مئی ۲۰۲۱ء

عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضاتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ جامع ترمذی (۱)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
آئین، اسلام اور بنیادی حقوقجسٹس قاضی فائز عیسیٰ 
معاہدات: ذمہ داری یا ہتھیار؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قائد اعظم کا اسلامخورشید احمد ندیم 
مولانا وحید الدین خانؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
الشریعہ اکادمی کی تعلیمی سرگرمیاںادارہ 

عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضات

محمد عمار خان ناصر

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث کے حوالے سے بعض معروضات میں (مارچ ۲٠۲۱ء) یہ بنیادی نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عقل اور مذہب پر  گفتگو  کے سلسلے کو  تاریخی سیاق  میں  اور تہذیبی سطح پر  منظم کرنے کی ضرورت ہے۔  انفرادی سطح پر   اور مختلف مسائل کے حوالے سے      تاثرات اور ججمنٹس کے اظہار کا   سلسلہ پہلے سے موجود ہے اور     آئندہ بھی جاری رہے گا، لیکن دو تہذیبی مواقف کے مابین مکالمے  کی  نوعیت، شرائط اور  تقاضے کافی مختلف ہوتے ہیں اور دراصل  اسی سطح پر  ہمارے معاشرتی تناظر میں اس بحث کی   علمی تفہیم  کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں اہل دانش کا کردار اور ذمہ داری بہت  بنیادی ہے۔  

 اس ضمن میں  گفتگو  کا بنیادی محور، ہماری طالب علمانہ رائے میں، درج ذیل تین   سوالات کو ہونا چاہیے:

۱۔ انکارخدا کے موقف کا عقلی امکان اور جزوی سطح پر  اس کا وقوع انسانی تاریخ میں ہمیشہ  سے موجود رہا ہے۔  خاص طور پر مسلمانوں کی فکری روایت کے لیے دہریت اور  عقلی بنیادوں پر انکار نبوت وغیرہ کے مواقف نامانوس نہیں ہیں  اور ان موضوعات پر تفصیلی بحثیں  اسلامی روایت میں موجود ہیں۔ جدید دور کی غالب تہذیب نے  انسانی فکر واحساس کے لیے اس کی قبولیت کے ذرائع ووسائل پیدا کرنے میں غیر معمولی محنت کی ہے اور یوں اس کو  اسی طرح ایک تہذیبی طاقت حاصل ہو گئی ہے جیسے  اس سے  پہلے  مختلف مشرکانہ مذاہب کو اور توحید پر مبنی ابراہیمی روایت کو حاصل رہی ہے۔   اس پہلو سے   دنیا کے   دیگر معاشروں میں  بھی الحاد کی مختلف سطحوں اور صورتوں کے لیے  فکر واحساس میں قبولیت  کا پیدا ہونا  نہ تو کوئی اچنبھے کی بات ہے اور نہ  تاریخی عمل  کے لحاظ سے کوئی   بہت خلاف معمول یا غیر متوقع معاملہ ہے۔    تاہم  بحث طلب سوال یہ ہے کہ  دنیا کی موجودہ غالب تہذیب نے اپنے خاص تاریخی سیاق میں  جس تصور وجود کو  اپنے لیے اختیار کیا ہے اور    اب اسے  تاریخی تحدیدات سے ماورا   قرار دیتے ہوئے ایک آفاقی سچائی رکھنے والے تصور وجود  کا درجہ دینے  کا فطری داعیہ رکھتی ہے،  کیا  اس سے مختلف تصور وجود رکھنے والی تہذیبوں اور بالخصوص مسلم معاشروں سے اس بات کی توقع یا مطالبہ   کسی بھی اصول کے لحاظ سے روا ہے کہ وہ اس موقف کو  من وعن قبول کر لیں اور اپنی  تاریخ اور اپنی تہذیبی روایت سے متعلق  اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں کہ وہ ایک نابالغ ، ناپختہ اور مبتدی انسانی شعور کے مظاہر ہیں؟

جدید الحادی عقل کی طرف سے مذہب کی یہ توجیہ کہ یہ انسان میں خوف کے جذبے سے پیدا ہوا ہے، کوئی منطقی استدلال نہیں، بلکہ اس کی نوعیت تعلی کی ایک خاص نفسیاتی پوزیشن سے کسی موقف پر حکم لگانے کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ’’استدلال “ سرے سے نفس مسئلہ کو موضوع ہی نہیں بناتا۔ اگر کسی تجرباتی یا منطقی دلیل سے خدا کا موجود نہ ہونا ثابت کیا جا چکا ہو، تب تو مذہب کی توجیہ کرتے ہوئے مذکورہ حکم لگایا جا سکتا ہے، لیکن اصل دعوے کے بارے میں بڑے بڑے ملحدین (فلسفی اور سائنٹسٹ) یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ خدا کے وجود کی حتمی طور پر نفی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں یہ دعوی کہ انسانوں نے خوف کے جذبے کے زیر اثر تخیل کی مدد سے مذہب کو ایجاد کیا ہے، منطقی طور پر کوئی وزن نہیں رکھتا۔ یہ محض ایک ’’حکم “ ہے جو منطقی دلیل کی غیر موجودگی میں، ایک مفروضے کو درست مان کر مخالف موقف پر لگا دیا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجیے تو اسی طرح کا نفسیاتی حکم، مفروضاتی پوزیشن کو تبدیل کر کے جدید الحاد پر بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر وجود باری کی نفی ثابت نہیں، اور یہ مفروضہ قبول کر لیا جائے کہ خدا موجود ہے تو جدید الحادی رویے کی یہ نفسیاتی توجیہ بآسانی کی جا سکتی ہے کہ یہ انسان کے misplaced’’علمی تکبر“ سے پیدا ہوا ہے۔ انسان نے کائنات کے لا محدود نامعلوم حقائق کی ایک معمولی سی تجلی دیکھ لی اور کچھ طبیعی قوانین دریافت کر کے زندگی کی کچھ مشکلات کو آسان بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تو ایک تھڑ دلے انسان کی طرح اس زعم میں مبتلا ہو گیا کہ اس نے کائنات کی حتمی حقیقت جان لی ہے اور اب اسے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں رہی۔

جدید الحاد کی تہذیبی جائے پیدائش بھی اس توجیہ کی پوری تائید کرتی ہے۔ مغرب میں، جو جدید الحاد کی اصل جنم بھومی ہے، جدید علم اور طاقت سے پرورش پانے والا تعلی اور تکبر کا رویہ تو اب خود مغربی علوم میں طشت ازبام کیا جا رہا ہے۔ جس تہذیب نے اپنے علاوہ باقی ساری دنیا کے معاشروں اور تاریخ کا مطالعہ تکبر اور تعلی کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا ہو، اس کے بارے میں اس کی ضمانت کیسے اور کس اعتماد پر دی جا سکتی ہے کہ کائنات کی حقیقت طے کرتے ہوئے علم اور طاقت کے نشے سے اس کا دماغ خراب نہیں ہوا ہوگا اور ماضی کی ساری انسانی تاریخ پر یہ حکم کہ وہ جہالت اور خوف کی وجہ سے مذہب کے زیر اثر رہی، تکبر کی نفسیاتی کیفیت سے آازاد ہو کر لگایا ہوگا؟

۲۔ عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کے حوالے سے مغربی روایت اپنے تاریخی تجربے کی روشنی میں جس موقف تک پہنچی ہے، وہ تاریخی تجربہ غیر مغربی معاشروں کا نہیں ہے۔ تاہم  ایک خاص تہذیب کا تاریخی تجربہ ہونے کے باوجود جدید مغربی فکر میں ایک یونیورسل اپیل بھی پائی جاتی ہے۔  یہاں غور وفکر اور بحث  کا طلب گار نکتہ یہ ہے کہ اگر  تہذیبی سطح پر  یہ پوزیشن ہمارے لیے قابل قبول نہیں تو کیا  ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت نہیں کہ  غالب تہذیب کے موقف کی  تاریخی تشکیل کیسے ہوئی ہے اور  وہ اپنے اندر ایک یونیورسل اپیل پیدا  کرنے میں کیونکر کامیاب ہے؟  کیا ان سوالات کا ایک گہرا تہذیبی فہم ہمارے لیے کوئی معنویت رکھتا ہے یا نہیں کہ عالم غیب سے  بے اعتنائی اور  پھر  اس کی نفی   کا موقف اختیار کرنے والی عقل نے  کائنات، حیات وشعور  اور انسان کی  تفہیم کی کیا متبادل فکری اساسات مہیا  کی ہیں؟  عالم غیب کے اثبات پر مبنی    تفہیم کائنات  کو قبول کرنے میں   جدید عقل کے کیا تحفظات ہیں اور   مذہبی تفہیم پر  اس کی مختلف الجہات تنقید کیا ہے؟    عقل جدید نے  انسانی معاشرت کی تشکیل کے لیے درکار اہم اخلاقی وفلسفیانہ تصورات کو، جن کی  تشکیل    انسانی تاریخ   میں مذہبی  اعتقاد اور    عقلی  تصور سازی کے اشتراک سے ہوئی تھی،   کیسے غیر مذہبی   اساسات پر استوار  کر کے  اپنے لیے  کارآمد بنا لیا ہے؟ جدید سائنس، حیات وکائنات اور انسان کی اس نئی تفہیم کو  کیسے اور  کن پہلووں  سے براہ راست یا بالواسطہ تقویت فراہم کرتی ہے؟   اور  کائنات کی تفہیم کے غیر مذہبی سانچے میں رہتے ہوئے  جدید عقل انسانی معاشروں کی تنظیم اور اجتماعی سرگرمی   کے نظام قائم  کرنے میں  کیسے بالفعل  کامیاب ہے؟  

بحالت موجودہ یہ سب سوالات مذہبی فکر  کے سنجیدہ غور وفکر کا  موضوع نہیں ہیں  اور وہ  عقل جدید کی فکری،  عملی اور تاریخی  طاقت کا کماحقہ  اندازہ کیے یا جائزہ لیے بغیر  جزوی حوالوں سے  اس کے  نقائص، کمزوریوں یا داخلی تضادات  کا حوالہ دینے پر عموما اکتفا  کیے  ہوئے ہے۔ بالفاظ دیگر،   ہمارے ہاں ابھی تک جدید تصور وجود  اور اس سے متفرع ہونے والے تصور عقل کو ، جس کی قوت اور  نتیجہ خیزی تاریخ میں مشہود ومحسوس  ہے،  فکری سطح پر اہم سمجھنے  اور اس کی قوت وتاثیر کے منابع  کا علمی وعقلی فہم  حاصل کرنے  کی ضرورت  کا احساس پیدا نہیں ہو سکا اور ہم ا س کے غیر فطری ہونے    کی ججمنٹ  کے ساتھ اس اطمینان کو اپنے لیے  کافی سمجھتے ہیں کہ   یہ تہذیب اپنے خنجر سے آپ  ہی خود کشی کر لے گی، کیونکہ جو آشیانہ شاخ نازک پر بنایا جاتا ہے، وہ ناپائدار ہوتا ہے۔

۳۔ قرون وسطی کے یورپی معاشروں  کو چھوڑ کر،  جہاں مسیحی تہذیب نے  کلی مذہبی  یک رنگی کی صورت  پیدا کر دی تھی،  تمام تاریخی معاشروں اور تہذیبوں میں مذہبی  یا غیر مذہبی مواقف کا تنوع اور مختلف اعتقادی    مواقف رکھنے والے افراد اور گروہوں  کا وجود قبول کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی کیا جاتا ہے۔   تاہم   یہ توسع  اپنی تہذیبی شناخت سے دستبردار ہو کر یا اس کی قیمت پر   اختیار نہیں کیا جاتا۔   ہر تہذیب اپنی  نظریاتی اور سیاسی حاکمیت  کو قائم رکھتے ہوئے  ہی یہ توسع  پیدا کرتی ہے اور اسی شرط پر  اس توسع کو برقرار بھی رکھ سکتی ہے۔  اگر   توسع، اس کی شناخت اور حاکمیت کے لیے خطرہ بن رہا ہو    تو نہ صرف یہ کہ اس کا  جواز باقی نہیں رہتا، بلکہ عملا بھی اسے  برقرار رکھنا ناممکن ہو  جاتا ہے۔  یہ بنیادی بات سمجھنے کے لیے موجودہ غالب تہذیب کو  ہی دیکھ لینا کافی ہے۔  عقل اور مذہب  کی تقسیم   اور   مذہب کی ایک خاص دائرے میں تحدید اس تہذیب کی بنیادی شناخت ہے  اور اس کی ساری  رواداری، توسع، غیر جانب داری   اور اپنے شہریوں کے ساتھ  مساوی برتاو وغیرہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے  کہ تہذیبی شناخت    کو چیلنج نہیں کیا جائے گا، یعنی   اس کو تبدیل  کرنے کے لیے   سماجی یا سیاسی طاقت کو منظم نہیں کیا جائے گا۔  مسلمانوں کے ،مغربی معاشروں میں  دن بدن نمایاں ہوتے ہوئے  وجود کو اسی پہلو سے  ایک  مسئلے کے طو رپر دیکھا جاتا ہے کہ وہ  ان معاشروں کی  غالب مذہبی شناخت  اور    سیکولر تہذیبی شناخت، دونوں کے لیے امکانی مشکلات پیدا کرتے  ہوئے دکھاتی دے رہے ہیں۔

ہمارے تناظر میں اس حوالے سے  قابل بحث سوال یہ  بنتا ہے کہ کیا مسلمان معاشرے اپنی تہذیبی شناخت  کو قائم رکھنے اور  اپنی سیاسی حاکمیت کو تہذیبی شناخت  کے ساتھ وابستہ کرنے کا حق نہیں رکھتے؟  اگر نہیں رکھتے تو کیوں؟ اور اگر رکھتے ہیں تو  یہاں سیکولرزم کی بحث کا کیا مطلب ہے؟   کیا ہمارے ہاں یہ بحث  محض ایک نظری تحلیل وتجزیہ  کا عنوان ہے یا  اس کی نوعیت موجودہ تہذیبی شناخت  پر حکم  لگانے   اور اس شناخت کو عملا ختم یا کمزور کرنے کی ایک  باقاعدہ سیاسی جدوجہد ہے؟  اگر یہ بحث دوسری نوعیت کی ہے تو اس میں اور  یورپ میں  خلافت اسلامیہ کے قیام  کی جدوجہد منظم کرنے میں     کیا بنیادی فرق ہے؟

ہمارے نزدیک  یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کو تہذیبی  تناظر اور تاریخی سیاق میں موضوع بنانا    ازبس ضروری ہے  اور مسلم معاشروں کی تعمیر  واستحکام کی خواہش رکھنے والے   تمام اہل دانش کو، چاہے ان کے فکری وتہذیبی رجحانات کچھ بھی ہوں، ان سوالات پر ایک مسلسل اور سنجیدہ علمی مکالمے کا حصہ بننا چاہیے۔

ہماری نوجوان نسل اس وقت مختلف حوالوں سے ایک وجودی اضطراب اور شناخت کے بحران مختلف حوالوں سے دوچار ہے۔ آپ کسی بھی تقسیم کے حوالے سے دیکھ لیں، خط تقسیم کے دونوں طرف بڑی تعداد میں انتہائی مضطرب اور ’’مرو یا مار دو“ قسم کی ذہنی کیفیت کا شکار نوجوان ملیں گے جو اپنے کرب، اضطراب اور غصے کے اظہار کے لیے کسی نہ کسی سیاسی، معاشرتی یا مذہبی تقسیم کا حصہ بن گئے ہیں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر اس تقسیم کو وسیع اور گہرا کرنے میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

مثلا مذہب اور مذہبی عقائد واحساسات کے حوالے سے اس تقسیم کو دیکھ لیجیے جو پچھلی ایک دہائی میں بہت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ایک طرف مذہبی نوجوانوں کا ایک جم غفیر نظر آئے گا جس کو قطعی طور پر اندازہ نہیں اور نہ انھیں اس کی کوئی تفہیم بہم پہنچائی گئی ہے کہ جدید دور میں عالمی سطح پر مذہب کے حوالے سے کیا سوچ مستحکم ہو چکی ہے، اس کی فکری وتاریخی بنیادیں کیا ہیں اور وہ مسلمان معاشروں کے اندر کیسے اور کس پیمانے پر سرایت کر رہی ہے۔ صورت حال کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ان نوجوانوں کے لیے مذہب پر اٹھایا جانے والا کوئی بھی سوال، خاص طور پر جب اس کا پیرایہ اظہار کچھ نامناسب ہو، ایک وجودی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو، ظاہر ہے، اسی سطح کے رد عمل کا تقاضا کرتا ہے۔

خط تقسیم کی دوسری جانب بھی اسی طرح disgruntled نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس بیانیے کی قائل ہو گئی ہے کہ تمام تر یا زیادہ تر سیاسی وسماجی اور اخلاقی مسئلوں کی جڑ دراصل مذہب ہے اور معاشرے کی منصفانہ اور عقلی تشکیل مذہب کو اسی طرح حاشیے تک محدود کیے بغیر ممکن نہیں جیسے مغربی معاشروں میں عموما کی گئی ہے۔ چونکہ منصفانہ اور عقلی سماج کی خواہش فوری اور بے تاب ہے، جبکہ اس آئیڈیل کا حصول سردست مسلم معاشروں میں ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے ان نوجوانوں کے ہاں ردعمل کی غالب شکل وہ بن جاتی ہے جو ہمارے سامنے ہے، یعنی مذہبی عقائد و احساسات کی تحقیر اور ان سے متعلق تمسخر واستہزا کا اظہار۔

گویا دونوں طرف ذہنی رویوں میں جس چیز کا فقدان ہے، وہ ہے ایک تاریخی صورت حال کو سمجھنے کی صلاحیت اور اس بات کو ذہنی ونفسیاتی طور پر قبول کرنا کہ تاریخ اور معاشرہ اس کے پابند نہیں کہ وہ ہماری توقعات اور خواہشات کے مطابق پہلے سے بنے ہوئے موجود ہوں اور ہم اس میں کسی رکاوٹ کا سامنا کیے بغیر اپنے آئیڈیلز کے مطابق زندگی کے سفر کو آگے بڑھا سکیں۔ اس رویے کو پختہ کرنے کی خدمت پھر کچھ ایسے اہل قلم انجام دیتے ہیں جن کی تاریخ اور انسانی معاشرے کے فہم کی صلاحیت جیسی بھی ہو، کچھ پڑھ لکھ لینے اور اظہار کی صلاحیت حاصل کر لینے کی بدولت وہ ایک عصبیت کے ترجمان کے طور پر پہچان بنا لینے میں کامیاب ہیں۔

اس سارے منظر میں، ذمہ دار اور تعمیر معاشرہ سے دلچسپی رکھنے والے اہل دانش کے سامنے سوال یہ ہے کہ اس پوری نسل کو، جس کا بنیادی مسئلہ، فکری وابستگیاں مختلف اور متضاد ہونے کے باجود، اصلا ایک ہی ہے، کیسے یہ سکھایا جائے اور ان میں ایسی نفسیاتی اور فکری پختگی کیسے پیدا کی جائے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں جو ان کے تصورات کے لحاظ سے سخت ناپسندیدہ ہے، حقیقت پسندانہ رویے کے ساتھ رہ سکیں، صورت حال کے ساتھ بطور ایک امر واقعہ ذہنی ہم آہنگی پیدا کر سکیں، اور معاشرے میں اپنے لیے کوئی تعمیری کردار تلاش کریں؟ ان کے جوش وجذبہ کا رخ کیسے اس طرف موڑا جا سکتا ہے کہ ان کی توانائی موجود صورت حال پر شکایت اور اظہار نفرت تک محدود رہ جانے کے بجائے کسی مثبت اور تعمیری مصرف میں صرف ہو؟


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(248) ائتِیَا کا ترجمہ

ثُمَّ استَوَیٰ اِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَان فَقَالَ لَہَا وَلِلاَرضِ ائتِیَا طَوعًا اَو کَرہًا قَالَتَا اَتَینَا طَائِعِینَ۔ (فصلت:11)

”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ”وجود میں آ جاو، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو“ دونوں نے کہا:ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح“۔ (سید مودودی، جب وجود ہی نہیں تھا تو حکم کیسے دیا جائے گا؟)

”پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو طوعا یا کرہا۔ وہ بولے کہ ہم رضامندانہ حاضر ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی، ائتیا کا مطلب ’احکام کی تعمیل کرو‘ نہیں ہوگا)

اس آیت میں نہ تو وجود میں آنے کا حکم دیا ہے نہ احکام کی تعمیل کا، بلکہ حاضر ہونے کا حکم دیا ہے، درست ترجمہ یہ ہے:

”پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا جب کہ وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ دونوں آو (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(249)    فَقَضاہُنَّ سَبعَ سَمَاوَاتٍ فِی یَومَینِ کا ترجمہ

فَقَضَاہُنَّ سَبعَ سَمَاوَاتٍ فِی یَومَینِ۔ (فصلت :12)

”پس ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرمایا دو دنوں میں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں سوال یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں دو دن کیوں لگیں گے۔ درست ترجمہ ہے: ”پس ان کو سات آسمان بنادیا دو دن میں“۔

(248)    وَاُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُم کا ترجمہ

عدل کے معنی انصاف کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور صحیح و حق بات کہنے کے بھی ہوتے ہیں۔ درج ذیل آیت میں عام طور سے انصاف کرنا ترجمہ کیا گیا ہے:

فَلِذَلِکَ فَادعُ وَاستَقِم کَمَا اُمِرتَ وَلَا تَتَّبِع اَہوَاءہُم وَقُل آمَنتُ بِمَا اَنزَلَ اللَّہُ مِن کِتَابٍ وَاُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُمُ اللَّہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُم لَنَا اَعمَالُنَا وَلَکُم اَعمَالُکُم لَا حُجَّۃَ بَینَنَا وَبَینَکُمُ اللَّہُ یَجمَعُ بَینَنَا وَِالَیہِ المَصِیرُ۔ (الشوری :15)

”تو اسی لیے بلاو اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے، ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا، کیا کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں، اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف پھرنا ہے“۔(احمد رضا خان)

”اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں“۔ (سید مودودی)

”اور مجھے یہ حکم ہے کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں“۔ (امین احسن اصلاحی، عدل کا مطلب صرف فیصلہ کرنا تو نہیں ہوتا ہے۔)

وَاُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُمُ کا عام طور سے ترجمہ کیا گیا ’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں‘۔ یہ ترجمہ اس جملے کو سیاق کلام میں اجنبی سا بنا دیتا ہے۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کرنے یا فیصلہ کرنے کا یہاں کیا محل ہے؟ خطاب تو مکہ میں وہاں کے مشرکین سے ہے جو رسالت کے منکر ہیں اور اپنی پوری قوت سے آپ کی مخالفت کررہے ہیں۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے بیچ صحیح بات واضح کردوں“۔

یہ ترجمہ سیاق کلام کے ساتھ بالکل مطابق ہوجاتا ہے۔ اور وہ صحیح بات کیا ہے وہ اس جملے کے فورا بعد واضح بھی کردی گئی ہے۔

عدل کے معنی انصاف کرنے کے علاوہ صحیح بات کہنے کے بھی ہوتے ہیں، قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا: وَِاذَا قُلتُم فَاعدِلُوا (انعام:152) ’اور جب بولو توسچ بات کہو‘اس کی تفسیر جلالین میں اس طرح ہے: وَاذا قُلتُم فِی حُکم او غَیرہ فاعدِلُوا بِالصِّدقِ۔

(249) اُستُجِیبَ لَہُ کا ترجمہ

استجاب لہ کا مطلب ہوتا ہے کسی کی بات مان لینا یا اس کی طلب قبول کرلینا۔

زمخشری کہتے ہیں: المراد بالاستجابۃ۔ الطاعۃ والامتثال۔ (الکشاف)

 ابن عاشور کہتے ہیں: الِاستِجابَۃ: الاجابَۃ، فالسِّینُ والتّاءُ فِیہا لِلتَّاکِیدِ، وقَد غَلَبَ استِعمالُ الِاستِجابَۃِ فی اجابَۃِ طَلَبٍ مُعَیَّنٍ او فی الاعَمِّ۔ (ابن عاشور)

قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف صیغوں سے کئی جگہ آیا ہے اور اسی مفہوم میں آیا ہے۔ البتہ درج ذیل آیت میں اُستُجِیبَ لَہُ کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’اسے مان لیا گیا‘کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس لفظ کے مطابق نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا:’اس کی بات مان لی گئی‘۔ تراجم ملاحظہ فرمائیں:

وَالَّذِینَ یُحَاجُّونَ فِی اللَّہِ مِن بَعدِ مَا استُجِیبَ لَہُ حُجَّتُہُم دَاحِضَۃ عِندَ رَبِّہِم وَعَلَیہِم غَضَب وَلَہُم عَذَاب شَدِید۔ (الشوری: 16)

”اور جو لوگ اللہ کے باب میں حجت کررہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مانا جاچکا ہے، ان کی حجت ان کے رب کے آگے بالکل پسپا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، اُن کی حجت بازی اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے“۔ (سید مودودی)

”اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس“۔ (احمد رضا خان)

اول الذکر تینوں ترجموں میں وہ غلطی موجود ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

(250)  یَنظُرُونَ مِن طَرفٍ خَفِیٍّ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَتَرَاہُم یُعرَضُونَ عَلَیہَا خَاشِعِینَ مِنَ الذُّلِّ یَنظُرُونَ مِن طَرفٍ خَفِیٍّ۔ (الشوری:45)

”اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ (جہنم کے) سامنے کھڑے کیے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جارہے ہوں گے اور کنکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے“۔ (سید مودودی)

آخر الذکر ترجمے میں ایک محل نظر بات یہ ہے کہ یَنظُرُونَ کا ترجمہ’اس کو دیکھیں گے‘ کیا ہے،’اس کو‘کے لیے یہاں کوئی لفظ موجود نہیں ہے، یہا ں مطلق ’دیکھنے‘ کی بات ہے،’کسی خاص چیز کو دیکھنے‘ کی بات نہیں ہے۔ دوسری محل نظر بات یہ ہے کہ من طرف خفی کا ترجمہ’نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے‘ کیا ہے۔ من طرف خفی کا مطلب’کن آنکھیوں سے‘ ہے۔ لیکن ’نظر بچا بچا کر‘کے لیے یہاں کوئی لفظ نہیں ہے۔

(251) مِن اَولِیَاء کا ترجمہ

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر من ولی (واحد کے صیغے میں) کہہ کر نفی کی گئی ہے۔ بعض مقامات پر مِن اَولِیَاء (جمع کے صیغے میں) کہہ کر نفی کی گئی ہے۔ دونوں اسلوبوں میں کچھ معنوی فرق ضرور ہے، اور ترجمے میں اس فرق کا اظہار ہونا چاہیے۔ درج ذیل تین مقامات میں سے پہلے دونوں مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے اس کی رعایت نہیں کی گئی ہے، جبکہ تیسرے مقام پر عام طور سے مترجمین نے اس کا لحاظ کرتے ہوئے ترجمہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ تیسرے مقام پر آگے یَنصُرُونَہُم بھی آگیا ہے۔

(1) وَمَا کَانَ لَہُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن اَولِیَاء۔ (ہود:20)

”اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا“۔ (سید موددی)

”اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی“۔ (احمد رضا خاں)

(2) وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن اَولِیَاء۔ (ہود:113)

”اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی نہیں“۔(امین احسن اصلاحی)

”اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے“۔ (سید مودودی)

آخر الذکر ترجمے میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ غیر ضروری ہے اور اس عموم کو متاثر کررہا ہے جو اس جملے میں پایا جاتا ہے۔ اسلوب کلام تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے کسی بھی طرح کے اولیاءہوں گے ہی نہیں۔

درست ترجمہ:

”اور اللہ کے سوا تمہارے اولیاءنہیں ہوں گے“۔

(3) وَمَا کَانَ لَہُم مِّن اَولِیَاءَ یَنصُرُونَہُم مِّن دُونِ اللَّہِ۔ (الشوری: 46)

”اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں“۔ (سید مودودی)

”ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ سے الگ ان کی امداد کرسکیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور وہاں ان کے اولیاءمیں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو خدا کے مقابل میں ان کی کوئی مدد کرسکے“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس آیت کا آخرالذکر ترجمہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ان کے اولیاءمیں سے وہاں کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں موجود ہوگا، گویا ان کے اولیاءہونے کا اثبات ہے، مگر ان میں سے کسی کے وہاں موجود ہونے کی نفی ہے۔ حالاں کہ وَمَا کَانَ لَہُم مِّن اَولِیَاءَ (ما نافیہ اور اس کے بعد من برائے استغراق) کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے اولیاءہی نہیں ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں اولیاءہونے کی مکمل نفی کی گئی ہے۔

درست ترجمہ: ”اور وہاں ان کے اولیاءنہیں ہوں گے جو خدا کے مقابل میں ان کی کوئی مدد کرسکیں“۔

(252) ملجا اور نکیر کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ملجا اور نکیر دونوں الفاظ کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

استَجِیبُوا لِرَبِّکُم مِّن قَبلِ اَن یَاتِیَ یَوم لَّا مَرَدَّ لَہُ مِنَ اللَّہِ مَا لَکُم مِّن مَّلجَاٍ یَومَئِذٍ وَمَا لَکُم مِّن نَّکِیرٍ۔ (الشوری:47)

”مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا“۔ (سید مودودی)

”اس دن تمہارے لیے نہ کوئی پناہ ہوگی اور نہ تو کسی چیز کو رد کرسکو گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے“۔ (احمد رضا خان)

”اس دن تمہارے لیے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی“۔ (محمد جوناگڑھی)

ملجا اسم ظرف ہے اور اس کا درست ترجمہ پناہ گاہ ہے نہ کہ صرف پناہ۔ جبکہ نکیر کا مطلب اظہار ناگواری ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ اسی معنی میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن نہ تو بھاگ کر کہیں پناہ لے سکو گے، اور نہ اظہار ناگواری کے ساتھ سامنا کرسکو گے۔

زیر نظر جملے کا ترجمہ یوں ہوگا:

”اس دن تمہارے لیے نہ کوئی پناہ گاہ ہوگی اور نہ تمہارے لیے اظہار ناگواری کا موقعہ ہوگا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(253) وَلَولَا کَلِمَۃ سَبَقَت مِن رَّبِّکَ اِلَیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی کا ترجمہ

قرآن مجید میں چار مقامات پر وَلَولَا کَلِمَۃ سَبَقَت مِن رَّبِّکَ آیا ہے۔ جب کہ درج ذیل ایک مقام پر اِلَیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی کا اضافہ ہے:

وَلَولَا کَلِمَۃ سَبَقَت مِن رَّبِّکَ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَینَہُم۔ (الشوری :14)

اس جملے کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

”اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات ایک معین مدت کے لیے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان فورا فیصلہ کردیا جاتا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا“۔ (سید مودودی)

”اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی ایک مقرر میعاد تک تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا“۔ (احمد رضا خان)

”اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقینا ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا“۔ (محمد جوناگڑھی)

دراصل اس جملے میں اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی،کَلِمۃ سَبَقَت مِن رَّبِّک کی غایت نہیں ہے، بلکہ کَلِمَۃ کی وضاحت ہے۔ یعنی متعین مدت تک کے لیے کسی بات کاطے پانا مراد نہیں ہے، بلکہ متعین مدت ہی وہ طے شدہ بات ہے۔ ترجمہ ہوگا:

”اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک مدت معین کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

گویا جو بات باقی چار آیتوں میں کہی گئی ہے وہی بات یہاں بھی کہی گئی ہے، البتہ یہاں زیادہ وضاحت کے ساتھ کہی گئی ہے۔

مطالعہ جامع ترمذی (۱)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

(جامع ترمذی کے اسلوب تصنیف اور مختلف احادیث کے مضمون کے حوالے سے سوالات و جوابات)

مطیع سید: صحاح ستہ امت میں بڑی مشہور ہوئیں،ان کو پہلے پڑھا جاتا ہے اور ان پر فوکس بھی کیا جاتا ہے ،حالانکہ ان سے پہلے بھی حدیث کی کتب لکھی گئیں۔ غالبا مسند احمد اور موطا امام محمد ان سے پہلے کی ہیں ۔ کیااہم خصوصیات تھی یا کیا ایسا معیار تھا  جس کی وجہ سے ان کو قبول عام  حاصل ہوا؟

عمار ناصر: صحاح ستہ کی دو چیزیں اہم  ہیں ۔ایک تو یقینی طور پر ان کا   معیار ِ صحت ہے، کیوں کہ ان تک آتے آتے تنقیح کا  کام کافی  ہو چکا تھا ۔پھر ان مصنفین نے کچھ اپنے بھی معیار ات وضع کیے  اور اس میں مہارت پیداکی۔ دوسرا پہلو حسن ِترتیب  ہے ۔اس میں ہر کتاب کی اپنی خصوصیات ہیں جس کی وجہ انہیں وہ قبول ِعام حاصل ہوا  جو باقی کو نہیں ہوا۔

مطیع سید: امام مالک کی موطا کو بہت شہرت ملی، لیکن موطا امام محمد کو وہ شہرت نہ مل سکی؟

عمار ناصر: اصل مو طا تو امام مالک ہی کی ہے ۔امام محمد کی موطا کو آپ دیکھ لیں ،اس کے بارےمیں بحث بھی ہے کہ  کیا یہ ان کی اپنی موطا ہے یا امام مالک کی موطا کا ایک نسخہ یا ایک روایت  ہے ۔اس میں بہت زیادہ روایتیں انہوں نے امام مالک سے لی ہیں۔کچھ روایتیں اپنی سند  سے بھی لی ہیں ۔ اس میں اصل حیثیت کی  بحث چلتی ہے ۔کچھ تو یہ کہتے  ہیں کہ یہ امام مالک کی موطاکی ہی ایک روایت ہے۔تاہم اس کے اندرونی جو شواہد ہیں، ان سے یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اسے نسخے کی روایت کے طورپر مرتب نہیں کیا، بلکہ ایک مستقل تصنیف لکھی ہے۔جو روایتیں انھوں نے امام مالک  سے لی ہیں، وہ بھی اس میں شامل کی ہیں ،اپنی روایتیں بھی شامل کی ہیں اور اپنی فقہی آراء کے حوالے سے اس سارے مواد کو مرتب کیا ہے۔ بہرحال مدینہ میں مقیم ہونے اور ایک محدث کی حیثیت سے امام مالک کا جو مقام اور تعارف ہے، وہ ظاہر ہے امام محمد کا نہیں ہے،  اسی لیے  محدثین کی روایت میں موطا امام مالک ہی  توجہ کا مرکز رہی ہے۔

مطیع سید: جو روایات انھوں نے امام مالک سے لی ہیں، کیا وہ ان کو بعینہ لے لیتے ہیں یا پھر اس پر کوئی حکم  بھی لگا تے ہیں ؟

عمار ناصر: اگر  ان کا موقف  اس کے مطابق ہے تو ظاہر ہے، وہ اس کو لے لیتے ہیں۔کہیں وہ اس پر  تبصرہ بھی کرتے ہیں ،کہیں تعارض ہو تو اپنی ترجیح بیان کر دیتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں، بلکہ  اس روایت کو لیتے ہیں۔

مطیع سید: اسی طرح کتاب الآثار ہے ؟

عمار ناصر:  کتاب الآثار  کے نام سے امام ابویوسف نے بھی  اپنی مرویات مرتب کی ہیں اور امام محمد نے بھی۔  دونوں مجموعوں  میں  وہ مرویات ہیں جو ان حضرات نے کوفہ میں اپنے شیوخ سے نقل کی ہیں۔

مطیع سید: یعنی یہ امام ابو حنیفہ کی نہیں ہے ؟

عمار ناصر: زیادہ تر سند وں میں ان کا ذکر آتا ہے ۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی مرویات ہیں ، لیکن تصنیف بہرحال امام ابوحنیفہ کی نہیں ہے۔

مطیع سید: مسند امام اعظم  کے بارے میں کیارائے ہےکہ یہ ان کی ہے یا ان کی طرف صرف منسوب ہے ؟

عمار ناصر: ان کی اپنی مرتب کردہ تصنیف تو ظاہر ہے کہ نہیں ہے ۔ان کی مرویات ہیں جو مختلف لوگوں نے مختلف عنوان سے جمع  کی ہیں ۔ بعد میں خوارزمی نے ان سب کو جمع کر کے جامع المسانید بنادیا ۔ حال میں   امام ابوحنیفہ کی مرویات کو کتب حدیث سے جمع کر کے مرتب کرنے کے حوالے سے مزید بھی کئی علمی کوششیں کی گئی ہیں۔

مطیع سید: جامع الترمذی  میں ایک چیز بڑی خاص  ہے ،یعنی جو وہ حدیث پر حکم لگاتے ہیں حسن یا غریب ہونے کا۔ پھر اس کے    Combinations  تبدیل ہوتے رہتے  ہیں۔مثلا یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ  حسن ہے، یہ غریب ہے۔

عمار ناصر: یہ باقاعدہ ان کی اصطلاحات ہیں اور بعض اصطلاحات کا مفہوم متعین کرنے میں کافی اختلاف بھی ہے کہ ان سے ان کی مراد کیا ہوتی ہے۔یہ ایک مستقل بحث ہے ۔ ان میں سے بعض اصطلاحات کی انہوں نے کتاب العلل میں وضاحت کی ہے ۔

مطیع سید: کتاب العلل میں  انہوں نے صرف حسن اور  غریب کا ذکر کیا ہے ۔اس Combination کا ذکر نہیں کیا ۔

عمار ناصر: ترمذی  کے شارحین  مقدمے میں ان چیزوں  کی وضاحت کرتے ہیں۔ کسی حد تک ابن حجر نے شرح نخبۃ الفکر میں بھی وضاحت کی ہے ۔حسن امام ترمذی  کے ہاں خاص چیز ہے ۔حسن سے کیا مراد ہے، وہ کس کے ساتھ جمع ہوتی ہے، کس کے ساتھ  نہیں ،اس میں کچھ بحثیں بھی ہیں ۔ بہتر ہے کہ کسی اچھی شرح کو دیکھ لیا جائے،اس کے مقدمے میں انہوں نے اس پر بحث کی ہوتی ہے ۔

مطیع سید: جو غریب حدیث لاتے ہیں، تو کیا اس سے استدلال کیا جاسکتاہے ؟

عمار ناصر: ان کی اصطلاح کے لحاظ سے غریب، ضعف کے در جے میں نہیں ۔ غریب  وہ روایت ہے جو ایک ہی سند سے مروی ہو، کسی اور سند سے  مروی نہ ہو۔تو غریب صحت کے منافی نہیں ہے ۔

مطیع سید: کچھ روایات ہیں، کافی کم، جن کے آگے انہوں نے منکر بھی لکھا ہے ۔

عمار ناصر: وہ صحت کے منافی ہیں ۔

مطیع سید: تو پھر کیوں ایک محدث ایک روایت  نقل کر دیتاہے جبکہ اسے پتہ بھی ہے کہ یہ منکر ہے ؟

عمار ناصر: روایت نقل کرکے ساتھ اس کا حکم بیان کر دینا بھی تو ایک کام ہے ،یعنی اس موضوع سے متعلق یہ روایت موجود ہے، لیکن اس کا درجہ یہ ہے ۔

مطیع سید: کیا یہ بھی ان کے ذہن میں ہو سکتا ہے کہ ہم تک تو یہ ضعیف پہنچی ہے ،شاید اس کا کوئی اور طریق بھی موجود ہو؟

عمار ناصر: ظاہر ہے ۔یہی تو ہمارے محدثین کی خوبی ہے  کہ انہوں نے جو بھی مواد ہم تک پہنچا یا ہے، وہ چھانٹ کر  اور باقی کو دریا بر د کر کے آپ کو صرف نتیجہ نہیں دے دیا بلکہ مواد کو بھی محفوظ کیا ہے ۔

مطیع سید: جس روایت کے بارے میں انہوں نے کوئی حکم نہیں لگایا، اس کو کیا سمجھیں گے؟

عمار ناصر: اس پر بھی بحث آپ کو کسی شرح کے مقدمے میں مل جائے گی کہ ما سکت عنہ الترمذی، اس کا حکم  کیا ہے ۔مجھے اس وقت بحث مستحضر نہیں ہے ۔

مطیع سید: امام ابو حنیفہ کا نام پوری کتاب (جامع ترمذی) میں کہیں نظر نہیں آیا ۔

عمار ناصر: کہیں کہیں انہوں نے قسم توڑ ی ہے  (مثلا کتاب الطہارۃ میں جرابوں پر مسح کی بحث میں)۔ امام ابوحنیفہ کے بارے میں محدثین کی رائے  اچھی نہیں ہے۔

مطیع سید: امام اوزاعی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے وقت کے بہت بڑے امام تھے، لیکن ان کو ان شاگردوں نے ضائع کر دیا ۔اس سے کیا مراد ہے؟ کیا ان کو اچھے شاگرد نہیں مل سکے؟

عمار ناصر: ہمارے جو معروف ائمہ فقہاء ہیں، ان میں امام شافعی خود مصنف ہیں ۔امام احمد نے حدیثیں جمع کر دیں، لیکن اپنی علمی و فقہی آراء انہوں نے خود نہیں لکھیں ،ان کے شاگر دوں نے لکھیں ۔  امام مالک نے خود بھی کتاب لکھی ہے اور ان کے شاگردوں نے بھی مسائل جمع کیے ہیں۔امام اوزاعی خود مصنف نہیں ہیں۔ بظاہر ان کے کسی شاگرد نےبھی ان کی آراء کو محفو ظ نہیں کیا۔جیسے امام محمد کو دیکھیں کہ انہوں نے بڑا کا م کیا ،امام ابو حنیفہ کا سارا علم محفو ظ کر دیا۔ تو اس جملے کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسے شاگر د جو امام اوزاعی کے علم کو محفوظ کرتے ، وہ میسر نہیں آسکے۔

مطیع سید: حدیث مرسل سےاستنباط کیا جا سکتاہے؟

عمار ناصر: امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے ہاں ذرا توسع ہے ، وہ استنباط کر لیتے ہیں ۔امام شافعی وغیرہ کے ہاں کچھ مزید شرائط لگائی جاتی ہیں، مثلا یہ کہ دو تین طرق سے وہ روایت ہو یا بعض ایسے تابعین راوی ہوں جن کی ثقاہت ثابت ہے، ورنہ نہیں ۔

مطیع سید: آپ اپنی کتاب براہین میں ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ مر سل ہے، اس لیے اس سے استنباط نہیں کیا جا سکتا۔

عمار ناصر: نہیں، وہ محض مر سل ہونے کی وجہ سے نہیں ہوگا۔ دیکھنا پڑے گا کہ اس کی مزید کیا وجہ ہے ۔

مطیع سید: عموما یہی کہا جاتا ہے کہ مر سل سے لو گ استنباط کر تے تھے ،امام شافعی نے آکر کہا کہ اسے ہم ایسے ہی  قبول نہیں کریں گے ۔

عمار ناصر: یہ صحیح ہے ۔طبر ی نے لکھا ہے کہ دو سو سال تک علما مر سل روایت کر تے رہے۔ امام شافعی نے آکر پہلی دفعہ یہ بحث اٹھائی۔لیکن امام شافعی کی بات غلط نہیں ہے ۔دیکھیں، پہلے دور میں لوگ بعض دفعہ سند نہیں پوچھتے تھے، ایک اعتماد کا ماحول تھا ۔پھر جب  بداعتمادی ہونے لگی تو زیادہ اہتمام سے سند کی تحقیق کی ضرورت پیش آئی ۔تو اس اعتماد کے دور میں تابعی نے اگر بات کی ہے اور راوی  قابل اعتماد ہے تو روایت قبول کی جا رہی ہے۔امام شافعی نے دیکھا کہ اعتماد کے ماحول میں کئی ایسی چیزیں بھی نقل ہو  رہی ہیں جو تحقیق کر کے دیکھیں تو اوپر تک نہیں پہنچتیں۔ تب انہوں  نے یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ نہیں، اتصال سند کی ہمیں تحقیق کرنی چاہیے ۔

مطیع سید: امام شافعی کی فقہ کو دیکھیں تو محدثین انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ جتنے بڑے محدث کو دیکھیں گے تو وہ شافعی ہوگا ۔

عمار ناصر: اس پر بعض محدثین کا بڑا دلچسپ تبصرہ ہے کہ امام شافعی نے آکر محدثین کی پوزیشن کو ذرا مضبو ط کیا۔ محدثین کو تو سند یں اور روایتیں آتی تھیں ،لیکن جو علمِ مجادلہ تھا وہ ان میں نہیں تھا ۔اہل کوفہ اس میں تیز تھے اور بحث مباحثہ میں بازی  لےجاتے تھے۔امام شافعی نے آکر توازن قائم کیا  اور انہیں سکھایا کہ  اس طرح علمی مجادلہ کیا جاتا ہے۔

مطیع سید:  یہاں پر ایک اور چیز میر ے ذہن میں پیداہوتی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحاح ستہ  کی کافی احادیث احناف کے موقف کے خلاف ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حدیثیں بعد میں مدون ہوئیں،اس سے پہلے جو روایتیں فقہاء تک پہنچی  تھیں، انھوں نے اسی کے مطابق رائے قائم کی ۔ لیکن امام شافعی کے پاس احادیث کہاں سے آگئیں ؟ امام شافعی 150 ھ میں پیداہوتے ہیں، امام شافعی کا محدثین کے ساتھ اختلاف بہت کم ہےحالانکہ دور کا اتنا اختلاف بھی نہیں ۔

عمار ناصر: امام ابو حنیفہ  کا اعتنا بنیادی طور پر علمِ حدیث کےجمع اور استقصا سے نہیں تھا۔وہ کوفہ میں تھے  اور وہیں رہے اور اپنے اساتذہ کے توسط سے کو فے میں جو ذخیرہ پہنچا ہوا تھا، بنیادی  طور پر ان کا انحصار اس پر ہے  ۔اس لیے آپ دیکھیں گے کہ جب امام محمد سفر کرکے مدینہ جاتے ہیں تو بہت  سے معاملات میں اپنی رائے بدل لیتے ہیں۔امام شافعی نے تو باقاعدہ سارے مراکزِ علم گھومے ہیں۔امام محمد سے استفادہ کیا ،امام مالک سے استفادہ کیا اور انہوں نے بڑی محنت سےان دونوں علموں کو جمع کیا ۔اُدھر سے فقہ سیکھی، اِدھر سے روایتیں لیں اور اس طرح حدیث اور رائے کا امتزاج تیار کیا۔اس لیے ان کے ہاں اس کی مثالیں نسبتا بہت کم ہیں کہ ان تک روایت نہ پہنچی  ہو۔

مطیع سید: کیا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ احناف کی فقہ کا انداز ہی یہی ہے کہ وہ ہر صحیح حدیث کو  لازما قبول نہیں کرتے، جیسا کہ امام مالک بھی اہل مدینہ کے عمل کو احادیث پر ترجیح دیتے ہیں ؟

عمار ناصر: احناف کے ہاں یقینا یہ عنصرہے، لیکن  غور کرنے سے یہ  اتنا زیادہ فیصلہ کن نہیں لگتا ۔یہ جو منہج کا اختلاف ہے  یا جو  فقہی نتائج کا اختلاف ہے، اس میں یہ عنصر مجھے کم لگتا ہے ۔ محدثین کے ہاں  جو اصولی موقف ہے، وہ بڑے مضبوط طریقے سے احناف کے ہاں بھی موجود ہے کہ اثر آگیا ہے یا حدیث آگئی ہے تو قیاس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔یہ اصولا بھی ان کے ہاں واضح ہے اور اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔اصل میں جہاں فرق پڑتا ہے، وہ یہی ہے کہ ذخیرہ روایت اس طرح سے  پوری تنقیح کے ساتھ ان کے ہاں نہیں پہنچا ۔ جب نہیں پہنچا تو پھر جتنا ذخیرہ پہنچا،  اس میں انھوں نے تعامل، قیاس اور آثار صحابہ وغیرہ کی روشنی میں  ایک معیار بنایا کہ ہم اس  طر ح کی روایت لیں گے اور اس طر ح کی  نہیں لیں گے ۔یہ ظاہر ہے کہ ان کا حق ہے۔جس  صورت حال میں وہ کھڑے ہیں، اس میں انہوں نے اپنے لیے  احتیاط  پر مبنی ایک طریقہ اختیار کیا ہے ۔ورنہ میرے خیال میں  جس طرح ساری روایتیں بعد کے ادوار میں اہل علم تک زیادہ منقح ہو کر  پہنچی ہیں ،ان تک بھی پہنچ جاتیں تو اختلاف بہت کم  رہ جاتا ۔

مطیع سید: امام شافعی 150 ھ میں پیدا ہوئے  اور 200 ھ تک ان کی ایک فقہ ہے ۔پھر 200 ھ سے 204 ھ تک ان کی ایک نئی فقہ مرتب ہوئی ۔ ان کے قولِ جدید اور قولِ قدیم پر مبنی بہت سے اختلافات ہیں۔اس کا سبب کیا تھا ؟

عمار ناصر: بنیادی سبب تو یہی ہے کہ انہوں نے پہلے اپنے علاقے میں بیٹھ کر آرا ء قائم کیں۔ اس کے بعد ان کے علمی اسفار شروع ہو تے ہیں ۔پھر جب آخری عمر میں وہ مصر پہنچتے ہیں تو اس سارے غور وفکر پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ اپنے علمی سفر میں انہوں نے بہت سی چیزیں سیکھی ہیں ۔

مطیع سید: یہاں ایک بڑا اہم سوال پیداہوتا ہے کہ فقہ کی جہاں بحثیں ہوتی ہیں، وہاں اما م ترمذی اپنی جامع میں ائمہ کا ذکرکرتے ہیں،امام شافعی،امام احمد وغیرہ سب کا ذکر کرتے ہیں لیکن امام جعفرکا کہیں بھی ذکر نہیں کرتے۔فقہ جعفری پوری مدون ہمارے سامنے موجود ہے۔اور امام جعفر امام ترمذی سے پہلے گزر چکے ہیں بلکہ امام ابو حنیفہ کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتاہے۔ان کا کہیں کوئی قول درج نہیں اور اہل بیت کی روایات بہت ہی کم ہیں ۔

عمار ناصر: اس کے اسباب سیاسی ہیں ۔اصل میں ائمہ اہل بیت کو شروع سے ہی جس گروہ نے گھیر لیا، اس نے انہیں  اہل سنت کے مرکزی دھارےسے ہٹا دیا ۔ اس سے رویہ بدل جاتا ہے ۔آپ دیکھیں گے کہ اس گروہ نے ملاوٹ بھی بڑی کی ہے لیکن ان ائمہ کے اقوال کو بنیادی طور پر محفوظ بھی انہوں نے ہی کیا ہے ۔

مطیع سید: جی انہوں نے ہی محفوظ کیا اور پوری فقہ مدون کی ۔ آپ نے اپنی کتاب " حدودوتعزیرات " میں اس کا ذکر بھی کیاہے ۔

عمار ناصر: اس لیے ان کا شروع سے ہی ایک الگ سیاسی تشخص بھی بن گیا اور الگ علمی تشخص بھی بن گیا ۔

مطیع سید: ائمہ اہل بیت کو اس بات کا احسا س تھا ؟

عمار ناصر: ظاہرہے، ائمہ اہلِ بیت کو احسا س تو تھا ،لیکن اس وقت بنیادی طورپر کشمکش سیاسی تھی جس میں تھوڑا سا مذہبی  عنصر شامل ہونا شروع ہوگیا تھا ۔شاید اس طرح علمی طور پر الگ مکتبہ فکر  امام جعفر تک نہیں بناتھا ۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے تو امام ترمذی روایت لیتے ہیں تو کیا اس گروہ نے حضرت علی کو نہیں گھیرا تھا؟

عمار ناصر: حضرت علی تک یہ صورتحال نہیں تھی ۔حضرت حسن اور حضرت حسین تک بھی نہیں تھی۔لیکن مثلا امام زید بن علی بہت بڑے امام ہیں ۔ان کے ساتھ بھی جو گروہ وابستہ ہوا، اس نے ان کا الگ تشخص بنا دیا ۔

مطیع سید: تو اس وجہ سے امام ترمذی نے ان سے کوئی چیز نہیں لی ۔

عمار ناصر: بظاہر، ایسے ہی لگتا ہے ۔

مطیع سید: یہ صورتحال تو اب بھی ایسی ہے کہ ہم ان کے ایک الگ گروہ ہونے کی وجہ سے ان کی بہت سی چیزوں سے استفادہ نہیں کرتے۔

عمار ناصر: جی بالکل ۔

مطیع سید: منی کو خشک ہو جانے کے بعد کپڑے سے کھر چ دینے سے متعلق جو روایت آتی ہے  (جامع الترمذی،  کتاب الطہارۃ، باب فی المنی یصب الثوب، حدیث نمبر ۱۱۶) میرے خیال سے تو اس طر ح کپڑا صاف نہیں ہوتا ،کیوں کہ وہ اس میں جذب ہوئی ہوتی ہے، لیکن روایت میں ہے  کہ کھر چ لی جائے تو ٹھیک ہے۔

عمار ناصر: بس ٹھیک ہے، یہی  کفایت کرے گا ۔خشک ہو گئی تو جب اسے کھرچ دیں گے تو اس کے اوپر جو تہہ ہے، وہ اتر جائے گی اور جو اندر جذب ہو گئی تھی، وہ بھی کسی حد تک  زائل ہو جائے گی،تو اس کو کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ طہارت کے باب میں آپ کو احادیث  میں جو  عمومی رویہ نظر آئے گا ،وہ یسر اور آسانی کا ہے ۔

مطیع سید: میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اس دور میں یہ گاڑھی ہوا کرتی تھی اور اب چونکہ پتلی ہوتی ہے ، اس لیے  اسے دھونا ضروری ہے ۔

عمار ناصر: یہ بعد میں جو ایک تکنیکی فقہی ذہن بنا ہے، وہ اس طرح کی تاویل کرتا ہے۔ ہمارے ایک استاذ بھی یہی کہا کرتے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ  گاڑھی ہو یا پتلی، جو کپڑے کے اندر جذب ہو گئی ہے، وہ تو وہیں ہے۔ اسی سے پھر وہ بحث بھی پیداہوجاتی ہے کہ کیا منی نجس ہے؟ کیوں کہ بہت سے صحابہ اور امام شافعی کہتے ہیں کہ نجس نہیں ہے ، صرف نظافت کے پہلو سے اس کو  زائل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مطیع سید: جرابو ں پر مسح کے حوالے سے فقہا نے جو شرائط عائد کی ہیں، وہ کس بنیاد پر عا ئد کی ہیں ؟

عمار ناصر: جرابوں پر مسح کے بارے میں بظاہر فقہا کے دور میں آکر ہی بحث پیداہوئی ہے۔ صحابہ کے ہاں تو آپ کو روایتیں مل جائیں گی۔نبی ﷺ کے متعلق جو جرابوں پر مسح کی روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے (کتاب الطہارۃ، باب فی المسح علی الجوربین والنعلین، حدیث نمبر ۹۹) اس پر کافی بحث ہے۔ وہ روایت شاید اتنی معیاری نہیں ہے ۔البتہ صحابہ کے ہاں آثار مل جاتے ہیں ۔فقہا نے بعد میں احتیاط کے پہلو سے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ ہم نے پاؤں دھونے کے بجائے موزوں  پر  مسح کی ایک رخصت پہلے ہی لے لی ہے، اس لیے اب موزوں سے آگے اس رخصت کو جرابوں تک وسیع نہیں کرنا چاہیے۔

مطیع سید: یہ جو ہمارے ہاں جرابیں ہیں ،ان پر مسح ٹھیک ہے ؟

عمار ناصر: میں ذاتی طور پر تو کر لیتا ہوں ۔

مطیع سید: ایک صحابی نے ایک موقع پر یہ کلمات کہے: حمدًا کثیرًا طیبًا مبارکًا فیہ۔آپ ﷺ نے بڑے پسند فرمائے ۔(کتاب مواقیت الصلاۃ،  باب ما جاء فی الرجل یعطس فی الصلاۃ، حدیث نمبر  ۴٠۴) یہ ایک وقتی سی بات تھی، لیکن اب ہم نے اسے نماز میں شامل ہی کر لیا ہے۔

عمار ناصر:  ترمذی کی روایت میں  یہ واقعہ اس طرح آیا ہے کہ اس صحابی کو چھینک آئی تھی جس پر انھوں نے یہ کلمات کہے۔ البتہ حدیث کی دیگر کتابوں میں     ہے کہ صحابی نے رکوع سے اٹھنے پر  سمع اللہ لمن حمدہ کے جواب میں یہ کلمات کہے تھے۔ بہرحال، رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات اگرچہ مقرر نہیں فرمائے لیکن پسند تو کیے ہیں۔ تو آپﷺ کی پسند سے  اگر ہم اسے اپنے معمول کا حصہ بنا لیں تو یہ صحیح  ہے ۔

مطیع سید: سورۃ النجم میں سجدے کا جو واقعہ پیش آیا ، وہ مکی دور کا ہے ۔  جن و انس  اور مسلمانوں اور مشرکوں، سب نے سجدہ کیا ۔ (ابواب السفر، باب ما جاء فی السجدۃ فی النجم، حدیث نمبر ۵۷۵) کیا کیفیت تھی، یہ کس موقع پر ہوا ؟  پھر یہ بھی ملتا ہے کہ  ایک بوڑھے نے سجدہ نہیں کیا اور اس نے مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی پر لگا دی کہ یہی کافی ہے۔کیا وجہ تھی، کیا یہ منافق تھا؟منافقین تو مکی دور  میں نظر نہیں آتے ۔

عمار ناصر: تفصیل تو ظاہر ہے ،اس میں بیان نہیں ہوئی ۔ بظاہر ایسے لگتا ہے کہ کسی مشترک مجلس میں یہ آیت پڑھی گئی اور سب لوگ سجدے میں شریک ہو گئے ۔   اس موقع پر جو  وہاں جنات ہوں گے، انہوں نے بھی سجدہ کردیا اور جو مشرک وہاں موجود تھے ،ظاہر ہے اللہ کو تو وہ مانتے تھے ،تو یہ سوچ کر  کہ اللہ کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہے ، انہوں نے بھی کردیا  مگر ایک بوڑھے نے نہ کیا ۔ اصل میں اس وقت ایک مخلوط ماحول تھا ۔ مکے میں مخلوط ماحول تھا، مدینے میں بھی مخلوط ماحول تھا ۔ آج شاید اس طرح کے ماحول کا تصور کرنا ذرا مشکل ہے ۔

مطیع سید: لیکن منافقت کے آثار ہمیں مکے میں نہیں ملتے ۔

عمار ناصر: مکے میں منافقت کے آثار موجود تھے۔قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ نفاق ایک رویے کا نام ہے، وہ مکے میں بھی تھا ، مکی سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ سورۃ العنکبوت آپ پڑھیں ۔ سورۃ عنکبوت کا پہلا رکوع سارا اسی کا بیان ہے۔ کچھ لوگ ایمان تو لے آئے ہیں اور سمجھ تو گئے ہیں کہ یہ حق ہے، لیکن اس میں جو آزمائش کے لئے  تیار ہونا ہے، وہ نہیں کر پا رہے،فورا گھبرا جاتے ہیں ۔ ان کو بھی قرآن نے منافقین ہی قرار دیا ہے ۔

مطیع سید: ایک اعرابی کی چاند دیکھنے کی گواہی پر آپ ﷺ نے رمضان کے روزے شروع فر مادیے ۔ (کتاب الصوم، باب ما جاء فی الصوم بالشہادۃ، حدیث نمبر ۶۹۱) فقہاء تو ایک شخص کی گواہی کو  نہیں مانتے ۔

عمار ناصر: وہ بعض حالتوں میں مانتے ہیں ، لیکن عام حالات میں نہیں مانتے۔ فقہا کا موقف بھی ٹھیک ہے ۔اصل میں  جواس طرح کا اکیلاواقعہ ہوتا ہے، اس سے کوئی کلی قاعدہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔فقہائے احناف کے ہاں قبول شہادت کی مختلف شکلیں ہیں اور وہ  Common Sense( فہم عامہ)پر پورا اترتی ہیں ۔ مثلا اگر تو ایسا ہے کہ مطلع صاف ہے اور سب لوگ دیکھ سکتے ہیں ،پھر تو زیادہ لوگوں کی گواہی ہونی چا ہیے ۔ہاں اگر مطلع ابر آلود ہے یا اس طرح کی کوئی صور تحال ہے تو پھر ایک آدمی بھی اگر دیکھ  لے اور وہ قا بل اعتماد ہو اور قرائن بھی ہو ں کہ ہاں یہ ہو سکتا ہے تو اس کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے ۔

مطیع سید: یہ جوشعبان کی  پند رھویں شب  کی فضیلت کی روایت ہے،امام بخاری نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ (کتاب الصوم،  باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر ۷۳۹)

عمار ناصر: پندھوریں شب کی  فضیلت سے متعلق مختلف روایتیں ہیں اور  انفرادا َ ان میں ضعف ہے ۔بعض میں زیادہ ہے، بعض میں  کچھ کم ہے ۔اس صورت میں  پھر ظاہر  ہے، محدث کے لیے گنجائش پیدا ہو جاتی ہے ۔مجھے ایسے یاد پڑتا ہے کہ شاید  علامہ البانی وغیرہ  نے مجموعے کے لحاظ سے اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔

مطیع سید: انفرادی سطح پہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ جو اجتماع کی شکل میں عبادات کی جاتی ہیں؟

عمار ناصر: وہ تو ایک فقہی مسئلہ  ہو گیا کہ نوافل کے لیے اس  طرح کا اگر اہتمام کیا جائے تو  اس کا کیا حکم ہے۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے ہجرت سے پہلے بھی حج  کیا تھا ؟

عمار ناصر:کیے ہوں گے، لیکن ان کا کوئی خاص ذکر نہیں ملتا ۔آپ جب ہر سال حج کے موسم میں قبائل کے پاس جاتے تھے تو  حج بھی کرتے ہو ں گے ۔

مطیع سید: حضرت عمر حج تمتع سے کیوں منع فرماتے تھے ؟(کتاب الحج، باب ما جاء فی التمتع، حدیث نمبر  ۸۲۳، ۸۲۴) آپ ﷺ نے تو حجۃ الوداع کے سفر میں واضح طور پر اس کا حکم دیا تھا۔ پھر حضرت عمر کیوں منع فرماتے تھے ، کیا  وجہ تھی ؟

عمار ناصر: اصل میں آپﷺ نے حجۃ الوداع میں ایک خاص مصلحت کےتحت یا خاص ضرورت کے تحت لوگوں کو  ہدایت فرمائی کہ وہ  عمرے کی نیت کر لیں اور عمرہ کر کے احرام کھول لیں۔ مقصد اس تصور کی اصلاح کرنا تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کیا جا سکتا۔  لوگوں کے ہاں یہ  تصور تھا کہ حج میں آپ آئے ہیں تو عبادت  مکمل کر نے  تک آپ احرام کی پابندیوں پر قائم رہیں، یہ تقویٰ اور نیکی کے زیادہ قریب ہے۔ اگر آپ تمتع کر لیتے ہیں اور احرام سے نکل آتے ہیں تو اس دوران آپ ظاہر ہے کہ پابندیوں سے نکل جائیں گے اور مباحات سے فائدہ بھی اٹھا سکیں گے۔ حضرت عمر  کا اس سے منع کرنا کچھ دوسرے پہلووں سے ہو سکتا ہے۔ مثلا ایک پہلو تو ان کے ذہن میں یہ ہو سکتا ہے کہ  ایک عبادت کے لیے ایک ہی سفر ہو نا چاہیے  اور دوسری عبادت کے لیے الگ سفر کیا جائے ۔ اگر تفصیلا روایتوں کو دیکھا جائے تو شاید بات  زیادہ واضح ہو سکے  گی۔

مطیع سید: بجو تو بظا ہر درندوں میں لگتا ہے، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک شکار ہے، یعنی اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔(کتاب الحج،  باب ما جاء فی الضبع یصیبہ المحرم، حدیث نمبر ۸۵۱) احناف اس کو حرام  کہتے ہیں ۔

عمار ناصر: اصل میں یہ جو جانور ہیں، ان میں حلال اور حرام کے درمیان ایک کیٹگری ہے جس  میں اشتباہ رہتا ہے۔ اگر درندہ  آپ ان  معنوں میں لیں کہ وہ باقاعدہ کسی پر حملہ کرےتو بجو یہ نہیں کرتا ۔اور اگر آپ اس  کی گوشت خوری کو دیکھیں تو  درندہ لگتا ہے ۔اس لحاظ سے وہ ایک مشتبہ زمرےمیں آجاتا ہے ۔اس پہلو سے احناف نے شاید اس کی ظاہری ہیئت  کو دیکھ کر حرام قرار دیا ہے اور وہ ایک اور حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جو سند کے لحاظ سے نسبتا کمزور ہے۔

مطیع سید: لیکن یہاں وہی اعتراض بن رہا ہےکہ احناف صحیح حدیث کو چھوڑ رہے ہیں ۔

عمار ناصر: ظاہر ہے، وہ اس حدیث  کی کوئی توجیہ کرتے ہوں گے ۔ اجتہادی مسائل میں تحقیق و  تاویل کی بڑی گنجائش ہو تی ہے ۔

مطیع سید: ٹڈیوں کے بارے میں صحابہ نے کہا کہ ہم نے لاٹھیوں سے ما را تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ ، یہ سمندر کا شکار ہے ، (کتاب الحج، باب ما جاء فی صید البحر للمحرم، حدیث نمبر  ۸۵٠) حالانکہ ٹڈی تو سمندر کا شکار نہیں ہے ۔ کیا مراد تھی رسول اللہ ﷺ کی؟

عمار ناصر: صید البحر کہہ کر  اصل میں اشارہ اس طرف ہے کہ اس کا حکم وہی ہے جو دریا کے شکار کا ہے۔ یعنی جس طرح  پانی کے جانور کو ذبح کر کے ان کا خون نہیں نکالنا پڑتا، اسی طرح ٹڈی کو بھی ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ویسے ہی حلال ہے۔

مطیع سید: حدیث میں نماز کے مکروہ اوقات کا بڑے اہتمام سے ذکر آیا ہے۔ (کتاب مواقیت الصلاۃ،  باب ما جاء فی کراہیۃ الصلاۃ بعد العصر  وبعد الفجر، حدیث نمبر ۱۸۳) کہا جاتا ہے کہ ان اوقات سے اس لیے منع کیا گیا کہ ان میں سورج کی پوجا ہوتی ہے،حالانکہ جزیرہ عرب میں عام طور پر سورج کی پوجا نہیں ہوتی تھی ۔

عمار ناصر: ذکر تو نہیں ملتا لیکن مجوسیوں کے ہاں ممکن ہے، سورج پرستی بھی ہو۔اسی طرح صابیوں کا ذکر ملتا ہے کہ وہ کواکب پرست تھے۔ روایات میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ  کچھ ایسے لوگ پکڑے گئے تھے جو سورج کی پوجا کرتے تھے ۔ بعض دفعہ اگرچہ ایسا کوئی گروہ بالفعل موجود نہیں ہوتا، لیکن ایک تصور لوگوں کے سامنے ہوتا ہے کہ سورج کے ساتھ  بھی  عبادت کا تصور وابستہ  ہے ۔وہ تصور بھی بعض دفعہ بنیاد بن جاتا ہے کہ اس سے منع کر دیاجائے ۔

مطیع سید: یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کیوں کہ یہ عالمی دین تھا اور اسے دیگر تہذیبو ں سے بھی واسطہ پڑناتھا، اس لیے بھی اس تصور کی نفی کردی گئی ؟

عمار ناصر: کہہ سکتے ہیں، اگر چہ زیادہ تر احادیث میں جو فوری تناظر  ہوتا ہے، اسی میں بات کہی جا رہی ہوتی ہے ۔ تاہم شارحین بعض اوقات انہیں ذرا وسیع تناظر میں بھی دیکھ لیتے ہیں۔

مطیع سید: حجۃ الوداع کے سفر میں آپ ﷺ اپنے ٹھکانے سے تشریف لے گئے تو خوش تھے، واپس آئے تو غمگین تھے ۔حضرت عائشہ نے وجہ پوچھی تو آپﷺ نے فرمایا کہ کاش میں کعبے میں داخل نہ ہوتا ،میں نے امت کو تکلیف میں ڈال دیا ۔ (کتاب الحج، باب ما جاء فی دخول الکعبۃ، حدیث نمبر ۸۷۳)

عمار ناصر: اس لیے کہ اب لوگ بھی یہ اہتمام کر یں گے کہ وہ کعبے کے اندر جائیں اور ظاہر ہے کہ ایسا ہر ایک کے لیے ممکن  نہیں ۔

مطیع سید: قربانی کا جانور ہدی جو حاجی ساتھ لے کر جاتے تھے، وہ اگر راستے میں مرنے کے قریب ہو تو اس کے متعلق کہا گیا کہ اسے ذبح کر دیں اور لوگوں کے لیے چھوڑ دیں، خود اس میں سے نہ کھائیں ۔(کتاب الحج، باب ما جاء اذا عطب الہدی ما یصنع بہ، حدیث نمبر ۹۱٠)کیا وجہ ہے ؟ قربانی ہے تو پھر آدمی خود کیوں نہیں کھا سکتا ؟

عمار ناصر: اس کیفیت میں تو وہ صدقہ بن گئی  اور صدقہ آدمی کو خود نہیں کھانا چاہیے۔اگر آپ وہاں جا کر  جانور کوذبح کریں، پھر تو  وہ قربانی ہے ۔لیکن راستے میں اگر جانور کو ذبح کرنا پڑے تو گویا آپ نے اسے صدقے کی حیثیت سے چھوڑ دیا ہے ۔

مطیع سید: حج کے اعمال میں جو تقدیم و تاخیر ہو جاتی ہے، اس پر فقہا دم کو واجب کہتے ہیں، لیکن آپﷺ تو حجۃ الوداع میں ہر ایک کو لاحرج لاحرج فرماتےجا رہے ہیں ۔(کتاب الحج، باب ما جاء فی من حلق قبل ان یذبح، حدیث نمبر ۹۱۶)پھر فقہا نے دم کا وجوب کہاں سے اخذکیاہے  ؟

عمار ناصر: احناف کے ہاں اس معاملے میں زیادہ سختی ہے ۔ ایک تو وہ بعض دوسرے قرائن سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ ترتیب مقصود ہے اور اہم ہے ، اس کو ملحوظ رکھنالازم ہے ۔جب لازم ہے تو اس کو خراب کرنے  پر دم آنا چاہیے۔ دوسرے یہ  کہ چونکہ تعلیم کا موقع تھا اور آپ ﷺ لوگوں کو حج کے مسائل واحکام سکھا رہےتھے ،اس لیے اس ابتدائی مرحلے پر آپﷺ لوگوں  کو تھوڑی رعایت دے رہے تھے تاکہ لوگ تنگی میں نہ پڑیں ۔

مطیع سید: النعی  یعنی موت کا اعلان کر نے سے آپﷺ نے منع کیا ہے ۔ (کتاب الجنائز، باب ما جاء فی کراہیۃ النعی، حدیث نمبر ۹۸۴)مجھے لگ رہا ہے کہ اس کا کوئی خاص پس منظرتھا ،ورنہ کسی کی موت کا اعلان کرنے میں کیا حرج ہے ؟

عمار ناصر: ہاں، وہ ایک خاص طریقہ تھا جس میں واویلا کرنا ،گریبان پھاڑنا ، سر پیٹنا شامل تھا اور خاص طریقے سے بین کرکے لوگوں کو کسی کی موت کی اطلاع دی جاتی تھی ۔ اس سے منع کیا کیا گیا ہے۔   عام طریقے سے موت کی اطلاع دینا، ظاہر ہے منع نہیں ہے۔

مطیع سید: آج کے ہمارے اعلان سے تو اس سے بالکل مختلف ہیں ۔

عمار ناصر: ہاں یہ تو اطلاع ہیں ۔اطلاع دینا منع نہیں ہے۔ اس کو ایک ڈرامہ بنانا ،یہ منع ہے ۔

مطیع سید: یہ جو حدیث  بڑی مشہور ہے کہ جس نے لا الہ کہہ دیا، وہ جنت میں جائے گا ،اس کے کیامعنی ہیں ؟

عمار ناصر: یہ ایک عمومی بات نہیں ہے ۔یہ تو کامن سینس کی بات ہے کہ اس سےمقصود  یہ کہنا  نہیں ہے  کہ عمل وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں، صرف  کلمہ پڑھ لینا کافی ہے۔ مختلف شارحین اپنے اپنے انداز میں اس کی تاویل کر تے ہیں ۔مجھے زیادہ مناسب بات یہ لگتی ہے کہ جو آپﷺ کے ارد گرد سچے اور مخلص لوگ ہیں ، جو بہت زیادہ خوف خدا بھی رکھتے ہیں، ڈرتے بھی ہیں ،فکر مند بھی ہیں ،آپ مختلف مواقع پر کوشش کرتے  ہیں کہ ایسے لوگوں کی فکرمندی کم ہو،اور ان کو تھوڑا حوصلہ ہو ۔اگر آپ ان لوگوں کے بارےمیں کہہ رہے ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ کو پتہ ہے کہ یہ محض لا الہ کہہ کر رکنے والے نہیں ہیں ،اپنی حد تک عمل کی بھی کو شش کررہے ہیں  تو اس بات کا ایک محل سمجھ میں آتا ہے۔گویا اس حدیث کا مدعا کسی الہیاتی مسئلے کا بیان نہیں، بلکہ  مخلص اور فکر منداہل ایمان کو   ان کی نجات کے متعلق تسلی دینا ہے۔

مطیع سید: اور کسی صحابی نے ایسا کیا بھی نہیں کہ محض اسی پر تکیہ کر لے،نہ اس حدیث سے یہ مطلب لیا ہے ۔

عمار ناصر: بالکل۔ وہ تو بعد میں  مرجئہ نے اس طرح کی روایتوں سے فائدہ اٹھایا  اور ا س کو ایک  کلامی اور الہیاتی  مسئلے کی نوعیت دے دی۔

مطیع سید: حدیث میں قبروں پر لکھنے کی کی ممانعت کی گئی ہے۔ (کتاب الجنائز، باب ما جاء فی کراہیۃ تجصیص القبور والکتابۃ علیہا، حدیث نمبر ۱٠۵۲) آج کل ہم جو کتبے لگارہے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

عمار ناصر: میرے خیال میں وہ ممانعت بھی سد ذریعہ کے پہلو سے ہے۔   اگر قبر کی شناخت  محفوظ رکھنے کے لیے سادگی سے  نام وغیرہ لکھ دیا جائے تو اس میں کوئی  بنیادی خرابی معلوم نہیں ہوتی۔

مطیع سید: جو پیٹ کی بیماری میں مر ا، اسے عذاب قبر نہیں ہوگا ۔(کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الشہداء من ہم، حدیث نمبر ۱٠۶۴) حدیث غریب ہے ۔کیا مراد ہے ؟

عمارصاحب: اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیٹ کی بیماری بھی گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، جس  طرح شہادت کی موت کی دوسری شکلیں کفارہ بنتی ہیں۔اس کا صلہ اللہ تعالیٰ یہ دیتے ہیں کہ قبر کے عذاب سے محفو ظ رکھتے ہیں ۔لیکن ظاہر ہے کہ اس طرح کی ہر بشارت کے ساتھ دیگر کئی شرائط لگی ہوتی ہیں کہ اگر ایسا ہوتو ایسا ہوگا۔    

(جاری)

آئین، اسلام اور بنیادی حقوق

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

(9  اپریل  2021ء  کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب)

ہمارے آئین کی بنیاد اس اعتراف اور تصدیق پر رکھی گئی ہے کہ پوری  کائنات پر اقتدار اعلی اللہ تعالیٰ کا ہے اور اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے؛ اور ریاستی طاقت اور اختیار کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ آئین کا دیباچہ مزید یہ کہتا ہے کہ ریاستِ پاکستان میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، برداشت اور سماجی انصاف کا اطلاق اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح اس میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو اپنے مذاہب کی پیروی کرنے، ان پر عمل کرنے  اور اپنی ثقافتوں کی ترویج کےلیے مناسب مواقع دیے جائیں گے۔

آئین 280 دفعات پر مشتمل ہے مگر ان میں تقریباً دو درجن دفعات ایسی ہیں جو عوام کے حقوق کے تحفظ کے متعلق ہیں اور ان پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ آئین کی دفعہ 3 استحصال کی تمام صورتوں کے خاتمے کو یقینی بناتی ہے۔ یہ دفعہ قرآن شریف کی سورۃ البقرۃ (2)، آیت 279 کے عین مطابق ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

لَا تَظلِمُونَ وَلَا تُظلَمُونَ

تم ظلم/استحصال نہ کرو اور تم پر ظلم/استحصال نہ کیا جائے۔

دفعہ 4 یہ یقینی  بناتی ہے کہ سب کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہو، اور  بالخصوص زندگی، آزادی، جسم، ساکھ اور جائیداد کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جس کی اجازت قانون نے نہ دی ہو۔ یہ دفعہ  بھی اسلام سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔  ایک بہت مشہور حدیث ہے:

المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ1

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

اس دفعہ میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ وہ کام جس کی کوئی قانونی ممانعت نہ ہو، اسے ہر شخص کرسکتا ہے  اور کسی کو ایسے کام پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جس کا مطالبہ قانون نے اس سے نہ کیا ہو۔ یہی اصول سورۃ مریم (19) ، آیت 64 کے آخری ٹکڑے  میں موجود ہے:

وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّا

اور تمھارا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

سورۃ الاعراف (7)، آیت 32 سے بھی یہ اصول معلوم ہوتا ہے:

قُل مَن حَرَّمَ زِينَۃَ اللَّہِ الَّتِيٓ أَخرَجَ لِعِبَادِہٖۦ وَالطَّيِّبَٰتِ مِنَ الرِّزقِۚ

کہہ دو کہ کس نے حرام کردیا اللہ کی اس زینت کوجو اس نے اپنے بندوں کےلیے پیدا کی ، اور پاک رزق کو؟

رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے بھی یہ اصول اخذ ہوتا ہے ۔ آپ نے غزوۂ بدر ، جو 17 رمضان 2 ہجری ( 13 مارچ 624ء) کو ہوئی تھی، کے بعد قیدیوں کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا کر آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔2 یہ کام جبراً بھی لیا جاسکتا تھا لیکن آپ نے ان سے ایک طرح کا سمجھوتا کیا۔

لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے بارے میں اگلی اہم دفعہ 9 ہےجو کہتی ہے کہ قانون کی اجازت کے بغیر کسی کو زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہ دفعہ سورۃ المآئدۃ (5)، آیت 32 کے عین مطابق ہے:

مَن قَتَلَ نَفسَا بِغَيرِ نَفسٍ أَو فَسَاد فِي الأَرضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعا وَمَن أَحيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحيَا النَّاسَ جَمِيعا

جس نے کسی انسان کو قتل کیا، سواے اس کہ جان کے بدلے میں یا زمین میں فساد کی وجہ سے ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا، اور جس نے کسی کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔

اور جہاں تک آزادی کی بات ہےتو  اس کی عکاسی سورۃ البقرۃ (2)، آیت 256 میں نظر آتی ہے:

لَآ إِكرَاهَ فِي الدِّينِ

دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔

اس کے بعد ہم دفعہ 10 کی طرف آتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو وجہ بتائے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گااور تحویل میں بھی نہیں  لیا جائے گا اور جب ایسا کیا جائے گا تو اسے 24 گھنٹوں کے اندر حاکمِ فوجداری کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ایک بہت اہم دفعہ 10-الف کا اضافہ اٹھارویں آئینی ترمیم 2010ء کے ذریعے کیا گیا جو ہر شخص کو منصفانہ سماعت اور مناسب عمل کا حق دیتی ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ المائدۃ (5)، آیت 8 میں فرمایا گیا ہے:

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّہِ شُھَدَآءَ بالقِسطِ وَلَا يَجرِمَنَّكُم شَنَ‍َٔانُ قَومٍ عَلَی أَلَّا تَعدِلُواْ اعدِلُواْ ھُوَ أَقرَبُ لِلتَّقوَىٰ وَاتَّقُواْ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِيرُ بِمَا تَعمَلُونَ

اے ایمان والو!، کھڑے ہو اللہ کےلیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس پر مجبور نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہ تقوی سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔

دفعہ 11 جبری مشقت اور غلامی کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ جہاں تک غلامی کا تعلق ہے، قرآن شریف کے نزول کے وقت غلامی کا عام رواج تھا لیکن اسلام نے غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے کئی مواقع دیے ، مختلف گناہوں کے کفارے کےلیے غلام کو آزاد کرانے کا حکم دیا اور ثواب کمانے کےلیے بھی غلام آزاد کرنے کی ہدایت دی ۔ اس لیے غلامی جلد ہی ختم ہوگئی۔ قرآن شریف نے آزاد انسان کو غلام بنانے کی اجازت نہیں دی۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین لوگوں کا ذکر کیا جن کے خلاف آپ خود قیامت کے دن استغاثہ کریں گے۔ ان میں ایک وہ ہے جس نے آزاد انسان کو غلام بنا کر بیچا۔3

اسی طرح اسلام میں جبری مشقت کی کوئی اجازت نہیں ہے اور، جیسا کہ پہلے کہا گیا، کہ جنگی قیدیوں سے بھی جبری مشقت نہیں لی گئی۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر اسلام نے خصوصی زور دیا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔4

دفعہ 12 ایسے فعل پر سزا کے خلاف تحفظ دیتی ہے جو اس وقت جرم نہیں تھا جب اس کا ارتکاب کیا گیامگر بعد میں اسے جرم قرار دیا  گیا۔ کئی آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصول اسلام کا بھی ہے۔ مثلاً سورۃ بنی اسرائیل (17)، آیت 15 میں فرمایا گیا:

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّی نَبعَثَ رَسُولا

اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیجیں۔

آئین کی اس دفعہ سے ایک بہت اہم استثنا  سنگین غداری کے جرم کا ہے ۔ چنانچہ یہ دفعہ  23 مارچ 1956ء سے نافذ ہونے والے کسی آئین کی منسوخی یا معطل کرنے کو قانون کے ذریعے جرم قرار دینے سے نہیں روکتی۔

دفعہ 13 کسی ایک جرم پر ایک سے زائد دفعہ سزا دینے کے خلاف تحفظ دیتی ہے اوریہ بھی قرار دیتی ہے کہ کسی ملزم کو اپنے خلاف گواہی دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ قدرت کا نظام بھی ایسا ہی ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی جرم کی سزا اس دنیا میں ملے تو پھر اسے آخرت کی سزا نہیں دی جائے گی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کسی کو سزا دی جائے تو یہ اس کےلیے آخرت کی سزا سے کفارہ  بن جاتی ہے۔5 کسی جرم کا اقرار کرنا کسی شخص کا رضاکارانہ عمل ہے اور اس پر اسے آخرت کی سزا سے نجات مل سکتی ہے لیکن اسے اقرار پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

دفعہ 14 انسان کی عظمت اور گھر کی رازداری کو تحفظ دیتی ہے۔ یہ دفعہ بھی قرآن کے عین مطابق ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ التین (95) ، آیت 4 انسان کو أَحسَنِ تَقوِيم کا خطاب دیتی ہے اور سورۃ بنی اسرائیل (17)، آیت 70  وَلَقَد كَرَّمنَا بَنِيٓ ءَادَمَ  کا اعلان کرتی ہے۔ اسی طرح گھر کی رازادری کے متعلق کئی آیات اور احادیث ہیں، جیسا کہ سورۃ الحجرات (49)، آیت 12 میں فرمایا گیا: وَ لَا تَجَسَّسُواْ (اور مت کرو جاسوسی)۔ اسی طرح حدیث ہے:

إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ تَنَافَسُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّہِ إِخْوَانًا۔6

بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی جھوٹی بات ہے۔ اور عیب مت تلاش کرو، اور جاسوسی مت کرو، اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش مت کرو، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو، اور ایک دوسرے سے منہ مت موڑو، اور اے اللہ کے بندو، سب آپس میں بھائی بن جاؤ۔

دفعہ 15 نقل وحرکت اور پاکستان میں کہیں بھی رہنے کی آزادی کا حق دیتی ہے۔ قرآن شریف کی کئی آیات ، جیسے سورۃ آل عمران (3) کی آیت 137، سورۃ النحل (16)، آیت 36، سورۃ النمل(27)، آیت 69 میں حکم دیا گیا ہے:

فَسِيرُواْ فِي الأَرضِ

تو زمین میں چلو پھرو۔

اسی طرح دفعہ 16 قانون کی حدود کے اندر اجتماع کی آزادی  کا حق دیتی ہے، جبکہ دفعہ 17 انجمن سازی اور سیاسی پارٹی بنانے کا حق دیتی ہے، مگر ساتھ ہی ایک اہم بات دفعہ 17 کی شق 3 میں سیاسی پارٹیوں کے متعلق یہ کہی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنے ذرائع آمدن ظاہرکریں گی۔ اسلام نے بھی مسلمانوں کو اجتماعیت کا درس دیا ہے۔ سورۃ الشوری(42) کی آیت 38 میں فرمایا گیا ہے:

وَأَمرُھُم شُورَی بَينَھُم

اور ان کے کام ایک دوسرے کے ساتھ مشورے سے ہوتے ہیں۔

مسلمانوں کے گروہوں، جیسے انصار اورمہاجرین،کو رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کے ایک دوسرے پر حقوق بھی مقرر فرمائے۔ اسی طرح قانونی ذمہ داریوں کی پابندی کا اسلام نے حکم دیا ۔ قرآن شریف کی سورۃ المائدۃ (5)،آیت 1 میں آیا ہے:  

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوفُواْ بِالعُقُودِ

اے ایمان والو! اپنے معاہدات کی پابندی کرو۔

مالیاتی امور میں شفافیت، بالخصوص سرکاری عہدیداروں کےلیے، اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ سے طائف کے محاصرے کے موقع پر ، جو 8ھ ( 630ء) میں ہوا تھا، غنیمت کے متعلق سوال کیا گیا اور آپ نے اس کا برا منانے کے بجاے اس کی وضاحت دینی ضروری سمجھی۔7 اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کو خطبے کے دوران میں ٹوک دیا گیا اور انھوں نے واضح کیا کہ اضافی چادر ان کو ان کے بیٹے نے دی تھی۔8 رسول اور خلیفۂ وقت سے ایک عام شخص نے معلومات کا مطالبہ کیا تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ تسلیم کیا گیا  کہ اس کا حق ہے کہ اسے یہ معلومات مہیا کی جائیں۔ یوں ان واقعات سے دفعہ 19-الف میں مذکور معلومات کے حق کے بارے میں بھی اسلام کا تصور واضح ہوجاتا ہے۔

دفعہ 18، تجارت، کاروبار اور پیشہ اختیار کرنے کا حق دیتی ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ النسآء (4) کی آیت 29 میں فرمایا گیا:

إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاض مِّنكُم

مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی رضامندی سے۔

رسول اللہ ﷺ نے شادی  کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ، جو  ایک کاروباری خاتون  تھیں ، اور آپ نے ان کےلیے  تجارتی سفر بھی کیے۔ مدینہ کے انصار زراعت پیشہ تھے، جبکہ مکہ سے آنے والے مہاجرین عام طور پر تجارت کرتے تھے۔  کئی صحابہ مختلف پیشوں اور فنون کے ساتھ وابستہ تھے اور کسی بھی پیشے کو حقیر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس کئی صدیوں بعد بھی یورپ میں سرجری کو حقیر سمجھا جاتا تھا اور اس وجہ سے کئی قسائی سرجن بن گئے تھے۔

دفعہ 19 اظہارِ راے کی آزادی کا حق دیتی ہے۔ اسلام کا مسلمانوں سے مطالبہ ہے کہ وہ ہمیشہ حق بات کہیں۔ سورۃالاحزاب (33) کی آیت 70 میں فرمایا گیا:

وَقُولُواْ قَولا سَدِيدا

اور کہو سیدھی بات

سورۃ المآئدۃ (5)، آیت 8 میں فرمایا گیا:

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّہِ شُھَدَآءَ بِالقِسطِ

اے ایمان والو!، کھڑے ہو اللہ کےلیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے

مشہور واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ وہ چوری کرتا ہے، شراب پیتا ہے ، جوا کھیلتا ہے اور جھوٹ بھی بولتا ہے اور وہ آپ کی خاطر ان میں کسی ایک کام کوچھوڑنا چاہتا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ اس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا تو باقی برائیاں بھی خود بخود چھوٹ گئیں۔9

قرآن شریف کی کئی آیات ،جیسے سورۃ النسآء (4)، آیت 114، سورۃ  الانبیآء (21)،آیت  3، سورۃ الزخرف ( 43)، آیت 80 اور سورۃ المجادلۃ ( 58)، آیات  7 تا 10 میں معلومات چھپانے پر، بالخصوص جن سے عوامی مفاد وابستہ ہو اور جن کا جاننا عوام کا حق ہو، سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور کہیں تو اسے شیطانی عمل بھی قرار دیا گیا ہے۔

دفعہ 23 جائیداد خریدنے اور بیچنے کا حق دیتی ہے۔ مال اور جائیداد کی ملکیت کے حق کے بارے میں قرآن شریف میں بہت سی آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے مال کو استعمال کرنے، اس سے فائدہ اٹھانے، اسے صدقہ کرنے، ہبہ کرنے، بیچنے، اس کے بارے میں وصیت کرنے اور اس طرح کے دیگر تمام مالکانہ حقوق حاصل ہیں اور اسی طرح اس کی موت کے بعد مال پر ورثا کی ملکیت کے بارے میں بھی آیات میں تفصیل دی گئی ہے۔

دفعہ 24 یہ تحفظ فراہم کرتی ہے کہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال سے زبردستی محروم نہیں کیا جائے گا اور اگر کہیں عوامی مفاد کی خاطر ایسا کرنا ضروری ہوجائے تو یہ عمل قانون کی حدود کے اندر رہ کر کیا جائے گا اور اسے اس کے مال کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ مشہور واقعہ ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کےلیے زمین کی ضرورت پڑی تو دو یتیم بھائیوں، سہل اور سہیل، کے ولی کے ساتھ بات کی گئی اور ان کو زمین کا معاوضہ ادا کیا گیا حالانکہ وہ زمین معاوضے کے بغیر دینا چاہتے تھے۔10

سارے شہری برابری کے مستحق ہیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ دفعہ 25 پابند کرتی ہے۔ آخری تین دفعات (26، 27 اور 28) امتیازی سلوک کے مختلف پہلوؤں کی ممانعت کرتی ہیں اور ان کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ یہ دفعہ بھی اسلام کے عین مطابق ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ الحجرات (49)، آیت 13 میں فرمایا گیا ہے:

يَٰٓأَيُّھَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقنَٰكُم مِّن ذَكَر وَأُنثَی وَجَعَلنَٰكُم شُعُوبا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْ إِنَّ أَكرَمَكُم عِندَ اللَّہِ أَتقٰكُم إِنَّ اللَّہَ عَلِيمٌ خَبِيرٞ

اے لوگو! یقیناً ہم نے تمھیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمھارے خاندان اور قبیلے بنائے تاکہ  تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ یقیناً تم میں اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ جو تم میں اللہ کا زیادہ فرمانبردار  اور پرہیزگار ہو۔ یقیناً اللہ سب کچھ جانتا ہے اور اسے ہر چیز کی خبر ہے۔

کئی دیگر آیات سے اس بات کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی پڑتی ہے، جیسے سورۃ الانعام (6)، آیت 164 میں فرمایا گیا:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَة وِزرَ أُخرَىٰ

اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

معاشرے کے کمزور طبقات اور افراد کے تحفظ  کےلیے کیے جانے والے اقدامات کو امتیازی سلوک نہیں کہا جاسکتا اور یہ بھی اسلامی احکام کے عین مطابق ہے کہ بچوں اور کمزور لوگوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ اس وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم سے بھی عورتوں اور ضعیف اور بیمار لوگوں کو مستثنی کیا گیا، نماز اور روزے کے احکام میں مریضوں اور مسافروں کےلیے تخفیف کی گئی اور حج کا فریضہ بھی صرف ان لوگوں پر عائد کیا گیا جو حج کےلیے جانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔

ایک بہت اہم شق جو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئی، دفعہ 25 –الف ہے جو ریاست پر ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ پانچ سال سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں اور بچیوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔  اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر انسانیت کےلیے جو پہلا حکم نازل کیا ، وہ حکم تھا، اقرَأ: پڑھو (فعل امر)  ۔ اسی سورۃ العلق (96) کی چوتھی آیت میں قلم کاذکر ہے:  الَّذِي عَلَّمَ بِالقَلَمِ (وہ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی)؛  اور پانچویں آیت میں تعلیم کا  ذکر ہے: عَلَّمَ الإِنسانَ مَا لَم يَعلَم (انسان کو اس کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا)۔  یوں جو پہلی وحی ہے وہ پڑھنے، لکھنے اور پڑھانے پر مشتمل ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی تعلیم  کی اہمیت پر بہت زور دیا اور، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، جنگی قیدیوں کو بھی کہا کہ ہر قیدی رہائی حاصل کرنے کےلیے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے ۔

دفعات 20، 21 اور 22 کسی مذہب کے ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتی ہیں  اور اپنے مذہب کےعلاوہ کسی اور مذہب کےلیے محصول ادا کرنے یا زبردستی اس کی تعلیم دینے کے خلاف تحفظ کرتی ہیں۔ یہ دفعات بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ سورۃ البقرۃ (2)، آیت 256 میں فرمایا گیا:

لَآ إِكرَاہَ فِي الدِّينِ

دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔

اسی طرح سورۃ یونس (10)، آیت 99 میں فرمایا گیا:

وَلَو شَآءَ رَبُّكَ لَأٓمَنَ مَن فِي الأَرضِ كُلُّھُم جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكرِہُ النَّاسَ حَتَّی يَكُونُواْ مُؤمِنِينَ

اور اگر تمھارا رب چاہتا تو زمین کے سارے لوگ مل کر ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ ایمان لے آئیں؟

سورۃ الحج (22)، آیت 40 میں تو جہاد کا مقصد ہی یہ بیان کیا گیا ہے کہ مختلف مذاہب  کی عبادت گاہوں کا تحفظ کیا جائے:

وَلَولَا دَفعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعضَھُم بِبَعض لَّھُدِّمَت صَوَٰمِعُ وَبِيَع وَصَلَوَٰت وَمَسَٰجِدُ يُذكَرُ فِيھَا اسمُ اللَّہِ كَثِيرا

اور اگر اللہ بعض لوگوں کے ذریعے بعض دوسرے لوگوں کو دفع نہ کرتا تو خانقاہیں، گرجا، مَعبَد اور مسجدیں، جن میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، ڈھا دی جاتیں ۔

اس ساری تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اسلام کے عین مطابق ہیں اور آئین کی ان دفعات اور اسلامی احکام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب لوگوں کو یہ حقوق میسر ہوں تو ان کا عملی نفاذ یقینی بنانے کی ذمہ داری بالخصوص عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کے ججز پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے اس بات کی بھی قسم کھائی ہے کہ وہ بلا تفریق و امتیاز اور کسی خوف یا لالچ کے بغیر ہر شخص کو انصاف مہیا کریں گے جس میں ذکر کیے گئے بنیادی حقوق بھی شامل ہیں ۔ یہ بات بھی قرآن شریف کے عین مطابق ہے۔

سورۃ المآئدۃ (5)، آیت 8 میں فرمایا گیا ہے:

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّہِ شُھَدَآءَ بِالقِسطِ وَلَا يَجرِمَنَّكُم شَنَ‍َٔانُ قَومٍ عَلَیٰ أَلَّا تَعدِلُواْ اعدِلُواْ ھُوَ أَقرَبُ لِلتَّقوَىٰ وَاتَّقُواْ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِيرُ بِمَا تَعمَلُونَ

اے ایمان والو!، کھڑے ہو اللہ کےلیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس پر مجبور نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہ تقوی سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔

اسی سورۃ کی آیت 42 میں حکم دیا گیا ہے:

فَاحكُم بَينَھُم بِالقِسطِ

تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔

سورۃ النسآء (4)، آیت 135 میں فرمایا گیا:

وَإِن تَلوُۥٓاْ أَو تُعرِضُواْ فَإِنَّ اللَّہَ كَانَ بِمَا تَعمَلُونَ خَبِيرا

اوراگر تم بات کو بگاڑو یا انصاف کرنے سے منہ موڑو، تو یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔


حواشی

  1.   صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ۔
  2.    مستدرک حاکم، ج 2، ص 152۔
  3.   صحیح البخاری، کتاب الامور المنھی عنھا، باب تحریم الغدر۔
  4.  سنن ابن ماجہ، کتاب الرھون، باب اجر الاجراء۔
  5.   صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب الحدود کفارات لاھلھا۔
  6.   صحیح مسلم، کتاب الآداب، باب تحریم التجسس۔
  7.   سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب و من سورۃ آل عمران ۔
  8.   شبلی نعمانی، الفاروق
  9.   المبرد، الکامل فی الادب، ج2، ص 156۔  
  10.    ڈاکٹر رمضان البوطی، فقہ السیرۃ، ص 253۔


معاہدات: ذمہ داری یا ہتھیار؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا۔

افغان مسئلہ کا تاریخی تناظر یہ ہے کہ افغانستان میں ۱۹۷۹ء کے آخر میں روسی افواج کی آمد پر افغان قوم مزاحمت کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور افغانستان کی آزادی و خودمختاری کے ساتھ ساتھ اسلامی شناخت کے تحفظ اور شرعی نظام کے عملی نفاذ کے لیے جہاد کے عنوان سے سوویت یونین کی مسلح یلغار کے سامنے سینہ سپر ہو گئی۔ جہاد اور نظام شریعت کے حوالہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسلم اقوام و ممالک نے افغان عوام کی اس جدوجہد کا ساتھ دیا، جبکہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایک عرصہ سے جاری کولڈ وار کے پس منظر میں امریکہ اور اس کے حامی ممالک بھی ’’جہاد افغانستان‘‘ کے پشت پناہ بن گئے جس کے نتیجے میں افغان قوم افغانستان سے روسی افواج کی واپسی کے مشن میں سرخرو ہوئی۔ مگر اس کے بعد افغانستان کے مستقبل کی تشکیل میں راستے الگ ہو گئے:

اور پھر اس نئی صورتحال کے ردعمل میں جہادِ افغانستان کے نظریاتی کارکن ’’طالبان‘‘ کے عنوان سے سامنے آئے جو مسلسل جدوجہد کے بعد افغانستان پر کنٹرول حاصل کر کے ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کے نام سے حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔طالبان نے افغانستان کو خانہ جنگی سے پاک کر کے کچھ عرصہ کامیابی کے ساتھ حکومت کی مگر گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد وہ امریکی عتاب کا شکار ہوئے اور امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج نے اس خطہ میں وہی محاذ سنبھال لیا جس کی کمان اس سے قبل سوویت یونین نے کی تھی۔ گویا بیرونی حملہ آوروں کو ملک سے نکالنے کے لیے افغان قوم کی وہی جنگ لوٹ آئی جو روسی افواج کے خلاف تھی، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب مدمقابل روس نہیں بلکہ امریکہ تھا۔ البتہ جہاد افغانستان کے اس نئے راؤنڈ کے اہداف اور مقاصد بھی وہی تھے کہ افغانستان کو بہرحال ایک خودمختار، آزاد اور اسلامی ریاست بنایا جائے۔

تاریخ نے اس کے بعد یہ منظر دیکھا کہ افغان قوم کی حریت پسندی اور اسلامیت کو زیر کرنے میں روس کی طرح امریکہ کو بھی کامیابی حاصل نہ ہوئی اور بالآخر اسے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا پڑا جس کے مختلف مراحل کے بعد یہ طے پایا کہ امریکہ اور نیٹو افواج یکم مئی ۲۰۲۱ء تک افغانستان سے نکل جائیں گی اور اس دوران بین الافغان مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے مستقبل کی نقشہ گری کر لی جائے گی۔ مگر اب امریکہ کی طرف سے اس میں چار ماہ کی توسیع کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ افغان طالبان کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ معاہدہ کے بعد سے اب تک کی مدت میں امریکہ اور اس کے سہولت کاروں کا ٹال مٹول کا جو طرزعمل مسلسل چلا آ رہا ہے اس کے پیش نظر اس توسیعی مدت کا استعمال بھی وقت گزاری اور ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کا راستہ روکنے کے اقدامات میں صرف ہوتا نظر آتا ہے، اس لیے وہ توسیع کو مسترد کرتے ہیں اور اگر یکم مئی تک امریکی افواج نے افغانستان سے انخلا مکمل نہ کیا تو وہ معاہدہ سے آزاد ہوں گے اور جو شرائط انہوں نے قبول کی تھیں وہ ان کے پابند نہیں رہیں گے۔ ہمارے خیال میں اس صورتحال میں دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں:

  1. ایک یہ کہ اصل مسئلہ مدت کا نہیں اعتماد کا ہے، اگر امریکہ اب تک معاہدہ پر عملدرآمد میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیا تو اس نے اپنا اعتماد خود خراب کیا ہے، اس کا فائدہ اسے نہیں دوسرے فریق کو ملنا چاہیے اور امریکہ کے سہولت کاروں کو یہ بات بہرحال ملحوظ رکھنی چاہیے۔
  2. دوسری بات یہ کہ مسلسل مشاہدات و تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انسانی حقوق کی طرح بین الاقوامی معاہدات بھی ذمہ داری کی بجائے ہتھیار کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جو آسمانی تعلیمات سے انحراف اور سارے معاملات انسانی عقل و دانش کے دائرے میں طے کرنے کے فلسفہ کا منطقی نتیجہ ہے کہ عقل کے ساتھ طاقت اور فریب کاری کا جوڑ اپنے لیے ہر بات کا جواز فراہم کر لیتا ہے، جبکہ طاقت سے محروم اقوام و ممالک اس کے رحم و کرم پر رہ جاتی ہیں، آج کے عالمی فلسفہ کے تناظر میں دنیا بھر میں ہر سطح پر یہی کچھ ہو رہا ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر گزشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والے معاہدات اور ہمارے ہاں پاکستان میں بھی بالخصوص نفاذ شریعت کے سلسلہ میں کیے جانے والے معاہدات جس کی تازہ ترین مثال ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ ہے، کو موضوع بحث بنا کر ان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات نکھر کر سامنے آئے گی کہ آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر انسانی اخلاقیات ہی اقوام و ممالک کو کسی بات کا پابند بنا سکتی ہیں، ورنہ محض انسانی عقل و دانش طاقت اور فریب کاری کے زور پر اسی قسم کے مناظر دنیا کو مسلسل دکھاتی رہے گی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت کا راستہ نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

قائد اعظم کا اسلام

خورشید احمد ندیم

قائداعظم ایک امیر آدمی تھے۔اتنے امیر کہ 1926ء میں ان کا شمار جنوبی ایشیا کے دس سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا تھا۔ان کے چار مکانات کی قدر اگر آج کے حساب سے متعین کی جائے تو1.4 سے1.6ارب ڈالر بنتی ہے۔ قائد اعظم کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟

ڈاکٹر سعد خان کی کتاب ''محمدعلی جناح...دولت‘جائیداد اور وصیت‘‘ اس سوال کا جواب دیتی ہے۔یہی نہیں‘ان کی دولت اورجائیداد کی مکمل تفصیل بھی۔قائد کا تمام سرمایہ‘آمدن‘ جائیدادسب دستاویزی ہیں۔ان کی شخصیت کی طرح‘ شفاف ریکارڈ کے ساتھ۔یہ کتاب پڑھے کئی ماہ گزر چکے لیکن ہنوز سرہانے دھری ہے۔اس کتاب نے مجھے بعض ایسے سوالات پر غورکے لیے مجبور کیا جن کا تعلق کتاب کے موضوع سے نہیں لیکن قائد کی شخصیت سے ضرور ہے۔ایک موضوع ''قائد اعظم کا اسلام ‘‘ہے۔

مذہب کے باب میں قائد اعظم کے خیالات ہمارے ہاں مدت سے زیرِ بحث ہیں۔ان کا مسلک کیا تھاا وروہ مذہب وریاست کے باہمی تعلق کو کیسے دیکھتے تھے؟ان سوالات کے ہمیں جو جواب ملے وہ مختلف ہیں۔قائداعظم کو ان معنوں میں سیکولر ماننے والے بھی کم نہیں جوسیکولرازم کو مذہب مخالف سیاسی تصور قرار دیتے ہیں۔ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو قائدکی اسلام پسندی کے حق میں ان کے خطبات سے اقتباسات کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ شخصی زندگی سے لے کر سیاسی زندگی تک‘ہر شعبۂ حیات میں مذہب کی بالادستی کے قائل تھے۔

ڈاکٹر سعد خان نے موضوع کی رعایت سے قائداعظم کے مسلک اور مذہب کا بھی ذکر کیا ہے۔ایک پیرا گراف بہت دلچسپ ہے۔اسی نے مجھے قائد کے تصورِ اسلام پر مزید غور پر مجبور کیا۔پہلے یہ پیراگراف دیکھیے: ''بیگم جناح کا قبولِ اسلام سنی مسلک کے مطابق ہواجبکہ اگلے روز ان کا نکاح شیعہ روایت کے مطابق ہوا۔جناح کی سرکاری نمازِ جنازہ سنی مسلک کے مطابق ادا کی گئی جبکہ ان کی وصیت اسماعیلی روایت کے مطابق تھی۔جناح صاحب زندگی بھر بمبئی کی اثنا عشری جماعت کو چندہ ادا کرتے رہے لیکن کبھی مجلسِ عاشورہ میں دکھائی نہیں دیے۔دوسری طرف وہ عید میلاد کی تقریب میں ضرور دکھائی دیے جو کہ بنیادی طور پر سنی مسلک کی سرگرمی سمجھی جا تی ہے۔انہوں نے مسلکی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اپنی ہمشیرگان کی شادیاں کرائیں۔ان کا ایک بہنوئی سنی تھا اور دوسرا شیعہ...‘‘ (صفحہ89)

ایک اور بات جو اس کتاب کے متن میں تو نہیں لیکن میں نے بین السطور پڑھ لی۔اتنا امیر آ دمی ہونے کے باوجود قائداعظم نے حج نہیں کیا۔ان کے سوانح میں کہیں اس کی خواہش کا اظہار بھی نہیں ملتا۔ اپنی وصیت میں وہ اپنی وراثت کا بڑا حصہ تعلیمی اداروں کے نام کر گئے۔گویا وہ خلقِ خدا کو نہیں بھولے۔ مذہبی تعلیم کے مطابق حج ان پر فرض تھا جو خدا کا حق ہے۔اگر وہ ایک مذہبی آدمی تھے تواتنے اہم مذہبی فریضے سے غافل کیسے رہے؟

اسلام کے ساتھ ان کا لگاؤ ان کے بہت سے خطبات سے واضح ہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآ ن مجید پڑھتے تھے۔یقینا وہ جانتے ہوں گے کہ نماز ‘روزہ‘ حج کے بارے میں قرآن مجید میں کیالکھا ہے اور مذہب کے ساتھ کسی فرد کے تعلق کو ماپنے میں‘ان پیمانوں کی کیا اہمیت ہے؟اس کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ حج کی خواہش پیدا نہیں ہوئی؟ ایک طرف یہ احساس کہ خداکے حضور پیش ہوں توشاباش ملے کہ Well done Jinnah اوردوسری طرف فرائض سے یہ لاتعلقی؟ میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مذہب کسی واحدتعبیر کا نام نہیں۔مسلمانوں میں‘ کم ازکم چھ تعبیرات کے ماننے والے بکثرت تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

ایک یہ تعبیرکہ مذہب چند عقائد کو ماننے اور چند مناسک و رسوم پر عمل کر نے کا نام ہے۔کاروبارِزندگی سے اس کازیادہ گہرا تعلق نہیں۔سیاست‘کاروبار اور معاشرت کے معاملات ایک سماجی روایت کے مطابق ہوتے آئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔یہ مذہب کا براہ راست موضوع نہیں۔ سماج کی اپنی ڈگر ہے اور مذہب کی اپنی جو سراسر انفرادی معاملہ ہے۔

دوسری یہ کہ مذہب ایک فکری نظام(discourse)ہے جیسے اشتراکیت‘سرمایہ داری اور بہت سے دوسرے نظام ہیں۔مذہب کے ساتھ ہمارا تعلق فکری (intellectual) ہے۔یہ ایک فکری سرگرمی کا موضوع ہے۔ہمیں اس دنیا کو سنوارنے کیلئے اس سے مدد لینی چاہیے۔پیغمبر انسانی تاریخ کی بلند وبالا شخصیات ہیں اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ مذہبی کتب کو بھی اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ مذہب فرد اور خدا کامعاملہ ہے۔اس معاملے میں کسی دوسرے ادارے کا کردار‘چاہے وہ کلیسا ہو یا ریاست قابلِ قبول نہیں۔کلیسا یا مذہبی طبقے نے ایک خود ساختہ شریعت ایجاد کر رکھی ہے اور یوں ابنِ آدم کو چند رسوم میں جکڑ دیا ہے۔مذہب کو ان رسوم ومناسک سے ماورا‘ اس کے مقاصد کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

تیسری تعبیر یہ ہے کہ مذہب ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے۔ اس کا مقصود انسانی معاشرے میں خدا کی حاکمیت کا بالفعل قیام ہے۔ مذہب کا اصل مطالبہ یہی ہے۔نماز ‘روزہ اور حج جیسی عبادات اور مناسک بھی ضروری اور مذہب کا حصہ ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک تربیتی نظام کی ہے تاکہ ان پر عمل کر کے وہ لوگ تیار ہوں‘ جو دنیا میں اسلام کے غلبے کو امرِ واقع بنا سکیں۔

چوتھی تعبیر کے مطابق‘مذہب ایک عصبیت ہے جیسے رنگ و نسل کی عصبیت۔ ہم جس خاندان یا مذہب میں پیدا ہوتے ہیں‘اس کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔اس جذباتی وابستگی کا ہمیں زندگی بھر دفاع کرنا اور اس عصبیت کو زندہ رکھنا ہے۔جس طرح غیرت کے نام پر مرنا مارنا ایک اعزاز ہے‘اسی طرح مذہب کے نام پر قتل ہونا اور قتل کرنا بھی ایک اعزاز ہے۔اس تعبیر میں یہ بات غیر اہم ہے کہ مذہب زندگی گزارنے کا کوئی ڈھنگ سکھاتا ہے یا کسی رسم یا عبادت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر مذہب کی کسی رسم پر عمل کیا جا تا ہے تو وہ بھی اسی عصبیت کو زندہ رکھنے کے لیے۔ہم ویسے حجاب کے بارے میں حساس نہیں لیکن اگر کوئی ہمیں بالجبر اس سے روکے گا تو پھر اس کے لیے جان پر کھیل جائیں گے۔

مذہب کی پانچویں تعبیر یہ ہے کہ یہ کارخانہ قدرت ایک واہمہ یا عکس ہے جس کی اپنی کوئی حقیقت نہیں۔اس کائنات میں ایک ہی حقیقت ہے اوروہ خدا کی ذات ہے۔ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں‘اسی کے تنزلات ہیں۔ انسان بھی اسی سمندر کا ایک قطرہ ہے۔اس کی سعی و جہد کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ وہ قطرہ پھر سمندر میں مل جائے۔مذہب کا مطلوب بھی یہی ہے۔

چھٹی تعبیر کے مطابق‘انسان خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہے۔اسے ایک دن خدا کے حضورمیں پیش ہونا ہے۔وہاں اس کے مستقل ٹھکانے کا فیصلہ ہونا ہے:جنت یا جہنم۔اس کا فیصلہ اس پر منحصر ہے کہ ایک انسان نے اس دنیا میں خود کو کتنا پاکیزہ بنایا۔یہ پاکیزگی اس دین پر عمل سے حاصل ہوتی ہے جو پیغمبر لے کر آتے ہیں۔اس میں کچھ غیر اہم نہیں۔یہ ذہنی و جسمانی طہارت نماز‘ روزہ اور حج‘ زکوٰۃ کے بغیر نہیں مل سکتی ‘اس لیے یہ مقصود بالذات ہیں۔امورِ دنیا میں مذہبی تعلیمات فرد کی سماجی حیثیت کے مطابق‘اس سے متعلق ہوتی ہیں اور وہ اسی حد تک جواب دہ ہے۔

مجھے ان تعبیرات میں غلط اور صحیح کا فیصلہ نہیں کرنا۔میں نے بطورامرِ واقعہ ان کو بیان کیا ہے۔ان سب کو ماننے والے کسی نہ کسی درجے میں ’مذہبی‘ ہیں۔سوال یہ ہے کہ قائد اعظم ان میں سے کس تعبیر کے قائل تھے؟

تفہیمِ مذہب ایک مسلسل عمل ہے۔ ارتقا اس کا خاصہ ہے اور تعبیرات کا تعدد نتیجہ۔

ان تعبیرات سے ایک ''تاریخی مذہب‘‘ وجود میں آتا ہے۔ تاریخی مذہب، مذہب کے بنیادی ماخذ اور اس کی تفہیم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ہر مذہب کی تاریخ میں، کچھ وقفے کے بعد، تجدید و احیائے دین کی ایک تحریک اٹھتی ہے۔ یہ تحریکیں اس دعوے کے ساتھ برپا ہوتی ہیں کہ اصل مذہب انسانی تعبیرات سے بوجھل ہو گیا ہے، اس لیے لازم ہے کہ اب حقیقی دین کی بازیافت کی جائے۔ اس کے لیے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ حقیقی مذہب کو تعبیر کے تاریخی عمل سے الگ کیا جائے۔

اسلام کی تاریخ بھی اسی طرح آگے بڑھی ہے۔ اس سے دو نقطہ ہائے نظر وجود میں آئے۔ ایک وہ جو تجدید و احیا کی تحریکیں اپناتی ہیں۔ اس کے مطابق دین اصلاً قرآن اور سنت کا نام ہے‘ ہمیں ان کے ساتھ براہ راست تعلق پیدا کرنا اور انہیں سمجھنا ہے۔ مذہب کا وہ فہم ہمارے لیے حجت نہیں جو انسانی کاوش اور تاریخی عمل کا حاصل ہے۔ اس میں سے اگر کچھ قبول کیا جائے گا تو نقد و جرح کے اس پیمانے پر جو ہر احیائی تحریک از خود طے کرتی ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مذہب کو اسلاف کی تعبیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ماخذات کے ساتھ یہ تعبیر بھی مذہب کا حصہ ہے۔ دونوں کے مجموعے کا نام اسلام ہے۔ یہ نقطہ نظر دین کو اس عملی و علمی روایت میں رکھ کر دیکھتا ہے، اس لیے روایتی کہلاتا ہے۔

یہ نکتہ مزید شرح کا متقاضی ہے۔ احیائی تحریکوں کے مطابق، مذہب صرف قرآن و سنت کا نام ہے۔ قرآن کو ہم اصولوں کی روشنی میں سمجھیں گے جو کسی بھی متن کی تفہیم کے لیے فطری طور پراختیار کیے جاتے ہیں۔ جیسے عربی زبان اور اسالیبِ کلام۔ اس عمل میں لازم نہیں کہ اُس تفسیر کو بھی قبول کیا جائے جو ہم سے پہلے ادوار میں ہوتی آئی ہے۔ اسی طرح احادیث کو بھی ہم سمجھیں گے اور اس میں بھی ضروری نہیں کہ قدیم لوگوں کی رائے کو حتمی سمجھا جائے جو روایت یا درایت کے باب میں اختیار کی گئی ہے۔

روایتی موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کو اسلاف کی تفسیر سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح نبیﷺ سے کسی روایت کو اگر قدیم محدثین نے سنداً صحیح قرار دے دیا تو اسے اب صحیح مانا جائے گا۔ یا ایک حدیث کا جومفہوم اختیار کیا جا چکا، اسے ہی قبول کیا جائے گا۔ یہی معاملہ استنباطِ احکام کا بھی ہے جس سے فقہ کی روایت وجود میں آئی۔ مزید یہ کہ کسی تعبیر پراگر اجماع وجود میں آگیا تواس کی مخالفت جائز نہیں؛ چنانچہ اہلِ سنت نے یہ موقف اپنا لیاکہ اصولِ فقہ میں ائمہ اربعہ کے دائرے سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔

انسانی سماج مسلسل حرکت میں ہے۔ اس لیے کوئی جامد سوچ اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ مذہب کو اگر زندہ رہنا ہے تو اسے متحرک ہونا پڑے گا۔ وقت کا یہ بہاؤ احیائی تحریکوں کو جواز بخشتا ہے۔ مذہب کا مزاج مگرروایتی ہے۔ اس کی صحت کا انحصار نقل پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں روایتی نقطہ نظر غالب رہا جو مذہب کی اس فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے؛ تاہم تاریخی دبائو کے نتیجے میں، وہ اس روایت کو مسلسل متحرک رکھنے پر مجبور ہے۔ یوں روایت پسند بادلِ نخواستہ تبدیلی کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن حیلے کے ساتھ۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ اگر نئی راہ اختیار کرنا پڑے تو یہ تاثر قائم رہے کہ دراصل یہ قدیم روایت ہی کا تسلسل ہے۔

ارتقا کا ایک ناگزیر نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایک وقت کی احیائی تحریک، جب ماضی کا قصہ بنتی ہے تو اکثر روایت میں شامل ہو جاتی ہے۔ اگر اس کے متاثرین ایک قابلِ ذکر تعداد میں موجود ہوں یا وہ مسلمانوں کے اعیان و اشرافیہ کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو روایت کا مستند حصہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیاکہ وہ احیائی تحریکیں جو سب کچھ بدل دینے کے عزم سے اٹھیں، وقت کے ساتھ روایت کو اپنے فکری نظام میں جگہ دینے پر مجبور ہوئیں۔ یوں یہ ایک دوطرفہ عمل ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس حقیقت کو ایک بار ازراہ تفنن بیان کیا۔ ان سے کسی نے کہاکہ فلاں معاملے میں آپ نے جو رائے اپنائی ہے، متقدمین میں سے تو کسی نے اختیار نہیں کی۔ مولانا نے جواب دیا: آپ ہمارے مرنے کا انتظار کیجیے‘ کچھ وقت کے بعد ہم بھی متقدمین میں شامل ہوجائیں گے۔

حاصل یہ ہے کہ احیائی اور روایتی نقطہ نظر ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور تعبیرات کے تعدد کو گوارا کیا گیا ہے۔ یہ تعبیرات چھ سات کے عدد میں مقید نہیں ہیں؛ تاہم قبولیتِ عامہ چند ہی کو ملتی ہے۔ بیسویں صدی تک آتے آتے، مسلمانوں میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب زندگی اور سماج کی صورت گری میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس نے ایک فکری جمودکو جنم دیا۔ بیسویں صدی میں ایسی سیاسی تبدیلیاں آئیں جن کے نتیجے میں مسلمان انفعالی حالت سے نکلے اور مختلف خطوں میں زمامِ کار ان کے ہاتھ میں آگئی۔ اب انہیں اپنے اجتماعی وجود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا تھا۔ بقا نئی تعبیر کاتقاضا کرتی تھی لہٰذا نئی تعبیرات اختیار کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہی وہ دور ہے جب قائداعظم کی فکری تشکیل ہوئی۔

قائداعظم کے لیے اس بات کی اہمیت، اس وقت بہت بڑھ گئی جب ان کی عملی زندگی کا آغاز ہوا اور انہوں نے وکالت کو پیشہ کیا۔ اس کے ساتھ وہ سیاست میں آئے اور مسلمانوں کے ترجمان بنے۔ نجی زندگی کے حوالے سے مذہب کا معاملہ ان کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ ذاتی سطح پر، جب مذہب کی ضرورت پیش آئی توروایتی دینی تعبیرکو انہوں نے کافی سمجھا۔

اصل مسئلہ سیاسی زندگی میں پیش آیا۔ تجربات نے انہیں سمجھایاکہ مسلمانوں کی تہذیبی اور سماجی بنت ہندوئوں سے مختلف ہے۔ ہندووں کے اعیانی طبقے کے رویے نے انہیں اس رائے پر مستحکم کیا؛ تاہم چونکہ وہ اسلام کے کوئی سکالر نہیں تھے، اس لیے اپنے تئیں اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرسکتے تھے، اگرچہ وہ اس کی ضرورت کومحسوس کر رہے  تھے۔

مسلمانوں کو درپیش اس عملی مسئلے کے حل کی طرف علامہ اقبال نے انہیں متوجہ کیا۔ خطبہ الٰہ آباد کے وقت وہ سیاسی طورپر فعال نہیں تھے لیکن یہ ممکن نہیں کہ یہ خطبہ ان کی نظرسے نہ گزراہو۔ وہ ہندی مسلمانوں کے حالات سے مایوس ہوکرانگلستان جاچکے تھے۔ اقبال نے ان کے نام اپنے خطوط میں مسلمانوں کے مسائل اوران کے حل کی نشاندہی کی۔ اس باب میں قائداعظم علامہ اقبال کو اپنا فکری قائد مانتے ہیں، جس طرح اقبال قائداعظم کو اپنا سیاسی راہنما قرار دیتے ہیں۔ کیا قائد، اقبال کی اس فکری قیادت کوتعبیرِ مذہب کے عموم میں بھی قبول کرتے تھے؟ میں اس سوال کوآگے چل کرمخاطب بناؤں گا۔

اسلام پر قائداعظم نے وقتاً فوقتاً جو گفتگو کی، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو اپنے طورپر سمجھنا شروع کردیا تھا، بالخصوص تہذیبی اورسیاسی حوالے سے۔ جب وہ مسلمان قوم کا سیاسی مقدمہ لڑرہے تھے تولازم تھاکہ وہ اس کے علمی مقدمات اور تہذیبی امتیازات سے واقف ہوں۔ بایں ہمہ بطور وکیل بھی انہیں اسلام کے عائلی قوانین کو سمجھنا تھاکہ انہیں عدالت کے سامنے اپنے موکل کا مقدمہ پیش کرنا پڑتا تھا جو شخصی احوال میں ان سے رجوع کرتاتھا۔ جب انہوں نے وقف کابل (مارچ 1911) پیش کیا، تب بھی انہوں نے یقیناً اسلام کامطالعہ کیا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اس مطالعے اور غوروفکر سے وہ کن نتائجِ فکر تک پہنچے؟ تعبیرِ مذہب کے پہلوسے، ہم ان کا شمارکس طبقے میں کریں گے؟

قائداعظم کے تصورِ اسلام کوان کے تصورِ پاکستان سے بے نیاز ہوکر نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ یہ تصور دو نکات پر مشتمل ہے۔

ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے اصولوں پر قائم ایک مملکت ہے۔ یہ بات انہوں نے اتنے اصرارکے ساتھ، اس کثرت سے اور اتنے اسالیب میں کہی کہ اس کا انکار عقلاً محال ہے۔ کبھی انہوں نے شریعت کو پاکستان کے دستورکی بنیاد کہا (25جنوری 1948ء) اور کبھی اسے 'اسلامی ریاست‘ قرار دیا (فروری 1948)۔ دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ان کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو ان کی دیگر تقاریر کے سیاق و سباق میں پڑھا جائے یادیگر تقاریر کومجلسِ دستور سازکے اِس خطاب کے تناظر میں سمجھا جائے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان اصلاً مسلمانوں کیلئے بنا ہے۔ یہ بات بھی قائداعظم نے اتنی تکرارکے ساتھ کہی کہ اس کا انکار تاریخ کاانکار ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اگراپنے تہذیبی وجود کا اظہارکرنا چاہیں توکوئی دوسرا عقیدہ یا نظریہ ان کی اس خواہش کے راستے میں مزاحم نہ ہو؛ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی دوسرا مذہبی یا تہذیبی گروہ مذہبی آزادی کے فطری حق کو استعمال کرنا چاہے تواس کو روک دیا جائے۔ اس سے البتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کا غالب رنگ اسلامی ہوگا۔

قائداعظم کا تصورِ اسلام، ان کے تصورِ پاکستان اور سیاسی کردارکے زیرِاثر متشکل ہوا۔ بطوروکیل، تفہیمِ اسلام ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی ضرورت بھی تھی لیکن جیسے جیسے ان کا سیاسی کردار بڑھتاگیا، اسلام ان کیلئے ایک عقیدے یا فقہی قضیے سے زیادہ ایک سیاسی نظام اور تہذیبی قوت کے طورپر اہم ہوتا گیا۔ انہوں نے اسلام کومعاصر سیاسی افکار اورتبدیلیوں کے تناظر میں سمجھناچاہا۔ یہ اسلام کی تفہیم کاعقلی منہج ہے۔

قائد نے جہاں جہاں اور جب جب اسلام کو موضوع بنایا، ان کی گفتگو کا کم وبیش پچانوے فیصد حصہ اسلام کے بارے میں ایک اصولی یا عمومی موقف کا بیان ہے۔ ان کی طرف سے اس کی کوئی توضیح و تشریح نہیں کی گئی۔ جیسے ''قرآن کریم مسلمانوں کا عمومی ضابطہ حیات ہے‘‘۔ اس طرح کے بیانات سے کوئی تصورِ اسلام اخذ کرنا ممکن نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قائد اسلام کے سکالرنہیں تھے، اس لیے اُن سے یہ توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ عذر قابلِ قبول ہے اوراس سے ان کی عظمت میں بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ مسلم تاریخ میں ان کا مقام ایک سیاسی رہنما کے طورپر ہے نہ کہ ایک سکالر کے طور پر۔ اس سے لیکن یہ بنیادی مقدمہ قائم رہتا ہے کہ ان کے بیانات سے کوئی مستقل بالذات تصورِ اسلام کشید کرنا ممکن نہیں۔

قائداعظم کے خطبات و ارشادات میں موجود اس خلا نے مختلف گروہوں کویہ موقع فراہم کردیا کہ وہ قائداعظم کے بیانات کی تشریح اپنے اپنے تصورِ اسلام کی روشنی میں کریں۔ اب اگرکوئی ان کے کسی انٹرویو میں موجود ''اسلامی ریاست‘‘ کی اصطلاح کو مولانا مودودی کے تصورِاسلامی ریاست کی روشنی میں پیش کرنا چاہے توآپ اس کا قلم یا زبان نہیں روک سکتے۔ اسی طرح اگرکوئی سردار شوکت حیات اور سبطِ حسن کی طرح قائداعظم کو غیر مذہبی (سیکولر) ثابت کرنا چاہے توآپ اس پربھی کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔ کوئی ان کی تقریر سے 'اسلامی سوشلزم‘ (چٹاگانگ، 26مارچ 1948ء) کی اصطلاح لے کر انہیں 'سوشلسٹ‘ قراردینا چاہے تو قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔

میں نے قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور اقدامات سے بلاواسطہ ان کے فہمِ اسلام تک رسائی کی کوشش کی ہے۔ اس سے بڑی حد تک اُس ریاست کے خدوخال نمایاں ہوتے ہیں جوان کے نزدیک ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس کوشش میں کسی دوسرے کی تشریح یا توضیح شامل نہیں۔ میں اس فہم کو چند نکات کی صورت میں بیان کررہا ہوں:

1۔ پاکستان کی ریاست اپنے سیاسی ومعاشی نظام کی تشکیل میں اسلام کی تعلیمات کو بنیاد بنائے گی۔ (25جنوری 1948ء)

2۔ قرآن مجید کے مطابق انسان زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسروں انسانوں کے ساتھ اُسی طرح معاملہ کرنا ہے جس طرح خدا اپنے بندوں کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ محبت اور تحمل و برداشت سے عبارت ہے۔ ہمیں خداکی مخلوق سے یہی رویہ رکھنا ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے قرآن مجید کی ایک عقلی تفسیروتشریح کی ضرورت ہے۔ اسلامی عبادات دراصل اسی رویے کی تشکیل کیلئے ہیں۔ (نومبر1939ء‘ عید کا پیغام)

3۔ اسلام انسانوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتا۔ بطور نظام، تہذیب اور تمدن، اسلام انسانی برابری، بھائی چارے‘ آزادی اور مساوات کا قائل ہے اور پاکستان کا نظام اسی تصورِ اسلام کی اساس پر بنے گا۔ (25 جنوری 1948ء، 26مارچ 1948ء)

4۔ ہندوئوں سے مختلف ہونے کا بنیادی سبب نظام ہائے معاشرت کا اختلاف ہے۔ اسلام وحدتِ آدم پریقین رکھتا ہے اور ہندومت معاشرتی سطح پر انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرتا ہے۔ (22مارچ، 1940)

5۔ پاکستان کی ریاست میں، مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کی جائے گی۔ وہ اپنے مذہبی وجود کے اظہار میں آزاد ہوں گے اورریاست کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ (11اگست 1947ء)

6۔ پاکستان کی ریاست ان معنوں میں کوئی مذہبی ریاست (Theocracy) نہیں بن رہی جس میں مذہبی پیشواؤں (priests) کا ایک طبقہ کسی خدائی مشن کے ساتھ حکومت کرے گا۔ ) فروری 1948ء)

7۔ پاکستان میں بسنے والے ہندوئوں، مسیحیوں اور پارسیوں کو وہی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی جو کسی دوسرے شہری کو میسر ہیں۔ (فروری 1948ء)

8۔ پاکستان کی ریاست میں کلیدی عہدوں کیلئے مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہو گی۔ پاکستان کا کوئی شہری کسی اہم ترین منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔

9۔ خواتین کو معاشرت اور سیاست میں متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم اس کا مطلب مغرب کی نقالی نہیں۔

یہ نکات قائداعظم کی تقاریر سے ماخوذ ہیں۔ اس میں کسی دوسرے کی تفہیم و تشریح شامل نہیں۔ یہ اسلام کو سیاسی و سماجی سطح پر سمجھنے کا ایک عقلی منہج ہے۔ اس لیے میں اس کا شمار تعبیرِ اسلام کے دوسرے طبقے میں کرتا ہوں۔ (ان طبقات کا ذکر میں نے اس سلسلے کے پہلے کالم میں کیا ہے)۔ کوئی فرد جب کسی مذہب کوعقلی سطح پر سمجھتا ہے توایک ناگزیر نتیجے کے طورپر ان مسلکی اور فرقہ وارانہ تعبیرات سے بلند ہوجاتا ہے جواسے خاندان یا معاشرے سے وراثتاً منتقل ہوتی ہیں۔ فقہ پھر اس کے نزدیک نکاح و طلاق یا تجہیزوتدفین جیسے معاملات تک محدود ہو جاتی ہے۔ قائد اعظم کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ وقت کے ساتھ مسلکی تقسیم سے بلند ہوگئے۔

میں جب قائد کے ارشادات سے ابھرنے والی اس تعبیر کو سامنے رکھتا ہوں تو مجھے ان اخبارِ آحاد پر زیادہ اعتماد نہیں رہتا جو اسلام کے ساتھ ان کے وابستگی کی ایک جذباتی تصویر پیش کرتے ہیں، جیسے حسرت موہانی سے منسوب ایک روایت۔ اسی طرح خوابوں کا معاملہ بھی، اگر سچ مان لیا جائے تولاشعوری سطح پرخوش گمانیوں کے اظہار سے زیادہ کچھ نہیں۔

کیا قائداعظم اور علامہ اقبال ایک ہی تعبیرِ اسلام کے قائل تھے؟ مولانا شبیر احمد عثمانی کے ساتھ قائد کے تعلق کی نوعیت کیا تھی؟ اس بحث میں یہ سوالات اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو الگ سے موضوع بنایا جائے۔

قائداعظم کا تصورِ اسلام، کیا کلی طور پرفکرِ اقبال سے مستعارہے؟

علامہ اقبال ایک عالم تھے اور قائداعظم ایک عملی سیاست دان۔ تعبیرِ دین کے باب میں دونوں کا تقابل خوش ذوقی نہیں اور نہ ہی یہاں مطلوب ہے۔ قائد نے اقبال کے علمی تبحر کا بارہا ذکر کیا اور انہیں ایک طرح سے اپنافکری رہنما بھی قرار دیا۔ اس سے یہ تاثر قائم ہواکہ قائد کے تمام تر افکار، فکرِ اقبال سے ماخوذ ہیں۔ اس لیے قائدکے فہمِ دین تک رسائی کیلئے ضروری ہے کہ اس سوال کا موضوع بناناجائے۔

اقبال، اس میں کیا شبہ ہے کہ نادرِ روزگار شخصیت تھے۔ ایک عبقری۔ ان کے اقلیمِ فکر اور مطالعے کی وسعت وہمہ گیری کا احاطہ آسان نہیں۔ مذہب، فلسفہ، تصوف، تاریخ، سماجی علوم، ادب... علم وفضل کون سا شعبہ ہے، جس کی امہاتِ کتب تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ 'جاویدنامہ‘ میں انہوں نے جس طرح مختلف افلاک پر اقامت کیلئے شخصیات کا انتخاب کیا ہے، صرف یہی یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ علمی اعتبار سے وہ کس درجے کے آدمی تھے۔ اس پہ مستزاد علم کی مشرقی ومغربی روایات سے براہ راست استفادہ۔

قائداعظم علامہ اقبال کی اس حیثیت سے واقف تھے۔ اس لیے انہوں نے اقبال کی آرااور تجزیوں کو ہمیشہ بہت اہمیت دی۔ اس سے بڑھ کر، اس بات کی کیا دلیل ہوگی کہ علامہ نے خطبہ الٰہ آباد میں جس منزل کی نشاندہی کی تھی، قائد نے اس تک پہنچنے کواپنا مقصدِ حیات بنالیا۔ اس کے باوصف، میراتاثر یہ ہے کہ قائداعظم کا فہمِ اسلام، کلی طور پر علامہ اقبال کی تعبیرِدین سے ماخوذ نہیں تھا۔ ان کا اتفاق جزوی تھا۔

اس کی وجہ 'شاکلہ‘ کا فرق ہے۔ علامہ اقبال کی شخصیت پر جذبات کا غلبہ تھا۔ قائد پر عقل کا۔ اقبال دل سے سوچتے تھے، قائددماغ سے۔ شخصیت پرجب ایک پہلوکا غلبہ ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ دوسرے کی کلی نفی ہوگئی ہے۔ جذبات کے غلبے سے یہ مرادنہیں کہ عقل کا کردار ختم ہوگیا یاعقلی شخصیت کا یہ مفہوم نہیں کہ ایسے آدمی کے پاس دل نہیں ہوتا۔ غلبے کا مطلب یہ ہے کہ دل و دماغ میں تصادم ہوجائے تو ترجیح کسے دی جاتی ہے یا زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے، کون ساپہلو زیادہ اہم شمارہوتا ہے۔

علامہ اقبال کے بارے میں رشید حمد صدیقی نے لکھا ہے کہ انہیں اسلام کے آفاقی پیغام سے زیادہ رسالت مآبﷺ کی شخصیت نے متاثر کیا۔ گویا اسلام تک ان کی رسائی دل کے راستے سے ہوئی۔ ظاہرہے کہ یہ دل تک محدود نہیں رہا، ان کے لئے عقلی سرگرمی کا بھی سب سے بڑا موضوع بنا۔ اسلام کو پیش کرنے والی شخصیت جیسی بلند و بالا تھی، اس کا پیغام بھی اُسی شان کا تھا۔ اقبال اصلاً شاعر تھے۔ جودل کی حاکمیت کا قائل نہ ہو وہ شاعر نہیں بن سکتا۔ ان کے دیگر امتیازات ان کی شاعرانہ طبیعت کے تابع ہیں۔

قائداعظم سیاستدان تھے اور سیاستدان ہمیشہ عملی آدمی ہوتا ہے۔ عملی آدمی عقل کی حاکمیت کا قائل ہوتا ہے۔ وہ رزم گاہ میں کھڑا ہوکر فیصلے کرتا ہے، ایک سپہ سالار کی طرح۔ کبھی ہزاروں اور کبھی لاکھوں افراد کی زندگی اس کے ایک فیصلے سے بندھی ہوتی ہے۔ وہ خودکو دل کے حوالے نہیں کرسکتا۔ قائداعظم نے ہمیشہ عقلی فیصلے کیے۔ کبھی اپنی باگ دل کے ہاتھ میں نہیں دی۔ ان کی تمام سیاسی زندگی اس پر گواہ ہے۔ جیسے قیامِ پاکستان کیلئے یکسو ہونے کے باوجود، کیبنٹ مشن کی سفارشات کو تسلیم کرلیا تھا۔

میں اس فرق کو ایک مثال سے واضح کرتاہوں۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم دونوں نے حج نہیں کیا لیکن دونوں کے حج نہ کرنے کے اسباب مختلف تھے۔ اقبال ہمیشہ اس خواہش میں جیتے رہے۔ عمر کے آخری حصے میں تو ٹریول ایجنٹ تک سے رابطہ کر لیا تھا کہ سفر کی تفصیلات طے کریں۔ گفتگو کے دوران میں سفرِ حجاز کا ذکر آ جاتا تو وہ ایک دوسری کیفیت میں چلے جاتے۔

حج اصلاً مکہ کا سفر ہے۔ اقبال دین کے عالم تھے، اس بات سے بہتر واقف تھے۔ اس کے باوجود جب بھی سفرِ حجاز کی بات ہوئی، ان کا دل مدینہ میں اٹکا دکھائی دیا۔ شاعری اور نثر دونوں کا یہی معاملہ ہے۔ 13جون 1937ء کو سر اکبر حیدری کے نام خط میں لکھا ''ایک ہی خواہش، جو ہنوز میرے دل میں خلش پیدا کرتی ہے، یہ رہ گئی ہے کہ اگر ممکن ہو تو حج کیلئے مکہ جاؤں اور وہاں سے اس ہستی کی تربت پر حاضری دوں، جس کا ذاتِ الٰہی سے بے پایاں شغف میرے لیے وجہ تسکین اور سرچشمہ الہام رہا ہے‘‘۔

عمر کے اس آخری حصہ میں جذباتی اور روحانی طور پر وہ حجاز کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ 'حضورِ رسالت‘ کے عنوان سے فارسی رباعیات اور قطعات لکھے جا رہے تھے کہ

بہ ایں پیری رہِ یثرب گرفتم
نوا خواں از سرورِ عاشقانہ

اس ذوق و شوق کی کہانی، اقبال نے جس والہانہ انداز میں، اپنی نثر اور شاعری میں لکھی ہے، چشمِ ترکے ساتھ ہی پڑھی اور بیان کی جا سکتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اقبال اگر مدینہ پہنچ جاتے تو شاید واپس نہ آسکتے۔ وہ 'پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘ کا مصداق بن جاتے۔

دوسری طرف قائداعظم کے ہاں کہیں جذبات کا ایسا اظہارنہیں ملتا۔ وہ حج پر نہ جا سکے اور کبھی اعلانیہ اس خواہش کا اظہار بھی نہیں کیا۔ قائد نے خود اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ میرا قیاس یہ ہے کہ ان دو رویوں کا فرق دراصل شاکلہ کافرق ہے۔ رسالت مآبﷺ اور اسلام سے اقبال کے تعلق کی بنیاد جذباتی تھی، جس کا ظہور حج کے معاملے میں بھی ہوا۔ قائد کی رسول اللہﷺ اور اسلام سے تعلق اصلاً عقلی تھا، اس لیے اس کا اظہار جذباتی سطح پر نہیں ہوا۔ اس فرق کی وجہ سے قائد نے فکرِاقبال کے اس پہلوسے تو اثر قبول کیا جس کا تعلق اسلام کے سیاسی و سماجی تعلیمات کی عقلی توجیہ اور تشریح سے تھا لیکن وہ اقبال کی کلی تعبیر سے کوئی مناسبت نہ پیدا کر سکے۔

قائد اعظم اسلام کو عصری نظریات کے تقابل میں، عقلی اور فکری سطح پر ایک سیاسی و سماجی نظام کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جنہوں نے دین کوصرف اس پہلو سے سمجھا، ان کے ہاں، مذہب کا وہ پہلو پس منظر میں چلا گیا جو تعلق باللہ یا شخصی عبادات سے متعلق ہے۔ اس تعبیر کے مطابق یہ پہلو ایک فرد کے لیے اہم ہو سکتا ہے لیکن مقصود بالذات نہیں۔ اس تعبیرمیں مقاصدِ شریعت اہم ہوتے ہیں، شریعت نہیں۔ اقبال نے جب مذہب کی عقلی توجیہ کی تو ان کا رجحان بھی اسی جانب دکھائی دیتا ہے۔ خطبات میں جب وہ اجتہاد کو موضوع بناتے اور شرعی سزاؤں کے آفاقی پہلو پر گفتگو کرتے ہیں تواسے مقاصدِ شریعت ہی کی روشنی میں حل کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم، اقبال چونکہ ایک عالم تھے، اس لیے اس عقلی توجیہ کے باوجود، وہ عبادات اور شریعت کی اہمیت سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے تھے‘ اس لیے وہ دونوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس میں کتنے کامیاب رہے، یہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔ مجھے تو یہاں علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظام ہائے فکر کے باہمی تعلق تک محدود رہنا ہے۔ میرا تاثر ہے کہ تعبیرِ دین کے حوالے سے قائد سید امیر علی سے قریب تر ہیں۔ شایدان کی کتاب 'سپرٹ آف اسلام‘ قائد کے پیش نظر رہی ہو۔

فکرِ قائد کی تشکیل میں، کیا مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کا بھی کوئی حصہ تھا‘ جنہوں نے ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے، اپنے حلقے سے علیحدگی اختیار کی اور قائد کا ساتھ دیا؟

متحدہ قومیت کے مسئلے پر مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی اپنے حلقۂ فکر سے بغاوت، مسلم برصغیر کا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ اس نے تاریخ کا رخ متعین کرنے میں ایک اہم کردار اداکیا۔ یہ داستان ابھی تک اُس طرح لکھی نہیں جاسکی جیسے لکھی جانی چاہیے تھی۔ میری دلچسپی بھی اس کے صرف ایک پہلوسے ہے کہ کیا مولانا تھانوی کے سیاسی افکار قائداعظم کے فہمِ اسلام پراثر انداز ہوئے؟

مسلم برصغیر کی علمی و تہذیبی تشکیل میں مولانا اشرف علی تھانوی کا مقام پیشِ نظر رہے تواس سوال کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ علمِ تفسیر سے فقہ تک، تصوف سے کلام تک، نفسیات سے سماجی علوم تک، علم کا شاید ہی کوئی شعبہ ہو جس پر مولانا تھانوی کااثر نہ ہو۔ ہماری تاریخ میں علامہ اقبال کے بعد وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں حکیم الامت کہا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اس اعزازکے مستحق تھے۔مولانا تھانوی اکابر علمائے دیوبند میں سے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اپنے جن فرزندوں پر نازکرتا ہے، وہ ان میں سے ایک تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے متحدہ قومیت کے مسئلے پراپنے مسلک کے سوادِ اعظم سے اختلاف کیا۔ مولانا شبیراحمد عثمانی، مولانا تھانوی ہی کا فکری وسیاسی تسلسل ہیں۔ ان کا انتقال 1943ء میں ہوا جب تحریکِ پاکستان برپا ہوچکی تھی اور مسلم لیگ کوان لوگوں کی شدت کے ساتھ ضرورت تھی جواس کا مقدمہ دینی ومذہبی بنیادوں پر پیش کرسکیں۔ یہ کام مولانا شبیراحمد عثمانی نے سرانجام دیا۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کا ساتھ کیوں دیا؟ مولانا عملی سیاست میں علما کی شرکت کے خلاف تھے؛ تاہم وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ ملی سیاست علما کے اثرسے باہر نہ رہے تاکہ وہ صراطِ مستقیم پررہے۔ اس کا حل انہوں نے یہ تجویزکیا کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں ہونی چاہئیں۔ ایک سیاسی جو عملاً بروئے کار آئے اور ایک علما کی جماعت جواس کی فکری رہنمائی اور تبلیغ (انذار)کاکام کرتی رہے۔ سیاسی جماعت اس کے زیرِ اثررہے۔ اسی خیال کے تحت انہوں نے مسلم لیگ کی طرف دستِ تعاون بڑھایا۔

مسلم مفادکے حوالے سے مولانا تھانوی مسلم لیگ اورکانگرس دونوں کومثالی نہیں سمجھتے تھے؛ تاہم مسلم لیگ کوترجیح دیتے ہیں۔ اس ترجیح کی دووجوہات تھیں۔ پہلی‘ یہ مسلم لیگ مذہب کو قومیت کی اساس قراردیتی تھی اور مولانا تھانوی کے نزدیک یہی موقف درست تھا۔ دوسری یہ کہ کانگرس کے مقابلے میں مسلم لیگ کی اصلاح کے امکانات زیادہ تھے۔

مولانا کے پیش نظر یہ خاکہ تھاکہ مسلم لیگ مولانا تھانوی (یاعلما) سے فکری رہنمائی لے۔ اس ضمن میں مولاناکی مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ خط وکتابت رہی، بالخصوص نواب محمد اسماعیل خان کے ساتھ جو مسلم لیگ یوپی کے صدرتھے۔ نواب صاحب سے انہوں نے استفسار کیاکہ تعاون کی صورت میں مسلم لیگ میں علماکا کردار کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا: وہی جوایک مسلم سماج میں ہوتا ہے۔ مولانا تھانوی کے ساتھ قائد کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ براہ راست رابطے کا واحد ثبوت قائداعظم کا ایک خط ہے جوانہوں نے مولانا تھانوی کے ایک خط کے جواب میں لکھا۔

1937ء تک مولانا تھانوی مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد میں یکسو نہیں تھے۔ اس سال ہونے والے انتخابات سے پہلے جب جھانسی کے لوگوں نے مولاناکی رائے معلوم کرنا چاہی توان کاجواب واضح نہیں تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے بارے میں اپنی ترجیح کا ذکرکیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ مسلم لیگ زمین داروں کی جماعت ہے‘ اس لیے یہ امرمشتبہ ہے کہ وہ جیت کراسلامی نظام نافذ کرسکے گی؛ تاہم مولانا ظفراحمد عثمانی کی تجویز پر انہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ بحیثیت مجموعی یہ انتخابات ہارگئی لیکن مولاناکی نصرت کے باعث جھانسی میں کامیاب رہی۔

6جون 1938ء کو پٹنا میں مسلم لیگ کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ اس میں مولانا تھانوی کی طرف سے چار رکنی وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا تھانوی کا ایک خط پڑھا گیا جس میں انہوں نے یہ بیان کیاکہ وہ مسلم لیگ سے کیا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلم لیگ کواب جنداللہ‘اللہ کے لشکر میں تبدیل ہوجانا چاہیے۔ اس کیلئے وہ اللہ پر ایمان کو مضبوط کریں۔ دوسرے یہ کہ مغربی تہذیب کے اثرات سے نکلیں۔ تیسرے غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت سے بچیں اور داڑھی رکھیں۔ چوتھا یہ کہ نماز روزہ اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں۔ 1943ء میں مولانا تھانوی کا انتقال ہوا‘ 1944ء میں ان کے سیاسی جانشین مولانا شبیر احمد عثمانی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1945ء میں جمعیت علمائے ہند سے الگ ہوکر علمائے دیوبند کے ایک طبقے نے جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رہی، جس نے مسلم لیگ کی اعلانیہ حمایت کردی۔ مولانا عثمانی کلکتہ میں ہونے والے تاسیسی اجلاس میں خود شریک نہ ہو سکے۔ ان کی غیرحاضری میں ان کا خطبہ صدارت پڑھ کر سنایا گیا۔

اس اجلاس میں کم وبیش پانچ ہزارعلما شریک ہوئے۔ انہوں نے 'گاندھی ازم، اشتراکیت اور کمال ازم کی ملحدانہ سیاست‘ سے اظہارِ لاتعلقی کیا اور قائداعظم کو یقین دلایاکہ علما اور مشائخ انتخابات میں مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے۔ مسلم لیگ کی طرف سے نواب محمد اسماعیل کا پیغام بھی سنایا گیا‘ جنہوں نے وعدہ کیاکہ پاکستان میں شریعت اور مذہب کے معاملات میں علماکی قیادت کوتسلیم کیا جائے گا۔

اجلاس میں مختلف قراردادوں کی صورت میں جمعیت نے اسلامی ریاست کا خاکہ بھی پیش کیا۔ ان قراردادوں کے مطابق، چونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا لہٰذا اس میں علما کا کردار اہم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے تجویزکیا گیاکہ پاکستان میں 'شیخ الاسلام‘ کا منصب ہو۔ ایک مفتیٔ اعظم ہو جو عدالتوں اورفقہی مسائل میں رہنما ہو جہاں مسلمانوں کے امورکے فیصلے ان کی فقہ کے مطابق ہوں۔ زکوٰۃ وصدقات کے لیے بیت المال ہو اور 'نظاماتِ اوقافِ اسلامیہ‘ ہو۔

مولانا تھانوی علما کے عملی سیاست میں حصہ لینے کے خلاف تھے لیکن ان کی رائے کے برعکس، مولانا عثمانی نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور عوامی سطح پر بھرپور انداز میں مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے متحدہ قومیت کے تصورکو شدت کے ساتھ رد کیا جو جمعیت علمائے ہند پیش کررہی تھی۔ اسے غیراسلامی کہا۔ نبیﷺ کی آمد کے بعد ان کے خیال میں اب صرف ایک تقسیم باقی ہے: مومن اور کافر۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیاکہ شیخ الہند بھی ہندو اور مسلمان کو دوالگ قومیں سمجھتے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنی وفات سے نو دن پہلے کیا۔ انہوں نے مدینہ اور پاکستان کو مترادف کہا اور یہ تعبیر پیش کی کہ رسالت مآبﷺ نے مدینہ میں ایک پاکستان قائم کیا (جمعیت کے لاہوراجلاس میں خطاب) ان کا کہنا تھاکہ جس طرح مدینہ کی ہجرت اوروہاں ایک اسلامی مرکزکا قیام ہمہ گیر اسلامی ریاست کی طرف پہلا قدم تھا، اسی طرح پاکستان کا قیام بھی اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

پاکستان بننے کے بعد 13 جنوری 1848ء کو مولانا عثمانی کی رہائش گاہ پر جمعیت علمائے اسلام کا اجتماع ہوا جس میں شیخ الاسلام کے منصب کی بحالی کا مطالبہ دہرایا گیا۔ مولانا تھانوی اور مولانا عثمانی جمہوریت کے مخالف تھے اور اسے غیر اسلامی سمجھتے تھے۔

اس تجزیے سے واضح ہے کہ مولانا تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی‘ دونوں قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کو ایک الگ قوم سمجھتے تھے؛ تاہم 'اسلامی ریاست‘ اور سیاسی تصورات کے باب میں دونوں کا نقطہ ہائے نظر مختلف تھے۔ اس بات کا مجھے کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان علما کے کردار کی تحسین کے باوجود، قائد اعظم نے ان سے کوئی فکری اثر لیا ہو۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

مولانا وحید الدین خانؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا وحید الدین خانؒ کی وفات اہلِ دین کیلئے باعث صدمہ ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ایک صاحبِ طرز داعی تھے جن کی ساری زندگی اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور اپنی فکر کے مطابق دعوت کے ناگزیر تقاضوں کو اجاگر کرنے میں گزری۔ وہ دعوتِ اسلام کے روایتی اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف رکھتے تھے اور اس حوالہ سے کچھ تفردات کے حامل بھی تھے مگر مجموعی طور پر ان کی محنت
  1. دعوتِ دین کے عصری تقاضوں کی نشاندہی
  2. نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے ازالہ
  3. اور افہام و تفہیم کی عصری ضروریات
کو سامنے لانے کے لیے ہوتی تھی، اور یہی ان کی وسیع تر پذیرائی کا باعث تھی۔ برطانیہ کے ایک سفر کے دوران مجھے ان سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا تو ان کے خلوص و سادگی نے بہت متاثر کیا۔ ان کی گفتگو اور تحریر دونوں عام فہم اور مخاطبین کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سامنے رکھ کر ہوتی تھیں جو میرے نزدیک آج کے دور میں دعوتِ دین کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور عفو و فضل کے ساتھ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

الشریعہ اکادمی کی تعلیمی سرگرمیاں

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر انتظام  مدرسہ الشریعہ ومسجد خدیجۃ الکبری ٰ ہاشمی کالونی، کنگنی والا میں اور   مدرسہ طیبہ ومسجد خورشید، کوروٹانہ میں  سرگرم عمل ہیں۔   الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہدالراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمدعمار خان ناصر ہیں، جبکہ مولانا محمدعثمان جتوئی، مولانا عبدالرشید، مولانا طبیب الرحمٰن، مولانا محفوظ الرحمٰن، مولانا عبدالوہاب، ، مولانا سفیراللہ ، مولانا کامران حیدر ،مولانااسامہ قاسم، قاری عمرفاروق اور ڈاکٹر محموداحمد پر مشتمل اساتدہ و منتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔اور معاونین میں حاجی عثمان عمر ہاشمی ،جناب محمدمعظم میر ، جناب محمد مبشر چیمہ،جناب محمدطیب،  جناب یحییٰ میر  ،جناب عاصم   بٹ،جناب ڈاکٹر عمران   رفیق، جناب دلشاد  ،جناب زبیر   اور جناب حاجی بشیر  نمایاں ہیں ۔

اکادمی کے شعبہ جات:

درس قرآن وحدیث

مسجد خدیجۃ الکبرٰی میں   مولانا زاہدالراشدی  روزانہ نماز فجر کے بعد درس قرآن وحدیث ارشادفرماتے ہیں جس سے اہل محلہ واہل علاقہ مستفید ہوتے ہیں۔

ناظرہ قرآن کریم

اکادمی میں روزانہ صبح وشام ناظرہ قرآن کریم کی کلاس ہوتی ہے جس  میں اب تک تقریباً چالیس طلبہ مکمل قرآن کریم کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

شعبہ حفظ

الحمدللہ الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام حفظ قرآن کریم کی کلاس  باقاعدہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے   جس  میں اب تک تقریباً بیس طلبہ مکمل حفظ قرآن کریم کی سعادت  حاصل کر چکے ہیں۔

شعبہ درس  نظامی مع عصری تعلیم

شعبہ درس نظامی کے تحت درج ذیل درجات میں تعلیم جاری ہے:

اعدادیہ ، پری نہم (ایک سال)

درجہ اولیٰ بمع میٹرک  (آرٹس)  (دو سال)

درجہ ثانیہ وثالثہ بمع ایف اے  (دو سال)

الحمد للہ اس شعبے کے تحت 20 سے زائد طلباء درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ ہائی فرسٹ ڈویژن میں میٹرک اور ایف اےکی تعلیم حاصل کرچکے ہیں اورمیٹرک میں  طالب علم دانیال عارف نے 990، احمد فداء نے 930، فرمان اللہ نے 925،  اسامہ وارث نے  893، طلحہ معاذ نے  887 ، عبدالوہاب نے 877، کامران حیدرنے  871 اور امان اللہ نے 854نمبر لے کر،جبکہ ایف اے میں احمد فداء نے 924، دانیال عارف نے 899نمبر لے کر اسکالر شپ کا اعزاز حاصل کیا۔

درجہ ثانیہ کا کورس اور میٹرک کا نصاب تین سالوں میں پڑھایا جا تا ہےاور میٹرک کا امتحان گوجرانوالہ بورڈ سے دلوایا جاتا ہے، جس میں طلبہ کی کارکردگی الحمدللہ ہر آنے والے سال میں گزشتہ سالوں سے بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اکادمی میں ابتدائی طلبہ کے لیے ایک بنیادی درجہ ہےجس میں طلبہ کو مڈل تک کا نصاب پڑھا کر میٹرک کرنے کی استعداد  پیدا کی جاتی ہے ۔

مدرسۃ للبنات

اکادمی سے متصل مدرسۃ للبنات میں مقامی بچیوں کے لیے ناظرہ قرآن کریم کی کلاس جاری ہے، اور خواتین کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے ”ترجمہ قرآن وضروریات دین“کی کلاس بھی جاری ہے نیز ہفتہ وار درس کا بھی اہتمام کیاجاتاہے اس شعبہ میں مستقل طور پر تین  معلمات تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

تین سالہ آن لائن کورس

اکادمی کے زیر اہتمام زندگی کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ خواتین وحضرات کیلئے ہفتہ وار قرآن وحدیث کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دیگر عربی فنون پر مشتمل تین سالہ تعلیمی پروگرام جاری ہے، جس کے تحت تین کلاسیں چل رہی ہیں۔جس میں ملک کی معروف علمی شخصیات کے لیکچرز بھی کرائے جاتے ہیں۔

ایم فل/پی ایچ ڈی کی سطح پر  تحقیقی رہنمائی

الشریعہ اکادمی کے  مقاصد میں علماء وطلبہ کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا بھی ہے،جس سے ان کو ان کے علمی میدان میں رہنمائی مل سکے۔ اس مقصد کے لیے جہاں اکادمی میں وقیع لائبریری کاقیام عمل میں لایا گیا، وہیں علماء وطلبہ کو علمی رہنمائی کے لیے افراد بھی مہیا کئے گئے جن سے وہ اپنے موضوعاتِ تحقیق پر منہج وتحقیق ومواد سے متعلقہ معلومات حاصل کرسکیں۔ اکادمی کی طرف سے یہ سہولت  فراہم کی گئی ہے کہ وہ یونیورسٹی میں ایم فل/ پی ایچ ڈی میں داخلہ لیں اور ان کی رہائش واخرجات کا ایک معتد بہ حصہ اکادمی کی طرف سے ادا کیا جائے۔ اگرچہ یہ سلسلہ ابھی   محدود سطح پر ہے لیکن متعدد احباب اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مکمل کر چکے ہیں اور کچھ کے مقالات جاری ہیں۔

کوئز مقابلہ جات

اکادمی کے زیر انتظام دینی مدارس کے طلبا کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کسی نہ کسی موضوع پر  مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ تحریری مقابلوں کے علاوہ  گزشتہ تین سال سے  کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو نقد رقم اور دینی کتب انعام میں دی جاتی ہیں۔ ہر سال اس  مقابلے کاموضوع طلباء کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوےمنتخب کیا جاتاہے۔ اب تک درج ذیل موضوعات پر کوئز مقابلہ جات کااہتمام کیا جاچکاہے۔

ان مقابلہ جات میں شرکاء کو ساٹھ ہزار سے زائد رقم ،سینکڑوں کتب اور شیلڈزانعامات دیے جا چکے ہیں۔

فہم دین کورس

سکول وکالج کے طلبہ واہل علاقہ کی دینی رہنمائی کےلیے وقتاً فوقتاً عربی گرامر ،ترجمہ قرآن کریم اور بنیادی تعلیم کاانتظام کیاجاتا ہے۔

لائبریری

الشریعہ اکادمی  کے زیرانتظام دینی،علمی اور تاریخی موضوعات پر مشتمل ایک وقیع لائبریری   قائم کی گئی ہے جس میں اسلامی علوم، تاریخ، فلسفہ،  ادب اور دیگر موضوعات پراردو،عربی،انگریزی زبانوں میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں ،جن سے دینی و عصری اداروں کے طلباء و اساتذہ اور علم وتحقیق سے دلچسپی رکھنے والے حضرات استفادہ کرتے ہیں ۔ لائبریری میں نئی کتب کا اضافہ تسلسل کے ساتھ کیا جارہاہے۔اس کے علاوہ مدرسہ طیبہ میں بھی طلبہ واہل علاقہ کے ادبی ذوق اور مطالعہ کے پیش نظر   لائبریری کا آغاز کیا گیا ہے۔

شعبہ نشرو اشاعت

شعبہ نشرو اشاعت کے تحت ماہنامہ الشریعہ کی اشاعت 1989ء سے  باقاعدگی سے جاری ہے جو علمی حلقوں کے مطابق ملک کے علمی و تحقیقی جرائد میں معروف و ممتاز حیثیت رکھتا ہے ۔نیز اس شعبہ کے تحت مولانا زاہد الراشدی، مولانا عمار خان ناصر اور دیگر اہل قلم کی اب تک دو درجن کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

فلٹرڈ پانی کی فراہمی

الشریعہ اکادمی کے دونوں کیمپسز میں طلباء اور عوام الناس کیلئے صاف اور فلٹر شدہ پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔

علمی وفکری نشستیں، سیمینار

اکادمی میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کی نشستوں ،سیمینارز اور تربیتی ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں معروف اربابِ علم و فکر اظہار خیال فرماتے ہیں ۔

نقشبندی محفل

مدرسہ طیبہ کوروٹانہ میں  تعلیمی سال کے دوران بروز سوموار بعد از نماز عصر امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر ? کے سلسلہ کے مطابق ” نقشبندی محفل“ کے زیر عنوان اصلاحی نشست ہوتی ہے جس میں حضرت مولانا زاہد الراشدی   درس قرآن وحدیث ارشاد فرماتے ہیں اور مسنون اذکار کا وِرد کیا جاتا ہے۔

نقشبندی اجتماع

گزشتہ دو سال سے الشریعہ اکادمی کی شاخ مدرسہ طیبہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں دیگر علماء،صلحاءاور نعت خوان حضرات کے علاوہ خصوصی طور پرحضرت مولانا  خواجہ خلیل احمد   سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ (کندیاں شریف)تشریف لاتے ہیں۔

دورہ تفسیر قرآن کریم اور محاضراتِ علومِ قرآنی

2011ء سے  الشریعہ اکادمی میں ہر سال شعبان کی تعطیلات میں دورہ تفسیر قرآن اور محاضرات علوم قرآن کا انعقاد کیا جاتا ہے   جو اَب تک الحمد للہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

محاضراتِ علوم قرآن کے تحت   درج ذیل عنوانات پر لیکچرز ہوتے ہیں:

”اصولِ تفسیر، اصولِ ترجمہ، مشکلات القران، جغرافیہ قرآنی، قرآنی شخصیات ومقامات کا تعارف، علوم القرآن اور تفاسیر کی متداول کتب کا تعارف اور امام شاہ ولی اللہؒ سے مولانا عبید اللہ سندھیؒ تک اکابرین وعلماء کی تفسیری خدمات کا تعارف“ وغیرہ ۔

 اس کے شرکاء میں مدارس، سکول وکالج کے اساتذہ اور منتہی درجات کے طلباء شامل ہیں۔ اور اب تک 400 سے زائد حضرات اس میں شرکت کرچکے ہیں۔

الشریعہ اکادمی، مدرسہ طیبہ کی ضروریات: