فروری ۲۰۲۱ء

پاکستانی سیاست میں سول بالادستی کی بحث / پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق / مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظرمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۳)ڈاکٹر محی الدین غازی 
علامہ احمد جاوید اور تصوفمیر امتیاز آفریں 
شیخ الہندؒ کا قومی و ملی انداز فکرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
عورت کا سماجی کردار اور خاندانی حقوق و فرائضمولانا حافظ عبد الغنی محمدی 
’’الوفاء باسماء النساء‘‘ (محدّثات انسائیکلوپیڈیا) / ” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“ادارہ 

پاکستانی سیاست میں سول بالادستی کی بحث / پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق / مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

محمد عمار خان ناصر

حریفانہ کشاکش سیاست واقتدار کا جزو لاینفک ہے اور تضادات کے باہمی تعامل سے ہی سیاسی عمل آگے بڑھتا ہے۔ برطانوی استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت برصغیر میں جہاں پبلک انفراسٹرکچر، تعلیم عامہ، ابلاغ عامہ، بیوروکریسی اور منظم فوج جیسی تبدیلیاں متعارف کروائیں، وہیں نمائندگی کا سیاسی اصول بھی متعارف کروایا۔ یہ پورا مجموعہ کچھ داخلی تضادات پر مشتمل تھا جس نے نئی سیاسی حرکیات کو جنم دیا۔ چنانچہ تعلیم، ابلاغ عامہ اور نمائندگی کے باہمی اشتراک سے استعمار کے خلاف مزاحمت کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر استعمار کو یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔

تقسیم کے بعد پاکستانی ریاست کو یہ پورا مجموعہ اپنے داخلی تضادات سمیت بعینہ منتقل ہوا ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اب فوج اور بیوروکریسی استعمار کے نمائندہ نہیں، یعنی انھیں نکال باہر کرنا ممکن نہیں۔ یوں جمہوریت بمعنی سول بالادستی اور مقتدرہ کے مابین کشاکش ایک بظاہر لاینحل مسئلے کے طور پر موجود ہے اور سیاسی عمل کو آگے دھکیل رہا ہے۔ سول بالادستی اپنی آئیڈیل شکل میں مقتدرہ کے کردار کو جن حدود میں محدود کرنا چاہتی ہے، وہ مقتدرہ کے لیے قابل قبول نہیں اور مقتدرہ، جمہوری فیصلہ سازی کو جس طرح اپنی طے کردہ ترجیحات کا پابند بنانا چاہتی ہے، وہ بنیادی طور پر عوامی سیاسی جماعتوں کو قبول نہیں۔ فریقین کے اصل مواقف یہی ہیں اور غیر معمولی حالات میں یہ باقاعدہ بیانیوں کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں، تاہم عام حالات میں ایک ملفوف مفاہمت سے کام چلتا رہتا ہے۔

 پچھلے دو تین سالوں میں ہیئت مقتدرہ جس طرح سیاسی بندوبست کے باب میں بلا ستر سامنے آئی، بعض تجزیہ نگاروں کی رائے اس کے متعلق یہ تھی کہ وہ سیاسی حرکیات میں ایک ایسی مفید پیش رفت  ہے جو مآل کار جمہوری جدوجہد کو مضبوط کرے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس بے ستری کو چھپانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں تھا کہ یہ سب کچھ کسی وقتی موڈ میں یا ہنگامی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ قصدا اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس سے ایک کھلا اور واضح پیغام دینا مقصود ہے کہ باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہے، اس لیے جس کو اقتدار میں کچھ حصہ چاہیے، اسے  ہماری شرائط پر ہمارے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔

یہ پر عزم ننگا پن چند  بڑی تلخ حقیقتوں کی نشان دہی کرتا ہے جس کا سامنا جذباتیت سے نہیں کیا جا سکتا۔   اس کے فوری  عوامل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ   اور اس کے نتیجے میں طاقت کے توازن کا غیر معمولی طور پر فوجی مقتدرہ کے حق میں   ہو جانا ہے۔  اس جنگ کی جو اصل قیمت ہم نے بطور قوم دی ہے، وہ سول حکومت کی بے وقعتی کی صورت میں دی ہے اور اس کا کوئی فائدہ اگر کسی کو ملا ہے تو عسکری ادارے کو، جرات اور حوصلے اور اعتماد میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں ملا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حالیہ  بے ستری اسی اعتماد کا ایک مظہر ہے۔


اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری قوتوں کے مابین طاقت کے اس عدم توازن کو  مستقل طور پر قائم رکھنے والے عوامل میں جس پر جمہوری قوتوں کی باہمی تفریق، کسی بھی شرط پر اقتدار میں حصہ داری کی اندھی خواہش اور سب سے بڑھ کر حقیقی اخلاقی قوت سے محرومی شامل ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے عوامی سیاست کے نمائندے اپنی کوئی ساکھ نہیں بنا پائے، اور سیاسی لحاظ سے وہ سول بالادستی کی جدوجہد کے لیے درکار یکسوئی اور داخلی اتحاد کو، موقع دیے جانے پر، حصول اقتدار کے مقصد پر قربان کرتے رہے ہیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ اسی کی تفصیل ہے اور یہی کمزوری، مقتدرہ کی سب سے بڑی قوت ہے۔ مقتدرہ کے پاس حصول اقتدار کی خواہاں متبادل سیاسی قوتوں مثلا ق لیگ اور پی ٹی آئی وغیرہ کو میدان میں لانے کا آپشن بھی موجود ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں اپنے مشترکہ سیاسی تجربے کی روشنی میں میثاق جمہوریت جیسے جس معاہدے تک پہنچی تھیں، اسے غیر موثر کر دینے کی صلاحیت سے بھی وہ بہرہ ور ہے۔

سول بالادستی کے حوالے سے  جمہوری قوتوں کابیانیہ اصولی اور نظریاتی طور پر بہت مضبوط ہے، تاہم  اس سوال کو خود جمہوری طاقتوں کے اپنے کردار  سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ کہ کہنے والے کو نہ دیکھو، جو وہ کہہ رہا ہے، اس کو دیکھو، یہ بات فلسفیانہ سطح پر ہی اچھی لگتی ہے۔ انسان کی عمومی نفسیات اس طرح کام نہیں کرتی۔ ایسا ہوتا تو اللہ تعالی ٰ  اپنی توحید سمجھانے کے لیے حسن کردار سے متصف نبیوں کے بجائے بلند پایہ فلسفیوں کو مبعوث فرماتا۔ خاص طور پر جہاں اخلاقی حکم لگائے یا دعوے کیے جا رہے ہوں، وہاں تو یہ منطق بالکل کام نہیں کرتی۔  دوسری بات یہ کہ ادارے کی قوت کا سامنا اداروں کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے، شخصی مہم جوئی سے نہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو جتنا احترام خود سیاست دان دیتے ہیں، وہ ہمیں معلوم ہے۔ بھٹو مرحوم شاید ڈکٹیٹر شپ کے مزاج کے حوالے سے بدنام زیادہ ہیں، بعد کے سبھی سیاسی راہ نما بشمول میاں صاحب کا اس میں کوئی استثنا نہیں۔

ریاستی  اختیارات کے غلط استعمال کے مسئلے کو  اس کی اصل جڑ سے سمجھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں کا رد عمل دراصل ان اداروں کے ذمہ داران کا طرز عمل ہوتا ہے جو انسان ہوتے ہیں اور اسی طرح behave کرتے ہیں جیسے نفسیات کے اصولوں کے تحت سارے انسان کرتے ہیں۔ کسی بھی صورت حال میں انسان جو رد عمل ظاہر کرتا ہے، وہ عموما reflexive ہوتا ہے، یعنی سوچا سمجھا، شعوری اور اختیاری نہیں ہوتا، بلکہ اس conditioning کے مطابق ہوتا ہے جس کے تحت انسان کی شخصیت کی تشکیل ہوئی ہے۔ اس میں بہت بنیادی کردار یہ بات ادا کرتی ہے کہ تشکیل شخصیت میں اخلاقی احساسات کی ترسیخ کس قدر شامل ہے اور وہ شخصیت کے حیوانی داعیات کا مقابلہ کرنے کی کس حد تک استعداد رکھتے ہیں۔

طاقت ملنے پر اس کا غلط استعمال، غلطی ہو جانے پر اپنا دفاع، اور خود کو یا کسی تعلق دار کو کسی بھی طرح کے خطرے میں دیکھ کر اس کا تحفظ، یہ سب انسانی نفسیات کے reflexive reactions ہیں۔ اگر اخلاقی احساسات کی مناسب ترسیخ کسی معاشرے کے تربیتی نظام اور ماحول کا حصہ نہ ہو تو پورے معاشرے کا نفسیاتی سانچہ بالکل ویسا بن جاتا ہے جیسا ہمارے معاشرے کا بنا ہوا ہے۔ ہم میں سے ہر فرد اور ہر گروہ اختیار ملنے پر اس کا غلط استعمال کرتا ہے، اپنے یا اپنے تعلق داروں سے کوئی غلطی یا جرم سرزد ہونے پر اپنے تحفظ کے لیے گروہی حمایت، سیاسی اثر ورسوخ، جھوٹ، رشوت، دھاندلی، دھونس اور مخالف پر دباو ڈالنے کے تمام حربے اختیار کرتا ہے اور اسے تعلق داری کا ایک لازمی اور بدیہی تقاضا تصور کرتا ہے۔ انصاف، غلطی کا اعتراف، غلطی کی سزا بھگتنے کے لیے درکار اخلاقی جرات جیسے شخصی اوصاف پیدا کرنے کا کوئی اہتمام ہماری نفسیاتی کنڈیشننگ کا حصہ نہیں ہے۔

ایسی صورت حال میں ہم میں سے جن کو ریاستی طاقت کے مراکز تک پہنچنے اور انھیں استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ بعینہ اسی کنڈینشننگ کے زیر اثر وہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں جس پر ہم اس وقت قومی سطح پر رنج اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سے کسی مختلف کردار کی توقع آخر ہم کس بنیاد پر کر سکتے ہیں؟ زیادہ طاقت حاصل ہونے اور اخلاقی ذمہ داری کے مابین تو معکوس تناسب پایا جاتا ہے۔ طاقت تو ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کرتی، بلکہ پہلی کنڈیشننگ کو ہی مزید مضبوط کرتی ہے۔

یہ وہ ’’کتا ‘‘ ہے جو کنویں میں پڑا ہوا ہے اور ہم اس کو وہیں چھوڑ کر ہر نئے  واقعے کے بعد چالیس پچاس مزید ڈول نکالنے کا مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔


حالیہ سیاسی کشمکش میں  سول بالادستی  کی علمبردار سیاسی قوتوں نے  جو بیانیہ پیش کیا، اس میں  ’’شخصی کرداروں ‘‘ اور ’’اداروں ‘‘ کا ایک مصنوعی فرق قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو محل نظر ہے۔  خود کو حب الوطنی کا معیار سمجھنے اور اپنے اقتدار کو چیلنج کرنے والے سیاست دانوں کی ملکی وفاداری کو مشکوک ٹھہرانے کی ذہنیت صرف بالائی عسکری قیادت میں نہیں ہے، جیسا کہ مختلف سیاسی قائدین نے باور کرانے کی کوشش کی۔ اپنے ادارے کی بالادست حیثیت، ملکی سیاست میں طاقت کی کشمکش میں اس کے موقف سے وابستگی، اور ملکی قانون سے بالاتر ہونے کا احساس ادارے کے تمام رینکس میں مشترک ہے اور اس درجے میں مشترک ہے کہ نتائج سے بالکل بے نیاز ہو کر درمیانی یا نچلی سطح کی قیادت بھی اس طرح کی مہم جوئی کا حوصلہ کر سکتی ہے جس طرح کی، مزار قائد پر ’’مادر ملت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے پر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے  میں کی گئی۔  سیاسی حکمت عملی کے طور پر کرداروں اور اداروں میں فرق کیا جا سکتا ہے، لیکن اصل حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ بطور ادارہ اپنی امتیازی حیثیت کا احساس، فرق مراتب کے ساتھ، اوپر سے نیچے تک پوری فوج میں سرایت کیے ہوئے ہے اور ہر سطح پر رویے میں جھلکتا ہے۔ اس لیے  سول بالادستی کی بحث میں جلد یا بدیر  پورے ادارے کی حیثیت اور کردار کو  اس کے سارے پہلووں کے ساتھ موضوع بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔

بطور ادارہ فوج کے کردار کو  ایک سنجیدہ  سیاسی مباحثے کا موضوع بنانا  صرف جمہوری سیاست کے لیے نہیں،  بلکہ فوج اور قوم کے باہمی تعلق میں استحکام  کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے تنقیدی سوالات  کے راستے مصنوعی طریقے سے مسدود کرنے کا نتیجہ  فوج سے متعلق ناہموار اور نفرت پر مبنی  اظہارات کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ فوج  کے سیاسی کردار کی وجہ سے  اس کے دفاعی کردار اور  قومی خدمات  کو نفرت کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم  جب صورت حال یہ ہو کہ سیاست دانوں، مختلف مافیاز، پولیس، دیگر سرکاری انتظامی اداروں، اور مذہبی راہ نماوں سمیت  ہر طبقے کو  شدید تنقید اور طنز وتضحیک کا نشانہ بنانے کی آزادی ہر شخص کو حاصل ہو اور ایسا کرنے پر کسی کا بھی مواخذہ نہ ہو سکتا ہو، لیکن فوج کا نام آتے ہی پوری ریاست خطرے میں پڑ جائے اور فوج واحد ادارے کے طور پر سامنے آئے جس کے تقدس کا مجروح  ہونا ناقابل برداشت ہو تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ اس سے فوجی ادارے کا امیج کیا بنتا ہے اور اس سے اظہار نفرت  کی ذہنیت کی اصلاح ہوتی ہے یا اس کو تقویت ملتی ہے؟

اظہار نفرت تو دور کی بات ہے، کسی مزاحیہ پروگرام میں جہاں معاشرے کے ہر طبقے کے مزاح کے انداز میں لتے لیے جا سکتے ہیں، آپ کو کبھی اشارتا بھی کوئی فوجی کردار مزاح کا نشانہ بنتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔ اس کے پیچھے ایک پوری نفسیات جھلک رہی ہے جو ایک قومی ادارے کے لیے، جس کا وجود اور استحکام اور اس پر قوم کا اپنائیت پر مبنی اعتماد اس ملک کے وجود اور استحکام کی ضمانت ہے، ہرگز کوئی مثبت چیز نہیں ہے۔


جہاں تک موجودہ حکمران جماعت کا تعلق ہے تو ۲٠۱۳ء کے انتخابات کے بعد ہم نے عرض کیا  تھا کہ سیاسی رویوں کے حوالے سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی طویل تجربات سے ہی کچھ سیکھا ہے، اور یہ کہ تحریک انصاف کو بھی یہ چیزیں سیکھنے کا وقت ملنا چاہیے۔

اقتدار ملنے کے بعد، یقینا تحریک انصاف نے کافی سیاسی سبق سیکھے ہیں جو آئندہ اس کے کام آئیں گے۔ مثلا یہ کہ خالص نظریاتی یا اخلاقی اقدار کی بنیاد پر اقتدار کا حصول یا اس کو برقرار رکھنا ہماری معروضی سیاست میں ممکن نہیں اور اس کے لیے بہت سے سمجھوتے  کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ صرف بلند عزائم اور گڈ گورننس کے لیے اچھے جذبات کافی نہیں، منصوبہ بندی اور سیاسی وانتظامی تجربہ بھی بہت ضروری ہے۔ یہ دونوں سبق اب خود عمران خان بھی دہراتے ہیں۔

ہمارے  خیال میں ابھی یہ سفر جاری ہے۔ کئی اور چیزوں کے علاوہ دو اہم باتیں عمران خان کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے:

ایک یہ کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانے کی نفسیات سے خود کو اور اپنی جماعت کو کیسے نکالا جائے تاکہ سیاسی عمل کو ہموار طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔ خاص طور پر یہ کہ کرپٹ سیاسی عناصر کو ذاتی دشمن کا درجہ دے دینا سسٹم کی تطہیر کے لیے ہرگز کافی یا اس کے لیے مددگار نہیں۔ یہ ایک لمبا اور صبر آزما عمل ہے۔

دوسرا یہ کہ سیاسی وانتظامی اصلاحات کا مقصد کسی ایک فرد کو بطور نجات دہندہ پیش کر کے اور اس کے لیے فری ہینڈ کا مطالبہ کر کے چند مہینوں یا سالوں میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو ایک مستقل بیانیے کے طور پر سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے تحریک انصاف کا موجودہ، فرد واحد پر منحصر سیاسی سٹرکچر ہرگز موزوں نہیں۔  عمران خان   کے ساتھ تحریک انصاف نے جو رومان وابستہ کیا ہوا ہے، اس کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اس میں خدانخواستہ مذہبیت کی کوئی آمیزش ہوتی تو اب تک کسی نہ کسی مہدی یا اوتار کا ظہور ہو چکا ہوتا۔ اگر یہ ایک طویل جدوجہد ہے تو عمران خان کو اپنی ذات سے آگے بھی اس کے تسلسل کا کوئی بندوبست کرنا ہوگا، کیونکہ سیاست میں دیرپا اثرات چھوڑنے اور سیاسی کیریئر کو ایک personal ambition کے طور پر ترتیب دینے کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موخر الذکر کام کسی ایک حلقے کے ایم این اے وغیرہ کو زیب دیتا ہے، سیاسی جماعتوں کے قائدین کو نہیں دیتا۔

پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق

گزشتہ دنوں  خیبر پختون خوا کے  ایک گاوں میں   ایک مندر کے منہدم کیے جانے کے تناظر میں   یہ سوال ایک بار پھر زیر بحث آیا کہ  ایک مسلمان ریاست میں  غیر مسلموں  کے شہری ومذہبی حقوق کیا ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر اس حوالے سے یہ ہے کہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کا تعلق، مسلم ریاست کی نوعیت اور ان سیاسی اصولوں سے ہے جن پر ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہو۔ اس حوالے سے اسلامی تاریخ میں دار الاسلام کا جو قانونی تصور رائج رہا ہے، اس میں اور آج کی جمہوری مسلم ریاستوں میں بہت بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ دار الاسلام کو قانونی لحاظ سے مسلمانوں کا علاقہ مانا جاتا تھا جس میں غیر مسلم ایک معاہدے کے تحت رہتے تھے اور اس کی مخصوص شرائط ہوتی تھیں جن پر سختی سے عملدرآمد کروانا یا نہ کروانا حکمرانوں کی سیاسی صوابدید پر منحصر ہوتا تھا۔ دار الاسلام میں اسلام کی سیاسی حاکمیت کے تصور کا ایک پہلو یہ بھی مانا جاتا تھا کہ غیر مسلم، اپنی مخصوص رہائشی آبادیوں سے باہر یعنی مسلمانوں کی آبادی میں عبادت گاہ نہ بنائیں اور اپنی آبادیوں میں بھی پہلے سے بنی ہوئی عبادت گاہوں پر اکتفا کریں اور نئی عبادت گاہیں نہ بنائیں۔ اس پابندی کو عملا لاگو کرنے میں مختلف ادوار اور حالات میں سیاسی پالیسیاں مختلف رہی ہیں، لیکن اصولا یہ پابندیاں مذہبی قانون کا حصہ مانی جاتی رہی ہیں۔ جدید جمہوری ریاستوں کی بنیاد شہریت کے اس تصور پر نہیں ہے اور خاص طور پر پاکستان کا قیام یہاں کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ جن دستوری وعدوں کی بنیاد پر ہوا ہے اور آئین میں بھی ان ضمانتوں کو شامل کیا گیا ہے، وہ ایسی کسی تفریق کی اجازت نہیں دیتے۔ آئین اور ملکی قانون کے مطابق غیر مسلموں کو بھی وہی سیاسی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں، اس لیے دار الاسلام کے تناظر میں بیان کیے گئے تصورات اور قوانین کا یہاں حوالہ دینا بے محل ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری حقوق کا مسئلہ  سیاسہ کے دائرے سے متعلق ہے اور ان معنوں میں اسلامی وغیر اسلامی کی تفریق یہاں بے معنی ہے کہ جو تصور اسلامی تاریخ میں رائج رہا ہے، وہ تو اسلامی ہے اور آج کا جمہوری تصور غیر اسلامی۔ سیاسہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی حاکمیت کو محفوظ رکھتے ہوئے حالات کے تحت جو بھی سیاسی معاہدہ کیا جائے، وہ اسلامی ہی ہوگا۔ تمدنی وسیاسی امور میں ویسے بھی شریعت نے، اخلاقی تطہیر اور ضروری ترمیم کے ساتھ دنیا میں رائج طریقوں کو  ہی اختیار کیا ہے۔ ذمہ کا تصور اور جزیہ عائد کرنے کا طریقہ شریعت نے متعارف نہیں کروایا۔ یہ پہلے سے موجود تھا جسے موافق مصلحت پا کر اختیار کر لیا گیا۔ دور جدید میں جس طرح جمہوری نظام، بین الاقوامی معاہداتی نظام  اور قانون انسانیت کے باب میں موجودہ عالمی اتفاق کو شرعی مقاصد سے متصادم نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی جواز دے دیا گیا ہے، اسی طرح جدید تصور شہریت کو بھی اسلامی قرار دینے میں کوئی مانع نہیں۔  

مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

پاکستان کی سیاسی تاریخ  کے ہر طالب علم کے سامنے سوال ہمیشہ ذہن میں آتا ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر شمال مشرق اور شمال مغرب میں واقع دور دراز مسلم خطوں کو ’’ایک‘‘ ریاست بنانے کا فیصلہ کن سیاسی بنیادوں پر کیا گیا؟

پہلی یہ کہ اس حادثے کی جڑیں بعد از تقسیم کے کچھ واقعات میں نہیں، بلکہ خود اس بندوبست میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو دونوں خطوں کو ایک ریاست میں ضم کرنے کی صورت میں کیا گیا تھا۔ بہت سے زمینی حقائق اس کے ایک قابل عمل بندوبست ہونے کی نفی کر رہے تھے جنھیں شاید اس لیے نظر انداز کرنا مناسب سمجھا گیا کہ ان کی طرف توجہ دلانے والے تقسیم کے مخالفین اور خاص طور پر مولانا ابو الکلام آزاد تھے۔  یہ شروع سے ہی "ڈومڈ" تھا اور جلد یا بدیر ایسا ہونا ہی تھا۔ہاں، کچھ سمجھداری سے کام لیا جاتا تو یہ اتنے برے طریقے سے نہ ہوتا جیسے ہوا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ تحریک پاکستان اپنے بنیادی سیاق میں شمال مغرب کے مسلم خطے سے تعلق رکھتی تھی۔ بنگال میں مسلم سیاسی جدوجہد کی حرکیات  پنجاب سے کافی مختلف تھیں اور دونوں خطوں کی سیاسی منزل لازمی طور ایک متحدہ ریاست نہیں تھی۔ چنانچہ ایک خود مختار مسلم خطے کا تصور پیش کرتے ہوئے نہ خطبہ آلہ آباد میں اقبال نے اس کا ذکر کیا، نہ پاکستان کی تجویز میں چودھری رحمت علی نے بنگال کو شامل کیا، بلکہ سوال کیے جانے پر کہا کہ بنگالی اپنی ایک الگ ریاست بنا سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی کچھ دیگر تجویزوں میں بھی شمال مغربی ریاست اور حیدرآباد کے علاوہ بنگال کا ذکر ایک الگ ریاست کے طور پر کیا گیا تھا۔ 1940 میں فضل حق نے قرارداد لاہور پڑھی تو اس میں ایک سے زیادہ ریاستوں کا ذکر تھا، لیکن 1946 میں کابینہ مشن کی آمد پر، مذاکرات میں مسلم لیگ کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے قرارداد لاہور میں ترمیم کر کے "ریاستوں" کی جگہ ’’ریاست‘‘ کا لفظ شامل کر لیا گیا۔ (اس حوالے سے بنگلہ دیشی نقطہ نظر وہاں کے قومی انسائیکلو پیڈیا میں دیکھ لینا مناسب ہے جس کے مطابق، بنگالی رہنماؤں نے اس سے اختلاف کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ وہ دو الگ الگ ریاستوں کے تصور کے ساتھ اس جدوجہد میں شریک ہیں)۔

http://en.banglapedia.org/index.php?title=Lahore_Resolution

بہرحال، تقسیم ہند کا فیصلہ ہو جانے پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا سوال آیا اور کانگریس اور وائسرائے دونوں نے متحدہ بنگال پاکستان کو دینے کا مطالبہ نہیں مانا تو حسین شہید سہروردی نے کوشش کی کہ مسلم اکثریتی بنگال کو پاکستان کا حصہ بنانے کے بجائے ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کروایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کوشش کو قائد اعظم کی بھی تائید حاصل تھی، لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ کانگریس کا خیال تھا کہ یہ بنگال کی تقسیم کو روکنے کی ایک چال ہے، جبکہ وائسرائے کو خدشہ تھا کہ دو سے زیادہ مستقل ریاستوں کے قیام کی اجازت دی گئی تو اس نوعیت کے کئی اور مطالبے بھی ابھر سکتے ہیں جو تقسیم کے عمل کو موخر کر دیں گے۔ یوں گویا مجبورا دونوں خطوں کو ایک ریاست کا حصہ بنانا پڑا۔ یہ ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے لارڈ ویول ایک خط میں ایک یا ایک سے زیادہ مسلمان ریاستوں کے امکان کا ذکر کر چکا تھا جس سے واضح ہے کہ صرف ایک مسلم ریاست برطانوی پالیسی کا کوئی طے شدہ حصہ نہیں تھا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے حصول اقتدار کی اس جدوجہد میں جو سوشیواکنامک پہلو خود مسلمانوں کو داخلی طور پر تقسیم کیے ہوئے تھے، ان کو سامنے رکھے بغیر تاریخ کی درست تفہیم نہیں ہو سکتی۔ قائد اعظم اور مسلم لیگ کی خواہش کلکتے سمیت پورا بنگال پاکستان میں شامل کرنے کی تھی، لیکن صنعتی وسائل سے مالامال کلکتہ نہ ملنے کے بعد باقی کے مفلوک الحال بنگال کی اہمیت مسلم لیڈرشپ کی نظر میں ظاہر ہے، وہ نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حسین شہید سہروردی کو یہ کوشش کرنے دی گئی کہ وہ بنگال کو ایک مستقل ریاست منوا سکتے ہیں تو منوا لیں۔ یہ بات نہیں مانی گئی تو پاکستان میں بنگال کی شمولیت جس حیثیت سے ہوئی، وہ واضح ہے اور اقتدار وسیاست کی حرکیات کے لحاظ سے مغربی یعنی اصل پاکستان کی لیڈرشپ اور مقتدرہ کا رویہ مشرقی پاکستان کی جانب وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔ بنگالیوں سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پاکستان میں شامل کر لیے جانے کو ہی اپنے لیے اعزاز سمجھیں اور شراکت اقتدار کے سوال کے حوالے سے اپنی اوقات کو نہ بھولیں۔ 1971 کا سانحہ اسی صورت حال کا ایک منطقی انجام تھا جس کا تجزیہ کرتے ہوئے اب ہم عام طور پر کئی طرح کے ثانوی عوامل کو بنیادی اسباب کے طور پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا، لیکن ہائنڈسائٹ سے کام لیا جائے تو شاید قرارداد لاہور کے اصل تصور کے مطابق دو الگ الگ ریاستیں بننا ہی خطے کے مسلمانوں کے زیادہ مفاد میں تھا۔ دونوں کے مابین شروع سے ہی کنفیڈریشن کی طرح کا کوئی تعلق ہوتا یا دفاعی معاہدات وغیرہ ہو جاتے تو انڈیا کے مقابلے میں بھی ہماری مجموعی اسٹریٹیجک پوزیشن زیادہ مضبوط ہوتی اور ہم یہ شرمناک تاریخ رقم کرنے سے بھی بچ پاتے۔  کم سے کم یہ ہونا چاہیے تھا کہ  متحدہ ریاست  کے قیام کے بعد صورت حال کے بہت زیادہ بگڑ جانے سے پہلے ہی باہمی مفاہمت سے راستے الگ کر لیے جاتے۔ لیکن اقتدار، ہاتھ میں آیا ہوا خطہ زمین اور وسائل پھر اتنی آسانی سے چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔بہرحال، وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۳)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(225)    القاسیۃ قلوبہم من ذکر اللہ کا ترجمہ

اَفَمَن شَرَحَ اللَّہُ صَدرَہُ لِلاِسلَامِ فَہُوَ عَلَیٰ نُورٍ مِّن رَّبِّہِ فَوَیل لِّلقَاسِیَةِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکرِ اللَّہِ اُولَٰئِکَ فِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ۔ (الزمر: 22)

“اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے، وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اثر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں”۔(محمد جوناگڑھی، قوسین کا اضافہ الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔)

“تو ہلاکی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاددہانی قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوچکے ہیں”۔(امین احسن اصلاحی، من کا ترجمہ عن سے کیا گیا ہے۔)

مذکورہ بالا ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو القَاسِیَۃِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکرِ اللَّہِ کا ترجمہ کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ کیونکہ اللہ کی یاد سے تو دل سخت نہیں ہوتے ہیں۔ اسی لیے بعض لوگوں نے من کو عن کے معنی میں لیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کی رائے عام مفسرین سے مختلف ہے، وہ یہاں تضمین مانتے ہیں، یعنی ایسا لفظ محذوف مانتے ہیں جس کا صلہ من ہو، کیونکہ القاسیة کا صلہ من نہیں آتا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق یہاں الخالیۃ کی تضمین مان لی جائے یعنی الخالیۃ من ذکر اللہ۔ اس طرح ترجمہ ہوگا “تباہی ہے ان کے لیے جن کے دل سخت ہیں ،اللہ کے ذکر سے خالی ہیں”۔بالفاظ دیگر “جن کے دل اللہ کے ذکر سے خالی ہونے کی وجہ سے سخت ہوگئے ہیں”۔ درج ذیل ترجمہ اس مفہوم سے قریب تر ہے:

“پس اُن لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہو کر) سخت ہوگئے”۔ (طاہر القادری)

(226)    اَسوَا الَّذِی عَمِلُوا کا ترجمہ

لِیُکَفِّرَ اللَّہُ عَنھُم اَسوَا َ الَّذِی عَمِلُوا وَیَجزِیَھُم اَجرَھُم بِاَحسَنِ الَّذِی کَانُوا یَعمَلُونَ۔ (الزمر: 35)

“تاکہ اللہ ان سے دفع کردے ان کاموں کے بدتر انجام کو جو انھوں نے کیے اور ان کو ان کے کاموں کا خوب تر صلہ دے جو انھوں نے کیے”۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمے میں اَسوَا الَّذِی عَمِلُوا کا ترجمہ ’کاموں کا بدتر انجام‘ کیا گیا ہے۔ یہ تکلف ہے۔ یہ سادہ لفظی ترکیب ہے جس کا مطلب ’بدترین کام‘ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تکفیر کا مطلب انجام کو دفع کرنا نہیں ہوتا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ متعدد بار آیا ہے اور سب جگہ سیئات کے ساتھ آیا ہے۔ اس کا مطلب برائیوں پر پردہ ڈال دینا ہے۔ اسی طرح بِاَحسَنِ الَّذِی کَانُوا یَعمَلُونَ کا ترجمہ ’کاموں کا خوب تر صلہ‘ درست نہیں ہے، صلے کے لیے تو اَجرَہُم آیا ہے۔ درست مفہوم ’بہترین کام‘ ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمہ صحیح ہے:

“تاکہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے”۔ (سید مودودی)

(227)    وَالَّذِینَ ظَلَمُوا مِن ھَؤُلَاءِ کا ترجمہ

قَد قَالَہَا الَّذِینَ مِن قَبلِہِم فَمَا اَغنَیٰ عَنہُم مَّا کَانُوا یَکسِبُونَ۔ فَاَصَابَہُم سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَالَّذِینَ ظَلَمُوا مِن ھَؤُلَاءِ سَیُصِیبُہُم سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا۔ (الزمر: 50۔51)

“یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا۔ پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے، اور اِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں”۔ (سید مودودی)

“اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اوران میں سے بھی جو گناہ گار ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا آیت میں وَالَّذِینَ ظَلَمُوا مِن ھَؤُلَاءِ میں مِن کو تبعیضیہ مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہاں اشکال یہ ہے کہ سیاق کلام میں جن لوگوں کے بارے میں بات ہورہی ہے وہ سب منکرین ہیں اور سبھی ظلم میں ملوث ہے۔ مفسرین نے  ھَؤُلَاءِ سے مراد زمانہ رسول ﷺ کی پوری انسانی امت کو لیا ہے۔ حالانکہ گفتگو سب کے بارے میں نہیں صرف اس دور کے ظالموں کے بارے میں ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کی رائے کے مطابق یہاں مِن بیانیہ ہے۔ اس طرح ترجمہ ہوگا:

“اور یہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے”۔

(228)    بِمَفَازَتِہِم کا ترجمہ

وَیُنَجِّی اللَّہُ الَّذِینَ اتَّقَو ا بِمَفَازَتِہِم لَا یَمَسُّہُمُ السُّوءُ وَلَا ہُم یَحزَنُونَ۔ (الزمر: 61)

“جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔ (سید مودودی، ایک اور غلطی یہ ہے کہ کامیابی کے بجائے اسباب کامیابی ترجمہ کیا گیا)

“اور جو پرہیزگار ہیں ان کی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ غمناک ہوں گے”۔(فتح محمد جالندھری)

“اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو”۔ (احمد رضا خان)

“اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہتے ہیں ان کے مامن میں۔ نہ ان کو کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا آیت میں مفازۃ کا ترجمہ بعض لوگوں نے’کامیابی‘ اور بعض لوگوں نے’نجات کی جگہ‘ یا ’مامن‘ کیا ہے۔ مفازۃ کے دونوں معنی آتے ہیں۔ جن لوگوں نے کامیابی ترجمہ کیا ہے انھوں نے باءکو سبب کے مفہوم میں لیا ہے۔ لیکن کامیابی کی وجہ سے نجات ملنے کا مطلب واضح نہیں ہوتا ہے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات اور کامیابی دونوں تقوی کی وجہ سے حاصل ہوں گے۔ مفازۃ کا ترجمہ مامن کرنے سے کوئی خاص مفہوم سامنے نہیں آتا۔ کیونکہ نجات کا تذکرہ تو ہوہی چکا ہے۔ صحیح توجیہ یہ ہے کہ مفازۃ کو کامیابی کے معنی میں لیا جائے اور باءکو سبب کے بجائے مصاحبت کے معنی میں لیا جائے۔ درج ذیل ترجمہ اس توجیہ کے مطابق ہے:

“اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے”۔ (محمد جوناگڑھی)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقوی اختیار کرنے والوں کو نجات بھی ملے گی اور ساتھ میں کامیابی بھی ملے گی۔ آگے لَا یَمَسُّہُمُ السُّوءُ وَلَا ہُم یَحزَنُونَ میں دونوں باتیں آگئیں۔ لَا یَمَسُّہُمُ السُّوءُ (نجات) اور لَا ہُم یَحزَنُونَ (کامیابی)۔

(229)    مُتَشَاکِسُونَ کا ترجمہ

ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیہِ شُرَکَاءُ مُتَشَاکِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ہَل یَستَوِیَانِ مَثَلًا الحَمدُ لِلَّہِ بَل اَکثَرُہُم لَا یَعلَمُونَ۔ (الزمر: 29)

“اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے، کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک”۔ (احمد رضا خان)

“خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں۔ (مختلف المزاج اور) بدخو”۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں میں متشاکسون کے مفہوم میں کج خلق اور بدخو کا بھی ذکر کیا گیا ہے، بعض نے تو بد خو ہی پر اکتفا کیا ہے۔ لغت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ میں بدخو کا مفہوم نہیں ہے، بلکہ ایسے اختلاف کا مفہوم ہے جس میں ضد شامل ہوجائے اور کوئی حل نہ نکلے۔ لسان العرب میں ہے: والشرکاءالمُتَشاکِسُون: العَسِرُونَ المختلفون الذین لا یتفقون۔

اس پہلو سے درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:

“اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وہ شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اللہ تمثیل بیان کرتا ہے ایک غلام کی، جس میں کئی مختلف الاغراض آقا شریک ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

(230)    وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِہِ کا ترجمہ

وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِہِ اُولٰئِکَ ہُمُ المُتَّقُونَ۔ (الزمر: 29)

“اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی ڈر والے ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں”۔ (سید مودودی، متقون کا مطلب’عذاب سے بچنے والے‘ بھی محل نظر ہے۔)

“اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور جو سچی بات لے کر آیا اور جنھوں نے اس کی تصدیق کی، وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا آیت میں الذی ایک بار آیا ہے لیکن عام طور سے لوگوں نے اسم موصول کا دوبار ترجمہ کیا ہے، یعنی صَدَّقَ بِہِ سے پہلے بھی الذی اسم موصول محذوف مانا ہے۔ اور پھر بعض نے اس کا ترجمہ’جس نے‘ اور بعض نے’جنہوں نے‘ کیا ہے۔ تفاسیر کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم موصول کو محذوف ماننے کی وجہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے الَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ سے اللہ کے رسول کو مراد لیا ہے جو حق لے کر تشریف لائے اور صَدَّقَ بِہِ سے مراد آپ کی تصدیق کرنے والے کو مراد لیا ہے۔ حالانکہ اسم موصول کو محذوف ماننا اور صلے کو باقی رکھنا عربی قواعد کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے: وعَلی الاقوالِ الثَّلاثَۃَ یَقتَضِی اضمارُ الَّذِی وہو غَیرُ جائِزٍ عَلی الاصَحِّ عِندَ النُّحاةِ  مِن انَّہُ لا یَجُوزُ حَذفُ المَوصُولِ وابقاءُ صِلَتِہِ مُطلَقًا ای سَواء عُطِفَ عَلی مَوصُولٍ آخَرَ ام لا۔ (تفسیر روح المعانی)

دراصل اس تکلف کی ضرورت اس لیے پڑی کہ جاء بالصدق کا محدود مفہوم پیش نظر رکھا گیا، یعنی رسول کا سچا پیغام لانا۔ حالانکہ جو بھی‘سچ بات’کا علم بردار ہو وہ اس تعبیر میں شامل ہوجائے گا۔ ایک مومن سچائی کی تصدیق بھی کرتا ہے اور اس کا داعی و علم بردار بھی ہوتا ہے۔ اگر اس آیت کو اس سے پہلے والی آیت سے ملاکر دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔

فَمَن اَظلَمُ مِمَّن کَذَبَ عَلَی اللَّہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدقِ اِذ جَاء َہُ اَلَیسَ فِی جَہَنَّمَ مَثوی لِّلکَافِرِین۔ وَالَّذِی جَائَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِہِ اولَئِکَ ہُمُ المُتَّقُونَ۔

علامہ ابوحیان نے توجہ دلائی کہ جاء بالصدق مقابلے میں آیا ہے کَذَبَ عَلَی اللَّہِ کے، جس طرح صَدَّقَ بِہِ مقابلے میں آیا ہے کَذَّبَ بِالصِّدقِ کے۔ یعنی ایک وہ ہے جو اللہ کے بارے میں جھوٹ باتیں منسوب کرتا ہے اور سچ بات کی تکذیب کرتا ہے، اور ایک وہ ہے جو سچ بات کہتا ہے اور سچ بات کی تصدیق کرتا ہے۔

اس وضاحت کی روشنی میں ترجمہ ہوگا:

“اور جس نے سچی بات پیش کی اور اس کی تصدیق کی، وہی لوگ تقوی اختیار کرنے والے ہیں”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(231)    وَیَحِلُّ عَلَیہِ عَذَاب مُّقِیم کا ترجمہ

قُل یَا قَومِ اعمَلُوا عَلَیٰ مَکَانَتِکُم اِنِّی عَامِل فَسَوفَ تَعلَمُونَ۔ مَن یَاتِیہِ عَذَاب یُخزِیہِ وَیَحِلُّ عَلَیہِ عَذَاب مُّقِیم۔ (الزمر:39۔ 40)

“کہہ دیجیے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاو میں بھی عمل کر رہا ہوں، ابھی ابھی تم جان لوگے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے”۔(محمد جوناگڑھی)

“کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں”۔ (سید مودودی)

“کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا”۔ (احمد رضا خان)

“کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے”۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا آیت میں‘من’ ایک بار آیا ہے،’مَن یَاتِیہِ عَذَاب یُخزِیہِ‘ میں، اس کے بعد ’وَیَحِلُّ عَلَیہِ عَذَاب مُّقِیم‘ میں ’من‘ نہیں آیا ہے۔ لیکن ترجمہ کرنے والوں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے گویا دو گروہوں کا تذکرہ ہو جن پر الگ الگ طرح کا عذاب آئے۔ حالانکہ یہاں ایک گروہ کا تذکرہ ہے اور اس پر آنے والے عذاب کے دو پہلووں کا بیان ہے، یعنی عذاب آئے گا جو رسوا کردے گا، اور وہ عذاب ٹک جانے والا عذاب ہوگا۔ درست ترجمہ اس طرح ہے:

“کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور ایسا عذاب نازل ہوتا ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں”۔

(232)    یتوفی کا ترجمہ

اللّہُ یَتَوَفَّی الاَنفُسَ حِینَ مَوتِہَا وَالَّتِی لَم تَمُت فِی مَنَامِہَا فَیُمسِکُ الَّتِی قَضَیٰ عَلَیہَا المَوتَ وَیُرسِلُ الاُخرَیٰ اِلَیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔ (الزمر: 42)

“اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے اور دوسری ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے”۔ (احمد رضا خان)

“اللہ ہی وفات دیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور جن کی موت نہیں آئی ہونی ہوتی ہے ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں۔ تو جن کی موت کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہے ان کو تو روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے رہائی دے دیتا ہے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے”۔ (سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں یتوفی کا ترجمہ کرتے ہیں’اپنے قبضے میں کرلیتا ہے‘۔ اس سے یہ آیت کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ نیند کی حالت میں موت آجاتی ہے، یا روح جسم سے نکل جاتی ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی نیند کی حالت میں بالکل بے اختیار ہوجاتا ہے، ایک طرح سے اللہ کے قبضے میں چلا جاتا ہے اور دوبارہ بیدار ہونا اس کے اپنے اختیار میں نہیں رہتا ہے۔ اس کی جان اللہ کے قبضے میں ہوتی ہے اور اسی کی مشیت سے وہ دوبارہ بیدار ہوتا ہے۔ آیت میں توفی کا بھی ذکر ہے اور موت کا ذکر بھی ہے۔ اس مفہوم سے دونوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ مزید یہ کہ یتوفی کو یمسک اور یرسل کے ساتھ ملاکر دیکھنے سے مفہوم کو سمجھنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔ درج ذیل ترجمہ ملاحظہ کریں:

“اللہ اپنے قبضے میں کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ہے ان کو ان کی نیند کی حالت میں۔ تو جن کی موت کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہے ان کو تو روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے رہائی دے دیتا ہے”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(233)    عما یشرکون کا ترجمہ

قرآن میں یہ تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے۔ اس میں مفسرین نے عام طور سے ’ما‘ کو مصدریہ مانا ہے، جس سے پورے جملے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس سے پاک اور بالاتر ہے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ یعنی اس کے ساتھ شرک کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا پستی اور گندگی ہے، اللہ کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے۔

اس تعبیر کی دوسری ممکنہ توجیہ یہ ہے کہ ’ما‘ کو موصولہ مانا جائے کا، جس سے پورے جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ جن چیزوں کو اللہ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اللہ ان چیزوں سے پاک اور بالاتر ہے۔ نحوی لحاظ سے تو اس توجیہ میں کوئی خامی نہیں ہے، لیکن معنی و مفہوم کے لحاظ سے یہ توجیہ کم زور معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ کا شرک سے پاک ہونا اور بالاتر ہونا تو بالکل واضح ہے۔ صاحب تدبر کے الفاظ میں: ”خدا کی صفات کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ ملانا جو اس کی بنیادی صفات کو باطل کردیں بالکل خلاف عقل ہے۔ شرک، جس نوعیت کا بھی ہو، تمام صفات کمال کی نفی کردیتا ہے اس وجہ سے خدا ایسی تمام نسبتوں اور شرکتوں سے منزہ اور ارفع ہے۔”(تدبر قرآن، سورة الاعراف: 190 کی تفسیر میں) لیکن جن چیزوں کو شریک کیا جاتا ہے ان سے پاک ہونے کا مطلب بتانے کے لیے تاویل کا تکلف کرنا پڑتا ہے۔

مترجمین کے یہاں عام طور سے تو ’ما‘ مصدریہ کا ترجمہ ملتا ہے لیکن بہت سے مترجمین نے کہیں کہیں ’ما‘ موصولہ کا ترجمہ بھی کردیا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ وہ توجہ کی کمی کا نتیجہ ہے۔ البتہ خاص بات یہ ہے کہ صاحب تفہیم نے ہر جگہ ’ما‘ مصدریہ کا ترجمہ کیا ہے اور صاحب تدبر نے ہر جگہ ’ما‘ موصولہ کا ترجمہ کیا ہے۔ بہرحال موزوں تر مفہوم وہی معلوم ہوتا ہے جو ’ما‘ کو مصدریہ ماننے سے سامنے آتا ہے۔ ذیل میں ایسے مقامات کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

فَتَعَالَی اللَّہُ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الاعراف: 190)

“سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

سُبحَانَہُ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (التوبة: 31)

“وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے”۔(محمد جوناگڑھی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (یونس: 18)

“وہ پاک اور ارفع ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے”۔(محمد جوناگڑھی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (النحل: 1)

“وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے”۔ (احمد رضا خان)

“وہ برتر ہے ان سب سے جنہیں یہ اللہ کے نزدیک شریک بتلاتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پاک ہے وہ اور بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں”۔ (سید مودودی)

تَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (النحل: 3)

“وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، مشرک جو کرتے ہیں اس کی بات نہیں ہے بلکہ وہ جو شرک کرتے ہیں اس کی بات ہے۔)

“وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔ (سید مودودی)

“وہ ان کے شرک سے برتر ہے”۔ (احمد رضا خان)

فَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (المومنون: 92)

“برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کر رہے ہیں “۔(سید مودودی، تجویز کرنا درست نہیں ہے، بلکہ کررہے ہیں۔)

تَعَالَی اللَّہُ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (النمل: 63)

“اللہ بہت ہی برتر ہے ان چیزوں سے جن کویہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وبالاتر ہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔(سید مودودی)

سُبحَانَ اللَّہِ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (القصص: 68)

“اللہ پاک وبرتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)

“اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔ (سید مودودی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الروم: 40)

“وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔(سید مودودی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الزمر: 67)

“وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک بناتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔ (سید مودودی)

سُبحَانَ اللَّہِ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الطور: 43)

“اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک گردانتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے”۔(محمد جوناگڑھی)

سُبحَانَ اللَّہِ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الحشر: 23)

“اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)

“پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں” ۔ (سید مودودی)

علامہ احمد جاوید اور تصوف

میر امتیاز آفریں

تصوف اسلام کی روحانی تعبیراور (dimension) کا نام ہے۔جس نے اسلامی تہذیب و تمدن کے دامن کو نہ صرف وسیع کیا ہے بلکہ علوم و فنون کے اک لا متناہی سلسلے کو جنم دیا ہے۔ صوفیانہ فکر و فن نے صدیوں سے تاریخ اسلام میں بڑے اعلیٰ قلوب و اذہان کو متاثر کیا ہے جن میں رومیؒ، غزالیؒ، ابن عربیؒ، شیخ احمد سرہندیؒ،شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔صدیوں تک صوفیانہ طرز فکر نے نہ صرف علمی و فکری منظرنامے پر بلکہ مسلم ازہان و قلوب پر بھی حکمرانی کی ہے۔مگر جب سے مغربی افکار و نظریات نے ہمیں اپنے تہذیبی ورثے کا تنقیدی جائزہ لینے اور اپنے زوال کا تجزیہ کرنے کی راہ سجھائی ہے، تب سے انکار تصوف جدید تعلیم یافتہ روشن خیال علماءکے لئے ایک علمی شوق اور فیشن ایبل مشغلہ بن چکا ہے۔جس طرح سوشلزم اور کمیونزم کی نظر میں ہر روحانی وا خلاقی رجحان ذہنی افیون اور superstructureکہلایا اسی طرح جدیدروایتی مسلم مذہبی فکر میں تصوف کو مطعون کرکے ہدفِ تنقید بنایا گیا۔

ہماری علمی تاریخ میں تصوف کے شدید ناقدین جیسے علامہ ابن تیمیہؒ، علامہ ابن القیم ؒ اور علامہ ابن جوزیؒ بھی محمود و مذموم اور اسلامی و غیر اسلامی تصوف کے درمیان حد فاصل کھینچتے ہیں مگر بد قسمتی سے موجودہ دور کے کچھ ناقدین اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ تصوف کو ’ایک متوازی دین‘ اور ’اجنبی پودا‘ قرار دے کر اس کی بنیادیں ہی کھودنے میں لگے ہوئے ہیں۔تصوف پر یلغار موڈرن کہلانے والے مغربی افکار کے غلاموں میں ایک عام سی بات ہو چلی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی مسلسل سفر ہے، زندگی پیہم رواں دواں ہے، زندگی جہدِ مسلسل ہے اور تصوف زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے، عائلی اور معاشرتی پرورش سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے، عصری تقاضوں سے گریزاں ہے، فکری مرض ہے، نفسیاتی نشہ ہے اور قلبی سفسطہ۔اور ظاہر ہے کہ ان مذموم افکار کی تعین میں بے سند کتابوں کے غیر معروف واقعات اور جاہل صوفیاءکا ہاتھ ہے۔ اگر ہمارے محققین ، علماءاور دانشوران نے تصوف کے رموز و نکات، مضمرات، اہمیت و ضرورت، حرکیت و فعالیت اور شرعی حدود پر وافر تعداد میں کتابیں لکھی ہوتیں تو شاید نہ اہل خانقاہ تصوف کے نام پر کاروبار کرتے اور نہ ہی زندگی کے باالمقابل تصوف پر جمود اور تعطل کا الزام عائد کیا جاتا، مگر ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تصوف پر لکھنے والے ہمارے مصنفین کا قلمی دائرہ شخصیات اور ان کی کرامتوں سے آگے نہیں بڑھتا۔اس سنگین صورت حال میں علامہ احمد جاوید جیسی کثیر الجہات شخصیات کسی نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں جو بیک وقت مذہبیات، فلسفہ اور ادب پر حیرت انگیز درجے کا ید طولیٰ رکھتے ہیں۔جو نہ صرف تصوف اور جدید علوم کے مردِ میدان ہیں بلکہ ذاتی رجحانات میں بہنے کے بجائے ایک تنقیدی شعور سے مختلف نظامہائے فکر کا جائزہ لیتے ہیں۔ احمد جاوید صاحب نے اپنی معلوماتی و تجزیاتی قلمی نگارشات سے صوفیانہ افکار و نظریات کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی محققانہ اور مدلل کاوشیں کی ہیں۔

علامہ احمد جاوید

برصغیرپاک و ہند کی معاصر اسلامی تاریخ میں علم و عمل اور احوال و اخلاق کے اعتبار سے کچھ ہی گنی چنی دینی شخصیات ہیں جن میں علوم معقول و منقول کے اعتبار سے زبردست جامعیت پائی جاتی ہے اور ان میں بلا شک و شبہ علامہ احمد جاوید کی شخصیت سر فہرست ہے ۔آپ ملک پاکستان کے ممتاز ترین دانشور، شاعر، صوفی اور مربی ہیں ۔ علمیت،وسعتِ مطالعہ ،تدبر و تفکر، علمی موضوعات پر نکتہ سنجی، فلسفہ، مذہب، تصوف اور ادب و تنقید میں آپ اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔دین و مذہب سے احمد جاوید کی رغبت و محبت ان کے خمیر میں رچی بسی تھی۔اسلامی تاریخ ، اسلامی فلسفہ ، منطق، علم کلام، تصوف وغیرہ پر ان کے علم اور بصیرت پر حیرت ہی کی جاسکتی ہے۔

 آپ نے شعور کی آنکھ اپنے استاد سلیم احمد کی فکری آغوش میں کھولی۔ ایک انٹریو میں احمد جاوید خود بیان کرتے ہیں کہ کیسے ان کے استاد نے کلیاتِ میر، وِل ڈیوراں کی The History of Philosophy، محمد حسن عسکری کی تمام کتب پر مشتمل ایک نصاب مرتب کیا اور یوں مذہبیات اور شاعری کے ساتھ ان کا غیر معمولی ربط استوار ہوگیا۔اردو، عربی، فارسی اور انگریزی شاعری میں آپ کو ید طولیٰ حاصل ہے اورروحانی اور ما بعد طبعییاتی افکار و نظریات ان کا محبوب مشغلہ ہیں۔رومی،ابن عربی، غزالی، سعدی، میر، غالب اور اقبال کے اثرات آپ کی شخصیت اور فکر میں صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔1980میں لاہور منتقلی اوراقبال اکادمی کے ساتھ وابستگی سے آپ کو اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین موقع ملا۔اقبال اکادمی سے آپ 2015میں بہ حیثیت ڈائریکٹر ریٹائرہوئے۔

علمی ، ادبی اور مذہبی حلقوں میں آپ کو یکساں مقبولیت حاصل ہے۔فلسفہ، اخلاقیات، تصوف، اقبالیات، ادبی تنقید اور اسلام کے مختلف پہلووں پر آپ نے بہت کچھ لکھا ہے اور ان موضوعات پر آپ نے متعدد لیکچر دیے ہیں۔ ان کی پانچ کتابیں اب تک چھپ چکی ہیں، جبکہ تیس کے قریب کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ علاوہ ازیں موصوف باقاعدگی سے مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر دور حاضر کے فکری و اخلاقی مسائل پر نپی تلی اور متوازن گفتگو کرتے ہیں۔اس تعلق سے کافی ویڈیوز یوٹیوب اور کئی ویب سائٹوں پر دستیاب ہیں جن سے ہم اس تحریر میں استفادہ کریں گے اور تصوف کے بارے میں ان کی آراءکا تجزیہ کرنے کوشش کریں گے۔

جہاں تک تصوف کا تعلق ہے، علامہ احمد جاوید بذات خودراہِ سلوک سے علمی و عملی وابستگی رکھتے ہیں۔روزنامہ دنیا میں چھپے آپ کے ایک انٹریو کے مطابق، ’تصوف کی طرف مائل ہوئے توآخر ایک افغان صوفی بزرگ حضرت اخوند زادہ سیف الرحمان کے، جو طریقت میں مقام بلند اور نہایت مضبوط توجہ کے حامل تھے، دست حق پرست پر مشرف بہ بیعت ہوئے۔اس کے بعد ہی ان کی زندگی میں نمایاں تغیرات کے لامتناہی سلسلے کا آغاز ہوا‘(۱)

 اپنے ایک مضمون ’استعانت، انسان دوستی اور وبا کا دور ‘ میں آپ لکھتے ہیں:

”مجھے صحیح پتا نہیں، غالباً دس سال سے، میں طبعاً، ازروئے تربیت،ازروئے تعلیم، از روئے مزاج صوفی ہوں۔میری تربیت، یعنی دیندار بننے میں ، اللہ مجھے معاف کرے دیندارہم کہاں کے، لیکن ویسے کہہ رہا ہوں کہ دین سے قریب لانے میں ساری جو تربیت اور کنٹریبیوشن (contribution)ہے، وہ تصوف کا ہے اور طبعاً اور مزاجاً میں جیسے تصوف سے مناسبت رکھتا ہوں اور تین سلسلوں کا تفصیلی سلوک ، کلاسیکل سلوک کر رکھا ہے، محنت کے ساتھ، توجہ کے ساتھ ،ذوق کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور اپنے بڑوں سے یعنی بڑوں سے مراد جنہیں دیکھا، ان سے بھی، جنہیں نہیں دیکھا، جن کے بارے میں مستند ذرائع سے سنا، ان اسلاف سے بھی، یعنی صحابہ سے لے کر اپنے اساتذہ و مشائخ تک، یعنی دینی معنوں میں ، بڑائی کے عارفانہ معنوں میںعظمت کے جو مظاہر تھے، ان سب سے والہانہ محبت ہے۔“ (۲)

آپ کے مجموعی تاثرات کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ  ایک طرف آپ نے اپنے اساتذہ سے ذوقِ تصوف اخذ کیا تو دوسری طرف آپ نے اپنی فطری استعداد سے نظام تصوف پر تنقیدی نگاہ ڈال کرقرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا۔

 تصوف کے بارے میں احمد جاوید صاحب اپنے مختلف دروس میں افراط و تفریط کے درمیان ایک متوازن راہ اختیار کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ تصوف کی حقیقت اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا ایک علمی و فکری محاکمہ کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ معترضین کے اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تودوسری طرف تصوف کے نام پر بے اعتدالیوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر بعض مواقع پر ناقدانہ معلوم ہوتا ہے اور بعض جگہ مصلحانہ ہے۔ کبھی تنقیدِ تصوف میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اسے اسلام کے لئے بے حد مضر اور بے معنی قرار دینے میں نہیں جھجکتے لیکن ساتھ ہی اس کی افادیت سے بھی چشم پوشی نہیں کرتے۔ایک طرف سے آپ ابن عربیؒ، رومیؒ، بیدلؒ، حافظؒ ، دردؒ، شاہ ولی اللہؒ جیسے صوفیاءکے صوفیانہ افکار و نظریات سے حد درجہ شغف رکھتے ہیں اور دور حاضر میں ان کے بہترین شارح قرار دیے جاسکتے ہیں، دوسری طرف آپ ان کے کئی نظریات پر شدید تنقید سے بھی دامن نہیں بچاتے ہیں۔دین کے بنیادی اصول و ضوابط سے متصادم افکار و نظریات کو یک جنبش لب و قلم رد کردیتے ہیں۔

تصوف:حقیقت و اہمیت

 احمد جاوید کی نظر میں اسلام کے نظام تزکیہ و تصفیہ پر عمل کرتے ہوئے مقام احسان تک پہنچنے کا ہی نام تصوف معروف ہوا ۔اپنی کتاب’ تزکیہ نفس‘ میں تصوف کی حقیقت پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”احسان تزکیہ و تصوف کا متبادل لفظ ہے۔ احسان ایک حال دید ہے، دید کے بغیر۔ احسان کا مطلب ہے دید کا حال جو دید کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہ دے۔ حال دید تین ہی نتائج مرتب کرے گا۔ ایک مزاج کے لئے محبت کو بڑھا دے گا۔دوسرے مزاج کے لئے خشیت کو بڑھا دے گا۔تیسرے مزاج کے لئے معرفت کا سبب بنے گا۔ تو اصل چیز احسان ہے اللہ کے حضور میں رہنا اور اللہ کو استحضار میں رکھنا۔“ (ص۱۵)

 اللہ نے انسان کی تخلیق اپنی عبادت کے لئے کی اور عبادت اس طرح کرنے کا حکم آیا ہے کہ گویا بندہ اللہ کو دیکھ رہا ہو۔حدیث جبریل کے مطابق اسلام دین کے ارکان ظاہری ، ایمان ارکانِ باطنی اور احسان ظاہر و باطن کی تحسین کا نام ہے جس کے نتیجے میں اللہ کو دیکھنے والی کیفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جس طرح مسائل شرعیہ کے لئے علم فقہ اور مسائل اعتقادیہ کے لئے علم کلام مدون ہوااسی طرح درجہ احسان تک پہنچنے، اخلاق رذیلہ کو دور کرنے اور اخلاق حمیدہ سے مزین ہونے کے لئے صوفیہ کے احوال و مقامات اور واقعات کی شکل میں فن تصوف مدون ہوا۔

تصوف پر جیو ٹی وی کے ایک علمی مباحثے میں احمد جاوید کہتے ہیں:  ہر دین میں تصوف جیسا institution ضرور موجود ہوتا ہے حتیٰ کہ یہودیت جیسے ٹھیٹھ قانونی دین میں بھی یہ پیدا ہوا۔تصوف مذہبی شعور کے زیادہ گہرے اور بامعنی اور زیادہ مستقل حصوں کے دینی versionکا نام ہے۔اس کو نظر انداز کرکے ہم بعض باتوں میں اگر ہم ایک قانونی تحکم کے ساتھ غور کریں گے، دین کی تعبیرات کے کسی generalتسلسل کو اس پر حکم بنائیں گے تو ہم بہت زیادہ درست نتائج تک اس کی تائید یا تردید میں نہیں پہنچ پائیں گے۔ صوفی نظام العمل (episteme) میں معنی حضور کا  نام ہے۔ یعنی کسی بیان کا معنی شعور میں حضور پیدا کرتا ہے جبکہ غیر صوفی نظام العمل (non- Sufi episteme) فہم (understanding) پیدا کرتا ہے۔ غیر صوفی نظام العمل میں آدمی نامعلوم پر قانع ہوجاتا ہے۔صوفیاءکا ذہن(understanding) پر قانع نہیں ہوتا، یہ غیب کو اصولی طور پر محفوظ رکھ کر اس کے غیاب میں بھی حضوری (presence)پیدا کر لیتا ہے۔غیب میں اس حضوری پیدا کرنے کو صوفیاءاپنی اصطلاح میں اعتبار کہتے ہیں۔ (۴)

فلاسفہ اور متکلمین کے مقابلے میں صوفی discourse کو علامہ احمد جاویدزیادہ بہتر و برتر قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں ایک غیر معمولی جمالیاتی تاثیر پائی جاتی ہے جو مذہب کو تشکیک اور خشک مذہبیت سے بچانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے:

”صوفیانہ discourseسے زیادہ مکمل ڈسکورس کسی بھی دینی روایت میں کبھی تخلیق نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ یہ پرانا نہیں ہوتا۔ سینٹ آگسٹائن کے City of God پر پندرہ سو برس گزر چکے ہیں مگر وہ آج بھی تازہ ہے۔۔۔ابن عربی کی فتوحات و فصوص کے متعلقہ حصے سینکڑوں سال گزار کر بھی تازہ دم ہیں۔۔۔ان کے مرتبہ علم الوجود کے اصول و مبادی آج بھی اتنے محکم ہیں کہ ان پر آج تک نہ کوئی اضافہ ہوا نہ ترمیم ۔اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔جب کہ دوسری طرف فلاسفہ و متکلمین کا بیشتر سرمایہ ازکار رفتہ ہو چکا ہے۔تو یہ کس وجہ سے ہے؟ یہ اس وجہ سے ہے کہ صوفی ڈسکورس کی تشکیل میں شعور کی جمالیاتی قوت بھی پوری طرح صرف ہوئی ہے۔۔۔اس شعور کا مذہبی مصرف نہ نکالنے کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مذہب پر تقریباً تمام اہمdisciplines of knowledgeکی طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور مذہبی ذہن بالکل ماوف ہوکر گوشہ ہزیمت پکڑے بیٹھا ہے۔اسے کوئی دفاع نہیں سوجھ رہا۔ یہ میں ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ یہ نوبت اس لئے آئی ہے کہ ہم نے اپنے ایمان کی ناگزیر عقلی، اخلاقی، اور جمالیاتی تاثیرکو کند کر رکھا ہے، ہم نے ایمان کے جمالیاتی لوازم کو معطل کیا ہوا ہے۔“ (۵)

احمد جاوید کے مطابق صوفیانہ بیانیہ مذہبی سطحیت کا بہترین تریاق ہے۔اس سلسلے میں وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

”میرے خیال میں جب مذہبی علم سطحیت کا شکار ہوا، تو شعور کی مذہبی کارفرمائی کے مظاہر پر اعتراضات کی بنیاد پڑی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ غزالیؒ، یا ابن عربی وغیرہ کے تمام مباحث اور سارے معارک ہمارے themeکے ، ہمارے علمی مزاج کے محکم نمائندے ہیں۔ لیکن اتنی بات بہرحال ملحوظ رہنی چاہئے کہ ان حضرات نے شعور بلکہ وجود کے بہترین جوہر کو دینی حقائق کی قبولیت میں جس طرح صرف کرکے دکھایا ہے، وہ ان کے معترضین کے بس سے باہر ہے۔“ ( ۶ )

تنقیدی جائزہ

علامہ احمد جاوید کے مطابق تصوف کے منہج تزکیہ و علم کا justified ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ اسے تصحیح و تغلیط کے معروف معیارات سے ماورا مان لیا جائے ، کچھ لوگ تصوف کی ہر بات کو تسلیم کرلیتے ہیں، خواہ صحیح ہو یا غلط اور کچھ اس کی کلیتہً نفی کرتے ہیں، خواہ اس کا کوئی حصہ صحیح ہی کیوں نہ ہوجبکہ تصوف یا کسی اور نظریے کے بارے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ جو بات قرآن و سنت کے مطابق ہو اسے تسلیم کیا جائے اور جومتصادم ہواسے رد کیا جائے۔

تصوف پر آپ کے ایک اہم مضمون” تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں“ میں آپ دین اسلام میں تصوف کی حیثیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”تصوف ایسا نہیں ہے کہ فلاں حضرت نے ایجاد کر لیا۔ تصوف جو ہے قرآن کے(Substance) ، سنت میں manifested substance کی روایت کے تسلسل کا ایک نام ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ کے شعورِ بندگی اور ذوقِ بندگی کے تسلسل کے لیے جو روایت چل رہی ہے، اس روایت کا ایک عنوان تصوف ہی ہے، چاہے اسے تصوف کہو یا نہ کہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ تصوف کا لفظ قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے تو یہ لفظ بائنڈنگ نہیں ہے۔ تو صوفیا نے اس ماخذِ دین کو اس ٹوٹل پرسپیکٹو کے ساتھ اختیار کیا اور اسے مسلسل رکھنے کا سامان کیا۔ اس کے تسلسل کا اہتمام کیا۔

تصوف نے گویا خود اپنے اوپر ایک چیک لگا رکھا ہے کہ وہ حقیقتِ بندگی کی اور مقاصدِ بندگی کو عملی، فعلی اور زندہ حالت میں رکھنے والی روایت ہے۔ تو جہاں تک وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرے گا، وہاں تک وہ ہماری اصطلاح کے مطابق تصوف ہونا کوالیفائی (qualify) کرتا ہے۔ لیکن جہاں وہ اپنی اس بیسک (basic)اور پرنسپل (principal) اور فنڈامینٹل(fundamental) ذمہ داری سے روگردانی کر رہا ہے، ان کی طرف نظر ڈالنے میں کوتاہی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کو اپنی نظام کی واحد آپریٹو(operative) بنیاد بنانے میں ناکامی کا شکار ہے تو ہم اُس فیض کو یا اُس حصے کو یا اُس دائرے کو نہایت آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تصوف نہیں ہے، یہ تصوف میں بگاڑ پیدا کر دینے والی کچھ صورتیں ہیں۔ تو تصوف کا عروج بھی اسی معیار سے پرکھا جائے گا جو معیار صوفیوں نے خود بنایا نہیں ہے قرآن اور قرآن لانے والے نے اُن پر امپوز (impose)کیا ہے تو تصوف اسی بنیاد پر اپنا جواز رکھتا ہے اور اس بنیاد میں سے جتنا وہ ہٹتا جائے گا اتنا وہ اپنے آپ کو ڈسکوالیفائی (disqualify)اور ریجیکٹبل(rejectable) بناتا چلا جائے گا... حقیقت کو اس کی کُلّیت کے ساتھ امت میں پیدا ہوانے والے جن ڈسپلنز (disciplines)نے قبول کیا ہے، اُن میں تصوف میں جامعیت زیادہ ہے۔ اس کی معراج تو ظاہر ہے قرآن و سنت ہی ہے۔ تو تصوف کوئی خدا نہیں ہے کہ وہ جس سر پہ رکھی ہو اُسے مانا جائے گا۔ جس سر پہ نہیں ہے اُسے نہیں مانا جائے گا۔ یہ کوئی مستقل عنوان نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی اس میں سہولت محسوس کرتا ہے کہ وہ تصوف کا نام ترک کر کے مقاصد کی طرف متوجہ رہے تو وہ بھی صوفی ہے وہ بھی کامل ہے۔“ (۷)

احمد جاوید کے مطابق دین کے کئی ڈسپلنز (disciplines)ہیں مگر نفسِ انسانی کی پہچان صوفیوں کو دیگر ڈسپلنز کے علماءسے زیادہ ہے لہذا یہ ڈسپلن زیادہ کامیاب ہے ۔ دین کا مقصد کسی ایک ڈسپلن میں محدود نہیں بلکہ سارے ڈسپلنز (disciplines)اپنا رول ادا کرتے ہوئے مل کر انسانی فطرت کے مختلف تقاضے پورے کرتے ہیں۔مگر اس کا بالکل یہ مطلب نہیں کہ اہل تصوف دیگر ڈسپلنز سے خود کو بہتر اور ماورا سمجھیں کیونکہ عام طور پر ان میں دیگر طبقات سے زیادہ بے اعتدالیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔کیونکہ جن باطنی قرآنی حقائق کو جاننے کاوہ دعویٰ کرتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ دور رسالت یا اس سے متصل عہد میں وہ ظاہر ہونے سے رہ گئے ہوں۔ ساتھ ہی دیکھا جائے تو صوفیاءاخذ معنی ٰ کے عمل کو داخلی(subjective)قرار دیتے ہیں، حالانکہ مذہب میں textکا معنیٰ ہمیشہ عام ہوتا ہے، privateنہیں، لہذا معلوم ہوتا ہے کہ صوفیاءنے اخذ معنیٰ کے لئے مستند طریقہ لاگو نہیں کیا ہے جس سے کافی مغالطے اور الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔صوفیاءکے یہاں بیان سے حقیقت ِبیان تک پہنچنے کا عمل سادہ ہونا چاہئے تھا مگر وہ پیچیدہ ہے اور technicalitiesرکھتا ہے۔

صدیوں کے بگاڑ کے نتیجے میں تصوف میں شخصیت پرستی بڑی حد تک سرایت کرگئی ہے۔ پیروں اور سلسلوں کو لازم قرار دے کر کافی حد تک غلو سے کام لیا گیا جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے متصادم ہے۔احمد جاوید اکابرینِ تصوف کوادب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ان کے غیر معمولی کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ ان کو لغزشوں سے پاک نہیں سمجھتے بلکہ کئی مواقع پر ان کے کچھ نظریات کو رد بھی کرتے ہیں۔ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

”تصوف کی روایت اسی کنڈیشنر (conditioner)کے احیا کی روایت ہے۔ جو بھی دین سے تعلق رکھنے والے انسٹی ٹیوشنز(institutions) ہیں، وہ سارے اسی تک و دو میں ہیں لیکن اُس کا ہر قیمت پر دفاع نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف نبیﷺ کا قول و فعل ہے جس کا دفاع ہر قیمت پر کرنا ہے۔ نبی کے بعد کسی بھی شخصیت، چاہے وہ صحابہ ہوں اہلِ بیت ہوں، تابعین ہوں، تبع تابعین ہوں، کسی کے قول و فعل کا غیر مشروط دفاع (درست) نہیں ہے۔ یہ صرف نبیﷺ کا حق ہے۔“(۸)

ان کے مطابق کچھ اکابر صوفیاء(جیسے شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ) کی کتب میں کئی ایسی شطحیات ملتی ہیں جن کی تاویل کرنا بھی درست نہیں، اور ایسی چیزوں کو ان کی باطنی کجی قرار دیا جانا چاہئے۔

احمد جاوید کے مطابق تصوف کا علمی و عملی پہلو دن بہ دن زوال کا شکار ہورہا ہے اور اس کی جگہ رسم پرستی اور superficialityنے لے لی ہے۔مذکورہ بالا مضمون میں وہ لکھتے ہیں:

”زوال ہوتا ہے دینی روایتوں میں کہ فارمز (forms)پر اصرار کرنا اُن کی اوریجنل پیوریٹی (original purity) کو چھوڑ کر اور معنی کو نظر انداز کر دینا بس (اس سے) سارا سٹرکچر (structure) گر جاتا ہے۔ تو اب جیسے تصوف کا زوال ہے کہ فارم پر انحصار ہے اشغال پر۔ اور اُن کا مطلوب کیا ہے، مقصود کیا ہے، اُن کی حقیقت کیا ہے، اُس سے مکمل بے خبری ہے۔ اور پھر فارمز کو بھی اُن کی پیوریٹی اور آتھن ٹیسٹی(purity and authenticity) کے ساتھ نہیں اختیار کیا گیا۔“ (۹)

اسی لئے وہ تصوف کے موجودہ اداروں اور قصباتی تصوف پر شدید تنقید کرتے ہیں۔مزارات پر ہونے والی غیر شرعی حرکات کے متعلق ایک سوال کے جواب میں وہ لکھتے ہیں:

”تصوف اپنے موجودہ institutions میں اور اپنے حاضر و مظاہر میں ایک خطرناک روایت بن چکا ہے، جو بے معنی اور مضر بھی ہے۔جس قصباتی تصوف سے ہمیں واسطہ ہے، اس کا جلد از جلد فنا ہونا ہی اسلام اور مسلمانوں کے لئے بہتر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کو defendکرنے میں بڑی دشواری پیش آتی ہے ۔۔۔کیونکہ اپنے موجودہ مظاہر میں تصوف بڑی حد تک الا ماشاء اللہ سنت کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے اور بڑی حد تک دینی ذوق کی آبیاری کو روکنے والا ادارہ بن چکا ہے۔میں بھی اس وحشت میں شریک ہوں اور چاہتا ہوں کہ یہ روایت اپنے تمام موجود مظاہر کے ساتھ ایک ایک کرکے ختم ہو جائے، تاکہ تزکیہ نفس کا عمل ان نام نہاد ٹھیکے داروں کے ہاتھ سے نکل کر مسنون فضا میں داخل ہوسکے۔“ (۱٠)

تصوف پر ہونے والی تنقید کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

 ”میں تصوف کی تردید میں بننے والے ڈسکورس کے اکثر حصوں کو غلط سمجھتا ہوں لیکن اُن لوگوں(یعنی ناقدینِ تصوف) کی نیت وغیرہ پہ کوئی شبہ نہیں کرتا ،ممکن ہے وہ صوفیوں سے زیادہ اللہ والے ہوں۔ تصوف پر ہونے والی اکثر تنقیدیں اس ذہن کے لئے بے اثر ہیں، جو تصوف کو قدرے سمجھتا ہے۔اس وجہ سے کبھی ان تنقیدوں کا نتیجہ یہ نہیں نکلا کہ کوئی صوفی حلقہ ٹوٹ گیا ہو۔ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ بہت اچھی طرح بنا کے ، تراش خراش کے ساتھ ساتھ، جو اصولی بات اس میں آگئی ہے، اس کو دیکھ لیں۔اس میں جو بات سمجھ میں آئے، اس کو قبول کریں۔ جو نہ سمجھ میں آئیں، اس کی وجہ بتائیں۔ایک اصول ہے، جب اس کو کھولیں گے تو امید ہے کہ آپ کو یہ اصول زیادہ برا نہیں لگے گا۔ وہ اصول یہ ہے:

مذہبی حقائق کا ادراک مذہبی علم تک محدود نہیں ہے۔

تو یہ اصول ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو اس کو نہیں جانتا، وہ علم سے مس نہیں رکھتا۔ ٹھیک ہے، اس اصول کو میں انشاءاللہ کسی وقت کھولوں گا۔ تصوف پر ہونے والی تنقیدوںمیں اکثر یہ غلطی کارفرما ہوتی ہے۔دیکھیں غلطیاں دو قسم کی ہوتی ہیں کسی بھی disciplineمیں۔ ایک واقعاتی، جزوی، جیسے دس اینٹوں میں ایک اینٹ خراب لگی ہوئی ہے، اور اس کی خرابی بالکل واقعاتی اور سامنے کی ہے۔ آپ پچاس چیزیں نکال کر دکھادیں ہم کہیں گے ٹھیک ہے، یہ سب غلط ہیں۔لیکن ایک ہوتی ہے کہ اس عمارت ہی کو نہیں بننا چاہئے۔پھر اس پر آپ کو بھی کچھ tough timeاٹھانا چاہئے اور وہ ابھی آپ لوگوں کو ملا نہیں ہے۔ تو ہم جہاں سے چیزوں کو دیکھنا شروع کرتے ہیں ، وہ اس یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ قرآن مجید بھی اپنے معلوم ہونے کے تمام راستے خود نہیں کھولتا۔ “ (۱۱)

کل ملا کر دیکھا جائے تو علامہ احمد جاوید خود ان اعتراضات کو کسی نہ کسی طرح اپنی تحریروں اور بیانوں میں address کرتے ہیں اور خُذ ما صفا وَدَع مَا کَدِر کے مصداق وہ تصوف سے ا ن چیزوں کو لینے میں عارمحسوس نہیں کرتے جو شریعتِ اسلامیہ کے مزاج سے ہم آہنگ ہوں اور ساتھ ہی ان چیزوں کو رد کرنے میں بھی تامل نہیں کرتے جو خلافِ شرع ہوں۔ قرآن و سنت کو حکم بنانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

 ”حضرتِ جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ہر وارد کو، اپنی ہر بات کو ،اپنے ہر حال کو ،اپنے ہر مکاشفے کو دو گواہوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وہ دونوں تصدیق کرتے ہیں تو اُسے قبول کرتے ہیں ورنہ رد کر دیتے ہیں۔ وہ دو گواہ ہیں قرآن وسنت ۔قرآن ایسینس (essence)ہے اور سنت اُس کی سٹینڈرڈ فارم (standard form)ہے۔“(۱۲)

احمد جاوید اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ تصوف کے نظام العقائد اور اعمال کی فوری اصلاح کی جائے اور ان کی نظر میں تب تک چین سے بیٹھنا اہل علم و عرفان کے لئے مناسب نہیں جب تک اسے شریعت کے سانچے میں نہ ڈھالا جائے۔ اس ضمن میں ان کے دروس کا ایک سلسلہ Tasawuf: A Revivalist Approachکے عنوان سے یو ٹیوب پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کئی اور قابل توجہ امور کی نشاندہی کی ہے۔  (۱۳)

المختصر تصوف اسلام کا روحانی پہلو ہے، لہذا اس سے الجھنا یا اس کا انکار کرنا ،اسلامی شریعت کے سرچشموں کو اور روحانی پہلووں کو خشک کرنا ہے مگراسے صاف و شفاف رکھنے کے لئے قرآن و سنت کے احکامات کی پاسداری لازمی ہے۔


حوالہ جات

۱۔ روزنامہ دنیا: انٹریو: احمد جاوید

۲۔ استعانت، انسان دوستی اور وبا کا دور :احمد جاوید: http://daanish.pk/40459

۳۔تزکیہ نفس: احمد جاوید: ص۵۱

۴۔https://youtu.be/k95B1I6St20

۵۔اسباق:احمد جاوید: ص: ۴۱،۵۱

۶۔اسباق:احمد جاوید: ص۱۴

۷۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: http://daanish.pk/40459

۸۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: (ایضاً)

۹۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: (ایضاً)

۰۱۔تزکیہ نفس: احمد جاوید: ص۵۱

۱۱۔اسباق:احمد جاوید :ص۶۰۲، ۷۰۲

۲۱۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: (www.daanish.pk)

۳۱۔https://youtu.be/wxQHupHyz8U


شیخ الہندؒ کا قومی و ملی انداز فکر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(مولانا ارشد مدنی سوشل میڈیا ڈسک کی طرف سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی یاد میں ’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ اختتامی نشست ۱٠ جنوری ۲٠۲۱ء کو دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی زیرصدارت انعقاد پذیر ہوئی جس میں مہمان خصوصی ندوۃ العلماء لکھنو کے رئیس حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم تھے۔)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میرے لیے یہ انتہائی سعادت کی بات ہے کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی یاد میں ان کے افکار و تعلیمات کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں حاضری، بزرگوں کی زیارت اور کچھ عرض کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بات میرے لیے دوہری سعادت کی ہے کہ اپنے دو مخدوم و محترم بزرگوں حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم کے زیرسایہ اس مجلس میں گفتگو کا اور ان کی برکات اور دعاؤں کے ساتھ کچھ عرض کرنے کا شرف مل رہا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کانفرنس کے منتظمین کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہمیں حضرت شیخ الہندؒ کے افکار و تعلیمات اور ان کے مشن و جدوجہد کے صحیح ادراک کے ساتھ اپنے مستقبل کا پروگرام طے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالے سے جب ہمارے حلقے میں بات ہوتی ہے تو میں دو باتیں عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں۔ پہلی یہ کہ دیوبند کی تحریک کیا ہے؟ دیوبند کا فکر کیا ہے؟ دیوبند کا فلسفہ کیا ہے؟ دیوبند کا ہدف کیا ہے؟ اسے اگر کسی شخصی قالب میں دیکھنا چاہیں تو وہ حضرت شیخ الہندؒ کی ذات گرامی جس میں دیوبند کے فکر، فلسفہ، تعلیم، مشن اور جدوجہد کا ایک فرد کامل اور شخصیت کی شکل میں نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ میں دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ دیوبندیت کو اگر پہچاننا ہو کہ دیوبندی کیا ہے تو حضرت شیخ الہندؒ کا مطالعہ کریں کہ ان کی شخصیت میں دیوبندیت اپنے تمام شعبوں اور تمام تر لوازمات کے ساتھ جھلکتی ہے۔

دوسری بات یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ شیخ الہندؒ برصغیر کی ملی تاریخ کا سنگم ہیں۔ شیخ الہندؒ سے پہلے بلکہ خود حضرت شیخ الہندؒ تک ہمارے اکابر نے برصغیر کی آزادی کے لیے مسلح جنگیں لڑی ہیں جو تاریخ آزادی کا ایک مستقل باب ہے، حتٰی کہ وہ تحریک جسے ہم تحریک شیخ الہندؒ اور تحریک ریشمی رومال کہتے ہیں جبکہ جرمن وزارت خارجہ کی رپورٹوں کے مطابق اس کا نام ’’برلن پلان‘‘ تھا، حضرت شیخ الہندؒ نے جس انداز سے وہ تحریک منظم کی اور جو فلسفہ دیا وہ برصغیر کی آزادی کا ایک مکمل آئیڈیا تھا۔ اور حضرت شیخ الہندؒ کی شخصیت کو سنگم اسی حوالے سے کہتا ہوں کہ وہ عسکری تحریکات کی آخری شخصیت اور عسکری تحریکات سے برصغیر کے مسلمانوں کو عدم تشدد کی طرف موڑنے والی پہلی شخصیت تھے۔ انہوں نے عسکری جنگوں کے اس دور کا اختتام کر کے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو پراَمن تحریک، عدم تشدد  اور نئے دور کے تقاضوں سے متعارف کرایا، اور ایسی شخصیت بن گئے جو برصغیر کی تحریک آزادی کے ایک دور کا اختتام اور ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ہے۔

حضرت شیخ الہندؒ کے مشن کے حوالے سے ایک تو ان کا تعلیمی دائرہ ہے، جو صرف تعلیم کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک مقصد کے لیے تھا، میں اس کی طرف حضرت شیخ الہندؒ کے ہی الفاظ میں توجہ دلانا چاہوں گا اپنے آپ کو بھی اور آپ سب حضرات کو بھی کہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے حضرت شیخ الہندؒ کے ارشاد گرامی کا ذکر کیا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں جو ناکامیاں ہوئی تھیں، حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں کہ میرے استاد گرامی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے ان ناکامیوں اور نقصانات کی تلافی کے لیے دیوبند کا مدرسہ بنایا تھا۔ ان نقصانات کی تلافی کا دائرہ کیا ہے؟ ذرا اس پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔

ہمارا یہ دائرہ علمی بھی ہے، فکری بھی ہے، ثقافتی بھی ہے، تہذیبی بھی ہے، سیاسی بھی ہے، اور معاشرتی بھی ہے۔ میں ۱۸۵۷ء سے پہلے کی نہیں بلکہ ۱۷۵۷ء سے پہلے کی بات کروں گا کہ ہماری پوزیشن کیا تھی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال میں قدم رکھا اور سراج الدولہؒ کو شہید کر کے برصغیر میں اپنی مداخلت کا آغاز کیا تھا، اس وقت سے لے کر ۱۸۵۷ء تک ایک دور ہے۔ ۱۸۵۷ء سے پھر براہ راست برطانوی استعمار آیا، تاج برطانیہ آگیا۔ اس کے بعد کا نوے سال کا دوسرا دور ہے۔ ان دونوں ادوار کو دیکھ لیں۔

۱۷۵۷ء سے پہلے ہماری پوزیشن کیا تھی؟سیاسی اعتبار سے تو میں اس موقع پر بات نہیں کر سکوں گا لیکن تعلیمی اعتبار سے عرض کروں گا جس کی طرف شیخ الہندؒ نے دوبارہ ہمارا رخ موڑنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں درس نظامی ایک معروف نصاب رائج تھا جو صرف دینی علوم پر مشتمل نہیں تھا اس میں عصری علوم بھی شامل تھے۔ درس نظامی جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور سے اس کا آغاز ہوا تھا اور اورنگزیب نے ہی لکھنو میں فرنگی محل کی یہ کوٹھی ملا نظام الدین سہالویؒ کو عطا کی تھی۔ وہاں سے درس نظامی کا آغاز ہوا تو اس وقت کی ضروریات کیا تھیں؟ حضرت شیخ الہندؒ کے تعلیمی ذوق کا پس منظر دیکھنے کے لیے اس بات پر غور کریں کہ درس نظامی کا آغاز جب ہوا تو اس وقت کا عمومی ماحول کیا تھا؟ عمومی ماحول یہ تھا کہ فارسی دفتری اور عدالتی زبان تھی، فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری ملک کا قانون تھا، اور یونانی فلسفہ پر مبنی معقولات ملک کی علمی و فکری زبان تھی۔ قرآن کریم، حدیث و سنت اور شریعت و فقہ کے ساتھ ساتھ فارسی زبان بھی ہماری تعلیم کا حصہ تھی، اور فقہ حنفی کو تو قانون کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ اب بھی ہم فقہ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، میں بھی الحمد للہ پڑھاتا ہوں، مگر ایک درسی اور علمی ضرورت کے دائرے میں، لیکن تب یہ قانون کے طور پر پڑھائی جاتی تھی اور یہ ہمارا تعلیمی سلسلہ چلا آرہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی دوسرے معاملات سنبھالے، مگر سیاسی نظام کو تبدیل کیا ۱۸۵۷ء کے بعد تاج برطانیہ نے۔ جب وہ یہاں قابض ہوئے اور نیا سسٹم بنایا تو ہم زیرو پوائنٹ پر چلے گئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد برصغیر اور جنوبی ایشیا کے مسلمان زیرو پوائنٹ پر چلے گئے۔ ہم نے ازسرنو اپنی زندگی کا آغاز کیا، اس آغاز میں دین و ملت کے ایک بڑے بنیادی تقاضے کی نمائندگی دارالعلوم دیوبند نے کی اور دارالعلوم کا پہلا طالب علم حضرت شیخ الہند محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز تھے۔

میرے طالب علمانہ خیال کے مطابق حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی تعلیمی جدوجہد کا نقطۂ عروج اسی پہلے والے دور کی طرف واپسی کو قرار دیا کہ ہم ۱۷۵۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائیں اور ہمارا تعلیمی نظام عصری و دینی دونوں تقاضوں پر مشتمل ہو۔ دینی و علمی تقاضوں پر بھی اور عصری تقاضوں پر بھی کہ اس وقت دونوں درس نظامی کا حصہ تھے۔ ہمارے ہاں پاکستان کے ماحول میں جب درس نظامی کے نصاب کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات چلتی ہے تو ہمارے ذمے یہ بات لگا دی جاتی ہے کہ ہم نے دنیا اور دین کو تقسیم کر دیا اور ہم نے مولوی اور مسٹر کی تقسیم پیدا کر دی۔ میں کہا کرتا ہوں کہ نہیں بھئی! ہم نے یہ تقسیم نہیں کی۔ جب تک تعلیمی نظام درس نظامی کے ٹائٹل کے ساتھ مولوی کے ہاتھ میں تھا عصری اور دینی علوم اکٹھے پڑھائے جاتے تھے۔ یہ تقسیم ۱۸۵۷ء کے بعد ہم پر مسلط کی گئی ہے جب برطانوی استعمار نے نیا تعلیمی نظام بنایا تو اس میں سے کچھ علوم نکال دیے، قرآن کریم اور حدیث و سنت نکال دیے تھے، فقہ و شریعت نکال دی تھی، فارسی نکال دی تھی، عربی نکال دی تھی، اور ان کی جگہ اپنے علوم شامل کیے تھے۔ انہوں نے جو مضامین اور علوم نصاب سے نکالے وہ ہم نے سنبھال لیے۔ ہمارے بزرگوں نے اس اثاثے کو سینے سے لگایا اور بے سروسامانی اور بے سہارگی کی حالت میں اس نظام کو چلایا۔

میں بتایا کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کچھ عرصہ پہلے تک بلکہ میرے بچپن تک ایسا ہی تھا کہ مسجد کی چٹائیاں اور محلے کی روٹیاں، یہ ہمارا مدرسہ ہوتا تھا۔ اب تو بہت سی سہولتیں آگئی ہیں، تکلفات آ گئے ہیں۔ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ سہولتوں میں اضافہ فرمائے، لیکن تب کس بے مائیگی کی اور ظاہری سروسامان سے محرومی کی کیفیت میں اور کس ایثار و قربانی ، صبر و حوصلہ اور استقامت کے ساتھ ہمارے بزرگوں نے وہ نظام قائم رکھا۔ وہ علوم جو برطانوی استعمار نے ریاستی تعلیمی نظام سے نکال دیے تھے ،  ہمارے بزرگوں نے ان علوم کو سنبھالا۔ قرآن کریم اور حدیث رسول کو، شریعت اور فقہ کو، عربی کو، اور فارسی کو بھی ایک حد تک۔ اور صرف تعلیمی دائرے میں نہیں بلکہ عملی دائرے میں بھی۔ میں اس سے اگلی بات کرنا چاہوں گا کہ ایک ہے تعلیمی دائرہ کہ درس و تدریس ہوتی رہی، نہیں بلکہ عملی ماحول کو بھی باقی رکھا، آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے کے مدارس کے ماحول اور آج کے ماحول کا تقابل کر لیں، آپ کو لباس میں، وضع قطع میں، گفتگو میں، ادب و آداب میں، باہمی احترام و تعلق اور استفادے میں کوئی جوہری فرق نظر نہیں آئے گا۔ ہاں معیار کا فرق پڑتا ہے کہ کہاں حضرت ملّا نظام الدین سہالویؒ اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور کہاں ہمارے جیسے ناکارہ لوگ، لیکن ماحول کے بنیادی دائرے آج بھی وہی ہیں۔

میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک ہے تعلیم کا باقی رہنا، وہ تو ہے ہی، لیکن ہمارے لیے الحمد للہ جو فخر کی بات ہے کہ ان علوم کو بیرونی قابضین نے ختم کرنا چاہا تھا، ہمارے بزرگوں نے سینے سے لگایا اور گراس روٹ لیول پر چلے گئے، زمین پر بچھ کر انہوں نے ان علوم کو سنبھالا، اور اس اگلی بات کہ اس ماحول اور تہذیب کو بھی سنبھالا۔ جسے ثقافت اور کلچر کہتے ہیں، آج اگر دنیا میں اس پرانی ثقافت کا کوئی منظر دکھائی دیتا ہے تو جنوبی ایشیا میں ہی ہے۔ آج بڑی بڑی جگہوں پر وہ کلچر ختم ہو گیا اور جدید کلچر میں مدغم ہو گیا ہے لیکن ہمارے ہاں دینی مدرسہ کے ماحول نے، شیخ الہندؒ کے شاگردوں نے اور ان کے شاگردوں نے، ان کے خوشہ چینوں نے اس ماحول کو باقی رکھا ہوا ہے، الحمد للہ تعالیٰ۔

حضرت شیخ الہندؒ جب مالٹا کی اسارت سے واپس آئے تو انہوں نے دو باتیں کہیں، میں ان کی طرف آپ کی اور اپنی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ تحریک شیخ الہندؒ کے بعد ملک میں آزادی کے لیے جو پر اَمن تحریکیں چلی ہیں، عدم تشدد پر مبنی تحریکیں جس کا آج تک تسلسل چلا آ رہا ہے، ان شاء اللہ اسی کا رہے گا کہ یہ پر اَمن جدوجہد، عدم تشدد اور سیاسی جدوجہد کا دور ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے جو فکر فراہم کی اور اس فکر پر جو قیادت سامنے آئی میں اس کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ وہ قیادت مشترک تھی۔ تحریک خلافت کو دیکھ لیں کہ اس میں کون کون لوگ تھے؟ دیوبند اور علی گڑھ دونوں کی تربیت یافتہ مشترکہ قیادت تھی۔ شیخ الہندؒ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ ملی تحریکات کی قیادت مشترک ہونی چاہیے۔ یہ قیادت اتنی مشترک تھی کہ وزیرآباد میں، جو حضرت مولانا ظفر علی خانؒ کا شہر ہے، ان کی یاد میں ایک تقریب تھی۔ میں نے اس میں عرض کیا کہ یار دیکھو یہ حضرت شیخ الہندؒ کا کمال تھا کہ ظفر علی خانؒ جو علی گڑھ یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے مگر مولانا کہلاتے ہیں ، محمد علی جوہرؒ جو یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے لیکن مولانا کہلاتے ہیں، اور مولانا شوکت علی کا بھی اسی انداز میں تعارف ہوتا ہے۔ تو شیخ الہندؒ کی فکر کی ایک پروڈکشن یہ بھی ہے کہ قیادت کو مشترک کر دیا، تحریک آزادی میں بھی، اور اگر ہم تحریک پاکستان کی بات کریں تو اس میں بھی قیادت مشترک نظر آئے گی۔ چنانچہ تعلیم کے اشتراک کی طرح قیادت کا اشتراک بھی حضرت شیخ الہندؒ کی محنت کا ثمرہ ہے۔ اور وہ باہمی نفرت جو پیدا کی گئی تھی اور کسی درجہ میں اب بھی ہے، اس باہمی منافرت کے باوجود علمی میدان میں دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور سیاسی قیادت کے میدان میں بھی دونوں کا اشتراک ہمارے سامنے ہے، آزادی سے پہلے بھی اور بعد بھی، میں اسے حضرت شیخ الہندؒ کی فکر ، دعاؤں اور تربیت کا ایک ثمرہ سمجھتا ہوں۔

حضرت شیخ الہندؒ کے حوالے سے میں ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا، یہ تعلیمی دائرے کی بات بھی ہے اور فکری دائرے کی بات بھی ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ کے شاگردوں نے جب ان کے دائرے کو آگے بڑھایا۔ مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ، مولانا محمد میاں انصاریؒ نے اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے جب اس دائرے کو آگے بڑھایا تو میں ان کی علمی و فکری جدوجہد کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ مولانا محمد میاں انصاریؒ کے دو رسالے جو انہوں نے سیاسی فکر و فلسفہ کی تجدید کے لیے لکھے، ایک ’’انواع الدول‘‘ اور دوسرا ’’دستور اساسی ملت‘‘ کے نام سے۔اسے حضرت شیخ الہندؒ اور ان کے شاگردوں کا کارنامہ سمجھیں کہ وہ دو رسالے مختصر سے ہیں، ایک انواع الدول کے نام سے کہ دنیا کی حکومتوں کا عصری سیاسی نظم کیسا ہے، اور دوسرا دستور اساسی ملت جس میں انہوں نے ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کا ٹائٹل استعمال کیا ہے، میں تفصیلات میں جائے بغیر میں حضرت شیخ الہندؒ کی فکر کا ایک نتیجہ بتا رہا ہوں کہ سیاسی فکر میں تجدید ہوئی کہ ہمارا ماضی کا سیاسی سسٹم مختلف تھا اور ہم کئی ادوار سے گزرے ہیں۔ خلافت راشدہ کا اپنا دائرہ تھا اور ہمارا سب سے مثالی اور آئیڈیل دور وہی ہے۔ اس کے بعد خاندانی خلافتیں آئی ہیں، بنو امیہ کی، بنو عباس کی، اور عثمانیوں کی۔ ہم خلافت کے طور پر ان سب کا احترام کرتے ہیں حتٰی کہ خلافت عثمانیہ پر طرح طرح کے اعتراضات کے باوجود ہم نے اس کا دفاع کیا اور اس کے تحفظ کے لیے جنگ لڑی۔ لیکن آج کا دور خاندانی حکومتوں کا نہیں ہے، ہمارا تسلسل بنو امیہ کی خلافت سے لے کر خلافت عثمانیہ کے آخر تک خاندانی خلافتوں کا رہا ہے، اب خاندانی حکومتوں کا دور نہیں رہا۔ اور ہمارے حلقے میں اس فکری تجدید کی بات اگر کسی نے کی ہے تو حضرت شیخ الہندؒ کے حلقے نے سب سے پہلے کی ہے۔ ’’انواع الدول‘‘ کے نام سے، ’’دستور اساسی ملت‘‘ کے نام سے، جبکہ ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کے عنوان سے اس کے اصول پیش کیے ، اور میں اسے شیخ الہندؒ کی فکر کی ایک نئی جہت تصور کرتا ہوں اور اسی حوالے سے اس کا تعارف کراتا ہوں۔

حضرت شیخ الہندؒ کے حوالے سے آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الہندؒ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے، ذرا ان کی جدوجہد پر ایک نظر ڈالیے کہ وہ ہندوستان کی آزادی اور ہماری قومی آزادی کی تحریک تھی لیکن اس کا ایک ٹائٹل ’’جنود ربانیہ‘‘ کا تھا۔ اور اس ٹائٹل کے ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے رابطہ کس کس سے کیا؟ ہم خلافت عثمانیہ کی بات کرتے ہیں، اس زمانے میں مکہ مکرمہ کا جو ماحول تھا اور شریف مکہ کی حکومت کا معاملہ، میں اس تفصیلات میں نہیں جاتا، لیکن جو یادداشتیں برلن سے چھپی ہیں، دو سال پہلے جب میں دیوبند میں منعقدہ شیخ الہندؒ سیمینار میں آیا تھا تو میں نے بعض دوستوں سے عرض کیا تھا کہ ہم نے برطانوی سی آئی ڈی کی دستاویزات تو ’’تحریک شیخ الہندؒ‘‘ کے نام سے مرتب کر دی ہیں اور شائع ہو چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ اور حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ وہ رپورٹیں ہمارے سامنے آگئیں، لیکن اس میں جرمنی کا بھی ایک بڑا کردار تھا، میری نظر سے کچھ باتیں گزریں جس کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے کہ انہیں بھی ریکارڈ پر لانا چاہیے۔

جرمنی کی سی آئی ڈی کی رپورٹوں میں اس تحریک کا نام ’’برلن پلان‘‘ بتایا گیا ہے اور ان رپورٹوں کے مطابق اس میں جرمن کے علاوہ جاپان بھی شریک تھا۔  میں دوستوں کو توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ وہ دستاویزات بھی سامنے آنی چاہئیں۔ یہ جرمن وزارت خارجہ کے ایک افسر اولف شمل ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ یادداشتیں شائع کی ہیں۔ میں اس حوالے سے یہ بات کہنا چاہ رہا ہوں کہ حضرت شیخ الہندؒ نے وقت کی ضروریات و ترجیحات کا بھی خیال رکھا اور وقت کی قوتوں کا ماحول بھی دیکھا کہ کونسی قوت سے ہم کیا فائدہ لے سکتے ہیں؟ یہ قوموں اور ان کی تحریکات کی ضرورت ہوتی ہے، ہم ہر کسی کو نظرانداز نہیں کر سکتے اور ہر کسی کو دھتکار نہیں سکتے۔

میں حضرت شیخ الہندؒ کے حوالے سے یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ انہوں نے عالمی سوچ دی ہے۔ ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات کے درمیان ملی سوچ دی ہے اور مفاہمت پیدا کی ہے، مختلف ملکوں کے درمیان روابط پیدا کر کے عالمی فکر کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام تو خود عالمی مذہب ہے جو ’’یا ایھا الناس‘‘ سے اپنا خطاب شروع کرتا ہے اور پوری انسانیت کا مذہب ہے۔ اسلام نے پوری نسل انسانی کی رہنمائی کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور اس کا وقت پھر آنے والا ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ قرآن کریم آج بھی اسلام کی تفہیم اور دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے  اور انسانی مسائل کے حل کا سب سے بڑا منبع ہے۔ انسانی سماجیات کے مسائل کا قرآن کریم نے جس فطری انداز میں حل پیش کیا ہے آج ایسا کوئی فارمولا کسی کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں شیخ الہندؒ کے اس ارشاد کی طرف واپس جانا ہو گا جو انہوں نے مالٹا کی اسارت سے واپس آ کر کہا تھا کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھو اور قرآن کریم کے حلقے عام کرو۔

حضرت شیخ الہندؒ نے بنیادی پیغام یہ دیا تھا کہ آپس کے اختلافات کم کر کے ملی ماحول پیدا کرو اور قرآن کریم کے ساتھ فہم کا تعلق قائم کرو۔ حضرت شیخ الہندؒ کی اس آواز کے بعد قرآن کریم کے حلقے قائم ہونا شروع ہوئے۔ نظارۃ المعارف القرآنیہ جو دہلی میں قائم ہوا، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا حلقہ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ادارہ، اور مختلف قرآنی حلقے بنے۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کی اس آواز پر لبیک کہہ کر درس قرآن کریم کے متعدد حلقے قائم کیے۔ اسی طرح میرے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا قرآن کریم کا مستقل حلقہ تھا۔ میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ قرآن کریم کی طرف رجوع اور قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کا تعلق اور یہ بات کہ قرآن کریم کو سماجی راہنما کے طور پر پڑھا جائے۔ قرآن کریم اور سنت رسول ہمارا مرکز و مرجع ہیں، داخلی طور پر قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کا تعلق اور دنیا کے سامنے قرآن کریم کو سماجی راہنما کے طور پر پیش کرنا آج ہماری ذمہ داری ہے، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز کا ہم نام لیواؤں پر قرض ہے۔

میں برصغیر میں دو ہی شخصیتوں کا نام لیا کرتا ہوں فکری و علمی اور سماجی راہنمائی کے طور پر، ایک حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے بعد میرے ذہن میں دوسرا نام حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندیؒ کا آتا ہے۔ ان کا ہم پر قرض ہے کہ جس زبان میں انہوں نے دنیا کو قرآن و حدیث سمجھائے ہیں ہم وہ زبان سیکھیں، وہ ذوق سیکھیں، وہ اسلوب پیدا کریں، اور حضرت شیخ الہندؒ کے فکر و فلسفہ کے مطابق قرآن کریم کو، سنت رسول کو، فقہ و شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کریں، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ جس طرح ہمارے ماضی کے راہنما تھے اسی طرح ہمارے مستقبل کے راہنما بھی ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے علوم و افکار کے صحیح ادراک کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اور ملت کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

عورت کا سماجی کردار اور خاندانی حقوق و فرائض

مولانا مودودی کی فکر کا تنقیدی مطالعہ

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

جدیدیت اور قدامت کی کشمکش میں عورت کا معاشرتی کردار دور حاضر کا اہم سوال ہے  ۔ عورت کو خانگی امور تک محدود رہ کر گھر اور خاندان میں کردار اداء کرنا چاہیے یا اس کو باہر نکل کر معاشرتی زندگی کے دیگر امور میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے ؟  یہ سوال روایت میں زیادہ زیر بحث نہیں رہا بلکہ بنیادی طور پر جدیدیت کی کوکھ سے جنم لینے والا ہے ۔ جدیدیت کے طرفدار بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں بہت وسعت تھی۔ عورتوں کے حوالے سے بہت سےاحکام ہم نے جدیدیت کے زیر اثر قبول کیے ہیں ۔ لیکن اسلام ہو یا  دیگر مذاہب اور تہذیبیں ، عورت کا  کردار ما قبل جدید معاشروں میں محدود ہی رہا ہے ۔ گھر سے باہر مجموعی طور پر عورتوں کا معاشرتی زندگی میں کردار نہیں تھا ۔طویل زمانے  کی معاشرت کے بعد عورتیں غالب تہذیب کے زیر اثر جب گھر سے باہر کی زندگی میں کردار ادا کرنے لگی ہیں تو گھر اور باہر دونوں قسم کی زندگی کا متاثر ہونا اور ان میں مسائل کا پیدا ہونا یقینی امر ہے۔  یہ مسائل ہر تہذیب اور مذہب کے لئے جداگانہ نوعیت کے ہیں ۔ مسلم معاشروں میں بھی اس رحجان کا غلبہ ہے کہ عورتیں گھر سے باہر کی زندگی میں کردار ادا کررہی ہیں ۔ مسلم مفکرین اور علماء نے ایک زمانے تک اس کی مختلف خدشات کی بنا پر مخالفت کی، لیکن آج  وہ اس سے پیدا ہونے مسائل  ڈسکس کرر ہے ہیں یا گھر سےباہر کی زندگی میں عورت دائیں بازو کے لیے کیا کردار ادا کرسکتی ہے، اس کی تیاریوں میں ہیں۔

مولانا مودودی دور حاضر  کے عظیم مفکر ہیں، وہ ان سب چیزوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں   ؟ مولانا مودودی روایتی میدان میں رہتے ہوئے  انہی تشریحات کو نئے معانی پہناتے ہیں اور دور حاضر کے  فکر و فلسفے کے مطابق اسی کو مقبول بناتے ہیں ۔ عورت کے بارے اسلامی تصورات  پر بہت سی جگہوں پر سوالا ت پیدا ہوتے ہیں ، ان کی فکر پر یقینا بعض جگہوں پر سوال اٹھیں گے اور ان کی بعض تعبیرات بہت خوبصورت معانی پہنے ہوں گی ۔ ان کی فکر کے مطالعہ سے عورتوں کے بارے ان کے تصورات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں قانونی اور فقہی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے اور معاشرتی و سماجی مسائل بھی ۔

مرد کی عورت پر فضیلت

قرآن و حدیث کی بعض نصوص سے پتہ چلتاہے کہ  مرد عورت سے افضل ہے اور عورت اس کے تابع ہے ۔ موجودہ دور میں بہت سے علماء کرام ان آیات میں تاویل کرکے ان کو نئے معانی  پہنا کر موجودہ دور کی فکر کے مطابق بنانا چاہتے ہیں  کہ مردو زن میں مساوات ہے، اسلام ان میں کوئی فرق نہیں کرتا ۔ مولانا مودودی ان نصوص کو انہی معانی کے مطابق دیکھتے ہیں جن کے تحت ان کو روایت میں دیکھا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر نصوص کو دیکھا جائے تو یہی روایتی فہم ہی درست ہے، ان کی جدید تعبیر ان کو مجموعی فکر سے کاٹ دینے والی بات ہے ۔ جن نصوص سے مساوات پر زد پڑتی ہے، ان کومولانا مودودی کیسے دیکھتے ہیں، ذیل میں ان کا مطالعہ پیش کیا جاتاہے ۔

مولانا مودودی مردو زن کی مساوات کےبارے کہتے ہیں کہ جن چیزوں میں مساوات ہوسکتی ہے اور جس حد تک مساوات قائم کی جاسکتی تھی ، وہ اسلام نے قائم کردی ہے ۔ لیکن اسلام اس مساوات کا قائل نہیں ہے جو قانون فطرت کے خلاف ہو ۔ انسان ہونے  کی حیثیت سے جیسے حقوق مرد کے ہیں ویسے ہی عورت کے ہیں ۔ لیکن زوج فاعل ہونے کی حیثیت سے ذاتی فضیلت (بمعنی عزت نہیں بلکہ بمعنی غلبہ تقدم )مرد کو حاصل ہے، وہ اس نے پورے انصاف کے ساتھ مرد کو عطا کی ہے ۔ "وللرجال علیھن درجۃ" 1 اسی طرح عورت اور مرد میں فاضل اور مفضول کا فطری تعلق تسلیم کرکے اسلام نے خاندان کی تنظیم حسب ذیل قواعد پر کی ہے ۔

خاندان میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے ، یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے ، محافظ ہے ، اخلاق اور معاملات کا نگران ہے ۔ اس کی بیوی اور بچوں پر اس کی اطاعت فرض ہے ۔ اور اس پر خاندان کے لئے روزی کمانے اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے ۔ "الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم" 2 "الرجل راع علی اھلہ و ھو مسئول" 3 اسی طرح عورت گھر سے باہر مرد کی اجازت سے نکل سکتی ہے ۔ حدیث میں ہے کہ عورت جب بغیر اجازت  کے خاوند کے گھر سے نکلتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔عورت کی اصلاح کا حکم مرد کو دیا گیا ہے ، اگر عورت میں نشو ز و نافرمانی دیکھے تو اس کی اصلاح کا کوئی سا طریقہ اپنا سکتاہے ۔ "اور جن بیویوں سے تم کو سرکشی و نافرمانی کا خوف ہو ان کو نصیحت کرو ، خواب گاہوں میں ان سے ترک تعلق کرو ، پھر بھی باز نہ آئیں تو مارو ، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو"4۔ 5

مولانا مودودی کہتے ہیں کہ مرد و زن کے احکامات میں بھی فرق ہے ۔اس کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا جس میں گھر سے باہر نکلنا پڑے ۔ اس کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے، کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے ۔اسی طرح عورت محرم کے بغیر اکیلی سفر پر نہیں جاسکتی ، یہاں تک  کہ حج پر بھی نہیں جاسکتی ۔ جماعت کی نماز اس پر واجب نہیں ہے ۔ جمعہ اس  پر فرض نہیں ہے ۔ جہاد اس پر فرض نہیں ہے ۔ ان تمام احکامات میں فرق کی وجہ یہی ہے کہ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں ۔6 مولانا مودودی نصوص کو موجودہ دور کے تناظر میں نہیں دیکھتے ہیں بلکہ موجودہ دور کو نصوص کے تناظر میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ نصوص فطرت ہیں اور ان سے ہٹ غیر فطری زندگی ہے جس کا غالب تہذیب شکار ہوچکی ہے ۔

عورت کا معاشرتی کردار

مولانا مودودی نے اس رحجان کی وکالت کی کہ عورت کا اصل مقام گھر ہے ، اس  کو گھر میں رہنا چاہیے اور  گھر کی زندگی میں کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس کے لئے انہوں نے نصوص سے بھی مختلف انداز میں استدلال کیا  ہے۔ عورت کے گھریلو کردار کی اہمیت اور خوبیوں کو اجاگر کیا ،   اور جدید رحجان کے زیر اثر گھر اور معاشرے میں  پیدا ہونے والی خرابیوں کو  واضح کیا  ہے۔

مولانا مودودی کا کہنا  ہے کہ عورت کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور معاشرتی امور میں حصہ لینے سے گھر داری اور خانگی نظام تباہ ہوجائے گا  ، یا عورت پر دوہرا بار ڈال دیاجائے گا کہ وہ اپنے فطری فرائض بھی انجام دیں جن میں مرد قطعا شریک نہیں ہوسکتا اور پھر مرد کے فرائض کا بھی نصف حصہ اٹھائیں ۔  عملا یہ دوسری صورت ممکن  نہیں ہے،  لازما پہلی صورت ہی رونما ہوگی اور مغربی ممالک کا تجربہ بتاتا ہے  کہ وہ رونما ہوچکی ہے۔ 7

مولانا مودودی کی کی یہ بات درست ہے۔ گھر داری ، خانگی امور اور خاندانی نظام کو اچھی طرح چلانے کے لئے پورے وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور مغرب جہاں عورت معاشرتی امور میں حصہ لیتی ہے، ان کا خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے ۔ عورت کا معاشرتی امور میں حصہ لینا دو وجہوں کی بنیاد پر ہوسکتاہے ۔ ایک تو معاشرے کو عورت کی خدمات کی ضرورت ہے ، ملکی تعمیر و ترقی میں ملک کی نصف آبادی کو بے کار چھوڑ دینا درست نہیں ہے ۔ دوسرا عورت بھی معاشی طور پر خود کفیل ہو تاکہ مرد کی کفالت کے زیر اثر جو خرابیاں جنم لیتی ہیں، ان کا ازالہ ہوسکے ۔ معاشرتی امور میں حصہ لینے کی جو دوسری بنیاد ہے، اس کا حل پیش کرنے میں ہمارا خاندانی نظام ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ عورت کا استحصال مختلف شکلوں میں آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہے مولانا۔ مودودی صرف مغرب کے خاندانی نظام کو موضوع بحث بناتے ہیں لیکن مشرق کے خٰاندانی نظام کی تباہی کا ذکر کرتے ہیں نہ ہی اس کی اصلاح کے ممکنہ پہلوؤں کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔

مسلم ممالک میں خاندانی نظام کا جو حال ہے مولانا اس پر صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مسلمان یورپ  و مغرب کی نقالی میں غرق ہیں اس لئے یہ دنیا کے رہنما نہیں بن پارہے یا ان کے ہاں بھی مسائل ہیں ۔ مغربی تہذیب نے  خاندان  کے ادارے میں بہت بنیادی تبدیلیاں کیں، اس کی وجوہات و اسباب کو صرف خواہشات اور نفس پرستی جیسی چیزوں سے جوڑ دینا سماج کے مطالعہ کا درست رویہ نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں خاندان کا ادارہ مغربی تہذیب کی طرف جن چیزوں میں بڑھ رہا ہے، اس میں تہذیب جدید اور غالب تمدن کی نقالی کو ہی آخری حیثیت نہیں بلکہ اس کے علاوہ معاشرےمیں موجود اس کی وجوہات و اسباب پر غور کرنا چاہیے ۔

مولانا مودودی اس معاملے میں بیشتر جگہوں پر اصول فطرت کو دلیل بناتے ہیں کہ مردو  عورت کو فطری طور پر کچھ کاموں کے لئے پیدا کیاگیا ہےاور وہ انہی مخصوص کاموں کو کرنے کے اہل ہیں۔ اگر اسی میدان میں رہیں گے تو نظام ٹھیک چلتا رہے گا اگر اس سے ہٹ کر چلیں گے تو نظام خراب ہوجائے گا۔  مولانا مودودی کی تنقید کو سمجھنے کے لئے ان  کی کتابوں سے کچھ عبارات کا مطالعہ ذیل میں پیش کیا جاتاہے ۔

"مرد کے دائرہ عمل میں آکر عورتیں کبھی مردوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں ، اس لئے کہ وہ ان کاموں کے لئے بنائی ہی نہیں گئی ہیں ۔ ان کاموں کے لئے جن اخلاقی و ذہنی اوصاف کی ضرورت ہے وہ درا صل مرد میں پیدا کئے گئے ہیں ۔ عورت مصنوعی طور پر مرد بن کر کچھ تھوڑا بہت ان اوصاف  کو اپنے اندر ابھارنے کی کوشش کرے بھی تو اس کا دہرا نقصان خود اس کو بھی ہوتا ہے اور معاشرہ کو بھی ۔ اس کا اپنا نقصان یہ ہے کہ وہ نہ پوری عورت رہتی ہے نہ پوری مرد بن سکتی ہے اور اپنے اصل دائرہ عمل میں جس کے لئے وہ فطرتا پیدا کی گئی ہے ناکام رہ جاتی ہے ۔ معاشرہ اور ریاست کا نقصان یہ ہے کہ وہ اہل کارکنوں کے بجائے نااہل کارکنوں سے کام لیتا ہے اور عورت کی آدھی زنانہ اور آدھی مردانہ خصوصیات سیاست اور معیشت کو خراب کرکے رکھ دیتی ہیں "۔ 8

سیاست اور ملکی انتظام اور فوجی خدمات اور اسی طرح کے دوسرے کام مرد کے دائرہ عمل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس دائرے میں عورت کو گھسیٹ لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری خانگی زندگی بالکل تباہ ہوجائے گی ۔ 9

اسی فکر کے تحت مولانا مودودی نے عورت کی حمل ، حیض  و نفاس اور دیگر حالتوں کا ذکر کیا  ہے اور مختلف ماہرین فن کے بیانات سے ثابت کیا ہے کہ ان حالات میں عورت میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی بنا پر وہ  ٹھیک طرح کام نہیں کرپائے گی ۔ اگر چہ مولانا مودودی نے اس کی جو مثالیں دی ہیں، وہ مبالغہ پر مبنی  ہیں کہ ایک عورت  جو ٹرام کی کنڈکٹر ہے، اس زمانہ میں غلط ٹکٹ کاٹ دے کر دے گی اور ریز گاری  گننے میں الجھے گی ۔ ایک موٹر ڈرائیور عورت گاڑی آہستہ اور ڈرتے ڈرتے چلائے گی اور ہر موڑ پر گھبرائے گی ۔ ایک لیڈی ٹائپسٹ غلط ٹائپ کرے گی  ۔ کوشش کے باوجود الفاظ چھوڑ جائے گی ، کسی حرف پر انگلی مارنی چاہے گی اور ہاتھ کسی پر جاپڑے گا ۔ ایک گانے والی عورت اپنے لہجہ اور آواز کی خوبی کو کھود ے گی حتی کہ ایک ماہر نطقیات محض آواز سن کر بتادے گا کہ گانے والی اس وقت حالت حیض  میں ہے۔ 10 لیکن ان حالات میں تبدیلیاں رونما ہونا یقینی امر ہے جس کا اثر کاموں پر بھی پڑتا ہے۔

مغربی تہذیب میں جہاں عورت کو معاشی آزادی  دی گئی اور وہ معاشرتی امور میں حصہ لیتی ہے، وہاں عورت مرد بن چکی ہے۔ اپنے نسوانی کاموں سے دستبردار ہوچکی ہے ، ازادواجی زندگی کی ذمہ داریاں ، بچوں کی تربیت خاندان کی خدمت ، گھر کی تنظیم ، ساری چیزیں اس کے لائحہ عمل سے خارج ہوگئیں بلکہ ذہنی طور پر وہ اپنے اصلی فطری مشاغل سے متنفر ہوگئی ہے اور اس کی ایک ہی فکر ہے کہ اس کو ہر کام میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنا ہے۔ گویا حقوق نسواں کی تحریک میں مرد عورتوں کا آئیڈیل بن کر سامنے آئے ہیں۔ عورتوں کو مردوں جیسی زندگی چاہیے، مردوں جیسا کام چاہیے، مردوں جیسا لباس چاہیے، جبکہ مرد عورتوں جیسے زندگی ، لباس اور کاموں میں عزت محسوس نہیں کرتے ۔

مولانا مودودی مغربی سماج پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں عورت کو یا تو لونڈی سمجھا گیا یا آزادی کے بہانے ایک ایسا سماج قائم کیا گیا جو شہوت پرستی پر مبنی تھا ۔ مغرب میں شہوانی تعلق کے سوا مرد اور عورت کے درمیان کوئی ایسا احتیاجی ربط باقی نہیں رہا ہے جو انہیں مستقل وابستگی پر مجبور کرتا ہو ۔ اس لئے مناکحت کے رشتہ میں اب کوئی پائیداری نہیں رہی ۔ مولانا تنقید کے دوران  ایسی باتیں بھی کہہ دیتے جونہ صرف درست نہیں بلکہ اخلاقیات سے گری ہوئی ہیں ۔  مغربی تہذیب میں شرم و حیاء اور عفت و عصمت کا ایک تصور موجود ہے جو  ہمارے تصور سے جدا ہے لیکن مولانا مودودی اس سارے سماج کو ایک ایسے سماج کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ جہاں شرم و حیا اور عفت و عصمت جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں آج اہل کتاب کی عورتوں پر محصنات ہونے کا اطلاق مشکل ہی ہوسکتاہے۔ 11  ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم  اپنے خاندانی نظام کا بھی ازسر نو جائزہ لیں اور غالب تہذیب کی جانب سے جو چیزیں ہمارے معاشروں کا حصہ بن چکی ہیں اس بارے بھی غور و فکر کریں کہ ان کو زیادہ بہتر انداز میں کس طرح مینج کیا جاسکتاہے ۔

مولانا مودودی معاشرے کے عملی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرپاتے ۔ باوجود اس  کے ان کی مجموعی فکر یہی ہے کہ عورت کا مقام گھر ہے ، اس کو معاشرے کی عملی زندگی میں حصہ نہیں لینا چاہیے ۔ بعض جگہوں پر اس کے برعکس کہتے ہیں ، لیکن اپنی بات کو مکمل طور پر واضح نہیں کرتے ہیں۔ مجمل سے انداز میں یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ فطرت ان سے الگ الگ کام لینا چاہتی ہے، لیکن اس الگ کی تفصیلات کیا ہوں گی اور اس کو کس اندا ز میں کیا جائے، ان چیزوں پر روشنی نہیں ڈالتے ہیں۔  کبھی عورتوں کے لئے بھی مردوں جیسی مساوات اور یکساں مواقع کی بات کرتے ہیں ۔  مثلا فرماتے ہیں

"مرد و عورت کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہیے ، تعلیم  و تربیت ، حقوق مدنیت، معاشی و تمدنی حقوق ان تمام چیزوں میں مساوات ضروری ہے۔  جن قوموں نے اس قسم کی مساوات سے انکار کیا ہے ، جنہوں نے اپنی عورتوں کو جاہل ، ناتربیت یافتہ ، ذلیل اور حقوق مدنیت سے محروم رکھا ہے وہ خود پستی کے گھڑے میں گر گئی ہیں کیونکہ انسانیت کے پورے نصف حصہ کو گرادینے کے معنی خود انسانیت کو گرا  دینے کے ہیں ۔ ذلیل ماؤ ں کی گودیوں  سے عزت والے ، نا تربیت یافتہ ماؤں کی آغوش سے اعلی تربیت والے اور پست خیال ماؤں کے گہوارے سے اونچے خیال والے انسان نہیں نکل سکتے ۔ فطرت کا مقصود ان دونوں سے ایک جیسے کام لینا نہیں ہے ۔ دونوں کی جسمانی و نفسی کیفیات مختلف ہیں ۔" 12

ایک دوسری جگہ پر ایک سوال کا جواب کے جواب میں عورت کی معاشی خود مختاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ عورت کاروبار کرسکتی ہے، ملازمت کرسکتی ہے لیکن اس ملازمت کا دائرہ صرف خواتین تک محدود ہونا چاہیے ۔

بی بی سی نے مولانا مودودی کے انٹرویو میں ان سے سوال پوچھا کہ مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی کثرت عورتوں کےلئے  کچھ زیادہ مسئلہ نہیں ۔ کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مرد کی محتاج  نہیں ہیں ۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے   ۔ مولانا مودودی اس کے جواب میں کہتے ہیں  کہ  آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے ، اپنے شوپر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصہ ملتاہے ۔اس طرح جس شکل میں بھی اسے کوئی ورثہ ملتاہے ، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر ، باپ ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کرسکتی ہے اور ان اداروں میں ملازمت کرسکتی ہے جن کا دائرہ خواتین تک محدود ہے۔ 13

ایک اور عبارت میں عورت کے گھر سے نکلنے کو صرف مجبوری کی صورت میں منظور کرتے ہیں جس کا دائرہ رخصت ہے ۔ اس کی تعلیم و تربیت کی نوعیت بھی ایسی ہونی چاہیے کہ وہ گھر کے نظام بہتر طور پر چلاسکے ۔  

"حالات ضروریات  سے عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے  یہ محض ایک وسعت اور رخصت ہے اس کو اسی حیثیت میں رہنا چاہیے ۔ عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اس کو ایک بہترین بیوی بہترین ماں اور بہترین  گھر والی بنائے "۔14

مولانا کی  یہ عبارات ان کے فکری خلفشار کا بھی ثبوت ہیں کہ ایک طرف وہ مغربی تہذیب اور  نظام کی مخالفت میں ا س سے ہٹ کر نقطہ نظر دینا چاہتے ہیں جبکہ عملی مجبوریوں اور موجودہ دور کے سوالات کو بھی نظر انداز نہیں کرپاتے  ہیں اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔

عورت کے لئے پردہ

مولانا مودودی چہرے کے پردے کے قائل ہیں لیکن باقی جسم اور چہرے میں فرق کرتے ہیں ۔ چہرے اور نقاب کے باب میں ویسے قطعی احکام نہیں جیسے ستر پوشی اور اخفائے زینت کے باب میں دیے گئے ہیں۔ بوقت ضرورت کھول سکتی ہے۔

"ولا یبدین زینتھن" میں جس زینت کا بیان ہے، وہ ستر کے ماسوا ہے ۔ اس کو محرم رشتہ داروں یا ایسے لوگوں کے سامنے کھولنے کی اجازت دی گئی جو عورتوں کی خوبیوں سے آشنا نہیں ہوتے ہیں ۔اب زینت کا اظہار جس چیز سے بھی ہو اوہ منع ہے ۔ الا ما ظہر منھا سے مراد ایسی زینت ہے جو اضطرارا ظاہر ہوجائے یا جس کو ضرورت کے پیش  نظر ظاہر کرنا پڑجائے۔ 15

چہرے اور ہاتھوں کے پردے کے بارے ایک جگہ کہتے ہیں کہ اس   کا فیصلہ مسلمان عورت  جو خدا رسول کے احکامات کی پابند ہے ، جس کو فتنے میں مبتلا ہونا منظور نہیں ہے ، وہ خود فیصلہ کرسکتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ کھولے کہ نہیں ۔ کب کھولے کب نہ کھولے ، کس حد تک کھولے اور کس حد تک چھپائے ، اس باب میں قطعی احکام نہ شارع نے دیے ہیں ، نہ اختلاف احوال و ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ مقتضائے حکمت کہ قطعی احکام وضع کئے جائیں ۔ بلا ضرورت قصدا کھولنا درست نہیں ہے ۔ اپنا حسن دکھانے کے لئے بے حجابی کی جائے تو یہ گناہ  ہے ۔ باقی شارع اس کو پسند نہیں کرتاہے شارع کی پسند یہی ہے کہ چہرہ کو چھپایا جائے ۔ 16

عورت کا حق حکمرانی

عورت کے حق حکمرانی کو مسلمان ملکوں میں عملی طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے ۔ اصولی طور پر بھی نصوص میں تاویل کی راہ اپناتے ہوئے  علماء کی اکثریت اس کو تسلیم کرچکی ہے ۔مولانا مودودی اس مقام پر نصوص کی اتباع میں کھڑے ہیں اور ان کے مطابق ہی اس مسئلہ کو دیکھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک عورت نہ صرف حکمران نہیں بن سکتی بلکہ کسی بھی اہم اور کلیدی  عہدے پر کام نہیں کرسکتی ہے ۔ مولانا مودودی نصوص میں جس قدر عموم پیدا کررہے ہیں، یہ بھی خالص اجتہادی نوعیت کی چیز ہے ۔ نصوص کے پس منظر میں عورت کی حکمرا نی ہے اور روایت میں بھی اس کا ہی ذکر ہور ہا ہے جبکہ مولانا اس میں توسع کرتے ہوئے اس کو ہر معاملے پر لاگو کردیتے ہیں ۔

"الرجال قوامون علی النساء۔17 لن یفلح قوم ولو اامرھم امراۃ" 18 یہ دونوں نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت  میں ذمہ داری کے مناصب خواہ وہ صدارت ہو یا وزارت یا مجلس شوریٰ کی رکنیت یا مختلف محکموں کی ادارت عورتوں کے سپر نہیں کئے جاسکتے۔ اس لئے کسی اسلامی ریاست کے دستو ر میں عورتوں کو یہ پوزیشن دینا یا اس کے لئے گنجائشیں رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔19

ایک سے زائد شادیاں

ایک فرد کو کتنی شادیاں کرنی ہیں ، اسی طرح اس کے بچے کتنے ہونے چاہیے، اس بارے مولانا مودودی کی فکر کا حاصل یہ ہے کہ  قرآن کریم میں اس کا خطاب افراد سے ہے اور یہ افراد کی مرضی پر موقوف ہے۔ نظم اجتماعی سےیہ خطاب نہیں  ہے کہ وہ افراد کی آزادی میں دخل انداز ہو ۔ بیوی بچوں کی تعداد مقرر کرنے کا حق ریاست کو  نہیں ہے ۔ فرد کو اس کی اجازت دی گئی ہے اس کے بعد اس کی اپنی ضروریات زندگی اور اس چیز پر موقوف ہے کہ عدل کرسکتا ہے کہ نہیں۔20 مولانا نظم اجتماعی کو یہ حق نہیں دیتے ہیں کہ وہ ان چیزوں میں دخل دے ۔

عورت کا حق خلع

جس طرح مرد عورت کو طلاق دے کر رشتہ ازدواج کو ختم کرسکتا ہے، اسی طرح عورت خلع لے کر مرد سے جدا ہوسکتی ہے ۔لیکن مرد طلاق دینے میں خود مختار اور آزاد ہے جبکہ عورت کے خلع کے لئے فقہاء کرام نے شرائط مقرر  کی ہیں جن کی موجودگی میں ہی صرف خلع ہوسکتاہے، ان کے بغیر خلع نہیں ہوسکتا۔ جامعہ علوم اسلامیہ  بنوری ٹاؤن  کےبعض فتاویٰ میں خلع کی درج ذیل شرائط لکھی گئی ہیں ۔

خلع ایک معاملہ ہے، اس میں مرد کا رضا مند ہونا ضروری ہے ۔ اگر مرد رضا مند نہ ہو تو عورت علاقے کے معززین کے ذریعے طلاق کی کوشش کرے ۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عورت عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ کرے گی ۔ اسے معتبرگواہوں کے ذریعہ شوہر کے ظلم کو ثابت کرنا ضروری ہوگا۔ تمام ثبوت کی فراہمی کے بعد  عدالت اگر تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کرتی ہےتو نافذ ہوگا ۔ ورنہ عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ 21

یعنی عدالت میں خلع کا مقدمہ نہیں ہوگا بلکہ تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہوگا اور اس میں بھی چند عذرایسے ہیں جن کی بناء پر تنسیخ نکاح ہوسکتی ہے مثلاً بیوی کا نان ونفقہ  اور حقوق زوجیت ادا کرنا وغیرہ۔اگر ان کو ثابت کرتی ہے تو خلع ہوگا ورنہ نہیں۔ اور اس کے علاوہ اگر عدالت فیصلہ دے بھی دے، تب بھی نافذ نہیں ہوگا ۔   اس لحاظ سے طلاق کے ساتھ خلع کا تمام اختیار بھی خاوند کے پاس آجاتاہے- اگر چاہے تو اس کومنظور کرے چاہے منظور نہ کرے۔ جبکہ شریعت میں طلاق کااختیار مرد کے پاس  ہے اور اگر اس اختیار میں کوئی کمی بیشی یا ظلم کا عنصر پایاجائے تو عورت کو خلع کا اختیار دیاگیا ہے ۔ اگر یہ اختیار بھی خاوند کے اختیار اور رضا مندی کے ساتھ مشروط ہوجاتاہے تو عورت کے پاس اختیار کیسا    ؟

 خلع کے بارے حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں ان پر کسی عیب کی تہمت نہیں لگاتی، لیکن میں اسلام میں کفر ناپسند کرتی ہوں یعنی ان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی ہوں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نےان سے حضرت ثابت کے دیے باغ کو واپس کرواکر حضرت ثابت  کو طلاق کا حکم دیدیا۔22 اس روایت میں اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے بیان کو کافی سمجھا اور مزید اس کی تحقیق نہیں کی کہ وہ کیوں طلاق لینا چاہتی ہیں ۔

ابوداؤ د اور ترمذی شریف کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس عورت نے اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے "۔ 23 لیکن اس روایت میں اس مزاج کی نفی کی گئی ہے اور ایسی عادت اور رویہ کے بارے میں یہ وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اس میں کوئی قانونی فیصلہ نہیں  ہے اور بلا وجہ طلاق مرد ہو یا عورت ان کو دینی بھی نہیں چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کےنزدیک مبغوض ترین چیز ہے ، لیکن جس طرح مرد اگر بلا وجہ طلاق دے تو ہوجاتی ہے، اسی طرح عورت اگر بلا وجہ خلع لے تو حضرت ثابت بن قیس کی روایت سے یہی سمجھ میں آتاہے کہ خلع نافذ ہوجاتاہے ۔

مولانا مودودی خلع کے بارے میں کہتے ہیں کہ خلع میں قاضی کا وجہ طلب کرنا یا اس پر مطمئن ہونا ضروری نہیں ۔ اگر عورت کہتی ہے  مجھے پسند نہیں تو قاضی پر یہ نہیں کہ کھوج لگائے کہ کیوں ناپسند ہے، کیونکہ  ہوسکتاہے عورت کو کسی ایسی وجہ سے ناپسند ہو جو قاضی کے نزدیک وجہ تفریق نہیں بن سکتی ہو ۔ نیز ہر ایک وجہ کا کھل کر  مکمل طور پر بتانا ممکن بھی نہیں اور رسول اللہ اور خلفاء راشدین کے عمل سے بھی یہی پتہ چلتاہے کہ انہوں نے اس کی تحقیق نہیں کی ۔ اگر اس میں عورت کے بے وجہ خلع کا احتمال ہے تو مرد کی طلاق میں بھی یہ احتمال موجود ہوتاہے جبکہ شارع نے اس سے منع نہیں کیا، اس کو نافذ قرار دیا ہے تو عورت کے لئے بھی قانونی طور پر یہ حق رہے گا۔  24 مولانا مودودی خلع کے آسان  نہ ہونے کے معاشرتی مسائل کو  بخوبی سمجھتے تھے، اس لئے انہوں نے خلع کو انتہائی آسان کردیا ۔

عورت پر ظلم و ستم بطور سبب تفریق

فقہاء کرام نے مرد و زن میں تفریق کے کچھ اسباب کا ذکر کیا ہے۔ اگر یہ چیزیں پائی جائیں تو عورت عدالت کے ذریعے  مرد سے جدا ہونے کا مطالبہ کرسکتی ہے اور قاضی ان چیزوں کے پائے جانے پر جدائی کا حکم دے گا ۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں پر ظلم و ستم کے واقعات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مولانا مودودی فقہاء کے بیان کردہ دیگر اسباب کے ساتھ مار پیٹ گالی گلوچ کو بھی  تفریق کے اسباب میں شمار کرتے ہیں ۔

" اتناضرور ہونا چاہیے کہ مارپیٹ اور گالم گلوچ کی عادت کو خلع کے جائز اسباب میں شمار کیاجائے اور ایسی عورتوں کو بلامعاوضہ خلع دلوایاجائے"۔ 25

مردانہ عیوب  سے متعلق فقہاء کے موقف پر تنقید

فقہاء جن عیوب کی بنا پر عورت کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ قاضی کے پاس جا کر خاوند کے خلاف مقدمہ قائم کرسکتی ہے اور خاوند سے جدا ہوسکتی ہے، مولانا مودودی ان عیوب کے بارے گفتگو کرتے ہیں کہ ان میں بہت سے ایسے مسائل  ہیں جو عورت کے حقوق اور شریعت کے منشا کے خلاف  ہیں ۔ عنین ، مجبوب  ، خصی  ،برص زدہ ، مجنون اور مرد و عورت کے دیگر ایسے امراض جن کے ساتھ تعلقات مردو زن قائم نہیں ہوسکتے ہیں، ان میں اگر کوئی فریق جدائی کا مطالبہ کرتا ہے تو امام مالک کے نزدیک اس کو خیار فسخ حاصل ہوگا ۔ مولانا مودودی بھی اسی فقہی مذہب کو لیتے ہیں ۔ کیونکہ تعلقات مردو زن میں تحفظ اخلاق اور باہمی مودت و رحمت  یہ دونوں مقاصد ایسے عیوب میں فوت ہوجاتے ہیں اور یہ بات اسلامی قانون ازدواج کے اصول میں سے ہے کہ ازدواجی تعلق زوجین کے لئے مضرت اور حدوداللہ سے تجاوز کا موجب نہ ہونا چاہیے ۔ 26

ان عیوب کے بارے فقہاء کی بعض آراء پر مولانا مودودی تنقید کرتے ہیں ۔ عنین ، مجنون وغیرہ ایسے امراض جن کے تندرست  ہونے کا امکان ہو ، ان کے بارے فقہاء یہ کہتےہیں کہ  اس کو ایک سال تک علاج کی مہلت دی جائے گی ۔ اگر علاج کے بعد وہ ایک مرتبہ بھی ہم بستری پر قادر ہوگیا ۔ حتی کہ اگر ایک مرتبہ اس نے ادھوری مباشرت بھی کرلی  تو عورت کو فسخ نکاح کا حق نہیں ہے  بلکہ یہ حق  ہمیشہ کے لئے باطل ہوگیا ۔ اگر عورت کو نکاح کے وقت معلوم تھا کہ وہ نامرد ہے اور پھر وہ نکاح پر راضی ہوئی تو اس کو سرے سے قاضی کے پاس دعویٰ ہی لے جانے کا حق نہیں ۔ اگر اس نے نکاح کے بعد ایک مرتبہ مباشرت کی اور پھر نامرد  ہوگیا تب بھی عورت کو دعویٰ کا حق نہیں ۔ اگر عورت کو نکاح کے بعد شوہر کے نامرد ہونے کا علم  ہوا اور وہ اس کے ساتھ رہنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کردے تب بھی وہ ہمیشہ کے لئے خیار فسخ سے محروم ہوگئی۔ مجنون کے بارے بھی اسی قسم کے مسائل فقہی کتابوں میں ہیں۔27

مولانا مودودی ان صورتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  ان صورتوں میں عورت کا خیار فسخ تو  باطل ہوگیا ۔ اس کے بعد ایسے ناکارہ شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دوسری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ وہ خلع کرلے مگر وہ اس کو مل نہیں سکتا ۔ کیونکہ شوہر سے مطالبہ کرتی ہے تو اس کا پورا مہر بلکہ مہر سے کچھ زائد لے کر بھی چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا ۔ اور عدالت سے رجوع کرتی ہے تو اس کو مجبور کرکے طلاق دلوانے یا تفریق کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اب غور کیجئے اس غریب کا  حشر کیا ہوگا  ؟ بس یہی نا کہ یا تو وہ خودکشی کرلے یا عیسائی راہبات کی طرح نفس کشی کی زندگی بسر کے اور اپنے نفس پر روح فرسا تکلیفیں برداشت کرے یا قید نکاح میں رہ کر اخلاقی فواحش میں مبتلا ہو ۔ یا پھر سرے سے دین اسلام ہی کو خیر باد کہہ دے ۔ مگر کیا اسلامی قانون کا منشا بھی یہی ہے کہ عورت ان حالات میں سے کسی حالت میں مبتلا ہو  ؟ کیا ایسے ازدواجی تعلق سے شریعت کے وہ مقاصد پورے ہوسکتے ہیں جن کے لئے قانون ازدواج بنایاگیا تھا ۔ کیا ایسے زوجین میں مود و رحمت ہوگی ۔ کیا وہ  باہم مل کر تمدن کی کوئی مفید خدمت کرسکیں گے ۔ کیا ان کے گھر میں خوشی اور راحت کے فرشتے کبھی داخل ہوسکیں گے ۔ 28مولانا مودودی کہتے ہیں کہ خصی ، مجبوب ، مجنون ان تمام کے بارےسابقہ  فقہاء کی قانون سازی عورت کے خلاف جاتی ہے ۔29

خاوند کے لاپتہ ہو جانے کی صورت میں تفریق

مفقود الخبر یعنی اگر کسی عورت کا خاوند لا پتہ ہوجاتا ہے، اس کی کوئی خبر نہیں تو اس کو بھی فقہاء نے ان اسباب میں شمار کیا ہے جن کی بنا پر عورت جدائی کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔ فقہاء کی اس بارے مختلف آراء ہیں ۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ خاوند کی عمر کے بقدر اس عورت کو انتطار کرنا ہوگا ، جبکہ مالکیہ نے چار سال کی مدت مقرر کی ہے ۔ اگر چار سال تک شوہر کی کوئی خبر نہ ہو تو قاضی عورت کے لئے فسخ نکاح کاحکم لگاکر اس کو نئے نکاح کی اجازت دے گا۔ دونوں قسم کی آراء کی بنیادیں صحابہ کرام کی آراء میں ملتی ہیں ۔فقہاء احناف اول موقف رکھتے ہیں لیکن موجودہ دور میں انہوں نے اس پر ازسر نوغور کیا ہے ۔ قریبی زمانے کے تمام فتاویٰ میں اس کو قاضی کی صوابدید پر چھوڑاگیا ہے کہ قاضی حالات وواقعات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرسکتاہے ۔ مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب اس میں ایک سال کی مدت مقرر کرتے ہیں ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے ایک فتویٰ میں بھی اس کی مدت ایک سال مقرر کی گئی ہے ۔ 30

  مولانا مودودی کہتے ہیں اس بارے میں قرآن و حدیث کی کوئی نص موجود نہیں ہے اس لئے یہ مسئلہ اجتہادی ہے ۔ بعض ضعیف  اور موضوع قسم کی روایات مذکور ہیں لیکن وہ قابل اعتبار نہیں ہیں ۔ مولانا مودودی اس مسئلہ میں بھی قرآن و حدیث سے براہ راست استنباط حکم کرتےہیں ۔ قرآن کریم میں ہے "فلاتمیلو کل المیل فتذروھا کا لمعلقلۃ" 31 اگر خاوند کی زندگی میں یہ حکم ہے کہ ان کو معلق نہ کرچھوڑو تو خاوند کے گم ہونے کی صورت میں یہ حکم کیوں نہیں ۔اسی طرح ایلاء کی صورت چار ماہ بعد قرآن کریم جدائی کا حکم لگادیتا ہے ۔ اس لئے ان صورتوں کو دیکھتے ہوئے اور زمانے کے حالات وواقعات کی بناء پر اس عورت کو اتنی لمبی مدت تک رکنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ مالکی مذہب ہی نصوص کے قریب ہے ۔ لیکن مالکی مذہب کی تفصیلات کو عموما نظر انداز کردیا جاتاہے۔ اس میں اگر خاوند نفقہ نہ چھوڑ کر گیا ہو یا بیوی کی عمر جوانی کی ہو اور فتنہ کا خوف ہو تو قاضی اس کو انتظار کا نہیں کہے گا بلکہ تفریق کا حکم لگادے گا ۔لیکن اگر حالات نارمل ہوں اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور خاوند نفقہ چھوڑ کر گیا ہو تو پھر قاضی کی صوابدید ہے کہ اس وقت صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک سال سے لے کے چار سال تک  انتظار کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔ مولانا مودودی نصوص کے قریب ہونے کی وجہ سے مالکی مذہب کو اپناتے ہیں ۔32

نفقہ پر عدم قدرت کی وجہ سے تفریق

نفقہ پر قدرت نہ ہونے یا نفقہ نہ دینے کو فقہاء نے فسخ نکاح اور خلع کے جائز اسباب میں شمار کیا ہے ۔اگر خاوند کی جانب سے تعدی پائی جائے، اس وقت تو فقہاء یہی کہتے ہیں کہ اگر عورت مطالبہ کرے تو تفریق کروادی جائے ۔ لیکن  اگر خاوند نفقہ پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں امام مالک کی رائے یہ ہے  کہ مناسب مدت دیکھ کر تفریق کا حکم لگادیا جائے ۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر شوہر کے پاس نہ ہوں تو مجبور نہیں کیاجائے گا ۔ اگر ہوں لیکن وہ دیتا نہیں تو عورت خود انتظام کرے اگر نہیں کرسکتی تو جدائی کا حکم لگایاجائے گا۔33 مولانا مودودی اس سلسلے میں مالکیہ کی رائے کو لیتے ہیں۔ عورت کو چاہیے تو یہی کہ صبر کرے اور آزمائش کا مقابلہ کرے، لیکن اخلاقیات کا دائرہ قانون سے الگ ہے ۔ فقہی اور قانونی طور پر اس کو اختیار ہوگا کہ اگر ایسے خاوند کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو نکاح کو فسخ کردیا جائے گا۔ اس کو قانونی طور پر اس چیز کا پابند نہیں بنایا جاسکتاہے کہ وہ اس خاوند کے ساتھ رہے ۔ 34

ایلاء کی مدت میں بیوی سے دور رہناوجہ تفریق

اگر خاوند قسم اٹھالیتا ہے کہ وہ چار ماہ بیوی کے پاس نہیں جائے گا   تو  نہ جانے کی صورت میں ، ایک فقہی موقف کے مطابق اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اسلام سے پہلے ایسی صورتوں کو لوگ بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کرتےتھے۔ اسلام نے ان کا سدباب کیا اور اس کو اسباب تفریق میں شمار کیا ۔ لیکن اگر کوئی شخص قسم الگ رہنے کی قسم تو نہیں کھاتا، لیکن عملا بھی عورت کے قریب نہیں جاتاتو   اس کا حکم  کیا ہوگا ؟ مولانا مودودی کہتے ہیں کہ علت دونوں میں ایک ہی ہے یعنی عورت کو ضرراور تکلیف پہنچانا ، عورت کو معلق کر چھوڑنا یا ان کو تکلیف پہنچانا۔ جب یہ حکم اسی کے سدباب کے لئے ہے تو  قسم نہ کھانے کی صورت میں بھی یہی حکم لگایا جائے گا ۔ مالکیہ کی رائے بھی یہی ہے کہ اگر تکلیف دینے کی نیت سے ایسا کرے تو قسم نہ بھی کھائی ہو تو ایلاء واقع ہوجائے گا ، کیونکہ ایلاء سے مقصود بھی ضرار کو روکنا ہے ۔ 35

مرد کو طلاق کا مشروط اختیار

شریعت میں طلاق کا اختیار مرد کو دیاگیا ہے، عورت کو نہیں دیاگیا ہے ۔ اس کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ عورت جلد باز ہوتی ہے ، معاملہ فہم نہیں ہوتی ۔ بے اسوچے کوئی فیصلہ کرلیتی ہے یا یہ کہ گھر کا خرچ چلانے والا مرد ہوتاہے، اس لئے حق طلاق بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے ۔ان چیزوں کا تعلق خاص حالات اور زمانےسے  تو ہوسکتاہے، لیکن ان چیزوں کو بنیاد بناکر حق طلاق کو مطلقا مرد تک محدود کرنا درست نہیں ۔ جہاں تک نصوص کا تعلق ہے، ان میں بھی اشارات سے ہی استدلال کیا گیا ہے کہ طلاق کی نسبت مرد کی طرف کی گئی ہے، عورت کی طرف نہیں کی گئی، اس لئے حق طلاق مرد کو ہے عورت کو نہیں ۔ اس بارے کوئی صریح نص نہیں ہے ۔ لیکن ان استدلالات کو اگر تعامل کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے   تو رسول اللہ ﷺ اور مابعد کے ادوار میں عورتوں نے کبھی طلاق نہیں دی ، ہمیشہ سے مرد ہی طلاق دیتے آرہے ہیں۔ کسی عورت کو اگر ضرورت پڑی بھی تو اس نے طلاق دینے کی بجائے خلع یا عدالت سے تنسیخ نکاح کی درخواست کی ۔ اس لئے یہ بات درست ہے کہ شریعت میں اصولا طلاق کا اختیار مرد کو دیا گیا ہے ۔ لیکن مرد کے اختیار نے اس کو مطلق العنان بنانے میں کردار ادا کیا ہے جس کا ازالہ شرع کے بہت سے احکامات میں کرنے کی کوشش کی گئی ۔مولانا مودودی بھی اس کا حل تجویز کرتے ہیں ۔

قرآن کریم کی مختلف آیات سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ حق طلاق صرف خاوند کے پاس ہے ۔"الا ان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح" 36  اس آیت کے آخری فقرہ میں اس قاعدہ کی تصریح کی گئی ہے کہ عقدہ نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے اور وہی باندھے رکھنے یا کھول دینے کا اختیار رکھتا  ہے ۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں طلاق کا ذکر آیا ہے، مذکر کے صیغوں میں آیا ہے ، اور فعل کو مرد ہی کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ مثلا "ان عزموا الطلاق، فان طلقھا، اذا طلقتم النساء فطلقوھن" یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شوہر بحیثیت شوہر ہونے کے طلاق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار رکھتا ہے اور کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جاسکتا  جو اس کا یہ حق سلب کرتاہو ۔37

خاوند کے حق طلاق کو مولانا مودودی مشروط کرتے ہیں ۔ اس کے لئے اگر چہ عمومی قسم کی آیات سے استدلال کرتے ہیں جو خاص اس حوالے سے نہیں اتاری گئیں، لیکن ان کا یہ استدلال اہم ، مفید اور دلچسپ ہے ۔ "اسلام میں تمام حقوق اس شرط کے ساتھ مشروط ہیں کہ ان کے استعمال میں ظلم اور حدود اللہ سے تجاوز نہ ہو ۔ "و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ" 38 لہذ ا جو شخص حدود اللہ سے تجاوز کرتا ہے وہ خود اپنے آپ کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اس کا حق سلب کرلیا جائے ۔ پس جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے   ظلم و ضرر کی شکایت ہو تو بقاعدہ "فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ و الرسول" 39   اگر اس کی شکایت جائز ثابت ہوگی تو قانون نافذ کرنے والوں یعنی اولی الامر کو حق ہوگا کہ شوہر کو اس کے اختیار سے محروم کرکے بطور خود اس اختیار کو استعمال کریں ۔ قاضی کو فسخ ، تفریق اور تطلیق کے جو اختیارات شرع میں دیے گئے ہیں ، وہ اسی اصل پر مبنی ہیں۔ 40

نابالغ کا نکاح

مولانا مودودی احادیث و آثار کی روشنی میں کہتے ہیں کہ عورت کے نکاح میں ولی کی رائے کا دخل ہونا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں عورت اس معاملے میں بےا ختیار ہے اس کی رضامندی سے ہی کوئی بھی فیصلہ کیا جاسکتاہے ۔ احناف کا فقہی موقف یہی  ہے کہ عورت اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے، لیکن اگر ایسی جگہ شادی کرے جو خاندانی طور پر برابر نہ ہوں تو پھر سرپرستوں کو اعتراض کا حق ہے ، ور نہ اس کا کیا نکاح نافذ ہوگا۔41 اگرچہ آج ہم اس فقہی اور روایتی موقف کے اظہار میں تردد کا شکار ہوتے ہیں لیکن احناف کی فقہ و فتاویٰ کی تمام کتابوں میں آج بھی یہی موقف ملتاہے ۔تاہم اس سے کوئی غلط دروازہ نہ کھلےاس لئے اس پر کچھ حدود و قیود لگائی جاسکتی  ہیں ۔

  اگرلڑکی یا لڑکا  نابالغ ہو اور اس  کا باپ یا کوئی ولی اس کا نکاح کردے تو  بالغ ہونے کے بعد کیا اس کو اختیار ہو گا  کہ اس نکاح کو باقی رکھے یا نہیں ؟ فقہاء عام طور پر کہتے ہیں کہ با پ اور دادا کے علاوہ  کسی نے نکاح کیا ہو تو  بالغ ہونے کے بعد اختیار ہوگا کہ چاہے اس نکاح کو باقی رکھے اور چاہے اس کو رد کردے۔ لیکن اس میں بھی فقہی طور پر  جس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں، وہ نہایت عجیب ہیں۔ مثلا یہ  کہ اگر بالغ ہونے کے بعد اس کو جس مجلس میں پتہ چلا ہے،اسی مجلس میں اس کو رد کردے، تب تو اس کو یہ اختیار ہوگا ور نہ نہیں ۔ اگر یہ نکاح باپ ، دادا نے کیا ہو تو لڑکی یا لڑکے  کو بالغ ہونے کے بعد اختیار نہیں ہوگا، چاہے ان کو یہ رشتہ پسند ہو یا نہیں۔ اسی طرح انہوں نے غیر کفو میں نکاح کر دیا ہو یا  مہر کم طے کردیا ہو، تمام صورتوں نکاح لازم ہے ، کیونکہ ان کی شفقت کامل ہوتی ہے، وہ ان کا برا نہیں سوچ سکتے ہیں۔ اس کو ولایت اجباری کہتے ہیں۔ تا ہم اگر ان کی جانب سے بددیانتی پائی جائے، تب احناف بھی لڑکے اور لڑکی کو اختیار دیتے ہیں۔ 42

مولانا مودودی کہتے ہیں کہ لڑکی کے لئے ولایت اجباری باپ اور دادا کے لیے ثابت  نہیں، اس کا کسی روایت سے ثبوت نہیں۔ بالغ ہونے کے بعد اگر لڑکی کو اختیار ہے تو بلوغت سے پہلے کے گئے نکاح میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ 43

فقہاء نے عام طور پر جن روایات سے استدلال کیا ہے، وہ واقعاتی نوعیت کی ہیں۔ مثلا حضرت عائشہ نے اپنی بھتیجی کا نکاح کردیا ، یاحضرت عائشہ کا نکاح ان کے والد نے کردیا ۔ لیکن یہ ولایت اجباری میں صریح نہیں ہیں  اور  ان میں ولایت اجباری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ جس عورت کا نکاح کیا گیا، اس نے بالغ ہونے کے بعد رد کردیا ہو اور پھر اس کے رد کو قبول کیا گیا یا قبول نہیں کیا گیا ،  ایسی کوئی تصریح روایات میں نہیں ہے ۔ اس لئے یہ مسئلہ اجتہادی نوعیت کا ہے اور مولانا مودودی مسائل میں اجتہاد کو بروئے کار لاتے ہیں جیسا کہ دیگر مسائل میں بھی ان کا طریقہ ہے۔  اس جگہ بھی وہ فقہاء سے الگ رائے قائم کرتے ہیں اور باپ، دادا کے لئے  ولایت اجباری کے قائل نہیں ہیں ۔ بعض روایات  میں صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا بغیر اجازت نکاح نہ کیا جائے۔ 44 جب روایات میں صراحت ہے اور ولایت اجباری کسی تصریح سے ثابت نہیں ہے تو انہی تصریحات کی روشنی میں اس مسئلہ کو دیکھنا چاہیے۔

حاصل کلام

عورتوں کے بارے میں مغربی تہذیب کے تصورات پر مولانا نے بہت جاندار تنقید کی ہے اور اس سے ہمارے معاشروں کو جو خطرات در پیش ہیں، ان کی بھی نشاندہی کی ہے۔  تاہم مغربی تہذیب کے تصورات پر تنقید اور اس کا متباد ل پیش کرتے ہوئے مولانا نے زمانی تصورات کا بھی کافی اثر قبول کیا ہے۔ روایتی حلقے میں مولانا مودودی نے جماعت کی تنظیم میں جس طرح عورتوں کو شامل کیا ہے، اس طرح کسی دوسری جماعت میں عورتوں کی شرکت نظر نہیں آتی ہے۔ اسی طرح خواتین کی تعلیم و تربیت اور زندگی کے عملی میدانوں میں ان کی شرکت جماعت اسلامی میں نمایاں نظر آتی ہے۔

مولانا مودودی نے روایتی اور فقہی تصورات میں سے  جو  چیزیں  زمانے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، ان میں فقہاء کی آرا سے وسیع تر استفادہ کے علاوہ قرآن و سنت پر براہ راست غورو فکر کے ذریعے سے مختلف اجتہادی آرا قائم کی ہیں ۔ اسلامی روایت میں عورت کے حوالے سے جو علاقائی ، زمانی  اور فقہی تصورات دین کا حصہ بن گئے، مولانا مودودی ان پر بھی کلام کرتے ہیں اور نصوص کو براہ راست دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا کی خوبی یہ ہے کہ وہ نصوص کے فہم کو ائمہ مجتہدین  کے اقوال میں سے کسی قول کی روشنی میں لیتے ہیں  ۔ مولانا نے روایتی فریم ورک کی حفاظت  کی کوشش کی  ہے۔  ان کی یہ کوشش مدلل اور معقول نظر آتی ہے ، لیکن اس کوشش میں کہیں مبالغہ بھی نظر آتاہے۔ روایت کی تنقیح کے لیے ضروری ہے کہ ان مبالغہ آمیز تصورات کا روایت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ۔

جدید دور میں  مسلم مفکرین اور معاشروں کو عام طور پر فکری انتشار کی کیفیت اور نظام عمل وفکر میں مناسبت کے فقدان  کا سامنا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کے تدارک کی کوشش کی جائے اور مسلم مفکرین وفقہاء کی فکر کی روشنی میں جدید دور میں خواتین کے معاشرتی مقام اور کردار کے حوالے سے کوئی جامع ، منظم اور مرتب فکری و عملی نظام وضع کرنے کی کوشش کی جائے۔


حوالہ جات

  1.  البقرۃ ،228
  2.  النساء ،34
  3.   جامع البخاري ، رقم :   7138  ومسلم ، رقم :  1829
  4.  النساء،34
  5.  مودودی ، سید ابوالاعلی ،  پردہ ، لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ص 198
  6.   پردہ ، ص 204
  7.   اسلامی ریاست، 538
  8.   اسلامی ریاست،539
  9.   اسلامی ریاست، 538
  10.   پردہ  ، 156ـ 162
  11.  مودودی ، سید ابو الاعلی ،  خطبات یورپ ،لاہور : ادارہ ترجمان القرآن ، ص 125
  12.   پردہ ، 153
  13.  مودودی ، سید ابو الاعلیٰ ،  اسلام دور جدید کا مذہب ،لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص ،19
  14.   پردہ ،  210
  15.   پردہ ،  261
  16.   پردہ ، 266
  17.   النساء : 34
  18.   صحیح  بخاری: 4425
  19.   مودودی ، سید ابو الاعلی ، اسلامی ریاست ، لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص،  402
  20.   مودودی ، سید ابولاعلی ، سنت کی آئینی حیثیت لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص 282
  21.   فتوی نمبر : 144201201197دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
  22.   الجامع الصحیح ، رقم : 4867
  23.   أبو داود ، سلیمان بن اشعث السجستانی ،السنن ،  دار الرسالۃ العالمیۃ ، رقم :  2226، الترمذي ، محمد بن عیسی ، جامع الترمذی ، سعودی عرب : وزارة الشؤون الإسلاميةرقم :  1187
  24.   حقوق الزوجین ،ص، 69
  25.  حقوق الزوجین ، 126
  26.   حقوق الزوجین ، ص 130
  27.   تمرتاشی ، محمد بن عبد اللہ غزنی ، تنویر الأبصار ،ج4 ، ص 249ـ254 ابو المعالی البخاری ، محمود بن احمد ،  محیط البرهاني ، بیروت : دار الکتب العلمیہ ، ج 4 ص 1238
  28.   حقوق الزوجین ص 78
  29.   حقوق الزوجین ،  138
  30.   فتوی نمبر :  144104200978دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
  31.  النساء،129
  32.  حقوق الزوجین ، ص 142
  33.   بدائع الصنائع ، 524، رد المختار ، ج5ص 306
  34.   حقوق الزوجین ، 125
  35.   حقوق الزوجین ، ص 36 ، 37
  36.  البقرۃ: 237
  37.   حقو ق الزوجین ، ص 104
  38.   الطلاق : 1
  39.   النساء : 59
  40.   حقوق الزوجین ، ص 105
  41.   کاسانی  ، بدائع الصنائع ، بیروت : دار الکتب العلمیہ ج2، ص 247،
  42.   حصکفي، الدر المختار، بيروت، لبنان: دارالفکر ج، 3 ص، 66، 67،  الفتاویٰ الھندیۃ ، بیروت ، دار الکتب العلمیۃ  ، ج  : 1 ، ص:285
  43.   مودودی ، سید ابوالاعلی ،حقوق الزوجین ، لاہور : اسلامی پبلیکیشنز ،ص 116
  44.   بخاری،محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحيح،بیروت : دار ابن کثیر ، رقم : 4843


’’الوفاء باسماء النساء‘‘ (محدّثات انسائیکلوپیڈیا) / ” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“

ادارہ

علمی حلقوں میں یہ خبر بہت خوشی و مسرّت کے ساتھ سنی جائے گی کہ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی(ولادت 1964) کی محدّثات انسائیکلوپیڈیا ، جس کا چرچا تقریباً 15 برس سے تھا ، منظرِ عام پر آگئی ہے۔  اسے دار المنھاج ، جدّہ ، سعودی عرب نے'الوفاء بأسماء النساء' کے نام سے 43 جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

ڈاکٹر اکرم ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے 1981 میں عالمیت اور 1983 میں فضلیت کی ہے ۔  مجھے ان کے ساتھ 5 برس ہم درس رہنے کی سعادت حاصل رہی ہے۔  بعد میں انھوں نے لکھنؤ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔  ندوہ سے فراغت کے بعد انھوں نے ندوہ ہی میں چند برس تدریسی خدمت انجام دی ، پھر مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی ہدایت پر برطانیہ چلے گئے اور آکسفورڈ سینٹر آف اسلامک اسٹڈیز کے فیلو بن گئے تھے ۔  چند برس قبل انھوں نے وہاں سے علیٰحدگی اختیار کرلی ہے۔  ان دنوں وہ السلام انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل اور کیمبرج اسلامک کالج کے ڈین ہیں۔  حدیث ، فقہ ، سوانح ، سفرنامہ اور دیگر موضوعات پر عربی ، اردو اور انگریزی میں ان کی تقریباً 3 درجن تصانیف اور تراجم ہیں ۔

زیرِ تذکرہ کتاب ان کا غیر معمولی کارنامہ ہے  _ اس میں عہدِ نبوی سے موجودہ دور تک کی دس ہزار ایسی خواتین کا تذکرہ ہے جنھوں نے کسی نہ کسی پہلو سے حدیثِ نبوی کی خدمت انجام دی ہے۔ مثلاً علمِ حدیث حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر کیا ہے ، حدیث کی روایت کی ہے ، حدیث کی تعلیم و تدریس کی خدمت انجام دی ہے ، احادیث حفظ کی ہیں ، حدیث کے مجموعے تیار کیے ہیں ، حدیث کے موضوع پر تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے ، کتبِ حدیث کی شرح کی ہے ، حدیث کی تعلیم کے ادارے قائم کیے ہیں ، وغیرہ ۔ انھوں نے یہ کام 15 برس قبل کرلیا تھا ، پھر اس میں اضافے کرتے رہے  ۔ اس کے مقدمہ کا انھوں نے خود ہی انگریزی ترجمہ کرلیا تھا ، جو   UK سے Al_Muhaddithat : The women Scholars in Islam  کے نام سے 2007 میں شائع ہوگیا تھا ۔ (یہ انگریزی کتاب انٹرنیٹ پر موجود ہے )

اصل عربی کتاب کو طبع کرانے کی کوششیں اسی وقت سے جاری تھیں ۔عالم عرب کے کئی ناشروں سے بات ہوئی تھی ، لیکن بہت زیادہ ضخیم ہونے اور خطیر مصارف کی وجہ سے کوئی ناشر اسے چھاپنے کی ہمّت نہیں کرپارہا تھا ۔ بالآخر جدّہ کے دار المنہاج نے اس کا حوصلہ دکھایا اور اس کی دل چسپی سے مکمل انسائیکلوپیڈیا زیورِ طبع سے آراستہ ہوگئی ہے۔

بھائی اکرم ندوی اس عظیم علمی خدمت پر تحسین و ستائش کے مستحق ہیں ۔ پوری ندوی برادری کو ان پر ناز ہے ۔ انھوں نے یورپ میں بیٹھ کر ان مستشرقین کے الزام کا منھ توڑ جواب دیا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو گھر کی چہار دیواری میں بند کرکے تحصیلِ علم سے  محروم رکھا ہے ۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“

قرآن کریم میں انسان کی عائلی زندگی سے متعلق جن معاملات کے بارے میں تفصیل سے اصولی ہدایات دی گئی ہیں ان میں نکاح و طلاق کے مسائل سرِ فہرست ہیں۔ نکاح کے مقاصد، نکاح میں مذہب کی اہمیت، تعددِ ازدواج، نکاح کے بعد کی زندگی میں خانگی ذمہ داریاں، میاں بیوی کے در میان ناچاقی و تنازعات کا حل اور دیگر امور کے بارے میں تفصیلی ہدایات موجود ہیں۔ اسی طرح اگر میاں بیوی کے در میان باہم نباه ممکن نہ رہے تو اس عقد کو ختم کرنے کا طریقہ کار بھی طلاق کی صورت میں بتایا گیا ہے۔ تاہم نکاح و طلاق کا انعقاد کیسے ہوگا، اس کی تفصیلات سے قرآن کریم میں تعرض نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسائل میں ایک سے زائد آراء اور طریق کار کی گنجائش پیدا ہو گئی۔ چنانچہ ائمہ مجتہدین نے اپنے ماحول اور عرف و رواج کے مطابق ان آیات کی تعبیر و تشریح کی۔

مناکحات کے باب میں جو مسئلہ قرنِ اوّل سے معرکہ آراء رہا وہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ہیں۔ حضرات صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے ہاں بھی ایک مجلس کی طلاق ثلاثہ کے بارے میں ایک سے زائد آراء موجود تھیں۔ اسی طرح تابعین اور بعد کے ادوار میں ہر زمانے میں فقہائے کرام کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا۔ ائمہ اربعہ نے اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے بعد اجماعی مسئلے کے طور پر دیکھا جبکہ بعض دیگر کبار ائمہ اور بعد کے ادوار میں خود ائمہ اربعہ کے پیروکاروں میں نامور فقہائے کرام نے اسے ایک ایسے اجتہادی مسئلے کے طور پر لیا جس میں تعددِ آراء کی گنجائش موجود ہے۔

طلاق کا مسئلہ شرعی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خالص سماجی مسئلہ بھی ہے۔ سماج پر اس کے منفی یا ناخوشگوار اثرات بہر صورت مرتّب ہوتے ہیں۔ اس لیے اس حوالے سے کوئی نقطۂ نظر اختیار کرتے وقت مسئلے کے سماجی پہلو کو ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے اس مسئلے کے حوالے سے افراط و تفریط کی صورتِ حال ہے۔ ایک طرف ایقاعِ طلاق میں بے احتیاطی ہے اور دوسری طرف وقوعِ طلاق میں شدّت کا رویّہ ہے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلے کو سماجی تناظر میں دیکھا جائے اور خاندان کو توڑنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

عزیزم محمد تہامی بشر علوی نوجوان محقق ہیں۔ انہوں نے طلاقِ ثلاثہ کے مسئلے کو سماجی تناظر میں دیکھنے کی کو شش کی ہے۔ بیک وقت تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کی حمایت میں مضبوط دلائل دیے ہیں۔ یکبارگی کی تین طلاقوں کے نتیجے میں حلالہ کی صورت میں جو شریعت کی روح کے خلاف حیلے اختیار کیے جاتے ہیں ان کی شرعی حیثیت بھی واضح کی ہے۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے بارے میں متقدمین فقہاء اور معاصر اہل علم کے نقطہ ہائے نظر کو جمع کر کے مسئلے کے اجماعی پہلو پر بھی بحث کی ہے۔ علاوہ ازیں مسئلے کے ضمنی متعلقات یعنی حدودِ تقلید اور فقہی توسیع پر بھی عمده گفتگو کی ہے۔ مؤلف کے بقول اس کتاب کی تحریر کا محرک بیک وقت تین طلاقوں کی وجہ سے سماجی طور پر جنم لینے والے المیے ہیں کہ کس طرح تین طلاقوں کی وجہ سے آناًفاناً ایک ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ جاتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بیک وقت تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آئے دن تین طلاقوں کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ پھر جب غلطی پر ندامت کا احساس ہوتا ہے تو علماء سے رجوع کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب اس حوالے سے علمی ضرورت پوری کرتی نظر آتی ہے۔ امید ہے علمائے کرام اس سے مستفید ہوں گے۔

کتاب کی زبان رواں اور اسلوبِ نگارش علمی و تحقیقی ہے۔ یکبارگی کی تین طلاقوں کے حوالے سے اس کتاب نے چبھتے ہوئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علمی حلقے اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اسے اَز سرِ نو زیر غور لائیں اور ایک اجماعی موقف تشکیل دینے کی کوشش کی جائے۔ میرے خیال میں یہ کتاب اس اعتبار سے بھی لائق تحسین ہے کہ نوجوان اہل علم میں بھی احکامِ شرع کو سماج کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کا ذوق پروان چڑھنے لگا ہے۔ دعا ہے کہ الله تعالىٰ اس ذوق میں اضافہ فرمائے اور مستقبل قریب میں ہمیں اس حوالے سے مزید علمی تحقیقات دیکھنا نصیب ہوں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

‎کتاب بذریعہ ڈاک منگوانے کے لیے حافظ طاہر صاحب سے رابطہ کریں:  923066426001