مسلح تحریکات اور مولانا مودودی کا فکری منہج
محمد عمار خان ناصر
(شیبانی فاونڈیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام "مولانا مودودی کی دینی فکر اور شدت پسندی کا بیانیہ" کے زیر عنوان آن لائن ورکشاپ میں گفتگو جسے مراد علی صاحب نے مدون کیا)
اس گفتگو میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ عصر حاضر کے ایک معروف اور بلند پایہ مسلمان مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جو مذہبی سیاسی فکر پیش کی اور ریاست و سیاست ، سیاسی طاقت اور مذہب کے اجتماعی مقاصد کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو افکار پیش کیے ہیں، اس پورے نظامِ فکر کا آج کے دور میں ایک نمایاں اور بہت معروف رجحان ، جس کو ہم مذہبی عسکریت پسندی کا عنوان دیتے ہیں، اس کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، موجودہ دور میں پوری دنیا میں اور عالم اسلام میں جو تشدد اور عسکریت پر مبنی فکر دکھائی دیتی ہے اور غلبۂ دین کے عنوان اور اسلام کی بالادستی قائم کرنے کے عنوان سے عسکری جدوجہد کا جو خاص منہج سامنے آیا ہے، کیا ہم اس کی فکری جڑیں یا اس کی فکری اساسات مولانا مودودی کی مذہبی فکر میں تلاش کرسکتے ہیں یا اس کو فکری طور پر کو اس کا ذمہ دار سمجھا جاسکتا ہے؟ یہ سوال اور اس کا تجزیہ اس گفتگو کا موضوع ہے۔ اس سوال کا جائزہ اس لیے اہم ہے کہ جب بھی مسلم دنیا یا بین الاقوامی حلقوں میں عسکریت پسندی کی اس لہر کا تجزیہ کیا جاتا ہے ،جس کو معروف عنوان دہشتگردی یا مذہبی انتہا پسندی کا دیا جاتا ہے، تو اس تجزیے میں جو اس کی فکری جڑی تلاش کی جاتی ہیں اور اس کی فکری اساسات متعین کی جاتی ہیں تو اس کو سیاسی اسلام (Political Islam) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
سیاسی اسلام کی اصطلاح کا پس منظر
مغرب نے اپنی سیاسی ترجیحات کے لحاظ سے دنیا کے اور عالم اسلام کے، اپنے من پسند نقشے کے مطابق، کچھ خاص تصورات قائم کیے ہوئے ہیں۔ وہ غیر مغربی معاشروں کے مذہبی اور سیاسی رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی وضع کردہ اصطلاحات کے تحت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مثلا عالم اسلام میں کس نوعیت کے رجحانات پائے جاتے ہیں اور کون سا رجحان اپنی فکری غذا کہاں سے حاصل کرتا ہے۔ سیاسی اسلام (Political Islam) کی اصطلاح بھی مغربی حلقوں نے متعارف کروائی ہے۔ مغربی قوتوں اور سیاسی دانش کی ترجیحات کے مطابق دنیا کی فکری اور تہذیبی تشکیل کے حوالے سے ان کا مفروضہ یا توقع یہ ہے کہ پوری دنیا میں سیاسی لحاظ مغربی اقدار کو غلبہ حاصل ہوجائے جو جدید دور میں مغرب نے متعارف کروائی ہیں اور ان میں خاص طور پر سیکولر ازم کا تصور ، مذہب کو اجتماعی معاملات سے لاتعلق کرنے کا تصور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تصور مغرب میں وہاں کے تاریخی تجربات کی روشنی میں متعارف ہوا ہے اور مغربی قوموں نے بہ تدریج اس کو اختیار بھی کرلیا ہے، اب یہ وہاں کا سیاسی مذہب تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا میں چونکہ تہذیبی، سیاسی، معاشی اور عسکری غلبہ بھی مغربی اقوام کا ہے تو اس لحاظ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جن سیاسی اقدار کو مغرب نے بالاتر اور بہترین سیاسی اقدار کے طور پر قبول کیا ہے ، باقی دنیا کی خیر اور فلاح بھی اسی میں ہے کہ وہ بھی بہ تدریج اپنے آپ کو اسی قالب میں ڈھال لیں۔ بالخصوص دنیا کے جن معاشروں میں مذہب سماجی، معاشی اور تہذیبی طور پر بہت قوی عامل رہا ہے ، وہاں پر مذہب کو بہ تدریج ان دائروں سے الگ کردیا جائے۔
اب اس تناظر میں جب وہ پوری دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو انھیں مذہب کے عنوان سے سیاسی نظام کی تشکیل اور سیاسی ترجیحات کے تعین کی بحث میں جو بیانیہ یا فکر سب سے زیادہ اپنے اس narrative کےلیے challenging محسوس ہوتی ہے ، یا انھیں دکھائی دیتا ہے کہ یہ بیانیہ براہ راست سیکولر ازم کی فکری بنیادوں کو چیلنج کررہا ہے، وہ عالم اسلام کی وہ مختلف تحریکیں ہیں جو سیکولر ازم کے برعکس فکر رکھتی ہیں۔ ایسی تحریکات جنھوں نے اپنے بیانیے تشکیل دیے ہیں اور جنھوں نے مسلمان معاشروں میں اپنی ایک فکری تاثیر پیدا کی ہے اور جن مطالبہ اور جدوجہد کا ہدف یہ ہے کہ مسلمان معاشرے اپنی سیاست، معیشت اور معاشرت کو مذہب اور شریعت سے الگ نہیں کرسکتے۔ مسلمان معاشروں کو اپنی سیاسی ترجیحات کی تشکیل اور اپنی بین الاقوامی ترجیحات کی تشکیل مذہبی اساسات پر ہی کرنی ہو گی۔ اس فکر کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے معاشرے اور تحریکات مسلمان معاشروں میں سیکولر ازم کو بہ طور قدر قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ جب مسلمان معاشروں میں ایک نظام حکومت قائم ہو تو وہ داخل میں بھی مذہبی اقدار پر قائم ہو، مذہبی اقدار کی ترجمانی اور ان کی حفاظت پر مبنی ہو اور جب بین الاقوامی معاملات کے دائرے میں مسلمان حکومتیں اپنے فیصلے کریں یا اپنی پالیسیاں طے کریں تو ان کی اساس بھی ان مذہبی اقدار پر ہوں۔
گویا یہ رجحان مغربی قوتوں کی تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی ترجیحات کا لازمی طور پر حریف ہے۔ مغرب کے ذہن میں ایک نقشہ ہے کہ دنیا کو اس رخ پر آگے بڑھنا چاہیے، جبکہ یہ فکر اس سے متصادم ہے تو اس کو identify کرنے کےلیے اور اس کو focus میں لانے کےلیے political Islam کا عنوان دیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسلام میں، یا اسلام کے عنوان پر عالم اسلام میں مسلمان معاشروں میں بہت سے طبقے، افکار اور رجحانات موجود ہیں، لیکن یہ رجحان جو سیاست،حکومت اور اقتدار میں اسلام کی بالادستی کی بات کرتا ہے اور جہاں اسلام کو اس دائرے سے ایک طرح سے لاتعلق کردیا گیاہے، وہاں دوبارہ اس کی بحالی کی بات کرتا ہے، یہ ان کے نزدیک ایک مسئلہ ہے ، کیونکہ یہ جدید دور میں عالمی تہذیبی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ مغربی اہل دانش سمجھتے ہیں کہ اس رجحان کا تجزیہ ضروری ہے کہ یہ رجحان کہاں سے پیدا ہورہا ہے۔ جدید دنیا کے جو عمومی رجحانات ہیں، اور خود عالم اسلام میں خاص طور پر حکمران طبقات میں سیکولر ازم پر ایمان رکھنے والا بہت بڑا طبقہ موجود ہے ، تو یہ موقف جو اس سے ہم آہنگ نہیں ہے اور ایک مسئلہ پیدا کر رہا ہے تو اس کو ہمیں خاص طو رپر مطالعے کا موضوع بنایا چاہیے۔
اس تناظر میں مغربی پیراڈائم میں سیاسی اسلام کی فکر کو اور اس مقصد کے لیے عسکریت کی حکمت عملی اختیار کرنے والی تحریکات کو آپس میں ملا دیا جاتا ہے اور دونوں کا تجزیہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ گویا سیاسی اسلام وہ فکری اساسات فراہم کرتا ہے یا وہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس سے مسلمانوں میں یا اس کے مختلف طبقات میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے غلبے کےلیے کوشش کی جائے اور پھر وہاں سے عسکریت پسندی کی ایک لہر اور رجحان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طرح ان دونوں فکری دھاروں کو آپس میں ملا دیا جاتا ہے اور یہی بیانیہ اور یہی تجزیہ پھر جب وہاں سے پھیلتا ہے تو خود مسلمان معاشروں میں بھی اس طرح کے تجزیے فروغ پانے لگتے ہیں۔
عسکری تحریکوں کا انداز فکر
یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا مولانا مودودی کی مذہبی سیاسی فکر کےلیے سیاسی اسلام کا عنوان مناسب ہے؟ تاہم، ہم برائے بحث اس کو مان لیتے ہیں کہ اس کےلیے سیاسی اسلام کی اصطلاح یا عنوان مناسب ہے۔ ہمیں اب سمجھنا یہ ہے کہ کیا اس فکر یا بیانیے ( narrative) کو کسی بھی لحاظ سے، براہ راست یا بالواسطہ، عسکریت پسندی کے رجحان کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے جس کے نمائندہ گروہ موجودہ دنیا کے بنے ہوئے نظام کو ، چاہے وہ بین الاقوامی نظام ہو یا ریاستوں کے اندر بنا ہوا نظام ہو، چیلنج کرتے ہیں یا اس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یہ تحریکیں جو قانون شکنی اور آئین شکنی کے راستے اختیار کرتی ہیں اور بہت ہی انتہا پسندانہ قسم کے مذہبی بیانیے پیش کرتی ہیں اور اس کےلیے فساد برپا کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ہم کہاں تک ان کی اساس یا جڑ سیاسی اسلام کے تصور کو قرار دے سکتے ہیں؟ اس کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاسی اسلام کا مطلب اگر یہ ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں جو اجتماعی نظام قائم کیا جائے ، وہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم ہو، اور اسلام کی اجتماعی مصلحتیں حاصل اور مقاصد کو پورا کرنے کےلیے پورے نظام کو استعمال کیا جائے ، اگر سیاسی اسلام کا یہ مطلب ہے تو تاریخی طور پر یہ کوئی جدید دور کا مظہر نہیں ہے یا جدید دور میں سامنے آنے والی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس کو اصل میں ہم روایتی اسلام کہتے ہیں۔ اسلام کا جو روایتی تصور ہے اور جو تاریخی اسلام چلا آرہا ہے، یہ اس کے تعارف یا self-statement کا بنیادی حصہ ہے۔
مسلمانوں کے پاس اقتدار ہونا چاہیے، ان کو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہیے، یہ پورے روایتی اسلام کا بنیادی مقدمہ ہے۔ اسلام کی تو ابتدا ہی اسی سے ہوئی تھا۔ شروع کے بارہ تیرہ سال کو نکال کر جو رسول اللہﷺ کی مکی زندگی کا دور ہے، اسلام اپنے دورِ اول سے ایک سیاسی مذہب ہے۔ وہ صرف عبادات یا رسومات کا مذہب کا نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی مذہب ہے اور سیاسی مذہب کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذہبی اقدار ، مذہبی اصولوں اور شریعت کے بتائے ہوئے ضابطوں کے مطابق ایک معاشرے کی تشکیل کو اپنا ہدف قرار دیتا ہے اور اس معاشرت کی تشکیل میں اجتماعی نظام کے تمام پہلو شامل ہیں۔ اس میں معاشرت بھی ہے، پوری معاشی سرگرمی بھی اس کا حصہ ہے ، اس میں قانون اور جرم و سزا کا سدّباب اور اسی طرح بین الاقوامی تعلقات بھی ہیں۔ غرض اسلام کی ترجیحات کے مطابق اور دین توحید کی بالادستی اور اس کے اہداف کے لحاظ سے پورے نظام کو تشکیل دینا، یہ پورے روایتی اسلام کا مانا ہوا تصور ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے، ایسا نہیں ہے کہ اس کےلیے کسی تاریخی تحقیق کی ضرورت پیش آئے۔ اسلامی تاریخ، اسلامی روایت اور اسلامی قانون سے جو آدمی ذرا سی بھی واقفیت رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ حکومت، سیاست، اقتدار ، نظمِ اجتماعی ، قانون، معیشت، بین الاقوامی معاملات کو اسلامی تہذیب میں، اسلام کے تعارف میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
دور جدید میں مغربی اہل دانش جب اپنے تناظر میں صورتِ حال کو دیکھتے ہیں تو دو چیزیں انھیں غالبا اس پر آمادہ کرتی ہیں کہ وہ سیاسی اسلام کے تصور کو کوئی نئی پیدا ہونے والی چیز یا ایک غیر متوقع حادثہ باور کریں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، مغرب کے بڑے مفکرین کی توقع اور understanding یہ رہی ہے کہ مغربی قوموں نے جو تہذیبی سفر کیا ہے اور سیاست و معیشت کی تنظیم کےلیے جو نئی قدریں دریافت کی ہیں، اصل میں وہی فطری اور universal قدریں ہیں۔ اہل مغرب اپنے تاریخی حالات کے تناظر میں وہاں ذرا جلدی پہنچ گئے ہیں، لیکن وہ پوری دنیا کا مقدر ہیں، پوری دنیا کو وہیں آنا ہے اور اہل مغرب کی یہ تہذیبی ذمہ داری ہے کہ باقی قوموں کو اس پر آمادہ کریں کہ وہ اس طرف آئیں۔ جب اس مفرضے کے تحت وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری توقع کے برخلاف اور ہمارے ذہن میں جو انسانیت کے سفر کا ایک نقشہ ہے، اس کے برعکس مسلمان معاشروں میں کچھ طبقے اور تحریکیں ہیں جو دوبارہ معاشرت، معیشت اور سیاست کو مذہب پر استوار کرنے کی بات کررہے ہیں، تو یہ صورت حال ان کی توقعات اور پیش بینی سے چونکہ ٹکراتی ہے، اس وجہ سے ان کےلیے حیرانی کا موجب بنتی ہے۔ ان کی توقعات اور پیشین گوئیوں کے لحاظ سے تو سفر اس طرف ہونا چاہیے تھا کہ جمہوریت کے ساتھ تعارف اور آزاد معیشت کے تصور کی بہ دولت مسلمان معاشرے اس طرف تیزی سے بڑھیں اور ان کے اوپر مذہب یا بادشاہت یا اس طرح کی دوسری پابندیاں جو صدیوں سے عائد تھیں،ان سے چھٹکارا حاصل کرکے آگے بڑھیں، لیکن یہ کیا ہوا کہ مسلمان معاشروں میں اب بھی یہ جذبہ اتنا توانا ہے کہ وہ "سیاسی اسلام "جیسے مظاہر کی صورت میں نمودار ہو رہا ہے۔
اس طرزِ فکر کا ادوسرا بنیادی سبب یہ ہے کہ گذشتہ دو صدیوں کے عرصے میں عالمِ اسلام کا زیادہ تر حصہ استعماری طاقتوں کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کو اگر ہم مستثنیٰ کردیں تو عالم اسلام کے ایک بہت بڑے حصے میں مسلمانوں کی حکومتوں کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ مختلف استعماری قوتیں یہاں پر غالب تھیں اور ان ہی کے ذریعے سے بنیادی طور پر سارے مسلمان معاشرے جدید سیاسی تصورات سے متعارف ہوئے۔ مثلا حق نمائندگی، جمہوریت، قومی ریاست ، ان سب تصورات سے مسلمان استعماری طاقتوں کے ذریعے متعارف ہوئے۔ درمیان کے تعطل کے بعد جب بیسویں صدی کے وسط میں مسلمانوں کی قومی ریاستیں قائم ہونا شروع ہوئیں تو غالبا مغربی مفکرین توقع کررہے تھے کہ وہ جو مذہبی حکومتوں کا، یا مذہب کی بنیاد پر قائم سیاسی حکومتوں کا تصور تھا، وہ غالبا مسلمان معاشروں کے اندر سے محو ہوچکا ہے اور وہ اپنی تاثیر اور اپیل کھو چکا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ان کےلیے ایک غیر متوقع چیز تھی کہ مسلمانوں کے اندر ایسے مفکرین پیدا ہوں، ایسی تحریکیں اٹھیں جو اس بھولے ہوئے سبق کو دوبارہ یاد کروائیں اور یہ دعوت دیں کہ جدید دور میں بھی ہمیں اپنی معاشرت اور معیشت کو اسلام کی بنیادوں پر قائم کرنا ہے۔
یہ مغربی تاریخی سیاق سے پیدا ہونے والے توقعات کا نتیجہ ہے۔ اس وجہ سے یہ بالکل سمجھ میں آتا ہے کہ سیاسی اسلام کا تصور اور ایک مذہبی فکر کے طور پر سامنے آنا ان کےلیے ایک اچنبھے کی چیز اور باعث تعجب امر ہے۔ لیکن اگر مسلمانوں کی تاریخ ، اسلامی روایت اور اسلامی تہذیب کے تسلسل میں کھڑے ہوکر دیکھا جائے تو یہ بات سمجھنے میں دقت پیش نہیں آتی کہ "سیاسی اسلام" کا تصور درمیان میں آنے والے ایک تعطل اور خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوبارہ اسلامی روایت اور اسلامی تاریخ سے جڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ درمیان میں کچھ اسباب سے تعطل آگیا تھا، مسلمانوں کی حکومتیں ختم ہوگئی تھیں، ان کا اقتدار ختم ہوگیا تھا۔اب جب ہمیں دوبارہ آزادی مل رہی ہے، سیاسی اقتدار اور حکومت مل رہی ہے، تو ہمیں پھر اپنی تہذیب اور تاریخ سے جڑنا ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں اسلام کا کردار محض ایک عباداتی مذہب کے طور پر نہیں ہے بلکہ معاشرے کو بنانے والی اور سیاست و معیشت کے نظام کو تشکیل دینے والی قوت کے طور پر ہے۔
ان معروضات سے یہ امر واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ سیاسی اسلام بنیادی طورپر اسلامی تاریخ اور روایت میں کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ مسلمان جہاں بھی اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کی اکثریت ہو اور وہ اپنا ایک نظم اجتماعی قائم کریں، وہاں اس کی ضرورت یا اہمیت کو پوری اسلامی فکر متفقہ طور پر بیان کرتی ہے۔ہماری فقہ میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ خلافت کا قیام، یعنی حکومت اور اقتدار کی تشکیل اور ایک نظام حکومت کا قیام مسلمانوں پر لازم ہے۔ اس لیے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں، ان کو جن احکام شریعت کا پابند ٹھہرایا ہے، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہوگی اور ان کے پاس سیاسی طاقت نہیں ہوگی، وہ ان ذمہ داریوں کو انجام نہیں دے سکتے۔ بنیادی طور پر یہ وہ نقطۂ نظر ہے جس کو جدید دور میں نئی اصطلاحات اور کچھ نئے استدالات کے ساتھ عالم اسلام میں مختلف اہل فکر نے بیان کیا ہے۔ اب اس فکر کی اصطلاحات نئی ہوسکتی ہیں، تعبیرات نئی ہوسکتی ہیں، جو استدلالات پیش کیے گئے ہیں وہ ممکن ہے، روایتی استدلالات سے مختلف اور جدید ذہن کےلیے زیادہ مانوس ہوں، لیکن بنیادی تصور نیا نہیں ہے۔
سیاسی اسلام اور عسکریت پسندی کا اساسی فرق
اگر مذکورہ بالا نقطۂ نظر پوری اسلامی روایت کا نقطہ نظر ہے اور اسی کو جدید دور میں بعض مذہبی مفکرین، جن میں غالبا مولانا مودودی سب سے نمایاں ہیں، پیش کررہے ہیں تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جدید دور میں ان دو مظاہر کا باہمی امتیاز کیسے سمجھیں جن میں سے ایک کو سیاسی اسلام اور دوسرے کو جہادی اسلام کہا جاتا ہے۔ عسکریت پسندی کی جو لہر اور تحریک ہے، وہ بھی ظاہر ہے کہ اسلام کے غلبے کی بات کرتی ہے۔ اس میں بھی اسلام کی حاکمیت قائم کرنے کی بات کی جاتی ہے ، اس میں بھی شریعت کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، اس میں بھی بین الاقوامی نظام میں مظلوم مسلمانوں کی مدد اور نصرت اور اسلام کا بول بالا کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ تو مولانا مودودی کی فکر کو، چاہے ہم اسے اسلامی روایت کا بیانیہ قرار دے دیں یا جدید اصطلاح میں سیاسی اسلام کا عنوان دے دیں ، اس پوری فکر کو ہم انتہا پسندی یا عسکریت پسندی کی اس لہر کو کیسے ممتاز کرسکتے ہیں، ان کے باہمی فروق کیا ہیں ؟ اس سوال کے تجزیے سے واضح ہوگا کہ مولانا مودودی کی فکر یا سیاسی اسلام کو کہاں رکھنا چاہیے، یعنی فکر ی طور پر اس کا شجرہ نسب کس سے زیادہ ملتا ہے۔ کیا اسلامی تہذیب اور روایت میں آنے والے بیانیے کے ساتھ اس کا تعلق زیادہ بنتا ہے یا اس کے خصائص ، ترجیحات اور عناصر انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے بیانیےکے ساتھ زیادہ موافقت رکھتے ہیں۔
عسکری اسلام یا عسکریت پسندی کے جو بیانیے ہیں، ان کے فکری رجحانات یا ان کے استدلالات کے تین چار مظاہر یا خصوصیات کو سامنے رکھا جائے تو اس میں سب سے بنیادی خصوصیت یہ نظر آتی ہے کہ وہ اسلام کے غلبے کا جذبہ تو رکھتے ہیں اور انہی آیات اور فقہ اسلامی اور شریعت کے انہی اصولوں سے استدلال کرتے ہیں جن میں دین کے غلبے اور شریعت کی حاکمیت کی بات کی گئی ہے۔ اس بنیادی تقاضے کےلیے تو ان کا ماخذ استدلال اور ہماری روایت کا ماخذ استدلال یا سیاسی اسلام کا ماخذ استدلال زیادہ مختلف نہیں ہے۔ لیکن جو چیز ان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے، وہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس مقصد کے حصول کےلیے جدوجہد کن اساسات پر کی جائے، حکمت علمی کیا وضع کی جائے اور اس کےلیے line of action کیا بنائی جائے یا جدوجہد کا رخ کیا طے کیا جائے۔ اس میں بہت بنیادی مسئلہ جدید دور میں دنیا کی سیاست اور معیشت میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کا ہے۔ دنیا کی سیاسی اور تہذیبی فکر میں اور سیاسی اور عسکری طاقت کے توازن میں جوہری تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو اب ایک معروضی حقیقت کا درجہ رکھتی ہیں۔ ایک ایسی دنیا وجود میں آچکی ہے کہ نہ اس میں سیاسی توازن وہ ہے جو دو تین سو سال پہلے تھا، اور نہ اس میں اقتصادی طاقت کا توازن وہ ہے۔ سیاسی تصورات جو دو صدیاں پہلے دنیا میں مسلّم ، جائز اور اخلاقی مانے جاتے تھے ، آج دنیا میں ان کی جگہ کچھ اور تصورات نے لے لی ہے۔ معاشرت میں غیر معمولی تبدیلی آچکی ہے اور پوری انسانیت کا طرزِ فکر بالکل تبدیل ہوچکا ہے اور یہ ساری تبدیلیاں ایک معروضی حقیقت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں۔
اب ظاہر بات ہے کہ کسی مذہبی یا غیر مذہبی فکر نے اپنے اہداف اور ideals کیا طے کرنے ہیں، اس میں تو وہ اس کے پابند نہیں ہیں کہ اپنے ideals یا اہداف وہ زمانے کے رجحانات سے لیں یا ان کی روشنی میں طے کریں۔ قومیں ،تہذیبیں اور گروہ اپنے اہداف اور اپنے ideals غیر تاریخی یا تاریخ سے ماورا مآخذ سے بھی اخذ کرتے ہیں ، لیکن ان کے حصول کےلیے جہدوجہد کی جو حکمت عملی وضع کرنی ہے، اس میں کوئی گروہ، کوئی بیانیہ، کوئی تحریک اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتی کہ وہ کس ماحول میں ہے، وہاں پر زمینی حقائق کیا ہیں، پیش رفت کے امکانات کس طرح کے ہیں، کون سی حکمت عملی موثر ہوسکتی ہے اور رکاوٹیں کس نوعیت کی ہیں۔ ان سب چیزوں کو ملحوظ رکھے بغیر اور ان کے ساتھ ایک طرح کی موافقت پیدا کیے بغیر کوئی جدوجہد میدان عمل میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔
اس مقام پر ایک بنیادی فرق نظر آتا ہے کہ عسکریت کی راہ اختیار کرنے والی جتنی بھی تحریکیں اور گروہ ہیں، وہ بنیادی طور پر تاریخ اور تہذیب میں ان تبدیلیوں کو جو جدید دور کی ایک حقیقت واقعہ ہے، جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اور اس سے بچ کر نہیں نکلا جاسکتا، وہ ان کو ایک امر واقع کے طور پر قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں طاقت، سیاست، معیشت اور ایک پورا نظام بنا ہوا ہے ، تصورات کا ایک پورا مجموعہ ہے جو اس وقت دنیا میں غالب ہے اور لوگ اسی کے تحت سوچتے ہیں۔ لیکن یہ عناصر یا تو ایک جذباتی فضا میں یا ایک غیر حقیقی انداز فکر سے یا کچھ مذہبی پیشن گوئیوں کو سامنے رکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس پورے نظام طاقت اور نظام فکر کو نظر انداز کرسکتے ہیں اور اس کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ چیلنج کرسکتے ہیں، اس توقع پر کہ جب ہم ٹکرانے کی کوشش کریں گے تو پھر غیبی طاقتیں اور قوتیں کام کرنا شروع کردیں گی اور کچھ ماورائے تاریخ عوامل سامنے آجائیں گے جو حالات کا پانسہ پلٹ دیں گے۔ اس مفروضے یا تاریخی تفہیم کے ساتھ اور تاریخی تبدیلیوں کے بارے میں اس اندازِ نظر کے ساتھ وہ جب اپنا بیانیہ مرتب کرتے ہیں اور جدوجہد کا ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں تو وہ ان چند نکات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے :
سب سے پہلا نکتہ تو مسلمان معاشروں میں اس وقت جن طبقات کے پاس حکومت اور اقتدار ہے اور ریاستی طاقت ہے، فکری بنیادوں پر ان کی تکفیر کرنا ہے، یعنی ان کے متعلق یہ موقف اختیار کرنا ہے کہ یہ حکمران طبقے اور ان کا بنایا ہوا پورا نظام کافرانہ ہے اور اس کو ئی مذہبی جواز یا مذہبی سند حاصل نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ نظام جن سیاسی تصورات پر مبنی ہے، ان میں سے ایک بنیادی تصور جمہوریت ہے اور جمہوریت ایک ایسا نظام ہے کہ کم سے کم موجودہ حالات میں یہ عناصر جن مقاصد کے تحت اور جس رفتار سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں، جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے اتنی تیزرفتاری سے اور اس درجے کی تبدیلیاں پیدا کرنابہرحال ممکن نہیں ہے۔ یوں یہ طبقے جمہوریت کی نفی کرنے، اس کوایک کافرانہ نظام قرار دینےاور شریعت سے متصادم قرار دینےمیں یک زبان ہیں۔
پھرپوری دنیا میں بین الاقوامی سیاسی نظام اس وقت قومی ریاست (Nation State) کےتصور پر قائم ہے۔ یعنی اس میں دنیا کے علاقوں کی اور حکومتوں کی مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی گئی، جیسا کہ ہماری کلاسیکی فکر میں کی گئی تھی کہ دنیا دارالاسلام اور دارالکفر میں تقسیم ہے۔ آج کا سیاسی نظام اس اصول پر قائم نہیں ہے۔ اس میں قومی ریاست کا تصور ہے جس میں خطہ(Territory)، جغرافیہ اور وہاں پر رہنے والی قوم(Population) کو بنیاد مانا گیا ہے اور ہر قومی ریاست کو اپنے دائرے (Jurisdiction) میں خود مختاری (Sovereignty) حاصل ہے۔ اس میں آبادی کے لحاظ سےمسلمان اور غیر مسلم دونوں طرح کی ریاستیں ہیں، لیکن مذہبی وابستگی کی بنیاد پر تمام مسلمان ایک سیاسی نظم کےتحت مجتمع نہیں ہیں۔ عسکریت پسند تحریکوں کے تصور خلافت کے مطابق یہ تمام عناصر خلاف اسلام ہیں اور وہ ریاستی حدود کی تقسیم کی بنیاد پر کیے گئے معاہدات اور نافذ کردہ قانونی پابندیوں کی بھی نفی کرتی ہیں۔ نتیجتا ان کے پاس جدوجہد کا جو طریقہ باقی رہ جاتا ہے، وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ان حکومتوں کے ساتھ اور ان سرحدات کی تقسیم پر مبنی بین الاقوامی نظام کے ساتھ براہ راست ٹکرائیں۔
گویا داخلی طور پر مسلمان حکومتوں کے ساتھ الجھنے کا یا تصادم کا طریقہ اختیار کرنا اور بین الاقوامی سطح پر معاہدات کی نفی کرنا، ان کو توڑنا ،اور بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے تصادم مول لینا، ان کے ساتھ جنگ چھیڑنا، یہ ان کا طریقہ اور حکمت عملی ہے۔ اس کے نتیجے کے حوالے سے ان حضرات کی جو توقعات ان کی گفتگوؤں سے اور ان کے لٹریچر سے سمجھ میں آتی ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ جب وہ اس بنے ہوئے نظام کو چیلنج کریں گے اور اس نظام میں انتشار ،بدامنی اور انارکی پیدا ہوگی تو اس سے ایک ماحول بنے گا جس میں اللہ تعالی کچھ ایسے تاریخی واقعات ظاہر کرے گاجن کا مذہبی پیشین گوئیوں میں تذکرہ ملتا ہے۔
مولانا مودودی اور دینی سیاسی جدوجہد کا تصور
اب اس پورے بیانیے کوسامنے رکھیں اور دیکھیں کہ مولانا مودودی نے جس دور میں غلبہ دین کی جدوجہد کا اور دین کی سیاسی حاکمیت قائم کرنے کا جو پورا لائحہ عمل پیش کیا ہے، وہ کیاہے ؟ اس تقابل سے ہمارے سامنے بالکل دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہو جائےگی کہ مولانا کی سیاسی فکر اورعسکریت پسندی کے بیانیےمیں جوہری فرق کیا ہے۔ اسی طرح عسکریت پسندی کا بیانیہ اپنا جواز کس حد تک مولانا کی مذہبی فکر سے اخذکرتا ہے، اس سوال کا بھی ہمیں جواب مل سکے گا۔ مولانا مودودی نے بہت تفصیل سے مختلف جگہوں پر اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ خاص طورپر چونکہ وہ ہندوستان کے خطے کے تھے اور یہیں انہوں نے اپنے سیاسی فکر اور جدوجہد کو منظم کیا، تو پاکستان کے تناظر میں انہوں نے سیاسی دینی جدوجہد کے کچھ اصول واضح کیے اور بعض غلط راستوں سے اجتناب کو اپنی حکمت عملی یا اپنی فکر کا بنیادی ستون قرار دیا۔
سب سے پہلےمولانا مودودی یہ واضح کرتے ہیں کہ ہم آج جس صورت حال میں اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کرنے یا حکومت الہیہ کے قیام کےلیے کام کررہے ہیں، یہ ماحول ہماری توقعات کے مطابق بنا ہوا نہیں ہے۔ یہاں پر استعمار ڈیڑھ سو سال تک مستحکم رہا ہےاور اس دور میں مسلمان معاشرے کی جو تشکیل خاص طور پر میدان سیاست میں ہوئی ہے اور اس میں جن تصورات کو فروغ ملا ہے، وہ سیکولر طرزِ سیاست ہے۔مسلمانوں نے پچھلے ایک سو سال میں اور خاص طور پر بیسویں صدی کے پہلے نصف عشرے میں جو سیاسی جدوجہد کی ہے، وہ برطانوی جمہوریت کے متعارف کردہ اصولوں کے تحت کی ہے۔ یہ سیکولر طرز سیاست تھی جس میں مسلمانوں کی جدوجہد ہندوؤں کے مقابلے میں اپنے حقوق کے تحفظ پر مرکوز رہی ہے۔ اس کے تسلسل میں جو ملک قائم ہوا ہے، خود اس کی بانی جماعت مسلم لیگ کے ہاں، یعنی جس طبقے نے اس سیاسی جدوجہد کی قیادت کی، خود اس طبقے کے ہاں بھی حکومت الہیہ یا اسلامی حکومت کا وہ تصور نہیں ہے جس کی طرف مذہبی طبقے یا مولانا مودودی دعوت دے رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسے ماحول میں ہیں جس میں سیکولرازم اور سیکولر سیاسی تصورات بہت معروف (Popular) ہوچکے ہیں اور خود مسلمانوں کے اندرجو سیاسی جدوجہد کرنے والے طبقے ہیں، وہ اس کے ساتھ بہت مانوس ہوچکے ہیں۔ ان کو دوبارہ حکومت الہیہ کے تصور کی طرف لے کر آنا، اس تصور کو دوبارہ متعارف کروانا، اس کےلیے لوگوں کو ذہنی اور قلبی طور پر قائل کرنا، ان کے سوالات اور شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا، یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور یہ بنیادی کام ہے۔ اس بنیادی مسئلے کو نظر انداز کر کے کوئی راست اقدام یا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا ، جس میں کچھ لوگ جتھہ بندی کریں ، طاقت منظم کر کے چڑھ دوڑیں اور اس کے نتیجے میں اسلامی حکومت قائم کردیں۔ سب سے پہلے تو مولانا اپنی حکمت عملی کی وضاحت میں اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ یہ معروضی صورتحال میں ممکن نہیں ہے۔1
دوسری بات وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب صورت حال یہ ہے تو ہماری حکمت عملی تین بنیادی اصولوں پر قائم ہونی چاہیے۔ جدید سیاست اور معاشرے میں اسلام کی سیاسی بالادستی ، شریعت کی حاکمیت کے قیام کےلیے جو حکمت عملی ہم منظم کریں، اس کے تین بنیادی اصول ہیں:
1. سب سے پہلے تو یہ کہ یہ کام دفعتا نہیں ہوسکتا ، ایک دم سے نہیں ہوگا۔ اس کےلیے ہمیں تدریج کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ، درجہ بہ درجہ اس مقصد کےلیے آگے بڑھنا ہوگا۔
2. دوسری بات یہ کہ ہم تمام مقاصد پر بھی بیک وقت توجہ نہیں دے سکتے ، ہمیں الاہم فالاہم کا اصول قائم کرناہوگا۔ مطلب یہ کہ ہم تمام محاذوں پر اور ہر ہر مسئلے پر بہ یک وقت جدوجہد شروع نہیں کرسکتے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ زیادہ اہم اور بنیادی چیزیں کون سی ہیں جن کو اگر پہلے حاصل کرلیا جائے توپھر ان کی بنیاد پر مزید تبدیلوں کےلیے راہ ہموار ہوگی۔ ہمیں پہلے ترجیحات متعین کرنی پڑیں گی۔
3. تیسری بڑی اہم بات جو اپنی حکمت عملی کی بنیاد کے طور پر مولانا بیان کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس پوری جدوجہد میں ہمیں خود مسلمانوں کے اندر ان عناصر کے ساتھ مزاحمت کی ایک کیفیت مسلسل درپیش رہے گی جو جدید دور میں مذہب کی بنیاد پر نظام حکومت یا نظام ریاست قائم کرنے کو زیادہ قابل عمل نہیں سمجھتے۔ یہ عناصر بھی مسلمان معاشرے کا حصہ ہیں، جدید طرزِ حکومت اور نظام میں صاحب اثر ہیں اور ان کا بڑا اثر و رسوخ ہے ، ان کے ساتھ ہمیں تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ مولانا کے ہاں بہت بنیادی نکتہ ہے کہ ان طبقوں کے ساتھ ہمیں تصادم کو بہ طورِ پالیسی اختیار نہیں کرنا، وہ ہمارے مدعو بھی ہیں اور حکمت عملی سے ہمیں سے بات کرنی ہے۔ ان کی ترجیحات کی مزاحمت بھی کرنی ہے، لیکن ان کے ساتھ تصادم کا طریقہ اختیار نہیں کرنا۔2
مولانا کے مطابق حکمت عملی ان تین بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گی۔ اس کے بعد مولانا جو ضروری اور اہم بات واضح کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ جدید دور میں آپ آئینی طرزِ جدوجہد اور قانونی انداز کو چھوڑ کر خفیہ جدوجہد کی کوشش کریں گے، خفیہ طور پر انقلاب منظم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کے نقصانات اور نتائج کیا ہوں گے۔ مولانا نے دو چیزیں اس میں بہت نمایاں کی ہیں :
1. جیسے ہی آپ اس طرزِ جدوجہد کو اختیار کریں گے تو سب سے پہلی بات یہ ہوگی کہ یہ چونکہ ایک خفیہ نظام ہوگا، عوامی نہیں ہوگا جس کا محاسبہ اور تجزیہ کیا جاسکے تو لازما یہ ڈکٹیٹر شپ کے اصول پر مبنی ہوگا۔ اس میں آمریت ہوگی، اس میں کچھ افراد ہوں گے جو فیصلے کریں گے اور ان کو پوچھ گچھ اور محاسبہ کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ وہ جس جتھے کو ایک خواب دکھا کر اپنے ساتھ جمع کرلیں گے، وہ ان کا اندھا مقلد ہوگا۔ وہ ان کو حکم دیں گے کہ کسی کی جان لے لو تو وہ جان لے لیں گے، کسی کا مال لوٹ لو تو وہ لوٹ لیں گے۔ یہ ڈکٹیٹر شپ کے تحت ایک جتھا سا بن جائے گا لیکن وہ طرزِ جدوجہد دینی اور اخلاقی و شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور اس کا محاسبہ کیا جا سکے، اس کا امکان نہیں ہوگا۔3
2. دوسرا بڑا نقصان اس کا یہ ہوگا کہ جب آپ ایک بنے ہوئے نظام میں، جس میں جمہوریت کے اصول پر آپ کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے، اپنی جدوجہد منظم کرنے کا اور کو آزادی کے ساتھ کھلے ماحول میں اپنا کام کرنے کا موقع میسر ہے، اس راستے کو چھوڑ کر نظام سے تصادم کا راستہ اختیار کریں گے تو آپ قانون شکنی کا ایک ایسا مزاج پیدا کریں گے جو بعد میں خود آپ کے سنبھالنے میں نہیں آئے گا۔ مولانا ایک بات تو یہ کہتے ہیں کہ آزادی سے کھلے بندوں کام کرنے کے مواقع ہوتے ہوئے اور جمہوری آزادی ہوتے ہوئے غیر جمہوری طریقہ اختیار کرنا شرعا ناجائز ہے۔4 یہ مولانا کا باقاعدہ اصولی موقف ہے۔ دوسرا پہلو اس نتیجے میں پیدا ہونے والے قانون شکنی کے مزاج کا ہے۔ مولانا اس کےلیے تحریک آزادی کا حوالہ دیتے ہیں کہ ہم تجربہ کرکے دیکھ چکے ہیں کہ تحریک آزادی کے دورا ن میں بعض مراحل پر جب مسلمان قائدین نے جدوجہد کےلیے آئین شکنی کو بہ طور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی، حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تو اس سے قوم کے اندر قانون شکنی کا وہ مزاج پیدا ہوا جس کو آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔5 آج بھی پُرامن اور قاعدوں اور ضابطوں کی پابند سیاست سے ہماری قوم مانوس نہیں ہے اور آج بھی غیر قانونی اور غیر آئینی راستے اختیار کرنے کو سیاست کا ایک بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
مولانا کے تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ ان طریقوں سے آپ نہ تو وہ اجتماعیت پیدا کرسکتے ہیں اور نہ وہ معاشرہ پیدا کرسکتے ہیں جس میں خدا خوفی اور حدودکی پابندی ہو اور خدا کی بتائی ہوئی حدود کے اندر جدوجہد کرنے کا جذبہ راسخ ہو۔
موجودہ بین الاقوامی نظام کی شرعی حیثیت
ایک اور بڑی اہم بات جس کو مولانا بہت زور دے کر نمایاں کرتے ہیں ، یہ ہے کہ جدید بین الاقوامی نظام میں کیے گئے باہمی معاہدات کو اخلاقی اور شرعی جواز اور سند حاصل ہے۔ یعنی عسکری تنظیموں کے بیانیے کے بالکل برعکس جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام مغربی قوتوں نے فریب ، جبر ، طاقت کے زور پر مسلط کیا ہوا ہے اوریہ مسلمانوں کو یا اسلام کے غلبے کو روکنے کا ایک طریقہ ہے ، اس لیے اس کو نہیں ماننا چاہیے ، مولانا مودودی کہتے ہیں کہ موجودہ بین الاقوامی نظام، ا س میں مانا گیا قومی ریاستوں کا تصور اور ایک ریاست کو دوسری ریاست کے معاملات میں دخل دینے سے روکنے اور اسے ناجائز قرار دینے کا جو اصول قائم کیا گیا ہے، یہ سب بین الاقوامی معاہدات ہیں اور ان معاہدات کی پابندی مسلمانوں کےلیے صرف مصلحت کے طو رپر نہیں، یعنی صرف مفاد پرستی کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ شرعی اور اخلاقی طور پر بھی لازم ہے۔6 اس بنیاد پر مولانا کے موقف کے مطابق قومی ریاستیں خلافت کے تصور کے منافی نہیں ہیں۔ یہ بہت ہی اہم فرق ہے کہ عسکریت پسند عناصر اور گروہوں کے تصور خلافت کے مطابق قومی ریاستوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جبکہ مولانا اس کے برعکس یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی الگ الگ ریاستیں ہوں، ان کے الگ الگ نظم اجتماعی ہوں، مختلف قومیں مختلف خطوں میں اپنے حق خود ارادی کو استعمال کررہے ہوں تو یہ اس سے مانع نہیں ہے کہ وہ مشترک سیاسی مفادات کی سطح پر، بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی سطح پر ، خود کو ایک ایسے مربوط سلسلے میں منظم کرلیں جس کو ہم خلافت کے تصور کا متبادل قرار دے سکیں۔ مولانا خلافت کے قیام کےلیے اس کو لازم نہیں سمجھتے کہ قومی ریاستوں کو ختم کیا جائے، بلکہ ان کا تصور یہ ہے کہ دونوں میں باہمی مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے۔ قومی ریاستیں ہوتے ہوئے خلافت کا ایک ماڈل تشکیل دیا جاسکتا ہے۔7 مولانا بین الاقوامی معاہدات کی نفی کرنے اور ان کی خلاف ورزی کو درست نہیں سمجھتے بلکہ میرے علم کی حد تک اسلامی روایت میں شاید وہ پہلے عالم ہیں، جنھوں نے سورۃ انفال کی درج ذیل آیت کی ایسی تشریح کی ہے جو بہت ہی برمحل ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْا اُولٰٓئِكَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُھَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (الانفال ۹:۷۲)
[جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگرہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آنہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کےمعاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھتا ہے۔]
اس آیت سے جدید بین الاقوامی قانون اور بندوبست کی تائید میں مولانا یہ نکتہ اخذ کرتے ہیں کہ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام مسلمانوں پر ایسی کوئی بین الاقوامی سیاسی ذمہ داری نہیں ڈالتا جس کے نتیجے میں وہ دوسری قوموں یا دوسرے ممالک میں مقیم مسلمانوں کو تحفظ دینے یا ان کے حقوق اور آزادیوں کو یقینی بنانے کےلیے دخل دینے کے پابند ہوں، کیونکہ اس سے اتنی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ بین الاقوامی معاملات اور تعلقات کو ایک مستحکم نہج پر استوار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ مولانا اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ قرآن نے یہ ہدایت دے کر مسلمانوں کو بہت سی ایسی پیچیدگیوں سے بچایا ہے جن کا اگر لحاظ نہ رکھا جائے تو بین الاقوامی تعلقات ہمیشہ ایک خلفشار کا منظر پیش کرتے رہیں گے۔8 مولانا بین الاقوامی معاہدات کی پابندی کی بہت اہمیت بیان کرتے ہیں، اور پاکستان کی تاریخ میں دو مواقع پرانہوں نے اسی تصور کے تحت جو مذہبی موقف اختیار کیا، وہ ہمیں ان کا نقطۂ نظر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- 1948ء میں کشمیر میں وہاں کے مقامی مسلمانوں نے اپنے طور پر جہاد شروع کر دیا اور یہاں کے بعض سرحدی قبائل بھی اس میں شریک ہونے لگے ، لیکن حکومت پاکستان نے اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اس ابہام کی کیفیت میں مولانا مودودی سے یہ سوال ہوا کہ کیا ہم اس جہاد میں کشمیریوں کی مدد کرسکتے ہیں، یعنی کیا وہاں لوگوں کو لڑنے کےلیے بھیج سکتے ہیں،یا ان کی مادی امداد کی جو دوسری صورتیں ہیں، وہ اختیار کرسکتے ہیں جب کہ ہماری حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا؟ مولانا نے اس پر جو موقف اختیار کیا ، اس پر ان کے اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے درمیان ایک مراسلت بھی ہوئی۔ مولانا کا موقف یہ تھا کہ بین الاقوامی معاملات میں ایک ملک یا ریاست میں رہنے والے مسلمان اپنی حکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں کے پابندہیں۔ اگر حکومت یہ فیصلہ کرلے کہ اسے اس معاملے میں کشمیریوں کی مدد کرنی ہے تو وہ حکومت کا فیصلہ ہوگا اور پھر عام مسلمان بھی اپنی توفیق اور استطاعت کے مطابق اس میں حصہ لے سکیں گے۔ لیکن اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ہم اس جنگ میں شریک نہیں ہیں اور حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم رکھے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملک برسر جنگ نہیں ہیں۔ ایسی کیفیت میں حکومت طرف سے جنگ کے اعلان کے بغیر، ہمارے لیے اخلاقی طور پر تو کشمیریوں کی مدد کرنا درست ہے ، لیکن اگر ہم عملا اس میں شریک ہوں گے تو یہ معاہدات کی خلاف ورزی کے تحت آتا ہے اور ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔9
- اسی طرح 1979ء میں جب افغانستان میں روسی افواج کی آمد کا عمل شروع ہوا تو ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا کہ حکومت پاکستان کا فیصلہ کیا ہے۔ تب بھی یہ سوال مولانا کے سامنے آیا اور مولانا نے اس موقع پر یہی جواب دیا کہ ہمارے لیے یہی بہتر ہے کہ ہم حکومتی پالیسی کا انتظار کریں۔ اگر حکومت ایک پالیسی طے کرلیں کہ وہ اس جہاد میں فریق ہے اور افغان کے مسلمانوں کا ساتھ دے رہی ہے تو پھر ہمارے لیے اس میں شریک ہونا درست ہوگا ، لیکن اگر حکومت اپنا علانیہ موقف یہ طے کرے کہ ہم اس جنگ میں شریک اور فریق نہیں ہیں تو پھر ہمارے لیے حکومتی پالیسی کے علی الرغم اور اس کے خلاف کسی جہاد میں شرکت کرنا درست نہیں ہوگا۔10
خلاصہ کلام
ان چند نکات سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ غلبہ دین کی اور اسلام کی سیاسی حاکمیت کے قیام کی جدوجہد کا جو انداز اور حکمت عملی مولانا مودودی کے ذہن میں ہے ، وہ قطعی طور پر اس بیانیے اور طرزِ جدوجہد سے مختلف ہے جو کہ عسکریت پسندوں کی پہچان ہے۔ اسلام کو ایک سیاسی قوت حاصل ہو ، غلبہ حاصل ہو ، شریعت کی حاکمیت قائم ہو ، مسلمان بین الاقومی سطح پر ایک اجتماعی سیاسی کردار ادا کریں ، یہ پوری اسلامی تاریخ کا مانا ہوا مسلمہ ہے۔ اس میں کوئی چیز نئی نہیں ہے۔ یہ بات جو بھی کہتے ہیں، چاہے وہ عسکریت پسندی کے نمائندے ہوں یا سیاسی اسلام کے نمائندے ہوں ، وہ کوئی نئی بات نہیں کر رہے۔ یہ پوری اسلامی روایت کا ایک مانا ہوا تصور ہے۔ اصل چیز جو جدید دور کے تناظر میں فرق قائم کرتی ہے ، وہ یہ ہے کہ ہم جدید دور میں آنے والی تبدیلیوں کو،موجودہ بین الاقوامی نظام کو ، قومی ریاستوں کے تصور کو اور جمہوریت کے تصور کو کیسے دیکھتے ہیں۔ آیا ہم ان تصورات کو اپنے نظام فکر میں قابل قبول بناتے ہیں اور ان کی موافقت کے ساتھ ایک لائحہ عمل بناتے ہیں یا ان کو کلیتا رد کر دیتے ہیں، یہاں سے فرق واقع ہوتا ہے۔ مولانا مودودی اور ان سےفکری ہم آہنگی رکھنے والے دوسرے اہل دانش بالکل الگ کیمپ میں کھڑے ہیں جو ان تمام تبدیلیوں کو قبول کرتے ہیں اور ان کو ایک اخلاقی اور شرعی جواز فراہم کرتے ہیں۔ وہ ان کی پابندی کو ایک بنیادی اصول کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج پر متنبہ کرتے ہیں۔ عسکری تنظیمیں ان تمام نکات اور تصورات میں مولانا کے نقطۂ نظر سے بالکل مختلف بات کہتی ہیں۔ اصل چیز جس سے ہمیں فرق کو سمجھنا چاہیے ، وہ اس حوالے سے ہے کہ جدید دور کی تبدیلیوں کے بارے میں کس کا نقطۂ نظر کیا ہے اور کوئی گروہ جو حکمت عملی یا جدوجہد کا جو لائحہ عمل بناتا ہے، کیا وہ ان تبدیلیوں کو پیش نظر رکھتا ہے یا ان کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا کی فکر اور ان کے بتائے ہوئے راہ نما اصول کسی بھی لحاظ سے اور کسی ایک نکتے پر بھی عسکری بیانیے کی تائید نہیں کرتے بلکہ پوری قوت کے ساتھ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
یہ چند معروضات آپ کے سامنے پیش کی گئیں جن میں ایک تاریخی پس منظر میں بات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم نے واضح کیا کہ سیاسی اسلام کیا ہے اور اس اصطلاح کے وجود میں آنے کا پس منظر کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ اصطلاح مغربی تناظر میں تو قابل فہم ہے لیکن ہمارے اپنے تاریخی تناظر میں اس اصطلاح کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ تاریخ میں اسلام کا کوئی تصور ایسا نہیں رہا جو سیاسی نہ ہو، پوری اسلامی روایت سیاسی اسلام کے تصور پر کھڑی ہے۔ سیاسی اسلام ہماری روایت میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔فرق جہاں سے واقع ہوتا ہے ، وہ یہ سوال ہے کہ جدید دور میں اسلام کی سیاسی حاکمیت کی جدوجہد کو منظم کرنے کی اساسات اور اصول کیا ہوں گے۔ اس سوال کے تعلق سے ہمیں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ملتی جو مولانا مودودی کی مذہبی فکر میں اور عسکری بیانیوں میں مشترک پائی جاتی ہو۔اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ان دونوں بیانیوں کا آپس میں تعلق جوڑنا اور انھیں ایک سمجھنا ایک سطحی تجزیہ ہے۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ دو بالکل الگ بیانیے ہیں۔
حواشی
- ”مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کا طریق فکر“، مرتب: محمد ریاض درانی، جمعیۃ پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۱، ص ۱۰۸، ۱۰۹، و ص ۱۱۶، ۱۱۷۔
- ”تفہیم الاحادیث“، مرتب: وکیل احمد علوی، ادارہ معارف اسلامی، لاہور، ص ۴۵۴، ۴۵۵۔
- ”تصریحات“، مرتب: سلیم منصور خالد، البدر پبلی کیشنز لاہور، ص۲۵۷، ۲۵۸۔
- ”تصریحات“،ص ۹۲۔
- ”تصریحات“،ص ۲۵۷، ۲۵۸۔
- سورۃ الانفال کی آیت ۷۲ کی تفسیر میں مولانا لکھتے ہیں: " میثاق ہر اس چیز کو کہیں گے جس کی بنا پر کوئی قوم بطریق معروف یہ اعتماد کرنے میں حق بجانب ہو کہ ہمارے اور اس کے درمیان جنگ نہیں ہے، قطع نظر اس سے کہ ہمارا اس کے ساتھ صریح طور پر عدم محاربہ کا عہد و پیمان ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ پھر آیت میں بینکم و بینھم میثاق کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں، یعنی ”تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو“۔ اس سے یہ صاف مترشح ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی حکومت نے جو معاہدانہ تعلقات کسی غیر مسلم حکومت سے قائم کیے ہوں وہ صرف دو حکومتوں کے تعلقات ہی نہیں ہیں بلکہ دو قوموں کے تعلقات بھی ہیں اور ان کی اخلاق ذمہ داریوں میں مسلمان حکومت کے ساتھ مسلمان قوم اور اس کے افراد بھی شریک ہیں۔ اسلامی شریعت اس بات کو قطعاً جائز نہیں رکھتی کہ مسلم حکومت جو معاملات کسی ملک یا قوم سے طے کرے ان کی اخلاقی ذمہ داریوں سے مسلمان قوم یا اس کے افراد سبک دوش رہیں۔ البتہ حکومت دارالاسلام کے معاہدات کی پابندیاں صرف ان مسلمانوں پر ہی عائد ہوں گی جو اس حکومت کے دائرہ عمل میں رہتے ہوں اس دائرے سے باہر دنیا کے باقی مسلمان کسی طرح بھی ان ذمہ داریوں میں شریک نہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیبیہ میں جو صلح نبی ﷺ نے کفار مکہ سے کی تھی اس کی بنا پر کوئی پابندی حضرت ابوبصیر اور ابوجندل اور ان دوسرے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوئی جو دارالاسلام کی رعایا نہ تھے۔"
- خلافت وملوکیت، ص ۶۵
- تفہیم القرآن ۲/۱۶۱، ۲۶۱
- تصریحات، ص ۴۷٠
- تصریحات ص ۴۵۷، ۴۵۸
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۲)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(280) خاطؤون کا ترجمہ
خطأ کے معنی غلطی کے ہوتے ہیں، ایک فیصلے اور تدبیر کی غلطی ہوتی ہے جسے چوک کہا جاتا ہے۔ اور ایک گناہ اور جرم والی غلطی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں چوک ہوجانے کے لیے باب افعال سے أخطأ آیا ہے۔ جیسے وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیمَا أَخْطَأْتُم بِہِ وَلَٰکِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُکُمْ (الاحزاب: 5) ”تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں“۔(محمد جوناگڑھی)
قرآن مجید میں لفظ خطأ ثلاثی مجرد سے اسم فاعل جمع مذکر کی صورت میں پانچ جگہ آیا ہے۔ چار جگہ لوگوں نے خطاکار اور گناہ گار ترجمہ کیا ہے، جب کہ پانچویں جگہ پر کئی لوگوں نے چوک ہوجانے کا ترجمہ کیا ہے۔
(۱) لَا یَأْکُلُہُ إِلَّا الْخَاطِؤُونَ۔ (الحاقۃ: 37)
”جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”یہ کھانا صرف گناہ گار ہی کھائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار“۔ (احمد رضا خان)
(۲) وَاسْتَغْفِرِی لِذَنبِکِ إِنَّکِ کُنتِ مِنَ الْخَاطِئِینَ۔ (یوسف: 29)
”تو اپنے گناہ سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی“۔ (سید مودودی)
”اور تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بے شک تو ہی خطاکار ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
آخری دونوں ترجموں میں تو ہی کے بجائے صرف تو ہونا چاہیے کیوں کہ یہاں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے۔
(۳) قَالُوا تَاللَّہِ لَقَدْ آثَرَکَ اللَّہُ عَلَیْنَا وَإِن کُنَّا لَخَاطِئینَ۔ (یوسف: 91)
”وہ بولے خدا کی قسم، اللہ نے آپ کو ہم پر برتری بخشی اور بے شک ہم ہی غلطی پر تھے“۔ (امین احسن اصلاحی، ہم ہوگا ہم ہی نہیں۔ یہاں حصر کی نہ علامت ہے نہ اس کا محل ہے، ہم ہی سے تو یہ اشارہ نکلتا ہے کہ لوگ کسی اور کو غلطی پر سمجھ رہے تھے۔)
(۴) قَالُوا یَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئینَ۔ (یوسف: 97)
”انھوں نے درخواست کی کہ ہمارے باپ، ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے، بے شک ہم ہی قصور وار ہوئے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں بھی ہم ہی کے بجائے ہم ہونا چاہیے۔)
”سب بول اٹھے، ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے“۔ (سید مودودی)
(۵) فَالْتَقَطَہُ آلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُونَ لَہُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُودَہُمَا کَانُوا خَاطِئینَ۔ (القصص: 8)
”آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے“۔ (سید مودودی)
”بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوکنے والے تھے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”بے شک فرعون وہامان اور ان کے لشکر سے بڑی چوک ہوئی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بے شک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (اس بارے میں) بہت چوکے“۔ (اشرف علی تھانوی)
یہاں خَاطِئینَ کا مطلب اپنی تدبیر میں غلط کار ہونا یا چوک جانا نہیں ہے۔ موسی علیہ السلام کو دریا سے نکالنے والے فرعون کے اہل خانہ تھے، اس میں ہامان اور فرعون وہامان کے لشکر کا کوئی کردار تھا ہی نہیں۔ اور پھر بچے کو دریا سے نکال کر پال لینے میں چوک کی بات کیا ہے۔ دراصل یہاں خَاطِئینَ گناہ گاروں کے معنی میں ہے۔ اور بتایا یہ جارہا ہے کہ یہ سب گناہ گار تھے اور ان گناہ گاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اللہ کی طرف سے ایسا انتظام ہوا کہ فرعون کے گھر والوں نے موسی کو اٹھا کر پالا پوسا اور پھر وہی موسی ان سب کے دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے۔ اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کیوں کہ وہ سب گناہوں میں لت پت تھے۔
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
”بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے“۔ (احمد رضا خان)
(281) عَلَا فِی الْأَرْضِ
(۱) إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْأَرْضِ۔ (القصص: 4)
”واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی“۔ (سید مودودی)
”بے شک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا“۔ (احمد رضا خان)
پہلا ترجمہ درست ہے دوسرا درست نہیں ہے، کیوں کہ عَلَا فِی الْأَرْضِ غلبہ پانے کے لیے نہیں بلکہ زمین میں سرکشی کرنے کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں اس تعبیر کے دیگر استعمالات سے یہ مفہوم اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ فرعون ہی کے بارے میں دوسری جگہ یہ تعبیر اختیار کی گئی تو اس کا ترجمہ غلبہ پانا نہیں کیا گیا:
(۲) وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْأَرْضِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الْمُسْرِفِینَ۔ (یونس: 83)
”اور بے شک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بے شک وہ حد سے گزر گیا“۔ (احمد رضا خان)
اسی طرح درج ذیل آیت میں بھی غلبہ پانے کا ترجمہ نہیں کیا گیا:
(۳) تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا۔ (القصص: 83)
اس آیت میں علو فی الارض کا ترجمہ ظلم اور تکبر وغیرہ کیا گیا ہے، غلبہ پانا اس کا ترجمہ نہیں ہوسکتا ہے۔
(282) شِیَعًا
شیعا جمع ہے، اس کا واحد شیعۃ ہے، اس کے متعدد معانی میں تابع کا معنی بھی ملتا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ یعنی شیعا کئی جگہ آیا ہے اور عام طور سے فرقوں کے معنی میں آیا ہے، پہلی تین آیتوں کے ترجمے دیکھیں:
(۱) أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا۔ (الانعام: 65)
”یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے“۔ (احمد رضا خان)
(۲) إِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُمْ وَکَانُوا شِیَعًا۔ (الانعام: 159)
”وہ جنہوں نے اپنے دین میں جُدا جُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے“۔ (احمد رضا خان)
(۳) مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُمْ وَکَانُوا شِیَعًا۔ (الروم: 32)
”ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہوگئے گروہ گروہ“۔ (احمد رضا خان)
درج ذیل چوتھی آیت کے ترجمے میں بعض لوگوں سے غلطی ہوئی:
(۴) وَجَعَلَ أَہْلَہَا شِیَعًا۔ (القصص: 4)
”اور کر رکھے تھے وہاں کے لوگوں کے کئی جتھے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا“۔ (سید مودودی)
”اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا“ (احمد رضا خان)
یہاں آخری ترجمہ درست نہیں ہے۔اول الذکر تینوں مقامات پر شیعا کا ترجمہ گروہ کرکے چوتھی آیت میں اس کا ترجمہ تابع کردیا۔ حالاں کہ یہاں بھی گروہ گروہ بنادینا درست ترجمہ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر تابع کا معنی ہوتا تو شیعا نہیں بلکہ شیعۃ (واحد کا صیغہ) آتا اور اس کی اضافت اس کی طرف ہوتی یعنی شیعتہ ہوتا۔فیروزابادی لکھتے ہیں: شیعۃ الرجل أتباعہ وأنصارہ، والفرقۃ علی حدۃ۔ (القاموس المحیط)
(283) استضعاف
استضعاف ضعف سے ہے، اس کا مطلب ہے کم زور بنانا، دبا کر رکھنا۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کہیں کہیں ذلیل کرنا کیا ہے، لیکن انھوں نے ہی دوسرے مقام پر کم زور کرنا بھی کیا ہے۔ اس لفظ میں ذلیل کرنے کا مفہوم نہیں ہے۔
(۱) یَسْتَضْعِفُ طَائِفَۃً مِّنْہُمْ۔ (القصص: 4)
”ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا“۔ (سید مودودی)
”ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا“۔ (احمد رضا خان، کم زور دیکھنا نہیں بلکہ کم زور بنانا درست ترجمہ ہے، جیسا کہ دوسرے مقامات پر کیا ہے۔)
(۲) وَنُرِیدُ أَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ۔ (القصص: 5)
”اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے“۔ (سید مودودی)
”پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کر دیا گیا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۳) وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِی بَارَکْنَا فِیہَا۔ (الاعراف: 137)
”اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا“۔ (سید مودودی)
”اور ہم نے اس قوم کو جو دبا لی گئی تھی اس زمین کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی“۔ (احمد رضا خان)
(284) وَیَسْتَحْیِی نِسَاءَہُمْ
فرعون اور اس کی قوم کے سلسلے میں جگہ جگہ یہ آیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتے اور عورتوں کو قتل نہیں کرتے۔ اس کے لیے استحیاء کا لفظ آیا ہے۔ استحیاء کا مطلب زندہ رہنے دینا ہے، نہ کہ زندہ رکھنا۔ ظاہر ہے زندہ رکھنا تو ان کے بس میں نہیں ہے اور ان آیتوں میں وہ مفہوم مقصود بھی نہیں ہے۔ مقصود تو یہی ہے کہ وہ عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے، بلکہ زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل آیتوں کے مختلف ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
(۱) یُذَبِّحُ أَبْنَاءَہُمْ وَیَسْتَحْیِی نِسَاءَہُمْ۔ (القصص: 4)
”ان کے بیٹوں کو ذبح کر چھوڑتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا“۔ (احمد رضا خان)
”اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۲) یُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ۔ (البقرۃ: 49)
”تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے“۔ (احمد رضا خان)
”تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۳) یُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ۔ (الاعراف: 141)
”تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے“۔ (احمد رضا خان)
(۴) وَیُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ۔ (إبراہیم: 6)
”اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے“۔ (احمد رضا خان)
”تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۵) قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ وَاسْتَحْیُوا نِسَاءَہُمْ۔ (غافر: 25)
”اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو“۔ (احمد رضا خان)
”تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو“۔ (فتح محمد جالندھری)
مطالعہ جامع ترمذی (۶)
(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: حضرت عائشہ سے روایت آتی ہے کہ آپ ﷺ کی وفات سے پہلے تمام عورتیں آپ کے لیے حلال کر دی گئی تھیں۔ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ الاحزاب، حدیث نمبر ۳۲۱۶) قرآنِ حکیم میں ایک مقام پر آپ ﷺ کو منع کیا گیا ہے کہ اب آپ مزید کسی سے شادی نہیں کر سکتے، چاہے کوئی عورت آپ کو کتنی ہی بھا جائے۔ کیا اس روایت میں اس پابندی کو ختم کرنے کا ذکر ہے؟
عمار ناصر: یہ کافی غور طلب روایت ہے۔ سورہ احزاب میں لا یحل لک النساء من بعد (آیت ۵۲) کے جو الفاظ ہیں، ان کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پچھلی آیت میں خواتین کی جن تین چار قسموں سے نکاح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال ٹھہرایا گیا ہے، ان کے علاوہ آپ کسی سے نکاح نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ کسی بھی خاتون سے نکاح نہیں کر سکتے۔ اب حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ وفات سے پہلے آپ کے لیے خواتین حلال کر دی گئی تھیں، اگر اس آیت کے حوالے سے ہے تو مطلب یہ بنتا ہے کہ وفات سے پہلے آپ سے یہ پابندی ہٹا لی گئی تھی۔ اگر یہ مراد ہے تو اس کی تائید بظاہر کسی اور روایت سے نہیں ملتی، نہ ہی قرآن میں اس پابندی کے اٹھائے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات کہنا چاہ رہی ہیں تو کم سے کم روایت کے الفاظ میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔
مطیع سید: آپﷺ کی کتنی ازواج تھیں جب یہ آیت نازل ہوئی؟
عمار ناصر: حضرت زینب بنت جحش کا نکاح پانچ ہجری کا واقعہ سمجھاجاتا ہے۔ اس وقت حضرت سودہ، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ امہات المومنین میں شامل تھیں، جبکہ حضرت خدیجہ کا مکہ میں اور حضرت زینب بنت خزیمہ کا مدینہ میں انتقال ہو چکا تھا۔باقی ازواج حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت جویریہ اور حضرت میمونہ اس آیت کے بعد نکاح میں آئیں۔
مطیع سید: کیا حضرت ابن ِ عباس قائل تھے کہ آپ ﷺنے اللہ کو دیکھاہے ؟ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ النجم، حدیث نمبر ۳۲۷۸)
عمار ناصر: روایت سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ اسی لیے حضرت عائشہ کو اس بات کی نفی کرنی پڑی اور انھوں نے بتایا کہ سورۃ النجم میں اللہ تعالیٰ کو نہیں، بلکہ حضرت جبریل کو دیکھنے کا ذکر ہے۔
مطیع سید: آپﷺ نے جب ایک ماہ کے لیے اپنی ازواج کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی تو حضرت عمر فاروق کو پتہ چلا اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے۔ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ التحریم، حدیث نمبر ۳۳۱۸) یہ کب کا واقعہ ہے؟ کیاایک ماہ پوراہو چکا تھا تب حضرت عمر کو پتہ چلا ؟حالانکہ وہ اور ان کے انصاری بھائی تو ایک دن چھوڑ کر ایک دن باری باری آپ کی خدمت میں حاضری دیتے تھے۔
عمار ناصر: نہیں، ایک ماہ پورا ہونے کے بعد نہیں،بلکہ جیسےہی آپ ﷺ یہ فیصلہ کرکے ازواج سے الگ ہو گئے، اس کے متصل بعد کا واقعہ ہے۔
مطیع سید: کیا کسی دوسری جگہ جا کر رہنے سے ایک دن میں ہی لوگوں کو یہ محسوس ہو گیا کہ آپﷺ ازواج سے الگ ہو گئے ہیں ؟ اور یہ لوگوں نے کیسے اندازہ کر لیا کہ آپ نے طلاق دے دی ہے؟
عمار ناصر: ظاہر ہے، آپ کا کسی دوسری جگہ رہائش کو منتقل کر لینا ایک خلاف معمول واقعہ تھا اور آپ نے اس کا اظہار نہ بھی کیا ہو تو گھر میں آنے جانے والی خواتین کے ذریعے سے ایسی بات پھیل ہی جاتی ہے۔ البتہ بالکل صحیح صورت حال لوگوں کو معلوم نہیں تھی۔ یہ آپ ﷺکے گھر کا اندرونی معاملہ تھا۔آپ لوگوں کے سامنے صورت حال کی پوری وضاحت کر کے تو نہیں الگ ہوئے تھے۔ گھر کے ماحول میں ایک بات ہوئی،اس کے بعدآپﷺدوسری جگہ منتقل ہوگئے۔لوگوں کو سن گن ملی اور انہوں نے قیاس کر لیا کہ شاید آپ نے ازواج کو طلاق دے دی ہے۔
مطیع سید: یہ شقِ صدر کا جو واقعہ نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا (کتاب التفسیر، ومن سورۃ الم نشرح، حدیث نمبر ۳۳۴۶)، اس سے کیا مقصد تھا؟ کیا اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی پیغام دینا چاہ رہے تھے ؟ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنی تجلی سے ہی آپ کے دل کو نور سے بھر سکتے تھے۔
عمار ناصر: یہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان کے معاملات ہیں،وہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے، اس واقعے کی مدد سے نبوت کی ابتدائی علامات کو لوگوں پر ظاہر کرنا مقصود ہو۔
مطیع سید: نبوت سے پہلے شام کے ایک سفر میں بحیرا راہب سے ملاقات والے قصے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ درست نہیں ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ترمذی کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ کو حضرت ابو طالب نے حضرت بلال کے ہمراہ واپس بھیج دیا۔ (کتاب المناقب، باب ما جاء فی بدء نبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر ۳۶۲۰) اس وقت تو بلال ابھی پیدابھی نہیں ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ روایت حسن غریب ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اتنی بات راوی نے بڑھا دی ہوگی،لیکن باقی واقعہ ٹھیک ہے۔
عمار ناصر: حضرت بلال اس واقعے میں موجود تھے یا نہیں، اس کی تو تاریخی طور پر تحقیق ہو سکتی ہے۔ البتہ بحیرا راہب سے ملاقات کا واقعہ ہمارے پرانے سیرت نگاروں کے ہاں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔ جدید سیرت نگاروں کے ہاں یہ مسئلہ بن گیا ہے، اس لیے کہ مستشرقین نے اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ محمد ﷺ نے ان راہبوں سے دینی علم سیکھا تھا۔ اس کے رد عمل میں یہ رجحان پیدا ہوا کہ واقعے کا انکار کر کے اس دلیل کو جڑ سے ہی ختم کر دیں۔
مطیع سید: آپ ﷺنے عمر بن ہشام (ا بوجہل ) اور عمر بن خطاب کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ، ان میں سے ایک ہمیں عطا فرما۔ (کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، حدیث نمبر ۳۶۸۱) دونوں کے لیے کیوں نہیں دعا فرمائی، ایک ہی کو کیوں مانگا ؟
عمار ناصر: دیکھیں دعا کا زوایہ اگر کسی خاص فرد کی طلب ہدایت ہے توپھر یہ سوال بنتا ہے کہ آپﷺ کو دونوں کی ہی ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے تھی۔لیکن اگر دعا کازاویہ اسلام کی ضرورت ہے کہ اسلام کو تقویت ملے اور اس کے لیے اس طرح کا ایک اثر ورسوخ والا بندہ چاہیے تو پھر بات ذرا مختلف ہو جاتی ہے۔یہاں اصل میں کسی فرد کی ہدایت کے حوالے سے دعا نہیں ہے۔ اس میں الفاظ ہیں کہ اللھم اعز الاسلام۔یا اللہ،ان دونوں میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے، اس کے ذریعے اسلام کو قوت دے۔ ظاہرہے، زاویہ بدلنے سے بات بدل جاتی ہے۔
مطیع سید: نبی ﷺکے سامنے بچیاں دف بجا کر گانا گا رہی تھیں۔حضرت عمر وہاں آئے تو اسے شیطانی عمل قرار دے کر انھیں روک دیا، اور نبی ﷺ نے بھی یہ کہہ کر اس کو تقویت دی کہ شیطان عمر سے ڈرتا ہے، حالانکہ اس سےپہلے آپﷺ نے خود ان بچیوں کو اجازت دی تھی۔ (کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، حدیث نمبر ۳۶۹۰)
عمار ناصر: حضرت عمر کے مزاج میں سختی تھی اور انھوں نے اس کو ناپسند کیا کہ لہو قسم کی کوئی چیز خاص طورپر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں کی جا رہی ہو۔ اسی کو انھوں نے شیطانی عمل سے تعبیر کر دیا، حالانکہ فی نفسہ یہ ایک مباح امر تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اباحت کے پیش نظر گانے والیوں کو نہیں روکا تھا۔
مطیع سید: کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ ﷺنے کسی صحابی کو دعا دی اور وہ قبول نہیں ہوئی ؟ مثلاحضرت امیر معاویہ کے بارےمیں دو روایتیں امام ترمذی لائے ہیں۔ ان میں سے ایک میں ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ان کے لیے دعافرمائی کہ یا اللہ ان کو ہادی و مہدی بنا۔(کتاب المناقب، باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان، حدیث نمبر ۳۸۴۲) لیکن حضرت امیر معاویہ میں ہادی و مہدی ہونا ہمیں نظر نہیں آتا۔ ان کی وجہ سے امت کو کافی نقصا ن بھی ہوا (اللہ ان کو معاف فرمائے )۔تو ان کا ہادی اور مہدی ہونا کس حوالے سے تھا ؟
عمار ناصر: جو جنگیں صحابہ کی آپس میں ہوئی ہیں، ان میں دین کی جو بنیادی چیز ہدایت ہے،اس حوالے سے ان میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نہج البلاغۃ وغیرہ میں یہی اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ان سے کوئی دین کا اختلاف نہیں ہے۔ان کا رب بھی وہی ہے، ہمارا بھی وہی ہے۔ ہم ان سے ایمان کے حوالےسے کوئی تقاضا نہیں کرتے۔ ہاں، سیدنا ِ عثمان کے قتل کی ذمہ داری کے متعلق یہ جھگڑا پیداہو ا ہے۔ اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم شریک ہیں، درآں حالیکہ ہم اس سےبری ہیں۔ تو مشاجرات کا معاملہ میرا خیال نہیں کہ اس روایت کے منافی ہے۔ حضرت معاویہ اس مفہوم میں ہادی ہیں کہ مسلمانوں کے بڑے پیشواوں میں سے ہیں اور اپنی شخصیت،علم اور کردار کے لحاظ سے دینی راہ نمائی کے منصب پر فائز ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے دور ِحکومت میں بھی مسلمانوں کی سربلندی کے لیے غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے ہیں۔ان کے دورمیں آپ کو کوئی چیز پھڑکتی دکھائی نہیں دیتی۔امن بھی ہے، سکو ن بھی ہے، انتظام بھی مستحکم ہے اور بہت سے علاقے بھی فتح ہوئے ہیں۔
مطیع سید: حضرت عباس نے آنحضرت ﷺ کو قریش کی شکایت کی تھی کہ یہ لوگ آپس میں تو خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن ہم سے ملتے ہوئے ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ آپ ﷺ بھی اس پر ناراض ہوئے۔(کتاب المناقب، باب مناقب ابی الفضل عم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر ۳۷۵۸) کیا وجہ تھی، لوگ ایسا کیوں کرتے تھے؟
عمار ناصر: قریش کے خاندانوں میں آپس میں ایک رقابت تو موجود تھی۔ اسلام کے بعد وہ اس پہلو سے کچھ بڑھ گئی ہو تو کوئی بعید بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاندانی نسبت کی وجہ سے بنو ہاشم کو اب ایک امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگوں کے رویے میں اس کا اظہار نمایاں تھا۔ غالبا اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف مواقع پر اور خصوصا حجۃ الوداع کے خطبے میں اپنے اہل بیت کے ساتھ اچھے برتاو اور ان کی نسبت کا لحاظ کرنے کی تلقین کرنی پڑی۔
مطیع سید: کیا حضرت عباس فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے ؟
عمار ناصر: جی، اظہار فتح مکہ کے موقع پر ہی کیا تھا، البتہ روایات میں اس کا ذکر ملتا ہےکہ وہ درون خانہ اسلام پہلے سے قبول کر چکے تھے، لیکن مصلحتا اس کا اخفاء کرتے تھے۔
مطیع سید: تو کیا یہ کفار کی طرف سے لڑنے کے لیے آتے رہے ہیں ؟
عمار ناصر: بالکل۔ جنگِ بدر میں آئے تھے اور گرفتار بھی ہوئے۔آپ ﷺ نے پہلے ہی صحابہ کو فرما دیا تھاکہ یہ لوگ اپنی قوم کے دباؤ کی وجہ سے آگئے ہیں، اس لیے دوران جنگ میں انھیں نقصان نہ پہنچایا جائے۔پھر کسی مرحلے پر وہ مسلمان بھی ہو گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر ابو سفیان کی جان بچانے والی حضرت عباس ہی تھے۔ اگر وہ ابو سفیا ن کو حضرت عمر سے بچا کر کھینچتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ لے جاتے تو شاید حضرت عمر کے ہاتھوں ابو سفیان کا کام تمام ہو جاتا۔
مطیع سید: کیا ان لوگوں میں ابو سفیان کا نام نہیں تھا جن کو قتل کر دینے کا حکم فتح مکہ کے موقع پر دیا گیا تھا؟
عمار ناصر: نہیں، ان کا نام نہیں تھا، لیکن حضرت عمر کو خاص طور پر ائمۃ الکفر کی تلاش رہتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت ابھی حرم سے باہر ہی ٹھہرے ہوئے تھے جب حضرت عباس، ابو سفیان کو لے کر آپ کے پاس گئے۔
مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا یا اس کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے،اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔(کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل من رای النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصحبہ، حدیث نمبر ۳۸۵۸) یہ بڑی عجیب سی بات لگتی ہے۔
عمار ناصر: یہ بات میرے خیال میں عموم پر نہیں ہے، کچھ شرائط کے ساتھ ہو گی اور کسی خاص سیاق میں یہ بات کہی جا رہی ہوگی۔ اس طرح کی روایتیں جو اس طرح کے اشکال پیداکرتی ہیں، ان میں عموما ایسا ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، رسول اللہ ﷺ تو یہ ذہن میں رکھ کر گفتگو نہیں کرتے تھے کہ بعد میں لوگ جب یہ سنیں گے تو انھیں پوری بات سمجھ میں آجائے۔ یوں کسی خاص تناظر میں جو باتیں برمحل اور قابل فہم تھیں، وہ تناظر وہیں رہ گیا اور الفاظ روایت کی صو رت میں ہم تک پہنچ گئے۔
مطیع سید: یہ جو روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لا تسبوا اصحابی (کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر ۳۸۶۱) میرے اصحاب کو برا مت کہو، یہ بات آپ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید سے فرمائی تھی۔حضرت خالد خود بھی تو صحابی تھے، پھر اس کا کیا مطلب ہے؟
عمار ناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں اصحاب کی تعبیر کا مفہوم اس سے مختلف ہے جو بعد میں مسلمانوں کے ہاں لیا جانے لگا۔ رسول اللہ ﷺ اصحاب کا لفظ بیشتر مواقع پر اپنے دور کے سارے اہل ایمان کے لیے نہیں بولتے، بلکہ اپنے ان ساتھیوں کے لیے بولتے ہیں جو شروع سے ہر سرد و گرم میں آپ کے ساتھ رہے۔ احادیث میں خاص طورپر یہ تعبیر ان لوگوں کے تقابل میں استعمال کی گئی ہے جو بعد کے دور میں نئے نئے اسلام میں آئے تھے۔ اسی پہلو سے آپ نے ایک موقع پر خالد بن ولید کو، جو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان کسی وقت مسلمان ہوئے تھے، اپنے پرانے ساتھیوں کے متعلق یہ بات فرمائی۔
مطیع سید: اس کا کیا پس منظر تھا ؟
عمار ناصر: خالد بن ولید اور عبد الرحمن بن عوف کے مابین کچھ کھٹ پٹ ہو گئی تھی۔ خالد بن ولید نے ان کے ساتھ کچھ سخت کلامی کی۔ اس پر آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو تنبیہ فرمائی۔
مطیع سید: امام ترمذی نے کتاب العلل میں صرف حسن اور غریب کا مفہوم واضح کیا ہے، اور کسی اصطلاح پر بحث نہیں کی۔وہ جس روایت کو منکر قرار دیتے ہیں، کیا ہم وہ لے سکتے ہیں؟
عمار ناصر: نہیں، اگر کسی اور بہتر سند سے وہ روایت نقل نہیں ہوئی تو پھر نہیں لے سکتے۔
مطیع سید: ایک روایت جو صرف ترمذی میں ہے اور یہیں سے صاحبِ مشکوۃ نے بھی لی ہے،وہ منکر روایت ہے۔ جب امام ترمذی نے اس روایت کو منکر کہہ دیا ہے تو انھوں نے اسے کیوں لیا،حالانکہ صاحبِ مشکوٰۃ تو انتخاب کر کے روایت لیتے ہیں؟
عمار ناصر: صاحب مشکوۃ نے صحت کی بنیاد پر تو انتخاب نہیں کیا۔وہ تو مضمون کے لحاظ سے انتخاب کرتے ہیں۔ان کا اپنی ایک ترتیب ہے جس کے تحت وہ ایک باب سے متعلق روایات کو تین فصول میں درج کرتے ہیں۔
(ختم شد)
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۴)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ
مولانا سمیع اللہ سعدی
شیعی سنی رجالی تراث، چند تقابلی ملاحظات
1۔ہر دو مکاتب کے موجود رجالی تراث کی انواع و اقسام سامنے آگئیں ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کا علم رجال کتنا ایڈوانس اور کتنا جامع و وسیع ہے، اہل سنت محدثین نے علم رجال کو 32 اعتبارات و زاویوں سے مدون کیا، جبکہ اہل تشیع نے صرف 10 اعتبارات کے اعتبار سے کتب لکھیں، ان میں بھی کتب رجال پر حواشی کو مستقل صنف شمار کیا گیا ہے، جو ظاہر ہے الگ درجہ بندی میں نہیں آتیں اور مصنفین کی فہرست کو بھی رجالی کتب گنا گیا ہے، حالانکہ علم رجال حدیث اور مصنفین کی فہرست دونوں الگ الگ دائروں سے متعلق ہیں، اگر ان دو کو نکالیں تو صرف 8 انواع بچتی ہیں، یوں اہل سنت کا علم رجال 24 اعتبارا ت میں اہل تشیع کے علم رجال سے بڑھا ہو اہے۔
2۔ اہل تشیع کے علم رجال کو مقالہ نگار نے از خود کافی تلاش و جستجو کے بعد ان 8 انواع میں تقسیم کیا، شیعہ علم رجال کی تاریخ پر جتنی کتب لکھی گئی ہیں، اس میں سے کسی میں بھی درجہ بندی نہیں کی گئی، نہ ہی علم رجال پر کتب لکھنے والے اہل علم نے اپنی کتب کے مقدمات میں کسی درجہ بندی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کتاب کو کس زاویے سے لکھا جارہا ہے؟گویا رجالی تراث کی درجہ بندی کا موضوع شیعہ اہل علم کے ہاں کبھی رہا ہی نہیں ہے، اس سے علم رجال الحدیث میں اہل تشیع کے تہی دامنی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
3۔شیعہ علم رجال میں معدو م 24 انواع و اقسام میں سے تو بعض انواع، جیسے الکنی و الالقاب، یا مشتبہ اسماء جیسے موضوعات پرتو رجال شیعہ کی کتب میں کچھ نہ کچھ مواد ہے، جیسے متعدد کتب رجال کے آخر میں کنی و القاب والے رواۃ کا ذکر ہے، نیز ان انواع کا نہ ہونا علم رجال پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالتا، لیکن بعض انواع ایسے ہیں، جن کے نہ ہونے سے علم رجال کے مقاصد بجا طور پر متاثر ہوتے ہیں، جیسے :
- وفیات پر کتب نہ ہونا علم ِرجال کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے، کیونکہ رواۃ کے سنین وفات کی مدد سے اسناد میں موجود انقطاع و ارسال کا اندازہ لگایا جاتا ہے، لیکن اہل تشیع کی بارہ سو سالہ رجالی تاریخ میں کوئی ایک ایسی کتاب نہیں ہے، جن میں مکمل طور پر رواۃ کےتواریخ وفات کو ذکر کیا گیا ہو، یوں اہل تشیع کے ہاں بظاہر کتبِ رجال موجود ہونے کے باوجود یہ کتب اسناد میں انقطاع و ارسال کے حوالے سے بے فائدہ ہیں، اہل تشیع محققین نے اس خلا کو پر کرنے کی دیگر ذرائع سے کوشش کی ہے، لیکن وہ سب طرق احتمالی ہیں، جبکہ راوی کا سن وفات ایک یقینی راستہ ہے کہ کونسا راوی کس محدث کے زمانے میں تھا، کونسا نہیں۔
- مختلطین و مدلسین رواۃ پر الگ سے کتب نہ ہونا بھی علم رجال کے مقاصد میں ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے، کیونکہ ہر دو اقسام کا حدیث کی صحت و ضعف میں بنیادی کردار ہے۔
- اہل سنت کے ہاں صحاح ستہ چونکہ اساسی مصادرِ حدیث ہیں، اس لئے صحاح ستہ کے رجال پر کثرت سے کتب لکھی گئی ہیں، محقق عواد نے 127 کتب نشاندہی کی ہے، جو صحاح ستہ کے سب یا بعض کتب کے رجال پر لکھی گئیں ہیں، لیکن اہل تشیع کے اولین اساسی مصادر ِ حدیث (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب و استبصار ) اور متاخرین کے مرتب کردہ مصادرِ حدیث (بحار الانوار، وسائل الشیعہ، الوافی، مستدرک الوسائل ) کے رجال پر کسی قسم کوئی مستقل جامع کتاب نہیں ہے، ان میں سے بعض کتب کے شروح یاحواشی میں ان کے رجال پر کچھ ابحاث ملتی ہیں، لیکن ایک ایسی کتاب، جس میں ان کتب ِ ثمانیہ کے رجال کی مکمل تفصیل ہو، اہل تشیع کے ہاں موجود نہیں ہے، البتہ امام خوئی نے معجم رجال الحدیث میں کوشش کی ہے کہ اولین کتب اربعہ کے رجال کو اپنی کتاب میں جمع کیا جائے، لیکن اس کا منہج و اسلوب بھی رجال کے کوائف معلوم کرنے میں مکمل طو رپر مفید نہیں ہے، اس کو ہم ایک مستقل عنوان کے تحت ان شا اللہ بیان کریں گے۔
- اہل تشیع کے ہاں صحابہ کے احوال و کوائف پر صرف ایک چھوٹا سا رسالہ ملتا ہے، جن میں صرف پانچ سو کے قریب صحابہ و صحابیات کا ذکر ہے، اس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی قابلِ ذکر کاوش نہیں ملتی، جبکہ محقق عواد نے سنی رجالی تراث میں سے صحابہ کے احوال و کوائف پر مشتمل 75 کتب کا ذکر کیا ہے، ان میں سےاگر آدھی بھی مطبوع مان لیں، تو گویا 40 کے قریب مطبوع کتب ایسی ہیں، جن میں صرف صحابہ کے حالات جمع کئے گئے ہیں، کیا اس عظیم تفاوت کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو تقویت نہیں ملتی کہ اہل تشیع کے دینی معتقدات میں صحابہ کرام کا مقام انتہائی فروتر ہے۔
- ضعیف و ثقہ رواۃ کی الگ الگ کتب بھی اہل تشیع کے ہاں وسیع پیمانے پر نہیں ملتیں، ثقہ رواۃ پر دو جبکہ ضعیف رواۃ پر ایک مستقل کتاب اہل تشیع کے رجالی تراث میں ملتی ہے، جو ظاہر ہے کہ رجال میں سے ثقات و ضعاف رواۃ کی مکمل نشاندہی نہیں کرسکتیں، جبکہ اہل سنت کے ہاں کثرت سے ثقہ و ضعیف رواۃ پر کتب موجود ہیں، بلکہ ثقہ کی ذیلی اقسام جیسے حفاظِ حدیث، عام ثقہ رواۃ، ضعیف رواۃ کی ذیلی اقسام، جیسے متکلم فیہ، ضعیف، مختلف فیہ، مدلسین، مختلطین، مجاہیل وغیرہ تک پر الگ الگ کتب موجود ہیں۔
- اہل سنت کے ہاں رجال کے عمومی احوال اور ان کی جرح و تعدیل پر الگ الگ کتب موجود ہیں، جبکہ اہل تشیع کے ہاں رجال کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے مستقل کتب نہ ہونے کے برابر ہیں، جو کتب جوامع کے قبیل سے ہیں، ان میں رجال کا حدیثی مقام نہایت کم زیرِ بحث لایا گیا ہے، اس پر ہر دو کتب رجال کے مناہج و اسالیب کے تحت مستقل ان شا اللہ بات ہوگی۔
- اہل سنت کے ہاں ایسی کتب رجال کثرت سے لکھی گئیں ہیں، جن میں رواۃ کے کے ذاتی تعارف پر مکمل تفصیل موجود ہے، جیسے کتب انساب، رواۃ کے اسماء کا تلفظ، القابات و صفات کی تعیین، مشترک اسماء و صفات، اخوۃ رواۃ، وغیرہ، لیکن اہل تشیع کے ہاں ان جیسے امور پر کسی قسم کا الگ مستقل مواد نہیں ہے، کما مر۔ (کتب رجال میں ان چیزوں کی طرف کچھ اشارے ملتے ہیں، لیکن ان امور پر مستقل مواد معدوم ہے)
4۔اہل تشیع کے ہاں جو جالی تراث تیار ہوا ہے، اس کا 80 فیصد حصہ (38 کتب میں سے 31 کتب )آٹھویں صدی کے بعد لکھا گیا ہے، یعنی کتبِ حدیث کی تدوین کے ساڑھے تین سو سال بعد، جبکہ 20 فیصد یعنی صرف 7 یا 8 کتب وہ ہیں، جو آٹھویں صدی ہجری سے پہلےلکھی گئیں، جیسا کہ مصنفین کے سنین وفات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے، جبکہ اہل سنت کے ہاں 80 فیصد رجالی تراث (90 میں سے 71 کے قریب کتب ) آٹھویں صدی ہجری سے پہلے لکھی گئیں اور صرف 20 فیصد کتب آٹھویں صدی ہجری کے بعد لکھی گئیں، یوں اہل سنت کا اکثر رجالی تراث کتبِ حدیث کے تدوین کے زمانے کے نہایت قریب ہے، جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس کے برعکس ہے۔اس قرب و بعد کا علمائے رجال کا رجال الحدیث کی پہچان اور جر ح و تعدیل پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے، اہل علم پر یہ مخفی نہیں ہے۔
5۔اہل تشیع کے ہاں تقریبا 10 ایسی کتب لکھی گئیں، جن کو ہم جوامع رجال کہہ سکتے ہیں، جن میں ہزاروں رواۃ کا ذکر ہے اور وہ کتب کئی مجلدات میں ہیں، وہ سب کے سب کتب صفوی دور کے بعد لکھی گئیں، یعنی نویں صدی ہجری کے بعد، (ملاحظہ ہو مصنفین کے سنین وفات )صفوی دور سے پہلے جو کتب رجال ہیں وہ نہایت مختصر اور چند سو یا چند ہزار کے رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہیں، لیکن ان جوامع رجال میں ہزارہا رواۃ کا ذکر ہے، یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ صفوی دور میں یکدم ایسی کتب کا ظہور ہوتا ہے، جو متقدمین کے برعکس لاکھوں روایات پر مشتمل ہوتی ہیں اور براہ راست ائمہ سے سند کے ساتھ منقو ل ہوتی ہیں، اسی طرح رواۃ پر بھی مشتمل جوامع دھڑا دھڑ سامنے آنے شروع ہوتے ہیں، جو متقدمین کی رجالی کتب سے کئی گنا بڑی اور کئی گنا زیادہ رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہوتی ہیں، یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ہزاروں رواۃ و روایات کا متقدمین کے ہاں کیوں کسی قسم کا تذکرہ نہیں ملتا؟حالانکہ وہ ائمہ کے زمانہ کے قریب تھے، ان کے پاس اصحابِ ائمہ کا لکھا گیا تراث براہ راست پہنچ گیا تھا اور سات سو سال بعد ان صفوی دور کے شیعہ علماء کے پاس کونسا ایساوسیلہ تھا کہ وہ متقدمین کے برعکس ان ہزار ہا رواۃ و روایات پر مطلع ہوگئے ؟متقدمین اور دورِ صفوی کے شیعہ اہل علم کے ہاں تراث کی کمیت میں یہ عظیم فرق اس شبہ کو بجا طور پر تقویت دیتا ہے کہ اہل تشیع کا اصلی تراث، خواہ روایات کی شکل میں ہو یا رجال و رواۃ کی شکل میں، وہ قلیل تعداد میں تھا، صفوی دور میں اس کی کمیت کو پھیلانے کے لئے باقاعدہ روایات و رواۃ تخلیق کیے گئے ؟ جبکہ اہل سنت کے ہاں حیرت انگیز طور پر اس کے برعکس ترتیب ہے، تدوینِ حدیث ہو یا رواۃ کے کوائف ہوں، اولین اہل علم کے ہاں اس کی کمیت زیادہ ملتی ہے، جبکہ ہاں جتنا زمانہ دور ہوتا گیا، تو کمیت میں کمی آتی گئی، مثلا مسند امام احمد بن حنبل حدیث کی کتب میں، اور ابن ابی حاتم رازی کی الجرح و التعدیل رجال کی کتب میں اولین تراث میں سب سے بڑی کتب ہیں، ان جیسی ضخامت کی کتب اہل سنت کے ہاں بعد کے پورے بارہ سو سالہ تاریخ میں نظر نہیں آتیں، سوائے ان کتب، جن میں متعدد کتب کو اکٹھا گیا ہو۔
6۔اہل تشیع محققین نے علم رجال کی تاریخ لکھتے ہوئے ایسی کتب بھی رجال کی کتب میں شامل کی ہیں، جو علم رجال یا جرح و تعدیل سے متعلق قواعد و اصول اور فوائد و نکات پر مشتمل ہیں، ان کتب میں ضمنا بعض رواۃ حدیث کا بھی تذکرہ ہے، لیکن اصلا وہ اصولی مباحث پر مشتمل ہیں، جیسے بحر العلوم طباطبائی کی الفوائد الرجالیہ، محقق مازندرانی کی الفوائد الرجالیہ یا شیخ جعفر سبحانی کی کلیات فی علم الرجال، کتب رجال کی فہرست میں ان کتب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ وہ تراجمِ رجال و رواۃ کی کتب نہیں ہیں، بلکہ علم رجال کے اصول و ضوابط کی کتب ہیں، نیز اہل سنت کی رجالی تراث میں بھی ایسی کتب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
7۔اہل تشیع محققین رجال کے ہاں "ترتیب الاسانید " کےنام سے کتب لکھی گئی ہیں، بالخصوص معروف شیعہ عالم سید حسین طباطبائی بروجردی کی ترتیب اسانید الکافی اور محقق میرزا جواد تبریزی کی آٹھ جلدوں پر مشتمل الموسوعۃ االرجالیہ، جس میں کتب اربعہ کی ترتیب الاسانید کو بیان کیا گیا ہے، اس فہرست میں ان جیسی کتب کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ کتب اصلا رجال کے تراجم یا ان کے حدیثی مقام (جرح و تعدیل )کی کتب نہیں ہیں، ان کتب کے لکھنے کی ضرورت اہل تشیع اہل علم کو کیوں پیش آئی، یہ ایک دلچسپ بحث ہے اور شیعہ علم رجال میں موجود بڑے خلا کی طرف مشیر ہے، اس کا ذکر ہم اگلے عنوان میں تفصیل سے کریں گےان شا اللہ
8۔اہل تشیع کا علم رجال انواع و اقسام کے اعتبار سے سنی علم رجال سے فروتر ہونے کے ساتھ ساتھ کمیت میں بھی سنی علم رجال سے کافی کم ہے، پچھلے صفحات میں سنی علم رجال کی انواع و اقسام بیان کرتے ہوئے 25 انواع کےذیل میں 90 کے قریب مطبوعہ کتب رجال کا ذکر آچکا ہے، جبکہ شیعہ علم رجال کے 10 انواع میں صرف 38 مطبوعہ کتب کا، یہ تعداد بھی کافی تلاش و جستجو کے بعد ملی، مقالہ نگار کے تتبع کو ناقص سمجھ کے بھی یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 50 بن سکتی ہے، نیز مطبوعہ مواد کے ساتھ اگر غیر مطبوعہ مواد کے اعتبار سے دیکھا جائے، تب بھی سنی رجالی تراث کمیت میں شیعی علم رجال سے کہیں گنا بڑھا ہوا ہے، چنانچہ محقق عواد نے اپنی کتاب "رواۃ الحدیث " میں 32 انواع کے ذیل میں ساڑھے سات سو کے قریب کتب رجال کا ذکر کیا ہے، جبکہ شیعہ محقق حیدر حب اللہ کی کتب میں 120 کے قریب کتب ذکر کی گئی ہیں، حالانکہ شیعہ احادیث کی تعداد سنی احادیث سے کہیں زیادہ ہیں، جس کی تفصیل ہم اس سلسلے کی اولین اقساط میں دے چکے ہیں، تو اس اعتبار سے شیعہ رجال کا حجم سنی رجال سے زیادہ بنتا ہے، تو کتب بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔
3۔ کتب رجال منہج و اسلوب
اہل سنت اور اہل تشیع کے رجالی تراث و کتب کا انواع ا قسام کے اعتبار سے ایک موازنہ سامنے آگیا، اس کے بعد یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر دو مکاتب کے پاس جو رجالی تراث موجود ہے، اس کا منہج و اسلوب کیا ہے ؟ رواۃ ِ حدیث کے احوال و کوائف اور حدیثی مقام کے جاننے کے بارے میں یہ کتب کتنی ممد و معاون ہیں ؟اہل تشیع کا رجالی تراث کم و کیف دونوں میں اہل سنت کے رجالی ذخیرے سے بہت پیچھے ہے، جیسا کہ پچھلے عنوان میں یہ بات تفصیل سے آچکی ہے، اس لئے بظاہر ہر دو مکاتب کے رجالی تراث کا منہج و اسلوب میں موازنہ نہیں بنتا، حقیقی موازنہ اس وقت بنتا، جب اہل سنت کے رجالی ذخیرے کی 32 اقسام و انواع کا اہل تشیع کے 32 اقسام سے تقابل کیا جاتا، لیکن اہل تشیع کا پورا ذخیرہ رجال آٹھ دس انوا ع سے زیادہ نہیں بنتا، عدمِ مساوات کی وجہ سے ہر دو مکاتب ِ فکر کی اہم کتب کے درمیان موازنہ نہیں ہوسکتا، لیکن نکات کی شکل میں چند امور کا ذکر کیا جاتا ہے، جن سے دونوں مکاتب کے پاس موجود رجالی تراث کی اہم خصوصیات سامنے آجائیں گی ان نکات سے منہج و اسلوب کا موازنہ کافی حد تک ہوجائے گا :
1۔علم رجال کی کتب کے اہم ترین مقاصد میں سے رواۃ کے اساتذہ و تلامذہ کی تعیین ہے، تاکہ ہر راوی کا زمانہ، شیوخ، تلامذہ، طبقہ اور معروف شیوخ حدیث سے لقاء و عدم لقاء کا پتا چل سکے، شیوخ و تلامذہ کی فہرست سے احادیث میں ارسال، انقطاع، تدلیس اور اتصال کا علم ہوتا ہے، چنانچہ اسی وجہ سےاہل سنت کے مراجع رجال میں ہر راوی کے اہم ترین اساتذہ و تلامذہ کی ایسی فہرست مذکور ہے، جن سے اس راوی کا اس جہت سے کافی تعارف ہوجاتا ہے، ذیل میں اس حوالے سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں :
- امام مزی تہذہب الکمال فی اسماء الرجال میں ایک راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
أحمد بن نصر بن زياد القرشي، أبو عبد اللہ النيسابوري المقرئ الفقيہ الزاہد.
روی عن: إبراہيم بن الأشعث البخاري، وإبراہيم بن حمزۃ الزبيري، وإبراہيم بن معبد بن شداد المصري، وإبراہيم بن المنذر الحزامي، وإبراہيم بن موسی الرازي الفراء، وأبي مصعب أحمد بن أبي بكر الزہري، وأحمد بن الحسين اللہبي المدني، وأحمد بن أبي الحواري، وأحمد بن محمد بن حنبل، وآدم بن أبي إياس العسقلاني، وأزہر بن سعد السمان، وإسحاق بن إبراہيم الحنينيوإسحاق بن راہويہ، وإسحاق بن محمد الفروي (تم)، وإسماعيل بن أبي أويس، وإسماعيل بن حكيم الخزاعي، وأصبغ بن الفرج المصري، وجعفر بن عون، وحبان بن موسی المروزي، وحجاج بن نصير الفساطيطي، والحسين بن زياد المروزي المتعبد نزيل طرسوس، والحسين بن علي الجعفي، والحسين بن الوليد النيسابوري (كن)، وأبي عمر حفص بن عمر الضرير، والحكم بن موسی القنطري، والحكم بن يزيد الأبلي البصري، وأبي أسامۃ حماد بن أسامۃ، وأبي زيد حماد بن دليل قاضي المدائن، وحماد بن قيراط النيسابوري، وحماد بن مالك الحرستاني، وحماد بن مسعدۃ، وخالد بن خداش، وخلف بن تميم، وخلف بن ہشام البزار، وخلاد بن يحيی، وداود بن سليمان العطار، وداود بن المحبر، وروح بن عبادۃ، وزكريا بن عطيۃ ابن يحيی البصري، وزہير بن عباد الرواسي، وزيد بن الحباب، وسريج بن النعمان الجوہري، وسريج بن يونس، وسعيد بن الحكم ابن أبي مريم المصري، وأبي سعيد بن الربيع الہروي، وسعيد بن عامر الضبعي، وسعيد بن كثير بن عفير المصري، وسعيد بن منصور، وأبي قتيبۃ سلم بن قتيبۃ، وسليمان بن حرب، وسلام بن سليمان الثقفي المدائني، وأبي بدر شجاع بن الوليد السكوني، وشيبان بن فروخ الأبلي البصري، وصالح بن حسين بن صالح الزہري المدني السواق، وصفوان بن عيسی الزہري (ت)، وأبي عاصم الضحاك بن مخلد النبيل، وطارق بن عبد العزيز المكي، وعبد اللہ بن بكر السہمي، وعبد اللہ بن جعفر الرقي، وعبد اللہ بن داود الواسطي، وعبد اللہ بن رجاء الغداني، وعبد اللہ بن السري الأنطاكي، وعبد اللہ بن صالح العجلي، وعبد اللہ بن صالح المصري، وعبد اللہ بن عاصم الحماني، وعبد اللہ بن عبد الجبار الخبائري الحمصي، وعبد اللہ بن عبد الحكم المصري، وعبد اللہ بن غالب العباداني، وأبي بكر عبداللہ بن محمد بن أبي شيبۃ، وعبد اللہ بن مسلمۃ القعنبي، وعبد اللہ بن نافع الصائغ المدني، وعبد اللہ بن نمير الہمداني الكوفي، وعبد اللہ بن الوليد العدني (س)، وعبد اللہ بن يزيد أبي عبد الرحمن المقرئ (س)، وأبي مسہر عبد الاعلی بن مسہر الغساني (ت)، وعبد الجبار بن سعيد بن نوفل بن مساحق المساحقي، وعبد الرحمن بن يحيی بن إسماعيل بن عبيد اللہ بن أبي المہاجر، وعبد الرحيم بن واقد، وعبد الصمد بن عبد الوارث (س)، وعبد العزيز بن الخطاب، وعبد العزيز بن عبد اللہ الأويسي، وعبد العزيز بن المغيرۃ المنقري، وأبي بكر عبد الكبير بن عبد المجيد الحنفي، وعبد الكريم ابن روح البصري، وعبد الملك بن إبراہيم الجدي، وعبد الملك بن عبد العزيز بن الماجشون (كن)، وأبي نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمار، وأبي عامر عبد الملك بن عمرو العقدي، وعبد الوہاب بن عطاء الخفاف، وأبي علي عبيد اللہ بن عبد المجيد الحنفي، وعبيد اللہ بن عمر القواريري، وعبيد اللہ بن موسی (س)، وعثمان بن محمد بن أبي شيبۃ، وعثمان بن اليمان، وأبي سليمان عصمۃ بن سليمان الخزاز، وعفان بن مسلم السفار، وعلي بن الحسن بن شقيق المروزي، وعلي بن عاصم الواسطي، وعلي بن عياش الحمصي، وعلي بن معبد بن شداد المصري، وعمر بن سعد أبي داود الحفري، وعمرو بن حكام الأزدي البصري، وعمرو بن محمد الناقد (س)، والعلاء بن عبد الجبار العطار، والعلاء بن عمرو الحنفي، وأبي نعيم الفضل بن دكين، وأبي عبيد القاسم بن سلام، وقبيصۃ بن عقبۃ، وكثير ابن ہشام، ومالك بن سعير بن الخمس، ومحمد بن إسماعيل بن أبي فديك، ومحمد بن بشر العبدي، ومحمد بن حرب المكي، ومحمد ابن حميد الرازي، ومحمد بن سابق البغدادي، ومحمد بن الصباح الدولابي، وأبي جابر محمد بن عبد الملك الأزدي، وأبي ثابت محمدابن عبيد اللہ المديني، ومحمد بن عبيد الطنافسي، وأبي مروان محمد ابن عثمان بن خالد العثماني، ومحمد بن عيسی ابن الطباع، وأبي النعمان محمد بن الفضل عارم (س)، ومحمد بن كثير الصنعاني، ومحمد بن كثير العبدي، وأبي غزيۃ محمد بن موسی المدني، ومصعب بن المقدام، ومطرف بن عبد اللہ المدني، والمعلی بن الفضل الأزدي، ومكي بن إبراہيم البلخي (سي)، وأبي سلمۃ موسی بن إسماعيل التبوذكي، وأبي حذيفۃ موسی بن مسعود النہدي، ومؤمل بن إسماعيل (س)، والنضر بن شميل المروزي، وأبي الأسود النضر بن عبد الجبار المصري، ونعيم بن حماد الخزاعي، وہشام بن إسماعيل العطار الدمشقي، وأبي الوليد ہشام بن عبد الملك الطيالسي، وہشام بن عمار الدمشقي، وہوذۃ بن خليفۃ البكراوي، والہيثم بن جميل الأنطاكي، والہيثم بن خارجۃ الخراساني، والوليد بن سلمۃ الطبراني، ووہب بن جرير بن حازم، ويحيی بن آدم، ويحيی بن إسحاق السيلحيني، ويحيی بن أبي بكير الكرماني (س)، ويحيی بن أبي الحجاج البصري، ويحيی بن عبد اللہ بن بكير المصري، ويحيی بن يحيی النيسابوري، ويزيد بن ہارون، ويعلی بن عبيد الطنافسي، ويوسف بن يعقوب السدوسي، .
روی عنہ: الترمذي، والنسائي، وأحمد بن علي الأبار، وأبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي، وأبو العباس أحمد بن محمد بن الأزہر الأزہري، وجعفر بن أحمد بن نصر الحافظ، وحرب بن إسماعيل الكرماني، والحسين بن إدريس الأنصاري الہروي، وداود ابن الحسين البيہقي، وأبو يحيی زكريا بن داود بن بكر الخفاف، وزنجويہ بن محمد بن الحسن اللباد، وسلمۃ بن شبيب النيسابوري وہو من أقرانہ، وعبد اللہ بن ہاجك الہروي الأشناني، وأبو يحيی عبد الرحمن بن محمد بن سلم الرازي، وعلي بن حرب الموصلي وہو أكبر منہ، وعمار بن رجاء الجرجاني وہو من أقرانہ، وأبو عبد اللہ محمد بن أحمد الصواف، ومحمد بن إسحاق بن خزيمۃ، ومحمد بن إسماعيل البخاري في غير الجامع، وأبو سعيد محمد بن شاذان النيسابوري، ومحمد بن الضوء الكرمينی، وأبو الوليد محمد بن عبد اللہ بن أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي المكي صاحب"تاريخ مكۃ"، وأبو منصور محمد بن القاسم العتكي، ومحمد بن نعيم النيسابوري، ومسلم بن الحجاج خارج"الصحيح"، وأبو منصور يحيی بن أحمد بن زياد الشيباني الہروي، وأبو سعد يحيی بن منصور الہروي الزاہد۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جمال الدین مزی، رقم الترجمہ:117)
اس ترجمہ میں امام مزی نے احمد بن نصر راوی کے ڈیڑھ سو کے قریب اساتذہ اور تیس کے قریب تلامذہ کو بیان کیا ہے، آپ تہذیب الکمال کا کوئی بھی صفحہ کھولیں، کسی بھی راوی کا تذکرہ لیں، تو یہی لمبی فہرست نظر آئے گی، اسی فہرست میں ایک اور بات قابل غور ہے کہ تلامذہ کا ذکر کرتے ہوئے بعض مقامات پر امام مزی نے "وھو من اقرانہ" کا لفظ بڑھایا ہے کہ یہ محدث مذکورہ راوی کا شاگرد تو ہے، لیکن اس کا ہم عصر ہے، یوں ہم عصر ہونے کے باوجود انہوں نے اس سے حدیث لی ہے، اس کے علاوہ بعض مشہور محدثین جیسے امام بخاری یا امام مسلم کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعیین بھی ہے کہ ان دو ائمہ حدیث نے مذکورہ راوی نے حدیث صحیحین کی بجائے اپنی دیگر کتب میں لی ہیں، یوں ایک مکمل انداز میں شیوخ و تلامذہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔
(جاری)
موجودہ تہذیبی صورتحال اور جامعات کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام ’’ریاست مدینہ اور تعلیمی نظام‘‘ پر پہلی قومی کانفرنس میں پیش کی گئی گزارشات)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قابل صد احترام معززین و سامعین! سب سے پہلے تو شکریہ ادا کروں گا اور خوشی کا اظہار کروں گا کہ ادارہ تعلیم و تحقیق جامعہ پنجاب نے اس سیمینار کا اہتمام کیا۔
پہلی بات تو میں عمومی موضوع کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور ریاست مدینہ جسے موجودہ حکومت کا تصور بیان کیا جاتا ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اور مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اس لیے پہلی گزارش یہ کروں گا کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ریاست کے جو فکری رہنما ہیں، میں سر سید احمد خان سے شروع کروں گا، جسٹس سید امیر علی بھی اس کا حصہ ہیں، ان کے ساتھ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تعلیمات کو تعلیمی نظام میں، ملکی نظام میں، اور معاشرت میں ہمیں بنیاد کے طور پر سامنے رکھنا ہوگا تب ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک ریاست بنا سکیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے یہ بات طے کر لی تھی کہ پاکستانی ریاست کی نوعیت کیا ہوگی؟ یہ سیکولر ریاست ہوگی؟ خالص جمہوری ریاست ہوگی؟ یا خلافتِ عثمانیہ طرز کی خاندانی ریاست ہو گی؟ یا خالص مذہبی ریاست ہوگی؟ یہ سوالات اور آپشنز ہمارے سامنے تھے، ہم نے اس وقت طے کر لیا تھا جس پر تمام طبقات متفق ہوگئے تھے، علماء بھی متفق تھے، سیاستدان بھی متفق تھے، پارٹیاں بھی متفق تھیں، چنانچہ علماء کرام کے بائیس نکات اور دستور اسی بنیاد پر آئے۔ اس میں تین بنیادی باتیں ہم نے طے کی تھیں جو ریکارڈ پر ہیں۔
ایک بات یہ تھی کہ حاکمیت اعلی اللہ تعالیٰ کی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے، تیسری بات یہ طے کی تھی کہ قرآن و سنت کے احکامات کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے۔ میرے خیال میں ہمیں یہ تین باتیں ہر وقت ذہن میں رکھنی چاہئیں اور اسی پر ہماری تمام پالیسیوں کی بنیاد ہونی چاہیے۔ دستور بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے اور نظریۂ پاکستان بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔
ان دو تمہیدی باتوں کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور اس حوالہ سے دو جملے نقل کروں گا، ایک یہ کہ ’’بعثت معلمًا‘‘ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ اور واقعتا دنیا کے سب سے بڑے استاذ اور معلّم اعظم حضورؐ خود تھے۔ یعنی آئیڈیل شخصیت تعلیم میں بھی اور عمل میں بھی۔ دوسری بات جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمائی ’’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ مجھے اخلاقیات کا معیار اور دائرہ مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اخلاقیات کا جو دائرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اب تک وہی آئیڈیل ہے اور الحمد للّٰہ قیامت تک یہی معیار رہے گا کہ اس سے بہتر دائرہ اور اس کا عملی نمونہ نہ آج تک کوئی پیش کر سکا ہے نہ ہی قیامت تک پیش کر سکے گا۔
آج گلوبلائزیشن کا عمل بڑھ رہا ہے اور فاصلے سمٹ رہے ہیں، جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا تھا آنے والے دور کے حوالہ سے کہ ’’یتقارب الزمان‘‘ فاصلے سمٹ جائیں گے۔ زبانی فاصلے بھی سمٹتے جا رہے ہیں اور ذہنی بھی، اور ایک گلوبل سوسائٹی وجود میں آرہی ہے جس کا سب سے پہلا دائرہ ہم انسانیت کے حوالہ سے بتا رہے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو پہلا خطاب ہی ’’یا ایھا الناس‘‘ کے عنوان سے تھا۔ جب آپؐ صفا پہاڑی پر کھڑے تھے تو سامنے کون تھا؟ مکی تھے، قریشی تھے، عرب تھے۔ لیکن حضورؐ نے خطاب کس کو کیا؟ اور پھر تئیس سال حضورؐ ’’ایھا الناس‘‘ کے دائرے میں خطاب کرتے رہے اور اصلاح کرتے رہے، اور جب حضور نبی کریمؐ اپنی بائیس سال کی محنت کے نتیجے میں آخری ہدایات دے رہے تھے حجۃ الوداع کے خطبہ میں، جو تین چار خطبوں کا مجموعہ ہے، ان میں ہدایات دے رہے تھے تو وہاں بھی انسانی دائرے کے اصول یا ایس او پیز بیان کر رہے تھے، انفرادی حوالے سے بھی اور اقوام و طبقات کے حوالے سے بھی۔
چنانچہ حضورؐ معلم ہیں اور صرف معلمِ اخلاقیات نہیں بلکہ متمم اخلاقیات ہیں، اخلاقیات کو اپنی انتہا تک پہچانے والی کائنات کی سب سے برتر شخصیت۔ اس کے بعد یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ سب سے پہلا دائرہ انسانی ہے، اس دائرے میں سے جناب نبی کریمؐ کے بیسیوں واقعات میں سے صرف دو واقعات پیش کروں گا کہ انسانی اخلاقیات کا دائرہ کیا ہے؟
بدر کی جنگ میں جب قیدی آئے اور قیدیوں کے بارے میں فیصلے کا موقع آیا تو نبی کریمؐ کو ایک پرانا واقعہ یاد آگیا کہ جب طائف میں پتھر پڑے تھے اور لہولہان ہو کر طائف سے مکہ پہنچے تھے تو راستے میں ایک کافر سردار مطعم ابن عدی نے پناہ دی تھی، ڈیرے کے دروازے کھولے تھے، لڑکوں کو بھگایا تھا، اندر تھوڑی دیر پناہ دی تھی، دشمن ہونے کے باوجود۔ وہ کافر ہی فوت ہوا تھا لیکن حضورؐ کو بدر میں وہ یاد تھا، ایک جملہ کہا کہ اگر وہ مطعم ابن عدی زندہ ہوتا اور ان قیدیوں کی سفارش کرتا تو اس کی خاطر میں ان قیدیوں کو ویسے ہی چھوڑ دیتا۔ انسانیت کا ایک دائرہ یہ ہے کہ کافر کا احسان ہے لیکن حضورؐ کو یاد ہے، اس احسان کی شکر گزاری بھی کر رہے ہیں۔
ایک مدینہ منورہ کا واقعہ ہے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ سامنے گزرا۔ آپؐ احتراماً کھڑے ہو گئے، جنازہ گزر گیا، کسی ساتھی نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا، فرمایا ’’الیست نفسًا؟‘‘ کیا انسان نہیں تھا؟ یعنی احترامِ انسان، انسانیت کا دائرہ، جس پر نمونے کے طور پر دو واقعات میں نے عرض کیے ہیں۔
دوسرا دائرہ مسلم امہ کا ہے، اس پر بھی بیسیوں باتیں عرض کی جا سکتی ہیں لیکن میں حجۃ الوداع کے خطبہ میں سے حضورؐ کا وہ فرمان پیش کرنا چاہوں گا جس میں آپؐ نے خطاب کرتے ہوئے تین حرمتوں کا واسطہ دیا تھا۔ (۱) بیت اللہ کی حرمت کا واسطہ دیا (۲) شہر حرام مکہ مکرمہ کی حرمت کا واسطہ دیا (۳) اور حج کے دن کی حرمت کا واسطہ دیا۔ اور یہ جملے فرمائے تھے ’’فان دماء کم واموالکم واعراضکم وابشارکم علیکم حرام کحرمۃ یومکم ھذا فی بلدکم ھذا فی شھرکم ھذا‘‘۔ بے شک تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری آبروئیں اور تمہارے چمڑے آپس میں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس شہر اور اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ یہ مسلم امہ کے دائرے کی بات ہے جو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
اس کے بعد اگلا دائرہ ہے بین الاقوامی۔ آج کا بین الاقوامی ماحول ایک اعتبار سے مثبت بھی ہے کہ اقوام اور تہذیبیں آپس میں گڈمڈ ہو رہی ہیں، ثقافتیں آپس میں مدغم ہو رہی ہیں، تہذیبیں ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جبکہ بین الاقوامیت کے حوالہ سے ایک جملہ نبی کریمؐ کی آخری وصیتوں میں یہ ہے کہ ’’اجیزوا الوفد کما کنت اجیزہ‘‘ دوسری قوموں کے نمائندے تمہارے پاس آیا کریں گے کافر بھی ہوں گے، ان کا ویسے ہی اکرام کرنا جیسے میں اکرام کرتا ہوں۔ تم نے مجھے دیکھ لیا ہے کہ دشمن کا نمائندہ بھی اگر آیا ہے تو میں نے کیسے اکرام کیا ہے۔ اکرام میں عزت بھی ہے، اکرام میں پاسداری بھی ہے، اکرام میں خدمت بھی ہے، ساری چیزیں شامل ہیں۔ یہ بین الاقوامی ماحول کے بارے میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک واضح ہدایت کا میں ذکر کیا کرتا ہوں کہ کافر قوموں کے نمائندوں کا اکرام ویسے ہی کرنا ہے جیسے میں کرتا ہوں۔ یہ تیسرا دائرہ ہے۔
اس کے بعد ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی ماحول سے ہماری شکایات بھی ہیں اور میں خود شکایات کرنے والوں میں شامل ہوں۔ اگر آپ اس بات پر غور فرمائیں تو میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ دنیا پر اس وقت حکومتوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ معاہدات کی حکومت ہے۔ دنیا میں کہیں بھی حکومتوں کی حکومت نہیں، صرف یہ فرق ہے کہ جو قوم یا ملک طاقتور ہے وہ راستہ نکال لیتا ہے، کمزور پھنسا رہتا ہے۔ اس وقت دنیا پر حکومت معاہدات کی ہے جیسا کہ یورپی یونین اس وقت ہم سے کوئی ستائیس معاہدات کی پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے، مجھے بھی شکایات ہیں بین الاقوامی معاہدات سے، اسے بین الاقوامی جبر کہہ لیں، تسلط کہہ لیں، جو مرضی کہہ لیں، مگر میں تعلیمی ماحول میں اپنی یہ بات دہرانا چاہوں گا، پہلے بھی کئی بار یہ بات مختلف جامعات میں عرض کر چکا ہوں کہ آج جو یہ بین الاقوامیت کا ماحول ہے اس کا ایک مثبت پہلو ہے کہ قرب پیدا ہو رہا ہے اور ’’یا ایھا الناس‘‘ کا وہ ماحول پیدا ہو رہا ہے جو نبی کریمؐ نے صفاء پہاڑی پر کھڑے ہو کر کیا تھا اور اس کے عملی تقاضے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بیان کیے تھے۔ جبکہ بین الاقوامی معاہدات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نے کمزور قوموں کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ اس پر علمی رہنمائی تو جامعات کا ہی کام ہے۔ اور کیسے جکڑا ہوا ہے یہ آپ حضرات کے سامنے عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس تہذیبی کشمکش اور سولائزیشن وار میں جس طرح ویسٹرن سولائزیشن دوسری معاصر تہذیبوں کو کارنر کرتی جا رہی ہے یہ نظر انداز کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔
معاہدات کے زور سے، معاشی دباؤ کے زور سے، اور لابنگ کے زور سے، کس طرح طاقت اپنا راستہ نکالتی جا رہی ہے اور کس طرح تہذیبی غلبہ اور معاصر تہذیبوں کو کارنر کرنے کی باتیں آگے بڑھ رہی ہیں، میرا خیال ہے کہ ہمیں یعنی تعلیمی لوگوں کو اس پر بات کرنی چاہیے۔ رہنمائی کرنا یونیورسٹیوں اور جامعات کا ہی کام ہے، بنیادی علمی فکری رہنمائی فراہم کرنا تعلیمی اداروں کا کام ہے۔ یہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ صورتحال کا تجزیہ کریں البتہ سیاسی کشمکش سے ہٹ کر کریں۔ معروضی صورتحال کا تجزیہ کریں کہ ہم کہاں کہاں پھنسے ہوئے ہیں اور کیسے نکلنا ہے؟ میں ایک عرصہ سے کہہ رہا ہوں کہ عصری تعلیمی مراکز کو اور دینی تعلیمی مراکز کو آپس میں مل بیٹھنا ہوگا۔ ہمارا کام بھی آپ کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا اور آپ کا کام بھی ہمارے بغیر نہیں چل سکتا۔ ہمیں آپس میں مل بیٹھنا ہوگا، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہو گا، اور مل جل کر قوم کی علمی فکری رہنمائی کرنا ہو گی۔ انہی دو باتوں پر میں اپنی بات مکمل کرنا چاہوں گا۔
(۱) تعلیمی اداروں کو اپنی قومی اور ملّی دونوں قسم کی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہیے اور سیاسی دائروں سے ہٹ کر خالص علمی فکری سطح پر قوم کی رہنمائی کا کچھ نہ کچھ سامان کرنا چاہیے۔ (۲) اور دینی و عصری دونوں طرف کے تعلیمی اداروں کو آپس میں مل کر کام کرنا چاہیے۔ اللہ کرے کہ ہماری زندگی میں یہ خوشی ہمیں مل جائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
مولانا وحید الدین خاںؒ
ذاتی مشاہدات وتاثرات کے آئینے میں
مولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری
مولانا وحید الدین خان کی وفات علمی وفکری دنیا کے لیے بلاشبہ ایک عظیم خسارہ ہے۔وہ عالمی شہرت و شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے دو سو سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بہت سی کتا بوں کے ترجمے متعدد مقامی اور عالمی زبانوں میں کیے گئےجس نے انہیں عالم اسلام اور مغرب کے علمی وفکری حلقوں میں متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیا۔اپنی کتابوں کے ترجمہ و اشاعت اور اپنی فکر کی ترویج کے لیے انہوں نے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال کیا جو خوش قسمتی سے بھرپور طور پر انہیں میسر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ کئی لحاظ سے بہت خوش قسمت لیکن کئی لحاظ سے نہایت ’’بدقسمت‘‘ واقع ہوئے تھے۔خوش قسمتی کا پہلو تو ظاہر ہے۔’’بدقسمتی‘‘ کا پہلو یہ ہے کہ اس قدر طویل اورفعال علمی وفکری زندگی گزارنے کے باوجود ان کی مقبولیت کادائرہ نسبتا محدود رہا۔ ان کی شہرت میں بدنامی کا عنصر غالب رہا۔وہ مسلمانوں کے کسی بھی حلقے میں اپنی کوئی مستقل اور مضبوط جگہ نہیں بناسکے۔ہر حلقے کے’’بے شعور وباشعور‘‘ افراد کو ان کے مختلف نظریات سے شدید اختلاف رہا۔یہی وجہ ہے کہ وہ دوسرے معاصرین کی طرح اپنے رفقا و تلامذہ کی کوئی ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے جو ان کی فکری وراثت کو سنبھال کر اسے پروان چڑھا سکے۔
مولانا سے میرا تعلق
مولانا وحید الدین خاں ؒ کو میں نے بہت قریب سے دیکھا،برتا اور پرکھا۔ مجھے ان کے ساتھ کچھ عرصے تک کام کرنے کا موقع ملا۔اور اس دوران مجھے ان کے ساتھ طویل علمی صحبتیں میسر آ ئیں۔فکری نشستوں اور پروگراموں میں شرکت کے ساتھ بارہا مختلف موضوعات پر ان کے ساتھ تبادلہ ٔ خیالات کا اتفاق ہوا۔ علاوہ ازیں میں نے مولانا کے لٹریچر کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔سالہاسال تک ’’الرسالہ‘‘ کے مطالعے کے جنون میں مبتلا رہا۔ اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے مولانا کی شخصیت اور فکر دونوں کا یکساں طور پر مطالعہ کیا ہے۔1995 میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد اپنے ذوق عربی کی تسکین کے لیے میں نے ندوۃ العلماء ،لکھنؤکا رخ کیا۔وہاں میرا داخلہ’’ علیا اولی ادب‘‘ میں ہوا۔لیکن دوران سال میں نے ندوے کو خیر آباد کہہ دیا۔ کیوں کہ اس کا ادب عربی کا نصاب مختلف فنون پر مشتمل تھا جن سے میں دیوبند کی طالب علمی کے دورانیے میں گزرچکا تھا۔ میرا مقصود صرف عربی زبان میں تخلیق وترجمے کی اعلی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔ ندوے سے لوٹ آنے کے بعد دہلی،علی گڑھ اور بجنور کے علمی گلیاروں کی خاک چھانتا رہا۔پھر 1997 میں بطور مدیر معاون’’ الرسالہ‘‘ سے وابستہ ہوگیاجس کا اشتہار روزنامہ’’ قومی آواز‘‘ نئی دہلی میں شائع ہوا تھا۔کچھ وقفوں کے ساتھ قریبا ایک سال تک مولانا سے رسمی وابستگی رہی۔
مولانا کی صحبت بافیض سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ایک ایسے دور میں جب کہ معاشی مستقبل کے حوالے سے بے اطمینانی کی کیفیت ذہن ودماغ پر چھائی ہوئی تھی اور میں خود کو ایک دوراہے پر کھڑا محسوس کرتا تھا کہ مجھے پہلے اپنے معاشی مستقبل کو بہتر بنانے کی طرف قدم آگے بڑھانا چاہیے یا علم ومطالعے کو پروان چڑھانے کوترجیح دینا چاہیے؛ مولانا کی صحبت نے مجھے دوسرے پہلو پراپنی توجہ کومرکوز رکھنے پر آمادہ کیا۔ مولانا کی صحبت میں مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میں انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے نرا جاہل اور جدید دنیا سے نابلد ہوں۔ اب تک میں عربی زبان کے سحر میں مبتلا اور اس کی زلف گرہ گیر کا اسیر تھا۔واقعہ یہ ہوا کہ مولانا کی معیت میں دہلی میں ایک انٹرنیشنل سیمینار میں شرکت ہوئی جس کی ساری کارروائی از اول تا آخر انگریزی میں تھی۔ مجھے کچھ بھی پلے نہیں پڑسکا ۔اس پر میرے لیے ذلت کا سامان یہ ہوا کہ بعض مندوبین نے مجھ سے مخاطب ہوکر انگریزی میں سوالات اچھال دیے جن کا جواب میرے پاس سرکھجانے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔میرے تاسف وندامت کودیکھتے ہوئے مولانانے مجھے خود سے انگریزی سیکھنے کے گر بتائے ۔ میں نے اس پر عمل کیا اور کامیاب رہا۔ مولانا کی صحبت کا ایک اثر یہ ہوا کہ میں شعروادب کی بھول بھلیوں سے باہر نکل آیا۔شعروادب کا ذوق مجھےوراثت میں ملا ہے کہ میرے والد ایک اچھے اور قادر الکلام شاعر تھے۔چناں چہ طالب علمی کے زمانے میں اور اس کے بعد بھی میں خود کوشعرگوئی اور ادب نویسی سے باز نہ رکھ سکا جس کے نتائج ماہنامہ ’’آج کل‘‘ نئی دہلی، ماہنامہ’’ ایوان اردو‘‘،نئی دہلی اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری ادبی رسائل میں شایع ہوتے تھے۔لیکن مدتوں سے منھ کو لگی ہوئی یہ کافر مولانا کی صحبت میں چھوٹ گئی۔کیوں کہ مولانا نے اس کی شدید حوصلہ شکنی کی۔
یہ عظیم الشان فائدے مجھے مولانا کی زندگی کوقریب سے دیکھنے اور ان کی نصیحتوں پر کسی قدر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوئے۔تاہم میں یہ چاہتا تھا کہ مولانا میری اس باب میں رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کن کتابوں اور کن شخصیات کو ترجیحی طور پر پڑھنا چاہیے؟ کن موضوعات پر مطالعے کو اپنی اس ابتدائی علمی زندگی کے اس مرحلے میں مجھے پیش نظر رکھنا چاہیے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے سامنے اس کا خاکہ اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ مجھے’’ الرسالہ‘‘ لٹریچر میں پوری طرح خود کو غرق کردیناچاہیے۔
وہ معاصرین اور دور حاضرکے اصحاب علم وفکر کی کتابوں کوتواس لائق ہی نہیں سمجھتے تھے کہ کسی کوان کے مطالعے کا مشورہ دے سکیں، متقدمین کی کتابوں میں سے چند ایک کے علاوہ(جن میں مقدمہ ابن خلدون سرفہرست ہے) وہ تقریبا پوری اسلامی کلاسکس بالفاظ دیگر اسلامی تراث کودفتر بے معنی سمجھتے ہوئے ’’غرق مے ناب اولی‘‘ تصور کرتے تھے۔مولانا سے دامن کشی کی بنیادی وجہ ان کی افتاد طبع اور ان کے غلو آمیز نظریات تھے۔قائل کرنے کے بجائے اپنے نظریات کومسلط کرنے کا ان کا انداز نہایت ناگوار گزرتا تھا۔ انہیں ایسا معاون چاہیے تھا جو ان کی شخصیت کے آفاق میں اس طرح گم ہو کہ باہر کی پوری دنیا اس کی نظروں سے بالکلیہ اوجھل ہوچکی ہو۔وہ’’ الرسالہ‘‘ تحریک کا ایسا مخلص خادم چاہتے تھے جو اپنی ضروریات ومطالبات سے اوپر اٹھ کر خود کو اس تحریک کے لیے پوری طرح تج دینے اور قربان کردینے کا جذبہ رکھتا ہو۔مجھے بہت جلد محسوس ہونے لگا کہ میں اس معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔کسی شخصیت کا ضمیمہ بن جانا علمی زندگی اور شناخت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔مولانا کواس کا کوئی ملال بھی نہیں تھاکہ کون ان سے الگ ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟وہ ان احساسات سے بالاتر تھے۔
۲۰۰۰ میں تنظیم ابنائے قدیم دار العلوم دیوبند(نئی دہلی) سے،اس سے نکلنے والے ماہنامے، ’’ترجمان دارالعلوم‘‘ سے بطور مدیر تحریر وابستہ ہوگیا۔اسی سال تنظیم نے بانی دار العلوم دیوبند مولانا محمدقاسم نانوتوی ؒ پر ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد کیا جس میں شرکت کی مولانا کوبھی دعوت دی گئی۔انہوں نے اس کے لیے مقالہ لکھنے کی یہ شرط رکھی کہ راقم الحروف چند ایام ان کے پاس حاضر ہواوروہ یہ مقالہ اس کو املا کرائیں۔چناں چہ اس شرط کی منظوری کے ساتھ یہ مقالہ تیار اور شایع ہوا۔ اس میں مدارس کی قدرومعنویت اور اصحاب مدارس کے کردار اور کارناموں کو سنجیدہ علمی اسلوب میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن سیمینار میں مولانا کومقالہ پڑھنے نہیں دیا گیا۔ سامعین کے ایک طبقے نے جس میں بعض معروف علما بھی شامل تھے،وہ شور وہنگامہ برپا کیا کہ مولانا کواسٹیج سے اترنا اور مجھے دوران پروگرام مولانا کوان کے گھرچھوڑنا پڑا۔مولانا نے مقالے پر کافی محنت کی تھی۔بقول ان کے اس کی پریزنٹیشن کی انہوں نے باضابطہ ریہرسل کی تھی۔بلاشبہ یہ ناخوش گوار واقعہ تھا لیکن مولانا کی خوبی یہ تھی کہ وہ ایسے تمام ناخوش گوار واقعات کو جھٹک دینے اور برداشت کرجانے کی غیر معمولی نفسیاتی قوت رکھتے تھے۔
نادر و کمیاب خوبیاں
مولانا بڑی اہم خوبیوں کے مالک تھے۔ان کی شخصیت اور ان کے عملی شب وروز میں سیکھنے کی بہت سی چیزیں تھیں:
- وقت کے استعمال کی جونادر مثالیں متقدمین کے یہاں ملتی ہیں، وہ ناقابل قیاس حد تک مولانا کے یہاں موجود تھیں۔ وہ ایک ایک لمحے کوناپ تول کرخرچ کرتے اور اس کے ضیاع پر کف افسوس ملتے تھے۔
- علم ومطالعے کے لیے اپنی زندگی کووقف کردینے کا جوجذبہ ان کے یہاں پایا جاتا تھا، اس کی نظیر فی زمانہ کم ملتی ہے۔انہوں نے اپنی اکثر خواہشات، تمناؤں اور حسرتوں کواپنے فکری مشن کی قربان گاہ پرچڑھادیا تھا۔اس کے منفی اثرات ان کے خاندان پرمرتب ہوئے لیکن مولانا کی سوچ ان سب سے مافوق تھی۔
- کسی بڑے سے بڑے حادثے سے بھی ان کا ذہن بالکل متاثر نہیں ہوتا تھا تھا۔ایک دن میں حاضرہوا تومولانا نے بتایا کہ ان پر آج قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ حالاں کہ مولانا اپنی نشست گاہ میں تنہا تھے۔ تاہم خدا کے فضل سے اپنا بچاؤ کرنے میں کامیاب رہے۔یہ واقعہ انہوں نے اس تمہیدکے ساتھ بیان کیا کہ:’’ آدمی کوحالات سے کبھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔یہ اس کی علمی وفکری زندگی کے لیے زہر قاتل ہے‘‘۔اس حملے کے دن بھی مولانا ہشاش بشا ش پورے دن حسب معمول کام میں مشغول رہےجیسے سرے سے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
- ان کا ذہن بیداری کے تمام تر لمحات میں متحرک رہتا تھا۔ جس طرح شعرا پر اشعار کانزول ہوتا ہے، مولانا پر اس طرح افکار کا نزول ہوتا رہتا تھا۔جیسے ہی کوئی فکر ’’نازل‘‘ ہوتی،وہ اسے کسی ڈائر ی میں لکھواتے۔ پھر وہی فکر پارہ مستقل مضمون کی شکل اختیار کرلیتا۔
- ایک مربیانہ وصف یہ تھا کہ وہ وقفے وقفے سے ،جاری مشغولیت کو روک کر نصیحت کرتے تھے۔ مثلا ایک دن ایک مضمون کا املا کراتے ہوئے قلم رکو اکر کہنے لگے :’’ آپ کواپنی شادی کوجس حد تک ہوسکے موخر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔ اورضمن میں خود اپنی شادی سے متعلق ایسا نیم افسانوی اور حیرت انگیز واقعہ بیان کیا جو ناقبل یقین حد تک انوکھا تھا۔اس سے ان کی اہلیہ کی قرباینوں کا بھی اندازہ ہوا۔فنائیت فی العلم کی ایسی مثالیں اب عنقا ہیں۔
- مولانا کی ایک اہم خوبی ان کی سادگی تھی۔وہ گاندھی جی کا قول دہراتے تھے کہ:’’سادہ زندگی، اعلی سوچ‘‘(simple living ,high thinking) کہنے کو تو ان کے پاس کروڑوں کی دولت ودنیا تھی لیکن ان کی شبانہ روز کی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ خالص سبزی خور تھے،مرغ وماہی سے سخت متنفر۔ عید الاضحی کا گوشت بھی بس چکھ لیتے تھے۔(البتہ ان کے بقول مہمان کومزید زحمت سے بچانے کے لیے وہ بعد میں مہمان داری میں حسب ضرورت گوشت کا استعمال کرلینے لگے تھے)۔اے، سی،کولر اور فریج جیسی جدید دور کی ’’نعمتوں‘‘ کووہ اپنے اوپر ’’حرام‘‘ تصور کرتے تھے۔کسی مقامی میٹنگ میں شرکت ہویا کسی اعلی سطح کے بین الاقوامی فورم میں؛مولانا کی ان کے لیے تیاری اور ان میں شرکت کا انداز یکساں اور درویشانہ ہوتا تھا۔
- مولانا کا ایک قابل تعریف وصف استغنا تھاجس کا اندازہ لوگوں کوکم ہے۔ایک دن مولانا نے مجھے بتایا کہ آنجہانی پرمود مہاجن اور بی جے پی کے بعض دوسرے رہنما گورنرشپ کی پیش کش لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے تھے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ صوفی منش آدمی ہیں۔ انہیں اس کی ضرورت نہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ بی جے پی کے ٹاپ کے رہنماؤں، جن میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی دونوں شامل ہیں، سے بے انتہا قربت کی بنا پر ان کے لیے شاید نائب صدر جمہوریہ تک کی کرسی تک رسائی حاصل کرلینابہت مشکل نہیں تھا،لیکن وہ ان چیزوں سے مستغنی تھے۔
مولانا کی کشادہ ظرفی
مولانا بہت سے معاملات میں بہت کشادہ ظرف واقع ہوئے تھے (اگرچہ کچھ دوسرے معاملات میں ذرا تنگ ظرف بھی۔) مولانا سے وابستگی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے غیر مطبوعہ مضامین کے کئی ضخیم ترین بنڈل یہ کہہ کر میرے حوالے کردیے کہ میں ان میں سے جن کو چاہوں’’ الرسالہ‘‘ میں اشاعت کے لیے منتخب کرلوں اور باقی کو ان سے مشورے کے بغیرکوڑے دان کی نذر کر دوں۔ چناچہ میں نے بمشکل دس فیصد مضامین کےعلاوہ سارے مضامین ضایع کردیے۔ متعدد مضامین کو جو نہایت محنت سے لکھے گئے تھے،میرے اظہار اختلاف کے بعد وہ میرے سامنے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا کرتے تھے۔ مجھے ایسے دو مضامین کی اس وقت یاد آتی ہے: ایک مضمون میں انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں دعوت کا کام فتوحات کےہجوم میں دب کر رہ گیا۔ میرے اعتراض پر انہوں نے بلا تامل اسے اسی وقت پھاڑ کر پھینک دیا۔ دوسرے مضمون کا عنوان تھا: البادی اظلم (شروع کرنے والا سب سے بڑا ظالم ہے۔) اس میں اس موقف کا اظہار کیا گیا تھا کہ چوں کہ فسادات کی ابتدا ہندوستان میں مسلمان کرتے ہیں، اس لیے وہ زیادہ بڑے ظالم ہیں۔میری تنقید پر انہوں نے مسکرا کر میرے سامنے اسےپھاڑ کرردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
ان واقعات سے اندازہ ہوا کہ مولانا کے اندر کشادہ ظرفی اور لچک پائی جاتی ہے۔ البتہ وہ اس کے لیے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں تھے کہ اپنے کسی نظریے اور موقف کے کسی جز سے بھی دست بردار ہوں۔ان کی کتاب ’’ تجدید دین‘‘ پڑھ کر مجھے شدید تکدر ہوا جس کا اظہار میں نے مولاناکے سامنے کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مولانا رضوان القاسمی ؒ (مہتمم دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد) نے بھی اس کتاب پراسی شدت کے ساتھ تنقید کی ہے۔ مختلف مواقع پر ان کی ’’تسلیم کی خو‘‘ کودیکھتے ہوئے میں نے مولانا کومشورہ دیا کہ وہ ایک ایسی تحریر لکھ دیں جس کامضمون یہ ہوکہ ان کے جونظریات جمہورعلمائے امت سے متصادم ہیں،وہ ان سے اظہار برأت کرتے ہیں۔مولانانے فرمایا کہ میں خود سے یہ تحریر لکھ لوں، مولانا اس پر دستخط کردیں گے۔لیکن انہوں نے اگلے ہی لمحے وضاحت کی کہ :’’یہ محض آپ کے اطمینان خاطر کے لیے ہوگی۔ورنہ جس طرح میں کل ان تمام نظریات ومواقف کودرست تصور کرتا تھا،آج بھی ویسا ہی تصور کرتا ہوں۔ ان سے دست بردار نہیں ہوسکتا‘‘۔میں نے کہا کہ پھر صرف میرے اطمینان کے لیے اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟
مولانا کی خوبی (اور اسی کے ساتھ خامی !)یہ تھی کہ وہ نہایت سنجیدگی اور متانت سے معترض کے اعتراضات کوسنتےاور اپنے نقطہ نظرکی بھرپور طور پر تفہیم کی کوشش کرتے تھے ۔ معترض کی درشت کلامی اور طنز وتشنیع پر بھی قطعاً مشتعل نہیں ہوتےلیکن اس تفہیم پرواقع ہونے والے نہایت وزنی اشکالات واعتراضات کوبالکل خاطر میں نہیں لاتے اورخاموش ہوجاتے یا موضوع گفتگو بدل دیتے تھے۔
مولانا اور ہندوستانی مسلمان: کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
ہمیں اس پہلوپرغور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ مولانا اور امت مسلمہ کے درمیان جو کشمکش پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں نے ایک دوسرے کوتقریبا مسترد کردیا، اس کا نقصان کس کے حق میں کیا ہوا؟میرا خیال ہے کہ مولانا اورہندوستانی مسلمان دونوں اس نقصان میں برابر کے شریک ہیں۔مولانااور ان کی ایک مثبت نتیجہ خیزفکری تحریک کویہ خسارہ برداشت کرنا پڑا کہ وہ صرف ایک طبقے تک سمٹ کررہ گئی۔ مولانا کی فکر وقت کی آواز تھی ۔ اس کے اسلوب پیش کش میں قوت وتوانائی تھی جس نے اول وہلے میں ہی اہل علم کومتاثر کیا اور مولانا علمی وفکری دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے لیکن خاص طور پر ملی معاملات میں اپنی’’غیر معتدل‘‘ آرا وبیانات سے خود کواس حدتک متنازعہ بنالیا کہ عوام وخواص کی اکثریت کی نگاہ میں ان کی فکرکی معنویت وافادیت مشتبہ ہوکررہ گئی۔مولانا کی نہایت تعمیری سوچ بھی لوگوں کوتخریبی نظرآنے لگی۔ان کے اعلی اور قیمتی افکار وخدمات پس منظر میں چلے گئیں۔ اور ان کے کمزور اور متنازعہ فیہ بیانات واقوال لوگوں کو ذہنوں پر چھا گئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مولانا اور ہندوستانی مسلمان، جن میں عوام وخواص دونوں شامل ہیں، نے ایک دوسرے کوسمجھنے میں شدید غلطی کی۔ مولانا سمجھتے تھے کہ پوری ملت یا امت کا فکری شاکلہ (یہ مولانا کی خاص اصطلاح ہے) بگڑگیا ہے۔ اس کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ لیکن اس تشکیل نوکے کے عمل میں مولانا نے توڑنے اور ڈھانے پرتوجہ زیادہ مرکوز رکھی اور تعمیر پر کم۔کیوں کہ تعمیر ی عمل تدریج اور حکمت عملی چاہتا ہے۔ اپنے مدعویا مخاطب کو آخری حدتک مشتعل اور متنفر کرکے مقصود کوحاصل کرنے کی پالیسی خود مولانا کےاصل الاصول سے ٹکراتی ہے جس کے وہ زندگی بھر مبلغ رہے۔ایک پیغمبر اور داعی اپنی قوم کوسب سے پہلے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں اور اس سے آخری حد تک قربت ومفاہمت کی راہیں تلاش کرتا ہے تاکہ اس کی آواز سنی جاسکے اور اس کے پیغام پر کان دھراجاسکے۔ افسوس مولانا اس پہلو پرزیادہ غور نہیں کرسکے۔
مولانا سے نفرت اور دوری کے نتیجے میں ملت کا جونقصان ہوا وہ بھی کم نہیں ہے۔اس وقت مسلمانوں کے خلاف ملک میں نفرت وعداوت کی جوآندھی چل رہی ہے اورجس سے مسلمانوں کا ملی وسیاسی وجود ہچکولے کھاتا نظر آتا ہے، اس کا پیشگی احساس وادراک کرنے والوں میں مولانا سرفہرست تھے۔میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندو فسطائی تنظیموں کے ساتھ مولانا کے قریبی روابط سے ملت میں جوبھی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت وعداوت کی پنپتی فضا پر پیش بندی کی ایک کوشش تھی۔اس تعلق سے ان کا ذہن مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے متاثر تھا اور وہ ان کے بڑے مداح تھے۔مولانا کی شخصیت اس لحاظ سے ہندوستان کی واحد شخصیت تھی جسے فریق مخالف کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق امورومعاملات میں بی جے پی کے قائدین اور پالیسی ساز ان سے مشورے کرتے اور ان کی راے کواہمیت دیتے تھے۔
ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے جومولانا نے مجھے بتایا تھا۔۱۹۹۹ میں قندھار طیارہ اغوامعاملہ پیش آیا۔ اغوا کاروں سےہندوستانی حکومت کے اہل کاروں کی گفت وشنید سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ وہ ’’دیوبند‘‘ سےگہری عقیدت رکھتے ہیں اور وہاں کی زیارت کے خواہش مند ہیں۔اس واقعے کے بعد بی جے پی نمائندوں کا ایک وفد مولانا کے پاس حاضر ہوا اوراغوا کاروں کی دار العلوم دیوبندسے فکری مناسبت وہم آہنگی کی حقیقت جاننی چاہی۔ مولانا نے فرمایا کہ :’’میں توخود دیوبندی ہوں‘‘۔ اور پھر انہیں سمجھایا کہ دیوبندیت بریلویت صرف ایک مذہبی گروہی شناخت سے عبارت ہے ۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے واقعات سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
مسلم مخالف ہندوتنظیموں اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان مولانا ایک بیچ کی کڑی ہوسکتے تھے اور وہ رول ادا کرسکتے تھے جوجنگ احزاب کے موقع پر صحابی رسول حضرت نعیم بن مسعود ؓنے ادا کیا تھا اور جن کی دانش مندانہ ترکیب سے نہایت خطرناک جنگ کی مسلط کردہ وبا مسلمانوں کے سرسے ٹل گئی تھی۔ لیکن افسوس ہندوستان کی مسلم کمیونٹی مولانا کی اس انفرادی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھاسکی۔مولانا مسلسل اس موضوع پر لکھتے رہے کہ مدعو قوم سے نفرت وکشاکش مسلمانوں کے لیے ہلاکت آفریں ہے لیکن مولانا کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔اکثریت سمجھتی رہی کہ مولانا اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بی جے اور آر ایس ایس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مولانا پر یہ الزام بے بنیاد ہے۔تشددد پسند ہندو تنظیموں سے مولانا کی وابستگی ان کی مخصوص دعوتی ایپروچ کی دین تھی۔وہ اس موقف کا برملا اظہار کرتے تھے کہ ڈائلاگ اور مفاہمت کی کوششیں اصلا تشدد پسند افراد اور جماعتوں کے ساتھ کی جانی چاہییں تاکہ ان کی ذہنیت میں مثبت تبدیلی پیدا ہو،نہ کہ امن پسند افراد کے ساتھ ،جو پہلے ہی ’’بے مسئلہ ‘‘ ہیں۔
ایک دن میں حاضر ہوا تو مولانا کوشدت کے ساتھ اپنا منتظر پایا۔ مولانا نے بتایا کہ : ’’وزیر اعظم واجپائی کی طرف سے ایک اہم میٹنگ میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ میں فیصلہ نہیں کرپارہا ہوں کہ مجھے اس میں شرکت کرنی چاہیے یا نہیں‘‘۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد میٹنگ تھی جس میں شرکت میں مولانا کوتامل تھا ۔ میں نے ذرا ہلکے موڈ میں کہا کہ:’’ مولانا! آپ کی جوبدنامی ہونی تھی وہ توہوچکی۔ اب مزید کیا ہوگی؟‘‘۔(یہ واقعہ اس واقعے کے بعد کا ہے جب آر ایس ایس کی ایک میٹنگ میں مولانا کی پیشانی پر قشقہ لگادیا گیا تھا اور اس کی تصویر میڈیا میں آنے کی وجہ سے مولانا کی شدید بدنامی ہوئی تھی۔) آپ میٹنگ میں شریک ہوں۔میں بھی چلتا ہوں‘‘۔ مولاناکواس پر اطمینان ہوگیا۔ انہوں نے فرمایا کہ:’’ میں اب ضرور شریک ہوں گا۔لیکن آپ کی شرکت اس میں ممکن نہیں ہے‘‘۔ اس واقعے نے مجھے بھی تھوڑی دیر کے لیے سوچنے پر مجبور کیا۔ کیوں کہ مولانا کے ساتھ ہر پروگرام میں مجھے شرکت کی مکمل اجازت پیشگی طور پر حاصل تھی، لیکن بعد کے واقعات نے مجھے اس حقیقت کوسمجھنے میں مدددی کہ یہ مولانا کی مخصوص دعوتی ذہنیت اور فکری مشن کا حصہ تھا۔اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض پنہاں نہیں تھی۔نیتوں کا حال بس خدا کومعلوم ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ مولانا نے ملت کو اور ملت نے مولانا کوکھودیا۔اس میں ’’ونر‘‘ کوئی نہیں ؛ دونوں ہی کھونے والے ہیں۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بلند اور موثر آواز مولانا کی تھی۔’’تعبیر کی غلطی‘‘کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔اقامت دین اور حاکمیت الہ کی اصطلاحوں میں سوچنے والوں کے فکری زاویے بدل گئے۔مولانا علی میاں ندوی ؒ کی ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘ اور اخوان المسلمین کے مرشد عام دوم حسن الہضیبی کی ’’دعاۃ لاقضاۃ‘‘ نے وہ کام نہیں کیا جومولانا کی مذکورہ کتاب نے کیا۔اسلام کی سیاسی تعبیر کے خلاف مولاناکی کوششیں مزید موثر اور نتیجہ خیز ہوسکتی تھیں اگر ان کوملت کا باضابطہ تعاون حاصل ہوتا۔
مولانا کے کام کی تین اساسی جہات
مولانا وحید الدین خان ؒ کے کام اور خدمات کی میری نظر میں تین اہم اور بنیادی جہات یا رخ ہیں:
۱۔اسلام کی سیاسی تعبیر کے مخالف بیانیے کی تشکیل
۲۔ اسلامی عقلیات کی تشکیل
۳۔دعوتی لٹریچر کی تالیف واشاعت
۱۔اسلام کی سیاسی تعبیر کے حوالے سے سرسری ذکر اوپر آیا۔جماعت اسلامی سے نکلنے کے بعد مولانا نے اس کواپنی فکر کا مرکز بنایا اور’’تعبیر کی غلطی‘‘ کے علاوہ متعدد چھوٹی بڑی تحریریں تسلسل کے ساتھ لکھیں۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ اصحاب علم وفکر کی توجہ کا مرکز بنا اور اس پرمباحثات شروع ہوئے۔خود جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والے مختلف اصحاب علم: مولانا سلطان احمد اصلاحی ؒ ،مولانا عنایت اللہ اسد سبحانی کے افکار پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔خواہ یہ اثرات براہ راست ہوں یا بالواسطہ۔ان دونوں حضرات کی کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔ مرحوم مولانا اصلاحی کی نظریہ ٔ حاکمیت الہ کی رد میں اورثانی الذکر کی نظریہ ٔ جہاد میں غلو کی رد میں۔ مولانا کی پہلی مضبوط شناخت یہی تھی۔عالم عرب میں بھی سیاسی اسلام کی علمی تنقید کے حوالے سے اس موضوع پرمولانا کی فکری کاوشوں نے اس بحث کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کیا۔ وہاں کے علمی حلقوں پر اس کے اس کے اثرات مرتب ہوئے۔مغربی حلقوں میں اس حوالے سے مولانا کو جوپذیرائی ملی وہ بالکل ظاہراور متوقع تھی۔ جو کمی دوسرے موضوعات کےحوالے سے نظر آتی ہے،وہی کمی یہاں بھی نظر آتی کہ اس فکر کواستحکام عطا کرنے اور پروان چڑھانے والے رفقائے کار اور تلامذہ مولانا کومیسر نہیں آئے۔ مولانا کو جو کچھ کہنا تھا وہ ایک عرصے تک الفاظ وتعبیرات کی تبدیلی کے ساتھ کہہ فارغ ہوگئے۔اس میں اضافہ مولانا کی سرپرستی میں دوسرے افراد کے ذریعہ ہوتا تویہ فکر اور مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ بناتی۔لیکن ’’الرسالہ‘‘ تحریک کے تحت یہ کام رک گیا۔’’سیاسی اسلام‘‘ کا نظریہ جس تیزی کے ساتھ اپنے پر پھیلاتا رہا، اس تیزی اورشدت کے ساتھ اس کا تعاقب نہیں کیا جاسکا۔’’تعبیر کی غلطی‘‘ کے علاوہ مزید مضبوط اور موثر تحریریں اس موضوع پر نہیں آسکیں۔
۲۔مولانا کےکام کی دوسری اہم جہت اسلامی عقلیات کی تشکیل ہے۔ برصغیر ہند میں سرسید احمد خاں ؒ نام اس کے بنیاد گذاروں میں اہمیت رکھتا ہے۔لیکن ان کی کوششیں اس حوالے سے افراط وتفریط کا شکار ہوکر رہ گئیں۔البتہ اس کے نتیجے میں اس تعلق سے ذہنوں میں سوالات ابھرے اور کام کا داعیہ پیداہوا۔ پھر شبلی نعمانی (الکلام اور علم الکلام) اور علامہ محمد اقبال(The Reconstruction of Religious Thought in Islam ) نے اس حوالے سے جوکام کیا وہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔اس کے اثرات غیرمعمولی طور پر عالم اسلام اور اس کے باہر کے علمی وفکری حلقوں پر مرتب ہوئے۔جدید علم کلام پرگفتگوآگے بڑھی۔مولانا کام کام اس میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔مولانا نے جدید سائنس کو اپنا موضوع بنایا۔جدید سائنسی افکار واکتشافات کے حوالے سے مذہبی فکریات اورمذہبی نظریہ ٔ حیات وکائنات( world view) پر عائد کیے جانے والے اعتراضات وتنقیدات کاجائزہ لینے کی کوشش کی۔مذہب کے خلاف سائنسی مفروضات کا علمی رد لکھا جو’’علم جدید کا چیلنج‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ۔اس موضوع پر یہ کتاب ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے علاوہ’’عقلیات اسلام‘‘،مذہب اور سائنس‘‘ اور ’’مذہب اور جدید چیلنجز‘‘ جیسی کتابیں اہم اور قابل مطالعہ ہیں۔یہ کہنا میری نظر میں بہت صحیح نہیں ہے کہ مولانا مغربی فکروفلسفے کا بہت گہرا ادراک رکھتے تھے۔عالم اسلام کیا خود برصغیر ہند میں اس حوالے سےشہرت رکھنے والوں کی ایک تعداد موجود ہے۔(بظاہر مولانا کوفلسفے سے کچھ خاص شغف نہیں تھا) لیکن مولانا نے جس سنجیدہ، سادہ اور مضبوط علمی اسلوب میں اس موضوع پر خامہ فرسائی کی وہ بہت اہم اورنتیجہ خیز تھی۔کاش مولانا نے اس موضوع پر کام کومزید آگے بڑھایا ہوتا لیکن چنداچھے ابتدائی نقوش کے بعد مولانا نے اس کام کوموقوف کردیا یا یہ کہ مولانا کا زاد علم اس حوالے سے ایک حد پر جا کر ختم ہوگیا۔
اس کی ایک وجہ میری نظر میں یہ بھی ہے کہ یہ موضوع بہت زیادہ مطالعہ چاہتا ہے،دوسرے موضوعات پر کاموں کےہجوم میں جس کی فرصت مولانا کو نہیں مل سکتی تھی۔ دوسرے موضوعات پر کام کی مصروفیات کو کم کرکے اس کام کوترجیحی فہرست میں رکھنا چاہیے تھا، لیکن مولانا اس کے لیے خود کوتیار نہیں کرسکے۔یہ کام بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔مولانا کوایسے افراد تیار کرنے چاہییں تھے جو اس کام کا بیڑاسنبھال سکیں اور اسے جاری رکھ سکیں۔لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔
۳۔ مولانا کے کام کی تیسری جہت دعوہ لٹریچر کی تیاری اور اشاعت ہے۔قرآن،حدیث اور سیرت رسول کو بنیاد بناکر مولانا نے چھوٹے بڑے بہت سے کتب ورسائل لکھے جن کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے۔بلاشبہ یہ لٹریچر دعوتی نقطہ ٔ نظر سے بہت اہم ہے۔قرآن کا انگریزی ترجمہ کافی مقبول ہوا۔’’تذکیر القرآن‘‘ اس لحاظ سے اہم ہے جس میں سادہ انداز میں قرآن کی تعلیمات وپیغام کوواضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح سیرت رسول پر ’’پیغمبر انقلاب ‘‘اس موضوع پر لکھی سینکڑوں کتابوں میں اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔ادھر کم از کم دودہائیوں سے مولاناکی پوری توجہ کام کی اس تیسری جہت پرمرکوز تھی ۔ یعنی سادہ انداز میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کو غیر مسلمین کے درمیان عام کرنا۔ اس کے کیا اثرات ونتائج مرتب ہوئے؟ا س کا اگراس تناظر میں جائزہ لیاجائے کہ ان کوپڑھ کر کتنے لوگوں نے اسلام قبول کیاتویہ کوئی بہت معقول بات نہیں ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا کنورژن کو بنیاد بنا کر کام کرنے کے قائل نہیں تھے۔اس کا وہ برملا اظہار بھی کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ یہ کام خدا کا ہے۔ ہمار ا کام صرف ابلاغ ہے اور بس۔اس میں شک نہیں کہ مولانا کے دعوتی لٹریچر میں جابجا افراط وتفریط کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ دین وشریعت کا کوئی پہلو کہیں زیادہ دب گیا ہے اور کہیں زیادہ ابھرگیا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اس کی افادیت اور اس سیاق میں مولانا کی انفرادیت مسلم ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ باقی اس میں کیا خامیاں اور کمیاں ہیں ان پر بحثیں ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔
مولانا کے افکاروخدمات کی اور بھی جہات ہیں لیکن یہ تین جہات زیادہ بامعنی اور اہم ہیں۔یہ تینوں جہات اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ یہ کام آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن ’’الرسالہ‘‘ اسلامی مرکز نے اب اپنے ادارے’’ سی پی ایس انٹرنیشنل ‘‘کے تحت صرف تیسری جہت پر اپنی ساری توجہات مرکوز کردی ہیں۔ اس طرح پہلی دو جہتیں جوخالص فکری نوعیت کی ہیں،اس کی متقاضی تھیں کہ مولانا کے بعد ان پر کام کا سلسلہ جاری رہے لیکن بظاہر اب’’ الرسالہ‘‘ تحریک کے تحت یہ ممکن نہیں ۔کیوں کہ وسائل توموجود ہیں ،افراد موجود نہیں ۔
آخری بات: مولانا کی چند کمزوریاں اور ان کے نقصانات
مولانا کے اپنے ممتاز اوصاف اور نادر خوبیوں اور کمالات کے ساتھ چند کمزوریاں بھی تھیں جن کے مسلسل واقعات مشاہدے میں آئے۔کمزوریوں سے یوں تو بڑی سے بڑی اور عبقری شخصیات بھی خالی نہیں ہوتیں لیکن مولانا کا معاملہ اس باب میں کئی لحاظ سے استثنائی حیثیت رکھتا ہے۔
- میری نظر میں مولانا کی سب سے بڑی کمزوری ان کی انانیت پسندی اوران کا ’’انا ولا غیری‘‘ کا مزاج تھا۔وہ ایک طرح کی نرگسیت(narcissism) کا شکار تھے اور اپنے علاوہ کسی کوخاطر میں لانا گوارہ نہیں کرتے تھے۔وہ اپنی فکر بلکہ اس کے ہر ہر جز کے تعلق سے’’ پیغمبرانہ ایقان‘‘(prophetic conviction) رکھتے تھے جس میں کسی خطا کا سرے سے کوئی امکان نہیں تھا۔شاید کوئی ندائے آسمانی بھی انہیں یہ باور نہیں کراسکتی تھی کہ وہ کسی معاملے میں غلط بھی ہوسکتے ہیں۔یہی وہ مزاج ہے جس نے انہیں پوری قوم سے برگشتہ اور متنفر کردیا۔ کیوں کہ ان کی نظر میں جو ان کی بات کونہیں مانتا وہ ان میں سے نہیں ہے۔ان کی یہ لے اتنی بڑھی کہ ایک مضمون میں انہوں نے اپنی فکر اور مشن سے وابستگی کو نجات اخروی کے لیے ضروری قراد دےدیا۔(سردست اس کے حوالے کے لیے دیکھیے مولانا عمار خان ناصر کا مضمون۔http://alsharia.org/2006/oct/c-p-s-international-ammar-nasir ۔
- حقیقت یہ ہے کہ مولاناکا معاملہ ایک نفسیاتی کمزوری کا معاملہ زیادہ ہے۔ہم اسے افتاد طبع سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔اس زاویے سے بھی ان کی فکروشخصیت کوپرکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس نفسیاتی کمزوری کی وجہ سے ان کی شخصیت اور فکر دونوں میں شدید تضادات جمع ہوگئے تھے۔اعتدال پسندی کے مبلغ ہمارے مولانا اکثر معاملات میں سخت’’غیر اعتدال پسند‘‘ واقع ہوئے تھے۔ان کی مختلف عادات واطوار اعتدال کا منھ چڑاتی تھیں۔اسلامی فکر کے نمائندگان و شارحین،فقہا و محدثین اورمجتہدین، من حیث المجموع، ان کی نگاہ میں محض بودے واقع ہوئےتھے۔ان پر ان کی تنقیدات کی ایک جھلک ان کی مذکورہ بالا کتاب ’’تجدید دین‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلام پسندوں کی طرح وہ شعوری یا غیر شعوری سطح پر یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کی سیاسی وفکری تاریخ اپنے ابتدائی مرحلے میں پٹری سے ہٹ گئی جس کی وجہ سے امت( مولانا ’’امت‘‘ کو ایک سیاسی اصطلاح سمجھتے تھے اور اس کے استعمال کے حق میں نہیں تھے۔) ’’بے راہ ‘‘ ہوکررہ گئی ہے۔اب ضرورت ہے کہ اس کی صحیح رخ بندی کی جائے۔
ہندوستان میں فسادات کے حوالے سے اصل ظالم مسلمان ہیں اور غیر مسلم مظلوم یا کم تر ظالم۔کیوں کہ ان کی نظر میں فسادات کوشروع کرنے والے مسلمان ہوتے ہیں۔امن ،صلح، جہاد،دعوت،سیاست ان تمام حوالوں سے ان کے نظریات وتصورات میں ناہمواریاں اورافراط وتفریط کے عناصر پائے جاتے ہیں۔توازن اور اعتدال کی بجائے ہر جگہ ان کی مبالغہ پسند طبیعت اپنی جولانی دکھاتی نظر آتی ہے۔ اس میں کچھ تو ان کی مخصوص دعوتی ذہنیت کی کارفرمائی ہے جس میں بسا اوقات اصول پر زمانی ومکانی مصالح حاوی ہوجاتے ہیں ،جس کی مثالیں دیگر شخصیات کے یہاں بھی ملتی ہیں، لیکن مولانا کے یہاں اس کا تناسب زیادہ ہوگیا ہے۔وہ ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کرمسلمانوں کوسوچنے کی دعوت دیتے رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود شدید طور پر اسی نفسیات کے اسیر تھے جس کی ابتدا جماعت اسلامی کے خلاف اس کوچھوڑنے کے بعد ہوئی تھی۔وہ پوری مسلم کمیونٹی کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا رہے اور ان کو گمراہی و ضلالت پرقائم تصورکرتے رہے۔اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ خود پوری مسلم کمیونٹی نے انہیں مسترد کردیا۔ - میرا اندازہ ہے کہ دینی فکر کے جس طرح کے اساسی اور حساس موضوعات پر مولانا نے قلم اٹھایا،اس لحاظ سے ان کا مطالعہ یک طرفہ ہونے کے ساتھ ،بہت وسیع نہیں تھا۔ اس میں کچھ تو ان کی بینائی کی کمزوری کا مسئلہ تھا جودہائیوں سے لاحق تھا،جس کی وجہ سے مطالعے میں دشواریاں پیداہوگئی تھیں، دوسری طرف اسلام کے فکری تراث سے ان کی بے اعتمادی تھی۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ تھی کہ وہ فکر کے آدمی تھے ،مطالعے کے آدمی نہیں تھے۔اس لیے وہ مختصرمطالعے سے مفصل نتیجہ اخذکرلیا کرتے تھے۔بعد میں ان کا یہ مستقل وطیرہ بن گیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں میں حوالہ جات ومطالعات کی کمی سخت کھٹکتی ہے۔
- ایک کمزوری ان کی زود نویسی کی عادت ہے۔زیادہ لکھنے اور تصنیفات کی تعداد میں اضافے کی بے پناہ خواہش نے ان کی تصنیفی کاوشوں کے معیار ومشمولات کو سخت نقصان پہنچایا۔نہایت حساس اور مہتم بالشان موضوعات پر ان کا قلم کس قدر بے احتیاطی سے چلتا تھا اس کی ایک بڑی مثال ان کی کتاب’’ شتم رسول کا مسئلہ ‘‘ ہے جسے دراصل مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کوجوڑکر ترتیب دے دیا گیا ہے۔ چناں چہ کتاب کا ایک بڑا حصہ عبارات و مضامین کی تکرار بے جا پر مشتمل ہے۔ اس قدر حساس موضوع پر اس قدر بے احتیاطی کی روش کسی نمایاں مصنف کے یہاں شاید ہی پائی جاتی ہو۔
- الرسالہ تحریک کی سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہ ہے کہ وہ صرف ایک شخصیت کی فکری کاوشوں کے مدار پر گھومتی نظر آتی ہے۔ مولانا نے’’ الرسالہ‘‘ کواس طرز پر نکالا اور وہ کامیاب رہے اور بلاشبہ اس حوالے سے الرسالہ کی اپنی انفرادیت مسلم ہے کہ یک قلمی نگارشات مختلف طبقات کے قارئین کے ذوق مطالعہ کی سیرابی کا سامان کرتی رہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرز پرایک رسالہ توضرور نکالا جاسکتا ہے اور اسے مقبولیت بھی حاصل ہوسکتی ہے لیکن اس طرز پر کوئی تحریک برپانہیں کی جاسکتی۔صرف ایک خانقاہی نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔
- مسلسل مخالفتوں کا سامنا کرنے کی وجہ سے مولانا کے اندر غالبا ایک قسم کی ’’دانش ورانہ سادیت پسندی‘‘ (intellectual sadism) کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔چناں چہ وہ اپنے مخالفین کومطمئن کرنے سے زیادہ تڑپانے کو اہمیت دیتے تھے۔ملی وسیاسی موضوعات پر جا و بیجاا ن کے بہت سے متنازعہ فیہ بیانات کی حقیقت کواس پس منظر میں سمجھاجاسکتا ہے۔
- مولاناپرسب سے زیادہ ان کے تفرد پسندانہ خیالات کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مولانا کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔شذوذ آرا اور تفردات کا ایک بڑا حوالہ برصغیر میں خود شاہ ولی اللہ ؒ کی ذات ہے اور متقدمین علما ومجتہدین میں بھی اس کی بڑی اور نمایاں مثالیں کثرت سےنظر آتی ہیں۔یہ ایک غیر تقلیدی ذہن کا اہم وصف ہے اگر اسے تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے ۔حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فکر کی نمائندگی کرنے والی شخصیات فکر کی جن پرپیچ راہوں سے گزر کراسلامی فکروثقافت کولاحق معاصر مشکلات اور چیلنجوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں،ان میں ٹھوکریں کھانا اور بار بار کھانا اور سنبھلنا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔اس کے بغیر منزل کی راہ نہیں ملتی ۔جولوگ دریا کی تہوں سے موتیوں کو نکالنے کا ہنر جانتے اور حوصلہ رکھتے ہیں وہی موجوں کے تھپیڑے بھی کھاتے ہیں اور ڈوبتے بھی ہیں۔ساحل کے تماشائی ان حقائق کا ادراک نہیں کرسکتے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ مولانا کی فکر کا بے کم و کاست تجزیہ ہونا چاہیے اور ان کے تمام ذہنی ونفسیاتی ، زمانی ومکانی اور دیگراحوال وظروف کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی فکروشخصیت کی قدر پیمائی کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ہر زاویے سےان کی پوری فکر کا پھرپور تنقیدی جائزہ لیاجانا چاہیے تاکہ ان کی فکراپنے دائرے میں منقح ہوکر سامنے آجائے۔ مولانا کے تئیں صحیح اور سچی خراج عقیدت یہی ہے اور مولانا نے زندگی بھر اسی پر عمل کیا اور اسی کی لوگوں کوترغیب دی۔اس حوالے سے مولانا کی ایک قیمتی تحریر’’علما اوردور جدید‘‘ کوپیش نظر رکھنا چاہیے جس میں مولانا نے دور جدید میں علما کی فکروکردار کا تفصیلی تنقیدی جائزہ لیا ہے اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کی نقاب کشائی کے ساتھ ان سے مرتب ہونے والے مثبت ومنفی اثرات سے بحث کی ہے۔صرف ثناخوانی یا مجرد تنقید فکری زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔اس تحریر کا مقصد نہ تو مولانا کی کمزوریوں کی نقاب کشائی ہے اور نہ ان کے اوصاف وامتیازات کی مدح سرائی۔اس کا مقصد ان کی فکروشخصیت کے خد وخال کو سمجھنا اور ان میں موجود بصیرت کے پہلوؤں کو واشگاف کرنا ہے۔ اس تحریر کو اسی تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔