عالمی تہذیبی دباؤ اور مسلمان معاشرے
محمد عمار خان ناصر
مختلف تہذیبی افکار اور معاشرتی تصورات وروایات کے اختلاط کے ماحول میں باہمی تاثیر وتاثر کی صورت حال کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس تاثیر وتاثر کی سطح اور حد کا تعین تاریخی حالات سے ہوتا ہے جس میں سیاسی طاقت اور تہذیبی استحکام کا عامل سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر دو تہذیبی روایتوں کا تعامل ایسے حالات میں ہو کہ دونوں کے پیچھے سیاسی طاقت اور تہذیبی روایت مستحکم طور پر کھڑی ہو تو تاثیر وتاثر کی صورت مختلف ہوتی ہے، لیکن اگر ایک تہذیبی روایت اضمحلال وزوال اور سیاسی ادبار کے مرحلے پر جبکہ دوسری عروج واقبال کی طرف گامزن ہو تو تاثیر وتاثر کے سوال سے نبرد آزما ہونا کمزور تہذیب کے لیے بہت ہی مشکل معاملہ بن جاتا ہے۔
مسلم تہذیب اور جدید مغربی تہذیب کا باہمی تعامل بنیادی طور پر ایسے ہی تاریخی حالات میں رونما ہوا ہے اور اس کی سنگینی اس پہلو سے بہت بڑھ جاتی ہے کہ جدید مغربی تہذیب، ماضی کی تہذیبوں کے برعکس، انسانی معاشروں کی تشکیل کی اقدار کے باب میں تعدد وتنوع اور تہذیبی اختلاف کی گنجائش کو قبول نہیں کرتی۔ وہ جن اقدار کی علمبردار ہے، انھیں عقلی دریافت کا نتیجہ سمجھنے کی بنیاد پر آفاقی تصور کرتی ہے اور تمام انسانی معاشروں میں انھی اقدار کو جاری وساری کر دینے کو اپنی ذمہ داری اور فریضہ سمجھتی ہے۔ موجودہ بین الاقوامی نظام میں غیر مغربی معاشروں کی مستقل اور مسلسل نگرانی کا اور انھیں جادہ تہذیب پر گامزن رکھنے کے لیے ڈنڈے اور گاجر کا تمام تر انتظام اسی بنیادی پوزیشن سے پھوٹا ہے۔
سیاسی واقتصادی زبوں حالی کا نتیجہ بین الاقوامی سطح پر مہذب وغیر مہذب اقوام کی تقسیم کے ساتھ ساتھ کمزور معاشروں کی داخلی تقسیم کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ سیاسی غلبہ اور مادی قوت نفسیاتی اور فکری تاثیر پیدا کرنے کی غیر معمولی استعداد رکھتی ہے۔ اگر سیاسی طاقت ایک تہذیبی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے ساتھ وابستہ افکار، نظریات، فلسفے اور اخلاقی تصورات وغیرہ عمومی انسانی شعور کے لیے اپنی قبولیت پیدا کرنے میں مزید کسی چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ افکار اور فلسفے کسی بھی فلسفیانہ یا عقلی معیار پر آفاقی نہیں ہوتے اور کسی دوسرے تہذیبی واقداری فریم ورک میں ان کی معیاریت پر تنقیدی سوال اٹھانا عقلا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے، تاہم غالب تہذیب کی سیاسی قوت اور تہذیبی استحکام، فکر ودانش کو آسانی سے اس عقلی امکان کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتی اور ناگزیر طور پر غالب فلسفوں کی آفاقیت اور معیاریت کا التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ مسلمان معاشرے اس وقت بعینہ اسی صورت حال کے روبرو ہیں۔
مثال کے طور پر گزشتہ دنوں مرد وعورت کی باہمی رفاقت کے لیے نکاح کے ضروری ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے ملالہ یوسف زئی نے یہ سوال اٹھایا کہ ’’جنسی تعلق کے لیے عقد نکاح میں بندھنے کی کیا ضرورت ہے اور باہمی مفاہمت پر مبنی رفاقت (پارٹنرشپ) کیوں کافی نہیں“۔ یہ مختصر سوال بہت متنوع، اہم اور بنیادی اخلاقی، قانونی اور تہذیبی سوالات کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے جن کو کھولے اور ان کی تنقیح کیے بغیر اس الجھن کا درست تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جنسی تعلق کے جواز کے لیے سماجی ضابطہ بندی کا کوئی ایسا آفاقی ڈھانچہ موجود ہے جس کی پابندی کو تمام انسانی معاشرے متفقہ طور پر ضروری مانتے ہوں اور تاریخ وثقافت اور اقدار وعقائد کے اختلافات اس پر اثر انداز نہ ہوتے ہوں؟ انسانی معاشروں اور تاریخ سے ایک سرسری واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ہر تہذیب اور ہر معاشرہ اس کا تعین اپنی خاص اقدار، حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کرتا رہا ہے اور کسی بھی خاص مجموعہ ضوابط کی پابندی اس تہذیبی اورمعاشرتی تناظر میں ہی ضروری مانی جاتی رہی ہے جس میں اس کی تشکیل ہوئی۔ شادی کا باقاعدہ معاہدہ کیے بغیر، مرد وعورت کا جنسی رفاقت کا رشتہ بنا لینا اسی نوعیت کی چیز ہے۔ ضروری نہیں کہ دوسرے معاشرے بھی اس مسئلے کو اسی نظر سے دیکھیں جس سے اسلام نے دیکھا ہے، تاہم مسلمان معاشرے اپنی دینی اقدار اور معاشرتی تصورات کی بنیاد پر اس کے جواز کو قبول نہیں کر سکتے۔
اس تناظر میں decoloniality (رد استعمار) کی بحث بہت اہم بن جاتی ہے جو سوشل تھیوری کے میدان میں پچھلی تین چار دہائیوں میں نمایاں ہوئی ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سیاسی مفہوم میں مغربی استعمار کے بظاہر خاتمے کے باوجود انسانی معاشروں کی تاریخ اور تشکیل کو دیکھنے کی وہ ساخت اور وہ فکری تصورات ومفروضات اسی طرح برقرار ہیں جو نشاۃ ثانیہ اور روشن خیالی کے زیراثر مغربی علوم نے قائم کیے ہیں۔ رد استعمار کے موید اہل فکر کا کہنا ہے کہ اس فکری سانچے کو توڑے بغیر انسانی معاشروں کی ایک متبادل تشکیل کی طرف بڑھنا ممکن نہیں۔ مسلم اہل فکر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ غالب تہذیب اوراس کے علوم وافکار کی تنقید کا ایسا جامع اور مربوط بیانیہ سامنے لائیں جو مسلم معاشروں کی ناگزیر تہذیبی خصوصیات کے تحفظ کی فکری اساس فراہم کر سکے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(263) اف کا ترجمہ
عربی میں لفظ اف دراصل منھ سے نکلنے والی ایک آواز ہے، جس سے کسی چیز یا بات سے بیزاری اور ناگواری کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر زبان میں اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں۔ زمخشری کے بقول: اُفٍّ صوت اذا صوّت بہ علم انّ صاحبہ متضجر (الکشاف)
سورة الاسراءآیت 23 کا ترجمہ کرتے ہوئے تمام لوگوں نے اف کا ترجمہ اف کیا ہے۔ لیکن دوسری دو آیتوں میں اس کا ترجمہ بہت سے لوگوں نے تف کیا ہے۔ تف کا لفظ اف کے مقابلے میں بہت زیادہ سخت ہے اور اس کی معنوی جہت دوسری ہے۔ عربی میں یہ لفظ تھوک کے معنی میں آتا ہے۔ اردو میں اس کے معنی ہیں: تھوک، لعنت، ملامت، کلمہ نفریں (فرہنگ آصفیہ)۔ اف کا ترجمہ ایسے ہی الفاظ سے کرنا چاہیے جن سے بیزاری اور ناگواری کا اظہار ہوتا ہو، نہ کہ لعنت وملامت کا۔
(۱) فَلَا تَقُل لَّہُمَا اُفٍّ وَلَا تَنہَرہُمَا۔ (الاسراء:23)
”انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو“۔ (سید مودودی)
”تو ان سے ہُوں، نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا“۔ (احمد رضا خان)
” تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۲) وَالَّذِی قَالَ لِوَالِدَیہِ اُفٍّ لَّکُمَا اَتَعِدَانِنِی اَن اُخرَجَ وَقَد خَلَتِ القُرُونُ مِن قَبلِی۔ (الشوری: 17)
”اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا ،اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاوں گا“۔ (سید مودودی)
”اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور رہا وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم پر تف ہے!“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور جس نے اپنے والدین سے کہا تُف ہے تم پر“۔ (محمد حسین نجفی)
(۳) اُفٍّ لَّکُم وَلِمَا تَعبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ اَفَلَا تَعقِلُونَ۔ (الانبیاء:67)
”تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تمہیں عقل نہیں“۔ (احمد رضا خان)
”تف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبُودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟“۔ (سید مودودی)
”تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟“۔ (محمد جوناگڑھی)
”تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ “۔(فتح محمد جالندھری)
یہاں بھی اف کا ترجمہ تف کرنا درست نہیں ہے۔درج ذیل ترجمہ درست ہے:
”بیزار ہوں میں تم سے اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے، کیا تم کو سمجھ نہیں“۔ (محمود الحسن)
(264) عَیّ کا مفہوم
لفظ عَی سے مشتق دو الفاظ قرآن مجید میں آئے ہیں۔ وَلَم یَعیَ اور اَفَعَیِینَا۔ اس لفظ کا مطلب بعض لوگوں نے تھکنا بھی بتایا ہے۔ لیکن لغت کے محققین نے عاجز ہونا بتایا ہے۔ آلوسی لکھتے ہیں: والعَیُّ بِالامرِ العَجزُ عَنہُ لا التَّعَبُ، قالَ الکِسائِیُّ: تَقُولُ: اعیَیتُ مِنَ التَّعَبِ وعَیِیتُ مِنِ انقِطاعِ الحِیلَۃِ والعَجزِ عَنِ الامرِ، وہَذا ہو المَعرُوفُ والافصَحُ۔ زمخشری لکھتے ہیں: عیی بالامر: اذا لم یہتد لوجہ عملہ۔ اردو کے بیشتر مترجمین نے دونوں مقامات پر تھکنا ترجمہ کیا ہے، بعض نے ایک جگہ تھکنا تو دوسری جگہ عاجز ہونا ترجمہ کیا ہے۔دونوں ہی آیتوں میں صحیح ترجمہ عاجز ہونا ہے، دونوں آیتوں کا سیاق اللہ کی قدرت بتانے کے لیے ہے۔
(۱) اَوَلَم یَرَوا اَنَّ اللَّہَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَرضَ وَلَم یَعیَ بِخَلقِہِنَّ بِقَادِرٍ عَلَیٰ اَن یُحیِیَ المَوتَیٰ بَلَیٰ اِنَّہُ عَلَیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیر۔ (الاحقاف:33)
”کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں، وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے؟ ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا“۔ (سید مودودی)
” اور ان کے بنانے میں نہ تھکا“۔ (احمد رضا خاں)
”اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور ان کے پیدا کرنے سے وہ نہ تھکا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
”اور ان کے پیدا کرنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہوئی“۔
(۲) اَفَعَیِینَا بِالخَلقِ الاَوَّلِ بَل ہُم فِی لَبسٍ مِّن خَلقٍ جَدِیدٍ۔ (ق: 15)
”کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں“۔ (سید مودودی)
”تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں“۔ (احمد رضا خان)
”کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے؟ بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کیے جانے کے باب میں مبتلائے شک ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
(265) توفیۃ الاعمال کا مفہوم
قرآن مجید میں کہیں یُوَفِّیہِم اُجُورَہُم جیسی تعبیریں آئی ہیں، اور کہیں وَلِیُوَفِّیَہُم اَعمَالَہُم جیسی تعبیریں آئی ہیں۔ یعنی لفظ توفیۃ کے مشتقات کہیں اجر کے ساتھ آئے ہیں اور کہیں اعمال کے ساتھ۔ (ان کے علاوہ کچھ اور استعمالات بھی ہیں) خاص بات یہ ہے کہ توفیہ جہاں بھی اجر کے ساتھ آیا ہے وہاں اہل ایمان کا ذکر ہے یا بشارت کا سیاق ہے۔ جیسے:
وَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَیُوَفِّیہِم اُجُورَہُم وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِینَ۔ (آل عمران: 57)
اور توفیۃ جہاں اعمال کے ساتھ آیا ہے وہاں یا تو کافروں کا ذکر ہے یا عمومی ذکر ہے مگر انذار کا سیاق ہے۔
جہاں توفیۃ ’اعمال‘ کے ساتھ آیا ہے، وہاں مترجمین نے کہیں اعمال پورا کرنے کا ترجمہ کیا ہے اور کہیں اعمال کا پورا بدلہ دینے کا ترجمہ کیا ہے۔ درست ترجمہ اعمال کا پورا بدلہ دینا ہے۔ کیوں کہ قیامت کے دن اعمال پورے کرنے کا کوئی مفہوم نہیں بنتا۔ دنیا میں اس کا مفہوم یہ نکل سکتا ہے کہ ان کو اعمال انجام دینے کا پورا موقع دیا جائے گا، جیسا کہ بعض مفسرین نے بعض آیتوں میں یہ مفہوم لیا ہے، لیکن یہ تعبیر زیادہ تر آخرت کے سیاق میں آئی ہے۔ غرض اعمال پورے کرنے کے بجائے اعمال کا بدلہ دینا وہ مفہوم ہے جو ہر جگہ درست ہوجاتا ہے۔
البتہ مفسرین کو خاص طور سے سورة ہود کی آیت (15) میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ قرآن کی بعض آیتوں کی رو سے کافروں کے اعمال تو اکارت ہوجائیں گے تو پھر پورا بدلہ ملنے کی کیا شکل بنے گی۔ (ملاحظہ ہو محمد امین شنقیطی کی کتاب: دفع ایہام الاضطراب عن آیات الکتاب۔)
اس اشکال کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس آیت میں اعمال سے مراد نیکیاں لے لیا۔ حالاں کہ اس طرح کی تمام آیتوں میں ان کے تمام اعمال (نیکیوں اور برائیوں دونوں) کا بدلہ دیا جانا مراد ہے۔ کفر وشرک جیسی بڑی نافرمانیوں کے ساتھ اچھے اعمال کا وزن کتنا رہ جائے گا اور وہ انسان کے کتنے کام آسکیں گے اس کا علم تو اللہ کو ہے۔ لیکن یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ جب وزن کرنے کی نوبت آئے گی تو بڑے گناہوں کی وجہ سے چھوٹی نیکیاں بے وزن اور اکارت ہوجائیں گی۔
بہرحال درج ذیل آیتوں میں صحیح ترجمہ اعمال کا بدلہ دینا ہے نہ کہ اعمال کو پورا کرنا۔ اعمال تو بندہ خود انجام دے چکا ہے، اب تو اس کی جزا یا سزا ملنے کا موقع ہے، جو اعمال کے عین مطابق ملے گی۔ یُوَفِّیہِم اُجُورَہُم میں توجہ اجر کی طرف ہوتی ہے، کہ اجر پورا ملے گا، اس میں بشارت کا پہلو ابھرا ہوا ہوتا ہے، جب کہ یُوَفِّیہِم اَعمَالَہُم میں اعمال پر توجہ مرکوز ہوتی ہے کہ اعمال کا پورا پورا حساب ہوگا اور اعمال کے عین مطابق بدلہ دیا جائے گا، اس میں انذار کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
(۱) مَن کَانَ یُرِیدُ الحَیَاۃَ الدُّنیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ اِلَیہِم اَعمَالَہُم فِیہَا۔ (ھود:15)
”جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے“۔ (احمد رضا خان)
”جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہے تو ان کے اعمال ہم یہیں پورے کر دیتے ہیں“۔ (احمد علی لاہوری)
عام طور سے فیہا کا نوفّ سے متعلق مان کر ترجمہ کیا گیا ہے کہ اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں پورا مل جائے گا۔ اس آیت میں فیہا کا تعلق اعمال سے بھی ہوسکتا ہے، یعنی اس دنیا کی زندگی میں وہ جو اعمال کریں گے ہم ان کا پورا بدلہ دیں گے۔ اس سے یہ اشکال دور ہوجائے گا کہ ہر شخص کو اس کی نیکیوں یا برائیوں کا بدلہ دنیا میں نہیں ملتا ہے۔
(۲) وَاِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُم رَبُّکَ اَعمَالَہُم۔ (ھود:111)
”اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا“۔ (سید مودودی)
”اور بیشک جتنے ہیں ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا“۔ (احمد رضا خان)
(۳) وَتُوَفَّیٰ کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت۔ (النحل: 111)
”اور ہر جان کو وہی پورا پورا بدلہ میں ملے گا جو اس نے کیا ہوگا“۔ (امین احسن اصلاحی، درست ترجمہ: ”جو اس نے کیا ہوگا اسی کا پورا پورا بدلہ ملے گا“۔)
”اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا“۔ (احمد رضا خان)
”اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا“۔(محمد جوناگڑھی)
(۴) وَوُفِّیَت کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت۔ (الزمر: 70)
”اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ہر جان کو جوکچھ اس نے کیا ہوگا پورا کیا جائے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اورہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا تھا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا “۔(احمد علی لاہوری)
(۵) وَلِکُلٍّ دَرَجَات مِّمَّا عَمِلُوا وَلِیُوَفِّیَہُم اَعمَالَہُم۔ (الاحقاف: 19)
”اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ہر فرقہ کے کئی درجے ہیں اپنے کیے کاموں کے موافق اور تاکہ پورے دے ان کو کام ان کے“ ۔(محمود الحسن)
بہت سے مقامات کی طرح یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مترجمین ایک ہی اسلوب کا الگ الگ جگہوں پر مختلف ترجمہ کرتے ہیں۔
علمِ رجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۱)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ
مولانا سمیع اللہ سعدی
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ متنوع جہات سے تقابلی مطالعے کا متقاضی ہے، ہر دو فریق اس بات کے دعویدار ہیں کہ صدرِ اول کی درست تعبیر، قابلِ اعتماد تاریخ اور اصلی تشریعی ادب ان کی کتبِ حدیث میں منقول ہے، فریقین کے اس دعوے کی صحیح پرکھ اسی صورت میں ممکن ہے، جب مناظرانہ لب و لہجہ سے ہٹ کر ہر دو مکاتب کے حدیثی تراث کا تحقیقی انداز میں تقابل کیا جائے، اس سلسلے میں فریقین کے علم رجال اور علم ِ جرح و تعدیل کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جائے گا، یہ ایک خالص علمی سرگرمی ہے، اس لئے اسے فرقہ وارانہ نظر سے دیکھنے کی بجائے علمی مکالمہ کے طور پر لیا جائے، کیونکہ علم و تحقیق پر مبنی مکالمہ علمی ارتقا کا اساسی جز و ہے۔بحثِ اول: فریقین کا علم رجال، ایک تقابلی مطالعہ
حدیثی تراث کا استناد، ثقاہت اور اس کے صدق و سچائی کا معیار علم رجال ہے، کیونکہ حدیث کی قبل از تدوین حفاظت زیادہ تر رواۃ و رجال کی زبانی کاوشوں کا نتیجہ ہے، ہر دو فریق اپنے حدیثی تراث کی صداقت کے مدعی ہیں، اس لیے اس دعوے کی پرکھ دونوں کے علم رجال کے تقابلی مطالعے سے واضح ہوسکے گی، ذیل میں مختلف حوالوں سے فریقین کے علم رجال کا ایک تقابل پیش کیا جاتا ہے:
1۔ علم رجال کی ابتداء
فریقین کے علم رجال کو پرکھنے کے لئے سب سے ضروری اور اہم ترین بحث یہ ہے کہ ہر دو مکاتب میں علم رجال کی تدوین کب عمل میں لائی گئی ؟اور کس زمانے میں رواۃ ِ حدیث کے احوال و کوائف کو جمع کیا گیا ؟اس کی اہمیت و مرکزیت کی وجہ یہ ہے کہ موضوع حدیث میں اصلا سند میں کوئی فرضی و کذاب راوی داخل کرنا پڑتا ہے یا پورا سلسلہ سند وضع کرنا پڑتا ہے، چنانچہ علامہ ذہبی اپنی کتاب "الموقظۃ فی مصطلح الحدیث" میں موضوع حدیث کی وجوہات میں لکھتے ہیں:
"وکان باسناد مظلم او باسناد مضیئ کالشمس فی اثنائہ رجل کذاب او وضاع"1
یعنی موضوع حدیث تاریک (نامعلوم ) سند کے ساتھ ہوتی ہے، یا سورج کی طرح معلوم و مشہور سند کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن ا سکے درمیان جھوٹااور حدیث گڑھنے والا راوی داخل کیا جاتا ہے۔
اس لئے دونوں فریقوں کے بنیادی مصادر ِ حدیث کی تدوین کے وقت یہ دیکھا جائے گا کہ رواۃ و رجال کے احوال و کوائف محفوظ تھے یا نہیں ؟اگر مصادرِ حدیث کی تدوین کے وقت رجال و رواۃ ِ حدیث کے کوائف اور ان کا حدیثی مقام (توثیق و تضعیف ) کا کام ہوچکا تھا ، تو اس کا مطلب ہے کہ ان مصادرِ حدیث کے مصنفین نے وضع اسناد اور فرضی رواۃ کو اپنی کتب کا کم سے کم حصہ بنایا، کیونکہ رواۃ ِ حدیث، ان کے شیوخ و تلامذہ کے معلوم و مدون ہونے کے بعد فرضی رواۃ اسناد کا پتا لگانا چنداں مشکل نہیں ، اور اگر تدوین ِ حدیث کے وقت رواۃ و رجال کے احوال و کوائف محفوظ و مدون نہیں تھے، تو بجا طور پر سوال پیدا ہوگا کہ مدونین ِ حدیث نے روایات کا جو جم غفیر ہزاروں رواۃ سے نقل کیا ہے، ان رواۃ کا حدیثی مقام، ذاتی زندگی، حافظہ اور دینی حیثیت (عدالت ) جب معلوم ہی نہیں ہے، تو ان ہزاروں روایات کو علمی طور پر کیونکر ثابت مانا جاسکتا ہے ؟اب ہم اسی اصول پر فریقین کے علم رجال کی ابتدائی تاریخ کا ایک جائزہ لیتے ہیں کہ علم رجال اور تدوینِ حدیث کا زمانہ ایک ہے یا نہیں ؟
سنی علم رجال کی تدوین کا زمانہ
سنی حدیثی تراث یعنی صحاح ستہ کا زمانہ تدوین دوسری صدی ہجری (194 ھ امام بخاری کی ولادت )کے آخر سے لیکر چوتھی صدی ہجری کے شروع (303ھ امام نسائی کی وفات) تک ہے، اب اگر ہم سنی علم رجال کا زمانہ تدوین دیکھیں، تو علم رجال کے اولین مدونین سارے کے سارے اصحابِ صحاح ستہ کے ہم عصر یا ان کے شیوخ ہیں، بلکہ اصحابِ صحاح ستہ میں سے بعض خود علم رجال کے اولین مدونین میں شامل ہیں، ذیل میں سنی علم رجال کی اولین کاوشوں کا ذکر کیا جاتا ہے، یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں صرف انہی کتب ِ رجال کا ذکر کیا جائے گا، جو ہم تک پہنچی ہیں، تاکہ دستیاب مواد و تراث کی مدد سے اس قضیے کو دیکھا جائے ، تاریخی مفروضوں سے اس بحث کو بچایا جاسکے اور یقینی و موجود حقائق پر اس کی بنیاد رکھی جائے۔جو کتب تاریخ میں صرف نام کے ساتھ محفوظ ہیں، بوجوہ ان کا ذکر نہیں کیا جائے گا، خواہ سنی رجال کی کتب ہو یا شیعی رجال، کیونکہ اس سلسلہ مضامین میں ہم نے کوشش کی ہے کہ واقعاتی حقائق و شواہد کی بنیاد پر فریقین کے دعاوی کو پرکھا جائے:
1۔علم رجال کے اولین مدونین میں خود امام بخاری شامل ہیں، جنہوں نے سنی علم حدیث کی سب سے اصح کتاب لکھی ہے، امام بخاری نے علم رجال کی متعدد کتب لکھی ہیں، لیکن ہم تک امام کی یہ کتب پہنچی ہیں:
- علم رجال پر امام بخاری رحمہ اللہ کی سب سے بڑی کتاب "التاریخ الکبیر " ہے، اس کتاب میں امام بخاری نے ساڑھے تیرہ ہزار کے قریب (13308) 2 رواۃِ حدیث کا احاطہ کیا ہے، یہ کتاب نو جلدوں میں چھپی ہے، یہ تعداد صحاح ستہ کے جملہ رواۃ سے کہیں زیادہ ہے، چنانچہ صحاح ستہ کے رواۃ پر مشتمل کتاب حافظ مزی کی "تہذیب الکمال فی اسماء الرجال " کے مطابق صحاح ستہ کے کل رواۃ آٹھ ہزار(8045) ہیں، 3 یوں امام بخاری نے صحاح ستہ کے کل رواۃ سے بھی زیادہ رواۃ کے کوائف و احوال جمع کئے، گویا صحاح ستہ کی تصنیف سے پہلے ہی امام بخاری صحاح ستہ کے جملہ رواۃِ حدیث کے احوال و کوائف لکھ چکے تھے۔
- امام بخاری نے رجال پر اس کے علاوہ "التاریخ الاوسط" التاریخ الصغیر" اور الضعفاء الصغیر " لکھی ہیں، یہ تینوں کتب بھی مطبوعہ ہیں۔
2۔علم رجال پر اسی زمانے کی سب سے بڑی تصنیف ابن ابی حاتم رازی کی "الجرح و التعدیل " ہے، جو نو ضخیم جلدوں میں چھپی ہے ابن ابی حاتم(ولادت 240 ھ ) اصحاب صحاح ستہ کے ہم عصر تھے، آپ نے اس کتاب میں اٹھارہ ہزار رواۃ 4کے حالات قلمبند کئے، یعنی صحاح ستہ کے کل رواۃ سے دوگنا رواۃ کے کوائف جمع کئے، یہ کتنی بڑی تعداد ہے، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ شیعی رجال کی سب سے بڑی کتاب معاصر ایرانی عالم شیخ علی نمازی شاہرودی نے"مستدرکات علم الرجال " کے نام سے لکھی ہے، جس میں بھی اٹھارہ ہزار سے کچھ اوپر رواۃ ہیں، یہ کتاب شیعی علم رجال کی پندرہ سو سالہ تاریخ کی سب سے ضخیم کتاب ہے، چنانچہ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:
"وھذہ اوسع محاولۃ استقصائیۃ لاسماء الرواۃ نشہدھا عند الامامیہ"5
یعنی یہ امامیہ کے ہاں اسماء رواۃ کے احاطے کے اعتبار سے سب سے زیادہ وسیع کتاب ہے، یوں سنی علم رجال کے ہاں جو کتاب تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی لکھی گئی، اس جیسی (مشابہت صرف تعداد رواۃ میں ہے، منہج وا سلوب میں کیا فروق ہیں، یہ ایک مستقل عنوان کے تحت ان شا اللہ آئے گا )کتاب شیعہ مکتب میں تدوینِ حدیث کے بارہ سو سال بعد لکھی گئی، اسی ایک کتاب سے فریقین کے علم رجال میں اساسی فرق کافی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔
3۔ ان دو کتب کے علاوہ بھی صحاح ستہ کے زمانے میں علم رجال پر متعدد کتب لکھی گئیں، ذیل میں ہم ان میں سے جو کتب مطبوع ہیں، ان کی ایک فہرست پیش کرتے ہیں:
- طبقاتِ ابن سعد، (5554 رواۃ) از محمد بن سعد زہری( 146ھ-230ھ)
- طبقات ِ خلیفہ بن خیاط(3305 رواۃ) خلیفہ بن خیاط (160ھ-240ھ)
- طبقاتِ امام مسلم بن حجاج (2246 رواۃ ) امام مسلم بن حجاج مصنف صحیح مسلم
- احوال الرجال (393 رواۃ )ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی (وفات:259ھ )
- کتاب الضعفاء والمتروکین (703 رواۃ )امام نسائی مصنف سنن نسائی
- الضعفاء الکبیر (2101 رواۃ) ابو جعفر محمد بن عمرو العقیلی (وفات:322ھ)
- معرفۃ الثقات (2365 رواۃ)ابو الحسن احمد بن عبد اللہ العجلی (182ھ-261ھ )
- تاریخ الثقات (2116 رواۃ)ابو الحسن احمد بن عبد اللہ العجلی (182ھ-261ھ)
- تقریب الثقات(16008 رواۃ) ابن حبان البستی (270ھ-354 ھ)
- الکامل فی ضعفاء الرجال (2212 رواۃ)ابو احمد عبد اللہ بن عدی الجرجانی (277ھ -365ھ)
تدوین ِ حدیث کے زمانے کی مطبوعہ و موجود کتب میں سے صرف دس مشہور کتب کا انتخاب کیا، ورنہ یہ فہرست اس سے کئی زیادہ لمبی ہے، اس فہرست میں شہروں کے اعتبار سے جمع کئے گئے کوائف رواۃ، کنی و القاب کے اعتبار سے، الموتلف و المختلف، المتفق والمفترق والمتشابہ، وفیات کے اعتبار سے، معاجم شیوخ کی کتب، کتبِ مخصوصہ کے رجال اور اس جیسے دیگر اعتبارات سے لکھی گئی کتبِ رجال شامل نہیں ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سنی علم رجال تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی مکمل طور پر مدون ہوچکا تھا، ہزارہا رواۃ کے احوال و کوائف ، ان کا جرح و تعدیل کے اعتبار سے مقام، ان کے طبقات، سنین وفات اور شیوخ و تلامذہ الغرض ہر اعتبار سے رواۃ کے حالات تدوین میں آچکے تھے اور یہ کتب صرف تاریخ میں نام کی حد تک محفوظ نہیں ہیں، بلکہ ہم تک پہنچ چکی ہیں اور مطبوع ہیں۔
شیعی علم رجال کی تدوین کا زمانہ
شیعہ مصادرِ حدیث کی تصنیف کا زمانہ چوتھی صدی ہجری سے ( الکلینی وفات:329ھ) شروع ہو کر شیخ طوسی (وفات 460ھ ) پانچویں صدی ہجری کے نصف تک پھیلا ہوا ہے، ان چاروں کتب (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام، الاستبصار) کے رواۃ کی تعداد ساڑھے پندرہ ہزار کے قریب بنتی ہے، جن کو امام خوئی نے اپنی کتاب "معجم رجال الحدیث" میں جمع کیا ہے6، اب ہم سنی علم رجال کی ترتیب کے مطابق شیعی علم رجال کے زمانہ تدوین پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
1۔شیعی علم رجال پر کوئی بھی تصنیف زمانہ تدوینِ حدیث سے پہلے کی موجود نہیں ہے، چنانچہ حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "دورس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ " میں علم رجال کے مراحل میں سے پہلے دو مراحل ، زمانہ نبوت سے لے کر تیسری صدی ہجری کے اختتام تک کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ان الارث الرجالی لھذا المرحلۃ لم یصلنا مع الاسف الشدید کی نصور من خلالہ المشہد بطریقۃ دقیقۃ، فلم تتوفر بین ایدینا تقریبا سوی المحاولۃ التی ترکھا البرقی فی الطبقات"7
یعنی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رھا ہے کہ اس مرحلے کا رجالی تراث ہم تک نہیں پہنچ سکا، ورنہ ہم اس کی موجودگی میں اس دور کے تراث کا باریک تجزیہ کر سکتے، اس وقت ہمارے پاس اس وقت کچھ بھی موجود نہیں ہے، سوائے اس کوشش کے، جو برقی طبقات کی صورت میں ہمارے پاس چھوڑگئے ہیں۔
رجال البرقی چند صفحات کا ایک رسالہ ہے، جس کے مصنف کے بارے میں چار کے قریب اقوال ہیں، اس میں ائمہ کے شاگردوں کے صرف نام لکھے گئے ہیں اور تقریبا ساڑھے چودہ سو اصحاب ِ ائمہ کے نام لکھے ہیں، باقی یہ کون تھے ؟ان کے شیوخ و تلامذہ کون تھے؟ان کا حدیث میں مقام و رتبہ کیا ہے، اس بارے میں کچھ بھی تفصیلات نہیں ہیں، نیز ان چار اقوال میں سے دو اقوال کے مطابق اس کتاب کی کیا حیثیت بنتی ہے، اس کے بارے میں شیخ حید حب اللہ لکھتے ہیں:
"و علی النظریتین الثالثۃ و الرابعۃ لا یعتمد علی الکتاب لعدم توثیق عبد اللہ و ابنہ احمد عند علماء الجرح و التعدیل"8
یعنی آخری دو اقوال کے مطابق کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عبد اللہ اور اس کا بیٹا احمد علمائے جرح و تعدیل کے ہاں قابل اعتماد نہیں ہے، یوں یہ کتاب بعض شیعہ علماء کے نزدیک معتمد ہی نہیں ہے۔
2۔شیخ حیدر حب اللہ نے علم رجال کا تیسرا مرحلہ چوتھی صدی ہجری کے شروع سے لیکر آٹھویں صدی ہجری کے شروع تک بنایا ہے، یعنی کتب اربعہ کی تصنیف کے تین سو سال بعد تک، اس مرحلے میں جو کتبِ رجال ہم تک پہنچی ہیں، وہ یہ ہیں:
★ رجال البرقی کے بعد شیعہ رجال کی سب سے قدیم ترین چوتھی صدی ہجری کے عالم محمد بن عمرو کشی کی رجال الکشی ہے، لیکن یہ کتاب اصلی شکل میں باقی نہ رہ سکی، آج جو اس کا متداول نسخہ ہے، وہ پانچویں صدی ہجری کے محدث شیخ طوسی کا تیار کردہ نسخہ ہے، جو اختیار معرفۃ الرجال کے نام سے معنون ہے، اس کتاب میں شیخ حید حب اللہ کے بقول 515 ائمہ کے تلامذہ و رواۃ کا ذکر ہے، لیکن اس کتاب کے نسخ و روایات میں بھی بہت سی اغلاط ہیں، چنانچہ حید ر حب اللہ لکھتے ہیں:
"وعلیہ فکتاب اختیار معرفۃ الرجال یحوی مشاکل فی النسخ و بعض من الاخطاء التی تظھر بالمقارنۃ"9
یعنی اس تفصیل کے مطابق کتاب اختیار معرفۃ الرجال کے نسخوں میں متعدد ابہامات ہیں اور نسخ کے مقارنہ سے متعدد اغلاط سامنے آتی ہیں۔
★ اس مرحلے کی دوسری مشہور کتاب "فہرس النجاشی " ہے، جسے رجال النجاشی بھی کہا جاتا ہے، یہ کتاب اصلا شیعہ مصنفین کی ببلوگرافی ہے، چنانچہ شیخ حید ر حب اللہ لکھتے ہیں:
"یختص الکتاب بذکر مصنفات الشیعہ کما صرح بہ فی مقدمۃ کتابہ"10
یعنی یہ کتاب شیعہ کتب کے ذکر پر مشتمل ہے، جیسا کہ خود مصنف نے اپنی کتاب کے مقدمے میں اس کی تصریح کی ہے، یوں یہ کتاب رجال کی باقاعدہ کتاب نہیں ہے، لیکن مصنفات کے ذیل میں چونکہ مصنفین کا بھی ذکر ہے، اس لئے اسے توسعا رجال کی کتب میں شامل کیا جاتا ہے، اسی لئے اس کتاب میں رواۃ کا حدیثی مقام اور جرح و تعدیل نہ ہونے کے اشکال کا جواب دیتے ہوئے شیخ حیدر رقم طراز ہیں:
"لم یکن غرض النجاشی کما بینا حین تالیفہ لکتابہ تقویم رواۃ الحدیث و الرجال الذین یذکرھم فیہ"11
یعنی نجاشی کا مقصد رواۃ حدیث اور دیگر مذکور رجال کا حدیثی مقام بیان کرنا نہیں تھا، اس کتاب میں مذکور رجال کی تعداد 1269 ہے، حالانکہ خود شیخ حید ر حب اللہ کے بقول اس کتاب کی تصنیف میں ستر سے زائد مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے۔
★ اس مرحلے کی تیسری مشہور کتاب "کتاب الضعفاء للغضائری " ہے، جو پانچویں صدی ہجری کے محدث شیخ احمد بن حسین الغضائری کی تصنیف ہے، اس کتاب کے نام سے لگتا ہے کہ یہ باقاعدہ رجال کی جرح و تعدیل پر مشتمل کتاب ہے، لیکن اس کتاب کے بارے میں شیعہ محققین کے ہاں اختلافات کا طومار ہے، مثلا کہ یہ کتاب احمد کی تصنیف ہے یا ان کے والد حسین کی ؟نیز اس کتاب کے راوی کون ہیں ؟کیونکہ ساتویں صدی ہجری (دوسو سال بعد ) کے محدث ابن طاووس کے ہاں پہلی بار اس کتاب کا تذکرہ سامنے آتا ہے، نیزاس کتاب کی تضعیفات قابل اعتماد ہیں یا نہیں ؟اس بارے میں تقریبا چار کے قریب اقوال ہیں ان سب اختلافات کی تفصیل شیخ حیدر حب اللہ اور کتاب کے محققین نے بیان کی ہے، ان متنوع اختلافات کی وجہ دراصل اس کتاب میں بعض معتمد شیعہ رواۃ کی تضعیف ہے، اس لئے اس کتاب کو شیعہ محققین نے شش و پنج میں ڈال دیا، شیخ حیدر حب اللہ بھی اس کے عدمِ اعتماد کی طرف مائل ہیں 12 اس کتاب میں 225 رواۃ کا ذکر ہے۔
★ اس دور کی سب سے مفصل کتاب شیخ طوسی کی "کتاب الرجال " ہے، اس کتاب میں 6428 رواۃ کا ذکر ہے۔ بظاہر یہ کافی بڑی تعداد ہے، لیکن کتاب ساڑھے چار سو صفحات کی (بعض طبعات میں فہارس وغیرہ ملا کر 600 صفحات )کی اوسط ضخامت کے ساتھ چھپی ہے، کیونکہ اس میں زیادہ تر صرف نام ہیں، شیخ حیدر حب اللہ کے بقول ساڑھے چھ ہزار افراد میں سے صرف 157اشخاص کی توثیق اور 72 اشخاص کی تضعیف کی گئی ہے، جبکہ 50 رواۃ کو مجاہیل قرار دیا گیا ہے، باقی سب کے بارے میں سکوت ہے، نیز شیخ ہی کے بقول اس کتاب میں صرف شیعہ رواۃ نہیں ہیں، بلکہ سنی رواۃ کا بھی ذکر ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر تکرار بھی ہے، ان سب کی تفصیل شیخ حیدر حب اللہ نے دی ہے، اسی طرح شیخ طوسی کی ایک اور کتاب "فہرسۃ الطوسی " کو بھی رجال کی کتب میں شامل کیا جاتا ہے، جو نجاشی کی کتاب کی طرح اصلا مصنفات کی فہرست ہے، اس فہرست میں 900 کے قریب مصنفینِ شیعہ کا ذکر ہے۔
★ اس مرحلے کی ایک اور مشہور کتاب چھٹی صدی ہجری کے محدث ابن شہر آشوب مازندرانی کی "معالم العلماء فی فہرست کتب الشیعہ و اسماء المصنفین قدیماو حدیثا" ہے، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ بھی مصنفین وکتب کی ایک فہرست ہے، اس کتاب میں 1021 مصنفین کا ذکر ہے۔
سنی و شیعی علم رجال کی ابتدائی تدوین، ایک تقابل
سنی و شیعہ علم رجال کی ابتدائی تاریخ سامنے آچکی ہے، اس کا تقابلی جائزہ لینے سے درجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
1۔ سنی علم رجال اور علم حدیث کی تدوین بالکل ایک زمانہ میں ہوئی، بلکہ تدوین حدیث کی بعض کتب سے بھی پہلے سنی علم رجال کی مفصل کتب لکھی گئیں (جیسے طبقات ابن سعد و خلیفہ بن خیاط)، جبکہ شیعہ علم رجال میں ہمیں اس طرح مقارن تدوین نظر نہیں آتی۔
2۔سنی علم رجال کی اولین جو کتب لکھی گئیں، وہ اصلا رجال کی کتب ہیں، جیسا کہ امام بخاری کی التاریخ الکبیر اور ابن حاتم کی الجرح و التعدیل، ان میں رواۃ کے شیوخ، تلامذہ، تضعیف و توثیق الغرض تمام اہم معلومات اکٹھی کی گئیں ہیں، جبکہ شیعہ علم رجال کی ابتدائی ساری کتب فہرستِ مصنفین کی کتب ہیں، سوائے ابن الغضائری کی الضعفاء کی، جس کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر، اس میں صرف 225 رواۃ کا ذکر ہے۔
3۔سنی علم رجال کی ابتدائی کتب میں ہی رجال کا مکمل استقصاء کیا گیا، جیسا کہ ابن ابی حاتم نے اٹھارہ ہزار رواۃ اور امام بخاری نے تیرہ ہزار رواۃ کا ذکر کیا، ان دونوں کتب میں مکمل مشترکات مان بھی لیں، تب بھی اٹھارہ ہزار رواۃ کے کوائف جمع کئےگئے، جبکہ صحاح ستہ کے کل رواۃ ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ہیں، یوں تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی علم رجال اپنے انتہاء کو پہنچ گیا، بعد کی ساری کتب انہی کتب و انہی رجال کی تفصیل، تلخیص، ترتیب، تشریح، توضیح پر مشتمل ہیں، جبکہ اس کے برخلاف شیعہ علم رجال کا جتنا تراث اس ابتدائی دور میں مرتب ہوا، اس میں شیعہ کتب ِ اربعہ کے کل رواۃ کا بمشکل نصف رواۃ(یعنی ساڑھے سات ہزار رواۃ، اگر ہم ان کتب کے سارے رواۃ میں کم سے کم مشترکات فرض کر لیں ) کا ذکر ہے، ( وہ بھی اس صورت میں اگر ہم ان ابتدائی کتب میں موجود مصنفین کو کتبِ اربعہ کے رواۃ فرض کر لیں، جو ظاہر ہے محض مفروضہ ہے )یوں ساڑھے سات ہزار کے قریب رواۃ حدیث کا ذکر نہ کتب اربعہ کی تدوین سے پہلے ہے، نہ اس کے بعد تین سو سال تک، بلکہ اس کے بعد بھی کئی سو سال بعد تک ہمیں ایسی کتاب نظر نہیں آتی، جس میں کتبِ اربعہ کے رواۃکا استقصاء ہو، نیز جن ساڑھے سات ہزار رواۃ(یہ تعداد بھی اس وقت بنتی ہے، جب ہم ان کتب میں مشترکات کم سے کم فرض کر لیں ) کا ذکر اولین تراث میں ہے، اس کا نوے فیصد حصہ محض فہرست کے قبیل سے ہے، ان کے تفصیلی کوائف، حدیثی مقام، شیوخ و تلامذہ وغیرہ جیسے مباحث سے اس دور کا رجالی تراث مکمل طور پر ساکت ہے۔اس موقع پر بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب اربعہ کے مصنفین نے پندرہ ہزار رواۃ سے جو ہزار ہا روایات لے لی تھیں، یہ رواۃ کون تھے ؟کہاں کے تھے ؟ان کی تضعیف و توثیق کا کیا حال تھا؟یہ کس زمانے اور کس طبقے کے تھے ؟نیز جن ساڑھے سات ہزار رواۃ کے اسماء ہمیں ان اولین کتب میں نظر آتے ہیں، ان کے تفصیلی کوائف کیا تھے؟اس دور کے ائمہ حدیث ان کے بارے میں کس قسم کی معلومات رکھتے تھے ؟یہ سب امور پردہ خفا میں ہیں۔
4۔سنی مدونین ِ حدیث میں سے امام بخاری، امام مسلم اور امام نسائی نے خود رجال پر قابل ِ قدر کتب لکھی ہیں، جن میں رجال کی تضعیف و توثیق کا کماحقہ تجزیہ کیا ہے، جبکہ امام ترمذی نے العلل پر کتاب لکھی ہے، جبکہ اس کے برخلاف شیعہ کتبِ اربعہ کے مصنفین کے ہاں رجال کے حوالے سے اس طرح کی کاوشیں مفقود ہیں، صرف امام طوسی نے فہرست ِ مصنفین و فہرستِ رجال پر کتب لکھی ہیں، لیکن وہ بھی اصلا رجال کی کتب نہیں ہیں، جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ان کتب میں کتبِ اربعہ کے نصف رواۃ سے بھی کم کا ذکر ہے۔
5۔سنی علم رجال کی مکمل تدوین چونکہ تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی ہوگئی، اس لئے شواہد کی بنیاد پر یہ امکان تقریبا معدوم ہوجاتا ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین نے فرضی اسناد، فرضی رواۃ گھڑ لئے ہوں گے، یا صحیح اسناد میں اپنی طرف سے کوئی فرضی راوی داخل کیا ہوگا ؟جبکہ شیعہ علم رجال کی ابتدائی کتب صرف چند ہزار کے رواۃ کے ناموں کی فہرست پر مشتمل ہے، اس طرح کتبِ اربعہ کے آدھے سے زیادہ یعنی ساڑھے سات ہزار رواۃ کا کئی صدیوں تک اتا پتا نہیں چلتا، تو بجا طور پر اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کتبِ اربعہ کے مصنفین نے فرضی رواۃ و اسناد کا ایک پہاڑ کھڑا کیا، کیونکہ شواہد کی بنیاد پر ان رواۃ کی توثیق و تضعیف اسی زمانے کے محدثین سے ثابت کرنا ناممکن ہے، توثیق و تضعیف تو دور کی بات، صرف ان کے ذاتی کوائف بھی اس زمانے کے تراث میں نظر نہیں آتے، ذاتی تفاصیل سے بھی قطع نظر، ان کے ناموں پر مشتمل کوئی مکمل ڈائریکٹری علم رجال کی ابتدائی سا ت سو سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔
6۔ رواۃ و رجال میں سب سے بنیادی بحث یہ دیکھنی ہوتی ہے کہ ان کے کوائف جمع کرنے والےکا زمانہ ان کے کتنا قریب ہے؟سنی علم رجال کے اولین مصنفین اور رواۃ ِ حدیث کا زمانہ بہت قریب ہے، کچھ ہم عصر تھے، کچھ شیوخ، کچھ تلامذہ، کچھ شیوخ الشیوخ، جبکہ شیعہ علم رجال میں جو کامل کتب لکھی گئیں، جیسے معجم رجال الحدیث وغیرہ، وہ دس بارہ صدیوں کے وقفے کے بعد لکھی گئیں، اولین ابتدائی کتب میں ایک تو مکمل استقصا نہیں ہے، دوسرا وہ صرف فہارس کے قبیل سے ہیں، کما مر۔
7۔ اس سلسلے کی ابتدائی اقساط میں یہ بات آچکی ہے کہ کتبِ اربعہ کی احادیث کے مصادر و ماخذ یا دوسرے لفظوں میں کتبِ اربعہ کی تدوین سے پہلے ان ہزارہا روایات کے تحریری شواہد و ماخذ معدوم ہیں، تو احادیث کے ساتھ رجال و رواۃ کے شواہد یا ان کا تعارفی تراث بھی معدوم ہے، یوں کتبِ اربعہ کے متون و اسناد دونوں تاریخی حوالے سے خفا کے دبیز پردوں میں مستور ہیں، کتب اربعہ سے پہلے ان ہزارہا متون کے کوئی تحریری شواہد نہیں ملتے اور کتبِ اربعہ کے بعد ان ہزار رہا رواۃ کے کسی قسم کے کوائف مکتوب نہیں ہیں، کتبِ اربعہ کے یہی تین مصنفین ( الکلینی، شیخ صدوق اور شیخ طوسی ) کے سوا شیعہ تاریخ میں اور کوئی شخصیت نہیں ہے، جو ان متون اور ان رواۃ سے مکمل طور پر آگاہ ہو، اس لئے تو نہ یہ متون ہمیں ان کتب کی تصنیف سے پہلے کسی جگہ تحریرا ملتے ہیں نہ روایتا (اس کی تفصیل ہم اس سلسلے کی ابتدائی اقساط میں بیان کر چکے ہیں )نہ یہ رواۃ ان کتب سے پہلے اور نہ ان کتب کے بعد کئی صدیوں تک کسی کتاب میں ملتے ہیں، کیا اس تاریخی ابہام سے اس بات کو تقویت نہیں ملتی کہ ان کتب اور ان کے رواۃ کا اکثر حصہ ان تین شخصیات کے دماغی و ذہنی کاوش کا نتیجہ ہے ؟
حواشی
- الموقظۃ، شمس الدین ذہبی، مکتب الامکتبات الاسلامیہ، حلب، ص37
- علم الرجال نشاتہ و تطورہ، محمد الزہرانی، ص147
- دیکیھیے:تہذیب الکمال بتحقیق بشار عواد معروف
- علم الرجال نشاتہ و تطورہ، ص153
- دروس فی تاریخ علم الرجال، حیدر حب اللہ، ص427
- امام خوئی کی اس تالیف کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہر راوی کی کتب اربعہ میں موجود روایات کی نشاندہی کرنا ہے، یوں اس میں کتبِ اربعہ کے جملہ رواۃ موجود ہیں یہ تعداد مکررات کو نکالے بغیر مانی گئی ہے، اگر کتاب سے مکررات نکالیں، تو تعداد اس سے کم ہوسکتی ہے۔
- دروس فی تاریخ علم الرجال، حید حب اللہ، ص83
- دروس فی تاریخ علم الرجال، ص81
- ایضا:ص112
- ایضا:ص124
- ایضا:125
- دیکھیے:ص 142
(جاری)
سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی جس میں اسلام اور جہاد کے جذبہ کے ساتھ شریک ہو کر قربانیاں دینے والوں نے امریکہ کی یہ جنگ لڑی ہے۔
میرا نقطۂ نظر مختلف تھا، میں نے عرض کیا کہ اس جنگ کا آغاز امریکہ نے نہیں کیا تھا بلکہ افغان عوام نے سوویت یونین کی فوج کشی کے بعد اپنے وطن کی آزادی اور تہذیبی و اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے یہ جنگ شروع کی تھی جس میں دنیا بھر سے ان کے اس موقف کی حمایت کرنے والے لوگ جہاد کے عنوان سے شریک ہو گئے تھے۔ آغاز کے دو چار سال تک اس جنگ کو مذاق بلکہ جنون سمجھا جاتا رہا مگر افغان مجاہدین کو بے سروسامانی کے باوجود مسلسل آگے بڑھتے دیکھ کر امریکی کیمپ نے اس کو تقویت دینے کا فیصلہ کر لیا جو بڑھتے بڑھتے اس جنگ کو ’’ہائی جیک‘‘ کر لینے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس موقع پر سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے والے افغان مجاہدین کے آٹھ گروپوں کا اتحاد قائم ہوا جس کے سیکرٹری جنرل حرکت انقلاب اسلامی کے مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ تھے جو میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے، جبکہ افغان گروپوں کو یکجا کرنے میں ایک موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک کا کردار بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اور اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب کے ساتھ معاملات طے کرنے میں جو کچھ عملاً ہوا، مولانا نصر اللہ منصورؒ کی رائے اس سے مختلف تھی، وہ مکمل خودسپردگی کی بجائے بنیادی معاملات پر اپنا کنٹرول قائم رکھتے ہوئے کچھ شرائط کے ساتھ مغرب کی حمایت و تعاون قبول کرنے کے حق میں تھے، اور اپنی بات نہ مانے جانے پر انہوں نے جنگ سے لا تعلق ہو کر خوداختیاری جلاوطنی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔
اسلام آباد میں لیفٹ کے دانشوروں کے ساتھ مذکورہ نشست میں جب بحث نے طول پکڑا تو میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ تھوڑا اور انتظار کر لیں اگر اس خطہ کے لیے امریکہ کے نئے علاقائی ایجنڈے کو افغان مجاہدین نے قبول کر لیا اور اس میں ایڈجسٹ ہو گئے تو میں آپ کا موقف کھلے دل سے تسلیم کر لوں گا کہ افغانوں نے سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ اور اگر وہ امریکہ کے ایجنڈے میں سیٹ نہ ہوئے تو آپ دوستوں کو میری بات ماننا ہو گی کہ افغانوں نے اپنی جنگ لڑی ہے جو افغانستان کی آزادی اور افغان قوم کے اسلامی و تہذیبی تشخص کے تحفظ کی جنگ تھی جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے مسلم مجاہدین جہاد کے شرعی فریضہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ اس میں جوق در جوق شامل ہوتے چلے گئے، جبکہ امریکہ اس میں اپنے مفاد کے لیے شریک ہوا کہ اسے اس میں اپنے سردجنگ کے حریف روس کی شکست کے امکانات دکھائی دے رہے تھے۔
البتہ باہمی معاملات کے تعین و تشکیل میں افغان مجاہدین ’’دام ہمرنگ زمیں‘‘ کا شکار ہو گئے چنانچہ ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کے عنوان سے افغانستان میں مغرب کا نیا کھیل شروع ہوا جس کے نتیجے میں افغانستان کو ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے منطقی ثمرات یعنی نفاذِ شریعت اور غیر ملکی مداخلت سے آزاد قومی خودمختاری سے محروم رکھنے کے لیے خانہ جنگی کے نئے راؤنڈ کا آغاز ہو گیا تو افغان مجاہدین کے انہی گروپوں میں سے نظریاتی اور تہذیبی ایجنڈا رکھنے والے لوگوں نے ’’طالبان‘‘ کے نام سے اپنی نئی تشکیل کی۔ اور چونکہ افغان عوام کی اکثریت کے لیے اپنی طویل جنگ کے نظریاتی اور تہذیبی ثمرات سے محرومی بہرحال ناقابل برداشت تھی اس لیے طالبان نے بڑھتے بڑھتے قندھار اور پھر کابل کا کنٹرول حاصل کر کے جہاد افغانستان کے منطقی ثمرات کا رخ متعین کر دیا جو اس خطہ کے لیے امریکہ اور نیٹو کے ایجنڈے سے متصادم تھا۔
چنانچہ افغان مجاہدین اور سوویت یونین کے درمیان لڑی جانے والی جنگ طالبان اور امریکہ کے درمیان نئی جنگ کی صورت اختیار کر گئی جبکہ ان دونوں جنگوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کو دنیا بھر بالخصوص امریکہ اور عالم اسلام کی بھرپور حمایت حاصل تھی مگر طالبان کو یہ جنگ تنہا لڑنا پڑی۔ اور تاریخ ان کے اس کردار کو کبھی اپنے صفحات سے محو نہیں کر سکے گی کہ انہوں نے بیس سال تک تنہا جنگ لڑ کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مسلح افواج کو یہ کہتے ہوئے واپسی پر مجبور کر دیا کہ ’’ہم جنگ میں فتح حاصل نہیں کر سکے‘‘ جو ارشاد خداوندی ’’تلک الایام نداولھا بین الناس‘‘ کا مصداق ہے۔ اسے افغان قوم کی سخت جانی کہہ لیجئے یا ان کی اسلام کے ساتھ بے لوث وابستگی اور اپنی تہذیبی روایات کے ساتھ بے لچک وفاداری کا کرشمہ سمجھ لیجئے کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے، البتہ اس کے نتائج و ثمرات کا رخ ایک بار پھر اپنے اپنے مفادات کی طرف موڑنے کے لیے بہت سی طاقتیں کسی نئے ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کا تانابانا بننے میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔
آج اسلام آباد کی مذکورہ نشست میں ہونے والی بحث کا نتیجہ بحمد اللہ تعالیٰ سامنے آ گیا ہے کہ افغان قوم نے جہادِ افغانستان میں امریکہ کی جنگ نہیں لڑی تھی بلکہ امریکہ نے ان کی اس جنگ کو اپنے مقاصد کے لیے ہائی جیک کر لیا تھا جس میں اسے بالآخر ناکامی ہوئی ہے اور افغان قوم اپنی خودمختاری، اسلامیت اور تہذیب و ثقافت کے تحفظ کا پرچم آج بھی پورے عزم و استقامت کے ساتھ تھامے کھڑی ہے، البتہ ان کی زیرلب گنگناہٹ کے یہ الفاظ ہر واقفِ حال کو سنائی دے رہے ہیں کہ
’’ہمیں ہمارے دوستوں سے بچالو، دشمنوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔‘‘
نظام مدارس: روایت اور معاصرت کا اطلاقی جائزہ
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
(1)
13؍ جون 2021ء بروز اتوار، دن 11 بجے تا 2 بجے زوار اکیڈمی کراچی کے زیر اہتمام”عصر حاضر اور ہمارے مدارس“ کے موضوع پرایک ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں راقم نے ”نظام مدارس: روایت اور معاصرت کا اطلاقی جائزہ“ کے عنوان کے تحت درج ذیل گفتگو کی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
مدارس دینیہ جس ماحول میں قائم کیے گئے تھے، اس کا بظاہر بنیادی مقصد دینی علوم کا تحفظ اور دعوتِ دین کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ انگریز کے ملک پر مکمل قبضہ کے بعد مدارس کے لیے وقف جائیدادیں تقریباً ضبط کرلی گئی تھیں اور سرکاری سرپرستی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا۔ لہٰذا عام مسلمانوں کی مدد سے ہر حال میں یہ دونوں مقاصد پورے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں نہ تو عمارت میسر آنے کا انتظار کیا گیا، نہ طلبہ کے داخلوں کے باقاعدہ اعلان کیے گئے نہ ہی اساتذہ کے تقرر کا اہتمام کیا گیا۔ اُس وقت کے علماء نے جو طے کیا اُس پر ”جہاں ہے جیسا ہے“ کے تحت عمل شروع ہوگیا۔ کسی نے درخت کے نیچے ایک استاذ ایک شاگرد کے ساتھ کام شروع کیا۔ یہ دار العلوم دیوبند کی ابتداء (30؍ مئی 1866ء/ 15؍ محرم الحرام 1283ھ) تھی۔کسی نے اپنے گھر سے ہی اس کی ابتدا کرلی، اور جس کو جو میسر آیا اس مقصد کے لیے، اسے استعمال کرنا شروع کردیا۔ کھانے وغیرہ کی ضروریات کے لیے گھر گھر جا کر مانگنے سے بھی اجتناب نہیں کیا گیا۔ للہیت اس قدر تھی کہ فاقے، مجبوریاں اور بیماریاں بھی اس راہ میں رکاوٹ نہیں بنے۔ نصاب ایسا اختیار کیا گیا کہ جس میں اُس وقت کے جدید علوم بھی شامل رکھے گئے اور مسلم روایت کے قدیم علوم بھی شامل کیے گئے۔ اس نصاب کی تعلیم مکمل کرکے سرکاری ملازمت حاصل کرنا نہ تو مقصد تھا اور نہ ہی اس کے کوئی خاص امکانات موجود تھے۔ ان مدارس کے ساتھ ساتھ علیگڑھ کی تحریک جو 1853ء سے ابھی تک جاری تھی، ایک نئے تعلیمی نظام کے طور پر متعارف ہوچکی تھی۔ دیوبند قائم ہونے کے تقریباً 28 سال بعد 1894ءمیں ندوہ کی علمی تحریک بھی شروع ہوئی۔ اس طرح کے جو نظامہائے تعلیم وجود میں آئے ان کے فضلاء کو ریاستی نظم ونسق میں زیادہ حصہ ملا۔ مدارس دینیہ تحفظ علوم دینیہ اور دعوت الی اللہ کا کام نہایت خوش اسلوبی اور خلوص کے ساتھ سرانجام دیتے رہے۔ یہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عوام کے لیے اقامت شعائر دینیہ اور مسائل دینیہ میں رہنمائی کا کام بھی بخوبی نبھایا۔
یہ کام مدارس اب تک کر رہے ہیں۔ پاکستان بنا تو 27؍ نومبر 1947ء کو اُس وقت کے دار الحکومت کراچی میں قائد اعظم کی سرپرستی میں آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس مسلسل چھ دن یعنی یکم دسمبر 1947ء تک جاری رہی، اور اس میں پاکستان کے نظام تعلیم کے بارے میں اہم فیصلے کیے گئے۔ ان میں کچھ فیصلے تو فنی تعلیم اور خواتین کی تعلیم کے بارے میں تھے، مگر ایک اصولی اور مشترکہ فیصلہ یہ تھا کہ پورا نظام تعلیم ایسا بنایا جائے گا کہ اس کی اصل روح نظریہ پاکستان سے پھوٹتی ہو اور اس کی بنیادیں اسلام سے بنتی ہوں۔ اس کام کو آسان کرنے کے لیے ایک ادارۂ تحقیقات اسلامی اور ایک پاکستان اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اصولی فیصلہ کرنے کے بعد اسی کانفرنس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ مدارس دینیہ کو اسی نظام تعلیم کا حصہ بنادیا جائے۔ اس سے کچھ ہی عرصہ بعد، مارچ 1948ء میں، پاکستان کے پہلے نظریاتی ادارے ادارہ اسلامی تعمیر نو (Department of Islamic Reconstruction) کا مجلہ ”عرفات“ شائع ہوا تو اس میں ”پاکستان میں ایک مرکزی دار العلوم کا قیام“ کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا، جس میں نبی کریم ﷺ کے وقت سے لے کر موجودہ زمانے تک نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی ضروری تفصیلات بیان کی گئیں اور اس مقصد کو جاری رکھنے کے لیے ایک مرکزی دار العلوم کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔
اگر یہ نظام قائم ہوجاتا اور علوم دینیہ دیگر علوم کے ساتھ ساتھ کما حقہ اس نظام کا حصہ بن جاتے تو پاکستان واقعتاً اب ایک اسلامی ریاست بن چکا ہوتا، مگر وجوہات کچھ بھی ہوں، وسائل کی کمی ہو، رجال کار کی کمی ہو، ارادے کی کمزوری ہو، سیاسی حالات ہوں، نوزائیدہ ملک کی دفتر شاہی یا افسر شاہی ہو، تجزیہ جو بھی کرلیا جائے مگر نتیجہ ایک ہی ہے کہ یہ کام نہیں ہوسکا۔ قومی اسمبلی کے مباحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وقتاً فوقتاً علماء کی طرف سے ریاستی بجٹ میں مدارس کا حصہ رکھنے کی بات بھی ہوتی رہی اور حکومتوں کی طرف سے مدارس کو رقوم دینے کا ذکر بھی چلتا رہا، مگر نظام تعلیم کا سلسلہ مربوط نہ ہوسکا، نہ ہی مُلا اور مسٹر کی تفریق ختم ہوسکی۔ ملک میں ندوہ اور علیگڑھ کے نمائندہ تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر تھے البتہ دیوبند، سہارنپور اور بریلی یا شیعہ مکتب فکر کے مرکز لکھنؤ کے مدارس خاصی تعداد میں موجود تھے مگر ان سب کا نظام روایتی تھا، معاصر نہیں تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دینی اور دنیوی یا روایتی اور عصری کی تفریق بڑھتی چلی گئی اور ہمارے دونوں نظامہائے تعلیم ایک طرف ملاّ اور ایک طرف مسٹر پیدا کرنے لگے۔ ان کے آپس میں ملنے کی کوئی صورت پیدا نہ ہوسکی۔ کچھ مدارس پر معاصرت کا تجربہ کیا گیا تو وہ بری طرح ناکام ہوا، نہ وہ مدرسے رہے اور نہ ان کے وہ نصاب رہے۔ جامعہ عباسیہ بہاولپور کو اسلامیہ یونیورسٹی میں بدلنا اس کی ایک مثال ہے جہاں اسلام کے نام کے علاوہ باقی ایک مکمل یونیورسٹی بن گئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ مدارس دینیہ میں ایک طرف یہ تأثر پختہ ہوتا چلا گیا کہ یہ حکومتیں انگریزی نظام تعلیم کی وارث ہیں اور دوسری طرف نظام ریاست میں جو حصہ تحریک پاکستان سے لے کر علماء ومشائخ نے دستور بننے تک ڈالا تھا نظام کو جاری رکھنے میں، وہ حصہ بھی تقریبا ختم ہوگیا۔ یہ سلسلہ چلتے چلتے اس وقت ہمارے مدارس دینیہ کے پاس خواہ اس کا مسلک کوئی بھی ہو، بڑی بڑی عمارتیں ہیں، داخلوں کے باقاعدہ اعلان ہوتے ہیں، صرف مقررہ معیار پر پورا اترنے والے طلبہ ہی داخلہ حاصل کرسکتے ہیں، اساتذہ کی تھوڑی یا بہت، ماہانہ تنخواہیں مقرر ہیں۔ حسب توفیق سہولیات مہیا کرنے کا اہتمام یا کم از کم دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اکثر مہتمم صاحبان کا معیار زندگی بہت بلند ہے۔ صدقات، زکوٰۃ، عطیات سب ایک بینک میں ہوتے ہیں اور مختلف مصارف کا مسئلہ کتاب الحیل سے حل ہوجاتاہے۔ مدارس کے باقاعدہ وفاق قائم ہیں۔ زمانے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ ان کی ڈگریوں کی اہمیت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ ایسے میں بہت سے فضلائے مدارس دینیہ کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اچھے مناصب حاصل کرنے کا موقع بھی مل چکا ہے۔ ان میں محکمہ تعلیم زیادہ سرفراز ہے۔ حلال فوڈز، اسلامک بینکنگ، مضاربہ، مشارکہ اور دسیوں کاروبار ایسے ہیں جو مدارس دینیہ کی اسناد کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ ان کی کامیابی یا ناکامی، نیک نامی یا بد نامی ساتھ ساتھ ہی چل رہے ہیں۔
فی زمانہ حالات خلط ملط ہوچکے ہیں۔ مدارس اپنی روایت، اپنی سادگی، دعوت الی اللہ اور حتی کہ روز مرہ کے مسائل میں رہنمائی کا منصب بھی تقریباً کھوچکے ہیں، یا زیادہ بہتر یوں کہا جائے کہ یہ رہنمائی کافی حد تک غیر متعلق ہوچکی ہے۔ معاشرے میں بسنے والے لوگ ایک ہی ہیں، مگر قانون انہیں اور طرح سے مخاطب کرتا اور ان پر احکامات کا اطلاق کرتا ہے اور مدرسے کی تعلیم ان کو اس کے بالکل الٹ مخاطب کرتی اور ان پر احکامات کا اطلاق کرتی ہے۔ مدرسے کا نظام کافی حد تک جدید ہوچکا ہے، مگر نصاب اور اس کا طریقہ تعلیم قرونِ وسطیٰ کی زبان بولتا ہے۔ صَرف اور نحو کو لے لیا جائے تو ضرب زید عمرا سے باہر جانا سلف کی بے ادبی شمار ہوتا ہے اور زید عمرو بکر کے علاوہ کسی کا نام لینا تو حد سے پار ہونے کے مترادف ہے۔ علمِ بلاغت، معانی، بدیع وغیرہ آسمان کی بلندیوں پر ہیں اور جس زبان کی تحسین وتزئین انہوں نے سرانجام دینا تھی وہ زبان کہیں گلیوں اور محلوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے۔ سائنسی علوم ویسے ہی تقویٰ کے خلاف شمار ہورہے ہیں، جبکہ منطق وفلسفہ روز مرہ کے محاورے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ فقہی احکام میں گھوڑوں اور خچروں کے تذکرے اور اطلاقی مثالیں ابھی تک نصاب کا حصہ ہیں۔ اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں کے احکام، ذمی اور مسلم کی بحث، جزیہ کے ابواب۔ یہ سب کچھ اپنے تقدس کے ساتھ اب تک ہمارے نصاب کا مرکزی مضمون ہے۔ عبادات کو دیکھیں، تو اسباب اور وسائل کی تبدیلی نے بہت سے نئے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ زکوٰۃ کو دیکھیں، تو اس میں نئے اموال جنم لے چکے ہیں۔ وکیلوں کا مشورہ، مصنف کا تصور اور خیال، ای میل کی تجارت، سٹاک ایکسچینج کے شیئرز، مالیات کے معاصر موضوع ہیں، مگر ہمارے نصاب میں ان کا کہیں اتہ پتہ نہیں ہے۔ ”الامامۃ والسیاسۃ“ کے ابواب مطلقاً بدل چکے ہیں۔ ان معروضات کو مثال بنا کر باقی پہلوؤں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
ان مدارس کے فضلاء اوّل تو ریاستی نظام سے بالکل الگ تھلگ اپنے منبر ومحراب، مکتب ومدرسہ، جلسہ وجلوس، دھرنا اور مارچ میں مشغول رہتے ہیں اور ایسا موقع بھی آجاتا ہے کہ جہاد کا عَلم بلند کیے ہوئے سر دھڑ کی بازی لگاتے بھی نظر آتے ہیں۔ مگر چونکہ ان تمام چیزوں کا مضمون دور حاضر کی ضروریات اور نظام سے بالکل الگ تھلگ ہوتا ہے، اس لیے یہ سب چیزیں یا تو صدا بصحرا ثابت ہوتی ہیں یا پھر زیادہ تکلیف دِہ بات یہ ہے کہ ریاستی اداروں کو مجبوراً علماء کے مسائل اور ان کے میدان ہائے تقدس کے مطابق ان کی درجہ بندی کر کے دینی پریشر بلڈنگ یا پریشر ریلیزنگ کے لیے انہیں استعمال کرنا پڑتا ہے، کیونکہ ان کے پاس سکہ رائج الوقت یہی کچھ ہے۔
اب تھوڑی سی بات مسئلے کے حل کے بارے میں کر لیتے ہیں۔ ریاست کی طرف سے یہ کاوشیں کہ یکساں نصابِ تعلیم کے ذریعے مدارس دینیہ بھی مین سٹریم میں آجائیں اور سسٹم کا حصہ بن جائیں، بظاہر قابل عمل نظر نہیں آتیں، جس میں ایک مشکل مالیات کی ہے کہ شاید یہ نظام بدلنے سے چندے کی وہ مقدار حاصل نہ ہو جو دنیا وآخرت کی فلاح وبہبود کے عنوان سے حاصل ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر جو نظم ونسق چل رہا ہے اور پاکستان جس طرح قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے اس میں یہ بھی عین ممکن ہے کہ چندے کا سلسلہ بالکل ہی ختم ہوجائے اور قابل تعزیر جرم قرار پائے۔ وقف بل کی روشنی میں اگر مدارس کے تمام ذرائع اور وسائل حکومتی تحویل میں آجاتے ہیں تو حکومتی خزانے میں اتنے وسائل نہیں کہ مدارس کے روز مرہ اخراجات پورے کرسکیں۔ اس لیے یہ سلسلہ شاید شروع ہی نہ ہوسکے اور اگر شروع ہو بھی جائے تو چلنا محال نظر آتا ہے۔ دوسری مشکل یہ ہوگی کہ نصاب کا دینی حصہ نہ تو مضمون کے لحاظ سے دینی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگا نہ اس کی تدریس اچھے طریقے سے ہوسکے گی اور اس وقت مدارس میں کم از کم جو روایتی نصوص، متن، اور شروح وغیرہ سمجھنے کی حد تک علم موجود ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا۔ تیسری اہم اور سب سے بڑی مشکل یہ ہوگی کہ اگر دینی مدارس بھی گریجویٹ پیدا کرنا شروع کردیں گے جس طرح عصری تعلیمی ادارے کر رہے ہیں تو یہ ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہوگا۔ اس وقت تو مدارس کے فضلاء عذاب ثواب اور جنت جہنم کے فلسفے پر جیسا تیسا گزارہ کر رہے ہیں اور ان کے عوام بھی اپنے اپنے مسلک کو جنت کا ذریعہ سمجھتے ہوئے ان کی مالی مدد کر رہے ہیں اور ان کو بڑے احترام کا مقام دیتے ہیں۔ لیکن مدارس کو مین سٹریم میں لانے سے یہ جن ایسا بے قابو ہوجائے گا کہ بے روزگاری کا ایک بہت بڑا طوفان آجائے گا اور پورا ملک بھی اگر گروی رکھ کر قرضے لیے گئے تو آبادی کا کھانا پینا بھی پورا نہ ہوسکے گا۔
مسائل کا حل یک دم نہیں ہوتا، دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ ان کے حل کے لیے کچھ تجاویز درج ذیل ہیں:
1- مدارس فوری طور پر دعوت الی اللہ اور نجی دینی مسائل میں رہنمائی کا نظام عصر حاضر کے عرف کے مطابق بنائیں، ورنہ امام شامی کا یہ فتویٰ ”من لم يعرف أحوال زمانه فهو جاهل“ سب کی طرف متوجہ ہوگا۔ امام شاطبی کے مقاصد شریعت کے ایک مقصد کو لیتے ہوئے مدارس کے طلبہ وفضلاء کو دور جدید کے نظاموں اور اصطلاحات سے واقف کرنا بہت ضروری ہے۔ فضلائے مدارس کی اصطلاحات اور عام آدمی کی زبان میں بالکل ربط نہیں ہے، اس کے لیے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے دو اداروں شریعہ اکیڈمی اور دعوہ اکیڈمی کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ مختصر مدت کے کورسز جن میں پاکستان کا نظام عدل مفتی صاحبان کے لیے، جدید اسالیبِ دعوت خطباء اور واعظین کے لیے، پاکستان کے احکام معیشت وتجارت اسلامی معیشت کا شوق رکھنے والے مفتی صاحبان کے لیے اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے دیگر بہت سے کورسز مرتب کیے جاسکتے ہیں۔ ہر کورس کے لیے فی الحال دو دو ہفتوں کا وقت کافی ہے۔ ہر شہر کے بڑے بڑے دینی مدارس اس کے لیے جگہ اور ممکنہ سہولیات مہیا کریں اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اس میں سرپرستی کا کردار ادا کرے۔ ہر کورس میں پاکستان کے تمام مکاتب کے طلبہ وفضلاء ہوں جو ایک ہی مدرسے میں جمع ہو کر یہ کورس کریں۔ کسی کورس کا مرکز دیوبندی مدرسہ ہو، کسی کا بریلوی مدرسہ اور کسی کا اہل حدیث مدرسہ ہو۔
2- مدارس کے پورے نصاب کی اصطلاحات کو ایک الگ فہرست کی شکل دے کر اس کی اردو یا اردو میں مستعمل دیگر زبانوں کی اصطلاحات اس کے مترادف کے طور پر مرتب کی جائیں۔ فی الحال مختلف مضامین کی اصطلاحات کا کام مختلف مدارس کے طلبہ وفضلاء کے ذمے لگایا جائے اور انہیں جلد از جلد مرتب کرکے انٹرنیٹ پر اپلوڈ کردیا جائے اور بعد میں اس کو طباعت کے مراحل سے گزارا جائے۔
3- فقہ سے متعلق اس بات کا اہتمام کیا جائے مفتی صاحبان کو ایسے قوانین پر مشتمل کورسز کرائے جائیں جو اس وقت نافذ العمل ہیں اور بار کونسلز کے ساتھ رابطہ کرکے ان مضامین میں تخصص رکھنے والے وکلاء اور مفتی صاحبان کی مقامی مشاورتی کمیٹیاں بنائی جائیں، جس کا مقصد یہ ہو کہ قانون اور فقہی احکام دونوں کے اختلاف کی صورت میں عام آدمی کو نکاح اور طلاق کے نئے طریقے اور مناہج واسالیب سکھائے جائیں جس پر تطبیق کی قدیم اصطلاح صادق آسکے۔ یہی کام تجارت، محاصل اور مالی لین دین کے قوانین کے لیے بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، جس کی اس سلسلے میں 100 سے زائد مطبوعات شائع ہوچکی ہیں اور ویب سائٹ پر اس کا سرچ انجن بھی موجود ہے اور پی ڈی ایف میں اس کی فائلیں مل جاتی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ تقریباً اسی نہج کا کام ہے۔
4- نصاب اور نظام تعلیم کی مشکل سے نکلنے کے لیے چونکہ ثواب، توکل دنیوی لحاظ سے علماء ہی کا تخصص بنتا ہے۔ اس لیے مہربانی فرما کر پہلی قومی تعلیمی کانفرنس 1947ء اور بین الاقومی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے نصاب کو مد نظر رکھتے ہوئے روایت اور معاصرت کو یکجا کرکے نصابی کتب تیار کروائی جائیں اور عام آگہی کے لیے مختصر کتابچے طبع کرائے جائیں۔ جب یہ ٹرینڈ بن جائے گا تو اس کو نصاب کا حصہ بنانا اور اس پر تحقیق کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
5- فی الحال دور جدید کے اسلامی مصنفین کی کتابیں یا ابواب وفاقہائے مدارس کی نصابی کمیٹیوں کے ذریعے قدیم کتب وابواب کی جگہ مقرر کردی جائیں۔ وہبہ زحیلی وغیرہ کی کتابیں فقہ میں اور اسی طرح النحو الواضح وغیرہ اور اسے ملتی جلتی کتابیں صَرف ونحو میں شامل کی جاسکتی ہیں، یا کم از کم ایسا ہو کہ نصاب میں ان پر مشتمل جزوی تبدیلی لائی جائے۔ اس سلسلے میں مصر، شام اور دیگر عرب ممالک کے نصاب ہائے تعلیم سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری نہیں کہ خلوص اور للہیت پر کمپرومائز کریں، بلکہ اسی ماحول میں پڑھائیں جس میں قدیم نصاب پڑھایا جاتاتھا، اساتذہ نماز روزوں کی پابندی کریں اور کرائیں، مطالعہ اور تکرار کا وہی نظام ہو جو پہلے سے چل رہا ہے۔ فنون میں ضرب زید عمرا سے نکل کر جدید عربی عبارات، سیاسی، سماجی اور معاشرتی اصطلاحات پر مشتمل مثالوں کے ذریعے یہ فنون پڑھائے جائیں۔
علوم میں جدید فقہی اصطلاحات کا احاطہ کرنے کے لیے مدارس کو رجال کار کا سخت مسئلہ پیش آئے گا، یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کے لیے یا تو ہمت کرکے ریاستی معاہدات کی روشنی میں سعودی عرب، مصر وغیرہ سے حسب ضرورت اساتذہ مبعوثین منگوالیے جائیں یا پھر مختلف اداروں میں پہلے سے موجود عرب اور دیگر اساتذہ کی خدمات لے کر شعبان اور رمضان میں تدریب المعلمین کے کورسز کرائے جائیں۔ مدارسِ دینیہ کے فضلاء اس قدر پختگی اور صلاحیت والے ہیں کہ انہیں دو ماہ کے عرصے تک جو پڑھادیا جائے اسے مزید ترقی دینے میں ان کی اپنی صلاحیتیں ان کی معاون ومددگار ہوں گی۔
6- طویل مدت کے لیے نصاب کو اس نہج پر لانا ضروری ہے کہ جو لوگ دعوتِ دین اور افتاء وارشاد کے میدان میں کام کرنا چاہیں وہ اصول شریعت کے ساتھ فروعِ جدیدہ اور عرفِ حاضر سے اچھی طرح واقف ہوں اور جو لوگ موجودہ ریاستی نظام تعلیم کے تخصصات میں جانا چاہیں ان کے لیے راستے کھلے ہوں۔ بنگلہ دیش کا نظامِ مدارس یہ کام شروع کرنے کے لیے بہت عمدہ لائحہ عمل مہیا کرتا ہے، اس سے استفادہ کرلیا جائے۔ اس میں ضروریات کے مطابق تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
7- مدارس دینیہ کے نصاب میں اگر ہوسکے تو کسب معاش کے کچھ فنون کا ابتدائی تعارف بھی شامل کردیا جائے جو ملازمت سے ہٹ کر اپنا کام کرنے میں مددگار ہو، جیسے قدیم نصاب میں طب بہت اہتمام سے پڑھائی جاتی تھی۔
(2)
21؍ جون 2021ء بروز سوموار، 4بجے شام کو تنظیم اساتذہ پاکستان نے، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، نیشنل ایسوسی ایشین فار ایجوکیشن (نافع) پاکستان اور حرا نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تعاون سے”یکساں قومی نصاب: اہمیت، تقاضے اور خدشات“ کے عنوان سے ایک قومی مشاورتی سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار میں راقم نے ” یکساں قومی نصاب اور ہمارے مدارس کا نظام“ کے موضوع پر درج ذیل گفتگو کی:
یکساں قومی نصاب اور ہمارے مدارس کا نظام
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
جناب پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد صاحب
پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری صاحب
پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب
برادر گرامی پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال صاحب
صدر مجلس
یہ ایک ایسی علمی مجلس ہے جس میں میرے اساتذہ کرام اور میدان تعلیم وتعلم کے اساطین تشریف فرما ہیں۔ میرے لیے لب کشائی کا کوئی موقع نہیں بنتا۔ یہاں بیٹھ کر اپنے بڑوں کی باتیں سن لینا ہی بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ تاہم چونکہ پروگرام میں نام شامل ہوگیا ہے اس لیے اپنے اساتذہ کو اُنہی کا دیا ہوا سبق سنانے کی کوشش کروں گا تاکہ اس میں اصلاح ہوسکے۔ خواتین وحضرات! ملک میں تیار ہونے والا یکساں تعلیمی نصاب اپنے اندر بہت سے قابل بحث نقاط اور بہت سے قابل تحقیق گوشے رکھتا ہے۔ مدارس دینیہ کے حوالے سے جو وژن اس نصاب میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ مدارس بھی مین سٹریم ایجوکیشن میں شامل ہو کر اپنے فضلا کو ملک اور معاشرے کے لیے مفید تر بناسکیں، انہیں ملازمتیں مل جائیں اور ترقی کرنے کے مواقع میسر ہوں۔ میرے خیال میں نصاب تعلیم اور نظام تعلیم مرتب کرتے وقت مقصدِ تعلیم کو پیش نظر رکھنا از حد ضروری ہے۔ مدارس کے نظام کی بنیادیں ہمیں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر [م :فروری 1707ء] کے زمانے میں ملتی ہیں جب ملا نظام الدین سہالوی رحمہ اللہ [م :مئی 1748ء] نے اُس وقت کے جدید اور روایتی علوم پر مشتمل یہ نصاب تیار کیا اور تقریباً 150 سال تک حکومتی سرپرستی میں اس نصاب کی تعلیم جاری رہی۔ 1857ء میں ہندوستان پر انگریز کے مکمل قبضے کے بعد جب نظام تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں اور دینی علوم کا حصہ نظام تعلیم میں بہت کم رہ گیا تو اس وقت کے علماء نے ملا نظام الدین سہالویؒ کے نظام کو ہی، جو درس نظامی کے عنوان سے مشہور تھا، الگ دینی مدارس قائم کرکے جاری رکھا اور حسب ضرورت اس میں کچھ تبدیلیاں کردیں۔ ان مدارس کا مقصد معاشی نہیں تھا، دعوتی اور دینی رہنمائی کا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ مدارس اسی دعوے کے ساتھ چل رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں مدارس منبر ومحراب، جلسہ وجلوس اور وعظ وارشاد کے ذریعے دعوتی کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں اور نکاح وطلاق، وراثت اور حلال وحرام کی حد تک دینی رہنمائی بھی فراہم کر رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم تبدیلی یہ آئی ہے کہ مدارس کی تنظیموں کی رضامندی سے اُنہیں سرکاری ملازمتوں اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے بھی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ اب جب یکساں نظام تعلیم کی بات ہوتی ہے تو اس میں دوسرا یعنی معاشی پہلو نمایاں نظر آتا ہے اس میں دعوت وارشاد، وعظ ونصیحت کے پہلو کافی حد تک کمزور نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کا اوقاف بل بھی محل نزاع بنا ہوا ہے۔ اوقاف بل کا مدارس کے مالیاتی نظام کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جس سے خطرہ یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ایک تو مدارس کے نظام اور خصوصاً مالیات میں حکومت کا عمل دخل کلیدی حیثیت حاصل کرجائے گا اور مدارس کی اٹانومی بری طرح متأثر ہوگی اور دوسرے یہ کہ جب چندے جمع کرنے اور وقف وصول کرنے کی نسبت حکومت سے ہوجائے گی تو چندے بھی بند ہوجائیں گے اور زمینیں اور جائیدادیں وقف کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا جس کا لازمی نتیجہ مدارس کی بندش، یا انتہائی مشکلات کی صورت میں ہوگا۔ مدارس کے روایتی کردار کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ نئے یکساں نصاب میں جان نہیں ہے کہ اس سے یہ کردار ادا کرنے کی توقع کی جاسکے۔
مدارس کے ان خدشات پر تو انتظامی اور ملکی سطح پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ مدارس کے نصاب کے لحاظ سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو کردار مدارس صدیوں سے ادا کر رہے ہیں، وہ دور حاضر تک پہنچتے پہنچتے اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ مدارس میں عربی زبان کی تعلیم کو دیکھیں تو صَرف کی گردانوں کے رٹے لگانے اور نحو میں ضرب زيد عمرا کے تکرار سے نہ تو زبان آتی ہے اور نہ ہی موجودہ دور کے عرف کے ساتھ اس کا کوئی ربط قائم ہو پاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عرب دنیا میں بہت سی ایسی کتابیں تصنیف کی جاچکی ہیں جو جدید طریقوں سے عربی زبان بھی سکھاتی ہیں اور قواعد واملا بھی سکھا لیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دور جدید کی عملی مثالوں اور تعبیرات پر مشتمل ہیں جس سے انسان کو ایک زندہ زبان سیکھنے کا احساس ہوتا ہے۔ موقوف علیہ تک باقی تمام فنون کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ وعظ وارشاد کے لیے قرآن مجید اور سیرت وحدیث بنیادی ذرائع ہیں، مدارس کے نصاب میں قدیم روایتی اردو تراجم اور جلالین شریف اور بیضاوی پر اکتفا کیا جاتا ہے جن سے دور جدید میں قرآن مجید سے کم ہی کوئی اطلاقی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ سیرت تو ویسے بھی نصاب کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ جہاں تک شخصی اور خاندانی مسائل میں رہنمائی کا تعلق ہے تو ایک طرف جدید ایجادات نے نکاح وطلاق کے پورے سسٹم کو بدل کر رکھ دیا ہے اور دوسری طرف قوانین اور قرون وسطیٰ کے فقہی متون اور شروح میں زمین وآسمان کا فرق ہے، مگر ان دونوں کا مخاطب ایک ہی ہے۔ ایک ہی شخص جو شریعت پر چلنا اور جنت میں جانا چاہتا ہے اسے مفتی صاحب بتاتے ہیں کہ آپ کی طلاق ہوگئی اور فلاں فلاں صورتوں کے بغیر آپ کی ازدواجی حیثیت بحال ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے، قانون کہتا ہے کہ آپ کی طلاق نہیں ہوئی۔ ہم یہاں یہ بحث نہیں کر رہے ہیں کہ کون غلط ہے اور کون صحیح ہے، مگر دور جدید کے انسان کا یہ حق بنتا ہے کہ شریعت کی رہنمائی میں اسے بتایا جائے کہ وہ اپنے معاملات میں قانون اور شریعت کو کیسے جمع کرسکتا ہے۔ قوانین میں ترمیم ایک بالکل الگ فیلڈ ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس کے لیے ایک سے زائد مرتبہ یہ سفارش کرچکی ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں مگر چونکہ یہ قرآن وسنت کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ طلاقِ بدعت شمار ہوتی ہے اس لیے ایسے بدعتی شخص کو تعزیری سزا ہونی چاہیے اور جو وکیل اور منشی اس کی مدد کرے انہیں بھی سزا میں شامل کرنا چاہیے۔ کونسل نے یہ سفارش کئی مرتبہ کی ہے۔ اگر قانون میں ترمیم نہیں ہوتی یا دیر سے ہوتی ہے تو عام آدمی کو مسائل بتاتے وقت اس پر تو تیار کیا جاسکتا ہے کہ بیک تین طلاقوں کے رواج کی حوصلہ شکنی کی جائے بلکہ ممکنہ حد تک قانون کے مطابق طلاق کے نوٹس جاری کریں جس میں یہ احتیاط شامل ہو کہ شرعی حدود کے دائرے کے اندر رہیں۔ کونسل کے کئی اجلاسوں میں ہلکی ہلکی آوازیں اس پر بھی اٹھیں کہ نکاح رجسٹریشن کی طرح طلاق رجسٹریشن کا بھی نظام جاری کیا جائے مگر معاشرتی مشکلات کو دیکھ کر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ نکاح نامے کا موجودہ فارمیٹ کئی مرتبہ کونسل میں زیر غور آچکا ہے۔ اس طرح کی بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں جن کی تعلیم وتدریس کی مدارس میں ضرورت ہے۔ عرب دنیا میں ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے بہت بڑا فقہی کام کردیا ہے اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سا لٹریچر اس سلسلے میں میسر ہے۔
ہماری فقہی کتب میں ابھی تک غلاموں اور لونڈیوں کے احکام، گھوڑوں اور جانوروں کی زکوٰۃ اور غیر مسلموں سے جزیہ اور خراج لینے کے احکام پڑھائے جا رہے ہیں۔ چند ہی دن پہلے کی بات ہے، پی ایچ ڈی میں بلاسفیمی لا کے بارے میں ایک مقالہ مدرسے کے ایک فاضل نے لکھا،اس میں روایتی فقہی احکام کی بھرمار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بات دیکھ کر انتہائی پریشانی ہوئی کہ وہ صاحب لکھ رہے ہیں
ان أساء الذمي إلی الرسول ﷺ يفسد عھد ذمتہ
’’اگر کوئی ذمی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا تو اس کا عہد ذمہ ختم ہوجائے گا۔‘‘
اب جب میں نے پوچھا کہ دور جدید کا ذمی کون ہے اور ذمی کی تعریف کیا ہے، تو کوئی جواب نہیں ملا۔ جب میں نے اس کی جگہ شہریت کی بات کی تو اچھے خاصے اساتذہ کی طرف سے یہ سوال آیا کہ شہریت کے لیے مصدر کیا ہوگا؟ مجھے حیرت تو بہت ہوئی، مگر میں نے معصومیت سے عرض کیا کہ مصدر دستور پاکستان ہوگا، وہ دستور جو مولانا شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر حمید اللہ،مولانا مناظر احسن گیلانی،مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی اور مولانا ظفر احمد انصاری نے اپنی علمی تحقیقات کے ذریعے بنوایا۔
میرے خیال میں ایک طرف اساتذہ کی ایسی مجالس کے ذریعے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دینی علوم کے تحفظ اور تعلیم کی شدید ضرورت ہے، اور دوسری طرف ایسا لٹریچر عام کرنے کی ضرورت ہے جو عام فہم زبان میں ہو اور دور جدید کے عرف کے مطابق دینی ضروریات پوری کرسکتا ہو۔ اس کے لیے شعبان اور رمضان کے شارٹس کورسز، مدارس کی درجہ وار تقسیم، نصاب میں مرحلہ وار تبدیلی اور تعلیمی نظام میں تدریس کے علاوہ تحقیق، علمی اجتماعات اور تبادلہ خیالات کو شامل کرکے اس کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔
وآخر دعوانا انِ الحمد للہ رب العالمین۔
(3)
عالی قدر جناب وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حکومت پاکستان نے، 25؍ جون 2021ء کو، مختلف علماء کرام کو خطوط لکھے تھے، جس کی ایک کاپی اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی ارسال کی تھی۔ اس پر جناب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی فرمائش پر جون 2021ء کے آخر میں راقم نے مدارس کے نظام اور نصاب کے بارے میں درج ذیل تجاویز تحریر کی تھیں۔
تجاویز بابت سماجی معاملات متعلقہ مدارس دینیہ
ان تجاویز کو عملی تدریج کے طور پر درج ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
أ) فوری اور جلد اقدامات:
1- وفاقہائے مدارس دینیہ اور سربراہان ادارہ جات سے نظام، نصاب اور ماحول کی اصلاح کے لیے تجاویز مانگی جائیں۔
2- مستقبل قریب میں وفاقہائے مدارس دینیہ ( جدید وقدیم)، اوقاف کی مساجد کے ممتاز خطباء، ملک کے دیگر ممتاز علماء ومشائخ، پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پر مشتمل ایک مشاورتی اجلاس بلایا جائے، جس کا انتظام وزارت مذہبی امور کرے اور معاونت اسلامی نظریاتی کونسل کرے۔ اس میں صوبائی نمائندگی بھی ہو اور مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی بھی ہو۔
3- مدارس میں جو سالانہ اجتماعات ہوتے ہیں، وفاقہائے مدارس دینیہ کی مشاورت سے انہیں تربیتی اجتماعات میں بدلنے کا لائحہ عمل طے کرلیا جائے اور وفاقات اس پر عملدرآمد شروع کرائیں۔
4- وفاقوں کی مشاورت ہی سے مسالک اور مکاتب فکر کی تفریق کے بغیر مختلف مدارس کے آپس میں مطالعاتی دوروں کا سلسلہ شروع کردیا جائے، جہاں ان مدارس کے تعلیمی اور تربیتی لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ اور سوال وجواب کی بھرپور نشستیں ہوں۔
5- مدارس کے ہر تعلیمی مرحلے کی مناسبت سے حکومتی اور ریاستی اداروں کےمطالعاتی دورے بھی کروائے جائیں اور بریفنگ کا انتظام ہو۔ ان اداروں میں اسلامی نظریاتی کونسل، وزارت مذہبی امور، شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، دعوہ اکیڈمی، فیصل مسجد اسلامک سنٹر، منتخب سرکاری جامعات کے اسلامیات ڈیپارٹمنٹ، بادشاہی مسجد لاہور، علماء اکیڈمی لاہور، کراچی سمیت مختلف شہروں کے ایسے ادارے جو دینی اور معاصر تعلیم بیک وقت مہیا کر رہے ہوں، شامل کیے جائیں۔ وقت، دورانیہ اور ادارے کا انتخاب وفاقات خود کرلیں۔
6- مدارس میں وفاقات کی زیر سرپرستی ادبی مقابلے کروائے جائیں، جن میں سماجی موضوعات پر زیادہ توجہ دی جائے۔ اس میں مضمون نویسی، خطابت، شعری مقابلے اور معلومات عامہ کے مقابلے شامل ہوں۔
7- اسی طرز پر دیگر فوری اقدامات بھی سوچے جاسکتے ہیں، البتہ اصلاحات، پابندی اور رِٹ قائم کرنے کی تعبیرات سے اجتناب کرنا بہتر ہوگا۔ مفاسد کی روک تھام کے لیے فی الحال وفاقات کی قیادت کو متوجہ کرنے پر اکتفا کیا جائے۔
ب) وسط مدتی اقدامات
1- مدارس میں شعبان اور رمضان میں تعطیلات ہوتی ہیں۔ کچھ مدارس میں گرمی سردی کے حساب سے بھی تعطیلات ہوتی ہیں۔ ان دو مہینوں میں کئی مدارس دورہ تفسیر، صَرف اور نحو کا اہتمام کرتے ہیں۔ کچھ مدارس جدید عربی کے دورے بھی کراتے ہیں۔ کہیں کہیں مناظرے اور رَدّ فِرق باطلہ کے عنوان سے بھی دورے ہوتے ہیں۔ ان میں جو جو دورے فنون سے متعلق ہیں، ان کی بجائے جدید عربی اور اردو ادبیات کے دورے کروانا چاہئیں۔ جدید عربی میں عربی کا معلم، تالیف مولانا عبد الستار خان صاحب اور معلم الانشاء، تالیف شدہ علمائے ندوہ، ابتدائی درجات کے طلبہ وطالبات کے لیے، علی جارم کی النحو الواضح للمدارس الابتدائيۃ، متوسط درجات کے طلبہ وطالبات کے لیے اور النحو الواضح للمدارس الثانويۃ، عالیہ تک کے طلبہ وطالبات کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کتابوں میں مثالیں اور تمارین جدید سماجی زبان پر مبنی ہیں اور تعبیر وانشاء پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ اس سے نہ صرف طلبہ اچھی زبان سیکھ سکتے ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر ان کے سماجی دائرہ فکر میں بھی وسعت آسکتی ہے۔ مصری، شامی، سعودی اور لبنانی اساتذہ نے بہت سی کتابیں ایسی لکھ دی ہیں جن سے العربيۃ لغير الناطقين بھا کا ایک پورا تعلیمی ڈسپلن قائم ہوگیا ہے۔ ان میں اخلاقی تربیت بھی ہوتی ہے اور سماجی ہم آہنگی کا سامان بھی۔ ایسی کتابوں کی فہرست تیار کرنے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے رفقائے کار مدد کرسکتے ہیں۔
یہ دورے کرانے والے اساتذہ کا مسئلہ درپیش آئے گا، ضرب زيد عمرا پر مبنی صَرف، نحو اور بلاغت کے فضلائے کرام شاید یہ کام نہ کرسکیں، اس کے لیے ایک حل تو یہ ہے کہ وفاقہائے مدارس اپنے تحت رجسٹرڈ کچھ مدارس کو خود منتخب کرکے جامعہ ازہر اور دیگر اسلامی ممالک سے بعثات دراسيۃ (Educational Delegations) کے تحت اساتذہ کا تقرر کرسکتے ہیں اور چھٹیوں کی مدت میں انہی اساتذہ سے یہ دورات بھی کروائے جاسکتے ہیں۔ مقامی طور پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اساتذہ اور فضلاء کی تعداد اب اس درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ بڑی آسانی سے ان کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یونیورسٹی کے نظام تعلیم میں غیر عربوں کو عربی سکھانے کا ایک عمدہ انتظام ہے اور یہاں کے فضلاء اس سے بخوبی مانوس ہیں۔
2- جو دورے مناظرے اور ردّ فِرق باطلہ کے ہوتے ہیں، ان میں سے جو وفاقہائے مدارس ناگزیر سمجھیں انہیں جاری رکھیں اور اس کے علاوہ مستشرقین کی فکر، انداز تحقیق اور ان کی کتب کے مطالعہ اور رد پر مشتمل دورے کروائے جائیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ مناظرانہ ذوق کی تسکین بھی ہوجائے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جدید دور کے مسائل اور ہمارے روایتی افکار پر اٹھنے والے اعتراضات اور سوالات سے واقفیت بھی حاصل ہوجائے گی۔ جوں جوں سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا گھٹن سے پیدا ہونے والی قباحتیں دم توڑتی جائیں گی۔
3- چھٹیوں کے دورات کے علاوہ نصاب تعلیم میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی جائیں جس سے مدارس کے تعلیمی مقاصد اور روایتی علوم کے فضلاء کے پیش نظر دینی خدمات کا تصور متأثر نہ ہو، نہ ہی ان کے خلوص، للہیت، فرشی نظام تعلیم اور اساتذہ کے ادب واحترام پر کوئی زد پڑے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں مقاصد سے متعلقہ معاشرے میں جو تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، ان سے واقفیت کا سامان بھی ہوجائے۔ اس سے علماء کی دینی خدمات معاشرے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس وقت شعائر دینیہ: نماز، روزہ، حج، عمرہ، زکوٰۃ، صدقات، وعظ وتبلیغ اور دعوت وارشاد وغیرہ کی خدمات علماء کے پیش نظر ہیں۔ اس کے علاوہ حلال وحرام اور عائلی مسائل میں علماء سے رجوع کیا جاتا ہے۔ نصاب میں یہ تبدیلی ایسی ہو کہ ان مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد دے۔ ابتدائی طور پر کسی بھی عرب ملک کے سکولوں میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم (اجتماعيات) کی کتابیں لے لی جائیں، یہ سعودیہ کی بھی ہوسکتی ہیں، متحدہ عرب امارات کی بھی ہوسکتی ہیں اور مصر کی بھی۔ یہ کتابیں مدارس کے ابتدائی مراحل میں ہر درجے کی مناسبت سے پڑھائی جائیں۔ جو چیزیں ہمارے معاشرے سے غیر متعلقہ ہوں انہیں نصاب سے خارج کردیا جائے۔ مدارس کے اساتذہ ان کتابوں سے صیغے نکلوائیں، گردانیں کرائیں، یا تراکیب کروائیں، انہیں اس بات کا اختیار ہو۔ مقصد یہ ہو کہ ان کتابوں کا مضمون اور عربی طلبہ کو اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ اسی طرح عرب ممالک میں اسلامیات کی کتابیں بھی کمال کی ہیں اور ان کی تمارین عملی طور پر مرتب کی گئی ہیں، جن میں ابتدا ہی سے اخذ واستنباط کی مشق کرائی جاتی ہے، ان میں سے کچھ کتب منتخب کرکے شامل کرلی جائیں۔ ان سکولوں کی نصابی کتب کے ساتھ لازما کتاب المعلم بھی چھپتی ہے۔ یہ کتابیں ہفتے دو ہفتے کی ورکشاپ میں ادارے کے متعلقہ اساتذہ کو سمجھا دی جائیں اور پھر حسب ضرورت استعمال کے لیے مہیا بھی کر دی جائیں۔ انہی سکولوں میں میں اللغۃ العربيۃ کا مضمون بھی ہوتا ہے۔ وہ کتابیں بھی انتہائی عملی نقطہ نظر سے لکھی جاتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ ہماری صَرف میر، نحو میر، علم الصیغۃ، میزان منشعب وغیرہ کا کیا ہوگا؟ تو اس بارے میں ایک جامع سبجیکٹ نصاب میں شامل کیا جائے، جس میں ان تمام کتابوں کے مناہج، اسالیب، مصنفین اور دیگر ضروری صفات کا تعارف اور منتخب موضوعات کے خواندگی شامل ہو۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو ان کتابوں اور ان کی مماثل کتابوں کا مطالعہ کرنے میں آسانی ہوگی۔
4- بلاغہ کی عموما تین شاخیں: معانی، بیان اور بدیع پڑھائی جاتی ہیں، جن کی زبان اور مثالیں بہت پرانی ہو چکی ہیں۔ علم البلاغۃ اور البلاغۃ الواضحۃ کے نام سے عرب اساتذہ نے تمارین پر مشتمل کتابیں لکھی ہیں۔ قدیم کتب کو نکال کر یہ کتب نصاب تعلیم میں شامل کر لی جائیں اور کسی مرحلے پر پر بلاغہ کی تاریخ اور اہم کتب کا تعارف شامل کردیا جائے۔ اس کے لیے نئی کتب تصنیف کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ مختلف کتب کے مقدمات اور متعلقہ ابواب کی فوٹو سٹیٹ یا انہی منتخبات پر مشتمل مطبوعہ کتاب کافی ہوجائے گی۔ استاذ کی تیاری اچھی ہو تو ان کی تقریر میں باقی ساری چیزوں کا احاطہ ہو جاتا ہے۔
5- فقہ کی ابتدائی کتب میں نور الايضاح یا اسی طرز پر لکھی ہوئی کوئی کتاب شامل ہو جائے اور اس کے بعد بتدریج عبدالفتاح ابوغدہ، عبد الکریم زیدان، یوسف قرضاوی، ڈاکٹر وہبہ زحیلی اور دیگر معاصر مصنفین کی کتب یا ان کے کچھ ابواب شامل ہوجائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ فقہ، فقہاء کا تعارف اور منتخب کتب کے تعارف پر مشتمل ایک مضمون بھی ہو۔ فقہی مسائل میں بہت تبدیلی آ چکی ہے حتیٰ کہ نکاح وطلاق اور عائلی مسائل اور قوانین میں بہت سی نئی چیزیں شامل ہوچکی ہیں۔ کچھ اہم فقہی ابواب سے متعلقہ قوانین جیسے مسلم عائلی قوانین، حدود قوانین، ثالثی سے متعلقہ قوانین اور جدید عائلی نظام کے بارے میں ابواب بھی ان میں شامل کیے جائیں۔
6- حدیث فہمی کے بارے میں بہت جدید چیزیں عربی میں آچکی ہیں۔ اصول حدیث، تاریخ حدیث، تدوین حدیث، انواع کتب حدیث اور معاجم حدیث پر مشتمل کچھ ابواب بھی نصاب میں شامل کر دیے جائیں۔
7- طلبہ اور طالبات کو خانقاہی نظام سے بہتر انداز میں متعارف کروایا جائے اور اپنے اپنے مکاتب فکر کے مشائخ سے تعلق قائم کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اہل مدارس مشائخ کے ساتھ مضبوط روابط رکھیں اور مشائخ کی میزبانی کو اپنے معمول کے لائحہ عمل میں شامل کریں، تاکہ وقتاً فوقتاً طلبہ کو بزرگان دین کی زیارت اور ان کے وعظ سے مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے۔
8- سیمینارز اور علمی مذاکروں کو نظام تعلیم کا حصہ بنایا جائے، جن میں بڑے درجہ کے طلبہ کو فقہی لحاظ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لئے مفتی صاحبان، متخصص وکلاء اور ریٹائرڈ جج صاحبان کو دعوت دی جائے اور زندہ مسائل کا انتخاب کیا جائے۔ تربیت کا ایک بہترین طریقہ رابطہ سازی بھی ہے۔ مدارس اور مختلف معاصر اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتیں مرتب کی جائیں جن کی بنا پر یہ ادارے مشترکہ طور پر علمی سرگرمیاں کرسکیں۔ سماجی خرابیاں عموماً گھٹن کے ماحول سے پیدا ہوتی ہیں، رابطوں سے وسعت آئے گی اور سماجی مسائل میں لازماً کمی واقع ہوگی جس میں مدارس کا اپنا روایتی تربیتی نظام بہت اہم کردار ادا کرے گا۔
ج) طویل المدتی تجاویز
1- وزارت مذہبی امور کے دائرہ کار کو وسعت دے کر اسے ”وزارت مذہبی امور ودینی تعلیم“ بنا دیا جائے۔ بین المذاہب ہم آہنگی اسی عنوان کے تحت خود بخود شامل سمجھی جائے۔
2- وزارت کے کئی ڈویژن اور کئی خود مختار ڈائریکٹریٹ بنائے جائیں۔ وزارت کے دعوہ سیکشن کو دعوہ ڈویژن بنادیا جائے۔ اوقاف کی تمام مساجد اسی ڈویژن کے تحت ہوں۔ تمام ائمہ اور خطباء کے اچھے گریڈ مقرر کئے جائیں جو دیگر سرکاری ملازمین اور افسران کے گریڈوں سے کسی طور کم نہ ہوں۔ قومی تربیتی اداروں میں یہاں کے ملازمین اور افسران کے باقاعدہ تربیتی کورس میں ان کے کورسز بھی شامل کیے جائیں اور ان کے مطابق انہیں ترقیاں دی جائیں۔ یہی حضرات وزارت مذہبی امور کے مبلغین کے فرائض سرانجام دیں اور ٹی وی اور ریڈیو پر ان کے دروس ایک منظم طریقے سے ہوا کریں، جس سے دیگر علماء کے دروس متأثر نہ ہوں۔ اس سلسلے کو آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جائے اور نئے سیکٹرز میں مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر دینی اصلاحی مراکز کا قیام مذہبی امور کے تحت ہو۔ اگر مزید ضرورت پڑے تو قواعد وضوابط کے تحت پرائیویٹ طور پر بھی مساجد اور دینی مراکز قائم کرنے کی گنجائش ہو۔ وزارت میں ایک تحقیقات اسلامی ڈویژن ہو۔ اگر ممکن ہو تو ادارہ تحقیقات اسلامی کو پھر سے دستوری درجہ دے کر وزارت مذہبی امور کے ساتھ منسلک کیا جائے جس میں جدید دینی موضوعات پر تحقیق بھی ہو اور نصابی پالیسیاں اور نصابی مواد بھی مرتب کئے جائیں جس سے ٹیکسٹ بک بورڈ استفادہ کرسکے۔ اسی طریقے سے جن فقہی جزئیات اور قوانین یا عدالتی ضابطہ کار میں تفاوت پیدا ہوگیا ہے ان پر ایسی تحقیقات کی جائیں جس سے تمام متعلقہ ادارے مثلاً لا کالج، وکلاء، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، پاکستان لا کمیشن اور ججز کے تربیتی ادارے فائدہ اٹھا سکیں۔
3- اسی ڈویژن کے تحت وزارت مذہبی امور کے موجودہ ریسرچ اینڈ ریفرنس سیکشن کو مزید وسیع کیا جائے اور اس کی ذمہ داریوں پر از سرنو غور کر کے اسے سہولیات اور اسباب مہیا کیے جائیں۔
4- مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کئی تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔ اسے وزارت مذہبی امور کے تحت Directorate of Religious Education بنادیا جائے، جس کے تحت حالیہ سرکاری دینی مدارس چل رہے ہوں۔ اوقاف کی مساجد میں قائم مدارس اس کے نصاب اور امتحانی ضوابط کی پابندی کریں۔ نئے سیکٹروں میں حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی مساجد کے مراکزِ تعلیم القرآن اسی سے منسلک ہوں اور پرائیویٹ دینی مدارس کو اس سے منسلک ہونے کی اجازت ہو۔ اسی ڈائریکٹریٹ کے تحت امتحانات کا نظام ہو خواہ اسے ”دینی تعلیمی بورڈ“ کا نام دے دیا جائے، جیسا کہ پہلے سے ٹیکینکل ایجوکیشن کے الگ بورڈ کام کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ دینی مدارس کو اس بورڈ کے ساتھ الحاق پر مجبور نہ کیا جائے البتہ اس بورڈ کی سند کو روایتی تعلیم کی تمام سندات کے برابر کا درجہ دیا جائے اور یہ امتحان پاس کیے بغیر کسی سند کا معادلہ نہ ہو۔ بنگلہ دیش کا مدرسہ تعلیمی نظام اس سلسلے میں کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس بورڈ کے تحت امتحان پاس کرنے والے طلبہ کو معادلہ (Equivalence) لینے کی ضرورت نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ماحول میں مثبت انداز سے دینی نظام اور مزاج کی اصلاح کی جاسکتی ہے، انتظامی اور تادیبی اقدامات سے یہ مقصد حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ دینی مدارس کے منتظمین اور مدرسین کی عزت نفس کو قائم رکھ کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزارت میں ایک ڈویژن دینی مطبوعات کے نام سے ہو جس کا کام ریاستی سرپرستی میں دینی مطبوعات کو شائع کرنا بھی ہو اور پرائیویٹ سطح پر شائع ہونے والی مطبوعات کی نگرانی بھی۔ سنسربورڈ یا کسی اور ادارے کے پاس اگر یہ کام ہو تو وہ ادارے یا اس دائرہ کار میں جو کام آتا ہو اسے وزارت میں ضم کر دیا جائے۔
5- اوقاف کا ایک الگ نظام موجود ہے۔ لیکن دستور کا تقاضا یہ ہے کہ اوقاف مساجد اور دینی امور کے ساتھ وابستہ ہو۔ روز اوّل سے معمول بھی یہی رہا ہے۔ اس لئے ڈائریکٹریٹ آف اوقاف اور اسی طرح متروکہ وقف املاک سب کو ملا کر ایک اوقاف ڈویژن بنا دیا جائے، جس کا انتظام وانصرام وزارت مذہبی امور کرے اور مسلم وغیر مسلم دونوں دینی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقف کا استعمال کریں۔ وزارت مذہبی امور کی دینی سرگرمیاں اس قدر ہوں کہ لوگوں کے دلوں میں مزید جائیدادیں وقف کرنے کا شوق پیدا ہو جائے۔ مدارس اور مساجد کی پرائیویٹ جائیدادوں اور اوقاف کو انتظامی عمل دخل سے الگ رکھا جائے، البتہ کسی مسجد یا مدرسے کی انتظامیہ خود اپنے وقف کو ڈویژن کے حوالے کرنا چاہے تو وہ کر سکے۔ کویت اور قطر میں برسہا برس کی ریسرچ کے بعد اوقاف کے نظام قائم کیے گئے ہیں اور وہاں نہ صرف مسلم وغیر مسلم سب کے لئے سہولیات مہیا کر رہے ہیں بلکہ مستحقین کی تعلیم، شادی بیاہ اور دیگر امور میں بھی مدد کر رہے ہیں اور جدید وسائل ابلاغ کے ذریعے انہوں نے سمعی اور بصری مراکز قائم کیے ہوئے ہیں۔ برادر مسلم ممالک ہونے کے ناطے نہ صرف ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے بلکہ باقاعدہ مشاورتی اور معاونتی ربط بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ وقف کنندگان کی تحریروں کا ریکارڈ محفوظ کرنا اور ان کی شرائطِ وقف کو باقاعدہ دستاویزی شکل دینا بھی وقف کی بنیادی ضروریات میں سے ہوں۔
6- ملک کے دینی نظام کو صحیح سمت پر قائم رکھنے کے لیے تجویز یہ ہے کہ پارلیمان کی قرارداد، یا باقاعدہ صدر مملکت کے حکم کے ذریعے، وزیر مذہبی امور کے لیے عالم دین ہونے کی شرط قائم کر دی جائے۔ عالم دین ایسا ہو جس نے دینی نصاب مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ میں پی ایچ ڈی کی ہو۔ اسی طریقے سے وزارت مذہبی امور کے تمام ڈویژنز اور ڈائریکٹریٹس کے سربراہ علوم دینیہ کے ماہر ہوں، اس کے لیے نہ صرف روایتی تعلیم کافی ہو بلکہ دینی تعلیم کی جدید ڈگریاں بھی شرط ہوں۔ ان مناصب کے لیے علوم دینیہ کے علاوہ کسی اور شعبے کا تخصص معتبر نہ ہو۔
اگرچہ طویل المدتی تجاویز کا مدارس دینیہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، لیکن دینی تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ طبقات میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ حکومت یا ریاست کی طرف سےدینی تعلیم کی کوئی اونر شپ نہیں ہے۔ اس لیے مختلف مکاتب فکر کو جہاں سے چندہ ملتا ہے اور جو لوگ ان کا نظام چلانے میں معاونت فراہم کرتے ہیں ان کی مرضی اور فکر کی رعایت سے ہی ان کا نظام چلتا ہے۔ اگر ریاستی سطح پر اس طرح کا انتظام ہو اور اس میں فرقہ واریت کو نمائندگی دینے کی بجائے ریاست کی دینی پالیسی کا زیادہ لحاظ رکھا جائے، جس کی ایک عمدہ مثال افواج پاکستان کے دینی شعبہ کے افسران ہیں، تو ہم پرائیویٹ مدارس کے لیے ایک بہترین مثال بھی پیش کر سکتے ہیں، اہل خیر کو مزید جائیدادیں وقف کرنے کی ترغیب بھی دے سکتے ہیں اور ملک کی دینی ضروریات ریاستی انتظام کے تحت پورا کرنے میں خود کفیل بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پرائیویٹ دینی مدارس کے لیے نئی جہتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں اور ان میں ریاستی نظام کا حصہ بننے کا شوق بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ اس نظام کے تحت نہ صرف یہ کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے تحت مبلغین، مدرسین اور مفتی صاحبان پیدا ہوسکتے ہیں بلکہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات جس مرحلے پر چاہیں دیگر تعلیمی اداروں میں جانے کی سہولت بھی ان کو میسر ہوسکتی ہے۔ اب تک جو فکر مندی سامنے آرہی ہے، خواہ محترم احمد جاوید صاحب کے خطابات کی روشنی میں ہو، یکساں نظام تعلیم کی صورت میں ہو، عالی قدر وزیر مذہبی امور کے مراسلے کی صورت میں ہو، پیغام پاکستان کی صورت میں ہو یا کووڈ اور فرقہ واریت کے بارے میں مشترکہ اعلامیوں کی صورت میں ہو، سب کی سب انتظامیات یعنی مینجمنٹ کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ اونر شپ، Integration اور مدارس دینیہ یا دینی تعلیم کو بطور سرمایہ استعمال کرنے کے لئے ان کوششو میں کوئی خاص اقدام نظر نہیں آتا۔
تجاویز بابت اجتماعی ماحول متعلقہ مدارس دینیہ
1- درسگاہوں کو کمروں کی بجائے بڑے بڑے ہالوں کی شکل دے دی جائے۔ ہر کلاس کے درمیان مناسب فاصلہ ہو۔
2- دار الاقامہ میں طلبہ کے سامان اور رہائش کے لیے بھی کمروں کی دیواریں نکال کر ہال بنائے جائیں۔ دیواروں میں بڑی بڑی الماریاں کھلی ہوں، جن میں سامان رکھا جائے اور تالے کا بندوبست طلبہ خود کریں۔
3- بہت سینئر اساتذہ کے آرام کے کمرے تدریسی مقامات سے الگ ہوں اور طلبہ کی عمر کی ایک حد مقرر کردی جائے، اس سے کم عمر کے طلبہ خدمت پر مامور نہ ہوں۔
4- نوجوان طلبہ الگ کمروں میں نہ رہیں، ہال میں طلبہ کے گروپوں کے نگران بن کر وہیں آرام کیا کریں۔
5- طلبہ کو کلاس کے لحاظ سے نہیں بلکہ عمر کے لحاظ سے گروپوں میں تقسیم کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کم عمر طلبہ کے نگران بڑی عمر کے اساتذہ ہوں۔ ان گروپوں کو صحابہ کرام اور ائمہ کے نام سے ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ ہوسکے تو مدرسے کے حجم کے مطابق ایک یا ایک سے زیادہ خدام مقرر کیے جائیں جن کی ڈیوٹی صرف رات کی ہو اور سونے کی اجازت نہ ہو۔ وہ اپنے مقررہ مقامات کے آس پاس گھومتے رہیں اور طلبہ کے سونے کے اوقات کی پابندی ملاحظہ کرکے اس کی رپورٹ اپنے مسؤولین کو دیتے رہیں۔
6- مدرسے کے مین گیٹ پر چوکیداری نظام کو مضبوط بنایا جائے، یا باری باری طلبہ کی ڈیوٹی لگائی جائے، البتہ عمارت کے اندر کے دروازے کھلے رہا کریں۔ اگر مدرسہ بہت بڑا ہو تو اسے بلاکوں میں تقسیم کرکے ہر بلاک کا گیٹ ہو اور اس میں یہی ترتیب جاری کی جائے۔
7- ایک ترتیب سی سی ٹی وی کیمروں کی بھی ہوسکتی ہے، مگر اس میں کئی نقصانات بھی ہیں۔ ہر مدرسے کی انتظامیہ اگر اس کے بغیر چارہ نہ دیکھے تو سونے اور تدریس کے کمروں میں کیمرے بھی نصب کیے جاسکتے ہیں، مگر راقم کا اس تجویز پر اصرار کم سے کم ہے۔
8- اسی کی روشنی میں کچھ مزید اقدامات کیے اور سوچے جاسکتے ہیں۔
9- انتظامی اقدامات کے علاوہ تربیت، یاددہانی اور نصیحت کے اپنے اثرات ہیں۔ ترغیب کی احادیث پر مشتمل تالیفات فنِ حدیث کا ایک نمایاں حصہ ہے۔ انتہائی مختصر اور جامع کتاب ”ریاض الصالحین“ جو ہر خاص وعام کی دسترس میں ہے۔ اس سے ذرا مفصل امام منذری کی ”الترغیب والترھیب“ ہے۔ آداب کی کتابوں میں ”الأدب المفرد“ امام بخاریؒ کی بہترین تالیف ہے۔ ”فضائل اعمال“ اور ”سنی فضائل اعمال“ کو بھی اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس موضوع کی کسی کتاب کا انتخاب کرکے اس کی تربیتی احادیث کی تعلیم کو روز مرہ کے معمول کا حصہ بنالیا جائے۔
10- اسباق شروع ہونے سے پہلے ایک تمہیدی اجتماع یا اسمبلی ہو اور اس میں بزرگ اساتذہ کی گفتگو بھی مفید ہوسکتی ہے۔
11- دروس کے دوران زیادہ تر زور عموماً کتاب کی عبارت، مسائل اور مناظراتی پہلو سمجھانے پر ہوتا ہے۔ اساتذہ کرام سے درخواست کی جائے کہ وہ ہر درس میں تربیتی پہلو بھی لازماً شامل کریں۔
12- اخلاقی کمزوریوں کے علاج کا ایک پہلو تخویف اور سزا بھی ہے۔
13- جہاں اخلاقی کمزوری ثابت ہوجائے، وہاں اس کے حجم کے مطابق انتظامیہ خود ہی سزا کا بندوبست کرے جو نصیحت، ڈانٹ ڈپٹ، کلاس کے اوقات میں کلاس کے باہر بیٹھنے، کلاس بدلنے اور مدرسے سے اخراج تک، کچھ بھی ہوسکتی ہے۔
14- سد ذریعہ کے طور پر ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰی إِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً وَّسَآءَ سَبِيلًا﴾ (الاسراء: 32) کو بطور اصول اپنایا جائے۔ اساتذہ اور طلبہ میں رویہ تو باپ بیٹے کا ہو مگر لاڈ پیار باپ بیٹے جیسا نہ ہو۔
وحدت ادیان: مکتب روایت کا موقف
مارٹن لنگز
مترجمین : ابرار حسین /عاصم رضا
پس منظر
زیرِنظر اردو ترجمہ کی تقریب یوں ہوئی کہ تقریباً پانچ برس قبل، ہم نے استاد گرامی جناب احمد جاوید صاحب سے مکتب روایت کے وحدت ادیان بارے موقف سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ان سوالات کے جواب میں احمد جاوید صاحب نےہمیں مذکورہ مضمون پڑھنے کے لیے تجویز کیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کردی کہ ہو سکے تو آپ حضرات اس کا اردو میں ترجمہ بھی کردیں۔ یہ مضمون پہلی دفعہ 1976ء میں شائع ہوا تھا جب کہ اکتوبر 2005ء میں اس کی دو سری اشاعت، جناب سہیل عمر صاحب کے زیر ِادارت، اقبال اکادمی لاہور کے مجلے اقبال ریویو میں ہوئی۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تعلق کے تناظر میں ادریس آزاد صاحب کی ایک تحریر کے نتیجے میں بحث کا ازسرنو آغاز ہوا۔کچھ دن قبل ہی ادریس آزاد صاحب کی تحریر بعنوان ’’نومسلم رینے گینوں، مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تصور پر اہم سوالات‘‘ دانش ویب گاہ پر شائع ہوئی ۔ استاد گرامی جناب احمد جاوید صاحب نے بھی اس سلسلے میں اپنا تحریری موقف بعنوان ’’ مکتب روایت، وحدت ادیان اور میرا موقف‘‘ دانش ویب سائٹ پر شائع کروایا۔انہوں نے اپنی تحریر میں مارٹن لنگز کے اسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت ہی وہ مکتب روایت کے وحدت ادیان بارے موقف سے وضاحت کے ساتھ روشناس ہوئے۔ظاہر ہے کہ وحدت ادیان کے ضمن میں مکتب روایت کے توثیقی موقف پر یہ بہت بنیادی حوالہ ہے کیونکہ اس باب میں یہ اہل روایت کے ایک رفیق کی طرف سے قلمبند ہونے والا ایک نمائندہ مضمون ہے۔اس حالیہ بحث کے پس منظر میں ہمیں یہ مناسب محسوس ہوتا ہے کہ مارٹن لنگز کے اس مضمون کا اردو ترجمہ افادہ عام کی غرض سے منظر عام پر لایا جائے تاکہ مکتب روایت کے نمائندوں کا وحدت ادیان بارے نکتہ نظر سامنے آسکے۔ زیرِ نظر ترجمہ اس سے پہلے جائزہ نامی ویب گاہ(Jaeza.pk) پر شائع ہو چکا ہے۔
جہاں تک زیرِنظر مضمون کے مشمولات کا تعلق ہے، تو اس حصے کو بطور خاص دقت نظر سے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے جہاں مارٹن لنگز نے قرآن شریف کی آیات سے وحدت ادیان کے حق میں استدلال کیا ہے۔مضمون کے یہ حصے تفسیر بالرائے کا شاہکار ہیں۔ہمارا مانناہے کہ مکتب روایت کے نمائندے اسماعیلی اصول تعبیر کی پیروی کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف کی ماثورہ و غیر ماثورہ تفسیری روایت کو پس پشت ڈال کر وہ اس سےمن مانے باطنی معانی اخذ کرتے ہیں اور پھر جیسے چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں ان معانی کا انطباق کر لیتے ہیں۔ان کا یہ اخذوانطباق واضح طور پر تحریف فی القرآن کے زمرے میں آتا ہے۔ مختصراً، اس مضمون میں مارٹن لنگز نے واشگاف اندازسے وحدت ادیان کا اثبات کیا ہے۔ جب کہ مکتب روایت کے پاکستانی نمائندگان اب تک یہ تاثر دیتے آئے ہیں کہ وہ اسلام کو ہی واحد ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔تاہم ان میں سے اکثر روایت پسندوں کے 'شیخ' یعنی مارٹن لنگز بالکل ایسا نہیں سمجھتے۔
دھیان رہے کہ زیر نظر اردو ترجمے کے آخر میں دیے گئے حواشی بھی مارٹن لنگز ہی کے تحریر کردہ ہیں جب کہ آیات کریمہ سے متعلق حواشی کو ترجمہ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
مذہب میں راسخ العقیدگی کا ایک معیار یہ ہے کہ وہ درج ذیل حکم ِ ربانی کو بتمام و کمال پورا کرنے کے لیے موزوں وسائل فراہم کرے :
’’تم اپنے مالک و مختار خداوند کو چاہو قلب کے مکمل حضور، ذہن کی کامل یکسوئی، نفس کے پورے انہماک اور وجود کی تما م قوت کے ساتھ‘‘1۔
صاف دکھائی دیتا ہے کہ اِس (حکم ِ ربانی) کے ابتدائی کلمات ہی اس کا اہم ترین حصہ ہیں۔ قلب ِ روحانی ایمان کا خصوصی کارندہ ہے یقین، تعقل اور معرفت اس کے ارفع ممکنات ہیں۔ اِسے قلبِ روحانی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ نفس کی جہت سے ویسا ہی مرکزی اور ناگزیر ہے جیسا کہ جسم کی جہت سے قلبِ طبعی۔ ایک طرف بعید از مرکز اجزاء کو اپنی طرف کھینچنے اور انہیں ایک مربوط کُل کی حیثیت سے باہم یکجا رکھنے کے لیے جب کہ دوسری طرف اُن اجزاء کی متفرق صلاحیتوں کے حدود اور احوال کے مطابق انہیں وہ کچھ بہم پہنچانے کی غرض سے جو اِس (قلبِ روحانی کو) وجود کے اُن منطقوں سے میسر آتا ہے جو اس سے برتروبالا ہیں، مرکز یعنی قلبِ روحانی کا عمل ہمیشہ جذب اور تنویر کا عمل ہوتا ہے۔ قلبِ روحانی کے مکمل حضور کو محبت میں صَرف کرنے کا مطلب ہے کامل محبت۔ ذہن اور نفس جو کہ خدا کے ساتھ محبت کے باب میں قلب پر ہی اپنا حتمی انحصار رکھتے ہیں اُن کا اِس حکم ِ ربانی میں الگ سے ذکر صرف اس لیے کیا گیا کہ ہبوطِ آدم کے لمحے میں اُن پر مرکز (یعنی قلبِ روحانی) کا غلبہ محض ایک امکانِ بعید میں ڈھل کر رہ گیا تھا اور اس لیے بھی کہ محبت ِ الہٰیہ کے ضمن میں حضور کی وہ اولین حالت جو اِسے خُلدِ بریں میں حاصل تھی اُس (حالت ) کی طرف روح کے سفرِ واپسیں میں نفس اور ذہن کی حرکتِ حُبی علّت کا کردار ادا کرتی ہے یا کم از کم ایسا محسوس ہوتا ہے، اگرچہ نفس و ذہن کی اِس حرکت ِ حُبی کا وجود احساس میں جاگزیں نہیں ہو سکتا جب تک اِسے روح کی اُس بیداریِ نو کے نتیجے کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے۔ تاثر و تاثیر پر مبنی زیرِ بحث سلسلہ، انسانی کاوش اور رحمتِ الہٰیہ کے باہمی تعامل سے متعلق ہے۔ تاہم تمام مذاہب، اسالیب ِ اظہار میں تفاوت کے باوجود ، اس نکتہ پر متفق ہیں کہ قلبِ روحانی یعنی تنزیہہ کے رخ پر ذہن یا نفس کی طرف سے ادنیٰ کوشش بھی اس قوت کی لازماً مستحق بن جاتی ہے جو قوت حیاتِ نو بخشنے اور افزودگی فراہم کرنے والی ہے۔ یہ قوت انسانی کاوش کے تناسب سے مختلف ہوتی ہے لیکن بایں ھمہ اس انسانی کاوش کو بلا تعطل تکرار کی ضرورت رہتی ہے۔
قلبِ روحانی کے ساتھ بلاواسطہ تعلق کے خاتمے کا نتیجہ اُس جذب ِ دروں کے زیاں کی صورت میں نکلا جو کہ اکیلا ہی بطریق ِ توازن دیگر قوائے ادراکیہ کے مرکز گریز رجحانات کی تعدیل کر سکتا تھا۔ چنانچہ لازم تھا کہ متذکرہ قوائے ادراکیہ اس زیاں کے بعد صرف ذاتی وسائل کے دائرے میں محدود ہو کر مرکز سے اور نتیجتاً ایک دوسرے سے بُعد پیدا کر لیں۔ اگرچہ انسانی تاریخ میں بار بار الوہی مداخلت کی وجہ سے انتشار کا یہ عمل مختصر دورانیوں کے لیے معطل اور منقلب ہوتا رہا مگر ازروئے لزوم اب یہ اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے کیونکہ کم و بیش تمام روایتوں کا اتفاق ہے کہ ہم اِس حالیہ دورانِ وقت کے اختتام کو پہنچ رہے ہیں۔ یہ کُلی انتشار جو کہ جدید آدمی کا خاصہ ہے اِس انتشار کا ایک نمایا ں وصف وہ منفرد اور بے مثال ذہنی خودانحصاری ہے جس کی بدولت کثر اذہان بیمارانہ حد تک فعال اور تقریبا ً بازی گرانہ طور پر چست و چالاک ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں، مرکز یعنی قلبِ روحانی کی یہی عدم موجودگی ہی نتیجہ اخذ کرنے اور قدری حکم لگانے کے باب میں غیر انسانی طور پر عجلت پسندانہ سطحیت کی وجہ بھی ہے۔
ذہن کی اِسی خود انحصاری کا (تنقیدی جائزہ )، فرتھجوف شوآن کی کتاب ’’ منطق اور ماورائیت ‘‘2 (Logic and Transcendence) میں ’’تفہیم اور اعتقاد ‘‘ (Understanding and Believing) نامی باب کو انتہائی اہم اور (موجودہ صورت ِ حال کے تناظر میں ) نہایت بروقت سرگرمی بنا دیتا ہے۔ مصنف ہماری توجہ مابعد الطبیعیاتی حقائق کو صرف قلب ہی نہیں نفس کی جانب سے بھی عقیدے کی تائید کے بغیر محض ذہن کے بل بوتے پر سمجھنے سے متعلق ان ہلاکت خیز مظاہر کی طرف مبذول کرواتا ہے جو کہ اب روزمرہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اِس (انتشار) کا واحد علاج عمل ِ تالیف ہی ہے کیونکہ نفس کو صرف اسی صورت میں عقل کے قریب ترین دائرہ اثر میں لایا جا سکتا ہے جب مختلف قویٰ باہم مربوط ہوں تاکہ یہ عقیدہ کے اُس نورِ ہدایت کےساتھ فعال تعلق پیدا کر سکے، ذہن جس کا بلاواسطہ مخاطب ہے۔ لیکن عمل ِ تالیف کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی فہم کی حیثیت اِس جادۂ بازگشت کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی ہے۔ وہ رکاوٹیں جو ذہن کے لیے عمل ِ تفہیم کو مشکل یا ناممکن بنا دیتی ہے موجودہ تناظر میں ہمیں اُنھی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ابتدائی مرحلے سے غرض ہے۔ ذہانت اپنا ایک استحقاق رکھتی ہے اور مذہب کے نمائندوں کی طرف سے اس استحقاق کو ہمیشہ ٹھکرایا نہیں گیا۔ بہرحال ذہنی قویٰ کو بار بار اثبات اور تسکین کی ضرورت رہتی ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے تحت مذہب کے پاس بعض ادھوری سچائیوں کو قربان کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، چہ جائیکہ ان مفروضوں اور خیال آرائیوں کا تذکرہ کیا جائے جنھیں ماضی میں خدا کے ساتھ نفس و وجود کی کلی محبت کے لیے موثر محرکات سمجھا جاتا تھا۔
کسی مذہب کے منفرد طور پر اثر انداز ہونے کے دعویٰ کو ادھوری سچائی ہی کا درجہ دیا جانا چاہیے کیونکہ ایسے اکثر معاملات میں فی الواقع کوئی دوسری صورت وجود نہیں رکھتی3۔ ماضی میں ایک مذہب کا دوسرے مذاہب کی ثقاہت اور اثر اندازی کو لائقِ توجہ سمجھنا ایساہی لایعنی عمل ہوتا تھا جیسا کہ ایک زندگی بچانے والی کشتی سے قریب ہی پانی میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا افراد کے لیے کیے جانے والا یہ اعلا ن کہ وہاں سے پانچ میل کی مسافت پر ایک ویسی ہی مضبوط جان بچانے والی کشتی موجود ہے۔ اس طرح کے کسی بھی اثباتِ غیر کی عدم موجودگی عبادات کے باب میں ذہنوں کو معرض ِ شک میں ڈالنے کی وجہ نہیں بنتی تھی کیونکہ بالعموم ہر ایک روایتی تہذیب دوسرے انسانی گروہوں کی نسبت (ایک نوع کے ) حصارِ تنہائی میں قائم ہوتی تھی۔ مزیدبراں، اِس عمومی تصور میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ہے کہ بعض مذاہب متروک ہیں اور الوہی مداخلت کی بدولت وہ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ نہ ہی اس بات پر کوئی شک کیا جا سکتا ہے کہ مذاہب ِ باطلہ کا وجود بھی عین ممکن ہے کیونکہ خود مذہبی متون جھوٹے پیغمبروں کی بابت کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً قرون ِ وسطیٰ کے ایک عیسائی کو اس بنا پر کسی ذہنی صدمے سے نہیں گزرنا پڑتا تھا کہ وہ یہودیت کو ایک منسوخ شدہ جبکہ اسلام کو ایک باطل مذہب کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہر آدمی کو اس بارے میں لاعلم رہنے یا غلطی پر ہونے کا حق حاصل ہے کہ اس کے اپنے مذہبی جغرافیے سے باہر دوسرے مذہبی دائروں میں کیا وقوع پذیر ہوتا ہے۔
لیکن موجودہ زمانے میں (مذہبی معاشروں کو ) جدا کرنے والی دیواریں زیادہ تر منہدم ہو چکی ہیں ۔ بالفاظ ِ دگر، زندگی بچانے والی یہ کشتیاں ایک دوسرے کے لیے حدِ رسائی میں آ چکی ہیں اور غوطہ خوری میں کام آنے والی رسیاں باہم در آویزاں لکیروں کی مانند ایک دوسرے کو قطع کرنے لگی ہیں اور اذہان اُن خیالات کی وجہ سے مبتلائے آزار ہیں ماضی میں جن کی زد سے یہ محفوظ تھے۔ مختصر یہ ہے کہ ذہن کو خدا کی عبادت کے لیے وقف کرنا مشکل ہو جاتا ہے جب مذہبی ارباب ِ اختیار ایسے دعوے کرنے لگیں جنھیں ذہن مذہب کی تعلیم کردہ فطرت ِ الوہی کے خلاف سمجھتا ہے۔
یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ صورت حال بین الاقوامی اعتبار سے اگر نئی بھی ہے تو نسبتاً ان چھوٹی اقلیتوں کے حوالے سے یہ ماضی میں بھی موجود رہی ہے جن کی بودوماند تہذیبوں کے ان سرحدی علاقوں میں ہوئی جو ایک مذہبی تہذیب کو دوسری مذہبی تہذیب سے جدا کرتے تھے۔ چنانچہ عیسائی اور مسلمان مشرق ِ قریب میں گذشتہ تیرہ صدیوں سے زائد عرصے تک مل جل کر رہے درآنحالیکہ ہر ایک کے پاس متقابل مذہب کو اپنے مذہب کی طرح برحق مذہب کی حیثیت سے دیکھنے کے کثیر مواقع تھے۔ لیکن حالیہ ادوار تک صاحبان ِ فکر سمیت (اہل مذہب کی ) بھاری اکثریت مکمل ذہنی اطمینان کے ساتھ اس یقین کی بنیاد پر اپنی زندگی بسر کرنے کے قابل تھی کہ اکیلا اس کا مذہب ہی بہ اعتبار ِ صداقت مستند ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب بھی اسی اخراجیت پرستی (Exclusivism) کو طمانیت ذہن کے ساتھ ہم آہنگ کیوں نہیں ہونا چاہیے ؟
اس کا جزوی جواب یہ ہے کہ وہ سرحدیں محض جغرافیائی نہیں ہیں جو ایک (دینی ) تناظر کو دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ ایک دینی تہذیب میں انسان مسلسل ِ خدا اور جہانِ وراء کی یاد دہانی کروانے والوں کے حصار میں گھرے رہتے ہیں اور یہ عمل ِ تذکیر انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک نوع کی داخلیت پیدا کر دیتا ہے جو بذات ِ خود ایک قسم کی حدِ فاصل کھینچنے والی ویوار ہے4۔ ایسی دیواروں کا انہدام گو کہ برا ہے لیکن وہ قدریں ناگزیر ہیں جنھیں برقرار رکھنے میں یہ دیواریں معاونت کرتی تھیں اور ان (قدروں ) کو دیگر وسائل کے ذریعے سے تقویت ملنی چاہیے۔ مندرجہ ذیل اقتباس، اگرچہ اس کے اطلاقات زیرِ بحث نکتے کی نسبت زیادہ وسیع ہیں، ان جزوی صداقتوں کے حوالے سے انتہائی بامعنی ہے جو تقوی کی راہ میں ذہنی تعاون کے لیے رکاوٹ ہیں 5۔
’’معمول کے مذہبی دلائل حقیقتِ اشیاء کو مکمل طور پر نہ کھنگالنے اور ماضی میں ایسی کسی تحقیق کی عدم ضرورت کی بدولت نفسیاتی طور پر فرسودگی کا شکار ہو گئے ہیں اور استدلا ل کے کچھ خاص تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے میں ناکامی سے دوچار ہیں۔ اگر ایک طرف انسانی معاشرے ِ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زوال کا شکار ہو جاتے ہیں تو دوسری طرف اپنی قدامت کے باوصف وہ خاطر خواہ تجربات فراہم کر لیتے ہیں اگرچہ ان تجربات میں غلطیوں کی آمیزش ہو سکتی ہے۔ یہ تناقض ایسی چیز ہے کہ مذہب کی کوئی بھی عملی تعلیم جس نے مؤثر ہونے کا قصد کر رکھا ہو اسے (تجربے) کی عمومی غلطی سے نئے احکامات اخذ کرنے کی بجائے برتر درجے کے استدلال کو استعمال کرتے ہوئے جذباتی کی بجائے تعقلاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے‘‘۔
اوسط درجے کے ایک مذہبی تناظر کی تمام تر تفصیلات کو جو کسی فرد کے صالح اجداد کے دینی تشخص کی بنیاد بنی ہو ں جدید دنیا میں برقرار رکھنے کی کوشش کا کم و بیش لازمی نتیجہ ذہنی المیہ ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال حضرت عیسی (علیہ السلام ) پر اس مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے جسے لکھنے کی دعوت، حال ہی میں ہمارے صفِ اول کے اخباروں کی طرف سے ایک یہودی ربی کو دی گئی۔ اس کا مقصد ایسی رائے لینا تھا جو تمام راسخ العقیدہ یہودیت کی نمائندہ رائے ہو۔ اس یہودی ربی کی تحریر کی بنیاد یہ سوال تھا کہ حضرت عیسی (علیہ السلام ) کو کس چیز نے یہ دعویٰ کرنے پر اکسایا کہ وہ مسیحا ہیں ؟ اسے اس بات پر اصرار ہے کہ ایک یہودی ہی اپنی قوم کی تاریخ کے بارے میں اپنے خصوصی علم کی بدولت اس سوال کا جواب دینے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ ایک یہودی کو اپنے اس علم کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحا کی آمد سے متعلق توقعات کبھی بھی اتنی شدید نہیں رہی تھیں جتنی کہ وہ اس خاص زمانے میں تھیں۔ خواہش سے بھرپور ایک طرح کی اجتماعی سوچ عام تھی جس نے اس بات کو تقریبا ناگزیر بنا دیا تھا کہ کوئی شخص خود کو اور دوسروں کو اس بات پر قائل کرے کہ اسے خدا کی طرف سے منصب ِ مسیحائی پر فائز کیا گیا ہے، یہودی ربی آگے چل کر حضرت (علیہ السلام ) کی انسانی حیثیت کے بارے میں بطریقِ احسن کلام کرتا ہے، وہ ان کی بہترین انسانی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے اور ان کے مسیحائی دعوؤں سے صرف ِ نظر کرتا ہے۔ یہ مضمون دین ِ عیسوی کے قیام کی خالصتاً نفسیاتی توضیح کی حیثیت سے کسی دوسرے شخص کے لیے راستہ ہموار کر دیتا ہے کہ وہ بعینہ ٰ اسی طرز ِ استدلال کی بنیاد پر یہودیت کو جھٹلا دے۔ دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ مصنف باعتبارِ زمان و مکان پہلی صدی کے فلسطین سے آگے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔
وہ عملِ تصلیب کا ذکر ایسے کرتا ہے کہ جیسے اس عمل ِ تصلیب نے مسیحائی کے جھوٹے دعوؤں کی تاریخ کے ایک باب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہو۔ مگر اس بات کا کیا ہو گا کہ اس ’جھوٹے مسیحا‘ نے روحانی اعتبار سے تین براعظموں کو کلی طور پر جبکہ چوتھے براعظم کو جزوی طور پر مسخر کر لیا ہے بلکہ پانچویں براعظم میں بھی اس کے قابل ِ ذکر اثرات اپنے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں اور پھر اس خدا کے بارے میں کیا کہا جائے گا جس نے اس قدر پھیلی ہوئی پائیدار اور مضبوط گمراہی کو وقوع پذیر ہونے کی اجازت دے رکھی ہے ؟
بالفاظ ِ دگر، کسی دوسرے مذہب کے بُطلان کا ممکنہ اظہار بومرنگ کی طرح پلٹ کر بطلان کرنے والے کے اپنے مذہب کی اصل پر ضرب لگاتا ہے۔ چونکہ خدا ہی ہر مذہب کی اصل ہے اور ایک خدا جو اتنے بڑے پیمانے پر گمراہی کی اجازت دیتا ہو، وہ لائقِ پرستش نہیں رہے گا حتی کہ ان منتخب لوگوں کے لیے بھی جنھیں اُس نے اِس گمراہی سے بچا لیا ہو۔
اس (روایتی اعتقادی) بنیاد پر نفسِ ایمان تبھی قائم رہ سکتا ہے جب ان سلسلہ ہائے فکر کی پیروی نہ کی جائے جن کی پیروی ناگزیر ہے اور کچھ بدیہی نتائج اخذ کرنے سے انکار کر دیا جائے یعنی محبت ِ الہٰیہ تو درکنار، ذہن کی پوری قوت کو بھی مزید استعمال میں نہ لایا جائے۔ ایسا عقیدہ دن بہ دن زیادہ سے زیادہ غیرمحفوظ ہوتا چلا جاتا ہے اور اگر دوسرے مذہب پر اعتراض اٹھانے والا ایک مذہبی آدمی اپنی زندگی آخری دم تک راسخ العقیدگی کے دائرے میں رہ کر گزار بھی لے تو بھی وہ اپنے دوسرے ہم مذہبوں کے عقیدے کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت کم وسائل کا حامل ہوتا ہے اور مسلسل اس خطرے سے دوچار رہتا ہے کہ کسی دن اسے یہ دیکھنا پڑے کہ اس کے بیٹے اور بیٹیاں لاادریت اور دہریت کی ذلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ جدید دنیا کے روحانیت دشمن دباؤ کی وجہ سے --- اور اس بات کا اطلاق خاص طور پر جدید تعلیم کے ضمن میں ہوتا ہے – ایک زیادہ آفاقی و روحانی تناظر کے مخالف پلڑے میں وزن زیادہ ہے۔ یہ آفاقی و روحانی تناظر جو کہ واحد برحق راستہ ہے جس کا مطلب ہے روح کے قرب کی طرف مراجعت اور اس لیے بہاؤ کے خلاف اور لہروں کے الٹ حرکت۔ دوسری طرف مذہب کے بارے میں ان غلط توجیہات کے بعد جو عقل پرستی اور جعلی منطق پر مبنی ہیں، لاادریت کی صورت میں یہ باطل حل سیدھا سیدھا مزید زوال کی جانب اگلا قدم ہے۔
ایک یہودی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت عیسی (علیہ السلام ) کے مسیحائی دعوؤں کو تسلیم کر لینے سے یہ لازم آئے گا کہ یہودیت منسوخ ہو چکی ہے اور عیسائی اسے یہ بتانے کے لیے دروازے پر چوکس کھڑے ہیں کہ ہاں، یہی اصل بات ہے۔ ایک یہودی خود کو عملی اعتبار سے غلط طور پر یہودیت اور عیسائیت میں سے کسی ایک کے انتخاب کے سوال سے نبردآزما متصور کر لیتا ہے۔ مگر یہ ممکن ہے – اور یقینی طور پر یہی ایک حل ہے جسے کچھ راسخ العقیدہ یہودیوں نے انفرادی طور پر اختیار کر رکھا ہے 6۔ ۔۔ کہ کم از کم حضرت عیسی (علیہ السلام ) کے متعلق حتمی قول نہ کیا جائے بلکہ ان کی بعثت ِ اول میں آخری اور تکمیلی مسیحائی ظہور کے پیشگی آثار کو قبول کر لیا جائے درآنحالیکہ تورات اور زبور میں موجود منزل من اللہ امورِ یقینیہ پر اعتقاد کو تسلسل کے ساتھ قائم رکھا جائے۔ اُن یہودیو ں کے لیے جو عیسائیت کے ابتدائی کامیاب ترین دور میں بھی یہودیت پر قائم رہے اِس حقیقت کو کہ مسیحائی مشن ابھی مکمل طور پر پورا نہیں ہوا، اس بات کی علامت کے طور پر لیا جا سکتا ہے کہ یہودیت ابھی مکمل طور پر منسوخ نہیں ہوئی اور یہ بات یہودیوں کے لیے حضرت موسی (علیہ السلام ) کے مذہب پر قائم رہنے کا ایک جواز ہے۔
ایک یہودی کے لیے یہ بات نسبتاً آسان ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے بارے میں اپنے اصولی موقف کا اظہار نہ کر کے مسلک ِ دوام (religio-perenis) کے تناظر کے قریب پہنچ جائے۔ چونکہ یہودیت عالمی مذہب نہیں ہے اس وجہ سے ایک یہودی اپنے ضمیر کو زیرِ بار کیے بغیر، انسانیت کے دوسرے طبقات کا معاملہ اس یقین کے ساتھ قدرت کے سپرد کر سکتا ہے کہ قدرت خود ان سے نمٹ لے گی۔ اِس کے برخلاف ایک عیسائی جو اس اعتبار سے خود کو قدرت کا ایک منتخب آلہ کار محسوس کرتا ہے --- گو کہ وہ قدرت کا آلہ کار ہے مگر کچھ حدود کے اندر۔اُس کے لیے اِن حدود کو تسلیم کرنے سے چرچ کے انکار کا نتیجہ ایک ایسے تناظر کا قیام ہے جو جدید دنیا میں خطرناک طور پر الحاد کی حدوں کے قریب جا پہنچتا ہے۔
The Call of Minaret نامی کتاب کو شائع ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں اور اب یہ سمجھنا ٹھیک ہے کہ تب سے اب تک اِس کتاب کے مصنف کے خیالات ایک زیادہ آفاقی سمت میں گامزن ہو چکے ہیں۔ بہرطور، یہ کتاب اس المیے کی سچی آئینہ دار ہے جو اکثر عیسائیوں کو درپیش ہوتا ہے بالخصوص چرچ کے وہ مذہبی منصب دار اور مشنری اس المیے کا شکار ہوتے ہیں جنھیں اسلا م کے ساتھ قریبی رابطے کا اتفاق ہوتا ہے اور جو بطور مذہب اسلام کی طاقت اور اس کی کاملیت سے گہرے طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک طرف تو ان کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ حضرت محمد (ﷺ) کو ’جھوٹا پیغمبر‘ کہنے پر اڑے رہیں اور دوسری جانب وہ اپنے اس دعوی کو چھوڑنے کی جرات نہیں رکھتے یا وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے کہ ’جذبہ مسیح‘ ہی انسانی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کتاب کے عنوان کی رمز یہ ہے کہ عیسائیوں کو چاہیے کہ وہ اذان کو اپنے دینی فریضے کی یاد دہانی کی حیثیت سے لیں اور وہ فریضہ ہے مسلمانوں میں حضرت عیسی (علیہ السلام) کے بارے میں اس عقیدے کی بازیافت جو مسلمانوں کے ہاں مفقود ہے۔ مصنف مزید لکھتا ہے کہ (عیسائیوں کے ) روایتی عقیدے میں موجود ذاتِ مسیح ایک تاریخی ہستی ہے جس سے فرار اختیار کرنا ناممکن ہے۔ حضرتِ مسیح کی یہی تاریخی شخصیت ہمیں دنیائے اسلام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ یہ سوال کہ ہم یہ کیسے کریں، اپنی جگہ ایک مشکل امر ہے اور ایک بھاری ذمہ داری۔ (مصنف کے ) یہ آخری الفاظ اس مسئلے کا ناکافی بیان ہیں۔ یہ بات تقریباً ناممکن ہے کہ پختہ عمر کے مسلمانوں سے عیسوی عقیدہ نجات قبول کروا لیا جائے کیونکہ ان کے پاس ایک دوسری شکل میں فضلِ الہی اور رحمت ِ خداوندی کے بارے میں ایک مکمل عقیدہ پہلے سے موجود ہے جس میں حضرت مسیح کی تاریخی شخصیت کوئی کردار نہیں رکھتی، اگرچہ اسلامی عقیدہ میں وہ ایک بہت کریم اور عظیم الشان شاہد کے طور پر موجود رہتے ہیں۔ قرآن کریم اُن کا ذکر کلمتہ اللہ اور روح اللہ کے طور پر کرتا ہے اور حضرت محمد (ﷺ) نے ان کے ظہورِ ثانی کی تصدیق فرمائی ہے۔ ایامِ ملوکیت میں ایک خلیفہ کی درازی عمر کی دعا کرنے کے روایتی طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ خلیفہ سے یہ کہا جائے : خدا آپ کو ایسی عمر ِ دراز عطا کرے کہ آپ زمامِ اقتدار خود اپنے ہاتھوں سے حضرت عیسی ابن مریم (علیھما السلام ) کے سپرد کریں۔ مگر حضرت مسیح کو اسلام کی اندرونی ساخت کا حصہ بنانا ناممکن ہو گا کیونکہ یہ عمارت پہلے سے ہی مکمل ہے اور کامل ہے۔ قدرت چودہ سو سال تک اس انتظار میں نہیں لگی رہی کہ کوئی عیسائی مشنری آ کر (اس عمارت کا ) سنگ ِ بنیاد رکھے۔
مذکورہ مصنف ان حوالوں سے کچھ شکوک میں پڑے دکھائی دیتے ہیں اور اُن کے ہاں برہمی کے شعلے وقتا فوقتا لپکتے رہتے ہیں جیسا کہ مصنف کے اقوال ’اسلام عقیدہ مسیح کو بے دخل کرنے والی سب سے بڑی قوت کے طور پر ثابت ہو چکا ہے ‘اور یہ کہ ’عیسوی ذہن کے لیے اسلام کا عروج ہمیشہ ایک تکلیف دہ امر ہو گا ‘۔ اگرچہ اپنے تئیں مصنف غیرمعمولی مشکلات کا ذکر کرتا ہے لیکن فی الواقع اس کتاب میں شروع سے لےکر آخر تک کچھ بھی غیرمعمولی نہیں ہے اور یہی اس کتاب کی کمزوری ہے۔ ایسی کسی بنیاد پر خدا کو ذہن کی پوری قوت کے ساتھ چاہنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بشپ آف گلڈ فورڈ کی کتاب7 ’’The New Threshold‘‘ پر بعینہٰ یہ تنقید نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کتاب میں سینٹ جسٹن شہید (St. Justin Martyr) کی کتاب ’’Apology ‘‘ سے ایک برمحل اقتباس کی شکل میں آفاقیت تک رسائی کا کم از کم ایک قابل ِ ذکر ذریعہ موجود ہے۔ نجات دہندہ کی حیثیت سے حضرت مسیح کے امتیاز کو سینٹ جسٹن شہید کی کتاب ’’Apology‘‘ میں کلمہ کی سطح پر واضح کیا گیا ہے اور وجود کے ان ادنیٰ دائروں کو اس میں دخل نہیں دیا گیا جو ہمیشہ کثرت کی زد میں رہتے ہیں۔ اِس نقطہ نظر کے اعتبار سے نجات دہندگی کے عمل کا تعلق حضرت مسیح کی الوہی فطرت سے بنتا ہے، نہ کہ ان کی انسانی فطرت کے ساتھ اور چونکہ اس طرح یہ (عمل ِ نجات دہندگی) زمان و مکان سے ماورا ہو جاتا ہے اِس لیے اسے کسی تاریخی واقعے کی حد تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں یہ تعلیم کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح خدا کا ظہورِ اولیں ہیں اور ہم اس کا یقین حاصل کر چکے ہیں کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں جس کے سبب سے انسان کی ہر نسل کو فیض پہنچتا ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے ماضی میں اس کلمہ کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی تھی اگرچہ وہ خدا کے منکر ہی کیوں نہیں تھے جس طرح کہ سقراط، ہیراقلیطوس یا ان کی مثل دوسرے یونانی اور وہ لوگ بھی جو اب اس حالت میں جی رہے ہیں وہ سب عیسائی ہیں خوف سے مامون اور اضطراب سے محفوظ 8۔
عیسائیوں کے لیے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی نسبت درست ترین نقطہ نظر کی حیثیت سے سینٹ جوسٹن کے نقطہ نظر کی یاد دہانی کروانے کی غرض یہ ہے کہ بشپ آف گلڈ فورڈ واضح طور پر اس نقطہ نظر کے ناقابل ِ فرار ضمنی نتائج پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے کہ نجات دہندگی کا عمل دوسرے (مذہبی ) پیرائیوں میں بھی ویسے ہی بروئے کار آتا ہے جس طرح کہ جذبہ مسیح کے عیسوی عقیدہ میں۔ اس نقطہ نظر کے برعکس یہ دعوی کہ عالم کثرت میں رحمت ِ الہٰیہ جو کہ بہ اعتبارِ تعریف ہی لامتناہی ہے اسے کسی واحد موثر عملِ نجات کے دائرے میں بند ہو جانا چاہیے، اصولی اعتبار سے ایسی چیز ہے جسے ایک مابعد الطبیعیاتی مفکر آمادگی کے ساتھ قبول نہیں کر سکتا، اس سے قطع نظر کہ اس دعوی کے خلاف عاجز کر دینے والی ٹھوس شہادت موجود ہے۔ یہ بات تسلیم کیے جانے کے لائق ہے کہ اکثریت کو اقلیت کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا ؛ کچھ دعوے ممکن ہیں جو ماضی میں نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہوں لیکن اکثریت کے لیے اب ان کی حیثیت روز افزوں طور پر مشتبہ ہے جب کہ اہل فکر کی اقلیت کے لیے وہ دعوے مہلک ہیں۔ ایسے عیسائی موجود ہیں جن کے لیے انجیل اور زبور کے بعد سب سے زیادہ مقدس کتاب بھگوت گیتا ہے اور ہندومت کی یہ مذہبی کتاب اس بات کی ناقابل تردید اور بلیغ شہادت دیتی ہے کہ حضرت مسیح کے علاوہ کرشنا کی ذات میں نجات دہندگی کا الوہی ظہور عمل میں آیا ہے اور کرشنا کے وسیلہ سے بدھا سمیت دوسرے ہندو اوتاروں میں جیسا کہ فرتھجوف شوآن رقم طراز ہیں :
’’ہر مذہب کے شرعی مجموعہ قوانین کی صورت گری اس کے اعتقادی تقاضوں اور دوسرے مذاہب کے ساتھ تصادم کی نسبت رکھنے والی اس کی تاریخی بشارتوں کے درمیان عدم تناسب کی بنیاد پر ہوتی ہے کیونکہ یہ اعتقادی تقاضے مطلق ہوتے ہیں جیسا کہ یہ ارادہ الہٰیہ سے ماخوذ ہوتے ہیں اور اس لیے علم ِ الہٰیہ سے بھی۔ جبکہ اس (شرعی مجموعہ قوانین ) کی بشارتیں اضافی چیز ہیں کیونکہ ان کا انحصار ارادہ الہٰیہ پر نہیں ہوتا ہے اور ان کی بنیاد علم ِ الہٰیہ کی بجائے انسانی نقطہ نظر پر ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ انسانی عقل اور جذبے پر مبنی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر عیسائی مشنریوں کی جانب سے برہمنوں کو مکمل طور پر وہ مذہب چھوڑنے کی دعوت دی جاتی ہے جو کئی ہزار سال تک قائم رہا ہے، اور جس نے بے شمار نسلوں کو روحانی سہارا فراہم کیا ہے اور ہمارے زمانے تک آتے آتے جس نے حکمت و تقدس کے گل ہائے زیبا کو شگفتگی بخشی ہے۔ اس غیرمعمولی تقاضے کو جواز فراہم کرنے کے لیے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں وہ دلائل ا ز روئے دانش مندی اس تقاضے کا منطقی لزوم ہونا ثابت نہیں کرتے۔ مزیدبراں، یہ دعوی جس قدر بڑا ہے اُن دلائل کو اس سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ برہمنوں کے پاس اپنے روحانی ورثے کے ساتھ وفادار رہنے کے لیے جو وجوہات ہیں وہ ان سے کہیں مضبوط ہیں جن وجوہات کی بنیاد پر انہیں اپنا مذہبی تشخص ترک کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہندو نقطہ نظر سے، برہمنی روایت کے قطعی طور پر حقیقی ہونے اور مخالف مذہبی دلائل کے ناکافی ہونے میں اس قدر عدم تناسب یہ ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہے کہ اگر خدا نے دنیا کو کسی ایک مذہب کے حوالے کرنے کا ارادہ فرمایا ہوتا تو اس مذہب کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اس قدر کمزور نہ ہوتے اور نام نہاد مشرک کہلائے جانے والے مذاہب اتنے مضبوط نہ ہوتے۔ اگر خدا کسی ایک مذہبی شریعت کے حق میں ہوتا تو کوئی بھی سلیم الفطرت آدمی اس مذہب کے حق میں دیے جانے والے دلائل کے مقابلے میں مزاحمت کرنے کے قابل نہ ہوتا‘‘9۔
آئیے، عیسائیوں کے لیے ہندومت کی ثقاہت کے اعتراف کی غرض سے لکھے گئے اس اقتباس کے ساتھ، مندرجہ ذیل اقتباس کو ملا کر دیکھتے ہیں جو کہ عیسائیوں کو مخاطب بنا کر اسلام کے اثبات کے لیے لکھا گیا ہے :
’’یہ بات کہ خدا ایک ایسے مذہب کو قائم ہونے کی اجازت دے سکتا ہے جو ایک آدمی نے انسانیت کے ایک حصے کو فتح کرنے اور آباد دنیا کے چوتھے حصے میں ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک خود کو قائم رکھنے کے لیے ایجاد کیا اور یوں محبت، ایمان اور بے شمار مخلص اور مشتاق روحوں کی امید کو دھوکہ دیا۔ یہ بات رحمتِ الہٰیہ کے قوانین کے خلاف ہے یا دوسرے لفظوں میں آفاقی امکان کے اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔ اگر حضرتِ مسیح کلمہ کا واحد ظہور ہوتے ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ کلمہ کا ایسا ظہور ممکن ہے ، تو ان کی پیدائش کا اثر یہ ہوتا کہ یہ کائنات فوری طور پر راکھ کا ڈھیر ہو جاتی‘‘ 10۔
بعد ازیں، اسلامی شریعت کی حدود کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہودیت اور عیسائیت کے برعکس اسلام اس دورانِ وقت کے آخری مذہب کی حیثیت سے اپنے قلعہِ خاتمیت میں رہ کر دوسرے مذاہب کے لیے فیاضی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ مزید براں، اس دوران ِ وقت میں اس کی یہ حیثیت ِ خاتمیت اس پر بطور جامع الادیان یہ ذمہ داری عائد کر دیتی ہے کہ یہ انصاف کے ساتھ ماسبق کو بیان کرے یا کم از کم جن چیزوں کو یہ بالتخصیص بیان نہیں کرتا ، ان کے بارے میں موقف سازی کا دروازہ کھلا رکھے۔
ترجمہ: ’’بے شک، ہم نے آپ (یعنی حضرت محمد ﷺ) سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں جن میں سے بعض کے بارے میں ہم نے آپ کو مطلع کر دیا ہے اور بعض کے بارے میں ہم نے آپ کو کوئی خبر نہیں دی‘‘ (سورۃ المومنون، آیت نمبر 78)۔
ہم اس آیت کریمہ کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں :
ترجمہ: ’’ بے شک اہل ایمان (یعنی مسلمان ) اور یہودی اور صابی11 اور عیسائی جو کوئی بھی خدا پر اور آخرت پر ایمان لایا اور جس کسی نے بھی اعمالِ تقوی اختیار کئے، نہ تو ان کو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی کوئی پچھتاوا‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت نمبر 69)۔
اسلامی تہذیب کے دائرے میں یہودیت اور عیسائیت دونوں کے لیے جگہ موجود ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہیکل اور کلیسا اور یہودیوں اور عیسائیوں کے مقاماتِ مقدسہ کو تحفظ فراہم کریں۔ اندلسی یہودیوں کے لیے یہ ایک آفت تھی جب عیسائیوں نے اندلس کو بارِ دگر فتح کیا تھا۔
تاہم اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اسلام کے مقتدرہ طبقات دوسرے مذاہب کے مقتدر طبقات کی نسبت روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کی خاطر تعقل کے پہلو کو قربان کرنے کے لیے کم آمادہ نہیں رہے۔ اس امر کو ماننے کے لیے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اکثریت یہ تسلیم کرنے کے لیے بہت پرجوش رہی کہ اسلام نے دوسرے تمام مذاہب کو منسوخ کر دیا ہے اس لیے روئے زمین پر ایک اکیلا اسلام ہی مستند مذہب ہے۔ مسلمان متکلمین اور فقہاء کے دعویٰ اگرچہ کتنے ہی مطلق کیوں نہ ہوں لیکن ان دعوؤں کو وہ رواداری اضافی بنا دیتی ہے جسے اسلام یہودیت اور عیسائیت کے معاملے میں مسلمانوں پر واجب کر دیتا ہے۔ اس کا مکمل شعور اگرچہ معدودوے چند لوگوں کو ہوتا ہے کہ شک کی اس آمیزش کے ساتھ مذکورہ دعوے ضروری طور پر عقل کے لیے ناقابل قبول نہیں ہیں اور لازماً ایک مفکر کو خدا کے ساتھ ازروئے عقل تعلق پیدا کرنے سے نہیں روکتے مگر شرط یہ ہے کہ وہ مفکر اسلامی تہذیب کے دائرے کے اندرہی رہے جو اسے اس اخراجیت پسندی کے تمام اطلاقات بروئے کار لانے سے روکتی ہے۔
لیکن ایک دفعہ جب ہم اسلامی تہذیب کی متعین حدود سے باہر نکلتے ہیں تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ ایک پختہ عقل زیادہ سے زیادہ ایسے دعوی قبول کر سکتی ہے جو فطری طور پر اس امر سے منتزع ہوتے ہیں کہ اسلام زمین پر سب سے آخری الوہی مداخلت کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن یہ دعوے لائق توجہ ہونے کے باوجود اضافی ہیں نہ کہ مطلق12 اور اس بات کو تسلیم کئے بغیر ایک مسلمان مفکر جدید دنیا میں ذہنی قرار حاصل نہیں کر پائے گا۔ تاہم ایک مسلمان مفکر کے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قرآن کریم کے وہ حصے جن پر متکلمین کی اخراجیت پسندی کی بنیاد پڑی ہے ان پر ایک ہی نظر ہی اس بات کو ظاہر کر دیتی ہے کہ زیرِ غور آیات عمومی تعبیر کی نسبت ایک زیادہ گہری اور آفاقی تعبیر کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان آیات میں سے ایک آیت مندرجہ ذیل ہے :
ترجمہ: ’’خدا ہے وہ ذات جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ وہ اس دین کو دوسرے تمام ادیان پر غالب فرما دے اگرچہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی بری کیوں نہ لگے ‘‘ (سورۃ التوبہ، آیت نمبر 69)۔
اس آیت کریمہ کی تعبیر محدود یا وسیع دونوں معانی میں کی جا سکتی ہے۔ اس کا فوری مفہوم واضح طور پر محدود مفہوم ہے : پیغمبر سے مراد حضرت محمد (ﷺ) ہیں اور دین ِ حق سے مراد پیغام ِ قرآنی ہے اور مشرکین سے مراد عرب، ایرانی، بربر اور کچھ دوسرے مشرکین ہیں۔ لیکن ان الفاظ کے متعلق کیا کہا جائے گا، ’تاکہ وہ اس دین کو دوسرے تمام ادیان پر غالب فرما دے‘۔ یہ ہے وہ نکتہ جس میں اس سارے معاملے کا جوہر پوشیدہ ہے۔
جدید تعلیم کے نقصانات جو کچھ بھی ہوں مگر یہ دنیا کی تاریخ اور جغرافیے کے متعلق ایک ایسا تصور پیدا کرنے میں معاونت کرتی ہے جو روایتی تہذیبوں کے افراد کے تصور کے مقابلے میں زیادہ عالمگیر ہے۔ روایتی تہذیبیں جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے تفریق اور داخل بینی کی طرف زیادہ مائل ہیں ۔ وسعتِ علم رحمت اور زحمت دونوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے مگر جہاں یہ موجود ہو اس کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ یہ جدید دنیا میں رہنے والے ایک ذہین مسلمان کی تقدیر ہے کہ وہ جلد یا بدیر، اچانک یا بتدریج اس کا ادراک کرے کہ نا صرف یہ کہ پیغام قرآنی کو باقی تمام مذاہب پر غالب نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی کہ ایسا نہ ہونے کی مکمل ذمہ داری خود قدرت کے سر ہے۔ اس اعتراف کا دھچکہ اس کے ایمان کو غارت کر سکتا ہے الا یہ کہ وہ یہ سمجھنے کے قابل ہو کہ محولہ بالا آیت ایک وسیع تر معنویت کی حامل ہے۔ قدرے محدود معنوں میں ’تمام مذاہب‘سے صرف یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ اس خطہ زمین کے تمام مذاہب جہاں سے آپ کا تعلق ہے۔ لیکن اگر ’تمام ادیان ‘کو مطلق معنی میں سمجھا جائے اور اگر’مشرکین‘ میں جرمن اور کیلٹک ( Celtic) لوگوں کو شامل کر لیا جائے جن میں سے اکثر ظہور ِ اسلام کے وقت ابھی مشرک تھے تو پھر ’دین ِ حق‘ کا اطلاق بھی وسیع معنوں میں ہونا چاہیے اور ’باردگر‘ کے الفاظ کو بھی سمجھا جانا چاہیے جس کا مطلب ہے خدا وہ ذات ہے جس نے ایک دفعہ پھر اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا کیونکہ خدا نے اس سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے ہیں اور انہیں بھی حق کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ نہیں بھیجا۔ خود اسلام کی اصطلاح کی طرح دوسرے تمام سچے ادیان کو اس میں شامل کرنے کے لیے دین حق کو بھی آفاقی معنوں میں لیا جا سکتا ہے۔ قرآن اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی ٰ اور حضرت عیسی (علیھم السلام) کے دین کو بھی اس کے لغوی معنوں میں اسلام کہا جا سکتا ہے جس کا مطلب ہے خدا کے سامنے خود سپردگی۔ اس مفہوم میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا گیا ہے13 لیکن محدود معانی کے اعتبار سے اسلام کو صرف دنیا کے ایک محدود علاقے میں باقی تمام مذاہب پر غالب کیا گیا۔ قرآن کریم کو نازل ہوئے اب چودہ سو برس ہو چکے ہیں اور قدرت نے قرآن کریم کے علاوہ دوسرے ادیان ِ حق کو نصف دنیا سے زائد علاقوں میں پیغام قرآنی کی اشاعت کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر باقی رہنے دیا ہے۔
بعینہٰ، اسی پس نظر میں ان آیات کو سمجھنا چاہیے جو اس بات کا اثبات کرتی ہیں کہ حضرت محمد (ﷺ) کو تمام انسانوں14 کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ ان آیات کو اُس مفہوم کی نسبت کم تسلط آمیز مفہوم میں سمجھنے کی ضرورت ہے جس مفہوم میں مسلمان دوسرے مذاہب اور ان مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں بہت تھوڑے علم یا مکمل لاعلمی کی بنا پر صدیوں تک ان آیات کو سمجھتے چلے آئے ہیں۔ یہاں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ یہودیت اور ہندومت کے برعکس اسلام عالمی مذہب ہے لیکن قرآن کریم اس کا انکار نہیں کر رہا کہ بدھ مت اور عیسائیت بھی عالمی مذاہب ہیں اور قرآن کریم نے اسے کم از کم اصولی اعتبار سے ہر آدمی کے لیے غیرمتعین چھوڑ دیا ہے۔ یہ آخری الفاظ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ خدا وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے15 اور ہمارے پاس اس حوالے سے اس کی منشاء کو جاننے کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ ہم نتائج16 کے ذریعے سے اس کی منشاء کے بارے میں علم حاصل کریں۔ پچھلے دو ہزار سال میں اقوام کے اعتبار سے دنیا کی جغرافیائی تقسیم جس طرح سے رہی ہے اس کے لحاظ سے ایک دیدۂ بینا رکھنے والے مسلمان اور عیسائی دونوں کے لیے یہ جاننا آسان ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے ایک خاص حصے میں قدرت نے بدھ مت کو محیر العقول پذیرائی بخشی جبکہ اسلام یا عیسائیت کے لیے اس خاص علاقے میں کم اسباب میسر ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک مسلمان کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ایک دوسرے علاقے میں قدرت نے باقی مذاہب کی نسبت عیسائیت کے لیے زیادہ آسانیاں فراہم کی ہیں اور یہ بات بھی اس کا نکتہ نظر بدلنے کے لیے کافی نہیں ہو گی کہ ان دو علاقوں کے درمیان ایک تیسرے جغرافیائی خطے میں قدرت سب سے بڑھ کر اسلام پر مہربان رہی ہے کیونکہ اگر خدا نے واقعی اسلام یعنی دین محمدی (ﷺ) کو پوری دنیا میں پھیلانے کا ارادہ کیا تھا جیسا کہ ایک مسلمان یقین رکھتا ہے تو پھر اُس (خدا) نے اس قدر وسیع علاقے میں اسلام کی اشاعت کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹیں کیوں پیدا کیں؟17
قریب ترین مثال لی جائے تو قدرت برطانیہ میں اس وقت شرک کا خاتمہ کر رہی تھی جب قرآن کریم نازل ہو رہا تھا۔ عیسائیت کی صورت میں دین ِ حق کو دوسرے ادیان پر غلبہ دیا جا رہا تھا اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار تھی اور چونکہ قدرت کی طرف سے مداخلت معمولی درجہ کی نہیں ہوتی اس لیے عیسائیت کو ایسی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جا رہا تھا تاکہ پیغام قرآنی اسلامی تہذیب کے عروج کے زمانے میں بھی عیسائیت پر غلبہ پانے کے قریب نہ آ سکے۔ اور پھر قدرت کے لیے کچھ سال انتظار کر لینا اور برطانیہ کو نئے مذہب کی طرف پھیر دینا آسان ہوتا بجائے اس کے کہ اس نئے مذہب کے سامنے ایسی رکاوٹ کھڑی کرنی پڑی۔ اگر کسی کو جواب کی ضرورت محسوس ہو تو اس سوال کا جواب اگلی آیت میں پایا جاتا ہے جسے کافی لوگ پیغمبر کی طرف بھیجی جانے والی آخری آیات میں شمار کرتے ہیں اور بہرصورت جس آیت کا تعلق اس دور سے ہے جو دور حضرت محمد (ﷺ) کے فریضہ نبوت کی تکمیل کا دور تھا۔ اس آیت کا نزول بالذات غیرمعمولی اہمیت کے حامل اس دوران ِ وقت کے اس لمحے کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو کہ اس دوران ِ وقت کے آخری عرصے میں آسمان سے زمین کی طرف بلاواسطہ نزول ہدایت کا آخری موقع ہے18۔ قرآں کریم کی آخر میں نازل ہونے والی بہت ساری آیات کا تعلق اس نئے مذہب کی تکمیل اور کاملیت کے ساتھ ہے۔ لیکن یہ آیت بہ اعتبارِ کل انسانیت کے لیے آخری اور ابدی پیغام ہے جس میں قرآن کریم وضاحت کے ساتھ زمین پر موجود مختلف راسخ العقیدہ مذاہب کے پیروکاروں کو مخاطب کرتا ہے اور کوئی بھی دوسرا پیغام اس زمانے کے لیے جس میں ہم رہ رہے ہیں اور بالخصوص ان آخری دنوں میں انسان کے ذہنی بحران کے حل کے لیے اس قدر برمحل نہیں ہو سکتا تھا:
ترجمہ: ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے راستے اور شریعت کا تعین کر دیا ہے اور اگر خدا19 چاہتا تو تمہیں ایک امت بنا دیتا۔ لیکن (اس نے اس کے خلاف چنا ہے ) تاکہ وہ اس میں سے تمہارا امتحان کرے جو کچھ اس نے تمہیں عطا کیا ہے20۔ اس لیے نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے رہے وہ ان کے بارے میں تمہیں مطلع کر دے گا‘‘(سورۃ المائدہ، آیت نمبر 48)۔
حواشی و حوالہ جات
- سینٹ مارک (باب پنچم، آیت نمبر تیس )۔ Deuteronomy، (باب ششم، آیت نمبر پانچ )۔ جس کا یہاں حوالہ دیا گیا ہے وہاں عنصر ذہن کا الگ سے ذکر نہیں کیا گیا جس سے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ٹھیٹھ فنی اصطلاح میں بات کی جائے تو ذہن نفسی قابلیت ہی ہے اور اس لیے نفس کے لفظ میں اس کا مفہوم مخفی طور پر موجود ہے۔ دوسری جانب سینٹ میتھیو (باب بائیس، آیت نمبر سینتیس ) میں عنصر قوت مذکور نہیں ہے اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ جسمانی توانائی اور صلاحیت ِ برداشت دونوں پر ارادے کا غلبہ ہوتا ہے اور ارادہ بجائے خود نفسی قابلیت ہے۔
- باب نمبر بارہ، Harper and Row، 1975
- جیسا کہ فرتھجوف شوآن نے لکھا ہے: ان لوگوں کے لیے جو ایک نئے مذہب کے بانی کے ساتھ بلاواسطہ تعلق میں آجاتے ہیں متبادل کا انتخاب نہ ہو نا خود پیغمبر کی مطلق عظمت کے لازمے کی حیثیت سے مطلقاً ثابت ہو جاتا ہے۔ مزید براں، مذہب کے ابتدائی مگر مختصر زمانہ ِ مطلقیت میں مذہب کا دائرہ اثر کافی حد تک متعین ہو جاتا ہے لیکن گزران ِ وقت کے ساتھ نئے اور پرانے مذہب کے درمیان لازمی طور پر توازن قائم ہو جاتا ہے، جس قدر یہ توازن بڑھتا چلا جائے کچھ لوگوں پر پرانے مذہب کے اثرات کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
- گریزاں اور داخل بیں، یہ وہ اسمائے صفات ہیں کینتھ کریگ نے جن کا اطلاق مشرقی چرچ پر کیا ہے۔ Call of the Minaret) ) نامی کتاب میں مشرقی کلیساؤں پر وہ شدید تنقید کرتا ہے کہ عملاً انہوں نے صدیوں تک اسلامی مشرق کو عیسائی بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ کینتھ کو اس بات کا خیال نہیں رہا کہ مذکورہ خوبیاں برائی کی نسبت اچھائی کے زیادہ قریب ہیں اگرچہ ان میں عیسائی مشنریوں کے لیے بہت کم سہولت ہی کیوں نہ ہو۔ مزید براں، 'الگ تھلگ ہو جاتا' ایک مشکل میدان میں قدم رکھنے سے بچنے کے لیے جزوی طور پر تحت الشعوری غیرآمادگی بھی ہو سکتی ہے۔
- فرتھجوف شوآن، اسلام اور حکمت ِ خالدہ، ورلڈ آف اسلام فیسٹیول پبلشنگ کمپنی، لندن 1976۔ اشاعت ِ ثانی (لاہور): سہیل اکیڈمی، 2000، صفحہ نمبر 53
- عیسائیت کی جانب یہودیت کے مجموعی مثالی رویے اور اس رویے کے نہ سمجھے جانے کی وجوہات کو جاننے کے لیے دیکھیے، فرتھجوف شوآن کی کتاب ’’اسلام اور حکمت خالدہ‘‘، صفحہ نمبر 58
- یہ کتابچہ مسلمان گروہوں کے ساتھ تعلقات کے باب میں چرچ کے لیے ہدایات کے ذیلی عنوان کے ساتھ حال ہی میں ورلڈ آف اسلام فیسٹیول کے موقع پر شائع کیا گیا ہے۔
- Logos – First Apology, Section 46 کے ترجمہ کے لیے لفظ (Reason)کی جگہ ہم نے (Intellect) کا لفظ استعمال کیا ہے۔
- اس مضمون کا عنوان (With All Thy Mind) فرتھجوف شوآن کے زیادہ تر حوالوں کو لازمی بنا دیتا ہے کیونکہ اس کی تحریریں مذہب کے معاملے میں عقل کو اس کا لازمی مقام دینے کے اعتبارسے رہنما کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تحریریں اس حد سے زیادہ عقل تک محدود ہیں جس حد تک خود عقل کو اس کے دائرے تک محدود کیا جا سکتا ہے کیونکہ عقل کے مکمل بروئے کار آنے میں اس کی بلند تر رسائیاں بلاواسطہ قلب پر اپنا انحصار رکھتی ہیں۔ فرتھجوف شوآن کی تحریروں کا تعلق سب سے بڑھ کر ذہن، اعلی اور ادنی ٰ کے درمیان ربط قائم کرنے والی تعقلاتی قوتوں اور قلب سے ہے۔ یعنی ایک ایسے مبحث کے ساتھ جس کا احاطہ ’’منطق اور ماورائیت‘‘ (Logic and Transcendence) کے لفظوں سے کیا گیا ہے اور یہ الفاظ بجا طور پر فرتھجوف شوآن کی زیادہ ترکتابوں کے لیے عنوان کے طور پر کام آ سکتے ہیں جس طرح کہ یہ اس کی ایک کتاب کا عنوان ہے۔ تاہم کسی غلط تاثر سے بچنے کے لیے اس بات کا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ نفس کے متعلق جہاں شوآن نے کچھ ایسے ازکار رفتہ انسانی دلائل کو در کیا ہے جو دلائل ماضی میں ’’With All Thy Soul‘‘ کے مقصد کو پورا کرنے میں کام آتے تھے وہاں وہ ان پرانے دلائل کی جگہ ایک بلند تر سطح کے دلائل فراہم بھی کرتا ہے۔ معدودے چند لکھنے والے اس حوالے سے فنون ِ مقدسہ کی اہمیت کو اس وضاحت کے ساتھ ثابت کر سکے ہیں اور حالیہ صدیوں میں اور کون ہے جس نے اتنی گہرائی کے ساتھ اور اخلاقی بنیادوں کے برعکس دوسری بنیادوں پر خیر کی ضرورت کے متعلق لکھا ہو۔
- ایضاً، صفحہ نمبر 20
- اس بات پر کوئی عمومی اتفاق نہیں ہے کہ یہاں کون سے مذہب کی بات کی جا رہی ہے اور کچھ مسلم حکمرانوں نے انڈیا میں یاادھر ادھر اس نام کو غیر مسلم، غیرعیسائی اور غیر یہودی شہریوں کی طرف رواداری کی بنیاد بنایا ہے۔
- مثال کے طور پر ایک راسخ العقیدہ یہودی جسے عبرانی زبور سے بہت محبت ہے وہ اپنے مذہب کو نہ چھوڑنے اور ایسے مذاہب کو قبول نہ کرنے میں حق بجانب ہو گا جن کی مذاہب کی بنیاد اس وحی پر ہے جس وحی کی زبان وہ نہیں جانتا۔ یہاں وہ اپنی تائید کے لیے قرآنی دلیل پیش کر سکتا ہے۔
- جس آیت کا ہم یہاں جائزہ لے رہے ہیں وہ آیت حضرت مسیح کے ان الفاظ کے متوازی ہے، ’’آسمانی بادشاہت کا اعلان کرنے والے اس صحیفہ کی تبلیغ تمام دنیا میں کی جائے گی۔ اس کے بعد پھر قیامت واقع ہو جائے گی‘‘۔ یہ الفاظ بھی بعینہٰ محدود اور آفاقی تعبیر کے متحمل ہو سکتے ہیں اِس اعتبار سے کہ دنیا سے کیا مراد لی جاتی ہے۔ وسیع معنوں میں اس بشارت کا پہلا حصہ سچ ثابت ہو چکا ہے جس طرح کہ زمین پر رہنے والی ہر قوم تک اس صحیفہ آسمانی کی رسائی بہت آسان ہو چکی ہے اور صحیفہ آسمانی سے مراد دین ِ حق ہے کم از کم دین حق کا ایک ظہور۔
- قرآن کریم، سورت نمبر 34، آیت نمبر 28
- قرآن کریم سورت نمبر 2، آیت نمبر 253
- جس کا مطلب ہے عظیم الشان اور برقرار رہنے والے وہ نتائج جنھیں صدیوں آزمایا گیا ہے۔
- اس سوال کے جواب میں کچھ متکلمین کا پوری سنجیدگی کے ساتھ موقف یہ رہا ہے کہ خدا نے بلاشک و شبہ انسانوں کی اکثریت کو گمراہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور حکمتِ الہٰیہ کے بارے میں سوال اٹھانا ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس بنیاد پر ایمان منتشر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسی منطق کی مدد سے ذہن چھپ چھپا کر خود کو محبت سے محروم کر لیتا ہے اور اس وقت وہ خدا جو کہ محبت کا حقیقی معروض ہے اس کی سب سے زیادہ بنیادی صفات کی طرف سے نظر پھیر لیتا ہے۔ دوسری وضاحت جس میں عیسائی بھی شریک ہیں، یہ ہے کہ دین حق اپنے غیر آفاقی معنوں میں بالآخر باقی تمام ادیان پر غالب آ جائے گا۔ بے شک محبت ہی فتح یاب ہوتی ہے۔ لیکن اگر پچھلے ایک ہزار یا اس سے زائد عرصے میں صرف ایک ہی مذہب نگاہِ فلک میں مستند ہوتا تو بھی اس دوران ِ وقت کے اختتام پر اس مذہب حق کی اچانک اور مکمل فتح کی توقع ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہ ہو سکتی تھی جس کا مطلب ہے کہ یہ فتح فیصلہ کن انداز میں قدرت کو اس بات سے بری الذمہ نہیں کر سکتی تھی کہ اس نے اتنی زیادہ مدت تک اور اتنے بڑے پیمانے پر ایک جھوٹے مذہب کو غالب رہنے کی اجازت دی۔
- خدا جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح طور پر انسان کے مفاد میں ہے کہ الوہی مداخلت جو ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالتی ہے اسے کھلے طریقے سے بذاتہ قابل پہچان ہو نا چاہیے۔ نئے مذہب کے ساتھ وابستی دعدوں کو بھی عظیم الشان اور ممتاز ہونا چاہیے تاکہ سوائے گمراہوں کے کسی کے لیے شک کی گنجائش نہ رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی طرح کی کچھ چیزیں بچا کر رکھی جانی چاہیے تاکہ وہ اس طرح کے دور کا خصوصی اعزاز بن سکیں۔ قرآن کریم ایسی ہی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے جب وہ اس بات کا اثبات کرتا ہے کہ وہ سوالات جو نزول ِ وحی کے زمانے میں خدا سے کئے گئے ہیں ان کا جواب دیا جائے۔ اس کا ایک مطلب یہ بنتا ہے کہ وحی کے زمانے کے بعد بلاواسطہ طور پر مزید سوالوں کا جواب مہیا نہیں کیا جائے گا۔ یہ ایسے ہے کہ جیسے زمین و آسمان کے درمیان دورِ نبوت میں جو دروازہ کھلا تھا باقی تمام ادوار کے لیے اسے بند کر دیا گیا۔
- خدا کی ذات کے بارے میں ضمیر متکلم سے ضمیر غائب کی طرف تبدیلی تکرار کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہے۔
- اگر خدا نے آسمان سے وسیع پیمانے پر مختلف مزاج اور قابلتییں رکھنے والی دنیا کی طرف صرف ایک مذہب بھیجا ہوتا تو سب کے لیے یہ ایک جائز امتحان نہ ہوتا۔ اسی لیے خدا نے مختلف مذاہب بھیجے جو کہ خاص طور پر انسانیت کے مختلف طبقات کی ضرورتوں اور خواص کے ساتھ مناسبت رکھتے تھے۔