جنوبی ایشیا میں دینی مدرسہ
تاریخی تغیرات اور موجودہ صورت حال
محمد عمار خان ناصر
دینی مدارس کے نصاب میں اعلی ٰ ثانوی سطح تک عصری تعلیم کے مضامین کی شمولیت کے حوالے سے حکومت اور مدارس کے وفاقوں کے مابین ایک معاہدے کی اطلاعات کچھ عرصے سے گردش میں ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن اور مالی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے بھی کئی اہم امور پر گفت وشنید چل رہی ہے، جبکہ وقف شدہ اداروں سے متعلق انتظامی وقانونی اختیارات سرکاری افسران کو منتقل کرنے کے حوالے سے بھی ایک متنازعہ قانون سازی پچھلے چند ماہ سے حکومت اور دینی قیادت کے مابین کشاکش کا عنوان ہے۔ اس پس منظر میں اور اسی تسلسل میں گذشتہ فروری میں دینی مدارس کے کچھ نئے بورڈز قائم ہوئے جنھیں ریاستی توثیق دی گئی ہے۔ زیرنظر سطور میں اس ساری صورت حال کے تاریخی پس منظر پر عموما اور حالیہ پیش رفت کی نوعیت پر خصوصا کچھ گذارشات پیش کرنا مقصود ہے۔
مدارس کے نئے بورڈ باقی مکاتب فکر میں بھی قائم ہوئے ہیں، لیکن دیوبندی مدارس کا ایک نیا بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ بوجوہ زیادہ زیربحث ہے۔ اس پر گفتگو تین مختلف سطحوں پر ہو رہی ہے جن کی اپنی اپنی اہمیت ہے:
پہلی سطح کا تعلق دیوبندی مدارس کی داخلی پالیٹکس سے ہے اور سوشل میڈیا پر زیادہ تر یہ بحث اسی سطح پر کی جا رہی ہے۔ ایک بہت بڑا طبقہ وفاق المدارس کی مرکزیت کو قائم رکھنے کا حامی ہے، جبکہ ایک خاصا بڑا طبقہ مختلف اسباب، تجربات اور شکایات کی بنیاد پر ایک متبادل انتظامی بندوبست کو ضروری سمجھتا ہے۔ دونوں کا موقف اور دلائل تفصیل سے سامنے آ چکے ہیں۔ ہمیں اس پہلو سے زیادہ دلچسپی نہیں، اور ویسے بھی یہ دیوبندی حلقے کا ایک داخلی معاملہ ہے۔
دوسری سطح پر بحث اس حوالے سے ہو رہی ہے، اگرچہ اس کا تناسب بہت کم ہے، کہ مدارس کے طلبہ اور فضلاء کو دینی اسناد کی توثیق وغیرہ کے حوالے سے جن مشکلات کا سامنا ہے، نئے انتظامی اقدامات سے وہ کس حد تک حل ہو رہے ہیں یا ہو سکتے ہیں یا نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب نے اس پہلو سے تفصیلا اظہار خیال فرمایا ہے۔
تیسری سطح تعلیم اور جدید ریاست کے باہمی ربط اور اسلامی تاریخ کے روایتی مدرسے اور جدید دور کے مدارس کے باہمی تقابل سے متعلق ہے۔ اس سطح پر گفتگو بالکل ہی نادر ہے اور غالبا محمد دین جوہر صاحب کی ایک تحریر کے علاوہ گفتگو اور تجزیے کا یہ پہلو موجودہ سیاق میں نظروں سے بالکل اوجھل ہے، اگرچہ اس سے پہلے وقتا فوقتا اس پر مختلف جوانب سے کچھ بات کی جاتی رہی ہے۔
جو مختصر معروضات پیش کرنا مقصود ہے، وہ بنیادی طور پر اسی دوسری اور تیسری سطح سے متعلق ہیں۔ مسئلے کی دوسری اور تیسری جہت دراصل ایک ہی بات کے دو پہلو ہیں، لیکن ہمارے ہاں اس کے صرف ایک پہلو پر بات ہوتی ہے، یعنی مدارس کی دینی اسناد کی ریاستی توثیق کی ضرورت، جبکہ مدرسے کے تاریخی کردار اور نوعیت میں رونما ہونے والی تبدیلی کہیں زیربحث نہیں آتی۔ سو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آج کے مدرسے کے لیے اسناد کی ریاستی توثیق کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے روایتی مدرسے میں یہ سوال موجود نہیں تھا، کیونکہ مدرسے کا تصور ہی یہ نہیں تھا۔
اسلامی تہذیب میں دینی علم اور اس کے تسلسل کی اہمیت مسلم تھی اور یہ ذمہ داری فطری طور پر علماء کے سپرد تھی۔ اسلامی تاریخ کی ابتدا سے ہی علماء یہ ذمہ داری اپنے شخصی علمی مقام کی بنیاد پر انجام دیتے آ رہے تھے۔ جو عالم جس علم میں کمال پیدا کر لیتا تھا، اس علم کے طلبہ اس کے گرد جمع ہو جاتے اور کسب فیض کرتے رہتے تھے۔ بعد کے ادوار میں حکومتی انتظام یا وقف کی سماجی روایت کے تحت باقاعدہ مدرسے بھی قائم ہونے لگے، لیکن اس انتظام کی نوعیت ایک اجتماعی ضرورت کی تکمیل میں علماء کو سہولت پہنچانے کی تھی۔ علماء کو اپنے علم کے مستند ہونے یا اپنے طلبہ کو استناد منتقل کرنے کے لیے کسی ریاستی توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
استعماری دور میں اس بندوبست کے بڑی حد تک معطل ہو جانے اور سرکاری وغیر سرکاری انتظام میں جدید تعلیم کی عمومی ترویج کی مساعی کے تناظر میں مدرسے کے ادارے نے ایک بدلی ہوئی صورت حال میں اپنی ہیئت اور کردار ازسرنو متعین کیا۔ ان میں سب سے اہم تبدیلی یہ تھی کہ مدرسے کے اہداف میں دینی علوم کی روایت کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم وثقافت کے اثرات کی مزاحمت کو بھی شامل کیا گیا جس کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ، ماضی کے برعکس، مدارس بڑے پیمانے پر اور کثرت سے ملک کے طول وعرض میں قائم کیے جائیں اور ان میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کے داخلے کی گنجائش پیدا کی جائے جو یہاں سے ایک دینی تربیت لے کر معاشرے میں واپس جائیں اور عوام الناس کے دینی تشخص اور دینی وابستگی کو محفوظ رکھنے کے لیے ائمہ، خطباء اور مبلغین ودعاۃ کی صورت میں کردار ادا کریں۔ وقف کا سیٹ اپ ختم ہو جانے کی وجہ سے اخراجات کے لیے عوامی چندے کا طریقہ اختیار کر لیا گیا جس کے اپنے گہرے اور دور رس اثرات ہیں۔ ذرائع آمدن عوامی صدقات وخیرات پر مبنی ہونے کی مناسبت سے جلد ہی معاشرے کے بے سہارا اور یتیم بچوں کی کفالت بھی مدارس کے دائرہ کار میں شامل ہو گئی اور یوں تعلیم وتبلیغ کے ساتھ ساتھ ایک رفاہی اور خیراتی ادارہ ہونے کا پہلو بھی مدرسے کے تشخص کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔
اہداف کی تبدیلی، ترجیحات کی تبدیلی کو مستلزم ہوتی ہے اور ترجیحات ایک زنجیر کی صورت میں ہوتی ہیں جو یکے بعد دیگرے تبدیل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ تاریخی مدرسے کا ہدف محدود تعداد میں عالی استعداد کے حامل علماء اور اساتذہ پیدا کرنا تھا۔ جدید مدرسے نے اپنا ہدف بڑی تعداد میں ’’فضلائے مدارس“کی تیاری متعین کیا تو اس کے کچھ عملی نتائج نکلنا ناگزیر تھا۔ مدارس کے نصاب ونظام سے متعلق پچھلی ایک صدی کا سارا بحث ومباحثہ انھی نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔ ان میں سے دو نتائج سب سے نمایاں ہیں۔
ایک، نصاب کی تسہیل وترمیم اور داخلے اور حصول سند کے لیے مطلوب علمی استعداد کے معیار میں مسلسل تخفیف
دوسرا، اتنی بڑی تعداد میں فضلاء کی معاشرے میں کھپت کا مسئلہ
بدقسمتی سے مدارس کے حلقوں میں اس تاریخی تبدیلی کا شعوری ادراک نہ ہونے کی وجہ سے جو اس نئے مرحلے پر پیدا ہوئی تھی، ان دونوں نتائج کے حوالے سے سخت ذہنی ابہامات، تضاد فکر اور بعض صورتوں میں ایک حالت انکار کی فضا غالب رہی ہے۔ چونکہ یہ شعوری ’’اعتراف “ موجود نہیں تھا کہ مدرسے کا ہدف اب صرف اعلی سطح کے چنیدہ علماء پیدا کرنا نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں مبلغین تیار کرنا ہے، اس لیے کئی دہائیوں تک یہ کشمکش چلتی رہی کہ نصاب کی تسہیل کی جائے یا نہ کی جائے۔ یہ کام عملا ناگزیر تھا، اس لیے ہوا، لیکن ایک لمبی تدریج کے ساتھ اور بہت ہی غیر محسوس طریقے سے ہوا تاکہ مخالف عناصر زیادہ اضطراب کا شکار نہ ہوں۔
اسی طرح فضلاء کی کھپت کے سوال سے بھی عرصہ دراز تک اغماض برتا جاتا رہا اور مدرسے کے طلبہ کو یہ بات ایک دینی فریضے کے طور پر باور کرائی جاتی رہی کہ ان کو دینی تعلیم کے لیے منتخب کر لیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دنیا وآخرت بس دینی تعلیم سے وابستہ رہے اور وہ دائیں بائیں کسی اور طرف متوجہ نہ ہوں۔ چنانچہ ایک طرف عصری تعلیم کے مضامین کو سنجیدگی کے ساتھ اور مطلوبہ ضرورت کے مطابق مدارس کے نصاب میں جگہ دینے سے پہلو تہی کی گئی اور دوسری طرف اپنے طور پر عصری تعلیم کے امتحانات پاس کرنے والے طلبہ کی شدید حوصلہ شکنی بلکہ مدرسے سے خارج تک کر دینے کا رویہ اختیار کیا گیا اور یہ ماحول دس بیس سال پہلے تک مدارس میں موجود رہا ہے۔
دینی اسناد کی ریاستی توثیق کا سوال بنیادی طور پر ایک تو فضلائے مدارس کی کھپت کے مسئلے سے پیدا ہوتا ہے، اور اس کی دوسری اہم جہت تعلیم اور جدید ریاست کے باہمی تعلق کی ہے۔ تعلیم عامہ کا کوئی بھی ایسا نظم جو ایک خاص طرح کی گروہی شناخت پیدا کرتا ہو، جدید قومی ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں رہ سکتا، کیونکہ تشکیل شناخت کا سوال جدید ریاست کے لیے ایک وجودی سوال ہے، یعنی ریاست کی بقا اس سے وابستہ اور اس پر منحصر ہے۔ دینی مدارس کی قیادت نے انتہائی سادہ فکری یا خوش فہمی سے ان دونوں پہلووں کی اہمیت سے مسلسل صرف نظر کیا اور اس ادراک سے بالکل قاصر رہی کہ اتنے بڑے پیمانے پر قائم دینی تعلیم کے نظام کو ریاستی توثیق اور ریاستی دائرہ اختیار سے الگ رکھنا ہمیشہ کے لیے ممکن نہیں ہے۔
مدارس کی قیادت تارکان دنیا اور ابلہان مسجد پر مشتمل نہیں تھی، بلکہ مذہبی سیاست کے میدان میں ریاست اور ریاستی نظام طاقت کے ساتھ مسلسل تعامل کر رہی تھی اور ریاستی اشرافیہ کے انداز فکر نیز مختلف اور متنوع عالمی حرکیات سے بھی پوری طرح واقف تھی۔ اس کے باوجود، مناسب اور سازگار حالات میں، جبکہ ابھی ریاستی نظام عبوری تشکیلی مراحل میں تھا اور مدارس اپنی شرائط پر ریاست کے ساتھ معاملہ کرنے کی پوزیشن میں تھے، دینی تعلیم اور ریاستی نظام کے مابین ایک مثبت، متوازن اور مبنی بر اعتماد تعلق وجود میں لانے سے گریز کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس مدارس کو ریاستی توثیق کے نظام سے الگ رکھنے کو مدارس کی آزادی اور خود مختاری کا عنوان دے کر بنیادی طور پر مذہبی سیاست کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
مزید حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں خود فضلائے مدارس کی اپنی نمایاں ہوتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر، دینی اسناد کی ریاستی توثیق کے حوالے سے سلسلہ جنبانی شروع کیا گیا، لیکن خوش فہمی سے باہر نکلنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت پھر بھی محسوس نہیں کی گئی کہ ابتدائی مراحل پر بعض سیاسی اسباب سے ریاست کا رویہ مبنی بر رعایت ہو سکتا ہے، لیکن جلد یا بدیر ریاست اس توثیق کو لامحالہ اپنی شرائط سے مشروط کرے گی۔
فضلائے مدارس کی کھپت کے مسئلے اور تعلیم عامہ کے کسی بھی نظام کے ساتھ جدید ریاست کے لازمی تعلق کے ان دو بنیادی عوامل کے ساتھ دو اور عوامل شامل ہوئے جنھوں نے اس مرحلے کی طرف پیش قدمی کی راہ ہموار کی جہاں آج ہم کھڑے ہیں۔ یہ عرض کیا گیا کہ جدید ریاست اپنے حدود میں تشکیل شناخت کے سوال پر کمپرومائز نہیں کر سکتی اور خاص طور پر اگر کسی شناخت کے ساتھ نقض امن اور ریاست مخالف بیانیے کا پہلو شامل ہو جائے تو پھر تو کوئی کمزور سے کمزور ریاست بھی اس سے صرف نظر کا تحمل نہیں کر سکتی۔
دینی مدارس جس طرح کی گروہی شناخت تشکیل دیتے ہیں، اس میں فرقہ واریت اور (بالخصوص دیوبندی مدارس کے تناظر میں) سیاسی مفہوم میں اسلام کے عالمی احیاء کی خواہش، نہایت توانا فکری عناصر کے طور پر شامل ہیں۔ یہ دونوں عناصر جس حد تک ریاستی مفاد کے تابع اور ریاستی طاقت کے لیے مددگار رہے ہیں، ریاست ان کی باقاعدہ سرپرستی کرتی رہی ہے اور حسب ضرورت اب بھی کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں یہ فکری عناصر ریاست کی طے کردہ حدود سے متجاوز ہو کر خود ریاست کے لیے اور ریاست کی بین الاقوامی پالیسیوں کے لیے مسائل پیدا کرنے کا موجب بن گئے۔
ظاہر ہے، اس میں ریاستی کردار کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ دینی تعلیم کے نظام کو ریاستی نظم وضبط کے دائرے میں لانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر دباو بڑھنا شروع ہو گیا اور پچھلی دو دہائیوں میں مدارس کی طرف سے پہلے سخت، پھر نسبتا لچک دار اور آخر میں کمزور مزاحمت کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد، آج ریاست اس پوزیشن میں بھی ہے اور اس کے لیے پرعزم بھی کہ دینی اسناد کی توثیق اب مدارس کی شرائط اور ترجیحات پر نہیں، بلکہ ریاست کی شرائط اور ترجیحات پر کی جائے گی۔ (وہ شرائط اور ترجیحات کیا ہیں اور کتنی حکمت وفراست پر مبنی ہیں، یہ ایک الگ بحث ہے)۔ دوسری طرف مدارس کے ایک بہت بڑے حلقے میں بھی اس حقیقت کا ادراک کر لیا گیا ہے کہ اس محاذ پر مزاحمت کی پوزیشن کو برقرار رکھنا فضلائے مدارس کی سماجی ضروریات کے لحاظ سے بھی ممکن نہیں، اور ریاست کے عزم مصمم کو بھی مزید کسی دباو سے پسپا نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف نئے بورڈز کی تشکیل اور مختلف انفرادی دینی اداروں کی اسناد کے لیے ریاستی توثیق کے حصول کی حالیہ پیش رفت اسی ادراک حقائق کا نتیجہ ہے۔
اس تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ دینی تعلیم کی ریاستی توثیق کے مسئلے کو ہمارے ہاں معروضی حقائق کے تناظر میں اور دینی اداروں، معاشرہ اور ریاست کے مابین ایک مجموعی انسجام کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا گیا، بلکہ بنیادی طور پر مذہبی سیاست کے ایک ایشو کے طور پر برتا گیا ہے۔ ایک زاویے سے دیکھا جائے تو درست سمت میں پیش قدمی نہ ہونے کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے نزدیک معروضی حالات کے لحاظ سے اس ناکامی کی زیادہ تر ذمہ داری دینی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ باقی مسلم ممالک میں، جہاں اس مسئلے کو زیادہ درست اور حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا گیا ہے، دینی تعلیم کی ریاستی توثیق کا نسبتا بہت بہتر بندوبست نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے مصر، ترکی اور انڈونیشیا وغیرہ کے علاوہ جنوبی ایشیا میں ہی بھارت اور بنگلہ دیش میں بنائے گئے نظام کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ صورت حال میں بھی، اگرچہ قدرے درست سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، دینی قیادت کا ذہنی الجھاو اور غیر حقیقت پسندانہ رویہ بدستور برقرار ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مدارس کی اجتماعی قیادت صورت حال کا معروضی جائزہ لے کر ریاست کے سامنے دینی اسناد کی توثیق کے ایک ایسے بندوبست کا متفقہ اور اجتماعی مطالبہ رکھتی جسے حکومتی معاہدوں یا نوٹیفکیشنز کی ضمانت کے بجائے باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہو (یعنی اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے) اور اس میں واضح اور متعین معیارات طے کیے جائیں جن کے تحت کسی بھی دینی ادارے کے لیے انفرادی طور پر یا اداروں کے کسی گروپ کے لیے تعلیمی بورڈ کے طور پر ریاستی توثیق کے حصول کا موقع موجود ہو۔
لیکن چونکہ اس سارے مسئلے کو اب تک مدارس کی خود مختاری بمقابلہ ریاستی مداخلت کے فریم ورک میں دیکھا اور دکھایا جاتا رہا ہے جس میں دینی اداروں اور فضلاء کے ’’تحفظ “ کے لیے کسی جری اور بااثر سیاسی ’’قیادت “ کی ضرورت ہے، اس لیے کوئی ایسا انتظام قبول کرنے کے لیے ذہن آمادہ نہیں جس میں جمہوری انداز میں ایک صحت مند تعلیمی مقابلے کا ماحول ہو اور مختلف ومتنوع ترجیحات کے ساتھ دینی ادارے معاشرے کی دینی وتعلیمی ضرورتوں کو اپنی محنت اور توجہ کا مرکز بنا سکیں۔ حکومتی حلقوں کے ساتھ تعلقات اور سیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر پہلے بھی کچھ انفرادی اداروں اور بورڈز کو توثیق دی گئی تھی، اب بھی اسی بنیاد پر توثیق کے دائرے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ طریقہ ریاستی زاویہ نظر سے اور دینی اداروں کی نمائندگی کرنے والی اشرافیہ کے نقطہ نظر سے قابل فہم ہو سکتا ہے، لیکن دینی اداروں کے مجموعی پوٹینشل، ممکنہ کردار اور افادیت کے حوالے سے انتہائی محل نظر بندوبست ہے۔
آخر میں اس نکتے پر بھی اظہار خیال ضروری ہے کہ اس سارے معاملے میں ’’روایتی مدرسہ“ اور اس کے تاریخی کردار کی جگہ کہاں ہے اور وہ ضرورت کیسے پوری ہوگی؟ ہماری مراد اعلی سطح کے علماء ومتخصصین پیدا کرنے اور دینی علوم کی روایت کو معاصر ضروریات کے مطابق آگے بڑھانے سے ہے۔ جیسا کہ واضح کیا گیا، مدرسے کو تعلیم عامہ کا ادارہ بنانے کے نتیجے میں پورا نظام اس ایک ہدف کے گرد مرکوز نہیں رہ سکتا، تاہم اعلی استعداد کے حامل منتخب اہل علم تیار کرنے کا کام ایک اہم جزو کے طور پر اس میں شامل رہ سکتا ہے۔ اس وقت بھی بڑی تعداد میں مدارس کی طرف رجوع کرنے والے افراد میں سے ایک منتخب تعداد ایسے ذی استعداد فضلاء کی نکل آتی ہے جو اعلی سطحی علوم کے ساتھ طبعی مناسبت بھی رکھتے ہیں اور اس ذوق کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں اب بھی روایتی دینی علوم میں اچھا درک رکھنے والے اساتذہ اور محققین مدارس سے پیدا ہو رہے ہیں۔
البتہ ’’روایتی مدرسے“ کے کردار کا یہ پہلو کہ اس کا ہم عصر عقلی وعلمی روایت کے ساتھ بھی ایک زندہ تعلق قائم ہو اور دینی مدرسہ ان علوم ونظریات کی تنقیح وتنقید کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرے، بدقسمتی سے تاریخی تغیرات کے نتیجے میں، جدید مدرسے کے لیے اس کردار کی ادائیگی بے حد مشکل ہو گئی ہے اور بتدریج مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ عقلی ونظری علوم کے ساتھ مطلوبہ تعامل، خاص طور پر جدید مغربی تہذیب کے پیدا کردہ علوم، اس ذہنی سانچے میں ممکن ہی نہیں جو مدارس کے ماحول میں بنانے پر ساری توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ یہاں جدید معاشی وسیاسی نظریات کی تفہیم بھی وہی ’’معتبر “ ہے جو دینی اکابر، مثلا مولانا تقی عثمانی صاحب نے ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت“ اور ’’اسلام اور سیاسی نظریات“ میں بیان فرمائی ہو۔ مغربی علوم کا مقدمہ براہ راست اور خود ان کی زبانی سمجھنا اور پھر اس کی ایسی تحلیل وتنقید جو ان علوم کے ساتھ مکالمے میں پیش کی جا سکے، اس سانچے میں ناممکن ہے۔
ڈاکٹر ابراہیم موسی اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امام غزالی کو مدارس کے نظام ونصاب میں کوئی اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔ ہمارے نزدیک اس کا ایک جواب یہ ہے کہ امام غزالی عقلی ونظری مباحث میں تقلید سے شدید باغی ہیں اور ’’المنقذ من الضلال“ میں انھوں نے اپنے ذہنی سفر کی یہ داستان تفصیل سے بیان کی ہے۔ مدارس کا ماحول، جو ’’عقلیات“ میں بھی اکابر کے ’’منقولات “ کی پابندی کو ایمان وعقیدہ کی حفاظت کی شرط اولین کے طور پر ذہنوں میں راسخ کرتا ہے، اس انداز فکر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ہمیں پوری حقیقت پسندی کے ساتھ اس کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ جدید مدرسے نے اپنے اور اس کردار کے درمیان بہت وسیع فاصلہ پیدا کر لیا ہے۔ موجودہ صورت میں، ’’امید خلاف امید“ کے طور پر تو اس توقع کو برقرار رکھا جا سکتا ہے کہ کسی دن مدرسے کا یہ کردار بحال ہو جائے گا، لیکن بظاہر اس کے دور یا نزدیک کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس اعتراف سے ہی اس ضرورت کی تکمیل کے کچھ متبادل وسائل اور امکانات (مثلا عقلیات کا ذوق رکھنے والے منتخب ذی استعداد علماء کے لیے مدارس کے نظم سے باہر مختلف حلقہ ہائے مطالعہ کا قیام) پر سنجیدگی سے توجہ دی جا سکے گی۔
ہذا ما عندی واللہ تعالی اعلم
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۷)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(254) اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَۃِ کس کا قول ہے؟
درج ذیل آیت کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھیں گے کہ کسی قول کے قائل کے تعین میں غلطی ہونے سے مفہوم اور اس سے نکلنے والے نتائج پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَۃِ وَہُوَ فِی الخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ کو عام طور سے لوگوں نے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور پھر اس سے مختلف نتائج برآمد کیے ہیں، جیسے یہ کہ عورتیں ناقص جمال والی ہوتی ہیں اس لیے زیورات کے ذریعے ان کے اس نقص کو پورا کیا جاتا ہے، عورتیں ناقص عقل اور ناقص بیان والی ہوتی ہیں اسی لیے وہ بحث میں اپنی بات وضاحت سے اور دلیل کے ساتھ رکھ نہیں پاتی ہیں۔ عورتوں کے سلسلے میں ایسی باتیں اللہ کے فرمودات سے نکالے ہوئے قرآنی حقائق کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر امام رازی) اگر اس آیت کو اللہ کا قول نہ مان کر جاہلی سماج کے اس شخص کا قول مان لیں جو لڑکی کی پیدائش سے خوش نہیں ہوتا ہے، تو اللہ کی طرف منسوب کرکے یہ نتائج برآمد نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ بلکہ یہ محض جاہلی معاشرے کے انسانوں کی نفسیات کا بیان ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کے بارے میں کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ درج ذیل ترجموں پر غور کریں:
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحمَٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجہُہُ مُسوَدًّا وَہُوَ کَظِیم۔ اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَۃِ وَہُوَ فِی الخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ۔ (الزخرف: 17-18)
”اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے کہ کیا (وہ پیدا ہوئی ہے) جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت میں بے زبان ہے؟“ (امین احسن اصلاحی)
یہ ترجمہ درست ہے۔ البتہ کچھ باتیں تصحیح طلب ہیں، جیسے:’جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے‘، کی بجائے ’جس کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے‘۔’پلتی‘ کی بجائے’پالی جاتی‘ اور’مفاخرت‘ کی بجائے ’بحث مباحثہ‘ ہونا چاہیے۔
زیر گفتگو آیت کے وہ ترجمے دیکھیں جن میں اسے اللہ کا قول بنایا ہے:
”کیا (اللہ کی اولاد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟“ (محمد جوناگڑھی)
”کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟“۔ (سید مودودی)
”کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟“۔ (فتح محمد جالندھری)
”کیا جس کو زیورات میں پالا جاتا ہے اور وہ جھگڑے کے وقت صحیح بات بھی نہ کرسکے (وہی خدا کی اولاد ہے)“۔ (ذیشان جوادی)
”کیا (خدا کے لیے وہ ہے) جو زیوروں میں پرورش پائے اور بحث و تکرار میں اپنا مدعا واضح نہ کر سکے؟“۔ (محمد حسین نجفی)
اس مقولے کو اللہ کا قول اس لیے نہیں مانا جاسکتا ہے کیوں کہ اس میں مذکور باتیں فرشتوں پر صادق ہی نہیں آتی ہیں۔ مشرکین فرشتوں کو (نعوذ باللہ) اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، لیکن ان اوصاف کے ساتھ نہیں کہتے تھے۔ یہ اوصاف تو وہ اپنی دانست میں اپنے یہاں پیدا ہونے والی لڑکیوں میں پاتے تھے۔ انھیں یہ لگتا تھا کہ لڑکیوں کی پرورش پر بہت زیادہ خرچ کرنا ہوتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ انھیں حاصل نہیں ہوتا ہے۔
اس سے مختلف انداز میں اسی طرح کی بات دوسرے مقام پر آئی ہے:
وَاذَا بُشِّرَ اَحَدُہُم بِالاُنثَی ظَلَّ وَجہُہُ مُسوَدّاً وَہُوَ کَظِیم۔ یَتَوَارَی مِنَ القَومِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِہِ اَیُمسِکُہُ عَلَی ہُونٍ اَم یَدُسُّہُ فِی التُّرَابِ اَلاَ سَاء مَا یَحکُمُون۔ (النحل:58-59)
”ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔ اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟“۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں پر بھی بیٹی پیدا ہونے پر جاہلیت زدہ سماج کے لوگوں کی کیفیت کو بتایا گیا ہے۔
(255) زُبُرُ الاوَّلِینَ کا ترجمہ
وَانَّہُ لَفِی زُبُرِ الاوَّلِینَ۔ (الشعراء:196)
یہاں زُبُرِ الاوَّلِینَ مضاف اور مضاف الیہ ہے، اولین کا مطلب ہے اگلے لوگ، ترجمہ ہوگا اگلے لوگوں کی کتابیں۔ لیکن بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ موصوف صفت کا کردیا ہے، یعنی اگلی کتابیں۔ اگلی کتابوں کے لیے الزبر الاولی آئے گا، جیسے الصحف الاولی۔ اولین تو انسانوں کے لیے آتا ہے کتابوں کے لیے اولی آئے گا۔
And, verily, [the essence of] this [revelation] is indeed found in the ancient books of divine wisdom [as well]۔ (Asad)
”اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے“۔ (احمد رضا خان)
ان دونوں ترجموں میں یہ غلطی موجود ہے۔ جب کہ درج ذیل دونوں ترجمے درست ہیں:
And lo! it is in the Scriptures of the men of old۔ (Pickthall)
”اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے“۔ (سید مودودی)
(256) لَبَسَ کا ترجمہ
درج ذیل آیت کے مختلف ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَلَو جَعَلنَاہُ مَلَکاً لَّجَعَلنَاہُ رَجُلاً وَلَلَبَسنَا عَلَیہِم مَّا یَلبِسُونَ۔ (الانعام :9)
”اور اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں“۔ (سید مودودی)
”اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بھی بناتے تو بھی مرد ہی بناتے اور وہی لباس پہناتے جو مرد پہنا کرتے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)
”و اگر او را فرشتہ ای قرارمی دادیم، حتماً وی را بصورت انسانی درمی آوردیم؛ (باز بہ پندار آنان،) کار را بر آنہا مشتبہ می ساختیم؛ ہمان طور کہ آنہا کار را بر دیگران مشتبہ می سازند!“ (مکارم شیرازی)
”و اگر می گردانیدیمش فرشتہ ای ہمانا می گردانیدیمش مردی و ہمی پوشانیدیم بر او آنچہ را می پوشند“۔ (معری)
Had we appointed him (Our messenger) an angel, We assuredly had made him (as) a man (that he might speak to men); and (thus) obscured for them (the truth) they (now) obscure۔ (Pickthall)
And if We had made him an angel, We would have made him [appear as] a man, and We would have covered them with that in which they cover themselves۔ (Sahih International)
مختلف زبانوں کے اکثر مترجمین نے اس آیت میں لبس کا ترجمہ شبہے میں ڈالنا کیا ہے، بعض لوگوں نے پہنانا کیا ہے۔
لَبِسَ جس کا فعل مضارع یلبَسُ ہوتا ہے اور لَبَسَ جس کا فعل مضارع یلبِسُ ہوتا ہے، دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ پہلے کا مطلب ہے پہننا (پہنانا نہیں)، اور دوسرے کا مطلب ہے مشتبہ بنادینا۔ یہاں آیت میں دوسرا لفظ آیا ہے جس کا مطلب ہے مشتبہ بنادینا۔
پہلے لفظ کی قرآنی مثال درج ذیل ہے:
یَلبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَاستَبرَقٍ مُّتَقَابِلِینَ۔ (الدخان :53)
دوسرے لفظ کی قرآنی مثال درج ذیل ہے:
وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیرٍ مِّنَ المُشرِکِینَ قَتلَ اولاَدِہِم شُرَکَآؤہُم لِیُردُوہُم وَلِیَلبِسُوا عَلَیہِم دِینَہُم وَلَو شَاء اللّہُ مَا فَعَلُوہُ فَذَرہُم وَمَا یَفتَرُون۔ (الانعام:137)
”اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لیے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کردیا ہے تاکہ ان کو تباہ و برباد کردیں اور ان پر دین کو مشتبہ کردیں“۔ (ذیشان جوادی، یہاں درست ترجمہ کیا ہے جب کہ اسی لفظ کا مذکورہ بالا آیت میں غلط ترجمہ کیا ہے۔)
مذکورہ بالا آیت (الانعام :9) اور اس آیت (الانعام:137) میں ایک ہی لفظ یعنی یلبِسُ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب مشتبہ کرنا ہے۔
پہنانے کے لیے ایک تیسرا لفظ آتا ہے اور وہ ہے: البَسَ جس کا مضارع یُلبِسُ آتا ہے۔
پہنانا مراد ہوتا تو عبارت اس طرح ہوتی: وَلَالبَسنَاہِم مَّا یَلبَسُونَ۔ لیکن ایسا تو یہاں نہیں ہے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ وَلَلَبَسنَا عَلَیہِم مَّا یَلبِسُونَ میں ’علیھم‘ میں جمع کی ضمیر آئی ہے اگر فرشتہ مراد ہوتا تو واحد کی ضمیر آتی یعنی’علیہ‘ ہوتا۔
(257) زخرف کا ترجمہ
اہل لغت اور علمائے تفسیر لفظ زخرف کے دو معنی بتاتے ہیں، (الزینۃ والذھب) سامان زینت اور سونا۔ اس میں اختلاف ہے کہ اس کا اصل معنی زینت ہے یا سونا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ چار مقامات پر آیا ہے، دو مقامات پر تو یقینی طور پر زینت کے معنی میں آیا ہے۔
(1) وَکَذَلِکَ جَعَلنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِینَ الانسِ وَالجِنِّ یُوحِی بَعضُہُم الَی بَعضٍ زُخرُفَ القَولِ غُرُوراً وَلَو شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرہُم وَمَا یَفتَرُون۔ (الانعام:112)
”اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
(2) انَّمَا مَثَلُ الحَیَاۃِ الدُّنیَا کَمَاء انزَلنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاختَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الارضِ مِمَّا یَاکُلُ النَّاسُ وَالانعَامُ حَتَّیَ اذَا اخَذَتِ الارضُ زُخرُفَہَا وَازَّیَّنَت۔ (یونس: 24)
”دنیا کی زندگی کی مثال مینھ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی“۔ (فتح محمد جالندھری)
درج ذیل آیت میں سب نے زخرف کا ترجمہ سونا کیا ہے:
(3) اویَکُونَ لَکَ بَیت مِّن زُخرُفٍ۔ (الاسراء:93)
”یا تو تمہارا سونے کا گھر ہو“۔(فتح محمد جالندھری)
بعض مفسرین نے یہاں دونوں معنوں کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ گھر مراد لیا ہے جس کی سونے وغیرہ سے آرائش کی گئی ہو۔عبدالرحمن سعدی کہتے ہیں: ای: مزخرف بالذہب وغیرہ۔ (تفسیر السعدی) امام رازی کہتے ہیں: ولا شَیئَ فی تَحسِینِ البَیتِ وتَزیِینِہِ کالذَّہَبِ۔ (تفسیر الرازی)
دراصل یہاں ہمیں درج ذیل آیت کے سلسلے میں گفتگو کرنی ہے:
(4) وَلَولَا ان یَکُونَ النَّاسُ امَّۃً وَاحِدَۃً لَجَعَلنَا لِمَن یَکفُرُ بِالرَّحمَنِ لِبُیُوتِہِم سُقُفاً مِّن فَضَّۃٍ وَمَعَارِجَ عَلَیہَا یَظہَرُون۔ وَلِبُیُوتِہِم ابوَاباً وَسُرُراً عَلَیہَا یَتَّکِؤُونَ۔ وَزُخرُفاً وَان کُلُّ ذَلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الحَیَاۃِ الدُّنیَا وَالآخِرَۃُ عِندَ رَبِّکَ لِلمُتَّقِینَ۔ (الزخرف: 33-35)
اس آیت میں زخرف کا ترجمہ بعض لوگوں نے سونا کیا ہے اور بعض لوگوں نے زینت وآرائش کیا ہے۔
”اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں۔ اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لیے ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے۔ اور سونے کے بھی، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
ان آیتوں میں شروع میں ’من فضۃ‘ آیا ہے اور آخر میں’ زخرفا‘ آیا ہے۔ زخرفا کا عطف فضۃ پر نہیں ہے، بلکہ پیچھے گزرے دیگر منصوب الفاظ پر عطف ہے جو جعلنا کا مفعول بہ ہیں۔ اس لیے یہاں سونا مراد لینے کے بجائے زینت و آرائش مراد لینا مناسب ہے۔ یعنی مذکورہ تمام چیزیں چاندی کی بناتے اور ان میں سونے وغیرہ کے نقش و نگار اور زینت و آرائش کا اضافہ کرتے۔
(258) نَادَیٰ فِرعَونُ فِی قَومِہِ کا ترجمہ
قرآن مجید میں لفظ نادی متعدد بار آیا ہے، اور ہرجگہ اس کا مطلب پکارنا سمجھا گیا ہے۔
جیسا کہ فرعون کے بارے میں آیا:
فَحَشَرَ فَنَادَیٰ۔ (النازعات :23)
”اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا“۔ (فتح محمد جالندھری)
البتہ درج ذیل آیت میں نادی کا ترجمہ بعض لوگوں نے منادی کراناکیا ہے:
وَنَادَی فِرعَونُ فِی قَومِہِ قَالَ یَا قَومِ الَیسَ لِی مُلکُ مِصرَ وَہَذِہِ الانہَارُ تَجرِی مِن تَحتِی افَلَا تُبصِرُونَ۔ (الزخرف :51)
”اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی“۔ (محمد حسین نجفی)
”ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا“۔ (سید مودودی، تفسیر میں منادی کرانے کا مطلب لیا ہے)
صحیح بات یہ ہے کہ یہاں منادی کرانا نہیں بلکہ پکار کر کہنا ہی درست ہے۔ اور قوم سے مراد پوری قوم نہیں بلکہ وہاں جمع لوگ مراد ہیں۔ جیسا کہ اوپر سورة النازعات والی آیت میں ہے۔ دراصل یہاں جو بات کہی جارہی ہے وہ سامنے کہنے کی ہے نہ کہ منادی کرانے کی۔
مطالعہ جامع ترمذی (۲)
(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: حرام وحلال نکاح کے درمیان فرق صرف دف اور آواز کا ہے ۔(کتاب النکاح، باب ما جاء فی اعلان النکاح، حدیث نمبر ۱٠۸۸) کیا اس کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شادی بیاہ پر آج کل کا بینڈ باجا بھی درست ہے؟
عمار ناصر: فقہا کا جو عمومی رجحان ہے، وہ تو آپ دیکھیں گے کہ آج کل دف کی بھی اجازت نہیں دیتے۔کہتےہیں کہ مقصد اعلان ہے جو دوسرے طریقوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔موسیقی کے حوالے سے فقہاکا عمومی رویہ ناپسندیدگی کا ہے ۔
مطیع سید: گویا وہ اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کام دف سے آگے نہ بڑھ جائے ؟
عمار ناصر: جی، بات بڑھ نہ جائے اور یہ بھی کہ مثلا آپ دف بجا رہے ہیں توآواز سن کر لوگ تو یہی کہیں گے کہ ڈھول بج رہا ہے ۔ (البتہ بعض علماء مثلا مولانا بدر عالم میرٹھیؒ نے فقہاء کو متوجہ کیا ہے کہ جتنی اجازت حدیث میں موجود ہے، اس سے لوگوں کو نہ روکیں، ورنہ لوگ پھر حدود کو بالکل توڑ دیں گے)۔
مطیع سید: فقہا توسختی کرتے ہیں، محدثین کا اس بارے میں موقف ہے؟
عمار ناصر: امام ترمذی نے اس روایت پر کوئی منفی تبصرہ تو نہیں کیا ؟
مطیع سید: نہیں، وہ بس یہ روایت لائے ہیں ۔
عمار ناصر: تو پھر یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ حدیث کے مطابق اس کے جواز کے قائل ہیں۔
مطیع سید: اگر شادیوں پر ڈھول بجتاہے ،بینڈز بجتے ہیں ،شور مچتا ہے اور لوگوں کااس کے ساتھ رزق بھی وابستہ ہے تو ہم کیا اس روایت سے اس کے جواز کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں؟ آخر شادی ہی تو ہو رہی ہے ؟
عمار ناصر: فقہا یہ کہتے ہیں کہ یہ آلا تِ لہو اور مزامیر ، اصل میں ممنوع اور لہو کے تحت آتے ہیں ۔ گنجائش آپ کو اتنی ہی ملےگی جتنی نص میں یا حدیث میں آئی ہے اور وہ بھی کچھ شرائط کے ساتھ ۔ اگر اس زاویہ نظر کو درست مانیں تو پھر تو گنجائش نہیں نکلے گی۔لیکن اگر آپ کا زوایہ نظر وہ ہے جو ہمارے بعض لوگوں کا رہا ہے کہ اصل میں یہ لہو یعنی دل بہلانے کا ایک طریقہ ہے ،لہو تو اور بھی کئی چیزیں ہیں جو فی نفسہ ممنوع نہیں ہیں تو پھر گنجائش نکلے گی۔یعنی کسی چیز کا محض لہو ہونا اس کو ممنوع نہیں بناتا۔لہو کے ساتھ کچھ اور ایسی چیزیں بھی شامل ہو گئی ہوں جن میں کوئی خرابی ہو تو پھر ممنوع ہوگا۔
مطیع سید: یہ ولی کے بغیر نکاح کو غیر منعقد قرار دینے والی روایت ،صحیح روایت ہے ۔ (کتاب النکاح، باب ما جاء لا نکاح الا بولی، حدیث نمبر ۱۱٠۱ ، ۱۱٠۲) بظاہر تو صاف الفا ظ ہیں کہ نکاح نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب کیا ہے اور احناف کیوں کہتے ہیں کہ ولی کے بغیر بھی نکا ح ہو سکتا ہے؟فقہا کے پاس، اس کی Logic کیا ہے ؟
عمار ناصر: احناف کا طریقہ یہ ہے کہ وہ روایت کو اور خاص طورپر اس طرح کی اخبار احاد کو اصل مان کر، جو باقی دلائل و قرائن ہیں، ان کو نظر انداز نہیں کر دیتے ۔ یہ ان کا ایک عمومی منہج ہے ۔ان کا زاویہ نظر یہ ہے کہ سارے پہلو دیکھے جائیں ،نکا ح کے مقاصد کیا ہیں ،اس میں قرآن کی آیات میں کیا رجحان ملتاہے اور رائے اور قیاس سے کیا مدد ملتی ہے،اس کے تحت وہ دیکھیں گے کہ اس روایت کو ہم کہاں رکھیں۔اس لحاظ سے و ہ کہتے ہیں کہ نکا ح تو عورت کا حق ہے جب وہ بالغ ہو گئی ہے ۔یہ کہنا کہ کسی بھی حال میں ولی کے بغیر اس کو حق حاصل نہیں ہے ، اصل میں یہ کہنا ہے کہ اس کا اپنا حق ہے ہی نہیں ۔اس لیے اس کا دائرہ متعین کر نا پڑے گاکہ کس حالت میں یا کس خاص صورت میں وہ ولی کے بغیر نکا ح کر سکتی ہے اور کس صورت میں نہیں۔اس کے لیے انہوں نے کچھ شرائط قیاس سے لگادی ہیں۔مثلا اگر وہ بالغ ہے اور ایسی جگہ نکاح کر رہی ہے جہاں نکاح کرنے میں اعتراض ہونا نہیں چاہیے، یعنی کفومیں اور اپنے ہم پلہ لوگوں میں کر رہی ہے ، تو اس کا مطلب ہے کہ ولی اگر اس پر اعتراض کر رہاہے تو خواہ مخواہ رکاوٹ ڈال رہا ہے یا یہ چاہ رہا ہے کہ وہ اس کی مرضی سے کہیں نکاح کرے ۔ تو ایسی صورت میں ہم بالغ لڑکی کے خود کیے ہوئے نکاح کو منعقد مانیں گے ۔ہاں، وہ اگر ایسی جگہ نکاح کر رہی ہے جہاں پر اس کے ولی یا اس کے خاندان کے لوگو ں کی ناراضی کی کوئی حقیقی وجہ ہے ،تو پھر وہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں اور ان کے اعتراض پر قاضی نکاح کو فسخ کر سکتا ہے۔اصل میں روایت کی Placement یعنی اس کا محل طے کرنا بہت اہم ہوتا ہے ۔احناف کا اصل استدلال تو یہی ہے۔ پھر اس کی سند میں بھی کچھ مسائل ہیں جن کا امام ترمذی نے ذکر کیا ہے۔ احناف ان کا بھی حوالہ دیتے ہیں، لیکن وہ ثانوی اور ضمنی نوعیت کے استدلالات ہیں۔
مطیع سید: یہ کیسے معلوم ہو تا ہے کہ یہ خبر آحاد ہے ؟
عمار ناصر: احادیث بنیادی طور پر اخبار آحاد ہی ہیں ۔ کسی روایت کے طر ق یا اتنی سندیں جمع ہو جائیں کہ وہ خبر واحد کی تعریف سے نکل جائے ،ایسا تو بہت نادر ہے۔ اکثر روایات ایسی ہی ہیں ، خاص طور پر پہلے دور میں جب ذخیرہ حدیث مرتب و مدون نہیں ہو ا تھا ۔
مطیع سید: گویا یہ بعد کے دور میں ہواکہ ایک روایت کی کئی اسناد یا طرق مل گئے؟
عمار ناصر: جی، اور اس سے پہلے کا دور، یہ بڑا اہم دور تھا ۔ دوسری صدی میں،اور شاید تیسری میں بھی ، محدثین جس کام میں لگے ہوئے تھے،ان کا علم اوران کا دائرہ معلومات حدیث کی جمع و تدوین ہی تھا ۔ جو فقہا ہیں، ان کا اصل اعتنا حدیث سے اس طرح نہیں تھا۔ وہ اپنے اساتذہ یااپنے علمی حلقوں میں جن روایات کا ذکر ہوتا تھا، ان پر یا عمومی طورپر معروف احادیث پر ہی انحصار کرتے ہوئے فقہی مسائل میں استدلال کرتے تھے۔
مطیع سید: بعد میں ایسی کوئی شخصیت نہیں آئی جس نے ان دونوں دھاروں کے درمیان پل کاکام کیا ہو ؟
عمار ناصر: نہیں، جب یہ مکاتب فکر بن گئے اور عصبیتیں پیداہوگئیں تو پھر یہ کام بڑا مشکل ہو گیا۔ البتہ یہ آپ کو نظر آئے گا کہ تدوین ِ حدیث کے بعد اس کے اثرات بہر حال ہر فقہی مکتب فکر پر پڑے ہیں ۔ فقہائے احناف پر بھی پڑے ہیں ۔بعد کے لوگوں کے رویے اور طرز استدلال پر بھی اس کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔آخری دور میں شاہ ولی اللہ نے باقاعدہ تجویز کیا اور اپنی حد تک کوشش بھی کی کہ حنفی اور شافعی فقہ میں اقرب الی السنۃ ہونے کی بنیاد پر تطبیق پیدا کر دی جائے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات اس طرح سے چلی نہیں ۔ دیوبندی اہل علم میں سے علامہ انور شاہ صاحب کے ہاں البتہ یہ رجحان کافی نمایاں ہے کہ وہ اختلافی مسائل میں تطبیق کی ایسی راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے کم سے کم صحیح احادیث میں سے کسی کو ترک نہ کرنا پڑے۔
مطیع سید: ایک عورت کے مہر سے متعلق آپ ﷺ نے ایک صحابی کو فرمایا کہ قرآن کی کوئی سورت اسے یاد کروا دو،یہی مہر ہے ۔(کتاب النکاح، باب ما جاء فی مہور النساء، حدیث نمبر ۱۱۱۴) فقہا پھر کم سے کم مہر کیوں مقرر کر تے ہیں؟ روایت سے تو معلوم ہوتاہے کہ اس طر ح بھی مہر دیا جاسکتاہے ۔
عمار ناصر: مہر کی کم سے کم مقدار طے ہونے کے علاوہ احناف کا کہنا یہ بھی ہے کہ مہر کو مال ہونا چاہیے۔
مطیع سید: جی وہی، لیکن یہاں تو مال نہیں ہے، صرف سورتیں یاد کروائی گئی ہیں۔
عمار ناصر: قانونی پہلو سے آپ دیکھیں تو احناف کی بات ٹھیک ہے ۔قرآن بھی اموالکم ہی کہتا ہے ۔مہر بنیادی طورپر مال ہی ہوگا۔لیکن بعض صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں عام اصول پر عمل مشکل ہوتا ہے۔ مثلا اگر اس بندے کے پاس مہر کے طور پر دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تو اس طرح کی صورتحال کا کوئی حل نکالنا پڑتا ہے۔ اعتدال کی بات یہ ہے کہ آپ عمومی قانون وہ رکھیں جو احناف کہتے ہیں اور استثنائی صورتوں کی گنجائش مان لیں ۔یہ بھی ٹھیک نہیں کہ آپ اس روایت کی بنیاد پر یہ کہیں کہ ہر حالت میں مطلقا اس طرح مہر دیا جا سکتا ہے۔
مطیع سید: وضع حمل تک لونڈی سے مباشرت سے منع فرمایا گیا، (کتاب النکاح، باب ما جاء فی الرجل یشتری الجاریۃ وہی حامل، حدیث نمبر ۱۱۳۱) حالانکہ حمل ٹھہر جائے تو اس کے بعد مباشرت سے بچے کے نسب پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔پھر اس سے منع کرنے کی علت کیا ہے ؟
عمار ناصر: ایسے معاملات کو اسلام ایک خشک قانونی زاویے سے نہیں دیکھتا، بلکہ حکمت کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ مسلمان معاشرے میں نسب کی حفاظت سے متعلق حساسیت پختہ رہے، اس کے لیے یہ زیادہ مناسب ہے کہ جب تک ایک حمل سے عورت کا پیٹ فارغ نہ ہو جائے، دوسرا آدمی ہم بستری سے دور رہے۔
مطیع سید: یہ جو نبی ﷺ کے داماد ابو العاص تھے ،یہ جب مسلمان ہوئے تو کیا آپ ﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ زینب کا ان کے ساتھ نکا ح دوبارہ پڑھایا یا سابقہ نکاح کو ہی جاری رکھا ؟
عمار ناصر: دو روایتیں ملتی ہیں ۔ایک میں ہے کہ نیا نکاح کیا اور دوسری میں ہے کہ اسی کو جاری رکھا ۔ جیسا کہ امام ترمذی نے واضح کیا ہے، دونوں کی سندوں میں ضعف ہے ۔ (کتاب النکاح، باب ما جاء فی الزوجین المشرکین یسلم احدہما، حدیث نمبر ۱۱۴۲، ۱۱۴۳)
مطیع سید: عمومی طورپر کس بات کو لیا جاتا ہے ؟
عمار ناصر: فقہاکا اس میں اختلاف ہے ۔احناف کہتے ہیں کہ عدت کے اندر اگر شوہر نے ایمان قبول کرلیا تو ٹھیک ہے، لیکن جب عدت پوری ہوگئی تو سابقہ نکاح ختم ہو گیا ۔ پھر اسلام قبول کرنے پر دونوں کا نیا نکاح ہوگا۔
مطیع سید: یعنی فقہا ان دونوں روایتوں پر بنیاد نہیں رکھتے؟ یا اگر سند میں ضعف ہے تو قرآن کی روشنی میں روایت کو ترجیح دیتے ہیں؟
عمار ناصر: یہ طے کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے کہ فقیہ اصلا قیاس کی بنیاد پر رائے پیش کر رہا ہے اور روایت کو تائیدا پیش کر رہاہے یا اس کی رائے اصل میں روایت کی وجہ سے بنی ہے اور وہ قیاس کو تائید کے طورپر پیش کر رہا ہے۔
مطیع سید: رضاعت کے بارےمیں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے قرآن میں حرمت ثابت ہونے کا معیار دس دفعہ دودھ پینے کو مقرر کیا گیا، پھر اس کو منسوخ کر کے پانچ دفعہ دودھ پینے کو معیار مقرر کر دیا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اسی حکم پر عمل جاری تھا۔ (کتاب الرضاع، باب ما جاء لا تحرم المصۃ ولا المصتان، حدیث نمبر ۱۱۵٠) اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ یہ دوسرا حکم تو اب قرآن میں موجود نہیں ہے؟
عمار ناصر: کافی محل اشکا ل روایت ہے۔ خاص طور پر یہ کہ روایت کے بعض طرق میں سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی تھی۔ فقہا اور محدثین اس کو دو طرح سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اس پر درایتا سوال اٹھا دیے جائیں کہ یہ بات ٹھیک ہی نہیں ہو سکتی کہ آیت قرآن میں نازل ہوئی تھی، لیکن مصحف میں لکھے جانے سے رہ گئی۔احناف عموما یہی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر یہ آیت قرآن کا حصہ تھی تو سیدہ عائشہ نے اسے مصحف میں کیوں شامل نہیں کروایا؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔محدثین اور شوافع عموما یوں تاویل کر لیتے ہیں کہ ان کی مراد یہ ہے کہ بالکل آخر وقت تک مسلمان پڑھ رہے تھے، لیکن بالکل آخری زمانے میں اس کو منسوخ کر دیا گیا جس کی وجہ سے مصحف میں اسے نہیں لکھا گیا۔ میرے خیال میں امام ترمذی نے روایت کے جو الفاظ نقل کیے ہیں، ان سے ایک اور امکان بھی نکلتا ہے۔ اس کے مطابق سیدہ عائشہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اسی پر معاملہ جاری تھا۔ یہ الفاظ اس میں صریح نہیں ہیں کہ دوسرا حکم بھی قرآن میں اترا تھا۔ ممکن ہے، اسی کو بعد میں راویوں نے اس طرح تعبیر کر دیا ہو کہ یہ آیت قرآن میں پڑھی جا رہی تھی۔
مطیع سید: فاطمہ بنت قیس نے اپنا معاملہ بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ تین طلاقوں کے بعد عدت میں نان ونفقہ کی ذمہ داری شوہر پر نہیں ہے ۔لیکن حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ میں کتاب للہ پر فیصلہ کروں گا نہ کہ ایک عورت کی بات پر ۔ (کتاب الطلاق، باب ما جاء فی المطلقۃ ثلاثا لا سکنی لہا ولا نفقۃ، حدیث نمبر ۱۱۸٠)
عمار ناصر: بہت سے صحابہ اور تابعین کا یہی رجحان رہا ہے کہ فاطمہ بنت قیس کی روایت قابل اعتماد نہیں ہے۔ حضرت عمر نے اس بنیاد پر اسے رد کر دیا کہ یہ قرآن کے خلاف ہے۔ اب قرآن میں بظا ہر تو ایسی کوئی تصریح نہیں ہے جو یہ کہہ رہی ہو کہ تین طلاقوں کے بعد بھی نفقہ شوہر کے ذمے ہے، لیکن قرآن کا جو اسلوب ہے اس حکم کو بیان کرنے کا، وہ عموم کاہے ۔وہ اصل میں عموم سے استدلال کررہے ہیں اور فاطمہ کی روایت کو وزن نہیں دے رہے۔
مطیع سید: کیا یہ اس عورت کے لیے کوئی خصوصی حکم ہو سکتا ہے؟
عمار ناصر: اس کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ کیا اس کو نفقہ ملنا چاہیے یا نہیں ۔دوسرا یہ کہ کیا اس پر خاوندکے گھر میں رہنا ،اور خاوند پر اسے رہائش مہیا کرنا لازم ہے یا نہیں ۔یہ جودوسرا پہلو ہے، اس میں تو روایت کے اندر ایسے قرائن موجود ہیں کہ فاطمہ کا خاص معاملہ ہو سکتا ہے ، یعنی بعض خاص اسباب سے اسے شوہر کے گھر میں رہائش کا حق نہیں دیا گیا۔لیکن یہ جو نفقے کا حق ہے، اس سے محروم کرنے کی کوئی تاویل بظاہر سمجھ میں نہیں آتی ۔اس لیے بعض فقہا قائل ہیں کہ طلاق ِ ثلاثہ کے بعد عدت میں بیوی کا نان و نفقہ شوہر کے ذمے نہیں۔لیکن قیاسا یہی بات ٹھیک لگتی ہے کہ طلاقیں تواس کو تین ہو گئی ہیں، لیکن وہ ہے تو اسی شوہر کی عد ت میں ۔ نہ کہیں جا سکتی ہے، نہ نیا نکاح کر سکتی ہے تو اس کا خرچ شوہر ہی کے ذمے ہونا چاہیے۔
مطیع سید: حضرت عمر نے بھی اس کے بر عکس فیصلہ فرمایا ؟
عمار ناصر: جی، انہوں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ اسے نان و نفقہ ملے گا ۔
مطیع سید: نکا ح و طلاق ہنسی مذاق میں بھی ہو جاتی ہے ۔ (کتاب الطلاق، باب ما جاء فی الجد والہزل فی الطلاق، حدیث نمبر ۱۱۸۴) ایسا کیوں ہے، جبکہ کامن سینس یہ کہتی ہے کہ نیت ضروری ہونی چاہیے؟
عمار ناصر: نکاح و طلاق کے بار ے میں شریعت کا جو مزاج ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں لوگوں کو تھوڑا Sensitive (حساس)بنانا چاہتی ہے کہ اس کو کھیل نہ بنا لیں ۔ دیکھیں، اگر کسی نے بیوی کے ساتھ ظہار کیا تو قرآن اس پر کتنا سخت مواخذہ کرتا ہے کہ شوہر نے اسے ماں یا بہن آخر کہا کیوں ہے۔ اس لحاظ سے میرے خیال میں اس روایت کا مدعا یہ سمجھ میں آتا ہے کہ لوگوں کو تھوڑا Sensitize (حساس)کیا جائےکہ ان معاملات میں ایسے کریں گے تو نتیجہ مرتب ہو جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے سدِ ذریعہ کے طور پر یعنی زجر وتوبیخ کے لیے یہ کہا ہو، کوئی قانونی ضابطہ بیان کرنا اصلا پیش نظر نہ ہو ۔ ممکن ہے، کچھ ایسے مقدمات سامنے آئے ہوں کہ شوہر نے طلاق تو سوچ سمجھ کر دے دی تھی، لیکن پھر اس سے مکرنے کے لیے یا ذمہ داری سے فرار ہونے کے لیے کہہ رہا ہو کہ میں نے تو بس ایسے ہی مذاق میں کہا تھا ۔ یہ سب امکانات ہو سکتے ہیں۔
مطیع سید: تو کیا اس بنیاد پر قانونا ایسی طلاق نافذ ہو جاتی ہے؟
عمار ناصر: فقہا نے تو اس کو بالکل اسی طر ح لیا ہے کہ یہ لازما واقع ہوجاتی ہے ۔میرے خیال میں اگر اس کو اس زاویے سے دیکھاجائے کہ اس سے اصل میں لوگوں کو Sensitizeکرنا مقصود ہے تو پھر اس سے اتنا سخت قسم کا قانونی ضابطہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
مطیع سید: یعنی قاضی پابند نہیں کہ ہر طرح کی صورت حال میں یہی فیصلہ کرے؟
عمار ناصر: جی بالکل، میری رائے تو یہی ہے۔
مطیع سید: روایت میں ہے کہ خلع والی عورت کی عد ت ایک حیض ہے۔ (کتاب الطلاق، باب ما جاء فی الخلع، حدیث نمبر ۱۱۸۵) جبکہ احناف کہتے ہیں کہ تین حیض ہے اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہم خبر واحد کو قرآن کے مقابلے میں قبول نہیں کریں گے ۔
عمار ناصر: اس خاص روایت کے متعلق احناف کا استدلال اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے ، لیکن احناف اپنے اصول کے لحاظ سے کئی روایتیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ا س طرح کی روایتوں کے بارے میں بعض جگہ امام ابو حنیفہ کا یا امام محمد وغیرہ کا تبصرہ مل جاتاہے ۔وہ روایت پر درایتا سوال اٹھا کر اور ان کے خیال میں جو دوسرے زیادہ قوی دلائل ہیں، ان کی روشنی میں اسے چھوڑ دیتے ہیں ۔بہت سی مثالیں ایسی بھی ہیں کہ روایت اس طرح قوت ِ سند کے ساتھ اور اس طرح قا بل اعتماد طریقے کے ساتھ ان کے سامنے نہیں آئی تھی ۔یعنی یاتو روایت ان کے سامنے نہیں ہے یا اس طرح قابلِ وثوق طریقے سے نہیں پہنچی کہ وہ اس پر اپنی بات کی بنیاد رکھتے۔ تاہم احناف کا اصولی موقف یہ ہے کہ اگر روایت آجاتی ہے تو اس کے مقابلے میں وہ قیاس کوچھوڑ دیتے ہیں۔میں نے اپنی کتاب میں اس کی بہت سی مثالیں بھی جمع کی ہیں ۔
مطیع سید: خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں ۔بلاجہ جو عورت خلع لے گی، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی۔(کتاب الطلاق، باب ما جاء فی المختلعات، حدیث نمبر ۱۱۸۶، ۱۱۸۷) امام ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی اسناد قوی نہیں ہیں ۔
عمار ناصر: سند کے لحاظ سے کچھ کمزوری ہو سکتی ہے، لیکن معنا یہ بات سمجھ میں آتی ہے ۔میاں بیوی کارشتہ جب قائم ہوگیا ہے تو شریعت یہ چاہتی ہے کہ یہ قائم ہی رہے ۔
مطیع سید: اگر عورت اس وجہ سے خلع لے کہ مجھے بس اس کا چہرہ پسندنہیں ۔یہ تو کوئی بہت بڑی وجہ نہیں نظرآتی۔
عمار ناصر: نہیں، یہ تو ایک وجہ بنتی ہے۔بے وجہ کا مطلب ہے کہ شوہر کے ساتھ رہنے میں کوئی نفسی ،مالی یا کوئی اس طرح کا مسئلہ نہیں ہے ۔ مثلا ایسے ہی کسی کے دل میں خیال آ جائےکہ کہیں اور بھی تجربہ کر کے دیکھتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ رجحان ہے جس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ بعض دیگر احادیث میں اس مزاج کو ذواقین اور ذواقات سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی نئے نئے مزے چکھنے کےلیے رشتہ نکاح کو توڑنا اور نئے رشتے بنانا۔
مطیع سید: ایک انصاری نے اپنے غلام کو اپنی وفات کے بعد آزاد قرار دے دیا ۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا تو آپ ﷺ نے اس کے غلام کو فروخت کر دیا ۔ (کتاب البیوع، باب ما جاء فی المدبر، حدیث نمبر ۱۲۱۹) مدبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ آقا کی وفات کے بعد خودبخود آزاد ہو جاتا ہے ،تو پھر آپ ﷺ نے اسے کیوں فروخت کیا؟
عمار ناصر: یہ گویاآپ ﷺ نے اس انصاری کے، غلام کو آزاد کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ،کیوں کہ اس طرح کے فیصلے میں کئی چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں ۔روایت میں ہے کہ اس غلام کے علاوہ اس کا کوئی اور مال نہیں تھا۔ اب ممکن ہے، اس کے ذمے قرض ہو جسے ادا کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ نہ ہو، یا جو وارث تھے ان کا حق بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ تو نبی ﷺ نے اس کےفیصلے کو اس لیے ختم کیا کہ اس سے دوسرے حق داروں کے حق مجروح ہو رہے تھے ۔
مطیع سید: کسی بیع میں دو شرطیں جائز نہیں ہیں ۔ (کتاب البیوع، باب ما جاء فی کراہیۃ بیع ما لیس عندک، حدیث نمبر ۱۲۳۴) اس سے کیا مراد ہے ؟کیا کسی بیع میں ایک سے زیادہ شرائط نہیں رکھی جا سکتیں؟
عمار ناصر: فقہا اس کی مختلف طریقے سے تشریح کرتے ہیں لیکن آپ اگر مختلف طرق کو جمع کریں تو اس سے معلوم ہوتاہے کہ دو شرطوں سے مراد یہ ہے کہ سودا دو شکلوں کاہو سکتا ہے ،اس طرح کا بھی ہو سکتا ہے اور اُس طرح کا بھی ،اور آپ اس کو طے کرنے کی بجائے اس میں دونوں Options رکھ دیتے ہیں ۔ اس سے بعد میں کئی نزاع پیدا ہو جاتے ہیں ، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ آپ نے کسی معاملے میں ایک شرط رکھی ہو تو اس پر مزید ایک اور شرط نہیں رکھ سکتے۔
مطیع سید: کوئی چیز کسی کو ہبہ کر دی جائے تو صرف باپ اولاد سے واپس لے سکتا ہے، اور کوئی نہیں۔ (کتاب البیوع، باب ما جاء فی الرجوع فی الہبۃ، حدیث نمبر ۱۲۹۸) ہمارے ہاں پاکستا ن میں یہ قانون ہے کہ باپ بھی واپس نہیں لے سکتا ۔
عمار ناصر: دیکھیں، والد کے رشتے کی نوعیت مختلف ہے ۔ اصل تو یہ ہے کہ آپ نے ہبہ کر دیا ہے تو آپ اسے واپس نہیں لے سکتے ۔لیکن باپ کو تو ویسے ہی اپنے بیٹے کے مال میں سے اپنی ضرورت کے لحاظ سے لے لینے کا حق ہے۔ تو رشتے کی نوعیت کے لحاظ سے اس کو یہ بھی حق ہے کہ اس نے اولاد کو ہبہ دیا ہو تو اس کو واپس بھی لے سکتا ہے۔
مطیع سید: مسجد میں تجارت کے حوالے سے ایک روایت ہے کہ ایسا کرنے والے کو بددعا دی جائے کہ تمھیں تجارت میں فائدہ نہ ہو۔ (کتاب البیوع، باب النہی عن البیع فی المساجد، حدیث نمبر ۱۳۲۱)
عمار ناصر: مطلب یہ ہے کہ مسجد کا ایک اپنا ادب ہے ، اسے خرید وفروخت کی جگہ نہ بنایا جائے۔ یہ مراد نہیں ہےکہ کسی موقع پر اتفاقی طور پر آپ کوئی معاملہ کر لیں تو وہ بھی ناجائز ہے۔ مقصود یہ ہے کہ مسجد کو اس مقصد کے لیے استعمال نہ کریں ۔یہ مسجد کے آداب کے خلاف ہے ۔
مطیع سید: اجتہاد سے متعلق حضرت معاذ بن جبل کی جو مشہور روایت ہے، اس کے بارے میں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی سند متصل نہیں ہے ۔(کتاب الاحکام، باب ما جاء فی القاضی کیف یقضی، حدیث نمبر ۱۳۲۸) کیا اس روایت کی مضبوطی کسی اور سند سے ہو جاتی ہے ؟
عمار ناصر: نہیں، اس کی سند متصل نہیں ہے ۔ لیکن اس کی شہرت اتنی ہے کہ فقہا اور محدثین عام طور پر اسے قبول کر تے ہیں ۔یعنی یہ اپنے مضمون میں بھی اتنی معقول ہے اور اہل علم کے مابین بھی اس قدر معروف ہے کہ سند کا انقطاع اس کے ثبوت پر اثراندازنہیں ہوتا۔
مطیع سید: یہ اتنی اہم روایت ہے اور اجتہاد کی بنیاد ہی اس پر کھڑی کی جاتی ہے، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔
عمار ناصر: نہیں، ان معنوں میں یہ کوئی بنیادی اہمیت رکھنے والی روایت نہیں ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو ہم بالکل اندھیرے میں جا کھڑے ہوں گے۔ یہ بس ہمارے ہاں ایک سوچنے کا انداز ہے ۔ اس روایت میں ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اگر یہ روایت نہ ہوتی تو وہ معلوم نہ ہو سکتی۔
مطیع سید: میں دیکھتا ہو ں کہ جتنی بھی اجتہاد کی بحثیں ہیں، وہاں اس روایت کا سب سے پہلے حوالہ دیا جاتا ہے ۔
عمار ناصر: وہ اصل میں حوالے کے لیے سہولت دیتی ہے ، کیونکہ اس میں ایک بات تصریحا بیان ہو گئی ہے ۔ورنہ اگر یہ روایت نہ ہو تی تو ایسا نہیں کہ دین میں اجتہاد کا جواز یا اہمیت ہمیں معلوم نہ ہو سکتی۔ آنحضرت ﷺاور صحابہ کا جتنا طریقہ تعلیم ہے ،وہ سارا یہی ہے ۔یہ تو کامن سینس کی بات ہے کہ پہلے آ پ دیکھیں گے کہ اللہ تعالی ٰ نے کیا کہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے کیا کہا ہے اور پھر آپ اپنی رائے استعمال کریں گے ۔البتہ جو چیز لفظا کہیں بیان نہ ہوئی ہو جس کا حوالہ دیا جا سکے تو آپ کو کئی چیزوں سے اخذ کر کے اس کو واضح کرنا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ روایت حوالے میں ایک سہولت پیداکر دیتی ہے۔ اس میں متعین طریقے سے وہ بات لفظوں میں بیان ہوگئی ہے ،ورنہ معنوی لحاظ سے یہ کوئی بنیادی ماخذ کا درجہ رکھنے والی روایت نہیں ہے ۔
(جاری)
مساجد و مدارس اور نئے اوقاف قوانین
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بعض حضرات کی طرف سے نئے اوقاف قوانین کے حوالہ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ یہ قوانین عالمی معاشی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو مجبورًا نافذ کرنا پڑ رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے قومی ضرورت بن چکے ہیں۔ اس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر یہ مفروضہ قائم کر لیا گیا ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے فروغ میں زیادہ کردار دینی تعلیم اور دینی مدارس کا ہے اس لیے بین الاقوامی ادارے یہ اطمینان چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دینی مدارس، مساجد اور اوقاف کے وسیع ترین نیٹ ورک میں وقف کا کوئی ادارہ اور اس کے وسائل دہشت گردی کے کسی معاملہ میں استعمال نہ ہونے پائیں۔ اس لیے وہ کوشاں ہیں کہ مساجد و مدارس اور رفاہی معاملات پرائیویٹ سیکٹر سے نکل کر سرکاری کنٹرول میں آجائیں تاکہ ریاستی ادارے بین الاقوامی اداروں کی نگرانی اور ہدایات کے مطابق ان کو کنٹرول کر سکیں، اور اس طرح مسجد و مدرسہ اور رفاہی اوقاف کے وسائل کا دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کا امکان روکا جا سکے۔
حال ہی میں ملک بھر میں ہر سطح پر نافذ کیے جانے والے نئے اوقاف میں اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے چنانچہ مساجد و مدارس اور وقف املاک و اداروں کی پہلے سے چلی آنے والی ہر قسم کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے تاکہ ہر مسجد و مدرسہ اور ہر وقف ادارے کو ازسرنو رجسٹریشن کے ذریعے اس دائرے میں لایا جائے جو محکمہ اوقاف کے کنٹرول اور فیٹف (FATF) کی نگرانی میں ہو گا، حتٰی کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ کی نگرانی کو خفیہ رکھنے کا تکلف بھی نہیں کیا گیا اور نئی رجسٹریشن کے لیے جو فارم محکمہ اوقاف کی طرف سے ملک کے مختلف حصوں میں تقسیم کیے گئے ہیں ان میں فیٹف کی ہدایات کا واضح طور پر ذکر موجود ہے۔
اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے کہ جس دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام سے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے اس کی اپنی تعریف اور حدود طے نہیں ہیں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو پوری قوت کے ساتھ لڑی جا رہی ہے مگر دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟ کون سے ادارے اور افراد اس کے دائرے میں آتے ہیں؟ اور کسی کو دہشت گرد قرار دینے کی مسلمہ اتھارٹی کون سی ہے؟ یہ سب سوالات مسلسل ابہام کا شکار ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی طاقت و قوت کا حامل ادارہ جس کو چاہے دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تمام فریقوں کو اس کا بہرحال ساتھ دینا ہوتا ، بلکہ اس بارے میں امریکہ کے سابق صدر بش کا یہ اعلان فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے کہ ’’تم اگر ہمارے ساتھ نہیں ہو تو ہمارے دشمن ہو‘‘۔ یعنی کسی کے لیے غیرجانبدار رہنے کا کوئی امکان نہیں چھوڑا گیا۔ اس کا عالمی منظر ہمارے سامنے ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دور میں اقوام و ممالک کا ایک غیرجانبدار فورم بھی موجود و متحرک تھا جو اب کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ گویا دنیا کے ہر ملک کو امریکہ کا ہر حال میں ساتھ دینا ہے اور اگر کوئی ملک اس مخمصہ میں نہیں پڑنا چاہتا اور غیر جانبداری کا راستہ اختیار کرنے کا خواہشمند ہے تو اس کا شمار امریکہ کے دشمنوں میں ہو گا۔ چنانچہ یہ سارا کچھ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکہ کا ساتھ نہ دینے والوں کو ہر حالت میں اس کی جھولی میں ڈالنے کی مہم بن گئی ہے جس میں ہم بھی شریک ہیں اور ماتھے پر کوئی شکن ڈالے بغیر ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑے چلے جا رہے ہیں۔
دوسری بات یہ توجہ طلب ہے کہ دہشت گردی کے فروغ میں مسجد و مدرسہ کو ذمہ دار قرار دیتے چلے جانے میں زمینی حقائق اور پروپیگنڈا کا توازن کیا ہے، اس کی طرف کوئی توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ پاکستان کے حوالہ سے ہماری وزارت داخلہ بار بار سروے کر کے لاکھوں مدارس و مکاتب میں سے صرف چند سو مدارس کو اس جرم کا مرتکب قرار دے کر مدارس و مساجد کی غالب اکثریت کو اس عمل سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے، البتہ ان چند سو کی فہرست پیش کرنے کے لیے بھی کوئی ادارہ تیار نہیں ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس طرح پولیس کے تھانوں میں کسی عمومی مسئلہ پر ایف آئی آر درج کرتے وقت چند افراد کے نام درج کر کے ان کے علاوہ بہت سے دیگر افراد کا جملہ درج کر دیا جاتا ہے تاکہ جس کو بھی پکڑنا ہو دیگر افراد کے دائرے میں اس کا نام درج کر کے اسے قابو کیا جا سکے، یہی تکنیک دہشت گردی کے حوالہ سے ملک بھر کے دینی مدارس کے بارے میں مسلسل استعمال کی جا رہی ہے کہ جو چند سو مدارس ’’دہشت گردی‘‘ میں ملوث پائے گئے ہیں ان کی کوئی فہرست طے نہیں ہے، مگر ملک کے جس مدرسہ کو زد میں لانا ہوتا ہے چند سو میں اس کا نام شامل کر کے اس پر چڑھائی کر دی جاتی ہے۔
اس صورتحال میں یہ کہا جا رہا ہے کہ نئے اوقاف قوانین حکومت کا نفاذ کی بین الاقوامی مجبوری ہے اور پاکستان کے مفاد میں ہمیں اس معاملہ میں حکومت سے تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ہم قومی طور پر کسی نئی الجھن کا شکار نہ ہو جائیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی انتہائی بھولپن کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے ریاستی اداروں میں دین و ملک سے محبت کرنے والے حضرات کی کمی نہیں ہے ان کے ہوتے ہوئے ان قوانین کا ایسا استعمال نہیں ہو گا جس سے مسجد و مدرسہ کے نظام کو کوئی نقصان پہنچ سکے۔
گویا ان دوستوں کی تجویز یہ ہے کہ ہم چند افراد کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے خود کو اس سسٹم کی جکڑبندی کے حوالے کر دیں جو مسجد و مدرسہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے مسلسل جتن کر رہا ہے اور اب تک کے تمام حربے ناکام ہونے کے بعد اب اس کے ہاتھ میں ایک ایسا بہانہ آ گیا ہے جسے دینی حلقوں کے بعض دوست بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے قومی مجبوری قرار دے رہے ہیں اور دھیمے لہجے میں ان کی مجالس میں اس قسم کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ ایسے دوستوں سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بھائی! بات افراد کی نہیں سسٹم کی ہے، اس کا طوق گلے میں ڈال کر یہ سمجھ لینا کہ جس کے ہاتھ میں رسی ہے وہ ہمارا ہمدرد ہے، کم از کم الفاظ میں اسے سادگی اور بھولپن سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس کی توقع مجھے اپنی دینی قیادت سے ہرگز نہیں ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمودؒ وفاق المدارس العربیہ کے بانیوں میں سے تھے اور ۱۹۷۲ء کے دوران جب وہ صوبہ سرحد (کے پی کے) کے وزیر اعلیٰ بنے تو اس وقت بھی وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ تھے۔ ان سے بہت سے بزرگ علماء نے تقاضا کیا کہ وہ دینی مدارس کو سرکاری امداد و سرپرستی کے دائرہ میں لائیں تو انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ میری وزارت اعلیٰ آج ہے کل نہیں ہو گی، مگر جو کام میں کر جاؤں گا وہ بعد والوں کے لیے ہمیشہ کے لیے دلیل بن جائے گا اس لیے میں اپنی وزارت اعلیٰ کی خوشی فہمی میں دینی مدارس کو موجودہ ریاستی نظام اور محکموں کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا، ہمارا خیال ہے کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا یہ دانشمندانہ فیصلہ اور موقف آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
دینی مدارس کے وفاقوں کو درپیش نیا مرحلہ
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
مفتی تقی عثمانی صاحب کا ایک کلپ سنا جس میں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے درس نظامی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یونیورسٹی اور حکومت نے وہ پروگرام واپس لے لیاتھا۔ مفتی صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ پروگرام بدستور چل رہا ہے، بلکہ حال ہی میں اسے اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ میں نے یونیورسٹی اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ اب تک کا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں تاکہ فقہی تقاضے کے مطابق مفتیان کرام موجود سماجی حالات سے آگاہ ہوں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے درس نظامی پروگرام کی تاریخ یہ ہے کہ (میں اب یونیورسٹی میں نہیں ہوں لیکن یونیورسٹی ریکارڈ سے ان تمام مندرجات کی تصدیق کی جا سکتی ہے) مجھے اپنے مطالعے کی بنا پر شروع سے یہ احساس تھا کہ پاکستان بر صغیر میں اسلام کی بقا کے باعث وجود میں آیا ۔انگریزی انتداب کے بعد جس طبقے نے اسے اسپین ہونے سے بچایا، حقیقتا وہی لوگ اس ملک کے خالق ہیں اور اس کا نظم چلانے کے اولیں مستحق بھی۔(میں نے اپنے تحقیقی مطالعے کے دوران اندلس کی پوری تاریخ کا دقت نظر سے بالاستیعاب نہ صرف مطالعہ کیا تھا بلکہ اندلس کی علمی تاریخ پر میری ایک کتاب بھی ہے جو پاکستان میں اعلیٰ درجات میں زیر تدریس ہے) ۔ لیکن تاریخی ارتقا کے نتیجے میں ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے کچھ مخصوص مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ مدارس کا ایک طبقہ تقسیم ملک کے بعد بھی اس ذہنی کیفیت سے نہیں نکل سکا جو غیر ملکی تسلط کے باعث پیدا ہوئی تھی اور ایک حد تک فطری اور نا گزیر تھی۔ دوسرا طبقہ کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت کا پیکر ہو گیا ۔ ایسے میں ضرورت تھی کہ دینی طبقات کو ملکی نظام چلانے کی اہلیتوں کے حصول کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔
اتفاق سے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تھا اور اوپن یونیورسٹی اصلا ان لوگوں کے لیے بنائی گئی تھی جو کسی بھی وجہ سے باقاعدہ کالجز یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھےتاکہ اس یونیورسٹی کے ذریعے ان کے لیے تکمیلی تکنیکی فنی اور دیگر انواع کی تعلیم کا فاصلاتی طریق پر انتظام کیا جائے ۔ میں نے سوچا کہ دینی مدارس کے طلبہ اپنی تعلیمی مصروفیات کے باعث رسمی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف ہماری جامعات معمولی درجہ میں تفسیر حدیث اور فقہ وغیرہ کی تعلیم دے کر ایم اے کی اسناد دیتی ہیں تو کیوں نہیں یہ کیا جائے کہ دینی مدارس کے نصاب کو یونیورسٹی میں درجاتی کریڈٹ دیا جائے۔ مدارس کے اساتذہ کو یونیورسٹی ٹیوٹر مقرر کیا جائے اور دینی مدارس کے بعض متروک مضامین (مثلا ریاضی، زبانیں، سیاسیات، اقتصادیات، تاریخ اور دیگر سماجی علوم)، جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہیں، فاصلاتی طریقہ سے پڑھا دیے جائیں اور یونیورسٹی امتحان لے کر میٹرک سے پی ایچ ڈی تک ڈگری دیا کرے ۔ مدارس کے نظم کو محفوظ رکھنے اور ان کا مالی تعاون کرنے کے لیے یہ بھی سوچا کہ طلبہ کے داخلے مدارس کے توسط سے کیے جائیں (جو میری غلطی تھی لیکن نیک نیتی پر مبنی) اور مدارس کے اساتذہ کو یونیورسٹی کا ٹیوٹر لگا کر ان کی آمدنی میں اضافے کی راہ نکالی جائے ۔
یونیورسٹی اتھارٹیز اس پروگرام کے خلاف تھیں ۔ایسے میں مجھے باہر سےصرف مرحوم ڈاکٹر محمود غازی اور ڈاکٹر ایس ایم زمان کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔آخر بہت مشکل سے اتھارٹیز کو رضامند کرنے کے بعد میں نے مختلف وفاقوں اور مدارس سے رابطے کرنا شروع کیے ۔مجھے بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ وفاقوں کی طرف سے بھر پور یقین دہانی کرائی گئی ۔لیکن دیوبندی وفاق کو اس کی افادیت باور کروانے میں مجھے بہت وقت محنت اور وسائل خرچ کرنا پڑے۔ ایک سے زائد مرتبہ وفاق کے اجلاسوں میں بھی پروگروام پیش کیا ۔بارہا اسلام آباد میں مقتدر علماء وفاق کی میٹنگز بلائیں، ایک بار مری میں جہاں وفاق کا مرکزی اجلاس ہو رہا تھا، اس میں حاضر ہو کر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس اجلاس میں مولانا رفیع عثمانی اور مفتی تقی عثمانی دونوں شریک تھے اور انہوں نے بھی پروگرام کے طریق کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیں۔ کئی بار صدر وفاق سے اسلام آباد میں میٹنگ ہوئی۔ ایک بار کراچی جاکر بھی مولانا سلیم اللہ خان سے ملاقات کی اور باقاعدہ ایک معاہدہ طے ہوا ۔
اس کے مطابق مجھے 8--9 ماہ کےبعد یہ پروگرام لانچ کر دینا تھا ۔لیکن ایک دن اچانک میرے آفس میں وفاق المدارس کے ایک نمائندہ وفد کے ارکان یکے بعد دیگرے آنا شروع ہو گئے جس میں ملتان، لاہور، فیصل آباد اور اکوڑہ خٹک سے وفاق کے نمائندے شامل تھے۔ جب سب تشریف لا چکے تو میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے آئے ہیں کہ جو پروگرام ہمارے درمیان طے ہوا، اس پر فورا اور اسی سمسٹر سے عمل در آمد کیا جائے ۔۔میں نے اپنی مشکلات اور یونیورسٹی کا طریق کار سب کچھ عرض کیا، لیکن وفد میں موجود استاذ گرامی قدر مولا نا نذیر احمد صاحب ؒ کی وجہ سے میں نے ہامی بھر لی اور قہر درویش بر جان خویش کے مصداق دن رات کام کر کے پروگرام شروع کر دیا ۔اس پروگرام میں مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد میاں صدیقی میرے معاون خصوصی تھے۔ پروگرام لانچ کر دیا گیا لیکن جب میرے پاس داخلوں کی تفصیل آئی تو معلوم ہوا کہ دیوبندی وفاق سے کوئی طالب علم داخل نہیں ہوا ۔ یعنی، مرے تھے جن کے لیے، وہ رہے وضو کرتے۔
حیرت ہوئی۔مولانا محمد زاہد صاحب سے، جو اپنے والد مرحوم مولانا نذیر احمد کی معیت میں تقریباً تمام میٹنگز میں شریک رہے، معلوم کیا تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ "علماء کرام نے رجوع کرلیا "۔ بعد میں دیگر ذرائع سے معلوم ہوا کہ مولانا سلیم اللہ خان نے تمام مدارس کو ایک سرکلر جاری کر دیا تھا کہ طفیل ہاشمی کا پروگرام مدارس کے خلاف حکومت کی سازش ہے ، اس میں کوئی طالب علم داخل نہ کروایا جائے۔ اگرچہ میرے پاس ثبوت کوئی نہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یونیورسٹی کی جس میٹنگ میں یہ پروگرام منظور کیا گیا تھا، اس وقت کے وفاقی سکریٹری ایجوکیشن بھی اس کے ممبر تھے ۔میٹنگ کے بعد انہوں نے تنہائی میں مجھے کہا : یہ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ مدرسوں کے مولوی اگر ڈگری لے کر سی ایس ایس کر کے بیورو کریسی میں آجائیں گے تو ہمارے بچے کہاں جائیں گے ؟
میں نے انہیں جواب دیا کہ کہاں سی ایس ایس؟ بیچارے تعلیمی اداروں میں چلے جائیں تو بھی بسا غنیمت لیکن وہ بہت منجھے ہوئے اور سینئر بیورو کریٹ تھے اور مستقبل کو دور تک دیکھ سکتے تھے۔ مجھے شبہ ہوتا ہے کہ مولانا سلیم اللہ خان تک سازش تھیور ی انہوں نے نہ پہنچائی ہو اور دیوبندی علماء سازش کے خوف کا بآسانی شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس حادثے کے نتیجے میں مختلف اہل علم اور اہل اللہ کے تقوی، دانش، کردار کی بلندی اور بے شمار خوبیوں سے متعارف ہو کر ایک نظریہ نہ بنانا میرے بس میں نہیں تھا ۔
درمیانی عرصے میں صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت آئی تو میں نے مولانا حنیف جالندھری سے بار بار کہا کہ آپ کچھ بڑے مدارس کے لیے سرحد حکومت سے یونیورسٹی چارٹر لے لیں تاکہ اپنی اسناد کے معادلہ کے چکر سے نکل جائیں لیکن انہوں نے دلچسپی نہیں لی۔ شاید اس وجہ سے کہ یونیورسٹیز کو سالانہ آڈٹ کروانا ہوتا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے وہ ایم اے پروگرام جن کے ساتھ شہادۃ عالمیہ کا معادلہ تھا، کلیۃ بند کر دیا ہے۔ گویا آئندہ ایم اے نام کی کوئی سند نہیں ہو گی۔ اس کی جگہ بی ایس نے لے لی ہے۔ کیا موجودہ وفاقوں کا ایچ ای سی سے کوئی نیا معاہدہ ہوا ہے کہ شہادۃ عالمیہ اب بی ایس کے برابر ہو گی؟ اگر نہیں تو ایک نیا مرحلہ جد وجہد درپیش ہوگا۔ نیز حکومت نے اب پرائیویٹ تعلیمی سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ البتہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے درس نظامی کے رواں پروگرام کو جو پہلے میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے، ایم فل کے ناموں سے چل رہا تھا، جدید اسکیم سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بی ایس اور ایم ایس درس نظامی کے ناموں سے مشتہر کر دیا ہے۔ الغرض
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
دینی مدارس کے نئے بورڈز کا قیام
پس منظر، مضمرات، مستقبل
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن
گزشتہ دنوں میں دینی مدارس کے حوالے سے کچھ نئے بورڈز (وفاق) قائم کیے گئے ہیں، بعض مدارس کی اسناد کو انفرادی طور پر بھی ایم اے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ یہ دونوں کام ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ اب خاصے وقفے کے بعد یہ عمل زیادہ بڑے پیمانے پر دہرایا گیا ہے، اس لیے یہ امور زیادہ نمایاں ہوگئے ہیں۔چناں چہ اس وقت مدارس کے حلقے کا گرم ترین موضوع یہی بورڈز کا قیام ہے، اس بحث میں زیادہ گرمی جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ کے مشترکہ بورڈ کے قیام سے آئی، جسے دیوبندی حلقے کے بورڈ، وفاق المدارس کے خلاف سازش قرار دیا گیا، خود وفاق کے ترجمان نے بھی اس پر باضابطہ رد عمل پیش کیا۔ یاد رہے کہ ان نئے بورڈز کے قیام سے قبل وفاق المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد ۲۱ ہزار سے زائد ہے۔ اور اس اعتبار سے یہ پاکستان میں کسی بھی مکتب فکر کا سب سے بڑا بورڈ ہے۔
چوں کہ یہ مسئلہ نہایت حساس ہے، اس لیے ہمارے لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ اس پورے سلسلے کا پس منظر کیا ہے؟
مدارس کے مختلف بورڈز کے قیام کا سلسلہ کب شروع ہوا؟
بعض مدارس کی اپنی اسناد کو کب منظوری دی گئی؟
اس قضیے کے تعلیمی،انتظامی اور سیاسی مضمرات کیا ہوسکتے ہیں؟
اس تحریر میں اسی نوعیت کے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مدرس کی اسناد اور مختلف وفاقوں کے قیام کے تاریخی پس منظر بیان کرنے بعد یہ جائزہ چند نکات کی صورت میں لیا جائے گا کہ سردست یہی ممکن ہے، اگرچہ یہ موضوع خاصا طویل ہے، اور ایک مفصل و ضخیم مضمون کا متقاضی۔
مدارس کے بورڈ کا قیام اور منظوری
نومبر ۱۹۸۲ میں پہلی بار پاکستان میں چار وفاقوں کو دینی مدارس کے باضابطہ تسلیم شدہ تعلیمی بورڈ کی حیثیت دی گئی، اور ان کی سند شہادۃ العالمیہ (دورہ حدیث)کو صرف تعلیمی اور تدریسی مقاصد کے لیے چند شرائط کے ساتھ ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا۔ ان شرائط میں سے سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ اسناد باقاعدہ کسی یونیورسٹی سے معادلے کے بغیر قابل قبول نہیں ہوں گی۔
ان وفاقوں کے نام یہ ہیں:
- وفاق المدارس العربیہ پاکستان۔ ملتان (دیوبندی مکتب فکر)
- تنظیم المدارس اہلسنت۔ لاہور (بریلوی مکتب فکر۔ باقی وفاقوں کے مکاتب فکر اپنے نام سے واضح ہیں۔
- وفاق المدارس سلفیہ۔ فیصل آباد
- وفاق المدارس شیعہ۔ لاہور
کچھ عرصے کے بعد ۱۹۸۷ء میں جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے مدارس کے لیے رابطۃ المدارس۔ لاہور کے قیام کا بھی نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔
اسی دوران کچھ مدارس کو الگ سے بھی یہ اعزاز دیا گیا کہ ان کی اپنی سند شہادۃ العالمیہ کو بھی ایم اے کے مساوی قرار دیا گیا۔ ان مدارس کے نوٹیفکیشن کی تاریخی ترتیب سے نام یہ ہیں:
- جامعہ تعلیمات اسلامیہ، فیصل آباد۔ جون ۱۹۸۴ء
- جامعہ اشرفیہ، لاہور۔ فروری ۱۹۸۵ء
- دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ۔جنوری ۱۹۸۷ء
- دارالعلوم کورنگی، کراچی۔ اگست ۱۹۸۷ء
اس عمل کے بہت مدت بعد اب حال میں مزید چند مدارس کی سند کو یہ اعزاز بخشا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
- جامعۃ الرشید، کراچی۔ فروری ۲۰۲۱ء
- دارالعلوم نعیمیہ، لاہور۔ اپریل ۲۰۲۱ء
- جامعۃ المدینہ، کراچی۔ اپریل ۲۰۲۱ء
- جامعۃ الدراسات الاسلامیہ، کراچی۔ اپریل ۲۰۲۱ء
اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ اس وقت صرف شہادۃ العالمیہ کو ہی ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا تھا۔ باقی اسناد یعنی ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ اور عالیہ کی اسناد کو کو بالترتیب میٹرک و انٹر اور بی اے کے مساوی قرار نہیں دیا گیا، جس کا سبب یہ تھا کہ اس وقت تک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت صرف شہادت العالمیہ کا ہی امتحان ہوا کرتا تھا۔ باقی تمام درجات کے امتحانات وفاق سے ملحق مدارس اپنے اپنے طور پر لیا کرتے تھے۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ۱۹۸۲ سے لے کر آج سے کچھ عرصے پہلے تک اس مسئلے پر مزید کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اس کا سبب حکومتی عدم دل چسپی ہو یا مدارس کے نمائندوں کی عدم التفات، طلبہ کے لیے یہ امر بہت سے مسائل اور مشکلات کا سبب بنا رہا ہے۔
اہم پہلو
مدارس کی اسناد کو ایم اے کے مساوی تسلیم کرنے کے لیے ۲۰۱۷میں ایک شرط یہ عائد کی گئی تھی کہ اس کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت کسی بھی حکومت کی چارٹرڈ اور منظور شدہ یونیورسٹی سے بی اے کے لازمی اسباق میں سے دو جن میں ایک انگریزی کا امتحان دینا لازم ہو گا۔ اس شرط کا اطلاق نئے منظور شدہ تمام بورڈ کے طلبہ پر ہوگا۔ اس سے قبل منظور ہونے والے تمام وفاقوں کے لیے انگریزی کی شرط نہیں تھی۔
نیز ان مدارس کی رجسٹریشن کے لئے بھی اب طریقہ کار یہ ہے کہ یا تو یہ ۱۸ اگست ۲۰۰۱ء کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق کریں یا ۲۲ اگست ۲۰۱۹ءکے نوٹیفکیشن کے مطابق ایک نئے قائم شدہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ریلیجیئس ایجوکیشن سے منظوری حاصل کریں۔ اسی طرح ۲۰۱۹ءکے بعد بعد اب مدارس کے رجسٹریشن کے معاملے کو وزارت تعلیم کے ماتحت کیا گیا ہے یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ ذمے داری وزارت صنعت و حرفت کی تھی۔
اس وقت تک مدارس کے مزید جو نئے بورڈز تشکیل دیے گئے ہیں،ان کےاسما ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔ یہ تمام بورڈز فروری سے اپریل ۲۰۲۱ء تک کی مختلف تاریخوں میں منظور کیے گئے ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے:
۴ فروری ۲۰۲۱ء
- اتحادالمدارس العربیہ پاکستان۔ مردان
- اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان۔ لاہور
- نظام المدارس پاکستان۔ لاہور
- مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ۔ لاہور
- وفاق المدارس رضویہ پاکستان
۱۵ اپریل ۲۰۲۱ء
- وفاق المدارس الجماعات الدینیہ پاکستان
- مجمع العلوم الاسلامیہ
۲۷ اپریل۲۰۲۱ء
- وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان
- بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن
- کنز المدارس
موجود صورت حال۔ ایک نظر میں
مدارس کے قدیم و جدید تعلیمی بورڈز اور ان کی اسناد کے حوالے سے اب تک جو صورت حال سامنے آئی ہے، ان کا خلاصہ ان نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:
۱۔ چاہے وفاق المدارس العربیہ یا اس کے ساتھ مزید منظورشدہ مختلف مسلکی چار (مجموعی طور پر پانچ ) تعلیمی بورڈز ہوں، یا نئے قائم ہونے والے مختلف بورڈز یا مدارس کی انفرادی اسناد، تمام کی تمام صرف اور صرف تعلیمی مقاصد کے لیے منظور شدہ ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں مضامین کے علاوہ کسی بھی مضمون میں شہادۃ العالمیہ کی بناد پر ایم اے نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں بھی صرف شہادۃالعالمیہ کو ایم اے کے برابر قرار دیا گیا ہے،یہ ایم اے بھی صرف اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی ہیں۔
۲۰۱۷ میں البتہ ایک پیش رفت یہ ہوئی تھی کہ ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ اور عالیہ کی اسناد کو بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بترتیب میٹرک، ایف اے اور بی اے کے مساوی قرار دینے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس سے بہت پہلے سے میٹرک اور ایف اے کی سطح پر معادلے کا اختیار آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین )کو حاصل تھا،لیکن وہاں بھی چند شرائط ایسی تھیں جن کی وجہ سے طلبہ کو دقت پیش آتی تھی جن میں متعلقہ درجات کے لازمی مضامین خاص طور پر انگریزی اور مطالعۂ پاکستان کا امتحان دینا ضروری تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ مدارس کے جانب سے اس کمیٹی کو شاید کبھی بھی اپروچ نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا تو بہت محدود پیمانے پر،جس کے اثرات کبھی نمایاں نہیں ہو سکے۔ ایک زمانے میں اس کمیٹی کی چیئرمین شپ پروفیسر انوار احمد زئی مرحوم سابق چیئرمین انٹر میڈیٹ بورڈ کراچی اور میٹرک بورڈ کراچی کے پاس تھی۔ ان سے اس ضمن میں کئی ملاقاتیں کر کے انہیں بہت سے اقدامات پر ذاتی حیثیت میں آمادہ کیا،طے یہ ہوا کہ اس سلسلے کی ایک میٹنگ میں جو بھوربن میں ہونے والی تھی راقم نے ہم اس مسئلے پر ایک پریزنٹیشن پیش کریں گے، لیکن بعض وجوہ سے وہ میٹنگ نہ ہو سکی اور کچھ مدت بعد پروفیسر انوار احمد زئی ان ذمے داریوں سے سبک دوش ہو گئے۔یوں یہ مسئلہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔
۲۔اس معادلے کے لئے شرط اولین یہ ہے کہ امید وار کے پاس مذکورہ مدارس یا بورڈز میں سے کسی ایک کی سند شہادۃالعالمیہ ہونی چاہیے۔
۳۔یہ شہادۃالعالمیہ بھی سولہ سالہ نصاب کی بنیاد پر جاری کی گئی ہو۔ چناںچہ اگر کوئی ادارہ یہ نصاب چار سال یا پانچ سال پڑھا کر شھادۃالعالمیہ جاری کرتا ہے،تو یہ سنداول تو قابل قبول ہی نہیں ہوگی، بالفرض یہ پہلو کسی بھی مقام پر نظر انداز ہو جاتا ہے اور معادلہ جاری بھی کر دیا جاتا ہے تب بھی طالب علم پر تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے گی اور یہ پہلو ہمیشہ قابل اعتراض یاد رہے گا۔
۴۔نئے منتخب ہونے والے بورڈز کے لیے معادلے کی ایک شرط یہ بھی ہوگی کہ ان کے فضلا کے لیے کسی بھی منظور شدہ یونیورسٹی سے سے دیگر لازمی پرچوں کے ساتھ انگریزی بی اے کا امتحان دنیا بھی لازم ہو گا۔جو کہ وفاق المدارس العربیہ کی سند پر اب بھی لازمی نہیں ہے۔
۵۔اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اس سند پر صرف اسلامیات اور عربی کے کسی بھی تدریسی منصب پر انسان درخواست دینے کا اہل ہو سکتا ہے یا ایم فل وغیرہ کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔باقی کسی مقصد کے لیے یہ سند قابل قبول نہیں ہے۔
۶۔ایک فرق کے علاوہ، جو پوائنٹ نمبر ۴ میں درج کیا گیا، تمام ایسے مدارس جن کا ذکر ہوا اور تمام نئے پرانے بورڈز اور ان کی اسناد قانونی طور سے یکساں درجے کی حامل ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔
۷۔یہ معادلہ بھی صرف شہادۃالعالمیہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ جس قدر بھی کورسز مدارس میں کرائے جا رہے ہیں، یا مستقبل میں کرائے جانے ممکن ہیں، مثلاً تخصصات یا اس نوعیت کے مختلف سرٹیفکیٹ کورسز، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، ان کی پوزیشن وہی ہے جو تازہ پیش رفت سے قبل تھی۔
۸۔ بعض بورڈز سے بین الاقوامی اور اسکالر شپ کی امید دلائی ہے۔جامعات میں تعلیم کے لیے اپنے طلبہ کو بھیجنے کی بات کی ہے، یہ ہر بورڈ اور ہر مدرسہ اپنی ذاتی حیثیت میں کر سکتا ہے، اور اس موجودہ منظوری سے قبل بھی کر سکتا تھا۔ اس کا کسی نوعیت کا بھی تعلق موجودہ منظوری سے نہیں ہے۔
۹۔اس ساری صورت حال کے باوجود ایک اور آزمائش سر پر موجود ہے، وہ یہ ہے کہ ایچ ای سی کے ضابطے کے مطابق اب قانونی طور پر ایم اے کا کسی ادارے میں جواز نہیں ہے۔ کراچی یونیورسٹی سمیت بعض اداروں نے اپنے حجم کو دیکھتے ہوئے کچھ فیصلے ایچ ای سی سے ہٹ کر کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی زندگی بہت زیادہ نظر نہیں آتی۔ جلد یا بہ دیر ان سب کو اسی فارمیٹ کا حصہ بننا پڑے گا جو ایچ ای سی کا تجویز کردہ ہے،سوائے اس کے کہ وہ خود مزید کوئی قدم اٹھائے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے،جس کا امکان کم ہے۔ ایچ ای سی کو اس ضمن میں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی ایسی سند کی جو ایچ ای سی سے منظور شدہ باقاعدہ چارٹرڈ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ہو، تصدیق سے اس بنا پر انکار کردے کہ اس کے اجرا میں ایچ ای سی کی پالیسی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے شہادۃالعالمیہ کو منظور کرنے کا وہ نوٹیفکیشن جو ۱۹۸۲ء میں ہوا تھا اور وہ نوٹیفیکیشن جو ۲۰۲۱ء میں ہوا ہے، بالکل ایک ہے، لفظ لفظ ،اورحرف حرف۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ۲۰۲۱ء میں بھی دی جانے والی منظوری ایم اے کی ہے،جو حکومت کے اپنے ہی فیصلے کے مطابق قانوناً ختم ہوچکا ہے۔ اس وقت ضابطے کے مطابق اٹھارہ سالہ تعلیم کے بعد بی ایس کی ڈگری جاری کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اب معادلہ جس سند کا بھی ہوگا وہ ایم اے کا نہیں بی ایس کا ہوگا۔یا یوں کہیے کہ ہونا چاہیے۔اس لیے یہ بات اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ متعلقہ اداروں نے مدارس کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ دکھا دیا ہے۔
مضمرات
اس سارے قضیے کے نتائج و عواقب کیا ہو سکتے ہیں، اب ان پربھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
۱۔مذکورہ تفصیل سے یہ اندازہ کرنا تو زیادہ مشکل نہیں رہا کہ اس ساری سرگرمی سے نئے بورڈز کو کچھ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ حکومتی ادارے اس سے کیا حاصل کرسکتے ہیں۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس سے محض اہل مدارس کو منتشر کرنا مقصود ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہےکہ ایک ایک مکتبہ فکر کی ذیلی تقسیموں کو الگ الگ نوازنے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے، چناں چہ بریلوی مکتب فکر کو ہی دیکھیے تو تنظیم المدارس کی موجودگی میں ایک طرف جہاں جامعۃ المدینہ اور جامعہ نعیمیہ لاہور کی سندیں الگ سے قبول کی گئی ہیں، وہیں ان کے ساتھ ساتھ دعوت اسلامی کے مدارس کے لیے کنز المدارس کے نام سے الگ وفاق تشکیل دیا گیا ہے۔ اس طرح منہاج القرآن سے منسلک مدارس کے لیے الگ سے بورڈ قائم کردیا گیا ہے۔ حال آں کہ وفاق المدارس کے مقابلے میں تنظیم المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد پہلے ہی انتہائی کم تھی۔
۲۔مدارس کے معاملے میں ایک حماقت تو پہلے روز ہی کردی گئی تھی، جب انہیں کسی بھی نظام کا حصہ بنانے کی بات کرتے ہوئے انہیں مسلکی بنیاد پر الگ الگ بورڈز بناکر دے دیے گئے تھے، امکانی طور پر درست راستہ کیا ہوسکتا تھا، اس پر الگ سے بات کی جارہی ہے، مگر موجودہ ترتیب سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس مسلکی خلیج کو مزید زاویوں سے بڑھانے اور ان کی پرورش کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے مضمرات پر کسی لمبی چوڑی گفت گو کی ضرورت نہیں۔
۳۔در حقیقت مدرسے اور مولوی کا وہ جن جو اسی کی دہائی میں بوتل توڑ کر باہر نکالا گیا تھا، اب ظاہر ہے کہ اتنی بڑی مدت گزرنے کے بعد اس قدر وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے کہ اسے ایک بوتل تو کیا بوتلوں کہ بڑے کریٹ میں واپس منتقل کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔پھر اس دوران بھی مختلف واقعات وقوع پذیر ہوتے رہے جن کے مضمرات صرف ملکی سطح پر نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سامنے آتے رہے اور مدرسے اور مولوی کے حوالے سے جو بین الاقوامی دباؤ ہمیشہ سے موجود رہا ہے اس میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔اب اسے کسی نہ کسی طور پر قابو کرنا بہ ہر کیف بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے، اس لیے تقسیم در تقسیم کی حکمت عملی کے کئی ایک امور تیزی کے ساتھ پھیلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
بعض حضرات کی رائے میں یہ سارا قصہ تین چار ماہ تک عروج پر رہے گا۔ (بین الاقوامی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس بات کی گہرائی میں جانا زیادہ مشکل نہیں) اس بات سے تو انکار نہیں، لیکن معاملہ اس قدر محدود نظر نہیں آتا نہ ہی یہ سب کچھ محض سال دو سال کے امور سے تعلق رکھتا ہے یہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے آخری اقدامات آج سے کوئی پندرہ بیس برس قبل اٹھائے جا چکے تھے۔
۳۔بعض حضرات کی رائے میں یہ زیادہ تشویش کی بات نہیں بل کہ ایسے ہی ہے کہ جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو انہیں الگ الگ بسانے کی فکر ہوتی ہے، یہ مثال یہاں اس لیے منطبق نہیں ہوتی کہ وہاں محض انتظامی طور پر دیوار کھڑی کرنے اور چولہے الگ کرنے سے کام چل جاتا ہے، مالی طور پر والدین کو وسعت حاصل ہوتی ہے تو وہ الگ الگ مکانات بھی لے کر بچوں کو مطمئن کر دیتے ہیں، لیکن یہاں اصل معاملہ مدارس کے انتظامی امور کا نہیں، ان کی فکری خودمختاری کا ہے، اور اس خود مختاری کو پڑنے والی زد ان امور سے کہیں زیادہ خطرناک محسوس ہوتی ہے۔
۴۔آج سے چند برس پہلے تک مدارس حکومتی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں اپنی شرائط بھی بڑی سہولت سے رکھ لیا کرتے تھے اور اپنا مقدمہ بھی پوری قوت کے ساتھ پیش کیا کرتے تھے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس سے مدارس، اہل مدارس اور طلبہ کو کس قدر فائدہ حاصل ہوسکا ،یا یہ بورڈز کس قدر فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں تھے، اور اس پوزیشن سے کس قدر وہ فائدہ اٹھا سکے۔اب صورت حال تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
۵۔تقسیم در تقسیم کے اس عمل کو روکنا اس لیے بھی مشکل تر ہے کہ مادیت پرستی کے اس دور میں ہر ایک کی یہ خواہش بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ وہ دوسروں پر فوقیت لے جائے اور اس کا ادارہ لوگوں کی زیادہ توجہ کا باعث بن سکے۔ اس کیفیت کا ایک اور پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مادی یا سیاسی لالچ کا معمولی سا امکان بھی بہت سے امور میں انسان کی آنکھیں بند کر لینے اور بہت سے امور سے صرف نظر کر لینے کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات ہے، جس سے کہیں پر بھی مفر نہیں۔ ان تمام معاملات میں بھی اس پہلو سے بہت سی مثالیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
۶۔معاملات کو یہاں تک پہنچانے میں پہلے سے موجود بورڈز اور ان کی انتظامیہ کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ ادارہ بنانا مشکل ہے لیکن اداروں کو برقرار رکھنا مشکل تر ہے۔ انتظامی امور میں سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ انسان کسی بھی ذمے داری پر زیادہ عرصے رہ کر لوگوں کے طعنوں سے نہیں بچ سکتا۔ لوگوں کی امیدیں بڑھتی چلی جاتی ہیں، اور ان کے اطمینان کا پہلو کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر جب انسان لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اصل ہدف سے توجہ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں کبھی بھی ادارے پنپ نہیں سکے اور ان کے ہاں صدیوں سے موجود ادارے اس قدر بھی نہیں کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی گنے جا سکیں۔
۷۔صرف وفاق المدارس کو ہی لیا جائے تو اس کے انتظامی اور مالی امور کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود شبہات اور شکایات ایک طرف، وہ صحیح بھی ہو سکتی ہیں غلط بھی، لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں نہ ہی ہماری دل چسپی ہے۔ تعلیمی امور میں بھی بہت سی ایسی اصلاحات نہیں ہو سکیں جو خود مدارس کی اور اہل مدارس کی خواہش تھی، مگر ان کی خواہش، خواہش کی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکی، اور عملی طور پر کچھ نہیں ہو سکا۔
۸۔اس دوران ایسی کوششیں بھی سامنے آتی رہیں، جن کے نتیجے میں کچھ شخصیات اور کچھ اداروں پر وقفے وقفے سے طرح طرح کا دباؤ بڑھتا رہا، یا کم از کم وہ ادارے اور شخصیات وفاق کے دائرے میں رہتے ہوئے بہت زیادہ اطمینان محسوس نہیں کر رہے تھے۔ بے چینی کی یہ کیفیت انسان کو ہر طرح کی قید اور حدود توڑنے پر آمادہ کرتی رہتی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی رخنا نظر آئے، یا حبس زدہ ماحول میں کہیں سے ہلکی ہوا بھی محسوس ہو تو نتائج و عواقب سے بے پروا ہو کر اس طرف لپکنا انسانی فطرت ہے۔ اس معاملے میں یہ کیفیت بھی نظر آ رہی ہے۔
۹۔ان تمام امور کو تقویت پہنچانے والا سب سے بڑا نکتہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر ہونے والے اقدامات میں، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے، کسی نوعیت کی سنجیدگی کا دور دور تک احساس نہیں ہوتا واللہ اعلم
سیاسی پہلو
اس سارے قضیے کا ایک اہم سبب سیاسی بھی ہے۔ جس کا تعلق پانچ سابقہ بورڈز میں سے کم از کم دو بورڈز کے ساتھ تو واضح ہے۔ایک عرصے سے ہم یہ کہتے آ رہے ہیں اگرچہ کہ ہمیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہے، جو کہ کچھ بھی نہیں، کہ مدارس کے ان وفاقوں کا دائرہ کار محض اور صرف تعلیمی اور تدریسی ہونا چاہیے۔ ان وفاقوں کی بقا و سالمیت کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ ان کو ہر نوعیت کے سیاسی اور سماجی حتی کہ مذہبی مسائل سے بھی الگ رکھا جائے۔ کسی نوعیت کا بڑے سے بڑا ایشو بھی کیوں نہ درپیش ہو، انہیں ان میں ملوث نہ کیا جائے۔ ان مقاصد کے لیے الگ سے ہمارے پاس تمام مسالک کے جداگانہ اور مشترکہ پلیٹ فارم موجود بھی ہیں، اور نئے پلیٹ فارم وقتی ضرورت کے تحت تشکیل بھی دیے جاسکتے ہیں۔ لیکن چوں کہ وقتی مقاصد ہمیشہ ہمارے ہاں ترجیحاً سامنے رہتے ہیں اور دور اندیشی کے امور سے ہم کم کم ہی اعتنا کرتے ہیں، اس لیے یہ تجویز کبھی پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔ اب یہی دیکھیے کہ چند ماہ پہلے تک وہ جمعیت علمائے اسلام جو وفاق المدارس کی صدارت کے حوالے سے ایک الگ نقطہ نظر کے حامل تھی، اس قضیے میں نہایت خاموشی کے ساتھ وفاق المدارس کی غیر مشروط حامی نظر آ رہی ہے۔ اگر ہمیں ایک چھوٹے سے تجزیے کی اجازت دی جائے تو عرض کریں گے کہ اس سلسلے میں جمعیت شاید دونوں جانب سے فائدے میں رہے۔ حکومتی سطح پر بھی اور وفاقی سطح پر بھی، دونوں جانب سے وہ اس وقت عمدہ بیٹنگ کی پوزیشن میں ہے، اور ہم نہیں سمجھتے کہ اتنے اچھے مواقع میسر آنے کے بعد وہ انہیں گنوا سکتی ہے۔ اشاعت التوحید کے وابستہ مدارس کو جو الگ بورڈ کی صورت میں منظم کیا جارہا ہے، اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ کم و بیش نو سو مدارس وفاق المدارس سے الگ ہو سکتے ہیں، مگر ایک زاویۂ نظر یہ بھی ہے کہ یہ تمام مدارس جمعیت علمائے اسلام کے لیے حزبِ اختلاف کا درجہ رکھتے ہیں، اس بنا پر ان کا وفاق سے علیحدہ ہونا جمعیت کے لیے اطمینان کا باعث ہوسکتا ہے۔
طاقت کے حصول کی انسانی خواہش کا یہ معاملہ حکومتوں، حکومتی اداروں، طاقت ور قوتوں اور عام آدمی کا نہیں، ہماری مجموعی انسانی نفسیات کا ہے۔ ہم طاقت کے کسی ایک پہلو پر قناعت اختیار نہیں کرسکتے، جب ہم طاقت ور ہوتے ہیں تو ہوتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس میں مزید اضافہ ہر وقت ہماری خواہش ہوتا ہے۔ اس فطری خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سارے قصے میں طاقت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور اس کی اس کروٹ کے نتیجے میں کون کون زمین پر آ رہیں گے اور کن کن کو عروج نصیب ہوسکتاہے۔
کیا ہونا چاہیے
ان حالات میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ہونا چاہیے اور آج سے پہلے جب یہ بورڈ منتخب کیے گئے تھے اور انہیں منظور کیا گیا تھا تب ہی کیا کیا اقدامات اٹھا لینے چاہیے تھے۔اگر اس وقت یہ نہیں ہو سکا تو اب کیا کیا ممکن ہے
۱۔مدارس کو اگر واقعی کوئی وقار اور مقام دینا مقصود ہے تو حکومت کے لیے سب سے پہلے جو قدم لازم ہے وہ ہے ان وفاقوں کو داخلی خودمختاری کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر اسناد تفویض کرنے کا اختیار رکھنے والے ادارے degree awarding institute کا درجہ دینا۔اسی طرح جن مدارس کی سند شہادۃ العالمیہ کو انفرادی سطح پر ایم اے کے برابر قرار دیا جا رہا ہے،انہیں بھی ابھی اسناد تحفیظ کرنے کا اختیار رکھنے والا ادارہ degree awarding institute قرار دینا چاہیے۔ یہ ایک نہایت ضروری امر تھا، اور نہایت ضروری تھا کہ یہ کام ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہی مکمل ہو جاتا، لیکن جب تک یہ کام نہیں ہو گا اس وقت تک مدارس کو دی جانے والی مراعات کی حیثیت کاغذی اور زبانی ہو گی،اس سےزیادہ کچھ نہیں۔
۲۔حکومتوں سے مذاکرات کرتے ہوئے اور مراعات لیتے ہوئے سب سے پہلا نکتہ جو ہر صورت پیش نظر رہنا چاہیے وہ مدارس کی داخلی خودمختاری ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بہ ظاہر خوش نما نظر آنے والے اقدامات کی تہہ میں عموماً یہی ہدف کار فرما ہوتا ہے۔
۳۔برعظیم پاک و ہند میں موجود مختلف مکاتبِ فکر ایک حقیقت ہیں،جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،نہ ہی یہ مسلکی تقسیم اور تفریق ختم کرنا کسی حکومت کے بس میں ہے،اس لیے یہ مدارس اسی امتیاز اور مسئلہ کی شناخت کے ساتھ قائم رہیں گے مگر حکومت کی ذمے داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ اس امتیاز کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں چند ایک ضروری امور میں یکسانیت uni formality پیدا کرنے پر آمادہ کرے۔ جس کے لیے ان تمام بورڈز پر مشتمل ایسی مشترکہ اتھارٹی تشکیل دی جاسکتی ہے، جو ان کے مابین رابطہ کار کی ذمے داریاں بھی انجام دے، اور انہیں قریب کرنے کا فریضہ بھی اس کے پیش نظر ہو۔
اگر کہیں سوچنے کا عمل شروع ہو تو اس کے حوالے سے مزید تجاویز دی جاسکتی ہیں۔
۴۔یکسانیت کی اس ضرورت ہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک درجے میں ہمیں یہ یکسانیت ہمارے ماحول میں موجود دیگر سیکولر تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی درکار ہے۔بار بار جو مختلف اداروں کی جانب سے عصری تعلیم کی شرط عائد کی جاتی ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے، اس کی بہت سی وجوہات ہیں جو تعلیمی نفسیات سے واقف لوگوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔کاش ایسا ہوتا کہ مدارس اپنی ضرورتوں اور اپنی سہولتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے خود ایسی ریسرچ کرتے اور اس ریسرچ کی روشنی میں اپنے حاصل شدہ نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نصاب تشکیل دیتے کہ حکومت کی مداخلت کا گراف کم سے کم درجے میں آنے پر مجبور ہو جاتا۔
۵۔ان حالات میں بھی ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی بہ جائے مل کر بیٹھیں اور تمام بورڈ اپنے مسلکی،فقہی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض دینی تعلیم کے نکتے پر یکجا ہوکر اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے طرز پر اپنے آپ کو اکٹھا کریں اور اپنی داخلی خودمختاری کو یقینی بناتے ہوئے مل کر فیصلے کرنے کی عادت ڈالیں۔
۶۔مدارس کے ان بورڈز کی باہمی آویزش جہاں انہیں کم زور کرنے کا باعث بنے گی، وہیں ایک جانب تو اپنے نظام پر ان کی گرفت کم زور ہوگی، دوسری جانب ان بورڈز کے مابین ایک غیر محمود اور مضر مسابقت بھی پیدا ہوسکتی ہے، جو خاص طور پر ان بورڈز کے نظام امتحان کو متاثر کرے گی، نتیجتاً شہادۃ العالمیہ کا رہا سہا غیر رسمی وقار بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔
۷۔ ان فیصلوں میں سب سے اہم نکتہ یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ ایک بورڈ کا طالب علم آسانی اور سہولت کے ساتھ دوسرے بورڈ میں کیسے منتقل ہو سکتا ہے۔یہ مسئلہ پہلے اس لئے التواءکا شکار رہا کہ ایک مسلک کے تمام مدارس کسی ایک وفاق سے منسلک تھے۔اب جب کہ ایک ایک مسلک کے کئی کئی بورڈ معرض وجود میں آ چکے ہیں تو اس بات کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے۔یہ فیصلہ کر لینے سے جہاں ان بورڈز کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کم ہوگی وہیں مستقبل میں بھی ان کے آپس میں قریب تر رہنے کے امکانات روشن رہیں گے۔اور اگر بالفرض واقعی کہیں پر ان تمام اقدامات کا مقصد ان مدارس کو منتشر کرنا ہے تو ان مقاصد کو بھی اور ان مقاصد سے حاصل ہونے والی مضرتوں کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
۸۔نئے بننے والے مختلف بورڈز کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان اسی طرح تنظیم المدارس وغیرہ کو بھی اپنا رویہ نرم رکھنا چاہیے اور کوشش ہونی چاہیے کہ انہیں تسلیم کیا جائے،شنید ہے کہ اس ضمن میں بعض بڑے حضرات نے کوششیں شروع کی ہیں،یہ ایک مفید اور محمود عمل ہے، اسے جاری رکھنا چاہیے اور اپنے دلوں میں موجود گنجائش کو مزید بڑھانا چاہیے۔ یہ کسی کا ذاتی معاملہ نہیں ہے، اس لیے اتنے حساس معاملے کو انا کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے۔
۹۔اس سارے عمل کا ایک مفید اور مثبت نتیجہ اس صورت میں ضرور برآمد ہو گا، جب یہ تمام بورڈ باہم ایک دوسرے کے احترام اور اعتماد کی فضا کو قائم کرنے کے بعد مثبت اور معیاری مسابقت کی فضا قائم کریں، اس کے نتیجے میں ان بورڈز کے نصاب اور نظام میں بہتری کی گنجائش پیدا ہوگی، اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کے لیے کسی ایک بورڈ کا انتخاب کرنا سہل اور آسان ہوگا۔
۱۰۔مختلف نوعیت کے کورسز کا اجرا ایک مکمل سائنس ہے،اگر کسی کورس کو حکومتی سطح پر کچھ بھی مقام دلانا مقصود ہے تو اس سائنس کو پوری طور پر جاننا ہماری ضرورت ہے۔مثال کے طور پر سرٹیفکیٹ کورس کیا ہے، ڈپلومہ کیا ہوتا ہے، ڈگری پروگرام کیا ہے، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کیا ہے، بیچلر کی کیا شرائط ہیں، ماسٹر کس کس شرط کے تحت مکمل ہوسکتا ہے، وغیرہ۔پھر یہ کہ کس کورس کے لئے کم سے کم کتنے کریڈٹ آور ہونے چاہییں ان کورسز کو کسی ڈگری پروگرام میں کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟ یہ تمام چیزیں جانے بغیر ہم جتنی بڑی چھلانگ لگانا چاہتے ہیں وہ ممکن ہی نہیں۔ اس بات کو ہم ایک چھوٹی سی مثال سے ہم واضح کرتے ہیں۔
اگر کہیں تین مہینے کا عربی کا ڈپلومہ کورس کرایا جاتا ہے،جو چھ ماہ پر مشتمل ہے، یا تین ماہ کا سرٹیفکیٹ کورس کرایا جاتا ہے، اس کو منظور کرانے کے لیے لازم ہے کہ اس کے اتنے کریڈٹ آور پورے کئے جائیں، اور کاغذات میں واضح کیے جائیں جن کے بغیر تین ماہ کا سرٹیفکیٹ کورس حکومتی قوانین کے مطابق قابل قبول نہیں ہو گا۔یہ شرط پوری کرلی جائے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ کورس کرنے والا طالب علم جب اپنا سرٹیفیکیٹ ڈپلومہ لے کر کہیں عربی میں ایم اے کرنے کے لیے جائے گا تو اس کو کچھ کریڈٹ آور کی چھوٹ میسر آ سکے گی۔ یہ چھوٹی سی مثال تھی جو ہم نے اپنی بات واضح کرنے کے لیے پیش کی۔
مختلف نئے موضوعات پر جس نوعیت کے کورسز ہمیں مطلوب ہیں، اور اس سلسلے میں جو کاوشیں لوگوں اور اداروں کے ذہنوں میں ہیں،ان کو منظوری کے مراحل سے گزارنے کے لیے ان تمام باریکیوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے،ورنہ جس قدر چاہیں حکومتی اداروں کے پیچھے بھاگتے رہیے، ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
۱۱۔ مدارس میں ہونے والے تخصصات کی تعلیم بھی پہلے مرحلے میں وفاقوں کی سطح پر، اور دوسرے مرحلے میں معادلے کے لیے منظم کرنے کی ضرورت ہے، گو یہ راستہ پر خطر ہے، اسی بنا پر وفاق المدارس کی سطح پر شروع ہونے والی ایک مشق نتیجہ خیز ہونے سے پہلے ختم کردی گئی تھی، اس وقت کے خدشات اپنا وزن رکھتے تھے، مگر اس کے علاوہ بھی خطرات موجود ہیں، لیکن کم از کم تخصص کے مقالے کی بنیاد پرایم فل میں کسی قدر رعایت حاصل کی جاسکتی ہے، اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ سب میں نہ سہی بعض مدارس میں مقالہ نگاری کی روایت کو کم از کم تخصص کی سطح پر تقویت ملے گی۔ اور شاید منہج تحقیق کی تدریس کی بھی مدارس میں روایت قائم ہوسکے۔
۱۲۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس بنیادی نوعیت کی فنی اور تکنیکی مہارت ر کھنے والے افراد ہی سرے سے موجود نہیں،نہ اس جانب ہماری کوئی توجہ ہی ہے۔ایسے میں ہمیں بے وقوف بنانا،استعمال کرنا اور ہماری راہ کھوٹی کرنا ہر ایک کے لئے آسان ہے، اور یہی کچھ ہو رہا ہے جو ہم مسلسل جھیلتے چلے آرہے ہیں اور مسلسل اپنا نقصان کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اصل ہدف ہماری نظر سے اوجھل ہے۔
۱۳۔نصاب سازی بہ جائے خود ایک فن ہے،اب جب کہ مختلف بورڈ ایک ہی عنوان کے تحت میدان عمل میں ہیں تو ہر ایک کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے نصاب میں ایسی بنیادی اور جوہری تبدیلی کریں جو طلبہ کے ان کی جانب رغبت کا باعث بنے۔ یہ کام محض دو تین کتابوں کو تبدیل کر دینے سے انجام نہیں پاسکتا۔اس کے لیے دینی ضرورت کا علم،دینی تعلیم کے بنیادی مقاصد کے بارے میں مکمل ذہنی یکسوئی،اور اپنے اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے حصول کے طریق کار کے بارے میں بھی ذہن کا واضح ہونا ضروری ہے۔دیکھا یہ جا رہا ہے کہ خود علم اور مقصد تعلیم کے حوالے سے بھی بہت زیادہ الجھنیں ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں۔ لیکن یہ تفصیلی موضوع ہے،اور علیحدہ تحریر کا متقاضی
۱۴۔ سب سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ مدارس کو، یا کم از کم چند ایک بڑے مدارس کو درس نظامی کے ساتھ ساتھ کم از کم ایف اے ریگولر کرانے کی روایت ڈالنی چاہیے۔ اس کے لیے منتخب طلبہ سے سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے، یہ پریکٹس کئی ایک جگہوں پر انفرادی حیثیت میں بعض اساتذہ و مہتممین کی کاوش سے جاری ہے۔ اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اب چوں کہ بی ایس کے نظام کے ساتھ ہی پرائیویٹ امتحانات کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ مفید امکان ہمارے لیے علاہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہے، جس کا درس نظامی کا شعبہ اس مقصد کے لیے الگ سے فعال ہے۔ اس لیے آگے بڑھیے، طلبہ کے لیے کیئریر کونسلگ کا اہتمام کیجیے، انہیں رہنمائی فراہم کیجیے، ان کا ہاتھ پکڑیے، اور نئی تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور معاملہ فہم دینی قیادت کی تیاری کے فرائض میں شریک ہوجائیے۔ محدود ترین دائرے میں دار العلم والتحقیق کے پلیٹ فارم سے ہم یہ فریضہ گذشتہ کم بیش دس بارہ برسوں سے انجام دے رہے ہیں۔
مدارس کے نئے بورڈز کے قیام کے حوالے سے پیش آمدہ صورت حال کے سلسلے میں چند باتوں کا خلاصہ مختلف اقساط میں پیش کیا گیا۔اس بحث میں کچھ تو تاریخ تھی،چند اعداد و شمار تھے،کچھ چیزیں تجزیے کے درجے میں تھیں، کچھ مستقبل کے امکانات تھے جو تحریر ہوئے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے تمام تجزیات معلومات،قرائن،تاریخ اور مشاہدے کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں،اس لیے ان میں کمی بیشہ اور اصلاح و اضافے کا امکان ہر صورت میں رہتا ہے۔ہم اپنی حتمی وفاداری صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ رکھتے ییں،اور دم آخر تک یوں ہی رکھنے کے متمنی ہیں،مدارس دین کی ایک علامت کا درجہ رکھتے ہیں،اور ان سے وابستہ لاکھوں طلبہ اسی نسبت سے ہمارے لیےحددرجے قابل قدر ہیں،ان کا مفاد ہمارے لیے ہر قیمتی متاع سے بڑھ کر ہے،اسی جذبے سے کسی کو ہدف بنائے بغیر پوری نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ یہ سطور لکھی گئیں۔اللہ تعالی ہمیں ہر خیرات پوری طرح متعلق فرمائے اور ہر شر کو ہمارے حق میں خیر سے تبدیل فرمادے۔
امین بجاہ سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
مولانا وحید الدین خانؒ
مشاہدات و تاثرات کے آئینے میں
مولانا محمد وارث مظہری
مولانا وحید الدین خان کی وفات علمی وفکری دنیا کے لیے بلاشبہ ایک عظیم خسارہ ہے۔وہ عالمی شہرت و شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے دو سو سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بہت سی کتا بوں کے ترجمے متعدد مقامی اور عالمی زبانوں میں کیے گئےجس نے انہیں عالم اسلام اور مغرب کے علمی وفکری حلقوں میں متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیا۔اپنی کتابوں کے ترجمہ و اشاعت اور اپنی فکر کی ترویج کے لیے انہوں نے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال کیا جو خوش قسمتی سے بھرپور طور پر انہیں میسر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ کئی لحاظ سے بہت خوش قسمت لیکن کئی لحاظ سے نہایت ’’بدقسمت‘‘ واقع ہوئے تھے۔خوش قسمتی کا پہلو تو ظاہر ہے۔’’بدقسمتی‘‘ کا پہلو یہ ہے کہ اس قدر طویل اورفعال علمی وفکری زندگی گزارنے کے باوجود ان کی مقبولیت کادائرہ نسبتا محدود رہا۔ ان کی شہرت میں بدنامی کا عنصر غالب رہا۔وہ مسلمانوں کے کسی بھی حلقے میں اپنی کوئی مستقل اور مضبوط جگہ نہیں بناسکے۔ہر حلقے کے’’بے شعور وباشعور‘‘ افراد کو ان کے مختلف نظریات سے شدید اختلاف رہا۔یہی وجہ ہے کہ وہ دوسرے معاصرین کی طرح اپنے رفقا و تلامذہ کی کوئی ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے جو ان کی فکری وراثت کو سنبھال کر اسے پروان چڑھا سکے۔
مولانا سے میرا تعلق
مولانا وحید الدین خاں ؒ کو میں نے بہت قریب سے دیکھا،برتا اور پرکھا۔ مجھے ان کے ساتھ کچھ عرصے تک کام کرنے کا موقع ملا۔اور اس دوران مجھے ان کے ساتھ طویل علمی صحبتیں میسر آ ئیں۔فکری نشستوں اور پروگراموں میں شرکت کے ساتھ بارہا مختلف موضوعات پر ان کے ساتھ تبادلہ ٔ خیالات کا اتفاق ہوا۔ علاوہ ازیں میں نے مولانا کے لٹریچر کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔سالہاسال تک ’’الرسالہ‘‘ کے مطالعے کے جنون میں مبتلا رہا۔ اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے مولانا کی شخصیت اور فکر دونوں کا یکساں طور پر مطالعہ کیا ہے۔1995 میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد اپنے ذوق عربی کی تسکین کے لیے میں نے ندوۃ العلماء ،لکھنؤکا رخ کیا۔وہاں میرا داخلہ’’ علیا اولی ادب‘‘ میں ہوا۔لیکن دوران سال میں نے ندوے کو خیر آباد کہہ دیا۔ کیوں کہ اس کا ادب عربی کا نصاب مختلف فنون پر مشتمل تھا جن سے میں دیوبند کی طالب علمی کے دورانیے میں گزرچکا تھا۔ میرا مقصود صرف عربی زبان میں تخلیق وترجمے کی اعلی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔ ندوے سے لوٹ آنے کے بعد دہلی،علی گڑھ اور بجنور کے علمی گلیاروں کی خاک چھانتا رہا۔پھر 1997 میں بطور مدیر معاون’’ الرسالہ‘‘ سے وابستہ ہوگیاجس کا اشتہار روزنامہ’’ قومی آواز‘‘ نئی دہلی میں شائع ہوا تھا۔کچھ وقفوں کے ساتھ قریبا ایک سال تک مولانا سے رسمی وابستگی رہی۔
مولانا کی صحبت بافیض سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ایک ایسے دور میں جب کہ معاشی مستقبل کے حوالے سے بے اطمینانی کی کیفیت ذہن ودماغ پر چھائی ہوئی تھی اور میں خود کو ایک دوراہے پر کھڑا محسوس کرتا تھا کہ مجھے پہلے اپنے معاشی مستقبل کو بہتر بنانے کی طرف قدم آگے بڑھانا چاہیے یا علم ومطالعے کو پروان چڑھانے کوترجیح دینا چاہیے؛ مولانا کی صحبت نے مجھے دوسرے پہلو پراپنی توجہ کومرکوز رکھنے پر آمادہ کیا۔ مولانا کی صحبت میں مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میں انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے نرا جاہل اور جدید دنیا سے نابلد ہوں۔ اب تک میں عربی زبان کے سحر میں مبتلا اور اس کی زلف گرہ گیر کا اسیر تھا۔واقعہ یہ ہوا کہ مولانا کی معیت میں دہلی میں ایک انٹرنیشنل سیمینار میں شرکت ہوئی جس کی ساری کارروائی از اول تا آخر انگریزی میں تھی۔ مجھے کچھ بھی پلے نہیں پڑسکا ۔اس پر میرے لیے ذلت کا سامان یہ ہوا کہ بعض مندوبین نے مجھ سے مخاطب ہوکر انگریزی میں سوالات اچھال دیے جن کا جواب میرے پاس سرکھجانے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔میرے تاسف وندامت کودیکھتے ہوئے مولانانے مجھے خود سے انگریزی سیکھنے کے گر بتائے ۔ میں نے اس پر عمل کیا اور کامیاب رہا۔ مولانا کی صحبت کا ایک اثر یہ ہوا کہ میں شعروادب کی بھول بھلیوں سے باہر نکل آیا۔شعروادب کا ذوق مجھےوراثت میں ملا ہے کہ میرے والد ایک اچھے اور قادر الکلام شاعر تھے۔چناں چہ طالب علمی کے زمانے میں اور اس کے بعد بھی میں خود کوشعرگوئی اور ادب نویسی سے باز نہ رکھ سکا جس کے نتائج ماہنامہ ’’آج کل‘‘ نئی دہلی، ماہنامہ’’ ایوان اردو‘‘،نئی دہلی اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری ادبی رسائل میں شایع ہوتے تھے۔لیکن مدتوں سے منھ کو لگی ہوئی یہ کافر مولانا کی صحبت میں چھوٹ گئی۔کیوں کہ مولانا نے اس کی شدید حوصلہ شکنی کی۔
یہ عظیم الشان فائدے مجھے مولانا کی زندگی کوقریب سے دیکھنے اور ان کی نصیحتوں پر کسی قدر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوئے۔تاہم میں یہ چاہتا تھا کہ مولانا میری اس باب میں رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کن کتابوں اور کن شخصیات کو ترجیحی طور پر پڑھنا چاہیے؟ کن موضوعات پر مطالعے کو اپنی اس ابتدائی علمی زندگی کے اس مرحلے میں مجھے پیش نظر رکھنا چاہیے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے سامنے اس کا خاکہ اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ مجھے’’ الرسالہ‘‘ لٹریچر میں پوری طرح خود کو غرق کردیناچاہیے۔
وہ معاصرین اور دور حاضرکے اصحاب علم وفکر کی کتابوں کوتواس لائق ہی نہیں سمجھتے تھے کہ کسی کوان کے مطالعے کا مشورہ دے سکیں، متقدمین کی کتابوں میں سے چند ایک کے علاوہ(جن میں مقدمہ ابن خلدون سرفہرست ہے) وہ تقریبا پوری اسلامی کلاسکس بالفاظ دیگر اسلامی تراث کودفتر بے معنی سمجھتے ہوئے ’’غرق مے ناب اولی‘‘ تصور کرتے تھے۔مولانا سے دامن کشی کی بنیادی وجہ ان کی افتاد طبع اور ان کے غلو آمیز نظریات تھے۔قائل کرنے کے بجائے اپنے نظریات کومسلط کرنے کا ان کا انداز نہایت ناگوار گزرتا تھا۔ انہیں ایسا معاون چاہیے تھا جو ان کی شخصیت کے آفاق میں اس طرح گم ہو کہ باہر کی پوری دنیا اس کی نظروں سے بالکلیہ اوجھل ہوچکی ہو۔وہ’’ الرسالہ‘‘ تحریک کا ایسا مخلص خادم چاہتے تھے جو اپنی ضروریات ومطالبات سے اوپر اٹھ کر خود کو اس تحریک کے لیے پوری طرح تج دینے اور قربان کردینے کا جذبہ رکھتا ہو۔مجھے بہت جلد محسوس ہونے لگا کہ میں اس معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔کسی شخصیت کا ضمیمہ بن جانا علمی زندگی اور شناخت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔مولانا کواس کا کوئی ملال بھی نہیں تھاکہ کون ان سے الگ ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟وہ ان احساسات سے بالاتر تھے۔
۲۰۰۰میں تنظیم ابنائے قدیم دار العلوم دیوبند(نئی دہلی) سے،اس سے نکلنے والے ماہنامے، ’’ترجمان دارالعلوم‘‘ سے بطور مدیر تحریر وابستہ ہوگیا۔اسی سال تنظیم نے بانی دار العلوم دیوبند مولانا محمدقاسم نانوتوی ؒ پر ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد کیا جس میں شرکت کی مولانا کوبھی دعوت دی گئی۔انہوں نے اس کے لیے مقالہ لکھنے کی یہ شرط رکھی کہ راقم الحروف چند ایام ان کے پاس حاضر ہواوروہ یہ مقالہ اس کو املا کرائیں۔چناں چہ اس شرط کی منظوری کے ساتھ یہ مقالہ تیار اور شایع ہوا۔ اس میں مدارس کی قدرومعنویت اور اصحاب مدارس کے کردار اور کارناموں کو سنجیدہ علمی اسلوب میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن سیمینار میں مولانا کومقالہ پڑھنے نہیں دیا گیا۔ سامعین کے ایک طبقے نے جس میں بعض معروف علما بھی شامل تھے،وہ شور وہنگامہ برپا کیا کہ مولانا کواسٹیج سے اترنا اور مجھے دوران پروگرام مولانا کوان کے گھرچھوڑنا پڑا۔مولانا نے مقالے پر کافی محنت کی تھی۔بقول ان کے اس کی پریزنٹیشن کی انہوں نے باضابطہ ریہرسل کی تھی۔بلاشبہ یہ ناخوش گوار واقعہ تھا لیکن مولانا کی خوبی یہ تھی کہ وہ ایسے تمام ناخوش گوار واقعات کو جھٹک دینے اور برداشت کرجانے کی غیر معمولی نفسیاتی قوت رکھتے تھے۔
نادر و کمیاب خوبیاں
مولانا بڑی اہم خوبیوں کے مالک تھے۔ان کی شخصیت اور ان کے عملی شب وروز میں سیکھنے کی بہت سی چیزیں تھیں:
- وقت کے استعمال کی جونادر مثالیں متقدمین کے یہاں ملتی ہیں، وہ ناقابل قیاس حد تک مولانا کے یہاں موجود تھیں۔ وہ ایک ایک لمحے کوناپ تول کرخرچ کرتے اور اس کے ضیاع پر کف افسوس ملتے تھے۔
- علم ومطالعے کے لیے اپنی زندگی کووقف کردینے کا جوجذبہ ان کے یہاں پایا جاتا تھا، اس کی نظیر فی زمانہ کم ملتی ہے۔انہوں نے اپنی اکثر خواہشات، تمناؤں اور حسرتوں کواپنے فکری مشن کی قربان گاہ پرچڑھادیا تھا۔اس کے منفی اثرات ان کے خاندان پرمرتب ہوئے لیکن مولانا کی سوچ ان سب سے مافوق تھی۔
- کسی بڑے سے بڑے حادثے سے بھی ان کا ذہن بالکل متاثر نہیں ہوتا تھا تھا۔ایک دن میں حاضرہوا تومولانا نے بتایا کہ ان پر آج قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ حالاں کہ مولانا اپنی نشست گاہ میں تنہا تھے۔ تاہم خدا کے فضل سے اپنا بچاؤ کرنے میں کامیاب رہے۔یہ واقعہ انہوں نے اس تمہیدکے ساتھ بیان کیا کہ:’’ آدمی کوحالات سے کبھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔یہ اس کی علمی وفکری زندگی کے لیے زہر قاتل ہے‘‘۔اس حملے کے دن بھی مولانا ہشاش بشا ش پورے دن حسب معمول کام میں مشغول رہےجیسے سرے سے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
- ان کا ذہن بیداری کے تمام تر لمحات میں متحرک رہتا تھا۔ جس طرح شعرا پر اشعار کانزول ہوتا ہے، مولانا پر اس طرح افکار کا نزول ہوتا رہتا تھا۔جیسے ہی کوئی فکر ’’نازل‘‘ ہوتی،وہ اسے کسی ڈائر ی میں لکھواتے۔ پھر وہی فکر پارہ مستقل مضمون کی شکل اختیار کرلیتا۔
- ایک مربیانہ وصف یہ تھا کہ وہ وقفے وقفے سے ،جاری مشغولیت کو روک کر نصیحت کرتے تھے۔ مثلا ایک دن ایک مضمون کا املا کراتے ہوئے قلم رکو اکر کہنے لگے :’’ آپ کواپنی شادی کوجس حد تک ہوسکے موخر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔ اورضمن میں خود اپنی شادی سے متعلق ایسا نیم افسانوی اور حیرت انگیز واقعہ بیان کیا جو ناقبل یقین حد تک انوکھا تھا۔اس سے ان کی اہلیہ کی قرباینوں کا بھی اندازہ ہوا۔فنائیت فی العلم کی ایسی مثالیں اب عنقا ہیں۔
- مولانا کی ایک اہم خوبی ان کی سادگی تھی۔وہ گاندھی جی کا قول دہراتے تھے کہ:’’سادہ زندگی، اعلی سوچ‘‘(simple living ,high thinking) کہنے کو تو ان کے پاس کروڑوں کی دولت ودنیا تھی لیکن ان کی شبانہ روز کی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ خالص سبزی خور تھے،مرغ وماہی سے سخت متنفر۔ عید الاضحی کا گوشت بھی بس چکھ لیتے تھے۔(البتہ ان کے بقول مہمان کومزید زحمت سے بچانے کے لیے وہ بعد میں مہمان داری میں حسب ضرورت گوشت کا استعمال کرلینے لگے تھے)۔اے، سی،کولر اور فریج جیسی جدید دور کی ’’نعمتوں‘‘ کووہ اپنے اوپر ’’حرام‘‘ تصور کرتے تھے۔کسی مقامی میٹنگ میں شرکت ہویا کسی اعلی سطح کے بین الاقوامی فورم میں؛مولانا کی ان کے لیے تیاری اور ان میں شرکت کا انداز یکساں اور درویشانہ ہوتا تھا۔
- مولانا کا ایک قابل تعریف وصف استغنا تھاجس کا اندازہ لوگوں کوکم ہے۔ایک دن مولانا نے مجھے بتایا کہ آنجہانی پرمود مہاجن اور بی جے پی کے بعض دوسرے رہنما گورنرشپ کی پیش کش لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے تھے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ صوفی منش آدمی ہیں۔ انہیں اس کی ضرورت نہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ بی جے پی کے ٹاپ کے رہنماؤں، جن میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی دونوں شامل ہیں، سے بے انتہا قربت کی بنا پر ان کے لیے شاید نائب صدر جمہوریہ تک کی کرسی تک رسائی حاصل کرلینابہت مشکل نہیں تھا،لیکن وہ ان چیزوں سے مستغنی تھے۔
مولانا کی کشادہ ظرفی
مولانا بہت سے معاملات میں بہت کشادہ ظرف واقع ہوئے تھے( اگرچہ کچھ دوسرے معاملات میں ذرا تنگ ظرف بھی۔)مولانا سے وابستگی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے غیر مطبوعہ مضامین کے کئی ضخیم ترین بنڈل یہ کہہ کر میرے حوالے کردیے کہ میں ان میں سے جن کو چاہوں’’ الرسالہ‘‘ میں اشاعت کے لیے منتخب کرلوں اور باقی کوان سے مشورے کے بغیرکوڑے دان کی نذر کردوں۔چناچہ میں نے بمشکل دس فیصد مضامین کےعلاوہ سارے مضامین ضایع کردیے ۔متعدد مضامین کو جونہایت محنت سے لکھے گئے تھے،میرے اظہار اختلاف کے بعد وہ میرے سامنے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا کرتے تھے۔ مجھے ایسے دو مضامین کی اس وقت یاد آتی ہے: ایک مضمون میں انہوں نے اس خیال کا اظہا ر کیا تھا کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں دعوت کا کام فتوحات کےہجوم میں دب کر رہ گیا۔ میرے اعتراض پر انہوں نے بلا تامل اسے اسی وقت پھاڑ کر پھینک دیا۔ دوسرے مضمون کا عنوان تھا: البادی اظلم(شروع کرنے والا سب سے بڑا ظالم ہے۔) اس میں اس موقف کا اظہار کیا گیا تھا کہ چوں کہ فسادات کی ابتدا ہندوستان میں مسلمان کرتے ہیں، اس لیے وہ زیادہ بڑے ظالم ہیں۔میری تنقید پر انہوں نے مسکراکر میرے سامنے اسےپھاڑ کرردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
ان واقعات سے اندازہ ہوا کہ مولانا کے اندر کشادہ ظرفی اور لچک پائی جاتی ہے۔ البتہ وہ اس کے لیے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں تھے کہ اپنے کسی نظریے اور موقف کے کسی جز سے بھی دست بردار ہوں۔ان کی کتاب ’’ تجدید دین‘‘ پڑھ کر مجھے شدید تکدر ہوا جس کا اظہار میں نے مولاناکے سامنے کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مولانا رضوان القاسمی ؒ( مہتمم دار العلوم سبیل السلام ،حیدر آباد)نے بھی اس کتاب پراسی شدت کے ساتھ تنقید کی ہے۔ مختلف مواقع پر ان کی ’’تسلیم کی خو‘‘ کودیکھتے ہوئے میں نے مولانا کومشورہ دیا کہ وہ ایک ایسی تحریر لکھ دیں جس کامضمون یہ ہوکہ ان کے جونظریات جمہورعلمائے امت سے متصادم ہیں،وہ ان سے اظہار برأت کرتے ہیں۔مولانانے فرمایا کہ میں خود سے یہ تحریر لکھ لوں، مولانا اس پر دستخط کردیں گے۔لیکن انہوں نے اگلے ہی لمحے وضاحت کی کہ :’’یہ محض آپ کے اطمینان خاطر کے لیے ہوگی۔ورنہ جس طرح میں کل ان تمام نظریات ومواقف کودرست تصور کرتا تھا،آج بھی ویسا ہی تصور کرتا ہوں۔ ان سے دست بردار نہیں ہوسکتا‘‘۔میں نے کہا کہ پھر صرف میرے اطمینان کے لیے اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟
مولانا کی خوبی (اور اسی کے ساتھ خامی !)یہ تھی کہ وہ نہایت سنجیدگی اور متانت سے معترض کے اعتراضات کوسنتےاور اپنے نقطہ نظرکی بھرپور طور پر تفہیم کی کوشش کرتے تھے ۔ معترض کی درشت کلامی اور طنز وتشنیع پر بھی قطعاً مشتعل نہیں ہوتےلیکن اس تفہیم پرواقع ہونے والے نہایت وزنی اشکالات واعتراضات کوبالکل خاطر میں نہیں لاتے اورخاموش ہوجاتے یا موضوع گفتگو بدل دیتے تھے۔
مولانا اور ہندوستانی مسلمان: کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
ہمیں اس پہلوپرغور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ مولانا اور امت مسلمہ کے درمیان جو کشمکش پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں نے ایک دوسرے کوتقریبا مسترد کردیا، اس کا نقصان کس کے حق میں کیا ہوا؟میرا خیال ہے کہ مولانا اورہندوستانی مسلمان دونوں اس نقصان میں برابر کے شریک ہیں۔مولانا اور ان کی ایک مثبت نتیجہ خیزفکری تحریک کویہ خسارہ برداشت کرنا پڑا کہ وہ صرف ایک طبقے تک سمٹ کررہ گئی۔ مولانا کی فکر وقت کی آواز تھی ۔ اس کے اسلوب پیش کش میں قوت وتوانائی تھی جس نے اول وہلے میں ہی اہل علم کومتاثر کیا اور مولانا علمی وفکری دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے لیکن خاص طور پر ملی معاملات میں اپنی’’غیر معتدل‘‘ آرا وبیانات سے خود کواس حدتک متنازعہ بنالیا کہ عوام وخواص کی اکثریت کی نگاہ میں ان کی فکرکی معنویت وافادیت مشتبہ ہوکررہ گئی۔مولانا کی نہایت تعمیری سوچ بھی لوگوں کوتخریبی نظرآنے لگی۔ان کے اعلی اور قیمتی افکار وخدمات پس منظر میں چلے گئیں۔ اور ان کے کمزور اور متنازعہ فیہ بیانات واقوال لوگوں کو ذہنوں پر چھا گئے۔میں سمجھتا ہوں کہ مولانا اور ہندوستانی مسلمان، جن میں عوام وخواص دونوں شامل ہیں، نے ایک دوسرے کوسمجھنے میں شدید غلطی کی۔ مولانا سمجھتے تھے کہ پوری ملت یا امت کا فکری شاکلہ (یہ مولانا کی خاص اصطلاح ہے) بگڑگیا ہے۔ اس کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ لیکن اس تشکیل نوکے کے عمل میں مولانا نے توڑنے اور ڈھانے پرتوجہ زیادہ مرکوز رکھی اور تعمیر پر کم۔کیوں کہ تعمیر ی عمل تدریج اور حکمت عملی چاہتا ہے۔ اپنے مدعویا مخاطب کو آخری حدتک مشتعل اور متنفر کرکے مقصود کوحاصل کرنے کی پالیسی خود مولانا کےاصل الاصول سے ٹکراتی ہے جس کے وہ زندگی بھر مبلغ رہے۔ایک پیغمبر اور داعی اپنی قوم کوسب سے پہلے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں اور اس سے آخری حد تک قربت ومفاہمت کی راہیں تلاش کرتا ہے تاکہ اس کی آواز سنی جاسکے اور اس کے پیغام پر کان دھراجاسکے۔ افسوس مولانا اس پہلو پرزیادہ غور نہیں کرسکے۔
مولانا سے نفرت اور دوری کے نتیجے میں ملت کا جونقصان ہوا وہ بھی کم نہیں ہے۔اس وقت مسلمانوں کے خلاف ملک میں نفرت وعداوت کی جوآندھی چل رہی ہے اورجس سے مسلمانوں کا ملی وسیاسی وجود ہچکولے کھاتا نظر آتا ہے، اس کا پیشگی احساس وادراک کرنے والوں میں مولانا سرفہرست تھے۔میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندو فسطائی تنظیموں کے ساتھ مولانا کے قریبی روابط سے ملت میں جوبھی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت وعداوت کی پنپتی فضا پر پیش بندی کی ایک کوشش تھی۔اس تعلق سے ان کا ذہن مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے متاثر تھا اور وہ ان کے بڑے مداح تھے۔مولانا کی شخصیت اس لحاظ سے ہندوستان کی واحد شخصیت تھی جسے فریق مخالف کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق امورومعاملات میں بی جے پی کے قائدین اور پالیسی ساز ان سے مشورے کرتے اور ان کی راے کواہمیت دیتے تھے۔
ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے جومولانا نے مجھے بتایا تھا۔۱۹۹۹ میں قندھار طیارہ اغوامعاملہ پیش آیا۔ اغوا کاروں سےہندوستانی حکومت کے اہل کاروں کی گفت وشنید سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ وہ ’’دیوبند‘‘ سےگہری عقیدت رکھتے ہیں اور وہاں کی زیارت کے خواہش مند ہیں۔اس واقعے کے بعد بی جے پی نمائندوں کا ایک وفد مولانا کے پاس حاضر ہوا اوراغوا کاروں کی دار العلوم دیوبندسے فکری مناسبت وہم آہنگی کی حقیقت جاننی چاہی۔ مولانا نے فرمایا کہ :’’میں توخود دیوبندی ہوں‘‘۔ اور پھر انہیں سمجھایا کہ دیوبندیت بریلویت صرف ایک مذہبی گروہی شناخت سے عبارت ہے ۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے واقعات سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
مسلم مخالف ہندوتنظیموں اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان مولانا ایک بیچ کی کڑی ہوسکتے تھے اور وہ رول ادا کرسکتے تھے جوجنگ احزاب کے موقع پر صحابی رسول حضرت نعیم بن مسعود ؓنے ادا کیا تھا اور جن کی دانش مندانہ ترکیب سے نہایت خطرناک جنگ کی مسلط کردہ وبا مسلمانوں کے سرسے ٹل گئی تھی۔ لیکن افسوس ہندوستان کی مسلم کمیونٹی مولانا کی اس انفرادی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھاسکی۔مولانا مسلسل اس موضوع پر لکھتے رہے کہ مدعو قوم سے نفرت وکشاکش مسلمانوں کے لیے ہلاکت آفریں ہے لیکن مولانا کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔اکثریت سمجھتی رہی کہ مولانا اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بی جے اور آر ایس ایس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مولانا پر یہ الزام بے بنیاد ہے۔تشددد پسند ہندو تنظیموں سے مولانا کی وابستگی ان کی مخصوص دعوتی ایپروچ کی دین تھی۔وہ اس موقف کا برملا اظہار کرتے تھے کہ ڈائلاگ اور مفاہمت کی کوششیں اصلا تشدد پسند افراد اور جماعتوں کے ساتھ کی جانی چاہیئیں تاکہ ان کی ذہنیت میں مثبت تبدیلی پیدا ہو،نہ کہ امن پسند افراد کے ساتھ ،جو پہلے ہی ’’بے مسئلہ ‘‘ ہیں۔
ایک دن میں حاضر ہوا تو مولانا کوشدت کے ساتھ اپنا منتظر پایا۔ مولانا نے بتایا کہ : ’’وزیر اعظم واجپائی کی طرف سے ایک اہم میٹنگ میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ میں فیصلہ نہیں کرپارہا ہوں کہ مجھے اس میں شرکت کرنی چاہیے یا نہیں‘‘۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد میٹنگ تھی جس میں شرکت میں مولانا کوتامل تھا ۔ میں نے ذرا ہلکے موڈ میں کہا کہ:’’ مولانا! آپ کی جوبدنامی ہونی تھی وہ توہوچکی۔ اب مزید کیا ہوگی؟‘‘۔(یہ واقعہ اس واقعے کے بعد کا ہے جب آر ایس ایس کی ایک میٹنگ میں مولانا کی پیشانی پر قشقہ لگادیا گیا تھا اور اس کی تصویر میڈیا میں آنے کی وجہ سے مولانا کی شدید بدنامی ہوئی تھی۔) آپ میٹنگ میں شریک ہوں۔میں بھی چلتا ہوں‘‘۔ مولاناکواس پر اطمینان ہوگیا۔ انہوں نے فرمایا کہ:’’ میں اب ضرور شریک ہوں گا۔لیکن آپ کی شرکت اس میں ممکن نہیں ہے‘‘۔ اس واقعے نے مجھے بھی تھوڑی دیر کے لیے سوچنے پر مجبور کیا۔ کیوں کہ مولانا کے ساتھ ہر پروگرام میں مجھے شرکت کی مکمل اجازت پیشگی طور پر حاصل تھی، لیکن بعد کے واقعات نے مجھے اس حقیقت کوسمجھنے میں مدددی کہ یہ مولانا کی مخصوص دعوتی ذہنیت اور فکری مشن کا حصہ تھا۔اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض پنہاں نہیں تھی۔نیتوں کا حال بس خدا کومعلوم ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ مولانا نے ملت کو اور ملت نے مولانا کوکھودیا۔اس میں ’’ونر‘‘ کوئی نہیں ؛دونوں ہی کھونے والے ہیں۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بلند اور موثر آواز مولانا کی تھی۔’’تعبیر کی غلطی‘‘کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔اقامت دین اور حاکمیت الہ کی اصطلاحوں میں سوچنے والوں کے فکری زاویے بدل گئے۔مولانا علی میاں ندوی ؒ کی ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘ اور اخوان المسلمین کے مرشد عام دوم حسن الہضیبی کی ’’دعاۃ لاقضاۃ‘‘ نے وہ کام نہیں کیا جومولانا کی مذکورہ کتاب نے کیا۔اسلام کی سیاسی تعبیر کے خلاف مولاناکی کوششیں مزید موثر اور نتیجہ خیز ہوسکتی تھیں اگر ان کوملت کا باضابطہ تعاون حاصل ہوتا۔
مولانا کے کام کی تین اساسی جہات
مولانا وحید الدین خان ؒ کے کام اور خدمات کی میری نظر میں تین اہم اور بنیادی جہات یا رخ ہیں:
۱۔اسلام کی سیاسی تعبیر کے مخالف بیانیے کی تشکیل
۲۔ اسلامی عقلیات کی تشکیل
۳۔دعوتی لٹریچر کی تالیف واشاعت
۱۔اسلام کی سیاسی تعبیر کے حوالے سے سرسری ذکر اوپر آیا۔جماعت اسلامی سے نکلنے کے بعد مولانا نے اس کواپنی فکر کا مرکز بنایا اور’’تعبیر کی غلطی‘‘ کے علاوہ متعدد چھوٹی بڑی تحریریں تسلسل کے ساتھ لکھیں۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ اصحاب علم وفکر کی توجہ کا مرکز بنا اور اس پرمباحثات شروع ہوئے۔خود جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والے مختلف اصحاب علم: مولانا سلطان احمد اصلاحی ؒ ،مولانا عنایت اللہ اسد سبحانی کے افکار پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔خواہ یہ اثرات براہ راست ہوں یا بالواسطہ۔ان دونوں حضرات کی کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔ مرحوم مولانا اصلاحی کی نظریہ ٔ حاکمیت الہ کی رد میں اورثانی الذکر کی نظریہ ٔ جہاد میں غلو کی رد میں۔ مولانا کی پہلی مضبوط شناخت یہی تھی۔عالم عرب میں بھی سیاسی اسلام کی علمی تنقید کے حوالے سے اس موضوع پرمولانا کی فکری کاوشوں نے اس بحث کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کیا۔ وہاں کے علمی حلقوں پر اس کے اس کے اثرات مرتب ہوئے۔مغربی حلقوں میں اس حوالے سے مولانا کو جوپذیرائی ملی وہ بالکل ظاہراور متوقع تھی۔ جو کمی دوسرے موضوعات کےحوالے سے نظر آتی ہے،وہی کمی یہاں بھی نظر آتی کہ اس فکر کواستحکام عطا کرنے اور پروان چڑھانے والے رفقائے کار اور تلامذہ مولانا کومیسر نہیں آئے۔ مولانا کو جو کچھ کہنا تھا وہ ایک عرصے تک الفاظ وتعبیرات کی تبدیلی کے ساتھ کہہ فارغ ہوگئے۔اس میں اضافہ مولانا کی سرپرستی میں دوسرے افراد کے ذریعہ ہوتا تویہ فکر اور مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ بناتی۔لیکن ’’الرسالہ‘‘ تحریک کے تحت یہ کام رک گیا۔’’سیاسی اسلام‘‘ کا نظریہ جس تیزی کے ساتھ اپنے پر پھیلاتا رہا، اس تیزی اورشدت کے ساتھ اس کا تعاقب نہیں کیا جاسکا۔’’تعبیر کی غلطی‘‘ کے علاوہ مزید مضبوط اور موثر تحریریں اس موضوع پر نہیں آسکیں۔
۲۔مولانا کےکام کی دوسری اہم جہت اسلامی عقلیات کی تشکیل ہے۔ برصغیر ہند میں سرسید احمد خاں ؒ نام اس کے بنیاد گذاروں میں اہمیت رکھتا ہے۔لیکن ان کی کوششیں اس حوالے سے افراط وتفریط کا شکار ہوکر رہ گئیں۔البتہ اس کے نتیجے میں اس تعلق سے ذہنوں میں سوالات ابھرے اور کام کا داعیہ پیداہوا۔ پھر شبلی نعمانی (الکلام اور علم الکلام) اور علامہ محمد اقبال(The Reconstruction of Religious Thought in Islam ) نے اس حوالے سے جوکام کیا وہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔اس کے اثرات غیرمعمولی طور پر عالم اسلام اور اس کے باہر کے علمی وفکری حلقوں پر مرتب ہوئے۔جدید علم کلام پرگفتگوآگے بڑھی۔مولانا کام کام اس میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔مولانا نے جدید سائنس کو اپنا موضوع بنایا۔جدید سائنسی افکار واکتشافات کے حوالے سے مذہبی فکریات اورمذہبی نظریہ ٔ حیات وکائنات( world view) پر عائد کیے جانے والے اعتراضات وتنقیدات کاجائزہ لینے کی کوشش کی۔مذہب کے خلاف سائنسی مفروضات کا علمی رد لکھا جو’’علم جدید کا چیلنج‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ۔اس موضوع پر یہ کتاب ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے علاوہ’’عقلیات اسلام‘‘،مذہب اور سائنس‘‘ اور ’’مذہب اور جدید چیلنجز‘‘ جیسی کتابیں اہم اور قابل مطالعہ ہیں۔یہ کہنا میری نظر میں بہت صحیح نہیں ہے کہ مولانا مغربی فکروفلسفے کا بہت گہرا ادراک رکھتے تھے۔عالم اسلام کیا خود برصغیر ہند میں اس حوالے سےشہرت رکھنے والوں کی ایک تعداد موجود ہے۔(بظاہر مولانا کوفلسفے سے کچھ خاص شغف نہیں تھا) لیکن مولانا نے جس سنجیدہ، سادہ اور مضبوط علمی اسلوب میں اس موضوع پر خامہ فرسائی کی وہ بہت اہم اورنتیجہ خیز تھی۔کاش مولانا نے اس موضوع پر کام کومزید آگے بڑھایا ہوتا لیکن چنداچھے ابتدائی نقوش کے بعد مولانا نے اس کام کوموقوف کردیا یا یہ کہ مولانا کا زاد علم اس حوالے سے ایک حد پر جا کر ختم ہوگیا۔
اس کی ایک وجہ میری نظر میں یہ بھی ہے کہ یہ موضوع بہت زیادہ مطالعہ چاہتا ہے،دوسرے موضوعات پر کاموں کےہجوم میں جس کی فرصت مولانا کو نہیں مل سکتی تھی۔ دوسرے موضوعات پر کام کی مصروفیات کو کم کرکے اس کام کوترجیحی فہرست میں رکھنا چاہیے تھا، لیکن مولانا اس کے لیے خود کوتیار نہیں کرسکے۔یہ کام بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔مولانا کوایسے افراد تیار کرنے چاہییں تھے جو اس کام کا بیڑاسنبھال سکیں اور اسے جاری رکھ سکیں۔لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔
۳۔ مولانا کے کام کی تیسری جہت دعوہ لٹریچر کی تیاری اور اشاعت ہے۔قرآن،حدیث اور سیرت رسول کو بنیاد بناکر مولانا نے چھوٹے بڑے بہت سے کتب ورسائل لکھے جن کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے۔بلاشبہ یہ لٹریچر دعوتی نقطہ ٔ نظر سے بہت اہم ہے۔قرآن کا انگریزی ترجمہ کافی مقبول ہوا۔’’تذکیر القرآن‘‘ اس لحاظ سے اہم ہے جس میں سادہ انداز میں قرآن کی تعلیمات وپیغام کوواضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح سیرت رسول پر ’’پیغمبر انقلاب ‘‘اس موضوع پر لکھی سینکڑوں کتابوں میں اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔ادھر کم از کم دودہائیوں سے مولاناکی پوری توجہ کام کی اس تیسری جہت پرمرکوز تھی ۔ یعنی سادہ انداز میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کو غیر مسلمین کے درمیان عام کرنا۔ اس کے کیا اثرات ونتائج مرتب ہوئے؟ا س کا اگراس تناظر میں جائزہ لیاجائے کہ ان کوپڑھ کر کتنے لوگوں نے اسلام قبول کیاتویہ کوئی بہت معقول بات نہیں ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا کنورژن کو بنیاد بنا کر کام کرنے کے قائل نہیں تھے۔اس کا وہ برملا اظہار بھی کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ یہ کام خدا کا ہے۔ ہمار ا کام صرف ابلاغ ہے اور بس۔اس میں شک نہیں کہ مولانا کے دعوتی لٹریچر میں جابجا افراط وتفریط کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ دین وشریعت کا کوئی پہلو کہیں زیادہ دب گیا ہے اور کہیں زیادہ ابھرگیا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اس کی افادیت اور اس سیاق میں مولانا کی انفرادیت مسلم ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ باقی اس میں کیا خامیاں اور کمیاں ہیں ان پر بحثیں ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔
مولانا کے افکاروخدمات کی اور بھی جہات ہیں لیکن یہ تین جہات زیادہ بامعنی اور اہم ہیں۔یہ تینوں جہات اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ یہ کام آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن ’’الرسالہ‘‘ اسلامی مرکز نے اب اپنے ادارے’’ سی پی ایس انٹرنیشنل ‘‘کے تحت صرف تیسری جہت پر اپنی ساری توجہات مرکوز کردی ہیں۔ اس طرح پہلی دو جہتیں جوخالص فکری نوعیت کی ہیں،اس کی متقاضی تھیں کہ مولانا کے بعد ان پر کام کا سلسلہ جاری رہے لیکن بظاہر اب’’ الرسالہ‘‘ تحریک کے تحت یہ ممکن نہیں ۔کیوں کہ وسائل توموجود ہیں ،افراد موجود نہیں ۔
مولانا کی چند کمزوریاں اور ان کے نقصانات
مولانا کے اپنے ممتاز اوصاف اور نادر خوبیوں اور کمالات کے ساتھ چند کمزوریاں بھی تھیں جن کے مسلسل واقعات مشاہدے میں آئے۔کمزوریوں سے یوں تو بڑی سے بڑی اور عبقری شخصیات بھی خالی نہیں ہوتیں لیکن مولانا کا معاملہ اس باب میں کئی لحاظ سے استثنائی حیثیت رکھتا ہے۔
- میری نظر میں مولانا کی سب سے بڑی کمزوری ان کی انانیت پسندی اوران کا ’’انا ولا غیری‘‘ کا مزاج تھا۔وہ ایک طرح کی نرگسیت (narcissism) کا شکار تھے اور اپنے علاوہ کسی کوخاطر میں لانا گوارہ نہیں کرتے تھے۔وہ اپنی فکر بلکہ اس کے ہر ہر جز کے تعلق سے’’ پیغمبرانہ ایقان‘‘(prophetic conviction) رکھتے تھے جس میں کسی خطا کا سرے سے کوئی امکان نہیں تھا۔شاید کوئی ندائے آسمانی بھی انہیں یہ باور نہیں کراسکتی تھی کہ وہ کسی معاملے میں غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ مزاج ہے جس نے انہیں پوری قوم سے برگشتہ اور متنفر کردیا۔ کیوں کہ ان کی نظر میں جو ان کی بات کونہیں مانتا وہ ان میں سے نہیں ہے۔ان کی یہ لے اتنی بڑھی کہ ایک مضمون میں انہوں نے اپنی فکر اور مشن سے وابستگی کو نجات اخروی کے لیے ضروری قراد دےدیا۔(سردست اس کے حوالے کے لیے دیکھیے مولانا عمار خان ناصر کا مضمون: سی پی ایس انٹرنیشنل ۔ کسی نئے فتنے کی تمہید؟
- حقیقت یہ ہے کہ مولانا کا معاملہ ایک نفسیاتی کمزوری کا معاملہ زیادہ ہے۔ہم اسے افتاد طبع سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔اس زاویے سے بھی ان کی فکروشخصیت کوپرکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس نفسیاتی کمزوری کی وجہ سے ان کی شخصیت اور فکر دونوں میں شدید تضادات جمع ہوگئے تھے۔اعتدال پسندی کے مبلغ ہمارے مولانا اکثر معاملات میں سخت’’غیر اعتدال پسند‘‘ واقع ہوئے تھے۔ان کی مختلف عادات واطوار اعتدال کا منھ چڑاتی تھیں۔اسلامی فکر کے نمائندگان و شارحین،فقہا و محدثین اورمجتہدین، من حیث المجموع، ان کی نگاہ میں محض بودے واقع ہوئےتھے۔ان پر ان کی تنقیدات کی ایک جھلک ان کی مذکورہ بالا کتاب ’’تجدید دین‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلام پسندوں کی طرح وہ شعوری یا غیر شعوری سطح پر یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کی سیاسی وفکری تاریخ اپنے ابتدائی مرحلے میں پٹری سے ہٹ گئی جس کی وجہ سے امت( مولانا ’’امت‘‘ کو ایک سیاسی اصطلاح سمجھتے تھے اور اس کے استعمال کے حق میں نہیں تھے۔) ’’بے راہ ‘‘ ہوکررہ گئی ہے۔اب ضرورت ہے کہ اس کی صحیح رخ بندی کی جائے۔
ہندوستان میں فسادات کے حوالے سے اصل ظالم مسلمان ہیں اور غیر مسلم مظلوم یا کم تر ظالم۔کیوں کہ ان کی نظر میں فسادات کوشروع کرنے والے مسلمان ہوتے ہیں۔امن ،صلح، جہاد،دعوت،سیاست ان تمام حوالوں سے ان کے نظریات وتصورات میں ناہمواریاں اورافراط وتفریط کے عناصر پائے جاتے ہیں۔توازن اور اعتدال کی بجائے ہر جگہ ان کی مبالغہ پسند طبیعت اپنی جولانی دکھاتی نظر آتی ہے۔ اس میں کچھ تو ان کی مخصوص دعوتی ذہنیت کی کارفرمائی ہے جس میں بسا اوقات اصول پر زمانی ومکانی مصالح حاوی ہوجاتے ہیں ،جس کی مثالیں دیگر شخصیات کے یہاں بھی ملتی ہیں، لیکن مولانا کے یہاں اس کا تناسب زیادہ ہوگیا ہے۔وہ ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کرمسلمانوں کوسوچنے کی دعوت دیتے رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود شدید طور پر اسی نفسیات کے اسیر تھے جس کی ابتدا جماعت اسلامی کے خلاف اس کوچھوڑنے کے بعد ہوئی تھی۔وہ پوری مسلم کمیونٹی کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا رہے اور ان کو گمراہی و ضلالت پرقائم تصورکرتے رہے۔اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ خود پوری مسلم کمیونٹی نے انہیں مسترد کردیا۔ - میرا اندازہ ہے کہ دینی فکر کے جس طرح کے اساسی اور حساس موضوعات پر مولانا نے قلم اٹھایا،اس لحاظ سے ان کا مطالعہ یک طرفہ ہونے کے ساتھ ،بہت وسیع نہیں تھا۔ اس میں کچھ تو ان کی بینائی کی کمزوری کا مسئلہ تھا ،جودہائیوں سے لاحق تھا،جس کی وجہ سے مطالعے میں دشواریاں پیداہوگئی تھیں، دوسری طرف اسلام کے فکری تراث سے ان کی بے اعتمادی تھی۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ تھی کہ وہ فکر کے آدمی تھے ،مطالعے کے آدمی نہیں تھے۔اس لیے وہ مختصرمطالعے سے مفصل نتیجہ اخذکرلیا کرتے تھے۔بعد میں ان کا یہ مستقل وطیرہ بن گیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں میں حوالہ جات ومطالعات کی کمی سخت کھٹکتی ہے۔
- ایک کمزوری ان کی زود نویسی کی عادت ہے۔زیادہ لکھنے اور تصنیفات کی تعداد میں اضافے کی بے پناہ خواہش نے ان کی تصنیفی کاوشوں کے معیار ومشمولات کو سخت نقصان پہنچایا۔ نہایت حساس اور مہتم بالشان موضوعات پر ان کا قلم کس قدر بے احتیاطی سے چلتا تھا اس کی ایک بڑی مثال ان کی کتاب’’ شتم رسول کا مسئلہ‘‘ ہے جسے دراصل مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کو جوڑ کر ترتیب دے دیا گیا ہے۔ چناں چہ کتاب کا ایک بڑا حصہ عبارات و مضامین کی تکرار بے جا پر مشتمل ہے۔ اس قدر حساس موضوع پر اس قدر بے احتیاطی کی روش کسی نمایاں مصنف کے یہاں شاید ہی پائی جاتی ہو۔
- الرسالہ تحریک کی سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہ ہے کہ وہ صرف ایک شخصیت کی فکری کاوشوں کے مدار پر گھومتی نظر آتی ہے۔ مولانا نے’’ الرسالہ‘‘ کواس طرز پر نکالا اور وہ کامیاب رہے اور بلاشبہ اس حوالے سے الرسالہ کی اپنی انفرادیت مسلم ہے کہ یک قلمی نگارشات مختلف طبقات کے قارئین کے ذوق مطالعہ کی سیرابی کا سامان کرتی رہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرز پرایک رسالہ توضرور نکالا جاسکتا ہے اور اسے مقبولیت بھی حاصل ہوسکتی ہے لیکن اس طرز پر کوئی تحریک برپانہیں کی جاسکتی۔صرف ایک خانقاہی نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔
- مسلسل مخالفتوں کا سامنا کرنے کی وجہ سے مولانا کے اندر غالبا ایک قسم کی ’’دانش ورانہ سادیت پسندی‘‘( intellectual sadism) کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔چناں چہ وہ اپنے مخالفین کومطمئن کرنے سے زیادہ تڑپانے کو اہمیت دیتے تھے۔ملی وسیاسی موضوعات پر جا و بیجاا ن کے بہت سے متنازعہ فیہ بیانات کی حقیقت کواس پس منظر میں سمجھاجاسکتا ہے۔
- مولانا پر سب سے زیادہ ان کے تفرد پسندانہ خیالات کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مولانا کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔شذوذ آرا اور تفردات کا ایک بڑا حوالہ برصغیر میں خود شاہ ولی اللہ ؒ کی ذات ہے اور متقدمین علما ومجتہدین میں بھی اس کی بڑی اور نمایاں مثالیں کثرت سےنظر آتی ہیں۔یہ ایک غیر تقلیدی ذہن کا اہم وصف ہے اگر اسے تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے ۔حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فکر کی نمائندگی کرنے والی شخصیات فکر کی جن پرپیچ راہوں سے گزر کراسلامی فکروثقافت کولاحق معاصر مشکلات اور چیلنجوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں،ان میں ٹھوکریں کھانا اور بار بار کھانا اور سنبھلنا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔اس کے بغیر منزل کی راہ نہیں ملتی۔ جولوگ دریا کی تہوں سے موتیوں کو نکالنے کا ہنر جانتے اور حوصلہ رکھتے ہیں وہی موجوں کے تھپیڑے بھی کھاتے ہیں اور ڈوبتے بھی ہیں۔ساحل کے تماشائی ان حقائق کا ادراک نہیں کرسکتے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مولانا کی فکر کا بے کم وکاست تجزیہ ہونا چاہیے اور ان کے تمام ذہنی ونفسیاتی ، زمانی ومکانی اور دیگراحوال وظروف کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی فکروشخصیت کی قدر پیمائی کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ہر زاویے سےان کی پوری فکر کا پھرپور تنقیدی جائزہ لیاجانا چاہیے تاکہ ان کی فکراپنے دائرے میں منقح ہوکر سامنے آجائے۔ مولانا کے تئیں صحیح اور سچی خراج عقیدت یہی ہے اور مولانا نے زندگی بھر اسی پر عمل کیا اور اسی کی لوگوں کوترغیب دی۔اس حوالے سے مولانا کی ایک قیمتی تحریر’’علما اوردور جدید‘‘ کوپیش نظر رکھنا چاہیے جس میں مولانا نے دور جدید میں علما کی فکروکردار کا تفصیلی تنقیدی جائزہ لیا ہے اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کی نقاب کشائی کے ساتھ ان سے مرتب ہونے والے مثبت ومنفی اثرات سے بحث کی ہے۔صرف ثناخوانی یا مجرد تنقید فکری زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔اس تحریر کا مقصد نہ تو مولانا کی کمزوریوں کی نقاب کشائی ہے اور نہ ان کے اوصاف وامتیازات کی مدح سرائی۔اس کا مقصد ان کی فکروشخصیت کے خد وخال کو سمجھنا اور ان میں موجود بصیرت کے پہلوؤں کو واشگاف کرنا ہے۔ اس تحریر کو اسی تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔