گے تو بگاڑ زیادہ ہوگا اور پھر اس کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ توازن قائم کرنے کی ذمہ داری کا ایک لازمی حصہ دونوں طرف سے شکایتوں کی زد میں رہنا بھی ہے۔ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں اور یہ توقع نہ کریں کہ کوئی بھی فریق آپ کو انصاف یا فیئرنیس کا تمغہ دے گا۔
  3. بیویوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے توقعات کے اس دباؤ میں حکمت کے ساتھ اپنے حق اور اختیار کے لیے اسٹینڈ بھی لیں، شوہر کی پوزیشن کو بھی ملحوظ رکھیں اور معروف کے حدود میں سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلق استوار کریں۔ یہ سب چیزیں ممکن ہیں اگر ہم بچیوں کو شادی سے پہلے درست اور ضروری راہنمائی فراہم کریں اور تعلقات کو بنانے کا ہنر ان کو سکھائیں۔

اقلیتوں کے مذہبی جذبات  کے احترام اور آئینی حقوق کی بحث

کچھ عرصہ قبل والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے،  ہمارے ہاں مروج مذہبی انداز گفتگو کے تناظر میں  اہل علم کے سامنے یہ سوال رکھا تھا کہ

"ہمارا بین الاقوامی اداروں سے یہ مطالبہ ہے جو درست بلکہ ضروری ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی اہانت کو قابل سزا جرم تسلیم کیا جائے مگر یہ بات ہمیں پیش نظر رکھنا ہوگی کہ اگر بین الاقوامی اداروں نے یہ بات مان لی تو وہ انبیاء کرام کی فہرست ہم سے نہیں مانگیں گے بلکہ جس شخص کو بھی دنیا کی آبادی کا کوئی حصہ نبی مانتا ہے، اس کی اہانت جرم قرار پائے گی اور پھر دیکھ لیں کہ مقدمات کی زد میں کون زیادہ آئے گا؟"

بعض حضرات نے اس سوال کو یہ مفہوم پہنانے کی کوشش کی ہے کہ والد گرامی نے گویا اپنی طرف سے یہ "تجویز" دی ہے کہ مرزا صاحب کا نام بین الاقوامی سطح پر قابل احترام انبیاء کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ظاہر ہے، یہ بات درست نہیں۔ اس حوالے سے مذہبی ذہن کو جو بنیادی الجھن درپیش ہے، اس کی وجہ اس سوال پر غور نہ کرنا ہے  کہ موجودہ سیکولر دنیا میں بین الاقوامی سطح پر مختلف مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کو قانونی سدباب کا موضوع بنانے کی اساس کیا ہو سکتی ہے۔

اس ضمن میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ توہین مذہب پر مواخذہ کا جو قانون مذہبی واعتقادی اساس پر مبنی ہے، اس کا تعلق مسلمان حکومتوں کے داخلی دائرہ اختیار سے ہے اور اس دائرے میں ہم اس قانون کو ان انبیاء تک محدود رکھ سکتے ہیں جن پر مسلمان ایمان رکھتے ہیں۔ دیگر مذاہب کو بھی توہین وتحقیر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے، لیکن اس کی قانونی بنیاد مختلف ہے۔ اسی لیے ہمارے ضابطہ تعزیرات میں 295 بی اور 295 سی کی الگ الگ شقیں رکھی گئی ہیں۔

تاہم بین الاقوامی سطح پر کسی قانونی بندوبست کی بنیاد ظاہر ہے، مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہوگا، بلکہ مشترک انسانی اخلاقیات ہوگی اور اس لحاظ سے سچے یا جھوٹے نبیوں کے فرق کا سوال اٹھائے بغیر تمام مذہبی گروہوں کے لیے مذہبی جذبات مجروح کیے جانے کے خلاف تحفظ کا حق قبول کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر اس موقف سے ہی دستبرداری اختیار کرنی ہوگی کہ کسی مذہبی شخصیت کی توہین کو جرم قرار دیا جائے۔

ہمارے ہاں اس بحث میں جو غلط فہمی  پیدا ہو رہی ہے، وہ اسی نکتے کو سمجھے بغیر ہو رہی ہے اور نتیجتاً‌ ایک خاص انداز کے مذہبی ذہن کے عقل وفہم کی سطح کو ایکسپوز کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

اسی نوعیت کی غلط فہمی   قادیانیوں پر عائد کی گئی بعض قانونی پابندیوں کے تناظر  میں بطور اقلیت  قادنیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی عام ہے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ نے ایک حالیہ فیصلے میں (جس کا ترجمہ ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کے قلم سے الشریعہ کے جون ۲۰۲۲ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے) قانون میں احمدیوں پر عائد کی گئی اس پابندی کی تشریح کرتے ہوئے کہ وہ شعائر اسلام کو استعمال نہیں کریں گے، کہا گیا ہے کہ:

’’ہمارے ملک کی کسی غیر مسلم (اقلیت) کو اس کے مذہبی عقائد ماننے سے محروم رکھنا، اسے اپنی مذہبی عبادت گاہ کی چاردیواری کے اندر اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کے اظہار سے روکنا ہمارے جمہوری دستور کی اساس کے بھی خلاف ہے اور ہماری اسلامی جمہوریہ کی روح اور کردار کے بھی منافی ہے۔ یہ انسانی تکریم کو بھی بری طرح مسخ اور پامال کرتا ہے اور کسی غیر مسلم اقلیت کی حقِ خلوت (پرائیویسی) کو بھی، جبکہ وہ دستور کی رو سے ملک کے دیگر شہریوں کی طرح برابر کے حقوق اور حفاظتیں رکھتے ہیں۔ ہماری اقلیتوں کے ساتھ عدم برداشت کا رویہ پوری قوم کی غلط تصویر کشی کرتا ہے اور ہمیں غیر متحمل مزاج، متعصب اور غیر لچکدار دکھاتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی دستوری اقدار اور مساوات اور برداشت کے متعلق بہترین اسلامی تعلیمات اور روایات کو قبول کرلیں۔“

عدالتی تشریح کی رو سے قانون نے احمدیوں پر یہ پابندی نہیں لگائی کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو مسلمان نہ سمجھیں یا اپنی عبادت گاہوں کے اندر بھی وہ عبادات ادا نہ کریں جن کو وہ اپنے عقیدے کی رو سے ضروری سمجھتے ہیں۔ عبادت گاہوں یا چار دیواری کے اندر وہ جو بھی عمل بجا لانا چاہیں، لا سکتے ہیں، چاہے وہ اسلام کے شعائر ہوں۔ اس سے ان کو روکنے یا ان کے خلاف توہین شعائر اسلام کے مقدمے درج کروانے کا، قانون اور آئین سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہبی تنظیموں  اور ان کے کارکنوں  کو   یہ فرق پیش نظر رکھنا چاہیے۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(346) الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی

تَنْزِیلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَی۔ الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی۔ (طہ: 4، 5)

”یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمے میں ’جو رحمان‘ درست نہیں ہے۔ یا تو کہیں ’جو رحمان ہے‘، یا کہیں ’رحمان جو۔۔۔‘ کیوں کہ رحمان تو صرف خدا کی ذات ہے، ایک سے زیادہ رحمان تو ہیں نہیں۔ یہاں خالق کی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ رحمن ہے اور دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ وہ عرش پر متمکن ہے۔

”رحمان، جو عرش حکومت پر متمکن ہے“۔(امانت اللہ اصلاحی)

”جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(347)  أَکَادُ أُخْفِیہَا کا ترجمہ

إِنَّ السَّاعةَ آتِیةٌ أَکَادُ أُخْفِیہَا لِتُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَی۔ (طہ: 15)

اس آیت میں أَکَادُ أُخْفِیہَا کا مختلف طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، بعض لوگوں نے فعل مقاربہ کا ترجمہ کیا ہے، جیسے:

”تحقیق قیامت آنے والی ہے نزدیک ہے کہ چھپا ڈالوں میں اس کو تو کہ بدلہ دیا جاوے ہر جی ساتھ اس چیز کے کہ کرتا ہے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے“۔ (احمد رضا خان، أَکَادُ مضارع ہے اور ماضی کا ترجمہ کیا ہے جو درست نہیں ہے)

زمانی مقاربہ کا ترجمہ کرنے میں اشکال یہ ہے کہ اس سے مطلب واضح نہیں ہوتا۔ کیوں کہ قیامت کو تو اللہ نے واقعی مخفی رکھا ہوا ہے پھر یہ کہنے کا کیا مدعا ہے، کہ قریب ہے کہ میں اسے چھپاؤں؟ آیت کا اسلوب بتارہا ہے کہ یہاں زمانی مقاربہ مراد نہیں ہے۔

بہت سے لوگوں نے أَکَادُ أُخْفِیہَا کا ترجمہ کیا ہے ’میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں‘، جیسے:

”قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے“۔ (سید مودودی)

”قیامت یقینا آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”قیامت یقینا آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں مشکل یہ ہے کہ أَکَادُ کے معنی أرید نہیں آتے ہیں، بعض مفسرین نے یہ معنی ذکر کیے ہیں، لیکن اس کی پشت پر مضبوط دلیل نہیں ملتی ہے۔ جو مثالیں ذکر کی گئی ہیں  وہ اس سلسلے میں صریح نہیں ہیں۔

بعض لوگوں نے أَکَادُ کو زائد برائے تاکید مان کر ترجمہ کیا ہے (قدیم مفسرین نے اس کی گنجائش بھی ذکر کی ہے)، جیسے:

”قیامت مقرر آنی ہے میں چھپا رکھتا ہوں اس کو کہ بدلا ملے ہر جی کو جو وہ کماتا ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”بے شک قیامت شدنی ہے۔ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں گا تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے“۔ (امین احسن اصلاحی)

مفہوم کے لحاظ سے یہ ترجمہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، مقاربہ کا زمانی مفہوم یہاں موزوں معلوم نہیں ہوتا۔ البتہ مقاربہ کا ایک اور مفہوم یہاں مراد ہوسکتا ہے اور وہ اس فعل کا ممکن ہونا ہے۔ جو چیز ممکن ہوتی ہے وہ بھی ایک طرح سے قریب ہوتی ہے، زمانی لحاظ سے نہیں مگر امکانی لحاظ سے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:  

”قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے، عین ممکن ہے کہ میں اسے مخفی رکھوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے“۔

اس ترجمے کی خوب صورتی واضح طور سے محسوس کی جاسکتی ہے۔

(348)  أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا

قَالَ ہِیَ عَصَایَ أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا۔ (طہ: 18)

”موسیٰؑ نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں“۔ (سید مودودی)

”بولا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیکتا ہوں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

پہلے ترجمے میں ایک کمزوری یہ ہے کہ أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا کا ترجمہ کیا ہے ’اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں‘۔ ایک تو حضرت موسی اس وقت بوڑھے نہیں تھے کہ لاٹھی پر ٹیک لگاکر چلیں۔ دوسری بات یہ کہ اس ترجمے سے لاٹھی کا محض ایک استعمال سامنے آتا ہے، جب کہ ’ٹیک لگاتا ہوں‘ اگر ترجمہ کریں، جیسا کہ دوسروں نے کیا ہے تو ٹیک لگانے کی تمام صورتیں شامل ہوجائیں گی۔ چلنا بھی اور کھڑے ہونا بھی۔

(349) وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً أُخْرَی

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً أُخْرَی۔ (طہ: 37)

”اور احسان کیا ہے ہم نے تجھ پر ایک بار“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا“۔ (سید مودودی)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جس احسان کا تذکرہ ہے وہ کون سا احسان ہے، وہ احسان جو اَب کیا ہے، یا وہ احسان جو پہلے کیا تھا؟

سیاق کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ ماضی میں کیے گئے احسان کا ذکر ہے۔ پہلے فرمایا: قَالَ قَدْ أُوتِیتَ سُؤْلَکَ یَامُوسَی۔ (طہ: 36)  اے موسی تم نے جو مانگا تمھیں دے دیا گیا۔ اس کے بعد وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً أُخْرَی (طہ: 37)  کہہ کرماضی کا احسان یاد دلایا، اس جملے کو واو سے شروع کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے احسان کی بات ہے۔ پھر إِذْ سے جملہ شروع کرکے اس احسان کی تفصیل ذکر کی، اگر یہ اس کی تفصیل نہ ہوتی تو یہاں إِذْ سے پہلے واو آتا: إِذْ أَوْحَیْنَا إِلَی أُمِّکَ مَا یُوحَی (طہ: 38)

(351) صنع کا ترجمہ

صنع کا جامع معنی تو ’کرنا‘ہے، ’بنانا‘ بھی اس کا ایک معنی ہے کیوں کہ وہ بھی انسانی فعل کی ایک قسم ہے۔

راغب أصفہانی نے فعل اور صنع کے درمیان لطیف فرق بیان کیا ہے:

الصنع إجادۃ الفعل، فکل صنع فعل ولیس کل فعل صنعا، ولا ینسب إلی الحیوانات والجمادات کما ینسب إلیہا الفعل۔ (المفردات)

غرض صنع کا مطلب کرنا اور بنانا دونوں ہے، ایسے میں سیاق کلام کی روشنی میں مناسب مفہوم متعین کرنا ہوتا ہے۔

ترجمہ کرتے ہوئے بعض مقامات پر اس پہلو کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔

درج ذیل تمام مقامات پر صنع کا مطلب کرنا ہے، بنانا یا تیار کرنا نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے یکساں تعبیروں کے الگ الگ ترجمے کیے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس نکتے کی رعایت نہیں کرسکے۔ بنانے اور کرنے میں فرق یہ ہے کہ بنانا کرنے کے مقابلے میں زیادہ محدود ہے، جب ہم ’کرنا‘ترجمہ کرتے ہیں تو وسیع تر معنی سامنے آتا ہے۔ بعض انگریزی تراجم میں بھی یہ غلطی نظر آتی ہے، جیسا کہ ذیل میں مثالیں ہیں۔ designs، contrive، handiwork جیسے الفاظ صنع کے مفہوم کو محدود کردیتے ہیں۔ deeds اور اس کے ہم معنی الفاظ زیادہ مناسب ہیں۔

(۱) وَأَلْقِ مَا فِی یَمِینِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا کَیْدُ سَاحِرٍ۔ (طہ: 69)

”اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جاوے جو انھوں نے بنایا ان کا بنایا تو فریب ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادوگر کا فریب ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کووہ نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

قابل غور بات یہ ہے کہ وہ کچھ بناکر نہیں لائے تھے، اور نہ وہیں انھوں نے کچھ بنایا تھا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی إِنَّمَا صَنَعُوا کَیْدُ سَاحِرٍ کا ترجمہ کرتے ہیں:

”جوکچھ انھوں نے کیا ہے یہ تو جادوگر کا کرتب ہے۔“

(۲) وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیہَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (ہود: 16)

”اور مٹ گیا جو کیا تھا اس جگہ اور خراب ہوا جو کماتے تھے“۔ (شاہ عبد القادر)

”(وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے“۔ (سید مودودی، دنیا میں بنایا نہیں بلکہ کیا)

”اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے“۔ (احمد رضا خان)

Vain are the designs they frame therein, (Yusuf Ali)
Their deeds in the world have come to naught (Maududi)

اردو میں بنایا ہے انگریزی میں deeds  کردیاہے، انگریزی والا درست ہے۔

(All) that they contrive here is vain (Pickthall)

(۳) وَلَذِکْرُ اللَّہِ أَکْبَرُ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔ (العنکبوت: 45)

”اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو“۔ (سید مودودی)

”اور اللہ جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم“۔ (شاہ رفیع الدین)

(۴) وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمُ اللَّہُ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ۔ (المائدۃ: 14)

”اور آخر جتادے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے تھے“۔(شاہ عبدالقادر)

”اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں“۔ (سید مودودی، کرتے رہے نہ کہ بناتے رہے)

And ultimately Allah will tell them what they had contrived (Maududi)
Allah will inform them of their handiwork. (Pickthall)

(۵) وَضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا قَرْیَةً کَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً یَأْتِیہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّہِ فَأَذَاقَہَا اللَّہُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ۔ (النحل: 112)

”اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں“۔ (سید مودودی)

(۶) لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَصْنَعُونَ۔ (المائدۃ: 63)

”یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں“۔ (سید مودودی، تیار کرنا موزوں نہیں ہے)

”بے شک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کیا برے عمل ہیں جو کررہے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”واقعی ان کی یہ عادت بری ہے“۔ (اشرف علی تھانوی، عادت ترجمہ کرنا درست نہیں ہے)

Indeed they have been contriving evil. (Maududi)
Verily evil is their handiwork (Pickthall)

(۶) قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ أَزْکَی لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ۔ (النور: 30)

”اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے“۔ (سید مودودی)

”اللہ کو خبر ہے جو کرتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

(۷) إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ بِمَا یَصْنَعُونَ۔ (فاطر: 8)

”جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے“۔ (سید مودودی)

”اللہ کو معلوم ہے جو کرتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

(352) أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَی

وَلَتَعْلَمُنَّ أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَی۔ (طہ: 71)

اس جملے میں دو تعبیریں غور طلب ہیں، ایک ہے أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا، اور دوسری ہے أَبْقَی۔ أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور موسی کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت ہے۔ کیوں کہ موسی خود عذاب دینے کے دعوے دار تو تھے نہیں، وہ تو اللہ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے جب کہ دوسری طرف فرعون خود عذاب دینے کا دعوے دار تھا۔ اس لیے جملے کا یہ مطلب درست نہیں ہوگا کہ موسی اور فرعون میں سے کون زیادہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ درست مطلب یہ ہوگا کہ اللہ اور فرعون میں سے کون زیادہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

اس آیت میں أَبْقَی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اور فرعون میں سے کون زیادہ دیر تک باقی رہنے والا ہے، کیوں کہ یہ مسئلہ نہ تو زیر بحث تھا اور نہ ہی اسے ثابت کیا جاسکتا تھا۔ یہ تو فرعون کی طرف سے دھمکی تھی کہ اس کا عذاب بہت سخت اور دیرپا ہوگا۔ یہاں أَبْقَی معطوف ہے أَشَدُّ عَذَابًا پر۔ گویا أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا کی طرح أَیُّنَا أَبْقَی عَذَابًا ہے۔

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے دیکھیں:

”پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)“۔ (سید مودودی، موسی نہیں بلکہ موسی کا رب مراد ہے)

”پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم (دونوں) میں اور موسیٰ میں سے کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے؟“۔ (محمد حسین نجفی)

”اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ زیادہ سخت عذاب کرنے والا اور دیر تک رہنے والا کون ہے“۔ (ذیشان جوادی، یہاں عذاب کے دیرپا ہونے کی بات ہے)

”اور البتہ جانو گے تم کون سا ہم میں سے اشد ہے عذاب میں اور بہت باقی رہنے والا ہے“۔ (شاہ رفیع الدین، أبقی کا ترجمہ درست نہیں ہے)

”اور جان لوگے ہم میں کس کی مار سخت ہے اور دیر تک رہتی ہے“۔(شاہ عبدالقادر)


مطالعہ سنن النسائی (۱)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: سنن نسائی کے بارے میں ڈاکٹر محمود احمدغازی اپنے محاضراتِ حدیث میں لکھتے ہیں کہ صحت کے اعتبار سے بخاری و مسلم کے بعد اس کا مقام ہے۔ اس میں سب سے کم ضعیف روایتیں ہیں، رواۃ بھی بڑے مضبوط ہیں۔

عمار ناصر: جی التزام ِ صحت اس میں زیادہ ہے۔

مطیع سید: تو پھر اسے صحاح ستہ میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر کیوں رکھا جا تا ہے ؟

عمار ناصر: وہ اصل میں معنوی افادیت کے پہلوسے ہے۔ سنن میں سب سے زیادہ اہمیت ترمذی کو ملی ہے۔ اس کی کچھ اپنی خصوصیات ہیں۔ ایک تو وہ روایت کے ساتھ حکم بھی بتا دیتے ہیں۔ اس کا مافی الباب ذکرکرتےہیں۔ پھر فقہی مذاہب بھی بیان کرتے ہیں۔ فقہی نقطہ نظر سے اس کی زیادہ اہمیت ہے۔ اس کے بعد سنن ابی داود ہے جو بنیادی طور پر احادیث احکام کا مجموعہ ہے۔ اس کی فقہی اہمیت بھی بہت ہے اور امام ابوداود جو حدیث کے علل وغیرہ پر گفتگو کرتے ہیں، وہ محدثانہ نقطہ نظر سے بہت قیمتی ہوتی ہے۔ یوں سنن نسائی کی اہمیت ذرا کم ہو جاتی ہے، اگرچہ ان کا معیار صحت بلند ہے۔

مطیع سید: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ عصر کے بعد کی دو رکعتیں نبی ﷺ نے ہمیشہ پڑھیں اور حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک بار پڑھیں، پھر نہیں پڑھیں۔ (کتاب المواقیت، باب الرخصۃ فی الصلاۃ بعد العصر، حدیث نمبر ۵۷۰، ۵۷۵) آپﷺ اپنی ازواج کے ساتھ رہتے تھے اور وہ بڑی باریکی سے ہر چیز نوٹ کرتی تھیں تو یہ اتنا بڑا اختلاف کیسے ہو سکتاہے؟

عمار ناصر: دو ہی امکان ہو سکتے ہیں۔ ازواج تو ہمیشہ ساتھ ہی رہتی تھیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر روز آپ ﷺ عصر کے وقت ایک ہی جگہ ہوں۔ روایت میں ہے کہ آپ نے یہ دو رکعتیں اس وقت پڑھنی شروع کی تھیں جب آپ ﷺ کسی خاص وجہ سے ظہر کے بعد دو رکعتیں نہیں پڑھ سکے تھے تو آپ نے عصر کے بعد پڑھ لیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ جو عمل شروع کرتے تو پھر اس کو ہمیشہ کرتےتھے۔ تو ممکن ہے، آپ نے ایک دفعہ یہ رکعتیں پڑھنے کے بعد اس کا تسلسل جاری رکھا ہو۔ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر سیدہ عائشہ کی روایت واقعے کی صحیح تصویر بتا رہی ہے۔ حضرت ام سلمہ کے سامنے ممکن ہے، ایک دفعہ پڑھنے کے بعد دوبارہ ایسا موقع نہ آیا ہو۔

مطیع سید: نمازوں کے جو مکروہ اوقات ہیں، امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان سب اوقات میں نماز جائز ہے ؟

عمار ناصر: وہ غالباً‌ بیت اللہ میں ان اوقات میں نماز کے جواز کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بیت اللہ کراہت کے حکم سے مستثنیٰ ہے۔

مطیع سید: اگر سوا پانچ بجے عصر کی جماعت ہو گئی تو اب جس نے عصر پڑھ لی ہے، وہ پانچ بج کر تیس منٹ پر بھی نفل نہیں پڑھ سکتا۔ اور جس نے عصر نہیں پڑھی، وہ ساڑھے چھ تک پڑ ھ سکتا ہے۔ تو وقت تومکروہ ہی چل رہا ہے۔

عمار ناصر: نہیں اس کا تعلق وقت سے نہیں ہے۔ یہ الگ حکم ہے۔ اصل میں عصرکے فرض پڑھ لینے کے بعد احتیاطاً‌ اس کو ناپسندکیا گیا ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔ یہ بنیادی طور پر وقت کے مکروہ ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔

مطیع سید: کہا جاتا ہے کہ ان تینوں اوقات میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی، تو اس کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لیے یہ کیا جاتا ہے۔

عمار ناصر: یہاں دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ایک ہیں وہ تین متعین اوقات، یعنی سورج کے طلوع کا وقت، نصف النہار کا وقت اور ایک جب سورج غروب ہو رہا ہو۔ ان تین اوقات میں تو مطلق ممانعت ہے۔ عین ان اوقات میں نماز پڑھنا، اس کی حکمت سورج کی عبادت کی مشابہت سے بچنا ہے اور اس وقت فرض ادا کرنا بھی درست نہیں۔ دوسرا حکم الگ ہے، وہ یہ کہ آپ نے فجر پڑھ لی تو اس کے بعد آپ سورج کے طلوع ہونے تک نوافل نہ پڑھیں۔ دو الگ الگ حکم ہیں۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ (کتاب الامامۃ، باب کم مرۃ یقول استووا، حدیث نمبر ۸۰۹) یہ آپ ﷺ کا معجزہ تھا یا ویسے ہی آپ نے مجازاً‌ فرمایا ؟

عمار ناصر: دونوں پر محمو ل کر سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ تم پیچھے کیا کر رہے ہوں۔ ممکن ہے، آپﷺ باقاعدہ پیچھے بھی دیکھ لیتے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپﷺ کی مراد یہ ہو کہ مجھے معلوم ہو جاتاہے۔

مطیع سید: جماعت میں شر کت نہ کرنے پر ایک روایت میں بڑی سخت وعیدآئی ہے جس میں آپﷺ نے ان لوگوں کا گھر جلانے کے بارے میں بات کی ہے جو بلاعذر جماعت میں شریک نہیں ہوتے۔ (کتاب الامامۃ، باب التشدید فی التخلف عن الجماعۃ، حدیث نمبر ۸۴۴) اتنی سخت وعید کے باوجود فقہا اسے فرض یا واجب کی بجائے سنت موکدہ قرار دیتے ہیں ؟

عمار ناصر: اس وعید کا سیاق یہ بتاتا ہے کہ وہاں دراصل فی نفسہ باجماعت نماز کا حکم نہیں بیا ن کیا جا رہا۔ اصل میں منافقین کے کچھ گروہوں کا ذکر ہو رہا ہےجن کے، جماعت میں شرکت نہ کرنے کی باقاعدہ قرآن نے بھی شکایت کی ہے۔ ان کے بارے میں آپ ﷺ یہ فرما رہے ہیں کہ انہوں نے ایک عادت بنالی ہے، یعنی وہ ایک تسلسل سے جماعت میں شرکت نہیں کررہے۔ ایک عام مسلمان کا رد عمل تو یہ ہوگا کہ وہ ضرور جماعت میں آئے گا۔ کسی وجہ سے نہیں آسکا، کچھ سستی ہو گئی یا ایک آدھ جماعت چھوٹ گئی ہے تو یہ اور چیز ہے۔ تبصرہ اصل میں ان لوگوں پر ہو رہا ہے جو ایک اجتماعی شعار سے مسلسل رو گردانی کر رہے تھے۔ قرآن نےبھی اسی لیے ان کے بارے میں کہا ہے۔ واذا قاموا الی الصلاۃ قاموا کسالیٰ اور اس طرح کی دیگر آیات بھی ہیں۔

مطیع سید: آپ نے اس روایت کا سیاق بیان فرمایا ہے، وہ کہاں سے لیا ہے ؟

عمار ناصر: روایت میں بھی شواہد ہیں اور جیسے میں نے کہا، قرآن سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

مطیع سید: قنوت سے متعلق باب میں ایک روایت میں ہے کہ خلفائے راشدین نے (فرض نمازوں میں) دشمن کے خلاف دعائے قنوت نہیں پڑھی اور یہ بدعت ہے۔ (کتاب التطبیق، باب ترک القنوت، حدیث نمبر ۱۰۷۶) لیکن آپ نے ایک مرتبہ فرمایا تھاکہ حضرت علی اور امیر معاویہ کے مابین جو جنگیں ہوئیں، ان میں وہ دونوں قنوت پڑھتے تھے۔

عمار ناصر: امام نسائی کا مطلب یہ ہے کہ معمولاً‌ نہیں پڑھی۔ نبیﷺ نے بھی معمولاً‌ نہیں پڑھی۔ صحابہ کا معمول بھی نہیں رہا، لیکن اہم مواقع پر ان سے ثابت ہے۔

مطیع سید: حضرت حکیم کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عہد کیا کہ میں قیام کی حالت سے ہی سجدے میں جاوں گا۔ (کتاب التطبیق، باب کیف یحنی للسجود، حدیث نمبر ۱۰۸۰) اس سے کیا مراد ہے ؟

عمار ناصر: مراد یہ ہے کہ رکوع سے اٹھنے کے بعد جب تک بالکل سیدھا کھڑا نہ ہو جاوں، سجدے میں نہیں جاوں گا۔ یہ تعدیل ارکان کی ہدایت ہے جو اور بھی بہت سی حدیثوں میں بیان ہوئی ہے۔

مطیع سید: یہ اونٹ کی طرح نماز میں بیٹھنے کی پوزیشن کیا ہو سکتی ہے جس سے منع کیا گیا ہے؟ (کتاب التطبیق، باب اول ما یصلی الی الارض من الانسان فی سجودہ، حدیث نمبر ۱۰۸۶)

عمار ناصر: اس کے متن میں ایسا لگتا ہے کہ کچھ خلل واقع ہو گیا ہے۔ الفاظ کے مطابق یہ کہا گیا ہے کہ سجدہ میں جاتے ہوئے اونٹ کی طرح اعضاء زمین پر نہ رکھا کرو، یعنی پہلے ہاتھ زمین پر رکھو اور پھر گھٹنے رکھو۔ اب اونٹ جب بیٹھتا ہے تو وہ پہلے اگلی ٹانگیں زمین پر بچھاتا ہے۔ اس لحاظ سے جملہ یوں ہونا چاہیے کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھو اور اس کے بعد ہاتھ رکھو۔ دیگر روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کرنے کا طریقہ بھی یہی بیان ہوا ہے۔ (کتاب التطبیق، باب اول ما یصلی الی الارض من الانسان فی سجودہ، حدیث نمبر ۱۰۸۵) فطری طور پر بھی یہی بات درست لگتی ہے کہ آپ پہلے اپنے گھٹنے نیچے رکھیں، نہ یہ کہ پہلے ہاتھ رکھیں۔

مطیع سید: لیکن بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ہاتھ پہلے رکھیں گے تو سجدے کی حالت میں جلدی چلےجائیں گے، یعنی اللہ کی طرف جھکاؤ جلدی ہو جائے گا۔

عمار ناصر: نہیں، نماز میں فطری طریقے پر انتقال ہوتا ہے۔ زیادہ فطری طریقہ یہی لگتا ہے کہ پہلے گھٹنے رکھے جائیں، پھر ہاتھ اور پھر سر رکھا جائے۔

مطیع سید: ان روایتوں میں جو اختلاف ہے، اس میں آ پ کا نقطہ نظر کیا ہے؟

عمار ناصر: میں نے ان کےطرق کی تحقیق تو نہیں کی۔ میں تو ایک کامن سینس کی بات کر رہاہوں۔ فطری ترتیب یہی لگتی ہے کہ آ پ سجدے میں جائیں تو جو اعضا آ پ کے زمین کے قریب ہیں، پہلے ان کو زمین پر رکھیں۔

مطیع سید: امام نسائی نے ایک باب میں نماز میں دائیں بائیں دیکھنے کی بھی رخصت لکھی ہے، (کتاب السہو، باب الرخصۃ فی الالتفات فی الصلاۃ یمینا وشمالا، حدیث نمبر ۱۱۹۷) لیکن ہمارے ہاں تو اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔

عمار ناصر: احادیث میں بلا ضرورت ادھر ادھر دیکھنے کو نماز میں شیطان کا حصہ کہا گیا ہے۔ البتہ کسی ضرورت کے تحت یا غیر ارادی طورپر دیکھ لیا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، اگرچہ بہتر یہی ہے کہ چہر ے کو سیدھا ہی رکھا جائے۔ عام لوگوں کو فقہی مسائل بتانے میں کچھ سختی کی جاتی ہے۔

مطیع سید: ایک موقع پر ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھانے کے بعد آپ ﷺ نے چھٹی رکعت نہیں ملائی، بلکہ سجدہ سہو کر لیا (کتاب السہو، باب ما یفعل من صلی خمسا، حدیث نمبر ۱۲۵۰)، جبکہ فقہا کہتے ہیں کہ اگر آپ نے غلطی سے پانچ پڑھ لی ہیں تو اب چھٹی ملانی ضروری ہوگی تا کہ پہلی چار فر ض بن جائیں اور باقی دو نفل بن جائیں۔

عمار ناصر: اس میں اہم بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کو پانچ رکعتیں پڑھا دینے یعنی نماز مکمل کر لینے کے بعد یہ معلوم ہوا تھا۔ تو اس سے فرق پڑ جاتا ہے۔ اگر آپ کو نماز میں خود ہی پتہ چل گیا ہے کہ ایک رکعت زائد ہو گئی ہے تو پھر یہ قیاس ٹھیک لگ رہا ہے کہ ایک اور رکعت ملا کر دو زائد رکعتیں کر دی جائیں۔ لیکن اگر آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے تو پھر حدیث کے مطابق یہ بھی کافی ہے کہ اب ایک مزید رکعت پڑھنے کے بجائے بس سجدہ سہو کر لیا جائے۔

مطیع سید: جمعہ کے خطبے کے دوران میں ایک آدمی بیٹھنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیٹھو نہیں، بلکہ نماز پڑھو (کتاب الجمعۃ، باب الصلاۃ یوم الجمعۃ لمن جاء والامام یخطب، حدیث نمبر ۱۳۹۶)جبکہ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ خطبہ سننا واجب ہے، اس کے دوران نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔

عمار ناصر: اس بارے میں محدثین اور فقہا میں بحث ہے کہ کیا آپ ﷺ کا مقصد اس واقعے میں لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھیں، یعنی اصل مقصد نماز پڑھوانا تھا، یا کوئی اور وجہ تھی۔ احناف کا کہنا ہے کہ وہ ایک غریب آدمی تھا، اس کی حالت ایسی تھی کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تم نماز پڑھو تاکہ لوگ اس کی حالت کو دیکھ لیں اور اس کے بعد آپ نے لوگوں کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب بھی دی۔ احناف کی یہی رائے ہے کہ وہ ایک خاص واقعہ تھا۔ اس کے علاوہ اور کہیں نہیں ملتا کہ آپ نے لوگوں کو خطبے کے دوران میں نماز کے لیے کہا ہو۔ اصل میں لوگوں کو اس شخص کی حالت کی طرف متوجہ کرناتھا۔ البتہ یہ حکم عربی خطبے کا ہے جو فقہاء کے نزدیک نماز کی دو رکعتوں کے قائم مقام ہے۔ اردو میں جو تقریر کی جاتی ہے، اس کا فقہی طور پر یہ نہیں ہے۔ اس دوران میں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ صلوۃ الخوف کی ایک رکعت فرض کی گئی ہے۔ (کتاب صلاۃ الخوف، باب صلاۃ الخوف، حدیث نمبر ۱۵۲۸) اس کے کیا معنی ہیں؟

عمار ناصر: وہ غالباً‌ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر سفر میں صلوۃ الخوف ادا کی جائے تو دو رکعتوں میں سے مقتدیوں کو امام کے ساتھ ایک ہی رکعت ملتی ہے، دوسری رکعت وہ خود اپنے طور پر پڑھتے ہیں۔

مطیع سید: صلوۃ الکسوف کے اتنے زیادہ طریقے منقول ہیں۔ کیا سورج گرہن کا واقعہ ایک ہی دفعہ ہوا تھا یا کئی دفعہ؟

عمار ناصر: عموماً‌ یہی مانا جاتا ہے کہ آپ کے دور میں ایک ہی دفعہ سورج کو گرہن لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ جب یہ ایک ہی دفعہ کا واقعہ ہے تو روایات میں اتنا اختلاف کیسے پیدا ہوگیا۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آپ نے کافی لمبا رکوع کیا تھا اور لوگ بار بار اٹھ کر دیکھتے تھے کہ آپ رکوع سے اٹھے یا نہیں، اس لیے راویوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ دیگر حضرات کہتے ہیں کہ نہیں، آپ نے واقعی ایک سے زائد رکوع کیے تھے۔

مطیع سید: نماز وترکے بارے میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے، ایک رکعت پڑھ لے اور جس کا جی چاہے، بس اشارہ کر دے۔ (کتاب قیام اللیل وتطوع النہار، باب ذکر الاختلاف علی الزہری فی حدیث ابی ایوب فی الوتر، حدیث نمبر ۱۷۰۹) اس کا کیا مطلب تھا ؟

عمار ناصر: بظاہر مطلب یہ بنتا ہے کہ وتر کو ترک نہ کرے، اگر باقاعدہ کھڑے ہو کر پڑھنے کو جی نہ چاہ رہا ہو تو بے شک بیٹھے یا لیٹے ہوئے اشارے سے ہی پڑھ لے۔ لیکن شارحین نے اور معنوں پر بھی محمول کیا ہے۔ مثلاً‌ یہ کہ اس سے مراد بیمار آدمی ہے جو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر وتر نہ پڑھ سکتا ہو۔ اس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حالت میں بھی چاہے اشارے سے وتر پڑھ لے، لیکن ضرور پڑھے۔

مطیع سید: یہ جو وتر کی پانچ یاسات رکعتیں ہیں، کیا یہ ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں ؟

عمار ناصر: جی، روایات میں منقول ہے کہ آپ ﷺ تہجد میں یہ سب رکعات اکٹھی پڑ ھ کر آخر میں سلام پھیر دیتے تھے۔

مطیع سید: یہ پانچ یا سات رکعتیں وترہیں یا یہ تہجد کی نماز کا حصہ ہے ؟

عمار ناصر: روایات میں وتر کا استعما ل مختلف معنوں میں ہواہے۔ بحیثیت مجموعی پوری نماز تہجد کو بھی وتر کہا گیا ہے، کیونکہ دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے آخر میں آپ ایک یا تین رکعت ملائیں تو اس سے پوری نماز طاق ہو جاتی ہے۔ لیکن دوسرے لحاظ سے دیکھیں تو وہ ایک رکعت یا تین رکعتیں جو طاق تعداد میں پڑھی گئیں، دراصل وہی وتر ہوتی ہیں۔ اس سے فقہا اور محدثین میں بحث پیدا ہوگئی کہ وتر ایک الگ نماز ہے جو تہجد کے آخر میں اس کے ساتھ ملا لی جاتی ہے یا نماز ِتہجد کو ہی مجموعی طور پر وتر کہا گیا ہے۔ چونکہ جو لوگ آخر شب میں نہ اٹھ سکیں، ان کو نماز وتر سونے سے پہلے ادا کر لینے کی تاکید آئی ہے تو اس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ یہ ایک مستقل نماز ہے۔

مطیع سید: اگر کوئی آدمی عشا کی نماز کے بعد وتر سے پہلے چار یا چھ نوافل پڑھے اور ان کو خود پر لازم کر تو کیا اس کی نماز تہجد شمار ہو جائے گی ؟

عمار ناصر: تہجد کی نماز تو رات کے کسی حصے میں اور زیادہ افضل یہ ہے کہ پچھلے پہر میں نیند سے بیدار ہو کر ادا کی جاتی ہے۔ عشاء کے فوراً‌ بعد پڑھنے سے نوافل کا اجر ملے گا، لیکن یہ تہجد کی نماز شمار نہیں ہوگی۔

مطیع سید: ظہر سے پہلے اور بعد کی رکعتوں میں بڑا اختلاف ہے کہ یہ دو رکعتیں تھیں یا چار۔

عمار ناصر: آپﷺ کا معمول مختلف رہا ہے۔ اس لیے فقہا فرق کر تے ہیں۔ جو رکعتیں آپ ﷺ نے معمولاً‌ پڑھیں اور جن کی آپ ﷺ نے اہتمام سے تاکید بیان کی، وہ موکدہ ہیں اور ان کے علاوہ جو ہیں، وہ غیر موکدہ ہیں۔

مطیع سید: یہ موکدہ نبی ﷺ کی سنت تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کی ترغیب دلائی، لیکن ان کے چھوڑنے پر کوئی وعید بیان نہیں فرمائی۔ تو یہ جو کہا جاتا ہے کہ جو کوئی انہیں چھوڑے گا، وہ گنہگار ہوگا، کیا یہ بات ٹھیک ہے ؟

عمار ناصر: مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ بات فقہی مفہوم میں اتنی نہیں کہی گئی جتنی کہ عام لوگوں کے مزاج اور نفسیات کو ملحوظ رکھ کر کہی گئی ہے۔ فقہی مفہوم میں یہ بات نہیں بنتی۔ سنن موکدہ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔ اس میں بھی احادیث میں ترغیب کا ہی انداز آیا ہے۔

مطیع سید: ایک حدیث کے مطابق ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیداہوتا ہے۔ لیکن حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے کہ انصار کا ایک بچہ وفات پا گیا تو سیدہ عائشہ نے کہا کہ وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا تھی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں، ایسے نہ کہو۔ کیا پتہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہو۔ (کتاب الجنائز، باب الصلاۃ علی الصبیان، حدیث نمبر ۱۹۴۳)

عمار ناصر: اس میں پہلی بات تو یہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جزا وسزا اور اخروی انجام کے معاملات متشابہات کی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں جب ان کا ذکرکیا جاتا ہے تو قانون الٰہی کی کسی قطعی یا حتمی وضاحت کے بجائے انسانوں کو کوئی بات یا رویہ سکھانا مقصود ہوتا ہے۔ تو جو بات کہنی مقصود ہو، اس پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس حدیث میں وہ بات یہ ہے کہ ہم کسی انسان کے بارے میں، چاہے وہ بچہ ہی کیوں نہ ہو، کوئی حتمی رائے نہ دیں۔ یہ چیز ہم سے متعلق نہیں ہے۔ وہ اللہ کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ اس بچے کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔ جہاں تک حدیث میں بیان کیے گئے حکم کا تعلق ہے تو روایتوں میں کل مولود کے الفاظ ہیں، لیکن کیا اس سے واقعتا ً‌ عموم ہی مراد ہے، اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ احادیث میں یہ مسئلہ عموماً‌ پیش آتا ہے۔ کئی جگہ الفاظ عموم کے ہوتے ہیں، وہ عموم کلی نہیں ہوتا۔

تو یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر کوئی عام قاعدہ بیان ہوا ہے تو پھر آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ اس میں بعض استثنا ءات ہیں۔ عموم ہو تو اس میں بھی استثنا ہوتے ہیں۔ مثلاً‌ حضرت خضر نے جس لڑکے کو قتل کر دیا، اس کے بارے میں روایت میں آتاہے کہ وہ پیدائشی کافر تھا۔ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ بچہ بڑا ہو کر والدین کو اپنی سرکشی اور کفر سے مصیبت میں ڈال دے گا تو اس بچے کو اللہ نے واپس لے لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخروی انجام کے فیصلوں میں اس کا بھی ایک حد تک عمل دخل ہوگا کہ اللہ کے علم کے مطابق اگر کسی کو بلوغت تک زندگی ملتی تو اس کا عمل اور کردار کیا ہوتا۔ اسی پہلو سے انصار کے اس بچے کے متعلق بھی آپ نے فرمایا کہ اس کے حتمی انجام کے بارے میں کوئی بات کہنا خلاف احتیاط ہے، اس سے گریز کرنا چاہیے۔

مطیع سید: امام نسائی نے قبر ستان میں چپل پہننے کی ممانعت اور اجازت کے بارے میں دو حدیثیں نقل کی ہیں اور ان سے اخذ کرتے ہیں کہ سبتی چپل پہننا مکروہ ہے، لیکن ان کے علاوہ دوسرے چپل پہنے جا سکتےہیں۔ (کتاب الجنائز، باب کراہیۃ المشی بین القبور، حدیث نمبر ۲۰۴۴، باب التسہیل فی غیر السبتیۃ، حدیث نمبر ۲۰۴۵) یہ سبتی چپل کیا ہے اور اس فرق کی کیا وجہ ہے؟

عمار ناصر: سبتی چپل چمڑے سے بنی ہوئی ایک خاص چپل تھی جو اس دور میں پہنی جاتی تھی۔ قبرستان میں یہ چپل نہ پہننے اور دوسری کوئی چپل پہننے کی اجازت کی بات دراصل حدیث میں نہیں آئی، بلکہ یہ امام نسائی نے اپنی طرف سے ایک تطبیق دی ہے۔ کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے کسی شخص کو سبتی چپل پہن کر قبروں کے درمیان پھرتے دیکھا تو اس سے کہا کہ ان کو اتار دو، جبکہ دوسری حدیث میں ذکر ہے کہ دفنانے والے جب دفنا کر واپس جاتے ہیں تو مردے کو ان کی چپلوں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ امام نسائی نے اپنے فہم کےمطابق یوں تطبیق دی ہے کہ سبتی چپل نہ پہنی جائے لیکن دوسری کوئی چپل پہنی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: آپ ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا جنھیں عذاب دیا جا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کوئی بڑا گناہ نہیں کیا تھا، بلکہ ایک چغلی کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا۔ (کتاب الجنائز، باب وضع الجریدۃ علی القبر، حدیث نمبر ۲۰۶۴) کیا چغلی کوئی چھوٹا گنا ہ ہے ؟

عمار ناصر: مراد یہ ہے کہ بظاہر دیکھنے میں وہ کسی بڑے معاملے میں مبتلا نہیں تھا، لیکن حقیقت میں یہ بڑا گناہ ہے۔

مطیع سید: سماعِ موتی کے بار ے میں صحابہ میں کوئی اختلاف تھا ؟ حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ مردے نہیں سنتے؟ (کتاب الجنائز، باب ارواح المومنین، حدیث نمبر ۲۰۷۲)

عمار ناصر: ام المومنین حضرت عائشہ کا خیال یہ تھا کہ اس طرح کی جوروایتیں ہیں وہ ظاہر پر نہیں ہیں، کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ انک لا تسمع الموتیٰ۔ حضرت عمر اور دیگر صحابہ کا یہ خیال تھا کہ ایسا ہی ہے جیسا بظاہر بدر کے مو قع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرکین جو قتل ہو چکے ہیں، میری بات تم سے زیادہ سن رہے ہیں۔

مطیع سید: تو اب آ کریہ بات زیادہ سنگین کیوں بنا دی گئی ہے، جبکہ صحابہ میں بھی یہ اختلاف تھا؟

عمار ناصر: صحابہ کے ہاں اس اختلاف کی نوعیت کلامی یا اعتقادی اختلاف کی نہیں تھی۔ متاخرین کے ہاں آ کر یہ چیزیں باقاعدہ کلامی اعتقادات و تعبیرات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اس سے شدت اور سنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔

مطیع سید: کیا اگرکوئی عمرہ کرے تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے ؟

عمار ناصر: استنباطی چیزوں میں حالات کا کا کافی دخل ہوتا ہے۔ پرانے دور میں فقہا نے یہ لکھا کہ جو آدمی عمرے کے لیے چلا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی استطاعت ثابت ہو گئی۔ غالباً‌ اس کا مفہوم یہ نہیں ہوگا کہ اب وہ بے شک واپس چلا جائے، لیکن حج کرنے کے لیے دوبارہ لازماً‌ آئے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اب جب وہ آ چکا ہے تو پھر حج کرکے جائے۔ اس زمانے کے سفر کے لحاظ سے آپ دیکھیں تو یہ بات قابل فہم بنتی ہےکہ آپ تین ماہ کا سفر کرکے آئے ہیں اور تین ماہ واپسی پر لگیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ لمبے عرصے کے لیے انتظام کر کے آئے ہیں تو پھر آپ کو حج کرکے ہی جانا چاہیے، دوبارہ معلوم نہیں، موقع ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ لیکن اس کو آپ آج کے حالات پر بعینہ منطبق نہیں کر سکتے۔ اب عمرے اور حج کے اخراجات میں بہت فرق ہے۔ صرف عمرے کے اخراجات کا بندوبست کر لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے پاس حج کے اخراجات بھی مہیا ہو گئے ہیں۔

مطیع سید: بعض لوگ اس مسئلے کو آج بھی ایسے ہی بیا ن کرتے ہیں۔

عمار ناصر: جی، وہ لفظاً‌ اس جزئیے کو لے لیتے ہیں، لیکن وہ ٹھیک نہیں لگتا۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حج اور عمرے دونوں کے لیے لبیک کہا، یعنی حج تمتع کرنا چاہا تو حضرت عثمان نے منع کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ میں کسی کی وجہ سے نبی ﷺ کی سنت نہیں چھوڑ سکتا۔ (کتاب مناسک الحج، باب القران، حدیث نمبر ۲۷۱۹) یہ کیا اختلاف تھا؟

عمار ناصر: یہ صحابہ میں بحث رہی ہے کہ ایک ہی سفر میں حج او رعمرہ دونوں ادا کرنے چاہییں یا نہیں۔ اس بارے میں صحابہ کے دونوں رجحان رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے حج تمتع کیا تھا۔ بعض صحابہ مثلاً‌ حضرت عمر اور حضرت معاویہ سمجھتے تھے کہ اس کی اجازت تو ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ جب لوگ حج کے لیے جائیں تو احرام باندھنے کے بعد پھر تبھی اس کی پابندیوں سے آزاد ہوں جب حج مکمل کر لیں۔ اگر وہ عمرے کے بعد احرام کھول لیں گے تو پابندیاں بھی اٹھ جائیں گی۔ یوں حج کے سفر میں وہ پابندیوں کے بغیر کچھ دن گزاریں گے جو مناسب بات نہیں۔ اس خیال کے تحت وہ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ تمتع نہ کریں۔ لیکن دیگر اکابر صحابہ نے ان کی رائے قبول نہیں کی۔

مطیع سید: یعنی یہ دونوں آپشن باقی رہنے چاہییں؟

عمار ناصر: یہ اجتہادی بحث ہے۔ ایک پہلو سے حضرت عمر کی رائے کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تمتع کی رخصت تو دی ہے، لیکن اس کے ساتھ قربانی دینا یا روزے رکھنا ضروری قرار دیا ہے۔ یہ گویا کفارہ ادا کرنے کی ایک صورت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ممکن ہے، حضرت عمر اسی کے پیش نظر لوگوں کو روکنا چاہتے ہوں۔

مطیع سید: کیا خاص طور پر محرم کے لیے شکار کیے گئے جانور کا گوشت کھانا جائزہے ؟ ایک حدیث میں ہے کہ اگر محرم کے لیے جانور شکار کیا جائے تو اس کا کھانا اس کے لیے حلال نہیں۔ (کتاب مناسک الحج، باب اذا اشارا لمحرم الی الصید فقتلہ الحلال، حدیث نمبر ۲۸۲۴)

عمار ناصر: اس پر فقہا کے درمیان بحث ہے اور روایتیں بھی دونوں طرح کی موجود ہیں۔

مطیع سید: آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ نے انصار کی عورتوں سے شادی کیوں نہیں کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں بہت زیادہ غیر ت ہوتی ہے۔ (کتاب النکاح، باب المراۃ الغیراء، حدیث نمبر ۳۲۳۰) غیرت ہونے کے کیا معنی ہیں ؟

عمار ناصر: عربی میں غیرت کا مطلب ہوتا ہے، رقابت محسوس کرنا۔ مراد یہ ہے کہ میری تو بہت سی بیویاں ہیں اور بیویوں میں رقابت فطری ہے، لیکن انصار کی خواتین میں رقابت کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ گویا آپ کو خدشہ تھا کہ انصاری عورت جو نکاح میں آئے گی، وہ خود بھی اذیت میں پڑی رہے گی اور آپ کے لیے بھی پریشانی کا موجب بنے گی۔

مطیع سید: جو آدمی اپنی بیوی کی باندی سے ہم بستری کر لے تو اگر بیوی نے اسے اس کی اجازت دی ہو تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور اگر اجازت نہ دی ہو تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔ (کتاب النکاح، باب احلال الفرج، حدیث نمبر ۳۳۵۷) یہ کیا معاملہ ہے؟

عمار ناصر: اگر بیوی نے اجازت دی ہو تو اس میں ایک طرح کا شبہ آ جاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی لونڈی شوہر کی ملکیت میں دے دی ہے۔ اس وجہ سے اسے زنا کی سنگین سزا نہیں دی جائے گی، یعنی رجم نہیں کیا جائے گا بلکہ سو کوڑے لگائے جائیں گے۔

مطیع سید: حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو کہا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دےدے، یہ کس بنیا د پر آپ نے حکم دیا؟انہیں ایسی کیا خامی نظر آئی؟

عمار ناصر: روایت میں وجہ تو بیان نہیں ہوئی۔ محدثین قیاسات ہی کرتےہیں کہ کوئی معقول وجہ ہوگی۔ کوئی بات ان کی طبیعت و مزاج کے مطابق نہیں ہوگی۔ خیال یہی ہے کہ حضرت عمر خواہ مخوہ ایسی بات کہنے والے نہیں تھے۔ ویسے بھی ثقافت کا فرق ہوتا ہے۔ عربوں کے ہاں طلاق ہو جانا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔

مطیع سید: ابھی بھی شاید ایسا ہی ہے۔

عمار ناصر: جی اب بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارے کلچر میں تو یہ ہے کہ طلاق ہو گئی تو گویا زندگی بر باد ہو گئی۔ عرب کلچر میں ایسا نہیں ہے۔

مطیع سید: اسی طرح ایک روایت حضرت ابراہیم ؑ کی ملتی ہے کہ وہ کچھ عرصے کے بعد حضرت اسماعیل کو ملنے آئے تو وہ شکار پر نکلے ہوئے تھے۔ ان کی اہلیہ سے آپ ؑ نے پوچھا کہ کیسے حالات ہیں ؟انہوں نے حالات کی شکایت کی تو حضرت ابراہیم نے بیٹے کو دہلیز بدلنے کے اشارے سے اسے طلاق دینے کا مشورہ دیا۔

عمار ناصر: اگر واقعہ کی پوری تفصیل یہی ہے تو ٹھیک ہے، انہوں نے بیٹے کو پیغام دیا کہ آدمی کے گھر میں ایسی خاتون کو ہونا چاہیے جو شکرگزار ہو۔

مطیع سید: لعان کے بعد طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی یا دینی پڑے گی ؟

عمار ناصر: احناف کے ہاں یہ ہے کہ یا تو شوہر طلاق دے گا یا قاضی تفریق کرے گا، خود بخود نہیں ہوگی۔ دوسرے فقہا یہ کہتے ہیں کہ خود بخود تفریق ہو جائے گی۔

مطیع سید: ان کے مابین تفریق ہمیشہ کے لیے ہو جائے گی؟

عمار ناصر: جمہور کی رائے یہی ہے۔ احناف اس میں بھی گنجائش دیتے ہیں کہ اگر شوہر اپنے اس الزام سے رجوع کرلے اور تائب ہو جائے تو دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔

مطیع سید: ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے عبد الرحمن بن زبیر کی بیوی سے فرمایا کہ جب تک تم اور تمھارا شوہر ایک دوسرے کا مزہ نہ چکھ لو، تم اس سے طلاق لے کر اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے لیے حلال نہیں ہو سکتیں۔ (کتاب الطلاق، باب احلال المطلقۃ ثلاثا، حدیث نمبر ۳۴۰۸) سوال یہ ہے کہ آپﷺ کیسے فرما رہے تھے کہ تم جب تک ایک دوسرے کا مزا نہ چکھ لو۔ شادی ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا اور یقیناً‌ وہ اس مرحلے سے گزر چکے ہوں گے۔

عمار ناصر: یہ بات تو اس عورت نے خود ہی آ کر کہی تھی کہ شوہر جماع کے قابل نہیں ہے۔ اس پر آپ نے یہ جواب دیا۔ تفتیش سے آپ ﷺ کو اطمینان ہو گیا تھا کہ وہ غلط کہہ رہی ہے۔ خاوند بھی آیا اور اس نے بھی اپنا موقف بیان کیا اور اس کی بات سے آپﷺ مطمئن ہو گئے۔ آپﷺ کو معلوم ہو گیا کہ یہ عورت جھوٹا بہانہ بنا کر نکاح ختم کرنا چاہ رہی ہے تاکہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر لے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس مقصد کے لیے طلاق لینا چاہ رہی ہو وہ تب تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک موجودہ شوہر کے ساتھ ہم بستری نہ ہو جائے۔ اس سے گویا آپ ﷺ اس عورت کو اس کے اپنے ہی الفاظ کا پابند بنا کر طلاق لینے سے روکنا چاہ رہے تھے۔

مطیع سید: یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے شوہر کے پاس آئی ہی اسی مقصد کے لیے ہو۔

عمار ناصر: یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس نے نکاح ہی اسی نیت سے کیا ہو کہ میں بعد طلاق لے لوں گی۔

مطیع سید: ایک عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا۔ جب اس کے پاس گئے تو اس نے کہااعوذ باللہ منک۔ میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں)۔ اس پر آپﷺ نے اس کو طلاق دے دی۔ (کتاب الطلاق، باب مواجہۃ الرجل المراۃ بالطلاق، حدیث نمبر ۳۴۱۴) یہ کون تھی اور اس نے آنحضرت ﷺ کو ایساکیوں کہا ؟جبکہ وہ جانتی تھی کہ آپ پیغمبر ِ اسلام ہیں اور میں ان کی بیوی ہو ں، پھر ایسا کہنا بڑا عجیب لگتا ہے۔

عمار ناصر: اس عورت کا نام اور واقعہ کی تفصیلات مختلف روایات میں مختلف بیان ہوئی ہیں۔ بعض میں ہے کہ آپﷺ کو اس کے جسم پر کوئی داغ نظرآیا۔ بعض میں ہے کہ خود اس نے کراہت کا اظہارکیاتو آپﷺ نے فرمایاکہ اچھا اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے۔ آپ نے طلاق دے دی۔ بعض روایات میں یوں ہے کہ وہ ایسا کہنا نہیں چاہتی تھی، لیکن اس کی سہیلیوں نے اسے کہاکہ اگر ایسے کہو گی تو آپ کی نظر میں تمہاری وقعت بڑھ جائے گی۔ اب ان ساری روایات کی روشنی میں واقعے کی جو صورت معقول دکھائی دیتی ہو، وہ تصور کی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے منع کیا، لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو بھی اس سے منع فرمایا۔ (کتاب الزینۃ، باب خاتم الذہب، حدیث نمبر ۵۱۸۵) تو کیا یہ صرف ان کے لیے ممنوع تھی ؟

عمار ناصر: یعنی ان کا فہم یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں یعنی اہل ِبیت کو اس سے منع فرمایا ہے۔ اہل بیت کے ذرا خاص احکام تھے۔ نبی ﷺ ان کو ایک خاص معیار پر دیکھنا چاہتے تھے۔ تو حضرت علی کا فہم یہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ حکم عام ہے اور تم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کو فقہا نے قبول کیا ؟

عمار ناصر: فقہا کی عمومی رائے تو مردوں کے لیے سونے کے ممنوع ہونے کی ہے اور بہت سی احادیث میں بھی یہی بات آئی ہے۔ حضرت علی کی روایات میں سے بعض میں یہ ہے کہ آپ نے انھیں شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا۔ (کتاب الزینۃ، باب خاتم الذہب، حدیث نمبر ۵۱۸۵)اب اس میں تحقیق کی ضرورت ہے کہ اس روایت کے طرق جمع کیے جائیں اور دیکھا جائے کہ کیا یہ دو الگ الگ ہدایات تھیں یا اصل میں کسی خاص انگلی میں انگوٹھی پہننے کا ذکر تھا اور راوی نے قیاس سے سونے کی انگوٹھی کا ذکر کر دیا۔

مطیع سید: حدیث میں ہے کہ اب نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہ گیا، سوائے مبشرات کے اور مبشرات کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ کسی آدمی کو کوئی خواب دکھا دیا جائے۔ یہ جو "الا المبشرات" والی روایت ہے، اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ الہام، کشف اور القا وغیر ہ کی کوئی حقیقت نہیں جو صوفیہ بیان کرتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں تو بڑا واضح حصرہے کہ مبشرات کے علاوہ اور کچھ باقی نہیں رہا۔

عمار ناصر: روایت میں جو کہا گیا ہے "الاالمبشرات"، اس سے قطعی حصر اخذ کرنا درست نہیں۔ اس میں دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا چیز ہے جس کے متعلق بات کی جا رہی ہے۔ جب حدیث کے مجموعی ذخیرے کو ہم دیکھتے ہیں تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ بظاہر بات بڑی حصر کے ساتھ ہو رہی ہوتی ہے، لیکن وہ ایک خاص سیاق میں ہوتی ہے جو متکلم کے ذہن میں ہوتا ہے۔ متکلم کے ذہن میں ایک سیاق ہے اور سننے والوں کے ذہن میں بھی وہ موجود ہوتا ہے، اس میں بات کی جا رہی ہوتی ہے۔ تو یہ بھی دیکھناچاہیے۔ آپﷺ فرمارہے ہیں کہ نبوت کے اجزا ختم ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے، یہاں نبوت سے مراد وہ چیزیں نہیں جو انبیا ہی کے ساتھ خاص ہوتی ہیں، ان کے علاوہ کسی کو نہیں دی جاتیں۔ اس سے مراد ایسے امور ہیں جن میں انبیاء کے علاوہ دوسرے مقربین بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے ساتھ رابطہ یا ان تک پیغام پہنچانا یہ ایک عمل ہے جو اصلا ً‌انبیا ؑ کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ دوسرے لوگو ں کے ساتھ بھی اکراماً‌ یہ معاملہ کر سکتے ہیں۔ انھی کے متعلق آپ فرما رہے ہیں کہ اب نبوت تو ختم ہو گئی ہے اور صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں اور اس کی تشریح میں مثال کے طور پر خواب کا ذکر کر دیا گیا ہے۔

اب خواب کے علاوہ بھی رابطے اور پیغام رسانی کی کئی شکلیں ہیں۔ ایک الہام کی تو کوئی بھی نفی نہیں کرتا کہ انسان کے دل میں فرشتوں کے ذریعے سے کوئی خیال ڈال دیا جائے یا آپ اللہ سے دعا مانگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک کیفیت آپ کے دل پر طاری کر دی جاتی ہے۔ استخارہ توایک مستقل چیز ہے تو ان چیزوں کی کوئی نفی نہیں کرتا۔ ہاں، صوفیہ ان معنوں میں بھی الہام کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فرشتوں کا انسانوں کے ساتھ تخاطب ہوتا ہے یا کشف کی صورت واقع ہوتی ہے جن میں کچھ پردے ہٹا دیے جاتے ہیں۔

مطیع سید: کشف و الہام کے بارے میں صوفیہ، خاص طورپر ابن عربی وغیرہ بہت کچھ کہتے ہیں اور اس سے بہت بڑے بڑے حقائق اور نظریات اخذ کرتے ہیں۔

عمار ناصر: کشف اورالہام کو ایک مستقل ذریعہ علم قرار دینا اور اس کی بنیاد پر آرا اور نظریات اور نظام علم قائم کرنا، یہ تو میرے خیال میں تجاوز ہے۔ لیکن جزوی طور پر یہ کسی طریقے سے ہو جائے تو اس کی نفی شاید نہیں کی جا سکتی۔

مطیع سید: لیکن یہ جو صوفیا اپنے مشاہدات لکھتے ہیں کہ ہم نے سلوک کی منازل میں ایسے دیکھا، یوں مشاہدات ہوئے، ان کی کیا حقیقت ہے؟

عمار ناصر: ہو سکتا ہے، ان کو واقعتاً‌ کسی حقیقی عالم کا ایسا تجربہ ہوتا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ موضوعی اور Subjective قسم کی کیفیات طاری ہو جاتی ہوں۔ یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

مطیع سید: یہ چیزیں صحابہ اور تابعین میں نظر نہیں آتیں۔

عمار ناصر: شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ تصوف کے تین چار ادوار ہیں۔ چوتھے دور میں آ کر یہ چیزیں یعنی کشف وغیر ہ زیادہ عام ہوئی ہیں۔ ہر دور کی اپنی کچھ خصوصیات ہیں۔ خاص طبائع اور مزاج ہیں۔ یہ جو بہت غیر معمولی ذرائع علم سے استفاد ہ ہے، یہ اسی چوتھے دور میں جا کر ہوا ہے۔

مطیع سید: شاہ صاحب اس پر نقد بھی کرتے ہیں ؟

عمار ناصر: نہیں، شاہ صاحب چو نکہ خود اسی ذوق کے ہیں، اس لیے نقد نہیں کرتے۔

مطیع سید: وہ کئی دفعہ لکھتے ہیں کہ مجھے یہ دکھایا گیا یا مجھے یہ کہا گیا۔

عمار ناصر: جی، فیوض الحرمین میں اور دیگر کتابوں میں، ان کے اس قسم کے کافی مشاہدا ت ہیں۔


دوسرا حصہ


مولانا عتیق الرحمن سنبھلیؒ کی صحافت

(ہفت روزہ ’ندائے ملت‘ کے حوالے سے)

محمد اویس سنبھلی

بلند پایہ مصنف، مفسر قرآن، تعلیم و تربیت اور خدمت دین کے مثالی پیکر، صاحب طرز صحافی، نیزگمشدہ بہار کی آخری یادگار مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ۲۳/جنوری ۲۰۲۲ء کو طویل علالت کے بعد انتقال فرماگئے۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔  

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی آزاد ہندوستان کے اُن اہم دینی علماء سے تھے جنہوں مسلمانوں کی فکر کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ آزادی کے محض ۱۱-۱۰/ برس بعد جو سنگین مسائل مسلمانوں کے سامنے آکھڑے ہوئے، اس کا تصور، آج کے حالات میں بھی بہت مشکل ہے۔ ایسے سخت ترین حالات میں جن علماء اور دانشوران قوم نے مسلمانوں کی بروقت اور صحیح رہنمائی کی، اُن میں ایک نام مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کابھی ہے۔

مولانا نے اپنی زندگی کا بڑاحصہ مطالعہ و مشاہدہ اور تصنیف و تالیف میں صرف کیا۔ کم و بیش ۶۵/برس تک مسلسل ان کا قلم پوری توانائی کے ساتھ چلتا رہا۔ان کی پوری زندگی اشاعت دین میں بسر ہوئی اس کے علاوہ کوئی دوسرا مشغلہ تھا ہی نہیں۔ ان صفحات میں مولانا کی حیات و خدمات کے اس گوشے کا احاطہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس کا تعلق ہفت روزہ ”ندائے ملت“سے ہے۔


گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی کا زمانہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سخت ابتلا و آزمائش کا تھا۔ تقسیم ہندکے نتیجے میں اپنوں کے جدا ہونے کا بوجھ تو دل پر تھا ہی، ساتھ ہی ۶۰/ کی دہائی میں فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ پھوٹ پڑا۔ہر طرف مایوسی کا عالم تھا، کہیں سے کوئی ایسی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی جو مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والی یا ان کو ڈھارس بندھانے والی ہو۔ ایسے مشکل وقت میں ماہنامہ’الفرقان‘کے ایڈیٹر مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے قلم سے اس موضوع پر دو تین اداریے نکلے، توان کے چھوٹے بھائی حفیظ نعمانی مرحوم نے ان سے کہا کہ’بھائی صاحب اس کے لیے تو ایک ہفت روزہ کی ضرورت ہے‘۔حفیظ صاحب کے یہ جملے مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے دل کوچھو گئے۔ انھوں نے  ہم مزاج دوست ڈاکٹر اشتیاق قریشی سے ذکر کیا۔جب دونوں کی رائے ایک ہوگئی تومولانا محمد منظور نعمانیؒ اور مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی سرپرستی میں ’ندائے ملّت‘ کے نام اے ایک ہفت روزہ نکالنے کا اعلان کردیا گیا۔’ندائے ملت‘کا اجراء۱۲/مارچ ۱۹۶۲ کو ہوا۔اس کے بانی ایڈیٹر مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، معاون ایڈیٹر ڈاکٹر محمد آصف قدوائی اور پرنٹر پبلشر  حفیظ نعمانی تھے۔ ندائے ملت کے اجرا سے متعلق مولانا سنبھلی نے اپنی کتاب’راستے کی تلاش‘ میں لکھا ہے:

”ندائے ملت کا اجراء مسلمانوں کی ملکی زندگی سے متعلق مسائل کے لیے ہوا ہے۔ اس بارے میں جو اپنے خیالات ہیں ’الفرقان‘ کے دائرے اور دامن کی وسعت کی حد تک وہ برابر ناظرین’الفرقان‘ تک پہنچتے رہے ہیں۔ لیکن’الفرقان‘ کی خاص دینی اور اصلاحی نوعیت کی بنا پر یہ خیالات ایک خاص دینی حلقے ہی تک محدود رہتے تھے۔ اس چیز نے سوچنے پر مجبور کیا کہ ایک ایسی نوعیت کا پرچہ ہو جس سے اس حلقے سے باہر کے افرادِ ملت بھی دلچسپی لے سکیں۔’ندائے ملت‘کا اجراء اسی احساسِ ضرورت کا نتیجہ ہے...“ (راستے کی تلاش از مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، صفحہ ۷-۶، ۱۹۹۳ء)

مولاناؒ کے نزدیک اس وقت کے حالات تقاضا کررہے تھے کہ ملت کا جو عنصر، حال اور مستقبل کے ان خطروں کے خلاف ملت کی جو خدمت انجام دے سکتا ہے، اس میں دریغ کو ایک ناقابل معافی گناہ سمجھے اور اپنا سب کچھ اس راہ میں جھونکنے کے لیے تیار ہوجائے۔مولاناؒ کے اپنے ان خیالات اور اس درد و کرب کے آزادنہ اظہار کا ذریعہ ماہنامہ ’الفرقان‘تھا، اور اس کا ایک محدوددائرہ تھا، جو صرف دینی ذہن رکھنے والے افراد پرمشتمل تھا۔ان تمام حالات اور واقعات کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ہفت روزہ نکالا جائے۔ لہٰذا ایک منجھی ہوئی ٹیم کے ساتھ ’ندائے ملت‘ کے نام سے ہفت روزہ کا اجرا عمل میں آیا۔ اخبار کا تجربہ صرف حفیظ نعمانی صاحب کے پاس تھا کہ وہ اس سے قبل روزنامہ’تحریک‘ (لکھنؤ)کے نام سے نکال چکے تھے۔ ان کا اپنا پرنٹنگ پریس بھی تھا، جس میں اردو اخبارات چھپنے کے لیے آتے رہتے تھے۔ انھیں کے مشورہ پر الہ آباد سے حسن واصف عثمانی، پٹنہ سے ظہیر صاحب کو بلایا گیا۔کچھ عرصہ بعد جمیل مہدی بھی ندائے ملت کے شعبہ ادارت سے وابستہ ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ندائے ملت کسی کی ذاتی ملکیت نہیں تھا بلکہ یہ”ندائے ملت ٹرسٹ“ کے تحت شائع ہورہا تھا۔ مولانامحمد منظور نعمانی ؒ اور مولانا علی میاں ندویؒ اس کے سرپرست اور مالیات کی فکر کرنے والے تھے۔ ان دونوں بزرگان دین کی قیادت میں ضرورت کے تحت چند حضرات نے بنام خدا اس کا بیڑا اُٹھا لیا تھا۔ ان حضرات نے اپنی ذات سے  سرمایہ کی فراہمی کا آغاز کرکے دوسرے اہل درد و فکر اورملت کے محبین و مخلصین کو دعوت دی کہ وہ پہلے سال کاچندہ بطور خاص سوسو روپے عطا فرما کر اس کام میں معاون و مددگار بنیں۔

۱۲/مارچ ۱۹۶۲ء میں بنام خدا اخبار کا آغاز کردیا گیا۔ندائے ملت کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا تو اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے جن چار ملی شخصیات کے پیغامات شائع ہوئے، ان میں حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی، حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی، حضرت مولانا معین الدین احمدندوی اور ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے نام شامل تھے۔

ملت کے جو افراد بنیادی خریداری کی استطاعت رکھتے تھے، انھوں نے ندائے ملت کے مقاصد سے اتفاق اور بانیان اخبار پر اعتماد کا اظہارکیا اور اخبارکے بانی خریدار بنے۔ندائے ملت کا اجرا اس وقت کسی جہاد سے کم نہ تھا۔یہی سبب تھا کہ ندائے ملت کا پہلا شمارہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوا جوپورے ملک میں بطور نمونہ بھیج دیا گیا، مگر اس کے تین ہی دن کے اندر اندر جو مانگ پیدا ہوئی تو دو ہزار کاپیاں مزید چھاپیں، حتی کہ یہ بھی ختم ہوگئیں اور پھر تیسرا اڈیشن بھی چھاپنا پڑا۔مولانا عتیق الرحمن سنبھلی لکھتے ہیں:

”الحمد للہ ندائے ملت کا اجراء عمل میں آگیا... اس کی ادارت کی ذمہ داری بھی اس ہیچ مداں کے سر ہے...جن بلند مقاصد اور جس اُونچے معیار کے ساتھ اخبار کا اجراء تجویز کیا گیا تھا۔اپنی بے بضاعتی اور صحت کی کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کے تصور نے بڑا فکر مند بنا رکھا ہے۔لیکن اس کار ساز کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے کہ پہلے ہی پرچہ کا اپنی زیادہ سے زیادہ توقع سے بڑھ کر استقبال ہوا...اور دوسرے کے بارے میں اس سے بھی بہتر آثار نظر آرہے ہیں۔“ (ماہنامہ الفرقان، شوال۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۲ء صفحہ ۵)

ندائے ملت جن ہاتھوں میں پہنچا، انھوں نے اس کا استقبال ایک اخبار کی طرح نہیں، ایک ایسی تحریک کی طرح کیا، جو ملت کے اضطراب انگیز مسائل کے لیے شروع کی گئی ہو۔ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ہندوستان میں امت مسلمہ کے مسائل پر ایک طویل اور مسلسل اضطراب ہی کی وجہ سے کاغذ اور قلم کی اس دنیا میں آئے، جسے صحافت کی دنیا کہا جاتا ہے، ورنہ اس سے قبل تووہ صرف ماہنامہ الفرقان کی ادارت سے وابستہ تھے۔مولانا کے ایک اداریہ کا کچھ حصہ یہاں نقل کرتے ہیں کہ اس میں ان واقعات و حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جن کے سبب ’ندائے ملت‘ کا اجرا عمل میں آیا۔ مولانا سنبھلی تحریر کرتے ہیں:

”ندائے ملت کی اشاعت کا آغاز ۲۱/مارچ ۲۶ء سے ہوتا ہے، اس کے محرک وہ واقعات و حالات تھے جو فروری ۱۶ء سے اکتوبر ۱۶ء تک ایک خاص تسلسل کے ساتھ ملک میں رونما ہوئے۔ یعنی جبل پور کے ہولناک بلوے، مسلم کنونشن کاآغاز اور انجام، نیشنل انٹگریشن تحریک اور پھر علی گڑھ اور میرٹھ کے فرقہ وارانہ ہنگامے۔ان واقعات سے تین باتیں سامنے آئیں۔

(۱)    ملک کی اکثریت کے فرقہ پرست عناصر بہت طاقتور پوزیشن میں آچکے ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں ان کی نفرت آمیز ذہنیت جارحیت کی بالکل آخری حدوں تک چلے جانے میں نہ کوئی باک ہے نہ رکاوٹ۔

(۲)  مسلمان پست ہمتی اور مرعوبیت کی اس حد تک جاچکے ہیں کہ دستوری حیثیت سے برابر کے شہری ہونے کے باوجود عملی طور سے وہ رفتہ رفتہ دوسرے درجہ کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر راضی ہوسکتے ہیں۔

(۳)  کانگریس اور حکومت کے بڑے بڑے صاف ذہن اور انصاف پسند رہنما بھی اب حالات کے دباؤ سے ہندو مسلم مسئلہ کا حل اس طرح سوچنے لگے ہیں کہ مسلمان اکثریت کی خواہشات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرلیں اور ہندوستانی قومیت کا جو تصور فرقہ پرستوں کے ذہن میں ہے، اس سے جنگ کی کوشش ترک کردیں۔“ (ندائے ملت،۳مئی /۱۹۶۳ء)

ان حالات میں ندائے ملت شروع ہوا اور اس نے پہلے روز سے اپنے لیے جو راستہ منتخب کیا آخر تک سرمنھ انحراف کی نوبت نہیں آئی۔پہلے شمارہ کے اداریے سے’ندائے ملت‘ کی فکر اور طریقہ کار کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

وقت ہمیشہ سے اتنا تیز رفتار رہا ہے کہ ایک لمحہ کی چوک نے بھی لوگوں کو مدتوں رُلایا ہے۔ فارسی کا بہت مشہور شعر ہے  ؎

رفتم کہ خار از پاکشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم وصد سالہ را ہم دُور شد

لیکن جب زمانہ بھی تیز رفتار ہوجائے اور قومیں چلنے کے بجائے دوڑ رہی ہوں تب تو وقت کے ہر ہر لمحہ کی قیمت بہت ہی بڑھ جاتی ہے۔

ہمارا دور اسی تیز رفتاری کا دور ہے، جس میں قومیں چل نہیں رہیں دوڑ رہی ہیں اور زندگی کی جدوجہد برسوں کے فاصلے لمحوں میں طے کررہی ہے۔ اس تیز رفتار اور گزیز پا زمانہ میں اگر کوئی قوم تھوڑی دیر کے لیے بھی زندگی کی کشمکش سے الگ ہوکر تلووں کے کانٹے چننے اور چوٹیں سہلانے میں لگی رہ جائے تو اس ذرا سی دیر میں ہی مدتوں کے لئے اس کی راہ کھوٹی ہوسکتی ہے، اور یہ ذرا سی ہی غفلت اسے اس صورت حال سے دوچار کرسکتی ہے کہ اب راستے بند ہیں، اب انتظار کرو کہ وقت خود ہی کوئی کروٹ بدلے اور تمہارے لیے جدوجہد کی راہ کھلے۔

منقسم ہندوستان کے پانچ کروڑ مسلمانوں کو تقسیم کے حادثے سے جو چوٹیں آئیں اور جو پریشانیاں، ناانصافیاں اور حق تلفیاں ایک عرصہ دراز کے لیے ان کا مقدر بن گئیں، وہ اثر لینے کی چیز ضرور تھیں۔ انسان کیا، ہر جاندار کی فطرت ایسی بنی ہے کہ وہ چوٹ سے درد محسوس کرے لیکن چوٹوں ہی کو دیکھتے رہنا، رونا اور چلانا اور مرثیہ گوئی میں پڑے رہنا اور مداوا کی فکر نہ کرنا یہ انسان کی حقیقی فطرت نہیں، یہ ایک مرض ہے جسے ناسمجھی، بے عملی اور کم ہمتی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جن قوموں میں زندگی کی توانائی ہوتی ہے، شعور اور فکر کی قوتیں بیدار ہوتی ہیں اور دنیا میں زندگی کا راز اُن کی نگاہوں پر فاش ہوتا ہے، وہ بڑی سے بڑی چوٹیں کھا کربھی سہلانے کے لئے بیٹھ نہیں سکتیں۔ ان کا وقت مرثیہ گوئی میں صرف نہیں ہوتا اور ایک منٹ کے لئے بھی میدان عمل سے ہٹ جانے کو پسند نہیں کرتیں، وہ اگر توقف کرتی ہیں تو صرف یہ سوچنے کے لیے کہ انھوں نے چوٹ کیوں کر کھائی اور کیا سبب تھا کہ ان کو چوٹ آئی اور دوام ہی کی حالت میں ان کا ذہن اس جائزے میں مصروف ہوتا ہے۔ اور پھر ذرا سا بھی وقت برباد کیے بغیر آگے کے لیے کچھ فیصلہ کرکے سرگرم عمل ہوتی ہیں، یہی قومیں ہوتی ہیں جن کے زخم بھی بھرجاتے ہیں اور صحت سے بھرپور زندگی کا نیا سروساماں بھی انھیں فراہم ہوجاتا ہے۔

ہم ہندوستان کے مسلمانوں کو اعتراف کرنا چاہئے کہ ہم نے اس تیز رفتار دور کے وقت کا بڑا عظیم سرمایہ ماتم آرائی اور درد و الم کی دہائی میں برباد کردیا، مگر ہماری بڑی خوش قسمتی اور محض تائید ایزدی ہے کہ وقت نے ہمارے لیے کچھ کرلینے کے دروازے کسی نئی کروٹ تک کے لیے بند نہیں کئے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہماری مسلسل بے عملی نے مسائل و مشکلات کو، قدرتی طور پربڑھنے اور پھیلنے کا موقع دے دیا ہے اور اس کی وجہ سے راہیں قدرے تنگ اور دشوار گزار ہو چکی ہیں۔ تاہم جس قدر بھی گنجائش باقی ہے وہ بہت کچھ ہے اور فکر و عمل کی پوری طاقتوں سے کام لے کر اسی بقیہ وقت اور بقیہ گنجائشوں میں گزارے ہوئے وقت اور نکلے ہوئے مواقع کی تلافی بھی کی جاسکتی ہے۔

ملک کے تیسرے عام انتخابات نے جہاں یہ بتایا کہ ملک کی اکثریت کا رجحان مسلم دشمن طاقتوں کے نظریات کی طرف بڑھا ہے وہاں اس حقیقت کو بھی سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے کہ مسلمان بیلنس پاور ہیں۔ اپنے ملک کی سیاسی ترازو میں وزن کا گھٹاؤ بڑھاؤ ان کے ہاتھ میں ہے۔ ملک کی سب سے بڑی فرقہ پرست پارٹی ’جن سنگھ‘ کو اس الیکشن میں کامیابی کی بہت زیادہ توقع تھی اور دوسرے سیاسی عناصر کو بھی اس کا بڑا خطرہ نظر آرہا تھا مگر جن سنگھ کو اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کی توقع کو بڑی حد تک مسلمانوں نے پورا نہیں ہونے دیا۔ حتی کہ بعض وہ مقامات جو جن سنگھ کا گڑھ بن گئے تھے وہا ں جب مسلمانوں نے طے کر لیا کہ جن سنگھ کو ہر قیمت پر ناکام کرنا ہے تو ایسی شکست فاش اس پارٹی کے حصہ میں آئی کہ ہر شخص حیران رہ گیا، اور جن سنگھی اپنا سر پیٹ کر رہ گئے۔

اسی فیصلہ کن طاقت کا اندازہ کرکے حزب مخالف کی بعض پارٹیوں نے جن کو ہندو ووٹوں کی کچھ خاص توقع نہیں تھی اپنی انتخابی مہم زیادہ تر ایسے اندا ز پر چلائی جس میں صاف طور پر مسلم ووٹروں کو پرچانے کا منشا جھلکتا تھا، سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور موجودہ چیرمین راج نرائن سنگھ کی انتخابی تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو بہت نمایاں طور پر یہ عنصر ملے گا۔ ڈاکٹر لوہیا نے تو وہ آخری بات کہہ دی جس کو خود مسلمان بھی تصور میں نہیں لا سکتے تھے، انھوں نے کہا کہ ہندوستان کا صدر ایک دفعہ مسلمان ہونا چاہئے اور ایک دفعہ ہندو۔۔۔کوئی مسلمان بھی آج کے ہندوستان میں اس بات کو سوچ سکتا ہے؟ مگر ڈاکٹر لوہنا نے برسر عام یہ بات کہی اور گویا یہ وعدہ کیا کہ ان کی پارٹی اگر برسراقتدار آجائے تو صدارت کا یہی اصول رہے گا۔

اسی طرح برجا سوشلسٹ لیڈروں کی نظر بھی مسلمانوں پر رہی اور کافی باتیں ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی کی گئیں جس کو ہندو پسند نہیں کرسکتا تھا، سوتنتر پارٹی نے تو بقول جواہر لال نہرو قرآن پاک کو بیچ میں ڈال دیا۔اور اردو کی دہائی دے کر مسلمانوں کو قریب کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اس پارٹی کے بانی رہنماؤں میں وہ کے -ایم-منشی جی بھی ہیں، جن کے کرم اُترپردیش میں اُردو کو آج بھی یاد ہیں اور ہندمیں مسلمانوں کی تاریخ پر ان کے قلم کی عنایتیں ایک غیر محتسم سلسلہ رکھتی ہیں۔ رہ جاتی ہے کانگریس، تو اس نے بھی مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے پر اس قدر زور دیا کہ مسلمانوں سے متعلق اُس کے انتخابی نعرے تمام مخالف پارٹیوں کے لیے بلائے بے درماں بن گئے اور ہر پارٹی اس سوہان روح میں مبتلا تھی کہ ان نعروں کے ذریعہ کانگریس تمام مسلم وو ٹ کھینچ لے جائے گی۔ایک’جن سنگھ‘ رہ جاتی تھی جو مسلمانوں کے ووٹ کی توقع نہیں رکھ سکتی تھی لیکن ان ووٹوں سے صرفِ نظر وہ بھی نہیں کرسکی چنانچہ اس نے اس مسئلہ کا دوسرا حل تلاش کیا اور وہ یہ کہ جہاں بن پڑا کسی آزاد مسلمان کو کھڑا کیا یا کسی پارٹی کے نام نہاد ممبروں میں سے کسی مسلمان کو آلہئ کار بنایا اور وہ پارٹی سے ٹکٹ حاصل کرکے کھڑا ہوگیا تاکہ اسلام کے نام پر مسلمان ووٹوں کو کاٹ کر ناکارہ کردیا جائے۔

الغرض ملک کے تیسرے الیکشن نے یہ حقیقت کھول کر رکھ دی ہے کہ مسلمان یہاں ایسی عدد ی طاقت کے مالک ہیں جس سے اگر تدبیر کے ساتھ کام لیا جائے تو ملک کی نئی تعمیر پر نمایاں اثر ڈالا جاسکتا ہے اور ملک کی زندگی کا کوئی نقشہ ان کی جائز خواہشات کو نظر انداز کرکے نہیں بن سکتا ہے۔ لیکن وہی بات کہ تدبیر اور ہوشمندی شرط ہے۔ اگر یہ شرط پوری نہ ہو تو پھر وہ پتوں کی طرح ہیں جو بے گنتی ہو کر بھی بے وزن ہی رہتے ہیں۔

ندائے ملت کا اجراء بنیادی طور پر صرف اسی ایک مقصد کے لیے ہوا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ملک کے حالات کو واقعی صورت میں دیکھیں، اپنے مقام اور اپنی حیثیت کو سمجھیں اور جہد و عمل کا جس قدر بھی میدان ان کے لیے آج باقی ہو اس میں پورے جوش اور ولولہ کے ساتھ اُٹھ کروہ رہِ عمل اختیار کریں جس پر چل کر پوری اسلامیت کے ساتھ اپنا مستقبل بھی بنا سکیں اور ملک کے لیے بھی ایک قابل قدر عنصر ثابت ہوسکیں۔

ندائے ملت، کو ملت کے صرف مشترک مسائل و مفادات سے مطلب ہوگا اور کسی بھی جماعتی اور گروہی حد بندی سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ یہ کسی جماعت یا محدود گروہ کا ترجمان نہیں بلکہ مشترک ملی معاملات میں تمام مسلمانوں کے اتحاد کی راہیں ہموار کرنا، اور انھیں گروہی طرز فکر سے بلند کرنے کی کوشش کرنا، اس کا نصب العین ہے......خدا سے دعا ہے کہ ان مقاصد میں کامیاب کرے اور ”ندائے ملت“ کو ملت کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنا دے۔ وَمَا ھُوَ عَلَی اللّٰہ بِعَزِیْزَ۔  (ہفت روزہ ’ندائے ملت‘، جلد ۱، شمارہ ۱، ۲۱/مارچ ۲۶۹۱ء، صفحہ ۳)

اس اداریے کے مطالعہ سے یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ کن بنیادوں پر ’ندائے ملت‘ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ندائے ملت نے اپنے پہلے ہی شمارے کے ٹائٹل پر الجزائر کے شہید مسلمانوں کی قربانیوں کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے نشور واحدی کا یہ مصرعہ لگایا تھاکہ ”مٹی کو لہو دے کے چمن ہم نے بنایا“۔ اور اس کے نیچے الجزائر کے شہیدوں کی ایک تصویر شائع کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح فرانسیسیوں نے شہیدوں کے سر کاٹ کر ڈھیرلگادئے۔ ندائے ملت کا یہ ٹائٹل بہت پسند کیا گیا،حضرت مولانا عبدالرب صاحب صوفیؒ کی ایک مختصر نظم ندائے ملت کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئی جس کا عنوان تھا’ندائے ملت کا ٹائٹل دیکھ کر‘۔ نظم ملاحظہ ہو:

اے ندائے ملت حق! مرحبا صد مرحبا
قوم کو پیغامِ بیداری ہے ہر صفحہ ترا
صفحہئ اول پہ لیکن درج ہے کتنا حسیں
الجزائر کے شہیدوں کے لہو کا ماجرا
الجزائر کے شہیدوں کے سروں کے ڈھیر کا
دیکھ کر فوٹو تڑپ اُٹھا دل درد آشنا
یہ سروں کے ڈھیر کی تصویر ناجائز نہیں
زندہ جاوید ہیں گو یہ شہیدان جفا
اے مسلمانان عالم! اے مسلمانان ہند!
درس لو ان سے حیاتِ حریت آگاہ کا

(ہفت روزہ ندائے ملت، شمارہ ۲/جلد ۱، صفحہ ۵)

ندائے ملت نے صحافت کے جس معیار کو پہلے دن اپنے لیے قائم کیا تھا، ۱۹۶۸ء تک انھیں بنیادی مقاصد کو پکڑ کر کامیابی کی منازل طے کرتا رہا۔ ندائے ملت کی جرأت و ہمت، حق گوئی اور بیباکی کے سلسلہ میں سیکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہی سبب تھا کہ ہرسال کم وبیش چار پانچ مقدمات کاحکومت اُترپردیش کی جانب سے ا خبار کے ایڈیٹر کو سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنی بات حق گوئی اور بیباکی کے ساتھ پیش کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے تھے، اور جس طرح کی زبان اپنے اداریوں میں استعمال کرتے تھے، آج کے حالات میں وہ نہ صرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے بلکہ ان کے گھر پر بلڈوزر اپنا کمال دکھا چکا ہوتا۔ ۱۹۶۲ء کے ابتدائی مہینوں میں مالدہ (بنگال) میں کشت و خون کا دور شروع ہوا۔ سیکڑوں کی تعداد میں مسلمان موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔ مسلمانوں کا خون بہا اور ساری مصیبتیں بھی انھیں پر ٹوٹیں۔ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے۴/مئی ۱۹۶۲ء کے اداریے میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد مسلمانوں کے خون کو گرمادینے والا اور صحیح معنوں میں رونگٹے کھڑے کردینے والا پیغام دیا۔ اس اداریہ کا کچھ حصہ یہاں نقل کیا جارہاہے تاکہ سند رہے:

...ہم ماتم کے قائل نہیں، ہاں ہمیں اس کا ضرور رنج ہے کہ مسلمانوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ کتّے اور بلیوں کی طرح مارے جاتے ہیں، یہ سننے میں کیوں نہیں آتا کہ انھوں نے بھی درندہ صفت حملہ آوروں اور غنڈوں کو منھ توڑ جواب اور کچھ سبق دیا اور دس مارے گئے تو اپنی حفاظت کا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے دوچار کو انھوں نے بھی ٹھکانے لگا دیا؟ شاید مسلمان جان کی خیر مناتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جواب دینے میں اور قیامت ٹوٹے گی۔ پولیس کو بھی اپنی رائفلوں کے جوہر دکھانے کا موقع ملے گا اور پھر پکڑدھکڑ کی ذلتّیں الگ اُٹھانی پڑیں گی۔ لہٰذا ہاتھ باندھ کر مار کھاتے رہو۔ ہم مسلمانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ خیر منانے کی ذہنیت اُنھیں تباہ کرکے رکھ دے گی۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس معاملہ میں ناہل یا بے بس ثابت ہوچکی ہیں۔ مسلمان اگر اب تک نہیں سمجھے ہیں تو اب سمجھ لیں کہ اپنے وجود کی حفاظت انھیں خود کرنی ہے۔ بے شک عام دنوں میں اس کا طریقہ کار یہ ہوچاہئے کہ اپنے علاقوں کے امن پسند اور شریف غیرمسلموں سے رابطہ پیدا کرکے انھیں جارحیت پسندوں کے خلاف محاذ پر لائیں لیکن جب اس کے باوجود اُن پر نرغہ ہوجائے اور انھیں کو بھگتنا پڑے تو ہر شخص مرنے کی ٹھان لے، اس انداز سے جو موتیں ہوں گی وہ اگر ایک کی جگہ سو ہوجائیں تو اس ایک موت سے اچھی ہیں جو خیر مناتے ہوئے واقع ہو۔ اس کے نتیجہ میں اگر پولیس او رحکام کی فرقہ وارانہ ذہنیت کا نشانہ بھی بننا پڑے تو اس سے بھی ذلّت اور پریشانیوں کا تصور کرکے گھبرانے کی ضرورت نہیں،اسے اپنی قوم کی فلاح و بقا کے لیے ایک مزید قربانی تصور کرکے پوری ہمت سے گوارا کرنا چاہئے اور جیلوں کو بھر دینا چاہئے۔

اس طرح کی موتیں مسکینوں اور بے کسوں کی موتیں نہیں سمجھی جائیں گی کہ اُن پر مرثیے پڑھے جائیں، نہ اُس کے بعد کی پریشانیوں کو ذلتیں گردانا جائے گا کہ اُن پر آہیں بھری جائیں، اُن سے زندگی کا شرار پیدا ہوگا، یہ ایک قابل فخر نقشِ قدم بنے گا...

اور تاریخ اسے جانبازی و قربانی کا نام دے گی۔

ہمیں چڑ ہوتی ہے جب ہم ہندوستانی مسلمانوں کے متعلق بے کسی، مجبوری اور مظلومی کے الفاظ سنتے ہیں، مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج ان کے اندر سے یہی الفاظ اُن پر صادق آتے ہیں۔ کاش اُن کا انداز بدلے اور یہ الفاظ ان کے متعلق اب کبھی سننے میں نہ آئیں۔ ہمیں اپنے اخبارات سے بھی بے حد شکایت ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات پراس طرح مرثیے پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کو مجبوراور لاچار کہہ کر اس قدر مجبوری اور بیچارگی کا احساس دلاتے ہیں کہ کسی میں جان پر کھیل جانے کا حوصلہ بھی ہو تو اس کا دل بھی بیٹھ کر رہ جائے۔ یہ روش ترک ہونی چاہئے۔ مسلمانوں کے لیے ہرگز کوئی مجبوری و لاچاری کی بات نہیں ہے۔ ہاں! وہ خود ہی زندہ درگزر ہونا چاہیں، یا ان کے رہنما اُن پر مجبوری و لاچاری کا احساس طاری کردیں تو بلا شبہ ذلّت کی موت کے سوا اُن کا کوئی انجام نہیں!

(ہفت روزہ ’ندائے ملت‘، جلد ۱، شمارہ ۷، ۴/مئی ۲۶۹۱ء، صفحہ۲)

ندائے ملت اپنے عہد شباب (۱۹۶۲ء تا ۱۹۶۸ء) میں اپنی عظمت کو برقرار رکھتے ہوئے شائع ہوتا رہا۔اس کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ یہ جریدہ مسلمانانِ ہند کی نمائندگی جس شان اور بیباکی کے ساتھ کرتا رہا وہ آزاد ہندوستان میں بس اسی کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔

 مسلمانوں کو یہ طعنہ تب بھی دیا جاتا تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو قومی شعور سے ہم آہنگ کرنا ہی نہیں چاہتے۔اور یہی اس کی سب سے بڑی خامی اور اس کا سب سے بڑا جرم ہے۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے ندائے ملت کے ایڈیٹر مولاناعتیق الرحمن سنبھلی نے اس کے پہلے سالنامے میں لکھا:

”ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان کے اندر قومی پیمانے پر حب الوطنی کا کوئی مثبت ولولہ اور ملک کی تعمیر و ترقی اور اس کے فلاح و بقا سے کوئی دلچسپی نظرنہیں آتی۔ بہت سے مسلمان اس کو تسلیم کرنا خلاف مصلحت سمجھیں گے۔ لیکن ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بات بالکل یونہی ہے....لیکن اس میں قصور کس کا ہے اور آپ اس کے علاوہ مسلمانوں سے کیا توقع کرنے کا حق رکھتے ہیں؟ کیا مسلمان کوئی بے حس اینٹ گارے کے بنے ہوئے ہیں کہ ملک کے دروبست پر قابض اکثریت ان کے ساتھ ناوفاداروں کا معاملہ رکھے۔ دستور میں مانے ہوئے ان کے حقوق کی ادائیگی سے طرح طرح کی تدبیروں اور بہانوں سے گریز کیا جائے۔ ان کو دن رات ملک دشمن اور غیر ملکی کہا جائے۔ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہ ہو۔ آج یہاں کل وہاں ان کے زندہ جلائے جانے کے واقعات ہوتے رہیں۔ پھر اچھے اچھے ذمہ دار لوگ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے بیانات دے ڈالتے ہیں...اس سب کے باوجود مسلمان خوش دل رہے، اپنے وطن کے گیت گائے، اس کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی لے اور اس کی فلاح و بقا میں جان کھپائے...اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ گوشت پوست کے بنے ہوئے اور پہلو میں دل جیسا نازک آئینہ رکھنے والے آپ ہی کے جیسے انسانوں سے یہ کیسے ممکن ہے؟“(ندائے ملت، سالنامہ، ۳/مئی ۳۶۹۱ء، صفحہ ۱۱)

ندائے ملت کا یہ انداز خطاب تو ملک کے سربراہوں سے تھا، اس کے بعد ندائے ملت نے ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اسی انداز میں مخاطب کیا۔ اس انداز خطاب کو پڑھ کر ندائے ملت کے ایک معاصر روزنامہ ”وفاق“ جو سرگودھا دلائل پور، پاکستان سے شائع ہوتا تھا، نے ندائے ملت کے پہلے سالنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

’’ندائے ملت نے...ایسے ولولہ انگیز انداز میں اپنی قوم کو پکارا ہے کہ اس تحریر میں مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کی سی جولانیاں نمایاں طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں....سالنامے کے ٹائٹل کو انتہائی نفیس آرٹ پیپر سے مزین کیا گیا ہے۔ کتابت، طباعت خوب نکھری ستھری ہے اگر چہ پاکستان کی ترقی پسند صحافت کی چمک دمک سے اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن تبصرہ نگار یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ پاکستان کے بزعم خود دینی جرائد کی ادارت بھی ایک صاف ستھرے ذوق کے لیے کوئی کشش نہیں لیکن ندائے ملت کا ”ہاکر“ بننا بھی شاید ایسے ذوق پر گراں نہ گزرے۔“(’ندائے ملت‘جلد ۳، شمارہ ۸۱، ۹/اگست ۳۶۹۱ء)

ندائے ملت جاری ہوا تو چاروں جانب ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ ہندوستان کے حالات سے باخبر اور ملت کے تئیں ہمدردی رکھنے والے ہرصاحب فکر نے اس اخبار کو اسم بامسمٰی سمجھا۔چند شمارے ہی شائع ہوئے تھے کہ صاحب تدبر قرآن    مولانا امین احسن اصلاحی نے توباقاعدہ اس کے بارے میں ادارتی نوٹ تحریرفرمایا، جس سے اخبار کے معیار و اعتبار دونوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے:

”لکھنؤ سے ایک ہفت روزہ ’ندائے ملت‘ کے نام سے نکلا ہے۔ اس کے ایڈیٹر مولانا عتیق الرحمن اور اس کے نگراں مولانا ابوالحسن علی اور مولانا محمد منظور نعمانی ہیں۔ یہ اخبار اپنی خصوصیات و اہمیت کے اعتبار سے اس بات کا حقدار ہے کہ اس کا ذکر ان صفحات میں کیا جائے... اب تک اس اخبار کے چار شمارے نکل چکے ہیں اور ہر شمارہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ اس کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے ”الہلال“ مرحوم کی یاد تازہ کردی ہے۔ وہ کچھ زیادہ مبالغہ سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی مرحوم کے متعلق سنا ہے کہ ان کو ہفتہ بھر الہلال کا انتظار رہتا تھا۔ جب وہ آجاتا تو اس کو مطالعہ کرنے کے بعد سامنے اپنی میز پر رکھ لیتے اور اس وقت تک اس کو میز سے اُٹھانے کی اجازت نہ دیتے جب تک اس کے بعد کا نمبر ان کی میز پر اس کی جگہ لے لینے کے لیے نہ آجاتا۔ کچھ یہی معاملہ ’ندائے ملت‘ کے ساتھ ہمارا ہے۔

اس اخبار کی سطر سطر سے ایمان کی غذا، روح کو تقویت، فکر کو رہنمائی اور عزم و حوصلہ کو ایک حیات تازہ ملتی ہے.... اس دعوت میں مسلمانوں کے دین، مسلمانوں کی تہذیب اور مسلمانوں کی عالمگیر برادری کے جو حقوق و مطالبات ہیں اُن کا بھی پوری جرأت اور پورے اعتماد کے ساتھ اظہار و اعلان کیا جارہا ہے۔

ہمیں یہ معلوم کرکے بڑی مسرت ہوئی کہ یہ اخبار بڑی تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی مقبولیت میں اضافہ فرمائے اور اس کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔ جن لوگوں نے ملت عزیز کو زندہ کرنے کے لیے یہ بازی کھیلی ہے ان کی درازیِ عمر کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ اپنی زندگی کے جو دن باقی ہیں، اگر وہ کچھ قدروقیمت رکھتے ہیں تو رب کریم ان کو بھی مولانا علی میاں اور مولانا نعمانی کی عمروں کے ساتھ جوڑ دے کہ ان کے پاکیزہ ہاتھوں سے یہ ملت مظلوم کی نذر ہوجائیں۔ (ماہنامہ میثاق، مئی ۱۹۶۲ء)

ندائے ملت کے اجراء کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو مرعوبیت اور احساس بیچارگی سے نکالا جائے،انھیں بتایا جائے کہ اپنی تعمیر و ترقی کا لائحہ عمل خود بنانا ہوگا۔ ندائے ملت کی شکل میں ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمانوں میں صحت مندانہ سیاسی تصور کے لیے ایک اہم قدم تھا۔ندائے ملت نے مسلمانوں کے اندر جرأت و خود اعتمادی اور اس میں شائع ہونے والی تحریروں نے ملّی فکر اور مسائل کے تئیں عزم و ہمت پیدا کی۔ ایک مختصر مدت میں اس نے قومی اور ملّی تعمیر کا جو فریضہ انجام دیا، وہ بہت حد تک اطمینان بخش کہا جاسکتا ہے۔ انھیں تحریروں اور سنجیدہ ادارتی ٹیم کا ہی کمال تھا کہ انتہائی کم مدت میں ندائے ملت اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں پہنچنے کی جدوجہد میں اخبارات کو برسہا برس لگ جاتے ہیں۔ ندائے ملت کے پہلے سالنامے پر جمعیۃ علماء ہندکے آرگن روزنامہ الجمعیۃ نے لکھا:

”ندائے ملت قوم و ملت کی خدمات جس انداز پر کر رہا ہے، اگر اس کے بعد بھی انسانی ضمیر بیدار نہ ہو تو تعجب ہے۔ یہ سالنامہ ملی، قومی، سیاسی اور تعلیمی مسائل کی ایک مختصر سی انسائیکلوپیڈیا ہے۔ عموماً رسائل  و اخبارات کے سالنامے چند روز کے بعد بھلا دیے جاتے ہیں، مگر یہ سالنامہ ذہن اور عمل کے لیے ایسا دستور العمل ہے جس کے نقوش عرصہ دراز کے بعد بھی مدھم نہیں پڑسکتے۔ اگرچہ ندائے ملت کی عمر زیادہ نہیں ہے لیکن ڈیڑھ سال کی عمر میں اس نے اتنی خدمات انجام دی ہیں جو شاید دوسرے ذرائع سے بیس سال کے اندر بھی انجام نہ دی جاسکیں۔ خوش قسمتی سے ندائے ملت کوایسے لوگوں کی سرپرستی حاصل ہوئی جو بین الاقوامی شہرت کے سرمایہ دار بھی ہیں اور قوم و ملت کے نباض بھی۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی عالم اسلام کے درخشندہ ستارے ہیں اور جن کا فیض کرم سارے عرب ممالک کو محیط ہے۔ مولانا محمد منظور نعمانی ہندوستان کے ان مشاہیر علماء میں سے ہیں جنھوں نے اسلام کو پیش کرنے کی صحیح راہیں متعین کیں اور اسلامی لٹریچر میں پیش بہا اضافہ کیااور اس علم و مرتبہ کے اہل حضرات نے ندائے ملت کو اپنے بلند ترین افکار سے مزین کیا ہے اور برابر کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ سالنامہ کے مضامین میں اکثر مضامین ملت کی شاہراہ زندگی کے لیے شمع ہدایت کا کام دے سکتے ہیں، بھرتی کا ایک بھی مضمون نہیں ہے۔ امید ہے کہ ملت کے درد مند افراد اس کا مطالعہ کرکے اس کی فکری کاوشوں سے ضرور فائدہ اُٹھائیں گے اور دوسروں کو بھی فائدہ اُٹھانے کی ترغیب دیں گے۔“ (ندائے ملت جولائی ۱۹۶۳ء)

اس ہفت روزہ اخبار نے ملت کو حوصلہ دیا، بے بسی سے نکالنے کی کوشش کی، اس کے مسائل پر بے لاگ گفتگو کی، اور یہ سب کچھ اس انداز میں کیا کہ حکومتِ وقت کو وہ اپنی سیاسی راہوں کا ایک خار محسوس ہونے لگا، اسی بیچ حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مسلم حیثیت پر تیشہ چلایا تو ندائے ملت نے اس پر سخت احتساب کیا، ایک خاص اشاعت’مسلم یونیورسٹی نمبر‘ کے طورپر نکالا، آخر حکومت نے نشہ اقتدار میں، ندائے ملت کے خلاف کاروائی کی، پرنٹر پبلشر اور معاون مدیر حفیظ نعمانی صاحب(مولانا سنبھلی کے چھوٹے بھائی) اور دفتر کے دو کارکنان کے حصہ میں اسیری آئی، اور مولانا سنبھلی کو بھی کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ۲/سال سے کچھ زاید عرصہ تک ندائے ملت کے اڈیٹر رہے، اس کے بعدضعف اعصاب اور خون کی کمی کے سبب ان کی صحت کچھ ایسی خراب ہوئی کہ وہ ندائے ملت کی دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری کا بوجھ اُٹھانے کے لیے خود کو تیار نہ کرسکے، لہٰذا۱۹۶۴ء کے آخری زمانے میں ڈاکٹر آصف قدوائی ندائے ملت کے ایڈیٹربنادیے گئے، لیکن ”مسلم یونیورسٹی نمبر“کی اشاعت کے قضیہ کے بعد انھوں نے ندائے ملت سے اس معنی کر علیحدگی اختیار کرلی کہ وہ اس کے ایڈیٹر نہیں رہے۔ ۲۲/جولائی۱۹۶۶ء کو حفیظ صاحبؒ (جیل سے رہائی کے کچھ عرصہ بعد) اخبار کے ایڈیٹر بنے۔ اور ۱۹۶۸ء/تک ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔البتہ ادارت کی ذمہ داری سے دست کش ہونے کے باوجود بھی مولانا عتیق الرحمن سنبھلی اخبار کی سرپرستی کرتے رہے اوریہ صرف ملت کے خیرخواہی کا جذبہ تھا جو صحت کی خرابی کے باوجود مولانا کے قلم کو متحرک رکھتا، اور وہ کچھ لکھواتا جو بلا مبالغہ آزاد ہندوستان کی اردو صحافت میں اپنی کوئی مثال نہیں رکھتا، یہ سلسلہ ۱۹۶۸ء تک جاری رہا لیکن......(بس پھر نظر لگ گئی اور مسلمانوں کے بہت سے اجتماعی کاموں کی طرح ندائے ملت بھی اختلاف کی نذر ہوگیا)۔

راقم الحروف کی کتاب ’قلم کا سپاہی: حفیظ نعمانی‘شائع ہوئی، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ ’ندائے ملت‘ کا بھی ذکر تھا، اور ان حالات کا بھی جن کے سبب ’ندائے ملت‘ سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ کتاب کے اجراء کے لیے ۲۷/دسمبر۲۰۱۵ء کو لکھنؤ میں ایک جلسہ ہوا۔ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی اس کتاب کی رسم رونمائی میں شامل ہوئے نیز انھوں کتاب پر تبصرہ بھی کیا، جو روزنامہ ’اودھ نامہ‘ میں شائع ہوا۔اس کے چند روز بعدبذریعہ میل ان کا ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط مولاناؒ نے ’ندائے ملت‘ کی تاریخ کے سلسلہ میں مذکورہ کتاب کے مطالعہ کے بعدراقم کو لکھا تھا، اس خط کا کچھ حصہ یہاں نقل کرتا چلوں تاکہ آپ بھی اس تاریخی امانت کے گواہ بن سکیں۔

بسم اللہ  ۔     خواہر زادہ عزیزمیاں اویس سنبھلی حفظہٗ اللہ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

...ندائے ملت ایک تاریخی پرچہ تھا۔اس کانام اور اس کاکام تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے۔اور اب ہم دو بھائی(عتیق اور حفیظ) ہی رہ گئے ہیں کہ وہ اس کے بارے میں جو کچھ بیان کریں گے اسے مستند سمجھا جائے گا...تمھاری کتاب بتاتی ہے کہ ’ندائے ملت‘ ایسے ہی ماموں جان (حفیظ نعمانی)نے نکالا جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ روزنامہ ’تحریک‘ نکال چکے تھے۔ لیکن یہ بالکل خلافِ واقعہ ہے۔ندائے ملت کے آغاز کے سلسلہ میں میرا بیان تمہاری کتاب میں موجود ہے، جس کی روسے اس کے تجویز کنندہ وہ بے شک تھے۔ اس کے بعد اس کے تیار کرنے شائع کرنے، میں بھی ان کا بڑا حصہ رہا۔ پھر وہ یہ حصہ ادا کرتے ہوئے جیل بھگتنے بھی گئے۔مگراس سے کوئی اخبار کا بانی تو نہیں ہو سکتا۔میں تو اس کا بانی ایڈیٹر تھا، میں جیل تو نہیں گیا مگر میری صحت ایسی اس کی نذرہوئی کہ مرتے مرتے بچتا رہا،اعصاب ایسے ٹوٹے کہ تحریری کام کے قابل ہی نہ رہا۔...مگرمیں تو اسے اپنے منہ سے اخبار کے لئے قربانی بھی نہیں کہہ سکتا، دوسرے چاہے کہیں، یہ تو اپنی بساط اوراپنے احساس کے مطابق ایک فریضہ کی ادائیگی تھی اور بس۔

الغرض ہم دونوں ندائے ملت کے تجویز کرنے اور اسے آگے بڑھانے والے تھے۔ حقیقی طور پر اخبار نکالنے والے اباجی،ڈاکٹر اشتیاق اور پھرحضرت مولا نا علی میاں تھے (کہ یہی اس کی مالیات کی فکر کرتے تھے) اور قانونی طور پر اس کا نکالنے والا ندائے ملت ٹرسٹ تھا۔ اس ٹرسٹ کے بنانے میں میرا کوئی حصہ تھا نہ حفیظ کا۔ یہ اباجی،علی میاں اور ڈاکٹر اشتیاق کاکا م تھا۔اور یہ بے شک ہماری نا تجربہ کاری تھی کہ ہم نے خود کو ٹرسٹ میں نہیں رکھا۔ورنہ کم از کم میرا نام اس میں ہوسکتا تھا، اس لئے کہ میرے نام پر اخبار کے بجٹ سے معاوضہ کا کوئی پیسہ نہیں نکلتا تھااور بھی ہم جس کو چاہتے ٹرسٹی بنوا سکتے تھے۔لیکن نہیں ہوا، کیوں کہ بعد میں جو ہوا وہ وہم   و گمان میں بھی نہ تھا۔ تو یہ غلطی تو ہماری تھی کہ ہم نے ٹرسٹ میں کسی شدنی کا بند وبست نہیں کیا تھا۔اس لئے پھر جو ہوا اُسے برداشت کرنا چاہئے....۔

میرا ’ندائے ملت‘ سے تعلق نہ ہوتا تو مجھے یہ سب لکھنے کی ضرورت نہ تھی لیکن جو تعلق تھا اس کی بنا پر یہ جو کچھ کہہ رہاہوں، یہ تاریخی امانت کی ادائیگی ہے اورتم کو اس کا گواہ بناتا ہوں۔     

والسلام
عتیق الرحمن سنبھلی
لکھنؤ ۴/ جنوری ۲۰۱۶ء

جو کچھ اب تک اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے اسے آپ ندائے ملت کے ایک مختصر عرصہ(۱۹۶۲ء تا۱۹۶۸ء) کی روداد کہہ سکتے ہیں مگر یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں ذکر مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا ہے۔ دنیا کے تماشوں سے الگ جب تک صحت نے ساتھ دیا خلوص و لگن کے ساتھ اور ملت کی سربلندی کے جذبے سے ایک امانت کے طور پرمولانا سنبھلی نے اخبار کے صفحات کو استعمال کیا۔ ۱۹۶۸ء میں ندائے ملت سے نہ صرف مولانا عتیق الرحمن سنبھلی بلکہ شعبہ ادارت سے وابستہ سبھی افراد نے علیحدگی اختیار کرلی۔اس میں ڈاکٹرمحمد آصف قدوائی اور جمیل مہدی کے نام بھی شامل تھے۔حفیظ نعمانی ؒکی کتاب ’رودادِ قفس‘ پر مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے جو مقدمہ تحریرکیاہے، اس کا کچھ حصہ یہاں نقل کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں:

”...کیا دن تھے، کیا جوش اور ولولہ تھا، کیا سوچا تھا مگر یہ بگڑے ہوئے وقت سے جنگ تھی اور وقت جب ایک بار بگڑ جائے توعمر چاہئے اس کو سدھارنے کی صورت پیدا ہو۔ ندائے ملت کا یہ خاص دور ۱۹۶۸ء میں تاریخ ہند کا ایک باب بن کر روپوش ہوگیا۔ یہ اسی باب کے چند صفحات ہیں جو چونتیس برس کے بعد اس کتاب کے بہانے پھر سامنے آگئے اور یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ان کے مطالعے سے اپنی ہندوستانیت کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔ یہ حکمرانوں کے ایما پر،جو اس شریفانہ دستور کے رکھوالے تھے، ایک ایسے اخبار کے ساتھ جبرواندھیر کی نہیں، رذالت و گراوٹ کی بھی داستان ہے جو نہ صرف یہ کہ اپنے وقت میں مسلم صحافت کا مؤقر ترین سیاسی رکن مانا جاتا تھا،بلکہ اپنی اسلامیت کے ساتھ اپنی ہندوستانیت کا لحاظ رکھنے میں بھی یکتا ہی کہا جاسکتا تھا...“ (ماخوذ از مقدمہ ”رودادِ قفس“تیسرا ایڈیشن،اکتوبر۷۱۰۲ء صفحہ ۸-۹)

قومی و دینی خود مختاری کی جدوجہد اور علماء کرام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(گجرات پریس کلب میں ۴ جولائی ۲۰۲۲ء کو جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام ’’علماءکنونشن‘‘ سے خطاب)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جمعیۃ علماء اسلام گجرات بالخصوص چوہدری عبد الرشید وڑائچ کا شکرگزار ہوں کہ آپ دوستوں کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالٰی جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔ اس موقع پر دو تین گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔

ایک تو یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم قومی اور دینی حوالے سے کس مقام پر کھڑے ہیں اور ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے؟ فقہاء کرام کا ایک ارشاد بار بار دہرایا جاتا ہے کہ ’’من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاہل‘‘ یعنی جو اپنے زمانے کے لوگوں کو نہیں پہچانتا وہ عالم نہیں ہے۔ یہ ارشاد ہمیں بار بار توجہ دلا رہا ہے کہ اپنا جائزہ لیں کہ ہم اپنے زمانہ سے اور زمانہ کے لوگوں کو کتنا پہچانتے ہیں؟ اس لیے کہ اس کے بغیر دینی و ملی حوالے سے کوئی ذمہ داری طے کرنا اور ادا کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہو گا۔

میں تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر خود کو اس زمانہ میں محسوس کر رہا ہوں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال، میسور اور دیگر علاقوں پر قبضہ کے بعد دہلی کی طرف پیش قدمی شروع کی تو مغل بادشاہت کا منصب شاہ عالم ثانی کے پاس تھا۔ اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ بادشاہت کا ٹائٹل تو اسی کے پاس رہے گا مگر متحدہ ہندوستان کے تمام تر مالیاتی معاملات کا کنٹرول ایسٹ انڈیا کمپنی کے اختیار میں چلا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بادشاہ کا ٹائٹل اور پروٹوکول شاہ عالم ثانی اور مغل خاندان کے پاس رہا جبکہ تمام تر مالیاتی امور ایسٹ انڈیا کمپنی نے سنبھال لیے۔

ہم آج بھی اسی وقت اور دورانیے سے گزر رہے ہیں کہ حکمرانی کا ٹائٹل اور پروٹوکول ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس ہے جو باری باری اس کے مزے لے رہی ہیں، جبکہ ملک کا مالیاتی کنٹرول آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے پاس ہے کہ ہم کوئی فیصلہ بھی ان کی مرضی سے ہٹ کر نہیں کر پا رہے۔ حتٰی کہ ہماری قومی قانون سازی کا کنٹرول بھی ان کے پاس ہے اور ان کی تجویز پر نہیں بلکہ ڈکٹیشن پر پارلیمنٹ میں مسلسل قانون سازی ہو رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں کے دوران کبھی کبھی دوسرے ادارے بھی ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے آ جاتے ہیں مگر حکمرانی کا حقیقی اختیار اور کنٹرول بین الاقوامی اداروں ہی کے زیراستعمال ہے، جس میں اسٹیبلشمنٹ مجموعی طور پر ان کے بہترین نمائندہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ بات سمجھنے میں اب کوئی دقت نہیں رہی کہ ہمارے مقتدر حلقے جو بھی ہیں اپنے لیے شاہ عالم ثانی کے کردار پر راضی ہو چکے ہیں اور پورے اطمینان کے ساتھ آج کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کی سہولت اور مواقع فراہم کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ چنانچہ اس پس منظر میں ہمارے نزدیک آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قومی خودمختاری اور دستور کی بالادستی کا ماحول کیسے بحال کر سکتے ہیں؟ باقی سب معاملات ثانوی ہیں، اصل بات قومی آزادی اور خودمختاری کی ہے جس کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے اور مستقبل میں بھی کچھ کر سکنے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دےرہے۔

دوسری بات جو آپ حضرات سے عرض کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اسے میں دو حصوں میں تقسیم کروں گا۔ ایک یہ کہ عمومی دینی و قومی جدوجہد میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو کیا کرنا چاہیے؟ اور دوسرا یہ کہ جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے کارکنوں کو کیا کرنا چاہیے؟

عمومی دینی و ملی جدوجہد کے تقاضوں پر ایک بات جو عرصہ سے مسلسل کہتا آ رہا ہوں اسے پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ کسی عالم دین کا دینی جدوجہد سے بالکل لاتعلق ہو جانا اور اپنے معمول کے کاموں میں ہی مگن رہنا میرے نزدیک کبیرہ گناہ بلکہ اس سے کوئی بڑی چیز ہے اور ہم عند اللہ اس کے بارے میں مسئول و ماخوذ ہوں گے۔

اس کے بعد ہر عالم دین اور دینی کارکن کو محنت اور جدوجہد اسی دائرے میں کرنی چاہیے جس کا وہ ذوق رکھتا ہے۔ نفاذ شریعت، ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ، تحفظ ناموس صحابہؓ، دعوت و تبلیغ، تدریس و تعلیم، اور اصلاح و تزکیہ کے سب دائرے دینی ہیں۔ یہ سب ہمارے کرنے کے کام ہیں اور ان میں سے ہر دائرے میں محنت اس طرح ضروری ہے کہ ہر عالم اور دینی کارکن کو ان میں سے کسی شعبے کے ساتھ ہر حالت میں وابستہ رہنا چاہیے اور دینی جدوجہد سے بالکل لاتعلق اور بے پروا نہیں ہونا چاہیے، جس کے لیے سب سے ہلکا لفظ بے حمیتی ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے ہوئے دین کے دوسرے شعبوں اور دینی جدوجہد کے دوسرے دائروں کی نفی اور تحقیر سے مکمل گریز کیا جائے۔ ہم جب اپنے اپنے کاموں کی ترجیح بیان کرتے ہوئے دیگر شعبوں کی نفی کرتے ہیں اور تحقیر و استہزا کے لہجے میں ان کا ذکر کرتے ہیں تو خود اپنی محنت پر بھی پانی پھیر دیتے ہیں، اس سے بہرصورت گریز کرنا چاہیے۔

اس سلسلہ کی آخری بات یہ ہے کہ اپنے دائرہ میں محنت کرتے ہوئے دینی جدوجہد کے دوسرے دائروں کے ساتھ تعاون کی کوشش بھی ضروری ہے۔ بالخصوص مشترکہ ملی و قومی مسائل میں تمام مکاتب فکر اور طبقات کی مشترکہ محنت کا ماحول ہماری روایت چلا آ رہا ہے اور آج بھی ہماری سب سے بڑی ضرورت وہی ہے۔ تحریک خلافت، تحریک پاکستان، تحریک آزادی، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفٰیؐ، اور دیگر دینی و ملی تحریکات میں مشترکہ محنت کا ماحول پھر سے بحال کرنا ضروری ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔

آج کی صورتحال یہ ہے کہ ہم سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ اس کے ساتھ ہمیں فیٹف کی ہدایت پر منظور کیے جانے والے اوقاف کے قانون، سیڈا کی طرف سے بھیجا جانے والا خاندانی نظام کا غیر شرعی قانون، اور آئی ایم ایف کے حکم پر اسٹیٹ بینک پر اس کی نگرانی کا قانون بھی ہماری جدوجہد کے ناگزیر دائرے ہیں۔ ہمیں ان سب کے لیے مشترکہ محنت کا ماحول قائم کرنا ہو گا اور مذکورہ بالا تحریکات کی طرز کی قومی جدوجہد کا اہتمام کرنا ہو گا۔

تیسرے نمبر پر میں آپ حضرات یعنی جمعیۃ علماء اسلام کے علماء اور کارکنوں سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ برصغیر کی ملی و دینی تحریکات میں ہمیشہ مرکزی کردار آپ کا رہا ہے، اور یہ عزم رکھیں کہ یہ کردار آپ کا ہی رہے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ کوئی بھی جدوجہد آپ منظم کریں گے تو ہو گی ورنہ نہیں ہو گی۔ یہ ایک تاریخی اور سماجی حقیقت ہے جسے کسی صورت میں بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ آپ حضرات کو اپنی یہ حیثیت اور پوزیشن سامنے رکھتے ہوئے اپنا کردار طے کرنا ہو گا، آپ کوئی روایتی جماعت نہیں ہیں بلکہ دینی تحریکات کا ہراول دستہ ہیں۔ اس لیے جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ علماء کرام اور کارکنوں کو دوسروں سے کہیں زیادہ چوکنا، مستعد اور متحرک رہنا ہو گا اور اپنے قائد کی آواز اور پوزیشن کو مضبوط کرنے اور رکھنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کردار ادا کرنا ہو گا۔

میرے نزدیک قومی سیاست کی اعلٰی سطح پر مولانا فضل الرحمٰن دینی حلقوں کی واحد مؤثر آواز رہ گئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ مجھے ان کے ہر موقف اور طرزعمل سے اتفاق ہو، میں اختلاف کا حق رکھتا بھی ہوں اور ضرورت کے وقت بلاجھجھک استعمال بھی کرتا ہوں۔ مگر پوری دیانتداری اور شرح صدر کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ جس سطح پر اور جس ماحول اور لہجے میں مولانا فضل الرحمٰن اس وقت اہلِ دین اور اہلِ حق کی نمائندگی کر رہے ہیں وہاں کوئی ان کا متبادل دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر خدانخواستہ خدانخواستہ پھر خدانخواستہ یہ آواز کمزور ہو گئی تو وہ ماحول اور سطح آپ لوگوں بلکہ پورے اہل دین کی نمائندگی سے خالی ہو جائے گی، جو میرے نزدیک ہمارے بارے میں استعماری قوتوں کا بنیادی مقصد اور ایجنڈا ہے۔

اس لیے جمعیۃ علماء اسلام کے علماء کرام اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسائل سے شعوری آگاہی اور جماعتی تنظیم کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور پورے ادراک، سنجیدگی اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنی جماعت کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی محنت کریں۔ آپ جس قدر باشعور ہوں گے دوسروں کو راہنمائی فراہم کر سکیں گے۔ اور جس قدر منظم و مستحکم ہوں گے دینی تحریکات کو لے کر چلنے کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔


انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۸)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا پانچواں باب)


باب پنجم: مسئلۂ شفاعت


شفاعت نبوی کے موضوع کو حاکمیت (توحید) کے سوال سے جدا کرنا ناممکن ہے۔ کسی گناہ گار کو معاف کرنے کی قدرت، جو کہ عمومی قاعدے سے انحراف ہے، استثنا کو قانون کی شکل دینے کی استعداد پر دلالت کرتی ہے۔ حاکمِ اعلیٰ، یاد کریں، کم از کم کارل شمٹ کے تصور کے مطابق وہی ہے جو استثنا کو قانون کی شکل دے سکتا ہو۔ سفارش کرنے والے کا کردار اس عمل میں کسی حد تک خلل انداز ہو سکتا ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ سفارش کرنے والے کی حیثیت محض ایک وکیل کی ہے جو گناہ گار اور حاکم مطلق کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن ایسے سفارش کرنے والا  کا کیا جائے جس کی سفارش کبھی رد نہیں ہوتی اور جس کی برتر حیثیت کی وجہ سے اس کی ہر درخواستِ استثنا منظور ہو جاتی ہے؟ کیا یہ ایک طرح سے حاکم اعلیٰ کی حاکمیت پر سمجھوتہ نہیں ہے؟

مسئلۂ شفاعت پر شاہ اسماعیل کی بحث میں یہ سوالات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھیں عوام کے اس رجحان پر سخت تشویش ہے کہ وہ انبیا واولیائے کرام جیسی انسانی ہستیوں کو حاکم اعلیٰ کی صفات سے متصف کرتے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر بتایا کہ شفاعت کی بابت عوام کا جو نظریہ ہے، اس میں خدائی حاکمیت (توحید) کی استثنائی حیثیت کو غیر اللہ کے سفارشی کردار سے الجھا دیا گیا ہے۔ ان کی نظر میں شفاعت ان بنیادی مسائل میں سے ہے جن سے خدائی حاکمیت (توحید) کی مطلق یکتائی کو خطرہ لاحق ہے۔ آئندہ گفتگو میں میری دل چسپی شاہ اسماعیل کے استدلال کے روایتی اسلامی عقائد سے ہم آہنگ ہونے یا نہ ہونے سے زیادہ اس اسلوبِ نگارش میں زیادہ ہوگی جس میں انھوں نے اپنا استدلال پیش کیا۔ مثلاً‌ یہ کہ ان کی گفتگو میں کس قسم کی علامات، تمثیلات اور تشبیہات پائی جاتی ہیں؟ اس بظاہر اعتقادی بحث سے ہم کس طرح کے سیاسی نظریات اور اظہارات اخذ کر سکتے ہیں؟ ان کا انداز استدلال اس کے سماجی تصور کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟

شفاعت پر شاہ اسماعیل کی بحث تقویۃ الایمان میں ان کے عمومی طرز استدلال سے ہم آہنگ ہے، اور اس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ اخروی فلاح ونجات کے دائرے میں نبی سمیت تمام غیر الہی ہستیوں کے کردار پر کاری وار کیا جائے۔کارل شمٹ کی اصطلاحات میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال میں واضح کیا کہ خدا ہی وہ حاکم اعلیٰ ہے جس کے پاس کسی ایسے گناہ گار کو مغفرت اور اُخروی نجات عطا کرنے کی استثنائی قدرت ہے جس کا ٹھکانا عام قاعدے کی رو سے جہنم تھا۔ اپنے موقف کے اثبات میں شاہ اسماعیل نے متعدد احادیث پیش کی ہیں جن میں حضورِ اکرم ﷺ نے ایک انسان کی حیثیت سے بذاتِ خود اپنے عجز وقصور کا اعتراف کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک روایت میں حضور اکرم ﷺ کا ارشادِ گرمی ہے: "خدا کی قسم! اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں، لیکن مجھے کچھ پتہ نہیں کہ (آخرت میں) میرے ساتھ کیا ہوگا"1۔ ایک اور موقع پر آپ نے اپنے خاندان کے افراد کو جمع کیا، اور ان کے سامنے یہ اعتراف کیا: "خود کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ میں دربارِ الٰہی میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا"2۔ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں اس حوالے سے شدید بے چینی تھی کہ وہ انھیں خدا کے مقام پر فائز نہ کرے، یا انھیں ایسی مافوق الفطرت صفات سے متصف نہ کرے جن سے خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کی نفی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساہ اسماعیل نے یہ بھی بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کی عزت وعظمت کا دار ومدار اس بات پر نہیں کہ ان کے پاس اُخروی نجات عطا کرنے کی غیر معمولی قدرت ہے، بلکہ اس کی اساس آپ کا انسانِ کامل ہونا ہے۔ بالفاظ دیگر خدائی حاکمیت پر غیر متزلزل ایمان واطاعت کا اسوۂ حسنہ ہی وہ صفت ہے جس نے پیغمبر کی ذات کو غیر معمولی مقام عطا کیا ہے۔

اس استدلال کی تائید میں شاہ اسماعیل نے متعدد قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں خدا نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی امت پر یہ واضح کریں کہ وہ کسی کو اخروی نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ مثلاً: "اے محمد! آپ فرما دیں کہ میں تمھارے لیے نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ آپ فرما دیں کہ مجھے کوئی اللہ تعالیٰ سے ہرگز نہیں بچا سکتا، اور میں اس کے سوا کہیں بچاو نہیں پاتا"3۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ اسماعیل اپنے قارئین کو توجہ دلاتے ہیں کہ کس طرح رسول اللہ ﷺ بارگاہِ الٰہی میں اپنی عاجزی وانکساری کا اعتراف کرتے ہیں۔ آپ نے اس بات پر اس لیے زور دیا تاکہ امت آپ کو آپ کی اصل حیثیت سے زیادہ نہ بڑھائے۔ اس مقام پر شاہ اسماعیل حضور ﷺ کی جگہ بولتے نظر آتے ہیں: "میرے امتی ہونے کی وجہ سے تم لوگ مغرور ہو کر یہ خیال کرکے حد سے تجاوز نہ کرنا کہ ہمارا پایہ بہت مضبوط ہے، ہمارا وکیل زبردست ہے، اور ہمارا شفیع بڑا محبوب ہے، ہم جو چاہیں کریں، وہ ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لے گا، کیوں کہ میں خود ہی ڈرتا ہوں، اور اللہ کے سوا کہیں پناہ گاہ نہیں دیکھتا"4۔ شاہ اسماعیل اپنی بات جاری رکھتے  ہوئے لکھتے ہیں: "اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ جو عوام پیروں پر بھروسا کرکے اللہ کو بھول جاتے ہیں اور حکم عدولی کرتے ہیں، واقعتاً گمراہ ہیں، کیونکہ سرکارِ رسالت ﷺ دن رات اللہ سے ڈرتے تھے، اور اس کی رحمت کے سوا کہیں اپنا بچاو نہیں جانتے تھے۔ کسی اور کا بھلا کیا کہنا !"5۔

اسماعیل نے اور کئی آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں خدائی حاکمیت کے مطلق اور یکتا ہونے پر زور دیا گیا ہے، اور اخروی نجات کے دائرے میں شفعاء کے کردار پر تنقید کی گئی ہے۔ مثلاً ان آیات میں یہ بھی شامل ہیں: "وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں جو انھیں نہ نقصان پہنچا سکیں اور نہ نفع، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ فرما دیں کہ تم اللہ کو وہ خبر دے رہے ہو، جسے وہ آسمان وزمین میں نہیں جانتا (یعنی جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے)۔ وہ ان کے شریکوں سے پاک و برتر ہے"6۔ اور یہ آیت: "آپ فرما دیں کہ ایسا شخص کون ہے، جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا تصرف واختیار ہے، اور وہ پناہ دینے والا بھی ہو، اور اس کے مقابلے میں کوئی اور پناہ بھی نہ دے سکے، اگر تمھیں علم ہے (تو جواب دو)"7۔

لیکن جب شفاعتِ نبوی کی حد بندی کے حق میں ساہ اسماعیل جوش وخروش سے استدلال کر رہے تھے تو انھیں ایک شدید الجھن کا سامنا بھی تھا۔ ان کی اعتقادی فکر کے برعکس قرآن سمیت اسلامی شریعت کے بنیادی مصادر میں متعدد ایسے حوالے موجود ہیں جو اخروی نجات کے دائرے میں انسانی شفعاء کے کردار کو اصولی طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ مثلاً قرآنِ کریم کی آیت ہے: "اس دن سفارش کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمان نے اجازت دی اور اس کی بات پسند کی"8۔ اور "اور اس کے ہاں سفارش نفع نہ دے گی مگر اسی کو جس کے لیے وہ اجازت دے گا9"۔ اس اشکال کے حل کے لیے ایک ایسا تاویلی منہج درکار تھا جس کے ذریعے ایک طرف تو خدائی حاکمیتِ اعلیٰ کی یکتائی ثابت ہو جائے، اور دوسری طرف روایتی اسلامی مصادر میں اللہ کے علاوہ دیگر ہستیوں کے لیے ثابت اذنِ شفاعت سے انکار بھی لازم نہ آئے۔

شاہ اسماعیل نے یہ معرکہ کیسے سر کیا؟ شفاعت کے سوال کے بارے میں شرعی معیارات کو بروے کار لانے کے لیے انھوں نے کس قسم کی حکمتِ عملی اختیار کی؟ ذیل میں میں اس وسیع تر سیاسی پروگرام کا جائزہ لے کر، جس پر شاہ اسماعیل کی الہیات کی اٹھان ہوئی، اختصار کے ساتھ ترتیب وار بتاؤں گا کہ شاہ اسماعیل نے اس سوال کے جواب میں کیا تاویل اختیار کی۔ ذیل میں اس انداز پر غور کیجیے جس کے ذریعے اپنے الہیاتی استدلال کو پیش کرتے وقت شاہ اسماعیل نے سیاسی کرداروں اور علامات کا ذکر کیا۔ جیسا کہ میں عنقریب دکھاؤں گا، خدائی حاکمیتِ مطلقہ (توحید) کے لیے ان کا استدلال شاہی سیاست اور طرزِ زندگی پر ایک شدید تنقید سے گہرے انداز میں جڑا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں وہ خدائی حاکمیت اور دنیوی حاکمیت کے درمیان ایک واضح تقابل قائم کرکے اول الذکر کی برتری اور یکتائی ثابت کرنے کی کوشش کرنا چاہتے  تھے۔ ان کے استدلال کے کچھ اہم پہلووں  پر غور وفکر اس نکتے کی وضاحت میں مدد دے گا۔

شفاعت کی اقسام

تقویۃ الایمان میں شاہ اسماعیل نے شفاعت کی تین اقسام ذکر کی ہیں۔ یہ تین قسمیں شفاعتِ وجاہت، شفاعتِ محبت اور شفاعت بالاذن ہیں۔ شفاعتِ وجاہت سے مراد ایسی صورت ہے جب بادشاہ کا کوئی انتہائی مقرب وزیر یا مشیر کسی مجرم کی بابت سفارش کرے اور بادشاہ بغیر کسی پس وپیش کے اسے قبول کر لے۔ بادشاہ کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ اتنے اہم رکنِ سلطنت کو ناراض کرے گا تو حکومت کے نظم ونسق میں گڑ بڑ پیدا ہو جائے گی۔ اس امر کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ مجرم کو معاف کر دیتا ہے10۔

شفاعتِ محبت بھی قریب قریب یہی ہے۔ اس قسم کی شفاعت میں بادشاہ کا انتہائی محبوب شخص کسی مجرم کی سفارش کرتا ہے۔ یہ شخص قریبی رشتہ دار یا ایسا دوست ہو سکتا ہے جس کے ساتھ بادشاہ کا تعلق گہرا ہوتا ہے۔ بادشاہ اس کی سفارش قبول کرتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اپنے دوست یا رشتہ دار کی ناراضی سے خود اسے تکلیف پہنچے گی۔ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ سفارش کی یہ دو قسمیں بارگاہِ الہی میں نہیں کی جا سکتیں، یہ صرف دنیوی بادشاہتوں میں چل سکتی ہیں۔ تاہم شفاعت کی تیسری قسم شفاعت بالاذن بارگاہِ الہٰی میں جائز ہے11۔

شاہ اسماعیل کے مطابق شفاعت بالاذن کی صورت یہ ہے کہ ایک مجرم پہلے سے توبہ تائب ہو کر یہ پختہ عزم کر چکا ہو کہ وہ دوبارہ جرم نہیں کرے گا۔ مزید برآں وہ ایک عادی مجرم نہ ہو، بلکہ کسی وقت  خواہش نفس سے مغلوب ہو کر تجاوز کر بیٹھا ہو۔ اسے اپنے کیے پر سخت ندامت اور پشیمانی ہو۔ دن رات سزا کے خوف کی وجہ سے اس کا سر شرم اور افسوس سے جھکا ہوتا ہے۔ ایسا مجرم اپنی سفارش کے لیے کسی مصاحب یا وزیر کے پیچھے بھی نہیں پڑتا، بلکہ وہ سزا ملنے پر رضا مند ہوتا ہے اور بے تابی سے بادشاہ کے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔ بادشاہ کو اس کی حالتِ زار پر ترس آتا ہے، اور اس سے درگزر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ آئین کی حرمت کو پیش نظر رکھنے کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا، تاکہ لوگوں کی نظر میں قانون کا احترام کم نہ ہو اور وہ بادشاہ کے عفو ودرگزر سے غلط فائدہ اٹھا کر جرائم پر جری نہ ہو جائیں۔

ایسے میں کوئی مصاحب یا وزیر اشارہ پا کر آگے بڑھتا ہے اور مجرم کی سفارش کر دیتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سفارش کا اصل مُحَرّک  مجرم کی مدد نہیں ہوتی، بلکہ وہ بادشاہ کی مرضی دیکھ کر سفارش کرتا ہے۔ بادشاہ وزیر کی سفارش کو قبول کرتا ہے، اور اپنی سلطنت کے ایک معزز رکن کی فرمائش پوری کرنے کے بہانے مجرم کو بری کر دیتا ہے۔ شاہ اسماعیل نے اصرار کیا کہ قرآن میں انبیا کے لیے جس شفاعت کا اثبات ہے، اس سے یہی تیسری قسم مراد ہے12۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تیسری صورت میں اگر چہ بادشاہ مجرم کو اس وقت بری کرتا ہے جب اس کے دربار کا کوئی مقرب وزیر اس سے سفارش کرتا ہے، تاہم اس میں فیصلہ کن کردار اس بات کا ہے کہ مجرم پہلے سے توبہ کر چکا ہے اور یہ عزم کر چکا ہے کہ وہ دوبارہ جرم سرانجام نہیں دے گا۔ اس میں سفارش کا کردار صرف سہولت کاری تک محدود ہے۔ حقیقت میں یہ مجرم کی براءت کی اصلی وجہ نہیں۔ بنیادی وجہ خدا کی قدرتِ کاملہ ہے، نہ کہ کسی اور فرد کی سفارش۔ یہاں پر "مجرم کا پہلے سے توبہ تائب" ہونے کی خصوصیت پر شاہ اسماعیل کا اصرار بہت اہم ہے۔

اگر چہ انھوں نے شفاعت کی ایک قسم کو جائز قرار تو دیا، لیکن شفیع کی یہ حیثیت تسلیم نہیں کی کہ وہ مجرموں کے حق میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کے بالمقابل انھوں نے استدلال کیا کہ ایک وزیر (اور قیاساً حضرت محمد ﷺ) خود مختار بادشاہ (اور قیاساً خدا) کے سامنے کسی مجرم کے حق میں سفارش صرف اس صورت میں کر سکتا ہے جب بادشاہ نے پہلے سے اسے بری کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ شاہ اسماعیل کے اپنے الفاظ میں: "وزیر مجرم کی سفارش صرف اس لیے کرتا ہے کہ وہ اپنے جرم سے توبہ تائب ہو چکا ہے، اور بادشاہ نے اسے معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر محض بادشاہ کی مرضی دیکھ کر سفارش کرتا ہے، کیونکہ وہ بادشاہ کا وزیر ہے نہ کہ چوروں کا حمایتی۔ وہ ایسا بادشاہ کی خوشی کے لیے کرتا ہے"13۔

ایک لحاظ سے شاہ اسماعیل کا استدلال بداہت کے خلاف معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت صرف اس وقت جائز ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو، اور جب مجرم کی براءت میں اس کا کردار بالکل ثانوی ہو۔ پھر یہ امر باعث حیرت ہے، اور بعد میں اسماعیل کے مخالفین نے بھی اس حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کسی کو شفاعت کی اجازت کیوں کر دی جا رہی ہے، جب کسی گناہ گار کی نجات کے لیے اس کی شفاعت غیر مطلوب اور براے نام ہے۔ شاہ اسماعیل ان ابہامات کو زیربحث نہیں لاتے۔ بہر حال یہاں جو اہم بات سامنے آتی ہے، وہ وسیع تر سیاسی پروگرام ہے جو شفاعت پر الہیاتی بحث کے اندر مستور ہے۔

سیاسی اور اعتقادی تصورات کی پار زیرگی (Cross-Pollination)

شاہ اسماعیل کے الہیاتی تصور میں پائی جانے والی مساوات پسندی (egalitarianism) کا گہرا تعلق شاہی انداز حکومت پر ان کی عمومی تنقید سے ہے، جو ان کی نظر میں سیاسی طاقت کے ایک طبقاتی نظام کو پروان چڑھاتا ہے۔ ان کے الٰہیاتی پروجیکٹ کو اشرافیہ کے مسرفانہ طرز زندگی کو بے نقاب کرنے کے سیاسی مقصد سے علیحدہ کرنا ناممکن ہے۔ ان کی نظر میں اس طرز حیات نے سلطنت کے عہد زوال میں اخلاقی نظام کے اندر زہر اتار دیا ہے۔ حاکمیتِ مطلقہ کی سیاسی الہیات کے لیے سادگی پر مبنی ایک ایسا اخلاقی نظام درکار ہے جو شاہی طرز حیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

روزمرہ کی زندگی اس طرح سے تشکیل دی جائے کہ ان تمام عادات واطوار اور اقدار کی بیخ کنی کی جائے جو خدائی حاکمیت (توحید) کو کم زور کرتے ہیں۔ شاہ اسماعیل کے نزدیک ایک ایسے سماج میں خدا کی قدرتِ مطلقہ کی یکتائی مسلسل زوال پذیر ہوتی ہے جو مصیبت کے وقت اولیا سے مدد مانگتا ہے، اور جس میں عوامی دائرے میں اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقہ فروغ پاتا ہے۔ اخلاقی اور سیاسی زوال کی اصلاح تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کے مقابلے میں ذات وصفات دونوں کے اعتبار سے خدا کی مطلق یکتائی اور قدرتِ کاملہ کا اثبات کیا جائے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے شاہ اسماعیل نے حاکمانہ اختیارات کے دنیوی اور خدائی استعمال کے درمیان ایک فیصلہ کن فرق قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ان کا وہ انداز بہت مؤثر ہے جس کے ذریعے انھوں نے خدا تک رسائی کا تقابل دنیوی بادشاہوں کی مخصوص متکبرانہ بے نیازی سے کیا ہے۔ جیسا کہ انھوں نے واضح کیا: "اللہ تعالیٰ کسی متکبر حکمران کی طرح نہیں، جو اپنے بندوں پر افسرانہ یا جانب دارانہ انداز میں رحم وکرم کرتا ہے۔ خدا کے دربار میں رسائی کے لیے وزیروں، شہزادوں اور نوابوں کی وکالت اور سفارش کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ اگر چہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، لیکن وہ دنیوی بادشاہوں کی طرح مغرور نہیں کہ اس کے بندے اس سے چاہے کتنی ہی التجا کریں، وہ غرور کے مارے ان کی طرف دھیان ہی نہ دے"14۔

شاہ اسماعیل نے بتایا کہ خدا کے دربار تک رسائی کرنے اور فریاد سنانے اور قبول کرانے کے لیے کسی کو افسروں اور سفارشیوں کے واسطے کی ضرورت نہیں۔ علاوہ ازیں ایسا بھی نہیں کہ خدا صرف اپنے بندوں کی بڑی اور اہم دعاؤں کو خود سنتا ہے، جبکہ چھوٹے معاملات اس نے اپنے وزیروں کو سونپ رکھے ہیں۔ اپنے بندوں سے معاملہ کرنے کے لیے دنیوی بادشاہوں کے برعکس خدا کبھی اپنے اختیارات کسی کو سونپتا۔ ایک مشہور حدیث کے حوالے سے شاہ اسماعیل دعوی کرتے ہیں کہ ایک شخص کو اپنے جوتے کے تسمے تک کے لیے خدا سے دعا مانگنی چاہیے (حتى يسئله شِسعَ نَعلَيه إذا انقطع)15۔ مختصر یہ کہ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ اپنے بندوں پر خدا کی رحمت وشفقت بے پایاں اور فوری طور پر دست یاب ہوتی ہے، اس لیے اولیا اور انبیا سے توسل کرنا غیر ضروری، غیر منطقی اور غیر شرعی ہے۔

اس نکتے کے اثبات کے لیے شاہ اسماعیل نے ایک طاقت ور قیاس پیش کیا: "اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک رعیتی آدمی بادشاہ کے پاس اکیلا بیٹھا ہے اور بادشاہ اس کی بات سننے کے لیے ہمہ تن متوجہ ہے۔ پھر وہ رعیتی کسی امیر وزیر کو کہیں دور سے پکارے اور کہے کہ تو میری طرف سے فلاں بات بادشاہ کے حضور میں عرض کر دے، تو یا تو وہ اندھا ہے یا دیوانہ"16۔ یہ قیاس اچھی طرح واضح کرتا ہے کہ شاہ اسماعیل خدائی حاکمیت اور انسانوں کے کردار کے درمیان تعلق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان کی ذمہ داری بس اتنی ہے کہ وہ خدا کی حاکمیتِ مُطلقہ پر ایمان لاکر اس کی قربت حاصل کرے۔ خدا کی اَحَدیتِ مُطلقہ کے اقرار سے ہی خدا کی قربت حاصل ہو سکتی ہے۔  

شاہ اسماعیل کے استدلال کی طرح وہ عقلی انداز فکر بھی قابل توجہ ہے جس کے اندر انھوں نے اپنا استدلال پیش کیا۔ کسی سفارشی کو مدد کے لیے پکارنا نہ صرف یہ کہ حرام اور بدعت ہے، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص "پاگل"، بے عقل اور اندھا ہو چکا ہے، کیونکہ وہ اپنی ضرورتوں کے لیے غیر اللہ سے توسل پر انحصار کرتا ہے۔ جس کو خدا سے انتہائی قربت کی بابرکت نعمت میسر ہے، اس کے لیے کسی دور پار غیر خدائی ہستی کے پاس سفارش کے لیے جانا حماقت ہے۔

شاہ اسماعیل نے یہ بھی بتایا کہ غیر اللہ کے علاوہ کسی اور کی منت سماجت کرنا مطلق رحیم ذات کی حیثیت سے خدا کے حق کو چھین کر کسی ایسی ہستی کو دینا ہے جو اس کی مستحق ہی نہیں۔ ایک بار پھر یہاں شاہ اسماعیل نے جس انداز میں اس تصور کو بیان کیا ہے، وہ بہت چشم کشا ہے۔ مناظرانہ کرختگی اور واعظانہ تنبیہ کا امتزاج پیدا کرتے ہوئے شاہ  اسماعیل نے لکھا: "جس نے اللہ کی حاکمیتِ مطلقہ کا حق اس کی مخلوق کو دے دیا تو گویا اس نے ایک عظیم ہستی  کا حق لے کر کسی ذلیل ترین کو دے دیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بادشاہ کے تاج کو ایک چمار کے سر پر رکھ دیا جائے۔ اس سے بڑی بے انصافی کیا ہوگی؟17"

وہ اپنی بات مزید زور کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے  لکھتے ہیں: "اور یہ بات تو یقینی ہے کہ ہر مخلوق، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ کی عظمت کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے"18۔ یہ بیان طنز سے لبریز ہے۔

ایک ایسے اخلاقی نظام کا تصور جو ذات پات اور نام ونسب کے طبقات سے ماورا ہو، شاہ اسماعیل کے پروجیکٹ کی شہ رگ تھا۔ وہ نام ونسب پر فخر کے شدید ناقد تھے، اور ان کی نظر میں مغلیہ ہندوستان کے آخری دور میں یہ وبا عام تھی۔ لیکن "چمار" کی نسل پرستانہ اصطلاح کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ نام ونسب پر یہ تنقید مطلق نہ تھی۔ جیسا کہ قارئین اگلے چند ابواب میں دیکھیں گے، تمام تر اختلافات اور مناظروں کے باوجود انیسویں صدی میں مسلمان اہل علم کے باہم مخالف گروہ چمار کی تحقیر پر متفق تھے، جو ان میں سے بہت سوں کے لیے سماجی اعتبار سے بالکل نچلی حیثیت کا ایک معمولی فرد تھا19۔ حتّٰی کہ شاہ اسماعیل کے لیے بھی -جن کا عقیدہ یہ تھا کہ خدائی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بعد تمام دنیوی امتیازات اور مراعات مٹ گئی ہیں- چند ایسی بندشیں تھیں جنھیں خدا کی قدرتِ مطلقہ بھی نہیں ہٹا سکتی۔

حاکمیت اور وجودی الہیات کا لزوم

شاہ اسماعیل کی فکر میں الٰہیاتی اور سیاسی تصورات کے ملاپ کو سمجھنے کے لیے کارل شمٹ کے اس قول کی طرف لوٹنا مفید ہوگا کہ حاکم اعلیٰ (sovereign) وہی ہوتا ہے، جو استثنا کو قانون کی شکل دینے کی صلاحیت کا رکھتا ہے، ایسی قدرت جس سے وہ قانون کے دائرے میں عمومی اصول کے اطلاق کو روک سکے۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں، شاہ  اسماعیل کے تصورِ شفاعت کا مرکزی نکتہ اخروی نجات کے دائرے میں غیر الہی ہستیوں کے کردار کی مکمل تردید ہے۔ خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کا تحفظ اس بات کو فرض کرتا ہے کہ تمام انبیا واولیا کی قدرت کو انتہائی محدود کیا جائے۔ بالفاظِ دیگر صرف خدا ہی ان تمام قوانین کو توڑ سکتا ہے جو اس نے خود بنائے ہیں، یا شمٹ کی اصطلاح میں حاکم اعلی کے پاس ہی یہ قدرت ہے کہ وہ استثنائی صورت کی تنفیذ کرے، یعنی ایک عادی مجرم کو بری کرنے کے لیے خصوصی استثنا عطا کرکے عام اصول کو معطل کر دے۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے: شاہ  اسماعیل کی فکر میں کس قسم کی رعیت کا تصور اور ہیئت پیش کی گئی ہے؟ ذرا زیادہ تخصیص کے ساتھ سوال یہ ہے کہ کس طرح سے خدائی ماورائیت سے متعلق شاہ اسماعیل کی الہیات عوامی دائرے میں ایک خود مختار رعیت (sovereign subject) کی تشکیل کی خواہش سے مربوط ہے؟ خدائی حاکمیت کی مطلق انفرادیت کے لیے ان کا پیش کردہ استدلال کس طرح سے عوامی حاکمیت کے ایک مخصوص تصور کو بھی تشکیل دیتا ہے؟ ان سوالات کو زیر بحث لانے میں یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ ہم ماورائیت (transcendence) کی اصطلاح سے مراد کیا لیتے ہیں؟ یہاں میں چاہتا ہوں کہ خاص طور پر ماورائیت پر مارٹن ہائیڈیگر کی فکر سے متعلق اروند منڈیئر (Arvind Mandair) کے شان دار مطالعے سے استفادہ کروں۔ منڈیئر کہتا ہے کہ ہائیڈیگر کے مطابق، جیسا کہ اس کی تحریر Metaphysical Foundations of Logic میں ہے، "ماورائیت" کو، جس کی خاصیت حدود سے ماورا ہونا ہے، دو مختلف طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے: (1) حضور وشہود  (immanence) کے مقابلے میں؛ (2) امکان واحتمال (contingency) کے مقابلے میں20۔

پہلی صورت میں، جسے ہائیڈیگر "علمیاتی ماورائیت" (epistemological transcendence) کہتا ہے، ماورا وہ ہے "جو اندر نہیں بلکہ باہر رہتا ہے، جو جوہر (روح) اور شعور سے باہر واقع ہوتا ہے۔۔۔ جو حدود سے اور شعور کو محیط دیوار سے باہر ہوتا ہے"21۔ ماورائیت کے اس تصور میں اندرون وبیرون کے درمیان کلیدی رشتہ ہے ، جس میں حاضر ومشہود  اندرون ہے جو جوہر/فرد کے اندر رہتا ہے، اور ماورائی وجود وہ ہے جو جوہر اور شعور سے باہر واقع ہوتا ہے۔

اس کے برعکس جب ماورائیت کا تقابل امکان واحتمال کے ساتھ کیا جائے تو یہ ایک الٰہیاتی تصور بن جاتا ہے۔ پھر اس سے مرادہ وہ ہے جو ہم سے تعلق رکھنے والی اور ہمیں محسوس ہونے والی ہر چیز سے ماورا ہے؛ "تمام حسی موجودات سے اس طرح سے ماورا ہونا جو مکمل طور پر ناقابل گرفت ہو" کے معنی میں "پَھلانگ" ہے22۔ "اس صورت میں ماورا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک لامتناہی فرق ہے"23۔ ہائیڈیگر مزید بتاتا ہے کہ الہیاتی مابعد الطبعیات (theological metaphysics) کی کم وبیش تمام صورتیں علمیاتی اور اعتقادی ماورائیت کے ان دو تصورات کے ساتھ جُڑتی ہیں، اور اس طرح سے "خارجی دنیا کے وجود کا قضیہ علمِ باری تعالی اور وجودِ باری تعالیٰ کے اثبات کے امکان میں الجھ جاتا ہے"24۔ اس قسم کے منہج فکر کو، جس میں عالمِ ظاہری سے متعلق ایک بندے کے علم کا امکان ایک ماورا خدا کے علم سے مشروط ہو جائے، ہائیڈیگر "وجودی الہیات (ontotheology)" کہتا ہے۔ یہ اصطلاح تین چیزوں سے مرکب ہے: وجود (onto)، الٰہ (theos) اور علم (logos)۔

یہ اہم ترین نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ ماورائیت کے لیے وجودی الٰہیات کا استدلال حاکمِ مُطلق خدا کا ایک ایسا تصور پیش کرتا ہے جو ایک خود مختار رعیت کی شکل میں خود کو دوبارہ ظاہر کرتا ہے۔ خدائی حاکمیت اور عوامی حاکمیت باہم دگر جڑے ہوئے ہیں، جن میں ہر ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہے۔ مسئلۂ شفاعت کی بابت شاہ اسماعیل کی فکر اور وجودی الہیات کے منہج میں گہری مماثلت ہے۔ خدائی حاکمیت کی یکتائی کے لیے ان کا استدلال جتنا خدا سے متعلق ہے، اتنا ہی عوامی دائرے میں ایک خود مختار رعیت کی تشکیل سے متعلق ہے۔ خدا اور ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت باہم غیر متعلق نہیں، بلکہ خدائی حاکمیت سے متعلق شاہ اسماعیل کے بیانات کی استدلالی فضا میں یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں۔

تقویۃ الایمان میں شاہ اسماعیل نے سیاسی الہیات کا ایک ایسا تصور پیش کیا جو عوامی دائرے میں ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت کو شعوری طور پر اس مطالبے سے مربوط کرتا ہے کہ وہ تغیر وتبدل سے پاک حاکمِ مطلق خدا کی ماورائیت کا اقرار کرے۔ اس وجودی الہیاتی منہج کے اندر کسی بندے کا اپنی ذات یا دوسروں سے تعلق خدائی حاکمیت سے وفاداری پر منحصر ہے۔ سماج کے تمام افراد کی اجتماعی ذمہ داری یہ ہے کہ خدائی حاکمیت کا اقرار کریں25۔ سماجی یک جہتی کی بنیاد ہی خدائی حاکمیت کا اقرار ہے۔ سماج کے تمام افراد حاکمِ مطلق خدا سے اپنی مشترکہ وفاداری میں متحد ہیں۔ یہ یک جہتی برقرار تو رہتی ہے، تاہم خدائی حاکمیت (توحید) کی حدود سے تجاوز (شرک) کا مستقل خدشہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ہر فکر، عمل اور روزمرہ کے نظامِ حیات کی مسلسل نگرانی ضروری ہے تاکہ حاکمِ مطلق خدا کے تمام ممکنہ حریفوں کو حاکمیت کے دائرے تک رسائی سے روکا جائے۔

ایسی شدید نگرانی اور بے چینی کے ماحول میں وجودیات (ontology) ہمیشہ عقائد (theology) سے بندھے ہوتے ہیں۔ زندگی کی حدود اور شناخت کی حدود حاکمِ مطلق خدا کی ہستی سے اس طرح جڑی ہوتی ہیں کہ انھیں علیحدہ کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ شناخت کے اس تصور کے مطابق فکر وعمل کی ان تمام صورتوں کو جو اس طرح کی رعیت کی تشکیل کے لیے خطرہ ہوں یا اس کی تشکیل کو کمزور کرتی ہوں، مٹانا چاہیے۔ شاہ اسماعیل نے شرک کی جن اقسام کو خدائی حاکمیت (توحید) کی ضد قرار دیا ہے، اس میں یہی وجودی الہیاتی استدلال کار فرما ہے۔ ان کی نظر میں یہ تجاوزات خدا اور انسان کے درمیان ایک ایسے تعلق کو کمزور کرتے ہیں، جس میں انسانی زندگی کا ہر لمحہ اس فریضے کے لیے وقف ہے کہ وہ خدائی حاکمیتِ مطلقہ کا اقرار کرے۔

مزید برآں شاہ اسماعیل کے الٰہیاتی تصور میں کسی کا ذاتی اختیار حاکمِ مطلق خدا کے دربار میں فوری رسائی کے امکان کے ذریعے قائم ہے۔ خدا کو تمام اختیارات سپرد کرنے کے عمل کے نتیجے میں بندے کو یہ آزادی دے دی گئی ہے۔ خدا اور اس کی انسانی رعیت کے درمیان تعلق کے لیے انبیا واولیا کی ثالثی کی کوئی ضرورت نہیں۔ خدا اپنے بندوں کی الحاح وزاری اور دعاؤں کے سننے اور قبول کرنے کے لیے ہمہ وقت موجود ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدا کی حاکمیتِ مطلقہ نے انفرادی طور پر ہر فرد اور نتیجتاً اجتماعی طور پر تمام عوام کو غیر اللہ پر انحصار سے آزادی فراہم کی ہے۔

انفرادی اور اجتماعی نجات کا مکمل دار ومدار حاکمِ مطلق خدا سے عہدِ وفا پر منحصر ہے لیکن، اہم نکتہ یہ ہے کہ  یہ نجات مشروط ہے۔اسے صرف وہی لوگ پا سکتے ہیں جو شعوری اور ارادی طور پر خدائی حاکمیت کے تمام مزعومہ حریفوں سے دور رہیں۔ جو کوئی بھی اپنے اعمال وعقائد کے ذریعے حاکمِ مطلق خدا کے حریفوں کے اختیار کو تقویت فراہم کرتا ہے، وہ اخروی نجات نہیں پا سکتا۔

ایسا شخص جو خدائی حاکمیت کی مطلق یکتائی کو کمزور کرتا ہے، اعتقادی بغاوت کے ارتکاب کا مجرم ہے۔ خدائی حاکمیت کی سالمیت کو برقرار رکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ سماجی زندگی کے ہر ہر لمحے میں خدائی حاکمِ اعلیٰ کے ساتھ مکمل وفاداری نبھائی جائے۔ خدائی حاکمیت کی کوئی معقولیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ مطلق ہو۔ خدائی حاکمیت کی یہ تفہیم حیرت انگیز طور پر اس منہج کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے جس میں جدید ریاست اپنی حاکمیت شہریوں سے منواتی ہے۔

جس طرح جدید ریاست اپنے شہریوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس کی حاکمیت سے مکمل وفاداری کا عہد کریں، اس طرح سے شاہ اسماعیل کے سیاسی عقیدے میں خدا کی حاکمیت کا تحفظ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب وہ مطلق ہو، اور وہ کسی بھی حریف کے خطرے سے دوچار نہ ہو۔ اور جس طرح ریاست کی حاکمیت کو چیلنج کرنے کا نتیجہ شہریت سے محرومی اور غداری کے الزام کا سامنا کرنا ہے، بالکل اسی طرح شاہ اسماعیل کی نظر میں خدائی حاکمیت کو چیلنج کرنا آدمی کو ایمان کی سرحد سے باہر کر دیتا ہے۔ بالفاظِ دیگر ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت کی حدود، چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، خدائی ماورائیت کے عقیدے میں وجودی الہیاتی انداز میں پیوست تھیں۔ لیکن یہ وجودی الہیاتی بندوبست ایک شدید تضاد کا شکار تھا۔

ایک جانب شاہ اسماعیل نے ایک انتہائی جمہوری انداز  کی الٰہیات تشکیل دی۔ الہیات کے اس تصور کے مطابق ایک سماج تمام اختیارات کو صرف  خدا کے لیے مانتا ہے، اور اس طرح اس اختیار کو تمام انسانوں اور غیر خدائی ہستیوں سے دور رکھتا ہے۔ خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کے ساتھ اس وفاداری کے بدلے میں انھیں خدا کی کامل قربت کی نعمت سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن خدا کی کا قربت کے حصول کے لیے شرط یہ ہے کہ بندہ خدا کی مطلق یکتائی کا اقرار کرے۔ خدا بیک وقت سماج کے اندر بھی ہے اور باہر بھی۔ وہ سماج کے سب سے زیادہ قابل رسائی فرد کی حیثیت سے سماج کے اندر ہے۔ تاہم وہ ایسا قادر مطلق ہونے کی حیثیت سے باہر بھی ہے، جو کسی بھی لمحے تمام موجودہ قوانین کو تبدیل کرکے استثنا کو قانون کی شکل دے سکتا ہے۔

استثنا کو قانون کی شکل دینے کا مرحلہ خدا سے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ سماج کی حدود سے باہر قدم رکھے تاکہ وہ اپنے جاری کردہ اصول وقوانین کو معطل کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے بندوں سے تعلق کے حوالے سے خدا بیک وقت بے حد قریب بھی ہے اور بے حد دور بھی۔ وہ حیرت انگیز طور پر حاضر ومشہود  (immanent) ہے، تاہم وہ حیرت انگیز طور پر ماورائی بھی ہے۔ خدا ہر جگہ ہے، اور وہ کہیں بھی نہیں۔ حاکمیت کا کوئی تصور، چاہے اس کا تعلق  مذہبی خدا (اللہ تعالیٰ) سے ہو یا لامذہبی خدا (ریاست) سے، اس لا ینحل تناقض سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ شاہ اسماعیل کی سیاسی الہیات بھی اس متناقض استدلال میں الجھی ہوئی ہے کہ خدائی حاکمیت کا تحفظ ایسے عوام کے ذریعے سے کیا جا سکتا ہے جن کا فرض اس حاکمیت کا مسلسل اقرار اور تحفظ ہو26۔  یہ ایک ناممکن عمل تھا۔

شفاعتِ نبوی پر شاہ اسماعیل کی متنازعہ آرا اور مغلوں کے عہد حکومت کے آخری دور میں شاہی حکومت پر ان کی کاٹ دار تنقید کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی میں شاید کسی بھی ہندوستانی مسلمان مفکر کے خیالات کو اس قدر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ان کے دینی افکار وعقائد برصغیر میں اور اس سے باہر برطانیہ، جنوبی افریقہ اور امریکا میں مقیم ہندوستان سے تعلق رکھنے والے  سنی مسلمانوں کے مابین مباحثوں پر کئی دہائیوں سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تاہم ان کی اپنی زندگی میں ان کے شدید ترین اور زبردست علمی مخالف دلی کے مشہور فلسفی، شاعر اور معقولی علامہ فضل حق خیر آبادی تھے۔ انھوں نے فارسی میں "تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوٰی" کے نام سے خدائی حاکمیت پر شاہ اسماعیل کے افکار کی ایک جارحانہ تردید لکھی جس پر اب ہم بحث کریں گے۔


 حواشی

  1.  شاہ محمد اسماعیل، تقویۃ الایمان (لاہور: مطبع احمدی، تاریخ اشاعت ندارد)، 18۔
  2.  ایضاً، ص 24۔ اس حدیث کا شان ورود قرآن (26 : 214) کی وہ "تنبیہ" ہے، جو اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ کو کی ہے: "اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ"۔
  3.  القرآن 72 : 21 – 22۔ بحوالۂ شاہ محمد اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی: صدیقی ٹرسٹ، تاریخ اشاعت ندارد)، 95۔
  4.  ایضاً۔
  5.  ایضاً، 5۔
  6.  القرآن 10 : 18۔ بحوالہ اسماعیل، تقویۃ الایمان (لاہور)، 4۔
  7.  القرآن 23 :88، بحوالہ ایضاً، 5۔
  8.  القرآن 20 : 109۔
  9.  القرآن34 : 23۔
  10.  اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 100۔
  11.  ایضاً، 101 – 2۔
  12.  ایضاً، 102 – 103۔
  13.  ایضا، 103۔
  14.  ایضاً، اسماعیل، تقویۃ الایمان (لاہور)، 122۔
  15.  ایضاً، 23۔
  16.  اَیضاً، 23۔
  17.  ایضاً۔
  18.  ایضاً، اسماعیل، تقویۃ الایمان (کراچی)، 68۔
  19.  اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ انیسویں صدی میں مسلمانوں کے درمیان مناقشوں کے تناظر میں ایک حقیر فرد کی حیثیت سے لفظ چمار کا استعمال بالکل عام ہے، جبکہ اٹھارھویں صدی میں ایسے حوالے، اگر ہوں بھی تو بہت کم ہیں۔ چمار جیسی ذات پات کی اصطلاحات کا برطانوی استعمار کی جانب سے تشکیل نو اور شمالی ہندوستان کے مسلمان اہل علم اشرافیہ کے درمیان ان اصطلاحات سے جڑے منافرانہ تصورات کے درمیان تعامل ایک ایسا موضوع ہے جس پر مزید گہری تحقیق اور غور وفکر کی ضرورت ہے۔ ذات پات کی استعماری اور معاصر سیاسیات، بالخصوص سابقہ اچھوت/شودروں کے حوالے، سے مزید دیکھیے: رام نارائن راوَت اور کے ستیانارائنہ (مدَوِّنین)، Dalit Studies، (درہم: این سی، ڈیوک یونیورسٹی پریس، 2016)؛ انوپاما راو، The Caste Question: Dalit and the Politics of Modern Indial، (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 2009)؛ روپا وِسواناتھ، The Pariah Problem: Caste, Religion, and the Social in Modern India، (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2014)؛ اور ناتھانیل روبرٹس، To Be Cared For: The Power of Conversion and the Foreignness of Belonging in an Indian Slum، (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 2016)۔
  20.  اروند منڈیئر، Religion and the Specter of the West: Sikhism, India, Postcoloniality, and the Politics of Translation (نیو یارک، کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009)، 234؛ ہائیڈیگر، Metaphysical Foundation of Logic (بلومنگٹن: انڈیانا یونیورسٹی پریس، 1984)، 160۔
  21.  ہائیڈیگر، Metaphysical Foundation of Logic، 160۔
  22.  ایضاً، 161۔
  23.  ایضاً، 162۔
  24.  ایضاً۔
  25.  یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ شاہ اسماعیل کی سیاسی الہیات سے متعلق یہ میری ذاتی تفہیم ہے؛ انھوں نے کہیں بھی اسلامی قانون میں موجود انفرادی یا اجتماعی ذمہ داری کی اصطلاحات میں اپنے استدلال کو بیان نہیں کیا ۔
  26.  اگلے حصے میں جو ابواب میں ہیں، ان میں نسبتاً‌ زیادہ گہرائی سے سیاسی الہیات، قانون اور مثالی عوام کے درمیان تعامل پر بحث کی گئی ہے۔