اکتوبر ۲۰۲۱ء

عدت کے شرعی احکام : چند ضروری توضیحاتڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ جامع ترمذی (۵)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۳)مولانا سمیع اللہ سعدی 
قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
عشرہ دفاعِ وطنمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام کے عہد اول میں فکری انقلاببیرسٹر ظفر اللہ خان 

عدت کے شرعی احکام : چند ضروری توضیحات

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

احکام شریعت عموماً‌ دو طرح کے پہلووں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ایک پہلو ’’معلل” یعنی کسی قانونی علت پر مبنی ہوتا ہے جس کے وجود یا عدم وجود پر حکم کا مدار رکھا جاتا ہے اور مجتہدین اس کی روشنی میں حکم کے قابل اطلاق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ دوسرا پہلو ’’تعبدی” ہوتا ہے، یعنی جس کی کوئی ظاہری قانونی علت نہیں ہوتی اور اس کی پابندی محض شارع کے امتثال امر کے طور پر کی جاتی ہے۔

طلاق کے احکام میں بھی یہ دونوں پہلو موجود ہیں۔

شریعت میں طلاق یا وفات کی صورت میں عدت کے جو احکام دیے گئے ہیں، ان پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ مبینہ پابندیوں میں ایک سے زائد مقاصد اور حکمتوں کی رعایت کی گئی ہے۔ ان میں اہم ترین چیز تو استبراء رحم یعنی عورت کے پیٹ کی حالت کا واضح ہونا ہے تاکہ بچے کے نسب کا معاملہ کسی اشتباہ اور اختلاط کا شکار نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ ازدواجی تعلق قائم ہوئے بغیر طلاق ہو جانے کی صورت میں قرآن نے عدت کی پابندی عائد نہیں کی۔ تاہم یہ اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے۔

طلاق کی صورت میں قرآن نے جو عدت مقرر کی ہے، اس سے واضح ہے کہ حمل کی صورت حال واضح ہونے کے علاوہ شوہر کو رجوع کا موقع دینا بھی اس ہدایت کا ایک مقصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک ماہواری کے بجائے تین ماہواریاں مقرر کی گئی ہیں، حالانکہ استبراء رحم کے لیے ایک یا دو ماہواریاں بھی کافی تھیں، جیسا کہ بہت سے شرعی نظائر سے ثابت ہے۔ مثلاً‌ لونڈی کی عدت دو ماہواریاں مقرر کی گئی اور نئی خرید کردہ لونڈی سے ہم بستری سے پہلے صرف ایک ماہواری سے استبراء رحم کرنے کو کافی سمجھا گیا۔ اسی تناظر میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ تیسری طلاق کے بعد چونکہ رجوع کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے استبراء رحم کے لیے صرف ایک ماہواری کافی ہوگی۔

یہی معاملہ عدت وفات کا ہے۔ قرآن نے جو حکم دیا ہے، اس سے واضح ہے کہ محض استبراء رحم نہیں، بلکہ اس سے زائد بھی کچھ مقصود ہے۔ استبراء رحم کے لیے ایک دو یا تین ماہواریاں گزارنے کا کہا جا سکتا تھا، لیکن قرآن نے یہاں سرے سے اس پہلو کو چھیڑا ہی نہیں، بلکہ یہ کہا کہ چار ماہ دس دن انتظار کیا جائے۔ یہ ایک بالکل ’’تعبدی ” نوعیت کی مدت ہے جس کی کوئی تعلیل نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوہ کو ایک متعین عرصے تک نئے نکاح سے روکنا شریعت کا مقصود ہے۔ احادیث میں بیوہ کے لیے سوگ اور ترک زینت کے جو آداب بیان کیے گئے ہیں، ان سے بھی اسی پہلو کی مزید تاکید ہوتی ہے۔

البتہ بیوہ اگر حاملہ ہو تو اس کا معاملہ ذرا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ قیاسی طور پر اسے استبراء رحم کے لیے وضع حمل کی، جبکہ سوگ کے پہلو سے چار ماہ دس دن کی دونوں عدتیں گزارنی چاہییں۔ تاہم شریعت کا مزاج چونکہ تیسیر اور تخفیف کا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر دوہری پابندی لازم کرنے کے بجائے صرف وضع حمل کو ان کی عدت قرار دیا۔ اس سے عورت کے لیے توازن یوں پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف وضع حمل کا عرصہ چار ماہ دس دن سے متجاوز ہونے کی صورت میں اسے زیادہ عرصے تک انتظار کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف وضع حمل جلدی ہو جانے کی صورت میں وہ فوری طور پر عدت کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتی ہے۔

عدت کی پابندیوں سے متعلق ایک اور سوال یہ سامنے آتا ہے کہ بیوہ کے لیے زیب وزینت سے اجتناب کی جو ہدایت دی گئی ہے، طلاق یافتہ خاتون پر اس کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟

اس ضمن میں ایک نکتہ تو یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ جس پہلو سے بیوہ کو زیب وزینت سے اجتناب کا پابند کیا گیا ہے، وہ خاوند کی وفات کا سوگ ہے اور اس حالت میں بدیہی طور پر زیب زینت کرنا مناسب نہیں۔ بعض اہل علم نے اس کو سد ذریعہ اور احتیاط کے پہلو سے بھی لیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ ایسی حالت میں نکاح یا پیغام نکاح دینا جائز نہیں، اس لیے عورت کو زیب وزینت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے تاکہ اس کی طرف خواہش مندوں کی رغبت کم رہے اور عدت کے آداب کے مجروح ہونے کا امکان پیدا نہ ہو۔

جہاں تک مطلقہ کا تعلق ہے تو اس میں ظاہر ہے، سوگ کا مذکورہ پہلو نہیں پایا جاتا۔ البتہ کچھ دوسرے پہلووں سے مختلف صورتوں میں زیب وزینت کا اہتمام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ فقہاء لکھتے ہیں کہ رجعی طلاق کی صورت میں عورت کو زیب وزینت کا اہتمام کر کے شوہر کو اپنی طرف راغب کرنا چاہیے، کیونکہ اس صورت میں شریعت کو یہ مطلوب ہے کہ خاوند، اپنے فیصلے سے رجوع کر لے۔ البتہ خلع، طلاق بائن یا تیسری طلاق کے بعد چونکہ رجوع کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے زیب وزینت اور بناو سنگھار کا اہتمام، امکانی فتنے کا موجب ہو سکتا ہے، اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خلع یا طلاق بائن وغیرہ کے بعد عورت، شوہر کے گھر کے بجائے دوسری جگہ عدت گزار رہی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں معمول کی، ہلکی پھلکی زیب وزینت میں کوئی حرج نہیں، خاص طور پر کوئی ایسا التزام شرعاً‌ مطلوب نہیں جو ’’سوگ ” کی کیفیت کا تاثر دے۔ تاہم چونکہ نیا نکاح یا صریح پیغام نکاح اس صورت میں بھی ممنوع ہے، اس لیے ایسی زیب وزینت جو دیکھنے والوں کے لیے باعث رغبت ہو یا اس سے عورت کی رغبت کا اظہار ہوتا ہو، مناسب نہیں۔ اسی طرح اگر عرفی طور پر اسے معیوب سمجھا جاتا ہو تو اس کی رعایت کرنا بھی بہت مناسب ہوگا۔

بیوگی کی عدت کے دوران میں عورت کے لیے کن چیزوں کی پابندی شرعاً‌ ضروری ہے، اس ضمن میں بہت سی غلط فہمیاں عوام میں پھیلی ہوئی ہیں اور اتنی پختہ ہیں کہ ان کی پابندی، اصل شریعت سے بھی زیادہ ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خوب یاد رکھنا چاہیے کہ بیوہ کے لیے عدت میں شریعت نے درج ذیل امور کی پابندی بیان کی ہے:

۱۔ وہ شوہر کی وفات سے لے کر چار ماہ دس دن تک سوگ کا عرصہ گزارے گی۔ اس دوران میں اسے ترجیحاً‌ شوہر ہی کے گھر میں رہنا چاہیے اور بلا ضرورت گھر سے باہر کی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

البتہ جن ملازمت پیشہ خواتین کا کوئی اور معاشی سہارا نہ ہو اور گزر بسر کا بھی کوئی متبادل انتظام نہ ہو، ان کا معاملہ الگ ہے۔ وہ ضرورت کے اصول پر دوران عدت میں بھی اپنی ملازمت جاری رکھ سکتی ہیں۔

۲۔ عدت کے دوران میں وہ سادہ لباس پہنے اور زیب وزینت سے اجتناب کرے۔ میک اپ، زیورات کا استعمال اور شوخ لباس پہننا نامناسب ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صاف ستھری نہ رہے۔

۳۔ عدت کے عرصے میں اسے نئے نکاح کا واضح پیغام دینے سے اجتناب کیا جائے۔ اشارے کنایے میں مدعا اس تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن صاف اور صریح پیغام نکاح نہیں دیا جا سکتا۔

عوام میں اس حوالے سے دو غلط فہمیاں بہت عام ہیں۔ ایک یہ کہ اس عرصے میں بیوہ کو گھر کے کسی کمرے میں محصور ہو کر رہنا پڑتا ہے اور وہ گھر کے کام کاج بھی نہیں کر سکتی۔ دوسری یہ کہ اس عرصے میں اس کے لیے پردے کا اہتمام عام معمول سے زیادہ لازم ہے اور وہ گھر کے غیر محرم عزیزوں کے سامنے نہیں آ سکتی۔

یہ دونوں باتیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ ایسی کوئی پابندی شریعت نے عائد نہیں کی۔ اگر کوئی خاتون عام معمول کے طور پر خاندان کے تمام غیر محرموں (مثلاً‌ شوہر کے بھائی، بھانجوں بھتیجوں وغیرہ) سے پردہ کرتی ہے تو عدت میں بھی کر سکتی ہے۔ لیکن اگر گھر کے عام ماحول میں ایسے پردے کا التزام نہیں کیا جاتا جو کہ شرعاً‌ لازم بھی نہیں تو دوران عدت میں اس کا کوئی خصوصی اہتمام کرنا شریعت کا تقاضا نہیں۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(273) أَن یَقُولُوا آمَنَّا

درج ذیل آیت کا ترجمہ دیکھیں:

أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ۔ (العنکبوت: 2)

”کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے“ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟“۔ (سید مودودی)

”کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی“۔ (احمد رضا خان)

”کیا لوگ یہ خیال کیے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی“۔ (فتح محمد جالندھری)

”کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض یہ کہہ دینے پر چھوڑدیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس آیت کے ترجمے میں عام طور سے لوگوں نے ’بس، صرف، محض اور اتنی بات‘ جیسی تعبیروں کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کی ضرورت غالبًا اس لیے محسوس کی گئی کہ لوگوں نے یہ سمجھا کہ أَن یَقُولُوا آمَنَّا سے مراد محض زبانی دعوی ہے، اور محض زبانی دعوے کرنے والوں کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اللہ انھیں بغیر آزمائے نہیں چھوڑے گا۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالی زبانی دعوی کرنے والوں کو آزمائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان لے آنا کوئی کھیل نہیں ہے کہ اس کے بعد زندگی بہت آسان رہے گی اور دشمنانِ اسلام یوں ہی چھوڑ دیں گے، بلکہ ان کی طرف سے ستایا جانا یقینی ہے۔ اگر یہ مفہوم لیا جائے تو پھر ان اضافوں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جو عام طور سے کیے گئے۔

ترجمہ ہوگا:

”کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ یہ کہہ دینے پر چھوڑدیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟“۔

واضح رہے کہ آزمائش تو اللہ کے اذن سے ہوتی ہے، جس کا آگے ذکر کیا گیا، لیکن اس کی شکل یہی بنتی ہے کہ جیسے ہی کوئی ایمان لانے کا اعلان کرتا ہے دین کے دشمن اسے چھوڑتے نہیں ہیں بلکہ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں“۔

(274)  وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ

عربی زبان میں ’مَن‘ واحد کے لیے بھی ہوتا ہے اور جمع کے لیے بھی۔ اور جب ’مَن‘ جمع کے لیے آتا ہے تو اس کے بعد فعل واحد کے صیغے میں بھی آتا ہے اور جمع کے صیغے میں بھی۔ اگر جمع کا صیغہ ہو تب تو یقینی ہوجاتا ہے کہ ایک فرد کے بارے میں نہیں بلکہ گروہ کے بارے میں بات ہورہی ہے۔ درج ذیل آیت کے ترجمے میں بعض لوگوں سے یہ تسامح ہوا کہ انھوں نے واحد کا ترجمہ کیا، اور آگے جہاں جمع کے صیغے کے افعال اور جمع کے ضمائر ہیں وہاں بھی واحد کا ترجمہ کردیا۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ آمَنَّا بِاللَّہِ فَإِذَا أُوذِیَ فِی اللَّہِ جَعَلَ فِتْنۃ النَّاسِ کَعَذَابِ اللَّہِ وَلَثِن جَاءَ نَصْر مِّن رَّبِّکَ لَیَقُولُنَّ إِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ أَوَلَیْسَ اللَّہُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِی صُدُورِ الْعَالَمِینَ۔ (العنکبوت:10)

”لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا، اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آ گئی تو یہی شخص کہے گا کہ ”ہم تو تمہارے ساتھ تھے“ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟“۔ (سید مودودی، لَیَقُولُنَّ جمع کا صیغہ ہے اس کا ترجمہ یہی شخص کیسے ہوسکتا ہے؟)

”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟“۔ (فتح محمد جالندھری)

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُول کا ترجمہ’لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے‘ کی بجائے ’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں‘ درست ہے۔

(275)  آمَنَّا بِالَّذِی أُنزِلَ إِلَیْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْکُمْ

درج ذیل آیت میں وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِی أُنزِلَ إِلَیْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْکُمْ میں الذی ایک بار ہے، لیکن لوگوں نے ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ جیسے وہ دوبار آیا ہو۔

وَلَا تُجَادِلُوا أَهلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِی هیَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْہُمْ  وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِی أُنزِلَ إِلَیْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْکُمْ وَإِلَٰہُنَا وَإِلَٰہُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ۔  (العنکبوت: 46)

”اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں، اور اُن سے کہو کہ ”ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے مُسلم (فرماں بردار) ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا“۔(احمد رضا خان)

”اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور کہو کہ ہم ایمان لائے اس چیز پر جو ہم پر نازل ہوئی اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف اتاری گئی“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج ذیل ترجمہ قرآنی الفاظ کے مطابق ہے:

”اور کہہ دو ہم اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمہاری طرف نازل کیا گیا“۔ (احمد علی لاہوری)

آیت کے الفاظ کے مطابق یہاں یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان لائے جو ہماری طرف اتری اور ان کتابوں پر بھی جو اہل کتاب کی طرف اتریں، بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ کتاب جو ہماری طرف بھی اتری ہے اور تمہاری طرف بھی اتری ہے، یعنی ہم سب کے لیے اتری ہے اس پر ہم ایمان لائے۔ یہ دعوت دینے کا نہایت عمدہ طریقہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور وہ ساری انسانیت کے لیے ہے، ہم بھی اس کے مخاطب ہیں اور تم بھی اس کے مخاطب ہو۔

(276)  کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ

یہ تعبیر تین مقامات پر آئی ہے۔ اس کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہیے، وہ رہ جانے والوں میں سے تھی یا ہوئی۔ لیکن الگ الگ مقامات پر لوگوں نے الگ الگ ترجمے کیے۔

(۱) فَأَنجَیْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلَّا امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ۔ (الاعراف:83)

”تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی“۔ (احمد رضا خان)

”تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)

یہاں سب نے ماضی کا ترجمہ کیا۔

(۲)  قَالَ إِنَّ فِیہَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِیہَا لَنُنَجِّیَنَّہُ وَأَہْلَہُ إِلَّا امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ۔ (العنکبوت: 32)

”ابراہیم ؑ نے کہا، ”وہاں تو لوط ؑ موجود ہے”انہوں نے کہا“ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے ہم اُسے، اور اس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے“ اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی“۔ (سید مودودی)

”مگر اس کی عورت کو، وہ رہ جانے والوں میں ہے“۔ (احمد رضا خان)

”بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی“۔ (فتح محمد جالندھری)

یہاں کسی نے حال اور کسی نے مستقبل کا ترجمہ کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اسے فرشتوں کے سابقہ قول کا حصہ سمجھا۔ حالاں کہ اسے اللہ کی طرف سے جملہ مستانفۃ سمجھتے تو ماضی کا ترجمہ کرتے، جو کہ لفظ کا تقاضا ہے۔

(۳)  وَلَمَّا أَن جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِیءَ بِہِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوکَ وَأَہْلَکَ إِلَّا امْرَأَتَکَ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ۔ (العنکبوت: 33)

”پھر جب ہمارے فرستادے لوط ؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا اُنہوں نے کہا،نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے“۔ (سید مودودی)

”مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے“۔ (احمد رضا خان)

”مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی“۔ (فتح محمد جالندھری)

یہاں بھی ماضی کا ترجمہ ہونا چاہیے لیکن عام طور سے لوگوں نے حال یا مستقبل کا کیا ہے۔ علامہ آلوسی نے وضاحت کی ہے کہ ان تینوں مقامات پر یہ جملہ مستانفۃ ہے۔یعنی اس سے پہلے والا جملہ پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے، اور یہ ایک نیا مستقل جملہ ہے۔

(277)  مکڑی کی مثال

درج ذیل آیت میں تشبیہ مرکب کا اسلوب استعمال ہوا ہے، یعنی ایک چیز کو ایک چیز سے تشبیہ نہیں دی جارہی ہے بلکہ کئی چیزوں سے مل کر پوری ایک صورت حال کو ایک صورت حال سے تشبیہ دی جارہی ہے۔

مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّہِ أَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ الْعَنکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتًا وَإِنَّ أَوْہَنَ الْبُیُوتِ لَبَیْتُ الْعَنکَبُوتِ  لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ۔ (العنکبوت:41)

تشبیہ مرکب کے مطابق ترجمہ اس طرح ہوگا:

”ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنائے ہیں ایسے ہی ہے جیسے مکڑی نے گھر بنایا۔ اور بے شک تمام گھروں سے بودا مکڑی کا گھر ہوتا ہے، اگر یہ لوگ جانتے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

ان لوگوں کو مکڑی سے تشبیہ نہیں دی گئی بلکہ تشبیہ اس بات میں ہے کہ جس طرح مکڑی اپنے لعاب سے گھر بناتی ہے اس طرح انھوں نے اپنی طرف سے اللہ کے سوا اولیاء بنالیے ہیں اور جس طرح یہ گھر مکڑی کی حفاظت نہیں کرسکتا اسی طرح ان کے اولیاء ان کی حفاظت نہیں کرسکتے۔

درج ذیل ترجموں سے گمان ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو مکڑی سے تشبیہ دے رہے ہیں، یعنی تشبیہ مرکب کے بجائے تشبیہ بسیط کا ترجمہ کررہے ہیں:

”جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حالانکہ تمام گھروں سے زیادہ بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے، کاش! وہ جان لیتے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر، کیا اچھا ہوتا اگر جانتے“۔ (احمد رضا خان)

(278) منکر کا ترجمہ

قرآن مجید میں منکر اور فحشاء دو لفظ کہیں ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں اور کہیں الگ الگ۔ دونوں لفظوں میں فرق اس طرح بتایا گیا ہے کہ فحشاء بے حیائی اور منکر عام برائیوں کے لیے آتا ہے۔ قاضی ابن عطیہ لکھتے ہیں:

و”الفَحْشاءِ“: الزِنی -قالَہُ ابْنُ عَبّاسٍ - وغَیْرُہُ مِنَ المَعاصِی الَّتِی شُنْعَتُہا ظاہِرَۃ، وفاعِلُہا أبَدًا مُتَسَتِّر بِہا، وکَأنَّہم خَصُّوھا بِمَعانِی الفُرُوجِ و”المُنْکَرِ“ أعَمُّ مِنہُ؛ لَأنَّہُ یَعُمُّ جَمِیعَ المَعاصِی والرَذاثلِ والإذایاتِ عَلی اخْتِلافِ أنْواعِہا۔ (المحرر الوجیز)

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

”فحشاء کھلی ہوئی بے حیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں۔ مثلًا زنا اور لواطت اور اس قبیل کی دوسری برائیاں۔۔۔۔منکر سے مراد وہ باتیں ہوں گی جو معروف اور عقل وعرف کے پسندیدہ طریقہ اور آداب کے خلاف ہوں“۔ (تدبر قرآن)  

لیکن ترجمہ کرتے ہوئے بعض لوگوں کی طرح خود وہ بھی اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھ سکے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:

(۱)  وَیَنْہَیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنکَرِ وَالْبَغْیِ۔  (النحل: 90)

”اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بے حیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور روکتا ہے بے حیائی، برائی اور سرکشی سے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے“۔ (سید مودودی، ترتیب الٹ گئی بے حیائی و بدی ہونا چاہیے تھا)

(۲)  إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنکَرِ۔ (العنکبوت: 45)

”یقینا ً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے“۔ (سید مودودی)

”بے شک نماز بے حیائی اور منکر سے روکتی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے“۔ (جوادی، یہاں ترتیب الٹ گئی، بدکاری اور برائی ہونا چاہیے تھا)

(۳) وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنکَرَ۔ (العنکبوت:29)

”اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو“۔ (سید مودودی)

”اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اپنی مجلسوں میں بے حیائی کے مرتکب ہوتے ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

آخر کے دونوں ترجموں میں بے حیائی کے بجائے برائی ہونا چاہیے تھا، کیوں کہ لفظ منکر آیا ہے نہ کہ فحشاء۔

(279)  ارتیاب کا ترجمہ

ارتیاب ایک انفعالی کیفیت (شک میں پڑنے) کا نام ہے، جب کہ ارابة ایک فعل ہوتا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے شک کرنا شک پیدا کرنا۔ درج ذیل مقامات پرارتیاب آیا ہے جس کا زیادہ مناسب ترجمہ شک ہونا یا شک میں پڑنا ہے، نہ کہ شک کرنا، شک لانا یا مین میکھ نکالنا وغیرہ۔  

(۱)   وَمَا کُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِہِ مِن کِتَابٍ وَلَا تَخُطُّہُ بِیَمِینِکَ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ۔ (العنکبوت: 48)

”(اے نبیؐ) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے“۔ (سید مودودی)

”یوں ہوتا تو باطل ضرور شک لاتے“۔ (احمد رضا خان)

”ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ایسا ہوتا تو یہ جھٹلانے والے مین میکھ نکالتے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) إِنَّمَا یَسْتَأْذِنُکَ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُہُمْ فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ۔ (التوبۃ: 45)

”ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس آیت کے آخری جزء فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ کا ترجمہ حسب ذیل کیا ہے:

”وہ اپنے شک کی حالت میں پیچ وتاب کھارہے ہیں“۔

(۳)  أَفِی قُلُوبِہِم مَّرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا۔  (النور: 50)

”کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟“۔ (سید مودودی)

(۴)  وَارْتَبْتُمْ۔ (الحدید: 14)

”اور (اسلام میں) شک کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور شک و شبہ کرتے رہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور شک میں پڑے رہے“۔ (سید مودودی)

(۵) وَاللَّاثِی یَثِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِن نِّسَاءِکُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثۃَ أَشْہُرٍ۔ (الطلاق: 4)

”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۶)  ذَٰلِکُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّہِ وَأَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَأَدْنَیٰ أَلَّا تَرْتَابُوا۔ (البقرۃ: 282)

”یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لیے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہ بھی نہیں پڑے گا“۔(فتح محمد جالندھری)

(۷)  وَلَا یَرْتَابَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ۔  (المدثر: 31)

”اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے“۔ (احمد رضا خان)

(۸)  إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا۔ (الحجرات: 15)

”حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا“۔ (سید مودودی)

”مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک وشبہ نہ کریں“۔ (محمد جوناگڑھی، یہاں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ فعل ماضی کی بجائے فعل مضارع کا ترجمہ کردیا)

”پھر شک نہ کیا“۔ (احمد رضا خان)

”پھر شک میں نہ پڑے“۔ (فتح محمد جالندھری)


مطالعہ جامع ترمذی (۵)

(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: حضرت سودہ نے حضرت عائشہ کو اپنی باری کا دن دے دیا، کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں طلاق دے دیں گے۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ النساء، حدیث نمبر ۳۰۴۰) تو آپ ﷺ انہیں کیوں طلاق دینا چاہ رہے تھے؟ ایسی کیا وجہ تھی؟

عمار ناصر: یہ واقعہ روایتوں میں مختلف انداز سے بیان ہوا ہے۔ بعض میں ہے کہ جب حضرت سودہ عمر رسیدہ ہو گئیں تو انھوں نے خود ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے اب تعلق زن وشو کی حاجت نہیں تو آپ میری باری کا دن بھی عائشہ کے پاس قیام فرما لیا کریں۔ بعض میں یہ ہے کہ ان کی کبر سنی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طلاق دینا چاہی تو انھوں نے کہا کہ میں روز قیامت آپ کی بیویوں میں ہی اٹھنا چاہتی ہوں، اس لیے آپ مجھے طلاق نہ دیں اور میری باری کا دن عائشہ کے ساتھ قیام فرما لیا کریں۔ اب ویسے تو آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنی کسی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لیں، لیکن یہ بات بظاہر سمجھ میں نہیں آتی کہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے آپ انھیں طلاق دینا چاہتے تھے۔ خاص طور پر اگر یہ واقعہ سورۃ الاحزاب کے احکام کے بعد کا ہے تو پھر یہ بات مزید باعث اشکال ہے، کیونکہ سورۃ الاحزاب میں آپ کی ازواج کے لیے کسی بھی دوسرے شخص سے نکاح کو ممنوع ٹھیرایا گیا ہے۔ ممکن ہے، یہ راویوں کا قیاس ہو اور انھوں نے روایت میں سیدہ سودہ کی کبر سنی کے ذکر سے یہ اندازہ کیا ہو کہ آپ اس وجہ سے انھیں طلاق دینا چاہتے تھے جس پر انھوں نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ کو دے دیا۔

مطیع سید: حضرت آدم ؑ کے بارے میں روایت آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت سے ان کی ذریت نکالی اورآپ اپنی ذریت کو دیکھ رہے تھے۔ آپ کو ان میں ایک میں بڑا نور نظر آیا جو حضرت داؤد تھے۔حضرت آدم نے کہا کہ یا اللہ میری عمر کے چالیس سال ان کو دے دیے جائیں۔ پھر جب فرشتہ حضرت آدم کے پاس ان کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابھی تو میرے چالیس سال رہتے ہیں۔اس پر فرشتے نے یاد دلایا کہ وہ تو آپ نے حضرت داؤد کو دے دیے تھے۔(کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الاعراف، حدیث نمبر ۳۰۷۶) توکیا حضرت آدم کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ ان کی کتنی عمر ہوگی؟کیا یہ روایت درست ہے؟

عمار ناصر: سندا تو بظاہر ٹھیک ہے اور حضرت آدم کو ان کی عمر کے متعلق پہلے سے بتا دیا گیا ہوتو یہ کوئی بعید تو نہیں۔

مطیع سید: ایک روایت ہے کہ حضرت حوا حاملہ ہوتی تھیں، لیکن بچہ نہیں بچتا تھا، تو شیطان نے کہا کہ بچے کا نام عبد الحارث رکھیں تو بچ جائے گا۔(کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الاعراف، حدیث نمبر ۳۰۷۷) کیا یہ روایت ٹھیک ہے؟

عمار ناصر: نہیں، اس روایت پر محدثین نے نقد کیا ہے۔

مطیع سید: روایت میں ہے کہ جنگ بدر میں صحابہ مالِ غنیمت لوٹنے لگے، حالانکہ ابھی اس کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی کہ لَوْ لَا كِتٰب مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ عَذَاب عَظِیْم۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الانفال، حدیث نمبر ۳۰۸۵)

عمار ناصر: اس آیت کی شان نزول سے متعلق ایک روایت یہی ہے کہ چونکہ پچھلی شریعتوں میں مالِ غنیمت کا استعمال جائز نہیں ہوتا تھااور ابھی تک مسلمانوں کے لیے بھی جائز نہیں کیا گیا تھا، لیکن مسلمانوں نے اس سے پہلے ہی لوٹنا شروع کر دیا تو یہ تنبیہ نازل کی گئی۔ لیکن آیت کے سیاق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مالِ غنیمت کے حوالے سے نہیں، بلکہ جنگی قیدی بنانے اور ان سے فدیہ لینے سے متعلق بات ہورہی ہے۔

مطیع سید: تو پھر اس روایت کو کس جگہ رکھیں گے؟

عمار ناصر: اصل میں روایتوں میں یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ اپنےفہم سے اس کا ایک مطلب سمجھ کر، اس کے مطابق واقعے کو بیان کر دیتے ہیں۔شانِ نزول کی روایات میں ایسا بہت ہے۔اب دیکھیں، دو الگ الگ باتیں ہیں جن کو راوی اپنےقیاس سے جوڑ رہاہے۔نبی ﷺ نے یہ بات الگ سے فرمائی کہ پچھلی امتوں پر مالِ غنیمت حلال نہیں تھا۔ وہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے۔اس کو راوی نے اس آیت کے ساتھ ملا کر قیاس کر لیا کہ یہاں اسی بات کا ذکر ہو رہا ہے۔

مطیع سید: حضرت عبد اللہ بن مسعود کو قرآن لکھنے سے الگ رکھا گیا اور انہوں نے زید بن ثابت کے متعلق بڑے سخت الفاظ کہے۔وجہ کیا تھی؟یہ کس دور میں ہوا؟

عمار ناصر: یہ حضرت عثما ن کے دور میں ہوا جب قرآن مجید کا نسخہ مرتب کیا جا رہا تھا۔ان کو الگ رکھے جانے پر ظاہر ہے کوئی تحفظ ہوگا۔ اب کیا وجہ ہوئی، متعین طور پر کہنا مشکل ہے۔عبد اللہ بن مسعود اس وقت کوفے میں تھے۔ ممکن ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ زید بن ثابت مدینے میں ہی موجود ہیں، ان کویہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہو۔یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ جمع عثمانی کا بنیادی مقصد قراءت کے اختلاف کے محدود کرنا تھا، جبکہ عبد اللہ بن مسعود اپنی قراءت کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ ان کا اعتراض بھی یہی تھا کہ مصحف میری قراءت پر کیوں نہیں لکھا گیا۔ شاید اس وجہ سے انھیں مصحف کی تدوین میں شامل نہ کیا گیا ہو۔

مطیع سید: بہت سی جگہوں پر عربی زبان کا رائج رسم الخط اور قرآن کا رسم الخط مختلف ہے۔ قرآن مجید کو خاص رسم الخط میں کیوں لکھا گیا ہے؟ مطیع سید: مثلا کہا جاتا ہے کہ آپ الرحمان ایسے نہیں لکھ سکتے، آپ الرحمٰن لکھیں گے۔

عمار ناصر: عربی زبان کا اِس وقت جو Standard(معیاری)رسم الخط ہے، یہ تو بہت بعد میں جا کر رائج ہوا ہے۔ صحابہ کے دور میں اس طرح کا کوئی Standard رسم الخط نہیں تھا۔

مطیع سید: حضرت عثمان نے جو نسخے تیار کر وائے تھے، کیا انہوں نے کسی خاص رسم الخط کو ملحوظ رکھا تھا؟ اسے کہا بھی عثمانی رسم الخط جاتاہے۔

عمار ناصر: اس وقت کوئی Standardرسم الخط تھا ہی نہیں۔بعض الفاظ جن کے پڑھنے میں فرق تھا، ان کے متعلق حضرت عثمان کی ہدایات منقول ہیں کہ انھیں قریش کے تلفظ کے مطابق لکھا جائے، مثلا تابوت کا لفظ۔ اس کے علاوہ کوئی معیاری رسم الخط نہیں تھا اور کاتبوں نے جیسے ان کو مناسب لگا، لکھ دیا۔

مطیع سید: علماء کہتے ہیں کہ مصحف عثمانی میں قصدا ایسا رسم الخط اختیار کیا گیا جس میں مختلف قراءتیں پڑھی جا سکیں۔ مثلا ملک یوم الدین میں مالک الف کے ساتھ نہیں لکھا گیا۔الف کے بغیر لکھا گیا کہ تاکہ مالک اورملک دونوں طرح سے پڑھا جا سکے۔

عمار ناصر: یہ بعد میں قرآء نے توجیہات کی ہیں۔مجھے اس پر اطمینا ن نہیں ہے۔ مجھے اس قیاس میں کوئی وزن نہیں لگ رہا کہ رسم الخط خاص طور پر ایسا اختیار کیا گیا کہ قراءت کا اختلاف اس میں سمویا جا سکے۔جو رسم الخط کاتبوں کو آتا تھا، اس میں انہوں نے لکھ دیااور جو مختلف نسخے لکھوائے گئے، ان میں بھی آپس میں کئی جگہ رسم الخط کا فرق تھا۔ایسا لگتا ہے کہ وہ بالکل ایک ابتدائی (Primitive) سی چیزتھی۔ لیکن یہ جب انہوں نے ایک دفعہ لکھ دیا اور اس پر امت جمع ہو گئی تو پھر امت نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اسی کو بر قرار رکھنے میں مصلحت ہے اور اس کو اگر ہم بدلیں گے تو مزید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے، اس کو پھر Sanctifyکردیا کہ اب یہ ایک طرح سے ناقابل تبدیل ہے۔جمہور کی یہی رائے رہی ہے، لیکن یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک انتظامی پہلو سے متعلق چیزہے۔

مطیع سید: حضرت عثمان نے جو نسخے لکھوائے تھے، جن کے موازنے کے حوالے سے آپ فرما رہے ہیں کہ ان میں رسم الخط کہیں کہیں فرق بھی تھا، کیا وہ محفوظ ہیں؟

عمار ناصر: بہت سے نسخے موجود ہیں، لیکن ان کے استناد کے بارے میں مجھے زیادہ معلوم نہیں۔ ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم نے شاید کچھ کام کیا ہے۔ تاشقند میں ہیں اور کچھ دوسری جگہوں پر بھی ہیں، لیکن ان کے تاریخی استناد کے بارے میں میرے ذہن میں اس وقت کچھ نہیں ہے۔

مطیع سید: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک بہت خوبرو عورت مسجد نبوی میں نماز پڑھتی تھی تو کچھ لوگ پچھلی صفوں میں کھڑے ہوتے تھے اور رکوع کی حالت میں بغلوں کے نیچے سے اس کو دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت اتری کہ ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الحجر، حدیث نمبر ۳۱۲۲) یہ تو عجیب سی بات لگ رہی ہے۔ کیا صحابہ بعد میں صحابہ اپنی طرف سے بھی قیاس کرتے ہیں کہ اس آیت کا مقصود فلاں بات ہوگی؟

عمار ناصر: آیت کا سیاق تو ظاہر ہے، اس سے متعلق نہیں۔ اور شانِ نزول کی روایات میں قیاس اور اس طرح کی دیگر چیزوں کا بہت زیادہ دخل ہوتا ہے۔

مطیع سید: سورۃ بنی اسرائیل میں آیا کہ ہم نے آپ کو خواب اس لیے دکھایا کہ لوگوں کے لیے آزمائش بن جائے۔ عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس کا سفر یعنی معراج کا واقعہ ہے۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ بنی اسرائیل، حدیث نمبر ۳۱۳۴) لیکن وہ تو خواب نہیں تھا، کہا جاتا ہے کہ نبی ﷺ خود تشریف لے گئے تھے۔

عمار ناصر: رویا صرف خواب کو نہیں کہتے بلکہ آنکھ سے دیکھے ہوئے مشاہدات کو بھی رویا کہہ دیا جاتا ہے۔ ابن عباس کے اس اثر میں بھی انھوں نے وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد رویا عینہے، یعنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے مناظر۔ اس رویا کو عام طور پر سورت کے شروع جو معراج کے مشاہدات مذکور ہیں، انھی سے جوڑا جاتا ہے۔ عام طورپر مفسرین یہی تشریح کرتے ہیں، لیکن سورت کی ابتدا میں اور اس آیت میں فاصلہ اتنا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ اسی سے متعلق ہو۔ کوئی اور بات بھی ہوسکتی ہے جو اس وقت زیرِ بحث ہو اور سامعین کےعلم میں ہو، اگرچہ قرآن میں تصریحا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ان دونوں امکانات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مطیع سید: یہودآپﷺ کے پاس آئے، مختلف نشانیوں کے بارے میں پوچھا اور آپ کی نبوت کے حق میں گواہی دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت داؤد نے دعا کی تھی کہ نبوت ان کی اولاد میں رہےگی، اور اگر ہم آپ پر ایمان لائے تو یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔(کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ بنی اسرائیل، حدیث نمبر ۳۱۴۴) کیا واقعی حضرت داؤد نے ایسی دعا کی تھی؟اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے جس کی بنیادپر انہوں نے اتنی بڑی بات کہہ دی؟

عمار ناصر: نہیں، اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت داود نے یہ دعاکی تھی کہ ان کی اولاد میں نبوت جاری رہے۔ یہ مطلب نہیں کہ نبوت ان کی اولاد میں ہی رہے، کسی دوسری جگہ نہ جائے۔

مطیع سید: قیامت کے دن لوگ مختلف انبیاء کے پاس جائیں گےاورہر نبی ایک عذر پیش کر دیں گے۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ بنی اسرائیل، حدیث نمبر ۳۱۴۸) وہ عذر ایسے ہیں کہ اللہ نے انہیں معاف بھی فرما دیا ہے اور وہ کوئی اتنے بڑے مسئلے بھی نہیں ہیں۔توپھر انبیاء ایسے کیوں عذر پیش کریں گے؟

عمار ناصر: دیکھیں، ہیبت اور خوف کی ایک کیفیت سب پر طاری ہوگی جس میں کوئی بھی بزرگ اپنے اندر حوصلہ نہیں پائیں گےکہ اللہ تعالیٰ کے روبرو جائیں اور کوئی درخواست پیش کریں۔ ایسی کیفیت میں آدمی کو اپنی معمولی لغزشیں اور تقصیر ات بھی بہت بڑی محسوس ہوتی ہیں۔

مطیع سید: حضرت موسی اور خضر کے واقعہ میں راوی سفیا ن کہتے ہیں کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی ٹیلے کے پاس آبِ حیات کا چشمہ تھا جس کی چھینٹ مچھلی پر پڑی تھی اور وہ زندہ ہوگئی تھی۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الکہف، حدیث نمبر ۳۱۴۹) یہ روایات اسرائیلیات میں سے ہیں یا بس لوگوں میں مشہورباتیں تھیں؟

عمار ناصر: اسرائیلیات میں سے بھی ہو سکتی ہے اور لوگوں میں جو کچھ اساطیری چیزیں پھیلی ہوتی ہیں، ان میں سے بھی ہو سکتی ہے۔

مطیع سید: یاجوج ماجوج کے ہر روز دیوار چاٹنے والی روایت میں ہے کہ آخری دفعہ جب وہ ان شاء اللہ کہیں گے تو پھر دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔(کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الکہف، حدیث نمبر ۳۱۵۳) بظاہر ان کے کردار سے تو لگ نہیں رہا کہ وہ اہل ایمان ہوں گے، پھر وہ کیوں ان شاء اللہ کیوں کہیں گے؟

عمار ناصر: ہو سکتا ہے، اللہ کو مانتے ہوں۔بہرحال اس روایت کے بارے میں تو بہت تحفظات ہیں۔امام بخاری اور امام ابن کثیر نے بھی اس پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ اسرائیلیات میں سے ہے۔

مطیع سید: اہلِ بیت کی اصطلاح کن کے لیے ہے؟

عمار ناصر: یہ صحابہ میں بھی بحث رہی ہے کہ اس سے مرادکون ہیں۔قرآن تو واضح ہے، وہ ازواج مطہرات کو ہی مخاطب کر کے اہل البیت کہتا ہے اور اس کا جو عام لغوی استعمال ہے، وہ بھی یہی ہے۔

مطیع سید: ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر میں حضرت علی، فاطمہ، حسن اورحسین رضی اللہ تعالی عنھم کو لیا۔ حضرت ام سلمہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ، میں بھی آؤں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں۔بلکہ آپ نے انہیں روک کر فرمایا کہ آپ ایسے ہی ٹھیک ہیں۔اور فرمایا کہ یہ میرے اہل ِ بیت ہیں۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الاحزاب، حدیث نمبر ۳۲۰۵۔ کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل فاطمۃ، حدیث نمبر ۳۸۷۱)

عمار ناصر: یہ تو بچوں کے ساتھ اظہار محبت کا ایک سادہ اور فطری واقعہ ہے۔ اہل البیت میں بیویوں کے شامل ہونے کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔اہل البیت میں سب سے پہلے آدمی کے اپنے بیوی بچے ہی ہوتے ہیں۔بیویاں اس میں شامل ہیں، یہ تو زبان کا محاورہ بھی ہے اور قرآن کا بھی سیاق ہے۔اس کے علاوہ اگر آپ نے ان بچوں کو بھی محبت کے اظہار کے لیے اپنے اہل بیت میں شمار کیا تو بالکل قابل فہم ہے۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس لفظ کا جو عام مفہوم ہے، اگر آپ لوگوں کو بتانا چاہ رہے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ نہیں، بلکہ یہ ہے تو یہ وضاحت باہر سب لوگوں کے سامنے کرنی چاہیے نہ کہ گھر کے اندر حضرت ام سلمہ کے سامنے۔

مطیع سید: یعنی بیویاں اور اولاد سب اہل بیت ہیں؟

عمار ناصر: جی، آپﷺ کی ازواج اور اولاد، سب اہل البیت ہیں۔

مطیع سید: نبی ﷺحضرت فاطمہ الزہراکے گھر کے باہر سے گزرتے تو یہ یا اہل البیت کہہ کر نماز کی طرف متوجہ کرتے اوریہ آیت پڑھاکرتے تھے۔ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت۔ (کتاب تفسیر القرآن، ومن سورۃ الاحزاب، حدیث نمبر ۳۲۰۶)

عمار ناصر: بالکل درست ہے۔ اہل البیت کا دائرہ ازواج تک محدود نہیں۔آپ اس کو بڑھا کر خاندان کے لیے بھی بولنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں۔ بیویوں کے ساتھ جس کو بھی آپ چاہیں شامل کرلیں۔لیکن بیویوں کو نکال دیں اور چچا اور دامادوغیرہ اس میں آجائیں، یہ تو اہل الِبیت کا عجیب مفہوم ہے۔

مطیع سید: یہ چیزیں اہل تشیع میں کب پروان چڑھیں؟ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بارے میں تو ان کے تحفظات سمجھ میں آتے ہیں کہ وہ حضرت علی کی جگہ خلیفہ بن گئے۔ازواج کے ساتھ اہل تشیع کو کیا مسئلہ تھا؟

عمار ناصر: دیکھیں، حضرت علی کے ساتھ جس کا بھی اختلاف ہوا، بس اس کی خیر نہیں ہے۔حضرت علی کے بارے میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ یہ اہل ِ بیت ہیں اور ان کوخلیفہ ہونا چاہیے۔بس اس میں جس نے اختلاف کیا، وہ مطعون ہے۔ پہلے حضرت عائشہ کے بارے میں منفی رویہ پیدا ہوا کیونکہ انھوں نے حضرت علی کے ساتھ جنگ کی تھی۔پھر آہستہ آہستہ تصورات بنتے چلے گئے۔پہلے صرف خلافت کا مسئلہ تھاکہ ان کو ملنی چاہیے، پھر یہ تصور بھی شامل ہو گیا کہ دین بھی صرف انہی کے پاس ہے۔

مطیع سید: ایک سرگوشی والی روایت بھی آتی ہے۔آپﷺ نے حضرت علی کے کان میں کوئی بات فرمائی۔ صحابہ نے پوچھا تو آپﷺنے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ میں علی کے کان میں سرگوشی کروں۔ حضرت علی نے کسی موقع پر اس کااظہار نہیں کیا کہ کیا سرگوشی ہوئی۔کیا اس وجہ سے بھی اس خیال کو تقویت ملی کہ کچھ خاص چیزیں ہیں جن کا علم صرف حضرت علی کو ملا ہے؟

عمار ناصر: اس طرح کی چیزیں پھر شامل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ دیکھیں، آپ ﷺ کے خاندان کے ساتھ آپ کی نسبت سے ایک محبت اور عقیدت ہو، یہ بات تو غیر فطری نہیں ہے۔ کوئی چھوٹی سی تنظیم کا لیڈر بن جائے تو اس کے بچوں میں یہ خواہش پیداہوجاتی ہے کہ قیادت وراثت میں ان کو ملے۔اگر رسول اللہ کی اپنی نرینہ اولاد ہوتی تو یہ مسائل اس کے بارے میں بھی پیداہوتے۔نرینہ اولاد نہیں تھی تو قریب ترین لوگ یہی تھے، حضرت عباس اور حضرت علی۔ان کا یہ خیال ہو کہ ہم اہل بھی ہیں اور ہمیں خلافت ملنی چاہیے تو یہ کوئی بعید بات نہیں ہے۔آپ کے ساتھ نسبت کی وجہ سے یہ تصور پیداہونا اور پھر رسول اللہ ﷺ کا اپنے اہل بیت کی فضیلت کے بارے میں اور اہل بیت کے ساتھ محبت کے حوالےسے تاکید بھی فرمانا، تو یہ چیزیں مل کر، پہلے ایک خواہش کےا نداز میں سامنے آئیں۔ پھر جب یہ خواہش عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی تو منفی ذہنیت در آئی کہ خلفاء غاصب تھے اور جو بھی اہل بیت کے ساتھ کسی تنازع کا حصہ بنا، ان کا ایمان اور اخلاص مشکوک ہے۔ پھر یہ چیزیں بڑھتے بڑھتے باقاعدہ کلامی اور اعتقادی موقف کی صورت اختیار کر گئیں۔

(جاری)

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۳)

اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعی رجالی تراث، انواع و اقسام

شیعی علم رجال کا انواع و اقسام کے اعتبار سے جائزہ ایک کٹھن کام ہے، ان سطور کا راقم یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ بلا مبالغہ کئی دن تک سینکڑوں صفحات اور ویب پیجز کھنگالنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ شیعی علم رجال ایک چیستاں ہے، جس کو کماحقہ سمجھنے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے، اولا کتبِ رجال کی درجہ بندی میں حائل مشکلات کا ذکر کیا جاتا ہے، پھر تتبع و تلاش سے شیعی رجالی تراث کی جو اقسام سامنے آئی ہیں، ان کا ذکر ہوگا:

1۔ شیعی رجالی تراث کی منظم تاریخ، مرتب تعارف اور کامل ببلو گرافی موجود نہیں ہے، حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "درس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ" میں، شیخ جعفر سبحانی نے "کلیات فی علم الرجال " میں، عادل ہاشم نے "المباحث الرجالیہ " میں محقق عبد الہادی فضلی نے "اصول علم الرجال میں اور محقق طہرانی نے "مصفی المقال فی مصنفی علم الرجال " میں شیعی علم رجال کی تاریخ لکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ان سب کتب میں شیعی رجالی تراث کی انواع و اقسام کے اعتبار سے کسی قسم کی کوئی تفصیل نہیں ہے، اس کے برخلاف اہل سنت میں صرف ایک کتاب "رواۃ الحدیث، النشاۃ، المصطلحات، المصنفات از عواد بن حمید الرویثی" میں سنی رجالی تراث کی 1000 کے قریب صفحات میں 32 اقسام و انواع(718 کتب ِ رجال ) کا ذکر کیا گیا ہے، جو بھی قاری پچھلی پانچ مصنفین کی کتب اور اس ایک کتاب کا موازنہ کرے گا، اسے انداز ہوجائے گا کہ اہل سنت کے علم رجال کی کتنی مرتب تاریخ لکھی گئی ہے اور شیعہ علم رجال کی تاریخ میں ترتیب و تدوین کے اعتبار سے کتنا بڑے خلا موجود ہیں۔

2۔ شیعی علم رجال کی کتب کی تعداد سرے سے ہی کافی کم ہے، چنانچہ حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "دروس تمہیدیۃ فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ " میں زمانہ نبوت سے لیکر عصر ِ حاضر تک شیعی رجال کی تاریخ اور ہر صدی کی کتبِ رجال کا ذکر کیا ہے، اس پوری کتاب میں مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب کی تعداد 115 کے قریب بنتی ہے، ان میں مطبوعہ کتب بمشکل 35 بنتے ہوں گے، (یہ احتیاطا زیادہ سے زیادہ تعداد ہے ) جبکہ اسی سلسلے کے پچھلی اقساط میں سنی رجالی تراث کی انواع و اقسام کا ذکر کرتے ہوئے 25 انواع کے تحت 90 کے قریب مطبوعہ کتب کا ذکر آچکا ہے، جس میں ہم نے کافی اختصار سے کام لیا، نیز محقق عواد بن حمید الرویثی نے اپنی کتاب "رواۃ الحدیث، النشاۃ، المصطلحات، المصنفات " میں صرف صحاح ستہ کے رجال پر 127 کتب(مطبوعہ و غیر مطبوعہ ) کا ذکر کیا ہے، گویا سنی رجالی تراث میں صرف صحاح ستہ کے رجال پر جو کام ہو اہے، وہ تیرہ صدیوں کی پوری شیعہ علم رجال (مطبوعہ و غیر مطبوعہ )سے زیادہ ہے1، اس لئے اس تھوڑی تعداد میں تنویع و تقسیم کافی مشکل ہے، بلکہ ایک اعتبار سے دیکھیں، تو سنی رجالی تراث کی صرف انواع پورے شیعہ علم رجال کی کتب کے قریب قریب ہیں، کیونکہ محقق عواد نے اپنی کتاب میں 32 کے قریب انواع ذکر کی ہیں، جبکہ محقق حیدر حب اللہ نے اپنی پوری کتاب میں شیعی مطبوعہ کتب ِ رجال تقریبا 35 ذکر کی ہیں۔

3۔ شیعی علم رجال کی جو کتب مطبوع ہیں، ان کی محققانہ اشاعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، محققانہ اشاعت سے مراد ایسی اشاعت، جس کے شروع میں کتاب کے منہج و اسلوب پر مفصل مقدمہ تحقیق ہو، کتاب میں موجود تراجم پر ترقیم ہو، ان تراجم کی دیگر کتبِ رجال سے تخریج ہو، آخر میں متنوع فہارس ہوں، اس قسم کی مطبوعات تقریبا معدوم ہیں، شیعہ مطبوعہ کتب میں محقق خوئی کی معجم رجال الحدیث کی اشاعت ایک مناسب اشاعت ہے، جبکہ دیگر جوامع رجال جیسے جامع الرواۃ للاردبیلی، قہپائی کی مجمع الرجال، شہید ثانی کی التحریر الطاوسی جیسی اساسی کتب کی اشاعتیں تحقیق کے اعتبار سے انتہائی ناقص ہیں، محققانہ اشاعتیں نہ ہونے کی وجہ سے بھی ان بڑی کتب کے منہج و اسلوب اور رجالی تراث میں اس کی درجہ بندی کرنا مشکل اور کٹھن کام ہے۔

4۔ شیعی اساسی کتب ِ رجال اور علمائے جرح و تعدیل پر دراسات وتحقیقات بھی انتہائی قلیل تعداد میں ہیں، جس میں کتاب و صاحبِ کتاب کا مفصل تعارف، منہج، تراجم، امتیازات و خصوصیات، اغلاط و اخطاء، نسخ و مخطوطات، کیفیتِ ذکر ِ تراجم، تعدادِ تراجم وغیرہ جیسے امور شامل ہوں، جبکہ اس کے برخلاف اہل سنت کی کتب ِ رجال پر اس قسم کی دراسات کثیر تعداد میں موجود ہیں، مثلا:

بطورِ نمونہ صرف دس کتب ذکر کیں، ورنہ اہل علم جانتے ہیں کہ اس قسم کی کتب سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، شیعی کتب و علمائے رجال پر دراسات و تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے بھی شیعی رجالی تراث کی درجہ بندی مشکل ہے، کیونکہ ان جیسی کتب کی مدد سے کسی بھی کتاب کی درجہ بندی آسان ہوجاتی ہے۔

5۔ سب سے بڑی اور بنیادی مشکل یہ ہے کہ شیعہ علم ِ حدیث کے تین اجزاء، علم مصطلح الحدیث، کتب حدیث اور علم رجال و جرح و التعدیل الگ الگ زمانوں اور غیر مربوط انداز میں مرتب ہوئے، جب کتبِ حدیث کی تدوین ہوتی ہے، تو علم رجال اور مصطلح الحدیث کا وجود نہیں ہوتا، پھر جب کتب رجال لکھنی شروع ہوتی ہیں، تو علم مصطلح الحدیث کی اولین کاوشیں ساتویں صدی ہجری میں سامنے آتی ہیں، اس لئے شیعہ علمائے رجال کے سامنے کتبِ رجال کے وہ مناہج و اسالیب اور انواع و اقسام سامنے نہیں تھے، جن کا بیان عموما علم مصطلح الحدیث میں ہوتا ہے، جبکہ اس کے برخلاف سنی علم حدیث میں یہ تینوں اجزاء ایک زمانے، بلکہ ایک جیسے حضرات سر انجام دیتے ہیں، مثلا امام بخاری حدیث کی کتب بھی لکھتے ہیں، ساتھ رجال پر تفصیلی جوامع بھی تیار کرتے ہیں، امام خطیب بغدادی علم مصطلح الحدیث پر متون بھی تیار کرتے ہیں اور ساتھ رجال پر تفصیلی کتب بھی تحریر کرتے ہیں، ابن حبان حدیث کی کتاب بھی لکھتے ہیں، ساتھ ثقہ رجال کی تدوین بھی کرتے ہیں، الغرض یکساں زمانے اور ایک ہی محدث کی تینوں اجزاء میں کئی گئی کاوشوں کی وجہ سے سنی رجال کی ہر کتاب شروع سے ہی ایک خاص نوع اور خاص منہج وا سلوب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔

اب موجود شیعی رجالی تراث کی انواع و اقسام کا ذکر کیا جاتا ہے:

 1) شیعہ رجال کی اولین کتب زیادہ تر فہارسِ مصنفین پر مشتمل ہیں، یعنی وہ شیعہ رجال، جنہوں نے کسی بھی فن میں کوئی کتاب لکھی ہے، شیعہ محققین رجالی تراث کی قلت کی وجہ سے ان جیسی کتب کو بھی علم رجال الحدیث کی کتب میں ذکر کرتے ہیں، حالانکہ اہل سنت کے ہاں بھی فہرست ابن ندیم جیسی کتب ہیں، لیکن ان جیسی کتب کو سنی رجالی تراث میں اہل سنت اہل علم شمار نہیں کرتے، کیونکہ مصنفین کو رجال الحدیث سمجھنا محض مفروضہ ہے، اس سلسلے کی اہم شیعہ کتب، جیسے:

 2) بعض کتب رجال ایسی ہیں، جن میں متقدمین کی کتب پر تعلیقات، تلخیص یا ان کی شرح کی گئی ہے، جیسے:

 3) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ائمہ (معصومین ) کے تلامذہ و اصحاب اور طبقاتِ رجال کا بیان ہوا ہے، جیسے:

 4) کچھ ایسی کتب ہیں، جن میں صرف ثقہ رواۃ کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے:

 5) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں ضعیف رواۃ کی فہرست دی گئی ہے، جیسے:

 6) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں متقدمین کی کتبِ رجال کو الف بائی یا کسی اور ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے، جیسے:

 7) بعض ایسی کتب ہیں، جن میں ضعفاء و ممدوحین رجال دونوں کا تذکرہ الگ الگ کیا گیا ہے، جیسے:

 8) بعض کتب ایسی ہیں، جن میں اسماء کے ضبط، صحیح تلفظ اور کتب رجال میں اس سلسلے میں ہونے والی اغلاط کی تصحیح مذکور ہے، جیسے:

 9) کچھ ایسی کتب ہیں، جو جوامع و قوامیس کی درجہ بندی میں آتی ہیں، یعنی وہ کتب، جن میں مصنف نے اپنے سے پہلے تمام رجالی ذخیرہ کو اس میں سمونے کی کوشش کی ہو، جیسے:

 10) بعض کتب صحابہ کے تذکرے پر مشتمل ہیں، شیعہ علم رجال میں صحابہ کے تذکرے پر مشتمل کتب نہ ہونے کے برابر ہیں، ان میں سے ایک رسالہ حر عاملی (المتوفی 1104ھ) نے "رسالہ فی معرفۃ الصحابہ" کے نام سے لکھا ہے، جس میں 500 کے قریب صحابہ و صحابیات کا ذکر کیا گیا ہے۔

(جاری)

قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ہے جس میں اردو کو فوری طور پر رائج نہ کرنے پر وفاقی حکومت جبکہ پنجابی زبان کو صوبے میں رائج نہ کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ۲۰۱۵ء میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم دیا تھا جس کی تعمیل میں وفاقی حکومت ناکام رہی ہے، آئین کے آرٹیکل ۲۵۱ میں قومی زبان کے ساتھ ساتھ علاقائی زبان کا بھی ذکر ہے، پنجابی زبان کے نفاذ نہ کرنے پر ہم پنجاب حکومت کو بھی نوٹس دے رہے ہیں۔ مادری اور قومی زبان کے بغیر ہم اپنی شناخت کھو دیں گے۔ جسٹس بندیال نے کہا کہ میری رائے میں ہمیں اپنے بزرگوں کی طرح فارسی اور عربی زبانیں بھی سیکھنی چاہئیں۔

جسٹس بندیال کا ارشاد اس سلسلہ میں اب تک کی صورتحال واضح کرنے کے لیے کافی ہے اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اپنی تہذیب اور زبان کے تحفظ کے فروغ کے لیے سرسید احمد خان سے لے کر ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ مرحوم تک قومی راہنماؤں نے جو مسلسل تگ و دو کی تھی اور دستور پاکستان نے اس سلسلہ میں جو وعدہ کیا ہے بلکہ ضمانت دی ہے ہمارے مقتدر حلقے اس کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے انگریزی زبان کا تسلط برقرار رکھنے اور مغربی تہذیب کو ملک میں رائج کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ان سرگرمیوں میں دن بدن وسعت اور تیزی دکھائی دے رہی ہے۔

زبان اور تہذیب و عقیدہ کسی قوم کی شناخت ہوتا ہے جس سے محروم ہو کر قومیں آزادی اور خودمختاری بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ ہمیں اس سلسلہ میں اپنے اردگرد چین، افغانستان اور ایران کو ہی دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی تہذیب اور زبان کے تحفظ و بقا اور فروغ کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں اور یہ بات ان کی عزت و وقار اور قومی اعتماد میں اضافہ کا باعث بھی ہے۔

اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے مذکورہ ریمارکس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہم قومی زبان تحریک پاکستان کے نائب صدر پروفیسر محمد سلیم ہاشمی کی مندرجہ ذیل تجاویز کی حمایت کرتے ہیں جو انہوں نے حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کے نام اپنے خط میں پیش کی ہیں:

’’قرآن پاک کا حکم ہے کہ اپنی قوم کو اس کی زبان میں تعلیم دی جائے (سورہ ابراہیم ۴)۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اور بانی پاکستان کا فیصلہ تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔ ۱۹۷۳ء کے آئین کی شق ۲۵۱ میں یہ نکتہ شامل کیا گیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے۔ ۸ ستمبر ۲۰۱۵ء کو پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے پاکستان میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر فی الفور اردو نافذ کرنے کا حکم جاری کیا۔

ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان میں فوری طور پر اردو کو نافذ کرنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔ اس ضمن میں (۱) تمام سرکاری، دفتری اور انتظامی امور کے لیے فوری طور پر نفاذِ اردو کا اعلان کیا جائے۔ (۲) اگلے تعلیمی سال سے اردو کو تعلیمی شعبہ میں ہر سطح پر نافذ کیا جائے۔ (۳) موجودہ سال کو نفاذِ اردو کا سال قرار دیا جائے۔‘‘

ہم عدالتِ عظمٰی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے واضح فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے مضبوط موقف اور اقدام کا راستہ اختیار کرے گی، جبکہ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی خودمختاری، شناخت اور دستور کے تقاضوں کا لحاظ کرتے ہوئے موثر عملی اقدامات کرے۔

عشرہ دفاعِ وطن

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ستمبر کے پہلے عشرے کے دوران میں مختلف دینی اجتماعات میں جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ان کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج ذیل ہے:

اسلام کے عہد اول میں فکری انقلاب

بیرسٹر ظفر اللہ خان

مسلمانوں نے ماضی میں تغیر اور جدوجہد کے دائمی اصولوں کی روشنی میں ہر چیلنج کا جواب دیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کیسے فتوحات کیں اور کس طرح دنیا کے بڑے حصے پر صدیوں شایانِ شان طریقے سے حکمرانی کرتے رہے۔ انہوں نے ہر شعبۂ زندگی میں بنی نوع انسان کے ارتقاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔  اس مضمون میں، صرف چند ایک چیلنجوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جو مسلمانوں کو اپنے دورِ حکمرانی میں پیش آئے اور چندمثالیں پیش کی جائیں گی جو اس امر کو افشا کریں گی کہ اس عہد کے مسلمان اپنے دور کے ان چیلنجوں سے کس طرح نبرد آزماہوئے اور انہوں نے کس طرح دنیا کو اپنی آرزؤوں کے مطابق ڈھال کردکھایا۔ یہ تجزیہ اس لیے ضروری ہے کہ یہ اس امر کا تعین کرے گا کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم خود احتسابی کے تقاضوں سے استقامت کے ساتھ عہدہ برآ ہو رہے ہیں؟ کیا ہم تغیرات اور اپنے زمان و مکان کے چیلنجوں کا مناسب جواب دے رہے ہیں؟

۱۔ فکر میں تبدیلی

اسلامی عربیہ میں عرب زیادہ تر صحرا نشین تھے۔ ان کے ہاں چند شہری آبادیاں تھیں لیکن ان کے اندر کوئی ترقی یافتہ سیاسی ڈھانچہ نہیں تھا۔ صرف چند ایک مشترک مفادات رکھنے والے چھوٹے چھوٹے گروہوں کی آبادیاں تھیں جیسے مکہ، مدینہ اور طائف۔ قبائلی ڈھانچے کے بنیادی خدّوخال یہ تھے:

(۱) صحرا نشین یا بدو زیادہ تر قبائلی ماحول میں رہتے تھے۔ جس میں چند خاندانوں کا ایک گروہ ایک کنبہ بناتا اور کنبوں کے ایک گروہ سے ایک قبیلہ وجود میں آ جاتا تھا۔ مکہ اور مدینہ کے اندر اور اردگرد متعدد قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے اپنے اپنے رسم و رواج او رقواعد و ضوابط تھے۔ جن چیزوں کی ایک قبیلے میں عام اجازت تھی وہ دوسرے قبیلے میں ممنوعہ چیزیں سمجھی جاتی تھیں۔

(۲) متعد د قبیلے ایک دوسرے سے مستقلاً برسرپیکار رہتے تھے۔ ان کی زیادہ لڑائیاں خطے میں وسائل کی قلت کی وجہ سے ہوتی تھیں۔ قبیلوں کے درمیاں لڑائیاں کئی کئی نسلوں سے چلتی آ رہی تھیں۔ قرونِ وسطیٰ کے عرب میں جنگ بسوسi جو دو حریف قبائل کے درمیان ایک طویل چپقلش تھی ایک اونٹ کی ملکیت کے تنازعے پر شروع ہوئی تھی۔ قبیلہ بنو تغلب اور قبیلہ بنو بکر تقریباً چالیس سال آپس میں لڑتے رہے۔ ایک دوسرے کے مستقل دشمن بنے رہے اور انتقام در انتقام کا سلسلہ جاری رہا۔

(۳) یہ قبیلے خون اور نسل کی بنیاد پر بنے تھے۔ اس سے قبائلی شجاعت اور جوانمردانہ صفت نے جنم لیا جسے ’مرّوۃ ‘ کہا جاتا تھا۔ جس نے ان کی زندگیوں میں معانی پیدا کیے اور ان کے اندر جرأت، صبر، حوصلہ، میزبانی اور سخاوت نے جنم لیا۔ اس سے انتقام کا جذبہ بھی پیدا ہو گیا۔

(۴)  کسی قبیلے کے ’شیخ ‘ کا انتخاب بڑوں کی ایک مجلس کرتی تھی۔ شیخ اس شخص کو بنایا جاتا تھا جو اس کام کے لیے موزوں سمجھا جاتا تھا۔ ذہانت، پختہ کاری، جرأت، قیادت، انتظامی صلاحیت، زبان میں روانی اور اعلیٰ تجارتی صلاحیتیں رکھتا ہوتا تھا۔

(۵) شیخ مختار کل تھا جواپنے لوگوں اور ان کے انتظامی امور کو کنٹرول کرتا تھا، وہ قبیلے کی حفاظت کرتا اور جھگڑے نمٹاتا، اشیا و مقبوضات کی تقسیم کرتا اور قبیلے کے کمزور افراد کو تحفظ بھی دیتا تھا۔

(۶) اس وقت جذبۂ حب الوطنی قومی نہیں بلکہ قبائلی ہوتا تھا۔ ہر چیز قبیلے کے مفاد کے تابع تھی جب کہ کسی شخص کی انفرادیت کاکوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا۔

(۷) زمانہ قبل از اسلام کے عرب اپنی شاعری کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اور ان کے شعراء اپنے قبیلے اور اپنے سرداروں کی عظمت کے گیت گاتے تھے لیکن اپنے بتوں کے گیت کبھی کبھار گاتے تھے۔ شاعری کے مقابلے سالانہ بنیاد پر مشہور منڈی ’عکاظ ‘ii میں منعقد ہوتے تھے۔ جیتنے والے کو بہت پیسہ اور معاشرے میں عزت ملتی تھی۔ اس کے بعد سے اس کو سردار مانا جاتا تھا۔

(۸) قبیلے کے ہر فرد کو پورا تحفظ حاصل ہوتاتھا مگر اس تحفظ کو صرف شیخ یا قبیلہ یقینی بناتا تھا۔ اس سیاق و سباق میں انفرادیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ فرد قبیلے کا تابع ہوتا تھا۔ کسی کی شخصی بقا قبیلے پر منحصر تھی۔ قبیلے سے ملنے والے تحفظ میں اکثر انتقام مضمر ہوتا تھا۔ ہر قبیلہ اپنے ہر فرد کی موت کاانتقام لیا کر تا تھا۔ اسی وجہ سے قبائلی لڑائیاں نسل در نسل جاری رہتی تھیں۔ نتیجتاً تشدد کا ایک دائمی چکر چلتا رہتا تھا۔

(۹) ان قبیلوں میں ایک نہ ختم ہونے والی مسابقت جاری رہتی تھی۔ توازن قائم کرنے کے لیے اونٹوں، مویشیوں یا اشیا پر قبضے کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری رہتاتھا۔ دولت اور خوشحالی قبائلی کلچر کا سرمایۂ افتخار تھا۔ اس معاشرتی ڈھانچے میں صرف طاقتور کو بقا حاصل تھی اور کمزور ہمیشہ استحصال کا نشانہ بنے رہتے تھے۔ اس لیے عورتیں، لڑکیاں اور معذور افراد خطرے میں رہتے تھے۔

اسلام کی آمد کے بعد قبائلی ڈھانچے میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں آئیں:

(۱) اسلام نے قبائلی وفاداریاں تبدیل کردیں۔ یہ وفاداریاں اسلامی تصورات کے سامنے ماند پڑ گئیں۔ نئے نئے اسلام قبول کرنے والے اپنے قبائلی سرداروں کے وفادار رہے لیکن اب ان کی اوّلین وفاداری اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمدﷺ کے ساتھ تھی۔

(۲) اسلام نے ’مروۃ ‘ کی توثیق کی اوراس کے بہترین حصے کو برقرار رکھا لیکن اس میں توسیع کرکے تمام مسلمانوں کو اس میں شامل کیا نہ کہ صرف کسی فرد کے قبیلے کے ارکان کو شامل کیا گیا۔ ہر فرد کو اپنے لیے، اپنے قبیلے کے لیے، اپنے ساتھی مسلمانوں کے لیے اور پوری انسانیت کے لیے جدوجہد بروئے کار لانا ہوتی تھی۔

(۳) عرب اپنے شیخ کے چناؤ کے لیے قبائلی مساوات کے عادی تھے مگر اس نظام میں کمزوریاں تلاش کی جا سکتی تھیں۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک رہنما کو اس کی شہرت کی بنیاد پر منتخب کرنا ہوتا۔ اس کی شہرت رائے دہندہ کی آزادانہ مرضی پر اثر انداز ہوتی تھی۔ یہ رائے ایک قسم کا جبر بن جاتی تھی۔ چنانچہ اس طریقے کی اصلاح اس طرح کی گئی کہ انتخاب کی بنیاد تقویٰ، قابلیت، علم اور شعور ِ خدمت پر رکھ دی گئی۔

(۴) اسلام نے فرد کو اہمیت دی، قطع نظر اس کے کہ وہ کون تھا اور اس کی قبائلی وابستگی کیا تھی؟ ایک وسیع مسلم امہ کا ایک رکن ہونے کی بنا پر شہری ہونے کی حیثیت، محض مقامی قبائلی وفاداری کی بہ نسبت زیادہ اہم قرارپا گئی۔

(۵) اللہ تعالیٰ حتمی منصف قرار پایا۔ عرب خون خرابے اور انتقام کے زیادہ دلدادہ تھے۔ ان کے اس مزاج نے قبائل کے درمیان جنگوں کا سلسلہ جاری کرا دیا جو نسل در نسل چلتی رہتی تھیں۔ جیسا کہ جنگ بسوس تھی۔ اسلام نے انتقام کے تصور سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ تقدیر کو خدا کے قانون (شریعت) کی طرف موڑ دیا تا کہ وہ ذاتی یا قبائلی انتقام کی بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھیں۔

(۶)  اگرچہ بدو مستقل مزاج اور محنتی لوگ تھے تاہم ان میں سے بہت سے افراد لوٹ مار اور دیگر اقتصادی جرائم میں ملوث ہوتے تھے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ان کی مستقل مزاجی کی حوصلہ افزائی کی لیکن نئے نظامِ سیاسی معیشت کے اندر لا کر انہیں غیر قانونی طریقوں اور نا جائز معاشی سرگرمیوں سے روک دیا۔

۲۔ بادشاہت سے شوریٰ تک

اسلام کی آمد کے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب میں جو سیاسی نظام مرّوج تھا وہ نیم قبائلی اور نیم شاہی تھا جبکہ ہمسایہ علاقوں میں موروثیت اور مستبد بادشاہتوں پر مبنی نظام تھا۔ اس ماحول میں عام لوگوں کے کوئی شہری یا سیاسی حقوق نہیں تھے نہ ہی امور مملکت میں ان کی کوئی آواز ہو سکتی تھی۔ حضور نبی پاکﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں ایک ریاست کی رسمی بنیادیں رکھیں۔ حکمرانی کے لیے ایسا نظام وضع کیا جو شراکت اور باہمی مشاورت پر مبنی تھا۔  ’شوریٰ‘ (مشاورت) سیاسی و سماجی تنظیم کے اسلامی تناظر کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ مسلم فقہاء کی اکثریتی رائے یہ ہے کہ ’شوریٰ‘ عظائم الاحکام (Great Commandments) کا حصہ ہے اور ان کی اطاعت کرنا حکمران اور مسلم عوام دونوں کے لیے فرضِ عین ہے۔

(۱) قرآن پاک شوریٰ کو حکمرانی کے ایک اصول کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ بطور ایک نظام کے۔ ان دونوں باتوں میں ایک فرق ہے اور وہ بہت اہم ہے۔ اسے نوٹ کیا جانا چاہیے۔ ایسا کرکے قرآن پاک نے یہ امر مسلمانوں کی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ وہ اصول شوریٰ کو زیادہ سے زیادہ حقیقت آفریں بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

(۲) قرآن پاک حکم دیتا ہے کہ

وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ  فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰہِ. (۱)

(کام میں ان کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ جب آپﷺ کا ارادہ پختہ ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کریں)

یہ ایک حکم ہے اور اللہ تعالیٰ شوریٰ کو اپنے نبیﷺ کے لیے بھی لازم قرار دیتا ہے۔ رسول اللہﷺ کو غیر معمولی خدائی بصیرت، علم، شفقت اور لوگوں کی بھلائی کا اتنا احساس عطا کیا گیا تھا کہ کسی دوسرے حکمران کو اتنا نہ تھا اور نہ کسی کو ہو سکے گا۔ مزید برآں آپﷺ پر براہ راست وحی نازل ہوتی تھی۔ یہ آپﷺ کی امتیازی فضلیت و خصوصیت تھی جو آپﷺ کے بعد کسی مسلم حکمران کو نہ حاصل تھی اور نہ کبھی حاصل ہو سکے گی۔ لہٰذا اگر شوریٰ حضور نبی کریمﷺ کے لیے لازمی تھی تو بعد کے تمام مسلمان حکمرانوں کے لیے یہ بدرجہ اتم لازمی ہو گئی ہے۔

(۳) شوریٰ کو مومنوں کی ایک لازمی خصوصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ

وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰى بَيْنَھُمْ  (۲)

    (ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں)

    اس خصوصیت کا دیگر سب مومنانہ خصوصیات کی طرح ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی، ادائیگی نماز، (فرض نمازیں) اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا (زکوٰۃ عشر، صدقات وغیرہ)، جو کہ قرآن مجید میں مذہبی فرائض کے طور پر مذکور ہیں۔

(۴) شوریٰ کے معنی ہیں فیصلہ سازی میں موثر طور پر شریک کرنا، نہ کہ محض ایک رسمی کارروائی کرکے خانہ پُری کر دینا۔ قرآن مجید، حضور نبی اکرمﷺ کو جن پر وحی الٰہی نازل ہوتی تھی، مخاطب کرکے کہتا ہے کہ جن معاملات کے بارے میں کوئی خاص وحی نہیں آتی ان کے فیصلے کے لیے شوریٰ پر انحصار کیا جائے۔ تمام اہلِ ایمان کو بطور پکے حکم کے اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔ ممتاز اندلسی مفسرِ قرآن ابن عطیہ نے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوریٰ شریعت کے بنیادی قوانین میں سے ہے اور ایک تاکیدی حکم ہے۔ جس شخص کو سرکاری اختیار دیا گیا ہو اور وہ ان لوگوں سے مشورہ نہیں لیتا جو علم اور خوفِ خدا رکھتے ہیں تو اسے اس منصب سے فارغ کر دیا جانا چاہیے۔

(۵) یہاں شوریٰ کے حوالہ سے دو باتوں کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ پہلا ہے اس کی اشتقاقی صورت، یہ اپنی جڑ ’شاور ‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے باہمی مشاورت جو ایک وسیع ترین دائرۂ کار میں کی جائے۔ یہ ایک اجتماعی سوچ وبچار کا اہتمام ہے جس میں تمام فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا ہو۔ اس لحاظ سے شوریٰ کی اصطلاح کو استشراح کی اصطلاح سے ممیز کیا جانا چاہیے۔ جس کے معنی دوسرے آدمی سے صرف مشورہ لینا ہے۔ شوریٰ کا لفظ تشاور سے بھی مختلف ہے جس کا مطلب صرف باہمی مشورہ ہے جبکہ جس بات کا شوریٰ میں تصور کیا گیا ہے، وہ ایک بھرپور قومی شراکت پر مبنی سیاسی مشق ہے۔

(۶) انسان ز مین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ خلیفہ کا مطلب خدا کی طرف سے امت کو تفویض کیا گیا اختیار ہے جسے بروئے کار لا کر وہ زمین پر امن قائم کرے۔ عدل وگستری کرے اور خوشحالی لائے۔ یہ تصور اس لحاظ سے ہمہ گیر ہے کہ امہ کا ہر شخص انفرادی طور پر قانوناً اس امر کا پابند ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تفویض کردہ اختیار پر کماحقہ عمل درآمد ہو اور نمائندہ حکمرانی جس کے ذریعے یہ اجتماعی ذمہ داری مناسب انداز میں پوری ہوسکے۔ اسلام کی رو سے دستوری طور پر واجب التعمیل ہو جاتی ہے۔ مطلق کائناتی حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن اس نے بذریعہ حکمِ استخلاف (انسان کو اپنا خلیفہ بناتے ہوئے) زمین پر حاکمیتِ اعلیٰ امت یعنی عوام کو سونپی ہے۔

(۷) منتخب خلفاء (مسلم حکمران) عام لوگوں کے پاس جاتے تھے تا کہ بذریعہ بیعت ان سے رضامندی (حلفِ اطاعت) حاصل کر سکیں۔ بیعت (یا بیعہ) ایک باہمی عہد و پیمان ہوتی ہے۔ حکمران کی طرف سے یہ عہد ہوتاہے کہ وہ اسلامی قانون کی پیروی کرے گا اور پبلک کو مطمئن کرے گا اور عوام کی جانب سے یہ عہد ہوتا ہے کہ وہ حکمران کی پشت پناہی کریں گے اور اس کو مشورے دیں گے۔ خلفاء نے اپنی نامزدگی کے بعد عوام سے بیعت لی تھی۔  ’بیعت‘   بنیادی طور پر منتخب کرنے یا خلیفہ یا چیف ایگزیکٹو کی توثیق کرنے کی ایک شکل تھی۔ یہ دو مرحلوں پر مشتمل تھی۔ پہلے قدم کو بیعۂ خاصہ (خصوصی اظہار وفاداری) کہا جاتا تھا۔ یہ نجی صلاح مشورے کے ذریعے ایک نامزدگی کے مترادف تھی۔ دوسرے قدم کو بیعۂ عامہ (عوامی اظہارِ وفاداری) کہا جاتا تھا۔ یہ نامزد شخص کی عوامی منظوری ہے۔ اس منظوری یا قبولیت کا اظہار نامزد خلیفہ کے ساتھ مصافحے کی صورت میں ہوتا تھا۔ جن لوگوں کو اختلاف ہوتا تھا وہ مصافحہ سے گریز کرنے میں آزاد تھے۔

(۸) دستوری نقطہ نظر سے بیعت کی منسوخی ممکن ہوتی ہے۔ یہ مواخذے یا منصب سے معزولی کے مترادف ہوتی ہے۔ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتفاق رائے سے خلیفۂ رسول کے طور پر اپنی توثیق ہو جانے کے بعد اس حق کی پُر زور تائید کی تھی۔ انہوں نے پیغمبر حضرت محمدﷺ کی مسجد (مسجد نبوی) میں  ’بیعت‘ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے تم پر اختیار دے دیا گیا ہے لیکن میں تم میں سے بہترین نہیں ہوں۔ آپ میری اس وقت تک اطاعت کریں جب تک میں تمہارے معاملات میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتاہوں۔ جب میں اس کی اطاعت نہ کروں تو آپ میری اطاعت نہ کریں۔ اسی اصول کی پیروی میں خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ’جب میں صحیح کام کروں تو میری مدد کرنا، اگر میں کچھ غلط کروں تو میری اصلاح کر دینا‘۔

(۹) حضور نبی کریمﷺ کی دنیائے فانی سے رحلت کے بعد امت (مسلم کمیونٹی) کے معاملات عملِ مشاورت سے چلائے جاتے رہے جس میں تمام مسلمان شریک رہتے تھے۔

(۱۰) پہلے بیان کردہ قرآن پاک (۳) سے بالکل واضح ہے کہ ہر فیصلہ شوریٰ کے نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔ تاریخی واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ فیصلے اکثریت کی آراء لے کرکیے جاتے تھے۔ اگرچہ اقلیت یا خواہ ایک فرد کی رائے درست ہی کیوں نہ ہو اور اکثریت کی رائے غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اکثریتی رائے ہی معقول اور قابل قبول ہوتی ہے۔ اسی میں بنی نوع انسان کی بھلائی سمجھی جاتی ہے کیونکہ ایسے کیس میں خطرے کاامکان، انفرادی یا اقلیتی کیس کی بہ نسبت بہت ہی کم ہوتا ہے۔

(۱۱) حضور نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ کے کئی نظائر اور خلفائے راشدین کے فیصلوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اکثریت کی آرا کے مطابق ہوئے تھے، اگرچہ وہ امیر کے نظرئیے سے مختلف تھے۔ اسلام ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ فرد کو معاشرے یا الجماعت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس کی تعبیر بطور اکثریت کی جا سکتی ہے۔ ذیل کی احادیث اسی اصول کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

(ا) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ میری امت گمراہی پر مجتمع (متفق) نہ ہوگی۔ جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم کا ساتھ دو۔ (۴)

(ب) یقیناً اللہ تعالیٰ میری امت یا محمدﷺ کی امت کو غلط بات پر متفق نہیں ہونے دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے بڑے اجماع کے ساتھ ہے۔ (۵)

(ج) تم میں سے جو کوئی بھی جنت کے وسط میں جگہ پانا چاہتا ہے، اسے جماعت کے ساتھ پیوستہ رہنا لازمی ہے۔(۶)

(د) جو کوئی جماعت سے علیحدہ ہو گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (۷)

(۱۲) اس مشاورت پر مبنی انقلابی سیاسی فکر نے دنیا میں ایک مقبول انقلاب برپا کر دیا۔ عام سے لوگوں اور زیادہ تر نادار عربوں مثلاً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے غریب لوگوں کو منجنیق کی طرح اچھال کر عالی مرتبت مسندوں پر متمکن کر دیا۔ ایرانی اور رومی سلطنتیں زمیں بوس ہو گئیں۔ مقبول انقلابی طوفانی لہر نے جسے مسلم خلافت نے اداراتی شکل دی تھی، ان کا صفایا کر دیا۔ موروثی شاہی خاندانوں کی جگہ اللہ تعالیٰ کے غلاموں کی حکمرانی نے لے لی۔ پھر تاریخ نے سرِ عام خلفاء کا احتساب ہوتے دیکھا۔

(۱۳) اس کے بعد کیا ہوا؟ ہم رومیوں اور ایرانیوں کے نقش قدم پر چلنے لگے۔ ہم نے ان کے رسم و رواج اختیار کرتے ہوئے موروثی خاندانی حکمرانی قائم کر لی۔ بلا شبہ یہ مسلم بادشاہتیں تھیں لیکن اسلامی حکومتیں نہیں تھیں۔ اسلام کا انقلابی اور جمہوری جذبہ بہت جلد ختم ہو گیا۔ مسلم بادشاہوں نے خود کو زمین پر خدا کا سایہ (ظل اللہ) ہونے کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں خدائی حقوق (Divine rights) حاصل ہیں۔ بہت سے علماء نے بد امنی پھیلنے کے خوف سے ان کے اس سراسر غیر اسلامی تصور کی غیر مشروط تائید کی۔ بد قسمتی سے ہم مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں زیادہ زیر بحث عوام کے حقوق کی بجائے امیر (حکمران) کے بنیادی کردار پر پاتے ہیں۔ عوام کو اطاعت امیر کا درس دیا جاتا تھا۔ یعنی یہ کہ ان پرامیر کی اطاعت ایک فرض کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ کہ شوریٰ (پارلیمنٹ) صرف مشورہ دے سکتی ہے جب کہ امیر اس کے مشوروں اور نصیحتوں کو قبول کرنے کا پابند نہیں ہے۔

(۱۴) اس ناقص اور غیر اسلامی سیاسی نظریے نے ہماری مذہبی اور سیاسی زندگی کے ارتقاء پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔ میں نے ذیل میں اس کی دو تاریخی مثالیں پیش کی ہیں:

(ا) تقریباً چار سو پچاس (۴۵۰) علمائے وقت (مذہبی سکالرز) نے ابو الفضلiii اور فیضیiv کی قیاد ت میں ایک محضرنامہv مرتب کیا جو بادشاہ اکبرvi کو دنیاوی اور مذہبی اختیارات تفویض کرتا تھا اور رعیت پر بادشاہ کی اطاعت لازم قرار دیتا تھا۔ بادشاہ اکبر نے لادینی کے ایک نئے مذہب کو جنم دیا، جس کا نام ’دین الٰہی‘vii رکھا گیا۔

(ب) جب شیخ احمد سرہندیؒviii اس نئے مذہب کی مخالفت اوراس کے رد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو بہت سے علماء اور صوفی مغل بادشاہ کی طرفداری کرتے ہوئے شیخ احمد سرہندیؒ کی تحریک کی مخالفت کے لیے کمر بستہ ہو گئے اور انہوں نے دارا شکوہix کی بھی حمایت کی جو شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرx کی مخالفت میں نئے مذہب کی حمایت کررہا تھا۔

(ج) مطلق بادشاہت نے مسلم دنیا میں سیاسی جبر کو جنم دیا۔ ہندوستان کے ایک مسلمان حاکم نے کسی شہری سے ناراض ہو کر اسے ہاتھی کے پاوں تلے روندنے کا حکم دیا۔ شام کو جب بادشاہ سلامت مغرب کی نماز پڑھنے لگے تو امام صاحب نے اتفاقاً سورۃ الفیل (جس میں ہاتھی والوں کی بربادی کا ذکر ہے) کی تلاوت کی۔ بادشاہ سلامت برہم ہو گئے کہ امام اس کی تضحیک کر رہا ہے۔ بادشاہ سلامت نے حکم دیا کہ اس امام کو بھی ہاتھی کے پائوں تلے روند دیا جائے۔ حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں:

کرتی ہے ملوکیّت آثارِ جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو کہ چنگیز (۸)

۳۔ غلامی سے آزادی تک

اسلام نے انسانی غلامی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی شدید مذمت کی ہے اور اس کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ اس نے اس لعنت کوکم اور صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے عملی اقدامات کئے ہیں۔ اس نے انسانیت کو آزادی کا سبق دیا ہے۔ آئیے حضور نبی کریمﷺ کے دوسرے خلیفہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تاریخی بیان کو یاد کریں۔

حضرت امام ابن الحاکمؒ کی روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ مصر کا ایک آدمی عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!  میں نا انصافی سے پناہ مانگنے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ تم نے کسی کواس پر آمادہ پایا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے مقابلہ کیا تھا اور میں جیت گیا تھا۔ اس نے مجھے کوڑے مارے اور کہا کہ میں عزت دار آدمی کا بیٹا ہوں۔ ا س پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر بیٹے سمیت مدینہ بلایا اور پوچھا کہ وہ مصری کہاں ہے؟ وہ آیا تو انہوں نے اس کو کوڑا دیااور کہا حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کو اس سے مارو۔ اس شخص نے اس کو مارنا شروع کر دیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم اس شخص نے اسے مارا اور ہمیں اس کا یہ مارنا بہت اچھا لگا۔ پھرحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصری کو کہا اب اس کے باپ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی طرف بڑھو۔ مصری نے جواب دیا کہ یا امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بیٹے نے مجھے مارا تھا۔ میں اس سے بدلہ لے لیا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کوغلام بنالیا ہے حالانکہ ان کی ماوں نے انہیں آزاد پیدا کیا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اس کے بارے میں معلوم نہ تھا اور نہ ہی مصری میرے پاس شکایت لے کر آیا تھا۔ (۹)

یہ آزادی کا اعلان عہد حاضر کے مشہور فرانسیسی فلسفی اور سیاسی مفکر روسوxi کے اس مشہور نعرہ سے بھی زیادہ جامع ہے کہ

انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر ہر جگہ غلامی کی زنجیروں میں ہے۔

روسو نے محض ایک حقیقت بیان کی تھی جبکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روسو سے ایک ہزار سال پہلے غلامی کی مذمت کی اور سب کے لیے اعلان آزادی کیا تھا۔ غلامی کی مذمت نہ صرف جسمانی غلامی کے خلاف جہاد تھا بلکہ غلامی کی تمام شکلوں اور تمام مظاہر کے خلاف ایک جہاد تھا۔ مذکورہ واقعے میں ’بڑی عزت والے شخص کا بیٹا ہونے کی شیخی بگھارنے کو غلامی کی ایک قسم قراردیا گیا ہے‘۔

اس اصول کو جنگ قادسیہ سے پہلے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہxii کے ایلچی نے فارس کے جرنیل کے دربار میں زیادہ شاعرانہ طور پر پیش کیا تھا۔ (یہ جنگ 636ء میں عرب مسلم فوج اور ساسانی فارسیوں کے درمیان لڑی گئی تھی)۔ فارسی فوج کے کمانڈر رستم نے مسلم کمانڈر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ بات چیت کے لیے اپنا ایلچی بھیجیں جس پر انہوں نے حضرت ربیعہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بطور ایلچی بھیجا۔

رستم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ فارس میں کیوں آئے ہیں اور آپ کا مقصد کیا ہے؟ حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ہم کو اللہ پاک نے اس لیے بھیجا ہے کہ جس کے بارے میں اس کی مرضی ہو، اس کو بندوں کی بندگی سے نجات دلا کر اللہ تعالیٰ کی بندگی میں داخل کریں۔ دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں پہنچا دیں اور مذاہب کی زیادتیوں سے بچا کر اسلام کے عدل میں لے آئیں۔ (۱۰)

اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت اور اس کے سامنے اظہار نیاز مندی انسانیت کو غلامی کی تمام شکلوں سے نجات دلاتی ہے۔ حضرت اقبالؒ نے اس تصور کو بڑی خوبصورتی سے شعر میں پیش کیا ہے:

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات (۱۱)

انسانوں کو غلام بنانے کے طریق کار اور اس کی تاسیس کے انسانی معاشرے پر بہت دوررس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ یہ انسان کے وقار اور عزتِ نفس کے منافی ہے۔ غلامی میں انسانی سرگرمیوں کا دائرہ سکڑ جاتا ہے جبکہ آزادی میں پھیل جاتا ہے۔ آزادی میں انسان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکتا ہے اور اس کی تخلیقی اور اختراعی قابلیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ حضرت اقبالؒ نے کتنی خوبصورتی سے اس بات کا اظہار کیا ہے:

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی (۱۲)

 ہمارے بادشاہوں کو یہ انسانی شرف پسند نہ آیا۔ انہوں نے انسانوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر غلام بنانا شروع کر دیا۔غلاموں کی خریدوفروخت ہونے لگی۔ حرم میں باندیوں (slave girls) کا ہجوم بڑھنے لگا۔ علماء نے قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف فقہ کی کتابوں میں غلاموں اور باندیوں کے مسائل اور جواز کے دلائل دیے۔ اسلام کی حریت کی تعلیم اور شرف انسانی کی تعظیم کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ جس نے بھی ذرہ بھر آواز بلند کی اس کو قید و سلاسل میں ڈال دیا گیا۔ شہید کر دیا گیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت محمد نفس ذکیہؒxiii، حضرت احمد بن حنبلؒxiv، حضرت امام ابوحنیفہؒxv، حضرت مجدد الف ثانیؒ اورحضرت امام سرخسیؒxvi کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

۴۔ ظلم سے عدل وا حسان تک

نا انصافی اپنی تمام شکلوں کے ساتھ روزمرہ کا ایک چلن تھا۔

(۱) سماجی استحصال عام تھا جو انفرادی، خاندانی اور معاشرتی سطحوں پر ہو رہا تھا۔ انسانی زیست کی ہر سطح پر طبقاتی امتیازات تھے۔

(۲) سیاسی جبر اور جو روستم تھا جو شخصی اقتدار، معاشرتی اور قبائلی حیثیتوں اور شاہی اختیارات پر مبنی تھا۔

(۳) اقتصادی استحصال اور عدم مساوات تھی جو ہوا و ہوس اور نا انصافیوں پر مبنی تھی۔

اسلام نے ناانصافیوں اور استحصال کی تمام شکلوں کی مذمت کی۔ انصاف و مساوات کے اصولوں کا پرچم بلند کیا اور وسیع ترین پیمانے پر ان اصولوں پر عمل درآمد کا اعلان کیا۔اسلام نے ظلم کے معاشرے کے خلاف عدل کا اعلان کیا ہے۔ افلاطونxvii نے ایک نظری بحث کے طور کہا کہ

Justice is virtue and virtue is justice

(انصاف نیکی ہے اور نیکی انصاف ہے)

قرآن پاک نے اس سے بڑھ کر بات کی کہ

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ. (۱۳)

(دنیا میں انبیاء اور آسمانی کتابیں اس لیے نازل کی گئی ہیں کہ لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا جا سکے)

اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل علیہم السلام(حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ) اور اپنی کتابیں (توراۃ، زبور، انجیل اور قرآن مجید) صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے احکامات دے کر نہیں بھیجیں بلکہ انصاف کے قیام اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی بھیجی ہیں۔ ہمارے بعض مذہبی علماء یہ اعلان کرنے تک پہنچ گئے ہیں کہ غیر مسلموں کی منصفانہ حکمرانی مسلمانوں کی غیر منصفانہ حکمرانی سے بہتر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بیان کیا جاتا ہے:

اَلْمُلکُ یَبْقٰی مَعَ الکفرِ وَلا یَبقٰی مَع الظُّلم.

(کفر کے ساتھ ریاست قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں رہ سکتی)

اسلامی فلسفے میں انصاف کا تصور کسی بھی دوسرے نظام کے تصورِ انصاف سے زیادہ جامع ہے۔ مسلمان اہل دانش نے ’ظلم ‘ کادیگر مختلف زاویوں سے مطالعہ کیا اور اس پر بحث کی ہے۔ ان اہل دانش کے مطابق ’ظلم ‘ کا مطلب کسی چیز کو ایک غلط جگہ پر رکھنا ہے اور ’عدل ‘ کامطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھا جائے۔ یہ ’عدل ‘ اور ’ظلم ‘ کی سادہ مگر جامع بلکہ قدرے وسیع تعریف ہے اور انسانی وجود کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہی حقیقت کہ اہل دانش نے ’انصاف ‘ اور ’نا انصافی‘ کی تشریحات وسیع ترین ممکنہ اصطلاحات میں کی ہیں، اس امر کا ثبوت ہے کہ مسلم دانشور انصاف کے حقیقی تصور کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

    اسلام ’عدل‘ کے علاوہ ’احسان‘ (Equity) کی وکالت کرتا ہے۔ عدل کا مطلب ہے کہ جو کچھ واجب ہے جبکہ ’احسان‘ کا مطلب ہے ’ واجب سے زائد‘۔ قرآن فرماتا ہے:

    اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسِانِ. (۱۴)

    (اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے)

احسان ایک ذریعہ ہے جس سے قانون کا ایک نظام قواعد سازی میں تیقن کی ضرورت کو منفرد حالات میں منصفانہ نتائج حاصل کرنے کی ضرورت کے ساتھ متوازن بناتا ہے۔ یہ ایک اظہار ہے جس سے عموماً اس طریقے کو بیان کیا جاتا ہے جس میں احسان اپنا کام دکھاتے ہوئے عام قانون کی سختی کو کم کر دیتا ہے۔ احسان اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ قانون کا سخت استعمال کسی مخصوص معاملے پر لاگو ہوکراسے غیرمنصفانہ نہ بنا دے۔

اسلام نے نہ صرف انصاف اور احسان کی تبلیغ کی ہے بلکہ انصاف بھی قائم کیا ہے اور اس قدیم معاشرے کے ساتھ احسان کرکے دکھایا ہے جو جزیرہ نمائے عرب میں قائم چلا آ رہا تھا۔ ابتدائی اسلامی معاشرے کے ہر شعبے پر انصاف اپنی تمام سماجی، سیاسی اور اقتصادی شکلوں میں غالب رہا۔

اسلام نے حقوق و فرائض / ذمہ داریوں کا توازن، انفرادیت اور اجتماعی زندگی کاتوازن، شہریوں کے درمیان باہمی توازن، معاشرے اور ریاست کا توازن قائم کیا۔

بعدازاں فاسقانہ سیاسی افکار اور مکروہ عزائم انصاف اور اعتدال پر غالب آ گئے۔ سیاسی اور معاشرتی استحصال شروع ہو گیا اور معاشی ناانصافیوں نے سر اٹھا لیا۔ مسلمان بادشاہوں نے اپنے جبر اور ناانصافیوں کا جواز ثابت کرنے کے لئے علمائے سُو کی خدمات حاصل کر لیں اور عوام پرحکمرانوں کا تسلط قائم ہو گیا۔ بدقسمتی سے اسلامی حکومت کی ساری تاریخ میں با اثر علمائے سوء اور اہل دانش کی ایک بڑی اکثریت نے مالی منفعتوں کے لئے اہل اقتدار کے ساتھ ساز باز کرلی۔ ظلم کے خلاف کسی نے موثر آواز نہ اٹھائی بلکہ ان کی صلاحیتیں حکمرانوں کی بدکاریوں کا جواز پیش کرنے پر صرف ہوتی رہیں۔

فقہ کی کتب میں متعدد ابواب اس موضوع پر ہیں کہ زکوٰۃ اور دیگر لازمی محاصل کی ادائیگی سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے بچنے کے لیے بنی اسرائیل کی جو حکمت عملیاں اور حیلہ سازیاں تھیں ان کا اگر مسلمان علماء کے گھڑے ہوئے حربوں اور عذر تراشیوں سے موازنہ کیا جائے تو وہ ماند پڑ جاتی ہیں۔

مختصراً یہ کہ مسلمانوں نے انصاف اور مساوات کے اس درس کو فراموش کر دیا جو قرآن مجید میں دیا گیا تھا۔ وہ ظلم و جبر اور نا انصافیوں کو فروغ دینے لگے۔

۵۔ بنیادی حقوق کی علمبرداری

قدیم تہذیبوں میں انسانوں کو ایسا نہیں سمجھا جا تا تھا جن کے کچھ فطری حقوق ہوں۔ اگرچہ رومن فقہ میں فطری حقوق کا کچھ سراغ ملتا ہے۔ اسلام پہلا مذہب تھا جس نے شہریوں کے حقوق کا علم بلند کیا اور اعلان کیا کہ انسان تمام معاشرتی، سیاسی اورمعاشی حقوق رکھتا ہے کیونکہ وہ ایک بہترین اور عمدہ ترین مخلوق اور ساری تخلیقات کا تاج ہے۔

قرآن مجید نے غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا کہ یہ حقوق انسان کو خلقی طور پر حاصل ہیں۔ یہ کسی بادشاہ یا کسی اور ذی اختیار ادارے یا شخص کے عطا کردہ نہیں ہیں:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰھُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا. (۱۵)

(اور بلاشبہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی اور انہیں خشکی اور تری میں سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی، ان میں بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا کی)

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ. (۱۶)

(ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے )

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰئكَۃِ اِنِّیْ جَاعِل فِی الْاَرْضِ خَلِيْفَۃ. (۱۷)

(اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں)

اسلام انسانیت کے لیے مجموعی طور پر چند بنیادی حقوق مقرر کرتا ہے۔ ان حقوق کا ہر قسم کے حالات میں التزام اور احترام کیا جانا چاہیے، خواہ کوئی شخص اسلامی ریاست کے اندر کسی علاقے میں ہو یا باہر ہو، خواہ وہ برسِر جنگ ہو یا حالتِ امن میں ہو۔ ان بنیادی حقوق کے اہم خدوخال ذیل کی سطور میں بیان کیے جارہے ہیں:

(۱) انسانی زندگی ہرطرح کے حالات میں مقدس ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو بلا جواز قتل کرکے زندگی کے تقدس کو پامال کرتا ہے تو قرآن مجید اس اقدام کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرا ر دیتا ہے:

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَائِيْلَ اَنَّہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا. (۱۸)

(اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے ایک جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیرقتل کیا یا زمین میں فساد پھیلایا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا)

(۲) اسلام میں انسان کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دے دی گئی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے اپنے خطبہ حجتہ الوداع میں ارشاد فرمایا: تمہارا خون اور مال ایک دوسرے پر حرام ہے جس طرح یہ آج کا (یوم نحر) دن یہ مہینہ (ذوالحجہ) اور یہ شہر حرام (مکہ مکرمہ) ہیں۔ (۱۹)

(۳) اسلام میں انسان کی عزت و آبرو کو تحفظ کر دیا گیا۔قرآن پاک میں ارشاد ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْم مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْھُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّنْ نِّسَاءٍ عَسٰٓی اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْھُنَّ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰئِكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ  يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْم وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْہِ مَيْتًا فَكَرِھْتُمُوْہُ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّاب رَّحِيْم (۲۰)

(اے ایمان والو! ایک مرد دوسرے مرد کا ذاق نہ اڑائے، ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو۔ نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد نافرمانی کرنا بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے باز نہیں آئیں گے وہ ظالم ہیں۔ اےایمان والو! بدگمانی کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ بہت سی بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں۔ جاسوسی نہ کرو۔ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں کوئی ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے ؟ تم اسے برا سمجھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو! اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)

(۴) اسلام انسانی رہائش کو بے جا مداخلت سے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَھْلِھَا  ذٰلِكُمْ خَيْر لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ. (۲۱)

(اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو، جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں بسنے والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ امید ہے کہ تم خیال رکھو گے)

(۵) اسلام ظلم کے خلاف احتجاج کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

لَا يُحِبُّ اللّٰہُ الْجَھْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ. (۲۲)

(اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی علانیہ زبان پر لائی جائے، الا یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو)

    یعنی مظلوم کو حق پہنچتا ہے کہ ظالم کے خلاف آواز اٹھائے۔

(۶)۔    اسلام میں ضمیر اور عقیدے کی آزادی کے حق کو تحفظ حاصل ہے۔ قرآن کہتا ہے:

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ. (۲۳)

    (دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے)

(۷)۔    اسلام میں بنیادی انسانی ضروریاتِ زندگی کی ضمانت دی گئی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

    وَفِيْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ. (۲۴)

    (اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا)

    یعنی ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے، دونوں کا حق ہوتا ہے۔

(۸) اسلام میں قانون کی حکمرانی کے سامنے سب برابر ہیں۔ جب ایک عالی نسب خاندان کی عورت چوری کے الزام میں پکڑی گئی تو معاملہ حضور نبی کریمﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ سفارش کی گئی کہ اسے چھوڑ دیا جائے کیونکہ معاشرے میں اس کا مقام بہت بلند ہے۔ آپﷺ نے جواب دیا کہ تم سے پہلے جو قومیں اللہ تعالیٰ نے تباہ کی ہیں ان میں عام آدمی کو تو جرم پر سزا دی جاتی تھی لیکن بڑے خاندانوں کے افراد کو ان کے جرائم پر سزا دیئے بغیر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر فاطمہ بنت محمدﷺ نے یہ جرم کیا ہوتا تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ (۲۵)

(۹) اسلام میں ہر انسان کو امور ریاست میں حصہ لینے کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰى بَيْنَھُمْ. (۲۶)

(اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی بات مانی ہے اور نماز قائم کی ہے اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں)

    حضور نبی کریمﷺ نے تاریخ انسانیت میں پہلی بار انسانی حقوق کا واضح اور جامع منشور دیا۔ مسلمان پورے وثوق کے ساتھ اور بجا طور پر دعویٰ کرسکتے ہیں کہ حقوق انسانی کی تاسیس و تشکیل کا تاریخی اعلان خطبہ حجتہ الوداع میں ہوا تھا۔ اس آخری خطبے کے اہم نقاط درج ذیل ہیں:

(۱) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسانوں ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ پاک سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے۔

(۲) تمام نوعِ انسان حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی اولاد ہے۔ ایک عربی کو ایک عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ ہی ایک عجمی کو ایک عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ اسی طرح سفید فام کو سیاہ فام پر یا سیاہ فام کو سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت صرف تقویٰ اور اعمالِ صالحہ کی بنا پر ہو سکتی ہے۔

(۳) جان لو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور مسلمان مل کر اسلامی برادری تشکیل دیتے ہیں۔

(۴) خوب جان لو کہ زمانہ جاہلیت کے تمام طور طریقے اب میرے پاؤں تلے ہیں۔ اس زمانے کے خون کے انتقام معاف کر دیے گئے ہیں۔

(۵) اے لوگو! تمہارا خون، تمہاری جائیداد اور تمہاری آبرو مقدس اور قابلِ احترام ہیں۔ تاوقتیکہ تم اپنے مالک کے پاس پہنچ جاؤ، یہ اتنی مقدس ہیں جتنا تمہارے لیے یہ دن (یوم نحر)، تمہارا یہ مہینہ (ذوالحجہ) اور تمہارا یہ شہر (مکہ مکرمہ) قابل احترام و مقدس ہے۔

(۶) جان لو! استحقاق کا ہر دعویٰ خواہ خون کا ہو یا املاک کا، میرے پاوں تلے ہے۔

(۷)  کسی کونقصان نہ پہنچاؤ تا کہ کوئی تمہیں نقصان نہ پہنچائے۔

(۸)  کسی مسلمان کے لیے وہ چیز حلال نہیں ہے جو اس کے مسلمان بھائی کی ملکیت ہے سوائے اس کے کہ وہ اس نے خوشی اور رضا مندی کے ساتھ دی ہو۔ اس لیے اپنے ساتھ نا انصافی نہ کرو۔

(۹) تمہارے پاس کوئی امانت رکھوائی گئی ہو تو اسے اس کے صحیح مالکوں کو واپس دو۔

(۱۰) اللہ تعالیٰ نے تمہیں سود لینے سے منع کیا ہے۔ اس لیے تمام سودی مطالبات ختم کر دیے جائیں گے۔ اصل رقم تمہاری ہے۔ صرف اسے ہی واپس لے سکتے ہو۔

(۱۱) تم بے انصافی نہ مسلط کرو اور نہ اس کے شکار بنوگے۔

(۱۲) اے لوگو! یومِ حساب تم اس طرح نہ پیش ہونا کہ اس دنیا کے بوجھ تمہاری گردنوں پر ہوں۔

(۱۳) اے لوگو! یہ درست ہے کہ عورتوں پر تمہارے حقوق ہیں لیکن تمہارے ذمہ بھی ان کے حقوق ہیں۔

(۱۴) یاد رکھو کہ تم نے اپنی بیویاں صرف اللہ تعالیٰ کی امانت کے طور پر اور اس کی اجازت کے ساتھ حاصل کی ہیں اگر وہ تمہارے حق کی پابند ہیں، ان کا بھی حق ہے کہ تم ان کو شفقت کے ساتھ نان و نفقہ دو۔

(۱۵) عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ کیونکہ وہ تمہاری شریک حیات اور پُر خلوص مددگار ہیں۔ یہ تمہاراحق ہے کہ وہ کسی ایسے فرد کے ساتھ دوستی نہ کریں جس کو تم پسند نہ کرو اور یہ بھی کہ وہ کبھی آلودہ دامن نہ ہوں۔

(۱۶) اولاد اسی کی ہے جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو۔

(۱۷) اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے جو قادرِ مطلق ہے حکم دیا ہے کہ ہر ایک کو وراثت میں سے اس کا حق دیا جائے۔ اس لیے اب کسی وارث کے حق میں خصوصی وصیت کرنے کی ضرورت نہیں۔

(۱۸) اپنی املاک پر عائد ہونے والی زکوٰۃ بلا تاخیر ادا کرو۔

(۱۹) تمام قرضے لازماً واپس لوٹائے جائیں۔ ادھار لی گئی املاک لوٹا دی جائیں۔ تحائف کا بدلہ دیا جائے۔ ضامن کو نقصان کی تلافی کا پورا ہتمام کرنا ہوگا۔

(۲۰) ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی بچہ اپنے باپ کے جرم کا ذمہ دار نہیں اور نہ ہی کوئی باپ بچے کے جرم کاذمہ دار ہے۔

(۲۱)  کسی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کی چیز حلال نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے اس کو دے دے۔ اس لیے اپنے ساتھ برائی نہ کرو۔

(۲۲) اپنے خدام کو ایسی خوراک دو جیسی تم خود کھاتے ہو اورایسے کپڑے پہناؤ جیسے تم خود پہنتے ہو۔

(۲۳) اے لوگو! اپنے امیر کی بات سنو اوراطاعت کرو، خواہ ایک ناک کٹا حبشی تمہارا ’امیر’ بنا دیا جائے۔ بشرطیکہ وہ کتاب اللہ کے احکامات کے مطابق تمہیں ہدایات دے۔

(۲۴) آگاہ رہو کہ دین کے بارے میں جو حدود مقرر ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا کیونکہ ان حدود (کی جائز وسعتوں) سے تجاوز کرنے کی وجہ سے ہی تم سے پہلے کی امتیں تباہی سے دوچار ہوئی تھیں۔ (۲۷)

حضور نبی کریمﷺ شہریوں کے حق تعلیم کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ آپﷺ نے غزوہ بدر  کے قیدیوں کو اختیار دیا کہ اگر وہ مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو انہیں آزاد کر دیا جائے گا۔ آپﷺ کو یہ خوف نہیں تھا کہ یہ کافر مسلمانوں کے عقیدے کو خراب کر دیں گے۔ اسلام نہ صرف ان کو مذہبی اعمال کی آزادی دینے کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ ان سے دیگر لوگوں کی طرح منصفانہ سلوک کیاجائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے ذمی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔(۲۸) آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا یا اس پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈالا، میں قیامت کے دن اس کا دشمن ہوں گا۔ (۲۹)

مسلم ریاستوں کے علاقوں میں غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک کوغیر مسلم مؤرخین نے وسیع پیمانے پر تسلیم کیا ہے۔ وِل ڈیورانٹxviii نے لکھا ہے:

بنو امیہ کی خلافت کے زمانے میں زیر معاہدہ لوگوں (ذمی) عیسائیوں، زرتشتیوں، یہودیوں اور صابئین لوگوں کے ساتھ ایسا روادارانہ رویہّ اختیار کیا گیا تھا کہ آج کے مسیحی ممالک میں بھی کہیں نہیں پایا جاتا۔ وہ اپنی اپنی مذہبی رسوم آزادی سے ادا کر سکتے تھے ان کے معبدوں اور گرجاؤں کی پوری حفاظت کی جاتی تھی۔ انہیں ان میں خود مختاری حاصل تھی اور وہ اپنے علماء اور ججوں کے بنائے ہوئے مذہبی قوانین کے تابع تھے۔ (۳۰)

آئیے ایک نظر اقتصادی حقوق پر ڈالیں۔ ایک دفعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ معاشی انصاف پر اتنا اصرار کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس کے پاس ایک بکری ہے۔ جس کا آدھا دودھ ان کے لیے ہے اور آدھا ہمسایوں کے لیے۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی:

وَيَسْئَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ. (۳۱)

(تم سے یہ دریافت کرتے ہیں کیا خرچ کریں؟ آپﷺ فرما دیں اپنی ضرورت سے زائد چیز خرچ کرو)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیسا خوبصورت جواب دیا: اوصانی خلیلی (میرے دوست رسول اللہﷺ کا یہی حکم ہے)

ایک دفعہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اگر ساحل فرات پر ایک بھیڑ کا بچہ بھی بھوکا مر گیا تو روزِ قیامت انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ یہ محض ایک سیاسی نعرہ یا انتخابی منشور نہیں تھا بلکہ اسلام کے اقتصادی اور سیاسی فلسفے کا ایک ضابطۂ کار تھا جس کا انہوں نے اظہار کیا۔ حضور نبی اکرمﷺ نے خود ارشاد فرمایا تھا:

انا ولِی مَنْ لا وَلِیَ لَہ.

(میں اس شخص کا مدد گار اور محافظ ہوں جس کا کوئی مددگار و محافظ نہیں ہے)

حضور نبی کریمﷺ محض ایک اخلاقی اصول نہیں سکھا رہے تھے یا اپنے ذاتی کردار کی وضاحت نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک پالیسی کا اعلان کر رہے تھے کہ ریاست معاشرے کے تمام کمزور اور زد پذیر طبقات کی سرپرست اور محافظ ہوگی۔آپﷺ اہلِ ایمان کو بھی ان کی یہ ذمہ داری یاد دلا رہے تھے کہ انہیں معاشرے کے مجبور اور محروم طبقات بشمول محتاج افراد، یتامیٰ، نابالغ بچوں اور بیواؤں کی دستگیری و داد رسی کے سلسلے میں کوشاں رہنا ہوگا۔ یہ اعلیٰ و ارفع تعلیمات تھیں جس نے ایک ایسے مثالی معاشرے کو جنم دیا جو سماجی انصاف پر مبنی تھا جس میں لوگوں کو عزت و وقار اور احترام حاصل تھا۔ بہ الفاظ دیگر اسلام نہ صرف انسانی حقوق کے تصور اور دائرہ عمل کو وسیع و عریض کرنے کا ذمہ دار تھا بلکہ ریاست کو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا کردار سونپنے کا بھی ذمہ دار تھا۔

شواہد کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات بلا خوف و خطر کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ دنیا کا منشور عظیم میگنا کارٹاxix، دستاویزِ حقوقxx اور ’تحریک حقوق انسانی‘ نے جذبہ ورہنمائی ان اعلیٰ و ارفع تصورات سے حاصل کی جو قرآن پاک اور خطبہ حجتہ الوداع میں بیان کر دیے گئے تھے۔

۶۔ توہمات سے تجربیت تک

یہ بہت ضروری امر ہے کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے ابتدائی عہد میں زمانے کے ذہنی چیلنجوں پر کیسے ردعمل کا اظہار کیا اور ان سے عہدہ برآمد ہونے کے لیے کیا تدابیر اختیار کیں۔ قرآن مجید کے مطابق زمین پر انسانی زندگی کا آغاز علم سے ہوا تھا:

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰئِكَۃِ اِنِّیْ جَاعِل فِی الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً‌ قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْھَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْھَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ كُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰئِكَۃِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِی بِاَسْمَاءِ ھٰٓؤُلَاءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْـھُمْ بِاَسْمَائِھمْ فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَائھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ. (۳۲)

(جب اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خون ریزیاں کرے گا۔ آپ کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں۔ فرمایا: میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تمہارا خیال صحیح ہے تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاو! انہوں نے عرض کیا: نقص سے پاک تو صرف آپ کی ذات ہے۔ ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم سے کہا کہ تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاو۔ جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتا دیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے چھپی ہوئی ہیں)

آپ ملاحظہ فرمائیں کہ فرشتوں کی تقدیس و عبادت کے مقابلے میں انسانی علم کو لایا جا رہا ہے۔ علم دے کر آدم علیہ السلام کو فرشتوں سے فضیلت دی گئی۔ علم کو عبادت سے افضل قرار دیا جا رہا ہے۔ شرف آدم علیہ السلام قرار دیا جا رہا ہے۔ علم ہی اللہ تعالیٰ کا نائب بننے کے لیے لازم ہے۔ علم بھی اشیا کا دیا جا رہا ہے جو سائنس کا موضوع ہے، دینیات یا علم الکلام کا نہیں ہے۔

اسلام کا آخری مرحلہ بھی علم سے شروع ہوا۔ حضور نبی کریمﷺ جو پہلی وحی وصول فرمائی وہ یہ تھی:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ. (۳۳)

(پڑھو! (اے نبیﷺ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو! اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا)

آپ دیکھ لیں کہ نبوت کی ابتدا سائنسی علوم کی طرف مائل کرنے سے ہو رہی ہے۔ خدا کی معرفت کے لیے علم حیاتیات (Biology) کی دلیل لائی جا رہی ہے۔ پھر قلم کی عظمت بیان ہو رہی ہے۔ کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس کمزور حالت سے اس کی تخلیق کی ابتدا کرکے اسے پورا انسان بنایا۔ یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے انسان کو صاحب علم بنایا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے اور صرف صاحب علم ہی نہیں بنایا بلکہ اس کو قلم سے لکھنے کا فن سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت و ترقی کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو لکھنے کا فن نہ دیتا تو انسان کی ترقی رک جاتی اور علم اگلی نسلوں تک منتقل نہ ہوتا۔

فلسفہ مسلمانوں کا علم نہیں ہے۔ اسلام کی بعثت سے پہلے معلوم انسانی تاریخ کے عظیم ترین فلسفی یونان میں پیدا ہو چکے تھے۔ دنیا میں افلاطونی مثالیت (Platonic Idealism) ارسطوxxi کی منطق (Aristotlian Logic) وغیرہ کا غلبہ تھا۔ مسلمانوں نے فلسفہ کو کفر قرار نہ دیا بلکہ اس کی تعلیم حاصل کی۔ ابو نصر محمد بن محمد فارابیxxii پہلا مسلمان عالم تھا جو یونان کے فلسفہ کا شارع بنا اور تاریخ فلسفہ میں ارسطو کو معلم اول اور فارابی کو معلم ثانی کہا جاتا ہے۔

ہمارے علما نے فلسفہ یونان کو سمجھا۔ اس کا عربی میں ترجمہ کیا گیا تاکہ مسلم دنیا میں پڑھا جا سکے اور پھر اس پر عالمانہ تنقید کی۔ امام غزالیؒxxiii نے تہافت الفلاسفہ لکھی۔ اس میں انہوں نے یونان کے فلسفہ پر سخت تنقید کی جس کا جواب یونان کے بجائے مسلم دنیا کے نامور فلسفی ابن رشدxxiv نے دیا۔ ان کی کتاب کا نام تہافت التہافت ہے۔ اس کے بعد امام ابن تیمیہؒ نے فلسفہ یونانی پر کاری ضرب لگائی۔ اس شرح اور تنقید کا یہ نتیجہ نکلا کہ مسلمانوں نے فلسفہ یونان کو پڑھا۔ اسے آگے منتقل کیا لیکن اس سے مرعوب نہ ہوئے۔

یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے یونان کے اس بے بہا علم کو مغرب تک پہنچایا۔ جرمن فلسفی کانٹxxv کی کتاب (Critique of Pure Reason) امام غزالیؒ کے فلسفے کی شرح لگتی ہے۔یہی حال مسلمانوں نے ارسطو کی منطق کے ساتھ کیا۔ مثالیت (Idealism) نے بھی عرب تجربیت (Empiricism) سے اثر قبول کیا۔ پھر کیا ہوا کہ مسلمان سو گئے اور پرانی کتب ہی مدارس میں پڑھاتے رہے جبکہ زمانہ وسطیٰ (Middle Period) کے بعد نئے فلسفے متعارف ہوئے جن کا ہم نے مطالعہ و تدارک نہ کیا۔ تحریک اصلاح (Reformation) اور صنعتی انقلاب کے پیچھے نئی نئی سائنسز اور فلسفوں کا ظہور ہوتا رہا مگر مسلمان ان سے لاپرواہ رہے۔

مسلمان تخیلاتی (speculative) نہیں بلکہ عملی (practical) تھے۔ قران پاک نے انسان کو تجربیت و مشاہدہ (observation) سکھایا۔ قرآن پاک نے بار بار کہا: کیا تم آسمان نہیں دیکھتے؟ کیا تم زمین نہیں دیکھتے؟ کیا تم جانور نہیں دیکھتے؟ یہ وہ تعلیمات تھیں جنہوں نے مسلمانوں کو عملی سائنس کی طرف مائل کیا۔ طبیعات میں ہم نے روشنی کا مطالعہ کیا۔ ابوالہیثمxxvi نے جدید فزکس کی بنیاد رکھی۔ الخوارزمیxxvii نے نویں صدی عیسوی میں دنیا کو جدید ریاضی کا علم دیا۔ ابن سیناxxviii و زہراویxxix نے جدید طب (میڈیسن) اور جراحت (سرجری) کی بنیاد رکھی۔ تفصیل میں جائے بغیر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مسلمان سائنسدانوں نے دنیا کو جدید سائنس دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تسخیر کائنات اور تسخیر ذات میں فرق نہ کرتے تھے۔ ان کے ہاں اس دنیا اور اس دنیا کی تفریق نہ تھی۔ وہ مادہ اور روح کی تقسیم کے قائل نہ تھے۔ وہ قدیم و جدید علم کی بحث کو بے خبری سمجھتے تھے۔ سائنسی علوم کی تحصیل سے مسلمان ٹیکنالوجی میں ماہر تھے۔ فرانس کے عظیم بادشاہ شارلیمانxxx کو گھڑی عباسی خلیفہ ہارون الرشیدxxxi نے بھجوائی تھی۔

پھر کیا ہوا؟ جو لوگ مافوق البشری رازوں کے امین، انسانی حقوق کے علمبردار اور جدید سائنس کے اصل خالق تھے خواب غفلت میں کھو گئے۔ وہ یونانی اثرات کی وجہ سے لاحاصل مذہبی بحثوں میں الجھ گئے۔ انہوں نے زندگی کو روحانی اور دنیاوی دائروں میں تقسیم کر دیا اور مادی ترقی و فروغ کو خلاف ِاسلام تحریک قرار دینے لگے۔ انہوں نے فطری علوم (سائنسز) کو نظر انداز کر دیا اور ایسے جھوٹے تصوف کے نشے میں دھت ہو گئے جو خالص وجدانی اور باطنی درجہ بندی کے نظام کو تجربیت (empiricism) کے برعکس ہونے کا پرچار کرتا ہے جو کہ جدید سائنس کی حقیقی بنیاد ہے۔ وہ مذہبی رسوم کی بال کی کھال اتارنے اورلاحاصل مدرسانہ بحثوں میں الجھ گئے۔ جبکہ انہیں جدید دور کے چیلنجوں کا جواب دینے اور علم کی سرحدوں کوآگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ذہنی کاوشیں کرنے کی ضرورت تھی۔ وقت نے ان کا انتظار نہیں کیا اور وہ قوموں کی برادری سے بہت پیچھے رہ گئے۔

عہد اول اور عہد متوسط میں مسلمانوں نے اپنی ذات و کائنات کو بدل ڈالا۔ اس لیے کہ وہ اس کی امنگ رکھتے تھے۔  وہ اس بات کا مصداق تھے:

گر بر فلکم دست بُدی چون یزدان
برداشتمی من این فلک را ز میان
از نو فلکی دگر چنان ساختمی
کازادہ بکام دل رسیدی آسان (۳۴)

(اگر مجھے قدرت ہوتی جیسی کہ خدا کو حاصل ہے)

(میں اس آسمان (حالاتِ دنیا) کو درمیان سے ہٹا دیتا)

(اور آسمان کو نئے سرے سے ترتیب دے کر ایسا بنا دیتا)

(کہ میرے دل کی تمنا پوری ہو جاتی)

بیاتا گل برافشانیم و می در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشکافیم و طرحی نو در اندازیم (۳۵)

(آئیں کہ ہم پھول بچھائیں اور شراب پیالوں میں ڈالیں)

(آسمان کی چھت کو توڑ ڈالیں اور نئی دنیا بنائیں)

جب تک یہ امنگ رہی وہ نئی کائناتیں تخلیق کرتے رہے اور پھر یوں ہوا کہ

بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے (۳۶)


حوالہ جات

(۱). القرآن: سورۃ آل عمران، آیت: ۱۵۹

(۲). القرآن: سورۃ الشوریٰ، آیت: ۳۸

(۳). القرآن: سورۃ آل عمران، آیت: ۱۵۹

(۴). ابن ماجہؒ، حضرت حافظ ابی عبداللہ محمد بن یزید (۲۰۱۰)۔ ‘سنن ابن ماجہ’ ترجمہ مولانا محمد قاسم امین (ج: ۳، رقم الحدیث: ۸۳۰)۔ لاہور: مکتبہ العلم۔

(۵). ترمذیؒ، حضرت امام محمد بن عیسیٰ (۲۰۰۶)۔ ‘جامع ترمذی’ ترجمہ مولانا افضل احمد (ج: ۲، رقم الحدیث: ۴۱)۔ کراچی: دارالاشاعت۔

(۶). ترمذیؒ، حضرت امام محمد بن عیسیٰ (۲۰۰۶)۔ ‘جامع ترمذی’ ترجمہ مولانا افضل احمد (ج: ۲، رقم الحدیث: ۴۰)۔ کراچی: دارالاشاعت۔

(۷). مسلمؒ، حضرت امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج (۲۰۰۴)۔ ‘صحیح مسلم’ ترجمہ علامہ وحید الزمان (ج: ۳، رقم الحدیث: ۲۸۹)۔ دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند۔

(۸). اقبالؒ، محمد (۱۹۳۵)۔ ‘بال جبریل’ (غزلیں)۔ لاہور: تاج کمپنی۔

(۹). ابن حسام الدینؒ، حضرت علاء الدین علی متقی (۲۰۰۹)۔ ‘کنزل العمال’ ترجمہ مولانا احسان اللہ شائق (  ج: ۶، رقم الحدیث: ۵۶۴۰)۔  کراچی: دارالاشاعت۔

(۱۰). طبریؒ، امام ابی جعفر محمد بن جریر (۲۰۰۴)۔ ‘تاریخ الامم والملوک: تاریخ طبری’ ترجمہ ڈاکٹر محمد صدیق ہاشمی (ج: ۲، ص: ۷۰۲)۔ کراچی: نفیس اکیڈمی۔

(۱۱). اقبالؒ، محمد (۱۹۳۶)۔ ‘ضرب کلیم’ (نماز)۔ لاہور: کتب خانہ طلوع اسلام۔

(۱۲). اقبالؒ، محمد (۲۰۱۱)۔ ‘بانگ درا’ (خضرِ راہ)۔ لاہور: سنگ میل۔

(۱۳). القرآن: سورۃ الحدید، آیت: ۲۵

(۱۴). القرآن: سورۃ النحل، آیت: ۹۰

(۱۵). القرآن: سورۃ الاسراء، آیت: ۷۰

(۱۶). القرآن: سورۃ التین، آیت: ۴

(۱۷). القرآن: سورۃ البقرۃ، آیت: ۳۰

(۱۸). القرآن: سورۃ المائدہ، آیت: ۳۲

(۱۹). مسلمؒ، حضرت امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج (۲۰۰۴)۔ ‘صحیح مسلم’ ترجمہ علامہ وحید الزمان (ج: ۲، رقم الحدیث: ۴۵۶)۔ دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند۔

(۲۰).  القرآن: سورۃ الحجرات، آیت: ۱۱ - ۱۲

(۲۱).  القرآن: سورۃ النور، آیت: ۲۷

(۲۲).  القرآن: سورۃ النساء، آیت: ۱۴۸

(۲۳).  القرآن: سورۃ البقرہ، آیت: ۲۵۶

(۲۴).  القرآن: سورۃ الذاریات، آیت: ۱۹

(۲۵). بخاریؒ، حضرت امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل (۲۰۰۴)۔ ‘صحیح بخاری’ ترجمہ حضرت مولانا محمد داؤد راز (ج: ۲، رقم الحدیث: ۷۳۳)۔ دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند۔

(۲۶). القرآن: سورۃ الشوریٰ، آیت: ۳۸

(۲۷). ابن ہشامؒ، حضرت ابو محمد عبدالملک؛ حضرت محمد بن اسحاق بن یسارؒ (۱۹۹۴)۔ ‘سیرت النبیﷺ’ ابن ہشام ترجمہ سید یٰسین علی حسنی نظامی دہلوی (ج: ۳، ص: ۲۳۲ - ۲۳۳)۔ لاہور: ادارہ اسلامیات۔

(۲۸). ابن ماجہؒ، حضرت حافظ ابی عبداللہ محمد بن یزید (۲۰۱۰)۔ ‘سنن ابن ماجہ’ ترجمہ مولانا محمد قاسم امین (ج: ۲، رقم الحدیث: ۸۴۴)۔ لاہور: مکتبہ العلم۔

(۲۹). ابن حسام الدینؒ، حضرت علاء الدین علی متقی (۲۰۰۹)۔ ‘کنزل العمال’ ترجمہ مولانا احسان اللہ شائق (ج: ۳، رقم الحدیث: ۲۵۲۱)۔ کراچی: دارالاشاعت۔

(۳۰).Durant, W. J. (1993). The Story of Civilization (v.13. p. 131-132). New York: MJF Books.

 (۳۱). القرآن: سورۃ البقرۃ، آیت: ۲۱۹

(۳۲). القرآن: سورۃ البقرہ، آیت: ۳۰ - ۳۳

(۳۳). القرآن: سورۃ العلق، آیات: ۱ - ۵

(۳۴). خیامؒ، حکیم عمر نیشابوری (۲۰۰۰)۔ ‘رعبایات عمر خیام’۔ تہران: انتشارات امیر کبیر۔

(۳۵). حافظؒ، محمد شیرازی (۲۰۱۰)۔ ‘دیوان حافظ’ (غزل شمارہ: ۳۷۴)۔ لاہور: پروگریسو بکس۔

(۳۶). اقبالؒ، محمد (۱۹۳۵)۔ ‘بال جبریل’ (ساقی نامہ)۔ لاہور:  تاج کمپنی۔