نومبر ۲۰۲۰ء

شیعہ سنی اختلاف اور مسئلہ تکفیرمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷٠)ڈاکٹر محی الدین غازی 
تدبرِ کائنات، اسلامی ایمانیات اور قرآنِ مجید کا طریقِ استنباطمولانا محمد عبد اللہ شارق 
مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانونمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شیعہ سُنّی بقائے باہمی کا راستہڈاکٹر اختر حسین عزمی 
امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی (۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار (۲)ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 

شیعہ سنی اختلاف اور مسئلہ تکفیر

محمد عمار خان ناصر

مذاہب کی روایت میں  مختلف قسم کے اعتقادی وعملی اختلافات کا پیدا ہونا تاریخ کا ایک معمول  کا عمل ہے جس سے کوئی مذہبی روایت مستثنی ٰ نہیں۔  ان اختلافات میں  مستند اور غیر مستند  عقیدہ وعمل کی تعیین کی بحثیں بھی  فطری ہیں اور ہر مذہبی روایت کا حصہ ہیں۔  تاہم گروہی شناخت  کے نقطہ نظر سے یہ اختلافات دو میں سے ایک شکل اختیار کر سکتے ہیں  اور اس کی مثالیں بھی  کم وبیش ہر مذہبی روایت   میں موجود ہیں۔   کسی ایک شکل کی تعیین کا عمل اصلا اختلاف کی نوعیت اور مختلف تاریخی عوامل کے تحت ہوتا ہے،   جبکہ اعتقادی اور مذہبی بحثوں کا کردار اس میں ضمنی اور ثانوی ہوتا ہے۔

ایک شکل یہ ہو سکتی ہے کہ اختلاف یک لخت یا بتدریج وسیع ہوتا ہوا  اس سطح پر چلا جائے کہ بنیادی مذہبی شناخت میں اشتراک  کا پہلو بالکل معدوم یا نہ ہونے کے برابر رہ جائے اور دو گروہ  اپنی شناخت  کے لیے  تاریخی اور سماجی طور پر  ایک دوسرے سے بالکل بے نیاز ہو جائیں۔  یہ صورت دو متوازی اور مستقل مذہبی روایتوں کے وجود میں آنے کی ہوتی ہے۔ مذاہب کی تاریخ میں اس کی  مثال مسیحیت ہے جو ابتدا میں ایک الگ مذہب کے طور پر نہیں، بلکہ یہودیوں کے اندر ایک فرقے کے طور پر  رونما ہوئی تھی، لیکن سیدنا مسیح علیہ السلام کی شخصیت سے متعلق اختلاف کی   وجہ سے  بتدریج مسیحی شناخت، یہودیوں سے الگ ہوتی چلی گئی  اور  اب انھیں   دو مستقل مذہب مانا جاتا ہے۔

دوسرا امکان یہ ہوتا ہے کہ اختلاف  یہ شکل اختیار نہ کرے، بلکہ  بنیادی مذہبی شناخت میں گروہوں کے مابین اس سطح کا قرب اور اشتراک  باقی رہے کہ اس کی نفی کرنا ممکن نہ ہو اور  تاریخی عوامل بھی  ایسے حالات پیدا نہ کریں جس میں  دونوں گروہ، ایک دوسرے سے  بالکل بے نیاز اور لاتعلق ہو کر  اور ایک دوسرے پر تہذیبی وسیاسی انحصار کے بغیر    ایک مستقل مذہبی روایت کے طور پر خود کو منظم کر سکیں۔ مثلا مسیحی روایت  اس وقت تین بڑے گروہوں  یعنی رومن کیتھولک، گریک آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ میں تقسیم ہے جن کے مابین بہت بنیادی نوعیت کے اعتقادی وعملی اور تنظیمی اختلافات پائے جاتے ہیں، اور ان میں سے کیتھولک اور گریک آرتھوڈوکس بڑی حد تک دنیا کے الگ الگ خطوں میں تنظیمی طور پر بھی الگ الگ اسٹرکچر رکھتے ہیں، لیکن مسیحیت کی بنیادی شناخت میں یہ سب گروہ  شریک ہیں جو انھیں  اسلام اور یہودیت سے ممتاز کرتی ہے۔

اختلاف ان دونوں میں سے کون سی شکل اختیار کرتا ہے، یہ جیسا کہ عرض کیا گیا،    اختلافات سے متعلق کلامی واعتقادی پوزیشن  سے طے نہیں ہوتا۔ فی نفسہ اختلاف کی نوعیت اور  تاریخی حالات اس کا تعین کرتے ہیں۔   کلامی واعتقادی پوزیشن، اختلافات میں سے کسی  ایک موقف کو  غالب یا رائج کرنے میں تو کردار ادا کرتے ہیں، جیسے مثلا مسیحی روایت میں  آبائے کلیسا کی مختلف مجالس نے  کیا،  لیکن  کوئی گروہ بنیادی مذہبی شناخت میں شریک رہے گا یا نہیں،  اس کا تعین  اعتقادی  پوزیشن نہیں کر سکتی، اور  آبائے کلیسا نے جن متعدد مسیحی فرقوں کو  معیاری مسیحیت سے خارج  قرار دیا، وہ اس کے باوجود   مسیحی روایت ہی کا حصہ تسلیم کیے جاتے ہیں۔

ان دونوں شکلوں کا فرق بالکل بدیہی ہوتا ہے اور دو سادہ اصولوں پر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دو مذہبی روایتوں کے مابین شناخت کا اختلاف کس نوعیت کا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ دو گروہ کسی تیسرے گروہ کے تقابل میں خود کو ایک مشترک شناخت میں شریک تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ اور دوسرا یہ کہ تاریخ کی سطح پر باقی دنیا کی نظر میں ان دونوں گروہ کی شناخت کے اختلاف کو کیسے دیکھا جاتا ہے؟ ان دونوں معیارات پر کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور گریک آرتھوڈوکس ایک ہی مذہبی شناخت کے حامل ہیں، جبکہ یہودی اس شناخت میں شریک نہیں، چاہے مسیحیت کی ابتدا یہودیت کے اندر سے ہی ہوئی ہو۔


اس تناظر میں اگر مسلمانوں کی مذہبی روایت میں شیعہ سنی اختلاف  کا جائزہ لیا جائے تو   صاف واضح ہوگا کہ شیعہ سنی شناخت، تاریخ میں اس طرح  اسلام کے اندر تشکیل پا چکی ہے کہ  انھیں  ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، قرآن اور  سنت متواترہ سے وابستگی اور  اہل بیت  کے ساتھ نسبت کے ہوتے ہوئے اختلاف کی اصولا وہ نوعیت   تھی ہی نہیں جو  شیعہ اور سنی کو یہودی اور مسیحی کی طرح دو متوازی مذاہب میں تقسیم کر دیتی۔  مسیحیوں نے بیت المقدس میں ہی  اپنا الگ قبلہ مقرر کر کے  ہیکل سلیمانی سے اپنا تعلق منقطع کر لیا تھا،  لیکن اہل تشیع نے   کبھی  بیت اللہ سے  دستبرداری اختیار نہیں کی۔  دونوں ایک ہی تاریخ کے مختلف کردار اور مذہبی وعلمی مباحث کی ایک مشترک روایت  میں حصہ دار ہیں۔ دونوں میں شناخت کی تشکیل   کے مشترک عوامل اتنے زیادہ اور بنیادی ہیں کہ  اختلاف کا وہ شکل اختیار کرنا، دیے گئے تاریخی وسماجی تناظر میں، ممکن ہی نہیں تھا اور نہ اب ہے جو یہودی اور مسیحی شناختوں  نے تاریخ میں اختیار کی۔  

ہم نے سابقہ سطور میں واضح کیا ہے کہ  کسی گروہ کو دائرہ اسلام میں  شمار کرنے یا نہ کرنے کا سوال، بنیادی طور پر  کلامی یا فقہی نہیں، بلکہ  تاریخی، تہذیبی اور سماجی ہے۔   اس کا بنیادی حوالہ شناخت کا اشتراک یا افتراق ہے جو تاریخی عوامل سے طے ہوتی ہے اور کسی کلامی سرگرمی میں پڑے بغیر  اس کے  بنیادی  determinants مکمل ہو جاتے ہیں۔   کلامی اور اعتقادی بحثوں کی جتنی بھی اہمیت ہے، اس کے بعد اور تاریخ کے  طے کردہ رخ کے تابع ہے  اور تاریخ کے رخ کو کسی کلامی یا فقہی پوزیشن سے متعین کرنے کی کوشش  کچھ نہیں مگر چھکڑے کو گھوڑے کے آگے باندھنے جیسی حرکت ہے۔  یہ بنیادی تناظر طے ہو جانے کے بعد اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ   کلامی اور فقہی بحثیں اس سوال میں کہاں   داخل ہوتی ہے  اور   مذہبی معاشرت اور تہذیب کی فکری وعملی ضروریات  کے ساتھ ان کا کیا تعلق بنتا ہے۔

ابراہیمی مذاہب میں  حق وباطل کا تصور مذہبی شعور کا ایک تشکیلی عنصر ہے اور کوئی مذہبی روایت اس سے دستبردار ہو کر  اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی۔  یہ سوال الگ الگ مذہبی روایتوں کے مابین  بھی زیربحث رہتا ہے اور  ایک ہی مذہبی روایت کے داخلی اختلافات میں بھی اس کو  بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔   ان اختلافات کا سنگینی کے لحاظ سے مختلف مدارج میں تقسیم ہونا واضح ہے  اور اسی کے لحاظ سے  کسی عقیدے یا عمل کے متعلق مستند مذہبی  موقف کا بیان  اہل علم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔  ابراہیمی مذاہب کی روایت میں   اس طرح کے مواقف کی توضیح    ایک عام معمول ہے اور ہر گروہ کا بحث واستدلال کے ذریعے سے  اپنے اپنے موقف کو مدلل اور مخالف موقف کو   غلط ثابت کرنا ایک  جائز بلکہ ضروری سرگرمی مانا جاتا ہے۔   اسلامی روایت میں بھی  یہ عمل اسی انداز میں جاری رہا ہے اور  مذہبی عقیدے یا عمل یا مذہبی تاریخ کی تعبیر کے دائرے میں نادرست مواقف  پر    ان کی نوعیت کے مطابق حکم لگایا جانا  ایک معروف بات ہے۔   

استثنائی مثالوں  سے صرف نظر کرتے ہوئے،  ان بحثوں میں  جب کسی موقف کے حاملین کی تکفیر کی جاتی ہے تو اس سے مراد  یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ   ان کے بیان کردہ موقف کی، مستند مذہبی معیارات کی روشنی میں ، حق کے ساتھ  اس درجے کی نسبت تضاد ہے۔     اس سے مقصود  کسی گروہ کو  اسلام کی بنیادی شناخت  سے  الگ کرنا یا آسان الفاظ میں  دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا نہیں ہوتا۔  متکلمین اس مراد کو  مختلف اسالیب میں اس طرح واضح کرتے ہیں کہ  یہ تکفیر مطلق ہے، نہ کہ تکفیر معین  اور یہ کہ   اس بات سے  کفر لازم آتا ہے جس کا التزام ضروری نہیں کہ قائل بھی کرتا ہو۔  

ایسا نہیں کہ  تکفیر کرنے والے اہل علم   اس کو  صرف نظری طور پر بیان کرتے ہیں اور اس پر کچھ عملی فقہی احکام مرتب نہیں کرتے۔   وہ  اپنے اپنے فہم کے مطابق بعض فقہی نتائج بھی مرتب  کرتے ہیں اور  ان نتائج کی بنیاد  کے طور پر تکفیر کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن  اس کے ساتھ ساتھ انھیں  بنیادی شناخت کے لحاظ سے  مسلمانوں میں بھی شمار کرتے ہیں۔  یوں بظاہر ان کے اقوال متضاد  دکھائی دیتے ہیں،  لیکن  ہر قول کو اس کے محل میں سمجھا جائے تو بآسانی یہ  سمجھ میں آ جاتا ہے کہ ان کا مدعا  ایسے گروہوں کو اصولی طورپر مسلمانوں کا حصہ شمار کرتے ہوئے  ان کے کفریہ عقائد کی وجہ سے  بعض فقہی معاملات میں   ان کے ساتھ  مسلمانوں جیسا برتاو کرنے سے اجتناب کی تلقین کرنا ہے۔  اس نکتے کی وضاحت کے لیے مثال کے طور پر امام ابن تیمیہ اور  شاہ عبد العزیز کی آرا کو دیکھنا مناسب ہوگا۔

امام ابن تیمیہ اہل سنت کی روایت میں اہل تشیع کے  شدید ترین ناقدین میں سے ہیں اور اور ان کی بعض عبارات میں تکفیر کا پہلو بھی  نمایاں طور پر نکلتا ہے۔   وہ صحابہ کے بارے میں اہل تشیع کے عمومی عقیدے  کو یہود ونصاری ٰ سے  بدتر قرار دیتے ہیں، کیونکہ   یہ قومیں کم سے کم اپنے  دین کی تاریخی تاسیس کرنے والے اکابر کو برا بھلا نہیں کہتے۔  تاہم  اس کے ساتھ ساتھ ابن تیمیہ اس سوال کے جواب میں کہ کیا  روافض کو یہود ونصاری ٰ سے بدتر کہا جا سکتا ہے، لکھتے ہیں کہ  ہرگز نہیں، اور کوئی  کلمہ گو  کتنا ہی  فاسد العقیدہ کیوں نہ ہو،  کفار سے بہرحال بہتر ہے۔ اسی طرح وہ اہل تشیع کے لیے قرب الہی اور ولایت کے  مقامات کا بھی امکان تسلیم کرتے ہیں اور   ان کے پیچھے باجماعت نماز  اور جمعہ ادا کرنے کے متعلق لکھتے ہیں کہ اگر  اس علاقے میں   جمعے کا متبادل انتظام نہ ہو تو   صرف عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے ان کے ساتھ جماعت ترک کرنا اہل سنت کا نہیں، بلکہ اہل بدعت کا طریقہ ہے۔

شاہ  عبد العزیز کے فتاوی میں متنوع قسم کے  فتوے موجود ہیں۔ بعض جگہ وہ اہل تشیع سمیت تمام   اسلامی فرقوں کو   اس حدیث کے مطابق دائرہ اسلام میں شمار کرتے ہیں کہ ’’میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی“۔    کسی دوسرے مقام پر  وہ سیدنا صدیق اکبر کی خلافت کے انکار کو   ایک قطعی  امر کے انکار کی وجہ سے موجب تکفیر  قرار دیتے ہیں۔   لیکن اس سوال کے جواب میں کہ ہندوستان انگریزوں  کے تسلط کے بعد دار الاسلام ہے یا دار الحرب، فرماتے ہیں کہ   وہ ریاستیں جہاں  انگریزوں کی حکومت نہیں ہے، دار الاسلام ہیں اور اس کی مثال کے طور پر  بعض ایسی ریاستوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جن پر  شیعہ نواب حکمران تھے۔

امام ابن تیمیہ اور شاہ عبد العزیز   کے جس زاویہ نظر کا حوالہ دیا گیا، اس سے یہ واضح ہے کہ اہل تشیع  کے  بعض عقائد  ونظریات کے متعلق  یہ سوال اٹھاتے ہوئے بھی کہ وہ حد کفر کو پہنچتے ہیں،  انھیں  اصولی طور پر   مسلمان امت کا حصہ یعنی ایک اسلامی فرقہ شمار کیا جائے گا ۔ ایسی صورت میں تکفیر کی بحث  کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ ان مخصوص عقائد ونظریات کی اصولی حیثیت کے بارے میں اہل سنت کے اعتقادی موقف  کو واضح کر دیا جائے۔

اہل تشیع کے  ہاں بھی غیر امامیہ کی تکفیر کی بحث موجود ہے۔ مثال کے طور پر  چوتھی ، پانچویں صدی ہجری کے  ممتاز  شیعہ عالم شیخ مفید اپنی کتاب اوائل المقالات میں  اہل تشیع کے مخصوص عقائد مثلا عقیدہ امامت کو  تسلیم نہ کرنے  والوں کو  امامیہ کے نقطہ نظر سے کافر قرار دیتے ہیں جو مرتد کے حکم میں ہیں اور  امام کے لیے ضروری ہے کہ ان پر قابو پانے کے بعد  ان سے توبہ کے لیے کہے، ورنہ انھیں قتل کر دے۔ (بعض شیعہ کتب میں امام مہدی کے ظہور کے بعد اہل سنت کے قتل عام کی جو  پیشین گوئی  مذکور ہے، وہ اسی پر مبنی ہے)۔  ان میں سے جو لوگ اسی حالت میں مر جائیں، وہ  جہنم میں جائیں گے اور انھیں قیامت کے دن نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کی شفاعت بھی حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ وہ صرف  شیعہ  گنہگاروں  کے لیے خاص ہے۔   تاہم شیخ مفید   ان مرتدین اور باقی  کفار میں ایک نوعیت کا ظاہری فرق بھی بیان کرتے  ہیں اور ان کے کفر  کے لیے ’’کفر ملة“ کی تعبیر  اختیار کرتے ہیں، یعنی ایسا کفر   جس کا ارتکاب ملت کے دائرے میں  رہنے والوں نے کیا ہے۔  شیخ مفید اس فرق کو  دار الکفر، دار الاسلام اور دار الایمان کی اصطلاحات سے مزید واضح کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ علاقہ جہاں  اہل کفر کا غلبہ ہو، وہ دار الکفر ہے، جہاں امامیہ  کی اکثریت اور  غلبہ ہو، وہ دار الایمان ہے، جبکہ  امامیہ کے عقیدے سے اختلاف رکھنے والے دوسرے گروہوں کے علاقے کو وہ دار الاسلام شمار کرتے ہیں۔  

اسی تناظر میں اہل سنت کے جن متکلمین نے شیعہ کے بعض نظریات مثلا تحریف قرآن، خلافت صدیقی کے انکار، ائمہ کی عصمت اور  ائمہ اہل بیت کے انبیاء   سابقین سے افضل ہونے کے امکان  پر   ان کی تکفیر کی ہے، اسے بھی  کفر ملة کا بیان سمجھا جائے  تو ان کے کلام کی  یہ توجیہ بالکل درست ہوگی اور   بعض پہلووں سے اہل تشیع کو مسلمان سمجھنے او ربعض  پہلووں سے ان کی تکفیر میں جو   ایک ظاہری تعارض  دکھائی دیتا ہے، وہ بھی    ختم ہو جاتاہے۔


سابقہ سطور میں  جو تجزیہ پیش کیا گیا،  اس سے یہ بات بآسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے ہاں  تکفیر کی بحث جس مذہبی  فریم ورک میں اٹھائی جاتی ہے، وہ بالکل ناقص اور ادھورا ہے۔   ہر بحث کی طرح اس بحث کو بھی دیکھنے کا ہمارا پیراڈائم عموما فقہی یا کلامی ہے اور بحث کی قوت محرکہ شناخت اور سیاسی طاقت کی حرکیات ہیں، جبکہ سب سے اہم سوال جو اس ساری بحث میں کہیں بھی موضوع نہیں بنتا، وہ مسئلے کی تاریخی اور سماجی جہت سے تعلق رکھتا ہے اور یہ عمرانیات مذہب (Sociology of Religion) سے بے اعتنائی کے اس عمومی فکری رویے کی عکاسی ہے جو ہمارے ہاں غالب ہے۔ سادہ لفظوں میں، مذہبی فکر میں (چاہے وہ علماء کی سطح پر ہو یا جذباتی مذہبی قائدین وعوام کی سطح پر) اس پیچیدہ مسئلے کو انتہائی سادگی کے ساتھ اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ اسلام کے کچھ مستند اور بنیادی عقائد ہیں، اگر کسی شخص یا گروہ کے نظریات ان میں سے کسی عقیدے یا اس کی مستند تعبیر سے متصادم ہیں تو وہ کافر ہے۔ کسی گروہ کا کوئی عقیدہ، حد کفر کو پہنچتا ہے یا نہیں، اس کے لیے کسی بڑی شخصیت یا شخصیات کی کوئی عبارت مل جائے تو یہ بھی بحث کو فیصل کرنے کے لیے کافی ہے، اور اگر علماء  کی ایک جماعت نے مل کر ایسے کسی فتوے پر دستخط کر دیے ہوں تو پھر جو کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔

مسئلے کی اس کی تمام جہتوں کے ساتھ اور کلیت میں دیکھنے کے تہذیبی انداز فکر کو تج کر شخصیات کی عبارتوں اور ادھورے کلامی وفقہی استدلالات کو مسئلے کی تفہیم کی اساس سمجھنا موجودہ جذباتی  انداز فکرکا سب سے بنیادی مسئلہ ہے اور حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسی مذہبی روایت میں جسے فکری ورثے میں ایک پوری تہذیب اور اس کے عقلی وسماجی علوم ملے ہیں جو نہ صرف اسلام کے بلکہ دوسرے مذاہب کے داخلی اختلافات کی تکییف کا بھی ایک پورا نظام رکھتے ہیں اور صدیوں تک ان اختلافات کے حوالے سے سیاسی، قانونی اور مذہبی مواقف کی تعیین کی عملی بنیاد فراہم کرتے رہے ہیں، مسئلے کو اتنی سطحیت اور سادگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

اگر تکفیر شیعہ کا موقف رکھنے والے حضرات  یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ  شیعہ سنی اختلاف ، تاریخی  لحاظ سے،  یہودی  مسیحی اختلاف بن چکاہے تو یہ بدیہی طو رپر ایک خلاف واقعہ بات ہے۔ اگر یہ کوئی امر واقع ہوتا تو کسی کو اس کی اطلاع دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔  اگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسے بالارادہ یہودی مسیحی اختلاف کی شکل دے دینی چاہیے  تو یہ تاریخ، معاشرہ   اور مذہبی شناخت کے اصولوں سے قطعی ناواقفیت کی علامت  اور بالکل  بچگانہ بات ہے۔   مذہبی شناختوں کے اشتراک یا افتراق  کا سوال اس طرح کے ارادی فیصلوں سے طے نہیں  ہوتا۔ یہ ایک خودکار تاریخی عمل ہوتا ہے جس کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔  اسے   اعتقادی پوزیشن کی بنیاد پر مصنوعی  انداز میں طے کرنے کا منصوبہ ایسا ہی ہے جیسے  دریا کا رخ حسب منشا  طے کرنے کے لیے انجینئرنگ کا کوئی منصوبہ بنانا۔

اس اختلاف کو  یہ شکل دینے کا   خیال بھی اگر کچھ لوگوں کے ذہن میں ہے تو  ان کی بصیرت تو ایک طرف،    سلامتی عقل بھی مشکوک ہے۔  مسیحی روایت میں  پروٹسٹنٹ اور کیتھولک کے مابین صدیوں کے کشت وخون کے بعد بھی اسے  یہ شکل نہیں دی جا سکی، کیونکہ یہ تاریخ سے لڑنے کے مترادف ہے جس میں  ہمیشہ تاریخ فاتح رہتی ہے۔  ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمہ نے  بالکل  بجا طور پر  اس مفہوم میں  شیعہ کی تکفیر  کی بات کرنے کو عالم اسلام میں ٹائم بم  رکھنے کے ہم معنی قرار دیا ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷٠)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۲۱۹)    سورة الصافات کی قسموں کا ترجمہ

سورة الصافات کے شروع میں تین صفتوں کو مقسم بہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان صفتوں کا موصوف ایک ہی ہے یا الگ الگ ہیں، اس سلسلے میں مختلف رائیں ہیں، تاہم مشہور رائے یہ ہے کہ موصوف ملائکہ یعنی فرشتے ہیں۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اسی سورہ کے آخر میں فرشتوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا گیا جس میں انھی صفات کو ترتیب اور الفاظ بدل کر ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا: وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ۔ (الصافات: 164-166) اہم بات یہ بھی ہے کہ شروع کی تینوں آیتوں اور بعد کی ان تینوں آیتوں کو سامنے رکھنے سے دونوں مقامات پر الفاظ کے مفہوم متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔

وَالصَّافَّاتِ صَفًّا کے مقابل میں وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ہے۔

فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا کے مقابل میں وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ہے

اور فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا کے مقابل میں وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ ہے۔

وَالصَّافَّاتِ صَفًّا کا ترجمہ تو سب نے صف باندھنے والے کیا ہے۔

فَالزَّاجِرَاتِ کا ترجمہ عام طور سے ڈانٹنے پھٹکارنے والے کیا گیا ہے، کس کو ڈانٹنے والے ہیں؟ اس کے جواب میں بعض لوگ شیاطین کو، بعض گناہ گاروں کو اور بعض بادلوں کو مراد لیتے ہیں۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا کا مطلب ہے امور تکوینی کو جاری کرنے والے۔ سورة النازعات میں آیا ہے: فَإِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَۃ ۔ (النازعات: 13) یہاں زَجْرَۃسے مراد امر تکوینی ہے، کہ اللہ کی طرف سے بس ایک حکم صادر ہوگا۔ اگرچہ زَجْرَۃ کا ترجمہ عام طور سے ڈانٹ یا اس جیسے لفظ سے کیا گیا ہے:

”تو وہ نہیں مگر ایک جھڑکی“۔ (احمد رضا خان)

”حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی“۔ (سید مودودی)

لیکن یہاں ڈانٹنے اور جھڑکنے کا محل نہیں ہے، ابن عاشور لکھتے ہیں:

وعبر بھا ہنا عن امر اللہ بتکوین اجساد الناس الاموات۔ (التحریر والتنویر)

درست ترجمہ ہے:

”وہ تو بس ایک حکم ہوگا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

سورة الصافات میں بھی زجر کی تشریح علامہ طاہر بن عاشور نے بہت اچھی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں:

والزجر الحث في نھي الأوامر بحيث لا يترك للمامور تباطؤ في الإتيان بالمطلوب والمراد بہ تسخير الملائكۃ المخلوقات التي أمرھم اللہ بتسخيرہا خلقا أو فعلا كتكوين العناصر وتصريف الرياح وإزجاء السحاب إلی الآفاق۔ (التحریر والتنویر)

فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا  کا یہ مفہوم وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس آیت میں لفظ مقام کا ترجمہ عام طور سے مقام یا جگہ کیا گیا ہے جیسے:

”ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے“۔ (سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ یہاں مقام سے مراد ڈیوٹی اور ذمہ داری ہے، مقام قام یقوم سے ہے جس میں ٹھہرنے کے بجائے کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس طرح ترجمہ ہوگا:

”ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین ذمہ داری ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

اگر مقام معلوم سے مراد معین ذمہ داری ہے، تو فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی عملی تصویر ہے۔ یعنی فرشتے اللہ تعالی کے امور تکوینی نافذ کرنے والے ہیں۔

فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا کا مفہوم وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ سے متعین ہوجاتا ہے کہ یہاں اللہ کا ذکر وتسبیح مراد ہے، اس لیے یہاں نصیحت کرنے والے یا قرآن کی تلاوت کرنے والے یا وحی نازل کرنے والے ترجمہ کرنا درست نہیں ہے۔ مندرجہ بالا تشریح کی روشنی میں تینوں آیتوں کے مختلف ترجمے ملاحظہ ہوں:

وَالصَّافَّاتِ صَفًّا ۔ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا ۔ فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا۔ (سورة الصافات ۱ تا ۳)

”شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے (فرشتے) پھر زجر کرنے والے (شیاطین کو) پھر ذکر کرنے والے (اپنے رب کا)“۔ (امین احسن اصلاحی)

”قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم، پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں، پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں“۔ (سید مودودی)

”قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر، پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر، پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)“۔ (فتح محمد جالندھری)

”قسم ہے قطار در قطار صف باندھے رہنے والوں کی، امور تکوینی انجام دینے والے ہیں، ذکر پڑھنے والو ںکی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

بعض ترجموں سے یہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرشوں کے تین الگ الگ گروہوں کا تذکرہ ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ تمام فرشتوں کا تذکرہ ہے جو ان تینوں صفات سے متصف ہوتے ہیں۔

(۲۲۰)    ذِكْرَى الدَّارِ کا ترجمہ

اس آیت کے مختلف ترجمے کیے گئے ہیں، عام طور سے مفہوم یہ لیا گیا ہے اللہ تعالی نے ان نبیوں کو ایک خاص بے آمیز صفت عطا کی، اور وہ آخرت کی یاد ہے۔ بعض لوگوں نے آخرت کی یاددہانی بھی ترجمہ کیا ہے۔ بعض لوگوں نے مفہوم یہ لیا ہے کہ انھیں آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کردیا گیاتھا اس طرح کہ انھیں دنیا کی یاد نہیں آتی تھی، اور بعض نے یہ مفہوم لیا کہ آخرت کی یاد کی بنا پر انھیں منتخب فرمایا۔ کچھ ترجمے ملاحظہ کریں:

”ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دار آخرت کی یاد تھی“۔ (سید مودودی)

”بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے“۔ (احمد رضا خان)

”ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے ان کو ایک خاص مشن –آخرت کی یاددہانی- پر مامور کیا تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ذِكْرَى الدَّارِ سے مراد دنیا میں چرچا اور شہرت لیا ہے۔ أَخْلَصْنَاھُم بِخَالِصَۃ کا مطلب انھیں خصوصی چیز سے نوازا، اور وہ چیز ذکری الدار یعنی دنیا میں چرچا ہے۔ وہ ترجمہ کرتے ہیں:

”ہم نے ان کو دنیا کی خاص شہرت سے نوازا“۔ مطلب یہ کہ انھیں دنیا میں ایسی شہرت اور نیک نامی عطا فرمائی جو صرف ان کے لیے خاص ہے، کوئی اور اس میں شریک نہیں ہے۔

اس خصوصی عطا کا تذکرہ دوسری جگہ مختلف الفاظ سے کیا ہے:

وَوَھَبْنَا لَھُم مِّن رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا۔ (مریم: 50)

”اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی“۔ (سید مودودی)

خاص بات یہ ہے کہ سورہ مریم میں بھی یہ بات ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے تذکرے کے بعد ہے۔ اور سورة ص میں بھی۔ اس کے علاوہ اگر سیاق کلام پر غور کریں تو بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔

وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاھِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ ۔ إِنَّا أَخْلَصْنَاھُم بِخَالِصَۃٍ ذِكْرَى الدَّارِ ۔ وَإِنَّھُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ  (ص: 45-47)

”اور ہمارے بندوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ ہم نے ان کو دنیا کی خاص شہرت سے نوازا۔ اور یقینا ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے“‘۔

یہاں پہلی آیت میں ان نبیوں کا ذکر کرنے کی ترغیب دی، پھر بتایا کہ دنیا میں ہم نے ان کو خصوصی ذکر خیر عطا کیا ہے، اور پھر بتایا کہ ہمارے یہاں ان کا خصوصی مقام ہے۔

زمخشری نے اس قول کو ذکر کیا ہے:

وقیل: ذکری الدار، الثناءالجمیل فی الدنیا ولسان الصدق الذی لیس لغیرھم۔ (الکشاف)

آخرت کی یاد میں مشغول رہنا نبیوں کی بہت خاص صفت تھی، لیکن یہاں موقع اللہ کی طرف سے ان پر ہونے والے انعامات کے تذکرے کا ہے۔

(جاری)

تدبرِ کائنات، اسلامی ایمانیات اور قرآنِ مجید کا طریقِ استنباط

مولانا محمد عبد اللہ شارق

ایک ضروری تمہید

یہ کائنات اسلامی ایمانیات کی ایک نہایت محکم ومکمل دلیل ہے اور اسلامی دعوت وپیغام کی صداقت وحقانیت کے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہے، نیز جب کسی فرد پر کائنات کی یہ گواہی منکشف ہوتی ہے تو کائنات کا ہر ایک ذرہ اور ہر ایک رنگ اس کے لیے ایمان کی تقویت کا زبردست ذریعہ بنتا ہے، ہمارا مقصود اپنی اس تحریر میں اسی موضوع کے حوالہ سے کچھ معروضات پیش کرنا ہے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ کہ کائنات کی اس شہادت کو پورا پورا سمجھنے کی توفیق انسان کو عموما انبیاء کی دعوت سننے اور تدبرِ کائنات کا صحیح منہج انہی سے سیکھ لینے کے بعدملتی ہے۔ نبی کے لب ہلتے ہیں اور کائنات سے استنباط کا منہجِ صحیح وہ بیان کرتا ہے تو یکایک ایک جہان انسان کے سامنے روشن ہوجاتا ہے اور کائنات کے جلووں میں چمکتا ہوا اللہ کا نور انسان کے ظاہر وباطن کو خیرہ کردیتا ہے، جبکہ نبوی دعوت کو سنے بغیر اگر کائنات میں تدبر کیا جائے تو بہت دفعہ انسان ایک اچھا طبیب یا سائنس دان تو بن جاتا ہے، مگر کائنات کے ان مقناطیسی انوارات تک مکمل رسائی پانے سے محروم رہتا ہے جو انسان کو اس کے رب سے ہم کنار کرتے ہیں، اس کی عظمت وجلال کا نقش دل میں بٹھاتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا احساس دل میں پیدا کرتے، نیز پیغمبرانِ خدا کے دامنِ فیض سے وابستہ کرتے ہیں۔

تاہم  یہ بھی ہوسکتا ہےکہ کسی بادیہ نشین کو اللہ پاک کسی رسول کی دعوت سنے بغیر ہی اس کی صدقِ طلب اور صفاءِ باطن کی بناء پر براہِ راست کائنات میں تدبر کرنے سے ان ایمانیات تک رسائی عطا فرمادیں جن کی دعوت دے کر اللہ پاک انبیاء کو مبعوث فرماتے ہیں۔ ایسا ممکن ہے اور بلاشبہ ممکن ہے، مگر یہ عمومی ضابطہ نہیں۔ عام طور پر انسانوں کو کائنات کی شہادت کا ادراک پیغمبر کے لب ہلنے اور اس کی دعوت سننے کے بعد ہی ہوتا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت نے اسی وجہ سے قرآن کریم میں جہاں جابجا کائناتی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے، وہیں ایک سے زیادہ مقامات پر یہ ارشاد بھی فرمایا ہے کہ رسول بھیجے بغیر کسی قوم کو پکڑنا ہمارا طریقہ نہیں۔ مثلا ایک جگہ ارشاد ہے:

”وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُھْلِكَ الْقُرَى حَتّیٰ يَبْعَثَ فِي أُمِّھَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْھِمْ آيَاتِنَا“  (القصص: 59)

یعنی ”تمہارا رب بستیوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول مبعوث نہیں فرما لیتا جو ان کو ہماری آیات اور نشانیاں پڑھ کر سنائے۔“

”مرکزی مقام“ کا ذکر اس لیے فرمایا کیونکہ یہاں سے نبی کا پیغام بآسانی اطراف واکناف تک پہنچ جاتا ہے اور طلب گاروں کے لیے نبی تک پہنچنا آسان ہوتا ہے، اس ارشاد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ نبی  پہل کرتے ہوئے خود ہی چل کر بے طلبوں کے پاس جاتا ہے اور اس انتظار میں نہیں رہتا کہ کوئی ضرورت مند خود چل کر آئے گا تو اس کو پیغام سنادوں گا، مگر خود نبی کا ایک ایک آدمی کے دروازے پر چل کر آنا بہرحال ضروری نہیں، بلکہ نبی کا کسی مرکزی مقام میں مبعوث ہوجانا اور اطراف واکناف تک اس کے پیغام کا پہنچ جانا خود ان اطراف کے لوگوں کو بھی ذمہ دار بناتا ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر مزید خبرگیری کریں اور خدا کے اس منادی کے حوالہ سے صحیح معلومات حاصل کریں۔

خیر، یہاں پر عرض صرف یہ کرنا مقصود ہے کہ کائنات ایک محکم ومکمل دلیل ہے دینِ الہی کے مبنی برحق ہونے کی، مگر انسان کے حواس اور دل ودماغ پر پڑے غفلت کے دبیز پردے عموما اس کو نہ تو کائنات میں کسی اعلی مقصد کے لیے تدبر کرنے دیتے ہیں اور نہ ہی استنباط کرکے صحیح نتائج تک پہنچنے دیتے ہیں، عام طور یہ حجابات انبیاء کے دعوت وپیغام کو سننے کے بعد ہی دور ہوتے ہیں اور انبیاء ہی کے طریقہء استنباط کو سن کر انسان کو یہ توفیق ہوتی ہے کہ وہ اس کائنات کو کسی اعلی مقصد کے لیے دیکھے اور ایک عظیم الشان طریقہء استنباط کے ساتھ اس سے صحیح نتائج اخذ کرے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انسان کی راہ نمائی کے لیے صرف کائنات نہیں بنائی، بلکہ اس بات کا اعلان بھی کیا کہ پیغمبر بھیجے بغیر گرفت کرنا ہمارا طریقہ نہیں اور بتایا کہ ہر قوم میں ایک سمجھانے والا گذر چکا ہے۔(فاطر: 24)

ہم نے یہاں پر کائنات کی شہادتوں کے حوالہ سے اپنے طور پر کچھ کہنے کی بجائے، آخری آسمانی صحیفہ  ”قرآن“ ہی کے اسلوبِ دلیل وطریقہء استنباط کے حوالہ سے کچھ توضیحات عرض کرنے پر اکتفاء کیا ہے کہ قرآن اور اس کی اتباع میں صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی ایمانیات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے کس طرح کائناتی حوالوں کا مسلسل ذکر کرتے ہیں اور کس طرح کائنات کے یہ حوالہ جات بنجر دلوں کو سرسبزی وشادابی عطا کرتے ہیں،  اس سے قاری کے سامنے انبیاء کی پیش کردہ مشترکہ اسلامی دعوت کا خلاصہ بھی آجائے گا  اور کائنات سے صحیح نتائج اخذ کرنے کا وہ طریقہء استنباط بھی جو عموما انبیاءِ کرام اللہ تعالی کے حکم  سے بنی نوع انسان کے سامنے پیش کرتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔

تدبرِ کائنات کی فیصلہ کن اہمیت

دلیل دینے کے معاملہ میں قرآنِ کریم کا ایک نہایت اہم، توجہ طلب اور تقریبا ہر سورہ میں مکرر سہ کرر ذکر ہونے والا  اسلوب یہ ہے کہ یہ طالبِ ہدایت کو بار بار تدبرِ کائنات کی اور کائناتی نقشہ کو جستجوئے حق کے جذبہ سے دیکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ ایک آزمودہ حقیقت  اور خدا کے لاکھوں کروڑوں صالح بندوں کا عملی تجربہ ہے کہ اسلامی ایمانیات کا جو پرکیف اور قطعیت سے بھر پور تجربہ انسان کو کائناتی نقشہ بچشمِ خود دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور خصوصا خالق کے اسلامی تعارف کا جو بدیہی یا نیم بدیہی تیقن انسان کو اس راہ سے حاصل ہوتا ہے، وہ محض کتابیں پڑھنے اور لفظی دلائل کے سن لینے سے ممکن نہیں۔ جدید انسان کا المیہ یہ ہے کہ یہ بند کمروں میں بیٹھ کر فکری بوکاٹے لڑا نے سے ہی سب کچھ حاصل کرلینا چاہتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے خود ساختہ مصنوعی تفکرات نے اس سے بصیرت کی وہ روشنی سلب کر لی ہے جو زمین وآسمان کے ہوش ربا آثار وتغیرات کو بہ چشمِ خود دیکھنے سے انسان کو حاصل ہوتی ہے۔

جو آدمی قرآن فہمی کا دعوی کرتاہے اور قرآن کے مطالعہ کے ساتھ کائنات کے مطالعہ کو اس نے اپنی زندگی میں شامل نہیں کررکھا تو اس کا دعوائے قرآن فہمی درست نہیں۔ جدید دور کے انسان کے ساتھ یہ بڑا ہی درد ناک المیہ پیش آیا ہے کہ یہ کائناتی نظاروں کے عملی مشاہدہ سے محروم ہوچکا ہے اور انفس وآفاق میں موجود خدا کی عظیم نشانیوں کو بہ چشمِ تدبر دیکھنے کے لیے تیار نہیں، زیادہ سے زیادہ وہ اس سلسلہ میں تفریحی انداز کے اندر چند ایسی  کتابیں پڑھ لینا یا ویڈیوز کو دیکھ لینا ہی کافی سمجھتا ہے جن کے اندر بعض مناظرِ کائنات کی نقشہ کشی کی گئی ہوتی ہے یا پھر جو لوگ عملا دیکھتے بھی ہیں تو وہ جتنا اس کائنات کو مادی اغراض ومقاصد کے لیے دیکھنے میں ترقی یافتہ ہیں اور تدبرِ کائنات کے نام پر جتنی ہوش ربا ترقی انہوں نے اس حوالہ سے  کی ہے، موٹے حروف میں  لکھے ہوئے اور روحِ کائنات کی نشان دہی کرنے والے کائناتی اوراق کو پڑھنے   میں وہ اتنے ہی بدو اور نااہل واقع ہوئے ہیں۔

قرآنی مطالبہ ”تدبرِ کائنات“کالازمی تقاضا ایک تو یہ ہے کہ آدمی اس کائنات کو عملا کھلی آنکھ کے ساتھ بہ چشمِ خود دیکھے، دوسرا یہ کہ طالبِ حق بن کر یہ سب کچھ بہ چشمِ تدبر دیکھے۔ کائناتی مناظر کی نقشہ کشی کو صرف پڑھنا  یا ویڈیوز میں دیکھنا، انہیں عملا کھلی آنکھ کے ساتھ بہ چشمِ تدبر طالبِ حق بن کر دیکھنے کا قائم مقام کبھی نہیں ہوسکتا،ان دونوں کے اثرات میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور قرآن کا مطالبہ اپنے قاری سے بنفسِ نفیس تدبر کرنے کاہے، نہ کہ کتابوں میں کائناتی معلومات پڑھنے کا اور سچ کہوں تو نرا کتابی انہماک سرے سے انسان کی اس حس کو ہی مار دیتا ہے جو کائنات کے جلووں میں کوئی ولولہ محسوس کرتی ہے۔ بالفاظِ اقبال

کیا ہے   تجھ کو   کتابوں نے  کور ذوق  اتنا کہ
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ

جدید انسان نے الحاد کے من پسند رنگ کی ایک عینک چڑھا کر،  لیبارٹریوں میں جاکے اس کائنات کو صرف اپنے مادی مفادات اور مادی اغراض  کے لیے ہی دیکھا ہے، جبکہ غیر جانب دارانہ نگاہ سے  اس کائنات کو دیکھنے اور اس میں موجود موٹے حروف سے لکھے ہوئے معرفتِ الہی کے اوراق کا سامنا کرکے انہیں اپنے من میں اتارنے میں یہ اتنا ہی پست اور پس ماندہ واقع ہوا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ جب ہم لوگ اسلامی مبادیات کی فکری پختگی کو ملاحظہ کرنے  کے لیے اس کائنات کو  بچشمِ خود اس زاویہ سے دیکھیں گے نہیں جس زاویہ سے رب العلمین اس کائنات کو دیکھنے کی بنی نوع انسان کو تلقین کرتا ہے تو آپ ہی بتائیے کہ ہم کائنات کی گواہی کو محسوس کیسےکریں گے اور عملا تدبرِ کائنات کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے ایقان وعرفان کی برکات کیسے حاصل کرسکیں گے، ورنہ جو لوگ اس کائنات کو بچشمِ خود اس زاویہ  سے دیکھتے ہیں تو وہ اس گواہی کو محسوس بھی کرتے ہیں اور اثباتِ مدعا کے لیے کافی وافی بھی سمجھتے ہیں۔

تدبرِ کائنات  اور جملہ اسلامی ایمانیات

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کائنات زیادہ سے زیادہ صرف وجودِ باری تعالی کی دلیل ہے، مگر یہ درست نہیں۔قرآن کریم میں  نہ صرف وجودِ باری تعالی یا  توحید، بلکہ رسالت اور آخرت جیسے امور کے احقاق کے لیے بھی انسان کو کائناتی نظام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور کائنات ہی کے ایک حوالہ کو جملہ ایمانی بنیادوں کے اثبات کے لیے کام میں لایا گیا ہے۔ قرآنیات کے ایک محقق عالم امام جصاصؒ نے لکھا ہے کہ قرآن جب یہ کہتا ہے کہ کائنات میں انسان کی نصیحت اور سبق آموزی کے لیے آیات (بصیغہ جمع) ہیں تو اس کا معنی ہوتا ہے کہ کائنات میں انسان کے لیے صرف ایک ہی قسم کی ایمانی راہ نمائی نہیں، بلکہ کئی طرح کی ایمانی راہ نمائیاں موجود ہیں۔(احکام القرآن، ابوبکر الجصاص، جلد2، صفحہ66۔ ط: قدیمی کتب خانہ، کراچی) اس امر کی وضاحت کے لیے ہم چند اشارات یہاں عرض کرتے ہیں جس سے ان شاء اللہ بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ قرآن کے استندلالات اس حوالہ سے کتنے نکتہ رس اور مبہوت کن ہیں۔

خدا کا اسلامی تعارف اور تدبرِ کائنات

قرآن کا مطالبہ خدا کو صرف موجود مان لینے کا نہیں، بلکہ دل ودماغ پر اس خدا کی ہیبت طاری کرنے، حقائق کے مطابق اپنے رویے اس رب کے حوالہ سے درست کرنے اور تعظیم ومحبت کا تعلق اس سے قائم کرنے کا بھی ہے اور اسی کا نام ”ایمان باللہ“ ہے۔ نیز جس طرح یہ کائنات وجودِ باری تعالی کا اثبات ہمارے سامنے کرتی ہے، ویسے ہی اس رب  سے تعظیم وتوقیر کا تعلق قائم کرنے کی تلقین بھی ہمیں کرتی ہے۔ چنانچہ قرآن عام طور پر نہ صرف خدا کے وجود کو ماننے کے لیے، بلکہ اس کی عزت وتوقیر  کی لامتناہی حدوں کو سمجھنے کے لیے بھی کائنات میں تدبر کرتے رہنے کی برابر تلقین کرتا ہے۔ وہ سب آیات جن میں کائناتی ڈیزائن  کی طرف اشارہ کرکے خدا کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، وہ صرف وجودِ باری تعالی کا ہی  اثبات نہیں کرتیں، بلکہ خدا کے اسلامی تعارف  کا اثبات بھی کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ وہ کن کن صفات کا حامل ہے، کیونکر تعظیم وتوقیر کے لائق ہے،  اس کے ساتھ کیسا معاملہ رکھنا  ہمارے لیے ضروری ہے، اس کے بارہ میں کون سے رویے خطرناک ہیں اور یہ کہ وہ کوئی مشینی خدا نہیں ، بلکہ ایک زندہ وجاوید، متصرف خود مختار  اور علیم وخبیر رب ہے۔

توحید اور تدبرِ کائنات

نیز  توحیدی حرارت اپنے اندر پیدا کرنے  کےلیے بھی قرآن میں انسان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ کائنات کو دیکھے اور بتائے کہ کیا اس کا ئنات میں خدا کے سوا کسی اور کا کوئی تصرف نظر آتا ہے؟ کیا کوئی ہے جس نے خدا کی دی ہوئی قوتِ تسخیر  اور خدا کے تخلیق کردہ میٹیریل کے بغیر کوئی ایک مکھی ہی اپنی طرف سےبنائی ہو؟ جب ظاہر ہے کہ نہیں اور مشرکین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں حقیقی، بالذات اور اولین تصرف صرف ایک ہی ذات کا ہے اور اگر کوئی دوسرا  صاحبِ تصرف ہے بھی تو وہ خود اپنے وجود وبقاء میں اس حقیقی متصرف کا محتاج ہے، جب ایسا ہے تو پھر کسی کو اس  عظیم وجلیل رب کے برابر لا بٹھانے، حاجتوں کے لیے اس کو پکارنے، اس کے سامنے تعظیم وادب کی انتہاء پر چلے جانے، اپنی مشکل برآری کا مالک ومختار سمجھنے اور جو اپنے وجود وبقاء میں ہر آن کسی اور کا محتاج  اور اپنی اصل میں بالکل صفر کی طرح ہے، اسے اس حی وقیوم کی صف میں لاکھڑا کرنے  کی آخر کیا تُک ہے جو اس کائنات کا اول وآخر اور ظاہر وباطن ہے؟ ایک چھوٹے کو ایک بڑے کے برابر لاکھڑا کرکے اور اس پہ اصرار کرکےکیا ہم اس بڑے کی اہانت کے مرتکب نہیں ہوتے؟ اگر انسانوں کے مابین معاملہ کرتے ہوئے ہم حفظِ مراتب کے اس اصول سے کام لیتے ہیں جبکہ نفسِ انسانیت میں وہ سب برابر ہوتے ہیں  تو ایک خدا اور اس کی مخلوق کو برابر لاکھڑا کرتے ہوئے ہمیں یہ اصول اور بڑے کی تعظیم وتکریم کا خیال کیوں عجیب لگتا ہے جبکہ ان دونوں میں درجہ اور رتبہ کے اعتبار سے کوئی چیز بھی مشترک نہیں  اور نہ ہی  آپس میں کوئی تقابل بنتا ہے؟

ایمان بالآخرۃ اور تدبرِ کائنات

اس کے بعد آئیے عقیدہ آخرت کی طرف۔ اس حوالہ سے قرآنِ کریم میں ہمیں کئی طرح کے استدلالات ملتے ہیں۔

استدلال نمبر 1

انسان اس عظیم الشان اور ناقابل یقین وسعتوں کی حامل کائنات کو دیکھنے اور اس کے خالق کی عظمت کا نقش دل میں محسوس کرنے کے بعد جب اس دنیا میں انسانوں کے دو طرفہ رنگ اور ان کی دو طرفہ دوڑ دیکھتا ہے کہ ایک طرف رب کے وفا شعار، اس کے آگے رکوع وسجود کرنے والے، اس کی نعمتوں کا شکر کرنے، اس کی آزمائشوں پر صبر کرنے، اس کی مخلوق کے کام آنے والے اور رب کے ساتھ اپنے رشتہ کے مقابلہ میں ہر رشتہ کو چھوٹا سمجھنے والے اور رب کے نام پر جان دینے کا شوق رکھنے والے ہیں جو اس راہ پر پوری قوت سے دوڑے چلے جارہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی رب کے کچھ باغی، اس کے خلاف زبان درازی کرنے والے، نعمتوں کو ڈکارکر ان کا انکار کرنے والے، ذرا سا سرد وگرم آنے پر ناشکریوں کے پل باندھنے والے، آزمائش کے پہلو کا مذاق اڑانے والے، غفلت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اسی کے ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھانے والے، راشی افسروں کی خوشامد کو تہذیب اور خداوندِ کریم کے رو برو رکوع وسجود کو خلافِ تہذیب سمجھنے والے اور کائناتی نظام کو اندھا نظام کہہ کر اس عظیم الشان کائنات کا مذاق اڑانے والے ہیں جو دوسروں کو بھی خدا پرستی کی راہ سے روکنے کے لیے جتن کر رہے ہیں اور اس راہِ بغاوت پر سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔

جب ایک سوچنے سمجھنے والا انسان  انسانوں کی یہ دوطرفہ دوڑ اور یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھتا ہے تو اس کا حساس اور بیدار دل کبھی اس بات پر یقین نہیں کرتاہے کہ جو اس کائنات کا پر جلال، ذی وقار، سمیع وبصیر، علیم وخبیر اور علی شیء قدیر رب ہے، وہ ان دونوں فریقوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے گا، اس کے ہاں سیاہ وسفید کی کوئی تمیز نہ ہوگی اور اس نے یہ جہان  اور اِس جہاں کے دولہا میاں انسان کو بس یوں ہی فنا کے گھاٹ اتارنے کے لیے دنیا کا خلیفہ بنایا ہوگا، اس کے لیے نعمتوں اور رحمتوں کا سمندر بس یوں ہی بہا دیا ہوگا،  سرد وگرم کا ایک سلسلہ بس یوں ہی چلاکر بھول گیا ہوگا، ضروری ہے کہ قیامت کا وہ دن واقع ہو کر رہےجس کی خبر اس کے سچے نبی دیتے ہیں، جب  دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، یہ کائنات کے رب کی صفاتِ عطمت وجلال کا تقاضا ہے۔ کیا کوئی بھی عزتِ نفس رکھنے والا ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو اس نے تخلیق وتدبیر کا ایک عظیم الشان نظام قائم کر رکھا ہو جو ہر دیکھنے والے کی نگاہ کو اس خالق کے عظمت وجلال کے احساس سے آشنا کرتا ہو، جبکہ اس کے ہاں خود اپنے ہی باغیوں اور وفاداروں کا  کوئی فرق نہ ہو، بس سب کو ایک ہی طرح کا صلہ دیا جاتا ہو کہ موت کے گھاٹ اتار کر قصہ مُکا دیا جاتا ہو؟ کیا کوئی عقل والا ہے جو اس بات سے اتفاق کرے؟

انسان کی حیثیت اس دنیا میں باقی جان داروں سے بہت مختلف ہے، یہ اس دنیا کا بادشاہ ہے، دنیا کی رونق اسی کےدم سے ہے، جس ٹھاٹھ اور باٹھ سے دنیا میں یہ رہتا ہے، کھاتا پیتا ہے، سوتا جاگتا ہے،  سردی گرمی کے الگ الگ لباس زیبِ تن کرتا ہے، غیر معمولی گھر تیار کرتا ہے، صبح شام اپنے پیٹ کو بھرنے کے لیے پانی، پیاز، ٹماٹر، مرچ، نمک، گوشت، سبزی کے آمیزے آگ پہ چڑھا تا ہے، ضیافتوں میں شریک ہوکر خوش گپیاں کرتا ہے، شادیوں اور جنازوں کی تقریبات کرتا ہے، بازاروں کو آبادتا ہے، اپنے وجود کو تھکانے کی بجائے سواریوں پہ سوار ہوکر لمبے لمبے سفر کرتا ہے، علم وفن کے کمالات دکھاتا ہے، صنعت وحرفت کے جوہر آزماتا ہے، بحر وبر کے خزانوں پر کمندیں ڈالتا ہے،  لوہے کو موم اور موم کو پتھر کرتا ہے، کیا کوئی اور مخلوق ہے جو اس شان کے ساتھ ہمیں اس دنیا میں نظر آتی ہو؟  انسان کا معاملہ باقی ذی روحوں سے بالکل الگ ہے اور دنیا میں اس کی شاہانہ حیثیت موجودہ سائنسی دور میں تو کچھ زیادہ ہی کھل کر نظر آرہی ہے، اس کو عقل صرف کھانے کے نت نئے ذاتقے تیار کرنے کے لیے یا خلابازی کے کرتب دکھانے کے لیےہی نہیں دی گئی، یہ عقل اپنے رب کے معاملہ میں بھی استعمال کرنی ہے، خدانے اگر انسان کو اس کرہ ارض کا خلیفہ اور بادشاہ بنایا ہے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی خاص مقصد بھی ہے، اگر شاکر وکافر کا کوئی فرق نہ ہو، صالح اور فاسق کا کوئی فرق نہ ہو، ظالم اور عادل کا کوئی فرق نہ ہو، ساجد اور باغی کا کوئی فرق نہ ہو، تعظیم وتمسخر میں کوئی فرق نہ ہو، رحم اور فساد میں کوئی فرق نہ ہو، بس سب نے ایک ہی طرح اس دنیا کا سرد وگرم سہہ کر پیوندِ خاک ہونا ہو تو اس انسان کی خلافتِ ارضی بے مقصد ٹھہرتی ہے اور ایسا تصور اختیار کرنا  خود خدا سےبدگمانی اور بہت بڑی بد گمانی کے مترادف ہے۔ قرآن میں ہے:

”أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ۔ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ“ (القلم: 35، 36)

یعنی ”کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے، تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کیسی بہکی باتیں کہتے ہو؟“

استدلال نمبر 2

خدا کے ہاں اچھے برے کی تمیز کا یہ عالم ہے کہ وہ ہم انسانوں کے ضمیر اور خمیر میں رحم وعدل کی فطری تحسین اور ظلم وبے ہودگی کی فطری کراہیت پیدا کرکے ہمیں زمین پہ اتارتا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس رب کے ہاں اچھے بری کی تمیز اتنی ضروری ہے اور وہ اس حوالہ سے ہمیں صاحبِ تمیز دیکھنا چاہتا ہے، کیا وہ  کبھی نامہ سیاہوں اور روشن پیشانیوں کو ایک لاٹھی سے ہانک سکتا ہے اور یہ کہ ایسا سوچنا کیا اس رب کی بے توقیری اور بے تعظیمی کے مترادف نہیں ہے؟ اس استدلال کا اشارہ ہمیں قرآن میں سورہ القیامہ کی پہلی دو آیات کے اندر اور سورہ الشمس کی آیات 7۔10 میں مل سکتا ہے، اگرچہ ان مقامات پر کہی گئی بات کا مقصود صرف  اسی استدلال پر روشنی ڈالنا نہیں، بلکہ اور بھی بہت کچھ وہاں مضمر ہے۔

استدلال نمبر 3

نیز یہ جہان ، اس میں انسان کی شاہانہ زندگی کا سامان، اس کی خدمت میں مصروف ایک ناقابلِ یقین اور عظیم الشان خواب ناک نظام اور خدا کے حوالہ سے سوچنے پر مجبور کردینے والے زمین وآسمان کسی بھی ذی شعور انسان کو یہ سوچنے پر حقیقتا مجبور کردیتے ہیں کہ خدا نے یہ سب ہمیں اپنی ذات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بنایا، وہ ان کائناتی نشانیوں کے ذریعہ ہمیں اپنی ذات کا تعارف کرانا چاہتا ہے، اپنی ذات وصفات کی وحدانیت پر دلائل قائم کرکے  انسانوں کے رویوں کو آزمانا چاہتا ہے، اپنی عظمت وجلال کا نقش ہمارے دل میں بٹھانا چاہتا ہے، ہمیں اپنی بندگی کا پیکر بنانا چاہتا ہے اور اگر انسان کے کفر وشکر یا خدا کے معاملہ سے بالکل لاتعلق رہنے کے رویہ کا اس کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑنا ہوتا تو خدا  سرے سے اس جہان کو ہی نہ بناتا، نہ انسان کو سوچنے سمجھنے والا دماغ دیتا، نہ اپنی یاد میں تسکین کا سامان رکھتا اور نہ ہی ہماری آنکھوں کے سامنے اپنی نشانیوں کا ایک ناپیدا کنار جہان کھڑا کرتا۔ ضرور خدا ہمیں اپنی ذات کے حوالہ سے بیدار، حساس اور محتاط دیکھنا چاہتا ہے اور اسی لیے اس نے یہ سب کچھ کیا ہے۔  استدلال کی اس صنف کو ایک جگہ قرآن میں  مومنوں کے دل کے احساس کی صورت میں بیان کیا گیا ہے:

”رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ“ (آل عمران: 191)

یعنی ”اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے اس سے (بلکہ تونے ضرور یہ سب ہمیں اپنا تعارف کرانے کے لیے بنایا ہے)۔“

نیز ایک اور جگہ ارشاد ہے:

”وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَھُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ۔ أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ۔ كِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ“ (ص: 27-29)

یعنی ”ہم نے آسمان وزمین کو اور ان کے مابین کو بے مقصد پیدا نہیں کیا ( بلکہ اس سے مقصود  اپنی ذات کی توحید وتعارف پر دلائل قائم کرنا اور انسانوں کو اپنی عبادت ومعرفت کی طرف متوجہ کرنا ہے، سو جو شخص اب بھی ہماری راہ سے اعراض کرے گا اور کائنات کے عظیم الشان نظام کو بے مقصد ٹھہرائے گا تو اس پر ہمارا عذاب واجب ہوگا)، کائنات کو بے مقصد سمجھنا  اور اس کی سبق آموزی سے انکار کرنا اہل کفر کا خیال اور گمان ہے اور ہماری نسبت ایسے گھٹیا خیالات رکھنے والے اہلِ کفر کے لیے ہلاکت خیز جہنم تیار ہے۔ کیا ہم ایمان اور اعمالِ صالحہ کی زندگی گذارنے والوں کو ان کی طرح کردیں گے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں؟ یا کیا ہم بچ بچا کر احتیاط سے زندگی گذارنے والوں کو بد دیانتوں کی طرح کردیں گے؟ (اے نبی!) یہ بابرکت کتاب ہم نے تمہاری طرف اس لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور اصحابِ عقل اس سے سبق حاصل کرسکیں۔“

اس طرح کی آیات جن میں کائنات کی مقصدیت اور انسان کی مقصدیت کی بات کہی گئی ہے، قرآن میں جابجا بکھری ہوئی ہیں، جن کا خلاصہ یہی ہے کہ ہم نے نہ تو کائنات کے عظیم الشان نظام کو پیدا کرکے انسان کے سامنے بے مقصد لاکھڑا کیا ہے اور نہ ہی  ہم اپنے وفاداروں وباغیوں کو ایک لاٹھی سے ہانکیں گے، یہ کائنات ایک حق مقصد کے ساتھ پیدا کی گئی ہے اور وہ یہی ہے جس کی طرف کائنات اصحابِ تدبر کو چیخ چیخ کر متوجہ کرتی ہے، یعنی میرا ایک خالق ومالک ہے،  وہ عظمت وجلال اور رحم وکرم کا پیکر ہے، سمیع وبصیر اور علیم وخبیر ہے، کائنات اس کے حکم میں بندھی ہوئی ہے،  اس کو جانو اور مانو اور ویسے مانو جیسے ماننے کا حق ہے یا پھر  اس کے حق میں کوتاہی کے مرتکب ہوکر ایک دہشت ناک انجام کے لیے تیار ہوجاؤ۔  اس مضمون کا اشارہ قرآن میں سورہ  الانعام کی آیت 73 میں، سورہ  یونس کی آیت 3، 4، 5 میں، سورہ زمر کی آیت 5-7 میں، سورہ انبیاء کی آیت 16-18 میں، سورہ حجر کی آیت 85، 86 میں،  سورہ دخان کی آیت 38-42 میں، سورہ ص کی آیت 27-29 میں،  سورہ آلِ عمران کی آیت 190، 191 میں،  سورہ جاثیہ کی آیت 21، 22 میں، المومنون کی 115-118 میں اور سورہ قیامہ کی آیت 36-40 میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ کائنات کی مقصدیت کے اس ایک حوالہ سے غور وفکر کرنے کی سنجیدہ حس اگر انسان میں بیدار ہوجائے اور وہ اپنے اندر حق کی سچی طلب پیدا کرلے تو دنیا کی کوئی رکاوٹ اس کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی، وہ بتائیدِ الہی دینِ حق تک پہنچ کر ہی رہے گا، ان شاء اللہ۔

استدلال نمبر 4

جو لوگ عقیدہ آخرت پہ گفت وشنید کرتے ہیں، ان کا ایک بڑا اشکال یہ ہوتا ہے کہ آخر موت کے بعد زندگی کیسے ممکن ہے؟ انہیں یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ جنت وجہنم کا جہان کیسے وجود میں آئے گا؟ مرے ہوؤں میں پھر سے زندگی کا رشتہ کیسے جڑے گا؟ جو مر کے مٹی میں مل گئے، جن کی خاک کو ہوا نے اڑا کے کہیں سے کہیں بکھیر دیا، جن کی ہڈیاں بھی پیوندِ خاک ہوگئیں، ان کا جب تخم ہی ملنے کا نہیں تو ان میں نئی زندگی  کا بلب کیسے روشن ہوگا؟ عرب کے مشرک اور جاہل بدو ہی نہیں، آج کے عقل پرست ملحد بھی عقیدہ آخرت پہ اس طرح کا اشکال کرتے ہوئے پائے گئےہیں اور ان کے بڑے بڑے ”ذہینوں“ کی سوئی بعض اوقات اسی سوال پہ اٹکی ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن نے بہت دفعہ  عقیدہءِ آخرت کے اثبات کے لیے اور اس حوالہ سے لوگوں کے دماغ میں پیدا ہونے والے جالے کی صفائی کے لیے فقط قدرتِ خداوندی ہی کو بیان کرنے پر اکتفاء کیا ہے کہ دیکھو! اک نیا جہان کسی نتھو خیرے نے نہیں، اسی اللہ نے بنانا ہے جس نے یہ سارا ناپیدا کنار جہان سجایا ہے، پھر اس کی تخلیق پہ اعتراض کیسا اور اشکا ل کیسا؟

کیا جس نے یہ سارا جہان پیدا فرمایا، رنگ وبو کا  فرش بچھایا، کسی کو اڑنا کسی کو پھدکنا سکھایا،  آنکھوں کو چمکنا اور کانوں کو بجنے والا بنایا،  کائنات کے نظاروں سے انسانی نگاہوں کو خیرہ فرمایا، کیا وہ یہ سب بنانے کے بعد اب خالی ہاتھ ہوگیا ہے، کیا نئے سرے سے ایک اور جہان کھڑا کردینا اس کے لیے مشکل ہوگیا ہے؟ اگر کسی کو یہ رویہ علم وعقل کا نتیجہ لگتا ہے تو اس کے دماغی افلاس اور ذہنی دیوالیہ پن پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، کم ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ نیا جہان بھی اسی نے بنانا ہے جس نے یہ جہان بنایا، پھر اشکال کس بات کا اور الجھن کس بات کی؟ایک جگہ ارشاد ہے: ”قُلْ يُحْيِيھَا الَّذِي أَنشَأَھَا أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَھُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ“ (یس: 79) یعنی آخرت کا جہان اسی نے بنانا ہے جس نے یہ نظر آنے والا جہان بنایا۔ باقی کائنات صرف خدا کی قدرت کا نہیں، بلکہ آخرت کے فی الواقع اثبات کا بھی سامان اپنے اندر رکھتی ہے اور اس حوالہ سے چند اشارات ہم عرض کرچکے ہیں۔

ایمان بالرسالہ اور تدبرِ کائنات

اب آتے ہیں رسالت کی طرف، اللہ کی ذات کا یقین سارے ایمان کی جان اور بنیاد ہے اور یہ یقین جتنا کائنات کو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے، اتنا کسی اور ذریعہ سے قطعا ممکن نہیں ہے۔ کائنات کو دیکھنے سے نہ صرف اللہ کی ذات کا یقین حاصل ہوتا ہے، بلکہ اللہ کی صفات (حکیم، خبیر، قدیر، علیم، عظیم، جلیل، حلیم،  حی وقیوم، رحمن ورحیم، جبار وقہار، سمیع وبصیر وغیرہ) کا علم بھی حاصل ہوتا ہےاور اللہ کی ذات کا رعب دل میں پیدا ہوتا ہے، پھر یہی رعب انسان کو اس رب کے حوالہ سے اپنے رویے درست کرنے اور غلط رویوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر اکساتا ہے، کائنات کے خالق ومالک اور رب کے حوالہ سے محتاط اور حساس بناتا ہے، اسی احتیاط اور حساسیت کے تحت جب کوئی آواز سنائی دے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں تو وہ اس پر چونک اٹھتا ہے، صاحبِ آواز کی صدق وسچائی اگر غیر مشتبہ ہو تو وہی ربِ کائنات کا رعب اس کو اس صاحبِ آواز کا حلقہ بگوش بناتا ہے۔ اس کی نظر میں اس بات کے اندر کوئی عقلی استحالہ نہیں ہوتا کہ ربِ کائنات غیب کے پردوں کو چیرتے ہوئے اپنے کسی بندہ پر اپنا پیغام نازل کرے۔ یوں اس رب  کی اپنی تمام تر صفات کے ساتھ موجودگی کا یقین، اس کی ہی ناراضگی کا خوف، اس کے عتاب سے بچنے کی لگن  اور اس کے ”علی کل شیء قدیر“ ہونے کا احساس اسے  انبیاء کے دامن سے وابستہ کرتا ہے، یہی طرزِ فکر پہلے بھی نیک بخت روحوں کو انبیاء کا حلقہ بگوش بنا کر رب العلمین کے رنگ میں رنگتا تھا اور یہی طرزِ فکر آج بھی انسان کو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے درِ فیض تک پہنچا کر اس میں ربانیت کی شان پیدا کرسکتا ہے۔

”ایمان بالرسالۃ“ اور تدبرِ کائنات کے باہمی تعلق  کی یہ بات ہم یوں بھی بیان کرسکتے ہیں کہ قرآن کا مطالبہ ہے کہ انسان ”تقوی“ اختیار کریں، ”تقوی“ کا لغوی معنی ہے: ”بچنا اور بچاؤ کرنا“، جبکہ اس کا مفہوم اورمعنی مرادی ہے: ”اپنے اندر احتیاط اور حساسیت کا رویہ پیدا کرنا۔“ اب سوال یہ ہے کہ یہ تقوی، احتیاط اور حساسیت کا رویہ کس کے بارہ میں اختیار کرنے کا مطالبہ  کیا جارہا ہے تو جواب ظاہر  ہے کہ یہ مطالبہ اللہ کی ذات کے حوالہ سے  ہے کہ رب العلمین کے حوالہ سے ہمارا معاملہ صرف عقلی اثبات کی حد تک محدود نہ ہو بلکہ اس حوالہ سے ہمارے اندر ایک گرمیء احساس بھی ہو، رب کی عظیم الشان صفات کا ادراک ہو اور اس کے حوالہ سے رعب وہیبت کا ایک نقش ہمارے دل میں پایا جاتا ہو، اس کے حوالہ سے ہم کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند نہ رکھیں،  وہ زندہ وجاوید رب موجود ہے، ہماری ہر حرکت اس کے نوٹس میں ہے، ہم  اپنے تحفظ کا سامان کر لیں اور اس کے حوالہ سے حساس بن کر زندگی گذاریں۔ اس کیفیت کا نام ”تقوی“ ہے۔

یہ کیفیت جس انسان کے اندر بھی ہوگی تو اس کا ضمیر اپنے رب کے حوالہ سے متحرک رہے گا، اس حوالہ سے غلط اور صحیح کی راہ نمائی اس کو دیتا رہے گا اور جب کسی منادی کی  آواز سنائی دے گی کہ میں خدا کا رسول ہوں، تم سے دنیا کی کوئی متاع نہیں چاہتا ہوں، بس خدا ہی کے حوالہ سے تمہاری راہ نمائی کرنے کے لیے اور تمہارے اندر عبدیت اور ربانیت کی شان پیدا کرنے کے لیے مبعوث ہوا ہوں تو ممکن ہی  نہیں کہ یہ ضمیر انسان کو اس آواز سے لاتعلق رہنے دے۔ خلاصہ معروض یہ ہے کہ خدا کے حوالہ سے تقوی، احتیاط اور حساسیت کی کیفیات انسان کے اندر خود منادیء رسالت کے حوالہ سے بھی حساسیت کی کیفیات پیدا کرتی ہیں، اب خدا کے حوالہ سے انسان کے اندر تقوی کی کیفیت پیدا ہوجائےاور مردہ احساسات میں زندگی کی حرارت پیدا ہوجائے، اس کے لیے تدبرِ کائنات بہترین ”ٹانک“ ہے کیونکہ تقوی کی یہ کیفیت جڑی ہوئی ہے اس نقشِ عظمت کے ساتھ جو انسان کے دل میں ربِ کائنات کے حوالہ سے پایا جاتا ہے، یہ نقش جتنا مضبوط ہوگا، تقوی کی کیفیت بھی اتنی ہی قوی ہوگی اور ہم بتا چکے ہیں کہ خدا کی عظمت کا نقش دل میں پختہ کرنے کے لیے خود قرآن اور صاحبِ قرآن صلی  اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا حوالہ کائنات کا دیا گیا ہے۔ اب اس تقوی کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ انسان منادیء رسالت کی آواز پر کان دھرے، اس کی نداء کو ”سنی ان سنی“ نہ کرے اور اس کے بارہ میں خبر گیری کرکے ایمان لے آئے، جبکہ ”ایمان بالرسالۃ“ کے بعد اسی تقوی کی کیفیت میں ترقی کی ایسی ایسی راہیں کھلتی ہیں کہ انسان ربانیت کا پیکر اور بذاتِ خود اللہ کی ایک برہان  بن جاتا ہے۔ اس تقوی کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ قرآن میں درجنوں اور بیسیوں بار مختلف الفاظ میں اس  پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مثلا سورہ نساء کے آغاز پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ”اے انسانو! اپنے اس رب سے بچ بچا کر چلو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔۔۔“ یا ”سورہ یس“ میں ارشاد ہے کہ ”آگے اور پیچھے سے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے زندگی بسر کرو تاکہ تم مستحقِ رحمت بن سکو“تو  نادان لوگ یقینا ”بچ بچا کر چلنے“ کی اس ہدایت کا یقینا کوئی عجیب وغریب مفہوم ہی تراشیں گے مگرایک سلیم الطبع انسان کی نظر میں اس کا مفہوم بالکل واضح ہے اور وہ وہی ہے جو ہم عرض کرچکے ہیں کہ اپنے اندر خدا کے حوالہ سے حساسیت پیدا کرو، اس کے بارہ میں زندہ ضمیری کا ثبوت دو، ایسے افعال اور رویوں سے اپنی حفاظت کرو  جن میں ربِ عظیم کی بے توقیری کا پہلو پایا جاتا ہو اور جن کے نتیجہ میں تمہیں ربِ کائنات کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے۔ حکم ہے کہ اس دنیا میں چونکہ اللہ کی بے توقیری کی مختلف شکلوں کا ایک جنگل اگا ہوا ہے، سو اس جنگل کے اندر تم اپنی آنکھیں اپنے رب کے حوالہ سے کھلی رکھو اور ساری زندگی ایسی حساسیت اور احتیاط (تقوی) کے ساتھ گذارو جیسے کوئی آدمی خار دار جھاڑیوں کے پاس سے گذرتے ہوئے خود کو آگے اور پیچھے سے بچاتے ہوئے چلتا ہے یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ جس طرح ایک باخبر اور بارعب ریاست کا عام شہری حاکمِ وقت کے رعب اور ہیبت کی وجہ سے ملکی قوانین کو بائی پاس کرنے کا تصور نہیں کرسکتا یا جب کبھی حاکمِ وقت کے سامنے موجود ہو تو خصوصیت کے ساتھ ایسی سب حرکتوں سے اجتناب کرتا ہے جو اس بارگاہ کی نزاکتوں کے خلاف ہوں۔

اب سوچئے کہ جو آدمی واقعتا رب کو رب سمجھے گا، کائنات کو اور کائنات میں اپنی موجودگی کو اسی رب کے حوالہ سے دیکھے گا،  اس کے حوالہ سے واقعی بچ بچا کر احتیاط سے چلے گا، اس کے معاملہ میں کوئی رویہ اختیار کرتے ہوئے واقعی حساسیت سے کام لے گا تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کے  منادیوں کی آواز کو خاطر میں نہ لائے، ان کی آواز کو سنی ان سنی کردے اور ان کے حوالہ سے کوئی خبر گیری ہی نہ کرے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک آدمی کے دل میں قانون اور ریاست کی تعظیم بھی ہو، لیکن جب اسی قانون اور ریاست کا کوئی نمائندہ اس کے پاس آئے تو وہ اس کی آواز کو سنی ان سنی کردے، اس کو دروازہ سے ہی دھتکار دے اور اس کے بارہ میں یہ تک خبر گیری نہ کرے کہ کہیں اپنے بارہ میں ریاستی نمائندہ ہونے کا اس کا دعوی مبنی بر حقیقت تو نہیں تھا تاکہ پھر حسبِ حال اس کے ساتھ سلوک کیا جاتا۔ ظاہر ہے ایسی حرکت کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جس کے دل میں ریاست اور قانون ہی کی کوئی تعظیم نہیں ہے۔ سو رسولوں کا معاملہ خدا سے الگ نہیں ہے، اگر ایک آدمی خدا کی تعظیم پر یقین رکھتا ہے تو ممکن ہی نہیں کہ وہ خدا کے منادیوں کی آواز کو سنی ان سنی کردے اور ان کے حوالہ سے اس خبر گیری تک کی ضرورت محسوس نہ کرے کہ کیا یہ منادی اپنے دعوی میں سچا ہے یا جھوٹا۔ لاتعلقی کا یہ انداز کوئی ایسا آدمی ہی اختیار کرسکتا ہے جو خود خدا سے ہی لاتعلق ہے۔

تاہم خدا کی تعظیم کا یہ معنی نہیں کہ اب ہر مدعیء رسالت کے سامنے ادب سے سر جھکا دیا جائے، بلکہ خداوند ہی کی تعظیم کے احساس کے ساتھ جس طرح کسی مدعیء رسالت کی صداقت واضح ہوجانے کے بعد خود کو اس سے وابستہ کرنا ضروری ہے، بعینہ اسی طرح اگر کسی مدعیء رسالت کا جھوٹ اس حوالہ سے ثابت ہوتا ہے تو اسی خداوند ہی کی تعظیم کے احساس کے تحت خدا کا ایک مومن بندہ اپنے آپ کو اس سے دور رکھے گا، اس کے دھوکہ پر لوگوں کو متنبہ کرے گا۔ خدا جب کسی انسان کو اپنا پیغمبر بناتا ہے تو اس کو صداقت کے عام فہم دلائل بھی دیتا ہے اور جب کوئی جھوٹا خود کو اس کا رسول بتاتا ہے تو خدا لوگوں کو اس کے شر سے بچانے کے لیے اس کے جھوٹ کا پول بھی ضرور کھولتا ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ درج بالا کلام کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن میں دیگر ایمانی رویوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ، خود رسولوں کی نداء پر لبیک کہنے اور ان کے معاملہ کو اپنے سے متعلق سمجھنے کا احساس پیدا کرنے  کے لیے بھی کائنات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

قرآنی ورلڈ ویو کی اہمیت وافادیت

چونکہ قرآن خدا کی طرف سےسائنسی اور غیر سائنسی دونوں طرح کے ادوار وافراد کے لیے آخری پیامِ ہدایت بن کر آیا ہے اس لیے اس میں کائناتی جلووں میں سے عموما صرف اس جہان کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور جس تک رسائی پانے کے لیے انسانی نگاہ کو نہ خورد بین کی ضرورت ہے، نہ ہی دور بین کی، نہ خلائی شٹل کی اور نہ ہی اس کے بھاری بھرکم اخراجات کی، تاکہ ہر کس وناکس اس سے فائدہ اٹھا سکےاور کسی کو بھی اس سے استفادہ کرنے میں کوئی مانع پیش نہ آئے۔ نیز اس وجہ سے بھی کہ انسان  کی ہدایت کے لیے خود سائنٹفک دور میں بھی صرف اس کھلی آنکھ سے نظر آنے والی کائنات کا مطالعہ کافی شافی ہوگا بشرطیکہ آدمی ہدایت کا طالب ہو، ورنہ خلاو پاتال کے غوطے بھی اس کو فائدہ نہیں دیں گے۔ دور بین ایجاد ہوجانے کے بعد نہ تو یہ جہان انسان کے لیے بے قیمت ہوگیا ہے اور نہ ہی قرآن کی پیش کردہ تصویرِ کائنات نے اپنی قیمت کھوئی ہے۔

جدید انسان کو ایک ہوس لگی ہوئی ہے کائنات کی پنہائیوں میں جھانکنے کی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جتنا کچھ اللہ نے ہمارے سامنے رکھا ہے اس کا پورا سبق ہم پڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ معاش کی تگ ودو سے کچھ وقت نکالئے،انکارِ مذہب کے فیشن کو چھوڑیے اور ہدایت کی طلب کے ساتھ اللہ کی طرف قدم بڑھائیے، دھوپ اور چھاؤں کی طرح آپ کو شکر وکفر کا فرق بھی اسی زمین پر سمجھ آجائے گا اور اللہ خود بڑھ کر آپ سے آملے گا۔ آسمان ، تاروں، جھلملاتی کہکشاؤں، چمکتے اجالوں، بہتے نالوں، فلک بوس پہاڑوں، سرسبز گلستانوں، سرد وگرم ہواؤں، بادل سے ابلتے فواروں، سنہری دھوپ اور خنک چھاؤں، خزاؤں وبہاروں، ہوا میں تیرتے بادل کے سائبانوں، ست رنگی چہکاروں، چڑھتے اترتے سورج اور گھٹتے بڑھتے چاند کےایمان پرورنظاروں، سمندر کی بے قابو امواجوں، ابلتی آبشاروں، خاک سے نکلتے سبزی، اناج اور پھلوں کے رنگ برنگی خزانوں میں آج بھی حیرت واستعجاب کی ایک دنیا موجود ہے، بس جدید انسان کے مزاج میں خلل آگیا ہے جو یہ موبائل نامی آلہ پر تو حیران ہوتا ہے لیکن کان اور زبان کی تخلیق پر نہیں، دور بین پر حیران ہوتا ہے اور خود اپنی آنکھ پر نہیں، سائنسی کھلونوں پر حیران ہوتا ہے اور انسانی دماغ کی تخلیق پر نہیں، نہ اس عظیم خالق پر جس نے اربوں کی تعداد میں انسانی دماغ بنائے اور ان میں کرشمہ سازی کی صنعت لگائی۔ بند کمروں، مصنوعی روشنیوں اور جدید تہذیب کی افسوں کاریوں میں پھنسا ہوا انسان اس کائنات کو بچشمِ خود کسی اعلی مقصد کے لیے دیکھنے کو تیار نہیں۔

راہ روانِ سائنس کی زندگی  بہت گاڑھے اور عمیق تدبر کے باوجود کنوئیں کے مینڈک کی طرح ہے جو اپنے کنوئیں سے باہر جھانکنے کو تیار نہیں۔ چنانچہ کہنے کو تو اس وقت انسان کی دریافت کافی ”پَرِے“ تک پھیل چکی ہے،  لیکن اگر ہدایت کا طالب بن کر صرف چاند سورج تک پھیلی ہوئی کائنات کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ انسان کی بصیرت کے لیے نہ صرف کل کافی تھا بلکہ آج بھی کافی ہے۔ سائنس کی غیر معمولی ترقی کے باوجود  انسان کی نگاہ مادے سے آگے نہیں جارہی اور اس ترقی کے پیچھے جن لوگوں کا سرمایہ لگا ہوا ہے، انہی کے اغراض ومقاصد اور انہی کےمشن کی تکمیل ہی پیشِ نظر ہے۔ طلبِ ہدایت کے ساتھ اگر وہ صرف کھلی آنکھ سے نظر آنے والی اس کائنات کو ہی  دیکھ لیں تو ان کی ہدایت کا سفر آسان ہوسکتا ہے اور یہ کائنات انہیں اسلام کی حقانیت تک پہنچا سکتی ہے۔ لیکن جب کسی کی اغراض مادیت اور معاشی مقاصد سے آگے بڑھتی ہی نہیں ہیں،  انکارِ مذہب کو ایک فیشن بنالیا گیا ہے اور کوئی مذہب خواہ کتنا ہی سائنٹفک ہو، اس کی پیروی کو بالعموم دوسری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے تو ذرا سوچئے کہ اس رویہ کے ساتھ ہدایت کا سفر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔

یہ کائنات سرچشمہء نصیحت ہے، اس کے لیے وقت نکالئے اور اللہ کی دی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کبھی کبھی تنہائی میں رہ کر صرف عارفانہ نگاہ سے اس کو دیکھئے، دین ومذہب کے بارہ میں آپ کے بہت سے سوالات خود بخود آپ کی جان چھوڑ جائیں گے۔ کائناتی نقشوں میں جب ایک بار آپ خدا کی صناعی کے جلوے دیکھنے کے عادی ہوگئے تو پھر  سائنس کی مصنوعی روشنیاں بھی آپ کے لیے حجاب نہیں بنیں گی، ان روشنیوں میں بھی خدا ہی کا وجود دِکھے گا، جو سائنسی کھلونوں کا خمار  آج سر پہ سوار ہے وہ اتر جائے گا اور یہ سائنس سے قبل سائنس دانوں کے خالق ورب کی ہی یاد دلائیں گے،  اس کے بارہ میں سوچنے  کی اہمیت کا احساس دلائیں گے اور اس کے معاملہ کو خود سے غیر متعلق سمجھنے کے جدید فیشن  پر   آپ کو چوکنا کریں گے۔

اگر عارفانہ نگاہ کے ساتھ اس کائنات کو دیکھنے کی حس انسان میں بیدا ہوجائے (جو بدقسمتی سے مصنوعی طرزِ زندگی کی وجہ سے بے ہوش ہوئی پڑی ہے) توچُلو بھر پانی بھی انسان کی آنکھوں کو جکڑ لیتا ہے،  کائنات کے وہ چھوٹے چھوٹے رنگ جنہیں ہم معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں وہ انسان کو اپنی گرفت اور ٹرانس میں لے لیتے ہیں، دو چار دن تک اگر آدمی آسمان کو  ، سورج کو اور اڑتی پھدکتی زندگی کے رنگوں کو  درس وعبرت کی نگاہ سے نہ دیکھ پائے تو اس کو اپنے اندر ایک خلا محسوس ہوتا ہے،  دیکھ لے تو گذرا ہوا وقت یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی قفس میں گذرا ہو اور اس راہ سے اسلامی ایمانیات کا تیقن حاصل ہونے کے بعد آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ اسلام اور خدا کے اسلامی تعارف کی حقانیت اتنی پیچیدہ اور مبہم نہیں جتنی کہ ہم نے سمجھ رکھی ہے اور یہ کہ اس کا ادراک کرنے کے لیے تو بس ہوش وحواس کی سلامتی درکار  ہے۔

ہم لوگ چونکہ بچپن سے اس کائنات کو سرسری نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہیں اس لیے بڑے ہوکر بھی اسے بس سرسری نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں اور ایمان ومعرفت کی معراجی کیفیات کا ہمیں تجربہ نہیں ہوتا، ورنہ یہ جیتا جاگتا جہان جو ہمارے سامنے موجود ہے، ایک عظیم الشان مشاہدہ کا سامان اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر ہم حقیقت پسندی کی آنکھ کھولیں  اور ذرا سنجیدگی سے اس کو دیکھتے رہا کریں تو رفتہ رفتہ منظر صاف ہوگا، آنکھیں ماحول سے مانوس ہوں گی اور ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم آج تک کتنی بڑی حقیقت  اور کتنے حیران کن مشاہدہ سے محروم رہے۔

گذشتہ گفتگو سے ہمارا یہ مقصود قطعا نہیں ہے کہ سائنس فی اصلہ اسلام  کی حریف ہے یا  اسلام سائنس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اگر کسی کو یہ تاثر ملا ہے تو اس کے لیے دعائے خیر ہی کی جاسکتی ہے۔ ہمارا مقصود فقط یہ رہاہے کہ   جدید انسان کو مصنوعی روشنیوں کی تنگ ناؤ سے نکل کر اس وسیع وعریض کا ئنات کے رنگوں کو خود اپنے حواس کے ذریعہ سے محسوس کرنا چاہئے، اس سے بصیرت میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور دوسرا یہ کہ اسلام اپنی صداقت کے اثبات کے لیے جدید سائنسی حوالوں کا محتاج نہیں، اگر چہ خود ان کی وجہ سےبھی اسلام کے ہی موقف کو مزید تقویت ملتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، تاہم جو طاقت بچشمِ خود اور بچشمِ تدبر کائنات کو دیکھنے میں ہے، اس کا کوئی بدل نہیں۔ گذشتہ گفتگو سے مقصود صرف یہی ہے۔

آخری بات

کائنات کا حوالہ جو قرآن میں ایک تسلسل کے ساتھ دیا جاتا ہے، وہ  ایمان باللہ، ایمان بالرسول اور ایمان بالآخرہ سمیت انسان کے تمام تر ایمانی رویوں کی اصلاح کے لیے گویا بیک وقت مفید ہے اور یہ سب ایمانی حقائق نہایت موٹے حروف کے اندر کائناتی اوراق پر لکھے ہوئے ہیں۔ مندرجہ بالا سطور میں ہم نے اس تدبر کے منہج کو قرآنِ کریم کی روشنی میں واضح کیا ہے اور اس کے نتائج کو عقلی ولفظی ضابطوں کی شکل میں بیان کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان ضابطوں کے بیان میں کوئی جھول رہ گیا ہو، قاری کو یہ جھول ڈھونڈنے اور ان پر تنقید کے نشتر تیز کرنے کی بجائے عملا تدبرِ کائنات کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔ تدبر کی تاثیر کا صحیح اندازہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب آدمی عملا تدبر کرے اور اسے اپنے روز مرہ وظائف میں شامل کرے۔

ہم نے یہاں وجودِ باری تعالی، توحید، رسالت اور آخرت کے بارہ میں تدبر کے مختلف مناہج الگ الگ بیان کیے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید تدبر کی ان تمام انواع کے لیے الگ الگ بساط بچھانے کی ضرورت ہے، مگر فی الواقع یہ جدا جدا نہیں ، بلکہ ایک ہی شجر کے برگ وبار ہیں، طالبِ حق کا تدبر آہستہ آہستہ اس کے دل کی سیاہی کو دور کرتا ہے اور الوہی نظام کے حوالہ سے قرآنی منہج کے مطابق کیا گیا اس کا تدبر  اسے مذکورہ تمام اسلامی ایمانیات کے حوالہ سے ایک زبردست تجربہ سے روشناس کراتا ہے۔ مذکور الصدر ضابطے شاید کسی کو پڑھنے میں کچھ مشکل محسوس ہوئے ہوں، مگر کائناتی تدبر اور اس کے نتائج بالکل سہل الحصول اور نیم بدیہی شان کے حامل ہیں، عملا تدبر کی راہ پر چلنے والا شخص خواہ کوئی بدو ہو یا بہت بڑا مفکر، اسلامی ایمانیات کو صرف عقلی اثبات کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک نیم بدیہی احساس کی صورت میں اپنے اندر موج زن پاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ جس خدا نے مجھے پیدا کیا اور یہ سب کچھ پیدا کیا ہے، پیدا کرکے  ست رنگی نعمتوں کے جھولے میں ڈالا ہے،  کیا اس کا حق نہیں کہ اس کے نبیوں کی صداقت اگر الم نشرح ہوجائے تو میں ان کی طرف گوش بر آواز ہوجاؤں، کائناتی حقیقت، انسان کی حیثیت اور خدا کے معاملہ کی سائنٹفک نوعیت کے حوالہ سے جو وہ ہمیشہ ارشادات فرماتے رہے ہیں، انہیں دل کی کھڑکی کھول کر سن لوں،  کائنات کا خالق ومالک یقین کرتے ہوئے اس کی وسعت علمی اور وسعت ِ اختیاری پر ایمان لے آؤں،  اس کی عزت وعظمت کے معاملہ کی حساسیت کو سمجھ لوں، اس کے ارحم الراحمینی کے مناظر دیکھنے کے لیے منفی طرزِ نگاہ کی عینک اپنی آنکھوں سے اتار لوں،  اس کے بے نیازی وکرم نوازی  اور عزت ورحمت کے دونوں معاملے سمجھ لوں، اس کے خلاف زبان درازی کرنے، اس کے معاملہ کو خود سے غیر متعلق سمجھنے، اس کی قدرت وعظمت پر سوالیہ نشان لگانے، صداقت سے مسلح اس کے سچے نبیوں کے انکار کی روش اختیار کرکےاس کی غیرت وعزت کو للکارنے اور اپنی اوقات کو بھول جانے کے طرز سے بچ جاؤں؟؟

جس نے بن مانگے اتنا کچھ دیا ہے، نعمتوں کی ناقدری کے باوجود ان کا باب بند نہیں فرمایا، ہماری تمام تر بے وقعتی اور اپنی تمام تر عظمت وقدرت کے باوجود ہماری ناقدریوں کی وجہ سے اس نے ہمارے اوپر شب وروزکا سلسلہ بند نہیں فرمایا، زندگی کی راہیں کھولتا گیا اور سوچنے سمجھنے کے مواقع دیتا گیا،  اگر ہم اس کے وفا شعار بن جائیں تو وہ حلیم وصبور ہمیں کیا کچھ نہ دے گا؟  اگر یہ سچ ہے تو پھر نبیوں کی دعوت کو جھٹلانے کا آخر کیا جواز ہے؟ نبیوں نے آکر یہی کچھ تو فرمایا ہے، خدا کو راضی کرنے کا طریقہ بتلایا ہے، اس سے وفا کا قرینہ سکھا یاہے، اس کی بندگی خود کرکے دکھایا ہے اور بالکل سائنٹفک انداز میں اس کے ثابت شدہ تعارف پر ایمان لانے اور اس کی ذات کو ناپختہ اندازوں کی مشق گاہ بنانے کی حساسیت سے آگاہ فرمایا ہے۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للہ رب العلمین۔

مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی مساجد و مدارس اور وقف املاک کے حوالہ سے جو قانون منظور کیا گیا ہے اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف النوع تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا اصل محرک مالیاتی حوالہ سے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے اس قانون کے فوری نفاذ کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلام آباد میں اور وہاں یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں اس قانون کا دائرہ پھیلایا گیا تو پورے ملک میں مساجد و مدارس اور وقف اداروں کا بنیادی ڈھانچہ یکسر تبدیل ہو کر رہ جائے گا، اور سرکاری یا پرائیویٹ ہر قسم کے اوقاف اور ان پر قائم ادارے براہ راست انتظامیہ کے کنٹرول میں چلے جائیں گے، نیز پرائیویٹ مساجد و مدارس کا سلسلہ بھی انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہو گا۔

اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان میں مساجد و مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے اس مبینہ ایجنڈے کی تکمیل کا فیصلہ کن قدم ہو گا جس سے ڈیڑھ سو سال سے دینی تعلیم و عبادت کا جو نظام آزادانہ کردار ادا کر رہا ہے وہ خدانخواستہ باقی نہیں رہے گا۔ قانون کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1.  اینٹی منی لانڈرنگ (انسداد منتقلی رقوم)
  2. اینٹی ٹیررازم (انسداد دہشت گردی)
  3. اوقاف کنٹرول پالیسی

اس کے تیسرے جزء میں پنجاب وقف املاک بورڈ ۱۹۷۹ء کو منسوخ کر کے دارالحکومت وقف املاک ایکٹ ۲۰۲۰ء منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق:

  1. وفاق کے زیر اہتمام علاقوں میں مساجد و امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہو گی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔
  2. حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل (آمدن و خرچ) معلوم کرنے اور آڈٹ (احتساب) کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
  3. وقف زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں اور مدارس وفاق کے کنٹرول میں ہوں گے۔
  4. وقف املاک پر قائم عمارتوں کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال لے گی۔
  5. قانون کی خلاف ورزی پر ڈھائی کروڑ جرمانہ اور پانچ سال تک سزا ہو سکے گی۔
  6. حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلٰی تعینات کرے گی۔
  7. منتظم اعلٰی کسی خطاب، لیکچر یا خطبے کو روکنے کی ہدایات دے سکے گا۔
  8. منتظم اعلٰی قومی خودمختاری اور وحدانیت کو نقصان پہنچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔
  9. خطبے یا تقریر کی شکایت کی صورت میں چھ ماہ تک قید رکھا جا سکتا ہے، جس کے لیے وارننگ کی ضرورت ہو گی۔ چھ ماہ تک اس کی ضمانت ہو گی نہ عدالت مداخلت کر سکے گی۔ جرم ثابت نہ ہوا تو چھ ماہ بعد رہائی ملے گی مگر اس حبس بے جا پر سوال نہیں کیا جا سکے گا۔
  10. مسجد اور مدرسے کو چلانے والی انجمن کے تمام عہدیداروں کی مکمل ویریفیکیشن (تصدیق) ہو گی اور ان کا ٹیکس ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔
  11. مسجد اور مدرسے کو زمین یا فنڈ دینے والے اپنی منی ٹریل بھی دے گا کہ اس نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی۔
  12. مسجد اور مدرسہ کسی وقت اخراجات، فنڈنگ کرنے والوں کی تفصیل یا منی ٹریل نہ دے سکے گی تو وہ عمارت حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔‘‘

ہم اس موقع پر ملک کے دینی و علمی حلقوں سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں خاموشی درست نہیں ہے، اس کا قانونی، معاشرتی اور فقہی طور پر جائزہ لینا اور مبینہ خدشات و خطرات کا ادراک کرنا ضروری ہے تاکہ دینی مکاتب فکر کی مشترکہ رائے سامنے آئے اور اگر فی الواقع یہ قانون ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے تو اس کے سدباب اور روک تھام کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کیا جائے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ دینی جماعتوں کی قیادتیں اور علمی مراکز اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس سلسلے میں ملی مجلس شرعی پاکستان کا ایک مشاورتی اجلاس گارڈن ٹاؤن لاہور میں جامعہ الاسلامیہ میں منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات کے علاوہ بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی اور مولانا عبد الرؤف ملک نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مذکورہ وقف املاک قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی متعدد شقوں کو شرعی، قانونی اور بین الاقوامی مسلّمات کے منافی قرار دیا گیا اور اس بات کا بطور خاص نوٹس لیا گیا کہ ملک کے عوام بالخصوص علماء کرام اور دینی راہنماؤں کی اکثریت اس قانون کے مندرجات اور نتائج و عواقب سے آگاہ نہیں ہیں جبکہ واضح طور پر یہ قانون دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار اور مساجد کے آزادانہ دینی ماحول پر اثرانداز ہو رہی ہے اور دینی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ خطبہ و وعظ کو بھی بیوروکریسی کے مکمل کنٹرول میں دے دیا گیا ہے، جو شرعی تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہماری ملی و معاشرتی روایات سے بھی انحراف ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا اور اس کا راستہ روکنا بہرحال ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد کے علماء کرام اور خطباء مساجد کی اجتماعی مہم کی تحسین کی گئی اور ان سے ہر ممکن تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ملک بھر میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، دینی مدارس کے مہتممین اور دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قانون کا فی الفور مطالعہ کر کے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں اور اپنے ماحول میں بیداری پیدا کرنے کا اہتمام کریں۔

شیعہ سُنّی بقائے باہمی کا راستہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے اکتوبر ۲۰۲۰ کے شمارے میں جناب مولانا زاہد الراشدی کا شیعہ سنی کشیدگی کے تناظر میں یہ فرمانا بہت ہی گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے:

’’ہمارا اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرامؒ و اہلبیت عظام کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ و جذبات کا تحفظ کریں، اسی طرح ہماری یہ بھی ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے ہر قیمت پر بچائیں۔‘‘

ان کی یہ تشویش بھی بجا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں مشرق وسطیٰ کی طرح کی صورت حال پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ اب یہ پاکستان کے شیعہ و سنّی اہل علم کے فہم و بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ عرب و عجم کی عصبیت اور بالادستی کی اسیر قیادتوں کے اپیل پر شیعہ سنی جذباتیت کا شکار ہو کر اپنے پُر امن معاشروں کو بھی اس بدامنی کا شکار کرنا پسند کرتے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں سب دیکھ رہے ہیں یا اپنے تمام تر اختلاف کے باوجود پُرامن بقائے باہمی کا کوئی راستہ اپنے سامنے متعین کرلیتے ہیں۔ اگر اس معاملے کو بر وقت اعتدال و توازن کے ساتھ پاکستان کی شیعہ سنی قیادتوں نے نہ سنبھالا تو یہاں کسی کی بھی جیت کا کوئی امکان نہیں، ہار ہی ہار ہر ایک کا مقدر ہوگی۔ یہ معاملہ ہار جیت کی سوچ کے ساتھ نہیں، معاملات کو حل کرنے کے جذبے کے ساتھ ہی سر کیا جاسکتا ہے ہم اپنے مدعا کی وضاحت کے لیے جناب مفتی محمد زاہد، شیخ الحدیث جامعہ امدادیہ (فیصل آباد) کے الفاظ کا سہارا لیں گے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’میرے خیال میں سب سے بڑی مشترکہ بنیاد یہی ہے کہ ہم سب نے اسی کرّے (کرہ زمین) پر اور اسی ملک میں رہنا ہے۔ فی الحال تو زمین کے علاوہ کوئی اور قابل سکونت کرہ دریافت نہیں ہوا، جب سائنس دان ایسے کرّے دریافت کر لیں گے تو غور کر لیا جائے گا۔ ہر مسلک کے لیے سالم گلوب بک کرا لیا جائے، ایک گلوب اہل تشیع کے لیے، ایک اہل سنت کے لیے، اسی طرح ہر ہر فرقے کے لیے الگ کرّہ ہو جائے، لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک تو سب کو یہیں رہنا ہے اور اس ملک میں رہنا ہے۔ سنی نے رہنا بھی سنّی بن کر ہی ہے، شیعہ نے شیعہ بن کر۔ اہل حدیث نے اہل حدیث بن کر اور حنفی نے حنفی بن کر ہی رہنا ہے۔ بس سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے رہنے کی اس جگہ کو زیادہ سے زیادہ پرُامن اور رہنے کے لیے سازگار کیسے بنانا ہے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو تسنّن بھی پھلے پھولے گا،تشیّع بھی، دیوبندیت بھی، بریلویت بھی،حنفیت بھی اور سلفیت بھی۔ اور اگر اس میں ہم ناکام رہتے ہیں اور خصوصاً ہمارا ملک بدامنی کی لپیٹ میں آکر معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتا ہے تو ان تمام مکاتب فکر کی تنظیموں، جماعتوں، مساجد، مدارس وغیرہ کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے پُرامن بقائے باہمی کے اصول ڈھونڈنا ہم سب کی ضرورت ہے۔‘‘ (۱)

دورِ حاضر کے چند شیعہ علماء کے خیالات بھی اس بقائے باہمی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ علامہ سید افتخار حسین نقوی فرماتے ہیں:

’’مسلمانوں کے مابین محبتِ رسول، محبتِ آلِ رسولؐ، احترامِ صحابہ کرامؓ اور احترامِ ازواجِؓ پیغمبر کی بنیاد پر قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ہر مسلک کے علمائے کرام کو دوسرے مسلک کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔‘‘ (۲)

سنی اور شیعہ کے مابین استحقاق خلافت کے بارے میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے بلکہ ان کے مابین ایک عقیدہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس کا عملی حل اب کیا ہے؟ اس بارے میں مولانا افتخار حسین نقوی کہتے ہیں:

’’جہاں تک خلافت کے مسئلے پر اختلاف کا تعلق ہے، میں کہتا ہوں کہ زمانہ بدل گیا، ہمیں حقائق سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی حکومت حضرت ابوبکرؓ، ان کے بعد عمرؓ اور ان کے بعد عثمانؓ کے ہاتھ رہی، ان کے بعد لوگوں نے جمع ہو کر حضرت علیؓ کو حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ کیا۔۔۔ اگر امت مسلمہ کی اکثریت ان خلفاء کو اپنا رہبر و رہنما مانتی ہے تو کسی کو ان کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے کسی کی دلآزاری ہو یا توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ خود حضرت علیؓ نے اختلاف رائے کے باوجود اسلام کے عظیم تر مفاد میں خلفائے ثلاثہ (ابو بکر و عمر و عثمان) کا ساتھ دیا اور جب بھی ان میں سے کسی نے مشورہ طلب کیا تو آپؓ نے دریغ نہ کیا۔ حضرت علیؓ کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اسلام اور امت اسلامیہ کے عظیم تر مفاد میں سوچیں اور عمل کریں، ہمیں حضرت علیؓ اور آل رسولؐ سے قدم آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔‘‘ (۳)

علامہ عارف الحسینی اہل تشیع کے ایک اجتماع کی یوں تربیت فرماتے ہیں:

’’آپ جب کسی عالم کے پاس جاتے ہیں، وہاں وہ کہتا ہے کہ آج فلاں جگہ جھنگ سے فلاں فلاں آیا تھا اور اس نے شیعوں کے خلاف بڑے سخت الفاظ استعمال کیے، یہ آپ کو بُرا لگتا ہے یا نہیں لگتا۔پھر آپ شیعہ امام باڑے میں، شیعہ مسجد اور شیعہ اجتماع میں ان کے خلاف تقریر کریں گے تو کیا ان کے احساسات اس سے مجروح ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ تو جس طرح آپ کو یہ برا لگتا ہے کہ آپ کے مقدّسات اور آپ کے پیشوائوں کے خلاف کوئی نازیبا الفاظ استعمال کرے تو بھی آپ ان کے پیشوائوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال نہ کریں۔‘‘(۴)

تحریک جعفریہ کے قاید علامہ عارف الحسینی باہمی اتحاد کی صورت یوں بیان کرتے ہیں:

’’اتحاد سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ شیعہ اپنے تشخص کو برقرار کھے، سنّی اپنے تشخص کو برقرار رکھے۔ سُنّی اپنے مسلک اور فقہ کے مطابق عمل کرتے رہیں اور شیعہ اپنی فقہ اور تعلیمات اہل بیت کے مطابق زندگی گزارتے رہیں۔ ایک دوسرے کے امور میں مداخلت نہ کریں۔ ایک دوسرے کو تسلیم کریں۔ اس کے بعد مشترکہ طور پر دشمنانِ اسلام کے خلاف متحد ہو جائیں۔‘‘ (۵)

ایک خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تقریر میں دینی مصلحت کو مدّنظر رکھے۔ علامہ عارف الحسینی کے بقول:

’’کتنے دکھ کی بات ہے کہ یہ منبر خواہ اس پر شیعہ مجلسِ حسینی کے لیےبیٹھے یا سُنّی مسجد میں ایک خطیب خطبۂ جمعہ دے، یہ منبر اس لیے ہے کہ اس پر قرآن سے متعلق کہا جائے، اسلام سے متعلق کہا  جائے، مسلمانوں کی مصلحت سے متعلق کہاجائے۔ سامراج و استعمار کی سازشوں کو ناکام بنانے سے متعلق کہا جائے۔ اگر یہ منبر خواہ شیعہ امام باڑے یا مسجد میں ہو یا سُنّی مسجد میں ہو، اگر اس منبر پر بولنے والا کوئی ایسی بات کرے کہ جس کے نتیجے میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کا دشمن بن جائے، مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو جائے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اس بولنے والے نے اس منبر کے ساتھ بھی خیانت کی ہے اور مسلمانوںکے ساتھ بھی اس نے خیانت کی ہے۔‘‘(۶)

جامعۃ النجف ڈیرہ اسماعیل خاں کے مدیر اورتحریک جعفریہ خیبر پختونخواہ کے صوبائی رہنما علامہ محمد رمضان توقیر کا بیان ہے:

’’اگر میں حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکر ؓسے افضل سمجھتا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں حضرت ابو بکرؓ کی معاذ اللہ نفی کر رہا ہوں، وہ صحابی رسول ہیں، ان کی خدمات ہیں، لوگ پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ تقیّہ کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں۔ میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کرتا ہوں جب کہ ان کو تقیّہ کی تعریف کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ تقیّہ کیا ہوتا ہے۔ تقیّہ کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا صحابہ کرام با وجود اختلاف کے ایک دوسرے کا احترام نہیں کرتے تھے؟ آپس میں مشاورت نہیں کرتے تھے؟ کیا سنی شیعہ کتب میں یہ ذکر نہیں کہ جب مولا علیؓ نے حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا تو حضرت عمرؓ نے کہا: لَو لَا عَلي لَھلَک عمُر ’’اگر حضرت علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ آج ہلاک ہو جاتا۔‘‘ جب صحابہ کرام اکٹھے بیٹھتے تھے تو ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، آپس میں مشاورت کرتے تھے، اسلام کی سر بلندی کے لیے متحد تھے تو ہم ان کے نام لیوا کیوں متحد نہیں ہیں۔‘‘(۷)

ممتاز شیعہ عالم علامہ محمد رمضان توقیر کے بقول:

’’جتنے بھی ہمارے فقہی مسائل ہیں، کیا ان میں کوئی بنیادی اختلاف ہے؟ کون مسلمان ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہے اور نماز پنجگانہ کو واجب نہیں سمجھتا۔ کون سا شیعہ، کونسا سنی، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہے؟ پانچ نمازوں کو تو چھوڑیے جو یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ صبح کی دو رکعت فرض ہیں، کون سے مسلک سے تعلق رکھنے والا ایسا مسلمان ہے جو عقیدہ نہیں رکھتا کہ ظہر کی چار رکعات ہیں، عصر کی چار رکعات فرض ہیں، کون سا مسلمان ہے، سنی یا شیعہ، جو یہ ایمان نہیں رکھتا کہ حج ہم پر فرض ہے۔ ماہ رمضان کے روزے رکھنا واجب ہے۔ جہاد ہم پر واجب ہے۔ سب کا یہ عقیدہ ہے۔ البتہ جزئیات میں اختلاف ہے۔ پچانوے سے زیادہ مشترکات ہیں۔ اگر جزئیات میں اختلاف ہے، پچانوے سے زیادہ ہمارے مشترکات ہیں۔ اگر کچھ اختلاف ہیں، تو وہ بھی مستحبات میں ہیں نہ کہ واجبات میں۔ اور پچانوے مشترکات کو کنارے پر رکھ کر پانچ فی صداختلافات کو اچھال کر ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جانا، اور انھی تھوڑے سے اختلافات پر ساری توانائیاں خرچ کرنا، ساری طاقت خرچ کرنا کون سی دانش مندی ہے۔‘‘(۸)

تحریک جعفریہ پاکستان کے سابق سربراہ علامہ عارف حسین الحسینی کہتے ہیں:

’’میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے اپنے شیعی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف اخوت کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔ خواہ وہ بریلوی مکتب سے تعلق رکھتا ہو یا اہل حدیث ہو یا دیوبندی ہو۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا ہو یا جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مربوط ہو یا جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ۔ ہماری نظروں میں یہ نام اہم نہیں ہیں بلکہ اسلام اہم ہے۔ جو بھی اپنے سینے میں اسلام کی محبت رکھتا ہو، جس کا بھی دل قرآن کے لیے تڑپتا ہو، جو بھی اپنے دل میں روس و امریکہ سے نفرت رکھتا ہو، ہم اس کی طرف اتحاد و اخوت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔‘‘(۹)

ہماری نظر میں شیعہ اکابرین کے درج بالا خیالات شیعہ سنّی منافرت کے خاتمے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ سُنّی علماء میں سے  سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جن کی عبارتوں کو شیعہ علما اپنے موقف کی حمایت میں حوالہ بناتے ہیں، ہم ان کی ایک عبارت کو اپنے شکوے کے ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیعہ سنّی تنازعات کے ضمن میں وہ لکھتے ہیں:

’’اس معاملے میں سنّیوں اور شیعوں کی پوزیشن میں ایک بنیادی فرق ہے جسے ملحوظ خاطر رکھ کر ہی فریقین کے درمیان انصاف قائم کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ شیعہ جن کو بزرگ مانتے ہیں، وہ سنّیوں کے بھی بزرگ ہیں اور سنّیوں کی طرف سے ان پر طعن و تشنیع کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس سنّیوں کے عقیدے میں جن لوگوں کو بزرگی کا مقام حاصل ہے، ان کے ایک بڑے حصے کو شیعہ نہ صرف برا سمجھتے ہیں بلکہ انھیں برا کہنا بھی اپنے مذہب کا ایک لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔ اس لیے حدود مقرر کرنے کا سوال صرف شیعوں کے معاملے میں پیدا ہوتا ہے۔ انھیں اس بات کا پابند کیا جانا چاہیے کہ بد گوئی اگر ان کے مذہب کا کوئی جزو لازم ہے تو اسے اپنے گھر تک محدود رکھیں، پبلک میں آ کر دوسروں کے بزرگوں کی برائی کرنا کسی طرح بھی ان کا حق نہیں مانا جا سکتا۔

میرا خیال یہ ہےکہ اس معاملہ کو اگر معقول طریقے سے اٹھایا جائے تو خود شیعوں میں سے بھی تمام انصاف پسند لوگ اس کی تایید کریں گے اور ان کے شر پسند طبقے کی بات نہ چل سکے گی۔ حکومت کو بھی بآسانی اس بات کا قائل کیا جا سکتا ہے کہ شیعہ حضرات کو ان کے مذہبی مراسم کی ادایگی کے معاملے میں جہاں تک کہ پبلک میں ادا کرنے کا تعلق ہے، حدود کا پابند بنانے کی ضرورت ہے، یہ حدود بھی گفت و شنید سے طے ہو سکتے ہیں، اس مسئلے کو کسی ایجی ٹیشن کی بنیاد بنانے کی بجائے اس طریقے سے حل کرنا زیادہ مناسب ہے‘‘۔ (۱٠)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جنھیں بعض سنّی علما اس لیے مطعون کرتے ہیں کہ ان کی بعض باتیں شیعی موقف کو تقویت پہنچاتی ہیں، جب ان سے صحابہ کرام پر بعض شیعہ کی برسر عام تبرا بازی سے متعلق استفسار کیا گیا تو انھوں نے کہا :

’’شیعہ حضرات کا یہ حق تو تسلیم کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مذہبی مراسم اپنے طریقے پر ادا کریں، مگر یہ حق کسی بھی طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرے لوگ جن بزرگوں کو اپنا مقتدا و پیشوا مانتے ہیں، ان کے خلاف وہ برسر عام زبان طعن دراز کریں، یا دوسروں کے مذہبی شعائر پر حملے کریں۔ ان کے عقیدے میں اگر تاریخ اسلام کی بعض شخصیتیں قابل اعتراض ہیں، تو وہ ایسا عقیدہ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے گھروں میں بیٹھ کر وہ ان کو جو چاہیں کہیں، ہمیں ان سے تعرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کھلے بندوں بازاروں یا پبلک مقامات پر انھیں دوسروں کے مذہبی پیشوائوں پر تو درکنار، کسی کے باپ کو بھی گالی دینے کا حق نہیں ہے اور دنیا کے کسی آئین و انصاف کی رُو سے وہ اسے اپنا حق ثابت نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں اگر حکومت کوئی تساہل کرتی ہے تو یہ اس کی سخت غلطی ہے اور اس تساہل کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ یہاں فرقوں کی باہمی کش مکش دبنے کی بجائے اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ دشنام طرازی کا لائسنس دینا اور پھر لوگوں کو دشنام طرازی کے سننے پر اس بنا پر مجبور کرنا کہ اس کا لائسنس دیا جا چکا ہے،حماقت بھی ہے اور زیادتی بھی۔ حکومت کی یہ سخت غلطی ہے کہ وہ شیعہ حضرات کے مراسم عزاداری اور اس سلسلے کے جلسوں ، جلوسوں کے لیے معقول اور منصفانہ حدود مقرر نہیں کرتی اور پھر جب بے قید لائسنسوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی بدولت جھگڑے رونما ہوتے ہیں تو فرقہ وارانہ کش مکش کا رونا روتی ہے‘‘۔ (۱۱)

اس میں شک نہیں کہ حضرت علیؓ واہل بیت پر تبرّا بازی کا آغاز بنو امیّہ کی طرف سے ہوا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس پر پابندی بھی ایک اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے لگائی اور آیات قرآنی کو خطبہ کا حصہ بنایا جو آج تک سنّی خطبے کا حصہ ہے۔ اب یہ اہل تشیع کے سمجھ دار لوگوں کا انتخاب ہے کہ وہ اپنے نادان لوگوں کی اس غلط روایت کو جاری رکھتے ہیں جو حضرت علیؓ کے مخالفوں نے شروع کی تھی یا کہ حضرت علیؓ کا اسوہ اپناتے ہیں۔

ہمارے شیعہ بھائی اقلیت ہونے کی بنیاد پر اپنی مظلومیت کا رونا بھی روتے ہیں لیکن کیا وہ اس حقیقت کا انکار کر سکتے ہیں کہ ان کے ایک چھوٹے سے جلوس کی سیکورٹی کے لیے پورا پورا دن بڑی بڑی سڑکیں، چوراہے مارکیٹیں اورکاروباری مراکز، تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔ سنّی عوام اس کو خندہ پیشانی سے یا مجبورًا برداشت کرتی ہے۔تمام سرکاری و نجی ٹی وی چینلز جس قدر محرم کے احترام میں اپنی تفریحی نشریات محدود کر دیتے ہیں، اتنا تو رمضان المبارک کے احترام میں بھی نہیں ہوتا۔ حالانکہ سنّی اہل علم کے ہاں رمضان کی مشروعیت تو ہے، محرم کے سوگ کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود سنّی عوام محرم کا بھی دل و جان سے احترام کرتے  ہیں۔

1963ء میں شاہ ا یران کے دور میں جب امام خمینی کو سیاسی پابندیوں  کا سامنا کرنا پڑا تو سیدابوالاعلیٰ مودودی کی زیر ادارت ماہنامہ ترجمان القرآن نے امام خمینی کے حق میں آواز بلند کی۔  1979ء میں ایران میں امام خمینی کا انقلاب آیا، تو انقلاب کے شیعہ پس منظر کے باوجود بہت سی سنّی شخصیات اور تنظیموں خصوصاً جماعت اسلامی نے اس کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ جماعت ا سلامی کی ذیلی تنظیموں نے انقلاب ایران کی فلمیں شہر شہر دکھائیں۔ انقلاب کے حق میں رائے عامہ ہموار کی، انقلاب ایران کی حمایت کرنے پر جماعت اسلامی دیگرفرقہ پرستوں کی طرف سے مطعون بھی رہی۔

بالآخر انقلاب ایران کا شیعی پہلو غالب آیا اور یہ فطری بات بھی تھی لیکن شکوہ یہ ہے کہ شیعہ ذاکرین کی غیر محتاط گفتگو کے باعث سنی عوام اور علما میں اضطراب پیدا ہوا جس کے باعث دونوں طرف کے عوام پُر تشدد تنظیموں کا حصہ بنتے چلے گئے۔ انقلاب ایران کے باعث پاکستان میں شیعہ کمیونٹی اتنی ایگریسو ہوئی کہ اس کے نتیجے میں پاکستان عرب و عجم کی کش مکش کا میدان بن گیا۔وہ ایمانداری اور غیر جانبداری سے اس بات پر بھی غور کر لیں کہ وہ پاکستان میں اپنے لیے جتنے حقوق چاہتے ہیں کیا وہ ایران میں سنی کمیونٹی کو اتنے حقوق دینے کے لیے تیار ہیں؟

آج سے بیس سال پہلے شیعہ پس منظر کی حامل لبنانی جہادی تنظیم حزب اللہ اسرائیل کے خلاف سرگرم نظر آئی تو عرب ممالک کے سنّی عوام نے بھی اس کی تحسین کی اور سرگرم تعاون کیا لیکن شام میں بشار الاسد نے ا پنے اقتدار کے استحکام کے لیے لاکھوں سنّی مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ اس صریح ظلم میں حزب اللہ اور پاسداران انقلاب اس کے معاون بنے۔سنّی اکثریت کو در بدر بھٹکنے پر مجبور کردیا۔ شہروں کے شہر مٹی کے ڈھیر بنا دیے گئے۔ پہلی صدی ہجری کے شامی حکمرانوں کی یزیدیت کی مذمت بجا لیکن موجودہ شامی حکمران کی یزیدیت کی مذمت کا سوال اپنی جگہ قائم ہے۔

افغانستان و عراق میں ’’بزرگ شیطان‘‘ کو کس نے اپنا کندھا پیش کیا ۔یہ باتیں اس لیے لکھی گئی ہیں کہ انقلاب کے بعد سے آج تک سب سے زیادہ وحدت امت کی تکرار انقلابی حکومت اور شیعہ علما اور دانش ور کرتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔ ایران سے عقیدت رکھنے والے شیعوں کو اور سعودی عرب سے جذباتی تعلق رکھنے والے سنیّوں کو اپنے ہاں کے معروضی حالات کا تجزیہ کر کے خود ایسی راہِ عمل کا تعیّن کرنا ہو گا کہ وہ اپنے ملک میں پُرامن بقائے باہمی (Co-existance) کے اصول پر زندگی گزار سکیں۔ یہاں نہ سنّی شیعوں کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ شیعہ سنیوں کے ساتھ کسی جھگڑے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ پھر کیا یہ دانش مندی ہو گی کہ اپنے پُرامن ماحول کو ہم اپنے جذباتی رویّوں اور تعصبات کی بھینٹ چڑھا دیں۔

حوالہ جات

(۱)   بین المسالک ہم آہنگی،(مرتب: معصوم یاسین زئی) ص:20-21بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد، 2016ء  

(۲)    ثاقب اکبر:  پاکستان کے دینی مسالک، ص: 284البصیرہ اسلام آباد

(۳) پاکستان کے دینی مسالک، ص:285      

(۴)   آداب کارواں، ص: 147، بحوالہ نثار ترمذی : نقیب وحدت علامہ عارف الحسنی،ص:152البصیرہ اسلام آباد

(۵)  میثاق خون، ص:229، نقیب وحدت۔ علامہ عارف الحسینی، ص:63

(۶)    گفتار صدق، ص: 80-81، بحوالہ نقیب ۔وحدیث علامہ عارف الحسینی، ص:87  

(۷)     بین المسالک ہم آہنگی،ص:31-32

(۸) بین المسالک ہم آہنگی ،ص:28    

(۹)  ميثاق خون، ص:۲۱۲، المعارف اکیڈمی، لاہور، ۱۹۹۷ء

(۱٠)     سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ: رسائل و مسائل، ج:3، ص:217، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، 2006  

(۱۱)  رسائل و مسائل: ج:3، ص 216-217


امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعہ ابن جریر اور اس کی تاریخی حقیقت شیعہ کتب کی روشنی میں

اہلسنت کی کتب کی روشنی میں درج بالا بحث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ابن جریر شیعہ کی شخصیت محض "افسانوی" ہے، ابوعثمان المازنی کے ایک شاگرد ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری کو ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری بنا دیا گیا۔ اور اس بے چارے کے ذمے ایسی کتب لگ دی گئیں، جن کا ذکر کتب رجال سے لیکر فہارس الکتب تک ان (ابو عثمان المازنی کے شاگرد)کے حالات میں نہیں ملتا۔ اسی وجہ سے شیعہ کتب میں بھی ابن جریر کے ذکر کے حوالے سے خاصا تضاد پایا جاتا ہے، ہم پہلے اس تضاد کا ذکر کرتے ہیں، پھر اس تضاد کو حل کرنے کے لیے متاخرین شیعہ علماء کی تطبیق پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ہانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم احمد بن علی النجاشی اپنی کتاب"رجال النجاشی"میں لکھتے ہیں:

محمد بن جرير بن رستم الطبري الآملي أبو جعفر، جليل، من أصحابنا، كثير العلم، حسن الكلام، ثقۃ في الحديث. لہ كتاب المسترشد في الإمامۃ. أخبرناہ أحمد بن علي بن نوح، عن الحسن بن حمزۃ الطبري قال حدثنا محمد بن جرير بن رستم بھذا الكتاب وبسائر كتبہ۔1

عباس القمی اپنی کتاب "الکنی و الالقاب"میں لکھتے ہیں:

واما ابن جرير الطبري الشيعي فھو ابوجعفر محمد بن جرير بن رستم الطبري الآملي من اعاظم علمائنا الاماميۃ في المائۃ الرابعۃ، ومن اجلائھم وثقتھم، صاحب كتاب دلائل الامامۃ والايضاح والمسترشد۔2

ترجمہ:ابن جریر طبری شیعہ چوتھی صدی ہجری کے ہمارے جلیل القدر اور معتمد علماء میں سے ہیں۔ جن کی کتب میں دلائل الامامۃ، الایضاح اور المسترشد شامل ہیں۔

ان دو علماء کی عبارات سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ ابن جریر شیعہ چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں۔ عباس القمی نے صراحۃ المائۃ الرابعۃ کہا، جبکہ نجاشی صاحب نے ان کے تلامذہ میں حسن بن حمزہ طبری کا ذکر کیا ہے، اور حسن بن حمزہ طبری کی وفات خود نجاشی کے نزدیک ۳۵۸ھ ہے۔ اس کے علاوہ عباس القمی کی عبارت سے ان کی تصنیفات میں تین کتب دلائل الامامۃ، الایضاح اور المسترشد ملتی ہیں۔ چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے ماننے کی صورت میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ابن جریر شیعہ ابن جریر سنی کے ہم عصر ہیں، کیونکہ ابن جریرسنی کی وفات بھی چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں ہوئی ہے۔ بعض کتب شیعہ میں ہم عصر ہونے کا ذکر صراحۃ بھی ملتا ہے۔

معاصر شیعہ عالم "حسین عبد اللہ الراضی "اپنی کتاب"تاریخ علم الرجال "میں لکھتے ہیں:

محمد بن جرير بن رستم الطبري الكبير يكنی (أبا جعفر) دين فاضل، وليس ھو صاحب التاريخ فانہ عامي المذھب. والمترجم معاصر لسميہ محمد بن جرير الطبري صاحب تاريخ الأمم والملوك وصاحب التفسير الكبير۔3

اس میں مصنف نے تصریح کر دی ہے کہ ابن جریر شیعہ ابن جریر سنی کے ہم عصر تھے۔

دوسری طرف کتب شیعہ ہی میں کچھ ایسے اشارات بھی ملتے ہیں، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن جریر شیعہ، سنی ابن جریر سے تقریبا ایک یا ڈیڑھ صدی متاخر ہیں۔

بارہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ مورخ و محقق سید ہاشم البحرانی اپنی کتاب "مدینۃ المعاجز" میں ابن جریر طبری کے طریق سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أبو جعفر محمد بن جرير الطبري: قال: نقلت ھذا الخبر من أصل بخط شيخنا أبي عبد اللہ الحسين بن عبيد اللہ الغضائري - رحمہ اللہ - قال: حدثني أبو الحسن علي بن عبد اللہ القاساني4

ترجمہ:ابو جعفر محمد بن جریر طبری کہتے ہیں کہ یہ خبر میں نے اپنے استاد ابو عبد اللہ الحسین الغضائزی کے لکھے گئے اصل (کتاب)سے نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو الحسن القاسانی نے یہ حدیث بیان کی ہے۔

اس روایت میں ابن جریر طبری نے الغضائری کو اپنا استاد کہا، جبکہ الغضائری کے بارے میں شیعہ کتب میں لکھا ہوا ہے کہ ۴۱۱ھ تک وہ حیا ت تھے5، اس طرح سے اس روایت سے ابن جریر شیعہ کا تعلق چوتھی صدی کی بجائے پانچویں صدی کے طبقے (یعنی سنی ابن جریر سے پور ی ایک صدی متاخر) سے بنتا ہے۔

عراق کے مشہور شیعہ عالم و مجتہد شیخ عبد اللہ المامقانی نے اپنی ضخیم کتاب"تنقیح المقال فی علم الرجال"میں ابن جریر شیعہ کو مشہور شیعہ عالم اور شیعہ کے چار بنیادی مراجع میں سے دو کے مصنف محمد بن الحسن الطوسی کا ہمعصر لکھا ہے۔ اور شیخ طوسی کی وفات ۴۶۰ھ ہے۔ اس طرح سے ابن جریر شیعہ سنی ابن جریر سے تقریبا ڈیڑھ صدی متاخر بنتے ہیں۔ ابن جریر شیعہ پر مفصل بحث کے بعد لکھتے ہیں:

فتحقق مما ذكرنا كلہ أن محمد بن جرير بن رستم الطبري من أصحابنا إثنان، كبير وھو السابق، وصغير وھو ھذا، وكلاھما ثقتان عدلان مرضيان، ولكل منھما كتاب في الامامۃ، فللاول كتاب "المسترشد "، وللثاني كتاب دلائل الامامۃ۔6

شیعہ کتب میں ابن جریر کے طبقے اور زمانہ کی تعیین سے متعلق یہ تضاد ابن جریر شیعہ کے افسانوی ہونے پر روز روشن کی طرح دلالت کرتا ہے۔ البتہ معاصر شیعہ محققین نے اس تضاد کو بھانپ لیا۔ اور تطبیق دیتے ہوئے ابن جریر شیعہ کو ایک شخص کی بجائے دو شخص مانے۔ (مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی )اس طرح سے گویا کل تین ابن جریر ہوئے۔ ایک سنی ابن جریر (مصنف تاریخ طبری و تفسیر طبری)دوسرے شیعہ ابن جریر،جو سنی کے ہم عصر ہیں اور تیسرے ڈیڑھ صدی کے بعد آنے والے شیخ طوسی کے ہم عصر۔ یہ تطبیق شیعہ کتب و علماء کی سب سے بڑی بائیو گرافی لکھنے والے شیعہ محقق آغا بزرگ طہرانی نے "الذریعہ الی تصانیف الشیعہ"میں دی ہے۔ لکھتے ہیں:

الايضاح في الامامۃ للشيخ أبي جعفر محمد بن جريربن رستم بن جرير الطبري الآملي الامامي الموصوف بالكبير في فھرس الشيخ الطوسي تمييزا لہ عن محمد بن جريرالمتأخر عنہ الذي كان معاصر الشيخ الطوسي والنجاشي ومشاركا معھما في الروايۃ عن مشايخھما في كتابہ دلائل الامامۃ وكان محمد بن جرير الكبير الامامي المتقدم معاصرا لسميہ محمد بن جرير بن كثير بنغالب الطبري العامي صاحب التاريخ والتفسير الكبيرين الذي توفي سنۃ 310، ولابن جرير الكبير مؤلف الايضاح ھذا أيضا كتاب المسترشد۔7

ترجمہ: ایضاح فی الامامۃ ابو جعفر محمد بن جریر طبری املی کی تصنیف ہے، جسے "کبیر"کہا جاتا ہے، شیخ طوسی کی (الفہرست میں اس کا ذکر ہے۔ کبیر کہنے کی وجہ اسے بعد میں انے والے محمد بن جریر سے ممتاز کرنا ہے، جو طوسی و نجاشی کے ہم عصر ہیں، اور اپنی کتاب دلائل الامامۃ میں انہی حضرات سے روایت کرتے ہیں، جو مذکورہ دو حضرات (طوسی و نجاشی)کے شیوخ و اساتذہ ہیں۔محمد بن جریر کبیر سنی ابن جریر کے ہم عصر ہیں۔ ان کی کتب میں ایضاح کے ساتھ المسترشد بھی ہیں۔

آخر میں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ شیعہ کتب تراجم میں ابن جریر کبیر کا سن ولادت اور سن وفات کا ذکر ہی سرے سے نہیں ہے۔ سن ولادت کا تو عدم ذکر سمجھ میں آتا ہے، پر سن وفات کا ذکر نہ ہونا اور معلوم نہ ہونا (خواہ احتمالا ہی ہو) سمجھ سے بالاتر ہے، خصوصا ایسا شخص جن کے ساتھ شیعہ کتب میں "من اعاظم علمائنا" جیسے الفاظ ملتے ہیں۔ چنانچہ "المسترشد"کے محقق شیخ احمد المحمودی لکھتے ہیں:

بقی ھنا شئ وھو: أني لم أشر إلی سنۃ ولادۃ المؤلف ولا عام وفاتہ إذ لم يتعرض أحد من المترجمين في رجالھم، وھذا أيضا من حظ المؤلف، إذ ترجمہ من ھو أقرب العھد إليہ كالنجاشي والشيخ الطوسي و المفيد، مع عنايتھم التامۃ بشأنہ ومؤلفاتہ، ومع ذلك لم يتعرضوا لذكرعام ولادتہ وحتی سنۃ وفاتہ شيئا۔8

جبکہ ابن جریر صغیر کے بارے میں علامہ مامقانی نے لکھا ہے: وليس لہ ذكر في كلمات أصحابنا الرجاليين9 یعنی اس کا ذکر ہی ذخیرہ رجال میں نہیں ہے۔

البتہ پورے ذخیرہ رجال میں ذکر نہ ہونے کے باوجود ان کی (طرف منسوب )کتاب "دلائل الامامۃ "چھپی ہے اور شیعہ حلقوں میں متداول ہے۔یا للعجب

بحث کا ماحصل

اس پوری بحث کا حاصل قارئین کے سامنے نکات کی شکل میں پیش کرنا چاہوں گا۔ اور آخر میں اس سلسلے میں ایک اہم اشکال پیش کر کے اجازت چاہوں گا۔

۱۔سنی ابن جریر کے ہم نام، ہم عصر، ہم ولدیت اور ہم وطن جس ابن جریر کاذکر کیا جا رہا ہے، اس کا اولین ذکر ابن جریر کے تقریبا چار سو سال بعد علامہ ذہبی و عسقلانی کی بعض کتب میں ملتا ہے۔

۲۔ہر دو حضرات سےقبل اہلسنت کے پورے ذخیرے میں، خواہ کتب رجال و تراجم ہو یا فہارس الکتب، کسی میں بھی شیعہ ابن جریر کا مستقلا یا تبعا تذکرہ نہیں ملتا۔

۳۔علامہ ذہبی و عسقلانی نے شیعہ ابن جریر کے تذکرے میں ایک خاص بات یہ ذکر کی ہے کہ وہ ابو عثمان المازنی کے شاگرد ہیں۔

۴۔ابو عثمان المازنی کے شاگردوں میں ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری کے نام سے تو کوئی شخص نہیں ہے، البتہ ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان طبری ملتا ہے۔ جنہیں مختصرا ابو جعفر بن رستم کہا جاتا ہے۔

۵۔متعدد قرائن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ ابن جریر کے ہم نام شخصیت سے مراد یہی ابو جعفر بن رستم مراد ہیں۔ لیکن یہ شخص نام، ولدیت میں ابن جریر سنی کے مشابہ نہیں ہے۔ نیز ابو جعفر بن رستم ایک خالص لغوی، نحوی اور قراءات قرانیہ کے ماہر عالم ہیں۔ اور انہی موضوعات کے گرد ان کی تصنیفات گھومتی ہیں۔ جبکہ شیعہ ابن جریر کے بارے میں یہ ملتا ہے کہ وہ ایک خالص مسلکی عالم تھے۔ اور مسلکی موضوعات پر ان کی کتب ہیں۔ نیز علامہ ذہبی و عسقلانی اور شیعہ کتب میں جن تصنیفات کو ان کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے، ان میں سے کسی بھی کتاب کا ذکر ابو جعفر بن رستم کے ترجمے میں نہیں ملتا۔

۶۔ مذکورہ شخص مراد لینے کا ابو عثمان المازنی کے شاگرد ہونے کے علاوہ سب سے بڑا قرینہ یہ ہے کہ شیعہ کتب میں ابن جریر شیعہ کے تذکرے میں یہ بات ملتی ہے کہ ابن ندیم نے ان کی ایک کتاب "غریب القران"کا ذکر کیا ہے، اور ابن ندیم نے ابو جعفر بن رستم کی غریب القرآن کا ذکر کیا ہے۔ شیعہ ابن جریر یعنی ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری کا ذکر ابن ندیم نے نہیں کیا ہے۔

۷۔شیعہ کتب میں ابن جریر شیعہ کے تذکرے میں ایک تضاد تو یہ پایا جاتا ہے کہ بعض علمائے شیعہ نے اسے ابن جریر سنی کا ہم عصر اور چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے بتایا ہے۔ جبکہ دوسرے کچھ شیعہ علماء نے اسے پانچویں صدی ہجری یعنی سنی ابن جریر سے ایک یا ڈیڑھ صدی متاخر بتا یا ہے۔

۸۔اس تضاد کو معاصر شیعہ محققین نے یوں حل کیا ہے کہ خود شیعہ ابن جریر دو بنالیے ہیں۔ جو دو نوں ہم نام، ہم کنیت۔ ہم ولدیت، ہم وطن ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ ان دونوں کے دادا کا نام بھی ایک ہے۔ ان میں فرق صرف کبیر و صغیر کا ہے۔ سنی ابن جریر کے ہم عصر کو ابن جریر کبیر اور پانچویں صدی کے ابن جریر کو صغیر کہا جا تا ہے۔

۹۔ ان دو میں سے کونسی تصنیف کس ابن جریر کی ہے ؟خود اس سلسلے میں بھی علمائے شیعہ کے مختلف بیانات ہیں۔ عباس القمی کے نزدیک دلائل الامامۃ، الایضاح اور المسترشد ابن جریر کبیر کی تصنیفات ہیں۔ جبکہ محقق طہرانی کے نزدیک دلائل الامامۃ ابن جریر صغیر کی تصنیف ہے۔ جبکہ بعض شیعہ علماء کے نزدیک یہ دو کی بجائے ایک کتاب ہے جسے کبھی المسترشد، کبھی المسترشد فی الامامۃ اور کبھی دلائل الامامۃ کہا جاتا ہے۔ (اس کتاب پر مستقل بحث آگے آرہی ہے )

۱۰۔ابن جریر شیعہ کے نام سے کبیر و صغیر دو شخصیات کا مسئلہ شیعہ علمائے تراجم میں متفقہ نہیں ہے۔ بعض صرف ایک ہی ابن جریر شیعہ کے قائل ہیں۔ جو ابن جریر سنی کے ہم عصر ہیں۔ جبکہ کچھ شیعہ علماء کے نزدیک ابن جریر شیعہ کے نام سے کبیر و صغیر دو شخصیات ہیں۔ چنانچہ عباس القمی نے الکنی و الالقاب میں صرف ایک ابن جریر شیعہ کا ذکر کیا ہے۔ اور دلائل الامامۃ(جو دو ابن جریر شیعہ ماننے والوں کے نزدیک دوسرے ابن جریر کی تصنیف ہے)کو بھی ابن جریر کبیر یعنی سنی ابن جریر کے ہم عصر کی تصنیف قرار دیا ہے، جبکہ آغا بزرگ طہرانی کے نزدیک ایک کی بجائے دو ابن جریر شیعہ ہیں۔ اور دلائل الامامۃ پہلے کی بجائے دوسرے متاخر ابن جریر کی تصنیف ہے۔

ایک اہم اشکال اور اس کا ممکنہ جواب

مندرجہ بالا بحث سے قاری کے ذہن میں خود بخود ایک اشکال پیدا ہوتا ہے، کہ ابن جریر سنی کے ہم نام ایک اور افسانوی شخصیت گھڑنے کے کیا مقاصد ہیں ؟ایک ابن جریر سے دو اور دو سے تین بنانے میں کیا راز مضمر ہے؟

اس سوال کا تحقیقی و تسلی بخش جواب تو وہی لوگ دے سکتے ہیں، جنہوں نے یہ فرضی شخصیت بنانے اور وضع کرنے کا عمل سر انجام دیا۔ البتہ قرائن کی روشنی میں اس کے کچھ ممکنہ جوابات دیے جاسکتے ہیں۔ ہماری نظر میں اس پورے تاریخی عمل کے بنیادی طور پر دو بڑے مقاصد معلوم ہوتے ہیں:

۱۔تاریخ طبری و تفسیر طبری کے مصنف امام محمد بن جریر طبری اپنی جلالت شان، وسعت علم اور گوناگوں خصوصیات کے باوصف اپنے معاصرین، خاندانی حضرات اور بعد میں آنے والے اجلہ علماء کے اس تبصرے سے نہ بچ سکے کہ موصوف میں "تشیع و رفض" کے اثرات تھے ۔ (جس کے حوالے ماقبل میں گزر چکے ہیں )اور اس الزام کی کچھ نہ کچھ تائید ان کی تفسیر اور خاص طور پر تاریخ سے ہوتی ہے۔ خصوصا تاریخ میں صدر اول کے المناک حوادث میں اس وقت کے غالی شیعہ مورخین و رواۃ پر کلی اعتماد اس تاثر کو مزید قوی کرتا ہے۔ تاریخ کے مقدمہ میں اگرچہ موصوف نے یہ کہہ کر اپنے تئیں اپنے آپ کو بری کر دیا کہ اگر کچھ ناگوار باتیں اس کتاب میں ملیں، تو وہ ہمارے پاس رواۃ کی طرف سے آئی ہیں، ہم صرف اس کے ناقل ہیں۔ 10مقدمہ میں یہ وضاحت اس بات کی خبر دیتا ہے کہ خود مصنف کو بھی اس کا احساس تھا کہ اس کے بعض مقامات اہلسنت و الجماعت کے بنیادی نظریے اور فریم ورک کے منافی ہیں۔ اس لیے مقدمہ میں اپنے آپ کو بری کرنے کی صراحت ضروری سمجھی۔

لیکن اس وضاحت کے باوجود یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ جب مصنف کا مقصد تاریخی روایات کی محض جمع و ترتیب تھی ، تو صدر اول کے واقعات میں محض غالی شیعہ و رافضی روایات ذکر کرنے پر کیوں اکتفاء کیا گیا؟ اس وقت کے منصف اور اہلسنت و الجماعت کے معتمد رواۃ سے صدر اول کے واقعات کی صحیح نقل سے اعراض کیوں برتا گیا؟حالانکہ جمع و ترتیب کا تو تقاضا تھا کہ صحیح و غلط دونوں قسم کی روایات کو کتاب میں جگہ دی جاتی۔ صدر اول کی المناک داستانوں کا صرف ایک رخ پیش کرنے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالم عرب سے دو محققین(محمد بن طاہر البرزنجی اور محمد صبحی حسن حلاق) کی تحقیق سے صحیح و ضعیف طبری چھپی ہے، اس میں جمل و صفین دونوں کو ملا کر صحیح اور معتمد راویوں کی کل روایات تقریبا بارہ بنتی ہیں، جن کا حجم محض بیس صفحات ہیں11،جبکہ ضعیف، موضوع اور ناقابل اعتماد راویوں کی روایات کا کل حجم تقریبا دو سو صفحات ہیں12۔بیس اور دو سو کا یہ تفاوت بتاتا ہے کہ کس طرح اس دور کے واقعات کو یک رخا پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

ابن جریر طبری صاحب پر تشیع و رفض کے اتہامات اور تاریخ میں اکثر مقامات پر شیعہ نقطہ نظر پیش کرنے کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان تھا کہ ان کی تاریخ بعد میں شجر ممنوعہ قرار پاتی، اور شیعی نقطہ کی ترجمان سمجھی جاتی۔ اس لیے ابن جریر طبری سے اس اتہام کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے ابن جریر کا فسانہ گھڑا گیا، تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ کہ مذکورہ اتہامات دوسرے ہم نام کے بارے میں ہیں، غلط فہمی سے ابن جریر سنی کے بارے میں سمجھ لیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تشیع و رفض کا صرف اور صرف یہی جواب ہمیں کتب رجال میں ملتا ہے۔ کہ یہ اتہامات دوسرے ابن جریر کے بارے میں ہیں۔ جب علماء کے اتہام کا دوسرے ابن جریر کی صورت میں اچھے طریقے سے دفعیہ ہوگیا، تو ان کی کتب خود بخود ایک معتمد عالم کی کتب کی حیثیت سے ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ اور وہ روایات اہلسنت کے مصادر میں اس طرح سے گھل مل گئیں، کہ محتاط ترین مفسرین حافظ ابن کثیر و ابن خلدون جیسے حضرات بھی ان روایات سے اپنا دامن نہ چھڑا سکے۔ الغرض دوسرا ابن جریر بنانے کی پہلی وجہ قرائن کی روشنی میں ابن جریر صاحب سے تشیع و رفض کے اتہامات کی براءت یا کم از کم اس کی شناعت و قباحت میں تخفیف تھی۔ اور اس میں ان لوگوں کو قطعی طور پر کامیابی ملی، کہ حافظ ابن حجر سے لیکر عصر حاضر تک اگر کوئی ابن جریر کے تشیع و رفض کی بات کرتا ہے، تو فورا یہ کہہ کر اسے رد کردیا جاتا ہے کہ یہ الزمات سنی ابن جریر کی بجائے شیعہ ابن جریر کے بارے میں ہیں۔ یا درہے ہمارا مقصد ابن جریر سنی کو شیعہ ثابت کرنا نہیں، اور نہ ہی ابن جریر کی جملہ تصانیف کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے، بلکہ مدعا صرف اتنا ہے کہ صدر اول کے المناک حوادث کے بارے میں ان کی فکر اور سوچ کے دھارے اہلسنت و الجماعت کے محتاط مسلک کی بجائے شیعہ و روافض کی تنقیصی سوچ سے ملتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ قابل قدر علمی کارناموں کے باجود تشیع و رفض کے اتہام سے نہ بچ سکے۔

۲۔ ابن جریر کے ہم نام جن دوشیعہ شخصیات کبیر و صغیر ابن جریر کو مانا گیا، علمائے شیعہ نے ان کے تذکرے میں متعدد کتب کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے موجودہ دور میں ایک کتاب "دلائل الامامۃ"چھپی ہے۔ تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ائمہ اثنا عشر کی امامت کے اثبات پر آثار و روایات سے دلائل ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں علمائے شیعہ میں ایک بحث تو یہ چھڑی ہے کہ یہ کتاب ابن جریر کبیر (سنی ابن جریر کے ہم عصر)کی تصنیف ہے یا ابن جریر صغیر کی، چنانچہ عباس القمی نے اس کتاب کا ذکر ابن جریر کبیر کی تصانیف کے ذیل میں کیا ہے۔ جبکہ دیگر علماء خصوصا آغا بزرگ طہرانی کے ہاں یہ ابن جریر صغیر کی تصنیف ہے۔ (دونوں حوالے ما قبل میں گزر چکے ہیں )طہرانی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ ابن جریر کبیر کی تصانیف میں امامت پر کتاب کانام "المسرشد "ہے۔ مصنف کے اختلاف کے ساتھ اس کتاب کے نام میں بھی اختلاف ہے۔ شیعہ کی بعض کتب میں المسترشد اور دلائل الامامۃ ایک ہی کتاب کے نام ذکر کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اعجاز حسین کنتوری اپنی کتاب "کشف الحجب و الاستار عن اسماء الکتب و الاسفار "میں لکھتے ہیں:

دلائل الامامۃ للشيخ الجليل محمد بن جرير الطبري الامامي ويسمي بالمسترشد۔13

اس کے علاوہ معروف شیعہ محدث علامہ باقر مجلسی بحارالانوار میں لکھتے ہیں:

وكتاب دلائل الامامۃ للشيخ الجليل محمد بن جرير الطبري الامامي ويسمی بالمسترشد۔14

دلائل الامامۃ اور المسترشد ایک ہی کتاب کانام ہے یا دو الگ الگ کتب ہیں؟ نیز دونوں ایک ابن جریر (کبیر)کی تصنیف ہے یا دونوں کے مصنف الگ الگ ہیں؟ یہ بحثیں جاری تھیں کہ ایران سے المسترشد کے نام سے کتاب چھپ گئی۔ جس کے محقق احمد المحمودی نے اس کے شروع میں ایک ضخیم مقدمہ لکھا، جس میں دلائل الامامۃ اور المسترشد کے ایک یا دو کتب ہونے پر بھی بحث کی، لیکن بالاخر الگ الگ ہونے پر کوئی قابل ذکر قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے محقق مذکور نے یہ اعتراف کر لیا:

أقول: ومن ھذا الكلام أيضا يستفاد أن دلائل الامامۃ يعتبر المجلد الثاني لكتاب المسترشد فتأمل جدا۔15

ایک اور جگہ معتمد علمائے شیعہ کے شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

و احتمل بعض العلماء من وضع الکتاب ان یکون المجلد الثانی للمسترشد کما تقدم و لعلہ ھو الصواب۔16

طرفہ تماشا یہ کہ یہی اقرار خود اس سے پہلے دلائل الامامۃ کے ناشران نے بھی اس کے مقدمے میں کیا تھا، ایک یا الگ الگ کتاب پر بحث کے بعد لکھتے ہیں:

و ھذا یفید ان الکتابین عندہ لرجل واحد و انما ھما جزان کل منھما باسم علی حدۃ۔17

درج بالا بحث سے یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے کہ دلائل الامامۃ اور المسترشد دونوں ایک ہی کتاب کے دونام اور ایک ہی کتاب کے دو جزء ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ کسی کتاب کے محقق کی بات کتاب سے متعلق بڑی اہم سمجھی جاتی ہے، اس سلسلے میں متعدد علمائے شیعہ کے اعتراف کے ساتھ دونوں کتب کے محققین نے بھی اس کے ایک ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ اور یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ شیعہ کتب کے مطابق المسترشد ابن جریر کبیر یعنی سنی ابن جریر کے ہم عصر کی تصنیف ہے۔ لھذا دلائل الامامۃ جب اس کا ایک جزو اور حصہ قرار پایا، تو یہ بھی اسی مصنف کی کتاب ہے۔

ابن جریر کبیر یعنی سنی ابن جریر کے ہم عصر شخصیت کی حقیقت اور اس کے افسانوی وجود سے ما قبل میں ہم بحث کر چکے ہیں کہ اس نام کی کؤئی شخصیت تاریخ میں نہیں گزری، ابو عثمان المازنی کے ایک شاگرد ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم طبری کو ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری بنا یا گیا۔ جب ابن جریر کبیر کے نام سے کوئی شیعہ عالم کا وجود نہیں ہے، تو لا محالہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر مذکورہ کتاب کس کی لکھی ہوئی ہے؟اور ا سکا مصنف کون ہے؟

فہار س الکتب میں اس نام کی کتاب ہمیں سنی ابن جریر کے تذکرے میں ملتی ہے۔ یہ بات درجہ ذیل حضرات نے ذکر کی ہے:

۱۔ابن ندیم نے اپنی کتاب "الفہرست "میں المسترشد کو محمد بن جریر طبری (سنی)کی تصنیف قرار دیا ہے۔ ابن جریر کی کتب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

كتاب المسترشد كتاب تھذيب الآثار ولم يتمہ۔18

۲۔ساتویں صدی ہجری کے عالم ابن ساعی "الدر الثمین فی اسماء المصنفین"میں ابن جریر کی کتب کے ذیل میں لکھتے ہیں:

كتاب الخفيف في الفقہ، وكتاب المسترشد۔19

۳۔صاحب ھدیۃ العارفین امام ابن جریر کی تصنیفات گنواتے ہوئے لکھتے ہیں:

كتاب المحاضر والسجلات،كتاب المسترشد۔20

جب المسترشد ابن جریر سنی کی کتاب ہے،تو کوئی بعید نہیں کہ اس کتاب اور اس کے مصنف دونوں کو بچانے کے لیے ایک اور ابن جریر کی شخصیت ایجاد کی گئی ہو، تاکہ محمد بن جریر طبری صاحب "کان یضع للروافض" (یہ نقد معروف محدث احمد السلیمانی نے ابن جریر صاحب پر کیا ہے، المسترشد کی مذکورہ کہانی اور اس نقد میں گہرا ربط معلوم ہوتا ہے )کی تہمت سے بھی بچیں اور کتاب بھی محفوظ رہے۔ واللہ اعلم بالصواب


حواشی

  1. النجاشی، ابو العباس، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، موسسۃ النشر الاسلامی ۱۴۱۶ھ،ص۳۷۶
  2. القمی، عباس، الکنی و الالقاب، طہران، مکتبۃ الصدر، ج۱ص۲۴۲
  3. الراضی، حسین عبد اللہ، تاریخ علم الرجال، ص۷۸ (نسخہ اکترونیۃ )
  4. البحرانی، سید ہاشم، مدینۃ المعاجز، قم، موسسۃ المعارف الاسلامیہ ۱۴۱۶ھ،ج۸ص۱۲۲
  5. الطوسی، شیخ الطائفۃ، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، موسسۃ النشر الاسلامی ۱۴۱۵ھ،ص۴۲۴
  6. المامقانی، عبد اللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال بحوالہ المسترشد فی الامامۃ،قم، موسسۃ الثقافۃ الاسلامیہ، ص۴۰
  7. الطہرانی، الشیخ آغا بزرگ، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالاضواء،ج۲ص۴۸۸
  8. الطبری، محمد بن جریر بن رستم، المسترشد فی الامامۃ، قم، موسسۃ الثقافۃ الاسلامیہ، ص۸۷
  9. ایضآ، ص۳۸
  10. الطبری، ابو جعفر، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، قاہرہ، دار المعارف ۱۳۸۷ھ،ج۱ص۸
  11. الطبری، ابو جعفر، محمد بن جریر، صحیح تاریخ طبری، بیروت، دار ابن کثیر ۱۴۲۸ھ،ج۳ص۳۷۷تا۳۹۷
  12. الطبری، ابو جعفر، محمد بن جریر، ضعیف تاریخ طبری، بیروت، دار ابن کثیر ۱۴۲۸ھ،ج۸ص۶۲۹تا۸۱۵
  13. الکنتوری، اعجاز حسین، کشف الحجب و الاستار، قم، مکتبۃ ایۃ العظمی المرعشی ۱۴۰۹ھ،ص۲۱۴
  14. المجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء ۱۴۰۳ھ،ج۱ص۱۹
  15. الطبری، ابو جعفر، محمد بن جریر بن رستم،قم، موسسۃ الثقافۃ الاسلامیہ، ص۸۱
  16. ایضا
  17. الطبری، ابو جعفر، محمد بن جریر بن رستم، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات۱۴۰۸ھ،ص۴
  18. ابن ندیم، الفہرست، ص۳۲۷
  19. البابابی، اسمعاعیل بن محمد امین، ھدیۃ العارفین، بیروت، دار احیاء التراث العربی،ج۲ ص۲۷۱
  20. ابن ساعی، علی بن انجب،الدر الثمین، تیونس، دار الغرب الاسلامی ۱۴۳۰ھ،ص۹۴


امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار (۲)

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

3.4۔ توحید کا چوتھا درجہ: توحید وجودی

اب توحید کے چوتھے درجے کی بات کرتے ہیں جس پر سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور جسے غامدی صاحب نے کفار و مشرکین جیسا عقیدہ قرار دے کر عظیم ضلالت قرار دیا ہے۔ علم کلام کے مباحث میں اس درجہ توحید کی گفتگو کو "توحید وجودی" (Existential Unity) کا عنوان بھی دیا جاتا ہے جس کی متعدد تشریحات پائی جاتی ہیں جن میں دو اہم تر ہیں:  

یہ تمام تفصیلات ہمارے موضوع سے متعلق نہیں،  نفس تحریر کا محور امام غزالی کا چوتھا درجہ توحید ہے اور امام صاحب اس معاملے میں جس توحید کی بات کرتے ہیں وہ ان دونوں میں سے اول الذکر ہے نہ کہ موخر الذکر۔ توحید کے اس چوتھے درجے، جسے "مشاہداتی وحدت" کہا جاتا ہے، اسے سمجھنے کے لئے مشاہدے کی علمیات سے متعلق چند باتیں سمجھنا ضروری ہیں:

یہ سب امور امام غزالی نے واضح کئے ہیں، البتہ ان کی گفتگو کی طرف متوجہ ہونے سے قبل بات سمجھانے کے لئے ایک مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں کسی بس سٹینڈ پر بہت سارے رنگوں اور حجم کے بیگ بکھرے پڑے ہوئے ہیں۔ ایک شخص ان میں سے آدھوں پر "لاھور کا سامان" اور آدھوں پر "اسلام آباد کا سامان" کی چٹ لگا دیتا ہے۔ چٹ لگانے کا یہ عمل آدھوں کو "اسلام آباد کی وحدت" عطا کرتا ہے اور آدھوں کو "لاھور کی وحدت"، اگرچہ وہ بیگ کسی دوسرے اعتبار میں الگ الگ بھی موجود ہیں لیکن لاھور اور اسلام آباد کے اعتبارات سے واحد ہیں۔ یا فرض کریں وہ ان میں سے کچھ پر "20 کلو" اور کچھ پر "10 کلو" کی چٹ لگا کر انہیں تقسیم کرتا ہے، اب وہی بیگ "20 کلو" اور "10 کلو" کی دو وحدتوں میں تقسیم ہوگئے۔ تو ان بیگز کے ساتھ اس قسم کی کئی وحدتیں قائم کی جاسکتی ہیں، "کلو" اور "جائے مقام" (لاھور یا اسلام آباد وغیرہ)، یہ تناظرات یا اعتبارات ہیں جو ایک ہی شے کو مختلف اعتبارات سے کثیر یا واحد بنا رہے ہیں۔ پھر فرض کریں کہ اس بس سٹینڈ پر کئی بسیں موجود ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں سفر کا آغاز کرنا ہے۔ "لاھور کا سامان" اور "اسلام آباد کا سامان" والی انہی چٹوں والے دو قسم کے بیگوں میں سے کچھ کو اٹھا کر ایک بس میں اور کچھ کو دوسری میں رکھ دیا جاتا ہے، ابھی تھوڑی دیر قبل "لاھور کا سامان" اور "اسلام آباد کا سامان" کے جو بیگز الگ الگ تھے "ایک بس کا سامان" کے تناظر میں وہ ایک ہوگئے۔ تو انہیں مشاہداتی تناظرات کہا جاتا ہے جو مشاہد یا ناظر کے لئے اشیاء میں کثرت و وحدت کی بنیاد بنتے ہیں۔

دوسری بات یہ سمجھئے کہ کسی کثرت کو کسی وحدت میں بدل دینے کا راز اس بات میں پنہاں ہوتا ہے کہ وہ کونسا تناظر ہے جہاں ایک شے ہوتے ہوئے بھی لاموجود یا غیر متعلق ہوجائے۔ جب سامان پر "لاہور" اور "اسلام آباد" کی چٹ لگا دی گئی تو ان کا حجم موجود ہوتے ہوئے بھی غیر متعلق ہوجاتا ہے اور اس وحدت کی نفی نہیں کرتا جو چٹ لگنے سے قائم ہوگئی۔

امام غزالی ان امور کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ان الشیء قد یکون کثیرا بنوع مشاھدۃ واعتبار، ویکون واحدا بنوع  آخر من المشاھدۃ والاعتبار  (احیاء العلوم: ص 1605)

"ایک شے مشاہدے کے کسی ایک اعتبار سے کثیر ہوتی ہے اور مشاہدے کے کسی دوسرے اعتبار سے واحد"

اس مشاہداتی وحدت کو سمجھانے کے لئے امام غزالی بس اڈے پر موجود سامان کے طرز ہی کی مثال لائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک انسان گوشت، خون، کھال، ہڈی جیسی کثیر چیزوں سے عبارت ہے لیکن جب تم اسے "انسان" دیکھتے ہو تو اب یہی کثرت "وحدت انسانی" کے مشاہدے میں بدل جاتی ہے۔ اس گفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کل ما فی الوجود من الخالق و المخلوقات لہ اعتبارات و مشاھدات کثیرۃ مختلفۃ، فہو باعتبار واحد من الاعتبارات واحد، وباعتبارات اخر سواء کثیر، وبعضھا اشد کثرۃ من بعض (احیاء العلوم: ص 1605)

"جتنی بھی موجودات ہیں، چاہے خالق ہوں یا مخلوق، سب کے لئے متعدد اعتبارات و مشاہدات ہیں، کسی ایک اعتبار سے  وہ واحد ہوتی ہیں تو کسی دوسرے اعتبار سے وہ کثیر، اور  بعض (اعتبارات سے پیدا ہونے والی مشاہداتی) کثرت  بعض (دیگر  اعتبارات سے پیدا ہونے والی مشاہداتی ) کثرت سے زیادہ ہوتی ہے"

اس وضاحت کے بعد اس سوال پر غور کیجئے:

چوتھا سوال

کیا کوئی ایسا تناظر بھی ہے جہاں "میں" (یا مخلوقات) موجود ہوتے ہوئے بھی غیرموجود، لایعنی اور غیر متعلق ہوجاؤں اور صرف خدا باقی بچ رہے؟

یہ جسے مشاہداتی توحید یا وحدت کہتے ہیں یہ اسی سوال کے جواب سے عبارت ہے۔ اس کا جواب امام غزالی اور صوفیاء اثبات میں دیتے ہیں۔ وہ تناظر کیا ہے؟ وہ تناظر توحید کے اس تیسرے درجے کہ "کائنات میں فاعل حقیقی ایک ہی ہے" کا منطقی نتیجہ ہے کہ "کائنات میں وجود حقیقی بھی صرف ایک ہی ہے"۔ حقیقی وجود کیا ہے؟ وہ وجود جو قائم بالذات ہو۔ امام غزالی کہتے ہیں:

القائم بنفسہ ھو الذی لو قدر عدم غیرہ بقی موجودا (احیاء العلوم: ص 1427)

" قائم بالذات ہستی وہ ہے کہ اگر اس کا غیر (other) معدوم ہوجائے تو بھی اس کا وجود باقی رہے"

یعنی خود اپنی ذات سے قائم وجود وہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے سواء باقی سب وجود ختم ہوجائیں تب بھی اس کا وجود برقرار رہے۔ ایسا وجود صرف اور صرف خدا ہی کی ذات کو حاصل ہے۔ یعنی سب مخلوقات ھلاک ہوجائیں وہ تب بھی موجود ہوگا، ایسا وجود کسی کو حاصل نہیں۔ مشاہداتی وجود کے اس تناظر میں تمام مخلوقات ہوتے ہوئے بھی غیرموجود ہوجاتی ہیں۔ تو اگر میں خود سے یہ سوال کروں کہ "کیا کوئی ایسا تناظر ممکن ہے جہاں میں موجود ہوتے ہوئے بھی لاموجود اور لایعنی ہوجاؤں اور صرف خدا بچ رہے؟"۔ جواب ہے "جی ہاں"۔

چوتھا درجہ: مشاہداتی وحدت

امام غزالی کا بیان کردہ توحید کا چوتھا درجہ یہی مشاہداتی توحید ہے جسے وہ یوں بیان کرتے ہیں:

والرابعۃ: ان لا یری فی الوجود الا واحدا، وھی مشاھدۃ الصدیقین وتسمیۃ الصوفیۃ الفناء فی التوحید لانہ من حیث لایری الا واحد فلا یری نفسہ ایضا، واذا لم یر نفسہ لکونہ مستغرقا بالتوحید کان فانیا عن نفسہ فی توحیدہ، بمعنی انہ فنی عن رؤیۃ نفسہ والخلق (احیاء العلوم: ص 1404)

"اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان صرف ذات واحد کا مشاہدہ کرے اور یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیاء اسے توحید میں فنا ہوجانا کہتے ہیں کیونکہ اس مقام پر وہ اس ذات  کے سواء کچھ نظر نہیں آتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کو بھی نہیں دیکھ پاتے ، اور جب انسان توحید میں استغراق  کے سبب خود اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھ پاتا تو دراصل وہ توحید میں  اپنے نفس سے بھی فنا ہوجاتا  (یعنی اس کی نفی کرتا) ہے، ان معنی میں کہ وہ اپنے آپ اور دیگر مخلوقات کو دیکھنے سے قاصر ہوجاتا ہے "

گویا توحید کا آخری درجہ یہ ہے کہ انسان کے  مشاہدے میں صرف ایک ہی ذات رہ جائے، باقی سب فنا ہوجائے، وہ جب کسی شے کو دیکھے تو صرف وجود واحد اور حقیقی کے تناظر میں دیکھے۔  جب بندہ اس تناظر میں مشاہدہ کرتا ہے تو ہر موجود کے مشاہدے میں صرف خدا ہی باقی بچ رہتا ہے، جو نظر کے سامنے ہوتا ہے اس کے وجود نہیں بلکہ "ہلاک و فنا" ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس تناظر سے قائم ہونے والے مشاہداتی تناظر میں سب وجود فنا و لایعنی ٹھہرتے ہیں، اس مشاہداتی تناظر میں خدا کے سواء ہر شے دیکھ کر انسان یہی پکارتا ہے: "یہ تو فنا ہوجانے والی ہے"،1 یعنی اس کی کوئی وقعت نہیں، وقعت تو بس اس کی ہے جو وجود حقیقی ہے، جو از خود قائم ہے، امام غزالی لکھتے ہیں:

وانما الوجود ھو القائم بنفسہ، والقائم بنفسہ ھو الذی لو قدر عدم غیرہ بقی موجودا (احیاء العلوم: ص 1427)

"بیشک وجود وہ ہے جو قائم بالذات ہو، اورقائم بالذات ہستی وہ ہے کہ اگر اس کا غیر (other) معدوم ہوجائے تو بھی اس کا وجود باقی رہے"

اس وجود حقیقی اور عام انسانوں کے وجود میں جو فرق ہے نیز اس سے شرک کا خطرہ کس طرح ختم ہوجاتا ہے، اسے وہ یوں بیان کرتے ہیں:

والخاصیۃ الالھیۃ انہ الموجود الواجب الوجود بذاتہ، الذی عنہ یوجد کل ما فی الامکان وجودہ علی احسن وجود النظام و الکمال۔ وھذۃ الخاصیۃ لایتصور فیھا مشارکۃ البتتہ، ولمماثلۃ بہا لاتحصل۔ فکون العبد رحیما، صبورا، شکورا لایوجب الممثلۃ ککونہ سمیعا، بصیرا، عالما، قادرا، حیا، فاعلا (المقصد الاسنی فی معانی اسماء الحسنی: ص 49)

"خاصیت الہی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے قائم واجب الوجود ہستی ہے، جس کی ذات سے عالم امکان میں تمام موجودات نہایت عمدہ و کامل نظم کے ساتھ وجود میں آتے ہیں، اور یہ وہ خاصیت ہے جس میں (کسی کی) شرکت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پس ایک بندہ رحیم، صبور و شکور ہوسکتا ہے لیکن اس سے (خدا کی صفات کے ساتھ) مماثلت  لازم نہیں آتی جیسے بندہ سمیع، بصیر، عالم، قادر، حی اور فاعل ہوتا ہے"

تو جب کسی بندے پر یہ تناظر غلبہ پالیتا ہے تو وہ اپنے وجود کو کبھی ظلی کہتا ہے تو کبھی مجازی، کبھی اس کی نفی کرتا ہے تو کبھی ایک لمحاتی تجربہ۔ یہاں تفصیل کا موقع  نہیں ورنہ ہم سمجھاتے کہ کائنات کا ہر ذرہ لمحاتی وجود سے زیادہ وقت کے لئے منصف وجود پر آتا ہی نہیں اور اگر لایا بھی جائے تو خود برقرار نہیں رہ سکتا اگر وجود حقیقی اس پر اپنے عمل تخلیق کے فضل کی بارش مسلسل جاری نہ رکھے2۔ تو جو وجود ایسا ہیچ ہو کہ ایک لمحے کے لئے بھی موجود نہ رہ سکتا ہو، اس کی بھلا اس وجود سے کیا نسبت جو حقیقی اور قائم بالذات ہو؟ مخلوقات کا وجود بھی متحقق ہوگا لیکن کسی نچلے اعتبار میں اور وہ نچلا درجہ اس حقیقی اعتبار کے مقابلے میں ایسا کمتر ہے کہ بندہ اس کی طرف ملتفت ہی نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے یہ سمجھا کہ "وجود حقیقی کے اعتبار" میں بھی وہ اور دیگر  مخلوقات موجود ہیں، تو وہ جان لے کہ یہ  شرک ہے۔ جیسے "فاعل حقیقی" کے اعتبار میں کسی کو موثر سمجھنا شرک ہے اسی طرح "وجود حقیقی" کے اعتبار میں کسی کو موجود ماننا بھی شرک ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ "موجود ہونے" اور "وجود میں لائے جانے" میں بڑا فرق ہے اور یہ راز ہر کسی پر نہیں کھلا کرتا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جب تم یہ تصور قائم کرو گے کہ وجود حقیقی تو صرف خدا کو حاصل ہے تو پھر تمہارے لئے سوائے خدا کے کچھ موجود نہ رہے گا، باقی سب فنا دکھائی دے گا۔  

تو یہ ہے وہ تصور جسے وجودی توحید کے مباحث میں "مشاہداتی وحدت" کہتے ہیں۔ چونکہ یہ بحث سمجھنا ہر کسی کے بس میں نہیں، کچھ ہی لوگ اس کا ذوق رکھتے ہیں نیز اس کے ساتھ ملحق خیالات گہرائی اور اس کے مضمرات باریک بینی کا تقاضا کرتے ہیں لہذا صوفیاء کہتے ہیں کہ یہ "خاص الخاص" کی توحید ہے، یعنی توحید کا وہ ادراک جو بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ ہر علم کی ایک گہرائی ہوتی ہے، جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہر علم کی ہر بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے، وہ بیوقوف ہے، اسے کبھی علم سے شناسائی ہی نہیں ہوئی۔

اس مقام پر دلوں میں کچھ سوالات مچلتے ہیں، مثلا یہ کہ مشاہداتی وحدت کا مطلب کیا یہ ہے کہ وجودی (ontological) سطح پر مخلوقات لاموجود و معدوم ہوجاتی ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ خالق و مخلوق کے ایک ہونے کا مشاہدہ کیا جائے؟

امام غزالی ان دونوں سوالات کا جواب کھلے الفاظ میں نفی میں دیتے ہیں اور اس کے لئے احیاء العلوم کے بجائے امام غزالی کی دیگر تصنیفات کی طرف رجوع کرنا لازم ہے جس میں "المقصد الاسنی فی شرح معانی اسماء الحسنی"3 سرفہرست ہے جہاں وہ صاف انداز میں "اتحاد" اور "حلول" دونوں کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ منطقی طور پر ان کے ناممکن ہونے کے دلائل لاتے ہیں۔ اس مضمون میں یہ تفصیلات بیان کرنا ممکن نہیں، اہل ذوق اور علم کی پیاس بجانے کا شوق رکھنے والے حضرات امام غزالی کی اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں جس میں تصوف میں عرفان الہی کی پیچیدہ بحثوں پر نفیس گفتگو کی گئی ہے اور امام غزالی نے بہت سی گتھیوں کو عمدہ انداز میں سلجھایا ہے۔ البتہ اس ضمن میں امام صاحب کے موقف کی اصولی بات بیان کردی جانا ضروری ہے۔

امام صاحب اس سوال سے بحث کرتے ہوئے کہ بندے اور خدا کی صفات میں مماثلت کی کون سی صورتیں درست اور کون سی غلط ہیں، پانچ امکانات ذکر کرتے ہیں:

امام صاحب کہتے ہیں:

فھذہ خمسۃ اقسام، الصحیح منھا قسم واحد، وھو یثبت للعبد من ھذہ الصفات امور تناسبھا علی الجملۃ وتشارکھا فی الاسم، ولکن لا تماثلھا مماثلۃ تامۃ (المقصد الاسنی: ص 49)

"تو یہ پانچ اقسام ہوئیں، ان میں سے درست قسم صرف پہلی ہے (یعنی بندے کی صفات خدا کی صفات میں صرف نام کے اعتبار سے مماثل ہیں)، یعنی ان صفات میں بندے کے لئے صرف وہ امور ثابت ہوتے ہیں جو (بندے کے لئے) ان صفات کے مناسب ہوتے ہیں، اور (خدا کی صفات کے ساتھ) شرکت صرف نام کی سطح  پر ہوتی ہے، ہر اعتبار میں اس کے ساتھ مماثلت نہیں ہوتی"

امام غزالی کہتے ہیں کہ دیگر چاروں محال ہیں اور وہ ہر ایک کا تفصیلی رد کرتے ہیں۔ تو یہ ہے توحید وجودی پر امام غزالی کا کلام جو بالکل صاف اور نکھرا ہوا ہے اور جس میں کوئی الجھاؤ نہیں، صرف اسے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم غامدی صاحب سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ توحید کے درج بالا چوتھے درجے پر انہیں کیا اعتراض ہے؟ بلکہ یہ سوال ناقص ہے، درست سوال یہ ہے کہ آخر اسے نہ مان کر بھی آپ موحد کیسے ہوسکتے ہیں؟ اول الذکر سوال یہ فرض کرتا ہے گویا معیار غامدی صاحب کا تصور توحید ہے، جبکہ معاملہ یہ ہے کہ انبیاء کی تعلیمات میں بیان شدہ توحید کا درست و کامل معیار تو وہی ہے جسے امام غزالی اور ان کے ہمنوا صوفیاء بیان کرگئے ہیں۔ وہ جو "عین انبیاء کی توحید" تھی آپ نے اسے "متوازی دین" قرار دے کر دراصل اپنی  ناقص توحید کو دین اور انبیاء کی توحید کو متوازی دین بنا دیا۔

"ھو الحی" اور "لا موجود الا اللہ"

مناسب محسوس ہوتا ہے کہ صوفیاء کے قول "لا موجود الا اللہ" کی جو تشریح امام غزالی کے درجات توحید والی تحریر میں سمجھائی گئی اس کی منصوص بنیاد بھی ذکر ہوجائے تو اچھا رہے گا، ورنہ لوگوں کو خیال گزر سکتا ہے کہ شاید منطقی باتیں بنا کر صوفیاء کی باتوں کی تاویل کی جارہی ہے  یا صوفیاء نے منطقی موشگافیوں سے کام لیا ہے۔ یہ بات سمجھانے کے  لئے سب سے مناسب مقام آیت الکرسی ہے جو اللہ کی صفات کا ایک عظیم مجموعہ ہے۔ چنانچہ اس میں ارشاد ہوتا ہے:

لہ ما فی السموات و ما فی الارض (البقرۃ: 255)

زمین و آسمان میں جو کچھ ہے، سب اس کا ہے۔

آیت کو پڑھ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اس زمین میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا کیونکہ زمین و آسمان میں سب کچھ تو اللہ ہی کا ہے نیز اگر انسان کو کسی چیز کا مالک مان لیا گیا تو یہ شرک ہوجائے گا؟ اس کا جواب سوائے اس کے کیا ہے کہ "مالک حقیقی" صرف خدا کی ذات ہے، اس کے سوا کسی کو "مستقل و حقیقی مالک" سمجھنا شرک ہے۔ تو اس جواب کا مطلب یہ ہوا کہ کسی تناظر میں "لا الہ الا اللہ" کا مطلب "لا مالک الا اللہ" ماننا بھی ہے، یعنی ایک ایسا تناظر و اعتبار بھی ہے جہاں سب انسانوں کی ملکیت کی نفی کرنا لازم ہے، نہ کی گئی تو یہ شرک ہوگا۔ تو اس اعتبار سے آیت کا مطلب ہوا کہ "زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس 'ہی' کا ہے"، اور کسی کا نہیں۔ جب تک ترجمے میں یہ "ہی" نہیں لگے گا، ملکیت حقیقی کا یہ مفہوم ادا نہیں ہوگا۔ ملکیت کے اس معنی میں ہر کسی کی ملکیت کی نفی کرنا یہ توحید کا لازمی تقاضا ہے، یعنی ملکیت کا کوئی ایسا تصور بھی ہے جہاں خدا کے ساتھ کوئی شریک نہیں، وہاں وہ ذات اکیلی مالک ہے۔

یہ بات سمجھنا نسبتا آسان ہے کیونکہ ملکیت کی یہ نفی ہمارے وجود کو چیلنج نہیں کررہی، صرف اس چیز کی ملکیت کے اعتبار کو چیلنج کررہی ہے جسے ہم اٹھتے بیٹھتے اپنا کہتے ہیں۔ اب آیت الکرسی کی ابتداء پر آتے ہیں جہاں "ھو الحی" کے الفاظ آئے ہیں اور جس کا ترجمہ عام طور پر "وہ زندہ ہے" کیا جاتا ہے ۔ یہاں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے جو ملکیت کے مسئلے میں پیدا ہوا تھا کہ آیا اللہ اور بندنے کے زندہ ہونے میں جو ظاہری مماثلت ہے اس کا کیا کیا جائے؟  کیا بندے کو زندہ ماننے سے شرک لازم آتا ہے؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کی حیات کو ہماری حیات سے کوئی نسبت ہی نہیں، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک موجود رہے گا نیز وہ از خود زندہ ہے، ہم اس زندگی اور وجود کے لئے اس کے محتاج ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حقیقی معنی میں خدا ہی کی ذات زندہ ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ کوئی ایسا تناظر بھی ہے جہاں میں، اور آپ نہ زندہ ہیں اور نہ ہی موجود، اس دائرہ میں صرف خدا ہی کی ذات زندہ اور موجود ہے۔  گویا کوئی ایسا تناظر بھی ہے جہاں "لا الہ الا اللہ" کا ترجمہ "لا موجود الا اللہ" سمجھنا ضروری ہے، اس دائرے میں اپنے وجود حادث کی نفی نہیں کی تو شرک ہوگا۔ تو اب آیت "ھو الحی" کا ترجمہ "وہ زندہ ہے" سے پورا نہیں ہوتا بلکہ "وہی زندہ ہے" ٹھہرتا ہے۔

"وجودی توحید" کا دوسرا پہلو درج بالا سوال کی دوسری جہت (flip side) ہے جہاں میں اپنی ذات کو اس سوال کے روبرو پیش کرتا ہوں: "کیا کوئی ایسا تناظر بھی ممکن ہے جہاں رب اور بندہ ایک ہوجائے؟" یہ ایک گہرا سمندر ہے جہاں الفاظ مفہوم کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں، یہ اثباتی توحید کا وہ مقام ہے کہ جو اس میں جس قدر آگے بڑھتا گیا وہ اتنا ہی بے بس ہوتا اور حیران و پریشان ہوتا چلا گیا۔ اس حیرت کدے میں سرکرداں ہونا  اس مقالے کا موضوع نہیں لہذا ہم اس جانب گفتگو بڑھانا نہیں چاہتے اور اسے کسی دوسرے مقالے کے لئے اٹھا رکھتےہیں۔

کیا توحید وجودی مدار نجات ہے؟

توحید وجودی کے ضمن میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کا ادراک حاصل کرنا لوازامات دین میں سے ہے؟ یعنی کیا اس درجے کی توحید کا اقرار کرنا مدار نجات ہے؟ امام غزالی کہتے ہیں کہ یہ جسے توکل کہتے ہیں، اس کا تعلق توحید کے اس چوتھے درجے کے ادراک کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ تیسرے درجے سے متعلق ہے اور وہ اسی کی تفصیل بیان کرتے ہیں (احیاء العلوم ص: 1605)۔ گویا بندہ مؤمن بن کر رھنے کے لئے توحید کے جس تصور کو ہمہ وقت باندھ رکھنا کافی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات میں فاعل حقیقی صرف خدا کی ذات ہے، اس کے اذن کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا لہذا مجھے اسی کے کہے پر عمل کرکے اس پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ چونکہ توحید کا یہ فہم حاصل کرسکنا بہت گہرے غور و خوض کا متقاضی ہے لہذا صوفیاء اسے "خواص الخواص" کی توحید کہتے ہیں اور اسے خواص الخواص کی توحید کہنے کا مطلب ہی یہ ہےکہ یہ مدار نجات نہیں، کیونکہ مدار نجات عام لوگوں (masses) کے درجے کی چیز ہوا کرتا ہے۔ علمائے تصوف کی  روایت میں توحید وجودی کا اقرار مدار نجات نہیں سمجھا جاتا، اس کی ایک دلچسپ مثال یہ اختلاف ہے کہ جب سید عبد الرحمان لکھنوی نے اپنی کتاب تحقیق الحق میں یہ دعوی کیا کہ لا الہ الا اللہ سے لا موجود الا اللہ کا وہ گہرا ادراک حاصل کرنا از روئے شرع لازم ہے جو صوفیاء نے سمجھا، تو ان کا رد کسی اور نے نہیں بلکہ برصغیر میں خود اسی روایت کےایک  امین پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے لکھا (ان کی کتاب کا نام تحقیق الحق فی کلمۃ الحق ہے)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی روایت کے علماء اس درجہ توحید کو مدار نجات شمار نہیں کرتے جیسا کہ امام غزالی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔ تو جس چیز کو وہ خود مدار نجات نہیں کہتے اس پر ان کی نقیض کرنا کیسے درست ہے؟ جسے یہ گہرے رموز سمجھ نہیں آتے، وہ اللہ کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزارے اور خالق حقیقی سے جاملے، صوفیاء نے کب ندا لگا رکھی  ہے کہ سب کے لئے اسے سمجھنا و ماننا لازم ہے!  لیکن ہر علم میں فہم و ادراک کا ایک درجہ بہرحال ایسا ہوتا ہے جس کا ذوق کچھ خاص لوگوں کو ہوا کرتا ہے، کیا شرع نے اس ادراک کے حصول کی جستجو سے منع کردیا ہے؟ جس کا یہ دعوی ہے وہ دلیل پیش کرے۔

4۔ خلاصہ

اس تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ امام غزالی بالخصوص اور صوفیاء بالعموم کفر و شرک کی ان تہمتوں سے پاک ہیں جو غامدی صاحب نے اپنے سوء فہم اور ناقص تصور توحید کی بنیاد پر ان کی طرف منسوب کیں۔ جو شخص ٹھیک طرح سے توحید کے پہلے درجے کی تعریف متعین نہ کرسکا ہو وہ اٹھے اور امت مسلمہ  کے ان لوگوں کی توحید کو کفر وشرک قرار دے جو توحید کا مغز بیان کرنے والے تھے، ایسے حالات میں سوائے افسوس کے اور کیا ہو! امام غزالی کے یہاں جو مباحث بالکل صراحت کے ساتھ چند مقامات پر مذکور ہیں دیگر صوفیاء کے یہاں وہ خاصی پیچیدگی و الجھاؤ کے ساتھ ملتے ہیں جیسا کہ امام غزالی خود کہتے ہیں کہ ان مباحث کو سمجھنے میں غلط فہمیوں کی ایک وجہ اس کلام کا سیاق و سباق ہوتا ہے اور جس سے لوگوں کو حلو ل و اتحاد کا گمان ہونے لگتا ہے (المقصد الاسنی: ص150)۔  تو جو شخص ان مباحث میں امام غزالی کے واضح اور مربوط کلام کو سمجھنے سے قاصر رہا ہو نیز اسے ویدا، اپنشد اور نجانے کس کس فلسفی کے کفریہ و شرکیہ نظریات کی طرح قرار دیتا ہو اس سے یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ اس نے شیخ ابن عربی جیسے پیچیدہ و دقیق صوفی کی الجھا دینے  والی تحاریر کو سمجھ  لیا ہوگا؟ شیخ ابن عربی کی تحریروں کا حال یہ ہے کہ ان کا اپنا الگ نظام فکر ہے جس کی اپنی اصطلاحات اور معانی ہیں، وہ ابتدائے کلام میں جس اصطلاح کا ذکر کرتے ہیں اس کی تشریح کئی سو صفحات بعد کہیں مذکور ہوتی ہے۔ تو اب یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہ جاتا ہے کہ غامدی صاحب نے کتنے غور سے شیخ ابن عربی کا مطالعہ کیا ہوگا۔ اس بارے میں ہمارا گمان یہ ہے کہ انہوں نے ثانوی ماخذات سے چیزیں اخذ کرکے تصوف پر مضمون لکھا ہے۔

حاصل کلام یہ کہ امام غزالی و صوفیاء کرام کا تصور توحید نہ صرف یہ کہ درست ہے بلکہ معاملہ یہ ہے کہ یہی  تصور توحید اہل سنت والجماعت کا نمائندہ تصور توحید ہے جو ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک ہے۔ اس تصور  پر خط تنسیخ پھیرنا دراصل اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی پوری علمی روایت کو باطل ٹھہرانا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اگر اس تحریر سے کسی کو نفع ہو تو اس کے صدقے میں روز قیامت امام غزالی سے محبت کرنے والوں میں شامل کردے۔

مراجعات

1۔ ابو حامد الغزالی  (2005)۔ احیاء العلوم الدین۔ دار ابن حزم (اس مکتب نے کتاب کی چار جلدوں کو ایک جلد کی صورت میں چھاپا ہے)

2۔ ابو حامد الغزالی  (2003)۔ المقصد الاسنی فی شرح معانی اسماء الحسنی۔ دار ابن حزم

3۔ جاوید احمد  غامدی (2018)۔ برھان۔ المورد، ادارہ علم و تحقیق  

حواشی

  1.  یعنی بندے کی پکار اس آیت کی بات رہ جاتی ہے: کل شیء ھالک الا وجہ، یعنی اللہ کے سواء  ہر شے فانی  یا ھلاک ہونے والی ہے (القصص:  88)۔
  2.  خالق و کائنات کے مسلسل تعلق کو بیان کرنے کی یہ تعبیر اشعری  نظام فکر پر مبنی ہے  جو اہل سنت والجماعت کا ایک گروہ ہے۔
  3.  یہ کتاب المقصد الاقصی فی شرح اسماء الحسنی کے نام سے بھی موسوم ہے۔ متعلقہ بحث کے لئے کتاب کے ان ابواب کا مطالعہ سود مند رہے گا: الفن الاول باب الرابع اور اگر صرف اتحاد و حلول کی بحث ملاحظہ کرنا ہو تو الفن الثانی کا "خاتمۃ لھذا الفصل" ملاحظہ فرمائیں۔