مارچ ۲۰۲۱ء

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحثمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مولانا انور شاه کاشمیری ؒ كے درس حدیث کی خصوصیاتڈاکٹر حافظ محمد رشید 
حضرت صدیق اکبرؓ کے اسوہ کے چند پہلومولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہڈاکٹر اختر حسین عزمی 
ہندو مذہبی صحائف میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاںمولانا مشفق سلطان 
’’سائنسی دور اور مذہبی بیانیے‘‘محمد عمار خان ناصر 

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث

محمد عمار خان ناصر

عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کی بحث  جدید مسلم معاشروں کی  اہم ترین تہذیبی بحث ہے جو مختلف سطحوں پر مختلف شکلوں میں    سامنے آتی رہتی ہے۔  تاہم اس پوری بحث کو   ایک تاریخی   تناظر میں دیکھنے اور اس کی اہمیت ومضمرات پر غور کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔   یہ ایک مشکل کام ہے  اور     اس کے ایک جامع تناظر  کا سامنے آنا اہل دانش کے مابین تسلسل  کے ساتھ ہونے والی علمی گفتگو کے نتیجے میں  ہی ممکن ہے ۔ تاہم اس حوالے سے  چند ابتدائی معروضات  ان سطور میں پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔

(۱)

عقل اور  مذہب کے باہمی تعلق یا  موافقت ومخالفت  کی بحث میں  سب سے پہلا نکتہ جس کی تنقیح ضروری ہے، وہ  یہ ہے کہ عقل سے  مراد کیا ہے  اور کس مفہوم میں    مذہب کے ساتھ  اس کے موافقانہ یا مخاصمانہ تعلق کا سوال پیدا ہوتا یا زیر بحث  آتا ہے۔     اسی سے یہ بات سمجھنا بھی آسان ہوگا کہ  مذہب اور مذہبی عقائد کے عقلی یا غیر عقلی ہونے  کا کیا مطلب ہے یا مختلف  لوگ اس سے کیا مراد لیتے ہیں۔

عام بول چال میں ہم عقل کا لفظ حیاتیاتی مفہوم میں  ذہنی صحت کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے مطابق ہر  انسان جو  خود اپنے اور اپنے ارد گرد موجود  لوگوں اور چیزوں  کے ساتھ تفہیم اور  برتاو کا ایسا تعلق قائم کر سکے جو  عام طور پر انسان کرتے ہیں،  عاقل کہلاتا ہے اور  اس بنیاد پر سماجی واخلاقی ذمہ داریوں کا مکلف مانا جاتا ہے۔  جو انسان اس قابل نہیں ہوتا، اسے  پاگل یا فاتر العقل قرار دیا جاتا ہے۔  عقل کی یہ  تعریف  انفرادی سطح  سے تعلق رکھتی ہے،  کسی فرد کی عملی ذمہ داری کے تناظر میں ہوتی ہے اور  قانون واخلاق سے متعلق سوالات میں  کام آتی ہے۔ ظاہر ہے، اس مفہوم میں مذہب یا عقل کے  باہمی تعلق کا سوال    پیدا نہیں ہوتا۔

عقل کا ایک دوسرا مفہوم فلسفیانہ مباحث  کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں عقل سے مراد  فکر واستدلال کے قوانین کے تحت حکم لگانے کی صلاحیت  ہوتی ہے جس کی مدد سے انسانی شعور اپنی فعلیت یعنی  اپنے کام کرنے کے   انداز کا      جائزہ لے کر  فکر واستدلال کے قوانین  بھی متعین کر سکتا ہے  اور ان قوانین کی مدد سے اپنے  معروضات مثلا بدیہیات فکر، جذبات واحساسات،  اخلاقی داعیات، اور  حسی ذرائع سے  ملنے والے مشاہدات وتجربات پر کوئی حکم بھی لگا سکتا ہے اور اسی طرح معلوم چیزوں کی مدد سے غیر معلوم    چیزوں کے متعلق قیاسات  کر سکتا ہے۔  مذہب اور عقل کے باہمی تعلق  کی تفہیم کا سوال   بنیادی طور  پر  اس سطح پر بھی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اس صلاحیت یا  طرز فکر میں  تمام انسان اور سارے انسانی معاشرے مشترک ہیں اور  انسانی تاریخ میں مذہبی اعتقاد  کی معنویت بھی  انسانی شعور کے  داعیات اور  انسانی تجربے  کے تناظر میں ہی واضح کی جاتی رہی ہے۔

البتہ عقل کا ایک تیسرا مفہوم  ہے جو   انسانی تاریخ میں تہذیبی فکر  کے متخالف ارتقاء سے  جدید دور میں   سامنے آیا ہے  اور   یہاں عقل    کا مفہوم متفق علیہ اور مشترک نہیں رہتا۔  اس اختلاف کا تعلق وجود کے تصور  اور وجود کے بارے میں   کوئی حکم لگانے یا کسی حکم کو قبول کرنے کے  جائز معیارات سے ہے۔ اسلامی علمیات میں  وجود، عالم شہود اور عالم غیب دونوں کو   محیط ہے اور دونوں کا علم یا کم سے کم ان کے متعلق ایک تصور قائم کرنا،  مختلف نوعیت کے ذرائع علم سے  ممکن ہے۔   اس تصور  وجود کے لحاظ سے  اگر کوئی  حکم یا قضیہ انسانی شعور   کے مطالبات ومقتضیات سے ہم آہنگ ہے، یعنی شعور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور فکر واستدلال کے قوانین اس کی نفی نہیں کرتے، بلکہ اس کی تائید کرتے ہیں  تو اسے قبول کرنا  عقلی ہے، چاہے اس کا تعلق  عالم غیب سے ہو۔  اس کے مقابلے میں جدید مغربی فکر میں تدریجا جس تصور وجود کو قبول  کر لیا گیا ہے، اس میں عالم غیب  ایک موہوم یا انسانی تفکر کے لیے ایک غیر متعلق چیز ہے اور اس کے حوالے سے  وجود کے کسی بھی پہلو کی تفہیم، ظاہر ہے غیر عقلی قرار پاتی ہے  ۔  اس مفہوم کے لحاظ سے   مذہب اور عقل کے  مابین ایک حقیقی اختلاف  پایا جاتا ہے اور  دراصل یہی  دائرہ گفتگو یا مناقشے کا اصل دائرہ ہے۔ مذہبی عقائد وتعلیمات، مذہبی رسوم اور مذہبی  اخلاقیات وقوانین سےمتعلق تمام اختلافات  اسی بنیادی اختلاف کی فرع ہیں۔

عقل کے  حوالے سے اصطلاح کا ایک اختلاف  خود اسلامی علمیات کے  تناظر میں عقیدہ وایمان پر گفتگو کرنے والوں کے مابین بھی دکھائی دیتا ہے۔  اسلامی روایت  میں  مذہبی عقائد یعنی وجود باری، توحید، رسالت اور  بعث بعد الموت کو  عقلی مانا جاتا ہے اور عقلی دلائل سے ان کے ’’اثبات “ کی سعی کی جاتی ہے، تاہم اس ساری سعی وکاوش کا   مقصد  یہ بتانا نہیں ہوتا کہ  اہل ایمان نے ان دلائل کی وجہ سے  یا ان کا قائل ہونے کے بعد  ان عقائد کو قبول کیا ہے یا یہ کہ اگر  نبی کے ذریعے سے  انسانوں کو یہ خبر نہ دی جاتی تو بھی وہ محض عقلی استدلال کے زور پر  ان  تک پہنچ سکتے تھے۔    اس صورت حال  کو بعض اہل فکر یوں  تعبیر کرتے ہیں کہ ایمان یا عقیدہ ایک غیر عقلی چیز ہے، جس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے انسانی عقل نے ازخود اور اپنے بل بوتے پر  دریافت نہیں کیا اور نہ کر سکتی ہے۔     اسی طرز فکر کے تسلسل میں  بعض اہل فکر ’’علم “ کا اطلاق ان    چیزوں پر کرتے ہیں جو  معروف عقلی ذرائع سے انسان کی رسائی میں آئی ہوں،  جبکہ ایمانیات  مثلا   خدا اور فرشتوں وغیرہ کے تصور کو  علم کے بجائے صرف ’’خبر “ قرار  دیتے ہیں۔

یہ  اگرچہ کافی حد تک اصطلاح کا  فرق ہے، تاہم  علم کلام کی کلاسیکی روایت کے تناظر میں  غور وفکر کرنے والے حضرات کے لیے خلجان کا باعث بنتا ہے، کیونکہ  اسلامی علمیات میں علم ایک جامع  اصطلاح ہے جس میں غیبیات بھی  شامل ہیں، چاہے ان تک رسائی کا ذریعہ  صرف نبی کی دی ہوئی خبر ہو۔ اسی طرح نبی پر اعتماد  کی نوعیت بھی  اندھے اعتقاد یا توہم کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی  بھی انسانی فطرت، انسانی عقل وشعور اور انسانی تجربے میں اپنی بنیادیں ہوتی ہیں جن کی طرف متوجہ کرنا، نبی پر ایمان کی دعوت دیتے ہوئے، خود  قرآن  مجید  کے طرز استدلال کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔   اس نکتے کی تنقیح پر مزید  بات ہو سکتی ہے کہ کیا ایمان کی دعوت دراصل  نبی کی ذات پر اعتماد   کرنے کی دعوت ہوتی ہے، جبکہ  عقل وفطرت کے شواہد کی حیثیت مویدات کی ہوتی ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے،  لیکن  سردست  اس  تفصیل میں پڑے بغیر اصطلاح  کے فرق کو سمجھ لینا ،  باہمی تفہیم کے لیے، امید ہے کہ کافی ہوگا۔

(۲)

عقل کا مفہوم کیا ہے اور کن معنوں میں  عقل اور مذہب کے باہم موافق  یا مخالف ہونے  کا سوال زیربحث لایا جا سکتا ہے،  یہ واضح ہونے کے بعد اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ  اس سوال کا  تاریخی تناظر کیا ہے اور خاص طور پر ہمارے یعنی مسلمان معاشروں  کے لیے اس گفتگو کی اہمیت اور معنویت کیا ہے۔  

ہمارے نقطہ نظر سے اس کی اہمیت دو پہلووں سے ہے:  ایک نظری وفکری اور دوسرا  عملی، انتظامی اور تدبیری۔ نظری پہلو کا تعلق تاریخ فکر  سے ہے،  یعنی   اس پورے سیاق   کو  گہرائی میں جا کر سمجھنا جس میں   مغربی فکر میں  وجود کے اس تحدید شدہ تصور کو  اختیار کیا گیا۔  اس کا عملی وتدبیری پہلو  یہ ہے کہ   مسلمان معاشروں میں  اس نئے تصور وجود نے جو فکری تقسیم پیدا کی ہے،  اس کو کیسے دیکھا جائے  اور   اس امکان کا جائزہ لیا جائے کہ آیا اس تقسیم کا   قومی سطح پر تشتت اور افتراق  ہی کے رخ پر آگے بڑھنا  ناگزیر ہے یا اسے کوئی  تعمیری   صورت بھی دی جا سکتی ہے۔

پہلے، نظری پہلو کو دیکھیے:

عقل جدید جس تصور وجود   پر مبنی ہے،   وہ دراصل  بہت سے  تاریخی اسباب کے انسانی فکر پر مرتب کردہ اثرات اور ان   اثرات کو ایک شعوری اور ارادی  ججمنٹ کی شکل دینے کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے اہم ترین سبب  وہ انتہائی کامیاب کوششیں ہیں جو  مغربی معاشروں میں حس وتجربہ سے تعلق رکھنے والے معاملات میں  توہم پرستی اور مذہبی خوش اعتقادی  کے خاتمے کے لیے کی گئیں۔   مذہبی خوش اعتقادی   کی  تہمیش  (marginalization)  میں   اصلاح مذہب کی تحریک نے جبکہ  واقعات ومظاہر  کے فطری اسباب کو  سمجھنے اور انھیں انسانی علم کے دائرے  میں لانے  میں سائنس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور یوں انسانی علم نے  فطرت کی تفہیم اور اس کے ساتھ تعامل    کو   عقلی وتجربی بنیادوں پر استوار کرنے میں   غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔  

تاہم  مغربی فکر میں تصور وجود کی تحدید   یہاں  تک نہیں رہی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر  مطلقا عالم غیب کے وجود   اور اس کے ساتھ  کسی بھی قسم کےربط وتعلق کے عدم امکان کو بھی    تصور وجود کا  جزو لاینفک بنا لیا گیا۔   بظاہر  سائنسی تحقیق، تجربیت اور  فطرت کی تفہیم کے لیے  اس کی ضرورت نہیں تھی اور ان دونوں کو ساتھ ساتھ قائم رکھا جا سکتا تھا، لیکن   جدیدیت کا غالب رجحان  اس کے خلاف ہے۔ یوں  تاریخ فکر کے لحاظ سے   گفتگو اور بحث ومناقشہ کا ایک اہم  موضوع یہ سوال بنتا ہے کہ  مغربی فکر میں تصور وجود کی اتنی  انتہائی تحدید    کے محرکات اور اسباب کیا ہیں اور یہ سفر کن  فکری مراحل سے  گزرتا ہوا اس نتیجے تک پہنچا ہے۔

اس حوالے سے اہم ترین نکتہ اس سوال کی تہہ میں  جانا ہے کہ اونٹ کی مینگنی سے  اونٹ کے وجود کا اور  اس پر قیاس کرتے ہوئے کائنات کے وجود سے خدا کے وجود کا استدلال  جو دور جدید سے پہلے سادہ اور فطری انسانی شعور  کے لیے فیصلہ کن  تھا، جدید  شعور کے لیے وہ کیوں    موثر نہیں ہے؟  عالم غیب سے متعلق جدید موقف کی توجیہ سادہ طور پر  مذہبی جبر کے رد عمل کے طور پر کرنا تاریخی طور پر زیادہ درست نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ  مسئلہ ہے جس کو  اس کی ساری جہتوں کے ساتھ اور انسانی شعور کی پیچیدگیوں  کو  پوری طرح مد نظر رکھتے ہوئے ہی   اس کی درست تفہیم ہو سکتی ہے۔ ان پیچیدگیوں کا  کسی حد تک اندازہ   اس کلامی موقف سے کیا جا سکتا ہے جو   ایمان کو  عقل  اور عقلی فعلیت کے دائرے سے باہر  قرار دینے پر اصرار کرتا ہے۔

اس بحث کی، عمل اور تدبیر کے حوالے سے اہمیت کو سمجھنے کے لیے   اس فرق کو  پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو  مغربی معاشروں کے تاریخی سیاق  اور مسلمان معاشروں کے تاریخی تناظر میں پایا جاتا ہے۔

مغربی فکر میں جدید تصور  وجود اور اس پر مبنی تصور عقل کو  ایک خاص تاریخی  سیاق میں    صدیوں تک جاری رہنے والی ایک عقلی سرگرمی کے نتیجے میں قبول کیا گیا ہے۔ اس سرگرمی کا محوری نکتہ ایک  نئے تصور انسان کی تشکیل رہا ہے۔ جدید تصور وجود کی تشکیل بنیادی طور پر  اس نئے تصور انسان  کی  تحدیدات اور ضروریات کے تحت ہوئی ہے اور  جوں جوں  تصور انسان کی تحدید  ہوئی ہے، اس کے بالکل متوازی طور پر  تصور وجود کی  بھی تحدید ہوتی چلی گئی ہے۔     عقل جدید   اس بات کو بہت اچھی طرح اور  گہرائی کے ساتھ سمجھتی ہے کہ  وجود کو عالم شہود تک محدود کر دینے کا  موقف انسانی شعور کے لیے ایک  بحرانی صورت حال پیدا کرنے کا موجب ہے، کیونکہ  انسانی شعور کی بنیادی ترین طلب  وجود فی نفسہ کے بامعنی ہونے کے  تناظر میں  انسانی زندگی کی معنویت کی تلاش  ہے جو عالم غیب  کو تصور وجود کا حصہ  بنائے اور غیب وشہود کو  باہم متعلق مانے بغیر ممکن نہیں۔    

اس انتہائی   مشکل سوال کا حل  مغربی فکر میں  یہ نکالا گیا ہے کہ مستند انسانی شعور کی  ایک نئی تعریف  وضع کر کے اب تک کی پوری انسانی تاریخ کے   شعور  پر جھوٹا اور مبنی بر توہم ہونے کا حکم لگا دیا جائے، یعنی   یہ پوزیشن لے لی جائے کہ  انسانی شعور میں  کائناتی سطح پر معنی   کی  طلب ہی   ایک جھوٹی اور مصنوعی  طلب ہے۔  انسان جانوروں میں سے ایک جانور ہے جس کے لیے  حیاتیاتی بقا   اور فطرت پر تصرف حاصل کرنے کے جبلی داعیے کی تکمیل کے علاوہ   اور کسی قسم کا کوئی معنی اپنے اندر حقیقت نہیں رکھتا۔ ہاں، کسی حادثے کے نتیجے میں انسان کو عقل مل  گئی ہے جس کی مدد سے وہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں  اپنی جبلی  ضرورتوں کی تکمیل زیادہ بہتر اور منظم طریقے سے کر سکتا ہے۔  اخلاقیات کی ضرورت صرف تنظیم   تعلقات کو مشترکہ طو رپر قابل قبول اساسات فراہم کرنے  کے پہلو سے ہے۔  اس سے زائد ، زندگی میں کسی  معنویت کی تلاش  حماقتوں میں سے ایک حماقت ہے جس میں   اب تک کا سارا انسانی شعور مبتلا رہا ہے۔ فرد کی حیثیت سے انسان اب بھی اس وہم سے کوئی رشتہ ناتا رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے، لیکن   انسانی معاشرت کی اجتماعی تنظیم میں مذہبی اقدار    کا کوئی راہ نما کردار  تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم،  یہاں ہمارے لیے قابل توجہ نکتہ  یہ ہے کہ مغربی معاشروں  کے تناظر میں   انسان کی اس حیوانی تفہیم کا موقف    اور  مذہبی اقدار  کو   انسانی زندگی کی تشکیل کے دائرے سے بے دخل کرنے کا فیصلہ  کوئی  ایسا اضطراب، خلفشار یا انتشار پیدا نہیں کرتا جس سے   ان کا تہذیبی   سفر  رک جائے۔  مغرب میں اجتماعی شعور  اپنی تاریخ سے، اس میں   فکری تبدیلیوں کے مختلف مدارج سے  اور ان   سے وجود میں آنے والے فکری امکانات اور پوزیشنز سے پوری طرح واقف ہے۔ اس کے مقابلے میں ، مسلمان معاشروں کا تعارف ، دور جدید کی تمام تہذیبی بحثوں کی طرح، عقل ومذہب کی اس بحث  سے  بھی ایک سوال کی صورت میں نہیں ہوا  جس پر ہمیں اپنے تہذیبی سیاق  میں  غور وفکر  کرنا ہے، بلکہ عقل کے ایک نوتشکیل شدہ تصور اور اس کی بنیاد پر مذہبی اعتقاد پر لگائے گئے ایک حکم کی  صورت میں ہوا ہے۔  دوسرے لفظوں میں، ہمارے اجتماعی شعور کے سامنے  یہ سوال بطور سوال نہیں آیا، بلکہ ایک طے شدہ جواب ساتھ لے کر اور اس مطالبے کے ساتھ آیا ہے کہ  اس جواب کو اور اس کے تمام مفروضات کو  یہ تسلیم کرتے ہوئے قبول کرو کہ  تمھارے اپنے تہذیبی شعور میں اس سوال کا جو جواب موجود ہے، وہ اب علم وعقل کی نظر کوئی وقعت نہیں رکھتا۔

یوں مسلمان معاشروں میں جب یہ موقف پیش کیا جاتا ہے تو    ہماری فکری تاریخ میں  وہ سیاق موجود نہ ہونے کی وجہ سے جس میں  مذہبی عقیدے کی وجودی حیثیت اور   انسانی معاشرے کے لیے مذہبی اقدار   کی معنویت سے متعلق عقل جدید  کی پوزیشن اپنے پورے پس منظر کے ساتھ  معلوم ہو، اس کا نتیجہ  ایک گہرے وجودی  اضطراب اور  اجتماعی شعور  کی سطح پر  شدید قسم کی مخاصمانہ تقسیم  کی صورت میں  سامنے آتا ہے۔   سیاسی مفہوم میں سیکولرزم  کی آئیڈیلائز   یشن   کے مرحلے میں یہ تقسیم    کسی حد تک   باہمی   گفتگو  کی گنجائش رہنے دیتی ہے، لیکن  اس سے اگلا مرحلہ اعتقادی سیکولرزم  کا ہوتا ہے جو فی نفسہ مذہب  اور انسانی تاریخ میں اس کے کردار کی demonization سے کم    تر کسی پوزیشن   پر اکتفا نہیں کر سکتا۔

اس صورت حال میں انسانی سطح پر سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ  ایک مشترک شناخت،   تاریخ اور تہذیبی پس منظر رکھنے کے باوجود  خط تقسیم کے دونوں جانب   موجود   فریق   اشتراک، اجتماعیت اور  باہمی ہمدردی کے جذبات اور مشترک انسانی  سعی وجہد کے  داعیات سے   عاری ہوتے چلے جاتے ہیں۔  روایتی تہذیبی شعور کے حاملین کے لیے   نئی تہذیبی  شناخت  اختیار کرنے والوں پر ’’مرعوبیت “ اور ’’غداری “ کا نفسیاتی و اخلاقی حکم لگائے بغیر انھیں دیکھنا ممکن نہیں رہتا، اور     عقل جدید کے متوسلین  خود کو اس پر مجبور پاتے ہیں کہ  جس تہذیبی شعور سے انھوں نے   علیحدگی اختیار کی ہے،  اس کو اور اس   کے تمام تاریخی وتہذیبی مظاہر   کو   تحقیر اور استہزا کی نظر سے  خود بھی دیکھیں اور دوسروں کو بھی دکھانے کی کوشش کریں تاکہ اپنے متعلق تہذیبی ’’غداری “ کے تاثر یا الزام کو   counterbalance کر سکیں۔ نتیجہ یہ کہ  تہذیبی سفر میں  کسی بھی سمت میں مثبت پیش رفت ، فریقین کے نقطہ نظر سے،  اس سے مشروط قرار پاتی ہے کہ میدان عمل، مخالف تہذیبی موقف  اور اس کے حاملین سے بالکل   پاک ہو جائے اور اس تطہیر کو باقاعدہ  ایک سیاسی انداز کی مہم کا ہدف بنایا جائے۔  یہ زاویہ نظر ایک شکاری ذہنیت   (predatory mindset) کو جنم دیتا ہے  جس میں  ہر فریق، مخالف کو    dehumanize کرنے   اور اس کے مواقع  پیدا کرتے رہنے  کو  اپنی حکمت عملی کا بنیادی پتھر تصور کرتا ہے۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل ومذہب کی بحث کو  اس کے درست تاریخی اور تہذیبی سیاق میں   موضوع بنانے کی ضرورت ہے تو ہماری مراد اس سے بنیادی طور پر یہی دو پہلو ہوتے ہیں۔  ہمیں  ایک طرف گہرائی کے ساتھ مغربی  معاشروں کی تاریخ فکر کو    اور ان  تاریخی اسباب کو  جاننے کی ضرورت ہے جس میں انسان،  عقل اور وجود کے  نئے تصورات تشکیل دیے گئے اور  انھیں  انسانی شعور کے لیے واحد ممکن انتخاب  بنانے کا تمام تر فکری لوازمہ مہیا کیا گیا۔  دوسری طرف  اس تاریخی جبر کا حقیقت پسندانہ اور  ہمدردانہ ادراک، ہماری  اجتماعی ضرورت ہے جس نے   ہمارے معاشروں میں شعور اور تہذیبی شناخت کی سطح پر ایک گہری تقسیم  پیدا کر دی ہے  اور جس  کو resolve کرنے کی کوئی تعمیری  صورت  نکالنا   ہر دو  جانب کے اہل دانش کی مشترکہ  تہذیبی ذمہ داری  بنتی ہے۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(234) السیئات کا ترجمہ

سیئات اصل میں صفت ہے اس کا موصوف اگر اعمال ہوں تو برائیاں مراد ہوتی ہیں، اور اگر احوال ہوں تو بدحالیاں مراد ہوتی ہیں، درج ذیل آیت میں حسنات سے خوش حالیاں اور سیئات سے بدحالیاں مراد ہیں:

وَقَطَّعنَاہُم فِی الاَرضِ اُمَماً مِّنہُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنہُم دُونَ ذَلِکَ وَبَلَونَاہُم بِالحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّہُم یَرجِعُون۔ (الاعراف: 168)

”اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

جب کہ آگے درج کی گئی آیت میں بہت سے لوگوں نے سیئات کا ترجمہ برائیاں یا گناہوں کے نتائج کیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق سیئات سے مراد قیامت کے اہوال اور مصائب ہیں جن سے اہل ایمان کو بچالیا جائے گا، قیامت اور اہل ایمان کے تذکرے کے لحاظ سے یہ مفہوم زیادہ مناسب لگتا ہے۔

وَقِہِمُ السَّیِّئَاتِ وَمَن تَقِ السَّیِّئَاتِ یَومَئِذٍ فَقَد رَحِمتَہُ وَذَلِکَ ہُوَ الفَوزُ العَظِیمُ۔ (غافر: 9)

”اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کے برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تونے رحم فرمایا اور یہی در حقیقت بڑی کامیابی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور بچا دے اُن کو برائیوں سے، جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اُس پر تو نے بڑا رحم کیا، یہی بڑی کامیابی ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ان کو آفتوں سے بچا اور جن کو تو نے اس دن آفتوں سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تونے رحم فرمایا اور یہی در حقیقت بڑی کامیابی ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(235) نعماء  کا ترجمہ

وَلَئِن اَذَقنَاہُ نَعمَاء بَعدَ ضَرَّاء مَسَّتہُ۔ (ہود :10)

”اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جواسے پہنچی“۔ (احمد رضا خان)

”اور اگر کسی تکلیف کے بعد، جو اس کو پہنچی، اس کو نعمت سے نوازتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

آسائش والا ترجمہ لفظ نعماء سے قریب تر ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں نعماء کا ترجمہ خوش حالی کرتے ہیں، جب کہ ضراء کا مفہوم تنگ حالی ہے۔ امام طبری کی درج ذیل تفسیر لفظ نعماء کی بخوبی وضاحت کرتی ہے۔

یقول تعالی ذکرہ: ولئن نحن بسطنا للانسان فی دنیاہ، ورزقناہ رخاءً فی عیشہ، ووسعنا علیہ فی رزقہ، وذلک ہی النّعم التی قال اللہ جل ثناؤہ: ولئن اذقناہ نعماء۔ وقولہ: بعد ضراءمستہ، یقول: بعد ضیق من العیش کان فیہ، وعسرۃ کان یعالجہاَ۔

(236) دعی اللہ کا ترجمہ

دُعِیَ اللہ کا مطلب ہے اللہ کو پکارا گیا، جب کہ دُعِیَ الی اللہ کا مطلب ہے اللہ کی طرف بلایا گیا، بعض مترجمین نے درج ذیل آیت میں دُعِیَ اللہ  کا ترجمہ اللہ کی طرف بلانا یا اللہ کی دعوت دینا کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ یہاں اللہ کو پکارنا صحیح ترجمہ ہے اور اس سے مراد اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحدَہُ کے مقابل میں  واِن یُشرَک بِہِ آیا ہے۔

ذَلِکُم بِاَنَّہُ اِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحدَہُ کَفَرتُم وَاِن یُشرَک بِہِ تُؤمِنُوا۔ (غافر:12)

”(جواب ملے گا) یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اِس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اُس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے“۔ (سید مودودی)

”یہ انجام تمہارے سامنے اس وجہ سے آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”یہ (عذاب) تمہیں اس لیے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کر جاتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی، اللہ کا ذکر مراد نہیں بلکہ اللہ کی عبادت مراد ہے۔)

”یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے“۔ (احمد رضا خان)

”یہ اس لیے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(237)  مَا اُرِیکُم اِلَّا مَا اَرَی کا ترجمہ

قَالَ فِرعَونُ مَا اُرِیکُم اِلَّا مَا اَرَی وَمَا اَہدِیکُم اِلَّا سَبِیلَ الرَّشَاد۔ (غافر:29)

”فرعون بولا کہ میں تم کو اپنی سوچی سمجھی رائے بتارہا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”فرعون نے کہا میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے“۔ (سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ’ واقعی رائے ‘تجویز کرتے ہیں۔ ”میں تم کو اپنی واقعی رائے بتارہا ہوں“۔

(238) یوم الآزفۃ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں الآزفۃ قیامت کی صفت ہے یوم کی صفت نہیں ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے اسے یوم کی صفت بناکر ترجمہ کیا ہے:

وَاَنذِرہُم یَومَ الآزِفَۃِ اِذِ القُلُوبُ لَدَی الحَنَاجِرِ کَاظِمِینَ مَا لِلظَّالِمِینَ مِن حَمِیمٍ وَلَا شَفِیعٍ یُطَاع۔ (غافر:18)

”اے نبی، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آ لگا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور پیغمبر انہیں آنے والے دن کے عذاب سے ڈرائیے“۔ (جوادی)

مذکورہ بالا ان ترجموں میں الآزفۃ کو یوم کی صفت بنایا گیاہے، جو درست نہیں ہے، جب کہ درج ذیل ترجموں میں یوم کی صفت کے طور پر ترجمہ نہیں کیا گیا ہے:

”اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کو قریب آلگنے والی آفت کے دن سے ڈرا“۔ (امین احسن اصلاحی، آلگی آفت سے ہونا چاہیے)

”اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاہ کر دیجئے“۔(محمد جوناگڑھی، اس ترجمے میں یوم کا ترجمہ نہیں ہوا ہے)

(239) وَمَا کَیدُ الکَافِرِینَ اِلَّا فِی ضَلَال کا ترجمہ

فَلَمَّا جَاءہُم بِالحَقِّ مِن عِندِنَا قَالُوا اقتُلُوا اَبنَاء الَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ وَاستَحیُوا نِسَاءہُم وَمَا کَیدُ الکَافِرِینَ اِلَّا فِی ضَلَال۔ (غافر: 25)

اس آیت میں ضلال کا ذکر کید کے لیے آیا ہے، اس لیے یہاں ضلال بھٹکنے یا غلطی پر ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ناکام ہونے کے معنی میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں یہ جملہ حالیہ ہے اور تمام کافروں کے سلسلے میں عام اصول بتارہا ہے، یہ ماضی میں کسی خاص گروہ کی چال کے ناکام ہونے کی خبر نہیں دے رہا ہے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

”پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا تو انہوں نے کہاجو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو۔ مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی“۔ (سید مودودی)

”اور ان کافروں کی چال بالکل رائیگاں گئی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا“۔ (احمد رضا خان)

”اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: ”اور کافروں کی چال بالکل رائیگاں جاتی ہے“۔

(240)  ذرونی کا مفہوم

وَقَالَ فِرعَونُ ذَرُونِی اَقتُل مُوسَی وَلیَدعُ رَبَّہُ اِنِّی اَخَافُ اَن یُبَدِّلَ دِینَکُم اَو اَن یُظہِرَ فِی الاَرضِ الفَسَاد۔ (غافر:26)

اس آیت میں لفظ ذرونی کا ترجمہ عام طور سے مجھے چھوڑو کیا گیا ہے۔ اور اس کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ گویا فرعون کو اس کی قوم کے لوگ اس اقدام سے روکے ہوئے تھے، اور وہ ان سے اجازت چاہتا تھا۔

”اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسی کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا،چھوڑو مجھے، میں اِس موسی کو قتل کیے دیتا ہوں“۔ (سید مودودی)

”اور فرعون بولا مجھے چھوڑو میں موسی کو قتل کروں“۔ (احمد رضا خاں)

”اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو میں موسی کو قتل کیے دیتا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی توجہ دلاتے ہیں کہ یہ عربی زبان کا اسلوب ہے، جیسے اردو میں کہتے ہیں لو میں یہ کردیتا ہوں یا لاؤ  میں یہ کردیتا ہوں۔ یہاں ترجمہ ہوگا:

”اور فرعون نے کہا لو میں موسی کو قتل کیے دیتا ہوں“۔

قرآن مجید میں یہ تعبیر اللہ کے سلسلے میں بھی آئی ہے، اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کو کوئی روکے ہوئے ہے اور اللہ کسی سے اجازت مانگتا ہے۔ درج ذیل مثال سامنے رکھی جاسکتی ہیں۔

فَذَرنِی وَمَن یُکَذِّبُ بِہَذَا الحَدِیثِ۔ (القلم:44)

”تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو“۔(فتح محمد جالندھری)

(241) مغنون عنا کا ترجمہ

وَاِذ یَتَحَاجُّونَ فِی النَّارِ فَیَقُولُ الضُّعَفَاء لِلَّذِینَ استَکبَرُوا اِنَّا کُنَّا لَکُم تَبَعاً فَہَل اَنتُم مُّغنُونَ عَنَّا نَصِیباً مِّنَ النَّارِ۔ (غافر:47)

”تو کیا آپ لوگ عذاب دوزخ کا کچھ حصہ بھی ہماری جگہ اپنے سر لینے والے بنیں گے؟“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج بالا آیت میں مُّغنُونَ عَنَّا نَصِیباً مِّنَ النَّارِ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے گویا ان سے عذاب کا کچھ حصہ اپنے سر لینے کی مانگ کررہے ہوں۔ یہ درست ترجمہ نہیں ہے۔ اس جملے کا مطلب عذاب کا کچھ حصہ اپنے سر لینا نہیں ہے بلکہ عذاب کے ایک حصے سے بچالینا اس کا مطلب ہے۔درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچا لو گے؟“۔ (سید مودودی)

صاحب تدبر نے درج ذیل آیت میں اسی طرح کی تعبیر کا درست ترجمہ کیا ہے۔

فَہَل اَنتُم مُّغنُونَ عَنَّا مِن عَذَابِ اللّہِ مِن شَیءٍ۔ (ابراہیم :21)

”تو کیا اللہ کے اس عذاب میں سے کچھ تم ہمارا بوجھ ہلکا کروگے؟“۔ (امین احسن اصلاحی)

(242) توفیۃ الاعمال کا ترجمہ

قرآن میں کچھ مقامات پر توفیۃ الاجور کی تعبیر آئی ہے، وہاں تو پورا پورا صلہ دینے کا مفہوم واضح ہے۔ البتہ قرآن میں کچھ مقامات پر توفیۃ الاعمال کی تعبیر آئی ہے، وہاں بھی مفہوم اعمال کا پورا بدلہ دینے کا ہے۔ دونوں تعبیروں میں فرق یہ ہے کہ توفیۃ الاجور میں ارتکاز اجر پر ہوتا ہے کہ اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گا، اور توفیۃ الاعمال میں ارتکاز عمل پر ہوتا ہے کہ کوئی عمل بدلہ دینے سے چھوٹ نہیں جائے گا۔

توفیۃ الاعمال کی تعبیر والے مقامات پر صاحب تدبر نے مختلف طرح سے ترجمے کیے ہیں، تاہم ان میں مناسب ترجمہ وہی ہے جو خود انھوں نے بعض جگہ کیا ہے یعنی اعمال کا پورا بدلہ دینا نہ کہ اعمال کو پورا کرنا۔

(۱) مَن کَانَ یُرِیدُ الحَیَاۃَ الدُّنیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ اِلَیہِم اَعمَالَہُم فِیہَا۔ (ہود 15)

”جو دنیا کی زندگی اور اس کے سر وسامان کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) وَاِنَّ کُلاًّ لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُم رَبُّکَ اَعمَالَہُم۔ (ھود:111)

”اور یقینا تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ پورا کرکے رہے گا“۔ (امین احسن اصلاحی، ”بدلہ پورا دے کرکے رہے گا“ ہونا چاہیے۔)

(۳) وَتُوَفَّی کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت۔ (النحل:111)

”اور ہر جان کو وہی پورا پورا بدلہ میں ملے گا جو اس نے کیا ہوگا“۔ (امین احسن اصلاحی، عمل کا بدلہ ملے گا نہ کہ وہی عمل بدلے بدلے میں ملے گا۔)

”اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا“۔ (سید مودودی)

(۴) وَوُفِّیَت کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت۔ (الزمر :70)

”اور ہر جان کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا پورا کیا جائے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا“۔ (سید مودودی)

(۵) وَلِکُلٍّ دَرَجَات مِّمَّا عَمِلُوا وَلِیُوَفِّیَہُم اَعمَالَہُم۔ (الاحقاف :19)

”اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے اعتبار سے درجے ہوں گے(تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو) اور تاکہ وہ ان کے اعمال ان کو پورے کردے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے“۔ (سید مودودی،’دونوں گروہوں میں سے‘ کا تفسیری اضافہ نامناسب ہے،’تاکہ‘سے پہلے’اور‘بھی آنا چاہیے۔)

مولانا انور شاه کاشمیری ؒ كے درس حدیث کی خصوصیات

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ  کی علمی زندگی کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تصنیف کے میدان کے آدمی نہیں تھے ،آپ کا اصل میدان تدریس تھا، اس لیے ان کے علمی ورثہ  کے طور پر جتنی بھی کتب ملتی ہیں ان میں سے اکثر امالی و تدریسی تقریرات کی شکل میں ہیں ، جن کو ان کے بعد ان کے جلیل القدر شاگردوں نے  ترتیب و تدوین سے آراستہ کیا ۔ ایک موقع پر ان کے ایک شاگرد مفتی محمود صاحب نانوتوی ؒ نے فرمایا:

"ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ سے زیادہ کامیاب کوئی مصنف اور حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ سے بڑھ کر کوئی مدرس پیدا نہیں ہوا۔"1

گویا شاہ صاحب ؒ میدان تدریس کے شاہ سوار تھے ۔ انہوں نے اپنا میدان مطالعہ چونکہ قدیم کتب کو بنائے رکھا اس لیے اگر کوئی کتاب تصنیف بھی کی تو اس میں وہی پرانا اسلوب واضح نظر آتا ۔  ایک موقع پر انہوں نے اپنی کوئی تالیف اپنے استاد حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ کو سنائی تو انہوں  نے اس پر تبصرہ فرماتے ہوئے کہا:

"شاہ صاحب اس کی شرح بھی لکھ دیجئے تاکہ اساتذہ بھی اس سے استفادہ پر قادر ہو سکیں" 2

اسی لیے ان کےہمہ جہت  کام کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ان کے درس حدیث کی خصوصیات کا تذکرہ انتہائی ضروری ہے ۔ ذیل میں ہم ان کے درس کی نمایاں خصوصیات کا تذکرہ کریں گے ۔

تفصیل واطناب

اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب ؒ کو مضبوط قوت حافظہ سے نوازا تھا ، اس کے ساتھ ان کا مطالعہ بھی کافی وسیع اور متنوع  تھا ۔ حدیث کی تشریح میں وہ علوم و فنون میں اپنی پوری مہارت  کو استعمال کرتے ۔  اسی وجہ سے درس صرف درس حدیث ہی نا ہوتا بلکہ متنوع علوم کا مجموعہ ہوتا جن کو حدیث کی مراد متعین کرنے کے لیے آپ انتہائی سلیقہ سے استعمال کرتے ۔ یہی نہیں بلکہ ان علوم کے مباحث خلافیہ میں بھی مجتہدانہ رائے رکھتے ۔ مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ اس ضمن میں لکھتے ہیں :

"میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ جیسے حدیث کے متعلق شاہ صاحب ؒ کے درس میں گر کی باتیں معلوم ہوتی رہتی تھیں ، ایسی باتیں جن سے تاثرات میں غیر معمولی انقلاب پیدا ہو جاتا تھا ، یہی حال دوسرے علوم و فنون کے متعلق تھا ۔ درس تو ہوتا تھا حدیث کا لیکن شاہ صاحب کی ہمہ گیر طبیعت  نے معلومات کا جوگرانمایہ قیمتی سرمایہ ان کے اندر جمع کر دیا تھا ، وہ ان کے اندر سے بے ساختہ چھلکتا رہتا تھا۔"3

مولانا انظر شاہ مسعودی ؒ ان کے درس حدیث کا شاہ ولی اللہ ؒ کے درس حدیث سے موازنہ  کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"شاہ ولی اللہ ؒ کا طریق درس حدیث کی ضروری وضاحت سے زیادہ نہیں تھا ۔ مولانا گنگوہی ؒ اور مولانا نانوتوی ؒ نے اس میں فقہ حنفی کے مآخذ کی نشاندہی کا اضافہ کیا ، لیکن مولانا کشمیری قدس سرہ العزیز نے عام درس گاہی طریق درس میں یکسر انقلاب برپا کیا ۔ آپ نے حدیث کی شرح و تفصیل میں صرف و نحو ، فقہ و اصول فقہ ، معانی و بلاغت ، اسرار و حکم ، سلوک و تصوف ، فلسفہ و منطق ، سائنس و عصری علوم کا ایک گرانقدر اضافہ ، رجال کی بحثیں ، مصنفین و مولفین کی تاریخ و سوانح ، تالیفات و تصنیفات پر نقد و تبصرہ آپ کے درس کا ایک امتیاز تھا ۔ اس کے نتیجہ میں درسی تقریریں بجائے مختصر ہونے کے طویل ہو گئیں ۔" 4

اس کے ساتھ آپ کا مقصد  ذہین طلبہ کو مطالعہ کے ذوق و سلیقہ سے روشناس کروانا بھی ہوتا تھا ۔ آپ درس کے دوران کتب کا ایک انبار اپنے ساتھ رکھتے اور مختلف مباحث میں طلبہ کو اصل کتاب کے حوالے کتاب سے دکھاتے تاکہ طلبہ علی وجہ البصیرہ اس سے واقفیت کے ساتھ اس کتاب سے اس کا مطالعہ بھی کر سکیں ۔ مولانا گیلانی ؒ اس ضمن میں رقم طراز ہیں :

"وہ اپنے عہد کے طلبہ کی علمی بے بضاعتیوں  کا اندازہ کر کے تکلیف اٹھا کر علاوہ موضوع درس کے چند خاص امور کا تذکرہ التزاما اپنے درس میں ضرور فرمایا کرتے تھے ، مثلا جن مصنفین کی کتابوں کا حوالہ دیتے ان کی ولادت و وفات کے سنین کے ساتھ ساتھ مختصر حالات اور ان کی علمی خصوصیت ، علم میں ان کا خاص مقام کیا ہے ؟ ان امور پر ضرور تنبیہ کرتے چلے جاتے ۔ یہ ان کا ایسا اچھا طریقہ تھا ، جس کی بدولت شوقین اور محنتی طلبہ ان کے حلقہ درس میں شریک ہو کر علم کے ذیلی سازو  سامان سے مسلح ہو جاتے تھے یا کم از کم مسلح ہونے کا ڈھنگ ان کو آ جاتا تھا ۔" 5

درس کی ان خاصیت کے پیش نظر شاہ صاحب ؒ کے بہت سے شاگردوں کو بطور دلیل کے پیش کیا جا سکتا ہے کہ جنہوں نے ان کے درس سے استفادہ کیا اور ایک ہی وقت میں متنوع  تحقیقات و معلومات کے حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے علمی حوصلوں میں وسعت ، گہرائی و گیرائی پیدا ہوئی اور مستقبل میں انہوں نے علمی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ۔ شاہ صاحب کے اسلوب درس کی اس افادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  قاری محمد طیب صاحب ؒ اپنے ایک مضمون میں فرماتے ہیں :

"حضرت ممدوح کی اس تبحر پسندی اور ذوق زیادۃ علم کا نتیجہ یہ تھا کہ طلبہ میں بھی وہی ذوق تبحر پیدا ہونے لگا ۔ ہر طالب علم کوشش کرتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ تحقیق کے ساتھ مسئلہ کی تہہ تک پہنچے ۔ اس دور میں ہر چھوٹے بڑے کا یہ ذہن بن گیاتھا اور اس کے آثار زمانہ طالب علمی ہی میں نمایاں ہونے لگے تھے۔

چنانچہ اس زمانہ کے متعدد طلباء دورہ حدیث نے اچھے اچھے قابل قدر رسالے اور مضامین سے اپنے علمی تبحر کا ثبوت دیا ۔ میں نے ادب و تاریخ کے سلسلہ میں رسالہ " مشاہیر امت" لکھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم (سابق مفتی اعظم پاکستان ) نے " ختم النبوۃ فی القرآن " اور " ختم النبوۃ فی الحدیث" کا رسالہ دو جلدوں میں مرتب کیا۔ مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی  نے " کلمۃ السر فی حیوۃ روح السر" لکھا ۔ مولانا بدر عالم میرٹھی نے بھی کئی رسالے لکھے اور تقریبا دو تین سال کے عرصہ میں احاطہ دار العلوم سے اٹھارہ ، انیس رسالے شائع ہوئے ۔

یہ درحقیقت وہی ذوق تھا جو حضرت ممدوح کے درس حدیث سے طلبہ لے کر اٹھتے تھے اور علمی طور پر اپنے اندر زمانہ طالب علمی ہی میں ایک ایسی قوت محسوس کرنے لگتے تھے کہ گویا وہ تمام علوم و فنون پر حاوی ہیں اور علم ان کے اندر سے خود بخود ابھر رہا ہے ۔ وہ کتب بینی محض عنوان بیان تلاش کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔"6

اس انداز تدریس سے ذی فہم و ذی استعداد طلبہ ہی کما حقہ مستفید ہو سکتے تھے ، دوسرے اور تیسرے درجے کے طلبہ اگرچہ اس طرح فائدہ حاصل نا کر پاتے لیکن  متعلقہ علوم و معارف کو سن لینا اور ایسے مباحث پر یک گونہ اطلاع حاصل کر لینا بھی کسی نعمت سے کم نا تھا ۔ اس انداز تدریس کو نبھانا بھی ہر استاد و معلم کے بس کی بات نہیں ہوتی ، جس قوت حافظہ ، استحضار علوم اور قوت بیان کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی ۔  مولانا  محمد انظر شاہ صاحب ؒ اسی کیفیت کومولانا حسین احمد مدنی ؒ کے ایک قول کے حوالے سے  یوں  بیان کرتے ہیں :

"دار العلوم کے وہ طلبہ جو دوسرے مدارس کی تعلیم سے متاثر ہو کر طویل درسی تقریریوں کی افادیت میں کچھ شبہ محسوس کرتے  رہے فراغت کے بعد جب انہیں دینی خدمات کا  موقع ملا اور نت نئے دینی فتنوں کے مقابلہ کے لیے اپنی علمی توانائیوں سے کام لینا ضروری ہوا تو اس کا اعتراف کیا کہ درس میں مختلف عنوانات کے تحت اساتذہ کے افادات ہمارے لیے کارآمد ہوئے ، بھلا آپ خود ہی سوچئے کہ ایک طریق تعلیم کے نتیجہ میں صرف متعلقہ کتاب کا حل دوسری جانب فن کی تعلیم اور تیسری طرف مختلف فنون کا افادہ ، ان تینوں طریقوں میں جامع شخصیتیں تیار کرنے کے لیے کون سی صورت مفید و کارگر ہے !   ظاہر ہے کہ جماعت میں موجود طلبہ کی ایک بڑی تعداد میں بعض وہ فہیم طلبہ بھی ہوں گے جو ان مختلف فنون پر پھیلی ہوئی تقریروں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے رہیں ، رہ گئے دوسرے اور تیسرے درجہ کے طالب علم ، یقین ہے کہ وہ بھی اس اجتہادی طرقی تعلیم سے کلیۃ محروم نہیں رہے ، سنی سنائی اور کانوں میں پڑی ہوئی باتیں کسی نہ کسی وقت ان کے لیے بہرحال کار آمد ہوتی ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ تعلیم کے اس اچھوتے طرز کو نبھانے کے لیے جامع شخصیتیں مطلوب ہیں جنہیں وسعت علم کے ساتھ حفظ و یادداشت کی غیر معمولی صلاحیتیں بھی حاصل ہوں ، اس راہ کی دشواریوں کا مجھے سب سے پہلے احساس " ترمذی شریف " کے ابتدائی سبق میں ہوا جس میں اپنے استاذ اکبر مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے یہ الفاظ کانوں میں پہنچے :

" مرحوم حضرت شاہ صاحب  کشمیری ؒ نے طویل تقریروں کی بنیاد ڈال کر ہم ایسوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ، وہ اپنے بے پناہ علوم اور زبردست قوت حافظہ کی بناہ پر اس طریقہ کو نبھاتے لیکن جو ان صفات سے خالی ہیں وہ ضیق محسوس کرتے ہیں ۔" 7

مشکل یا متعارض روایات کو حل کرنے کا اسلوب

مشکل یا متعارض احادیث میں شاہ صاحب ؒ شرح حدیث کا مدار کسی ایک لفظ یا کسی ایک طریق و سند کو نہیں بناتے تھے بلکہ اس حدیث کے تمام الفاظ اور طرق کو اکٹھا کرتے اور ان میں سے شارع علیہ السلام کے الفاظ کی جستجو کر کے اسے مدار شرح قرار دیتے۔ اس باب میں ان کی رائے یہ تھی کہ روایات میں روایت بالمعنی عام ہے ، اور احکام کا دارو مدار حضور اکرم ﷺ کے الفاظ ہیں ۔ اس لیے اگر ان الفاظ میں سے حضور ﷺ کے الفاظ کی تعیین ممکن ہو تو انہیں کو مدار شرح بنایا جائے گا ۔ مختلف اسناد و الفاظ میں سے شارع کے الفاظ کی تعیین وہ فصاحۃ و روعۃ الفاظ پر رکھا کرتے تھے۔ اس ضمن میں وہ ایک نقطہ یہ بیان فرماتے کہ حدیث کے راویوں کا اتقان جتنا زیادہ بڑھتا جائے گا اتنا ہی زیادہ روایت باللفظ کا امکان زیادہ ہوگا ۔ اسی وجہ سے جس محدث نے راویوں کے اتقان و ثقاہت کا زیادہ خیال رکھا ہوگا اس کی نقل کردہ روایت میں  فصاحۃ و بلاغۃ اور رونق الفاظ کا عنصر بھی زیادہ اور نمایاں ہوگا اور ہم ان الفاظ کے بارے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ  اس افصح العرب شخصیت کے الفاظ ہیں جن کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے ۔  اسی لیے ان کے ہاں صحیح بخاری و صحیح مسلم کی نقل کردہ روایت کے الفاظ میں یہ رونق و فصاحت سنن کی روایت کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے ۔  اس لیے وہ متعارض یا مشکل احادیث میں کسی ایک خاص لفظ یا کسی خاص سند کو مدار تشریح نہیں بناتے تھے بلکہ مجموعی طور پر ان سب الفاظ و طرق کو دیکھ کر ان سب کو تشریح میں جمع کرتے ہوئے ایسی تعبیر کرتے جو اطمینان قلب اور شرح صدر کا باعث بن جاتی ۔  ان کے ہاں مذاہب میں بہت سے اختلافات کسی خاص لفظ یا کسی خاص سند یا طریق کو مدار قرار دینے سے ہی پیدا ہوتے ہیں 8

علماء متقدمین کا احترام

درس حدیث میں شاہ صاحب ؒ جب کبھی متقدمین کے اقوال میں سے کسی قول پر تنقید کرتے تو پہلے ان کی جلالت شاہ اور عظمت کا اعتراف کرتے ، ان کی خصوصیات کا ذکر کرتے اور ان کی خدمات دینیہ کو سراہتے ۔ پھر ان کے اقوال پر اپنی رائے پورے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیان فرمایا کرتے ۔ اس حوالے سے قاری طیب صاحب ؒ لکھتے ہیں :

"غرض ایجابی و سلبی دونوں قسم کے علوم کی نیرنگیاں حلقہ درس کو ایک رنگین گل دستہ بنائے ہوئے تھیں ،م جس میں رنگ رنگ کے علمی پھول چنے ہوتے تھے ، تفنن علوم کی رنگینیوں کے ساتھ آپ کے درس میں ایک خاص شوکت بھی ہوتی تھی ، کلام میں تمکن اور قوت الفاظ میں شوکت و حشمت اور کلام کے وقت حضر ت ممدوح کی ہیئت کذائی کچھ ایسے انداز کی وہ اجتی تھی جیسے کوئی بادشاہ اپنا حاکمانہ فرمان سنا رہا ہے ۔ بالخصوص ائمہ مجتہدین کے متبعین علماء کے کلام پر بحث و تنقید چھڑ جاتی تو اس وقت معارضانہ اور ناقدانہ کلام کی شوکت اور بھی زیادہ ابھری ہوئی دکھلائی دیتی تھی ، نگاہیں تیز ہو جاتیں ، آواز قدرے بلند ہو جاتی اور گردن اٹھا کر بولتے تو ایک عجیب پر شوکت اور رعب افزاء کلام معلوم ہوتاتھا۔

بعض مواقع پر مثلا حافظ ابن تیمیہ ؒ اور ابن قیم ؒ کے تفردات کا ذکر آتا تو پہلے ان کے علم و فضل اور تفقہ و تبحر کو سراہتے ، ان کی عظمت و شان بیان فرماتے ، اور پھر ان کے کلام پر بحث و نظر سے تنقید فرماتے ، جس میں عجیب متضاد کیفیات جمع ہوتی تھیں ، ایک طرف ادب و عظمت اور دوسری طرف رد و قدح یعنی بے ادبی اور جسارت کے ادنیٰ سے ادنیٰ شائبہ سے بھی بچتے اور رجح اور صواب میں کتمان صواب سے بھی دور رہتے کبھی کبھی علمی جوش میں آ کر برنگ مزاح بھی رد و قدح فرماتے تھے ، جو بجائے خود ہی ایک مستقل علمی لطیفہ ہوتا تھا۔"9

اس کی ایک بہت عمدہ مثال مولانا یوسف بنوری ؒ نے ذکر کی ہے ۔ شاہ صاحب ؒ " التفسیر الکبیر " کا تذکرہ کرتے ہوئے امام فخر الدین الرازی ؒ کی بہت تعریف کیا کرتے تھے ۔ ان کے بارے میں اس رائے کا اظہار کرتے کہ امام فخری الدین رازی ؒ قرآن کریم کے مشکل مقامت میں کھب جاتے ہیں اور بڑی متین تحقیقات اور بڑی مضبوط تدقیقات پر قاری کو متنبہ کر دیتے ہیں ۔ لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے  کہ وہ کسی مشکل پر متنبہ تو ہو جاتے ہیں لیکن اس کی ایسی وضاحت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے کہ جس سے اطمینان قلب حاصل ہو جائے ۔ مولانا بنوری ؒ کہتے ہیں کہ تفسیر کبیر کے بارے میں عام طور پر جو قول مشہور ہے کہ "فيہ کل شئی الا التفسیر" ، اس کے بارے میں میں نے شاہ صاحب سے پوچھا تو انہوں نے  اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :" کسی راوی مزاج شخص کا قول ہے " ۔ گویا تفسیر کبیر اور امام فخر الدین الرازی ؒ کا اس طرح دفاع کیا ۔ مولانا بنوری کی عبارت یوں ہے :

وكان يثني علي "مفاتيح الغيب" اي "التفسير الكبير" للامام فخر الدين خطيب الرازي، ويقول: ان الامام يغوص في علوم القرآن و مشكلاتہ، لم ار مشكلا من معضلاتہ الا والامام تنبہ لہ، غير انہ ربما لا يظفر بما يقنع بہ النفوس الصاديۃ وتنشرح بہ الصدور الصافيۃ۔ فہكذا كان الشيخ رحمہ اللہ ينبہنا علي تلك التحقيقات المتينۃ  والتدقيقات الرصينۃ۔  سالتہ عما قيل في تفسير الامام: " فيہ كل شيئ الا التفسير" كما حكاہ الشيخ جلال الدين السيوطي في " اتقانہ" - فقال : لعلہ قول من غلب عليہ الروايۃ ۔ كان يريد رحمہ اللہ كانہ قول محدث ہمہ استطراد الروايات من الاخبار والآثار فقط ۔ من غير ملاحظۃ الي سائر مزايا التنزيل العزيز ۔ و لفظہ بالارديۃ : " كسي راوي مزاج شخص كا قول ہوگا "  وبلغني انہ قال مرۃ:  ذالك القول ظلم في حق الامام۔10

اسی اسلوب کی ایک مثال شاہ صاحب ؒ کا حافظ ابن حجر العسقلانی ؒ کے بارے میں رویہ ہے ،   ایک طرف ان کی شرح بخاری " فتح الباری " کے تناظر میں وہ ان کو پورے احترام و محبت کے ساتھ  " حافظ الدنیا " کا لقب دیا کرتے تھے  اور دوسری طرف ان کی آراء پر جابجا تنقید بھی کرتے ہیں اور اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ حافظ ابن حجر نے کئی مقامات پر اپنے مسلک  و مذہب کی رعایت  وحمایت میں ہر صحیح و خطاء کو قبول کر لیا ہے ۔11 گویا احترام و عقیدت اپنی جگہ لیکن جہاں علمی دیانت کا مقام ہو وہاں تنقید کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔   

درس میں علماء کا مزاج و درجہ بیان کرنا

وسعت مطالعہ کے سبب شاہ صاحب ؒ کو مختلف علماء کے مزاج کا اندازہ تھا اور علمی مسائل میں ان کے درجات بھی متعین کرتے تھے ، اس درجہ بندی اور مزاج شناسی کی بنیاد پر ان سے مروی احادیث یا کسی حدیث کی تشریح میں ترجیح قائم کرتے ۔ فیض الباری و دیگر کتب میں اس کی جا بجا مثالیں موجود ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں ۔

  کسی بھی کام کی ابتداء میں اللہ کا نام ذکر کرنے کے بارے میں مشہور حدیث ہے :

كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالً لَا يُبْدَأُ فِيہ بِذِكْرِ اللَّہ أَقْطَعُ 12

امام بخاری ؒ نے کتاب کا آغاز بسم اللہ کے ساتھ کیا ہے ، اس کی تشریح میں مذکورہ بالا حدیث کا ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب ؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مضطرب ہے ، کسی روایت میں حمد کا ذکر ہے اور کسی میں اسم اللہ کا ۔ لیکن اس اضطراب کے باوجود شیخ ابو عمرو ابن الصلاح نے اس کو حسن قرار دیا ہے ۔ اس کے بعد وہ شیخ ابو عمرو ابن الصلاح کا موازنہ امام نووی ؒ کے ساتھ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وخَالَ بعضُہم التعارض، وظن اختلاف الألفاظ اختلاف الحديث. والحال أن الحديث واحد، ومع اضطراب كلماتہ حسَّنہ الحافظ الشيخ أبو عمرو بن الصَّلاح، وھو شيخ الإمام النووي، دقيقُ النَّظر، واسع الاطِّلاع، وليس صاحبہ النووي مثلہ في الحديث.13

اسی طرح ایک جگہ علامہ شامی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں :

واعلم أن ابن نُجَيْم أفقہ عندي من الشَّامي لِمَا أری فيہ أن أمارات التفقُّہ تَلُوح، والشَّامي مُعَاصِرٌ للشاہ عبد العزيز رحمہ اللہ تعالی، وھو أفقہ أيضًا عندي من الشَّامي رحمہ اللہ تعالی، وكذا شيخ مشايخنا رشيد أحمد الكَنْكُوہِي - قُدَّسَ سرُّہ - أفقہ عندي من الشَّامي.14

اس ضمن میں مولانا یوسف بنوری ؒ رقم طراز ہیں :

انہ كلما ذكر كتابا او مؤلفا في صدد النقل ، فكان يكشف عن منزلتہ في العلم و خصائصہ، قلما يجدہا الناظر في كتب الطبقات و التراجم  بغايۃ من الانصاف ، من غير غض عن قدرہ ، او اطراء في شانہ ، ليكون بصيرۃ للطلبۃ ، و وسيلۃ الي العلم الصحيح۔15

درس میں سال بسال تنوع

شاہ صاحب ؒ کا مطالعہ عام مدرسین جیسا نہیں تھا کہ سبق پڑھانے سے پہلے سبق کی تیاری کے لیے درسی کتب یا زیادہ سے زیادہ انہیں کتب کی کوئی شرح دیکھ لی اور طلبہ کے سامنے بیان کر دی، ایسے مطالعہ سے استاد کے سبق میں وقت کے ساتھ مباحث کی یکسانیت پید اہو جاتی ہے ۔ شاہ صاحب ؒ کا مطالعہ بہت وسیع تھا ، اس کی ایک وجہ ان کا مسائل کو موضوع بنا کر ان کے حل کے لیے مطالعہ کرنا تھا ۔ گویا سبق پڑھانا ہے یا نہیں پڑھانا ، مطالعہ جاری تھا ۔ اسی وجہ سے ان کے درس میں سال بسال مباحث کے تنوع کے ساتھ ترقی بھی دیکھنے میں آتی تھی ۔ گویا مطالعہ کی وجہ سے جن مسائل میں رائے بنتی یا بدلتی اگلے سبق میں اس کا اظہار فرما دیا کرتے تھے ۔ اسی وجہ دے ہر سال کے درس میں یکسانیت کی بجائے تنوع کی کیفیت نمایاں ہوتی تھی ۔ قاری طیب صاحب ؒ فرماتے ہیں :

"ایک مرتبہ فرمایا کہ میں درس کے لیے کبھی مطالعہ نہیں کرتا ہوں ، مطالعہ کا مستقل سلسلہ ہے اور درس کا مستقل۔ اس لیے ہر سال درس میں نئی نئی تحقیقات آتی رہتی تھیں ۔"16

ایک اور جگہ فرماتے ہیں :

"کتب درسیہ اور بالخصوص کتب حدیث کے فنی مباحث طبیعت ثانیہ بن چکے تھے اور ہمہ وقت کے مطالعہ سے ان میں روز بروز بسط و انبساط کی کیفیات پیدا ہوتی چلی جا رہی تھیں اور مباحث درس گھٹنے یا قائم رہنے کے بجائے خود ہی یوما فیوما بڑھتے رہتے تھے تو انہیں جزوی مطالعہ سے بڑھانے کے کوئی معنی بھی نہ تھے بلکہ شاید یہ مقررہ جزوی مطالعہ علوم کے بڑھتے ہوئے بسط میں کچھ نہ کچھ حارج اور حد بندی ہی کا سبب بن جاتا۔"17

مولانا یوسف بنوری ؒ شاہ صاحب ؒ کے مطالعہ کی کیفیت کے بارے میں لکھتے ہیں :

لم يكن دابہ في المطالعۃ كاكثر علماء ھذا العصر من ان يطالعوا الكتب عند الافتقار اليہا في الفتوي او التاليف او التدريس ، فيراجعون  فيما يحتاجون اليہا من ذالك الموضوع خاصۃ، او يتفقدون ما ارادوہ من مظانہ ، بل كان دابہ في المطالعۃ انہ كلما تيسر لہ كتاب، مخطوطا كان او مطبوعا ، سقيما كان او سليما ، في موضوع علمي ، اي موضوع كان، من اي مصنف كان ، فياخذہ و يطالعہ من اولہ اولي الآخر بتمامہ ، من غير ان يبقي شيئا او يذر، نعم كان حل جہدہ و مسعاہ في ان يطالع كتب المتقدمين ثم كتب اكابر المحققين من القرون الوسطي۔18

ایک جگہ شاہ صاحب ؒ کے اس ذوق مطالعہ اور اس کے نتیجہ میں تحقیقات میں تبدیلی کو قرآن کریم کے حوالے سے اس طرح واضح کرتے ہیں :

و ربما كان يبقي سنين في التامل في بعض المشكلات حتي يبلغ الي درك البحر فيخرج اللآلي المكنونۃ ، وكان من شريف دابہ اذا عن لہ مشكل من مشكلاتہ يتوخي لحلہ اسفار اعيان من الامۃ الذين لہم عنايۃ قويۃ بامثال ھذہ العويصات ، فان فاز بشيئ احال عليہ في مذكرتہ ، و الا فكان يطيل الفكر و يرسل النظر ويبعد الغور و التامل ، فاذا سنح لہ سانح او بدا بارح قيدہ ، فاجتمعت في "مذكرتہ الخاصۃ بالقرآن" مادۃ جمۃ غزيرۃ۔19

رجال کے تذکرہ میں اسلوب

حدیث کی تشریح میں رجال کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہ صاحب ؒ کا ایک الگ اسلوب تھا ، ان کے ہاں حدیث کے مقبول ہونے میں رجال پر جرح و تعدیل کے باب میں متعدد وجوہات کی بنا پر ائمہ رجال کے ہاں اعتدال قائم نہیں رہا ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو حدیث اپنے مسلک کے خلاف ہو اس کے رجال کی خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے اور کسی نا کسی طرح اس کے رجال میں سے کسی کو مجروح قرار دے دیا جاتا ہے ، اور کبھی اپنے مفید مطلب حدیث کے رجال سے ناروا چشم پوشی اختیار کر لی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ رجال پر جرح و تعدیل کو حدیث کی مقبولیت کے لیے حتمی سبب نہیں سمجھتے تھے ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ ان کے اس اسلوب کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں :

منہا : انہ كان يلخص الكلام في رجال الحديث ان كان لذكرہا حاجۃ في الباب، او فائدۃ يستحسن ذكرہا، وكان لا يطيل الكلام في الجرح و التعديل حيث كان يقول : و لم اكثر من نقل كلامہم في الرجال ، وما فيہ من كثرۃ القيل و القال ، لانہ ليس عندي كبير ميزان في الاعتدال ، و بعضہم يسكت عند الوفاق و يجرح عند الخلاف ، و اذا ديعت نزال، وھذا صنيع لا يشفي و لا يكفي ، و انما ہو سبيل الجدال ، نعم ، اعتنيت بتعيينہم و معرفتہم عينہم ، فيستطيع الناظر من المراجعۃ و يتمكن من تخمير رايہ لا بالمسارعۃ۔20

اس معاملہ میں ان کا موقف یہ تھا کہ جس حدیث کی سند اصطلاحا ٹھیک ہو اور اس پر سلف کا عمل بھی ہو خواہ کچھ لوگوں کا عمل ہی کیوں نا ہو ۔تو ایسی حدیث صحیح ہے اس میں اگر عدم صحت کی کوئی علۃ بیان کی جا رہی ہے تو اس کو نہیں سنا جائے گا ۔ فرماتے ہیں :

و الناس فيہ علي آرائہم يتعللون في ما لم ياخذوا بہ و يناضلون عما اخذوا بہ ، و الذي ينبغي ان يعتقد فيہ ان ما صح سندہ اصطلاحا ثم وجد عمل بعض السلف بہ  فہو صحيح في الواقع لايسمع فيہ اعلال و تعلل۔21

حدیث کی تشریح میں دور از کار تاویلات سے اجتناب

حدیث کی تشریح میں شاہ صاحبؒ کا مزاج یہ تھا کہ شارع کی مراد و مقصود کو سامنے رکھتے اور اس کے مطابق حدیث کا محل متعین کرنے کی کوشش کرتے ۔ حدیث کی تشریح میں دو از کار تاویلات کو پسند نہیں کرتے تھے اور جہاں عام طور پر طول طویل ابحاث کے ذریعہ حدیث کی تشریح میں کھینچا تانی کا رواج تھا وہاں "لا يعبا بہ" يا "ھذا من سقط الكلام" کہہ کر آگے بڑھ جاتے ۔ اس کی  مثال یوں ہے ۔

 بسم اللہ سے ابتداء کی بحث میں اس حدیث کی تشریح میں عام طور پر جو ابحاث کی جاتی ہیں ان کا تذکرہ کر کے فرماتے ہیں :

وما يُذكر من حمل الابتداء بالحقيقي في لفظ، وبالإضافي في لفظ، أو العرفي، فلا يُعبأ بہ، لأن مدارَ ذلك علی تعدُّد الحديث. وذِكَرُ الاحتمالات التِّسْعۃِ من بين صحيح وباطل ھہنا كلہا من سَقْط الكلام.22

اختلافی مسائل میں منشاء الخلاف معلوم کرنے کا اہتمام

تدریس  حدیث میں شاہ صاحبؒ اختلافی مسائل میں اختلاف کی بنیاد اور منشا کو بیان کرتے اور پھر اس کی بنیاد پر فریقین کے دلائل کا محاکمہ کر کے اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے ۔ اکثر اوقات ان کی رائے وہی ہوتی جو فقہاء احناف نے بیان کی ہے لیکن اگر کہیں فریق مخالف کی دلیل میں مضبوطی محسوس کرتے تو ان کی رائے کو اپنانے میں بھی کوئی مضائقہ محسوس نہ کرتے ۔ اور بہت سی جگہ پر اپنی ایسی رائے پیش کرتے جو اختلاف کو ختم کرنے یا کم کرنے کا باعث ہوتی ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ اس ضمن میں لکھتے ہیں:

و منہا انہ كان عني بمنشاء الخلاف بين الامۃ ، ولا سيما في المسائل التي تتكرر علي رؤوس الاشہاد ، فكان يذكر في ھذا الصدد امورا تطمئن بہا القلوب۔23

اغلاط پر متنبہ کرنا

دوران مطالعہ شاہ صاحب ؒ کو اگر کسی کتاب میں کوئی غلطی محسوس ہوتی تو درس میں اس کی وضاحت کرتے اور اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے کہ یہاں یہ لفظ مجھے پہلے ہی غلط محسوس ہو رہا تھا ، پھر مسلسل مطالعہ کے دوران فلاں کتاب میں میرے گمان کی تصدیق ہو گئی ۔  اس کی بہت سی مثالیں جا بجا ان کی کتب میں بکھری ہوئی ہیں ۔ ایک مثال ملاحظہ کریں ۔

وھناك سہوٌ ينبغي أَنْ يَتَنبَّہ عليہ النَّاظر، وھو أن الحنفيۃ عند تقرير الاضطراب في حديث القُلتين قالوا: إنہ رُوي عن ابن عمر أربعين قُلۃ. ہكذا وجدناہ في «فتح القدير» أيضًا، وكنت أظنَّ أن الصحيحَ ابن عمرو وسقط الواو من الناسخ وحينئذ يَخِفُّ الاضطراب، حتی إذا طُبع كتاب البيہقي وجدناہ فيہ عن ابن عمرو بن العاص، ففرحتُ منہ فرحَ الصائم عند الإِفطار. فھذا سہوٌ قد تسلسل في الكتب فلا تَغْفُلْ عنہ، والأمر كما قلنا.24

یہاں ایک سہو ہے مناسب ہے اس پر ناظر متنبہ ہو جائے ۔ وہ یہ کہ احناف قلتین کی حدیث میں اضطراب کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :  کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چالیس گھڑے منقول ہیں ۔ فتح القدیر میں ہم نے اسے اسی طرح پایا ۔ اور میرا گمان تھا کہ  صحیح ابن عمرو رضی اللہ عنہ ہے اور واو کاتب سے گر گیا ہے ، اس طرح اضطراب کم ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب علامہ بیہقی کی کتاب چھپی تو ہم نے اس میں ابن عمروبن العاص ہی پایا ۔ چنانچہ مجھے  افطار کے وقت روزہ دار کی طرح کی خوشی ہوئی ۔ پس یہ سہو ہے جو کہ کتب میں مسلسل آرہی ہے ،سو اس سے غافل نہ ہو ، معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیاہے ۔

محدث کے مزاج کے مطابق ترجمۃ الباب کی تشریح

شاہ صاحب ؒ  حدیث کی کتاب خصوصا امام بخاری کی جامع پڑھاتے ہوئے مولف کتاب کے مزاج کے مطابق ترجمۃ الابواب کی وضاحت کیا کرتے تھے ، اور ان کی بتائی ہوئی وضاحت یا تعبیر پھر کئی جگہ پر لاگو ہوتی ۔  مثلا امام بخاری ؒ نے ابواب کے شروع میں "البدء"  کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس سے ان کی کیا مراد ہے ؟ جیسے بدء الاذان میں کیا یہ مراد ہے کہ اذان کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ حالانکہ وہ اس میں اذان کے سارے احکامات کو لاتے ہیں ، یا یہ مراد ہے کہ یہاں سے اذان کے مجموعی مسائل کی ابتداء ہو رہی ہے ۔ شاہ صاحب ؒ نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے کہ جہاں امام بخاری ؒ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں وہاں ان کی مراد مجموعی مسائل کی ابتداء کرنا ہوتا ہے ۔ فرماتے ہیں :

وما سنح لي بعد الإمعان في صنيعہ، والنظر إلی نظائرہ، كبدء الأذان وبدء الحيض، أن البَدء عندہ لا يختصُ بالحصۃ الابتدائيۃ، بل يعتبر مما يضاف إليہ لفظ البدء بما فيہ من أحوالہ أولًا، ثم يضاف إليہ لفظ البدء ثانيًا، ثم يُسأل عنہ أن بدء ہذا المجموع كيف كان؟ وحينئذٍ فيندرج تحتہ جميع أحوالہ، وہكذا فعل المصنف رحمہ اللہ تعالی فيما بعد أيضًا. فقال: «بدء الأذان، وبدء الحيض»، ثم لم يقتصر علی أول الحال فقط، بل ذكر حالہما من الأول إلی الآخر، ففہمت من صنيعہ أنہ لا يريد من لفظ البدء البدايۃ في مقابل النہايۃ، بل بدؤہ بعد أن لم يكن، ووجودہ من كَتْم العدم، فہو سؤال عن ہذا الجنس بتمامہ، أنہ كيف بدأ؟
فالحاصل: أن معناہ، السؤال عن جنس الوحي، وجنس الأذان، وجنس الحيض، أنہ كيف جاء من كتم العدم إلی ساحۃ الوجود؟ وحينئذٍ معناہ كونہ بعد أن لم يكن، لا بدايتہ قبل نہايتہ، وہذا التصرف في لفظ البدء مستفادٌ من كلام المصنف رحمہ اللہ تعالی نفسہ، لا أني تصرفت في كلامہ، وصرفتہ عن ظاہرہ۔25

تشریح میں اختصار لیکن مواد میں اکثار

 درس حدیث میں شاہ صاحب ؒ کی کوشش یہ ہوتی کہ زیر بحث موضوع میں زیادہ سے زیادہ مواد جمع کر دیں ،  بیان و تشریح کی طرف توجہ کم تھی ۔ رفتہ رفتہ یہی عادت ان کی تدریس و تالیف میں فطرت ثانیہ بن گئی ۔ یعنی الفاظ  و بیان میں اختصار اور مواد میں کثرت۔ ان کی اسی عادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا اشرف علی التھانوی ؒ کہا کرتے تھے کہ شاہ صاحب ؒ کے کلام میں ایسے جملے ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک کی تشریح پوری پوری کتاب کی متقاضی ہے۔26

مولانا یوسف بنوری ؒ اس عادت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

انہ كان يہمہ اكثار المادۃ في الباب ، دون الاكثار في بيانہا و ايضاحہا، كانہ يضن بعلمہ المضنون ۔ ثم ان  ہذا الايجاز في اللفظ ، و الغزارۃ في المادۃ اصبح لہ دابا في تدريسہ و تاليفہ و كان كما قال علي رضي اللہ عنہ : ما رايت بليغا قط الا ولہ في القول ايجاز ،  و في المعاني اطالۃ، و حكاہ ابن الاثير۔27

درس میں طلبہ کی علمی و تحقیقی تربیت کا اہتمام

شاہ صاحب ؒ کے درس حدیث کی ایک بہت اہم خصوصیت طلبہ حدیث کی علمی و تحقیقی تربیت کا اہتمام کرنا بھی تھی۔ وہ جہاں طلبہ کی علمی مواد کی طرف راہنمائی کرتے رہیں ان کو صحیح تنقید کاطریقہ بھی سکھاتے ۔ بسا اوقات وہ دوران درس کوئی مسئلہ ذکر کرتے اور پھر اس پر علمی نقد فرماتے ۔ اس سے طلبہ کو علمی نقد کا صحیح طریقہ سمجھ میں آتا ۔ اس نقد کی سب سے بڑی خوبی متقدمین علماء کے احترام میں اعتدال کا رویہ تھا ۔  فیض الباری کے مقدمہ میں مولانا محمد یوسف بنوری ؒ لکھتے ہیں :

انہ كان ربما يذكر اشياء و ينقدہا نقدا علميا ، و يدل الطلبۃ علي منہاج النقد العلمي ، ويضع لہم اساسا لذالك ، ثم يستدرك ذالك ، تنبيہا لہم بمزيۃ كلام اہل العلم و الاحتياط عن الخوض في شانہم بما تابي جلالۃ قدرہم۔28

اسی طرح طلبہ کی تربیت کی غرض سے ہی آپ ؒ زیر درس حدیث کے موضوع سے متعلق بنیادی علوم کے ساتھ موضوع سے مناسبت رکھنے والے دیگر علوم کو بیان کرنے کا اہتمام بھی کرتے ۔ اس سے طلبہ ان دیگر علوم کی مبادیات سے بھی واقف ہو جاتے جو حدیث کی تشریح کے تناظر میں اہم سمجھے جاتے تھے ۔  مولانا یوسف بنوری ؒ لکھتے ہیں :

 انہ كان لا يقتنع بذكر ما يختص بالموضوع ، بل ربما كان يذكرامورا لمناسبۃ دقيقۃ بينہا و بين الموضوع ، حرصا علي بيانہا افادۃ للطلبۃ۔29

احکام کے مصالح اور حکمتوں کا بیان

شاہ صاحب ؒ حدیث کی تعبیر و تشریح میں جا بجا احکام کی حکمتوں کو واضح کرتے ہیں تاکہ سامع کے دل میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہو جائے ۔ اس کی مثال جزیہ کی بحث ہے کہ جس میں انہوں نے بعض لوگوں کے جزیہ کو ظلم کہنے پر جزیہ کی حکمت بیان کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جزیہ تو غیرمسلم آبادی کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے ، اس سے ان حفاظت یقینی ہوتی ہے ، وہ تھوڑے سے پیسے ادا کرتے ہیں اور بڑے بڑے دشمنوں کے خلاف اسلامی حکومت کی حفاظت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ گویا یہ ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ ان پر احسان ہے ۔ فرماتے ہیں :

واعلم أن بَعْضَ مَنْ لا دينَ لہم، ولا عَقْل، ولا شيء زعموا أنَّ الجِزيۃَ ظُلْمٌ، ہيہات ہيات؛ وہل عَلِموا قَدْر الجِزْيۃ؟ ہو دِرْہمٌ علی فقرائہم، وأربعۃُ دراہِمَ علی أغنياتہم، وليس علی نسوانہم وصبيانہمم شيءٌ، ثم ہل عَلِموا قَدْرَ ما يُؤخذ من المسلمين، فہو أضعافُ ذلك، يؤخذ منہم العُشرُ، والزكاۃُ، والصدقاتُ، والجباياتُ الأخری، بخلاف أہل الذِّمۃ، ثُم ہل علموا أن ما نأخذُہ منہم نكافئہم بأضعافہ، نجعلُ دماءہم كدمائنا، وأعراضَہم كأعراضنا، نحفظ أموالہم، ونناضِلُ أعداءہم. فلو وازيت ما يُؤخذ من المسلمين بما يُؤخذ منہم، لعَلِمت أن المأخوذَ من أہل الذمۃ أقلُ قليل، مما نأخذُ من المسلمين. فَمَنْ ظنَّ أن الجزيۃ ظُلْم، فقد سَفِہ نفسہ.30

صحیح بخاری کی تدریس میں شاہ صاحبؒ کا اسلوب

شاہ صاحب ؒ نے دار العلوم دیوبند میں جب تدریس کا آغاز کیا تو ابتداء میں ان کے ذمہ جامع ترمذی اور صحیح بخاری کی تدریس ہوتی تھی ، ان دو کتابوں میں انہوں نے مباحث حدیث کو اس طرح تقسیم کیا ہوتا کہ احادیث احکام کی تحقیق، ائمہ کرام کے مذاہب  اور دلائل کا استیعاب اور ان میں راجح و مرجوح کی وضاحت وہ درس ترمذی میں کر دیا کرتے۔ آخری عمر میں جب ان کی تدریس کا مرکز صحیح بخاری ہو گئی تو یہ سارے مباحث وہ درس بخاری میں بیان کرنے لگے ۔ اس لیے ان کے درس حدیث کی کچھ خصوصیات کو سمجھنا تدریس بخاری کے اسلوب کو سمجھنے پر موقوف ہے ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ نے فیض الباری کے مقدمہ اور " نفخۃ العنبر" میں اس اسلوب پر روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔

اس اسلوب کا فائدہ بیان کرتے ہوئے مولانا یوسف بنور ی ؒ لکھتے ہیں :

فہذہ مميزات درسہ لصحيح البخاري ، لا تجد بعضہا في درس غيرہ ۔ ومن اجل ذالك كل من  كان ضليعا في العلوم ، واسع الاطلاع ، حديد الذہن ، قوي الحافظۃ ، ثاقب الفكر ، كان يقوم من عندہ بحظ وافر  و بصيرۃ نافذۃ۔33

"یہ ان کے درس بخاری کے امتیازات ہیں ، آپ ان میں سے کچھ کسی اور کے درس میں نہیں پائیں گے ۔ اسی وجہ سے ہر وہ آدمی جو علوم سے بھر پور ہو ، اور اس کی اطلاعات وسیع ہوں ، ذہن رسا ہو ، حافظہ مضبوط ہو، صائب الرائے ہو ، تو وہ ان کے  پاس سے علم کا  بڑا حصہ اور  ایسی بصیرت لے کر اٹھتا ہے جو معاملات کو سمجھنے میں مدد گار ہوتی ہے۔"


حوالہ جات

  1.   محمد انظر شاہ مسعودی ، مولانا ،(1927ء-2008ء) نقش دوام : ص:305، ادارہ تالیفات اشرفیہ ، ملتان ، پاکستان ، 1426ھ
  2.   نقش دوام : ص:306
  3.   مناظر احسن گیلانی ، مولانا ،(1892ء-1956ء) احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن ، ص؛ 76، ادارہ تالیفات اشرفیہ ، ملتان ، 1425 ھ
  4.   نقش دوام ، ص: 155
  5.   احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن ، ص: 81-82
  6.  مضمون  حضرت قاری محمد طیب ؒ ، عبد الرحمان کوندو، الانور ،   ص: 274، ندوۃ المصنفین ، اردو بازار ، جامع مسجد دہلی ، 1979ء
  7.   نقش دوام ، ص: 156
  8.    نفحۃ العنبر ، ص:61
  9.   حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 264
  10.   نفحة العنبر ، صؒ 40-41
  11.   نفحة العنبر ، ص: -50 49
  12.   الدارقطني ،بو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينار البغدادي (المتوفی: 385هـ)،  سنن الدارقطني (1/ 428)، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت - لبنان 1424 هـ - 2004 م ، عدد الأجزاء: 5
  13.   فيض الباري علی صحيح البخاري (1/ 77)
  14.    فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 307)
  15.   فيض الباري على صحيح البخاري ج:1، ص:16
  16.    حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 267
  17.   حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 267
  18.   نفحة العنبر ، ص: 36
  19.   نفحة العنبر ، ص: 41
  20.   نفحۃ العنبر ، ص: 284  و فيض الباري ، ج: 1، ص: 16
  21.   محمد أنور شاه بن معظم شاه الكشميري الهندي ثم الديوبندي (المتوفى: 1353هـ)،  نيل الفرقدين  مع حاشیۃ بسط الیدین فی مسئلۃ رفع الیدین ، ص: 135، مجموعۃ رسائل الکاشمیری ،ج: 1، المجلس العلمی ، کراچی ، پاکستان ، 2004ء
  22.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 78)
  23.   فيض الباري على صحيح البخاري، ج: 1/ 16
  24.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 359)
  25.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 78)
  26.    فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1/ 16
  27.     فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1/ 16
  28.   فيض الباري علي صحيح البخاري ،  1/ 16
  29.   فيض الباري علي صحيح البخاري ،  1/ 16،  نفحۃ العنبر،  ص:284
  30.   فيض الباري على صحيح البخاري (4/ 240)
  31.   فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1، ص: 17
  32.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 428)
  33.   فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1، ص: 17


حضرت صدیق اکبرؓ کے اسوہ کے چند پہلو

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا اور میں آج اسی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو بخاری شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔

جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مکہ والوں کے مظالم اور اذیتیں حد سے بڑھ گئیں اور بہت سے خاندان نبی کریمؐ کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو ایک موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے بھی حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کا ارادہ کر لیا اور آنحضرتؐ سے اجازت بھی حاصل کر لی۔ سامان سفر تیار کر کے ہجرت کے لیے روانہ ہو گئے اور دو تین روز کا سفر بھی کر لیا کہ راستہ میں معروف عرب قبیلہ بنو قارہ کے سردار ابن الدغنہ نے انہیں پہچان لیا اور پوچھا کہ کدھر جا رہے ہو؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگوں نے ان کے لیے وہاں رہنا مشکل بنا دیا ہے اس لیے وہ دیگر بہت سے ساتھیوں کی طرح وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ابن الدغنہ نے کہا کہ نہیں آپ ایسا نہیں کریں گے ’’مثلک لا یَخرج ولا یُخرج‘‘ آپ جیسا شخص نہ شہر چھوڑ کر جاتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جاتا ہے۔ اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کو کما کر دیتے ہیں، بوجھ والوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اور ناگہانی آفات و حادثات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

یہ وہی جملے ہیں جو غار حرا کے واقعہ کے بعد نبی اکرمؐ کو پیش آنے والی سخت گبھراہٹ میں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کو تسلی دینے کے لیے کہے تھے، اور اس حوالہ سے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ نبوت اور خلافت کا مزاج ایک ہی تھا۔ ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ مکہ مکرمہ واپس چلیں، میں قریش والوں سے خود بات کرتا ہوں اور آپ میری امان اور ضمان میں رہیں گے۔

حضرت ابوبکرؓ اس کی تسلی اور ضمانت پر واپس آ گئے جبکہ ابن الدغنہ نے قریش کے سرداروں کے پاس جا کر بات کی اور کہا کہ ابوبکرؓ جیسے سماجی خدمت گزار کو شہر چھوڑ دینے پر مجبور کرنا درست نہیں ہے اس لیے میں انہیں راستہ سے واپس لے آیا ہوں اور اب وہ میری امان میں یہیں رہیں گے۔ قریش کے سرداروں کے لیے ابن الدغنہ کی اس ضمانت کو مسترد کرنا مشکل تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے مگر ہماری بھی ایک شرط ابوبکرؓ سے منوائیں کہ مذہبی سرگرمیاں کھلے بندوں جاری نہیں رکھیں گے اور گھر کی چار دیواری کے اندر ہی جو کچھ کرنا ہے کریں گے، اس لیے کہ ان کا عام جگہوں پر نماز اور قرآن کریم پڑھنا ہماری عورتوں اور بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ابن الدغنہ نے یہ بات حضرت ابوبکرؓ کے پاس آ کر کہہ دی اور انہیں پابند کیا کہ وہ نماز، قرآن کریم اور جو کچھ بھی کرنا ہے گھر کے اندر کریں گے اور کھلے بندوں ایسی کوئی بات نہیں کریں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ بات قبول کر لی اور اپنی مذہبی سرگرمیوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر محدود کر لیا۔ مگر زیادہ دن ایسا نہ کر سکے کہ نماز پڑھنا اور قرآن کریم کی تلاوت گھر کی چار دیواری کے اندر ان کو گوارا نہ تھی اس لیے کچھ دنوں کے بعد انہوں نے گھر کے دروازے سے باہر کھلے میدان میں ایک تھڑا بنا لیا جو مصلّٰی تھا اور امام بخاریؒ نے اسے اسلام میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اس مسجد میں نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے۔ اردگرد آبادی کی عورتیں اور بچے ایسے موقع پر جمع ہو جاتے اور انہیں عبادت کرتا دیکھتے۔ حضرت ابوبکرؓ رقیق القلب بزرگ تھے، قرآن کریم پڑھتے ہوئے انہیں آنکھوں پر قابو نہ رہتا اور دیکھنے والے ان کی اس کیفیت سے متاثر ہوتے۔

یہ صورتحال قریش کے سرداروں کے لیے قابل برداشت نہیں تھی، انہوں نے پیغام بھیج کر ابن الدغنہ کو مکہ مکرمہ بلایا اور کہا کہ حضرت ابوبکرؓ نے تمہارے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری نہیں کی جبکہ ہمیں ان کا کھلے بندوں نماز و قرآن پڑھنا گوارا نہیں ہے، اس لیے یا تو ابوبکرؓ کو اس طے شدہ بات پر پابند کرو اور اگر وہ اس پابندی کو قبول نہیں کرتے تو تم اپنی ضمانت ختم کرنے کا اعلان کر دو کیونکہ ہم تمہاری ضمانت و امان کی خلاف ورزی کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس پر ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے بات کی اور چاہا کہ وہ اس کی امان کو اس پہلی شرط کے مطابق برقرار رکھیں جس سے انہوں نے انکار کر دیا اور ابن الدغنہ سے کہا کہ وہ اس کی امان اور ضمانت واپس کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی امان کو پسند کرتے ہیں اس لیے وہ خود کو گھر کی چار دیواری میں محدود کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس پر وہ معاہدہ ختم ہو گیا۔

اس تاریخی واقعہ میں ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر ہمیں غیر مسلم قوموں کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کرنا پڑ گیا ہے جس سے ہم اپنے شرعی فرائض و احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین ہی کو مقدم رکھنا چاہیے اور اس قسم کے معاہدات پر نظرثانی کا ماحول پیدا کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے ابن الدغنہ کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی کا ماحول پیدا کر کے معاہدہ پر نظرثانی کی راہ ہموار کی تھی اور اس کے نتیجے میں نماز کی ادائیگی اور قرآن کریم کی کھلنے بندوں تلاوت پر پابندی لگانے والے یہ معاہدہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تھا۔ ہمارے خیال میں اسلامی احکام و قوانین سے متصادم بین الاقوامی معاہدات کی جکڑبندیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یہ اسوہ مبارکہ صحیح سمت ہماری راہنمائی کرتا ہے۔

حضرت صدیق اکبر اور اختلاف رائے

رائے کا اختلاف فطری بات ہے۔ جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی، وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے۔

پہلا اختلاف جو بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کو خلافت کا منصب سنبھالتے ہی جن گروہوں اور قبائل کی طرف سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں مرتدین اور منکرین ختم نبوت کے علاوہ ایک گروہ منکرین زکوٰۃ کا بھی تھا جس کے سربراہ کا نام مالک بن نویرہ بتایا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کو اس گروہ کے خلاف جہاد میں اشکال تھا کہ یہ کلمہ پڑھتے ہیں اور دین کی باقی سب باتیں مانتے ہیں صرف زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف سختی نہیں کرنی چاہیے۔ مگر حضرت صدیق اکبرؓ نے ان کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر دونوں بزرگوں میں مباحثہ ہوا، حضرت ابوبکرؓ نے بڑا ہونے کے ناتے سے حضرت عمرؓ کو سخت لہجے میں جواب بھی دیا اور اپنے موقف پر قائم رہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اسی طرح شرح صدر عطا فرمایا جیسے حضرت ابوبکرؓ کو شرح صدر ہو گیا تھا۔

دوسرا اختلاف قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنے کے حوالہ سے ہوا کہ مختلف جنگوں میں حافظ قرآن صحابہ کرامؓ کی کثرت کے ساتھ شہادتوں کی خبریں آنے پر حضرت عمرؓ کو قرآن کریم کی حفاظت کے بارے میں خدشہ اور خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے خلیفۂ رسولؐ کو تجویز دی کہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب کرا کے محفوظ کرا لینا چاہیے، جس سے حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر یہ ضروری ہوتا تو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام فرماتے، جب انہوں نے نہیں کیا تو میں بھی اسے ضروری نہیں سمجھتا۔ مگر بعد میں حضرت ابوبکرؓ اس کے لیے تیار ہو گئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ پر عمرؓ کی طرح میرا سینہ بھی کھول دیا ہے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دے کر قرآن کریم کو کتابی صورت میں لکھوا کر محفوظ کر دیا گیا۔

تیسرا اختلاف بیت المال سے وظائف تقسیم کرنے کے معاملہ میں ہوا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اتھارٹی تھے اور آپؐ کا ارشاد ہی قانون ہوتا تھا اس لیے اس دور میں کوئی اشکال کی بات نہیں تھی، مگر آپؐ کے بعد بیت المال سے لوگوں کو وظائف دینے کے بارے میں اصول اور قانون طے کرنے کی ضرورت تھی جس پر حضرت عمرؓ نے رائے دی کہ معاشرہ میں جو درجات فضیلت و مرتبہ کے حوالہ سے ہیں ان کے حوالہ سے وظائف کی تقسیم میں درجہ بندی کی جائے اور مختلف گریڈ طے کر کے اس کے مطابق وظائف دیے جائیں۔ مگر حضرت ابوبکرؓ نے یہ رائے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ معیشت کا معاملہ ہے اور حقوق کی بات ہے اس میں برابری کا اصول ہی چلے گا۔ ان کا ارشاد یہ ہے کہ ’’وھذا معاش فالاسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘۔ یہ معاش کا مسئلہ ہے اس میں برابری کا اصول ترجیح سے بہتر ہے۔ چنانچہ انہوں نے کسی قسم کی درجہ بندی کیے بغیر اپنے اڑھائی سالہ دور خلافت میں سب کو برابر وظیفے دیے۔

حضرت عمرؓ نے اس موقع پر تو خاموشی اختیار فرمائی مگر جب خود خلیفہ بنے تو وظائف کی تقسیم کا نیا نظام بنایا اور اس میں سب سے زیادہ وظیفہ ازواج مطہراتؓ کو، پھر مہاجرین کو، اس کے بعد انصار کو اور پھر دیگر طبقات کو درجہ بدرجہ وظائف تقسیم فرمائے۔ البتہ دس سال تک اس نظام پر عمل کے بعد اس کے معاشرتی نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو حضرت عمرؓ کو الجھن ہوئی اس لیے کہ ایسے گریڈ سسٹم میں معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہو جاتی ہے اور سماج مختلف درجوں میں بٹ جاتا ہے۔ میں اس کی مثال دیا کرتا ہوں کہ جیسے ہمارے ہاں خاص طور پر اسلام آباد میں گریڈ سسٹم نے معاشرے کو مختلف دائروں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اکثر باہمی معاملات اس معاشرتی درجہ بندی کے دائروں میں طے پاتے ہیں۔ حضرت امام ابو یوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھا ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے درجہ بندی کے اس قسم کے معاشرتی نتائج دیکھے تو فرمایا کہ اب مجھے محسوس ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے اس معاملہ میں زیادہ صائب تھی، اس لیے اگلے سال سے میں اس نظام کو ان کی رائے کے مطابق ازسرنو ترتیب دوں گا، لیکن اگلے سال سے قبل وہ شہید ہو گئے اور معاملہ جوں کا توں رہا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اختلاف رائے تو فطری امر ہے البتہ اس حوالہ سے اگر اپنے بزرگوں کے اسوہ کی پیروی کی جائے تو بہت سی الجھنوں اور نقصانات سے بچا جا سکتا ہے ۔


شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان بہت سے اصولی احکام مشترک ہیں اور کچھ بنیادی عقاید و احکام میں شدید اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہر دو فریق کے ہاں ایک دوسرے کے با رے میں بہت سی بدگمانیاں بھی موجود ہیں، ایک دوسرے کی تکفیر کے اقوال بھی ملتے ہیں اور تکفیر پر خاموشی اور احتیاط کی روش بھی پائی جاتی ہیں، اگر کوئی تکفیر کا قائل نہ بھی ہو تو ایک دوسرے کو گمراہ ضرور سمجھتا ہے اور کہیں اشارے کنائے میں ایک دوسرے کو منافق باور کرایا جاتا ہے۔

جن بنیادی عقاید میں اشتراک پایا جاتا ہے، ان میں توحید، رسالت،ختم نبوت، آخرت، کتب، فرشتوں اور تقدیر پر ایمان شامل ہے۔ اس طرح پانچ نمازوں، صومِ رمضان، حج و زکوۃ کی فرضیت، اکل و شرب میں حلال و حرام کے اکثر احکام مشترک ہیں۔قرآن، حدیث، اجماع و قیاس ا گرچہ دونوں کے ہاں مصادر شریعت مانے جاتے ہیں۔ لیکن اخذِ حدیث اور اجماع کے اصول اور تصورات میں کافی فرق ہے۔اہل سنت کے ہاں حضورؐ کی حدیث کی روایت اہل بیت سمیت ہر صحابی رسولؐ سے قبول کی جاتی ہے، جب کہ اہل تشیع اخذ روایت میں اہل بیت کے علاوہ معدودے چند صحابہ تک محدود ہیں۔ اہل تشیع میں کچھ وہ ہیں جنھوں نے حضرت علیؓ کو صرف حضرت عثمانؓ پر فضیلت دی، کچھ وہ ہیں جو بو بکرؓ و عمرؓ پر بھی فضیلت دیتے ہیں، کچھ نے خلافت بلا فصل کا قول بھی اختیار کیا۔ بعض نے چار صحابہ کے سوا  تمام صحابہ کے مرتد ہونے کا عقیدہ رکھا۔ بعض نے چودہ، پندرہ صحابہ کو صحیح قرار دیا باقی کو منافق سمجھا، بعض نے اس بارےمیں توسّع اختیار کیا۔ کچھ نے تحریف قرآن کا عقیدہ بھی اپنایا۔

امام کی معصومیت کا عقیدہ اثناعشری (بارہ امامی) شیعہ کے اصول مذہب میں سے ہے۔ اہل سنت والجماعت کے ہاں علم و تقویٰ کی حامل کسی بھی مجتہد شخصیت کو امام کہا جاتا ہے۔ ان کے ہاں امامت کسی شرعی منصب کا نام نہیں اور نہ ان کے ہاں امام کے قول و عمل کے معصوم ہونے کا کوئی تصور ہے جبکہ اہل تشیّع کے ہاں امامت ایک وہبی منصب ہے۔ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء کا شمار اہل تشیّع کے نہایت معتبر علما میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق شیعی نقطہ نظر سے امامت، نبوت کی طرح منصب الٰہی ہے، جس طرح اللہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے اسی طرح امامت کے معاملے میں بھی کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ خود اللہ نبی کو حکم دیتا ہے کہ ’’شخص منتخب‘‘ کی امامت کا اعلان کر دے۔ نبی اور امام میں فرق صرف یہ ہے کہ نبی پر وحی نازل ہوتی ہے اور امام خصوصی توفیق کے ساتھ رسول سے احکام حاصل کرتا ہے۔ پس رسول، خدا کا پیغام رساں اور امام، رسول کا پیام بر۔(۱)

اہل سنت کے نزدیک شیعہ کا یہ عقیدہ شرک فی النبوۃ ہے۔ اس اعتبار سے ان کے نزدیک یہ ایک بہت بنیادی بگاڑ،بدعت اور گمراہی ہے۔ سنّی اہل علم کے نزدیک نبیؐ کے بعد کسی کی بات منصوص نہیں ہے۔ شیعہ عالم مولانا سید افتخارحسین نجفی کے مطابق اثنا عشریہ، امام حسینؓ کی اولاد ہی سے نو شخصیات کے منصوص من اللہ ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں، حضرت محمدؐ، علیؓ، فاطمہؓ اور حسن و حسینؓ کے علاوہ نو شخصیات کو بھی معصوم رکھتے ہیں، جب کہ زیدی شیعہ امام حسینؓ کے بعد کسی کے منصوص من اللہ ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ البتہ حضور ؐکے ساتھ حضرت علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ و حسینؓ کو معصوم مانتے ہیں۔ (۲)

اہل سنت سے اس بنیادی اختلاف کے باوجود شیعہ عالم شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء کے مطابق صرف امامت کا اقرار نہ کرنے سے کوئی فرد اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں تمام مسلمان یکساں ہیں، ہاں آخرت میں ضرور درجوں کا تفاوت ہو گا، عمل اور نیت کے اعتبار سے مقامات ملیں گے۔ (۳)

اہل سنّت اور اہل تشیّع کے علم حدیث کا ایک بنیادی فر ق اصطلاحات کا الگ الگ تصور ہے۔ ان علیحدہ مفاہیم کی وجہ سے فریقین کا علم حدیث ایک دوسرے سے بہت کچھ مختلف ہو جاتا ہے۔اہل سنّت کے ہاں حدیث و سنت سے مراد حضورؐ کا قول، عمل اور تقریر ( صحابہ کے قول و فعل پر حضورؐ کی خاموشی) ہے۔ جبکہ اہل تشیع کے ہاں حدیث و سنت کا اطلاق آنحضورؐ کے اقوال و افعال اور تقریرات سمیت ائمہ معصومین کے اقوال، افعال اور تقریرات پر بھی ہوتا ہے اور بارہ ائمہ کے اقوال بھی شریعت کا مستقل ماخذ اور حدیث و سنت کا مصداق ہیں۔ معروف شیعہ عالم شیخ رضا المظفر لکھتے ہیں:

’’شیعہ کے ہاں چونکہ ائمہ معصومین کے اقوال نبیؐ کے اقوال کی طرح بندوں پر حجت اور واجب الاتباع ہیں، اس لیے فقہائے امامیہ نے سنت کی اصطلاح میں توسّع کرتے ہوئے ائمہ معصومین کے اقوال، افعال اور تقریرات کو بھی سنت شمار کیا ہے‘‘۔ (۴)

معروف شیعہ عالم حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

’’علم حدیث و علم درایہ اور علوم دینیہ میں لفظ سنت سے مراد آپؐ یامعصوم کا قول، فعل اور تقریر ہے۔‘‘  (۵)

سنت و حدیث کی اصطلاح کا یہ فرق بنیادی اختلافی نکتہ ہے۔ اس نکتے پر دونوں حدیثی ذخیرے ایک دوسرے سے بالکل جدا جاتے ہیں۔

اسی طرح صحابہ کرامؓ کی عدالت اور ان سے مروی روایات کا کیا حکم ہے؟ اہل السنّہ کے ہاں تمام صحابہؓ کی روایات قابل قبول ہیں۔ الصحابۃ کُلّھم عَدُول کے اصول کی رُو سے صحابہ میں اگرچہ درجات میں فرق ہے لیکن ہر صحابی کو عادل سمجھتے ہوئے اس سے روایت قبول کی جائے گی۔ اہل سنّت کے ہاں صحابہ کے بعد کے راویوں پر جرح (جانچ پڑتال) ہوگی،صحابہؓ پر نہیں۔ اس کے برخلاف اہل تشیّع صحابہ کے ساتھ بھی دوسرے راویوں جیسا معاملہ کرتے ہیں اور ان کے ہاں صحابہ میں بھی عادل، فاسق، منافق، بدعتی اور دیگر اقسام موجود ہیں۔ اس لیے اہل تشیع صرف عادل صحابہ کی روایات قبول کرتے ہیں اور عادل صحابہ وہ ہیں جو حضرت علیؓ کے ساتھ کھڑے رہے۔ چنانچہ معروف شیعہ عالم احمد حسین یعقوب لکھتے ہیں:

کُلُ الّذین وقفوا مع علیؓ و والوہ، ھم صحابۃ عدول۔ (۶)

معروف شیعہ محدث شیخ جعفر سبحانی کے مطابق وہ صحابہ جو زمانہ نبوت اور اس کے بعد آخر وقت تک حضرت علیؓ کے ساتھی رہے، ان کی تعداد اڑھائی سو ہے۔ (۷)

کتب تاریخ کے مطابق صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ سے زاید تھی۔ ابن حجر کی کتاب الاصابہ میں 12446 صحابہ کے حالات درج ہیں۔ ان میں سے امام ابن کثیر کے مطابق راویانِ حدیث صحابہ کی تعداد پانچ ہزار (۸) جبکہ امام ابن حزم کی کتاب ’’اسماء الصحابہ‘‘ کے مطابق ۹۹۹صحابہ سے روایات مروی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم پندرہ سوصحابہ ایسے ہیں جن سے اہل سنت کے ہاں حدیثیں مروی ہیں۔ گویا کہ اہل تشیع رواۃ صحابہ میں سے صرف پندرہ بیس فی صد سے روایات لیتے ہیں۔ اخذ حدیث کے اس فرق کے باعث اہل سنت و اہل تشیع کے اخذ احکام کے حوالے سے بھی بڑا فرق واقع ہوا ہے۔

(۲)

حضرت عثمان ؓکی شہادت کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قصاص عثمانؓ کا مطالبہ کرنے کے باعث مسلمان سیاسی لحاظ سے دو گروہوں شیعان علیؓ اور شیعانِ معاویہؓ میں تقسیم ہو گئےتھے۔ حضرت علیؓ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا جب کہ حضرت عثمانؓ اور امیر معاویہؓ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دورِ جاہلیت میں جاری ان دونوں خاندانوں کی چپقلش جو فروغ اسلام کے باعث دب گئی تھی، اب پھر ابھر آئی۔ واقعہ کربلا نے اس خلیج کو اور گہرا کر دیا لیکن یہ مسئلہ اب تک سیاسی تھا۔ بعد ازاں سیاسی گروہوں نے اسے مذہبی رنگ یوں دینا شروع کیا کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے حضرت علیؓ اور حسینؓ پر برسرِمنبر تبرا بازی اور سب و شتم (برا بھلا کہنا) کو خطبہ میں شامل کر لیا، جسے عام مسلمانوں نے کبھی اچھا نہیں سمجھا۔ اس کے ردِّ عمل میں حضرت علیؓ کے حامیوں نے اہل بیت کی عقیدت و محبت میں صحابہ پر سبّ و شتم کرنا اور انھیں غاصب قرار دیناضروری سمجھا۔اور اہل سنت کو آج بھی اہل تشیّع سے اس کی شکایت ہے۔اہل سنت والجماعت کی عظیم اکثریت نے اہل بیت پر سبّ و شتم کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خطبہ جمعہ میں حضرت علیؓ پر سب و شتم کی اموی بدعت کو ختم کیا۔

امام ابو حنیفہ نے عباسی مظالم کے خلاف اہل بیت کے نفس زکیہ کے خروج میں مالی تعاون کیا۔

امت کی اکثریت اہل بیت رسول علی وحسین رضی اللہ عنہم سمیت تمام صحابہؓ کی تعظیم و احترام کی روش پر قائم تھی۔ جب بنو امیہ کے خلاف عباسی تحریک اٹھی تو اس کا ساتھ دینے والوں میں علوی نسل کے علاوہ عام مسلمانوں کی اکثریت بھی شامل تھی لیکن جب عباسی خلفاء نے اپنی خاندانی حکومت کے استحکام کے لیے علوی خاندان کو پیچھے دھکیلنا چاہا تو انھوں نے حضرت علیؓ اور ان کی نسل سے محبت کرنے والے ہر فرد کو مطعون کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ رافضی (شیعہ) ہے۔ رافضی دراصل ایک اصطلاح تھی جس سے مراد وہ آدمی ہوتا تھا جو خلفائے راشدین میں سے حضرت علیؓ کے سوا باقی خلفاء کو غاصب سمجھتا اور صحابہ سے بغض رکھتا ہو جب کہ ناصبی اس کے مقابلے میں اسے کہتے ہیں جو صحابہ سے محبت و عقیدت کے غلو میں اہل بیت بالخصوص حضرت حسینؓ سے بغض کا اظہار کرے۔

 امت اسلامیہ نے ان دونوں انتہاوں کو غلط تصور کیا اور یہ خیال کیا ہے کہ اہل بیت رسول سے محبت کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ صحابہ کی عظمت سے انکار کیا جائے اور صحابہ سے محبت کا بھی یہ مطلب نہیں کہ انسان کا دل اہل بیت رسول کی عقیدت و محبت سے خالی ہو۔ یہ سب امت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ لیکن متعصب اور تنگ نظر لوگوں کا ہمیشہ وطیرہ یہی رہا ہے کہ انھوں نے ان دونوں سے محبت کرنے والوں کو کبھی رافضی کی گالی سے نوازا تو کبھی ناصبی ہونے کا طعنہ دیا۔

امام ابو حنیفہؒ اور شافعیؒ

امام ابو حنیفہؒ خود کو امام جعفر صادقؒ کا شاگرد کہتے تھے جبکہ امام مالک کا امام جعفر صادقؒ کے ہاں آنا جانا تھا اور امام جعفر صادق  ؒ بھی ان سے پیار کرتے تھے۔ امام شافعی چونکہ اہلیت سے بہت محبت کرتے تھے حتی کہ ایک مرتبہ ایک علوی زادہ بچہ ان کے درس کے دوران کھیلتے ہوئے کئی بار ان کی مجلس کے سامنے سے گزرا تو وہ اس کے احترام میں بار بار کھڑے ہوتے رہے۔ ان کی اس عقیدت مندی کے باعث کچھ تنگ نظر لوگوں نے انہیں رافضی (شیعہ) کہنا شروع کر دیا تو امام شافعی نے کہاکہ اگر آل محمد کی محبت رفض ہے تو جن و بشر کو چاہیے کہ میرے رافضی ہونے کی گواہی دیں۔

لو کان حُبّ آل محمدٍ رفضاً
فلیشھد الثقلانِ اَنّی رافض

امام شافعی اکثر کہتے تھے:  ’’میں حضرت ابوبکر کے ساتھ ساتھ حضرت علی کے فضل کا بھی معترف ہوں۔‘‘

اہل بیت سے محبت کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکرؓ سے بھی عقیدت کے اظہار کے باعث حب اہل بیت کے تنگ نظر دعوے داروں نے آپ کو ناصبی (اہل بیت کا دشمن) کہہ کر بدنام کرنا شروع کیا:

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

اہل تشیّع اور سلطان زنگیؒ و ایوبیؒ

پانچویں صدی ہجری کے آخر تک بغداد کی عباسی خلافت عربی و عجمی عصبیت اور ترکوں کی سرکشی کے باعث کمزور پڑ چکی تھی، شیعہ سنّی فسادات نے سلطنت بغداد کو مزید خلفشار کا شکار کر دیا، خلیفہ بغداد کی کمزوری کے باعث مصر کے فاطمی خاندان نے قاہرہ میں الگ خلافت قائم کر لی تھی۔ اس وقت سے فاطمی اور عباسی خلافت آپس میں برسرپیکار تھیں۔ اس سیاسی کشاکش نے شیعہ سنی اختلاف کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔آہستہ آہستہ عباسی خلافت کی ابتری کا یہ عالم ہو گیا کہ بغداد کے نواحی علاقوں کو چھوڑ کر باقی صوبوں میں خود مختار حکومتیں قائم ہو گئیں جو برائے نام خلافت بغداد سے وابستہ تھیں۔ ان حکومتوں کے سلاطین ایک دوسرے کے علاقوں کو ہتھیانے کی فکر میں رہتے تھے۔ مصر کی فاطمی خلافت نے شام میں سلجوقی مسلمانوں کی  بڑھتی ہوئی طاقت سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے عیسائیوں کو شام پرحملہ کرنے کی دعوت دی اور در پردہ سلجوقی مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کواپنی حمایت کا یقین دلایا۔

ملت اسلامیہ کی اس تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالآخر 15جولائی 1099ء کو صلیبی افواج بیت المقدس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ عیسائی افواج نے ایسی درندگی کا مظاہرہ کیا کہ ستر ہزار شہری بچے بوڑھے، جوان اور عورتیں بے دردی سے ذبح کیے گئے۔ مسجد اقصیٰ میں ہر طرف خون ہی خون تھا۔چند سال کے اندر اندر صلیبی اقتدار کے سیلاب نے عالم اسلام کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسلمان امرا اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے صلیبیوںکی مدد لے رہے تھے اور کہیں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف صلیبیوں کی مدد کر رہے تھے۔ مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ رہی تھی۔ بغداد کی عباسی خلافت اور مصر کے شیعہ فاطمی حکمران ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کا مصداق بنے ہوئے تھے۔ ان پُر آشوب حالات میں شام میں پہلے سلطان عماد الدین زنگی (م:1146ء )اور پھر نور الدین زنگی مسلمان امرائ کو متحد کرنے اور صلیبی رشتہ دوانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اترا۔

مصر کے فاطمی خلیفہ عاضد کو ایک طرف اپنے وزیر اعظم سے خدشات لاحق تھے تو دوسری طرف اسے صلیبی افواج کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ کئی درباری امرا خفیہ طور پر صلیبوں سے راہ و رسم بھی رکھتے تھے۔ ان حالات میں خلیفہ عاضد نے سلطان نور الدین زنگیؒ سے صلیبیوں کے خلاف مدد طلب کی۔سلطان زنگی نے تمام تر سابقہ شیعہ سنّی تلخیوں اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فاطمی خلافت کو عیسائی یلغار سے بچانے کے لیے اپنے نوجوان سالار صلاح الدین ایوبی کو فوجی کمک کے ساتھ مصر بھیجا، جس نے اپنے حسن تدبیر سے نہ صرف مصر پر صلیبی حملے کو پسپا کر دیا بلکہ وزیر اعظم مصر کو بھی بے اثر کر دیا اور اپنے حسن انتظام سے رعایا کو امن و سکون مہیا کر دیا۔

سلطان زنگی کی خواہش تھی کہ مصر میں بھی خلافت بغداد کا خطبہ پڑھا جائے تاکہ دشمنانِ اسلام کے مقابلے میں وحدت امت کا منظر پھر سے اجاگر ہو۔ چنانچہ ایک مناسب وقت پر 567ھ کے ایک جمعہ میں صلاح الدین ایوبی نے خلیفہ بغداد کا خطبہ جاری کر دیا اور مصری عوام اور امرا نے اس پر کوئی مزاحمت نہ کی۔ اس طرح دو سو سالہ فاطمی خلافت کے خاتمے کے بعد ملت اسلامیہ پھر سے ایک ہی خلافت کے ماتحت ہو گئی۔ مخالف مسلک کی حکومت سے سلطان نور الدین زنگی کے فراخدلانہ تعاون اور صلاح الدین ایوبی کے حسن تدبیر کے باعث ملت اسلامیہ آپس کی خونریزی اور دشمنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو گئی۔

ابن تیمیہؒ اور اہل تشیّع

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو یہود و نصاریٰ کو رافضیوں (شیعہ وغیرہ) سے اچھا سمجھتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا:

 ’’الحمدللہ! ہر وہ شخص جو محمد کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ہر اس شخص سے افضل او ربہتر ہے جو آپؐ پر ایمان نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس مومن میں کسی قسم کی بدعت موجود ہو۔ چاہے وہ بدعت خوارج، روافض، مرجۂ قدریہ یا کسی اور قسم کی ہو، کیونکہ یہودی اور عیسائی کافر ہیں۔ اور ان کا کفر اسلام میں اظہر من الشمس ہے۔ چنانچہ اگر بدعتی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی بدعت کی وجہ سے رسول اللہؐ کا متبع ہے، آپؐ کامخالف نہیں ہے، تو وہ کافر نہیں ہے اور اگر اس کا کافر ہونا فرض بھی کر لیا  لیا جائے تو اس کا کفر اس کافر جیسا نہیں ہو گا جو رسول اللہؐ کو جھٹلاتا ہے اور آپؐ پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘ (۹)

اہل تشیّع اور شاہ ولی اللہؒ

شیخ محمد اکرام اپنی کتاب ’’رُود کوثر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’شیعہ سُنّی مسئلے پر اہلِ سنت کے نقطۂ نظر کی وضاحت اور تائید کے لیے شاہ ولی اللہ نے بہت کچھ لکھا لیکن اس معاملے میں بھی ان کی رائے اس طرح انتہاپسندی سے دُور تھی کہ جب ایک انتہاپسند سُنّی نے آپ سے پوچھا کہ کیا شیعوں کو کافر سمجھا جائے تو آپ نے یہ نہ مانا اور کہا کہ اس معاملے میں حنفی علماء میں اختلاف ہے۔وہ آدمی برہم ہوگیا اور کہنے لگا کہ یہ تو شیعہ ہے۔ یہ روایت خود شاہ عبدالعزیز کی ہے۔‘‘ (۱٠)

مولانا سیّد مناظر احسن گیلانی اس مسئلے پر شاہ ولی اللہ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہندوستان میں پہلے تو رانی سُنّی، پھر ایرانی شیعہ اور آخر میں متشدد سُنّی روہیلوں کی شکل میں داخل ہوئے۔ ان تینوں عناصر کے امتزاج سے تسنّن و تشیّع کے سلسلے میں بھی بڑا کام کیا۔ بڑی محنت سے ہزارہا صفحات کوپڑھ کر آپ نے چاروں خلفا کے واقعی حالات ’’ازالۃ الخفاء‘‘ میں ایسے دلنشین طریقے سے مرتب فرمائے کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اگر شیعوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوجاتا ہے تو اسی کے ساتھ ان غالی سُنّیوں کی شدت و تیزی میں بھی کمی پیدا ہوجاتی ہے جو محض اس لیے کہ شاہ ولی اللہ نے شیعوں کی تکفیر میں فقہا حنفیہ کے اختلاف کو کیوں بیان کیا ہے، ان پر بھی شیعیت کا فتویٰ صادر کردیتے ہیں اور اس کے لیے بجائے مناظرے اور مجادلے کے شاہ صاحب نے ایک ایسی راہ دریافت فرمائی جس سے بہت سے فتنوں کا سدِّباب ہوگیا۔‘‘ (۱۱)

اہل تشیّع اور شاہ عبدالعزیزؒ

شیعہ اعتراضات کی تردید میں شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیزؒ نے ساڑھے چھے سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ لکھی۔ شیعہ مذہب و خیالات کے بیان میں صرف مستند اور معتبر شیعہ کتب پر انحصار کیا اور تاریخ و تفسیر میں صرف انھی چیزوں کو چُنا جن پر شیعہ سُنّی دونوں فریق متفق ہیں۔ کتاب کی زبان اور طرزِ بیان سنجیدہ اور مہذبانہ ہے۔ یہ کتاب علمی لحاظ سے اس پائے کی تھی کہ بہت سے شیعہ علماء نے اس کے رد میں بہت کچھ لکھا لیکن جو لوگ حدِاعتدال سے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں ان کی تسلی اور تسکین محض اتنی بات سے نہیں ہوتی کہ حق کو پورے عدل سے بیان کر دیا جائے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مخالف کے کسی ایک اچھے وصف کو بھی تسلیم نہ کیا جائے حتیٰ کہ حضرت علیؓ کے مناقب کا بیان بھی بعض سنیوں کو پسند نہیں آتا۔شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:

’’شاہ عبدالعزیز نے دو سری باتوں کی طرح اس (شیعہ سُنّی) معاملے میں بھی اپنے والد کی پیروی کی تھی۔ ان کاایک پٹھان شاگرد تھا ، حافظ آفتاب نام، ہمیشہ حاضر درس ہوتا تھا۔ ایک دن حضرت علیؓ کا ذکر ہورہا تھا اور شاہ صاحب نے ان کے بہ جان و دل فضائل و مناقب بیان کیے تو وہ اتنا بگڑا کہ شاہ صاحب کو شیعہ سمجھا اور ان کے درس میں شریک ہونا بند کر دیا‘‘۔(۱۲)

مولانا داؤد غزنوی اور شیعہ عالم

مشہور اہل حدیث عالم مولانا داؤد غزنوی کے دیرینہ ساتھی مولانا اسحاق بھٹی مولانا غزنوی کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’مولانا عبدالعظیم انصاری (سابق ناظم دفتر جمعیت اہل حدیث پاکستان) کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ وہ مولانا (غزنوی)کے ساتھ تانگے پر بیٹھے کہیں جا رہے تھے۔ مولانا نے اچانک تانگے والے سے کہنا شروع کیا ’’تانگہ روکو، تانگہ روکو‘‘ تانگہ رکا تو مولانا جلدی سے نیچے اترے اور ہاتھ پھیلائے ہوئے ایک طرف کو بڑھے، دیکھا تو اُدھر شیعہ عالم مفتی کفایت حسین تانگے سے اتر کر اسی طرح ہاتھ پھیلائے مولانا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دونوں بزرگوں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر آپس میں کھڑے باتیں کرتے رہے۔‘‘ (۱۳)

اہل حدیث عالم اور شیعہ ذاکر

ماضی میں شیعہ سنّی کے درمیان کس قدر رواداری کی روایت موجود تھی، آج ہم اسے ترس گئے ہیں۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی جو حکومتی ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور کے ریسرچ سکالر تھے اور اہل حدیث حضرات کے ہاں ان کا نمایاں مقام ہے، لکھتے ہیں:

’’وہ زمانہ موجودہ زمانے سے مختلف تھا۔ لوگ تحمل سے ایک دوسرے کی بات سنتے اور برداشت کرتے تھے۔ اگر کسی پر تنقید کی جاتی اور وہ تنقید کاجواب دینا چاہتا تو اسے جواب دینے اور اصل حقیقت بیان کرنے کا کھلے دل سے موقع دیا جاتا تھا۔ وہ کلاشنکوفوں، موزروں اور خنجروں کازمانہ نہ تھا اور اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو مارنے، دھاڑنے اور قتل کرنے والوں کا دور نہ تھا۔ وہ عزت و آبرو کا دور تھا، احترام و توقیر کا دور تھا... اس کی بہت سی مثالوں میں سے ایک مثال عرض کرتا ہوں:

فیصل آباد میں مولانا محمد صدیق امین پور بازار میں جامع مسجد اہل حدیث کے قریب سکونت پذیر تھے۔ ایک دفعہ مسجد سے کچھ فاصلے پر رات کے وقت شیعہ حضرات کا جلسہ ہو رہا تھا۔ لائوڈ سپیکر کے ذریعے مقرر کی آواز مولانا کے گھر پہنچ رہی تھی۔ اور مولانا تقریرسُن رہے تھے۔ مقرر نے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر تنقید کی۔ مولانا اسی وقت گھر سے نکلے اور جلسہ گاہ میں سٹیج پر مقرر کے ساتھ مائیک کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ لوگ یہ منظر دیکھ کر بڑے متحیّر ہوئے۔ مقرر سے فرمایا: صدیقؓ کا دفاع صدیق کرنا چاہتا ہے۔ شیعہ مقرر کا دل گردہ ملاحظہ ہو کہ وہ مائیک چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے اور مولانا صدیق کو تقریر کا موقع دیا۔ شيعہ سامعین نے نہایت بُردباری کا ثبوت بہم پہنچایا اور مولانا صدیق نے اپنی تقریر میں حضرت صدیقؓ کا دفاع کیا۔

یہ تھا وہ زمانہ... نہ کسی نے خنجر چلایا، نہ بندوق اٹھائی، نہ چھرا ہاتھ میں پکڑا۔ پھر تقریر ختم کر کے وہ وہیں بیٹھ گئے۔ شیعہ مقرر کی تقریر سنی اور جلسہ ختم ہونے کے بعد گھر گئے۔‘‘ (۱۴)

علامہ عارف الحسینی اور سنّی علماء

علامہ عارف الحسینی کے سوانح نگار سید نثار ترمذی لکھتے ہیں:

’’ایک مرتبہ عیدالفطر پر اختلاف ہو گیا۔ شہید عارف الحسینی نے رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلہ کے خلاف عید منانے کا اعلان کیا۔ چونکہ اہل سنت کی عید اگلے دن تھی، اس لیے آپ رات کو اہل سنت کی مساجد و مدارس میں علمائے کرام سے عید ملنے کے لیے چلے گئے۔ اور ساتھ ہی مٹھائی بھی لے کر گئے۔ یوں رات گئے تک اہل سنت کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔ اس کا ایک خوشگوار ردِّعمل ہوا کہ اگلی صبح اہل سنت علما مٹھائی لیے علامہ عار ف الحسینی سے عید ملنے چلے آئے۔ گو کہ بظاہر اختلاف کا مقام تھا، مگر کس قدر خوبصورتی سے وحدت، میل جول اور رابطہ کا سلسلہ نکل آیا۔‘‘ (۱۵)

سید مودودی اور انقلابِ ایران

مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی کے دستِ راست جناب مولانا خلیل احمد حامدی لکھتے ہیں:

’’۱۹۶۳ء کے حج میں مولانا مودودی کے مشورے سے خاکسار نے ترجمان القرآن (ماہ ستمبر ۱۹۶۳ء) میں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: ’’ایران میں دین اور لادینیت کی کشمکش‘‘۔ اس مضمو ن کی اشاعت پر سفارت خانہ ایران نے سخت احتجاج کیا۔ اور ایک جوابی مضمون محمد علی زرنگار کے قلم سے ترجمان القرآن میں چھاپنے کے لیے بھیجا جو چھاپ دیا گیا۔ مگر اس کے باوجودحکومتِ پاکستان نے ترجمان القرآن کو چھ ماہ کے لیے بند کر دیا۔ بلکہ جنوری ۱۹۶۴ء میں جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ اور مجلس شوریٰ کے تمام ارکان اور خود مولانا مودودی نظر بند کر دیئے گئے۔ جماعت پر جو الزامات لگائے گئے، ان میں ایک یہ الزام بھی تھا کہ اس نے ایسے مضامین چھاپے ہیں جن سے پاکستان اور ایران کے دوستانہ تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا مودودی کا یہ موقف اور ترجمان القرآن کی یہ خدمت پورے پاکستان میں واحد آواز تھی جو ایران کے مظلومین کے حق میں بلند ہوئی۔ خود پاکستان کی شیعہ قیادت بھی اس زمانے میں ایران کی لادینی حکومت کے خلاف کوئی حرف زبان پر نہ لا رہی تھی۔‘‘ (۱۶)

مولانا خلیل حامدی کی اس بات کی تائید علامہ عارف الحسینی کے ان الفاظ سے ہوتی ہے جو انہوں نے اہل تشیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہے:

’’ 1963ء میں ایران کے شہر تہران اور قم میں جو شاہ کے خلاف اور امام خمینی کے حق میں مظاہرے ہوئے اور جن پر شاہ نے اس قدر بمباری اور فائرنگ کروائی کہ پندرہ ہزار افراد شہید ہو گئے لیکن یہاں پر آپ بتا سکتے ہیں کہ (پاکستان میں) کسی امام بارگاہ یا کسی مسجد سے کسی عالم دین نے صدائے احتجاج بلند کی ہو...کسی عالم دین نے شاہ کے خلاف نہ ٹیلی گرام دیا نہ یہاں لوگوں کو حالات سے آگاہ کیا۔ بلکہ اس کے برعکس ستم بالائے ستم یہ کہ اسی شیعہ پلیٹ فارم سے بعض افراد نے جو اپنے آپ کو اہل علم سمجھتےتھے، اس وقت شاہ کے حق میں نعرہ بلند کیا اور امام خمینی نیز دوسرے علما اور عوام جو اسلام کے لیے کام کر رہے تھے، ان کے خلاف مقالے لکھے۔ اور شاہ کے لیے مجالس میں باقاعدہ دعائیں کی گئیں۔ حتیٰ کہ ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں شا ہ کی تعریف کی گئی۔ ان حالا ت میں بھی جب پندرہ ہزار شیعہ قتل ہوئے ہم اور آپ نے مجلس عزا برپا کی نہ کوئی جلوس نکالا اور نہ کوئی ٹیلی گرام انہیں دیا۔ حالانکہ اس وقت بھی مولانا مودودی صاحب نے شاہ کے خلاف مقالہ لکھا جس کے نتیجہ میں ان کا ماہنامہ ترجمان القرآن بھی بند کر دیا گیا۔‘‘ (۱۷)

جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل مرحوم کے مطابق 1979ءمیں ایرانی انقلاب کے بعد ان کی قیادت نے ایرانی قیادت سے ملاقات میں اپنی تائید کا اظہار کیا تو ایرانی قیادت نے کہا کہ ایرانی بلوچستان ان کے لیے پریشان کن مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وہاں کے قبائل ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ ایرانی بلوچستان کی ساری آبادی سنّی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

میاں طفیل محمد کے بقول انھوں نے ایرانی بلوچستان میں اپنا ایک آٹھ رکنی وفد بلوچستان سے بھیجا جو مولانا عبدالمجید مینگل مرحوم، مولانا عبدالحمید مینگل، مولانا عبدالغفور اور دوسرے حضرات پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ پندرہ بیس دن وہاں رہے اور وہاں کے علمائے کرام سے بات کی اور انھیں سمجھایا۔ چنانچہ اس طرح ہماری کوششوں سے یہ مسئلہ حل ہو گیا۔(۱۸)

پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور اہل تشیع

پیر مہر علی شاہ کے سوانح نگار کے بقول قیام پاکستان سے قبل قادیانی فتنہ کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے تمام اسلامی فرقوں کے راہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ سنی اہل حدیث اہل قرآن کے علاوہ لاہور اور سیالکوٹ کے شیعہ مجتہدین نے بھی قادیانیت کے محاذ پرپیر صاحب گولڑہ کو اپنا سربراہ و نمائندہ بنانے کا اعلان کیا۔(۱۹)

دینی تحریکات

قیام پاکستان کے بعد جب آئین پاکستان کی بحث کو الجھانے کے لیے سیکولر پریس اور سیاسی نمائندوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ملک میں کس کا اسلام نافذ کریں سنی کا شیعہ کا، اہل حدیث کا؟ یا حنفی کا تو سنی اور شیعہ مکاتب فکر کے 32جید علماء نے 22متفقہ نکات پر ایک دستاویز حکومت کو پیش کی جس کی بنیاد پر قرار داد پاکستان پاس ہوئی جو ہر دور میں بننے والے آئین کا حصہ رہی ہے۔

1974ء میں ختم نبوت تحریک اور آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مسئلہ میں شیعہ سنی علما یکجان رہے ہیں۔ پندرہ بیس سال قبل جب ملک میں شیعہ سنی منافرت پھیلانے اور فرقہ واردیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش ہوئی توملی یکجہتی کونسل کی صورت میں تمام شیعہ سنی اکابر علماء اکٹھے ہوئے۔

اصولی اختلاف اور حضرت علیؓ کا اسوہ

حضرت ابوبکرؓ ،عمر و عثمانؓ کی نسبت اہل تشیع حضرت علیؓ کو خلافت کا اولین حق دار تصور کرتے ہیں لیکن اس اختلاف کا حل کیا ہے اور اہل السنت کے ساتھ اہل تشیع کے لیے قابل عمل رویّہ کیا ہے، اس بارے میں مولانا سید ریاض حسین نجفی کی بات قابل غور ہے:

’’رسولؐ اللہ کی سیاسی جانشینی کے مسئلے پر اختلاف رائے کے اظہار کے باوجود حضرت علیؓ نے ماقبل کی حکومت (خلافت ابو بکر ، عمر و عثمان)کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا بلکہ امت کے مفاد میں ان سے ہر طرح کا تعاون کیا اور درپیش معاملات میں اسلام کے اعلیٰ اہداف کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ لہٰذا ہم علی وجہ البصیرت سمجھتے ہیں کہ اس دور میں شیعان علیؓ کے لیے خود حضرت علیؓ کا اسوہ ہی نمونہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے، اور شیعوں کو حضرت علیؓ کی پیروی میں ہمیشہ اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور امت اسلامیہ کا مفاد پیش نظر رکھنا چاہیے۔‘‘ (۲٠)

اس میں شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کچھ اصولی اختلافات بھی ہیں،اس لیےہمیںیہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اسلاف نے اصولی اختلاف کے ہوتے ہوئے باہمی طور پر کیا رویّہ اختیار کیا؟حضرت علیؓ چونکہ شیعہ و سنی دونوں مکاتیب فکر کے لیے قابل احترام ہیں، اس لیے ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ اصولی اختلاف میں ان کا کیا رویہ تھا کیونکہ شیعہ سنی اختلاف صرف فروعی اختلاف نہیں بلکہ بعض جہتوں سے اصولی اور بنیادی اختلاف بھی ہے۔ حضرت علیؓ سےجب بعض لوگوں نے خارجیوں کے بارے میں سوال کیا:’’کیا یہ خوارج کافر ہیں؟‘‘جب خوارج وہ لوگ تھے جو جنگ ِ صفّین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے اور اس جنگ میں حضرت علیؓ اور حضرت امیرمعاویہؓ کے درمیان صلح کے لیے دونوں طرف سے  ایک ایک حَکم (ثالث) مقرر ہوئے لیکن یہ تحکیم کامیاب نہ ہوئی تو حضرت علیؓ کے لشکر کا ایک بڑا حصہ حضرت علیؓ سے اس بنیاد پر الگ ہوگیا کہ حضرت علیؓ نے انسانوں کو حَکم مان کر کفر کیا ہے کیونکہ حَکم کی حیثیت صرف اللہ کو حاصل ہے: اِنِ الْحکم اِلَّا لِلّٰہِ (۲۱)

 ان خارجیوں نے نہ صرف حضرت علیؓ بلکہ حضرت عثمانؓ پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا اور حضرت علیؓ کے خلاف مسلح ہوکر بغاوت بھی کی۔ لوگ آپ سے ان کے بارے میں شرعی حکم پوچھ رہے تھے کہ کیا یہ کافر ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا:

 ’’کفر سے تو یہ لوگ بھاگے ہیں‘‘۔

’’تو کیا یہ منافق ہیں؟‘‘

’’منافق تو اتنی عبادت گزاری نہیں کرتا جتنی یہ کرتے ہیں۔‘‘

’’تو پھر یہ کون ہیں؟‘‘

’’کل یہ ہمارے بھائی تھے، آج ہمارے خلاف باغی ہیں‘‘۔

’’ہم ان پر فتح پائیں گے تو ان کو غلام بنائیں؟‘‘۔

’’نہیں!‘‘

’’ان سے چھینا ہوا مال ، مالِ غنیمت ہوگا؟‘‘

’’بالکل نہیں‘‘۔

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ ان پر باغی کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ مرتد اور کافر کا نہیں‘‘۔ حضرت علیؓنے جواب دیا۔ ’’ان کے زخمیوں پر حملہ کر کے انھیں نہیں مارا جائے گا، ان کی عورتوں کو باندی نہیں بنایا جائے گا، ان سے جنگ ان کی اذیتوں سے بچنے کے لیے کریں گے، انھیں تباہ و برباد کرنے کے لیے نہیں‘‘۔

’’وہ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں‘‘۔

’’گناہِ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہوتا ہے ، کافر نہیں۔ خارجیوں کی تاویل فاسد ہے‘‘۔

’’وہ آپ کو بھی کافر کہتے ہیں‘‘۔

’’ہم انھیں کافر نہیں کہیں گے۔ ہم اس گڑھے میں نہیں گریں گے جس میں تکفیر کرنے والے گرے ہوئے ہیں‘‘۔

’’وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے: اِنِ الحکم اِلَّا لِلّٰہِ (فیصلہ اور حکم تو صرف اللہ کا ہے)۔ آپ نے باہمی نزاع میں دو آدمیوں کو حَکم (ثالث) تسلیم کرلیا، لہٰذا آپ نے آیاتِ قرآنی کا کفر کیا ہے‘‘۔

’’کلمۃ حقِ اُرید بِھا البَاطِل‘‘ ،بات تو حق ہے لیکن اس سے جو مرادلیا جارہا ہے وہ باطل ہے‘‘۔حضرت علیؓ نے انتہائی بلیغ جملہ ارشاد فرمایا۔ خارجیوں کی کھلی مخالفت اور تکفیر کے باوجود حضرت علیؓ نے واضح الفاظ میں انھیں کہا:

’’ہم پر تمھارے تین حقوق ہیں: پہلا یہ کہ ہم تمھیں مسجدوں میں آنے سے نہ روکیں۔ دوسرا یہ کہ تمھارا یا تمھارے بچوں کا بیت المال سے جو وظیفہ لگا ہوا ہے، اسے بند نہ کریں، تیسرا یہ کہ جب تک تم لوگ شروفساد برپا کرنے سے رُکے رہو گے، تب تک ہم تم سے کوئی جنگ نہ کریں گے‘‘۔ (۲۲)

حضرت علیؓ نے خارجیوں کو یہ ضمانت اس وقت دی جب کہ ان کا ہر فرد تربیت یافتہ مسلح جنگجو تھا اور کسی وقت بھی جنگ کے شعلے بھڑک سکتے تھے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف میں ہی نہیں بلکہ شروفساد کے دور میں حضرت علیؓ کا اپنے مخالفین سے یہ سلوک ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حدیثِ رسولؐ ہے: عَلَیکُم بِسُنّتی وسنۃ الخُلفاءِ الرّاشدین’’تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاکی سنت لازم ہے‘‘۔

خوارج نے حضرت علیؓ کی تکفیر کی، آپ پر بدترین تہمتیں لگائیں یعنی سابقون الاوّلون  اور بدری مسلمان پر جن کا اللہ کے ہاں خصوصی درجہ ہے۔ دامادِ رسولؐ پر، فاطمہؓ کے شوہر پر ، چوتھے خلیفۂ راشد پر، لیکن آپؓ نے:

۱- خارجیوں کی تکفیر کے جواب میں ان کی تکفیر نہیں کی۔

۲- ان کی تہمتوں کے جواب میں تہمت تراشی نہیں کی۔

۳- ان کی بغاوت کے امکان کے باوجود ان کے بنیادی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی، حق وظائف، مسلمانوں کی مسجدوں میں عبادت کرنے کا حق، سلب نہیں کیا۔

مسلمانوں کے ائمہ فقہا نے خارجیوں کی تکفیر سے پرہیز کیا ہے حالانکہ خارجی اپنے سوا دوسرے سب مسلمانوں کی تکفیر پر اصرار کرتے تھے۔ اور دوسروں کے مال و جان کی لُوٹ مار کو اپنے لیے مباح (جائز) سمجھتے تھے۔امام شوکانی اپنی کتاب ’’نیل الاوطار‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’علمائے اہلِ سنت کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ خارجی مسلمان ہیں چونکہ وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ، ارکان اسلام کی پابندی کرتے ہیں، مسلمانوں کی تکفیر انھوں نے غلط تاویل کی بنیاد پر کی ہے‘‘۔

امام غزالی اپنی کتاب التفرقۃ بین الایمان والزندقہ میں لکھتے ہیں:

’’توحید پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کے خون کو مباح قرار دینا غلطی ہے۔ جب تک کوئی واضح راہ نہ ملے، خوارج کی تکفیر سے احتراز کرنا چاہیے‘‘۔

ابن بطال کہتے ہیں:

’’جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ خارجی مسلمانوں میں شامل ہیں جیساکہ حضرت علیؓ سے ان کی تکفیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا کہ کفر سے تو یہ لوگ بھاگے ہیں‘‘۔

قاضی عیاضؒ، امام ابوالمعالیؒ، قاضی ابوبکر باقلانیؒ خوارج کی تکفیر کرنے کے قائل نہیں ہیں (۲۳)۔

ہماری رائے میں اسی سے ملتا جلتا مسئلہ ہمارے دور میں سُنّی اور شیعہ کا ہے۔ سُنّی مسالک اربعہ اوراہلِ حدیث اور احناف میں دیوبندی بریلوی کے اختلافات بنیادی نہیں ہیں۔ اصولِ عقیدہ میں یہ ایک ہی ہیں۔ البتہ سُنّی اور شیعہ کے اختلافات محض فقہی نوعیت کے نہیں بلکہ بعض بنیادی اختلافات بھی ہیں جیسے اہلِ تشیع کا تصورِ امامت جو اہلِ سنّت کے ہاں ایک گمراہی سے کم نہیں، جس کے باعث ہر فریق کی ایک تعداد ایک دوسرے کو کافر تصور کرتی ہے۔ اس معاملے میں خوارج کے بارے میں حضرت علیؓ کا طرزِعمل ہمیں ایسے اختلاف میں بھی رہنمائی دیتا ہے جس میں ہردو فریق ایک دوسرے کو کفر پر یا کم از کم گمراہی پر سمجھ رہا ہوتا ہے۔


حوالہ جات

۱۔ آل کاشف الغطاء، اصل اصول شیعہ (ترجمہ: سید ابن حسن نجفی)، ص ۱۱۵، شیعہ تبلیغات تحریک جعفریہ پاکستان، سن ن

۲۔ بحوالہ ثاقب اکبر: پاکستان کے دینی مسالک، ص ۲۵۳، البصیرہ، اسلام آباد، ۲٠۱٠ء

۳۔ اصل اصول شیعہ، ص ۱۵ تا ۱۲۳

۴۔ اصول الفقہ للمظفر، تہران ۲/۵۵

۵۔ حیدر حب اللہ: نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی، تہران، ص ۲۴

۶۔ نظریۃ عدالۃ الصحابۃ، تہران، ص ۷۷

۷۔ کلیات فی علم الرجال، تہران، ص ۴۹۴

۸۔ البدایۃ والنہایۃ، دار ہجر للطباعۃ، قاہرہ، ۲/۳۶٠

۹۔ مجموع الفتاوی ٰ، ج ۳۵، ص ۱۲۲

۱٠۔ رود کوثر، ص  ۵۷۸، ۵۷۹

۱۱۔ بحوالہ رود کوثر، ص ۵۷۹

۱۲۔ رود کوثر، ص ۵۷۹

۱۳۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی: نقوش عظمت رفتہ، ص ۵۲

۱۴۔ بزم ارجمنداں، ص ۴۹۶

۱۵۔ سید نثار ترمذی: نقیب وحدت علامہ عارف الحسینی، ص ۴۳

۱۶۔ تذکرہ مودودی، ج ۲، ص ۴۳۳، ادارہ معارف اسلامی، لاہور ۱۹۸۸ء

۱۷۔ بحوالہ نثار ترمذی: نقیب وحدت علامہ عارف الحسینی، ص ۱۳۹

۱۸۔ تذکرہ مودودی، ج ۲، ص ۷۷، ۷۸

۱۹۔ علامہ فیض احمد فیض: مہر منیر، ص ۲۳٠، ۲۳۱

۲٠۔ پاکستان کے دینی مسالک، ص ۲۵۱

۲۱۔ یوسف ۱۲:۴٠

۲۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۷۶۳۔ بیہقی، سنن کبری ٰ، ج ۸، ص ۱۷۳

۲۳۔ بحوالہ ڈاکٹر علامہ  یوسف القرضاوی: اسلامی بیداری، ص ۱۸٠۔۱۸۲


ہندو مذہبی صحائف میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاں

ایک تنقیدی جائزہ

مولانا مشفق سلطان

مسلمانوں میں اس بات کی بڑی شہرت ہو گئی ہے کہ ہندو مذہبی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق واضح پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ ایک زمانے میں  میرا بھی یہی خیال تھا اور اس کو بڑے زور کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان بھی کرتا رہا۔ تاہم بعد میں جب براہ راست ہندو صحائف کے مطالعے کا موقع ملا اور ان پیشن گوئیوں کے بارے میں ہمارے مبلغین کی تاویلات کو دقت نظر کے ساتھ پرکھا تو اپنی سابقہ رائے کو تبدیل کر لیا۔ پچھلے سالوں میں کئی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہندو مذہبی متون کو اپروچ کرنے کا جو نہج بعض مسلم مبلغین نے اختیار کیا ہے وہ انتہائی سطحی اور ناقص ہے۔ ان شخصیات سے والہانہ عقیدت کی بنا پر مسلمانوں نے بلا تحقیق ان کی باتوں کو اختیار کر لیا اور ہندو عوام سے مکالمے (بلکہ مناظرے) کے لیے اکثر لوگ انہی باتوں کو استعمال کرتے رہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تحقیقی ذوق پہلے ہی مفقود ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جب کوئی مسلمان سنسکرت کتابوں کے حوالے دے کر، کچھ منتروں کو (اکثر غلط تلفظ کے ساتھ) دہرا کر اسلام کی صداقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو داد تحسین ضرور حاصل ہوتی ہے۔

میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ میں اس بارے میں کوئی مضمون لکھوں لیکن اپنی مصروفیت اور صحت کے بعض مسائل کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ اپنی آئندہ تحریروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان مزعومہ پیشن گوئیوں پر میں اپنا تجزیہ پیش کروں گا۔ سب سے پہلے 'کَلکی اوتار' کی پیشن گوئی کو دیکھتے ہیں جس کا مصداق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

'کَلکی اوتار' کی پیشن گوئی 'پُران' (Purana) نامی کتب میں موجود ہے۔ ہندو مذہبی کتب میں ان کی استنادی حیثیت اتنی مضبوط نہیں ہے۔ تاہم عوام الناس میں یہی کتابیں زیادہ مقبول ہیں۔ کَلکی اوتار سے متعلق پیشن گوئی بنیادی طور پر 'بھاگوت پران' اور خاص اسی موضوع پر اسی نام سے موسوم 'کَلکی پران' میں موجود ہے۔ انہی دو کتابوں کو سامنے رکھ کر ہم اس پیشن گوئی کا تجزیہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا فی الواقع ان میں مذکور تفصیلات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے مطابقت رکھتی ہیں، جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے، یا نہیں۔

کَلکی اوتار کے والدین

तत्                श्रुत्वा        पुण्डरीकाक्षो     ब्रह्मानमिदमब्रवीत्

शम्भले           विष्णुयशसो                   गृहे           प्रादुर्भावाम्यहम्

सुमत्यां मातरि विभो! पत्नीयां तवन्निदेशतः

"پنڑری کاکش وِشنو بھگوان برہما جی کی ان باتوں کو سن کر کر برہما جی سے کہنے لگے کہ میں تمہارے کہنے سے 'شَمبھل' نامی گاؤں میں 'وِشنو یَش' نام والے براہمن کے گھر 'سُمَتی' نامی براہمن کی بیٹی کے حمل سے پیدا ہوؤنگا۔" (کلکی پران۔ ادھیاے 2، اشلوک 4)

تب وشنو یش سے سُمَتی حاملہ ہوئی، اس طرح کہ ان کے رحم میں وشنو بھگوان ودیہ مان ہوئے۔ (ایضاً، اشلوک11)

اس شلوک میں میں وشنو کے اوتار کلکی کے والد کا نام 'وِشنو یَش' (Vishnu Yash) اور والدہ کا نام 'سُمَتی' (Sumati) بتایا گیا ہے۔

ان ناموں کے بارے میں ہمارے مبلغین فرماتے ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے اسماء کے سنسکرت بدل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کلکی اوتار کے والد کا نام 'وِشنو یش' (विष्णुयश) آیا ہے جس کے معنی 'اللہ کے بندے' کے ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک وِشنو سے مراد اللہ ہے اور یَش کے معنی بندے کے ہیں۔ لیکن حقیقت میں سنسکرت زبان کے لفظ 'یش' کا مطلب 'بندہ' نہیں ہے۔ بلکہ اس لفظ کے معنی 'جلال' یا 'عظمت' کے ہیں۔ تو 'وشنو یش' کے معنی ہوں گے 'وشنو کا جلال' یا 'وشنو کی عظمت'۔ کسی شخص کا اگر یہ نام ہو تو اس کا مطلب ہوگا وہ جس کے اندر وشنو کا جلال یا عظمت ظاہر ہو۔ اس کا عربی مترادف 'عبد اللہ' نہیں بلکہ 'جلال  اللہ' یا 'بہاء اللہ' ہوگا۔

اسی طرح کلکی اوتار کی والدہ کا نام 'سُمتی' (सुमति) بتایا گیا ہے۔ اس پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نام کے معنی 'امانت دار' یا 'امن والی' کے ہیں اور عربی میں اسے 'آمنہ' کہیں گے۔ یہ معنی بھی محل نظر ہیں۔ سنسکرت لغت میں 'متی' (मति) کے معنی 'عقل'، 'فہم' یا 'علم' کے آتے ہیں۔ 'سُ' (सु)  ایک سابقہ (उपसर्ग)ہے جو کسی صفت سے قبل آنے پر ایک چیز کو مثبت انداز میں اس صفت سے متصف بناتا ہے۔ تو لفظ 'سُمتی' کے معنی ہوتے ہیں 'علم والی'، 'فہم والی' یا 'عقل والی'۔ 'امن والی' یا 'امانت دار' اس کے معنی نہ جانے کس لغت میں ہیں۔ اس کے عربی مترادفات 'علیمہ'، 'عقیلہ' وغیرہ جیسے الفاظ ہیں۔

لہذا کلکی اوتار اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے والدین کے ناموں میں مطابقت موجود نہیں ہے بلکہ خواہ مخواہ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کلکی کا مقام پیدائش

کلکی پران کے اسی شلوک میں کلکی کا مقام پیدائش 'شَمبھل' (शम्भल/Shambhal) بتایا گیا ہے۔

ہمارے یہ حضرات لکھتے ہیں کہ یہ نام لفظ 'شَم' (शम्) سے بنا ہے جس کے معنی 'امن' کے ہوتے ہیں۔ اور لفظ 'شمبھل' ایسےمقام کو کہتے ہیں جہاں لوگوں کو امن حاصل ہو۔ اس کے بعد وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کو قرآن مجید میں 'بلد امین' کہا گیا ہے اور سورہ آل عمران کی آیت 97 میں اسی کے بارے میں 'ومن دخله كان امنا' آیا ہے۔ اس لیے ان حضرات کے نزدیک شمبھل سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نام کا کوئی مقام ہندوستان میں موجود نہیں ہے ۔ کوئی بھی شخص جو ہندوستان کے جغرافیے سے کسی قدر واقف ہے جانتا ہے کہ یہ دعوی  درست نہیں ہے۔ 'شمبھل' نام کا مقام ہندوستان کی ریاست اُتر پردیش میں دریائے گنگا کے نزدیک واقع ہے۔ اس مقام کے ہوتے ہوئے، لفظ شمبھل کو اسم کے بجائے صفت قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ زبان کے قواعد کی رو سے اسے درست تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تو ہر کسی کتاب میں موجود اسماء کو صفات قرار دے کر ان کا کچھ سے کچھ مطلب لیا جاسکتا ہے۔

کلکی کی تاریخِ پیدائش

द्वादश्या       शुक्लपक्षस्य         माधवे          मासि            माधव

जात ददृशतु पुत्र पितरौ ह्रष्टमानसौ

"بیساکھ مہینے کے پہلے نصف حصے میں بارہویں کے دن بھگوان پیدا ہوئے۔ ان کو پیدا ہوتے دیکھ ان کے والدین کو انتہائی مسرت ہوئی۔" (ایضاً؛ اشلوک 15)

کلکی پران کے اس اشلوک میں کلکی کی تاریخ پیدائش بیساکھ مہینے کی بارہویں بتائی گئی ہے۔ اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ یہ وہی تاریخ ہے جو ہمارے قمری حساب سے بارہ ربیع الاول بنتی ہے، جو کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل فراہم نہیں کی جاتی جس سے یہ دکھایا جا سکے کہ571 عیسوی کے 12 ربیع الاول کی مطابقت بیساکھ کی 12 تاریخ سے ہوتی ہو۔

کلکی کی پیدائش اور ابتدائی زندگی  سے متعلق چند تفصیلات

کلکی پران میں مذکور کلکی سے متعلق  بعض تفصیلات ایسی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی زندگی سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔

ا۔  وشنو یش براہمن نے کلکی روپ بھگوان کی ترقی اور بہتری کی غرض سے صاف دل ہو کر بڑے  بڑے رِگویدی ، یَجُرویدی  اور سام ویدی براہمنوں سے ان کا نام کرن کرایا۔  (ادھیاۓ2، اشلوک23)

ب۔ کلکی بھگوان سے پہلے ان سے بڑے اور تین بھائی پیدا ہوئے تھے۔ ان تینوں کے نام کَوی، پرا گیہ اور سُمنترک تھے۔ (ایضاً، اشلوک31)

ج۔کلکی کے والد وشنو یش کلکی کا اُپ نَیَن سَنسکار کرکے ان کو ویدوں کی تعلیم حاصل کرنے کے لیےگروکل بھیجتے ہیں۔(ایضاً، اشلوک 49)

د۔ کلکی گروکل میں پرشُرام جی سے روایتی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور چونسٹھ فنون سمیت سانگ اُوپانگ وید اور دھنور وید وغیرہ پڑھتے ہیں۔  (ادھیائے 3، اشلوک6)

ان حوالہ جات سے درج ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

١۔ کلکی کی پیدائش کے وقت ان کے والد زندہ ہوں گے اور ان کا نام خود رکھوائیں گے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کی ان کی پیدائش کے وقت ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

٢۔کلکی کی پیدائش سے قبل ان کے تین بھائیوں کی ولادت ہو چکی ہوگی۔ محمد صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات درست نہیں ہے۔

٣۔کلکی کے والد ہندو دھرم کے مطابق اپنے بیٹے کا اپ نین سنسکار کریں گے اور ویدوں کی تعلیم کے لیے باقاعدہ گروکل میں رہنے کے لیے  بھیجیں گے جہاں وہ روایتی تعلیم حاصل کریں گے۔ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی نہ کسی مدرسے میں داخلہ لیا۔

یہ سب تفصیلات بھی رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

کلکی اوتار کی ازدواجی زندگی

کلکی پران میں ہے کہ کلکی کا بیاہ سِنگھل دیش کے راجا کی بیٹی پَدما سے ہوگا۔ (ادھیاۓ 2، اشلوک6)

کلکی پران میں کلکی کی صرف ایک زوجہ کا ذکر ہے۔  صاف ہے کہ کلکی کی ایک ہی زوجہ ہوں گی اور وہ بھی ان کے اپنی وطن کی نہیں بلکہ سنگھل دیش یعنی سری لنکا کی رہنے والی ہوں گی۔ رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کی گیارہ ازواج مطہرات تھیں اور سنگھل دیش سے کسی کا بھی تعلق نہیں تھا۔

کلکی اوتار کی صفات

کلکی اوتار کی بعض دوسری صفات اور ان کے ذاتی حالات جو کلکی پران میں مذکور ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ تنہا ان کی بنیاد پر محمد صلی الله علیہ وسلم کو اس پیشن گوئی کا مصداق قرار دیا جا سکے۔ مثلا یہ کہ کلکی ایک سفیدگھوڑے پر سوار ہو کر، ہاتھ میں تلوار لئے تیز رفتاری سے پورے زمین کا سفر کریں گے اور لاکھوں کی تعداد میں ایسے برے لوگوں کا قتل عام کریں گے جو مختلف مقامات پر حکومت کر رہے ہوں گے(بھاگوت پران  حصہ ۱۲، ادھیائے ۲، اشلوک ۱۹)۔ اس سے لوگ بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بھی تو جنگوں میں شریک ہوئے اور اپنے دشمنوں کا قتل کیا۔ اس لئے آں حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کلکی اوتار ہیں۔ اول تو رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم نےتمام روئے زمین کا سفر ایک گھوڑے پر نہیں کیا اور نہ یہ ایسی کوئی بات ہے جو کسی دوسرے حکمران یا فاتح پر صادق نہ آ سکے۔ رہی کلکی اوتار کی بعض خوبیاں اورحکمت، تواضع، شجاعت وغیرہ جیسے اوصاف، تو یہ کسی پر بھی منطبق کئے جاسکتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر قطعاً کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

خلاصۂ کلام

اس تجزیے کی رو سے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کلکی اوتارکی پیشن گوئی کا مصدق قرار دینا محض تکلف ہے۔ اس کے لیے کلکی کے بعض ذاتی احوال کو یکسر صرف نظر کیا جاتا ہے اورسنسکرت الفاظ اور عبارات کے غلط معنی بیان کئے جاتے ہیں۔

اس طرح ہندو مذہبی صحائف کی من مانی تشریح سے دین اسلام کی خدمت کے بجاے، ہماری دعوت کو نقصان پہنچتا ہے۔ دین کی دعوت ہر حال میں محکم بنیادوں پر استوار رہنی چاہئے۔

’’سائنسی دور اور مذہبی بیانیے‘‘

محمد عمار خان ناصر

مصنف: مولانا محمد تہامی بشر علوی

ناشر: اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ،  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

صفحات: ۱٠٠

عالمِ شہود کے ساتھ ایک عالمِ غیب کا وجود اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کا سوال انسانی شعور کے لیے ایک غیر فانی سوال کے طور پر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور کو جن گہرے اور پیچیدہ سوالات کا سامنا ہے، عالم شہود ان کا جواب فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہے، اور خود عالم شہود اور اس کے مختلف مظاہر کی تفہیم وتوجیہ کے لیے انسانی شعور کو مابعد الطبیعیاتی تصورات اور ان پر مبنی ایک نظام وجود کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اساطیری مذاہب میں متھالوجی، مبنی بر وحی مذاہب میں عالم غیب کی نقشہ کشی اور فلسفے کی روایت میں مابعد الطبیعی نظام ہائے فکر انسانی شعور کی اسی طلب کو پورا کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔

انسانی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ عالم شہود اور عالم غیب کے باہمی تعلق کی نوعیت کو اور خاص طور پر اس پہلو کو سمجھنے میں کہ عالم غیب سے متعلق انسان کے تصورات کو کس حد تک عالم شہود میں اس کے فکر وعمل پر اثر انداز ہونا چاہیے، یہ نکتہ بہت بنیادی رہا ہے کہ خود عالم شہود سے متعلق انسان کو عقل وتجربہ کے دائرے میں کس طرح کی معلومات اور اس میں تصرف وتسخیر کی کس نوعیت کی صلاحیت حاصل ہے۔ تاریخی طور پر، عقل وتجربہ کے دائرے میں عالم شہود سے متعلق علم اور اس کے نتیجے میں تصرف وتدبیر کا دائرہ وسیع تر ہوتے چلے جانے کا براہ راست اثر عالم غیب سے متعلق انسانی تصورات واحساسات پر مرتب ہوتا رہا ہے اور جدید سائنسی معلومات واکتشافات نے اسی تناظر میں فلسفیانہ فکر اور مذہبی اعتقاد، دونوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

دور جدید میں مسلمانوں کی دینی فکر میں سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کا سوال کئی حوالوں سے موضوع بحث ہے، لیکن وہ عمومی طور پر بعض جزوی حوالوں سے ہے اور اس میں زیربحث پہلو بھی عموما مسئلے کی ظاہری سطح سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذہبی فکر میں سائنس کو عموما ٹیکنالوجی کے ہم معنی یا کائناتی مظاہر سے متعلق معلومات کی فراہمی کا ایک ذریعہ سمجھتے ہوئے یہ پوزیشن اختیار کی جاتی ہے کہ موضوعات کا دائرہ الگ الگ ہونے کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں کوئی تصادم نہیں اور یہ کہ سائنسی تحقیق وتفتیش، اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہب کے لیے کوئی سوال کھڑا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم ایک خاص سطح پر یہ بات درست ہونے کے باوجود، جدید سائنسی تصور کائنات نے براہ راست نہ سہی، لیکن بالواسطہ مذہبی عقیدے، انداز فکر اور طرز احساس پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں اور بہت بنیادی نوعیت کے سوالات کو جنم دیا ہے۔مذہبی فکر میں اس صورتِ حال اور اس کے مضمرات کے گہرے ادراک کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

برادرم مولانا محمد تہامی بشؔر علوی نے زیرِ نظر تحریر میں اس سوال کے بہت اہم پہلووں کے حوالے سے اپنے غور وفکر اور مطالعہ کے نتائج پیش کیے ہیں۔ ان کا اسلوب تحریر کافی compact ہے اور یہ فرض کر کے بات کو آگے بڑھاتا ہے کہ قاری بحث کے پسِ منظر اور اہم مباحث سے عمومی طورپر واقف ہے۔ گویا یہ تحریر ایک عام اور نئے قاری کے لیے بحث کی تسہیل وتفہیم کے لیے نہیں لکھی گئی، بلکہ اس کا مخاطب مذہب اور سائنس کے ڈسکورس سے علمی واقفیت رکھنے والے اہلِ دانش ہیں۔ مزید تخصیص کے ساتھ یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ تحریر مذہبی علماء اور اساتذہ وطلبہ کو مسئلے کی وسیع تر جہات اور نہایت اہم اور نازک سوالات کی طرف متوجہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس کے بہت سے تجزیاتی نکات سے اختلاف ممکن ہے اور مذہبی روایت کے بعض پہلووں کی تفصیل کے حوالے سے بھی تشنگی محسوس ہوتی ہے، لیکن اپنے بنیادی مقصد کے لحاظ سے اسے ایک کامیاب اور مفید کوشش قرار دینے میں مجھے کوئی تردد محسوس نہیں ہوتا۔

امید کرنی چاہیے کہ اس موضوع پر سنجیدہ غور وفکر اور بحث ومباحثہ کو درست خطوط پر آگے بڑھانے میں مولانا بشؔر علوی کی یہ کوشش مفید ثابت ہوگی اور مصنف کے علاوہ دیگر اہلِ دانش بھی بحث کے کئی دوسرے تشنہ پہلووں پر بھی اسی طرح توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

کتاب بذریعہ ڈاک منگوانے کے لیے حافظ محمد طاہر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:

+92 306 6426001