جنسی درندگی کا بڑھتا ہوا رجحان
محمد عمار خان ناصر
لاہور موٹروے پر رونما ہونے والے حالیہ واقعے کے تناظر میں تحریک انصاف کی حکومت نے آبرو ریزی کے مجرموں کو سرجری کے ذریعے سے نمونہ عبرت بنانے کے لیے قانون سازی کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ اس طرح کے اعلانات ایسے واقعات کے تناظر میں حکومتوں کی سیاسی ضرورت ہوا کرتے ہیں اور اجتماعی غم وغصہ کو نیوٹرلائز کرنے کا ایک فوری اور موثر ذریعہ بنتے ہیں، اس لیے ان سے زیادہ امیدیں باندھنے کے بجائے ایک بڑے تناظر میں اس انتہائی سنگین مسئلے کا جائزہ لینے اور ایک اجتماعی معاشرتی سوچ کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
آبروریزی کا عمل مختلف واقعاتی سیاقات میں مختلف نوعیتیں رکھتا ہے اور اس کے محرکات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے کس نوعیت کی آبروریزی کی روک تھام کے لیے کس طرح کے اقدامات موثر ہو سکتے ہیں، اس کا گہرا تجزیہ کیے بغیر اس باب میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔
بنیادی طور پر آبروریزی کے چار بڑے محرکات مشاہدے میں آتے ہیں:
۱۔ دشمن گروہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کی آبروریزی کو دشمن کی اجتماعی تذلیل اور ڈی مورلائزیشن کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کا طریقہ جنگوں میں فتح یاب ہونے والی فوجیں اختیار کرتی آئی ہیں اور انسانی ضمیر کے اجماع اور بین الاقوامی قانون انسانیت جیسے ضابطوں کی موجودگی میں بھی اس نفسیات سے چھٹکارا پانا ابھی تک انسانوں کے لیے ممکن نہیں ہو پایا جس پر حالیہ تمام جنگوں کے واقعات شاہد ہیں۔ ذرا نچلی سطح پر یہی نفسیات وڈیرہ شاہی کلچر میں ایسے واقعات میں کارفرما ہوتی ہے جس میں کسی کمی کمین کو اس کی اوقات بتانے کے لیے اس کے خاندان کی خواتین کو آبروریزی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک اور سطح پر یہی نفسیات بعض افراد کو بھی اس پر آمادہ کر سکتی ہے کہ ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی خاتون کو آبروریزی کا نشانہ بنا کر اپنے جذبہ انتقام کی تسکین کریں۔
۲۔ جنسی جبلت سے مغلوبیت کی کسی وقتی کیفیت کے تحت انفردی سطح پر بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ اس کا نشانہ عموما ماحول میں موجود کمزور اور غیر محفوظ خواتین بنتی ہیں، تاہم بعض صورتوں میں اس کی ابتدائی تحریک یا حوصلہ افزائی میں خود متاثرہ فریق (victim) کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔ ناجائز اور خفیہ روابط کی صورت میں اس کے امکانات عموما زیادہ ہوتے ہیں۔ اس محرک میں اہم نکتہ یہ ہے کہ مردانہ طاقت کے اظہار یا متاثرہ فریق کی تذلیل وغیرہ کا داعیہ بنیادی طور پر شامل نہیں ہوتا اور ضروری نہیں کہ اس کا ارتکاب کرنے والے بنیادی طور پر مجرمانہ ذہنیت کے حامل یا جرائم پیشہ لوگ ہوں۔
۳۔ جنسی جبلت سے مغلوبیت بعض خاص حالات میں perversion کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور مختلف نفسیاتی پیچیدگیوں کے زیراثر بیمار ذہن کے افراد اس کی تسکین کے لیے بہت ہی پست اور مجرمانہ طریقے اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد ان کو قتل کر دینا اور محارم کو آبروریزی کا نشانہ بنانا وغیرہ اس مجرمانہ نفسیات کے عمومی مظاہر ہیں۔
۴۔ جنسی جبلت جب مختلف عوامل سے انسان کو بالکل حیوانیت کی سطح پر لے آئے اور اس کے ساتھ مجرمانہ ذہنیت اور مردانہ طاقت کے اظہار کی نفسیات بھی شامل ہو جائے تو ایسے افراد یا گروہ ماحول میں اس طرح کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور ایسا ماحول ان کی جرات کو خاص طور پر شہہ دیتا ہے جس میں نظام انصاف بہت کمزور اور الٹا طاقتور کی مدد کرنے والا ہو۔ لاہور موٹروے کا واقعہ اس نوعیت کی ایک مثال ہے۔
ان میں سے ہر سیاق، ایک مختلف نوعیت رکھتا ہے اور اس مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی پیش بندی کی کوئی حکمت عملی زیربحث لائی جا سکتی ہے۔ ہر طرح کے واقعے پر ایک ہی جیسے عمومی تبصرے کرنا یا غم وغصہ کا وقتی اظہار کرنا یا حکومتی سطح پر کچھ اعلانات وغیرہ کر دیا جانا، اصلاح احوال میں کوئی مدد نہیں دے سکتا۔
آبروریزی کے رجحان کا تجزیہ جب نفسیاتی وسماجی عوامل کی روشنی میں کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا اہم ترین مقصد اس پہلو کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے کہ ریاستی طاقت اور قانون کا کردار اس معاملے میں بہت بنیادی ہونے کے باوجود اسے مسئلے کے حل کی شاہ کلید نہیں سمجھا جا سکتا۔ انسانی بساط کی حد تک مسئلے کے حل کی تدبیر کے لیے ضروری ہے کہ جرم کی نفسیات کو پیدا کرنے یا فروغ دینے والے عوامل کے سدباب، اور جرم کے وقوع کے بعد ریاستی طاقت کے کردار، دونوں کے مابین ایک متوازن تعلق وجود میں لایا جائے، یعنی جرم پر مناسب تعزیری اقدامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جرم کی پیش بندی پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے۔ جرم کو اگر آوارہ کتے کے کاٹنے کی مثال سے سمجھا جائے تو جرم پر قابو پانے کا یہ طریقہ کبھی موثر نہیں ہو سکتا کہ شہری آبادیوں میں آوارہ کتوں کے پھیلتے چلے جانے پر تو کوئی توجہ نہ دی جائے اور سارا زور اس پر صرف کیا جائے کہ اگر کتا کسی کو کاٹ لے تو سگ گزیدہ کی اشک شوئی کے لیے ہر ڈسپنسری اور اسپتال میں انجکشن وافر تعداد میں میسر ہوں اور میونسپل کمیٹی کے کارندے فوری طور پر ایسے کتے کے خلاف ایکشن لینے کے لیے مستعد ہوں۔ ان ضروری اقدامات سے پہلے آوارہ کتوں کی افزائش نسل پر قدغن لگانے کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے، اور یہ صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ شہری آبادی اور حکومتی اداروں کے باہمی تعاون کے ساتھ اجتماعی طور پر انجام دی جانے والی ایک ذمہ داری بنتی ہے۔
اس بنیادی تناظر میں اگر آبروریزی کی مختلف صورتوں کا تجزیہ کیا جائے تو پہلی صورت میں بنیادی کردار ریاستی طاقت اور قانون کا بنتا ہے، کیونکہ اس کے وجود میں آنے کا اصل محرک اندھی طاقت اور اس کا اظہار ہوتا ہے اور طاقت کے نشے کو طاقت کے تریاق سے ہی توڑا جا سکتا ہے۔ تاہم باقی تین صورتوں میں معاشرتی سانچوں، عمومی ذہنی رویوں، مذہبی وغیر مذہبی فکری بیانیوں، نفسی واخلاقی تربیت کے معاشرتی انتظامات اور خاص طور پر سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی اخلاقیات کو زیربحث لائے بغیر آوارہ کتوں کی افزائش نسل پر قدغن لگانے کی کوئی بامعنی حکمت عملی نہیں سوچی جا سکتی۔
سب سے پہلے عمومی ذہنی رویوں اور نفسی واخلاقی تربیت کے انتظامات پر نظر ڈالیے۔
مرد کا جارحانہ جنسی جبلت کا حامل ہونا ایک حیاتیاتی حقیقت ہے اور اسے مسئلے کی اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ ظاہر ہے، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، البتہ اسے حدود کا پابند بنانے کی تدبیر کی جا سکتی ہے۔ تدبیر کے دو پہلو ہیں اور دونوں ہی اہم ہیں۔ ایک، شعور اور اخلاق کی تربیت کے ذریعے سے افراد میں انسانی ہمدردی اور خاص طور پر صنف بہتر کے احترام کے جذبات کی آبیاری کرنا اور انھیں معاشرتی اقدار کے طور پر رائج کرنا، اور دوسرا، حدود سے تجاوز پر محاسبہ اور سزا کے خوف کو موثر بنانا۔ اس میں کلیدی اہمیت صنف بہتر کے بارے میں مردوں کے نفسیاتی احساسات کو حاصل ہے اور ان کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار معاشرتی سانچوں اور فکری بیانیوں کا ہوتا ہے۔
ایک امر واقعہ کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ آبرو ریزی کا، ایک کثیر الوقوع جرم کی صورت اختیار کرنا جدید طرز معاشرت کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے اور اس کا براہ راست تعلق خواتین کے لیے ’’محفوظ “ روایتی طرز معاشرت میں تبدیلیوں سے ہے۔ جدید طرز معاشرت نے خواتین کے لیے گھر کے ماحول سے باہر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں حصہ لینے کے مواقع پیدا کیے ہیں اور اس کے نتیجے میں اختلاط پر مبنی ایک ایسی معاشرت تشکیل پذیر ہے جس میں ایسے حفاظتی انتظامات سردست مستحکم نہیں ہیں جو گھر کے ماحول میں میسر حفاظت کا متبادل بن سکیں۔ معاشرت کے ایک سانچے سے دوسرے سانچے کی طرف انتقال کے مرحلے میں بنے ہوئے ذہنی رویوں کے لیے نئی صورت حال کے روبرو اپنا ردعمل طے کرنا ایک بہت مشکل اور کافی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ ہمارا صدیوں سے بنا ہوا نفسیاتی سانچہ عورت کے عزت اور احترام کو گھر کی چاردیواری سے الگ نہیں دیکھ سکتا، اور اختلاط کے ماحول میں کام کرنے والی خواتین کے لیے ’’عزت واحترام“ کا زاویہ نظر ہماری اس نفسیاتی تشکیل میں قابل قبول نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے روایتی معاشرت سے تشکیل پانے والے ذہنی رویوں اور جدید طرز معاشرت میں ایک dissonance (مغایرت) ہے جو صرف غیرشعوری نہیں ہے، بلکہ ہمارے ہاں رائج مختلف فکری بیانیوں میں اس کا باقاعدہ اظہار ہوتا ہے۔
ہمارا اجتماعی نفسیاتی سانچہ، مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ عزت واحترام کے تصور کو وابستہ کرنے میں شدید دقت محسوس کرتا ہے، اس میں ایک تنقیح بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ ایسا نہیں کہ گھر سے باہر یا مخلوط ماحول میں عورت کی موجودگی فی نفسہ اس نفسیاتی سانچے میں قابل قبول نہیں یا عورت کے احترام کے احساس کو زائل کر دیتی ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اس سے ہے کہ عورت کس ’’حیثیت “سے مخلوط ماحول میں موجود ہے۔ ایک گھریلو خاتون کی حیثیت سے عورت کو اب بھی پبلک مقامات پر احترام دیا جاتا ہے اور اس کے مظاہر ہم دفاتر، بنکوں، پبلک ٹرانسپورٹ، اسپتالوں وغیرہ میں ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے معاشرے کا مسئلہ خواتین کے لیے عزت واحترام کے تصور کے فقدان کا نہیں، بلکہ اس کے معیارات کا ہے۔ عورت کے باکردار اور مستحق احترام ہونے کا تصور ہمارے نفسیاتی سانچے میں گھریلو خاتون کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس حیثیت میں ہم ایک معاشرتی قدر کے طور پر خواتین کو ہر جگہ احترام دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی خواتین کو ’’ورکنگ ویمن“ کی حیثیت میں یا اس کی اہلیت پیدا کرنے کی سعی کرتے ہوئے (مثلا تعلیمی اداروں میں) تصور کیا جاتا ہے تو ہمارا نفسیاتی سانچہ ایسی خواتین کو بنظر احترام دیکھنے پر خود کو آمادہ نہیں پاتا۔ ہمارا reflexive reaction ایسی خواتین کے کردار کو منفی زاویے سے اور، حسب موقع، نظربازی یا جنسی پیش قدمی کے ایک ممکنہ ہدف کے طور پر دیکھنے کا ہوتا ہے۔
اس غیرشعوری نفسیاتی احساس کو فکری جواز اور تائید فراہم کرنے کا کام وہ بیانیے کرتے ہیں جو جدید طرز معاشرت میں اختلاط کے مواقع کو فی نفسہ ایک برائی کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان بیانیوں میں سب سے زیادہ بلند آہنگ بیانیہ، مذہبی طبقوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ مذہبی طبقوں کا بنیادی ترین مسئلہ چونکہ جدید معاشرت میں اپنی شناخت کا تحفظ ہے، اس لیے ایک مخصوص برقع پوش معاشرت کو دینی واخلاقی اقدار کے معیاری نمونے کے طور پر پیش کرتے ہوئے انھیں یہ احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ جدید طرز معاشرت میں خواتین کے ایک بہت بڑے طبقے کے لیے، جو تدریجا اکثریت میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، کس نوعیت کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ جدید تمدن کے اوضاع کے لحاظ سے، خواتین کی عزت واحترام کا ایک مذہبی بیانیہ تشکیل دیا جاتا جس سے نئی طرز معاشرت میں اجتماعی نفسیاتی احساسات میں مطلوبہ تبدیلیاں پیدا کرنے میں مدد ملتی، مذہبی بیانیوں نے ہر اہم معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی معاشرے میں تقسیم اور منافرت پیدا کرنے کو اپنی شناخت کے تحفظ کا ناگزیر ذریعہ سمجھنے کو ترجیح دی ہے۔
مخلوط ماحول میں خواتین کی سماجی سرگرمیوں پر مذہبی یا معاشرتی اقدار کے لحاظ سے منفی حکم لگانے والے بیانیوں کے ذکر کا مطلب یہ نہیں کہ وہ براہ راست جنسی ہراسانی یا جنسی درندگی جیسے رجحانات کے ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح بدیہی طور پر اس تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ان رویوں کا نشانہ صرف مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین بنتی ہیں۔ زیربحث بیانیوں کا کردار ان رویوں کے فروغ میں بالواسطہ ہے، یعنی مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین کے بارے میں یہ بیانیے ایسی سماجی نفسیات کو تقویت پہنچاتے ہیں جس میں انھیں احترام اور تقدس کی نظر سے دیکھنے کے بجائے جنسی تلذذ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ چیز پھر دیگر کئی عوامل کے ساتھ مل کر جنسی درندگی جیسے مجرمانہ رجحانات کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور چونکہ یہ رجحانات شعوری نہیں ہوتے، یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ مجرم باقاعدہ سوچ سمجھ کر مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کریں، بلکہ دراصل کئی نفسیاتی عوامل کے اشتراک سے ایسے افراد میں فی نفسہ خواتین کے تقدس اور احترام کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے ، اس لیے نتیجے کے طور پر ان مجرمانہ حملوں کا ہدف صرف مخلوط ماحول کا حصہ بننے والی خواتین نہیں رہتیں، بلکہ ہر طرح کی خواتین ان کی زد میں آ جاتی ہیں۔
جہاں تک ان عوامل کا تعلق ہے جنھیں براہ راست جنسی درندگی یا جنسی ہراسانی جیسے مظاہر کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ بنیادی طور پر دو ہیں:
سب سے پہلا اور بنیادی عامل، سرمایہ دارانہ معیشت کی اخلاقیات ہے جو نسوانی حسن اور جنسی جذبات کی انگیخت کو ایک باقاعدہ فروختنی چیز تصور کرتی اور ان کی مارکیٹنگ کے لیے مذہب واخلاق اور انسانی معاشرے کی صلاح وفلاح کو بالکل بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر قسم کے کاروباری طریقے اختیار کرنے کو جائز قرار دیتی ہے۔ اس کی بد ترین شکل عریاں فلموں کی صنعت کی صورت میں سامنے آتی ہے جس سے بڑھ کر نسوانی تذلیل اور توہین کی کوئی شکل انسانی تاریخ نے نہیں دیکھی ہوگی، لیکن مغربی معاشروں میں اسے باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہے۔ تاہم اس سے نچلی سطحوں پر نیم عریانی سمیت جنسی جذبات کو بے قید کرنے کے جو متنوع طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور جنھیں بتدریج مشرقی معاشروں میں بھی قبولیت حاصل ہوتی جا رہی ہے، ان کا کردار خواتین کے متعلق مجرمانہ جنسی نفسیات پیدا کرنے میں کسی طرح بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔
دوسرا بنیادی عامل، اختلاط کے ماحول میں ان آداب وحدود کی پابندی کو اہمیت نہ دینے بلکہ آزادی نسواں کے عنوان سے ان کی پامالی کا پرزور دفاع کرنے کا رویہ ہے جن کی تعلیم نہ صرف مذہب اور اخلاق دیتے ہیں، بلکہ انسانی نفسیات کے آزمودہ اصول بھی ان کی تائید کرتے ہیں۔ مذہب واخلاق، خواتین کے تحفظ کے مسئلے کو حیا اور پاک دامنی کی قدروں سے الگ کر کے نہیں دیکھتے اور یک طرفہ طور پر صرف مردوں کو ’’احترام خواتین“ کا پابند نہیں کرتے، بلکہ خواتین کو بھی ان اخلاقی حدود وآداب کا پابند بنانا چاہتے ہیں جن کا نتیجہ خواتین کے تحفظ کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے برعکس حقوق نسواں کا عصری فلسفہ اس معاملے میں عورت کی انفرادیت اور آزادی کو تو اہمیت دیتا ہے جس کی رو سے عورت کو پورا حق ہے کہ وہ جیسا چاہے، لباس پہنے اور اپنے نسوانی حسن کی داد یا صنف مخالف کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جو انداز چاہے، اختیار کرے، لیکن اس کے نتیجے میں مخالف صنف میں جس طرح کے جنسی رجحانات اور رویوں کا فروغ پانا لازم ہے، ان سے کلی طور پر صرف نظر کر لیا جاتا ہے۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے، بنیادی نکتے کو نمایاں کرنے کے لیے ایک سابقہ تحریر کا اقتباس نقل کرنا یہاں مناسب ہوگا:
’’جنسی ہراسانی کا تعلق صرف مرد کی جارحیت سے نہیں ہے، اس کو تقویت دینے والے اسباب میں بنیادی کردار عورت سے متعلق اس عمومی ذہنی واخلاقی تصور کا ہے جو کسی معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ اگر عمومی معاشرتی ماحول اور اس میں ذہنی واخلاقی تربیت کے ذرائع عورت کے متعلق احترام، ہمدردی اور تحفظ کا رویہ پیدا کریں گے (جس کے لیے مرد وزن کے اختلاط اور نسوانی حسن کی نمائش کے حدود وآداب کی اہمیت بنیادی ہے) تو اس کے نتائج اور ہوں گے، لیکن اس پہلو کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسے ماحول میں جنسی ہراسانی اور خواتین کے عدم تحفظ جیسے مسائل مستقل طور پر حل طلب رہیں گے۔
مرد وزن کے اختلاط کے حوالے سے عمومی اخلاقی تربیت اور رویہ سازی میں اس نکتے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے کہ مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین کے لیے عزت واحترام، ہمدردی اور ترحم کے جذبات بیدار کیے جائیں۔ جدید طرز معاشرت نے خواتین کو بھی معاشی ذمہ داریوں میں شریک کر دیا ہے اور انھیں اپنے خاندان کا سہارا بننے کے لیے کئی طرح کی پر مشقت معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں انھیں جنسی تلذذ کا ذریعہ تصور کرنے والی نفسیات سے خواتین کی صورت حال کا یہ پہلو اوجھل ہوتا ہے اور وہ اس جبر کو محسوس کیے بغیر جس کا خواتین کو سامنا ہے، خود غرضی اور نفس پرستی کی کیفیت میں انھیں صرف صنف مخالف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بار بار کی تذکیر سے لوگوں کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کا اہتمام کرنے اور خواتین کے حوالے سے کلچرل زاویہ نظر کی تشکیل میں احترام، ترحم اور ہمدردی جیسے جذبات کو بنیادی عناصر کے طور پر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔“
موجودہ گفتگو کے تناظر میں، اس میں یہ اضافہ کر لیا جائے کہ جنسی درندگی کے رجحان کے سدباب کے لیے جہاں معاشرے میں خواتین کی توقیر واحترام کو بطور قدر فروغ دینے اور بے توقیری کا رویہ پیدا کرنے والے جملہ اسباب کی سخت حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے، وہاں تعلیم وتربیت کے تمام ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے انتہائی ترجیحی بنیادوں پر افراد کی نفسی واخلاقی تربیت کو بھی ایک مہم کی صورت میں جاری کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں ذہنی رویوں کی تطہیر کے لیے مذہبی وعظ ونصیحت اور انسانی ونسوانی ہمدردی کی تلقین وتعلیم کے پہلو بہ پہلو علم نفسیات کی مدد سے لوگوں میں یہ آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ماحول میں موجود جنسی ترغیبات کس طرح ان کے معمول کے ذہنی رویوں پر اثر انداز ہوتی اور ان کی شخصیت کو آلودہ وپراگندہ کرنے کا موجب بنتی ہیں اور یہ کہ کن مختلف تدابیر سے کام لیتے ہوئے وہ ان کے مضر اثرات سے خود کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ نفسیاتی علاج معالجے کی سہولت جو ہمارے معاشرے میں اب تک انفرادی سطح پر اور بہت محدود دائرے میں دستیاب ہے، اسے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے تعلیم عامہ کے پروگراموں میں بدلنے کی ضرورت ہے ۔ جدید طرز معاشرت نے انسانوں کو جن ان گنت نفسیاتی عوارض سے دوچار کر دیا ہے، ان کا موثر علاج نفسی واخلاقی تربیت کے ایک عمومی ماحول سے ہی ممکن ہے۔ ریاست اور قانون اس باب میں ایک خاص حد تک ہی مددگار ہو سکتے ہیں، ان سے اس سے زیادہ کی توقع کرنا غیر حقیقت پسندانہ انداز فکر ہوگا۔
ہذا ما عندی واللہ اعلم
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(218) اذا الفجائیۃ والے جملے کا ترجمہ
اذا کی ایک قسم وہ ہے جسے اذا فجائیہ کہا جاتا ہے، یہ درست ہے کہ اس کا نام فجائیہ ہے، اذا میں ایک طرح کا تحیر کا عنصر تو پایا جاتا ہے، لیکن اس کے مفہوم میں ضروری نہیں ہے کہ اچانک واقع ہوجانے کا مفہوم بھی ہو۔ شاعر کہتا ہے:
کم تمنیت لی صدیقا صدوقا
فاذا انت ذلک المتمنی
(میں نے ایک سچے دوست کی کتنی تمنا کی تھی، تو ایسا ہوا کہ تم وہ ہوئے جس کی میں نے تمنا کی تھی)
یہاں تحیر آمیز مسرت ہے تو ہے، مگر یکایک ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔
کبھی اذا کے بعد مذکور بات یکایک اور فورا پیش آنے والی بات بھی ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں ترجمے میں اس کا اظہار بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ ہمیشہ ضروری نہیں ہے۔تراجم کا جائزہ لیتے وقت ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین یکایک، دفعة ، فورا ، جبھی، ایک دم اور جھٹ سے جیسے الفاظ وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں ان کا محل ہی نہیں ہوتا ہے، اس کی وجہ شاید یہ تصور ہے کہ اذا فجائیہ میں بغتۃ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہی مترجمین بعض دوسرے مقامات پر اس کی رعایت بھی کرتے ہیں۔مثال کے طور پر نیچے دی گئی مثالوں میں سے پہلی مثال میں یکایک کا کوئی محل نہیں ہے، پھر بھی یکایک کا ذکر کردیا گیا، دوسری مثال میں بھی اس کا محل نہیں ہے اور وہاں ذکر نہیں کیا گیا۔دراصل گنجائش ہوتے ہوئے ذکر نہ کرنے سے کوئی معنوی خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے، لیکن جہاں محل نہ ہو وہاں اس طرح کے الفاظ ذکر کرنے سے معنوی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔اس کا اندازہ پہلی مثال کے دونوں ترجموں میں موازنہ کرنے سے ہوجاتا ہے۔ذیل میں دی گئی باقی مثالوں میں بھی اس پہلو سے دونوں طرح کے ترجموں میں موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ایک اور امر قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اذا فجائیہ کا ترجمہ مستقبل کا نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ حال کا کیا جاتا ہے، مستقبل کا ترجمہ اذا شرطیہ کا کیا جاتا ہے، نیچے مثال نمبر چھ اور سات میں مستقبل کا ترجمہ کردیا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔
(1) الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْہُ تُوقِدُونَ (یس: 80)
”وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو“۔ (محمد جوناگڑھی)
”وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو“۔ (سید مودودی)
(2) حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاھُم بَغْتَۃً فَإِذَا ھُم مُّبْلِسُونَ (الانعام: 44)
” یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے“۔ (سید مودودی)
”یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہوگئے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(3) إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّھُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا ھُم مُّبْصِرُونَ (الاعراف: 201)
”حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے“۔ (سید مودودی)
”یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی شیطانی چھوت لاحق ہونے لگتی ہے وہ خدا کا دھیان کرتے ہیں اور دفعة ان کو دکھائی دینے لگتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
(4) وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَی ثَمُودَ أَخَاھُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـہَ فَإِذَا ھُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ (النمل: 45)
”یقیناً ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے“۔ (سید مودودی)
(5) وَآيَۃٌ لَّھُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّھَارَ فَإِذَا ھُم مُّظْلِمُونَ (یس: 37)
”اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے“۔ (سید مودودی)
”اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ان کے لیے ایک بہت بڑی نشانی رات ہے۔ ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے پس وہ دفعتا اندھیرے میں رہ جاتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
(6) وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا ھُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَی رَبِّھِمْ يَنْسِلُونَ (یس: 51)
”پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے“۔ (سید مودودی)
”اور پھونکا جائے گا صور جبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے“۔ (احمد رضا خان)
”پھر ایک صور پھونکا جائے گا اوریہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(7) إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَۃً وَاحِدَۃً فَإِذَا ھُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ (یس: 53)
”ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے“۔ (سید مودودی)
”یہ نہیں ہے مگر ایک چیخ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے گئے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(8) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ھُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (النحل: 4)
”(اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے“۔ (احمد رضا خان، یہاں جبھی کا لفظ بے محل معلو م ہوتا ہے)
”اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اس نے انسان کو نطفہ (پانی کی ایک بوند) سے پیدا کیا پھر وہ ایک دم کھلم کھلا جھگڑالو بن گیا“۔(محمد حسین نجفی)
(9) أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ھُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (یس: 77)
”کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟“۔ (سید مودودی)
”اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے“۔ (احمد رضا خان، یہاں جبھی کا لفظ بے محل معلوم ہوتا ہے)
(10) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْھُمُ الرِّجْزَ إِلَی أَجَلٍ ھُم بَالِغُوہُ إِذَا ھُمْ يَنكُثُونَ (الاعراف: 135)
”مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے“۔ (سید مودودی)
”پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وہ فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو کچھ مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعة عہد توڑ دیتے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”تو جب ہم نے ان سے عذاب کو ہٹادیا کچھ مدت کے لیے جس کو انھیں پورا کرنا تھا تو ایسا ہوا کہ وہ عہد توڑنے لگے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(11) وَمِنْھُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْھَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْھَا إِذَا ھُمْ يَسْخَطُونَ (التوبۃ: 58)
”ان میں وہ بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اے نبی، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خو ش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)
(12) فَلَمَّا أَنجَاھُمْ إِذَا ھُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (یونس: 23)
”پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)
(13) فَلَمَّا نَجَّاھُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا ھُمْ يُشْرِكُونَ (العنکبوت: 65)
”پھر جب وہ اِنہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)
”لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پس جب وہ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھیرانے لگتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
(14) وَإِن تُصِبْھُمْ سَيِّئَۃً بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيھِمْ إِذَا ھُمْ يَقْنَطُونَ (الروم: 36)
” اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اگر ان کے اعمال کے سبب سے ان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ فورا مایوس ہوجاتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
(15) فَإِذَا أَصَابَ بِہِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ إِذَا ھُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الروم: 48)
”یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں“۔ (سید مودودی)
”پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
(16) وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِہِ إِذَا ھُمْ يَسْتَبْشِرُونَ۔ (الزمر: 45)
”اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں“۔ (سید مودودی)
” اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
(17) فَلَمَّا جَاءَھُم بِآيَاتِنَا إِذَا ھُم مِّنْھَا يَضْحَكُونَ (الزخرف: 47)
”پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے“۔ (سید مودودی)
(18) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ إِذَا ھُمْ يَنكُثُونَ (الزخرف: 50)
”پھر جب ہم نے وہ عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے“۔ (فتح محمد جالندھری)
(جاری)
تحفظ ناموس صحابہ اور عالم اسلام کا داخلی خلفشار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس کے تحفظ و دفاع کا مسئلہ ہمیں اس طور پر ہمیشہ درپیش رہا ہے کہ کچھ لوگوں کی تحفظ ناموس صحابہ اور عالم اسلام کا داخلی خلفشارطرف سے ان مقدس ہستیوں میں سے چند ممتاز شخصیات کے خلاف منفی اور توہین آمیز گفتگو کے ردعمل میں اشتعال پیدا ہوتا ہے جو بعض اوقات تصادم کی حد تک جا پہنچتا ہے، جبکہ اس سال ملک بھر میں عام معمول سے ہٹ کر زیادہ تعداد میں اور مختلف مقامات پر ایسا ہوا ہے اس لیے ردعمل اور اشتعال کے دائرہ کا پھیلنا بھی فطری بات ہے جو ہر طرف دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی سطح پر ہمیں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ناموس و حرمت کا مسئلہ درپیش ہے کہ جب ہم ان مقدس و محترم شخصیات کی اہانت کو جرم قرار دے کر ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو انسانی حقوق اور آزادیٔ رائے کے عنوان سے ایسی گستاخیوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ احتجاج کرنے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ گستاخی، توہین اور تحقیر کو آزادیٔ رائے اور انسانی حقوق کے دائرے میں شمار کیا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہونے کے ساتھ ساتھ قطعی طور پر غیر منطقی اور غیر معقول بات بھی ہے۔ جبکہ یہی صورتحال ہمیں ملک کے اندر حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کے حوالہ سے درپیش ہے کہ جب ہم ان بزرگ ہستیوں کی اہانت و تحقیر پر احتجاج کرتے ہیں، اضطراب کا اظہار کرتے ہیں، اور گستاخی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہاں بھی انسانی حقوق اور آزادیٔ رائے کا واویلا شروع ہو جاتا ہے اور گستاخی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کارروائیاں سامنے آنے لگتی ہیں جس سے اضطراب اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم اس وقت ملک بھر میں اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں اور اہل سنت کے تمام مکاتب فکر کی طرف سے عوامی سطح پر جذبات کا بھرپور اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہم اس حوالہ سے دوہرے اضطراب اور دباؤ کا شکار ہیں کہ ایک طرف حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کی حرمت و ناموس مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کا مسئلہ ہے جس میں کسی قسم کی لچک قابل قبول نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف مشرق وسطٰی کی صورتحال سامنے ہے کہ عراق، یمن، لبنان، شام اور بحرین میں اسی قسم کے مسائل چھیڑ کر خانہ جنگی کا بازار گرم کر دیا گیا ہے اور اس خانہ جنگی کی فضا میں اسرائیل کو عرب ممالک سے تسلیم کرانے کے ایجنڈے پر امریکی استعمار مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے۔ حالات کا رخ یوں نظر آ رہا ہے کہ اسی طرح کی صورتحال پاکستان میں پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی ہے۔ چنانچہ ہمارا اس وقت کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ اور حمیت و جذبات کا تحفظ کریں اسی طرح ہماری یہ بھی ہماری ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرق وسطٰی کی صورتحال سے ہر قیمت پر بچائیں۔ اس لیے ان دونوں باتوں کو سامنے رکھ کر ہمیں آگے بڑھنا ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے کہ اہل سنت کے تمام مکاتب فکر کے اکابر اور سنجیدہ راہنما سر جوڑ کر بیٹھیں اور مشترکہ موقف کے ساتھ ساتھ متفقہ قیادت بھی قوم کو فراہم کریں۔
اس تناظر میں گزشتہ دنوں لاہور میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے لیے تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ راہنماؤں پر مشتمل مرکزی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کراچی میں اہل سنت کے تمام مکاتب نے جس جوش و ولولہ کے ساتھ اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کیا ہے، وہ لائق تحسین ہے اور پوری قوم کی طرف سے کراچی کے عوام اور تمام مسالک کی دینی قیادتیں مبارکباد کی مستحق ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ اس نازک اور حساس مسئلہ پر قوم کو مشترکہ موقف اور مشترکہ قیادت فراہم کی جائے تاکہ ماضی کے تلخ تجربات سے بچتے ہوئے ایمانی جذبات کے ساتھ ساتھ قومی وحدت کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔
دینی مدارس اور محکمہ تعلیم
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بعض اخباری اطلاعات کے مطابق
’’سندھ حکومت نے صوبے میں موجود مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے بریفنگ میں بتایا کہ سندھ میں ۸۱۹۵ مدارس اور امام بارگاہیں ہیں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں مدارس تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کیے جائیں گے اور انہیں محکمہ تعلیم رجسٹرڈ کرے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلٰی نے کہا کہ مدارس کا مفت تعلیم دینے میں اہم کردار ہے۔‘‘
ہمارے خیال میں دینی مدارس کے حوالہ سے سندھ حکومت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے اور اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون اور دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے فیصلوں کا ماحول پیدا کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس ہمارے معاشرہ میں اس خلا کو پورا کرنے میں ڈیڑھ صدی سے مسلسل مصروف ہیں جو ۱۸۵۷ء کے بعد ریاستی تعلیمی نظام و نصاب سے قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور عربی و فارسی زبانوں سے اخراج کے بعد پیدا ہو گیا تھا۔ اور جس سے واضح طور پر یہ خطرہ سامنے آگیا تھا کہ قومی تعلیمی نصاب کے یہ مضامین جو صدیوں سے جنوبی ایشیا کے تعلیمی نظام کا حصہ چلے آرہے تھے اور مسلم سوسائٹی کی بنیادی ضروریات میں شامل تھے، رفتہ رفتہ اجنبی ہو جائیں گے اور ان کا تسلسل سوسائٹی میں باقی نہیں رہے گا۔
دینی مدارس کا آزادانہ تعلیمی نظام جس ایثار و حوصلہ، کفایت شعاری اور اعتماد کے ساتھ ڈیڑھ سو سال سے اس سلسلہ میں مصروف عمل ہے، وہ تاریخ کا ایک روشن اور تابناک باب ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست کے حکمرانوں کی ذمہ داری تھی کہ جس طرح برطانوی حکمرانوں نے ریاستی تعلیمی نظام سے (۱) قرآن کریم (۲) سنت و حدیث (۳) فقہ و شریعت اور (۴) عربی و فارسی زبانوں کو خارج کر دیا تھا، اسی طرح پاکستان کے ریاستی تعلیمی نظام میں ان مضامین کو دوبارہ شامل کیا جاتا تاکہ تعلیمی نظام کی وہ دوئی ختم ہو جاتی جو انگریزی حکومت نے پیدا کر دی تھی۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا بلکہ اس کے برعکس دینی مدارس کو کسی نہ کسی طرح ادھورے اور یکطرفہ ریاستی تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کے دباؤ کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
دینی مدارس اس دوران مختلف محکموں کے درمیان فٹ بال بنے رہے اور دیدہ و نادیدہ اداروں کی مسلسل دخل اندازی کا شکار رہے۔ جس کا سب سے بڑا ہدف دینی مدارس کو ان کے آزادانہ تعلیمی کردار سے محروم کرنا اور ان کے جداگانہ دینی تعلیمی نصاب کو اجتماعی دھارے کے نام سے بتدریج تحلیل کر دینا دکھائی دے رہا تھا۔ مگر دینی مدارس کے وفاقوں نے حوصلہ اور تدبر کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کیا اور اب بھی وہ اسی آزمائش سے دوچار ہیں۔ چنانچہ اسی پس منظر میں دینی مدارس کے وفاقوں نے حکومت سے تقاضہ کیا کہ تعلیمی اداروں کے طور پر ان کے کردار کو تسلیم کیا جائے اور ان سے متعلقہ مسائل و معاملات کو محکمہ تعلیم کے ذریعے ڈیل کیا جائے، مگر اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم اور دینی مدارس کے وفاقوں کے درمیان باقاعدہ معاہدہ کے باوجود ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہو رہی اور مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان گلی ڈنڈے کا کھیل بدستور جاری ہے۔
دینی مدارس کا یہ تقاضا کسی طرح بھی ناقابل فہم نہیں ہے کہ وہ باقاعدہ تعلیمی ادارے ہیں، دینی تعلیم کے بنیادی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں خواندگی کی شرح بڑھانے کا مؤثر ذریعہ ہیں، اور ملک کے عام شہریوں کو مفت تعلیم دے کر وہ ذمہ داری بھی پوری کر رہے ہیں جو دراصل ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عام شہریوں کو مفت تعلیم مہیا کیا جائے۔ حتٰی کہ دینی مدارس تو مفت تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے نادار طبقات کے افراد کو رہائش اور خوراک، لباس اور علاج کی سہولتیں بھی بلا معاوضہ فراہم کر رہے ہیں جس کا اعتراف مذکورہ بالا خبر کے مطابق وزیر اعلٰی سندھ نے بھی کیا ہے۔ مگر دینی مدارس پر محکموں اور اداروں کا دباؤ کسی طرح کم نہیں ہو رہا حتٰی کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ غیر رجسٹرڈ مدارس کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔، دوسری طرف رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ نظام محکمہ تعلیم اور وفاقوں کے درمیان معاملات طے ہو جانے کے باوجود سامنے نہیں آرہا۔ جبکہ اس کے ساتھ رجسٹریشن کے حوالہ سے مختلف اطراف سے نئے نئے سسٹم دکھائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے معاملات سلجھنے کی بجائے ان کے الجھاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دینی مدارس کے بارے میں اصل ایجنڈا کنفیوژن اور دباؤ کو برقرار رکھنے اور انہیں اعتماد و اطمینان کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنے کا موقع فراہم نہ کرنے کا ہے، جس سے بے یقینی بڑھ رہی ہے۔
ان حالات میں سندھ حکومت کا یہ فیصلہ بہرحال خوش آئند ہے کہ دینی مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا اور ان کی رجسٹریشن محکمہ تعلیم کرے گا۔ یہ ایک مثبت پیشرفت محسوس ہوتی ہے جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم متعلقہ محکموں اور اداروں کو ایک اور کنفیوژن کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتے ہیں جو رجسٹریشن یا الحاق کے عنوان سے دکھائی دے رہی ہے۔
جہاں تک رجسٹریشن اور اس کے ذریعہ دینی مدارس کے ضروری معاملات کی نگرانی اور انجام دہی کا تعلق ہے وہ تو قابل فہم ہے، لیکن رجسٹریشن کے عنوان سے الحاق کا ماحول پیدا کرنے کی بات دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار اور ان کے جداگانہ تشخص و امتیاز کے منافی ہو گی، جسے قبول کرنا دینی مدارس کے اجتماعی ماحول کے لیے مشکل ہو گا۔ اس لیے دینی مدارس کے بارے میں جہاں یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے ہیں، وہاں یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں اور اپنا الگ تشخص اور جداگانہ نظام رکھتے ہیں، جس کا احترام کرنا ان کے تعلیمی کردار اور تاریخی تسلسل کا ناگزیر تقاضا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں اور محکمہ تعلیم کے درمیان یہ معاملات جلد از جلد خوش اسلوبی کے ساتھ طے ہوں گے اور دینی تعلیمی ادارے اپنے دینی و تعلیمی کردار کو اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکیں گے۔
مولانا امین عثمانی ؒ: حالات وخدمات اور افکار
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
حالیہ دنوں میں علماء حق اٹھتے جاتے ہیں اور ان کا کوئی متبادل بھی نظرنہیں آتا۔دو ستمبر2020کواسلامی فقہ اکیڈمی انڈیاکے سیکریٹری جنرل مولاناامین عثمانی بھی اس دارفانی کوخیربادکہہ گئے ۔ذیل کی سطورمیں مختصراًان کے حالات زندگی اورخدمات کا ایک جائزہ پیش کیاجارہاہے۔مولاناامین عثمانی، اس عثمانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جوپانی پت(ہریانہ ) میں آبادتھا۔ان کے اجدادتصوف کے چشتی سلسلہ سے وابستہ تھے اوربہارکے مشہورصوفی شیخ شرف الدین یحیٰ منیری کی شہرت سن کران سے استفادہ کے لیے بہارچلے گئے تھے۔ان کے خاندان میں ڈاکٹرمحسن عثمانی کے علاوہ طیب عثمانی ،شاہ رشادعثمانی وغیرہ اردوزبان وادب کے معروف مصنف و ادیب ہیں۔مولاناعثمانی کے والدشاہ عیسیٰ عثمانی فردوسی بھی ایک معروف عالم اور شیخ تھے۔انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں بھی تعلیم حاصل کی اور وہ بانی جامعہ ملیہ اورصدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کے شاگردتھے بلکہ استادکے بلانے پر انھوں نے جامعہ میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔انہوں نے دو کتابیں بھی لکھیں۔ان کا انتقال 1972میں تہجدکی نمازکے لیے وضوکرتے ہوئے ہواتھا۔
مولاناامین عثمانی نے مقامی مکاتب ومدارس میں پڑھنے کے بعدندوة العلماءلکھنوسے عا لمیت وفضیلت کی۔ بعدازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے بھی کیااور ان کا تقرربحیثیت اسسٹنٹ پروفیسراسی شعبہ میں ہوگیاتھا۔لیکن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز( IOS) کے بانی ڈاکٹرمحمدمنظورعالم اورقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؓ کی دعوت پروہ اپنی اس safe اورمحفوظ جاب کوچھوڑکرملی کاموں کے لیے ان کے ساتھ آگئے ۔کم ازکم راقم کی معلومات کی حدتک یہ واحدایسی مثال ہے کہ کوئی یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑکرملی کاموں کی طرف آیاہو،اس کا برعکس توبہت ہوتاہے۔ان کی ملی خدمت کے جذبہ کا عکس ان کے بچوں میں بھی بدرجہ اتم موجودہے چنانچہ صاحبزادہ ابان عثمانی بھی ملی کاموں میں سرگرم ہیں اوربیٹی ایمان عثمانی نے بھی، جوجامعہ ملیہ اسلامیہ میں انگریزی کی طالبہ ہیں، چند ماہ قبل سی اے این آرسی کے خلاف جامعہ کے طلبہ کی مہم میں جوش وخروش سے حصہ لیااورپولیس کی لاٹھیاں کھائیں۔
اپنی خاندانی روایات کے برعکس شیخ امین عثمانی کی فکری وابستگی تصوف کی بجائے اخوان المسلمون اورجماعت اسلامی سے ہوئی ،جن سے وہ زمانہ طالب علمی میں متاثرہوگئے تھے۔ یہ بات بھی رکارڈ میں لانا ضروری ہے کہ امین عثمانی صاحب مسلمان طلبہ کی اس تنظیم سے بھی تعلق رکھتے تھے جس کانام اسٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (ایس آئی ایم )ہے اورجس پر آج کل ہندوستانی حکومت نے تشددپسندی کاالزا م لگاکرپابندی عائدکرکھی ہے، اگرچہ یہ الزام کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوسکا۔اس تنظیم کی بنیادی فکرجماعت اسلامی کی فکرتھی اوراس زمانے کی ایس آئی ایم سے جماعت اسلامی اورملت اسلامیہ ہندیہ کوکئی قیمتی افرادملے، مثال کے طورپر ڈاکٹراحمداللہ صدیقی، ڈاکٹر محمد رفعت ، ڈاکٹرعبیداللہ فہدفلاحی ،ڈاکٹرمحمدذکی کرمانی ،امین عثمانی ،ڈاکٹرقاسم رسول الیاس اور مولانارضی الاسلام ندوی وغیرہ ۔اس تنظیم سے راقم بھی وابستہ رہاہے ۔بعدمیں کئی وجوہات سے اس میں علمی وفکری زوال آیا اور اس کے کام کرنے کے اندازواسلو ب میں حدسے زیادہ جوش اورابال بڑھنے لگاتوجماعت اسلامی ہندنے اس تنظیم سے اپنا ضابطہ کا تعلق توڑکراپنی دوسری طلبہ تنظیم ایس آئی اوکے نام سے قائم کی جوجماعت کی سرپرستی میں کام کرتی ہے۔ راقم اس ممنوعہ تنظیم سے وابستہ تورہالیکن اس نے اس کا کوئی فکری وتربیتی اثرقبول نہیں کیا۔اس کے مقابلہ میں لکھنو میں مولانا ظہیر احمدصدیقی کی قائم کردہ الجمعیۃ الخیریۃ لمساعدة الطلاب کے تربیتی ورکشاپ اورپروگرام اس کے لیے زیادہ اپیلنگ اور موثر ثابت ہوئے جواخوان المسلمون کے منہج تربیت سے قریب ہوتے تھے ۔ یہ جمعیۃ اب رفاہی وفلاحی کاموں کے لیے وقف ہوکررہ گئی ہے ۔
بہرکیف شیخ امین عثمانی وفات تک جماعت اسلامی ہندکے رکن رہے اورجماعت کے تحقیقی ادارہ ،ادارہ تحقیق وتصنیف علی گڑھ کے ممبر بھی رہے۔وہ اردوعربی اورانگریزی تینوں زبانوں پر یکساں لکھنے اور بولنے کی قدرت رکھتے تھے۔مشہوراخوانی داعیہ مرحومہ زینب الغزالی الجبیلی کی جیل کی رددادکا ترجمہ :”زندان کے شب وروز“کے نام سے کیا تھا جو 1982میں ہندوستان پبلکیشنزسے شائع ہواتھااورعالمی طلبائی تنظیم اِفسونے بھی ا س کو تقسیم کیاتھا۔اسی کتاب کا نسبتازیادہ مشہورترجمہ خلیل حامدی صاحب کا کیاہوابھی ہے ۔یوں تو جماعت اسلامی کے رکن اوراخوان المسلمون سے فکری مناسبت رکھتے تھے تاہم ان کی یہ وابستگی بندبنداورClosed mind نہ تھی۔ وہ مختلف ملکوں، تنظیموں اور اداروں میں ہو رہے مختلف تجربا ت پر نظررکھتے تھے۔چنانچہ جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے عربی مدارس کے فارغین کے لیے برج کورس شروع کیاتوشیخ امین عثمانی نے اس میں دل چسپی لی ،اس کے دوسیمیناروں میں شریک ہوئے اورا س کی تائید میں مضمون بھی لکھاکیونکہ بعض علما اوراہل مدار س کی طرف سے اس کی بڑی مخالفت شروع کردی گئی تھی۔ ویسے عملی طور پران کی ہندوستان کے مسلم تھنک ٹینک آئی اوایس اور فکراسلامی کے بین الاقوامی مرکزIIIT (واشنگٹن ) سے بہت قربت تھی اوران میں عملی وفکری شمولیت رکھتے تھے۔
مولاناامین عثمانی ایک بہترین مربی ،فکری رہنمااورنوجوان علماکی رہنمائی کرنے والے انسان تھے ۔وہ نئے نئے مضامین اورموضوعات پر ہمیشہ سوچاکرتے اوراپنے حلقہ فکرکے مختلف نوجوانوں کو ان موضوعات پر پڑھنے اوران پر لکھنے کے لیے آمادہ کرتے اوراس سلسلہ میں برابرایس ایم ایس پیغام ،ای میل اورٹیلی فون اورخطوط سے رابطہ کرکے توجہ دلاتے رہتے تھے۔کچھ کومسلم ممالک میں ہونے والے علمی مذاکرات وسیمیناروںکی طرف متوجہ کرتے، ان کے لیے پیپرلکھواتے اوربعض کو ان میں بھیجنے کی بھی کوشش کرتے ۔یہی نہیں بلکہ اکیڈمی کے بعض علماءکرام کی شہرت ومقبولیت بھی تمام ترامین صاحب کی کوششوں کی مرہون منت ہے۔
وہ طویل عرصہ سے اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا(قیام 1988)کے روح روا ں تھے۔مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؓ (بانی فقہ اکیڈمی)کے کئی دہائیوں تک ساتھ رہے اورفقہ اکیڈمی کوالمعہدالعلمی جیسے ایک چھوٹے سے منصوبہ سے لے کر ایک بڑے اوراہم علمی وفکری ،شرعی اورفقہی تحقیقی ادارہ کے طورپر دنیابھرمیں متعارف کرانے کا سہرا انھی کے سر جاتا ہے۔دوسرے علمی اداروں سے روابط اوراکیڈمی کومالیات فراہم کرانے میں بھی ان کا بڑا کردار رہا۔ ہندوستان میں بنیادی طورپر فقہ حنفی کو فالو کیاجاتا ہے ۔اسلامی فقہ اکیڈمی اوردیوبندکے مکاتب فکربھی اس کی ترجمانی کرتے ہیں۔تاہم مولاناامین عثمانی کا فقہی تصورکاسموپولیٹن فقہ کا تھا۔یعنی فقہ کے چاروں مکاتب فکرسے استفادہ بلکہ ضرورت پڑنے پر ان سے باہرجاکرقرآن وسنت کے نصوص سے آزادانہ استفادہ کرنے اورنئے مسائل کو حل کرنے کا وہ رجحان رکھتے تھے۔خاص طورپر مقاصدشریعت پر انہوں نے فکراسلامی کے بین الاقوامی مرکزIIIT (واشنگٹن )کی شائع کردہ عربی وانگریزی کتابوں کا اردوترجمہ شائع کراکرہندوستان کے چیدہ علما،طلبااورفقہ سے دل چسپی رکھنے والوں کو روانہ کیااوریہاں کے مدارس اورتحقیقی اداروںمیں فقہ مقاصدی کا ایک طرح سے تعارف کرایا۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کومستثنی کردیں تو برصغیرمیں فقہ مقاصدی یا مقاصدشریعت کے مطالعہ کا کوئی رواج نہیں ہے ،اس کی طرح یہاں فقہ اکیڈمی نے ڈالی ہے ۔ان کے ان نئے اور نامانوس کاموں کی روایتی علماکی طرف سے خاصی مزاحمت بھی ہوئی ۔ کہاگیاکہ فقہ اکیڈمی” فقہ حنفی کا جنازہ“ نکال رہی ہے ،مگرامین عثمانی صاحب(اورقاضی صاحب مرحوم بھی) جس چیز کوصحیح سمجھتے تھے، اس کے باے میں کسی لومۃ لائم کی پروانہیں کرتے تھے۔
یہاں یہ ذکرکرنامناسب ہوگاکہ طلاق ثلاثہ پرہندوستان کی سپریم کورٹ نے پابندی عائدکردی ہے۔ حکمران فسطائی جماعت نے اِس کا بڑاپروپیگنڈا کیاتھاکہ وہ تین طلاق سے مسلمان خواتین پر ہونے والے ظلم کوروکے گی ۔جب یہ مسئلہ کورٹ میں زیربحث تھا، اُس وقت ملک کے بعض علماودانشوروں نے یہ رائے اختیارکی تھی کہ مسلم فریق (آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ )کواپنے فقہ حنفی پر مبنی موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے اورخودآگے بڑھ کراس مسئلہ میں ابن تیمیہ ؒاورجماعت اہل حدیث کی رائے اختیارکرلینی چاہیے۔یہی رائے شیخ امین عثمانی کی تھی ۔انہوں نے اس سلسلہ میں علامہ یوسف القرضاوی اورترکی کے صدرمفتی کا فتوی بھی منگایا تھااور راقم کی گزارش پر اس کوبھی بھیجا تھا۔ یہ دونوں حضرات بھی فقہ حنفی کوہی Followکرتے ہیں، مگرحالات زمانہ کی رعایت سے انہوں نے اس مسئلہ میں دوسرا آپشن اختیار کیاہے۔تاہم علماکی اکثریت نے اِس کوتسلیم نہیں کیااورنہ اپنے موقف میں کوئی لچک پیداکی اوراِس کا جو نتیجہ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔
مولاناامین عثمانی صاحب ہندوستان کی موجودہ صورت حال ،ہندتو کی قوتوں کے غلبہ اورمسلمانوں کی ہمہ جہت زبوں حالی کے بارے میں فکرمندرہتے تھے ۔اس سلسلہ میں وہ سنی سنائی نہیں بلکہ فرسٹ ہینڈمعلومات رکھتے تھے، مسلم نوجوانوں،فارغین مدارس اورملی کارکنوں کو اس کے لیے تیاری کرنے کے طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔اس موضوع پر اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے متعددورکشاپ اورلیکچربھی انہوں نے کرائے۔کچھ عرصہ پہلے مدارس کے ارباب اہتمام کو اس جانب متوجہ کرنے کے لیے انہوں نے اہم اوربڑے مدارس کوخط بھی لکھااوران کواس با ت پر ابھارا کہ یہ مدار س اپنے نصابوں میں ہندوستانی مذاہب ،ہندی تہذیب وکلچرکے بارے میں کوئی ایک پیریڈمختص کریں یا کم ازکم ان موضوعات پر توسیعی لیکچرہی کروائیں۔راقم کوبھی انہوں نے ایک کاپی اس خط کی بھیجی تھی۔
مرحوم عثمانی مسلم دنیاکے مسائل وایشوز سے، خا ص کرفلسطین ،بیت المقدس اورشام(سیریا) کی موجودہ صورت حال سے قریبی واقفیت رکھتے تھے۔اس مسئلہ پر انہوں نے بہت سی کتابوں،کتابچوںاورمقالوں کے عربی سے اردو میں ترجمے کروا کر شائع کیے۔ماہنامہ افکارملی دہلی (جس سے راقم 15سال وابستہ رہا)نے فلسطین پر ایک خاص نمبرشائع کیا تواس میں موادکی فراہمی میں بڑاحصہ انھی کا رہا۔شام کے اوپر پروفیسرمحسن عثمانی صاحب کے تحریرکردہ کئی رسالے اور کتابچے شائع کرائے۔راقم سے بھی ایک فلسطینی اسکالرمجاہدالقاسمی کے لکھے ہوئے ایک رسالہ: فلسطین المضطہدة کا ترجمہ کرایا۔ اسی طرح علامہ یوسف القرضاوی کی کتاب :القدس قضیۃ کل مسلم کا ترجمہ راقم سے کروایا۔یہ دونوںشائع شدہ ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک اخوانی عالم عبدالفتاح الخطیب کی کتاب قیم الاسلام الحضاریۃ اردوترجمہ کرنے کے لیے مجھے دی تھی ،جس کااردو نام ہے :اسلام کی تہذیبی قدریں۔نئی اسلامی انسان پروری کے خدوخال ۔چنانچہ ابھی ایک عشرہ پہلے اسی کا مسودہ لے کرمیں ان کے مکان پر حاضرہواتھا۔ انہوں نے دیرتک مختلف موضوعات پر باتیں کیں۔اس کتاب پر ایک قیمتی اورجامع پیش لفظ لکھا۔پھرمیں علی گڑھ چلا آیا۔چنددن بعدہی سوشل میڈیاپر ان کی شدیدعلالت کی خبریں آئیں اورپھران کے انتقال پرملال کی ۔
مولاناامین عثمانی نے فقہ اکیڈمی کے آغازہی میں مدارس کے فارغین کے لیے تربیتی ورکشاپ اور جدید موضوعات پر توسیعی لیکچروں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان معلوماتی ومفید لیکچروں کوانہوں نے فقہ اکیڈمی سے شائع بھی کرایا اور بڑے پیمانے پران کونوجوانوں اورفارغین مدارس میں تقسیم بھی کیاجن میں عالم اسلام کی اقتصادی صورت حال،عالم اسلام کی سیاسی صورت حال اورعالم اسلام کی اخلاقی صورت حال(مصنفہ جناب اسرارعالم ) وغیرہ ہیں۔
یادش بخیرراقم جب ندوہ العلماء میں پڑھتا تھاتو پہلے پہل یہی مقالے مولاناامین صاحب سے ملاقات کا باعث بنے اورا س کے بعد انہوں نے خاکسارپر بڑی توجہ فرمائی اورتعلیمی وفکری رہنمائی بھی کی ۔لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعدکچھ دن میں نے لکھنوکے ایک فکری ادارے معہدالفکرالاسلامی (حال نالج اکیڈمی )میں کام کیا۔ پھر وہاں سے چھوڑکردہلی آیا تو تقریباچھ مہینے اسلامی فقہ اکیڈمی میں شیخ امین عثمانی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملااوران کی وسعت علم کے ساتھ ان کی انتظامی صلاحیتوں خاص کرپلاننگ والے زرخیزذہن سے واقفیت ہوئی ۔ہندوستان کے معروف فقیہ وعالم مولانابدرالحسن قاسمی (مقیم کویت )نے ایک آن لائن تعزیتی نششت میں بتایاکہ شیخ امین عثمانی قاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب کے دست وبازواس طرح بن گئے تھے کہ شیخ امین صاحب جلدی جلدی نئے نئے علمی وفکری منصوبے بناکران کودیتے اورقاضی صاحب اکثران سے اتفاق کرکے ان کونافذکردیتے، چنانچہ فقہ اکیڈمی نے بہت جلدی ترقی کی اورملک وبیرون ملک میں اس کی ایک ساکھ قائم ہوئی ۔
یادرہے کہ فقہ اکیڈمی نے اب تک تقریبا28فقہی سیمینارمختلف علمی وفقہی اورجدیدموضوعات پر کیے ہیں جن کے مقالات کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں اوران کا حوالہ دیاجاتاہے۔اسی طرح فقہ اکیڈمی نے کویت سے شائع ہوئے ہوئے موسوعۃ الفقہ الاسلامی کا اردومیں 45جلدوں میں ترجمہ کرایااوران کوشائع کرایا۔امین صاحب کوبڑے مواقع ملے کہ وہ دنیا کمائیں،شہرت حاصل کریں مگرانہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کواسٹیج سے دوررکھا،زمینی سطح پر کام کیااورفقہ اکیڈمی کو عالمی ادارہ بنانے میں بنیادکے پتھرکی طرح کام کیا۔اکیڈمی کی تاریخ ان کے ذکرجمیل کے بغیرادھوری رہے گی ۔
مولانابدرالحسن صاحب نے امین صاحب کو”کئی دماغوںکا ایک انسان “کے معنی خیزنام سے یادکیاہے۔ان کا مضمون سوشل میڈیاپر گردش کررہاہے ۔اس میں وہ لکھتے ہیں:”امین عثمانی اورفقہ اکیڈمی دونوں ایک دوسرے کے لیے ایسے لازم وملزوم ہوگئے تھے کہ ایک کا تصوردوسرے کے بغیرذہن میں آتاہی نہیں ہے۔ فقہ اکیڈمی ہی ان کی زندگی تھی، وہی ان کے لیے زندگی کا سرمایہ تھی اور اسے انہوں نے اپنے خون سے سینچا تھا ، اسی کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ ہرپروگرام کے لیے ان کے ذہن میں دسیوں تجاویز ہواکرتی تھیں۔ ان کو سیمیناروں، فقہی وفکری کانفرنسوں اور مختلف علمی موضوعات پر اجتماعی پروگرام منعقدکرنے کا خاص ملکہ تھا۔بہت جلد وہ اس کا خاکہ بناتے، اسباب وسائل فراہم کرنے کی کوشش کرتے، مناسب شخصیات کا دنیاکے مختلف ملکوں سے انتخاب کرتے اور پوری توجہ سے اس کی تنفیذمیں لگ جاتے تھے۔انتظام کے بعدپھروہ خودعمومااسٹیج سے روپوش ہو جاتے تھے،اسٹیج پر آنے سے ان کوکوئی دل چسپی نہیں تھی لیکن پروگرام کی کامیابی کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتے تھے۔ ان کے بنائے ہوئے خاکے اورمنصوبے اتنے زیادہ ہیں کہ ڈاکٹریٹ کا عنوان بن سکتے ہیں۔ ان کے پیش کردہ مشروعات پر عربوں کوبھی حیرت ہوتی تھی جواسباب وسائل کی فراہمی میں معاون ہوتے تھے ۔“
استاذمحترم اورمدرسہ ڈسکورسزکے بانی پروفیسرابراہیم موسی ٰ نے اس بات کا ذکرکئی موقعوں پر کیاکہ مدرسہ ڈسکورسزکے قیام کے لیے ان کوامین عثمانی صاحب نے خوب مہمیزکیااوراس سلسلے میں ان کومتعددخطوط لکھے۔ مرحوم عثمانی کواس پروگرام سے خاصی دلچسپی تھی چنانچہ وہ میری معلومات کی حدتک اس کے تین پروگراموں میں شریک ہوئےاوراس فکری وعلمی پراجیکٹ کے حوصلہ افزا نتائج سے بڑے پرامیدتھے۔ اس کے علاوہ قومی سطح پروہ آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کے رکن تھے تو عالمی سطح پر علماکی عالمی انجمن (صدریوسف القرضاوی )کے رکن بھی تھے۔
ان کا یوں اچانک چلا جانا ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے ایک حادثہ سے کم نہیں ہے۔
آسماں ان کی لحدپر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھرکی نگہبانی کرے
تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پنجاب کا ایک رخ
ڈاکٹر اختر حسین عزمی
تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ جس میں انبیائے کرامؑ، خاتم النبیین ، ازواج مطہراتؓ ، صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین کے ناموں کے ساتھ القابات اور دعائیہ کلمات کو لکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اعتبار سے ایک اچھی قانونی پیش رفت ہے کہ اسلام میں جو محترم ومقدس اور معتبر ہستیاں ہیں ، جن سے مسلمانوں کی ایک عقیدت وابستہ ہے، ان کا تذکرہ عام دنیاوی رہنماﺅں کی طرح نہ کیا جائے، اسے کچھ اصول وآداب کا پابند بنایا جائے۔ لیکن مذہبی اعتبار سے یہ جتنا حسّاس موضوع ہے ، اس قانون کے مسودے کی نوک پلک سنوارنے والوں نے اس کی نزاکتوں کا احساس کیے بغیر اسے عجلت میں پاس کر دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے اسے ریاست مدینہ کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے ، اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ چند اسلام پسند قلمکاروں نے بھی اس کی تعریف وتحسین کی ہے۔
ستمبر ۲٠۲٠ء کے ماہنامہ افکار معلم میں شائع شدہ اور یا مقبول جان کے مضمون میں اس ایکٹ کے پاس ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو تحسین کا مستحق قرار دیا گیا ہے اور وزیر اعظم پاکستان کو بھی پورے ملک میں اس قانون کو نافذ کر کے یہ سہرا اپنے ماتھے پر باندھنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ ماہنامہ ”افکار معلم “ کے مدیر کے مطابق بھی یہ قانون فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے لیکن ہمارا تاثر یہ ہے کہ ہمارے ان احباب نے اس بل کے تمام مندرجات کو دیکھے بغیر اس سے اتنی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ انبیائے کرامؑ، اصحاب رسول اور ازواج مطہراتؓ کے ناموں کو عزت واحترام سے لینا ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن تحریرو تصنیف میں ان کے ناموں کے ساتھ اس طرح سابقے لاحقے اور القاب وآداب لگانا کیا شرعی لحاظ سے امرواجب ہے؟،اور کیا یہ قابلِ عمل بھی ہے ؟ ہمارے اہل علم کی چودہ سو سالہ تصنیفی روایت میں اس کا کتنا اہتمام ہے؟، یہ ایکٹ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور اشاعت کتب میں معاون ہے یا کہ رکاوٹ ؟۔اہل علم کو اس ایکٹ کے ان پہلوﺅں پر تفصیلی بحث کرنا چاہیے ۔ اب ہم اس ایکٹ کی کچھ دفعات کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔
ایکٹ کے سیکشن ۸ کی ۵ تا ۱۱ شقوں کے مطابق حضور کے نام سے پہلے خاتم النبیین ،آخری نبی یا The Last Prophet اور نام کے بعد عربی ٹیکسٹ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھنا ہو گا ۔ ہر نبی کے نام کے ساتھ علیہ السلام ، ازواج نبی کے ناموں سے پہلے امہات المومنین اور بعد میں رضی اللہ عنھا ، خلفائے راشدین کے اسمائے گرامی سے پہلے خلیفہ راشد یا امیر المومنین اور بعد میں رضی اللہ عنہ لکھنا ہو گا۔ بنی کے تین صاحبزادوں اور چار صاحبزادیوں ،اہلِ بیت اور نواسے نواسیوں اور صحابی وصحابیہ کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ یا رضی اللہ عنھا لکھنا ہو گا۔
(۱)یقینا انبیائے کرام کی محبت اور احترام کا تقاضا ہے کہ ہم ان پر بار بار صلوة وسلام کہیں۔ درود کی فضیلت اور اس کے موجب اجر وثواب ہونے پر ساری امت متفق ہے لیکن ان کا نام لیتے ہوئے کیا ہر مرتبہ یا ایک مجلس میں ایک مرتبہ یا کہ زندگی میں ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے، واجب ہے ۔؟یقینا حضور پر صلاة وسلام بھیجنا سنت اسلام ہے ۔خصوصاً نماز میں اس کے پڑھنے پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔ جب آپ کا نام آئے تو درود پڑھنا مستحب ہے۔ اس امر پر بھی اجماع ہے کہ زندگی میں ایک مرتبہ آپ پر درود پڑھنا فرض ہے۔ لیکن اس کے بعد درود کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ امام شافعی ؒ اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک نماز میں صلوة علی النبی پڑھنا فرض ہے۔ اس کے بغیر نماز نہ ہو گی۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک اور جمہور علما کے نزدیک درود زندگی میں صرف ایک مرتبہ پڑھنا فرض ہے کلمہ شہادت کی طرح ۔ اہل علم کے ایک گروہ کے نزدیک حضور کا نام جب بھی آئے درود پڑھنا واجب ہے اور ایک گروہ کے نزدیک ایک مجلس میں حضور کا ذکر خواہ کتنی مرتبہ آئے ، درود بس ایک دفعہ پڑھنا واجب ہے۔ (تفہیم القرآن ، ۴/۱۲۷)
جب ہر بار نام آنے پر ان اہل علم کے نزدیک صلوة پڑھنا لازم نہیں تو آج ایک ایکٹ کے ذریعے کسی بھی تصنیف میں اس کو ہر جگہ لکھنا لازم کرنا کیا لکھنے والے مسلمانوں پر وہ بوجھ نہیں لادا جا رہا جس کا شریعت نے اپنے ماننے والوں کو مکلف ہی نہیں کہا۔ اور” عدم تکلیف“ فقہ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔ لا یُکلف اللّٰہ نفساً ِالّا وُسعھا (البقرہ ۲: ۲۸۶) ”اللہ کسی بھی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔“
(۲) یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ آپ کے نام سے پہلے خاتم النبیین لکھا جائے ۔ ہمارے بعض سادہ لوحوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے ختم نبوت کے منکروں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اب ان سادہ اندیشوں کو کون سمجھائے کہ قادیانیوں کو بھی خاتم النبیین لکھنے، کہنے اور بولنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ لیکن وہ خاتم النبین کی تشریح ایسی کرتے ہیں کہ اس سے آخری نبوت کا انکار لازم آتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے وہ خاتم النبیین لکھتے ور بولتے رہیں گے۔
(۳)صحابہ کرام کے لیے یقینا اللہ نے اپنی رضا مندی کا اظہار رضی اللہ عنھم کے الفاظ سے کیا ہے۔ اور ان سے ہمارے ایمان اور محبت کا تقاضا ہے کہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے لیے یہ دعائیہ کلمات کہے جائیں ۔ لیکن سوال ہے تحریر میں اس کے شرعی لزوم کا۔ حدیث کے قدیم تریم نسخوں میں کہیں صحابی کے نام کے ساتھ اس کا اہتمام موجود ہے اور کہیں نہیں ہے۔ اب ہمارے دیگر اہل علم اور مصنفین کی کتب میں بھی یہی صورت حال ہے۔لیکن خلیفہ راشد یا ام المومنین کے الفاظ تو ایک آدھ جگہ ہی ہیں۔
اب میرے پاس الہلال بک ایجنسی شیرانوالہ گیٹ لاہور کی ۱۹۲۵ءاور ۱۹۲۷ءکی شائع شدہ امام ابن تیمیہؒ اور امام ابن قیمؒ کی پانچ کتابیں (اردو ترجمہ) موجود ہیں ۔ جن میں جہاں بھی صحابی کا نام آیا ہے انھوں نے صرف ؓ کی علامت ڈال دی ہے ۔پورا رضی اللہ عنہ نہیں لکھا۔ ہمارے ہاں عموماً اہلحدیث اور دیو بندی حضرات رضی اللہ عنہ کے الفاظ صحابہ کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں جب کہ بریلوی مکتب فکر دیگر صلحاءواولیاءکے لیے بھی ان کے استعمال کے قایل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چودھری غلام رسول مہر نے اپنی کتاب ”سیرت امام ابن تیمیہ “ کے ٹائٹل پر ان کے لیے رضی اللہ عنہ لکھا ہے۔ ابن تیمیہ کی کتاب رفع الملام (مترجم سید ریاست علی ندوی)اور خلاف الامۃ (مترجم مولانا عبدالرحیم) اور ابن قیم کی اسلامی تصوف پر کتاب طریق الہجرتین(مترجم مولانا عبدالرحیم )کے ٹائٹل پر دونوں ائمہ کے ناموں کے ساتھ پورے اہتمام سے رضی اللہ عنہ لکھا ہوا ہے۔ حالانکہ ان سب کتابوں کے شائع کرنے والے سلفی الفکر ہوں یا حنفی ، بہرحال وہ بریلوی مکتب فکر کے نہیں ہے۔ لیکن آج اہلحدیث حضرات اس کی گنجائش کو تسلیم کرنے کے لیے قطعاًتیار نہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انبیاءصحابہ اور اولیاءمیں فرق وامتیاز کرنے کے لیے ان الفاظ کا الگ مرتبہ و مقام کے مطابق اختیار کرنا، فروغ دینا اچھی بات ہے لیکن اس کے لیے کوئی ایک سخت اصول بنا لینا مناسب نہیں ہے۔ رضی اللہ عنہ کے الفاظ کی تخصیص تو رہی ایک طرف خود، صلوٰة کی نسبت ابنیاءکے علاوہ نیک بندوں کی طرف اللہ نے قرآن میں کی ہوئی ہے۔ اولئک علیھم صلٰوات من ربھم (البقرہ۱۵۷:۲) وصلِّ علیھم (التوبہ :۱٠۳) ھو الذی یصلّی علیکم (الاحزاب :۴۳)
اسی طرح حضور نے صحابی ابی اوغیٰ ، سعد بن عبادہ ، جابر بن عبداللہ اور دیگر افراد کے لیے صلِّ علیٰ کے الفاط استعمال کیے جن کی بنیاد پر قاضی عیاض مالکی ودیگر اسے مطلقاً ہر نیک انسان کے لیے جائز قرار دیتے ہیں ۔البتہ جمہور امت کے نزدیک یہ اختیار صرف رسول اللہ کا تھا، ہمارے لیے نہیں ۔ اب یہ مسلمانوں کا شعار بن چکا ہے کہ صلوٰة وسلام ابنیاءکے لیے مخصوص ہے۔ پانچویں خلیفہ راشد عمربن عبدالعزیز نے صلوٰة کو حکما رسول اللہ کے لیے مخصوص فرما دیا۔ (روح المعانی بحوالہ تفہیم القرآن ۴/۱۲۸)
(۴) ایکٹ میں ایک اور بوجھ جو لکھنے والوں پر ڈال دیا گیا ہے کہ وہ نبی کے نام کے ساتھ پہلے خاتم النبیین ازواج مطہرات کے نام کے ساتھ ُام المومنین اور خلفائے راشدین کے نام کے ساتھ خلیفہ راشدبھی لکھیں۔ اب اس بات کی ایکٹ میں کوئی وضاحت نہیں کہ کیا یہ ایک مضمون یا کتاب میں ایک بار یا ہر بار لکھنا ہے۔ اب یہ اہتمام تو چودہ سو سالہ تاریخ میں کسی سیرت نبوی اور سیرت ازواج مطہرات اور سیرت صحابہ وخلفائے راشدین کی کتابوں میں بھی نہیں ہے جب کہ دین بیزار طبقہ پہلے ہی لوگوں کو دین سے متنفر کرنے کے لیے اہل دین کی باتوں کا مذاق بنانے کے مواقع تلاش کرتا رہتا ہے۔
اس ایکٹ میں وضاحت نہیں ہے کہ کیا وہ کتابیں جو سیرت نبوی اور سیرة صحابہ پر ادبی اسلوب میں لکھی گئی ہیں اور ان میں حضور یا صحابی کے نام کے ساتھ حضرت یا خاتم النبیین کے سابقے لاحقے نہیں ہوتے تو کیا انھیں گستاخی قرار دیا جائے جب کہ ادبی اسلوب کی کتابیں حُبِّ رسول میں ڈوب کر لکھی گئی ہیں۔ پھر ایک شاعر اپنے شعر میں محمد یا ابوبکر وعمر کا تذکرہ کرتا ہے تو اگر اس ایکٹ کی رو سے وہ پہلے خاتم النبیین یا خلیفہ راشد لکھے گا تو اس کے شعر کا وزن کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔
اقبال کے مصرعے: ’’دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے‘‘ کو کیا اب یوں لکھا جائے گا: دہر میں اسم خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اجالا کر دے۔
اب یہ اہتمام نہ حسانؓ بن ثابت کی مدح رسول میں نظر آئے گا نہ حفیظ تائب کی نعت گوئی میں۔ بلاشبہ ایکٹ کی یہ شق مسلمانوں کو تنگی میں ڈالنے والی ہے۔ اور فقہ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول” عدم حرج“ ہے کہ تفقہ فی الدّین مسلمانوں کو تنگی میں ڈالنے کے لیے نہیں فراخی کے راستے پر چلانے کے لیے ہے۔ وَما جعل علیکم فی الدّین مِن حرج (الحج ۷۸:۲۲)”اور تم پر دین کی کسی بات میں تنگی نہیں رکھی“۔
(۵)اب سیکشن ۳ کی شق ایف میں ملاحظہ ہو:
جو شخص اللہ تعالیٰ ، حضور اور دیگر مذکورہ مقدس شخصیات ، قرآن ، تورات ، زبور، انجیل ، دین اسلام پر تنقید کرے گا یا ان کو Defameیا Disrepute (شہرت خراب )کرے گا ۔ اسے پاکستان کے پینل کوڈ 1860 یا کسی اور قانون کی رو سے سزا دی جا سکے گی۔ اس سیکشن کی زد سب سے پہلے تو قرآن پر پڑے گی کیونکہ قرآن بار بار تورات اور انجیل کے بارے میں کہتا ہے کہ یہود ونصاری نے ان میں تحریف کر ڈالی ہے۔ اب قرآن نے تورات انجیل کو Disrepute کر دیا تو اس ایکٹ کی رُو سے مقدمہ کس پر چلے گا (نعوذ باللہ ) اب وہ تمام علمی وتحقیقی کتابیں جو تورات وانجیل کو تحریف شدہ کتاب ثابت کرنے کے لیے مسلمان علماءنے لکھیں ، رحمت اللہ کیرانوی سے لے کرشیخ احمد دیدات اور ڈاکٹر ذاکر نائیک تک ،سب اس قانون کی زد میں آ چکی ہیں۔
(۶)اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ ہر ایکٹ اشاعتِ کتب اور کتب بینی میں معاون بنے گا یا کہ رکاوٹ۔ ایکٹ کے سیکشن ۵ تا ۱۳ کی شقوں کا خلاصہ یہ ہے کہ :
۱۔ یہ تحقیق ڈی جی پبلی کیشنز کے اختیارمیں ہو گی کہ کسی کتاب میں کوئی ایسا مواد تو نہیں جس میں ایکٹ کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے اختیارات کسی بھی مجاز افسر کے سپرد کر سکتا ہے۔
۲۔ جس دن کتاب چھپے، اسی دن پبلیشر مجاز افسر کو اس کی چار کاپیاں فراہم کرنے کا پابند ہے (کیا یہ قابل عمل ہے؟)سیکشن ۸ شق ۲ کہتی ہے کہ کسی بھی کتاب کو چھاپنے کے لیے طے کردہ طریقے کے مطابق درخواست وینی ہو گی اور اس کی طے کردہ فیس جمع کرانی ہو گی۔ (یہ شق کتابوں کی اشاعت کو آسان کرے گی یا مشکل؟)۔
سیکشن ۹، شق ۱ کے مطابق پبلشر یا بک سیلر مجاز افسر کے طے کردہ طریقے کے مطابق منظوری کے بغیر کوئی کتاب فروخت نہ کر سکے گا۔ ایکٹ کی خلاف ورزی پر یا نچ سال سزا اور پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا۔ یہ قانون پبلشر کو اتنا خوف زدہ کرے گا کہ وہ کتاب چھاپتے وقت سو مرتبہ سوچے ۔ ان کے علاوہ آٹھ دس اور پابندیاں ہیں جن کا ذکر ہم طوالت سے بچنے کے لیے نہیں کر رہے اب ایک تو پاکستان میں پہلے ہی کتاب بینی کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے اور جب پبلشر حضرات کو اتنا ڈرایا جائے گا کہ اسے ہر سُو پابندیاں ہی پابندیاں ، جرمانے اور سزا کا خوف دامن گیر ہو گا تو وہ اس کاروبار میں کیوں خود کو کھپائے گا۔
دوسرا ن اختیارات کا مجاز افسروں کے ہاتھوں استعمال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ لکھنے والوں کے لیے ان احکامات کی پابندی پوری کرنا ممکن ہے اور نہ اشاعتی اداروں کے نگران سرکاری حکام کے پاس اتنا وقت کہ وہ کسی کتاب کے ایک ایک لفظ کا حساب لگائیں۔ ہو گا صرف یہی کہ جس کسی پبلشر یا مصنف کی کتاب کا کوئی مخالف ہوگا ۔وہ اس میں سے آسانی سے ایسے چند نقائص نکال کر مجاز افسر کو دے دے گا اور مجاز افسر کی مرضی پر ہے کہ وہ ان الفاظ والقابات پر چاہے تو مصنّف وپبلشر کو قانون کے شکنجے میں کس دے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔ اور اس ایکٹ کا استعمال بھی زیادہ تر مذہبی کتب کے خلاف ہوگا۔ یہ ایکٹ فروغ مذہب کی بجائے مذہبی کتابوں کے پبلشرز کے اوپر ایک لٹکی ہوئی تلوار ہو گا۔ ہماری بیوروکریسی جو پہلے ہی کام کو لٹکانے اور الجھاﺅ پیدا کرنے میں ماہر ہے۔ یہ اسے مزید با اختیار کرنے کا قانون ہے کہ وہ کسی بھی کتاب کو قبل ز اشاعت یا بعد از اشاعت عوام تک پہنچنے سے روک سکے۔
رہا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ تو اس کا نظارہ گذشتہ دنوں کے شیعہ سُنّی بیانات اور کشیدگی کی صورت میں ہم کر چکے ہیں ۔ صحابہ کرام ، ازواج مطہرات اور خلفائے راشدین سے متعلق ان کے عقائد ونظریات کا فرق ایک بیّن حقیقت ہے۔ اس سے آنکھیں بند کر کے کلہیا میں گڑپھوڑنے کی کوئی کوشش کریں گے تو وہ پنڈورا باکس کھلے گا کہ ہمارے ارباب اختیار اس کو سنبھال نہ سکیں گے کیونکہ ان کے پاس مذہبی ہم آہنگی کو قائم رکھنے کا کوئی میکنزم سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سوائے خالی خولی امن کمیٹیوں کے۔ اور اس بات کو ہماری یکجہتی کا دشمن بخوبی سمجھ چکا ہے ۔میڈیا میں بیٹھے ہمارے دین بیزار اور چالاک اینکرز عوام کے سامنے اہل مذہب کو مزید شدت پسند باورکر انے میں کامیاب ہوں گے ۔ جب کہ سیاسی زعما قوم کی بچی کچھی یکجہتی کو اپنی سستی نیک نامی کی بھینٹ چڑھا دیں گے ۔ ممکن ہے اتنی آگ لگانے سے کچھ سادہ لوحوں کے سطحی جذبات کی تسکین ہو جائے۔
اس مسئلے میں مزید بہتری کا راستہ کیا ہے؟ اگر ارباب اختیار واقعی حرمت انبیاؑءاور احترام صحابہ وازدواج ؓ کے تحفظ بارے سنجیدہ اور مخلص ہیں اور اس کام کی حساسیت سے آگاہ بھی ۔
(۱)پہلا کام وہ یہ کریں کہ اس ایکٹ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں، اس سے رہنمائی اور مدد لینے کے لیے پیش کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ اب وہاں بھی صاحبانِ علم کم اور سیاسی وابستگان زیادہ ہیں، لیکن پھر بھی وہ ہمارا ایک آئینی علمی فورم ہے، جو اس کے تمام پہلوﺅں پر غور کر کے بہتر رائے دے سکے گا۔
(۲)ملی یکجہتی کونسل پاکستان نے شیعہ سنّی تنازعات کے بارے میں کچھ فیصلے کیے اور سفارشات تیار کی تھیں ، ان کے ذریعے بھی اس کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
(۳) القاب وآداب اور دعائیہ کلمات لکھنے کی پابندی کو کوئی بہتر شکل دیتے ہوئے اسے صرف درسی کتب تک محدود کر دیا جائے۔
(۴)القاب وآداب اور دعائیہ کلمات کا التزام شاعری اور ادبی کتب میں کرنا، ان کی ادبیت وشعریت چھیننے کے مترادف ہے، اسے ان کتب کے لیے ضروری قرار نہ دیا جائے۔
(۵) قابل اعتراض مواد پر گرفت کرنے کے لیے مجاز افسران کو مزید اختیارات سے مسلّح کرنے کی بجائے پہلے سے موجود قانون تعزیرات پاکستان کی دفعات ۵۹۲ تا ۸۹۲ کافی جامع ہیں۔ ان پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہو جائے تو بڑا فرق واقع ہو جائے گا۔ ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت نے پبلشرز کو قابو کرنے کے لیے نیک ہستیوں کے نام کو آڑ بنایا ہے۔ ہمیں اس ایکٹ کے پاس ہونے پر اراکین اسمبلی کی مذہب پسندی پر ایک گونہ خوشی ضرور ہوئی تھی لیکن یہ خدشہ بھی ذہن میں تھا کہ :
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ملائی گئی چیز پبلشرز پر گرفت کرنے کے یہی حکومتی اختیارات ہیں۔
امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی
مولانا سمیع اللہ سعدی
امام ابن جریر طبری عہد عباسی کے معروف مورخ و مفسر گزرے ہیں ۔اسلامی علوم کے زمانہ تدوین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے علوم اسلامیہ پر گہرے اثرات ڈالنے والوں میں سر فہرست ہیں ۔گرانقدر تصنیفات چھوڑیں ،جن میں خاص طور پر صحابہ و تابعین کے اقوال سے مزین ایک ضخیم تفسیر "جامع البیان عن تاویل آی القران "المعروف تفسیر طبری اور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لیکر اپنے زمانے تک کی مبسوط تاریخ "تاریخ الا مم و الملوک" اپنے موضوع پر بنیادی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ تفسیر و تاریخ کے میدان میں آنے والے تقریبا تمام نامور مصنفین نے ان کتب کو ماخذ بنایا ۔امام ابن جریر اپنی جلالت شان اور گوناگوں صلاحیتوں کے باوجود اپنے زمانے میں خاصے تنازعات کا شکار رہے ،امام دادو ظاہری کے ساتھ معاصرانہ چپقلش رہی ،اور نوبت یہاں تک پہنچی،کہ یہ "مخاصمت" اگلی نسل میں بھی منتقل ہوئی ، ۔علامہ ذہبی ،امام داود ظاہری کے صاحبزادے اور امام ابن جریر سے متعلق لکھتے ہیں :
و قد وقع بین ابن جریر و بین ابن ابی داود، وکان کل منھما لا ینصف الاخر1
ترجمہ:امام ابن جریر اور ابن ابی داود کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا ،اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔
حنابلہ کے ایک گروہ کے ساتھ طویل مخالفت رہی ،جس کے متعدد اسباب تراجم کی کتب میں مذکور ہیں ۔اس طویل کشمکش کا اثر یہ ہوا کہ حنابلہ کے علاوہ دوسرے طبقات بھی ابن جریر کے مخالف ہوگئے ،ابن اثیر الکامل میں لکھتے ہیں :
و انما بعض الحنابلۃ تعصبو ا علیہ ووقعو ا فیہ فتبعھم غیرھم2
ترجمہ :بعض حنابلہ نے ابن جریر کے معاملے میں تعصب اختیار کیا ،اور ان کی مذمت و مخالفت میں لگ گئے ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے لوگ بھی آپ کے مخالف ہوگئے ۔
بعض نامور محدثین نے ان پر تشیع و رفض کا الزام لگایا (جن پر بحث ہم آگے کریں گے ) ۔متنوع تنازعات کے اثرات یہاں تک پہنچے کہ موصوف اپنے آخری زمانے میں گھر میں محصور ہو کر رہ گئے۔
وكانت الحنابلۃ حزب أبي بكر بن أبي داود، فكثروا وشغبوا على ابن جرير، ونالہ أذى، ولزم بيتہ۔3
ترجمہ :حنابلہ ابن ابی داود کے حامی تھے ۔ انہوں پے در پے ابن جریر کے خلاف فتنہ و فساد برپا کیا ،اور ان کو اذیتیں دیں ۔بالاخر ابن جریر گھر میں محصور ہوکر رہ گئے ۔
انہی تنازعات کا اثر ہے کہ ان کی وفات اور نمازہ جنازہ کے بارےمیں بھی متضاد قسم کی روایات ہیں ۔علامہ حموی نے معجم الادباء میں لکھا ہے :
قال غير الخطيب: ودفن ليلا خوفا من العامۃ لأنہ يتھم بالتشيع، وأما الخطيب فإنہ قال: ولم يؤذن بہ أحد، فاجتمع علی جنازتہ من لا يحصي عددھم إلا اللہ، وصلي علی قبرہ عدۃ شھور ليلا ونھارا4
ترجمہ :خطیب کے علاوہ بقیہ مورخین نے لکھا ہے کہ ابن جریر کو رات کے وقت عام لوگوں کے خوف سے دفن کیا گیا ،کیونکہ ان پر شیعہ ہونے کا اتہا م تھا،جبکہ خطیب نے کہا ہے کہ ان کے جنازے پر کسی کو نہ بلانے کے باوجود لوگوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہو گئی ،اور ان کی قبر پرکئی مہینے رات دن تک لوگ جنازہ پڑھتے رہے ۔
خطیب بغدادی اور دیگر جملہ مورخین کے بیانات میں تضاد اور اس میں صحیح و غلط سے قطع نظر خطیب کی روایت کا آخری حصہ بلا شبہ مبالغہ پر مبنی ہے کہ قبر پر مہینوں تک جنازہ پڑھنے کا مسلمانوں میں بشمول نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر اور صحابہ کرام کی قبور کے، رواج و تعامل کبھی نہیں رہا ۔
امام ابن جریر جرح و تعدیل کے میزان میں
امام ابن جریر اپنے زمانے میں متنوع تنازعات کا شکار ہونے کے باوجود بعد کے اہل علم میں بڑے مقبول ہوئے۔ ان کی لکھی ہوئی تصنیفات مشرق و مغرب میں پھیل گئیں ،خصوصا تفسیر اور تاریخ سے متعلق ان کی کاوشیں بنیادی مرجع قرار پائیں ۔اس لیے کتب رجال میں بڑے شاندار الفاظ میں ان کا ذکر کیا گیا ہے اور متعدد ائمہ نے ان کی جلالت شان ،وفور علم ،وسعت نظر اور امامت علمی کا ذکر کیا ہے ۔اختصار کے پیش نظر ہم تعدیل کے ان اقوال سے صرف نظر کرتے ہیں ۔اور امام ابن جریر پر ہونے والی جرح پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ پر ساری جرح کا خلاصہ "تشیع و رفض"ہے ۔درجہ ذیل حضرات نے ان پر یہ جرح کی ہے :
۱۔علاہ ذہبی رحمہ اللہ متکلم فیہ رجال کے تذکرے پر مشتمل اپنی کتاب "میزان الااعتدال "میں لکھتے ہیں :
فیہ تشیع و موالاۃ لاتضر 5
یعنی امام ابن جریر میں تشیع اور اہلبیت کے ساتھ معمول سے زیادہ مودت تھی ،لیکن یہ موالات ضرر کی حد تک نہیں پہنچی تھی ۔
۲۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ "لسان المیزان"میں بعینہ یہی بات فرمائی ہے۔6
۳۔چوتھی صدی ہجری کے معروف محدث احمد بن علی سلیمانی ،جن کے بارے میں علامہ ذہبی نے ‘‘لم يكن له نظير في زمانه إسنادا وحفظا ودراية وإتقانا‘‘ 7کے الفاظ استعمال کیے ہیں ،ابن جریر کے بارے میں فرماتے ہیں :
کان یضع للروافض8
یعنی امام ابن حجر روافض کے لیے احادیث گڑھا کرتے تھے۔
۴۔چوتھی صدی ہجری کے معروف امام لغت اور شاعر ابوبکر محمد بن عباس الخوارزمی ،جو امام ابن جریر کے بھانجے تھے ،علامہ ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء"9 میں ،ابن خلکان نے "وفیات الاعیان" 10 میں، علامہ سمعانی نے "الانساب" 11 میں ،علامہ یاقوت الحموی نے "معجم الادباء" 12 میں اور معروف علماء کے شیوخ پر متعدد کتب کے مصنف ابو طیب نائف بن صلاح المنصوری نے "الروض الباسم فی تراجم شیوخ الحاکم" 13 میں ان کے تذکرے کے ساتھ "ابن اخت محمد بن جریر الطبری "(امام ابن جریر کا بھانجا) لکھا ہے۔ اپنے ماموں ابن جریر کے مسلک کے بارے میں فرماتے ہیں:
بآمل مولدی و بنو جریر
فاخوالی ویحکی المرء خالہ
فھا انا رافضی عن تراث
و غیری رافضی عن کلالہ14
’’آمل میری پیدائش ہے ،اور ابن جریر کے بیٹے میرے ماموں ہیں ،اور آدمی اپنے ننھیال کے مشابہ ہوتا ہے ۔سنو میں وراثتا رافضی ہیں ،جبکہ باقی لوگ دور کے رافضی ہیں۔‘‘
۵۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں معروف مفسر ابو حیان الاندلسی کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں لفظ صراط کی تحقیق میں ابن جریر طبری کو ’’امام من الامامیۃ‘‘ لکھا ہے۔15 لیکن اس جرح کے بارے میں انصاف کی بات یہ ہے کہ اس میں ابن حجر صاحب سے تسامح ہوا ہے ۔ابن حیان نے اپنی تفسیر البحر المحیط میں معروف شیعہ عالم "ابو جعفر الطوسی "کو لفظ صراط کی تحقیق میں امام من الامامیہ لکھا ہے۔ لکھتے ہیں:
وقال ابو جعفر الطوسی فی تفسیرہ و ھو امام من ائمۃ الامامیۃ الصراط بالصاد لغۃ قریش، ھی اللغۃ الجیدۃ 16
یہ تحقیق ابوحیان نے الطوسی کی تفسیر "التبیان "سے نقل کی ہے ۔اور التبیان میں الطوسی نے یہی تحقیق لکھی ہے۔ صراط کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
بالصاد لغۃ قریش وھی اللغۃ الجیدۃ 17
ابن جریر طبری کی تفسیر میں ابو حیان کی نقل کی ہوئی کوئی تحقیق نہیں ملتی اور نہ ابو حیان نے اپنی تفسیر میں لفظ صراط کی تحقیق"ابو جعفر الطبری"کا حوالہ دیا ہے ۔حافظ صاحب نے تسامحا(ممکن ہے کہ حافظ صاحب کے پاس جو نسخہ ہو ،اس میں الطوسی کی جگہ الطبری لکھا ہوا ہو ،لھذا ناسخ کی غلطی بھی ہوسکتی ہے )"ابو جعفر الطوسی "کو "ابو جعفر الطبری"بنا دیا ۔
تشیع و رفض کی جرح پر تبصرہ
حافظ ابن حجر و علامہ ذہبی نے تو تشیع کی جرح کے ساتھ یسیر اور لا یضر والی بات نقل کر کے ابن جریر صاحب کے تشیع کی بنا پر ان کے ضعف کا رد کر دیا ۔البتہ یہ بات بہرحال بر قرار رہے گی کہ ابن جریر صاحب کو شیعہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام کے بارے میں ان کے نظریے میں اہلسنت و الجماعت کے مسلک سے انحراف تھا ،اب یہ انحراف کس درجے کا تھا؟اس کی وضاحت مذکورہ حضرات نے نہیں کی ، البتہ یسیر اور لا تضر کے الفاظ کہہ کر اس کی بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ انحراف خطرناک درجے کا نہ تھا ۔تشیع کے مفہوم اور متقدمین و متاخرین کے نزدیک اس کے اطلاقات سے قطع نظر امام ابن جریر جس زمانے کے ہیں ،اس زمانے میں شیعہ بطور فرقہ کے ممتاز ہو چکا تھا ، چنانچہ شیعہ اثنا عشریہ (جو اہل تشیع کا مین سٹریم طبقہ ہے )کی سب سے پہلی باقاعدہ کتاب "الکافی "کے مصنف محمد یعقوب الکلینی اور امام ابن جریر کا زمانہ ایک ہے۔ ۔اما م ابن جریر کی وفات ۳۱۰ ھ اور الکلینی کی وفات ۳۲۹ھ میں ہوئی ہے ۔اس اعتبار سے دونوں ہم عصر قرار پاتے ہیں ۔تشیع و رفض کے شیوع کے زمانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے صرف تشیع کی جرح بھی کافی بڑی جرح ہے ۔
علامہ احمد بن علی سلیمانی اور الخوارزمی نے تو بلا کم و کاست امام ابن جریر کو رافضی قرار دیا ہے ۔اس جرح کے جواب کے لیے جب ہم کتب رجال میں پر نظر ڈالتے ہیں ،تو سوائے اس کے اور کوئی جواب نہیں ملتا ،کہ ہر دو حضرات کی جرح معروف ابن جریر کے بارے میں نہیں ہیں ،بلکہ اس نام سے ایک اور ابن جریر تھے ،جو مسلکا شیعہ تھے ،یہ جرح شیعہ ابن جریر کے بارے میں ہے ،نام کی مشابہت کی وجہ سے اس جرح کو سنی ابن جریر کے بارے میں سمجھا گیا۔ چنانچہ السلیمانی کی جرح کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
ولو حلفت أن السليماني ما أراد إلا الآتي لبررت والسليماني حافظ متقن كان يدري ما يخرج من رأسہ فلا اعتقد أنہ يطعن في مثل ھذا الإمام بھذا الباطل18
ترجمہ: اگر میں قسم کھاوں، تو حانث نہیں ہوں گا کہ سلیمانی کی مراد دوسرے شیعہ ابن جریر ہیں۔سلیمانی حافظ الحدیث اور معتمدہیں ۔اپنی زبان سے سوچ سمجھ کر الفاظ نکالتے ہیں۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ سلیمانی جیسا شخص امام ابن جریر جیسے امام کے بارے میں یہ باطل جرح کریں۔
شیعہ ابن جریر اور اس کی تاریخی حقیقت سنی کتب کی روشنی میں
علامہ ذہبی و عسقلانی رحمھما اللہ کی بعض کتب (سیر اعلام النبلاء ،میزان الاعتدال اور لسان المیزان) میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ کے تذکرے کے ضمن میں طبری صاحب کے ہم نام،ہم ولدیت اور ہم وطن ایک اور ابن جریر شیعہ کا کا ذکر ملتا ہے۔ ہم اولا تینوں کتب سے ابن جریر شیعہ کا پورا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔
سیر اعلام النبلاء میں ہے:
محمد بن جرير بن رستم: أبو جعفر الطبري قال عبد العزيز الكتاني: ھو من الروافض، صنف كتبا كثيرۃ في ضلالتھم، لہ كتاب: ’’الرواۃ عن أھل البيت‘‘، وكتاب: ’’المسترشد في الإمامۃ‘‘ 19
ترجمہ :محمد بن جریر بن رستم الطبری ،جن کے بارے میں عبد العزیز الکتانی نے لکھا ہے کہ وہ روافض میں سے تھے ،ان کے مذہب میں متعدد کتب لکھیں جیسے الرواۃ عن اہل البیت اور کتاب المسترشد فی الامامۃ
میزان الاعتدال میں ہے:
رافضي لہ تواليف، منھا كتاب الرواۃ عن أھل البيت، رماہ بالفرض عبد العزيز الكتاني20
یہ رافضی ہیں ۔کتاب الرواۃ عن اہلبیت ان کی تصنیف ہے ۔الکتانی نے انہیں رفض سے متہم کیا ہے۔
لسان المیزان میں حافظ صاحب لکھتے ہیں:
محمد بن جرير بن رستم أبو جعفر الطبري. رافضي لہ تواليف منھا كتاب ’’الرواۃ عن أھل البيت‘‘. رماہ بالرفض عبد العزيز الكتاني. انتھی.
وقد ذكرہ أبو الحسن بن بانويہ في تاريخ الري بعد ترجمۃ محمد بن جرير الإمام فقال: ھو الآملي قدم الري وكان من جلۃ المتكلمين علی مذھب المعتزلۃ , لہ مصنفات. روى عنہ الشريف أبو محمد الحسن بن حمزۃ المرعشي. قلت: وروى، عَن أبي عثمان المازني وجماعۃ. وعنہ أبو الفرج الأصبھاني في أول ترجمۃ أبي الأسود من كتابہ.
وذكرہ شيخنا في الذيل بما تقدم أولا وكأنہ سقط من نسختہ وزاد بعد لعل السليماني إلی آخرہ: وكأنہ لم يعلم بأن في الرافضۃ من شاركہ في اسمہ واسم أبيہ ونسبہ وإنما يفترقان في اسم الجد ولعل ما حكي، عَن مُحَمد بن جرير الطبري من الاكتفاء في الوضوء بمسح الرجلين إنما ھو ھذا الرافضي فإنہ مذھبھم.21
ترجمہ: ابن جریر ابن رستم رافضی ہے ،عبد العزیز الکتانی نے انہیں رفض سے متہم کیا ہے ،ان کی ایک تصنیف "الرواۃ عن اہل البیت"ہے ۔ابو الحسن ابن بانویہ نے تاریخ الری میں ابن جریر سنی کے بعد ان کا ذکر کیا ہے۔لکھا ہے: وہ املی ہے ،رای میں وارد ہوئے ،معتزلہ کے بڑے متکلمین میں سے ہیں ،کئی کتب کے مصنف ہیں۔ ان سے ابو محمد الحسن بن حمزہ المرعشی نے روایت کی ہے ۔
میں (حافظ ابن حجر) کہتا ہوں کہ انہوں نے ابو عثمان المازنی اور ایک بڑی جماعت سے روایات لیں ۔اور خود ان سے ابو الفرج الاصفہانی نے اپنی کتاب میں ابو الاسود کے ترجمے میں روایت لی ہے ۔(الی اخرہ)
اہلسنت کے پورے ذخیرہ رجال میں علا مہ ذہبی و عسقلانی وہ اولین شخصیات ہیں ،جنہوں نے شیعہ ابن جریر کا ذکر کیا ہے ،ہر دو حضرات سے پہلے رجال کی چار سو سالہ تاریخ میں رجال یا فہارس الکتب و المصنفین کی کسی بھی معتبر کتاب میں ابن جریر شیعہ کا ذکر نہیں ہے ۔اس موقع پر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تاریخ و تفسیر کی اولین کتب لکھنے والی معروف شخصیت ابن جریر (سنی )کے ہم نام ،ہم وطن ،ہم ولدیت اور ہم عصر ایک اور ابن جریر (شیعہ )تھے ،اور وہ شیعہ ابن جریر بھی سنی کی طرح اپنے مسلک کی معروف اور مقتداء شخصیت تھی ،تو یقینا اس سے گمراہ کن التباس پیدا ہو نے کا خدشہ تھا ،اس کی وضاحت ہمیں چار صدیوں کے علمی ذخیرے میں کیوں نہیں ملتی؟ علم رجال کی تاریخ میں یہ بات ناممکن ہے کہ اتنی بڑی شخصیت جو حیرت انگیز طور پر اہلسنت کےا یک معروف امام کے ساتھ متعدد جہات سے مشابہت کی حامل ہو ،چار سو سالہ رجال کے ذخیرے میں اس کے حالات تو کجا ،اس کا نام و نسب بلکہ محض تذکرہ بھی نہ آسکے ۔اس کے علاوہ علامہ ذہبی و عسقلانی کے ذکر کردہ ترجمے میں ایسے اشارات ملتے ہیں ،جن کی وجہ سے ہم اس "افسانوی شخصیت"کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں ۔
۱۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ابن جریر شیعہ کا ذکر "ابو الحسن بن بابویہ"(لسان المیزان میں "بابویہ"کی جگہ بانویہ"لکھا ہوا ہے ،جسے تصحیف پر محمول کیا جاسکتا ہے ،اس نام سے بسیار تلاش کے باوجود کوئی شخصیت نہ مل سکی ،شاید اسی لیے شیعہ عالم محسن العاملی نے اسے "بابویہ"سمجھا کما سیاتی) تاریخ الری میں کیا ہے،شیعہ علماء کے ہاں اس نام سے قم کے معروف عالم اور شیخ صدوق کے والد مراد لیے جاتے ہیں ،لیکن اس نام سے ان کی کوئی کتاب شیعہ کتب رجال میں نہیں ملتی ،یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر مذکورہ حوالے سے متعلق معروف شیعہ عالم محمد محسن العاملی اپنی کتاب "اعیان الشیعہ"میں لکھتے ہیں:
وفی لسان المیزان: ابراہیم بن ادریس القمی ذکرہ ابوالحسن بن بابویہ فی رجال الشیعۃ انتہی۔ والظاہر ان المراد بابی الحسن بن بابویہ ھؤ علی بن الحسین بن موسی بابویہ القمی والد الصدوق فانہ یکنی اباالحسن و لم یعلم این ذکرہ۔22
ترجمہ :لسان المیزان میں ہے ،ابراہیم بن ادریس القمی ،ابو الحسن ابن بابویہ (یاد رہے لسان کے موجودہ نسخ میں بابویہ کی بانویہ لکھا ہوا ہے 23۔جیسا کہ ابن جریر کے ترجمے میں ہے )نے رجال شیعہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ظاہر یہ ہے کہ ابو الحسن بن بابویہ سے مراد علی بن حسین بن موسی بابویہ القمی مراد ہیں ۔جو شیخ صدوق کے والد ہیں ۔لیکن یہ معلوم نہیں ،کہ ابو الحسن بن بابویہ نے کس جگہ اس راوی کا تذکرہ کیا ہے ۔
۲۔حافظ صاحب نے ابن جریر شیعہ کو ابو عثمان المازنی کا شاگرد لکھا ہے ،جبکہ ابو عثمان المازنی کے تلامذہ میں اس نام کا کوئی راوی نہیں ہے ،البتہ اس سے جلتا ملتا ایک نام ملتا ہے ۔علامہ حموی معجم الادباء میں حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
قرأت في «كتاب الأمالي» لأبي القاسم الزجاجي قال حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن رستم الطبري صاحب أبي عثمان المازني24
ترجمہ: میں نے زجاجی کی کتاب الامالی میں پڑھا کہ ہمیں ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم طبری نے بیان کیا، جو ابو عثمان المازنی کے شاگرد ہیں۔
الفہرست میں ابن ندیم ان کی تصانیف کے بارے میں لکھتے ہیں:
ومن علماء البصريين: أبو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن يزدبان الطبري ويعد في طبقۃ أبي يعلی بن أبي زرعۃ ولہ من الكتب كتاب غريب القرآن كتاب المقصور والممدود كتاب المذكر والمؤنث كتاب صورۃ الھمز كتاب التصريف كتاب النحو.25
ترجمہ:علمائے بصرہ میں سے ایک ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان طبری ہے ،اور ابو یعلی بن ابی زرعہ کے طبقہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کی کتاب یہ ہیں :غریب القران ،کتاب المقصور ،کتاب المدود،کتاب المزکر و المونث، کتاب صورۃ الھمزۃ ،کتاب التصریف ،کتاب النحو ۔
اسی کو مختصر کر کے ابو جعفر بن رستم کہا جاتا ہے ،چنانچہ ایک اور جگہ کتب غریب القران کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
كتاب غريب القرآن لأبي جعفر بن رستم الطبري26
اسی ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان الطبری کا ترجمہ تاریخ بغداد 27 اور معجم الادباء 28 میں ملتا ہے۔
درجہ بالا عبارات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ،کہ علامہ ذہبی و عسقلانی نے جس ابن جریر شیعہ کا ذکر کیا ہے ،اس نام سے تو کتب رجال کے پورے ذخیرے میں کوئی شخصیت نہیں ہے ، انہوں نے اسے ابو عثمان المازنی کا شاگرد لکھا ہے ،جبکہ کتب رجال میں ابو عثمان المازنی کے تلامذہ میں اس نام کا کوئی راوی نہیں ہے ،البتہ اس سے ملتا جلتا ایک شخص ہے جو نام ،ولدیت میں ابن جریر کے مشابہ نہیں ہے ،کیونکہ ابن جریر کا نام" ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری"ہے۔ جبکہ اس راوی کا نام " ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان الطبری النحوی "ہے ،دونوں ناموں کو ملاحظہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ،کہ ان دونوں میں خاصا فرق ہے ۔ نیز یہ فرق اس طرح سے مزید نمایاں ہوجاتا ہے ،کہ ابو عثمان المازنی کے شاگرد کو مختصر کر کے "ابو جعفر بن رستم"کہا جاتا ہے ،جس سے جزوی مشابہت کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ابو جعفر بن رستم خالص لغوی ،نحوی اور قراءت قرانیہ کے ماہر عالم تھے ۔اور ان کی جملہ تصانیف اسی کے گرد گھومتی ہیں ، ان کے مسلک پر کسی کتاب میں کوئی تصریح نہیں ملی ،البتہ غالب امکان یہ ہے کہ یہ سنی عالم ہوں گے ۔کیونکہ خاص طور پر قراءت سے شغف ان کے تسنن پر دلالت کرتا ہے ،اس لیے کہ شیعہ علماء قراءت قرانیہ کے قائل نہیں ہیں ۔اس کے علاوہ علامہ ذہبی و عسقلانی نے جن کتب کو ابن جریر شیعہ کی طرف منسوب کیا ،ان میں سے بھی کؤئی کتاب ابو جعفر بن رستم کی تصنیفات کے ذیل میں نہیں ملتی۔
شیعہ کتب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ،کہ جس شخص کو ابن جریر سنی کا ہم نام و ہم عصر ثابت کیا جا رہاہے ،وہ یہی ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری مراد ہیں ،چنانچہ تیرھویں صدی کے معروف شیعہ محقق سید بحر العلوم کی کتاب "الفوائد الرجالیہ" کے محشی لکھتے ہیں :
محمد بن جرير بن رستم الطبري الآملي: ھو صاحب (كتاب غريب القرآن) كما ذكرہ ابن النديم في الفھرست29
محقق مذکور نے ابن جریر شیعہ کی ایک کتاب "غریب القران" بتائی ہے ،اور یہ کہ ابن ندیم نے اس کا ذکر بھی کیا ہے ،جبکہ ابن ندیم کے حوالے سے ہم ماقبل میں لکھ آئے ہیں ،کہ صاحب غریب القرآن ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری ہے ،نہ کہ ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری ،محقق بحر العلوم کے ذکر کردہ نام کی کسی شخصیت کا الفہرست میں ذکر نہیں ہے ۔ شیعہ و سنی کتب کے مذکورہ حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ابن جریر سنی کے ہم نام جس شخصیت کو بتا یا جارہا ہے ،اس کی عمومی طور پر دو علامتیں بیان کی جاتی ہیں ،ایک یہ کہ وہ ابو عثمان المازنی کا شاگرد ہے ،دوسرا یہ کہ ابن ندیم نے غریب القرآن کی کتب کے تذکرے میں اس کا ذکر کیا ہے ،اور ان دو علامتوں سے متصف شخص "ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری ہے نا کہ "ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری "اور وہ بھی خالص ایک لغوی،نحوی اور قراءت کے ماہر عالم ہیں ،جن کی تصنیفات انہی دائروں میں گھومتی ہیں ،کتب رجال میں سے کسی میں بھی اس کے مسلکا شیعہ یا اعاظم علمائے شیعہ کے طور پر ذکر نہیں ہے۔
(جاری)
حواشی
1. الذہبی ،شمس الدین احمد بن محمد،سیر اعلام النبلاء ،بیروت ،موسسۃ الرسالۃ ۱۴۰۳ھ،ج۱۴ص۲۷۷
2. الجزری ،ابن الا ثیر ،محمد بن محمد بن عبد الکریم ،الکامل فی التاریخ ،بیروت ،دار الکتب العلمیہ ۱۴۰۷ھ،ج۷ص۹
3. سیر اعلام النبلاء ، ج۱۴ص۲۷۷
4. الحموی ،یاقوت شہاب الدین ابو عبد للہ ،معجم الادباء ،بیروت ،دارا لغرب الاسلامی ۱۴۱۴ھ،ج۶ص۲۴۴۱
5. الذہبی ،شمس الدین احمد بن محمد ،میزان الاعتدال،بیروت ،دار المعرفۃ ۱۳۸۲ھ،ج۳ص۴۹۹
6. العسقلانی ،ابن حجر ،احمد بن علی ،لسان المیزان ،بیروت ،دالبشائر الاسلامیہ ۱۴۲۳ھ،ج۷،ص۲۵
7. سیر اعلام النبلاء ، ج۱۷ص۲۰۱
8. لسان المیزان ، ج۷،ص۲۵
9. سیر اعلام النبلاء ، ج۱۶ص۵۲۶
10. ابن خلکان ،ابو العباس احمد بن محمد ،وفیا ت الاعیان ،بیروت ،دار صادر ،ج۴ص۴۰۰
11. السمعانی ،ابو سعد ،عبد الکریم بن محمد،الانساب ،حیدر آباد،دائرۃ المعارف العثمانیہ ۱۳۸۲ھ،ج۵ص۲۱۳
12. الحموی ، معجم الادباء ، ج۶ص۲۵۴۳
13. المنصوری ،ابو طیب ،نائف بن صلاح،الروض الباسم فی تراجم شیوخ الحاکم ،ریاض، دالعاصمۃ۱۴۳۱ھ،ج۲ص۱۰۵۰
14. الحموی ، معجم الادباء ، ج۶ص۲۵۴۳
15. لسان المیزان ، ج۷ص۲۵
16. الاندلسی ،ابوحیان ،محمد بن یوسف ،البحر المحیط ،بیروت ،دارلکتب العلمیہ ۱۴۱۳ھ،ج۱ص۱۴۴
17. الطوسی ،شیخ الطائفۃ ،ابو جعفر ،محمد بن حسن ،التبیان فی تفیسر القرآن ،بیروت ،دار احیاء التراث العربی ،ج۱ص۱۲۲
18. لسان المیزان ، ج۷،ص۲۵
19. سیر اعلام النبلاء ، ج۱۴ص۲۸۲
20. میزان الاعتدال، ج۳ص۴۹۹
21. لسان المیزان ، ج۷ص۲۹
22. الامین ،محمد محسن،اعیان الشیعہ ،بیروت ،دار التعارف للمطبوعات ،۱۴۱۹ھ،ج۳ص۴۳
23. لسان المیزان ، ج۱ص۲۳۳
24. الحموی ، معجم الادباء ، ج۴ص۱۸۱۲
25. ابن ندیم ،ابو الفرج ،محمد بن اسحاق،الفہرست ،بیروت،دار المعرفۃ ۱۳۹۸ھ،ص۸۹
26. ایضا،ص۵۲
27. البغدادی ،الخطیب ،ابو بکر احمد بن علی ،تاریخ مدینۃ السلام ،بیروت ،دار الکتب العلمیہ ۱۴۲۵ھ،ج۵ص۲۳۳
28. الحموی ، معجم الادباء ، ج۱ص۴۵۷
29. طباطبائی ،بحر العلوم ،سید مہدی ،الفوائد الرجالیہ ،طہران ،مکبتۃ الصادق ۱۳۶۳ھ،ج۴ص۱۲۱
امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار (۱)
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل
1۔ تعارف
جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب "برہان" میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں:
"ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے" (برہان: ص 181)
غامدی صاحب کے مطابق اکابر صوفیاء کرام نے توحید و نبوت جیسی بنیادی تعلیمات میں قرآن و سنت سے انحرافات کئے ہیں اور یہ انحرافات اس کائنات کی بدترین ضلالت ہیں جس کا شکار اکابر علماء اور صوفیاء ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوفیاء نے توحید کے جن درجات کا ذکر کیا ہے وہ قرآن و سنت میں کہیں مذکور نہیں اور یہ سب کچھ صوفیاء کی اپنے طرف سے بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ انبیاء اور قرآن کی توحید بس اتنی اور وہی ہے جو انہوں نے اپنے اس مضمون کے چند صفحات میں بیان کی ہے ، اس کے سواء سب کچھ ضلالت ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے امام غزالی کی بعض عبارات کا حوالہ دے کر انہیں بھی اس گمراہ گروہ میں شمار کیا ہے جنہوں نے خدا کے دین کے مقابلے میں متوازی دین قائم کیا، العیاذ باللہ۔
اس تحریر کا مقصد غامدی صاحب کے مضمون کے اس حصے کا جائزہ لینا ہے جس میں وہ توحید کے مباحث میں امام غزالی اور دیگر صوفیاء کی تضلیل کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کی تحریر و تقریر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہایت وثوق اور قطعیت کے ساتھ ایک دعوی کردیتے ہیں (کہ "شریعت بس یہی ہے"، "اس بارے میں دوسری رائے ہے ہی نہیں")تاکہ قاری اور سامع ان کے دعوے کی قطعیت سے مرعوب ہوکر ان کے دعوے کو "معیار حق" فرض کرلے اور یہ پوچھنا بھول کر کہ آخر اس دعوے کی دلیل کیا ہے، مدمقابل سے سوال کرنے لگے کہ تم دلیل لاؤ اور جواب دو۔ اپنے اسی مضمون میں نبوت کی بحث کے اندر وہ اپنی طرف سے ختم نبوت کا ایک مفہوم مقرر کرکے پھر دوسروں کی تضلیل و تکفیر شروع کردیتے ہیں لیکن اگر ان کے اس مفروضہ دعوے کی دلیل کا جائزہ لیا جائے کہ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ اب ہر قسم کے کشف و الہام کا امکان ختم ہوچکا، تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے استدلال کی پوری عمارت ریت کی بنیاد پر استوار کی تھی۔ یہی حال مسئلہ توحید کے باب میں بھی ہے کہ انہوں نے نہایت قطعیت کے ساتھ اپنی طرف سے توحید کا ایک مفہوم متعین کرکے کہنا شروع کردیا کہ "قرآن کی توحید بس یہی ہے" اور صوفیاء نے جو کچھ کہا ہے وہ ان کی اپنی طرف سے بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ بہت سے لوگ ان کے اس قطعی دعوے کا شکار ہوکر صوفیاء اور ان کے مداحین سے پوچھنے لگتے ہیں کہ " بتائیے آپ نے قرآن کے خلاف یہ باتیں کہاں سے اور کیوں بنائی ہیں؟" ایک عام مسلمان جس نے نہ کبھی امام غزالی کو پڑھا ہو اور نہ ہی دیگر علماء و صوفیاء کو اور نہ ہی وہ اس کی صلاحت رکھتا ہے ، اس شور شرابے سے وہ یہ تاثر لیتا ہے کہ ممکن ہے ان صوفیاء نے واقعی کچھ کفریہ باتیں کی ہوں گی، جبکہ یہ الزام لگانے والے صاحب ایک "معروف دینی سکالر "بھی ہوں اور مختلف ٹی وی چینلز پر خوشنما گفتگو بھی فرماتے ہوں! اس تحریر میں ہم دکھائیں گے کہ ان کا وہ تصور توحید ہی ناقص و باطل ہے جسے قرآن کی مکمل توحید قرار دے کر انہوں نے اکابر صوفیاء کرام پر آخری درجے کی فتوی بازی کی ہے اور جسے بنیاد بنا کر غامدی صاحب کے مقلدین و متاثرین کا ایک طبقہ امت مسلمہ کی توحید کو کفر و شرک سمجھتا ہے۔
2۔ غامدی صاحب کی توحید اور ان کے اعتراضات
"غامدی صاحب کی توحید" کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کو الہ مانا جائے جو ایسی صفات سے متصف اور عیوب سے پاک ہے جسے عقل و شرع مانتی ہے (ان کی تفصیلات کیا ہیں، غامدی صاحب اسے ذکر نہیں کرتے اور اسی میں ساری کہانی مضمر ہے جیسا کہ آگے بیان ہوگا)۔ "الٰہ" کا مطلب ان کے نزدیک عربی زبان کی رو سے ایک ہستی ہے جسے اسباب و علل سے ماورائے امور و تصرف مانا جائے (برہان: 181)۔ ان کے خیال میں قرآن کی توحید بس یہی ہے اور انبیاء صرف یہی توحید لے کر آئے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ صوفیاء کرام انبیاء کی (یعنی غامدی صاحب کی بیان کردہ) توحید کو عام لوگوں کی توحید اور اس کا ابتدائیہ کہتے ہیں اور اس کے علاوہ پھر انہوں نے اپنی طرف سے توحید کے کچھ درجات بنا لئے ہیں۔ یہاں ان کی تحریر سے کچھ حوالے پیش کردینا فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔ چنانچہ سب سے پہلے وہ یہ عبارت لاتے ہیں:
"التوحید علی ثلاثۃ أوجہ: الوجہ الأوّل: توحید العامۃ وھو الذي یصح بالشواھد، والوجہ الثاني: توحید الخاصۃ وھو الذي یثبت بالحقائق، والوجہ الثالث: توحید قائم بالقدم وھو توحید خاصۃ الخاصۃ. فأما التوحید الأول فھو شھادۃ أن لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، الأحد الصمد الذي لم یلد ولم یولد، ولم یکن لہ کفوًا أحد.
توحید کے تین درجے ہیں: پہلا درجہ عوام کی توحید کا ہے، یہ وہ توحید ہے جس کی صحت دلائل پر مبنی ہے۔ دوسرا درجہ خواص کی توحید کا ہے، یہ حقائق سے ثابت ہوتی ہے۔ توحید کا تیسرا درجہ وہ ہے جس میں وہ ذات قدیم ہی کے ساتھ قائم ہے، یہ اخص الخواص کی توحید ہے۔ اب جہاں تک عوام کی توحید کا تعلق ہے تو وہ بس یہ ہے کہ اِس بات کی گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، صرف وہی الٰہ ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، وہ یکتا ہے، سب کا سہارا ہے، وہ نہ باپ ہے، نہ بیٹا اور نہ اُس کا کوئی ہم سر ہے۔1
اپنی اِس توحید کی وضاحت میں، جسے اُنھوں نے ’قائم بالقدم‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
إنہ إسقاط الحدث وإثبات القدم.
یہ حادث کی نفی اور قدیم کا اثبات ہے۔“ (برھان: ص 184)
اس کے بعد غامدی صاحب کہتے ہیں کہ "یہی بات غزالی نے لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
والرابعۃ: أن لا یری في الوجود إلا واحدًا وھي مشاھدۃ الصدیقین و تسمیہ الصوفیۃ الفناء في التوحید، لأنہ من حیث لا یری إلا واحدًا فلا یری نفسہ أیضًا وإذا لم یر نفسہ لکونہ مستغرقًا بالتوحید، کان فانیًا عن نفسہ في توحیدہ بمعنی أنہ فنی عن رؤیۃ نفسہ والخلق.
”توحید کا آخری مرتبہ یہ ہے کہ بندہ صرف ذات باری ہی کو موجود دیکھے۔ یہی صد یقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیہ اِسے ہی فنا فی التوحید کہتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مرتبہ میں بندہ چونکہ وجود واحد کے سوا کچھ نہیں دیکھتا، چنانچہ وہ اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا۔ اور جب وہ توحید میں اس استغراق کے باعث اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا تو اُس کی ذات اِس توحید میں فنا ہو جاتی ہے، یعنی اِس مرتبہ میں اُس کا نفس اور مخلوق، دونوں اُس کی نگاہوں کے لیے معدوم ہو جاتے ہیں۔“ (برہان: 185)
اس کے بعد وہ شیخ ابن عربی سمیت چند مزید صوفیاء کی اسی قسم کے عبارات پیش کرتے ہیں جن سب کی طرف ملتفت ہونا یہاں مقصود نہیں، آخر میں پھر امام غزالی کی عبارت پیش کرکے کہتے ہیں:
"غزالی نے لکھا ہے:
فاعلم أن ھذہ غایۃ علوم المکاشفات وأسرار ھذا العلم لا یجوز أن تسطر في کتاب، فقد قال العارفون: إفشاء سر الربوبیۃ کفر.
پس جاننا چاہیے کہ علوم مکاشفات کی اصل غایت یہی توحید ہے اور اِس علم کے اسرار کسی کتاب میں لکھے نہیں جا سکتے، اِس لیے کہ حدیث عارفاں ہے کہ سرربوبیت کو فاش کرنا کفر ہے۔“ (برہان: ص 192)
غامدی صاحب ان حوالہ جات سے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ صوفیاء نے توحید کے جو درجات بیان کئے ہیں انبیاء کی توحید میں ان کا کہیں ذکر نہیں، یہ گویا انہوں نے اپنی طرف سے بنا لئے ہیں۔نیز صوفیاء کا یہ کہنا کہ ایک توحید عام لوگو ں کی توحید ہے اور ایک خاص کی ، یہ انبیاء کی توحید کی ( یعنی جو غامدی صاحب نے بیان کی) کے ماسواء ہے ۔ چنانچہ غامدی صاحب کہتے ہیں:
"قرآن کی رو سے توحید بس یہ ہے کہ الٰہ صرف اللہ کو مانا جائے جو اُن تمام صفات کمال سے متصف اور عیوب و نقائص سے منزہ ہے جنہیں عقل مانتی اور جن کی وضاحت خود اللہ پروردگار عالم نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے کی ہے۔ ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف ثابت کیا جائے۔ قرآن مجید کے نزدیک کوئی ایسی صفت یا حق بھی اگر کسی کے لیے تسلیم کیا جائے جو اِس امرو تصرف ہی کی بنا پر حاصل ہو سکتا ہو تو یہ درحقیقت اُسے ’الٰہ‘ بنانا ہے۔۔۔۔ یہی توحید ہے جس پر اللہ کا دین قائم ہوا۔ یہی اُس دین کی ابتدا، یہی انتہا اور یہی باطن و ظاہر ہے۔ اِسی کی دعوت اللہ کے نبیوں نے دی۔ ابراہیم و موسیٰ، یوحنا و مسیح اور نبی عربی اِن پر اللہ کی رحمتیں ہوں سب اِسی کی منادی کرتے ہیں۔ تمام الہامی کتابیں اِسے ہی لے کر نازل ہوئیں۔ اِس سے اوپر توحید کا کوئی درجہ نہیں ہے جسے انسان اِس دنیا میں حاصل کرنے کی سعی کرے۔ قرآن مجید نے شروع سے آخر تک اِسے ہی بیان کیا ہے ۔۔۔۔۔ اہل تصوف کے دین میں یہ توحید کا پہلا درجہ ہے۔ وہ اِسے عامۃ الناس کی توحید قرار دیتے ہیں۔ توحید کے مضمون میں اِس کی اہمیت، اُن کے نزدیک، تمہید سے زیادہ نہیں ہے (برہان: ص 181) "
ان کے مطابق صوفیاء اور امام غزالی کا یہ کہنا کہ توحید کا آخری درجہ یہ ہے کہ وجود دراصل ایک ہے (جسے اصطلاحا "توحید وجودی" کہتے ہیں) یہ کفر و شرک اور گمراہی ہے نیز یہ وہی نظریہ ہے جو شرکیہ مذاہب کے لوگوں کا نظریہ ہے:
"توحید کے باب میں یہی نقطہ نظر اپنشدوں کے شارح شری شنکر اچاریہ، شری رام نوج اچاریہ، حکیم فلوطین اور اسپنوزا کا ہے۔ مغرب کے حکما میں سے لائبنز، فحتے، ہیگل، شوپن ہاور اور بریڈلے بھی اِسی سے متاثر ہیں۔ اِن میں سے شری شنکر، فلوطین اور اسپنوزا وجودی اور رام نوج اچاریہ شہودی ہیں۔ گیتا میں شری کرشن نے بھی یہی تعلیم دی ہے۔ اپنشد، برہم سوتر، گیتا اور فصوص الحکم کو اِس دین میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نبیوں کے دین میں تورات، زبو ر، انجیل اور قرآن کو حاصل ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو اللہ کی ہدایت، یعنی اسلام کے مقابلے میں تصوف وہ عالم گیر ضلالت ہے جس نے دنیا کے ذہین ترین لوگوں کو متاثر کیا ہے"۔ (برہان: ص 192)
اس عالمگیر ضلالت کا شکار ہونے والے اور مسلمانوں کو اس کی طرف دعوت دینے والے لوگوں میں سے چند اہم لوگوں کے نام یہ ہیں:
امام ابو حامد الغزالی (م 505 /1111 )، شیخ عبد القادر جیلانی (م 1166)، شیخ ابن عربی (م1240)، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (م 1624) اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م 1762)
اس فہرست پر نظر دوڑانے سے اندازہ ہوتا ہے گویا اسلامی تاریخ میں جن حضرات کو مشائخ اور آئمہ کی حیثیت حاصل رہی ہے انہیں یہ تک معلو م نہیں تھا کہ توحید کیا ہوتی ہے نیز یہ لوگ مسلمانوں کو کفار و مشرکین کے عقائد کی تعلیمات دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین کھڑا کرکے دنیا سے رخصت ہوئے، العیاذ باللہ۔
2.1۔مضمون کے لئے امام غزالی کے تعین کی وجوہات
اس مضمون میں امام غزالی کے درجات توحید کی روشنی میں غامدی صاحب کے ان اعترضات کا جواب دیا جائے گا نیز دکھایا جائے گا کہ امام غزالی جب توحید کے درجوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو قرآن و سنت کے خلاف تو کجا اس سے زائد بھی ہو۔ تحریر میں معین طور پر امام غزالی کے خیالات پر اس لئے گفتگو کی جائے گی کہ یہ طریقہ تحقیق ہی غلط ہے کہ متنوع الخیال اور نظریات رکھنے والے لوگوں کی باتوں کو جمع کرکے ایک کہانی بنائی جائے جیساکہ غامدی صاحب نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ انہوں نے توحید وجودی کے مختلف تصورات کے حامل صوفیاء کو بری طرح سے خلط ملط کیا ہے اور پھر آخر میں انہیں غیر مسلم و مشرک لوگوں کے نظریات کے ساتھ بھی ملا دیا ہے۔ چنانچہ امام غزالی ہوں یا ابن عربی، دونوں کے اپنے الگ نظام فکر ہیں اور دونوں پر گفتگو کے لئے الگ پیرائے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ہم ایک متعین شخصیت پر گفتگو کریں گے، اگرچہ اس گفتگو سے صوفیاء پر ان کے اکثر و بیشتر اعتراضات رفع ہوجائیں گے۔ اس مقصد کے لئے امام غزالی کے انتخاب کی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. ان تمام اہل علم و مشائخ صوفیاء میں امام غزالی کا علمی مرتبہ و مقام سب سے بلند ہے۔ مضمون سے واضح ہوگا کہ جو شخص اس طبقہ صوفیاء کے سب سے بڑے عالم کی گفتگو سمجھنے میں ایسی فاش غلطی کرتا ہو ، دیگر لوگوں کے بارے میں اس کی تحقیق اور فہم کا عالم کیا ہوگا۔ جو شخص امام صاحب کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ ان سے بعد آنے والے صوفیاء کی گفتگو سمجھنے سے عاجز رہتا ہے
2. امام صاحب کے تعین کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ بلند مرتبہ فقیہہ و متکلم بھی تھے نیز ان کے یہاں چاروں درجات توحید کی نکھری ہوئی، مربوط اور صریح گفتگو ملتی ہے
3. کسی بھی فن کے مباحث کو سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس فن کے ماہرین و علماء او رچوٹی کے نمائندگان کے کلام کی رعایت کی جائے تاکہ اس فن کے دیگر علماء و عاملین کی بات کا درست تناظر واضح رہے۔ امام غزالی اس معاملے میں دوہری حیثیت رکھتے ہیں، ایک طرف وہ اپنے سے ماقبل تصوف کی علمی روایت سمجھنے کے لئے ایک معیاری فریم ورک فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے بعد آنے والے حضرات صوفیاء کرام ان کے نظریات سے متاثر تھے۔ شیخ شہاب الدین سہروردی ہوں یا شیخ ابن عربی ہوں ، سب کسی نہ کسی طور پر امام غزالی کے نظریات سے متاثر ہیں۔ چنانچہ مباحث تصوف میں امام صاحب کا مقام اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہیں کہ انہوں نے تصوف کی عملی روایت کو علمی روایت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے بعد آنے والے کسی بھی صوفی کی گفتگو سمجھنے کے لئے امام صاحب کی گفتگو ابتدائیے کی حیثیت رکھتا ہے ۔
4. چوتھی بات یہ کہ مجھے ذاتی طور پر امام غزالی کے ساتھ ایک قلبی لگاؤ ہے اور غامدی صاحب نے اپنے سوء فہم کی بنا پر ان کے بارے میں جس طرز کی فتوی بازی کررکھی ہے، اس کا جواب دینا ضروری محسوس ہوتا ہے تاکہ عام لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ پوری اسلامی تاریخ کو حرف غلط قرار دے کر اس پر خط تنسیخ پھیرنے والے میڈیا سکالرز کی علمی بساط کیا ہے۔
پیش نظر موضوع کی پیچیدگیوں کو آسان رکھنے کے لئے ہر درجہ توحید کی وضاحت کے لئے کلیدی سوال قائم کرکے گفتگو کی جائے گی اور آپ دیکھیں گے کہ خود غامدی صاحب بھی ان سوالات کا وہ جواب دئیے بغیر نہ رہ سکیں گے جو دراصل امام غزالی اور صوفیاء کے درجات توحید ہیں۔
2.2۔غامدی صاحب کی توحید پر چند اصولی ملاحظات
امام غزالی کے کلام کی طرف بڑھنے سے قبل ضروری ہے کہ غامدی صاحب کے تصور توحید کی چند بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کردی جائے۔ غامدی صاحب کے نزدیک الہ کی تعریف یہ ہے:
"’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف ثابت کیا جائے" (برہان: ص 181)
الہ کی اس تعریف میں بنیادی قسم کی غلطیاں ہیں:
- پہلی یہ کہ "الہ " ایک شرعی اصطلاح ہے جس کے معنی عربی لغت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے مقرر کئے جاتے ہیں۔ غامدی صاحب نے الہ کی اپنی اس تعریف کے لئے قرآن و سنت سے کوئی دلیل پیش کرنے کے بجائے عربی لغت کا حوالہ دے کر بات آگے بڑھا دی جبکہ اہل علم جانتے ہیں کہ لفظ الہ عربی زبان میں متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ کیسے طے ہوگا کہ الہ کے کونسے معنی شرعا درست ہیں؟ چنانچہ الہ کی تعریف و معیار عربی لغت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے طے ہوتے ہیں ۔
- دوسری بات یہ ہے کہ الہ کی یہ تعریف قرآن کی کسی بھی آیت میں صراحتا مذکور نہیں جو غامدی صاحب نے مقرر کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ الہ کی تعریف کے لئے انہوں نے قرآن و سنت کے بجائے عربی لغت کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا۔
- نہ صرف یہ کہ الہ کی یہ تعریف کسی آیت میں مذکور نہیں بلکہ الہ کا یہ تصور کہ یہ ایک ہستی کا نام ہے جو اسباب سے ماوراء متصرف ہوتی ہے، یہ بھی قرآن کی کسی آیت میں صراحتا مذکور نہیں۔ الہ کو اسباب کے تحت اور ماوراء کی تقسیمات میں بیان کرنا ہی ناقص معیار توحید ہے ۔
اس سے واضح ہوتاہے کہ غامدی صاحب جس چیز کا الزام صوفیاء کو دیتے ہیں کہ وہ قرآن و سنت سے ماوراء توحید کے قائل ہیں، ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل وہ خود اس الزام کی زد میں ہیں ۔
3۔ درجات توحید کی تفصیلات
اب درجات توحید کی گفتگو کی طرف متوجہ ہوکر غامدی صاحب کے اعتراضات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
3.1۔ توحید کا پہلا درجہ: اقرار
غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ الہ کا مطلب ایک ہستی کو اسباب سے ماوراء ماننا ہے۔ یہ نہایت ادھوری بات ہے، اس پر پہلا سوال درج ذیل ہے:
پہلا سوال) کسی کو اس معنی میں الہ "ماننے" سے کیا مراد ہے؟ صرف زبان سے اقرار کرلینا یا دل سے تصدیق بھی کرنا؟ اور کیا زبان سے اقرار کرتے رھنا انسان کو دنیاوی معاملات کے اعتبار سے کوئی فائدہ دے سکتا ہے؟ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص زبان سے تو اس توحید کا اقرار کرتا ہو لیکن دل سے اسے نہ مانتا ہو تو بھی اسلامی قانون کی رو سے اسے مسلمان مانا جائے گا؟ کیا اسے وہ حقوق حاصل ہونگے جو اللہ کے رسول کی شریعت ایک مسلمان کے لئے مقرر کرتی ہے؟
اہل سنت والجماعت کے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قانون کی نظر میں مسلمان کہلانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ایک شخص زبان سے توحید کا اقرار کرلے، اگرچہ ممکنہ طور پر اس کا دل اس کی تصدیق سے خالی ہو کیونکہ دل کے مخفی حالات کی بنا پر شریعت کے فیصلے جاری نہیں ہوتے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ زبان سے توحید کا ایسا اقرار بھی کسی نہ کسی درجے میں از روئے شرع فائدہ مند ہے، اگرچہ آخرت میں وہ کام نہ آئے گا۔ یعنی ایسی توحید کا اقرار ایک شخص کو دنیاوی قانون کے لحاظ سے مسلمان ہی بنائے گا، اگرچہ وہ منافق ہی ہو۔
پہلا درجہ: منافق کی توحید: امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم جلد چہارم کتاب توکل میں توحید کے چار درجات کی تفصیلات کے مطابق توحید کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان صرف زبان سے اس کا اقرار کرنے والا ہو۔ چنانچہ امام صاحب کہتے ہیں:
فالرتبة الأولی من التوحيد ھي أن يقول الإنسان بلسانہ لا إلہ إلا اللہ وقلبہ غافل عنہ أو منكر لہ كتوحيد المنافقين (احیاء العلوم: 1604)
"توحید کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ انسان زبان سے یہ اقرار کرلے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اگرچہ اس کا قلب اس سے غافل یا منکر ہی ہو، جیسا کہ منافقین کی توحید کا حال ہوتا ہے"
توحید کا یہ اقرار انسان کو عیسائیوں کی تثلیث والی توحید سے ممیز بنا دیتا ہے:
لا الہ الا اللہ وھذا یسمی توحیدا مناقضا للتثلیث الذی صرح بہ النصاری (احیاء العلوم ص 43)
"لا الہ الا اللہ کا اقرار، یہ وہ توحید ہے جو نصاری کے عقیدہ تثلیث کو رد کرنے والی ہے "
امام غزالی کہتے ہیں کہ ایسی توحید اخروٹ کے بیرونی چھلکے جیسی ہے جو صرف دیکھنے میں خوشنما ہوتی ہے لیکن کھانے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کڑوا ہے اور اسے پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے دنیاوی قانون کے اعتبار سے یہ شخص ہی مسلمان ہی کہلاتا ہے اگرچہ آخرت میں اسے یہ توحید کام نہیں آئے گی۔ اسے "منافق کی توحید" کا درجہ کہتے ہیں اور ظاہر ہے اس درجے کی تفصیل سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا۔ کیا توحید کا یہ درجہ قرآن و سنت کے مطابق مراد لیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ہر مسلمان جانتا ہے کہ توحید کا یہ درجہ بھی اللہ کے رسولﷺ کی شریعت کا حصہ ہے لیکن توحید پر ایمان اس سے کچھ زیادہ کا بھی تقاضا کرتا ہے، جو دراصل اس کے اگلے درجات ہیں۔
تو واضح ہوا کہ امام غزالی جسے توحید کا پہلا درجہ کہتے ہیں یہ دراصل ایک فقیہہ یا قانون دان کی دلچسپی کا سامان ہے جسے یہ طے کرنا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر، کون اسلامی حقوق و فرائض کا اہل ہے اور کون نہیں۔ اس کے لئے معیار "زبان سے اقرار کرلینا" ہے، اگرچہ دل ممکنہ طور پر اس سے خالی ہی ہو کیونکہ کسی کے دل میں جھانک کر یہ فیصلے کرنے کا شرع نے حکم نہیں دیا کہ 'کون مومن ہے اور کون کافر'۔
غامدی صاحب چونکہ قانون و فقہ کی باریکی میں نہیں اتر سکے اس لئے انہوں نے توحید کے درجات کی گفتگو سمجھنے میں ابتداء ہی سے ٹھوکر کھائی لیکن امام غزالی صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ بھی ہیں اور وہ اپنی گفتگو میں اس کا پورا لحاظ رکھتے ہیں۔ اگر غامدی صاحب کی یہ بات درست ہے کہ توحید کا بس ایک ہی درجہ وپہلو ہے تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے نبیوں نے جس توحید کی دعوت دی وہ بس اسی قدر مان لینا تھا جو منافق کی توحید کا درجہ ہے؟
3.2۔توحید کا دوسرا درجہ: تصدیق
اب کچھ آگے بڑھتے ہیں، غامدی صاحب کی توحید یہ ہے کہ خدا کو اسباب سے ماوراء مانا جائے۔ اس پر دوسرا سوال ذہن میں آتا ہے:
دوسرا سوال) کیا خدا کی توحید کے اس کے علاوہ بھی کچھ تقاضے ہیں یا صرف اسےاسباب سے ماوراء مان لینا ہی کافی ہے؟ کیا خدا کے بارے میں درج ذیل تصورات رکھے جاسکتے ہیں؟
- خدا کا ایک مادی جسم ہے یا وہ نور بمعنی بجلی (لائیٹ) ہے
- خدا کے ہمارے جیسے ہاتھ، آنکھ و پیر ہیں
- خدا جہات میں (یعنی اوپر نیچے، آگے پیچھے، دائیں بائیں) سفر کرتا ہے
- خدا ایک بڑے سے تخت پر بیٹھا ہوا ہے
- خدا انسانوں کی زبان کے الفاظ میں کلام کرتا ہے
- خدا کی ذات اور اسکی صفات دو الگ مستقل وجود ہیں
- خدا کی بندوں کے ساتھ معیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا بڑا جسم ہے جو ہر شخص و شے کے ساتھ متصل ہے
- خدا اس معنی کائنات میں حلول کیا ہوا ہے
یہ فہرست خاصی طویل ہے، ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انبیاء کی توحید کا موضوع ان سب امور کی تفصیلات ہیں یا نہیں، یعنی کیا توحید کے اقرار میں یہ بات شامل ہے یا نہیں کہ آیا خدا ان امور سے ماوراء ہے یا ان سے متصف؟ ظاہر ہے جواب اثبات میں ہے کہ جی ہاں انبیاء جو توحید لے کر آئے اور قرآن و سنت جس توحید کی بات کرتے ہیں یہ سب امور اس توحید کا موضوع ہیں۔
دوسرا درجہ: متکلمین کی توحید: امام غزالی نے توحید کے جن چار درجات کا ذکر کیا ہے اس کا دوسرا درجہ ان تفصیلات سے متعلق ہے جسے امام غزالی متکلمین کی دلچسپی کا موضوع کہتے ہیں، یعنی وہ امور جن پر متکلمین عقلی دلائل قائم کرتے ہیں نیز جن پر وارد ہونے والے شبہات سے وہ بحث کرتے ہیں۔ یہ دراصل وہ شخص ہوتا ہے جو زبان کے ساتھ ساتھ دل سے بھی توحید کی تصدیق کرتا ہے، عقیدہ اسلام کو برحق سمجھتا ہے، اس کی عقل عقیدہ توحید کے باب میں اس کی ذات و صفات کی تنزیہہ کی درست تفصیلات سے سرشار ہوتی ہے اور وہ مدافعین اسلام کے ساتھ مقابلہ بھی کرتا ہے۔ ایسا شخص اگر اپنے اس ایمان پر دنیا سے رخصت ہوگا تو اس کا یہ ایمان اسے دائمی عذاب سے بچانے والا ہوگا۔ چونکہ اس شخص کا توحیدی عرفان صرف دماغی عقلیت کی سطح پر موجود ایک منطقی عقیدے کی سطح کی چیز ہوتی ہے، احساس کی سطح منتقل ہوئے بغیر یہ توحید ایک قلبی گراوٹ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس شخص کو ایمان کی وہ اصل حلاوت میسر نہیں ہوتی جو خدا کو بندے کے ہر عمل کا اصل مقصود بنا دے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
والثانيۃ أن يصدق بمعنی اللفظ قلبہ كما صدق بہ عموم المسلمين وھو اعتقاد العوام (احیاء العلوم: 1643)
"اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ قلب زبان پر جاری الفاظ کے معنی کی تصدیق تصدیق کرے ، یہ عوام الناس کا عام اعتقاد ہے"۔
اسی بات کو وہ یوں کہتے ہیں:
وأما الثاني وھو الاعتقاد فھو موجود في عموم المسلمين وطريق تأكيدہ بالكلام ودفع حيل المبتدعۃ فيہ مذكور في علم الكلام وقد ذكرنا في كتاب الاقتصاد في الاعتقاد القدر المھم منہ (احیاء العلوم: 43)
"توحید کا دوسرا درجہ وہ اعتقاد ہے جو عامۃ المسلین کے یہاں موجود ہے اور اس درجہ توحید کو موکد کرنے نیز بدعتی گروہوں سے اسے محفوظ کرنے کے طریقے علم کلام میں مذکور ہیں، اور اس کی اہم تفصیلات میں نے اپنی کتاب الاقتصاد فی الااعتقاد میں بیان کردی ہیں"
توحید کے اس دوسرے درجے کا حامل کس کیفیت سے دوچار ہوتا نیز اس کا حکم کیا ہوتا ہے، اس کا نقشہ وہ کچھ یوں کھینچتے ہیں:
والثاني موحد بمعنی أنہ معتقد بقلبہ مفھوم لفظہ وقلبہ خال عن التكذيب بما انعقد عليہ قلبہ وھو عقدۃ علی القلب ليس فيہ انشراح وانفساح ولكنہ يحفظ صاحبہ من العذاب في الآخرۃ إن توفی عليہ ولم تضعف بالمعاصي عقدتہ (احیاء العلوم: 1643)
"دوسرے درجے کے موحد کا قلب اس کی زبان پر جاری الفاظ کو جھٹلاتا تو نہیں ہے لیکن اس کے قلب کو اس پر انشراح نہیں ہوتا (یعنی وہ اس کے حقیقی معنی کی حلاوت سے واقف نہیں ہوتا)، البتہ توحید کا یہ اقرار اس شخص کو اخروی عذاب سے بچانے والا ہے اگر اس ایمان پر اس کا خاتمہ ہوجائے نیز وہ گناہوں سے بھی بچتا رہے "
امام صاحب اسے "عام لوگوں کی توحید" بھی کہتے ہیں کیونکہ عام آدمی سے جب توحید کا اقرار کروایا جاتا ہے تو انہی امور کو عقیدے کے طور پر اس کے سامنے رکھا جاتا ہے تاکہ وہ عقیدے کی گمراہی سے بچ رہے (اگرچہ عملا وہ گنہگار و فاسق ہی ہو)۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید کی یہ تفصیلات میں نے اپنی کتاب "الاقتصاد فی الاعتقاد" میں بیان کی ہیں (بلکہ احیاء العلوم کی جلد اول میں بھی یہ بحثیں موجود ہیں)۔ الاقتصاد میں امام غزالی نے تفصیل کے ساتھ جس توحید کا ذکر کیا ہے اس کا موضوع اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں درست عقلی تصورات قائم کرلینا ہےجن کی مثالیں اوپر پیان کی گئیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ الاقتصاد میں امام صاحب توحید کے جن مباحث کو زیر بحث لائے ہیں ان کی فہرست پر نظر دوڑا لی جائے تاکہ اندازہ ہے کہ اس کا موضوع کیا ہے۔ چنانچہ اس کتاب میں توحید سے متعلق درج ذیل امور کو ثابت کرنے کے عقلی دلائل دئیے گئے ہیں:
- وجود باری تعالی
- وجود باری تعالی ازل سے ابد تک ہے
- ذات باری تعالی نہ جسم ہے اور نہ ہی عرض
- ذات باری تعالی کسی جہت میں نہیں
- ذات باری تعالی کسی مقام میں قرار پانے سے پاک ہے
- ذات باری تعالی واحد ہے
- ذات باری تعالی سات صفات سے متصف ہے: قدرت، علم، حیات، ارادہ، سمع، بصر اور کلام
- صفات باری تعالی اس کی ذات سے زائد ہیں
- صفات باری تعالی قدیم ہیں
اس فہرست سے واضح ہوتا ہے کہ جسے امام غزالی متکلمین کی توحید کہتے ہیں اس سے ان کی مراد ذات اور صفات باری تعالی سے متعلق درست عقیدے کی وضاحت کرنا ہے۔ سوال یہ ہےکہ انبیاء نے جو توحید بیان کی اور قرآن و سنت جس توحید سے بحث کرتے ہیں کیا اس میں یہ سب تفصیلات شامل ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو گویا مطلب یہ ہوا کہ معاذ اللہ انبیاء صرف منافقین کی توحید بیان کرنے آئے تھے اور یا پھر یہ کہ اللہ کے بارے میں درج بالا امور میں جو بھی تصور قائم کرلیا جائے، انبیاء اور قرآن و سنت کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ظاہر یہ جواب خود غامدی صاحب کو بھی قبول نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ بھی انبیاء اور قرآن ہی کی توحید ہے وہ اور بات ہے کہ صوفیاء پر تنقید کرنے کے لئے غامدی صاحب نے اس کا ذکر نہیں کیا اور توحید کے ایک نہایت محدود تصور کو مکمل قرآنی معیار قرار دے کر صوفیاء پر فتووں کی پوچھاڑ کر ڈالی۔ غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ ان کی توحید کے علاوہ توحید کا کوئی درجہ قرآن میں مذکور نہیں جبکہ اب تک کی گفتگو سے واضح ہوگیا کہ ان کا تصور توحید ناقص ہے اور ناقص کو بنیاد بنا کر کامل کو نہیں تولا جاسکتا۔
توحید کے جو دو پہلو یا درجات اب تک بیان ہوئے ان کے مابین باہمی تعلق یہ ہے کہ پہلا درجہ اس سوال کا جواب ہے کہ "کس درجے کے دعوی ایمانی کا ظہور ایمان کے لئے کفایت کرسکتا ہے"، اس کا جواب ہے زبان سے اقرار کرلینا۔ دوسرا درجہ اس سوال سے متعلق ہے کہ "زبان سے جس چیز کا اقرار کرنا ہے اس کی تفصیلات کیا ہیں"، تو متکلمین وہ توحید بیان کرتے ہیں جس کا اجراء خاص و عام کی زبانوں پر ہوتا ہے، یہ توحید ذات و صفات باری تعالی کی تنزیہ و تقدیس سے متعلق ہے جس کا بلند ترین اظہار سورہ اخلاص میں ہوا (امام رازی نے اپنی کتاب "تاسیس التقدیس" میں تفصیلا ثابت کیا ہے کہ خدا کی ذات و صفات کی تنزیہ کے تقاضے سورہ اخلاص میں بیان ہوئے ہیں)۔ چونکہ توحید کے اس درجے کا تقاضا قانون شریعت کی رو سے ہر کسی سے ہے، یعنی ہر مسلمان پر زبان سے ان کا اقرار لازم ہے، لہذا صوفیاء اور امام غزالی اسے عام لوگوں (masses) کی توحید کہہ دیتے ہیں، یعنی وہ توحید جو ہر کسی سے متعلق ہے اور جو سورہ اخلاص کا موضوع ہے۔ لہذا توحید کی ان تفصیلات کو "عام لوگوں کی توحید" کہنا، یہ ایک درست اور عین احکامات شریعت کی ترتیب کے مطابق بات ہے۔
3.3۔توحید کا تیسرا درجہ: حال
درج بالا تفصیلات کے بعد ایک تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے:
تیسرا سوال) کیا توحید کے تقاضے خدا کی ذات و صفات کی تنزیہہ زبان پر جاری ہونے پر ختم ہوجاتے ہیں؟ پوری قلبی یکسوئی کے ساتھ خدا کے احکامات پر عمل پیرا رہنا، اس میں کمی نہ آنے دینا، اس عمل کے دوران ہر قسم کی آزمائش پر صبر کرنا، ہر عمل و تعلق، محبت اور نفرت یہاں تک کے جینے مرنے کا مطمع نظر بھی خدا کی ذات بن جانا، کیا یہ سب بھی توحی د کے تقاضوں میں شامل ہے یا نہیں؟ کچھ سوالات پر غور کیجئے:
- کیا یہ حقیقتا ممکن ہے کہ ایک شخص زبان سے تو کہتا ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے لیکن اپنی تنہائیوں میں ایسے گناہوں میں ملوث ہو جو دیگر انسانوں کے سامنے نہیں کرتا؟
- کیا یہ حقیقتا ممکن ہے کہ اس کے قلب میں یہ بات واقعی جاگزیں ہو کہ میں مر کر خدا کے حضور پیش ہونے والا ہوں لیکن خدا کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے غافل اور ان کی دھجیاں اڑانے والا ہو؟
- کیا یہ ممکن ہے کہ حقیقتا یہ سمجھتا ہو کہ خدا ہی رزاق ہے نیز میرا رزق مقدر ہوچکا مگر حرام مال کی جستجو کرتا ہو؟
- کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کو دل سے سب سے بڑا مانتا ہو لیکن اس کے حکم کو پیٹھ پیچھے ڈال کر چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے مصلحت کوشیوں کا شکار ہو؟
اس قبیل کے سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے، یعنی یہ سب "حقیقتا" ممکن نہیں ہے اور فسق و فجور کی حالت یہ ظاہر کرتی ہے کہ توحید کا اقرار صرف زبان پر جاری ہے اور جس خدا کو مان لیا گیا ہے وہ ایک "منطقی خدا" ہے لیکن دل نے ابھی ان سب امور کی گواہی نہیں دی۔ علامہ اقبال کہتے ہیں :
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شخص جو زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کررہا ہے مگر بے عمل ہے، کیا یہ بھی مسلمان ہے؟ خوارج اس معاملے میں اس قدر آگے چلے گئے کہ انہوں نے گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر کہنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کو حاضر ناظر اور سزا دینے پر قادر بھی مانے اور پھر اس کی نافرمانی بھی کرے! یہ نافرمانی درحقیقت اپنے حال سے اپنی زبان پر جاری کلمے کی نفی کردینا ہے، ایسا شخص حقیقتا خدا کو مانتا ہی نہیں ہے لہذا یہ کافر ہے۔ اسی لئے ان کے نزدیک احکامات شریعہ پر عمل پیرا ہونا، یہ بھی توحید کا لازمی "قانونی" تقاضا تھا۔ معتزلہ نے کہا کہ ایسا شخص بہرحال مسلمان نہیں ہے اگرچہ ہم اسے کافر نہیں کہیں گے۔ البتہ نصوص میں غور و فکر کے بعد اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہوا کہ خدا پر ایمان ہوتے ہوئے بھی صاحب ایمان سے فسق و فجور ممکن الوقوع ہے اور یہ اقرار توحید کے "قانونی تقاضوں" (یعنی توحید کے درجہ متکلمین) کے منافی نہیں، یعنی ایک فاسق و فاجر بھی مسلمان ہی ہوتا ہے۔
اہل سنت والجماعت کے صوفیاء اسی پوزیشن کے قائل ہیں، مگر صوفیاء کا مطمع نظر اس قانونی توحید کے درجے کا حصول نہیں ہے، یہ تو ہر مسلمان کو حاصل ہوتا ہے چاہے بدعمل ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا مطمع نظر یہ ہے کہ خدا بندے کی حقیقی (نہ کہ صرف قانونی) طلب بن جائے، وہ اس سے حقیقی محبت کرنے والا ہوجائے، اس کے احکامات کو ذوق و شوق سے اپنا مفاد سمجھنے لگے۔ گویا اس کی زبان پر جاری توحید اس کا حال بن جائے اور دونوں ایک ہی گواہی دیں۔ توحید کے اس درجے کو حاصل کرنے والے شخص کی مراد اللہ کی ذات کے سواء کچھ نہیں رہ جاتی، قرآن مجید میں توحید کی اس حلاوت کا ذکر کچھ یوں ہوتا ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (انعام: 162)
"کہہ دو کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العلمین ہی کے لئے ہے "
چنانچہ توحید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ میری محبت اور نفرت نیز ہر تعلق کی بنیاد صرف اللہ کی ذات بن جائے، یہ مضمون متعدد احادیث میں بیان ہوا ہے 2 ۔ انسان اس مقام کو کیسے حاصل کرتا ہے؟ توحید کا تیسرا درجہ اسی کا جواب ہے۔
تیسرا درجہ: توحید فی التوکل: امام غزالی کے نزدیک توحید کا تیسرا درجہ خدا پر " توکل" اختیار کرنا ہے۔ یعنی انسان کی نظر اس بات پر رہے کہ ہر شے کا فاعل حقیقی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔ یہ جو ظاہری اسباب ہیں یہ اس کے حکم کے ماسواء حرکت نہیں کرسکتے۔ اس کی وضاحت امام غزالی یوں کرتے ہیں:
الثالث: وھو اللباب، ان یری الامور کلہا من اللہ تعالی رؤیۃ تقطع التفاتہ عن الوسائط وان یعبدہ عبادۃ یفردہ بھا فلا یعبد غیرہ ویخرج عن ھذہ التوحید اتباع الھواء، فکل متبع الھواء فقد اتخذ ھواہ معبودہ (احیاء العلوم (احیاء العلوم: 43)
"توحید کا جوہر یا مغز یہ ہے کہ تو ہر شے اور معاملے کا منبع و ماخذ اللہ کو دیکھنے لگے اور درمیان کے جتنے واسطے اور ذرائع ہیں یہ (تیری نظر سے) منقطع ہوجائیں اور تو صرف اس ذات کو اپنی عبادت کا مرکز بنا لے۔ اس توحید سے وہ لوگ خارج ہیں جو اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں اور خواہشات کی اتباع کرنے والا دراصل اپنے نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے"
اسی کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں:
والثالثۃ: ان یشاھد بطریق الکشف بواسطۃ نور الحق وھو مقام المقربین، وذالک بان یری اشیاء کثیرۃ ولکن یراھا علی کثرتھا صادرۃ عن الواحد القھار (احیاء العلوم: ص 1604)
"اور تیسرا درجہ نور حق کے ذریعے (اس توحید) کا کشف کی سطح پر مشاہدے میں آجانا ہے اور یہ مقربین کا مقام (توحید) ہے ، اس مقام کی حقیقت یہ ہے کہ تو بہت سی چیزیں ملاحظہ کرے لیکن اس کثرت کا منبع ایک ہی ذات قہار کو دیکھے "
اس درجے پر فائز شخص کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
والثالث موحد بمعنی انہ لم یشاھد الا فاعلا واحد (احیاء العلوم: ص 1604)
"اور تیسرے درجے پر فائز موحد کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات میں ایک ذات کے علاوہ کوئی فاعل نہیں دیکھتا "
مزید تشریح فرماتے ہوئے کہتے ہیں:
وحاصلہ ان یکشف لک ان لا فاعل الا اللہ تعالی وان کل موجود من خلق ورزق وعطاء منع و حیاۃ و موت وغنی وفقر الہ غیر ذالک مما ینطلق علیہ اسم فالمنفرد بابداعہ و اختراعہ ھو اللہ عز و جل۔اذا انکشف لک ھذا لم تنظر الی غیرہ (احیاء العلوم: ص 1606)
"اور اس درجہ توحید کا حاصل تجھ پر یہ منکشف ہوجانا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی فاعل نہیں ہے، نیز موجودات میں سے ہر چیز جیسے خلق اور رزق، عطا ہونا اور روک لیا جانا، زندگی اور موت، غنی و فقر، الغرض ہر چیز جسے کوئی نام دیا جاسکے ان سب کو ایجاد کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ جب تجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی تو پھر تو اللہ کے علاوہ کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوگا "
امام غزالی کہتے ہیں کہ توحید کا یہ تیسرا درجہ توکل کی اصل ہے:
واما الثالث: فھو الذی یبنی علیہ التوکل (احیاء العلوم: ص 1606)
"یہ جو تیسرا درجہ ہے، یہ توکل کی بنیاد اور اصل ہے "
اس کے بعد وہ تفصیلا توکل کی ماہیت، اس کے اسرار اور اس پر شیطان کے حملوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ بتاتے ہیں کہ شیطان جس راستے سے انسان کی عملی توحید کو برباد کرتا ہے وہ اس کے توکل ہی کو برباد کرنا ہے جس کے دو اسباب ہوتے ہیں: (1) ایک یہ کہ اس کی نظر جمادات (یعنی مادی اسباب جیسے اس کی زمین، کھیتی، مال و دولت، بارش، ہوا وغیرہ) پر اٹکا دیتا ہے اور وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ وسائل ہی میری کامیابیوں کی ضمانت ہیں (2) اور یا پھر اس کے قلب میں یہ خیال پیدا کردیتا ہے کہ یہ جاندار تجھے فائدہ نقصان دینے والے ہیں اور اگر تو نے ان کے تقاضے اور احکامات پورے نہ کئے تو نقصان اٹھانے والا ہوگا۔ تو توحید کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان کو اس کائنات میں "فاعل حقیقی" صرف اور صرف ایک ہی نظر آئے اور اس کا دل اس پر جم جائے۔ جب اسے توحید کی یہ کیفیت حاصل ہوتی ہے تو اب وہ مادی اور انسانی مفادات کے لئے خدا کی توحید کے تقاضوں کو قربان نہیں کرتا، وہ صرف اللہ ہی کے لئے ہو کے رہتا ہے۔ صوفیاء فرد کو اس درجہ توحید کا سالک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس توحید سے غافل ہر شخص اگرچہ متکلم و فقیہ کی نظر میں مسلمان ہے لیکن وہ اخروی ناکامی کے خطرات سے دوچار ہے کیونکہ قیامت والے روز ان لوگوں کا دعوی توحید ان کے منہ پر مار دئیے جانے کا خطرہ ہے جو توحید کا دم بھرنے کے باوجود عمر بھر فسق و فجور میں مبتلا رہے۔ آج کے جدید لکھاری اس درجہ توحید کو "عملی توحید" کہتے ہیں اور لوگوں کو یہ بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ امام غزالی کہتے ہیں کہ اس توحید کا راز توکل میں پنہاں ہے۔
یہاں ٹھہر کر غور کیجئے کہ کیا خدا کی کتاب بندہ مومن سے اس توحید کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ خدا کو کائنات کا واحد حقیقی فاعل سمجھے اور ہر معاملے میں اسی پر توکل کرے اور ایمان کی اس حلاوت کو محسوس کرے جو مذکور آیت اور متعدد احادیث میں بیان ہوئی؟ کیا توحید کا یہ درجہ انبیاء کی دعوت کا مرکز نہ تھا؟ کیا انبیاء صرف اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں چند درست منطقی و عقلی تصورات کی دعوت دینے کے لئے تھے جن سے متکلمین بحث کرتے ہیں؟ ان سب کا جواب ظاہر ہے نفی میں ہے۔ چونکہ ہر شخص توحید کی اس منزل کو حاصل نہیں کرپاتا لہذا بعض صوفیاء اسے "خواص کی توحید" سے عبارت کرتے ہیں، یعنی اس منزل کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور ہر شخص کو اس کی محنت اور صلاحیت کی مقدار کے مطابق یہ پھل میسر آتا ہے۔
لیکن کیا عوام (masses) کے دعوی ایمانی کو بھی اسی درجہ توحید سے ناپا جائے گا؟ اہل سنت کا جواب نفی میں ہے کیونکہ یہ قلبی احوال کا معاملہ ہے نہ کہ زبان پر چند کلمات جاری ہوجانے کا۔ اس کے برعکس غامدی صاحب کی توحید میں چونکہ ایک ہی درجہ ہے لہذا عین ممکن ہے ان کی توحید یا تو منافقین کی توحید کے درجے پر ختم ہوجاتی ہو اور یا پھر خوارج کی طرح توحیدکے عملی تقاضے پورا نہ کرنے والوں کی تکفیر لازم ٹھہراتی ہو۔ صوفیاء کی توحید نہ تو منافق کی توحید کے درجے پر ختم ہوتی ہے اور نہ ہی خوارج کی توحید کو درست کہتی ہے اور نہ ہی متکلمین کی توحید کو منزل مراد سمجھتی ہے۔ توحید کے باب میں اس سے زیادہ خوبصورت توازن بھلا کسی فکر میں میسر ہے؟
تو اب تک کی گفتگو میں توحید کے تین درجات کی تفصیل بیان ہوچکی۔ ہم کہتے ہیں کہ کسی درخت کا ایک چھوٹا سا پتہ توڑئیے بلکہ زمین سے ایک ذرہ اٹھائیے اور ہمیں بتائیے کہ اس تفصیل میں اس کے مساوی بھی ایسا کچھ ہے جو خلاف قرآن و سنت تو کجا زائد از قرآن و سنت بھی ہو؟ مسئلہ تو ایک ناقص تصور توحید کا تھا جس کو بنیاد بنا کر صوفیاء کی توحید کو تولنا شروع کردیا گیا اور تولنے کے اس کھوٹے معیار پر جو کچھ خالص تھا اسے ہی ناقص قرار دیا جانے لگا۔
(جاری)
حواشی
30. نوٹ کیجئے کہ عربی زبان کے جس لفظ "اوجہ" کا ترجمہ غامدی صاحب نے "درجہ " کیا ہے اس کی تعبیر کے لئے اردو زبان میں زیادہ بہتر لفظ "پہلو" ہے، جسے انگریزی میں aspects کہتے ہیں۔ گویا صاحب عبارت یہ نہیں کہنا چاہتے کہ توحید کے تین درجات ہیں بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بیان توحید کے تین پہلو ہیں۔ لیکن چونکہ وہ اس بات پر زور دینا چاہتے تھے کہ صوفیاء نے توحید کی درجہ بندی کی ہے لہذا انہوں نے یہ ترجمہ کرنا مناسب سمجھا۔ تاہم یہ ایک ضمنی بات ہے، ان پہلووں کو اگر "توحید کی درجہ بندی" بھی کہا جائے تو بھی اس میں کوئی غلط بات نہیں جیسا کہ مضمون کی تفصیلات سے واضح ہوگا۔
31. اسے الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کہتے ہیں۔