مدرسہ ڈسکورسز : ایک مرحلے کی تکمیل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
(مدرسہ ڈسکورسز کے سمر انٹنسو ۲۰۲۱ء کی اختتامی نشست میں گفتگو)
مدرسہ ڈسکورسز کے سمر انٹنسو کا یہ اختتامی سیشن ہے۔ یہ پانچ سال کا پروگرام تھا جس کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہو رہا ہے۔ میں اپنے شرکاء کی یاد دہانی اور اپنے مہمان علماء کی معلومات کے لیے اس پراجیکٹ کی ابتدا، مختلف مراحل اور اس کے مقاصد کے بارے میں اختصار سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اس پروگرام کی ابتدا 2016 کے آخر اور 2017 کے اوائل میں ڈاکٹر ابراہیم موسی نے کی جو بنیادی طور پر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی دینی تعلیم ہندوستان کے بعض بڑے مدارس جیسے دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء میں ہوئی۔ اب وہ تقریبا ربع صدی سے امریکی جامعات میں ہیں اور تعلیم و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ پروگرام ان کے دوست، اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سیکریٹری مولانا امین عثمانی صاحب (جن کا گزشتہ سال انتقال ہو چکا ہے) کی باہمی مشاورت بلکہ بقول ڈاکٹر ابراہیم موسی، مولانا امین عثمانی صاحب کی تحریک پر شروع ہوا۔ ڈاکٹر ابراہیم موسی کے مطابق مولانا امین عثمانی صاحب کا ان سے مسلسل تقاضا اور اصرار تھا کہ آپ نے دینی مدارس میں دینی علوم کی تحصیل کی، اس کے بعد آپ ایک دوسری علمی دنیا میں چلے گئے، مغربی جامعات میں تعلیم، تحقیق اور تدریس کا ایک لمبا سفر طے کیا، آپ نے ان دونوں دنیاوں کو دیکھا ہے، دونوں جگہ غور و فکر، تعلیم و تحقیق اور پڑھنے پڑھانے کا تجربہ حاصل کیا ہے، آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ اپنے اس علمی تجربے میں مدارس کے فضلاء و اساتذہ کو بھی شریک کریں۔ کوئی ایسی ترتیب بنائیں کہ آپ نے جو کچھ سیکھا ہے اور آپ کے اس علمی دنیا میں جو روابط ہیں اور اس دنیا میں اسلام کو، مسلمان معاشروں کو، اسلامی تاریخ کو، مسلمانوں کے مسائل کو کیسے دیکھا جاتا ہے، کیسے اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس سےایک تعارف اور واقفیت مدارس کے فضلاء و اساتذہ کو بھی حاصل ہو۔
اس پس منظر میں انہوں نے اس پروگرام کی ابتدا کی۔ وہ امریکہ میں مختلف جامعات میں رہے، لیکن جب وہ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں آئے تو وہاں ان کو ایسا ماحول اور وسائل میسر آئے کہ وہ اس طرح کا ایک منصوبہ یا پراجیکٹ شروع کر سکیں۔ ابتدائی طور پر ان کے ذہن میں تھا کہ جنوبی ایشیا کے تینوں ممالک، ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے علماء کی ایک منتخب جماعت کو لیا جائے اور ان کے لیے تدریس کا ایک آن لائن نظام بنایا جائے۔لیکن بعض وجوہ سے بنگلہ دیش پہلے مرحلے میں شامل نہیں ہو سکا اور پاکستان و ہندوستان میں اس کے آغاز کی ترتیب بنی۔ انڈیا سے ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر وارث مظہری صاحب سے رابطہ کیا گیا جو دیو بند سے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، ان کا بھی دینی مدارس کے نصاب اور طریق تعلیم و تدریس کے ساتھ ایک پرانا شغف ہے۔ مجھ سے بھی ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب کا تعارف تھا، بلکہ امریکہ کے سفر میں وہ میرے میزبان بھی بنے، اس لیے پاکستان میں انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا تاکہ مقامی طور پر پروگرام کی ذمہ داری لینے اور علماء کی ایک جماعت کو منتخب کرنے کے لیے میں اس میں شریک ہوں۔ اسی طرح امریکہ میں ان کے کچھ معاونین جیسے ڈاکٹر مہان مرزا جو پاکستان کے ہی ایک سکالر ہیں، وہ بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔
اس ٹیم کے ساتھ اور اس ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے 2017 میں پاکستان اور انڈیا سے علماء کے ایک گروپ کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ پاکستان سے تیرہ لوگ تھے اور اسی کے لگ بھگ انڈیا سے علماء شریک تھے۔ ان کے لیے تین سال کا ایک نصاب ترتیب دیا گیا جس کی شکل یہ تھی کہ سال میں دو سمسٹرز میں ہفتہ وار کچھ منتخب موضوعات پر طے شدہ متون کی روشنی میں ہم علمی مباحث کرتے تھے۔ شرکاء سوالات پوچھتے تھے اور کسی بھی سیشن کے جو معلم تھے، وہ اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے اور اس طرح ان مباحث کی تفہیم کا ایک عمل شروع ہو گیا۔ اس پروگرام میں تین موضوعات یا دائروں کو فوکس کیا گیا۔ ایک بڑا دائرہ اسلامی روایت کےتفصیلی مطالعہ کا تھا۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کو اپنے دور عروج میں ان مباحث کا سامنا ہوا تو کیا کیا سوالات پیدا ہوئے، کیا کیا بحثیں چھڑیں، ان بحثوں میں اہل علم نے جو اظہار خیال کیا، اس سے کون کون سے مواقف وجود میں آئے، اس تراث کا اس سے کہیں زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا گیا جو ہم عام طور پر مدارس میں کرتے ہیں تاکہ اپنی روایت اور اس کی جہات سے زیادہ گہری اور تفصیلی واقفیت حاصل ہو۔
دوسرا دائرہ یہ تھا کہ مغربی دنیا میں مذہب، تاریخ اور معاشرے کو دیکھنے کا ایک بالکل متوازی اور مستقل نظام فکر ہے، اس روایت سے بھی واقفیت حاصل کی جائے۔ فلسفے کے مباحث اور اس میں زیادہ ارتکاز سائنس پر ہو کہ جدید سائنس کیا ہے ؟ یہ قدیم سائنس سے کیسے مختلف ہے ؟ سائنس کام کیسے کرتی ہے ؟سائنس میں نظریات کیسے بنتے ہیں، کیسے ٹوٹتے ہیں ؟اس وقت جو غالب تھیوریز کائنات کی یا انسان کی تفہیم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، وہ کیا ہیں ؟ اور خاص طورپر یہ کہ جدید سائنس نے مذہب کے لیے، علم کلام اور تھیالوجی کے لیے کیا سوالات کھڑے کیے ہیں ؟ دوسرا بڑا دائرہ یہ تھا، یعنی جدید علم یا مغربی علوم کا تعارف اور ان کے نتیجے میں سامنے آنے والی مشکلات کو سمجھنا۔
تیسرا بڑا دائرہ یہ تھا کہ جیسے ماضی میں اہل علم نے اپنے دور میں پیدا ہونے والے سوالات کو موضوع بنایا اور ان پر اپنا موقف متعین کیا، استدلالات مرتب کیے، اسی طرح جدید دور میں آنے والی تبدیلی اور پیدا ہونے والے سوالات سے آج کے دور کے اہل علم نے بھی صرف نظر نہیں کیا۔ ان سوالات کو موضوع بنایا گیا، ان کی تفہیم کی کوشش کی گئی اور ان کے بارے میں مواقف سامنے آئے ہیں۔اس کا بھی مطالعہ کیا گیا کہ دور جدید میں جدیدیت کے تناظر میں اور خاص طور پر برصغیر کی علمی روایت میں ان کو کیسے سمجھا گیا اور ان کے بارے میں کیا مواقف اپنائے گئے۔ ان سب چیزوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا کہ کہاں خلا ہے، کون سی چیز نظر انداز ہو رہی ہے، کہاں چیزوں کی تصحیح کی ضرورت ہے، تاکہ یہ روایت آگے بڑھ سکے۔
یہ تین بنیادی دائرے تھے۔ ایک اور چیز کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایسے پروگرامز کا ایک فارمیٹ یہ ہوتا ہے کہ کسی صاحب علم نے غو رو فکر کے نتیجے میں کوئی موقف ڈیویلپ کیا ہے، کچھ نتائج اخذ کیے ہیں، تو ایسے کسی پروگرام میں کچھ لوگوں کو وابستہ کر کے ان کو ان نتائج کی تفہیم کی کوشش کی جاتی۔ اس پروگرام کے لیے یہ طریقہ یا فارمیٹ اختیار نہیں کیا گیا۔ یہ پروگرام ڈاکٹر ابراہیم موسی کے مواقف و آراء کی تفہیم یا ان کے لیے کوئی قبولیت پیدا کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا، اسی لیے ہمارے تینوں بیچز کے شرکاء کو یہ شکایت رہی کہ ہمیں پروفیسر ابراہیم موسی صاحب سے استفادے کا بہت کم موقع میسر آیا۔ اس پراجیکٹ کا یہ فارمیٹ تھا کہ کسی ایک موقف یا رائے کی تفہیم، ترویج یا اس کے لیے قبولیت پیدا کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ یہ بحثوں کو سمجھنے کا ایک پلیٹ فارم ہے جس میں کوئی بھی ایک سوال سامنے رکھ کر مختلف زاویوں سے، مختلف مواقف اور ان کے استدلالات کو سمجھنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اسی فارمیٹ میں ہمارا یہ پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ ہمارے پہلے بیج کے دوستوں کو یہ شکایت رہتی تھی کہ جب ساری بحثیں ہو گئیں، ساری رد و قدح کر لی، اب نتیجہ کیا ہے ! کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط ! ہم ہمیشہ یہ معذرت کرتے تھے کہ نتیجہ بتانا یا کوئی ایک موقف بتانا اس پروگرام کا ہدف نہیں ہے۔ اور یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ تمام اساتذہ کے نتائج فکر ایک ہی ہوں، اس لیے کوئی نتیجہ نکال کر ہم آپ کو نہیں دے سکتے۔ اب اس مسئلہ پر اور اس بحث پر غور جاری رکھنا، اس پر مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھنا اور اپنے لیے ایک نتیجہ طے کرنا یہ آپ کا کام ہے۔
اسی مقصد کے لیے فکری وسائل کے طور پر ایک وسیع دائرے میں متون، کتابیں، ان کے اقتباسات سلیبس کا حصہ بنائے گئے تاکہ مطالعہ کا دائرہ وسیع ہو، مختلف مصادر سے واقفیت پیدا ہو۔ ہم ساری کتابیں پوری نہیں پڑھ سکتے لیکن ان کی اہم بحثیں مطالعہ میں آ جائیں اور کتاب کا تعارف ہو جائے، اس طرح فکری وسائل کو وسیع کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ اساتذہ و محققین کے ساتھ تعارف بھی ایک مقصد کے طور پر کورس میں شامل رہا ہے۔ بنیادی طور پر ٹیم میں تین چار اساتذہ ہی شامل تھے لیکن دیگر جن اساتذہ سے استفادے کا موقع شرکاء کو میسر آیا جن میں زیادہ تعداد مغربی جامعات کے اساتذہ ومحققین کی تھی، وہ تقریبا تین درجن کے قریب ہیں جو اپنے اپنے دائرے میں تخصص کے حامل تھے۔ گویا شرکاء کا مصادر کے ساتھ تعارف بھی مقصود رہا اور جو لوگ مغربی دنیا میں اسلام اور اسلامی موضوعات پر تحقیق کر رہے ہیں، ان تک بھی ان کی رسائی کو ممکن بنانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔
ان پانچ سالوں میں جو چیزیں ہمیں حاصل ہوئی ہیں، وہ میرے خیال میں دو ہیں۔ ایک بڑا حاصل تو پاکستان و انڈیا کے شرکاء ہیں جن میں ان مباحث کو سمجھنے اور ان سے ڈیل کرنے کی بنیادی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے۔ ان کی تعداد سو کے لگ بھگ ہے۔ یہ فضلاء اس عمل کو اپنے طور پر بھی اب آگے بڑھا سکتے ہیں اور ہم بھی کچھ ایسے وسائل و امکانات دیکھ رہے ہیں کہ اس سارے عمل کی کوئی تنظیم کی جائے۔ دوسری چیز جو ہم نے حاصل کی ہے، وہ ایک اچھا مرتب نصاب ہے۔ ہمارے پاس تین گروپ آئے تھے، ایک 2017 میں، دوسرا 2018 اور تیسرا 2019 میں۔ ان تینوں کے لیے نصاب کو ہم مسلسل ریویو کرتے رہے، نئے اساتذہ بھی آئے اور نئے موضوعات بھی شامل ہوئے۔ ان سب تجربات کو ہم نے ایک جامع نصاب میں مرتب کر دیا ہے جو کہ اب ایک ماڈل سلیبس ہے جس میں سات آٹھ بنیادی موضوعات ہیں اور جو متون استعمال کیے گئے، ان کی مکمل فہرست ہے، تاکہ اگر اور لوگ بھی ایسا کوئی تجربہ کرنا چاہیں تو ہمارا حاصل تجربہ ان کے پاس ہو جس سے وہ استفادہ کر سکیں۔ گویا دو چیزیں حاصل ہوئی، ایک ایسے شرکاء جو ان بحثوں سے دلچسپی رکھتے ہیں، سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان مطالعات کو جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں اور دوسرا ایسا نصاب جس سے دوسرے لوگ استفادہ کر سکتے ہیں۔
اس کام کے تسلسل کے لیے ہم مختلف پہلووں پر غور کر رہے ہیں۔ ہمارے کافی فضلاء اس بات کے لیے پر عزم ہیں کہ جن اساتذہ سے تعارف ہوا ہے، ان سے استفادہ جاری رہے گا اور ہفتہ وار میٹنگز میں ان مطالعات کا تسلسل جاری رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ کچھ ادارے بھی جو اس پروگرام کو کچھ بدلی ہوئی شکل میں اپنے ہاں شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(266) وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا
وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا لِّیَرْبُوَ فِی اََمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ وَمَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَاَُولَئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُونَ۔ (الروم: 39)
’’جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں ایک غلطی یہ ہے کہ مَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا کا ترجمہ کیا ہے ’جو تم سود دیتے ہو‘، گویا سود لینے والے مال دار کو خطاب نہیں کیا جارہا ہے بلکہ سود دینے والے غریب کو خطاب کیا جارہا ہے ۔ سود دینے والا غریب تو مجبور ہوکر سود دیتا ہے وہ اس نیت سے تو دیتا نہیں ہے کہ اس کے سود دینے سے سود لینے والے مال دار کا مال بڑھے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آگے مَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ بھی ہے، ظاہر ہے اس کے مخاطب مال دار ہی ہیں اور انھی سے یہ کہا جارہا ہے کہ سودی قرض دینے کے بجائے زکات وصدقات دینے کا راستہ اپناؤ ۔ اس لیے مَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا کا ترجمہ ہوگا ’جو تم سود پر دیتے ہو‘ یا ’جو تم سودی قرض دیتے ہو‘ اس نیت کے ساتھ کہ تمہاری وہ رقم لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے ۔ غرض اس آیت کا روئے خطاب وعتاب سود دینے والے غریب کی طرف نہیں بلکہ سود پر قرض دینے والے مال دار کی طرف ہے ۔
(267) المضعفون
اس آیت کے آخر میں المضعفون ہے جس کا ترجمہ عام طور سے’اپنے مال بڑھانے والے‘ کیا گیا ہے ۔ یہاں ’بڑھانے والے‘ ترجمہ کرنا درست نہیں ہے، بڑھانے والا تو اللہ ہے ۔ یہ بھی سامنے رہے کہ قرآن مجید میں کئی گنا کرنے کے لیے اَضعف کہیں نہیں آیا ہے، ہر جگہ ضاعف آیا ہے اور وہ اللہ کے لیے آیا ہے، یعنی کئی گنا بڑھانے والا اللہ ہے ۔ یہاں مضعفون، اَضعف سے ہے ۔ مُضعِف کا مطلب ہوتا ہے چند در چند پانے والا ۔ زمخشری اس لفظ کی وضاحت کرتے ہیں:
فَاَُولئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُونَ: ذوو الاَضعاف من الحسنات۔ ونظیر المُضعِف: المقوی والموسر، لذی القوّۃ والیسار۔ (تفسیر الکشاف)
پوری آیت کا درست ترجمہ حسب ذیل ہے:
’’جو سُود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت چند در چند پانے والے ہوتے ہیں ‘‘ ۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(268) اََوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی اََنفُسِہِم
تفکّر کے معنی غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ آدمی کے غور وفکر کرنے کا عمل اس کے اپنے دل میں ہی ہوتا ہے ۔ درج ذیل آیت میں اََوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا کے ساتھ فِی اََنفُسِہِم آیا ہے ۔ اگر اس کا ترجمہ اپنے دل میں کیا جائے تو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوتی ہے، لیکن اگر اس کا ترجمہ اپنے آپ میں یا اپنے وجود میں کیا جائے تو معنویت میں اضافہ ہوجاتا ہے کہ یہاں اپنے وجود میں غور وفکر کرنے کی بات کی جارہی ہے ۔ اور جو آدمی نفس کی نشانیوں میں غور کرتا ہے تو کائنات کی نشانیاں بھی اس کے سامنے روشن ہوجاتی ہیں ۔ آیت کا درج ذیل ترجمہ درست ہے:
اََوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی اََنفُسِہِم مَّا خَلَقَ اللَّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْاََرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا الَّا بِالْحَقِّ وَاََجَلٍ مُّسَمًّی وَاِنَّ کَثِیرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّہِمْ لَکَافِرُونَ۔ (الروم: 9)
’’کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
درج ذیل ترجموں میں مذکورہ بالا خامی پائی جاتی ہے ۔
’’کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا‘ ۔ (فتح محمد جالندھری)
انگریزی زبان میں بھی دونوں طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، درج ذیل میں پہلا ترجمہ بہتر ہے ۔
Have they not pondered upon themselves? (Pickthall)
Do they not reflect in their own minds? (Yousuf Ali)
(269) فَاََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا
یہ الفاظ دو جگہ آئے ہیں :
وَاََنْ اََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا۔ (یونس: 105)
’’اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہوکر اطاعت کی طرف کرو‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)
فَاََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا۔ (الروم: 30)
’’پس تم اپنا رخ، یکسو ہوکر دین حنیفی کی طرف کرو‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)
اس دوسرے ترجمے میں ایک غلطی یہ ہے کہ حنیف کو دین کی صفت بنادیا ہے، جب کہ وہ حال ہے، اور حنیف کے تمام قرآنی استعمالات جمع کیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دین کی صفت نہیں بلکہ دین پر عمل کرنے والے فرد کی صفت ہے ۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ جب حنیفا کا ترجمہ ’یکسو ہوکر‘ کردیا تو پھر الدین کا ترجمہ ’دین حنیفی‘ کرنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ دوسری آیت کا ترجمہ بھی وہی کرنا چاہیے تھا جو پہلی آیت کا کیا ہے ۔ الدین کا ترجمہ دین بھی کیا جاسکتا ہے اور اطاعت بھی ۔
(270) فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا
درج ذیل آیت میں فطرت اللہ منصوب ہے، اس سے لوگوں کا ذہن اس طرف گیا کہ یہ مفعول بہ ہے، چنانچہ اس کے لیے فعل محذوف مان کر ترجمہ کرتے ہیں ، جیسے:
فَاََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا۔ (الروم: 30)
’’پس (اے نبی اور نبی کے پیروؤ ) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جمادو، قائم ہوجاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)
حالاں کہ یہ ایک خاص اسلوب کی خبر ہے جس کا مبتدا ’ھذہ‘ محذوف ہے ۔ یعنی ھذہ فِطْرَتُ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا۔ ترجمہ ہوگا ’’یہ وہ فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یہ اسلوب قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے، جیسے: وَعْدَ اللَّہِ (الروم:6) ’’یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)
(271) وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ
قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات کہی گئی ہے کہ کافروں کا کوئی مددگار نہیں ہے ۔ کہیں کہیں اس کے لیے واحد کا صیغہ ہے، جیسے فرمایا:
فَمَا لَہُ مِن قُوَّۃٍ وَلَا نَاصِرٍ (البروج:10)
’’اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا‘‘ ۔ (سید مودودی)
تاہم کئی مقامات پر ناصرین (جمع کا صیغہ) آیا ہے ۔ جمع کے صیغے کی معنویت کا خیال ترجمے میں ہونا چاہیے ۔
وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ۔ (الروم:29)
’’اور ان کا کوئی بھی مدد کرنے والا نہیں بنے گا‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)
یہاں مولانا امانت اللہ اصلاحی درج ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں :
’’اور کسی طرح کے لوگ ان کی مدد کرنے والے نہیں ہوں گے‘‘ ۔
درج ذیل آیتوں میں بھی اسی طرح ترجمہ کیا جانا چاہئے جس سے جمع کے صیغے کی معنویت نمایاں ہوسکے:
وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ۔ (آل عمران: 22)
’’اور ان کا کوئی مددگار نہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ۔ (آل عمران: 56)
’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ ۔ (فتح محمد جالندھری)
وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (آل عمران: 91)
’’اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے‘‘ ۔ (سید مودودی)
وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (النحل: 37)
’’اور ان کا کوئی مددگار نہیں ‘‘ ۔ (احمد رضا خان)
وَمَا لَکُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (العنکبوت: 25)
’’اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ ۔ (محمد جوناگڑھی)
وَمَا لَکُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (الجاثیۃ: 34)
’’اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)
(272) عَشِیًّا کا ترجمہ
فَسُبْحَانَ اللَّہِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ; وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاََرْضِ وَعَشِیًّا وَحِینَ تُظْہِرُونَ ۔ (الروم: 17;18)
’’پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت صبح کرتے ہو اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہورہی ہے، اور عشاء کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب تم ظہر کرتے ہو‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)
’’پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو ۔ آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)
مذکورہ بالا آیت میں عشیا کا مطلب عام طور سے دن ڈھلنے کا وقت سمجھا گیا ہے اور اس سے عصر کی نماز مراد لی گئی ہے ۔ زمخشری کے مطابق:
العشیّ: من حین تزول الشمس الی اَن تغیب۔ (تفسیر الکشاف)
لیکن صاحب تدبر عشیا سے عشاء کی نماز مراد لیتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اوقات نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو اس آیت میں نہایت واضح طور پر موجود ہی ہے ۔ تمسون میں عصر اور مغرب دونوں کو شامل کرلیجیے اور عشیا سے عشاء کو مراد لیجیے تو تمام اوقاتِ نماز آجاتے ہیں ۔ لفظ عشی کا اطلاق زوال کے وقت پر بھی ہوتا ہے اور مغرب سے لے کر عشاء کے وقت پر بھی، اس وجہ سے اس سے عشاء کا وقت مراد لینے میں لفظ سے کوئی تجاوز نہیں ہوگا‘‘ ۔ (تدبر قرآن)
لیکن یہ مضبوط بات نہیں ہے ۔ تصبحون کے بالمقابل تمسون ہے، جس میں مغرب اور عشاء دونوں داخل ہیں ۔ عشیا سے عصر کی نماز مراد لینا اس لیے بھی زیادہ مناسب ہے کہ اسے حین تظھرون کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ عشی کا مشہور ومعروف معنی بھی وہی ہے جو عام طور سے لوگوں نے لیا ہے یعنی زوال سے غروب آفتاب تک ۔ مزید یہ کہ عشاء کا وقت تو پوری رات کو محیط ہے، عشی کے اندر اتنی وسعت بہرحال نہیں پائی جاتی کہ رات کی گہرائی بھی اس میں شامل ہوجائے ۔ جب کہ امساء کے اندر یہ بات پائی جاتی ہے، زبیدی لکھتے ہیں : والمَساءُ والمْساءُ: ضِدُّ الصَّباحِ والصْباحِ، وَہُوَ بَعْدَ الظّہْرِ الَی صلاۃِ المَغْربِ۔ وَقَالَ بعضُہم: الَی نِصْفِ اللیْلِ۔ (تاج العروس)
مطالعہ جامع ترمذی (۴)
(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید : کھڑے ہوکر پانی پینے کے متعلق مختلف اور متضاد روایات آتی ہیں۔ اس میں درست بات کیا ہے؟
عمار ناصر : جی روایات مختلف ہیں۔ بعض میں تو بہت سخت ناپسندیدگی ظاہر کی گئی ہے جو سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ مثلا صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر کھڑا ہو کر پانی پینے والے کو پتہ چل جائے کہ اس نے کیا پیا ہے تو وہ قے کردے۔
مطیع سید : حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایک جگہ پڑھا تھا کہ وہ خاص طورپر کھڑے ہو کر پانی اس لیے پیتے تھے کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اس طرح بھی درست ہے۔تو پھر اس کی کیا توجیہ کریں؟
عمار ناصر : احناف کے ہاں یہ رائے ہے کہ آپ ﷺ نے کسی شرعی پہلو سے اس کی ممانعت نہیں کی، بلکہ اس پہلو سے کی ہے کہ کھڑے کھڑے پانی پینے سے کوئی بیماری وغیرہ نہ لاحق ہو جائے۔ یعنی آدمی کو جلدی میں اور کھڑے کھڑے نہیں، بلکہ اطمینان سے بیٹھ کر اور سکون سے پانی پینا چاہیے۔
مطیع سید : ایک روایت میں ہے کہ بخیل جنت میں نہیں جائے گا، (کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی البخیل، حدیث نمبر ۱۹۶۳) لیکن ایک موقع پر آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مومن بخیل تو ہوسکتا ہے، لیکن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
عمار ناصر : ایک بخل تو طبعی ہے جس پر آدمی کا اختیار نہیں ہوتا، لیکن کچھ بخیل ایسے ہیں جو اللہ کے واحب حقوق بھی ادا نہیں کرتے۔ بخل اگر اس درجے کو چلا گیا ہے کہ آپ کے ذمے جو حقوقِ واجبہ ہیں، وہ بھی آپ ادا نہیں کرتے تو وہ قابل ِ مذمت ہے۔
مطیع سید : یہ سوال جامع ترمذی سے ہٹ کر ہے۔کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے ناموں سے پکاراجائے گا۔ کیا اس طرح کی کوئی روایت ہے؟
عمار ناصر : نہیں، ایسی کوئی قابل اعتماد روایت نہیں ہے۔ مستند روایات کی رو سے لوگوں کو ان کے والد کے نام سے ہی پکارا جائے گا۔
مطیع سید : آپ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرا، انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا کہا۔(کتاب الطب، باب ما جاء فی الحجامۃ، حدیث نمبر ۲٠۵۲) کیا یہ اتنی اہم چیز تھی کہ فرشتوں نے بھی کہا کہ یہ ضرور لگوائیں؟
عمار ناصر : دیکھیں، عرب کے پاس علاج معالجے کی چند ہی چیزیں تھیں جو میسر تھیں۔ ان کے ماحول میں لگتا ہے کہ پچھنے لگوانا بہت سی بیماریوں کے لئے مفیدتھا۔اب وہ فن بظاہر ختم ہو گیا ہے،یا ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔ ہمارے طب ِ نبوی والے حضرات اس کے کچھ فوائد بتاتے ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس اس کے بارے میں پتہ نہیں کیا کہتی ہے۔معلوم نہیں، اس کا تصور بھی ہے کہ نہیں۔
مطیع سید : میں ایک ویڈیو میں دیکھ رہاتھا کہ ا ب تو خون کو کھینچنے کے لیے باقاعدہ کپ بنا لیے گئے ہیں۔
عمار ناصر : اس کا مطلب ہے، لوگوں نے کچھ ترقی کی ہے اور یہ فن محفوظ بھی ہے۔
مطیع سید : ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دو کتابیں اٹھائی ہوئی تھیں اور فرمایا کہ ایک میں جنتیوں کے نام ہیں اور دوسری میں جہنمیوں کے نام ہیں۔(کتاب القدر، باب ما جاء ان اللہ کتب کتابا لاہل الجنۃ ولاہل النار، حدیث نمبر ۲۱۴۱) وہ کتابیں کہاں گئیں؟ کیا وہ واقعی کتابیں تھیں یا غائب ہوگئیں؟ یہ کیا واقعہ ہے؟
عمار ناصر : بظاہر قرین قیاس یہ ہے کہ عالم ِغیب سے تمثیلا آپ کو کچھ دکھایا گیا ہوگا اور اس خاص وقت میں وہ منظر صحابہ کو بھی نظر آ گیا ہوگا۔ فی الواقع ٹھوس شکل میں کوئی کتابیں آپ کو دی گئی ہوں، یہ بعید از قیاس ہے، کیونکہ اس صورت میں واقعتا یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ پھر وہ کتابیں کہاں گئیں۔
مطیع سید : مرجئہ اور قدریہ کے بارے میں یہ روایت کیا درست ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ اسلام میں ان کا کوئی حصہ نہیں؟(کتاب القدر، باب ما جاء فی القدریۃ، حدیث نمبر ۲۱۴۹) یا بعدمیں کسی نے ان کی مذمت کے لیے یہ حدیث بنا لی ہے؟
عمار ناصر : ایسا ہی لگتا ہے،کیوں کہ مرجیہ اور قدریہ کو تو یہ لقب اسی وقت ملا جب بعد میں انہوں نے اپنے نظریات پیش کیے۔
مطیع سید : آپ ﷺ نے فرمایا کہ سفر سے واپسی پر رات کے وقت عورتوں کے پا س نہ جا ؤ۔ وضاحت میں امام ترمذی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے خلاف ورزی کرتے ہوئے دو آدمی سفر سے واپسی پر رات کو اپنے گھر چلے گئے تو دونوں نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو پایا۔ (کتاب الاستئذان والآداب، باب ما جاء فی کراہیۃ طروق الرجل اہلہ لیلا، حدیث نمبر ۲۷۱۲) سوال یہ ہے کہ اچانک گھر جانے سے اگر آدمی کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ گھر میں کیا معاملہ چل رہا ہے تو یہ تو اس کے لیے اچھا ہے۔ اس سے کیوں منع کیا گیا ہے؟
عمار ناصر : اصل میں تو یہ ہدایت اس پہلو سے کی گئی ہے کہ بلا اطلاع اچانک گھر نہیں پہنچ جانا چاہیے۔ دیگر احادیث میں اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ گھر والوں کو صفائی ستھرائی اور تیاری کا موقع ملنا چاہیے تاکہ سفر سے آنے والے کا اچھے انداز سے استقبال کیا جا سکے۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ جب سفر سے واپس پہنچو تو شہر سے باہر رک جا ؤ تاکہ اہل خانہ تک اطلاع پہنچ جائے اور وہ استقبال کی تیاری کر لیں۔ یہ پہلو بھی ہے کہ گھر والوں کے متعلق خواہ مخواہ بداعتمادی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی کے ذہن میں ایسی کوئی کھٹک ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں جا کر اچانک چھاپہ ماروں تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ غیر ضروری شک اور تجسس اپنے اہل خانہ کے متعلق بھی نہیں ہونا چاہیے۔ امام ترمذی نے جو بات ذکر کی ہے، وہ اس ہدایت کی اصل وجہ نہیں ہے، یعنی یہ کہنا مقصود نہیں کہ اس وجہ سے گھر نہ جاؤ کہ وہاں کہیں کوئی آدمی موجود نہ ہو۔ یہ بات محض زجرا کہی گئی ہے کہ جب ان دو آدمیوں نے ہدایت کی خلاف ورزی کی تو پھر یہ نتیجہ دیکھنا پڑا۔
مطیع سید : عبد اللہ ابن ام مکتوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئے تو آپ ﷺ نے ازواج کو پردے میں جانے کا حکم دیا۔( کتاب الادب، باب ما جاء فی احتجاب النساء من الرجال، حدیث نمبر ۲۷۷۸) یہ صحابی تو نابینا تھے۔ جب وہ دیکھ ہی نہیں سکتے تھے تو کس سے پردہ مقصود تھا؟
عمار ناصر : دیکھیں، یہ لطیف بات ہے۔ اس میں پردہ اصل مسئلہ نہیں تھا، بلکہ بے تکلفی اور اختلاط کی اس کیفیت کو ختم کرنا مقصود تھا جو ایک ہی مجلس میں موجود ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ تو ازواج مطہرات کے زاویے سے تھا۔ ابن ام مکتوم کے زاویے سے بھی یہ ہدایت ہو سکتی ہے کہ انھوں نے اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نجی بات کرنی ہے تو ازواج مطہرات کی وہاں موجودگی سے شاید وہ کوئی حجاب محسوس کریں۔ تو اس طرح کی چیزوں کو ان پہلووں سے بھی دیکھنا چاہیے۔ ہر بات کی نوعیت فقہی اور شرعی حکم کی نہیں ہوتی۔
مطیع سید : ابرووں کے بال اکھیڑنے سے آپ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا اور اس کو اللہ کی تخلیق کو تبدیل کرنا قرار دیا۔(کتاب الادب، باب ما جاء فی الواصلۃ والمستوصلۃ، حدیث نمبر ۲۷۸۲) کیا عورتوں کے ایسا کرنے کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے کہ وہ غیر محرموں کو دکھانے کے لیے ایسا کریں؟ محض زینت کے لیے تو ایساکرنے میں کوئی حرج نہیں لگتا۔
عمار ناصر : یہ دو الگ الگ اصول ہیں۔ غیر محرموں کے لیے تو زینت کا اہتمام کرنا ویسے ہی ممنوع ہے، چاہے وہ زینت فی نفسہ جائز ہو۔ یہاں جس چیز سے منع کیا گیا ہے، وہ اللہ کی تخلیق میں بے وجہ تبدیلی کرنا ہے۔ فقہاء اس میں یہ تفصیل کرتے ہیں کہ اگر تو ابرووں کی بالوں کی وضع ایسی بھدی ہے کہ بدنما لگ رہی ہے تو اس کو ٹھیک کرنا اور بدنمائی کو دور کرنا اور چیز ہے، اس سے منع نہیں کیا گیا۔منع اس سے کیا گیا ہے کہ جیسی ابرو بنی ہوئی ہے اور اس میں کوئی بدنمائی بھی نہیں، لیکن آپ کو وہ وضع پسند نہیں اور آپ چاہ رہے ہیں کہ اس کی کوئی اور وضع بنا لی جائے۔ تو یہ دراصل ایک ذہنی رویے پر تنبیہ ہے۔
مطیع سید : آج کل اعضا کی سرجری بھی ہو تی ہے، مثلا کسی کی ناک ٹھیک نہیں ہے تو اسے ٹھیک کروالیا جاتا ہے۔
عمار ناصر : یہ بھی اسی کے تحت ہے۔ایک صورت یہ ہے کہ ناک کی شکل بگڑی ہوئی ہے یا پیدائشی طور پر ٹھیک نہیں ہے یا اس طرح کا کوئی نقص ہے جسے Abnormalسمجھا جاتا ہے تو اس کا علاج کرنا اور چیز ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ ناک کی وضع آپ کی پسند کی نہیں ہے،مثلا ناک تھوڑی موٹی ہے اور آپ کو ذراباریک چاہیےتو اس مقصد کے لیے سرجری کروانا اسی ممانعت کے تحت ہے۔
مطیع سید : خلوق اور زعفرا ن کی خوشبو سے آپ ﷺ نے منع فرمایا۔ایک صحابی لگا کر آئے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ دھو دد۔(کتاب الادب، باب ما جاء فی کراہیۃ التزعفر والخلوق للرجال، حدیث نمبر ۲۸۱۶) حالانکہ خوشبو کسی بھی قسم کی ہو، خوشبو ہی ہوتی ہے۔ ان خوشبوؤ ںمیں کیا مسئلہ تھا؟
عمار ناصر : خلوق اور زعفران میں شاید زرد رنگ کا مسئلہ تھا۔ مردوں کے لیے رنگوں میں بھی یہ مطلوب ہےکہ ان میں زنانہ جھلک نہ ہو۔ یا اگر خوشبو کے پہلو سے ناپسند کیا گیا تو شاید خوشبو میں کوئی ایسی چیز ہو جو آپ ﷺ کے ذوق کے خلاف ہو۔
مطیع سید : روایت میں ہے کہ آپ عبد اللہ بن رواحہ کے اشعار پڑھا کرتے تھے اور مثال کے طور پر اس شعر کا ذکر کیا گیا ہے کہ
ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا
ویاتیک بالاخبار من لم تزود
(کتاب الادب، باب ما جاء فی انشاد الشعر، حدیث نمبر ۲۸۴۸)
یہ تو عبد اللہ بن رواحہ کا شعر نہیں ہے۔یہ تو غالبا سبع معلقات کے کسی شاعر کا شعر ہے۔
عمار ناصر : جی، یہ طرفہ بن عبد کا شعر ہے۔ لیکن روایت میں اس کو ابن رواحہ کا شعر نہیں کہا گیا۔ روایت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ابن رواحہ کے اشعار بھی موقع بموقع پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح مذکورہ شعر بھی پڑھا کرتے تھے۔ اس شعر کا ذکر الگ سے کیا گیا ہے، عبد اللہ ابن رواحہ کی نسبت سے نہیں کیا گیا۔
مطیع سید : لزوم ِ جماعت کے بارے میں آ پ ﷺنے جو باتیں فرمائی ہیں،(کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ، حدیث نمبر ۲۱۶۵) اس تناظرمیں آپ پربسھی اعتراضات کیے جاتے ہیں کہ آپ جمہور امت کی رائے سے ہٹ کر باتیں کیوں کرتےہیں۔
عمار ناصر : دیکھیں، لزومِ جماعت کی ہدایت کے دو محل ہو سکتے ہیں۔ آپ کو زیادہ تر روایات میں یہ سیاق ملے گا کہ آپ ﷺ مسلمانوں کی جو سیاسی اجتماعیت ہے، اس کے اندر اختلاف پیدا کرنے والوں کا ساتھ دینے سے منع فرما رہے ہیں اور اس رجحان کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں کہ طرح طرح کے امیدواراپنے اپنے اقتدار کے لیے اٹھیں اور لوگ ان کا ساتھ دینا شروع کر دیں۔دوسرا محل یہ ہو سکتا ہے کہ اس ہدایت کو آپ دینی لحاظ سے دیکھیں تو وہ بھی صحیح ہے۔ اس طرح کی وارننگ آپﷺ اپنی فورا بعد کی صورتحال کے لیے دے رہے ہیں جس میں ایک طرف صحابہ و تابعین کی صورت میں مسلمانوں کی جماعت ہے جو دینی اور اعتقادی لحاظ سے بالکل صحیح جگہ پر کھڑی ہے اور دوسری طرف بہت سے فرقے ہیں جو اِدھر اُدھر سے نکل رہے ہیں۔ جو لو گ اس اصول کو توسیع دے کر علمی اور فقہی اختلافات پر منطبق کرتے ہیں اور ہر زمانے کے جمہور کے ساتھ اتفاق کو لزوم جماعت کا تقاضا قرار دیتے ہیں،ان کی رائے میرے نزدیک درست نہیں۔ یہ اختلاف تو صحابہ کے دور میں بھی تھا۔ کیاصحابہ میں ایسے لوگ نہیں ہوتے تھے جن کی رائے بہت سے مسائل میں عمومی رائے سے مختلف ہوتی تھی؟
مطیع سید : آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ کسی غیر قوم سے دشمن کو میری امت پر مسلط نہ فرما۔(کتاب الفتن، باب ما جاء فی سوال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثلاثا فی امتہ، حدیث نمبر ۲۱۷۵) کیا یہ دعا قبول ہو ئی؟ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا تو ہوا ہے۔صرف تاتاریوں کی ہی مثال دیکھ لیں۔
عمار ناصر : فتن سے متعلق احادیث میں یہ بات پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک خاص تاریخی دور کے تناظر میں پیش آنے والے حالات کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے مراد اہل عرب ہیں جن میں آپ کی بعثت ہوئی۔ ان کا تاریخ میں غلبے اور زوال کا ایک خاص دور ہے۔ یہ دعا اس خاص تناظرمیں عربوں سے متعلق ہے اور آپ کے بعد جو ان کے اقتدار اور پھر اس کے زوال کا زمانہ ہے، اس کے حوالے سے ہے۔ مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح اہل عرب کے اقتدار کا خاتمہ اس انداز میں نہ ہو کہ کوئی غیر قوم ان پر مسلط ہو کر انھیں اپنا غلام یا محکوم وغیرہ بنا لے۔ کتاب الفتن میں مروی رسول اللہ ﷺ کی زیادہ تر پیشین گوئیاں اس خاص دور سے متعلق ہیں۔ان کو ہر طرح کے حالات پر منطبق کرنا درست نہیں ہے۔
مطیع سید : خوارج کے بارے میں جو روایات ہیں، ان میں بھی آخری زمانے کے الفاظ آتے ہیں۔ (کتاب الفتن، باب فی صفۃ المارقۃ، حدیث نمبر ۲۱۸۸) کیا وہ بھی اسی مفہوم میں ہیں؟
عمار ناصر : جی، آخری زمانے کے الفاظ آپ کو روایات میں کئی جگہ نظر آئیں گے اور یہ بھی اسی کا قرینہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے خاتمے کے زمانے کی بات نہیں کر رہے۔ آپﷺ کی مراد یہ ہے کہ آپ جس امت میں مبعوث کیے گئے ہیں، اس کے استحکام اور قوت کا دور جب ختم ہونے والا ہوگا تو یہ واقعات وقوع پذیر ہوں گے۔
مطیع سید : عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ میرے والد کے پا س تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ میرے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے چلیں۔انہوں نے جواب میں فرمایا کہ حضورﷺ نے فرما یاتھا کہ جب ایسی کوئی صورت حال ہو کہ مسلمان آپس میں لڑ پڑیں تو تم لکڑی کی تلوار بنا لینا اور اور لڑائی میں شریک نہ ہونا، اس لیے میں نے لکڑی کی تلوار بنا لی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ یہ سن کر چلے گئے اور و ہ ا ن کے ساتھ نہیں گئے۔(کتاب الفتن، باب ما جاء فی اتخاذ سیف من خشب فی الفتنۃ، حدیث نمبر ۲۲۰۳) یہاں سوال یہ ہے کہ قرآن ِحکیم تو واضح طور پر حکم دیتا ہے کہ باغیوں کے ساتھ لڑو اور یہ فرما رہے ہیں کہ انہیں حضور ﷺ نے لڑنے سے منع فرمایا۔
عمار ناصر : دیکھیں، صحابہ کے دور میں مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں دو طرح کی صورت حال پیدا ہوئی۔ ایک صورت حال میں صحابہ کی جماعت مجموعی طور پر ایک طرف تھی اور خوارج وغیرہ کچھ گروہ ان کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اس کے متعلق صحابہ کو کوئی شبہ نہیں تھا کہ حق کس طرف ہے اور کس کا ساتھ دینا چاہیے۔ دوسری صورت حال وہ تھی جس میں سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد خود صحابہ صورت حال کی نوعیت متعین کرنے میں باہم تقسیم ہو گئے، کیونکہ بالکل واضح طور پر یہ طے کرنا مشکل تھا کہ حق کس طرف ہے۔ حضور ﷺ نے دراصل اس تناظر میں یہ بات کہی تھی کہ مسلمان جب آپس میں لڑنا شروع ہو جائیں تو تم نے لڑائی میں شریک نہیں ہونا۔ گویا عدیسہ کے والد، اہبان حضرت علی اور حضرت معاویہ کی لڑائی کو اسی تناظر میں دیکھ رہے تھے۔
مطیع سید : عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کی ہے کہ قریش قیامت تک خیر و شر میں لوگوں کے حکمران رہیں گے۔(کتاب الفتن، باب ما جاء ان الخلفاء من قریش الی ان تقوم الساعۃ، حدیث نمبر ۲۲۲۷) یہاں تو قیامت تک کے الفاظ آ گئے ہیں۔کیا یہ وہی تناظر ہے جس کا آپ نے نبی ﷺ کے متصل بعد کے زمانے کے حوالے سے ذکر کیا؟
عمار ناصر : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی ایک شرط کے ساتھ بیان فرمائی تھی کہ اگر قریش راہ راست پر قائم رہے تو ان کے اقتدار کا تسلسل بھی قیامت تک قائم رہے گا۔ یہ کوئی غیر مشروط پیشین گوئی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں فتن کی روایتوں میں راویوں کا فہم بھی کافی شامل ہوگیا ہے۔آپ کو شروع کے دور میں صحابہ کے ہاں بھی یہ تصور ملے گا اور بہت سے لوگ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ جو بھی اس وقت صورت حالات قائم ہے،اسی کے رہتے ہوئے قیامت آجائے گی،یعنی قیامت کو لوگ بہت ہی قریب سمجھ رہے تھے۔اس لیے یہ بعید از قیاس نہیں کہ جو پیشن گوئیاں آپﷺ نے اس مخصوص دور کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بیان کی تھیں، لوگوں نے اپنے فہم سے ان کو قیامت تک کے لیے سمجھ لیا ہو اور بالمعنیٰ روایت کرتے ہوئے اس طرح بیان بھی کر دیا ہو۔
مطیع سید : امام مہدی کے بارے میں جو روایات ہیں، (کتاب الفتن، باب ما جاء فی المہدی، حدیث نمبر ۲۲۳۰) کیا وہ ٹھیک ہیں؟ آپ کی ان کے متعلق کیا رائے ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں بڑا اضطراب ہے اور بڑے مسائل ہیں۔ ان میں سے بعض میں تو بڑی متعین قسم کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔
عمار ناصر : اگر چہ محدثین ان کو طرق مختلف کی بنیا دپر قبول کرتے ہیں، لیکن مجھے ان میں وضع کا پہلو بڑا نمایاں نظر آتا ہے۔ بعض سند کے لحاظ سے بھی بالکل موضوع ہیں۔زیادہ تر ضعیف ہیں اور ان میں معنوی طور پر بھی کافی مسائل ہیں۔ ان کی صحت پر اطمینان نہیں ہوتا۔ باقی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مطیع سید : آپ ﷺنے لوگوں کو ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بولنے سے منع فرما یا، (کتاب الزہد، باب فی من تکلم بکلمۃ یضحک بہا الناس، حدیث نمبر ۲۳۱۵) جب کہ ہم عام طورپر ایسا کرتے رہتے ہیں۔یہ تو تمام معاشروں میں عام ہوتا ہے، عرب میں بھی ہوتا ہوگا۔اس قدر سختی کیوں ہے؟
عمار ناصر : ایک یہ ہے کہ آپ لطیفہ سنا رہے ہیں اور سننے والے کو بھی پتہ ہے کہ ایک فرضی بات ہے۔یہ تو اور چیز ہے۔لیکن آپ ایک بات اس طرح سنا رہے ہیں کہ لوگ یہ سمجھیں کہ واقعتا ایسا ہوا ہے اور اس غلط بیانی کا مقصد صرف یہ ہو کہ لوگ اس سے محظوظ ہوں۔اس کے متعلق آپﷺنے فرمایا ہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔
مطیع سید : آپ ﷺ نے زمین پر ایک مربع کھینچا او ر کچھ لائنیں لگائیں اور فرمایا کہ یہ زندگی میں آنے والی آفات ہیں، ان سے اگر آدمی بچ جائے تو بالآخر مو ت سے ہمکنار ہوگا۔(کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، حدیث نمبر ۲۴۵۴) اس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ موت کا وقت متعین نہیں، کسی آفت سے انسان اگر بچ گیا تو آخر میں پھر مر ہی جائےگا۔
عمار ناصر : یہ ہمارے حالات کے لحاظ سے ہے۔ اللہ کے علم میں تو طے ہی ہے، لیکن ہمیں نہیں پتہ کہ کب موت آجائے گی۔ہمارے تصور کے لحاظ سے یہ کہا گیا ہے کہ آدمی کو زندگی کی ناپائیداری کا احساس رہنا چاہیے۔
مطیع سید : اسلام غریب تھا اور پھر دوبارہ غریب ہو جائے گا تو غربا ء کے لیے خوشخبری ہے۔(کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء ان الاسلام بدا غریبا وسیعود غریبا، حدیث نمبر ۲۶۲۹) یہاں اسلام کے لیے غریب کا لفظ اجنبی کے معنوں میں ہے تو پھر غربا ء کے لیے خوشخبری کا اس سے کیا تعلق ہے؟ یعنی اسلا م کا غربت سے کیا تعلق ہے؟
عمار ناصر : یہاں غرباء سے مراد وہ نہیں جن کے پا س پیسے نہ ہوں۔ عربی میں فقر یا ناداری کے لیے غربت کی تعبیر استعمال نہیں ہوتی۔غرباء سے مراد بھی وہی لوگ ہیں جو حقیقی اسلام پر قائم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں اجنبی بن جائیں گے۔
(جاری)
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۲)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ
مولانا سمیع اللہ سعدی
2۔کتب رجال انواع اقسام
ہر دو مکاتب ِ فکر کے علم رجال کی ابتدائی تاریخ کے تقابل کے بعد دوسری بحث یہ دیکھنے کی ہے کہ دونوں کے ہاں موجود رجالی تراث کا انواع اقسام کے اعتبار سے کیا تقابل بنتا ہے؟اہل علم جانتے ہیں کہ علم رجال کی کتب متنوع اقسام و انواع پر مشتمل ہیں، جن میں مختلف زاویوں سے رواۃِ حدیث پر بحث کی گئی ہے، ذیل میں ہم دونوں گروہوں کے علم رجال کی کتب کا اس اعتبار سے ایک جائزہ لیتے ہیں :
سنی رجالی تراث : انواع و اقسام
اہل سنت کے پاس جو رجالی سرمایہ موجود ہے، وہ بہت سی انواع پر مشتمل ہے، ذیل میں ان انواع اور اس کی نمائندہ کتب کا مختصرا ذکر کیا جاتا ہے:
1. کچھ ایسی کتب ہیں، جو خاص طور پر صحابہ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:
- معرفۃ الصحابہ، ابو نعیم اصبھانی (المتوفی 430ھ)
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبد البر (المتوفی 463ھ)
- اسد الغابۃ فی تمییز الصحابہ، ابن الاثیر (المتوفی 630ھ)
- الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ابن حجر عسقلانی (المتوفی 852ھ)
2. رجالی کتب میں سے کچھ ایسی کتب ہیں، جو صرف ثقہ رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:
- تاریخ اسماء الثقات، ابو حفص عمر بن احمد ابن شاہین (المتوفی 385ھ)
- معرفۃ الثقات، احمد بن عبد اللہ العجلی (المتوفی 261ھ)
- الثقات ابو حاتم محمد بن حبا ن البستی (المتوفی 354ھ)
- الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستۃ، زین الدین قاسم بن قطلو بغا (المتوفی 879ھ)
3. علم رجال کی بعض کتب صرف ضعاف رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:
- الضعفاء الصغیر، امام محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ)
- الضعفاء و المتروکین، ابو عبد الرحمان احمد بن شعیب النسائی (المتوفی 303ھ)
- المجروحین من الرواۃ، ابن حبان البستی (المتوفی 354ھ)
- الضعفاء، ابو جعفر محمد بن عمرو العقیلی (المتوفی 322ھ)
- الکامل فی ضعفاء الرجال، ابن عدی (المتوفی 365ھ)
4. رجالی تراث کی ایک قسم ایسی کتب ہیں، جن میں ان رواۃ کا ذکر ہے، جنہیں متکلم فیہ کہا جاتا ہے، یعنی جن کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے، کوئی جرح کی ہو، خواہ وہ جرح موثر ہو یا نہ ہو، جیسے:
- میزان الاعتدال فی نقد الرجال، علامہ ذہبی (المتوفی 748ھ)
- لسان المیزان، حافظ ابن حجر (825ھ)
5. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ضعفاء و ثقات کی تمییز کئے بغیر سب کا ذکر ہے، جیسے :
- التاریخ الکبیر، امام بخاری (المتوفی 256ھ)
- الجرح و التعدیل، ابن ابی حاتم الرازی(المتوفی 327ھ)
- احوال الرجال، ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی (المتوفی 259ھ)
6. بعض کتب ایسی ہیں، جو صحاح ستہ یا دیگر کتب ِ احادیث کے رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:
- الکمال فی اسماء الرجال، عبد الغنی المقدسی (املتوفی 600ھ)
- تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، ابو لحجاج یوسف بن عبد الرحمان المزی (المتوفی 742ھ)
- تھذیب التھذیب اور تقریب التہذیب، حافظ ابن حجر (المتوفی 852ھ)
- تعجیل المنفعۃ بزوائد رجال الائمۃ الاربعۃ، حافظ ابن حجر (ایضا)
- الجمع بین رجال الصحیحین، ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی (المتوفی 507ھ)
- التعدیل و الترجیح لمن روی عنہ البخاری فی الصحیح، ابو الولید سلیمان بن خلف الباجی (المتوفی 474ھ)
- رجال صحیح الامام مسلم، ابو بکر احمد بن علی الاصبھانی (المتوفی 428ھ)
- الکاشف فی معرفۃ من لہ روایۃ فی الکتب الستۃ، امام ذہبی (المتوفی 748ھ)
- تذھیب التھذیب، امام ذہبی (ایضا)
- اکمال تہذیب الکمال فی اسما ء الرجال، علاء الدین مغلطائ(المتوفی 762ھ)
7. بعض ایسی کتب ہیں، جن میں صرف مدلسین رواۃ کا ذکر ہے، جیسے:
- التبیین لاسماء المدلسین، برھان الدین العجمی (المتوفی 841ھ)
- تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس، حافظ ابن حجر (852ھ)
- طبقات المدلسین، امام سیوطی (المتوفی 911ھ)
8. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں حفاظ محدثین کا تذکرہ ہے، یعنی وہ محدثین، جنہیں کسی نہ کسی اعتبار سے علمِ حدیث میں امامت کا درجہ حاصل ہے، جیسے:
- تذکرۃ الحفاظ، امام ذہبی (748ھ)
- طبقات الحفاظ، امام سیوطی (911ھ)
9. کچھ کتب ایسی ہیں، جو مختلطین رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہیں، یعنی ایسے رواۃ جو حافظے کے اعتبار سے معتمد تھے، لیکن پھر کسی بیماری، حادثے یا ضعف عمر کی وجہ سے ان کا حافظہ بگڑ گیا، ان کی تعیین اس لئے ضروری ہے، تاکہ ان کے اوائل عمر و اواخر عمر یا قبل الاختلاط و بعد الاختلاط احادیث کی تمییز رہے، جیسے:
- الاغتباط بمن رمی من الرواۃ بالاختلاط، برھان الدین حلبی (841ھ)
- الکواکب النیرات فی معرفۃ من اختلط من الرواۃ الثقات، محمد بن احمد ابن الکیال (المتوفی 929ھ)
- کتاب المختلطین، حافظ صلاح الدین علائی (المتوفی 761ھ)
10. بعض کتب میں رواۃ کے طبقات بیان ہوئے ہیں، کہ کونسا راوی کس طبقے اور کس قرن سے تعلق رکھتا ہے ؟جیسے:
- طبقات ابن سعد، محمد بن سعد (المتوفی 230ھ)
- طبقات الرواۃ، خلیفہ بن خیاط (المتوفی (240ھ)
- طبقات، امام مسلم بن حجاج (المتوفی 261ھ)
- تاریخ الاسلام و طبقات المشاہیر و الاعلام، امام ذہبی (المتوفی 748ھ)
11. کچھ کتب میں ان رواۃ کی تفصیل دی گئی ہے، جو کنی و القابات سے معروف ہیں، یہ انتہائی اہم فن ہے، اس میں دس سے زیادہ قسم کے رواۃ کا بیان ہوتا ہے، جن کی کنیت و نام دونوں معروف ہوں، کوئی ایک معروف ہو، ایک سے زیادہ کنیتیں ہوں، پھر ان میں اختلاف ہے یا نہیں، الغرض متعدد قسم کے رواۃ کا ذکر ہوتا ہے جیسے:
- الکنی و الاسماء، ابی بشر الدولابی (المتوفی 310ھ)
- الکنی و الاسماء، امام مسلم بن حجاج (261ھ)
- تاریخ اسماء المحدثین و کناھم، ابو عبد اللہ محمد بن احمد المقدمی (المتوفی 310ھ)
- الاستغناء فی معرفۃ الکنی، ابن عبد البر(المتوفی 463ھ)
- کشف النقاب عن الاسماء و الالقاب، ابن جوزی(المتوفی 597ھ)
- نزھۃ الالباب فی الالقاب، ابن حجر (852ھ)
12. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ان رواۃ کا ذکر ہے، جن کے نام، والد کے نام یا ان کی کنیت یا نسب خطا یا لفظا ایک ہو، جنہیں المتفق و الممفترق کہا جاتا ہے، جیسے:
- المتفق و المفترق، ابو بکر احمد بن علی خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
- الموضح لاوہام الجمع و التفریق، خطیب بغدادی(ایضا)
13. کچھ کتب ایسی ہیں، جن میں ایسے رواۃ کا ذکر ہے، جن کے نام یا کنیت یا القابات خطا ایک جیسے ہوں، لیکن لفظا مختلف ہو، جیسے سلام تشدید کے ساتھ اور بغیر تشدید کے، اس نوع کی کتابیں، جیسے:
- الموتلف و المختلف، ابو الحسن الدار قطنی (المتوفی 385ھ)
- الاکمال فی رفع الارتیاب عن الموتلف و المختلف فی الاسماء و الکنی و الالقاب، ابو نصر ابن ماکولا (المتوفی 475رھ)
- تقیید المہمل و تمییز المشکل، ابو علی حسین بن محمد الغسانی (المتوفی 498ھ)
- الموتلف و المختلف فی الاسماء، ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی(المتوفی507ھ)
14. کچھ ایسی کتب ہیں، جو ایسے رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہوں، جو پچھلی دو اقسام سے مرکب ہوں1، انہیں متشابہ و مشتبہ کہا جاتا ہے، جیسے:
- رفع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الانساب، خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
- • المشتبہ فی اسماء الرجال وانسابھم، امام ذہبی (748ھ)
- تبصیر المنتبہ بتحریر المشتبہ، ابن حجر عسقلانی (852ھ)
- تلخیص المتشابہ فی الرسم، خطیب بغدادی(463ھ)
15. بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ان رواۃ کا تذکرہ ہے، جو آپس میں بہن بھائی، بھائی بھائی بنتے ہیں، ایسے رواۃ کے الگ تذکرے کا مقصد یہ ہے تاکہ کسی بھی دو راویوں کے والد کے نام کو یکساں دیکھ کر انہیں بھائی نہ سمجھ لیا جائے، کیونکہ اس سے رواۃ کے طبقات و ازمنہ متاثر ہوتے ہیں، عین ممکن ہے، کچھ رواۃ میں صدیوں کا فرق ہو، لیکن دونوں کے والد کا نام یکساں ہو، اس قسم کی کتب، جیسے:
- الاخوۃ، ابو داود سجستانی (المتوفی 275ھ)
- کتاب الاخوۃ، علی ابن المدینی (المتوفی 234ھ )
- کتاب الاخوۃ، ابو المطرف الاندلسی (المتوفی 402ھ)
16. کچھ ایسی کتب ہیں، جن میں ایسے رواۃ کا تذکرہ ہے، جن سے صرف ایک راوی نے روایت لی ہو، ان سے مجاہیل کا پتا چلتا ہے، اس فن کی اہم کتاب امام مسلم نے "المنفردات و الوحدان" کے نام سے لکھی ہے، جو چھپ چکی ہے۔
17. کچھ کتب ایسی ہیں، جن میں ان رواۃ کا تذکرہ ہے، جن کا ہم نام کوئی نہیں ہے، کیونکہ ان کے نام عجیب و مشکل تلفظ والے ہوتے ہیں، جیسے عجیان، اجمد ایسے رواۃ کو المفردات من الاسماء و الالقاب و الکنی کہتے ہیں، اس فن پر چوتھی صدی ہجری کے محدث ابو بکراحمد بن ہارون البردیجی نے "الاسماء المفردۃ" کے نام سے کتاب لکھی ہے۔
18. بعض کتب ایسے رواۃ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جن کےا یک سے زائد القابات، اسماء، کنی اور صفات ہوتے ہیں، تاکہ ایک راوی کو متعدد نہ سمجھا جائے، اس کو خطیب بغدادی نے اپنی کتاب "الموضح لاوہام الجمع و التفریق " میں بیان کیا ہے۔
19. بعض ایسی کتب ہیں، جن میں مبھم رواۃ کی تعیین کی گئی ہے، یعنی وہ رواۃ، جو مختلف اسناد میں رجل، امراۃ یا کسی وصفِ غیر معروف سے مذکور ہوں، اس فن کی کتب جیسے:
- الاسماء المبھۃ فی الانباء المحکمۃ، خطیب بغدادی (463ھ)
- غوامض الاسماء المبھمۃ، ابو القاسم خلف ابن بشکوال(المتوفی 578ھ)
- المستفاد من مبھمات المتن و الاسناد، ولی الدین العراقی (المتوفی 826ھ)
20. بعض کتب رواۃ و رجال کے سنین و تواریخ وفات پر لکھی گئیں ہیں، جن کو وفیات کہتے ہیں، یہ انتہائی اہم ترین فن ہے، ان سے رواۃ کے طبقات اور ان کے لقاء و عدم لقاء کا پتا چلتا ہے، یوں اسناد میں انقطاعِ ظاہری یا مخفی کا علم ہوتا ہے، جیسے:
- تاریخ موالد العلماء و وفیاتھم، ابو سلیمان محمد بن عبد اللہ ابن زبر الربعی (المتوفی379ھ)
- السابق و اللاحق فی تباعد ما بین وفاۃ راویین عن شیخ واحد، خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
- الذیل علی تاریخ موالد العلماء ووفیاتھم، ابو محمد عبد العزیز بن احمد الکتانی الدمشقی (المتوفی 466ھ)
- وفیات الاعیان، ابو العباس احمد بن محمد ابن خلکان (المتوفی 681ھ)
- فوات الوفیات، محمد بن شاکر الکتبی (المتوفی 764ھ)
- الوافی بالوفیات، صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی (المتوفی 764ھ)
- الوفیات، ابو رافع تقی الدین محمد بن رافع السلامی (المتوفی 774ھ)
- در السحابۃ فی بیان مواضع وفیات السحابہ، حسن بن محمد الصغانی (المتوفی 650ھ)
- الاعلام بوفیات الاعلام، امام ذہبی (المتوفی 748ھ)
- التکملۃ لوفیات النقلۃ۔حافظ زکی الدین عبد العظیم المنذری(المتوفی 656ھ)
وفیات کی یہ سب کتب چھپی ہوئی ہیں، اس نوع کی اہمیت کی وجہ سے اس کی کتب زیادہ ذکر کیں، آگے (ان شا اللہ )جب شیعی علم رجال کی کتب ذکر ہوں گی، تو وفیات کے اعتبار سے خصوصیت کے ساتھ تقابل کیا جائے گا۔
21. بعض ایسی کتب ہیں، جن میں مخصوص صدی و قرن کے علماء و رواۃ کا ذکر ہوتا ہے، جیسے:
- الدرر الکامنۃ فی اعیان المائۃ الثامنۃ، ابن حجر عسقلانی (المتوفی852ھ)
- الضوء اللا مع فی اعیان القرن التاسع، شمس الدین السخاوی(المتوفی 902ھ)
22. کچھ ایسی کتب ہیں، جو مخصوص بلا د و امصار کے رواۃ و رجال کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:
- تاریخ مدینۃ السلام (تاریخ بغداد ) خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
- تاریخ مدینۃ دمشق (تاریخ ابن عساکر ) ابو القاسم ابن عساکر (المتوفی 571ھ)
- تاریخ واسط، ابو الحسن اسلم بحشل الواسطی (المتوفی 292ھ)
- طبقات العلماء و المحدثین من اہل الموصل اور تاریخ الموصل، ابو زکریا یزید بن محمد الازدی(المتوفی 334ھ)
- طبقات المحدثین باصبھان والواردین علیھا، ابو شیخ عبد اللہ بن محمد الانصاری(المتوفی 369ھ)
23. کچھ ایسی کتب ہیں، جن میں مخضرمین کا ذکر ہے، یعنی وہ لوگ جنہوں نے زمانہ جاہلیت و زمانہ نبوت پایا، لیکن نبی ﷺ پر آپ کے زمانہ میں ایمان نہیں لائے، یوں وہ زمانہ نبوت میں ہونے کے باوجود تابعی کہلاتے ہیں، ان نوع کی مشہور کتاب برھان الدین سبط ابن العجمی (المتوفی 841ھ)کی "تذكرة الطالب المعلَّم لمن يقال : إنه مخضرم" ہے۔
24. کچھ کتب انساب و قبائل کے اعتبار سے رواۃ کےتذکرے پر مشتمل ہیں، جیسے:
- الانساب، ابو سعید عبد الکریم السمعانی (المتوفی 562ھ)
- اللباب فی تہذیب الانساب، ابن اثیر (المتوفی 630ھ)
- لب اللباب فی تحریر الانساب، امام سیوطی (المتوفی 911ھ)
25. بعض کتب ایسی ہیں، جو مشہور محدثین کے شیوخ و اساتذہ اور ان محدثین کے تذکرے پر مشتمل ہیں، جن سے اجازتِ حدیث حاصل ہے، جسے مشیخہ یا معجم الشیوخ کہا جاتا ہے، جیسے:
- معجم الشیوخ، ابو سعید ابن الاعرابی (المتوفی 340ھ)
- المعجم الاوسط و المعجم الصغیر، طبرانی (المتوفی 360ھ)
- المعجم فی اسامی شیوخ ابی بکر احمد بن ابراہیم الاسماعیلی (المتوفی 370ھ
اس نوع کی کتب کثرت سے لکھی گئیں ہیں، اختصار کے پیشِ نظر صرف تین کتب کا ذکر کیا۔
- سنی کتب رجال کے انواع ا قسام پر مشتمل کتب کی ایک مختصر سی فہرست سامنے آگئی، اس فہرست میں اختصار کرتے کرتےبھی 25 انواع ا قسام بن گئیں، اب بھی متعدد اقسام کا ذکر نہیں کیا گیا 2 اس فہرست میں جن نمائندہ کتب کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سب ایسی کتب ہیں، جو مطبوع ہیں اور ہمارے پاس متداول ہیں، ان کتب کا ذکر چھوڑ دیا گیا، جن کا ذکر تاریخ و فہارس کی کتب میں تو ہیں، لیکن کسی بھی وجہ سے ہم تک نہیں پہنچ سکیں، اس کے بعد شیعی علم رجال کی کتب کے انواع و اقسام کا ذکر ہوگا اور ساتھ ہر دو مکاتب کے انواع و اقسام پر مشتمل کتب ِ رجال کا ایک تقابل و تجزیہ پیش کیا جائےگا۔
حواشی
- اس لئے تعریفات کی فنی جامعیت یا مانعیت کا اشکال نہ کیا جائے یہاں تعریفات مقصد نہیں، صرف اقسام کے تعارف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
- جیسے، کتب عن ابیہ عن اجدہ ،معرفۃ الاکابر من الاصاغر، معرفۃ الابناء من الاباء، معرفۃ الاقران وغیرہ
(جاری)
مسائل حسن و قبح پر معتزلہ و تنویری فلاسفہ کے موقف کا فرق
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل
تحریر کا مقصد اسلامی تاریخ کے گروہ "معتزلہ" سے متعلق ہماری تحریر و تقریر میں درآنے والی ایک عمومی غلط فہمی کی نشاندہی کرنا ہے۔ معتزلہ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ شاید اسی قبیل کے افکار کا حامل گروہ تھا جیسے کہ جدید مغربی فلاسفہ یا ان سے متاثر جدید مسلم مفکرین کے افکار ہیں۔ یہ تاثر غلط بھی ہے اور غیرمفید بھی ۔ اس کی غلطی اور غیر افادیت دونوں کو مختصرا چند نکات کی صورت واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
غلطی کی نوعیت
معتزلہ کے بارے میں جس بنا پر درج بالا تاثر قائم کیا جاتا ہے، وہ مسئلہ حسن و قبح (good and bad) پر ان کی خاص رائے ہے ۔ اسلامی تاریخ میں اس مسئلے کی نوعیت اس سوال سے متعلق ہے کہ آخرت میں خدا کے سامنے جوابدہی کی بنیاد کیاہے؟ اللہ تعالی اپنے بندوں کو کس عمل پر جزا دے گا اور کس پر سزا، انسان یہ کیسے جان سکتا ہے؟ یہ سوال اپنی وضع میں "اخروی" جہت لئے ہوئے ہے، یعنی خیر و شر کا تعلق محض اعمال کے دنیوی نتائج یا دنیوی خصائص کے اعتبار سے ان اعمال کی بناوٹ کے لحاظ سے نہیں بلکہ آخرت میں نتائج کے اعتبار سے ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں معتزلہ کے موقف کا خلاصہ یہ ہے:
- اخروی جوابدہی کی بنیاد عقل اور وحی دونوں ہیں
- انسانی عقل سے معلوم کئے جاسکنے کے امکان کے لحاظ سے معتزلہ تمام انسانی افعال کو تین اقسام میں رکھتے ہیں: (1) وہ جن کا حسن ہونا عقل سے معلوم ہوسکتا ہے جیسے کہ اللہ پر ایمان لانا اور سچ بولنا وغیرہ، (2) وہ جن کا قبیح ہونا عقل سے معلوم ہوسکتا ہے جیسے کہ کفر، بلا سبب جھوٹ بولنا وغیرہ، (3) وہ جن کے حسن و قبح کا ادراک عقل سے نہیں ہوسکتا بلکہ شرع سے ہوتا ہے جیسے نمازوں کی تعداد و اوقات، روزے کے مہینے کا تعین وغیرہ۔
- معتزلہ کے نزدیک وہ اعمال جن کے حسن و قبح کو عقل پہچان سکتی ہے، ان معاملات میں بھی وحی آتی ہے جو عقل سے معلوم شدہ نتائج کی تائید کرتی ہے
- اعمال کا یہ حسن و قبح اللہ تعالی کی صفت حکمت کے مضمرات میں سے ہے کہ حکیم ذات ایسے افعال سرانجام دیتی ہے جو بامعنی (معتزلہ کی اصطلاح میں "اصلح للعباد") ہوں اور ایسی ذات ان اعمال کا حکم صادر نہیں کرتی جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہوں ہی قبیح۔ یہی وجہ ہے کہ معتزلہ کے نزدیک خدا کفر اور جھوٹ جیسے قبیح لعینہ کا حکم صادر نہیں کرسکتا کہ یہ اس کی صفت حکمت کے خلاف ہے، اسی طرح معتزلہ خدا کی طرف سے ایسے اعمال کی تکلیف لازم کئے جانے کے بھی قائل نہیں جن کی ادائیگی کی استطاعت بندے میں نہ ہو کیونکہ ایسا حکم عبث کہلاتا ہے اور ایک حکیم ذات سے عبث عمل کی توقع نہیں کی جاسکتی (اس بحث کو تکلیف مالا یطاق کہتے ہیں)
- معتزلہ کے نزدیک جن لوگوں تک نبی کی بات نہ پہنچے، ان پر بھی نجات کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ خدا پر ایمان لائیں اور چند کم از کم نیک اعمال کی ادائیگی اور برے اعمال سے اجتناب کا اہتمام کریں جن کے حسن و قبح کو عقل پہچان سکتی ہے
- علمائے معتزلہ کا ماننا ہے کہ اگر بعض اعمال کی اخلاقی حیثیت کے درج بالا عقلی پہلو کو قبول نہ کیا جائے تو نبی کی تصدیق کے استدلال کا دروازہ مسدود ہوجائے گا۔
چنانچہ درج بالا نکات سے یہ واضح ہے کہ:
- معتزلہ کے پیش نظر کوئی ایسا عقلی پراجیکٹ وضع کرنا مقصود نہیں تھا جو وحی کو انسانی خیالات کے تحت وضع کردہ کسی اخلاقی سسٹم سے بدل دے جیسا کہ ھیوم، سمتھ یا کانٹ وغیرہ کے پیش نظر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان فلاسفہ کے ہاں مثلاً بائیبل سے ہدایت حاصل کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں جبکہ معتزلہ قرآن و سنت سے ہدایت کے سختی سے قائل تھے۔ اسی طرح معتزلہ کے ہاں ایسے تصورات بھی نہیں پائے جاتے جو منصوص شرعی احکامات کو کسی قسم کی تاریخی معاشرتی صف بندی (social construct) کا نتیجہ ثابت کردیں جیسا کہ ان مفکرین کا کہنا ہے جو ہیگل یا مارکس وغیرہ سے متاثر ہیں۔
- جدیدیت کے مباحث میں حسن و قبح کی تمام بحثوں کا محور یہ دنیا (this worldly) ہے جبکہ معتزلہ ہوں یا اشاعرہ و ماتریدیہ، سب کے ہاں یہ سوال اخروی (that worldly) ہے۔ حسن و قبح کی نوعیت پر بحث کا یہ زاویہ نگاہ علم کلام کے تقریبا تمام مکاتب فکر کے مابین یکساں ہے اور اس بحث کی یہ وہ بنیادی خصوصیت ہے جو اسلامی علم کلام میں ہونے والی اس بحث کو مابعد تحریک تنویر اس موضوع پر ہونے والے مباحث سے ممیز کرتی ہے۔ تنویری مفکرین کے ہاں حسن و قبح کا یہ سوال اخروی زاویہ نگاہ سے زیر بحث نہیں آتا بلکہ ان کی فکر اسے محض دنیوی نکتہ نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس فکر کے مطابق اچھائی و برائی کا تعلق اس سوال سے نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے، بلکہ یہ سوال دنیا میں انسان کی حصول آزادی کی جدوجہد میں اضافے یا کمی سے عبارت ہے۔ چنانچہ حسن وہ ہے جو انسان کی آزادی (بعض مفکرین کے مطابق لذت) میں اضافے کا باعث بنے اور قبیح وہ ہے جو اس کی آزادی میں کمی لائے۔اس اعتبار سے اسلامی علم کلام میں ماضی کا کوئی بھی گروہ حسن و قبح کے مسئلے پر تنویر ی موقف کا قائل نہیں رہا۔ محض دنیوی نکتہ نگاہ سے اعمال کی قدر متعین کرنے کا یہ زاویہ نگاہ اسلامی تاریخ و علمیت کے لیے اجنبی ہے۔
- معتزلہ کے ہاں چند گنے چنے اعمال کے عقلی حسن و قبح سمیت سب معاملات میں وحی کی حاکمیت نافذ ہے اور انفرادی و اجتماعی تمام زندگی کو اسی کے مطابق مرتب کرنا لازم ہے۔ شریعت پر عمل کے اس معاملے میں وہ اس قدر سخت گیر تھے کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو ایمان و کفر کے مابین معلق قرار دیتے تھے۔ پس اس اعتبار سے انہیں آج کے سیکولر مسلمان مفکرین کی طرح بھی نہیں گردانا جاسکتا۔
ان امور کے پیش نظر معتزلہ کو مغربی فلاسفہ کی طرح یا بعض سیکولر قسم کے مسلم مفکرین کی طرح قرار دینا نہ صرف غلط ہے بلکہ ان نئے لوگوں کو اسلامی تاریخ سے ایک بنیاد یا نظیر فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ درست بات یہ ہے کہ ان نئے قسم کے لوگوں کی بات کے لئے اسلامی تاریخ میں کوئی نظیر موجود نہیں۔ رہا اشاعرہ کا معتزلہ کی اپروچ کو رد کرنا، تو اس بحث کا اپنا الگ مقام و حیثیت ہے لیکن اس تردید کا ان تاثرات سے تعلق نہیں جو عام طورپر معتزلہ کے بارے میں مشہور ہوگئے ہیں۔ یہ بات بھی یادر رکھنا چاہئے کہ محض مجرد اصول کسی کے موقف کو متعین کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتے بلکہ یہ بھی دیکھنا لازم ہوتا ہےکہ اس فکر کے حاملین نے ان اصولوں کو کیسے اور کس حد تک برتا۔ چنانچہ حسن و قبح کی بحثوں میں معتزلہ ان اصولوں کو کیسے برتتے ہیں، اس کے لئے اصول فقہ پر ان کے علماء کی نمائندہ کتب دیکھنا چاہئیں (جیسے کہ قاضی عبد الجبار کی "العمد" نیز ابو الحسین البصری کی "المعتمد") ۔
غیر افادیت کی نوعیت
مسئلہ حسن و قبح پر بحث میں جن امور کے پیش نظر معتزلہ کو تنویری فلاسفہ کے ساتھ ملایا جاتا ہے، ان مسائل میں اصولا علمائے ماتریدیہ کی بھی قریب قریب وہی رائے ہے جو معتزلہ کی ہے۔ چنانچہ علمائے ماتریدیہ بھی اللہ کی حکمت کے پیش نظر اعمال کے خصائص کے قائل ہیں، وہ بھی اعمال کو انہی تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں جو اوپر ذکر کی گئیں نیز ان کی ایک اکثریت کے نزدیک بھی نبی کی بات پہنچے بغیر بذریعہ عقل اللہ پر ایمان لانا لازم ہے۔ جن اصولوں کے پیش نظر معتزلہ تکلیف مالایطاق کے قائل نہیں، انہی کے پیش نظر ماتریدیہ بھی قائل نہیں۔ معتزلہ کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے گویا ان کے نزدیک بعض اعمال کی تکلیف واجب کرنے والی شے عقل ہے حالانکہ ان کا موقف یہ ہے کہ عقل ان کی تکلیف واجب کرنے والی نہیں بلکہ اس کی کاشف یعنی وضاحت کرنے والی ہے، موجب خدا ہی کی ذات ہے اور یہی موقف ماتریدیہ کا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ ماتریدی روایت اہل سنت میں احناف کی روایت ہے۔ نہ صرف ماتریدی علماء بلکہ مسائل حسن و قبح میں علامہ ابن تیمیہ بھی تقریبا علمائے ماتریدیہ والی رائے ہی رکھتے ہیں اور آپ بھی اللہ کی حکمت کے تقاضوں کے تحت تکلیف مالایطاق جیسے امور کو ناجائز کہتے ہیں نیز علمائے معتزلہ و ماتریدیہ کی طرح اعمال کے حسن و قبح کے عقلی ادراک کے لحاظ سے انہیں تین اقسام کے تحت رکھتے ہیں البتہ وہ ان کی تکلیف شرعی کے لئے صرف وحی کو بنیاد بناتے ہیں (علمائے ماتریدیہ اور آپ کی رائے میں تعلق و فرق یہ ہے کہ بعض ماتریدیہ کے نزدیک شکر منعم ماقبل شرع بھی واجب ہے جبکہ بعض ماتریدیہ کے نزدیک یہ واجب نہیں، اس اعتبار سے علامہ ابن تیمیہ کی رائے ان دوسرے بعض کی طرح ہے)۔ ان سب کے برعکس علمائے اشاعرہ خیر و شر کے ادراک اور اس کی تکلیف ہر دو میں صرف شرع کو بنیاد بناتے ہیں۔ گوشوارہ نمبر 1 میں مختلف آراء کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

چنانچہ جب ہم معتزلہ کو ان کے موقف کی بنا پر مغربی فلاسفہ یا سیکولر قسم کے مسلم مفکرین کے ساتھ ملاتے ہیں ، تو انجانے میں نہ صرف خود اہل سنت میں ماتریدی / حنفی روایت کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں بلکہ ان گمراہ فلسفیوں اور مسلم مفکرین کی آراء کو اہل سنت ہی کے اندر سے سند جواز فراہم کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک غلط فہمی ابو نصر فارابی اور ابن سینا جیسے مسلم فلاسفہ کو معتزلہ کے ساتھ ملادینا ہے حالانکہ ان دونوں کی اپروچ میں بنیادی نوعیت کا فرق تھا (مثلا یہ کہ مسلم فلاسفہ نیو افلاطونی فکر کے زیر اثر تھے جبکہ معتزلہ اٹامسٹ تھیوری کے قائل تھے اور اسی نظرئیے کو اشاعرہ و ماتریدیہ نے بھی قبول کیا، اسی طرح مسلم فلاسفہ کا تصور نبوت و معجزہ معتزلہ کے تصور نبوت و معجزہ سے مختلف ہے)۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی "تھافت الفلاسفۃ " کے بعد علمائے معتزلہ نے بھی اسی طرز پر مسلم فلاسفہ کے رد پر کتب لکھیں (مثلا ابن الملاحمی کی کتاب "تحفۃ المتکلمین فی الرد علی الفلاسفۃ")۔
الغرض معتزلہ کے پیش نظر نہ وحی کو رد کرکے من جملہ کسی عقلی اخلاقی نظام کو کھڑا کرنا مقصود تھا اور نہ ہی ان کے ہاں انفرادی اور اجتماعی زندگی جیسی کوئی ایسی تقسیم موجود تھی جو شرع کو انفرادی زندگی تک محدود کرسکے۔ پس ان امور کے پیش نظر تنویری فکر کے تناظر میں معتزلہ کے افکار پر گفتگو و بحث کرتے ہوئے ہمیں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور ایسے عمومی بیانات سے گریز کرنا چاہئے جو نہ صرف یہ کہ علمی طور پر غلط ہیں بلکہ جدید فاسد خیالات کو تاریخی سند فراہم کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اس بے احتیاطی کا ایک بڑا نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم معتزلہ کے بارے میں یہ تاثر قائم کرواتے رہے کہ وہ مسائل خیر و شر میں مغربی فلاسفہ جیسے خیالات رکھتے تھے اور پھر کل کلاں کو مخلص مسلمان اصل ماخذات (یا پھر ثانوی انگریزی ماخذات) سے یہ جانیں گے کہ خود اہل سنت میں ماتریدی روایت کے حاملین اور اسی طرح دیگر اہم افراد بھی تقریبا یہی خیالات رکھتے تھے تو ہم ان مسلمانوں کو اہل سنت ہی کے ایک گروہ سے برگشتہ کرنے کا باعث بن جائیں گے نیز ساتھ ہی ساتھ سیکولر و متجددین قسم کے مسلم مفکرین کے مدعا کو مضبوط کردیں گے۔ اس ضمن میں زیادہ علمی اور محفوظ طریقہ بحث معتزلہ کو جدید فکر کے حاملین کی صفوں میں لا کھڑا کرنا نہیں بلکہ ان سے الگ کرنا ہے۔
ہذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب۔
قرآن پر اجماع اور اس کا تواتر، ایمان بالغیب اور متشکک ذہن
ڈاکٹر عرفان شہزاد
اصطلاحات بعض اوقات بڑے بڑے حقائق کے لیے حجاب بن جاتی ہیں۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کی نظر بیان حقائق کی بجائے الفاظ کی نامکمل تفہیم تک محدود رہ جاتی ہے۔
اجماع، تواتر اور ایمان بالغیب، مذہبی حلقوں میں استعمال ہونے والی یہ اصطلاحات محض مذہبی علم و عقائد کی ترسیل و تسلیم کے ذرائع نہیں ہیں جن کا دار و مدار تسلیمِ محض پر ہو۔ حقیقت اس کے برعکس ہے، یہ انسانی ذرائع علم کا بیان ہوتا ہے۔ مذہب ، کسی بھی دوسرے علم کی طرح انسان کی انھیں فیکلٹیز سے مخاطب ہوکر ان حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے جو ان ذرائع علم کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو جدید علم پر منطبق کر کے دکھایا جائے تو بات واضح ہو جائے گی۔
20 جولائی 1969 کو نیل آرم سڑانگ نے چاند پر قدم رکھا۔ یہ واقعہ پوری دنیا کے انسانوں کو اس وقت کے دستیاب ذرائع ابلاغ کی سہولیات کے ساتھ دکھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چنانچہ تما م دنیا نے اس کے وقوع پر اتفاق کیا۔ اس اتفاق راے کو مذہبی اصطلاح میں اجماع کہتے ہیں۔ چنانچہ چاند سے انسان کے وصال پر اجماع ہوگیا۔ پھر یہ واقعہ دنیا بھر کے لوگوں نے رپورٹ کیا، اسے تواتر کہتے ہیں۔ یہ تواتر اگلی نسلوں کو منتقل ہوا اور آج ہمیں اس واقعہ کے وقوع پر ایسا یقین ہے جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ہو۔
آج کا انسان جب اس واقعہ کو سنتا، پڑھتا ہے تو کسی تفصیل و تفتیش میں پڑے بغیر اس پر یقین کرتا ہے، وجہ یہی کہ سبھی لوگ اس پر یقین کرتے ہیں، اسے بیان کرتے ہیں اور کتابوں میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس واقعہ کی سند نہیں مانگی جاتی کہ کس نے بتایا کس کو بتایا، کتنے لوگوں نے بتایا، کس کتاب میں پہلی بار یہ لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس پر یقین کی ابتدا آج کے علم و یقین سے ہوتی ہے۔ ماضی کے ایسے تمام واقعات کے بارے میں یہی کیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ کیا واقعی سکندر اعظم کوئی شخص تھا جس سے اپنے وقت کی معلوم دینا کا آدھا حصہ فتح کر لیا تھا، جو ہندوستان اور پنجاب پر بھی حملہ آور ہوا تھا۔ اجماع و تواتر خود اپنی سند ہوتے ہیں۔ ان کی تصدیق کے لیے ان کی سند اور ڈاکیومنٹیش کی بحث کرنا ایک غیرعلمی حرکت سمجھا جاتا ہے۔ سند اور ڈاکیومنٹیشن کی بحث اختلاف کی صورت میں اور تفصیلات کے حصول کے لیے کی جاتی ہے، اجماع و تواتر سے منتقل ہوئے نفس واقعہ کی تصدیق کے لیے نہیں۔
اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ ایک طرف چاند پر انسان کی رسائی کے اس واقعہ پر ہمہ گیر اتفاق ہے، دوسری طرف ہمارے پاس ایسی اختلافی روایات بھی موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ کچھ لوگ اس وقوعہ پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اس وقت بھی موجود تھے جنھوں نے اس واقعہ کو ڈرامہ قرار دیا۔ آج کا یا مستقبل کا کوئی "ذہین متشکک" اس واقعہ پرانسانوں کے اس ہمہ گیر اتفاق یعنی اجماع و تواتر کو نظر انداز کر کے ان اختلافی روایات کی بنیاد پر یہ دعوی کر ڈالے کہ اس واقعہ پر اجماع و تواتر کا دعوی مشکوک ہے، اس پر ہمہ گیر اتفاق کی کوئی حقیقت نہیں اور ثبوت میں وہ بیانات، اخبارات کے کالمز، اور یوٹیوب پر موجود ویڈیوز کے حوالے دے، تو اس عبقریت پر جو جواب اسے ملنا چاہیے معلوم ہے۔
یہی معاملہ قرآن مجید کا ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے، یہ مابعد الطبیعی دعوی ہے، جس کا تعلق موجودہ ذرائع علم کی بحث سے نہیں ہے۔ لیکن قرآن مجید کے ایک متن پر اِس وقت کے موجود مسلمانوں کا ہمہ گیر اتفاق ایک زندہ اور قابل مشاہدہ حقیقت ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں دوسرا ہمہ گیر اتفاق اس پر ہے کہ یہ وہی کلام ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ سے صادر ہوا تھا۔ آج کا یہ اجماع، بغیر تواتر کے ممکن نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آج کے اس اجماع و تواتر کو مد نظر رکھا جائے گا اور کسی تفصیل میں پڑے بغیر، آنکھوں کے سامنے کھڑی اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے گا کہ قرآن مجید کے متن پر کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس کا اتنساب محمد رسول اللہ ﷺ سے ہونا بھی قطعی ہے۔
اجماع و تواتر پر کسی فرد یا گروہ کا بس نہیں چلتا۔ نہ ان وہ اسے جاری کر سکتے ہیں نہ روک سکتے ہیں۔ قرآن کے متن پر اتفاق اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت میں نہ ہوتا تو آئندہ یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ اس وقت کسی فرد کو بالفرض اپنی کم علمی کی بنا پر قرآن کا کوئی لفظ یا سورت معلوم نہ تھی، تو یہ معاملہ فرد کا تھا جس سے اجماعی علم متاثر نہیں ہوتا۔ ایسے ہی جیسے ہمارے بچوں کو کوئی لفظ پڑھنا نہیں آتا یا انھیں کسی سورت کا علم نہیں ہوتا، یا یہ انھیں معلوم نہیں ہوتا جنھوں نے قرآن نہیں پڑھا ہوتا۔ اس سے قرآن پر مسلمانوں کا اجماع و تواتر متاثر نہیں ہوتے، فرد ہی سے کہا جائے گا کہ اپنا علم اجماع و تواتر کے مطابق درست کرے۔
قرآن پر اجماع اور اس کے تواتر کی بنا پر سند کی بحث نہیں کی جاتی کہ اسے کس نے لکھا، کس کو لکھوایا، کس نے محفوظ کیا، کس نے پھیلایا۔ یہ افراد کا کام نہیں تھا۔ یہ کام پوری امت نے دوسری نسل کے لیے کیا اور انھوں نے آئندہ نسل کے لیے اور یوں سلسلہ چلتا رہا، بالکل ایسے ہی جیسے آج کے مسلمان کرتے ہیں۔ سبھی اپنے بچوں کو ایک ہی قرآن پڑھاتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ علما اس کا درس دیتے ہیں مفسرین تفسیریں لکھتے ہیں۔ فقہا اس سے مسائل اخذ کرتے ہیں ہر مسلمان اس سے کسی نہ کسی درجے میں جڑا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دستاویزی بحث بھی قرآن کے بارے میں نہیں کی جا سکتی کہ قرآ ن کا سب سے قدیم نسخہ کون سا ہے۔ یہ بحث ان متون کے بارے میں کی جاتی ہے جن پر اختلاف ہوتا ہے یا وہ جو پہلی دفعہ دریافت ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے قرآن کے قدیم نسخے سنبھالنے کی کوئی ذمہ داری اٹھا نہیں رکھی تھی۔ قدیم نسخے وہ کیوں سنبھالتے جب کہ ہر لمحہ تازہ نسخے تیار ہوتے رہتے تھے۔
اب اس ہمہ گیر اتفاق یا اجماع و تواتر کے مقابل ہمارے پاس چند اخبار احاد ہیں جو بتاتی ہیں کہ قرآن کے متن میں اختلاف تھا اور ہے۔ یہ تاریخی لڑیچر میں اخبار احاد کی شکل میں موجود ہیں، یعنی کچھ لوگ یہ کہتے تھے، مگر امت کے اجماع و تواتر پر ان روایات نے کبھی کوئی اثر پیدا نہیں کیا۔ مسلمان کبھی کنفیوز نہ ہوئے کہ اجماعی قرآن کے مقابلے میں یہ کہانیاں کیا کہتی ہیں۔ قرآن کا اجماع و تواتر بغیر کسی تردد کے ہمیں آج منتقل ہو گیا۔
قرآن مجید کے متن کی محفوظیت کے معاملے میں سب سے زیادہ متہم اہل تشیع ہیں۔ ان کے لڑیچر میں ایسی روایات موجود ہیں کہ قرآن بدلا گیا، اس میں تحریف کی گئی۔ مگر خود اہل تشیع کے مین اسٹریم، یعنی جمہور اہل علم اور عوام نے قرآن کے متن کی محفوظیت کے خلاف ان روایات کو تسلیم نہیں کیا، انھیں رد کیا یا ان کی تاویل کی۔ شیعہ امت کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہمیشہ سے اسی طرح اپنے بچوں کو پڑھاتے اور حفظ کراتے آ رہے ہیں جیسے باقی مسلمان کرتے ہیں۔ ان کے علما فقہا اس سے ہمیشہ منسلک رہے اور درس دیتے رہے تفساسیر لکھتے رہے، بلکہ اہل تشیع میں قرآن کے حفظ کو ایک مزید حیرت انگیز طریقہ سے کرنے کا رواج ہے اور وہ یہ کہ وہ ترجمہ کے ساتھ حفظ کراتے ہیں۔ بچے کو ہر آیت کا نمبر، جس صفحہ پر آیت ہو، اس کا صفحہ نمبر تک یاد کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ انھیں یہ بتائیں کہ فلاں صفحہ پر فلاں نمبر آیت کون سی ہے تو وہ یہ بھی بتا دیں گے۔ جامعہ کوثر میں یہ تجربہ راقم نے خود کیا تھا۔ جس کو تصدیق کرنا ہو وہ جامعہ کوثر جا کر ان بچوں سے مل سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے اجماع و تواتر کے باوجود اس کے متن کی محفوظیت پر شکوک کا اظہار کرنے والا "جری" ذہن، قرآن کے متن کے بارے میں اختلاف بیان کرنے والی ان روایات پر شکوک کا اظہار کیوں نہیں کرتا جو خود مشکوک ہیں؟ یہ افواہ چھوڑ دینا کسی کے لیے کیا مشکل تھا کہ قرآن کے متن پر اتفاق نہیں تھا، یا قرآن کے کسی لفظ کے پڑھنے میں کچھ لوگوں میں اختلاف ہوا تھا، یا یہ کہ فلاں سورت کی جگہ یہ نہیں کوئی اور تھی، یا یہ کہ ایک خلیفہ نے قرآن کے سارے نسخے جلا کر سب کو قرآن کی ایک قراءت پر اکھٹا کیا تھا یا کہ عراق کے ایک گورنر نے قرآن میں گیارہ مقامات میں تبدیلی کرا دی تھی۔ جس حوصلے کے ساتھ قرآن کے اجماع و وتواتر کے خلاف ایک غیر علمی موقف اپنانے کی جلدی کی گئی ہے، اسی حوصلے سے ان روایات پر تنقیدی نظر ڈالنے سے گریز کیوں کیا گیا ہے؟ وہ جو قرآن کے ساتھ احادیث کے ذخیرے ہی کو معتبر تسلیم نہیں کرتے، ان روایات کو کیوں تسلیم کرتے ہیں؟ اسی تنقیدی ذہن سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ کیا وجہ ہے کہ اس ایک خلیفہ کی ایک قرآن پر امت کو جمع کرنے والی رویت کا مدار صرف ایک شخص (شہاب الدین زہری) پر کیوں ہے جب کہ یہ واقعہ پورے عالم اسلام میں ایک ہمہ گیر آپریشن کا ہے، جسے ان گنت لوگوں کو بیان کرنا چاہیے تھا۔ یہ واقعہ تو تواتر سے بیان ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ کیا محض یہی بات اس کہانی کو مشکوک نہیں بنا دیتی؟
پھر اسی کہانی میں یہ بیان کہ قرآن کے متن کو بغیر اعراب اور نقطوں کے لکھا گیا تھا، اس سے ایک قراءت پر جمع ہونے میں کیا مدد مل سکتی تھی؟
ان روایات پر وہ "ذہانت" (اگر اسے ذہانت کہا جا سکے)، کیوں نہیں آزمائی گئی جس کے ذریعے سے قرآن کے ایک متن پر ہمہ گیر اتفاق جیسی حقیقت کو نظر انداز کرنے کارنامہ سر انجام دے دیا گیا؟
ایک طرف اجماع و تواتر ہیں جو ان کے نزدیک مشکوک ہیں اور دوسری طرف مشکوک روایات ہیں جو ان کے نزدیک معتبر ہے۔ اس رویے کو کیا نام دینا چاہیے؟ کسی بھی معیار سے یہ علمی رویہ بہرحال نہیں ہے۔
قرآن مجید کے خدا کا کلام ہونے یا نہ ہونے کی بحث تو کی جا سکتی ہے مگر اس کے واحد متن کی محفوظیت پر اعتراض محض علمی غلطی ہی نہیں، بلکہ غیر علمی حرکت ہے۔
دوسری بات یہ کہ یہ کہنا کہ قرآن کے علاوہ بھی ماضی کی بعض کتب کا ایک ہی متن اور ایک ہی ورژن محفوظ رہا ہے، اس لیے قرآن کے متن کا محفوظ رہ جانا کوئی معجزہ نہیں، چند بنیادی باتوں کو نظر انداز کیے بنا ممکن نہیں۔ قرآن اور دیگر محفوظ کتب کی محفوظیت میں فروق ہیں۔
پہلا یہ کہ ان کتب کے متن کا محفوظ رہ جانا اتفاقی امر ہے۔ اس کا دعوی نہیں کیا گیا تھا کہ ایسا ہوگا۔ جب کہ قرآن مجید نے خود یہ دعوی کیا تھا کہ یہ محفوظ رہے گا۔ اور یہ دعوی تب کیا گیا جب متن کے محفوظ رہ جانے کے وسائل دستیاب نہ تھے۔ چنانچہ اس کے متن کی حفاظت باقاعدہ منصوبے اور دعوی کا نتیجہ ہے۔ کیا یہ دعوی اور یہ نتیجہ کسی دیانت دار ذہن کو اپیل نہیں کرتا؟ یہ حقیقت اگر کسی ذہن کو متاثر نہیں کرتی تو یہ ذہن دیانت دار نہیں کہا جا سکتا۔ یہ متعصب ذہن ہے جس کا علاج خود اس کے سوا کسی کے پاس نہیں۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ کیا اُن محفوظ رہ جانی والی کتب کے مصنفین سے ان کتب کا انتساب بھی اتنا ہی محفوظ اور قطعی ہے جتنا قرآن کا انتساب اپنے مصدر (دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ) سے؟ علم و دیانت کو اس سوال کا جواب بھی معلوم ہے۔
دوسرا نکتہ ایمان بالغیب کا ہے۔
نظریہ ارتقا اور بیگ بینگ تھیوری اپنے آثار و شواہد کی بنا پر تسلیم کیے گئے ہیں۔ یہی ایمان بالغیب ہے۔ ان پر اب ایسا تیقن ہو چکا ہے کہ ان کا انکار کرنا مضحکہ خیز سمجھا جاتا ہے۔ آثار و شواہد کی بنا پر کسی ایسے نتیجے پر پہنچنا جس سے ان آثار و شواہد و مظاہر کی توجیہ ہو جائے، اور خود اس نتیجہ یا نظریہ کو مشاہدہ اور تجربہ کر کے پرکھا نہ جا سکے، اسے ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ خدا پر ایمان لانے کے لیے انسان کی اسی فیکلٹی کو استعمال کیا گیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کائنات کا وجود اپنی تخلیق کی توجیہ چاہتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس کی توجیہ کرے اور بتائے کہ کس طرح ایک معنی خیز کائنات وجود میں آئی ہے جس کے مختلف اجزا باہم مل کر نہایت پیچیدہ نتائج پیدا کرتے ہیں۔ یہ مشاہدہ ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا ایک مہا منصوبے میں باہم بندھے ہوئے ہیں۔ یہ منصوبہ کہیں کامل اور کہیں ناقص ریاضیاتی بنیادوں پر قائم ہے، مگر ہے بے حدپیچیدہ، کرشماتی اور حیرت افزا۔
اس تخلیق اور مہا منصوبے کے پیچھے کسی باشعور ہستی کو فرض کرنا ہے یا بے شعور قوت کو؟ ساری بحث بس یہی ہے۔ انسان جس نتیجے پر بھی پہنچے، وہ ایمان بالغیب ہی کا نتیجہ ہوگا، کیونکہ خدا ہو یا بے شعور قوتیں ان کو یہ سب برپا کرتے ہوئے انسان نے نہیں دیکھا۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ زیادہ معقول بات کیا ہے؟ یہ تخلیق اور منصوبہ کسی ذی شعور ہستی کا ہے یا بے شعور قوتوں سے پیدا ہونے والا اتفاقی حادثہ؟ اس سوال کا معقول جواب کیا ہونا چاہیے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
قرآن اسی استدلال پر مبنی ہے کہ یہ سب برپا کرنے والی ایک زندہ باشعور ہستی ہے جس نے یہ سب ایک مقصد کے تحت برپا کیا ہے۔ یہ ایک علمی مقدمہ ہے۔
کوئی اس نتیجے کو مانے یا نہ مانے مگر اس مقدمے کو غیر علمی نہیں کہا جاسکتا۔ کوئی اگر پھر بھی مُصر ہے کہ خدا پر ایمان بالغیب غیر علمی مقدمے کا نتیجہ ہے تو اسے معلوم نہیں کہ علمی مقدمہ ہوتا کیا ہے۔ یہ دیانت دار ذہن نہیں ہے، یہ متعصب ذہن ہے جس کے آزار کا چارہ اس کے سوا کسی اور کے پاس نہیں۔
تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
افغانستان کی موجودہ صورت حال اور ہماری ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔
پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی۔ پھر روسی فوجیں آئیں، یہ تو ہمارے سامنے کا معاملہ ہے، اور اپنا پورا زور صرف کیا مگر افغانستان نے بحیثیت افغان قوم قبول نہیں کیا، سوویت یونین کی افواج کو ناکام واپس جانا پڑا بلکہ اس کے نتیجے میں خود سوویت یونین بکھر کر رہ گئی۔ تیسرا مرحلہ یہ کہ جب امریکی اتحاد کی فوجیں آئیں تو افغان قوم نے اس کو بھی قبول نہیں کیا اور مزاحمت کی، اتنی شاندار مزاحمت کی کہ روس کے خلاف مزاحمت میں افغان قوم کو امریکی بلاک، عالم اسلام اور بہت سے ملکوں کی حمایت حاصل تھی، ایک لحاظ سے پوری دنیا ان کے ساتھ تھی، روس کے سارے مخالفین ان کے ساتھ تھے، لیکن امریکی اتحاد کی فوجی یلغار کے خلاف مزاحمت میں وہ تنہا تھے، ان کو درپردہ کسی کی حمایت حاصل ہوئی ہو تو ہو لیکن بظاہر پوری دنیا ان کی مخالف تھی بلکہ ان کا نام لینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرمائی۔ اس پر یہ بات ایک دفعہ پھر واضح ہو گئی کہ افغان قوم خود پر کسی دوسرے کا تسلط قبول نہیں کرتی، یہ تیسرا تاریخی واقعہ ہے، افغان قوم کو اس پر سلام۔
دوسری بات یہ عرض کروں گا کہ یہ تقریباً تین پشتوں کی جنگ تھی، اب جب جنگ انتہا کو پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مہربانی کی ہے کہ کابل کسی نئی خون ریزی سے بچ گیا ہے۔ یہ پوری دنیا کے لیے حیران کن بات ہے کہ طالبان کابل میں پرامن طریقے سے داخل ہوئے ہیں، کابل نے مزاحمت نہیں کی اور بغیر کسی لڑائی کے کابل طالبان کے کنٹرول میں آ گیا ہے، اس پر خوشی کا اظہار الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تاریخ پر نظر رکھنے والے حضرات ہی جانتے ہیں کہ کتنا بڑا معجزانہ واقعہ ہوا ہے کہ کابل کسی مزاحمت کے بغیر سرنڈر ہو گیا ہے۔
جبکہ پورے افغانستان میں ایسی صورتحال ہے کہ افغانیوں نے عمومی طور پر طالبان کی دوبارہ آمد پر مسرت کا اظہار کیا ہے، پھول پیش کیے جا رہے ہیں اور ان کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ یہ افغان قوم کے اجتماعی مزاج کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان قوم جہاں حریت پسند ہے کہ کسی دوسرے کا تسلط قبول نہیں کرتی، اسی طرح افغان قوم نے غیر ملکی تہذیب اور غیر ملکی نظریات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اسلام کے ساتھ، شریعت کے قوانین کے ساتھ، افغان قوم کی تہذیب و روایات کے ساتھ افغان قوم کی کمٹمنٹ آج بھی قائم ہے اور اس کا ایک بار پھر اظہار ہو گیا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے جس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کرنا چاہیے ،طالبان کو مبارکباد دینی چاہیے اور افغان قوم کے ساتھ یکجہتی و ہم آہنگی کا اظہار کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ افغانستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے دو باتیں واضح ہیں۔ ایک یہ کہ افغانستان کو تقسیم کرنے کی بہت دفعہ کوشش ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوئی کہ تقسیم نہیں ہوا اور افغانستان کی وحدت قائم ہے۔ دوسرا افغان قوم کی شریعت اور اپنی تہذیب کے ساتھ کمٹمنٹ قائم ہے، الحمد للہ۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان کے اس جذبے کو سراہا جائے اور افغانستان کی وحدت و سالمیت کو سپورٹ کیا جائے۔
افغانستان اور افغان قوم کی اس وقت سب سے بڑی ضرورت قومی وحدت کا ماحول قائم کرنا اور قائم رکھنا ہے۔ پہلے بھی افغان قوم کو کئی بار تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی، اب مزید کوششیں ہوں گی، زبان کے حوالے سے، نسل کے حوالے سے، مذہب کے حوالے سے، مسلک کے حوالے سے، فرقے کے حوالے سے، تقسیم کے کئی بیج بوئے جا رہے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں سے، اپنے ساتھیوں سے عرض کروں گا کہ افغان قوم کو اپنی وحدت کا ماحول قائم کرنے دیجیے، کسی قسم کی تفریق کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے، نہ مذہبی، نہ مسلکی، نہ سیاسی، نہ لسانی، نہ علاقائی۔ اگر قومی وحدت کا ماحول قائم رہے گا تو شریعت کے ساتھ اور افغان قوم کی روایات کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ قائم ہے ، ان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، ان شاء اللہ العزیز۔ ہمیں اس وقت ان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، ان کی قومی وحدت کو سپورٹ کرنا چاہیے، شریعت اور افغان قوم کی تہذیب کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ کو سلام کرنا چاہیے، اور ان کے خلاف کسی قسم کی سازش میں حصہ نہیں بننا چاہیے، شعوری طور پر بھی نہیں اور غیر شعوری طور پر بھی نہیں۔
تیسری بات، ایک عرصہ سے یہ جنگ چل رہی ہے، نصف صدی تو ہمیں بھی ہو گئی ہے اس جنگ کو دیکھتے ہوئے، کئی پشتوں سے یہ جنگ چل رہی ہے۔ اب یہ ماحول سامنے ہے کہ دنیا بھر سے تنقیدی تبصرے آ رہے ہیں، باقی دنیا تو جو کرتی ہے کرے، مگر افغانستان کے ساتھ، طالبان کے ساتھ، شریعت کے ساتھ اور افغان تہذیب کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے حضرات تو کم از کم اس جال میں نہ پھنسیں۔ سب سے مشکل مرحلہ یہ ہے کہ ہمدردی رکھنے والے دوست بھی جال کا شکار ہو رہے ہیں، کبھی ایک حوالے سے کبھی دوسرے حوالے سے۔ بہت سے حلقے اپنے اپنے فارمولے، اپنی اپنی تجاویز، اپنے اپنے تبصرے پیش کر رہے ہیں، ایک طوفان برپا ہے دنیا میں منفی پراپیگنڈے کا، کردار کشی کا، جس کا ہم بھی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ میری یہ درخواست ہے اہل دین سے کہ طالبان کو سیٹ ہونے کے لیے وقت دیں۔ ہمارے اپنے اپنے فارمولوں نے ہمارا کیا حشر کر رکھا ہے کہ ہم ان کو مشورہ دیں گے؟ ہم خود ستر سال سے فارمولوں کی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سب دوستوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ خدا کے لیے اپنے ستر سال کے ناکام تجربے ان کے سر مت تھوپیے، ان کو آزادی سے کام کرنے دیجیے، وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں افغانستان کو بھی، اپنے مستقبل کو بھی، قومی تقاضوں کو بھی، اور شریعت کو بھی ہم سے بہتر سمجھتے ہیں، وہ مبتلٰی بہ ہیں اور شرعًا مبتلٰی بہ کی رائے کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
میں برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے اس بیان کا خیرمقدم کروں گا کہ انہوں نے وہی بات کی ہے جو میں عرض کر رہا ہوں، آج کے اخبارات میں چھپی ہے کہ طالبان کو وقت دیں اور کام کرنے کا موقع دیں۔ میری گزارش ہے کہ روس نے کتنا وقت لیا؟ دس سال۔ امریکہ نے کتنا وقت لیا؟ بیس سال۔ ان غریبوں کو دس سال کا وقت تو دیں کہ اپنی مرضی سے کچھ کر سکیں، اور دیکھیں کہ اپنی ترجیحات کے مطابق وہ کیا کرتے ہیں۔ میں برطانیہ کے کمانڈر کی اس بات کو سراہوں گا اور سب لوگوں سے درخواست کروں گا کہ ’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ کو اپنی قوم کو اعتماد میں لینے کا موقع دیجیے، اپنے نظام کو مرتب کرنے اور نافذ کرنے کا موقع دیجیے، اور چند سال دیکھیے پھر سارے تبصرے کر لینا، جس نے مثبت کرنا ہے مثبت کر لے، جس نے منفی کرنا ہے منفی کر لے۔ فی الوقت ان کو آزادی کے ساتھ اپنے مستقبل کی تشکیل کا موقع دیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائیں اور ہمیں ان کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مدرسہ ڈسکورسز کی اختتامی نشست کا احوال
ڈاکٹر حافظ محمد رشید
مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسو 14 جولائی تا 17 جولائی بھوربن مری میں منعقد کیا گیا۔ ورکشاپ کا عنوان " فلسفہ، کلام اور جدیدیت" تھا۔ ان عنوانات پر ملک کے چنیدہ اہل علم کو اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا جن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی، ڈاکٹر محمد خالد مسعود، ڈاکٹر زاہد صدیق مغل، ڈاکٹر حسن الامین اور خورشید احمد ندیم شامل ہیں۔ ۱۴ جولائی کو پہلے سیشن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی کی گفتگو کا عنوان تھا Philosophy in Shi’i Intellectual Tradition۔ اسی دن ظہر کے بعد کے سیشن میں Goodness and Badness in Human Actions کے عنوان پر مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر، مولانا زید حسن اور ڈاکٹر زاہد صدیق مغل نے اظہار خیال کیا۔ دوسرے دن کے پہلے سیشن میں Islam and Modernity کے عنوان پر جناب ڈاکٹر خالد مسعود کا پرمغز لیکچر ہوا جبکہ دوسرے سیشن میں Secularism in Pakistan کے عنوان پر جناب خورشید احمد ندیم نے اور Post Islamism کے عنوان پر ڈاکٹر حسن الامین نے شرکاء کی راہنمائی کی۔ تیسرے دن کے سیشن میں مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر نے Charles Taylor کی کتاب A Secular Age کے منتخب مباحث کا تعارف پیش کیا۔
چوتھا دن ورکشاپ کا اختتامی دن تھا جس میں ممتاز اہل علم کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی جن میں چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد، البصیرہ ٹرسٹ کے چئیرمین جناب ثاقب اکبر، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے پروفیسر ادریس احمد آزاد اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر و شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ علامہ زاہد الراشدی شامل تھے۔ اختتامی نشست میں مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر نے مہمان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مدرسہ ڈسکورسز پروگرام کا تفصیلی تعارف پیش کیا، شرکاء میں سے چند احباب نے پورے پروگرام کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیے اور آخر میں مہمان گرامی نے اپنے وقیع خیالات سے شرکاء کو مستفید کیا۔ اختتام پر سب شرکاء اور مہمانان خصوصی کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔
شرکاء کے تاثرات
مدرسہ ڈسکورسز کے تینوں بیچز کے منتخب شرکاء نے اختتامی نشست میں حسب ذیل تاثرات پیش کیے۔
مولانا عبد الغنی محمدی
میں دو چیزیں بیان کرنا چاہوں گا۔ پہلے وہ چیزیں جو ہم نے یہاں سے سیکھیں اور دوسری وہ چیزیں جو مجھے لگتا ہے کہ اس کورس کے مسائل ہیں۔ ہم نے اس کورس میں انگلش زبان سیکھی جس کا ہمیں معاشرتی زندگی میں بہت فائدہ ہوا۔ کئی جگہ پر جاب کے لیے انٹرویوز اسی بنیاد پر بہت اچھے ہوئے اور کئی دیگر جگہوں پر پروفیشنل فیلڈ میں بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔ اس کورس سے قبل سائنس اور فلسفہ سے ہماری آشنائی نہ ہونے کے برابر تھی، مدرسہ ڈسکورسز کے ذریعہ ان دونوں موضوعات سے بہت اچھی آشنائی ہو گئی۔ورلڈ ویو کیا ہوتا ہے، کیسے بنتا ہے اور کون کون سی چیزیں اس کا حصہ ہوتی ہیں، مختلف ادوار میں کون سے ورلڈ ویو رہے، ان کے اثرات کیا تھے۔ اس سب کا پہلا تعارف اسی کورس میں ہوا۔ فلسفہ کی تاریخ عا م فہم انداز میں، بڑے بڑے فلاسفہ کا تعارف، فلسفے کے مختلف رجحانات اور مناہج کا تعارف بھی اس کورس کے فوائد میں شامل ہے۔ اپنی تراث ہم مدارس میں پڑھتے ہیں، لیکن مدرسہ ڈسکورسز میں اس کو مختلف انداز و زاویہ سے دیکھنے اور گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اس سے ہمارے علم و فکر اور مطالعہ کے موضوعات میں وسعت آئی۔
اس کورس کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایسا لگتا رہا کہ یہ سب ابحاث عملیت سے خالی ہیں کہ جن کے آخر میں ہم وہیں کھڑے ہوتے ہیں جہاں پہلے تھے۔ یہ سوال پیدا ہوتا رہا کہ آخر سال بسال ان مباحث کو دہرانے کا فائدہ کیا ہے۔ ایک اور چیز یہ محسوس ہوئی کہ بجائے معاشرے پر کوئی مثبت اثر ڈالنے کے ہم اسی رائج فکر کے پیچھے چلنے اور اسے قابل قبول بنانے میں اپنا وقت لگا رہے ہیں۔ اسی طرح عقلی مباحث میں ایسا محسوس ہوتا رہا کہ کسی خاص موقف کے پیچھے ہی تقلیدی انداز میں چل رہے ہیں۔ ایسا بھی لگا کہ بجائے مذہب کو معاشرے میں قابل قبول بنانے کے لیے اسے عقلی طور پر ثابت کرنے کے ہم خود ہی عملی طور پر مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کے ساتھ اطمینان کے لیے یہ بات بہرحال ذہن میں رہی کہ تہذیبوں کے مسائل کوئی ایک آدھ نشست میں حل نہیں ہوتے، اس کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ اس لیے اس پراسس کا حصہ بننا بہرحال مستقبل میں مفید ثابت ہو گا۔ اسی طرح استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی کی ایک بات بھی اطمینان دلاتی رہی کہ جب ہم کسی جدید علمی ڈسکورس کے ساتھ منسلک ہو ں گے تو جہاں علمی ترقی ہو گی، وہیں کچھ ایسے مسائل بھی پیش آئیں گے جو بہرحال کئی حوالوں سے خطرناک ہوں گے لیکن ان خطرات سے گھبرا کر اگر کنارہ کشی اختیار کر لی جائے گی تو اہل علم پر عائد ایک بہت بڑی ذمہ داری سے روگردانی کا ارتکاب ہوگا۔ اس لیے حوصلے و صبر کے ساتھ ان مسائل کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا زید حسن
میں مدرسہ ڈسکورسز کے تجربہ سے متعلق دو باتیں خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا۔ مدرسہ ڈسکورسز کے اساتذہ کا انداز تعلیم بہت ہی اہم تھا۔ انہوں نے اپنی کوئی سوچ، کوئی خاص اپروچ یا کوئی خاص نتیجہ طلبہ پر مسلط نہیں کیا بلکہ ان کے لیے مکمل طور پر سپیس چھوڑی اور عملا یہ کہا کہ چیزوں کو آپ خود سمجھیں، پرکھیں اور جو نتیجہ آپ خود اخذ کریں، وہی نتیجہ آپ کے لیے اہم ہے۔ اس کے ساتھ علمی میدان میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کا رویہ بھی اساتذہ کے طریق تدریس کا اہم حصہ رہا۔ ہمارا پہلا بیچ تھا، ہمارا تعلق بہ نسبت دوسرے بیچز کے استاد ابراہیم موسی صاحب سے زیادہ رہا۔ ہم نے ان سے زیادہ چیزیں پڑھیں، ان کا رویہ اور دیگر سب اساتذہ کا رویہ ہمارے ساتھ ایسا تھا کہ بسا اوقات ہم زبان حال سے کہہ رہے ہوتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے، ہم میں یہ صلاحیت نہیں ہے۔ لیکن وہ کہہ رہے ہوتے کہ نہیں، تم میں بہت صلاحیت ہے، تم یہ کام کر سکتے ہو۔ اس انداز سے انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی۔
اس کورس کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ ہمیں اس میں ہر چیز متحرک نظر آئی، زندہ نظر آئی۔ صرف ایک چیز کے بارے میں یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ جامد ہے لیکن اس کا جمود بھی دوسری چیزوں کو حرکت دینے کے لیے تھا۔ یہ جمود تکثیریت اور تنوع کا تھا لیکن ظاہری بات ہے کہ اسی تکثیریت اور تنوع نے سارے کے سارے کورس کو متحرک بنا دیا۔ مدرسہ میں پڑھنے اور مدرسہ ڈسکورسز میں پڑھنے میں جو بنیادی فرق مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوا، وہ بھی یہی ہے کہ وہاں یہ تنوع نہیں تھا اور یہاں یہ دیکھنے اور برتنے کو ملا۔
مجھے ذاتی طور پر یہ فائدہ بھی ہوا کہ مدرسہ سے نکلنے کے بعد میں کچھ فکری و عملی مسائل کی وجہ سے بہت زیادہ انگزائٹی اور ڈپریشن میں چلا گیا تھا۔ ان مسائل کو حل کرنے میں مدرسہ ڈسکورسز نے بہت بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ مسائل ایسے تھے کہ جن کے زیر اثر میں یا تو سماجی دباو میں رہ کر مدرسہ کی دی ہوئی لائن پر ہی چلتا رہتا یا پھر اس سے بالکل باغی ہو کر روایت پرستی تو ایک طرف، شاید مذہب ہی کو خیر باد کہہ دیتا۔ مدرسہ سے نکلنے کے بعد ان فکری، عملی اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اپنی روایت سے ایک تنفر پیدا ہو گیا تھا۔میں یہ سمجھ رہا تھا کہ جو کچھ مدرسہ میں پڑھا ہے وہ بالکل فضول ہے اور اس کا عملی دنیا سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز میں اساتذہ نے یہ ادراک پیدا کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے جو پڑھا ہے وہ فضول نہیں ہے۔ اس کو کیسے استعمال کرنا ہے، روایت کو کیسے دیکھنا ہے اس کو کیسے برتنا ہے، یہ سب کچھ ہمیں سکھایا۔ اس مرحلے کی اہم بات یہی ہے کہ یہ بات سمجھاتے ہوئے بھی کوئی بات یا فکر ہم پر مسلط نہیں کی۔ یہ بتا دیا کہ آپ خلاء میں کھڑے نہیں ہو سکتے، آپ کو بہرحال اپنی روایت سے جڑ کر رہنا ہے۔ ہاں جڑنے کا انداز روایت پسندانہ ہو یا روایت پرستانہ یا پھر آپ کوئی الگ اپروچ اپنا لیں لیکن بہرحال روایت کی اہمیت کے پیش نظر اس سے تعلق استوار کرنا بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹر فائزہ محمد دین
جیسے زید حسن نے کہا کہ مدرسہ سے نکلنے کے بعد کچھ مسائل کی وجہ سے انسان روایت سے کٹنے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی حالات مجھے بھی پیش آئے اور یہ کوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔ کیونکہ جب آپ نے جو پڑھا ہے اس کا معاشرے اور عملی زندگی کے ساتھ آپ کو تعلق سمجھ نہ آئے تو ایسا ہو جایا کرتا ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز نے اسی علم کو آج کی دنیا اور ماحول سے ریلیونٹ بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ میں جب اس کورس کا حصہ بنی تو اس وقت پی ایچ ڈی کی طالبہ تھی۔ نیپال میں ڈاکٹر سعدیہ یعقوب سے ملاقات ہوئی جو جینڈر ایشوز پر بہت مہارت رکھتی تھیں، ان سے مجھے اپنے پی ایچ ڈی کے کام میں بہت راہنمائی ملی۔ میرا موضوع جینڈر سٹڈیز ہے، مدرسہ ڈسکورسز میں ان ایشوز پر بہت بات ہوتی تھی اور بسا اوقات کافی گرما گرم بحث بھی ہو جایا کرتی تھی، اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔ میں دیانت داری سے سمجھتی ہوں کہ ابھی بھی جینڈر کے حوالے سے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ہر میدان میں عورتوں کا دس فیصد تک ہی حصہ ہے، جب معاشرے میں عورتیں پچاس فیصد ہیں تو ان کا حصہ بھی پچاس فیصد ہی ہونا چاہیے۔ مدرسہ ڈسکورسز میں مجھے یہ چیز نہیں محسوس ہوئی کہ عورتوں کو علمی طور پر ایک کنارے پر کر دیا گیا ہو۔
اسی کورس سے ایک اور چیز بھی سیکھی کہ جیسے رسول اللہ ﷺ نے کچھ کام شروع کیے اور بعد میں مسلمانوں نے ان کو بہت ترقی دی، جیسے ربوٰ کا ایک پراجیکٹ اس دور میں شروع ہوا اور اسی کی بنیاد پر آج مسلمانوں نے بینکنگ کا ایک بہت بڑا سسٹم شروع کر دیا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اس معاشرے میں عورتوں کی حالت بہتر کرنے کا جو پراجیکٹ شروع کیا تھا، اس کو بھی آگے بڑھانا چاہیے اور ان کو معاشرے میں وہ حیثیت دینی چاہیے جو بطور انسان ان کی بنتی ہے، یعنی انہیں پہلے عورت کے طور پر نہیں بلکہ پہلے انسان کے طور پر دیکھ کر ان کی حیثیت کا تعین ہونا چاہیے۔
سیکولرزم پر ہم نے بہت بات کی لیکن میرے خیال میں دو عالمی جنگوں کو ہم بہت کم ڈسکس کر رہے ہیں، میرے خیال میں مغربی دنیا میں مذہب سے جو تنفر پیدا ہوا، وہ انہی دو جنگوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ ان میں جس ظالمانہ طریقے سے عیسائیوں نے عیسائیوں کا اور یہودیوں کا قتل عام کیا تھا، پوری دنیا میں انسانوں نے اس کے نقصانات برداشت کیے تھے، لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی تھیں، ان جنگوں کے بعد لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اگر دنیا میں امن چاہتے ہیں تو ہمیں انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کو دیکھنا ہوگا نہ کہ کسی ایک مذہب کی بنیاد پر۔ اسی سے پھر ہیومن رائٹس کی روایت وجود میں آئی۔ اس لیے ان جنگوں کو فوکس کرنا بہت ضروری ہے۔
اسی طرح ہم اصطلاحات کے استعمال میں احتیاط نہیں کر رہے، مثلا جب ہم مغرب یا ویسٹ بولتے ہیں تو اس کو ایک اکائی کے طور پر لیتے ہیں، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔ ویسٹ میں بہت سے ملک ہیں، بہت سی قومیں ہیں، بہت سے علمی رجحانات ہیں۔ اس لیے اسے اسی تناظر میں دیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح اسلام کی تفہیم میں بھی یہی کمی نظر آتی ہے، کیونکہ اسلامی دنیا بھی ایک نہیں ہے، اس میں بھی بہت سی Dimensions ہیں۔اس میں انڈونیشیا کی مثال بھی موجود ہے جہاں ہر عورت کے لیے مسجد میں جانا ممکن ہے اور آسان ہے، حالانکہ بہت سے اسلامی ممالک میں عورتوں کو یہ سہولت میسر نہیں۔ اس لیے پوری اسلامی دنیا کو ایک اکائی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کورس میں مجھے اس چیز کی بہت کمی نظر آتی ہے۔ میری تجویز ہے کہ اس کورس کے اگلے مراحل میں تکثیریت کی اس تفہیم کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مفتی امجد عباس
مدرسہ ڈسکورسز نے علمی میدان میں ایک بہت بڑی ضرورت کو پورا کیا ہے، اس نے ہمیں تراث اور روایت کے ساتھ بہت خوبصورت انداز میں جوڑ دیا ہے۔ میرے خیال میں سر سید کے لٹریچر کو کورس کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے،اس سے اسلام یا مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں معاصر مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ میری دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے۔
مولانا نعیم الدین الازہری
یہ پروگرام انتہائی مفید پروگرام تھا جس میں شرکت کر کے بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔ لیکن جب شروع میں ہم اس پروگرام میں شریک ہوئے تو جیسے ہماری عادت ہے کہ ہمارے سینسر فورا آن ہو جاتے ہیں اور سازش کی بو آنے لگتی ہے۔ انگلش سے اتنی زیادہ واقفیت نہیں تھی، اس لیے جب مدرسہ کے ساتھ ڈسکورس کا لفظ دیکھا تو ذہن میں آیا کہ جس لفظ کے ساتھ ڈس لگ جائے تو ا س میں تو منفی معنی پیدا ہو جاتے ہیں، جیسے Dismiss , Disrespect , Disgrace ہے، تو میں نے سوچا کہ یہ کہیں مدرسہ کو ڈس مس کرنے کی کوئی سازش تو نہیں ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ ڈس مسنگ نہیں ہے بلکہ ڈسکشن ہے، کہ مدارس کے لوگ مل بیٹھیں اور ان مسائل میں مباحثہ اور گفتگو کریں اور کوئی حل تلاش کریں۔ مدرسہ ڈسکورس کا یہ بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے کہ اس نے ہمارے لیے ڈسکشن کا بند دروازہ کھولا ہے، کیونکہ ہم لوگ مسالک کی چار دیواریوں میں بند ہیں، ایک ٹیبل پر مل بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، اور اگر بیٹھ بھی جائیں تو تیوری چڑھی رہتی ہے اور بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس حوالے سے مدرسہ ڈسکورسز کا یہ بہت بڑا ہم پر احسان ہے۔
دوسری چیز عمار صاحب کے بارے میں میں کہنا چاہوں گا کہ عام طور پر ہماری اپروچ ججمنٹل ہوتی ہے، کسی کے بارے میں ملنے سے پہلے ہی کوئی رائے قائم کر لینا، منفی تاثر بنا لینا۔ لیکن ڈاکٹر عمار صاحب کے مزاج میں جو دھیما پن ہے، ان کا جو نرم رویہ ہے، جو صبر و حوصلہ ہے اور جس انداز میں وہ بڑے بڑے مختلف فیہ مسائل کو لیتے ہیں، یہ قابل داد ہے۔ میں اس کو اکنالج کرنا چاہوں گا کہ اس سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔
مجھے یہاں عبد الوہاب شعرانی ؒ کا طبقات الصوفیہ میں لکھا ہوا ایک قول یاد آتا ہے۔ انہوں نے لکھا : "العلم ثلاثة اشبار، عندما یدخل الرجل فی الشبر الاول یتکبر، و عندما یدخل فی الشبر الثانی یتواضع، و عندما یدخل فی الشبر الثالث یقول: انا لاادری "۔ ہم مدارس کے لوگ عام طور پر شبر اول میں ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے ہیں، میرے جیسا کوئی نہیں والی کیفیت ہوتی ہے کہ میں نے جو بات کہہ دی وہ حرف آخر ہے۔ میری بات پر اگر کسی نے کوئی بات کہہ دی تو فتوی سنے گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مدرسہ ڈسکورسز کا بہت اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمیں شبر اول سے شبر ثانی کی طرف منتقل کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔
ایک بات مزید یہ کہ ہم Epistemology یا تاریخ العلم سے بالکل آگاہ نہیں تھے، اس سے اور اسی جیسی بہت سی دیگر اصطلاحات سے سے اسی کورس کے ذریعہ واقفیت ہوئی۔ آخری بات یہ کہ یہاں جدیدیت کی بہت بحث ہوئی اور اس تناظر میں ہوئی کہ جیسے ہمیں اب وہی سب کچھ بھگتنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے جو کچھ یورپ ایک زمانے میں بھگت چکا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ تاریخ کے بہت سے ادوار میں ایسا ہوا کہ سیاسی اسلام شکست سے دوچار ہوا اور پھر روحانی اسلام یا صوفی اسلام اس کی مدد کر آیا اور ری وائیول ہوا۔ اس لیے ہمیں جدیدیت کو پڑھتے یا ڈسکس کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی ڈسکس کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا ڈاکٹر امیر حمزہ
مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ یہ مدرسہ کی ہی ایک ایکسٹینشن ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مدرسہ کی جو اصل روایت تھی یہ اس کو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ مدرسہ ڈسکورسز میں داخلے سے ہمارے اندر جو واضح تبدیلی آئی ہے، وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے علم کے جو دو بنیادی رکن ہیں، سوال اور جواب، ان میں سے جواب کی اہمیت سے تو ہم واقف تھے اور ہماری ساری علمی سرگرمی اسی جواب کی نفسیات کے گرد ہی گھومتی تھی، لیکن سوال کیا ہے ؟ سوال کی کیا اہمیت ہے، یہ کیسے تشکیل پاتا ہے اور اسے کیسے ٹیکل کیا جاتا ہے، علم کے اس دوسرے بڑے رکن، سوال، کی اہمیت احساس ہمیں ڈسکورسز کے بعد آنے سے ہوا۔ ایک چیز کو مختلف جہتوں سے کیسے دیکھنا ہے، یہ ہم نے یہاں سیکھا ہے۔ اسی طرح شرح صدر کا ایک بہت سادہ سا مفہوم ہمارے ذہن میں تھا کہ جو کچھ سیکھا ہے، اس پر قناعت کر لینے کا نام شرح صدر ہے۔ ڈسکورسز میں شرکت کے بعد ہمیں اس شرح صدر کی حقیقت کا بھی ادراک ہوا کہ جس چیز کو ہم شرح صدر سمجھ رہے تھے، وہ تو حقائق سے نظریں چرانے اور آنکھیں بند کر لینے کی کیفیت ہے۔ یہاں ہمیں روایت کو درپیش معاشرتی چیلنجز سے آگاہی دی گئی اور ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایک اور بڑی اہم چیز جو ہمیں یہاں سیکھنے کو ملی، وہ یہ تھی کہ جن لوگوں کے موقف کو ہم دور سے پڑھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کر لیا کرتے تھے، ہمیں براہ راست ان سے ان کا موقف سننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ اور یہ کوئی جدید انداز نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کا بھی یہی اسلوب ہے۔ قرآن کریم بدترین دشمن، فرعون، کا موقف بھی " وقال فرعون " کہہ کر نقل کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو آپ کا مخالف بھی ہے اس کا موقف اسی کی زبانی سمجھنا ضروری ہے، مدرسہ ڈسکورسز میں ہمیں یہی چیز سیکھنے کو ملی۔
ڈاکٹر سدرہ ذوالفقار
مولانا امیر حمزہ صاحب نے جس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سوال کی اہمیت معلوم ہوئی، میں اس کے بارے میں یہ کہوں گی کہ آج کل سوال اٹھانا اور ہر چیز پر سوال اٹھا دینا، خواہ وہ سوال غیر متعلق ہی کیوں نہ ہو، ایک فیشن بن چکا ہے اور اسے کسی کے intellectual ہونے کی نشانی کے طور پر لیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ کوئی صحت مند رویہ نہیں ہے۔ سوال اٹھانا اور متن یا موضوع سے متعلق سوال اٹھانا بہت اہم ہے، مدرسہ ڈسکورسز میں ہم ہر ہفتے اسی مشق سے گزرتے رہے کہ سوال کرنا ہے اور موضوع سے متعلق سوال کرنا ہے جس سے علم میں ترقی ہو اور موضوع سے متعلق کوئی مفید پہلو سامنے آئے۔
ایک اور چیز جو سیکھنے کو ملی کہ ہر نئی چیز کو گھسیٹ کر زبردستی اپنی روایت سے مسلک کرنا سود مند نہیں ہے۔ ہماری روایت کے اپنے معیارات ہیں، ویلیوز ہیں، کچھ حدود ہیں، ان کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ وقت کی دوڑ نے بہت سی چیزوں کو ناگزیر کر دیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر چیز کو ہی قبول کرتے جائیں۔ جب میں نے مدرسہ ڈسکورسز جوائن کیا تو بقول شخصے میں بہت کٹڑ، متشدد اور اسلامسٹ تھی اور الحمد للہ میں ابھی بھی اسی طرح کٹڑ، متشدد اور اسلامسٹ ہو ں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کورس کے مقاصد میں آپ کو زبردستی مولڈ کرنا یا آپ کو اپنی شناخت سے دور کرنا نہیں رہا۔ یہ ایک علمی سرگرمی ہے اور اسے ایک علمی سرگرمی کے طور پر ہی نبھایا گیا۔
مہمانان گرامی کے تاثرات
اختتامی نشست میں مدعو مہمانان گرامی نے پروگرام سے متعلق حسب ذیل تاثرات کا اظہار کیا۔
جناب سید ثاقب اکبر
میں مدرسہ ڈسکورسز پروگرام کے غیر حاضر متاثرین میں سے ہوں، کیونکہ مفتی امجد صاحب مجھے کلاس کی ساری روداد سنایا کرتے تھے۔ میں اس پروگرام کے بارے میں سابقہ معلومات کی بنا پر بھی اور اس وقت جو شرکاء کے تاثرات ہیں، ان کی بنیاد پر بھی اس کے نتائج کو بہت معجز آثار اور حیران کن سمجھتا ہوں۔ ہم نے جب مدرسہ میں ہوش سنبھالا تو یہ ماحول دیکھا کہ کہنہ کتابوں کی تدریس، اسلوب بیان اور اسلوب تحریر رائج ہے اور اس میں بدلاؤ پر کوئی بھی تیار نہیں۔ پھر جب اما م خمینی کی قیادت میں ایران میں انقلاب آیا تو وہاں سے یہ آوازیں اٹھیں کہ حوزہ اور دانش گاہ کے مابین تعلق اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ چونکہ وہاں حکومت کی طرف سے بھی خاصی سرپرستی موجود تھی اس لیے وہاں اس سلسلے میں خاصا ارتقاء دیکھنے میں آیا۔لیکن میرے خیال میں پاکستان کو اس میں تقدم حاصل ہے کہ یہاں اس سے بہت پہلے کچھ تجربات کیے گئے ہیں جیسے جامعہ بہاولپور اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔لیکن مدرسہ ڈسکورسز کے جو نتائج میں دیکھ رہا ہوں اور طلبہ و طالبات کے اظہارات نے مجھے حیران کر دیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس پروگرام کو یونیورسٹی کے نظام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
یہ تجربہ اپنے موضوعات کے تنوع اور اہمیت میں، اساتذہ کے طریقہ تدریس میں ممتاز ہے۔ اس میں لوگوں کو کسی خاص مکتبہ فکر کا پابند کرنے کی کوشش نہیں ہوتی بلکہ افکار پیش کر کے، دلائل سامنے رکھ کے سامعین کو غوروفکر کرکے رائے اختیار کرنے کی آزادی دے دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور دانش و فکر کے فروغ کا یہی خوبصورت راستہ ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی انسان اس ڈسکشن سے گزرے اور یہ کہے کہ مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہمارے مدارس میں یہ ایک کمی ہے کہ وہ ورلڈ ویو کیسے بنتا ہے، اس کو نہیں دیکھتے ہیں۔ اسلام کو تمدن و تہذیب کے چشمے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ ہم عام طور پر یہ نہیں دیکھتے کہ کائنات کی تخلیق و نظام کے بارے میں ہماری معرفت و شناخت اور جو لوگ دین کو نہیں مانتے، ان کی معرفت و شناخت میں کیا فرق ہے اور اس کے معاشرے پر کیا اثرات ہیں۔ میرے خیال میں مغرب نے بھی انسانیت کو بہت کچھ دیا ہے۔ اس کی آزاد اندیشی یا آزادانہ سوچنے کی قدر کا ہی ہم دین نہیں دے سکتے، اس کی قدر کی جانی چاہیے اور یہ آزاد اندیشی ہمیں اپنے لوگوں کو بھی دینی چاہیے۔
میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ جومفید چیز ہم جہاں سے لیں، اسے مذہب یا مسلک یا دین کے عنوان کی بجائے یہ کہہ کر لیں کہ جو چیز ہماری خرد کو اپیل کرتی ہے، وہ پھر ہماری ہے۔ کیونکہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور وہ خوشبو کی طرح سے پھیلتا ہے۔ لیکن اس میں ہمیں تھوڑا محتاط ہونا چاہیے کیونکہ جدیدیت کے تناظر میں جو مباحث ڈسکس کیے جاتے ہیں، وہ اگر جامد فکر و نظر سے دیکھے جائیں تو وہ آخر کار الحاد کی طرف لے جاتے ہیں، اس لیے ان میں روحانیت کی آمیزش ضرور رکھنی چاہیے تاکہ اس کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔ اس رویے سے ہم مغرب کی مددبھی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح قدیم و جدید علم کلام پر بات کرتے ہوئے بھی اسی بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک اور بات جس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اس ساری علمی سرگرمی کو فرقہ وارانہ رنگ سے بچانا چاہیے اور اس وقت تک مدرسہ ڈسکورسز کی علمی سرگرمی الحمد للہ اس سے بچی ہوئی ہے۔
اسی طرح فلسفہ کو ہماری علمی دانش گاہوں کا حصہ بنانا چاہیے، ہمارے ہاں یا تو فلسفہ یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ہے ہی نہیں یا اگر ہے تو واجبی سا۔ طلبہ اسے پڑھتے نہیں اور اساتذہ پڑھانے میں وہ دلچسپی نہیں لیتے۔ اس پروگرام کے ذریعہ اگر دانش گاہوں میں فلسفہ کا احیاء ہو جائے تو بہت اچھا ہو۔
جناب ادریس احمد آزاد
سب سے پہلے میں مولا نا عمار صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اتنا اچھا پروگرام ان کی سربراہی میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ میں نے مدرسہ ڈسکورسز کے دو سمسٹرز کو سائنس پڑھائی ہے، اس لیے ساری ہی بات اسی حوالے سے کروں گا۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں بہت کم سائنس پڑھائی گئی اور میرے حساب سے یہ بہت زیادہ غلط ہوا۔ یہ بات درست ہے کہ فلسفہ و کلام انسان کو بحث و مکالمہ میں بہت ماہر بنا دیتے ہیں۔ یہ پروگرام تحقیق کا پروگرام تھا، اس میں جو کام ہوا وہ تحقیق کے دائرے میں ہی آتا ہے۔ اس پروگرام میں تحقیق کا ایک پہلو ہی سکھایا گیا۔ اس کے وژن میں علماء کی ایک ایسی جماعت تیار کرنا تھا کہ جو تنقیدی و تعمیری سوچ کا ایک فیبرک بن سکتی، یہ ایک بہت بلند مقصد ہے اور اسی پر اس پورے پروگرام میں کام ہوا۔ مجھے سائنس کے کم ہونے کا گلہ اس لیے ہے کہ سائنس صرف موٹے موٹے مسائل کا نام نہیں ہے، جیسے نیوٹن کا قانون، کشش ثقل کو جان لینا وغیرہ۔ موجود دور میں فلسفہ و کلام اور مذہب کے دائرے سائنس کے دائروں کو چھو بھی نہیں سکتے، اس قدر اس میں وسعت آ چکی ہے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ فلسفہ کتنا بڑھ اور پھیل کر سائنس کے اندر آ گیا ہے۔ اپنے سپیکٹرم میں سائنس فلسفے سے بڑی ہو گئی ہے، اس کا اندازہ کرنا بھی عام ذہن کے لیے ممکن نہیں رہا۔
صرف تصور زمان و مکاں کو لیں یا صرف مابعد الطبیعات کے ان مسائل کو لیں کہ جن کو کانٹ پہلے سائنس سے جدا کر رہا تھا، وہ اب سائنس کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں تصور زمان و مکان آ جاتا ہے، اس میں انبیاء کے معجزات آ جاتے ہیں بلکہ انبیاء کے تمام معجزات سے کہیں بڑی باتیں آ جاتی ہیں۔ یہ معجزات بہت چھوٹے رہ جاتے ہیں ان باتوں کے مقابلے میں جو آج سائنس کر رہی ہے۔ صرف Parallel Realitiesکو ہی لے لیں، یہ کسی بھی مذہبی معجزے سے بہت بڑی اور عجیب و غریب بات ہے۔ اور یہی میرا پوائنٹ ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں سائنس جتنی ہونی چاہیے تھی، اس سے بہت ہی کم پڑھائی گئی ہے۔اس وقت سائنس ایک ایسی قوت ہے جس نے پوری دنیا کے مذاہب کو چت گرا دیا ہے۔ اقبال نے کہا تھا۔ The birth of inductive intellect is the birth of Islam.۔ یعنی اسلام سے پہلے ہم جن چیزوں کو دیوتا سمجھ کر سجدہ کیا کرتے تھے، اسلام کے بعد ہم نے جانا کہ یہ تو ہمارے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی بہت بڑی حد فاصل ہے۔ اس سے پہلے کا انسان پتھر، درخت، جانور وغیرہ کو سجدہ کرتا تھا اور اس کے بعد کا انسان اپنے آپ کو ان سب کا مسجود سمجھتا ہے۔ یہ بہت بڑا فرق ہے۔
دوسری بات کہ اقبال کو بہت زیادہ اگنور کیا گیا، اگر آپ اس طرح کے سلیبس میں حسن حنفی اور اقبال کو نظر انداز کرتے ہیں تو مباحث کا کوئی مقصد نہیں رہ جاتا۔میرے رائے میں ان دو لوگوں کو باہر نکالنے سے آپ نے ان مباحث کو Creativeنہیں رہنے دیا۔ اگر آپ ان مباحث کو کری ایٹیو کرنا چاہتے تو شاہ ولی اللہ سے لے کر حسن حنفی اور اقبال کو اس کورس میں بہت بڑی جگہ دینی چاہیے تھی۔ میں بطور استاد یہ تجویز کروں گا کہ اس کورس میں آئندہ کے لیے اقبال کو ایک پورا کورس دیا جائے۔ میرے خیال میں جو مباحث ہم نے قطر میں سنے یا اس پورے کورس میں پڑھتے رہے، اقبال اور حسن حنفی کے بغیر وہ معنی نہیں رکھتے۔
جناب مولانا مفتی محمد زاہد
سب سے پہلے میں شکر گزار ہوں مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر اور ان کی پوری ٹیم کا کہ انہوں نے آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت کا موقع دیا۔ رات مجھ سے کچھ دوست پوچھ رہے تھے کہ آپ مدرسہ ڈسکورسز کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں نے ان کو کہا کہ یہ مدرسہ ڈسکورسز کے کسی بھی پروگرام میں میری پہلی شرکت ہے، اور اتفاق سے یہ اختتامی پروگرام ہے، گویا ہم ختم پڑھنے والوں میں شامل ہیں۔ لیکن ختم برکت کے لیے ہوتا ہے، ختم کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اس لیے امید ہے کہ یہ سلسلے کسی نہ کسی شکل میں چلتے رہیں گے۔ مجھے کچھ اندازہ تو تھا کہ اس پروگرام میں کس نوعیت کا کام ہو رہا ہے، مزید یہاں پر خصوصا مولانا عمار خان ناصر کی گفتگو میں اس پروگرام کا بڑا عمدہ تعارف اور نچوڑ آ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ شرکاء کے تاثرات کے ضمن میں بہت سی باتیں ہمارے سامنے آ گئی ہیں۔ میں انہیں میں سے چند چیزوں کو لے کر کچھ گزارشات پیش کروں گا۔
سب سے پہلے میں مولانا عبد الغنی محمدی کے تاثرات پر بات کروں گا۔ مجھے ان کی گفتگو بہت خوش آئند لگی، انہوں نے شروع میں ہی کہہ دیا کہ میری گفتگو کے دو حصے ہوں گے۔ ایک اس پروگرام کے فوائد کے بارے میں اور دوسرا اس کے مسائل کے بارے میں۔ جب آپ کسی بھی علمی و فکری تعلیمی سلسلے سے وابستہ ہوں تو جہاں آپ کو اس کا احسان شناس ہونا چاہیے، اس کا سپاس گزار ہونا چاہیے، اس کے فوائد کا معترف ہونا چاہیے، وہیں اگر اس پروگرام میں کچھ ایشوز ہیں تو انہیں بھی بیان کرنا چاہیے، اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ آپ اس سلسلے کو اون کر رہے ہیں، اسے اپنا سمجھ رہے ہیں اور اپنی چیز کی جھاڑ پونچھ ہمیشہ جاری رہتی ہے، اس کو ہم نظر انداز نہیں کرتے، اس کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں، اس پر نظر رکھتے ہیں کہ اس میں کوئی خرابی تو نہیں آ رہی، بالکل اس طرح کہ جیسے آپ کسی اور کی گاڑی استعمال کر رہے ہیں تو آپ کو اس کی خرابی کی کوئی فکر نہیں ہوگی کیونکہ آپ نے اسے واپس ہی کر دینا ہے، لیکن اگر آپ اپنی گاڑی استعمال کر رہے ہیں تو اس کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ پر نظر رکھتے ہیں اور اس کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویے سے کسی بھی سلسلہ تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے مجھے مولانا عبد الغنی کی اپروچ بہت عمدہ اور خوش آئند لگی۔
دوسری چیز جس کا مجھے کچھ اطلاعات اور مولانا عمار صاحب کے ذاتی ذوق کے پیش نظر کچھ اندازہ تھا، وہ یہ کہ اگر بطور مسلمان ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اپنی تراث کو صحیح اور بھر پور انداز سے سمجھنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ درس نظامی میں ہم تراث ہی پڑھتے ہیں، لیکن جس زمانے میں ہم پڑھ رہے تھے، اس وقت بزرگ اس بات کو بارہا دہراتے تھے کہ یہ جو کتابیں اور فنون آپ پڑھ رہے ہیں، وہ محض آپ کو اس قابل بنانے کے لیے ہے کہ بعد میں آپ اپنے مطالعہ میں از خود توسیع کر سکیں۔ جس زمانے میں مدارس میں باقاعدہ نصاب بندی نہیں ہوتی تھی، اس وقت جید و کہنہ مشق اساتذہ کا یہ معمول ہوتا تھا کہ کوئی بھی کتاب پوری نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ جب اس کا اسلوب سامنے آ گیا یا اس کا ذائقہ چکھ لیا، اس کی اپروچ جب سمجھ میں آنے لگ گئی تو کہتے کہ باقی تم خود دیکھ لینا اور دوسری کتاب شروع کروا دیا کرتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ درس نظامی میں تراث کے مختلف شعبے شامل ہوتے ہیں، اورہر شعبے کا تھوڑا تھوڑا ٹچ ہوتا ہے، اس لیے یہ اسلوب اپنایا جاتا تھا۔ تراث کو اس انداز سے ہمارا فاضل سمجھنے کے قابل ہو جائے کہ اسے یہ لگے کہ تراث میرے سامنے وجود میں آ رہی ہے، مثلا فقہ کیسے صحابہ و تابعین سے ہوتے ہوئے، امام شافعی و دیگر ائمہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے وجود میں آ رہی ہے۔ بالکل جیسے بڑی بڑی بلڈنگز کے بننے کی موویز ملتی ہیں کہ وہ کیسے بنی ہیں۔ اسی طرح تراث کی بلڈنگ، اس کی ایک طرح کی مووی ہمارے فاضل کے سامنے آ جائے، اس انداز سے تراث کو پڑھنا ضروری ہے، اس لیے مجھے اندازہ اور امید ہے کہ کم از کم فلسفہ و کلام کے حوالے سے اس پروگرام کے اندر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہو گی۔
ہمارے ہاں تراث سے جو بغاوت پیدا ہوتی ہے وہ بھی اسی لیے ہوتی ہے کہ ہم نے تراث کا تھوڑا سا ٹچ لیا ہوتا ہے، اسے پوری طور پر سمجھا نہیں ہوتا۔ جب ہم گہرائی میں جاتے ہیں تو اپنے اسلاف کی رائے سے ہم اتفاق نہ بھی کریں لیکن کم از کم ان کی ذہانت کے قائل اور اس سے متاثر ضرور ہوتے ہیں، حتی کہ تراث میں عقل کو سب سے کم استعمال کرنے والاطبقہ اہل ظاہر کا سمجھا جاتا ہے، اور ان کے بعد پھر حنابلہ آ جاتے ہیں، لیکن جب آپ ابن حزم، ابن تیمیہ اور ابن قیم کو دیکھیں گے تو آپ کو لگے گا کہ یہ بھی اپنے وقت کے بہت بڑے بڑے دماغ تھے۔ عام طور پہ درس نظامی پڑھتے ہوئے ہم ان اسلاف کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو بہت ہی سیدھے سادھے لوگ تھے، جب ان کا یہ حال ہے تو جو واقعتا اذکیاء امت شمار کیے گئے ہیں، وہ کس مقام پر فائز ہوں گے۔ تراث فہمی سے ہمیں کم از کم یہ اعتماد تو حاصل ہوگا کہ ہم کوئی غبی دماغوں کے راستے سے یہاں نہیں پہنچے بلکہ بہت اونچے اونچے اور ذہین دماغوں کے راستے سے یہاں تک پہنچے ہیں۔
میری ایک تجویز ہے، میں رات مولانا عمار صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آپ نے ماشاء اللہ دینی مدارس کے فضلاء کی کریم جمع کر لی ہے، ان کی ذہانت و صلاحیتوں کے اعتبا ر سے۔ اس پروگرام میں افراد سازی ہو رہی ہے، اس کے ساتھ اگر تھوڑی سی توجہ کورسز بنانے کی طرف بھی ہو جائے تو بہت اچھا ہے۔ اسی پراجیکٹ سے کوئی چھوٹا پراجیکٹ نکل آئے جیسے آج کل مغرب میں چل رہا ہے کہ غزالی کی آسان تفہیم کرا دی، ابن رشد کی آسان تفہیم کرادی، اسی انداز سے اپنی تراث کی تفہیم، اس کے نچوڑ یا جیسے اس کی بلڈنگ کی مووی ہوتی ہے، اس انداز کے کورسز یا لیکچرز یا پھر ڈاکومنٹریز کی طرف بھی توجہ ہونی چاہیے، اس سے اس کا فائدہ زیادہ عام ہو جائے گا۔
کورس کی ایک شریک ڈاکٹر فائزہ نے یہ بھی بتایا کہ کورس کے دوران گرما گرم بحثیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ہماری تراث یوں ہی آگے بڑھی ہے۔ امام شافعی ؒ کے کریمانہ اخلاق کی انتہا یہ تھی کہ ان کے ایک شاگرد غالبا یونس ان کا نام تھا، ان کے ساتھ ان کی کچھ کھٹ پٹ ہو گئی تو امام شافعی ؒ خود ان کے پاس پہنچ گئے اور کہا کہ ہمیں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن جب علمی بحث ہوتی تو امام شافعی ؒ کے بارے میں آتا ہے کہ " کانہ سبع یاکلک" یعنی جیسے ایک شیر ہے اور وہ جھپٹ کر آپ کو کھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے بحثیں بھی گرما گرم ہونی چاہیے۔ انہیں کی گفتگو میں بار بار جینڈر سٹڈیز کی بات کی گئی اور اس پر اصرار کیا کہ وہ یہ باتیں کرتی ہی رہیں گی، تو یہ بھی میرے خیال میں اس کورس کی خوبی ہے۔ کورس کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی شریک کا ذاتی رنگ یا ذاتی شیڈ ختم کر دیا جائے بلکہ ہر کسی کا ذاتی رنگ اور علمی شیڈ برقرار رہنا ضروری ہوتا ہے۔ آخری میں ڈاکٹر ادریس آزاد صاحب کی بات مجھے بہت اچھی لگی کہ سائنس کا حصہ مزید بڑھانا چاہیے، اللہ تعالی اس مفید سلسلے کو جاری و ساری فرمائے۔ آمین
جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز
نحمدہ و نصلی و نسلم علٰی رسولہ الکریم
مدرسہ ڈسکورسز کا ایک بڑا فائدہ مجھے جو نظر آ رہا ہے وہ یہ کہ نعرہ تکبیر کی بجائے تالیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ میرے لیے یہ خوشی کا موقع ہے کہ میں ایسے پروگرام میں شریک ہوں جس میں بڑے بڑے علماء اور سکالرز شریک ہیں، مدارس سے بھی اور یونیورسٹیز سے بھی۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ اس پروگرام کے انچارج ڈاکٹر عمار خان ناصر جیسے معتدل اور صاحب علم نوجوان ہیں۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش امید اور پرامید انسان سمجھتا تھا لیکن کچھ عرصہ سے میں اپنے آپ کو مایوسی کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کیونکہ ہمارے جامعات اور مدارس میں علمی ڈسکورس جس طرح کی نئی شکل اختیار کر چکا ہے، وہ یقینا فکری بانجھ پن کی غمازی کرتا ہے جس کو دیکھ کر مجھ جیسا انسان مایوسی کی طرف جاتا ہے۔ لیکن کل جو گفتگو مدرسہ ڈسکورسز کے منسلکین کے ساتھ ہوئی، اس سے پھر مجھے بہت زیادہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ ایک بہت خوبصورت گروپ تشکیل پا رہا ہے۔ کچھ دوستوں نے کہا کہ یہ ایک پراجیکٹ ہے محدود مدت کا اور اب ختم ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ قابل قدر لوگ کہ جنہوں نے ہمیں Critical thinkingدی، وہ اگرچہ وفات پا گئے لیکن انہوں نے جو بیچ بویا تھا وہ ایک تناور درخت بنا، پھر اور درخت بنتے گئے اور ایک گلشن بن گیا۔ اس لیے اس پروگرام کے جو مستفیدین ہیں، اگرچہ یہ پروگرام ختم بھی ہو جائے، لیکن ان میں رویے، فکر اور بیانیے کی جو تبدیلی آئی ہے وہ یقینا آگے بڑھے گی اور ایک جزیرہ بنتا جائے گا جو عمومی صورتحال سے مختلف ہو گا۔ مدرسہ کی تاریخ تو بہت تابناک ہے جو Critical Thinkingکی اسا س پر قائم تھا۔ آپ کو جو گروہ نظر آتے ہیں، جبریہ، قدریہ، معتزلہ وغیرہ، ان سب کی اساس سوچ و فکر پر تھی، تنوع پر تھی، دلیل پر تھی۔ اگرچہ وہ گروہ ختم ہو گئے لیکن یہ فکر اور زاویہ نظر ابھی تک جاری ہے۔ یہ ایک معاشرتی تسلسل ہے۔ افراد و گروہ چلے جاتے ہیں لیکن فکر و سو چ کا اسلوب یا بیانیے باقی رہتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت بڑے بڑے نام موجود ہیں جو اسی کریٹیکل تھنکنگ کو پروان چڑھاتے رہے۔ امام ابو حنیفہ فرمایا کرتے تھے کہ میری سوچ میرے نزدیک صحیح ہے، لیکن اس میں خطا کا احتمال ہے۔ ان کے شاگردوں کے مجموعی اقوال سے فقہ حنفی بنی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں یقینا ڈسکورس تھا اور اسی ڈسکورس کی وجہ سے یہ زبردست فقہ سامنے آئی۔
اسی طرح ہمارے ہاں مولانا عبید اللہ سندھی ؒ ہیں کہ جنہوں نے زمینی صورتحال کا مشاہدہ کیا اور آنے والے ادوار و طوفانوں کا ادراک کر کے بے چین ہو گئے، اتنا بے چین کہ لوگ ان کو ابنارمل کہنے لگے۔ انہوں نے بدلتے حالات کا مشاہدہ کیا، دنیا کے اندر صنعتی انقلاب کو دیکھا تھا، سیاسی حقیقتوں کو دیکھا تھا اور اس کی بنیاد پر جو نصائح کیے، ان کو اگرچہ لوگ اس وقت نہیں مان رہے تھے لیکن وقت نے ثابت کیا ان کی باتیں درست تھیں۔ اسی طرح مولانا ابو الکلام آزاد کی 1949 کی تقریر جو مدارس کے بارے میں تھی، اسے مدرسہ ڈسکورسز کے سلیبس کا حصہ بنانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابتداء مدارس کے اندر محاضرات ہوا کرتے تھے، ان محاضرات نے ایسے افراد پیدا کیے کہ جن کے افکار آج ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ لیکن جب مدرسہ کا محور کتاب بن گیا تو ان کے مطابق علمی لحاظ سے مدرسہ کے اندر تنزلی کی ابتداء ہوئی۔ اب ہمارا مدارس کا نظام بک سینٹرک ہی ہے، محاضرات کا سلسلہ اس میں ختم ہو گیا۔ اسی طرح علامہ ابن خلدون کا مقدمہ اگر متنا مدارس کے سلیبس میں شامل ہو تو اس سے بھی صورتحال یقینا تبدیل ہو گی۔
یہ پراجیکٹ اگرچہ ختم ہو گیا لیکن اس کے اثرات بہرحال باقی رہیں گے۔ مدرسہ ڈسکورسز کے ساتھ ساتھ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یونیورسٹی ڈسکورسز ہے۔ میرا تعلق مدرسہ کے ساتھ بھی ہے اور یونیورسٹی کے ساتھ بھی۔ اس لیے پورے شرح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو آپ کی شکایات مدرسہ سے ہیں، اس سے زیادہ شکایتیں یونیورسٹی سے ممکن ہیں۔ جس کریٹیکل تھنکنگ کے نہ ہونے کی بات آپ مدرسہ میں کر رہے ہیں، یونیورسٹی کے اندر اس کی کمی مدرسہ سے بھی زیادہ شدید ہے۔ جس جمود کی بات آپ مدرسہ میں کر رہے ہیں، اس سے زیادہ جمود یونیورسٹی کے اندر ہے۔ اگر مدرسہ کے اندر ناقدانہ سوچ کے عالم بہت کم ہیں تو یونیورسٹی میں اس سے بھی زیادہ کم ہیں۔ آپ سروے کر لیں اور کراچی سے خیبر تک چلے جائیں، آپ اس سوچ کے حامل قابل لوگ انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ باقی تمام یونیورسٹیاں اس سے خالی ہیں۔ ان میں کوئی بندہ آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ جس کے پاس بیٹھ کر آپ کی علمی پیاس بجھ سکیں یا آپ یہ کہہ سکیں کہ اس کے ساتھ بیٹھک کے بعد میں اپنے آپ کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ اس لیے یہ پروگرام بہت زبردست کام ہے۔ ہمارے ہمسائے میں جو صورتحال بننے جا رہی ہے اس حوالے سے بھی اس کورس یا ایسے ڈسکورسز کا جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔
جناب ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری
کچھ عرصہ سے اپنے کچھ احباب سے مدرسہ ڈسکورسز کی سرگرمیوں کے متعلق پتہ چلتا رہا اور یہ جان کر بڑی مسرت ہوئی کہ یہاں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ساتھ خالص علمی رویے پروان چڑھ رہے ہیں۔ میرے والد گرامی پیر کرم شاہ صاحب الازہری ؒ نے ہمیشہ باہمی احترام، تحقیق و جستجو، علمی ترقی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو فروعی و مسلکی اختلافات میں الجھنے نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ ہمیں مفید کام کرنے اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کا درس دیا کرتے تھے ۔انہوں نے ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جس میں دینی علوم کے ساتھ معاشیات، انگریزی زبان اور دیگر معاشرتی علوم کو نصاب کا حصہ بنایا تاکہ اس نصا ب کو پڑھ کر ایسے بالغ نظر علماء تیار ہو سکیں جو دین کی آفاقی حیثیت کو سمجھتے ہوں اور دین کو ایک قابل عمل نظام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ یہ باتیں میں اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ ہم اس ضرورت کو شروع سے ہی محسوس کرتے چلے آ رہے ہیں جس ضرورت کے تحت مدرسہ ڈسکورسز کی سرگرمی شروع کی گئی۔
مجھے یہ پتہ چلا کہ مدرسہ ڈسکورسز میں مختلف مکاتب ہائے فکر کے فاضلین کو شامل کورس کیا جاتا ہے اور فلسفہ، جدید علم کلام اور جدیدیت کے تناظر میں غور و خوض کیا جاتا ہے، جہاں امہات مصادر کے عربی متون کے ساتھ جدید مغربی فکر کے بیانیے کو بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بہت مفید پلیٹ فارم ہے جہاں ایسے رجال کار تیار ہو سکتے ہیں جو جدید ذہن کے اشکالات کو کما حقہ سمجھ کر ان کا حل تلاش کر سکیں۔ ہمارے مدارس کے نظام و نصاب کو طویل عرصے سے ریوائز نہیں کیا گیا۔ مدارس کے طلبہ کو جدید نظاموں کے حوالے سے کوئی سوجھ بوجھ نہیں دی جاتی ۔ مقاصد شریعت، اصول تحقیق،آئین پاکستان، جدید سیاسی و معاشی نظام، جدید فقہی مسائل جیسے بہت سے مباحث ہیں جن کو طلبہ کے سامنے نہیں لایا جاتا جس کی وجہ سے مدارس سے نکلنے والے فاضلین زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اس پر مستزاد مدارس کا مسلکی گھٹن کا ماحول کہ جس کی وجہ سے دیگر مسالک کے لوگوں سے ہم آہنگی نہیں ہو پاتی اور ان سے کوسوں دور رہا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے کورسز ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔
مجھے امید ہے کہ اس کورس کی بدولت شرکاء کو مغربی مفکرین کا طرز استدلال اور بیانیہ سمجھنے میں کامیابی ملی ہو گی۔ ہاں ان جدید افکار کو پڑھتے ہوئے " خذ ما صفا و دع ماکدر " کا اصول ضرور ہمارے ذہن میں رہنا چاہیے اور وحی و عقل کے درمیان توازن کو قائم رکھنا چاہیے۔ آخر میں میں اپنی طرف سے، اپنے ادارے کی طرف سے اور برادر مکرم پیر امین الحسنات صاحب کی طرف مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ایسے پروگرامات جاری رہیں گے۔ ہم آپ کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔
جناب مولانا زاہد الراشدی
مدرسہ ڈسکورسز کے ساتھ پہلے دن سے منسلک ہوں، پوری نظر رکھے ہوئے ہوں، وقتا فوقتا شریک بھی ہوتا ہوں، اور آج اختتامی سیشن میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، الحمد للہ۔ میں ایک دو باتیں کہنا چاہوں گا۔ میں فکری و تحریکی دنیا کا آدمی ہوں اور میرے پیچھے دو شخصیتیں کھڑی ہیں جن کی نمائندگی کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک کا نام شاہ ولی اللہ ہے اور دوسرے کا نام شیخ الہند مولانا محمود حسن ہے۔ رحمہما اللہ تعالیٰ۔ میں اپنے آپ کو ان کی فکری تحریک یا اور تحریکی فکر کے تسلسل میں جڑا ہوا سمجھتا ہوں۔ مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے میرا تاثر آج بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا کہ یہ ایک ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا ہونا چاہیے۔ اب اس میں اتنا اضافہ ہے کہ یہ ضرورت بڑھ رہی ہے اور اس تسلسل کا دائرہ بھی وسیع ہونا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ ضرورت کیا ہے ؟ میں اس پر اپنے حوالے سے بات کروں گا۔ ایک دفعہ امریکہ، اٹلانٹا میں بیبٹسٹ فرقے کےسربراہ سے میں نے گفتگو کی۔ میں نے اس میں ایک ضرورت کا اظہار کیا کہ جناب آپ فاضل ہیں، بائبل اور چرچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میں مولوی ہوں، قرآن کی نمائندگی کرتا ہوں، مسجد و مدرسہ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ ہم دونوں ایک مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ مذہب، وحی اور آسمانی تعلیمات سے سوسائٹی کٹ گئی ہے، سوسائٹی کو دوبارہ آسمانی تعلیمات سے جوڑنا میری ضرورت بھی ہے اور آپ کی بھی، کیا ہم کسی مشترکہ فورم پر بیٹھ کے اس کی پلاننگ کر سکتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ آپ اس کے لیے چرچ میں واپس آ جائیں اور بائبل پکڑ لیں، میں مسجد میں بیٹھا ہوں، قرآن میرے ہاتھ میں ہے، ہم مل کر سوسائٹی کو واپسی آسمانی تعلیمات سے جوڑنے کا کوئی ایجنڈا بناتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے غور کرنے کا وعدہ کیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کی ضرورت ہے کہ سوسائٹی کو مذہب کی طرف واپس لانے کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے اور میرے خیال میں یہ کورس بھی اسی سلسلے کی ایک علمی سرگرمی ہے۔
اس میں شرکت کرنے والے اکثر فضلاء میرے شاگرد ہیں۔ جو شاگرد نہیں ہیں، ان کا بھی کسی نہ کسی درجے میں تعلق ضرورہے۔ میں اس بات کا جائزہ لیتا رہا ہوں کہ اس میں میرے شاگردوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ان میں کیا تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ پانچ سال مکمل ہونے کے بعد میں پورے اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس مختصر سی جماعت میں خیر کا پہلو غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو نافع بنائے اور ان فضلاء کو دینی روایت کے احیاء کا ذریعہ بنائے۔ آمین