دسمبر ۲۰۲۱ء

خاندانی نظام اور دور جدید کے رجحاناتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۳)ڈاکٹر محی الدین غازی 
علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۵)مولانا سمیع اللہ سعدی 
امام شافعی: مستشرقین و ناقدین مستشرقین کی نظر میںڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 
دورحاضرمیں اسلامی فکر : توجہ طلب پہلوڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
مسلم حکومتیں اور اسلامی نظاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شرعی احکام اور ہمارا عدالتی نظاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مجمع العلوم الاسلامیہ: اصولی موقف اور بنیادی اعتراضاتمحمد عرفان ندیم 

خاندانی نظام اور دور جدید کے رجحانات

محمد عمار خان ناصر

(حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر اس موضوع کے بعض اہم پہلووں سے متعلق کچھ  معروضات پیش کی گئیں جنھیں ایک مناسب ترتیب سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔)


قیامت کے قریب رونما ہونے والے مظاہر کا ذکر متعدد احادیث میں کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث میں، جسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے،  ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ أمورکم الی نساءکم، یعنی تمھارے معاملات تمھاری خواتین کے سپرد ہو جائیں گے۔ مولانا وحید الدین خانؒ نے  اس پیشین گوئی کو  فیمنزم یا صنفی مساوات کے اس ظاہرے پر منطبق   کیا ہے جو دور جدید   میں نمایاں ہوا ہے۔  اس حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ  فیمنزم کے ظاہرے کا ذکر اس حدیث میں کس پہلو سے ہوا ہے؟ کیونکہ احادیث میں قرب قیامت کی علامات کا ذکر عموما منفی رنگ میں ہوا ہے، یعنی ان کو معاشرت اور رویوں میں اختلال کے پہلو سے بیان کیا گیا ہے۔   

ہمارے خیال میں اس حدیث کا انطباق فیمنزم کے ظہور پر کرنا ذرا غور طلب بات ہے۔ اس مضمون کی دیگر احادیث سے جو بات سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ مرد، جن کے ذمے زیادہ تر معاملات کی انجام دہی رہی ہے، اپنے فیصلوں میں غیر ضروری طور پر اپنی بیویوں کے زیر اثر ہوں، اس طرح کہ ذمہ داریوں کی متوازن ادائیگی میں خلل واقع ہونے لگے۔ یہاں بنیادی طور ہر اس مزاج کی بات نہیں ہو رہی جس کو ہمارے ہاں زن مریدی سے تعبیر کیا جاتا ہے، بلکہ اس سے اخلاقی طور پر ذمہ داریوں کی ادائیگی پر پڑنے والے اثرات، یعنی ناانصافی اور جانبداری وغیرہ کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ سمجھنے کے لیے عہد نبوی کا ہی ایک واقعہ پیش نظر رکھا جا سکتا ہے جس میں ایک صحابی نے ایک اہلیہ کی خوشنودی کے لیے صرف اس بچے کو باغ تحفے میں دینے کا ارادہ کر لیا جس کو وہ دلوانا چاہتی تھی، اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ فرمانا پڑی۔

یہ پہلو اگر خانگی معاملات سے آگے بڑھ کر عمومی معاشرت میں بھی ظاہر ہونے لگے تو وہ بھی اسی کا مصداق ہوگا۔ اس لحاظ سے فیمنزم کے وہ بیانیے جو ردعمل میں پوری انسانی معاشرت کو اب سر کے بل کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں، یقینا اس حدیث کے تحت آتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ " أمورکم الی نساءکم" (اگر اس سے واقعتا فیمنزم کے ظاہرے کی نشاندہی مقصود ہے) بھی یہی بتاتے ہیں کہ معاملات کلیتا نسوانی نقطہ نگاہ سے طے کیے جانے لگیں گے اور یوں معاشرت کے فساد پر منتج ہوں گے۔ الفاظ میں اس کی طرف کوئی اشارہ دکھائی نہیں دیتا کہ خواتین کا امور معاشرت میں زیادہ فعال شرکت کرنا یا اپنے حقوق اور مقام سے متعلق زیادہ باشعور ہو جانا بھی کوئی منفی چیز ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس کو ایک مخصوص تاریخی ظاہرے پر سو فیصد منطبق کرنے کے بجائے اس اخلاقی پہلو کو ملحوظ رکھنا چاہیے جس کے پیش نظر امورکم الی نساءکم کو قرب قیامت یعنی اخلاقی ودینی فساد کی ایک علامت شمار کیا گیا ہے۔

سوالات

(مذکورہ معروضات پر کچھ اہم سوالات سامنے آئے جو ذیل میں درج کیے جا رہے ہیں)

وقاص خان: فیمنزم کے معاملے میں 'انسانی معاشرے کو سر کے بل کھڑا کرنے' کی تعبیر سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ کے ہاں پدر سری سماج دراصل 'سماج کا درست زاویہ' ہے اور نسوانیت جب اسے نشانہ تنقید بنائے تو یہ درست کو نادرست کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟

جواب: خاندان فطری طور پر ایک پدرسری ادارہ ہے۔ اس کی قلب ماہیت نہیں ہو سکتی۔ اس کی ریفلیکشن عمومی معاشرت میں بھی ہونا ناگزیر ہے، لیکن اس کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

وقاص خان: لیکن ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خاندان کی قدیم صورت تبدیل ہونا ممکن ہو گیا ہے۔ خواتین بچے کی خواہش میں اپنا جسم ہی استعمال کریں، یہ ضروری نہیں رہا۔ اگرچہ یہ پراسس نسبتا سست رفتار ہے، مگر اس کے اثرات میں خاندان کا فطری طور پر پدر سری ہونا شاید حتمی پوزیشن نہیں۔ اس کے ساتھ خاندان کا ایک ہی مفہوم کہ اس کے ذریعے سے نسل آگے بڑھے، اب واحد یا سب کے لیے ہمیشہ سے مرغوب ترین انتخاب بھی نہیں رہا۔ یہ دونوں آپشنز اور ان کے ساتھ خواتین میں پروفیشنلزم کی مقبول شکل کے ہوتے ہوئے آپ کے بنیادی مقدمے کی غیر مذہبی حیثیت کیا رہے گی؟

جواب: فطری کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی کسی دخل اندازی کے بغیر کوئی چیز کیسی ہے۔ اس مفہوم میں خاندان فطری طور پر ہی پدرسری ہے۔ انسان فطرت میں مداخلت کر کے صنفوں کی نئی خصوصیات متعین کر لے تو یہ فطری تو نہیں ہوگا۔ اس کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ کرنے کی کوئی نیوٹرل اساس نہیں جس کو معیار مانا جائے۔ اہل مذہب اپنی اساسات پر فیصلہ کریں گے، دوسرے لوگ اپنی اساسات پر کر سکتے ہیں۔

سنیہ ڈار: خاندان کا ادارہ اپنی فطرت میں ہے ہی پدر سری ، یعنی خاندان کا ادارہ معاشرے میں قائم رکھنے کے لیے پدر سریت نا گزیر ہے اور فطری ہے؟ یعنی مذہب پدر سریت کو جواز دیتا ہے بلکہ خاندان کا ادارہ بنانے کے لیے اسے ایک لازمی جزو کے طور پر مانتا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو یہاں آپ ایک انتہا کو تو دین کی أساس پر فطری ٹھہراتے ہیں جبکہ دوسری انتہا کو معاشرت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

جواب: آپ کے سوال سے پدرسری کا جو مفہوم سامنے آ رہا ہے، وہ اس کا صحیح مفہوم نہیں۔ پدرسری کا مطلب یہ ہے کہ مرد اولاد حاصل کرنے کے لیے عورت کو اپنے نکاح میں لیتا ہے اور کنبے کے سربراہ کے طور پر اس کی کفالت وحفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس میں "ایک انتہا" کون سی ہے جس کو فیمنزم کی دوسری انتہا کے مقابلے میں رکھا جائے؟ ہاں مرد کے اختیار اور حاکمیت میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے جیسے خواتین کی جانب فیمنزم کی بعض صورتوں میں ہوتا ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کا تقابل کرنا چاہیے۔ پدرسری فی نفسہ کوئی انتہا نہیں ہے، ایک فطری نظام ہے۔

سنیہ ڈار: اس فطری پدر سری نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مذہب کے مطابق مرد کے اختیار اور حاکمیت کی حد کیا ہے ؟

جواب: رشتہ نکاح میں زوجین کے حقوق وفرائض شریعت میں بہت وضاحت سے بیان ہوئے ہیں۔ ان کی تفصیل تو وہاں دیکھنی چاہیے۔ البتہ اگر مراد اختیار کا سوء استعمال اور اس کا سدباب ہے تو یہ انتظامی مسئلہ ہے۔ اس میں قرآن نے خاندان کے بااثر افراد کو کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرتی سطح پر تعلیم وتربیت اور سماجی دباؤ کے مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں اور ریاست بھی اس ضمن میں مددگار پالیسیاں بنانے اور قانونی  اقدامات کی ذمہ دار ہے۔

سنیہ ڈار: آخری سوال یہ ہے کہ کیا مذہب کے مطابق اس فطری پدر سری نظام میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے؟ یعنی مذہب کے مطابق یہ نظام ہمیشہ ہر دور میں ایسا ہی رہے گا تو ہی خاندان کا ادارہ برقرار رہے گا اور کسی اور صورت میں اس کی بقا اور نشوونما ہر گز ممکن نہیں ہے؟ ہر دوسری صورت یا تبدیلی انارکی پر منتج ہو گی چنانچہ اسے ہمیشہ ایسے ہی اسی فارم میں قائم رہنا چاہیے؟  مذہب کے مطابق اس حوالے سے کس حد تک لچک کی گنجائش ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں؟

جواب:  جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیوں کے ضمن میں  ایک بنیادی سوال کا جواب پہلے طے کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ کیا ہم سماجی زندگی کی تشکیل میں کچھ چیزوں کو ثوابت مانتے ہیں یا سب کچھ قابل تبدیل ہے؟ اگر ہر چیز قابل تبدیل ہے تو پھر خاندان کے ادارے کی ہیئت بھی قابل تبدیل ہے، بلکہ شاید خاندان کے ادارے کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر کچھ چیزیں ناقابل تبدیل ہیں تو حد فاصل قائم کرنے میں ہم بطور مسلمان شریعت کو کیا اہمیت دیتے ہیں؟ اگر شریعت ثابت اور متغیر کی تعیین میں ماخذ ہے تو جواب اس کے مطابق ہوگا۔ اگر شریعت ماخذ نہیں ہے تو پھر ثوابت کو طے کرنے کے لیے کوئی اور معیارات وضع کرنے ہوں گے، اگر وہ ممکن ہوں۔

اس سیاق میں ہمارا موقف یہ ہے کہ شریعت ہمارے لیے خاندانی نظام کی تشکیل میں ماخذ ہے اور اس میں دیے گئے ثوابت کی پابندی ہم پر بطور مسلمان لازم ہے۔ بطور مسلمان کی وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کی دوسری تہذیبیں اس ضمن میں مختلف تجربات کر سکتی ہیں اور ان کا دنیا میں سیاسی عوامل سے عمومی شیوع بھی ہو سکتا ہے، لیکن مسلمان ان تجربات کو شریعت پر نہیں، بلکہ شریعت کو ان تجربات پر حکم مانیں گے۔

اس بنیادی نکتے کی روشنی میں، مختلف مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ لے کر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کون سی شرعی اصولوں کے لحاظ سے قبول کی جا سکتی ہے اور کون سی نہیں۔

سنیہ ڈار: یعنی  مسلمانوں کے لیے بھی زمانے اور صورتحال کی بنا پر اس وضع شدہ نظام کے اندر تغیر و تبدل ممکن ہے بشرطیکہ وہ تبدل شریعت سے انحراف پر مبنی نہ ہو؟ اور یہ فطری پدر سری نظام جامد  نہیں ہے کہ اس میں تبدیلی سرے سے ممکن ہی نہیں؟

جواب:  بالکل۔ پدرسری نظام کے جن پہلووں کا تعلق عرف اور کلچر سے ہے، وہ یقینا قابل تبدیل ہیں۔ اسی طرح کسی خاص پابندی کی بنیاد اگر کسی علت پر ہے تو اس کی روشنی میں بھی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ کسی پابندی میں ملحوظ مصلحت اگر تقاضا کر رہی ہو کہ قانون کی ظاہری ہیئت میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں تو اس کا راستہ بھی کھلا ہے۔


اسی بحث سے جڑا ہوا  ایک سوال گزشتہ دنوں محترمہ ڈاکٹر عابدہ شریف نے اٹھایا  کہ  آج مغربی سماج میں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کے والدین پر اس کے باقاعدہ حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں، جبکہ اسلامی قانون کی رو سے ایسے بچے کی ولدیت وراثت کے حقوق صرف ماں سے ثابت ہوتے ہیں، یعنی بچے کا باپ اس کی پرورش،  اخراجات اور وراثت وغیرہ تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہے۔   اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں بدکاری کے مواقع عام ہو جانے کی وجہ سے  مائیں، یک طرفہ ذمہ داری سے بچنے کے لیے   ایسے بچوں کو پیدائش کے بعد قتل کر کے پھینک دیتی ہیں۔  تو کیا حالیہ معاشرتی بگاڑ کے تناظر میں ایسے بچوں کی شناخت کو  والد کے ساتھ  نتھی کر کے اسے بچے کی جملہ ذمہ داریوں میں شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے؟

اس کے جواب میں عرض کیا گیا کہ ثبوت نسب کے لیے شریعت کا  واضح قانون یہ ہے کہ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا ، اس کے لیے رشتہ نکاح کا ہونا ضروری ہے۔ یہاں شریعت میں اہم تر مصلحت کو زیادہ اہمیت دینے کا اصول اختیار کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ  خاندان کے ادارے کی مجموعی مصلحت ایسے بچوں کی انفرادی مصلحت سے مقدم ہے۔ زنا سے نسب ثابت مانا جائے تو خاندان کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ تجویز کہ ایسے بچوں کو قتل سے بچانے کے لیے ان کی ولدیت قانونا مان لی جائے، مسئلے کا حل نہیں۔  بچے کا قتل یقینا گناہ اور جرم ہے، لیکن کیا زناکار عورت اس لیے ایسا کرتی ہے کہ اس کی ممانعت کا کوئی قانون نہیں بنا ہوا؟ وہ تو اس لیے کرتی ہے کہ اس سے زنا ثابت ہو جائے گا اور یا تو سزا ملے گی یا بدنامی ہوگی اور زندگی مشکل ہو جائے گی۔ ایک ایسا ماحول جس  میں زنا بھی ایک جرم رہے اور ماؤں کو سزا بھی ملتی رہے، لیکن مائیں  بچے کے حق زندگی کا احترام  کرتے ہوئے پھر بھی اسے زندہ رہنے دیں، انفرادی اخلاقیات کا مسئلہ ہے۔ اس میں  معاشرتی قوانین کو یک طرفہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور یہ تجویز کہ چونکہ زنا عملا عام ہو گیا ہے، اس لیے اس کو قانونی تحفظ بھی دے دیا جائے،  تو بالکل ہی ناقابل فہم ہے۔  

مثال کے طور پر  بچوں کی پرورش والد اور والدہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی معاشرے میں خود غرضی اتنی عام ہو جائے کہ والد اور والدہ یہ ذمہ داری اٹھانے کے روادار نہ ہوں تو کیا ریاست کو یہ قرار دینا چاہیے کہ آج سے بچوں کی پرورش والدین کی ذمہ داری میں شامل نہیں؟ ظاہر ہے، ایسا نہیں ہوگا۔ ریاست ایک ’’مسئلے’’ کے طور پر یقینا ان بچوں کی پرورش اور کفالت کا انتظام کرے گی جن کے والدین اس ذمہ داری سے فرار اختیار کیے ہوں، لیکن ایک معاشرتی واخلاقی ضابطے کی حیثیت سے اس اصول کو کالعدم قرار نہیں دے گی کہ بچوں کی پرورش والدین کی ذمہ داری ہے۔

یہی نوعیت ناجائز تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کی ہے۔ ان کو قانونی لحاظ سے نکاح کے تحت پیدا ہونے والے بچوں جیسا قرار دینا ولدیت کے رشتے کے ساتھ وابستہ تقدس اور زنا کے ساتھ وابستہ تنفر کو ختم کیے بغیر ممکن نہیں۔ یقینا ایسے بچوں کا کوئی قصور نہیں اور ان کے ساتھ ازروئے شریعت، عام سماجی  معاملات میں کوئی امتیاز نہیں برتا جا سکتا، لیکن ولدیت کی شناخت حاصل نہ ہونا ایسے ہی ایک تقدیری معاملہ ہے جیسے مثلا کچھ بچوں کا معذور پیدا ہو جانا۔  یہاں یہ بنیادی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایسے بچوں کو انفرادی طور پر جس محرومی کا  سامنا کرنا پڑتا ہے، اس میں اور خاندانی نظام کی مجموعی مصلحت میں سے کس کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ مغربی معاشرے بچوں کے انفرادی حقوق کو جبکہ اسلامی شریعت خاندان اور معاشرے کی مجموعی مصلحت کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ ہم بطور مسلمان اسی ترجیح کو قبول کرنے کے پابند ہیں جو شریعت نے قائم کی ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ولدیت کے رشتے کے علاوہ، باقی معاشرتی وقانونی امور میں اگر ایسے بچوں کے ساتھ ناانصافی یاامتیاز برتا جاتا ہے تو اس کی اصلاح میں مذہب واخلاق اور ریاست کا کوئی کردار نہیں بنتا۔ اس پہلو کی اپنی جگہ اہمیت ہے اور دراصل اسی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر تعلیم وتربیت اور ریاستی اقدامات سے ایسا ماحول بنا دیا جائے جس میں ایسے بچوں کے ساتھ باقی تمام افراد کی طرح ہی برتاو کیا جائے تو ولدیت کی شناخت کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں رہے گا۔ اسی طرح مثال کے طور پر  بچے کے اخراجات زانی پر بطور تعزیر اجتہادا لازم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کی بنیاد حق ولدیت پر نہیں، تعزیر کے اصول پر ہوگی۔ اس کے مقابلے میں اگر زنا اور نکاح کو ایک ہی قانونی درجے پر لے آیا جائے تو اس کے مضمرات واضح طور پر مہلک اور تباہ کن ہوں گے۔


مذکورہ مسئلے کے تقابل میں، جن چیزوں میں تمدنی حالات کی تبدیلی کے تحت ایک اجتہادی زاویہ نظر اختیار کیا جانا چاہیے، اس کی  مثال کے طور پر بیویوں کی جسمانی تادیب کے مسئلے کو دیکھا جا سکتا ہے۔  شوہروں کی طرف سے اس اختیار کا سوء استعمال   ایک اہم اور قابل توجہ مسئلہ ہے اور اس سوال کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ  شریعت نے جن شرعی واخلاقی حدود میں   ایک خاص صورت حال میں شوہر کو تادیب  کا اختیار دیا ہے، اگر  معاشرے میں عموما ان حدود کی پابندی نہ کی جا رہی ہو تو  اس کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟   یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی سامنے آیا  تھا اور آپ نے خواتین کی شکایت پر شوہروں کی طرف سے اختیار کے سوء استعمال کو دیکھتے ہوئے ایک موقع پر اس پر پابندی لگا دی۔ تاہم اس کا نتیجہ خواتین کے جری ہو جانے کی صورت میں نکلا اور شوہروں کی طرف سے جوابی شکایت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انھیں  دوبارہ اس کی اجازت دینا پڑی۔

دور جدید میں بہت سے اہل علم اس تناظر میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ سد ذریعہ کے طور پر  شوہروں کے اس اختیار پر قانونی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔  ممتاز  تیونسی عالم ابن عاشور  نے اس ضمن میں یہ اہم نکتہ بھی  پیش کیا ہے کہ شوہروں کو اپنی بیویوں کو مارنے کی جو اجازت دی گئی، وہ ان لوگوں کے عرف کے لحاظ سے ہے جو اس کو معیوب نہ سمجھتے ہوں اور ان کے ہاں اسے شوہر کا ایک معمول کا اختیار مانا جاتا ہو۔ ابن عاشور مزید یہ کہتے ہیں کہ یہ چونکہ محض ایک اجازت ہے جو کئی شرائط کے ساتھ مشروط ہے، مثلا ناجائز تعدی نہ کرنا، اور اس میں معاشرتی عرف کا بھی لحاظ ہے، اس لیے حکومت اس اختیار پر پابندی لگا سکتی اور اسے قابل تعزیر عمل قرار دے سکتی ہے۔ (التحریر والتنویر  ۵/۴۴)

بعض دیگر اہل علم اس اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے   بیوی کی تادیب کا اختیار نظم اجتماعی کو تفویض کر دینے کی تائید کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جناب جاوید احمد غامدی  لکھتے ہیں :

’’ اِس آخری چیز کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمدن کی تبدیلی کے ساتھ ریاست کیا شوہروں کو پابند کر سکتی ہے کہ پہلی دونوں تدابیر اگر موثر نہ ہوں اور سزا کی نوبت آ جائے تو وہ خود کوئی اقدام نہیں کریں گے، بلکہ معاملہ عدالت کے سپرد کر دیں گے؟

ہمارا جواب یہ ہے کہ یقیناًکر سکتی ہے، اِس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کے لیے یہ محض طریق کار کی تبدیلی ہے، اِس سے کوئی حکم معطل نہیں ہوتا۔ عورت کی اصلاح کے لیے سزا شوہر دے، خاندان کے بزرگ دیں یا عدالت، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ گھر کو بچانے کے لیے اگر سزا بھی دینی پڑے تو دی جائے۔ یہ اصلاح کی ایک تدبیر ہے، اِس سے زیادہ اِس سے کچھ مقصود نہیں ہے۔“

ان دونوں مثالوں سے کافی حد تک یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خاندانی نظام سے متعلق شریعت کے احکام میں کون سی چیزیں ہیں  جو اس نظام کے لیے بنیادی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں اور جنھیں ان کی جگہ سے ہٹانے سے پورے ڈھانچے کا  زمیں بوس  ہو جانا یقینی ہے، اور کون سی چیزیں ہیں جن کے حوالے سے نظام کی بنیادی عمارت  کو قائم رکھتے ہوئے  تمدنی، سماجی اور قانونی ضرورتوں کے تحت اجتہادی انداز فکر اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۳)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(285) تِسْعَۃُ رَھْطٍ کا ترجمہ

قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں تِسْعَۃُ رَھْطٍ آیا ہے۔ رھط اور نفر قریب قریب ہم معنی الفاظ ہیں۔ بخاری اور مسلم میں مذکور حدیث میں بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کے واقعہ میں ثلاثۃ نفر کے الفاظ آئے ہیں، جس کا مطلب تین آدمی ہے، اسی طرح تِسْعَۃُ رَہْطٍ کا مطلب نو آدمی ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے تِسْعَۃُ رَہْطٍ کا مطلب نو گروہ یا نو خاندان مان کر ترجمہ کیا۔ یہ درست نہیں ہے۔

وَکَانَ فِی الْمَدِینَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُفْسِدُونَ فِی الْأَرْضِ وَلَا یُصْلِحُونَ۔ (النمل: 48)

”اُس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے“۔ (سید مودودی، نو آدمیوں کا جتھا صحیح ترجمہ ہے، الفاظ سے یہ بات نہیں نکلتی ہے کہ ان میں سے ہر آدمی کے پاس جتھا تھا۔)

”اور شہر میں نو خاندان تھے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور (اس) شہر میں نو گروہ تھے“۔ (محمد حسین نجفی)

”اور تھے اس شہر میں نو شخص“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور شہر میں نو شخص تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجمے درست ہیں۔ درج ذیل انگریزی ترجمے میں بھی یہ غلطی ہے کہ نو اشخاص کو ایک خاندان کا سمجھ لیا گیا ہے، الفاظ میں یہ بات نہیں ہے۔

There were in the city nine men of a family (Yusuf Ali)

عام طور سے مفسرین نے تِسْعَۃُ رَھْطٍ کا مطلب نو اشخاص لیا ہے۔ البتہ رازی نے اس خیال کو ترجیح دی ہے کہ یہاں نو گروہ مراد ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: والأقْرَبُ أنْ یَکُونَ المُرادُ تِسْعَۃَ جَمْعٍ؛ إذِ الظّاہِرُ مِنَ الرَّہْطِ الجَماعَۃُ لا الواحِدُ، ثُمَّ یُحْتَمَلُ أنَّہم کانُوا قَبائلَ (تفسیر رازی) لگتا ہے وہیں سے بعض اردو مترجمین کے یہاں یہ غلطی در آئی۔ لیکن زبان کے قواعد کے لحاظ سے یہ درست نہیں ہے، تِسْعَة کا معدود واحد نہیں بلکہ جمع آتا ہے۔ اگر یہاں رھط گروہ یا قبیلے کے لیے ہوتا تو تِسْعَة أرَهاطٍ آتا۔ جیسے تسعة اقوام کہیں گے، نہ کہ تسعة قوم۔ یہ تو ثلاثة نفر کی طرح تِسْعَة رَہْطٍ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نو افراد جن سے مل کر ایک رھط یعنی گروہ بنا۔

زمخشری کی درج ذیل توجیہ اسلوب کلام کو واضح کردیتی ہے:

وإنما جاز تمییز التسعۃ بالرہط لأنہ فی معنی الجماعۃ، فکأنہ قیل: تسعۃ أنفس. والفرق بین الرہط والنفر: أن الرہط من الثلاثۃ إلی العشرۃ، أو من السبعۃ إلی العشرۃ والنفر من الثلاثۃ إلی التسعۃ۔ (زمخشری)

(286) مطر کا ترجمہ

مطر کا مطلب بارش ہے، جس کے اردو مترادفات میں مینھ اور برساؤ بھی ہیں۔ جب کہ برسات کا مطلب بارش کا موسم ہوتا ہے نہ کہ خود بارش۔ درج ذیل آیتوں میں مطر کا ترجمہ برسات درست نہیں ہے:

(۱) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِینَ۔ (النمل: 58)

”اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات، بہت ہی بری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کیے جا چکے تھے“۔ (سید مودودی، دونوں جگہ برسات کے بجائے بارش ہونا چاہیے۔)

”اور برسایا ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا پھر کیا برا برساؤ تھا ڈرائے ہوؤں کا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور برسایا ہم نے اوپر ان کے مینھ، پس برا تھا مینھ ڈرائے گیوں کا“۔ (شاہ رفیع الدین)

(۲) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِینَ۔ (الشعراء:173)

”اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی“۔ (سید مودودی، جس طرح موخر الذکر مطر کا ترجمہ بارش کیا ہے، اول الذکر کا بھی بارش کرنا چاہیے۔)

”اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینھ برسایا، پس بہت ہی برا مینھ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۳) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہِم مَّطَرًا فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِینَ۔ (الاعراف: 84)

”اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا“۔(سید مودودی، یہاں مطر کا درست ترجمہ کیا ہے۔)

(۴) وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِی أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ۔ (الفرقان: 40)

”اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی“۔ (سید مودودی، یہاں بھی مطر کا درست ترجمہ کیا ہے۔)

(287) وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃ وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ

وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃ وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (النمل: 88)

مذکورہ بالا عبارت میں تین جملے ہیں، پہلا جملہ تَرَی الْجِبَالَ ہے، دوسرا تَحْسَبُہَا جَامِدَۃ ہے اور تیسرا جملہ وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ہے۔ اس میں سے کون سا جملہ زمانہ حال کا ہے اور کون سا جملہ زمانہ مستقبل یعنی قیامت کے برپا ہونے کے وقت کا ہے، یہ طے کرنے سے پوری عبارت کا مفہوم طے ہوتا ہے۔ درج ذیل ترجموں پر غور کریں:

”اور تو دیکھتا ہے پہاڑ جانتا ہے وہ جم رہے ہیں اور وہ چلیں گے جیسے چلے بادل“۔ (شاہ عبدالقادر)

”آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے“۔ (سید مودودی)

”اور آپ پہاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کرتے ہیں لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا تینوں ترجموں میں پہلے دونوں جملوں کو زمانہ حال کا مانا گیا ہے اور تیسرے جملے کو زمانہ مستقبل کا مانا گیا ہے۔ اس توجیہ میں کم زوری یہ ہے کہ تیسرا جملہ حالیہ ہے، لیکن اس کا ترجمہ جملہ حال کا نہیں کیا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ لیکن اور مگر مترجم کی طرف سے اضافہ ہے، جس کے لیے عبارت میں کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔

”اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال“۔ (احمد رضا خان)

”اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرو گے کہ وہ ٹکے ہوئے ہیں حالاں کہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں پوری عبارت یعنی تینوں جملوں کو زمانہ مستقبل کا مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس میں جملہ حالیہ والا مسئلہ تو نہیں رہتا، لیکن ایک اشکال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ جب وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے اور آدمی اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہا ہوگا تو پھر وہ انھیں جما ہوا کیوں خیال کرے گا؟

مولانا امانت اللہ اصلاحی ایسا ترجمہ تجویز کرتے ہیں جس میں یہ دونوں اشکالات دور ہوجاتے ہیں۔ وہ تیسرے جملے کو پہلے جملے کا حال مان کر دونوں جملوں کو زمانہ مستقبل کا مانتے ہیں، اور دوسرے جملے کو زمانہ حال کا مانتے ہیں، ترجمہ کرتے ہیں:

”اور تم ان پہاڑوں کو بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے دیکھو گے جنھیں تم سمجھتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہیں“۔

مطلب یہ ہوا کہ ابھی دنیا میں جن بادلوں کو تم جامد سمجھتے ہو، کیوں کہ وہ بظاہر جامد ہی ہیں انھیں قیامت کے دن بادلوں کی طرح اڑتا ہوا دیکھو گے۔

(288) قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّہِ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں تقاسموا امر کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور خبر کا صیغہ بھی۔ امر کی صورت میں وہ قالوا کا مقولہ بنے گا، جب کہ خبر کی صورت میں وہ قالوا کا حال بنے گا۔ مفسرین نے دونوں احتمالات ذکر کیے ہیں۔ زمخشری لکھتے ہیں:  تَقاسَمُوا یحتمل أن یکون أمرا وخبرا فی محل الحال بإضمار قد، أی: قالوا متقاسمین۔

لیکن بعض قرائن کی بنیاد پر اسے خبر مانتے ہوئے مقولہ ماننا زیادہ مناسب ہے۔ ایک تو یہ کہ حال ماننے کی صورت میں تقاسموا سے پہلے وقد محذوف ماننا پڑے گا، جب کہ مقولہ ماننے کی صورت میں کچھ محذوف نہیں ماننا پڑے گا، گویا اپنی اصل صورت میں یہ مقولہ ہی بن رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ کہنا ہو کہ انھوں نے اس بات کا عہد کیا تو پھر قالوا کہنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے صرف تقاسموا سے مفہوم ادا ہوجاتا ہے، جیسے سورۃ القلم میں آیا ہے: إِذْ أَقْسَمُوا لَیَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِینَ (آیت:17) ”جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

تیسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں قالوا کا استقرا بتاتا ہے کہ قرآن میں ہر جگہ اس کے بعد مقولہ ہی آیا ہے، اگر کہیں حال آیا ہے تو واضح علامت کے ساتھ آیا ہے، جیسے: قَالُوا وَأَقْبَلُوا عَلَیْہِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ (یوسف: 71)، آخری بات یہ ہے کہ تقاسموا  کو مقولہ مان لینے سے معنویت بڑھ جاتی ہے، اور یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے کس طرح سازش رچی تھی، کہ پہلے کچھ لوگوں نے منصوبہ بنایا اور اس پر سب سے قسمیں لیں۔ اس گفتگو کے بعد درج ذیل ترجمے دیکھیں:

قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَأَہْلَہٗ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِیِّہِ مَا شَہِدْنَا مَہْلِکَ أَہْلِہِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ۔ (النمل: 49)

”بولے آپس میں قسم کھاؤ اللہ کی، مقرر رات کو پڑیں ہم اس پر اور اس کے گھر پر، پھر کہہ دیں گے اس کے دعوے کرنے والے کو ہم نے نہیں دیکھا جب تباہ ہوا اس کا گھر اور ہم بے شک سچے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے، اور اس کے وارثوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر بولے ہم ضرور رات کو چھاپہ ماریں گے صا لح اور اس کے گھر والوں پر پھر اس کے وارث سے کہیں گے اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں“۔ (احمد رضا خان)   

”انھوں نے اللہ کی قسم کھاکر عہد کیا کہ ہم اس کو اور اس کے لوگوں کو چپکے سے ہلاک کردیں گے پھر ہم اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے آدمی کی ہلاکت میں شریک نہیں ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی، ولی اور وارث میں فرق ہے۔)

پہلے ترجمے میں تقاسموا، قالوا کا مقولہ ہے۔ جب کہ آخری تینوں ترجموں میں تقاسموا، قالوا کا حال ہے۔ قالوا تقاسموا کا پہلا ترجمہ زیادہ مناسب ہے۔

(289) مَا شَہِدْنَا مَہْلِکَ أَہْلِہِ

مذکورہ بالا آیت میں شھدنا  آیا ہے، اس کا مطلب موجود ہونا اور حاضر ہونا ہے نہ کہ شریک ہونا۔ اس لیے درج ذیل دونوں ترجموں میں اول الذکر درست نہیں ہے۔

”ہم اس کے آدمی کی ہلاکت میں شریک نہیں ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(290) بطش کا مفہوم

بطش کے معنی سخت گرفت اور شدید پکڑ کے ہوتے ہیں۔ لسان العرب میں ہے:  البَطْش التناول بشدۃ عند الصَّوْلۃ والأَخذُ الشدیدُ فی کل شیء۔ قرآن مجید میں یہ لفظ کئی جگہ استعمال ہوا ہے، بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ کہیں کہیں حملہ کرنے اور ضرب لگانے کا کیا ہے۔ لیکن انھوں نے بھی دیگر مقامات پر اس کا ترجمہ پکڑ اور گرفت کیا ہے۔

(1) وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِینَ۔ (الشعراء: 130)

”اور جس وقت پکڑتے ہو تم پکڑتے ہو سرکش ہوکر“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور جب حملہ کرتے ہو تو نہایت جابرانہ حملہ کرتے ہو“۔ (ذیشان جوادی)

”اور جب بھی تم کسی پر حملہ آور ہوتے ہو تو جبارانہ حملہ آور ہوتے ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

(2) یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَیٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ۔ (الدخان: 16)

”جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے“۔ (سید مودودی)

”جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم پورا بدلہ لے کر رہیں گے“۔ (مولانا امین احسن اصلاحی)

(3) فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن یَبْطِشَ بِالَّذِی ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَا۔ (القصص: 19)

”پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے“۔ (سید مودودی)

”پس جب اس نے ارادہ کیا کہ پکڑے اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

(4) أَمْ لَہُمْ أَیْدٍ یَبْطِشُونَ بِہَا۔ (الاعراف: 195)

”کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟“۔ (سید مودودی)

”حملہ کرنے کے قابل ہاتھ“۔ (ذیشان جوادی)

(5) إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیدٌ۔ (البروج: 12)

”بے شک آپ کے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے“۔ (ذیشان جوادی)

(6) وَلَقَدْ أَنذَرَہُم بَطْشَتَنَا۔ (القمر: 36)

”وہ ڈرا چکا ان کو ہماری پکڑ سے“۔(شاہ عبدالقادر)

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۵)

اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا ایک تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

شداد بن سعيد أبو طلحۃ الراسبي روی عن أبي الوازع جابر بن عمرو وغيلان بن جرير وسعيد الجريري روی عنہ أبو معشر البراء وحماد بن زيد وابن المبارك وحرمي بن عمارۃ ومسلم بن إبراہيم وأبو الوليد وسعيد بن سليمان البصري سمعت أبي يقول ذلك.
قال أبو محمد وروی عن قتادۃ ومعاويۃ بن قرۃ ۔ ويزيد بن عبد اللہ بن الشخير روی عنہ إسماعيل ابن عليۃ ووكيع وأبو سعيد مولی بني ہاشم وحجاج بن نصير والنضر بن شميل
حدثنا عبد الرحمن أنا عبد اللہ ابن أحمد [بن حنبل ۔ فيما كتب إلی قال قال أبي: أبو طلحۃ شداد شيخ ثقۃ روی عنہ ابن عليۃ ووكيع.
حدثنا عبد الرحمن قال ذكرہ أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيی بن معين أنہ قال: شداد بن سعيدالراسبی ثقۃ1

اس ترجمہ میں بھی امام ابو حاتم نے مذکورہ راوی کے اہم اساتذہ و تلامذہ کی فہرست دی ہے، اہل سنت کے علم رجال کی کوئی کتاب اٹھائیں، اس میں راوی کے اساتذہ و شیوخ کی فہرست ملے گی، انہی فہارس کی مدد سے محدثین ارسال و انقطاع، اتصال و اسناد، طبقہ و عصر ِ راوی اور شیوخ حدیث سے لقاء و عدم لقاء کا پتا لگاتے ہیں اور ان کی مدد سے احادیث پر احکام لگاتے ہیں ۔

اس کے برعکس جب ہم اہل تشیع کے کتب رجال کو دیکھتے ہیں، تو حیرت انگیز طور پر یہ فہرستیں رجال کی کتب سے غائب ہیں، خال خال کسی استاذ یا شاگرد کا ذکر ملتا ہے، کتب رجال سے شواہد پیش کرنے سے پہلے تین جلیل القدر شیعہ محققین کی اس بابت رائے پیش کی جاتی ہے :

"وربما سقط الراوي من السند من دون أن يكون هناك ما يدلنا عليه، وعلى ذلك يجب أن يكون الكتب الرجالية بصورة توقفنا على طبقات الرواه من حيث المشايخ والتلاميذ، حتى يقف الباحث ببركة التعرف على الطبقات، على نقصان السند وكماله، والحال أن هذه الكتب المؤلفة كتبت على حسب حروف المعجم مبتدأة بالألف ومنتهية بالياء، لا يعرف الانسان عصر الراوي وطبقته في الحديث، ولا أساتذته ولا تلامذته إلا على وجه الاجمال والتبعية، وبصورة قليلة دون الاحصاء"2

ترجمہ :اور کبھی سند سے کوئی راوی گرجاتا ہے، جبکہ کوئی ایسا قرینہ نہیں ہوتا، جو اس راوی کے سقوط پر دلالت کرے، تو اس صورت میں ضروری ہے کہ کتب رجال ہمیں رواۃ کے طبقات اور مشائخ و تلامذہ سے واقف کرا سکیں، تا کہ ان کتب کو دیکھنے والا طبقات مدد سے سند میں موجود نقص یا کمال کا پتا لگا سکے، جبکہ حالت یہ ہے کہ یہ کتب رجال، جو معجم کی طرح الف سے شروع ہو کر یا پر ختم ہوتی ہیں، ان کتب سے راوی کے زمانے اور حدیث میں اس کے طبقے کا کسی کو پتا نہیں چل سکتا، راوی کے اساتذہ نہ تلامذہ، سوائے اجمالی طور پر محض برائے تذکرہ، وہ بھی بہت ہی کم تعداد کا، اساتذہ و تلامذہ کا احاطہ ان کتب میں نہیں کیا گیا ہے ۔

إنّ الحديث عن عدم ذكر الإماميّة لتواريخ الرواة من حيث الوفاة، يمكن القول بأنّه صحيح في الجملة، فالإماميّة يعتمدون في الغالب على تحديد الطبقة من خلال معاصرة الراوي لأحد الأئمة الاثني عشر، كما هي الحال مع كتاب الطبقات للبرقي وكتاب الرجال للشيخ الطوسي، ويذكرون في أحيان كثيرة تاريخ الوفاة، كما يعتمدون أيضاً في تحديد طبقة الراوي على الراوي والمرويّ عنه، وهي طريقة ذكرها المحدّثون من أهل السنّة كابن الصلاح وكان للمزي في تهذيب الكمال خدمات جليلة فيها.وفي تجربتنا الخاصّة في تخريج الأحاديث النبويّة عند الإماميّة لاحظنا إمكانية سدّ هذه الثغرة من خلال الرجوع إلى سائر مصادر التراجم والتاريخ وكتب الرجال عند أهل السنّة والشيعة معاً.3

ترجمہ:یہ بات کہ امامیہ نے رواۃ کے تواریخ وفات ذکر نہیں کئے، فی الجملہ درست قرار دی جاسکتی ہے، لھذا امامیہ رواۃ کے طبقات کی تحدید میں عموما اس پر اعتماد کرتے ہیں کہ راوی ائمہ (معصومین) میں سے کسی ایک کے معاصر ہے ، جیسا کہ اسی طرح برقی کی کتاب الطبقات اور شیخ طوسی کی کتاب الرجال ہے، بہت سی جگہوں میں تاریخ وفات بھی ذکر کرتے ہیں، نیز طبقہ کی تحدید میں راوی و مروی عنہ پر بھی اعتماد کرتے ہیں، یہ طریقہ اہل سنت محدثین جیسے ابن صلاح اور بالخصوص امام مزی نے تہذیب الکمال میں اس حوالے (راوی و مرونی عنہ کی تعیین )سے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں، امامیہ کی احادیث کی تخریج کے سلسلے میں ہمارے تجربے کے مطابق اس خلا کو پر کرنا ممکن ہے کہ تراجم، تاریخ اور شیعہ و سنی رجال کی جملہ کتب کی طرف اس سلسلے میں رجوع کیا جائے ۔

اس عبارت میں حیدر حب اللہ نے راوی و مروی عنہ کی تعیین کو اہل سنت محدثین کا طریقہ قرار دیا ہے اور اہل سنت کی کتب کا اس سلسلے میں ذکر کیا ہے، اگر شیعہ کتب رجال میں راوی و مروی عنہ کی تعیین کے حوالے سے وافر مواد موجود ہوتا، تو حیدر حب اللہ اسے صرف اہل سنت محدثین کا طریقہ کار قرار نہ دیتے اور شیعہ کتب کا بھی ذکر کرتے ۔

"ما صنف علماءنا فی فنی الرجال و تمیز المشترکات رایت ان الطائفة الاولی من ھذا الکتب نقائص، لاھمالھا ذکر کثیر ممن تضمنتہ الاسانید من اسماء الرواۃ، وعدم تعرضھا فی تراجم من ذکر فیھا لبیان طبقته و شیوخه الذین روی عنھم و تلامذته الذین تحملو ا عنه، مع ان ھذہ االامورمن اھم ما له دخل فی الغرض من ھذ الفن4

ترجمہ : ہمارے اہل علم نے فن رجال و تمییز المشترکات میں جو کتب لکھی ہیں، ان کتب کے اولین مصادر میں متعدد نقائص ہیں، کیونکہ ان میں اسانید میں موجود بہت سے رواۃ کا ذکر متروک ہے، اور ان تراجم میں راوی کے طبقہ اور اس کے شیوخ و تلامذہ کا ذکر نہیں ہے، حالانکہ ان امور کا فن رجال کے اغراض میں اساسی دخل ہے ۔(یعنی فن رجال کے اہم ترین اغراض میں سے راوی کے طبقہ و شیوخ و تلامذہ کی تعیین ہے )

تین معتمد شیعہ محققین کے اعتراف کے بعد اگرچہ شیعہ کتب رجال سے حوالے پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، لیکن تحقیق کا تقاضا پورا کرنے کی خاطر سنی طرز پر شیعہ کی ایک اولین اور ایک متاخر مصدر رجال سے کچھ عبارات پیش کی جاتی ہیں تاکہ اس بات کی مزید وضاحت ہوجائے کہ شیعہ کتب رجال میں راوی کے اساتذہ و تلامذہ کی تعیین کے حوالے سے کس قدر مواد موجود ہے ۔

الحسین بن اشکیب شیخ لنا خراسانی ثقة مقدم ذكره أبو عمرو في كتاب الرجال في أصحاب أبي الحسن صاحب العسكر ع روى عنهالعياشي فأكثر واعتمد حديثه ثقة ثقة ثبت قال الكشي هو القمي خادم القبر قال شيخنا قال لنا أبو القاسم جعفر بن محمد: كتاب الرد على من زعم أن النبي ص كان على دين قومه والرد على الزيدية للحسين بن إشكيب حدثني بهما محمد بن الوارث عنه وبهذا الاسناد كتابه النوادر5

اس ترجمہ میں شیخ نجاشی نے ایک ایسے راوی کا ذکر کیا ہے، جو ان کے نزدیک بھی ثقہ و معروف شیخ ہیں اور امام عمرو کشی نے بھی ان کو قابل اعتماد قرار دیا ہے، نیز شیخ عیاشی نے ان سے کثرت سے روایات لی ہیں، لیکن اس جیسے معروف شیخ و ثقہ راوی کے تلامذہ و اساتذہ کی کوئی فہرست پیش نہیں کی ہے، ہم نے قصدا ایسا ترجمہ تلاش کیا، جو ایک معروف شیخ، ثقہ راوی کا ہو، تاکہ کوئی ناقد یہ نہ کہہ دے کہ غیر معروف راوی کے اساتذہ و تلامذہ عموما ذکر نہیں کئے جاتے یا قلت حدیث کی وجہ سے اس کے قابل ذکر تلامذہ و شیوخ نہیں ہوتے، لھذا جب ایک معروف ثقاہت کے حامل شیخ کے اساتذہ و شیوخ کی فہرست نہیں دی گئی ہے، تو ان سے فروتر رواۃ کے تلامذہ و شیوخ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہمارا دعوی یہ ہر گز نہیں ہے کہ شیخ نجاشی نے کسی بھی راوی کے تلامذہ یا اساتذہ بالکل ذکر نہیں کئے، دو چند تلامذہ و شیوخ کا ذکر بعض رواۃ کے ترجمے میں کرتے ہیں، لیکن ایک تو ہر راوی کے ترجمے میں ایسا نہیں کرتے، بلکہ خال خال کسی راوی کے شیوخ و تلامذہ ذکر کرتے ہیں، جبکہ اہل سنت مصادر، تہذیب الکمال و الجرح والتعدیل میں تقریبا (تقریبا کا لفظ اس لئے کہا کہ عین ممکن ہے، ان دو کتب میں ایسے ایک آدھ رواۃ مل جائیں، جن کے شیوخ و تلامذہ کی فہرست نہ ہو، لیکن ظاہر ہے اعتبار اکثریت کا ہوتا ہے )ہر راوی کے تذکرے میں ایسا کرتے ہیں، دوسرا جب کسی راوی کے شیوخ و تلامذہ ذکر کرتے ہیں، تو اس قدر استیعاب و تفصیل سے ذکر نہیں کرتے جیسا کہ اہل سنت کےمذکورہ دو محدثین تفصیل سے کام لیتے ہیں ۔

• أحمد بن إسحاق بن سعد.
روى عن بكر بن محمد الأزدي، وروى عنه الحسين بن محمد. الكافي: الجزء، ٥، كتاب النكاح ٣. باب أنهن بمنزلة الإماء ٩٥، الحديث ٢، والتهذيب: الجزء ٧باب تفصيل أحكام النكاح، الحديث ١١١٦، والاستبصار: الجزء ٣، باب أنه يجوز الجمع بين أكثر من أربع في المتعة، الحديث ٥٣٥أقول: هو متحد مع ما بعده6.
• إبراهيم الحذاء:
روى عن أحمد بن عبد الله الأسدي، وروى عنه أحمد بن محمد.الكافي: الجزء ٦، الكتاب ٦، باب الخلال ١٣٢، الحديث ٤، وروى عن محمد بن صغير، وروى عنه محمد بن علي. الكافي: الجزء ٢
الكتاب ١، باب ما أخذه الله على المؤمن من الصبر ١٠٥، الحديث ٧. وروى، عنه أحمد بن محمد بن عيسى، باب فضل فقراء المسلمين ١٠٧، الحديث ١٦وروى عن فضيل، عن عثمان، وروى عنه أحمد بن محمد بن عيسى.
، التهذيب: الجزء ٥، باب الذبح، الحديث ٧٦٢ . ورواها في الاستبصار: الجزء ٢باب جواز أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاثة أيام، الحديث ٩٧١، وفيه أحمد بن محمدابن عيسى، عن إبراهيم الحذاء، عن فضيل بن عثمان. وهو الموافق للوافي، وفي الوسائل: الفضل بن عثمان.7
• جعفر بن بكر:
روى عن عبد الله بن أبي سهل، وروى عنه علي بن الحسين التيمي.الكافي: الجزء ٥، كتاب المعيشة ٢، باب أن من السعادة أن يكون معيشة الرجلفي بلده ١٢٢، الحديث ٢، والتهذيب: الجزء ٧، باب الزيادات من كتاب التجارات، الحديث ١٠٣٢، إلا أن فيه علي بن الحسين فقط.8

ہم نے بالقصد معجم رجال الحدیث کی مختلف جلدوں سے تین الگ الگ تراجم نقل کئے، تاکہ امام خوئی کا راوی و مروی عنہ کے ذکر کرنے کا منہج ذرا وضاحت کے ساتھ سامنے آئے، امام خوئی نے اپنی کتاب میں راوی کے اساتذہ و شیوخ کا ذکر کرنے کا بڑا اہتمام کیا ہے، لیکن امام خوئی نے اساتذہ و تلامذہ کی یہ فہرست خود کتبِ حدیث سے نقل کی ہے، چنانچہ اسی وجہ سے جب وہ راوی کے کسی شیخ یا شاگرد کاذکر کرتے ہیں، تو اس کے ساتھ کتب اربعہ یا دیگر مصادرِ حدیث سے اس کا حوالہ بھی دیتے ہیں، امام خوئی کے اس عمل کو منطقی اصطلاح میں "مصادرۃ علی المطلوب " کہا جاتا ہے، مصادرۃ علی المطلوب منطقی مغالطوں میں سے ایک مغالطہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مدعی اپنے دعوی کو ہی دلیل بنا کر پیش کردے، وہ یوں کہ کتبِ حدیث میں جب کوئی محدث سلسلہ سند ذکر کرتا ہے اور اپنی اسناد سے روایات لاتا ہے، تو اس سلسلہ سند میں مذکور رواۃ کے شیوخ و تلامذہ یا دوسرے لفظوں میں راوی و مروی عنہ کو پرکھنے اور جانچنے کے لئے کتبِ رجال کو دیکھا جاتا ہے کہ اس محدث کے ذکر کردہ سلسلہ سند کی جو لڑی بنتی ہے، کیا نفس الامر میں بھی یہی لڑی ہے یا نہیں ؟یوں کتب ِ رجال سے اس راوی کے شیوخ و تلامذہ کی فہرست نکال کے اس محدث کے سلسلہ سند کی تصحیح یا اس کا تخطئہ کیا جاتا ہے، لھذا محدث کا ذکر کردہ سلسلہ سند ایک قسم کا "دعوی " ہوتا ہے اور اس دعوے کی تصدیق یا تکذیب کتبِ رجال سے کی جاتی ہے، جبکہ امام خوئی نے رواۃ کے جو شیوخ و تلامذہ کی فہرستیں دی ہیں، وہ خود کتبِ حدیث سے نقل کی ہیں، یوں مصادرۃ علی المطلوب کرتے ہوئے دعوی یعنی کتبِ حدیث میں مذکورہ سلسلہ اسناد کی مدد سے دلیل یعنی راوی کے شیوخ و اساتذہ کو متعین کیا ہے، اب ترتیب یوں بنی کہ اگر کوئی آدمی کافی کے کسی سلسلہ سند پر سوال کرے کہ اس راوی کا یہ شیخ نفس الامر میں بھی اس کا شیخ ہے یا نہیں ؟اس کی دلیل دو، تو شیعہ حضرات معجم رجال الحدیث کی عبارت پیش کریں گے کہ معجم رجال الحدیث میں امام خوئی نے اس راوی کا یہ شیخ لکھا ہے ، تو سائل جب سوال کرے گا کہ امام خوئی نے اس راوی کا یہ شیخ کیسے معلوم کیا ؟تو شیعہ مجیب جواب دے گا کہ امام خوئی نے الکافی کے اسی سلسلہ سند سے نکالا ہے، یوں بات دعوے سے شروع ہو کر پھر دعوے پر آجائے گی ۔ اس کے برخلاف اہل سنت علمائے رجال نے راوی کے اساتذہ و شیوخ کی فہرستیں کتب ِ حدیث سے مرتب نہیں کیں، بلکہ کتب ِ حدیث کی تصنیف سے قطع نظر اپنے ذرائع و وسائل سے مرتب کی ہیں، جس کے لئے علمائے رجال عموما راوی کے اسفار، معروف شیوخ کے مجالس ِ حدیث میں آنے والے طلبائے حدیث، کسی راوی کے ہم سبق رواۃ وغیرہ کی تحقیق کر کے شیوخ و تلامذہ متعین کرتے تھے، ذیل میں امام ابن ابی حاتم رازی کی الجرح و التعدیل سے نقل کردہ ترجمہ دوبارہ نقل کیا جاتا ہے، جو ہم پچھلے صفحات میں نقل کر آئے ہیں، تاکہ امام خوئی کے منہج سے فرق واضح ہو کر آئے :

شداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي روى عن أبي الوازع جابر بن عمرو وغيلان بن جرير وسعيد الجريري روى عنه أبو معشر البراء وحماد بن زيد وابن المبارك وحرمي بن عمارة ومسلم بن إبراهيم وأبو الوليد وسعيد بن سليمان البصري سمعت أبي يقول ذلك.
قال أبو محمد وروى عن قتادة ومعاوية بن قرة ۔ ويزيد بن عبد الله بن الشخير روى عنه إسماعيل ابن علية ووكيع وأبو سعيد مولى بني هاشم وحجاج بن نصير والنضر بن شميل
حدثنا عبد الرحمن أنا عبد الله ابن أحمد [بن حنبل ۔ فيما كتب إلى قال قال أبي: أبو طلحة شداد شيخ ثقة روى عنه ابن علية ووكيع.
حدثنا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين أنه قال: شداد بن سعيدالراسبى ثقة9

اس ترجمہ میں امام ابن ابی حاتم رازی نے شداد بن سعید کے جتنے شیوخ و تلامذہ ذکر کئے، اس کی دلیل میں علمائے رجال جیسے اپنے والد اور معروف محدث ابو حاتم رازی اور امام بخاری کی تحقیق اور حوالہ ذکر کیا ہے اور کسی کتاب کا سلسلہ سند دلیل بنانے کی بجائے علم رجال کے ماہر ین کی مدد سے راوی کے شیوخ و تلامذہ کی فہرست کو متعین کیا ہے ۔

اہل سنت کے اس منہج کو مزید واضح کرنے کے لئے امام ذہبی کی سیر اعلام النبلاء سے ایک ترجمہ نقل کیا جاتا ہے :

" سفيان بن حسين بن الحسن الواسطي الحافظ، الصدوق، أبو محمد الواسطي.
حدث عن: الحسن، ومحمد بن سيرين، والحكم بن عتيبة، والزهري، وإياس بن معاوية.روى عنه: شعبة، وهشيم، وعباد بن العوام، ويزيد بن هارون، وعمر بن عبد الله بن رزين، وجماعة.
وقد وثقه: جماعة، في سوى ما يرويه عن الزهري، فإنه يضطرب فيه، ويأتي بما ينكر.
روى: عباس، عن ابن معين، قال:ليس به بأس، وليس من أكابر أصحاب الزهري.
وروى: أحمد بن أبي خيثمة، عن ابن معين: ثقة، كان يؤدب المهدي، وحديثه عن الزهري فقط ليس بذاك، إنما سمع منه بالموسم.
وقال أبو حاتم: صالح الحديث، ولا يحتج به، هو نحو محمد بن إسحاق.
وقال ابن حبان: الإنصاف في أمره تنكب ما روى عن الزهري، والاحتجاج بما روى عن غيره، وذاك أن صحيفة الزهري اختلطت عليه، فكان يأتي بها على التوهم.قلت: توفي في خلافة أبي جعفر، سنة نيف وخمسين ومائة، ووقع له نحو ثلاث مائة حديث.10

اس ترجمہ میں امام ذہبی نے سفیان بن حسین واسطی کے شیوخ و تلامذہ بیان کئے، ان کے شیوخ میں امام زہری کا ذکر بھی کیا، اس کے بعد امام ابن ابی حاتم و ابن حبان جیسے علمائے رجال سے یہ بات نقل کی کہ امام زہری سفیان واسطی کے باقاعدہ شیخ نہیں رہے ہیں، نہ ہی سفیان واسطی امام زہری کے اکابر تلامذہ میں آتے ہیں، بلکہ سفیان واسطی نے امام زہری سے صرف ایامِ حج میں کچھ سنا ہے (اور ظاہر ہے کہ ایام حج میں علی سبیل الاتفاق ہوتا ہے ) اس لئے زہری سے سفیان واسطی جو روایات نقل کرتے ہیں وہ قابل ِ اعتماد نہیں ہیں، امام ذہبی کی اس عبارت سے اہل سنت علمائے رجال کے منہج کی کافی وضاحت ہوتی ہے کہ اہل سنت اہل علم کتبِ حدیث سے شیوخ و تلامذہ کی تعیین نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنے آزاد ذرائع سے راوی کے شیوخ و تلامذہ کی تحقیق کرتے تھے، حالانکہ ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ میں سفیان واسطی امام زہری کے واسطے سے تین روایات آئی ہیں، 11 اس کے باوجود امام ذہبی نے سفیان واسطی کے اساتذہ میں امام زہری پر اعتراض کیا کہ سفیان واسطی نے امام زہری سے جو نقل کیا ہے، وہ روایات قابلِ اعتماد نہیں ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ علمائے رجال شیوخ و تلامذہ کی تحقیق میں کتب ِ حدیث میں مذکور سلسلہ اسناد کو مدار نہیں بناتے تھے، بلکہ اپنے ذرائع سے راوی کے شیوخ و تلامذہ کی تحقیق کر کے کتبِ حدیث میں مذکور سلسلہ اسناد کو اس پر چانچتے اور پرکھتے تھے، شیوخ و تلامذہ کی تعیین میں اس طرح کی گہرائی و گیرائی اہل تشیع کے رجالی تراث میں نظر نہیں آتی، بلکہ اہل تشیع کے رجالی تراث میں اول تو اس چیز کا بیان ہی نہیں ہوا، جیسا کہ ما قبل میں شیعہ محققین کی تصریحات اور شیعہ رجالی کتب سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے، جبکہ امام خوئی و بعض شیعہ علمائے رجال نے شیوخ و تلامذہ کو اگر بیان بھی کیا ہے، تو مصادرۃ علی المطلوب کے مرتکب ہوتے ہوئے خود کتبِ حدیث سے یہ فہرست مرتب کی، جس کا سند کی تحقیق میں کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ دعوی کو دلیل بنا لینے سے مدعا ثابت نہیں ہوتا ۔

حواشی

  1.  الجرح و التعدیل، ابن حاتم رازی، رقم الترجمہ :1446
  2.  کلیات فی علم الرجال، جعفر سبحانی، ص141
  3.  المدخل الی موسوعۃ الحدیث عند الامامیہ، حیدر حب اللہ، ص515
  4.  ترتیب اسانید الکافی، بروجردی ص108 بحوالہ المنہج الرجالی، سید محمد رضا حسینی، ص 134
  5.  رجال النجاشی، احمد بن علی النجاشی، ص47
  6.  معجم رجال الحدیث، ابو القاسم خوئی، ج2، ص49
  7.  معجم رجال الحدیث، ج1، ص326
  8. معجم رجال الحدیث، ج5، ص 27
  9. الجرح و التعدیل، ان ابی حاتم رازی، رقم الترجمہ :1446
  10. سیر اعلام النبلاء، شمس الدین ذہبی، ج7، ص302-3030
  11. تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف، جمال الدین مزی، ج9، ص 330

(جاری)

امام شافعی: مستشرقین و ناقدین مستشرقین کی نظر میں

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

میسر ذرائع کے مطابق امام ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (م 204ھ / 820ء) کی کتاب "الرسالۃ" علم اصول فقہ کی پہلی کتاب مانی جاتی ہے۔ آپ نے "احکام شریعہ اخذ کرنے کے طریقے" کو الگ سے موضوع بنا کر اسے مدون کرنے کا اہتمام فرمایا جبکہ آپ سے قبل اس موضوع پر باضابطہ تحریر میسر نہیں، اگرچہ متعدد ائمہ مجتہدین فقہی احکام پر اپنا تفصیلی کام پیش کرچکے تھے۔ اسی لئے امام رازی (م 606ھ / 1210ء) کتاب "مناقب الامام الشافعی" میں امام شافعی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اصول فقہ میں آپ کو وہی مقام حاصل ہے جو ارسطو کا علم منطق اور علامہ خلیل کا علم عروض و شعر گوئی میں ہے کہ موخر الذکر سے پہلے لوگ بلاشبہ منطق کے قوانین برتتے تھے اور اشعار بھی کہتے تھے لیکن یہ ایک ذوقی نوعیت کی چیز تھی اور کوئی ایسا پیمانہ مقرر نہ تھا جس پر پرکھ کر منطقی استدلال و شعر کی موزونیت کو جانچا جاسکے اور دوسرے پر حجت قائم کی جاسکے۔ اسی طرح امام شافعی سے قبل لوگوں کے پاس کوئی ایسا منضبط قانون کلی نہ تھا جس کے ذریعے ایک دوسرے کے استدلال کو جانچا جاسکے کہ جس نے جو کہا وہ کیوں کر اور کیسے درست ہے۔

امام شافعی کے حوالے سے ایسی آراء اسلامی تاریخ میں موجود رہی ہیں، تاہم مستشرقین (orientalists) نے اپنے روایتی منہج بحث کو اختیار کرتے ہوئے جہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی سنت و حدیث کا زخیرہ اسلامی قانون کی ابتدائی تشکیل کے بعد (بالخصوص تیسری صدی ہجری) کی پیداوار ہے، ساتھ ہی بعض نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی امام شافعی سے قبل گویا ماخذات شرع کا کوئی واضح تصور مسلمانوں کے ہاں موجود نہ تھا اور مسلمان بے ڈھب طرز پر قانون تشکیل دیتے رہے، یہاں تک کہ امام شافعی نے تقریبا دو صدیوں بعد اخذ قانون کا قاعدہ مقرر کیا۔ ان آراء کے اظہار کا سلسلہ مشہور مستشرق گولڈزیہر سے ہوتی ہوئی جوزف شاخت اور مابعد تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں مشہور مستشرق جوزش شاخت (Schacht,)نے کتاب The Origins of Muhammadan Jurisprudence میں امام شافعی کو اصول فقہ کا "ماسٹر آرکیٹیکٹ" قرار دیا۔ ان کی یہ بات "کلمۃ حق ارید بھا الباطل" کا مصداق تھی کیونکہ ان حضرات کی فکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ابتدائی صدیوں میں فقہ کی ڈویلپمنٹ کا اصول فقہ سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہ نظری علم مسلمانوں نے بعد میں وضع کیا۔ گویا آپ سے قبل امام ابوحنیفہ (م 150 ھ / 767 ء ) و مالک (م 179 ھ/795ء) و دیگر مجتہدین نے فقہ کا جو ذخیرہ چھوڑا، وہ الل ٹپ اور مقامی روایات وغیرہ کے تناظر میں متشکل ہوتا رہا۔

اسلامی قانون کی تشکیل کے بارے میں مستشرقین کے یہ دعوے گمراہ کن تھے اور اسی لئے عالم اسلام کے اہل علم نے ان کا بھرپور تعاقب کیا۔ اس کاوش کے نتیجے میں ابتدائی صدیوں میں سنت و حدیث کی تدوین اور تشریعی حیثیت پر وقیع کام سامنے آیا جس کی ایک طویل لسٹ تیار کی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اہل علم نے یہ دکھانے کی کوشش بھی کی کہ امام شافعی سے قبل اصول فقہ کے مباحث کا واضح ادراک موجود تھا۔ اسلامی یونیورسٹی کے ایک اہل علم جناب ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب (م 2016 ء ) نے ابتدائی دو صدیوں کے دوران کوفہ کے علاقے میں اسلامی قانون کی تشکیل پر پی ایچ ڈی کے وقیع مقالے ( Early development of Islamic Fiqh in Kufa with Special Reference to the Works of Abu Yousuf and Shaybani) میں ائمہ احناف کی کتب سے مستشرقین کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ابتدائی صدیوں میں سنت و حدیث کو ماخذ قانون کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ آپ نے ان کتب کے تفصیلی حوالہ جات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ ائمہ احناف کے نزدیک حدیث و سنت "خبر لازم" کی حیثیت رکھتی تھی اور اہل کوفہ کے بارے میں "اہل الرائے" کے عمومی پراپیگنڈے کے برعکس حنفی ائمہ کثرت کے ساتھ سنت و حدیث سے استدلال کیا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ مصر، شام، مدینہ و کوفہ کی فقہی روایات میں سے بالخصوص کوفہ کی فقہی روایت زیادہ مربوط و منظم تھی اور مختلف فقہی روایات کا یہی کام امام شافعی کی "الرسالۃ" کے لئے پیش خیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

محترم انصاری صاحب کا یہ مقالہ بہت حد تک متوازن محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ نہیں مانا جاسکتا کہ ایک شخص یوں اچانک اٹھ کر یکدم "الرسالۃ" جیسی اتنی منظم کتاب لکھ دے، یقینا اس کی پشت پر ایک طویل علمی روایت موجود ہوتی ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے ہی چند مخصوص سوالات کو مقرر کرکے ان کا جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مستشرقین کو جواب دیتے ہوئے تاریخی تناظر میں اس نوعیت کا کچھ کام جناب ڈاکٹر فضل الرحمان انصاری صاحب (م 1988ء) نے اپنی کتاب Islamic Methodology in History میں بھی پیش کیا، تاہم حدیث و سنت کے بارے میں ان کی آراء مسلمان اہل علم کی عمومی آراء کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

مستشرقین کے کام پر یہ ایک قسم کا رسپانس تھا، اس ضمن میں مستشرقین کے جواب میں ایک اور رسپانس دنیا کے مختلف علاقوں کے اندر اہل علم کے ہاں "اینٹی استشراق" تحریک کی صورت سامنے آیا ، یہ اہل علم مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں۔ ان مصنفین کو مستشرقین سے یہ شکایت ہے کہ یہ لوگ مختلف اہل مذاھب کی ایسی تاریخ لکھتے ہیں جو انہیں احساس کمتری کا شکار کرتی ہے، لہذا ان مستشرقین کو رد کرنا ضروری ہے۔ امام شافعی کے تناظر میں ایسی تحریر لکھنے والے اہل علم میں ایک اہم نام جناب وائل حلاق صاحب کا ہے۔ آپ نے 1993 کے اپنے ایک مقالے (Was al-Shafii the Master Architect of Islamic Jurisprudence?) میں تاریخی تجزیات کی بنیاد پر اس رائے کا اظہار کیا کہ امام شافعی کو اصول فقہ کا ماسٹر آرکیٹکٹ کہنا غلط ہے، آپ کی کتاب "الرسالۃ" کا اصول فقہ کی تشکیل میں نہ خاص کردار ہے اور نہ ہی آپ کے خیالات کو کم از کم 100 سال تک کوئی اہمیت دی گئی۔ آپ کی کتاب الرسالۃ ایک ابتدائی نوعیت کی چیز تھی نہ کہ حرف آخر (یہ دعوی مسلمانوں میں سے کسی نے کیا بھی نہیں کہ آپ کا کام حرف آخر تھا) بلکہ یہ کتاب اصول فقہ کے بجائے اصول حدیث سے متعلق ہے۔ مسلمانوں نے آپ کے بعد اس علم کو مزید ترقی دی اور جسے آج اصول فقہ کہتے ہیں، وہ تیسری و چوتھی صدی ہجری میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی باہمی بحث و تمحیص کے بعد پانچویں صدی ہجری کے آغاز میں سامنے آیا اور اس ضمن میں وہ قاضی باقلانی (م 403 ھ) کو بنیادی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ بات سمجھ نہیں آسکی کہ آخر علامہ جصاص (م 370 ھ) کو وہ اس ضمن میں کیونکر اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں جنہوں نے "الفصول فی الاصول" کے نام سے اس فن پر ایک ضخیم کتاب لکھی۔

حلاق صاحب کے اس تجزیے پر مختلف اہل علم، بشمول مستشرقین اور اہل اسلام، کا رد عمل سامنے آیا۔ اس رد عمل کو دو بنیادی نکات میں سمویا جاسکتا ہے:

1) یہ دیکھنا کہ تیسری و چوتھی صدی ہجری کے دوران امام شافعی کو کس قسم کا رسپانس ملا

2) یہ دیکھنا کہ امام شافعی کی "الرسالۃ" اور امام جصاص کی "الفصول" کے درمیانی تقریبا ڑیڑھ سو سالہ دور میں اصول فقہ پر کس نوعیت کا کام ہوا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ الرسالہ کا ان کے ساتھ کیسا تعلق ہے۔

اس ضمن میں متعدد اہل علم نے اپنی تحقیقات پیش کیں جو حلاق صاحب کے درج بالا مقدمات کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان تمام تحریرات کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں، تاہم بحث و جواب کی نوعیت سمجھنے میں احمد الشمسی کی The Canonization of Islamic Law: A Social and Intellectual History نیز احمد تامل صاحب کے پی ایچ ڈی مقالے The Missing Link in the History of Islamic Legal Theory: The Development of Usool al-Fiqh between al-Shāfi and al-Jaṣṣāṣ during the 3rd/9th and Early 4th/10th Centuriesکا مطالعہ سود مندہوگا۔ بدقسمتی سے تیسری و چوتھی صدی ہجری کے دوران اصول فقہ پر لکھی جانے والی اکثر کتب ہمیں میسر نہیں، تاہم پچھلے کچھ عرصے میں محققین مختلف لائبریریز میں محفوظ بعض مخطوطات کو ایڈٹ کرکے سامنے لائے ہیں جیسے شافعی عالم سریج (م 306 ھ / 918 ء )کی فقہ کی کتاب کا وہ حصہ جو اصول فقہ پر مبنی ہےاور اسی طرح چوتھی صدی ھجری کے نصف میں انتقال کرنے والے شافعی عالم الخفاف کی کتاب کا اصولی مقدمہ۔ یہ دونوں مخطوطات احمد الشمسی صاحب نے اپنے مقالے Bridging the Gap: Two Early Texts of Islamic Legal Theory میں جمع کردئیے ہیں۔

امام شافعی کی کتاب "الرسالۃ " کے بارے میں مستشرق نارمین کالڈر (Norman Calder) نے اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ یہ کتاب آپ نے نہیں بلکہ بعد کے دور کے کسی شافعی عالم نے تحریر کی ہے، اس کی وجہ محقق کے خیال میں یہ ہے کہ کتاب کے مباحث خاصے ایڈوانس نوعیت کے ہیں جنہیں دوسری صدی ہجری میں پیش کیا جاسکنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اہل علم نے اسلامی علوم کے متعدد داخلی شواھد سے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ رائے غلط ہے۔ مثلا ابو یعقوب بویطی (پیدائش اندازا 170 ھ - متوفی 231 ھ) امام شافعی کے ایک شاگرد تھے۔ آپ نے "مختصر" کے نام سے امام شافعی کے "الرسالۃ" کا خلاصہ لکھا جسے محققین نے کچھ سال قبل مخطوطات سے تصنیف میں ڈھال دیا ہے اور احمد الشمسی نے انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ای طرح مشہور معتزلی عالم جاحظ (م 255ھ) کے رسالے "رد ھاشم علی ادعاء أميۃ البسالۃ" میں اس کتاب کا ذکر موجود ہے۔ الغرض اس نوع کے متعدد نظائر یہ ثابت کرتے ہیں کہ الرسالۃ امام صاحب ہی کی تصنیف تھی۔

ان محققین کو جواب دینے کے لئے حلاق صاحب نے 2019 میں Uṣūl al-Fiqh and Shāfiʿī’s Risāla Revisited کے نام سے ایک تفصیلی مقالہ لکھا۔ اس تحریر میں حلاق صاحب کے استدلال کا حاصل یہ ہے کہ کسی علم کے اصول فقہ کہلائے جانے کے لئے جن پانچ شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے، ان شرائط پر امام شافعی کی الرسالۃ تو کجا پانچویں صدی ہجری کی اکثر کتب بھی ان پر بمشکل پورا اترتی ہیں۔ یہ پانچ شرائچ درج ذیل ہیں:

الف) چار ماخذات دین یعنی قرآن، سنت ، اجماع و قیاس کا واضح تصور ہونا۔ حلاق صاحب نے ایک مستشرق جوزف لوری کی تحقیق (Does Shafi have a Theory of Four Sources of Law?) پر اعتماد کرتے ہوئے اس رائے کو اختیار کیا کہ امام صاحب کے ہاں اس کا تصور موجود نہیں (یہ صراحتا ایک غلط رائے ہے کیونکہ آپ کی کتب "الرسالۃ " و "الام" میں صریح عبارات میں ان چار کا بالترتیب ذکر موجود ہے)

ب) ان چار ماخذات کا ترتیب وار لحاظ کئے جانے کا ادراک ہونا کیونکہ ترتیب بدلنے سے بہت فرق پڑتا ہے۔ حلاق صاحب کی رائے میں اس ترتیب کے وجوب کا واضح ادراک قاضی باقلانی کے ہاں ملتا ہے

ج) ایسے علم کے وجود کا ادراک ہونا جو فقہ سے الگ و بلند تر اصول و قواعد سے بحث کرتا ہو اور اس کے ماہرین کے ہاں "ادلۃ اجمالیۃ" کا واضح تصور پایا جائے

د) اپنی الگ شناخت کا شعور رکھنے والے (یعنی self-conscious)) علم کا وجود ہونا، یعنی ایک ایسا علم جو خود اپنے اصول و قواعد کا جواز و شعور رکھتا ہو کہ اس علم کا مقصد و سکوپ کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ حلاق صاحب کے خیال میں اصول فقہ پر یہ دور جوینی (م 478 ھ) و غزالی (م 505 ھ) و سرخسی (م 483 ھ) تک پہنچ کر آتا ہے۔

ھ) اصول فقہ الگ سے ایک نوع ہو جسے ضبط تحریر میں لانے کا ایک منفرد انداز ہو اور اس کے ماہرین کی منفرد کمیونٹی الگ سے پہچانی جاتی ہو۔ ان کے خیال میں علامہ باقلانی کے دور کے بعد اس نوع کے وجود کی ابتدا ہوئی۔

چنانچہ ان شرائط کو بنیاد بنا کر وہ الرسالۃ کو اصول فقہ کے لئے ایک غیر ضروری نہ سہی تو کم از کم بالکل ابتدائی نوعیت کی ایک چیز دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم حلاق صاحب کے اس تجزئیے پر ذہن میں درج ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1) کیا کسی نے امام شافعی کو انہی پانچ شرائط کے معنی میں اصول فقہ کا ماسٹر آرکیٹیکٹ کہا تھا کہ حلاق صاحب نے اسے بنیاد بنا کر یہ مقدمہ رد کیا؟ اگر ایسا کسی نے نہیں کہا تو یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ آخر حلاق صاحب نے رد کس کا لکھا؟ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1993 کے مقدمے کے دفاع کے لئے انہوں نے ایسی سخت شرائط مقرر کیں۔

2) حلاق صاحب کا 1993 کا مقدمہ زیادہ تر تاریخی نوعیت کا تھا جس پر ناقدین نے تاریخی شواھد کے ذریعے ان کے مقدمے کی غلطی کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن 2019 میں حلاق صاحب نے تاریخی کے بجائے تجزیاتی گراؤنڈ پر اپنا دفاع کیا کہ جن شواہد کو ناقدین نے پیش کیا وہ کیونکر اصول فقہ کہلانے کے مستحق نہیں۔ اس اعتبار سے حلاق صاحب کے دو مقالہ جات کی بحث میں بظاہر ربط محسوس نہیں ہوتا۔

3) کسی علم کے اصول فقہ کہلائے جانے کے لئے خود ان پانچ شرائط کی علمی حیثیت کیا ہے؟ کیا ماضی کے مسلمان اہل علم میں سے کسی نے ایسی شرائط پیش کیں؟ ممکن ہے حلاق صاحب اس سوال کو غیر ضروروی قرار دیں لیکن اہل اسلام کے روایتی طبقے کے لئے یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس طرح پھر کوئی بھی ماہر اپنی طرف سے ایسی مزید سخت شرائط عائد کرکے اصول فقہ کی ڈویلپمنٹ کو مزید دو تین صدیاں آگے دھکیل سکتا ہے۔

4) حلاق صاحب کا یہ تجزیہ مستشرقین کے اس اعتراض کا جواب کیسے دیتا ہے کہ "اصول فقہ و فقہ دو الگ قسم کے علوم تھے اور اصول فقہ بہت بعد کی پیداوار ہے"، یہ واضح نہیں ہو پاتا۔ بلکہ ان کی تحقیق سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے چار سو سال تک بغیر کسی واضح تصور اصول کے فقہ کی تشکیل جاری رکھی۔

5) حلاق صاحب کی شرائط کا حاصل یہ ہے: (الف) سڑک کا مطلب 240 فٹ چوڑی سڑک ہے جس کے ہر طرف 3 بسیں بیک وقت کراس کر سکیں، (ب) ایسی سڑک کی تعریف پر پاکستان میں موٹروے پورا اترتی ہے، (ج) پاکستان میں موٹروے 1997 میں بنی، (د) لہذا پاکستان میں سڑک 1997 میں بنی، اس سے پہلے پاکستان میں سڑک نہیں تھی۔

مستشرقین کے جواب میں امام شافعی کے کام کے تناظر میں ایک اہم رائے محترم عمران احسن نیازی صاحب کی بھی ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کی گئی کہ جناب ظفر اسحاق انصاری صاحب نے مستشرقین کو جواب دیتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ائمہ احناف کے ہاں ماخذ شرع اور اصول و قواعد کا واضح ادراک پایا جاتا تھا، اگرچہ انہوں نے اس موضوع پر کوئی باضابطہ تحریر نہ لکھی ہو۔ آپ کے شاگرد محترم عمران احسن نیازی صاحب اپنی کتاب Theories of Islamic Law میں آپ کے اس تجزئیے پر یہ اضافہ فرماتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ائمہ احناف و مالکیہ امام شافعی سے قبل اصول وضع فرمارہے تھے بلکہ ان کے کام کی نوعیت امام شافعی کے کام اور ان کے نظریہ اصول سے مختلف نوعیت کی تھی۔ آپ کے نزدیک مستشرقین کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے ان دو مناہج اصول کو ایک فرض کرتے ہوئے یہ سمجھا کہ امام شافعی اصول فقہ کے بانی تھے جبکہ امام شافعی صرف اس کے ایک خاص منہج یا نظریے کے بانی تھے جسے وہ "حرفیت پسندی" (لٹرل ازم) کہتے ہیں۔ اس کے برعکس ان سے قبل فقہائے احناف نے جس نظرئیے کی بنیاد ڈالی اسے وہ نظریہ اصولیت پسندی (theory of general principles) کہتے ہیں اور مشائخ احناف نے بعد میں اپنے ائمہ سے منقول جزئیات سے اپنا اصولی نظام الگ سے وضع کیا۔ تاہم مستشرقین ان دو نظاموں کو الگ کرنے کے بجائے اصول فقہ کو "کلاسیکل اسلامک تھیوری" کے عنوان میں بند کرکے اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ امام شافعی گویا ہر قسم کے اصول فقہ کے بانی تھے۔ نیازی صاحب کے مطابق امام شافعی کے پیش نظر دین کے اس حصے جسے وہ "فکسڈ پارٹ" کہتے ہیں، اس کے لئے ایسی میتھاڈولوجی وضع کرنا تھا جو نصوص کے ظاہری معنی کے اندر یا اس سے قریب رہتے ہوئے اخذ احکام کو ممکن بنائے جبکہ فقہائے احناف اس سے زیادہ عمومی سطح پر قواعد عامہ اخذ کرنے کا فریم ورک تیار کررہے تھے۔

اس طرز استدلال سے وہ مستشرقین کا یہ تاثر غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امام شافعی سے قبل اصول فقہ کا وجود نہ تھا۔ اسلامی تاریخ میں تعبیر نصوص کے دو مناہج رہے ہیں، یہ بات ان معنی میں درست ہے کہ الفاظ و معنی کے فہم کا ایک نظریہ قائلین قیاس کا تھا جبکہ دوسرا نظریہ منکرین قیاس کا (جس کی مثالیں ابتدائی صدیوں میں النظام معتزلی، مکتب اہل تشیع اور گروہ خوارج کی صورت نظر آتی ہیں)۔ چنانچہ محترم نیازی صاحب کے استدلال کے درست ہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ امام شافعی کو علمائے ظاہریہ جیسے منکرین قیاس کی صفوں کے قریب کیا جائے تاکہ یہ بات ثابت ہوسکے کہ امام شافعی پوری طرح سے اس اصولی منہج کی نمائندگی نہیں کرتے جس کی بنیاد ائمہ احناف وغیرہ نے ڈالی بلکہ آپ کا نظریہ اصول احناف سے مختلف نوعیت کا تھا۔ اسی لئے نیازی صاحب رماتے ہیں کہ امام شافعی کے خیالات اسی گروہ سے قربت رکھتے ہیں جس میں علامہ داؤد ظاہری آتے ہیں اور اس کی دلیل آپ کے نزدیک یہ ہے کہ امام صاحب کے قیاس کا تصور قیاس اولی اور قیاس شبہ تک محدود ہے، اول الذکر کے قیاس ہونے ہی میں اختلاف ہے کیونکہ احناف اسے دلالۃ النص کہتے ہیں جبکہ موخر الذکر ان کے نزدیک تحقیق مناط سے عبارت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیاس کا وہ تصور جسے اہل فقہ قیاس علت کہتے ہیں، امام شافعی کے ہاں اس کا ادراک نہیں ملتا۔ آپ کے اصول فقہ میں قیاس کی بحثوں پر یہ اضافہ جات کئی صدیاں بعد امام جوینی و غزالی نے کئے اور اسی لئے آپ فرماتے ہیں کہ امام شافعی کے ہاں "تخریج مناط" کا وہ تصور نہیں پایا جاتا جس کی بات امام غزالی کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ آپ کے نزدیک یہ ہے کہ امام شافعی کا اصل منہج لٹرل ازم تھا اور احناف کی طرح جنرل پرنسپلز کی دریافت وغیرہ آپ کے پیش نظر نہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ نے استحسان کے حنفی تصور کو رد کیا جو گویا اخذ قواعد کی ایک الگ میتھاڈولوجی کا مظہر تھا۔ چنانچہ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ امام شافعی نے ایک ایسے اصول فقہ کی بنیاد رکھی جو اپنے سے پیش رو فقہا کے مقابلے میں تنگ تھی اور نیازی صاحب کے مطابق اسی لئے امام شافعی کی فقہ کو ڈویلپ ہونے میں دو صدیوں سے بھی زیادہ وقت لگا اور آپ کے نظریات فقہی مباحث پر زیادہ اثر نہ ڈال سکے، بعد کے دور میں شافعی علماء کے ہاں آپ کے نظریات کو اخذ و ترمیم کے ساتھ قبول کیا گیا۔

امام شافعی کے تصور اصول فقہ کی بحث میں محترم نیازی صاحب کا یہ مقدمہ ایک دلچسپ اضافہ ہے کہ انہوں نے اس کے ذریعے مستشرقین کے مقدمے کا جواب دینے کی کوشش کی (آپ کے مطابق اصول فقہ میں اخذ احکام کی ایک نہیں بلکہ تین تھیوریز پائی جاتی ہیں، درج بالا دو کے سوا تیسری تھیوری امام غزالی نے "مقاصد شریعت" کے تناظر میں وضع کی جسے تاحال پوری طرح برتا نہیں جاسکا)۔ امام شافعی کے بارے میں محترم نیازی صاحب کے اس مقدمے کے حوالے سے تاحال ایسی کوئی تحریر ہماری نظر سے نہیں گزری جس میں اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہو، آپ کی اس کتاب پر جناب ظفر اسحاق انصاری صاحب نے تقریظ لکھتے ہوئے ان کی تحقیق و نتائج فکر کی تحسین فرمائی ہے ۔ تاہم نیازی صاحب کی طرف سے امام شافعی کے تصور قیاس کو انڈر ڈویلپ یا محدود ثابت کرکے انہیں علامہ داؤد ظاہری جیسے حرفیت پسندوں کا پیش رو کہنا اور ان کے منہج اصول کو احناف و مالکیہ کے منہج سے الگ ثابت کرنا محل نظر مقدمات ہیں۔ ان مقدمات کا جائزہ لینے کے لئے اقسام قیاس، مسالک علت و استحسان کی بحثوں کی روشنی میں امام شافعی کی عبارات اور ان کی امثلہ پر بحث کرکے ائمہ و مشائخ احناف کی آراء کے ساتھ اس کے موازنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ساتھ ہی ساتھ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا اسلامی تاریخ میں علمائے شوافع و احناف نے خود ایسی کسی رائے کا اظہار کیا کہ امام شافعی کا منہج علمائے ظاہریہ جیسا تھا نیز آپ کے ہاں قیاس علت جیسے تصورات نہیں پائے جاتے؟ یہ جائزہ ان شاء اللہ الگ تفصیلی تحریر میں پیش کیا جائے گا۔

دورحاضرمیں اسلامی فکر : توجہ طلب پہلو

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(نوٹ: مرکز جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی نے خاکسار کو اسی موضوع پر اپنے ورکشاپ منعقدہ ۳۰ نومبر ۲۰۲۱ء میں اظہار خیال کی دعوت دی ہے اسی ورکشاپ کے لیے یہ مقالہ لکھا گیا)


موجودہ دور میں اسلامی فکرکے میدان میں بہت کام ہواہیخاص کرروایتی علوم کے احیاء کے سلسلہ میں۔اس کی پوری قدرکرتے ہوئے اب کام کے نئے میدانوں اورنئی جہات پرتوجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔

ذیل کی سطورمیں اختصارکے ساتھ اس کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی۔اس مجوزہ علمی کام کی دوسطحیں ہیں ایک عالمی دوسری قومی ومقامی۔لیکن اس تحریرمیں صرف عالمی مسائل سے بحث ہوگی۔البتہ آخرمیں ایک ایسے پہلوکی طرف توجہ دلانی ہے جوعالمی بھی ہے اورمقامی اہمیت بھی رکھتاہے۔اختصارکی خاطربعض نکات کی طرف صرف اشارے کیے گئے ہیں تفصیلی بحث سے گریزکیاگیاہے اوربعض میں تھوڑی تفصیل کردی گئی ہے۔مقالہ میں پیش کیے گئے نکات غوروفکرکے لیے پیش کیے جارہے ہیں،وہ مصنف کی کسی حتمی رائے کا اظہارنہیں کرتے۔

عالمی سطح پر:

سیاسیات: عصرحاضرمیں اسلامی اجتماعیات کے میدان میں سب سے نمایاں اورممتازترین نام مولاناسیدموددوی علیہ الرحمہ کاہے۔

۱۔انہوں نے سیاسیات کے میدان میں بھی ایک تھیوری دی تھی کہ اسلامی سیاست نہ خالص تھیاکریسی ہے اورنہ خالص ڈیموکریسی۔وہ ان دونوں کے بین بین کی چیز ہوگی۔(۱)مولانامعاصرسیاسیات پر گہری نظررکھتے تھے تاہم ایسامحسوس ہوتاہے کہ اس اصطلاح کے بارے میں ان کا ذہن واضح نہ تھاکیونکہ ایک جگہ انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ نام کی یااصطلاح کی کوئی اہمیت نہیں ”اس طرزکی حکومت کوموجودہ زمانہ کی اصطلاحوں میں آپ اسے سیکولرکہیے،ڈیموکریٹک یاتھیوکریٹک ہمیں کسی پراعتراض نہ ہوگا“۔(۲)ڈاکٹراسراراحمدجوعصرحاضرمیں نظام خلافت کے سب سے پرجوش داعی رہے ہیں،نے اِس پر مختصر اضافہ کیااوراس نظام کی کچھ عملی صورتیں تجویزکیں۔مگراس بنیاد پر مضبوط عمارت اٹھانے کی ضرورت ہے جس پرابھی کوئی توجہ نہیں دی جاسکی ہے۔(۳)

۲۔جمہوریت میں اصل زورعام لوگوں کی شراکت اقتدارپر ہوتاہے اس موضوع پر زیادہ مسلمان اہل علم نے خواہ مخواہ ہی حاکمیت ِالٰہ کی بحث چھیڑدی ہے۔جوسراسرایک اضافی اورRelative مسئلہ ہے۔ظاہرہے کہ مسلم اکثریتی ممالک میں حاکمیتِ الٰہ کونظری طورپرتسلیم نہ کرنے کا کوئی سوال نہیں بحث عملی ہے۔البتہ غیرمسلم اکثریتی ممالک میں حاکمیت الٰہ کا مطالبہ فضول ہوگا۔پہلے توان کوایمان کی دعوت کا مخاطب بنایاجائے گا۔

۳۔ دارالاسلام اوردارالحرب کی بحثوں سے اسلامی فقہ کاذخیرہ بھراپڑاہے مگریہ اصطلاحات اپنے دورمیں Relevant تھیں آج نہیں ہیں۔اب نئی اصطلاحات بنانے کی ضرورت ہے۔مثال کے طورپر مولاناوحیدالدین خاں دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں یاعلامہ یوسف القرضاوی دارالعہدکی۔

۴۔اسلامی فقہ میں غیرمسلم شہریوں کے لیے ذمی،مستامن وغیرہ کی اصطلاحیں رائج ہیں مگریہ شہریت کے موجودہ تصورات کے مطابق نہیں ہیں۔جدیدذہن اس جبرکوتسلیم نہیں کرتاکہ شہریوں کومذہب کی بنیادپر اول درجہ اور دوسرے درجہ کے شہریوں میں تقسیم کردیاجائے۔آج کی نیشن اسٹیٹ میں تمام شہریوں کودستوری طورپر یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں۔(۴)ہاں یہ بات صحیح ہے کہ عملی صورت حال بہت سے ملکوں میں اس کے بالکل برعکس ہے۔

سیکولرزم ایک فکری نظریہ اورعملی رویہ ہے جومذہب کوانسانی زندگی سے خارج کرتایاکم ازکم اس کونجی زندگی تک محدودکرتاہے۔ظاہرہے کہ مسلمان اہل علم میں کوئی بھی اس نظریہ کی تائیدنہیں کرسکتا۔مگرسیکولراسٹیٹ ریاست کے ایک عملی بندوبست کاسوال بھی ہے خاص کران ممالک میں جہاں مختلف مذہبی اکائیاں رہتی ہوں۔ مسلمان اہل فکرعام طورپر دونوں میں خلط ملط کردیتے ہیں اوراس پر گومگوکا شکارہیں۔البتہ عملی صورت حال تضاد فکری کی غماض ہے وہ یوں کہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں وہ سیکولراسٹیٹ کی بھی جوش وخروش سے مخالفت کرتے ہیں اورجہاں اقلیت میں ہیں وہاں وہ ا س کوباقی رکھناچاہتے ہیں اوراس کا دفاع وتحفظ کرتے ہیں۔ مولانا سعید احمد اکبرآبادی،پروفیسرمشیرالحق،مولاناوحیدالدین خاں اورڈاکٹرعبدالحق انصاری سیکولراسٹیٹ کی تائید کرتے ہیں اوراس کوہندوستان جیسے ملک میں نسبتاً ایک بہترنظام سیاست خیال کرتے ہیں کہ ریاست کا کوئی مذہب نہ ہو، وہ کسی مذہب میں مداخلت نہ کرے بلکہ سبھی مذاہب اس کی نظرمیں برابرہوں۔غامدی صاحب نیشن اسٹیٹ میں مطلقا اس کی نفی کرتے ہیں کہ ریاست کا کوئی مذہب ہو۔ (۵)

۵۔حدودکے سلسلہ میں ارتدادکی سزاکا تصورجدیدتعلیم یافتہ لوگوں کے نزدیک موجودہ زمانہ کی مذہبی آزادی اور اظہاررائے کی آزادی سے متصادم ہے اورقرآن کے صریح نص کے خلاف بھی۔یقیناعلماء اسلام کی اکثریت اسی کی قائل رہی ہے مگراس بارے میں دوسری رائے بھی صدراول سے ہی موجودرہی ہے جوبوجوہ دبی رہی۔کیا آج کے دور میں اس رائے کا اظہار موزوں نہ ہوگا؟اورکیااس پر کھلے بحث ومباحثہ کی ضرورت نہیں ہے؟ (۶)

۶۔توہین رسالت کے قانون اوراس کے اطلاق کوعوامی ہاتھوں میں دینے کا تصورجدیدذہن کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔اس پر گفتگوہونی چاہیے جس کا امکان مسلم معاشروں میں کم ہے۔پاکستان میں 1990 سے اب تک تقریبا 1500لوگ اس قانون کے تحت گرفتارہوئے ہیں۔اورتقریبا700لوگوں کوماوراء عدالت عام لوگوں میں سے کسی نے اٹھ کرقتل کردیاہے۔جب کہ عدالت میں ان میں سے کسی پر بھی جرم ثابت نہ ہوسکاتھااورعدالتوں نے ان کو بری کردیاتھا۔(۷) پاکستان میں کسی پر بھی توہین مذہب کا الزام لگایا جا سکتا ہے اگروہ مذہبی لوگوں کے رویے کو چیلنج کرے۔ پاکستان کے لبرل مفکرین اور دانشور اس روایت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ خطرے کی زد میں رہتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو توہین مذہب کے قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنے پر ایک مذہبی انتہا پسند نے قتل کر دیا تھا۔جس کوآج مذہب پسندوں کی ایک کثیرتعداداپناہیرومانتی ہے۔

توہین مذہب کو جرم قرار دینے والے 71 ممالک میں سے 32 میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لیکن مختلف ممالک میں اس سزاکا نفاذ مختلف ہے۔بعض ممالک نے ان سزاؤں کوRepeal کردیاہے اوربعض نے ان پر عمل درامدکومنسوخ کردیاہے۔البتہ یہ عجیب وغریب بات ہے کہ ہولوکاسٹ پر سوال اٹھانایابات کرنامغربی ممالک میں ممنوع اورقابل سزاہے۔ایران، پاکستان، افغانستان، برونائی، موریطانیہ اور سعودی عرب میں توہین مذہب کی سزا موت ہے۔ غیر مسلم اکثریتی ممالک میں توہین مذہب کے سب سے سخت قوانین اٹلی میں ہیں، جہاں زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید ہے۔

ایک طرف تویہ موضوع بہت حساس ہے۔دوسری طرف یہ پہلوبھی سامنے رہے کہ کسی شاتم ِرسول کوقتل کرڈالنے سے اہانت کے کیسوں میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ اسلاموفوبیاکی مہم کواس سے اورمسالہ مل جاتاہے۔حالانکہ حنفی فقہ میں شاتم ِرسول کی سزامطلقاموت نہیں ہے بلکہ اس میں تفصیل ہے۔(۸)لیکن برصغیرمیں امام ابن تیمیہ کی رائے کوعمومی طورپر قبول کرلیاگیاہے اوراس پراجماع کا دعوی بھی کیاجاتاہے۔اس سلسلہ میں جتنی بھی روایات آئی ہیں ان کے ظاہری مفہوم پر علما کی اکثریت اصرارکرتی ہے۔اورمسلم اکثریتی ممالک میں اس طرح کے کیسوں میں مسلمانوں کا عمومی ردعمل شاتم کوفوری طورپر کیفرکردارکوپہنچانے کا ہوتاہے جبکہ اقلیتی ممالک میں ان کا ردعمل زیادہ سے زیادہ احتجاجی مظاہروں تک محدودرہتاہے۔اس سے کھل کراختلاف کا اظہارمولاناوحیدالدین خاں، جاویداحمدغامدی صاحب اورعمار خاں ناصرکے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔(۹)بہت سے دوسرے علماء بھی یہی رائے رکھتے ہیں مگرعوامی ردعمل کے خوف سے وہ اس کا اظہارنہیں کرتے۔مسلمان اس سلسلہ میں مغرب کی آزادیئ فکر (جوکہ ان کے لیے تقریباایک مذہب ہے اورخیراعلی(sumnum Bonum)سمجھی جاتی ہے)کی حساسیت کونہیں سمجھ پاتے اوراہل مغرب ناموس ِرسالت سے متعلق مسلمانوں کی حساسیت کا ادراک نہیں رکھتے۔اسی لیے ناگزیرہوگیاہے کہ مسلمان اہل علم کے درمیان اس موضوع پر کھل کرگفتگوہواوراہل مغرب سے مکالمہ کی راہ کھولی جائے۔

اسی سے متعلق ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ نظری طورپر اہانت رسول کے قانون میں اللہ تعالیٰ،قرآن پاک،رسول اکرم ﷺ اورکسی بھی نبی کی اہانت شامل ہے اورمغرب میں حضرت عیسیٰ کولے کرخوب اہانت ہوتی ہے مگرمسلمان عملاًصرف رسول اللہ ﷺکی اہانت پر متشددردعمل کا اظہارکرتے ہیں؟اصولی اوراخلاقی طورپر ان کومطلقاًہرنبی کی اہانت پر ردعمل کا اظہارکرناچاہیےے۔

۷۔جزیہ کا آج عملاکوئی بھی اسلامی ملک غیرمسلم شہریوں سے مطالبہ نہیں کرتا۔مگرعلماء کرام اورفقہااپنی تحریروں اورفتووں میں آج بھی اس پر زوردیتے ہیں اوریہی بتارہے ہوتے ہیں کہ وہ غیرمسلموں کی تذلیل کے لیے لگایاجاتاہے۔بعض لوگ دوسری توجیہات بھی کرتے ہیں۔مولاناعنایت اللہ سبحانی نے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ جزیہ نہ عام لوگوں پر لاگوہوگااورنہ وہ غیرمسلموں کی تذلیل کا نشان ہے۔ان کا کہناہے کہ جزیہ مغلوب غیرمسلم ریاست سے غالب اسلامی ریاست لے گی (۱۰) ہمارے خیال میں اس رائے پرغورکیاجاناچاہیے۔اورکیامسلم حکومتوں کا تعامل بھی بطورنظیرکام آسکے گا؟

اصل میں جب اسلامی فقہ کی تدوین شروع ہوئی تو اس وقت عالم اسلام وقت کاسپرپاورتھا اورپوری اسلامی ریاست ایک خلیفہ کے ماتحت تھا یاکم ازکم نظری طورپر ایک خلیفہ کی اتھارٹی کو چیلنج نہ کیاجارہاتھا اورمسلم سلاطین اس کی وفاداری کا دم بھرتے تھے،ایسے ماحول میں فقہاء اسلام نے جوسیاسی اصول مدون کیے یامسلم مفکرین سیاست نے جو تحریریں چھوڑیں وہ زیادہ تر نظری باتوں پر مشتمل ہیں اورعصرحاضرکے نت نئے مسائل کا ان میں کوئی مرتب حل نہیں پایاجاتاہے۔مثلااس سوال کا مدون اسلامی فقہ یااسلامی سیاسی فکرجوجواب دیتی ہے کہ اگرکوئی غیرمسلم ریاست جومسلمانوں کے خلاف جارحیت کی مرتکب نہیں ہوتی تو اسلامی ریاست کے تعلقات اس کے ساتھ بھی محاربہ پرمبنی ہوں گے یامسالمہ پر،وہ بہت زیادہ relivantنہیں۔کہ فقہاء کی اکثریت بظاہرپہلی رائے کی حامل ہے جوموجودہ حالات میں قابل عمل نہیں۔(۱۱)مستشرقین اوران کے ہم نوا بعض مسلمان اسکالر وں کے نزدیک اسلامی فقہ تمام تر اسلام کی حکمرانی کی فضاء میں پروان چڑھی۔اسی وجہ سے وہ مسلمانوں کو اس صورت حال کے بارے میں تو تفصیلی رہنمائی دیتی ہے،جب وہ حاکم ہوں،لیکن جب مسلمان خود محکومی کی حالت میں ہوں یا محکومی سے مشابہ حالت ہویا تھوڑے بہت وہ خود بھی اقتدار میں شریک ہوں جیسے کہ ہندوستان میں ہے،تو ایسی صورت حال کے لیے مدون فقہ اسلامی رہنمائی دینے سے قاصر ہے۔فقہ الاقلیات کی بحث اسی عملی صورت حال کی پیداکردہ ہے۔(۱۲)

اسی طرح اقتدارکی منتقلی کا کوئی میکینزم اسلامی فکرمیں نہیں ملتاہے۔جس کی وجہ سے تاریخ اسلام کا بیشترحصہ درباری سازشوں،خلیفہ وزراء اورامراء کی اقتدارکی رسہ کشیوں اوراس کے نتیجہ میں خون ریزی سے بھرا ہوا ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے خیال ظاہرکیاہے کہ اسلامی سیاسی فکرپر ابھی عصرحاضرکے تناظرمیں بہت کام کیا جانا باقی ہے اوراس سلسلہ میں اجتہادوتجدیدفکرکی ضرورت ہے (۱۳)اِن مسائل پر سوچتے ہوئے اورنئی آراء قائم کرنے کی ضرور ت اس لیے محسو س ہوتی ہے کہ آج ہم تمدنی وتہذیبی طورپراس دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں مغرب کا غلبہ ہے۔ اس کے برعکس دنیابنانے کا ہم خواب تودیکھ سکتے ہیں لیکن ابھی واقع میں کوئی نئی اورالگ دنیابنتی دکھائی نہیں دیتی۔

معاشرت:

خواتین کواسلامی فقہ میں قریب قریب مثل باندی بناکرپیش کیاگیاہے۔آج کے دورمیں تملیک وغیرہ کی تعبیرات پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔چہرہ کا پردہ کوئی دینی فریضہ نہیں ایک کلچرل مسئلہ ہے۔(۱۴)

ایک مبہم حدیث:عن ابنی بکرہ لما بلغ رسول اللہ ﷺ ان اہل فارس ملکوا علیہم بنت کسری قال: لن یفلح قوم ولوا امرہم امرأۃ، رواہ البخاری (وہ لوگ جنہوں نے اپنے معاملات کا ذمہ دارکسی عورت کوبنادیاہے کامیاب نہ ہوں گے (جوخبرہے یاانشاء یہ ہی طے نہیں)اورناقصات عقل ودین والی روایت کوبنیادبناکرعورت کوعلما ناقص العقل مانتے ہیں آج کا ذہن اِس کوتسلیم نہیں کرتا۔مذہبی حلقوں میں کہاجاتاہے کہ عورت کواعلی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے اس کوتوگھرچلاناہے گھریلوکام کاج کی تربیت دینی چاہیے۔وہ محرم کے بغیرسفرنہیں کرسکتی۔اس کوکسی سیاسی،تعلیمی،معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح عورت کی امامت،عورت کی قیادت وغیرہ کے مسائل ہیں۔بغیرکسی قرآنی بنیادکے یہ مان لیاگیاہے کہ عورت کا دائرہ کارگھرہے اوراس سے باہروہ ضرورت کے وقت ہی نکلے گی۔

عصررسالت میں ایساکوئی ظاہرہ نہیں تھاکہ عورت ڈربہ میں بندنظرآئے وہاں تومعاشرہ میں اس کی چلت پھرت ہے اورخاتون پوری طاقت کے ساتھ معاشرہ کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔جنگ کے میدان میں نظرآتی ہے تعلیم وتعلم کے میدان میں اورمارکیٹ میں بھی اپناکرداراداکررہی ہے۔(۱۵)آج جسمانی سے زیادہ عقلی صلاحتیوں کی ضروت ہوتی ہے کیونکہ انسانی زندگی کومشین کنٹرول کررہی ہے جس میں عورت مردسے پیچھے نہیں ہے ایسے میں مردوعورت میں تفریق کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے۔اسلام میں عورتوں کے حقوق وذمہ داریوں کے سلسلہ میں جولٹریچرلکھاگیاہے اُس پر بڑااعتراض یہ ہے کہ وہ ایکPatriarchal(پدرسری)سوسائٹی کا بیانیہ ہے جس میں عورت کی حیثیت دوسرے درجہ کی ہے۔اس سوال کوایڈریس کرنے کی ضروت ہے۔(۱۶)

جدید کاسمولوجی کا چیلنج اور اسلام

موجودہ دورمیں علم کلام کی طرف پھرویسے ہی توجہ واعتناکی ضرورت ہے جیسے کہ ماضی کے ائمہ وعلمانے کی تھی،لیکن آج ہماری ساری توجہ فقہ کی طر ف ہوگئی ہے۔اس چیز کی اہمیت ہمارے سامنے اس وقت واضح ہوتی ہے جب ہم معاصردنیامیں مذہب اورسائنس کے تعامل پر غورکرتے ہیں۔جدید کاسمولوجی جوسائنس وٹیکنالوجی نے تشکیل دی ہے اس نے مذہب کے روایتی موقف پر جوسوال کھڑے کردیے ہیں ان پر غورفکرکرتے ہوئے پہلااصولی مسئلہ یہ سامنے آتاہے کہ آج ارسطوکا وہ ورلڈ ویوجوسترہ صدیوں تک دنیاپر چھایارہا مسترد ہوچکا ہے۔اْس ورلڈویومیں زمین کائنات کامرکز تھی۔ وہ ساکن تھی،سورج اس کے گردچکرلگاتا تھا(پرانی ادبیات میں اسی لیے آسمان کو گردوں کہتے تھے)کائنات ارضی کا مرکزتوجہ،مخدوم اورامین انسان تھا بعض لوگ اس کوخلافت ارضی سے بھی تعبیرکرتے ہیں۔اس ورلڈ ویومیں اسلام کے حامی اورمخالف دونوں ایک ہی پیچ پر تھے۔

آج جوورلڈ ویودنیاکورول کررہاہے وہ گلیلیو،ڈیکارتے،نیوٹن،ہبل اورآئن اسٹائن وغیرہ کے نظریات اورتحقیقات پر مبنی ہے۔اس ورلڈ ویوکے مطابق زمین سورج کے گردگھومتی ہے،سورج اوردوسرے ستارے وسیارے اپنے اپنے محورپر گردش میں ہیں۔انسان کوکوئی خاص پوزیشن اس زمین پر حاصل نہیں۔بلینیوں کہکشاؤں پر محیط اس کائنا ت میں خودزمین ایک نقطہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ارتقاء اوراب بگ ہسٹری کے تصورات نے مذہب کے نظریہ تخلیق اورانسان کی خصوصیت کوختم کرکے رکھ دیاہے۔بگ بینگ یانیچرل ارتقاء پر مبنی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ نہ اس کائنات کا کوئی مقصدہے اورنہ انسان کی تخلیق کا کوئی مقصدہے۔یہ کائنا ت ومافیہاسب نیچرکے اندھے قوانین کے تحت وجودمیں آئی اوران ہی قوانین کے تحت اپنے آپ بے مقصدختم بھی ہوجائے گی۔ایسے میں خداکا وجود، حشرنشرآخرت وغیرہ کے تصورات سب غیرسائنسٹفک تصورات قرارپاتے ہیں۔مولاناوحیدالدین خاں کے ہاں اِس کے بارے میں غیرمرتب کام اورابتدائی درجہ کا کام موجودہے مگراس بہت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے جس کی طرف انجینئرسیدسعادت اللہ حسینی نے توجہ دلائی ہے۔(۱۷)

مذہب انسان کی جوتاریخ اورکہانی بتاتاہے وہ پانچ چھ ہزارسال سے پیچھے نہیں جاتی جبکہ بگ بینگ اورنیچرل ارتقاء پر مبنی تاریخ عظیم بتاتی ہے کہ کائنا ت کی عمرقریبا۱۳،ارب سال ہے۔اس کے مطابق ہماری زمین سات ارب سال پہلے بنی اوراس پر زندگی کا وجودپانی میں تقریباچارارب سال پہلے ہوا۔لائف نے مختلف ارتقائی منازل سے گزرکربلینوں سال پہلے حیوانی قالب اختیارکیا۔ارلی مین اورنیندرتھیل وجودمیں آتے ہیں لاکھوں سال کے گزرنے اورنیچرل سیلیکشن سے گزرتے ہوئے وہ ہنٹنگ گیدرنگ کے مرحلہ میں پہنچتاہے۔ایک لاکھ نوے ہزارسال ہنٹنگ اورگیدرنگ کے مرحلہ میں رہنے کے بعدوہ آئس ایج،حجری زمانہ سے گزرکرزراعت کے دورمیں داخل ہوااورایک متمدن معاشرہ کی بنیادپڑی۔زراعت کے بعدموجودہ صنعتی معاشرہ وجودمیں آیا۔

تاریخ عظیم کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ بایولوجی کے اعتبارسے مردوعورت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔مختلف معاشروں میں ہم جوفرق ان دونوں میں دیکھتے آئے ہیں وہ اصل میں کلچرل مؤثرات کی وجہ سے ہے اس کی کوئی حقیقی وجہ نہیں۔ہوموسپین کے مصنف کا کہناہے کہ:

”انسانی سماج میں مردکے وظائف،عورت کے وظائف اوراس سے بھی آگے بڑھ کرانسانی جسم کے مختلف اعضاء کے بامقصدوظائف کا تصوراَن نیچلرل ہے۔وہ اصل میں مسیحی تھیولوجی سے آیاہے ورنہ بایولوجیکلی کسی چیز کا کوئی مقصداورہدف نہیں ہوتا۔مردقوام ہے اورعورت گھرکی ملکہ ہے وغیرہ تصورات اصل میں انسانی Imagination کے ساختہ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انسان بنیادی طورپر چیزوں کوimagine کرتاہے۔چنانچہ یہ انسانی کلچر،ثقافت وتہذیب،مذہب وروحانیت،اخلاقی احساس وغیرہ یہ سب اس کی imagination کا نتیجہ ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں“۔(۱۸)

یہ کاسمولوجی کہتی ہے کہ تاریخ blindly سفرکرتی ہے اوراس کائنات اوراس پر زندگی کا کوئی مقصدنہیں،ایک دن یہ یونہی Blindly ختم بھی ہوجائے گی۔ ظاہرہے کہ یہ جوبیانیہ ہے یہ اپنے اندرمذہب،وجودباری تعالی وغیرہ کے کتنے بڑے چیلنج رکھتاہے اورہماری اس فتنہ سے مقابلہ کی تیاری کیسی ہونی چاہیے یہ کسی پر مخفی نہیں ہوناچاہیےے۔

اورایک مسئلہ مغربی سائنس وٹیکنالوجی کایہ ہے کہ آج جینیٹک انجنیئرنگ کے ذریعہ یعنی انسانی جینوم کوکنٹرول کرنے کے پروگرواموں کے ذریعہ یہ کوشش کی جارہی کہ اپنے من پسندانسان پیداکیے جاسکیں۔کلوننگ کا عمل جوشروع میں ڈولی نامی بھیڑپر کیاگیااوراس کا ہمزاد پیدا کیا گیاتھااب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے اورپیڑپودوں،سبزیوں اوراناجوں سے گزرکراب حریم انسانی اس کی زدمیں آیاچاہتاہے۔جاپان میں مردوں کی آخری رسومات ایک روبوٹ انجام دے رہاہے،جرمنی میں چرچ کے اندرایک روبوٹ پادری کلیسائی مذہبی فرائض انجام دے رہاہے یعنی AIآرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعہ روبوٹ اب محض مشینی آلا ت نہ رہ کرانسانی ذہن وشعورکے حامل بھی ہوں گے اوروہ دن دورنہیں جب ہمارے امام ومؤذن روبوٹ ہواکریں گے۔کبھی فلموں میں اورفکشن میں روبوٹک بیویوں کی بات آیاکرتی تھی مگراب تووہ سچائی بن کرانسانوں کے سامنے آنے والی ہے۔ توسوال ہماری فقہ کے سامنے یہ ہوگاکہ روایتی معاشرتی احکام اِن نئے قسم کے اورانوکھی نوعیت کے انسانوں پر کس طرح لاگوہوں گے؟کیاوہ سِرے سے شریعت کے مخاطب بھی رہ جائیں گے یانہیں؟یاان کے لیے کوئی اورہی فقہ ڈولپ کی جائے گی؟(۱۹)

یہ آٹومیشن ایج اب آچکاہے جس میں نانوٹیکنولوجی پر مبنی آلات وسائل انسانی زندگی کوگورن کریں گے۔مسئلہ صرف اس کے مظاہرکے عام لوگوں کے دسترس میں آنے کا ہے جس میں اب زیادہ دیرنہیں لگے گی۔(۲۰)

انسانی زندگی میں مختلف جذبا ت کی بڑی اہمیت ہے اوربہت سے احکام بھی انہیں جذبات مثلاٰمحبت والفت،رحم ومہربانی،نفرت وکراہمیت،غصہ وحسدوغیرہ کی بنیادپر وجودمیں آتے ہیں۔انسانی تہذیب ان کی بنیادپر ترقی کرتی ہے،سماجی رشتے ان سے بنتے بگڑتے ہیں۔اب ڈرگس اوردواؤں کے ذریعہ ان کوجذبات کوختم کرنے،ان کوکنٹرول کرنے یاان کوبدل دینے کی بات کی جارہی ہے۔حتی کہ ایک بڑاپروجیکٹ اس پر تحقیق کررہاہے کہ موت کاخاتمہ انسان کی زندگی سے کردیاجائے۔انسان کی زندگی کا دورانیہ بڑھادیاجائے وہ ہمیشہ جوان رہے اُسے کوئی مرض لاحق نہ ہووغیرہ۔اگرایساکسی بھی درجہ میں ہوجاتاہے تو اس سے روایتی فقہی احکام پر کیااثرپڑے گاکیاان چیزوں کوتغییرِخلق اللہ کی قبیل سے سمجھاجائے گایانہیں؟ہمارے علما گزشتہ سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے تصویرکے مسئلہ سے الجھے ہوئے ہیں کہ آیافوٹومیں کسی شیئی کی حقیقت خودآجاتی ہے یااس کا عکس آتاہے؟تصویراگرسرکٹی ہوتوجائزہوگی یانہیں؟ڈیجیٹل کیمرے سے لیے گئے فوٹوپر حدیث میں آئی وعیدکا اطلاق ہوگایانہیں وغیرہ۔سوال یہ ہے کہ اب سائنس وٹیکنالوجی جس دنیاکوسامنے لارہے ہیں اس میں ہمارے یہ فقہی قواعدوضوابط کچھ کام دیں گے؟فی الحال کیتھولک چرچ کی مخالفت کی وجہ سے اورکچھ اوراسباب سے بعض ملکوں میں سائنس کوکچھ پابندکیاگیاہے اوراس کی تحقیقات پر کچھ قدغنیں عائدکی گئی ہیں مگرتابکے؟جب یہ جن بوتل سے باہرآئے گاتونطشے نے توGod is dead کہ دیاتھامستقبل قریب کا انسان فرعون کی زبان میں کہے گاکہ ”میں پیداکرتاہوں اورمارتاہوں اس لیے میں ہی خداہوں“۔یعنی سائنس داں ہی اناربکم الاعلی کا نعرہ لگائے گا۔

یہ نئی کاسمولوجی اورجدیدٹیکنالوجی کے وہ پہلوہیں جوارتقااورنیچرل ہسٹری کی بنیادپرمذہب کے بالمقابل کائنات کے آغازوارتقاء اورزندگی کی تخلیق کا نیابیانیہ ہمارے سامنے لارہاہے۔(۲۱)یہ چیز اپنے اندرمذہب کے لیے کتنے خطرے لیے ہوئے ہے ہماری معروضات سے یہ بات کسی حدتک سامنے آجاتی ہے۔اب اہل مذہب کوسوچنایہ ہے کہ اس خطرے سے مقابلہ کی کیاتیاری ان کے پاس ہے؟آج کا الحادسائنس کی بنیادپر کھڑاہے،ڈارون کا نظریہ ارتقاء سائنس دانوں کی اکثریت کے نزدیک ثابت شدہ ہے جبکہ مسلمان اہل دانش نے نظریہ ارتقاء کے علمی مطالعہ سے بہت کم اعتناکیاہے۔(۲۲)

ہندوستان:

وطن عزیز ہندوستان میں انڈونیشیاکے بعدمسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے۔ان کوگوناگوں مسائل ومشکلات کا سامناہے جس کا ایک پہلویہ ہے کہ آج کا پڑھالکھاہندوطبقہ اس بات پر بہت زوردیتاہے کہ ہندودھرم چونکہ کسی کتاب کسی نبی اورکسی شریعہ (قانون)پرمبنی نہیں اس لیے اس میں بڑی رواداری،برداشت،تسامح،وسعت نظری اورفراخ دلی پائی جاتی ہے۔یہ مذہب اپنی نہادمیں سیکولرہے اورمتضادلوگوں اورچیزوں کواپنے میں سمونے اورساتھ لیکرچلنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہاں تک کہ جوشخص خداکونہ مانتاہواورمذہب میں یقین نہ رکھتاہووہ ہندوہوسکتاہے۔ہندومذہب کا یہ بیانیہ سیٹ کرنے میں سیکولراورانتہاپسندہندودونوں ایک ہی پیج پرہیں۔مشرکانہ مذاہب کا یہ تصورکہ وہ کسی institutionalizedمذہبی روایت پر قائم نہیں بہت سے مغربی ملحدوں کوبھی بہت بھاتاہے اوروہ اس کے اس پہلوکی بڑی تعریف کرتے ہیں مثال کے طورپر مشہورمؤرخ اورماہرمستقبلیات یوال نواحراری نے بھی اس کی بڑی تعریف کی ہے اورابراہمی مذاہب کے مقابلہ میں مشرکانہ مذاہب کوفوقیت دی ہے۔(۲۳)یہ تصورجوطرح طرح کی پابندیوں سے عبارت مذہیبت سے بے زارلوگوں کی اکثریت کواپیل کرتاہے حقیقت میں گمراہ کن ہے اس لیے اس نکتہ پر علمی وتاریخی بحث اوراس کی تردیدکی خاص ضرورت ہے۔


حواشی و حوالے:

(۱) ملاحظہ ہو:مولاناسیدابوالاعلی مودودی اسلامی ریاست،مرتبہ خورشیداحمداسلامک پبلیکیشنزپرائیویٹ لمیٹڈای ۱۳ شاہ عالم مارکیٹ لاہورص 502،

(۲) ایضاص 379

(۳) ڈاکٹراسرار مختلف مروجہ نطامہائے سیاست اوران کی ظاہری صورتوں کے بارے میں کہتے ہیں: ”خلافت کا نظام صدارتی نظام سے قریب ترہے ……میں ہمیشہ کہتاآیاہوں کہ پارلیمانی اورصدارتی دونوں نظام جائزہیں،وحدانی unitary نظام وفاقی federalنظام اورکنفیڈرل confideralسب جائز ہیں ……دنیامیں کئی سیاسی نظام چل رہے ہیں وحدانی صدارتی وفاقی صدارتی،وفاقی صدارتی (جیسے امریکہ میں ہے)کنفیڈرل صدارتی،پھرپارلمانی،وفاقی پارلیمانی اورکنفیڈرل پارلیمانی یہ چھ کے چھ جائزہیں“۔دیکھیں ڈاکٹراسراراحمد، پاکستان میں نظام خلافت،امکانات خدوخال اوراس کے قیام کاطریقہ کار صفحہ 36 مطبوعات تنظیم اسلامی پاکستان

(۴) حقوق المواطنہ فی الاسلام میں ڈاکٹرراشدغنوشی نے اِس مبحث کوکافی اجاگرکیاہے اورتیونس میں اسے اختیارکرنے کی کوشش بھی کی ہے مگردوسرے ممالک کی اسلامی تحریکوں میں ابھی اس خیال کی پذیرائی نہیں ہوئی۔البتہ پروفیسرنجات اللہ صدیقی بھی اسی رائے کے حامی ہیں۔ملاحظہ ہو:اسلامی فکرچندتوجہ طلب مسائل،شائع کردہ ہدایت پبلیکیشنز نئی دہلی، مولانا مودودی (اسلامی ریاست)مولاناسیدجلال الدین عمری،(غیرمسلموں کے حقوق مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی،)عبدالکریم زیدان احکام اہل الذمہ فی الاسلام نیز وہبہ الزحیلی (الفقہ الاسلامی وادلتہ جلد۷)کی بحثوں سے جدیدذہن کی تشفی کا سامان نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں یوسف القرضاوی کی آراء (فقہ الجہاد)بہت سے پہلوؤں پر نیاراستہ کھولتی ہیں۔

(۵)تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو،ڈاکٹرعبدالحق انصاری،سیکولرازم،جمہوریت اورانتخابات صفحہ 6-7)

Secularism Adn Islam Musheerul haq مکتبہ جامعہ لمیٹڈ

مولاناوحیدالدین خاں،فکراسلامی گڈورڈنظام الدین ویسٹ نئی دہلی،جاویداحمدغامدی، اسلام اورریاست ایک جوابی بیانیہ مقامات طبع 2019المورد(ہند)

(۶) مولاناعنایت اللہ سبحانی،تبدیلی ئمذہب اوراسلام،،ادارہ احیاء دین بلریاگنج،جنوری 2002طہٰ جابرالعلوانی اشکالیۃ الردۃ فی الاسلام،ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اسلام اورتبدیلی مذہب کا مسئلہ بعض نئے مطالعات کی روشنی میں،اشراق لاہورستمبر2018

Blasphemy Laws Have Turned Muslim Countries into Killing Fields -7

Newageislam12 October 2021(https://www.newageislam.com/)

(۸)تفصیل کے لیے دیکھیں:مولاناعمارخان ناصرحدودوتعزیرات،الموردلاہور

(۹) مولاناوحیدالدین خان شتم رسول کا مسئلہ گڈورڈ نظام الدین نئی دہلی،جاویداحمدغامدی میزان الموردفاؤنڈیشن لاہوراورمولاناعمارخان ناصرحدودوتعزیرات،الموردلاہور

(۱۰) ملاحظہ ہوان کی کتاب: جہاداورروح جہاداورجہاداورآیات جہادہدایت پبلشرزنئی دہلی)

(۱۱) اس پر تفصیلی گفتگوکے لیے دیکھیں:عبدالحمیداحمدابوسلیمان:

Towards An Islamic Theory of International Relations: New Directions for Islamic Methodology and Thought Washington: IIIT, 1993.

اوریوسف القرضاوی:فقہ الجہادالجزء الاول مکتبہ وہبہ

(۱۲) ملاحظہ کریں:الشیخ عبداللہ بن محفوظ بن بیہ مشاہدمن المقاصدرمؤسسۃ الاسلام الیوم الطبعۃ الاولی 2010سعودی عربیہ اورنجات اللہ صدیقی،مقاصدشریعت مرکزی مکتبہ اسلامی نئی دہلی)یوسف القرضاوی کتاب الدین والسیاسۃ،خاص طورپر باب الاقلیات الاسلامیۃ والسیاسۃ

(۱۳) ملاحظہ ہویوسف القرضاوی کتاب الدین والسیاسۃ،خاص طورپر باب الاقلیات الاسلامیۃ والسیاسۃ۔

(۱۴) دیکھیں:تحریرالرسالہ فی عصرالرسالہ،عبدالحلیم ابوشقہ اوراس کی تلخیص (ڈاکٹرعبداللہ الکبیسی)کا اردوترجمہ شائع کردہ جوگائی بائی نئی دہلی نیز شیخ البانی کی کتاب:حجاب المرأۃ المسلمۃ

(۱۵) پروفیسریسین مظہرصدیقی،رسول اکرم اورخواتین ایک سماجی مطالعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن نئی دہلی

(۱۶) ضرورت ہے کہ اسلامی فیمنزم کی اسکالر داعیوں امینہ ودود،سعدیہ یعقوب وغیرہ پر فتوے وغیرہ لگانے کی بجائے ان کوengage کیاجائے اوران سے ڈائلاگ کیاجائے۔

(۱۷) ملاحظہ کریں امیرجماعت اسلامی انجینئرسیدسعادت اللہ حسینی کا مقالہ:تحریکی لٹریچراور درپیش علمی معرکہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہورمارچ 2016

(۱۸) Yuval Noah Harihi Sapiens A brief History of Humankind p:122 Vintage Books London 2011

(۱۹) ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی،کائنات کا آغازوارتقاء:قرآنی بیانات اورسائنسی حقائق میں تطبیق کی راہ(تین قسط)ماہنامہ اشراق (ہند)مئی،جون جولائی 2021 الموردہندفاؤنڈیشن

(۲۰) ملاحظہ ہو:سعادت اللہ حسینی امیرجماعت اسلامی کا مقالہ:تحریکی لٹریچراور درپیش علمی معرکہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہورمارچ 2016اورابویحیٰ کا مقالہ چوتھاصنعتی انقلاب یاآٹومیشن ایج اشراق ستمبر2021

(۲۱) ملاحظہ کریں:غطریف شہبازندوی،جدیدکاسمولوجی کا چیلنج اورفکراسلامی اشراق لاہوراکتوبر2019

(۲۲) دیکھیں:شعیب احمدملک /غطریف شہبازندوی اسلام اورنظریہ ارتقاء:ایک مختصرجائزہ تجدیدشش ماہی جولائی دسمبر2019شمارہ ۲ جلد:۱انسٹی ٹیوٹ آف ریلیجس اینڈسوشل تھاٹ شاہین باغ جامعہ نگرنئی دہلی اورنظریہ ارتقاء کے تفصیلی مطالعہ کے لیے:ڈاکٹرمحمدرضوان ماہنامہ زندگی نو(جنوری 2021اوراس کے بعدکی متعدداقساط)نئی دہلی

(۲۳)۔ملاحظہ کریں Yuval Noah Harihi Sapiens A brief History of Humankind p:239 Vintage Books London 2011

مسلم حکومتیں اور اسلامی نظام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۶ ستمبر ۲۰۲۱ء  کو ادارۃ النعمان پیپلز کالونی گوجرانوالہ میں ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کے طلبہ کے ساتھ گفتگو)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج میں آپ حضرات کو موجودہ معروضی حالات میں اسلام کے قانون و نظام کو کسی بھی سطح پر تسلیم کرنے والی مسلم حکومتوں کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کے دستور و قانون میں اسلام کا نام شامل ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی حکومتیں اور ریاستیں ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ایران تو سب کے سامنے ہیں البتہ مراکش میں بھی سربراہ مملکت کو امیر المؤمنین کہا جاتا ہے جس کا پس منظر اس وقت میرے سامنے نہیں ہے۔

  1. سعودی عرب کا باقاعدہ نام ’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ ہے جو آج سے کم و بیش ایک صدی قبل خلافتِ عثمانیہ کے بکھرنے کے دور میں قائم ہوئی تھی۔ اس ریاست میں ’’آل سعود‘‘ کے زیر اقتدار وہ علاقے شامل ہیں جن میں اس وقت مختلف معاہدات کی صورت میں آل سعود کے دائرۂ اقتدار میں شامل کیا گیا تھا اور ان پر بین الاقوامی طور پر آل سعود کا حق حکمرانی خاندانی اور نسلی بنیاد پر تسلیم کیا گیا تھا، جبکہ آل سعود نے حکمرانی کا حق ملنے کے بعد قرآن کریم کو اپنی مملکت کا ریاستی مذہب اور دستور و قانون کی بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا تھا، سعودی عرب کی حکومتی نظام میں الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کا خاندان بھی ’’آل شیخ‘‘ کے نام سے ایک معاہدہ کے تحت شریک تھے اور ان کے درمیان تقسیم کار چلی آرہی ہے۔
  2. سعودی عرب کا عدالتی نظام مکمل طور پر قرآن و سنت کے تابع ہے جس کی برکات پورے ملک میں دکھائی دے رہی ہیں، البتہ اب موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ دستور و قانون کی بنیاد قرآن کریم کے ساتھ حدیث و سنت بھی ہے یا صرف قرآن کریم ہی ریاست و حکومت کی اساس ہے۔ بہرحال خاندانی حکومت ہونے کے باوجود اپنے دستور و قانون کے حوالہ سے ایک اسلامی ریاست ہے اور حالات میں مختلف تغیرات کے باوجود اسلامی ریاست اور حرمین شریفین کے انتظام و خدمت کے حوالہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت و احترام سے بہرہ ور ہے۔
    پاکستان ایک سیاسی اور عوامی تحریک کے نتیجے میں ۱۹۴۷ء کے دوران برطانوی استعمار کے تسلط کے خاتمہ اور متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر وجود میں آیا تھا، اور اس نئی مملکت کے قیام کی تحریک چلانے والے قائدین نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی عملداری کے لیے کر رہے ہیں، چنانچہ ملک کے باقاعدہ قیام اور مسلم لیگ کو اقتدار منتقل ہونے کے بعد اس کے ریاستی و حکومتی نظام کی تشکیل کا سوال کھڑا ہوا تو اگرچہ سیکولر حلقوں اور لابیوں نے پوری کوشش کی کہ اس نوزائیدہ مملکت کو ایک سیکولر اور جمہوری ریاست کی حیثیت دے دی جائے مگر دستور ساز اسمبلی نے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی صورت اس کی نظریاتی بنیاد ہمیشہ کے لیے طے کر دی کہ (۱) حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہو گی۔ (۲) حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو ہو گا اور (۳) پارلیمنٹ اور حکومت قرآن و سنت کے احکام کی پابند ہوں گی۔
    ان اصولوں کی تشریح تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام نے متفقہ ’’۲۲ دستوری نکات‘‘ کی صورت میں کر دی جن میں سے بیشتر نکات دستورِ پاکستان کا باقاعدہ حصہ ہیں اور انہی اسلامی دستوری بنیادوں کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ عملی صورتحال شروع سے اب تک اس سے مختلف چلی آرہی ہے اور مقتدر حلقے دستوری صراحتوں کے باوجود عملی طور پر اسلامی احکام و قوانین کو نفاذ و فروغ کا کوئی راستہ نہیں دے رہے۔ البتہ دستوری اساس کے لحاظ سے ہر ایک اسلامی ریاست ہے اور اگر دستور پر تمام ادارے اور طبقے خلوص کے ساتھ عمل کریں تو پاکستان اسلامی ریاست کے طور پر ایک آئیڈیل ملک کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آسکتا ہے۔
  3. تیسری طرف ایران نے جناب آیت اللہ خمینی کی قیادت سے مذہبی انقلاب کے بعد خود کو ’’اسلامی جمہوریہ ایران’’ کی شکل دی اور اسلام کو ریاست کا سرکاری دین اور ’’اثنا عشری فقہ‘‘ کو ملک کا ریاستی مذہب قرار دیا، دستور کے مطابق ملک میں حاکمیت اعلیٰ ’’امامِ غائب‘‘ کی تسلیم کی گئی اور ان کی نمائندگی ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کے عنوان سے ملک کے سب سے بڑے فقیہ کرتے ہیں جو اپنے دور میں خمینی صاحب تھے، اور اب جناب آیت اللہ خامنہ ای صاحب کو وہ مقام حاصل ہے جو مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ سمیت تمام ریاستی و حکومتی اداروں کے لیے حکمران اعلیٰ اور فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ نظام حکومت چلانے کے لیے عوام کے منتخب نمائندوں کو ذریعہ بنایا گیا ہے اور پارلیمنٹ اور حکومتی مناصب عوامی الیکشن کے ذریعے وجود میں آتے ہیں۔ گویا ایران میں اہلِ تشیع کے اثنا عشری طبقہ نے اپنے ’’تصور امامت‘‘ کو دستوری اور قانونی حیثیت دے دی ہے جو ان کے دائرہ میں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ اس پر سختی سے قائم ہیں۔

اس پس منظر میں افغانستان اور طالبان پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہئے۔ طالبان نے اب سے دو عشرے قبل اپنے دور اقتدار میں افغانستان کو ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کا عنوان دیا تھا جس میں امیر المؤمنین کے طور پر ملا محمد عمر مجاہدؒ نے کم و بیش پانچ سال حکومت کی جس کے مثبت ثمرات و نتائج اور برکات کا ابھی تک عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے، اس کے بعد انہیں امریکی اتحاد کے ساتھ بیس سال تک جنگ لڑنا پڑی جس میں سرخرو ہونے کے بعد اب پھر وہ پورے افغانستان میں برسر اقتدار ہیں اور نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنے اقتدار اور نظام کو حتمی شکل دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر میں باقی تفصیلات سے قطع نظر دو باتوں کا بطور خاص تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔

شرعی احکام اور ہمارا عدالتی نظام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۱ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں:

’’جسٹس فائز عیسیٰ نے سوات میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی عدالت یا جرگہ وراثتی جائیداد کی تقسیم کے شرعی قانون کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جرگے کے فیصلے کے ذریعے دین الٰہی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جائیداد کی تقسیم سے متعلق دستاویزات پر سات سالہ بچے کے انگوٹھے کا نشان لگایا گیا، ایسی دستاویزات کے ذریعے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، پاکستان میں سچ بولنے کے حالات کا سب کو علم ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جس علاقے کی زمینی حقیقت کی آپ بات کر رہے ہیں وہاں تو عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا، زمینی حقائق دیکھتے دیکھتے فوجی آمروں نے ملک میں مارشل لاء لگا دیے۔ فاضل جج نے کہا کہ سعودی عرب میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ایک دن میں ہوتا ہے، پاکستان میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ہوتے ہوتے چالیس سال لگ جاتے ہیں، جائیداد کی تقسیم کا اصول ساڑھے چودہ سو سال پہلے طے ہو چکا ہے۔ این، این، آئی کے مطابق عدالت نے سوات کے حبیب اللہ مرحوم کی جائیداد کو تمام قانونی ورثاء کے مابین شرعی اصول کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق نچلی عدالتوں کے تینوں فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔‘‘

یہ خبر خود کو بار بار پڑھنے کا تقاضا کر رہی ہے اور ہمارے ملک میں عدالتی نظام عورتوں کی مظلومیت اور شرعی احکام کو نظر انداز کرنے یا تبدیل کرنے کے حوالہ سے معروضی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم نے قیام پاکستان کے وقت قرآن و سنت کی عملداری اور شرعی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ کیا تھا مگر اس کے لیے معاشرتی ماحول کو تیار کرنے اور عدالتی نظام کو اس کے تقاضوں کے مطابق از سر نو تشکیل دینے کا کام ابھی تک ہم نہیں کر پائے۔ بلکہ برطانوی دور کا وہی نو آبادیاتی جوڈیشری سسٹم ہمارے ہاں بدستور مصروف کار ہے اور ہم اس میں وقتاً فوقتاً چھوٹے چھوٹے جوڑ لگانے کے علاوہ اس کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکے۔ فاضل جج نے اپنے ریمارکس میں سعودی عرب میں جائیداد کی تقسیم کا معاملہ ایک دن میں طے ہونے کا ذکر کیا ہے اور پاکستان میں ایسے معاملات میں چالیس چالیس سال گزر جانے کی شکایت کی ہے جو درست اور زمینی حقائق کے مطابق ہے۔ مگر اس کے ساتھ اس وضاحت کی بھی ضرورت ہے کہ سعودی عرب کا عدالتی نظام اسلامی اصولوں کے مطابق شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کی ذمہ داری کے ماحول میں تشکیل دیا گیا ہے جس کے باعث نہ صرف مقدمات کے بروقت اور جلد فیصلے ہوتے ہیں بلکہ جرائم اور لاقانونیت کی شرح بھی دوسرے ممالک کی بہ نسبت بہت کم ہے۔ چونکہ وہاں قضا کا نظام ہے اور قرآن و سنت کو بنیادی قانون کی حیثیت حاصل ہے اس لیے وہاں کے عدالتی نظام کا حوالہ دینے کی ایسے ہر موقع پر خود ہمیں بار بار ضرورت پیش آتی ہے۔

اسی طرح جسٹس موصوف کا یہ ارشاد بھی پوری قوم کی خصوصی توجہ کا طالب ہے کہ کوئی جرگہ یا عدالت شرعی قوانین میں ردوبدل کی مجاز نہیں ہے اور شرعی احکام و قوانین وہی ہیں جو ساڑھے چودہ سو سال قبل طے ہوچکے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل یہ تگ و دو جاری ہے کہ کسی نہ کسی طرح شرعی قوانین اور قرآن و سنت کے احکام کو آج کے عالمی ماحول، ہمارے علاقائی رجحانات اور طبقاتی مفادات کے سانچے میں ڈھال لیا جائے۔ اس کے لیے بین الاقوامی معاہدات کے تحت ہونے والی مسلسل قانون سازی کے علاوہ کم و بیش ہر طبقہ کے کچھ دانشوروں کی طرف سے قرآن و سنت کے قوانین کی تعبیر نو اور بے جا تاویلات و تحریفات کی مشق بھی اسلامی قوانین کی ’’ویسٹرنائزیشن‘‘ کی مہم کا حصہ ہے جس کی طرف راسخ العقیدہ مسلمان دانشوروں کو زیادہ توجہ دینی چاہئے۔

اس کے ساتھ ہی عورت کی مظلومیت کا مسئلہ بھی بطور خاص لائق توجہ ہے کیونکہ ہمارے ہاں عورت ایک طرف مغرب کی مادر پدر آزاد ثقافت کی زد میں ہے اور دوسری طرف علاقائی روایات و رواجات اور قبائلی تقاضوں نے اس مظلوم طبقہ کے گرد پابندیوں اور قدغنوں کا حصار قائم کر رکھا ہے جس سے عورت کو ان دونوں انتہاؤں سے نجات دلا کر اسلامی تعلیمات اور خلافت راشدہ کے ماحول کے مطابق فطری آزادی اور حقوق سے بہرہ ور کرنے کا کام بھی ہمارے ہاں ابھی تشنہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان اہم امور کے حوالہ سے اپنے فرائض صحیح طور پر سر انجام دینے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مجمع العلوم الاسلامیہ: اصولی موقف اور بنیادی اعتراضات

محمد عرفان ندیم

اپنی محبت اور عقیدت کے مراکز پردیانتدارانہ نقد بڑا جان گسل کام ہوتا ہے ۔یہ کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ آپ مولانا وحید الدین خان کی شہرہ آفاق کتاب" تعبیر کی غلطی" سے لگاسکتے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان نے مولانا مودودی کےفکر پر نقد کیا تو اس کتاب کے صفحہ اول پر لکھا کہ اس کتاب کی اشاعت مجھ پر کتنی سخت ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کرسکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کی اشاعت کے بعد میں کسی ایسی جگہ چھپ جاؤں کہ کوئی شخص مجھے نہ دیکھے اورمیں اسی حال میں مر جاؤں۔مجمع العلوم الاسلامیہ پر نقد کے حوالے سے میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔دوسری طرف اذیت کا دردناک پہلو یہ ہے کہ ایک صاحب قلم اگر اظہار مدعا نہ کرے تو گھٹن سے مرجائے۔ اسی تذبذب کی کیفیت میں یہ سطور لکھنے کی جسارت کررہا ہوں۔امید ہے اسے اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔

3 نومبر2021کولاہور میں مجمع العلوم الاسلامیہ کا ایک اہم اجتماع ہوا جس میں جامعۃ الرشید کے فضلاء سمیت ، اس نئےبورڈ سے الحاق کرنے والے مدارس کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی ۔حسب روایت یہ شاندار اجتماع تھا جس میں جامعۃ الرشید کے اہم اساتذہ سمیت مقامی علماء نے بھی بھرپور شرکت کی ۔ میں جامعہ کا سابق طالب علم رہ چکا ہوں اور زمانہ طالبعلمی کے بعد سے جامعہ کے کسی فنکشن میں یہ دوسری شرکت تھی ۔ پہلی شرکت 2019 کے سالانہ فضلاء اجتماع میں ہوئی تھی اور دوسری شرکت اس اجتماع میں ہوئی ۔

جب سےمادر علمی جامعۃ الرشید کی طرف سے نئے بورڈ کا قیام عمل میں آیا ہے سنجیدہ مذہبی حلقوں اور ارباب مدارس کی طرف سے اس کے مختلف پہلووں پر گفتگو جاری ہے ۔نئے بورڈ کے قیام سے پہلے تک ، میں مادر علمی کے تعلیمی پروجیکٹ اور تعلیمی تحریک سے متاثرتھا لیکن نئے بورڈ کے قیام کے بعد میں کوشش کے باوجود اس تاثر کو قائم نہیں رکھ سکا، وجوہا ت متعدد ہیں ۔

نئے بورڈ کے قیام کی بنیادی ضرورت مدارس کا موجودہ نصاب و نظام بتایا جاتا ہے ، میں عرصے سے ان موضوعات پر لکھ رہاہوں ، غالبا درجہ رابعہ کا طالب علم تھا جب دینی مداراس کے نصاب و نظام پر موجود تمام دستیاب مواد پڑھ ڈالا تھا اور اس موضوع پر ایک جارحانہ کتاب بھی لکھی تھی ،کتاب کی تقریظ کے لیےاستاد محترم مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب مدظلہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کتاب کے مندرجات دیکھ کر پسندیدگی کا اظہار کیا اور ایک ہزار روپیہ انعام سے بھی نوازا ۔

میں نے کتاب میں مدارس کے نصاب ونظام پرجارحانہ انداز میں نقد کیا تھا لیکن بعد میں جب اس حوالے سے اہل علم سے ڈسکشنز ہوتی گئیں ، سوچ و بچار کے نئے دروا ہوتے گئے تو مجھے اندازہ ہوا کہ نصاب و نظام پر میرا زاویہ نظر حرف آخر نہیں تھا اور وفاق کے ذمہ داران اور ارباب مدارس اگر اس کو لے کر چل رہے ہیں تو اس کی کچھ وجوہات ہیں ۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اس موضوع سے پرانی شناسائی اور موضوع سے دس بارہ سالہ وابستگی کی بناء پر ،میں نئے بورڈ کے قیام کی وجوہات سے مطمئن نہیں ہو سکا ۔

اسی عدم اطمینان کی وجہ سے میرے ذہن میں کچھ سوالات ، تحفظات اور خدشات ہیں جنہیں میں انتہائی ادب کے ساتھ اپنے اساتذہ کرام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ اس نیت سے کہ اگر میرے یہ تحفظات او ر خدشات دور ہو جائیں اور مجھے شرح صدر ہو جائے تو میں بھی اس قافلے کےہمرکاب ہو جاوں ۔ بصورت دیگر میں جہاں او ر جس جگہ کھڑا ہوں علی وجہ البصیرہ استقامت کے ساتھ اس جگہ کھڑا رہوں اور بڑوں پر اعتماد مزید پختہ ہو جائے ۔

نئے بورڈ کے قیام کی جو وجوہات بتائی جاتی ہیں ان پر کچھ اصولی اور بنیادی نوعیت کے اعتراضات ہوتے ہیں ، میں اپنے اساتذہ اور مادر علمی پر اعتراضات کی جرائت نہیں کر سکتا اس لیے میں انہیں تحفظات اور خدشات کا نام دینا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں ۔ مجھے اپنے مادر علمی اور اس کے کارپردازوں کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر بسا اوقات اصلاح احوال اور وفور اخلاص میں انسان اجتہادی خطا کر بیٹھتا ہے ۔ اس کی واضح مثال گزشتہ کچھ عرصے سےاختیار کیا جانے والا مولانا عبد العزیز کا طرز عمل ہے،میں نئے بورڈ کے قیام کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے پر مجبور ہوں ۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اگر مدارس کے نصاب و نظام میں تبدیلی ناگزیر تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر نیا بورڈ قائم کیا گیا ، اگر اس تبدیلی کی ضرورت پر اتفاق کربھی لیا جائے پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاق المدارس جو پچھلے کچھ عرصے سے اپنے نصاب ونظام میں مناسب حد تک تبدیلیاں کر چکا ہے انہیں اپنی فکر اور تشویش سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا ۔ اپنا الگ بورڈ بنانے کی بجائے من حیث المجموع مدارس کے نصاب ونظام میں بہتری کے لیے کیوں اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ وفاق المدارس کے احباب کو ، اپنے مطلوبہ مقاصد، نصاب میں تبدیلی اور عصری تعلیم کی ضرورت کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ ان سارے سوالات کے کیا ثبوت اور شواہد ہیں کہ بات ارباب وفاق تک پہنچائی گئی مگرادھر سے شنوائی نہیں ہوئی، یا انہیں قائل کرنے کی کوشش کی گئی مگرارباب وفاق نے اہمیت نہیں دی اور اس کے بعد مجبور ہو کرایک نئے بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس اصولی بات کا طے کیا جانا اس لیے اہم ہے کہ اگر یہ بہتری لازم تھی اور من حیث المجموع مدارس کے نصاب و نظام میں بہتری کی گنجائش تھی تو اجتماعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے لیےمحنت اور کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ نئے بورڈ کی ضرورت اور اہمیت پر تو بات ہوتی ہے مگر یہ پہلو بھی سامنے آنا لازمی ہے کہ ارباب وفاق کو اس حوالے سے قائل کیا گیا یا نہیں ، اگر قائل کیا گیا تو دوسری طرف سے کیا جواب تھا۔اور اگر قائل کیے بغیر یہ قدم اٹھایا گیا تو اس کی کیا مجبوریاں تھیں ۔

دوسری اصولی بات یہ طے کرنا ضروری ہے کہ یا توکھلے دل سے اس بات کا اعتراف کیا جائے کہ وفاق کا ادارہ مدارس کے نصاب ونظام کو ٹھیک سے نہیں چلا رہاتھا ،ارباب وفاق زمانے کی ضرورتوں کو نہیں سمجھ رہے تھےاور ہم ان ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر اصلاح اور بہتری کی نیت سے آگے بڑھےہیں ۔ اور اگر اس اعتراف کی ہمت نہیں تو اپنے اس فعل کو کسی مذموم لفظ سےمنسوب کر لیا جائے ۔ یعنی دونوں چیزیں بیک وقت کیسے صحیح ہو سکتی ہیں ، کیونکہ جن خامیوں اور کمزوریوں کے تدار ک کے لیے آپ بزعم خود آگے بڑھے ہیں وفاق ان کے ساتھ چلنے پر مصر ہے تو یہ دونوں باتیں بیک وقت کیسے صحیح ہو سکتی ہیں ۔اسی طرح وفاق اس راستے کی تحسین کیسے کر سکتا ہے جس پر آپ چل نکلے ہیں ، لہذا کھلے دل سے اس حقیقت کا اعتراف کرلیا جائے اور یہ کہنے کی بجائے کہ ہم وفاق کو مضبوط کرنے آئے ہیں اور یہ وفاق کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے کوئی اور تعبیر ڈھونڈ لی جائے ۔

تیسری اصولی بات یہ ہےکہ جامعۃ الرشید کے پلیٹ فارم اور جامعہ کے متعلقین کی طرف سے وقتا فوقتا حکومت کے حق میں جوبیان بازی اور ذہن سازی ہوتی ہے اس کا تعلق حکومت سے ہے یا ریاست سے ۔اگرچہ جامعہ کی طرف سے عموما اسے ریاست کے حق کا عنوان دی جاتا ہے اور اسی عنوان سے گفتگو کی جاتی ہے مگر بین السطوربات ایک خاص جماعت اورحکومت کی طرف چلی جاتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہم من حیث المجموع ریاست کو نوچ رہے ہیں اور ریاست کے حقوق کا شعور اجاگر کرنا اچھی بات ہے مگر یہ ذہن سازی کرتے وقت حکومت و ریاست کا فرق ملحوظ رکھنا بھی اہم ہے۔ حکومت اور ریاست دو الگ الگ ادارے ہیں اور جب آپ کا پلڑا ریاست کی بجائے حکومت کی طرف جھکتا ہے تو سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں ، انگلیاں بھی اٹھتی ہیں اور آپ کی غیر جانبداری بھی مشکوک قرار پاتی ہے ۔اور آخری نتیجے کے طور پر، آپ کی صفائیوں کے باوجود نئے بورڈ کے قیام کو بھی اسی خاص تناظر میں دیکھنے کی سپیس پیدا ہو جاتی ہے ۔

چوتھی اصولی بات یہ ہے کہ اکابر کی مزاج فہمی کی درست تفہیم کر لی جائے ۔ جامعہ الرشید کے دردیوار کے اندر، نشریاتی ذرائع اورمجمع العلوم الاسلامیہ کے اجتماعات میں بھی یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ اکابر کی مزاج فہمی کی روشنی میں کیا جانے والا ناگزیر اقدام۔ میرے خیال میں یہ اکابر کے مزاج کی درست تفہیم نہیں ہے، اکابر کا جو مزاج اور خیال تھاکہ نظام تعلیم ایک ہونا چاہئے وہ یہ نہیں تھا کہ مدارس کو ،جو تعلیمی ادارے کے ساتھ ایک خانقاہی ادارہ بھی ہیں ،عصری اور سرکاری اداروں میں کھپانے والے علماء کا بیس کیمپ بنا دیا جائے ۔ بلکہ ان کا منشاء اور مزاج یہ تھا کہ ملک کا مجموعی قومی نظام تعلیم ایسا ہونا چاہئے جس میں دین و دنیا دونوں کو لے کر آگے بڑھا جائے ۔

یعنی وہ ریاست کے مجموعی نظام تعلیم کے ایک ہونے کے خواہاں تھےکیونکہ قوم کے لاکھوںکروڑں بچے ان ریاستی تعلیم گاہوں میں پروان چڑھتے ہیں جہاں لارڈ میکالے اور مغربی تصورات کی بنیاد پر نصاب اور نظام سازی کی جاتی ہے ۔اکابر کا مزاج یہ نہیں تھا کہ عصری ادارے،سکول ، کالجز اور یونیورسٹیاں تو اپنے مزاج اورسیکولر خطوط پر باقی رہیں اور مدارس جو ہماری تہذیب کا آخری مورچہ اور تہذیبی شناخت کا آخری استعارہ ہیں، اپنی تعلیمی و خانقاہی روش سے چھوڑ کر خود کو ماڈریٹ ثابت کرنے اور سرکاری اداروں میں کھپنے والے علماء کی کھیپ تیار کرنے پر لگ جائیں ۔ میرے خیال میں یہ اکابر کے مزاج کی سوء تفہیم ہے جس پر اپنے مطلب کا رنگ چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ لہذا اس اصولی بات کو بھی طے کر لیا جائے کہ اکابر کے مزاج کی درست تفہیم کیا ہے ۔

پانچویں اصولی بات یہ ہے کہ دینی مداراس کے فضلاء کا عصری اداروں میں کھپنا اور وہاں نوکری حاصل کر لینا خوبی ہے یا خامی ۔ یہ وہ اہم نکتہ ہے جو نئے بورڈ کے منتظمین کی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے اتنے طلباء بری فوج ، نیوی ، فضائیہ،سکول ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں کھپ گئے وغیرہ ۔ کیا مدارس کے ذہین اور باصلاحیت طلباء کا واحد مصرف صرف یہی ہے کہ ان کی دینی و سماجی صلاحیتوں کو، دین اور امت کی بجائے محض ایک سرکاری نوکری اور اپنی ذات کی فکر تک محدود کر دیا جائے ۔اپنی بات کی مزید تفہیم کے لیے میں حضرت استاذ صاحب کی زندگی کو ہی بطور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

یادش بخیر ! جامعۃ الرشید کے مہتمم حضرت استاذ صاحب کی کہانی تو سب نے سنی ہوگی ، نہیں سنی توآج سن لیجیے، حضرت استاذ صاحب دورہ حدیث کے امتحان میں پاکستان بھر میں اول آئے تھے ۔اس امتیاز کی بنا پر انہیں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں چنداں مشکل نہیں تھی اور حضرت استاذ صاحب نے مدینہ یونیورسٹی جانے کا قصد بھی کر لیا تھا ، وہ تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ کراچی میں حضرت مفتی رشید احمد ؒ سے ملاقات ہو گئی اور حضر ت استا ذ صاحب انہی کے ہو کر رہ گئے ۔ اگر استاذ صاحب مدینہ یونیورسٹی چلے جاتے تو آج زیادہ سے زیادہ وہ بہت اچھے پروفیسر ہوتے ، بہترین لائف سٹائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے اورخوبصورت گھر اور گاڑی کے مالک ہوتے۔لیکن وہ اور ان کی نسل یا خاندان میں سے شاید ہی کوئی خدمت دین سے وابستہ ہوتا ۔ یہ مدرسہ اور خانقاہ سے وابستگی ہی تھی جس نے حضرت استاذ صاحب کو خدمت دین کے اتنے بڑے کام کی توفیق دی ۔ سرکاری اداروں میں کھپنےوالے ہزاروں علماء کی بجائے اگر بیس تیس سالوں میں مدرسے کی چٹائی کو اہمیت دینےوالا ایک مفتی عبد الرحیم بھی پیدا ہو جائے تو مدارس کے لیے یہی کافی ہے ۔

برسبیل تذکرہ مولانا اعظم طارق شہید ؒ کی ایک نصحیت بھی یاد آ گئی،اس نصیحت کے راوی اسلام آباد کے ایک مشہور عالم دین ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں مولانا اعظم طارق شہید ؒ جامعہ فریدیہ تشریف لائے ، میں اسی سال دورہ سے فارغ ہوا تھا ، میں نے انہیں نصیحت کی فرمائش کی تو انہوں نے کہا بیٹا کبھی سرکاری نوکری نہ کرنا ۔ میں فوج میں خطیب بھرتی ہونے کے چکر میں تھا اور والدین کو بھی یہی امید تھی کہ فوج میں بھرتی ہو جائے گا تو زندگی سنور جائے گی ، لیکن میں نے حضرت شہید ؒ کی نصحیت کی وجہ سے یہ ارادہ ملتوی کر دیا ، کچھ عرصہ تک بے روزگار رہا مگر ہمت نہیں ہاری، پھر اللہ نے ایسا قبول کیا کہ آج یہ صاحب اسلام آباد میں دینی مدارس کی اہم نمائندہ شخصیت ہیں، پورے اسلام آباد میں خدمت دین ، مساجد ومدارس کا اہم نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ملکی سطح پر بھی کافی متحرک اور سرگرم رہتے ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ کہ یہ طے کر لیا جائے کہ مدارس کے فضلاء کا عصری جامعات اور سرکاری اداروں میں کھپنا خوبی ہے یا خامی اور اس کے ممکنہ اثرات و نتائج کیا ہو سکتے ہیں ۔ اس اصولی مقدمے کی بنیاد پر، اپنی بات کی تفہیم کے لیے میں کچھ مزید تفریعات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

دینی مدارس میں آنے والے بچے تین طرح کے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں،ایک اپر کلاس، اس کلاس کے بہت کم بچے مدارس کا رخ کرتے ہیں ، اگر آئیں بھی تو والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ غبی بچے کو مدرسہ بھیج دیا جائے اور ذہین کو عصری تعلیم دلوائی جائے ۔ دو،مڈل کلاس کے وہ گھرانے جن کا دین سے رشتہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے اور وہ اپنے ذہین اور غبی ہر طرح کے بچوں کو مدارس میں مذہبی تعلیم دلوانا پسند کرتے ہیں۔ تین، لوئر مڈل کلاس کے وہ گھرانے جن کے والدین عصری اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور وہ انہیں مدارس میں بھیج دیتے ہیں ۔ ان تینوں صورتوں کا مجموعی منطقی نتیجہ نکالا جائے تو صورت کچھ یوں بنتی ہے کہ مدارس میں آنے والے طلباء میں سے صرف مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے بچے ذہین،لیڈر شپ اور وژنری صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں ۔اور یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ ہزاروں لاکھوں میں سے کوئی ایک انسان وژنری اور لیڈر شپ کی خصوصیات کا حامل ہو تا ہے ۔اب ایسی صورت حال میں اگرمدارس میں آنے لاکھوں ہزاروں طلباء میں سے بھی ان چند باصلاحیت اور وژنری طلباکو سرکاری نوکریوں اور عصر ی اداروں میں کھپا دیا جائے تو امت ، مذہب اور مدارس کے حصے میں کیا آئے گا اور آئندہ اس خلا کو کیسے پورا کیا جائے گا ۔ہو سکتا ہے بعض احباب کو یہ بات عام سی لگے مگر میرے لیے یہ پہلواہم ہے ۔

عصری اور سرکاری اداروں میں کھپنے اور وہاں جا کر دین کا کام کرنے کا جو زعم ہے، یہ بھی ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہے ۔اس کی دو وجوہات ہیں ،ا یک اگر آپ اپنی ٹھیٹھ مولویانہ وضع قطع کے ساتھ میڈیا ، یونیوسٹیز اور دیگر عصری اداروں میں جانا چاہتے ہیں تو آپ کی وضع قطع کو دیکھ کر آپ کے بارے میں پہلے ہی ایک خاص پرسیپشن بنا لی جاتی ہے کہ یہ تو مولوی ہے اور اس نے ایسی ہی بات کرنی ہے اور آپ کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا ۔دو ،یہ مشاہدے کی بات ہے کہ کوئی عالم دین خواہ کتنا ہی متدین اورراست باز کیوں نہ ہو، جب عصری اداروں اور ان کے ماحول میں جاتا ہے تو ماحول اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتا ہے ۔ شروع کے سالوں میں نہ سہی چار پانچ سال کے بعد اتنا فرق تو ضرور پڑ جاتا ہے کہ خدمت دین اور اصلا ح امت کی فکر پس منظر میں چلی جاتی ہے اوراپنا گھر بار اور فکر معاش ابھر کر سامنے آ جاتے اور مقصود بن جاتے ہیں ۔ پھر اس کے بعد وہی ہوتے ہے جو سرکاری خطیبوں ، سرکاری ٹیچروں کی صورت میں ہو رہا ہے ۔ان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں مگر ان کا کردار مدرسہ کی روح کے موافق بھی نہیں کہ جس کا بنیادی مقصد ایسے علماء تیار کرنا ہے جو مادی مفادات سے ماوراءہو کر مخلوق کو خالق سے جوڑنے کے لیےوقف ہو جائیں ۔

اگر دینی مدارس کے فضلاء کو عصری اداروں میں کھپانا ہی مقصود ہے تو گویا دینی تعلیم بھی محض حصول روزگار کا ایک ذریعہ بن کررہ جائے گی ، پھر ایک عالم دین سے جو مدرسہ میں دس سال لگاتا ہے یہ سوال فضول ہو جائے گا کہ وہ مدرسہ میں دس سال لگانے کے بعد مذہب اور امت کو کیا لوٹا رہا ہے ۔

میرے خیال میں ارباب جامعہ الرشید کو اس موضوع پر ریسرچ کروانی چاہئے اور اس کے نتائج بھی سامنے لانے چاہیئں کہ اب تک ان کے کتنے فضلاء عصری اداروں میں کھپے ، کتنوں کے عقائد و نظریات اور وضع قطع میں تبدیلی آئی ، ان اداروں میں ان کا کردار کیا رہا اور ان کے وہاں ہونے سے اداروں میں کیا مثبت تبدیلیاں آئیں ۔ جامعۃ الرشید کے ساتھ اگر مجموعی طور پر مدارس کے فضلاء کا عصری اداروں میں کھپنے کا ڈیٹا بھی اکٹھا کر لیا جائے اورا س کا اینالسسز کر لیا جائے تو میرے خیال میں نتائج انتہائی مایوس کن اور ہوش ربا ہوں گے ۔ اگر کوئی اپنے طو ر پر اس موضوع پر کام کرنا چاہے تو اس پر ایم فل پی ایچ ڈی سطح کا مقالہ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔

اور سب سے آخر میں اس اصولی بات کی تفہیم ضروری ہے کہ نئے بورڈ کے قیام کی صورت میں ، الحاق کرنے والے مدارس کو خلوص نیت سے ہی سہی مگر کچھ خواب دکھائے گئے ہیں ۔ مثلا ایچ آر ، فائنانس، مینجمنٹ ، فنڈ ریزنگ، ہیومن ریسورس اور اس جیسے دیگر پر کشش الفاظ ، اصطلاحات اور کیپشن وغیرہ ۔اس ضمن میں یہ جاننا اہم ہے کہ کیا ملک کے تمام مدارس کے وسائل و مسائل جامعۃ الرشید جیسے ہیں یا ان وسائل و مسائل میں تفاوت موجود ہے ۔ میری ناقص رائے میں اس طرح کے منصوبے ، اصطلاحات اور کیپشنزکراچی جیسے شہر اور جامعۃ الرشید جیسے ادارے میں بیٹھ کر تو ڈسکس ہو سکتے ہیں مگرملک بھر کے تمام مدارس کے لیے یہی سوچ اپنانازمینی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرنے کے مترادف ہے۔

جامعۃ الرشید وسائل کے اعتبار سے ایک آئیڈیل ادارہ ہے اور آئیڈیل کے خواب تو دیکھے جا سکتے ہیں مگر اسے پایا نہیں جا سکتا۔دیگر اکثر مدارس کی صورتحال تو یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنے روزمرہ ا خراجات پورے کرنا مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ وہ ایچ آر ، فائنانس، مینجمنٹ، فنڈ ریزنگ، ہیومن ریسورس وغیرہ کے خوبصورت اور پر کشش کیپشنز کے خواب دیکھیں ۔

نئے بورڈ کے تعارفی کتابچے میں لکھا گیا ہے کہ ہم اپنے طلباء کو تین چار زبانیں سکھانا چاہتے ہیں اور درس نظامی کے موجودہ نصاب و نظام کے ساتھ یہ ممکن نہیں ۔ ، میر ے لیے یہ امر باعث حیرت ہے کہ جن طلباء کو اردو ٹھیک سے لکھنی اور بولنی نہیں آتی ہم انہیں غیر ملکی زبانیں کیوں سکھانا چاہتے ہیں ۔سکول کالج کی طرح اب مدارس کی صورتحال بھی یہ ہے کہ اردو میں ایک صفحے کا مضمون ہمارے طلباء نہیں لکھ سکتے ۔ اگر غیر ملکی زبانیں سکھانا مقصود ہے تو اس کے لیے کچھ خاص اذہان کو چنا جا سکتا ہےمگر وہ بھی درس نظامی کی تکمیل کے بعدجیسا کہ جامعۃ الرشید میں انگلش اور دیگر تخصصات کے شعبے پہلے سے موجود ہیں ۔ درس نظامی کے ساتھ کہ جس کی اپنی زبان عربی ہے اس کے ساتھ ترکش، چائنیز اور انگلش گویا ایک طلباء درس نظامی کے علوم و فنون کی بجائے زبانیں سیکھنے پر ہی مامور ہوں گے ۔

اگر فرض کر لیا جائے کہ درس نظامی کے ساتھ صرف ایک زبان ترکش ، چائنیزیا انگلش سکھائی جائے گی تو میرا ماننا ہے کہ پھر بھی تین زبانوں کا بوجھ ایک طالب علم کو اٹھانا پڑے گا، اردو، عربی تو لازمی ہیں ان کے علاوہ ترکش، چائنیز اور انگلش میں سے کوئی ایک۔ یہ طالب علم کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور اس طرح وہ کسی ایک زبان کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ زبان سیکھنا کوئی آسان کام نہیں۔اگر ان زبانوں کے محض ابتدائی اور تعارفی قواعد سکھائے جائیں گے تو بھی فائدہ نہیں کہ جب تک کسی زبان کے ساتھ مستقل ٹچ نہ رہا جائے ، اس کی ووکیبلری مستقل نہ برتی جائے تو اسے سیکھنا سمجھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ زبانیں سیکھنے سکھانے کی اس مفروضہ صورتحال کا تعلق جامعۃ الرشید کی چاردیواری کے اندر ہے کہ جامعہ کی چار دیواری کے اندر بھی یہ کوئی قابل عمل صورت نہیں ۔ اگر اس مفروضہ صورتحال کو دوسرے مدارس تک پھیلا دیا جائے تو وہاں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ دوسرے مدارس کے لیے ان زبانوں کے ماہر اساتذہ کرام ڈھونڈنا اور انہیں ہائیر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔

تعارفی کتابچے میں ہم نصابی اضافات کے ضمن میں جن موضوعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان میں سے اکثر دینی مدارس میں پہلے سے رائج ہیں ، مثلا ہر مدرسے میں بز م ادب ، تقریری مقابلوں ، خطابت ، تحریر وتقریراور کھیل وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ معلوماتی و تربیتی نشستوں میں جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے مثلا وفاقی حکومت کا اسٹرکچر، گورننس، آئین پاکستان ، سی پیک ، اقوام متحدہ ، ایف اے ٹی ایف وغیرہ یہ تمام مقاصد محض تین چار گھنٹے کی ورکشاپ سے حاصل ہو سکتے ہیں ۔نئے بورڈ کے قیام کو اس طرح کی سطحی چیزوں سے استناد مہیا کرنا غیر عقلی اور غیر منطقی رویہ ہے ۔

مجمع العلوم الاسلامیہ کےتعارفی کتابچے کو میں نے بغور پڑھا اور دو تین بار پڑھا ہے ، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نئے بورڈ کے قیام ، اہداف ومقاصد اور پالیسز کا جو تعارف کروایا گیا ہے اس کا نفاذ جامعۃ الرشید کی حدود اور اس جیسے چند بڑے شہری اداروں میں بھی صرف جزوی طورپر تو ممکن ہے مگردور درازاور محروم الوسائل مدارس کے لیے یہ صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ اس کااگر تناسب نکالا جائے تو پانچ فیصد ایسے مدارس ہو سکتے ہیں جن میں یہ ماڈل اپلائی کیا جا سکتا ہے باقی پچانوے فیصد مدارس کے لیے اپنی موجودہ ہیئت کو برقرار رکھنااور موجود ہ نظم کے ساتھ اپنا وجود باقی رکھنا ہی بہت بڑا کام ہے ۔

پچھلے کچھ دنوں سےمسلسل غور وفکر کے بعد ، میں یہ سطور لکھنے پر مجبور ہواہوں۔ امید ہے میرےا حباب اور اساتذہ کرام اسے اسی نظر سے دیکھیں گے ۔ مجھے اپنے اساتذہ اور مادر علمی سے محبت ہے اور اسی محبت کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک نکتہ نظر واضح کرنے کی کوشش کی ہے اورظاہر ہے کہ حرف آخر کوئی بات نہیں ہوتی۔