مسلم معاشرہ اور جنسی انحراف کے پرانے اور نئے رجحانات
محمد عمار خان ناصر
مذہبی راہ نماوں کے جنسی بداخلاقی میں ملوث ہونے کے واقعات گذشتہ کچھ عرصے سے ایک تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایسے ہی ایک واقعے نے غیر معمولی توجہ حاصل کی اور اس کی سنگینی کے باعث معاشرے کے کم وبیش تمام طبقات اس کی مذمت میں یک زبان ہو گئے۔ ملزم کے متعلقین میں سے بعض حضرات نے اس بنیاد پر دفاع کرنے کی کوشش کی کہ اس مسئلے میں علماء کی مثال کو خاص طور پر ہدف تنقید بنانا درست نہیں، کیونکہ اس بیماری میں سارا معاشرہ مبتلا ہے، بلکہ بعض غیر محتاط حضرات نے تو اس کے لیے صحابہ کرام سے گناہوں کے سرزد ہونے کا حوالہ دینا بھی گوارا کر لیا۔ اسی طرح واقعے کی مذمت کرنے والے لبرل اہل دانش نے اس معاملے میں اپنے اعتراض کو اس نکتے پر مرکوز رکھا کہ اس میں متاثرہ فریق پر جبر کیا گیا یا شخصی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو دباؤ میں لا کر جنسی استحصال کیا گیا ہے۔ ان حضرات کے نقطہ نظر سے اگر یہ پہلو نہ ہو تو لواطت یا ہم جنس پرستی وغیرہ میں فی نفسہ کوئی اخلاقی خرابی نہیں۔
ان دونوں گروہوں کے شاذ موقف کے برعکس معاشرے کی اکثریت نے اسلام کی واضح تعلیمات کی روشنی میں ان دونوں مواقف پر صد نفرین بھیجی اور ہم جنس پرستی کو ایک رذیل اور ملعون ہوس پرستی قرار دیا جس کی شناعت بہت بڑھ جاتی ہے جب اس میں جبر، دباؤ اور استحصال شامل ہو اور زمین وآسمان کانپ اٹھتے ہیں اگر مذہبی علماء کے اس میں عادتا ملوث ہونے کو ایک معمولی اور ہلکا عمل باور کرانے کی کوشش کی جائے۔
حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ پوری دنیا میں ایک بھی صاحب ایمان نہ ہو تو اللہ کی شان میں مچھر کے پر کے برابر فرق واقع نہیں ہوتا۔ دین سے نسبت رکھنے والے اپنے اعمال کی بدولت خود کو اور اپنے ساتھ دین کو رسوا کریں تو اللہ کو اس سے ہرگز کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور نہ اس کی شان میں کوئی فرق واقع ہوتا ہے، بلکہ کبھی کبھی ایسی رسوائیوں کا سامان وہ خود کرتا ہے۔ اہل مذہب نے معلوم نہیں، کس خوش فہمی یہ فرض کر لیا ہوا ہے کہ اعمال بد کا وبال صرف فاسقوں فاجروں پر آتا ہے، جبکہ دین خداوندی کے پاسبان اس سے مستثنی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اللہ اپنی طرف نسبت رکھنے والوں کا زیادہ سخت محاسبہ فرماتا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ ہم حالیہ رسوائی کو بارگاہ الہی کی طرف سے ایک تنبیہ سمجھیں، اور صرف دشمنان دین کے ہاتھ آ گئی ایک بات سمجھ کر نہ گزر جائیں۔
اس پوری صورت حال میں دینی مدارس کے موجودہ نظام میں فضلاء کو عالم دین کی سند جاری کرنے کے علمی واخلاقی معیارات کا سوال نہایت اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ جدید دور میں دینی مدرسہ تاریخی تغیرات کے جس عمل سے گذرا ہے، اس کے کچھ پہلووں پر گزشتہ دنوں بعض معروضات پیش کی گئی تھیں۔ اٹھارہ سو ستاون کے بعد جب دیوبند میں جدید دینی مدرسے کی تشکیل ابھی ابتدائی مراحل میں تھی تو سرسید احمد خان نے اس کے مستقبل کے حوالے سے تین اہم خدشات پیش کیے تھے: ایک یہ کہ یہ مدرسہ علم جدید کے سوالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پائے گا۔ دوسرا یہ کہ اس سے پیدا ہونے والے طبقے کو معاشرہ تدریجا ایک معاشی بوجھ تصور کرنے لگے گا۔ اور تیسرا یہ کہ بلند کرداری کا وہ معیار جس کی توقع دین کے علمی وروحانی نمائندوں سے کی جاتی ہے، اس نظام میں مجموعی طور پر اسے برقرار رکھنا ناممکن ہوگا۔
اس تیسرے نکتے میں آج ہم ڈیڑھ سو سال کے بعد بآسانی اس شق کا اضافہ کر سکتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ایک طبقے کو ’’مذہبی علماء“ کی شناخت دے کر معاشرے میں متعارف کروانا، جبکہ ان میں سے اکثریت علمی صلاحیت اور دینی اخلاق وکردار کے اعتبار سے اس معیار پر پورا نہیں اترتی، بالآخر اس طبقے اور مدارس کے پورے نظام کے وقار اور وقعت کو برباد کر دینے پر منتج ہوگا۔ مدارس کے ذمہ داران کو اس صورت حال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک موقر ادارے کو ، جو اس وقت مسلم معاشرے کی اہم ترین دینی ضروریات کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہے، غلط اور غیر حکیمانہ ترجیحات اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی بھینٹ نہ چڑھا دیا جائے۔
بہرحال حالیہ واقعات کے نتیجے میں پاکیزگی کے پردوں میں مستور اور تقدس کے لبادوں میں محجوب جنسی بداخلاقی کے کلچر پر گفتگو کا دروازہ کھلا اور اس کے سدباب کے لیے درکار ضروری تجزیے کی راہ ہموار ہوئی ہے جو ایک بہت خوش آئند، ضروری اور ناگزیر پیش رفت ہے۔ بچپن اور لڑکپن کی عمر کے تجربات، انسان کی نفسیاتی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں اور اس عمر میں اگر کسی معاشرے کی پوری نسل جنسی استحصال کی زد میں ہو تو اس کا تسلسل اگلی نسل میں بھی یقینی ہے، کیونکہ جو نسل جنسی استحصال کو ایک معمول کے عمل کے طور پر قبول کرتے ہوئے جوان ہوگی، اس کے ہاتھوں اگلی نسل کے جنسی استحصال کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس تسلسل کو روکنے کے لیے اسی طرح کا ایک انقطاع لایا جانا ضروری ہے جو مثلا کورونا جیسے وائرسز کی روک تھام کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ بچپن اور لڑکپن کی عمر میں نئی نسل کو تمام تدابیر بروئے کار لاتے ہوئے ایسا تحفظ فراہم کیا جائے جس سے اس موروثی اور اجتماعی مرض کا اگلی نسلوں کو انتقال محدود سے محدود تر ہوتا چلا جائے۔
حالیہ دنوں میں بچوں یا نوجوانوں کے جنسی استحصال کو سہولت اور معاونت فراہم کرنے والے ماحول کی مختلف خصوصیات پر اہل دانش نے انسانی نفسیات کی روشنی میں توجہ طلب اور کافی حد تک حقیقت پسندانہ تجزیے پیش کیے۔ اس میں تین چار نکات بہت اہم ہیں:
۱۔ بچوں یا بچیوں کے جنسی استحصال کی بیماری کسی ایک طبقے تک محدود نہیں، بلکہ ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی معاشرتی بیماری ہے۔ تاہم اس کا ظہور بدیہی طور پر اس ماحول میں (مثلا اقامتی دینی اداروں میں) زیادہ ہوتا ہے جہاں بچے، کلیتا بڑوں کے رحم وکرم پر ہوں، غیر محتاط اختلاط کے مواقع بکثرت ہوں اور بچے گھر جیسی ضروری حفاظت سے بالکل محروم ہوں۔
۲۔ اس جرم کو ہلکا سمجھنے اور اس کے تسلسل کو قائم رکھنے میں بنیادی اور اہم ترین عامل، ماحول میں موجود یہ پیغام ہوتا ہے کہ یہ ہوتا آ رہا ہے اور ہر جگہ ہو رہا ہے اور اس کو خاموشی اور پردہ پوشی کی مضبوط پناہ حاصل ہے۔
۳۔ جرم کی تحریک وترغیب کے اسباب موجود اور مواخذہ کے امکانات معدوم ہونے کے باعث انسانی رشتوں کا تقدس ذہنوں میں بالکل دب جاتا ہے اور قریبی رشتہ دار تک اس جرم کے ارتکاب میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے۔ ایسی صورت حال میں دینی اداروں کا نیکی اور تقوی وطہارت کی تلقین پر مبنی ظاہری ماحول بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کر پاتا، بلکہ جبلی ونفسیاتی محرکات، تقوی وطہارت کی ظاہری تلقین پر غالب آ جاتے ہیں۔
۴۔ ایک اہم تجزیہ طلب نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ فطری جنسی داعیات کی موجودگی میں، صنفین کے تعامل اور اختلاط کے مواقع موجود نہ ہونے اور جنسی رغبت کو بالکل منفی انداز میں پیش کرنے کا معکوس اثر مرتب ہوتا ہے، یعنی اس سے جنسی تجسس اور رغبت بڑھ جاتی ہے اور اس کا رخ ماحول میں موجود آسان شکار یعنی بچوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔
اس سارے تجزیے سے جو بنیادی بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے، وہ ہے کسی خرابی کو روکنے کے لیے سد ذریعہ اور امتناعی تدابیر کی اہمیت۔ اگر کوئی عمل واقعتا اخلاقی لحاظ سے غلط ہے اور اسے روکنا مقصود ہے تو ان تمام تدابیر کی ضرورت اور اہمیت سے بقائمی ہوش وحواس انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کی معاشرتی تعلیمات میں بالکل اسی اصول پر مرد وزن کے اختلاط کے حدود وآداب مقرر کیے گئے ہیں جو اس بنیادی حکم پر مبنی ہیں کہ شادی کے رشتے کے باہر مرد وعورت کا جنسی تعلق ممنوع ہے۔ اسلام اور موجودہ غالب تہذیب کا اصل اختلاف اسی بنیادی موقف میں ہے، اور مردوزن کے اختلاط کی امتناعی تدابیر کے حوالے سے اختلاف اس بنیادی اختلاف پر متفرع ہے۔ تہذیب حاضر کے موقف کے مطابق چونکہ آزاد جنسی تعلق، انفرادی آزادیوں میں شامل ہے جس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی، اس لیے اس کی تجویز کردہ امتناعی تدابیر صرف جبر اور اکراہ کو موضوع بناتی ہیں۔ اسلام کا موقف یہ ہے کہ آزاد جنسی تعلق فی نفسہ ممنوع ہے، اس لیے ان تمام ذرائع، محرکات اور وسائل کا سدباب بھی ضروری ہے جو اس کی راہ ہموار کرتے ہوں۔
مسلم معاشروں میں لبرل جنسی اخلاقیات کے حامی اہل دانش یہاں اخلاقی جرات سے کام لیتے ہوئے وہ اصل موقف بیان کرنے کے بجائے جو غالب تہذیب کا موقف ہے، ایک عجیب الجھا ہوا موقف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ اس حساسیت کو (کم سے کم فی الحال) مجروح نہیں کرنا چاہتے جو آزاد جنسی تعلق کی قباحت کے حوالے سے مسلم معاشرے میں پایا جاتا ہے، اور دوسری طرف انفرادی آزادیوں کے اس ماحول کو فوری طور پر اپنے ارد گرد دیکھنا چاہتے ہیں جو غالب تہذیب کے اصل معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ اس دو ذہنی یا مخمصے کے نتیجے میں وہ مرد وزن کے اختلاط کے حوالے سے امتناعی تدابیر کے خلاف ایسے بے معنی قسم کے استدلالات پیش کرتے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی اصل اخلاقیات چونکہ اس کے دل میں ہوتی ہے، اس لیے ماحول میں خواہ مخواہ کی قدغنیں عائد کرنا ایک فضول بات ہے۔ یوں یہ فکری طبقہ بچوں کے جنسی استحصال کے سدباب کے لیے جن تمام تدابیر کی اہمیت خود فصاحت وبلاغت سے بیان کرتا ہے، مرد وزن کے اختلاط کی بحث میں ان میں سے ایک ایک کی نفی کر کے صریح فکری تضاد کا نمونہ بن جاتا ہے۔
مثلا بچوں کے باب میں ان اہل دانش کو غیر محتاط اختلاط کے مفاسد صاف دکھائی دیتے ہیں، لیکن مرد وزن کے اختلاط میں ان کی توقع یہ ہوتی ہے کہ ظاہری حجابات اور فاصلوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف کردار کی داخلی مضبوطی پر اعتماد کیا جائے۔ بچوں کے باب میں وہ بالکل درست طور پر اس حقیقت کا ادراک کرتے ہیں کہ جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کے سامنے، ضروری احتیاطی تدابیر کی غیر موجودگی میں، ظاہری دینداری کا ماحول بھی غیر موثر ہو جاتا ہے، لیکن مرد وزن کے اختلاط میں ان کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ظاہری حدود وآداب کی پابندی کو ایک بے جا تکلف اور اس حوالے سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو کسی کے نجی معاملے میں غیر مطلوب مداخلت باور کیا جائے۔ جنسی گھٹن کے ماحول کا یہ اثر تو ان کی نگاہ بصیرت گہرائی میں جا کر دیکھ لیتی ہے کہ وہ جنسی رغبت کو زیادہ شدت کے ساتھ ابھارنے کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن یہ کہ خواتین کا لگاوٹ بھرا انداز گفتگو، جسمانی محاسن کی نمائش، نامناسب لباس اور صنف مخالف کے ساتھ بے تکلفانہ اختلاط بھی جنسی تحریش وترغیب کا ذریعہ بنتا ہے، یہ ’’دقیانوسیت “ ان کے ذہن رسا کی گرفت میں نہیں آتی۔ ایسے تمام اہل دانش کی دونوں مسئلوں پر لکھی گئی تحریروں کو آمنے سامنے رکھ کر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس ذہنی مخمصے کا شکار ہیں اور قسم قسم کے منطقی مغالطوں سے ایک سیدھی اور صاف بات کے متعلق مسلم معاشرے سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ وہ اسے غیر ضروری اور بے مقصد تسلیم کر کے اس سے دستبردار ہو جائے۔
مسلم معاشروں کے لیے تہذیبی بقا اور معاشرتی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے اندرون میں موجود اخلاقی انحرافات سے متعلق بھی اپنی سوئی ہوئی حساسیت کو بیدار کریں اور موجودہ غالب تہذیب کے زیراثر جو نئے انحرافات ان پر مسلط کرنے کی کوشش داخل وخارج سے ہو رہی ہے، ان کے حوالے سے بھی اپنی حساسیت کو زندہ اور توانا رکھیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو فہم سلیم کی نعمت ارزاں فرمائے۔ آمین
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(259) سلفًا اور آخِرین کا ترجمہ
فَجَعَلنَاہُم سَلَفاً وَمَثَلاً لِلآخِرِینَ۔ (سورة الزخرف: 56)
”اور ان کو ماضی کی ایک داستان اور دوسروں کے لیے ایک نمونہ عبرت بنادیا“۔ (امین احسن اصلاحی)
خ پر زبر کے ساتھ آخَر کا مطلب ہے: دوسرا، جب کہ خ کے نیچے زیر والے آخِر کا مطلب ہوتا ہے: پچھلا یا بعد والا۔ عام طور سے حضرات مترجمین نے اس کا لحاظ کیا ہے۔ البتہ مذکورہ بالا آیت میں صاحب تدبر نے آخِرین کا ترجمہ دوسروں کردیا ہے جو غلط ہے۔ دیگر مترجمین نے درست ترجمہ کیا ہے خود صاحب تدبر نے دوسرے مقامات پر اس لفظ کا درست ترجمہ کیا ہے۔
سلف کا مطلب عام طور سے ماضی کی داستان، قصہ ماضی یا گیا گزرا کیا گیا ہے، ظاہر ہے جس قوم کو غرقاب کردیا گیا ہو، وہ ماضی کی داستان تو بن ہی جائے گی۔ البتہ کسی کے لیے کسی کے سلف ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس راستے سے وہ گزر رہا ہے، اس راستے سے اس سے پہلے کوئی اور گزر چکا ہے۔ یہاں آیت کا منشا یہ ہے کہ بعد میں آنے والوں کو معلوم ہو کہ ان سے پہلے ایک قوم عذاب کے راستے پر چل کر اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکی ہے۔ تو اگر وہ اس راستے پر چلیں گے تو وہ اس پر چلنے والے پہلے لوگ نہیں ہوں گے۔ لفظ سلف کی یہ تشریح اس لفظ کو آیت میں بہت معنی خیز بنادیتی ہے۔
کئی مترجمین نے اس طرح ترجمہ کیا ہے کہ گویا آخرین کا تعلق صرف مثلا سے ہے۔ سلف کا مطلب سامنے رہے تو یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں لفظ آخرین کا تعلق سلفا اور مثلا دونوں سے ہے۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:
”پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی“۔ (محمد جونا گڑھی، اس ترجمے میں آخرین کا تعلق صرف مثلا سے ہے۔)
”اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا“۔ (سید مودودی)
”اور ان کو بعد میں آنے والوں کے لیے پیشوا اور نمونہ عبرت بنادیا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(260) لَجَعَلنَا مِنکُم مَّلَائِکَۃً کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں ’منکم‘ آیا ہے۔ بعض لوگوں نے من کو ابتدائیہ مانا ہے، یعنی انسانوں سے فرشتوں کو پیدا کرنا، بعض نے تبعیضیہ مانا ہے، یعنی کچھ انسانوں کو فرشتہ بنادینا، بعض نے بدلیہ کے معنی میں لیا ہے، یعنی تمھارے بدلے فرشتے بنادیتے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک یہاں من برائے تجرید ہے، یعنی تمھیں فرشتے بنادیتے۔ یہ مفہوم کسی طرح کی پیچیدگی سے خالی ہے۔
درج ذیل آیت کے ترجمے میں ایک بات اور یاد دلانا مناسب ہے کہ لو ماضی کا مفہوم دیتا ہے۔ اس لیے لَو نَشَاء لَجَعَلنَا کا صحیح ترجمہ ہوگا: اگر ہم چاہتے تو بنادیتے، نہ کہ اگر ہم چاہیں تو بنادیں۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل تراجم کو دیکھیں:
وَلَو نَشَاء لَجَعَلنَا مِنکُم مَّلَائِکَۃً فِی الاَرضِ یَخلُفُونَ۔ (سورة الزخرف:60)
”ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں“۔ (سید مودودی، لفظ ’تمہارے‘ زائد ہے، اور یہ مستقبل کا ترجمہ ہے ماضی کا ہونا چاہیے۔)
”اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بساتے“۔ (احمد رضا خان)
”اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے“۔ (فتح محمد جالندھری، ’تمہاری جگہ‘ زائد ہے)
”اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے“۔ (محمد جوناگڑھی، تمہارے عوض کا کیا مطلب ہے؟؟)
”اور اگر ہم چاہیں تو تمہارے اندر سے فرشتے بنادیں جو زمین میں خلافت کریں“۔ (امین احسن اصلاحی، یخلفون کا ترجمہ خلافت کرنا درست نہیں ہے۔)
بعض حضرات نے ترجمہ کیا ہے: زمین میں تمہارے جانشین ہوتے، یا تمہاری جگہ زمین میں رہتے۔ جب کہ آیت میں یخلفونکم نہیں ہے صرف یخلفون ہے، یعنی جانشین ہوتے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
”اور اگر ہم چاہتے ہوتے تو تمھیں فرشتے بنادیتے جو زمین میں جانشین ہوتے“۔ (لو کے بعد فعل مضارع نشاء ہے، اس لیے ’چاہتے ہوتے‘ ترجمہ کیا ہے)
(261) وَقِیلِہِ کا مفہوم و اعراب
درج ذیل آخری آیت میں وَقِیلِہِ کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین ومترجمین کو حیرانی ہوئی ہے۔ بعض لوگوں نے اسے تین آیتوں قبل مذکور علم الساعۃ پر عطف کیا ہے۔ لیکن زمخشری نے اس پر تنقید کی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فاصلہ زیادہ ہے اور مفہوم کچھ خاص نہیں بنتا ہے۔ کچھ لوگوں نے واو کو برائے قسم لیا اور قسم کا مفہوم بیان کیا ہے، یہ مفہوم بھی لفظی اور معنوی تکلف سے بھرپور ہے، کچھ لوگوں نے واو کو رُبَّ کے معنی میں لے کر بسا اوقات ترجمہ کیا ہے۔ یہاں بھی معنوی تکلف موجود ہے۔ ہر طرح کے تکلف سے خالی اور معنی کے لحاظ سے بہتر صورت یہ ہے کہ وَقِیلِہِ کو شَہِدَ بِالحَقِّ پر معطوف مانا جائے۔ نیز درمیان والی آیت کو جملہ معترضہ مانا جائے۔ درج ذیل تینوں آیتوں کا مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
وَلَا یَملِکُ الَّذِینَ یَدعُونَ مِن دُونِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَن شَہِدَ بِالحَقِّ وَہُم یَعلَمُونَ۔ وَلَئِن سَاَلتَہُم مَّن خَلَقَہُم لَیَقُولُنَّ اللَّہُ فَاَنَّی یُوفَکُونَ۔ وَقِیلِہِ یَارَبِّ اِنَّ ہَوُلَاء قَوم لَّا یُومِنُونَ۔ (سورة الزخرف: 86-88)
”اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے۔ اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہے کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے تھے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
دیگر تراجم ملاحظہ ہوں:
”قسم ہے رسول کے اِس قول کی کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے“۔ (سید مودودی)
”مجھے رسول کے اس کہنے کی قسم کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے“۔ (احمد رضا خان)
”اور (بسااوقات) پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا کہ اے میرے رب! یقینا یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اسی (اللہ) کو رسول(ص) کے اس قول کا عِلم ہے کہ اے میرے پروردگار! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے“۔(محمد حسین نجفی)
”اور (حق کی گواہی دینے والوں کا) قول یہ ہوگا کہ اے رب یہ لوگ خود ایمان لانے والے نہ بنے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہاوپر بیان کی گئی تاویل کے مطابق ہے)
(262) منہ کا ایک خاص استعمال
درج ذیل آیت میں مِنہ کا کیا مفہوم ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ جَمِیعاً مِّنہُ۔ (سورة الجاثیۃ:13)
عام طور سے لوگوں نے مِنہُ کو سخّر سے متعلق مانا ہے۔ یعنی اپنے پاس سے، اپنی طرف سے، اپنے حکم سے یا اپنے فضل سے مسخر کیا ہے۔ چنانچہ حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں:
”اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکم سے“۔ (احمد رضا خان)
”اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اسی نے تمہاری خدمت میں لگارکھا ہے ان چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب کو اپنی طرف سے“۔ (امین احسن اصلاحی)
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ نے بتایا کہ اس نے مسخّر کیا ہے تو پھر مزید ”اپنی طرف سے یا اپنے پاس سے یا اپنے حکم سے“ کہنے کی خاص معنویت کیا رہ جاتی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ تسخیر کا ذکر آیا ہے لیکن یہ اضافہ اور کہیں نہیں آیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ مِنہُ میں ضمیر کا مرجع مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ میں موجود ما موصولہ ہے۔ اور یہ جمیعا کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لیے مسخّر کیا ہے۔ اس تاویل کے بعد مِنہُ کا الگ سے ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ درج ذیل ترجمہ اس رائے کے مطابق ہے:
”اور اس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے“۔ (محمد حسین نجفی)
مطالعہ جامع ترمذی (۳)
(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (کتاب الدیات، باب ما جاء فی الرجل یقتل ابنہ یقاد منہ ام لا؟، حدیث نمبر ۱۴٠٠) کیا یہ مساوات کے اصول کے خلاف نہیں؟
عمار ناصر: شریعت رشتوں میں تفاوت کی قائل ہے اور اس کی بنیاد پر بہت سے حقوق میں بھی فر ق قائم رکھتی ہے۔ یہ ہم غلط کہہ دیتے ہیں کہ شریعت مطلق مساوات پر مبنی ہے ۔ البتہ مالکیہ اس میں قیاسی طور پر ایک قید شامل کرتے ہیں جو میرے خیال میں قابل غور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصولا تو یہ ٹھیک ہے کہ باپ کے ہاتھ سے بیٹا مارا گیا تو اس پر وہ حکم نہیں جاری کریں گے جو ایک دوسرے آدمی پر کر سکتے ہیں۔لیکن یہ اس وجہ سے ہوگا کہ باپ نے غصے میں، اشتعال کی کیفیت میں اپنا حق تادیب استعمال کر تے ہوئے ایسی ضرب لگا دی کہ موت واقع ہو گئی۔اس پر یہ کیفیت طاری نہ ہوتی تووہ شاید یہ نہ کرتا ،اس لیے اس میں آپ اس کو رعایت دیں گے ۔لیکن اگر اس نے سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کرکے بیٹے کو قتل کیا ہو تو پھر صورتحال بدل جاتی ہے، پھر اس سے قصاص لیا جائے گا۔
مطیع سید: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔(کتاب الدیات، باب ما جاء لا یقتل مسلم بکافر، حدیث نمبر ۱۴۱۲) اس کے کیا معنی ہیں؟
عمار ناصر: اس کی کافی وضاحت میں نے اپنی کتاب " حدودو تعزیرات " میں کی ہے ۔ یہ بات دراصل آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اس تناظر میں فرمائی تھی کہ اسلام سے پہلے کے جو قصاص کے معاملات چل رہے تھے ،اب میں ان کو ختم کر رہا ہوں ۔اس تناظر میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے ۔ گویا جن کے پاس قصاص لینے کا حق ہے ، ان کے دل میں آپ آمادگی پیدا کر رہے ہیں کہ وہ زمانہ کفر میں تمہارے آپس کے معاملات تھے ۔ جس کو قتل کیا گیا، وہ کافر تھا ، اور آج یہ قاتل مسلمان ہو گیا ہے اور اسلام لانے سے ویسے ہی پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو اب اس مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا ئے گا ۔یہ مطلب نہیں کہ ایک بندہ اسلام لانے کے بعد کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مفہوم میں یہ نہیں کہا، بلکہ آپ ﷺ نے خود ایسے کئی مقدمات میں قصاص لیا ہے۔ مرفوع روایات بھی مل جاتی ہیں اور خلفائے راشدین کا عمل بھی مل جاتا ہے ۔
مطیع سید: احناف بھی مسلمان سے کافر کا قصاص لینے کے قائل ہیں، لیکن غالبا وہ اس روایت کی اس طرح تشریح نہیں کرتے جس طرح آپ کر رہے ہیں ۔
عمار ناصر: عام طور پر احناف یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں کافر سے مرا د وہ کافر ہے جس کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہد ہ نہیں ہے، یعنی حربی کافر ۔ تو وہ حربی کافر میں اور ذمی اور معاہد کافر میں فرق کرتے ہیں۔ البتہ میں نے روایت کی جو تشریح کی ہے، وہ جصاص نے بھی ذکر کی ہے ۔
مطیع سید: حضرت ماعز اسلمی پر حد زنا جاری ہوئی، ان کو سنگسار کیا گیا، لیکن صحابہ نے جب نبی ﷺ کو بتایا کہ وہ سزا سے بھاگنا چاہ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ (کتاب الحدود، باب ما جاء فی درء الحد عن المعترف اذا رجع، حدیث نمبر ۱۴۲۸) جب حد جاری کرنے کا فیصلہ ہو گیا تھا تو پھر تو ان کو نبی ﷺ بھی کوئی رعایت نہیں دے سکتے تھے۔ تو یہ کس مفہوم میں فرمایا؟
عمار ناصر: نہیں، یہ بات کہ حاکم کے پاس مقدمہ آجانے کے بعد حد کی معافی نہیں ہو سکتی، یہ بات اپنے اطلاق پر نہیں ہے ۔اصلا آپ نے یہ بات چوری کے ایک مقدمے میں فرمائی تھی جب مال مسروقہ کا مالک سزا کا فیصلہ سننے کے بعد چورکو معاف کرنا چاہ رہا تھا۔ زنا کے متعلق تو اللہ تعالیٰ ویسے ہی چاہتے ہیں کہ اس کی پردہ پوشی کی جائے۔ آپ ﷺ بھی چاہ رہے تھے کہ ماعز خود کو سزا کے لیے پیش نہ کرے۔ پھر جب آدمی خود سزا پانے کے لیے آگیا ہو تو اس کا معاملہ بھی کچھ مختلف ہو جاتاہے ۔ اسی لیے احناف کا کہنا ہے کہ اگر زنا خود مجرم کے اقرار سے ثابت ہوا ہو اور وہ بعد میں اپنے اقرار سے منکر ہو جائے تو اس سے حد ساقط کر دی جائے گی اور امام ترمذی نے بھی اس روایت پر اسی مضمون کا عنوان قائم کیا ہے۔
مطیع سید: ایک صحابی کو رجم کیا گیا اور آپﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، لیکن ایک عورت کو رجم کیا گیا تو آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ۔ (کتاب الحدود، باب تربص الرجم بالحبلی حتی تضع، حدیث نمبر ۱۴۳۵) اس فرق کی کیا وجہ ہے؟
عمار ناصر: یہ جس کی نہیں پڑھی گئی ،وہ غالبا ماعز کے متعلق ہے ۔ماعز کے متعلق روایتیں بڑی مختلف طرح کی ہیں ۔ ان سے بڑی متضاد شکل سامنے آتی ہے ۔بعض میں آتا ہے، جیسے ابھی اوپر روایت گزری ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ کیوں نہ دیا اور بعض میں ہے کہ آپ نے اس کے رجم کر دیے جانے کے بعد اس پر بڑے سخت تبصرے کیے اور کہا کہ ایسا کوئی شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔ اگر ماعز کے جرم کی نوعیت ایسی تھی تو پھر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی ہو، جبکہ جس خاتون کی نماز جنازہ آپ نے پڑھی، اس کے متعلق فرمایا کہ اس کی توبہ مدینہ کے ستر افرا د کی مغفرت کے لیے کافی ہے۔
مطیع سید: ماعز کب کے صحابی ہیں؟ کیایہ شروع کے مہاجرین میں سے ہیں ؟
عمار ناصر: نہیں ، یہ کوئی حضور ﷺ کے حاضر باش صحابہ میں سے نہیں ہیں ۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اس واقعے سے پہلے انھیں نہیں جانتے تھے ۔اس موقع پر ہی انھیں آپ کے پاس لایا گیا یا وہ خود آئے اور پھر ان کے ساتھ یہ سارا معاملہ ہوا ۔
مطیع سید: آپﷺ کی ایک لونڈی نے زناکیا اور اسے کوڑے لگانے کے لیے آپ نے حضرت علی کو مامور کیا۔(کتاب الحدود، باب ما جاء فی اقامۃ الحد علی الاماء، حدیث نمبر ۱۴۴٠) یہ کون سی باندی تھی؟ ایک اور واقعہ یہ آتا ہے کہ آپ نے اپنی باندی ماریہ قبطیہ کے پاس آنے جانے والے ایک غلام کو قتل کرنے کا حکم حضرت علی کو دیا، لیکن ان کو تحقیق سے پتہ چلا کہ اس آدمی کا تو عضو تناسل ہی کٹا ہوا ہے۔ کیا یہ وہی واقعہ ہے؟
عمار ناصر: نہیں ،بظاہر تو دو الگ الگ واقعے ہیں اور دونوں کی تفصیلات بھی مختلف ہیں۔ ایک واقعے میں آپﷺنے حضرت علی کو بھیجا تھا کہ ایک آدمی کو جس کے متعلق لوگ باتیں کرتے تھے کہ اس کے آپ کی ام ولد، ماریہ قبطیہ کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ، قتل کر دیں۔غالبا صحیح مسلم میں روایت ہے۔یہ واقعہ جو امام ترمذی نے نقل کیا ہے، اس سے الگ ہے ۔ اس میں ایک باندی پر حد جاری کرنے کی بات ہو رہی ہے جس کا جرم ثابت تھا، کیونکہ وہ حاملہ تھی۔
مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورخلافت میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے جن کو آپ نے زندہ جلا دیا۔ (کتاب الحدود، باب ما جاء فی المرتد، حدیث نمبر ۱۴۵۸) یہ کون لوگ تھے اور کیوں مرتد ہوئےتھے؟
عمار ناصر: مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ کی کچھ روایات ذہن میں آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ باقاعدہ مرتد ہونے کا واقعہ نہیں تھا، یعنی ایسا نہیں کہ وہ اعلان کر کے مرتد ہوئے تھے۔ہوا یوں تھا کہ کچھ لوگ ایسے ملے جو بظاہر مسلمان تھے،لیکن خفیہ طور پر انھوں نے اپنے گھروں میں بت رکھے ہوئے ہیں جن کی پوجا کرتے تھے۔ شاید بعض روایات میں ہے کہ وہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ تو حضرت علی نے انہیں مرتد شمار کرکے کہ یہ بظاہر اسلام کا اعلان کرتے ہیں اور اندرون خانہ انہوں نے پرانے کام جاری رکھے ہوئے ہیں، انھیں زندہ جلا دیا جس پر عبد اللہ بن عباس نے انھیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں جلا کر کسی کو سزا دینے سے منع فرمایا ہے۔
مطیع سید: مجوسی کے کتے کا شکار منع ہے ۔(کتاب الصید، باب ما جاء فی صید کلب المجوس، حدیث نمبر ۱۴۶۶) کتا تو بس شکار کا ایک آلہ ہے، جیسے بندوق ہوتی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کسی مجوسی کا ہے یا مسلمان کا؟
عمار ناصر: نہیں، مجوسی کے کتے کی مدد سے کیا گیا شکار منع نہیں ہے، اگر شکار کسی مسلمان نے یا کسی یہودی یا مسیحی نے کیا ہو۔ مجوسی نے اپنے کتے کی مدد سے خود جو شکار کیا ہو، وہ منع ہے ، کیونکہ اس کا حکم اس کے ذبیحے کا ہے اور مجوسی کا ذبیحہ کھانا ہمارے لیے ممنوع ہے۔ اسی لیے اس کا اپنے کتے سے کیا ہوا شکار کھانا بھی ہمارے لیے منع ہے ۔
مطیع سید: عقیقہ میں جو لڑکے لڑکی میں فرق رکھا گیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک ذبح کیا جائے، (کتاب الاضاحی، باب ما جاء فی العقیقۃ، حدیث نمبر ۱۵۱۳) یہ کیوں ہے؟ عقیقہ تو بچے پر آنے والی بلاؤں سے بچا ؤ کے لیے ایک صدقہ ہے۔اس لحاظ سے لڑکے لڑکی میں فر ق نہیں ہو نا چاہیے۔
عمار ناصر: قیاس کے لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ فرق نہیں ہونا چاہیے، لیکن حدیثوں میں ایسے ہی آیا ہے۔اگر اس کو ایک شرعی یعنی تعبدی حکم مانا جائے جیسا کہ فقہاء عموما مانتے ہیں تو شریعت میں جن مسائل میں مرد اور عورت میں اس نوعیت کا فرق کیا گیا ہے، وہ اس کی نظیر بن سکتے ہیں، جیسے وراثت کے حصوں میں فرق ہے۔ اور اگر اس زاویے سے دیکھا جائے کہ عقیقہ اہل عرب کی مخصوص معاشرتی رسم تھی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی برقرار رکھا تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کا فرق بھی اسی رواج کا حصہ تھا۔ اس پہلو سے اس کی نظیر عورت کی دیت کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اہل عرب عورت کی دیت مرد سے آدھی دلواتے تھے اور صحابہ کے آثار میں اسی کے مطابق فیصلے ملتے ہیں۔
مطیع سید: فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب قیامت تک اس پر چڑھائی نہیں کی جائے گی۔ (کتاب السیر، باب ما جاء ما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم فتح مکۃ، حدیث نمبر ۱۶۱۱) لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر نے مکہ میں اپنی حکومت کا اعلان کیا تو اس دور میں ان کےخلاف بیت اللہ پر چڑھائی بھی کی گئی ۔
عمار ناصر: اس پیشین گوئی کا تناظر اور ہے ۔وہ اصل میں مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کے بار ے میں نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ ہم نے آج جس طرح مکہ پر حملہ کر کے بیت اللہ کو اپنے تصرف میں لے لیا ہے ،اب اس پر اہل کفر آکر اس طرح چڑھائی نہیں کریں گے ۔ ایسا اب اسی وقت ہوگا جب قیامت کا وقت بالکل قریب آ جائے گا ۔
مطیع سید: آپ ﷺنے ایک موقع پر فرمایا کہ میں ایک حبشی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ کعبے پر چڑھا ہو اہے ۔
عمار ناصر: وہ بھی اصل میں آخری دور میں ہو گا۔ گویا جو چیزیں قیامت کے آنے کو طے کر دیں گی،ان میں اس طرح کے واقعات ہوں گے کہ کعبہ بھی گر گیا اور لاالہ کہنے والے بھی ختم ہوجائیں گے، یعنی اس حد تک دنیا میں فسا د عام ہو چکا ہو گا ۔
مطیع سید: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو کیا ضرورت تھی جا کر کفار کو چھیڑنے کی جس کے نتیجے میں جنگ بدر ہو گئی؟ کافر تو اب مسلمانوں کو تنگ نہیں کر رہے تھے۔
عمار ناصر: رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کا ایک ہدف دے دیا گیا تھا کہ یہ حاصل کرنا ہے۔ ظاہر ہے اس کی ابتدا دفاع سے ہی ہونی تھی ، بلکہ ابتدا تو لڑنے کی ممانعت سے ہوئی تھی کہ ابھی نہیں لڑنا۔پھر جہاد کا مرحلہ آیا۔ مدینہ تو آپ اسی لیے گئے تھے کہ اب جہاد کرنا ہے۔مدینہ کوئی پناہ لینے تھوڑی گئے تھے۔یہاں آ کر آپ ﷺ نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ پہلے اہل مکہ کو اپنی قوت آزمانے کا موقع دیا جائے، اس لیے کہ آپ حرم میں جا کر لڑنے سے گریز کرنا چاہتے تھے ۔آپ نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ پہلے ان کو میدان میں نکالو تاکہ ایک دو معرکوں میں ان کا جو دم خم ہے، وہ نکال دیا جائے۔آخرِکار کرنا تو یہی تھا کہ مکہ فتح کرنا ہے۔چنانچہ خندق کے بعد آپ ﷺ نے کہہ دیا کہ ان کی طاقت ختم ہوگئی ہے، اب ہماری باری ہے کہ ہم ان کی طرف بڑھیں گے۔
مطیع سید: تو آج اقدامی جہاد یا دفاعی جہاد کی بحث پھر کس حوالے سے چھڑی ہوئی ہے ؟
عمار ناصر: یہ اقدامی اور دفاعی کی بحث آج کے دور میں ہی اٹھائی گئی ہے ۔ انیسویں صدی سے پہلے یہ بحث نہیں تھی۔ مستشرقین نے یہ بات الزام کے انداز میں کہی کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے تو سر سید وغیرہ نے جواب دینا شروع کر دیا کہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف دفاع کے لیے لڑتے تھے ۔ پھر ایک بحث چل نکلی جو بالکل بے معنی ہے ۔
مطیع سید: آج کی دنیا میں تو ہر ملک کی باؤنڈریز طے ہوگئی ہیں۔ اب تو کوئی ملک نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ایک ٹارگٹ حاصل کرنا ہے اور ہم پوری دنیا پر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
عمار ناصر: بہت سے لوگ موجود ہیں جو ایسا سمجھتے ہیں ۔
مطیع سید: کیا یہ سوچ درست ہے ؟
عمار ناصر: دیکھیں جو میں نے کتاب "جہاد:ایک مطالعہ " لکھی ہے، اس میں یہی نکتہ واضح کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں اور صحابہ کے ہاں جہاد کی کیا نوعیت تھی ۔پھر اس کے بعدحالات میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں ۔میرے خیال میں کچھ چیزیں ہیں جن پر ہم اصرار نہیں کر سکتے ۔دیکھیں ، کچھ چیزیں فقہا نے مان لیں کہ مشرکین کے لیے جو احکام تھے کہ ایمان لاؤ ورنہ گردن مار دی جائے گی، یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھا ۔ جزیہ لینا اور ان کو محکوم بنا کر رکھنا ،اس کو بھی ہماری فقہی روایت میں ایک تدریج سے سیاسہ کی نوعیت کا اقدام مان لیا گیا ہے۔ فقہی کتابوں میں احکام تو بیان کیے جاتے ہیں، لیکن یہ احساس بھی رہا ہے جسے اب علی العموم قبول کرلیا گیا ہے کہ ان سے جزیہ لے کر اور تحقیر کے ساتھ مسلمانوں کا محکوم بنا کر رکھنا ، یہ لازمی طور پر مطلوب نہیں ہے۔
اس کے بعد یہ سوال کہ کیا آ پ مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت باقی قوموں پر قائم کرنے کے لیے جہاد کر سکتے ہیں یا نہیں تو میرے خیال میں اصل مطلوب اسلام کو قوت کے ساتھ دنیا میں سربلند رکھنا اور مسلمانوں کو کفار کی چیرہ دستی سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس کی عملی شکل کیا ہوگی، اس کا بڑا گہرا تعلق تاریخی حالات سے ہے ۔اس وقت جس صورتحال میں ہم کھڑے ہیں، اس میں دنیا میں بین الاقوامی معاہدات ہو چکے ہیں اور قومی سرحدوں کے تحفظ پر انسانیت کا ایک عمومی اتفاق ہو چکا ہے۔ اس میں آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ سلطنت اور بادشاہت کے دور جیسی سیاسی حاکمیت دوسری قوموں پر قائم کر دیں۔ اس وقت اگر امن قائم رکھنا مقصودہے تو اسی میں بہتری ہے۔مسلمانوں کا اپنا تحفظ بھی اسی میں ہے کہ یہ اصول مانا جاتا ہے ۔ اگر آپ یہ کہیں کہ یہ کوئی اصول نہیں ہے ،ہم دوبارہ ڈیڑھ دو سو سال پیچھے چلے جاتے ہیں جب Might is right(جس کی لاٹھی اس کی بھینس)کااصول مانا جاتا تھا تو نتیجے میں مسلمانوں کا ہی نقصان ہوگا۔البتہ اگر حالات جوہری طور پر بدل جائیں توپھر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان بدلے ہوئے حالات میں اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کی عملی صورت کیا بنتی ہے۔
مطیع سید: حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے خاص طور پر اہل بیت کو تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ گھوڑی کے ساتھ گدھے کی جفتی نہ کروائیں۔(کتاب الجہاد، باب ما جاء فی کراہیۃ ان تنزی الحمر علی الخیل، حدیث نمبر ۱۷٠۱) یہ ایسی کیا چیز ہے جو اہلِ بیت کے ساتھ خاص ہے ؟
عمار ناصر: ایک خاص پہلو ہے۔ دیکھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے لیے اور اپنے خاص قریبی لوگوں کے لیے کچھ چیزوں کو جو مروء ۃ یا اعلی اخلاقی طرزِعمل کے خلاف ہوں، پسندنہیں فرماتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علی العموم اس سے لوگوں کو منع بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یہ اسی نوعیت کی ایک بات ہے۔
مطیع سید: اپنے ساتھی کی اجازت کے بغیر آدمی دو کھجوروں کو ملاکر نہ کھائے۔ (کتاب الاطعمۃ، باب ما جاء فی کراہیۃ القران بین التمرتین، حدیث نمبر ۱۸۱۴) اس سے کیا مراد ہے؟ کیا دو مختلف قسم کی کھجوریں پڑی ہیں یا ایک آدمی زیادہ کھا رہا ہے ؟
عمار ناصر:ایک آدمی مشترک کھانے میں سے زیادہ کھا رہا ہے ۔ لوگ جب اکٹھے بیٹھے ہوئے ہیں اور کھانا بھی نپا تلا ہے تو ایک آدمی ایک کھجور کھا رہا ہے اور آپ دو دو اٹھا کر کھارہے ہیں تو دوسرا محسوس کرے گا کہ یہ آپ اس کی حق تلفی کر رہے ہیں۔
مطیع سید: یہ جلالہ کون سا جانورہے جس کا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے منع کیا گیا ہے؟ (کتاب الاطعمۃ، باب ما جاء فی اکل لحوم الجلالۃ والبانہا، حدیث نمبر ۱۸۲۴)
عمار ناصر: جلّالہ کا مطلب ہے گندگی کھانے والا ۔ایسا جانور جس کے چارےوغیرہ کا آپ بندوبست نہیں کرتے اور وہ باہر گھوم پھر کر گلیوں میں گندگی کھاتا ہے ۔اس کا گوشت کھانے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا۔
مطیع سید: حضرت سفیا ن ثوری کے بارے میں آتاہے کہ وہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو مکروہ جانتے تھے۔ (کتاب الاطعمۃ، باب فی ترک الوضوء قبل الطعام، حدیث نمبر ۱۸۴۷) ہمارے ہاں تو کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی بڑی تاکید کی جاتی ہے ۔
عمار ناصر: حدیثوں میں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے سے متعلق کوئی بات نہیں آئی ۔مجھے نہیں معلوم کہ ایسی کوئی تاکید آئی ہو۔ البتہ نظافت وغیرہ کے پہلو سے دھو لینے چاہییں۔
مطیع سید: ہو سکتا ہے کہ حضرت سفیا ن کے سامنے یہ بات آئی ہو کہ لوگ اس کی بڑی تاکید کررہے ہیں اور اہتما م کرتے ہیں ،اس لیے انہوں نے یہ رد عمل دیا ہو۔
عمار ناصر: یہ کامن سینس کی بات ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو کھا لیں، لیکن اگر کوئی مٹی یا گندگی لگی ہوئی ہے تو آپ کو دھو لینے چاہییں۔
مطیع سید: رات کا کھانا کھاؤ چاہے مٹھی بھر جو ہو، ورنہ جلدی بوڑھے ہو جاو گے۔ (کتاب الاطعمۃ، باب ما جاء فی فضل العشاء، حدیث نمبر ۱۸۵۶) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے اور اس کے راوی ضعیف ہیں۔
عمار ناصر: جی، سند کا حال تو امام ترمذی نے بتا دیا۔ البتہ مفہوم کے لحاظ سے اطباء بھی یہ کہتے ہیں کہ آدمی کو بالکل بھوکا نہیں سونا چاہیے، کچھ نہ کچھ کھا کر سونا چاہیے۔
(جاری)
اسلام کا فلسفہ حرکت
بیرسٹر ظفر اللہ خان
ساحل افتادہ گفت گرچہ بے زیستم
ہیچ نہ معلوم شدہ آہ کہ من چیستم
موج ز خود رفتہ، ئی تیز خرامید و گفت
ہستم اگر میروم، گر نروم نیستم
1972ء میں جب میں چھٹی جماعت میں تھا۔ میر ے ایک محترم استاد کلاس میں باآواز بلند حضرت اقبالؒ کی یہ نظم پڑھ کر ہمیں سنایا کرتے تھے:
چاند اور تارے
ڈرتے ڈرتے دم سحر سے
تارے کہنے لگے قمر سے
نظارے رہے وہی فلک پر
ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر
کام اپنا ہے صبح و شام چلنا
چلنا، چلنا، مدام چلنا
بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے
کہتے ہیں جسے سکوں، نہیں ہے
رہتے ہیں ستم کشِ سفر سب
تارے، انساں، شجر، حجر سب
ہو گا کبھی ختم یہ سفر کیا
منزل کبھی آئے گی نظر کیا
کہنے لگا چاند، ہم نشینو
اے مزرعِ شب کے خوشہ چینو!
جنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ
اس رہ میں مقام بے محل ہے
پوشیدہ قرار میں اجل ہے
چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہیں
انجام ہے اس خرام کا حسن
آغاز ہے عشق، انتہا حسن
(بانگ درا از محمد اقبالؒ)
میرا نا پختہ ذہن اس خوبصورت نظم کے پُر شکوہ معنوں کو نہ سمجھ سکا۔ پھر بھی میں نے اس کے غنائی ابیات اور ہم وزن مصرعوں کو زبانی یاد کر لیا۔ جوں جوں میرا شعور ترقی کرتا رہا۔ ان کے معنی اور اہمیت میری روح کو سیراب کرتی رہی۔ میرے استاد کی رعب دار تحریک انگیز آواز میرے ذہن میں گونجتی رہی۔
جب میں نے ایک مدرسے میں فلسفہ اور منطق کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو پہلی کتاب جو ہم نے پڑھی ایسا غوجی فی منطق تھی۔ اس کتاب کے فلسفیانہ مفروضوں میں سے ایک یہ ہے کہ کائنات ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ایسا غوجی فی منطق، ہرقلیطس کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔ جس نے بجا طور پر کہا تھا کہ ہرچیز متغیر ہوتی ہے، کوئی چیز ساکن نہیں رہتی۔ کوئی شخص ایک ہی دریا میں دو مرتبہ قدم نہیں رکھ سکتا۔ میرے نو خیز اور اثر پذیر ذہن نے کتاب کے نام کوکسی حد تک مزاحیہ پایا تاہم اس نے مجھے کائنات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر آمادہ کر دیا جو ہمیشہ متغیر ہوتی اور وسیع سے وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ میں زندگی بھر حرکت اور تبدیلی (تغیر) کے ہمہ گیر تصورات کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرتا آ رہا ہوں۔ تاہم جب میں ان تصورات کو سمجھنا شروع کرتا ہوں تو وہ پہلے ہی تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔ صاحبِ شعور انسان بننے کے چالیس سال بعد اور زندگی کے عملی تجربات حاصل ہونے پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تبدیلی کائنات کا جوہرِ حقیقی ہے اور ہم سب کو اس سے ہم قدم ہو کر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیرّ کو ہے زمانے میں
(ستارہ: بانگ درا از محمد اقبالؒ)
قرآن تغیر پیہم کے اس اصول کی توثیق کرتا ہے۔
كُلَّ يَوْمٍ ھُوَ فِيْ شَاْنٍ. (سورۃ الرحمٰن، آیت: ۲۹)
(ہر آن وہ نئی شان میں ہے)
اس کارگاہ عالم میں اللہ تعالیٰ کی کارفرمائی کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے۔ وہ بے حد و حساب نئی سے نئی وضع اور شکل اوصاف پیدا کر رہا ہے۔ اس کی دنیا کبھی ایک حال پر نہیں رہتی۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔ اوراس کا خالق ہر بار اُسے ایک نئی صورت سے ترتیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے۔
يُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّيْلَ وَالنَّھَارَ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ. (سورۃ النور، آیت: ۴۴)
(رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے)
یہ آیات اس بدیہی (manifest) صداقت کی طرف واضح طور پر اشارہ کرتی ہیں کہ کائنات میں بنیادی اصول حرکت ہے، جمود (innertia) نہیں۔ یہاں مسلسل آگے کی طرف بڑھتی ہوئی ایک حرکت اور ایک مستقل تخلیقی بہاؤ ہے، نہ کوئی ٹھہراؤ ہے اور نہ رکاوٹ ہمیشہ ایک پیش قدمی ہے، ہر لمحہ نیا ہے اور ہر لمحہ ایک نئی دنیا سامنے لاتا ہے۔ کائنات متحرک ہے اور مستقلاً حرکت میں رہتی ہے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور ماضی، حال اور مستقبل کی کوئی واضح و صحیح تقسیم نہیں۔ جدید سائنس اس حقیقت کی دریافتوں کے ساتھ شہادت دیتی ہے کہ مادہ (matter) مستقل وجود نہیں رکھتا بلکہ ہمیشہ سیال حالت میں رہتا ہے۔
لیکن کائنات کی تبدیل ہوتی ہوئی حالت کے بارے میں ہمارے علم کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراہم کی گئی ہے جس میں ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ صرف تغیر مستقل ہے۔ خالق حقیقی ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ صرف اہل بصیرت حالتِ تغیر کو سمجھ سکیں گے بہ الفاظ دیگر نادان مستقل رہتے ہیں اور حالتِ موجود میں خوش و خرم رہتے ہیں اور وہ مستقلاً تبدیل ہوتے ہوئے زمانے اور ہمیشہ برپا رہتی ہوئی تبدیلیوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ وہ یقینا فہم و بصیرت سے محروم ہیں۔
اس فہم کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں حالتِ تغیر کو قبول کرنا ہوگا۔ ہر تغیر ایک لمحہ پہلے مستقل (constant) تھا۔ تسلسل، تغیر کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ حال (present) کے لیے ماضی (past) ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت میں تغیر اور تسلسل / استقلال (استحکام) پہلو بہ پہلو موجود ہوتے ہیں۔ یہ ایک دائمی قانون ہے جو بتاتا ہے کہ پائیداری اور تغیر کو لازماً ساتھ ساتھ رہنا ہے۔ صرف حالتِ استحکام (stability) میں موجود رہنے کا مطلب جامد (static) رہنے اور ملیامیٹ ہو جانے کی طرف میلان کا مظہر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناعاقبت اندیشی سے تبدیلی کر دینا دروازے کے قبضے اکھاڑ دینے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی آدمی استحکام کے ساتھ زنجیر سے بندھا رہے اور مسلسل ہونے والی تبدیلیوں کا ساتھ نہ دے تو وہ ماضی کی یاد گار بن جائے گا، یا زیادہ بہتر الفاظ استعمال کئے جائیں تو وہ ایک پتھرایا ہوا ڈھانچہ (fossil) کہلا سکے گا۔ اگر وہ صرف تبدیلی کے ہی ساتھ رہے تو وہ ماضی کے استحکام کے ساتھ اپنے نفع بخش روابط منقطع کر بیٹھے گا۔ شواہد کے اس مجموعے سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تسلسل اورتغیر کائنات کے دو مطلق حقائق ہیں اور ان کامسلسل باہمی انحصار انسانی زندگی کے توازن کی ضمانت ہے۔
اس تغیر کا انسانی اور اخلاقی، سیاق و سباق میں ایک خاص مقصد اور خصوصی مطلب ہے: وہ ہے انسانی تجربات کی تقطیر کرنا۔ فطرت، اس طریق عمل کے ذریعے بنی نوع انسان کو آزمائش میں ڈالتی ہے اور مفید کو غیر مفید سے چھانٹ کر الگ کر دیتی ہے۔ قرآن مجید اس نقطے کو یوں واضح کرتا ہے:
وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّٰہ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُھَدَاءَ ۭ(سورۃ آل عمران، آیت: ۱۴۰ )
(ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں تاکہ ہم چھانٹ سکیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و نظام کو کون سمجھتا ہے اور کون اس کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے)
یہ آیت اس بات کو کافی حد تک واضح کر دیتی ہے کہ جو لوگ تبدیلی کا ساتھ دیتے ہیں وہ بقا پائیں گے۔ حضرت اقبالؒ نے حرکت کے اس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شخصیت کا ایک تسلسل ہے جس کے لیے خودی کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
شخصیت ایک کیفیت اضطراب ہے اور یہ صرف اسی صورت میں جاری رہ سکتی ہے کہ یہ حالت قائم رہے۔ اگر کیفیت اضطراب برقرارنہ رہے تو سکون آنا شروع ہو جائے گا۔ حالت اضطراب انسان کی انتہائی بیش قیمت کامیابی ہے اس لیے اسے اس امر کا اہتمام کرنا چاہیے کہ یہ حالت سکون کی طرف واپس نہ لوٹ جائے۔ وہ چیز جو کیفیت اضطراب کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہتی ہے وہ ہمیں لافانی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس طرح اگر ہمارے مشاغل کا رخ اضطراب برقرار رکھنے کی طرف ہے تو موت کا صدمہ اس کو متاثر نہیں کرے گا۔ (تعارفی نوٹ، اسرار خودی از محمد اقبالؒ)
ساحلِ افتادہ گفت گرچہ بے زیستم
ہیچ نہ معلوم شدہ آہ کہ من چیستم
موج ز خود رفتہ، ئی تیز خرامید و گفت
ہستم اگر میروم، گر نروم نیستم
(شکستہ ساحل نے کہا اگرچہ میری زندگی کے دن بیت چکے)
(آہ میں سمجھ نہیں سکا کہ میں کون ہوں)
(آپے سے باہر ہوتی موج نے پاس سے گزرتے ہوئے کہا)
(میں اس وقت تک ہوں جب تک چلتی رہوں، اگر نہ چلی تو مر جاؤں گی)
(زندگی و عمل: پیام مشرق از محمد اقبالؒ)
تسلسل کے ساتھ ہونے والا یہ تغیر ہم سے توجہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ عظیم مسلم فلسفی اور سائنسدان ابن مسکویہ نے کہا ہے کہ کائنات میں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر جہدللبقا (بقا کی کوشش) جاری ہے۔ جس میں صرف اعلیٰ صلاحیتوںوالی انواع بقاپاسکتی ہیں۔ یہی وہ اصول ہیں جو چارلس ڈارون نے جہد للبقا اور بقائے اصلح کے عنوانات سے لکھے ہیں۔ ہم بطور مسلمان ان حیاتیاتی اصولوں کی تعبیرات سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔ بہرحال ہم ان اصولوں کے انسانی اور اخلاقی سطحوں پر عملی اطلاقات کا ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ جو لوگ روحانی اور مادی طور پر ترقی کی منازل طے نہیں کرتے صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔
بنی نوع انسان اور انبیاءعلیہم السلام کی تاریخ جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے اس حقیقت کی ایک قابل اعتماد گواہی ہے کہ بنی نوع انسان کا ارتقاء اور اس کی بقا جہدِ مسلسل اور بلند اخلاقی اقدار کا علم بلند رکھنے میں مضمر ہیں۔ قرآن مجید اس کی یوں تاکید کرتا ہے:
كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْھَبُ جُفَاءً وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ. (سورۃ الرعد، آیت: ۱۷ )
(اللہ تعالیٰ حق و باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اڑ جاتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نفع دینے والی ہے وہ زمین میں قائم رہتی ہے)
کیا خوبصورت اصول بیان کیا گیا ہے۔ بے کار جھاگ اور غیر مفید چیزیں غائب ہو جاتی ہیں۔ اگر ایک شخص جھاگ جیسا ہے یا اس جیسا ہو جاتا ہے وہ مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ بنی نوع انسان کے لیے فائدہ مند ہے وہ دوام حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نسل، قوم یا مذہب انسانیت کے لیے بے فائدہ ہو جاتا ہے، اسے صفحاتِ تاریخ سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی قوم، نسل یامذہب انسانیت کے لیے نفع بخش ہے، وہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک اپنے اندر افادیت رکھتا ہے۔ حافظ شیرازیؒ بالکل بجا کہتے ہیں:
ہرگز نمیرد آن کہ دلش زندہ باعشق
ثبت است برجریدہ عالم دوام ما
(جس کا دل عشق سے زندہ ہو جائے وہ کبھی بھی نہیں مرتا)
(ہم انسانیت کے عشق میں مبتلا ہیں، لہٰذا دنیا کے نقشہ پر ہمیشہ رہیں گے)
(غزلیات از حافظؒ)
انسان کے اندر زندہ رہنے کی صلاحیت، ترقی کرنے اور بقا پانے کی اہلیت اور مقامِ عظمت حاصل کرنے کی استعداد ان اوصاف اور اعمال کے ذریعے نشوونما پاتی ہیں جن کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ مثلاً علم، عبادت، صداقت، دیانت، محبت، انسان کی خدمت، انصاف، گناہ سے نفرت اور دیگر خصوصیات جو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ودیعت کی ہیں، انہیں فروغ دینے کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔ ان خصوصیات کے برعکس بھی کچھ خصوصیات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سخت نا پسند کرتا ہے۔ سچائی ایک قوت ہے اور جھوٹ کمزوری ہے۔ انصاف ایک قوتِ کار ہے اور بے انصافی ایک ضعیفی ہے۔ صرف ایسے لوگ بقا پاتے ہیں جو نیک اعمال کے ذریعے اپنے اندر قوت اور صلاحیتِ زیست پیدا کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید (سورۃ الانبیاء، آیت: ۱۰۵) میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُھَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ.
(ہم نے زبور میں (اچھائی اور برائی کے) ذکر کے بعد یہ بات لکھ دی تھی کہ زمین کے وارث وہی لوگ ہوں گے جو اچھے اعمال (قوت والے اعمال) کریں گے)
انیسویں صدی کا جرمن فلسفی نطشے اس تصور کو یوں بیان کرتا ہے: جو چیز بھی زندگی کو بڑھاتی اور اس میں بہتری لاتی ہے، مفید ہے، باقی چیزیں بالکل ردّی ہیں اور انسانی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دینے کے قابل ہیں۔ بنی نوع انسان کے لیے بیکار چیزوں کو ضائع کر دیئے جانے پر انسانی تاریخ میں کوئی نوحہ نہیں ہے۔
متذکرہ بالا روایات، مذہبی اور دنیاوی، دونوں سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے کہ صرف وہ لوگ اور مذاہب باقی رہ جاتے ہیں جو بنی نوع انسان کے لیے فائدہ مند ہوں، جن میں زندہ رہنے کی صلاحیت ہو۔ علمی معیار رکھتے ہوں۔ سچائی کے حامل ہوں۔ بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور عدل گستری کرتے ہوں۔ ظلم، جھوٹ اور انسان سے نفرت پر استوار قوموں اور مذاہب کا تاریخ صفایا کر دیتی ہے۔ لوگوں کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ان کی اخلاقی اور جسمانی کمزوریاں انہیں نیست و نابود نہیں کریں گی۔ انہیں یقینی طور پر معلو م ہونا چاہیے کہ ان کے لیے موت کا گھنٹہ ضرور بجے گا:
And therefore never send to know for whom the bell tolls;
It tolls for thee. (John Donne, Meditation XVII)
(کسی کو یہ جاننے کے لیے باہر مت بھیجو کہ گھنٹہ کس کے لیے بج رہا ہے)
(یہ تمہارے لیے بج رہا ہے جناب)
تغیر کے ساتھ چلنے والے معاشرے اس گروہ، نسل یا قوم کو لازماً پیچھے چھوڑ دیتے ہیں جس کا قدم آہستہ اٹھتا ہے۔ انگریز رومانوی شاعر کیٹس نے لکھا ہے:
So on our heals a fresh perfection treads,
A power strong in beauty, born of us
And fated to excel us, as we pass
In glory that old darkness. (Hyperion: A fragment book II)
(پس پیچھے پیچھے ہمارے کامل تازہ صاحبان کمال آ رہے ہیں)
(یہ ایک قوت ہیں، حسین بھی ہیں جو ہم سے ہی پیدا ہوئے)
(مقدر ان کا ہے کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں)
(اور ہم دیرینہ تاریکیوں میں شان سے گزرتے ہیں)
اگر کوئی کمزور اور پیچھےمڑمڑ کر دیکھنے والی قوم کسی بحران سے دوچار ہے تو ترقی کی راہ پر گامزن اقوام ایک لمحہ رک کراظہار افسوس کر سکتی ہیں لیکن وہ پھر سے اپنی منزل مقصود کی طرف گامزن ہو جاتی ہیں۔ ہم اس مادی دنیا میں یہی چیز دیکھ رہے ہیں۔ جب کسی گاڑی کو حادثہ پیش آ جاتا ہے تو پیچھے سے آنے والی گاڑیاں لمحہ بھر کے لیے رکتی ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف سفر شروع کر دیتی ہیں۔
(دانش کی دیوی کے) اُلّو کو اپنا سفر ہر حال میں پوہ پھٹنے سے پہلے شروع کر دینا ہوتا ہے۔ حضرت اقبالؒ نے اپنی نظم ٹیپو کی وصیت میں جو الفاظ کہے وہ اس تصور کی بڑی خوبصورتی سے عکاسی کرتے ہیں اور ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ہم اس تبدیلی کا خوش دلی سے خیر مقدم کریں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے رکھی ہے۔
تُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جُوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
(ضرب کلیم)
حضرت اقبالؒ نے بارہا جدوجہد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے اس لیے کہ آزادیٔ عمل ایک انعام ہے جسے جیتا جانا چاہیے۔
میارا بزم بر ساحل کہ آنجا
نوای زندگانے نرم خیز است
بہ دریا غلت و باموحبش در آویز
حیاتِ جاودان اندر ستیز است
(ساحل پر بزم آرائی نہ کرو)
(وہاں نغمۂ زندگی بہت دھیما ہے)
(دریا میں غوطہ زن ہو اور موجوں سے زور آزمائی کرو)
(کیونکہ دائمی زندگی جدوجہد میں مضمر ہے)
(لالہ صحرا: پیام مشرق)
چکنم کہ فطرتِ من بہ مقام در نسازد
دل نا صبور دارم چو صبا بہ لالہ زاری
(کیا کروں، میں فطری طور پر زیادہ عرصہ ایک جگہ پر ٹک نہیں سکتا)
(میں دل مضطرب رکھتا ہوں، جوایسے مچلتا ہے جیسے مغرب کی طرف سے آنے والی ہوا سے گلِ لالہ کے کھیتوں میں ہلچل مچتی ہے)
چو نظر قرار گیرد بہ نگارِ خوبروئے
تپد آن زمان دل من پی خوبتر نگاری
(جونہی میری نظریں ایک خوبصورت چہرے سے ٹکراتی ہیں)
(میرا دل اس سے بھی زیادہ خوبصورت چیز کے لیے مچلنے لگتا ہے)
زشرر ستارہ جویم ز ستارہ آفتابی
سرِ منزلی ندارم کہ بمیریم از قراری
(میں چنگاری سے ستارہ تلاش کرتا ہوں اور ستارے سے سورج)
(منزل کا کچھ پتہ ہی نہیں، ٹھہراؤ کی وجہ سے مرا جا رہا ہوں)
چو ز بادہ بہاری قدحی کشیدہ خیزم
غزلی دگر سرایم بہ ہوای نو بہاری
(جب ایک چشمے سے کشید کی ہوئی شراب نوش کرکے اٹھتا ہوں)
(تو دوسرا شعر الاپتے ہوئے ایک اور چشمہ تلاش کرنے لگتا ہوں)
طلبم نہایتِ آن کہ نہایتی ندارد
بہ نگاہِ ناشکیبی بہ دل امیدواری
(میں اس چیز کی انتہا ڈھونڈتا ہوں جس کی کوئی نہایت ہے ہی نہیں)
(بے قرار نظروں اور پر امید دل کے ساتھ جی رہا ہوں)
(حور و شاعر: پیام مشرق)
زندگی کے لیے تغیرو ثبات دونوں ہی نہایت ضروری ہیں۔ تغیر صرف اس صورت میں اچھا ہوتا ہے جب وہ اپنے اندر انسانیت کے لیے کوئی افادیت رکھتا ہو اور بقائے انسانیت کے لیے کوئی کردار صرف وہ قومیں ادا کرسکتی ہیں جو علم کے زیور سے آراستہ ہوں اوربنی نوع انسان کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔
ہمیں بحیثیت انسان اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم زمان و مکان میں رونما ہونے والے تغیر و تبدل کا ساتھ دے رہے ہیں؟ کیا ہمارے پاس وہ علم موجود ہے جس کی ہمیں زمانے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضرورت ہے؟ کیا ہم انسانیت کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم عہد حاضر کے چیلنجوں کا مناسب جواب دے سکتے ہیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا دورِ جدید کے مؤرخ آرنلڈ ٹائن بی نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب A Study of History (مطالعۂ تاریخ) میں جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب میں وہ پوری تاریخ انسانیت میں قوموں کے عروج و زوال کی وضاحت کرتا ہے۔
ٹائن بی نے تہذیبوں کی فرداً فرداً نشاندہی کرتے ہوئے انہیں اکائیاں (units) قرار دیا ہے اور وہ ہر تہذیب کے لیے ایک للکار (challenge) اور ایک جواب (response) کا تصور پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تہذیبیں چند شدید مشکلات کے ایک مجموعے اور ان کے جواب کے طو رپر وجود میں آئی ہیں۔ تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والی اقلیتوں نے ان کے ایسے حل وضع کئے جنہوں نے ان کے سارے سماج کی از سر نو تشکیل کر دی۔
یہ للکاریں (challenges) اور ان کے جوابات (responses) مادّی و جسمانی تھے جیسا کہ قدیم بابل کے سمیریوں (Sumerians) نے جواب دیا۔ جب انہوں نے جنوبی عراق کے بے قابو دلدلی علاقوں کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا اور وہ اس طرح کہ انہوں نے عہد حجری کے آخری دور کے ایسے باشندوں کو اپنے معاشرے میں ضم کر لیا جو بڑے پیمانے کے آبپاشی کے منصوبوں کوعملی جامہ پہنا سکتے تھے۔ (اور ان سے کام لے لیا گیا) جبکہ بعض تہذیبوں نے للکار کا سماجی جواب دیا جیسے کیتھولک چرچ نے بعداز روما کے یورپ میں چھڑنے والی بد نظمی پر اس طرح قابو پایا کہ نئی جرمن خصوصیات رکھنے والی بادشاہتوں کو ایک غیر منقسم مذہبی کمیونٹی کی شکل دے دی۔
جب کسی تہذیب نے پیش آمدہ چیلنج (للکار) کا جواب دیا تو اس نے فروغ پایا۔ تہذیبوں کو اس وقت زوال آیا جب ان کے رہنماؤں نے موجدانہ انداز میں جواب دینا چھوڑا تو وہ قومیت، عسکریت اور مستبدِ اقلیت کے جبر کی وجہ سے ڈوب گئیں۔ ٹائن بی اپنی قوتِ استدلال کی بنا پر دعویٰ کرتا ہے کہ معاشرے قدرتی اسباب کی بہ نسبت خودکشی یا قتل کی وجہ سے زیاد ہ مرتے ہیں۔ خود کشی کے باعث تقریباً ہمیشہ مرتے ہیں۔ وہ تہذیبوں کے عروج و زوال کو ایک روحانی طریق کار کے طور پر دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان جو تہذیب پاتا ہے وہ اعلیٰ درجے کے حیاتیاتی عطیے یا جغرافیائی ماحول کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتی بلکہ اس للکار یا چیلنج کا مناسب جواب دینے کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے جس کا وہ خصوصی نوعیت کی مشکل پیش آنے پر فقید المثال اظہار کرتی ہے۔
(A Study of History by Arnold Toynbee, p.570)
اسلام بطور ایک مذہب فطرت جو فلسفہ پیش کرتا ہے وہ بقول حضرت اقبالؒ یہ ہے:
اسلام ایک ثقافتی تحریک کی حیثیت سے کائنات (universe) کے قدیم جامد نظرئیے کو مسترد کرتے ہوئے ایک متحرک و توانا (dynamic) نظریہ پیش کرتا ہے۔ جملہ زندگی کی حتمی و قطعی روحانی بنیاد جو اسلام کی پیش کردہ ہے دائمی و ابدی ہے اور یہ اپنا اظہار تنوع اور تغیر کی صورت میںکرتی ہے۔ جو معاشرہ حقیقت (reality) کے ایسے تصور پر استوار ہو، اسے اپنی زندگی، دوام اورتغیر کی تمام اقسام کے ساتھ لازماً ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اسے لازماً ازلی و ابدی اصولوں کا حامل ہونا چاہیے تا کہ یہ اپنی اجتماعی زندگی کو منضبط (regulate) کر سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جو حی و قیوم ہے ہمیں مستقل تغیرّات کی دنیا میں قدم جمانے کی جگہ عطا کرتا ہے۔ لیکن جب دائمی اصولوں کو یہ سمجھ لیاجائے کہ وہ تغیرّ کے تمام امکانات کو خارج کر دیتے ہیں، جو کہ ازروئے قرآن اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نشانیوںمیں سے ہے۔ یہ ایسے مظہر کو ساکت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے جو اپنی فطرت کے تحت اساسی طور پر متحرک ہے۔ یورپ کی سیاسی اور سماجی علوم میں نا کا می اوّل الذّکر اصول کو روز روشن کی طرح واضح کر دیتی ہے؛ اسلام کی گزشتہ پانچ سو (۵۰۰) سالوں کے دوران حرکت نا پذیری (immobility) مؤخر الذکر اصول کی وضاحت کر دیتی ہے۔ تو پھر اسلام کی تشکیل میں اصولِ تحرک کیا ہے؟ اسے اجتہاد کہا جاتاہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے: ہم کیسے یقین حاصل کریں کہ ہم پہلے ہو چکے ہوئے تغیر سے جا ملیں گے کہ ہم بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ کہ ہم بنی نوع انسان کے لیے نفع بخش ہیں؟ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہمیں اپنے آپ کو جانچنا اور اپنا احتساب کرنا ہوگا۔
اپنا احتساب کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں: یہ کام ہم خود کریں یا دوسروں کو اجازت دیں کہ وہ ہمارا احتساب کریں۔ اسلام ہمیں خود احتسابی (self-reckoning) کی تعلیم دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے خود احتسابی کے عمل کو پسند فرماتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے:
فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا. (سورۃ الصافات، آیت:۲)
(پھر قسم ان کی جو جھڑک کر چلاتے ہیں)
یہ تصوّف کی تعلیمات کا ایک لازمی جزو ہے کہ ہر رات سونے سے پہلے ہم اپنے دن بھر کے اعمال پر غور و فکر کریں۔ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے آپ کو جانچیں۔ ہر لمحے کے بارے میں سوچیں اور ہر قدم پر غور کریں۔ صوفیاء کرامؒ کے دو اصول ہیں۔ (i) نظر بر قدم (اپنے قدموں کا مشاہدہ کرنا) اور (ii) نگاہ داشت (دھیان رکھنا):
(i)۔ نظر بر قدم (اپنے قدموں کا مشاہدہ کرو): اپنی توجہ کو مسلسل مقصد پر مرکوز رکھو۔ قدموں کا مشاہدہ کرنے کا مقصد اپنے حالات پر نظر رکھنا بھی مراد ہے۔ اس امر کا خیال رکھو کہ اقدام کرنے کے لیے کونسا وقت صحیح ہے؟ کون سا وقت ایسا ہے کہ اقدام نہ کیا جائے اور کون سا وقت توقف کے لیے صحیح ہے؟ بعضوں کا خیال ہے کہ نظر برقدم ایک جملہ ہے جو کسی کے فطری مزاج میں مضمر دانش کا حوالہ دیتا ہے۔
(ii)۔ نگاہ داشت (دھیان رکھنا): تمام اجنبی اور ضعیف خیالات اور اعمال کا مقابلہ کرو۔ ہمیشہ خیال رکھو کہ تم کیا سو چ رہے ہو اور کیا کر رہے ہو؟ تاکہ ہر گزرتے واقعے اور تمہاری روزمرہ کی زندگی کے ہر معاملے پر تمہاری بقائے دائمی کا نقش ثبت ہو سکے۔ خبردار رہو۔ خیال کرو کہ کونسی چیز تمہاری توجہ کو کھینچتی ہے؟ اپنی توجہ کو نا پسندیدہ چیزوں سے واپس موڑنا سیکھو۔ اس امر کا اس طرح بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ خیالوں میں چوکنا رہو اور اپنے آپ کو یاد رکھو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے فکر اور عمل کے ہر پہلو کے بارے میں محتاط اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ یہ مسلسل خود احتسابی بطور فرد اور بطور قوم ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
صورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
(مسجد قرطبہ: بال جبریل از محمد اقبالؒ)
اسلام نے تغیر اور ثبات کے دو اساسی اصولوں کو درست قرار دیا ہے۔ اسلام کے اندر بھی چند نظریات ہیں جنہیں محکمات (مستقل) کہا جاتا ہے جو زمان یا مکان کی تبدیلی کے تابع نہیں ہیں۔
ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْہُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ . (سورۃ آل عمران، آیت: ۷)
(وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اس میں بعض آیتیں محکم ہیں (جن کے معنی واضح ہیں) وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری مشابہ ہیں (جن کے معانی معلوم یا معین نہیں)
مثال کے طو رپر خدا کی وحدانیت پرایمان لانا۔ رسولوں پر ایمان لانا۔ حضور نبی کریمﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان۔ قرآن پر ایمان۔ جزا و سزا پر ایمان۔ بنیادی اشیائے ضرورت کے جائز و نا جائز ہونے پر ایمان۔ یہ سب دائمی و مستقل اصول ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہ بنیادی عقائدِ ایمان ہیں جو اثبات و استحکام کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور صحت مند انسانی نفسیات او راجتماعی وجود کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اسلام نے تغیر و تبدل کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلنے کے لیے ہمیں اجتہاد کا تصور دیا ہے۔ لفظ اجتہاد عربی کے لفظ جَہَدَسے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں جدوجہد (جہد فی الامر کسی کام کے لیے بہت کوشش کرنا) بالخصوص اجتہاد کے معنی ہیں گہرے غور و فکر کے ذریعے اپنے آپ سے سخت مقابلہ کرنا۔ اسلامی قانون میں اجتہاد کے معنی ہیں ایسے مسائل کی آزادانہ یا فطری و خلقی تعبیر کرنا جن کا قرآن پاک اور سنت (حضور نبی کریمﷺ کی زندگی اور ارشادات) اور اجماع (اہل علم کے اتفاق رائے) میں واضح طور پراور حسب ضرورت ذکر موجود نہیں۔ قرون اولیٰ کی امت مسلمہ میں مناسب استعداد اور اہلیت رکھنے والے ہر قانون دان کو اپنی فکر کو بروئے کار لا کر ان مسائل پر اپنی رائے اور قیاس کے استعمال کا حق ہوتا تھا۔ جن فقہا نے یہ ذہنی کاوشیں کیں انہیں اصطلاحاً مجتہدین کہاجاتا تھا۔ عباسیوں کے دور (750 ء - 1258ء) میں مختلف مذاہب فقہی وجود میں آ گئے تھے۔ بعض سنی علما نے تیسری صدی ہجری کے اواخر میں قرار دیا کہ اجتہاد کے دروازے بند ہوچکے ہیں اور کوئی عالم کبھی بھی مجتہد کی اہلیت حاصل نہیں کر سکتا۔ چنانچہ طے پایا کہ بعد میں آنے والے فقہا کو صرف تقلید کرنا ہوگی۔ یعنی انہیں اپنے عظیم پیشروؤں کی رائے بلا حیل و حجت مستند سمجھنا ہوگی اور وہ زیادہ سے زیادہ اس امر کے مجاز ہوں گے کہ وہ اپنی قانونی رائے ان مسلمہ نظائر (established precedents) کی روشنی میں قائم کریں۔ اہل تشیع (جو اسلام کے اندر ایک اقلیتی فرقہ ہے) نے اس معاملے میں سنیوں کی کبھی پیرو ی نہیں کی اور وہ اب بھی اپنے سرکردہ فقہا کو مجتہد قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود متعد د سنّی ممتاز علما مثلاً شیخ ابن تیمیہؒ او رامام جلال الدین سیوّطیؒ نے خود کو مجتہد کے طور پر پیش کرنے کی جرأت کی۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں متعدد اصلاحی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے بڑے زور و شور سے اجتہاد کے احیاء کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسلام کو ان بدعتوں کی ضرر رسانیوں سے نجات دلائی جائے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہیں اور ایسی اصلاحات کی جائیں جو اسلام کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے قابل بنا دیں۔
اسلام اپنے بنیادی اصولوں (محکمات) کے تحت ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اجتہاد کے ذریعے ہر نئے چیلنج کا جواب دیں۔ قرآن مجید اور احادیث کی ہر دور کے مطابق تشریح و تعبیر کی ضرورت ہے۔ اگر ہم قرآن پاک یا احادیث میں کسی مسئلے پر اپنی رہنمائی نہیں پاتے تو پھر ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی ذہانت اور تمثیلی استدلال سے کام لیں۔
حضور نبی کریمﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجا۔ یمن اس وقت ریاست مدینہ کے سیاسی اثر تلے آ گیا تھا۔
آپﷺ نے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو؟ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ مسئلہ سنت رسول(ﷺ) میں بھی نہ پاؤ اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ تو؟ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا۔ حضور نبی کریمﷺ نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ کے قاصد (معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو اس چیز کی توفیق دی، جس سے رسول اللہ (ﷺ) راضی ہیں۔ (سنن ابوداؤد، ج: ۳، رقم الحدیث: ۱۹۹)
اس حدیث شریف سے یہ بالکل واضح ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے چشم تصور سے دیکھ لیا تھا کہ انسانی تہذیب کی مسلسل ترقی کے جاری عمل کی وجہ سے یقیناً ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب مسلمان قرآن و سنت سے براہِ راست رہنمائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے آپﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب کو بے حد پسند فرمایا کہ وہ جن معاملات کے بارے میں قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل نہیں کر پائیں گے وہ آزادانہ طور پر سوچیں گے اور ایسا کرتے ہوئے قرآن پاک میں مذکور رحم، انصاف، غیر جانبداری اور مساوات کے بنیادی اصولوں کو یقیناً ذہن میں رکھیں گے۔ یہی اجتہاد کے تصور کا ماخذ ہے۔
اس سیاق و سباق میں ایک اور حدیث بھی قابل ذکر ہے۔ جب حضور نبی پاکﷺ مدینہ تشریف لے گئے تو آپﷺ نے کھجور کے درختوں کے عملِ زیرہ پوشی (pollination) کو پسند نہ کیا۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حضور نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا۔ ہم چند لوگوں کے پاس سے گزرنے لگے تو وہ اپنی کھجوروں کے بالائی حصے پر کچھ کام کر رہے تھے۔ آپﷺ نے پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ (بعض لوگوں نے) جواب دیا: یہ درختوں میں نر حصوں کو مادہ حصوں کے ساتھ ملا کر زیرہ پوشی کرر ہے ہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میرا نہیں خیال کہ اس سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔ انہیں آپﷺ کی بات بتائی گئی اور انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہﷺ کو ان کے یہ کام چھوڑنے سے متعلق مطلع کیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ ان کو فائدہ پہنچاتا ہے تو پھر انہیں یہ کرنا چاہیے۔ میں نے محض ایک خیال ظاہر کیا تھا، مجھے اظہار خیال پر اس کا ذمہ دار مت ٹھہراؤ۔ جب میں تم سے اللہ تعالیٰ سے متعلق کچھ کہوں اسے قبول کر لو کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹی بات نہیں کہتا۔ آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا اپنی دنیاوی زندگی کے بارے میں تم بہتر جانتے ہو۔ (صحیح مسلم، ج: ۳، رقم الحدیث: ۱۶۲۵، ۱۶۲۶، ۱۶۲۷)
اس سے عام بھلائیوں پر ایمان معروف کا تصور دیا گیا ہے۔ عرف ایک رائج الوقت قاعدے یا رسم کو کہا جاتا ہے جسے لوگوں کا اجتماعی شعور قبول کرتا ہے اور قابل اعتبار ہوتی ہے۔ عربی میں ایک عادت یا رواج جسے وسیع پیمانے پر قبولیت اور احترام حاصل ہو اس کو معروف کہا جاتا ہے۔ معروف ایک اسلامی تصور ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جسے عام طور پر جاناپہچانا جاتا ہو۔ اسے سمجھا، تسلیم کیا جاتا اور قبول کیا جاتا ہو۔ قرآن مجید میں اس کا چالیس سے زیادہ مقامات پر ذکر آیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی رُو سے بنی نوع انسان کا اجتماعی ضمیر جس بات پربھی متفق ہو جائے مسلمانوں کو اسے بطور ایک امرلازم قبول کر لینا چاہیے۔
قرآن پاک اور احادیث کے مطالعہ سے یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ تمام مسلمانوں کے لیے عصری علوم سے آگاہی حاصل کرنا ایک فریضے کی حیثیت رکھتا ہے اور انہیں اچھے اور مشترکہ طور طریقوں کو قبول کرنا چاہیے۔ اجتہاد اور معروف آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلنے کے لیے ذرائع اور وسائل ہیں۔ ابتدائی دور کے مسلمانوں نے ان خدائی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر بہت سے مسائل کے حل ڈھونڈ لیے تھے۔ درحقیقت انہوں نے نئے نئے شعبہ تعلیم تخلیق کئے اور دنیا کی قیادت کی۔ اس طرح وہ دنیا کے بڑے حصے پر صدیوں حکمرانی کرتے رہے۔
مسلمانوں نے بطور ایک امت عمومی اجتہاد کے دروازے بند رکھے ہوئے ہیں اور معروف پر یقین کرنا بھی ترک کر دیا ہے۔ وہ ماضی کے ساتھ زنجیروں سے بندھے ہوئے ہیں جو غیر متغیر ہیں اور ایک یادگار ماضی بن کر زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے گرد و پیش کی دنیا سے ہم آہنگ اور ہمقدم ہونا چھوڑ چکے ہیں۔ ایک سنجیدہ تجزئیے کی ضرورت ہے تا کہ پتہ چلے کہ آج کے مسلمان کہاں کھڑے ہیں اور وہ کل کہاں چلے جائیں گے؟
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات، کشمکشِ انقلاب
(مسجد قرطبہ؛ بال جبریل از محمد اقبالؒ)
سرسید احمد خان، قائد اعظم اور مسلم اوقاف
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
متنازعہ اوقاف قوانین کا نفاذ وفاق اور صوبوں میں بتدریج شروع ہوا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ ان قوانین نے پورے ملک کا احاطہ کر لیا، حتٰی کہ نئے اوقاف قوانین کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں مساجد و مدارس کی نئی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، مگر جوں جوں عوامی اور دینی حلقوں میں ان قوانین کی نوعیت اور ان کے اثرات سے آگاہی بڑھتی گئی اضطراب اور بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور حکومت کو شدید عوامی احتجاج پر یہ عملدرآمد روکنا پڑا۔ حکومت کی طرف سے ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘‘ کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں ان قوانین میں ترامیم کا وعدہ کیا گیا جس پر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی فرمائش پر اوقاف ایکٹ کا متبادل مسودہ مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر دیا مگر اس کے بعد سے ’’ڈیڈلاک‘‘ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور متنازعہ قوانین میں ترامیم اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے تجویز کردہ مسودہ قانون کو اسمبلی میں پیش کر کے اسے منظو کرانے کی کوئی عملی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔
ملک کے تمام مکاتب فکر کی دینی قیادتوں نے نئے اوقاف قوانین کے بارے میں متفقہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہیں اور ملکی دستور کے تقاضوں اور مسلمہ شہری و انسانی حقوق سے بھی متصادم ہیں جنہیں اس حالت میں کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہم اس کے ساتھ ایک بات یہ بھی مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ برطانوی دور حکومت میں مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالہ سے جو حقوق تسلیم کیے گئے تھے اور ان پر عملدرآمد ہوتا رہا ان نئے قوانین کے ذریعے وہ بھی واپس لے لیے گئے ہیں، اور اب مسجد و مدرسہ اور عمومی اوقاف مکمل طور پر بیوروکریسی کے کنٹرول اور اس کے ذریعے IMF اور FATF کی نگرانی میں چلے گئے ہیں جو غیر ملکی غلامی کی ایک نئی شکل ہے جسے قبول کرنا مذہبی آزادی سے محروم ہو جانے کے مترادف ہو گا۔
اس دوران ایک اعلیٰ شخصیت نے راقم الحروف سے اس مسئلہ پر بات کی تو میں نے عرض کیا کہ جو مذہبی حقوق سر سید احمد خان مرحوم اور قائد اعظم مرحوم کی مساعی سے برطانوی حکومت نے ہمیں دیے تھے وہ تو ہمارے پاس رہنے دو، تو انہوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا جبکہ بعض دیگر شخصیات نے بھی اس کی تفصیل معلوم کرنا چاہی ہے۔ تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ ۱۷۵۷ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ شہیدؒ کی شہادت کے بعد سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت و عملداری کا دور شروع ہوا تھا جو ۱۸۵۷ء کی عوامی بغاوت تک جاری رہا اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نتیجے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم ہو کر براہ راست برطانوی حکومت کی عملداری کا آغاز ہو گیا جو ۱۹۴۷ء تک نوے برس چلتی رہی۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے وقت سر سید احمد خان ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم اور اس کی حکومت کا حصہ تھے چنانچہ انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سو سالہ حکومت کے خلاف عوامی بغاوت، جسے ہمارے ہاں جہاد آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس کے اسباب کا جائزہ لیا اور ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا جس کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ اسے آج کے حالات کے تناظر میں پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہماری سول اور عسکری انتظامیہ کے تعلیمی و تربیتی نصاب کا حصہ بننا چاہیے تاکہ رعیت کے جذبات و احساسات تک افسران کی رسائی ہو سکے۔ اس میں سر سید احمد خان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف عوامی جذبات کی شدت کے دو بڑے سبب بیان کیے ہیں۔ (۱) ایک مذہبی معاملات میں مسلسل مداخلت (۲) دوسرا زمینوں کی ملکیت و تقسیم کے سابقہ نظام کی منسوخی اور نئے قوانین کا نفاذ ہے۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے جہاں مذہب، عبادت اور عبادت گاہوں کی آزادی اور خودمختاری کے قوانین نافذ کیے وہاں خاندانی نظام یعنی نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ میں بھی مذہبی احکام پر عمل کا حق تسلیم کیا، جسے مذہبی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس پر سرکار کے حمایتی حلقوں نے برٹش گورنمنٹ کا ہر سطح پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے برطانوی حکومت کا مسلمانوں پر بڑا احسان قرار دیا جو آج تک ہماری تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے خاندانی نظام اور عبادت گاہوں سمیت بہت سے معاملات نئے بین الاقوامی معاملات کی رو سے بتدریج تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ان نئے قوانین کی تشکیل اور ان کا نفاذ اب بیرونی حکومت کے ٹائٹل کے ساتھ نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے ذریعے سول و عسکری سروسز کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔
اس پس منظر میں برطانوی دور میں وقف قوانین کے حوالہ سے ’’وقف علی الاولاد‘‘ کے شرعی قوانین کے بارے میں جدوجہد کے ایک مرحلہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ ’’قائد اعظم کے ابتدائی تیس سال‘‘ کے مصنف رضوان احمد لکھتے ہیں کہ وقف علی الاولاد مسلمانوں کا ایک مسلّمہ قانون تھا لیکن ۱۸۷۳ء میں بمبئی ہائیکورٹ نے اس کے خلاف ایک فیصلہ صادر کیا جس کی ضرب اسلامی قوانین پر پڑی اور مسلمانوں میں شدید اضطراب برپا ہوا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد کا وہ زمانہ مسلمانوں کے لیے جس قدر ہولناک تھا اس سے ہم سب باخبر ہیں، مسلمانوں کے لیے انگریزی حکومت یا انگریزی عدالت کے خلاف آواز بلند کرنا آسان نہیں تھا۔ مسلمانوں کی حیثیت انگریزوں کی نظر میں ایک باغی قوم کی تھی اس لیے مسلمان بہت پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے۔ مگر انگریزوں کی حکومت یا عدالت کی طرف سے کوئی نہ کوئی کارروائی ایسی ہوتی رہتی تھی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے تھے۔ وہ ایسی کارروائیوں کے مقاصد و عزائم کو بھی خوب سمجھتے تھے لیکن حالات ناسازگار تھے۔ آخر ۱۸۷۸ء اور ۱۸۸۲ء کے دوران سرسید احمد خان نے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی تقریر کی، پھر جسٹس امیر علی نے خالص علمی و قانونی انداز سے اس پر تنقید کی اور مضامین لکھے مگر سب سنی ان سنی ہوتی رہی۔ ۱۸۹۴ء تک ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں وقف علی الاولاد کے مسئلہ پر مختلف فیصلے ہوتے رہے یہاں تک کہ عدالتی فیصلوں کے تضاد کو بنیاد بنا کر اسے پریوی کونسل میں لے جایا گیا جہاں جانے کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بابت قول فیصل صادر کیا جائے۔ چنانچہ پریوی کونسل نے وقف علی الاولاد کے خلاف قول فیصل صادر کر دیا۔ پریوی کونسل کے اس فیصلے کے معنی یہ تھے کہ ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں اس مسئلہ پر جو مختلف و متضاد فیصلے صادر ہوتے رہے صرف اس تضاد کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اصل مسئلہ یعنی وقف علی الاولاد کے مسلمہ قانون اسلامی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ یہ گویا ضرب کاری تھی جو مسلمانوں کے قلب و جگر پر لگی، ان کی نظر میں یہ مداخلت فی الدین کا برملا اقدام تھا۔ محڈن ایوسی ایشن کلکتہ نے گورنمنٹ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی، یادداشتیں بھیجیں، درخواستیں گزاریں، مسلمانوں کا نقطہ نظر واضح کیا، سبھی کچھ کیا لیکن انگریزوں کی حکومت کو بہرصورت اپنی فرماں روائی کی زمین ہموار کرنی تھی اور صرف ایک دو صوبے یا علاقے میں نہیں بلکہ سارے برعظیم میں کرنی تھی اور اپنے قوانین ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک رائج کرنے تھے جس کی کوشش وہ ایک مدت سے کر رہے تھے۔
جناب رضوان احمد نے یہ اس مرحلہ کا تذکرہ کیا ہے جب وقف علی الاولاد کے شرعی قوانین پر مسلمانوں کے مطالبات و احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے اس شرعی قانون کا خاتمہ کر دیا گیا۔ جبکہ ’’قائد اعظم اور اسلام‘‘ کے مصنف جناب محمد حنیف شاہد اس سے اگلے مرحلہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے ’’سپریم ایمپریل کونسل‘‘ کا ممبر منتخب ہونے کے بعد ۱۹۱۱ء میں ’’مسلم اوقاف‘‘ کو قانونی حیثیت دلوانے کے لیے کونسل میں ایک بل پیش کیا اور مسلسل محنت کے بعد ۱۹۱۳ء میں اسے کونسل سے منظور کروا لیا۔ قائد اعظمؒ نے یہ مسودہ قانون مولانا شبلی نعمانیؒ کے مشورہ سے مرتب کیا اور اپنی قابلیت و محنت کے ذریعے اسے بالآخر منظور کرا لیا۔ اس بل پر بہت اعتراضات ہوئے جن کے جوابات قائد اعظمؒ نے دلیل و منطق کے ساتھ دیے، ان میں سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
’’اس بل پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ عوامی حکمت عملی (public policy) کے خلاف ہے، اس کا جواب بہت آسان ہے، حکومت کا فرض ہے کہ مسلمانوں پر ’’شرع محمدیؐ‘‘ نافذ کرے، عوامی حکمت عملی کا تصور اسلامی فقہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، لہٰذا اس کو خارج از بحث سمجھنا چاہیے۔ جہاں تک اسلامی فقہ کا تعلق ہے کسی ایسی حکمت عملی کا تصور ممکن نہیں جس کے تقاضے اس بل کے مقاصد کے خلاف ہوں۔‘‘
اس پس منظر میں ہم اپنے موجودہ حکمرانوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ مسلمانوں پر ’’شرع محمدیؐ‘‘ کے نفاذ کا جو مطالبہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ۱۹۱۱ء کے دوران برطانوی ہندوستان کی سپریم ایمپیریل کونسل میں کیا تھا اور اسے اپنے پیش کردہ بل کی حد تک منوانے میں کامیاب ہوئے تھے، اس شرع محمدیؐ کا نفاذ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمانوں کا بھی حق ہے اور کسی بین الاقوامی ادارے، قانون اور معاہدے کو مسلمانوں کے اس جائز حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
اقلیتوں کا بلاتحدید حق تبلیغ مذہب
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
حالیہ چند ہفتوں میں تعلیمی نصاب پر سپریم کورٹ اور یک رکنی سڈل کمیشن کی آراءاخبارات میں بڑی کثرت سے شا یع ہو چکی ہیں اس لیے تفصیلات کو نظرانداز کیا جاتا ہےکہ قارئین ان سے بخوبی باخبر ہیں۔جسٹس تصدق حسین جیلانی اپنے مذکورہ فیصلے میں اقلیتوں کی وکالت میں اتنا آگے نکل گئے کہ انھوں نے پاکستان کی بنیاد اسلام کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ فرماتے ہیں: ’’تبلیغ کا حق صرف مسلمانوں تک محدود نہیں کہ وہی اپنے مذہب کی تبلیغ کریں بلکہ یہ حق دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مذہب کے لوگوں کو اس کی تبلیغ کریں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی تبلیغ کریں‘‘۔ اپنے اس فیصلے کی تائید میں وہ اقوام متحدہ کی ۱۹۶۶ء کی ایک قرارداد لائے : " ہرکسی کو فکر، ادراک اور مذہب کی آزادی حاصل ہے۔ اسے اپنے مذہب یا عقیدے کی پیروی کرنے، مشاہدے، عمل اور فروغ دینے اور اس کی تعلیمات عام کرنے کی آزادی ہے‘‘۔عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سے زیادہ بہتر اور کون جانتا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی قراردادوں کی پیروی کسی ملک کی عدالتوں پرہرگز لازم نہیں ہوتی۔ ملکی انتظامیہ اور پارلیمان بھی ایک حد تک ہی ان کا خیال رکھتے ہیں۔ عدالتیں تو اپنے آئین اور قانون کی تعبیروتشریح اور ان پر عمل کی اسیر ہوا کرتی ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا دستور اس بارے میں کیا کہتا ہے:
Subject to Law, public order and morality every citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion (Article 20)
قانون ، امن عامہ اور اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہرشہری کو اپنے مذہب پر کاربند رہنے، عمل کرنے اور تبلیغ کا حق حاصل ہے۔
دستور سازوں نے ملکی روایات، آبادی کے تناسب اور مجموعی معاشرت کے پیش نظر تبلیغ مذہب کا یہ ایک خوبصورت گلدستہ دستور کے اندر جڑ دیا جس کا خیال محترم مذہبی اقلیتیں بخوبی رکھتی ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ۷۰ء کی دہائی تک مسیحی مشنوں کے تبلیغ مسیحیت بذریعہ خط و کتابت کے اشتہار اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ مسیحی مبلغین کی یہ مشق تقسیم ہند کے بعد کے مجموعی ماحول کے اندر رہ کر تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد آزاد فضا میں پیدا ہونے والی مسلمان نسل کے خاموش پیغام بسلسلہ تبلیغ مذہب کا ادراک کرکے مسیحی مشنوں نے یہ سلسلہ ختم کردیا۔لیکن قادیانی اقلیت اس تبدیلی کا ادراک نہ کرسکی۔ ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ قادیانیوں کے شہر ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو قادیانی افراد نے اپنے مبلغین کی تحریریں ان طلبہ میں تقسیم کرنا شروع کر دیں۔ طلبہ مشتعل ہوگئے، مارپیٹ ہوئی اور طلبہ آگے روانہ ہوگئے۔ واپسی پر قادیانیوں نے ’مذہبی تبلیغ‘ کے اسی تسلسل میں باقاعدہ ٹرین روک کر تمام طلبہ کو خوب مارا پیٹا۔ ردعمل میں مسلمانوں نے وہ بھرپور تحریک چلائی کہ آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف قادیانی غیرمسلم قرار پائے بلکہ تبلیغ مذہب کی حدود بھی واضح ہوگئیں۔
تبلیغ مذہب، ملکی حالات اور باقی دُنیا
جسٹس جیلانی کے اس فیصلے نے جہاں ایک طرف تعلیمی نظام کی چُولیں ہلا کررکھ دی ہیں وہیں اسی فیصلے کے ذریعے انھوں نے اقلیتوں کو وہ حق دیا ہے جس کی نفی پاکستان کا آئین کرتا ہے۔ اسلام ریاست کا سرکاری مذہب ہے۔ یہ مذہب پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے۔ ہمارے علم میں دنیا کا کوئی ایک ملک نہیں ہے جو اپنی بنیاد کے خلاف تبلیغ کی اجازت دیتا ہو۔ امریکی دستور اور نظامِ حیات کا خلاصہ مطلق انسانی آزادی کی شکل میں ہے۔ اس انسانی آزادی کی حدود کیا ہیں؟ یہ بات کس کے علم میں نہیں۔ اس آزادی کی تعمیل میں امریکی معاشرت، اقدار اور خاندانی نظام کا شیرازہ بکھرنے کے قریب جاپہنچا ہےلیکن امریکی ذرائع ابلاغ میں آزادی کو محدود کرنے پر ایک سطر شائع کرنا ممکن نہیں ہے۔
اسرائیل تو اس بارے میں بے حد حساس ہے کہ اپنی بنیادوں میں سے ایک بنیاد_ یہودیوں کی مبینہ اجتماعی نسل کشی (Holocaust)_ کے اعداد و شمار کے تحقیقی انکار کی تبلیغ پر اسرائیل نے دُنیا کے ڈیڑھ درجن ممالک میں یہ قانون سازی کرا رکھی ہے کہ یہودیوں کے شائع کردہ ’مقدس‘ اعداد و شمار کے خلاف قلم کاری یا حرف زنی فوجداری جرم ہوگا۔ ۱۹۸۷ء تا ۲۰۱۵ء کے عرصے میں درجنوں پروفیسروں، سیاست دانوں اور محققین کو محض اس" جرم" میں قید اور جرمانے بھگتنے پڑے کہ ان کی تحقیق یہودیوں کے من گھڑت اعداد و شمار کا پول کھول رہی تھی۔
ملکی حالات کی طرف آئیں۔ ہر روز درجنوں فوجداری جرائم ہوتے ہیں۔ کہیں خبر کا عنصر ہو تو ذرائع ابلاغ میں ان جرائم کو معمولی جگہ مل جاتی ہے۔ لیکن جونہی کبھی کسی مسیحی، ہندو یا بالخصوص قادیانی کو کوئی مسلمان نشانہ بنائے تو بھلے وجہ نزاع مذہب کی بجائے لین دین یا زمین کے جھگڑے پر مبنی ہو، دُنیا بھر کے ذرائع ابلاغ وہ غل مچاتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ سال بھر کے ایسے ہی اعداد و شمار جمع کرکے بین الاقوامی ادارے پاکستان کی مسخ شدہ تصویر دُنیا کے سامنے رکھتے ہیں۔ حکومت اور پارلیمان کو جگہ جگہ جواب دہی کرنا پڑتی ہے۔ بعض حالات میں ہمیں اقتصادی پابندیوں کا سامنا تک کرنا پڑتا ہے۔ یورپی یونین کی حالیہ قرارداد اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
جسٹس تصدق حسین جیلانی کے زیرنظر فیصلے نے تمام اقلیتوں کو ان کے اپنے ہم مذہب افراد کے ساتھ ساتھ مسلمان آبادی میں بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق دےدیا ہے۔ تصور کیجیے کہ کسی یونی ورسٹی میں کسی این جی اوز کے تعاون سے قادیانی اپنے نبی یا اس کے کسی خلیفہ کی برسی، سالگرہ، یا کوئی اور دن منائیں تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ ذرا تصور کریں کہ قادیانی معصوم مسلمان طلبہ و طالبات کو اپنے گھریا مرکز میں افطاری پر بلا کر اپنے گھاگ اور منجھے ہوئے مبلغین کے حوالے کر دیں۔ وہ لوگ ان معصوم افراد سے روابط بڑھا کر جسٹس جیلانی کا عطا کردہ یہ عدالتی حق استعمال کر انھیں اپنے مذہب کا اسیر بنا لیں تو جسٹس جیلانی کا یہ عدالتی حق ۹۶ فی صد مسلم آبادی کے سمندر میں مقیم تین چار فی صد اقلیتوں کیحفاظت کب تک کرے گا؟ کیا مسلمان افراد قادیانیوں کو یہ حق تبلیغ دینے پر راضی ہوں گے۔یہ فیصلہ ملک میں افراتفری ہی کا سبب بنے گا۔
یہی وجہ ہے کہ دستور سازوں نے ہرشہری کو تبلیغ مذہب کا جو آئینی حق دیا ہے اس میں تین عناصر ملتے ہیں: اوّلاً یہ حق قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور قانون سازی کا اختیار ہمارے پارلیمان کو ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کو جس کی قراردادوں کے سہارے جسٹس جیلانی نے ہرشہری کو بلاتحدید تبلیغ مذہب کی اجازت دینے کی کوشش کی ہے۔ ثانیاً تبلیغ مذہب کا یہ آئینی حق امن عامہ سے بھی مشروط ہے۔ جسٹس جیلانی کے اس فیصلے کو لےکر قادیانی اور دیگر مذہبی اقلیتوں نے گھرگھر اپنی تبلیغی کتب تقسیم کرنا شروع کیاتو کیا ملک میں مزیدکسی شدت پسندی کی ضرورت رہے گی؟ قانون ساز بےحد حساس ہوتے ہیں۔ قانون معاہدہ شراکت داری ۱۹۳۲ء کے تحت کسی فرم کا ایسا نام جو متعلقہ صوبائی حکومت کی نظر میں ناپسندیدہ ہو تو وہ فرم سے نام تبدیل کرنے کو کہہ سکتی ہے، مثلاً مسلکی کشیدگی کے ماحول میں کوئی شخص اپنے کاروبار کا نام سپاہ صحابہ انٹرپرائزز یا جانثارانِ اہلِ بیت کارپوریشن رکھے تو صوبائی حکومت امن عامہ کے نقطۂ نظر سے اس کی اجازت نہیں دے گی۔
لیکن جسٹس جیلانی امتناع قادیانیت آرڈی ننس کے ملکی قانون کو نظرانداز کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے سہارے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق بھی دے گزرے۔ کہاں تو یہ ملکی قانون کہ قادیانی، مسلمانوں کی اذان نہیں دے سکتے۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے اور کہاں جسٹس جیلانی کا یہ فیصلہ کہ تمام شہریوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی دوقراردادیں یہ حق دیتی ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارا پارلیمان اعلیٰ عدالتوں کے منصفین کی شرائط تقرری پر نظرثانی کرے گا۔
ثالثاً تبلیغ مذہب کا آئینی حق اخلاقیات سے بھی مشروط ہے۔ آئینی تقاضوں میں سے اخلاقی قدروں کی پاسداری بھی ایک اہم شرط ہے۔
جسٹس جیلانی فیصلے کا حالیہ خطرناک موڑ
۲۰۱۴ء میں جسٹس جیلانی نے اقلیتوں کے رضاکار وکیل کے طور پر جو یک طرفہ فیصلہ سنایا تھا، اس میں منجملہ دیگر باتوں کے تعلیمی اُمور سے متعلق حکم تھا کہ اقلیتی آبادیوں سے متعلق نفرت انگیز مواد کو نصابی کتب سے نکالا جائے۔ یہ حکم غیرمتعلق ہی سہی لیکن اصولی طور پر قابلِ عمل تھا اور کسی کو اس امر میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ تحریک پاکستان کے تسلسل میں جب نصابی کتب کے اندر ہندوئوں اور سکھوں کے بارے میں ناروا جملے پڑھنے کو ملیں تو سچ بات تو یہ ہے کہ جملوں کے عموم میں پاکستان کے اندر بسنے والے وہ معصوم ہندو سکھ بھی آجاتے ہیں، جو نہ تو سردار ولبھ بھائی پٹیل کے حامی ہیں اور نہ ماسٹر تارا سنگھ کے پیروکار ۔ یہ تو وہ مقامی پاکستانی ہیں جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد یہیں رہنا پسند کیا۔ یہ شہری حقوق کے اعتبار سے اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے دیگر مسلم غیرمسلم وغیرہ۔ لہٰذا نصابی کتب میں ان لوگوں کے بارے میں ناروا جملے مطلقاً غلط تھے۔
پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی حکومتیں گزشتہ دس سال سے یکساں تعلیمی نصاب کے لیے مسلسل کوشش کرتی رہیں۔ یہ کام ایک دن میں قابلِ عمل نہیں ہوتا۔ بالآخر چاروں صوبائی حکومتیں اور وفاق یکساں تعلیمی نصاب پر متفق ہوگئے۔ ماہرین تعلیم نے دس برسوں میں یہ نصاب اس باریک بینی سے مرتب کیا کہ الحمدللہ یہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام دیگر مذہبی اقلیتوں کو بھی قبول ہے۔ اسلامیات لازمی کی کتاب اگر مسلمان بچوں کے لیے ہے تو مسیحی، ہندو، سکھ، بُدھ، بچوں کے لیے ان کی اپنی نصابی کتب تیار ہوئیں۔ صرف چترال میں آباد کیلاش قبیلے کے لیے ان کی اپنی مذہببی تعلیمات کی روشنی میں کتب تیار ہوئیں۔ قومی سطح پر قائم سرکاری پاکستان اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب چیلارام نے متفقہ تعلیمی نظام کو مستحسن قدم قرار دیا اور یک رکنی سڈل کمیشن کی تیار کردہ سفارشات کو واضح الفاظ میں مسترد کر دیا۔
یکساں نصاب کی تیاری کے کام میں جسٹس جیلانی فیصلے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ ملک بھر کے ماہرین تعلیم کی محنت اور مسلسل بحث و تمحیص کا ثمرہ یوں سامنے آیا کہ نیا متفقہ نصاب ہرکسی کو قبول تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جسٹس جیلانی فیصلے کی روشنی میں یک رکنی سڈل کمیشن اس نصاب کا جائزہ لے کر سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرادیتا کہ آپ کے احکام پر عمل درآمد کرتے ہوئے نصابی کتب سے نفرت انگیز مواد نکال دیا گیا ہے۔ یہی قانونی طریق کار ہے۔ یہی آئینی و قانونی تقاضا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ موجودہ چیف جسٹس محترم جناب گلزار احمد کے سامنے سڈل کمیشن نے ہندوئوں اور مسیحی افراد کی مدد سے مرتب رپورٹ پیش کرتے وقت نصابی کتب سے نفرت انگیز مواد نکالنے کی رپورٹ دینے کی بجائے چند نئے سوال اُٹھا دیئے جو ۲۰۱۴ء کے جسٹس جیلانی فیصلے سے بالکل غیرمتعلق تھے۔ ایسے موقع پر عدالتیں غیرمتعلق نکات، اعتراضات، مطالبات، اور دعاوی وغیرہ پر یہی رائے دیتی آئی ہیں کہ اس کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کیا جائے۔
ان مذکورہ لوگوں نے اب سپریم کورٹ کے سامنے یہ دعویٰ رکھا کہ اسلام، اسلامیات نامی مضمون میں صرف مسلمان بچوں کو پڑھایا جائے (نئے نصاب میں ایسے ہی ہے)۔اسلام کی باقی ہرشکل، تاریخ، مطالعہ پاکستان، اُردو انگریزی وغیرہ سے مکمل طور پر نکال دی جائے کیونکہ غیرمسلم بچوں کو اللہ، رسول،حمد، نعت، سیرتِ طیبہ، خلفائے راشدین، تاریخِ اسلام جیسے موضوعات پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ دستور کا آرٹیکل ۲۲ یہی کہتا ہے۔ یہ نکتہ یا مطالبہ ۲۰۱۴ء کے جسٹس جیلانی فیصلے سے مطلقاً غیرمتعلق تھا۔ اس کے لیے الگ سے پٹیشن درکار تھی۔ لیکن فاضل چیف جسٹس گلزار نے اس قانونی نکتے کو معلوم نہیں کیونکر نظراندازکرکے شعیب سڈل صاحب اور ان کے دیگر ہندو، مسیحی ساتھیوں کے مطالبے پر وزارتِ تعلیم افسران کو طلب کیا۔
محترم چیف جسٹس سے بہتر کون جانتا ہے کہ اگر کوئی شخص دعویٰ دائر کرے کہ فلاں شخص میری رقم واپس نہیں کر رہا تومدعا علیہ سے پوچھا جائے گا۔ مدعا علیہ کہے کہ میں نے واقعی مدعی کے دس لاکھ روپے دینے ہیں لیکن خود مدعی بھی میرےچھ لاکھ کا مقروض ہے۔یہ چھ لاکھ منہا کیے جائیں، میں باقی چار لاکھ ادا کر دیتا ہوں۔عدالت مدعا علیہ کے اقرار کو تسلیم کرتے ہوئے پورے دس لاکھ روپے ادا کرنے کا اسے حکم دے گی۔ رہے مدعا علیہ کے اپنے چھ لاکھ تو ان کے لیے عدالت اسے ہدایت کرے گی کہ اپنی اس رقم کے لیے تم الگ سے دعویٰ دائر کرو۔ یہ اصول دُنیا بھرکی اعلیٰ عدالتوں ہی میں نہیں زیریں ترین سول جج کی عدالت میں بھی خوب تسلیم شدہ ہے۔ ہمارے لیے تعجب کے اظہار کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ محترم چیف جسٹس گلزار احمد صاحب ایک غیرمتعلق مطالبے یا نکتے پر سائل کو نیا دعویٰ کرنے کی ہدایت کرنے کے بجائے جسٹس جیلانی ہی کی طرح سڈل صاحب اور ان کے ہندو اور مسیحی ہم نوائوں کے حق میں کھل کر وکیل کی طرح دلائل دینا شروع کر دیئےَ۔
جسٹس جیلانی کے جس یک طرفہ فیصلے پر چاروں صوبے عمل کرچکے ہیں۔ اس پر یک رکنی سڈل کمیشن نے اطمینان کا سانس لینے کے بجائے نصابی کتب میں سے اسلام نکالنے کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس مطالبے کا عکس ان کی رپورٹ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ محترم چیف جسٹس صاحب نے وفاقی وزارتِ تعلیم کے افسران طلب کیے تو دیکھا گیا کہ ہندو، مسیحی اور این جی اوز کےلوگ سڈل صاحب کی قیادت میں سپریم کورٹ میں فاتحین کی طرح کھڑے ہیں اور چیف جسٹس صاحب ان ریاستی حکام کی سرزنش کر رہے ہیں جنھوں نے پوری قوم کے اتفاق رائے سے نصابی کتب تیار کرائی تھیں۔ ایسا اتفاق رائے جس میں کم و بیش تمام اقلیتی آبادیاں شامل تھیں۔
جس کا کام اسی کو ساجھے
اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس آپریشن کرنا پڑے تو ٹیم کی قیادت ڈی آئی جی کا ہم منصب کسی یونی ورسٹی کا ایسوسی ایٹ پروفیسر کر رہا ہوتوکیا ذرائع ابلاغ کے لیے یہ ایک اَنہونی خبر نہیں ہوگی۔ خبر توخیر تب ہوگی جب وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر یہ نازیبا ذمہ داری قبول کرے۔ وطن عزیز میں تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جسے بہتر بنانے پرکسی کی کوئی توجہ نہیںلیکن نازک، پیچیدہ اور حساس تعلیمی اُمور میں مداخلت ہر فرد کرتا ہے۔ ایک پولیس افسر کو موقع ملا تو نہ صرف اس نے ڈٹ رائے دی بلکہ اپنی یہ راے حرفِ آخر سمجھ کر نافذ بھی کرانا چاہی۔مسئلہ ابھی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا کہ شعیب سڈل نے پھرتیلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو اس حکم کے ساتھ رپورٹ بھیجی کہ تمام نصابی کتب سے اسلام نکال دیا جائے۔ اگر حساس تعلیمی اُمور پر جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے والا پولیس افسر ملک بھر کے درجنوں سیکڑوں مسلم و غیرمسلم ماہرین تعلیم کی متفقہ نصابی کتب کو مسترد کر سکتا ہے تو جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹی پروفیسر سے بہتر کوئی شخص نہیں ہوسکتا۔ قارئین کے لیے اس نکتے میں سوچ بچار کا کچھ نہ کچھ سامان موجود ہے۔
اسلام اور عدلیہ کے بدلے ہوئے تیور
نصابی کتاب سے اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے جسٹس جیلانی نے فیصلہ سنایا ، سو سنایا لیکن "ریاستی حکام" اس فیصلے کے بعد سو نہیں گئے۔۲۰۱۸ء میں سپریم کورٹ نے یک رکنی شعیب سڈل کمیشن قائم کیا تاکہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کا جائزہ لے۔ اس کمیشن کی معاونت کے لیے ایک ہندو، ایک مسیحی اور جسٹس جیلانی کے ایڈووکیٹ بیٹے پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔کمیشن کا باقاعدہ سیکرٹریٹ ہے۔ ان تمام افراد کا تعلیم یا مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقصد پاکستان کی بنیاد، اسلام کو ریاستی اُمور سے لاتعلق کرنا ہے۔ اس پر عمل درآمدکرانے کے لیے مسلمان نہیں بلکہ ہندو، مسیحی اور بے پناہ وسائل والی این جی اوز، کمیشن اور کمیٹی کے معاون ہیں۔ جسٹس جیلانی کے یک طرفہ غیرمتعلق فیصلے کو ساتواں سال ہوچکا ہے جس پر سپریم کورٹ کی اپنی نگرانی میں عمل درآمد کرایا جارہا ہے۔ حالانکہ عدالت کا کام حکم جاری کرنا ہوتا ہے۔
کسی سرکاری ملازم کی بدعنوانی یا غفلت ثابت ہوجائے توعدالت محض یہ حکم دیا کرتی ہے کہ ملازم کے مجاز افسران اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ اس کے بعد مجاز افسران کا کام شروع اورعدالت کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ ہمارے علم میں کوئی ایک عدالتی فیصلہ ایسا نہیں ہے جس کا تعاقب سپریم کورٹ سات سال سے کررہی ہو۔ مسئلے کی نزاکت تو قارئین سمجھ چکے ہوں گے مگر باعث ِ تعجب امر یہ ہے کہ مسلمان نسل کی نوخیز کلیوں کو اسلام سے دُور رکھنےکے لیے سپریم کورٹ نے اپنی معاونت کے لیے بلایا بھی تو ہندو اور مسیحی افراد کو۔ ایک چیف جسٹس حکم دیتا ہے تو اگلا چیف جسٹس متعلقہ ریاستی حکام سے رپورٹ لینے کے بجائے اسی چیف جسٹس جیلانی کا بیٹا فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے مقرر کردیتا ہے۔ ایسا تو کبھی کسی مارشل لا دور میں بھی نہیں ہوا تھا۔
سپریم کورٹ،بھگوت گیتا، اور ہندو توا کا فروغ
سندھ حکومت نے ۲۰۲۰ میں ہندووں کو ان کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے تحفتاًدیئے۔ اس پر ہم نے اگست ۲۰۲۰ء میں روزنامہ پاکستان کے اپنے کالم میں سوال اُٹھایا تھا کہ اگر کسی کے علم میں ہو کہ اتنی تعداد میں سندھ حکومت نے کبھی مسلمانوں کو قرآن کے نسخے دیئے ہوں تو مجھے آگاہ کرے۔ ابھی تک نہ تو سندھ حکومت اور نہ کسی قاری کی طرف سے کوئی اطلاع آئی ہے۔ سندھ کے ان علاقوں کو چھوڑ کرجہاں ہندو آباد ہیں باقی پاکستان میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ سندھ میں بہت ہندو آباد ہیں۔ مَیں نے نصابی کتب کے حوالے سے وہاں کے ’ہندو‘ ڈاکٹر سونو گھنگھرانی سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے غلطی سے انھیںسونورام کہہ دیا تو انھوں نے فوراً ٹوک کر میری اصلاح کی کہ " میں ’رام‘ نہیں ہوں،نام کے باعث ہندو کہلانا میری مجبوری ہے لیکن میں ہندو نہیں ہوں"۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ موضوع میری دلچسپی رہا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ سندھ میں ہندو آبادی کے اعداد و شمار واضح کردیئے جائیں۔
سندھ کے سو ہندوئوں میں سے واقعتاً ہندو افراد صرف پندرہ ہیں۔یہ وہ پندرہ افراد ہیں جنھیں برہمن، کھشنری اور ویش کہا جاتا ہے۔ باقی "ہندوئوں" میں ہندومنت کا آخری زمرہ شودر پانچ تا دس کی تعداد میں ہے۔ تو باقی ۷۵ ، ۸۰ کون لوگ ہوئے؟ یہ وہ ’ہندو‘ ہیں جنھیں دلت یا شیڈولڈ کاسٹ کہا جاتاہے۔ ان میںسے کچھ لوگ کم علمی، جہالت یا ماحول کے باعث خود کو ہندو سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹر سونو گھنگھرانی اور ان جیسے فہمیدہ لوگ ہندومت سے کوسوں دور ہیں۔ان کی کثیر تعداد خود کو صوفی اور نیم مسلمان سمجھتی ہے۔ یہ اپنے مُردے جلاتے نہیں ، دفناتے ہیں۔ مسلمان بزرگوں کی درگاہوں اور مزاروں کے اکثر مجاور یہی لوگ ہیں۔ رمضان میں یہ لوگ روزے رکھتے ہیں۔
اصل ۱۵ ہندوئوں (برہمن، کھشنری، ویش جیسے اعلیٰ ذات کے ہندو) کی غالب تعداد آسودہ حال ہے۔ ان میں بڑے کاروباری افراد، صنعت کار، ریاستی حکام اور زمیندار جیسے لوگ ہیں۔ ان ۱۵ فی صد اصل ہندوئوں کی تعداد لاکھوں میں نہیںصرف ہزاروں میں ہے اور انھیں خیرات میں بھگوت گیتا لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو سندھ حکومت نے بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے دیئےتو کس کو؟ یہ نسخے دراصل باقی ۸۵ فی صدغیرہندو دلت اور شیڈولڈ کاسٹ (نیم مسلمان) کوہندو بنانے کے لیے ہیں۔ اصل ہندوئوں کا ہدف دلت اور غیرہندو طبقات ہیں جن میں ہندومت کی تبلیغ کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ حکومت نے ۹۶ فی صد مسلمانوں کے ٹیکسوں سے ان کی مرضی کے بغیر زرکثیر صرف کیا اور کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا۔ سپریم کورٹ کو بھی کوئی فکر نہیں ہوئی کہ اسلامی ریاست نے ہندومت کی تبلیغ کے لیے غیرآئینی حرکت کی ہے۔
ہمیں یہ ’ازخود نوٹس‘ نہ لینا پڑتا بشرطیکہ بھگوت گیتا کے اس معاملے کے آٹھ ماہ بعد اپریل ۲۰۲۱ء میں ہماری سپریم کورٹ بلوچستان حکومت سے جواب نہ طلب کرتی۔بلوچستان حکومت نے کسی دینی مدرسے کی تعمیر کے لیے کچھ رقم دی تو سپریم کورٹ نے جواب طلب کرلیا (روزنامہ جنگ ، ۱۵؍اپریل۲۰۲۱ء)۔دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے فرمایا: ’’جس طرح سے بھی مدرسے کے لیے فنڈز دیئے گئے یہ غلط طریقہ ہے‘‘۔ جسٹس قاضی امین احمد نے کہا: ’’پاکستان میں تمام لوگ مسلمان نہیں ہیں جو پیسہ مدرسے کے لیے دیا گیا وہ ریاست کے ٹیکس کا پیسہ تھا۔ پاکستان میں ہندو، عیسائی [مسیحی] اور دیگر اقلیتیں بھی ٹیکس دیتی ہیں۔ مدرسہ کھولنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن ریاست کے پیسے سے نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح تو ہندو برادری بھی مندر کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز مانگیں گے‘‘۔
یہ دونوں محترم و معزز جج اور متعلقہ بنچ کے سربراہ جسٹس مشیرعالم تب بھی سپریم کورٹ میں موجودتھے جب سندھ حکومت نے اسلامی ریاست میں ہندومت کی تبلیغ کے لیے دس ہزار نسخے تحفتاًدیئے لیکن ان میں سے کسی نے سندھ حکومت سے جواب طلب نہیں کیا۔ لیکن جب بلوچستان حکومت نے مدرسے کو کچھ رقم دی تو انھوں نے بلاتاخیر حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ یہ محترم و معزز جج اور باقی چودہ جج تب بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے جب وزیراعظم نے جولائی ۲۰۲۰ء میں اسلام آباد میں ہندومندر کی تعمیر کے لیے دس کروڑ روپے دیئے۔ اس موقع پر ملک بھر میں کھلبلی مچ گئی لیکن سپریم کورٹ نے کسی حکومت سے کوئی جواب طلب نہیں کیا ۔لیکن ادھر بلوچستان حکومت نے کسی مدرسے کو کچھ رقم دی تو اُدھر اس کی آئینی جواب طلبی۔یہ جواب طلبی بھگوت گیتا اور مندر کی تعمیر کے معاملے میں کیوں نہیں ہوئی؟
خلاصہ کلام اور چند توجہ طلب اُمور
پہلے بھی ذکر کیا جاچکا ہے کہ ہمارے علم میں سپریم کورٹ کا کوئی ایک فیصلہ نہیں ہے جس پر عمل درآمد کرانے کے لیے عدلیہ نے کمیشن مقر رکرنے کے بعد اس کاسیکرٹریٹ قائم کیا ہو اورہندو، مسیحی اور این جی اوز کی مدد سےآٹھویں سال سے اس کی مانٹیرنگ کر رہی ہو۔ لیکن ہندواور مسیحیوں کے چند دیگر مسائل لے کر جسٹس جیلانی نے اوّلاً یہ کام کرکے پورے تعلیمی ڈھانچے کوہلاکر رکھ دیا۔ پھر عمل درآمد کرانے کے لیے مسلمانوں کے کسی نمایندے کو سنے بغیر ہندو اور مسیحی افراد کی معاونت سے نصابِ تعلیم سے ’اسلام‘ کھرچ کھرچ کرنکالنے کا اہتمام، بعد میں آنے والے جج صاحبان نے بخوبی کیا۔ اسلام کے منافی مذہب کی تبلیغ کے لیے سندھ حکومت بھگوت گیتا کے نسخے سرکاری خزانے سے خرید کر دیتی ہے تو سپریم کورٹ میں کوئی ہلچل نہیں مچتی لیکن جونہی بلوچستان حکومت ایک مدرسے کو کچھ رقم دیتی ہے تو اس سے فوری جواب طلبی اور یہ کام خلافِ آئین قرار پاتا ہے۔دلیل کے طور پر جج صاحب کا کہنا ہے کہ کل کو ہندو مندروں کے لیے رقم بھی دینا پڑے گی حالانکہ ہندو مندر کے لیے آٹھ نو ماہ قبل وزیراعظم دس کروڑ روپے دے چکے تھے۔ قانون کے اس طالب علم کے لیے ان تین چار عدالتی احکام کو دستوری تقاضوں کے حسب حال قرار دینا خاصا دشوار کام ہے۔
اگر بھگوت گیتا دینے پر آئین معاون ہے تو مدرسے کو رقم دینا غیرآئینی کیوں ہے؟ اور اگر مدرسے کو رقم دیناغیرآئینی ہے تو مندر کو رقم دینا کیسے آئینی قرار پایا؟
عدلیہ دیگر اداروں کی طرح ایک محترم اور مقدس ادارہ ہے۔ اس کے جج بھی ادارے ہی کی طرح محترم ہیں۔ سب اداروں سے اُوپر ملک کا آئین ان سب سے مقدس ہے۔ اس آئین کے ابتدائی تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم ہے۔ ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ کوئی قانون اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہوسکتا۔ ریاست کی ایک آئینی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات کا اہتمام کرے۔ یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے وفاقی ماہرین تعلیم ،چاروں صوبوں سے مل کر متفقہ نصابِ تعلیم تیار کرتے ہیں تو ہرپیشی پر سپریم کورٹ کا ان پر اظہارِ برہمی۔جس نصاب کو سیکڑوں ماہرین تعلیم جب بڑی محنت سے اقلیتی آبادیوں کے لیے قابلِ قبول بناتے ہیں تو ایک پولیس آفیسر چند ہندو اورمسیحی افراد سے مل کر سپریم کورٹ کی سرپرستی میں اس نصاب سے اسلام کو یکسر نکال دینےکی کوشش کرتا ہے۔
اُمید کی جاتی ہے کہ فہمیدہ اور دانش مند افراد اس ساری صورتِ حال پر غور کرکے کوئی اجتماعی حل نکالیں گے۔ اس پر غور لازم ہے کہ جج صاحبان نے اس آئین کی حفاظت کا حلف اُٹھایا ہوا ہے جس کا بنیادی پتھر اسلام ہے۔ تو کیا مذکورہ بالا چند مثالوں میں حلف کا کوئی عکس دیکھنے کو ملتا ہے، اُمید ہے اہلِ نظر اس پر غور کرکے عملی قدم اُٹھائیں گے۔
(بشکریہ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن، جون۲۰۲۱ء)
مستشرقین کے مطالعہ ”دکن میں اشاعتِ اسلام“ کا جائزہ
(مستشرقین: تھامس واکر آرنولڈ اور رچرڈ ایم ایٹن کی کتابوں کے خصوصی حوالہ سے)
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
(یہ مقالہ 7-8اپریل 2021کومولاناآزادقومی اردویونیورسٹی حیدرآبادکے شعبہ اسلامک اسٹڈیزاورآئی اوایس نئی دہلی کے اشتراک سے عہداسلامی کے دکن میں اسلامی علوم کے موضوع پرمنعقدہ دوروزہ قومی سیمینار/ویبنارمیں پیش کیاگیا)
موضوع کا تعارف:
سن1347ءمیں علاءالدین اسماعیل گنگوبہمن نے دہلی سلطنت سے الگ ہوکرجنوبی ہندمیں بہمنی سلطنت کی بنیاد ڈالی جودوصدیوں تک قائم رہی ۔بعدمیں یہ سلطنت مختلف چھوٹی ریاستوں میں بنٹ گئی جن میں بیجاپور، احمدنگر، برار، بیدر اورگولکنڈہ کی سلطنتیں مشہورہیں۔مغل سلطنت نے ان میں سے اکثرکا خاتمہ کردیاتھا۔ان کے علاوہ اٹھارویں صدی کی ابتداءمیں عہدمغلیہ کی ایک مدبروفرزانہ شخصیت نظام الملک آصف جاہ نے 1720میں مملکت آصفیہ کی تاسیس کی جس کا پایہ تخت حیدرآبادتھا۔( ۱)اس پورے عہدمیں علما وصوفیاءاورمشائخ نے دکن میں نہ صرف اسلام کی اشاعت کی بلکہ اسلامی علوم وفنون پر بھی گراں قدرکام کیا۔
مستشرقین نے عمومی طورپر تمام علوم اسلامیہ کواپنے مطالعہ وتحقیق کی جولان گاہ بنایاہے۔جن میں قرآن، حدیث،فقہ وسیرت وتاریخ کے علاوہ اشاعت اسلام کے موضوع پر بھی انہوں نے مطالعات کیے ہیں۔اس سلسلہ میں تھامس واکرآرنولڈکا نام بہت معروف ہے اوربرصغیرمیں اشاعت اسلام کی تاریخ میں ان کی کتاب ”پریچنگ آف اسلام یااسلام کی دعوت“ ایک ناگزیرعلمی حوالہ بن چکی ہے جوکہ اس سلسلہ کا نقش اول تھی ۔تاریخ دعوت وعزیمت کے مصنف مولاناسیدابوالحسن علی ندوی ؒ نے اس کتاب کوبہت پسند (appreciate)کیاہے۔آرنولڈ اقبال کے بھی استادتھے اوراقبال نے اپنے اس استاد کی یادمیں ایک نظم لکھی بعنوان :نالہ فراق
جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں
آہ مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سرزمیں
آگیا آج اس صداقت کا مرے دل کو یقیں
ظلمت شب سے ضیاء روز فرقت کم نہیں (۲)
اورخودآرنولڈ بھی اقبال کی عظمتوں کے معترف تھے چنانچہ انہوں نے اقبال کے بارے میں کہا:”ہندوستان میں حرکت ِتجدیدنے اپناممتازترین ظہورسرمحمداقبال کی شاعری میں حاصل کیاہے “(۳)
آرنولڈجب علی گڑھ میں تھے توان سے مولاناشبلی نے بھی استفادہ کیااورانہوں نے شبلی سے ۔علی گڑھ میں اِس کتاب کے چرچے تھے البتہ بعض حلقوں میں اس کتاب کے خلاف ردعمل بھی تھا۔(۴)
اسی طرح مستشرق رچرڈ ایم ایٹن بھی ہندی اسلام کے مختلف پہلووں کے مطالعہ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ان کا مختصرتعارف یہ ہے :
رچرڈ میکس ویل ایٹن(عمر 80 سال) امریکی تاریخ دان ہیں جوگرینڈ ریپڈس ، مشی گن ، ریاستہائے متحدہ میں 8 دسمبر 1940 کوپیدا ہوئے یونیورسٹی آف وسکانسن،میڈیسن ، ورجینیا یونیورسٹی ، دی کالج آف ووسٹر میں تعلیم پائی۔ ان کی درج ذیل تصنیفات معروف ہیں:
• The Rise of Islam and the Bengal
• Essays on Islam and Indian History
• A social History of Daccan
• India in the Persianate Age
• Sufis of Bijapur
وہ ایریزونا یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔انہوں نے جیساکہ گزرا 1800 سے پہلے کی ہندوستانی تاریخ کے حوالے سے کئی قابل ذکر کتابیں لکھی ہیں۔ صوفیاء کے معاشرتی کردار اور عہدمتوسط کے ہندوستان کی ثقافتی تاریخ پر تحقیقی کام کا سہرا ان کے سرہے۔(۵)
ذیل کے مقالہ میں ہم اِنہیں دونوں خاص مستشرقین تھامس واکرآرنولڈاوررچرڈ ایم ایٹن کی کتابوں کے خصوصی حوالہ سے دکن میں اسلام کی اشاعت اوراس میں صوفیاءکرام کے کردارپر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
اپنی کتاب”پریچنگ آف اسلام“ کے آغازمیں پروفیسرآرنولڈبتاتے ہیں کہ ”ہندوستان میں اسلام کی دعوت پر تاریخ میں الگ سے کچھ نہیں لکھاگیا۔کیونکہ مورخین عمومی طورپرجوتصویرپیش کرتے ہیں وہ یہی ہے کہ ہندمیں اشاعت اسلام کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں نے فتوحات کے بعد اپنی مملکت قائم کی اوران کے جانشینوں نے اس کوقائم رکھا۔یعنی ان کی تلوارہی اسلام کی اشاعت کا بھی سبب بنی جس کے لیے محمودغزنوی کے حملے ،اس کے برہمنوں کے قتل عام ،اورنگ زیب عالمگیر،حیدرعلی اورٹیپوکے ذریعہ غیرمسلم مفتوحین کی persecutionکی مثال پیش کی جاتی ہے۔(۶) لیکن آرنولڈ سوال اٹھاتے ہیں کہ جوفاتحین آئے ان کی ذریت اوران کے ساتھ ترک وطن کرنے والے سپاہی وغیرہ بہت کم تھے جوزیادہ ترسلطنت کے انتظام اوراس کی بقاءکی جدوجہد میں لگے رہے۔ توآخربرصغیرمیں کروڑوں کی تعدادمیں مسلمان کہاں سے آئے ؟صرف حملہ آوروں کی نسل توہونے سے رہی ۔اس سوال کے جواب میں انہوں نے اپنی یہ تصنیف لکھی ،وہ کہتے ہیں کہ:” ان مسلمانوں کی اکثریت جواپنے آپ کوغیرملکی مسلم القاب شیخ ، بیگ ،خان اورحتی کہ سیدسے بھی موسوم کرتی ہے ان کی اکثریت مقامی مذہب تبدیل کرنے والوں کی تھی جنہوں نے مختلف وجوہات کے تحت اپنے آپ کو مسلمان اشرافیہ سے وابستہ کرلیاتھا۔(۷)۔اِن میں سے بعض لوگوں نے تو جبراً یامصلحتاًمذہب تبدیل کیاہوگا(۸) مگرزیادہ تراسلام میں خوداپنی مرضی سے داخل ہوئے۔(۹)وہ مزیدکہتے ہیں: ”ہندوستانی مسلمانوں نے یایوروپی مصنفوں نے ملک کی جوتاریخ لکھی ہے وہ صرف جنگوں،خوں ریزمہموں اور بادشاہوں کے کارناموں پر مشتمل ہے ۔مذہبی زندگی کا بیان یہاں کم ہی ملتاہے جس کی کچھ جھلکیاں ہم کوصوفی مشائخ کے تذکروں وسوانح سے مترشح ہوتی ہیں“۔(۱٠)موجودہ زمانے میں شیخ محمداکرام نے اپنے سلسلہ کوثریات، اور مولانا ابوالحسن علی ندوی نے تاریخ دعوت وعزیمت اورعزیز احمدنے ہندکی اسلامی ثقافت پر اپنی وقیع کتاب میں اورخلیق احمد نظامی نے تاریخ مشائخ چشت میں صوفیاءکی دعوتی مساعی کوآشکاراکیاہے۔
دکن میں اسلام:
آرنولڈلکھتے ہیں:”دکن میں بھی بہت سے مسلمان داعیوں نے کامیاب دعوتی کوشش کی ۔ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ عرب تاجرہندکے مغربی ساحلی شہروں میں آتے جاتے تھے۔انہوں نے کونکن کے علاقوں میں شادیاں بھی کیں۔بہمنی مسلم حکمرانوں(1347-1490)اوربیجاپورکے سلطانوں(1489-1686)کے زمانہ میں دکن میں مزیدعرب تارکین وطن آئے۔تاجروں اورسپاہیوں کے ساتھ ہی مبلغین اورداعی بھی آئے۔ انہوں نے تبلیغ اورعملی نمونہ سے دکن کے غیرمسلموں کے دلوں میں جگہ بنائی۔کیونکہ ہمارے پاس اس بات کا کوئی رکارڈ موجودنہیں کہ ان سلطنتوں کے عہدمیں جبریہ مذہب تبدیل کرایاگیاہوکہ یہ حکمراں خاندان بڑے روادار اور مسامحت پسندتھے ۔(۱۱)اِن داعیوں میں سے ایک داعی کا نام پیرمہابیرکھمبایت تھا (۱۲)جودکن میں 1304میں آئے تھے۔بیجاپورکے کسانوں میں اُن جینیوں کی اولاداب بھی موجودہے جوپیرمعبرکے ذریعہ مسلمان ہوئے ۔(۱۳)اسی صدی میں گلبرگہ میں مشہورصوفی بزرگ سیدمحمدگیسودراز(حضرت چراغ دہلی کے خلیفہ )جن کو مخدوم گیسودرازبھی کہتے ہیں اورجن کی خانقاہ آج بھی جنوبی ہندمیں ایک بڑاتعلیمی مرکزہے یہاں تک کہ اس درگاہ کے تحت ایک یونیورسٹی قائم ہوگئی ہے۔ان کے ہاتھوں پر پونااوربیلگام کے بہت سے ہندومشرف بہ اسلام ہوئے ۔ (۱۴) دھانومیں اسلام کے مشہورصوفی شیخ عبدالقادرجیلانی کے ایک رشتہ دارکے اخلاف ابھی تک قیام پذیر ہیں۔ جنہوں نے علاقہ کونکن میں بہت سے لوگوں کومسلمان بنایا،دہ دھانومیں ہی مدفون ہیں۔(۱۵)
اسی طرح ناسک میں ایک دوسرے بزرگ شاہ محمدصادق سرمست حسینی کے اخلاف پائے جاتے ہیں ۔ جومدینہ سے 1568میں یہاں آئے تھے اورمغربی ہندکے بڑے حصہ کی سیاحت کرتے ہوئے ناسک میں مقیم ہوگئے تھے ۔ ان سے تقریبا50سال پہلے یہاں خواجہ خون منیرحسینی نے بھی تبلیغی جدوجہدکی تھی (۱۶)بیلگام میں دواورمشائخ کی دعوتی جدوجہدکاتذکرہ کیا جا سکتا ہے یہ تھے: سیدمحمدبن سیدعلی اورعمرعیدروس بشیبان۔(۱۷)تبلیغی ودعوتی جدوجہد کے اس پورے سلسلہ کو پروفیسرآرنولڈنے مختصراًبیان کیاہے۔(۱۸)
ضمنایہ یہاں یہ تبصرہ بھی مناسب ہوگاکہ برصغیراوردکن میں اشاعت اسلام کے بارے میں آرنولڈنے کئی جگہ رواروی میں یہ بات دہرادی ہے کہ محمودغزنوی نے مندرتوڑے اورزبردستی لوگوں کومسلمان بنایا۔اسی طرح دوسرے مورخوں کی طرح وہ بھی اورنگ زیب عالمگیر،حیدرعلی اورسلطان ٹیپوکے بارے میں یہی الزام باربارلگاتے ہیں جس کے لیے انہوں نے تاریخ فرشتہ کا حوالہ دیاہے۔مگراس مسئلہ میں وہ زیادہ بحث نہیں کرتے حالانکہ اِن تینوں حکمرانوں پر اس قسم کے الزامات کا پوراتجزیہ کرناضروری ہے۔
سلطان ٹیپوکے سلسلہ میں جبراًمسلمان بنانے کے لیے آرنولڈنے مالابارکے باغی ہندووں کے نام سلطان کا فرمان نقل کیاہے۔مگرخوداس فرمان کے تجزیہ سے ہی یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان کا اصل منشا اِن باغیوں کوجبراًمسلمان بنانانہیں بلکہ ان کومطیع فرمان بنانااورعورتوں کے تعلق سے جوان میں انتہائی غیرانسانی اورتہذیب سے گری ہوئی رسمیں جاری تھیں ان کا خاتمہ کرناتھا۔ان لوگوں میں رواج تھاکہ اگرکسی گھرمیں دس بھائی ہوتے توان میں صرف بڑابھائی شادی کرتااورباقی سب اس کی بیوی پر اپناحق سمجھتے ۔اسی طرح ماوں اوربہنوں کونیم عریاں رکھاجاتاان کوشوہرکی چتاکے ساتھ زبردستی جلادیاجاتاوغیرہ۔ان بری رسموں سے خواتین کونجات دلانے اوران باغیوں کومطیع فرمان بنانے کے لیے سلطان نے باربارکی مصالحانہ ومصلحانہ کوششوں کی ناکامی کے بعدایک فرمان جاری کیاتھاجس کا خلاصہ یہ ہے :
”تم لوگ باربارکی بغاوت اورعورتوں کے ساتھ ایسے بہیمانہ سلوک سے جس سے آپ سب لوگ ولدالزنا قرار پائیں مسلسل فہمائش کے بعدبھی بازنہیں آتے۔ اگرتم لوگ اب بھی اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آئے تومیں تم سب کو اسیربناکرسری رنگاپٹم لے جاوں گااورسب کومسلمان بنالیاجائے گا“۔ ( ۱۹)
یہ ایک بغاوت کا مخصوص کیس ہے اور اس سے کوئی عمومی نتیجہ نکالنادرست نہ ہوگا۔اسی طرح اورنگ زیب عالمگیر کی مہمات وغیرہ اوربعض مندروں کو توڑنا بھی مخصوص کیس ہیں جن کودرست پس منظرمیں دیکھناضروری ہے۔سلطان محمودغزنوی نے باربارہندوستان پر حملے کیے ۔اس کی بت شکنی اورہندووں کے قتل عام کا جوپروپیگنڈاکیا جاتا ہے، اگران کودرست تناظرمیں دیکھاجائے تو اس پروپیگنڈے کی بھی ہوانکل جاتی ہے۔ جیساکہ مشہور و ممتاز مورخ رومیلاتھاپر نے سومناتھ مندرپر اپنی کتاب میں محمود کے حملوں اور بت شکنی کے واقعات کا تجزیہ کرکے ثابت کیا ہے۔تھاپر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ درباری مورخوں نے بہت سے واقعات کوخواہ مخواہ بڑھاچڑھاکربیان کردیاہے۔ مثلا سومناتھ پر حملہ اوربت شکنی کے واقعات کا جوبیان ابوالقاسم فرشتہ یادوسرے فارسی مصنفین کرتے ہیں اس کا تقابل معاصرسنسکرت اورہندی ،گجراتی وغیرہ کے مصنفین کے بیانات سے کیاجائے توزبردست فرق محسوس ہوتاہے حالانکہ یہ مفتوح لوگ تھے ،ان کو اپنی مظلومیت کی داستان زیادہ نمک مرچ لگاکربیان کرنی چاہیے تھی،اگرایسانہیں ہے تودرباری مورخوں کے بیانات مشتبہ ہوجاتے ہیں۔ (۲٠)
رچرڈایم ایٹن کا زاویہ نظرتھوڑاسامختلف ہے ۔انہوں نے اپنے مطالعہ میں ایک سوال یہ قائم کیاکہ برصغیرمیں اوربالخصوص دکن میں اسلام تلوارکے زورپر نہیں پھیلابلکہ صوفیاءکرام کے ذریعہ پھیلا۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیاکہ صوفیاءبھی بالقصددعوت وتبلیغ کا ہدف نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کے ذریعہ زیادہ تراشاعت اسلام کا کام بالواسطہ اور غیر محسوس طورپر ہوا یعنی اسلام تصوف کا ضمنی حاصل (By Product )ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ اکابرصوفیاءشیخ ابن عربی اوردوسروں کا نظام فکراتنادقیق ،فلسفیانہ اورمتفکرانہ ہے کہ عوام الناس تک ان کی رسائی بڑی مشکل تھی ۔
عہدمتوسط کے متعلق مصنفین ومورخین عموماًیہ توبتاتے ہیں کہ تصوف نے فاتحین اورمسلم بادشاہوں کے رویوں میں جوشدت تھی اوراس سے عام لوگوں میں اسلام سے جوتنفرتھااورجو دوری تھی اس دوری کومٹانے کی کوشش کی اوراس شدت کوکم کیا۔یعنی تصوف اسلام کی شان جمالی کا اظہارتھا۔اسلامی ہندپر اہم لکھنے والوں جیسے عزیزاحمد،خلیق احمدنظامی ،ایچ کے شیروانی،تاراچند،یوسف حسین خان اورتھامس واکرآرنولڈ،محمدمجیب اور احمدرشید وغیرہ کی کتابیں بھی اسی خیال کا اظہارکرتی ہیں ۔ صوفیاکے ذریعہ نچلی ذات کے ہندو،صفائی کرنے والے کپڑے بننے والے طبقات نے اسلام قبول کیااورصوفیانے الیٹ مسلمانوں کے برعکس ان کے ساتھ انسانی اورمساویانہ سلوک کیا۔واضح رہے کہ مسلم حکمراں اورامراءبھی مسلم غیرمسلم سے قطع نظرمعاشرہ کی اشرافیہ اوراراذل کی جاہلی تقسم کو روارکھے ہوئے تھے ۔البتہ سوال یہ ہے کہ معاشرہ کے ان نچلے طبقوں تک صوفیااوران کی تعلیمات کی رسائی کیسے ہوئی کیونکہ صوفیاءکے بارے میں یہ معلوم ہے کہ :
۱۔وہ مریدوغیرمریدمیں فرق کرتے ہیں اوراپنے احوال وکشف وغیرہ معتمدمریدین پر ہی ظاہرکرتے ہیں
۲۔ وہ اپنے علوم کشفی ووارداتِ شخصی کا اخفاءکرتے ہیں
۳۔ان کا لٹریچرفارسی میں ہے جس سے عام ہندوناواقف محض تھے۔
اور جیساکہ پروفیسرنکلسن بجاطورپریہ کہتے ہیں کہ ”تصوف اسلام کا مذہبی فلسفہ بھی ہے اورمذہب کا عوامی روپ بھی۔ (۱۲) تاہم مذکورہ تمام مصنفین صوفی لٹریچرکا حوالہ تودیتے ہیں مگروہ عوام اورتصوف کے لٹریچریاصوفیاکی تعلیمات کے درمیان رابطہ کیسے ہوااس کی کوئی تشریح نہیں کرتے ۔رچرڈایٹن نے اسی سوال کا جواب اپنے مضمون : Sufi Folk Literature and the Expansion of Indian Islam میں دینے کی کوشش کی ہے۔
ہندوستانی عوام تک اکابرین تصوف کی تعلیمات کیسے پہنچیں اوران کا اتناگہرااثرکیوں کرپڑا؟ اس سوال کے جواب میں رچرڈایٹن بتاتے ہیں کہ” یہ عملاً ان صوفیاءکا کمال ہے جومقامی رنگ میں رچ بس گئے تھے اور مقامی بولیاں انہوں نے اختیارکرلی تھیں ۔جنہوں نے تصوف کی تعلیمات اورمذہب کی اصل روح یعنی ،خداسے محبت ،بندوں کی خدمت ، رواداری اورصلح کل ،مفاہمت ،محبت انسان اورمساوات بنی آدم وغیرہ کا عطرکشیدکرکے ان کوخوداپنے مخاطب عوام کی ان کی اپنی زبان اوربولی ٹھولی اوردیہاتی محاوروں اورلفظوں میں ڈھال کران میں زبردست تاثیراورکشش پیدا کر دی تھیں۔مثال کے طورپر دیہات کے لوگوں کے لیے انہوں نے جورسالے لکھے جولوگوں کی زبانوں پر چڑھ گئے، ان میں چکی نامہ ،چرخانامہ ،شادی نامہ اورسہاگن نامہ وغیرہ ہیں جن کوعورتیں چکی پیستے ہوئے یاچرخاکاتتے ہوئے گایا کرتیں۔اسی طرح شادی کے موقع پر جوگانے گایے جاتے ۔یاشوہرسفروغیرہ پر جاتے توجن بولوں اورگیتوں سے عورتیں اپنے سہاگ کورخصت کرتیں اس کوسہاگن نامہ بولتے ۔ ان لوک گیتوں کے ذریعہ جن کوصوفیاءنے وضع کیا تھا اپنی تعلیمات کوانہوں نے مقامی سطح پر بہت وسیع حلقوں میں پہنچادیااورپورے دکن میں ان کا رواج ہوگیا“۔(۲۲)
رچرڈ ایٹن لکھتے ہیں:”(میرا)استدلال یہ ہے کہ فوک لٹریچرکے دونوں ذرائع یعنی صوفیاءکے ذریعہ لکھے گئے عوامی رسالوں اوردرگاہوں دونوں نے مل کرعقیدت پر مبنی عوامی اسلام کی تشکیل کی ۔جس سے نان الیٹ طبقے اورخاص کر خواتین اورعام لوگ تصوف کے قریب آئے۔سترہویں صدی سے شروع ہونے والایہ رجحان آج بھی موجودہے۔ چنانچہ درگاہوں پر خواتین زائرزیادہ آتی ہیں۔تاہم واضح رہے کہ جیسے عیسائی مشنریز ہوتے ہیں اسی طرح سے صوفیاء کو اسلامی مشنریزیاپیشہ ورمبلغین نہیں شمارکرسکتے ۔کیونکہ صوفیاءنے کبھی بھی منصوبہ بندطریقہ سے دعوت وتبلیغ کا کام نہیں کیا جیسے کہ مسیحی مشنریز کرتے ہیں۔(بعض اکادکامثالیں استثنائی ہوسکتی ہیں،مقالہ نگار)بیجاپورکے صوفیاءکے حالات سے معلوم ہوتاہے کہ صوفیاءکی کشف وکرامات سے متاثرہوکرنان الیٹ اورخاص کرخواتین،مزدورودستکار مختلف صوفیاءکے ارادت مندہوجاتے تھے ۔بعض لوگ باقاعدہ بیعت بھی ہوتے تھے۔ان کی تبدیلی مذہب کو conversion نہیں کہاجائے گا۔بلکہ اپنے صوفی شیخ کے استرشادمیں آنے سے وہ بتدریج اسلام کے رنگ میں رنگ جاتے مگراپنے رہنے سہنے ،پہننے اوڑھنے اورکھانے پینے کے قدیم طریقوں کوبرقراررکھتے اوروقت گزرتے ان کو اسلامی تہذیبی روایات کا حصہ بنالیتے۔یوں صوفیا کی درگاہوں اور مزارات نے دکن کے عام لوگوں کواسلام کے دامن میں لانے میں غیرمحسوس طورپرایک بڑاکارنامہ انجام دیا(۲۳)
پروفیسررچرڈایٹن کے مطابق شیخ برہان الدین جانم کے کسی مریدنے چکی نامہ لکھااسی طرح شاہ ہاشم خداوندہادی نے بھی ۔چکی نامہ میں چشتی سلسلہ کے تصور وجود ، تصورخدا،پیراورچکی پیسنے والی مریدکے رشتہ اورخدااورمادی وجودسے اس کے رشتہ کودیہاتی محاورے میں اداکیاگیاہے ۔بعض لائنوں میں شیخ ابن عربی کے فلسفہ تصوف کی چھاپ بھی نظرآتی ہے۔ (۲۴)۔وہ مزیدلکھتے ہیں:
”صوفی فوک لٹریچرکے گیارہ مخطوطے دریافت ہوئے ہیں جن میں زیادہ ترچکی نامہ ہیں۔ان پر تاریخ مندرج نہیں ہے مگر جو دکنی زبان ا ن میں استعمال ہوئی ہے اس کے مدنظران کوسترھویں صدی یااٹھارویں صدی کے اوائل کی طرف منسوب کیاجاسکتاہے۔ایک چکی نامہ سترہویں صدی کے ایک اہم اورآزادمشرب بیجاپوری صوفی شیخ امین الدین علاء(متوفی 1675) کی طرف منسوب ہے۔( ۲۵) )دوسرا چکی نامہ شاہ ہاشم خداوندہادی (متوفی 1704-5) کی طرف منسوب ہے۔یہ شیخ امین الدین علاءکے خلیفہ تھے۔انہیں کے ایک اورمریدشیخ فاروقی نے ایک اورچکی نامہ لکھا۔( ۲۶)دوسرے اورچکی نامے بیجاپورکے ایک صوفی فی الحال قادری (تاریخ نامعلوم)کی طرف منسوب ہیں۔ اور ایک بیلگام کے چشتی صوفی شاہ کمال یاشاہ کمال الدین (متوفی 1809-10)کی طرف منسوب کیاجاتاہے جوانہوں نے اپنی اہلیہ کی فرمائش پر لکھاتھا ( ۲۷)
اسی طرح ایک سہاگن نامہ کا مخطوطہ بھی پایاجاتاہے جسے بیجاپورکے ایک چشتی شیخ راجوقتال(متوفی 1681)نے ترتیب دیاتھا۔( ۲۸ )جوترک وطن کرکے حیدرآبادآگئے تھے (۲۹)ایک چرخانامہ کسی سالارنامی شخص کی طرف منسوب ہے مگراس کی اصلیت معلوم نہیں ہوسکی ۔دواورچکی نامے دکن کے مشہورصوفی شیخ سیدمحمدبندہ نواز کی طرف منسوب ہیں۔تاہم ان کی اصلیت میں اس لیے شک ہے کہ کتاب کے اخیرمیں لکھنے والے کا نام بندہ نواز لکھاہے ۔جبکہ معلوم ہے کہ خواجہ بندہ نوازخوداس نام کواستعمال نہ کرتے تھے ۔یہ لقب توان کودوسروں نے دے دیا ہے۔ ( ۳٠) اوردوسرے اس لیے بھی کہ شیخ بندہ نواز کی وفات کے کوئی ڈیڑھ صدی بعدہی چکی نامے لکھے گئے ہیں۔اِن مخطوطوں سے یہ نتیجہ سامنے آتاہے کہ وہ مستندہوں یاغیرمستند،ہیں وہ سب صوفیاکے وضع کردہ ۔اِن میں جومشترک مضمون ہے وہ (۱)خداکی محبت اوراس کی حمد،(۲)رسول اللہ ﷺ سے عشق،(۳) اپنے صوفی پیرکی عقیدت (۴)گانے والی خاتون کی خوش عقیدگی (۵)اورصوفیانہ اذکارکا وردجوگانے والی کی شخصیت کومنضبط کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ یہ مختصرلوک گیت چشتی سلسلہ کے بزرگوں اوران کے مریدین کے لکھے ہوئے ہیں۔تیسرے دکن کے جوکبارمشائخ مصنف ہیں مثلاً شیخ میران جی شمس العشاق( متوفی 1499)شاہ برہان الدین جانم (متوفی 1597)اورشیخ محمدخوش ذہن (متوفی1617)وغیرہ نے یہ رسائل نہیں لکھے بلکہ یہ اِن مشائخ کے اخلاف ومسترشدین کے وضع کردہ ہیں جو سترہویں صدی یااٹھارویں صدی کے اوائل میں تھے ۔(۳۱)
اس طرح نہ صرف مسلمان مصنفین ومورخین بلکہ خودمستشرقین کے مطالعات بھی یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچادیتے ہیں کہ برصغیرمیں بالعموم اوردکن میں بالخصوص اشاعت ِاسلام میں تلوارکا اورفتوحات کا حصہ بہت کم رہا ہے۔اس سلسلہ میں عرب تاجروں کی دعوت اورصوفیاءکرام کی بالواسطہ اصلاحی ودعوتی مساعی نے ہی اصل کردار ادا کیا۔ اوراگرتاریخ میں جبری تبدیلی مذہب کے اکادکاواقعات کہیں ملتے بھی ہیں توان کی حیثیت استثنائی واقعات کی ہے۔اوراس طریقہ پر جولوگ مسلمان ہوبھی جاتے تھے وہ حالات کا جبرختم ہونے پر جلدہی اپنے سابقہ مذہب کی طرف لوٹ جاتے تھے۔(۳۲)البتہ ابتدائی عرب مسلم غازیوں نے جہاں بھی حملہ کیاانہوں نے جنگ سے پہلے حریف کے سامنے قبول اسلام کرکے اپنے بھائی بن جانے کا آپشن بھی پیش کیا۔اِس کوجبراً اسلام قبول کروانانہیں کہاجاسکتا۔ یہ تواسلام کے آئین جنگ کالازمی حصہ ہے۔(۳۳)
بہرکیف یہ دونوں مستشرقین اس بات پر متفق ہیں کہ دکن میں خصوصاً اورپورے ملک میں عموماً اشاعت اسلام کا کام صوفیاءکرام کے ذریعہ انجام پایا۔ تصوف کے بارے میں عام تصوریہ ہے کہ یہ زندگی سے فرارکا نام اوردنیاسے کٹ کرگوشوں اورکھوہوں میں جابیٹھنے کا نام ہے۔لیکن تصوف کی تاریخ اس تصورکی نفی کرتی ہے۔واقعہ تویہ ہے کہ تصوف کی روایت بھی بڑی وسیع اورمتنوع ہے۔اس میں وجودی صوفیاءبھی ہیں شہودی بھی ۔متشدد بھی ہیں اوروسیع المشرب بھی ،سیف وسنان سے کھیلنے والے بھی ہیں اورقلم کے دھنی بھی ۔خودموجودہ زمانے میں امیر عبدالقادر الجزائری ،سنوسی سلسلہ کے بزرگان،داغستان کے امام شامل کی مثالیں توسامنے کی با ت ہیں۔دکن اور بر صغیر میں بھی بہت سے نام صاحب سیف وقلم صوفیوں کے ہیں۔پروفیسررچرڈایم ایٹن کی کتاب Sufis of Bijapur کے دوسرے باب کا عنوان ہے :The Warrior Sufis (مجاہدصوفیا)اس میں انہوں نے ان صوفیاءکا تذکرہ کیاہے جنہوں نے جہادوشہادت کی داستانیں رقم کی ہیں۔
ان میں سےبعض صوفیاءنے جہاد کیااورشہادت بھی پائی البتہ زیادہ ترحالات میں ان کے جہادکی نوعیت صرف دفاعی تھی یعنی وہ جن علاقوں میں اپنے پیرومرشدکی ایماءپر گئے وہاں کے حکام اورراجاوں نے ان کورہنے کی اجازت نہ دی اوران کے کام میں مزاحم ہوئے توان سے جہادکی نوبت آگئی ۔جیسے سیدابراہیم شہیدجومدینہ سے آئے تھے اور پانڈیا حکمرانوں سے ان کی جنگ ہوئی تھی ،یہاں تک ایک علاقہ پر انہوں نے بارہ سال تک اپنااقتداربھی قائم رکھا مگر بالآخر راجہ کے مقابلہ میں شہیدہوگئے ۔(۳۴)ورنہ زیادہ ترصوفیاءاپنے بالواسطہ طریقہ دعوت اورصلح کل کے طریقوں سے کام لے کرعام لوگوں کویعنی سماج کے دبے کچلے لوگوں،غریبوں،اچھوتوں اورشودروں کواپنے سے قریب کیا۔انہوں نے فقہاءکی سی شدت نہیں دکھائی بلکہ عملی معاملات میں بہت زیادہ لچک دکھائی جس میں بہت دفعہ مبالغہ بھی ہوااورکفرواسلام کا فرق بھی مٹتاہواسامحسوس ہوا۔بہرحال ان بالواسطہ طریقوں نے زیادہ بڑے پیمانے پر لوگوں کواپنی طرف متوجہ کیا۔
حواشی و حوالہ جات:
۱۔مولانامودودی ،تاریخ دولت آصفیہ، یہ کتاب عمومی معنوں میں تاریخ نہیں البتہ اِس میں اورنگ زیب عالمگیرکے بعدسلطنت مغلیہ کی ابتری اوردولت آصفیہ کے قیام کے اسباب پر اچھی روشنی ڈالی گئی ہے۔مطبوعہ فریدبک ڈپونئی دہلی
۲۔کلیات اقبال ص 105خصوصی ایڈیشن ،اقبال اکادمی پاکستان لاہورطبع 1990
۳۔ایضاص ۱۱
۴۔ملاحظہ ہومولاناامین احسن اصلاحی دیباچہ تفسیرنظام القرآن جس میں انہوں نے مولاناحمیدالدین فراہی کا یہ تاثرنقل کیاہے کہ وہ اس کتاب کومسلمانوں کے اندرسے جذبہ جہادکوختم کرنے کی بساط کاایک مہرہ سمجھتے تھے:ص ۱۱،طبع دائرہ حمیدیہ فروری 2009
۵۔رچرڈ ایٹن کی ایک کتاب ہندوستان میں ہندومندروں کے انہدام کے بارے میں ہے۔Desecration of Temples in Muslim India اِس میں انہوں نے بتایاہے کہ محمدبن قاسم سے لے کراخیرمغلیہ عہدتک تقریبااسی (۸٠)مندرڈھائے گئے ۔کس سلطان یاحاکم کے زمانہ میں کس ریاست اورکس پرگنہ میں اورکب یہ تباہ کیے گئے اس کا تفصیلی چارٹ انہوں نے دیاہے۔ان کا کہناہے کہ مندروں کایہ انہدام خالصتاً سیاسی وجوہ سے ہوا مذہبی اغراض کے لیے نہیں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایاہے کہ کئی مندرمغل سلاطین کی نگرانی وسرپرستی میں تعمیربھی کیے گئے تھے جیسے کہ ہندووں کے مشہورتیرتھ استھان متھرامیں برندابن کا گوونددیوکا مندرجو1550میں تعمیرکیاگیا۔
6۔ ''Thus the missionary spirit of Islam is supposed to show itself in its true light in the brutal massacres of Brahmans by Mahmud of Ghazna, in the persecutions of Aurangzeb, the forcible circumcisions effected by Haydar Ali, Tipu Sultan and the like. The Preaching of Islam Page 193
7- Census of India 1891 General report by J.A Baines P.167 London 1893 اور ایضا صفحہ 126
۸۔ص 194پریچنگ آف اسلام
۹۔ ایضاص194
۱٠۔ایضاص194
۱۱۔The Bombay Gazeteer Vol, x p.132اوردیکھیں یہی گزیٹیرVol, xvi p.75 بحوالہ پریچنگ آف اسلام
۱۲۔شیخ محمداکرام نے پیرمعبری کھندائت لکھاہے۔جوعرب تھے اورمعبر(کارومنڈل )سے 1304میں دکن آئے اس لیے پیرمعبری کہلاتے تھے ان کے علاوہ اوربھی کئی مشائخ کا تذکرہ شیخ اکرام نے کیاہے ملاحظہ ہو: آب کوثرص356
۱۳۔ایضاVol, xxiii p.صفحہ 282
۱۴۔(The Bombay Gazeteer Vol, xviii p.218-223
۱۵۔ایضاVol,xiii part I p.231
۱۶۔ایضاVol,xvi p.75-6
۱۷۔ایضا:Vol,xxi p.203 “
۱۸۔پروفیسرآرنولڈ،پروفیسرآف عربک یونیورسٹی آف لنڈن ،یونیورسٹی کالج ،پریچنگ آف اسلام Second Edition Revised. London Constable & Company Ltd, 1913
۱۹۔ایضا:ص198
۲٠۔ملاحظہ ہو: رومیلاتھاپر:Somnath, The many Voices of a History, Penguin Books
۲۱۔ص 190 )Essay on Islam and India
۲۲۔ص199)Essay on Islam and India
۲۳۔ایضاصفحہ190
۲۴۔ایضا صفحہ196)کتاب میں ایٹن نے اوریجنل دکنی کے اشعارنہیں دیے بلکہ صرف ان کا ترجمہ نقل کرنے پر اکتفاکیاہے ۔اگراصل اشعاربھی دیتے تواس سے ان کی تاثیرکا صحیح اندازہ ہوسکتاتھا۔
۲۵۔ایضاصفحہ 192
۲۶۔ایضاصفحہ 193
۲۷۔سخاوت مرزا،سیدشاہ کمال الدین رسالہ اردواپریل 1939 بحوالہ ایٹن 1993
۲۸۔تذکرہ اولیاءدکن دوجلد،عبدالجبارملک پوری حیدرآباد1912جلداول ص337
۲۹۔ایضاصفحہ ص193، Essay on Islam and India
۳٠۔ایضاصفحہ ص193، Essay on Islam and India
۳۱۔صفحہ 194کتاب :Essays on Islam and Indian History
۳۲۔چنانچہ محمودغزنوی نے جب بلندشہرپر حملہ کیاتووہاں کے راجہ ہری دت نے دس ہزارلوگوں کے ساتھ اسلام قبول کرلیامگربعدمیں وہ اپنے سابقہ مذہب کی طرف لوٹ گیا،ملاحظہ ہو:پریچنگ آف اسلام ص195
۳۳۔مثال کے طورپر جارج ایلیٹ نے اپنی تاریخ میں لکھاہے کہ محمدبن قاسم نے حملہ سے پہلے ہندوراجہ کوقبول اسلام کی دعوت دی اوربعدکے فاتحین بھی ایساہی کرتے تھے(جلداص175-207)۔
۳۴۔شیخ محمداکرام ،آب کوثرص 354