اپریل ۲۰۲۲ء

مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین سے متعلق ہمارا موقفمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ سنن ابی داود (۴)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۹)مولانا سمیع اللہ سعدی 
کم عمری کا نکاح: اسلام آباد ہائیکورٹ کا متنازعہ فیصلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قادیانیوں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں میں فرقمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قادیانیوں کے بطورِ اقلیت حقوق اور توہینِ قرآن و توہینِ رسالت کے الزاماتڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
مسلم وزرائے خارجہ سے توقعاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
صغر سنی کی شادی پر عدالتی فیصلے کا جائزہڈاکٹر شہزاد اقبال شام 
ماں باپ کی زیادہ عمر اور ڈاؤن سنڈروم کا تعلقخطیب احمد 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)ڈاکٹر شیر علی ترین 
الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماعمولانا محمد اسامہ قاسم 
ولی کامل نمونہ اسلاف حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی ؒکی رحلتمولانا ڈاکٹر غازی عبد الرحمن قاسمی 

مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین سے متعلق ہمارا موقف

محمد عمار خان ناصر

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متبعین کے متعلق اپنے نقطہ نظر کے مختلف پہلو میں وقتاً‌ فوقتاً‌ اپنی تحریروں میں بیان کرتا رہا ہوں۔ آج کل یہ سوال پھر زیربحث ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے موقف کی ایک جامع اور مختصر وضاحت یکجا پیش کر دی جائے۔

1۔ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور ایک مستقل امت کے طور پر مسلمانوں کی شناخت کی بنیاد ہے۔ اس عقیدے کی بالکل الگ اور مبتدعانہ تشریح کرتے ہوئے مرزا صاحب کو نبی ماننے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا آئینی فیصلہ بالکل درست ہے۔

2۔ آئینی فیصلے کے بعد قادیانیوں کو پاکستان کے دوسرے غیر مسلم شہریوں کی طرح وہ تمام حقوق اور تحفظات حاصل ہیں جو آئین اور قانون غیر مسلموں کو دیتے ہیں۔ اس میں قادیانیوں اور دوسرے غیر مسلموں میں کوئی فرق آئین وقانون کی رو سے درست نہیں اور یہ آئینی حیثیت اس کے ساتھ بھی مشروط نہیں کہ قادیانی خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیں۔ البتہ دلیل اور منطق کے ساتھ دنیا پر اور خود قادیانیوں پر بھی اس فیصلے کی دینی بنیاد اور عملی ضرورت کو واضح کرتے رہنا چاہیے۔

3۔ قادیانیوں کے عمومی مقاطعہ کو دینی حکم قرار دینا درست نہیں۔ انفرادی طور پر حسب مصلحت کسی کو میل جول سے روکا جا سکتا ہے، لیکن بحیثیت گروہ سماجی معاملات میں ان سے تعلقات نہ رکھنا نہ دین کا حکم ہے اور نہ اس امتیاز کی آئین وقانون اجازت دیتے ہیں۔

4۔ قادیانی ایک منحرف گروہ کے طور پر امت مسلمہ کے مدعو ہیں۔ ان کی غلطی سمجھانے کے لیے ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور تنقید کا سوقیانہ انداز اختیار کرنا دینی اخلاقیات کے خلاف ہے جس پر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا حیات خان جیسے اکابر کی تنبیہات موجود ہیں۔ علاوہ ازیں آئین وقانون بھی اس کو قابل تعزیر قرار دیتا ہے جس کی وضاحت پاکستان کے ضابطہ تعزیرات کی شق 295-Aمیں موجود ہے۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں سے کسی بھی گروہ کے مذہبی احساسات کو مجروح کرنے یا اس کے مذہبی مقدسات کی توہین کرنے پر دس سال تک قید کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

295-A. Deliberate and malicious acts intended to outrage religious feelings of any class by insulting Its religion or religious beliefs:
Whoever, with deliberate and malicious intention of outraging the 'religious feelings of any class of the citizens of Pakistan, by words, either spoken or written, or by visible representations insults the religion or the religious beliefs of that class, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to ten years, or with fine, or with both.

5۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کے باہمی معاملات میں ان پر غیر مسلم کے احکام جاری ہوں گے، تاہم اگر امت مسلمہ اور کفار کے مابین کسی تنازع یا کشمکش میں سیاسی سطح پر قادیانی مسلمانوں کی صف میں کھڑا ہونا چاہیں اور مسلمانوں کی اجتماعی قیادت اسے اسلام اور مسلمانوں کے نقطہ نظر سے قرین مصلحت دیکھے تو ایسا کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ تحریک پاکستان کے موقع پر مسلم لیگ نے کیا اور مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا مفتی محمد شفیع جیسے جید علماء نے اس کی تصویب کی۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(318) ایواء کا مطلب

آوی یؤوی ایواء کا اصل مطلب ٹھکانا فراہم کرنا ہوتا ہے۔ البتہ جب کسی دشمن یا کسی خطرے سے بچاؤ کا موقع ہو تو پناہ دینا بھی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہوجاتاہے۔ اس لیے اگر موقع پناہ کا نہیں ہو تو ایواء کا ترجمہ ’ٹھکانا دینا‘ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے:

(۱) وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَأُمَّہُ آیة وَآوَیْنَاہُمَا إِلَیٰ رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ۔ (المومنون: 50)

اس آیت میں آوَیْنَاہُمَا کہہ کر ٹھکانا فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ پناہ دینے کی۔ اس آیت میں اس انتظام کی طرف اشارہ ہے، جو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اللہ تعالی نے حضرت مریم  علیہا السلام کے لیے کیا تھا۔جس کا ذکر سورہ مریم میں ہے۔ اللہ تعالی نے اس عمدہ انتظام کو بھی اپنی نشانی کے طور پر بیان کیا ہے۔ درج ذیل آیت میں معین سے مراد ایک چشمہ ہے نہ کہ بہت سے چشمے۔ آیت کے ترجمے ملاحظہ کریں:

”اور بنایا ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو ایک نشانی اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلے پرجہاں ٹھیراؤ تھا اور پانی نتھرا“۔ (شاہ عبدالقادر، یہ مناسب ترجمہ ہے)

”اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے“۔ (سید مودودی، غالباً کاتب کی غلطی سے نشانی کی جگہ نشان ہوگیا۔ ’چشمے جاری تھے‘ کے بجائے ’چشمہ جاری تھا‘ ہونا چاہیے۔)

درج ذیل ترجموں میں پناہ دینا ہے، جو مناسب نہیں ہے:

”اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی والی جگہ میں پناہ دی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسی علیہ السلام) کو اور ان کی ماں (حضرت مریم) کو بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان کو ایک ایسی بلند زمین پر لے جاکر پناہ دی جو (بوجہ غلات اور میوہ جات پیدا ہونے کے) ٹھہرنے کے قابل اور شاداب جگہ تھی“۔ (اشرف علی تھانوی)

(۲) أَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیمًا فَآوَیٰ۔ (الضحی: 6)

اس آیت میں بھی پناہ دینے کا محل نہیں ہے، بلکہ ٹھکانا دینے ہی کا محل ہے۔

”بھلا نہ پایا تجھ کو یتیم پھر جگہ دی“۔ (شاہ عبدالقادر)

”کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟“۔ (سید مودودی)

”کیا خدا نے آپ(ص) کو یتیم نہیں پایا؟ تو پناہ کی جگہ دی؟“۔ (محمد حسین نجفی)

”کیا اس نے تم کو یتیم پاکر پناہ نہیں دی ہے“۔ (ذیشان جوادی)

(۳) وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَیٰ یُوسُفَ آوَیٰ إِلَیْہِ أَخَاہُ۔ (یوسف: 69)

اس آیت میں بھی پناہ دینے کی بجائے اپنے نزدیک کرلینا درست ترجمہ ہے۔

”اور جب وہ لوگ یوسف کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس پناہ دی“۔ (ذیشان جوادی)

”یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا“۔ (سید مودودی)

(۴) تُرْجِی مَن تَشَاءُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِی إِلَیْکَ مَن تَشَاءُ۔ (الاحزاب: 51)

اس آیت میں پناہ دینا نہیں بلکہ اپنے پاس رکھ لینا درست ترجمہ ہے۔

”ان میں سے جس کو آپ چاہیں الگ کرلیں اور جس کو چاہیں اپنی پناہ میں رکھیں“۔ (ذیشان جوادی)

”ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(319)  وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِینَ

غفلت کا مطلب لاپرواہی برتنا ہوتا ہے، نہ کہ کسی کام سے نا بلد ہونا۔ درج ذیل آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ مخلوق سے غافل و بے پروا نہیں ہے۔ طرائق طریقة کی جمع ہے جس کے معنی راستے کے ہیں۔ درج ذیل آیت میں طرائق کا ترجمہ راستے ہونا چاہیے، البتہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے نزدیک طرائق سے آسمان مراد ہیں۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِینَ۔ (المومنون: 17)

”اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے“۔ (سید مودودی)

”اورہم ہی نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم بنانے میں بے خبر نہ تھے“۔ (احمد علی)

”ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے۔ اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان بنائے اور ہم مخلوق سے بے پروا نہیں ہوئے“۔ (امین احسن اصلاحی، ’بے پروا نہیں تھے‘ ہونا چاہیے۔)

”اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، اور ہم مخلوق سے بے پروا نہیں تھے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(320) أَنزِلْنِی مُنزَلًا مُّبَارَکًا

وَقُل رَّبِّ أَنزِلْنِی مُنزَلًا مُّبَارَکًا وَأَنتَ خَیْرُ الْمُنزِلِینَ۔ (المومنون: 29)

”اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تُو بہترین جگہ دینے والا ہے“۔(سید مودودی)

”اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ اُتاریو اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور کہنا کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور دعا کیجیو کہ اے رب! تو مجھے اتار مبارک اتارنا اور تو بہترین اتارنے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

بعض لوگوں نے مبارک جگہ ترجمہ کیا ہے اور بعض لوگوں نے مبارک اتارنا ترجمہ کیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی اس رائے کو ترجیح دیتے ہیں کہ یہاں منزلا ظرف نہیں بلکہ مصدر میمی ہے۔ وہ حسب ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”اور کہو کہ اے رب! تو مجھے اپنی برکتوں کے ساتھ اتار اور تو بہترین اتارنے والا ہے“۔

اس سے ترجمے میں شگفتگی بھی آجاتی ہے اور اس میں معنویت بھی بھرپور ہے۔

(321) ہَیْہَاتَ ہَیْہَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ

درج ذیل آیت میں کس چیز کو بعید کہا جارہا ہے، وعدے کو، یا اس چیز کے واقع ہونے کو جس کی خبر دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے وعدہ یا خبر تو دے دی گئی ہے، اس کے بعید ہونے کا سوال نہیں ہے، یہاں اس چیز کے بعید ہونے کی بات ہے جس کے واقع ہونے کی خبر دی جارہی ہے۔

ہَیْہَاتَ ہَیْہَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ۔ (المومنون: 36)

”بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے“۔ (سید مودودی)

”بہت ہی بعید اور نہایت ہی مستبعد ہے یہ ڈراوا جو تمھیں سنایا جارہا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:

”جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (بہت) بعید اور (بہت) بعید ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(322) فَجَعَلْنَاہُمْ غُثَاءً فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ

فَأَخَذَتْہُمُ الصَّیْحةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاہُمْ غُثَاءً فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ۔ (المومنون: 41)

”پس پکڑا ان کو آواز تند نے ساتھ حق کے، پس کردیا ہم نے ان کو ریزہ ریزہ پس لعنت ہے واسطے قوم ظالموں کے“۔ (شاہ رفیع الدین، غثاء کا ترجمہ ریزہ ریزہ کرنا درست نہیں ہے، اس کا مطلب کوڑا کرکٹ ہوتا ہے)

”پھر کردیا ہم نے ان کو کوڑا سو دور ہوجاویں گے گناہ گار لوگ“۔ (شاہ عبدالقادر، ظالمین کا ترجمہ گناہ گار لوگ کرنا درست نہیں ہے)

”تو ہم نے ان کو کوڑا کرڈالا۔ پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا دُور ہو ظالم قوم!“۔ (سید مودودی، کچرا بنادیا درست ہے، بناکر پھینک دیا درست نہیں ہے۔)

”تو ہم نے انہیں گھاس کوڑا کردیا تو دور ہوں ظالم لوگ“۔ (احمد رضا خان)

”اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈالا، پس ظالموں کے لیے دوری ہو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا۔ تو خدا کی پھٹکار ہو ایسے بدبختوں پر“۔ (امین احسن اصلاحی، ظالمون کا ترجمہ بدبختوں درست نہیں ہے۔)

(323) مَا تَسْبِقُ مِنْ أُمّةٍ أَجَلَہَا وَمَا یَسْتَأْخِرُونَ

درج ذیل آیت دو مقام پر آئی ہے، دونوں جگہ مضارع کے صیغے میں ہے، لیکن دونوں جگہ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ ماضی کا کیا ہے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

مَا تَسْبِقُ مِنْ أُمّةٍ أَجَلَہَا وَمَا یَسْتَأْخِرُونَ۔ (المومنون: 43)

”نہ تو کوئی امت اپنے وقت مقررہ سے آگے بڑھی اور نہ پیچھے رہی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی“۔ (سید مودودی)

اوپر کے دونوں ترجموں میں یہ غلطی ہے، جب کہ درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”نہ کوئی قوم اپنی اجل معین سے پہل ہی کرتی اور نہ وہ اس سے پیچھے ہی ہٹتی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی) آگے بڑھ سکتی ہے نہ اس سے پیچھے رہ سکتی ہے۔

”کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

مَّا تَسْبِقُ مِنْ أُمّةٍ أَجَلَہَا وَمَا یَسْتَأْخِرُونَ۔ (الحجر: 5)

”کوئی گروہ اپنے وعدہ سے آگے نہ بڑھے نہ پیچھے ہٹے“۔ (احمد رضا خان)

”کوئی قوم اپنے وقت مقرر سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے نہ پیچھے رہی ہے“۔ (احمد علی)

اوپر کے دونوں ترجموں میں یہ غلطی ہے، جب کہ درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے“۔ (سید مودودی)

”کوئی گروہ اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)


مطالعہ سنن ابی داود (۴)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: ایک موقع پر ایک بدوی آپﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اسے دین کی تعلیم دیتے ہوئے صرف ارکان دین یعنی عبادات کے متعلق بتایا۔ (کتاب الصلاۃ، باب فرض الصلاۃ، حدیث نمبر ۳۹۱) معاملات کی بات نہیں فرمائی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

عمار ناصر: ایسے موقع پر سائل کے مقصد کو پیش نظر رکھنا ہوتا ہے کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے۔ سائل کا مقصد سمجھ کر کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے، اس کے لحاظ سے جواب دے دیا جاتا ہے۔ باقی چیزوں کی نفی مقصود نہیں ہوتی۔ یہاں سائل دین کی کوئی ایسی وضاحت طلب ہی نہیں کر رہا جو پوری انسانی زندگی پر محیط ہو۔ بنیادی انسانی اخلاقیات کی جو باتیں معروف ہیں، وہ ان سے واقف ہے، اور وہ چاہ رہاہے کہ دین مجھ پر اس کے علاوہ کیا ذمہ داری عائدکر تا ہے جسے اداکرنے کے بعد میں سرخروہوجاؤں گا۔ ظاہرہے، اس کے جواب میں آپ ﷺ کو پورے دین کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔

مطیع سید: عورتیں جو بالوں کی مینڈھیاں بناتی تھیں، آپﷺنے انہیں غسل کے لیے کھولنے کا حکم نہیں فرمایا۔ (کتاب الطہارۃ، باب فی المراۃ ہل تنقض شعرہا عند الغسل، حدیث نمبر ۲۵۱) تو کیا اس سے نیل پالش کا جواز نکال سکتے ہیں کہ وضو یا غسل کے لیے اسے اتارنے کی ضرورت نہیں؟

عمار ناصر: مینڈھیوں پر قیاس نہ کیا جائے تو بھی میری رائے میں تو ایسا کرنا درست ہے۔

مطیع سید: یعنی جب وضو کر کے نیل پالش لگائی ہو یا پھر اس کے لیے وضو کی شرط بھی نہیں؟

عمار ناصر: غامدی صاحب نے اس کو موزوں کے مسح پر قیاس کرتے ہوئے یہ رائے دی ہے کہ اگر وضو کر کے نیل پالش لگائی ہو تو پھر اس کے اوپر سے پانی بہا دینا کافی ہے۔ میرے خیال میں تو وضو کر کے لگانا ضروری نہیں۔ اگر ویسے بھی لگا لی ہو تو اس کے ساتھ ہی وضو کیا جا سکتا ہے۔ اس کو یوں سمجھا جائے گا کہ جب تک نیل پالش لگی ہوئی ہے، وہ چمڑے کا یا ناخن کا حصہ ہی ہے۔ میرے نزدیک جو لوگ رنگ روغن کا کام کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں پر پینٹ لگ جاتا ہے جسے کافی کوشش سے ہی اتارا جا سکتا ہے، ان کا حکم بھی یہی ہے۔ جب تک وہ پینٹ جسم پر لگا ہوا ہے، وہ جسم کی جلد کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ میرے خیال میں شریعت کے اصول تیسیر کا تقاضا ہے۔

مطیع سید: صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کے کچھ غلام مسلمان ہو کر آگئے تو آپﷺ نے انھیں واپس بھیجنے سے انکار فرما دیا۔ (کتاب الجہاد، باب فی عبید المشرکین یلحقون بالمسلمین فیسلمون، حدیث نمبر ۲۷۰۰) کیا یہ صلح حدیبیہ کے بعد کا واقعہ ہے؟ اس معاہدے میں تو طے کیا گیا تھاکہ مشرکین میں سے جو مسلمانوں کے پاس جائے گا، اسے واپس بھیج دیا جائے گا۔

عمار ناصر: نہیں، روایت میں تصریح ہے کہ یہ معاہدہ طے پانے سے پہلے کا واقعہ تھا۔ ابھی چونکہ معاہدہ نہیں ہوا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں واپس نہیں بھیجا۔

مطیع سید: آپ ﷺنے نجد کی جانب ابان ابن سعید کو سردار بنا کر بھیجا۔ ان کی واپسی پر خیبر فتح ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں حصہ نہیں دیا، لیکن ابو موسی اشعری اور جعفر بن ابی طالب کو حصہ عطا فرمایا۔ (کتاب الجہاد، باب فی من جاء بعد الغنیمۃ لا سہم لہ، حدیث نمبر ۲۷۲۳، ۲۷۲۵) آپﷺ نے یہ فرق کیوں رکھا؟

عمار ناصر: مال غنیمت کی تقسیم میں حکمران کی صوابدید کا بھی کافی دخل ہوتا ہے۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی آپ نے اپنا یہ صواب دیدی اختیار استعمال فرمایا اور سیاسی یا انفرادی مصلحت کے تحت فیصلہ کیا کہ کس کو کتنا حصہ دینا چاہیے اور کس کو نہیں۔

مطیع سید: مال غنیمت کی تقسیم موجود دور میں بھی اسی طرح ہوگی؟

عمار ناصر: نہیں، اب تو صورتحا ل بہت ہی مختلف ہو گئی ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں مجاہدین ذاتی حیثیت میں ہتھیار اور سواری وغیرہ کا بندوبست کر کے جنگ میں شریک ہوتے تھے۔ بعد کے دور میں باقاعدہ تنخواہ دار فوجیں منظم کر لی گئیں تو مال غنیمت براہ راست فوجیوں میں تقسیم کر دینا ممکن نہیں رہا۔ اگر یہی طریقہ جاری رکھا جاتا تو سرکاری خزانے سے فوجوں کے اخراجات کی رقم کہاں سے لائی جاتی؟ آج کل کے بین الاقوامی معاہداتی نظام میں تو مال غنیمت پر فاتحین کے حق کو بھی کافی محدود کر دیا گیا ہے۔ غالباً‌ دشمن کے جنگی سازوسامان پر قبضہ کر لینا تو فاتح کا حق مانا جاتا ہے، لیکن اس کے علاوہ عام لوگوں کے اموال پر قبضہ درست نہیں مانا جاتا۔ مال غنیمت کا قدیم تصور اس سے مختلف تھا۔

مطیع سید: حدیبیہ کے معاہدے کے بعد ایک صحابی ابو بصیر مکے سے بھاگ کر مدینہ آ گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کے مطابق انھیں واپس بھیج دیا۔ راستے میں انھوں نے گرفتار کر کے لے جانے والے مشرکوں کو قتل کر دیا اور پھر اپنی طرح مکے سے بھاگ کر نکلنے والے بہت سے افراد کا ایک جتھہ بنا کر مشرکین پر حملے کرنے لگے۔ (کتاب الجہاد، باب فی صلح العدو، حدیث نمبر ۲۷۶۵) کیا ابو بصیر کا یہ اقدام غیر شرعی تھا؟

عمار ناصر: نہیں، اس میں کسی شرعی اصول کی خلاف ورزی تو انھوں نے نہیں کی تھی۔ معاہدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا تھا اور آپ نے معاہدے کے مطابق انھیں واپس بھیج دیا۔ مکے کے مسلمان جنھیں جبراً‌ مکے والوں نے قید بنا کر رکھا ہوا تھا، وہ تو اس معاہدے کا فریق ہی نہیں تھے۔ ان کو پورا حق حاصل تھا کہ وہاں سے آزادی حاصل کریں اور اگر مجتمع ہو کر ظالموں کے خلاف لڑ سکتے ہوں تو لڑیں۔ ابوبصیر اور ان کے ساتھیوں نے یہی کیا۔

مطیع سید: آپﷺ نے ابو بصیر کو کوئی پیغام کیوں نہیں بھجوایا کہ یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے؟

عمار ناصر: نہیں، اس کی ضرورت کیا تھی؟ اس کے کام میں کوئی شرعی خرابی تو تھی نہیں تو کیوں آپ ﷺ پیغام بھیجتے؟ ہاں، یہ آپ نے ضرور واضح کر دیا تھا کہ آپ ان کو مدینہ میں پناہ نہیں دے سکتے، کیونکہ اس سے قریش کے ساتھ جنگ کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھے گی۔ مدینہ کے علاوہ وہ اپنے طور پر جہاں بھی جاتے اور جو بھی کرتے، ا س کی ذمہ داری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں آتی تھی۔

مطیع سید: آپ ﷺ خود قریش سے نہیں لڑ رہے تھے اور جو لڑائی چھیڑ رہا تھا، اسے منع بھی نہیں کررہے تھے؟

عمار ناصر: آپﷺ تو اس لیے لڑائی نہیں کر رہے تھے کہ ان سے معاہدہ کر چکےتھے اور معاہدے کے پابند تھے۔ ابوبصیر کو کیوں منع کرتے؟ ان کا تو کوئی معاہدہ نہیں تھا اور وہ قریش کے مظلوم بھی تھے۔

مطیع سید: حضورﷺ نے ایک معاہدہ کیا اور ابو بصیر آپﷺ کے ایک ماننے والا تھے۔ کیااس معاہدے کی پابندی ان پر لاگو نہیں ہوتی تھی؟

عمار ناصر: بالکل نہیں ہوتی تھی۔ وہ معاہدہ آپ نے اس حیثیت سے نہیں کیا تھا کہ میں پیغمبر ہوں اور میرے سب ماننے والے اس کے پابند ہوں گے۔ وہ اس حیثیت سے تھا کہ مدینے میں جو ہماری حکومت قائم ہے اور مدینے میں جو لوگ آپﷺ کی حکومت کے تحت رہ رہے ہیں، وہ اس کے پابند ہیں۔ مکے کے مسلمان تو نہ اس معاہدے میں شریک ہوئے تھے اور نہ اس کے پابند تھے۔ یہ مدینے کی حکومت اور مکے کے سرداروں کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔

مطیع سید: آج جو فاٹا کے لوگ ہیں، کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ریاستِ پاکستان کی عمل داری میں نہیں آتے، ہم تو الگ ہیں، اس لیے ہم ریاست پاکستان کی پالیسیوں کے پابند نہیں؟

عمار ناصر: ا گر ان کی یہ بات درست ہے کہ ان پر ریاست پاکستان کی پالیسیوں کی پابندی لازم نہیں تو ان کا نتیجہ بھی ٹھیک ہے۔ ریاست پاکستان کی ان علاقوں کے ساتھ معاہدے کی کیا نوعیت ہے، یہ دیکھنا پڑے گا۔ اگر تو اس معاہدے کے مطابق وہ پاکستان کی سیاسی پالیسی کے اور پاکستانی آئین کے پابند ہیں توان کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ اگر وہ ریاست کا حصہ ہیں تو ریاست کی رٹ وہاں پر قائم ہوگی۔ ریاست کا حصہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی خارجہ پالیسی ریاست سے الگ نہیں بنا سکتے۔ ان کے لیے قانونی نظام کے لحاظ سے اگر کوئی الگ بندوبست کیا گیا ہے تو وہ بھی آئین کی کسی Provision کے تحت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصل میں توریاست پاکستان کا حصہ ہیں۔ میرے علم کی حد تک وہاں وہ عسکریت پسند گروہ تھے، ان کی مرکزی قیادت نے بھی ایسی کوئی دلیل نہیں دی۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہم اس لیے ریاست پاکستان کے پابند نہیں ہیں کہ یہ جمہوریت پر قائم ہے جس کو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ گویا آئینی طور پر اور معاہدے کے مطابق ریاست کا حصہ ہونے کے بعد وہ نظریاتی بنیادوں پر اس کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے۔ یہ تو بغاوت ہوتی ہے۔

مطیع سید: آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ جلد تم اہل روم کے ساتھ صلح کروگے اور ان کے ساتھ مل کر ایک دوسرے دشمن کے ساتھ جنگ کرو گے۔ (کتاب الجہاد، باب فی صلح العدو، حدیث نمبر ۲۷۶۷)ایسا کب ہوا؟یا ابھی یہ واقعہ ہوگا؟

عمار ناصر: بظاہر جس طرح سے یہ بات بیان ہوئی ہے، تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے آگے چل کر کبھی ایسا ہو۔ لیکن بظاہر روایت کے انداز سے لگتا ہے کہ آپﷺ فوراً‌ مابعد کے جو حالات ہیں، اس کے حوالے سے کہہ رہے ہیں۔ پیشین گوئیوں سے متعلق بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ میں بعض دفعہ بڑی نمایاں ہوکرواقعات کی صورت میں آجاتی ہیں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ کسی چھوٹی سطح پر ہواہواور تاریخ میں اتنا نمایاں نہ ہوا ہو۔

مطیع سید: یا ممکن ہے کہ رومیوں کے کسی گروہ سے صلح ہوئی ہو؟

عمار ناصر: ہاں جی، پیشین گوئیوں کا مصداق متعین کرنے میں بہت زیادہ احتمالات اور امکانات ہوتے ہیں۔

مطیع سید: ذی الخلصہ ایک بت خانہ تھا۔ آپ ﷺنے حضرت جریر سے فرمایا کہ کیا تم مجھے اس سے راحت کیوں نہیں دلا دیتے؟تو انھوں نے جا کر اس کو جلادیا۔ (کتاب الجہاد، باب فی بعثۃ البشراء، حدیث نمبر ۲۷۷۲)اس کو کیوں جلوایا گیا اوریہ کس دور کا واقعہ ہے؟

عمار ناصر: بت خانے منہدم کروانے کے جتنے واقعات ہیں، وہ عام طورپر فتح مکہ کے بعد کے ہیں۔ اسی موقع پر آپﷺ نے مہمیں بھیجیں۔ ذو الخلصہ کو گرانے کے لیے آپ نے جریربن عبد اللہ کو مبعوث کیا۔ سرزمین عرب کو شرک اور بت پرستی سے پاک کرنے کی جو ذمہ داری آپ کو دی گئی تھی، یہ اسی کا حصہ تھا۔

مطیع سید: اہل کتاب کا ذبیحہ جائز ہے (کتاب الضحایا، باب فی ذبائح اہل الکتاب، حدیث نمبر ۲۸۱۷) تو کیا وہ بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کریں گے تب جائز ہوگا یا اپنے طریقے سے بھی ذبح کر لیں تو وہ حلال ہے؟

عمار ناصر: نہیں، جس طریقے سے بھی انہوں نے اللہ کا نام لے لیا، اپنے مذہب کے مطابق جو بھی ان کے ہاں کلمات ہیں، وہ پڑھ لیے تو جانور حلال ہوگا۔

مطیع سید: جانور ذبح کیا اور اس کے پیٹ میں سے مردہ بچہ نکل آیا تو حدیث میں واضح طورپر آیا ہے کہ اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (کتاب الضحایا، باب ما جاء فی ذکاۃ الجنین، حدیث نمبر ۲۸۲۷) لیکن احناف کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ نکلا ہو تو اس کو ذبح کیا جائے گا، ورنہ وہ مردار سمجھا جائے گا۔

عمار ناصر: ظاہری قیاس کے لحاظ سے احناف کی بات میں وزن ہے۔ پیٹ میں جو بچہ ہے، وہ ایک الگ وجود ہے، اس لیے اس کو الگ سے ذبح ہونا چاہیے۔ اس کی ماں کا ذبح کیا جانا اس کے لیے کافی نہیں۔

مطیع سید: لیکن احناف کے پاس دلیل کیا ہے؟

عمار ناصر: یہی کہ اس کا الگ وجود ہے۔

مطیع سید: اسی لیے محدثین اور احناف کی آپس میں بڑی لگتی رہی ہے۔ لیکن مجھے ذاتی طورپہ یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ جب نبیﷺ کی بات سامنے آگئی تو پھر قیاس کو کیوں اہمیت دی جا رہی ہے؟

عمار ناصر: اصل میں ائمہ احنا ف بھی اگر حدیث یا روایت کی صحت پر مطمئن ہو جاتے ہیں تو وہ بھی ایسے سوال نہیں اٹھاتے۔ ان کے سامنے یا تو اس وقت تک بہت سی روایتیں پہنچی نہیں تھیں یا پہنچی تھیں تو اتنے مخدوش طریقے سے کہ اس پر انہیں اطمینا ن نہیں ہوا۔ یا وہ سمجھ رہے ہیں کہ قیاس چونکہ ایک بالکل مختلف بات بتا رہا ہے تو روایت کے ظاہری مفہوم میں تاویل کر لینی چاہیے۔ تو وہ اس حدیث کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماں کا ذبح کیا جانا بچے کے لیے بھی کافی ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے ماں کو ذبح کیا گیا، اسی طرح بچے کو بھی ذبح کیا جائے۔

مطیع سید: کیا اس بات کا بھی امکان ہے کہ احناف کے ہاں یہ رائے پہلے قیاس کی بنیاد پر قائم کر لی گئی ہو، اور بعد میں جب انہیں حدیث ملی تو انہوں نے حدیث کی تاویل کرلی؟

عمار ناصر: جی، یہ ممکن ہے۔ بہت سی مثالوں میں ایسے ہی ہواہے کہ روایت ائمہ کے سامنے نہیں آئی، انہوں نے ایک رائے قائم کرلی۔ بعد کے آنے والوں نے رائے نہیں بدلی اور حدیث میں تاویل کا طریقہ اختیار کر لیا۔ امام طحاوی نے تو کئی جگہ امام ابوحنیفہ کی آرا کی یہی توجیہ کی ہے کہ ان تک حدیث نہیں پہنچی تھی۔

مطیع سید: حدیث میں جب ہم الفاظ کی بحث کررہے ہوتے ہیں تو کئی دفعہ الفاظ پر بڑا انحصار کررہے ہوتےہیں۔ ہمیں کیسے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ یہ الفاظ بعینہ حضورﷺ کے ہی ہیں؟

عمار ناصر: زیادہ سے زیادہ آپ ظنِ غالب تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس روایت کے کئی طرق ہوں اور کچھ الفا ظ سب طرق میں مشترک آرہے ہیں تو اس سے آپ انداز ہ کر سکتے ہیں کہ یہ الفاظ آپﷺ کے ہیں۔ ورنہ عموماً‌ احادیث کی روایت بالمعنیٰ ہی ہوتی ہے۔

مطیع سید: مسلمان اور کافر آپس میں وارث نہیں ہو سکتے۔ (کتاب الفرائض، باب ہل یرث المسلم الکافر، حدیث نمبر ۲۹۱۰) لیکن حضرت معاذ کے پاس ایک معاملہ لایا گیا جس میں ایک یہودی کا وارث ایک مسلمان بن رہا تھا تو انھوں نے اس حدیث کا حوالہ دے کر اسے وارث بنادیا کہ الاسلام یزید ولا ینقص، اسلام بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں ہے۔ (کتاب الفرائض، باب ہل یرث المسلم الکافر، حدیث نمبر ۲۹۱۳)

عمار ناصر: انہوں نے حدیث کی مراد کے متعلق گویا یہ اجتہادی سوال اٹھایا کہ مسلمان اور کافر آپس میں وارث نہیں ہو سکتے، کیا اس کا تعلق اہل کتاب سے بھی ہے یا یہ مشرکین کے بارے میں ہے؟ یہ بات کہی تو آپﷺ نے مشرکین کے تناظر میں ہی تھی۔ جس موقع پر آپﷺ نے یہ بات کہی، وہاں مکے کے مشرکین سے مسلمانوں کو وراثت ملنے یا نہ ملنے کا معاملہ زیر بحث تھا۔ تو اس سے ایک گنجائش نکل آتی ہے کہ اہل کتاب کے احکام مختلف ہیں۔ تو اس سے بعض صحابہ اور تابعین نے یہ قیاس کیا کہ جیسے ہم ان کی عورتوں سے نکاح کر سکتےہیں، لیکن وہ ہماری خواتین سے نکاح نہیں کر سکتے، اسی طریقے سے ان کا مال تو مسلمانوں کو بطور وراثت مل جائے گا، لیکن مسلمان کی وراثت غیر مسلم کو نہیں ملے گی۔ حضرت معاذ کے یہاں الاسلام یزید ولا ینقص کی حدیث کا حوالہ دینے کا یہی مطلب ہے۔

مطیع سید: غزوہ ہند کی جو روایات ہیں، ان کو کیسے سمجھیں؟ کیا یہ روایات درست بھی ہیں یا نہیں؟

عمار ناصر: دو تین طرح کی روایتیں ہیں۔ محدثین ان پر بحث بھی کرتے ہیں۔ بعض کی سند پر جرح بھی ہے، لیکن کچھ صحیح بھی مانی گئی ہیں۔

مطیع سید: محمد بن قاسم جو ہندوستان میں وارد ہوا، یہ اس سے متعلق سمجھی جائیں یا مستقبل کے کسی واقعہ سے متعلق؟

عمار ناصر: فطری طور پر تو جو پہلا غزوہ تاریخ میں ہوا، اس پر اس کو منطبق کرنا چاہیے۔ شارحین کے ہاں یہ رجحان ہے کہ وہ کسی ایک خاص حملے کو متعین کرنے کے بجائے مختلف نمایاں واقعات کو اس کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ مثلاً‌ ابن کثیر نے محمد بن قاسم اور اس کے بعد محمود غزنوی وغیرہ کےحملوں کو بھی اس کا مصداق کہا ہے۔ لیکن شارحین اس کے متعلق واضح ہیں کہ اس کا مصداق تاریخ میں رونما ہو چکا ہے، یعنی یہ کوئی ایسی پیشین گوئی نہیں ہے جس کے ظہور کا ابھی انتظار ہے۔

مطیع سید: حضرت صفیہ بنت حیی کے متعلق ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا اور خیبر سے واپسی پر راستے میں ہی صحبت بھی فرمائی۔ (کتاب الخراج، باب ما جاء فی سہم الصفی، حدیث نمبر ۲۹۹۱) اس سے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے کوئی عدت نہیں گذاری۔ لیکن اگلی روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺنے انہیں ام سلیم کے گھر عدت کے لیے بھیج دیا۔ (کتاب الخراج، باب ما جاء فی سہم الصفی، حدیث نمبر ۲۹۹۷)

عمار ناصر: عدت گذارے بغیر تو ظاہر ہے، زن وشو کا تعلق ممکن نہیں۔ البتہ جو عورتیں جنگ میں قیدی بن کر آتی ہیں، ان کی عدت تین ماہواریوں والی عدت نہیں ہوتی۔ ان کے لیے ایک ماہواری کافی ہوتی ہے جس سے پتہ چل جائے کہ پیٹ میں کوئی چیز نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ام سلیم بھی خیبر میں ساتھ تھیں اور سیدہ صفیہ کو عدت مکمل ہونے تک ان کے پاس ہی رکھا گیا۔ پھر راستے میں جب ان کی عدت مکمل ہو گئی تو رخصتی بھی کر دی گئی۔

مطیع سید: بنو ثقیف کے لوگ فتح مکہ کے موقع پر زکوۃ اور جہاد سے استثنا کی شرط رکھتے ہیں اور آپﷺ قبول فرما لیتے ہیں۔ (کتاب الخراج، باب ما جاء فی خبر الطائف، حدیث نمبر ۳۰۲۵) تو حضرت ابو بکر صدیق نے اس پر قیاس کر تے ہوئے کیوں مانعین زکوۃ کو رخصت نہیں دی؟

عمار ناصر: دونوں جگہ اصول مختلف ہیں۔ بنو ثقیف زکوٰۃ اور جہاد سے استثنا چاہتے تھے اور آپ نےاس کو اس مصلحت کے تحت عارضی طور پر قبول فرمایا کہ یہ لوگ اسلام کی طرف آجائیں تو بعد میں خود بخود یہ پابندیاں بھی قبول کر لیں گے۔ جبکہ جو مانعین زکوٰۃ تھے، وہ پہلے اسلام قبول کر چکے تھے جس میں زکوٰۃ کی ادائیگی کی شرط شامل تھی اور اب انکار کر کے اس پابندی سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ یعنی وہ ریاست کی رِٹ کو چیلنج کر رہے تھے اور ان کی صورت حال مختلف تھی۔

مطیع سید: مجوس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی محرم خواتین کے ساتھ نکاح کر تے تھے اور حضرت عمر کے حکم پر ان کے ایسے نکاح ختم کر دیے گئے۔ (کتاب الخراج، باب فی اخذ الجزیۃ من المجوس، حدیث نمبر ۳۰۴۳) ان کے درمیان کیوں تفریق کی گئی حالانکہ اسلام دیگر مذاہب کو مذہبی آزادی دیتا ہے کہ ان کے مذہب کے مطابق جو درست ہو، اس پر عمل کریں؟

عمار ناصر: حضرت عمر کے بارے میں یہ روایت تو موجود ہے کہ انہوں نے ایسے نکاح ختم کروانے کا حکم دیا، لیکن یہ ایک شاذ روایت ہے۔ اس پر اسلامی تاریخ میں عمومًا‌ عمل نہیں ہوا۔ تابعین یہی بتا تے ہیں کہ ہمارے ہاں ایسے ہی چلا آرہا ہے کہ مجوس اپنی محارم سے نکاح کرتے ہیں اور ہمارے علما نے کبھی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ حضرت عمر نے ممکن ہے کسی موقع پر شان ِجلالی میں ایسی کوئی بات کہہ دی ہو۔ عام طورپر اس پر عمل نہیں ملتا۔ فقہا کے ہاں بھی ایسے ہی ہے کہ وہ اس سے نہیں روکتے بلکہ ایسے نکاحوں کو قانونی طور پر جائز نکاح مانتے ہیں۔

مطیع سید: ایک جگہ میں پڑھ رہا تھا کہ ہندوستا ن کی جو زمین ہے، یہ ِ زمینداری کے خاتمے کے بعد عشری نہیں رہی اور یہاں پر عشر واجب نہیں رہا، لیکن تبر ک کے طور پر زمین کی پیداوار میں سے کچھ صدقہ کر دیا جائے تو بہتر ہے۔ کیا ہندوستان اور پاکستان کی ساری زمینوں پر یہ حکم لگتا ہے؟

عمار ناصر: یہ بحث اٹھتی رہی ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور دوسرے لوگ اس کو اٹھاتے رہے ہیں کہ ہندوستان کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی۔ عشر تو اصل میں زکٰوۃ ہے جو مسلمانوں سے لی جاتی ہے۔ غیر مسلموں کی زمینیں فتح کی گئیں تو ان سے ظاہر ہے زکوۃ نہیں لی جا سکتی تھی، کیونکہ یہ مسلمانوں کی اپنی خاص عبادت ہے۔ اس کی جگہ ان سے خراج لیا گیا۔ یعنی خراجی زمینیں دراصل مفتوحہ زمینیں ہوتی تھیں جو غیر مسلموں کے تصرف میں ہوں۔ اب اس میں کئی فقہی بحثیں پیدا ہوگئیں کہ عشری زمین کون سی ہوتی ہے اور خراجی زمین کون سی ہوتی ہے۔ کیا خراجی زمین عشری میں بدل سکتی ہے یا نہیں۔ یہ ساری اس تناظرمیں پیداہونے والی بحثیں ہیں۔ ہندوستا ن میں مسلمان جب یہاں آئے تو کسی نے ہو بہو ان احکام کی پابندی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ خلفا اور بادشاہ اپنے طریقے پر محصولات عائد کرتے رہے۔ عشری اور خراجی کے علاوہ بھی زمینوں کی مختلف کیٹیگریز بن سکتی ہیں۔ اس سے آپ کوئی کلیہ اخذ کریں کہ اگر کوئی عشری زمین نہیں ہے تو لازماً‌ وہ خراجی ہوگی اور لازما ً‌ ریاست ہی کی ملکیت میں ہو گی، یہ ضروری نہیں۔ خراج وغیرہ سے متعلق اسلامی فتوحات کے دور میں جو قوانین بنائے گئے، وہ اجتہادی ہیں اور اس دور کے عرف سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ ان سے اگر آپ کلی قانون اخذ کریں اور دنیا کے سارے علاقوں پر ان کو لاگو کریں تو یہ عجیب سی بات ہوگی۔

مطیع سید: تو پھر کیا حل نکلا کہ ہم آج کی زمینوں کو عشری کہیں گے یا خراجی؟

عمار ناصر: خراج کی تو آج کل بحث ہی نہیں ہے، کیونکہ آج کی جو قومی ریاستیں ہیں، ان کی زمینیں مفتوحہ زمینیں نہیں ہیں۔ اب جن مسلمانوں کے پاس زمینیں ہیں، وہ ان کی ملکیت ہیں اور وہ فصل اگاتے ہیں تو ان سے عشر وصول کیا جائے گا، اس طرح ان کو آپ عشری کہہ سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی اراضی، چاہے وہ غیر مسلموں کی ملکیت ہوں یا سرکاری اراضی ہوں، ان کا سارا معاملہ اجتہادی ہے۔ ایسے لوگ جن کے پاس بہت سی زمینیں ہیں اور وہ انہیں کاشت نہیں کررہے، حکومت ان کے بارے میں فیصلہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو کسی دور میں زمینیں الاٹ کی گئی تھیں تو حکومت ان سے واپس بھی لے سکتی ہے جیساکہ حضرت عمر نے نبی ﷺ کی الاٹ کی ہوئی زمینیں واپس لے لیں کہ لوگ انھیں کاشت نہیں کر رہے تھے۔ یا حکومت ان کو پابند کر سکتی ہے کہ ان زمینوں کو کاشت کرو۔ یا یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ملکیت انھی کی رہے، مگر ان کا انتظام حکومت سنبھال لےکہ ٹھیک ہے کہ تمہاری ملکیت میں ہی رہے گی، لیکن ان پر کاشت کاری کا عمل ہم اپنی نگرانی میں کروائیں گے۔ اصل چیز ہے کہ عمومی مصلحت کیا کہتی ہے۔ حکومت اس کو سامنے رکھ کر ان زمینوں کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔

مطیع سید: آ ج کے دور میں حکومت اس میں کچھ دخل نہیں دے رہی۔

عمار ناصر: جی نہیں دے رہی، جبکہ اسے دخل دینا چاہیے۔

مطیع سید: تو کیا اگر یہ اجتہادی چیز ہے تو لوگوں کو اختیار ہے کہ وہ وہ عشر دے دیتے ہیں تو ٹھیک، نہیں دیتے تو بھی کوئی بات نہیں؟

عمار ناصر: نہیں، اگر مسلمان کے پاس زمین ہے اور فصل اس مقدار کو پہنچتی ہے جس پر عشر واجب ہوتا ہے تو پھر زکوٰۃ دینی پڑے گی۔

مطیع سید: امام ابو داؤد نے ایک باب باندھا ہے کہ امام مشرکین کے ہدایا قبو ل کر سکتا ہے۔ اس میں ایک روایت کے مطابق آپ نے فدک کے سردار کا بھیجا ہوا تحفہ قبول فرمایا، لیکن دوسری روایت میں ہے کہ عیاض بن حمار کہتے ہیں کہ میں ایک اوٹنی تحفتا ً‌لے کر آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اسلام قبول کر چکے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں تو فرمایا کہ مجھے مشرکین سے تحفہ لینے کی ممانعت ہے۔ (کتاب الخراج، باب فی الامام یقبل ہدایا المشرکین، حدیث نمبر ۳۰۵۵، ۳۰۵۷)

عمار ناصر: اس کا تعلق حکمت اور مصلحت سے ہے۔ کلی طور پر نہ مشرک کا ہدیہ قبول کرنے کی ممانعت ہے اور نہ قبول کرنا لازم ہے۔ یہ دیکھنا پڑے گا کہ کس طرح کے مشرکوں سے اور کس طر ح کی صورت حال میں ہدیہ قبول کیا جا سکتا ہے اور کب نہیں کیا جا سکتا۔ عیاض بن حمار کے واقعے میں شارحین لکھتے ہیں کہ غالباً‌ اس کا مقصد انھیں اسلام کی طرف راغب کرنا تھا۔ آپ نے محسوس کیا کہ ان کو محبت تو ہے، لیکن کسی تساہل کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کر رہے تو مناسب سمجھا کہ ان کو ذرا متنبہ کر دیں تاکہ وہ اسلام قبول کر لیں۔

(جاری)

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۹)

اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا ایک تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

(اہل تشیع کی اہم کتبِ رجال کا رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے فرد ا فردا تجزیہ جاری ہے، پچھلی قسط میں چند کتب کا ذکر آگیا تھا، اس قسط میں یہی سلسلہ آگے بڑھایاگیا ہے۔)

8۔ شعب المقال فی درجات الرجال

یہ کتاب معروف ایرانی عالم و محقق مہدی نراقی کے بیٹے نجم الدین ابو القاسم نراقی کی ہے، اس کتاب میں مصنف نے رجال کو تین درجات ا قسام میں تقسیم کر کے بیان کیا ہے:

پہلی قسم ان رواۃ کی ہے، جن کی ثقاہت پر کتب رجال کا مکمل اتفاق ہے، اس قسم میں مصنف نے 898 رواۃ کا ذکر کیا ہے۔

دوسری قسم ان رواۃ کی ہے، جن کی ثقاہت کے بارے میں کتب رجال میں متضاد اقوال منقول ہیں، اس قسم میں 193 رواۃ کا ذکر ہے۔

تیسری قسم ان رواۃ کی ہے، جن کی کتب رجال میں حدیث میں ثقاہت کی بجائے صرف مدح منقول ہے، جیسے انہیں شیخ، الامام یا الفقیہ کے لقب سے ذکر کیا گیا ہو، اس قسم میں 479 رواۃ کا ذکر ہے۔ یوں کل ملا کے تقریبا 1570 رواۃ کا ذکر ہے، جو ظاہر ہے کہ کل شیعہ رواۃ کے اعتبار سے نہایت قلیل تعداد ہے، یہ کتاب ساڑھے تین سو صفحات کی متوسط ضخامت والی ایک جلد میں چھپی ہے۔

9۔ اتقان المقال فی احوال الرجال

یہ کتاب چودہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و مجتہد محمد طہ نجف کی ہے، یہ کتاب بھی نراقی کی شعب المقال کی طرح یک متوسط جلد میں چھپی ہے، اس کتاب میں مصنف نے رواۃ کو ثقات، حسان اور ضعفاء تین اقسام میں بیان کیا ہے، رواۃ کی ترقیم نہیں کی گئی ہے، لیکن ایک جلد میں پندرہ سو دو ہزار سے زائد رواۃ نہیں سما سکتے، یوں یہ کتاب بھی استیعاب ِ رواۃ کے اعتبار سے پچھلی کتاب کی طرح بالکل غیر مفید کتاب ہے۔

10۔ تنقیح المقال فی علم الرجال

یہ کتاب معروف عراقی مجتہد و محقق شیخ عبد اللہ مامقانی (المتوفی 1933ھ)کی ہے، شیعہ علم رجال کی تاریخ میں اولین مفصل کتاب ہے، مقدمات و خاتمہ و فہارس سمیت یہ کتاب چالیس جلدوں میں چھپی ہے، اس کتاب میں مصنف نے اپنے زمانہ تک کا سارا کا سارا علم رجال سمونے کی کوشش کی ہے، کتاب پر ایک تحقیقی نظر ڈالنے والے محمد رضا مامقانی نے اپنی کتاب "مسرد تنقیح المقال" میں کتاب کے مصادر و ماخذ میں تیس کے قریب شیعہ کتب رجال کا ذکر کیا ہے ، ان کے علاوہ اہم سنی کتب رجال اور دیگر شیعہ کتب اخبار و روایات کو بھی کتاب کے مصادر میں شامل کیا ہے۔ یوں یہ کتاب شیعہ علم رجا ل کے تقریبا سب موجود مصادر کا مجموعہ ہے، اس کتاب میں مصنف راوی کا نام ذکر کرتے ہیں، اس کے بعد جن جن مصادر و ماخذ میں اس کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، مصنف اس کتاب کے رمز کے ساتھ اسے ذکر کرتے ہیں، مصنف نے کتاب کی فراغت کے بعد "نتائج التنقیح " کے نام سے اپنی کتاب میں مذکور رجال کی فہرست دی ہے اور اس کے ساتھ جن جن رجال پر ثقاہت یا ضعف کا حکم لگایا ہے، اس کا بھی ذکر کیا ہے، شیخ رضا مامقانی کے نزدیک نتائج التنقیح میں رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے تعداد یوں بنتی ہے:

ثقات: 1328

حسان: 1665

موثق: 46

یوں کل ملا کے 3039 رواۃ کی توثیق کی گئی ہے، جبکہ 10326 رواۃ ایسے ہیں، جن کے بارے میں ضعف، مجہول یا مہمل کا لفظ ذکر کیا گیا ہے، یوں نتائج التنقیح کے مطابق کل رواۃ 13365 بن جاتے ہیں۔ جن کے بارے میں مصنف نے کوئی نہ کوئی جرح یا تعدیل کا تبصرہ کیا ہے۔

یہ بلا شبہ ایک ضخیم تعداد ہے، یہ تعداد کل شیعہ رجال (30000) کا 45 فیصد بنتا ہے، جو پچھلی کتب کی بنسبت کافی زیادہ تعداد ہے، لیکن یہاں دو باتیں قابلِ ذکر ہیں:

1۔اس کتاب میں مصنف نے اپنے زمانے تک موجود سارا کا سارا شیعہ علم رجال سمویا ہے، تو نتیجہ میں ثقہ رواۃ صرف تین ہزار جبکہ ضعیف، مھمل و مجہول رواۃ دس ہزار بنے، ، یوں گویا شیعہ کے کل رجالی تراث میں تقریبا 25 فیصد رواۃ ثقہ جبکہ 75 فیصد رواۃ ضعیف و مجہول ہیں۔ لھذا یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ علامہ مامقانی تک رجال کا جتنا شیعہ رجال کا جتنا تراث تیار ہوا تھا، اس میں 75 فیصد رواۃ خود شیعہ محققین کے نزدیک ضعیف، مجہول اور مھمل ہیں، جبکہ محض 25 فیصد رواۃ ایسے ہیں، جن کے بارے میں توثیق و تعدیل کا کئی نہ کوئی قول مل جاتا ہے۔

2۔اس کتاب میں مصنف نے دس ہزار سے زائد ر واۃ کے بارے میں مجہول یا مھمل کی جو اصطلاح استعمال کی ہے، شیخ حیدر حب اللہ اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

احدی اہم الملاحظات علی الکتاب ھی ان المامقانی استعمل مصطلح المجہول اعم مماھو مصطلح علیہ عند الرجالیین لیعم المجہول وھو من صرح الرجالیون بجہالتہ و المھمل وھو من ہل یذکر ہ الرجالیون لا بمدح ولا قدح“1

اس کتاب کے بارے میں ایک اہم بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ علامہ مامقانی نے مجہول کی اصطلاح علمائے رجال کی اصطلاح مجہول سے عام معنی میں استعمال ہے، علامہ مامقانی کے اصطلاح مجہول میں اصطلاحی مجہول بھی شامل ہے یعنی وہ راوی جس کی جہالت کی صراحت علمائے رجال نے کی ہو اور مھمل بھی شامل ہے، یعنی وہ راوی جس کا ذکر کتب رجال میں سرے سے ہی نہ ہو، نہ مدحا ً‌ اور نہ قدحاً‌۔

یوں گویا دس ہزار سے زائد جو رواۃ علامہ مامقانی نے مجہول و ضعیف قرار دئیے، ان میں ایسے رواۃ بھی شامل ہیں جن کا ذکر ہی علمائے رجال کے ہاں مفقود ہے۔ مجہول کی یہ اصطلاح علامہ خوئی کی معجم رجا ل الحدیث میں بھی بکثرت ملتی ہے، جس پر تبصرہ آگے آئے گا، دراصل اہل تشیع کے علم رجال کا اولین جو سرمایہ تیار ہوا، وہ کل ملا کے سات آٹھ ہزار رواۃ سے زیادہ نہیں ہے، بشرطیکہ اس میں مکررات نہ مانیں، جیسا کہ اس سلسلے کی اولین اقساط میں یہ بات تفصیل کے ساتھ آچکی ہے، جہاں فریقین کے اولین سرمایہ رجال کا ایک تقابل پیش کیا گیا، بعد کی صدیوں کی کتب چونکہ انہی اولین سرمایے کی جمع و ترتیب پر مشتمل ہے، اس لئے ایسے رواۃ، جن پر مدحا یا قدحا بحث کی گئی ہیں، بہت کم ہیں، اس لئے زمانہ حال کے جن مصنفین (جیسے علامہ مامقانی و علامہ خوئی غیرہ) نے اس اولین سرمایے سے ہٹ کر احادیث کی اسناد میں موجود رواۃ کو بھی جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا، تو انہیں یہ مشکل پیش آئی کہ بہت سے رواۃ پر تو علمائے رجال نے کسی قسم کا کلا م ہی نہیں کیا، تو انہیں مجہول و مہمل کی درجہ بندی میں شامل کرنا پڑا۔

یوں اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو علامہ مامقانی نے جن ہزارہا رواۃکو مجہول کی درجہ بندی میں شامل کیا، وہ اصلا جرح و قدح کی کوئی قسم نہیں ہے، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ ان رواۃ کے بارے میں علمائے رجال کا اثباتاً‌ یا نفیاً‌ کسی قسم کا کوئی تبصرہ ہی موجود نہیں ہے۔ اس لئے علامہ مامقانی کی تنقیح المقال چالیس ضخیم جلدوں پر مشتمل ہونے کے باوجود رجال کی تعدیل و تجریح کے اعتبار سے پچھلی کتب سے کسی طور بھی مختلف نہیں ہے، قابل تبصرہ رواۃ اس میں بھی زیادہ سے زیادہ وہی چار سے پانچ ہزار کے آس پاس ہیں، جن کا ذکر متقدمین کی کتب میں بھی موجود ہے، باقی آٹھ سے نو ہزار کے قریب رواۃ کا ذکر و عدم ذکر برابر ہے، کیونکہ وہ مھمل و مجہول ہیں، یعنی کتب رجال ان کی مدح و قدح سے خاموش ہیں۔ مجہول و مھمل کی یہ بحث نہایت دلچسپ ہے، اگر اس کا تقابل اہل سنت کی الجہالۃ فی الراوی والی اصطلاح کے ساتھ کیا جائے، آنے والی اقساط میں ان شا اللہ اس بحث کو الگ عنوان کے ساتھ بیان کیا جائے گا، جس سے آخری زمانے میں لکھی گئی اہل تشیع کی ضخیم کتب رجال کی ضخامت کے باوجود رواۃ کی تقویم میں غیر مفید ہونا مزید واضح ہوسکے گا۔

11۔ قاموس الرجال

یہ کتاب معروف شیعہ محقق و مجتہد محمد تقی تستری کی ہے، بارہ جلدوں پر مشتمل ہے، یہ کتاب دراصل علامہ مامقانی کی کتاب تنقیح المقال پر ایک تنقیدی و توضیحی حاشیہ ہے، اور تنقیح المقال کی تہذیب اور اس کا اختصار ہے، مصنف نے مقدمہ میں تنقیح المقال کے ان نقائص کو تفصیل سے بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے قاموس الرجال کی صورت میں اس کی تہذیب کی ضرورت پیش آئی، چونکہ یہ مستقل کتاب نہیں، بلکہ تنقیح المقال کا ہی ایک مہذب ایڈیشن ہے، اس لئے اس پر مستقل تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

12۔ معجم رجال الحدیث

شیعہ رجالی تراث کی جو پہلی اینٹ شیخ کشی و نجاشی و امام طوسی نے رکھی تھی، اس کی آخری اینٹ معروف معاصر عراقی شیعہ محقق و مجتہد ابو القاسم خوئی نے معجم رجال الحدیث کی صورت میں رکھی، شیعہ علم رجال کی ہزار سالہ تاریخ میں معجم رجال الحدیث سے زیادہ معیاری اور تمام رجالی تراث کو دقت سے کھنگالنے کا کام نہیں ہوا، شیخ خوئی شیعہ حلقوں میں محتاج تعارف نہیں، شیعہ مکتب میں مرجعیت کے مقام پر فائز تھے، تفسیر و حدیث میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے، تفسیر میں البیان فی تفسیر القرآن لکھی، تو حدیث میں معجم رجال الحدیث لکھی، جو چوبیس جلدوں پر مشتمل ہے، معجم رجال الحدیث کا ایک مختصر لیکن شیعہ علم رجال کے حوالے سے نہایت وقیع مقدمہ لکھا، جس میں کتب اربعہ کی صحت و قطعیت کے حوالے سے اخباری مکتب کا علمی و تحقیقی رد، علمائے رجال کی توثیقات کی حیثیت اور کتب رجال کے تسامحات وغیرہ جیسے اہم مباحث بیان کئے، کتاب کا منہج و اسلوب شیخ خوئی نے "مزایا الکتاب " کے عنوان سے بارہ نکات میں بیان کیا ہے، 2 ان بارہ نکات میں دو باتیں بڑی اہم ہیں، شیخ خوئی کے الفاظ میں اسے نقل کرتے ہیں:

"ثم انا ذکرنا فی الکتاب کل من لہ روایۃ فی الکتب الاربعۃ سواء اکان مذکور فی کتب الرجال ام لم یکن، وذکرنا موارد الاختلاف بین الکتب الاربعۃ فی السند، و کثیرا ما نبین مو ھو الصحیح منھا وما فیہ تحریف او سقط"

یعنی ہم نے کتاب ہر اس راوی کا ذکر کیا ہے، جس کی کتب اربعہ میں کوئی روایت ہے، خواہ وہ کتب رجال میں مذکور ہو یا نہ ہو، اور اہم نے کتب اربعہ کے اسناد میں اختلافی مقامات کی نشاندہی بھی کی ہے، اور زیادہ تر ان اختلافات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان میں سے کونسا طریق صحیح ہے، اور کس میں تحریف ہوئی ہے یا کوئی راوی سقط ہوا ہے۔

یوں یہ شیعہ علم رجال کی تاریخ میں یہ پہلی کتاب ہے، جس میں کتب اربعہ کے تمام رواۃ کا اہتمام کے ساتھ استقصاء کیا گیا ہے، اس سلسلہ مضامین میں اب تک جتنی شیعی کتب رجال کا ذکر آچکا ہے، ان میں زیادہ تر کتب سابقہ تراثِ رجال کی جمع و ترتیب اور ان کی شرح و توضیح پر مشتمل ہیں، کتب اربعہ کی مجموعی یا ان میں سے کسی ایک دو کے رواۃ کے احوال پر مشتمل کتب نہ ہونے کے برابر ہیں، شیخ خوئی پہلی شخصیت ہیں، جنہوں نے کتب اربعہ کے تمام تر رواۃ کو معجم میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے، چنانچہ شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

التزم السید الخوئی فی الموسوعہ ان یذکر کل الرواۃ الواردۃ اسمائھم فی الکتب الاربعۃ او فی المصادر الرجالیہ القدیمۃ، فاذا بحثنا عن اسم ما ولم نجدہ مذکورا فی کتاب السید الخوئی، فھذا معناہ ان ھذا الاسم لم یرد فی ای من الکتب الاربعۃ و لم یتعرض لہ الرجالیون القدمی"3

یعنی سید خوئی نے اس موسوعہ میں ان تمام رواۃ کو ذکر کرنے کا التزام کیا ہے، جن کے نام کتب اربعہ یا قدیم رجالی مصادر میں آئے ہیں، لھذا جب ہم کسی راوی کا نام تلاش کرنا چاہیں اور اسے سید خوئی کی کتاب میں نہ پائیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نام کتب اربعہ میں بھی نہیں آیا ہے اور نہ ہی اولین علمائے رجال اس کا ذکر کرچکے ہیں۔

اب اگر اس جہت سے اہل سنت کے ساتھ تقابل کیا جائے کہ اہل سنت کے صحاح ستہ کے تمام رواۃ پر مشتمل پہلی کتاب کب لکھی گئی تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اہل سنت کے صحاح ستہ کے تما م رواۃ کے احوال پر لکھی گئی پہلی اہم اور اساسی کتاب امام عبد الغنی مقدسی ( المتوفی 600ھ) کی کتاب الکمال فی اسماء الرجال ہے، جس سے آگے تہذیب الکمال، تہذیب التہذیب، تقریب التہذیب اور الکاشف فی من لہ روایۃ فی الکتب الستۃ جیسی کتب تیار ہوئیں، شیخ عبد الغنی مقدسی اور صحاح ستہ میں تین صدیوں کا فاصلہ ہے، جبکہ ابو القاسم خوئی اور کتب اربعہ میں پورے ہزار سال کا فاصلہ ہے، اس کے علاوہ صحاح ستہ کے رجال پر(انفرادا و اجتماعا ) مجموعی طور پر سو کے قریب کتب لکھی گئیں ہیں، جن میں سے چالیس کے قریب مطبوعہ کتب ہیں (ملاحظہ ہو رواۃ الحدیث، النشاۃ، المصطلحات،المصنفات ص678 تا 696) جبکہ کتب اربعہ کے تمام رجال پر معجم رجال الحدیث کے علاوہ کوئی قابل ذکر کتاب نہیں، البتہ کتب اربعہ کے رجال پر انفرادی کتب شاید لکھی گئی ہوں، لیکن ان کی تعداد کتنی ہیں اور کتنی مطبوعہ ہیں؟ شیعہ علم رجال کی تاریخ پر لکھی کتب بالخصوص شیخ حیدر حب اللہ کی کتاب دروس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ میں اس حوالے سے قابل ِ ذکر مواد موجود نہیں ہے، حالانکہ شیخ حیدر حب اللہ نے نہایت استقصاء کے ساتھ علم رجال کی تاریخ لکھی ہے، اس سے شیعہ کے کتب اربعہ اور اہل سنت کے صحاح ستہ کے رجال پر مواد کا آسانی سے تقابل ہوجاتا ہے۔

"السابعۃ التدقیق فی احوال الرواۃ والبحث عن وثاقتھم او حسنھم علی وجہ علمی"4

یعنی اس کتاب کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رواۃ کے احوال ثقاہت یا حسن ہونے کے اعتبار سے بڑی باریک بینی سے بیان کئے گئے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ خوئی نے رواۃ کی جرح و تعدیل پر خصوصی توجہ دی ہے، اب سوال یہ ہے کہ معجم رجال الحدیث میں رواۃ کی تقویم کس طرح کی گئی ہے، تو اس پہلو سے کتاب کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کتاب میں بھی علامہ مقانی کی تنقیح المقال کی طرح مجہول و مہمل رواۃ نہایت بکثرت ملتے ہیں، اس بات کا اثبا ت معجم رجال الحدیث کی تلخیصات کا جائزہ لینے سے ہوتا ہے، چنانچہ ذیل میں دو تلخیصات کا ذکر کیا جاتا ہے:

1۔سید جواد حسینی نے معجم رجال الحدیث سے کتب اربعہ کے تمام رواۃ الگ کئے ہیں اور ان رواۃ پر سید خوئی نے جو حکم لگایا ہے، اس کا بھی ذکر کیا ہے، یہ کتاب "المعین علی معجم رجال الحدیث " کے نام سے چھپی ہے، اس کتاب میں کتب اربعہ کے رواۃ کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں:

"تم بالمعین و لاول مرۃ معرفۃ عدد رواۃ الکتب الاربعۃ فبلغ ثلاثۃ آلاف وسبعمائۃ راوہ تقریبا"5

یعنی اس کتاب معین کی مدد سے کتب اربعہ کے رواۃ نکی تعداد معلوم ہوئی، جو 3700 کے قریب رواۃ بنتے ہیں۔

مصنف نے المعین میں ان تمام رواۃ کے تراجم معجم رجال الحدیث سے نقل کئے اور آخر میں ان رواۃ کی ایک فہرست بھی دی ہے اور اس کے سامنے سید خوئی کا لگایا گیا حکم بھی لکھ دیا ہے کہ سید خوئی نے اس راوی، ثقہ، مجہول، ضعیف، کذاب کیا کیا لکھا ہے، مقالہ نگا ر نے اس پوری فہرست میں سے مجہول و مہمل رواۃ الگ کئے تو کل 2800 کے قریب رواۃ ایسے نکلے، جن کے بارے میں سید خوئی نے مجہول یا مہمل کا لفظ لگایا ہے، گویا 3700 رواۃ کا 75 فیصد حصہ (2800 ) رواۃ مجاہیل بنتے ہیں، جب کتب اربعہ کے رواۃ میں سے مجاہیل دو تہائی سے زیادہ ہیں، تو باقی رواۃ میں کتنے مجاہیل ہوں گے، مخفی نہیں۔

2۔ محقق محمد الجواہری نے نے معجم رجال الحدیث کی ایک بہترین تلخیص 'المفید من معجم رجال الحدیث " کے نام سے ایک ضخیم جلد میں تیار کی ہے، اس کتاب میں مصنف نے معجم رجال الحدیث کے تمام رواۃ کو فہرست کے انداز میں ذکر کرتے ہوئے ہر راوی کے بارے میں شیخ خوئی کا تبصرہ بھی ساتھ نقل کیا ہے، معروف ویب سائٹ موقع فیصل نور کے ایک تحقیقی آرٹیکل میں المفید من معجم رجال الحدیث میں مجاہیل، ثقہ، ضعیف رواۃ کی تعداد نقل کی گئی ہے، تو اس آرٹیکل کے مطابق معجم رجال الحدیث میں رجال کی تقویم کے اعتبار سے تعداد یوں بنتی ہے:

یاد رہے معجم رجال الحدیث میں کل رواۃ ساڑے پندرہ ہزار کے لگ بھگ ہے، جس میں آٹھ ہزار کے قریب رواۃ یعنی آدھے کے قریب رواۃ مجاہیل ہیں، یوں معجم رجال الحدیث اپنی ضخامت اور بعض رجالی مباحث کی وقعت کے باوجود رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے متقدمین کے رجالی تراث سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔


حواشی

  1. دروس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ، ص 388
  2. معجم رجال الحدیث، شیخ خوئی، ج1،ص 15
  3. دروس فی تاریخ علم الرجال، حیدر حب اللہ، ص 404
  4. معجم رجال الحدیث، خوئی، ج1،ص 13
  5. المعین علی معجم رجال الحدیث ص 5
  6. https://www.fnoor.com/main/articles.aspx?article_no=15744#.YiYrb-hBw2w

(جاری)

کم عمری کا نکاح: اسلام آباد ہائیکورٹ کا متنازعہ فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مغرب نے جب سے معاشرتی معاملات سے مذہب اور آسمانی تعلیمات کو بے دخل اور لاتعلق کیا ہے، خاندانی نظام مسلسل بحران کا شکار ہے۔ اور خود مغرب کے میخائل گورباچوف، جان میجر اور ہیلری کلنٹن جیسے سرکردہ دانشور اور سیاستدان شکوہ کناں ہیں کہ خاندانی نظام بکھر رہا ہے اور خاندانی رشتوں اور روایات کا معاملہ قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب معاشرتی قوانین کو آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزاد کر کے خود سوسائٹی کی سوچ اور خواہش کو ان کی بنیاد بنایا جائے گا تو وہ ہر دم بدلتی ہوئی سوچ اور خواہشات کے سمندر میں ہی ہچکولے کھاتے رہیں گے اور انہیں کہیں قرار اور استحکام نہیں ہو پائے گا۔ جبکہ مغربی دانشور اس صورتحال کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی ؎

خود تو ڈوبے ہیں صنم
تم کو بھی لے ڈوبیں گے

کے مصداق باقی دنیا بالخصوص عالمِ اسلام کو بھی اسی دلدل میں اپنے ساتھ شریک ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اور اس مغربی تہذیب و فلسفہ کو دنیا بھر سے منوانے کے لیے مغربی قوتیں تحریص، ترغیب اور تخویف کے تمام حربے استعمال کرتے جا رہے ہیں جس سے عالمی سطح پر تہذیبی خلفشار اور فکری دھماچوکڑی کا عجیب سا منظر دکھائی دے رہا ہے۔

دوسری طرف عالمِ اسلام کی صورتحال یہ ہے کہ ملتِ اسلامیہ کے کم و بیش سبھی طبقات اپنے معاشرتی اور خاندانی قوانین میں آسمانی تعلیمات یعنی قرآن و سنت کے پابند رہنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے مسلم امہ کا خاندانی نظام آج بھی بحمد اللہ تعالیٰ مضبوط نظر آ رہا ہے۔ البتہ مغرب کے فکر و فلسفہ سے متاثر دانشور اور حکمران اس کوشش میں ہیں کہ اسلامی احکام و قوانین اور مسلمانوں کی خاندانی و معاشرتی روایات و اقدار کو کسی نہ کسی طرح کھینچ تان کر مغربی فکر و فلسفہ کے سانچے میں فٹ کر دیا جائے، جس کے لیے خاندانی قوانین میں مسلسل ترامیم اور عدالتی فیصلوں کا ایک طویل سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اس تناظر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ دینی حلقوں میں ان دنوں زیربحث ہے جس کا ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے بھی نوٹس لیا ہے اور اس کی رپورٹ مجلس کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کے قلم سے قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے:


’’ملی مجلسِ شرعی نے، جو مختلف مکاتب فکر کا مشترکہ علمی پلیٹ فارم ہے، عائلی قانون میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کو خلافِ اسلام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج، جسٹس بابر ستار نے ایک فیصلے میں قرار دیا کہ زیربحث مقدمہ میں لڑکی کا نکاح ۱۸ سال سے کم عمر میں ہوا ہے لہٰذا نکاح قابلِ فسخ ہے اور زنا بالرضا کے مصداق ہے۔ ان کے اس خلافِ شریعت فیصلے نے دینی حلقوں میں اضطراب پیدا کیا، چنانچہ ملی مجلسِ شرعی کے صدر مولانا زاہد الراشدی نے تین رکنی علماء کمیٹی بنانے کی ہدایت کی جو اس موضوع پر غور کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے سیدہ عظمٰی گیلانی ایڈووکیٹ (لاہور ہائیکورٹ) سے بھی مذکورہ کمیٹی سے تعاون کی درخواست کی۔

مذکورہ کمیٹی، مشتمل بر مولانا مفتی شاہد عبید (جامعہ اشرفیہ)، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (جامعہ رحمانیہ)، مولانا محمد عمران رضا طحاوی اور سیدہ عظمٰی گیلانی ایڈوکیٹ کا اجلاس ۱۴ مارچ ۲۰۲۲ء کو راقم کے دفتر میں ہوا۔ تفصیلی بحث و مناقشہ کے بعد درج ذیل موقف پر (تلخیصاً) اتفاق ہوا:

(۱) جسٹس بابر ستار صاحب کا فیصلہ خلافِ شریعت ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل لاء کے حوالے تو دیئے ہیں لیکن قرآن و سنت، فقہاء اور یہاں تک کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں سے بھی استفادہ نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ لڑکی کی عمر ۱۴ سال دو ماہ ہے، وہ بہت صحت مند نہیں، ایک شادی شدہ بال بچے دار مرد نے جھوٹ بول کر اسے بہلایا پھسلایا اور اس نے ماں باپ کی مرضی کے بغیر اس سے نکاح کر لیا۔ ماں کی شکایت پر جسٹس صاحب نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔

(۲) شرعِ اسلامی کی رو سے جسٹس صاحب کے پاس کئی حل تھے۔ مثلاً وہ رخصتی کو مؤخر کر سکتے تھے، مرد کو طلاق کا حکم دے سکتے تھے اور تحکیم کے لیے کمیٹی قائم کر سکتے تھے۔

(۳) اس طرح کا فیصلہ ہر کیس کی بنیاد پر الگ ہونا چاہیے۔ ایک عمومی فیصلہ کر دینا کہ ۱۸ سال سے کم عمر کی بچی کا نکاح جائز نہیں ہوتا، غلط اور خلافِ شریعت فیصلہ ہے۔

(۴) اس طرح کے معاملے میں کورٹ میرج کا استعمال اور ولی کی غیر موجودگی بہت سے مفاسد کو جنم دیتی ہے جن سے بچنا ضروری ہے۔

(۵) ملک بھر خصوصاً اسلام آباد کے دینی حلقوں کو چاہیے کہ سنگل بنچ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف ڈویژن بنچ میں ریویو پٹیشن (نظرثانی کی درخواست) دائر کریں اور ایسے وکیل عدالت میں پیش ہوں جو صحیح اسلامی نقطۂ نظر کو موثر طریقے سے عدالت میں پیش کر سکیں۔

ملی مجلس شرعی کے جن زعماء نے اس نقطۂ نظر کی حمایت کی ان میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا ملک عبد الرؤف، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا عبد المالک، مولانا مفتی شاہد عبید، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری زوار بہادر، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، قاری جمیل الرحمن اختر، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی، حافظ محمد عمران طحاوی، حاجی عبد اللطیف چیمہ، حافظ محمد نعمان حامد، مولانا محمد اسلم نقشبندی، مولانا فاروق قادری، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، حافظ ڈاکٹر محمد سلیم اور دیگر علماء شامل ہیں۔‘‘

قادیانیوں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں میں فرق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عزیزم ڈاکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے قادیانیوں سے متعلق اپنے موقف میں دو باتیں عام ماحول سے مختلف کہی ہیں۔

ایک یہ کہ قادیانیوں کے خلاف بات کرتے ہوئے اس حد تک سخت اور تلخ لہجہ نہ اختیار کیا جائے جسے بد اخلاقی وبدزبانی سے تعبیر کیا جا سکے۔ یہ بات میں بھی عرصہ سے قدرے دھیمے لہجے میں مسلسل کہتا آ رہا ہوں، بلکہ حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ اور فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی ڈانٹ بھی پڑ چکی ہے۔ ان دونوں بزرگوں کی تلقین ہوتی تھی کہ مناسب اور مہذب انداز میں تنقید کی جائے اور بداخلاقی سے گریز کیا جائے۔

دوسری بات یہ کہ قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد وہ ملک کی دوسری غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ برابر  حقوق اور  رویہ کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اس میں مجھے تردد ہے۔ وہ یہ کہ اگر وہ امت مسلمہ اور دستور کا فیصلہ تسلیم کر کے  اس کے مطابق چلیں تو انھیں دوسری غیر مسلم آبادیوں کی طرح برابر کے حقوق اور رویہ کا پورا حق حاصل ہے، لیکن وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہے بلکہ دنیا بھر میں اس قومی اور دینی فیصلے کے خلاف مورچہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس ماحول میں ان کا برابر کے حقوق اور رویہ کا تقاضا محل نظر ہے، کیونکہ اس طرح ان کی حیثیت دوسری غیر مسلم اقلیتوں سے مختلف ہو جاتی ہے جو الگ موقف کی متقاضی ہے، جبکہ ان کے معاشرتی بائیکاٹ کی بات بھی میرے نزدیک اسی دائرے سے تعلق رکھتی ہے اور میں اس کے حق میں ہوں۔

قادیانیوں کے بطورِ اقلیت حقوق اور توہینِ قرآن و توہینِ رسالت کے الزامات

سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

دستوری اور قانونی پس منظر

1974ء میں ایک دستوری ترمیم کے  ذریعے دستورِ پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کی گئی جس کی رو سے قادیانیوں اور لاہوریوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا۔ تاہم ان کی جانب سے اس کے بعد بھی خود کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے بعض اوقات امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہوتے گئے۔ اس پس منظر میں 1984ء میں ایک خصوصی امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کے ذریعے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں دفعات 298-بی اور 298-سی کا اضافہ کیا گیا اور ان کے ایسے تمام افعال پر پابندی لگا کر ان کو قابلِ سزا جرم بنا دیا گیا۔ اس قانون کو اکثر اس بنیاد پر اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس نے قادیانیوں اور لاہوریوں کی مذہبی آزادی ختم کردی ہے۔

اس موضوع پر اعلی عدلیہ کی جانب سے کئی فیصلے آئے ہیں لیکن دو کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ایک 1985ء میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے (مجیب الرحمان بنام وفاقی حکومت، پی ایل ڈی 1985 وفاقی شرعی عدالت 8)؛ اور دوسرا 1993ء میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کا فیصلہ ہے (ظہیر الدین بنام ریاست، 1993 ایس سی ایم آر 1718)۔ پہلے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ یہ قانون اسلامی احکام سے متصادم نہیں ہے اور دوسرے میں یہ قرار دیا گیا کہ یہ قانون دستور میں مذکور بنیادی حقوق سے بھی متصادم نہیں ہے۔ ان فیصلوں کی بنیاد دو بنیادی امور ہیں: ایک یہ کہ کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ دوسروں کو دھوکا دے اور اسی لیے کسی غیر مسلم کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ خود کو مسلمان کے طور پر دوسروں کو پیش کرے؛ اور دوسرا یہ کہ قادیانیوں اور لاہوریوں کے ایسے افعال سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جس کی روک تھام کےلیے حکومت قانون کے ذریعے حقوق پر مناسب قیود عائد کرسکتی ہے۔

پہلے فیصلے کی اہمیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کرلے، تو اس کی پابندی سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوتی ہے، یعنی جب وفاقی شرعی عدالت نے کسی امر کے متعلق یہ قرار دیا کہ وہ اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں ہے، تو سپریم کورٹ اس کے برعکس فیصلہ نہیں دے سکتی۔ یہ وفاقی شرعی عدالت کا ایک بہت اہم اختیار ہے جس کا ہمارے ہاں بہت کم لوگوں کو ادراک ہے۔ دوسرا فیصلہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے دیا ہے جس میں پانچ ججز شامل تھے اور اس بنچ نے یہ فیصلہ ایک کے مقابلے میں چار کی اکثریت سے دیا ہے۔ چنانچہ اس فیصلے کو تبدیل کرنے کا اختیار صرف اس بنچ کو حاصل ہے جس میں پانچ یا اس سے زائد ججز ہوں اور ان میں کم از کم پانچ ججز اس کے خلاف فیصلہ دیں، اور یہ امر بظاہر – کم از کم تا حال – ناممکن نظر آتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے دستور اور قانون کی رو سے یہ امر طے شدہ ہے کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 298-بی اور 298-سی نہ تو اسلامی احکام سے اور نہ ہی دستور میں مذکور بنیادی حقوق سے متصادم ہیں ۔

یہاں تک تو بات طے شدہ ہے لیکن ہمارے ہاں کئی دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ قادیانیوں کی مخصوص عبادت گاہوں میں قرآن مجید کے نسخے کی موجودگی یا کلمۂ طیبہ لکھے جانے کو، یا اس طرح کے بعض دیگر افعال کو، بھی نہ صرف دفعات 298-بی اور 298-سی کی خلاف ورزی سمجھا گیا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انھیں توہینِ قرآن (دفعہ 295-بی) اور توہینِ رسالت (دفعہ 295-سی) بھی قرار دیا گیا۔ یہ مسئلہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے سامنے ایک مقدمے میں سامنے آیا جس پر سپریم کورٹ نے 24 مارچ کو فیصلہ سنایا ہے:

Crl.P.916.L/2021، طاہر نقاش بنام ریاست۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے:

https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/crl.p._916_l_2021.pdf

کئی پہلوؤں سے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے اور اس وجہ سے اس بحث بہت ضروری ہے۔ اس لیے یہاں اس فیصلے کے اہم نکات پر مختصر تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔

مقدمے کے حقائق  اور فریقین کے دلائل

اس مقدمے کے حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ درخواست گزاروں (اور ایک اور شخص) کے خلاف 3 مئی 2020ء کو اس الزام پر ایف آئی آر کٹوائی گئیں کہ انھوں نے قادیانی ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے طرز پر بنایا ہے اور اس کے اندر دیواروں پر شعائرِ اسلام (کلمۂ طیبہ، بسم اللہ الرحمان الرحیم، یا حیّ یا قیّوم) لکھے ہوئے ہیں اور قرآن مجید کے نسخے بھی رکھے ہوئے ہیں۔ نیز بجلی کے بل میں بھی اس عبادت گاہ کو مسجد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں دفعات 298-بی اور 298-سی ہی درج کی گئیں جو قادیانیوں سے متعلق ہیں۔ان دفعات کے تحت ان الزامات پر ان کے خلاف ٹرائل کورٹ میں مقدمہ شروع ہوا۔ تاہم اس کے بعد شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت کی دفعات بھی شامل کرنے کےلیے درخواست دی جو ٹرائل کورٹ نے منظور کرلی۔ ملزمان نے اس کے خلاف پہلے ایڈیشنل سیشنز جج کی عدالت میں اور پھر ہائی کورٹ میں درخواستیں دیں لیکن دونوں عدالتوں سے وہ درخواستیں خارج ہوگئیں، اور نتیجتاً ان کے خلاف توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت کی دفعات بھی ایف آئی آر میں شامل رہیں۔ اس وجہ سے ملزمان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ انھیں اس کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دی جائے۔ (ایک ہی فیصلے کے خلاف دو درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل نہیں ہوسکتی تھی، لیکن سپریم کورٹ کو درخواست کی جاسکتی تھی کہ چونکہ دستور میں مذکور بنیادی حقوق کی پامالی کا مسئلہ ہے تو سپریم کورٹ اپیل دائر کرنے کی اجازت دے۔ پھر سپریم کورٹ مناسب سمجھے تو اجازت دے سکتی ہے یا ہائی کورٹ کے فیصلے میں غلطی نہ ہو تو وہ معاملہ نمٹا دیتی ہے۔)

جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی اور فیصلہ جسٹس شاہ نے لکھا جس سے جسٹس خان نے اتفاق کیا۔

درخواست گزاروں کا (جو اصل مقدمے میں ملزمان تھے) موقف یہ تھا کہ ان کے خلاف جو الزامات ہیں ان کی بنا پر دفعات 298-بی اور 298-سی (امتناعِ قادیانیت) کا مقدمہ بنتا ہے، نہ کہ دفعات 295-بی (توہینِ قرآن) یا 295-سی (توہینِ رسالت) کا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی نجی عبادت گاہ میں شعائرِ اسلام کی موجودگی یا قرآن کے نسخے کی موجودگی سے توہینِ قرآن یا توہینِ رسالت کا مسئلہ نہیں بنتا کیونکہ وہ قرآن کو کلام الٰہی اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں اور اس وجہ سے وہ توہینِ قرآن یا توہینِ رسالت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

دوسری جانب سرکاری استغاثہ کی جانب سے بھی اور ان ملزمان کے خلاف شکایت کنندہ نے بھی بنیادی طور پر یہ دلیل دی کہ ان کی مذکورہ عبادت گاہ نجی مکان نہیں بلکہ عوامی مقام ہے اور یہ کہ قادیانیوں کی جانب سے کلمۂ طیبہ پڑھنے یا قرآن پڑھنے سے ہی توہینِ رسالت اور توہینِ قرآن ثابت ہوتی ہیں۔

عدالت کے سامنے اس مقدمے میں تنقیح طلب امر یہی تھا کہ کیا ان افعال سے توہینِ رسالت یا توہینِ قرآن کے جرائم ثابت ہوتے ہیں؟

قادیانیوں کے بطورِ اقلیت حقوق

جسٹس منصور علی شاہ نے پہلے ان دو اہم نظائر پر بات کی ہے جو اس موضوع پر سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور جن کی پابندی خود اس دو رکنی بنچ پر لازم تھی: ایک مجیب الرحمان کیس میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ، اور دوسرا ظہیر الدین کیس میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کا فیصلہ۔ جسٹس شاہ نے واضح کیا ہے کہ ظہیر الدین کیس میں اگرچہ دفعات 298-بی اور 298-سی کے متعلق قرار دیا گیا تھا کہ یہ دستور میں مذکور بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہیں لیکن اسی فیصلے میں یہ بھی تصریح کی گئی تھی کہ قادیانیوں پر پابندی صرف عوامی سطح پر اظہار تک ہی محدود ہے اور نجی سطح پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی طرح مجیب الرحمان کیس میں شریعت کورٹ نے تصریح کی تھی کہ اس پابندی کا اطلاق قادیانیوں کے مرزا صاحب پر ایمان پر نہیں ہوتا، نہ ہی اس کی بنا پر انھیں اپنے مذہب پر عمل کرنے سے، یا اپنی عبادت گاہوں میں اپنے طریقے سےعبادت کرنے سے  روکا جاسکتا ہے کیونکہ اسلامی شریعت نے مسلمانوں کے ساتھ رہنے والے غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی ہوئی ہے۔

اس بنیاد پر بات آگے بڑھاتے ہوئے جسٹس شاہ نے پاکستان کے دستور کی ان دفعات کا جائزہ پیش کیا ہے جن کی رو سے تمام شہریوں کو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، مذہبی آزادی کا حق بھی حاصل ہے اور بہ حیثیتِ انسان تکریم اور عزت کا بھی۔ اس ضمن میں انھوں نے خصوصاً دفعہ 14 (انسانی تکریم کا حق) کا حوالہ دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ کسی غیر مسلم کو اس کے مذہب پر عمل کرنے سے روکنے، یا اپنی عبادت گاہ کی حدود میں عبادت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے دستور کی جمہوری اقدار کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کی اسلامی روح بھی پامال ہوتی ہے۔

اسی طرح انھوں نے دفعہ 20 کا حوالہ دیا ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کو، قانون کی حدود کے اندر، اپنے مذہب پر عمل اور اس کی ترویج کی اجازت دیتی ہے اور اسی طرح انھیں اپنی عبادت گاہیں قائم کرنے کا حق بھی دیتی ہے۔ جسٹس شاہ نے اس پر بحث نہیں کی کہ کیا اس دفعہ کے تحت قادیانیوں یا کسی دوسری غیر مسلم اقلیت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کی طرف بلائیں، لیکن ان کی پچھلی بحث سے اس سوال کا جواب نفی میں ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی قرار دے چکے ہیں (اور یہ قرار دینے کے سوا کوئی راستہ تھا بھی نہیں کیونکہ ان سے قبل وفاقی شرعی عدالت اور پھر سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے یہی قرار دیا تھا) قادیانیوں کو عوامی سطح پر ان افعال کی اجازت نہیں جن سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو۔ اس کے بعد انھوں نے دفعہ 22 کا حوالہ دیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے مذہب کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی عبادت یا رسم میں شریک ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی کسی دوسرے مذہب کی تعلیمات سیکھنا اس پر لازم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اس دفعہ کے تحت ہر مذہبی گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مخصوص اداروں میں شاگردوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے دفعہ 25 کا حوالہ دیا ہے جس نے تمام شہریوں قانون کا یکساں تحفظ دیا ہے۔

اس کے بعد انھوں نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 260 کی ذیلی دفعہ 3 کی رو سے قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ملک کے شہری نہیں رہے یا انھیں وہ بنیادی حقوق حاصل نہیں رہے جو ملک کے تمام شہریوں کو دستور کی رو سے حاصل ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے خصوصاً دستور کی دفعہ 4 کا حوالہ دیا ہے جس میں تصریح کی گئی ہے کہ اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کا یہ ناقابلِ تنسیخ حق ہے کہ انھیں قانون کا یکساں تحفظ حاصل رہے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو۔

توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت کے قانون کا اطلاق؟

ان دستوری اصولوں کی توضیح کے بعد جسٹس شاہ نے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-بی اور 295-سی کا جائزہ لیا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ اس مقدمے کے مخصوص حقائق میں ان دفعات کا اطلاق ملزمان پر ہوتا ہے یا نہیں؟

دفعہ 295-بی میں قرآن کریم یا اس کے کسی حصے کی بالارادہ توہین پر عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ دفعہ 295-سی میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں صراحتاً یا اشارتاً یا کنایتاً گستاخی پر موت کی سزا اور اس کے ساتھ جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ (1986ء میں جب پارلیمان نے دفعہ 295-سی وضع کی تو اس میں موت کی سزا یا عمر قید کی سزا کے درمیان عدالت کو اختیار دیا تھا لیکن وفاقی شرعی عدالت نے 1991ء میں اسماعیل قریشی کیس میں قرار دیا تھا کہ "یا عمر قید" کے الفاظ اسلامی احکام سے متصادم ہیں۔ چنانچہ اس فیصلے کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے یہ الفاظ غیر مؤثر ہوگئے ہیں اور اب عدالت اس جرم پر سزاے موت ہی دے سکتی ہے، اور اس کے ساتھ جرمانے کی سزا بھی، لیکن عمر قید کی سزا نہیں دے سکتی۔)

جسٹس شاہ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دفعہ 295-بی میں جرم کےلیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم یا اس کے کسی حصے کو بالارادہ خراب کیا گیا ہو، نقصان پہنچایا گیا ہو یا اس کی بے حرمتی کی گئی ہو، اور اسی طرح دفعہ 295-سی میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کا ذکر ہے، جبکہ موجودہ مقدمے میں ملزمان پر ایسا کوئی الزام نہیں عائد کیا گیا، بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ان کی عبادت گاہ میں قرآن مجید کے نسخے موجود تھے اور کلمۂ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ ہائی کورٹ اور دیگر ماتحت عدالتوں نے قرار دیا تھا کہ قادیانیوں کی جانب سے صرف کلمۂ طیبہ پڑھنا یا قرآن پڑھنا ہی توہینِ قرآن یا توہینِ رسالت کے جرم کےلیے کافی ہے، لیکن جسٹس شاہ نے قرار دیا ہے کہ یہ قانون کی غلط تعبیر ہے۔ اس غلطی کو واضح کرنے کےلیے انھوں نے تعبیرِ قانون کا بنیادی اصول ذکر کیا ہے کہ سزاؤں کے قانون کو اس کے سادہ مفہوم تک ہی محدود رکھا جائے گا اور اس پر کسی مفہوم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ ان دفعات میں جن امور کو جرم قرار دیا گیا ہے، صرف انھی پر سزا دی جاسکتی ہے اور ان پر قیاس کے ذریعے کسی اور چیز کا اضافہ کرکے اس پر بھی یہ سزائیں نہیں جاسکتیں۔ اسی طرح انھوں نے مقننہ کے ارادے کا اصول بھی ذکر کیا ہے کہ قانون وضع کرنے والوں کا مقصد بھی یہ نہیں تھا، اگرچہ اس کے ساتھ انھوں نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ مقننہ کے ارادے یا مقصد کی بنیاد پر بھی سزاؤں کے قانون کو اس کے سادہ مفہوم سے آگے کسی اور امر کی طرف توسیع نہیں دی جاسکتی۔ جسٹس شاہ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض اس گمان پر سزا نہیں دی جاسکتی کہ ان کے دل میں توہین کا خیال ہوگا، جب تک وہ خیال عمل کی صورت میں آشکارا نہ ہو۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

ان امور کی بنا پر جسٹس شاہ نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ اور دیگر ماتحت عدالتوں سے قانون کے فہم میں غلطی ہوئی تھی اور یہ کہ ان درخواست گزاروں پر اصل مقدمے میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان پر توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا۔ چنانچہ درخواست گزاروں کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھوں نے اسے اپیل میں تبدیل کیا اور اپیل منظور کرنے کے نتیجے میں حکم دیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت کے الزامات ختم کرکے صرف دفعات 298-بی اور 298-سی (امتناعِ قادیانیت) کے تحت ہی مقدمہ چلایا جائے۔

یہ فیصلہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور اس سے پاکستان کے دستوری بندوبست میں قادیانیوں کی حیثیت اور ان کے حقوق اور ان حقوق پر عائد قیود کی درست تعبیر نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔ یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل کرنے کے مسئلے پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔ تاہم اس فیصلے نے پھر واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے دستور اور قانون کی رو سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے چکنے کے بعد بہ  حیثیت ِ غیر مسلم ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، خواہ قادیانی اپنے لیے غیر مسلم کی حیثیت قبول کریں یا نہ کریں۔


مسلم وزرائے خارجہ سے توقعات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مسلم ممالک کے باہمی تعاون کے فورم اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا وجود تمام تر تحفظات کے باوجود اس لحاظ سے بہرحال غنیمت اور حوصلہ افزا ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران وقتاً فوقتاً مل بیٹھ کر اپنے مسائل اور عالمِ اسلام کی مشکلات پر کچھ نہ کچھ غور کر لیتے ہیں اور موقف کا بھی اظہار کرتے ہیں جس سے اس حد تک اطمینان ضرور ہو جاتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی صف میں ان مسائل و مشکلات کا احساس موجود ہے اور امید رہتی ہے کہ یہ احساس کبھی نہ کبھی ادراک اور عملی پیشرفت کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس حوالہ سے عالمِ اسلام کی اصل ضرورت کیا ہے؟ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمیں پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کا وہ تاریخی تبصرہ یاد آ جاتا ہے جب انہوں نے بوسنیا اور سربیا کی کشمکش کے دوران مسلمانوں کے قتل ِعام کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کی بے بسی کا اظہار کیا تھا کہ

’’اب تو کوئی اوتومان ایمپائر (خلافتِ عثمانیہ) بھی نہیں ہے جس کے سامنے ہم اپنے دکھوں کا رونا رو سکیں۔‘‘

یہ بے بسی آج بھی قائم ہے جس کی تازہ ترین صورت دیکھی جا سکتی ہے کہ شام کے صدر نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے جو امریکہ بہادر کو پسند نہیں آیا اور اس نے کھلم کھلا اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ گویا ایک مسلمان ملک کے حکمران کے لیے دوسرے مسلمان ملک کا دورہ کرنے سے قبل امریکہ بہادر کی رضا اور ناراضگی کو دیکھنا ضروری ہے۔

اور یہ بھی عالمِ اسلام کی اسی بے بسی کی ایک واضح شکل ہے کہ افغانستان سے امریکی اتحاد کی افواج اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے واپس جا چکی ہیں اور امارتِ اسلامی افغانستان نے ملک میں امن و اتحاد کو برقرار رکھنے کی مثال قائم کر دی ہے، مگر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک امارتِ اسلامی افغانستان کو تسلیم کرنے کے لیے امریکہ بہادر کی پیشانی کی سلوٹیں شمار کرنے میں مصروف ہیں اور اس کی طرف سے ’’این او سی‘‘ جاری ہونے کے انتظار میں ہیں۔

مسلم ممالک کے قابل صد احترام وزرائے خارجہ کی خدمت میں ہم اس موقع پر پہلی گزارش یہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا اصل مسئلہ عالمی دباؤ اور بیرونی مداخلت کے اس ماحول سے نکلنا ہے اور اپنے فیصلے آزادانہ ماحول میں خود کرنے کا حوصلہ اور اختیار حاصل کرنا ہے  جس کے بغیر ہم عالمِ اسلام کے کسی مسئلہ کو حل کرنے کا کوئی مؤثر راستہ اختیار نہیں کر سکیں گے۔

ہمارے خیال میں دوسرا اہم ترین توجہ طلب مسئلہ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی حالیہ قابلِ تحسین قرارداد کو دیگر قراردادوں کی طرح ’’داخل دفتر‘‘ کر دینے کی بجائے اس کی بنیاد پر ایک منظم اور مربوط مہم چلانے کا ہے۔ جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی قوتوں اور لابیوں کے پھیلائے ہوئے گمراہ کن شکوک و شبہات کو دور کرتے ہوئے خلافتِ راشدہ کی طرز پر اسلام کی صحیح اور متوازن تعلیمات اور کردار کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ جو ظاہر ہے کہ اس سلسلہ میں مصروفِ عمل اسلامی نظریاتی حلقوں اور مراکز کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ روایتی سفارتی حلقوں، سیکولر لابیوں اور این جی اوز وغیرہ کو اس مہم کا ذریعہ بنانے سے اسلاموفوبیا کی موجودہ صورتحال میں بہتری آنے کی بجائے اس کے مزید بگڑنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

یہ خبر ہمارے لیے اطمینان کا باعث بنی ہے کہ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے جو کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے مسلسل ظلم کے باعث ان کا اپنا حق ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری بھی ہے، اور اس سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر ایک بار پھر اجاگر کرنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ فلسطین، اراکان اور دیگر خطوں کے مسلمانوں کی مظلومیت اور ان کے حقوق کی پامالی بھی مسلم وزرائے خارجہ کی توجہات کی منتظر ہے۔ جبکہ معروضی صورتحال میں مسلم ممالک پر مغربی اداروں اور این جی اوز کی فکری اور تہذیبی یلغار انتہائی فکر انگیز اور توجہ طلب مسئلہ ہے۔ عالمی اداروں، بین الاقوامی لابیوں، مغربی حکومتوں اور سیکولر این جی اوز کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے معاشرتی اور تہذیبی بالخصوص خاندانی نظام و ماحول میں قرآن و سنت کے صریح احکام و قوانین سے دستبرداری کے لیے تیار کیا جائے، جس کے لیے پوری مسلم دنیا میں چند مخصوص حلقوں کے سوا عالمِ اسلام کا کوئی طبقہ تیار نہیں ہے، اور یہ کشمکش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

مسلم وزرائے خارجہ کو ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے قرآن و سنت کے ساتھ مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا ساتھ دینا چاہیے اور مغربی دنیا کی استعماری قوتوں کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ وہ ہمارے دینی، تہذیبی اور معاشرتی معاملات میں دخل اندازی کے طرز عمل پر نظرثانی کریں۔ ان گزارشات کے ساتھ ہم مسلم وزرائے خارجہ کی کانفرنس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور اپنے تمام معزز مہمانوں کے لیے خیرسگالی اور محبت کے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہیں، آمین یا رب العالمین۔

صغر سنی کی شادی پر عدالتی فیصلے کا جائزہ

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس بابر ستار نے ایک فیصلے میں قرار دیا کہ محض جسمانی بلوغت پر 18 سال سے کم عمر لڑکی اپنی مرضی سے شادی کی اہل نہیں ہوجاتی۔ ایسا ہر نکاح فاسد اور فسخ کرنے کے لائق ہے۔ فاضل جج صاحب اگر اس مقدمے کے حقائق و واقعات کے مطابق اتنا ہی فیصلہ سنا تےجو صرف اس مقدمے تک محدود رہتا تو اضطراب نہ پیدا ہوتا لیکن فاضل جج صاحب کے فیصلے نے اسلام اور پورے قانون فطرت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فاضل جج صاحب نے حلف تو پاکستانی آئین کے تحت اٹھایا ہے جس کے مطابق کوئی قانون اور قانون کے تحت سنایا گیا فیصلہ قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس فیصلے میں وہ قانون بین الاقوام کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں۔ پورے احترام کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جج صاحب کا فیصلہ رواروی میں اور باریک بینی سے خالی ذہنی کیفیت میں لکھا گیا ہے۔

یہ بات بھی نہیں ہے کہ اس نوعیت کا مقدمہ عدالت میں پہلی بار آیا ہے۔ عدالت میں تو کیا، کم سنی کی شادی کا مسئلہ پوری دنیا میں قانون فطرت کے مطابق وضع کردہ قوانین کے ذریعے نمٹایا جاتا ہے۔ لیکن فاضل جج صاحب نے مسئلے کا جائزہ مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ نہیں لیا۔ وہ اس فکری آسیب کا شکار نظر آتے ہیں جس کے تحت کم سنی کی ہر شادی غلط ہوتی ہے۔ اس زیر نظر مقدمے کی حد تک تو شاید فیصلہ قبول کر لیا جائے لیکن یہ کہنا کہ اٹھارہ سال سے کم عمری کی ہر شادی غلط اور زنا کے مماثل ہے، ایسا داعیہ ہے جس کی تائید نہ تو قانون فطرت کرتا ہے اور نہ جدید متمدن ممالک میں فیصلہ یوں سنایا جاتا ہے، نہ شریعت مطہرہ میں اس کی تائید ملتی ہے۔ متعدد متمدن ممالک میں کم سنی کی شادی کا تصور عام ہے۔ شریعت اسلامی بھی کم سنی کی شادی کی تائید کرتی ہے۔

آج کل انسانی حقوق پر بڑا زور دیا جاتا ہے۔ انہی کی روشنی میں اس مقدمے کو دیکھتے ہیں۔ کسی شخص کا جسمانی نظام غذا طلب کرتا ہے، اسے بھوک لگتی ہے تو بتائیے، دنیا کے کس حصے میں، کس مذہب میں، کس تمدن میں اسے کھانا کھانے سے روکا جا سکتا ہے۔ کسی شخص کا جسمانی نظام نو دس سال کی عمر میں فعال ہو کر صنف مخالف کا تقاضا کرے تو کون سے انسانی حقوق رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں۔ میرے محدود مطالعے کے تحت سات ہزار سالہ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ تمام انسان بلاامتیاز ملک و ملت و مذہب بلوغ کی علامتیں ظاہر ہوتے ہی ہر شخص کی صنفی ضروریات پوری کرنے میں مدد کرتے ہیں کہ یہ انسانی حقوق میں سے ہے۔ مجھے بھوک لگے تو آپ مجھے کھانا کھانے سے منع کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ مجھے زندگی گزارنے کے لیے صنف مخالف کی ضرورت ہے تو آپ کون ہوتے ہیں مجھے باز رکھنے والے؟ یہ انسانی حقوق تو مجھے ہر سہولت دیتے ہیں. آج بھی دنیا بھر میں یہی چلن ہے۔

پاکستان میں کم سنی کی شادی کا مسئلہ متعدد دفعہ اٹھا۔ 2019 میں کم سنی کی شادی روکنے کی خاطر قومی اسمبلی میں بل پیش ہوا تو میں نے اخبارات میں ایک سلسلہ مضامین لکھا تھا۔ انہی مضامین کی بنیاد پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ عالی مقام جسٹس صاحب کے فیصلے کے عموم کو کسی طرح سے بھی اخلاق و قانون کی تائید حاصل نہیں ہے، شریعث تو ذرا اعلی مقام رکھتی ہے۔ اسے کسی اور موقع پر زیر بحث لایا جائے گا۔ آئیے ! کم سنی کی شادی کا جائزہ جج صاحب کے اپنے قانون بین الاقوام کی روشنی میں لیتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک اس قانون کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔

 امریکہ پچاس ریاستوں کی یونین ہے جس کی ہر ریاست کو اپنا عائلی قانون بنانے کا اختیار ہے۔ ان ریاستوں میں شادی کی کم سے کم عمر کیا ہے؟ کسی ریاست میں  اٹھارہ سالہ عمر تو کیا، سولہ ریاستوں میں ایسی کوئی عمر ہی نہیں۔ ان  تمام  ریاستوں کا عائلی قانون ایک دوسرے سے معمولی فرق کے ساتھ بڑی حد تک قانونِ فطرت ہے۔

الاسکا اور نارتھ کیرولینا نامی دو  ریاستوں میں شادی کی کم سے کم عمر 14 سال ہے۔ میری لینڈ، کنساس، انڈیانا اورجزائر ہوائی نامی چار ریاستوں میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔ انیس امریکی ریاستیں وہ ہیں جن میں کم سے کم عمر سولہ سال ہے۔ وہ ریاستیں کنِکٹی کٹ، جارجیا، الباما، ایریزونا، الینو ئس، آئیوا، نارتھ ڈکوٹا، منی سوٹا، مِسوری، ہیمپشائر، ساؤتھ ڈکوٹا، ٹیکساس، اوٹاہ، ویرمونٹ، ورجینیا، وسکونسن، واشنگٹن ڈی سی، ساؤتھ کیرولینا اور مونٹینا ہیں۔ اسی طرح فلوریڈا، ارکنساس، نبراسکا، کنیٹکی، اوہائیو، نیویارک اور اوریگان نامی سات ریاستوں میں یہ عمر سترہ سال ہے۔ سولہ ریاستیں وہ ہیں جن میں شادی کی کم از کم کوئی عمر نہیں ہے جو یہ ہیں:وائیومنک، ویسٹ ورجینیا، واشنگٹن (ڈی سی نہیں) ساؤتھ کیرولینا (قانونی تضادات کے بعد اسے سولہ سال والی عمر میں بھی شمار کیا جاتا ہے) پنسلوینیا، اوکلاہاما، نیو میکسیکو، مسی سپی، نیویڈا، مشی گن، میسا چوسٹس، مینی، لوزیانا، کولاریڈو، اِڈاہو اور کیلی فورنیا۔

شادی کی قانونی عمر (اٹھارہ، انیس یا اکیس) سے کم عمر کی جو تفصیلات  بیان ہوئی ہیں، ان میں کم سنی کی شادی چند شرائط سے منسلک ہے۔ درج ذیل میں سے بعض ریاستیں ایک شرط اور بعض زیادہ شرائط پوری ہونے پر قانونی عمر سے کم کسی بھی عمر میں شادی کی اجازت دیتی ہیں: کم سن لڑکی نے بچے کو جنم دیا ہو؛ کم سن بالکل آزاد (Emancipated)ہو جیسے ماں باپ مرگئے ہوں یا معلوم نہ ہوں؛ لڑکی حاملہ ہو گئی ہو؛ والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت ہو؛ اور یہ عدالتی اطمینان ہو کہ اس کم سن کی شادی ممکن ہے۔

ان شرائط خمسہ میں سے بعض ریاستوں میں عدالتی اطمینان پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ یہ قانون کا پہلا حصہ ہے۔ دوسرا حصہ بلوغ کی قانونی عمر کی تکمیل پر حرکت میں آتا ہے۔ پورے امریکہ میں شادی کی قانونی عمر اٹھارہ سال ہے (نبراسکا اور مسی سپی میں یہ عمر بالترتیب انیس اور اکیس سال ہے). قانونی عمر کی تکمیل پر مرد و زن خود مختار ہیں کہ پسند کی شادی کریں۔

کیا آپ نے غور کیا کہ ان تمام  ریاستوں میں سے کسی ایک میں بھی شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال نہیں ہے۔دو امریکی ریاستوں میں کم سے کم مقررہ عمر اگر 14 سال ہے تو سولہ ریاستوں میں شادی کی کم سے کم عمر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ان حالات میں اگر ہمارا کوئی فاضل جج ہم پر ”یہ“ امریکی فکر مسلط کرنا چاہے تو ہم بسر و چشم دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھیں گے کہ آؤ کر گزرو یہ امریکی قانون ہمارے یہاں بھی نافذ۔  امید ہے کہ مسٹر و ملا اور راہروانِ مسجد و میخانہ دونوں کو  اس امریکی مثال سے ہدایت مل جائے گی۔

دنیا کا کوئی قانون دیکھ لیں،میری مراد ترقی یافتہ دنیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس میں بال کی کھال اتاری جاتی ہے۔ انسانی فہم میں آنے والا بعید ترین امکان بھی قانونی دائرے میں لانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شادی بھی انہی امور میں سے ہے جس کے متعدد پہلو ہیں۔ ہر ایک پر بڑی سوچ بچار کے بعد اگر جامعیت سے بھرپور قانون بنایا جائے تو وہی قانون، قانونِ فطرت کہلاتا ہے۔

اپنے ملک میں آزاد خیال لوگوں اور خواتین کے حقوق والیوں نے بغیر جانے اور  بغیر پڑھے یہ فرض کر رکھا ہے کہ چونکہ فلاں جگہ ایک اَسّی سالہ جاگیردار نے تیرہ سالہ لڑکی سے شادی کر لی ہے، لہٰذا یقینا سارے ملک میں ایسے ہی ہوتا ہو گا۔ اور یہ کہ ہر کم سنی والی شادی بوڑھے کے ساتھ ہی ہوتی ہے، اس لیے ریاستی نظام فوراً حرکت میں آ ئے۔ حالانکہ یہ لوگ شہروں سے نکل کر جی ٹی روڈ، موٹر وے سے چھ آٹھ کلومیٹر دور کی دنیا دیکھیں، وہاں چند سال گز اریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے ان دیہات کی دنیا یکسر مختلف نوعیت کی ہے۔

گویا کسی امریکی ریاست میں شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال کہیں نہیں۔ یہ کام امریکہ میں جائز ہو سکتا ہے تو یہاں پاکستان میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ وہ دلیل ہے جس کی بنا پر میں کہتاہوں کہ مذہب بیزار یا مذہب دشمن طبقہ کسی عقلی بنیاد پر اس کا مخالف نہیں ہے، اس کی مخالفت دین دشمنی پر ہے۔ یہاں آکر میں انسانوں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتا۔ میرے نزدیک ایک طرف یزدان کے خیمے میں مقیم انسان ہیں جو قانونِ فطرت کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں تو دوسرے لوگ اہرمن کے پجاری ہیں۔ اوّل الذکر اللہ والے امریکی سپریم کورٹ میں اس خاتون رجسٹرار کی صورت میں مل جائیں گے جس نے ہم جنسوں کی شادی پر عدالتی فیصلے کی نقل اپنے دستخطوں سے یہ کہہ کردینے سے انکار کر دیا تھا کہ میرے مذہبی عقائد اس فیصلے کی تائید نہیں کرتے۔ وہ نیک بخت خاتون اپنی ملازمت داؤ پر لگا بیٹھی لیکن فیصلے کی نقل نہیں دی۔ رہے اہرمن کے راکھشش تو وہ آپ کو ہر ملک اور ہر معاشرے میں ملیں گے۔

کچھ لوگوں یا اداروں نے ہمارے دینی طبقوں کو ان ہیولوں کے تعاقب میں لگا رکھا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں جن میں سے ایک کم سنی کی شادی ہے۔ میرے مخاطبین دینی طبقے کے میرے اپنے عزیز لوگ ہیں۔ ان عزیزان گرامی سے گزارش ہے کہ اپنے مسلک کے کسی بڑے کے ملفوظات کے ساتھ عہد حاضر کی فکر کا مطالعہ بھی کیا کریں۔ کلمة الحکمۃ پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اسی کو ”لوہا  لوہے کو کاٹتا ہے“ کہا جاتاہے۔ اس مسئلے کو لے لیں،دین دشمن طبقات میں سے کون ہے جو آپ کے شرعی دلائل اور قرآن و سنت پر کان دھرے گا۔ کیا موسیٰ علیہ السلام فرعونی سانپوں کا سر لکڑی کی بوجھل الہامی الواح سے نہیں کچل سکتے تھے؟ تختیاں جن کی ایک ضرب سے ان کے قتلے بن جاتے، لیکن سنپولیوں کا مقابلہ اژدھے سے کیا گیا۔

کم سنی کی شادی کا معاملہ ایسا ہی ہے، یہ قانونِ فطرت ہے اور قانونِ فطرت کا تعلق کسی مذہب سے تلاش نہ کیا جائے۔ یہ ہر مذہب اور ہر معاشرت میں مل جاتا ہے۔جس قانونِ فطرت کا نام ہم نے یا اللہ کریم نے اسلام رکھا ہے، اس کے مظاہر ہمیں کُو بہ کُو اور قریہ بہ قریہ مل سکتے ہیں۔

کم سنی کی شادی کے متعلق انسانی رجحانات آج بھی وہی ہیں جو صنعتی انقلاب سے قبل کے معاشروں میں تھے۔ آج کم سنی کی شادی سے متعلق دو طرفہ بظاہر دلائل، لیکن حقیقتاً لوگوں کے اپنے نقطہ ہاےنظر، ملتے ہیں۔ ان دلائل میں کوئی چیز نہیں ملتی تو ”تلاشِ حق“ کی کیفیت نہیں ملتی۔ اور یہ کام جستجو، کھوج، پِتّہ ماری اور تحقیق کے بغیر نہیں ہوتا۔

 کم سنی کی شادی پر مذہبی طبقہ دلائل دیتا ہے تو حضرت عائشہؓ سے ابتدا ہوتی ہے۔ غیر ضروری مدافعت اور اُکتا دینے والی گھسی پٹی گفتگو سے آگے لوگ جا تے ہی نہیں۔ دوسرا وہ طبقہ ہے جس کا ذہن مذہب کے خلاف اتنا زہر آلود ہے کہ انہیں  کوئی اچھی چیز تو کیا ملے گی، وہ تو تلاشِ حق کے بھی روادار نہیں ہیں۔ ان کی زندگی محض مذہب دشمنی اور مذہبی طبقے سے منافرت پر قائم ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس امریکی قانون کا ہلکا سا خلاصہ ذرا دوسرے انداز میں پیش کیا جائے جہاں  صغر سنی کی شادیاں کم و بیش ویسے ہی ہوتی ہیں جیسے ہمارے دیہات میں بغیر کسی تقنین (Codification) کے ہو رہی ہیں۔

جن ریاستوں میں کم از کم عمر نہیں ہے ، وہاں پیدائش کے بعد بچے کی شادی عدالتی اطمینان کے بعد کسی بھی عمر میں ممکن ہے۔ لوگ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ، ممکن ہی نہیں ہو بھی رہا ہے۔ جنوبی امریکی زندگی قبائلی نظام سے عبارت ہے۔ مثلاً ماں کو ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے کر کہا کہ بس دو ایک ماہ زندگی باقی ہے۔ ماں مچل گئی کہ میں نے اپنے دو ایک سالہ بچے کے سہرے کے پھول دیکھنا ہیں، وہ عدالت جا پہنچی، عدالت اجازت دے دے گی ،کیوں دے گی؟ کیونکہ وہاں کی عدالتوں پر این جی او کے تاریک آسیبی سائے نہیں ہیں۔ جج اپنے دماغ سے سوچتے ہیں جن میں انسانی جذبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

ان امریکی ریاستی قوانین پر عمل کا جائزہ لیا جائے تو اپنے ہاں کسی کو یقین نہیں آئے گا۔ حوالہ جات کے لیے عرض کروں کہ میں نے مشہور امریکی تھِنک ٹینک ، پیو (Pew) ریسرچ سینٹر کی تحقیق پر انحصار کیا ہے جس کے بیشتر اعدادوشمار امریکی بیورو آف اسٹیٹسکس سے لیے گئے ہیں، ماسوائے اس کے کہ ان کے اپنے سروے وغیرہ ہوں۔ پیو کے مطابق صرف 2014ءمیں 57,800 ایسے بچوں کی شادیاں ہوئیں جن کی عمریں 15 تا 17 سال تھیں۔

ان میں 31,644 کم سن بچیاں تھیں۔ ایک اور ادارہ اَن چینڈ ایٹ لاسٹ (Unchained at Last) ہے۔ اس کا مقصد جبری اور صغر سنی کی شادیاں روکنا ہے۔اس کے مطابق اکیسویں صدی کے ابتدائی 15 سالوں میں دو لاکھ بچوں کی شادیاں انہی قوانین کے مطابق ہوئیں۔ ضرب تقسیم خود کر لیں، ہر روز چھتیس شادیوں سے بھی قدرے زائد۔  این جی اوز اور ریاست کے اندھے وکیل ذرا صبر سے تفصیلات  پڑھ لیں: صرف فلوریڈا میں سترہ سالوں میں 13 سالہ بچوں سمیت 16,400 بچوں کی شادیاں ہوئیں۔ ٹیکساس اس سے بھی آگے ہے جہاں 14 سالوں میں 40,000 بچوں کی شادیاں ہوئیں۔ نیویارک متجددین کا گڑھ ہونے کا باعث ذرا پیچھے رہا جہاں دس سالوں میں 3,800 شادیاں ہوئیں یعنی اوسط ہر روز ایک سے قدرے زائد ۔ اوہائیو میں پندرہ سالہ مدت میں 4,443 لڑکیوں کی شادیاں مختلف عمروں کے مردوں سے ہوئیں۔ ایک بچی کی شادی 48 سالہ مرد کے ساتھ ہوئی۔

مذکورہ دو لاکھ شادیوں کا ایک فی صد تقریباً دو ہزار، 14 سال سے کم عمری کی شادیاں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ میں اس کا کوئی نوٹس تک نہیں لیا گیا۔  ان میں 13 سالہ بچوں کی تعداد اکیاون ہے۔ 6 بچوں کی شادیاں 12 سالہ عمر میں ہوئیں۔ الباما میں ایک 74 سالہ شخص نے 14 سالہ لڑکی سے شادی کی۔ ایک اور ریاست میں 10 سالہ بچیوں کی شادیاں 24 تا31 سالہ مردوں سے ہوئیں۔ یہ سب کچھ متعلقہ ریاستی قوانین اور دستور کی چھتری کے نیچے ہو رہا ہے۔ اپنے متجددین اور دین بیزار طبقے سے امید ہے کہ یہ امریکی رویہ لینے میں اسے کوئی تامل نہ ہو گا۔

بچے کی شادی والدین کا مسئلہ ہے۔ وہ معاشرتی قدروں کے مطابق یہ کام کریں تو ٹھیک، ورنہ عدالتی اطمینان کے بغیر شادی نہیں ہو سکتی۔ عدالتی اطمینان شادی روکنے کے لیے نہیں، شادی سے مفاسد دور کرنے کے لیے ہوگا۔ عبداللہ ؓ ابن مسعود سے منسوب حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو: ”جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے (ماراہ المسلمون حسناً فھو عنداللہ حسن) اسلامی معاشرت میں ریاست کا وجود بہت معدوم سا اور خبر گیری کی حد تک کا ہے۔ مارکس کا قول کس سے پنہاں ہے جو ریاست کو آلہ جبر قرار دیتا ہے۔ اثباتی انداز میں محرم راز خالقِ کائنات کا فرمان لاگو کریں ذرا، شخصی امور میں ریاست کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ والدین بگڑے ہوے ہوں تو اجتماعی معاشرت میں غیر متوازن کام ممکن نہیں ہوتا، پھر بھی بگاڑ کا امکان رہتا ہے۔ یہاں آ کر ریاست نگران (Watch Dog) کا کردار ادا کرتی ہے، نہ کہ مقنن (Legislator) کا۔ ریاستی نمائندوں ججوں وغیرہ سے گزارش ہے کہ اس بابت اسلامی قوانین وضع شدہ (Codified) شکل میں موجود ہیں، کسی نئی تقنین کی حاجت نہیں ہے۔

بلوغت کے ساتھ جب انسان کے جسمانی تقاضے بیدار ہوتے ہیں تو یہ مسئلہ قانون، ریاست، معاشرے سے زیادہ انسانی حقوق سے مربوط ہو جاتا ہے جن کا کام رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے مجموعی میلانات کے اندر نئے جوڑے کا درست ترین مقام متعین کرنا ہوتا ہے۔ معمولی مقامی اختلافات کے ساتھ یہ مسئلہ دنیا بھر میں ایک ہی اصول سے منسلک ہے جس کا مذہب سے بہت کم تعلق ہے۔

پارلیمان،  کابینہ اور سپریم کورٹ کورٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ اس اہم معاشرتی مسئلے کو خوب بحث و تمحیص کے بعد مناسب انداز میں نمٹایا جائے۔ ایسی قانون سازی  کے ذریعے جو سات ہزار سالوں سے دنیا بھر میں معروف ہے اور متمدن دنیا میں بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ ججوں کے ذاتی میلانات کو عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے باز رکھنے کا کوئی مکینزم وضع کرے گی۔ کیا یہ امر باعث تعجب نہیں ہے کہ جج آئین کے تحت حلف اٹھائیں اور فیصلے لکھتے وقت آئینی شقوں کا خیال رکھنے کی بجائے قانون بین الاقوام کا سہارا لیں ؟

اللہ نے موقع دیا تو کم سنی کی شادی پر یورپی اور چند دیگر ممالک کے قوانین کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔


ماں باپ کی زیادہ عمر اور ڈاؤن سنڈروم کا تعلق

خطیب احمد

(اہل علم جانتے ہیں کہ صحت اور علاج کے معاملات میں شریعت نے انسان کے تجربے پر مدار رکھا ہے۔ جس چیز کا نقصان طبی تحقیق اور تجربے سے واضح ہو جائے، اس سے گریز کرنا شریعت کا مطلوب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہے کہ آپ نے توالد وتناسل سے متعلق بعض طریقوں سے اس بنیاد پر منع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ ان سے بچوں کی صحت پر زد پڑتی ہے، لیکن پھر معلومات کی اطمینان بخش تصدیق نہ ہونے پر ارادہ تبدیل فرما لیا۔

جدید طبی تحقیقات کی رو سے لڑکی کی شادی کم سے کم کس عمر میں ہونی چاہیے اور بچوں کی پیدائش زیادہ سے زیادہ کس عمر تک ہونی چاہیے، اس کے متعلق اس تحریر میں ضروری معلومات دی گئی ہیں۔ مسلمان ثقافتوں میں بلوغت پر اور بعض حالات میں بلوغت سے پہلے جنسی خواہش پیدا ہو جانے کی عمر میں بھی شادی کا رواج رہا ہے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر طبی تحقیق ان زمانوں میں ان نتائج تک پہنچ چکی ہوتی جن تک آج پہنچی ہے تو فقہی روایت میں بھی جواز وعدم جواز کی صورت مختلف ہوتی۔ بہرحال، اصل چیز اصول ہے۔ اطلاقی فیصلے انسان کے علم کی حدود کے تابع ہوتے ہیں۔ علم میں بہتری اور وسعت آنے پر فقہی آرا کو بھی اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہماری فقہی روایت میں یہ صلاحیت بحمد اللہ ہمیشہ موجود رہی ہے۔ مدیر)


کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک لڑکی جب ماں کی کوکھ میں موجود ہوتی ہے (fetal life) تو اسکے پاس 60 سے 70 لاکھ انڈے (oocytes) ہوتے ہیں۔ جو اپنی تخلیق کے اگلے لمحے سے ہی خودکار عمل کے ذریعے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور نو ماہ کے حمل میں بچی کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی 50 سے 60 لاکھ انڈے ختم ہوچکے ہوتے۔ ایک لڑکی ایورج 10 لاکھ بیضوں (Eggs) کے ساتھ اس دنیا میں آنکھ کھولتی ہے۔ جو اسکی دونوں اووریز میں موجود ہوتے ہیں۔

اب پیدائش کے بعد پہلے ماہ سے ہی ہر ماہ تقریباً 10 ہزار Immature انڈے خود ہی مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کی سپیڈ انکی یوٹرس میں ہونے والی موت سے اب قدرے کم ہوگئی ہے۔ لڑکی کے 8 سے 15 سال کی عمر میں بالغ ہونے تک انکی ایورج تعداد 3 سے 4 لاکھ رہ چکی ہوتی۔

انڈے موجود ہیں تو مینسٹرل سائیکل پیدائش کے فوراً بعد کیوں نہیں شروع ہوتا؟

لڑکی جب بلوغت کی ایورج عمر 12 سال (جو کہ ہر لڑکی کی ایک دوسرے سے مختلف ہے) کو پہنچتی ہے تو اسکے برین میں موجود hypothalamus سب سے پہلے ایک gonadotropin-releasing hormone (GnRH) نامی ہارمون پیدا کرنے کا آرڈر جسم کو جاری کرتا ہے۔ حکم کی من و عن تعمیل میں GnRH متحرک کرتا ہے pituitary gland کو کہ اب آگے تم follicle-stimulating hormone (FSH) پرڈیوس کرو۔ یہ FSH ہارمون egg development کا پراسس شروع کرانے کے لیے فی میل ہارمون ایسٹروجن estrogen لیولز کو ہائی کرنا شروع کرتا ہے۔ اور لڑکی کا موڈ زندگی میں پہلی بار عجیب کچا پکا سا ہونے لگتا۔ پہلے پیریڈز ہوتے اور زندگی کے پہلے پیریڈز کے پہلے دن کو کاؤنٹ کرکے آگے تقریباً چودھویں دن ovulation کے بعد ایک انڈہ اووری سے باہر نکل کر فلاپئین ٹیوب میں محض 12 سے 24 گھنٹوں کی زندگی لے کر آجاتاہے۔ لڑکی ماں بننے کے لیے تیار ہے۔ جہاں پہلے سے موجود سپرم یا ان 12 سے 24 گھنٹوں کے اندر آکر fertilization کا پراسس مکمل کرکے زائگوٹ بن جاتے ہیں۔

بلوغت چاہے 10 سال میں کیوں نہ آجائے مگر 18 سال سے کم عمر لڑکی ہر گز ماں نہ بنے۔

موضوع پر واپس آتے ہیں کہ لڑکی کی پیدائش کے بعد چاہے اسکی سو سال زندگی ہو کوئی ایک انڈہ بھی نیا پیدا نہیں ہوتا۔ پیدائشی طور پر موجود انڈوں میں سے ہی ہر مینسٹرل سائیکل میں ایک انڈہ رلیز ہو کر حمل کے لیے فلاپئین ٹیوب میں آتا ہے۔ جہاں سپرم کے ساتھ ملکر زائگوٹ بنتا۔

اسکے برعکس پیدا ہونے والا لڑکا نطفوں (Sperms) کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اسکی بلوغت کی عمر میں 74 دن کے سائیکل میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور ہماری وفات تک نان سٹاپ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ انسانی موت کے بعد جب دل دھڑکنا بند ہوجاتا ہے اسکے بعد بھی جسم میں موجود سپرم کچھ دیر زندہ رہتے ہیں۔ مگر 35 سال کی عمر کے بعد انکی کوالٹی اور صحت دن بدن کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ لڑکے بھی دس بارہ سال کی عمر میں بالغ ہوتے ہیں۔ اور پیدا ہونے والے سپرم کی تعداد اور صحت کے بہترین سال 20 سے 30 تک ہی ہیں۔ ان سپرمز سے پیدا ہونے والے بچے کے چانسز ممکنہ طور پر والد کی طرف سے کسی معذوری یا بیماری میں جانے کے لیے کم ہوتے ہیں۔ نسبتاً ان بچوں کے جن کے والد کی عمر بچہ پیدا کرنے کے وقت 35 سال سے زیادہ ہو۔

ڈاؤن سنڈروم ایک کروموسومل ڈس آرڈر ہے۔ ایک سپرم میں 23 کروموسوم اور ایک بیضے میں بھی 23 کروموسوم ہوتے ہیں۔ یہ دونوں مل کر 46 بن جاتے ہیں۔ جب کسی وجہ سے ٹرائی سومی یا کوئی بھی جوڑا 3 کروموسوم بن جائیں تو کوئی کروموسومل ڈس آرڈر ہوتا ہے۔ کروموسوم نمبر 21 دو کی بجائے تین بن جائیں تو بچی ڈاؤن سنڈروم ہوگا۔ مگر یہ تین کروموسوم آخر ہوتے کیوں ہیں؟ لڑکی کی عمر کا تعلق کیسے ہوا؟ آئیے دیکھتے ہیں

اس سے پہلے میں نے ڈاؤن سنڈروم پر دو بڑی ہی مفصل اور مدلل تحریریں لکھیں۔ جن سے میرے سرکل میں موجود تمام ڈاکٹرز نے کلی اتفاق کیا۔ مگر کچھ دوستوں نے بات کو مذہبی رنگ دے کر کہا کہ ماں کی ذیادہ عمر کا ڈاؤن سنڈروم سے کوئی تعلق نہیں۔ اور کہا کہ والد کو کلین چٹ نہ دیں اسکی عمر بھی وجہ بن سکتی ہے۔ آئیے اس تحریر میں اس بات کا سائنسی اور علمی جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جیسے ہی لڑکی بالغ ہوتی۔ پہلے جو ماہانہ 10 ہزار انڈے ضائع ہو رہے تھے۔ ان کے ضائع ہونے کی ماہانہ تعداد اب 1 ہزار ہو گئی ہے۔ یہ انڈے ہر روز مر رہے ہوتے یعنی ایورج 30 سے 35 انڈے ہر روز خود ہی ختم ہو رہے ہوتے۔ ایسا نہیں کہ ایک دم ایک ہزار مر جائیں گے۔ کیونکہ خدا نے رکھے ہی لاکھوں ہیں اور ان کا مرنا باقی بچنے والوں کے لیے ضروری ہے تو یہ خود کار پراسس جاری رہتا۔ ایک کچا انڈہ جو ایسٹروجن بڑھنے سے پک کر باہر خدا کے حکم سے باہر آیا وہ اب انسان بننے جا رہا ہے۔ اگر دو انڈے باہر آجائیں تو جڑواں بچے پیدا ہونگے۔ جتنے بھی پکے ہوئے انڈے اووری سے باہر نکلیں گے اتنے ہی بچے ہونگے۔ ایک انڈہ اگر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا تو جڑواں بچے ہم جنس و ہم شکل ہوتے ہیں۔۔دو الگ انڈوں سے پیدا ہونے والے بچے ہم جنس و ہم شکل نہیں ہوتے۔

جو انڈے لڑکی کی 20 سے 30 سال کی عمر میں رلیز ہوتے وہ صحت و سائز و کوالٹی کے اعتبار اسکی پوری زندگی میں رلیز ہونے والے انڈوں سے بہترین ہوتے ہیں۔ یہی دنیا بھر میں آئیڈیل عمر ہے بچے پیدا کرنے کی۔ جوانی اپنے عروج پر ہوتی اور ہر سال بارہ صحت مند بیضے قدرت عطا کر رہی ہوتی کہ اپنی فیملی مکمل کر لو۔

جیسے ہی لڑکی کی عمر 32 ہوتی فرٹیلیٹی گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ انڈوں کی تعداد تو ہر دن کم ہو ہی رہی ہوتی۔ جو باقی بچتے وہ بھی دیکھیں 32 سال پرانے ہیں۔ جب آپ پیدا ہوئی تھیں وہ تب ہی آپکے ساتھ دنیا میں آئے تھے۔ وہ ہر ماہ نہیں بنتے بس سٹور سے باہر نکلتے ہیں۔

بات آئی اب سمجھ میں؟

ان انڈوں کی صحت و کوالٹی ان کی بائیو لاجیکل عمر کے ساتھ وہ نہیں رہی جو آپکی اور انکی اپنی 30 سال کی عمر تک تھی۔

لڑکی کی 32 سے 37 سال کی عمر کے دوران فرٹیلیٹی اس تیزی سے گرتی کہ نیچرل حمل کے چانس بہت کم رہ جاتے۔ 40 تک آکر فرٹیلیٹی خطرناک حد تک گر چکی ہوتی۔ آی وی ایف اور سروگیسی کے آپشنز پھر دنیا بھر میں اپنائے جاتے۔ اور اسی دوران پیدا ہونے والے بچوں میں سے اکثریت کروموسومل اناملی کے ساتھ پیدا ہوتی۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

دونوں اووریز میں لاکھوں انڈے پڑے ہیں۔ ایک انڈے میں 23 کروموسوم کے جوڑے ہیں۔ خدا کے حکم سے ان کی Division کو Pause کیا گیا ہوا ہے۔ جیسے ہی ہر مینسٹرل سائیکل میں ایسٹروجن ہارمون کا لیول بڑھتا ہے ovulation پراسس سٹارٹ ہوتا تو ان لاکھوں انڈوں میں سے صرف ایک صحت مند انڈے کی فرٹیلائزیشن سٹارٹ ہوجاتی۔ اور اسکے کروموسومز Divide ہونے لگتے ہیں۔ اور یہ Division سپرم سے ملکر مکمل ہوجاتی۔ ہر یعنی ہر ایک کروموسوم پہلے اپنے ہی ساتھی کروموسوم sister strands سے الگ ہوتا اور پھر مخالف جنس کے کروموسوم سے ملکر کرکے اپنا اپنا جوڑا بنا لیتا ہے۔ یہ 23 جوڑے 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ جن کے اندر DNA ہوتا ہے۔ یہ ایک خلیہ پھر تیزی سے تقسیم ہونے لگتا اور ہم پانی سے خون اور پھر گوشت پوست کا انسان بن جاتے۔ ہمارے ہر تقریباً ہر خلیے میں آج 46 کروموسوم موجود ہیں۔ جو ہمارے سٹیم سیل میں تھے۔

اب ایک لڑکی کی عمر ہے 32 سال۔ یعنی جس انڈے سے بچہ ہونے جا رہا وہ بھی 32 سال پرانا انڈہ ہے۔ ہر انڈے میں پروٹینز ہوتی ہیں۔ انسانی انڈے میں پروٹینز کے دو لیولز یہ ہیں cohesin and securin۔ یہ پروٹین کے لیول عمر بڑھنے کے ساتھ اووری میں پڑے لاکھوں انڈوں میں سے دن بدن کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیول کا کم ہونے کا مطلب ہے کہ کروموسوم جب اپنے ہی جوڑے سے الگ ہوگا تو کوئی ایک آدھ کروموسوم اپنے ہی جوڑے سے چپکا رہ جائے گا۔ یعنی uneven کروموسوم کی division ہوگی۔ لڑکی کے سب کروموسوم جوڑے کھل کر ایک ایک ہو گئے اور لڑکے کے بھی ہوگئے۔ ایک یہ آپس میں ملاپ کرتے ہیں۔ ایک نمبر سے لیکر 23 نمبر والا کروموسوم اپنے ہی پارٹنر سے ملتا ہے۔

جب لڑکی کی عمر زیادہ ہوتی تو انڈے میں پروٹینز کا لیول کم ہوتا۔ 21 نمبر کروموسوم کا جوڑا جو لڑکی کا اپنا ہے وہ جدا نہیں ہوتا۔ اور ایک مرد کا کروموسوم بھی اس کے ساتھ مل جاتا ہے۔ تو یہ تین کروموسوم ہو جاتے۔ اسے Trisomy 21 کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ کام تقریباً اسی وقت ہوجاتا جس لمحے انڈہ اور سپرم آپس میں ملتے ہیں۔ ایسا نا ہونے کے برابر یا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ مرد کے سپرم میں موجود 21 کروموسوم جدا نہ ہو سکا ہو۔ اور ٹرائی سومی 21 ہو کر بچہ ڈاؤن سنڈروم ہوجائے۔ ایسا لڑکی کی طرف سے ہی اکثریت میں ہوتا ہے۔ اور پوری دنیا میں یہ بچے بڑی عمر کی لڑکیوں کے ہاں زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ گو چھوٹی عمر کی لڑکیوں کے ہاں بھی پیدا ہوتے ہیں مگر اکثریت میں ریشو بڑی عمر یعنی 32 سے 37 سال میں ماں بننا ہے۔

ڈاؤن سنڈروم کی سو فیصد وجہ یہ ایک ہی نہیں ہے۔ دیگر وجوہات آپ میرے دیگر مضامین میں پڑھ سکتے ہیں۔ اور نہ ہی ایسا ہے کہ زیادہ عمر کی لڑکی کے ہاں ڈاؤن سنڈروم بچہ ہی ہوگا۔ مگر عمر بڑھنے کے ساتھ رسک ضرور بڑھ جاتا ہے۔

یہ کوئی تھیوری نہیں ہے ناں کو ریسرچ ہے۔ جسکا آپ حوالہ مانگنے لگ جائیں۔ یہ وہ نیچرل پراسس ہے جو میرے آپ کے اور دنیا کے ہر مرد و عورت کے جسم میں اس دنیا کے پہلے انسان سے لیکر آخری انسان تک ایسے ہی ہوتا رہے گا۔

کوشش کریں آپ لڑکی ہیں یا لڑکا 30 سے پہلے اپنی فیملی دو تین بچوں کے ساتھ مکمل کر لیں۔ کیرئیر بنتا رہے گا یار۔ ایک بھی دائمی معذور بچہ پیدا ہوگیا تو بنا ہوا کیرئیر اور سب کچھ اندھیر ہوجائے گا۔ آپ اس صدمے کو نہیں سہہ سکیں گے۔ ڈاؤن سنڈروم ہو گیا تو ہو گیا یہ کنڈیشن ساری عمر ساتھ رہے گی۔ والدین کا سب سے بڑا مسئلہ ان بچوں کی معذوری کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ میرا بھی بچہ معذور ہو تو کیسے قبول کر لوں گا کہ یہ اب ایسے ہی رہے گا۔۔حالانکہ اسنے رہنا ویسے ہی ہوتا ہے۔

یورپ میں شادیاں بہت لیٹ ہوتی ہیں۔ وہ لوگ ڈاؤن سنڈروم کو اکثریت میں دوران حمل تشخیص ہوتے ہی ابارٹ کر دیتے ہیں۔ اور ایک بچہ نیچرل یا مصنوعی طریقہ حمل سے یا سرو گیسی سے پیدا کرکے ایک بچے کے ساتھ ہی فیملی مکمل کر لیتے ہیں۔

آپ نے معذور بچے بس دیکھے ہیں۔ میں بارہ سال سے دن رات ان کی تعلیم و تربیت سے منسلک ہوں۔ سپیشل بچوں کا استاد ہوں۔ انکے والدین سے روز ملتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کاش کوئی ہمیں وقت سے پہلے بتا دیتا۔ جنکو بتاتا ہوں روز لکھتا ہوں اور آپ بات سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

والدین سے کہوں گا اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی 25 کے اوپر نیچے کرنے کی کوشش کریں۔ سادہ شادی کر لیں۔ لڑکے اور لڑکی والے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ مادی معیارات کی من پسند تلاش میں اپنے پوتوں دوہتوں کو معذوری نہ دیں۔

آپ لڑکی ہیں۔ عمر زیادہ ہے۔ شادی لیٹ ہوئی یا بچہ لیٹ پیدا ہوا۔ 32 سے 37 میں ریڈ لائن پر ہیں۔ مالک نے ایک بچہ صحت مند دے دیا بس کریں۔ زیادہ بھی ہو تو دو بچے کر لیں۔ وہ بھی رسک ہی ہے۔ ڈاؤن سنڈروم ضروری نہیں پہلا ہی بچہ بچی ہو دوسرا تیسرا چوتھا پانچواں چھٹا ساتواں آٹھواں بھی دیکھا ہے۔ جب بچہ سپیشل ہوتا تو بچوں کو عموماً بریک لگتی۔ اور کئی جگہوں پر تو وہ بھی نہیں لگتی دو تین چار تک بغیر کسی احتیاط کے سب کچھ اللہ کی سپرد کرکے اسباب سے منہ موڑ کر سپیشل بچے ایک ہی معذوری کے ساتھ پیدا کر لیے جاتے۔

دوران حمل اپنا اسکین کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے کروایا کریں۔ ساری گائنی ڈاکٹرز پراپر الٹرا ساؤنڈ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اور ایک بچہ سپیشل ہو جائے تو دوسرے حمل سے پہلے کسی ماہر و پروفیسر ڈاکٹر گائناکالوجسٹ سے مشورہ کیا کریں۔ گو اسکی فیس زیادہ ہوگی مگر وہ آپکے بچے کی عمر بھر کی معذوری سے تو زیادہ نہیں۔

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Moderity کا دوسرا باب)


دوسرا باب:  اخلاقی اصلاح کے امکانات اور درپیش خطرات


شاہ محمد اسماعیل کی بکھری یادیں

برصغیر کی اسلامی تاریخ میں بہت کم ایسے مفکرین ہوں گے جن کا فکری ورثہ شاہ محمد اسماعیل (جو شاہ اسماعیل شہید کے نام سے بھی معروف ہیں) کی طرح متنازع اور اختلافی ہے۔ شاہ اسماعیل نے 1779 میں دلی کے ایک ایسے ممتاز گھرانے میں آنکھیں کھولیں جسے جدید ہندوستان کے یکتاے روزگار اور بااثر مسلمان اہلِ علم کی جاے پیدائش ہونے پر ناز تھا۔ ان کے دادا شاہ ولی اللہ اٹھارھویں صدی کے نہایت مشہور ومقبول مفکر تھے۔ شاہ اسماعیل کے والد شاہ عبدالغنی، شاہ ولی اللہ کے صاحب زادوں میں سے نسبتاً کم معروف تھے۔ شاہ اسماعیل نے اپنی دینی تعلیم بشمول قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور تصوف اپنے عظیم چچاؤں شاہ عبد العزیز اور شاہ رفیع الدین (م 1821) کی نگرانی میں مکمل کی۔

اہل علم کے اس روشن خاندان میں شاہ اسماعیل ایک انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔ ان بہت ساری چیزوں میں سے جو بعض اوقات ان کے خاندان کے بڑوں بالخصوص شاہ عبد العزیز کے لیے حیرانی کے ساتھ پریشانی کا سبب بنتی تھیں، ایک چیز شاہ اسماعیل کا جنگی فنون بالخصوص عسکری نوعیت کی جسمانی ریاضت کے ساتھ والہانہ تعلق تھا۔ شاہ اسماعیل کے سوانح میں انھیں ایک بہادر جنگ جو عالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو جوانی سے ہی نہ صرف علمی بلکہ جسمانی جہاد کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے۔ شاید انھیں پہلے سے اندازہ تھا کہ ان کی زندگی کیسے گزرے گی، اور یہ کہ ایک دن وہ میدان کارزار میں اتریں گے1۔ مثلاً ان کے سوانح میں آتا ہے کہ اکیس سال کی عمر میں انھوں نے گھڑ سواری، تیر اندازی، شمشیر زنی اور تیراکی پر دسترس حاصل کر لی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی مسلسل تین دن تک دریا میں تیراکی کرتے رہتے، اور اس دوران میں دریا کے کنارے صرف اپنے طلبہ کو سبق پڑھانے اور کھانا کھانے کی غرض سے وقفہ کرتے تھے۔[53] انھوں نے تھکاوٹ کے آثار ظاہر کیے بغیر ایک ہی سانس میں (دس سے گیارہ میل) طویل مسافت پیدل طے کرنے کی مہارت بھی بہم پہنچا لی تھی۔ اور نیند پر قابو پانے میں ان کی ریاضت اتنی کامل تھی کہ وہ بغیر کسی تکلیف کے آٹھ سے دس دن تک جاگتے رہتے، اور جب کبھی ان کا جی چاہتا، سو لیتے یا جاگ جاتے تھے۔2

مشقت کی عادی جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے ذریعے سے شاہ اسماعیل نے خود کو نہ صرف مسلمان اہل علم اشرافیہ کی تن آسانی سے خود کو الگ رکھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کی مغل سیاسی اشرافیہ سے بھی خود کو ممتاز کیا جو ان کی نظر میں عیاش، بگڑی ہوئی اور ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی اور اخلاقی زوال کی ذمہ دار تھی۔ یہ ایک ایسی سوچ تھی جس نے بعد میں ان کی اصلاحی کاوشوں میں بنیادی حیثیت حاصل کی۔ شاہ اسماعیل کے سوانح نگاروں نے تمام جزئی تفصیلات کے ساتھ مغلوں کے سیاسی اشرافیہ کے خلاف ان کی للکار وتنقید کو پیش کیا ہے۔ ایک واقعہ حسب ذیل ہے:

شاہ اسماعیل کو شمشیر زنی سکھانے والے استاذ، جن کا نام مرزا رحمت اللہ بیگ تھا، دلی میں بہت سے مغل شہزادوں اور نواب زادوں کے استاذ کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ایک بار شاہ اسماعیل اس اکھاڑے میں شمشیر زنی کی مشق کر رہے تھے جہاں پر مرزا بیگ اپنے شاگردوں کو تربیت دیتے تھے کہ دو شہزادوں نے انھیں دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کہ ایک "ملا" سیاسی اشرافیہ کے ساتھ مخصوص فنون حرب کو سیکھنے کے لیے  خواہ مخواہ خود کو مشقت میں ڈالے ہوئے ہے۔ اپنی مشق پوری کرنے کے بعد شاہ اسماعیل ان دو شہزادوں کی طرف متوجہ ہو کر گویا ہوئے:

"میں ان کی اولاد میں سے ہوں جنھوں نے ایسی ہی حالت سے دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت کی اور اسلامی سلطنتیں قائم کر دیں، اور آپ ان کی اولاد میں سے ہیں  جنھوں نے آرام طلب فطرت کی بدولت میں مسلمانوں کی حاکمیت  کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہزادے نہ تھے۔ پانچ لاکھ عرب جو آپ کی ماتحتی میں کسریٰ وقیصر کی سلطنت میں کام کر رہے تھے، لال قلعہ کے رہنے والے اور شہزادے نہ تھے۔ جو کچھ انھوں نے کام کیا، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ، اور جو کچھ آپ کے بزرگوں کی آرام طلب روح نے کیا، وہ بھی زمانہ نہیں بھولا ہے"3۔

یہ فرد جرم سن کر دونوں شہزادے پشیماں ہوئے اور معذرت چاہی۔ تاہم شاہ اسماعیل نے انھیں شمشیر زنی کے مقابلے کی دعوت دی جسے انھوں نے کچھ پس وپیش کے بعد قبول کر لیا۔ پہلے ہی چند مرحلوں میں شاہ اسماعیل کی زبردست مہارت وتربیت کی دھاک بیٹھ گئی۔[54]  خود سر شہزادوں نے اعتراف کیا کہ اشرافیہ سے منسوب فنون حرب میں یہ "ملا زادہ"، جس پر انھوں نے پھبتی کسی تھی، ان سے زیادہ ماہر ہے۔ یہ کہانی شجاعت وبہادری کی ٹوپی کو شاہی اشرافیہ کے سر سے اتار کر شاہ اسماعیل کے سر پر رکھتی ہے۔ مزید برآں یہ بتاتی ہے کہ مغلوں کی "عیش پرستانہ عادات" ہی ان کے زوال کا باعث تھیں۔ اس طرح یہ واقعہ کہانی کے انداز میں شجاعت وبہادری اور جسمانی مضبوطی کو سیاسی طاقت اور مقبولِ عام حاکمیتِ اعلیٰ سے جوڑ دیتا ہے۔

دراصل مضبوط جسم کو پروان چڑھانے کے لیے شاہ اسماعیل نے مذہبی اشرافیہ میں رائج عادات واطوار سے تعلق منقطع کر لیا۔ اگرچہ شاہ اسماعیل کے خاندان کے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا نہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم ان کے والد اور چچا اکثر اس کی فوجی تربیت پر حیرت سے ہنستے تھے۔ اپنے خاندان کے ایک ایسے فرد کو دیکھ کر انھیں الجھن ہوتی تھی  جس کی طرز زندگی مولویانہ معاشرت سے نہ صرف بہت دور بلکہ اس کے برعکس تھی4۔

شاہ اسماعیل کے طبعی میلانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ اپنے خاندان کے ساتھ ان کے مضبوط علمی روابط تھے، تاہم سید احمد بریلوی (م 1831، اس کے بعد اس کتاب میں انھیں سید احمد5 کے نام سے پکارا جائے گا) ہی وہ شخصیت تھی جس نے اس کے اصلاحی کردار پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سید احمد برصغیر میں اسلام کے علمی اور سیاسی نقشے پر ایک دل چسپ شخصیت ہیں۔ اگرچہ انھوں نے قرآن وحدیث کی تعلیم شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبدالقادر سے حاصل کی تھی، پھر بھی وہ ایک روایتی عالم سے زیادہ ایک عسکری جنگ جو اور صوفی مُصلح تھے۔ تاہم سید احمد نے اپنے گرد اشرافیہ اور عوامی دونوں حلقوں کے پیروکار جمع کیے۔ شاہ اسماعیل کے علاوہ سید احمد کے بڑے مریدوں میں شاہ عبد العزیز کے داماد اور نامور حنفی عالم مولانا عبد الحی (م 1828) بھی شامل تھے۔ سید احمد کے ساتھ شاہ اسماعیل کی پہلی ملاقات 1819 میں ہوئی جب وہ ریاستِ ٹونک (جو آج راجستھان کے نام سے جانا جاتا ہے) سے واپس لوٹے۔ وہاں انھیں شاہ عبد العزیز نے بھیجا تھا تاکہ وہ امیر علی خان (م 1834) سے، جو بعد میں ٹونک کے نواب بنے، مکمل عسکری تربیت حاصل کریں۔ سید احمد سے ملاقات شاہ اسماعیل کی زندگی میں انقلاب کا نقطۂ آغاز ہے6۔

اس دور سے پہلے اپنی علمی پختگی کے باوجود شاہ اسماعیل اپنے اصلاحی مشن کے لیے کوئی مربوط ایجنڈا ترتیب نہیں دے سکے تھے۔ آزاد منش ہونے کی وجہ انھوں نے کوئی مستقل پیشہ بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ اس بات کو بیسوی صدی کے سوانح نگار اور شاہ اسماعیل کے پرجوش حامی غلام رسول مہر (م 1971) نے کچھ یوں بیان کیا ہے: [55] "طبیعت میں ایک گونہ بے پروائی سی پائی جاتی تھی"7۔ لیکن سید احمد سے ملاقات وبیعت کے بعد شاہ اسماعیل کی زندگی میں ایک غیرمعمولی انقلاب برپا ہوا۔ ان کی سابقہ بے پروائی اور بد نظمی دینی اصلاح کے ایک منظم پروگرام میں تبدیل ہو گئی۔

جو خصوصیت شاہ اسماعیل کو اپنے خاندان کے اکثر افراد سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے علم وتحقیق کے ساتھ بھرپور انداز میں عوامی سرگرمیوں میں بھی شرکت کی۔ شاہ اسماعیل نے دلی کے مشہور اور مرکزی جامع مسجد کے سب سے زیادہ عوامی منبر تک اپنے اصلاحی مشن کو مدلل انداز میں پہنچایا۔ وہاں بیٹھ کر انھوں توحید کی تائید اور بدعات ورسومات کی تردید میں شعلہ انگیز خطباتِ جمعہ دیے۔ ان خطبوں کی بیک وقت پرجوش تائید یا تردید ہوئی۔ بعض لوگوں نے ہندوستانی مسلمانوں میں راسخ اعتقادی خرابیوں کی تشخیص کرنے اور انھیں طشت از بام کرنے پر ان کی تعریف کی، جبکہ کچھ لوگوں نے طویل عرصے سے رائج رسم ورواج کی توہین اور اولیاے کرام پر تنقید سے پیدا ہونے والے معاشرتی انتشار کی بنا پر انھیں برا بھلا کہا۔ سچ یہ ہے کہ شاہ اسماعیل کے خطبوں نے ایسا غم وغصہ پیدا کر دیا تھا کہ ایک موقع پر ان کے مستقل حریف مولانا فضل حق خیر آبادی نے دلی کے انگریز حاکم کی عدالت میں شاہ اسماعیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ وہ شاہ اسماعیل کو جامع مسجد کے منبر پر تقریر سے روکے۔ یہ مقدمہ منظور ہوا اور شاہ اسماعیل کو اس بنیاد پر خطبہ دینے سے منع کر دیا گیا کہ اس سے امنِ عامہ متاثر ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پابندی اس وقت اٹھا لی گئی جب شاہ اسماعیل نے انگریز افسر کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے خطبات میں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس کا مقصد توحید کا احیا ہے۔

عوامی اصلاح

1820 میں مشہور پریسبٹیرین مُصلِح چارلس فِنی (Charles Finney) نیو یارک کے شمال میں "گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر قریہ قریہ" اپنے اصلاحی پروگرام کی تبلیغ میں مصروف تھے، کیوں کہ وہ "دوسرے عظیم احیا" کے سرخیل تھے8۔ ہزاروں میل دور شاہ اسماعیل بھی دلی میں اور بالآخر پورے ہندوستان اور اس سے باہر بھی عوام کے سامنے اپنا اصلاحی منصوبہ پیش کر چکے تھے۔ جامع مسجد جیسے نمایاں مقامات میں رسمی تقریروں کے ساتھ ساتھ  انھوں نے بازاروں اور گلیوں کوچوں جیسے عوامی مقامات میں پورے جوش وخروش سے اصلاحی مہم چلائی۔ [56] اپنے خاندان کے افراد کی جھنجھلاہٹ کے باوجود وہ دلی کے مشہور قحبہ خانوں تک گئے  تاکہ طوائفوں اور ان کے سرپرستوں کو اس "عذابِ الٰہی" سے ڈرائیں جو ان کی تاک میں ہے۔ مثلاً ایک شام نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد شاہ اسماعیل نے موتی نام کی ایک مشہور طوائف کے قحبہ خانے کا رخ کیا۔ اس قحبہ خانے میں شہر کے دولت مند ترین لوگ بکثرت آتے تھے۔ شاہ اسماعیل نے خود کو بھکاری ظاہر کیا تو انھیں اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ جوں ہی وہ داخل ہوئے، انھوں نے صحن میں رومال بچھایا اور اس پر بیٹھ گئے اور زور زور سے ثم رددناہ اسفل سافلین تک  سورۃ التین9 کی تلاوت کی۔ اس کے بعد مولانا نے اس قدر بلیغ اور مؤثر تقریر کی گویا جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کروا دیا۔

اس کا اثر یہ ہوا کہ موتی اور اس کے سرپرستوں نے قحبہ خانے میں موجود ڈھولک، ستار اور دیگر آلاتِ موسیقی توڑنا شروع کر دیے۔ اسی رات کو جب شاہ اسماعیل جامع مسجد واپس پہنچے تو ان کے تایا زاد اور مشہور محدّث مولانا محمد یعقوب دہلوی نے انھیں سیڑھیوں پر روک لیا۔ مولانا یعقوب نے قحبہ خانہ جانے پر ان کی سرزنش کی۔ انھوں نے کہا: "اسماعیل میاں! تمھارے دادا ایسے تھے اور تمھارے چچا ایسے تھے، اور تم ایسے خاندان سے ہو جس کے سلامی بادشاہ رہے ہیں، مگر تم نے اپنے آپ کو بہت ذلیل کر لیا۔ اتنی ذلت ٹھیک نہیں"۔ اس پر اسماعیل نے پوری خود اعتمادی سے کہا: "مجھے آپ کی کہی ہوئی بات پر حیرت ہوتی ہے۔ میں تو اس روز سمجھوں گا کہ آج میری عزت ہوئی ہے  جس روز دلی کے شہدے میرا منہ کالا کرکے اور گدھے پر سوار کرکے مجھے چاندنی چوک میں لے جائیں گے، اور میں یہ کہہ رہا  ہوں گا کہ قال اللہ کذا وقال رسول اللہ کذا (یعنی اللہ نے یہ فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا)10۔

نکاحِ بیوگان

شاہ اسماعیل نے جن بنیادی امور کی اصلاح کا جوش وجذبے کے ساتھ بیڑہ اٹھایا، ان میں ایک نکاح بیوگان تھا۔ ہندو بیواؤں کے عقدِ ثانی سے متعلق اپنی کتاب میں تانیثی (feminist) مؤرخ تانیکا سرکار نے ثابت کیا ہے [57] کہ انیسویں صدی کے وسط میں نکاحِ بیوگان کا موضوع انتہائی حساس اور اشتعال انگیز تھا جس سے متعدد اور عموماً مخالف فرقوں کے ہندو اہل علم اور کارکن نبرد آزما تھے۔ مزید برآں سرکار کی نظر میں نکاحِ بیوگان کی مخالفت نے کم از کم مذہبی اتحاد کی حد تک "نہ صرف بہت سی ہندو ذاتوں کو متحد کیا، بلکہ اس نے ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان خط امتیاز بھی کھینچ دیا"11۔ چند دہائیوں کی کش مکش اور بحث کے بعد بالآخر ہندؤوں کا اصلاحی مشن قانون کے میدان میں فتح یاب ہوا۔ 1856 میں استعماری ریاست نے ایک قانون (ایکٹ نمبر XV، جولائی 1856) پاس کیا جس نے "ہندو بیواؤں کے عقدِ ثانی کے خلاف سابقہ قانونی اور جبری بندش" کو منسوخ کر دیا۔ اس سے ستائیس سال قبل 1829 میں ایک اور قانون پاس ہوا تھا جس کے ذریعے ستی (ہندو بیوہ کا اپنے مردہ شوہر کی چتا میں زندہ جلا دیا جانا) کی رسم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ جیسا کہ سرکار نے تفصیل سے بیان کیا ہے: "ان کے درمیان ستی اور نکاحِ بیوگان (کی بندش) کو دو قوانین کے ذریعے جرم قرار دیا گیا جو کسی زمانے میں ایک مقدس رسمیں تھیں، اور جو طویل عرصے سے مذہب کی رو سے حیاتِ جاودانی کی ایک شکل سمجھی جاتی تھیں"12۔

انیسویں صدی میں برصغیر کے مذہبی، سیاسی اور قانونی دائروں میں نکاحِ بیوگان اور ستی کے الجھے ہوئے مسائل پر کافی عمدہ علمی تحقیقات سامنے آئی ہیں13۔ تاہم برصغیر سے متعلق تحقیقات کے میدان میں ان سوالات پر بحث ومباحثہ بنیادی طور پر انیسویں صدی کی ہندو فکر، کارکنوں اور استعماری ریاست کی بدلتی ترجیحات پر مرکوز ہوتا ہے۔ تاہم نکاح بیوگان کے حوالے سے یہ ناخوش گوار تنازعات صرف ہندؤوں اور ہندو مت میں پیدا نہیں ہوئے، بلکہ انیسویں صدی کے اوائل سے برصغیر کی مسلم اصلاحی فکر کے لیے بھی یہ ایک بنیادی مسئلہ تھا۔ متعدد ہندو روایات میں نکاحِ بیوگان سے ایک سماجی نفرت پائی جاتی ہے، تاہم اس مسئلے میں شاہ محمد اسماعیل جیسے مسلمان مصلحین کے لیے بھی دل چسپی کا کافی سامان تھا جن کی خواہش تھی کہ ہندوستانی اسلام کو "ہندو" اثرات سے پاک کیا جائے۔ جیسا کہ ہم آنے والے صفحات میں بیان کریں گے، جس طرح نکاح بیوگان کی مخالفت بہت سی ہندو ذاتوں کے لیے مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان خطِ امتیاز تھی، اسی طرح بہت سے مسلمان مصلحین کے لیے بھی نکاحِ بیوگان کی ممانعت کے خلاف جد وجہد  (ہندووں اور مسلمانوں میں) اہم خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتی تھی۔ یوں  انیسویں صدی میں نکاح بیوگان کے حق میں مسلم مصلحین کی مہم کا مفاد ایک طرف ان ہندو اصلاحی آوازوں کے ساتھ مشترک تھا جو ہندو بیواؤں کی عقد ثانی کی بندش کے مخالف تھے، اور دوسری طرف ان ہندو اہل علم کے ساتھ جو پورے جوش سے اس بندش کا دفاع کر رہے تھے۔[58]

اول الذکر کے ساتھ، مسلم مصلحین نکاح بیوگان کے خلاف بندش کو ہٹانے کے نظریاتی حکم پر متفق تھے، جبکہ موخر الذکر کے ساتھ شاہ اسماعیل جیسے مسلمان مصلحین اس نکتے پر   ایک پرجوش اعتقادی اور جذباتی اتفاق رکھتے تھے کہ ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان خط امتیاز اور واضح حدود برقرار رکھی جانی چاہییں۔ ازدواجیت اور جنسیت کے انتہائی قریب لیکن متلون دائرے بطور خاص ایسا زرخیز میدان تھے جن میں یہ حدود نمایاں کیے گئے، ان پر بحث ہوئی، اور ان کی تحدید کی گئی۔ ذیل میں میری کوشش ہے کہ اس مناقشے میں مسلمان مصلحین کے کردار کے اہم اجزا کو زیر غور لا کر اس بحث کا ایک نقشہ پیش کروں۔ مقصد کے لیے میں اس مسئلے میں شاہ اسماعیل کے بنیادی کردار کا ایک بیانیہ (narrative) خاکہ پیش کروں گا۔

نکاح بیوگان کا موضوع شاہ اسماعیل کے لیے بہت ذاتی نوعیت کا تھا۔ ان کی بڑی ہمشیرہ بیوہ تھیں جن کا کئی سال تک عقد ثانی نہیں ہوا تھا۔ بعد میں شاہ اسماعیل نے خود اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس وقت شمالی ہندوستان میں نکاح بیوگان سے متعلق بندش کو ایک لحاظ سے معمول سمجھ کر قبول کیا تھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں یہ واقعہ کچھ یوں ہے: "جب میں اپنی ہمشیرہ کو (محمد تبریزی، م 1340 کی) حدیث کی کتاب مشکاۃ پڑھایا کرتا تو میں ارادی طور نکاح بیوگان کے فضائل سے متعلق احادیث کو چھوڑ دیتا۔ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ عقد ثانی کی خواہش نہ کر بیٹھے"14۔ جب شاہ اسماعیل سید احمد سے بیعت ہوئے تو یہ قابل اعتراض رویہ ایک دم بدل گیا۔

شاہ اسماعیل کے مطابق سید احمد ہی وہ شخصیت تھے جنھوں نے اس "حقیقت" کے بارے میں ان کی آنکھیں کھولیں کہ نکاح بیوگان کو برا سمجھنا دراصل "ایک ہندو رسم ہے جو سنت نبوی کے خلاف ہے"۔ بعد ازاں شاہ اسماعیل نے اپنی ہمشیرہ کا عقد ثانی اپنے ایک قریبی دوست سے کیا۔ اس عقد ثانی کا قصہ دل چسپی سے خالی نہیں۔

ایک دن شاہ اسماعیل جامع مسجد میں نکاح بیوگان کے موضوع پر وعظ کہہ رہے تھے۔ مجمع میں بیٹھے ایک شخص نے سوال پوچھنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ اسماعیل کو فورًا محسوس ہوا کہ یہ آدمی ان کی اپنی بیوہ ہمشیرہ، جس کا تاحال عقد ثانی نہیں ہوا، کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے15۔ وہ بڑے پریشان ہوا اور پیشگی اقدام کے طور پر مجمع کو فوراً‌ برخاست کرکے یہ کہا: "مجھے ایک اہم بات یاد آگئی۔ چلیں اگلے ہفتے پھر ملتے ہیں"۔ شاہ اسماعیل مسجد سے جلدی سے نکلے اور بھاگتے ہوئے اپنی بڑی ہمشیرہ کے گھر گئے۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، شاہ اسماعیل اس کے پاؤں میں گر گئے اور زار وقطار روتے ہوئے کہنے لگے: "اے بہن! میری ساری تگ ودو آپ کے ہاتھوں میں ہے، میرے وعظ کی تاثیر کا انحصار آپ پر ہے"۔ مکمل حیرت کے عالم میں اس نے پوچھا: [59] "آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟" شاہ اسماعیل نے جواب میں کہا: "اگر تم شادی کر لو تو ایک اہم سنتِ نبوی کو زندہ کرنے میں میری مدد ہو جائے گی اور میں بغیر کسی جھجھک کے اپنا سلسلہ وعظ جاری رکھ سکوں گا"۔ بہن نے جواب میں کہا: "میرے پیارے بھائی! مجھے بھی سنت نبوی کا احیا اتنا ہی عزیز ہے، لیکن میں اتنی بوڑھی اور بیمار ہوں کہ عقد ثانی کر نہیں سکتی"۔ لیکن جب اسماعیل نے اپنا اصرار جاری رکھا تو آخر کار اس نے اپنے بھائی کی بات مان لی۔ ان کا نکاح شاہ اسماعیل کے ایک قریبی دوست کے ساتھ کر دیا گیا۔16

اس شخصی کام یابی سے حوصلہ پاتے ہوئے شاہ اسماعیل نے بڑے پیمانے پر شمالی ہندوستان کی مسلمان بیواوں کے عقد ثانی کی تحریک شروع کی۔ اس کام کے لیے انھیں معاونین کی ایک فوج ظفر موج دست یاب ہوئی جو قریہ قریہ جا کر عقد ثانی کے قابل بیوہ مسلمان خواتین کو ڈھونڈتے تھے۔ ایک شخص مولوی عبد الرحیم صاحب نکاح بیوگان کے سلسلے میں اتنے سرگرم تھے کہ وہ "رانڈوں کی شادی والے ملا" کے لقب سے مشہور ہو گئے17۔

شاہ اسماعیل کی اصلاحی بیداری پر سید احمد کے نقوش واثرات ان مٹ ہیں، اگر چہ علمی اعتبار سے شاہ اسماعیل ان سے زیادہ کامل اور پڑھے لکھے تھے۔ ایک خاص جذباتی موقع پر کسی نے شاہ اسماعیل سے پوچھا: "آپ کے تایا شاہ عبد العزیز اور شاہ عبد القادر دونوں آپ کو بے حد چاہتے ہیں، اور سید احمد ان کے شاگردوں میں ہیں۔ پھر آپ اپنے تایاؤں کے مقابلے میں ان سے اتنے قریب کیوں ہیں؟" شاہ اسماعیل نے  اختصار کے ساتھ جواب دیا: "میں بس اتنا کہوں گا کہ جب میں اپنی (بیوہ) ہمشیرہ کو حدیث کی کتاب مشکاۃ پڑھایا کرتا تو میں قصداً نکاح بیوگان کی فضیلت میں وارد احادیث کو چھوڑ دیتا، اس خدشے کی بنا پر کہ وہ عقد ثانی کی خواہش نہ کر بیٹھے۔ لیکن جب سید احمد کے ساتھ میرا تعلق مضبوط ہوا تو میں نے خود اس کا عقد ثانی کرا دیا۔ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں ان کے اتنے قریب کیوں ہوں!"18

درج بالا واقعے کا ایک دل چسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلے سے نہ صرف عام مسلمانوں بلکہ مسلمان علما کے درمیان بھی "ہندوانہ رسومات" کی جڑوں کی گہرائی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسماعیل کا اپنی ہمشیرہ کو درس حدیث دینے کے وقت نکاح بیوگان سے متعلق احادیث نبویہ کو چھوڑ دینے کا اعتراف بہت اہم ہے، کیوں کہ اس سے نکاح بیوگان کو رائج کرنے کے لیے ان کے مشن کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مقصد دوسروں کی اصلاح سے زیادہ اپنی اصلاح تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں میں رائج نکاح بیوگان کی بندش کو ہٹانے کی خواہش اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ رسوم ایک ایسے ہندوستانی ماحول میں پیچ درپیچ پیوست ہونے کی وجہ سے خاموش طور پر قبول کیے گئے تھے جس میں "ہندوؤں" اور "مسلمانوں" کی مذہبی وابستگیوں کے درمیان امتیاز اس قدر واضح نہیں تھا۔ [60] اگر چہ ہندو اور مسلمان مصلحین اپنی کوششوں کے تناظر اور مقاصد کے حوالے سے ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف تھے، تاہم یہ کہنا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ وہ نہ صرف نکاح بیوگان کی تائید میں بلکہ نکاح بیوگان کی بندش کو مذہبی تعلیمات کی مخالفت پر مبنی ایک غلط رسم قرار دینے میں بھی ایک دوسرے سے متفق ہیں- ایک ایسی جد وجہد جو تعبیر وتشریح کے اصولوں کے اعتبار سے مسلمانوں کے بجاے ہندؤوں کے لیے نسبتاً زیادہ بڑا چیلنج تھا۔ دونوں کا یہ نقطۂ نظر بھی ایک جیسا تھا کہ ایک بیوہ خاتون ہمیشہ جنسی آوارگی اور بداخلاقی کا بآسانی شکار ہو سکتی ہے، اگر اسے رشتۂ ازدواج کے اخلاقی بندھن میں نہ باندھا جائے19۔  

یہ نکتہ غور طلب ہے کہ کہیں شاہ اسماعیل اور ان کے رفقاے کار نے اس صورت حال کے پیدا کرنے میں کوئی کردار تو ادا نہیں کیا جس کی بنیاد پر استعماری ریاست نے ہندو بیواؤں کے عقد ثانی کی قانونی اجازت فراہم کی۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی اس امکان کو کیسے دیکھتا ہے، جس طرح کہ گزشتہ بحث سے معلوم ہوتا ہے، یہ مفید ہوگا کہ روایتی طور پر "ہندو مذہب" یا ہندو کرداروں کے اصلاحی اقدامات میں برصغیر کے مسلمان مصلحین کے مداخلتی کردار کو کم از کم زیرِ غور ضرور لایا جائے۔ ان بالعموم نظر انداز شدہ نکات اتفاق کی نشان دہی اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے  اصلاح پسندوں کی  اس خوش گمانی  کا پردہ چاک کیا جا سکتا ہے کہ مذہبی شناخت میں امتیاز اور اختلاف  کی کچھ   ہمیشہ سے چلی آنے والی اور بہت ہی واضح حدود ہوتی ہیں  (جن کے تحت کسی مذہبی روایت میں اصلاح کا عمل انجام دیا جاتا ہے)۔

غیر الوہی کرشماتی طاقت کی تسخیر

ایک اور  دلچسپ واقعہ جس سے اسماعیل کی اصلاحی کاوشوں کی بنیاد میں کارفرما  متعلق مختلف قسم کی تنقیدات یکجا سامنے آتی ہیں،  ایک خلوت پسند لیکن مسحور کن صوفی پیر جلال شاہ کے ساتھ ان کی ملاقات ہے20۔  اسماعیل ایسے کئی مشہور اجتماعات وتقریبات میں از خود شریک ہوتے تھے جو صاحب کرامت صوفیا کی غیرمعمولی روحانی صلاحیتوں کا اظہار ہوتے، اور جس میں عام لوگوں اور شاہی خاندان کے افراد کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی تھی۔ اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے وہ ایسے مقامات پر فوجی وردی میں جاتے تھے۔ شاہ جلال کی عمر 38 سال تھی، اور وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل اور صاحب کشف وکرامت تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ کسی پر ایک نظر ڈالنے سے اسے اپنی مرضی کا تابع بنا سکتے ہیں۔ روحانی کشش کے ساتھ ساتھ شاہ جلال حیرت انگیز طور پر وجیہ تھے۔ وہ ہر سال ماہِ ربیع الاول میں میلاد النبی کے پہلے بارہ دنوں میں دہلی میں قدم شریف کی درگاہ پر روحانی اجتماعات کا انعقاد کیا کرتے تھے۔

ان اجتماعات میں شاہ جلال کے ساتھ سفر کرنے والے مصاحبین کے علاوہ  مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے فقرا، تاجر برادری اور اشرافیہ کے تقریباً دو سو لوگ شریک ہوتے۔ اگر چہ شاہ ایک صوفی تھے، لیکن ان کا طرز  زندگی پر تعیش تھا۔ ان کے ہاں ایرانی قالینوں اور زیورات جیسے سامانِ عیش کی فراوانی تھی۔ اس ٹھاٹھ باٹھ اور پرتعیش زندگی کے باوجود شاہ کی یہ بات قابل تعریف تھی کہ وہ غریبوں پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے، اور ان میں پاک بازی کی علامات جھلکتی تھیں، ایسے جیسے اصلاح اور غفلت سے بیداری  کا  موقع ملنے کے منتظر ہوں۔ اپنے مصلح سے ان کی ملاقات بہت جلد ہونے والی تھی  جب  چھ ربیع الاول کی رات کو شاہ اسماعیل نے شاہ جلال کے مشہور اجتماع میں شرکت کی۔ وہ قدم شریف میں تقریباً رات کے دس بجے داخل ہوئے جب روحانی محفل عروج پر تھی۔ شاوہ اسماعیل کو حیرت ہوئی جب شاہ جلال نے انھیں اپنے پاس بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا۔ کچھ لمحوں کے لیے شاہ اسماعیل کو اجتماع کی سرگرمیوں میں کوئی قابل اعتراض بات معلوم نہ ہوئی21۔

تاہم یہ اطمینان اس وقت ختم ہو گیا جب تبرُّکاتِ نبوی کو لایا گیا۔ جلال شاہ اور دوسرے تمام لوگ سراپا احترام بن کر کھڑے ہو گئے۔ شاہ اسماعیل چپکے  سے وہاں سے پیچھے ہٹ گئے تاکہ ایسی رسم کو بجا لانے سے احتراز کریں جس کی وہ پرزور انداز میں تردید کرتے تھے۔ اگر چہ کسی اور کو پتا نہیں چلا، لیکن شاہ جلال نے یہ بات نوٹ کی۔ تاہم انھوں نے کچھ نہ کہا، نہ ہی ناگواری یا ناراضگی کا کوئی تاثر ظاہر کیا۔ جب محفل دوبارہ جمی تو شاہ جلال نے دوبارہ شاہ اسماعیل کو اپنے پہلو میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ کچھ دیر کے لیے وہ دونوں کچھ نہ بولے۔ قدم شریف پر ایک پرشکوہ سکوت طاری تھا۔ آخر کار جلال شاہ نے مہر سکوت توڑی اور آہستہ لیکن قابل سماعت آواز میں اسماعیل سے گویا ہوئے: "کیا آپ دہلی سے ہیں"؟ شاہ اسماعیل نے اثبات میں جواب دیا تو جلال شاہ نے کہا: "ہر سال ہم آپ کی وجہ سے دہلی آ جاتے ہیں تاکہ آپ جیسے اہل دہلی کی نیک صحبت سے فیض یاب ہوں"22۔ جب وہ کچھ مزید بے تکلف ہو گئے تو شاہ اسماعیل کی خوش کلامی اور ان کی حکیمانہ گفتگو کا شاہ جلال پر اس قدر اثر ہوا کہ انھوں نے فورًا محفل برخواست کر دی، اور اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ سب کچھ لپیٹ کر وہاں سے چلے جائیں۔ جو دوسروں کو مسحور کرتا تھا، وہ خود شاہ اسماعیل کے سحر میں گرفتار ہو گیا۔ جلد ہی اسماعیل اور شاہ دونوں تنہا رہ گئے۔ اگر چہ روحانی محفل  جس میں ایک بھاری مجمع شریک تھا، قبل از وقت اختتام کو پہنچ گئی، تاہم اسماعیل کے اصلاحی کردار کی ابتدا ہوا چاہتی تھی۔

اس سے پہلے کہ شاہ اسماعیل اپنا جادو چلاتے، شاہ جلال نے کہا: "کیا آپ شاہ اسماعیل نہیں ہیں؟" اس نے ایک ایسے پراعتماد طالب علم کے انداز میں سوال کیا جس نے ابھی اپنا امتحان پاس کیا ہو۔23 پہلے شاہ اسماعیل تھوڑا ہچکچائے لیکن شاہ جلال کے اصرار پر انھوں نے آخر کار اپنی شناخت کی تصدیق کر دی۔ انھیں اس بات پر حیرت تھی کہ شاہ جلال کو کیسے پتا چلا کہ وہ کون ہیں۔ شاہ جلال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے مخالفین نے آپ کی تصویریں اور حلیے لکھ لکھ کے بھیجی ہیں  اور استدعا کی ہے کہ میں اپنے روحانی تصرف کو بروے کار لاتے ہوئے آپ پر قابو پا کر قتل کر دوں۔ لیکن شاہ جلال نے شاہ اسماعیل کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بغیر کسی وجہ کے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔24

اس کے بعد شاہ اسماعیل نے انھیں ایک شخصی اور فی البدیہہ تقریر کے ذریعے وعظ ونصیحت کی۔ انھوں نے ان غلطیوں سے پردہ اٹھایا جن میں شاہ جلال مبتلا تھے، اور جس نے ان کے پیروکاروں اور مریدوں کو غلط رستے پر ڈال دیا تھا۔ شاہ اسماعیل کی زبان سے قرآن وحدیث کا منشا غور سے سننے کے بعد شاہ جلال کانپ اٹھے۔ انھوں نے لجاجت بھری آواز میں کہا: "آپ کا ارشاد بجا ہے۔ حقیقت میں اب تک میں نے جو کچھ ثواب جان کر کیا ہے وہ سب اسلام کے خلاف ہیں۔ میں نے قبور کی زیارت کے لیے سفر کیے، مزارات پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور اس جیسے جو کام کیے، وہ سب درحقیقت شرک وبدعت ہیں۔ میں اپنے کیے گئے گناہوں کا جواب تو خدا کو دوں گا ہی، لیکن ان لوگوں کے جواب کا کیا کروں گا جو میری وجہ سے بہکاوے میں آ گئے"۔ یہ کہتے ہی وہ بلک بلک کر رونے لگے۔25 شاہ  اسماعیل نے انھیں تسلی دی اور انھیں خدا سے فوراً معافی مانگنے کی تلقین کی۔ یہ رات دو بجے کا وقت تھا۔ دہلی میں ہو کا عالم تھا اور سوائے کوتوال کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

شاہ اسماعیل اور جلال شاہ نے آنکھیں بند کرکے پورے دل سے خدا کے حضور شاہ جلال کی توبہ کی قبولیت اور مغفرت کے لیے گڑگڑا کر دعا  کی۔ ان کی دعا کی قبولیت اس طرح ہوئی کہ ایک گرجتی ہوئی لیکن تسکین بخش آواز آسمان سے سنائی دی: "اے جلال! ہم نے تیرے گناہ معاف کیے، اور آج سے تو ہمارے دوستوں میں سے ہے۔" یہ سنتے ہی شاہ جلال اور شاہ اسماعیل دونوں بے ہوش ہو گئے۔ گھنٹہ بھر بے ہوش رہنے کے بعد جب شاہ جلال اٹھے تو "انھوں نے اپنا دل ربانی جلووں سے معمور پایا"26۔ وہ بدعت سے سنت کی طرف آ گئے، اور اسلام کے سچے پیروکاروں کے قافلے میں شامل ہو گئے۔  

اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد شاہ اسماعیل کے سوانح نگار مرزا حیرت دہلوی ایک دل چسپ حاشیہ چڑھاتے ہیں جس کا نشانہ واضح طور پر معقولات کے ساتھ اشتغال رکھنے والا خیرآبادی مکتب فکر ہے: "یوں آسمانی آواز کا آنا ایک فلسفی کے دماغ کو خلجان میں مبتلا کرے گا، مگر جب وہ دل اور قوتِ یقین کی پرزور حالت کو دیکھے گا تو اسے اس بات میں کوئی شک نہیں ہوگا کہ دل میں خدا کی آواز سننے کی صلاحیت ہے، جب وہ دنیوی تعلقات سے پاک وصاف ہو جائے"27۔

مرزا حیرت کے نزدیک جلال شاہ اپنے دل کی پاکیزگی کی وجہ سے خدائی آواز سننے کے قابل ہوئے۔ جو کوئی اس جیسے واقعے کو بے بنیاد سمجھتا ہے، وہ دل اور خدا کے درمیان قریب تعلق کو نہ سمجھ سکتا ہے نہ اس کی قدر کر سکتا ہے۔ ہر اصلاح شدہ پاک باز شخص کے دل کی آواز خدا کی آواز ہے۔ جلال شاہ کے انقلابِ حال کی کہانی شاہ اسماعیل کے اصلاحی منصوبے کے تمام مرکزی موضوعات کو سامنے لاتی ہے: پیری اور ولایت کی غیرشرعی اساسات پر تنقید، ایسی رسموں کا انکار جو اسی پیری اور ولایت سے جنم لیتی ہیں، اور ان دو بنیادی ذرائع سے جڑے اشرافی طرزِ حیات کی تردید۔ جلال شاہ کے انقلابِ حال کی اس عجیب حکایت میں برصغیر میں انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے اس تصور اور خواہش کو واضح طور پر پیش کیا گیا ہے جو صرف اور صرف خدا کی مطلق اور امتیازی حاکمیتِ اعلیٰ (خالص توحید) کے قیام کا خواہاں ہے۔


حواشی

  1. مرزا حیرت دہلوی، حیاتِ طیبہ (لاہور: اسلامی اکیڈمی ناشران کتب، 1984)، 41-51۔
  2. ایضاً، 47۔
  3. ایضاً، 44۔ یہ پیراگراف براہ راست اردو متن سے لیا گیا۔ مترجم
  4. ایضاً، 43۔
  5. کسی ابہام سے بچنے کے لیے میں اگلے صفحات میں ان کے نام کا 'بریلوی' لاحقہ ذکر کرنے کے بجاے سید احمد استعمال کروں گا۔
  6. سید احمد کی علمی اور سیاسی زندگی کے ایک عمدہ مطالعے کے لیے دیکھیے: جرنل آف رائل ایشیاٹک سوسائٹی 21، نمبر 2، (اپریل 2011): 98-177 میں ثنا ہارون کا آرٹیکل بعنوان: Reformism and Orthodox Practice in Early Nineteenth-Century Muslim North India: Sayyed Ahmad Shaheed Reconsidered پڑھیں۔ اس آرٹیکل میں ثنا ہارون ہمیں بتاتی ہیں کہ ٹونک میں عسکری تربیت حاصل کرنے کے دوران سید احمد ایک صوفی شیخ کی حیثیت سے شہرت حاصل کر چکے تھے، جن سے لوگوں اور بسا اوقات جانوروں کی مادی وروحانی فوائد کی خاطر کرامات کا ظہور ہوتا تھا، اور وہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی بھی کرتے تھے۔ مثال کے طور پر: "وہ بیمار لوگوں پر ہاتھ پھیر تے اور دعائیں پڑھ کر پانی پر دم کرتے، پھر اسے مریضوں کو پلاتے جس سے وہ شفایاب ہو جاتے۔ ان کے دم سے ایک ایک نابینا آدمی دوبارہ بینا ہو گیا، ایک بیمار بیل دوبارہ ریڑھی کھینچنے کے قابل ہو گیا، اور ایک سوکھی گائے دوبارہ دودھ دینے لگی (182)۔
  7. غلام رسول مہر، تقویۃ الایمان کا مقدمہ (کراچی: صدیقی ٹرسٹ، تاریخ اشاعت ندارد)، 37۔
  8. چارلس ہیمبرک-سٹوو، Charles Finney and the Spirit of American Evangelicalism (گرینڈ ریپڈز، ایم آئی: ولیم بی ایرڈمینز، 1996) 37۔
  9. انگریزی متن میں سورۃ التوبۃ ہے، جو درست نہیں، مترجم۔ اشرف علی تھانوی، ارواحِ ثلاثہ (کراچی: دارالاشاعت، 2001)، 56-58۔ چاندنی چوک پرانی دہلی میں قدیم ترین اور مصروف ترین تجارتی بازاروں میں سے ہیں، جو آج تک دہلی کے شمال مرکز میں واقع ہے۔ اسے اصل میں سترھویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہان نے تعمیر کیا تھا، اور اس کا نقشہ اس کی بیٹی جہان آرا (م 1681) نے بنایا تھا۔
  10. تانیکا سرکار، Rebels, Wives, Saints: Designing Selves and Nations in Colonial Times (لندن: سیگل بکس، 2009)، 122۔
  11. ایضاً، 121۔
  12. ایضاً، 68۔  
  13. مثلاً سرکار، Rebels, Wives, Saints: Designing Selves and Nations in Colonial Times (لندن: سیگل بکس، 2009)؛ تانیکا سرکار، Hindu Wife, Hindu Nation: Community, Relgion, and Cultural Nationalism (بلومنگٹن: انڈیانا یونیورسٹی پریس، 2001)؛ لتا مانی، Contentious Traditions: The Debated on Sati in Colonial India (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 1998)؛ اشیس نندی، The Savage Freud and Other Essays on Possible and Retrievable Selves (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1995)۔
  14. تھانوی، ارواح ثلاثہ، 71۔
  15. اسماعیل کی ہم شیرہ (جس کا نام نہیں بتایا گیا) پہلے ان کے تایا زاد مولوی عبد الرحمان (شاہ رفیع الدین کے صاحب زادے) سے بیاہی گئی تھی، جو شادی کے چند دن بعد وفات پا گئے تھے۔
  16. تھانوی، اَرواح ثلاثہ، 68-78۔
  17. دل چسپ بات یہ ہے کہ دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کے سوانح نگار مولانا مناظر احسن گیلانی کے مطابق چند دہائی بعد بعینہ یہی سلسلۂ واقعات نانوتوی صاحب کے ساتھ پیش آیا۔ واضح طور پر یہ مولانا گیلانی کی کوشش معلوم ہوتی ہے کہ بیانیے کے انداز میں شاہ اسماعیل اور مولانا نانوتوی (بلکہ اس کو دیوبندی تحریک تک وسعت دے کر) کے اصلاحی پروگراموں کو ملائیں۔ مناظر احسن گیلانی، سوانح قاسمی، جلد 2 (لاہور: مکتبہ رحمانیہ، 1976)، 10۔
  18. تھانوی، ارواحِ ثلاثہ، 71۔
  19. تانیکا سرکار کے مطابق: "اصلاح پسندوں نے قدامت پرستوں کا نکاح بیوگان کو مکمل غیر اخلاقی قرار دینے کے دعوے کے مقابلے میں یہ جواب دعوی پیش کیا کہ نکاح بیوگان کی عدم موجودگی اخلاق باختگی اور گناہ کا سبب ہے"۔ (Rebels, Wives, Saints, 144)
  20. مرزا دہلوی، حیاتِ طیبہ، 135-148۔
  21. ایضاً۔
  22. ایضاً، 140۔
  23. ایضا، 141
  24. ایضاً، 141-42۔
  25. ایضاً، 144-45۔
  26. ایضاً، 146۔
  27. ایضاً، 147۔


الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع

مولانا محمد اسامہ قاسم

علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ حضور تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں ایک مقصد تزکیہ نفس بھی ہے ۔ امت مسلمہ کی رہنمائی اور اصلاح معاشرہ کے لیے علماء کرام اور مشائخ عظام مساجد ،مدارس اور خانقاہوں میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ اللہ کے ولیوں کی محافل، مشائخ عظام کی مجالس اور علماء کرام کے اصلاحی بیانات دلی کیفیات کو درست اور ایمانی جذبات کو قوت دیتے ہیں۔

اس مقصد کی تکمیل اور اکابرین کی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے ہر سال الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام علامہ زاہد الراشدی کی سرپرستی میں امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ علیہ کے مریدین ، متعلقین اور متوسلین کے لیےسالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد ہوتے ہیں۔

اس سال یہ دینی فکری اصلاحی نقشبندی اجتماع 14 مارچ بروز سوموار الشریعہ اکادمی کے  کیپمس مدرسہ طیبہ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ اس مبارک روحانی اجتماع میں حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب ،حضرت مولانا اشرف علی، حضرت مولانا عبد القدوس قارن ،مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا عبد الواحد رسولنگری، مولانا عزیز الرحمن شاہد، مولانا جمیل الرحمٰن اختر، مولانا فضل الہادی اور مولانا عمر حیات صاحب نے شرکت کی، جبکہ نعت خوان حضرات میں سے سید سلمان گیلانی ،حافظ فیصل بلال حسان، یحییٰ زکریا اور قاری ارشد محمود صفدر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ علماء اور دینی کارکنوں کو  اجتماع کی اطلاع اور دعوت پہنچانے میں  مولانا حافظ سمیع الحق   نے خصوصی محنت کی اور    ان کی دعوت اور رابطے پر بڑی تعداد میں   احباب پروگرام میں شریک ہوئے۔

قاری احمد شہباز کی پرسوز تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ حافظ یحییٰ بن زکریا، ثناخوان مصطفی حافظ محمد عاصم اور حافظ فیصل بلال حسان نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔

نعتیہ کلام کے بعد پہلا بیان جامعہ محمودیہ سرگودھا کے مہتمم حضرت مولانا اشرف علی صاحب کا ہوا۔ مولانااشرف علی صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز مدح ربانی اور درود و سلام کے فضائل و احکام سے کیا اور اصلاح قلب، دینی مدارس اور خانقاہوں کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی ۔ فرمایا کہ ہمارے پاس مسجد اور مدرسے کی نسبت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، ہم خوش نصیب ہیں کہ دین سیکھنے اور سکھانے والوں میں شمار ہوتے ہیں ۔  حضرت لاہوری علیہ الرحمہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہوتا ہے رنگ فروش اور ایک ہوتا ہے رنگ ساز۔ رنگ فروش رنگ بیچتا ہے لیکن رنگ ساز رنگ چڑھاتا ہے۔ مدارس اور خانقاہوں میں ادب واخلاق کا رنگ چڑھایا جاتا ہے۔ اہل دل علماء کی صحبت سے دل روشن اور منور ہوتا ہے اکابرین کی صحبت اور معیت غنیمت ہے۔

مولانا اشرف علی کے بعد مولانا عبد الواحد رسولنگری صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جہاں بزرگ اکابرین موجود ہوں، وہاں اللہ ربّ العزت کی طرف سے انتہائی سکون اور راحت کا سامان ہوتا ہے۔ اللہ والوں سے رشتے ناتے توڑکر لوگ سمجھتے تھے کہ ہم ان کے بغیرکہیں کامیابی،کامرانی اورخوشحالی کی منازل آسانی کے ساتھ طے کرلیں گے مگرحالات اورواقعات نے یہ ثابت کردیاہے کہ یہ سراسر بھول،نادانی اورخام خیالی ہے۔ہمارے پاس آج دنیاکی ہرنعمت اورسہولت موجودہے لیکن اس کے باوجودہماری زندگیوں میں چین ہے اورنہ سکون۔ اس کے مقابلے میں اگر اللہ کے دوستوں کی چند لمحوں کے لیے قربت اورصحبت اختیارکرلی جائے توپھر ہمارے جیسے گنہگاربھی لمحوں میں دنیا جہان کے سارے غم بھول جاتے ہیں۔

 شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی صاحب نے بھرپور انداز میں خوبصورت نئے کلام پڑھ کر محفل کو بارونق بنا یا۔

 خطیب اسلام مولانا شاہ نواز فاروقی نے اصحاب رسول کی عظمت و رفعت اور منقبت پر گفتگو کی ، جبکہ مولانا مفتی طاہر مسعود صاحب نے اپنی گفتگو میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے حوالے سے بتایا کہ اس سلسلے کی نسبت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف ہے۔ یہ روحانی سلسلہ حضور صلَّی اللہ علیہ وسلم کے مبارک سینے سے نکلا ہوا مبارک سلسلہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دلوں کی صفائی اور تزکیہ نفس کے لیے یہ اجتماع رکھا گیا ہے ۔ یہ دل دو طرح سے صاف ہو سکتا ہے۔  ذکر اللہ کی کثرت اور اہل اللہ کی صحبت و معیت سے دلی کیفیات میں نکھار اور ایمانی جذبات میں قوت آتی ہے۔

مفتی طاہر مسعود صاحب کے بیان کے بعد نماز عصر مولانا عزیز الرحمن شاہد صاحب کی امامت میں ادا کی گئی۔ نماز کے بعد حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب نے ختم خواجگان کے ساتھ دعا فرمائی۔ اس کے بعد بیعت کا اعلان ہوا اور کثیر تعداد میں مریدین و معتقدین نے حضرت کے ہاتھ پر بیعت کی۔

ولی کامل نمونہ اسلاف حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی ؒکی رحلت

مولانا ڈاکٹر غازی عبد الرحمن قاسمی

 اس فانی اورعارضی دنیا میں روز ازل سے آمد وروانگی کے سلسلے جاری ہیں ہرچیز اپنی طے شدہ عمر کی ساعتیں گزار کربالآخر فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے او ر ہر ذی روح نے موت کا جام لازمی پینا ہے جس سے کسی کو استثنی نہیں۔جوبھی اس دنیا میں آیا وہ جانے کے لیے ہی آیاہے۔ یہ قانون فطرت ہے جس سے کسی ذی روح کو مفر نہیں اور نہ اس کا کوئی منکر ہوسکتاہے  البتہ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی جدائی اورفراق کودل جلدی تسلیم نہیں کرتا اور نہ ان کی وفات کا غم بھولتا ہے۔ انہی میں سے ایک شخصیت میرے والد ماجد ،حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی ؒ کی ہے۔

آپ ؒ کی ولادت ۸ ربیع الاول 1357ھ مطابق 1937ءکو عارف باللہ حضرت مولانا فضل محمد ؒ کے گھر ہوئی۔ چار سال کی عمر میں قرآن مجید کاپہلا سبق اپنے والد محترم حضرت مولانا فضل محمد ؒ سے پڑھا (جو دارالعلوم دیو بند ہندوستان کے فاضل تھے اورانہوں نے بخاری شریف شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ سے پڑھی تھی اور اس وقت دارلعلوم دیوبند کی مسند تدریس پر فائز دیگر اکابرین علماء سے بھی کسب فیض کیا تھا۔) حضرت مولانا منظور احمد نعمانی ؒ(مدیر الفرقان، ہندوستان) فقیروالی تشریف لائے توحضرت والد صاحب ؒ کو ان سے ابتدائی سبق پڑھنے کااعزاز حاصل ہوا۔

1947ء میں اپنے والد محتر م حضرت مولانافضل محمد ؒ کے ہمراہ دیو بند کا سفر کیا اور 10 دن حضرت شیخ الاسلام سیدحسین احمد مدنی ؒ کے مہمان رہے ۔

1955ء میں آپ نے دورہ حدیث جامعہ قاسم العلوم فقیرولی میں مکمل کیا اوربخاری شریف حضرت مولانامفتی فاروق احمد انصاری ؒ سے پڑھی جو حضرت مولانا خلیل احمد انبیٹھوی سہارنپوری ؒ صاحب بذل المجہود کے شاگردتھے۔ حضرت مولانا مفتی فاروق احمد انصاری ؒ فرماتے تھے کہ میں نے بچپن میں اپنے والدمکرم مولانا صدیق احمد ؒ کے ہمراہ قطب الاقطاب امام اکبر حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ کی زیارت کی تھی ۔چنانچہ اس لحاظ سے بھی حضرت والد صاحب کی علمی سند اورنسبت بڑی بلندپایہ ہوئی ۔

اسی طرح آپ کے ایک اوراستاد حضرت مولانا مفتی فقیراللہ رائے پوری ؒ اسیر مالٹاشیخ الھند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کے براہ راست شاگرد تھے جس وقت وہ جامعہ قاسم العلو م فقیروالی پڑھانے تشریف لائے، وہ نا بینا ہوچکے تھے ۔اور آپ جامعہ رشید یہ ساہیوال کے بانی وسابقہ مہتمم د حضرت مولانا حبیب اللہ ؒ کے والد ہیں۔اس کے علاوہ آپ کے اوردیگر اساتذہ کی ایک طویل فہرست ہے جس کی تفصیل کا یہ وقت نہیں ہے۔

جامعہ قاسم العلوم فقیروالی میں محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ نے 15 دن قیام فرمایا اور اسی طرح مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے 16 دن قیام کیا اوردرس وتدریس سے جامعہ کے درودیوار اورعلاقہ کو منور کیا اور حضرت والد صاحب ؒ نے بھی ان عظیم مجالس سے حظ وافر پایا۔

مارچ 1980ء میں دارالعلوم دیوبند کے سو سالہ اجلاس میں اپنے والد محترم حضرت مولانا فضل محمد ؒ کے ہمراہ 10 افراد کے قافلہ کےساتھ شرکت کی۔

1981ء میں دادا جان ولی کامل حضرت مولانا فضل محمد ؒ کی وفات کے بعد مجلس شوری ٰ نے آپ کو جامعہ قاسم العلوم فقیروالی کا مہتمم مقرر کیا چنانچہ آپ کے دور میں ادارہ نے مزید خوب علمی ترقی کی۔دو مرتبہ آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل  کی ۔دل کے بائی پاس اورگردوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے دینی معمولات اورعبادت وریاضت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ صوم و صلوۃ کی پابندی تلاوت قرآن ،بعد از نماز فجر اذکار مسنونہ سمیت دیگر  عبادات کا امتثال تا حیات جاری رہا ۔

آپ نہایت وسیع الظرف، حوصلہ وحلم کے کوہ گراں ، لوگوں کے عیوب پر بڑی سختی سے پردہ ڈالنے والے، چغلی وغیبت سے بہت دور، معذرت اور عذر کو فوری قبول کرنے والے،کبھی زبان کو گالی سے آلودہ نہیں کیا، اور بدلہ لینے یا کسی کی  اذیت رسانی پر انتقامی کارروائیوں کے جذبات سے عاری، ہمیشہ لوگوں کے کام آئے، عاجزی وانکساری کے پیکر، نمودونمائش اور ریا کاری سے کوسوں فاصلے پر،اپنے ہاتھ سے اپنے کام کرنے والے، بہت سی ایسی خوبیوں اور خصوصیات کے مالک تھے جو آج ہمیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔

28 جنوری 2022ء بروز جمعۃ المبارک عین نماز جمعہ کے وقت قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے نشتر ہسپتال ملتان انتقال ہوا اور 29 جنوری 2022ء  بروز ہفتہ کو جامعہ قاسم العلوم فقیروالی میں بعد از نماز ظہر دوپہر2 بجے ، نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں  پاکستان کے مختلف شہروں اوردور دراز علاقوں سے  تشریف لائے  ہزاروں علماء اور صلحاء نے شرکت کی اور نماز جنازہ آپ کے برادر نسبتی ابوالانوار حضرت علامہ عبدالحق مجاہد صدرانجمن انوارالاسلام ملتان نے پڑھائی اورجامعہ کے احاطہ میں تدفین ہوئی۔جنازہ سےقبل علماء اورمعززین علاقہ نے آپؒ کے صاحبزادے اور میرے بڑے بھائی  مولانا پیر حافظ مسعود قاسم قاسمی  مدظلہ کے سرپر آپ کی جانشینی کی پگڑی باندھی اور انہیں اپنے والد محترم ؒ  کے مشن پر چلنے کی نصائح کیں ۔اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت  فرمائےاور اعلی علیین میں جگہ عطافرمائے۔