مسئلہ جنس اور ہمارا روایتی معاشرتی نظام
محمد عمار خان ناصر
جنسی جبلت کے مسئلے کو کسی معاشرتی نظام میں کیسے حل کیا جائے، اس کے متعلق موجودہ دنیا میں دو بنیادی تہذیب موقف پائے جاتے ہیں۔
ایک موقف کی نمائندگی جدید لبرل اخلاقیات میں ہوتی ہے جس کی رو سے جنس کی تسکین فرد کا ایک ذاتی مسئلہ ہے اور اسے اس کی تکمیل کی آخری حد تک آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ دو افراد، صنف اور مذہب وغیرہ کے امتیاز سے بالکل آزاد ہو کر، باہمی رضامندی سے جیسے بھی اس کی تکمیل کرنا چاہیں، یہ ان کا حق ہے۔ جنسی جبلت کی تسکین کے علاوہ، خاندان بنانے اور بچے پیدا کرنے کی کسی بھی اضافی ذمہ داری کو اس کے ساتھ نتھی نہیں کرنا چاہیے اور اس حوالے سے کسی قسم کا معاشرتی یا قانونی دباؤ بروئے کار نہیں لانا چاہیے۔ گویا جنسی جبلت کی تسکین اور نسل انسانی کی بقا کے مسئلے کو الگ الگ دیکھنا چاہیے اور فرد کی آزادی پر مجموعی انسانی مصالح کی پابندی کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ جہاں تک بقائے نسل کا تعلق ہے تو اسے انفرادی ذمہ داری کے دائرے سے نکال کر اجتماعی نظام کی ذمہ داریوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ برٹرینڈ رسل نے اسی تناظر میں یہ تجویز کیا کہ بچے پالنے کی ذمہ داری بھی، دوسری بہت سی اجتماعی ذمہ داریوں کی طرح، اب ریاست کو سنبھال لینی چاہیے۔
دوسرا رجحان قدیم معاشرتی روایات پر مبنی ہے جسے دنیا کی اب تک کی تمام تہذیبوں کی تائید حاصل رہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جنس کا مسئلہ چونکہ صرف ایک جبلت کی وقتی تسکین کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ نسل انسانی کی بقا کا سوال بھی وابستہ ہے، اس لیے اس کا حل معاشرت کی عمومی تشکیل اور اجتماعی معاشرتی ضروریات کے تناظر میں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے خاندان کا ادارہ وجود میں آیا جس میں بچے کی تربیت اور پرورش کے حوالے سے ذمہ داریوں کی ایک تقسیم اختیار کی گئی۔ خاندان نے وسعت پذیر ہو کر قبیلوں اور برادریوں کی صورت اختیار کی اور ایک پیچیدہ معاشرتی نظام وجود پذیر ہوا جو ہم روایتی اور خاص طور پر مشرقی معاشروں میں دیکھتے ہیں۔ برصغیر میں یہ نظام ، زرعی معاشرے کی مخصوص ضروریات کے سیاق میں، جن خطوط پر استوار ہوا، اس میں دو افراد کے رشتہ ازدواج میں بندھنے کے لیے ان کی ذاتی پسند وناپسند اور فیصلے سے زیادہ خاندان اور برادری کی ترجیحات زیادہ اہمیت اختیار کرتی چلی گئیں اور خاص طور پر خواتین کے حق نکاح کو ان کے انفرادی حق سے زیادہ خاندان، قبیلے یا برادری کی ایک ’’اجتماعی ذمہ داری“ تصور کیا جانے لگا۔ اجتماعی ذمہ داری کی انجام دہی عملا ایک ’’اجتماعی حق“سمجھی جاتی ہے جس کے مقابلے میں انفرادی حق کا استعمال، حدود سے تجاوز شمار کیا جاتا ہے۔ یوں اس نظام میں فرد کی اور خاص طور پر خواتین کی ذاتی ترجیحات بنیادی طور پر خاندان اور برادری کی ترجیحات کے تابع ہو جاتی ہیں، اور دو افراد کے رشتہ ازدواج میں بندھنے کے لیے ان کی ذاتی پسند وناپسند اور فیصلے سے زیادہ خاندان اور برادری کی ترجیحات زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن میں کفاءت یعنی خاندانی برابری اور معاشی اسٹیٹس وغیرہ باقی تمام پہلووں پر حاوی رہتی ہیں۔
معاشرت کے اس روایتی ڈھانچے میں بے اعتدالی کے یہ پہلو تو، جیسا کہ واضح کیا گیا، موجود تھے اور خاندان اور فرد کے اختیارات کے مابین توازن کا فقدان نمایاں تھا جس سے خواتین، شریعت کے دیے ہوئے ایک اختیار سے عملا محروم رہ جاتی تھیں، لیکن عفت وعصمت کی حفاظت کا مسئلہ عمومی سطح پر پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جدیدیت کے زیراثر متعارف ہونے والی نئی حرکیات کی وجہ سے خواتین کے لیے تعلیم اور گھر سے باہر معاشرتی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع پیدا ہوئے اور خاص طور پر شہری ماحول کی طرف انتقال آبادی کا عمل بڑھا تو کسی قدر کشمکش کی کیفیت کے ساتھ، خاندان اور فرد کے مابین اختیارات کا توازن بھی تبدیل ہونے لگا۔ یوں تعلیم، روزگار، معاشرتی میل جول اور شہری ماحول کے ساتھ تعامل کے تناسب سے خواتین کی پسند وناپسند کو بھی نسبتا زیادہ وزن دیا جانے لگا۔
تاہم عمومی تعلیم کی شرح میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے، جو زیادہ پرانی بات نہیں ہے اور پچھلی دو تین دہائیوں میں ہی یہ ظاہرہ زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، صورت حال کو بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حصول تعلیم کے ساتھ معاشی وسائل میں شرکت اور ان دونوں کے ساتھ معاشرتی اختلاط کے مواقع جڑے ہوئے ہیں جن کے اثرات لازما خود اختیاری کے احساس میں اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ پیچیدگی کو بڑھانے والے دو مزید عوامل بھی اس میں شامل ہیں۔ ایک، شہروں میں عمومی تعلیم کی طرف رغبت کے حوالے سے نوجوانوں اور خواتین کی تعداد میں عدم تناسب، اور دوسرا صنفی رغبت اور حق خود اختیاری وغیرہ کو ہنگامی انداز میں فروغ دینے میں ہر طرح کے ابلاغی ذرائع کا کردار۔ شخصی رابطے کو آسان بنانے والی جدید ٹیکنالوجی کے اثرات اس پر مستزاد ہیں۔ ان تمام عوامل کے اجتماع کا نتیجہ ایک سنگین صورت حال کی شکل میں سامنے آ رہا ہے جس میں نوجوانی کی عمر کے داعیات، صنفی اختلاط کے مواقع، اور جنسی ترغیب کے وسائل کی فراوانی سب کا دباؤ ایک طرف ہے، جبکہ مذہب واخلاق کے تقاضے اور خاندانی ومعاشرتی روایات اس کے بالکل مخالف قدغنیں عائد کرنا چاہتی ہیں۔ کشمکش کے اس عبوری مرحلے میں نوجوان نسل نہ تو خاندانی معاشرت کے سانچے میں فٹ ہو پا رہی ہے اور نہ مکمل طور پر اس سے آزاد ہو جانے کو ہی ممکن پاتی ہے، اور اس کا نتیجہ ناگزیر طور پر نفسیاتی فرسٹریشن اور غیر اخلاقی وغیر صحت مندانہ رجحانات کے پنپنے کی صورت میں نکل رہا ہے۔
گویا صورت حال یوں ہے کہ عمر کے طبعی تقاضوں اور ماحول کی ترغیبات کا مطالبہ یہ ہے کہ بلوغت کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو، اخلاقی ومذہبی حدود میں جنسی تسکین کی سہولت نوجوانوں کو دستیاب ہو اور مذہب کی تعلیمات مکمل طور پر اس بندوبست کی تائید میں کھڑی ہیں، لیکن معاشرتی روایات اس مطالبے کا ساتھ دینے سے قطعی طور پر قاصر ہیں۔ چونکہ خاندانی نظام مضبوط ہے اور خاندان کے اندر وہی اقدار ابھی تک حاکم ہیں جو صدیوں میں مستحکم ہوئی ہیں، اس لیے نوجوان نسل خاندان اور معاشرے کے دو پاٹوں کے درمیان پسنے پر مجبور ہے۔ جبلت، مذہب اور اخلاق، تینوں کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی اور اخلاقی جواز کی کم سے کم لازم شرائط پر جنسی تسکین کے مسئلے کا حل نکالا جائے، لیکن معاشرتی روایات کا اصرار برقرار ہے کہ
۱۔ شریک حیات کے انتخاب کا حتمی حق نوجوانوں کو نہیں، والدین کو ہے،
۲۔ انتخاب خاندان، برادری، معاشی اسٹیٹس وغیرہ کی تمام روایتی چھلنیوں سے گزار کر ہی کیا جائے گا،
۳۔ بچیوں کو بیاہے جانے کے بعد لازما جوائنٹ فیملی سسٹم میں ہی نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوگا،
۴۔ بہن بھائیوں میں بڑی بہنوں کی شادی لازما پہلے اور چھوٹی بہنوں کی بعد میں ہوگی، نیز اگر بھائی بڑا اور بہنیں چھوٹی ہیں تو بہنوں کے بیاہے جانے تک بھائی نابالغ ہی شمار کیا جائے گا۔
خلاصہ یہ کہ مذہب اور اخلاق نے فطری جبلت کی جائز تسکین اور عفت کی حفاظت کی جو بنیادی ترین ترجیح متعین کی تھی، ہماری معاشرتی روایات اس سے بالکل الٹ ترجیحات پر استوار ہیں اور ہمارا مائنڈ سیٹ فطری ضروریات اور مذہب واخلاق کی قیمت پر ان ترجیحات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
خاندانی اسٹرکچر اور معاشرتی روایات کی مجموعی صورت حال میں فرد کی پسند وناپسند اور اس کی ایک بنیادی جبلی وسماجی ضرورت کس طرح نظرانداز بلکہ مجروح ہو رہی ہے، یہ دیکھنے کے بعد اب کچھ معروضات اس حوالے سے پیش کی جانی چاہییں کہ سماجی اصلاحات کا رخ اور حکمت عملی کیا ہونی چاہیے اور اس میں کن طبقات کا کیا کردار بنتا ہے۔
ہمارے نزدیک اس حوالے سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ معاشرت کے کسی مخصوص سانچے کو فی نفسہ یا کلی طور پر مطلوب یا، اس کے برعکس، کلی طور پر مسائل ومشکلات کی جڑ قرار دینا دانش مندی نہیں، بلکہ ردعمل کی نفسیات کا مظہر ہوتا ہے۔ سوشل اسٹرکچرز بنیادی طور پر معاشرے کی مجموعی بقا اور استحکام کی غرض سے بنائے جاتے ہیں اور مخصوص تاریخی اور تمدنی حالات میں انسانوں کے عمومی تجربات اور اجتماعی بصیرت سے ایک خاص شکل اختیار کرتے ہیں۔ یہ اسٹرکچرز جن مصالح کی رعایت سے بنائے جاتے ہیں، ان میں اور بدلتے ہوئے حالات میں، عموما، ایک متناسب توازن پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جزوی سطح پر ضروری تبدیلیوں اور ارتقا کا عمل بھی غیر محسوس سے انداز میں جاری رہتا ہے۔ تاہم یہ عمل ہمیشہ اتنا ہموار نہیں ہوتا، اور بعض تاریخی انقلابات بنے ہوئے اسٹرکچرز کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں یا ان میں بہت جوہری قسم کی تبدیلیوں کے مطالبے کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایسے ہی مواقع پر روایتی طور پر چلے آنے والے سانچے اور نئی تبدیلیوں کی باہمی نسبت طے کرنے میں سب سے زیادہ بصیرت اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری موجودہ معاشرت کو بھی اسی نوعیت کی ایک غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام ، معاشرت کے جس سانچے کے لیے اصلا وضع کیا گیا تھا ، وہ دیہی اور زمیندارانہ معاشرت تھی جو جدید شہری ماحول میں اپنی تمدنی اساسات رفتہ رفتہ کھو رہی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کئی طرح کی قدغنوں اور پابندیوں سے عبارت ہے جو افراد کو ان فوائد کے بدلے میں قبول کرنی پڑتی ہیں جو اس نظام سے انھیں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ ایک پورا ماحول ہوتا ہے جس میں ایک خاص نہج پر افراد کی نفسیات اور ذہنی رجحانات کی تشکیل کا بھی ابتدا ہی سے بندوبست موجود ہوتا ہے۔ جدید شہری ماحول میں یہ دونوں عوامل، یعنی اجتماعی فوائد اور ذہنی تربیت، اپنی اصل شکل اور اصل قوت برقرار نہیں رکھ سکتے، چنانچہ ایک بدلے ہوئے ماحول میں نئی نسل پر وہ قدغنیں اور پابندیاں عائد کرنا بھی عملا ممکن نہیں رہا جو روایتی طور پر کی جا سکتی تھیں، اور اگر اس کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ بغاوت اور گھریلو انتشار کی صورت میں نکلنا ناگزیر ہے۔ ساس اور بہو کے تنازعات، نندوں اور بھاوجوں کے جھگڑے، بھائیوں کے باہمی اختلافات، بیشتر صورتوں میں اسی کشمکش کا نتیجہ ہیں۔ چنانچہ لازم ہے کہ حکمت اور مناسب تدریج کے ساتھ مشترکہ خاندانی نظام سے نیو کلیئر فیملی کی طرف انتقال کی راہ ہموار کی جائے۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے معاشرتی مصلحین نے تقریبا ایک صدی قبل اسی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے بہت زور دے کر یہ بات کہنا شروع کر دی تھی کہ شادی کے بعد نوجوان جوڑے کو الگ گھر میں بسنے اور نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
اس بنیادی نکتے کے ساتھ کہ معاشرتی سانچے فی نفسہ مطلوب ومقصود نہیں ہوتے، بلکہ فرد اور معاشرہ کے مصالح کو، معروضی حالات میں، خاص اصول وقواعد کے تحت یقینی بنانے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں، ایک دوسرا اہم نکتہ یہ بھی شامل کر لینا چاہیے کہ ایک خاص طرح کی لچک، رنگا رنگی اور تنوع بھی معاشرتی سانچوں کا حصہ ہوتا ہے جو مصالح کی تکمیل میں معاون ہوتا ہے۔ ان دو نکتوں کی روشنی میں، سب سے بنیادی غلطی جس سے اجتناب ہمارے لیے ضروری ہے، یہ ہوگی کہ ہم روایتی سانچوں کو یک قلم اور بالکلیہ منبع فساد قرار دے دیں اور مختلف قسم کے فلسفوں کے زیراثر، جو بنیادی طور پر نہ تو ہمارے معاشرتی سوالات کا کوئی داخلی رسپانس ہیں اور نہ ہمارے حالات سے فطری مناسبت رکھتے ہیں، کسی یک رنگ اور یکسانی کے عکاس نئے معاشرتی سانچے کو نسخہ کیمیا سمجھنا شروع کر دیں۔
اگر سماجی اصلاح کے یہ مفروضات درست ہیں تو روایتی معاشرت اور نئی تبدیلیوں کی باہمی نسبت طے کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہاں روایتی خاندان کا ڈھانچہ مجموعی طور پر اب بھی ان مصالح کو پورا کر رہا ہے جن کی اس سے توقع کی جاتی ہے، کہاں اس ڈھانچے میں معاشرتی رویوں یا قانونی اصلاحات کی سطح پر جزوی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، کہاں اس ڈھانچے میں اور نئی تبدیلیوں میں فاصلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ جزوی ترمیم واصلاح کارگر نہیں ہو سکتی، اور کہاں صورت حال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ سرے سے کوئی ڈھانچہ باقی ہی نہیں رہا اور کوئی مناسب ڈھانچہ وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ گفتگو اساسی طور پر معاشرے کی سطح پر، فرد اور معاشرے کی فطری ضروریات کے تناظر میں ہونی چاہیے جس کی ترجیحات ریاستی طاقت اور قانونی بندوبست کی ترجیحات سے بالکل مختلف ہوں گی۔
اس کام کے لیے اگر عمومی سماجی شعور کو بہتر بنانے اور افادیت کھو دینے والی معاشرتی رسوم وعادات میں تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے لوگوں میں ذہنی آمادگی پیدا کرنے کو بنیادی ترجیح بنایا جائے اور وہ تمام طبقات جو رائے عامہ کی تشکیل میں کسی بھی پہلو سے اور کسی بھی نوعیت کا کردار ادا کر سکتے ہیں، (مثلا علماء، اساتذہ، سیاسی قائدین، اہل ثروت، ذرائع ابلاغ سے وابستہ حضرات) اس میں حصہ ڈالنے کو اپنی ذمہ داری تصور کریں تو مطلوبہ معاشرتی اصلاحات پیدا کرنا، ہمارے نزدیک پوری طرح ممکن ہے۔ ہماری رائے میں اس حوالے سے اصلاحی مساعی کو درج ذیل پہلووں پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے:
- ایسے والدین جو مالی طور پر آسودہ ہیں، انھیں ترغیب دی جائے کہ بچوں یا بچیوں کی شادی کو رسمی تعلیم سے فراغت یا روزگار کے استحکام تک موخر نہ کریں، بلکہ اس معاملے میں بنیادی ترجیح مناسب عمر اور فطری وطبعی تقاضوں کو دیتے ہوئے دوران تعلیم میں رشتہ ازدواج قائم کرنے میں ان کی مدد کریں اور عبوری دور کے لیے نوجوان جوڑے کے اضافی اخراجات کی ذمہ داری اسی اسپرٹ کے ساتھ اٹھائیں جس کے ساتھ وہ ان کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
- گھر بسانے میں نوجوانوں کو مالی اعانت فراہم کرنے کو انفاق اور صدقہ وخیرات کی معاشرتی ترجیحات کا حصہ بنایا جائے۔ خلافت راشدہ کے عہد میں بیت المال کے اخراجات کی مدات میں اسے ایک اہم مد کی حیثیت حاصل تھی اور آج بھی حکومتی وسائل کی تخصیص کرتے ہوئے اسے ایک بنیادی مد کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ مختلف کاروباری یا فلاحی ادارے جس طرح بچوں کی تعلیم، خوراک، شجر کاری، علاج معالجہ اور سماجی بہبود کے دیگر کاموں کے لیے وسائل مختص کرتے ہیں یا حصول تعلیم کے لیے طلبہ کو وظائف مہیا کرتے ہیں، اگر انھیں توجہ دلائی جائے تو نوجوان جوڑوں کی معاونت کے لیے بھی مناسب وسائل فراہم ہو سکتے ہیں۔ حکومتی یا نجی سطح پر جس طرح یتیم بچوں اور بے سہارا خواتین یا بزرگوں کے لیے رہائشی انتظامات کیے جاتے ہیں، شادی کے خواہش مند نوجوان جوڑوں کے لیے بھی اس طرح کی سہولیات کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔
- رشتوں کے انتخاب کے حوالے سے والدین کو روایتی معاشرت کی طرف سے جس نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، عموما اس کو نظر انداز کر کے نئی نسل کی مصلحت کو ترجیح دینا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرتی اثر ورسوخ رکھنے والے مختلف طبقات اپنے اپنے دائرہ اثر میں، نوجوان بچوں اور بچیوں کو رشتہ ازدواج میں بندھنے میں مدد دینے کو اپنی ترجیح بنائیں اور دباؤ یا دیگر عملی مشکلات کا سامنا کرنے میں والدین کا سہارا بنیں۔
- ایک بہت بڑی تعداد میں ایسی خواتین موجود ہیں جن کے لیے شادی کی مناسب عمر گزر جانے کی وجہ سے ان کی یا خاندان کی توقع کے مطابق اچھے رشتے ملنا عملا بہت مشکل ہے۔ ایسی خواتین اور ان کے اہل خانہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ کہ وہ دوسری بیوی کے طور پر شادی شدہ حضرات کے ساتھ زندگی گزارنا قبول کریں، معاشرتی ماحول میں بھی اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کہ کثرت ازواج کی شرعی رخصت سے حسب مصلحت، معاشرتی مسائل کے حل کے لیے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس کے لیے مناسب مالی حیثیت رکھنے والے حضرات کو ترغیب دینے کے علاوہ خواتین میں اس حوالے سے حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کو بھی موضوع بنانے اور تعلیم وتبلیغ کے ذریعے سے مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
- اس سلسلے کا ایک بہت اہم نکتہ یہ ہے کہ نکاح کے رشتے سے وابستہ کی جانے والی توقعات اور علیحدگی کے متعلق پائی جانے والی انتہائی حساسیت کو بھی معاشرتی تربیت کے ذریعے سے اعتدال پر لانے کی ضرورت ہے۔ یہ حساسیت زمیندارانہ سماج کے مخصوص ماحول میں پختہ ہو جانے والی حساسیتوں کی باقیات ہے جس میں خاص طور پر عورت کی طرف سے رشتہ نکاح کے خاتمے کی خواہش کو انتہائی معیوب تصور کیا جاتا ہے اور طلاق گویا عورت کے دامن پر ایک دھبے کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ اس عمومی پرسپشن کے زیراثر طلاق، ایک طرف خواتین پر تباہ کن نفسیاتی اثرات مرتب کرتی ہے اور دوسری طرف ان کے اہل خانہ کو ایک سنگین آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ چنانچہ اہل خانہ اپنا سارا دباؤ خواتین کی طرف منتقل کر دیتے ہیں تاکہ وہ ساری اذیت خود برداشت کر کے اپنے آپ کو اور انھیں بھی اس ابتلا سے حتی الوسع محفوظ رکھنے کی کوشش کریں جس سے طلاق کی صورت میں انھیں دوچار ہونا پڑے گا۔ قطع نکاح کی صورت میں خاندانوں اور برادریوں کے تعلقات کا دشمنی میں بدل جانا اور مطلقہ کے لیے نئے نکاح کے محدود امکانات بنیادی طور پر اسی صورت حال کے لوازم اور نتائج ہیں۔
یہاں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دینی نصوص میں طلاق کے مبغوض ہونے کی بات انفرادی اخلاقیات سے متعلق ہے نہ کہ معاشرتی رویوں کی تشکیل سے۔ یعنی رشتہ نکاح میں بندھے ہوئے مرد اور عورت کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اسے حتی الامکان نبھانے کی کوشش کریں اور بلا وجہ یا معمولی وجوہ سے اس سے جان چھڑانے کی کوشش نہ کریں۔ لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ عمومی رویے اس طرح تشکیل پا جائیں کہ طلاق کو ایک معاشرتی عیب تصور کیا جانے لگے اور اس کے اثرات فریقین اور ان کے خاندانوں کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیں جس طرح ہمارے ہاں عموما لے لیتے ہیں۔ اس پرسپشن کے ازالے کے لیے عہد نبوی وعہد صحابہ کی معاشرت کا مطالعہ بہت مفید ہوگا جہاں تبدل نکاح ایک عام معمول دکھائی دیتا ہے اور کم وبیش ہر صحابی یا صحابیہ کے حالات میں ایک کے بعد دوسرے یا دوسرے کے بعد تیسرے نکاح کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس معاشرت کی جھلک آج کے عرب معاشرے میں بھی کافی حد تک دکھائی دیتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں بھی معاشرت کے، ایک سانچے سے دوسرے سانچے میں منتقل ہونے کے اس مرحلے میں ذہنی ونفسیاتی تربیت کے لیے ان نمونوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسی social imaginaries تشکیل دی جائیں جو جدید معاشرت کے اوضاع کے لحاظ سے رشتہ نکاح کے مصالح ومقاصد کی بہتر انداز میں تکمیل کر سکیں۔
ہذا ما عندی واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۹٠) سورة الحشر کے بعض مقامات
(۱) لِلفُقَرَاء المُہَاجِرِینَ الَّذِینَ اخرِجُوا مِن دِیَارِہِم وَاَموَالِہِم۔ (الحشر: 8)
اس آیت میں فقراءموصوف ہے اور مہاجرین صفت ہے، اس لحاظ سے ترجمہ ہوگا: مہاجر فقراء، نہ کہ فقیر مہاجرین۔ ایک تو یہ زبان کے قواعد کا تقاضا ہے، دوسرے معنوی لحاظ سے بھی مہاجرین کی تقسیم مقصود نہیں ہے کہ فقیر مہاجرین کو حصہ دیا جائے اور غیر فقیر مہاجرین کا حصہ نہیں لگایا جائے۔ بلکہ یہ فقر سے دوچار لوگوں کی ایک خاص قسم یعنی مہاجرین اور گویا تمام مہاجرین پر مشتمل ہے، کیوں کہ تمام ہی مہاجرین گھر اور دولت چھوڑ کر آئے تھے۔ اس کا صحیح ترجمہ ہوگا: مہاجر فقیروں کے لیے، یا دوسرے لفظوں میں ان فقیروں کے لیے جو ہجرت کرکے آئے ہیں۔ درج ذیل ترجموں میں آخری ترجمہ قواعد کے مطابق ہے:
” ان محتاج مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنی املاک سے نکالے گئے ہیں “۔(امین احسن اصلاحی)
”(نیز وہ مال) اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں “۔(سید مودودی)
”ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے“۔(احمد رضا خان)
”(فیءکا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیے گئے ہیں “۔(محمد جوناگڑھی)
(۲) وَالَّذِینَ تَبَوَّءوا الدَّارَ وَالاِیمَانَ مِن قَبلِہِم یُحِبُّونَ مَن ھَاجَرَ اِلَیہِم۔ (الحشر: 9)
اس جملے کے ترجمے دیکھتے ہوئے دو مقامات پر غور کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔
ایک ہے ”والایمان“ کا ترجمہ، کیوں کہ گھر کو ٹھکانا بنانا تو واضح ہے، مگر ایمان کو ٹھکانا بنانا واضح نہیں ہوپاتا ہے، بعض لوگوں نے تو یہی ترجمہ کردیا ہے، کہ ایمان میں گھر بنالیا، اور بعض لوگوں نے کوئی فعل محذوف مان کر ترجمہ کیا ہے، جیسے ایمان کو استوار کرنا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں واو کو معیت بتانے والا مان کر ترجمہ کرتے ہیں: ”اور ایمان کے ساتھ جو لوگ پہلے سے بسے ہوئے ہیں“۔ یعنی مدینہ منورہ میں ہجرت سے پہلے سے مقیم اہل ایمان یعنی انصار مدینہ۔ علامہ طاہر بن عاشور نے اس توجیہ کا ذکر کیا ہے، اور کہا ہے کہ اگرچہ اس کے قائلین کم ہیں، مگر یہ سب سے اچھی توجیہ ہے۔
وقیل الواو للمعیۃ. والایمان مفعول معہ. وعندی ان ہذا احسن الوجوہ، وان قل قائلوہ۔ (التحریر والتنویر)
دوسرا غور طلب مقام والذین کا ترجمہ ہے۔ یہاں مفسرین اور مترجمین والذین کو للفقراء المھاجرین پر معطوف قرار دے کر یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ مہاجرین کی طرح یہ انصار بھی مال فیءمیں حصہ دار ہیں۔ اس کے لحاظ سے ترجمہ کرتے ہیں: ”اور یہ ان کے لیے بھی ہے جو۔۔۔”مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ اس پر معطوف نہیں ہے، ورنہ وللذین ہونا چاہیے تھا۔ کیوں کہ درمیان میں طویل فصل ہوگیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یحبون من ھاجر الیھم بظاہر والذین کی خبر ہے، گو کہ لوگوں نے اسے حال مانا ہے، اور کچھ مترجمین نے تو اس سے پہلے (اور) مان کر ترجمہ کیا ہے۔ لیکن اس سب میں تکلف معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ والذین مبتدا ہے اور یحبون اس کی خبر ہے۔ دراصل مال فیءکا مسئلہ تو فقیر مہاجرین تک مکمل ہوگیا، اور چونکہ مہاجرین کے اوصاف بتائے گئے تو مناسبت تھی کہ انصار کے اوصاف کا ذکر بھی ہو، اور بعد والوں کے اوصاف بھی بیان کیے جائیں۔ یہ بات خود اس آیت میں مذکور ہے کہ مہاجرین کو جو دیا جاتا ہے اس کے سلسلے میں یہ انصار کوئی خلش محسوس نہیں کرتے، اس سے خود معلوم ہوا کہ مال فیءمیں شروع میں مذکور مدات کے علاوہ عمومی طور سے صرف مہاجرین کے لیے حصہ رکھا گیا تھا۔ غرض ترجمہ ہوگا: ”اور جو لوگ ایمان کے ساتھ پہلے سے بسے ہوئے ہیں، وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ان کی طرف ہجرت کرکے آئے“۔
اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
”اور جو لوگ پہلے سے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں، اور (ایمان استوار کیے ہوئے ہیں) وہ دوست رکھتے ہیں ان لوگوں کو جو ان کی طرف ہجرت کرکے آرہے ہیں“ ۔(امین احسن اصلاحی)
”(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالہجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے “۔(احمد رضا خان)
”اور (ان لوگوں کے لیے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں “۔(فتح محمد جالندھری)
”اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
وَالَّذِینَ جَاءُوا مِن بَعدِہِم یَقُولُونَ رَبَّنَا اغفِر لَنَا وَلِاِخوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالاِیمَانِ۔ (الحشر: 10)
گزشتہ مقام کی طرح اس مقام پر بھی اہل تفسیر وترجمہ نے یہ مان لیا ہے کہ یہاں بھی والذین، للفقراء المھاجرین پر معطوف ہے، اور گویا یہ بھی مال فیءکے حصے دار ہیں، حالانکہ یہاں بھی صاف نظر آتا ہے کہ والذین مبتدا ہے اور یقولون اس کی خبر ہے، جیسا کہ درج ذیل ترجموں میں آخری ترجمہ میں ہے:
”(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ”اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور (ان کے لیے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور جو ان کے بعد آئے (ان کا بھی اس مال میں حصہ ہے) جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جنہوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت کی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے“۔ (احمد رضا خان)
(۱۹۱) بریء کا ترجمہ
قرآن مجید میں بریء کا لفظ بار بار آیا ہے، اس کا مطلب ہوتا مکمل طور سے دوری، لاتعلقی اور بیزاری اختیار کرنا۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
اصل البُرئِ والبَرَاء والتَبَرِّی: التقصّی مما یکرہ مجاورتہ۔ (المفردات فی غریب القرآن)
عام طور سے مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے، لیکن کہیں کہیں بری الذمہ ہونے اور ذمہ داری سے بری ہونے کا ترجمہ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ ایک تو صرف لفظ بریء بری الذمہ ہونے کے لیے نہیں آتا ہے، دوسرے ذمہ داری سے بری ہونے کی کوئی بات ہی نہیں ہے جس کا اعلان کیا جائے، اور تیسرے یہ کہ ذمہ داری سے بری ہونے سے وہ لاتعلقی اور بیزاری ظاہر نہیں ہوتی ہے جس کا اظہار یہاں مقصود ہے۔ اس روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
(۱) قُل اِنَّمَا ہُوَ الَہ وَاحِد وَاِنَّنِی بَرِیء مِمَّا تُشرِکُونَ۔ (الانعام: 19)
”کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو“۔ (سید مودودی)
”اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)
(۲) قَالَ یَا قَومِ اِنِّی بَرِیء مِمَّا تُشرِکُونَ۔ (الانعام: 78)
”تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)
”تو ابراہیم ؑ پکار اٹھا: ”اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو “۔(سید مودودی)
(۳) وَقَالَ اِنِّی بَرِیء مِنکُم ۔ (الانفال: 48)
”اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے“۔ (سید مودودی)
”اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں “۔(فتح محمد جالندھری)
(۴) اَنَّ اللَّہَ بَرِیئ مِنَ المُشرِکِینَ وَرَسُولُہُ۔ (التوبة: 3)
”کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی“۔ (سید مودودی)
”کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے)“۔(فتح محمد جالندھری)
(۵) انتُم بَرِیئُونَ مِمَّا اعمَلُ وَاَنَا بَرِئ مِمَّا تَعمَلُونَ۔ (یونس: 41)
”تم بری ہو میرے عمل کی ذمہ داری سے اور میں بری ہوں تمہارے عمل کی ذمہ داری سے “۔(امین احسن اصلاحی)
”جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں“۔ (سید مودودی)
”تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)
”تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۶) وَاَنَا بَرِیئ مِمَّا تُجرِمُونَ۔ (ہود: 35)
”اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں“۔ (سید مودودی)
”اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)
”اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں“۔(محمد حسین نجفی)
And I am free of the sins of which ye are guilty! (Yousuf Ali)
(۷) قَالَ اِنِّی اُشہِدُ اللَّہَ وَاشہَدُوا اَنِّی بَرِیء مِمَّا تُشرِکُونَ۔ (ہود: 54)
”ہودؑ نے کہا ”میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں “۔(سید مودودی)
He said: "I call Allah to witness, and do ye bear witness, that I am free from the sin of ascribing, to Him. (Yousuf Ali)
(۸) فَاِن عَصَوکَ فَقُلِ انِّی بَرِیء مِمَّا تَعمَلُونَ۔ (الشعراء: 216)
”لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں“۔ (سید مودودی)
Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do." (Mubarakpuri)
But if they disobey thee, say, "I am free of responsibility for aught that you may do!" (Asad)
If they disobey you, say, "I bear no responsibility for what you do." (Wahduddin Khan)
(۹) کَمَثَلِ الشَّیطَانِ اِذ قَالَ لِلاِنسَانِ اکفُر فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّی بَرِیء مِنکَ۔ (الحشر: 16)
”اِن کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں “۔(سید مودودی)
”شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں“۔ (احمد رضا خان)
”(منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
(۱٠) وَاِذ قَالَ اِبرَاہِیمُ لِاَبِیہِ وَقَومِہِ اِنَّنِی بَرَاء مِمَّا تَعبُدُونَ۔ (الزخرف: 26)
”یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں“۔(سید مودودی)
(۱۱) اِذ قَالُوا لِقَومِہِم اِنَّا بُرَآء مِنکُم وَمِمَّا تَعبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ۔ (الممتحنۃ: 4)
”کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں“ ۔(سید مودودی)
(جاری)
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۹)
مولانا سمیع اللہ سعدی
بحث دوم : فریقین کے علم اصولِ حدیث کا تقابلی مطالعہ
بحثِ اول میں آٹھ اساسی اور بڑے موضوعات کے تحت ان بنیادی مفاہیم و اصطلاحات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ، جن کی وجہ سے اہل تشیع اور اہل سنت کا حدیثی ذخیرہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہوجاتا ہے ،ان اساسی مفاہیم میں فریقین کے حدیثی ذخیرے کے امتیازات و خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ،تاکہ فریقین کے تراث ِ حدیث کے محاسن و مساوی کا تقابل کیا جاسکے ۔ ان موضوعات کی فہرست یہاں دی جارہی ہے ،تاکہ اقساط کی طوالت کی وجہ سے بحث کی تنقیح اور تسلسل میں جو اخفا رہ گیا ہے ،وہ دور کیا جاسکے ،بحث اول میں ان آٹھ موضوعات میں فریقین کے علم حدیث کے مفاہیم و مصطلحات کا تقابل پیش کیا گیا :
1۔ فریقین کے حدیثی ذخیرے میں حدیث و سنت کا مفہوم و مصداق
2۔عدالتِ صحابہ کا مسئلہ اور تراثِ حدیث پر اس کے اثرات
3۔ فریقین کا حدیثی ذخیرہ قبل از تدوین،تحریری و تقریری سرمایہ
4۔فریقین کی کتبِ حدیث میں تعداد روایات کا فرق اور اس کے نتائج
5۔ فریقین کا زمانہ روایت و اسناد
6۔ فریقین کی کتبِ حدیث کے مخطوطات و نسخ
7۔ فریقین کے معیاراتِ نقد حدیث
8۔فریقین کی تراثِ حدیث میں موضوع روایات اور اس کی تنقیح
اب بحث دوم میں فریقین کے اصول ِحدیث کا تعارف تقابلی انداز میں کرایا جائے گا ،تاکہ ہر دو فریقوں نے حدیثی تراث کو پرکھنے کے لیے جو اصول و قواعد ترتیب دیے ہیں ، ان کی افادیت اور حدیثی ذخیرے کو پرکھنے میں اس کے اثرات و نتائج سامنے آسکے ۔ما قبل کی اقساط میں اس کا ذکر ہوچکا ہے کہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے اخباری و اصولی دو مکتب پائے جاتے ہیں ،ان میں سے اصولی مکتب نے اہلسنت کے طرز پر حدیث کو پرکھنے کا ایک فن ترتیب دیا ہے ،جو شیعی حلقوں میں علم الدرایہ کے نام سے موسوم ہے ،جبکہ اہلسنت کے ہاں حدیث کو پرکھنے کا فن عمومی طور پر علم مصطلح الحدیث کے نام سے پکارا جاتاہے ، اس بحث میں شیعی علم الدرایہ اور سنی مصطلح الحدیث کا تقابلی مطالعہ پیش کیا جائے گا ۔
1۔زمانہ تدوین
شیعی علم الدرایہ اور سنی علم مصطلح الحدیث میں بنیادی ترین فرق زمانہ تدوین کا فرق ہے ،سنی اصول ِ حدیث اسی زمانے میں مدون ہوئے ،جس زمانے میں اہل سنت کے بنیادی مراجع صحاح ستہ لکھی گئیں ،بلکہ خود اصحاب صحاح ستہ نے مصطلح الحدیث کے اہم مباحث کو اپنی کتب میں جگہ دی،ہم نکات کی شکل میں سنی مصطلح الحدیث کے اولین تحریری ورثے پر ایک نظر ڈالتے ہیں :
1۔اصول ِ حدیث کے اہم مباحث کو سب سے پہلے امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الرسالہ میں تحریر فرمایا ،چنانچہ محقق عبد الماجد غوری لکھتے ہیں :
"و یمکن ان یقال ایضا :ان الامام الشافعی رضی اللہ عنہ (المتوفی سنہ204ھ) ھو اول من دون بعض المباحث الحدیثیۃ فی کتابہ الرسالہ "1
ترجمہ: یہ کہنا بھی درست ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ وہ ا ولین شخصیت ہیں ،جنہوں نے اصول حدیث کے بعض مباحث کو الرسالہ میں مدون کیا ۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے پہلے بھی مصطلح الحدیث کو محدثین نے لکھا ، مثلا علی ابن مدینی و غیرہ ، ان کی کتب چونکہ محفوظ نہیں رہ سکیں ،اس لیے باقی رہنے ولے تحریری سرمایے میں امام شافعی رحمہ اللہ کی الرسالہ اس موضوع پر اولین تحریر کہلا ئے گی ۔امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الرسالہ میں مصطلح الحدیث کے ان مباحث پر روشنی ڈالی:
• روایت بالمعنی کی بحث
• مدلس کا عنعنہ
• مرسل روایت کی بحث
• شرائط حفظ الراوی
• عدالتِ راوی کی پہچان کے طرق
• مقبول راوی کے اوصاف
• خبر واحد اور خبر مراۃ کی بحث2
2۔ معروف محدث امام دارمی(255ھ) نے اپنی کتاب سنن دارمی کے مقدمے میں مصطلح الحدیث کے اہم مباحث کو موضوع ِ بحث بنایا ،یہ مقدمہ کافی طویل ہے ، جس میں تقریبا 57 کے قریب ابواب میں امام دارمی نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی ،ان میں مصطلح الحدیث کے مباحث بھی شامل ہیں ۔
3۔ صحاح ستہ میں سب سے اولین کتاب لکھنے والے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں مصطلح الحدیث کے اہم مباحث کو بیان کیا ہے ،طرق تحمل حدیث ،اخبرنا و حدثنا میں فرق ،سماع الصغیر جیسے موضوعات پر صحیح بخاری میں باقاعدہ ابواب باندھے ،زیادت ثقہ ،متابعات وغیرہ جیسے مباحث پر متعدد مقامات پر روشنی ڈالی ،اس کے علاوہ اپنی دیگر کتب خصوصا کتب رجال میں رجال پر تبصرہ کرتے ہوئے متنوع موضوعات پر اپنی رائے دی۔
4۔امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم کا مقدمہ خاص مصطلح الحدیث کے اہم مباحث کے لیے تحریر کیا ،مقدمہ مسلم میں امام مسلم نے سات بڑے اصولی مباحث پر گفتگو کی ۔
5۔امام ترمذی نے العلل الصغیر کے نام سے ایک مصطلح الحدیث میں ایک مستقل رسالہ لکھا ،جس میں مصطلح الحدیث کے دس بڑے موضوعات کو موضوع بحث بنایا،محقق عبد الماجد غوری ان موضوعات ِ عشرہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
"فھذہ جملۃ البحوث التی اوجز الترمذی الحدیث عنھا فی ھذہ المقدمہ القیمہ، والتی کما رایت تتناول اھم ارکان علوم الحدیث"3
ترجمہ:یہ وہ مباحث ہیں ،جن سے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ اپنے وقیع مقدمے میں تعرض کیا ہے ،یہ مباحث ،جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں ،مصطلح الحدیث کے اہم ترین ارکان میں سے ہیں ۔
6۔ امام ابو داود نے اہل مکہ کو اپنی سنن کے تعارف پر مشتمل ایک خط لکھا ،اس میں مصطلح الحدیث کے اہم مباحث پر گفتگو کی ۔
7۔امام طحاوی نے حدثنا و اخبرنا کے تسویہ پر ایک مستقل رسالہ لکھا ۔
8۔انہی منتشر مباحث اور متقدمین سے منقول دیگر مصطلح الحدیث کے اصول و ضوابط کو باقاعدہ بطورِ فن کے چوتھی صدی ہجری کے مایہ ناز محدث قاضی عبد الرحمان الرامھرمزی نے اپنی کتاب " المحدث الفاصل بین الراوی و الواعی " میں جمع کیا ،جو مصطلح الحدیث کی پہلی باقاعدہ تصنیف شمار ہوتی ہے ۔
9۔ اس کے بعد پانچویں صدی ہجری میں امام حاکم نے معرفۃ علوم الحدیث لکھ کر اس فن کو کمال تک پہنچایا ۔
سنی مصطلح الحدیث کے اولین سرمایے کا ایک خاکہ ذکر کیا جاچکا ہے ،اس خاکے سے یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے کہ سنی مصطلح الحدیث اسی زمانے اور انہی محدثین یا ان کے اساتذہ و تلامذہ کے ہاتھوں مدون ہوا ،جنہوں نے بنیادی کتب ِ حدیث صحاح ستہ لکھیں ،اس کے برخلاف جب ہم شیعی علم الدرایہ کو دیکھتے ہیں ،تو اس لحاظ سے شیعی علم الدرایہ ہمیں سنی اصول ِ حدیث سے کافی فروتر نظر آتا ہے کہ شیعی علم الدرایہ اہل تشیع کے بنیادی مراجع حدیث (کتب اربعہ ) کے تقریبا تین صدیوں بعد مدون ہوا ، چنانچہ معروف شیعہ محقق جعفر سبحانی لکھتے ہیں :
"ان اول من الف من اصحابنا فی علم الدرایہ کما ھو المشہور ھو جمال الدین احمد بن موسی بن جعفر بن طاووس المتوفی عام 673ھ"4
ترجمہ:ہمارے شیعہ حضرات میں سے علم الدرایہ میں سب سے اولین کتاب لکھنے والے جمال الدین احمد بن طاوس ہیں ،جیسا کہ مشہور ہے۔
اس کے بعد اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں :
"فالقدر المتیقن ان اول من الف ھو احمد بن طاووس الحلی"5
یعنی اتنی بات یقینی ہے کہ اس موضوع پر سب سے اولین کتاب احمد بن طاووس حلی نے لکھی ہے ۔
شیعی علم الدرایہ اور سنی مصطلح الحدیث کے زمانہ تدوین کے اس فرق سے( فرق سے مراد یہ کہ سنی علم اصول حدیث خود حدیث کی تدوین کرنے والے محدثین کے زمانہ میں مدون ہوا جبکہ شیعی علم الدرایہ شیعی حدیث کے زمانہ تدوین کے کافی عرصہ بعد مدون ہوا) ہر دو فنون افادیت ،تطبیق اور اثرات میں ایک دوسرے سے کلی طور پر مختلف ہوجاتے ہیں ،ہم چند اہم فروق نکات کی شکل میں بیان کرتے ہیں :
1۔سنی مصطلح الحدیث چونکہ صحاح ستہ کے زمانے میں ہی اور کچھ صحاح ستہ کے زمانے سے پہلے مدون ہونا شروع ہوا ،بلکہ اس کے بعض اہم قواعد خود اصحاب صحاح ستہ نے ترتیب دیے ،اس لیے صحاح ستہ انہی قواعد و اصول کی بنیاد پر مدون ہوئیں ،جس کی وجہ سے مصطلح الحدیث کا فن بھر پور تطبیق سے گزرا ،جبکہ شیعی علم الدرایہ شیعہ علم ِ حدیث کے مدون ہونے کے کئی صدیوں بعد منظر عام پر آیا ،جس کی وجہ سے شیعی علم الدرایہ کے قواعد و اصول کا شیعہ علم حدیث پر انطباق نہ ہونے کے برابر ہے ،کیونکہ ایک لاکھ سے زائد احادیث پر قواعد کا انطباق ناممکن نہ سہی ،مشکل ترین ضرور ہے ،اسی لیے آج بھی شیعی علم الدرایہ میں قواعد و اصول بیان کرتے ہوئے شیعہ اہل علم امثلہ شیعی ذخیرہ حدیث کی بجائے سنی ذخیرہ حدیث سے لینے پر مجبور ہیں ،اس کی متعدد امثلہ پچھلی اقساط میں ہم بیان کر چکے ہیں ۔
2۔زمانہ تدوین میں فرق کا دوسرا بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعی تراث میں صحیح اور ضعیف حدیث کے معیارات کے سلسلے میں متعدد نقطہ نظر سامنے آئے ،کتب اربعہ کے محدثین کے ہاں صحیح و ضعیف روایت کا معیار الگ تھا ،اخباری گروہ کے نزدیک الگ معیار ہے،(کتب اربعہ و اخباری مکتب کا نقطہ نظر قریب قریب ہے ،لیکن کچھ وجوہ سے یہ الگ نقطہ نظر شمار ہوتے ہیں )جبکہ اصولی مکتب کے نزدیک صحیح و ضعیف کا معیار الگ ہے ، ان مکاتب کی تفصیل ہم اس سلسلے میں معیارات ِ نقد حدیث کے عنوان کے تحت دے چکے ہیں ،ان متعدد نقطہ ہائے نظر کی وجہ سے شیعہ ذخیرہ حدیث میں سے صحیح و ضعیف روایات کا تعین ایک ایسی گتھی بن چکا ہے ،جس کو آ ج تک نہیں سلجھایا جاسکا ،کتب اربعہ کے مصنفین نے اپنے معیارات کے مطابق احادیث کی تدوین کیں ،اخباری مکتب نے اپنے معیارات کے مطابق ذخیرہ حدیث پر حکم لگایا ،جبکہ اصولی منہج کے حاملین نے احادیث کو پرکھنے کا اپنا الگ نظام بنایا ،یوں شیعہ ذخیرہ حدیث میں صحیح، ضعیف، موضوع روایات کا متفقہ معیار نہ ہونے کی وجہ سے محققین کو متعدد الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جبکہ اس کے برخلاف اہل سنت میں حدیث کو پرکھنے کے معیارات کم و بیش ایک جیسے ہیں ،البتہ ان کی تطبیق میں اہل سنت محدثین کے ہاں اختلافات پائے جاتے ہیں ، جو ظاہر ہے ،ہر تطبیقی علم و فن کا خاصہ ہے ،نیز فقہائے اہل سنت بھی حدیث کے ثبوت و عدم ثبوت میں محدثین کے معیارات کو ہی بنیاد بناتے ہیں ،البتہ فقہاء حدیث کےثبوت و عدم ثبوت کے ساتھ ایک زائد چیز یعنی حدیث کے قابلِ عمل ہونے یا نہ ہونے کو بھی دیکھتے ہیں ،جو اصول ِ فقہ کی مبحث السنہ میں بیان ہوتا ہے ۔
3۔زمانہ تدوین میں فرق کا تیسرا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل سنت کا علم مصطلح الحدیث ایک فطری ارتقاء کے ساتھ تدوینِ حدیث کے مجموعوں کے ساتھ چلتا رہا ،ہر محدث جہاں حدیث مدون کرتا ،وہاں مصطلح الحدیث کے تصورات میں اضافہ اور پچھلوں کے تصورات میں تنقیح و تہذیب کا عمل جاری رکھتا،یوں کسی بھی علم و فن کی طرح اہل سنت کا مصطلح الحدیث فطری ارتقا کے عمل ِمسلسل سے گزرا ہے ،جبکہ اہل تشیع کا علم الدرایہ ساتویں صدی ہجری میں ایک ہی شخص کے ہاتھوں بیک وقت منظر عام پر آیا ،خصوصا تدوین کرنے والا شخص تدوینِ حدیث کے زمانے کے کئی صدیوں بعد آیا ،یوں وہ تدوینِ حدیث کے زمانے کا بچشمِ خود مشاہدہ اور رواۃ ومجالسِ حدیث کے از خود تجربے کے عمل سے نہیں گزرا تھا اور عملی میدان سےہٹ کر خالص نظری دنیا میں اس فن کے اصول و قواعد لکھنے کا کام سر انجام دیا ،یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع کے ایک بڑے حلقے (اخباری مکتب ) نے سرے سے اس پورے علم کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسے اہل سنت کی نقل قرار دیا ،اگر اہل تشیع کا علم الدرایہ اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کی طرح تدوین ِ حدیث کے ساتھ ہی ایک فطری ترتیب کے ساتھ صدی بہ صدی ارتقائی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا اور ہر محدث کے اضافہ جات و تنقیحات سےہو کر گزرتا ،تو اس علم کو اس طرح کے مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔
4۔زمانہ تدوین میں فرق کا ایک بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل تشیع کا علم الدرایہ متقدمین کے استناد اور علومِ متقدمین سے اخذ و التقاط سے خالی ہے ،کیونکہ یہ علم ساتویں صدی ہجری کے ایک عالم نے متقدمین کے منہج سے بالکل ایک الگ منہج اختیار کرتے ہوئے ایجاد کیا ،جبکہ اہلسنت کا علم مصطلح الحدیث متقدمین ہی کے زمانے اور علمائے متقدمین کے ہاتھوں مدون ہوا ،اہل علم جانتے ہیں کہ کسی بھی علمی روایت میں اس روایت کے اولین علماء سے استناد روایت کے اعتبار و اعتماد کے لیے بنیادی عامل ہے ،علمی روایت کو اعتماد بخشنے کے لیے اس کا تسلسل اساسی عنصر ہے،اس تسلسل اور استناد سے بلا شبہ اہل تشیع کا علم الدرایہ خالی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اخباریوں نے اس علم پر جو متعدد اعتراضات کئے ،ان میں یہ اعتراض سر فہرست تھا کہ یہ علم کتبِ اربعہ کے مصنفین و دیگر متقدمین علماء سے ماخوذ نہیں ہے ،چنانچہ معروف اخباری عالم محمد بن حسن حر عاملی لکھتے ہیں :
"أن طريقۃ القدماء موجبۃ للعلم، مأخوذۃ عن أھل العصمۃ لأنھم قد أمروا باتباعھا وقرروا العمل بھا، فلم ينكروہ، وعمل بھا الإماميۃ في مدۃ تقارب سبعمائۃ سنۃ منھا في زمان ظھور الأئمۃ عليھم السلام - قريب من ثلاثمائۃ سنۃ واصطلاح الجديد ليس كذلك قطعا، فتعين العمل بطريقۃ القدماء"6
ترجمہ:متقدمین کا منہج علم کا موجب ہے ،اور ائمہ معصومین سے ماخوذ ہے ،کیونکہ ائمہ معصومین نے ان متقدمین اہل علم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کے منہج پر عمل کی تائید کی ہے ،ان پر نکیر نہیں کی ہے ،نیز امامیہ نے انہی کے منہج پر سات سو سال تک عمل کیا ہے ،جن میں سے تین سو سال کا عرصہ ائمہ کا زمانہ ہے ،جبکہ اصطلاح جدید (یعنی علم الدرایہ )اس طرح نہیں ہے ،اس لیے قدماء کے طریقہ پر عمل واجب ہے۔
5۔کسی بھی علم کے اساسی قواعد و ضوابط (جنہیں ہم اصول ِعلم کہتے ہیں ،جیسے کہ اصول فقہ ،اصول ِحدیث وغیرہ)مرتب کرنے کا مقصد اس علم کی تدوین ،ترتیب اور اس کی نشو ونما میں ہونے والی بنیادی اغلاط و اخطا سے اس علم کو بچانا ہوتا ہے ،نیز وہ علم کن بنیادوں پر مرتب ہو نا چاہئے ،اس کے خدوخال واضح کرنے کے لیے بھی پہلے اس کے قواعد و ضوابط مرتب کئے جاتے ہیں ،مثلا، شوافع و احناف کے فقہی مسالک میں فرق دراصل ان دونوں کے اصولِ فقہ میں فرق کی وجہ سے ہے ،اگر ہر دو مسالک کے اصولِ فقہ سامنے نہ ہوں تو محض فقہی مسائل میں فرق کی وجہ سے دونوں مسالک میں موجود اساسی فروق کا کامل علم نہیں ہوسکے گا ،اسی طرح اہلسنت میں جب علم ِحدیث کی تدوین کا عمل شروع ہوا ،تو ساتھ ہی اصولِ حدیث کی تدوین اور اس کے خدوخال واضح کرنے کا عمل بھی شروع ہوا ،اس کی تفصیل ہم اس کے مضمون کے شروع میں نکات کی شکل میں دے چکے ہیں ،کہ کیسے حدیث کی تدوین کے ساتھ ساتھ اصول ِحدیث بھی منقح ہوتے گئے ،یوں حدیث و اصولِ حدیث مقارن صورت میں مدون ہوئے ،یہی وجہ ہے کہ آج اہلسنت کے بنیادی مراجع حدیث خصوصا صحاح ستہ کی روایات اور اصحاب صحاح ستہ کے مناہج و شروط بآسانی معلوم کئے جاسکتے ہیں ،جب ہم اس اصل پر اہل تشیع کا علم الدرایہ پرکھتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف بلکہ الٹ نظر آتی ہے کہ اہل تشیع کے اساسی کتب حدیث کے مصنفین (اصحاب کتب اربعہ ) نے ایک خاص منہج اور اپنے تئیں کچھ اصول و قواعد کی بنیاد پر کتب اربعہ لکھیں ،اس کے تین صدیوں بعد ایک عالم آکر پہلے سے مدون شدہ کتب اور ان کتب کے مصنفین کے طے کئے ہوئے اصولی منہج سے بالکل الگ ،جداگانہ اور مختلف اصولی منہج وضع کرتا ہے ،اور تقاضا کرتا ہے کہ تین صدیوں بعد وضع کئے ہوئے اصولوں کی روشنی میں ماضی کی ان کتب کا جائزہ لیا جائے اور ان میں موجود روایات کی تصحیح و تضعیف کا تعین کیا جائے ،تو یہاں عقلی طور پر ترتیب بالکل الٹ جاتی ہے کہ علم پہلے مدون ہوا ،کتب پہلے لکھی گئیں اور لکھنے والوں نے اپنے تئیں ایک خاص کے تحت تدوین و تریب کا یہ عمل سر انجام دیا ،پھر کئی صدیوں بعد ان کتب کی تدوین ،ترتیب ،نشوونما اور ان میں موجود اغلاط و اخطا کی نشاندہی کے لیے ان کتب کے مصنفین کے منہج سے بالکل ایک الگ منہج پر مبنی جداگانہ علم وضع کیا جاتا ہے ،یوں عمارت کی تکمیل کے بعد بنیادیں بنانے کا کام کیا گیا ،فصل مکمل ہونے کے بعد بیج ڈالنے کا عمل سر انجام پایا ،کام کرلینے کے بعد اس کے اصول و ضوابط طے کیے گئے ، وضع کی اس الٹی ترتیب کی وجہ سے علم الدرایہ انطباق اور کتب اربعہ کی احادیث اور ان احادیث میں کار فرما اصولی منہج کے معلوم کرنے سے بالکل عاری علم ہے ، یہاں تک کہ ان قواعد کی امثلہ کے لیے بھی احادیث ِ اہلسنت سے مستعار روایات لی جاتی ہیں ،یوں علم الدرایہ مدون ہونے کے باوجود اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کے تدوینی عمل، نشوونما ،تدوین کے منہج اور ترتیب و تدوین میں کار فرما اصول و قواعد معلوم کرنے کے لیے ممد و معاون نہیں ہے، اوریہ علم اپنامنطقی نتیجہ نہ دینے کی بنیاد پر اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے بے فائدہ علم بن جاتا ہے۔
حواشی
- المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ۔عبد الماجد غوری ،دار ابن کثیر ،بیروت ،ص617
- ایضا:ص617
- المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ،ص 621
- اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،دار جواد الائمہ ،بیروت ،ص
- ایضا:ص11
- وسائل الشیعہ ،،حر عاملی ،موسسہ اہل البیت لاحیاء التراث م،ج30،ص258
زکاۃ بمقابلہ احساس
پروفیسر عمران احسن خان نیازی
ترجمہ : مراد علوی
تحریک انصاف حکومت کا احساس پروگرام یقینا قابل ستائش ہےاور اس پر یہ تنقید درست نہیں کہ پاکستانی قوم بھکاری بن رہی ہے۔ یہ پناہ گاہیں سردی کے اس موسم میں غریبوں کو راحت پہنچا رہی ہیں۔ نیز یہ پروگرام غریبوں کے لیے تقریباً ماہانہ بنیادوں پر سہولت فراہم کررہا ہے۔ اس میں ہم صحت کارڈکو بھی شامل کرسکتے ہیں جو طِبّی امداد سے محروم لوگوں کو دیے گئے ہیں۔ یہ سب اچھے اعمال ہیں لیکن جب ہم اس پروگرام کو اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو اس سے یہ قانونی الجھن سامنے آتی ہے کہ یہ پروگرام ٹیکس کے ان پیسوں سے چل رہے ہیں جو لوگوں سے زبردستی وصول کیے گئے ہیں اور قربِ الٰہی کے حصول کا جذبہ اس انتظام میں نظر انداز ہوجاتا ہے۔ اگر حکومت یہ پروگرام عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کر رہی ہے ، تو یہ عوام کی طرف سے حکومت کے ذریعے ایک رضاکارانہ عمل ہےجو حکومت بہ طور وکیل سر انجام دیتی ہے۔ یہ استدلال ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ ایک رضاکارانہ عمل، جس کی حیثیت صدقات کی ہے، اسے زکاۃ کے مقابلے میں لوگوں پر نافذ کردیا گیا ہے جس کے نفاذ میں ہر حکومت نے محض آنکھ مچولی سے کام لیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ زکاۃ کو اس ملک میں ایک رضاکارانہ ادائیگی میں ، جبکہ رضاکارانہ خیرات کو فلاحی پروگراموں کے لیے لازمی ٹیکس میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
زکاۃ اسلام کے ارکان میں سے ہے۔ خلیفۂ اوّل ]سیدنا ابو بکر صدیق[نے اس کے نفاذ کے لیے جہاد کیا۔ سورۃ البقرہ کے آغاز ہی میں ایمان بالغیب اور قیام صلاۃ کے بعد اس فرض کی ادائیگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت احکام القرآن کی تفسیر کرنے والے اہلِ علم نے کی ہے ۔ چنانچہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ اللہ کو جواب دہ ہوگا لیکن جو زکاۃ ادا نہیں کرتا ، اسےحکومت ادا کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔
فقہا نے قرار دیا ہے کہ چراگاہوں سے چرنے والے جانوروں کی زکاۃ حکومت کو ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ زکاۃ کے متعلق دیگر ادائیگیاں ہر فرد اپنی ذمہ داری کے مطابق خود کرسکتا ہے ۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ زکاۃ کی ادائیگی اختیاری ہے۔ نماز کے برعکس، جو حق اللہ ہے، زکاۃ نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اس کا تعلق غریب کے حق سے بھی ہے۔ یہ ایسا حق ہے جس کا پورا کرنا فرض ہے اور غریب کے اس حق کی حفاظت کی کلی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ ہر فرد، خواہ وہ زکاۃ سے فائدہ اٹھانے کا دعویٰ کرے یا نہ کرے،بہ طور ِاصول اس کا پابند ہے کہ وہ زکاۃ ادا کرے گااور نہ دینے کی صورت میں زکاۃ اس سے زبردستی وصول کی جاسکتی ہے۔ زکاۃکا نظام گوشواروں (Zakat Returns)کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے ۔ چنانچہ ہر شخص کو ، جو نصاب (دولت کی کم سے کم مقدار جس پر زکاۃ فرض ہوتی ہے ) کا مالک ہو، زکاۃ ادا کرنی ہوگی اور اگر اس نے گوشوارے میں کسی ادارے یا فرد کو زکاۃ دینے کا دعویٰ کیا،تو اسے گوشوارے کے ساتھ اس ادارے یا فرد سے لی گئی رسید لگانی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ تعمیل نہ کرنے والوں کو سزا دینے کا قانون بنائے۔
نظامِ زکاۃ کے نفاذ سے تین چیزوں کا حصول متوقع ہے۔ ان میں سے سب سے پہلی یہ ہے کہ زکاۃ کے گوشواروں (Zakat Returns) سے پوری معیشت اور نجی اثاثوں کی تفصیل دستاویزی صورت میں آجائے گی۔ حکومت ان معلومات کی روشنی میں پھر اپنے ٹیکس کے نظام کو بہتر بناسکے گی۔ اس قانون کی خلاف ورزی محض ریاستی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوگی بلکہ غریبوں کے حق کے متعلق اللہ کے حکم کی نافرمانی ہوگی ۔ ثانیاً، جمع شدہ فنڈز کے موثر تقسیم سے کافی حد تک غربت کا خاتمہ ہوگا۔ یہ محض بڑا بول نہیں ہے۔ جو لوگ زکاۃ کی وصولی کو ٹیکس وصولی کے مقابلے میں حقیر کاوش سمجھتے ہیں، وہ زکاۃ کے نظام سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ہم یقین سے کَہ سکتے ہیں کہ احساس اور صحت کارڈ کے پروگرام سے غریبوں پر سالانہ خرچ ہونے والی رقم میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ثالثاً، جب ایک بار غریبوں کو مناسب فنڈز اپنے قانونی حق کے طور پر مل جائیں، تو وہ روٹی کپڑا اور مکان جیسے جھوٹے وعدوں پر مبنی سیاسی نعروں کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔
یہاں زکاۃ، عشر اور خمس کے ماخذ کو سمجھنا ضروری ہے۔زکاۃ ادا کرنے والا قاری جانتا ہے کہ سونے کے لیے نصاب ساڑھے سات تولے، جب کہ چاندی کے لیے ساڑھے باون تولے ہے۔ زکاۃ کے نصاب میں زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کےلیے کاغذی کرنسی کو ساڑھے باون تولے چاندی کے نصاب کے حساب میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اشیا اور نقدی کےلیے سونے کے نصاب کو معیار بنایا جائے تاکہ مستحقین کو ، جونصاب کی حد تک ہی وصول کرسکتےہیں ، بڑی مقدار کی ادائیگی کے ذریعے زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکے۔
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فکرمند نہیں ہیں۔ ان میں پہلی چیز کاروبار میں استعمال ہونے والے اثاثے ہیں۔ ان سے مراد کاروبار کی فہرست میں شامل اموال اور قابلِ عمل سرمایہ ہیں ۔ ہر کاروبار، خواہ کمپنی ہو، شراکت یا کسی کا ذاتی کاروبار ہو، اس کو لگائے ہوئے سرمایے کاڈھائی فیصد بہ طورِ زکاۃ ادا کرنا ہوگا۔ اس سے کچھ ہی ساز و سامان اور مشینری مستثنا ہوسکتے ہیں۔ اس مد سے حاصل ہونے والی رقم ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔
جائیداد سے ملنے الے کرایہ کی آمدنی کے بارے میں کچھ الجھن پائی جاتی ہے۔ ہمارے علما کا خیال یہ ہے کہ یہ بھی عام آمدنی جیسی ہے بایں طور کہ اس پر بھی سال گزر جانے کے بعد ہی زکاۃ کا اطلاق ہوگا۔ تاہم عظیم حنفی فقیہ امام سرخسی اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ کرایہ والی جائیداد پر پہلے ہی سال گزر چکا ہوتا ہے؛ لہذا کرایہ جب واجب الادا ہوجائے ، یا وصول کی جائے ، تو اسی لمحے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے ۔ یہ زیادہ معتبر موقف ہے۔ اگر اسےنافذ کیا جائے تو اندازہ لگائیں کہ اس کے دائرے میں کرایے کے کتنے پلازے اور مکانات آجائیں گے۔ یہ بہت بڑی رقم ہوگی۔
زمین کی تمام پیداوار پر عشر ، یعنی دس فیصد کی ادائیگی لازمی ہے (پانچ فیصد ، اگر زمین نہری ہو) ۔ اس میں ڈیری فارم بھی شامل ہے، جو کاروباری آمدنی میں شمارکیا جائے گا۔ ملک میں باہر سے لائے جانے والے اموال پر کسٹم ڈیوٹی کی مقدار برابر کے بدلے کے اصول پر عائد کی جاتی تھی اور اسے بھی عشر کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی شرح عموماً دس فیصد ہوا کرتی تھی ۔ اس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی ہیں، لیکن اب ہم معدنیات اور دفینوں پر بات کریں گے ۔
ہدایہ میں ، جو کہ ہر مدرسے میں پڑھائی جاتی ہے، تصریح ہے کہ:" جب خراجی اور عشری زمین سے سونا، چاندی ، لوہا، سیسہ اور تانبہ جیسی معدنیات نکالی جائیں تو ان پر پانچواں حصہ (خمس) ہے۔ "اس سے تمام زمینیں مراد ہیں۔ یہاں ان معدنیات کا ذکر ہوا جو اس زمانے میں معروف تھیں ۔ آج تمام معدنیات پر 20 فیصد خمس عائد ہوگا، اور اس میں تھر کا کوئلہ یا ریکو ڈک کی معدنیات بھی شامل ہوں گی۔ اس میں پیٹرول بھی شامل ہے، اگر چہ عرب ممالک سے اس کے عدمِ جواز کے بارے میں فتویٰ آیا ہے۔ زکاۃ کے مصارف کی پابندیاں خمس پر لاگو نہیں ہوتیں ۔
مذکورہ بالا زرائع سے جمع کی جانی والی رقم چند ہی سالوں میں ملک سے غربت کا خاتمہ کرے گی۔ اگر سونے کو آج زکاۃ کے حساب کے لیے معیار کے طور پر استعمال کیا جائے ، تو ایک غریب مستحق کو زیادہ سے زیادہ جو رقم ملے گی وہ چھے لاکھ چھیا سٹھ ہزار روپیہ ہوں گے۔ اگر چاندی کو استعمال کیا جائے تو موجود قیمت کے مطابق زیادہ سے زیادہ پچپن ہزار روپے ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہر غریب آدمی کے لیے کافی رقم دستیاب ہوگی ۔ سینٹ آگسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ انصاف کے بغیر ریاست ڈاکوؤں کے ٹولے سے بہتر نہیں ہوتی۔ اسلامی عدل کے بغیراسلامی ریاست اس سے بھی بدتر ہوگی۔ ہم یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف کا ایک مستحسن فیصلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ جنوری ۲۰۲۰ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں:
’’عالمی عدالت انصاف نے میانمار حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کا حکم دے دیا، نسل کشی کے خلاف ۱۹۴۸ء کے کنونشن کے تحت افریقی ریاست گیمبیا کی درخواست پر اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے عالمی کورٹ کے جج عبد القوی احمد یوسف نے درخواست گزار ملک کو مقدمے کی کاروائی مزید آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے، عدالت نے میانمار کی حکومت کو پابند بنایا کہ وہ مسلمان کمیونٹی کے خلاف اپنی فوج کے ظالمانہ اقدامات روکے، نیگون حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے چار ماہ کے اندر تمام اقدامات کر کے رپورٹ جمع کرانے، اور ہر چھ ماہ بعد اس حوالہ سے رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران میانمار کی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ عالمی عدالت انصاف اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی جس پر گیمبیا کے دلائل سن کر عدالت نے قرار دیا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے مقدمہ سننے کی یہ عدالت مجاز ہے، واضح رہے کہ میانمار میں ۲۰۱۷ء کے فوجی کریک ڈاﺅن کے نتیجے میں سات لاکھ چالیس ہزار مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی تھی۔‘‘
میانمار (برما) کا یہ خطہ جو اراکان کہلاتا ہے، مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور یہاں صدیوں مسلمانوں کی آزاد حکومت رہی ہے۔ جسے برطانوی استعمار نے اس علاقے میں کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تقسیم کر کے اس کے دارالحکومت چٹاگانگ کو بنگال میں شامل کیا تھا اور دوسرے حصے کو برما کے سپرد کر دیا تھا۔ یہاں روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے جو طویل عرصہ سے نسلی تعصب اور اس کی آڑ میں مذہبی منافرت کا نشانہ بنتے آرہے ہیں اور مختلف ادوار میں ہزاروں افراد شہادت سے ہمکنار ہونے کے علاوہ لاکھوں مسلمان بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ انہیں نسل در نسل اس خطہ میں آباد چلے آنے کے باوجود وہاں کا شہری تسلیم نہیں کیا جا رہا اور میانمار کی حکومت وہاں کے بدھ کاشٹوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے متعدد بار فوجی آپریشنوں کے ذریعے مسلمانوں کے قتل عام اور جلاوطنی کے جرائم کا ارتکاب کر چکی ہے۔
اس کے بارے میں اقوام متحدہ کے علاوہ متعدد دیگر عالمی ادارے اور مسلم ممالک کی باہمی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) مختلف مواقع پر رپورٹیں پیش کرتے ہوئے آواز اٹھاتے رہے ہیں مگر توجہ دلانے اور آواز اٹھانے سے آگے کوئی عملی جدوجہد کسی طرف سے اب تک سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اب اگر گیمبیا کی حکومت نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا کر مظلوم اراکانی مسلمانوں کی دادسی کی کوئی صورت نکالی ہے تو وہ پورے عالم اسلام کی طرف سے شکریہ کی مستحق ہے اور اس سے کسی حد تک دلوں میں اطمینان کا احساس اجاگر ہوا ہے کہ کسی طرف سے کوئی آواز تو اٹھی ہے اور کسی مسلمان حکومت نے دینی حمیت کا مظاہرہ تو کیا ہے۔ یہ کام دراصل بنگلہ دیش کے کرنے کا تھا کہ وہ پڑوسی مسلمان ملک ہونے کے ساتھ ساتھ اراکان کے سابق دارالحکومت چٹاگانگ کو اپنے دامن میں سنبھالے ہوئے ہے اور اس نے لاکھوں اراکانی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے، اور حکومت پاکستان کا حق بنتا تھا کہ متحدہ پاکستان کے دور میں اراکان اس کی پڑوسی ریاست تھی۔ جبکہ تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق قیام پاکستان کے وقت اس ریاست کے مسلمانوں نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور ہمارے خیال میں ان کی یہ معصوم خواہش ہی ان پر ظلم کی رسی دراز ہونے کا باعث بنی ہے۔ پھر اس کیس کی اصل مدعی او آئی سی تھی کہ اس کے قیام کا مقصد ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کی دیکھ بھال اور مسلم علاقوں کے درمیان ربط و تعاون کا فروغ بیان کیا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور گیمبیا نے بالآخر یہ قدم اٹھایا جس پر ہم گیمبیا کو خراج تحسین پیش کرنا اپنی دینی و ملی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
اگرچہ عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے سے عملی طور پر کسی بڑی تبدیلی کی توقع بظاہر مشکل ہے اس لیے کہ عالمی عدالت اور عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اس نوعیت کے بہت سے اہم فیصلے صرف اس لیے گومگو کی سولی پر لٹکے چلے آرہے ہیں کہ ان کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ اور فلسطین اور کشمیر سمیت بہت سے علاقوں کے بارے میں اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے متعدد فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال سے واضح ہے۔ جبکہ مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام و جلاوطنی کا یہ سلسلہ صرف اراکان تک محدود نہیں بلکہ کشمیر، سنکیانگ اور دنیا کے بہت سے دیگر علاقوں میں بھی جاری ہے۔ اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کہلانے والے بھارت میں مسلمانوں کی شہریت کے بارے میں مودی حکومت کے حالیہ اقدامات بھی اس سے مختلف دکھائی نہیں دیتے۔
تاہم عالمی عدالت انصاف اور گیمبیا کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں، اداروں اور لابیوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ اراکان، سنکیانگ اور اراکان کے مسلمانوں کی یہ مسلسل مظلومیت بہرحال دنیا بھر کے مسلمانوں کی ملی حمیت کے لیے سوالیہ نشان کی حقیقت رکھتی ہے اور ہمیں اس کے لیے ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے مسلط کردہ دائروں سے ہٹ کر ملی تقاضوں اور دینی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہی کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا کہ اس کے سوا اس کا مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔
آنجہانی جسٹس رانا بھگوان داس کی یاد میں تقریب
آئی پی ایس (انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد) کی طرف سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان آنجہانی رانا بھگوان داس کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات مجھے اچھی لگی کہ ہم ان شخصیات کو یاد رکھیں جنہوں نے اصول، قانون اور انسانی روایات کو زندہ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ یہ تقریب ۱۱ فروری کو منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری تھے۔ جبکہ دیگر مہمانان خصوصی میں محترم راجہ محمد ظفر الحق، جناب محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر رامیش کمار (ایم این اے) کے ساتھ راقم الحروف کا نام بھی شامل تھا۔
موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش میں مجھے ایسی مجالس کی تلاش رہتی ہے جن میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ ارباب فکر مل بیٹھ کر انسانی اقدار و روایات کے فروغ اور مذہب کے معاشرتی کردار کے حوالہ سے گفتگو کریں۔ کیونکہ میری طالب علمانہ رائے میں اس وقت نسل انسانی کا سب سے بڑا مسئلہ اور بحران انسانی اخلاقیات اور اقدار کا ہے جن سے انسانی سوسائٹی مسلسل محروم ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ انسانی اخلاق و روایات کے سب سے بڑے علمبردار مذاہب ہیں جو تمام تر باہمی اختلافات اور تنازعات کے باوجود انسان کو اس کی بنیادی اقدار سے وابستہ رکھنے میں سب سے مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ انسانی اخلاقیات و روایات اور سوسائٹی کے معاملات میں مذہب کے کردار کو کمزور کرتے چلے جانا اس وقت تمام مذاہب کے سنجیدہ راہنماؤں کے لیے مشترکہ چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں اس سلسلہ میں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مختلف مذاہب کے متعدد راہنماؤں سے بات چیت کر چکا ہوں اور اس مکالمہ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی خواہش رکھتا ہوں بلکہ کوشش بھی کرتا رہتا ہوں۔
اس سیمینار کے بارے میں آئی پی سی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کو اس کالم کا حصہ بناتے ہوئے میں اپنی گفتگو کے بعض حصے بھی ریکارڈ میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ اپنے محسنین کو یاد رکھنا ان کا حق ہونے کے ساتھ ساتھ جناب سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے آنحضرتؐ کو اپنے ایک پرانے محسن مطعم بن عدی یاد آگئے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر طائف میں پتھراؤ کرنے والے اوباش لڑکوں سے آپؐ کو پناہ دی تھی۔ اللہ تعالٰی کے آخری رسول ان لڑکوں کے پتھراؤ اور تعاقب کے باعث زخمی اور لہولہان حالت میں اپنے خادم حضرت زید بن حارثہؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف واپس آرہے تھے کہ راستہ میں مطعم بن عدی نے اپنے ڈیرے کا دروازہ کھول دیا اور آپؐ وہاں کچھ دیر ٹھہرے، خون وغیرہ دھویا اور آرام کیا۔ نبی اکرمؐ نے غزوہ بدر کے موقع پر اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور ان قیدیوں کی سفارش کرتے تو میں انہیں فدیہ لیے بغیر ہی آزاد کر دیتا۔ اس میں جناب رسول اکرمؐ کی طرف سے یہ تعلیم ہے کہ محسن خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اس کی احسان مندی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ میں جب اس سیمینار میں شرکت کے لیے حاضر ہوا تو مہمانوں میں جناب سبھاش چندر کو دیکھا جو آنجہانی رانا بھگوان داس کے برادر نسبتی ہیں اور مجھ سے پہلے انہوں نے شرکاء سے گفتگو کی، انہیں دیکھ کر مجھے تحریک آزادی کے نامور راہنما سبھاش چندر بوس یاد آگئے اور میں اسٹیج پر بیٹھا کچھ دیر تک ماضی کے مناظر میں کھویا رہا۔
ان گزارشات کے ساتھ اس سیمینار کے بارے میں آئی پی سی کی رپورٹ پیش خدمت ہے:
’’اسلام آباد، 12 فروری: پاکستان کی تعمیر و ترقی اور اس کے قومی اداروں کو استحکام دینے اور مضبوط بنانے میں جسٹس رانا بھگوان داس جیسے ملک کے کئی غیر مسلم فرزندوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف ان غیر مسلم ماہرین کی خدمات کو سراہا جائے بلکہ ملک کے نوجوانوں کی نظریاتی سوچ کی تعمیر کے لیے ان میں یہ آگہی بھی پیدا کی جائے کہ کس طرح ان ماہرین نے اقلیت میں سے ہونے کے باوجود ملک کی قانونی، عدالتی، آئینی اور سماجی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ اسلام آباد میں جسٹس رانا بھگوان داس کے یاد میں ہونے والی ایک تقریب کا خلاصہ تھا جس کا اہتمام اسلامی نظریاتی کونسل اور انسٹیٹوٹ آف پالیس اسٹڈیز کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا تھا۔ اس تقریب سے خظاب کرنے والوں میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، ایڈووکیٹ اکرم شیخ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ایگزیگٹیو پریزیڈنٹ خالد رحمٰن، قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، مولانا ابو عمار زاہدالراشدی، اسلام آباد ہندو پنچایت کے صدر مہیش کمار، اور جسٹس رانا بھگوان داس کے برادرِ نسبتی سبھاش چندرشامل تھے ، جبکہ سینیٹر راجہ ظفر الحق کا خصوصی پیغام بھی انسٹیٹیوٹ کے سینئیر تحقیق کار سید ندیم فرحت نے اس موقع پر پڑھ کر سنایا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جسٹس بھگوان داس ایک محبِ وطن شہری تھے جو قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے اور اپنے تمام فیصلے بھی قوانین کی روشنی میں ہی کرتے تھے۔ انہوں نے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی اور اسی بنا پر انہیں اسلامی فکر اور قانون پر عبور حاصل تھا۔ وہ ایک انتہائی اصول پسند انسان تھے اور انہوں نے اپنے کردار، رویے، غیر جانبداری، متوازن سوچ کی بنا پر اتنی عزّت اور اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جسٹس بھگوان داس اور ان کی طرح اقلیت سے تعلق رکھنے والے ملک کے دیگر فرزندوں مثلا جسٹس اے آر کانیلیس اور جسٹس دراب پٹیل وغیرہ کی خدمات کو یاد رکھیں اور ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ کیسے انہوں نے اپنی محنت او مستقل مزاجی سے یہ مرتبہ حاصل کیا۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں اقلیتوں کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہاں ملکی سطح پر غیر امتیازی پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ اگرچہ کسی بھی ملک کی طرح یہاں بھی کچھ انتہا پسند طبقات موجود ہیں، لیکن حال میں ہی ہونے والے مختلف واقعات اور قانونی فیصلوں کی روشنی میں عمومی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے نظام اور معاشرے میں بھی اقلیتوں کو ان کا حق دینے کی گنجائش نظر آتی ہے۔ مقررین نے اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور اسلامی نظریاتی کونسل کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی ہیرو اور فرزندوں ، اور ان کی قومی خدمات کو یاد کرنے والی ایسی کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔‘‘
آنجہانی جسٹس رانا بھگوان داس کی یاد میں تقریب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آئی پی ایس
(انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد) کی طرف سے سابق چیف جسٹس آف
پاکستان آنجہانی رانا بھگوان داس کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں
شرکت کی دعوت ملی تو موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات مجھے اچھی لگی کہ ہم
ان شخصیات کو یاد رکھیں جنہوں نے اصول، قانون اور انسانی روایات کو زندہ
رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔
یہ تقریب ۱۱ فروری کو منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس پاکستان
جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری تھے۔ جبکہ دیگر مہمانان خصوصی میں محترم راجہ
محمد ظفر الحق، جناب محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر رامیش کمار (ایم این
اے) کے ساتھ راقم الحروف کا نام بھی شامل تھا۔
موجودہ عالمی تہذیبی
کشمکش میں مجھے ایسی مجالس کی تلاش رہتی ہے جن میں مختلف مذاہب سے تعلق
رکھنے والے سنجیدہ ارباب فکر مل بیٹھ کر انسانی اقدار و روایات کے فروغ اور
مذہب کے معاشرتی کردار کے حوالہ سے گفتگو کریں۔ کیونکہ میری طالب علمانہ
رائے میں اس وقت نسل انسانی کا سب سے بڑا مسئلہ اور بحران انسانی اخلاقیات
اور اقدار کا ہے جن سے انسانی سوسائٹی مسلسل محروم ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ
انسانی اخلاق و روایات کے سب سے بڑے علمبردار مذاہب ہیں جو تمام تر باہمی
اختلافات اور تنازعات کے باوجود انسان کو اس کی بنیادی اقدار سے وابستہ
رکھنے میں سب سے مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ انسانی اخلاقیات و روایات اور
سوسائٹی کے معاملات میں مذہب کے کردار کو کمزور کرتے چلے جانا اس وقت تمام
مذاہب کے سنجیدہ راہنماؤں کے لیے مشترکہ چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں اس
سلسلہ میں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مختلف مذاہب کے
متعدد راہنماؤں سے بات چیت کر چکا ہوں اور اس مکالمہ کو زیادہ سے زیادہ
فروغ دینے کی خواہش رکھتا ہوں بلکہ کوشش بھی کرتا رہتا ہوں۔
اس
سیمینار کے بارے میں آئی پی سی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کو اس کالم کا
حصہ بناتے ہوئے میں اپنی گفتگو کے بعض حصے بھی ریکارڈ میں شامل کرنا چاہتا
ہوں۔ ایک یہ کہ اپنے محسنین کو یاد رکھنا ان کا حق ہونے کے ساتھ ساتھ جناب
سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی ہے کہ جنگ بدر
کے قیدیوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے آنحضرتؐ کو اپنے ایک پرانے محسن
مطعم بن عدی یاد آگئے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر طائف میں پتھراؤ کرنے
والے اوباش لڑکوں سے آپؐ کو پناہ دی تھی۔ اللہ تعالٰی کے آخری رسول ان
لڑکوں کے پتھراؤ اور تعاقب کے باعث زخمی اور لہولہان حالت میں اپنے خادم
حضرت زید بن حارثہؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف واپس آرہے تھے کہ راستہ میں
مطعم بن عدی نے اپنے ڈیرے کا دروازہ کھول دیا اور آپؐ وہاں کچھ دیر ٹھہرے،
خون وغیرہ دھویا اور آرام کیا۔ نبی اکرمؐ نے غزوہ بدر کے موقع پر اس واقعہ
کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور ان قیدیوں کی
سفارش کرتے تو میں انہیں فدیہ لیے بغیر ہی آزاد کر دیتا۔ اس میں جناب رسول
اکرمؐ کی طرف سے یہ تعلیم ہے کہ محسن خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو،
اس کی احسان مندی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ میں جب
اس سیمینار میں شرکت کے لیے حاضر ہوا تو مہمانوں میں جناب سبھاش چندر کو
دیکھا جو آنجہانی رانا بھگوان داس کے برادر نسبتی ہیں اور مجھ سے پہلے
انہوں نے شرکاء سے گفتگو کی، انہیں دیکھ کر مجھے تحریک آزادی کے نامور
راہنما سبھاش چندر بوس یاد آگئے اور میں اسٹیج پر بیٹھا کچھ دیر تک ماضی کے
مناظر میں کھویا رہا۔
ان گزارشات کے ساتھ اس سیمینار کے بارے میں آئی پی سی کی رپورٹ پیش خدمت ہے:
’’اسلام
آباد، 12 فروری: پاکستان کی تعمیر و ترقی اور اس کے قومی اداروں کو
استحکام دینے اور مضبوط بنانے میں جسٹس رانا بھگوان داس جیسے ملک کے کئی
غیر مسلم فرزندوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف
ان غیر مسلم ماہرین کی خدمات کو سراہا جائے بلکہ ملک کے نوجوانوں کی
نظریاتی سوچ کی تعمیر کے لیے ان میں یہ آگہی بھی پیدا کی جائے کہ کس طرح ان
ماہرین نے اقلیت میں سے ہونے کے باوجود ملک کی قانونی، عدالتی، آئینی اور
سماجی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ اسلام آباد میں جسٹس رانا
بھگوان داس کے یاد میں ہونے والی ایک تقریب کا خلاصہ تھا جس کا اہتمام
اسلامی نظریاتی کونسل اور انسٹیٹوٹ آف پالیس اسٹڈیز کے مشترکہ تعاون سے کیا
گیا تھا۔ اس تقریب سے خظاب کرنے والوں میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس
افتخار محمد چوہدری، ایڈووکیٹ اکرم شیخ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین
ڈاکٹر قبلہ ایاز، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ایگزیگٹیو پریزیڈنٹ خالد
رحمٰن، قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، مولانا ابو عمار
زاہدالراشدی، اسلام آباد ہندو پنچایت کے صدر مہیش کمار، اور جسٹس رانا
بھگوان داس کے برادرِ نسبتی سبھاش چندرشامل تھے ، جبکہ سینیٹر راجہ ظفر
الحق کا خصوصی پیغام بھی انسٹیٹیوٹ کے سینئیر تحقیق کار سید ندیم فرحت نے
اس موقع پر پڑھ کر سنایا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جسٹس بھگوان داس ایک محبِ
وطن شہری تھے جو قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے اور اپنے تمام فیصلے
بھی قوانین کی روشنی میں ہی کرتے تھے۔ انہوں نے اسلامیات میں ماسٹرز کی
ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی اور اسی بنا پر انہیں اسلامی فکر اور قانون پر
عبور حاصل تھا۔ وہ ایک انتہائی اصول پسند انسان تھے اور انہوں نے اپنے
کردار، رویے، غیر جانبداری، متوازن سوچ کی بنا پر اتنی عزّت اور اعلیٰ مقام
حاصل کیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جسٹس بھگوان داس اور ان کی طرح اقلیت سے تعلق
رکھنے والے ملک کے دیگر فرزندوں مثلا جسٹس اے آر کانیلیس اور جسٹس دراب
پٹیل وغیرہ کی خدمات کو یاد رکھیں اور ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ کیسے
انہوں نے اپنی محنت او مستقل مزاجی سے یہ مرتبہ حاصل کیا۔ مقررین کا یہ بھی
کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں اقلیتوں کو مختلف قسم کی
مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہاں ملکی سطح پر
غیر امتیازی پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ اگرچہ کسی بھی ملک کی طرح یہاں بھی
کچھ انتہا پسند طبقات موجود ہیں، لیکن حال میں ہی ہونے والے مختلف واقعات
اور قانونی فیصلوں کی روشنی میں عمومی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے
نظام اور معاشرے میں بھی اقلیتوں کو ان کا حق دینے کی گنجائش نظر آتی ہے۔
مقررین نے اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور اسلامی نظریاتی
کونسل کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی ہیرو اور فرزندوں ،
اور ان کی قومی خدمات کو یاد کرنے والی ایسی کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔‘‘
قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلط مبحث اور سماج کی تقسیم کاری
ڈاکٹر عرفان شہزاد
قومی ریاستوں کی تشکیل کے دور میں پاکستان ایک قومی مذہبی ریاست کی صورت میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ قومی ریاستوں کی تشکیل میں جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ جغرافیہ میں شامل مختلف رنگ و نسل کے لوگ نظریے اور عقیدے کے فرق کے علی الرغم قومی ریاستوں کا حصہ بنے۔ پاکستانی ریاست کی تشکیل بھی اسی اصول پر عمل میں آئی لیکن سیاسی عمل کے دوران میں مذہبیت یا اسلامیت کا عنصر بھی اس میں شامل ہو گیا جو قومی شناخت کی اظہاریوں میں غلبہ پاتا چلا گیا۔ مذہبیت کے اس عنصر نے اس نومولود ریاست کی اکثریتی مسلم کمیونٹی کے احساس میں اس کی ملکیت کا تصور پیدا کر دیا۔ یہ حقیقت لیکن نظر انداز کر دی گئی کہ یہ ریاست بادشاہتوں کے گزشتہ دور کی طرح کسی مسلم حکم ران نے فتح نہیں کی تھی کہ فاتح کا مذہب اس کا مذہب اور اس کا دیا ہوا نظام اس کا سرکاری نظام قرار پاتا۔ یہ ایک ایسی جمہوری سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا جس نے جغرافیہ کی بنیاد پر ایک قومی ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تشکیل میں یہاں کی تمام قومیتوں اور مذاھب کے پیروکاروں نے ووٹ ڈالا تھا جس میں اکثریتی ووٹ مسلم آبادی کا تھا۔ ریاست کے اس کثیر القومی تشخص کو بانی پاکستان نے 11 اگست 1947 کی اپنی سرکاری تقریر میں بالکل دو ٹوک انداز میں پیش بھی کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا:
’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘
لیکن اس ریاست کے قیام کے بعد قرون وسطی کے نمونے پر اسے مسلم قومی ریاست بنانے کا خیال یہاں کی مسلم اکثریت میں سرایت کر گیا۔ تحریک پاکستان کے دوران میں مسلم کارڈ کا استعمال اس دو شناختی قومیت کے لیے وجہِ جواز بنا۔ لیکن جغرافائی وحدت کے اساس پر حصولِ ریاست کا اصول اس ساری ہمہ ہمی میں نظر انداز ہو گیا۔ یوں دو شناختی قومیت کی حامل ریاستِ پاکستان وجود میں آئی۔ اس کی یہی آئینی حیثیت برقرار کرنے کے لیے پہلے قرار داد مقاصد اور بعد ازاں '73 کے آئین میں مسلمان کی تعریف اور دیگر اسلامی شقیں عمل میں لائی گئیں۔ چناں چہ مسلم اکثریت کو اس ملک کا حقیقی وارث باور کرا دیا گیا جس میں غیر مسلم اقلیت کو وہی حقوق ملے جنھیں مسلم اکثریت نے دینا منظورکیا۔ بلکہ مسلم بھی اسے ہی قرار دیا گیا جسے یہاں کی اکثریت نے مسلم تسلیم کیا۔ ریاست ایک مسجد کی طرح مسلم اکثریت کے زور پر ان کے مذہب کے نام پر رجسٹرڈ کرا لی گئی۔
قومی ریاستوں کے دور میں اسلام کے نام پر مذہبیت کی یہ پیوند کاری گھمبیر نتائج کی وجہ بنی۔ دین اسلام زندہ فرد سے مخاطب ہوتا ہے۔ یہ فرد اگر حاکم ہو تو اس سے بھی مخاطب کرتا ، اسے ہدایات اور ذمہ داریاں دیتا ہے، لیکن ریاست ایک غیر شخصی وجود تھا، دین کا مخاطب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی مگر یہاں اسے بھی کلمہ پڑھوا کر مسلمان بنایا لیا گیا۔ اس کے لیے عقیدہ (نظریہ پاکستان) وضع کیا گیا جس کی تعریف پر پورا نہ اترنے والوں کو غیر مسلم اور اسے تسلیم نہ کرنے والوں کو غدار قرار دے دیا گیا۔ بلکہ اختلاف عقیدہ کی بنا پر ملک میں رہنے بسنے کے استحقاق پر ہی سوال اٹھا دیا گیا۔ صدیوں سے اس زمین پر آبائی حق سے رہنے والوں کے لیے نئے سرے سے استحقاق رہایش کی بحث پیدا ہو گئی۔ دین و ریاست کی ملکیت کا یہ تصور اس حد کو پہنچا کہ دینی شعائر پر مسلم ملکیت کا دعوی قائم ہوگیا ۔ مطالبہ کیا گیا کہ ان کی سند کے بغیر خارج از ملت فرقے انھیں اختیار نہیں کر سکتے۔
یہی معاملہ مقامی شناخت پر اصرار کرنے والوں سے بھی برتا گیا۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی مقامی شناخت کو قومی شناخت کے تابع کر دیں اور ریاست کے وسیع تر مفاد میں اپنے انفرادی اور مقامی اور علاقائی قومی مفادات سے دست بردار ہو جائیں۔ ایسا نہ کرنے پر ریاست نے ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا۔ ریاست کا یہ قومی مذہبی نظریہ یا عقیدہ اس قدر اہم گردانا گیا کہ ریاست نے اس کے تحفظ کو سرکاری کار منصب قرار دے دیا۔ عوام کے ایک بڑے طبقے نے اس ریاستی بیانیے کو تسلیم کرلیا ۔ جنھوں نے اس سے اختلا ف کیا ان کی وطنیت کو بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے انھیں غدار اور منافق مشتہر کیا گیا۔ ان سے جلا وطن ہو جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ یوں زمین کے ساتھ فرد کے رشتے کی فطری اور دیرینہ وابستگی نظر انداز ہو گئی اور ریاست کے نظریے سے وابستگی اس ملک میں رہنے کے لیے واحد معیار قرار پائی۔
مقامی شناختوں کو دبانے اور غیر نمایاں کرنے کے لیے مقتدرہ نے مقامی بولیوں اور ثقافتی مظاہر اپنانے سے گریز کیا۔ مقامی شناختوں کو تحقیر اور اجنبیت کی نظر سے دیکھا گیا۔ تعلیم اور سرکاری دفتری زبان اردو اور انگریزی قرار دی گئی۔ کسی دوسری زبان کا استعمال ممنوع اور حقیر بنا دیا گیا۔ اس خطے کی تاریخ کے غیر مسلم مشاہیر کے تذکروں کو نصاب اور تاریخ سے محو کر دیا گیا۔ بلکہ مشترکہ تاریخ سے رشتہ ہی توڑ دیا گیا۔ تاریخ کی تشکیل نو کی گئی۔ تاریخ کےٹکڑے منتخب کر کے ماضی میں بھی موجودہ قومی مذہبی ریاستی بیانیے کو ثابت کر کے دکھایا گیا۔ اس سارے عمل نے نوجوان مسلم اذہان کو مصنوعی شناخت کے حوالے سے ریڈکلائز کر دیا۔
اس مصنوعی بنانیے نے ملک کے باسیوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ ریاست کے قومی مذہبی ملی شناخت پر اصرار سے قومی سطح پر فرقہ واریت پیدا ہو رہی ہے۔ افراد کو ریاستی بیانیے پر مکمل ایمان لانے اور مکمل ایمان نہ لانے کی بنیاد پر محب وطن، منافق اور غدار کے زمرہ جات میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور یہ تقسیم روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سماج میں ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے جو اپنے فتوی کی قوت سےفرد کو باوجود اس کے اپنے دین اور ایمان پر اصرار کے اس سے اس کی مذہبی شناخت چھین لینا چاہتی ہے تو دوسری طرف ریاستی انتہا پسندی ہے جو ریاستی قوت کے زور پر ایسے تمام عناصر کو ریاست کا باغی قرار دے کر انھیں عاق کر رہی ہے جو فرد کے مفاد پر ریاست کے غیر محدود مفادات پر نقطہ اعتراض پیش کرتے، ریاست کی فرد کے خلاف زیادتیوں پر توجہ دلاتے، اپنی قومی شناختوں پر اصرار کرتے اور تاریخ کی مصنوعی تشکیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ فرد اور اس کے حقوق کی بحث پس منظر میں چلی گئی ہے۔ فرد کی ریاست سے شکایت کی داد رسی سے پہلے یہ بحث جاری کر دی جاتی ہے کہ فریاد کناں غدار اور منافق ہے۔ اس صورت حال میں ریاست اور اس سے معاشی مفاد پانے والے ایک گروہ اور اس سے محروم دوسرا گروہ بن گئے ہیں۔ یوں ملک کے اندر ایک خلیج پیدا ہوتی جا رہی ہے جو اگر یوں ہی جاری رہی تو باہمی نفرت اور خانہ جنگی کی آگ کو ہوا دے گی۔ یہ صورت حال سقوطِ ڈھاکہ جیسے مزید کسی سانحہ پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔
شناخت کے بحران کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں
قومی مذہبی شناخت سے پیدا ہونے والے اس بحران کی جڑیں متحدہ ہندوستان کے ماضی میں پیوست ہیں۔ ان کا درست تجزیہ ضروری ہے۔ مسلمان جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو یہاں کی مقامی آبادی نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ علما و فقاا نے ہندو دھرم کے مذہبی رسوم و رواج سے مسلم کمیونٹی کو بچنے کی تلقین کی۔ لیکن اس تلقین میں وہ مذہب و ثقافت کے فرق کو مسلسل دھندلاتےچلے گئے۔ ثقافتی ہم آہنگی سے مذہبی ہم آہنگی کے راستے کو بند کرنے کے لیے وہ مذہب کے ثقافتی امتیازات وضع کرتے چلے گئے۔ یوں دو قومی نظریہ کے خدوخال نمایاں ہونے لگے۔ دین دعوت کی بجائے ایک پارٹی بنانے کا تاثر دینے لگا۔ اس کے لیے نو مسلموں کے "اسلامی نام' رکھنے کی اختراع وضع کی گئی۔ ہندوستانی ثقافتی مظاہر میں سے ہی کچھ کو چن کر اور کچھ ردوبدل کر کے انھیں مسلمانوں کے حلیے اور امتیازی اسلامی ثقافتی علامتوں کے طور پر جاری کر دیا گیا۔
عہد سلاطین میں محمد تغلق اور التمش جیسے متشرع سلاطین کے پاس اس وقت کے فقہا تشریف لائے تھے اور انھیں ہندوؤں کو مشرک قرار دے ان کو گردن اڑانے کے قرآنی حکم پر عمل کی تلقین کی۔ ان سلاطین نے عملی مجبوریوں کے بہانےان مطالبات کو نظر انداز کیا۔ اس پر فقہا کی طرف سے نصیحت کی گئی کہ ہندوؤں کو ذلیل کر کے رکھا جائے اور امور سلطنت میں ان کو شامل نہ کیا جائے۔ ادھر ہندوستان کے مسلم مورخین نے وسط ایشیا سے آنے والے مسلم حملہ آوروں کو محض اشتراک مذہب کی بنیاد غازی اور مجاہد بنا کر پیش کیا۔ یہ مسلم سلاطین اپنی سلطنت کی توسیع اور ترقی کا ذاتی ایجنڈا رکھتے تھے۔ اپنے مقابل مسلم بادشاہوں سے بھی وہ ایسے ہی برسر پیکار ہو جاتے جیسے غیر مسلم راجاؤں کے خلاف۔ لیکن مسلم مورخین ان کی اپنے معاصر مسلم حکم رانوں سے جنگ کو تو جنگ لکھتے لیکن یہی جب ہندو راجاؤں سے جنگ کرتے تو اسے جہاد قرار دیتے اور جنگ جوؤں کا لشکر، اسلامی لشکر قرار پاتا تھا۔ تاہم سماجی سطح پر مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان سماجی تعامل جاری رہا اور تعلیم یافتگان اور اہل مذہب کی پیدا کردہ تفریقات کو انھوں نے عملی ضرورتوں اور ایک جیسے حالات و وسائل میں حصہ دار ہونے کی وجہ سے اہمیت نہیں دی۔
مقامی قومیت کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر علیحدہ سیاسی شناخت کا یہ احساس عوام سے زیادہ اہل علم میں موجود رہا۔ عوام میں ایسے بیانیوں کو عموما عملی سطح پر پذیرائی نہ ملی۔ جب قومیت کا تصور مغرب سے درآمد ہوا تو یہاں کے تعلیم یافتہ متوسط طبقے نے ہی اسے سب سے پہلے اپنایا۔ راشٹریہ سیوک سنگ کے تعلیم یافتہ متوسط ہندؤوں نے ہندو قومیت اور آل انڈیا مسلم لیگ کے تعلیم یافتہ مسلم متوسط طبقے نے مسلم قومیت کو فروغ دیا۔ برطانوی راج کی طرف سے ہندوستان میں جداگانہ انتخابات کا انعقاد ان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے معاون ثابت ہوا۔ جمہوریت نے چوں کہ حصول اقتدار کے لیے طاقت کا منبع عوام کو منتقل کر دیا تھا اس لیے عوام کو اس فرقہ وارانہ ایجنڈے پر قائل کرنے کی سیاست کا آغاز ہوا۔ وہ عوام جو اپنے معاشی مسائل، سماجی تعامل اور معاشرتی روابط کی بنا مذہبیت کے نام پر تقسیم جیسے بیانیوں کو قومی سطح پر کبھی پذیرائی نہ دے سکے اس سیاست بازی کی راہ سے اس کا شکار ہوگئے۔ راشڑیہ سیوک سنگھ کو تو کانگریس کے متحدہ قومیت کے نعرے کے سامنے خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی، تاہم آل انڈیا مسلم لیگ اپنی الگ مسلم شناخت کو بہرحال کامیابی سے برتنے میں کامیاب ہو گئی۔ اور یوں ایک ثقافت اور ایک تاریخ کی حامل دو مختلف مذہبی شناختیں رکھنے والی دو قوموں، ہندو اور مسلم کو مشترکہ جغرافیہ کے باوجود ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ جو مسلم بھارت سے الگ نہ ہوئے، وہ بھی بہرحال مسلم شناخت کی سیاسی تقسیم کا شکار ہوئے۔
مسلم لیگ کی کامیابی نے وطن کی بنیاد پر متحدہ قومیت کو شکست دی جس سے ہندو قومیت کے احساس کو انگیخت ملی۔ یہ تاثر ہندوستان میں آنے والی دہائیوں میں بڑھتا چلا گیا۔ اس احساس نے بھارتی سماج میں بھی ہندو مسلم تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ بھارتی مسلمانوں کا اپنے مذہبی ثقافتی اظہاریوں پر مستقل اصرار اجنبیت کو گہرا کرتا چلا گیا۔ بھارت کے مسلمانوں کا انیس کو چھیالسی کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو ووٹ دینا بھی انھیں ہندوستان میں اجنبی بنا گیا۔ پاکستان کے درمیان جنگوں نے اس احساس کو مزید ابھارا ۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندو قومیت اور ہندوتوا پر اصرار کرنے والی جماعت، آر ایس ایس، جسے تقسیم ہند کے دوران بھی موثر پذیرائی نہ مل پائی تھی آج اسی کے ایجنڈے کی حامی جماعت بی جے پی دوسری بار انتخابات جیت کر ہندوستان پر حاکم ہے۔
مسئلے کا حل
سیاسی جھگڑوں کے جھمیلے میں اسلام کا بیانیہ بے صدا رہ گیا۔ ہم اس کو یہاں نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
مذہب و ثقافت کے جھگڑے میں دین اسلام کا بیانیہ یہ ہے کہ وہ فرد کی ثقافتی مظاہر کو موضوع نہیں بناتا، سوائے یہ کہ ان مظاہر میں شرک، فحاشی، ظلم یا عدوان جیسی کسی بد اخلاقی کا پہلو پایا جائے۔ ایک آفاقی پیغام رکھنے والے دین کو کسی مقامی ثقافت سے منسلک کرنا محض غلط ہے۔ اسلام فرد کے عقیدے اور اخلاق کو موضوع بناتا اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اسلام قبول کرنے والوں کے نام تبدیل نہیں فرمایا کرتے تھے سوائے یہ کہ نام میں کوئی شرک یا کسی اور برائی کا کوئی پہلو پایا جاتا تو تبدیل فرماتے۔ اسی طرح آپ نے پہلی مسلم کمیونٹی کے ظاہری حلیے میں کبھی کوئی ایسی امتیازی علامات قائم نہیں کیں جس سے عرب کے مشرک، یہودی اور مسلمان کے درمیان کوئی شناخت ممکن ہو سکتی۔ در حالاں کہ ایک لحاظ سے یہ ضروری بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی علامات قائم کی جاتیں تاکہ دوست دشمن میں پہچان ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض صحابہ کے ہاتھوں سے دوران جنگ ایسے افراد بھی مارے گئے جن کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ مسلمان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو کہنا پڑا جو تمھیں سلام کر دے اسے مت کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ سلام کے علاوہ کسی بستی سےآذان کی آواز آنا، کلمہ شہادت، نماز اور زکوۃ ادا کرنا کسی فرد یا قبیلے کے مسلمان ہونے کی علامت قرار پایا تھا۔ لیکن کہیں یہ نہیں ملتا کہ مسلمانوں کی ظاہری شناخت کے لیے ان کے حلیے اور لباس میں کوئی امتیاز برتا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نامعلوم لاش ملتی تو یہ معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ مسلم تھا مشرک۔ مشرکین عرب اور یہودمختون بھی ہوتے تھے۔ چناں چہ حلیہ اور لباس میں کوئی علامت موجود نہ تھی جس سے مذہب کی شناخت ممکن ہو سکے۔
اسی فہم دین کے ساتھ صحابہ نے جب بیرون عرب فتوحات کیں تو لوگوں کے نام تبدیل کروائے نہ ثقافتی مظاہر میں کوئی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اس بارے میں مسلم ہیت مقتدرہ کی بے تعصبی کا یہ عالم تھا کہ خالص مذہبی رسوم و رواج مثلا صلوۃ اور صوم کے مقامی زبان کے متبادلات یعنی نماز اور روزہ کو اختیار کرنے دیا گیا۔ دور جدید میں ان کے انگریزی متبادلات Prayer اور Fast کے اپنا لینے پر بھی کوئی قابل ذکر اعتراض نہیں کیا گیا۔ عہد صحابہ میں مساجد کے لیے مینار بنانے کا خیال شام کے گرجا گھروں سے لیا گیا تھا، بلکہ مسجد کا منبر جسے منبر رسول کہا جاتا ہے، اس کی تعمیر کا خیال ایک صحابی نے پیش کیا تھا جنھوں نے شام کے گرجا گھروں میں پادریوں کو اس کا استعمال کرتے دیکھا تھا۔عربی ناموں کے ساتھ فارسی اور ترک نام جیسے شہریار، پرویز، چنگیز خان وغیرہ مسلمانوں میں عام رہے۔ برصغیر میں آکر یہ رواداری البتہ برقرار نہ رہی۔ شروع میں ہندی ناموں کو بھی گوارا کیا گیا لیکن جلد ہی یہاں عربی اور فارسی اور ترک ناموں کو اسلامی نام سمجھ کر رکھا جانے لگا۔
مذہب سے ثقافت کو تبدیل نہ کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ لوگ تبدیلی مذہب کے باوجود اپنے سماج سے نہیں کٹتے تھے۔ وہ مندر کی بجائے مسجد جانے لگتے تھے مگر بولی وہی بولتے تھے جو ان کے لوگ بولتے تھے، لباس وہی پہنتے تھے جو ان کے لوگ پہنتے تھے، نام ان کے وہی رہتے تھے جو ان کا پیدایشی ہوتا تھا جس کے ساتھ ان کی ثقافتی اور نفسیاتی وابستگی ہوتی تھی۔ یوں تبدیلی مذہب کے باجود دو مختلف مذہبی گروہوں میں اجنبیت پیدا نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرنے کے باوجود وطن کی حفاظت میں ہندو راجپوتوں کے ساتھ مل کر وسط ایشائی مسلم حملہ آوروں کے خلاف لڑا کرتے تھے۔ لیکن جب ثقافتی امتیازات برتے جانے لگے، نماز کو پوجا کہنے نہ دیا گیا، روزہ کو بھرت کہنے پر آمادہ نہ ہو پائے، جب آکاش اور پرکاش کو محمد یوسف اور عبد اللہ نام اختیار کرنا پڑے، بلکہ اس کے آگے بڑھ کر ان کے لیے مخصوص لباس اور حلیہ اختیار کرنے کی شرائط بھی عائد کر دی گئیں، تو لوگوں میں باہمی طور پر اجنبیت اور پھر نفرت پھیلی۔ انیسیوں صدی عیسوی میں قومیت کا تصور برصغیر میں نو آبادیاتی دور میں متعارف ہوا۔ جس سے پہلے وطنی قومیت اور بعد ازاں وطنی مذہبی قومیت نے وجود پایا۔ سماجی اور ثقافتی سطح پر شناختی امتیازات کو نمایاں کیا جانے لگا۔
"اسلامی ثقافت"کے نام پر ہونے والی امتیازی کارروائیوں نے درحقیقت ایک سماج کے لوگوں کو علیحدہ کیا، جس نے آگے بڑھ کر سیاست کی سطح پر گروہ بندی اختیار کر لی گئی۔ برصغیر میں ثقافتی تفریق کا عمل اس وقت زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آیا جب 1905 میں بنگال کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ وہ ہندو مسلم تقسیم دکھائی دی۔ 1909 میں اس کی اساس پر جداگانہ انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ اقتدار کی رقابت، سیاسی گروہ بندی کا لازمہ ہے۔ سیاسی رقابت کی منافرت نے مذہبی منافرت کا عنوان اختیار کر لیا۔ الزام پھر مذہب پر آیا کہ مذاہب انسانوں کو لڑاتے ہیں۔ سیاسی رقابت بنام مذہب سے پھر وہ نفرت پیدا ہوئی جس کا المناک نتیجہ تقسیمِ ہند اور اس دوران ہونے والے خون خرابے میں سامنے آیا، اور جس کے اثرات پون صدی ہونے کو آئے ،اب بھی جاری ہیں۔
ہندو اور مسلمانوں کی مذہبی ثقافتی حساسیت کے رد عمل میں یہاں کے مسیحیوں بھی یہی راہ اپنائی۔ وہ بھی الگ مذہبی قومیت کے تصور سے متاثر ہو کر اپنے مقامی ثقافتی ناموں، جیسے اقبال، اختر، مبارک، شہریار کو چھوڑ کر ڈیوڈ، مائیکل، سائمن رکھنے لگے۔ یہ رجحان پر شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ مسیحیوں میں زیادہ نمایاں ہے۔ دیہی علاقے کے مسیحی اب بھی زیادہ تر مقامی زبانوں کے نام ہی رکھتے ہیں، یہی نام مسلم بھی رکھتے ہیں۔ مسیحی افراد شناختی امتیاز قائم کرنے کے لیے گلے میں اور گھروں پر صلیب لٹکانے لگے۔ شناختی امتیازات قائم رکھنے کی یہ لَے اس قدر بڑھی کہ مسلم اور مسیحیوں کے درمیان "مریم" جیسے مشترکہ نام کو اردو میں ممکن نہ ہو سکا تو انگریزی کے ہجوں میں مختلف کر دیا گیا۔ مسلم اسے Maryam لکھتے ہیں اور مسیحی Marriam اور تلفظ بھی عام تلفظ سے مختلف کرتے ہیں۔
اہل تشیع اس سب سے بہت پہلے سے اپنی امتیازی شناختی علامتوں کے بارے میں حساس رہے ہیں جس سے وہ نہ صرف الگ پہچانے جاتے ہیں بلکہ اسی بنا پر ان سے الگ سے امتیازی سلوک بھی روا رکھنا بھی دوسروں کے لیے ممکن ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے ریاست یہ باور کرے کہ قومی ریاستوں کے دور میں مذہبی ریاست کا تصور ایک بے جوڑ اضافہ ہے۔ یہ ملک یہاں بسنے والی تمام قوموں نے مل کر بنایا تھا۔ اکثریت کو محض عددی برتری کے زعم میں اس کو اپنے نام کے ساتھ رجسٹر کرانے کا حق نہیں ہے۔ سیاسی نمائندگان کا چناؤ سماج کا آزادانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ مسلم اکثریت کے ملک میں کسی غیر مسلم کا ملک کی سربراہی کے لیے چنے جانا ویسے بھی حد امکان میں نہیں تو اس معاملے میں بلاوجہ قانون سازی کرکے غیر مسلموں کو دوسرے درجے کے شہری ہونے کا تاثر دینا عبث ہے۔ مسلمان حکومت میں ہوں گے تو دین کے مسلم اجتماعیت سے متعلق احکام پر عمل کرنا ان کا فرض منصبی سمجھا جائے گا۔
سماجی سطح پر یہ بات مسلم کمیونیٹی کو سمجھانے کی ہے کہ مذہب، ثقافت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ پرویز، ڈیوڈ اور آکاش جیسے نام ایسے ہی قابل قبول ہے جیسے محمد یوسف، عبد اللہ ور عبد الرحمان؛ صلوۃ کے لیے ورشپ اور پوجا کا لفظ بھی ایسے ہی درست ہے جیسے نماز؛ کرتا پائے جامہ اور پینٹ شرٹ بھی ایسے ہی درست لباس ہیں جیسے عربی چغہ؛ ثقافتی اور موسمی تہوار بھی اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوتے۔ دین میں ان چیزوں کو موضوع نہیں بنایا گیا۔ دین کا موضوع فرد کے عقائد اور اخلاق کی اصلاح ہے۔ کسی مذہب کو اختیار کرنا کسی سیاسی پارٹی کو اختیار کرنے کی طرح نہیں ہے جس میں الگ بیج اور جھنڈے لگا کر اپنا امتیاز ظاہرکرنا ضروری ہو۔ مسلمان کی پہچان، سلام، نماز اور زکوۃ کی ادائیگی بتائی گئی ہے نہ کہ کوئی مخصوص حلیہ۔ ثقافتی امتیازات اختیار کرنےکا تصور تب پیدا ہوا جب اہل مذہب نے خود کو سیاسی اور سماجی گروہوں میں سے ایک گروہ سمجھنا شروع کر دیا۔ ضروری ہے کہ مذہب و ثقافت کے درمیان حد فاصل کا شعور اجاگر کیا جائے اور لوگوں میں منافرت کی خود ساختہ بنیادوں کو ختم کیا جائے۔
ریاست کے تصورمیں اصلاح کی ضرورت
ریاست کا یہ تصور تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مقدس ہے جس پر تنقید سے اس کی توہین ہو جاتی ہے۔ اور یہ کہ وہ فرد اور اس کے حقوق سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ریاست بادشاہت کی جگہ آئی اور اسی وجہ سے اسے بادشاہت والی اختیار اور تقدس دے دیا گیا۔ اسی بنا پر اس سے غیر مشروط وفاداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بنیادی حقیقت جانے کیسے نظر انداز ہو گئی کہ بادشاہتوں کی یہ مطلق العنانی اور غیر مشروط وفاداری جیسی برائیاں تھیں جن کو ختم کرنے کے لیے انسانیت نے جمہوریت کی طرف قدم اٹھایا۔ جمہوریت سے پیدا ہونے والی حریت فکر کو لیکن حکومت اور حکومتی نمائندوں تک محدود کر دیا گیا اور ریاست کے ساتھ وہی قدیم وابستگیاں برقرار رکھی گئیں جو بادشاہت کے دور کی خصوصیت تھی۔ انسانیت کو اب ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کہ وہ تسلیم کرے کہ مقدس اگر ہے تو وہ فرد کا جان، مال اور آبرو ہے۔ ریاست کا وجود فرد کا مرہون منت ہے۔ ریاست اس کے ٹیکس کی محتاج ہے۔ ریاست ایک مینجر ہے، ایک انتظامی بندوبست ہے جس کو فرد کی فلاح و بہبود کے لیے وجود میں لایا گیا ہے۔ وہ اپنا وجود اسی افادیت کے ثبوت پر برقرار رکھنے کا جواز رکھتی ہے۔ اس انتظامی بندوبست میں فرد کی فلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے بشمول جغرافیہ دیگر تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ خود قومی ریاستوں کو ان سے قبل کی ریاستوں کی سرحدوں میں ردو بدل کر کے وجود دیا گیا ہے، اس بارے میں جمہور افراد کی رائے فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ ریاست ایک ڈھانچہ ہے۔ حکومت اس میں قانون کا نفاذ کرتی ہے جس کی اطاعت کی جائے گی۔ فرد ریاست کا خیر خواہ ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے وفاداری کا تصور پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ وفاداری کا تصور ہی ریاست کو فرد کے استحصال کا لائسنس دیتا۔ ریاست کے ساتھ وفاداری کا تصور بادشاہت کے دور کی یادگار ہے۔ اسے اب جلد ختم ہو جانا چاہیے۔ فرد کی سلامتی، ریاست کی سالمیت پر مقدم ہے۔انسانی جان کو تقدس خدا نے دیا ہے، ایک شخص کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل خدا نے قرار دیا ہے۔ ریاست کا تقدس بیسویں صدی کے آذروں کا تراشا ہوا بت ہے جس پر انسان کو قربان کرنے کا خود ساختہ عقیدہ انسان نے ایجاد کیا ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
ریاست کی سرحدوں کے ابدی نہ ہونا اور ریاست کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کی نفی ریاست کو قانون کے دائرے میں لانے اور اپنی ہیئت اور جغرافیہ کو برقرار رکھنے کی خاطر سماجی انصاف کے قیام کو یقینی بنانے کی راہ اختیار کرائے گی۔ جبر وہ قوت نہیں جو ایک ریاست میں بسنے والے مختلف قومی شناختوں اور مفادات رکھنے والے گروہوں کو جوڑ کر رکھ سکے۔ ایسے کسی بھی جبر کا نتیجہ ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ محض سماجی انصاف کا حقیقی قیام ہے جو انھیں مل کر رہنے کا محرک بنتا ہے۔ اپنے حقوق اور مفادات کی منصفانہ یقین دہانی ہی وہ اصل قوت ہے کہ عوام کی عقل عام اور عملیت پسندی کسی قوم پرستی کی آواز پر بھی کان نہیں دھر سکتی۔
وفاقی اکائیوں کو آئین میں یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اگر اپنی اکثریت کی مرضی سے ایک وفاق میں شامل ہوئیں تھیں تو اکثریت کی راے کی بنا پر اس سے علیحدہ ہونا چاہیں تو ہو سکیں۔ اس کے لیے ریفرنڈم جیسا پر امن طریقے اختیار کیا جا سکتاہے۔ کسی اکائی کے وفاق سے علیحدہ ہونے کا اندیشہ وہ قوی محرک ثابت ہو سکتا ہے جو ریاست کو یاوفاق کو جبریہ ہتھکنڈوں سے اس اکائی کو خود سے جوڑے رکھنے کی بجائے اس کی خوش نودی سے اسے وفاق ملحق رکھنے کی راہ ہم وار کر سکتی ہے۔
ہمیں اپنے ریاستی اور قومی بیانیوں کی کی تشکیل نو کی ضرورت ہے جس کے لیے سماجی علوم کے ماہرین کی خدمات کو بروئے کار لانا چاہیے۔
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۴)
محمد عمار خان ناصر
جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر
شاہ ولی اللہ پر قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اصول فقہ کی کلاسیکی بحث ایک طرح سے اپنے منتہا کو پہنچ جاتی ہے اور ان کے بعد کلاسیکی تناظر میں اس بحث میں کوئی خاص اضافہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری میں سنت کی تشریعی حیثیت اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث ایک نئے فکری تناظر میں ازسرنو اہل علم کے غور وخوض اور مباحثہ ومناقشہ کا موضوع بنی ہے۔ اس نئے فکری تناظر کی تشکیل میں جدید سائنس اور جدید تاریخی وسماجی علوم کے پیدا کردہ سوالات نیز ذخیرۂ حدیث کے تاریخی استناد کے حوالے سے مستشرقین کے اٹھائے ہوئے اعتراضات کا کردار بنیادی ہے۔ جیسا کہ ہم نے تفصیلاً دیکھا، کلاسیکی تناظر میں بنیادی نکتۂ نزاع سنت کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا نہیں تھا، بلکہ احادیث کے ثبوت کے، قرآن کے مقابلے میں، ظنی ہونے کے پہلو سے بعض ایسی احادیث زیر بحث تھیں جو قرآن کے ظاہری عموم سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف، دور جدید میں بعض فکری حلقوں کی طرف سے جو بنیادی سوال اٹھایا گیا، وہ فی نفسہٖ سنت کی تشریعی حیثیت سے متعلق ہے، جب کہ احادیث کے ظنی الثبوت ہونے اور ذخیرۂ حدیث کے تاریخی استناد کے علاوہ احادیث میں، ظاہر قرآن میں تخصیص وزیادت کی مثالوں کو سنت کی تشریعی حیثیت کی نفی کے معاون اور موید دلائل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران میں عالم اسلام کے طول وعرض میں یہ بحث اہم ترین اعتقادی واصولی سوال کے طور پر اہل علم کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے اور بلا مبالغہ سیکڑوں اہل علم نے ان سوالات کو اپنے اپنے انداز میں موضوع بحث بنایا ہے۔ تاہم اس بحث میں ہمارے پیش نظر اس خاص علمی رجحان کا ایک جائزہ پیش کرنا ہے جس کی اصولی ابتدا برصغیر کے جلیل القدر عالم اور مفسر مولانا حمید الدین فراہی کے ہاں ہوئی اور جو کئی اہم اضافوں کے ساتھ اپنی تفصیلی شکل میں جاوید احمد غامدی صاحب کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔
مولانا حمید الدین فراہی کے ہاں ان مباحث پر غور وفکر کا آغاز قرآن مجید کی تفسیر کے اصول وقواعد کی تعیین کے حوالے سے ہوا تھا جس نے جدید سائنس کے پیدا کردہ سوالات کے تناظر میں ایک خاص اہمیت اختیار کر لی تھی۔ سرسید احمد خان نے قرآن مجید کی ان آیات کی تفسیر کے ضمن میں جن میں مختلف انبیا کے معجزات کا ذکر ہوا ہے، یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ جدید سائنس نے قوانین فطرت کے مطالعے کی روشنی میں قطعی طور پر یہ دریافت کر لیا ہے کہ ان قوانین میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور خود قرآن مجید بھی ’سنت اللہ‘ کے تبدیل نہ ہونے کی بات بیان کرتا ہے، اس لیے خرق عادت کا رونما ہونا ناممکن ہے۔ اس بحث میں سرسید نے ایک مستقل تفسیری اصول کے طور پر یہ نکتہ پیش کیا کہ چونکہ اللہ کا کلام، (یعنی قرآن) اور اللہ کا فعل، (یعنی قوانین فطرت) باہم متعارض نہیں ہو سکتے، اس لیے معجزات سے متعلق آیات کی جو تفسیرعلماے سلف نے عموماً کی ہے، وہ درست نہیں ہو سکتی اور ان کا ایسا مفہوم مراد لینا ضروری ہے جو سائنس کی فراہم کردہ نئی معلومات اور قوانین فطرت کے مشاہدے سے ہم آہنگ ہو۔
آیات کے ظاہری مفہوم میں تاویل کی بحث کلاسیکی اسلامی روایت میں بھی مختلف حوالوں سے موجود تھی اور خاص طور پر معتزلی واشعری متکلمین یہ اصولی موقف رکھتے تھے کہ آیت کا ظاہری مفہوم یقینی عقلی دلائل کے معارض ہو تو آیت کی تاویل ضروری ہے۔ فقہی مضمون رکھنے والی آیات کے حوالے سے اسی نوعیت کا موقف، نسبتاً مختلف تناظر میں، امام شافعی نے پیش کیا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر حدیث میں کسی حکم کی تشریح اس طرح کی گئی ہو جو آیت کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہو تو آیت کو اسی مفہوم پر محمول کرنا ضروری ہے جو حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ قرآنی آیات کی ظاہری دلالت کے حوالے سے مفسرین کا عمومی رجحان بھی یہی ہے کہ ان میں ایسی قطعیت نہیں پائی جاتی جس سے کسی ایک ہی مفہوم کا حتمی طور پر مراد ہونا طے کیا جا سکے، چنانچہ تفسیری ذخیرے میں بیش تر آیات کی ایک سے زیادہ قریب یا بعید تاویلیں ذکر کرنے کا اسلوب عام ہے اور اس کے لیے الفاظ کے مختلف ممکنہ مفاہیم کے علاوہ تفسیری روایات وآثار سے بھی استشہاد کیا جاتا ہے۔
اس پس منظر میں مولانا فراہی نے قرآن مجید کے الفاظ واسالیب کی دلالت اور مختلف احتمالات میں سے کسی احتمال کی تعیین کے سوال سے بطور خاص اعتنا کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ قرآن کے الفاظ اور تعبیرات قطعی الدلالۃ ہیں جو ایک ہی متعین مراد کی نشان دہی کرتے ہیں اور یہ کہ فہم مدعا کے اس عمل میں قرآن کے اپنے الفاظ، اسالیب، سیاق وسباق، عرف اور نظم کلام فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بنیادی موقف کی روشنی میں مولانا فراہی نے تاویل وتفسیر کے تمام معاون ذرائع، مثلاً احادیث وآثار اور تاریخی روایات پر قرآن کے اپنے الفاظ کی حاکمیت کو ہر حال میں قائم رکھنے کے اصول پر اصرار کیا اور یہ قرار دیا کہ تفسیر وحدیث کے ذخیرے میں موجود ایسی روایات جو قرآن مجید کی آیات کے مطالب یا ان کے پس منظر پر مختلف حوالوں سے روشنی ڈالتی ہیں، وہ تفسیر کے ماخذ کے طور پر بنیادی نہیں، بلکہ ثانوی درجہ رکھتی ہیں اور انھیں قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خود قرآن کے داخلی نظام اور متن کی اندرونی دلالتوں کی حاکمیت ان پر قائم رکھی جائے۔ مولانا نے اپنے فہم کے مطابق اس معیار پر پورا نہ اترنے والی متعدد تفسیری روایات کو جو اس سے پہلے عام طور پر مستند سمجھی جاتی تھیں، قبول کرنے سے انکار کیا اور ان پر تنقید کی۔
مولانا فراہی کے غور وفکر اور تحقیقات کا موضوع زیادہ تر تفسیر کے عمومی مباحث رہے اور اپنے نتائج فکر کو اصول فقہ کے مباحث سے مربوط کرنے کا انھیں زیادہ موقع میسر نہیں آیا، تاہم اپنی ناتمام تصنیف ’’احکام الاصول باحکام الرسول‘‘ میں انھوں نے حدیث اور قرآن کے باہمی تعلق کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اصولی نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے اور احادیث کے ذریعے سے قرآن میں نسخ یا تخصیص کے نظریے کی تردید کرتے ہوئے ایسے تمام احکام کو قرآن مجید پر مبنی اور ان سے ماخوذ قرار دیا ہے جو بظاہر قرآن کے حکم میں تبدیلی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی ضمن میں مولانا نے ان احادیث کی بھی توجیہ کی ہے جن میں شادی شدہ زانی کو سنگ سار کرنے کی بات بیان کی گئی ہے۔ مولانا اس سزا کا ماخذ قرآن مجید میں سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ کو قرار دیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی چڑھانے، ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے اور جلا وطن کر دینے کی سزائیں بیان کی ہیں۔ مولانا کی راے میں’رجم‘ بھی تقتیل، یعنی عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے ہی کی ایک صورت ہے۔ مولانا فراہی کی مذکورہ راے کو ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے ’’ تدبر قرآن‘‘ میں زیا دہ وضاحت کے ساتھ موضوع بحث بنایا اور یہ موقف پیش کیا کہ زانی کو سنگ سار کرنے کی بنیاد اس کا شادی شدہ ہونا نہیں، بلکہ ’مفسد فی الارض‘ ہونا ہے اور کسی بھی مجرم کو، چاہے وہ کنوارا ہو یا شادی شدہ، اس کی آوارہ منشی اور اوباشی یا جرم میں کسی بھی نوعیت کی سنگینی شامل ہونے کی وجہ سے سنگ سار کیا جا سکتا ہے اور احادیث میں رجم کے جن واقعات کا ذکر ہوا ہے، ان کی نوعیت یہی تھی۔
مولانا کے اس موقف پرفطری طور پر علمی حلقوں میں ایک بحث پیدا ہو گئی اور طرفین سے مباحثہ واستدلال کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں درجنوں کتابوں اور علمی مقالات میں فریقین کی طرف سے اپنے اپنے موقف اور استدلال کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ یہ وہ پس منظر تھا جس میں جناب جاوید احمد غامدی نے، رجم کی سزا کے تناظر میں، مکتب فراہی کے اہل علم کے موقف کی توضیح کرتے ہوئے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث کو ایک بنیادی اور اصولی سوال کے طور پر موضوع بنایا اور تبیین، تخصیص اور نسخ کے باہمی فرق کی وضاحت کے علاوہ سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم میں نسخ یا تغییر کے موقف پر اپنی تفصیلی تنقید پیش کی۔ ’’رجم کی سزا‘‘ کے زیر عنوان ان کا یہ مقالہ جو ۱۹۹۳ء میں لکھا گیا، اب ان کی کتاب ’’برہان‘‘ میں شامل ہے۔ اس میں غامدی صاحب نے قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو موقف پیش کیا ہے، اس کے بنیادی نکات دو ہیں:
پہلا یہ کہ جن معاملات میں قرآن خاموش ہو، ان میں تو سنت شریعت کے ایک مستقل بالذات ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن کوئی مسئلہ قرآن میں زیر بحث آنے کی صورت میں سنت کا دائرہ صرف اس کی تبیین تک محدود ہے۔ وہ قرآن کے کسی حکم کو نہ منسوخ کر سکتی ہے اور نہ اس میں کسی نوعیت کا کوئی تغیر وتبدل کر سکتی ہے (برہان ۳۹)۔
دوسرا یہ کہ تبیین سے مراد متکلم کے اس فحویٰ کو واضح کرنا ہے جو ابتدا ہی سے اس کے کلام میں موجود ہو۔ کلام کے وجود میں آنے کے بعد اس میں کسی بھی قسم کا تغیر پیدا کیا جائے تو اسے تبیین نہیں کہا جا سکتا (برہان ۴۶)۔
ان دو نکتوں کی روشنی میں غامدی صاحب یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ زنا کی سزا کو خود قرآن مجید نے موضوع بنایا ہے اور زانی مرد وعورت کو سو سو کوڑوں کا مستوجب قرار دیا ہے، جب کہ جمہور فقہا کی تعبیر کے مطابق رجم کی سزا کو اس حکم کے ساتھ تبیین کے طریقے پر متعلق نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہ لازماً نسخ ہے جو سنت کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں (برہان ۵۴- ۵۵)۔ اس بنیادی موقف کی وضاحت کے علاوہ غامدی صاحب نے رجم سے متعلق روایات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’...اِس سے زیادہ سے زیادہ کوئی بات اگر معلوم ہوتی ہے تو بس یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے زنا کے بعض مجرموں کو رجم اور جلاوطنی کی سزا بھی دی ہے۔ لیکن کس قسم کے مجرموں کے لیے یہ سزا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفا نے کس طرح کے زانیوں کو یہ سزا دی؟ اِس سوال کے جواب میں کوئی حتمی بات اِن مقدمات کی رودادوں اور اِن روایات کی بنیاد پر نہیں کہی جا سکتی‘‘ (برہان ۸۸) ۔
رجم کی سزا کے تناظر میں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے سوال سے تعرض غامدی صاحب کے ہاں اس بحث سے اعتنا کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کی تصنیف کے مرحلے میں انھوں نے ازسرنو اس بحث کا تفصیلی اور تنقیدی مطالعہ کیا اور گفتگو کا دائرہ اصول فقہ میں زیربحث تمام اہم سوالات تک وسیع کرتے ہوئے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی تفہیم کا ایک ایسا فریم ورک پیش کیا ہے جو کئی حوالوں سے بڑی اہمیت کا حامل اور مستقل تجزیے کا متقاضی ہے۔
غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ میں اس حوالے سے جو اصولی نقطۂ نظر پیش کیا گیا اور کتاب کے جملہ مباحث میں اس کے تحت کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو تفصیلاً واضح کیا گیا ہے، اس کے بنیادی اور اصولی نکات حسب ذیل ہیں:
۱۔ دین کا تاریخی ثبوت کے لحاظ سے قطعیت سے متصف ہونا ضروری ہے، اس لیے دین وہی ہے جو مسلمانوں کے اجماع وتواتر سے ثابت ہو۔ اس کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر دین کے مآخذ کو بھی قطعی ہونا چاہیے۔ چنانچہ ماخذدین کی حیثیت صرف قرآن اور متواتر سنت کو حاصل ہے، جب کہ اخبار آحاد کا کردار قرآن وسنت میں محصور دین کی تفہیم وتبیین تک محدود ہے۔
۲۔ سنت اپنے تاریخی وزمانی تحقق کے لحاظ سے قرآن پر متفرع نہیں ہے، بلکہ اس سے مقدم ہے۔
۳۔ سنت اپنے تشریعی کردار کے لحاظ سے قرآن کی فرع نہیں ہے، بلکہ قرآن کے متوازی ایک مستقل بالذات ماخذ ہے۔
۴۔ اخبار آحاد دین کے کسی مستقل بالذات حکم کو بیان نہیں کرتے، اس لیے انھیں قرآن، سنت یا عقل عام میں ان کی اصل اور اساس سے متعلق کرنا اور اسی کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ اس سے مختلف نوعیت رکھنے والا کوئی حکم اخبار آحاد میں نہ اصولاً پایا جا سکتا ہے اور نہ واقعتاً موجود ہے۔
۵۔ اخبار آحاد میں قرآن کے بظاہر محتمل احکام کی توضیح یا ان پر زیادت یا ان کی تخصیص کی جتنی بھی مثالیں ملتی ہیں، ان سب کی بنیاد لفظی یا عقلی قرائن کی صورت میں خود قرآن مجید میں موجود ہے اور پوری طرح واضح کی جا سکتی ہے۔
۶۔ جو اخبار آحاد قرآن مجید یا سنت ثابتہ یا عقل عام کے ساتھ متصادم ہوں ، وہ قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔
زیر نظر سطور میں ہم مذکورہ نکات کی تفصیل متعلقہ مثالوں کی روشنی میں پیش کریں گے۔
مآخذ دین کی قطعیت
شاطبی کی طرح غامدی صاحب کے زاویۂ نظر میں بھی دین کی قطعیت کا سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ شاطبی نے اس سوال کو یوں حل کیا ہے کہ شریعت، کلیات واصول اور جزئیات وفروع پر مشتمل ہے اور ان میں سے کلیات، جو اصل اور اساس کی حیثیت رکھتے ہیں، قطعی، جب کہ جزئیات وفروع ظنی ہیں۔ شاطبی کے نزدیک ظن، شریعت کی جزئیات کو تو لاحق ہو سکتا ہے، لیکن اگر کلیات کا بھی ظن کے دائرے میں آنا ممکن مانا جائے تو اس سے خود شریعت معرض شک میں آ جاتی ہے جو اس کے محفوظ ہونے کے منافی ہے۔ کلیات کی قطعیت کے اثبات کا طریقہ شاطبی کے نزدیک شرعی دلائل کا استقرا ہے اور شریعت میں جتنے بھی احکام قطعی اور یقینی مانے جاتے ہیں، ان کا مدار کسی جزوی نص کی قطعی دلالت پر نہیں، بلکہ ان کی قطعیت شریعت میں وارد متعدد نصوص کی مجموعی دلالت سے ثابت ہوئی ہے۔ شاطبی کسی بھی انفرادی دلیل شرعی سے قطعیت کے مستفاد ہونے کو ناممکن تصور کرتے ہیں، کیونکہ انفرادی دلیل یا تو اخبار آحاد کی طرح ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہوتی ہے اور یا باعتبار ثبوت قطعی ہونے کے باوجود متعدد اسباب سے اس کی دلالت کبھی قطعیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتی۔
غامدی صاحب شاطبی کے اس اصولی موقف سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ دین کا قطعی ہونا ضروری ہے، تاہم قطعیت کے اثبات میں ان کا منہج شاطبی سے مختلف ہے اور وہ اس ضمن میں تاریخی ثبوت کے لحاظ سے تواتر یا عدم تواتر کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن مجید کا نزول ’فرقان‘ اور ’میزان‘ کی حیثیت سے حق وباطل کے امتیاز کو قطعی طور پر واضح کر دینے اور اللہ کی ہدایت کو، جو پچھلی قوموں کے انحرافات وضلالا ت کے نتیجے میں مشتبہ ہو چکی تھی، قیامت تک کے لیے تاریخ کی سطح پر محکم اور محفوظ بنا دینے کے لیے ہوا تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے موقوف کر دیے جانے کے نتیجے میں اس بات کا اہتمام ناگزیر تھا کہ دین کے تاریخی ثبوت کی قطعیت کو یقینی بنایا جائے۔ غامدی صاحب کے نزدیک اس مقصد کے لیے قرآن مجید کے متن اور دین کے مستقل بالذات اور اساسی احکام کے حفظ وضبط، عمومی تعلیم اور تبلیغ واشاعت کا اس طرح اہتمام کیا گیا کہ آیندہ نسلوں تک ان کے انتقال کا بنیادی ذریعہ مسلمانوں کا اجماع اور تواتر قرار پایا، جب کہ ضمنی اور فروعی نوعیت کے امور میں ان کی تفہیم وتبیین کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا، اس کی نقل وروایت کو اخبار آحاد پر منحصر چھوڑ دیا گیا۔ یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہدایت جن صورتوں میں امت کو منتقل ہوئی ہے، غامدی صاحب اسے تاریخی ثبوت کے لحاظ سے تین صورتوں میں تقسیم کرتے ہیں، یعنی قرآن، سنت اور اخبار آحاد۔ ان میں سے قرآن اور سنت امت کے اجماع اور تواتر سے ثابت ہیں، جب کہ اخبار آحاد ظنی طریقے سے نقل ہوئی ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک دینی احکام وہدایات کا اس طرح متواتر اور آحاد میں تقسیم ہونا اتفاقی امر نہیں، بلکہ شارع کا ایک ارادی اور مقصود طریقہ ہے جس کا تعلق دین کے مجموعی نظام میں متواتر احکام و شرائع اور ظنی الثبوت اخبار آحاد کے درجہ واہمیت اور ان کے کردار کی نوعیت سے ہے۔
غامدی صاحب کے نقطۂ نظر میں ’’دین‘‘ دراصل شارع کی طرف سے مقرر کیے گئے ان مستقل بالذات احکام سے عبارت ہے جو کسی دوسرے حکم کی فرع یا تفصیل پر مبنی نہیں ہیں۔ ایسے تمام احکام ان کے نزدیک تاریخی طور پر تواتر سے ثابت اور قرآن اور سنت جیسے قطعی الثبوت مآخذ میں موجود ہیں۔ اس تناظر میں غامدی صاحب ’’دین کے ماخذ‘‘ ہونے کی تعبیر کو قرآن اور سنت کے لیے خاص قرار دیتے ہیں، جس سے ان کی مراد یہ ہے کہ دین کی بنیادی، اصولی اور مستقل بالذات تعلیمات قرآن اور سنت میں محصور ہیں اور ان کا کوئی بھی جزو قرآن اور سنت سے باہر نہیں پایا جاتا۔ جہاں تک اخبار آحاد کا تعلق ہے تو وہ صرف قرآن اور سنت میں بیان کیے گئے دین کی تفہیم وتبیین کرتی یا عقل عام کے کسی تقاضے کی وضاحت کرتی ہیں اور دین کے کسی مستقل بالذات حکم کا ثبوت ان پر منحصر نہیں۔ یوں سنت اور حدیث میں فرق اور احکام شریعت کی تاصیل وتبیین میں ان دونوں کے دائرۂ کار اور کردار کی مختلف نوعیت غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کا بنیادی نکتہ قرار پاتا ہے۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی وعملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے:
۱۔ قرآن مجید
۲۔ سنت …
دین لاریب، اِنھی دو صورتوں میں ہے۔ اِن کے علاوہ کوئی چیز دین ہے، نہ اُسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ (میزان ۱۳، ۱۵)
’’...سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسے پورے اہتمام، پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے۔ اخبار آحاد کی طرح اِسے لوگوں کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا کہ وہ چاہیں تو اِسے آگے منتقل کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔‘‘ (میزان ۶۲)
سنت کے مقابلے میں اخبار آحاد کی نوعیت یہ ہے کہ :
’’...رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبار آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے، اِن کے بارے میں یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اِن کی تبلیغ وحفاظت کے لیے آپ نے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ چاہیں تو اِنھیں آگے پہنچائیں اور چاہیں تو نہ پہنچائیں، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں، وہ درحقیقت قرآن وسنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم وتبیین اور اِس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ اِس معاملے میں یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اِس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبول کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (میزان ۱۵)
جہاں تک سنت اور حدیث میں امتیاز کا تعلق ہے تو اس نکتے کی حد تک یہ کہنا درست ہوگا کہ غامدی صاحب اس امتیاز سے قطعی الثبوت اور ظنی الثبوت یا سنت متواترہ اور اخبار آحاد کی جس تقسیم کو واضح کرنا چاہتے ہیں، وہ فی نفسہٖ کوئی نئی تقسیم نہیں، بلکہ اصولی طور پر جمہور فقہا واصولیین کے ہاں مسلم ہے۔ جمہور محدثین اور فقہا کی اصطلاح کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تمام اقوال وافعال اور تقریرات کے لیے ’سنت‘ کی تعبیر اختیار کی جاتی ہے۔ اس پورے مجموعے کا ثبوت کے اعتبار سے قطعی اور ظنی میں تقسیم ہونا مسلم ہے جس کے لیے ’متواتر‘ اور ’خبر واحد‘ کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ جمہور اصولیین کے ہاں اس فرق کا عملی اثر عموماً دو پہلوؤں سے مانا جاتا ہے: پہلا یہ کہ اخبار آحاد کے انکار پر کسی کی تکفیر نہیں کی جا سکتی، اور دوسرا یہ کہ خبر واحد اگر متواتر روایت کے معارض ہو تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اصولیین کی ایک جماعت اور خاص طور پر احناف ایک تیسرا فرق بھی بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ عموم بلویٰ کی نوعیت رکھنے والے امور میں خبر واحد سے شریعت کا کوئی واجب اور لازم حکم اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ گویا احناف کے نزدیک اخبار آحاد کی قبولیت اور حجیت احکام دین کے ایک خاص دائرہ میں محصور ہے اور ان سے وہی احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں جن کا تعلق دین کے فروع اور جزئیات سے ہو اور جن کا جاننا یا ان پر عمل کرنا ساری امت پر لازم نہ ہو۔ احناف کا استدلال یہ ہے کہ اگر دین کا کوئی حکم ایسا ہو جس کا جاننا اور جس کی پابندی کرنا لوگوں پر عمومی طور پر واجب ہو تو پھر یہ ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کا ابلاغ بھی اسی درجے میں، پورے اہتمام کے ساتھ کیا اور آپ کے بعد آپ کی امت اسے اسی طرح شہرت واستفاضہ کے ساتھ نسلاً بعد نسلٍ نقل کرتی رہے۔
ان تینوں فروق سے ایک بدیہی نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی احکام و ہدایات کی اشاعت اور ان کی تبلیغ وتعلیم کا اہتمام کرتے ہوئے دین میں ان کی اہمیت اور حیثیت کو ملحوظ رکھا ہے اور کسی ایسے بنیادی اور اصولی حکم کے ابلاغ کو اخبار آحاد پر منحصر نہیں چھوڑا جس کا جاننا یا اس پر عمل کرنا عمومی طور پر امت پر لازم ہو۔ غامدی صاحب کی تقسیم میں اس نکتے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دینی احکام وہدایات کی زمرہ بندی میں بنیادی اہمیت اس سوال کو دیتے ہیں کہ آیا کسی حکم کو امت کے عمومی تعامل کا حصہ بنایا جانا شارع کا مقصود تھا یا نہیں۔ پہلی صورت کو وہ کسی عمل کے ’’بطور سنت جاری کرنے‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں جس کے لیے لازم تھا کہ آپ اس حکم کا ابلاغ پوری قطعیت کے ساتھ کریں اور وہ تواتر کے ساتھ امت میں نسل در نسل منتقل ہو، جب کہ دوسری صورت میں ابلاغ میں اس نوعیت کا اہتمام مطلوب نہیں تھا۔ پہلی قسم کے احکام کے لیے غامدی صاحب ’سنت‘ کی تعبیر اختیار کرتے ہیں جو امت کے اجماع وتواتر سے ثابت ہے، اور دوسری قسم کے اعمال کو ’اسوۂ حسنہ‘ سے تعبیر کرتے ہیں جن کا تاریخی ماخذ احادیث وآثار ہیں۔ یوں سنت اور حدیث کی الگ الگ اصطلاحات جس تقسیم کی وضاحت کے لیے اختیار کی گئی ہیں، وہ فی نفسہٖ فقہا ومحدثین کے ہاں تسلیم شدہ ہے، البتہ اس بنیادی نکتے میں اشتراک کے بعد ’سنت‘ اور ’حدیث‘ کے دائرۂ کار اور ان کے باہمی تعلق کی تحدید و تعیین میں غامدی صاحب کا نقطۂ نظر جمہور سے مختلف ہے اور اپنے متعین کردہ حدود وقیود کے لحاظ سے وہ ’سنت‘ اور ’حدیث‘ کو ایک نئے اصطلاحی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں جس کی وضاحت ’’میزان‘‘ میں ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کے عنوانات کے تحت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
’سنت‘ بطور مستقل بالذات ماخذ
غامدی صاحب کی تقسیم میں دوسرا اہم امتیازی نکتہ، سنت کی تعریف اور تعیین سے متعلق ہے۔ جمہور اصولیین اور خاص طور پر شاطبی کے نزدیک احکام شریعت کے بیان اور تشریعی نظام کی تاصیل میں بنیادی ماخذ قرآن مجید ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرآن کے ایک ذیلی اور توضیحی ماخذ کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق دین اصلاً قرآن میں بیان ہوا ہے اور وہی اس کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کرتا ہے، جب کہ سنت کا کام یا تو ان امور کی تشریح وتفصیل کرنا ہے جو قرآن نے بیان کیے ہیں اور یا ان ذیلی وضمنی امور سے متعلق شارع کی مراد کو واضح کرنا جنھیں قرآن نے تصریحاً بیان نہیں کیا۔ گویا جمہور اصولیین کے مطابق سنت واجب الاتباع ہونے کے اعتبار سے تو قرآن کے مساوی ہے، لیکن نظام تشریع کی توضیح وتکمیل میں اس کا کردار مستقل اور متوازی نہیں، بلکہ قرآن کریم کے تابع ہے اور اس کی فرع کی حیثیت رکھتا ہے۔
غامدی صاحب کا نقطۂ نظر اس دوسرے پہلو سے جمہور اصولیین سے مختلف ہے۔ ان کی راے میں سنت، زمانی لحاظ سے قرآن سے موخر اور قرآن کے احکام پر متفرع نہیں، بلکہ قرآن سے مقدم ہے۔ اس کی تفصیل وہ یوں کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلاً ملت ابراہیمی کی اتباع پر مامور کیا گیا تھا جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کے ذریعے سے اہل عرب کے لیے مقرر کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت ان کے ہاں بحیثیت مجموعی ایک معروف ومسلم دینی روایت کے طور پر موجود تھی۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بالکل نیا دین لے کر نہیں آئے تھے اور نہ اس کے جملہ اصول ومبادی اور جزئیات وتفصیلات آپ نے پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے پیش کیے تھے۔ آپ درحقیقت دین ابراہیمی کے مجدد تھے اور دین کے تمام بنیادی عقائد اور اس کے عملی ڈھانچے میں آپ کو ملت ابراہیمی ہی کی پیروی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ روایت عبادات، دینی شعائر اور معاشرتی زندگی کے معاملات کو محیط تھی، البتہ ان تمام دائروں میں اس میں کچھ بدعات اورانحرافات شامل ہو گئے تھے جن کی اصلاح کو اللہ اور اس کے رسول نے موضوع بنایا اور قرآن اور سنت، دونوں نے اس دینی روایت کو تجدید وتصویب، اصلاح وترمیم اور اضافہ وتکمیل کے ذریعے سے ایک نئی اور مستقل شریعت کے قالب میں ڈھالنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ غامدی صاحب دین ابراہیمی کی اسی روایت کو اپنی اصطلاح میں ’’سنت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ چنانچہ سنت کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ قرآن میں آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت بھی اُسی کا حصہ ہے۔‘‘ (میزان ۱۴)
سنت کی نسبت تاریخی اعتبار سے ملت ابراہیمی کی طرف کرنے سے ایک عمومی اشکال جس کا غامدی صاحب کو سامنا کرنا پڑا ہے، یہ ہے کہ شاید وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل تشریعی حیثیت کو نہیں مانتے اور آپ کے کردار کو صرف ملت ابراہیمی کی اتباع تک محدود تصور کرتے ہیں۔ اس اشکال کے جواب میں غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...سنت کے ذریعے سے جو دین ملا ہے، اُس کا ایک بڑا حصہ دین ابراہیمی کی تجدید واصلاح پر مشتمل ہے۔ تمام محققین یہی مانتے ہیں۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس میں محض جزوی اضافے کیے ہیں۔ ہرگز نہیں، آپ نے اِس میں مستقل بالذات احکام کا اضافہ بھی کیا ہے۔ ... اِس لیے یہ الزام بالکل لغو ہے کہ پہلے سے موجود اور متعارف چیزوں سے ہٹ کر کوئی نیا حکم دینا یا دین میں کسی نئی بات کا اضافہ کرنا میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید کے دائرۂ کار میں شامل ہی نہیں ہے۔‘‘ (مقامات ۱۶۲، ۱۶۳)
سنت کے زمانی تقدم کے اصولی مضمرات
یہ بات کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنیادی طورپر ملت ابراہیمی کی پیروی پر مامور تھے، جمہور علماے اصول کے ہاں بھی مسلم ہے، تاہم وہ عموماً اس کا ذکر تاریخی پس منظر کے طور پر کرتے ہیں اور اصول فقہ کے اہم مباحث پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان سے زیادہ تعرض نہیں کرتے۔ غامدی صاحب اس نکتے کو اصول فقہ کے متعدد بنیادی سوالات کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اس سے بعض اہم نتائج اخذ کرتے ہیں ۔ ان میں سے دو نتائج یہاں بطور خاص قابل ذکر ہیں:
پہلا اہم اور بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ سنت کو قرآن سے الگ ایک مستقل ماخذ تصور کرتے ہوئے امور دین کی تشریح میں اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ کون سی بات کا ماخذ اصلاً قرآن ہے اور کون سی بات ابتداء ً سنت سے ثابت ہوئی ہے۔ چنانچہ کسی بات کے محض قرآن مجید میں مذکور ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن اسے ابتداء ً بیان کررہا ہے اور سنت میں اس سے متعلق جو بھی تفصیلات وارد ہوئی ہیں، وہ قرآن پر متفرع ہیں۔ مستقل بالذات احکام کو ابتداء ً بیان کرنا قرآن کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس میں قرآن کے ساتھ سنت بھی شریک ہے۔ جس طرح قرآن دین کے بہت سے مستقل بالذات احکام بیان کرتا اور سنت، قرآن سے ثابت احکام کے طور پر ان کا ذکر کرتی ہے، اسی طرح سنت بھی ایسے مستقل بالذات احکام بیان کرتی ہے جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی، اور پھر قرآن ان کا ذکر ایک ثابت شدہ حکم کے طور پر کرتے ہوئے ان کے بعض مزید پہلوؤں سے تعرض کرتا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں مذکور احکام میں اس نکتے کی تنقیح قرآن کے صحیح فہم کے لیے بھی ضروری ہے اور سنت کے دائرے میں آنے والے امور کی تعیین میں بھی اس کی اہمیت بنیادی ہے۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’تیسرا اصول یہ ہے کہ عملی نوعیت کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہو سکتیں جن کی ابتدا پیغمبر کے بجاے قرآن سے ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ نے چوروں کے ہاتھ کاٹے ہیں، زانیوں کو کوڑے مارے ہیں، اوباشوں کو سنگ سار کیا ہے، منکرین حق کے خلاف تلوار اٹھائی ہے، لیکن اِن میں سے کسی چیز کو بھی سنت نہیں کہا جاتا۔ یہ قرآن کے احکام ہیں جو ابتداء ً اُسی میں وارد ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی تعمیل کی ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور قربانی کا حکم بھی اگرچہ جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے اور اُس نے اِن میں بعض اصلاحات بھی کی ہیں، لیکن یہ بات خود قرآن ہی سے واضح ہو جاتی ہے کہ اِن کی ابتدا پیغمبر کی طرف سے دین ابراہیمی کی تجدید کے بعد اُس کی تصویب سے ہوئی ہے۔ اِس لیے یہ لازماً سنن ہیں جنھیں قرآن نے موکد کردیا ہے۔ کسی چیز کا حکم اگر اصلاً قرآن پر مبنی ہے اور پیغمبر نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے یا اُس پر طابق النعل بالنعل عمل کیا ہے تو پیغمبر کے اِس قول وفعل کو ہم سنت نہیں، بلکہ قرآن کی تفہیم وتبیین اور اسوۂ حسنہ سے تعبیر کریں گے۔ سنت صرف اُنھی چیزوں کو کہا جائے گا جو اصلاً پیغمبر کے قول وفعل اور تقریر وتصویب پر مبنی ہیں اور اُنھیں قرآن کے کسی حکم پر عمل یا اُس کی تفہیم وتبیین قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ (میزان ۶۰)
اس نکتے کا حاصل یہ ہے کہ بیان احکام میں اصل اور فرع کا رشتہ صرف یک طرفہ نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں کہ قرآن مجید ہی مطلقاً اصل ہے اور سنت ہمیشہ اس کی فرع ہوتی ہے، بلکہ یہ تعلق دو طرفہ ہے، اس لیے ایک ہی حکم سے متعلق قرآن اور سنت، دونوں میں احکام وارد ہوں تو یہ تحقیق ضروری ہے کہ کسی مسئلے کو ابتداء ً قرآن یا سنت میں سے کس نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ جیسے یہ امکان ہے کہ کسی حکم کو اصلاً وابتداء ً قرآن نے بیان کیا ہو اور سنت نے اس کی مختلف فروع کی وضاحت کی ہو، اسی طرح یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس مسئلے میں تشریع کی ابتدا سنت سے ہوئی ہو اور اسی نے اس باب میں بنیادی و تاصیلی ماخذ کا کردار اد اکیا ہو، جب کہ قرآن نے اس کو ایک ثابت شدہ حکم مان کر اس پر بعض مزید احکام کا اضافہ کیا ہو۔ یوں تشریع کی ابتدا کرنے میں قرآن اور سنت، دونوں مساوی درجے کے ماخذ ہیں اور دونوں اپنی مستقل حیثیت میں دین کے تاصیلی احکام بھی بیان کر سکتے ہیں اور پہلے سے ثابت شدہ احکام میں اضافات بھی شامل کر سکتے ہیں۔
غامدی صاحب نے اس نکتے سے ایک اور بہت بنیادی اور اہم نتیجہ اخذ کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’...سنت قرآن کے بعد نہیں، بلکہ قرآن سے مقدم ہے، اِس لیے وہ لازماً ا ُس کے حاملین کے اجماع وتواتر ہی سے اخذ کی جائے گی۔ قرآن میں اُس کے جن احکام کا ذکر ہوا ہے، اُن کی تفصیلات بھی اِسی اجماع وتواتر پر مبنی روایت سے متعین ہوں گی۔ اُنھیں قرآن سے براہ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، جس طرح کہ قرآن کے بزعم خود بعض مفکرین نے اِس زمانے میں کی ہے اور اِس طرح قرآن کا مدعا بالکل الٹ کر رکھ دیا ہے۔‘‘ (میزان ۴۸)
سنت کے زمانی تقدم کے نکتے سے غامدی صاحب نے دوسرا اہم نتیجہ قرآن مجید کے ان بیانات کے حوالے سے اخذ کیا ہے جنھیں علماے اصول ’’مجمل مفتقر الی البیان‘‘ کی اصطلاح سے بیان کرتے ہیں۔ اصولیین ذکر کرتے ہیں کہ قرآن مجید نے بہت سے الفاظ کو ان کے عام لغوی مفہوم سے بالکل مختلف معنوں میں ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس اصطلاحی مفہوم کی خود وضاحت نہیں کی۔ مثلاً ’صلاۃ‘ کا لفظ عربی زبان میں ’دعا‘ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن قرآن مجید میں ’اقيموا الصلوٰۃ‘ کے حکم میں اس کا معروف لغوی معنی مراد نہیں۔ اسی طرح ’زكاۃ‘ کا لفظ عربی میں بڑھوتری کے لیے، ’صوم‘ کا لفظ کسی چیز سے رکنے کے لیے اور ’حج ‘ کا لفظ لغت میں کسی جگہ کا قصد کرنے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن قرآن میں زکوٰۃ کی ادائیگی، صوم کے اہتمام اور حج کے اتمام سے مراد یہ لغوی معانی نہیں ہیں۔ ان تمام الفاظ کو شرعی اصطلاح میں نئے مفاہیم کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے جو ان کے عام لغوی مفہوم سے مختلف ہیں۔ یوں یہ تمام الفاظ مجمل ہیں جو متکلم کی طرف سے اپنی مراد کی وضاحت کا تقاضا کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جو مفہوم واضح کیا، وہ ان کے بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔
سنت سے متعلق غامدی صاحب کے زیر بحث نقطۂ نظر کی روشنی میں الفاظ کی ایسی کوئی قسم قرآن میں موجود نہیں۔غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے مطابق مذکورہ تمام امور دین ابراہیمی کے معروف مسلمات تھے جن میں اگرچہ بہت سی بدعات در آئی تھیں، لیکن اپنے بنیادی مفہوم اور شکل وصورت کے لحاظ سے یہ عبادات قرآن کے مخاطبین کے لیے ہرگز اجنبی نہیں تھیں، چنانچہ نہ تو قرآن کو ان عبادات کی کوئی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت تھی اور نہ مخاطبین ان کے مفہوم کو جاننے کے لیے کسی خارجی توضیح کے محتاج تھے۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یہ سب اِسی ملت کے احکام ہیں جن سے قرآن کے مخاطب پوری طرح واقف، بلکہ بڑی حد تک اُن پر عامل تھے۔ سیدنا ابوذر کے ایمان لانے کی جو روایت مسلم میں بیان ہوئی ہے، اُس میں وہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وہ نماز کے پابند ہو چکے تھے۔ جمعہ کی اقامت کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ نماز جنازہ وہ پڑھتے تھے۔ روزہ اُسی طرح رکھتے تھے، جس طرح اب ہم رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ اُن کے ہاں بالکل اُسی طرح ایک متعین حق تھی، جس طرح اب متعین ہے۔ حج وعمرہ سے متعلق ہر صاحب علم اِس حقیقت کو جانتا ہے کہ قریش نے چند بدعتیں اُس میں بے شک، داخل کر دی تھیں، لیکن اُن کے مناسک فی الجملہ وہی تھے جن کے مطابق یہ عبادات اِس وقت ادا کی جاتی ہیں، بلکہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اِن بدعتوں پر متنبہ بھی تھے۔ چنانچہ بخاری و مسلم، دونوں میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے پہلے جو حج کیا، وہ قریش کی اِن بدعتوں سے الگ رہ کر بالکل اُسی طریقے پر کیا، جس طریقے پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج ہمیشہ جاری رہا ہے۔
یہی معاملہ قربانی، اعتکاف، ختنہ اور بعض دوسرے رسوم وآداب کا ہے۔ یہ سب چیزیں پہلے سے رائج، معلوم و متعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِن کی تفصیل کرتا۔ لغت عرب میں جو الفاظ اِن کے لیے مستعمل تھے، اُن کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے اُنھیں نماز قائم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یا حج وعمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج وعمرہ کن چیزوں کے نام ہیں۔ قرآن نے اِن میں سے کسی چیز کی ابتدا نہیں کی، اِن کی تجدید واصلاح کی ہے اور وہ اِن سے متعلق کسی بات کی وضاحت بھی اُسی حد تک کرتا ہے، جس حد تک تجدید واصلاح کی اِس ضرورت کے پیش نظر اُس کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔‘‘ (میزان ۴۶- ۴۷)
یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ جمہور اصولیین بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ملت ابراہیمی کی اتباع پر مامور ہونے اور صلوٰۃ اور حج جیسی اصطلاحات کے، اہل عرب کے ہاں معلوم ومعروف ہونے کے ان دونوں نکتوں کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان اصطلاحات کے مفہوم کی تعیین اہل عرب کے مذہبی عرف کے بجاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی کے حوالے سے کرتے ہیں۔ یعنی وہ نماز اور حج وغیرہ کے، جاہلی معاشرے میں ملت ابراہیمی کی روایت کا حصہ ہونے کا ذکر تو کرتے ہیں، جس سے اہل عرب واقف تھے، لیکن اس کے باوجود وہ انھیں ایسی اصطلاحات قرار دیتے ہیں جن کا شریعت نے اپنا ایک خاص مفہوم وضع کیا ہے جس کی وضاحت ہمیں سنت سے ہی ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ’الصلوٰۃ‘ کا ایک اصطلاحی معنی اگرچہ اہل عرب کے ہاں معروف تھا اور قرآن مجید میں ابتداء ً جب ’اقامت صلوٰۃ‘ کا حکم نازل ہوا تو وہ عبادت کے اسی معروف طریقے کی طرف اشارہ تھا، لیکن ظاہر ہے کہ شریعت میں نماز کے طریقے کو بعینہ اسی طرح قائم نہیں رکھا گیا، بلکہ اس میں تدریجاً بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ان تبدیلیوں کے نتیجے میں نماز کی جو آخری اور حتمی شکل مقرر ہوئی، وہ بدیہی طور پر وہ نہیں تھی جس سے زمانۂ جاہلیت میں اہل عرب واقف تھے۔ یوں ابتداء ً نہ سہی، لیکن مآل کے لحاظ سے یہ کہنا بجا ہے کہ شریعت نے ’الصلوٰۃ‘ کے معروف مفہوم کو برقرار نہیں رکھا، بلکہ اسے ایک نئے مفہوم کی طر ف منتقل کر دیا ہے جس کو جاننے کے لیے بہرحال سنت ہی کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔
جس نقطۂ نظر کی ترجمانی مذکورہ اقتباس میں غامدی صاحب نے کی ہے، اس کا ذکر ایک امکانی راے کے طور پر علماے اصول کے ہاں بھی ملتا ہے۔ مثلاً ابوبکر الجصاص اور الکیا الہراسی لکھتے ہیں کہ ’الصلوٰۃ‘ کو مجمل اور محتاج بیان بھی کہا جا سکتا ہے اور یہ بھی تصور کیا جا سکتا ہے کہ ان الفاظ سے ایک ایسی معہود حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے قرآن کے مخاطبین پہلے سے واقف تھے (جصاص، احکام القرآن ۱/۳۲۔ الکیا الہراسی، احکام القرآن ۱/۹)۔ امام ابن تیمیہ کا موقف یہ ہے کہ ’الصلوٰۃ‘ کے لغوی مفہوم میں شریعت نے کوئی تبدیلی نہیں کی، بلکہ ایک خاص طریقے سے عبادت کرنے کے معنی میں یہ لفظ پہلے سے اہل عرب کے عرف میں رائج اور مستعمل تھا، البتہ شارع نے اس عرفی مفہوم میں جزوی تخصیص کرتے ہوئے اسے اس مخصوص طریقے کے لیے استعمال کیا ہے جو شریعت میں اس کے لیے مقررکیا گیا ہے اور جو اہل جاہلیت کے طریقۂ نماز سے بہت سی تفصیلات میں مختلف ہے (الفتاویٰ الکبریٰ ۵/۳۱۷)۔ علامہ انور شاہ کشمیری نے اس ضمن میں اس سوال سے بھی تعرض کیا ہے کہ شریعت نے نماز کی ہیئت میں جو مختلف تبدیلیاں کی ہیں، کیا ان کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شریعت میں لفظ ’الصلوٰۃ‘ کو اس کے حقیقی معنی، (یعنی اہل عرب کے عرفی مفہوم) کے بجاے مجازی معنی میں استعمال کیا گیا ہے؟ شاہ صاحب کا جواب یہ ہے کہ ظاہری ہیئت میں تبدیلیوں کی وجہ سے ان الفاظ کو مجازی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ حقیقی استعمال ہی ہے، کیونکہ اگر ہیئت کے ظاہری اختلاف کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ لفظ اپنی حقیقت پر برقرار نہیں رہا تو پھر یہ کہنا بھی ممکن ہوگا کہ احناف کے طریقۂ نماز پر ’الصلوٰۃ‘ کا اطلاق شوافع کے نزدیک، اور شوافع کے طریقۂ نماز پر اس کا اطلاق احناف کے نزدیک مجازی ہے (فیض الباری ۱/۱۱۵)۔
یوں غامدی صاحب کا نقطۂ نظر اس بحث میں بالکل طبع زاد نہیں ہے، البتہ انھوں نے اصولیین کے ہاں پائے جانے والے ایک نسبتاً غیر معروف رجحان کو اپنے نظام فکر میں اس طرح ایک بنیادی او رمحوری نکتے کی حیثیت دے دی ہے جس سے اصولیین کی ذکر کردہ ایک خاص نوع، یعنی ’مجمل مفتقر الی البیان‘ کی ضرورت عملاً باقی نہیں رہتی۔
اخبار آحاد کی حیثیت
قرآن اور سنت کے ساتھ اخبار آحاد کے تعلق کے ضمن میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کی تفہیم کے لیے مناسب ہوگا کہ اصول فقہ کی روایت میں اس نوعیت کی دو سابقہ بحثوں کو پیش نظر رکھ لیا جائے۔
ایک بحث امام شافعی نے اٹھائی تھی کہ کیا اخبار آحاد کی اسنادی صحت کا اطمینان حاصل ہونے کے بعد انھیں کتاب اللہ پر پیش کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ امام شافعی کی بحث کا تناظر، حنفی فقہا کا یہ موقف تھا کہ اخبار آحاد کو کتاب اللہ کے معارض ہونے کی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ امام شافعی نے اس کے جواب میں، جیسا کہ وضاحت کی جاچکی ہے، یہ موقف اختیار کیا کہ اخبار آحاد کے، کتاب اللہ کے معارض ہونے کا مفروضہ ہی درست نہیں اور یہ کہ صحت سند کے ساتھ کوئی خبر واحد مروی ہو تو اسے نظر انداز کر کے کتاب اللہ کی مراد متعین کرنا ہی اصولی طور پر غلط ہے۔ تاہم اس ساری بحث میں خبر واحد کو کتاب اللہ پر پیش کرنے کا مطلب صرف عدم تعارض کا اطمینان حاصل کرنا تھا۔ امام شاطبی نے، شریعت کے مقاصد اور کلیات کے حوالے سے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے سیاق میں، اس بحث میں ایک اور اہم نکتہ بھی شامل کیا، اور وہ یہ تھا کہ کیا خبر واحد کی قبولیت کے لیے، کسی قطعی دلیل کے معارض نہ ہونے سے آگے بڑھ کر، کیا یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی کلی قاعدے اور اصول کے تحت آتی ہو، یعنی کسی کلی کی جزئی اور کسی اصول شرعی کے اطلاق کی نظیر بن سکتی ہو؟ دوسرے لفظوں میں، خبر واحد میں جو حکم بیان کیا گیا ہے، شریعت کے اصولوں اور قواعد میں سے کوئی قاعدہ اس کی بنیاد بن سکتا ہو؟ اس ضمن میں ان کے نقطۂ نظر کی تفصیل متعلقہ فصل میں بیان کی جا چکی ہے۔
غامدی صاحب کے نزدیک اخبار آحاد میں بیان کی جانے والی ہدایات کا قرآن، سنت یا عقل وفطرت میں سے کسی ایک پر مبنی ہونا اور اپنی اصل کے ساتھ اس کے تعلق کا واضح ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے ان کا نقطۂ نظر جمہور اصولیین کے مقابلے میں امام شاطبی کے موقف کے قریب تر ہے جو دلیل ظنی کے کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہونے کو ضروری قرار دیتے ہیں اوراصل قطعی کے ساتھ دلیل ظنی کا تعلق واضح ہوئے بغیر علی الاطلاق اخبار آحاد کو واجب الاتباع نہیں سمجھتے۔ اس نکتے کو غامدی صاحب یوں تعبیر کرتے ہیں کہ احادیث سے ’’...دین میں کسی عقیدہ و عمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا‘‘ (میزان ۶۲) اور ’’...یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے‘‘ (ایضاً ۶۲)۔ ان کے نزدیک حدیث دراصل ’’...نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح، آپ کے اسوۂ حسنہ اور دین سے متعلق آپ کی تفہیم وتبیین کے جاننے کا سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ‘‘ (ایضاً ۶۲) ہے۔ مذکورہ قیود کے ساتھ، غامدی صاحب جمہور اصولیین کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ اخبار آحاد کو باعتبار ثبوت ظنی ہونے کی بنیاد پر رد کر دینا درست نہیں، بلکہ انھیں قبول کرنا واجب ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’اِس دائرے کے اندر، البتہ اِس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل یا تقریر وتصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔‘‘ (میزان ۱۵)
بعض معترضین نے اخبار آحاد سے دین کا کوئی نیا حکم ثابت نہ ہونے کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ خبر واحد، قرآن سے ’’زائد‘‘ کسی حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی، تاہم غامدی صاحب کا مدعا ہرگز یہ نہیں ہے۔ ’’دین کے نئے حکم‘‘ سے غامدی صاحب کی مراد ’’قر آن سے زائد حکم‘‘ نہیں، بلکہ دین کا ایسا مستقل بالذات حکم ہے جو کسی بھی اعتبار سے قرآن کے حکم پر مبنی اور اس سے متعلق نہ ہو سکتا ہو۔ اس ضمن میں بعض اعتراضات واشکالات کے جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو قرآن دیا ہے۔ اِس کے علاوہ جو چیزیں آپ نے دین کی حیثیت سے دنیا کو دی ہیں، وہ بنیادی طور پر تین ہی ہیں:
۱۔ مستقل بالذات احکام وہدایات جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی۔
۲۔ مستقل بالذات احکام وہدایات کی شرح ووضاحت، خواہ وہ قرآن میں ہوں یا قرآن سے باہر۔
۳۔ اِن احکام وہدایات پر عمل کا نمونہ۔
یہ تینوں چیزیں دین ہیں۔ دین کی حیثیت سے ہر مسلمان اِنھیں ماننے اور اِن پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِن کی نسبت کے بارے میں مطمئن ہو جانے کے بعد کوئی صاحب ایمان اِن سے انحراف کی جسارت نہیں کر سکتا۔‘‘ (مقامات ۱۶۱ - ۱۶۲)
غامدی صاحب کے نزدیک اخبار آحاد میں بیان ہونے والے تمام احکام قرآن مجید یا سنت متواترہ کے احکام کی تفصیل وتفریع سے عبارت ہیں اور قرآن سے بظاہر زائد دکھائی دینے والے احکام بھی اپنی لِم کے اعتبار سے قرآن ہی کے حکم کی توسیع ہیں۔ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں ہر جگہ انھوں نے شریعت کی تفصیل وتشریح کرتے ہوئے قرآن اور سنت متواترہ سے ثابت احکام کے ساتھ ساتھ ان کے تحت اخبار آحاد سے ثابت شدہ احکام کا بھی اہتمام اور التزام کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اصل اور فرع کے باہمی تعلق کو بھی واضح کیا ہے جس کی کچھ مثالیں آیندہ مباحث میں پیش کی جائیں گی۔
نسخ، تخصیص اور تبیین
حدیث سے قرآن کے نسخ یا تخصیص کی بحث میں فراہی مکتب فکر نے علی العموم اور غامدی صاحب نے بالخصوص جمہور فقہا واصولیین سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ جیسا کہ سابقہ مباحث میں تفصیلاً واضح کیا جا چکا ہے، امام شافعی اصولی طور پر حدیث کے ذریعے سے قرآن کے حکم کے نسخ، یعنی جزوی یا کلی تبدیلی کے جواز کے قائل نہیں، تاہم اس موقف کا احادیث کے رد وقبول کے حوالے سے کوئی خاص عملی اثر اس لیے مرتب نہیں ہوتا کہ امام شافعی قرآن کی ظاہری دلالت اور احادیث کے مابین کسی تعارض کی صورت میں قرآن کی مراد کی تعیین میں حدیث کو فیصلہ کن قرار دیتے ہیں۔ چونکہ قرآن کی اصل مراد وہ نہیں جس پر اس کے الفاظ ظاہراً دلالت کرتے ہیں، اس لیے ان کے نقطۂ نظر سے کسی حدیث کو اس لیے ترک کرنے کی کوئی گنجایش یا ضرورت بھی نہیں پڑتی کہ وہ قرآن کے معارض ہے۔ یوں حدیث، قرآن کے حکم کو منسوخ نہیں کر سکتی، لیکن حدیث میں جو کچھ وارد ہو، وہ قرآن ہی کی تبیین ہے، کیونکہ قرآن کی مراد کو حدیث سے الگ مستقلاً طے کرنا درست نہیں۔ اس کے برخلاف اصولیین کا ایک دوسرا گروہ اور خاص طور پر حنفی فقہا قرآن کی اپنی مستقل دلالت کو اہمیت دیتے ہیں اور قرآن میں زیربحث احکام کے دائرے میں وارد احادیث کا ان سے تعلق واضح کرنے کے لیے تبیین کے ساتھ ساتھ نسخ کے اصول کو بھی استعمال کرتے ہیں، البتہ حنفی فقہا چونکہ نسخ کی صورت میں احادیث کی قبولیت کے لیے شہرت واستفاضہ اور تلقی بالقبول کی شرائط بھی عائد کرتے ہیں، اس لیے ان کے اصول کے مطابق نسخ کے شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے بعض احادیث کو رد کرنے کی گنجایش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
غامدی صاحب کا نقطۂ نظر ان دونوں اصولی مواقف سے مختلف ہے۔ وہ حدیث کے ذریعے سے قرآن کے نسخ کے مطلقاً عدم جواز سے متعلق تو امام شافعی کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن قرآن کی ظاہری دلالت کو ہر حال میں احادیث کے تابع کرنے کے سوال پر امام شافعی کے بجاے حنفی اصولیین کی راے کو درست سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک حدیث، چاہے وہ خبر مشہور ہو یا خبر واحد، نہ تو کسی حال میں قرآن کے حکم میں کوئی تبدیلی کر سکتی ہے اور نہ حدیث کی بنیاد پر قرآن کے الفاظ کی ظاہری دلالت کو ظنی قرار دے کر ترک کیا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً، حدیث کے قرآن کے ساتھ متعلق ہونے کی ایک ہی صورت ممکن ہے اور وہ تبیین ہے جس کی نوعیت کلام کے اندر ابتدا سے موجود مضمرات کو واضح کرنے یا کلام کے اشارات اور مخفی دلالتوں کو منصۂشہود پر لانے کی ہوتی ہے، جب کہ کلام کے واضح اور طے شدہ مفہوم میں کسی قسم کی جزوی یا کلی تغییر ’تبیین‘ کے دائرے میں نہیں آتی۔
جہاں تک سنت سے قرآن کے نسخ کے عدم جواز کا تعلق ہے تو اس حوالے سے غامدی صاحب نے امام شافعی کے استدلال کا اعادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اہم اضافہ بھی کیا ہے۔ ’’برہان‘‘ میں رجم کی سزا پر بحث کرتے ہوئے انھوں نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ سنت کے لیے یہ اختیار کسی قیاس یا عقلی استدلال سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے خود قرآن کی تصریح درکار ہے جو موجود نہیں، بلکہ اس کے برعکس قرآن نے پیغمبر کے لیے اس اختیار کی نفی کی ہے۔ یہاں غامدی صاحب نے سورۂ یونس کی آیت ’مَا يَكُوْنُ لِيْ٘ اَنْ اُبَدِّلَہ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ‘ (۱۰: ۱۵) سے استدلال کیا اور اس پر اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ جواز نسخ کے قائلین اس آیت سے استدلال کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہاں جس چیز کی نفی کی گئی ہے، وہ پیغمبر کا خود اپنی طرف سے کلام الہٰی میں تبدیلی کرنا ہے، جب کہ سنت کے ذریعے سے قرآن میں نسخ پیغمبر کی اپنی راے پر نہیں، بلکہ وحی الہٰی پر مبنی ہوتا ہے اور چونکہ قرآن اور سنت، دونوں وحی ہی کی دو صورتیں ہیں، اس لیے وحی خفی کے ذریعے سے وحی جلی کے نسخ پریہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اس معارضے کے جواب میں غامدی صاحب کے استدلال کا حاصل یہ ہے کہ وحی متلو اور وحی غیر متلو اگرچہ وحی ہونے میں مشترک ہیں، لیکن ان دونوں کے ابلاغ وانتقال اور حفاظت میں جو بنیادی فرق ملحوظ رکھے گئے ہیں، انھیں اس بحث میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں سے ایک متعین الفاظ میں نازل کی گئی، خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے مربوط کلام کی صورت میں مرتب کی گئی اور روایت باللفظ کے ذریعے سے تواتر کے ساتھ امت کو منتقل کی گئی ہے، جب کہ دوسری کا مفہوم پیغمبر کو القا کیا گیا، اس کی بالمعنیٰ روایت کی گئی اور وہ منتشر اقوال کی صورت میں امت کو منتقل ہوئی ہے۔ ان سب بنیادی امتیازات کے ہوتے ہوئے دونوں کو یکساں درجے میں نہیں رکھا جا سکتا(برہان ۴۹- ۵۱)۔
اس موقف کی تائید میں ایک اہم استدلال کا اضافہ غامدی صاحب نے قرآن کے میزان، فرقان اور مہیمن ہونے کے نکتے کی روشنی میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’...اس کی حقیقت محض یہی نہیں کہ وہ وحی متلو ہے۔ وہ تو سلسلۂوحی کا مہیمن، دین کی برہان قاطع، حق وباطل کا معیار، خدا اور خدا کے رسولوں کی طرف منسوب ہر چیز کے لیے فرقان اور زمین پر خدا کی میزان ہے۔ ’اَللّٰہ الَّذِيْ٘ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ‘ (اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری، یعنی میزان نازل کی)۔ ہر چیز اب اِسی میزان پر تولی جائے گی۔ اُس کے لیے کوئی چیز میزان نہیں ہے۔ ہر وہ شخص جو قرآن کے اِس مقام سے واقف ہے، بغیر کسی تردد کے مانے گا کہ وحی خفی تو ایک طرف، اگر کوئی وحی جلی بھی ہوتی تو وہ خدا کی اِس میزان میں کوئی کمی بیشی کرنے کی مجاز نہ تھی۔ وہ بہرحال تسلیم کرے گا کہ قرآن کو صرف قرآن منسوخ کر سکتا ہے۔ قرآن پر قرآن سے باہر کی کوئی چیز، جب تک وہ خود اِس کی اجازت نہ دے، کسی طرح اثرانداز نہیں ہو سکتی۔‘‘ (برہان ۵۱- ۵۲)
’’میزان‘‘ میں غامدی صاحب نے استدلال کو اس دوسرے نکتے تک محدود رکھا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ:
’’...قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم وتغیر نہیں کر سکتا۔ دین میں ہر چیز کے رد وقبول کا فیصلہ اِس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہوگا۔ ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اِس سے شروع ہوگی اور اِسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی، ہر الہام، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اِس کے تابع قرار دیا جائے گا۔‘‘ (میزان ۲۵)
(جاری)