کورونا وائرس کی وبا اور مذہبی سوالات / قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کی شمولیت
محمد عمار خان ناصر
کورونا وائرس کی حالیہ عالمی وبا کے تناظر میں مذہبی نوعیت کے بعض اہم سوالات بھی قومی سطح پر زیر بحث آئے اور مختلف حلقے ان پر اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ مثلا کیا اس وبا کی نوعیت اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ یا سرزنش کی ہے یا یہ محض طبیعی وحیاتیاتی قوانین کے تحت رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے؟ کیا وبائے عام کی صورت حال میں مساجد میں باجماعت نماز کا نظام عارضی طور پر معطل یا محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس نوعیت کے فیصلوں میں بنیادی اہمیت ارباب حل وعقد یا طبی ماہرین یا علما وفقہا میں کس کی رائے کو دی جانی چاہیے؟ پاکستان میں بطور ایک طبقے کے علماء اور اہل مذہب کا موقف عالم اسلام کے دیگر ممالک اور ہندوستان کے علماء سے بالکل مختلف ہونے کے اسباب کیا ہیں؟ وغیرہ
آئندہ سطور میں ہم مذکورہ سوالات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کریں گے۔
آفات، بیماریاں اور مشکلات انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہیں اور ان کے حوالے سے بساط بھر تدابیر اختیار کرنے کے علاوہ ان کی تفہیم کے حوالے سے کوئی زاویہ نظر متعین کرنا بھی انسانی شعور کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ آفات اور تکالیف کی تفہیم کا سوال حیات وکائنات کی مجموعی معنویت کے بڑے سوال سے جڑا ہوا ہے، اس لیے انسان کا ذہنی رویہ اس کے مذہبی عقیدے کے زیر اثر ہی طے ہوتا ہے۔ انسانی فکر اگر حیات وکائنات کے ظہور کو ناقابل توجیہ اتفاقات کا نتیجہ تسلیم کر لے تو انسانی زندگی اور اس کے تمام مظاہر میں بھی معنویت یا مقصدیت کا سوال بے معنی ہو جاتا ہے، لیکن مذہبی عقیدے کے زیر اثر اگر انسانی زندگی کو ایک شعوری اور بامقصد تخلیقی عمل کا حصہ مانا جائے تو پھر زندگی کے مختلف احوال کی تفہیم وتوجیہ کے سوال کو بھی مذہبی تصورات اور عقائد سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس وجہ سے آفات ومصائب کی مابعد الطبیعی تفہیم کا زاویہ نظر مذہب بیزار یا مذہب گریز ذہن کو کتنا ہی غیر منطقی محسوس ہوتا ہو، مذہبی ذہن کے لیے وہ اس کے شعوری مسلمات کا ناگزیر تقاضا ہے اور مذہب کا مطالبہ بھی انسان سے یہی ہے کہ وہ زندگی کے روز مرہ اور معمول کے احوال میں عموما اور غیر معمولی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں خصوصا عبرت اور سبق آموزی کے ان پہلووں کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھے جو اسے زندگی اور مقصد زندگی سے متعلق بڑے حقائق کی یاددہانی کرانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ مذہب کی اسی تعلیم کی روشنی میں اہل مذہب اجتماعی آفات کے موقع پر ، ضروری تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ، توبہ واستغفار اور دعا ومناجات کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں اور یہ مذہبی تصور حیات سے ہم آہنگ ایک عین عقلی اور منطقی رویہ ہے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا وبائے عام کی صورت حال میں ارباب حل وعقد مسجد میں باجماعت نماز کے سلسلے کو وقتی طور پر معطل یا محدود کرنے کا حکم دے سکتے ہیں یا نہیں تو ہمارے نزدیک اس ضمن میں سوال کی تصحیح ضروری ہے۔ یہ سوال بنیادی طور پر باجماعت نماز سے لوگوں کو روکنے کے اختیار کا نہیں، وبا کے پھیلاو کو روکنے کے لیے لوگوں کی نقل وحرکت اور اجتماع کو روکنے کے اختیار کا ہے جس کا ایک نتیجہ، بہت سے دیگر معاشرتی نتائج کے ساتھ، یہ بھی مرتب ہوتا ہے کہ لوگ باجماعت نماز کے لیے مسجد میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اس کو مسجد یا باجماعت نماز سے روکنے کے حق سے تعبیر کرنا صورت حال کی درست ترجمانی نہیں ہے۔ مثلا وبا ہی کی صورت حال میں حکومت نے لوگوں کو عام علاج معالجے کے لیے اسپتال جانے سے روک دیا گیا تاکہ بغیر شدید ضرورت کے، لوگوں کا ہجوم نہ ہو اور طبی سہولیات زیادہ سنگین نوعیت کے مریضوں کے لیے دستیاب رہیں۔ اب اس کو اگر یوں تعبیر کیا جائے کہ کیا حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو اسپتال جانے یا علاج معالجہ سے روک دے تو ظاہر ہے، سوال کا یہ زاویہ درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں سوال دراصل کسی کو علاج سے روکنے یا باجماعت نماز پڑھنے سے روکنے کا نہیں، وبا کے شیوع کو روکنے کے لیے لوگوں کی معمول کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کا ہے۔
اس ضروری تصحیح کے بعد اگلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ ارباب حل وعقد کو اجتماعی مصلحت کے لیے لوگوں کی نقل وحرکت اور اجتماع کو محدود کرنے کا جو اختیار حاصل ہے، کیا اس کے استعمال میں مساجد کا معاملہ دیگر مقامات سے مختلف ہے، یعنی کیا اس دائرے میں حکومتی اختیار کو بروئے کار لانے پر کچھ زیادہ سخت شرطیں عائد ہوتی ہیں؟ بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مساجد کا معاملہ روز مرہ سرگرمیوں کے دیگر مراکز سے مختلف ہے، اور مساجد میں آنے جانے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر کا پابند بنانے سے آگے بڑھ کر حکومت باجماعت نماز کے سلسلے کو علی الاطلاق محدود نہیں کر سکتی، البتہ وہ مخصوص افراد کو مسجد میں جانے سے روک سکتی ہے اور اسی طرح کسی خاص جگہ پر وبا کے اثرات کا پایا جانا متحقق ہو جائے تو بھی احتیاطا اس مخصوص علاقے میں مساجد میں باجماعت نماز کے سلسلے کو وقتی طور پر معطل یا محدود کر سکتی ہے۔ ہماری رائے میں یہ تفریق زیادہ مضبوط استدلال پر مبنی نہیں۔ حکومت کے لیے لوگوں کی نقل وحرکت یا اجتماع پر پابندی کے اختیار کی بنیاد ، ایک اجتماعی مصلحت کے تحت، وبا کے پھیلاو کو روکنے کی ذمہ داری پر ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اگر حکومت وبا کے پھیلنے کے امکان کے پیش نظر ، لوگوں کو باقی جگہوں پر جمع ہونے سے روک سکتی ہے، چاہے ان مقامات پر اثرات کا پایا جانا یقینی نہ ہو، تو مسجد میں جمع ہونے سے بھی روک سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وبا کے یقینی یا امکانی ہونے کی بنیاد پر مسجد اور عام مقامات میں فرق نہیں کیا جا سکتا، یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ باقی جگہوں پر تو امکان کے پیش نظر بھی جمع ہونے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، لیکن مسجد میں پابندی لگانا صرف تب جائز ہوگا جب یقینی طور پر مسجد کے ارد گرد کے علاقے میں وبا کا پایا جانا متحقق ہو چکا ہو۔
یہی نوعیت اس نکتے کی بھی ہے کہ آیا حکومت مخصوص افراد یا مخصوص علاقوں کے علاوہ عمومی طور پر پورے ملک کی مساجد کے حوالے سے کوئی حکم جاری کر سکتی ہے یا نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہاں اصل مسئلہ لوگوں کو اجتماعی عبادت سے روکنے یا نہ روکنے کا نہیں، وبا کے شیوع کو محدود رکھنے کا ہے، چنانچہ احتیاطی تدبیر کے جس اصول پر مخصوص افراد کو یا مخصوص علاقوں کی مساجد کو باجماعت نماز کے عام معمول سے روکا جا سکتا ہے، اسی اصول پر پورے ملک کی مساجد کو بھی اس کا پابند کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی اہمیت اس کی ہے کہ حکومت کے پاس وبا سے متعلق کیا معلومات ہیں اور اس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے وہ کس سطح کے اقدامات کو ضروری یا مناسب خیال کرتی ہے۔ معلومات اور صورت حال کے تجزیے میں یقینا اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اصولی طور پر اس تفریق کی کوئی مضبوط بنیاد موجود نہیں کہ حکومت عام مقامات پر تو اجتماع پر عمومی پابندی لگا سکتی ہے، لیکن مساجد میں اس کا اطلاق صرف ضرورت یا استثناء کے دائرے میں کر سکتی ہے۔ باجماعت نماز اور جمعہ کی ادائیگی کی شرعی اہمیت مسلم ہے، لیکن ان فرائض کی ادائیگی میں دیگر شرعی مصالح کی رعایت بھی ضروری ہے اور خاص طورپر جمعہ وجماعت کی ادائیگی کو اگر مسجد کے مستقل عملے تک محدود کر لیا جائے تو اس میں دینی شعائر کے تسلسل اور احتیاطی تدبیر، دونوں کی پوری رعایت پائی جاتی ہے۔
اس وضاحت سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ ایسے معاملات میں فیصلے کی اتھارٹی کون ہے اور وبائی امراض کے ماہرین یا علماء میں سے کس کی رائے کو زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ فقہ اسلامی کے اصول اس حوالے سے بالکل واضح ہیں۔ ایسے معاملات جن میں شرعی وفقہی اصول نظری طور پر واضح ہو اور اصل سوال صورت واقعہ کی صحیح تعیین کرنا ہو، ان میں بدیہی طور پر متعلقہ شعبے کے ماہرین کی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ فیصلے کا حتمی اختیار ارباب حل وعقد کو حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر فقہی وشرعی حکم کی تعیین میں علماء کی یا صورت حال کے تجزیے میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کی آرا مختلف ہوں تو بھی فیصلے کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ زیر بحث مسئلے میں طبی ماہرین کی رائے تو کم وبیش اجماع کے درجے میں یہ رہی ہے کہ ہر طرح کے اختلاط کو سختی سے روکا جائے، جبکہ مسئلے کی شرعی نوعیت کے حوالے سے واضح شرعی اصولوں کے علاوہ عالم اسلام کے علماء کی اکثریت اور خود پاکستان کے بہت سے معتمد اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ان حالات میں مساجد کے عام معمولات کو موقوف کیا جا سکتا ہے ۔ طبی ماہرین کے اندازوں یا حکومتی ذمہ داران کے تجزیوں پر عملی شواہد کی بنیاد پر یقینا سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور اس پر ایک مسلسل بحث چل رہی ہے، لیکن بطور شرعی اصول کے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ یہ ایک اجتہادی بحث ہے جس میں حتمی فیصلے کا اختیار حکومت کو حاصل ہے اور اس سے نظری اختلاف رکھتے ہوئے بھی عملا حکومتی فیصلے کی پابندی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن علماء نے حکومت کی طرف سے لاک ڈاون سے پہلے واضح طور پر اپنی رائے دی تھی، حکومتی فیصلے کے بعد انھوں نے بھی عملا اس کی پابندی کی اور لوگوں سے بھی یہی کہا کہ وہ فیصلے کی پابندی کریں۔
اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی طبقے اور علماء کا موقف عمومی طور پر عالم اسلام کے دیگر ممالک کے اہل علم سے مختلف کیوں ہے۔ اس سوال کے جواب میں یہ سمجھنا اہم ہے کہ مذہبی مواقف کی تعیین میں صرف فقہی وشرعی اصول کارفرما نہیں ہوتے، بلکہ معاشرتی وسیاسی عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں شناخت پر مبنی سیاست اور حکومت اور مذہبی علماء کے مابین مذہبی معاملات میں اتھارٹی کا سوال، دو ایسے سیاسی عوامل ہیں جو بدیہی طور پر زیربحث اجتہاد پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ ایک خاص تاریخی پس منظر میں ریاست اور مذہبی طبقات کے تعلقات میں باہمی اعتماد کا عنصر مفقود ہے اور خاص طور پر مساجد اور مدارس کے نظام میں حکومتی مداخلت کو مذہبی طبقے اپنے دینی کردار کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں یہ حساسیت اس وجہ سے مزید بڑھ گئی کہ علماء کو اس مسئلے سے اچانک اور کسی تیاری کے بغیر دوچار ہونا پڑا اور معمول کے حالات میں ایک سوچا سمجھا موقف طے کرنے کا جو موقع ہوتا ہے، وہ انھیں نہیں مل سکا۔ ہوا یوں کہ ابھی ملکی سطح پر صورت حال پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی کہ پوری دنیا میں مسلم حکومتوں کی طرف سے وہاں کے علماء کی تائید سے لاک ڈاون کا اقدام کر دیا گیا۔ وبا کی خوف ناکی اور عالم اسلام کے عمومی رجحان کے زیر اثر ہمارے ہاں بھی سوشل میڈیا پر فوری طور پر اس موقف نے عمومی شیوع حاصل کر لیا کہ مساجد کے معمولات معطل کر دینے چاہییں۔
سوئے اتفاق سے اس موقف کی ترجمانی عموما ایسے حلقوں کی طرف سے اور ایسے اسلوب میں کی گئی کہ علماء صورت حال کے تجزیے کا پورا موقع ملنے سے پہلے ہی ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑے کر دیے گئے اور یہ تاثر بن گیا کہ کچھ حلقے جو ویسے ہی مذہب اور مذہبی طبقے سے متنفر یا مذہبی طبقے کے کردار کے ناقد ہیں، اس موقع کو مساجد اور علماء پر دباو ڈالنے اور انھیں کارنر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت ویسے ہی سیاسی وانتظامی معاملات میں الجھی ہوئی تھی، اس لیے بروقت علماء سے رابطہ کر کے انھیں اعتماد میں نہیں لے سکی۔ جب کوشش کی بھی تو اس وقت جب کشاکش کا ماحول بن چکا تھا اور اس میں بھی اپنے تئیں بات کا وزن بڑھانے کے لیے ازہر سے فتوی منگوا کر علماء کو قائل کرنا چاہا جو ایک طرح سے ان پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ یوں چند در چند پہلووں سے علماء کی نظر میں مسئلے کی شرعی وفقہی حیثیت سے زیادہ اس کا سیاسی پہلو اہمیت اختیار کر گیا اور نتیجتا ایک سیاسی انداز ہی کی پوزیشن لینے کی سوچ غالب آ گئی۔ اسی نکتے نے دراصل معاملے کو وہ رخ دے دیا جو ابھی تک قائم ہے۔
اللہ تعالی ٰ سے دعا ہے کہ وہ ان مشکل حالات سے عافیت کے ساتھ نکلنے میں ہماری مدد فرمائے اور ہمارے ارباب حل وعقد اور تمام طبقات حکمت اور تدبر، باہمی ہمدردی اور قومی جذبے کے ساتھ دین، ملک وقوم اور انسانیت کے حق میں درست فیصلے کر سکیں۔ آمین
قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کی شمولیت
قومی اقلیتی کمیشن میں بطور غیر مسلم اقلیت، احمدیوں کی شمولیت کے حالیہ حکومتی فیصلے کے تناظر میں احمدیوں کی آئینی حیثیت کا سوال ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ معروف مذہبی اسکالر علامہ خلیل الرحمن قادری صاحب نے اس حوالے سے مذہبی حلقوں کے خدشات وتحفظات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
’’اقلیتوں کے کمیشن میں قادیانی کی شمولیت کے فیصلہ میں بظاہر کوئی حرج نہیں کیونکہ ریاست کی طرف سے آئین کے تتبع میں ایک بار پھر انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، لیکن عملاً اس سے کئی قباحتیں جنم لیں گی، کیونکہ قادیانیوں نے کبھی بھی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا ۔ ان کے اور اہل اسلام کے مابین بہت سی باتیں مشترک ہیں، مثلاً وہ عبادت کی جگہ کو مسجد ہی کہتے ہیں ، نماز ، اذان اور قرآن حکیم کی تلاوت وغیرہ سبھی کچھ اہل اسلام سے مشابہ ہے ۔ اگر چہ ان پر شعائر اسلام کو اپنانے کے حوالے سے قانونی قدغن موجود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ڈھکے چھپے انداز میں یہ سب کچھ کرتے رہتے ہیں ۔ اگر کوئی قانون کی گرفت میں آ جائے تو وہ مغربی ممالک کا چہیتا بن جاتا ہے اور جلد ( ضمانت پر ) یا مقررہ سزا کاٹنے کے بعد اسے قادیانی کمیونٹی ہیرو سمجھتی ہے۔
ہماری روایتی مذہبی سوچ انہیں زندیق سمجھتی ہے کیونکہ وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود خود کو مسلمان سمجھتے ، کہتے اور کہلواتے ہیں بلکہ اہل اسلام اور غیر مسلموں کو اپنے مسلمان ہونے کا فریب دیتے ہیں ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر از روئے شرع ان کا یہ عمل زندیقیت ہے تو اس کی سزا صرف تین سال قید اور جرمانہ کیوں ہے ؟
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے جب تعزیرات پاکستان کی دفعات 298 اے اور بی کی خلاف ورزی کریں گے تو کیا ان کے خلاف موثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی اور کیا اس قانونی کارروائی پر وہ اقلیتوں پر مظالم کی دہائیاں نہیں دیں گے ؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ اقلیتوں کا کمیشن دوسرے اقلیتی مذاہب کی طرح انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ سے کیسے روک سکے گا ؟ اگر ان کے سالانہ جلسے ہوں گے اور وہ اپنے مذہب کے بانی کی یاد منائیں گے تو اہل اسلام اسے کیسے قبول کر پائیں گے ؟
الحاصل قادیانیوں کا معاملہ دیگر اقلیتوں سے یکسر مختلف ہے اور عملی نتائج کے اعتبار سے ان کی اقلیتوں کے کمیشن میں شرکت سے کبھی بھی بہتر نتائج برآمد نہیں ہو سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اول میں جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیا تھا ۔ اس فیصلے سے یہ بات تو مکرر ثابت ہو گئی کہ ریاست انہیں غیر مسلم اقلیت ہی سمجھتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ریاست ان کے اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے مابین خط امتیاز کیسے کھینچ پائے گی اور ان کے مذہبی حقوق کی پاسداری کیسے کر سکے گی جس سے اسلامیان پاکستان بھی مطمئن ہوں اور قادیانی بھی اپنی حدود سے تجاوز نہ کر پائیں ۔“
ہماری رائے میں علامہ صاحب نے مسئلے کی اصل الجھن کو درست طور پر واضح کیا ہے۔ البتہ ہماری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ ریاست نے ازخود نہیں، بلکہ علماء کے مطالبے پر اور ان کی تحریک کے نتیجے میں کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ فیصلے کے ان مضمرات پر کیا علماء نے خود بھی غور کیا تھا یا نہیں؟ اور ان کے پاس اس الجھن کا کیا حل ہے؟ بظاہر صورت حال یہ معلوم ہوتی ہے کہ آئینی فیصلے کو نہ احمدیوں نے تسلیم کیا ہے اور نہ آئینی مفہوم میں خود علماء نے، کیونکہ اس فیصلے کے بعد آئینی طور پر احمدیوں کو جو حقوق ملنے چاہییں، علماء وہ انھیں نہیں دینا چاہتے۔ اس کے لیے آئین کو تسلیم نہ کرنے اور غداری کے جس نکتے کو علماء بنیاد بناتے ہیں، وہ آئینی وقانونی طور پر بنیاد نہیں بنتا، کیونکہ قانون کی عملا پابندی ضروری ہوتی ہے، اس کو درست تسلیم کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ آئین کی بعض شقوں اور بہت سے قوانین کو علماء بھی درست تسلیم نہیں کرتے، لیکن اس عدم تسلیم کو آئین شکنی یا غداری نہیں کہا جاتا۔ پس گیند دراصل ریاست کی کورٹ میں نہیں، بلکہ علماء کی کورٹ میں ہے۔ ریاست کی تو آئینی ذمہ داری بھی ہے اور بین الاقوامی قوانین کا بھی اس سے تقاضا ہے کہ وہ آئین کے مطابق احمدیوں کو اقلیتوں کے حقوق دلوائے۔ ہاں، تکفیر کے فیصلے کو کالعدم کرنے کا مطالبہ، ظاہر ہے، نہیں مانا جا سکتا اور نہ ریاست کم سے کم اس وقت اسے مان رہی ہے۔
علماء کو اس مشکل سوال پر سنجیدہ غور کرنا ہوگا کہ آیا احمدیوں کی شرعی حیثیت کی تعیین کے سوال پر ازسرنو غور ہونا چاہیے یا آئینی فیصلے کو اس کی روح کے مطابق مان کر آگے بڑھنا چاہیے؟ ریاست کو اب زیادہ دیر تک چکی کے دو پاٹوں کے درمیان نہیں رکھا جا سکتا۔ اسے اپنا کام کرنا ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۵)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
سورة الاحزاب کے کچھ مقامات
(۱۹۷) صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ عام طور لوگوں نے ”عہد کو سچا کردکھایا ہے“ کیا ہے، اور اس کے بعد قَضَی نَحبَہُ کا ترجمہ بھی ”عہد یا نذر کو پورا کردیا“ کیا ہے۔ اس سے عبارت میں اشکال پیدا ہوجاتا ہے، کہ ایک ہی بات کو دو بار کیوں کہا گیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ کرتے ہیں ”جنھوں نے سچا عہد کیا“ اس طرح مفہوم یہ بنتا ہے کہ اہل ایمان نے جب عہد کیا تو سچے دل سے عہد کیا، اور پھر کچھ نے موقع آنے پر عہد پورا کردکھایا اور کچھ موقع کے منتظر ہیں، اور ان کے عہد کی سچی کیفیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجموں پر غور کریں:
مِنَ المُمِنِینَ رِجَال صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیہِ فَمِنہُم مَن قَضَی نَحبَہُ وَمِنہُم مَن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبدِیلاً۔ (الاحزاب: 23)
”ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی“۔ (سید مودودی)
”مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کردکھایا۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے ہیں اور بعض منتظر ہیں۔ اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے سچا عہد کیا۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے ہیں اور بعض منتظر ہیں۔ اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(۱۹۸) وَارضًا لَم تَطَئُوہَا کا ترجمہ
وَاورَثَکُم ارضَہُم وَدِیَارَہُم وَاموَالَہُم وَارضًا لَم تَطَئُوہَا۔ (الاحزاب: 27)
درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:
”اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا“۔ (سید مودودی)
”اور اُن کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنا دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے“۔ (احمد رضا خان)
”اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
پہلے دونوں ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت جو علاقے مل گئے تھے ان کا ذکر ہورہا ہے، لیکن پھر لَم تَطَئُوہَا کی معنویت سامنے نہیں آپاتی ہے۔ کیوں کہ اس وقت تک تو اسلامی ریاست کے حدود مدینہ اور اس کے نواح تک ہی تھے۔
جب کہ بعد کے دونوں ترجموں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دور دراز علاقوں کو دینے کی بشارت ہے جن تک ابھی اہل اسلام کے قدم بھی نہیں پہنچے ہیں۔ اس مفہوم میں بڑی وسعت ہے اور اس سے لَم تَطَئُوہَا کی معنویت بڑی خوبی کے ساتھ کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
(۱۹۹) المُحسِنَات کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں المُحسِنَات کا ترجمہ عام طور سے ”نیکو کار“ کیا گیا ہے، لیکن صاحب تدبر نے ”خوبی سے نباہ کرنے والیوں“ کیا ہے، یہ ترجمہ المُحسِنَات کے مفہوم کو بہت محدود کردیتا ہے، اور سیاق کلام سے مطابقت بھی نہیں رکھتا ہے۔ سیاق تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو دنیا کی زندگی اور اس کی آرائشوں پر ترجیح دینے کا ہے، اس میں خوبی سے نباہ کی بات ہی نہیں بلکہ پوری زندگی کی بات ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی المُحسِنَات کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں: ”بہترین عمل کرنے والیوں“۔
درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:
وَاِن کُنتُنَّ تُرِدنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَاِنَّ اللَّہَ اَعَدَّ لِلمُحسِنَاتِ مِنکُنَّ اَجرًا عَظِیمًا۔ (الاحزاب: 29)
”اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو، تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم میں سے خوبی سے نباہ کرنے والیوں کے لیے ایک اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے“۔ (سید مودودی)
”اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لیے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۲٠٠) فَمَا لَکُم عَلَیہِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدُّونَہَا کا ترجمہ
درج ذیل آیت کے مذکور حصے کے ترجمے ملاحظہ کریں:
فَمَا لَکُم عَلَیہِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدُّونَہَا۔ (الاحزاب: 49)
”تو ان کے بارے میں تم پر کوئی عدت واجب نہیں ہے، جس کا تمھیں لحاظ کرنا ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)
”تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو“۔ (سید مودودی)
”تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)
”تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ (محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
”تمہارے لیے ان پر کوئی عدت واجب نہیں ہے جسے تم شمار کرو“۔
بعض ترجموں سے لگتا ہے کہ عدت مرد پر واجب ہوتی ہے، بعض سے لگتا ہے کہ عدت مرد کا کوئی حق یا اختیار ہے، بعض سے لگتا ہے کہ عورت پر عدت مرد کی طرف سے واجب ہوتی ہے۔
حقیقت میں عدت گزارنا عورت پر واجب ہوتا ہے، اور اس کا مقصد مرد سے وابستہ ہوتا ہے، کہ طلاق دینے والا عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے، اور نکاح کرنے والا عدت کے بعد ہی کسی مطلقہ خاتون سے نکاح کرسکتا ہے۔ یہ آیت اسی سلسلے میں رہنمائی دیتی ہے۔
(۲٠۱) مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ کا ترجمہ متعدد مترجمین نے لونڈیوں یا کنیزوں کیا ہے، یہاں آیت کے الفاظ عام ہیں، اور سیاق پردے کا ہے۔ یوں تو اہل تفسیر اور اہل فقہ میں اس پر اختلاف ہے کہ یہاں صرف عورت مملوک یعنی کنیزیں اور لونڈیاں مراد ہیں یا عام مملوک مراد ہیں جن میں مرد عورتیں دونوں شامل ہیں۔ لیکن اگر ہم اسی مضمون کی آیت جو سورة نور میں آئی ہے اس کے ترجموں کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ تفسیری اختلاف کا نہیں بلکہ ترجمے میں تساہل ہوجانے کا بھی ہے، کیوں کہ بعض مترجمین نے اس مقام پر تو ترجمہ کنیزوں اور لونڈیوں کا کیا، مگر سورہ نور والی آیت کے ترجمہ میں کنیزوں اور غلاموں دونوں کو شامل کرلیا۔ دونوں مقامات کے درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
لَا جُنَاحَ عَلَیہِنَّ فِی آبَائِہِنَّ وَلَا اَبنَائِہِنَّ وَلَا اِخوَانِہِنَّ وَلَا اَبنَاء اِخوَانِہِنَّ وَلَا اَبنَاء اَخَوَاتِہِنَّ وَلَا نِسَائِہِنَّ وَلَا مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ۔ (الاحزاب: 55)
”ان پر مضائقہ نہیں ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں میں اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے“۔ (احمد رضا خان)
”اور نہ لونڈیوں سے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور ان کی مملوکہ کنیزیں“۔ (محمد حسین نجفی)
”اور اپنی کنیزوں کے سامنے آئیں“۔ (جوادی)
”اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں“۔ (سید مودودی)
وَقُل لِلمُومِنَاتِ یَغضُضنَ مِن اَبصَارِہِنَّ وَیَحفَظنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبدِینَ زِینَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنہَا وَلیَضرِبنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ وَلَا یُبدِینَ زِینَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُولَتِہِنَّ اَو آبَائِہِنَّ اَو آبَاء بُعُولَتِہِنَّ اَو اَبنَائِہِنَّ اَو ابنَاء بُعُولَتِہِنَّ او اِخوَانِہِنَّ اَو بَنِی اِخوَانِہِنَّ اَو بَنِی اَخَوَاتِہِنَّ اَو نِسَائِہِنَّ اَو مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ۔ (النور: 31)
”اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں“۔ (احمد رضا خان)
” یا غلاموں کے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”یا اپنے غلاموں یا لونڈیوں کے“۔ (محمد حسین نجفی)
”اور اپنے غلام اور کنیزوں“۔ (جوادی)
”یا اپنے مملوکوں کے سامنے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”ا پنے مملوک“۔ (سید مودودی)
(۲۰۲) لَقَد کَانَ لَکُم کا ترجمہ
قد کان عام طور سے تو ماضی کے لیے آتا ہے، اور اس کی قرآن مجید میں مثالیں بھی موجود ہیں جیسے:
قَد کَانَت آیَاتِی تُتلَی عَلَیکُم فَکُنتُم عَلَی اَعقَابِکُم تَنکِصُونَ۔ (المومنون: 66)
”میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھر جاتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
البتہ کبھی یہ ماضی کے لیے خاص نہ ہوکر عام ہوکر آتا ہے، ایسے ہی بعض مقامات کے سلسلے میں مترجمین کا موقف متعین نہیں ہوسکا، ایک ہی اسلوب کا وہ ایک جگہ ماضی سے ترجمہ کرتے ہیں اور دوسری جگہ حال کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ذیل کی مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے:
لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللَّہِ اُسوَۃ حَسَنَۃ لِمَن کَانَ یَرجُو اللَّہَ وَالیَومَ الآخِرَ۔ (الاحزاب: 21)
”در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو“۔ (سید مودودی)
”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو“۔ (احمد رضا خان)
قَد کَانَت لَکُم اسوَۃ حَسَنَۃ فِی اِبرَاہِیمَ وَالَّذِینَ مَعَہُ۔ (الممتحنۃ: 4)
”تم لوگوں کے لیے ابراہیم ؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے“۔ (سید مودودی)
”بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں“۔ (احمد رضا خان)
لَقَد کَانَ لَکُم فِیہِم اُسوَۃ حَسَنَۃ لِمَن کَانَ یَرجُو اللَّہَ وَالیَومَ الآخِرَ۔ (الممتحنۃ: 6)
”اِنہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو“۔(سید مودودی)
”بیشک تمہارے لیے ان میں اچھی پیروی تھی اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو“۔ (احمد رضا خان)
مذکورہ بالا تینوں آیتوں کا اسلوب ایک سا ہے، لیکن ترجموں کا معاملہ مختلف ہوگیا ہے، زیادہ مناسب یہی ہے کہ ان تینوں مقامات پر ماضی کے بجائے حال کا ترجمہ کیا جائے تاکہ اسوے کا عموم سب کے لیے باقی رہے۔ اور وہ ماضی کی کوئی خبر بن کر نہ رہ جائے۔ اسی طرح درج ذیل مقام پر بھی عام طور سے لوگوں نے ماضی کا ترجمہ کیا ہے، اس کا بھی حال والا ترجمہ زیادہ مناسب ہے، نشانی صرف ان کے لیے نہیں تھی جو اس وقت موجود تھے، بلکہ ان سب کے لیے نشانی ہے جن تک اس واقعہ کی خبر پہنچے۔
قَد کَانَ لَکُم آیَۃ فِی فِئَتَینِ التَقَتَا فِئَۃ تُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَاخرَی کَافِرَۃ یَرَونَہُم مِثلَیہِم رَایَ العَینِ وَاللَّہُ یُویِّدُ بِنَصرِہِ مَن یَشَاءُ انَّ فِی ذَلِکَ لَعِبرَۃً لِاولِی الابصَارِ۔ (آل عمران: 13)
”تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے“۔ (سید مودودی)
”بیشک تمہارے لیے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے“۔ (احمد رضا خان)
”تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”یقینا تمہارے لیے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”جن دو گروہوں میں مڈ بھیڑ ہوئی، ان کی سرگزشت میں تمہارے لیے نشانی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
(جاری)
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی
پچھلی قسط میں انواعِ حدیث کے عنوان کے تحت مقبول حدیث اور اس کی اقسام سے متعلق سنی و شیعہ مواقف کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا تھا ،اس قسط میں اسی موضوع کے دوسرے جزو یعنی مردود حدیث کی اقسام کے بارے میں سنی مصطلح الحدیث و شیعہ علم الدرایہ کا تقابلی جائزہ نکات کی شکل میں لیا جائے گا :
(1) اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی جملہ اقسام میں ایک منطقی ترتیب ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ علمائے اہل سنت ضعیف حدیث کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں :
پہلی قسم وہ ضعیف حدیث ،جس کا سبب سقط فی السندیعنی سند میں کسی راوی کا سقوط ہو ،پھر سقوط کو بھی دو قسموں میں منقسم کیا جاتا ہے:
اگر سقط ظاہر ہو تو اس سے ضعیف حدیث کی درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں:
معلق ،معضل ،مرسل ،منقطع
اور اگر سقط خفی ہو تو اس سے درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں :
مدلس اور مرسل خفی
دوسری قسم وہ ضعیف حدیث ،جس کا سبب طعن فی الراوی ہو ،یعنی راوی کی عدالت و ضبط میں کوئی مسئلہ ہو :
اگر عدالت میں مسئلہ ہو تو اس سے درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں :
موضوع،متروک ،منکر ،مجہول(حدیث مستور ،حدیث مبھم)
اگر ضبط میں مسئلہ ہو تو اس سے درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں:
مقلوب،مدرج،مضطرب،مصحف ،محرف ،شاذ،معلل(یہ وہم راوی سے پیدا ہوتا ہے ،جو ضبط سے متعلق ہے)منکر(یہ کبھی عدالت اور کبھی ضبط سے پیدا ہوتا ہے ،اس لئے دونوں جگہ اس کا ذکر ہے )1
علمائے اہل تشیع نے (اہل سنت کی متابعت میں )بھی کم و بیش یہی اقسام ذکر کئے ہیں ،لیکن علمائے شیعہ نے ان اقسام کو ذکر کرنے وقت چند باتیں نظر انداز کی ہیں ،جن کا ذکر کیا جاتا ہے:
- اہل تشیع محدثین نے ان اقسام کو بعینہ اہل سنت سے لے کر پہلی بات یہ نظر انداز کی ہے کہ اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی یہ اقسام اصلا صحیح حدیث کی شرائط ِخمسہ کے مفقود ہونے پر مبنی ہیں ،جب اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں صحیح حدیث کی تعریف ،اقسام و شرائط ہی مختلف ہیں ،جیسا کہ ما قبل میں مقبول حدیث کی اقسام کے تحت اس کا ذکر ہوچکا ہے ،تو پھر صحیح حدیث کی شرائط کے عدم وجود پر مبنی ضعیف حدیث کی اقسام ایک جیسی کیونکر ہو سکتی ہیں؟(اس کی کچھ تفصیل متصل نکات میں آرہی ہیں)
- ضعیف حدیث کی آٹھ اقسام (مقلوب،مدرج،مضطرب،مصحف ،محرف ،شاذ،معلل اور منکر)راوی کے ضبط کے نقص پر مبنی ہیں ،اہل تشیع محدثین کے ہاں جب راوی کے ضبط اور اس کے مختلف درجات معلوم کرنے کے لئے کتب جرح وتعدیل میں الفاظ ہی موجود نہیں ہیں ،جیسا کہ ماقبل میں علامہ مامقانی و علامہ بہائی کا حوالہ گزر چکا ہے ،تو اہل تشیع محدثین کس بنیاد پر اپنے ذخیرہ حدیث میں ان آٹھ اقسام کو معلوم کریں گے؟مثلا اہل تشیع محدثین کسی حدیث میں اضطراب ،ادراج یا قلب کس بنیاد پر معلوم کریں گے؟اہل سنت محدثین تو یوں معلوم کرتے ہیں کہ جن دو یا دو سے زیادہ احادیث میں ادراج ،قلب یا تحریف و تصحیف معلوم کرنی ہوتی ہے ،تو ان احادیث کے رواۃ کا ضبط کے اعتبار سے جائزہ لیتے ہیں اور کثیر الوہم و سوء الحفظ رواۃ کی روایات کو قلب ،ادراج یا تحریف و تصحیف پر محمول کر لیتے ہیں۔اہل تشیع محدثین نے ضعیف حدیث کی اقسام جوں کے توں اہل سنت سے لیکر اس جیسے اساسی مفاہیم نظر انداز کر دیے ہیں ۔
- اہلسنت سے ضعیف حدیث کی اقسام جوں کا توں نقل کرنے کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ اہل تشیع مصنفین نے حدیث ِشاذ اور حدیث معلل کو بھی ضعیف حدیث کی اقسام میں ذکر کیا ہے ،حالانکہ شہید ثانی کے بقول حدیث کی صحت کے لئے اس کا شذوز و علت سے خالی ہونا شرط نہیں ،کما مر ،بعض معاصر مصنفین جیسے جعفر سبحانی وغیرہ نے شہید ثانی سے اختلاف کرتے ہوئے شذوذ و علت سے خالی ہونے کی شرط لگائی ہے ،ان کا ضعیف حدیث کی اقسام میں مذکورہ دونوں اقسام کا ذکر درست ہے ،لیکن تعجب شہید ثانی پر ہے کہ ایک طرف صحتِ حدیث کے لئے شذوذ و علت سے خالی ہونے کو ضروری نہیں سمجھتے ،دوسری طرف ضعیف حدیث کی اقسام میں شاذ و معلل کو ذکر بھی کرتے ہیں ۔2
- اہل تشیع کے ہاں حدیث کی صحت کے لئے امامی ہونا شرط ہے ،اگر غیر امامی کی توثیق شیعہ علماکے نزدیک ثابت ہوچکی ہو تو اس کی حدیث حسن کہلاتی ہے ،لیکن اگر غیر امامی غیر موثق راوی کی حدیث ہو تو وہ حدیث کی کونسی قسم بنتی ہے؟شیعہ محدثین کے ہاں ضعیف حدیث کی اقسام میں یہ قسم نہیں ملتی ،اہل سنت کے ہاں یہ قسم متصور نہیں ہے اور شیعہ اہل علم نے چونکہ ضعیف حدیث کی ساری اقسام اہل سنت محدثین سے بعینہ نقل کی ہیں ،اس لئے شیعہ علما کے ہاں بھی یہ قسم معدوم ہے ،حالانکہ اصولی طور پر مقبول حدیث کی ایک اہم شرط "امامی " کے مفقود ہونے کی بنا پر ضعیف حدیث کی جو قسم بنتی ہے ،اس کا ذکر ضعیف حدیث کی اقسام میں ہونا چاہیے ۔
- اہل سنت کے ہاں حدیث میں تدلیس اور ارسال خفی معلوم کرنے کے بارہ کے قریب طریقے ہیں 3،اہل سنت محدثین نے ان طرق کی مدد سے مدلس رواۃ کی فہرستیں مرتب کی ہیں 4، اور ان فہارس کی مدد سے مدلس روایات کا تعین کیا ہے ،یوں اہل سنت نے تدلیس کی بحث ایک بھر پور تطبیقی عمل سے گزر کر احادیث میں مدلس روایات اور رواۃ میں مدلس رواۃ کا تعین کردیا ہے ،اہل تشیع نے بھی اہل سنت کی متابعت میں حدیث ضعیف کی اقسام میں مدلس و مرسل خفی کو ذکر تو کردیا ،لیکن اہل تشیع نے اپنے ذخیرہ روایات سے مدلس احادیث و تدلیس کرنے والے رواۃ کے تعین پر کوئی کام نہیں کیا ہے ،نیز اہل تشیع کے علم رجال و علم جرح و تعدیل کے اعتبار سے اس کا تعین کافی حد تک مشکل بلکہ ناممکن ہے ،اس کی تفصیل ہم ان شا اللہ اہل سنت اور اہل تشیع کے علم رجال و علم جرح و تعدیل کے تقابلی مطالعے میں پیش کریں گے ۔ اس لئے اہل تشیع کے ہاں تدلیس و ارسال خفی کی بحث صرف نظریے کی حد تک موجود ہے ۔
- اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی ایک اہم ترین قسم حدیث ِمعلول یا حدیث معلل ہے ،(بعض حضرات اسے معل سے بھی تعبیر کرتے ہیں)جہابذہ فن نے اس حدیث کی نظریاتی تشریح اور اس کی عملی تطبیق پر بھر پور کام کیا ہے ، بطورِ نمونہ چند ان کا ذکر کرنا چاہوں گا ،جو حدیثِ معلول کی کسی نہ کسی جہت سے متعلق ہیں :
- التاریخ و العلل ،ابو زکریا البغدادی
- الجامع فی العلل و معرفۃ الرجال،امام احمد بن حنبل بروایۃ ابنیہ و تلامیذہ
- العلل الکبیر ،امام ترمذی
- العلل ،ابن ابی حاتم الرازی
- العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویہ ،امام دار قطنی
- العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیہ ،ابو الفرج الجوزی
- الالزامات و التتبع ،امام دار قطنی
- تقیید المہمل و تمییز المشکل ،ابو علی الغسانی
- العلل ،علی بن مدینی
- محقق علی بن عبد اللہ الصیاح نے اپنے رسالے "جہود المحدثین فی بیان علل الاحادیث " میں نویں صدی ہجری تک حدیث معلول سے متعلق 149 بڑے محدثین کی تصنیفات کا ذکر کیا ہے ،اگر بقیہ پانچ صدیوں کی کتب کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو سو تک با آسانی پہنچ سکتی ہے ،ان کاوشوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہل سنت محدثین نے اس فن پر کس قدر توجہ دی ،یوں بظاہر بہت ساری صحیح احادیث میں اس فن کی مددسے متعدد علل خفیہ کا تعین کیا ہے ،جبکہ اس کے برخلاف اہل تشیع علم الدرایہ کے اولین مصنفین جیسے شہید ثانی کے ہاں تو علت سے خالی ہونا صحتِ حدیث کے شرط ہی نہیں ہے ، کما مر ،جبکہ بعض معاصر مصنفین نے اہل سنت کی متابعت میں حدیث ِمعلول کو ضعیف حدیث کی اقسام میں ذکر تو کردیا ،لیکن اس کی عملی تطبیق اور اس کی دوسری جہات پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں ہوا ہے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل تشیع کے ہاں اپنے ذخیرہ حدیث میں سے ضعیف حدیث کے تعین و تطبیق کا مسئلہ کتنا "سنجیدہ " ہے؟
- موضوع حدیث سے متعلق ہم اس سلسلے کی ایک قسط میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ خود اہل تشیع کے بقول چودہویں صدی تک موضوع احادیث پر شیعہ حلقوں میں کوئی کام نہیں ہوا ہے ،یوں ضعیف حدیث کی اقسام میں سے موضوع حدیث کا بیان بھی شیعہ علم الدرایہ میں نظریے کی حد تک موجود ہے ،لیکن اس کی عملی تطبیق پر کام نہ ہونے کے برابر ہے ،بلکہ ہوا ہی نہیں ،جیسا ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔
- حدیث میں سقط ظاہری یعنی ارسال و انقطاع کا علم بنیادی طور پر علم رجال میں طبقاتِ رواۃ اور رواۃ کے وفیات پر لکھی گئی کتب سے ہوتا ہے ،کہ کونسا راوی کس طبقے میں آتا ہے ؟ کن کن شیوخ سے سماع و لقا ثابت ہے ؟اور کس راوی کا سن وفات کیا ہے ؟یوں اس کی مدد سے احادیث میں انقطاع سند کا پتا لگایا جاتا ہے ،اہل تشیع کے علم رجال کو اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے ،تو اس حوالے سے بھی مایوسی ملتی ہے ،کیونکہ ان کے ہاں طبقاتِ رواۃ اور وفیات پر کام نہایت کم ہوا ہے ،محقق حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:
"إنّ الحديث عن عدم ذكر الإماميّۃ لتواريخ الرواۃ من حيث الوفاۃ، يمكن القول بأنّہ صحيح في الجملۃ،"5
یعنی یہ بات کہ امامیہ نے رواۃ کے تواریخ وفات کا ذکر نہیں کیا ہے ،فی الجملہ درست قرار دی جاسکتی ہے ۔حیدر حب اللہ نے اس قضیے کو اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کی ہے ،ہم اس پر تبصرہ بحث رجال و جرح و تعدیل پر ان شا اللہ کریں گے ۔اسی طرح طبقات کے تعین پر بھی اہل تشیع کے ہاں جو کام ہوا ہے ،وہ اس لحاظ سے ناکافی ہے ،اس پر ہم اگلی بحث میں روشنی ڈالیں گے ،لھذا اہل تشیع کے ذخیرہ حدیث میں ارسال و انقطاع کا تعین بھی نہایت مشکل کام ہے ،یوں ضعیف حدیث کی سقطِ سند والی اقسام بھی ایک حد تک نظری ہیں ،ان کی اہل تشیع کے پورے ذخیرہ حدیث پر تطبیق کافی مشکل ہے۔ - یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ضعیف حدیث کی بنیادی اقسام (منقطع ،مدلس ،معلول ،موضوع وغیرہ ) پر اہل تشیع کے ہاں تطبیقی کام نہ ہونے کے برابر ہے اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے میں ان تعریفات کی روشنی میں ان اقسام کا تعین نہیں ہوا ،یا بہت کم ہوا ہے ،تو پھر علم الدرایہ میں ضعیف حدیث اور اس کی اقسام محض نظریے کی حد تک ذکر کرنے میں کیا فائدہ ہے؟یوں بات وہی ہے ،جو ہم اس بحث کے شروع میں ذکر کر چکے ہیں کہ چونکہ علم الدرایہ شیعہ حدیث کی تدوین کے تین صدیوں بعد منظر عام پر آیا ،یوں تدوینِ حدیث کا پیریڈ پورا ہونے کی وجہ سے علم الدرایہ تطبیق کے عمل سے نہیں گزرا اور محض نظری ہو کر رہ گیا،جیسا کہ مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے ۔
(2) اہل سنت کی علم مصطلح الحدیث کی کتب میں ضعیف حدیث کی بحث میں اوھی الاسانید کا ذکر ہوتا ہے ، یعنی سلاسل ِرواۃ میں سے کون سے کون سے رواۃ کا سلسلہ ضعیف ہے ،اس بحث سے معروف ائمہ حدیث ،بلدان اور حفاظ ِحدیث کے ضعیف طرق و اسناد سے واقفیت ہوجاتی ہے ، چنانچہ محقق عبد الماجد غوری نے المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث میں جو اوھی الاسانید ذکر کیے ہیں ،بطورِ نمونہ چند ملاحظہ فرمائیں :
- اہل بیت سے مروی روایات میں اوھی الاسانید یہ ہے:
عمرو بن شمر عن جابر الجعفی ،عن الحارث الاعور،عن علی رضی اللہ عنہ - حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کی روایات میں اوھی الاسانید یہ ہے:
صدقہ بن موسی الدقیقی ،عن فرقد السبخی ،عن مرۃ الطیب ،عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ - حضرت عمر و حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں ضعیف ترین سند یہ ہے:
محمد بن القاسم بن عبد اللہ بن معر بن حفص بن عاصم بن عمر ،عن ابیہ ،عن جدہ - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات میں اوھی الاسانید یہ ہے:
السری بن اسماعیل ،عن داود بن یزید الاودی ،عن ابیہ ،عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایات کی ضعیف ترین سند یہ ہے:
نسخۃ عند البصریین ،عن لحارث بن شبل ،عن ام الکندیہ ،عن عائشۃ رضی اللہ عنھا - حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات میں اوھی الاسانید یوں ہے:
شریک عن ابی فزارہ عن ابی زید عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ - حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایات کی اوھی الاسانید یہ ہے:
داود بن المحبر بن قحذم ،عن ابیہ ،عن ابان بن ابی عیاش عن انس رضی اللہ عنہ - مکی رویات و رواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
عبد اللہ بن میمون القداح ،عن شہاب بن خرا ،عن ابراہیم بن یزید الخوزی ،عن عکرمۃ ،عن ابن عباس رضی اللہ عنھما - یمنی روایات و راۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
حفص بن عمر العدنی ،عن الحکم بن ابان ،عن عکرمۃ ،عن ابن عباس رضی اللہ عنھما - مصری روایات و رواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
احمد بن محمد الحجاج بن رشدین بن سعد ،عن ابیہ ،عن جدہ ،عن قرۃ بن عبد الرحمان بن حیوئیل - شامی روایات ورواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
محمد بن قیس المصلوب ،عن عبید الہ بن زحر ،عن علی بن یزید ،عن القاسم ،عن ابی امامۃ رضی اللہ عنہ - خراسانی روایات و رواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
عبد اللہ بن عبد الرحمان بن ملیحۃ ،عن نہشل بن سعید،عن الصحابی ، عن ابن عباس رضی اللہ6
اس فہرست سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل سنت محدثین نے ضعیف رواۃ و روایات کی تعیین میں کس قدر باریکی سے کام کیا ہے ،کیونکہ اوھی الاسانید فی فلاں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ویسے تو ممکن ہے کہ یہ رواۃ اپنی جگہ ثقہ و معتمد ہوں ،لیکن خاص اس سلسلے میں فلاں فلاں وجہ سے ان رواۃ کی روایات قابلِ اعتماد نہیں ہونگی ،یوں حدیث کے ضعف میں محض رواۃ کی انفرادی ثقاہت و ضعف کی بجائے اجتماعی سلسلہ سند کو بھی اہل سنت محدثین نے پیش ِ نظر رکھا ہے ،لیکن اس قسم کی تفصیل اور یوں مفصل اوھی الاسانید کی فہارس اور ان کی رواۃ کا ذکر شیعہ علم الدرایہ میں مفقود ہے ۔
(3) اہلسنت محدثین نے ضعیف حدیث کی صحیح حدیث سے تمییز کے سلسلے میں مزید کام یہ بھی کئے ہیں :
- اشہر المولفات فی حدیث الضعیف یعنی ان جملہ کتب کی تعیین کی ہے ،جو احادیث ِ ضعیفہ پر مشتمل ہیں ،جیسے حکیم ترمذی کی نواد الاصول ،مسند شہاب ،مسند فردوس وغیرہ
- الکتب الخاصہ بانواع الحدیث الضعیف ،یعنی وہ کتب جن میں ضعیف حدیث کی خاص خاص اقسام کو جمع کیا گیا ہے ،جیسے ابو داود کی المراسیل ، الرازی کی العلل ،یا البانی کی سلسلہ الاحادیث الضعیفہ و الموضوعہ وغیرہ
- الکتب المولفۃ فی تراجم الرواۃ الضعفاء یعنی وہ کتب رجال جن میں خاص طور پر غیر ثقہ رواۃ کے حالات درج ہوں ،جیسے عقلیلی کی الضعفاء الکبیر ،ابن حبان کی معرفۃ المجروحین ، ابن عدی کی الکامل فی ضعفا ء الرجال ، عسقلانی کی لسان المیزان وغیرہ
جبکہ شیعہ محدثین کے ہاں اس قسم کی سرگرمیاں نایاب یا نہایت کمیاب ہیں ۔
حواشی
- دیکھیے:الحدیث الضعیف و حکم الاحتجاج بہ ،عبد الکریم بن عبد اللہ الخضیر،دار المسلم للنشر و التوزیع ،ریاض
- دیکھیے:البدایہ فی علم الدرایہ ،زین الدین عاملی ،قم مقدسہ ،ص30،36
- المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ،ص765
- ایضا:ص 395
- المدخل الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص515
- المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ، 692-693
(جاری)
دعوت ِ دین میں درپیش چیلنجز اور علماءکی ذمہ داریاں
ڈاکٹر محمد اکرم ورک
اصلاح ِ احوال کے ذمہ دار طبقات میں جن دو طبقات کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے ان میں علماءکرام اور حکمران طبقہ خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں ۔مجموعی انسانی رویوں کی تشکیل میں ان دو طبقات کا کردارسب سے اہم ہے۔ اگر کسی معاشرے کا دانشور طبقہ(Intellectuals) بد دیانت ہوجائے تو پھر اس معاشرے کی اصلاح کی امیدیں دم توڑ نے لگتی ہیں ۔اس پس منظر میں دانشور طبقے کی اہمیت اور ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ سماجی اور معاشرتی سطح پر اصلاح ِ احوال کے لئے اپنے دور کی تفہیم اور در پیش تحدّیات کا ادراک اہل ِ علم کے لئے ضروری ہے ۔ اس وقت ہمارے پیش ِ نظر ان تحدّیات کا جائزہ پیش کرنا ہے جو داعیان ِ اسلام کو دعوت ِ دین میں در پیش ہیں۔اس سلسلے میں ہماری معروضات حسب ِ ذیل ہے:
دعوت ِ دین میں درپیش خارجی چیلنجز
۱۔ اسلام کی عالمگیر یت :
اسلام نے اپنی دعوت کا آغاز ایک عالم گیر دین کی حیثیت سے کیا ہے، اس دین کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں خود اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف”رب العالمین“ اپنے رسول کا ”رحمۃ للعالمین“ جیسے اوصاف سے کروایا ہے ،اور پھراپنی آخری کتاب قرآن مجید کو ”ھدی للناس“کہہ کر اس کی عالمگیر یت اور آفاقیت کو نمایاں کیا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے ،قرآن مجید پوری انسانیت کے لئے صحیفہ ہدایت ہے، اسی طرح رسول اللہﷺ کی نبوت و رسالت بھی عالمگیر (Global) ہے ۔پیغمبر نے صلح حدیبیہ (۶ھ) کے بعد شاہان ِ عالم کے نام دعوتی خطوط روانہ فرما کر اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ اسلام کا پیغام پوری انسانیت کے لئے ہے ،لیکن بدقسمتی سے مسلمان دور ِ حاضر میں اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے رسالتِ محمدی ﷺ کی آفاقیت اور ہمہ گیریت کو اس طرح نمایاں نہیں کرسکے جس طرح کہ آپپر ایمان لانے کا حق تھا۔ شاید یہ کہنا کسی حد تک درست ہو کہ اس وقت دیگر اقوام بالخصوص مغر ب میں اسلام اور رسول اللہﷺ کی سیرت کے حوالے سے جو غلط فہمیاں پائی جارہی ہیں اس کا ایک سبب خود مسلمان اور ان کا کردار بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو محسن ِ انسانیت اور رحمةللعالمین بنا کر مبعوث کیا ، آپ کی بعثت کے نتیجے میں سسکتی ہوئی انسانیت کووہ زریں اصول عطاہوئے ،جن کو اپنا کر عرب قعر مذلت سے نکل کر اوجِ ثریا پر جا پہنچے۔اس وقت عالم ِ انسانیت جس روحانی کرب اور معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں میں مبتلاءہے اس کا واحد حل صرف اسلام کے پاس ہے۔ سیاسی اور معاشرتی سطح پر جاگیر داری نظام(Feudalism) اور سوشلزم(socialism) کے ناکام تجربات کے بعد کیپیٹلزم (Capitalism) نے انسانیت کو تباہی کے جس دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اس کے بعد اسلام ہی بنی نو ع انسان کے لئے واحد آپشن کے طور پر باقی بچتا ہے ، اب توخود مغرب کا دانشور طبقہ بھی اس حقیقت کااعتراف کر رہا ہے۔ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے اپنے ایک مضمون "Islam and the west" میں مغربی دانشوروں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک متبادل نظام کے طور پر اسلام کا مطالعہ کریں ، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ اسلام کو عالمگیر دین سمجھنے والے مسلمان دانشور عصری احوال و ظروف میں دین ِ اسلام کو متبادل بیانےے کے طورپر پیش کرنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہےں۔مسلمان اہل ِ علم کی علمی تگ و تاز کے میدان دیکھتے ہوئے تو یہی واضح ہو تا ہے کہ وہ اسلام کے عالمگیر اور پوری انسانیت کا دین ہونے کے تصور سے عملاً دستبردار ہو چکے ہیں،یہ اپروچ کسی المےے سے کم نہیں ہے ۔ دورِ حاضر میں داعیان ِ اسلام کے لئے ایک بڑا چیلنج تویہی ہے کہ وہ اسلام کی آفاقیت کے تصور کو دوبارہ سے دریافت کریں۔
۲۔ سیکو لرازم :
کہنے کی حد تک تو سیکولرازم (Secularism) سے مراد لادینیت ہے ،لیکن عملاً مغربی فکرو فلسفے کی بنیاد پر پروان چڑھنے والاسیکولرازم بذات ِ خود ایک دین اور عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔مغربی تہذیب نے گذشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقاءکا کٹھن سفر طے کیا ہے،مسلسل فکری ارتقاءاور تہذیبی تجربات کے نتیجے میں ان کے ہاں کئی تصوّرات اور نظریات اب مسلمہ عقائد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔اہل ِ مغرب اب ان نظریات پرکوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔مغرب نے سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے جو تجربات کئے ہیں اس کے نتیجے میں ان کے ہاں یہ سوچ پختہ ہو چکی ہے کہ انسانیت اپنے سماجی ارتقاءکی آخری سیڑھی پر قدم رکھ چکی ہے ۔مغرب میں "The End of History"کے عنوان سے لکھی جانے والی کتب اسی سوچ کی مظہر ہیں کہ مغربی فکر وفلسفہ کے نفاذ میں ہی انسانیت کی بقا ہے ۔مغرب کو اسلام کی ان تعلیمات سے کوئی سروکار نہیں ہے جن کا تعلق انسان کی نجی اور انفرادی زندگی سے ہے ،لیکن وہ مسلمانوں کو یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں کہ وہ نظام ِ خلافت کی بات کریں اور اجتماعی زندگی میں مذہب کے کردار کی دعوت دیں ۔
مغربی فکروفلسفہ کی بنیاد عقل پر ہے، دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے مغرب کا خدا عقل ہے ،اور صرف وہی چیز ان کے ہاں قابل ِ قبول ہے جو عقلی اصولوں پر ثابت ہو ۔ مسلمان اہل ِ علم کو اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت مغرب سیکولرازم انسانوں کا مقبول ِ عام مذہب بن چکا ہے ، جبکہ اس کے بالمقابل مذاہب ِ عالم اپنی غیر عقلی اور غیر فطری تعلیمات کی وجہ سے محض تاریخ بنتے جا رہے ہیں ۔ اس پس منظر میںعلماءکرام پر لازم ہے سیکولرازم کے بنیادی سوالات کا سامنا کریں ۔ سیکولرازم کے بنیادی سوالات (۱) انسانی حقوق(۲)دین اور سیاست کا باہمی تعلق (۳)مرتد کی سزا (۴)آزادی نسواں (۵)آزادی اظہارِ رائے (۶) جمہوریت (۷) جہاد (۸)مذہبی رواداری اور اسی نوعیت کے دیگر موضوعات سے متعلق ہیں۔مغرب کے فکری چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے علماءکرام کے لئے ضروری کہ وہ دینی احکام کے اسرارو حکم کو نئے سرے سے دریافت کریں۔دور ِ حاضر میں دینی احکام کی عقلی تعبیر دعوت ِ دین میں ”اصول ِ حکمت“ کا بنیادی تقاضا ہے ۔اس حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی شہرہ آفاق کتاب” حجة اللہ البالغہ“اور اس جیسی دیگر کتب سے استفادہ کی ضرورت ہے۔
داعیا نِ اسلام کے لئے ان اسباب اور وجوہات کا ادراک بھی لازم ہے جن کی وجہ سے مغرب میں دین سے نفرت پیدا ہوئی، مذہب کے حوالے سے اہل ِ مغرب کی نفسیات کو سمجھنے کے لئے یورپ کے دور ِ تاریک (Dark Ages) میں کلیسیا اور علم جدید میں تصادم کی تاریخ پر گہری نظر ضروری ہے ، اس دور کی درست تفہیم سے ہی ہمیں مغرب میں عیسائیت سے لوگوں کی نفرت کی وجوہات کا اندازہ ہو سکے گا اورہم جان پائیں گے کہ کس طرح عیسائیت کی غیر عقلی اور غیر فطری تعلیمات، پوپ کے خدائی اختیارات، مذہب اور سائنس کا تصادم ،پوپ کی حکمران طبقے کی ناجائز حمایت وغیرہ نے عام لوگوں کو عیسائی مذہب سے متنفر کیا۔ لازم ہے کہ علماءکرام دلائل سے واضح کریں کہ عیسائیت اور اسلام میں کیا فرق ہے ؟اور بتائیں کہ جن وجوہات کی بنا پر مغرب میں لوگ مسیحیت سے متنفر ہوئے ان کے بارے اسلام کا موقف کیا ہے ؟نیز مسیحیت میں پوپ اور علمائے اسلام کی دینی حیثیت میں فرق واضح کرنا بھی ضروری ہے۔ داعیان ِ اسلام پرلازم ہے کہ مذاہب کے تقابلی مطالعے کے ساتھ مغربی فکرو فلسفہ کا تجزیاتی مطالعہ بھی کریں اور مغربی فکرکی اصولی غلطیوں کو واضح کریں۔
۳۔ بین المذاہب ہم آہنگی :
مذہبی تکثیریت پر مبنی معاشروں میں مسلمانوں کاطرز ِ عمل کیا ہو نا چاہےے؟اس حوالے سے اسلام اپنی شاندار تاریخ رکھتا ہے ۔ اسلام اس دعوے کے ساتھ کھڑا ہے کہ دین میں کو ئی جبر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرت ِ سلیمہ پر پیدا کیا ہے اور ہدایت اور راہنمائی کے لئے اسے عقل جیسی نعمت سے سرفراز کیا ہے اور پھر مزید مہربانی یہ فرمائی کہ اسے حق کی یاد دہانی کے لئے تسلسل کے ساتھ انبیاءکرام کو مبعوث فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے خیرو شراورحق وباطل کے انتخاب میں انسان کو اختیار دیا اوریہی بنی نوع ِ انسان کی آزمائش ہے ۔اس امکان کو تسلیم کرلینے کے بعد کہ مختلف اسباب کی بنا پر تمام لوگ خدا پر ایمان لانے والے نہیں ہونگے ، اسلا م لوگوںکے اس حق کو تسلیم کرتا ہے۔یہ وہ تناظر ہے جس میں اسلام مذہبی رواداری اور آزادی اظہارِ رائے کا داعی ہے۔ اسلام بین المذاہب ہم آہنگی (Inter-Faith Dialogue) اور اقوام کے ساتھ تعمیری تعلقات کے حوالے سے واضح راہنمائی فراہم کرتا ہے ۔قرآن مجید نے دیگر قوموں کے ساتھ مکالمے کے جو بنیادی اصول بیان کئے ہیں وہ یہ ہیں : (اُدعُ اِلِی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالحِکمَۃِ وَالمَوعِظَۃِ الحَسَنَۃِ وَجَادِلہُم بِالَّتِی ھِیَ اَحسَنُ) (1) (آپ لوگوں کو اپنے پروردگارکی طرف حکمت اوراچھی نصیحت سے بلائیے اوران کے ساتھ پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجئے۔)میثاق ِ مدینہ ،معاہدہ نجران اورعہد ِ خلافت ِ راشدہ میں غیر مسلموں سے کئے گئے سیاسی معاہدات ہمارے دعویٰ کی سب سے بڑی دلیل ہیں ۔شاہان ِ عالم کے نام رسول اللہ ﷺ کے دعوتی خطوط اس حوالے سے ہمارے لئے راہنمائی کا بڑا ذریعہ ہیں ۔اسلام کے اصول ِ دعوت میں موعظہ حسنہ اور مجادلہ کے ساتھ مکالمہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ویسے بھی سماجی مقاطعہ (Social Boycott) کی نفسیات ان گروہوں میں پائی جاتی ہے جن کو اپنی دلیل کی طاقت پر اعتمادنہیں ہوتا ۔تاریخ گواہ ہے کہ قریش ِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ کا مقاطعہ کیا تھا ،اس لئے کہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کے دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا،آپ تو ان سے گفتگو کے مواقع تلاشنے میں لگے رہتے تھے۔
دیگر قوموں کے برعکس بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ ہمیشہ قابل ِ ستائش رہا ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں یہود و نصاریٰ میں سے جس گروہ کو بھی سیاسی غلبہ حاصل ہوا اس نے دوسرے فریق پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑدےے، لیکن مسلمانوں کے سیاسی اور تہذیبی غلبے کے دور میں دونوں گروہوں نے اسلام کے زیر سایہ ہی امن و سلامتی کے ساتھ رہنا سیکھا ۔ برّصغیر کے مسلمان تو اس حوالے سے اوربھی منفرد تاریخ رکھتے ہیں ،یہ حقیقت کچھ کم تعجب انگیز نہیں ہے کہ تقریباً بیس(۲٠) فیصد لوگ محض اپنی رواداری اور برداشت کے رویے کی وجہ سے اسی (۸٠)فیصد لوگوں پر صدیوں تک حکومت کرتے رہے ۔رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے : ﴿قُل یَا اَہلَ الکِتَابِ تَعَالَوا الَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَینَنَا وَبَینَکُم اَلاَّ نَعبُدَ الاَّ اللّہَ وَلاَ نُشرِکَ بِہِ شَیئاً﴾ (2) (آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل ِ کتاب ! ایسے قول کی طرف آ جاو جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں)،دور ِ حاضر میں مسلمانوں کی بد قسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی تو بڑی دور کی بات ہے، بین المسالک ہم آہنگی کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکے ہےں ۔مذاہب ِ عالم سے ہم آہنگی کے حوالے سے داعیان ِ اسلام کے لئے حضور ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی کا مطالعہ اس نقطہ نظر سے از بس ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ آپ کا غیر مسلموں کے رویہ کیا تھا ؟ اورمدنی ریاست میں تمام گروہوں کو جو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی اس کی حدود اور اصول وضوابط کیا تھے؟
داعیان ِ اسلا م پر لازم ہے کہ وہ منکر اور گستاخ میں فرق کو ملحوظ رکھےں ، اہم سوال یہ ہے کہ کیا غیر مسلم ہماری دعوت کا مخاطَب ہے یا نہیں؟ اگر تمام غیر مسلم ہماری دعوت کے مخاطَبین ہیں تو پھر سماجی مقاطعہ چہ معنیٰ دارد؟ مملکت خداد پاکستان میں آئینی طور پر تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے تو پھر جوزف کالونی ،مریم آباد اور فرانسیس آباد جیسی مذہبی بنیادوں بننے والی آبادیوں کا وجود میں آنا کیاہمارے غیر متوازن رویے کا آئینہ دار نہیں ہے؟ رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ تو یہ ہے کہ آپ غیر مسلموں کو کھانے دعوت پر بلاتے تھے اور ان کی دعوت قبول بھی کرلیتے تھے۔ آپ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور ایک یہودی کا بچہ آپ کے خدمت گاروں میں بھی شامل تھا ۔ آپ نے مسجد ِ نبوی میں ِنجران کے عیسائی وفد کو اجازت دی کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں ۔ ان چند مثالوں کو ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ داعیان ِ اسلام اپنے اسلوب ِ دعوت پر غور کریں ، اور اس حقیقت کا ادراک کریں کہ چند ہزار صحابہ کرام ؓ نے تو ایک صدی بھی مکمل نہ ہونے پائی تھی کہ اسلام کے پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچادیا ،اور آج کروڑں مسلمان اور بلامبالغہ لاکھوں داعیان ِ اسلام اس مشن میں ناکام کیوں ہیں ؟
۴۔ روز مرہ کی زبان :
دعوت ِ دین میں ہم زبانی کی اہمیت شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔رسول اللہﷺ کے نزدیک دعوت ِ دین اور مکالمہ بین المذاہب کے لئے مخاطَب کی زبان سے واقفیت کی اہمیت کیا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے مختلف صحابہ کرام ؓ کودوسری قوموں کی زبانیں سیکھنے کا حکم دیا ، کیونکہ دعوت وتبلیغ اور باہمی مکالمہ میں تاثیر اور قوت اسی وقت پیداہوسکتی ہے جب داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ ہم زبانی سے اُنسیت میں اضافہ ہوتاہے،اجنبیت دور ہوجاتی ہے اور گفتگو کا مقصد آسانی سے سمجھا اور سمجھایا جا سکتاہے ۔اسی ضرورت کے پیش ِ نظر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن ثابتؓ (م ۴۴ھ) کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا ،تاکہ یہود سے انہی کی زبان میں گفتگو کی جاسکے اور ان کے خطوط کا جواب دیاجاسکے۔حضرت زید بن ثابت ؓ کا بیان ہے:”فتعلّمت کتابھم مامرّت بی خمس عشرة لیلۃ حتی حذقتہ وکنت اقراءلہ کتبھم اذا کتبوا الیہ واجیب عنہ اذا کتب“ (3) ”پس میں نے ان کی زبان میں لکھنا سیکھ لیا، ابھی پندرہ دن نہیں گزرے تھے کہ میں اس میں ماہر ہو گیا۔ جب یہودی کوئی خط آپ کی طرف لکھتے تو میں آپ کو پڑھ کر سنا دیتا اور اگر آپ کو جواب لکھنا ہوتا تو میں وہ لکھ دیتا۔“ ایک روایت میں ہے کہ ایک ایرانی عورت حضرت ابو ہریرہؓ (م ۵۸ ھ) کی خدمت میں استغاثہ لے کر آئی کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب مجھ سے میرا بیٹا بھی چھیننا چاہتاہے اس عور ت نے یہ ساری گفتگو فارسی زبان میں کی اور ابو ہریرہؓ نے بھی اس سے اسی زبان میں گفتگو کی اور پھر آپؓ نے بچہ عورت کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔(4) ان واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ نے دوسری قوموں کی زبانیں صرف اس غرض سے سیکھ رکھی تھیں، تاکہ ان سے براہ راست تبادلہ خیال کرکے ان کے مسائل کو حل کیاجاسکے۔ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن مجید کے بعض اجزا کادوسری زبانوں میں ترجمہ بھی کیا تھا، تاکہ عربی زبان سے ناواقف لوگ اسلام کی حقیقی روح اور تعلیمات سے محروم نہ رہ جائیں ۔چنانچہ علامہ سرخسیؒ (م ۴۹٠ھ) لکھتے ہیں: ”ان الفرس کتبوا الی سلمانؓ ان یکتب لھم الفاتحۃ بالفارسیۃ فکانوا یقرءون ذالک فی الصلوۃ حتیٰ لانت السنتھم للعربیۃ“ (5) ”بعض نو مسلم ایرانیوں نے حضرت سلمان ؓکی خدمت میں لکھا کہ ان کے لیے سورہ فاتحہ کو فارسی میں نقل کر دیا جائے، چنانچہ وہ لوگ (اسی ترجمہ کو)نماز میں پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ عربی سیکھ گئے ۔“اسی واقعے کو ڈاکٹر حمیداللہ ؒنے ”النہایة حاشیة الھدایة “ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ (م ۳۳ھ) نے رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے یہ کام انجا م دیا اور ان کے ترجمے کا ایک جز بھی نقل کیاہے ،”بنام خداوند بخشا یندہ مہربان “ یہ بسم اللہ کا ترجمہ ہے۔ (6) شاہان ِ عالم کی طرف بھیجے جانے والے نبوی سفراءکا معجزانہ طور پر انہیں قوموں کی زبان میں گفتگو کرنے لگ جانا بھی دعوت وتبلیغ اور مکالمے میں ہم زبانی کی اہمیت کو واضح کرتاہے۔ (7) اس کے علاوہ جن صحابہ کرام ؓ کو رسول اللہﷺ نے مختلف قوموں کی طرف داعی اور مبلغ بنا کر روانہ فرمایا اس میں بھی یہ چیز آپ کی حکمت ِعملی کا حصہ نظر آتی ہے کہ وہ مبلغ اسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں ،اور اگر مبلغین کا تعلق کسی دوسری قوم سے ہو تو کم ازکم وہ اس قوم کی زبان، رسم ورواج اور کلچر سے لازمی طور پر آگاہ ہوں۔
مذکورہ بالا چند حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کے لئے مدعو قوموں کی زبان ،کلچراور نفسیات سے آگاہی کس قدر اہم ہے ،اس حوالے سے ویسے تو پورے عالم ِ اسلام کی حالت ہی ناگفتہ بہ ہے ،تاہم اگر اسلامیا نِ ہند سے تعلق رکھنے والے علماءکرام کے طرز ِ عمل کا تجزیہ کیا جائے توصورتِ حال کی سنگینی کا زیادہ احساس ہوتا ہے ۔ اس حد تک تو یہ بات قابل ِ فہم ہے کہ ۱۸۵۷ءکی جنگ آزادی میں شکست کے بعد بچی کچی مسلمان قیادت نے دینی مدارس میں جو نصاب رائج کیا اور اس کا بنیادی مقصد لوگوں کے ایمان کی حفاظت تھا ،تاکہ ہندوستان کو اندلس بننے سے بچایا سکے ۔ یہ اعتراف بھی لازم ہے کہ ہندوستان کے علماءکرام کی قربانیوں اور دینی مدارس کے شاندار کردار کی وجہ سے یہ مقصد پورا ہو گیا،لیکن آزادی کے بعد نصاب ِتعلیم میں جس تبدیلی کی ضرورت تھی اس کی طرف توجہ نہ دی جاسکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ایسے علماءکرام کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے جو آج کی زبان اور محاورے میں گفتگو کر سکےں ،لیکن عملی صورت ِ حال مایوس کن ہے ،آج کے داعیان ِ اسلام پر اصحاب کہف کی مثال صادق آتی ہے،کہ تقریباً تین صدیوں کی نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب وہ غار سے نکلے تو ان کا سکہ اور زبان دونوں ان کی اپنی بستی کے لوگوں کے لئے اجنبی ہو چکے تھے ،گویا وہ اس زمانے کے لئے غیر متعلق (Irrelevant) ہو چکے تھے، اور بالآخر ان کو وآپس غار میں ہی پناہ لینا پڑی ۔غلامی کے طویل دور سے نکلنے کے بعد ہماری صورت ِ حال بھی اصحاب ِ کہف ہی کے مماثل ہے ، عصری تقاضوں کے مطابق علماءکرام کی تربیت کے بغیر اسلام کی عالمی سطح پر دعوت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔دور ِ حاضر میں داعیان ِ اسلام اگر بین الاقوا می قوانین،جدید نظامہائے معیشت و سیاسیات اور مغرب کے فلسفہ اخلاق سے واقف نہیں ہوں گے تو ان کے مخاطبین کا دائرہ صرف مسلم معاشروں تک ہی محدود رہ جائے گا اور اگر وہ ”کتاب البیوع“ اور ”کتاب الامارہ “ کی عصری تعبیرات پر عالمانہ دسترس نہیں رکھتے تو اس کا مطلب یہ ہواکہ دین کا ایک بڑا حصہ ان کے دعوتی مضامین ہی سے خارج ہوجائے گا ،اور اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کے تصور کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔
دعوت ِ دین میں درپیش داخلی چیلنجز
۱۔ عرف کی تفہیم :
انسانی معاشرہ ہر لمحہ تغیر پذیر ہے ،معاشرتی اور تہذیبی ارتقاءکا لازمی نتیجہ عرف کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ بہت سارے فقہی احکام ومسائل کا تعلق عرف کے ساتھ ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ عرف کی تبدیلی کے براہِ راست اثرات فقہی احکام و مسائل کے استنباط پر مرتب ہوتے ہیں ۔عرف اور زمان ومکان کی تبدیلی فقہی مسائل کے استنباط پر کس حد اثر انداز ہوتی ہے، اس کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے ہی کیاجا سکتا ہے کہ امام مالک ؒ (م ۱۷۹ھ) کے نزدیک پانی کے طاہر ہونے کے لئے اس کی کم ازکم مقدار ”قُلَّتَان “ یعنی دو بڑے مٹکوں کے برابر ہونا لازم ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ (م ۱۵٠ھ) کے نزدیک پانی کے طاہر ہونے کے لئے اس کی کم ازکم مقدار”دہ در دہ“ ہونا ضروری ہے ۔ ایک امام مدینہ میں بیٹھ کر یہ رائے قائم کر رہا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے، جبکہ دوسرا امام دجلہ و فرات کے کنارے بیٹھ کرفتویٰ جاری کررہا ہے جہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہے ، گویا عرف اور زمان ومکان کی تبدیلی کے اثرات مسائل کے استنباط پر براہ ِ راست مرتب ہوتے ہیں۔
قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ جب غیر مشروط اطاعت صرف خدا و رسول کے لئے ہی ہے تو پھر فقہ کی تقدیس چہ معنیٰ دارد؟ جبکہ فقہ سے مراد دین نہیں بلکہ دینی تعبیرات ہیں یعنی وہ تمام فروعی مسائل جو واضح طور پر قرآن و سنّت میں موجود نہ ہوںاور ان کو مقاصد شریعت کی روشنی میں قرآن و سنّت سے مستنبط کیا گیا ہو۔ اس نوعیت کے مسائل میں ایک تووہ احکام ہیں جن کے بارے اسلاف نے کوئی رائے قائم کی ہو اور دوسرے وہ احکام ہیں جن کا تعلق زمان و مکان اور عرف کی تبدیلی سے ہے ۔اس میں متوازن رائے یہ کہ اگرکسی مسئلے میں صحابہ کرام ؓ کی رائے منقول ہو تو فبھا ،اور اگر دیگر اہل ِ علم کی مختلف آراءمنقول ہوں تو یہ ہر دور کے علماءکا حق ہے کہ وہ کسی بھی رائے کو دلیل کے ساتھ قبول کریں اور دلیل کے ساتھ رد کردیں ۔ صحابہ کرام کے علاوہ دیگر ارباب ِ فکرو دانش کے حوالے سے بہترین بات وہی ہے جو امام ابو حنیفہ ؒ نے فرمائی :”ھُم رِجَال وَ نَحنُ رِجَال “ یعنی جس طرح انہیں اجتہاد کا حق حاصل ہے اسی طرح ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے ۔ وہ تمام فقہی مسائل جن میں صحابہ کرام ؓ کے درمیان اختلاف منقول ہے ،اس کو تنوع اور توسع پر محمول کر کے کسی ایک پہلو کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔
علماءکرام جب مختلف احکام و مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو عمومی طور پر وہ ان مسائل کو فقہی تناظر میں ہی دیکھتے ہیں اوران کے سماجی تناظر کو نظر انداز کردیتے ہیں اس کی مثال عائلی زندگی سے متعلق نکاح،طلاق اور خلع جیسے مسائل میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ کیا آج کے معاشرتی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے ولی کے بغیر نکاح کو درست قرار دیا جانا چاہیے ؟ جبکہ نکاح کے انعقاد کے لئے اگر ایک طرف عاقل و بالغ کی رائے ضروری ہے، تو دوسری ”لا نکاح الا بولی “، کی شرط بھی موجود ہے ،اسی طرح طلاقِ ثلاثہ سے متعلق مسائل کو محض فقہی تناظر میں ہی دیکھا جاتا اس کے عملی نتائج خاندانوں کو کس طرح برباد کر رہے ہیں یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی جاتی ۔غور کیا جائے تو بہت سارے مسائل میں صحابہ کرام اور فقہاءکے درمیان جو اختلافات نظر آتے ہیں اس کا بڑا سبب وہ سماجی تناظر ہے جس میں انہوں نے مختلف اورمتنوع نصوص پر غور کیا اور پھر اس نص کو ترجیح دے دی یا اس تعبیر کو اختیار کر لیا جس میں حالات اور زمان و مکان کی رعایت نظر آئی یا پھر خلق ِ خدا کے لئے آسانی اور سہولت کا پہلو نظر آیا ۔ہمارے ہاں عملی صورت ِ حال یہ ہے کہ علمائے اسلام اپنے مسلک اور فقہی مذاہب سے ہٹ آج کے ماحول اور عرف کی روشنی میں قرآن و سنّت کا مطالعہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اس وقت مذہب کو علم ِ جدید کا سنجیدہ چیلنج درپیش ہے۔ جدید سائنسی علوم نے انسانی زندگی پر جو اثرات مرتب کئے ہیں اس کے نتیجے میں کئی نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مثلاًDNAٹیسٹ کے سو فیصد درست نتائج نے گواہی اور حسب ونسب جیسے مسائل کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔غالباً 2002ءمیں جب سائنسدا نوں نے محض جینز کی مدد سے”ڈولی “ نامی بھیڑ تخلیق کی تو علماءکے لئے اس پر کوئی واضح موقف اختیار کر نا مشکل تھا ۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی (Test tube baby)اور کلوننگ(Cloning) جیسے کامیاب تجربات نے ماں کے قدموں تلے جنت کے تصور کو چیلنج کر دیا ۔اس نوعیت کی محیر العقول ایجادات اور تخلیقات نے انسان کے لئے جہاں کئی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں بہت سے سوالات بھی کھڑے کر دیئے ہیں ۔اب بہت سارے مسائل کو صرف سابقہ فتاویٰ کی بنیاد پربیان کرنا ممکن نہیں رہا،اس لئے علماءکرام کے لئے اپنے دور کی حقیقی تفہیم بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔
دور ِ حاضر میں علماءکرام کے لئے صرف علاقائی عرف کا جاننا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسلام کی عالمگیریت کے تناظر میں عالمی عرف سے گہری واقفیت بھی ضروری ہے۔مثال کے طور پرفقہائے اسلام نے ”دالاسلام“ اور” دار الحرب“ کی تقسیم کے ساتھ قرآن و سنّت سے جو احکام مستنبط کئے ہیں ،ان تعبیرات کا تعلق مسلمانوں کے دور ِ عروج سے ہے ،جبکہ اس وقت صورت ِ حال بالکل تبدیل ہو چکی ہے ۔ جزیہ ، ذمی اور اہل ِ کتاب سے متعلق احکام ومسائل کو ان عالمی قوانین کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جن کو خود مسلمان ملک تسلیم کر چکے ہیں۔ تسلیم کرنا ہوگا کہ ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ (Universal Declaration of Human Rights) آج کا عالمی قانون ہے۔ اس قانون کی تمام شقوں کو قبول کرنا تو مسلم معاشروں کے لیے ممکن نہیں ہے، تاہم اس بحث میں زیادہ مثبت اور تعمیری انداز میں حصہ لینے کی ضرورت ہے اور اگر کسی جگہ لچک کی گنجائش موجود ہو تو اس کا لحاظ کیا جانا چاہیے۔ سیرتِ طیبہ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ کئی مواقع پر رسول اللہﷺ نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی قانون ،عرف اور قبائلی رسم ورواج کا احترام کیا ۔مثلاً :جب حضور ﷺ کا مسیلمہ کذّاب کے سفیروں سے مکالمہ ہوا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم مسیلمہ کو نبی مانتے ہو؟ تو انھوں نے کہا :ہاں ، حضرت عبداللہ ابن ِ مسعود سے روایت ہے کہ مسیلمہ کذّاب کے سفیروں کے جواب میں آپ نے فرمایا: ”لوکنت قاتلاً رسولاً لقتلتکما، فمضت السنّۃ انّ الرّسلَ لا تَقتُل“ (8) یعنی اگر سفیروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تمہیں قتل کروادیتا۔ دیکھئے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے لیکن آپ نے ان پر یہ حد جاری نہیں کی بلکہ فرمایا کہ چونکہ عالمی قانون یہ ہے کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا اس لئے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں ورنہ میں تمہیں قتل کروا دیتا۔
سن ۹ہجری میں اقرع بن حابسؓ کی زیر ِقیادت بنوتمیم کا وفد اسلام قبول کرنے کے لیے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، ان لوگوں نے قبولِ اسلام کے لیے بڑی عجیب شرط رکھی کہ آپ پہلے ہمارے ساتھ مفاخرت کریں،آپ کا خطیب ہمارے خطیب کا اور آپ کا شاعر ہمارے شاعر کا مقابلہ کرے ، تب ہم اسلام قبول کریں گے ۔آپ نے ان کے اس مطالبہ کو قبول کیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺکے حکم پر حضرت حسان بن ثابت ؓ نے ان کے شاعر زبر قان بن بدر کا مقابلہ کیا اور ثابت بن قیسؓ نے ان کے خطیب عطارد ابن حاجب کا مقابلہ کیا۔بنو تمیم نے با لآ خر حضورﷺ کے شاعر اور خطیب کی برتری کو تسلیم کر تے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ (9) دیکھا جائے تو وفد ِبنی تمیم کا مطالبہ بالکل لایعنی تھا ،بالفرض اگر مسلمانوں کا شاعر اور خطیب مقابلے میں شکست بھی کھا جاتے تو پھر بھی اسلام کی حقانیت میں کوئی شک نہ تھا،لیکن اس کے باوجود آپ نے ان کے رسم ورواج کا احترام کیا۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوسری قوموں کے ساتھ مکالمے کی اتنی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ بنو تمیم نے جب قبول ِاسلام کی یہ عجیب وغریب شرط رکھی تو آپ نے بلا جھجک اپنے ان ساتھیوں کو طلب کیا جن کی خاص اسی مقصد کے لئے تربیت کی گئی تھی۔ اسی طرح جب آپ نے شاہان ِعالم کے نام دعوتی خطوط روانہ کرنے کا پروگرام بنایا تو واقفان ِحال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! حکمرانوں میں یہ اصول ہے کہ وہ ان خطوط پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے جن پر کوئی مہر(Seal) وغیرہ نہ ہو،چنانچہ اسی وقت آپ نے خطوط کو ُمہر بند کرنے کے لیے مُہر بنانے کا حکم دیا۔(10)
اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ داعیان ِ اسلام کے لئے لازم ہے کہ وہ عالمی عرف کو سمجھیں اور ان قوانین اور معاہدات کے مندرجات کا بھی تنقیدی مطالعہ کریں جن کی حیثیت اب مسلمہ بین الاقوامی قانون کی ہے ،اور جن کی پاسداری کا حلف خود مسلمان ممالک نے بھی اٹھا رکھا ہے ۔عالمی عرف اور بین الاقوامی معاہدات کے مثبت مطالعہ و تجزیہ سے مسلم معاشروں کے علاوہ عالمی سطح پر دعوت ِ دین کی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔
۲۔ فرقہ واریت :
عصر حاضر کا ایک بڑا فتنہ مختلف عنوانات کے ساتھ اسلام کی تقسیم ہے ۔صوفی اسلام ،تبلیغی اسلام،سلفی اسلام، وہابی اسلام، جہادی اسلام،سیاسی اسلام،یہ تقسیم شیعہ اور سنّی اسلام کے علاوہ ہے ۔اس کے علاوہ دین کی فقہی اور کلامی تعبیرات کو مکمل دین کے طور پر پیش کرنے کا رجحان بھی پوری شدّومد کے ساتھ موجود ہے ۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مساجد اور مدارس کے ناموں سے مسالک کی نشاندہی کی جاسکتی ہے ،اس پر مستزاد یہ کہ آپ مذہب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے ناموں ،کاموںاور حلیے سے باآسانی ان کا مسلک معلوم کرسکتے ہیں۔ علماءکرام دین ، مذہب ، مسلک، ذوق اور تاریخ میں فرق کرنے کے لئے تیار نہیں ہےں جس سے فرقہ واریت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ علماءکرام کی اکثریت اپنے مسالک،فقہی مذاہب اور روحانی سلاسل کو ہی کل دین کے طور پیش کر رہی ہے۔اس سے بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض کوتاہ نظر اور نام نہاد علماءبعض تاریخی واقعات اور علاقائی رسم و رواج کو ہی کل دین کا درجہ دے رکھا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کلامی، فقہی اوراسلامی فرقوں کا مثبت انداز میں مطالعہ کیا جائے ۔ بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ اس دور کی ضرورت ہے ۔ مسلک اور دین میں فرق کئے بغیرہم آہنگی کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورت ِ حال یہ ہے کہ نصوص ، اجتہادات اور رواجات میں فرق کی ضرورت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ فروعی مسائل اور بنیادی عقائد میں فرق نہیں کیا جا رہا ۔سماجی رسوم و آداب میں بھی ہمارا رویہ بڑا عجیب و غریب ہے ، کسی رواج کا اسلام کے مطابق ہونا اور چیز ہے اور اسلام ہونا بالکل دوسری چیزہے ،دین اور کلچر کا باہمی تعلق اور اس کی حدود کیا ہےں ؟یہ بات بھی سمجھنا بہت ضروری ہے ،ورنہ اس ملت کونئے سے نئے فتنوں سے بچانا ممکن نہیں ہوگا۔
آج کے ماحول میں ایک سچے داعی کے لئے صحیح رویہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کے طور پر تسلیم کرے، اب بے شک وہ عملی جدوجہد کے لئے کسی ایک میدان کا انتخاب کرلے، لیکن دین کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اس کو مربوط کرے ،اور مناسب یہ ہے کہ وہ دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں کی قدر کرے ۔ فروعی مسائل میں دین میں تنوع اور توسع کے حوالے سے اعتدال پسندعلماءکی فکرکا مطالعہ راہنمائی کے لئے مناسب ہوگا۔ اگر اس اصول کو مان لیا جائے کہ فرقہ بنیادی عقائد میں انحراف سے بنتا ہے تو اس لحاظ سے دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث ایک ہی گروہ شمار ہوں گے اور ان کے مقابل شیعہ دوسرا گروہ شمار ہوگا، ملی یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ شیعہ کی عمومی تکفیر اجتناب کرنا چاہیے ،تاہم شیعہ کے وہ ذیلی فرقے جن کی تکفیر خود اہل ِ تشیع نے کی ہے ان کا معاملہ البتہ دوسرا ہے ،کیونکہ شیعہ کے بعض اقلیتی گروہوں کی گمراہی کے دلائل موجود ہیں ۔مرزا غلام احمد قادیانی(م ۱۹٠۸ء) کی جانب منسوب ”جماعت ِ احمدیہ “ کو ایک باطل فرقہ کہنا حق بجانب ہے کیونکہ وہ ختم ِ نبوت کے بنیادی عقیدے کے منکر ہیں۔
۳۔ مروّجہ تصو ّف :
جس طرح تصوف کوعین ِ دین کہنا غلط ہے اسی طرح تصوف کو متوازی دین کہنا بھی غلط ہے، بلکہ د رست یہی ہے کہ یہ دین کی روحانی تعبیر کا ایک ایسا پہلو ہے جو ”وَیُزَکِّیہِم“ کے عنوان کے ساتھ منصب ِ رسالت کا لازمی تقاضا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا مقصد ِ بعثت ہے ۔ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تکوینی نظام کے مطابق مختلف افراد اور گروہوں سے دین کی حفاظت اور ترویج و اشاعت کا کام لیا ۔محدثین اور ائمہ جرح و تعدیل نے متون (Texts) کی حفاظت کا کارنامہ اس انداز میں انجام دیا کہ تاریخ ِ علوم میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں ہے ۔ فقہاءکرام نے اس متن کو بنیاد بنا کر دین اسلام کو معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ کر نے کا عظیم کارنامہ انجام دیا اور ثابت کیا کہ دین اسلام صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیوی کامیابی کا بھی ضامن ہے، صوفیہ کرام نے تزکیہ نفس کے عنوان کے ساتھ دین کے روحانی پہلو کو اجاگر کیا ، خدمت ِ خلق اور ذاتی کردار سے مخلوق ِ خدا کو ایمان کی دولت سے آشنا کرکے ان کی روحانی تسکین کا سامان کیا ۔دین ِ اسلام کے تحفظ اور ترویج و اشاعت میں محدثین ،فقہاءاور صوفیہ ،تینوں طبقات کا کردار آب ِ زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔یہ وہ تناظر ہے جس میں تمام روحانی سلاسل کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ برصغیر کے معروف روحانی سلاسل کے مزاج کا ادراک کئے بغیر ان کی خدمات کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
حضرت باقی باللہ(۱۵۶۴۔۱۶٠۳ء) کی آمد سے پہلے ہندوستان میں جو روحانی سلاسل قادریہ، سہرودیہ اور چشتیہ مقبول و مشہور تھے وہ تمام کے تمام ایران اور ایرن کی علمی سرحد عراق کی پیداوار تھے ۔ان تینوں سلسلوں میں جزوی اور فروعی اختلافات تو تھے لیکن ان کا روحانی پس منظر اور مزاج ایک ہی جیسا تھا،ان تینوں سلسلوں میں وحدة الوجود کا طریقہ رائج تھا ۔ان روحانی سلاسل میں دیگر سلاسل کی بنسبت بین المذاہب ہم آہنگی کی صلاحیت زیادہ ہے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بر صغیر میں آغاز ِاسلام کے وقت ان سلاسل کے مزاج نے فروغ ِ اسلام میں اہم کردار ادا کیا۔ان روحانی سلاسل نے دعوت وتبلیغ کے میدان میںکئی نئے تجربات کئے۔ان سلاسل کے بزرگوں نے وقت اور حالات کے زیر اثر اس طرح کے” تبلیغی اجتہادات“ فرمائے جس کے نتیجے میں دیگر قوموں سے مسلمانوں کی سماجی اور معاشرتی سطح پر ہم آہنگی میں زبردست اضافہ ہوا ۔ذات پات کے نظام میں جھکڑے ہوئے برصغیر میں صوفیہ نے انسانی مساوات کے اسلامی تصور کو اپنے عمل سے اس طرح نمایاں کیا کہ پسے ہوئے طبقوں کے لئے اسلام امید کی آخری کرن بن کر ظاہر ہوا۔
ہندوستانی معاشرے میں جہاں لوگ مذہبی رسومات وعبادات ،بھجن اور اشلوک وغیرہ صرف ساز و ترنم کے ساتھ ہی سننے کے عادی تھے، وہاں صوفیہ نے ہندو قوم کو دعوت وتبلیغ کے لئے سماجی سطح پر اپنے قریب رکھنے کے لئے ”قوالی “ کی صورت میں ایک منفرد تجربہ کیا ۔ خانقاہی نظام میں ”لنگر خانے“ کے ادارے کو بھی دعوتی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرروت ہے۔ جس میں بلا رنگ و نسل اور مذہبی شناخت ،لوگوں کی حاجت براری کی جاتی ہے ۔ اسی دور میں ہم حضرت میاں میر ؒ جیسی بزرگ ہستی کو سکھوں کے مقدس مذہبی مرکز ” دربار صاحب امرتسر “(گولڈن ٹیمپل ) کا سنگ ِ بنیاد رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔برصغیر میں ہندو اکثریت کے کئی علاقوں میں صوفیہ نے اپنے مریدین کو تلقین کی کہ وہ ہندووں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ سے اجتناب کریں۔ دیگر مذاہب کے بارے احترام کا یہ رویہ صوفیہ کا آزمودہ دعوتی منہج ہے ،مذہبی تکثیریت پر مبنی ہندوستانی معاشرے میں اس طریقِ دعوت کے گہرے اثرات کا ہم بآسانی مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ہماری رائے میں سر زمین ہند میں صوفیہ نے وحدة الوجود کی تعبیر خاص مصلحت کے تحت اختیار کی تھی اوریہ بھی ایک طرح کا” تبلیغی اجتہاد “ہی تھا جس کے نتیجے ہیں تبلیغ اسلام میں بہت سہولتیں پیدا ہوئیں ۔ ہندو جوگی اور بہت سے ریاضت کرنے والے قدیم ہندو ”ویدانت فلاسفی “ کو ماننے والے جو وحدة الوجود کے قائل تھے وہ اس تعبیر کے نتیجہ میں ہی مسلمان ہوئے۔
مذاہب عالم کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف مذاہب کی شریعتیں اگرچہ مختلف ہوتی ہیں، لیکن حکمت کے کئی اعلیٰ اصول بالعموم تمام مذاہب میں مشترک ہوا کرتے ہیں اور یہ اصول اقوام و ملل کے درمیان فکری اتحاد اور یگانگت کا باعث بنتے ہیں ۔ ایک بالغ نظر داعی ،مدعو قوم کے ان اصولوں کو بھلا کیسے نظر انداز کر سکتا ہے جو باہمی قربت کا باعث بن سکتے ہیں ۔ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے ان تمام مظاہر کے باوجودصوفیہ نے اس چیز کا ہمیشہ خیال رکھا کہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت پوری طرح برقرار رہے۔لیکن جس طرح کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سے ہوتا آیاہے بعض غیر محتاط صوفیہ، جن کے لئے حضرت مجددؒ نے ”صوفیائے خام “ کی اصطلاح کثرت سے استعمال کی ہے ، نے مذہبی رواداری کی آڑ میں اسلامی اورہندوتصوف میں قائم حد فاصل کو مٹانے کی کوشش کی ۔ ہندوستانی معاشرے میں غیر محتاط صوفیہ نے اس طرح کے حالات پیدا کر دیے جس سے مسلمانوں کا تشخص خطرے سے دو چار ہونے لگا اور یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھارتا ہوا نظر آ رہا تھا کہ جس طرح دیگر کئی مذاہب ہندوستانی معاشرے میں ضم ہو کر اپنی شناخت کھو چکے ہیں کہیں مسلمان بھی اپنی مذہبی شناخت سے محروم نہ ہو جائیں ۔ یہی وہ دور ہے جب ہندوستان کے افق پر نقشبندی سلسلے کا ظہور ہوا۔بر صغیر میں مختلف روحانی سلاسل کی آمد کے ادوار کو محض اتفاق کہنا شاید درست نہ ہو بلکہ اس میں قضاءو قدر کی دخل اندازی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ، اگر آغاز میں ہی برصغیرمیں نقشبندی سلسلے کا ورود ہو جاتا تو شایدہندوستانی معاشرے میں اشاعت ِاسلام کی رفتار کم رہتی۔ نقشبندیہ کا عمومی مزاج تاریخ علوم میں محدثین کے مماثل ہے جبکہ قادریہ ،سہروردیہ اور چشتیہ کا عمومی مزاج فقہاءکے مزاج کے مماثل ہے ۔لیکن جو چیز محسوس کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تکوینی نظام کے مطابق اشاعت ِ اسلام کاکام دیگر سلاسل سے لیا اوراسلامیان ِ ہند کے اسلامی تشخص کے تحفظ کا کام اس روحانی سلسلے سے لیا جو تاریخ میں مجددی نقشبندی سلسلے کے نام سے معروف ہے۔
ان سطور میں ہمارے پیش ِ نظر صرف یہ بتانا ہے کہ اگرچہ بر صغیر میں فروغ ِ اسلام میں عرب تاجروں،مجاہدین اسلام اور مسلم حکمرانوں کی خدمات بھی قابل ِ قدر ہیں ،لیکن ہندوستان میں اسلام کی جڑیں پاتال تک پہنچانے کا بنیادی کردار صوفیہ کرام نے ہی انجام دیا ۔ لیکن اس وقت صوفیہ کرام اور خانقاہی نظام کے نام پر جو جعل سازی ہو رہی ہے وہ انتہائی قابل ِ افسوس ہے ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ اہل ِ تصو ّف کی کتب میں تصو ّف اور ہے ،جبکہ مروجہ تصوف کی شکلیں اس سے بالکل ہٹ کر اور الگ ہیں ۔کوئی صوفی اور پیر جاہل نہیں ہو سکتا ،اور ناہی کسی ایسی خانقاہ کا تصور بھی کیا سکتا ہے جس کے ساتھ مسجد ،مدرسہ اور تزکیہ نفس کا مستقل حلقہ موجود نہ ہو ۔علماءکرام پر لازم ہے کہ وہ مروجہ تصوف پر قرآن و سنّت کی روشنی میں کھل کر تنقید کریں ۔ یہ جان لینا ضروری ہے کہ جاہل صوفیہ اور ان کے پھلائے گئے غلط تصو ّرات پر علمی تنقید کے بغیر اسلامی تصو ّف کا دِفاع ممکن نہیں ہے ۔ آج سے ایک ڈیڑھ صدی قبل یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا کہ کوئی شخص کسی صوفی سلسلے سے وابستگی کے بغیر دین کی حقیقت سے آشنا بھی ہو سکتا ہے ، لیکن پھر جعل سازی نے خانقاہی نظام کے مقدس ادارے کو بری طرح متاثر کیا، جس کی ذمہ داری جعلی صوفیہ اور سجادہ نشین حضرات پر عائد ہوتی ہے ۔علماءکرام پر لازم ہے کہ وہ صوفیہ کرام کی خدمات،اسلوب ِ دعوت اور میدان ِ دعوت میں ان کے اجتہادات پر پوری بصیرت سے غوروفکر کریں ،تمام سلاسل تصوف کے مزاج کو سمجھیں اور ان کی اصل تعلیمات کو اجاگر کریں۔
۴۔ اسلامی جدیدیت اور مابعد جدیدیت :
جدیدیت (Modrenism)اور مابعد جدیدیت(Post Modrenism) اگر چہ مغربی اصطلاحات ہیں لیکن محض تفہیم ِ مطلب کے لئے ہم ان اصلاحات کو مسلمانوں کے عہد ِ زوال میں جنم لینے والی مختلف علمی اور فکری تحریکوں کے تعارف اور تجزیہ کے لئے استعما ل کریں گے۔گذشتہ دو اڑھائی صدیوں میں مسلمانان ِ عالم ،سیاسی ، معاشرتی،معاشی اور علمی واخلاقی سطح پر زوال کا شکار ہیں، فکری انحطاط کے اس دور میں ایسے افراد اور گروہوں نے جنم لیا، جنہوں نے اسلامی نصوص کی تعبیر و تشریح میں بالکل آزادانہ نقطہ نظر اختیار کیا ۔ مغربی فکر و فلسفہ سے ذہنی مرعوبیت کے شکار جن اہل ِ علم نے مغربی اصولوں کی روشنی میں اسلام کی ” تشکیل ِ جدید “کا بیڑا اٹھایا، ان میں سر سید احمد خان ( م ۱۸۹۸ء) اور ان کے رفیق ِ کار مولوی چراغ علی (م ۱۸۹۵ء)، فرقہ اہل ِ قرآن کے بانی مولوی عبداللہ چکڑالوی (م ۱۹۱۴ء)،خواجہ احمد الدین امرتسری(م ۱۹۳۶ء)، حافظ محمد اسلم جیراج پوری (م ۱۹۵۵ء)، علامہ عنایت اللہ المشرقی(م ۱۹۶۴ء)، نیاز فتح پوری (م ۱۹۶۶ء) ، علامہ غلام احمد پرویز (م ۱۹۸۵ء) ،ڈاکٹر فضل الرحمن (م ۱۹۸۸ء)، مولانا جعفر شاہ پھلواری (م ۱۹۸۸ء)،علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی (م ۱۹۹۱ء) اور عمر احمد عثمانی(م ۱۹۹۶ ء) وغیرہ اسلام میں جدیدیت کے حوالے سے خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں ۔عالم ِ عرب میں ڈاکٹر احمد امین مصری (م ۱۹۵۴ء) محمود ابوریّہ اور جامعہ ازہر کے استاذ شیخ محمد شلتوت بھی اسی گروہ میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔
ما بعدجدیدیت کی اصطلاح کے ذیل میں علامہ شبلی نعمانی (م ۱۹۱۴ء) ،علامہ حمید الدین فراہیؒ(م ۱۹۳٠ء) اور مولانا امین احسن اصلاحی (م ۱۹۹۷ء) قابل ِ ذکر ہیں۔ دور ِ حاضر میں محترم جاوید احمد غامدی اس مکتب ِ فکر کی نمائندگی کر رہے ہیں ، جبکہ بعض اہل ِ علم نامور محقق اور دانشور جناب ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر کو بھی فراہی مکتب ِ فکر کا نمائندہ خیال کرتے ہیں ۔ بہرحال یہ وہ لوگ ہیں جو روایت پسند اور جدیدیت پسندطبقے میں پل کا کردار ادا کررہے ہیں اوربے چارے پل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی طرف بھی شمار نہیں ہو پاتا،اور اس کا تعارف بھی بالآخر ایک مستقل گروہ کے طور پر ہی کیا جانے لگتا ہے ۔اس کے علاوہ مسلم معاشروں کے اندر کئی ایسے اہل ِ علم اور تحریکوں نے بھی جنم لیا ، جنہوں نے روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے تئیں عصری تناظر میں اسلام کی تعبیر و تشریح کا بیڑا اٹھایا ۔ عالم ِ عرب میں اخوان المسلمون کے بانی حسن البناءشہید ؒ اور پاکستان میں جماعت ِاسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰؒ (م ۱۹۷۹ء) نے اسلام کے ہمہ گیر غلبے کے لئے اسلام کی جدید سیاسی تعبیر پیش کی۔ پہلی جنگ ِ عظیم میں ترکوں کی شکست اور خلافت ِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مغربی استعمارکے رد ِ عمل میں سیاسی تحریکوں کے ساتھ جہادی تحریکوں نے بھی جنم لیا ، رد ِ عمل کی نفسیات لے کر پروان چڑھنے والی جہادی تحریکوں کے پلیٹ فارم سے اسلام کے تصور ِ جہاد کی بعض ایسی تعبیرات بھی سامنے آئیں جن پر راسخ العقیدہ علماءبھی شدید تحفظات رکھتے ہیں، اس حوالے سے القاعدہ اور داعش وغیرہ کے تصور ِ جہاد کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
علماءکرام کے لئے لازم ہے کہ وہ اس نوعیت کی فکری بحثوں سے گہری واقفیت حاصل کریں ، اور فکری کشمکش کے اس ماحول میں اسلام اور اہل ِ اسلام کے حوالے سے جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کو ایڈریس کریں ۔ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ نئی نسل جس ماحول میں پروان چڑھ رہی وہ بے لگام عقل پرستی کا دور ہے ۔ اب وہ دور نہیں ہے کہ جب علماءکرام پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ صرف مسئلہ بتادینا کافی سمجھا جاتا تھا ،بلکہ اب لوگ مسائل کو دلائل کے ساتھ جاننا چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ مغربی تہذیب نے مسیحیت کو چاروں شانے چت کرکے اپنی برتری منوائی ہے اور مذہب کو انسان کی اجتماعی زندگی سے خارج کرکے اس کو انسان کا نجی معاملہ قرار دے دیا ہے ۔آج کا نوجوان مغرب کی ان کامیابیوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ،اور ان اسباب سے بھی آگاہ ہے جن کی بدولت ان کو یہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔اس ماحول میں نئی نسل کے سوالات سے صر فِ نظر نہیں کیا جا سکتا ،فتوے سے زبان تو بند کی جاسکتی ہے، لیکن ذہن کو سوچنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جدید ذہن میں مذہب کے بارے جو شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں، ان کاجواب اس پس منظر کو جانے بغیر ممکن نہیں ہے جس میں ان سوالات نے جنم لیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مغربی فکر و فلسفہ کے عالم گیر غلبے کے بعد خود مذہب کے حوالے جن نئے سوالات نے جنم لیا ہے ان کا کوئی جواب مدارس کے روایتی نصاب کی بنیاد پر دینامشکل ہورہا ہے ۔اہل ِ مذہب نے مذہب سے متعلق اٹھنے والے سوالات سے چشم پوشی کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے یہ تاثر پیدا ہورہاہے کہ مذہب کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب سرے سے موجود ہی نہیں ۔ اس رویے کے بعض نتائج و اثرات ہم اپنی انکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ نئی نسل تیزی کے ساتھ تہذیبی ارتداد کا شکار ہو رہی ہے ۔ حال یہ ہے کہ مسلم معاشروں کے اندر ایک طبقہ تو وہ ہے جو غیرعلانیہ طور پر مذہب سے دستبرداری اختیار کرچکا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ مذہب کا اب انسانی زندگی میں کوئی کردار باقی نہیں رہا ،جبکہ دوسرا طبقہ اپنے آپ کو ان اہل ِ تجدد سے وابستہ کر رہا ہے جو ان کے سوالات کو ایڈریس کرتا ہے اور وہ ان کو مطمئن کرنے میں کوشاں ہے۔ علماءکرام پر لازم ہے کہ وہ مذہب کو درپیش ان چیلنجز کا ادراک کریں اور فتوے کی زبان میں بات کرنے کی بجائے عقلی اور فطری دلائل کے ساتھ مذہب کی ضرورت و اہمیت کو ثابت کریں۔ اہل ِ تجدد میں سے جن افراد یا جماعتوں سے جو علمی اور فکری غلطیاں ہوئی ہیں، فتویٰ بازی کے بجائے ان کا علمی اور فکری محاذ پر تعاقب ضروری ہے، بصورت ِ دیگر نئی نسل کو فکری پراگندگی اور تہذیبی ارتداد سے بچانا ممکن نہیں ہو گا۔
دعوت ِ دین میں درپیش شخصی چیلنجز
۱۔ عزت و احترام کی بحالی :
علماءکرام ہر دور میں معاشرے کا ایک معزز طبقہ شمار ہوتے رہے ہےں ،لیکن اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ علماءکرام اپنا مقام تیزی سے کھورہے ہیں۔ایک وقت وہ تھا جب مولوی ،مولانا اور علامہ جیسے الفاظ باعث ِ عزت سمجھے جاتے تھے ،اور کسی شخص کے نام کے ساتھ ان القابات کا لکھا جانا اس کے علمی اور سماجی قد کاٹھ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مولانا ظفر علی خان، مو لانا الطاف حسین حالی،بابائے اردومولوی عبد الحق اور تحریک ِ خلافت کے روح ِ رواں علی برادران سمیت بیسیوں اہل ِ علم کے ناموں کے ساتھ ان القابات کا بولا جانا ان الفاظ کی حرمت و تقدس کی دلیل ہے، لیکن اب یہ الفاظ اپنی قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ مدارس ِ دینیہ کے فضلاءبھی اب مولوی کہلوانا پسند نہیں کرتے ۔یہ بات بھی کم تشویشناک نہیں کہ سوسائٹی کے مقتدر طبقات مسجد ، مدرسے اور دین سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار تو ضرور کرتے ہیں اور دینی مقاصد کے لئے رقم بھی خرچ کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کودین کی راہ میں دینے سے ہچکچاتے ہیں ۔ اس وقت دینی مدارس میں پڑھنے والے زیادہ تر طلبہ کا تعلق ایسے غریب گھرانوں سے ہے جو ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں یا پھر ایسے خاندانوں سے ہے جو پہلے سے اپنی الگ اور مستقل مذہبی شناخت رکھتے ہیں ۔اس صورت ِ حال میں سیاسی گھرانوں کی طرح مذہبی گھرانوں اور ایسے سجادہ نشینوں کا طبقہ وجود میں آچکا ہے جن کا مقصد مذہب کے نام پر عوام الناس کا استیصال ہے ، کسی ذاتی صلاحیت کی بجائے محراب ومنبر کا وراثت میں منتقل ہونا اور ایک ہی خانقاہ پر سجادہ نشینوں کی فوج ظفر موج کا معرضِ وجودمیں آناایک ایسی خوف ناک حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔یہ ایک بڑی وجہ ہے جس نے دینی قیادت کو بے توقیر کرکے رکھ دیا ہے۔ بقو ل اقبال
میراث میں آئی ہے انھیں مسند ِ ارشاد
زاغوں کے تصرّف میں عقابوں کے نشیمن
دعوت ِ دین کو خاندانی پیشے اور کاروبار کے طور پر اختیار کرنے کا نتیجہ اور ردِ عمل بھی عوامی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ حق پرست علماءکرام کو بھی”کاروباری“ سمجھنے لگا ہے۔
علما ءکرام اور داعیان ِ اسلام کا وہ طبقہ جنہوں نے اس میدان کو ایک مشن کے طور پر اختیار کیا ہے ان کے مسائل البتہ دوسرے ہیں۔ اپنی نیک نیتی اور اخلاص کے باوجود ایسے علماءکا دائرہ اثر بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے ۔ اس صورت ِ حال کے اسباب بالکل ظاہر ہیں ، ہماری رائے میں اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اس وقت عمومی طور پر اسلام کی جو تبلیغ ہو رہی ہے اس کے غالب حصے کا تعلق شمائل و فضائل اور ہمارے مرنے کے بعد کے معاملات سے ہے ، جس سے یہ تاثر بن رہا ہے کہ دین محض جینے مرنے کے چند رسوم و آداب پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے اور بس،ہماری دنیوی زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علما ءکرام کو عام طور پر صرف مرحومین کو بخشوانے کے لئے ہی زحمت دی جاتی ہے ۔ہمارے خیال میں اس کا دوسرا سبب قرآن و سنّت کا تقلیدی مطالعہ ہے ، سنجیدہ فکر علماءکرام بھی اکابر کی فقہی آراءاور کلامی تعبیرات کو عملاً منزل من اللہ کے درجے میں ہی شمار کرتے ہیں اوربراہ ِ راست قرآن و سنّت کا مطالعہ کرنے کی بجائے اکابرین کی اجتہادی آراءکی روشنی میں قرآن و سنّت کا مطالعہ کرتے ہیں۔علماءکرام کا یہ انداز ِ فکر اس وجہ سے قابل ِ اصلاح ہے کیونکہ قرآن و سنّت پر براہ ِ راست اور تواتر کے ساتھ غوروفکر کے نتیجے میں جو بصیرت پیدا ہوتی ہے انسان اس سے محروم ہو جاتا ہے۔
ہماری رائے میں علماءکرام کی اثرپذیری میں کمی کا سبب یہ بھی ہے کہ اسلام کا بہت گہرا اور برا ہ ِ راست تعلق ہماری معاشی ،سیاسی،معاشرتی اور اخلاقی زندگی سے ہے ،لیکن علماءکرام کی ایک بڑی تعداد جیتے جاگتے اور معاشرے کے زندہ موضوعات(Current issues) پر عصری تناظر پر گفتگو کرنے سے قاصر ہے ۔ ہماری رائے میں اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس وقت جدید تعلیمی اداروں سے جو نسل تیار ہوکر نکل رہی ہے ان کی سوشل سائنسز پر تو نظر ہے لیکن ان کا دینی علم انتہائی کمزور ہے اور دوسری طرف جو نسل روایتی دینی اداروں سے فارغ التحصیل ہو رہی ہیں ان کا حالات حاضرہ ،جدید معاشی ،سیاسی اور عمرانی علوم سے تعارف نہ ہونے کے برابر ہے،عالمی قانون ،عرف،رسم ورواج اور مغربی فکر وفلسفہ توان کے لئے قطعاً اجنبی چیزیں ہیں ۔ ملک میں پڑھے لکھے طبقے کی دو مستقل جماعتیں قائم ہوگئیں ہیں،ایک طبقہ دوسرے پر فسق والحاد اور بے دینی کا الزام عائد کرتاہے، تو دوسرا اس پرتاریک خیالی اور زمانے سے ناواقفیت کی پھبتیاں کستا ہے۔مسڑاور ملا کے طنزیہ ناموں سے قائم ان طبقوں میں کشمکش مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس ِ دینیہ کے نظام و نصاب میں کسی خارجی دباوکے بغیر از خود ایسی تبدیلیوں کو بروئے کا ر لایا جائے جس کے نتیجے میں علماءکرام کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو جو عصری موضوعات پر علمی انداز میں گفتگو کرسکے ۔ انسانیت نوازی، وسعت علمی اور ذاتی کردار ہی علماءکرام کی عزت و وقار اور معاشرتی کردار کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
۲۔ علمی تراث سے واقفیت :
قوموں کے عروج و زوال میں علم اور اخلاق کا کردار بنیادی نوعیت کا رہا ہے ۔اسلام میں پہلی وحی کا آغاز ہی ”اِقرَا“ سے ہوا ۔مسلمانوں کے عروج میں ان کے اخلاق و کردار کے ساتھ علم و تحقیق سے ان کی والہانہ محبت نے اہم کردار ادا کیا ،اور پھر تحقیق و جستجو کے میدان میں تنزلی نے ہی ان کے عروج کو زوال آشنا کیا ۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور کی متمدن تہذیبوں سے بھر پور استفادہ کیا اور ان علوم کا اس انداز میں ”تزکیہ“ کیا کہ مسلمانوں کے ایجاد کردہ علوم و فنون پوری انسانیت کی اجتماعی ترقی کی بنیاد بن گئے ۔ مسلمانوں کی تحقیقات کے نتیجے میں مشرق و مغرب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا،اقوامِ ِ عالم بالخصوص مغرب نے علمی میدان میں مسلمانوں سے خوب اخذ و استفادہ کیا ۔ ہلاکو خان کے حملہ بغداد ۱۲۵۸ء تک مسلم فکر میں زبردست ارتقاءنظر آتاہے ۔بغداد کی تباہی سے نہ صرف مسلمانوں کی صدیوں کی علمی ترقی اور ذہنی ریاضت دریا برد ہوگئی بلکہ کئی نامور علماءبھی تاتاری تلوار کی نذرہوگئے ،اور ۱۴۹۲ء میں سقوط غرناطہ کے بعد مسلم فکر کے تقریباً تمام علمی سر چشمے خشک ہوگئے۔ مسلمان علمی میدان میں اجتہاد کے بجائے تقلید کا شکار ہو گئے اور علمی روایت آہستہ آہستہ مکمل طورپر مغر ب کی طرف منتقل ہوگئی۔ اگر چہ ان دو بڑے حادثات کے بعد بھی مسلمانوں کو سیاسی عروج حاصل رہا،لیکن فکری اور علمی اعتبار سے یہی مسلمانوں کادورِ انحطاط ہے۔
درس نظامی کے روایتی نصاب پر ایک نظر ڈالنے سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مدارس ِ دینیہ کے نصاب میں شامل اکثر کتب اور علوم وفنون اسی دور زوال کی یاد گار ہیںجب مسلمانوں کا علمی انحطاط شروع ہوچکاتھا اور مسلم فکر پر جمود کے سائے پڑنا شروع ہوگئے تھے ۔جب کہنے کو کچھ باقی نہ رہا تو غیر منقوط کتب نویسی ہی کمال ِ فن قرار پایا، نئے علوم وفنون اور زندہ موضوعات پر غور وفکر کی بجائے ایسی کتابیں منصہ شہود پر آنے لگیں ،جن میں اختصار نویسی ، لفظی بحثوں اور لفظی موشگافیوں کو ہی کمال فن سمجھا جانے لگا۔بڑا کمال یہی سمجھا گیا کہ عبارت ایسی دقیق اور غامض ہو جس کے لئے شرح وحاشیہ کی ضرورت ہو ، لطیفہ یہ ہے کہ بعض اصحاب ِ علم نے ذہنی عیاشی کی خاطر انتہائی مختصر کتب تصنیف کیں ۔اور پھر خود ہی ان پر طویل حواشی لکھنے بیٹھ گئے، اور اب ہمارے مدرسین اپنی عمر عزیز کا زیادہ حصہ انہی دقیق عبارتوں کے سمجھنے اور سمجھانے میں گزار دیتے ہیں۔مصنف کی مراد ،ضمائر کے امکانی مراجع اور عبارت کی اعرابی حالتوں کے ایسے خیالی پلاﺅ پکائے جاتے ہیں کہ بسااوقات ایسی بحثوں میں کئی کئی ہفتے گزر جاتے ہیں اور نتیجہ پھر بھی غیر حتمی ہی رہتاہے۔گویا فن میں مہارت کے بجائے کتاب کی تفہیم حقیقی مقصد بن کر رہ گئی ہے ۔ علم و تحقیق میں زوال کے ساتھ ہی ہماری علمی روایت اور علمی میراث بھی مغرب کی طرف منتقل ہو گئی ۔بقول علامہ اقبال وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباءکی دیکھا ان کو جو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سہ پارہ
عام طور پر درس نظامی کی تکمیل پر فرض کرلیا جاتا ہے کہ علم کی تکمیل ہو گئی ہے ،حالانکہ حقیقت صرف اس قدر ہے کہ درسیات کی تکمیل سے انسان صرف ایک سچا طالب علم بننے کی صلاحیت حاصل کرپاتا ہے۔
علماءکرام کو اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ علم کے جدید وسائل اور ذرائع نے نئی نسل کو بہت باخبر بنا دیا ہے ،جدید عمرانی علوم میں گہری بصیرت کے بغیر اسلا م کی عصری احوال و ظروف میں تبلیغ ممکن نہیں ہے۔طبقہ علماءمیں موجود”العوام کالا نعام “ کے دقیانوسی تصور کو اب تبدیل کر لینا چاہیے۔ علماءکرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی اختلاف ِ رائے کے باوجود متقدمین کے ساتھ ساتھ دور ِ جدید کے نامور علماءاور شخصیات کی فکر کا مطالعہ کریں اور ان کی اہم کتب پڑھ ڈالیں ،نیز مختلف موضوعات مثلاً سوشل سائنسز پر منتخب کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے ۔اس چیلنج سے نبرد آزما ءہونے کے لئےمطالعہ کی کمی،مخصوص ذہنیت کے ساتھ مطالعہ کا ذوق،متشددانہ رویے ، جذباتیت ،سطحیت جیسی منفی اپروچ کی اصلاح ضروری ہے۔
۳۔ معاشی مسائل :
دنیا میں ایساکوئی مذہب اور نظریہ کامیاب نہیں ہو سکتا جو روح اور بدن میں سے ایک کو ابھارے اور دوسرے کو کچل دے۔ عیسائیت ، ہندو مت ، بدھ مت، اور دیگر مذاہب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ انہوں نے ترک دنیا اور رہبانیت کے تیشے سے انسانی جسم کو صرف اس لیے گھائل کر دیا ہے تاکہ انسانی روح کو بیدار کیا جا سکے۔ لیکن اس غیر طبعی تعلیم اور جان سوزی کے نتیجے میں روح کی شمع بھی گل ہو کر رہ گئی۔ اہل کلیسا نے خانقاہوں میں بسیرا کر لیا، ہندووں او ر بدھوں نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔مذاہب عالم میں ا سلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے روح اور جسم ددنوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھا، اور انسان کے پیٹ کے مسائل کو ایک معاشی مسئلے کے طور پر موضوع بنایا ۔مذاہب ِ عالم میں اسلام یہ منفرد سوچ رکھتا ہے کہ اس نے خالصتاً روحانی غلطیوں پر بھی مالی جرمانے کی سزا عائد کی ہے، تاکہ ضرورت مندوں کی داد رسی کے ذریعے خدا کی مرضی حاصل کی جا سکے ۔حکم ہے کہ اگر رمضان کا روزہ ٹوٹ جائے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔قسم ٹوٹنے کی صورت میں تین مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔اپنی بیوی سے ظِہار کی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔حتی کہ قتل جیسے سنگین معاملے میں مقتول کے ورثاءضرورت مند ہوں تو وہ دیت پر صلح کر سکتے ہیں ۔ دیت پر صلح کے امکان کو تسلیم کیا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے انسان کے معاشی مسائل کے حل کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک پہلو سے اس کو دین اور ایمان کی مضبوطی کے لےے اساس قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان معاشی مسئلے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے:
کَادَ الفَقرُ اَن یَّکُونَ کُفراً۔ (11) قریب ہے کہ تنگدستی انسان کو کفر تک پہنچا دے۔
اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ داعیان ِ اسلام کو ایک طرف تو یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ دین کی دعوت کا کام ایک مشن کے طور پر کریں اور دوسری طرف ضروریاتِ زندگی سے بھی صرف ِ نظر ممکن نہیں ہے ۔تاریخ کے مختلف ادوار میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلم معاشروں میں دین کی دعوت و تبلیغ کو عوامی سر پرستی کے ساتھ ریاست کی معاونت بھی حاصل رہی ہے ،لیکن اب کم ازکم برصغیر کی حد تک ریاست علماءکرام کی معاشی ضروریات کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ ان حالات میں مدارس کے مہتمم حضرات سے ہی یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ حالات ِ حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے نصاب ِ تعلیم میں شعوری طور پر ایسی تبدیلیاں بروئے کار لائیں جو باعزت روز گار کی ضمانت بن سکیں ۔آج مارکیٹنگ کا دور ہے اس دور میں علماءکرام کے لئے ایسی ورکشاپس کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، جو ان کے لئے درست میدانِ عمل (ملازمت ،تدریس، خطابت ، کاروبار ، وغیرہ )کے لئے معاون ہوں۔
مصادرو مراجع
1. النحل ،۱۶/۱۲۵
2. اٰل عمران ،۳/۶۴
3. احمد بن حنبل ؒ،ابو عبداللہ الشیبانی، الامام (م ۲۴۱ھ)
4. ”المسند“ ،حدیث زید بن ثابتؓ،ح:۱۱٠۸،۲۳۸۶ (دار احیاءالتراث العربی،بیروت،۱۹۹۱)
5. ابو داودؒ ،سلیمان بن الاشعث بن اسحاق السجستانی (م ۲۷۵ھ)، ” سنن ِابی داود“،کتاب الطلاق،باب من احق بالولد،ح:۲۲۷۷،ص:۲۳٠ (دارالسلام للنشر والتوزیع ،الریاض،۱۹۹۱ء)
6. سرخسی ،ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل ،(م ۴۹٠ھ) ، ”المبسوط “ کتاب الصلوٰة ،۱/۳۷،(دار المعرفة ،بیروت ،۱۹۷۸ء)
7. حمید اللہ ،ڈاکٹر ،(م ۲۰۰۲ء) ، ”صحیفہ ہمام بن منبہ“ ، ص ۱۹۳،(ناشر رشید اللہ یعقوب ،کلفٹن ،کراچی ،۱۹۹۸ء)
8. ابن سعد ،ابو عبد اللہ محمد،(م ۴۵۶ھ)، ”الطبقات الکبری “ذکر بعثة رسول اللّٰہ ﷺ الرسل بکتبہ الی الملوک ، ۱/۲۵۸،(دار صادر ،بیروت،۱۹۸۵ء)
9. ”المسند“ ،حدیث عبداللہ ابن ِ مسعودؓ،ح:۳۷۵۲،۶۵۴۱)
10. ”الطبقات الکبری “،وفد تمیم،۱۴۲۱
11. ”الطبقات الکبری “،ذکر نقش خاتم ِ رسول اللہ ﷺ،۲۳۲۱
12. خطیب التبریزی، مشکوة المصابیح ،رقم الحدیث ۴۹۷۹
قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
سورۃ یوسف کے آخر میں اللہ تعالی ٰ نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں ماضی کی قوموں کے واقعات کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ارباب فہم و دانش کے لیے سبق اور عبرت کا ذریعہ بنیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق اور وضاحت کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ماضی کی دو قوموں کا تذکرہ موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنے اور عبرت پکڑنے کا موقع ملے، آمین یا رب العالمین۔
سورۃ الاعراف کی آیت ۱۳۰ تا ۱۳۷ میں آل فرعون کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرمان الٰہی ہے کہ ہم نے پہلے انہیں قحط سالی اور اموال و پیداوار میں کمی کر کے تنبیہ کی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ مگر ان کا مزاج و نفسیات یہ تھیں کہ اگر انہیں کوئی حسنۃ یعنی اچھی چیز یا بات ملتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہے، لیکن اگر سیئۃ یعنی تکلیف اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اسے حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں سے منسوب کر دیتے کہ یہ ان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان کی اس کیفیت کا ذکر کر کے اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ان کی برکت و نحوست سب اللہ تعالٰی کے کنٹرول میں ہے مگر اکثر لوگ اس کو سمجھتے اور جانتے نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ انہوں نے حضرت موسٰیؑ سے یہ کہا کہ تم ہمارے سامنے جتنی مرضی نشانیاں پیش کر دو اور ان کے ذریعے ہم پر جادو کر دو (نعوذ باللہ) ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ ان کے اس دوٹوک انکار کے بعد ہم نے (۱) طوفان (۲) ٹڈیاں (۳) جوئیں (۴) مینڈک اور (۵) خون اپنی قدرت کی کھلی نشانیوں کے طور پر مسلط کر دیں۔ مگر پھر بھی وہ اپنے تکبر پر قائم رہے اور وہ مجرم قوم ہی بنے رہے۔ لیکن جب ان پر عذاب واقع ہو گیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے رب سے وہ دعا کریں جس کا آپ کے رب نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر آپ یہ عذاب ہم سے ہٹوا دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کی قوم بنی اسرائیل کو آزادی بھی دے دیں گے۔ لیکن جب ہم نے ان سے ایک مقررہ وقت تک کے لیے عذاب ہٹا دیا تو وہ اپنے وعدہ سے پھر گئے اور عہد توڑ دیا۔ پھر ہم نے ان سے اس کا انتقام لیا اور انہیں سمندر کی موجوں میں غرق کر کے ان لوگوں کو زمین کا وارث بنا دیا جو اس سے پہلے کمزور سمجھے جاتے تھے اور غلام بنا لیے گئے تھے۔ اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان کے صبر کا بہتر صلہ دیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بھی تیاریاں کر رکھی تھیں سب کو غارت کر دیا۔
یہ سورۃ الاعراف کی چند آیات کا مفہوم ہم نے عام فہم انداز میں عرض کیا ہے، اس سے قوموں کے طرزعمل، نفسیات اور ان کی سرکشی و بغاوت کی صورت میں اللہ تعالٰی کے قانون اور سنت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے اور ان سے سبق اور عبرت پکڑی جا سکتی ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل آیت ۷۷ میں قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے یہ بھی وضاحت کے ساتھ فرما دیا ہے کہ تم اللہ تعالٰی کی سنت و قانون میں تبدیلی دیکھو گے اور (تحویل) لچک بھی کبھی نہیں پاؤ گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک اللہ تعالٰی کا ضابطہ یہی ہے کہ قوموں کی سرکشی، بغاوت، ظلم اور نا انصافیوں پر پہلے تنبیہ کرتے ہیں مگر جب اس تنبیہ اور سرزنش سے ان کا رویہ تبدیل نہیں ہوتا تو پھر اس سے زیادہ سخت عذاب سے دوچار کر دیتے ہیں جو دائمی ہوتا ہے اور پھر توبہ اور واپسی کے سب دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح اللہ رب العزت نے سورۃ یونس آیت ۹۸ میں ماضی کی متعدد اقوام کی سرکشی اور ان پر نازل ہونے والی تنبیہات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایک قوم کے سوا ساری سرکش قومیں اپنی سرکشی پر قائم رہیں اور عذاب کا شکار ہوئیں۔ البتہ ایک قوم جو بچ گئی جو حضرت یونس علیہ السلام کی قوم تھی جو موصل کے علاوہ نینوا میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس قوم پر جب عذاب کے آثار نمودار ہوئے تو وہ سب کے سب اللہ تعالٰی کے حضور جھک گئے اور توبہ و استغفار کر کے حضرت یونسؑ پر ایمان لے آئے جس پر ان سے وہ وقتی عذاب ٹل گیا، جیسا کہ سورۃ یونس میں فرمان خداوندی ہے کہ ’’ومتعناھم الٰی حین‘‘ ہم نے انہیں ایک وقت تک مہلت دے دی۔
قرآن کریم کے بیان کردہ اس تاریخی پس منظر میں آج پوری دنیا کی عمومی صورتحال کو دیکھا جا سکتا ہے، البتہ امت مسلمہ کی صورتحال کسی حد تک مختلف ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے اللہ تعالٰی کا وعدہ ہے کہ وہ آپؐ کی امت کو مجموعی طور پر پہلی امتوں کی طرح عذاب سے دوچار نہیں کریں گے، لیکن کیا جناب نبی کریمؐ کی دعا اور اس پر اللہ تعالٰی کے وعدے کا مطلب یہ ہے کہ یہ امت ہر قسم کی سزا، عذاب، تنبیہ اور سرزنش سے محفوظ ہو گئی ہے؟ یہ بات توجہ طلب ہے اور اس عمومی مغالطہ سے ہمارا نکلنا ضروری ہے۔ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور اس کی برکت سے امت کو مجموعی طور پر عذاب سے محفوظ رکھنے کا اللہ تعالٰی کی طرف سے وعدہ حدیث مبارکہ میں مذکور ہے، جبکہ مختلف احادیث مبارکہ میں اس امت پر آنے والی مصیبتوں، آزمائشوں اور تنبیہات کا ذکر بھی موجود ہے جن میں سے صرف ایک کا تذکرہ موجودہ صورتحال کا اندازہ کرنے کے لیے شاید کافی ہو۔
مشکٰوۃ المصابیح میں ترمذی شریف کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب: (۱) غنیمت کے مال کو ہاتھوں ہاتھ لوٹا جائے گا (۲) امانت کے مال کو غنیمت سمجھ لیا جائے گا (۳) زکٰوۃ کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے گا (۴) دین کے مقصد سے ہٹ کر تعلیم حاصل کی جائے گی (۵) ایک شخص بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا (۶) دوست کو قریب اور باپ کو دور کر دے گا (۷) مسجدوں میں شوروغل بلند ہونے لگے گا (۸) قبیلہ کا سردار اس کا فاسق شخص ہو گا (۹) قوم کا لیڈر سب سے رذیل آدمی ہو گا (۱۰) کسی شخص کی عزت اس کے شر سے بچنے کے لیے کی جائے گی (۱۱) ناچنے والی عورتیں اور گانے بجانے کے آلات عام ہو جائیں گے (۱۲) شرابیں پی جائیں گی (۱۳) امت کے بعد والے لوگ پہلے لوگوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں گے۔ تو پھر (۱) سرخ آندھی (۲) زلزلوں (۳) زمین میں دھنسائے جانے (۴) شکلیں بدل جانے (۵) اور پتھروں کے برسنے کے انتظار میں رہنا۔ اور پھر ایسی لگاتار نشانیاں سامنے آئیں گی جیسے کسی ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے اور اس کے موتی مسلسل گرنے لگ جائیں۔
اللہ تعالٰی ہمیں ان تنبیہات اور ماضی کے واقعات سے سبق حاصل کرنے اور حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی طرح اجتماعی توبہ و استغفار کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
قادیانیوں کوقومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ایک خبر
کے مطابق حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کا
فیصلہ کیا ہے اور کسی کو ان کا نمائندہ نامزد کیا جارہا ہے۔یہ بات اصولی
طور پر تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا ماضی پر نظر ڈال لیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟
1974ء
میں جب پارلیمنٹ نے دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں
میں شمار کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے
اس بات کا اہتمام بھی کیا تھا کہ ایک قادیانی کو قومی اسمبلی میں اور ایک
کو پنجاب اسمبلی میں رکن منتخب کروایا تھا۔ان کی نمائندگی کے لیے قادیانیوں
نے انکار کر دیا تھاکہ وہ اپنی دستور کی طے کردہ حیثیت کو تسلیم نہیں
کرتے،اس لیے وہ ان کے نمائندے نہیں ہیں۔اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کی
نمائندگی نہ ہونے کی ذمہ داری خود ان کے انکار پر ہےجو اس وقت سے اب تک چلی
آرہی ہے۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ جس دستور کے کسی فورم پر قادیانیوں کو
نمائندگی دی جا رہی ہے،اس دستور کو تو وہ تسلیم نہیں کر رہے تو ان کو کس
اصول کے تحت نمائندگی دی جا رہی ہے؟پہلے قادیانیوں سے تقاضا کیا جائے، ان
کو آمادہ کیا جائے کہ وہ دستوری فیصلے کو، پارلیمنٹ کے فیصلے کو، عدالت
عظمی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں کہ ان کی جو معاشرتی حیثیت ملک
کا دستور طے کر چکا ہے، وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں۔اس کے بعد کسی بھی فورم پر
ان کی نمائندگی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔لیکن دستور سے ان کا
انکار قائم رہے، اور دستوری اداروں میں ان کی نمائندگی حکومت کی طرف سے کی
جائے،یہ کنفیوژن بڑھانے والی بات ہو گی، معاملات کو بگاڑنے والی بات ہو
گیاور مسئلے کو مزید پیچیدگی کی طرف لے جائے گی۔ حکومت پاکستان کو اس
اقدام سے گریز کرنا چاہیے اور ان کو کسی بھی فورم میں نمائندگی سے پہلے ان
کی حیثیت کا ان سے اعلان کروانا چاہیے۔
اگر قادیانی دستور کے مطابق
اور عدالت عظمی کے فیصلے کے مطابق اپنی اقلیتی حیثیت تسلیم کرتے ہیں تو
ہمیں کسی بھی فورم پراس حیثیت سے ان کی نمائندگی سے انکار نہیں ہو گا،لیکن
کنفیوژن کی فضا میں، انکار کی فضا میں، اور گومگو کی فضا میں یہ بات تسلیم
نہیں کی جائے گی اور حکومت کو اس سلسلے میں دینی حلقوں اور عوامی حلقوں کی
مخالفت کا بلکہ ہو سکتا ہے کہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔اس لیے معاملے کو
خراب نہ کریں، معاملے کو صحیح طریقے سے سلجھائیں جو یہ ہے کہ قادیانیوں سے
کہا جائے کہ وہ دستوری اسٹیٹس کو تسلیم کریں اور اس کے بعد ان کو کسی بھی
فورم پرنمائندگی دے دی جائے۔اس کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا، مزید بگڑے گا۔
عقل و نقل کا تعارض اور تاویل کے لیے امام غزالی کا قانون کلی
محمد زاہد صدیق مغل
امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ علیہ) اپنی کتاب "درء تعارض" میں امام غزالی (رحمہ اللہ علیہ) اور امام رازی (رحمہ اللہ علیہ) پر اپنے روایتی جارحانہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہوتے ہیں کہ یہ حضرات آیات قرآنی کی تاویل کے باب میں ایک ایسا عمومی قانون بیان کرگئے ہیں جو زندقہ کا پیش خیمہ اور اہل کتاب کے گمراہ لوگوں جیسا کام ہے۔ اس تحریر کا مقصد امام غزالی کی متعلقہ تحریر اور امام غزالی کے تصور عقل کی روشنی میں یہ دکھانے کی کوشش کرنا ہے کہ یوں لگتا ہے اس معاملے میں علامہ ابن تیمیہ سے دو امور میں سہو نظر ہوگیا ہے: پہلا امام صاحب کی بات کو اس کے خصوصی محل سے ہٹا کر عمومی معنی دے دینا، اور دوسرا امام صاحب کے تصور عقل کو مد نظرنہ رکھنا۔
نفس مسئلہ کا پس منظر
پہلے یہ جاننا لازم ہے کہ جس قانون کلی کی نسبت علامہ ابن تیمیہ امام غزالی کی طرف کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔ امام غزالی کے ایک شاگرد ابوبکر ابن عربی امام صاحب سے بذریعہ خط چند مسائل سے متعلق استفسار کرتے ہیں، اس کے جواب میں امام صاحب نے جو خط ( قریب 12 صفحات پر مشتمل ) لکھا اس تحریر کو "القانون الکلی فی التاویل" کہا جاتا ہے (اس مسودے کو امام صاحب کی زندگی کے بعد "قانون التاویل" کے نام سے چھاپا گیا۔ بعض محققین کے نزدیک اس خط کی نسبت امام صاحب کی طرف مشکوک ہے لیکن کئی محققین کے نزدیک اس کی نسبت درست ہے، فی الوقت اس بحث سے سہو نظر کریں اور دوسری تحقیق کو درست سمجھئے ) ۔ اس خط میں امام غزالی سے چند امور متشابہات سے متعلق سوال کیا جاتا ہے جس کے جواب میں وہ سائل کو کہتے ہیں کہ اس معاملے میں تمہیں ایک قانون کلی بتاؤں گا۔ خط میں امام صاحب سائل کو تین وصیتیں بھی فرماتے ہیں۔ سوالات کی نوعیت کچھ ایسی تھی:
شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے، شیطان آذان کی آواز سن کر بھاگ جاتا ہے، اس قسم کی احادیث کا کیا مفہوم ہے ؟ یہاں شیطان سے مراد پانی (خون) کے اندر پانی کی مانند کوئی شے ہے یا وہ تمام رگوں کے اندر ہوتا ہے؟ کیا شیطان کوئی جسم کی مانند شے ہے؟ انسانی قلب پر شیطان کے وساوس پیدا کرنے کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ کیا حدیث میں مذکور اس قسم کی باتیں ان باتوں کی طرح ہیں جہاں جن یا فرشتے کا کسی زندہ شے کی صورت میں ظاہر ہوجانا مراد ہوتا ہے؟ کیا وحی میں مذکور جن اور شیطان سے متعلق ایسی باتوں کو فلاسفہ کے خیالات کے ساتھ (بطریق تاویل) مطابقت دی جاسکتی ہے ؟ برزخ سے کیا مراد ہے؟ جنت کے زمین و آسمان سے بڑا ہونے سے کیا مراد ہے؟ وغیرہ غیرہ (سوال تقریبا دو صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں اس نوع کے بہت سے سوالات ہیں)۔
خط کا جواب دینے سے قبل امام غزالی پہلے تو سائل کو اس قسم کے معاملات میں نہ الجھنے کی نصیحت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے ایسے سوالات کا جواب دینا نا پسند ہے لیکن چونکہ اس قسم کے سوالات پھر پوچھے جاسکتے ہیں لہذا میں اس معاملے کے لئے ایک قانون کلی بیان کئے دیتا ہوں جو مفید ہوگا۔ پھر نص اور عقل سے متعلق اصولی گفتگو کرنے کے بعد سائل کے چند سوالات کا جواب دیتے ہیں۔
عقل و نقل سے متعلق پانچ رویے، تین وصیتیں اور قانون کلی کی نوعیت
اس پس منظر سے صاف واضح ہے کہ امام صاحب کے پیش نظر امور متشابہات سے متعلق ایک عمومی نوعیت کا کلیہ بیان کرنا تھا جو سائل کے لئے اس نوع کے مسائل میں مفید ثابت ہوسکے۔ امام صاحب بتاتے ہیں کہ سطحی غور و فکر کے بعد بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نقل و عقل میں تصادم ہے اور عقل و نقل کے اس تنازع میں لوگ پانچ رویوں میں منقسم ہوگئے:
- وہ لوگ جو وحی میں منقول ہر بات جوں کے توں مراد ہونے میں مبالغے کا شکار ہیں (مراد شاید حنابلہ تھے، اگرچہ امام صاحب ان کا نام نہیں لیتے )
- وہ لوگ جو عقلی دلائل سے معلوم شدہ امور درست ہونے میں مبالغے کا شکار ہیں (مراد شاید فلاسفہ تھے)
- ان کے مابین وہ لوگ ہیں جو عقل و نقل میں مطابقت کے قائل ہیں۔ یہ تیسری قسم کے لوگ پھر تین انواع میں تقسیم ہیں:
الف) وہ جو عقل کو اصل اور وحی کو ثانوی قرار دیتے ہیں اور وحی پر زیادہ غور و فکر نہیں کرتے ، یہ ہر اس منقول بات کو رد کردیتے ہیں جس کی عقلی توجیہ ان کے نزدیک مشکل ہو
ب) وہ جو وحی کو اصل اور عقل کو ثانوی قرار دیتے ہیں اور عقلی مقدمات پر زیادہ غور و فکر نہیں کرتے، البتہ یہ لوگ بھی بعض مقامات پر عقلی مقدمات اور نص کے ظاہری معنی میں تصادم کے قائل ہیں
ج) تیسرے وہ جو عقل و نقل دونوں کو علم کی بنیاد سمجھتے ہیں اور دونوں کے مابین تالیف و تلفیق کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں عقل و نقل میں تعارض ممکن نہیں ۔
اس خط میں امام غزالی سائل کو بتانا چاہتے ہیں کہ دراصل یہی ان کا منہج ہے۔ یاد رہے کہ یہ ایک خط ہے جو شاگرد کے جواب میں اس کی اصولی ہدایت کے لئے لکھا گیا اور اس طرح کی تحاریر میں بہت سے امور سائل اور جواب دینے والے کے مابین مفروضے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ بات کہ امام صاحب اسی آخری رویے کو اپنا منہج کہتے ہیں اس کی تصدیق امام صاحب کی کتاب "الاقتصاد فی الاعتقاد" کے ابتدائی جملوں ہی سے ہوجاتی ہے جہاں وہ نفس معاملہ کی پردہ کشائی کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ جن صاحب نظر کو اللہ تعالی نے نور ایمانی اور استعداد قرآنی عطا فرمائی ہے وہ جانتے ہیں کہ شرع اور عقل کے مابین تضاد ممکن نہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ عقل بغیر شرع کسی کام کی نہیں اور شرع عقل کے بغیر اپنا مدعا پورا کرنے سے قاصر ہے (اس کتاب کا یہ مقدمہ اس حوالے سے پڑھنے لائق ہے، اہل ذوق کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے)۔ چنانچہ یہ واضح ہوگیا کہ امام غزالی اس پانچویں رویے ہی کو اپنا مسلک بتاتے ہیں۔
امام غزالی سائل کو ان پانچ رویوں کے مابین اختلاف کی بنیاد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نص میں مذکور کن الفاظ کے ظاہری معنی مراد لینے کے بجائے ان کی تاویل کرنا ہے، اس اختلاف کی وجہ ہر گروہ کا تصور " ناممکن ہے " ، یعنی اس کے نزدیک کیا ممکن ہے، کیا ناممکن ہے اور کیا ممکن اور ناممکن دونوں ہیں (اس خط میں امام غزالی اس بات کی تفصیل بیان نہیں کرتے، اس موضوع کو امام صاحب اپنی کتاب "التفرقۃ بین الاسلام والزندقہ" (اسلام اور زندقہ کے مابین حد فاصل کا اصول) میں موضوع بنا کر یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی پر کفر کا فتوی لگانا کب جائز ہے اور کب نہیں)۔
اس کے بعد امام صاحب سائل کو تین وصیتیں کرتے ہیں:
- ان امور کو مان کر ان کے معنی میں صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ ان کے حقیقی معنی جان سکنا انسانی عقل کے لئے ممکن نہیں (یہ اصحاب تعطیل کے مدمقابل اشاعرہ کا موقف ہے جس کے مطابق ان امور کو اصولا ، یعنی ان کی کیفیت میں الجھے، مان لینا چاہئے)
- عقلی "برہان" (یہ بھی ایک خاص اصطلاح ہے) کو رد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ غلط نہیں ہوتی۔ عقل نقل کی گواہ ہے (یعنی اس کی تصدیق کرنے والی ہے)، نبی جن امور کی خبر دیتا ہے انسان اس کی "تصدیق" عقل کے ذریعے ہی کرتا۔ اگر عقل کو رد کردیا گیا تو نقل بھی رد ہوجائے گی جس کی تصدیق عقل سے کی جاتی ہے۔ یہ اس خط کی وہ بات ہے جسے علامہ ابن تیمیہ نے "قانون کلی" قرار دے کر اپنی تنقید کی بنیاد بنایا ہے
- ایسی آیات کی تاویل میں جب ایک سے زیادہ توجیہات کا امکان ہو تو کسی ایک پر اصرار کرنے سے بچنا چاہئے
امام غزالی کے نظام فکر میں عقل و برہان سے مراد کیا ہے اسے دیکھنے سے قبل ذرا ان تین وصیتوں کی معنویت پر غور کیجئے۔ پہلی وصیت میں امام صاحب سائل کو ان لوگوں کا سا رویہ اختیار کرنے سے روکتے ہیں جنہوں نے ایسے امور کا انکار کردیا ، لہذا صائب رویہ یہ ہے کہ مذکورہ امور کو اصولا مان لینا چاہئے، تیسری وصیت میں ان لوگوں کا سا طرز عمل اختیار کرنے سے منع کیا جو ان امور میں مبالغے سے کام لیتے ہوئے کسی ایک ہی بات کے حق ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور دوسری وصیت میں اس اصولی بات کی نشاندہی کردی کہ نقل کے ظاہری مفہوم اور عقل (برہان) کے مابین "بظاہر " (یہ لفظ اس لئے کہنا ضروری ہے کیونکہ امام غزالی کے نزدیک عقل و نقل میں حقیقی تضاد ممکن نہیں ہے جیسا کہ "الاقتصاد" اور خط کے پانچویں رویے میں درج بیانات سے واضح ہے) تصادم کے وقت یہ لازمی نہیں ہوتا کہ نص کی تاویل کرنا باطل ہے بلکہ ایسا کرنا حق ہے ۔ یوں انہوں نے اشاعرہ کے منہج کو بیان کردیا جو "قانون کلی " بن جاتا ہے۔ درج بالا پانچ رویوں اور وصیتوں کے مابین ترتیب پر غور کرنے سے یہ قانون کلی ابھر کر واضح ہوجاتا ہے:
- پانچ رویوں میں سے آخری کو اپنا منہج قرار دینا اس سوال کا جواب ہے کہ کیا عقل و نقل میں حقیقی تعارض ہوتا ہے؟ جواب ہے نہیں
- پہلی وصیت میں اس سوال کا جواب ہے کہ کیا عقلی دلیل کی بنیاد پر ان امور کو رد کردینا چاہئے؟ جواب ہے نہیں بلکہ ان حقائق کو اصولا مان لینا چاہئے
- دوسری وصیت میں اس سوال کا جواب ہے کہ کیا انہیں جوں کاتوں ماننا لازم ہے؟ جواب ہے نہیں کیونکہ اس سے عقلی استحالات لازم آجاتے ہیں لہذا الفاظ کو ظاہری معنی سے ہٹا کر ان کی تاویل کرنا لازم ہے
- تیسرے میں اس سوال کا جواب ہے کہ کیا ان امور میں ایک ہی تاویل درست ہواکرتی ہے؟ جواب ہے نہیں۔
یہ دراصل سائل کے بیان کردہ امور متشابہ کے بارے میں اشاعرہ کی پوزیشن کا خلاصہ ہے جو امام غزالی کے نزدیک قانون کلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ سائل کے سوالات اور جواب کے تناظر میں امام صاحب کی یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کا دائرہ کار کیا ہے اور کیا نہیں۔
عقل و برہان کا معنی اور قانون کلی
اب تک کی گفتگو سے یہ واضح ہوگیا کہ "قانون کلی" کا تعلق ان امور سے ہے جنہیں "متشابہات" کہا جاتا ہے نیز اس کا اطلاق تب ہوگا جب نص کے ظاہری مفہوم کے خلاف "قطعی عقلی دلیل" موجود ہو۔ اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ امام غزالی جب یہ کہتے ہیں کہ "اگر عقل کو رد کردیا جائے تو نقل کی بھی تردید ہوگی" تو اس بات میں عقل سے ان کی مراد کیاہے۔ اس خط میں امام غزالی اس کی تفصیل بیان نہیں کرتے البتہ امام صاحب کی دیگر کتب میں عقل پر جو گفتگو موجود ہے اس سے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ اس قانون کلی کا دائرہ کار ان کے نزدیک کیا ہے اور کیانہیں ۔ امام غزالی کے تصور عقل پر دو جہات سے گفتگو ممکن ہے ، ایک خالصتا ریشنلسٹ نظام فکر کے اندر رہتے ہوئے اور دوسری اسلامی نظام فکر کی رو سے۔ اس تحریر میں اس تفصیل سے سہو نظر کرتے ہوئے صرف اس پہلو کا خلاصہ پیش کیاجاتا ہے جو زیر بحث مسئلےسے متعلق ہے۔ چنانچہ اس بحث میں امام غزالی کے تصور عقل سے متعلق چار امور قابل غور ہیں :
- عقل نقل کی تصدیق کرتی ہے: "المستصفی" (اصول فقہ پر امام صاحب کی کتاب) کے مقدمے میں امام غزالی عقل کے ذریعے نقل کی تصدیق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کی ابتداء ہی امام غزالی یہاں سے کرتے ہیں کہ عقل ایسا قاضی اور حاکم ہے جسے اس عہدے سے معزول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قاضی کیا کرتاہے؟ اس کا پہلا کام خدا اور نبی کی تصدیق کرنے کے دلائل فراہم کرنا ہے۔ چنانچہ امام صاحب اس کتاب کے مقدمے میں ان دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن سے ان کے خیال میں عقل خدا کے وجود اور نبی کی صداقت پر مطمئن ہوسکتی ہے۔
- عقل نبی کی تعلیمات کی پیروی کرتی ہے: جب ایک مرتبہ عقل نبی کی تصدیق کرلیتی ہے تو اپنے اس عہدے سے معزول ہوجاتی ہے اور خدا، آخرت، حشر و نشر، خیر و شر وغیرہ سے متعلق نبی جو کچھ کہتا ہے عقل اس کی پیروی کرتی ہے کیونکہ عقل کے پاس انہیں جان سکنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں (جب عقل نبی کی تصدیق کرچکتی ہے تو اس کے بعد امام غزالی کے الفاظ کچھ یوں ہیں: عند ھذا ینقطع کلام المتکلم وینتھی تصرف العقل بل العقل یدل علی صدق النبی ثم یعزل نفسہ ویعترف بانہ یتلقی من النبی بالقبول ما یقول فی اللہ والیوم الآخر ولایقضی باستحالتہ)۔ یہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہئے کہ حسن و قبح کے معاملے میں امام غزالی اشعری ہیں اور اہل علم جانتے ہیں کہ معاملات شرع میں صرف یہی ایک بات حاکمیت عقل کے دائرے کو کس قدر محدود کردینے والی ہے۔
- علم قطعی کا انکار لازم نہ آنے پر نص کی تاویل نہیں کی جائے گی: اسی مقدمے میں امام صاحب "علم ضروری" پر بھی گفتگو کرتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ عقل چند تصورات اور معلومات کے بدیہی ہونے کا حکم لگاتی ہے اور ان کی نفی نہیں کرسکتی۔ اس مسئلے پر کچھ گفتگو اپنی تحریر "امام غزالی، سلسلہ اسباب اور امکان معجزہ" کی بحث میں کرنے کا ارادہ ہے(یہ ان شاء اللہ عنقریب چھپ کر آجائے گی)۔ خلاصہ یہ کہ علم ضروری سے مراد وہ لازمی عقلی مقدمات ہیں جنہیں رد کرنا عقل کے لئے ممکن نہیں ، اگر عقل کے ان مقدمات (جنہیں امام صاحب "برہان" کہتے ہیں) کی نفی کردی جائے تو وحی کی تصدیق بھی ناممکن ہوجائے گی۔ امام غزالی ریشنلسٹ پیراڈئیم کے اندر رہتے ہوئے عقل کے دائرہ کار پر گفتگو کرتے ہیں، یعنی وہ کم از کم مقدمات (necessary knowledge) جن پر شک ممکن نہ ہو مثلا جمع بین الضدین ، دو کا ایک سے بڑا ہونا وغیرہ(اس necessary knowledge کی قطیعت کاانکار علامہ ابن تیمیہ بھی نہیں کرتے)۔ المستصفی کے مقدمے میں امام صاحب ان میں سے دو کا ذکر کرتے ہیں: ایک law of identity اور دوسرا laws of implications ۔ یہ بات کہ امام غزالی عقل و نقل میں تعارض کی بحث میں عقل سے یہی بات مراد لیتے ہیں، یہ بات تہافت الفلاسفہ کے سترہویں باب میں سلسلہ اسباب کی روشنی میں فلاسفہ پر ان کی طرف سے کی جانے والی تنقید سے واضح ہوجاتی ہے جہاں وہ نصوص میں بیان شدہ معجزات کو جوں کےتوں ماننے پر اسی بنا پر اصرار کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی "برہان" (قطعی دلیل) موجود نہیں۔ اسی طرح امام غزالی نے فلاسفہ پر جن تین وجوہ کی بنا پر زندقہ و تکفیر کا فتوی جاری کیا ان میں سے ایک یہ تھی کہ یہ لوگ قیامت والے روز اجسام کے دوبارہ اٹھا لئے جانے کا انکار کرتے ہیں جبکہ یہ سب کچھ نصوں میں صراحتا مذکور ہے اور اس پر اجماع ہے۔ اسی ضمن میں وہ یہ اہم بات بھی بتاتے ہیں کہ کس بات کا اثبات انسانی عقل کے لئے معجزتا بھی ناممکن ہے (جس کا خلاصہ یہ ہے کہ معجزہ محال عقلی کے اثبات کا نہیں بلکہ خلاف عادت واقع اور خبر کی تصدیق کا نام ہے)۔ ان دو باتوں کا معنی کیا ہے؟ یہ کہ نص میں مذکور ایسی بات کی تصدیق کی جائے گی جس کے خلاف "برہان" (indubitable evidence) موجود نہ ہو، یعنی جو "علم ضروری" سے نہ ٹکراتی ہو۔
- علم قطعی سے ٹکراؤ کی صورت میں نص کی تاویل کی جائے گی: اگر نص کا ظاہری مفہوم قطعیات عقلیہ سے ٹکراتا ہوا محسوس ہو تو اس صورت میں نص کی تاویل کی جائے گی، بصورت دیگر "عقل" (قطعیات و بدیہیات) کا انکارلازم آئے گا اور اگر قطعیات عقل ہی کا انکار کردیا گیا تو پھر نص کی کسی بھی بات کی تصدیق نہ ہوسکے گی کیونکہ عقل انہی قطعیات کی روشنی میں سفر طے کرکے نقل کی تصدیق کرنے لائق ہوتی ہے۔ عقل و نقل میں ایسے تعارض کے امکان نیز اس صورت میں یقینی عقلی استدلال کو نص کے ظنی معنی پر ترجیح دینے کے علامہ ابن تیمیہ بھی قائل ہیں جو اسی قانون کلی کو دوسرے طریقے سے بیان کرنے کا انداز ہے۔ علامہ ابن تیمیہ "درء تعارض" میں کہتے ہیں کہ نفس مسئلہ کو عقل و نقل کے مابین تعارض کے زاویہ نگاہ سے دیکھنا درست نہیں ، اس کے بجائے معاملے کو یوں دیکھنا چاہئے کہ عقل و نقل میں سے ہر دو کی دلیل یقینی یا ظنی ہونے کا امکان ہے۔ تو اس اعتبار سے چار صورتیں بنتی ہیں: (1) منقول دلیل یقینی ہو اور عقلی بات بھی یقینی ، علامہ صاحب کے نزدیک ایسا ہوسکنا محال ہے کیونکہ قطعیات نقلیہ اور عقلیہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں اور ان میں تعارض ناممکن ہے، (2) منقول دلیل یقینی ہو اور عقلی ظنی، اس صورت میں یقینی بات یعنی منقول کو ترجیح دی جائے گی، (3) منقول دلیل ظنی ہو اور عقلی دلیل یقینی، اس صورت میں بھی یقینی یعنی عقلی دلیل کو ترجیح دی جائے گی (4) دونوں ظنی ہوں تو پھر توقف کیا جائے گا یہاں تک کہ غور فکر کے نتیجے میں کسی ایک کو اختیار کرنے کی وجہ ترجیح سامنے آجائے۔ چنانچہ علامہ ابن تیمیہ کے نزدیک معاملے کو نص بمقابلہ عقل کے بجائے یقین بمقابلہ ظن کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور فوقیت یقین کی کیفیت کو ظن پر حاصل ہوتی ہے۔
تو یہ قانون کلی سے متعلق امام غزالی کے کلام کا مفہوم ہے، اگر اس میں کوئی سقم رہ گیا تو میری کوتاہ نظری کا نتیجہ ہے اور اگر یہ ان کی مراد کے مطابق ہے تو اللہ کا فضل ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالی روز قیامت اس کے صدقے امام غزالی سے محبت کرنے والوں میں شمار کردے۔ رہ گئی یہ بات کہ اس سب پر علامہ ابن تیمیہ کو اعتراض کیا تھا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ ابن تیمیہ ایک الگ قسم کا مابعد الطبعیاتی، علمیاتی اور لسانیاتی تناظر قائم کرکے اشاعرہ اور اصول فقہ پر تنقید کرتے ہیں جس کا مقصد حنبلی نظام فکر کو عقلی بنیادیں فراہم کرنا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ کے اپنے مخصوص نظام فکر کے اندر رہتے ہوئے ان کی بہت سی تنقیدات بامعنی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر زندگی نے یارانہ کیا تو اس حوالے سے علامہ صاحب کے اعتراض کی اصل بنیادوں اور ان سے جنم لینے والے مسائل کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وما توفیقی الا باللہ۔
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۶)
محمد عمار خان ناصر
قرآن کی روشنی میں احادیث کی توجیہ وتعبیر
قرآن کے ساتھ احادیث کے تعلق کو متعین کرنے کا دوسرا طریقہ جو غامدی صاحب کے علمی منہج میں اختیار کیا گیا ہے، یہ ہے کہ روایات کو ان کے ظاہری مفہوم یا عموم پر محمول کرنے کے بجائے ان کی مراد ان تخصیصات کے ساتھ متعین کی جائے جو انھیں قرآن میں ان کی اصل کے ساتھ متعلق کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اس اصول کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں:
”دوسری چیز یہ ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے۔ دین میں قرآن کا جو مقام ہے، وہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیثیت نبوت ورسالت میں جو کچھ کیا، اس کی تاریخ کا حتمی اور قطعی ماخذ بھی قرآن ہی ہے۔ لہٰذا حدیث کے بیش تر مضامین کا تعلق اس سے وہی ہے جو کسی چیزکی فرع کا اس کی اصل سے اور شرح کا متن سے ہوتا ہے۔ اصل اور متن کو دیکھے بغیر اس کی شرح اور فرع کو سمجھنا، ظاہر ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ حدیث کو سمجھنے میں جو غلطیاں اب تک ہوئی ہیں، ان کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے۔ عہد رسالت میں رجم کے واقعات، کعب بن اشرف کا قتل، عذاب قبر اور شفاعت کی روایتیں، ’امرت ان اقاتل الناس‘ اور ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘ جیسے احکام اسی لیے الجھنوں کا باعث بن گئے کہ انھیں قرآن میں ان کی اصل سے متعلق کر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ حدیث کے فہم میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائے تو اس کی بیش تر الجھنیں بالکل صاف ہو جاتی ہیں۔“ (میزان، ص 64)
اس اصول کی روشنی میں غامدی صاحب نے بہت سی احادیث کی توجیہ وتعبیر مستقل بالذات احکام کے طور پر کرنے کے بجائے قرآن مجید کی روشنی میں کی ہے اور نتیجتاً انھیں ظاہری اطلاق اور عموم پر محمول کرنے کے بجائے ان کا ایک مخصوص اور محدود دائرہ اطلاق متعین کیا ہے جو قرآن میں ان کی اصل سے ہم آہنگ ہے۔ مذکورہ اقتباس میں انھوں نے اس کی چند مثالوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جبکہ بہت سی دوسری احادیث کی تعبیر بھی غامدی صاحب نے اسی اصول کے تحت کی ہے جن کا ایک مختصر جائزہ پیش کرنا ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے مناسب ہوگا۔
۱۔ احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، قیامت کے دن اپنے امتیوں کے حق میں شفاعت کرنے کا ذکر کثرت سے ہوا ہے۔ غامدی صاحب اس کو قرآن مجید کی متعدد آیا ت کی روشنی میں، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو، گناہ کے بعد توبہ کرنے والوں کے حق میں استغفار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے (النساء۶۴:۴، المنافقون ۵:۶۳) اس شرط کے ساتھ مشروط کرتے ہیں کہ ”بندے کی طرف سے توبہ واستغفار کے بغیر اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔“ (میزان، ص ۱۵٠) نیز یہ کہ سورة النساءکی آیت ۱۸-۱۷ کی رو سے اللہ تعالیٰ پر صرف انھی لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا حق قائم ہوتا ہے جو گناہ کے بعد فوراً نادم ہو کر توبہ کی طرف لپکتے ہیں، جبکہ جو لوگ زندگی بھر گناہوں میں ڈوبے رہتے ہیں اور صرف موت کے وقت انھیں توبہ یاد آتی ہے، ان کی توبہ کا اللہ کے نزدیک کوئی اعتبار نہیں۔ غامدی صاحب اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جو لوگ گناہ کے بعد فوراً توبہ تو نہیں کرتے، لیکن اتنی دیر بھی نہیں کرتے کہ موت کا وقت آپہنچے، ”یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں شفاعت کی توقع ہو سکتی ہے۔“ (میزان، ص ۱۵۱) غامدی صاحب کے نزدیک، قرآن مجید سے شفاعت کی تحدیدات اور شرائط واضح ہو جانے کے بعد ”اس سلسلہ کی روایتوں کو اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے اور اس سے کوئی چیز متجاوز نظر آئے تو اسے راویوں کے تصرفات سمجھ کر نظرانداز کر دینا چاہیے۔“ (میزان، ص ۱۵۳)
۲۔ متعدد احادیث میں یہ بات نقل ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ، صدقہ اور حج جیسے اعمال کے متعلق یہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنے والد یا والدہ کی معذوری کی حالت میں یا ان کی وفات کے بعد ان کی طرف سے انھیں ادا کرنا چاہے تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا متصور کیے جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب اثبات میں دیا اور فرمایا کہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی پر واجب الادا قرض اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔ فقہاء، بعض جزوی اختلافات کے ساتھ، ان روایات سے ایصال ثواب کا ایک عمومی حکم اخذ کرتے ہیں جس کی رو سے کوئی بھی آدمی اپنے نیک اعمال کا اجر کسی مرنے والے کو ہدیہ بھیج سکتا ہے۔
غامدی صاحب ان احادیث سے ایصال ثواب کا عمومی تصور مستنبط کرنے کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ ان کی تعبیر قرآن مجید کے بیان کردہ اس اصولی ضابطے کی روشنی میں کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ہی ذمہ دار ہے اور اسے اجر بھی اسی عمل کا مل سکتا ہے جس میں اس کی اپنی سعی شامل ہو۔ (النجم ۵۳: ۴۱-۳۸) مزید یہ کہ انسان کے عمل میں جو چیز اسے دراصل اجر کا مستحق بناتی ہے، وہ عمل کی ظاہری صورت نہیں، بلکہ دل کا تقویٰ ہے (الحج ۳۷:۲۲) جو قابل انتقال نہیں ہے۔ اس لیے ”دوسروں کی نیکی یا بدی سے آدمی کو خدا کے ہاں کسی فائدے یا نقصان کے پہنچنے کی ایک ہی شکل باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس کی نیت، ارادے، اور سعی وجہد کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس نیکی یا بدی میں دخل ہو۔“ (مقامات، ص ۲۶۶) غامدی صاحب کے نقطہ نظر کے مطابق، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد کو اپنے والدین کی طرف سے حج کرنے یا روزہ رکھنے کی جو اجازت دی، وہ بھی اسی اصول پر تھی، کیونکہ اولاد درحقیقت والدین ہی کی سعی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کو اعمال خیر کی تعلیم دیتے ہیں، ”چنانچہ وہ اگر نیکی کے کسی کام سے معذور ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ان کے کسی ارادہ خیر کو اولاد پایہ تکمیل تک پہنچا دے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پہنچانا چاہیے، اس لیے کہ یہی سعادت مندی کا تقاضا ہے۔“ (ایضاً، ص ۲۶۷) اس خاص تناظر سے ہٹ کر، غامدی صاحب ایصال ثواب کے نام پر مروجہ تصورات کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ”اس طرح کی تقریبات یقینا بدعت ہیں۔ قرآن وحدیث میں ان کے لیے کوئی بنیاد تلاش نہیں کی جا سکتی۔“ (ایضا، ص ۲۶۸، ۲۶۹)
۳۔ مولانا حمید الدین فراہی کی تحقیق کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سورة القیامۃ کی آیات: اِنَّ عَلَینَا جَمعَہ وَقُراٰنَہ، فَاِذَا قَرَأنٰہُ فَا تَّبِع قُراٰنَہ (۷۶: ۱۷، ۱۸) اور سورة الاعلیٰ کی آیت :سَنُقرِئُکَ فَلاَ تَنسٰٓی (۸۷:۶) میں قرآن مجید کے نزول اور جمع وترتیب سے متعلق ایک پوری اسکیم واضح کی ہے جس میں قرآن کے متن کا نزول، ابتدائی قراءت کے بعد ایک دوسری قراءت اور اس کی روشنی میں متن کی جمع وترتیب نیز تفہیم وتبیین کے مختلف مراحل کا ذکر ہے۔ مستند روایات کے مطابق جبریل علیہ السلام ہر سال رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک نازل شدہ قرآن پڑھ کر سناتے تھے، جبکہ آخری سال انھوں نے دو مرتبہ قرآن پڑھ کر سنایا جسے ”عرضہ اخیرہ کی قراءت“ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد قرآن کی پہلی قراءت منسوخ قرار پائی اور اس دوسری قراءت ہی کو قرآن کے حتمی اور واجب الاتباع متن کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءصحابہ کے سپرد کر دیا۔ (میزان، ص ۲۸، ۳۱)
ان آیات کی روشنی میں غامدی صاحب قراءت کے اختلافات کے حوالے سے اپنا موقف متعین کرتے اور قرآن کے متن کو، ایک سے زیادہ طریقوں پر پڑھنے کا جواز بیان کرنے والی روایات کو قرآن مجید کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرآن مجید کی ایک ہی قراءت تواتر سے ثابت ہے جسے علمائے قراءت اپنی اصطلاح میں ”روایت حفص“ سے تعبیر کرتے ہیں، کیونکہ مغرب کے بعض علاقوں کو چھوڑ کر پوری دنیا میں امت کے سواد اعظم میں قرآن مجید تاریخی اعتبار سے اسی قراءت کے مطابق پڑھا جاتا رہا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک عرضہ اخیرہ کے بعد ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کی قراءت یہی تھی۔ آپ کے بعد خلفائے راشدین اور تمام صحابہ مہاجرین وانصار اسی کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔“ (میزان، ص ۲۸) جہاں تک علم قراءات اور کتب تفسیر میں مذکورہ دیگر قراءتوں کا ذکر ہے تو غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ سورة القیامۃ میں اِنَّ عَلَینَا جَمعَہ وَقُراٰنَہ، فَاِذَا قَرَأنٰہُ فَا تَّبِع قُراٰنَہ کے تحت عرضہ اخیرہ کی قراءت کے بعد سابقہ تمام قراءات منسوخ کر دی گئی تھیں، لیکن اس نص کی طرف توجہ نہ ہو سکنے کے باعث دور اول میں اہل علم قابل اعتماد اخبار آحاد کے ذریعے سے نقل ہونے والی مختلف قراءتوں کو اہمیت دینے پر مجبور ہوئے جو درحقیقت عرضہ اخیرہ سے پہلے کی منسوخ قراءات تھیں۔ اسی سے رفتہ رفتہ قراءات کا ایک مستقل علم وجود میں آ گیا جس سے فقہاءومفسرین کو بھی اعتنا کرنا پڑا۔ غامدی صاحب کی رائے میں اگر یہ حضرات قرآن کی مذکورہ نص کی طرف متوجہ ہوتے تو بآسانی قراءت کے اختلافات کی درست نوعیت متعین کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ جس طرح انھوں نے باقی دینی وشرعی امور سے متعلق اخبار آحاد کو قبول کیا ہے، قراءت کے اختلافات بیان کرنے والی روایات کو بھی قبول کریں۔ (اشراق، جنوری ۲٠۱۵ء، ص ۳۱-۲۷)
غامدی صاحب اس بحث میں ضمنی طور پر قرآن مجید کے نظم سے بھی استدلا ل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ داخلی شواہد کے لحاظ سے بھی ”قرآن کا متن اس کے علاوہ کسی دوسری قراءت کو قبول ہی نہیں کرتا۔“ (میزان، ص ۲۹) چنانچہ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنا نتیجہ تحقیق ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ”معروف اور متواتر قراءت وہی ہے جس پر یہ مصحف ضبط ہوا ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اس قراءت میں قرآن کی ہر آیت اور ہر لفظ کی تاویل لغت عرب، نظم کلام اور شواہد قرآن کی روشنی میں اس طرح ہو جاتی ہے کہ اس میں کسی شک کا احتمال باقی نہیں رہ جاتا۔“ (تدبر قرآن، ۸/۸) مولانا مزید فرماتے ہیں کہ ”میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اس کے سوا کسی دوسری قراءت پر قرآن کی تفسیر کرنا اس کی بلاغت، معنویت اور حکمت کو مجروح کیے بغیر ممکن نہیں۔“ (ایضا، ۸/۸)
۴۔ متعدد احادیث میں حکمرانی کے حق کو خاندان قریش کے ساتھ خاص قرار دیا گیا ہے۔ اس کی روشنی میں ایک طویل عرصے تک جمہور فقہاءکا موقف یہی رہا ہے کہ اسلام میں خلافت کا منصب قریش سے نسبی تعلق رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہے۔ غامدی صاحب اس ہدایت کو قرآن مجید کے ایک عمومی اصول اَمرُھُم شُورٰی بَینَھُم (الجاثیۃ ۵۸ :۴۲)کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد جزیرہ عرب میں حق اقتدار سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں مسلمانوں کے نظم حکومت کی اساس ان کے باہمی مشورے کو قرار دیا ہے جس کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ریاست میں آپ کے بعد اقتدار کا حق اسی گروہ کو حاصل ہو سکتا تھا جسے اہل عرب کا عمومی اعتماد حاصل ہو۔ گویا یہ ایک خاص صورت حال میں قرآن کے بیان کردہ ایک اصول کا انطباق ہے، اس سے مقصود کسی طرح بھی خاندان قریش کے کسی نسبی تفوق یا نسلی ترجیح کا اثبات نہیں ہے۔ (میزان، ص ۴۹۷، ۴۹۸؛ ص ۶۶)
۵۔ بعض احادیث میں نقل کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے لیے ’ناقصات عقل ودین‘ کی تعبیر استعمال فرمائی۔ اس پر خواتین نے اس کی وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ تمھاری گواہی کا آدھا ہونا تمھاری عقل کا، جبکہ ماہواری کے ایام میں نماز نہ پڑھنے کی رخصت تمھارے دین کا نقصان ہے۔ فقہاءنے عموماً اس حدیث کی روشنی میں خواتین کی گواہی کو مردوں کے مقابلے میں ناقص قرار دیا اور بہت سے معاملات میں اسی بنیاد پر اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
غامدی صاحب اس حدیث کو سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۲ کی روشنی میں دیکھتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے قرض کے معاملات میں گواہ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ دو مردوں کا یا اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے۔ جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، غامدی صاحب کے نزدیک اس ہدایت کا مخاطب عدالت نہیں ہے، اس لیے اسے شہادت سے متعلق کوئی قانونی ضابطہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک دو عورتوں کو گواہ مقرر کرنے کا تعلق ہے تو غامدی صاحب اس کی تفہیم معاشرتی وتمدنی حالات کی رعایت سے عورتوں پر مردوں کے مقابلے میں کم تر ذمہ داری عائد کرنے کے تناظر میں کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں ”ہدایت کی گئی ہے کہ یہ بھاری ذمہ داری اسی پر ڈالی جائے جو اس کا تحمل کر سکتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دو فریقوں میں سے ایک فریق کی ناراضی، بلکہ بعض اوقات دشمنی کا خطرہ مول لے کر وہ بات کہنی پڑتی ہے جو فی الواقع طے ہوئی تھی۔ یہ اس زمانے میں بھی اتنا آسان نہیں ہے، کجا یہ کہ قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں کوئی شخص اس کی ہمت کرے۔ قرآن نے اسی بنا پر فرمایا ہے کہ عورتوں کو گواہ بنانا پڑے تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ عورت اگر اس دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکے جو اس طرح کے موقعوں پر لازماً پڑتا ہے اور گواہی دیتے وقت گھبرا جائے تو دوسری عورت اس کا سہارا بن سکے۔“ (ماہنامہ اشراق، جولائی ۲٠۱۷ء، ص ۲۲) اس تفہیم کی روشنی میں غامدی صاحب کے نزدیک مذکورہ حدیث میں ’ناقصات عقل‘ کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کی خلقی کمزوری کے باعث دنیاوی معاملات میں ان پر کم ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور اسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی گواہی سے تعبیر فرمایا ہے۔
۶۔ احادیث میں بنو ہاشم کے لیے زکوٰة لینے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ غامدی صاحب اس ممانعت کو قرآن مجید کے ایک حکم سے متعلق کرتے ہوئے اس کو ابدی شرعی حکم کے بجائے ایک وقتی نوعیت کی ہدایت قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں چونکہ بنوہاشم کے لیے بیت المال کے محاصل کا ایک متعین حصہ مخصوص کر دیا گیا تھا جس سے ان کی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں، اس لیے اس مخصوص حصے کے علاوہ زکوٰة اور صدقات کو عمومی طور پر ان کے لیے ممنوع قرار دیا گیا۔ تاہم چونکہ بعد کے دور میں یہ اہتمام برقرار نہیں رہا، اس لیے عام فقرا اور مساکین کی طرح بنو ہاشم کے ضرورت مند افراد کی کفالت بھی زکوٰة وصدقات سے کی جا سکتی ہے۔ لکھتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے اور اپنے خاندان کے لوگوں کے لیے زکوٰة کے مال میں سے کچھ لینے کی ممانعت فرمائی تو اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ تھی کہ اموال فے میں سے ایک حصہ آپ کی اور آپ کے اعزہ واقربا کی ضرورتوں کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا۔ یہ حصہ بعد میں بھی ایک عرصے تک باقی رہا۔ لیکن اس طرح کا کوئی اہتمام، ظاہر ہے کہ ہمیشہ کے لیے نہ ہو سکتا ہے اور نہ اسے کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بنی ہاشم کے فقرا ومساکین کی ضرورتیں بھی زکوٰة کے اموال سے اب بغیر کسی تردد کے پوری کی جا سکتی ہیں۔“ (میزان ص ۳۵۴، ۳۵۵)
اس ممانعت کی یہی توجیہ فقہاءکی ایک جماعت سے بھی منقول ہے۔ (طحاوی، شرح معانی الآثار، ۲/۱۱؛ نووی، الجموع شرح المہذب، ۶/۲٠؛ ابن القیم، بدائع الفوائد، ص: ۱٠۶۴، ۱٠۶۵؛ المرداوی، الانصاف فی معرفۃ الخلاف، ۳/۵۴)
۷۔ غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ سورہ محمد کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے پر عائد کر دی ہے اور فَاِمَّا مَنًّا بَعدُ وَاِمَّا فِدَآءا کے الفاظ میں یہ حکم دیا ہے کہ ایسے قیدیوں کو فدیہ لے کریا بلا معاوضہ رہا کر دینے کے علاوہ اور کوئی صورت اختیار کرنا درست نہیں ہے۔ (میزان ص ۶٠۲)
تاہم حدیث وسیرت میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کے بجائے قتل کر دیا گیا یا انھیں غلام باندیاں بنا کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ غامدی صاحب ایسے تمام واقعات کی توجیہ قرآن مجید کے مذکورہ حکم کی روشنی میں اور، اپنے فہم کے مطابق، اس کی عائد کردہ پابندی کو برقرار کھتے ہوئے کرتے ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات تو ایسے ہیں جن میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کی حیثیت خصوصی اور استثنائی تھی اور ان پر عمومی حکم کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً جنگ بدر اور احد میں جن قیدیوں کو قتل کیا گیا، وہ معاندین تھے اور اتمام حجت کے خصوصی قانون کے تحت ان کے متعلق اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ انھیں قتل کر دیا جائے۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جنھیں فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ اسی طرح بنو قریظہ کے لوگوں نے اپنے متعلق فیصلے کے لیے جس حکم کو خود مقرر کیا تھا، اسی کے فیصلے کے مطابق ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ بعض واقعات میں جن لونڈی غلاموں کو تقسیم کیا گیا، وہ اس جنگ کے نتیجے میں غلام نہیں بنائے گئے تھے، بلکہ پہلے سے لونڈی غلام تھے اور ان کی اسی سابقہ حیثیت کی بنا پر انھیں مال غنیمت کے طور پر تقسیم کیا گیا تھا۔ (میزان، ص ۶٠۲، ۶٠۳)
مذکورہ واقعات کے علاوہ بعض غزوات میں یقینا قیدیوں کو غلام لونڈی کے طور پر تقسیم کیا گیا، لیکن غامدی صاحب کی رائے میں اس تقسیم کی نوعیت انھیں مستقلاً ان کی ملکیت میں دے دینے کی نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ازخود ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے، قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق، ان سے معاوضہ لے کر یا بلا معاوضہ رہا کر دیں۔ چنانچہ غزوہ بنی المصطلق میں مسلمانوں نے ازخود جبکہ غزوئہ حنین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب اور معاوضے کے وعدے پر اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ (میزان، ص ۴۰۶)
۸۔ سورة الاحزاب میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے تناظر میں قرآن مجید میں جو ہدایات دی گئی ہیں، مولانا اصلاحی نے ان کی تفسیر میں اس نکتے کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں تعدد ازواج کے باب میں چار بیویوں کی تحدید کے عام ضابطے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا، وہاں آپ کچھ ایسی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جو عام امت پر لاگو نہیں ہوتیں۔ چنانچہ آپ کو پابند ٹھہرایا گیا کہ اگر آپ مزید نکاح کرنا چاہیں تو اس کی اباحت مطلق نہیں، بلکہ آپ تین میں سے کسی ایک مقصد کے تحت ہی نکاح کر سکتے ہیں: پہلا یہ کہ جنگی قیدی بن کر مسلمانوں کے قبضے میں آنے والی کسی خاتون کے خاندانی شرف ونسب کی بنیاد پر اس کی عزت افزائی مقصود ہو؛ دوسرا یہ کہ کوئی خاتون محض آپ کے ساتھ نسبت اور تعلق پیدا کرنے کے ایمانی جذبے کے تحت خود کو آپ کے نکاح کے لیے پیش کرے؛ اور تیسرا یہ کہ آپ کی چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد یا خالہ زاد بہنوں میں سے کوئی ہجرت کر کے آ گئی ہو اور آپ اس کی تالیف قلب کے لیے اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ ان خواتین کے علاوہ دوسری تمام عورتوں سے نکاح کو آپ کے لیے ممنوع قرار دیا گیا اور یہ پابندی بھی عائد کی گئی کہ ان میں سے کسی سے نکاح کے بعد آپ اسے الگ کر کے اس کی جگہ کوئی دوسری بیوی نہیں لا سکتے، چاہے وہ آپ کو کتنی ہی پسند ہو۔ (تدبر قرآن، ) غامدی صاحب نے بھی بعینہ اسی رائے کو اختیار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب کے بعد جن خواتین سے نکاح کیا، وہ انھی تحدیدات کے تحت تھا۔ چنانچہ سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ سے آپ نے پہلے مقصد کے تحت، سیدہ میمونہ سے دوسرے مقصد سے جبکہ سیدہ ام حبیبہ کے ساتھ تیسرے مقصد سے نکاح فرمایا تھا، جبکہ سیدہ ماریہ چونکہ ان میں سے کسی صنف کے تحت نہیں آتی تھیں، اس لیے ان سے نکاح نہیں کیا، بلکہ وہ ملک یمین کے طور پر ہی آپ کے پاس رہیں۔ (میزان، ص ۴۳۳، ۴۳۴)
۹۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی مقدار سو اونٹ مقرر فرمائی۔ کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر وتصویب کو شرعی حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم غامد صاحب نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ قرآن مجید نے دیت کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں کی، بلکہ فَاتِّبَاع بِالمَعرُوفِ (البقرة ۱۷۸:۲) کے الفاظ سے اس معاملے کو ’معروف‘ پر مبنی قرار دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ہدایت کی پیروی میں اپنے دور میں دیت کی وہی مقدار یعنی سو اونٹ مقرر فرمائی جو اسلام سے پہلے اہل عرب میں رائج تھی۔ چونکہ معروف سے متعلق دیگر تمام معاملات میں یہ بالکل واضح ہے کہ ہر معاشرہ اپنے ہی معروف کی پیروی کرنے کا پابند ہے، اس لیے دیت کی مقدار کی تعیین کے ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی حیثیت بھی ابدی تشریع کی نہیں، بلکہ ایک اصولی شرعی حکم کے، وقتی اور زمان ومکان میں محدود اطلاق کی ہے۔ اس ضمن میں وہ فَاتِّبَاع بِالمَعرُوف کے علاوہ دوسرے مقام پر دِیَۃ مُّسَلَّمَۃ میں اختیار کردہ اسلوب کو بھی اس کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
”دِیَۃ مُّسَلَّمَۃ اِلٰٓی اَھلِہٓ کے الفاظ حکم کے جس منشا پر دلالت کرتے ہیں، وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ مخاطب کے عرف میں جس چیز کا نام دیت ہے، وہ مقتول کے ورثہ کے سپرد کر دی جائے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۸ میں قرآن مجید نے جہاں قتل عمد کی دیت کا حکم بیان کیا ہے، وہاں یہی بات لفظ ’معروف‘ کی صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔ .... نساءاور بقرہ کی ان آیات سے واضح ہے کہ قتل خطا اور قتل عمد، دونوں میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ دیت معاشرے کے دستور اور رواج کے مطابق ادا کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اسے ہی نافذ کیا۔ روایات میں اس کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ عرب کے دستور کی وضاحت ہے، اس میں کوئی چیز بھی خود پیغمبر کا فرمان واجب الاذعان نہیں ہے۔“ (برہان، ص ۱۱، فروری ۲٠٠۸ء)
مولانا امین احسن اصلاحی کا اصولی موقف بھی اس مسئلے میں یہی ہے ۔ (تدبر قرآن، ۲/۳۶۱)
۱٠۔ صلاة الخوف سے متعلق غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ میدان جنگ میں نماز کی ادائیگی کا یہ طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کے ساتھ خاص تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی مسلمان آپ کے علاوہ کسی کی اقتدا میں نماز ادا کرنے پر راضی نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے جذبات کی رعایت سے عام معمول سے ہٹ کر ایک ایسے طریقہ اختیار کرنے کی رخصت دے دی جس میں دشمن سے غافل ہوئے بغیر مسلمان دو جماعتوں میں تقسیم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر سکیں۔ یہ رائے سلف میں سے امام ابویوسف سے منقول ہے اور مولانا اصلاحی نے بھی قرآن مجید کے الفاظ وَاِذَا کُنتَ فِیھِم (النساء۱٠۲:۴) سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ (تدبر قرآن، ۲/۳۷۲) غامدی صاحب نے اس مسئلے میں اسی استدلال کی بنیاد پر اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔ (میزان، ص ۳۱۷)
۱۱۔ متعدد احادیث میں جاندار کی تصویر بنانے کی ممانعت اور اس پر وعید کا ذکر ہوا ہے اور بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسی تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو تصویریں بنائی ہیں، ان میں جان ڈال کر دکھاؤ۔ اسی طرح بہت سی احادیث میں غنا اور موسیقی کی حرمت اور ناپسندیدگی بھی بیان ہوئی ہے۔
غامدی صاحب ان احادیث سے جاندار کی تصویر اور موسیقی کی مطلق ممانعت اخذ کرنے کو درست نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اس ضمن میں ان کا اصولی ماخذ سورة الاعراف کی آیت ۳۲ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر سخت الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے جو زینت کی چیزوں اور پاکیزہ رزق کو حرام قرار دیتے ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ (قُل مَن حَرَّمَ زِینَۃ اللّٰہِ الَّتِی اَخرَجَ لِعِبَادِہ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزقِ)۔ اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ پانچ بنیادیں بیان فرمائی ہیں جن کی وجہ سے شریعت میں کسی بھی چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے، یعنی فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت۔ اس آیت سے غامدی صاحب یہ اخذ کرتے ہیں کہ ’زینت‘ کی نوعیت کی ہر چیز مباح ہے، الا یہ کہ ان پانچ میں سے کسی ایک اصول کے تحت کسی چیز کو حرام قرار دیا جا سکے۔ چنانچہ ”لباس، زیورات وغیرہ بدن کی زینت ہیں؛ پردے، صوفے، قالین، غالیچے، تماثیل، تصویریں اور دوسرا فرنیچر گھروں کی زینت ہے؛ باغات، عمارتیں اور اس نوعیت کی دوسری چیزیں شہروں کی زینت ہیں؛ موسیقی آواز کی زینت ہے؛ شاعری کلام کی زینت ہے۔“ (مقامات، ص ۲٠۹) چنانچہ ”اب اگر کوئی چیز حرام ہوگی تو اسی وقت ہوگی جب ان میں سے کوئی چیز اس میں پائی جائے گی۔ روایتیں، آثار، حدیثیں اور پچھلے صحیفوں کے بیانات، سب قرآن کے اسی ارشاد کی روشنی میں سمجھے جائیں گے۔“
اپنے اس نقطہ نظر کے تحت غامدی صاحب ان احادیث کو جن میں تصویر بنانے کی ممانعت بیان ہوئی ہے، مشرکین سے متعلق قرار دیتے ہیں جو پوجا کی غرض سے تصویریں اور مجسمے بناتے تھے، چنانچہ انھی سے یہ تقاضا کیا جائے گا کہ ”اپنے زعم کے مطابق جن زندہ اور نافع وضار ہستیوں کی تصویریں تم بناتے رہے ہو، ان میں اب جان ڈال کر دکھاﺅ۔“ (میزان ،ص ۲۱۲؛ ص ۶۶) یہی معاملہ موسیقی سے متعلق روایات کا ہے اور انھیں موسیقی کی انھی صورتوں سے متعلق مانا جا سکتا ہے جن میں بے حیائی یا شرک وغیرہ کی آمیزش ہو۔ (میزان، ص ۲۳۱) اس سے ہٹ کر علی الاطلاق تصویر یا موسیقی کو حرام قرار دینا قرآن کے بیان کردہ مذکورہ صریح اصول کے منافی ہے۔
۱۲۔ اس ضمن کی ایک اور اہم مثال ربا الفضل کی حرمت بیان کرنے والی روایات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ خرید وفروخت کرتے ہوئے ہم جنس اشیاءکا باہمی مبادلہ کیا جائے تو اس میں ادھار بھی نہیں ہونا چاہیے اور مقدار میں بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ غامدی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ قرآن مجید نے جس ’الربا‘ کو حرام کہا ہے، وہ صرف ادھار کے معاملات میں ہوتا ہے اور بعض احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سد ذریعہ کے طور پر (سود کے ساتھ گویا ظاہری مشابہت سے بچنے یا اس کے جواز کے ایک ممکنہ حیلے کو روکنے کے لیے) یہ ہدایت دی تھی کہ اگر مثلاً سونا یا چاندی کا ادھار تبادلہ کیا جائے تو ایسی صورت میں مقدار میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے، اور اگر مبادلہ مقدار کی کمی بیشی کے ساتھ کیا جا رہا ہو تو پھر اس میں ادھار نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، آپ کی مراد یہ تھی کہ ایک ہی معاملے میں کمی بیشی اور ادھار کو جمع نہ کیا جائے، بلکہ ادھار کی صورت ہو تو کمی بیشی سے گریز کیا جائے اور اگر کمی بیشی مقصود ہو تو ادھار کی صورت اختیار نہ کی جائے۔ تاہم راویوں نے ان دو الگ الگ باتوں کو خلط ملط کر کے حکم کو ایسی شکل دے دی جس کے لیے فقہاءکو ”ربا الفضل“ کے عنوان سے ایک مستقل اصطلاح وضع کرنی پڑی۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ”ہماری فقہ میں ربوٰا الفضل کا مسئلہ اسی غتربود کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، ورنہ حقیقت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں واضح کر دی ہے کہ ’انما الربا فی النسیئۃ‘۔“ (میزان، ص ۵٠۸، ۵٠۹)
۱۳۔ رجم کی روایات بھی اس ضمن کی اہم ترین مثالوں میں سے ہیں۔ جمہور اہل علم اس سزا کا ماخذ سنت کو قرار دیتے ہیں اور قرآن مجید کے ساتھ اس کا تعلق تبیین یا تخصیص اور نسخ کے اصول پر متعین کرتے ہیں۔ تاہم مولانا فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ احادیث میں جلا وطنی یا رجم کی سزا آیت محاربہ پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی چڑھانے، ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے اور جلا وطن کر دینے کی سزائیں بیان کی ہیں۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا سو کوڑے ہی ہے، جبکہ جلاوطنی یا رجم دراصل اوباشی اور آوارہ منشی کی سزا ہے جو ’فساد فی الارض‘ کے تحت آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی نوعیت کے بعض مجرموں پر زنا کی سزا کے ساتھ ساتھ، سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کے تحت ’فساد فی الارض‘ کی پاداش میں جلا وطن کرنے یا سنگ سار کرنے کی سزا بھی نافذ کی تھی۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’الثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم‘ کے بارے میں مولانا اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ یہاں حرف ’و‘جمع کے لیے نہیں، بلکہ تقسیم کے مفہوم میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زانی کی اصل سزا تو تازیانہ ہی ہے، البتہ آیت محاربہ کے تحت مصلحت کے پہلو سے اسے جلاوطن یا سنگ سار بھی کیا جا سکتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح آیت مائدہ کے تحت ازروئے مصلحت بعض مجرموں کو جلاوطنی کی سزا دی، اسی طرح بعض سنگین نوعیت کے مجرموں کے شر وفساد سے بچنے کے لیے آیت مائدہ ہی کے تحت انھیں رجم کی سزا بھی دی۔ (تدبر قرآن، ۵/۳۶۷-۳۶۹)
اس توجیہ کے نتیجے میں مولانا کی رائے اس لحاظ سے جمہور سے مختلف ہو جاتی ہے کہ ان کے نزدیک سنگسار کرنے کی علت مجرم کا شادی شدہ ہونا نہیں، بلکہ اوباش، آوارہ منش اور عادی زانی ہونا قرار پاتا ہے، چنانچہ جیسے محض زانی کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اسے رجم کرنا ضروری نہیں ٹھہرتا، اسی طرح کسی کنوارے زانی کو بھی اس کے جرم کی سنگینی کے پیش نظر رجم کیا جا سکتا ہے اور، مثال کے طور پر، ”مجرم اگر زنا بالجبر کا ارتکاب کرے یا بدکاری کو پیشہ بنا لے یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئے یا اپنی آوارہ منشی،بد معاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت وناموس کے لیے خطرہ بن جائے یا مردہ عورتوں کی نعشیں قبروں سے نکال کر ان سے بدکاری کا مرتکب ہو یا اپنی دولت واقتدار کے نشے میں غربا کی بہو بیٹیوں کو سربازار برہنہ کرے یا کم سن بچیاں بھی اس کی درندگی سے محفوظ نہ رہیں تو مائدہ کی اس آیت محاربہ کی رو سے اسے رجم کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔“ (برہان، ص ۹۱؛ نیز میزان، ص ۴٠، ۴۱)
۱۴۔ تیسری طلاق کے بعد قرآن نے یہ پابندی عائد کی ہے کہ عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے (حَتّٰی تَنکِحَ زَوجًا غَیرَہ) اور اگر وہ بھی اسے طلاق دے دے تو پھر باہمی رضامندی سے وہ اور اس کا سابقہ شوہر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ (البقرة ۲:۲۳٠) یہاں ”تنکح“ کا لفظ بظاہر عقد نکاح کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ دوسرے شوہر سے صرف عقد نکاح ہو جانا کافی ہے۔ اگر ایجاب وقبول کے بعد وہ عورت کو طلاق دے دے تو وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔ تاہم ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک دوسرا شوہر بیوی سے ہم بستری نہ کر لے، وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔
جمہور فقہاءنے اس شرط کو قبول کیا ہے، اگرچہ اصول فقہ کے لحاظ سے اس کی تکییف میں اختلاف ہے۔ بعض اہل اصول اسے قرآن پر زیادت کے طور پر قبول کرتے ہیں، جبکہ بعض نے قرآن کے لفظ ”تنکح“ کو ہی عقد کے بجائے ہم بستری کے معنی میں لیا ہے۔ غامدی صاحب کو اس موقف سے اتفاق نہیں ہے، کیونکہ ان کے اصول کے مطابق حدیث، قرآن کے حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتی، جبکہ ”تنکح“ کے لفظ کو ہم بستری پر محمول کرنا لفظ کے متبادر مفہوم کے بھی خلاف ہے اور اس کی نسبت عورت کی طرف کرنا بھی اس کو وطی کے معنی میں لینے سے مانع ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک زیر بحث حدیث کا مدعا دراصل ہم بستری کو ایک شرط کے طور پر بیان کرنا ہے ہی نہیں جیسا کہ فقہاءنے عموماً سمجھا ہے۔ غامدی صاحب اس واقعے سے متعلق مروی تفصیلات سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ ”عورت نے نکاح کیا ہی اس مقصد سے تھا کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے۔ چنانچہ طلاق لینے کے بعد اس نے جب غلط بیانی کر کے دوسرے شوہر کو زن وشو کا تعلق قائم کرنے سے قاصر قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سرزنش کے لیے اسے یہ کہہ کر پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا کہ اب تم اس دوسرے شوہر سے لذت اندوز ہونے کے بعد ہی اُس کے پاس جا سکتی ہو۔ یہ بیان شرط نہیں، بلکہ تعلیق بالمحال کا اسلوب ہے۔ لہٰذا یہ روایت اگر کسی چیز کا ثبوت ہے تو حلالہ کی ممانعت کا ثبوت ہے، اس میں فقہا کے موقف کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔“ (میزان، ص ۴۵۳)
(جاری)