شناخت کابحران اور پرتشدد مذہبی رویے
محمد عمار خان ناصر
پشاور میں بھری عدالت میں ایک مدعی نبوت کے قتل جیسے واقعات پر مذمتی بیانات اور شریعت وقانون کے حدود کی مکرر وضاحت سے بات کچھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ انفرادی واقعات نہیں ہیں اور نہ انھیں، آخری تجزیے میں، بعض ’’افراد “ کے رویے سمجھنا درست ہے، کیونکہ تشخیص ہی ناقص ہو تو تجویز کا ناقص ہونا ناگزیر ہے۔ یہ شناخت کے اس بحران کی علامات ہیں جس سے جنوبی ایشیائی اسلام پچھلے دو سو سال سے دوچار ہے۔ اس پورے عرصے میں مذہبی یا غیر مذہبی سیاسی شناخت کی تشکیل کا عمل ہمارے ہاں بنیادی طور پر مثبت اصولوں پر نہیں، بلکہ منفی اصولوں پر ہوا ہے جس میں بنیادی محنت کسی ’’دوسرے “ کو اپنی شناخت کے لیے خطرہ قرار دینے اور پھر اس کے خلاف تن من دھن کی بازی لگا دینے کا جذبہ پیدا کرنے پر کی گئی ہے۔
تحفظ شناخت کی اس سیاست کی ابتدا استعماری دور سے پہلے اہل تشیع کی تکفیر کی صورت میں ہو چکی تھی جس میں حضرت مجدد رحمہ اللہ جیسی بلند قامت شخصیت نمایاں تھی۔ استعماری دور میں شناخت کے تحفظ کا یہی اصول بریلوی علماء نے باقی تمام گروہوں اور خاص طور پر دیوبندی علماء کے خلاف استعمال کیا۔ نیچریوں، قادیانیوں اور منکرین حدیث وغیرہ کے ظہور نے تمام روایتی مذہبی گروہوں کے لیے شناخت کے تحفظ کے لیے کچھ مزید ’’اہداف “ کا اضافہ کر دیا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ نے بھی بتدریج اسی طرز کو اختیار کیا اور مکمل کامیابی حاصل کی۔ اس کی تشکیل کردہ شناخت اپنے تمام تر لوازم کے ساتھ آج بھی پاکستان کی قومی ریاست کا اثاثہ ہے۔
استعماری دور میں مختلف مذہبی شناختوں کے لیے ایک دوسرے سے بھڑنا استعماری طاقت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن نہیں تھا، لیکن حصول وطن کے بعد اس میں یہ رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مختلف مراحل پر پہلے قادیانی، پھر انقلاب ایران کے پس منظر میں شیعہ، پھر سلمان رشدی کے واقعے کے تناظر میں مقامی مسیحی آبادی، پھر سیکولرزم کے نمائندے، اور آخرکار خود ریاست اور ریاستی ادارے اس کا نشانہ بنے۔ توہین مذہب کے الزام نے ایک مذہبی ہتھیار کی صورت اختیار کر لی ہے جس سے لگتا نہیں کہ کوئی طبقہ بچ پائے گا، یہاں تک کہ خود ناموس رسالت کے محافظ اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ blasphemy hunting کا ایک ہیجان ہے جو معاشرے میں برپا کر دیا گیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سلمان رشدی اور اس جیسے بدبختوں کا انتقام مذہبی جنونی خود اپنے ہی معاشرے سے لینا چاہ رہے ہیں۔ دشمنان اسلام کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی مہم کے جواب میں قرآن نے صبر وتقوی کی جو تعلیم دی تھی، نہ وہ ہماری توجہ کی حقدار رہی ہے اور نہ رسول اکرم کا یہ اسوہ یاد رہ گیا ہے کہ آداب مسجد سے ناواقف کوئی بدو مسجد میں پیشاب کے لیے بیٹھ جائے تو اسے ڈانٹ ڈپٹ تک نہ کی جائے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ معاشرے کی موجودہ کیفیت واقعی ایمانی جذبات کا مظہر ہے یا کوئی اجتماعی نفسیاتی عارضہ ہمیں لاحق ہو گیا ہے۔
پہلے وقتا فوقتا اور اب زیادہ تیز رفتاری سے رونما ہونے والے مختلف انفرادی واقعات کا بنیادی سیاق شناخت اور اس کے تحفظ کی یہی کشمکش ہے۔ ان کی کوئی اور تفہیم اس کے علاوہ ممکن نہیں۔ ان میں عملی اقدام کرنے والے افراد صرف ایک آلہ ہیں اور ان کی شخصی سوچ یا حالات کا دخل اس میں محض ضمنی اور ثانوی ہے۔ یہ سوچ ان کی اپنی وضع کردہ نہیں ہے، انھیں ان مختلف شناختی بیانیوں سے ملی ہے جو ماحول میں موجود ہیں۔ شناخت کے مسئلے کو اس کے تاریخی سیاق میں موضوع بنائے بغیر ان واقعات کی کوئی تفہیم اور اصلاح کی کوئی تجویز قطعا بے معنی ہے۔
مختلف مذہبی عنوانات کے تحت تشدد کا ظہور، جیسا کہ عرض کیا گیا، کوئی نئی پیدا ہونے والی بیماری نہیں، بلکہ استعماری دور میں جنم لینے والے شناخت کے بحران کا تسلسل اور بدلتے ہوئے حالات میں اس عدم تحفظ کے احساس کا اظہار ہے جو مختلف مذہبی شناختوں کے ہاں پایا جاتا ہے اور تخفیف کے بعض ظاہری اشاریوں کے برخلاف، معاشرے میں مذہب کے سکڑتے ہوئےاثر ورسوخ کے پیش نظر درحقیقت شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں دو عمل بیک وقت ہو رہے ہیں اور الگ الگ زاویوں سے اس عمل کو دیکھنے سے بظاہر دو متضاد تعبیرات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ مذہبی شناختیں بالکل درست طور پر محسوس کرتی ہیں کہ وہ خطرے میں ہیں اور سیکولرائزیشن کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے رد عمل میں مذہبی بیانیوں میں خوف اور عدم تحفظ کا اظہار بلند آہنگ ہو جاتا ہے اور اس سے تشدد کا ذہنی رویہ پیدا ہوتا ہے جسے ، ظاہری شکل میں اور مرتبہ نتائج کے حوالے سے قبول نہ کرنے کے باوجود، مذہبی بیانیے کسی نہ کسی صورت میں جواز بھی مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جیسا کہ ہم سلمان تاثیر، مشال خان اور اس طرح کے دیگر واقعات میں مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ اب اس رد عمل کو اور اس کی شدت کو جب سیکولر حلقے دیکھتے ہیں تو انھیں لگتا ہے کہ یہ تو معاشرے پر مذہبی طبقوں کی گرفت زیادہ مضبوط ہو رہی ہے اور معاشرہ مذہبی شدت پسندی کا یرغمال بنتا جا رہا ہے۔
اس ساری صورت حال میں ریاستی طاقت بھی ایک کھلاڑی بن جاتی ہے۔ وہ ایک طرف مذہبی شناختوں کے ساتھ معاملہ کر کے انھیں استعمال کرتی ہے، ان کے ذریعے سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتی ہے، اور بقدر ضرورت انھیں اوپر چڑھا کر بوقت ضرورت انھیں اٹھا کر پٹخ بھی دیتی ہے، جیسا کہ ہم جہادی تنظیموں، سپاہ صحابہ اور تحریک لبیک وغیرہ کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ قطع تعلق کسی حال میں نہیں کرتی، بلکہ ایک دروازہ بند کر کے کوئی دوسرا دروازہ کھول لیتی ہے تاکہ مذہبی شناختوں میں عدم تحفظ یا لاوارثی کا احساس اتنا سنگین نہ ہو جائے کہ خود ریاست کے لیے خطرہ بن جائے۔ اس سارے عمل میں ریاست بتدریج ایک اور مقصد بھی حاصل کرتی جا رہی ہے، یعنی مذہبی اور مذہبی اظہارات پر مکمل ریاستی کنٹرول قائم کرنے کی طرف پیش قدمی۔ مذہبی شناختیں اپنے بھولے پن کی وجہ سے بعض چیزوں میں ریاست کو ’’دباو “ قبول کرتا ہوا دیکھ کر سمجھتی ہیں کہ وہ پیش قدمی کر رہی ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ مذہب کے دائرے میں ریاست کے دخل کو جواز دینے میں نہ صرف آلہ کار کا کردار ادا کر رہی ہیں، بلکہ خود دعوت دے کر ریاست کو مذہب میں دخیل بنا رہی ہیں۔ اس سارے کھیل کا آخری نتیجہ مذہب اور مذہبی ڈسکورس کے مکمل طور پر سیکولرائزڈ ہو جانے کی صورت میں نکلنا نوشتہ دیوار ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جس کا فہم عام جذباتی مذہبی ذہن تو کیا، مذہبی لیڈر شپ کو بھی حاصل ہونا قطعی طور پر مشکوک ہے۔
جنوبی ایشیائی اسلام کو اور خاص طور پر مذہبی گروہوں کو تاریخ اور نئے سیاسی ومعاشرتی حقائق کی ایک نئی اور معروضی تفہیم کی ضرورت ہے جس میں مختلف مذہبی شناختوں کی بقائے باہمی کو شعوری طور پر، نہ کہ صرف حالات کے جبر کے طور پر، قابل قبول بنایا جا سکے۔ یہ مذہب کے معاشرتی کردار کو باقی رکھنے اور اسے مکمل ریاستی کنٹرول سے بچانے کی واحد ممکن ضمانت ہے۔
ہذا ما عندی واللہ اعلم
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(214) زاد کے ایک خاص اسلوب کا ترجمہ
زاد کا ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ اس کا مفعول آتا ہے اور اس کے بعد تمیز مذکور ہوتی ہے، زاد کا مطلب اضافہ کرنا ہوتا ہے مگر اس اسلوب میں زاد کے مفعول بہ میں اضافہ کرنا مراد نہیں ہوتا ہے بلکہ تمیز میں اضافہ کرنا مراد ہوتا ہے۔
جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے زادہ اللہ علما ومالا، تو اس کا مطلب اس فرد کی ذات میں کوئی اضافہ یا ترقی نہیں بلکہ اس کے علم اور مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی اللہ اس کے علم اور مال میں اضافہ کرے، نہ کہ خود اس شخص میں اضافہ کرے، اگرچہ زاد کا مفعول بہ وہ شخص ہوتا ہے، لیکن اس سے مراد اس چیز میں اضافہ ہوتا ہے جسے آگے بطور تمیز ذکر کیا گیا۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل ترجمہ دیکھیں:
وَلَا یَزِیدُ الکَافِرِینَ کُفرُہُم عِندَ رَبِّہِم اِلَّا مَقتًا وَلَا یَزِیدُ الکَافِرِینَ کُفرُہُم اِلَّا خَسَارًا۔ (فاطر: 39)
اس آیت کا درج ذیل ترجمہ اس اسلوب کی صحیح ترجمانی کررہا ہے۔
”اور کافروں کے لیے ان کا کفر، ان کے رب کے نزدیک، اس کے غضب کی زیادتی ہی کا موجب ہوگا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)
جب کہ یہ درج ذیل ترجمہ اس اسلوب کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا:
”اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں“۔ (سید مودودی)
اس ترجمے میں کافروں کی ترقی کا ذکر ہے، حالانکہ اس اسلوب کی رو سے کافروں کو ترقی دینے یا نہیں دینے کا کوئی محل ہی نہیں ہے، یہاں صرف اللہ کی ناراضگی اور کافروں کے خسارے میں اضافے کی بات ہے۔
اس ترجمے سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ مترجم کی نگاہ سے زاد کا یہ خاص اسلوب ترجمہ کرتے ہوئے غلطی سے اوجھل ہوگیا۔ غلطی سے اوجھل ہونا اس لیے کہنا مناسب ہے کہ زاد کے اسی اسلوب کا صاحب ترجمہ نے دوسرے سبھی مقامات پر درست ترجمہ کیا ہے۔ جیسے:
وَنُخَوِّفُہُم فَمَا یَزِیدُہُم اِلَّا طُغیَانًا کَبِیرًا۔ (الاسراء: 60)
”ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سر کشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے“۔ (سید مودودی)
(215) وَمَا یُعَمَّرُ مِن مُعَمَّرٍ وَلَا یُنقَصُ مِن عُمُرِہِ کا ترجمہ
وَمَا یُعَمَّرُ مِن مُعَمَّرٍ وَلَا یُنقَصُ مِن عُمُرِہِ اِلَّا فِی کِتَابٍ۔ (فاطر: 11)
اس جملے کے کچھ ترجمے ملاحظہ کریں:
”اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے“۔ (احمد رضا خان، سوال: عمرہ میں ضمیر تو معمر یعنی بڑی عمر والے کی طرف لوٹ رہی ہے، تو دوسرا کوئی کیوں مراد ہوگا۔)
”اور جو بڑی عمر والا عمر دیا جائے اور جس کی عمر گھٹے وہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے“۔(محمد جوناگڑھی، وہی سوال۔)
” اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے“۔(فتح محمد جالندھری، سوال: کیا بڑی عمر والے کی عمر کم کی جاتی ہے؟)
”کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے“۔ (سید مودودی، سوال: کچھ کمی ہونے کا کیا مطلب؟)
”اور کسی عمر والے کی عمر میں نہ زیادتی ہوتی نہ کمی مگر یہ ایک کتاب میں نوشتہ ہے“۔ (امین احسن اصلاحی، سوال کیا عمر مل جانے کے بعد زیادتی یا کمی ہوتی ہے؟)
”اور نہ کسی شخص کی عمر میں زیادتی ہوتی ہے اور نہ کمی ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں موجود ہے“۔ (محمد حسین نجفی، وہی سوال۔)
اوپر کے ترجموں سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ عمر مل جانے کے بعد اس میں کمی یا کمی اور زیادتی ہوتی ہے، جب کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی عمر اور اس کا اجل متعین ہے۔ صحیح مفہوم تک پہنچنے میں یہ چیز بھی شاید رکاوٹ بنی کہ معمر کا مطلب لمبی عمر والا سمجھ لیا گیا، جب کہ معمر وہ ہے جسے عمر دی جائے، وہ لمبی بھی ہوسکتی ہے اور چھوٹی بھی۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ کوئی اشکال باقی نہیں رہتا اور بات بہت واضح ہوکر سامنے آتی ہے۔
”اور کسی کو جو عمر ملتی ہے اور جو کچھ اس کی عمر میں سے گھٹتا ہے وہ کتاب میں درج رہتا ہے“۔
اس جملے کامطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک عمر ملتی ہے، اور پھر وہ گزارنے کے ساتھ ساتھ گھٹتی جاتی ہے، تو عمر کا ملنا اور پھر اس کا گھٹتے گھٹتے ختم ہوجانا سب اللہ کے یہاں لکھا ہوا ہے۔
گویا آیت میں اللہ کی طرف سے لمبی عمر اور چھوٹی عمر دیے جانے کی، یا لمبی عمر والے کی عمر چھوٹی کرنے کی اور چھوٹی عمر والے کی عمر لمبی کرنے کی بات نہیں ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے عمر دیے جانے اور بندے کے اس عمر کو گزاردینے کی بات ہے۔ کہ یہ سب کچھ اللہ کی کتاب میں درج ہے۔
(216) شکور، شاکر اور مشکور کا ترجمہ
عربی زبان میں شکر کا اصل مطلب قدر کرنا ہوتا ہے۔ خلیل فراہیدی لکھتے ہیں: الشکر عرفان الاحسان، (کتاب العین)
جب شکر اس کے لیے آتا ہے جس پر نوازش کی گئی، تو اس کا مطلب اپنے محسن ومنعم کی تعریف کرنا ہوتا ہے، قرآن مجید میں بندوں کے لیے یہ بہت استعمال ہوا ہے۔ لیکن جب یہ لفظ اللہ کے لیے آتا ہے تو اس کا مطلب بندوں کے اچھے کاموں کی قدر کرنا ہوتا ہے۔ قدر کرنے میں تعریف کرنا بھی ہے، عمل قبول کرنا بھی ہے، صاحب عمل کی عزت افزائی بھی ہے، اور اسے اچھا بدلہ دینا بھی ہے۔ غرض جب یہ لفظ اللہ کے لیے استعمال ہو تو اس کا جامع مفہوم قدر کرنا ہے۔ بعض لوگوں نے کہیں قدر کرنا اور کہیں قبول کرنا ترجمہ کیا ہے، تاہم صحیح ترجمہ وہی ہے جو عام طور سے کیا گیا ہے یعنی قدر کرنا۔
اللہ کے لیے شکور اور شاکر کی صفت آئی ہے، اور اللہ ہی کے حوالے سے عمل کے لیے مشکور کی صفت بھی آئی ہے۔ ان تینوں لفظوں کا ترجمہ دیکھیں:
(۱) اِنَّہُ غَفُور شَکُور۔ (فاطر: 30)
”بے شک وہ بخشنے والا اور قبول فرمانے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بے شک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے“۔ (سید مودودی)
”بےشک وہ بڑا بخشنے والا قدردان ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۲) اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُور شَکُور۔ (فاطر: 34)
”بے شک ہمارا رب بخشنے والا، قبول فرمانے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بےشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدردان ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۳) اِنَّ اللَّہَ غَفُور شَکُور۔ (الشوری: 23)
”بے شک اللہ بڑا ہی بخشنے والا اور بڑی قدر افزائی کرنے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے“۔(احمد رضا خان)
(۴) وَاللَّہُ شَکُور حَلِیم۔ (التغابن: 17)
”اور اللہ قدردان اور بردبار ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۵) فَاِنَّ اللَّہَ شَاکِر عَلِیم۔ (البقرة: 158)
”تو بے شک اللہ قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اللہ کو اس کا علم ہے او ر وہ اس کی قدر کرنے والا ہے“۔ (سید مودودی)
(۶) وَکَانَ اللَّہُ شَاکِرًا عَلِیمًا۔ (النساء: 147)
”اور اللہ تو بڑا قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
” اور وہ تو ہر ایک کے شکریہ کا قبول کرنے والا اور ہر ایک کی نیت کا جاننے والا ہے“۔ (جوادی، یہ عجیب ترجمہ ہے)
”اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور پورا علم رکھنے والا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۷) فَاولَئِکَ کَانَ سَعیُہُم مَشکُورًا۔ (الاسراء: 19)
”تو درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی مقبول ہوگی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی“۔ (احمد ضاخان)
”تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۸) وَکَانَ سَعیُکُم مَشکُورًا۔ (الانسان: 22)
”اور تمہاری سعی مقبول ہوئی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی“۔ (محمد جوناگڑھی)
” اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی“۔ (احمد رضا خان)
”اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی“۔ (فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا تمام مقامات پر قدر کرنے کا ترجمہ ہی شکر کا صحیح مفہوم ادا کرتا ہے۔
(217) ”ان“ ماضی کے لیے نہیں
گزشتہ مضمون میں ہم نے وضاحت کی تھی کہ لو ماضی کے لیے ہوتا ہے، لیکن بسا اوقات مستقبل کا ترجمہ کردیا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ اسی طرح ”ان“مستقبل کے لیے ہوتا ہے، لیکن کبھی غلطی سے ماضی کا ترجمہ کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سورة فاطر کی درج ذیل آیت کا ترجمہ دیکھیں:
وَاَقسَمُوا بِاللَّہِ جَہدَ اَیمَانِہِم لَئِن جَائَہُم نَذِیر لَیَکُونُنَّ اَہدَی مِن اِحدَی الاُمَمِ۔ (فاطر: 42)
”یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آ گیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے“۔ (سید مودودی)
”اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے“۔ (احمد رضا خان، ”کسی نہ کسی گروہ“ کے بجائے ”ایک ایک گروہ“ ہونا چاہیے)
”اور انھوں نے اللہ کی پکی پکی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نذیر آیا تو وہ ہر امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی، ”تو وہ ہدایت میں ایک ایک سے بڑھ کر ہوں گے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
”اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری، اَقسَمُوا کا ترجمہ حال کا کیا ہے، جب کہ صیغہ فعل ماضی ہونے کے علاوہ سیاق کلام خود ماضی کے ترجمے کا تقاضا کرتا ہے)
پہلے ترجمہ میں ان کا ترجمہ ماضی سے کیا گیا ہے: ”اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آ گیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے“، لیکن یہ درست نہیں ہے، صحیح ترجمہ ہوگا: ”اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آجائے تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوں گے“۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ترجمہ کا جب انگریزی ترجمہ کیا گیا تو اس میں یہ غلطی درست کردی گئی:
Swearing by Allah their strongest oaths they claimed that if a warner came to them, they would be better-guided than any other people. (Maududi)
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس مقام سے مشابہ دو اور مقامات پر صاحب ترجمہ نے مستقبل کا ترجمہ کیا ہے:
وَاقسَمُوا بِاللَّہِ جَہدَ ایمَانِہِم لَئِن جَائَتہُم آیَة لَیُومِنُنَّ بِہَا۔ (الانعام: 109)
”یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے“۔ (سید مودودی)
وَاقسَمُوا بِاللَّہِ جَہدَ ایمَانِہِم لَئِن امَرتَہُم لَیَخرُجُنَّ۔ (النور: 53)
”یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ”آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں“۔ (سید مودودی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غلطی ناواقفیت نہیں بلکہ بھول چوک کی قبیل سے ہے۔
دعوت ِ دین کا متبادل بیانیہ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک
(مفتی ابو احمد عبداللہ لودھیانویؒ کی تصنیف ”عالمی مشکلات کا یقینی حل “ کی تازہ اشاعت کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا)
اسلام دین ِدعوت ہے اور اس کے مخاطَب دنیا کے تمام انسان ہیں ۔ عصری تناظر میں دیکھا جائے تو ان اصحاب ِ فکرو دانش کی رائے زیادہ وزنی معلوم ہو تی ہے جو دنیا کو دار الاسلام اور دار الحرب کے بجائے دارلاسلام اور دار الدعوة میں تقسیم کرتے ہیں ۔ زرعی دور سے گزرنے کے بعد انسان صنعتی دور میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے اس فیز میں داخل ہوچکا ہے جس نے دنیاکو حقیقی معنوں میں عالمی گاوں(Global village)میں تبدیل کردیا ہے ۔ دنیاقومی ریاستوں کے دور سے گزرنے کے بعدپوسٹ نیشن سٹیٹ(Post Nation State)کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔اس وقت جدید دانش کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمگیر نظم(World order)انسان کے مفاد کا تحفظ کرسکے گا؟ تاریخی تناظر یہ ہے کہ انسان عالمگیر نظم کے کئی تجربات سے پہلے بھی گزر چکا ہے ۔مذہبی حوالے سے اس طرح کے تجربات یہودیت اور مسیحیت کے عنوانات سے ہوچکے ہیں جبکہ دور ِ حاضرمیں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی عالمگیر غلبے کے لئے کشمکش کے بعد دنیا میں نئی صف بندی ہو رہی ہے ۔عالمگیر نظم کے تمام تجربات مجموعی طور پر انسان کے مسائل کا حل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ہماری رائے میں تاریخ نے انسانیت کو ایک ایسے دوراہے پر کھڑا کردیا ہے جہاں اس کے پاس شاید اب اسلام کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا۔اس لئے دور ِ حاضر میں اسلام کو دنیا کے سامنے متبادل بیانیے کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔
اسلام کی عالمگیر دعوت میں ہماری دینی قیادت بھی اسی غلطی کا ارتکاب کررہی ہے جو مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے سرزد ہوئی ۔ یہ حقیقت سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ مذہب جب دعوت کی بجائے عصبیت کے پیراہن میں ظہور کرتا ہے تولامحالہ دوسرے مسالک اور مذاہب کے لئے ایک فریق اور مد مقابل کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور ایک گروہ،علاقے اورنسل سے منسوب ہونے کی وجہ سے اپنی آفاقیت اور عالمگیریت سے محروم ہو جا تا ہے۔ کسی بھی فکر کی آفاقیت کے لئے نسلی، شخصی اور علاقائی نسبتیں رکاوٹ بن سکتی ہیں ،دین ِ اسلام، یہودیت ،مسیحیت اور ہندومت جیسی شخصی اور علاقائی نسبتوں کا قائل نہیں ہے ۔قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کو اقوام ِ عالم کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا اوران کی سیرت کے آفاقی پہلو واضح کرتے ہوئے ان کی طرف منسوب کی جانے والی تمام عصبیتوں کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے نہ نصرانی اور نہ ہی وہ مشرکوں میں سے تھے ،بلکہ وہ راست رو ” مسلم“ تھے۔قرآن ِ مجید نے مسلمانوں کے لئے بھی یہی پیغام دیاہے کہ اے اہل ِ ایمان ! اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے اور تم مرنا تو ”مسلمان“ ہی مرنا۔ قرآنِ مجید نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین صرف اسلام ہی ہے اور روز ِ قیامت اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں کیا جا ئے گا۔قرآن کریم کا بیان بالکل واضح اور دو ٹوک ہے ،اس لئے اسلام کو کسی شخصیت ،گروہ اور علاقے کی طرف منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عالمگیردین ہونے کے تصوّر سے دست برداری اختیار کر لی جائے۔ گروہی اور جغرافیائی عصبیتوں کے مضبوط ہونے سے ہی اسلام کے بارے میں ایک دور میں اس غلط فہمی نے جنم لیا کہ اسلا م صرف پہلی ہزاری کے لئے ہی تھا اورخاتم النبیین حضرت محمد ﷺصرف عربوں ہی کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ایران میں نقطوی تحریک اور ہندوستان میںمغل حکمران جلال الدین محمد اکبر(۱۵۵۶ء۔۱۶٠۵ء) کے ”دین ِ الٰہی “ کاظہور اسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا ۔ اسلام ”محمڈن ازم “ نہیں ہے، وہ صرف اسلام ہے ۔ اسلام کے لئے محمڈن ازم کی اصطلاح مستشرقین (Orientalists)نے استعمال کی ،تاکہ اسلام کی آفاقیت پر حرف گیری کی جا سکے۔ غور کیا جائے تو اعتراف کرنا پڑے گا کہ دیگر مذاہب کی طرح اسلامبھی اپنے داعیوں کی پیدا کردہ عصبیتوں کے نتیجے میں متنازع بن چکاہے اور شدید طور پر سیکولرازم کی زد میں ہے۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک غیر متعصب اور عظیم الشان مذہب ہے جو بلا امتیاز ِرنگ و نسل انسانی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے اور حسن ِ کردار کی بنا پر اہل ِ کتاب کی بھی تحسین کرتا ہے ۔اسلام نے مخاطَب قوموں کے لئے حکمت ،موعظہ حسنہ اور جدال بالاحسن جیسے دعوتی اصول دیے ہیں۔ مناظرہ،تقابل اور ردجیسے رویوں کا اسلام کے اسالیب دعوت سے تعلق محض جزوی نوعیت کا ہے ۔ اسلام کی نگاہ میں تو مجادلہ بھی مناظرہ نہیں بلکہ دعوت کا ایک ایسا اسلوب ہے جس میں الزام تراشیاں ،چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوںاور مقصد محض فریقِ مخالف کو چپ کرادینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجانا نہ ہو، بلکہ اس میں شیریں کلامی ،اعلیٰ درجہ کا شریفانہ اخلاق، معقول اور دل لگتے دلائل ہوں جو مخاطَب کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دیں ،اور وہ داعی کے خلوص اور للہیت سے متاثر ہو کر برضا و رغبت اسلام پر غوروفکر کے لئے تیار ہوجائے۔ مذہب کے ساتھ سب سے بڑا حادثہ یہ ہواہے کہ اسے اخلاق اور تزکیہ نفس سے الگ کردیا گیا ہے اوراب مذہب محض ایک گروہی اور مسلکی عصبیت ہے یا پھر بے لگام جذبات کا نام،حالانکہ پیغمبر اسلام کا فرمان ہے کہ دین خیر خواہی کا نام ہے ،اورخیر خواہی بھی کسی خاص گروہ کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہو ، آپ ﷺکا ہی فرمان ہے کہ لوگوں میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لئے زیادہ نفع بخش ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوام ِ عالم کے معاشی،سیاسی اور گروہی مفادات کے مقابل ایک عالمی معاشرے کے قیام کے لئے دین ِ اسلام ہی فکری بنیادیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام کاامتیاز یہ ہے کہ اس میں خود اللہ تعالیٰ کا تعارف”رب العالمین“ پیغمبر اسلام کا ”رحمۃ للعالمین“ اور قرآن مجید کا ”ذکر للعالمین“کے عالمگیر اور آفاقی اوصاف سے کروایا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے ،قرآن مجید پوری انسانیت کے لئے صحیفہ ہدایت ہے، اسی طرح رسول اللہﷺ کی نبوت و رسالت بھی عالمگیر اور گلوبل ہے۔مذہب ِ اسلام دانش کا مستند ترین مجموعہ ہے اور دانش بھی فن کی طرح جغرافیائی حد بندیوں سے بالا تر ہو کر اپنے اندر آفاقیت کا فطری جوہر رکھتی ہے ۔لیکن بدقسمتی سے مسلمان اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے رسالتِ محمدی ﷺ کی آفاقیت اور ہمہ گیریت کو اس طرح نمایاں نہیں کرسکے جس طرح کہ آپپر ایمان لانے کا حق تھا۔ اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے مسلمانوں نے اسلام کوعالمی محاذ پر شیعہ،سنّی،سلفی،جہادی اور صوفی اسلام میں تقسیم کر رکھا ہے جبکہ داخلی محاذ پر ہمارے ہاں اسلام کے بریلوی ،دیوبندی اوراہلحدیث ایڈیشن متعارف ہیں ،اوران مسالک کی ذیلی تقسیم ایک الگ گورکھ دھندا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسلام کی مسلکی تقسیم پر مبنی یہ عصبیتیں اس قدر شدید ہیں کہ آج کے نام نہاد داعیان ِ اسلام لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے کی بجائے ان عصبیتوں کی طرف ہی دعوت دے رہے ہیں ۔ ہمارے عملی رویوں سے بہرحال یہی ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ایک ایسی دیوار ِ چین ہے جس سے انسانوں کو تقسیم تو کیا جا سکتا ہے لیکن جوڑا نہیں جا سکتا ۔بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہعلماءکرام کی اکثریت اس وقت عوام الناس کا بد ترین فکری استیصال کررہی ہے۔
سماجی تشکیل محض نظریات نہیں بلکہ رویوں کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔مذہب ان دونوں کا مجموعہ ہے۔عصری تناظر میں اسلام کے سماجی پہلو کا مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ مذہب کے سماجی مطالعہ میں ہی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرتی رویوں کی تشکیل میں مذہب کا کردار کیا ہے ؟ہمارے ہاں مطالعہ مذہب کی روایت تو کافی پختہ ہے لیکن مذہب کے عمرانی پہلو کے مطالعہ کی روایت مسلسل نظرانداز ہو رہی ہے ۔مذہب اور مذہب کے سماجی مطالعہ (Sociology of Religion) کے فرق کو ملحوظ رکھنا اس از بس ضروری ہے۔ جدید دانش تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے حضرت شاولی اللہ کی معروف کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ “ کا سا اسلوب اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مغربی تہذیب نے گزشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقاءکا کٹھن سفر طے کیا ہے،مسلسل فکری ارتقاءاور تجربات کے نتیجے میں ان کے ہاں کئی تصورات اب مسلمہ عقائد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ فیمنزم (Feminism)، ہیومنزم (Humanism)، جمہوریت(Democracy)،مذہبی رواداری(Interfaith Harmony) اورآزادی اظہار ِ رائے (Freedom of speech) جیسے تصورات پر اہل ِ مغرب کوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔اہل ِ مغرب نے سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے جو تجربات کئے ہیں اس کے نتیجے میں ان کے ہاں یہ سوچ پختہ ہو رہی ہے کہ انسانیت اپنے سماجی، سیاسی اور اخلاقی ارتقاءکی آخری سیڑھی پر قدم رکھ چکی ہے ۔مغرب میں "The End of History"کے عنوان سے لکھی جانے والی کتب اسی سوچ کی مظہر ہیں ۔
اس پس منظر میں اقوام عالم کو کسی دوسرے نظام ِ حیات پر غور کرنے کے لئے اسی وقت آمادہ کیا جا سکتا ہے جب وہ نظام ِ حیات ایسی اقدار کا حامل ہو جو مغربی فکر وفلسفہ میں پائی جانے والی فکری اور عملی کمزوریوں کا مداواکرسکے۔ یہ تسلیم کہ اسلام ،مغربی فکروفلسفہ کے مقابل انسانیت کے لئے واحد آپشن ہے ،لیکن ایسے علماءکرام اور داعیان ِ اسلام کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو اسلام کو مغربی تہذیب کے مقابل ایک متبادل بیانےے کی شکل میں پیش کرنے صلاحیت رکھتے ہوں ۔اسلام کی عالمگیر دعوت کے لئے داعیان ِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ گروہی عصبیتوں کو ترک کریں، فرقہ وارانہ تعبیرات کو ایمانیات میں داخل نہ کریں،فقہاءکرام اور مفسرین کے فہم ِ دین کو کل دین نہ بنائیں،فقہی اور مسلکی تعصبات کے بجائے براہ ِ راست قرآن و سنّت کے مطالعہ کو عادت بنائیں ،مذہب کی عمرانی جہتوں کو اجاگر کریں ،انسانیت کو درپیش چیلنجز کا ادراک کریںاور عصری تناظر میں اسلام کی عقلی اور فطری اصولوں پر ایسی تعبیر کریں کہ وہ سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے جسم اور روح کی تسکین کا واحد ذریعہ بن سکے ۔
زیر نظر کتاب ”عالمی مشکلات کا یقینی حل “ مفتی ابو احمد عبداللہ لودھیانویؒ (م ۱۹۷۵ء) کی مایہ ناز تصنیف ہے ۔ مفتی ابو احمد عبداللہ لودھیانویؒ برصغیر کی علمی روایت کے امین خاندان”علمائے لودھیانہ “ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ کتاب لگ بھگ ستر برس قبل تصنیف کی گئی ہے ، لیکن کتاب کے مضامین پر نظر ڈالنے سے معلو م ہوتا ہے جیسے کتاب آج کے ماحول کو مد نظر رکھ کر تصنیف کی گئی ہے ۔ کتاب کے مطالعہ سے فاضل مصنف کے بارے میں ایک فکری راہنما کا تا ثر ابھرتا ہے۔ ایک سچا دانشور بجاطور پر اپنے عہد سے جڑا ہوتا ہے، وہ عوام کی فکری راہنمائی کرتا ہے اور نہ صرف اپنے عہد کی دانش کو متوجہ کرتا ہے بلکہ مستقبل میں جھانک کر کل کی خبر بھی دیتا ہے ۔ کتاب کے مطالعہ سے محترم مفتی صاحبؒ کے علمی قد کاٹھ کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جغرافیائی حدبندیوں سے بالا تر ہو کر اپنے آپ کو عالمی معاشرے کا شہری سمجھتے ہیں اور پوری انسانیت کے لئے فکر مندہیں۔ ان کے پیش ِ نظر کسی مسلکی گروہ کی نمائندگی نہیں ہے بلکہ اس کتاب میں انھوں نے اپنے آپ کو دین ِ اسلام کے نمائندہ کے طور پر متعارف کروایا ہے ۔زیر نظر کتاب میں مفتی صاحب نے جن دانشورانہ خیالات کا اظہار کیا ہے وہ گروہی اور مسلکی عصبیتوں کے دائرے میں بند رہنے والے شخص کے لئے ممکن نہیں ۔ دانش کی ایک سطح تو یہ ہے کہ اپنے ماحول کا تنقیدی جائزہ لے کر مسائل کی نشاندہی کی جائے اور ان کا حل پیش کیا جائے ، لیکن دانش کی اعلیٰ ترین سطح یہ ہے کہ وہ مجموعی انسانی معاشرے کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے عالمگیر سطح پر ظہور کرے ۔ کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مفتی صاحبؒ دانش کی اعلیٰ ترین سطح پرفائز ہیں ۔
زیر نظر کتاب میں مفتی صاحبؒ نے ”پیغام ِ قرآن پیشوایان ِ مذاہب کے نام“سے دنیابھر کی مذہبی دانش کو مخاطَب کیا ہے ۔مفتی صاحبؒ کو یقین ہے کہ”عالمی مشکلات کا یقینی حل “ صرف اسلام کے پاس ہے ۔مفتی صاحبؒ کا یہ اعتماد کس وجہ سے ہے ؟ اس کا اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہوتا ہے ۔ مغرب میں عیسائیت کی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے مفتی صاحب ؒ لکھتے ہیں :
’’عیسائی پادریوں نے اپنے مذہبی معتقدات کو قدیم یونانی فلسفہ و حکمت کی بنیادوں پر قائم کررکھا تھا اور ان پادریوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی اخلاقی تعلیمات کو تو فی الجملہ برقرار رکھا ، لیکن معاشی اور معاشرتی و سیاسی معاملات میں ان کی ہدایات کو مسخ کرکے ان میں اپنی رائے اور مرضی کو وہی مقام دیا جو فی الواقع حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کا ہونا چاہےے تھا ۔ان پادریوں نے یورپ کی سرکردگی میں جو نظام قائم کیا وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بتائی ہوئی راہ سے کوسوں دور تھا ۔ ان اسباب و حالات کے تحت رومن کیتھولک نظام میں خدا اور یسوع کے نام پر حکم دیا جاتا تھا ، جس کا بیشتر حصہ انہی مذہب سازوں کا من گھڑت تھا ۔چنانچہ ان حالات نے ایک حریت پسند گروہ کو(جو ہسپانیہ کی مسلم یونیورسٹیوں سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئے تھے ،جن کو ان مسلم یونیورسٹیوں نے سائنٹیفک غورو فکر کے اصول دےے تھے، جن کی روشنی میں من گھڑت اور بے سروپا عقائد کے سائے طویل اور ہلکے ہوکر اپنا اثر کھو بیٹھے ) بغاوت پر آ مادہ کردیا اور اس گروہ نے رومن کیتھولک عقائد کو پارہ پارہ کردیا۔‘‘ (ص:۷٠۔۷۱)
مفتی صاحب ؒ کی رائے یہ ہے کہ دین ِ اسلام معاشی،معاشرتی،سیاسی اور اخلاقی تعلیمات کا جامع تصوّر رکھتا ہے،اور ان کمزوریوں سے پاک ہے جن کی وجہ سے مغرب میں عیسائیت کو پسپائی اختیارکرنا پڑی ۔اسلام کو جدید دانش کے سامنے عصری احوال و ظروف میں ایک چیلنج کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔مذہب کا انکار کرنے بعد مغرب نے تہذیبی سطح پر کئی تجربات کئے ہیں، لیکن پھر بھی انسانی معاشروں کو در پیش چیلنجز کم ہونے کو نہیں آرہے ۔ مفتی صاحب ؒ مغرب کی نمائندہ فکر کو مخاطَب کرتے ہوئےلکھتے ہیں :
’’کسی مذہب پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے دو ہی بنیادی حقیقتیں دیکھی جاتی ہیں ،ایک یہ کہ اس نے خدا کا کیا تصوّر دیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ اس نے انسان کو کیا مقام دیا ہے؟ جہاں خدا کا تصوّر ناقص یاخلاف ِ حقیقت ہو گا وہاں انسان بھی اپنے اصل مرتبہ و مقام سے ہٹا ہواملے گا،اور جہاں انسان کو اس کا شان ِ شیان درجہ نہ دیا گیا ہو ،وہاں خدا کا تصوّر کبھی صحیح اور مطابق ِ حقیقت نہیں ہو سکتا ۔مذہب کے تصوّرِ خدا کی کسوٹی اس کا تصوّر ِ انسانی ہے۔‘‘ (ص:۱٠۹)
ہماری رائے میں مفتی صاحب ؒ نے دین ِ اسلام کے عمرانی پہلوپر گفتگو کرتے بڑااہم نکتہ اجاگر کیا ہے ۔ مذاہب عالم کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں خدا اور انسان کے باہمی تعلق میں توازن نہیں ہے یہودیت اور عیسائیت میں جس خدا سے ہم متعارف ہوتے ہیں وہ صرف انہی کے لئے مہربان ہے اور باقی مخلوق اس کے ہاں کوئی اہمیت اورحیثیت نہیں رکھتی۔ہندو مت میں مذہبی بنیادوں پر انسان کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ظاہر ہے ایسی تعلیمات ایک عالمگیر معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔جدید مغربی تہذیب نے انسانی مساوت کا تصوّر تو دیا لیکن انسانی مساوات کے تصوّ ر کو جن اصولوں پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے وہ اصول ہی غیر عقلی اور غیر فطری ہیں۔ ”بنیادی انسانی حقوق کا عالمی منشور“(Universal Declaration of Human Rights) اقوام متحدہ کے منشور کی صورت میں وہ دستاویز ہے جس کو مغربی اقوام میں تقدس کا خاص درجہ حاصل ہے ۔انسانی مساوات کے حوالے سے اس دستاویز کی پہلی دفعہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
’’تمام انسان آزاد اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں ضمیر و عقل دی گئی ہے اس لئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ کا سلوک کرنا چاہئے۔‘‘
اس دفعہ میں ضمیر و عقل کے اشتراک کو انسانی بھائی چارے کا سبب اور اساس قرار دیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا محض عقل و ضمیر کا اشتراک ایک انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ بھائی چارے پر ابھار سکتا ہے؟ اور اقوام عالم میں مساویانہ سلوک کی ترغیب پیدا کرسکتا ہے؟ عقل و ضمیر کے جس اشتراک کو بھائی چارے اورمساوات کی بنیاد بنایا گیا ہے ، وہ تو قوموںمیں تفوق و برتری کے جذبات کو ابھارنے والا ہے۔ اس لئے اگر عقل و ضمیر کے پیچھے کوئی اخلاقی محرک نہ ہو تو عالمگیربرابری اور مساوات کا تصور پروان نہیں چڑھ سکتا ۔اس اخلاقی محرک اور اصول کی نشاندہی اسلام نے کی ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اورتمہیں مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔تم میں سے اللہ کی بارگاہ میں زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے ،بے شک اللہ علیم و خبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں دو باتیں خاص طورپر توجہ کے قابل ہیں ،ایک یہ کہ آیت کا تخاطب عام ہے ۔ خطاب مسلمانوں سے نہیں بلکہ ”یَا ایُّہَا النَّاسُ“ کے الفاظ سے تمام انسانوں سے ہے ۔ دوسرا انسانوں کے درمیان برتری اور فضیلت کا اصول اخلاقی اور مابعد الطبعیاتی نوعیت کا ہے ۔اس تناظر میں انسان کی ذمہ داری ایک دوسرے سے تعارف اور اپنی اصل مشترک کی طرف انتساب کے ذریعہ ان اختلافات پر قابوپانا ہے ۔
انسانی مساوات کی یہ ایسی اخلاقی قدر ہے جس پر عالمی معاشرے کی عمارت قائم رہ سکتی ہے ۔اسلام مذاہب و ادیان اور ثقافتوں کی الگ الگ شناخت کو تسلیم کرتا ہے اور ان مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان باہمی تعارف، رابطہ و اتصا ل اور تعلقات کار کی اہمیت پر زور دیتا ہے ۔مفتی صاحبؒ نے بجا طور پر اس نکتے کو خوب واضح کیا ہے کہ کسی بھی تہذیب کی پہچان ان تصوّرات سے ہوتی ہے جن پر اس تہذیب کی بنیاد ہو ،یعنی کسی تہذیب کا اصل مقام متعین کرنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس تہذیب میں تصوّرِ الہ ،تصوّر ِ انسان ،تصوّر ِ علم اور تصوّر ِ تخلیق وغیرہ کیا ہیں ؟اس لحاظ سے مفتی صاحبؒ کے اس تجزےے سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ عالمی معاشرے کے قیام کے لئے انسانی مساوات کا تصوّر ناگزیر ہے ، اور انسانی مساوات کے لئے صحیح بنیاد وہی ہے جو اسلام نے فراہم کی ہے۔
مفتی صاحبؒ کی نظر میں اسلامی تعلیمات کا عقل و دانش کے اعلیٰ ترین معیارات اور فطری اصولوں پر پورا اترنا بجا طور پر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسانی معاشروں کو درپیش چیلنجز کے لئے اسلام کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دور ِ حاضر عقل پرستی کا دور ہے۔انسانی معاشروں میں مذہب کی مسلسل پسپائی اور سیکولرازم کے نفوذ کے بعد اب عقل ہی انسان کا خدا ہے۔ صرف سیکولر معاشروں ہی کا کیا ذکر، خود مسلم معاشروں میں بھی عقل پرستی خوب زوروں پر ہے اور نئی نسل میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہاہے ۔ اس ماحول میں داعیان ِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ اسلام کو عقلی اور فطری دین ثابت کریں ۔مفتی صاحب کی رائے یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور سیرت ِ نبوی کو آج کے عقل پرستوں کے سامنے بطور چیلنج پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ مفتی صاحب بڑے دلچسپ انداز میں جدید دانش کو قرآن مجید کے ساتھ سیرت ِ نبوی کی عقلی اور فطری اصولوں کی تفہیم کی طرف متوجہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’پہلے انبیاءکو ایسے معجزے دےے گئے جو نبی کی نبوت پر دلیل اور نشانی ہوں کہ انسان ان کی باتوں کو بلادلیل مانیں،لیکن عالم الغیب کو معلوم تھا کہ آیندہ ایسی باتوں کو انسان علم و عقل کے معیار پر پرکھ کر قبول کریں گے۔اس لئے آخری اور خاتم الانبیاءکو علمی اورعقلی معجزے دے کر مبعوث کیا گیااور آپ کی تعلیمات کو علم و حکمت اور فلسفہ الٰہی پر مستحکم کیا گیا۔‘‘ (ص:۱٠۴)
مفتی صاحب ؒ مزید لکھتے ہیں :
’’جب عقلیں کمال کو پہنچ گئیں تومحمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا جنھوں نے اپنی رسالت منوانے کے لےے آنکھوں کو خیرہ کیا نہ حواس کو حیرت زدہ کیا ،بلکہ انہیں دعوت دی ،سوچنے سمجھنے کے لےے پکارا اور عقل ہی کو فیصلہ کے لےے حاکم قرار دیا ۔اس طرح خدا تعالیٰ نے عقل،دلیل،قوت ِ گویائی اور بلاغت کی قدرت ہی کو حق کی نشانی اور نبوت کا معجزہ قرار دے دیا ۔۔۔ اسلام انسانی فطرت سے حسن ِ ظن رکھتا ہے ،اس کے دل و دماغ پر اعتماد کرتا ہے اور اس کے فطری حق ِ خود ارادیت کا پورا پورا احترام کرتا ہے ،چنانچہ وہ اسے اپنی بات جبرو اکراہ سے نہیں منواتا بلکہ اس کی عقل کے سامنے سوچنے اور سمجھنے کے لئے سارا مواد رکھ دیتا ہے۔‘‘ (ص:۱۰۱۔۱۱۳)
مفتی صاحب ؒنے سیرت ِ نبوی کے حوالے سے ایک ایسا نکتہ اٹھایا ہے جس کی بنیاد ہمیں قرآن مجید میں ملتی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کی زبان مبارک سے یہ الفاظ کہلوائے کہ اے لوگو! میں نے ایک عمر تمہارے درمیان گزاری ہے کیا تمہیں کوئی عقل اور سمجھ نہیں ہے ۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ کہلوادیا گیا کہ جس طرح قرآن مجید ہر دور کی دانش کے لئے چیلنج ہے اسی طرح سیرت نبوی کو بھی ہر دور کی عقل دانش پر چیلنج کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے فضائل و مناقب، شمائل اور معجزات سے متعلق روایات کا بیان ایمان کی تازگی کا باعث ہے ،لیکن اقوام ِ عالم کے سامنے ہمیں سیرت کے ان پہلووں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جن کا تعلق انسان کی عملی اور اخلاقی زندگی کے ساتھ ہے ۔
زیر نظر کتاب میں براہ ِ راست مخاطَب تو عالمی دانش کو ہی بنایا گیا ہے، لیکن عام مسلمان اور علمائے امت بھی اس کتاب کا مخاطَب ہیں ۔ وہ وارثانِ محراب و منبر جو ہر وقت مناظرانہ انداز میں اپنے مد مقابل کو رسوا کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں ،مفتی صاحب ان کو مخاطَب بناتے ہوئے رقمطراز ہیں :
’’جو لوگ اپنے مدعا کو تقابل کی شکل میں پیش کرکے دوسروں پر اٹیک کرتے ہیں یاالزام سے صرف نیچادکھانا ان کا مقصد ہوتا ہے،ایسے لوگ انسانیت کے صحیح معنوں میں خادم نہیں ہو سکتے بلکہ بات کے درمیان میں مزید رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں اور تعصّب و ضدیت کو ابھارتے ہیں ۔ضد اورتعصب ایسی بری چیزیں ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے حق اور صداقت سے بھی انسان انکار کردیتا ہے اور استدلال کے اس طریقہ سے کوئی چیز بھی اس کی راہنمائی نہیں کر سکتی۔‘‘ (ص:۹۷)
مفتی صاحب ؒ نسلی، جغرافیائی اور گروہی عصبیتوں کے شکار مذہب اور اہل ِ مذہب کے بارے لکھتے ہیں :
’’مذہب میں انقلابی روح نہ ہواور وہ کسی ایک جماعت یا مخصوص قوم کا اجتماعی دین بن جائے اور اس میں خود بدلنے اور دوسروں کو بدل دینے کا جنون یا انقلابی جذبہ سرد پڑ جائے،اس و قت اس مذہب کے ہاتھ میں زمام ِ اقتدار دے دینا دراصل قوم کے رجعت پسندوں کو حکومت سونپ دینا ہے ،اور رجعت پسندوں کی حکومت ! خدا اس شر سے ہر قوم کو مامون رکھے۔‘‘ (ص:۷٠)
ہماری رائے میں مفتی صاحب ؒنے اپنی اس مختصر کتاب میں دین ِ اسلام کو عالمی دانش کے سامنے ایک متبادل بیانئے کے طور پر پیش کیا ہے۔کتاب پر داعیانہ اسلوب کا غلبہ ہے اور مفتی صاحب ؒ نے ایک جگہ جدید دانش کو یہ دلچسپ چتاونی دی ہے کہ اگر وہ اسلام کے مابعدالطبیعاتی عقائد کو تسلیم کرنے کے تیار نہیں تب بھی وہ اسلام پر دنیوی نظام ِ حیات کے طور پر ہی غور کرلیں تو بھی اسلام ان کو مایوس نہیں کرے گا ۔ مفتی صاحب ؒ نے جس بنیاد پر اسلام کو عالمی مشکلات کے یقینی حل کے طور پر پیش کیا ہے ہم نے ان میں سے صرف دو تین اسباب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔امید ہے کہ کتاب کے مطالعہ کے بعد قارئین اس نوعیت کے مزید دلائل کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ ہماری رائے میں یہ کتاب مسلمان اہل ِ دانش کے لئے بھی برابر قابل ِ توجہ ہے کہ اگر وہ نئی نسل کو تہذیبی ارتداد اور الحادی نظریات سے بچانا چاہتے ہیں تو پھرعقلی اور فطری اصولوں پر اسلام کو نئے سرے سے دریافت کریں ، داعیان ِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی عالمگیریت کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اس کے عمرانی پہلو کو اجاگر کریں ۔کتاب کی اشاعت ِ نو پر مفتی صاحب مرحوم ومغفور کے پوتے پروفیسر میاں انعام الرحمن مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی بدولت طویل مدت کے بعد کتاب ایک بار پھر شائقین ِ علم کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
یہود ونصاری ٰ کے ساتھ تعلقات اور اسرائیل کی حیثیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں یہ بات بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا اور خلافت راشدہ سے لے کر اب تک مسیحی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اور معاملات مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ البتہ یہودیوں کی دو ہزار سال بعد تشکیل پانے والی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ قدرے مختلف نوعیت کا ہے اور اس کی وجہ یہ آیت کریمہ نہیں، بلکہ اگر اس آیت کریمہ کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی ممانعت میں پیش کیا جائے تو میرے خیال میں یہ خلط مبحث ہوگا اور مسئلہ کو زیادہ الجھا دینے کی صورت ہوگی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات سے اختلاف کی وجوہ مختلف ہیں۔
- مثلاً سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری وہاں کی صدیوں سے چلی آنے والی آبادی یعنی فلسطینیوں کی رضامندی کے ساتھ نہیں ہوئی، بلکہ پہلے برطانیہ نے اس خطہ پر ۱۹۱۷ء میں باقاعدہ قبضہ کر کے فوجی طاقت کے بل پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کیا ہے، اور اب امریکہ اور اس کے اتحادی پوری فوجی قوت استعمال کر کے فلسطینیوں کو یہودیوں کی اس جبری آباد کاری کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں جس پر فلسطینی راضی نہیں ہیں کیونکہ یہ دھونس اور جبر کا راستہ ہے جسے دنیا کی کوئی مہذب اور متمدن قوم قبول نہیں کر سکتی۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح ہم کشمیر کے بارے میں اصولی موقف رکھتے ہیں کہ بھارتی فوج وہاں سے چلی جائے اور کشمیریوں کو کسی دباؤ کے بغیر اقوام متحدہ کے نظم کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے، اسی طرح فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے بارے میں ہمارا اصولی موقف یہ ہونا چاہیے کہ امریکہ اپنی فوجیں اس خطہ سے نکالے اور نہ صرف فلسطین بلکہ خلیج کے دیگر ممالک کو بھی فوجی دباؤ سے آزاد کر کے وہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کرے۔ انصاف اور مسلمہ اصولوں کا تقاضا تو بہرحال یہی ہے اور اگر بالادست قوتیں طاقت کے نشے میں اس اصول پر نہیں آتیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں اور بے اصولی اور دھونس کو اصول و قانون کے طور پر تسلیم کر لیں۔
- پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے میں ایک عملی رکاوٹ یہ بھی ہے جسے دور کیے بغیر اسے تسلیم کرنا قطعی طور پر نا انصافی کی بات ہوگی۔ وہ یہ کہ اسرائیل کی سرحدی حدود اربعہ کیا ہیں؟ یہ بات ابھی تک طے نہیں ہو سکی۔ بہت سے عرب ممالک اور فلسطینی عوام کی اکثریت سرے سے فلسطین کی تقسیم کو قبول نہیں کررہی۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو سرحدات اپنی قراردادوں میں طے کر رکھی ہیں، انہیں اسرائیل تسلیم نہیں کر رہا۔
- اسرائیل کی اقوام متحدہ کی طرف سے طے کردہ سرحدات اور ہیں،
- اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقے کی حدود اربعہ اور ہیں،
- کسی اصول اور قانون کی پروا کیے بغیر پورے فلسطین میں دندناتے پھرنے سے اس کی سرحدوں کا نقشہ بالکل دوسرا دکھائی دیتا ہے،
- اور اسرائیلی حکمرانوں کے عزائم پر مشتمل ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کا جو نقشہ ریکارڈ پر موجود ہے، وہ ان سب سے مختلف ہے۔
- اس کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کا یہ اعلان کئی بار سامنے آ چکا ہے کہ وہ فلسطین کی مجوزہ ریاست کو صرف اس شرط پر تسلیم کریں گے کہ اس کی سرحدات کا تعین نہیں ہوگا اور اس کی الگ فوج نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ اسرائیل پورے فلسطین پر حکمرانی کے حق کا اعلان کر رہا ہے اور فلسطینیوں کو سرحدات کے تعین کے ساتھ کوئی چھوٹی سی برائے نام ریاست دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔
- اس کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل آپ کو بیت المقدس کے بارے میں بھی اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو اسرائیل کو بیت المقدس سے دستبرداری پر آمادہ کر لیں اور یا خود ’’یو ٹرن‘‘ لے کر بیت المقدس سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیں۔
یہ تینوں رکاوٹیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے، پریکٹیکل ہیں، عملی ہیں اور معروضی ہیں، ان کا کوئی باوقار اور قابل عمل حل نکال لیں اور بے شک اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر اسی طرح تسلیم کر لیں جس طرح ہم بہت سے مسیحی ممالک کو تسلیم کرتے آ رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے بات عملی مسائل پر ہونی چاہیے اور معروضی حقائق پر ہونی چاہیے، نظری اور علمی مباحث میں الجھا کر اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے۔
اسلامسٹ کیسے اسلام کو منہدم کر رہے ہیں؟
مصطفٰی اکیول
ترجمہ: عاصم رضا
نوٹ: ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے بارہ جون ، 2020ء کو اپنی ویب گاہ سے نوجوان ترک لکھاری اور صحافی(جرنلسٹ) مصطفیٰ اکیول کا ایک انگریزی مضمون شائع کیا ، جس کا عنوان How Islamist are ruining Islam? ہے ۔ زیرِ نظر ترجمہ اس سے پہلے جائزہ نامی ویب گاہ(Jaeza.pk) پر شائع ہو چکا ہے۔
’’جب مذہب ابدی حقائق کی ارفع اقلیم کو ترک کر دیتا ہے، اور نیچے اتر کے دنیاوی جھمیلوں میں دخل اندازی شروع کر دیتا ہے، تو وہ اپنی اوردنیا و مافیہا کی ہر شے کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے‘‘ (عثمانی سیاست دان ، مصطفیٰ فاضل پاشا ، 1867) ۔
دس اپریل ، 2018ء کو قومی قانون ساز مجلس (پارلیمنٹ) سے اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران ترکی کے طاقت ور صدر طیب اردگان اور ان کے وزیر تعلیم عصمت یلماز کے مابین ایک مختصر گفتگو ہوئی ،جس کے کچھ ٹکڑے نادانستگی میں ٹیلی ویژن پر نشر ہو گئے حالانکہ مائیکروفون کو بند رکھنے کا اہتمام تھا [1]۔
یہ ایک دلچسپ منظر تھا ۔ اپنے خطاب کے درمیان میں ، اردگان نے وزیر یلماز کو منصۂ سٹیج (پوڈیم ) پر بلایا ، اور’’الحادی الہیت (Deism) پر رپورٹ‘‘کے بارے میں دریافت کیا ، جس کا ذکر اُن کے کلیدی سیاسی اتحادی دولت باغچہ لی (Devlet Bahceli) نے کچھ گھنٹے قبل ہی اپنی ایک تقریر میں کیا تھا ۔ جب وزیر صاحب نے ، بصد احترام، اپنے صدر کو اس رپورٹ کےنتائج کی بابت آگاہی دینے کی کوشش کی ، تو اردگان کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ، ’’نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا‘‘۔
مذکورہ رپورٹ کو چند ہفتے قبل ہی ترکی کی وزارتِ تعلیم کی ایک مقامی شاخ نے تیار کیا تھا، اور اس نے اردگان حکومت کو ’’ نوجوان نسل کے درمیان تیزی سے پھیلتی ہوئی الحادی الہیت‘‘کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔ سرکاری جانکاری (رپورٹ) کے مطابق حکومت کی زیرِ نگرانی چلنے والے مذہبی سکولوں کے اندر بھی الحادی الہٰیت کا کھوج ملا، یہاں تک کہ (دینی تعلیم دینے والے) امام خطیب (Imam Hatip) نامی مکاتیب کے اندر بھی، جہاں اردگان کے دورِ حکومت میں حکومتی ترغیبات اور سرکاری بھرتیوں کے طفیل داخلوں کی تعداد آسمان کو چھو چکی ہے، طلباء کی ایک کثیر تعداد اسلام پر ایمان کھو رہی تھی۔ رپورٹ کے نتیجے کے مطابق، ’’مکمل الحاد کو اختیار کرنے کی بجائے، (ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے) نوجوانوں کی کثیر تعداد الحادی الہیت کا انتخاب کر رہی ہے‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ ایک نئی ’’پاک باز/نیکوکار نسل‘‘ کی آبیاری کے واسطے ،اردگان حکومت کی جان توڑ کاوشوں کے باوجود ترکی کے نوجوانوں کا ایک قابل ذکر حصہ اسلامی عقیدے سے دور ہٹتے ہوئےایک غیر معین و غیر واضح خدا (vaguely defined God) پر یقین کرنے کا انتخاب کر رہا ہے ۔
حالیہ برسوں کے اندر اس سماجی رجحان کا مشاہدہ بہت سے دوسرے ترکوں کو بھی ہوا ہے، اور اس وقت یہ معاملہ ترک قوم کے ہاں زبان زد عام بن چکا ہے۔ ’’ہماری نوجوان نسل الحادی الہٰیت کی جانب کیونکر مائل ہو رہی ہے؟‘‘ ، اس سوال کے حوالے سے (ترکی کے) پرنٹ میڈیا میں سینکڑوں مضامین لکھے جا چکے ہیں اور ٹیلی ویژن پر درجنوں مکالماتی نشستیں منعقد ہو چکی ہیں۔ اپریل 2018ء میں ڈائریکٹر مذہبی امور ،علی ایرباش (Ali Erbas ) نے پہلے پہل تو الحادی الہٰیاتی عقیدے کے فروغ کی بابت منظر عام پر آنے والی رپورٹوں کی مکمل تردید کی نیز اس امکان کو یکسر جھٹلایا کہ ’’ہماری قوم کا کوئی فرد (الحادی الہٰیت) ایسے گمراہ کن تصور میں دلچسپی لے سکتا ہے‘‘ [2]۔ تاہم پانچ ہی مہینوں کے بعد ایرباش کے محکمے نے الحادی الہٰیت(deism) کے خلاف ’’اعلانِ جنگ‘‘ کر دیا [3]۔
ترک قوم میں الحادی الہٰیت کی وبا: اب ہی کیوں؟
اس ’’الحادی الہٰیت کی وبا‘‘ ، جیسا کہ ترکی کے قدامت پرست مذہبی حلقے اس کو منسوب کرتے ہیں، کے پس پردہ قوت کیا ہے؟ [4] اردگان کے بعض حمایتی پنڈتوں نے اس سوال کا جواب اسی شے میں کھوجا ہے جو ان کے اندازِ جہاں بینی (worldview) کی بنیاد بن چکی ہے: مغربی سازش۔ مثال کے طور پر دنیائے صحافت (میڈیا) کے معروف مسلمان مبلغ نہاد ہاتی پوغلو (Nihat Hatipoglu) کے نزدیک، ’’سامراج ‘‘ نے جلیل القدر ترک قوم کو الحادی الہٰیت کا ٹیکہ لگایا، بالخصوص ایسے وقت میں ترکی کو کمزور کرنے کے واسطے جب وہ آخرکار دوبارہ سے شاہراہِ عظمت پر گامزن ہے نیز اپنی اسلامی بنیادوں کی جانب پلٹ رہا ہے۔ اعلیٰ سطح کے سرکاری مذہبی رہنما ،علی ایرباش کے نزدیک، نوجوان ترک نسل کے الحادی الہٰیت کی جانب مائل ہونے کے پیچھے حقیقی قوت، مغربی ’’مبلغین ‘‘ ہیں، جو مفروضہ طور پر اس جتن میں ہیں کہ نوجوانوں کو’’اسلام سے دور کرنے کی غرض سے‘‘ الحادی الہٰیت کی جانب متوجہ کیا جائے اور پھر بعد ازاں ان کو مسیحی بنا لیا جائے [5]۔
تاہم دوسرے ترکوں کے نزدیک الحادی الہٰیت سے متعلق تمام تر بحث ایک بہت بڑی سازش کی بجائے اعلیٰ درجے کی ستم ظریفی پر مبنی ہے: ترک قوم، جو اپنی ’’ننانوے فیصد مسلم آبادی‘‘ پر اکثر و بیشتر فخر کا اظہار کرتی ہے، اس کے اندر ایک ایسے وقت میں اسلام سے بے نظیر دوری وقوع پذیر ہو رہی ہے جب اسلام کے علمبردار یعنی اسلامیت پسند (اسلامسٹ)، بشمول صدر طیب اردگان اور برسراقتدار جسٹس و ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) میں اردگان کے وفادار حضرات، ماضی کے مقابلے میں سیاسی اعتبار سے نسبتاً بہت زیادہ طاقت ور ہیں۔
درحقیقت، کوئی اس طرح سے استدلال کر سکتا ہے کہ یہ ایک ستم ظریفی نہیں ہے بلکہ ایک قابل فہم سلسلہ علت و معلول ہے: اسلامسٹوں (اسلامیت پسندوں) کے اقتدار میں ہونے کی بدولت ہی اسلام سے دوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چونکہ جسٹس و ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) کا اقتدار، یقینی طور پر استبدادی، بدعنوان اور ظالم ثابت ہو چکا ہے، چنانچہ بعض ایسے لوگ جو اس پارٹی کی طاقت اور ایجنڈے سے خار کھاتے ہیں، وہ اسلام سے بھی دوری اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ترکی میں بہت سے لوگ یہی دلیل دے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں میں سے ایک تمل قاراملّا اوغلو (Temel Karamollaoglue) صاحب ہیں جو حزبِ سعادت (Felicity Party) کے رہنما ہیں۔ جسٹس اور ڈویلپمنٹ پارٹی کی مانند اس پارٹی کی جڑیں بھی اسلام ازم (اسلامیت) میں پیوست ہیں، تاہم اس نے اردگان حکومت کے خلاف مرکزی سیکولر حزب اختلاف (اپوزیشن جماعت) کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا ہے۔ قاراملّا اوغلو (Karamollaoglue) نے جون 2019ء میں کہا، ’’مذہب کی نمائندگی کے دعویداروں کی بدولت ترکی میں خوف و آمریت کا راج ہے۔ اور اسی وجہ سے لوگ اسلام سے دور بھاگ رہے ہیں‘‘ [6]۔ (قاراملّا اوغلو صاحب کی چھوٹی سی پارٹی مذہبی قدامت پرستوں کی ایک ایسی اقلیت، جس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، نمائندگی کرتی ہے جو اردگان حکومت سے تنگ ہے۔ ایسے ترک رائے دہندگان (ووٹرز) کے سامنے دو نئی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جن کے مرکزی رہنما جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) کے سابقہ اہم رہنما ہیں جنھوں نے اپنی راہوں کو اردگان سے جدا کر لیا ہے: سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو(Ahmet Davutogle) کی رہنمائی میں ’’فیوچر پارٹی‘‘، اور سابقہ ماہر معاشیات (czar) علی بابا جان (Ali Babacan) کی زیرِ قیادت میں ’’تحریک نجات‘‘ (Remedy Party))۔
امریکہ میں رہائش پذیر ترک ماہر سماجیات مجاہد بیلیجی (Muchait Bilici) ایک دوسرے نقاد ہیں جو ایک باعمل مسلمان ہیں اور الحادی الہٰیت کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کو ’’ ترکی اسلام ازم(اسلامیت) میں مذہبیت کے بحران‘‘ کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں[7]۔ ان کے نزدیک، مصطفیٰ کمال کے سیکولر نظام کو آخرکار شکست سے دوچار کرنے کے بعد، ’’ترکی مذہبیت نے آزادی کے ساتھ سانس لینے کا آغاز کیا ہے‘‘۔ تاہم، اس کے نتیجے میں ’’ترکی مذہبیت کو آزمائش کی ایک بھٹی سے گزرنا پڑا ہے۔ یہ مذہبیت سیاسی اعتبار سے کامیابی سے ہمکنار ہونے کے باوجود روحانی اعتبار سے ناکام ٹھہری ہے‘‘ ۔ مزید یہ کہ، الحادی الہٰیت کا ظہور اس ڈرامائی ناکامی کا ایک نتیجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
’’اس بات پر زور دینا چاہیے کہ اس عمل (پروسث) کا تعلق کمالی سیکولرازم (laïcité) یعنی جدید ترکی کےبانی سیاست دان مصطفیٰ کمال اتاترک کی ریاستی سیادت کے تحت کارفرما سیکولرائزیشن منصوبے کے ساتھ بہت ہی کم ہے۔ اس کے برخلاف، یہ ایک نامیاتی سیکولرائزیشن ہے جو کلیتاً پرامن ہے اور ریاستی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ سرکاری پولیسیوں کے باوجود رونما ہو رہا ہے۔ یہ ایک مقامی اور ترک روشن خیالی کا نتیجہ ہے نیز مابعد اسلامسٹ (اسلامیت پسند ) جذبے کا ثمر ہے۔ اپنے والدین کے مذہبی دعووں، جنھیں وہ ریاکارانہ یا منافقانہ سمجھتے ہیں، سے مایوس ہو کر نوجوان نسل انفرادی روحانیت اور روایت کے ایک خاموش انکار کا انتخاب کر رہی ہے‘‘۔
تہران : مشرق وسطیٰ میں سب سے کم مذہبی دارالحکومت
پچھلی دہائی میں جو کچھ ترکی میں ہوا ہے، وہ اس سے بدرجہا کم ہے جو پچھلی چار دہائیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران میں ہو چکا ہے۔ وہاں بھی معاشرے کے نسبتاً زیادہ بلند آہنگ اسلامی طبقے، جسے سیکولر حکومت کے تحت لگ بھگ ایک صدی تک دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا تھا، نے ایک انقلابی ولولے کے ساتھ دوبارہ سے اقتدار حاصل کر لیا۔ ایران میں 1979ء سے شروع ہونے والا اسلامی انقلاب زیادہ واضح، ایکاایکی اور خونی اوصاف سے متصف تھا۔ اس کے برعکس، ترکی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) کی حکومت میں زور پکڑنے والا انقلاب نسبتاً ملائم، بتدریج، جمہوری اور قدرے پرامن تھا۔ تاہم اس کے باوجود دونوں ملکوں کے حوالے سے یہ کہنا بجا ہے کہ اسلام ایک انتقامی جذبے کے تحت سیاسی قوت کی صورت میں سامنے آیا، لیکن اس سے صرف غیرمتوقع نتائج برآمد ہوئے۔
یہی وجہ ہے کیونکہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کو اپنے اصل مقصد یعنی ایرانی معاشرے کی دوبارہ سے اسلام کی جانب واپسی (re-islamize) کی بجائے، کم از کم جزواً ہی سہی تاہم اس کے الٹ، یعنی ایران کی اسلام سے دوری، کے حوالے سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تہران جانے والے غیر ملکی روز مرہ زندگی میں اکثروبیشتر ان نتائج کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ نکولس پیلم (Nicholas Pelham) ایسے ہی ایک سیاح ہیں جو ’’دی اکانومسٹ‘‘ اخبار کے مشرق وسطیٰ میں نمائندے کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ ان کو سال 2019ء کے موسم گرما میں ایرانی انٹیلی جنس نے ہفتوں تک حراست میں رکھا اور پھر رہائی کے بعد ہی وہ درج ذیل مشاہدات کو رپورٹ کرنے کے قابل ہوئے :
’’ایران کی مذہبی شہرت کے باوجود تہران شاید مشرق وسطیٰ کا وہ دارالحکومت ہے جو سب سے کم مذہبی ہے۔ اخبار مذہبی رہنماؤں کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جو قسط وار ڈراموں (soap operas) میں معاشرے کے بڑوں کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن میں نے ان کو اشتہاری بل بورڈوں کے علاوہ گلیوں محلوں میں کبھی نہیں دیکھا۔ بہت سے دوسرے مسلمان ملکوں کے برخلاف، تہران میں اذان کی صدا تقریباً سنائی ہی نہیں دیتی۔ نئی مساجد کی تعمیر کے واسطے ایک بھرپور مہم برپا ہے، تاہم جمعہ کے روز نماز جمعہ ادا کرنے کی بجائے لوگوں کی اکثریت آرٹ گیلریز کو جاتی ہے۔۔ شراب ممنوع ہے تاہم پیزا(Pizza)کے مقابلے میں گھر پہ شراب زیادہ جلدی پہنچائی جاتی ہے‘‘۔۔۔۔۔
’’ اپنے گھروں کی محفوظ چاردیواری کے اندر خواتین اکثر و بیشتر اپنے سر کو ڈھکنے والے حجابات کو اتار دیتی ہیں جب وہ انٹرنیٹ پر گفتگو (چیٹ) کرتی ہیں۔ تاریک سینما ہال، اخلاقی نظم و ضبط کا نفاذ کرنے والی پولیس کی نگاہ سے بچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ چائے خانوں (Cafe) میں خواتین بےاطمینانی کے سبب اپنے سکارفوں کو کھول دیتی ہیں۔ قدرے زیادہ شوخ و بیباک خواتین دس برس کی قید کا خطرہ مول لے کر گلیوں میں بے حجاب نکلتی ہیں ۔ ۔۔ ایران خود کو ایک ملائی حکومت قرار دیتا ہے، اس کے باوجود مذہبیت کو تلاش کرنا پریشان کن حد تک مشکل معلوم ہوتا ہے نیز حقیقی مذہبی پیروکار کسی اقلیت کی مانند حاشیے تک محدود دکھائی دیتے ہیں‘‘ [8]۔
عمل صالح سے ہمہ گیر دُوری، اسلام کی تشکیلِ نو (re-Islamization)کی بابت ایرانی انقلاب کے ولولے کی ناکامی کی صرف ایک جہت ہے۔ اسلام سےکھلم کھلا انحراف نسبتاً زیادہ سنگین جہت ہے یعنی ایک انتہائی ناگوار فعل جس سے روکنے کے واسطے اسلامی جمہوریہ ایران سزائے موت کے نفاذ کی خواہاں ہے۔ جیسا کہ میں نے کسی دوسری جگہ لکھا کہ ایران مسلم اکثریت کا حامل ملک ہے جو مرتدین کی تعداد کے اعتبار سے سرفہرست ہے[9]۔ ان سابقہ مسلمانوں کی اکثریت مسیحیت اختیار کرتی ہے جس کی بدولت ایرانی کلیسا، دنیا کا سب سے تیزی سے پھلنے پھولنے والا چرچ ہے[10]۔ ایک مطالعہ کے مطابق، 1960ء سے لیکر 2010ء تک کے درمیانی عرصے میں دائرہ اسلام سے نکل کر مسیحیت اختیار کرنے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے[11]۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق یہ تعداد ڈھائی سے لے کر پانچ لاکھ لوگوں کے لگ بھگ ہے[12]۔ مذہب بدلنے والوں میں سے بعض خفیہ طریقے سے اپنے نئے عقیدے پر عمل کرتے ہیں؛ اور بعض اپنی جانوں کو بچانے کے واسطے بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں ۔
علاوہ ازیں ، کچھ ایرانی مرتدین مسیحیت اختیار نہیں کرتے، بلکہ اس کی بجائے کھلم کھلا ’’ ملحد‘‘ بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں سے ایک اعظم کمگویان (Azam Kamguian) نامی خاتون ہے جو تاثینی حوالے سے سرگرم ہے اور بمشکل ہی ایرانی انقلاب کے ہاتھوں سے محفوظ رہی، بیرون ملک منتقل ہو گئی، اور کئی کتابیں بشمول ’’لادینیت، مذہب سے چھٹکارا اور انسانی مسرت‘‘ (Godlessness, Freedom from Religion & Human Happiness) تحریر کیں[13]۔ ایک دوسری کتاب میں، مذکورہ خاتون نے نہایت پرجوش انداز میں اس بارے میں لکھا کہ 1979ء کے بعد ایران میں ’’اسلام نے تین متواتر نسلوں کی زندگیوں، خوابوں، امیدوں اور امنگوں کو کیسے تباہ کر ڈالا‘‘ [14]۔ یقیناً، ان تمام عوامل کے پس پردہ قوت، اسلام بذات خود نہیں تھا بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران تھی۔ تاہم بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ مابعد انقلاب کے ایران میں ان دونوں کو باہم گڈمڈ کر دینا آسان ہے ۔
عرب دنیا میں لادینیت کی ایک موج
عرب دنیا سے متعلق بھی جان لیجیے۔ یقیناً یہ ایک بڑا اور متنوع منظرنامہ ہے، جو مختلف سیاسی تواریخ اور نظاموں (سسٹمز) کے علاوہ جدا جدا فرقوں، نسلوں یا قبائل کے حامل بائیس آزاد ممالک پر مشتمل ہے۔ تاہم، عرب دنیا میں لادینیت کی ایک نئی لہر کے آثار کا مشاہدہ ممکن ہے ۔
پرنسٹن اور مشی گن کی دانشگاہوں میں واقع عرب بیرومیٹر (Arab Barometer) نامی ایک تحقیقی نیٹ ورک نے حال ہی میں اس قسم کے چند آثار کو نشان زد کیا ہے۔ چھ عرب ممالک (الجیریا، مصر، تیونس، اردن، عراق اور لیبیا) میں ہونے والی رائے شماری میں اس تحقیقی نیٹ ورک کے محققین نے اس بات کو دریافت کیا کہ ’’عرب مذہبی جماعتوں اور رہنماؤں کے حوالے سے بدظن ہو رہے ہیں‘‘[15]۔ چنانچہ پانچ برس کے عرصہ میں اسلامی جماعتوں پر اعتبار نہ کرنے والے عراقیوں کی تعداد اکیاون (51) سے بڑھ کر اٹھہتر (78) فیصد تک پہنچ گئی تھی، اور متذکرہ بالا ممالک میں ’’ اسلامی جماعتوں پر اعتبار‘‘ کا تناسب 2013ء میں پینتیس (35) فیصد تھا جو 2018ء میں گھٹ کر بیس (20) فیصد رہ گیا۔ مسجد میں جانے والوں کی تعداد میں بھی اوسطاً دس فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، نیز 2013ء میں اپنے آپ کو ’’غیر مذہبی‘‘ کہنے والے عربوں کی تعداد آٹھ (8) فیصد تھی جو 2018ء میں تیرہ (13 فیصد) ہو گئی۔
ایسا کیونکر ہو رہا ہے؟ ایک جواب یہ ہے کہ حال ہی میں عرب دنیا کے اندر اسلام کے نام پر بہت زیادہ خطرناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں شام، عراق اور یمن میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی خانہ جنگیاں شامل ہیں، جہاں متحارب گروہوں نے اکثر و بیشتر انتہائی ظالمانہ انداز میں خدا کے نام پر جنگ میں حصہ لیا ہے۔ ان جنگوں سے متاثر ہونے والے لاکھوں مقامی اور دور بیٹھ کر ان حالات کا مشاہدہ کرنے والے، دونوں ہی مذہبی سیاست کے ہاتھوں شدید صدمے اور مایوسی کے تجربے سے گزرے ہیں، نیز چند ایک نے عمیق سوالات کو اٹھانا شروع کر دیا۔
سخت سوالات پوچھنے اور ان کے نتیجے میں مذہب سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں میں سے ایک، بغداد کا رہائشی باون (52) برس کا عمر رسیدہ ابو سمیع نامی شخص ہے، جس نے ایک ’’ڈھکے چھپے عراقی ملحد‘‘ کی حیثیت سے اپریل 2019ء میں امریکہ کے خبر رساں ادارے قومی نشریاتی کمپنی (NBC News) سے بات چیت کی[16]۔ رپورٹ کے مطابق، اس نے کہا کہ ’’ ہم سنتے تھے کہ اسلام امن کا دین ہے، تاہم داعش (ISIS) نے عفریتوں اور وحشیوں بلکہ ان سے بھی بدتر سلوک کیا‘‘ ۔ اور اسی نکتے کے سہارے ابوسمیع نے ایک بڑا موقف اختیار کیا،’’ کیا اسلام ایک امن پسند مذہب ہے؟ بالکل نہیں، اور میں ایسے مذہب کا حصہ بن کر نہیں رہنا چاہتا‘‘ ۔
ایک دوسرا عراقی شہری، اسلامسٹ (اسلامیت پسند) دانشور اور محقق، غالب الشابندر (Ghalib al-Shahbandar) بھی اس صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اس بابت پریشانی کا شکار ہے۔ وہ تنبیہ کرتا ہے کہ ’’ اسلامی جماعتوں کی الٹی حرکتوں کی بدولت لادینیت کی ایک لہر عراق میں پھیل جائے گی‘‘[17]۔(نیز)’’ یہی وہ حرکتیں ہیں جس نے لوگوں کو اسلام و دیگر مذاہب کو ترک کرنے پہ مجبور کر دیا ہے‘‘ ۔
داعش اور اس کے ذیلی گروہوں کی بربریت کے علاوہ، بشار الاسد حکومت کے جبر کے نتیجے میں، کٹے پھٹے ہمسایہ ملک شام میں بھی ایسا ہی رجحان موجود ہے: ’’ شامی نوجوانوں کے ہاں ارتداد میں اضافہ‘‘[18]۔ تشدد اور انتشار کی اس صورتحال کے بیچوں بیچ، مصری لکھاری شام العلی (Sham al-Ali) لکھتا ہے کہ ’’ مذہب (اسلام) پر ہونے والی تنقید پہلے سے زیادہ زور پکڑ چکی ہے، اور بہت سے شامی نوجوان بالخصوص یورپ کے باسی، اپنے قدیم مذہبی طرزِ حیات کو ترک کر رہے ہیں‘‘ ۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ’’ اجتماعی سطح پر بھی عرب سوشل میڈیا مذہب مخالف نقادوں اور ان کے (مذہب دشمن) مواد سے لبالب ہے، جو اس بات کی پرجوش دعوت دیتا ہے کہ مذہبی اساطیر کی حیثیت کو ازسرنو طے کیا جائے ، یا پھر وہ مذہبیت کا خوب ٹھٹھا اڑاتا ہے‘‘[19]۔
سوڈان بھی اسلام ازم (اسلامیت)کے ایک ہولناک تجربے سے گزرا ہے۔ مسلم اکثریت کی حامل افریقی قوم نے 1989ء تا 2019ء کا عرصہ، فوجی صدر عمر البشیر کی آمرانہ حکومت کے تحت گزارا ہے۔ 2019ء کے اوئل میں ہونے والے عوامی احتجاجوں یا ’’ سوڈانی انقلاب‘‘ کے نتیجے میں البشیر کا اقتدار ختم ہوا، اور اس کی حیران کن بدعنوانی بھی آشکار ہوئی: سیکورٹی فورسز نے تین سو پچاس (350) ملین ڈالر (پینتس کروڑ ڈالر) کی نقدی صرف اس کی رہائش گاہ سے برآمد کی۔ یہ ایک عوامی سبق تھا کہ ’’ ایک شخص جس نے اپنے غربت زدہ ابتدائی حالات کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ عوامی جذبات کو بھڑکایا تھا‘‘ ، وہ صرف ’’ عوام کی نسلوں کی تباہی کے واسطے اپنے لالچ اور ہوس‘‘ کو چھپا رہا تھا[20]۔ اور عوام نے واقعی یہ سبق سیکھ لیا۔ قطر ی نژاد ایک ممتاز مسلم عالم، عبدالوہاب الآفندی کے بقول، مابعد انقلاب دور کے سوڈان میں ’’ اسلام ازم (اسلامیت) بدعنوانی، منافقت، ظلم اور بدعقیدگی کا نشان بن گیا۔ معروف معنوں میں سودان ہی وہ پہلا ملک ہے جو حقیقی معنوں میں اسلامسٹ (اسلامیت پسندوں کا)مخالف ہے‘‘[21]۔
تاہم حقیقی معنوں میں اسلام ازم (اسلامیت) کیا ہے؟
اس موقع پر یہ نشان دہی کر دینا شاید کارآمد ثابت ہو کہ ہم یہاں دو باہم منسلک مگرامتیازی رجحانات کے متعلق بات کر رہے ہیں۔ ترکی، ایران، سودان اور کسی بھی دوسرے ملک میں اسلام ازم(اسلامیت) بیزاری، عین ممکن ہے کہ خود اسلام بیزاری کی جانب لے جائے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بیزاری، لادینیت یا الحادی الہٰیت یا پھر مسیحیت کی جانب لے چلے۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ مذکورہ امر کے سبب انسان نسبتاً کم سیاسی عقیدے کی آرزو کرنے لگ پڑے۔ مؤخر الذکر سبب یقیناً تمام ’’ مابعد اسلامسٹ‘‘ پس منظروں میں موجود ہے، اور ہو سکتا ہے کہ آخر میں مذکورہ رجحان (نسبتاً کم سیاسی عقیدے کی آرزو) مکمل ترکِ اسلام کے مقابلے میں زیادہ زور پکڑ لے ۔
تاہم اسلام ازم(اسلامیت) کو سنی یا شیعہ اسلام کے مرکزی دھارے سے جدا کرنا سہل نہیں ہے۔ اسلامسٹ(اسلامیت پسند) جماعتیں مثلاً مصر میں اخوان المسلمین، شاید مذہب کو سیاست سے مزید آلودہ کر رہی ہوں نیز دہشت گرد گروہ اس آلودگی میں اندھا دھند تشدد جیسے گمراہ کن عنصر کا اضافہ کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سبھی لوگ (اسلامیت پسند جماعتیں اور دہشت گرد گروہ) اسلام کی فقہی روایت یعنی نفاذِ شریعت کے علمبردار بن رہے ہیں۔ وہ شریعت جس کی مرکزی تعبیرات ایسے احکامات پر مبنی ہیں جن کی قبولیت جدید زاویہ نگاہ کے لیے دشوار ہے۔ مثلاً مرتدین اور توہین رسالت کے مجرموں کے لیے سزائے موت، زانی کے لیے سزائے رجم، چوروں کے ہاتھ کاٹنا، کئی گناہوں پر سرعام کوڑے مارنا، خواتین پر لباس کے ضابطوں کی پابندی، عورتوں پر مردوں کی حاکمیت، غیرمسلموں پر مسلمانوں کی برتری، اور مجموعی طور پر ایک ایسے تنگ نظر (closed) معاشرے کا کلی تصور جو نہ صرف مذہب پر استوار ہے بلکہ مذہب اس پہ نگہبان (policed)ہے۔
شامی نژاد عوامی دانشور محمد شحرور (متوفی 2019ء) نے، جن کے اسلام سے متعلق اصلاح پسند تصورات کو عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر موضوع بحث بنایا گیا ہے، اس نکتے پر زور دیا ہے: کہ مسئلہ صرف اسلامسٹوں (اسلامیت پسندوں) کی جانب سے نہیں ہے جو شاید نفاذ شریعت کے واسطے مخصوصی سیاسی لائحہ عمل کے حامل ہیں، بلکہ مرکزی دھارے کے ان روایتی اہل علم یعنی علماء کی جانب سے بھی ہے جو شریعت کی قدیم تعبیرات کے علمبردار ہیں۔ اپنی ایک تحریر میں مسلمانوں کو ’’ تنقیدی استدلال‘‘ (critical reasoning) کی دعوت دیتے ہوئے شحرور نے لکھا:
’’ ابتداء میں ہم سمجھے کہ اسلام ازم(اسلامیت) کو علماء کے ہاں موجود ٹھوس علمی روایت سے انحراف کی حیثیت سے بیان کیا جائے گا، اور ہمیں علماء سے توقع تھی کہ وہ اسلامسٹوں (اسلامیت پسندوں) نیز سیاسی اسلام اور ساری دنیا کو مسلمان کرنے سے متعلق ان کے جارحانہ جذبات کی تردید کریں گے۔ ہمیں اس وقت بہت حیرت ہوئی جب ہم نے ذی وقار علماء کی جانب سے کسی قسم کے تردیدی بیان کی بجائے ایسی قانونی تشریحات سنیں جو بنیادی طور پر اسلامسٹوں (اسلامیت پسندوں)کے من گھڑت دعووں سے اغماض برتتی تھیں۔ ہم نے تب جانا کہ درحقیقت ارتداد، جہاد اور جنگ و جدل سے متعلق علماء کی تعبیرات اسلامسٹوں کی آرا سے زیادہ مختلف نہ تھیں‘‘ [22]۔
اس پس منظر میں، معاصر زمانے میں اسلام بیزاری صرف اسلامسٹوں (خواہ اخوان المسلمین جیسی سیاسی تحریکوں کی صورت میں متعین ہو، یا پھر انتہائی رخ پر دہشت گردوں کی صورت میں سامنے آئے)کی بدولت ہی نہیں ہے، بلکہ قدامت پسند سنی، سلفی، یا شیعی علماء کے کارن بھی ہے، جو حریت، مساوات، اور انسانی حقوق جیسے جدید تصورات کے مخالف مذہبی نقطہ ہائے نظر کے حامی ہیں۔
مثال کے طور پر سعودی عرب کی مثال لے لیجیے جس نے حال ہی میں اخوان المسلمین جیسے اسلامسٹوں کی غضب ناک طریقے سے مخالفت کی ہے، تاہم اپنے ہاں شریعت کی سخت ترین قسم کو نافذ بھی کر رکھا ہے۔ سعودی حکمران ’’لادینی افکار سے متعلق کسی بھی قسم کی تبلیغ، یا مذہب اسلام کے بنیادی ارکان پر سوال اٹھانے‘‘ کو دہشت گردی کے برابر جرم قرار دیتے ہیں[23]۔ تاہم جیسا کہ حاکم خطیب (Hakim Khatib) جیسے صحافی کے مشاہدے میں آیا، ’’ سعودی بادشاہت کے بہت سے شہری اسلام سے منہ موڑ رہے ہیں‘‘ اور ان میں سے بعض “Saudis without religion.” نامی ویب گاہ پر اپنے خیالات وضاحت سے لکھ رہے ہیں[24]۔ اس کی ایک وجہ ان پر نافذ کردہ اسلام کی سخت تعبیر کا جبر ہے اور دوسری وجہ اس امکان پر مبنی ہےکہ ایک متبادل دنیا کا ذائقہ چکھا جائے۔ بقول خطیب،
’’دیگر اشیاء کے علاوہ، غالباً جو شے سعودی باشندوں کو ان کے مذہب سے دور لے جا رہی ہے، وہ سعودی عرب میں نافذ کردہ سخت گیر اور غیر انسانی اسلامی قانون نیز معلومات اور بڑے پیمانے پر ترسیل معلومات تک آسان رسائی ہے‘‘ [25]۔
عقیدے سے دوری کے اصل تناسب کا اندازہ لگانا دشوار ہے کیونکہ اس حوالے سے کوئی (باقاعدہ) سروے نہیں ہے نیز بیشتر لوگ اس موضوع پر بات کرنے میں محتاط ہیں۔ تاہم یہ معاملہ نہ صرف سعودی عرب میں بلکہ دیگر ہمسایہ بادشاہتوں میں ایک نہایت سنجیدہ مسئلے کی صورت اختیار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جسے میڈیا بھی اٹھا رہا ہے کہ ’’ ہمارے خلیج فارس کے معاشروں کی نوجوان نسل میں لادینیت کو قبول کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے‘‘[26]۔
(لادینی فکر کی ترویج میں) انٹرنیٹ اور بالخصوص سوشل میڈیا ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ اکثر و بیشتر اس جانب اشارہ کیا جاتا ہے، تاہم محض ایک برآمد شدہ ’’ملحدانہ خیال" کے علمبردار کی حیثیت سے نہیں جیسا کہ قدامت پسندوں کا عمومی ایقان ہے، بلکہ ایک آزاد مقام کی حیثیت سے، جہاں لوگ (مذہب سے متعلق) اپنے داخلی اضطراب کو بیان کر سکتے ہیں اور ان میں ایک دوسرے کو شریک کر سکتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ حمید الدین نے 2019ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب (Tweeted Heresies: Saudi Islam in Transformation) میں اس بات کو اجاگر کیا[27]۔ نوجوان نسل کے ہاں عقیدے سے محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے، حمید الدین اپنے ذاتی تجربے کے ذریعے دکھاتے ہیں کہ ایسا صرف ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کی بنا پر نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کی ایک وجہ ’’ روایتی مذہبی علماء کی جانب سے دیے جانے والے گھڑے گھڑائے جوابات پر شک اور اضطراب‘‘ بھی ہے[28]۔
ایسی ہی کہانیاں مراکش سے سننے کو ملتی ہیں جہاں سیاست اور قوانین قدرے نرم ہیں لیکن روایتی اسلام اور جدید اقدار کے مابین کشمکش ہنوز برقرار ہے۔ اس کشمکش کی بدولت ترکِ اسلام کرنے والوں میں سے ایک سابقہ مسلمان محمد نامی شخص ہے جس نے ایک مغربی استاد کے ساتھ بات چیت کی۔ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس کے مسلمان ساتھیوں کی خود راستی (self-righteousness) اس کے لادین ہونے کی وجہ بنی:
’’اس کے ترکِ دین کا بنیادی محرک اہل اسلام کے ہاں اس حقیقت کا مشاہدہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ’’ ایک حتمی صداقت کے واحد مالک‘‘ سمجھتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ’’ صرف اور صرف مسلمان ہی جنت میں داخلے کے مستحق ہیں‘‘ ۔ ’’ تو باقی دنیا کا کیا بنے گا؟‘‘ محمد نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ نیز یہ بھی کہ ’’ میرے ایک ہم جماعت کی ماں یہودی تھی۔ میں اس اچھی خاتون کے دوزخ میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘ ۔ بعینہ، وہ محمد رسول اللہ (ﷺ) کی ایسی احادیث سے تکدرمحسوس کرتا تھا جو ’’ عورتوں، غیرمسلموں، جنگوں وغیرہ کےحوالے سے ہرگز اخلاقیات پر مبنی محسوس نہ ہوتی تھیں‘‘[29]۔
دیگر مراکشی ملحدین اپنے ترکِ اسلام کی بابت ایسی ہی ملتی جلتی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ نامی ایک سابقہ مسلمان کے نزدیک، اسکے ترکِ دین کی کلیدی وجہ اس کے رابطے میں آنے والے مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے ہاں ہم جنس پرستوں (gays) سے نفرت تھی۔ اس کا سوال تھا کہ ’’ اگر خدا نے ہی ہم جنس پرستوں کو پیدا فرمایا ہے تو پھر وہ ان کے گناہوں کے سبب ان کو کیونکر پھٹکار سکتا ہے؟‘‘[30]۔ ایک دوسرے سابقہ مسلمان کے نزدیک،’’ صنفی امتیاز جیسے اخلاقی مسائل کی بدولت جنم لینے والا تذبذب‘‘ ہی اس کے ترکِ دین کی حتمی وجہ ثابت ہوا [31]۔
یہی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر شمالی افریقہ سے لیکر جنوب مشرقی ایشیاء تک اسلامسٹ (اسلامیت پسند) اور قدامت پسند علماء مسلمانوں کو فرد اور رائے کی آزادی یا صنفی امتیاز جیسی جدید اقدار کے خلاف متنبہ کر رہے ہیں۔ ملائیشیا میں ’’ لبرلزم اور تکثیریت‘‘ کے خلاف مساجد میں خطبے دیئے گئے، جب کہ اس کے سابق وزیراعظم نے ’’ انسانی حقوق پرستی‘‘ کی مذمت کی[32]۔ سعودی عرب میں، وزارت تعلیم کے تحت سرکاری سکولوں میں ایک پروگرام رواں دواں ہے جو ’’ لبرلزم‘‘ ، ’’سیکولرازم‘‘ ، اور ’’ مغربیت‘‘ کے خلاف ’’ مدافعت‘‘ (immunity) پیدا کرتا ہے[33]۔ اور ترکی میں، اردگان کے حامی دانشور ’’ لبرل جمہوریت بحران کا شکار ہے‘‘ کی دہائی دے رہے ہیں [34]۔
بحران کا شکار اسلام
محولہ بالا تمام تر واقعات، مشاہدات، رپورتاژ اور اعداو و شمار ایک وسیع تر داستان، کہ عظیم اسلامی تہذیب ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہے، کے محض چند اجزا ہیں۔ شاید یہ بات چند مغربی افراد کے کانوں کو ایک اونچی بڑھک سنائی دے، تاہم درحقیقت اس بحران کو بیشتر معاصر مسلمان بشمول اسلامسٹ اور قدامت پسند، جن پر محولہ بالا سطور میں تنقید ہوئی ہے، ایک منصفانہ بات تسلیم کریں گے۔ وہ لوگ مجھ سے صرف بحران کی نوعیت کے ضمن میں اختلاف کریں گے۔
بیشتر لوگوں بالخصوص اسلامسٹوں کے نزدیک، مذکورہ بحران دراصل سیاسی ہے کیونکہ (بیسویں صدی کے اوائل میں) سقوط خلافت کے زمانے سے اہل اسلام کے ہاں مضبوط ریاستوں یا رہنماؤں کا وجود نہیں ملتا۔ وہ رہنما جو ان کے داخلی مناقشات کو ختم کرنے، بیرونی دشمنوں (بالعموم مغرب اور اسرائیل) کو شکست دینے اور دنیاوی کامیابی کے حصول کی خاطر ان کو متحد اور متحرک کرنے کے قابل ہوں۔ مسلمان معاشرے، استعمار کے تنخواہ دار گماشتوں یا (مِلی و قومی) غداروں (ففتھ کالمز) کے ہاتھوں گنجلگ ’’غیر اسلامی‘‘ تصورات کی دلدل میں دھنس رہے ہیں، اور ہنوز ’’خوابِ خرگوش‘‘ میں مگن ہیں۔ اسلامسٹوں کی عمومی رائے کے مطابق، بیداری کی خاطر مسلمانوں کو ایک ہراول تحریک (جس سے ان کی مراد عموماً وہ خود ہوتے ہیں)، یا پھر ایک ’’نئے صلاح الدین ایوبی‘‘ (جس سے ان کی مراد عموماً اسلامسٹوں کا کرشماتی رہنما ہوتا ہے)، کی حاجت ہے جو اسلامی اتحاد کو ازسرنو بحال کرے گا اوروہی ہماری قدیمی شان و شوکت کو پھر سے زندہ کرے گا۔
قدامت پسند مذکورہ استدلال کے جوہر سے متفق ہوں گے لیکن وہ عام طور سے اس بات کا اضافہ کریں گے کہ حالیہ بحران کی بنیاد میں ایک اخلاقی بحران بھی ہے کہ ایک اعتبار سے ہم مسلمان راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ قدامت پسندوں کا استدلال ہے کہ ابتدائی زمانے کے مسلمانوں کے برخلاف، ہم جدید عہد کے مسلمانوں کو اخروی کی بجائے دنیاوی نفع اور مسرتوں کی لت لگ چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہم رحمتِ خداوندی اور اپنے دین کی روحانی قوت کو کھو بیٹھے ہیں ۔
بالفاظِ دگر، اسلامسٹ اور قدامت پسند، دونوں کا استدلال ہے کہ ہمارے پاس موجود نظریہ، یعنی اسلامی روایت، تو کامل ہے اور ہم صرف اس پر عمل کرنے کے باب میں ناقص ہیں۔ اور (اس کامل روایت پر عمل پیرا ہونے کی) ہر ناکام کاوش کے بعد وہ لوگ بڑی آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ لیکن یہ حقیقی اسلام نہیں ہے‘‘، اس امید کے ساتھ کہ اگلی کوشش کامیاب ٹھہرے گی۔ تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے ہاں بنیادی نظریے کے ساتھ ہی مسئلہ اور نقص ہے۔ اور خاص کر اس سطح پر کہ جہاں اسلامسٹ اور قدامت پسند دونوں ہی اسلامی روایت کو بے عیب سمجھتے ہیں: یعنی اقدار۔
میری مراد یہ ہے۔ چند صدیاں قبل، دنیا میں بمشکل ہی کوئی شخص اسلامی تہذیب کو اس کی اقدار کے پیش نظر تنقید کا نشانہ بنا سکتا تھا۔ کیونکہ دنیا کے دیگر حصوں بشمول یورپ کے پاس دینے کو کچھ بہتر نمونہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، جب کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تیس سالہ جنگ (1618ء تا 1648ء) کے دوران ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے تھے، تو کثیر المذہبی عثمانی سلطنت برداشت اور رواداری کا روشن مینار دکھائی دیتی تھی۔ بعینہ، جب پندرھویں صدی عیسوی میں کیتھولک سپین میں یہودیوں پر مقدمے چلائے جا رہے تھے، ان میں سے بیشتر امن اور آزادی کی تلاش میں اسلامی تہذیب کی جانب روانہ ہوئے۔
تاہم لبرل جدیدیت کے ظہور کے ساتھ دنیا ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو چکی ہے، لازمی طور پر بہتری کی جانب اور کم از کم اپنی اقدار کے ضمن میں۔ ’’انسانی حقوق‘‘ انسانیت کے ایک عظٰم الشان حصے کے ہاں تسلیم کردہ ایک ’’ عالمی‘‘ قدر بن چکی ہے (خواہ ان کے ناقابلِ احتساب حکمرانوں کے ہاں ایسا نہ ہو)۔ چنانچہ یہ امر ایک بدیہی صداقت بن چکا ہے کہ کسی شخص کو بھی مذہب پر ایمان لانے کی خاطر مجبور نہیں کرنا چاہیے، اور تمام افراد کو اپنی مرضی کے عین مطابق زندگی بسر کرنے کا اہل ہونا چاہیے تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ بعینہ، قانون کی نگاہ میں رنگ، نسل اور جنس کی تفریق کے بغیر برابری نے انصاف اور شعور کے ایک نئے معنی کو جنم دیا ہے۔
عصرِ جدید سے بہت پہلے ظاہر ہونے والے تمام تر روایتی مذاہب کو (عصر جدید کے ساتھ) مطابقت درکار تھی اور بیشتر نے ایسا کر لیا۔ پروٹسٹنٹ نے ’’ بدعتیوں‘‘ (heretics) اور ’’ جادوگرنیوں‘‘ کو آگ میں جلا کر یا کسی دوسرے مہلک ذریعے سے ہلاک کرنے کو ترک کر دیا۔ کیتھولک نے، جن کی تاریخ صلیبی جنگوں اور مذہبی تفتیش (Inquisition) جیسے سنگین واقعات پر مشتمل ہے، بیسویں صدی تک سیاسی سیکولرازم یا مذہبی آزادی جیسے جدید تصورات کی مزاحمت کی۔ تاہم 1960ء کی دوسری ویٹیکن کونسل اور اس کے ’’ عظمتِ انسان‘‘ (Dignitatis Humanae) نامی لبرل اعلامیے کے ذریعے کلیسا نے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا۔ یہودیت، جو کسی گروہ کے قانونی مقاطعے کے قابل کسی قسم کی سیاسی سیادت سے محروم تھی، مگر اس کے باوجود گتھی ہوئی معاشریت (communitarianism) کی حامل تھی، (اٹھارویں صدی کی تحریک برائے اصلاحِ مذہب یعنی) ’’ دانش‘‘ (Haskalah) یا یہودی روشن خیالی کے دور سے گزری جس نے یہودیوں کو جدید معاشرے میں جذب ہونے، حتی کہ کچھ معاشروں کی بنیاد رکھنے میں آسانی فراہم کی۔
تاہم اسلام کے ضمن میں ابھی تک ہم نے کوئی بڑا لبرل قدم نہیں اٹھایا۔ مسلم اکثریت کے حامل بیشتر ممالک میں مذہب کے مرکزی رہنماؤں کے ہاں ابھی تک ماقبل جدید دور کا اندازِ جہاں بینی اور اصولِ فقہ و قانون (jurisprudence) موجود ہے، جس کا جدید اقدار کے ساتھ تناؤ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ’’ اسلام امن کا مذہب ہے‘‘، یہ بات ناقابلِ یقین ہے جب اس کے ساتھ یہ بھی کہا جائے کہ ’’ مرتدینِ اسلام واجب القتل ہیں‘‘۔ بعینہ، اس بات پر اصرار کرنا بے معنی ہے کہ ’’ اسلام خواتین کو بہت عزت بخشتا ہے‘‘ جب کہ ہمارے پاس ایسے مستند متون موجود ہوں کہ بیوی کو مارنے کے مناسب انداز کون سے ہیں۔
مستقبل کا راستہ : اسلامی جدیدیت
چنانچہ، عظیم الشان اسلامی تہذیب کو درپیش یہ بہت بڑا بحران، دو گروہوں کی باہمی کشمکش سے پھوٹتا ہے۔ پہلے وہ مسلمان جو اس ماقبل جدید دور کے اندازِ جہاں بینی اور اصولِ فقہ و قانون کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں (اور زیادہ بڑا المیہ یہ کہ اس کو سبھی پر نافذ کرنا چاہتے ہیں)، اور دوسرے وہ مسلمان جنھوں نے جدید لبرل اقدار کو تسلیم کر لیا ہے۔ موخر الذکر میں سے بعض لوگ بالخصوص جو مغربی ممالک میں مقیم ہیں نیز اسلامسٹوں (اسلامیت پسندوں) اور قدامت پسندوں دونوں کے دباؤ سے آزاد ہیں، عین ممکن ہے کہ اس مسئلے سے نظریں چرا پائیں، تاہم ان کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ روایتی تعلیمات کو قدرے باریک بینی کے ساتھ دیکھیں۔ نوٹرے ڈیم کی دانشگاہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ابراہیم موسی بیان کرتے ہیں کہ ’’معاصر عہد کے وہ مسلمان جو دینی تعلیمات سے آگاہ ہیں‘‘ ، کیسے شدید حیرت کا شکار ہو سکتے ہیں:
’’جب غور و خوض کرنے والے ایسے جدید مسلمان مساجد کے خطبات سنتے اور وہاں دی جانے والی تعلیمات کو دیکھتے ہیں یا علماء کے جاری کردہ فتاویٰ پڑھتے ہیں، وہ اکثرو بیشتر چکرا کر رہ جاتے اور غم و غصہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تاہم جو وہ سنتے ہیں، وہی سنیت (Sunnism) کا حقیقی موقف ہے‘‘[35]۔
ابراہیم موسیٰ بذات خود ’’اسلامی جدیدیت‘‘ یا ’’اسلامی ترقی پسندی‘‘ (Islamic Progressivism) کے ایک سوچنے سمجھنے والے حمایتی ہیں۔ ’’اسلامی جدیدیت‘‘ اسلام کے بنیادی ماخذوں یعنی قرآن مجید، اور سنت (فعلِ پیغمبرﷺ) کے ازسرنو مطالعہ کی ایک کاوش ہے جو بنیادی ماخذوں کو ان کے تاریخی پس منظر میں رکھتے ہوئے جدید تناظر میں ان کی غیر جامد/اجتہادی (non-literal) تعبیر نو سے عبارت ہے۔ مذکورہ رجحان نوجوان عثمانیوں (Young Ottomans) جیسے سیاسی مصلحین اور محمد عبدۂ جیسے مصری یا ہندوستانی سرسید احمد خان جیسے مذہبی مصلحین کی بدولت انیسویں صدی میں ظاہر ہوا، وہ مصلحین جنھوں نے بقول کرسٹوفر ڈی بیلاگ (Christopher de Bellaigue) ’’اسلامی روشن خیالی‘‘ (Islamic Enlightenment) کی دانشوارانہ بنیادیں استوار کیں[36]۔ بیسویں صدی میں سیکولر اور اسلامسٹ قوتوں کے مابین مسلسل تصادم کی بدولت اسلامی جدیدیت کا دائرہ سکڑ گیا (اور بعض اوقات اسلامی جدیدیت کو ان طاقتور فریقین نے اختیار کیا)، تاہم اس نقطہ نگاہ کو فضل الرحمن ملک جیسے دانشوروں نے مزید کھول کر بیان کیا، جنھوں نے تعبیرِ قرآن مجید کے واسطے ایک جدید علم التفسیر اور سنت رسول (ﷺ) کے ایک تنقیدی تجزیاتی مطالعہ کو پیش کیا[37]۔
اسلامی جدیدیت (تاریخی اعتبار سے) عیسائیت اور یہودیت سے مماثلت کی حامل ہےکہ اس نے بھی لبرل جدیدیت کو اختیار کرتے ہوئے یکساں رویہ اختیار کیا، یعنی حاصلاتِ عقل کی تحسین کرتے ہوئے اپنی مذہبی جڑوں سے وفاداری۔ ڈینیل فلپوٹ (Daniel Philpott) اپنی کتاب ’’اسلام میں مذہبی آزادی‘‘ (Religious Freedom in Islam) (مطبوعہ 2019) میں اس مماثلت کو بیان کرتے ہیں کہ ’’ عظمتِ انسان‘‘ (Dignitatis Humanae) کی جانب کیتھولک عیسائیت کا اختیار کردہ راستہ کیسے اسلام کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ وہ اپنے ہاں قرآن و سنت سے استناد حاصل کرنے والے ’’ تخمِ حریت و روشن خیالی‘‘ کی آبیاری کرے[38]۔
ایسے مسائل سے نبردآزما ایک مسلمان کی حیثیت سے میں بذات خود اس یقین کا حامل ہوں کہ مذکورہ یعنی اسلامی جدیدیت کا راستہ ہی امت مسلمہ کے مستقبل کے واسطے محفوظ ترین راستہ ہے۔ مذکورہ راستہ اسلام کی بنیادوں کے ساتھ وفادار رہنے کا راستہ ہے، نہ صرف معاصر انسانی شعور میں پیوست جدید اقدار کو قبول کرتے ہوئے بلکہ اپنے (مذہبی) عقائد کے ساتھ ان کو ہم آہنگ کرتے ہوئے۔ یہ اینگلو سیکسن معاشروں سے مماثل راستہ ہے، وہ معاشرے جہاں مذہب، حریت اور جدید ترقی، جانی دشمنوں کی بجائے اکثر و بیشتر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دکھائی دیتے ہیں[39]۔
تاہم اگر اسلامی جدیدیت کو حاشیے پر ہی رکھا جاتا ہے، تو امت مسلمہ ان دونوں انتہائوں کے مابین بٹی رہے گی: (ایک جانب) قدامت پسند اور اسلامسٹ (اسلامیت پسند) جو ماضی کے عہد کو محفوظ اور یہاں تک کہ ازسرنو تازہ کرنا چاہتے ہیں اور (دوسری جانب) جدید ذہن کے حامل مسلمان جو ’’ الحادی الہٰیت‘‘ (deism)، لادینیت اور مختلف انواع کے جنگی سیکولرازم کی جانب پہلے سے زیادہ مائل ہوں گے۔ یہ فرانس کے تجربے سے مشابہ ہے جہاں مذہب اور حریتِ فکر باہمی متصادم قوتوں کی حیثیت سے ابھرے جس نے معاشرے کو شدید سماجی جنگوں کی جانب دھکیل دیا۔
اس وقت تک اسلامی تہذیب میں (فرانس سے مشابہ) تھوڑے بہت واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ تاہم سخت ترین تصادم، چاہے خونی نہ بھی ہو، عین ممکن ہے کہ سماجی جنگوں کی شکل میں رونما ہو بالخصوص اگر قدامت پسند اور اسلامسٹ اپنے غیر لبرل، عدم برداشت پر مبنی اور نظریاتی بالادستی کے حامل طریقہ ہائے کار پر ڈٹے رہے۔ قدامت پسندوں کے ہاں روایت کے ساتھ غیر متبدل وابستگی اور اسلامسٹوں کے ہاں روایت کے نفاذ کی خاطر ہونے والی جارحانہ کوششوں نے پہلے ہی معاشروں کو مفلوج اور بہت سے لوگوں کو تباہ کر ڈالا ہے۔ عین ممکن ہے کہ مزید تباہی آئے تاوقتیکہ قدامت پسند اور اسلامسٹ اپنے نقطہ نگاہ کو نہیں بدلتے۔
کتابیات
1. “Deizm Admonition from Erdogan to Minister Yilmaz,” Sozcu, April 10, 2018, https://www.sozcu.com.tr/2018/gundem/erdogan-konusuyor-155-2341574/.
2. “Statement on Deism by Director of Religious Affairs Erbas,” Hurriyet, April 12, 2018, https://www.hurriyet.com.tr/gundem/diyanet-isleri-baskani-erbastan-deizm-aciklamasi-40803317.
3. “The Directorate Declared War on Deism,” Hurriyet, Sep 22, 2018, https://www.hurriyet.com.tr/gundem/diyanet-deizme-savas-acti-40964168.
4. Mustafa Acar, “The Deism Plague,” Istiklal, Sep 7, 2019, https://www.istiklal.com.tr/kose-yazisi/deizm-salgini/38218.
5. “Deism is a Trap of the Missionaries,” Diyanet Haber, Nov 1, 2018, https://www.diyanethaber.com.tr/gundem/prof-dr-ali-erbas-deizm-misyonerlerin-bir-tuzagidir-h2163.html.
6. “Karamollaoglu: Deism is Rising Due to the Government,” Gazete Duvar, July 23, 2019, https://www.gazeteduvar.com.tr/politika/2019/07/23/karamollaoglu-deizmin-yukselme-nedeni-iktidar/.
7. Mucahit Bilici, “The Crisis of Religiosity in Turkish Islamism,” Middle East Report, vol. 288, Fall 2018, pp. 43-45, https://www.academia.edu/37968958/The_Crisis_of_Religiosity_in_Turkish_Islamism.
8. Nicholas Pelham, “Trapped in Iran,” The Economist 1843, Feb/March 2020,https://www.1843magazine.com/features/trapped-in-iran.
9. Mustafa Akyol, “How Islamism Drives Muslims to Convert,” The New York Times, March 25, 2018, https://www.nytimes.com/2018/03/25/opinion/islam-conversion.html.
10. “Iran has world’s ‘fastest-growing church,’ despite no buildings - and it's mostly led by women,” Fox News, Sep 27, 2019, https://www.foxnews.com/faith-values/worlds-fastest-growing-church-women-documentary-film.
11. Duane Alexander Miller, “Believers in Christ from a Muslim Background: A Global Census,” Interdisciplinary Journal of Research on Religion, Volume 11, Article 10, 2015,https://www.academia.edu/16338087/Believers_in_Christ_from_a_Muslim_Background_A_Global_Census.
12. “Iran: Christian Converts and House Churches (1) – Prevalence And Conditions For Religious Practice,” Landinfo, Nov 27, 2017, https://landinfo.no/wp-content/uploads/2018/04/Iran-Christian-converts-and-house-churches-1-prevalence-and-conditions-for-religious-practice.pdf.
13. https://centerforinquiry.org/blog/authors/azam-kamguian/.
14. Azam Kamguian, “Leaving Islam and Living Islam,” in Leaving Islam: Apostates Speak Out (ed. Ibn Warraq), Prometheus Books, 2009, p. 217, https://www.amazon.com/Leaving-Islam-Apostates-Speak-Out/dp/1591020689.
15. “Arabs are Losing Faith in Religious Parties and Leaders”, The Economist, December 5, 2019 https://www.arabbarometer.org/2019/12/arabs-are-losing-faith-in-religious-parties-and-leaders/.
16. “Iraq's atheists go underground as Sunni, Shiite hard-liners dominate,” NBC News, Apr 5, 2019, https://www.nbcnews.com/news/world/iraq-s-atheists-go-underground-sunni-shiite-hard-liners-dominate-n983076.
17. Ibid., https://www.nbcnews.com/news/world/iraq-s-atheists-go-underground-sunni-shiite-hard-liners-dominate-n983076.
18. Sham al-Ali, “On Rising Apostasy Among Syrian Youths,” Al-Jumhuriya, August 22, 2017, https://www.aljumhuriya.net/en/al-jumhuriya-fellowship/on-rising-apostasy.
19. Ibid.
20. Olumide Oyekunle, “Over $350m Cash Found In Omar Al-Bashir's Apartment,” April 20th, 2019, https://www.africanexponent.com/post/10082-millions-of-dollars-found-in-al-bashirs-house.
21. Abdelwahab El-Affendi, “Sudan protests: How did we get here?” Al Jazeera.com, Dec 28, 2018, https://www.aljazeera.com/indepth/opinion/sudan-protests-181227154036544.html.
22. Andreas Christmann, The Qur'an, Morality and Critical Reason: The Essential Muhammad Shahrur, BRILL, 2000, p. 329.
23. “Saudi Arabia: New Terrorism Regulations Assault Rights,” Human Rights Watch, March 20, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/03/20/saudi-arabia-new-terrorism-regulations-assault-rights.
24. Hakim Khatib, “Atheism in Saudi Arabia: God's own country,” Qantara.de, July 3, 2017,https://en.qantara.de/content/atheism-in-saudi-arabia-gods-own-country.
25. Ibid.
26. “Is Gulf youth increasingly drawn to atheism?,” The National, August 19, 2012, https://www.thenational.ae/is-gulf-youth-increasingly-drawn-to-atheism-1.360041.
27. Abdullah Hamidaddin, Tweeted Heresies: Saudi Islam in Transformation, Oxford University Press, 2019.
28. From the book review by Madawi Al-Rasheed, “‘Being Young, Male and Saudi’ by Mark Thompson and ‘Tweeted Heresies’ by Abdullah Hamidaddin,” https://blogs.lse.ac.uk/mec/2020/03/02/book-review-being-young-male-and-saudi-by-mark-thompson-and-tweeted-heresies-by-abdullah-hamidaddin/.
29. Alessandro Balduzzi, “Atheism in the Arab-Islamic world (with a focus on Morocco),” Master Thesis submitted to Naples Eastern University, 2016, pp. 126-127,https://www.academia.edu/32873876/_Atheism_in_the_Arab Islamic_world_with_a_focus_on_Morocco_.
30. Ibid. p. 34.
31. Ibid. p. 145
32. “Liberal thinking is deviant teaching, says Malaysia's Islamic authority,” Malay Mail, Oct 24, 2014. https://www.malaymail.com/news/malaysia/2014/10/24/liberal-thinking-is-deviant-teaching-says-malaysias-islamic-authority/769625.
33. Hakim Khatib, “Atheism in Saudi Arabia: God's own country,” Qantara.de, July 3, 2017, https://en.qantara.de/content/atheism-in-saudi-arabia-gods-own-country.
34. See, Ali Aslan “The Crisis of Liberal Democracy,” Seta.org, Nov 20, 2016.
35. Ebrahim Moosa, “The Sunni Orthodoxy,” Critical Muslim, Vol. 10, August 2014, p. 30.
36. Christopher de Bellaigue, The Islamic Enlightenment: The Struggle Between Faith and Reason: 1798 to Modern Times, Liveright Publishing, 2017.
37. See: Safet Bektovic, “Towards a neo-modernist Islam: Fazlur Rahman and the rethinking of Islamic tradition and modernity,” Studia Theologica - Nordic Journal of Theology, 70:2, 2016, 160-178.
38. Daniel Philpott, Religious Freedom in Islam: The Fate of a Universal Human Right in the Muslim World Today, Oxford University Press, March 1, 2019. https://www.amazon.com/Religious-Freedom-Islam-Universal-Muslim/dp/0190908181.
39. See: Walter Russel Mead, “Faith and Progress,” The American Interest, Vol 3, Number 1, 2007. https://www.the-american-interest.com/2007/09/01/faith-progress/.
تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ:ایک جائزہ
ڈاکٹر محمد شہباز منج
تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ کے عنوان سے پنجاب اسمبلی نے گذشتہ دنوں جو ایکٹ منظور کیا ہے، اس کی خبر اور اس کی بعض دفعات کے مندرجات کا تذکرہ پڑھنےسے میرا پہلا تاثر یہ بناتھا کہ یہ ایکٹ جہالت کا بد ترین نمونہ ہے، تاہم میں اس کے متن کو دیکھ کر اس پر کوئی تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا۔ اب متن دستیاب ہوا ہے، تو اس کو پڑھ کرمیرا تاثر یہ ہے کہ یہ صرف جہالت نہیں، بلکہ تکبر، ظلم اور فریب کا بھی مرکب ہے۔ آیئے ذرا اس کا مطالعہ کر کےدیکھیے:
مذہبی حلقوں میں اس ایکٹ کے حوالے سے جس مسئلے پرنفیاً یا اثباتاً زیادہ بحث ہو رہی ہے، وہ ایکٹ کے سیکشن 3 کی شق ایف اور سیکشن 8 کی شقوں 5تا 11 میں بیان ہواہے۔جاہلوں یا فریب دینے والوں کی طرف سے باور کرایا جا رہا ہے کہ اس ایکٹ میں تو بس دینِ اسلام ،حضور نبی اکرمﷺ ،آپ کی ازواج مطہرات اور اولاد، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اہلِ بیت رضی اللہ عنہم،قرآن ، صحفِ سماویہ وغیرہ مقدسات کا احترام یقینی بنایا گیا ہے۔ اور یہ ایسا تاریخی اقدام ہے، جس پر پنجاب اسمبلی ، اس کے سپیکر جناب پرویز الہی ، اراکینِ اسمبلی اور وزیر اعظم پاکستان کو اسلام کے بہت بڑے محافظ ہونے کا سرٹیفیکیٹ ملنا چاہیے۔ (جی ہاں یہ مبالغہ نہیں ہے، اس پر حکمرانوں کے قصیدہ خواں متعدد علما اور اسلام کے بہت سے نادان دوستوں کے ایسے تاثرات ریکارڈ پر موجود ہیں۔)
اگرچہ ان شقوں کا متن بھی اپنی جگہ جہالت یا فریب سے مملو ہے (جیسا کہ اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے)، لیکن ایک طبقے کے مذہبی سادہ لوح اس وجہ سے اس پر شادیانے بجا رہے ہیں کہ حضورﷺ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین اور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابی کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ وغیرہ لکھا جایا کرے گا، اور دوسرے طبقے کے سادہ لوح اس پر نالاں ہیں کہ وہ بعض شخصیات کے ساتھ علیہ السلام نہیں لکھ سکیں گے۔ حالانکہ یہ دونوں انتہائی محدود اور فرقہ وارانہ سوچ سے بات کر رہے ہیں، فی الاصل مسئلہ اس سے زیادہ گہرا ہے، اور دونوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ محولہ شقوں میں جو قرار دیا گیا ہے کہ حضورﷺ کے نام کےشروع میں خاتم النبیین اور آخر میں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہر صحابی کے نام کے بعد رضی اللہ عنہ اورہر نبی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جائے گا، اس سے بعض شیعہ دوست یہ سمجھے کہ اہلِ بیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام لکھنے سے ہمیں روکا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی سادہ لوحی اس لیے ہے کہ آپ کے موقف سے مترشح ہوتا ہے کہ ان شخصیات کے ساتھ علیہ السلام لکھنے کی اجازت دے دی جائے، تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ حالانکہ اس کی اجازت سے بھی اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟اس ایکٹ کا سب سے قابلِ اعتراض بلکہ گھناؤنا پہلو ڈی جی پبلک ریلیشنزیا حکومت کے کسی بھی مجاز افسر کے کتابوں اور ان کے مواد سے متعلق آمرانہ اختیارات ہیں۔ ایکٹ کے اکثر سیکشن حکومتی افسران کے لا محدود اختیارات کے ذریعے کتابوں اور بالخصوص مذہبی کتب کی اشاعت و ترسیل کا گھلا گھونٹ رہے ہیں۔ کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ جس قوم میں کتاب کا پہلے ہی حال یہ ہے کہ پبلشر کسی کتاب کو چھاپنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچتا ہے کہ اس کا خرچ بھی پورا ہو گا یا نہیں، وہاں بیوروکریسی کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی کتاب کے کسی بھی لفظ پر اعتراض کر کے کتاب کی اشاعت یا اسے عوام تک پہنچانے کے اختیارات سلب کر سکتی ہے۔ یہ ایکٹ منظور ہو کر عمل میں آ جاتا ہے، تو کتابوں کا کلچر جو پہلے ہی آخری سانسیں لے رہا ہے اس کا جنازہ پڑھ لیجیے گا۔
سیکشن 7 کی شق 1 کی ذیلی شقوں(اے، بی اور سی) میں قرار دیا گیا ہے کہ ڈی جی پبلک ریلیشنز کو اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی بک ہاوس پر کسی بھی کتاب کو قابلِ اعتراض پا کر وہاں سے اٹھوا سکے گا۔ یہ تحقیق بھی اس کے اختیار میں ہوگی کہ کسی کتاب میں کوئی ایسا مواد تو نہیں پایا جاتا، جس میں ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے! اس سیکشن کی شق 2 ڈی جی صاحب کو اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنے مذکورہ اختیارات میں سے کوئی بھی اختیار کسی بھی مجاز افسر کے سپرد کر سکتے ہیں۔(یعنی ڈی جی صاحب کا با اختیار بنایا ہوا کوئی مجاز افسر بھی وہی کارروائی کر سکے گا ،جو ڈی جی صاحب کا اختیار ہے۔) اس ایکٹ کے سیکشن 4 کی شق 2 کے مطابق مجاز افسر پبلشر سے کتابوں سے متعلق جو تفصیل بھی پوچھنا چاہے، وہ دینے کا پابند ہوگا۔اسی سیکشن کی شق 3 کے مطابق ہر پبلشر پنجاب کے باہر سے آنے والی کتابوں سے متعلق مطلوبہ تفصیل مجاز افسر کو پندرہ دن کے اندر اندر دینے کا پابند ہوگا۔ ایکٹ کے سیکشن 5 کی رو سے جس دن کتاب چھپے اسی دن پبلشر کو اس کی چار کا پیاں اُن افسروں کو اُس جگہ مفت فراہم کرنی ہوں گی ، جن کے لیے جس مقام پر گورنمنٹ کی مرضی ہو۔ ایکٹ کے سیکشن 8 کی شق 1کے مطابق کوئی کتاب ڈی جی صاحب کی اجازت کے بغیر پرنٹ کی جا سکتی ہے اور نہ درآمد کی جا سکتی ہے۔اس سیکشن کی شق 2 کے مطابق کسی بھی کتاب کو چھاپنے کے لیے طے کردہ طریقے کے مطابق درخواست دینی ہوگی ،اور اس کی طے کردہ فیس جمع کرانی ہوگی۔
شق 3 کہتی ہے کہ ڈی جی صاحب ہر اس کتاب کی اشاعت روک سکتے ہیں، جس کو وہ قومی مفاد،کلچر اور مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی وغیرہ کے خلاف خیال کریں۔ایکٹ کے سیکشن 9کی شق 1 کے رو سے کوئی بک سیلر یا پبلشر کوئی کتاب مجاز افسر کی طے کردہ طریقے کے مطابق منظوری کے بغیر فروخت نہیں کر سکے گا۔اسی سیکشن کی شق 2 کے مطابق کوئی ایسی کتاب فروخت نہیں ہو سکے گی، جس میں زیرِ نظر ایکٹ کی کسی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔سیکشن 10 کے مطابق پنجاب کی حدود میں شائع ہونی والی ہر کتاب کے لیے مجاز افسر کی طرف سے طے شدہ طریقے کے مطابق یونیک نمبر حاصل کرنا ہوگا۔ سیکشن 11قرار دیتا ہے کہ سیکشن3 (جو قابل اعتراض مواد پر پابندی عائد کرتا ہے، سوائے اس کی شق ایف کے) کی خلاف ورزی پر پانچ سال سزا اور پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا۔یہ سیکشن وضاحت کرتا ہے کہ سیکشن3 کی شق ایف (جو مقدس شخصیات کے القاب وغیرہ سے بحث کرتی ہے)سے متعلق جرم پر پاکستان پینل کوڈ 1860ء کے مطابق سزا ہوگی۔سیکشن 12 کہتا ہے کہ اگر پبلشر سیکشن 5 کے مطابق کتابیں مجاز افسر تک پہنچانے میں ناکام رہا، تو اس کو اس سے متعلق ہر غلطی پرکم زکم دس ہزار جرمانہ بھرنا ہوگا، مزید برآں ان کاپیوں کی قیمت جو عدالت طے کرے گی ، اس کے مطابق رقم حکومت کے خزانے میں جمع کرانی ہوگی۔ سیکشن 13 کے مطابق قابلِ ادا رقم گورنمنٹ کے مخصوص اکاؤنٹ میں پندرہ دن کے اندر اندر جمع کرانی ہوگی ۔ اس میں کسی غلطی کی صورت میں یہ رقم لینڈ ریوینیو کے بقایاجات کے ساتھ قابلِ وصول ہو گی۔
بیوروکریسی کے ان اختیارات کی روشنی میں اب ذرا دوبارہ ان شقوں کی طرف آیے جو مذہبی حلقوں میں زیربحث ہیں، یعنی سیکشن 3 کی شق ایف اور سیکشن 8 کی شقیں 5تا 11۔ موخر الذکر شقوں کی رو سے حضورﷺ کے نام سے پہلے خاتم النبیین ، آخری نبی یا دی لاسٹ پرافٹ اور بعد میں عربی ٹیکسٹ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لکھنا ہوگا۔ کسی بھی نبی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھنا ہوگا۔ حضورﷺ کی بیویوں (جن کو مزے کی بات یہ ہے کہ ایکٹ کے متن میں ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین لکھا گیا ہے، جس سے معلوم ہو سکتا کہ اتنے اہم ایکٹ کے الفاظ کی درستی اور پروف ریڈنگ پر کتنی توجہ دی گئی ہے!)کے ناموں سے پہلے امہات المومنین اور بعد میں رضی اللہ عنہا لکھنا ہوگا۔ خلفاے راشدین کے ناموں سے پہلے خلیفۂ راشد یا امیر المومنین اور بعد میں رضی اللہ عنہ لکھنا ہوگا۔ حضورﷺ کے تین صاحبزادوں اور چار صاحبزادیوں کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہا یا رضی اللہ عنہ لکھنا ہوگا۔آپ ﷺ کےا ہلِ بیت اور نواسے نواسیوں کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ یا رضی اللہ عنہا لکھنا ہوگا۔ کسی بھی صحابی کے نام کے بعد رضی اللہ عنہ اور صحابیہ کے نام کے بعد رضی اللہ عنہا لکھنا ہوگا۔سیکشن 3کی شق ایف کی رو سے جو شخص اللہ تعالیٰ، حضورﷺ اور دیگر مذکورہ مقدس شخصیات قرآن، تورات ، زبور، انجیل،دینِ اسلام پر تنقید کرے گا یا ان کو ڈی فیم یا ڈس ریپیوٹ کرے گا، اسے پاکستان پینل کوڈ 1860ء یا کسی اور قانون کی رو سے سزا دی جا سکے گی۔
ناظرینِ کرام نوٹ فرما لیجیے کہ اس اوپر والے پیرے میں جو کچھ لکھا گیا ہے ، یہ وہ تمام کا تمام مواد ہے، جس کی بنا پر اس ایکٹ کا نام مبارک " پنجاب تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ 2020ء" رکھا گیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اسلام کی پوری تاریخ میں اسلام کی بنیاد کے تحفظ کی اس سے بہتر کوئی مثال موجود ہے یا نہیں ؟ شاہ کے کسی مصاحب کا ایک اخباری مضمون نظر سے گزرا، جس میں اس ایکٹ کی عبارات کی روشنی میں یہ ثابت فرمانے کی کوشش کی گئی تھی کہ یہ حکومت یا وزیر اعظم کا ریاستِ مدینہ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ اگر کوئی شاہ کا مصاحب ہی سمجھتا ہوتا، تو پھر بھی بات نظر انداز کر دی جاتی ، مگر رونا یہ ہے کہ تمام شاہ صاحبان بھی دھڑلے سے فرما رہے ہیں کہ ہم نے گویا اسلام اور مولویوں پر وہ احسان کیا ہے کہ قیامت تک ان سے اتارا نہ جا سکے گا۔
اس ایکٹ اور اس کا کریڈٹ لینے کے اندازِ شاہانہ سے ہم کو یہ اندازہ تو خوب خوب ہو گیا ہے کہ ہمارے قابلِ احترام شاہوں کا تصورِ ریاستِ مدینہ کتنا واضح اور پختہ ہے! یعنی ان کے نزدیک بس مقدس شخصیات کے ناموں کے ساتھ کچھ القاب لگانے سے ریاستِ مدینہ قائم ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں ان کے لیے انصاف ، دیانت داری اور میرٹ وغیرہ حسنات، جن پر دین کے سارے فلسفے کا مدار ہے، کو یقینی بنانے اور اس ضمن میں سخت قانون سازی کرنے سے زیادہ اہم اس اشو پر قانون سازی کرنا ہے ، جس کا شریعت نے کہیں کوئی حکم نہیں دیا کہ فلاں نام کے ساتھ کتاب میں ہر جگہ فلاں لقب لکھا جائے ۔
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے
حضورﷺ، صحابہ اور اہلِ بیت کا احترام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے ، اس سے ہر مسلمان واقف ہے، لیکن ان کے نام لکھتے ہوئے ہر جگہ مذکورہ القاب لگانا بھی ایمان کا حصہ ہے،یہ وحی پہلی دفعہ پنجاب اسمبلی پر نازل ہوئی ہے۔ ان کی وحی کے مطابق اسلامی تاریخ کی وہ تمام معتبر کتابیں گستاخانہ اور پابندی کے قابل ہیں، جن میں جگہ جگہ ان شخصیات کے نام ان القاب کے بغیر لیے گئے ہیں۔ اسلامی علمی تراث سے ذرا مس رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ان شخصیات کا پنجاب اسمبلی والوں سے ہزاروں گنا بڑھ کر احترام کرنے والے علما، محدثین ، مفسرین، وغیرہ حضرات میں سے کسی نے بھی اس التزام کو ضروری قرار نہیں دیا ،اور نہ خود اس کی پابندی کی۔اس ایکٹ کے ذمے داروں نے اگر کوئی مذہبی کتاب لکھی یا پڑھی ہی ہو تو ان کو معلوم ہو کہ یہ التزام تکلیف مالایطاق ہے۔ پھر معاملہ اگر تکلیف و تکلف تک ہی محدود ہو تو اس پر بھی صبر کیا جا سکتا تھا، لیکن معاملہ شریعت میں ایک ایسے التزام کو ضروری قرار دینے کا ہے، جس کے ضروری ہونے کی کوئی بھی شرعی بنیاد موجود نہیں!
ان جہلا یا فریبیوں کے مطابق مقدس شخصیات کا احترام القاب لگانے میں ہے، حالانکہ کوئی شخص یہ القاب لکھ کر بھی بدترین قسم کا گستاخ اور منکرِ ختمِ نبوت ہو سکتا ہے۔ مثلاً یہ خیال کہ خاتم النبیین لکھنے سے ختمِ نبوت کے منکروں کی حوصلہ شکنی ہوگی، نری جہالت یا دھوکا ہے۔قادیانی تو خود کہتے ہیں کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں،لیکن وہ خاتم النبیین لکھ کر بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہی رہتے ہیں، اس لیے کہ وہ فی ا لواقع خاتم النبیین کی تشریح ایسی کرتے ہیں کہ آپ کے آخری نبی ہونے کا انکار ہو جاتا ہے۔ اگر آپ ان کو روکنے خواہش مند ہیں، تو صرف اس لفظ سے کام نہیں چلے گا ، بلکہ اس سے پہلے یا بعد میں یہ وضاحت بھی کرنی پڑے گی کہ خاتم النبیین اُس مفہوم میں جس میں مسلمان استعمال کرتے ہیں، نہ کہ قادیانیوں کے مفہوم میں ، اور یہ وضاحت کسی کتاب میں ہر جگہ شامل کرنے سے اس کتاب کا جو تماشا بنے گا ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں!قادیانیوں کے بعد متشککین اور ملحدین کی طرف آیے ۔وہ دینِ اسلام اور مقدس شخصیات کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ،لیکن لکھنے میں اپنے مقصود کی حکمت کے تحت ہر جگہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، علیہ السلام اور رضی اللہ عنہ بھی لکھتے رہتے ہیں، بلکہ بہت دفعہ ان کے انداز ِ بیان اور عبارت سے مترشح ہو رہا ہوتا ہے کہ وہ یہ القاب بہ طورِ طنز لکھ رہے ہیں۔ اب جناب آپ کے پاس کون سا پیمانہ ہے یہ جاننے کا کہ فلاں صاحب یہ تمام القاب لکھ کر بھی دین ِاسلام یا مذکورہ مقدس شخصیات کے گستاخ ہیں یا نہیں؟
مجاز افسر کو جو آمرانہ اختیارات دیے گئے ہیں ، ان کے نتائج پر ذرا غور فرمایے۔اس ایکٹ میں کہیں یہ تو نہیں لکھا کہ اہلِ بیت کے ساتھ آپ علیہ السلام نہیں لکھ سکتے ، لیکن اگر مجاز افسر ایکٹ کی عبارت کی تعبیر یہ کرےکہ چونکہ ایکٹ میں صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ اور نبیوں کے لیے علیہ السلام لکھنے کا کہا گیا ہے اور فلاں آدمی نے فلاں صحابی کے لیے علیہ السلام لکھا ہے، لہذا اس کی کتا ب قابلِ اعتراض ہے، اس پر پابندی لگائی جانی چاہیے، تو وہ اس پر پابندی لگانے کا مجاز ہو گا۔اور اگر افسر صاحب یہ تعبیر کریں کہ صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ کا تو کہا گیا ہے ، لیکن ان کے لیے علیہ السلام سے منع نہیں کیا گیا، تو وہ آپ کو کتاب چھاپنے اور فروخت کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ گویا آپ افسر صاحب کی ڈسپوزل پر ہیں، چاہے تو وہ آپ کو کتاب چھاپنے دے چاہے نہ چھاپنے دے۔ مزید برآں ملکی مفاد،کلچر ، اخلاقیات اور مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق مواد پر کتاب ضبط کرنے کے اختیار کو ہمارے کلچر میں کس کس حربے سے افسران ناجائز استعمال نہیں کریں گے، یہ روزِ روش کی طرح عیاں ہے! اس اصول پر آپ مذہب ہی کی نہیں ،کسی بھی موضوع پر کسی بھی کتاب پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ اس کے فلاں الفاظ یا فلاں سطور یا فلاں پیراگراف نظریۂ پاکستان یا قومی مفاد یا کلچر یا اخلاقیات یا مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف ہیں ،لہذا یہ پبلش نہیں ہو سکتی یا فروخت نہیں کی جا سکتی۔
آپ مزید فرما رہے ہیں کہ تورات ، زبور ، انجیل وغیرہ پر تنقید یا ان کو ڈی فیم یا ڈس ریپیوٹ کرنے پر سزا دی جائے گی ۔ اس اصول کی رو سے قرآن بھی کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ثابت کرتا ہے کہ تورات و انجیل وغیرہ مذہبی کتب کو یہودو نصاریٰ نے بدل ڈالا ہے۔ وہ تمام علمی و تحقیقی کتابیں جو اس بارے میں علما نے لکھی ہیں، اور یونی ورسٹیوں کے تحقیقی مقالات ،جن میں ان کتب کی تاریخی حیثیت پر بحث وتنقید کر کے قرآن کی برتری ثابت کی گئی ہے، پابندی کی زد میں آ جاتے ہیں، ۔ وہ تمام تفاسیر بھی اس زد میں آتی ہیں جن میں آیاتِ قرآنی کی تفاسیر کے دوران میں ان کتب پر ناقدانہ بحثیں کی گئی ہیں۔ اس لیے کہ یہ سب چیزیں ان کتابوں کو ڈس ریپیوٹ کرتی ہیں۔ وہ تمام کتابیں جو مسلمانوں نے یہودیوں اور مسیحیوں اور اسلام کے مغربی ناقدین کے اسلام مخالف رویوں کے ناقدانہ جائزے پر لکھی ہیں، وہ سب مذہبی ہم آہنگی کے خلاف قرار دی جا سکیں گی۔ہر وہ کتاب جس میں کسی مسلم ناقد نے کسی مسلم گروہ یا شخص کے عقائد و نظریات پر گرفت کی ہے ، مسلکی ہم آہنگی کے خلاف قرار دی جا سکے گی۔ ہر وہ کتاب جس میں کسی ادارے کی کسی روش پر تنقید کی گئی ہو ملکی مفاد یا نظریۂ پاکستان کے خلاف قرار دی جا سکے گی۔ ہر وہ افسانہ یا ناول بھی جس میں افسر صاحب سمجھیں کہ ان کے تصورِ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی ہے، پابندی کی زد میں آسکے گا۔
خلاصہ یہ کہ مجاز افسرصاحب جس کتاب کی اشاعت روکنا چاہیں گے، اس پر اعتراض کر کے اس کو روک سکیں گے۔ یہ صورت حال مرتے ہوئے کتاب کلچر اور بالخصوص مذہبی کتب کے کلچر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔
یہ ہے وہ ایکٹ جس کے ذریعے اسلام کی بنیاد کا وہ تحفظ فرمانا مقصود ہے، جس کی مثال پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی۔ فریب بالائے فریب اور ظلم بالائے ظلم دیکھیے کہ میڈیا اور مولویوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایکٹ تو صرف صلی اللہ علیہ وسلم ، رضی اللہ عنہ اور علیہ السلام لکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ ابھی جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں ایک نیوز پر یہ خبر چل رہی کہ پنجاب اسمبلی نے یہ ایکٹ پاس کیا ہے ،جس میں حضورﷺ کے لیے خاتم النبیین اور امہات المومنین اور دیگر صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ لکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اب اس کو سننے والا ہر آدمی سمجھے گا کہ یہ بڑا مبارک کام ہے۔ لیکن اس مبارک کام کے حسین نام کے نیچے جو گھناؤنا کاروبار ہے، اس کوچھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
یہاں ضمناً یہ بات بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ پھر کیا واقعی قابلِ اعتراض یا مقدسات کی توہین پر مبنی مواد کی حامل کسی کتاب پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ؟ تو اس کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایسے معاملے سے ڈیل کرنے کے لیے پہلے ہی قوانین موجود ہیں(مثلاً تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295تا 298 وغیرہ)، اور مزے کی بات یہ ہے کہ خود اس ایکٹ میں ، جیسا کہ اوپر گزر،اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ توہین آمیز مواد پر پہلے سے موجود قوانین کے مطابق سزا دی جائے گی۔تو پھر اس ایکٹ کی ضرورت خود اسی ایکٹ کی وضاحت کے مطابق بھی ختم ہو جاتی ہے، اور یوں یہ ایک فضول ایکٹیوٹی قرار پاتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں (بہ طورِ خاص اس حوالے سے کہ کیسے اس ایکٹ کو علما اور اہلِ علم کے درمیان کسی مباحثے اور اسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ سے بھی رائے لیے بغیر جلدی میں منظور کیا گیا ہے )تو یہ شک پیدا ہونا بے جا نہیں کہ یہ مذہبی طبقے کو خوش کرنے کا ایک سٹنٹ ہے اور بس۔
ایکٹ کے مندرجات اور واضح نتائج کا خلاصہ میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیا ۔ آپ دیانت داری سے بتایے اس ایکٹ کو "تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ" کس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے!حق یہ ہے کہ اس ایکٹ کا یہ نام اگر جہالت نہیں ہے ،تو دھوکا ضرور ہے۔ ان مذہبی حلقوں کی سادہ لوحی پر افسوس ہے، جو اس جہالت یا فریب کو اسلام کی خدمت سمجھ رہے ہیں ،اور ان شیعہ حضرات کی سادہ لوحی پر بھی جن کو اس میں صرف یہ مسئلہ نظر آتا ہے کہ آئمۂ اہلِ بیت یا بعض دیگر صحابہ کے لیے علیہ السلام نہیں لکھا جا سکے گا، حالانکہ حقیقتااس کی واضح اجازت مل جانے پر بھی یہ ایکٹ اسی طرح جہالت ، فریب، تکبر اور ظلم کا مرکب رہے گا ، جیسا کہ پہلے ہے۔
کتابوں اور بالخصوص مذہبی کتب سے دل چسپی رکھنے والے ہر شخص کو اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔اور اگر یہ لاگو ہو جاتا ہے، تو اس کو کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔ یہ ایکٹ ہر مصنف اور بہ طور خاص مذہبی مصنفین اور پبلشرز کے اوپر بے لگام فرعون بٹھا دے گا، جن کے ہوتے کوئی مصنف کتاب لکھنے اور کوئی پبلشر اسے چھاپنےکی ہمت نہیں کرے گا۔ ان جاہلوں کا خیال ہے کہ کتابوں کا وطنِ عزیز میں بڑا کاروبار ہے!کوئی ان سے پوچھے آپ نے کتنی مذہبی کتابیں خرید کر پڑھی ہیں؟ یہاں تو کتب کا عالم یہ ہے کہ مصنفین اور پبلشرز پلے سے پیسے لگا کر اور گھاٹا کھا کر کتابوں سے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ کسی تحقیقی و علمی کتاب پر آج کل کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے؟ اس کام سے متعلق ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے! کوئی کتاب چھاپ لیں تو سوچتے رہتے ہیں کہ اس کا آدھا خرچ تو چلیں پلے سے ڈال لیں گے، آدھا خرچ تو نکلے گا یا نہیں؟ اس صورتِ حال کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مصنف کتاب لکھنے اور پبلشرر چھاپنے سے بالکل ہاتھ کھینچ لیں گے۔
واضح رہے کہ مذہبی کتابیں ہی نہیں افسران صاحبان کو جو اختیارات دیے گیے ہیں ،اور جو الفاظ ایکٹ میں استعمال کیے گئے ہیں،ان کی رو سے شاعری، ڈرامہ ، ناول ، ادبی تنقید وغیرہ کسی بھی کتاب پر پابندی عائد کی جا سکے گی، بس اتنا چاہیے کہ مجاز افسر صاحب فرما دیں کہ اس میں ایکٹ کے کسی لفظ یا حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
یہ القاب کو لازمی کرنے کی حرکت کتنی مضحکہ خیز ہے (اس ضمن میں ہمارے ایک مضمون بعنوان "اللہ اور خدا" کا مطالعہ بھی بہت مفید ہوگا، جو ہم نے اسلام کے کچھ اسی قبیل کے نادان دوستوں کے اِس تصور اور اِس سے بحث کرتی ایک کتاب کی تردید میں لکھا تھا کہ اللہ کو خدا نہیں کہا جا سکتا۔) اس کے حوالے سے چند نکات پر غور کیجیے:
یہ القاب مسلمانوں نے بعد کے ادوار میں اپنی اپنی عقیدت اور محبت کے خاص انداز میں لگانا شروع کیے ، ابتدائی کتابوں میں بڑی روانی کے ساتھ مقدس شخصیات کے نام ان سب القاب کے بغیر عام لیے جاتے تھے، اور قدیم کتب میں اب بھی یہ نام ان القاب کے بغیر موجود ہیں۔ کبھی بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا کہ فلاں جگہ چونکہ یہ لقب نہیں لکھا ہوا، لہذا یہ گستاخی ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ القاب اصل میں ہم عجمیوں کا رواج ہیں ،ہم یہ اپنے مخصوص اندازِ عقیدت و محبت میں لگاتے ہیں اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اچھی بات ہے ، لیکن اس کو لازم کرنا شریعت میں ایک ایسے امر کو لازم کرنا ہے، جس کو لازم کرنے کی شریعت میں کوئی گنجایش نہیں۔ دوسرے لفظوں اپنی محبت میں ان القاب کو استعمال کرنا تو مستحسن ہے ، لیکن ان کو شرعا لاز م کہنا غلط بلکہ بدعت ہے۔( اس لیے کہ بدعت دین میں اسی چیز کولازم کرنے کو کہا جا تا ہے،جس کو لازم کرنے کی کوئی شرعی بنیاد موجود نہ ہو۔)
شعر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر حضورﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ ہر جگہ عربی ٹیکسٹ میں صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور شروع میں خاتم النبیین لکھا جائے تو شعر ایک عجیب و غریب شکل اختیار کر لیتا ہے، اس کا وزن بھی خراب ہو جاتا ہے اور جس سپیس میں وہ لکھا جاتا ہے، اس کو اس فونٹ میں لکھنے کی گنجایش ہی نہیں ہوتی۔ چلو آیندہ نسلوں کی زبان و بیان اور ذوقِ شعر وسخن کا آپ نے بیڑا غرق کرنا ہے تو کر لیں ، لیکن علامہ اقبال ، میاں محمد بخش اور دیگر مایہ ناز اردو اور پنجابی شاعروں کے کلام کا کیا کریں گے؟ مثلاً اقبال کا مصرعہ : کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں۔۔۔، آپ کو کلیات ِ اقبال میں یوں لکھنا ہوگا: کی خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں۔ ۔۔اگر کلیاتِ اقبال کو یہ لکھے بغیر آپ چھپنے اور فروخت ہونے کی اجازت دیں گے ،تو اسی طرز پر کسی اور کتاب کو کیسے روک سکیں گے؟ یہ آپ کے لیے چیلنج ہوگا، جب تک ان سب مایہ ناز شعرا و مصنفین کی کتابوں کی اصلاح نہیں ہوگی ، ان کے حوالے دینے والوں اور ان کو اپنا رہنما اور موٹیویٹر سمجھنے والوں کی اصلاح آپ کیسے کر سکیں گے!
اور ہاں یاد آیا وہ ڈی فیم اور ڈس ریپیوٹ کرنے والی عبارت میں آپ نے اللہ کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ تو جناب آپ کو اقبال کے ایسے بہت سے اشعار بھی نظر آئیں گے ، جو بادی النظر میں اللہ کو ڈی فیم یا ڈس ریپیوٹ کرتے ہیں ۔مثلاً: ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں۔۔۔ یااپنا گریباں چاک یا دامن ِ یزداں چاک ۔۔۔کارِ جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اشعار آپ کے سیکشن 3 کی شق ایف کی زد میں آتے ہیں،ان پر آپ کو پابندی لگانی ہوگی۔ (اور ہاں یہ بھی جان رکھیے کہ بعد والوں کے معاملے میں تو ابھی آپ کو تحقیق کرنی پڑے گی کہ ان کی کتب میں خدا کو ڈس ریپیوٹ یا ڈی فیم کیا گیا ہے یا نہیں ، اقبال کے اس قبیل کے اشعار سے متعلق آپ کو یہ سہولت میسر ہے کہ ہمارے کئی علما و مفسرین نے پہلے ہی تحقیق فرما رکھی ہے کہ یہ اشعار کفریہ ہیں اور خدا کی گستاخی پر مبنی ہیں۔)
’’خلطِ مبحث‘‘ کی مصنوعی افزائش
ڈاکٹر اختر حسین عزمی
علم و دانش کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افراد و اقوام کے مسائل اور تنازعات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں۔ لیکن اگر کسی قوم کے طے شدہ معاملات کو ہی متنازع بنانے پر زور صرف ہونے لگے تو وہ قوم ایک دائرے کے اندر ہی سفر کرتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ ایک طبقہ قومی رہنمائوں کی مشاورت سے طے کردہ معاملات پر بھی مسلسل چاند ماری کرتا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش ماہنامہ الشریعہ کے مارچ 2020ء کے شمارے میں ڈاکٹر عرفان شہزاد کے مضمون ’’قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلطِ مبحث‘‘ کی صورت میں نظرآتی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی قوم کے ایک طے شدہ ریاستی اظہار یئے کو خلطِ مبحث کا شکار کرنے اور اسے متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کیا ایک دینی و علمی جریدہ اپنے علمی معیار کی اس قدرقربانی دینے کا متحمل ہوسکتا ہے کہ دینی اقدار و روایات اور قریب ترین تاریخ سے نابلد قلمکاروں کے طفلانہ خیالات کی ترویج کے لیے نو نو صفحے وقف کر دے۔ یقینا ہم جیسے قدامت پسند ان کی روشن خیالی سے محروم رہتے اگر ان کے یہ خیالات کسی اور اخبار میں شائع ہوئے ہوتے اور ان کے خیالات پر تبصرہ کرنے کی کوئی سنجیدہ ضرورت تک محسوس نہ کرتے لیکن ایک دینی و علمی پس منظر کے حامل جریدے میں چھپنے والے ان کے خیالات نے ہمیں خامہ فرسائی پر مجبور کیا ہے۔
مضمون نگار کی پریشانی یہ ہے کہ ’’قومی ریاستوں کی تشکیل کے اس دور میں‘‘ پاکستان کی مقتدرہ اور عوام نے ویسی ہی قومی ریاست کیوں نہیں بنائی جیسے یورپ اور اس کے زیر اثر دیگر ریاستیں پائی جاتی ہیں۔ گویا ہمارے لیے معیار نہ تو دو قومی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر سات آٹھ سال تک تحریک پاکستان چلتی رہی۔ نہ قائدین تحریک پاکستان کے بیانات کی کوئی حیثیت ہے اور نہ قربانی دینے والے لاکھوں مسلمانوں کی امنگوں کا لحاظ رکھنے کی کوئی ضرورت ہے۔خلافتِ راشدہ، اُموی، عباسی اور عثمانی خلافت سے رہنمائی لینے کی اس جدید دور میں ضرورت ہی ختم ہو گئی ہے ؎
مانگے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے
جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کی غلطی کا رونا آج صاحبِ مضمون رو رہے ہیں، یہ رونا تو کانگریسی رہنما اور اس وقت کے سیکولر دانشور بہت رو چکے تھے۔ لیکن اس کے علی الرغم دو قومی نظریے، یعنی ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں ہیں، کی بنیاد پر ملک تقسیم ہو چکا۔ جسے انگریز حکمرانوںاور کانگریسی قیادت نے طوعاً و کرہاً تسلیم کرلیا۔ اب اگرکوئی اس سے اختلاف کرنا چاہتا ہے تو کم از کم تاریخی حقائق کو تو مسخ نہ کرے۔
مضمون نگار کے مطابق اس دور میں چونکہ قومی ریاستوں کا وجود ایک حقیقت ہے، لہٰذا قرآنی تعلیمات کے برعکس قومیت کے اس تصور پر تمام مسلمانانِ پاکستان کا ایمان لانا ضروری ہے جو اربابِ سیکولر ازم نے دنیا کو عطا فرمایا ہے۔مضمون کا پہلا پیرا ملاحظہ ہو:
’’قومی ریاستوں کی تشکیل کے دور میں پاکستان ایک قومی مذہبی ریاست کی صورت میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ قومی ریاستوں کی تشکیل میں جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے… پاکستان کی ریاست بھی اسی اصول پر عمل میں آئی لیکن سیاسی عمل کے دوران میں مذہبیت یا اسلامیت کا عنصر بھی اس میں شامل ہوگیا جو قومی شناخت کے اظہاریوں پر غلبہ پاتا چلا گیا‘‘۔ (ص31)
یہ بات درست کہ دور حاضر میں قومی ریاستوں کی تشکیل میں جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لیکن کیا صاحبِ مضمون اپنی یہ بات ثابت کرسکتے ہیں کہ: ’’پاکستانی ریاست کی تشکیل بھی اسی اصول (جغرافیے) کی بنیاد پر عمل میں آئی‘‘ یہاں تو ساری تحریک ہی جغرافیے کی نفی کرکے دو قومی نظریے یعنی مذہب کی بنیاد پر چلائی گئی۔ مسلمان اکثریت کے حامل صوبوں پر مشتمل دو یونٹس میں ایک مسلمان ریاست کے قیام کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ رہے باقی علاقوں کے مسلمان جنہوں نے پاکستان کو نظریاتی و عملی طور پر قبول کیا تو وہ مشرقی پنجاب، بہار یو پی، سی پی اور دیگر دور دراز علاقوں سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ اسی طرح اپنی مذہبی سوچ کے زیر اثر لاکھوں ہندو اور سکھ مغربی پنجاب، سرحد و سندھ سے ہندوستان سدھار گئے۔ اب صاحب مضمون کا یہ کہنا کہ: ’’سیاسی عمل کے دوران میں مذہبیت یا اسلامیت کا عنصر بھی شامل ہوگیا جو قومی شناخت کے اظہاریوں پر غلبہ پاتا چلا گیا‘‘۔ تقاضا کرتا ہے کہ صاحب مضمون ’’سیاسی عمل‘‘ کے ان تاریخی مراحل کا زمانی ترتیب سے کچھ ذکر کرتے کہ یہ کب اور کس دن سے ہوا۔ اگر ایسا قیام پاکستان کے بعد ہوا ہے تو مضمون نگار کی بات قابل توجہ ہوتی لیکن ’’مذہبیت اور اسلامیت کا یہ عنصر‘‘ تو سیاسی عمل کے دوران نہیں، روزِ اوّل سے شامل تھا۔ یعنی1940کی قرارداد لاہور اور مزید پیچھے جائیں تو علامہ اقبال کے خطبہ 1930ء کی صورتمیں۔
’’قومی شناخت کے اظہاریے‘‘ پر جس ’’مذہبیت کے غلبے‘‘ کا مضمون نگار کو شکوہ ہے، وہ مولویوں اور دینی جماعتوں نے داخل نہیں کیا، اس دور کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان لیڈروں نے اسے اختیار کیا۔ اور یقینا اقبال اور قائداعظم سیکولر قومی ریاست کے تصور اور تقاضوں کو مضمون نگار سے زیادہ جانتے تھے جنہوں نے ’’قومی ریاست کی تشکیل کے دور میں‘‘ حصول ریاست کی جدوجہد کو مذہب کے تصور سے جوڑا۔ اسلامیان ہند نے بحیثیت مجموعی اس تصور کو قبول کیا۔ بقول قائداعظم:
’’ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ایک مخصوص اور ممتاز تہذیب و تمدن، زبان و ادب، آرٹ اور فن تعمیر، احساسِ اقدار، قانونی احکام و اخلاقی ضوابط، رسم و رواج، کیلنڈر، تاریخ و روایات، رجحانات اور عزائم کی مالک ہے۔ بین الاقوامی قانون کی ہر دفعہ کے لحاظ سے ہم ایک قوم ہیں۔‘‘ (مسٹر جناح کی تقریریں اور تحریریں۔ مرتبہ جمیل الدین احمد، ص181)
مضمون نگار کا یہ کہنا کہ: ’’یہ ریاست کسی مسلمان حکمران نے فتح نہیں کی تھی اور یہ ملک جمہوری اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا۔‘‘ درست بات ہے۔ لیکن بار بار اس بات کی تکرار کہ ’’جغرافیہ کی بنیاد پر ایک قومی ریاست کا مطالبہ کیا تھا‘‘ تحریک پاکستان کے بارے میں اتنا بڑا دعویٰ ہے جس کے ثبوت کے لیے مضمون نگار کوئی ایک شہادت تو پیش فرماتے اور پھر بڑے دھڑلّے سے ان کا یہ کہنا کہ ’’پاکستان کی تشکیل میں تمام قومیتوں اور مذاہب کے پیروکاروں نے ووٹ ڈالا (ص31) اتنے بڑے دعوے کا کوئی ثبوت پیش کرتے تو ہم جیسے کم فہموں کی رہنمائی کا بھی سامان ہو جاتا۔
صاحبِ مضمون ایک طرف بانیٔ پاکستان کی گیارہ اگست 1947ء کی تقریر کو ’’ریاست کے کثیر القومی تشخص کی دو ٹوک بنیاد‘‘ قرار دیتے ہیں اور اسی سانس میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’تحریک پاکستان کے دوران میں ’’مسلم کارڈ‘‘ کا استعمال اس دو شناختی قومیت کے لیے وجہ جواز بنا۔‘‘ اب اس ’’مسلم کارڈ‘‘ کو نیک نیتی کے ساتھ استعمال کیا گیا یا بدنیتی کے ساتھ اور اس کا رڈ کو قائداعظم نے استعمال کیا کہ نہیں، اس کی وضاحت تو مضمون نگار کے ذمہ قرض ہے تو پھر ان کی اس تقریر کو بھی کیوں سنجیدگی سے لیا جائے۔ اس سوال کا جواب بھی ان کے ذمہ ہے کہ دوشناختی قومیت کے لیے مسلم کارڈ کا استعمال وجہ جواز بنا یا کہ تحریک پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ پر تھی۔ بظاہر ان کے جملے سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا استحصال Explotationکیا تھا۔ اب مسلم کارڈ کا یہ استعمال اگر غلط تھا تو اس کے ذمہ دار قائداعظم اور تحریک پاکستان کے قائدین ہیں جن کے سینکڑوں بیانات پاکستان کے اسلامی ریاست بننے کے بیانیے پر مشتمل ہیں۔ گویا قائداعظم اتنا بے اصول لیڈر تھا کہ جونہی انہیں اپنی منزل قریب نظر آئی تو انہوں نے گیارہ اگست 1947ء کو اپنے بیانات سے یوٹرن لے لیا۔اس لیے کہ جس قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کو وہ اپنے موقف کے لیے آڑ بنا رہے ہیں وہ تو خود مضمون نگار کے مطابق بے اصول سیاستدان قرار پاتے ہیں۔ جنہوں نے ’’مسلم کارڈ‘‘ کو مسلمانوں کے جذباتی استحصال کے لیے استعمال کیا۔
اگر قائداعظم کی یہ تقریر مخلصانہ اور ذمہ دارانہ ہے تو ان کے صرف اتنا کہنے سے کہ ’’ہر مذہب والا مسجد و مندر جاسکتا ہے اور اس کے مذہب اور ذات یا نسل سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں‘‘ سیکولر قومی ریاست کا مفہوم کیسے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اگر تو اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور عقائد و عبادت کا حق پہلی مرتبہ سیکولرازم نے ہی دیا ہوتا تو مضمون نگار کا اس تقریر سے سیکولر قومی ریاست مراد لینا درست قرار پاتا۔ لیکن اگر مضمون نگار تسلیم کرتے ہیں کہ اقلیتوں کو ایک اسلامی ریاست میں نہ صرف جینے اور معاش کرنے کے حقوق حاصل ہیں بلکہ انہیں اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق عقائد و عبادات کرنے کا حق بھی حاصل ہے تو قائداعظم کی تقریر ان کے سابقہ بیانات سے ہم آہنگ قرار پاتی ہے۔ اب اگر عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں، اموی و عباسی خلافت میں، خلافت اندلس اور خلافت عثمانیہ میں، غیر مسلم اقلیتوں کو مذہبی حقوق دینے کی روایت رہی ہے تو قائداعظم نے ایک مسلمان حکمران اور رہنما ہونے کی حیثیت سے اسی بات کا اعادہ کیا ہے، اس میں سیکولر ریاست کا تصور کہاں سے آگیا۔ ہماری بات کی تائیدگیارہ اگست والی تقریر کے ساڑھے چار مہینے بعد بطور گورنر جنرل قائداعظم کے اس ارشاد سے ہوتی ہے:
’’میرے لیے وہ گروہ ناقابل فہم ہے جو خوامخواہ شرارت برپا کرنا چاہتا ہے اور یہ پراپیگنڈہ کرتا ہے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنے گا۔ ‘‘ (روزنامہ پاکستان ٹائمز 27جنوری 1948ء)
مضمون نگار کو اعتراض ہے کہ قرار داد مقاصد 1949ء، اور 1973ء کے آئین کی اسلامی شقوں کی بنیاد پر ’’ریاست ایک مسجد کی طرح مسلم اکثریت کے زور پر ان کے مذہب کے نام پر رجسٹرڈ کروائی گئی۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا صرف پاکستان میں ہوا ہے۔ کیا روس اور دیگر سوشلسٹ ریاستیں سوشلزم کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں جہاں نہ صرف سوشلزم کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں بلکہ مسلمانوں کو اتنا بھی مذہبی حق حاصل نہ تھا کہ وہ نماز اور تعلیم قرآن حاصل کرسکیں۔ کیا اسرائیل کی ریاست یہودی نسل پرستوں کے نام رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کیا امریکہ و یورپ کی ریاستیں سیکولر جمہوریت کے نام پر رجسٹرڈ نہیں جہاں جمہوریت کو الہامی مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔ کیا ہمارے ہاں بھی سیکولرازم کو حکم اور معیار مان کر اسلامی تعلیمات کے پر کاٹنا ضروری قرار پا چکا ہے۔ کیا اکثریت کی بنیاد پر ریاست اپنے نام رجسٹرڈ کروانا صرف سوشلسٹ اور سیکولر قوموں کا ہی حق ہے۔ مسلمانوں کا حق نہیں ہے۔
صاحب مضمون کے مطابق ’’قومی ریاستوں کے دور میں اسلام کے نام پر مذہبیت کی یہ پیوند کاری گھمبیر نتائج کی وجہ بنی‘‘۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ صاحب مضمون کے نزدیک ’’قومی ریاست‘‘ کے تصور کو جتنی تقدیس حاصل ہے، اتنی اسلامی تعلیمات کو نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے اجتماعی قوانین و احکام، حدود تعزیرات، معیشت و معاشرت سے متعلق قرآنی تعلیمات محض تلاوت کے لیے ہیں۔ کیا قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد اسلام کے اجتماعی احکام کے نفاذ کی ضرورت اب نہیں رہی؟ گویا قومی ریاست اب منزّ ل من اللہ دین الٰہی قرار پا چکی ہے اور اس کے اندر اسلامی تعلیمات کے نفاذ پر اصرار فساد فی الارض ہے۔
مضمون نگار کی قادیانیوں سے محبت کی بلّی بھی بار بار تھیلے سے نکلنے کو بے تاب دکھائی دیتی ہے، جب وہ کہتے ہیں کہ ’’غیر مسلم اقلیت کو وہی حقوق ملے جنہیں مسلم اکثریت نے دینا قبول کیا (ص 32) ’’دینی شعائر پر بھی مسلم ملکیت کا دعویٰ قائم ہوگیا۔‘‘ (ص32)
ہمارے ہاں کے لبرلز جمہوریت اور اکثریت کا بڑا راگ الاپتے ہیں۔ لیکن اگر یہی جمہوریت اور اکثریت اسمبلی میں متفقہ طور پر قرار داد مقاصد(1949ء) پاس کرتی ہے، 1973ء کے آئین کی اسلامی شقیں طے کرتی ہے۔ 1974ئمیں اجتماعی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم پاس کرتی ہے تو وہ اسے اکثریت کی دھونس باور کرواتے ہیں۔ مضمون نگار کے ذہنی خلجان کو مزید پڑھیے اور سر دُھنیے۔ فرماتے ہیں:
’’ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست یہ باور کرے کہ قومی ریاستوں کے دور میں مذہبی ریاست کا تصور ایک بے جوڑ اضافہ ہے۔ یہ ملک یہاں بسنے والی تمام قوموں نے مل کر بنایا تھا۔ اکثریت کو محض عددی برتری کے زعم میں اس کو اپنے نام رجسٹرڈ کرانے کا حق نہیں‘‘۔ (ص37)
(1) پھر وہی قومی ریاست کو وحی الٰہی جیسی تقدیس دینے کی تکرار۔
(2) چونکہ یہ ملک تمام قوموں نے مل کر بنایا تھا، اس لیے ان کی اجازت سے ہی چلایا جاسکتا ہے۔ چاہے ان کی تعداد دو فی صد بھی نہ ہو۔ ویسے مضمون نگار یہ بھی بتا دیتے کہ ہندو، سکھ، عیسائی اقوام نے کس کس مقام پر تحریک پاکستان کے لیے جدوجہد کی تھی تو ہمارے بھی علم میں اضافہ ہو جاتا۔
(3) اکثریت (مسلمانوں) کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنی اکثریت کے ملک میں بھی اپنی مرضی کا تصورِ مملکت جاری کرسکیں۔ یا للعجب۔
کیا مضمون نگار یہی مطالبہ امریکہ و یورپ سے بھی کریں گے کہ وہ ’’اکثریت کی محض عددی برتری کے زُعم میں بنائے گئے ہم جنسی جیسے غیر انسانی ہی نہیں غیر حیوانی عمل کو تحفظ دینے والے قوانین کو منسوخ کرے۔ اسقاط حمل جیسے قاتلانہ ایجنڈے، اور بے نکاحی پارٹنر شپ جیسی بے ہودگی کے قانونی جواز کو ختم کرے۔ سود جیسے انسانیت کش نظام کے کاروباری جواز کو ختم کرے۔تضاد بیانی ملاحظہ ہو کہ دوسری طرف خود قومی ریاستوں کی سرحدوں میں رد و بدل کے لیے جمہورکی رائے کے فیصلہ کن ہونے کا فتویٰ بھی صادر فرماتے ہیں۔ (ص38)گویا جمہوریت اور اکثریت سے انہیں کِد اس وقت ہی ہوتی ہے جب اکثریت کا پلڑا اسلامی تعلیمات کے نفاذ کی طرف جھکتا ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق مضمون نگار کا تعلق جس مکتب فکر سے ہے وہ اپنی جمہوریت پسندی کا علمبردار ہے۔ لیکن مضمون نگار کی اکثریت کے حوالے سے تضاد بیانی سے واضح ہے کہ ان کا طریقہ واردات وہی ہے جو آج عالمی ایجنڈے کا نمایاں حصہ ہے۔ یعنی جس محاذ پر جمہوریت کے ذریعے اسلامی قوتوں کو کمزور کیا جاسکتا ہو، وہاں جمہوریت کا راگ الاپا جائے اور جہاں جمہوریت کے ذریعے اسلام پسند فیصلہ کن پوزیشن میں آجائیں یا اسلام کے حق میں کوئی اجتماعی فیصلہ کروالیں تو اس اکثریت کو مشکوک، متنازعہ اور دھونس باور کروا دیا جائے۔ نوے کی دھائی میں الجزائر میں اسلامک فرنٹ ستر فی صد سے زاید ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوا تو فرانس کی پشت پناہی سے فوج کے ذریعے انہیں کچل دیا گیا، 2013ء میں مصر میں اسلام پسند صدر مملکت مرسی کو فوج کے ذریعے فارغ کرکے محبوس کر دیا گیا اور امریکہ نے جمہوری صدر کے باغی جرنیل کی مذمت تک نہیں کی۔ فلسطین میں حماس پارٹی کی منتخب حکومت کے گرد معاشی و سیاسی شکنجہ کس دیا گیااور کوئی یورپی ملک نہیں بولا۔ ترکی کے منتخب اسلام پسند صدرطیب اردگان کے خلاف امریکہ نے فوجی بغاوت کروائی۔ ایسی صورت میں کسی بھی فوجی جرنیل کی بغاوت کی اہل مغرب مذمت تک نہیں کرتے۔ یہی فریضہ جدت پسندی کے فریب میں مبتلا ہمارے ہاں کے مضمون نگار انجام دے رہے ہیں:
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں ہے
مضمون نگار کو یہ غم بھی ہلکان کیے جارہا ہے کہ: ’’علماء و فقہاء نے ہندو دھرم کے مذہبی رسوم و رواج سے مسلم کمیونٹی کو بچنے کی تلقین کی۔‘‘ (ص33) گویا انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ بہتر ہوتا کہ مضمون نگار ان بیسیوں احادیث کا محل بھی متعین فرما دیتے جس میں دیگر اقوام کی مشابہت سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ صاحب مضمون نو مسلموں کے اسلامی نام رکھنے کو بھی علماء کی اختراع قرار دیتے ہیں (ص33-34) البتہ آگے چل کر خود ہی لکھتے ہیں کہ: ’’رسول اللہؐ قبول اسلام کرنے والوں کے نام اس صورت میں تبدیل کرتے تھے جب نام میں شرک یا کسی برائی کا پہلُو پایا جاتا ہو۔‘‘ آج ہمارے علماء فقہا نے بھی تو ہندوستان میں یہی کچھ کیا ہے، اس سے زاید تو کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ اب اگر کوئی نو مسلم خود صحابہ و صحابیات کے نام پر نام رکھنا چاہتا ہے تو کیا اسے اس سے روک دیا جائے۔ مضمون نگار کا یہ کہناکہ: ’’یہ کہیں نہیں ملتا کہ مسلمانوں کی ظاہری شناخت کے لیے ان کے حلیے اور لباس میں کوئی امتیاز برتا گیا ہو۔‘‘ جبکہ ہمارے علم کے مطابق حضرت عمر مسلم اور غیر مسلم کے لباس کے معاملے میں سختی سے امتیاز برتتے تھے۔ آخر مضمون نگار مسلمانوں کو غیر مسلموں جیسا بن کر رہنے پر دیکھنے کے متمنی کیوں ہیں؟
صاحب مضمون بڑے تحسین آمیز انداز میں فرماتے ہیں: ’’برصغیر میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرنے کے باوجود وطن کی حفاظت میں ہندو راجپوتوں کے ساتھ مل کر وسط ایشیائی مسلم حمہ آوروں کے خلاف لڑا کرتے تھے۔‘‘ اب اس بات پر ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں فکر مند ہونا چاہیے یا کہ ان غیر تربیت یافتہ مسلمانوں کے فعل کو اپنے موقف کے ثبوت اور جواز کے لیے دلیل پکڑنا چاہیے۔ آخر مضمون نگار مسلمانوں کو کس ایمانی و اخلاقی پستی تک پہنچانا چاہتے ہیں۔