اپریل ۲۰۲۱ء

خواتین کے حقوق و مسائل اور معاشرتی اصلاح کا مذہبی ایجنڈامحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مساجد واوقاف کا نیا قانونمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پروفیسر یٰسین مظہرصدیقی کی یاد میںڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
عقیدہ، تہذیب اور سیاسی طاقتسید مطیع الرحمٰن مشہدی 
فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکاممولانا مشرف بيگ اشرف 

خواتین کے حقوق و مسائل اور معاشرتی اصلاح کا مذہبی ایجنڈا

محمد عمار خان ناصر

انبیاء کی دعوت کی جو تاریخ  آسمانی صحائف میں بیان ہوئی ہے، اس کے مطابق     انسانوں کو دعوت ایمان اور  اصلاح عقیدہ  کے بعد   انبیاء کا اہم ترین کام اپنے ماحول  کے اخلاقی بگاڑ اور فساد معاشرت کو درست کرنا ہوتا ہے۔  تمام انبیاء کی دعوت میں   ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی فساد کا کوئی نہ کوئی پہلو  نمایاں موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔   قرآن مجید کی تعلیم   اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی   دعوتی جدوجہد بھی اس سے مستثنی نہیں اور   خاص طور پر   قرآن میں شرعی احکام کا  ایک بہت بڑاحصہ  خاندانی  رشتوں  کے حوالے سے  جاہلی معاشرت میں پائی جانے والی افراط وتفریط  کی اصلاح پر مبنی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد  ہر قسم کی نبوت کا دروازہ  بند کیا جا چکا ہے، لیکن  آپ کی پیش کردہ دعوت  اور  برپا کردہ اصلاحات  کی تفصیل قرآن وحدیث اور سیرت وتاریخ میں محفوظ ہے۔  غور کرنے کی بات یہ ہے کہ  بالفرض اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا اور آج ہمارے معاشرے میں    کوئی نبی  بھیجا جاتا تو   صنفین کے مقام، حقوق، ذمہ داریوں اور حدود کے حوالے سے   اس کے معاشرتی اصلاح کے ایجنڈے کے موضوعات اور ترجیحات کیا ہوتیں؟ یہ سوال   خاص طور پر  مذہبی روایت سے وابستہ اور اس کے نمائندہ طبقوں کے لیے  قابل غور ہے اور اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ  کیا  نبی  کی بنیادی توجہ  کسی مخصوص  سماجی شناخت کے تحفظ  یا اس کو درپیش چیلنجز پر رد عمل    کو منظم کرنے پر ہوتی یا  وہ مثبت طور پر   معروف  انسانی اخلاقیات اور مذہبی اقدار کی روشنی میں  معاشرتی اصلاح کا کوئی  تعمیری ایجنڈا  پیش کرنے  کو اپنی ترجیح بناتا؟

ہمارے فہم کے مطابق ، انبیاء کی مجموعی تعلیم  اور خاص طور پر   پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی  اصلاحی مساعی کو  سامنے رکھتے ہوئے، بہت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ   ہمارے معاشرتی تناظر میں    ان کا   تعلیم کردہ ایجنڈا حسب ذیل ہوتا:

۱۔ نبی کی سب سے  پہلی ترجیح یہ ہوتی کہ وہ  صنفی بنیادوں پر معاشرے میں  تقسیم پیدا کیے  یا ایسی کسی تفریق کا حصہ بنے بغیر   بحیثیت مجموعی پورے معاشرے  سے مخاطب ہوتا  اور بتاتا کہ   انسانی معاشرت کی بقا اور استحکام کے لیے  صنفین کے مابین مطلوب  اور فطری تعلق   باہمی ہمدردی اور تعاون کا تعلق ہے۔ نبی اپنی تعلیم  اور رویے سے اجتماعی طرز احساس   کو اس طرح تشکیل دیتا کہ   انسان کی فطری کمزوریوں کی وجہ سے معاشرتی تعلقات اور رویوں میں   جو ناہمواری اور   ناانصافی  پیدا ہو جاتی ہے،  اس کا  حل لوگ تفریق اور مخاصمت کے فروغ اور   صنفی یا طبقاتی سیاست میں تلاش کرنے کے بجائے انسانوں کے حاسہ اخلاقی کو اپیل کرنے،  اجتماعی انسانی  ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرنے  اور معاشرتی رویوں میں عدل وانصاف کی قدروں  کو مستحکم کرنے کی طرف متوجہ ہوتے۔

۲۔  صنفی تقسیم وتفریق کا طریقہ اختیار  یا اس کی تائید کیے بغیر، نبی   اس رجحان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتا بلکہ   اس کو  ہر طرح کی عملی نصرت فراہم کرتا  کہ خواتین  ایک معاشرتی طبقے کے طور پر    اپنے مقام اور حقوق کا شعور  پیدا کریں،    خواتین کی ذہن سازی ا ور تعلیم وتربیت کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں منظم کریں،  مسائل  اور مشکلات کی نشان دہی کے لیے  ابلاغ اور رابطے کے   تمام میسر ذرائع اختیار کریں،  ضروری قانونی وسیاسی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے  اجتماعی جدوجہد   کریں، غرض یہ کہ  ایک  متاثرہ فریق کی حیثیت سے ، معاشرت میں مطلوبہ اصلاحات کے لیے سرگرم اور منظم کردار ادا کریں۔

۳۔ نبی، صنفین کے ساتھ ساتھ صنف ثالث کی انسانی حیثیت اور سماجی  مقام کو بھی موضوع بناتا  اور انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے  اور  انسانوں سے کم تر  حیثیت  میں کسی نہ کسی طرح زندگی گزار لینے کو   ان کی تقدیر   قرار دینے  کے بجائے  معاشرے میں اس بات کے لیے قبولیت اور آمادگی پیدا کرنے کی سعی کرتا کہ ان کے لیے بھی  معمول کی معاشرتی سرگرمیوں میں   شریک ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں اور   ان کی خصوصی  جسمانی حالت پر تحقیر یا تضحیک کا رویہ اپنانے کے بجائے، دیگر تمام اصحاب عذر کی طرح، ان کے لیے  بھی انسانی احترام وتوقیر  کا انداز نظر پیدا کیا جائے۔

۴۔  نبی،   خاندان  کے ادارے کی اہمیت  اور  بنیادی مقصد    کی روشنی میں   مروجہ غیر متوازن معاشرتی ترجیحات  کو  اپنی اصلاحی مساعی کا اولین ہدف قرار دیتا  اور  لوگوں کو سمجھاتا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد  دین واخلاق اور انسان کی فطری  ضروریات، سب کا تقاضا یہی ہے کہ  مرد اور عورت  ایک باہمی رشتے میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کی نفسیاتی اور جسمانی  تکمیل  کا ذریعہ بنتے ہوئے زندگی گزاریں۔  نبی،  نکاح کو آسان بنانے اور  اس کے راستے میں  کھڑی کر دی جانے والی ہر قسم کی  رکاوٹوں کے ازالے کو  تعلیم وتلقین کا خصوصی  موضوع بناتا اور    نکاح کو مرد  کے معاشی اسٹیٹس اور  عورت کی طرف سے قیمتی جہیز  جیسی    شرائط کے ساتھ مشروط کرنے کے رجحان کی   سخت حوصلہ شکنی کرتا۔   

۵۔ نبی ایک سماجی مسئلے کے طور پر مطلقات اور بیواوں نیز ایسی خواتین  کے لیے   جن کی شادی کی مناسب عمر گزر چکی ہو، ازدواجی زندگی کے حق کو  بطور خاص نمایاں کرتا  اور معاشرے  کو اس ذمہ داری  کی طرف متوجہ کرتا کہ ایسی خواتین  کے لیے   بھی اس فطری معاشرتی حق سے  بہرہ مند ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔  اس ضمن میں نبی،  حسب ضرورت  ایسے افراد کو جو ایک سے زیادہ  خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں،    اس کی ترغیب دیتا  کہ وہ ایسا کریں اور  خواتین کو یہ  تعلیم  دیتا کہ وہ  اس مسئلے کو اپنے شخصی احساسات اور جذبات  کے زاویے سے نہیں، بلکہ  ایک معاشرتی ضرورت کے زاویے سے دیکھیں ۔ نبی، خواتین میں اس طرز احساس کو فروغ دیتا کہ اگر وہ اپنی ہی کچھ بہنوں  کو اپنے ساتھ اس رشتے میں شریک بنانے پر رضامند ہوں گی تو دین واخلاق کے لحاظ سے یہ کوئی محرومی نہیں، بلکہ   ایک اعلی انسانی وٰ اخلاقی رویے کا اظہار ہوگا۔

۶۔ نبی، مرد اور عورتوں دونوں کو اپنے شریک حیات کے انتخاب   کا حق دینے کو   رشتہ نکاح کے بنیادی اصول کے طور پر  پیش کرتا اور  لوگوں کو سمجھاتا کہ نکاح بنیادی طور پر بالغ مرد اور عورت  کا باہمی فیصلہ ہے جس میں  اصل اہمیت انھی کی رضامندی کو حاصل ہے۔ خاندان اور برادری کا کردار  اس رشتے میں    اپنی ترجیحات کو مرد اور عورت پر مسلط کرنا نہیں، بلکہ افراد  کو حق انتخاب  میں سہولت مہیا کرنا اور اس رشتے سے متعلق  حقوق وفرائض  کی انجام دہی کو یقینی بنانے میں     اپنی ذمہ داری انجام دینا ہے۔     نبی، بطور خاص خواتین کو ان کی آزادی و اختیار سے محروم کرنے اور انھیں ایک جائیداد تصور کرنے کی   نفی کرتا اور  اس بات کی تعلیم دیتا کہ وہ معروف کے مطابق  اپنی ذات کےمتعلق  جو بھی فیصلہ کرنا چاہیں،  اس میں سماجی دباو   سے کام لیتے ہوئے بے جا رخنہ اندازی      کرنا ایک غیر اخلاقی طرز عمل ہے۔ نبی خواتین پر ان کی مرضی کے خلاف  فیصلے مسلط کرنے کے رویے کی حوصلہ شکنی کرتا اور  معاشرے  میں اثر ورسوخ  رکھنے والے افراد اور طبقات  کو ان کی ذمہ داری  کا احساس دلاتا ، تاکہ وہ اس طرح  کی صورت حال میں خواتین کی   نصرت وحمایت کے لیے  اخلاقی وسماجی دباو اور قانونی   اختیار کو بروئے کار لائیں۔

۷۔  انسانی تمدن   میں  تغیر وارتقاء  کے اس مرحلے   میں نبی  ، خاندان اورمعاشرے کی پدر سرانہ  بنیادوں کے حوالے سے  پائے جانے والے افراط وتفریط  کی اصلاح پر بھی خاص توجہ مرکوز کرتا۔   وہ لوگوں کو اس حقیقت کی یاددہانی کرواتا کہ خاندان  کا ادارہ  انسان نے عورتوں  کے استحصال یا ان کو  مرد کی غلامی میں دینے کے لیے نہیں ، بلکہ بقائے نسل  میں  مرد وزن کے کردار کی فطری تقسیم  کے تناظر میں  خواتین کو  بچوں کی ولادت وتربیت کے لیے ایک محفوظ  ماحول مہیا کرنے  اور   مردوں کو  ان کی حفاظت وکفالت کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے  قائم کیا تھا۔  نبی لوگوں کو متوجہ کرتا کہ  خاندانی رشتے  اور اس میں  ذمہ داریوں کی اس تقسیم کے  حوالے سے خواتین  میں مردوں سے منافرت  یا غیر فطری مسابقت کے جذبے کو تحریک دینا  خاندان کے ادارے کے لیے بھی تباہ کن ہے اور خواتین کی نفسیات میں بھی  شدید نوعیت کے اضطرابات اور  پیچیدگیاں پیدا کرنے کا موجب ہے  او رکسی بھی لحاظ سے خواتین کی خیر خواہی   پر مبنی نہیں ہے۔  

۸۔ نبی پدرسری نظام میں مرد کے زیادہ فعال کردار سے پیدا ہونے والی ناہمواریوں اور  خواتین کے سماجی مقام، کردار اور حقوق کی غیر منصفانہ تحدید  کو بھی اتنے ہی  اہتمام  سے اصلاح کا  موضوع بناتا  اور معاشرے کو تلقین کرتا کہ خانگی زندگی کی حدود وقیود  کو  خواتین  کے لیے قید خانہ  بنا دینے  اور     مردوں کے ان کی کفالت  کا ذمہ دار ہونے  کو  خواتین کی مالی خود مختاری  سلب کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا   سخت غیر اخلاقی اور    خاندانی رشتے کی اصل روح کو پامال کر دینے والا  رویہ ہے۔  اس ضمن میں خاص طور پر حسب ذیل تین   امور  نبی کی تعلیم وتلقین اور اصلاحی مساعی کا مرکزی  نکتہ ہوتے:

اولا،  بوقت نکاح خواتین کو ان کا مکمل طے شدہ مہر   اور  قرابت داروں کے ترکے میں سے خواتین کے حصوں کی ادائیگی کو ایک شرعی فریضہ قرار دیتا، اس کو خدا خوفی، تقوی  اور  حسن کردار کے ایک معیار کے طور پر    پیش کرتا اور اس مسئلے کو  عمومی دینی تعلیم وتلقین  کا ایک زندہ موضوع بناتا۔

ثانیا،  خواتین کو ان کے مالی حقوق  کے باب میں  حقیقی طور پر بااختیار  بنانے کے لیے ان کی جائیداد میں مرد رشتہ داروں کی طرف سے ناروا تصرف نیز  مہر اور حق وراثت کی  غیر حقیقی معافی کے رواج کو ممنوع ٹھہراتا  اور ارباب اختیار کو اس حوالے سے ضروری قانونی  بندوبست کی تلقین کرتا۔

ثالثا،  خواتین  کی تعلیم وتربیت   اور ان کے معاشرتی تعامل  میں اس نکتے کو ایک ترجیحی  ہدف کے طور پر  شامل کرتا کہ ان میں اپنے شرعی وقانونی حقوق کا شعور پیدا ہو اور ان کے حصول کے لیے  معاشرے میں موجود تمام ذرائع تک ان کی رسائی آسان ہو۔

۹۔  خاندانی رشتے کی حدود وقیود کو  خواتین کے لیے متوازن  بنانے کے ساتھ ساتھ نبی  عمومی معاشرتی  زندگی میں بھی  ایک طبقے کے طور پر خواتین کے تعمیری اور سرگرم کردار  کی حوصلہ افزائی کرتا  اور  ایسے معاشرتی رویے  وجود میں لانے کی سعی کرتا جو   خواتین کی فطری صلاحیتوں سے مناسبت رکھنے والے  تمام دائروں میں   ان کی شرکت کو آسان بنانے میں مددگار ہوں۔ نبی اس بات کو  ایک اخلاقی قدر کے طور پر معاشرے میں رائج کرتا کہ    خواتین کی سماجی ذمہ داریوں     میں شریک کرتے ہوئے ان کی فطری خلقی نزاکتوں اور  گھریلو ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھا جائے اور خواتین کے لیے اوقات کار اور  ذمہ داریوں کا حجم وغیرہ  طے کرتے ہوئے  اس پہلو کی خصوصی  رعایت کی جائے۔  اس ضمن میں نبی  ایسے منفی معاشرتی رویوں اور  رجحان ساز  صنعتوں کی اصلاح پر خاص توجہ مرکوز کرتا  جو  خواتین کے لیے احترام وتوقیر کا انداز  فکر پیدا کرنے کے بجائے  ان کے متعلق جنسی تلذذ کے   رویے کو فروغ دیتے  اور خواتین کے لیے جنسی ہراسانی  جیسے مسائل پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔  نبی  ایک ایسے ماحول  کو معاشرے کے سامنے اخلاقی آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا جس میں  خواتین اپنی سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بے خوف وخطر نقل  وحرکت کر سکیں  اور بوقت ضرورت اگر   کوئی خاتون تن تنہا اپنے گھر  سے نکل کر بیت اللہ کے حج کے لیے بھی جانا چاہے تو اسے  کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔  

۱٠۔ نبی خاص طو رپر   تعلیم وتربیت کے میدان میں   خواتین کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی  ترغیب دیتا  اور ایسا ماحول پیدا کرتا جس میں    علمی وفکری اہلیت رکھنے والی خواتین  معاشرے کی دینی ودنیوی راہ نمائی  کے باب میں   مرد اہل علم ہی کی طرح موثر  کردار ادا کر سکیں۔  نبی اس بات کو بھی  بنیادی ترجیح قرار دیتا کہ خاص طور پر خواتین  کی تعلیم وتربیت  اور  ان کی علمی وعملی راہ نمائی  میں خواتین اہل علم ہی مرکزی  کردار ادا کریں  اور   اگر اس کام کو یکسوئی اور ترکیز کے ساتھ  کرنے کے لیے خواتین کی مستقل مساجد   کا قیام مفید یا مددگار ہو  جہاں تعلیم، وعظ اور امامت وخطبہ کی ذمہ داریاں خواتین کے سپرد ہوں تو معاشرہ اس کا بھی انتظام کرے۔

۱۱۔ نبی، جنسی جبلت  سے متعلق      فکری وعملی انحرافات کو  بطور خاص موضوع بناتا اور لوگوں کو بتاتا کہ  جو چیز انسان کو   جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ صرف عقل نہیں  جس کی مدد سے انسان اپنی  خواہشات  کو پورا کرنے کے  طریقے تلاش کرتا رہے، بلکہ   انسان کا اصل شرف اس کا اخلاقی وجود  ہے  جو اسے   حیوانی  جبلتوں  کی تہذیب میں    مدد دیتا  ہے۔   نبی   انسانوں کو یہ سمجھاتا کہ جانوروں کے برعکس انسان کے لیے  بھوک پیاس اور مال ودولت کی حرص کی طرح جنسی جبلت بھی  اخلاقی قدغنوں  اور  انسانی اجتماع کے مصالح کے تابع ہے اور اس کی تسکین کے  انھی طریقوں کو  انسانی معاشرے میں قبولیت اور جواز  ملنا چاہیے جو   شرف انسانی  سے ہم آہنگ اور  معاشرتی مصالح   کی حفاظت میں  مددگار ہوں۔  بالفاظ دیگر، نبی     لوگوں پر بے قید جنسی تعلق،  ہم جنس پرستی  اور شذوذ جنسی کے   دیگر طریقوں کا غیر فطری اور غیر اخلاقی ہونا واضح کرتا اور انھیں متوجہ کرتا کہ  جنسی جبلت کو ان  اخلاقی قدغنوں سے آزاد  کر کے جو انسانی  اجتماع نے صدیوں کی  اخلاقی وتہذیبی تربیت  سے مستحکم کی تھیں،  انسان اپنے آپ کو حیوانیت کی سطح پر اتار رہا اور  خود کو انسانی  شرف وامتیاز سے  محروم کر رہا ہے۔

۱۲۔   نبی لوگوں کو یاد دلاتا  کہ جہاں جنسی جذبے کی تسکین کا ضروری بندوبست  فطری بنیادوں پر معاشرے کی تعمیر وتشکیل کے لیے ضروری ہے، وہاں   انسان کے اندر کے اس وحشی کو  کسی بھی طریقے سے چھیڑچھاڑ کر کے ابھارنا  فرد اور معاشرہ، دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔  نبی اس باب میں   صنفین کو  انفرادی سطح پر بھی مخاطب کرتا کہ وہ  جنسی جذبے کو بے لگام ہونے سے بچانے کے لیے  ضروری حدود وآداب کی پابندی کریں اور  معاشرے میں رجحان سازی  کا کردار ادا کرنے والے  تمام طبقات کو بھی   ان کی ذمہ داری کا احساس دلاتا کہ  وہ جنسی جذبے کی  انگیخت کو  کھیل تماشے کا ذریعہ یا ایک فروختنی چیز نہ بنائیں۔  نبی انسانوں کو    اس طرف بھی متوجہ کرتا کہ جنسی جبلت کے متعلق   حیوانی انداز فکر  کیسے انسانی معاشرے میں جنسی درندگی  کو فروغ دینے اور جنسی ہوس کا نشانہ  بن سکنے والے ہر طبقے کی   حفاظت وحرمت کو شدید خطرے سے دوچار کر  دینے کا موجب ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(243)    وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ کا ترجمہ

وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشہَدَ عَلَیکُم سَمعُکُم وَلَا اَبصَارُکُم وَلَا جُلُودُکُمَ۔ (فصلت :22)

اس آیت کے حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں:

”تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی“۔ (سید مودودی)

”اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں“۔ (احمد رضا خان، گواہی سے بچنے کے لیے کہیں چھپ کر جانے کی بات یہاں نہیں ہے۔)

”اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں گے“۔(امین احسن اصلاحی، تسترون کا مطلب اندیشہ رکھنا تو نہیں ہوتا ہے)

اوپر کے ترجموں پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کے پیش نظر وہ فحش جرائم ہیں جنھیں انسان چھپ کر کرتا ہے۔ عام طور سے عربی تفاسیر کا رجحان بھی اسی طرف رہا ہے جیسے:

وما کنتم تستترون عن ارتکابکم الفواحش۔ (جلالین)

المعنی: انکم کنتم تستترون بالحیطان والحجب عند ارتکاب الفواحش۔ (الکشاف)

حالانکہ یہاں سمع وبصر اور جلد کی جس گواہی کی بات ہورہی ہے وہ اللہ کی نافرمانی کے سلسلے میں گواہی ہے، یہ نافرمانی چھپ کر بھی ہوتی ہے اور کھلے عام بھی ہوتی ہے، یہاں اس پر تنبیہ نہیں کی جارہی ہے کہ چھپ کر برائی کرتے وقت تم نے یہ نہ سوچا کہ تمہارے سمع وبصر اور جلد گواہی دیں گے، بلکہ اس پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم نے یہ خیال کرکے اللہ کی نافرمانی سے خود کو بچایا نہیں کہ تمہارے اپنے سمع و بصر اور جلد تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ غرض یہاں چھپنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی بات ہورہی ہے ۔ اس بنا پر ترجمہ ہوگا:

”اور تم اس سے نہیں بچتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں “۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(244)  استعاذۃ کا ترجمہ

استعاذة کا مطلب پناہ لینا اور پناہ مانگنا ہوتا ہے، عام طور سے یہی ترجمہ کیا گیاہے، البتہ ایک مقام پر صاحب تدبر نے پناہ ڈھونڈنا ترجمہ کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔

وَاِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغ فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (الاعراف:200)

”اور اگر تمہیں کوئی وسوسہ شیطانی لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ چاہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاذَا قَرَاتَ القُرءانَ فَاستَعِذ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ۔ (النحل:98)

”پس جب تم قرآن پڑھو تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (غافر:56)

”تو تم اللہ کی پناہ مانگو“۔ (امین احسن اصلاحی)

وَاِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغ فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (فصلت: 36)

”اور اگر شیطان تمہارے دل میں کوئی اکساہٹ پیدا کرہی دے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو“۔ (سید مودودی)

(245)  مبتدا خبر کا خاص اسلوب

اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالذِّکرِ لَمَّا جَاءَہُم وَاِنَّہُ لَکِتَاب عَزِیز۔ لَّا یَاتِیہِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَلَا مِن خَلفِہِ تَنزِیل مِّن حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔ مَّا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَد قِیلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِکَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ۔ (فصلت 41-43)

یہ تین آیتیں ہیں، پہلی آیت میں اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا کی خبر بظاہر موجود نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی خبر محذوف مان کر ترجمہ کیا ہے، حالانکہ اس طرح بغیر کسی قرینے کے خبر کو محذوف مان لینا مناسب نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اسے آیت نمبر چالیس میں مذکور اِنَّ کے اسم کا بدل مانا ہے اور دونوں کی خبر ایک قرار دی ہے جو اس آیت میں گزری ہے، وہ آیت ہے: اِنَّ الَّذِینَ یُلحِدُونَ فِی ءَایَاتِنَا لَا یَخفَونَ عَلَینَا اَفَمَن یُلقَیٰ فِی النَّارِ خَیر اَم مَّن یَاتِی ءَامِنًا یَومَ القِیَامَۃِ اعمَلُوا مَا شِئتُم اِنَّہُ بِمَا تَعمَلُونَ بَصِیر۔ (فصلت 40) لیکن اس طرح سے اِنَّ کے ساتھ بدل کا آنا قواعد کے خلاف مانا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے آگے دور جاکر خبر تلاش کی ہے، اتنی دور خبر کا ماننا بھی تکلف کی بات ہے۔بطور مثال کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:

”یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔اے نبی، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے“۔ (سید مودودی، یہاں بدل مان کر ترجمہ کیا ہے۔)

”بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے۔ باطل کو اس کی طرف راہ نہیں، نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔ تم سے نہ فرمایا جائے مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے“۔ (احمد رضا خان، خبر کو محذوف مانا ہے)

”جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے۔ جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے۔ آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی والا اور دردناک عذاب والا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی، خبر کو محذوف مانا ہے۔)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک پہلی آیت میں خبر محذوف نہیں ہے، بلکہ پہلی آیت کے اخیر اور دوسری آیت پر مشتمل جملہ معترضہ ختم ہوتے ہی تیسری آیت میں اس کی خبر ذکر کردی گئی ہے،  اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالذِّکرِ لَمَّا جَاءَہُم کی خبر ہے مَّا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَد قِیلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِکَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَۃٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ۔ اس جملے کا ترجمہ ہوگا: ”بے شک جن لوگوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا (ان کے بارے میں) تم سے وہی کہا جارہا ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا (وہ یہ کہ) بے شک تمہارا رب مغفرت والا ہے اوردردناک سزا والا ہے“۔ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ ۔ یہی وہ بات ہے جو کافروں کے سلسلے میں ہر رسول سے کہی گئی۔

مبتدا اور خبر کے درمیان میں جملہ معترضہ ہے: وَاِنَّہُ لَکِتَاب عَزِیز۔ لَّا یَاتِیہِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَلَا مِن خَلفِہِ تَنزِیل مِّن حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔ اس کا ترجمہ ہے: ”جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے“۔ اس طرح پہلے جملہ معترضہ لاکر اس ذکر کی عظمت بیان کردی گئی جس کا ان لوگوں نے انکار کیا اور پھر ان کی خبرمیں انکار کرنے والوں کو توبہ کی دعوت کے ساتھ سزا کی دھمکی بھی سنادی گئی۔تینوں آیتوں کا ترجمہ اس طرح ہوگا:

”بے شک جن لوگوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے، (ان کے بارے میں) تم سے وہی کہا جارہا ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا (وہ یہ کہ) بے شک تمہارا رب مغفرت والا ہے اور الم ناک سزا والا ہے“۔

تیسری آیت میں مَّا یُقَالُ لَکَ سے مراد وہ باتیں نہیں ہیں جو کفار اللہ کے رسول کو سناتے تھے، بلکہ وہ بات ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے کافروں کے بارے میں کہی ہے۔

(246) فِی ءَاذَانِہِم وَقر کا ترجمہ

وَلَو جَعَلناہُ قُرءَانًا اَعجَمِیًّا لَّقَالُوا لَولَا فُصِّلَت ءَایَاتُہُ ءَاعجَمِیّ وَعَرَبِیّ قُل ہُوَ لِلَّذِینَ ءَامَنُوا ہُدًی وَشِفَاء وَالَّذِینَ لَا یُؤمِنُونَ فِی ءَاذَانِہِم وَقر وَہُوَ عَلَیہِم عَمًی اُولٰئکَ یُنَادَونَ مِن مَّکَانِ بَعِیدٍ۔ (فصلت 44)

اس آیت میں فِی ءَاذَانِہِم وَقر مکمل جملہ ہے جس کی خبر مقدم ہے۔ قرآن کو وَقر نہیں کہا گیا ہے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کو سنتے نہیں ہیں گویا ان کے کانوں میں ڈاٹ پڑی ہوئی ہے۔بعض ترجمے ملاحظہ ہوں:

”اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ”کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی“ اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے، اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو“۔ (سید مودودی، ’اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے‘کے بجائے ہوگا:’ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے اور وہ ان پر حجاب ہے‘۔)

”اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی قرآن کی شکل میں اتارتے تو یہ لوگ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی؟ کہہ دو یہ ان لوگوں کے لیے تو ہدایت و شفا ہے جو اس پر ایمان لائیں، رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لارہے ہیں تو ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور یہ ان کے اوپر ایک حجاب ہے۔ اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی،’اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی‘کے بجائے’اس کی آیات قابل فہم کیوں نہیں رکھی گئیں‘ہوگا۔‘’اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے‘۔یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ یہ کہیں نہیں ہے کہ لوگ قیامت میں دور سے پکارے جائیں گے، یہ دنیا ہی کی بات ہے کہ ان کا حال ایسا ہوگیا ہے کہ گویا انھیں دور سے پکارا جارہا ہے اور وہ سن نہیں رہے ہیں۔)

”اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

(247) ثُمَّ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ثُمَّ  کا ترجمہ کچھ لوگوں نے’اور‘کیا ہے اور باقی لوگوں نے’پھر‘کیا ہے، جبکہ اس کا موزوں ترین ترجمہ’پھر بھی‘ہے۔

قُل اَرَءَیتُم اِن کَانَ مِنْ عِندِ اللَّہِ ثُمَّ کَفَرتُم بِہِ۔ (فصلت 52)

”اے نبی، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے“۔ (سید مودودی)

”(ان سے) کہو: بتاو اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تم فرماو  بھلا بتاو اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے پھر تم اس کے منکر ہوئے“۔ (احمد رضا خان)

”کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاو کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کہو سوچو اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

مساجد واوقاف کا نیا قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر احکام شریعت اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ جبکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ذمہ دار حکومتی راہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اعتماد میں لے کر قانون میں ترامیم کرتے ہوئے اسے دینی حلقوں کے لیے قابل قبول بنائیں گے۔ مگر عملی طور پر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ان دونوں امور کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ دینی مدارس کے نئے پانچ بورڈز دینی مدارس کے وفاقوں کے مقابل کھڑے کر دیے گئے ہیں بلکہ پنجاب کے مختلف شہروں میں محکمہ اوقاف مساجد اور اس کی مبینہ رجسٹریشن کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور محکمہ اوقاف کی اس قسم کی نقل و حرکت سے معاملات مزید شکوک اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

اس سلسلہ میں چند امور کی طرف حکومتی حلقوں اور دینی مدارس کی قیادتوں کو توجہ دلانا اس مرحلہ میں ضروری محسوس ہوتا ہے۔

اس حوالہ سے ایک اور امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مساجد کی رجسٹریشن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک الگ قانون کے تحت ہے جو پنجاب اسمبلی نے کچھ عرصہ قبل منظور کیا تھا۔ ہمارے خیال میں یہ قانون بھی متنازعہ ہے اور اسلام آباد میں نافذ کیے جانے والے ایکٹ کی طرح شرعی احکام اور شہری حقوق سے متصادم ہے، اس کی آڑ میں اس قسم کی کوئی کارروائی قابل قبول نہیں ہوگی اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں کے متفقہ موقف کو نظرانداز کرنے کی کوئی کوشش ملک میں ایک نئے خلفشار اور محاذ آرائی کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے حکمرانوں کو سارے معاملات طاقت اور اختیار کے حوالہ سے چلانے سے گریز کرنا چاہیے اور دینی حلقوں کی مسلمہ قیادتوں کو اعتماد میں لے کر کوئی متفقہ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

پروفیسر یٰسین مظہرصدیقی کی یاد میں

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

یادش بخیر، کوئی پچیس سال ہوتے ہیں راقم جامعۃ الفلاح بلریاگنج اعظم گڑھ میں فضیلت کا طالب علم تھا۔جامعہ کے ادارہ علمیہ نے ایک علمی مذاکرہ ”مدارس اسلامیہ کے نصاب میں اصلاح “جیسے کسی موضوع پرکیاتھا۔پہلے سیشن میں مولاناسلطان احمداصلاحی نے اپنے مقالہ میں دارالعلوم دیوبند،ندوة العلماء،مدرسۃ الاصلاح ،جامعۃ الفلاح اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سب پر تیزوتندمگرمدلل تنقیدکرڈالی ۔مقالہ ختم ہوتے ہی ایک اورفاضل کھڑے ہوئے اور فاضل مقالہ نگارکی تنقیدوں پر اعتراضات کی دندان شکن بوچھارکردی۔یہ دوسرے فاضل تھے ہمارے ممدوح پروفیسریاسین مظہرصدیقی جواس وقت غالباً علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین تھے۔ یہ پہلی بارتھاجب ان کودیکھااورسنا۔

زمانہ کے گرم وسردسے گزرتے ہوئے چندسال بعدراقم لکھنوکے ایک مجوزہ علمی وفکری ادارہ (مرکز اعداد الدعاة) سے وابستہ ہوا،جس کے داعی ومحرک تھے راقم کے مربی ومحسن مولانا ظہیراحمدصدیقی ندوی (حال چیئرمین فاونڈیشن فارسوشل کیئر لکھنو)۔اسی مرکزکے مجوزہ تعلیمی وتربیتی خاکہ کولے کر  علی گڑھ میں واردہوا۔طلبائی تحریک سے وابستگی کے دوران مختلف حیثیات میں علی گڑھ کئی بارآناجاناہواتھالیکن ان میں زیادہ ترمصروفیت طلبہ سے ملاقاتوں اور ان کے پروگراموں میں شرکت تک محدودرہی ۔اب کے علی گڑھ کے ممتاز اسکالروں اور دانشوروں سے رابطہ واستفادہ اورتبادلہ خیالات پیش نظرتھا۔چنانچہ اپنے کرم فرما ڈاکٹر محمدذکی کرمانی کے دفتر(واقع احمدنگر) (۱)میں قریبا ۵  دن قیام رہا۔اوراِس دوران مختلف علمی ہستیوں اور شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں پروفیسرظفرالاسلام اصلاحی ، پروفیسر اشتیاق احمدظلی(حال ناظم دارالمصنفین اعظم گڑھ ) ،پروفیسرعبدالعظیم اصلاحی، مولانا سیدجلال الدین عمری، مولانارضی الاسلام ندوی، مولاناسلطان احمداصلاحی (مرحوم) اور پروفیسریٰسین مظہرصدیقی وغیرہم بھی شامل تھے۔ راقم کے ترتیب دیے ہوئے مجوزہ تربیتی خاکہ کوانہوں نے دیکھا مگر اس پر کوئی نقد یا اضافہ نہیں کیا بلکہ علی گڑھ میں کسی نے بھی نہیں کیانہ اس کوبہت سنجیدگی سے لیا۔اندازہ ہواکہ علی گڑھ کے صاحبان علم سے استفادہ کی شکل سیمینار ہوسکتاہے ۔ یہ حضرات سیمیناروں کے مشاق ہیں اورروٹین ورک کے پابند و خوگر۔Out of the box یا ٹریک سے ہٹ کرکام کرناپسندنہیں کرتے۔البتہ علی گڑھ ہی کے ایک نامورفرزندپروفیسرنجات اللہ صدیقی ( ۲)کی طرف سے ہمارے اس مجوزہ منصوبہ پر سب سے موثر،جچاتلاتنقیدی تبصرہ آیا۔جس سے اندازہ ہواکہ اپنے میدان اختصاص کے ساتھ ہی عالمی فکراسلامی میں موجودہ رجحانات کیاچل رہے ہیں، اُس سے محترم نجات اللہ صاحب کی براہ راست اورگہری واقفیت قابل رشک ہے ۔بہرکیف یہ پروفیسرصدیقی سے راقم کادوسراسابقہ تھا۔

مختصر سوانحی کوائف

یاسین مظہرصدیقی یوپی کے ضلع لکھیم پوری کھیری کے ایک گاوں میں  پیداہوئے ۔آپ کے والدکا نام مولوی انعام علی تھاجن کا ذکرخیربڑے بلندالفاظ میں ہمیشہ کرتے تھے اوران کوباباجان کے نام سے یادکرتے۔ابتدائی تعلیم گاوں کے مدرسہ حیات العلوم سے حاصل کرکے دارالعلوم ندوةالعلما سے عا لمیت کی ۔ لکھنو یونیورسٹی سے فاضل کا کورس کیا۔پھرجامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہائی اسکول،انٹراوربی اے کیا۔ماسٹرزاورپی ایچ ڈی کے لیے علی گڑھ کا رخ کیا۔ پھریہیں کے ہورہے اورجہان سرسیدکوہی اپناوطن ثانی بنالیا۔علی گڑھ میں شعبہ تاریخ میں ایم کیااوراسی شعبہ سے پی ایچ ڈی بھی کی۔( ۳) تاہم ندوہ میں زمانہ طالب علمی سے ہی اسلامیات ہی آپ کی جولان گاہ بن گئی تھی۔اس میں بھی خاص کرسیرت نبوی کے مختلف گوشوں پر بحث اورمتنوع جہات کومنورکرنے کی توفیق حاصل ہوئی ۔ بیسویں صدی اسلامی روایتی علوم کی نشاة ثانیہ کی صدی ہے۔اس میں حدیث،تفسیر،فقہ وسیرت پر گراں قدرکام انجام دیے گئے۔فن سیرت میں پروفیسرصدیقی نے خاص شہرت حاصل کی اوران کا شمارصف اول کے سیرت کے عالموں میں کیا جاتاہے۔ہندوستان کویہ شرف حاصل ہے کہ شبلی و سلیمان کے بعدڈاکٹرمحمدحمیداللہ اورپروفیسریٰسین مظہرصدیقی جیسے محققین سیرت کا تعلق اسی سے رہاہے۔

 ڈاکٹریٰسین مظہرصدیقی کی علمی خدمات میں سب سے ابھراہوااورنمایاں پہلوان کا سیرتی لٹریچرکا گہرامطالعہ ہے۔اسی مطالعہ سے انہوں نے’ رسول اکرم کی رضاعی مائیں‘،’معاش نبوی ،’مکی اسوہ نبوی اورمسلم اقلیتیں‘، ’خواتین عہدرسالت میں ۔ایک سماجی مطالعہ‘ اور”عہدنبوی کا نظام حکومت “وغیرہ جیسے علمی تحفے دنیائے تحقیق کو دیے۔وحی حدیث ،”سنتوںکا تنوع “اورمختلف علمی موضوعات پر مقالات ان کے علاوہ ہیں۔قدیم سیرت نگاروں ابن سعد،ابن اسحاق ابن ہشام ،واقدی ،ابن سیدالناس ،حلبی ،قاضی عیاض،طبری ،ابن کثیر اوراردومیں سیرت النبی شبلی وسلیمان وغیرہ کے متون کا تحقیقی مطالعہ ،ان کا محاکمہ اوران کے بارے میں تجزیاتی رائیں دینایہ ان کا خاص موضوع تھاجس پر ان کی تحقیقی کتاب” مصادرسیرت نبوی “شائع کردہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی شاہدعدل ہے۔(۴)

مکی اسوہ نبوی اور مسلم اقلیتیں:

پروفیسریاسین مظہر صدیقی عہدجدیدمیں سیرت کے ایک بڑے اسکالرہیں ،آپ کی تحریروں میں نہ صرف بھرپورمعلومات اورتحقیق ہوتی ہے بلکہ گہرا تجزیہ بھی پایاجاتاہے ۔مکی اسوہ نبوی اورمسلم اقلیتیں دراصل موجودہ دور کی مسلم اقلیتوں کے لیے جوکل عالمی مسلم آبادی کا 40 فیصدہیں،ان کے لیے رول ماڈل اورعملی نمونہ عمل کی وضاحت ہے۔اس لیے موجودہ دورکے لیے بڑی معنویت رکھتی ہے ۔اوراسی اہمیت کے پیش نظراس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو گیاہے ۔(۵)یہ کتاب مکی زندگی کے متعلق بہت سی نئی باتیں جوبہت کم معلوم ہیں ،سامنے لاتی ہے ۔اس کتاب کے مطابق مکہ میں نبی ﷺ نے غیرمسلموں سے وہ تمام تعلقات رکھے جو کسی بھی انسانی سماج میں معمول بہ ہیں۔ آپ ﷺ نے سیاسی قبائلی نظام میں شرکت کی آپ نے قبائلی نظام تحفظ سے استفادہ کیا ۔ آپ نے غیرمسلموں کی دعوت طعام میں شرکت کی ۔ خود آپ نے ان کو دعوت دی۔ مکہ میں بعض مسلمانوں کے غیرمسلموں سے شخصی مفادات کے تحفظ کے معاہدہ کا ذکربھی ملتاہے۔(۶)

صدیقی صاحب کے مطابق مکہ میں بعض صحابہ کرام مکہ میں خدمت خلق بھی کرتے تھے چنانچہ حضرت نعیم بن عبداللہ النحام عدوی اس میں ممتاز تھے اورجب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیاتو اہل مکہ نے ان سے کہاکہ وہ جس دین پر رہنا  چاہیں، رہیں مگرمکہ کو نہ چھوڑیں۔حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیاتومشرکین مکہ ان پر پل پڑے جن سے ایک مکی سردار عاص بن وائل سہمی نے آکربچایا ۔آپ نے سیرت کی قدیم کتابوں کے حوالہ سے مزیدلکھاکہ مکی زندگی میں آپ ﷺ نے غیرمسلموں کا جِوار بھی حاصل کیا۔(۷)آپ ﷺ نے غیرمسلموں کو ہدایابھی دیے اورایسی بھی متعدد  مثالیں موجود ہیں کہ غیرمسلموں نے آپ ﷺ کی اورصحابہ ؓ کی مختلف انداز سے امداد کی۔ مثلاابوطالب اوربنی ہاشم کی نبی ﷺ کی حمایت اوراس راستہ میں تمام مشکلات کو برداست کرنا سیرت کا ایک معروف واقعہ ہے۔ابوسفیان نے رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت زینب کو ہجرت میں مدد دی۔حضرت ام سلمہؓ کو عثمان بن طلحہ عبدری نے مدینہ پہنچایا ۔ حضرت ام سلمہ ان کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھتیں اوران کی شرافت ،حلم وکرم کی تعریف فرماتیں۔   

اسی طرح آپ نے بتایاکہ سیرت کی کتابوں میں یہ ملتاہے کہ ۹ نبوی میں طائف سے واپسی کے بعدآپ ﷺ نے تقریبا 16قبائل سے ملاقاتیں کرکے ان کے سامنے اسلام پیش کرنے اوراسے قبول کرنے کی دعوت کے علاوہ یہ  بھی پیش کش کی کہ وہ آپ ﷺ کو اپنے علاقوں میں لے جائیں۔آپ کی حفاظت وحمایت کامعاہدہ اوروعدہ کریں تاکہ آپ دین کی دعوت تمام لوگوں تک پہنچادیں ان تمام قبائل نے آپ کی بات سنی ،بعض نے عذرپیش کیا،بعض نے سرد مہری برتی اوربعض نے سودے بازی کی کوشش کی ۔حدیبیہ کے موقع پر احابیش اوران کے سردارنے رسول اکرم کے سفیرحضرت خراش بن امیہ خزاعی کو قتل کرنے کے ارادہ سے قریش کو بازرکھاتھا ۔ حکیم بن امیہ سلمی نے اپنی قوم کو رسول اکرم کی عداوت سے بازرکھنے کی کوشش کی اوراس کے لیے شعرسے بھی کام لیا ۔غرض اس کتاب کا مواد ہندوستان اورامریکہ وغیرہ جیسے ممالک کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔اسی وجہ سے ہم نے اس کے تذکرہ میں  درازنفسی سے کام لیاہے۔

عہد نبوی کا نظام حکومت:

یہ پروفیسرصدیقی کی بہت اہم کتاب ہے اورغالباً ان کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے۔اورپہلے انگریزی میں شائع ہوئی پھرارددمیں منظرعام پر آئی ۔اِس میںمصنف نے بہت تفصیل سے بتایاہے کہ عہدنبوی میں کیسانظام اجتماعی قائم کیا گیاتھا،تعلیم کا نظم کیاتھا،سوق یامارکیٹ کوکس طرح چلایاجاتاتھااس کے افسران بکارخاص کون صحابہ تھے۔ سفراءصحابہ کون تھے۔مزیدبرآں میثاق مدینہ کا تفصیل سے تجزیہ کیاہے۔اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اطراف میں آبادکفار،اعراب اوریہودسے کیاکیامعاہدے کیے تھے۔آپ کے غزوات وسرایاکے مقاصدکیاتھے ،زکوة اورمالیات کا نظم کیسے چلایاجاتاتھا۔آپ کے نظام مشاورت میں کون کون صحابی تھے اورعمال نبوی کون کون وغیرہ ۔

پروفیسرصدیقی بہت جزرسی کے ساتھ چیزوں کودیکھتے ہیں اورسیرت کی معروف کتابوںسیر ت ابن اسحاق ،ابن ہشام، سیرت حلبی ،ابن سیدالناس نیزبلاذری ،اصابہ ،الاستیعاب لابن عبدالبرکے علاوہ ، ڈاکٹرمحمدحمیداللہ ،سیرت النبی شبلی وسلیمان وغیرہ سے بھرپوراستفادہ کرتے ہیں۔جہاں سیرت نگاروں کے بیانات میں اختلاف وتضادنظرآتاہے وہاں محاکمہ کرتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ کتب حدیث سے بھی مدد لیتے ہیں اورروایت ودرایت کی روشنی میں مختلف واقعات کی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بسااوقات وہ کتب حدیث کے بیان پر اہل سیرکے بیانات کوترجیج دیتے ہیں اورکبھی اس کا عکس بھی ہوتاہے۔اس کے علاوہ اپنی رائے بھی دیتے ہیں۔ مختلف اسلامی مصنفین سے جہاں ان کواختلاف ہوتاہے اسے بیان کرتے ہیں اوراس کی وجوہ ترجیح بھی بتاتے ہیں۔

یہ کتاب بھی پہلے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی سے شائع ہوئی ۔کتاب کے صرف حواشی وحوالجات ہی تقریبا تین سوصفحات میں آئے ہیں(۸)اسی کتاب کے تسلسل میں انہوں نے ”تاریخ تہذیب اسلامی “لکھی جس کی پہلی جلدمیں عہدنبوی اورعہدخلافت راشدہ کوکوَرکیاہے اوردوسری جلدمیں خلافت عبداللہ بن زبیرسے لے کرخلافت بنوامیہ وغیرہ کولیاہے۔

ڈاکٹرصدیقی کا ایک اورکارنامہ جس کا ان کے نام لیوااوروابستگان وشاگردان بھی کوئی تذکرہ نہیں کرتے، وہ بعض مطعون حضرات صحابہ کرام اورخلافت بنی امیہ کا دفاع ہے۔چنانچہ وہ سیدنامعاویہ بن سفیان،خودحضرت ابوسفیانؓ، حضرت عمروبن العاصؓ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓکا نیزخلافت بنوامیہ کا عمومی دفاع کرتے ہیں اور اس کے سلسلہ میں مورخین اورخاص کراردوکے مورخین کی بدگمانیوںاورغلط پروپیگنڈوںکا جواب دیتے ہیں۔اس ضمن میں ان کی کتاب خلافت امیہ۔ خلافت راشدہ کے پس منظرمیں( شائع کردہ الفہیم )آتی ہے۔یہ کتاب اثباتی ہے ۔اس خلافت کے ابتدائی دور(خلافت معاویہ ویزید)کے جوازوصحت پر صاحب کتاب کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ ان حضرات کی سائڈمیں صحابہ کرام کی خاصی بڑی جمعیت تھی جن میں بعض اکابرصحابہ بھی ہیں۔اِن صحابہ کرام نے اس خلافت میں مختلف مناصب قبول کیے ،وہ اس میں عامل وامیررہے اورمختلف ذمہ داریوں پر فائزان کی تعدادتقریباً250ہوجاتی ہے۔

مصنف نے ان تمام صحابہ کے نام،مختصرحالات اوران کے عہدے ومناصب وغیرہ سب اس کتاب میں جمع کر دیے ہیں۔استدلال یہ ہے کہ اگریہ خلافت صحیح اورجائزنہ ہوتی تواتنی بڑی تعدادمیں صحابہ کرام اِس کی بعض ناہمواریوں اوربے اعتدالیوں کے باوجوداس کی حمایت وخدمت نہ کرتے۔بظاہر معقول اوردرست استدلال ہے لیکن کچھ زیادہ مضبوط نہیں۔کیونکہ فریق مخالف اس کی بآسانی توجیہ کرلیتاہے کہ یہ صحابہ کرام اورتابعین سیدناحسینؓ کے اقدام کی ناکامی کے بعدیہ سمجھ چکے تھے کہ خلافت امیہ اب ایک ناگزیربرائی بن چکی ہے اِس کوسردست مستردنہیں کیا جاسکتا، اس لیے اس کے ساتھ تعاون کیاجاناچاہیے ۔زیادہ اہم پہلویہ ہے کہ مورخین ہی نہیں حدیث کے ذخیرہ میں بھی ایسی خاص روایتیں موجودہیں جوسیدنامعاویہ ،سیدنامروان اوریزیدسب کومجروح کرتی ہیں اوران میں سے بعض تو صحیحین  میں بھی ہیں۔ضرورت تھی کہ اِن روایات کی ایک ایک کرکے تحقیق کی جاتی ۔

اِس کی ابتداجناب محموداحمدعباسی نے کی تھی اوراس کے بعداوربہت سے لوگوں نے ا س پر کام کیاہے۔میرے والدمرحوم علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی نے اپنی کتاب ”شہادت عثمان کا تاریخی پس منظر“میں اوردوسری کتابوں میں اس قسم کی بعض روایات پر تحقیقی کلام کیاہے۔( ۹)اصل بات یہ ہے کہ فن حدیث پر عبور،رواة وائمہ حدیث اور کتب حدیث پر تحقیقی نظراس کے لیے ضروری ہے اوریہ بہت ہی زیادہ وقت طلب،پتہ ماری ،ممارست اورمزاولت کا کام ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ علم حدیث میں جن اکابروبزرگوںکا پایہ وسیع ہے اتناہی مشاجرات صحابہ کے بارے میں ان کا رویہ تحقیقی ،علمی اوراعتدال پرمبنی اورخوش عقیدگی سے مبراہوتاہے،اِس سے بعض مستثنیات ہوسکتے ہیں۔اِس پہلو سے پروفیسرصدیقی زیادہ مضبوط دکھائی نہیں دیتے۔لیکن اس کتاب سے اصل خدمت یہ ہوئی کہ سینکڑوں صحابہ کرام کے تحقیقی حالات مختصراً اردومیں آگئے۔

ڈاکٹریٰسین مظہرصدیقی کا تیسراکارنامہ'' رسول اکرم اور خواتین ۔ایک سماجی مطالعہ" ہے۔ان کے سیرتی کاموں میں  ہی اس کا بھی شمارہوناچاہیے مگراِس کا عام طورپر تذکرہ نہیں آتااوراگرآتابھی ہے توبہت کم ۔کیوں کہ یہ کتاب اپنے مشمولات سے خواتین کے بارے میں ہمارے مذہبی ذہن کے سراسرخلاف جاتی ہے اس لیے اس کا نام بہت کم لوگ لینے کی جرات کرتے ہیں۔

اصل میں برصغیرمیں خواتین کے تعلق سے مذہبی حلقہ میں خاص طورپر حدسے بڑھی ہوئی اورمبالغہ کی حدتک حساسیت پائی جاتی ہے جس کا ردعمل اب خواتین کی طرف سے بے محاباہورہاہے۔بعض مذہبی حلقوں کا کہناہے کہ عورت کا معنی ہی (چھپانے کی چیز(عورة) ہوتاہے)لہذااس کومکمل طورپر پنجرہ میں بندکرکے ہی اِ س مذہبی حساسیت کی تسکین ہوپاتی ہے۔دل چسپ یہ ہے کہ قرآن کریم عورت کے لیے عورة نہیں بلکہ نساءیاامراة کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔کبھی کبھی تواس موضوع پر اس قسم کے لوگوںکی تحریروں سے گمان ہوتاہے کہ گویااللہ ورسول کواس بارے میں حکم دیتے ہوئے اِن حضرات سے مشورہ لیناچاہیے تھا۔قرآن کے احکام ستروحجاب کی تفصیل میں لکھنے والوں اور خاص کرمفتیان کرام نے اپنی طرف سے بہت کچھ اضافے کرڈالے ہیں جواصل میں برصغیر کی تہذیبی رسوم ورواج کا شاخسانہ ہیں اورمعاشرہ میں اِن تعبیروں کی ہیبت ایسی ہے کہ اِنہیں کواصل سمجھا جاتا ہے ۔ اوراس پر کوئی نئی تحقیق پیش کرنے والوں پر فوراً مغربیت کے دلدادہ ہونے کا لیبل لگادیاجاتاہے۔

اس مسئلہ میں راسخ العقیدہ حلقہ میں عصرحاضرکے معروف محدث علامہ ناصرالدین البانی نے نئی تحقیق پیش کی۔( ۱٠ )اس کے بعدالاخوان المسلمون کے شیخ محمدالغزالی اورشیخ عبدالحلیم ابوشقہ نے ۔برصغیرمیں مولانامودودی رحمہ اللہ نے حقوق الزوجین میں عورتوں کے جائزحقوق کی بات کی لیکن ”پردہ“ میں آکرانہوں نے اس کوایک حدتک رِورس کردیا۔یسین مظہرصدیقی حالانکہ فقہی طورپر خاصے متصلب حنفی تھے مگراس معاملہ میں انہوں نے بھی روایتی تصورات کو توڑ دیا ہے۔

”سماجی مطالعہ“ میں انہوں نے ثابت کیاکہ رسول اللہ ﷺ اورصحابہ وصحابیات کے مابین مکمل نارمل سماجی میل ملاپ پایاجاتاتھا۔آپ ا ن کے گھروںمیں نارملی آتے جاتے تھے۔اسی طر ح صحابیوں اورصحابیات کا باہمی نارمل تعامل تھا۔ چہرہ کا کوئی پردہ نہیں تھا، ہاں اسلامی آداب کا پوراخیال رکھاجاتاتھا۔مگرایسی کوئی حساسیت نہ تھی جوموجودہ مذہبی لٹریچرمیں ظاہرکی جاتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابیات کے مابین یہ نارمل انسانی تعامل پردہ کے احکام سے پہلے بھی تھااور ان کے نزول کے بعدبھی جاری رہا یعنی مکی اورمدنی دونوں ادوارحیا ت میں۔صدیقی صاحب نے احادیث اور واقعات کاتجزیاتی وسماجیاتی مطالعہ پیش کرکے اپنی رائے کومبرہن وموکدکیاہے۔راقم کے علم کی حدتک ان کے استنباطات واستنتاجات سے کوئی علمی اختلاف ابھی تک سامنے نہیں آیاہے۔البتہ ان کی کتاب پر ترجمان القرآن میں تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسرانیس احمدنے جوسوالات اٹھائے، وہ زیادہ تراصل بحث سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ ان کا تعلق اصلاسدذریعہ سے ہے۔مولانامودودی اورشیخ ناصرالدین البانی کے مابین حجاب کے مسئلہ پر مراسلت میں بھی مولاناکی دلیل یہی سدذریعہ کا اصول تھا۔

پروفیسریاسین مظہرصدیقی کی نگارشات سیرت کوخصوصی طورپر پاکستان میں بڑی پذیرائی ملی۔شروع میں مشہور زمانہ رسالہ’ نقوش‘ میں انہوں نے سیرت پربہت لکھا۔ان کونقوش ایوارڈ بھی ملا۔نقوش کے بانی مدیرجناب محمد طفیل مرحوم سے ان کے بڑے محبت بھرے تعلقات قائم رہے ۔اس کے بعدان کے پاکستان کے مسلسل اسفار ہوتے رہے کیونکہ ان کی ہمشیرہ بھی وہیں رہتی ہیں۔سیرت سے متعلق ان کی کئی کتابیں پاکستان سے چھپیں۔اس کے علاوہ وہاں کے سیمیناروں اور مذاکروں میں وہ باربارمدعوکیے جاتے علمی اداروں میں  ان کے خطبات اور تقریریں ہوتیں۔ایک سفرمیں راقم کوبھی ان کی رفاقت کی سعادت ملی اوروہاں ان کی محبوبیت ومقبولیت کا خوب خوب مشاہدہ ہوا۔ یہ سفر 26 تا28 مارچ 2011 کوانٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکی سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے ہواتھا۔

فکر و اسلوب بیان:

فکری طورپر یاسین مظہرصاحب دبستان شبلی کے خوشہ چیں ہیں اورندوة العلماءکے منہج اعتدال سے وابستہ، مسلکی تشددسے دورونفورتاہم وہ تصوف اوراہل تصوف کے بڑے قائل معلوم ہوتے ہیں اور نورمحمدی جیسے مضامین میں شاہ ولی اللہ دہلویؓ کے رجحان تصوف کی طرف ان کا میلان خاصامعلوم ہوتاہے۔وہ اس قسم کے روحانی وباطنی امور کے لیے شاہ ولی اللہ کا ہی حوالہ دیتے ہیں۔(۱۱)گرچہ کئی جگہوں پر اختلاف بھی کرتے نظرآتے ہیں۔تاہم معاصر علما ومفکرین کا ان کا مطالعہ بہت محدودہے۔یہی وجہ ہے کہ مولاناوحیدالدین خان اورجناب جاویداحمدغامدی پر ان کا اندازِتنقیدبہت تنداورجارحانہ ہےاوربتاتاہے کہ دونوں حضرات کی فکروتحریروں سے وہ براہ راست واقف نہیں، بس سنی سنائی باتوں پر تنقیدکرڈالتے ہیں۔(۱۲)

صدیقی صاحب کی علمی نگارشات کا اسلوب بڑاخشک اوربوجھل ہے۔وہ اپنے جملوںمیں اضافت کا بے محابا استعمال کرتے تھے اوراتنی کثرت سے کرتے تھے کہ بعض مرتبہ عبارت سقیم اوربھونڈی ہوجاتی ہے۔ان کی نگارشات پڑھی جاتی ہیں نئے مضامین ،جدت طرازی ،اورنئی اوراچھوتی تحقیقات کے لیے لیکن اسلوب بیان راقم کی نگاہ میں دبستان شبلی سے یکسرہٹاہوابلکہ عام ندویوں کی تحریروں سے بھی الگ اوردشوارہے۔البتہ شخصیات واساتذہ پر جو خاکے اورتاثراتی مقالے انہوں نے لکھے ہیں، وہ زبان وبیان کی غلطیوں کے باوجودلطیف طنزومزاح سے بھرپور اور بڑی حیویت ونشاط رکھتے ہیں۔

پروفیسریاسین مظہرصاحب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے اساتذہ کوہمیشہ یادرکھتے اوران کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ان کے ملفوظات ،اقوال اوران کے لطائف کا بڑاذخیرہ ان کویادتھااوراپنی مجلسوں میں ان کوتازہ کرتے رہتے تھے ۔یہ مقالات زیادہ ترت اثراتی ہیں اوران میں انہوں نے مزے لے لے کرمزاحیہ انداز میں اپنے استادوں کو یادکیاہے۔ان کا بہترین خاکہ اورتاثراتی مضمون مولانامحمداسحق صدیقی سندیلوی ندوی پرہے۔مولانااسحاق صدیقی ندوی دارالعلوم ندوةالعلماءکے بڑے اساتذہ میں سے یعنی نائب مہتمم وشیخ الحدیث تھے ،اورصدراول کی تاریخ پر بڑی محققانہ نظررکھتے تھے۔اورروایات وآثارکی چھان پھٹک کے بعدوہ سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اوردیگراموی حضرات کے بارے میں عام روایت سے ہٹ کرسوچتے تھے اورمنصفانہ نقطہ نظرکے وکیل بن گئے۔جبکہ مسلمان مورخین بطورخاص اردوکے بنوامیہ سے ایک خاص پرخاش رکھتے ہیں اورمولاناابوالحسن علی ندوی کا بھی اس معاملہ میں استثناءنہ تھا۔ ندوہ میں انہیں کا سکہ چل رہاہے، اس لیے جواساتذہ یاطلبہ بنوامیہ پرقدح کرنے والی کسی روایت پر سوال کھڑاکرتے وہ زیرعتاب آجاتے ۔ مولانااسحاق صدیقی ندوی اسی فکری چشمک کا شکارہوئے اوران کوندوہ سے جانا پڑا۔ان پراپنے تاثراتی مضمون میں مولانایاسین مظہرصدیقی نے اس داستان کولطیف پیرایہ میں بیان کیاہے ۔ مولانا اسحاق صاحب کی اس سلسلہ میں کتاب اظہارحقیقت بہت معروف ہے جومولانامودودیؓ کی خلافت وملوکیت کے تعاقب میں لکھی گئی تھی ۔ (۱۳)

بلاشبہ مولاناسیدابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاںندوی فی زمانہ ندوة کے گل سرسبدہیں۔وہ مولانایاسین مظہر کے بھی استادتھے۔چنانچہ ان کی وفات پر یاسین صاحب نے تاثراتی مقالہ لکھااوربلندالفاظ میں ان کوخراج عقیدت پیش کیااوربعض مواقف پر اپنے اختلاف کا بھی تذکرہ کیابلکہ ایک جگہ تو ان کوتاریخ میں شیعیت سے متاثر تک قرار دے ڈالا۔(۱۴)مولاناعبدالسلام قدوائی ندوی کوبھی انہوںنے یادکیاہے۔ یہ جامعہ ملیہ میں یسین مظہر صاحب کے استادوسرپرست رہے،ان پربھی ایک جاندارمقالہ تحریرکیاہے۔مولاناقدوائی ندوی اپنے دروس قرآن اورقرآنی عربی کی تدریس کے لیے مشہورتھے ۔ان کوندوہ العلماءکا معتمدتعلیمات مقرر کیا گیاتھا۔اس مضمون سے معلوم ہوتاہے کہ ندوہ کے نصاب کواپ ٹوڈیٹ کرناچاہتے تھے مگرمولاناعلی میاں(ناظم ندوہ)نے ان کو ایسا نہیں کرنے دیا۔عربی زبان کوایک زندہ زبان کی حیثیت سے پڑھانے کے لیے اوراس لحاظ سے ندوہ کے نصاب ونظام میں تبدیلیاں لانے کا کریڈٹ تومولاناعلی میاں کویقیناجاتاہے ،مگرصرف عربی ادب کی حدتک ۔افسو س کہ ندوة میں جمع  بین القدیم والجدیدکا نعرہ بس ایک نعرہ ہی بن کررہ گیااوراب تووہ دیوبندکا ایک ضمیمہ معلوم ہوتاہے ۔(۱۵)

پروفیسرخلیق احمدنظامی علی گڑھ میں شعبہ تاریخ کے استاداورصدرشعبہ تھے اورنام وراسکالرتھے جن کی نظر مشائخ چشت پر بڑی وسیع تھی۔اب ان کی یادمیں یونیورسٹی میں ایک قرآن سینٹربھی کام کررہاہے۔پروفیسرصدیقی نے اپنے نامور استاد نظامی صاحب کے اوپرایک بڑامفصل اورجاندارمقالہ لکھاہے۔اوران کی خوبیوں وخامیوں کا تذکرہ کیاہے۔ نیز یونیورسٹی ملازمت اورشعبہ کی نظامت اوراس کی باریکیوں،شعبہ جاتی سیاست اورنزاکتوں پر گہری نظر ڈالی ہے۔ حالانکہ نظامی صاحب نے ۱۴ سال تک ان کولیکچرربننے نہیں دیااورجب بن گئے توپروموشن نہیں دیا۔اس کے باوجودانہوں نے استادکے احسانات کا تذکرہ ممنونیت کے جذبات کے ساتھ کیا۔(۱۶)

صاحب مصباح اللغات مولاناعبدالحفیظ بلیاوی پر جوندوہ میں ان کے استاد رہے،  ایک بڑا لطیف اورمزاحیہ مضمون لکھاہے ۔مولاناعبدالحفیظ بلیاوی قاسمی تھے اورحنفی المسلک مگرمتوسع ومعتدل مزاح حنفی ۔بعض متشددحنفی ائمہ مساجدفجرمیں اسفار میں جو مبالغہ کرتے ہیں،  اُس پر پروفیسرصدیقی نے ان کا یہ لطیفہ نقل کیاہے کہ ”حنفی امام جب السلام علیکم کہہ کر دائیں جانب سلام پھیرتاہے توحضرت آفتاب علیہ السلام دوسری طرف سے وعلیکم السلام کہتے ہوئے طلوع ہوجاتے ہیں“۔واقعہ یہ ہے کہ مولانابلیاوی پر صدیقی کا یہ مضمون اس بلاکا پُرلطف اورمزاحیہ ہے کہ اس کوپڑھتے ہوئے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔(یہ مقالہ صدیقی صاحب کی وفات سے چندماہ پیشتر شائع ہوا) (۱۷)اسی طرح انہوں نے پروفیسروحیدقریشی کوبھی یادکیاجوکہ ان کے شعبہ تاریخ میں استادرہے تھے ۔ وہ وضع داراورخاندانی رئیس تھے اوراپنی خودداری ووضع داری میں کوئی حرف نہ آنے دیتے تھے۔ ان پر جومضمون لکھاہے، وہ غالباً ان کی آخری تحریرہے کہ وہ صدیقی صاحب کی وفات کے بعدشائع ہواہے اورایک استادکوشاگردکا بہترین خراج عقیدت ہے۔(۱۸)

پروفیسرصدیقی بڑے مجلسی ،یارباش اورحاضرجواب تھے۔وہ بقول خودابن صفی اورمشتاق احمدیوسفی وغیرہ کو پڑھنے کے رسیاتھے حالانکہ اس کا اثران کی اپنی زبان پر بہت زیادہ نہیں پڑاکیونکہ ان کی نثربڑی ثقیل ہے اوراس میں روانی کی بہت کمی ہے۔مجلس کومختلف شخصیات ،اپنے استادوں ، شاگردوں،مختلف سیمناروں کی رودادوںوغیرہ کے تذکرے کرتے رہتے اورطرح طرح کے لطائف کے ذریعہ زعفران زاربنائے رہتے ۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کریہ یقین نہیں آتاتھاکہ یہی شخص بڑے خشک موضوعات پر دادتحقیق دیتااورحوالوں کے ڈھیرلگاتاہے۔

بڑے خوردنواز تھے۔ راقم کی جب بھی ان سے ملاقات ہوئی وہ خوب سوال وجواب کرتااورکبھی ان کی جبین پر شکن نہ دیکھی گئی بلکہ پوری بشاشت وتوجہ سے سنتے اوربے تکلفی سے گفتگوکرتے ۔میں دہلی میں رہتاتھا۔ایک بارعلی گڑھ آیاتوان کوفون کیاکہ آپ کی زیارت کرنی چاہتاہوں۔ ہنس کربولے فوراً آئیے، میں بھی آپ کی زیارت کا مشتاق ہوں۔ میں پہنچا تو گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اوراپنی ذاتی لائبریری اوراپنی مطبوعات دکھائیں۔رخصت ہونے لگا تو پوچھا، ابھی علی گڑھ میں قیام ہے؟ اگر ہاں توکل میرے ہاں آپ کی دعوت ۔میں دوسرے دن پہنچاتوپُرتکلف دسترخوان سجایا ہوا تھا۔کہنے لگے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے بنایاہے۔اس طرح کی یادیں بہت ہیں اوران سے ان کی باغ وبہارشخصیت کا پتہ چلتاہے۔پروفیسرصدیقی مرحوم کے تحقیقی مقالات زیادہ ترمعارف اعظم گڑھ کی زینت بنتے تھے یاتحقیقات اسلامی علی گڑھ کی ۔ ان کی وفات کے بعدمعارف نے اچھاخراج تحسین پیش کیاتحقیقات اسلامی سے بھی یہی امیدکی جاتی ہے۔

یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ علی گڑھ میں مسلم لیگیت کے زیراثرابوالکلام آزادشکنی کی ایک روایت رہی ہے۔شعبہ انگریزی کے مقبول ومعروف استادومحقق پروفیسراسلوب احمدانصاری کوآزادسے ایک چڑ تھی اوروہ ان کواپنی تقریروں اور تحریروں میں مولوی ابوالکلام آزادلکھ کراپنے دل کی بھڑاس نکالتے اوران کی تفسیرکوسرسیدکی تفسیرکا چربہ قراردیتے۔علی گڑھ کے اردوادب میں گل سرسبدمختارمسعوداورمشہورمزاح نگارمشتاق احمدیوسفی بھی آزادشکنی اور ان کی ہجوگوئی میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔افسوس کہ پروفیسریسین مظہرصدیقی بھی اسی رومیں بہ گئے ۔چنانچہ پاکستان کی ایک مجلس میں وہ آزادکوشراب نوش کہہ گئے (جوبالکل غلط روایت ہے)۔ اسی طرح ایک مضمون ”ابو الکلام آزادمیزان یوسفی میں “لکھاہے ۔(۱۹)بھلا کہاں اردوکا ایک مزاح نگاراورکہاں علوم قدیم وجدیدکا جامع ابوالکلام آزاد!اسی طرح علی گڑھ کے ایک معاصراسلامی مفکراورصاحب طرزادیب کے بارے میں صدیقی مرحوم نے خودراقم خاکسارسے ناگفتنی تبصرہ کیاجونہ صرف بودا تھا بلکہ بالکل غلط تھا۔مولاناسلطان احمداصلاحی مرحوم کے بارے میں بھی انہوں نے راقم سے خاصے منفی تاثرکا اظہارکیاتھاصرف اس وجہ سے کہ مولانامرحوم فقہی طورپر کسی کے مقلدنہ تھے بسااوقات وہ خودبہت سے مسائل میں اجتہادکرلیتے تھے جبکہ صدیقی مرحوم فقہیات میں ٹھیٹھ مقلد تھے۔مولاناوحیدالدین خاں اورجاویداحمدغامدی صاحب کے بارے میں بھی ان کے رمارک مناسب نہیں۔ (اللہ ان کی لغزشوں کومعاف فرمائے )اس لیے راقم کا خیال ہے کہ معاصرین واقران کے بارے میں پروفیریٰسین مظہرصدیقی کی رایوں پر زیادہ اعتمادنہیں کیاجاسکتا۔المعاصرة کالمنافرة مثل مشہورہے اورصحیح ہے۔


حواشی و حوالجات

(1)دارالفکر،اس ادارہ سے اسلام اورسائنس کے موضوع پر وقیع کام انجام پایاہے ۔مدت تک یہاںسے ششماہی مجلہ آیات بھی نکلتارہا۔اب ڈاکٹرمحمدذکی کرمانی یوٹیوب پر سائنسی موضوعات پر مختصرلیکچرزکااہتمام کررہے ہیں۔

2۔فیصل ایوارڈ یافتہ پروفیسرنجات اللہ صدیقی ،اسلامی معاشیات وفکراسلامی کے میدان میں بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ان کی وقیع کتاب مقاصدشریعت نے اہل علم وفکرکومتاثرکیاہے۔

3۔یاسین مظہرصدیقی ،عہدنبوی میں تنظیم ریاست و حکومت (مصنف کا مختصر)تعارف ص ۵ قاضی پبلشرزاینڈڈسٹری بیوٹرزنئی دہلی ،طبع اول 1988

4۔مصادرسیرت نبوی ،دوجلدانسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی ،اب یہ کتاب پاکستان سے بھی چھپ گئی ہے۔

5۔انگریزی ترجمہ پروفیسرعبدالرحیم قدوائی نےThe Prophet Mohammad (pbuh) A Role Medel for Muslim Minorities by M.Y Mazhar Siddiqi translated by Abdur Rahim Qidwai کے نام سے کیاہےLeicester UK 2006 سے چھپ گیاہے۔

6۔مثلا وہ معاہدہ جوعبد الرحمن بن عوف زہری نے مکہ کے ایک سردارامیہ بن خلف جمحی سے کیا ان کا بیان ہے کہ کاتبت امیة بن خلف کتابا بان یحفظنی فی صاغیتی بمکة واحفظہ فی صاغیتہ بالمدینة (بخاری کتاب الوکالۃ باب اذا وکل المسلم حربیا فی دارالحرب ) یہ دونوں مکہ میں دوست تھے اورحضرت عبدالرحمن نے امیہ کے بیٹے علی جمحی کو جنگ بدر میںبچانابھی چاہا تھا مگروہ ماراگیا حافظ ابن حجر کے مطابق رسول اکرم کو اس معاہدہ کا علم تھا ۔)ملاحظہ ہو محمد یسین مظہرصدیقی ،مکی اسوہ نبوی صفحہ ۱۶۵،اسلامک بک فاونڈیشن نئی دہلی طبع اول اپریل ۲۰۰۵ء

7۔(واضح رہے کہ جوارایک اہم عرب سماجی قدرvalueتھی جس کا عرب معاشرہ میں بڑااحترام تھا،آپ نے مطعم بن عدی کی جوارطائف کے سفرکے بعدحاصل کی ،ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرکو جواردی ۔آپ ﷺ نے مکہ میں رہ جانے والے مسلمانوں کو ،جن پر تشددکیاجاتاتھا بعض شرفاءمکہ کی جواردلوائی جیساکہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابوجندل کو حویطب بن عبد العزی اورمکرز بن حفص کی جواردلوائی ۔انہوں نے ضمانت لی کہ وہ ابوجندل کو ان کے باپ کے شرسے محفوظ رکھیں گے۔،مکی اسوہ نبوی ص ۲۹۳ ایضا صفحہ20 بلاذری ۱: 220میں ہے فردہ رسول اللہ علی ان اجارہ حویطب بن عبد العزی ومکرز بن حفص وضمنا ان یکف اباہ عنہ۔

8۔ملاحظہ ہو:یاسین مظہرصدیقی ،عہدنبوی میںتنظیم ریاست و حکومت قاضی پبلشرزاینڈڈسٹری بیوٹرزنئی دہلی ،طبع اول 1988 ص547تا749

9۔علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی ،شہادت عثمان کا تاریخی پس منظرفاﺅنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز نئی دہلی ،بخاری کا مطالعہ جلداول دوم سوم وہی ناشراوراس خاص موضوع پر مولانامحمداسحاق صدیقی سندیلوی ندوی ،علامہ حبیب الرحمن اعظمی، مولانامفتی تقی عثمانی ،صلاح الدین یوسف ،مولانامحمدنافع ،مولاناعتیق الرحمن سنبھلی وغیرہم کی نگارشات ۔

10۔مولاناوحیدالدین خان خاتون اسلام باب سوم پردہ ص 250شائع کردہ گڈورڈ بکس نظام الدین ویسٹ نئی دہلی نیزشیخ البانی کی کتاب : جلباب المراۃ المسلمۃ

11۔محمدیٰسین مظہرصدیقی ،نورمحمدی کا دینی وتاریخی استناد،تحقیقات اسلامی علی گڑھ جولائی تاستمبر2010

12۔پروفیسریاسین مظہرصدیقی کا انٹرویوشایع کردہ محدث لاہورستمبر2020

13۔اظہارحقیقت ،یہ کتاب تین جلدوںمیں ہے اورتاریخی روایات پر تحقیق وتجزیہ میں بے مثال ہے۔پروفیسرصدیقی اپنے استادکی اس کتاب کے بڑے ثناخواں تھے۔

14۔پروفیسریاسین مظہرصدیقی لکھتے ہیں:”مولانامودودی ،قاری محمدطیب اورمولاناابوالحسن علی ندوی جیسے شیعی فکرکے حامل سنی علماءکا اس اجماع صحابہ (یزیدکی بیعت)کے بارے میں بارے میں ان کی مبینہ بزدلی اورمداہنت کا الزام لگاناعدالت ومرتبہ صحابہ کی توہین کے مترادف ہے۔کیاصحابہ کوبھی خاصاڈرایادھمکایاجاسکتاہے؟خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظرمیں فروری 2010

15۔تفصیل کے لیے دیکھیے :ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی ،عالم اسلام کے مشاہیرص172مارچ 2014

16۔پروفیسریٰسین مظہرصدیقی،استاذگرامی نظامی،ماہنامہ تہذیب الاخلاق (مشاہیرعلی گڑھ نمبرجلددوم مارچ  2013ص194

17۔فکرونظرسہ ماہی پروفیسریٰسین مظہرصدیقی جون 2020ص73جلد۷۵شمارہ ۲

18۔فکرونظرسہ ماہی پروفیسریٰسین مظہرصدیقی استادوحید،ستمبر 2020ص38

19۔فکرونظرسہ ماہی پروفیسریٰسین مظہرصدیقی دسمبر 2020ص43جلد۶۵شمارہ ۴

عقیدہ، تہذیب اور سیاسی طاقت

(اسلامی تاریخ کے تناظر میں)

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

کسی مذہبی پیغام یا  عقیدےکے پھیلاؤ میں سیاسی طاقت کا کر دار کس قدر اہم  ہوتا ہے؟  دوسرے لفظوں میں  سیاسی طاقت  کی کسی اخلاقی یا مذہبی پیغام کے لئے  کیا معنویت ہے  ؟اسلام کے حوالے سے دیکھیں تو اسلام کی دعوت کے عمومی فروغ  میں سیاسی طاقت کا کتنا اثر ہے ؟ مزید  یہ کہ  کر ہ ارض کے ایک بڑے خطے پر مسلمانوں نے جو تہذیبی اثرات ڈالے ،اس میں ان کی فتوحات او ر سیاسی اثر و رسوخ  کا کس  قدر حصہ رہا  ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اسلامی روایت  کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف مغربی مفکرین  کے لئےاسلام کے آغاز و ارتقا  اور تہذیب ِ اسلامی کے عالمی اثرات  سے متعلق  درست پوزیشن  لینا دشوار  بنا رہا تو دوسر ی طرف خود مسلمانوں کو کئی حوالوں سے معذرت خواہانہ  موقف اپنانا پڑا۔

بہت سے مغربی معترضین نے اپنی منطقی و استدلالی قوت  اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کی ہے کہ اسلام  تلوار کے ذریعے پھیلاہے، یعنی اسلام خونریزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔ جواب میں مسلمانوں نےاسلام کے عسکری پہلو کو  ایک طرح کا  تاریخی دھبہ  سمجھتے ہوئے،اپنے تاریخی چہرے سے  دھونے کی ہر ممکن کو شش کی ،چاہے انہیں معذرت خواہانہ پوزیشن ہی کیوں نہ اپنا نی پڑے۔ یہاں تک کہ علامہ محمد  اقبال جیسے مفکر  کے ہاں بھی، جن کی شاعر ی میں قوموں کے لئے  طاقت و قوت اور حرکتِ پیہم کو زندگی کی علامت  کے طور پر بیان کیا  گیا اور جرم ِضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات قرار پائی  ، تاریخِ اسلام کے متعلق یہ فکری الجھاؤ موجود ہے جو ڈاکٹر سر نکلسن (Sir Nicolson) کے نام لکھے گئے ان کے خط میں صاف نظر آتا ہے ۔ لکھتے ہیں :

مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ  مسلمان  بھی دوسری قوموں کی طرح  جنگ کر تے رہے ہیں ۔ انہوں نے بھی فتوحات کی ہیں ۔ مجھے اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ  ان کے بعض  قافلہ سالار ذاتی  خواہشات  کو دین و مذہب کے لبا س میں جلو ہ گر  کرتے رہے ہیں  لیکن مجھے  پوری طرح  یقین ہے کہ  کشور کشائی  اور ملک گیری  ابتدا  ءاسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔ اسلام کو جہاں ستائی اور کشور کشائی میں جو کامیابی ہوئی ہے ، میرے نزدیک  وہ اس کے مقاصد کے حق میں  بے حد مضر تھی۔  اس طرح وہ اقتصادی  اور جمہوری  اصول  نشو و نما نہ  پاسکے  جن کا ذکر  قرآن ِ کریم  اور احادیث  نبویﷺ  میں جا بجا  آیا ہے۔بلاشبہ  کہ مسلمانوں  نے ایک عظیم الشان سلطنت  قائم کرلی ، لیکن  سا تھ ہی ان کے سیاسی  نصب العین  پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا  اور انہوں نے  اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بندکر لیں  کہ اسلامی اصولوں  کی گیرائی  کا دائرہ کس قدر  وسیع ہے ۔بلاشبہ اسلام کا مقصد  انجذاب ہے مگر انجذاب کے لئے کشور کشائی  در کا رنہیں بلکہ صرف  اسلا م کی سیدھی سادی تعلیم جو الٰہیات  کے دقیق  اور پیچیدہ مسائل سے پاک  اور عقل انسانی  کے عین مطابق  واقع ہوئی ہے  اس عقدہ  کی گرہ کشائی  کر سکتی ہے ۔اسلام کی فطرت میں  ایسے  اوصاف  پنہاں ہیں  جن کی  بدولت  وہ کامیابی  کے بام بلند  پر پہنچ  سکتا ہے۔ذرا چین کے حالات  پر نظر ڈالئےجہاں کسی  سیاسی قوت  کی پشت پناہی  کے بغیر اسلام  کے تبلیغی مشن  نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرلی  اور لاکھوں انسان  اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے ۔میں بیس سال سے  دنیا کے افکار  کامطالعہ کر رہا ہوں اور اس طویل عر صے نے مجھ میں  اس قدر صلاحیت  پیدا کر دی ہے کہ  حالات و واقعات پر غیر جانبدار انہ حیثیت سے  غور کر سکوں۔1

چین کے مسلمانوں کا معاملہ تو بہت بعد کا ہے ، غور کیجئے کہ آغاز اسلام اور اس کے بعد اسلامی تہذیب کے تشکیل و ارتقاکے دور میں کیا ممکن تھا کہ  محض تبلیغی مشن سے  یہ سارے   اثرات اور  مقاصد حاصل کیے جا سکتے ؟مزید گہر ائی سےدیکھا جائے تو   چین کے مسلم  دعوتی مشن  کے پسِ پشت بھی اسی اسلامی تہذیب  ہی کی پشت پناہی تھی جس  نے تاریخ انسانی میں ایک بڑا اثر ڈال رکھاتھا  ، جو دعوتی مشن میں   شعوری لاشعوری سطح پر  بہرحال  موجود رہی ہے ۔ ضرورت ا س امر کی ہے کہ  اسلام  کے پیغام کے پھیلا ؤ اور تہذیب ِ اسلامی کے تشکیلی دور  میں سیاسی طاقت کی  اہمیت اور اس کے بھر پور کردار  کو واضح کیا جائے۔

عقیدہ توحید کے فروغ میں سیاسی طاقت کا کردار

ماضی قریب  کی  معروف یہودی مصنفہ  پیٹریشا کرون2 (Patricia Crone:1945-2015) اس سوال کو جس زاویے سے دیکھتی ہیں ، وہ کافی دلچسپ ہے۔ان کے نزدیک دنیا  میں جتنے  بھی مذاہب زیادہ پھیلے  اور انہیں انسانی  تہذیب  و تمدن  پر  گہرے اثرات ڈالنے کا موقع ملا ،انہیں سیاسی طاقت  کی مدد ضرور حاصل رہی3 ۔ گویا جب کسی  اخلاقی یا مذہبی  پیغام کو سیاسی طاقت کی سپورٹ ملتی ہے تبھی وہ کوئی بڑا impact ڈال سکتاہے ۔وہ اپنے نقطہ نظر کو اس مقدمہ پر کھڑا کر تی  ہیں کہ عقیدہ توحید اصل میں یہودیت  کا ہے۔  یہودیت کے پا س خالص توحید تو تھی لیکن انہیں سیاسی طاقت نہیں ملی ۔ عیسائیت کو اگرچہ سیاسی طاقت ملی لیکن ان کے ہاں عقیدہ توحید  تثلیث سے گہنا چکا تھا  البتہ مسلمانوں کے ہاں  عقیدہ توحید بھی خالص تھا اور  سیاسی طاقت بھی موجود تھی ۔ یوں عقیدہ توحید جو دراصل یہود ی مذہب  کا بنیادی عقیدہ  تھا ،مسلمانوں  نے اسے   آگے بڑھایا اور آج عقیدہ توحید جو  خالص حالت میں پوری آب وتاب کے ساتھ  موجود ہے ،ا س کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی  سیاسی طاقت  تھی جس کے زیرِ سایہ اسے پوری طرح پھلنے پھولنے کا موقع ملا ۔  گویا  یہودی عقیدے اور عربوں کی  غیر متمدن طاقت کے امتزاج  کے بغیر  عقیدہ توحید  خالص صورت میں تاریخ میں اپنا سفر طے نہیں کر سکتا تھا۔ اس خاص نکتے کو واضح کرنے کی پوری گنجائش موجودہےاور غالبا مغر بی مصنفین میں سے  تاریخ ِ اسلام کو اس خاص مذہبی  زاویے  سے دیکھنے والا اور کوئی نہیں۔ وہ  اپنی معروف کتاب "Hagarism" میں لکھتی ہیں:

Without the fusion of barbarian force with Judaic value there would have been no such thing as Islamic civilization, and the intransigent stance of Islam vis-a-vis the heritage of antiquity was consequently part of the price that had to be paid for its very existence.4

غیر متمدن قوت اور یہودی عقیدے (یعنی توحید) کے ملاپ کے بغیر اسلامی تہذیب  کا تصور ممکن  نہیں۔ قدیم ورثہ کے مقابلے میں  اسلا م کا  بے لچک غیر مصالحانہ موقف اس قیمت کا ایک حصہ تھا  جو اسلام کو اپنی بقا کے لیے دینی پڑی۔

ایک اور مقا م پر لکھتی ہیں:

The power of Hagarism to reshape the world of antiquity lay in its union of Judaic values with barbarian force.5

ہیگر ازم (یعنی اسلام) کی طاقت  جس سے اس نے قدیم دنیا کو  نئی شکل دے دی، یہودی اقدار کو غیر متمدن قوت کے ساتھ جوڑ  دینے میں مضمر تھی۔

پھر لکھتی ہیں :

Instead, barbarian conquest and the formation of the Judaic faith which was eventually to triumph in the east were part of the same historical event. What is more, their fusion was already explicit in the earliest form of the doctrine which was to become Islam. The preaching of Muhammad integrated a religious truth borrowed from the Judaic tradition with a religious articulation of the ethnic identity of his Arab followers. ……
The structure of Hagarene doctrine thus rendered it capable of long-term survival, and the consolidation of the conquest society ensured that it did survive. Judaic values had acquired the backing of barbarian force, and barbarian force had acquired the sanction of Judaic values: the conspiracy had taken shape.6

درحقیقت غیر متمدن  قوت  کی فتوحات  اور یہودی  عقیدے  (یعنی توحید) کی تشکیل  جو مشرق  میں آخر کار  فاتح ٹھہرا،  ایک ہی تاریخی واقعے کا حصہ تھے۔ مزید یہ کہ  ان کا باہمی ملاپ اس عقیدے کی ابتدائی ترین  شکل میں  ہی واضح تھا جو بعد میں اسلام بنا۔ محمد ﷺ کی تبلیغ  نے یہودی روایت سے  لی گئی ایک مذہبی صداقت (یعنی توحید) کو  اپنے عرب پیروکاروں  کی نسلی شناخت کے اظہار کے ساتھ  ضم کر دیا۔  

ہیگیرین  عقیدہ (یعنی اسلام) کی ساخت  نے اس میں  لمبے عرصے تک  باقی رہنے کی صلاحیت  پیدا کی، جبکہ  فتوحات  کے استحکام نے اس کی بقا کو یقینی بنایا۔ یہودی اقدار کو غیر متمدن طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو گئی جبکہ غیر متمدن قوت کو یہودی اقدار کا  جواز اور تقدس مل گیا۔ یوں (توحید کو تہذیبی سطح پر باقی رہنے کے لیے)  جس گٹھ جوڑ کی ضرورت تھی، وہ وجود میں آ گیا۔

غور کیا جائے تو  یہ بات جو پیٹریشیا کرون نے کی ہے، یہ تھوڑے مختلف انداز میں مسلمان فقہا بھی کہتے ہیں۔ وہ جہاد کی حکمت  یہی بیان کرتے ہیں کہ ہم کسی کو زبردستی اسلام  قبول نہیں کرواتے  لیکن جب ہم اپنی ایک سیاسی حاکمیت قائم کرتےہیں تو اس سے وہ ماحول پیداہوتا ہے جس میں غیر مسلم ،اسلام کے محاسن کو ایسی جگہ سے دیکھیں جس میں ان کے لئے اپیل اور کشش (Attraction)پیداہو۔ طا قت انسان کو مرعوب و متاثر کرتی ہے ۔طاقت محض طاقت ہونے کی بنیاد پر متا ثر کرے تو وہ الگ چیز ہے لیکن اگر کسی پیغام کے اندر محاسن اور  خوبیاں ہیں  تو ان خو بیوں اور محاسن  کا کسی طاقت کی چھتری  کے نیچے  اجاگر ہونا  اس کے فروغ  کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

فقہا جس دور میں یہ بات کر رہے ہیں، وہ اسلام کی سیاسی حاکمیت کا دور تھا ، اس لئے ان کے فکری زاویےمیں ایک طرح کی غالب پوزیشن  کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ۔ پیٹریشا کرو ن مسلمان نہیں ہے، بلکہ  وہ ایک تاریخی زاویے سے دیکھ  رہی ہےکہ  مسلمان کیونکر  وہ کارنامہ انجام دینے کے قابل ہو ئے جو یہودی نہیں دے سکے کیونکہ ان کے پاس عقیدہ تو خالص تھا لیکن طاقت نہیں تھی ،اور مسیحی اس لیے نہیں دے سکے کہ ان کے پا س  طاقت تو تھی  لیکن عقیدہ خالص نہیں تھا۔ اس نے تو حید کو ہی لیا ہے لیکن دیکھا جائے تو  پو ری اسلامی شریعت اسی طاقت کے ذریعے  آگے بڑھی۔یوں اسلام کے تاریخی کر دار کے بارے میں ایک مشترک نکتہ مل رہا ہے  جو مسلم روایت اور اور جدیدفکر میں کافی مشابہت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ ویسرسٹین (David Wasserstein) جو وینڈر بلٹ یونیور سٹی (Vanderbilt University) میں  یہودیت  اور  اسلام کے یہودی ورثہ کے پروفیسر ہیں ،اپنے ایک  خطبے میں ،پیٹریشیا کرو ن سے  آگے بڑھ کر  یہ موقف اختیار کیا کہ اسلام نے  یہودی مذہب ہی کو ختم ہونے سے بچالیا ۔گویا اسلام نے ابراہیمی روایت  کے بنیادی مذہب   کو ، جو بالکل ختم ہونے کے قریب تھا ، ایک نئی زندگی بخشی۔ انہوں نے اپنا موقف اسلامی خلافت کے تناظر میں  ان الفاظ میں بیان کیا  ہے:

Islam saved Jewry. This is an unpopular, discomforting claim in the modern world. But it is a historical truth. The argument for it is double. First, in 570 CE, when the Prophet Mohammad was born, the Jews and Judaism were on the way to oblivion. And second, the coming of Islam saved them, providing a new context in which they not only survived, but flourished, laying foundations for subsequent Jewish cultural prosperity – also in Christendom – through the medieval period into the modern world…. Had Islam not come along, Jewry in the west would have declined to disappearance and Jewry in the east would have become just another oriental cult.7

اسلام نے یہودیت کو بچا لیا۔ یہ جدید دنیا میں ایک غیر مقبول  اور اضطراب انگیز دعوی ہے۔ لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اس کی دلیل دوہری ہے۔ سب سے پہلے ، 570 عیسوی میں ، جب حضرت محمد کی ​​ولادت ہوئی ، یہودی اور یہودیت غائب ہونے کے راستے پر گامزن تھے۔ اور دوسرا ، اسلام کی آمد نے انھیں اس طرح بچایا کہ ایک نیا تناظر مہیا کیا جس میں وہ نہ صرف باقی رہ سکے بلکہ پھل پھول سکے، اور (اسلامی دنیا کے علاوہ) عالم مسیحیت میں بھی اس یہودی ثقافتی نشوونما  کی بنیاد رکھی  جو قرون وسطی کے دور سے لے کر جدید دنیا تک جاری ہے…. اگر اسلام معرض ظہور میں نہ آیا ہوتا تو مغرب میں یہودیت  منظر عام سے  غائب ہوجاتی، جبکہ  مشرق میں صرف ایک مشرقی  فرقہ بن کر رہ جاتی۔

تہذیب اور سیاسی طاقت

عقیدہ یا اخلاقی پیغام ،جیسا   کہ گزشہ  سطور میں واضح ہو ا، عموما  کسی سیاسی  طا قت  کے تحت   ہی تاریخ ِ انسانی میں ایک بڑا Impact  ڈال سکتے ہیں۔اسی طرح  کوئی تہذیب  اپنی تشکیل و ارتقا  اورایک بڑے خطے پر پھیلاؤ اور گہرے  اثرات  کے حوالے سے  سیاسی پشت پناہی  کی مر ہون  منت ہوتی ہے ۔مسلم تہذیب  کی تشکیل و ارتقا اور پھیلا ؤ بھی اسی اصول کے تحت  ہوا ۔اگر چہ ہر تہذیب کی طرح مسلم تہذیب نے بھی د یگر تہذیبوں کے اثرات بھی قبول کیے لیکن اپنے سیاسی اثر و رسو خ کی بدولت  دنیا کے ایک بڑے خطے کو  نہایت  مثبت  اور تعمیری اثرات سے  مالا مال بھی کیا ۔ جو تہذیبی اثرات مسلمانوں نے ایک بڑے خطہ ارض پر ڈالے،انہیں  اس زاویے سے بھی  دیکھا جاسکتا ہے کہ ان اثرات  کا مسلمانوں کی فتوحات کے ساتھ کیا تعلق بنتاہے ۔دوسرے لفظوں میں اگر یہ فتوحات ہی نہ ہوتیں تو کیا مسلمان  اس پوزیشن میں ہوتے کہ اس قدر تہذیبی اثرات ڈال سکتے ۔مثلا  سائنسی علوم ہی میں مسلمانوں  کی خدمات کو لیجئے ،کیا یونانی علوم  کے ترجمے کی اتنی بڑی تحریک  مسلمانوں کی سیاسی  پشت پناہی کے بغیر ممکن ہو سکتی تھی ؟ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہمارا معذرت خواہانہ ذہن  اس بات پر تو بڑا فخر محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں نہایت غیر معمولی  کارنامے سر انجام دیے ،لیکن اس  کے پیچھے جو سیاسی اور تہذیبی طاقت تھی ، اس پر شر مندگی محسوس کر تا ہے ۔

دیمتری گوٹاس (Dimitri Gutas) اپنی کتاب Greek Thoughts, Arabic Culture) )میں عرب فتوحات   کے تہذیبی ، علمی ، انتظامی ، سماجی  اور تاریخی  اثرات  کا بڑی تفصیل سے جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Certain material conditions that prepared a background against which a translation movement could take place and flourish were established by two momentous historical events, the early Arab conquests through the Umayyad period and the Abbasid revolution that culminated in 134/750.8

وہ خاص مادی  صورتحال  جس نے وہ  پس منظر تیار کیا جس میں  ترجمہ کی تحریک  رونما ہو سکتی اور پھل پھو ل سکتی تھی ، دو  اہم تاریخی واقعات  کی وجہ سے تھی ،ایک اموی دور کی ابتدائی عرب فتو حات اور  دوسرا عباسی انقلاب  جو  134 ہجری میں عروج کو پہنچا۔

عرب  فتوحات کی تاریخی اہمیت اور مہذب دنیا  کے ایک بڑے  حصے پر تجارتی سر گرمیوں کے آغاز  پر روشنی ڈالتے ہوئے  لکھتے ہیں:

The historical significance of the Arab conquest can hardly be overestimated. Egypt and the Fertile Crescent were reunited with Persia and India politically, administratively, and most important, economically, for the first time since Alexander the Great, and for a period that was to last significantly longer than his brief lifetime. The great economic and cultural divide that separated the civilized world for a thousand years prior to the rise of Islam, the frontier between the East and the West formed by the two great rivers that created antagonistic power in either side, ceased to exist. This allowed for the free flow of raw material and manufactured goods, agricultural products and luxury items, people and services, techniques and skills, and ideas, methods, and modes of thoughts.9

عرب فتوحات کی تاریخی اہمیت میں مشکل سے ہی کوئی مبالغہ کیا جاسکتا ہے۔ مصر اور زرخیز ہلالی خطہ سکندر اعظم کے بعد پہلی بار سیاسی اور  انتظامی طور پر ، اور سب سے اہم ، معاشی طور پر ،   فارس اور ہندوستان کے ساتھ متحد کر دیے گئے۔ یہ وحدت عرب فتوحات  کے اپنے مختصر زمانے کے بھی بہت بعد تک قائم رہی۔  عظیم معاشی اور ثقافتی تقسیم  جس نے اسلام سے پہلے ایک ہزار سال سے مہذب دنیا کو   ایک دوسرے سے جدا رکھا ہوا تھا،  اور  دو عظیم دریاوں  نے مشرق اور مغرب کے درمیان جو سرحد بنا رکھی تھی،   جس نے  دونوں جانب برسرپیکار طاقتیں پیدا کر دی تھیں،  ختم ہو گئی۔  اس کے نتیجے میں خام مال اور تیار شدہ اشیاء، زرعی مصنوعات اور سامان تعیش، افراد اور خدمات ، تکنیک اور مہارتوں اور نظریات ، طریقوں اور انداز ہائے فکر  کی آزادانہ نقل وحرکت ممکن ہو گئی۔

عرب فتوحات  کے علم  و فکر کے  پھیلاؤ  میں غیر معمولی کر دار کو  واضح کرتےہوئے رقمطرا ز ہیں:

An equally significant result of the Arab conquests and arguably the most important factor for the spread of knowledge in general was the introduction of paper-making technology into the Islamic world by Chinese prisoners of war in 134/751. Paper quickly supplanted all other writing material during the first decades of the Abbasid era, when its use was championed and even dictated by the ruling elite. It is interesting to note that the various kinds of paper that were developed during that time bear the name of some prominent patrons of the translation movement.10

عرب فتوحات کا ایک اتنا ہی اہم نتیجہ اور شاید  علم کے پھیلاؤ کا سب سے اہم عامل  134/751 میں چینی جنگی قیدیوں کے ذریعہ عالم اسلام میں کاغذ سازی کی ٹیکنالوجی کا تعارف تھا۔ عباسی دور کی پہلی دہائیوں کے دوران میں،کاغذ نے لکھنے کے دیگر تمام  قسم کے مواد کی جگہ لے لی ، جب اس کے  استعمال  کو حکمران طبقے کی حمایت  اور تائید  حاصل تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں جو مختلف قسم کے کاغذ تیار کیے گئے تھے، ان کے نام ترجمے کی تحریک کے کچھ ممتاز سرپرستوں کے نام پر رکھے گئے۔

مزید لکھتے ہیں:

In addition to the introduction of paper, the lifting of the barriers after the Arab conquests between the East and the West of Mesopotamia also had an extremely beneficial, though obviously unintentional, cultural consequence. It united areas and peoples that for a millennium had been subject to Hellenization ever since Alexander the Great while it isolated politically and geographically the Byzantines, i.e, the Greek-speaking Chalcedonies Orthodox Christians. This is doubly significant. First, it was the exclusionary theological policies and practices of Constantinopolitan "Orthodoxy" that created religious schisms in the first place and drove Syriac-speaking Christians into religious fragmentation and, in the case of the Nestorians, into Persia. The effective removal from the Islamic polity (the Dar al Islam) of this source of contention and cultural fragmentation, and their unification under a non-Persian overlord, the Islamic state, opened the way for greater cultural cooperation and intercourse. Second, the political and geographical isolation of the Byzantines also shielded these Christian communities under Muslim rule, and all other Hellenized peoples in the Islamic commonwealth, from the dark ages and aversion to Hellenism into which Byzantium slid in the seventh and eight centuries.11

کاغذ کے متعارف ہونے کے علاوہ، عرب فتوحات کے بعد  میسو پوٹیمیا  کے مشرق و مغرب  کے درمیان رکاوٹوں کے ہٹائے جانے کا بہت ہی مفید نتیجہ مرتب ہوا، جو ظاہر ہے کہ ارادی نہیں تھا۔ اس نے  ان خطوں اور لوگوں کو باہم ملا دیا جو اسکندر اعظم کے  بعد سے یعنی ایک ہزار سال سے یونانیت کےزیر اثر تھے، جبکہ سیاسی  وجغرافیائی  طورپر  بازنطینی یعنی یونانی بولنے والی اور خلقیدونی عقیدے پر کاربند  آرتھوڈوکس مسیحیت کو  الگ کر دیا۔اس کی دوہری  اہمیت تھی۔پہلی یہ کہ دراصل قسطنطنیہ  میں مرکوز  راسخ الاعتقادی  کی اخراجی الہیاتی پالیسیاں  اور اعمال ہی تھے جنہوں نے مذہبی تفریق پیداکی اور  شامی بولنے والے مسیحیوں کو مذہبی انتشار  کی طرف جبکہ نسطوریوں کو  ایران کی طرف دھکیل دیا۔ دارالاسلام  میں اس وجہ نزاع اور ثقافتی  تحزب کے موثر خاتمے سے ،اور ایک غیر جانبدار حاکمیت یعنی اسلامی ریاست کے تحت ان کے متحد ہو جانے  سے وسیع  تر ثقافتی تعاون اور میل ملاپ کےدروازے کھل گئے۔دوسری یہ کہ  بازنطینیو ں کی سیاسی اور جغرافیائی  علیحدگی نے مسلم حکومت کے تحت  رہنے والی مسیحی کمیونیٹیز کو اور ان دیگر تمام جماعتوں کو جو یونانی فکر سے وابستہ تھے، تاریک ادوار  سے اور یونانی ثقافت کی  نفرت سے محفوظ کر دیا جس کا بازنطینی  ثقافت ساتویں اور آٹھویں صدی میں شکار ہو چکی تھی۔

دیمتری  گوٹاس (Dimitri Gutas)اپنی تحقیق میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کا دیگر علوم سے متعلق رویہ کیاتھا اور وہ کس حدتک درست تھا  ۔ماضی میں مسلمانوں کے مزاج اور آج کے مزا ج میں بڑا فرق ہے۔مسلمانوں نے اپنے دور ِ عروج میں جو تہذیب تشکیل دی تھی وہ کازموپولیٹن(Cosmopolitan) تھی ، اس میں وسیع المشربی پائی جاتی تھی ۔مسلمانوں نے تہذیب اسلامی کی تشکیل کے لئے پہلے مرحلے میں ترجمے کاکام کیا ،اور اس وقت اس سر گر می کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اس کام میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شانہ بشانہ کام کررہے تھے ، ان  دور میں مسلمان،  عیسائی ، یہودی ، صائبین ایک ساتھ  بیت الحکمت میں مصروف ِ عمل تھے ۔اس کی بنیادی وجہ فکری آزادی تھی ۔اب مسلم دنیا میں فکری آزادی نہیں ہے ۔ ان کے ہاں اپروچ یہ تھی کہ جہاں سے بھی قابل استفادہ چیز ملی وہ لے لیتے تھے۔

ان کے نزدیک اسلامی تہذیب کے دیگر تہذیبوں پر اثرات یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ تھے ۔ جہاں اسلامی تہذیب کے دوسری تہذیبوں پر اثرات ڈالے وہاں اسلام تہذیب نے دیگر  تہذیبوں سے بھی اثرات قبول کیے ۔ جو تہذیبیں اسلامی تہذیب کے کے زیر نگیں تھی وہ تو  ایک طرح اس کا حصہ ہی بن گئیں لیکن  جو براہ راست زیر نگیں نہیں بھی تھیں ان کے ساتھ بھی ایک طرح کا تعامل جاری تھا ۔اسلامی تہذیب کے بعد جو تہذیب اپنے عرو ج میں آئی وہ یورپین تہذیب ہے۔ اس نے اپنی ماقبل اسلامی تہذیب سے افکار و نظریات، تہذیب و تمدن ، علو م وفنون اور اقدار واطوار کے حوالے سے کیا کیا سیکھا اور اسے آگے بڑھایا۔اس سلسلے میں عمومی طور پر سپین کا ذکر بڑی شدو مد سے کیا جاتاہے ۔ لیکن یورپ کے جنوبی علاقے میں خاص طور پر سسلی میں مسلمانوں نے وہاں کی تہذیب پر کیا اثرات ڈالے اس کا تذکرہ بہت کم کیاجاتا ہے ۔یہ علاقہ تقریبا دو سو سا ل تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا اور اس دوران میں مسلمانوں نے اس خطے پر انمٹ تہذیبی اور فکری نقو ش چھوڑے ۔اس کا انداز ہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے اقتدار  کے ختم ہو جانے کے بعد بھی جو ایک کا زموپولیٹن تہذیب یہاں ابھری، اس میں مسلم تہذیب و تمدن کے  نہایت گہرے اثرات دیکھے جا سکتے تھے ۔خاص طورپر روجردوم ، ولیم اور فیڈرک دوم کے دور حکومت میں نہ صر ف یہ کہ مسلم تہذیب کی باقیات الصالحات جاری و ساری تھیں بلکہ خود مسلمان بھی نہایت اہم انتظامی عہدوں پر فائز نظر آتے تھے ۔سلسلی میں ان بادشاہوں کی حیثیت ٹھیک وہی تھی جیسی اسلامی تہذیب کے عباسی دور میں ہارون الرشید اور مامون کی تھی۔پوری تہذیب وسیع المشربی کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی تھی۔

دیمتری گوتاس ترجمہ تحریک  (Translation Movement)سے متعلق لکھتے ہیں:

The Graeko- Arabic translation movement lasted, first of all, well over two centuries; it was no ephemeral phenomenon. Second, it was supported by the entire elite 'Abbasid society: caliphs and princes, civil servants and military leaders, merchants and bankers, and scholars and scientists.

یونانی عربی ترجمہ تحریک جو دو سو سال تک جاری رہی  ،پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی وقتی  مظہر نہ تھی  ،دوسری یہ کہ اس کو ساری عباسی  اشرافیہ، خلفاء، شہزادوں، سول  سرونٹس ، فو جی افسران ، تاجر برادری ، بینکرز ،علما اور سائنس دانوں کی  تائید حاصل تھی۔

دراصل دیمتری گو تا س نے جتنے طبقات گنوائے ہیں ، ان کے ہاں ترجمہ کی تحریک کو سپورٹ کرنا  ،خود حکمران طبقے کی دلچسپی کے باعث ہی تھا ۔ بادشاہوں اور شہزادوں کی  مسلسل دلچسپی نے اس وقت کی سوسائٹی میں یہ رجحان (Trend) بہر حال پیداکر دیا تھا اسی لئے تمام طبقات  اس میں دلچسپی ظاہر کر رہے تھے ۔اگر خود حکمرا ن ہی اس تحریک میں دلچسپی نہ لیتے تو  اس وقت کی سوسائٹی میں یہ عمومی رجحان پیدا ہی نہ ہو پاتا ،گویا ترجمہ تحریک کی شاخیں شاہی محل ہی سے پھوٹی تھیں اگر چہ  بعد میں دیگر طبقات نے بھی اس  کی آبیاری  میں اپنا اپناحصہ ڈالا۔

پاکستان کے معروف طبیعات دان ،پروفیسر پرویز ہود بھائی بھی   مسلم دانش وروں کی کامیابیوں کو  مسلم حکمرا ن طبقوں  کی حوصلہ افزائی اور حمایت  ہی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

اسلامی سائنسی  ارتقا  کا یہ  پہلا دور  در اصل یونان سے درآمد شدہ علوم  کو سمجھنے  اور ہضم  کرنے کا  عہد تھا ۔ اس دور میں  مسلمان  دانش وروں  سے مترجموں  کے طور پر  ثانوی حیثیت  سے حصہ  لیا تھا ۔اس ابتدائی  دور میں مسلمان دانش وروں  کا سائنس  کی ترقی  میں حصہ  کسی خاص اہمیت  کا حامل نہی تھا ۔ اگر  صرف ابتدائی  دور  کو  نظر میں رکھا جائے  تو رینان  کی دلیل صحیح ہے ۔  لیکن ہمیں  یہ بھی ماننا چاہیے  کہ مسلمان  حکمران طبقوں  کی مکمل  حوصلہ افزائی  اور حمایت  کے بغیر تراجم  کاکام بھی  ناممکن ہوتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ  خلفا کے  درباروں اور شرفا  کے محلوں  میں ہر مذہب  و ملت  کے دانش وروں  اور ہنر  مندوں کی پذیرائی  اور عزت افزائی  کی جاتی تھی۔ ان کے ساتھ  محض رواداری  نہیں برتی جاتی تھی  بلکہ  ان کی تعظیم  وتکریم  کی جاتی تھی ۔ رواداری  اور مذہبی  وسعت  نظری  کے اس ماحول میں  سائنس  کی جڑیں  اسلامی سر زمین  میں گہری ہوگئیں۔12

مسلمان حکمرانوں  کی اس سر پرستی  کا موازنہ  تنویری عہد میں فرانسیسی  اشرافیہ  کی سرپرستی  کے ساتھ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ایک بنیادی عنصر  سائنس  اور علوم  میں روشن خیال خلفا  اور شہزادوں  کی دلچسپی  معلوم ہوتی ہے  جس کی وجہ سے  انہوں نے دانش وروں  کی سر پرستی کی ۔ اس سر پرستی  کے مقابلہ  میں روشن خیالی کے عہد  میں فرانسیسی  اشرافیہ  کی سر پرستی  بھی ہیچ ہے ۔ دانش ورو ں  کو اپنے درباروں  میں بلانے کے لئے حکمران ایک دوسرے سے سبقت لے جانے  کی کوشش کرتے تھے۔خلیفہ مامون کے دربار میں الکندی ، سلطان محمد ابن تکوش کے در بار میں  فخر الدین رازی ، مختلف  سلطانوں  کے طبیب کی حیثیت سے  ابن سینا ، الحکیم  کے مشیر کی حیثیت سے ابن الہیثم ،المنصو ر کےتحت  ابن رشد ۔۔۔۔غر ضیکہ تمام عظیم دانش ور  ازمنہ وسطیٰ میں شاہی در باروں سے وابستہ تھے ۔ جس سے ان کو پیشہ وارانہ شہرت ،معاشرتی احترام، کتب خانوں  اور تجربہ گاہوں  سےا ستفادہ اور ( شاید سب سے اہم بات ) فیاضانہ وظائف  ملتے تھے۔13

 پیٹریشیا کرون(Patricia Crone)  اسلامی تہذیب  کی تشکیل میں مسلم فتوحات کے کر دار سے متعلق لکھتی ہیں :

Islamic civilization is the outcome of a barbarian conquest of lands of very ancient cultural traditions. As such it is unique in history. There is of course no lack of experiences of barbarian conquest in the history of civilization; but in so far as the barbarians do not destroy the civilization they conquer, they usually perpetuate it. Nor is there any lack of barbarian transitions to civilization in the history of barbarism; but in so far as the barbarians do not take millennia to evolve a civilization of their own, they usually borrow it. But the relationship of the Arabs to antiquity does not fit any of these patterns. It is not of course particularly remarkable that the Arabs were neither so barbarous as to eradicate civilization nor so original as to invent it for themselves. But they were indeed unusual in that they did not, sooner or later, acquire or lose themselves in the civilization they conquered. Instead, the outcome of their collision with antiquity was the shaping of a very new civilization out of very ancient materials, and that at such a speed that by the time the dust of conquest had settled the process of formation was already well under way. Any attempt to understand this unique cultural event must begin by showing what it was about the conquerors and the conquered that made such an outcome possible.14

اسلامی تہذیب  بہت قدیم تہذیبی روایات  و الے علاقوں کے غیر متمدن (عربوں) کے ہاتھوں مفتوح ہونے کا  نتیجہ ہے۔ اس لحاظ سے  یہ تاریخ میں منفرد ہے۔ تہذیب کی تاریخ میں یقینا غیرمتمدن قوموں کی  فتوحات  کی کوئی کمی نہیں، لیکن غیر متمدن عناصر ان تہذیبوں  کو جنھیں انھوں نے فتح کیا تھا، تباہ نہیں کرتے، بلکہ اسے برقرار رکھتے ہیں۔  غیر متمدن قوموں  کی  تاریخ میں  ان  کے تہذیب کی طرف منتقل ہو جانے کی مثالیں بھی کم نہیں، لیکن غیر متمدن قومیں خود اپنی ایک تہذیب  بنانے کے لیے ایک ہزار سال کا عرصہ  نہیں لیتیں، بلکہ عام  طور  پر اسے مستعار لے لیتی ہیں۔ لیکن عربوں کا قدیم تہذیبوں کے ساتھ تعلق   ان میں سے کسی بھی اصول پر پورا نہیں اترتا۔ یہ بات یقینا خاص طور پر قابل توجہ نہیں ہے  کہ عرب نہ تو اتنے وحشی تھے  کہ تہذیبوں  کا خاتمہ کر دیتے  اور نہ ہی وہ  اتنے  جدت پسند تھے  کہ اپنی نئی  تہذیب بنا لیتے ۔ لیکن وہ اس لحاظ سے  انوکھے تھے کہ انھوں  نے جلد یا بدیر  جو تہذیب فتح کی تھی  نہ تو اس کو اپنایا اور نہ خود کو اس میں ضم کر دیا۔ اس کے برعکس  قدیم تہذیبوں کے ساتھ ان کا  ٹکراؤ  کا نتیجہ  یہ نکلا کہ انھوں نے نہایت قدیم مواد  سے ایک بالکل نئی تہذیب  وضع کر لی اور وہ بھی اس قدر  تیز رفتاری سے کہ جب ان کی فتوحات  کی گرد بیٹھی تو تہذیبی تشکیل کا عمل  شروع ہو چکا تھا۔ اس تہذیبی واقعہ کو سمجھنے  کی کسی بھی کوشش  کا آغاز لازما  اس امر کی وضاحت سے ہونا چاہیے  کہ ان فاتحین اور مفتوحین میں وہ کیا بات تھی جس نے اس نتیجے کو ممکن بنایا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان تہذیبوں کے باہمی تعامل میں باہمی لین دین کو فطری عمل قرار دیتے ہوئے  اسلامی تہذیب کو اس سے مستثنی ٰ قرار نہیں دیتے ۔ ان کے نزدیک  عرب سلطنت جب فتوحات کے نتیجے میں  وسیع ہوئی تو اس نےدیگر تہذیبوں سے ضروری عناصر  حاصل کرکے ملکی نظم و نسق  اور دستور کی تشکیل  کی اور یہ چیز  اسلامی تہذیب  کے لئے امتیازی حیثیت  بھی رکھتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں:

عرب سے  باہر عربی  سلطنت کے  پھیلاؤ  کے ساتھ مسلمانوں  نے اپنے اپنے  قانون اور ملکی  نظم و نسق  کا ایک پورانظام قائم  کرنے کا ہدف  رکھا ، جس میں انہوں  نے بازنطینی  اور ایرانی  اداروں  اور دوسرے  مقامی  عناصر  کا نمونہ اپنا کر اس کو ایک اسلامی قالب کی شکل دی۔یہی وہ نظام  ہے  جس نے  اسلامی تہذیب  کو اس کی امتیازی خصوصیت  عطاکی اور جس نے اسلام کے بنیادی اخلاقی مزاج  کا اظہار  کرتے ہوئے  مسلم ریاست  کا یوں سمجھئے کہ حقیقی  دستور  مہیا کردیا اور اس کی حدود  واضح کر دیں۔15

وہ لکھتے ہیں کہ اسی  تعامل کی بدولت  ایک شاندار تہذیب وجود میں آئی جو بہت سے مادی ، معاشی  ،تاریخی اور ادبی اور سائنسی سرگرمیوں کا باعث بنی جن سے نوعِ انسانی نے بھر پور استفادہ کیا۔

عربی ذہن میں باہر کی ثقافتوں  کے اثر سے جو حرکت  پیداہوئی  وہ دوسری  سے چوتھی  صدی  ہجری (آٹھویں  سے دسویں  صدی عیسوی ) میں ایک کامیاب اور آب وتاب  والی مذہبی  عقلیتی اور مادی تہذیب کے ظہور  کا باعث بنی۔ مسلمانوں نے ایک ثروت مند تجارت  اور صنعت  کی بنیادرکھی اور پہلی دفعہ  سائنسی  مہارت  انسانیت  کی اصل  مادی ترقی  کے لئے  کام میں  لائی گئی اور عملی فائدے  کے لئے استعمال  کی گئی ۔ ذہنی و عقلی  اعتبار سے تاریخ اور  ادب کے  بنیادی عربی علوم  نے پھیل کر  عمومی  تاریخ ، جغرافیہ  اور ادب عالیہ  کی صورت  اختیار کرلی۔16

ایک اور جگہ مسلم عقلی اور ذہنی  نشوو نما کو بھی نہ صرف اسلامی اور  یونانی روایت  کے باہمی تعامل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں بلکہ انسانی عقلی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار دیتے ہیں:

مسلم فتوحات کی ایک صدی کے اندر اندر  مسلمان  اس قابل  ہوگئے تھے کہ  اپنی مخصوص  ذہنی و عقلی  زندگی کو  پروان چڑھا سکیں  اور حدیث  ،فقہ اور تاریخ  کے خالص  عر بی اسلامی علوم کی بنیاد رکھ دیں ۔  یہ عقلی نشوو نما  جو بہت زیادہ سرعت  کے ساتھ  واقع ہوئی ، اور جو شام  میں یونانی روایت  اور عر بی قرآن کی دی  ہوئی فکر  کے بنیادی ڈھانچے  کے باہمی  تعامل کا نتیجہ  تھی، انسان کی عقلی  تاریخ  کا ایک عجوبہ چلی آتی ہے۔17

اس سلسلے میں جرمن مستشرقہ زیغرید ھونکہ  کی کتاب جس  کا عربی ترجمہ  "شمس العرب تسطع علی الغرب "کے نا م سے ہوا ہے ، بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے  عربی تہذیب  کے مغربی تہذیب  پر اثرات  کانہایت تفصیل سے جائزہ پیش کیا ہے۔اس کتاب میں ایک جگہ  مسلمانوں کی سائنسی خدمات  جنہوں نے مغربی سائنس دانوں کو غیر معمولی طورپر متاثر کیا ، پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں :

لقد طور  العرب، بتجاربھم  وابحاثھم  العلمیۃ، مااخذوہ  من مادۃ خام عن الا غریق، وشکلوہ تشکیلا جدیدا۔ فالعرب، فی الواقع، ھم الذین  ابتدعوا  طریقۃ  البحث  العلمئ  الحق  القائم علی التجربۃ ۔لقد سرت بین العلماء  الاغریق ، الذین لم یکونوا  جمیعا  بالا غریقین  بل کان اغلبھم من  اصل شرقی، سرت بینھم  رغبۃ فی البحث  الحق، وملاحظۃ الجزئیات، ولکنھم  تقیدو ادائما بسیطرۃ الآراء النظریۃ۔ و لم یبدا البحث  العلمی  الحق  القائم علی  الملاحظۃ و التجربۃ الا عند العرب۔ فعند ھم فقط  بدا البحث  الدائب  الذی یمکن الاعتماد  علیہ۔ یتدرج من الجزئیات  الی الکلیات، واصبح منہج  الاستنتاج  ھو الطریقۃ  العلمیۃ السلیمۃ للباحثین۔ و برزت  الحقائق  العلمیۃ کثمرۃ للمجہودات المضنیۃ فی القیاس  و الملاحظۃ بصبر لا یعرف الملل۔ و بالتجارت العلمیۃ الدقیقۃ التی لا تحصی، اختبر العرب  النظریات  و القواعد الآراء العلمیۃ  مرار اَ وتکراراَ؛ فاثبتوا صحۃ  الصحیح  منھا، و عدلوا الخطاء فی بعضہا۔ ووضعوا بدیلا َ للخاطیء منہا متمتعین فی ذلک بحریۃ کاملۃ  فی الفکر و البحث، وکان شعارھم فی ابحاثھم – الشک ھو اول شروط  المعرفۃ – تلک ھی الکلمات  التی  عرفہا  الغرب  بعدھم  بثمانیۃ قرون طوال ۔ وعلی ھذا الآساس العلمی سار العرب فی العلوم الطبیعۃ شوطاَ کبیراَ۔ اثر فیما بعد، بطریق غیر مباشر، علی مفکری الغرب وعلمائہ امثال روجر باکون (Roger Bacon) وما جنوس (Magnus) وفیتلیو (Vetellio) ولیوناردو دافنشی (Leonardo da Vinci) و جالیلیو (Galileo)۔18

عربوں نے جو یونانیوں سے خام مواد لیا ،اسے اپنے تجربات  اور سائنسی تحقیقات  کی بدولت پروان چڑھایا اور جدید شکل میں ڈھالا۔ درحقیقت عربوں ہی نے  تجربے کی بنیاد  پر قائم  حقیقی  سائنسی  تحقیق کا منہج ایجاد کیا ۔ یونانی علما ء کے ہاں ، جو سب یونانی نہیں تھے،بلکہ ان کی اکثریت  مشرقی الاصل تھی ،  حقیقی تحقیق اور جزئیات بینی  کی جستجو اور رغبت  تو سرایت کر چکی تھی لیکن وہ ۔۔۔نظری آراء  کے جبر و تسلط  کے پابند رہے۔مشاہدے اور تجربے پر مبنی سچی سائنسی تحقیق  کا آغاز  عر بو ں کے علاوہ  اور کسی کے ہاں نہ ہوا ،صر ف ان کے ہاں سنجیدہ  اوردائمی  تحقیق کا آغاز ہوا  جس پر اعتماد کیا جا سکتاہے ۔ اس طریقہ کار میں جزئیات کی سیڑھی چڑھ کر کلیات تک پہنچا جا تا ہے ۔اور یہی منہج استنتا ج ، نتیجہ اخذ کرنے  کا طریقہ کار محققین کے ہاں  صحیح  سائنسی  منہج ٹھہرا ۔ قیاس اور مشاہدے میں صرف کی گئی  انتھک  محنتوں اور ناقابل شمار ،دقیق سائنسی تجربات  کے ثمرات  کے طور پر  سائنسی حقائق ابھر کر سامنے آئے ۔عربوں نے نظریات ، اصول اور علمی  آرا ء کو  بار بار آزما یا ،جنہیں درست پایا ان کی تصدیق کی اور جہاں غلطی دیکھی وہاں اصلاح کی ،اور غلط  کا متبادل بھی پیش کیا ۔انہوں نے مکمل فکری اور  تحقیقی آزادی  کے ساتھ یہ عمل سر انجام دیا ۔ان کی تحقیقات کا شعار اور بنیادی نکتہ " شک علم  کی پہلی شرط ہے " تھا ۔ اسی علمی / سائنسی اساس پر عر بوں نے نیچرل سائنسزمیں بڑے میدان مارے ۔اس سوچ نے بعد میں بالواسطہ  راجر بیکن ،  میگنس، ویتلیوس ،لیونارڈو ڈاونچی اور گلیلیو  جیسے  مغربی مفکرین او ر سائنس دانوں کو متا ثر کیا ۔

مارشل ہاگسن اپنی کتاب The Venture of Islam میں اسلامی تہذیب  کی تشکیل و ارتقا کے متعلق لکھتے ہیں:

اسلام جس خطے میں پروان چڑھناشرو ع ہوا اس خطے میں کوئی بھی تہذیبی روایت مستحکم نہ تھی ،دیگر تہذیبیں اور سلطنتیں اپنی جگہ مضبوط اور محکم تھیں لیکن غیرمعمولی طورپر اس خطے میں اورکوئی تہذیب اپنے قدم نہیں جما سکی تھی ،یوں کہا جاسکتاہے کہ اس خطہ ارضی میں ایک  طرح کا تہذیبی خلا تھا ، لہذا اسلام کو اپنی تہذیبی روایت کو پروان چڑھانے میں کسی  قسم کی دشواری یا رد عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور نہ ہی کسی مضبوط حریف سے نبرد آزما ہونا پڑا۔

تہذیبی  خلا سے متعلق اسی سے ملتا جلتا  موقف ڈاکٹر افتخار حسین آغا  کے ہاں بھی ملتا ہے ۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

انسان کی  تہذیبی تاریخ  میں اسلام کی حیثیت ایک دین ِ فطرت  ہی کی نہیں ، ایک عظیم ذہنی اورمعاشرتی انقلاب  کی بھی ہے۔اسلام کے ظہور  کے وقت  دنیا شدید تہذینی انحطاط  سے دوچار تھی ۔ آج  کا تہذیب  یافتہ   یورپ قرون ِ وسطی  کی تاریکیوں  میں ڈوبا ہواتھا ۔وادی نیل ، وادی دجلہ و فرات  او ر وادی  سندھ  کی قدیم تہذیبیں  عرو ج  پر پہنچ کر  زوا ل کا شکار  ہو چکی تھیں ۔۔۔یونانی افکار  کا سنہری  دور بھی ختم ہو چکاتھا ۔ اس عرصے میں یورپ میں مملکت ِ روما  تہذیب کی ایک نئی امید لے کر ابھری تھی لیکن ۔۔۔یہ عظیم مملکت  بھی زوال آمادہ  ہوگئی ۔اس طرح  مشرق و مغرب میں تہذیب  کاایک خلا   پیداہوگیاتھا ۔ اس خلاکو  اسلام نے نہایت کامیابی سے پُر کیا۔19

سراج منیر  بھی ظہور ِا سلام کے وقت عرب کے خطے میں ایک  تہذیبی خلا  کو محسوس کرتے ہیں ،البتہ  اس کے ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ کے خطوط  کےا ندر اشاعت ِ اسلام کے  تہذیبی امکانات  کو بڑی عبقری نگا ہ سے دیکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

اسلام جس سر زمین پر  ظاہر ہو ا ،اس نے ابھی مروجہ معنوں میں  تہذیب  کے مقام تک نزول  نہیں کیا تھا لیکن وہاں  مذاہب  کی کثرت موجودتھی ۔دین ِابراہیمی کے اجز ا ظہور اسلام تک موجود تھے ، یہودیت  اطراف مدینہ  میں مستحکم تھی،ارضِ فلسطین و شام اور دوسری  طرف یمن سے عیسائیت کے اثرات  بھی  وارد  ہو رہے تھے ۔مجوسیت  کی شکل میں  آریائی مذاہب کاایک بہت بڑا مظہر  ایران میں موجودتھا  اور تجارتی قافلے  اس سے کم و بیش  آشناتھے ۔ دوسری طرف تجارتی میلوں میں ہندوؤں اور چینیوں  سے بھی عربوں  کی ملاقاتیں رہتی تھیں ۔ جزیرہ نمائے عرب  معروف  اور مروج مسالک و مذاہب سے کم و بیش  آشناتھا ۔ اس ماحول میں اسلام  ایک بہت بڑے روحانی انفجار  کے طورپر  ظاہر ہوا۔پہلے مرحلے میں اسلا م نے  اپنی مذہبی اور تمدنی  بنیادیں مستحکم  کیں اور پھر اس میں پھیلنے کا رجحان  پیداہوا۔ نبی کریم ﷺ  نے جن  بادشاہوں  کو خطوط لکھے ،ان کا مطالعہ  اشاعت ِ اسلام  کی تہذیبی  نہج  کے امکانا ت  کی طرف بہت  اہم اشارے  کرتا ہے۔20

 مارشل ہاگسن تہذیب اسلامی کے ارتقا  و تشکیل کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو  یہ بیان کرتے ہیں  کہ آغاز میں اسلام اگر چہ ایک مذہب کے طورپر سامنے آیا  لیکن بعد میں ایک پوری تہذیب بنی جسے وہ Islamicate کےاصطلاح سے یاد کرتے ہیں۔ اپنی اس تشکیل کے لئے اسلا می تہذیب نے  اس خطے میں موجود ماقبل کے تمام انسانی ورثہ سے استفادہ کیا اور اس کے تمام اجزا کو اپنے اندر سمو لیا۔اسلام نے اس خطے کے عام کلچر ، زندگی کے طور واطوا ر اور اقدار کو ویسے ہی رہنے دیا جیسا کہ وہ تھا  ۔شروع میں تبدیلی نہایت کم سطح  پر کی گئی  اور اسلام ایک Sub Culture کے طور پر  اس تہذیبی  دھارے میں شا مل ہوا ۔اس وقت اسلامی تہذیب بطن مادر میں تھی  اور اس دور کو مصنف Gestation Period  کہتے ہیں ۔ پھر اس نے  اپنی ایک مستقل تہذیبی شناخت قائم کر لی۔

اس دورمیں اسلامی تہذیب کے ایک امتیازی پہلو  مار شل ہاگسن کے نزدیک یہ ہے  کہ اس نے دوسری تمام تہذیبوں کے بر عکس جو اس سے پہلے موجودتھیں ، حتی ٰ کہ وہ تہذیبیں جن کی یہ وارث تھی ، ان کے مذہبی متون اور لٹریچر کو اپنے ور ثے کے طور پر نہیں لیا بلکہ اپنی بنیاد بالکل الگ اور ایک نئے متن پر رکھی۔

مصنف موصوف  اموی اور عباسی دور  ِ خلافت  سے متعلق لکھتے ہیں:

Under the Marwanid caliphs and especially under the 'Abbasids who succeeded them, the barriers gradually fell away that had kept the evolution of the cultural life of the several conquered nations separated from each other and from the internal development of the Muslim ruling class. The leading social strata of the empire, of whatever background-even that minority that was not yet becoming Muslim-lived in a single vast society. Their common cultural patterns formed what can be called High Caliphal civilization.21

مروانی خلفا ء کے تحت اور خاص طور پر عباسیوں کے ماتحت جو ان کے بعد آئے ، آہستہ آہستہ وہ رکاوٹیں دور ہوگئیں جنہوں نے متعدد مفتوح قوموں کی ثقافتی زندگی کے ارتقا کو ایک دوسرے سے اور مسلم حکمران طبقے کی داخلی ترقی سے الگ رکھا ہوا تھا۔ سلطنت کا سرکردہ معاشرتی طبقہ ، اس کا تعلق کسی بھی پس منظر سے حتی کہ اس اقلیت سے جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئی تھی، ایک ہی وسیع معاشر ے میں رہ رہے تھے  ۔ ان کے  مشترکہ ثقافتی نمونوں نے  اس چیز کو  تشکیل دیا جس کو اعلی خلافتی تہذیب کہا جاسکتا ہے۔

مزید لکھتے ہیں:

These cultural patterns continued to be expressed, till almost the end of the period, in terms of a variety of linguistic and religious backgrounds. Syriac and Pahlavi continued to be major vehicles of high culture along with the newer Arabic. The revivifying of the Hellenic intellectual tradition, a most striking feature of the period, was marked by Greek translations into Syriac as well as into Arabic; Christians, Mazdeans, Jews, and even a group of Hellenistic pagans (at ij:arran in the Jazirah) alongside Muslims, shared in many of the concerns of the time either within their own religious traditions or across religious lines, often in co-operation with each other.22

متنوع لسانی اورمذہبی پس منظر  کے اعتبار سے تقریبا اس دور  کے اختتام تک ان ثقافتی نمونوں کا اظہار  جاری رہا ۔نئی عربی ( ثقافت )  کے ساتھ شامی  اور پہلوی تقا فتیں  اعلیٰ ثقافت کا ذریعہ  ترسیل بنی رہیں ۔یونانی دانش  ورانہ روایت  کا احیاء، جو کہ  اس دور کا اہم ترین مظہر تھا ،یونانی علوم  کے عربی اور شامی  ترجموں  کی صورت میں  سامنے آیا۔عیسائی، مزدکی ، یہودی حتی کہ  یونانی بت پرستوں کے ایک گروہ نے  مسلمانوں کے شانہ بشانہ ،اس زمانے کے بہت سے مسائل  میں دلچسپی لی اور اکثر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ،چاہے وہ ان کی مذہبی روایت کے اندر ہوں یا مختلف مذہبی روایتوں کے مشترک مسائل ہوں۔

Nevertheless, it was under the common administration and protection of the Muslim caliphate that the society prospered and the civilization flowered. What brought all the traditions together increasingly was the presence of Islam.23

بہر حال ، اسلامی خلافت کے عمومی انتظام اور تحفظ کے تحت ہی معاشرے نے ترقی کی اور تہذیب پھلی پھولی۔ جس چیز نے تمام روایات کو تیزی سے ایک  دوسرے کے  قریب کیا ،وہ اسلام کی موجودگی تھی۔

پروفیسر پرویز ہود بھائی لکھتے ہیں:

ابتدائی  طورپر اسلام  کی اشاعت  کے لئے جس طرح  فتوحات  اہم تھیں ،اسی طرح دوسری تہذیبوں پر اسلامی تہذیب کی فوقیت  قائم  کرنے میں  مسلمان دانش وروں  کی شاندار  کامیابیاں  بھی خالص مقام رکھتی ہیں۔ہمیں صرف  یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ منگول  حملے ،جو بظاہر عرب فتوحات سے مشابہ  تھے ،صر ف ایک عارضی  سلطنت  قا ئم کر سکے لیکن کسی  پائیدار  اور مستقل  تہذیب  کو جنم نہ دے سکے  ۔جب منگول  حملہ آوروں  کے جتھے بالآخر  گو بی کے ریگستان واپس چلے گئے تو اپنے پیچھے تباہی و بربادی  کے سوااور کچھ  نہ چھوڑا ۔اس کے برعکس  اسلامی فتوحات  نے دنیا  کو ایک نیا تمدن دیا اور یہ تمدن مسلمانوں کا غلبہ ختم ہونے کے بعد بھی صدیوں تک  پھولتا پھلتا رہا اور جاری و ساری رہا۔24

جارج سارٹن جنہوں نے سائنس کی تاریخ پر بڑی  وقیع علمی کام کیا ہے ، مسلمانوں کے سائنس سے متعلق  رویے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Muslims had realized the need of science, mainly Greek science, in order to establish their own culture and to consolidate their dominion, even so the Latins realized the need of science, Arabic science, in order to be able to fight Islam with equal arms and vindicate their own aspirations. For the most intelligent Spaniards and Englishmen the obligation to know Arabic was as clear as the obligation to know English, French or German for the Japanese of the Meiji era. Science is power. The Muslim rulers knew that from the beginning, the Latin leaders had to learn it, somewhat reluctantly, but they finally did learn it. The prestige of Arabic science began relatively late in the West, say in the twelfth century, and it increased gradually at the time when Arabic science was already degenerating.25

مسلمانوں نے سائنس کی ضرورت کو محسوس کر لیا تھا، خصوصاً یونانی سائنس کی، تاکہ وہ اپنا کلچر قائم کر سکیں اور اپنے اقتدار کو مستحکم کر سکیں۔ حتی کہ لاطینیوں نے بھی سائنس یعنی عربی سائنس کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کر لیا تاکہ وہ اسلام کے ساتھ برابری کی بنیادوں پر لڑ سکیں اور اپنے تصورات کی تکمیل کر سکیں۔ اسپین اور انگلستان کے جو ذہین ترین لوگ تھے، ان کے لئے عربی جاننا بہت ضروری تھا، بالکل اسی طرح جیسے میجی دور کے جاپانیوں کے لیے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن جاننا  ضروری تھا۔ سائنس طاقت ہے، مسلمان حکمران یہ بہت پہلے سے جانتے تھے۔ لاطینی قائدین  کو بھی یہ بات  گو کچھ بے دلی کے ساتھ سیکھنی پڑی ، لیکن انجام کار انہوں نے اس کو سیکھ لیا۔ عربی سائنس کی عظمت کا احساس مغرب میں قدرے تاخیر سے یعنی تقریبا بارہویں صدی میں ہوا اور اس میں  ایسے وقت میں تدریجی اضافہ ہوتا چلا گیا جب عربی سائنس  روبہ زوال ہو رہی تھی۔

عصر حاضر کے معروف مغربی  مفکر  ایس ۔پی۔ ہنٹنگٹن   نے نزدیک اسلامی تہذیب نے نہ صرف  اپنے دورِ عرو ج میں ایک وسیع خطہ ارض کو متاثر کیا بلکہ جدید  مغربی تہذیب نے بھی  کئی صالح عناصر  اس سے اخذ کر تےہوئے اپنی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ لکھتے ہیں:

Between the  eleventh and  thirteenth centuries, Europian culture began to develop, facilitated by the  eager  and systematic appropriation of suitable elements from the  higher civilizations  of Islam and Byzantium, together with adaptation of this  inheritance to the special conditions and interests of the west.26

گیارہویں  سے تیرہویں صدی کے درمیان، یورپی ثقافت نے  آگے بڑِھنا شروع کیا جس میں   اسلام اور بازنطینی کی اعلی ٰ تر تہذیبوں  سے   اپنے مناسب حال عناصر   بہت اشتیاق سے اور منظم انداز میں اخذ کرنے کے رویے نے بہت مدد دی اور اس ورثے کو  مغرب کی مخصوص صورت حال اور مفادات کے مطابق ڈھال لیا گیا۔

ڈاکٹر  بر نارڈ  لیوس  لکھتے ہیں:

For more than a thousand years, Islam provided the only universally acceptable set of rules and principles for the regulation of public and social life. Even during the period of maximum European influences, in the countries ruled or dominated by European imperial powers as well as in those, that remained independent, Islamic political notions and attitudes remained a profound and pervasive influence. In recent years there have been many signs that these notions and attitudes may be returning, albeit in modified forms, to their previous dominance.27

ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک  اسلام نے  پبلک اور سماجی زندگی  کی تنظیم کے لئے وہ واحد مجموعہ  اصول و ضوابط  مہیا  کیا  جو عالمی  طور پر قابل  ِ قبول تھا ۔ یہاں تک کہ جن ملکوں میں زیادہ سے زیادہ  یورپی  اثر و رسوخ  رہا ، جن پر یورپ کی حکومت رہی یا جو  ویسے  یورپ  کی شہنشاہی  طاقتوں  کے زیر تسلط رہے اور وہ بھی  جو یورپی  تسلط  سے بالکل آزاد رتھے ، وہاں  اسلام کے  سیاسی تصورات  اور رجحانات  کا گہرا  اور نفوذ پذیر اثر رہا۔  حالیہ  بر سوں میں  اس بات کے کئی اشارات  سامنے آئے ہیں کہ یہ تصورات  اور رجحانات  ، چاہے ترمیم شدہ شکل میں  سہی، دوبارہ غلبہ پا سکتے ہیں۔

اسلامی فتوحات کے عالمی تہذیب پر جو اثرا ت ہوئے ان میں سے ایک بین المذاہب رواداری  بھی ہے ۔عہد وسطی میں اسلامی سلطنت اور  یو رپ کے درمیان  جو کہ نصرانیت پر قائم تھا ، محققین نے ایک بڑا فرق یہ بتایا ہے کہ  اسلامی ریاست  کے اندر مختلف  مذاہب و ملت  کی ایک بڑی تعداد  موجود تھی ،  جبکہ عیسائی سلطنت میں رواداری  مفقود تھی ۔  مشترکہ  معیشت  اور بعض معاہدوں  کے وجود  ،رواداری  کی ایک عظیم مثال ہے اور اس کا  مظہر ملت و مذہب  کے تقابلی علم  کا آغاز تھا۔دوسرے معنوں میں  اختلاف  کے باوجود مذہب وملت  کا مطالعہ ہوتا تھا  بلکہ بطور خاص دوسرے مذاہب  کا مطالعہ بڑے شغف  سے کیا جاتا تھا۔28

ڈاکٹر فضل الرحمان  کے ہاں  بھی یہی پوزیشن نظر آتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

اس میں کوئی شک نہیں  کہ بازنطین اور ایران کی عظیم الشان سلطنتوں  کی اندرونی  کمزوری نے جو پیہم باہمی جنگوں کی وجہ سے  تھک چکی اور اندر سے ایک روحانی اور  اخلاقی جمود کی وجہ سے  کھوکھلی  ہو چکی  تھیں،مسلمانوں  کی اس شاندار پیش  قدمی کی  رفتار  کوتیز کر دیا ۔ لیکن آنکھیں خیرہ  کر نےوالی پیش رفت  کے اس فینامینا  کی توجیہ محض  اس صورت ِ حال سے نہیں کی جاسکتی ۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ  اسلامی تحریک  کے تازہ دم  اور قوت سے بھر پور  کر دار کو مناسب  اہمیت دی جائے مسلمانوں کی اس پیش  رفت  کے اصل کر دار  کے بارے میں ایک ناپسندیدہ  بحث چل پڑی  ہے اور  مسائل کو  اسلام پر تنقید کرنے   والوں نے اور سچی بات ہے ، خود مسلمانوں   کے معذرت خواہانہ  رویے نے  بھی دھندلا دیا ہے ۔  جہاں اس امر پر اصرار  کہ اسلام تلوار  کے زور  سے پھیلا  حقائق کے ساتھ مذاق  ہے ، وہاں یہ  کہنا بھی  حقائق کو توڑ نا مروڑنا ہے کہ  اسلام اسی طرح پھیلا جس طرح کہ  بدھ مت اور عیسائیت  پھیلے تھے ۔ اس کے باوجود کہ عیسائیت نے وقتا فوقتا  حکومت کی طاقت  استعمال کی تھی ۔ اس معاملے کی اصل توجیہ  اسلام کے ڈھانچے  کی اس خصوصیت  میں ہے کہ  وہ مذہب  اور سیاست کا امتزاج ہے ۔ جہاں یہ کہنا  صحیح ہے کہ  مسلمانوں  نے اپنا مذہب  تلوار  کے زور سے نہیں پھیلایا ، وہاں  یہ بات بھی  سچ ہے کہ اسلام  نے سیا سی طاقت  کے حصول پر زور دیا۔  اس لیے کہ یہ اپنے آپ کو  خداکے ارادے  کا محافظ  سمجھتا تھا ،جو زمین پر ایک سیاسی  نظام کے ذریعے ہی نافذ ہو  سکتا تھا ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام اشتراکی ڈھانچے  سے مشابہت  رکھتا ہے ، جو اگر لوگوں کو اپنا مسلک  قبول کر نے پر مجبور  نہ بھی کرے، پھر بھی وہ سیاسی  طاقت کوہاتھ میں لینے  پر ضرور زور دیتا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار کر نا تاریخ کے خلاف  جانا ہوگااور اس سے خود  اسلام کے ساتھ بھی انصاف  نہیں ہو سکے گا۔ہمارے نزدیک  اس میں ذرہ برابر  شک نہیں کہ اس حقیقت  نے اسلام  کے عقیدہ مساوات انسانی اور وسیع انسانی دوستی  کے جبلی خصائص  کے ساتھ مل کر  مفتوحہ قوموں  میں اسلام  کے نفوذ  کے عمل کو تیز  کر دیاتھا۔29

گزشتہ صفحات میں یہ بات  تفصیل سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عقید ہ یا اخلاقی  پیغام کےپھیلاؤ اور انسانی تاریخ  میں وسیع  اثرات مرتب  کرنے  کے لئے بھی  سیاسی غلبہ و طاقت  کی چھاؤں در کا رہوتی ہیں  اور یہ بات بھی واضح ہوئی کہ  دعوت یا عقیدے  میں سیاسی طاقت کی نفی یا اس  کی اہمیت کو کم کر نا درست نہیں۔

  اس کو آج کے تناظر میں یو ں سمجھا جا سکتاہے کہ  آج ان اقدار کو جنہیں  پوری دنیا میں اچھی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے یا کم از کم  پوری توجہ دی جارہی ہے ، جیسے حقوقِ انسانی ، مساوات  مر دوزن ، آزادی رائے ، مذہبی آزادی ،سیکولرازم وغیرہ ،کیا ان سب کو مغر ب کی سیاسی بالادستی اور طاقت کے دباؤ سے ہٹ کر  اس طرح دیکھا جاسکتا ہے؟اسی طرح اسلام نے جو عقیدہ پیش کیا ،جو قدریں پیش کیں ،ان کے دنیامیں متعارف ہونے میں اور مقبولیت  حاصل کرنے میں سیاسی طاقت کا کر دار  رہا ہے، ایسے ہی جیسے آج ہم ان چیزوں کو ویلیو (Value)مان رہے ہیں جومغرب کی سیاسی طاقت کے بغیر نہیں ہو سکتیں ۔ جن چیزوں کو ہم قدر یا اچھی چیزیں مانتے ہیں یا کچھ تہذیبی Contribution سمجھتے ہیں تو اس میں اور ان کی قبولیت میں طاقت کا دخل لازما ہوتا ہے۔

غر ض ایسےبے شمار پہلو  پیش کیے جاسکتےہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ  عرب فتوحات (Arab Conquests) اور  توسیع سلطنت  (Expansions) کا  اسلامی تہذیب کی تشکیل وارتقا میں بنیادی کر دار رہا ہے۔ یہ تہذیب دنیا کے ایک وسیع خطے پر نہایت گہرےمذہبی، سماجی، سیاسی ، اخلاقی ، تمدنی ، علمی ،معاشی اور انتظامی اثرات مرتب کرنے میں کامیا ب رہی۔ذرا  سوچئے کہ تہذیبی سطح پر اتنی بڑی سر گرمی کو عرب فتوحات  سے الگ کر کے دیکھا  جاسکتا ہے ؟کیا صدیوں پر محیط  یہ تہذیبی تعامل اور اس کے دیر پا اور دوررس اثرات و ثمرات  میں اسلامی فتوحات  اور مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت  کے کر دار  کو  خارج کیا جا سکتا ہے ؟گویا تاریخ اسلامی  کے تشکیلی دور  کا مطالعہ اگر اس تناظر میں کیا جا ئے جس کی طرف ان سطور میں توجہ دلانے کی ایک ابتدائی کوشش کی گئی ہے تو یقینا  عقیدہ ،  تہذیبی اثرات اور فتوحات  وسیاسی طاقت کے مابین  تعلق کی تفہیم کا نیا زاویہ سامنے آئے گا ۔اسلامی  تاریخ میں مسلمانوں کی فتوحات  اور ان کے نتیجے میں سیاسی حاکمیت  ، یہ ایسی چیزنہیں ہےکہ  ہم اس پر شر مندہ ہوں  یا اس کی تفہیم کا کوئی زوایہ ہی ہمارے پا س موجود نہیں ہے۔


مصادر و مراجع


حواشی

(1) محمد اقبال،کلیات ِ مکاتیب ِ اقبال ،اردو اکادمی دہلی،2010، ج: 2 ،ص: 234-236

(2) پیٹریشیا کرون امریکی نزاد  یہودی مصنفہ ،مستشرقہ تھیں ۔ ان کامیدانِ تحقیق تاریخ  اور خصوصا ََ ابتدائی تاریخ ِ اسلام تھا ۔ پیٹریشیا کرون کی علمی زندگی کا سب سے اہم موضوع اسلامی مصادر کی تاریخی حیثیت کا بنیادی سوال تھا جس کا تعلق آغازِ اسلام سے ہے ۔ ان کے دو مشہور علمی کاموں کا موضوع: ہیگر ازم اور مکہ تجارت ہے ۔ ہیگر ازم کے تین دہائیوں بعد ، فریڈ ڈونر نے پیٹریشیا کرون  کے کام کو اسلام کے استشراقی مطالعے  کے میدان میں "سنگ میل" قرار دیا۔مصنفہ نے اپنی کتاب ہیگر ازم میں اپنے ساتھی  مائیکل کک (Michael Cook)کے ساتھ مل کر اسلام کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ایک نیا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔انہو ں نے آغازِ اسلام  کی پوری تصویر غیر عرب مصادر سے تیار کرنے کی کو شش کی ہے جو زیادہ تر  آرمینی ، یونانی ، آرامی اور سریانی زبانوں میں لکھے گئے تھے  ۔انہوں نے اسلام کے آغاز کی ایک کہانی کی تشکیل نو کی جو  اسلامی روایات کی کہانی سے مختلف ہے۔ کرون اور کوک نے دعویٰ کیا کہ عرب قیادت میں مشرق کی مختلف مشرقی تہذیبوں کے ملاپ کے  مطالعے کے ذریعےوہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ اسلام کیسے وجود میں آیا۔

(3) بد ھ مت کو  جب دو ہندو راجاؤں ،اشکوک اعظم اور کنشک، جنہوں نے خود یہ مذہب اختیار کرلیا ، کی سر پر ستی حاصل ہوئی تو اس دور میں دنیا کا سب سے بڑامذہب بن گیا ۔ یوں اس سیاسی پشت  پناہی کی بدولت  دنیا کے ایک بہت بڑے خطے پر  اثرات ڈالنے میں کامیاب ہوا۔ آ ج بھی جاپان سے لے کر کا بل تک  اس کے آثار اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔موجود دور میں بھی اس کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے ۔اسی طرح مسیحیت کو دیکھیے تو حضر ت مسیح کے بعد تقریبا  تین صدی تک  ان کا کوئی پرسان ِحال نہ تھا۔ ہر طرف انہیں دھتکارا جاتا تھا تاآنکہ  رومی سلطنت نے خود عیسائیت قبول کرلی اور  اور سلطنت کے زیر نگین علاقوں نے  جو تقریبا تین  بر اعظموں ایشیا ، یورپ اور افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے ، مسیحیت قبول کرلی ۔اسی کے اثرات ہیں کہ آج بھی دنیا کا سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہی ہے۔

(4) Crone, Patricia. Hagarism, p. 130.
(5) Ibid, p. 10.
(6) Ibid, p. 77.
(7) https://kavvanah.wordpress.com/2012/06/04/
how-islam-saved-the-jews-david-wasserstein/(
Accessed 01-04-2020).
(8) Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture, p:11
(9) Ibid, p:11-12.
(10) Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture, p:13.
(11) Ibid, p. 13.

(12)  پرویز ہود بھائی ، مسلمان اور سائنس ، ص: 138

(13)  ایضا ََ ، ص: 142

(14) Ibid, p:74.

(15) ڈاکٹر فضل الرحمٰن ،اسلام ،ص:10

(16) ڈاکٹر فضل الرحمٰن ،اسلام ،ص:13

(17) ایضا

(18) زیغرید ھونکہ،  شمس العرب تسطع علی الغرب،ص:401

(19) ڈاکٹر افتخار حسین آغا،قوموں کی شکست و زوال  کے اسباب کا مطالعہ ، ص : 51

(20) سراج منیر، ملت ِ اسلامیہ : تہذیب و تقدیر  ، ص : 88

(21) Marshall G.S Hodgson۔ The Venture of Islam, Vol-1, p. 235.
(22) Ibid.
(23) Marshall G.S Hodgson. The Venture of Islam,Vol-1, p. 235.

(24)  پرویز ہود بھائی ، مسلمان اور سائنس ، ص: 163

(25) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 30.
(26) Huntington, The clash of civilizations and remaking of world order, p. 50.
(27) Bernard Lewis, The Crisis of Islam, Phoenix, London,2003, p. 11.

(28) آدم میٹز(Adam Matez)، الحضارۃ الاسلامیہ فی القرن الرابع الہجری،ترجمہ : محمد علی ابو ریدۃ، القاہرۃ، 1940، ج:1،ص:55-96

(29)  ڈاکٹر فضل الرحمان ،اسلام ،ص:10



فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکام

مولانا مشرف بيگ اشرف

باسم ربي الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم، وصلی اللہ علی نبيہ الأكرم! أما بعد!

فری لینسر  کی اصطلاح  والٹر سکاٹ (1771–1832)   کی طبع زاد ہے انہوں نے ایک کہانی " ايفانہو" لکھی (اس کہانی کےسورما کے نام   سے اسے موسوم کیا)۔ انہوں نے    یہ اصطلاح قرون میانہ کے ایسے جنگجوکے لیے استعمال کی  جس نے باقاعدہ فوج کا حصہ بن کر حلف نہیں لیا ہوتا  تھا۔ چناچہ یہ اصطلاح دو الفاظ کا  مرکب ہے:

۱: فری (Free)  یعنی آزاد (اس لیے فری لینسنگ کا تعلق "مفت" سے نہیں بلکہ "آزادی" سے ہے۔)

۲: لینس (Lance)۔ یہ لفظ دراصل  لاتینی زبان کے لفظ Lancea  سے بنا ہے جس کا مطلب   چھوٹا نیزہ ہے۔1

موجودہ  دور میں یہ ایسے لوگوں کے لیے برتی جاتی ہے جو کسی ادارے یا بندے کے ساتھ طویل المیعاد  معاہدے میں نہیں بندھتے، بلکہ ان کا رشتہ محض ایک  منصوبے کی تکمیل کے لیے ہوتا ہے۔ عام طور سے،  ان میں کسی خاص جگہ سے کام کرنے کی قید نہیں ہوتی۔ نیز کسی وقت  کی پابندی بھی نہیں ہوتی کہ نو سے پانچ تک ہی کام کرنا ہے۔  البتہ ایک مدت مقرر ہوتی ہے جس میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا  ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ "اجیر "ہی ہوتے ہیں جو ایک مخصوص خدمت مہیا کرتا ہے ۔ اور عام طور سے یہ  - اگر ہم فقہی زبان میں بات کریں - اجیر مشترک ہی ہوتے ہیں جس میں معقود علیہ معین وقت نہیں ہوتا بلکہ "منفعت" ہوتا ہے۔

کیمبرج کی قاموس میں اس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ:

"ایک مخصوص ادارے کے بجائے بیک وقت مختلف  اداروں کے لیے کام کرنا"2

چنانچہ اسی مناسبت سے  فری لینس صحافی بھی پائے جاتے ہیں ۔

پھر انٹرنٹ کے آنے کے بعد، برقی منڈیاں وجود میں آ گئیں  جہاں مختلف لوگ اپنی خدمات  پیش کرتے اور صارفین انہیں حاصل کرتے ہیں۔ اور یہی برقی منڈیاں فری لینسنگ پلیٹ فارمز(Freelancing Platforms)  کہلاتی ہیں۔ ان برقی منڈیوں کا مقصد محض لوگوں کو جوڑنا ہوتا ہے  اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ:

۱:  صارف ایک منصوبہ شروع کرتا ہے جس میں وہ اپنی ضرورت بیان کر، وہاں موجود  خدمیات مہیا کرنے والوں کو بولی کی دعوت دیتا ہے۔

۲: پھر دلچسپی رکھنے  والے بولی لگاتے ہیں ۔

۳: صارف کو  جو مناسب لگے، اس سے  ایک برقی کھڑکی کے  ذریعے گفت وشنید کرتا ہے۔

۴:  اگر ان کا اتفاق ہو جائے، تو  صارف اس کی بولی قبول کرلیتا ہے۔

۵: جیسے ہی دونوں طرف سے ایجاب وقبول ہو جائے،  منڈی کا خود کار نظام دونوں کےکھاتوں سے اپنی اجرت وصول کر لیتا ہے جو عام طور سے دس فیصد سے بیس فیصد تک ہوتی ہے۔

۶: اس کے بعد، عام طور سے،  صارف وہ مبلغ جو اس منصوبے کی تکمیل پر اس نے مہیا کرنا ہوتی ہے، اسے ایک "برقی پوٹلی" میں رکھوا دیتا ہے۔ اس کے لیے Escrow  کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جو دراصل ایک  قدیم قانونی اصطلاح  ہے  اور ایسے  ضمانت نامے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے فریقین کسی تیسری فریق کے پاس رکھوا دیتے تھے اور طے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی مخصوص شرط پوری ہوجائے، تو اسے  ان فریقین یا ان میں سے کسی ایک کے حوالے کیا جائے۔ لیکن  موجودہ  برقی منڈیوں میں دراصل   باقاعدہ پیسے رکھے  جاتے ہیں جو برقی منڈیوں سے وابستہ کھاتوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس میں اصول یہ ہوتا ہے کہ صارف جو اس پوٹلی میں   پیسے رکھتا ہے وہ اس کا دہانہ کھول اسے خدمت گزار کے کھاتے میں انڈیل سکتا ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ منصوبہ پورا یا جزوی مکمل ہوا۔  اور خدمت گزار کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ انہیں واپس صارف کے کھاتے میں  منتقل کر دے۔ جو عام طور سے اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ منصوبہ منسوخ ہو گیا اورخدمت گزار اس پر راضی ہے اس لیے اس نے  یہ پیسے واپس کر دیے۔  نیز بعض اوقات پیسوں کو کچھ حصوں میں تقسیم کر کے "سنگ میل"بنا دیے جاتے ہیں۔ جونہی ایک سنگ میل تک پہنچے، اس سے وابستہ مبلغ خدمت گزار کے کھاتے میں صارف منتقل کر دیتا ہے اور یوں اگر آگے کچھ اختلاف ہو جائے، تو خدمت گزار نے جتنا کام کیااسے کم از کم اس کا محنتانہ مل جاتا ہے۔

۶: اس کے بعد، خدمت گزار   منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔

۷: البتہ جہاں انسان ہیں وہاں نزاع ہے اور وہیں فصل نزاع کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔  اس لیے، ان منڈیوں میں فصل خصومات کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ اگر کوئی فریق درخواست دائر کرے، تو ان کا نمائندہ اس منصوبے اور  برقی کھڑکیوں سے کی گئی گفت وشنید کی روشنی میں  فیصلہ کرتا ہے۔ جو یہ مقدمہ ہار جائے، اسے فصل نزاع کی اجرت ادا کرنی ہوتی ہے۔

۸: نیز ان میں کارکردگی پیما بھی نصب ہوتا ہے جس سے صارف اور خدمت گزار کا رویہ اور کارکردگی وغیرہ جانی جا سکتی ہے جس میں وقت پر کام کرنا، وقت پر پیسے ادا کرنا ، منصوبے مکمل کرنے کی اوسط شرح وغیرہ شامل ہیں۔ اسی میں ، ہر منصوبے کے اختتام پر ، فریقین کو ایک دوسرے کی بابت تبصرے کا موقع بھی ملتا ہے جسے بعد والے لوگ دیکھ کر اس کی بابت رائے قائم کر سکتے ہیں اور کارکردگی پیما کی سوئی بھی اس کے مطابق اوپر نیچے جاتی ہے۔

بعض برقی بازاروں میں  کچھ فرق بھی ہوتا ہے۔ جیسے بعض جگہوں پر خدمت مہیا کرنے والے اپنا برقی ٹھیا لگا لیتے ہیں اور صارف  ان کے سابقہ تکمیل شدہ کام و کارنامے دیکھ کر   ان کی خدمات کی خود درخواست کرتا ہے۔ ایک مشہور برقی بازار fiverr میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ باقی بنیادی طور سے اسی طرح کام ہوتا ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔

بلاشبہ، ان منڈیوں کا  تیسری ممالک کے لوگوں کو فائدہ ہے کہ انہیں اس سے ذریعہ معاش مل جاتا ہے اور مقامی بے روزگاری  کے حل میں اس کا ایک اچھا کردار ہے۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے کہ مثلا اگر  وہ مقامی   پروگرامر کی خدمات لیں تو انہیں ایک گھنٹے کے پچھتر سے سو ڈالر  تک ادا کرنے پڑیں لیکن ان ممالک والے اس سے آدھے میں بھی کر دیتے ہیں۔ بلکہ انڈیا اور پاکستان میں بعض لوگ دس سے پندرہ تک میں بھی کر دیتے ہیں۔ بہر حال، یہ ایک اضافی چیز ہے جس سے سرسری گزر کر ہم اپنی مقصد کی طرف بڑھتے ہیں جو ان برقی منڈیوں کی  فقہی حیثیت کا تعین   کرتے   ہوئے ایک مسئلے کا تعین ہے۔

ہمارے سامنے اس وقت جو سوال ہے وہ یہ کہ  ان منڈیوں میں جب خدمت مہیا کرنے والا کسی  کے ساتھ کام مکمل کر لیتا ہے، تو اس کا اس صارف سے براہ راست تعلق قائم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ منڈی سے باہر آ کر مزید  معاہدات کر ان کی تکمیل کرتے ہیں اور   اس کی اجرت براہ راست   بینک میں (Bank wire)  منتقل کر دی جاتے ہے یا  ویسٹرن یونین جیسے برقی  ڈاکیوں کے ذریعے  بھجوا دی جاتی ہے ۔ کیا  خدمت گزار کے لیے اس منڈی سےباہر آ کر  اس سے رابطہ روا ہے؟ اور اسی ضمن میں ان منڈیوں سے وابستہ  اخلاقیات بھی زیر بحث ہوں گے۔

ہمارے تعارف سے واضح ہے کہ فری لینس سے وابستہ ڈیرے دراصل برقی منڈیاں ہیں جو لوگوں کو ایک ایسی جگہ مہیا کرتی ہیں جہاں وہ مختلف خدمات مہیا کر سکیں اور  منڈیوں کے  چلانے والے اس پر اپنا کمیشن (جعل) وصول کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے  ان کا اس پر آنے والے لوگوں  سے رشتہ دراصل سمسار  اور وسیط کا ہے ۔  یہ محض تعلق بنوا لینے پر پیسے وصول کر لیتے ہیں۔

ایک مشہور منڈی کا یک جملی تعارف ملاحظہ کیجیے:

Upwork, formerly Elance-oDesk, is an American freelancing platform where enterprises and individuals connect in order to conduct business.

یہاں کلیدی شبد "Platform"  اور "connect"  ہیں۔

نیز مشہور بازار  Freelancer.com  کے قواعد وضوابط میں خدمت مہیا کرنے والوں کے حوالے سےکوئی ایسی شرط موجود نہیں کہ اگر وہ کام منسوخ کریں تو انہیں پیسے واپس مل جائیں گے۔ یہ شرط بہر حال موجود ہے کہ اگر  صارف نے اضافی پیسے ادا کیے، تو بازار کاخود کار نظام اس میں اپنا حصہ لے گا، لیکن منسوخی کے وقت پیسوں کی واپسی اس میں شامل نہیں۔ اور عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔خدمت مہیا کرنے والوں کی شرائط ملاحظہ ہوں:

" For fixed price projects, if you are awarded a project, and you accept, we charge you a small project fee relative to the value of the selected bid, as an introduction fee. If you are subsequently paid more than the original bid amount, we will also charge the project fee on any overage payments.
For hourly projects, the fee is levied on each payment as it is made by the employer to you.
The fee for fixed price projects is 10% or $5.00 USD, whichever is greater, and 10% for hourly projects."3

البتہ  صارف کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ سات دن تک اگر وہ منصوبہ منسوخ کر دے، تو اسے پورے پیسے مل جائیں گے۔ چنانچہ اس صفحے پر آتا ہے کہ:

You may cancel the project from your dashboard at any time for up to seven (7) days after the project has been accepted for a full refund of your fee.

بلاشبہ، اس   مبلغ  واپس کرنے میں کچھ تفصیل ہے جو عملا سامنے آتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک اضافی سہولت ہے کہ سات دن تک وہ منسوخ کر کے پیسے لے سکتا ہے۔ اس کے بعد نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہاں پیسے محض تعلق   بنوانے اور "رشتہ کروانے" کے ہیں۔

اس تنقیح کے بعد ہم اپنے سوال کی طرف آ جاتے ہیں ۔ ان منڈیوں کا نظام دو شرطیں عائد کرتا ہے جو ہمارے سوال سے وابستہ ہیں:

پہلی شرط: رابطہ نہ کرنا

 پہلی شرط یہ ہے خدمت گزار اس منڈی سے باہر کسی صارف سے رابطہ نہیں کرے  الا یہ کہ وہ اسے پہلے سے جانتا ہو۔ ان کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

Unless you have a prior relationship with a User, you must only communicate with Users via the Website. You must not, and must not attempt to, communicate with other Users through any other means including but not limited to email, telephone, Skype, ICQ, AIM, MSN Messenger, WeChat, SnapChat, GTalk, GChat or Yahoo.4

لیکن یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ  آیا  "سمسار" یا "وسیط" ایسی کوئی شرط عائد کر سکتا ہے کہ  جن کا اس  کے وسیلے سے تعلق بنا وہ مستقبل میں کبھی بھی براہ راست  کوئی معاملہ نہیں کر سکتے  ؟

ادنی غور وخوض سے واضح ہے کہ یہ شرط  اس منصوبے  یا  عمل سے بالکل غیر متعلق ہے۔ بلکہ  آپ غور کیجیے کہ  اس عقد کے الفاظ میں کتنا عموم ہے کہ:

"communicate with other Users "

اس کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کچھ لوگوں کی  گفت وشنید میں دوستی ہو جائے، تو وہ  آپس میں کسی سلسلے میں بھی بات نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو سندیس نہیں بھیج سکتے۔ مثلا اگر انہیں علم الکلام یا فلسفے کا شوق تھا جو اس گفتگو میں ظاہر ہوا تو وہ آپس میں اس حوالے سے بات بھی نہیں کر سکتے (یہ صرف فرضی مثال نہیں، بلکہ ایسا عملا ہوتا ہے)۔ اسی طرح کی اور بہت سے مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہاں  شرط سے مقصود صرف کاروباری مقاصد کے لیے ملنا ہے جس کی تخصیص کی ، اگرچہ،  کوئی وجہ نہیں اور ان منڈیوں کے  ساہوکاروں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح آپس میں  اس برقی کھڑکیوں کے علاوہ بات چیت نہ کر سکیں  جس  میں کبھی بھی  وہ جھانک سکتے ہیں، تو سوال پھر عود کر آئے گا کہ  اس مخصوص منصوبے کے علاوہ ، جس کے دونوں فریقوں نے پیسے ادا کر دیے، کسی اور منصوبے کے لیے روکنا کس طرح  روا ہے  جبکہ وہ عقد سے بالکل غیر متعلق ہے۔

یہاں شاید، آپ کے ذہن میں یہ سوال انگڑائی لے کہ  کیا جب مسلمان کسی معاہدے پر ہاں کہہ دے، تو اس پر لازم نہیں ہو جاتا ؟ کیا اللہ کے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں فرمایا جو بخاری مسلم جیسے کتابوں میں آیا ہے کہ :

"المسلمون عند شروطھم"5 (مسلمان اپنی وضع کردہ شرطوں کی پاسداری کرتے ہیں)

اس پر میں یہ عرض کروں گا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ بلکہ حدیث کا یہ ٹکڑا   مقید ہے۔ چناچہ علامہ قسطلانی نے یہ روایت نقل فرما کر فورا کہا کہ:

أي الجائزة شرعا (یعنی وہ شرطیں جسے شریعت نے بھی روا رکھا ہو)

چناچہ کیا آپ نے بی بی بریرہ  ، رضی اللہ تعالی عنہا ،کا مشہور واقعہ نہیں سنا جو بخاری میں ہے کہ جب بی بی عائشہ  ، رضی اللہ تعالی عنہا ،   نے انہیں خرید نا چاہا تو ان کے بیچنے والوں نے  یہ شرط لگائی کہ ولا انہیں کی ہو گی اور انہوں نے اصرار کیا۔  اس پر ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  برہم ہوئے اور بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ،سےفرمایا کہ: "خرید لو، ولا کی شرط  بھی لگا لو۔ ولا  بہر کیف اسی کی ہے جو آزاد کرے"۔6

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کچھ شرطیں ایسی ہیں جو کالعدم ہو جاتی ہے لیکن اس سے عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

شاید اس پر آپ یہ کہیں کہ  یہاں ولا کا حق اللہ تعالی نے کسی کو دیا ہی نہیں، اس لیے یہ شرط کالعدم ہے۔ لیکن زیر بحث شرط اس قبیل سے نہیں۔ اس پر عرض یہ ہے کہ ہم دین کو فقہا کے منہج کے تحت سمجھتے ہیں   اور فقہا نے جہاں شرطیں بیان فرمائی ہیں وہاں وہ صاف الفاظ میں لکھتے ہیں کہ  کچھ ایسی ہیں جو اگر عائد کر بھی دی جائیں، تو قانون کی نگاہ  میں وہ کالعدم   ہیں اور انہیں ماننے والا اخلاقی طور سے اس کا  پابند نہیں۔ اس کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں:

۱: علامہ قدوری اپنی مختصر میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے باربرداری کا جانور کرائے پر دیتے ہوئے یہ شرط عائد کی کہ   اس پر ایک من گندم لادو گے، تو اس پر   بوجھ اور باربرداری میں گندم جیسی کوئی اور چیز بھی لادی جا سکتی ہے۔ "گندم" کا کہنا  (تسمیہ)کالعدم ہو گا۔   بلاشبہ، یہ عرف ورواج میں دیکھ   کر فیصلہ ہوتا ہے کہ  کسی چیز سے  فرق پڑتا ہے یا نہیں لیکن مقصود یہ دکھانا ہے کہ اگرچہ  عقد میں اس کا ذکر ہے، لیکن   اس کی کوئی حیثیت نہیں اور  کرایے پر لینے والا اس کا پابند نہیں۔7

۲: نیز فقہا فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی جانور بیچا اور یہ شرط عائد کی کہ اسے وہ آگے نہیں بیچے گا ، تو  ظاہر الروایہ کے مطابق شرط باطل اور سودا درست جیسا کہ علامہ سرخسی  رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔  قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے ایک روایت ایسی منقول ہے جس میں سودا  باطل ہوتا ہے، لیکن  حنفی فقہا نے اپنی ترجیح کا وزن اس کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔8

شاید یہاں آپ کہیں کہ یہ شرط اس لیے  لغو ہے کہ اس میں  بائع یا مشتری کا  نفع نہیں جبکہ برقی منڈیوں کا مقصد ان منڈیوں سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے خود اوپر ان "ساہو کاروں" کے حوالے سے کہا۔

اس پر عرض یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ اس شرط کے گرنے کی وجہ وہی جو آپ نے بیان کی۔ لیکن اگر  اس سے یہ مراد لیا جائے کہ شرط لگانے والے کے ذہن میں مستقبل میں کسی بھی قسم کا نفع  لینے کے امکان کی نفی مراد ہے، تو فقہا کی  اس  مثال پر بھی اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔ چناچہ دیکھیے ایک بندے کو اپنی چیز بہت پسند ہے اور وہ اسے مجبوری میں بیچتا ہے اور ساتھ ہی یہ لاگو کرتا ہے کہ تم اسے بیچو گے نہیں  اور اس کے من میں یہ ہے کہ جلد ہی وہ اپنی یہ قیمتی چیز اس سے واپس خرید لے گا اگرچہ  کچھ زیادہ قیمت دینی پڑی۔ پر اگر  اس نے آگے بیچ دی، تو وہ کہاں اس کے لیے سرگرداں رہے گا۔بلاشبہ، یہ بھی ایک گونہ نفع ہے۔ لیکن اس طرح  کے امکانات کا فقہا نے لحاظ نہیں فرمایا۔ بلکہ محض وہ "نفع" مراد ہے جو براہ راست  ہو۔ چناچہ ہماری مثال میں دیکھیے کہ یہ ساہوکار اس طرح کی شرطیں لگا کر مستقبل کا نفع ہی محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ شرط لگانا ایسا ہی ہے کہ رشتہ کروانے والی دونوں خاندانوں سے، جن کا اس نے ملاپ کروایا، کہے کہ "آئندہ بھی اگر تم لوگوں نے آپس میں رشتہ کیا تو مجھے بیچ میں لانا" (یعنی بس فیس دے دینا، دوسرے الفاظ میں)۔ ظاہر ہے کہ اسے ایک مضحکہ کہا جا سکتا ہے لیکن اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس لیے، بندے کے ہاں ان برقی منڈیوں کے اس نفع کی کوئی حیثیت نہیں اگرچہ وہ اسے عائد کر دیں اور اگرچہ خدمت گزار کو معاہدے میں اس شرط کی ڈور سے باندھا گیا ہو۔

یہاں آگے بڑھنے سے پہلے میں اس مسئلے کی ایک اخلاقی اور کلامی جہت پر بھی بات کرنا چاہوں گا کیونکہ بعض وہ دماغ جو تجرید  ی وفکری بالاخانوں میں محو استراحت ہوتے ہیں اور منڈی کی    تلخی وسختی سے انہیں کوئی یارا نہیں ہوتا ، اس طرح کی باتیں   ان کی اعلی اخلاقی اقدار  کو کچوکے لگاتی ہے  اور وہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جسے اتفاق نہیں وہ جائے اور ان چیزوں سے فائدہ نہ اٹھائے۔ لیکن حقیقت میں یہ اسلام کی حقیقت پسندی ہے کہ اس نے ساہوکاروں، سرمایہ داروں اور وہ لوگ جن کے ہاتھ میں ذرائع کی لگام   ہے، انہیں کھلی چھٹی نہیں دے دی کہ وہ اس طبقے کا استحصال کرتا رہے جو نان جویں کے لیے اس   عالم اسباب میں ان کے در کا سوالی ہے۔ چناچہ  اس طرح کے لوگ ایک جتھا (کارٹل)بنا کر اپنی مرضی کی شرطیں عائد کر دیں اور چونکہ ہر منڈی کا کرتا دھرتا اس جتھے کا حصہ ہے اس لیے ہر بندہ اسے ہی ، ان ساہو کاروں کی شرائط پر،  استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ شوگر ملز وغیرہ کے مالکان کرتے ہیں۔ اس لیے، اسلام نے   ایک طرف "المسلمون عند شروطهم"  کا خوبصورت اصول دیا اور دوسری طرف اس   کابھی خیال کیا کہ یہ دائرہ لا تعین  نہ بن جائے  بلکہ اس پر قدغن لگا دی۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ کہنا برمحل ہو گا کہ فقہا کے ہاں جس شرط میں بائع، مشتری یا مبیع (یہ محض غلام کی صورت میں ہے) کا نفع ہو اس سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، ورنہ شرط گر جاتی ہے۔

دوسری شرط:  رابطہ کے ذرائع کا تبادلہ

دوسری شرط ان منڈیوں  کے طرف سے  یہ  بھی عائد کی جاتی ہے کہ صارفین اپنا پتہ وغیرہ ایک دوسرے کو نہیں دیں گے۔ چناچہ ان کے الفاظ پر غور کیجیے:

You must not post your email address or any other contact information (including but not limited to Skype ID or other identifying strings on other platforms) on the Website, except in the "email" field of the signup form, at our request or as otherwise permitted by us on the Website.9

اس شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ   ان منڈیوں کی برقی کھڑکیوں  میں اپنے رابطے کا طریقہ ایک دوسرے کو نہیں بتائیں گے اپنے برقی پتے ایک دوسرے کو نہیں دیں گے ۔

اور جو یہ کہا گیا کہ:

except in the "email" field of the signup form

تو اس سے مقصود اس کا خود کار نظام ہے جس میں خدمت گزار اپنی معلومات ڈالتا ہے جو صارفین کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتی ہے۔

بلاشبہ، اس شرط کی پاسداری ایک مسلمان پر ضروری ہے کیونکہ اس شرط کا  مقصد یہ ہے کہ وہ منڈیاں   ایک برقی کھڑکی  مہیا کر رہی ہیں جس سے  فریقین گفت وشنید کر سکتے ہیں۔ اور ان کی اس سہولت پر وہ بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جس سے انہوں نے منع کیا کیونکہ یہ اس  منصوبے ہی کا حصہ ہے  اس سے باہر نہیں۔ لیکن یہاں بھی  ایک مسلمان کے لیے دو باتیں ہیں:

ا:  اس کے لیے بلاشبہ، یہ روا نہیں کہ اپنا سراغ وہاں دے یا اس سے مانگے۔

۲: لیکن بعض اوقات  صارف  یا خدمت گزار خود اپنا پتہ وہاں لکھ دیتا ہے۔ اس صورت میں ایک مسلمان  کے لیے یہ روا ہے کہ اس پر رابطہ کر لے کیونکہ اس نے کوئی مخالفت نہیں کی۔ ان برقی منڈیوں میں پھندے (کڑکیاں) نصب ہوتے ہیں جو خود کار اس طرح کی چیزوں کو پکڑ لیتے ہیں، لیکن جس طرح فیس بک وغیرہ پر اس طرح کے پھندوں سے لوگ ہوشیاری سے بچ جاتے ہیں ، وہاں بھی بچ جاتے ہیں۔ یہاں مقصود یہ کہنا نہیں کہ ایسا کرنا چاہیے بلکہ صرف قاری کو بتانا ہے کہ جس صورت کی بات کی جاری ہے وہ محض فرضی نہیں اور ایسا ہوتا ہے۔ نیز اس برقی ساگر میں کسی کا نام ہی لے کر اسے گوگلایا جائے (یعنی گوگل پر تلاش کیا جائے)تو اس سے رابطے کے راستے خود بخود  آپ کے قدم چومتے ہیں چناچہ اس کے ذریعے سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بچھڑ چکے تھے ، پھر ملے۔ یہاں پھرمیں یہی عرض کروں گا کہ اس بات کے کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایسا ہوتا ہے اورفرضی بات نہیں۔

اس لیے، پوری گفتگو کا نتیجہ یہ کہ:

۱: وہ لوگ آپس میں  ان برقی ڈیروں سے باہر ملاقات کر سکتے ہیں اور اس سے حاصل شدہ آمدن رواہے۔

۲: نیز اگر کسی مسلمان نے  ان کی برقی کھڑکیاں استعمال کر اپنا پتہ دوسرے کو دے دیا، تو بلاشبہ وہ گناہگار ہے  کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

۳: لیکن اس کی آمدن بہر کیف درست ہے کیونکہ اسے پیسے یہ برقی بازار نہیں دیتے بلکہ  صارف دیتا ہے ۔ ان برقی بازاروں کے پاس ان صارفین اور خدمت گزاران سے پیسا آتا ہے، ان کے پاس جاتا نہیں ۔  اور اس نے صارف کی شرط نہیں توڑی۔ اس لیے، یہاں اس کی آمدن کے حرام ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

۴: اگرچہ  احتیاط اسی میں ہے کہ ان  برقی بازاروں کے نظام ہی سےمعاملہ کرنا چاہیے کہ اس میں صارف وخدمت گزار دونوں  کے لیے اطمینان ہے کہ اس میں دونوں میں سے کوئی کام کروا کر آسانی سے پھر نہیں سکتا اور ایک نظام میں بندھا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہاں مقصود فقہی حکم کا تعین ہے، اس لیے بہر کیف ان کے لیے ان منڈیوں سے باہر بھی ملاقات جائز ہے۔

آخر میں عرض یہ ہے کہ  یہی اصول  دوسری منڈیوں پر بھی عائد ہو گا جیسا Olex  وغیرہ۔ البتہ اگر کوئی اور خاص شرط ہو تو اس پر غور وفکر کر کے اس کا حکم بیان کیا جائے گا۔ .والله أعلم،!


حواشی

(1)  Glare P.G.W., ed. Oxford Latin Dictionary. Oxford University Press 1968.
(2) https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/freelance. This link and all the subsequent links accessed at: 3/6/2021 7:04 PM.
(3) https://www.freelancer.com/feesandcharges
(4) https://www.freelancer.com/about/terms

(5)  صحيح البخاري، كتاب الإجارۃ، باب أجرالسمسرۃ.

(6)  صحيح البخاري، كتاب الشروط، باب الشروط في الولاء.

(7)  وما لا يختلف باختلاف المستعمل فلا ضمان عليہ فإذا شرط سكنی واحد فلہ أن يسكن غيرہ وإن سمی نوعا أو قدرا يحملہ علی الدابۃ مثل أن يقول: خمسۃ أقفزۃ حنطۃ فلہ أن يحمل ما ھو مثل الحنطۃ في الضرر أو أقل كالشعير والسمسم وليس لہ أن يحمل ما ھو أضر من الحنطۃ كالملح والحديد (مختصر القدوري، كتاب الإجارۃ)

(8) المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، باب البيوع إذا كان فيھا شرط، (۱۳/۱۵)

(9) https://www.freelancer.com/about/terms