جون ۲۰۲۰ء

مدارس کا موجودہ نظام اور علماء کا روزگارمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
الشریعہ اکادمی کا تین سالہ آن لائن کورسمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
کشمکشِ عقل و نقل: امام رازیؒ اور علامہ ابن تیمیہ ؒمولانا محمد بھٹی 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۷)محمد عمار خان ناصر 
جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۱)مولانا محمد اشفاق 
ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیممحمد عرفان ندیم 

مدارس کا موجودہ نظام اور علماء کا روزگار

محمد عمار خان ناصر

والد گرامی کی روایت ہے، گوجرانوالہ میں یوسف کمال نام کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب مقرر ہوئے جو کافی رعونت پسند اور طبقہ علماء  کے بہت خلاف تھے۔ ایک میٹنگ میں، جس میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سمیت شہر کی بڑی مذہبی شخصیات شریک تھیں، ڈی سی صاحب نے گفتگو شروع فرمائی کہ مجھے علماء کرام پر بہت ترس آتا ہے، میرا دل دکھتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا، ان کا روزگار لوگوں کی جیب سے وابستہ ہوتا ہے، وغیرہ۔ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب مضطرب ہوئے اور زیر لب کہنے لگے کہ یہ بہت زیادتی ہے۔ والد گرامی نے کہا کہ اگر آپ فرمائیں تو میں ڈی سی صاحب کو جواب دوں؟ صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ ہونا تو چاہیے۔ اپنی باری آنے پر والد گرامی نے کہا کہ میں ڈی سی صاحب کا بہت ممنون ہوں کہ انھوں نے علماء کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے، بس اتنی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ روزگار آپ کا بھی لوگوں کی جیب سے ہی وابستہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ کی تنخواہ ٹیکس کلکٹر ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی جیب سے وصول کرتا ہے، اور علماء کے پاس لوگ خود آ کر کہتے ہیں کہ حضرت، ہدیہ قبول فرمائیں اور ساتھ دعا کی درخواست بھی کرتے ہیں۔

تبصرے کا حاصل یہ ہے کہ  پوری ریاستی مشینری اور اس کے کروفر والے سارے عہدے دار (آرمی چیف، صدر اور چیف جسٹس سمیت) اسی جیب سے روزگار پاتے ہیں جہاں سے مولوی کو ملتا ہے اور یہ اس اصول پر  مبنی ہے کہ معاشرے کی اجتماعی ضروریات کا بندوبست معاشرے ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جیسے پوری ریاستی مشینری کے اخراجات ٹیکس کی صورت میں لوگوں کی جیب سے وصول کیے جاتے ہیں اور کوئی اسے ’’طفیلی پن” نہیں سمجھتا، اسی طرح دینی تعلیم اور دینی خدمات کا انتظام وانصرام بھی معاشرے کی مجموعی ضروریات میں سے ہے اور مذہبی علماء نے اگر عوامی تبرعات کی بنیاد پر اس کا ایک نظم بنایا ہوا ہے تو وہ بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ ریاست اپنے اخراجات، ریاستی طاقت کے بل پر وصول کرتی ہے اور ٹیکس دینے سے انکار کو بغاوت کے درجے کا قانونی جرم قرار دیتی ہے، جبکہ مساجد ومدارس کا نظام (اور اسی طرح رفاہ عامہ کے دیگر تمام شعبے) لوگوں کے مذہبی واخلاقی احساسات کو اپیل کر کے اور اللہ کے ہاں اجر اور ثواب کے تصورات کی بنیاد پر انھیں آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ان مختلف شعبوں میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

یہ تو ہوئی اصول کی بات۔ تاہم یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ اصول چاہے ایک ہی کام کر رہا ہو، معاشرے میں بن جانے والے تاثرات کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ ریاست جو وسائل طاقت سے وصول کرتی ہے، اس کا تاثر اور بنتا ہے، اور لوگ اپنی مرضی سے، اجر وثواب کی نیت سے اور ’’صدقہ وخیرات” کے عنوان سے جو رقم دیتے ہیں، اس کا تاثر کچھ اور بنتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں مدارس بنیادی طور پر اوقاف کے نظام کے تحت کام کرتے رہے ہیں جو ایک باوقار طریقہ تھا۔ استعماری دور میں اوقاف کے پورے نظام کو برباد کر دیے جانے کے بعد علماء نے بامر مجبوری عوامی چندے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ ضروری دینی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکے۔ ہمارے ہاں پایا جانے والا عوامی تاثر بنیادی طور پر اس تبدیلی سے پیدا ہوا ہے اور اس کی منفیت کو خود صاحب فہم علماء بھی محسوس کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ایک ارشاد ملاحظہ ہو جو مساجد ومدارس کے ذمہ داران کے لیے بہت ہی قابل توجہ ہے۔

مولانا فرماتے ہیں:

’’مدارس کے متعلق میری ایک رائے یہ ہے کہ دینی مدارس میں صنعت وحرفت کا بھی انتظام ہو، خواہ طلبہ بعد میں یہ کام نہ کریں، لیکن سکھایا ضرور جائے۔ اس لیے کہ آج کل عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان مولویوں کو اس کے سوا اور کچھ نہیں آتا، اس لیے وہ انھیں اپنا محتاج سمجھتے ہیں جس سے ان کی تحقیر ہوتی ہے۔ اگر کوئی دستکاری وغیرہ سیکھ لیں اور کسی وقت کسب معاش کی ضرورت ہو تو اپنے کام میں تو لگ جائیں گے اور اس طرح چندہ مانگنے سے بچ جائیں گے، اس لیے کہ چندہ مانگنے میں حد درجہ تحقیر ہے۔” (الافاضات الیومیہ، حصہ ششم، ص ۲۶۶)

اس تناظر میں الشریعہ کے نومبر ۲٠۱۸ء کے شمارے میں ’’دینی مدارس کا نظام :بنیادی مخمصہ” کے عنوان سے  جو تفصیلی معروضات پیش کی گئی تھیں، ان کے ایک حصے کا اعادہ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے:

’’دینی تعلیم میں مہارت اور اختصاص کے لیے صلاحیت اور استعداد نیز رجحان طبع کا ایک معیار مقرر کیا جائے اور انھی طلبہ کو اس میں آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے جو ایک “عالم دین” کے طور پر معاشرے میں کردار ادا کر سکیں۔ ان کے علاوہ مدارس سے رجوع کرنے والے عام طلبہ کے لیے مختلف سطحوں پر ان کی ضرورت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف دورانیے کے متبادل نصابات تشکیل دیے جائیں جنھیں مکمل کرنے کے بعد دو سال، تین سال یا چار سال میں وہ سسٹم سے باہر جا سکیں۔ ایسے حضرات کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے ہنر لازماً‌ سکھائے جائیں جو کل کو روزگار کے سلسلے میں ان کی مدد کریں، مثلاً‌ انگریزی زبان، ریاضی، کمپیوٹر آپریٹنگ، اداراتی انتظام وغیرہ۔ پنجاب حکومت کا ادارہ TEVTA اس حوالے سے یہ سہولت دے رہا ہے کہ مختلف تکنیکی ہنر سکھانے کے لیے دینی اداروں کے اندر سرکاری اخراجات سے سیٹ اپ قائم کیے جا سکتے ہیں اور مختلف اداروں میں یہ تجربہ کامیابی سے چل رہا ہے۔ اگر مدارس سے رجوع کرنے والے تمام طلبہ کو “علماء” بنا کر فارغ التحصیل کرنے کے ہدف میں ترمیم کر لی جائے اور عام طلبہ کے لیے بھی اپنے سسٹم میں گنجائش پیدا کر لی جائے تو طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد کے لیے ایک سال، دو سال یا تین سال کے دورانیے پر مبنی دینی تعلیم کے نصاب کے ساتھ مختلف تکنیکی ہنر شامل کر کے وسیع معاشرتی افادیت رکھنے والا ایک تعلیمی نظام آسانی سے قائم کیا جا سکتا ہے۔

یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ داعی کا معاشرے کی نظر میں محترم اور باوقار ہونا دعوت دین کے موثر ہونے کے لیے بہت اہم ہے اور ذریعہ معاش کا سوال اس مسئلے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جس معاشرے میں دین کو فکری غلبہ اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہو، وہاں معاشرہ اہل دین کی ضروریات کے بندوبست کو اپنا فریضہ اور ذریعہ سعادت تصور کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں حکمران اور ارباب ثروت ہمیشہ دراہم ودنانیر نیاز مندانہ اہل علم کی خدمت میں پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم جدید معاشرے میں دین اور اہل دین کی یہ حیثیت برقرار نہیں رہی اور لازم ہے کہ معاشرتی وقار کی بحالی کے لیے حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لائی جائے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وقت کے مروجہ معیارات کے مطابق ایسی صلاحیتیں اور اہلیتیں پیدا اور ایسے ہنر حاصل کیے جائیں جو باوقار روزگار کا ذریعہ تصور کیے جاتے ہوں۔ اہل دین معاشرے کو دینے والے ہوں اور جو کچھ وہ دیں، اس میں دوسری خدمات کے ساتھ ساتھ دعوت دین کی خدمت بھی شامل ہو۔

دینی تعلیم کا مروجہ نظام ایسی مہارتیں سکھاتا ہے جن کی، عموماً‌، معاشرے کی نگاہ میں کوئی خاص قدر نہیں۔ معاشرہ حصول ثواب کی غرض سے یا مذہب کے ساتھ ایک روایتی وابستگی کے زیر اثر اس کام کے لیے صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات وغیرہ تو دے دیتا ہے، لیکن اس عمومی تاثر اور احساس کے ساتھ کہ مذہبی طبقہ لوگوں کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔ کسی عالم کو قوت لا یموت سے زیادہ کچھ مل جائے تو معاشرے کو ہضم نہیں ہوتا، کیونکہ اس طبقے کا درجہ معاشرے نے یہی متعین کیا ہے۔ اس رویے پر معاشرے کو قصور وار ٹھہرانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ جواز۔ یہ فطری انسانی رویہ ہے۔ اہل دین اگر بحیثیت طبقہ اپنے لیے وقار اور احترام چاہتے ہیں، جو دعوت دین کے لیے بے حد ضروری ہے، تو انھیں خود اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔”

غیر مسلموں کے لیے استغفار یا دعائے رحمت

غیر مسلموں کے لیے پس از مرگ کس نوعیت کی دعائے خیر کی جا سکتی ہے اور کس نوعیت کی نہیں،  یہ سوال  موجودہ عالمی ماحول میں خاص طور پر  مخلوط معاشروں کے تناظر میں عموما زیر بحث آتا رہتا ہے۔  معروف عرب اسکالر الدکتور احمد الغامدی نے اس حوالے سے ایک  رائے پیش کی تھی جو بہت  معتدل اور متوازن معلوم ہوتی ہے۔

الدکتور الغامدی کہتے ہیں کہ قرآن وسنت کے نصوص کی روشنی میں کفار کے بارے میں یہ عمومی حکم بیان کرنا تو درست ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، لیکن متعین افراد کے بارے میں یہ بات کہنا اس بات کے یقینی علم کے بغیر درست نہیں کہ وہ جانتے بوجھتے کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے ہوں۔ غیر مسلموں کے لیے استغفار کا جواز یا عدم جواز بھی اس پر مبنی ہے، اور جن غیر مسلموں کی حالت یقینی طور پر معلوم نہ ہو، ان کے متعلق جہنم میں جانے کا متعین حکم لگانا اللہ کے حق میں جسارت اور حدود سے تجاوز ہے۔ یوں اگر ان کا دانستہ انکار کی حالت میں مرنا یقینی نہ ہو تو اصولا ان کے لیے استغفار کیا جا سکتا ہے، تاہم چونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ دانستہ کفر کی حالت میں مرے ہیں یا لاعلمی اور ناواقفیت کی وجہ سے، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے متعلق سکوت اختیار کیا جائے۔

الدکتور الغامدی دوسری اہم بات یہ کہتے ہیں کہ جن غیر مسلموں کا، دانستہ کفر پر مرنا یقینی ہو، ان کے لیے بھی استغفار کی ممانعت ہے، لیکن ترحم اور عمومی دعائے خیر کی ممانعت نہیں ہے۔ استغفار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے کفر کی معافی، نجات اور جنت میں داخلے کی دعا کی جائے۔ یہ درست نہیں، لیکن ان کے لیے رحمت کی دعا کرنا جائز ہے، کیونکہ کامل مغفرت سے ہٹ کر کفار کے بعض اچھے اعمال کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کیا جانا نصوص سے ثابت ہے اور ان معنوں  میں ان کے لیے رحمت کی دعا کی جا سکتی ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب کے لیے دعا فرمائی تھی۔

ہماری رائے میں غیر مسلموں کے لیے مغفرت یا رحمت کی دعا کی بحث میں درج ذیل چند پہلووں کو بڑی احتیاط اور توازن کے ساتھ ملحوظ رکھنے  کی ضرورت ہے:

سب سے پہلی اور بنیادی بات تو حق اور باطل کا فرق ہے جس کی اہمیت کو گھٹانا راسخ العقیدہ اسلامی فکر میں کسی حال میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ یہ سمجھنا کہ عقیدے میں حق اور باطل کا فرق کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور بس انسان کا ’’اچھے کردار” کا حامل ہونا اصل چیز ہے، اس لیے سب بھلے لوگ بلا تفریق مغفرت ورحمت کے حق دار ہیں، صحیح اسلامی عقیدہ نہیں ہے، بلکہ اس کو ڈھا دینے والا ہے۔ اسلام کی نظر میں ’’اچھے کردار” کا بنیادی معیار حق اور باطل کے فرق کو ماننا اور حق کو قبول کرنا ہے جس کا ایک تقاضا حق پر عمل کرنا بھی ہے۔ جو شخص حق اور قبولیت حق کی اہمیت کو نہیں مانتا، وہ اسلام کی نظر میں ’’اچھے کردار” کا حامل نہیں، چاہے بظاہر کئی اعمال خیر کر رہا ہو۔ اس لیے اس تصور کے تحت غیر مسلموں کے لیے دعائے مغفرت کرنا اتنا ہی باطل عمل ہے جتنا توحید اور شرک اور ایمان اور کفر کو ایک سمجھنے کا تصور باطل ہے۔

دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اور بخشش کا اپنے لیے اور دوسرے انسانوں کے لیے امیدوار ہونا ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ یہ اپنے بنی نوع کی ہمدردی کا مظہر ہے اور اسی ہمدردی کے تحت اہل ایمان، خلق خدا کی خیر خواہی میں دعوت حق کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اسی جذبے سے خدا کے گنہگار اور نافرمان بندوں کے لیے بخشش کی خواہش کا دل میں پیدا ہونا کوئی مذموم چیز نہیں، بلکہ محمود ہے۔ البتہ، اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے انسانوں کو یہ بتایا ہے کہ حق کے منکرین جب حق بالکل واضح ہو جانے کے بعد کھلم کھلا عناد پر بضد رہیں تو پھر اہل حق کی ایمانی غیرت کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ بدستور ان کے ساتھ ہمدردی اور تعلق خاطر رکھتے رہیں۔ ایسی صورت میں اللہ تعالی یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان سے براءت کا اظہار کر کے قطع تعلق کر لیں، جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی اللہ کے حضور میں پیش نہ کریں۔

قرآن وحدیث کے نصوص میں غیر مسلموں کے لیے  بد دعا   اور ان کے لیے آفات ومصائب کی خواہش  کرنے کی مثالیں بھی  بنیادی   طور پر انھی کفار سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کے خلاف برسرجنگ تھے یا اپنے علاقوں میں اہل ایمان کو تکلیفیں پہنچا رہے تھے، وگرنہ دنیوی آفات ومصائب میں  انسانی ہمدردی میں مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ کے جلیل القدر پیغمبر سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتیں جس قوم کو قحط کے اثرات سے بچانے کے لیے پیش کیں، وہ مصر کے مشرک اور دیوتا پرست تھے۔

تیسری اہم بات عام کافروں سے متعلق ہے جن پر نہ تو پیغمبر کے ذریعے سے اتمام حجت ہوا ہے اور نہ ان کے طرز عمل سے اس طرح کا عناد سامنے آتا ہے جو مذکورہ صورت میں بیان ہوا۔ ایسے کفار کے لیے انسانی ہمدردی کی بنا پر یا مختلف قسم کے دنیوی علائق کی وجہ سے یا مسلمانوں کے ساتھ ان کے اچھے برتاو کی وجہ سے دعا کی خواہش کا پیدا ہونا فطری ہے۔ اللہ کے دو پیغمبروں سیدنا ابراہیم اور سیدنا عیسی ٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن میں بھی بیان ہوا ہے اور حدیث میں بھی اس کا حوالہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنی امت کے کفر کے باوجود ان کی بخشش کی خواہش رکھتے تھے، البتہ ان دونوں پیغمبروں کے اسوے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خاص طور پر شرک کرنے والوں کے بارے میں انھوں نے براہ راست اور صریح دعائے مغفرت نہیں کی، بلکہ ایک طرح کی امید اور توقع ہی بارگاہ الہی میں پیش کرنے پر اکتفا کی۔ پس مبنی براعتدال اور متوازن بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ غیر معاند اہل کفر کے بارے میں یا تو سکوت اختیار کیا جائے اور یا امید اور توقع کا بالواسطہ اسلوب استعمال کیا جائے اور صریح دعائے مغفرت سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ ان کے ساتھ آخرت میں نرمی برتے جانے اور سزا میں تخفیف کی دعا بالکل درست ہوگی۔ یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے اور اس میں کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا۔

ہذا ما عندی واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

سورة سبا کے بعض مقامات کا ترجمہ

(۲٠۳)    یُخلِفُہُ کا ترجمہ

اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان  لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر (الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں ایک آیت میں آیا ہے، لیکن بہت سے مترجمین سے یہاں غلطی ہوئی اور انھوں نے بدل کے بجائے بدلے کا ترجمہ کردیا۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہوئی کہ اسی جملے میں انفاق کا ذکر آیا ہے جس سے انھوں نے راہ خدا میں خرچ کرنا سمجھ لیا۔ دراصل جیسا کہ سیاق سے صاف معلوم ہوتا ہے یہ آیت راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب کے لیے نہیں آئی ہے، بلکہ اس دنیا میں اللہ کی رازقیت بتانے کے لیے آئی ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رزق کا سلسلہ انسانوں کے لیے تاحیات جاری رہتا ہے۔ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اوراللہ تعالی اس کی جگہ اس کا بدل عطا کرتا ہے، اور یہ سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ اسی طریقے سے دنیا میں انسانوں کی زندگی گزر رہی ہے۔ فھو یخلفہ مستقبل کا کوئی وعدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی جاری سنت کا بیان ہے۔اس وضاحت کے بعد حسب ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

 قُل اِنَّ رَبِّی یَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن یَشَاء مِن عِبَادِہِ وَیَقدِرُ لَہُ وَمَا اَنفَقتُم مِن شَیئٍ فَھُوَ یُخلِفُہُ وَھُوَ خَیرُ الرَّازِقِینَ۔ (سبا: 39)

“اے نبی، ان سے کہو،میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے” ۔(سید مودودی، یہ زیر بحث جملے کا درست ترجمہ ہے، البتہ خیر الرازقین کا صحیح ترجمہ ہے: وہ بہترین رازق ہے، کیوں رازق اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، وہی تنہا رازق ہے اور بہترین رازق ہے۔ )

وَمَا اَنفَقتُم مِن شَیئٍ فَھُوَ یُخلِفُہُ کے درج ذیل ترجمے درست نہیں ہیں:

“اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کروگے تو وہ اس کا بدلہ دے گا”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا ”۔(احمد رضا خان)

“اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور جو کچھ تم (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ عطا کرتا ہے”۔ (محمد حسین نجفی)

(۲٠۴)    مَا بَینَ اَیدِیہِم وَمَا خَلفَہُم  کا ترجمہ:

 اَفَلَم یَرَوا اِلَی مَا بَینَ ایدِیہِم وَمَا خَلفَہُم مِنَ السَّمَاء وَالاَرضِ۔ (سبا: 9)

“کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟” (سید مودودی)

اس ترجمے میں ”گھیرے ہوئے” لفظ پر غیر ضروری اضافہ ہے اور درست نہیں ہے، اگر آسمان وزمین کے گھیرنے کی بات ہوتی تو اوپر اور نیچے آتا، یہاں تو صرف دیکھنے کی بات ہے، درج ذیل ترجمہ درست ہے:

“کیا انھوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان وزمین پر نظر نہیں ڈالی؟”۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲٠۵)    لَیَالِیَ وَاَیَّامًا کا ترجمہ

قرآن مجید میں کسی کام کو رات میں کرنے کے لیے لیل آتا ہے، جمع کے صیغے میں لَیَالِی بس وہیں آتا ہے جہاں تعداد بھی ذکر ہو، البتہ درج ذیل آیت میں جمع کے صیغے میں لَیَالِیَ وَاَیَّامًا آیا ہے، عام طور سے ترجموں میں اس خاص اسلوب کی رعایت نہیں نظر آتی ہے۔ اور رات دن کا ترجمہ کردیا جاتا ہے، درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

 وَجَعَلنَا بَینَہُم وَبَینَ القُرَی الَّتِی بَارَکنَا فِیہَا قُرًی ظَاھِرَةً وَقَدَّرنَا فِیہَا السَّیرَ سِیرُوا فِیہَا لَیَالِیَ وَایَّامًا آمِنِینَ۔ (سبا: 18)

“اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ”۔ (سید مودودی)

“اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بے خوف وخطر چلتے رہو”۔ (فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ لَیَالِیَ وَاَیَّامًا کا “کئی کئی رات اور دن” ترجمہ ہونا چاہیے۔ یعنی اللہ تعالی نے پرامن راستوں کا بہت لمبی مسافت کے لیے انتظام کیا تھا۔

(۲٠۶)    لفظ کے عمومی وسیع معنی کو محدود نہیں کیا جائے

درج ذیل آیت کے ترجمے ملاحظہ کریں:

وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَہُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَہُ حَتَّی اِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِہِم قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُم قَالُوا الحَقَّ وَہُوَ العَلِیُّ الکَبِیرُ ۔ (سبا: 23)

“شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہوجائے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے”۔ (محمد جوناگڑھی، اس ترجمہ میں الفاظ کے عموم کی پوری رعایت کی گئی ہے، اور ترجمے میں کسی اضافے سے مفہوم کو محدود نہیں کیا گیا)

“اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا اور وہی ہے بلند بڑائی والا”۔ (احمد رضا خان، اس ترجمے میں جب “اذن دے کر” کے اضافے سے اس جملے کے مفہوم کو محدود کردیا جو مناسب نہیں ہے، ویسے بھی آیت میں اذن دے دیے جانے کا تو تذکرہ نہیں ہے، اور اس اذن سے سب کی گھبراہٹ کیوں دور ہوگی؟)

“اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ (سفارش کرنے والوں سے) پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا، وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے”۔ (سید مودودی)

اس آخری ترجمے میں ایک توجہ طلب بات تویہ ہے کہ اذا والے جملے کا مستقبل سے ترجمہ کیا گیا ہے جب کہ جس جملے پر اذا داخل ہو اس کا ترجمہ مستقبل سے کرنا مناسب نہیں ہے، دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ “سفارش کرنے والوں سے” ترجمہ کا اضافہ ہے جو مفہوم کو محدود کرتا ہے اور درست نہیں ہے، عمومی بات ہے کہ وہ کہیں گے، تیسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ “کیاجواب دیا اور جواب ملا” لفظ قال کے عموم کو محدود کردیتا ہے، “کیا کہا اور ٹھیک کہا” ترجمہ کرنا مناسب ہے۔ یہ درست ہے کہ آیت کے شروع میں شفاعت کی نفی اور استثناءکا ذکر ہے، لیکن پوری آیت کو شفاعت ہی کے پس منظر میں رکھ کر سمجھنا اور ترجمہ کرنا درست نہیں ہے۔ عمومی بات ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ رب کا کیا فیصلہ آیا ہے اور گواہی بھی دیں گے کہ رب کا فیصلہ تو حق ہے۔

(۲٠۷)    راسیات کا ترجمہ

رسا یرسو کا مطلب ہوتا ہے جم جانا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: رسا الشیء یرسو: ثبت. وجبال راسِیات. ورَسَت اقدامہم فی الحرب، ای ثبتت. ورَسَتِ السفینة ترسوا رسوا، ای وقفت علی اللنجر۔ (الصحاح)

قرآن مجید میں پہاڑوں کی صفت رواسی کئی جگہ آئی ہے، اور پہاڑوں کو زمین میں جمانے کے لیے ارساھا کا لفظ بھی آیا ہے، اس لفظ کا اصل مطلب جم جانا ہے، البتہ کشتیوں کے لنگرانداز ہونے کے لیے بھی یہ استعمال ہوتا ہے، قرآن مجید میں ایک مقام پر دیگوں کی صفت کے طور پر یہ لفظ آیا ہے، بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ بھی لنگر انداز کردیا ہے:

وَقُدُورٍ رَاسِیَاتٍ۔ (سبا: 13)

“اور لنگر انداز دیگیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور لنگردار دیگیں”۔ (احمد رضا خان)

“اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں”۔ (سید مودودی)

“اپنی جگہ جمی رہنے والی دیگیں”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

“اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں”۔(فتح محمد جالندھری، ایک جگہ رکھی رہنا ایک دوسری بات ہے جو اس لفظ سے ظاہر نہیں ہوتی ہے)

(۲٠۸)    فزعوا کا ترجمہ

وَلَو تَرَی اِذ فَزِعُوا۔ (سبا: 51)

اس جملے کے ترجموں میں ایک غلطی یہ ہوئی ہے کہ لو کا ترجمہ کاش کیا ہے، ایک تو یہ لفظ اللہ تعالی کی شان کے مطابق نہیں ہے، دوسرے یہ کہ یہ تو مستقبل کی بات ہے اس لیے کاش کا یہ محل بھی نہیں ہے۔ دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ بعض لوگوں نے گھبرائے پھریں ترجمہ کیا ہے،’ پھریں ‘کا اضافہ غیر ضروری اور نادرست ہے۔ درج ذیل ترجمے دیکھیں:

“اور اگر تم دیکھ پاتے جب ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور کسی طرح تو دیکھے جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے”۔ (احمد رضا خان)

“اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور اگر آپ (وہ وقت) ملاحظہ کریں جب کہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“کاش تم دیکھو اِنہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے”۔ (سید مودودی)

ان میں پہلا ترجمہ مذکورہ بالا دونوں پہلووں سے درست ہے۔

(۲٠۹)    یَقذِفُونَ بِالغَیبِ مِن مَکَانٍ بَعِیدٍ کا ترجمہ:

وَقَد کَفَرُوا بِہِ مِن قَبلُ وَیَقذِفُونَ بِالغَیبِ مِن مَکَانٍ بَعِیدٍ۔ (سبا: 53)

“اِس سے پہلے یہ کفر کر چکے تھے اور بلا تحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے”۔ (سید مودودی)

“اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اس سے پہلے تو انہوں نے اس سے کفر کیا تھا، اور دور دراز سے بن دیکھے ہی پھینکتے رہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“حالانکہ اس سے پہلے تو وہ اس (ایمان) کا انکار کرتے رہے اور (بلاتحقیق) بہت دور سے اَٹکَل کے تُکے چلاتے رہے”۔(محمد حسین نجفی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ تجویز کرتے ہیں: “اور غیب کے بارے میں دور سے باتیں چھانٹتے تھے”۔

قدیم مفسرین نے اس آیت کا ایک مصداق یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ جو اللہ کے رسول پر شاعر کاہن اور ساحر ہونے کا الزام لگاتے تھے وہ یہاں مراد ہے، لیکن لفظ بالغیب سے اس قول کی تائید نہیں ہوتی بلکہ آخرت کے سلسلے میں جو وہ اٹکل بازی کرتے تھے وہ مراد ہے،اور یہ قول بھی قدیم مفسرین کے یہاں ملتا ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر الطبری)

(۲۱٠)    فھو لکم کا ترجمہ

قُل مَا سَالتُکُم مِن اَجرٍ فَہُوَ لَکُم اِن اَجرِیَ اِلَّا عَلَی اللَّہِ۔ (سبا: 47)

درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

“کہو میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو تمہارے ہی لیے مانگا ہے، میرا اجر تو بس اللہ پر ہے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“کہہ دیجیے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وہ تمہارے لیے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے”۔(محمد جوناگڑھی)

“کہہ دیجئے! میں نے (تبلیغِ رسالت(ص) کے سلسلہ میں) تم سے جو اجر مانگا ہے وہ تمہارے ہی (فائدہ کے) لیے ہے میری اجرت تو بس اللہ کے ذمہ ہے”۔ (محمد حسین نجفی)

ان ترجموں سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے واقعی ان لوگوں سے اجر کے نام پر کچھ مانگا تھا، حالانکہ اس آیت میں رسول سے جنھیں خطاب کرنے کو کہا ہے وہ تو مکہ کے منکرین اور مکذبین ہیں، ان سے کچھ مانگنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، چاہے وہ انہی کے فائدے کے لیے ہو، اس لیے مذکورہ بالا ترجمے درست نہیں ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ان منکرین ومکذبین کے جھوٹے الزام کی سخت تردید ہے، کہ میں نے تو تم سے کچھ مانگا ہی نہیں، اور اگر تم الزام لگاتے ہو کہ میں نے تم سے کچھ مانگا ہے تو اب علی الاعلان سن لو کہ جو تمہارے پاس ہے وہ اپنے پاس ہی رکھو، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا ہے۔ یہ اعلان ان کے الزام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے درست ہیں:

“اِن سے کہو، اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے”۔ (سید مودودی)

“کہو میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہو تو تم اسے اپنے ہی پاس رکھو ،میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے ”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲۱۱)    نکیر کا ترجمہ:

نکیر کا لفظ قرآن مجید میں بار بار آیا ہے، عربی میں نکیر اور انکار ہم معنی الفاظ ہیں، لیکن یہاں یاد رہنا چاہیے کہ عربی کے اس انکار اور اردو میں رائج انکار میں فرق ہے۔ عربی میں نکیر جس انکار کا ہم معنی ہے اس کا مطلب ہے کسی چیز کو ناپسندیدہ قرار دینا، علامہ طاہر بن عاشور ایک جگہ لکھتے ہیں: والنکیر: اسم للانکار وھو عد الشیء منکرا، ای مکروھا۔ (التحریر والتنویر)

دوسری جگہ مزید وضاحت کرتے ہیں: والنکیر: اسم لشدة الانکار، وھو ھنا کنایة عن شدة العقاب لان الانکار یستلزم الجزاء علی الفعل المنکر بالعقاب. (التحریر والتنویر)

گویا کسی چیز پر شدید اظہار ناپسندیدگی کو نکیر کہتے ہیں، جس کے نتیجے میں سخت گرفت بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی مختلف آیتوں کا ترجمہ کرتے ہوئے نکیر کا ترجمہ لوگوں نے سزا اور عذاب کیا ہے، یہ نکیر کا نتیجہ تو ہوسکتا ہے، لیکن لفظ کی حقیقی ترجمانی نہیں ہے، پھٹکار بھی اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن یہ بھی اس لفظ کا صحیح مفہوم پیش نہیں کرتا، اس کا ترجمہ انکار بھی کیا گیا ہے، لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا اردو کا انکار عربی کے انکار کا ہم معنی نہیں ہے، خاص طور سے نکیر کا مفہوم بتانے کے لیے، مولانا امانت اللہ اصلاحی نکیر کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں “اظہار ناگواری”۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل آیتوں کے ترجمے ملاحظہ کریں:

وَکَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم وَمَا بَلَغُوا مِعشَارَ مَا آتَینَاھُم فَکَذَّبُوا رُسُلِی فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (سبا: 45)

“اور ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا۔ اور یہ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تو انھوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی”۔ (سید مودودی)

“تو کیسا ہوا میرا انکار کرنا”۔ (احمد رضا خان)

“سو میرا عذاب کیسا ہوا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“ (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا”۔ (محمد جوناگڑھی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

فَاَملَیتُ لِلکَافِرِینَ ثُمَّ اَخَذتُہُم فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (الحج: 44)

“تو میں نے کافرو ں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب”۔ (احمد رضا خان)

“ ان سب منکرینِ حق کو میں نے پہلے مُہلت دی، پھر پکڑ لیا اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی”۔ (سید مودودی)

“تو میں نے ان کافروں کو ڈھیل دی، پھر ان کو دھرلیا تو دیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

 ثُمَّ اَخَذتُ الَّذِینَ کَفَرُوا فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (فاطر: 26)

“پھر میں نے کافروں کو پکڑا تو کیسا ہوا میرا انکار”۔ (احمد رضا خان)

“پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑا تو دیکھو کیسی ہوئی ان کے اوپر میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

وَلَقَد کَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (الملک: 18)

“اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی”۔ (سید مودودی)

“اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار”۔ (احمد رضا خان)

“اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲۱۲)    وما لکم من نکیر کا ترجمہ:

اوپر کی آیتوں میں تو نکیر کی اضافت اللہ کی طرف ہے، اور ان سب آیتوں میں نکیر کا ایک ہی مفہوم ہے، البتہ درج ذیل آیت میں قیامت کے دن انسانوں سے نکیر کی نفی کی گئی ہے، یہاں نکیر کا مفہوم طے کرنے میں لوگوں میں اختلاف ہوا، اوپر کی آیتوں میں جن لوگوں نے نکیر کا ترجمہ سزا یا عذاب کیا تھا وہ بھی یہاں کچھ اور ترجمہ تلاش کرنے پر مجبور ہوئے، لیکن عام طور سے یہ ترجمے اس لفظ کا اطمینان بخش مفہوم نہیں پیش کرتے، مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں بھی “اظہار ناگواری” ترجمہ کرتے ہیں، ترجمے ملاحظہ کریں:

 استَجِیبُوا لِرَبِّکُم مِن قَبلِ ان یَاتِیَ یَوم لَا مَرَدَّ لَہُ مِنَ اللَّہِ مَا لَکُم مِن مَلجَاٍ یَومَئِذٍ وَمَا لَکُم مِن نَکِیرٍ۔ (الشوری: 47)

“اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وہ دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا”۔ (سید مودودی)

“اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے”۔ (احمد رضا خان)

“اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور نہ تم کسی چیز کو رد کرسکو گے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور نہ تمہارے لیے اظہار ناگواری کا موقع ہوگا”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(جاری)

ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے تلامذہ اور معتقدین بلکہ ان کی علمی جدوجہد اور اثاثہ سے با خبر عامۃ المسلمین کو بھی غم و اندوہ کے ایسے اندھیرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علامہ صاحبؒ کی علالت کی خبریں چند دنوں سے آ رہی تھیں اور بستر سے اٹھتے ہوئے گر کر زخمی ہونے کی خبر نے پریشانی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ مگر موت نے اپنے وقت پر آنا تھا، وہ آئی اور علامہ صاحبؒ ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے نوازیں اور تمام متعلقین، پسماندگان اور سوگواروں کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

میرا ان کے ساتھ تعلق طالب علمی کے دور سے چلا آ رہا تھا جب وہ مختلف تعلیمی و دینی نشستوں کے لیے گوجرانوالہ بالخصوص جامعہ نصرۃ العلوم میں وقتاً فوقتاً تشریف لایا کرتے تھے اور ہمیں ان کے علمی نکات اور حاضر جوابی سے مستفید ہونے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا اور ابھی رمضان المبارک سے قبل امامیہ کالونی لاہور میں حضرت علامہ صاحبؒ کے قائم کردہ جامعہ ملیّہ کی سالانہ تقریب میں شرکت کے موقع پر ان کی مجلس اور گفتگو سے شادکام ہونے کا موقع ملا۔

علامہ صاحبؒ نے نفاذ شریعت اور تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ساتھ حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس اور عقائد اہل سنت کے تحفظ و دفاع میں بھرپور اور متحرک زندگی گزاری ہے اور عمر بھر ان دائروں میں مسلسل سرگرم عمل رہے ہیں۔ ۱۹۵۶ء کے دستور کے نفاذ کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دستور کے حوالے سے کچھ تحفظات تھے جن کے اظہار کے لیے مولانا مفتی محمودؒ، علامہ شمس الحق افغانیؒ، شیخ حسام الدینؒ اور علامہ خالد محمودؒ پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے ’’تنقیدات و ترامیم‘‘ کے عنوان سے رپورٹ مرتب کر کے شائع کی، وہ میری معلومات کے مطابق جماعتی زندگی کے حوالہ سے حضرت علامہ صاحبؒ کا پہلا تعارف تھا جو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

عقائد اہل سنت اور ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کے تحفظ و دفاع میں سردار احمد خان پتافیؒ، علامہ عبد الستار تونسویؒ، علامہ قائم الدین عباسیؒ، مولانا عبد الحئ جام پوریؒ، علامہ دوست محمد قریشیؒ، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ اور دیگر سرکردہ علماء کرام پر مشتمل جس گروہ نے ’’تنظیم اہل سنت‘‘ کے عنوان سے ملک کے طول و عرض بالخصوص جنوبی پنجاب میں صبر آزما جدوجہد کی وہ ہماری دینی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ حضرت علامہ خالد محمودؒ نہ صرف اس گروہ کے رکن رکین تھے بلکہ علمی ترجمان بھی تھے جن کی نکتہ رسی اور حاضر جوابی نے علمی مباحث کا میدان ایک عرصہ تک گرم رکھا اور بے شمار لوگوں کی علمی و فکری تسکین اور اعتقادی پختگی کا ذریعہ ثابت ہوئے۔ وہ تنظیم اہل سنت کے جریدہ ’’دعوت‘‘ کے مدیر تھے اور ان کے سوالات و جوابات کا سلسلہ اس علمی و فکری جدوجہد کا قیمتی اثاثہ ہے جن کا بہت سا حصہ ’’عبقات‘‘ کے نام سے مرتب ہو کر علماء و طلبہ کے استفادہ کا باعث ہے۔

قادیانیت کے محاذ پر وہ حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے ساتھ صف اول کے کامیاب مناظر شمار ہوتے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے مسلمہ اجماعی عقائد کے بارے میں قادیانی دجل و فریب کے تاروپود کو ہر دائرے میں اور ہر سطح پر بکھیر کر رکھ دیا۔ انہوں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کے ساتھ مل کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر جو محاذ قائم کیا وہ ان کا صدقہ جاریہ ہے اور مسلمانوں کے عقائد کے تحفظ کا ایک مضبوط مورچہ ہے۔ حجیت حدیث اور دفاع سنت نبویؐ کے محاذ پر بھی ان کی خدمات کا دائرہ اپنے اندر بے شمار وسعت و تنوع رکھتا ہے جو علماء و طلبہ کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔

علامہ صاحبؒ کو دیوبندی مسلک کا علمی ترجمان سمجھا جاتا تھا اور بہت سے مواقع پر اس بات کا میں عینی شاہد ہوں کہ کسی اہم مسئلہ پر دیوبندی موقف کی وضاحت کے لیے اہل علم کے حلقوں میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور ترجمان اہل سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے ساتھ حضرت علامہ خالد محمودؒ کا نام سامنے آتا تھا اور ان سے رجوع کیا جاتا تھا۔ جبکہ سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کے طلبہ پر مشتمل مشترکہ طالب علم تنظیم ’’جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان‘‘ کی تشکیل اور طلبہ کی ذہن سازی میں بھی ان کا اساسی کردار رہا ہے۔

علامہ صاحبؒ نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں لاہور کی ایک سیٹ پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا مگر اس کے بعد برطانیہ منتقل ہو گئے، البتہ سال کا کچھ حصہ پاکستان میں گزارنے کا معمول آخر تک رہا۔ مجھے ان کے ہاں جامعہ ملیہ لاہور اور مانچسٹر (برطانیہ) میں ان کی قائم کردہ اسلامک اکیڈمی میں بیسیوں مرتبہ حاضری کا موقع ملا اور ان کے ساتھ دینی محافل میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ علامہ صاحبؒ اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی رفاقت میں مجھے ۱۹۸۵ء میں پہلے حج بیت اللہ کا شرف بھی حاصل ہوا، جبکہ افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے بعد آزاد افغان حکومت کے سربراہ حضرت پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ کی دعوت پر سرکردہ علماء کرام کے جس وفد نے کابل کا دورہ کیا ہم اس میں بھی اکٹھے شریک تھے۔

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ آج ہم میں نہیں رہے مگر ان کے قائم کردہ جامعہ ملیہ لاہور اور اسلامک اکیڈمی مانچسٹر، ان کی درجنوں تصانیف اور سینکڑوں بیانات و خطابات، جو محفوظ حالت میں موجود ہیں، ان کا ایسا صدقہ جاریہ ہیں جن سے اہل علم ایک عرصہ تک مستفید ہوتے رہیں گے۔ اللہ تعالٰی انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور ان کے پسماندگان و متعلقین کو ان کی حسنات کا سلسلہ تا دیر جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مفتی صاحبؒ کی علالت کی خبریں کئی روز سے آرہی تھی، اور آخر عالم اسلام کی یہ عظیم علمی شخصیت، محدث، فقیہ، متکلم اور ہزاروں علماء کرام کے شفیق استاذ اپنا سفر زندگی مکمل کر کے دار باقی کی طرف روانہ ہوگئے۔

مولانا پالنپوریؒ کے تعارف کے لیے اس کے بعد مزید کسی بات کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے اور انہوں نے سالہاسال تک اس مرکز علم میں ہزاروں تشنگان علوم کو مسلسل فیضیاب کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا یہ منصب ہمیشہ اپنے دور کی ممتاز ترین علمی شخصیات کے ساتھ مخصوص رہا ہے جن میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ، خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ جیسے اساطین علم و فضل کے نام آتے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی فہرست میں نام کا شمار ہونا بجائے خود کسی بڑے سے بڑے علمی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ مگر حضرت مولانا سعید احمد پالنپوریؒ ہر صاحب علم و فضل کی طرح اپنے کچھ امتیازات اور خصوصیات بھی رکھتے تھے جن کے باعث وہ اپنے معاصرین میں ایک الگ شان کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتے تھے اور ان کی آرا و افکار کو اہل علم کے حلقوں میں رہنمائی اور استفادہ کے لیے مرجع کی حیثیت حاصل تھی۔

مجھے متعدد بار ان کی زیارت و ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے قیام کے بعد اپنے عہد کی جن ممتاز علمی و فکری شخصیات نے اس کے علمی پروگراموں کو رونق بخشی، ان میں حضرت پالنپوریؒ بھی شامل ہیں۔ لندن کے مرکز ختم نبوت اسٹاک ویل گرین میں ورلڈ اسلامک فورم کی ایک فکری نشست میں وہ تشریف لائے اور عصر حاضر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان سے انہوں نے بلیغ خطاب فرمایا۔ دور حاضر کے فکری و نظریاتی فتنوں پر ان کی نظر بہت گہری تھی اور وہ علمائے کرام اور دینی حلقوں کو اپنے مخصوص انداز میں ان سے باخبر کرتے رہتے تھے۔ یہ خطاب بھی ان کے اسی ذوق کا آئینہ دار تھا، پھر ایک بار نیویارک میں ’’شریعۃ بورڈ‘‘ کے مولانا مفتی نعمان احمد کے ہاں ان کی زیارت ہوئی اور کچھ دیر ان کی مجلس و گفتگو سے شادکام ہونے کا موقع ملا۔ ان دنوں والد گرامی حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوا تھا اس لیے زیادہ دیر انہیں کی باتیں ہوتی رہیں بلکہ گوجرانوالہ کے ایک لوکل اخبار نے حضرت والد محترم کے حوالے سے خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا تھا جس کی ایک کاپی حضرت پالنپوریؒ کی خدمت میں پیش کی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر انہوں نے تبصرہ فرمایا۔ اس کے علاوہ بعض ممتاز اہل علم کے کچھ علمی و فقہی تفردات بھی زیر بحث آئے جن کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ تفردات اور انفرادی آرا کو اگر باقاعدہ موقف بنا کر سامنے نہ لایا جائے تو بہت سی الجھنوں سے بچا جا سکتا ہے۔ خود میرا ذوق بھی ان معاملات میں یہی ہے اس لیے یہ گفتگو کافی دلچسپ رہی۔

میں نے ایک موقع پر کسی مجلس میں عرض کیا کہ ہم درس نظامی کے نصاب میں علم کلام کے موضوع پر بنیادی کتاب "شرح العقائد" پڑھاتے ہیں جو یونانی فلسفہ کے پیدا کردہ اعتقادی و کلامی مباحث کے حوالے سے ہے اور اہل سنت کے عقائد کے بنیادی ڈھانچے سے آگاہی کے لیے وہ ازحد ضروری ہے، مگر آج کے دور میں ہمیں جن عقائد و افکار کا سامنا ہے ان کا بیشتر حصہ مغربی فلسفہ و ثقافت کا پیدا کردہ ہے، اس لیے جدید مغربی فکر و فلسفہ نے جو مسائل کھڑے کیے ہیں ان کے بارے میں شرح العقائد کی دوسری جلد لکھنے کی ضرورت ہے جسے اس کے ساتھ ہی درسی طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔ بعض دوستوں نے اسی مجلس میں سوال کیا کہ یہ لکھے گا کون؟ میں نے عرض کیا کہ میری نظر میں اس وقت تین بزرگ ہیں جو اس کام کو صحیح اور بہتر طور پر کر سکتے ہیں (۱) حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم (۲) حضرت مولانا سعید احمد پالنپوریؒ اور (۳) حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ۔ ان میں سے دو تو ہم سے رخصت ہوگئے ہیں جبکہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے لیے بلامبالغہ جسم کا رواں رواں دعاگو رہتا ہے کہ اللہ تعالی انہیں امت مسلمہ کی رہنمائی کے لیے صحت و عافیت کے ساتھ تا دیر سلامت رکھیں آمین یا رب العالمین۔

حضرت مولانا سعید احمد پالنپوریؒ کا امت کے اصحاب علم پر ایک عظیم احسان یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی اردو و عربی دونوں زبانوں میں شرح لکھ کر علماء اور طلباء کی رسائی اس عظیم علمی ذخیرہ تک آسان کر دی ہے جو یقیناً ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔

اللہ تعالی ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور ان کے خاندان، تلامذہ اور مستفیدین کو ان کی حسنات سلسلہ تا دیر جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں آمین یا رب العالمین۔


الشریعہ اکادمی کا تین سالہ آن لائن کورس

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۹۹۰ء میں ہم نے گوجرانوالہ میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے نام سے دینی و عصری تعلیم کے نصابوں کی مشترکہ تعلیم کا پروگرام تشکیل دیا تو ہمارے دونوں بزرگوں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے، جو اس پروگرام کے عملی سرپرست اور شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے رکن تھے، کہا کہ اسے درس نظامی کے روایتی نظام اور دینی مدارس کے سسٹم میں کسی قسم کا دخل دیے بغیر الگ تجربے کے طور پر چلائیں، چنانچہ یہ سلسلہ مختلف نشیب و فراز سے گزر کر اب جامعۃ الرشید کراچی کے زیر اہتمام بہت بہتر طریقے سے ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہم خوش ہیں کہ ہم سے بہتر ہاتھوں میں ہماری توقعات سے بڑھ کر کام جاری ہے، فالحمد للہ علی ذالک۔

اب ہم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام دینی مضامین کی تعلیم کے آن لائن سسٹم کا آغاز کر رہے ہیں تو وہی حکمت عملی ہمارے پیش نظر ہے کہ دینی مدارس کے مروجہ نصاب و نظام میں کوئی دخل دیے بغیر بلکہ اسے حسب سابق مکمل سپورٹ کرتے ہوئے الگ تجربے کے طور پر اس کا نظم تشکیل دیں تاکہ وہ حضرات جو عصری تعلیم سے بہرہ ور ہیں اور دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنی مصروفیات اور دیگر اعذار کے باعث مدارس میں رہ کر وقت دینے کے متحمل نہیں ہیں، ان کے لیے ضروری دینی تعلیم کی کوئی قابل عمل صورت پیدا ہو جائے۔ اس لیے سب احباب سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلے میں تعاون فرماتے ہوئے دعاؤں میں یاد رکھیں اور کوئی مفید مشورہ یا تجویز ذہن میں ہو تو اس سے آگاہ فرما کر مشکور ہوں۔

کورس کی ترتیب حسب ذیل ہے۔

یہ تین سالہ کورس عربی زبان اور دینی علوم میں بنیادی استعداد حاصل کرنے کے خواہشمند خواتین و حضرات کے لیے مرتب کیا گیا ہے جو اپنی مصروفیات کی وجہ سے باقاعدہ کسی دینی ادارے میں داخلہ نہیں لے سکتے۔ کورس کی کامیاب تکمیل کے بعد ذی استعداد شرکاء اس سے اگلے مرحلے کے طور پر دینی علوم کے دو سالہ اعلی سطحی کورس میں شرکت کے اہل ہوں گے۔


مضامین اور نصابی کتب

دورانیہ اور ترتیب اوقات

ضروری ضوابط

کشمکشِ عقل و نقل: امام رازیؒ اور علامہ ابن تیمیہ ؒ

مولانا محمد بھٹی

متکلمینِ اہل سنت کی علمی یورش کے سامنے معتزلہ و فلاسفہ کے ہیبت ناک عقلی قلعے فرشِ راہ بن چکے تھے۔اعتزال و فلسفہ کی فلک بوس عمارت زمیں بوس کر دی گئی تھی۔اہل سنت کے دونوں ذی احتشام امام حجۃ الاسلام غزالیؒ اور فخرالدین رازیؒ وصالِ حق سے شرف یاب ہو چکے تھے۔ایسے میں اہلِ اسلام کے علمی افق پر ایک اور بڑا نام علامہ ابنِ تیمیہ الحرانیؒ نمودار ہوتا ہے۔علامہ صاحب کی رفعتِ علمی اور وسعتِ معلومات میں شاید ہی کسی کو کلام ہو۔آپ کی بسیار نویسی اور مانندِ آب رواں قلم ضرب المثل ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علامہ صاحب اپنے مخصوص معتقدات اور تفردات کے باعث تاریخ اسلام کی چند بڑی متنازعہ شخصیات میں سے ایک ہیں۔آپ نے اہل سنت کے کئی ایک اعتقادی مسلمات اور فقہی متفقات سے ہٹ کر جداگانہ روش اپنائی۔آپ ائمہ اہلسنت پر نہایت بے باکانہ انداز میں تنقید کرتے ہیں اور وفورِ نقد میں اکثر اوقات حدِ اعتدال پھاند جاتے ہیں۔آپ نے فلاسفہ و معتزلہ کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے لیکن جیسا کہ پیش ازیں عرض کیا کہ اُس سمے فلسفہ و اعتزال کی حیثیت تنِ نیم مردہ سے زیادہ نہ تھی لہذا ان پر کی جانے والی تنقید کی حیثیت بھی بیکار کی بیگار بھرنے جیسی ہی تھی۔

علامہ صاحب کی انتقادی سرگرمی کے موردِ اصلی متکلمینِ اہل سنت ہیں اور اس انتقادی پیکار کا منتہائی ہدف صفاتِ متشابہات بابت اپنے مخصوص مذہب کا دفاع ہے،باقی سب زیبِ داستان ہے۔عقل و نقل کی کشمکش ہو یا لغت و بلاغت کے مسائل ہوں،سب اسی غرض کی براری کے لیے خام مال کے طور پر کام میں لائے گئے ہیں۔آپ کی کتاب 'درء تعارضِ العقل و النقل' کا ہدفِ اصلی بھی صفات کے باب میں اپنے 'مائل بہ تجسیم' موقف کا دفاع اور متکلمینِ اہلسنت کی تردید تھا جس کی حیثیت محض ایک خام آرزو کی ہی رہی۔علامہ صاحب کے احترامات فراواں کے باوجود یہ کہنا ناگزیر ہے کہ مذکورہ بالا کتاب میں بھی آپ نے جذبات کی رَو میں بہہ کر دامنِ انصاف کو ہاتھ سے جانے دیا ہے۔فرطِ جذبات و جوشِ انتقاد کی اثر آفرینی ملاحظہ ہو کہ متکلمین اہل سنت جوینی،رازی اور باقلانی رحمہم اللہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فالنصاری اقرب الی تعظیم الانبیاء والرسل من ھؤلاء" (درء تعارض العقل و النقل 1/7)

"سو انبیاء و رسل کی تعظیم میں تو نصاری ان(متکلمین) سے کہیں بڑھ کر ہیں"

کوئی علامہ ابن تیمیہ کا کتنا ہی عاشقِ زار کیوں نہ ہو،اگر وہ متکلمینِ اسلام کی گراں مایہ کاوشاتِ علمی اور بیش بہا خدماتِ دینی سے ہلکا سا بھی مس رکھتا ہے تو یہ کہنے پر خود کو مجبور پائے گا کہ علامہ صاحب کے کلمات نہایت جسارت آمیز ہیں۔

آمدم برسر مطلب!علامہ صاحب آغازِ کتاب میں قرآنی آیات و نبوی احادیث کے 'قابلِ استدلال و ناقابلِ استدلال ہونے بابت' ایک 'قانونِ کلی' بیان فرماتے ہیں اور اسے متکلمین بالخصوص امام رازی  کی طرف منسوب کر کے بھرپور انداز میں 'زورِ تردید' صرف کرتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کیا واقعی امام رازی  نے 'ایسا' کوئی 'قانونِ کلی' بنایا ہے جس کی رو سے وہ آیات و احادیث کو 'ناقابلِ استدلال قرار دیتے ہوں' یا پھر یہ اتہام بھی علامہ صاحب  کے جوشِ تردید و تنقید ہی کا شاخسانہ ہے؟اس سوال کی جواب براری موقفِ رازی  اور انتقادِ ابن تیمیہ  کی تفصیلی تحلیل کی مقتضی ہے۔

امام رازی رحمہ اللہ کا موقف

علامہ ابن تیمیہ کے جارحانہ نقد کی درست نوعیت جاننے اور موقفِ رازیؒ کے راست ادراک کے لیے ضروری ہے کہ امام صاحب کی کتاب "اساس التقدیس" کا مختصر تعارف نذرِ قارئین کر دیا جائے۔یہی وہ کتاب ہے جس کی ایک فصل کو لے کر علامہ صاحب نے امام رازی اور متکلمین پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ نے یہ کتاب فرقہ مجسمہ و مشبہہ کے رد میں تصنیف فرمائی ہے۔اس کتاب میں امام صاحب نے نہ صرف مجسمہ و مشبہہ کے فاسد دلائل کا بسط و تفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا ہے، بلکہ گراں مایہ تفسیری و کلامی اصول بھی ارزاں فرمائے ہیں۔کتاب چار حصوں/ابواب میں منقسم ہے اور ہر حصہ متعدد فصول پر مشتمل ہے۔علامہ ابن تیمیہ کے 'مائل بہ تجسیم' ہونے کے باعث یوں تو پوری کتاب ہی آپ کے زیرِ عتاب رہی ہے اور ذوقِ تردید کی تسکین کے لیے آپ نے الگ سے بھی اس کتاب کا ایک 'رد' لکھ رکھا ہے تاہم 'درء تعارض العقل و النقل' میں آپ نے 'اساس التقدیس' کے حصہ/باب دوم کی بتیسویں فصل پر خصوصی مشقِ تنقید فرمائی ہے۔

گزارش ہے کہ کلام کی راست معنویت تک رسائی کے لیے سیاقِ کلام،روئے کلام،تناظرِ کلام اور اس علمی چوکھٹے سے آشنائی ناگزیر ہے جس سے صاحبِ کلام نسبتِ فکری رکھتا ہو۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امام رازی کی مذکورہ بالا کتاب کے بابِ دوم کا اجمالی تعارف قارئین کے روبرو پیش کر دیا جائے۔

بابِ اول میں امام صاحب نے قرآنِ پاک کی محکم آیات سے اہلِ سنت کے موقف کا اثبات کیا ہے،جبکہ دوسرے باب میں آپ متشابہات کو زیرِ بحث لائے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس باب کا عنوان "فی تاویل المتشابہات من الاخبار و الآیات" یعنی 'متشابہ اخبار و آیات کی تاویل کے بیان میں' رکھا گیا۔جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے،اس باب میں امام رازیؒ نے محکمات یا بالفاظِ دگر قطعی الدلالۃ آیات سے صرف نظر کرتے ہوئے محض متشابہات یا ظنی منقولات سے تعرض فرمایا ہے(خواہ وہ ظن ثبوت میں ہو یا دلالت میں)اور انہی کے احکام بیان فرمائے ہیں۔اس باب میں آپ نے متشابہات کی تاویل کے اصول و قواعد اور امثلہ تحریر فرمائی ہیں۔امام صاحب نے بتیسویں فصل کا عنوان پیرایہ سوال میں "البراھین العقلیۃ اذا صارت معارضۃ بالظواھر النقلیۃ فکیف یکون الحال فیھا" رکھا ہے۔(یعنی جب قطعی عقلی دلائل اور منقول کے ظاہری معنی میں تعارض واقع ہو جائے تو رفعِ تعارض کی صورت کیا ہوگی)۔ذیل میں آپ ارقام فرماتے ہیں:

"اعلم ان الدلائل العقليۃ القطعيۃ اذا قامت علی ثبوت شيء, ثم وجدنا ادلۃ نقليۃ يشعر ظاہرہا بخلاف ذلك،فہناك لا يخلو الحال من احد امور اربعۃ : اما ان يصدق مقتضي العقل والنقل، فيلزم تصديق النقيضين وہو محال،واما ان يبطل فيلزم تكذيب النقيضين وہو محال, واما ان يصدق الظاہر النقليۃ ويكذب الظواہر العقليۃ، وہو باطل،لأنہ لا يمكننا ان نعرف صحۃ الظواہر النقليۃ الا اذا عرفنا بالدلائل العقليۃ اثبات الصانع وصفاتہ، وكيفيۃ دلالۃ المعجزۃ علی صدق الرسول صلی اللہ عليہ وسلم،ولو جوزنا القدح فی الدلائل العقليۃ القطعيۃ صار العقل متہما غير مقبول القول،ولو كان كذلك لخرج ان يكون مقبول القول فی ہذہ الاصول ،واذا لم تثبت ہذہ الاصول خرجت الدلائل النقليۃ عن كونہا مفيدۃ، فثبت ان القدح فی العقل لتصحيح النقل يفضی الی القدح فی العقل والنقل معا،وأنہ باطل، ولما بطلت الاقسام الاربعۃ، لم يبق الا ان يقطع بمقتضی الدلائل العقليۃ القاطعۃ بان ہذہ الدلائل النقليۃ، اما ان يقال اہا غير صحيحۃ، او يقال انہا صحيحۃ الا ان المراد منہا غير ظواہرہا ثم ان جوزنا التاویل اشتغلنا علی سبیل التبرع بذکر تلك التاويلات علی التفصيل وان لم تجوز التاويل فوضنا العلم بہا الی اللہ فہذا ہو القانون الكلی المرجوع اليہ فی جميع المتشابہات"

 ترجمہ:"جان لیجئے کہ جب دلائل عقلیہ قطعیہ کے ذریعے کوئی بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے اور ادلہ نقلیہ کا 'ظاہری معنی' اس کے برعکس معلوم ہوتا ہو تو اس وقت عملا کل چار صورتیں بنتی ہیں:

اول: یہ کہ عقل اور (ظاہرِ) نقل ہر دو کے اقتضاء کو درست قرار دیا جائے۔تو (یہ درست نہیں کیونکہ دریں صورت) اجتماع نقیضین لازم آئے گا جو کہ محال ہے۔

دوم: یہ کہ عقل اور (ظاہرِ) نقل ہر دو کے اقتضاء کو غلط ٹھہرا دیا جائے تو(یہ بھی درست نہیں کیونکہ دریں صورت) ارتفاعِ نقیضین لازم آئے گا اور یہ بھی محال ہے۔

سوم:یہ کہ نقل کے ظاہری معنی کی تصدیق کی جائے اور دلائل عقلیہ قطعیہ کی تکذیب کر دی جائے تو یہ سراسر غلط ہے کیونکہ ظواہرِ نقلیہ کی درستی کی پہچان ہمیں جبھی تو ہوتی ہے جب ہم وجود و صفاتِ صانع اور صداقتِ رسول پر معجزہ کی دلالت کو دلائل عقلیہ کے ذریعے پہچان لیتے ہیں۔

چہارم: (یہ کہ ہم دلائل عقلیہ قطعیہ کو مطعون کریں) تو اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو عقل مشکوک اور ناقابلِ اعتبار ہو جائے گی اور یوں ان اصولِ (دین) کے اثبات میں بھی یہ ناقابلِ اعتبار ٹھہرے گی۔تو جب اصولِ دین ہی پایہ ثبوت کو نہ پہنچیں گے تو دلائل نقلیہ بھی فائدہ رساں نہ رہیں گے۔بنا بریں ثابت ہوا کہ (ظاہرِ) نقل کی درستی کے لیے عقل(قطعی) کو مطعون کرنا نقل و عقل دونوں کو مشکوک ٹھہرا دیتا ہے اور یہ سراسر غلط ہے۔

جب یہ چاروں صورتیں باطل ٹھہریں تو ایک ہی صورت باقی بچتی ہے اور وہ یہ کہ دلائل عقلیہ قطعیہ کے مقتضا کو حتمی قرار دیا جائے۔(دریں صورت دو ہی احوال ممکن ہیں) یا تو(ظاہر معنی پر بے جا اصرار کیا جائے اور) یہ کہہ دیا جائے کہ منقول صحیح نہیں ہے۔یا پھر یہ کہا جائے کہ یہ منقولات تو صحیح ہیں لیکن ان سے یہ (بادی النظر میں دکھائی دینے والا) ظاہری معنی مراد نہیں ہے۔پھر اگر ہم تاویل کو روا رکھیں کو ازراہ تبرع اس تاویل کو تفصیلا ذکر کریں گے اور اگر تاویل کو سندِ جواز نہیں بخشی جاتی تو پھر ہم ان آیات کے حققیقی معنی کو اللہ کی طرف تفویض کریں گے۔تمام تر 'متشابہات' کے باب میں یہی قانونِ کلی ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے گا"۔ (اساس التقدیس 220،221)

مذکورہ بالا اقتباس،اقتباس کے سیاق،سیاق سے پیدا شدہ تناظر اور عنوانِ باب سے امام صاحب کا موقف نکھر کر سامنے آ جاتا ہے اور یہ بات واشگاف ہو جاتی ہے کہ امام صاحب کا کلام منقولات قطعیہ بابت نہیں ہے بلکہ آپ کی مراد ذومعنی متشابہات ہیں۔امام صاحب نے صراحت کے ساتھ ازخود بیان کیا ہے کہ یہ 'قانونِ کلی' قطعیات یا محکمات بابت نہیں ہے بلکہ متشابہات کے بارے ہے۔اس قانون کی رو سے اگر متشابہ یا منقولِ ظنی کی بادی النظر میں دکھائی دینے والی مراد اور دلیل عقلی قطعی میں کشا کشی کی نوبت آ جائے تو منقول ظنی میں تاویل کی جائے گی یعنی اس منقول کے دیگر احتمالی معانی(مجازی یا محاوراتی) میں سے کسی معنی پر اسے محمول کر دیا جائے گا یا پھر اس آیت یا خبر کے درست معنی کا علم اللہ تعالی کی طرف تفویض کر دیا جائے گا۔یہاں یہ عرض کر دینا مناسب ہو گا کہ متکلمینِ اہل سنت تاویل صرف بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت کرتے ہیں کہ جب فلاسفہ سے پالا پڑے اور ان کے اعتراضات کے جواب کی نوبت آئے وگرنہ متشابہات بارے اہل سنت کا اصل موقف تفویض ہے۔

گزارش ہے کہ متشابہات کا ظنی ہونا اہلِ علم کے ہاں قطعی ہے اور مبحثِ اصول میں پیش پا افتادہ ہے نیز متشابہ سے مراد ایسا کلام ہے کہ جس کا قطعیت کے ساتھ کوئی معنی متعین کرنا دشوار ہو۔گویا امام صاحب رفعِ تعارض کے لیے اسی متشابہ آیت یا حدیث کے کئی ایک احتمالی معانی میں سے ایک معنی کو درجہ احتمال میں ہی تجویز فرما رہے ہیں۔مزید براں یہ بات قابلِ غور ہے کہ امام صاحب نے عقل و نقل کو موردِ تعارض نہیں بنایا بلکہ تعارض کو عقل اور نقل کے ظاہری معنی کے مابین موڑ دیا ہے۔گویا امام صاحب نے کمالِ فراست کے ساتھ تعارضِ عقل و نقل کا سوال ہی فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے۔آپ نے فلاسفہ کی تمام تر چاندماریوں کی(کہ جو قرآن حکیم کو خلافِ عقل باور کرواتی تھیں) گویا یہ کہہ کر بیخ کنی کر دی ہے کہ جسے تم عقل و نقل میں تعارض قرار دے رہے ہو وہ تو عقل اور نقل کے محض ایک احتمالی اور ظاہری معنی کے درمیان تعارض ہے۔بلاشبہ ایسی ژرف نگاہی فخر الدین رازی کے ہی شایان شان ہے اور یقینا اس پر آپ بے پناہ داد کے مستحق ہیں۔گزارش ہے کہ یہ مقام ان لوگوں کے لیے خصوصا لائقِ اعتناء ہے جو کلامِ امام کے سوءِ فہم کے باعث امام صاحب پر یہ الزام دھرتے ہیں کہ آپ نے تعارضِ عقل و نقل کا قول اختیار کر کے نقل پر عقل کو ترجیح دی ہے۔

امام رازی رحمہ اللہ کے کلام کو بنظرِ غائر دیکھا جائے تو عقل قطعی و ظاہرِ نقل کی باہمی آویزش کی صورت میں عملا ہمارے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔اول یہ کہ ہم نقلِ متشابہ کے ظاہری اور احتمالی معنی کو اس کا لازمی معنی قرار دے کر اس تعارض کو عقل و نقل کا تعارض بنا لیں اور معاندین کو یہ کہنے کا موقع فراہم کر دیں کہ 'شرع خلافِ عقل ہے'۔دوم یہ کہ ہم اس تعارض کو عقل قطعی اور نقل کے احتمالی معنی کے مابین کشاکشی کا ہی عنوان دیں اور نقل متشابہ بابت تاویل یا تفویض کا طور اپناتے ہوئے تعارض کے بیشہ خارزار سے نقل کو صحیح و سلامت نکال لے جائیں۔امام فخرالدین رازی نے یہی ڈگر اپنائی اور معاندین کی تمام پھبتیوں کا گلا گھونٹ دیا۔

آویزشِ عقل و نقل اور کلامی نظامِ فکر

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ کلامِ مصنف کی راست معنویت کے تعین میں اس علمی چوکٹھے اور فکری نظام کا کردار طاقِ نسیاں کی زینت نہیں بنایا جا سکتا جس سے مصنف نسبتِ فکری رکھتا ہو۔بنا بریں کلامِ رازی کی صائب تفہیم کے لیے بھی اشعری اور کلامی اقلیمِ فکر کا سفر ناگزیر ہے۔گزارش ہے کہ متکلمین کے ہاں یہ اصول مسلم ہے کہ منقول قطعی اور معقول قطعی کے مابین آویزش محال ہے۔چنانچہ کلام کی امہات کتب کے مطالعہ سے یہ مسئلہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے۔امام غزالیؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب 'الاقتصاد فی الاعتقاد' میں رقم طراز ہیں:

"لایتصور ان یشتمل السمع علی قاطع مخالف للمعقول"

"یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ شرع کسی ایسی  قطعی دلیل پر مشتمل ہو جو عقل (قطعی) کے مخالف ہو۔"  (ص 367)

منقولِ قطعی بابت متذکرہ بالا کلام نہایت بے لاگ ہے۔رہی بات متشابہ یا ظنی کی تو اس کے اور عقل قطعی کے مابین واقع ہونے والے اختلاف کی نوعیت کیا ہوگی؟اس کا جواب ہمیں امام غزالی ؒ کے رسالہ 'قانون التاویل' کی اس جامع عبارت سے مہیا ہوتا ہے:

"بین المعقول و المنقول تصادم فی اول النظر او ظاھر الفکر" (قانون التاویل 15)

یعنی امام صاحب کے نزدیک معقول و منقول کے مابین کشاکشی سرسری نگاہ اور بادی النظر کا شاخسانہ ہے۔ان عبارات سے متکلمین کا یہ موقف واشگاف ہو جاتا ہے کہ نقل صحیح و عقل قطعی کے مابین حقیقی تعارض ممکن نہیں اور جو نقل ظنی کا عقل قطعی سے تعارض کا شبہ واقع ہوتا ہے اس کا منشاء سرسری و سطحی نگاہ ہے اور وہ محض ظاہری تصادم ہے۔چنانچہ امام غزالی 'الاقتصاد' کے خطبہ میں مذہبِ متکلمین بیان فرماتے ہوئے نہایت دو ٹوک پیرائے میں ارقام فرماتے ہیں:

"لا معاندۃ بین الشرع المنقول والحق المعقول"

"شرع منقول اور قطعی معقول میں کوئی تصادم نہیں ہے"

پھر اس موقف کو مزید نکھارتے ہوئے فلاسفہ و معتزلہ کی کج روی کی مذمت کچھ یوں فرماتے ہیں:

"ان من تغلغل من الفلاسفۃ و غلاۃ المعتزلۃ فی تصرف العقل  حتی صادمو بہ قواطع الشرع،ما اتوا الا من خبث الضمائر"

فلاسفہ و غالی معتزلہ نے تصرفاتِ عقل میں غوطہ زنی کی اور محض اپنے  خبث باطن کی وجہ سے قواطعِ شرع سے جا بھِڑے"

عرض ہے کہ گزشتہ سطور میں محولہ رسالہ 'قانون التاویل' اپنے موضوع پر ایک شاندار رسالہ ہے جس میں امام غزالیؒ نے تصادمِ عقل و نقل بابت کلامی موقف کے رخ و رخسار کی دلکشی اہل علم کے رو بہ رو کی ہے اور تاویلِ نقل سے متعلق کئی گہر ہائے یک دانہ بساطِ بحث پر بکھیر دیے ہیں۔اسی رسالہ میں آپ جادہ اعتدال پر گامزن گروہ(متکلمین) کا موقف بیان کرتے ہوئے ان کی ایک صفت یہ بیان فرماتے ہیں:

"المنکرۃ لتعارض العقل والشرع" (ص 19)

"جو عقل و شرع میں تعارض کے منکر ہیں"

طرفہ یہ ہے کہ علامہ ابن تیمیہؒ نے اسی 'گروہ' پر تنقید کی بنا اس مقدمہ پر کی ہے کہ یہ عقل و نقل کے مابین تعارض کا اثبات کرتے ہیں(نقدِ ابن تیمیہ پر مفصل کلام آئندہ سطور میں آئے گا۔ان شاءاللہ)۔

امام رازی کا تصورِ محکم و متشابہ

پیش ازیں محکم و متشابہ کی قرآنی تقسیم بابت اہل سنت کا تصور اجمالا ذکر کیا جا چکا ہے مگر احباب ہنوز اسے تشنہ وضاحت قرار دے رہے ہیں۔بعض کرم فرما ناقدین نے امام صاحب کے کلام کو اس کے درست سیاق و تناظر سے کاٹ کر امام صاحب کے تصورِ محکم و متشابہ کو محلِ شبہات بنانے کی کوشش کی ہے۔لہذا ناقدین کے التباس کو زائل کرنے اور احباب کے رَم کو کم کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امام رازی کے ہی کلام سے تصور محکم و متشابہ کی وضاحت نذرِ احباب کر دی جائے۔امام رازی کے نظام فکر میں محکم و متشابہ کوئی الل ٹپ اصطلاحات نہیں ہیں نہ ہی یہ کوئی خالی ظروف ہیں کہ جن میں جس کا جو جی چاہے بھرتا چلا جائے۔آپ نے 'اساس التقدیس' ہی میں محکم و متشابہ  کی وجہِ حصر بیان کی ہے۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ لفظ کے اولا دو احوال ہیں۔جس معنی کے لیے اسے وضع کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اس میں کسی دوسرے معنی کا احتمال پایا جائے گا یا نہیں پایا جائے گا۔اگر وہ لفظ معنی دگر کا محتمل نہیں ہے تو وہ نص ہے اور اگر معنی دگر کا محتمل ہے تو یا تو تمام معانی دوش بہ دوش محتمل ہوں گے یا پھر کوئی ایک معنی راجح ہو گا۔اگر کوئی ایک معنی راجح ہے تو راجح کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے ظاہر کہا جائے گا اور مرجوح کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے موول کہا جائے گا۔اگر تمام معانی برابر محتمل ہیں تو دریں صورت ان سب کی نسبت سے اسے مشترک قرار دیا جائے گا اور ہر ایک کی طرف جداگانہ نسبت کو پیش نگاہ رکھتے ہوئے مجمل کہا جائے گا۔وجہ حصر بیان کرنے کے بعد امام صاحب نے وضاحت فرمائی ہے کہ نص(جس میں دوسرے معنی کا چنداں احتمال نہیں) اور ظاہر(جس میں ایک معنی راجح ہے) کو محکم کہا جاتا ہے اور مجمل اور موول کو متشابہ کہا جاتا ہے۔ (اساس التقدیس 231،232)

امام صاحب کی بیان کردہ محکم و متشابہ کی یہ تعریف ظنی الدلالہ و قطعی الدلالہ کی اس تعریف کے مماثل ہے جو فقہاء اور اصولیین کے ہاں مسلم ہے کہ جس کلام میں کسی دلیل سے معنی دگر کا احتمال پھوٹے اسے ظنی کہتے ہیں اور اس کے برعکس کو قطعی کہتے ہیں۔لہذا یہ محض دروغ بے فروغ ہے کہ امام صاحب قطعیات کو بھی متشابہ میں شامل سمجھتے ہیں۔

ایک اشکال کا دفعیہ

بعض ناقدین امام صاحب کے اس موقف کو بغرض اشکال پیش فرما رہے ہیں کہ امام صاحب نقل کی قطعیت کے لیے اس کے مدمقابل کسی قطعی عقلی معارض کا نہ ہونا ضروری قرار دیتے ہیں۔گزارش ہے کہ امام صاحب کے اس موقف کو بھی ان کے قائم کردہ مجموعی تناظر اور کلامی  کینوس سے جدا کر کے حیطہ فہم میں نہیں لایا جا سکتا۔نیز اس کلام کی صائب تفہیم کے لیے امام صاحب کے 'روئے سخن' سے چشم پوشی بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ کلام کی راست تفہیم 'روئے کلام' کی تشخیص کا تقاضہ کرتی ہے جیسا کہ پیش ازیں معروض ہوا۔اصولی و تمہیدی نکات کے بعد عرض ہے کہ امام صاحب کا یہ موقف دراصل معتزلہ و مجسمہ کے رو بہ رو 'پیرایہِ جدال' میں اسی مسلمہ اصول کا اظہار ہے کہ عقل قطعی اور نقل قطعی میں تعارض ممکن نہیں۔امام صاحب نے زیر بحث باب کا عنوان کچھ یوں باندھا ہے:"الطریق الذی یعرف بہ کون الآیۃ محکمۃ اور متشابہۃ" یعنی "وہ طریقہ جس سے آیت کا محکم و متشابہ ہونا پہچانا جائے"۔پھر امام صاحب ازخود وضاحت فرماتے ہیں کہ اس باب اور اس طریقہ کے بیان کی نوبت کیوں آئی؟آپ فرماتے ہیں:

"لان کل واحد من اصحاب المذاہب یدعی ان الآیات الموافقۃ لمذھبہ محکم والآیات الموافقۃ لمذھب الخصم متشابہ فالمعتزلی یقول ۔۔۔ الخ" (اساس التقدیس 234)

"کیونکہ مختلف فرق و مسالک میں سے ہر ایک یہ دعوی کرتا ہے کہ جو آیات اس کے  مذہب کے موافق ہیں وہ محکم ہیں اور جو خصم کے مذہب کے موافق ہیں وہ متشابہ ہیں سو  معتزلی یہ کہتے ہیں کہ فمن شاء فلیومن و من شاء فلیکفر محکم ہے جب کہ اہل سنت  کہتے ہیں کہ وما تشاءون الا ان یشاء اللہ محکم ہے۔"

اس باب کے قائم کرنے یا اس طور کے بیان کرنے کی یہ وہ توجیہ ہے جو امام صاحب نے بہ قلم خود بیان فرمائی ہے۔اس توجیہ و توضیح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امام صاحب کا مقصود معتزلہ سے مجادلہ ہے۔آپ کے کلام کا مرام مجالِ جدال ہی میں اہل سنت اور فرق باطلہ کے مستدلات کے مابین ایک 'فارق' قائم کرنا ہے۔بنا بریں آپ نے 'بغرض جدال' اسی مسلمہ اصول( قطعیات میں تعارض ممکن نہیں) کو محکم و متشابہ کے مابین وجہِ امتیاز اور ان کی پہچان کا طریقہ بنا دیا۔آپ نے معتزلہ و مجسمہ وغیرہ پر گویا یہ کہہ کر تاخت کی ہے کہ تمہارے مستدلات اگر محکم ہیں تو پھر عقل قطعی کے مخالف کیوں ہیں؟غور کیا جائے تو یہ اسی مسلمہ اصول کے اظہار کی ایک مختلف تعبیر ہے۔بہ الفاظ دگر آپ کے سامنے سوال یہ تھا کہ معتزلہ،مجسمہ اور دیگر فرق باطلہ بھی تو اپنے اپنے مواقف پر ظواہرِ آیات سے استدلال کر کے انہیں محکم قرار دیتے ہیں لہذا ان کی تردید کیونکر کی جائے گی؟محکم و متشابہ کے مابین مابہ الامتیاز کیا ہو گا؟امام صاحب نے اسی سوال سے تعرض کرتے ہوئے یہ 'جدالی اصول' بیان کر دیا کہ فرقِ باطلہ کے مستدلات کی ظنیت طشت از بام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اس مستدل کے معارض کوئی قاطع عقلی ہے یا نہیں۔اگر کوئی قاطع عقلی اس کے مقابل موجود ہے تو لازم ہے کہ ان کا وہ مستدل قطعی و محکم نہیں بلکہ ظنی و متشابہ ہے کیونکہ "عقل قطعی اور نقل قطعی کے مابین آویزش محال ہے"۔گزارش ہے کہ یہ وہی موقف ہے جس کا اظہار کتب فقہاء میں جا بہ جا موجود ہے کہ ظنی الدلالہ وہ ہوتا ہے جس میں 'ناشی عن الدلیل' معنی دگر کا احتمال ہو اور قطعی الدلالہ وہ ہوتا ہے جس میں ایسا کوئی 'ناشی عن الدلیل' احتمال نہ ہو۔یہ وہی موقف ہے جسے شاطبیؒ نے موافقات میں یوں بیان فرمایا:

"الأدلۃ الشرعيۃ لا تنافي قضايا العقول، لو نافتھا لم تكن  أدلۃ للعباد علی حكم شرعي" (الموافقات 3/208)

"ادلہ شرعیہ عقلی قضایا کے منافی نہیں ہو سکتے،اگر وہ عقلی قضایا کی نفی کریں  گے تو لوگوں کے لیے حکم شرعی پر دلیل نہ رہیں گے"

بلکہ یہ وہی موقف ہے جس کا اظہار علامہ ابن تیمیہ نے 'رسالہ تدمریہ' میں اثباتِ عقیدہ کے دوران فرمایا،آپ رقمطراز ہیں:

"سمع قد دل عليہ، ولم يعارض ذلك معارض عقلي  ولا سمعي،فيجب إثبات ما أثبتہ الدليل السالم  عن المعارض المقاوم” (الرسالۃ التدمريۃ  34)

"اس پر سمع دلالت کناں ہے دراں حالیکہ کوئی عقلی و سمعی دلیل اس کے  معارض نہیں ہے۔بنا بریں ایسے(عقیدہ) کا اثبات ضروری ہے جو معارض و مزاحم (عقلی و سمعی) سے پاک دلیل کے ذریعے پایہ ثبوت کو پہنچا ہے"

معلوم ہوا کہ علامہ ابن تیمیہ خود بھی دلیل سمعی کے واجب القبول ہونے کے لیے اس کے مقابل 'معارض عقلی' نہ ہونے کو بہ طور دلیل پیش فرما رہے ہیں۔یعنی علامہ صاحب کے نزدیک بھی دلیل سمعی کا قبول کرنا اس وقت ضروری ٹھہرتا ہے جب اس کے مقابل کوئی معارض عقلی موجود نہ ہو۔اگر 'معارض عقلی' کے ہونے یا نہ ہونے سے نقل کی صحت و قطعیت پر کوئی فرق مرتب نہیں ہوتا تو پھر 'معارض سے سلامتی' کو بہ طور دلیل پیش کرنے کی کوئی معنویت باقی نہیں رہ جاتی۔اگر یہ کہا جائے کہ علامہ صاحب نے محض معاندین پر اتمام حجت کے لیے اس کو بہ طور دلیل پیش فرمایا ہے تو یہی بات تو ہم کلامِ رازی بابت کہتے ہیں کہ آپ نے بھی مجسمہ و معتزلہ کی سٹی گم کرنے واسطے تعارض عقل و نقل بابت مسلمہ قانون کو آہنگِ جدال میں دہرایا ہے۔

گزارش ہے کہ موقفِ رازیؒ کی درست تفہیم کے لیے دریں باب متکلمین کے تصور عقل سے شناسائی بھی ضروری ہے۔متکلمین جس عقل کو 'فیصلِ تعارض' اور 'مجاز تاویل' ٹھہرا رہے ہیں وہ کانٹ کی عقلِ محض یا لاک کی عقل تجربی نہیں ہے،نہ ہی وہ کسی ملحد کی عقل انکاری ہے۔متکلمین کے ہاں 'عقل سلیم' کا باقاعدہ تصور پایا جاتا ہے۔یہ وہ عقل ہے جو درِ ایمان پر سرِ نیاز خم کر چکی ہے،جس کے پیش قیاسی قضیہ جات ہدایت ربانی سے ماخوذ ہیں،جس نے ایمان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر کے 'لیس کمثلہ شیئ' کا درس لیا ہے،جو تنزیہہ و تشبیہ کے جملہ امتیازات ازبر کر چکی ہے۔

انتقادِ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ

موقفِ رازی کی سیاحی کے بعد اب وقت آن پہنچا ہے کہ انتقادِ ابن تیمیہ کی طرف زمام کشی کی جائے۔علامہ صاحب کا 'موردِ تنقید' اور 'ہدفِ تنقید' آغازِ تحریر میں خاصی حد تک بیان کیا جا چکا ہے۔آپ کی انتقادی سرگرمی دو مراحل میں منقسم ہے۔پہلے مرحلہ میں آپ نے امام رازی اور متکلمین کے نظامِ فکر پر تردیدی تاخت فرمائی ہے اور دوسرے مرحلہ میں آویزشِ عقل و نقل بابت اپنے حاصلاتِ فکر منصہ شہود پر لائے ہیں۔دونوں مراحل التباس،اختلال اور چند در چند داخلی تناقضات کا شاہکار ہیں۔

تردیدِ امام رازی و متکلمین:

 علامہ صاحب  آغازِ کتاب میں امام رازی کے بیان کردہ 'قانونِ کلی' کو خاصی تحریف شدہ حالت میں ذکر فرماتے ہیں اور پھر اس تحریف کو 'دوآتشہ' کرتے ہوئے کارِ تردید کا در کچھ یوں وا کرتے ہیں:

"وھذا الكلام قد جعلہ الرازی واتباعہ قانونا كليا فيما يستدل بہ  من كتب اللہ تعالی , وكلام انبيائہ عليھم السلام , وما لا يستدل بہ" (درء تعارض العقل والنقل 1/4,5)

"یہ وہ کلام ہے جسے رازی اور ان کے پیروکاروں نے کتب الہی اور کلام انبیاء بابت 'قانونِ کلی' قرار دیا ہے کہ کتب الہی اور کلام انبیاء کے کس  حصے سے استدلال کیا جائے گا اور کس حصے سے استدلال نہیں کیا جائے"

بلاشبہ علامہ صاحب نے مذکورہ عبارت میں متکلمین پر نہایت سنگین الزامات چسپاں کیے ہیں۔آپ نے نہایت رواروی سے 'متشابہات' بابت بیان کردہ قانون کلی کو پہلے تو محکم و متشابہ دونوں سے نتھی کر دیا اور بعد ازاں اس قانون کی ماہیت و نوعیت کو یوں بدل کر رکھ دیا کہ جو قانون سراسر 'متشابہات' کے احتمالی معانی میں سے ایک کے 'امکانی اختیار' یا کلی تفیوض بابت تھا اسے متکلمین کی طرف سے قرآن و سنت کے قابلِ استدلال ہونے یا نہ ہونے کا پیمانہ قرار دے دیا۔گویا آپ نے امام رازیؒ اور متکلمین پر یہ اتہام جڑا ہے کہ ان کے نزدیک قرآن و سنت دو حصوں میں تقسیم پذیر ہے،ایک وہ حصہ جو قابلِ احتجاج ہے اور دوسرا وہ جو ناقابلِ احتجاج ہے۔پھر آپ صریح الفاظ میں اس اتہام کا اعادہ یوں فرماتے ہیں:

"ولھذا ردوا الاستدلال بما جاء بہ الانبياء والمرسلون فی صفات اللہ تعالي" (ایضا 1/5)

"اور اسی بنا پر انہوں نے صفات الہی بابت انبیاء کرام کی لائی  گئی ہدایت سے استدلال کو مردود ٹھہرا دیا ہے"

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

"فی ھذا الکتاب بینا فساد القانون الفاسد  الذی صدوا بہ الناس عن سبیل اللہ" (ایضا 1/20)

"اس کتاب میں ہم نے اس قانونِ فاسد کا فساد عیاں کر دیا ہے  جس کے ذریعے یہ(متکلمین) لوگوں کو راہِ خدا سے روکتے ہیں"

یعنی تجسیم و تشبیہ کے مردود خیالات و اوہام کی راہ کو بذریعہ تاویل و تفویض(جو کہ شیوہ سلف رہا ہے) مسدود کر دینا راہ خدا سے روکنا ہے؟اور متشابہات یا ظنیات کے احتمالی معانی میں سے ایک کو اختیار کرنا قرآن و سنت کو رد کرنا ہے؟اگر ایسا ہے،پھر تو سلف کی ایک کثیر تعداد بھی معاذاللہ اس جرم عظیم کی مرتکب رہی ہے۔امام شافعیؒ نے تو 'الرسالہ' میں باقاعدہ ایک باب اس عنوان سے قائم کیا ہے کہ "الصنف الذی یدل لفظہ علی باطنہ دون ظاہرہ" یعنی "قرآن و سنت کی وہ صنف کہ جس کا لفظ اس کے ظاہری معنی کی بجائے پوشیدہ معنی پر دلالت کناں ہے"۔تو کیا امام شافعیؒ بھی دربارِ ابن تیمیہ رح سے 'خلعتِ جرم' پائیں گے یا پھر متکلمین کا قصور فقط یہ ہے کہ انہوں نے اس کارِ تاویل کو منضبط قاعدہ و قانون کی صورت میں ایک مضبوط اساس مہیا کر دی؟گزارش ہے کہ علامہ صاحب کی یہ عبارت بلکہ آپ کی پوری تصنیف ہی اس شدت آمیز 'حرفیت پرستی' (Literalism  ) کا شاخسانہ ہے جس کے بنیاد گزاروں میں علامہ صاحب کا نام نہایت نمایاں ہے۔

تاویل کا نزاع:

ممکن ہے بعض شیفتگانِ ابن تیمیہؒ 'تاویل' سے متعلق علامہ صاحب کے قائم کردہ مبحث کی طرف اشارہ فرمائیں کہ علامہ صاحب نے تو سلف اور متکلمین کی 'تاویل' میں 'فرق' بیان کیا ہے۔بنا بریں بہتر ہو گا کہ علامہ صاحب کے بیان کردہ 'فرق' کو اختصارا طشت از بام کر دیا جائے۔علامہ صاحب اپنے جملہ مواقف کو کچھ اس شِکَوہ سے سلف کا موقف باور کرواتے ہیں اور فریقِ مخالف کے ہر موقف کو کچھ اس جلالت سے مخالفتِ سلف کی سند عطا کرتے ہیں گویا موقفِ ابن تیمیہ کا موقفِ سلف ہونا پیش تنقیدی (pre-critical ) قضیہ یا بدیہی الثبوت مسلمہ ہے۔مبحثِ تاویل میں بھی آپ اسی شکوہِ کاذب کو بروئے کار لائے ہیں۔آپ نے قرآن و سنت میں اپنی کی گئی تاویلات کو 'منہجِ سلف' سے جواز یافتہ قرار دیتے ہوئے متکلمین کی تاویلات کو یہ کہہ کر بہ یک جنبشِ قلم مسترد کر دیا ہے کہ یہ تاویلات سلف کے متعین کردہ نہج پر استوار نہیں ہیں۔علامہ صاحب لفظ تاویل کے کئی ایک معانی بیان کرتے ہوئے سلف سے نقل شدہ تاویل کا وہ معنی بیان کرتے ہیں کہ جس کے متکلمین قائل ہیں یعنی 'لفظ کو ظاہری معنی سے کسی دوسرے پوشیدہ معنی کی طرف پھیر دینا'۔لیکن پھر عجیب و غریب 'تاویل' کے ذریعے متکلمین اور سلف کی مراد و مقصود میں یہ فرق بیان کرتے ہیں کہ تاویل سے سلف کا مقصود 'دفع معارض' نہیں بلکہ 'منشائے متکلم' کی تلاش تھا اور متکلمین کا مقصود 'منشائے متکلم' نہیں 'دفعِ معارض' ہے۔یعنی یہاں علامہ صاحب نے یہاں یہ خود ساختہ مفروضہ قائم کر لیا ہے کہ سلف کو 'دفعِ معارض' سے کوئی کام نہیں اور متکلمینِ کو 'منشائے متکلم' سے کوئی غرض نہیں۔یہ فرق علامہ صاحب کی مکمل انتقادی سرگرمی ہی کی مانند انتہائی رکیک اور اپنے دامن میں انتہائی اختلال و التباس لیے ہوئے ہے۔

گزارش ہے کہ تاویل کی جولان گاہ میں اولین قلانچ بھرنے کا اولین مقصد 'منشائے متکلم' کی جویائی ہی ہوا کرتا ہے لہذا یہ کہنا نری مغالطہ آمیزی  اور آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے کہ موول کو 'منشائے متکلم' سے چنداں غرض نہیں ہے۔متکلمین تو کجا معتزلہ یا فلاسفہ بھی جب دشتِ تاویل میں قدم زن ہوتے ہیں تو یقینا 'منشائے متکلم' ہی کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔رہے 'معارض' اور 'دفعِ معارض' تو یہ سب 'منشائے متکلم' کی تلاش کے لیے مہمیز اور اس کے تعین میں ممد و معاون اوزار کی طرح ہوتے ہیں۔سلف نے بھی یقینا بعض خارجی عوامل ہی کی بدولت تاویل کے اکھاڑے میں قدم رنجہ فرمایا ہے۔سوال یہ ہے کہ ظاہری معنی کے عیاں ہونے کے باوجود 'منشائے متکلم' کی 'تلاش' کی نوبت ہی کیوں آتی ہے۔کچھ 'معارض' کا پیش آ جانا اور پھر ان کے دفعیہ کے لیے کمر بستہ ہو جانا ہی تو اس 'تلاش' کا باعث بنتا ہے۔ظاہری معنی میں کوئی اختلال،کوئی احتمال،کوئی اضمحلال نظر آتا ہے تبھی تو موول و مفسر کا ماتھا ٹھنکتا ہے کہ یہاں 'منشائے متکلم' وہ نہیں جو سامنے دکھائی دے رہی ہے بلکہ وہ ہے جو درونِ لفظ نہاں اور ورائے ظاہر عیاں ہے۔

علامہ صاحب کے حاصلاتِ فکر:

ایک سنجیدہ قاری کے لیے انتقادِ ابن تیمیہؒ کی خشت اول ہی آنے والی تردید اور علامہ صاحب کے حاصلات فکر کی پیش بینی کر دیتی ہے۔سنگین الزامات کے بعد علامہ صاحب سلسلہ تردید کو مزید بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ موقفِ متکلمین کی اساس تین مقدمات ہیں۔پہلا مقدمہ عقل و نقل کے مابین تعارض کا اثبات ہے۔دوسرا مقدمہ تعارض کو (قانون کلی میں بیان شدہ)چار صورتوں میں ہی منحصر گرداننا ہے۔اور تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ ان چار صورتوں میں سے تین صورتیں باطل ہیں۔بعد ازاں علامہ صاحب فیصلہ صادر فرماتے ہیں کہ یہ تینوں مقدمات باطل ہیں۔پھر آپ کشمکشِ عقل و نقل بابت اپنے حاصلات فکر افشا کرتے ہیں،جس کا ماحصل یہ ہے کہ عقل و نقل دونوں اپنے دامن میں قطعیت لیے ہوئے ہوں گے یا دونوں لبادہ ظنیت میں ملبوس ہوں گے یا پھر عقل،ظنی ہوگی اور نقل قطعی ہوگی یا پھر معاملہ اس سے برعکس ہوگا۔آپ فرماتے ہیں کہ پہلی دو صورتوں میں تو تعارض ممکن ہی نہیں اور دوسری صورت میں راجح کو اختیار جائے گا۔تیسری صورت میں نقل قطعی مختار ہو گی اور چوتھی صورت میں عقل قطعی کو نقل ظنی پر ترجیح دی جائے گی۔علامہ صاحب کی عبارت حسبِ ذیل ہے:

"قولہ "اذا تعارض العقل والنقل" اما ان يريد بہ القطعيين , فلا نسلم امكان التعارض حينئذ , واما ان يريد بہ الظنيين , فالمقدم ھو الراجح مطلقا,واما ان يريد بہ ما احدھما قطعی ,فالقطعی ھو المقدم مطلقا ,واذا قدر ان العقلی ھو القطعی,كان تقديمہ لكونہ قطعيا , لا لكونہ عقليا۔" (ایضا 1/78،86،87)

انتقاد کی اساس ایک بے اساس مفروضہ!

علامہ صاحب نے صراحتا یہ تاثر دیا ہے کہ امام رازی اور متکلمین علی الاطلاق عقل و نقل کی آویزش کے قائل ہیں اور علی الاطلاق عقل کو نقل پر مقدم مانتے ہیں چنانچہ آپ انتقاد کا حتمی نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"فعلم ان تقديم العقلی مطلقا خطأ" (ایضا)

"معلوم ہوا کہ عقل کو علی الاطلاق مقدم ٹھہرانا غلطی ہے"

آپ نے اسی مفروضہ کو اپنے بلند و بالا کاخِ انتقاد کی نیو  بناتے ہوئے متکلمین کو "راہ خدا سے روکنے والے" اور "قرآن و سنت سے استدلال کو رد کرنے والے" ایسے القاب سے نوازا ہے۔پیش ازیں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ امام رازیؒ اور متکلمین کا بیان کردہ 'قانون کلی' محض متشابہات/ظنیات سے متعلق ہے نیز قطعیات میں تعارض کو متکلمین محال قرار دیتے ہیں جبکہ ظنیاتِ شرع اور عقل قطعی کے مابین تعارض کو بھی وہ سرسری نگاہ اور بادی النظر کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔علامہ صاحبؒ نے امام رازیؒ کے کلام کو نہ صرف اس کے مجموعی تناظر سے محروم کیا ہے بلکہ کلامِ رازی ہی میں صراحت سے مذکور 'عقل قطعی' اور 'متشابہات' ایسے الفاظ کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔عرض ہے کہ اس تمام تر وضاحت کے بعد امام صاحب کے اس الزام کی کیا اخلاقی و علمی حیثیت باقی رہ جاتی ہے کہ متکلمین نہ صرف عقل و نقل میں تعارض کو ثابت کرتے ہیں بلکہ علی الاطلاق عقل کو نقل پر ترجیح بھی دیتے ہیں؟یقینا یہ ایک بے اساس مفروضہ ہے۔یعنی امام صاحب جس مقدمہ کو متکلمین کا مقدمہ فرض کر کے اس پر تابڑ توڑ حملے فرما رہے ہیں وہ متکلمین کا مقدمہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ایسے بے سر و پا نقد سے 'مورد نقد' پر کوئی سوال اٹھے یا نہ اٹھے،صاحبِ نقد کی علمی پاسداری ضرور محلِ سوال بن جایا کرتی ہے۔

تقسیم ابنِ تیمیہ بمقابلہ تقسیم رازی؟

امام رازی کی بیان کردہ حصری تقسیم کے 'مقابلہ' میں علامہ صاحب کا اپنی تقسیم سامنے لانا بھی دنیائے علم کا نرالا واقعہ ہے۔ان دونوں کا تقابل کیونکر ہو سکتا ہے کہ امام رازی تو محض نقل ظنی اور عقل قطعی کے مابین آویزش کی صورتیں بیان فرما رہے ہیں جبکہ علامہ صاحب علی الاطلاق تعارضِ عقل و نقل کو حیطہ تحریر میں لا رہے ہیں۔گزارش ہے کہ علامہ صاحب کی بیان کردہ تقسیم کو امام رازی کی تقسیم کے مد مقابل لے آنا تو یقینا انوکھا کارنامہ ہے تاہم علامہ صاحب کی تقسیم فی نفسہ جہانِ علم کا کوئی نیا ظاہرہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ علامہ صاحب کی ذاتی اپج ہے۔قعطیات میں تعارض ممکن نہیں اور ظنیات میں راجح مقدم ہے،یہی امام رازی اور متکلمین کا مذہب ہے۔عقل ظنی اور نقل قطعی میں نقل راجح ہو گی،یہی امام صاحب اور متکلمین کا مذہب ہے۔رہی آخری صورت کہ نقل ظنی پر عقل قطعی مقدم ہو گی تو اس باب میں امام رازی رح اور متکلمین کا شیوہِ بیان احوط ہے کہ وہ اس تعارض کو عقل قطعی اور نقل ظنی کے ایک احتمالی معنی کی کشا کشی بنا چھوڑتے ہیں جبکہ علامہ صاحب تو یہ کشٹ اٹھانے سے بھی گریز پا رہے۔شاید اس کی وجہ علامہ صاحب کی وہی شدت آمیز 'حرفیت پرستی' (Literalism )ہے جو نقل کے احتمالی مگر ظاہری معنی کو نقل کا اٹوٹ انگ قرار دیتی ہے۔اس حرفیت پسندی کو یہ تو گوارا ہے کہ رفعِ تعارض کے لیے ناچار عقل کو نقل پر ترجیح دے دی جائے لیکن یہ قبول نہیں کہ ظاہری معنی کو نقل سے الگ بیان کر دیا جائے۔یہاں یہ وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ علامہ صاحب نے جہاں عقل قطعی کو  نقل ظنی پر تقدیم سے نوازا ہے وہیں پہلو بہ پہلو یہ پرلطف نکتہ بھی ارزاں کیا ہے:

"كان تقديمہ لكونہ قطعيا , لا لكونہ عقليا" (ایضا 1/87)

"عقلی دلیل کو قطعی ہونے کی وجہ سے مقدم کیا جائے گا نہ کہ  عقلی ہونے کی بنا پر"

لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے نفس الامر میں کیا فرق پڑتا ہے۔دلیل عقلی کی ترجیح و تقدیم تو بہرصورت برقرار رہتی ہے۔علاوہ ازیں،پیرایہ اطلاق میں بیان کردہ اس ابطال کا کیا ہوا کہ نقل و عقل میں تو تعارض ممکن ہی نہیں؟علامہ صاحب کے اس بیان کی پشت پر بھی آپ کا وضع کردہ وہی بے بنیاد مفروضہ کارفرما ہے کہ امام رازی اور متکلمین علی الاطلاق عقل کو نقل پر راجح قرار دیتے ہیں۔گزشتہ سطور میں اس مفروضہ کا بے اساس ہونا بیان کیا جا چکا ہے۔اپنی فکر ارزاں کرنے کے بعد علامہ صاحب نے امام رازی رح کے اس موقف پر تاز فرمائی ہے کہ 'سمع کا اثباتِ علمی چونکہ عقل قطعی پر موقوف پر لہذا عقل قطعی کو ظاہرِ نقل پر فوقیت دی جائے گی'۔علامہ صاحب اس موقف کی تردید میں خاصا زور صرف فرماتے ہیں اور پھر آپ کی تردید کی تان یہاں آن کر ٹوٹتی ہے کہ تمام معقولات پر نہیں بلکہ صرف چند ایک معقولات پر سمع موقوف ہے۔سوال پھر یہی ہے کہ اس سے نفس الامر میں کیا فرق مرتب ہوا؟چند کہیں یا تمام،موقوف تو آپ بھی عقل پر ہی قرار دے رہے ہیں۔نیز متکلمین یا امام رازی نے یہ دعوی کیا ہی کب ہے کہ تمام معقولات پر شرع کا علم موقوف ہے؟گزارش ہے کہ اس تمام تر بحث کے پیچھے بھی علامہ صاحب کا وہی بیان کردہ بے بنیاد مفروضہ کام کر رہا ہے۔

حاصلِ بحث

آخرش عرض ہے کہ انتقادِ ابن تیمیہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ آیا یہ علامہ صاحب کا اپنا نظام فکر ہے یا پھر متکلمین کے نظام فکر پر مہر تصدیق ہے کیونکہ آویزش عقل و نقل بابت علامہ صاحب نے جو "نیا نظامِ فکر" پیش فرمایا ہے، وہ تو پہلے سے ہی متکلمین کی کتب میں جا بہ جا بکھرا پڑا ہے۔علامہ صاحب نے پورے شکوہ کے ساتھ متکلمین پر مشقِ تردید تو فرمائی ہے لیکن اس تردید کا نتیجہ تصویب کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔'تصویب بہ رنگ تردید' کی یہ سرگرمی یقینا بہت دلچسپ ہے جس میں انتقاد تو پورے کروفر کے ساتھ موجود ہے لیکن حاصلِ انتقاد رفوچکر ہو چکا ہے۔خیر وقت آن پہچا ہے کہ رہوارِ قلم کو روک لیا جائے اور بساطِ بحث کو لپیٹ دیا جائے۔خاکسار نے مقدور بھر سعی کی ہے کہ متکلمین اور امام رازی رحمہم اللہ کے موقف کے پیش منظر،پس منظر اور تہِ منظر کو قارئین کے رو بہ رو پیش کر دیا جائے اور پہلو بہ پہلو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے انتقاد کی راست حیثیت بھی واضح کر دی جائے تاکہ غبار چھٹ جائے اور منظر واضح ہو جائے۔اگر مقصود بر آیا ہے تو فضلِ یزدانی ہے اور اگر کہیں جھول رہ گیا ہے تو اپنی ہیچ مدانی ہے۔خداوند متعال سمجھنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔آمین


قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۷)

محمد عمار خان ناصر

قانون اتمام حجت پر مبنی احکام

غامدی صاحب کے نقطۂ  نظر کے مطابق قرآن مجید سے رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص سنت واضح ہوتی ہے جس کی رو سے منصب رسالت پر فائز کسی ہستی کو جب کسی قوم میں مبعوث کیا جاتا ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور باطل کے فرق کو بالکل قطعی درجے میں اور علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کر دیے جانے کے بعد بھی جو لوگ حق کے انکار پر مصر رہیں، وہ اسی دنیا میں خدا کے عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو منکرین حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ عذاب کا یہ فیصلہ رسولوں کی طرف سے انذار، انذار عام، اتمام حجت اور اس کے بعد ہجرت وبراء ت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اور اس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی، خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین کے لیے ایک قیامت صغریٰ برپا ہو جاتی ہے ‘‘ (میزان  ۵۹۸) ۔

قانون رسالت کے تحت اتمام حجت کا یہ عمل چونکہ پوری دنیا کی قوموں پر نہیں، بلکہ رسول کے براہ راست مخاطبین پر کیا جاتا ہے، اس لیے غامدی صاحب اس قانون کے تحت کیے جانے والے مخصوص اقدامات کو شریعت کے عمومی اور ابدی احکام قرار نہیں دیتے، بلکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین مخاطبین تک محدود قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں عہد رسالت کے منکرین حق کے خلاف جہاد وقتال اور ان پر جزیہ عائد کرنے کے علاوہ احادیث میں مذکور بعض احکام کی تفہیم بھی وہ قانون اتمام حجت کے تحت کرتے ہیں، چنانچہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے سے متعلق مذکورہ اقتباس میں انھوں نے عذاب قبر، کعب بن اشرف کے قتل، ’أمرت أن أقاتل الناس‘ اور ’من بدل دینه فاقتلوه‘ کی روایات کا ذکر اسی پہلو سے کیا ہے۔  یہ اور ان کے علاوہ جن دیگر احادیث کی تعبیر میں غامدی صاحب نے نمایاں طور پر اس اصول کا اطلاق کیا ہے، ان کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:

۱۔ ’امرت ان اقاتل الناس‘  کا محل اور دائرۂ اطلاق واضح کرتے ہوئے غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’یہی قانون ہے جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمائی: ... ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔‘‘ … یہ قانون، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، صرف اُن مشرکین کے ساتھ خاص تھا جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا۔ اُن کے علاوہ اب قیامت تک کسی دوسری قوم یا فرد کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ اہل کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے، قرآن مجید نے اُنھیں بھی اِس سے بالصراحت مستثنیٰ قرار دیا ہے۔‘‘ (برہان ۱۴۱-  ۱۴۲)

 اس توجیہ کے حوالے سے غامدی صاحب منفرد نہیں ہیں۔ کلاسیکی فقہی روایت میں احناف کا نقطۂ نظر بھی یہی رہا ہے کہ اسلام قبول نہ کرنے پر قتل کیے جانے کا حکم خاص طور پر مشرکین عرب کے لیے دیا گیا تھا جن کے بارے میں قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کے دین کا خاتمہ کر کے پورے جزیرۂ عرب پر اسلام کو غالب کر دیا جائے اور مہلت ختم ہونے کے بعد بھی وہ اگر کفر وشرک سے توبہ کر کے دائرۂ اسلام میں داخل نہ ہوں تو انھیں بے دریغ قتل کر دیا جائے (التوبہ ۹: ۵)۔ فقہاے احناف مشرکین عرب سے متعلق اس خصوصی حکم کی وجہ اتمام حجت کے اصول کو قرار دیتے ہیں اور ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ چونکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس اس قوم میں مبعوث کیے گئے تھے اور اللہ کی کتاب انھی کی زبان میں انھی کے سامنے نازل کی گئی تھی، اس لیے حجت تمام کر دیے جانے کے بعد ان کے پاس قبول حق سے گریز کے لیے کوئی عذر موجود نہیں تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جرم کی سنگینی کی وجہ سے ان کے لیے سزا بھی سنگین ترین مقرر فرمائی اور اسلام قبول نہ کرنے پر انھیں گردن زدنی قرار دے دیا۔ اس نقطۂ نظر کے تحت حنفی فقہا اور بعض دیگر شارحین حدیث زیربحث حدیث کی یہی توجیہ بیان کرتے ہیں کہ اس کا تعلق صرف مشرکین عرب سے ہے (جصاص، احکام القرآن ۱/۶۰، ۲/۲۴۸۔  ابن حجر، فتح الباری ۱/۷۷)۔

۲۔ ارتداد اختیار کرنے پر قتل کی سزا کا تناظر بھی غامدی صاحب کی راے میں اتمام حجت کا یہی قانون ہے اور اس کا تعلق بھی انھی مشرکین عرب سے ہے جنھیں اصلاً اپنے دین پر قائم رہنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’...اس کا یہ لازمی تقاضا بھی صاف واضح ہے کہ اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرتا تو اُسے بھی لامحالہ اِسی سزا کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔ وہ لوگ جن کے لیے کفر کی سزا موت مقرر کی گئی، وہ اگر ایمان لا کر پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹتے تو لازم تھا کہ موت کی یہ سزا اُن پر بھی بغیر کسی تردد کے نافذ کر دی جائے۔ چنانچہ یہی وہ ارتداد ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حکم میں ’من‘ اُسی طرح زمانۂ رسالت کے مشرکین کے لیے خاص ہے، جس طرح اوپر ’امرت ان اقاتل الناس‘ میں ’الناس‘ اُن کے لیے خاص ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اصل جب قرآن مجید میں اِس خصوص کے ساتھ موجود ہے تو اِس کی اِس فرع میں بھی یہ خصوص لازماً برقرار رہنا چاہیے۔ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے ’الناس‘ کی طرح اِسے قرآن میں اِس کی اصل سے متعلق کرنے اور قرآن وسنت کے باہمی ربط سے اِس حدیث کا مدعا سمجھنے کے بجاے، اِسے عام ٹھیرا کر ہر مرتد کی سزا موت قرار دی اور اِس طرح اسلام کے حدود وتعزیرات میں ایک ایسی سزا کا اضافہ کر دیا جس کا وجود ہی اسلامی شریعت میں ثابت نہیں ہے۔‘‘ (برہان ۱۴۲-  ۱۴۳)

۳۔ مسلمان اور کافر کے مابین وراثت کی ممانعت کے حوالے سے غامدی صاحب کی یہ توجیہ اوپر بیان کی جاچکی ہے کہ یہ حکم منفعت کی اس علت پر مبنی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کو  ایک دوسرے کے ترکے میں حصہ دار قرار دیا ہے، اور منفعت ختم ہو جانے کی صورت میں وراثت کے حکم کا معطل کر دیا جانا اسی اصول کا تقاضا ہے۔ البتہ غامدی صاحب اس تعطیل کو اتمام حجت کے قانون کی روشنی میں جزیرہ نماے عرب کے مشرکین اور یہود ونصاریٰ سے متعلق قرار دیتے ہیں، یعنی اسے شریعت کا کوئی ابدی اور دائمی حکم تصور نہیں کرتے۔ لکھتے ہیں:

’’...اتمام حجت کے بعد جب یہ منکرین حق خدا اور مسلمانوں کے کھلے دشمن بن کر سامنے آ گئے ہیں تو اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر قرابت کی منفعت بھی اِن کے اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانی چاہیے۔ چنانچہ یہ اب آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔‘‘ (میزان ۴۰)

اس ممانعت کی تخصیص وتحدید کے ضمن میں یہ راے تو فقہاے صحابہ وتابعین کے دور سے موجود رہی ہے کہ اس کا اطلاق صرف مشرکین عرب پر ہوگا، جب کہ اہل کتاب اس کے دائرے میں شامل نہیں۔ چنانچہ سیدنا معاویہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کا نقطۂ نظر یہی تھا اور وہ اہل کتاب اور مسلمانوں کے مابین وراثت کا حکم مذکورہ ممانعت کے بجاے ایک قیاسی اصول کی روشنی میں متعین کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان تو اپنے اہل کتاب اقربا کا وارث بنے گا، لیکن اہل کتاب کو ’الإسلام یعلو ولا یعلی‘ کے اصول کے تحت اپنے مسلمان رشتہ دار کی وراثت میں شریک نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس صورت میں بھی وہی اصول لاگو ہوگا جو اہل کتاب کے ساتھ نکاح کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے، یعنی مسلمان مرد تو اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، لیکن مسلمان خواتین، اہل کتاب مردوں سے نکاح نہیں کر سکتیں (جصاص، احکام القرآن ۲/۱۰۲)۔

یوں غامدی صاحب کی راے اس پہلو سے جمہور فقہا کے موقف سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ممانعت مشرکین اور اہل کتاب، دونوں سے متعلق ہے، لیکن اس پہلو سے منفرد ہے کہ وہ اس ممانعت کوصرف جزیرۂ عرب کے مشرکین اور اہل کتاب تک محدود سمجھتے ہیں جن پر اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ اہل ایمان کے ساتھ ان کی قرابت اللہ کی نظر میں گویا کالعدم ہے اور اس تعلق کی بنا پر رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے مال پر جو حق عائد ہوتا ہے، وہ بھی اس صورت میں اپنی بنیاد سے محروم ہو جاتا ہے۔

۴۔ کتب حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر کے قصاص میں مسلمان کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ جمہور فقہا اس حکم کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے قرار دیتے ہیں کہ کسی مسلمان کو غیر مسلم کے قصاص میں قتل نہیں کیا جا سکتا، جب کہ حنفی فقہا اس ممانعت کو حربی کافر سے متعلق قرار دیتے ہوئے اہل ذمہ اور مسلمانوں کے مابین قصاص کا قانون جاری کرنے کے قائل ہیں۔ اس ضمن میں جصاص کی راے یہ ہے کہ مذکورہ ارشاد میں کافر سے مراد وہ کافر ہے جسے کسی مسلمان نے زمانۂ جاہلیت میں قتل کیا ہو، یعنی یہاں قصاص کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین عدم مساوات کا حکم بیان کرنا نہیں، بلکہ حالت کفر میں کیے گئے قتل کا بدلہ حالت اسلام میں لینے کی ممانعت بیان کرنا مقصود ہے۔

غامدی صاحب بھی اس ہدایت کو عمومی قانون قرار نہ دینے کے حنفی نقطۂ نظر سے اتفاق رکھتے ہیں، تاہم اس ہدایت کا مخصوص تناظر اتمام حجت کے اصول کی روشنی میں واضح کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’...منکرین ... کی معاندت پوری طرح ظاہر ہو جانے کے بعد رسولوں کی تکذیب کا وہ قانون اُن پر نافذ کردیا گیا جو قرآن میں ایک سنت الہٰی کی حیثیت سے مذکور ہے۔ بعض مقتولین کے خون کو ہدر قرار دینے کی وجہ بھی یہی تھی۔ ’لا یقتل مسلم بکافر‘ اِسی کا بیان ہے۔‘‘ (مقامات ۳۳۴)

۵۔ موت کے وقت مردے کو بشارت یا زجر وتوبیخ اور اسی طرح قبر میں سوال وجواب اور ثواب یا عذاب کی روایات کا ماخذ غامدی صاحب قرآن مجید میں متعین کرتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ قرآن مجید کی مختلف آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ روح قبض کرنے والے فرشتوں کے رویے کا، شہادت پاکر اللہ کے پاس پہنچ جانے والے اہل ایمان پر اللہ کی طرف سے فضل وانعام کا، اور فرعون اور اس کے متبعین کے، آگ کے عذاب میں ڈال دیے جانے کی بات بیان کی گئی ہے۔ البتہ غامدی صاحب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ بعد از وفات فوری ثواب یا عذاب کا یہ معاملہ اللہ کے پیغمبروں کے براہ راست مخاطبین کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ ایسے لوگوں پر پیغمبر اتمام حجت کر چکے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ثواب وعذاب کو قیامت تک موخر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کے مرتے ہی ان کے انعام واکرام یا عذاب کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ عذاب قبر کے علاوہ قبر میں مردے سے سوالات پوچھے جانے کی روایات کو بھی غامدی صاحب انھی گروہوں سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’آپ کی بعثت جن لوگوں میں ہوئی، ان کے لیے ابتدا اس سوال سے ہوگی کہ وہ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ اپنی بعثت کے بعد رسول ہی اپنی قوم کے لیے حق وباطل میں امتیاز کا واحد ذریعہ ہوتا ہے، اس لیے اس پر ایمان کے بعد پھر کسی سے اور کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی‘‘(میزان  ۱۸۹)۔

غامدی صاحب نے اس تخصیص کے قرائن بیان نہیں کیے، تاہم اس نوعیت کی راے بعض دیگر اہل علم  کے ہاں بھی ملتی ہے جن کے پیش نظر یہ سوال ہے کہ بعض نصوص سے عالم برزخ میں ثواب وعذاب ثابت ہوتا ہے، جب کہ بعض دیگر نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ موت اور قیامت کے دن کے درمیان ایک برزخ کا عالم ہوتا ہے جس میں مردے ایک طرح کی نیند کی کیفیت میں ہوتے ہیں، اسی لیے جب انھیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ حیران ہو کر پوچھیں گے کہ ہمیں کس نے ہماری نیند سے اٹھا دیا۔ چنانچہ علامہ انور شاہ کشمیری ان مختلف نصوص کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ برزخ میں سب مردوں کے احوال ایک جیسے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے مراتب کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں (فیض الباری ۱/۲۶۷)۔ غامدی صاحب نے غالباً اسی اختلاف کی تطبیق کی یہ صورت اختیار کی ہے کہ جن نصوص سے عالم برزخ میں جزا وسزا ثابت ہے، انھیں پیغمبر کے براہ راست مخاطبین کے ساتھ خاص قرار دیا جائے۔

۶۔ متعدد احادیث میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی انتہائی تاکید وارد ہوئی ہے، حتیٰ کہ بعض روایات میں آپ نے باجماعت نماز کے لیے حاضر نہ ہونے والوں کے گھر تک جلا دینے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ اسی طرح ایک نابینا صحابی کو بھی، جنھیں مسجد تک لانے والا کوئی ساتھی میسر نہیں تھا، پابند کیا کہ وہ مسجد میں ہی نماز ادا کریں۔

بعض محدثین ان روایات کی بنیاد پر باجماعت نماز میں شرکت کو فرض قرار دیتے ہیں، جب کہ جمہور اہل علم اس کو سنت موکدہ قرار دیتے ہوئے مذکورہ روایات کی مختلف توجیہات بیان کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ ممکن ہے یہ تشدید پہلے دور کی ہو جو بعد میں منسوخ ہو گئی ہو یا یہ کہ یہ اسلوب محض تاکید وترغیب کے لیے استعمال کیا گیا ہو، اور اس کا مقصد فقہی وجوب کا بیان کرنا نہ ہو۔ غامدی صاحب ان احادیث کی تشریح بھی قانون اتمام حجت کی روشنی میں کرتے ہیں۔ ان کی راے میں اس کا پس منظر یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد جب منافقین کو، جو بظاہر مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے، ان سے الگ کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تو اس امتیاز کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جن میں سے ایک یہ تھا کہ مسلمان ہر حال میں مسجد کی باجماعت نماز میں شریک ہوں تاکہ اس حکم کی پابندی نہ کر سکنے والے منافقین کو ان کے عمل کی شہادت پر مخلص اہل ایمان سے ممتاز کیا جاسکے۔ غامدی صاحب کے نزدیک باجماعت نماز میں شرکت کے حوالے سے تشدید کا تعلق اسی مخصوص صورت حال سے تھا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکم کی یہ صورت باقی نہیں رہی، البتہ یہ بہرحال ایک بڑی فضیلت کی چیز ہے جس سے کسی مسلمان کو بغیر عذر کے محروم نہیں رہنا چاہیے (میزان ۳۱۸)۔

قرآن سے متعارض روایات

جب اخبار آحاد مستقل بالذات دین کو بیان نہیں کرتیں اور ان میں وارد ہونے والے احکام کا قرآن، سنت یا عقل عام میں کسی اصل سے متعلق ہونا ضروری ہے تو ایک بدیہی نتیجے کے طور پر ان میں سے کسی بھی اصول سے ٹکرانے والی اخبار آحاد قبول نہیں کی جا سکتیں۔ غامدی صاحب کا یہ اصول بھی کوئی نئی دریافت نہیں ہے، بلکہ علمی وفقہی روایت میں پہلے سے تسلیم شدہ ایک اصول کا اظہار ہے، البتہ اس کے انطباق میں جہاں انھوں نے بعض روایتی آرا سے اتفاق اور بعض سے اختلاف کیا ہے، وہاں کچھ نئے انطباقات بھی کیے ہیں اور متعدد ایسی روایات کو رد کر دیا ہے جنھیں جمہور اہل علم قبول کرتے ہیں۔

جن اہم روایات کی تنقید میں غامدی صاحب نے اس اصول کو برتا  ہے، وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ قرآن کے معارض ہونے کی بنا پر روایت کو رد کرنے کے حوالے سے سلف کی بعض آرا سے اتفاق کی ایک مثال فاطمہ بنت قیس کی روایت ہے۔ غامدی صاحب قرآن مجید سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ مطلقہ کو دوران عدت میں رہایش اور نان ونفقہ مہیا کرنے کی ذمہ داری شوہر پر تیسری طلاق کے بعد بھی عائد ہوتی ہے، کیونکہ عدت کی پابندی عورت اسی کے حمل کی تعیین اور حفاظت کے لیے قبول کرتی ہے۔ غامدی صاحب ا س کے لیے بطور خاص قرآن مجید کی اس تعبیر کا حوالہ دیتے ہیں کہ ’فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا‘ (الاحزاب  ۳۳: ۴۹) جس سے واضح ہوتا ہے کہ حمل کا امکان ہونے کی صورت میں عدت گزارنا دراصل شوہر کا حق ہے جو بیوی پر واجب ہوتا ہے۔ جب بیوی اس عرصے میں شوہر کے حق کے لیے محبوس ہے تو پھر شوہر سے ’’بیوی کو رہنے کی جگہ اور نان ونفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری کسی حال میں بھی ختم نہیں کی جا سکتی ‘‘ (میزان ۴۵۸)۔ اس نکتے کی روشنی میں غامدی صاحب نے فاطمہ بنت قیس کی روایت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے جس میں وہ بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ تیسری طلاق کے بعد وہ دوران عدت میں شوہر کی طرف سے رہایش یا نان و نفقہ کی حق دار نہیں ہیں۔ غامدی صاحب نے اس روایت پر نقد کے ضمن میں سیدنا عمر اور سیدہ عائشہ کے آثار کا حوالہ دیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’یہ اس روایت کی حقیقت ہے، لہٰذا کسی شخص کو اب بھی اسے قابل اعتنا نہیں سمجھنا چاہیے‘‘ (میزان ۴۵۹)۔

۲۔ متعدد احادیث میں قیامت کے قریبی زمانے میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے دنیا میں دوبارہ تشریف لانے اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ محدثین کے معیار کے مطابق یہ روایات مستند اور قابل اعتماد ہیں، اور اسے عموماً اعتقادی امور میں شمار کیا جاتا ہے جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔

غامدی صاحب کی راے میں یہ روایات قرآن مجید کے خلاف ہیں اور وہ اس ضمن میں تین پہلوؤں کا حوالہ دیتے ہیں: پہلا یہ کہ سیدنا مسیح کی شخصیت اور سیرت کو قرآن مجید نے متعدد پہلوؤں سے موضوع بحث بنایا ہے، لیکن ان کے دنیا میں دوبارہ آنے کا کہیں ذکر نہیں کیا، جب کہ ’’ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے‘‘ (میزان ۱۸۲) جس سے قرآن کا خاموشی اختیار کرنا کسی بھی طرح قابل فہم ہو۔ دوسرا یہ کہ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن مسیح علیہ السلام کے ساتھ اپنے ایک مکالمے کا ذکر کیا ہے جس میں ان سے یہ سوال پوچھا جائے گا کہ کیا انھوں نے اپنے پیروکاروں کو یہ تلقین کی کہ وہ انھیں خدا مانیں۔ اس کے جواب میں مسیح علیہ السلام عرض کریں گے کہ یا اللہ، جب تک میں ان کے اندر رہا، میں نے انھیں توحید ہی کی دعوت دی، لیکن جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو پھر توہی ان پر نگران رہا، یعنی میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ ’’مسیح علیہ السلام اگر ایک مرتبہ پھر دنیا میں آ چکے ہیں تو یہ آخری جملہ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ اس کے بعد تو انھیں کہنا چاہیے کہ میں ان کی گم راہی کو اچھی طرح جانتا ہوں اور ابھی کچھ دیر پہلے انھیں اس پر متنبہ کر کے آیا ہوں‘‘ (میزان ۱۸۲)۔ تیسرا یہ کہ سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان فرمایا ہے، لیکن یہاں بھی ان کی آمد ثانی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ ’’سیدنا مسیح کو آنا ہے تو یہ خاموشی کیوں ہے؟ اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی‘‘ (میزان ۱۸۳)۔

نزول مسیح کی روایات پر ابتدائی صدیوں میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا ختم ہو جانا اور اس کے بعد کسی نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا، یہ دو متضاد باتیں ہیں، چنانچہ امام ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ’’تاویل مختلف الحدیث‘‘ میں اس اعتراض کا ذکر کر کے اس کا جواب دیا ہے (تاویل مختلف الحدیث  ۳۵۷- ۳۶۰، دار ابن القیم، الریاض، الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۳۰ھ)۔ دور جدید میں بھی کئی اہل علم کے ہاں ان روایات کے استناد پر سوال اٹھانے کا رجحان دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر شیخ محمود شلتوت، علامہ موسیٰ جار اللہ، علامہ محمد اقبال، تمنا عمادی اور ایک روایت کے مطابق مولانا عبید اللہ سندھی وغیرہ مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کو ایک غیر اسلامی تصور قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب اسی دوسرے نقطۂ نظر سے اتفاق رکھتے ہیں، البتہ اس حوالے سے ان کا استدلال مذکورہ حضرات کے مقابلے میں زیادہ متعین اور واضح ہے۔

۳۔ روایات میں سیدنا ابوبکر اور پھر سیدنا عثمان کے زمانے میں قرآن مجید کی جمع وتدوین کے جو واقعات نقل ہوئے ہیں، ان سے بظاہر یہ مترشح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی قرآن مجید کے حتمی متن کی تعیین کا مسئلہ حل طلب تھا جسے ان دونوں خلفا کے زمانے میں طے کرنے کی کوشش کی گئی اور صحابہ کے پاس موجود تحریری ریکارڈ اور گواہیوں کی روشنی میں قرآن کا ایک مستند متن تیار کیا گیا۔ غامدی صاحب ان روایات کو قرآن مجید اور عقل عام کے خلاف قرار دیتے ہیں (میزان ۳۱)۔ اس ضمن میں ان کا استدلال سورۂ اعلیٰ اور سورۂ قیامہ کی انھی آیات سے ہے جن کا ذکر اوپر اختلافات قراء ت کی بحث میں کیا گیا۔ ان آیات میں قرآن مجید کے نزول اور جمع وترتیب سے متعلق ایک پوری اسکیم خود واضح کی ہے جس کی رو سے قرآن کے متن کی جمع و ترتیب نیز تفہیم و تبیین کے تمام مراحل کا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہونا ضروری تھا۔ روایات کے مطابق جبریل علیہ السلام نے آپ کی زندگی کے آخری رمضان میں دو مرتبہ آپ کو قرآن پڑھ کر سنایا جسے ’’عرضۂ اخیرہ کی قراء ت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہی قرآن کا آخری اور حتمی متن تھا جس کی تعلیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قراء صحابہ کو دی اور آپ کی وفات کے بعد ازسرنو قرآن کے متن کی تحقیق اور جمع وترتیب کی کوئی ضرورت نہیں تھی (میزان ۲۸، ۳۱)۔

غامدی صاحب سے پہلے قریبی دور میں مذکورہ روایات پر اسی نوعیت کی تنقید علامہ تمنا عمادی، عبد اللطیف رحمانی اور مولانا عنایت اللہ اسد سبحانی نے بھی کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ عہد نبوی میں قرآن کا ایک باقاعدہ مرتب نسخہ بھی تیار کیا گیا تھا جس کے ہوتے ہوئے قرآن کی جمع وتدوین کی کسی نئی کوشش کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ غامدی صاحب کے نقطۂ نظر میں کسی باقاعدہ مرتب نسخے پر تو اصرار نہیں کیا گیا، تاہم ان روایات میں متن کی تعیین اور تحقیق کے حوالے سے جو تفصیلات مذکورہیں، غامدی صاحب انھیں قرآن مجید کی اپنی تصریحات کے منافی تصور کرتے ہیں۔

حاصل بحث

غامد ی صاحب نے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث کو ایک نئے انداز سے موضوع بنایا اور اصولی فکر میں ایک اہم زاویۂ نگاہ کا اضافہ کیا ہے۔ اصول فقہ کی روایت میں اس حوالے سے اپنی امتیازی خصوصیات رکھنے والے جو مختلف فریم ورک پائے جاتے ہیں، ان کی نمایندگی ہمیں امام شافعی، حنفی اصولیین، ابن حزم اور شاطبی کے ہاں ملتی ہے۔ غامدی صاحب کا فریم ورک کسی نہ کسی پہلو سے ان سب مواقف کو  چھوتا ہے اور انھوں نے ان سب سے مختلف اجزا لے کر اور بعض اہم اور بنیادی نوعیت کے اضافے شامل کر کے بحث کو کافی حد تک نئی اساسات پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔

مثال کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابن حزم کے فریم ورک کے ساتھ غامدی صاحب کے فریم ورک کی نسبت کلی تضاد اور ایک طرح کے جوابی موقف (counter-narrative) کی ہے، کیونکہ ابن حزم نصوص میں کسی بھی نوعیت کی درجہ بندی اور اصل وفرع کا تعلق متعین کرنے کے قائل نہیں ہیں، جب کہ غامدی صاحب کے فریم ورک میں یہ تقسیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

مآخذ دین کی درجہ بندی میں قطعیت اور ظنیت کے سوال کو بنیادی اہمیت دینے میں غامدی صاحب کا اصولی موقف شاطبی سے بہت قریب ہے، اگرچہ اس کی عملی شکل اور تفصیلات کافی مختلف ہیں۔ شاطبی قطعیت کے سوال کو بنیادی طور پر نصوص کی مجموعی اور استقرائی دلالت کے حوالے سے دیکھتے ہیں، جب کہ غامدی صاحب کے ہاں اس تقسیم کی بنیاد مآخذ کے تاریخی استناد کی نوعیت، یعنی تواتر یا عدم تواتر پر ہے۔ سنت کے حوالے سے دونوں کے مابین ایک اور اہم اختلاف یہ ہے کہ شاطبی ، سنت کو ثبوت کے اعتبار سے بہ حیثیت مجموعی ظنی قرار دیتے ہیں، جب کہ غامدی صاحب سنت کو ظنی الثبوت اخبار آحاد سے ممتاز کرتے ہوئے اسے قرآن ہی کی طرح ایک قطعی الثبوت اور متواتر ماخذ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح شاطبی قرآن کو پورے دین کا اصل الاصول، جب کہ سنت کو علی الاطلاق قرآن کی فرع تصور کرتے ہیں، جب کہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کی فرع کے طور پر اس کے ساتھ دراصل اخبار آحاد متعلق ہوتی ہیں، جب کہ سنت، قرآن کی فرع نہیں، بلکہ ایک مستقل بالذا ت ماخذ ہے جو قرآن سے زمانی طور پر مقدم ہے۔ اس نکتے کی روشنی میں وہ قرآن کے ان احکام میں جن کی ابتدا اصلاً قرآن سے ہوئی ہے اور ان احکام میں جن کی ابتدا سنت نے کی ہے، جب کہ قرآن نے ان کا ذکر ایک معہود اور معلوم چیز کے طور پر کیا ہے، امتیاز ملحوظ رکھنے کا اہم نکتہ بحث میں شامل کرتے ہیں۔

احادیث کو قرآن میں ان کی اصل سے متعلق کرنے کے حوالے سے بھی غامدی صاحب کے منہج میں ایک انفرادیت پائی جاتی ہے۔ وہ ظنی الثبوت اخبار آحاد کو کسی اصل قطعی کے ساتھ متعلق کرنے میں تو شاطبی سے اتفاق رکھتے ہیں اور خبر واحد کو مستقل بالذات حکم کا ماخذ تسلیم نہیں کرتے، تاہم اس تعلق کی تعیین میں ان کا منہج شاطبی سے مختلف ہے۔ شاطبی یہ تعلق شریعت کے اصول کلیہ اور مقاصد کی روشنی میں متعین کرتے ہیں، جب کہ غامدی صاحب کے نقطۂ نظر میں اسے انفرادی نصوص کی دلالت اور ان کے لفظی ومعنوی اشارات کے تناظر میں دیکھنے کا رجحان غالب ہے۔ یوں ان کا فریم ورک حنفی وشافعی اصولیین کے فریم ورک سے کافی حد تک ہم آہنگ ہے اور انھوں نے دلالت عموم کے حوالے سے بنیادی طور پر امام شافعی کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے جو امام شافعی کے ہاں پایا جاتا ہے۔

اس بحث میں حنفی اصولیین کے ساتھ غامدی صاحب کا اتفاق بس اس حد تک ہے کہ احادیث کو، قرآن کی دلالت کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے، کسی بھی طریقے سے قرآن سے متعلق کر دینے کو ’تبیین‘ نہیں کہا جا سکتا اور یہ کہ تخصیص کی بنیاد اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو اسے نسخ ہی تصور کیا جائے گا۔ غامدی صاحب اصول کی حد تک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم ان کی راے میں عملاً ایسی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں جو قرآن کے حکم میں تخصیص یا زیادت کرتی ہو اور اس کی بنیاد قرآن میں نہ بتائی جا سکے۔ یوں نتیجے کے اعتبار سے امام شافعی ہی کا موقف درست قرار پاتا ہے کہ حدیث، صرف قرآن کی مراد کو واضح کرتی ہے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرتی۔

بحث میں ایک بہت بنیادی اور اہم گوشے کا اضافہ غامدی صاحب نے قرآن کی روشنی میں احادیث کی تفہیم و توجیہ اور تحدید وتخصیص کے اصول کی صورت میں کیا ہے اور اس کے تحت کئی اہم موضوعات سے متعلق احادیث کی تعبیر وتشریح ان کے ظاہری عموم کے تحت کرنے کے بجاے ان کا ایک مخصوص دائرۂ اطلاق متعین کیا ہے جو ان کی راے میں قرآن مجید میں اس اصل حکم سے واضح ہوتا ہے جس پر یہ احادیث متفرع ہوئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں  جنگی قیدیوں کو غلام بنانے، رجم، ربا الفضل، ارتداد پر سزاے موت اور بعض دیگر اہم مسائل سے متعلق احادیث کی تاویل وتوجیہ میں ان کا نقطۂ نظر جمہور فقہا سے بہت مختلف ہو جاتا ہے۔

قرآن سے متعارض اخبار آحاد کو قبول نہ کرنے کے ضمن میں غامدی صاحب نے اصولاً کوئی نیا موقف پیش نہیں کیا، البتہ بعض اہم روایات پر اس کے انطباق میں ان کی راے جمہور اہل علم سے مختلف ہے اور انھوں نے، مثال کے طور پر نزول مسیح، جمع قرآن اور اختلاف قراء ت وغیرہ سے متعلق روایات کو قرآن مجید کے بیانات سے متصادم ہونے کی بنا پر قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

غامدی صاحب کے اس پورے فریم ورک کے کئی پہلوؤں پر علمی نقد کیا گیا ہے اور مزید کئی پہلو بھی اس حوالے سے زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہاں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ ان کے نقطۂ نظر اور استدلال کو روایتی اصولی فکر میں چلے آنے والے سوالات اور مباحث کے تناظر میں سمجھا جائے اور اتفاقات و اختلافات کے اہم جوانب کی طرف اہل علم کو متوجہ کر دیا جائے تاکہ غامدی صاحب کے نتائج تحقیق پر غور وفکر یا نقد وانتقاد کا سلسلہ درست تناظر میں اور مستند علمی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔


جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۱)

مولانا محمد اشفاق

انسانی جسم میں بعض تصرفات خصوصاً عورتوں سے متعلقہ چند افعال   سے احادیث ِ مبارکہ میں سختی  سے منع کیا گیا ہے ،اور ان پر لعنت بھی کی گئی ہے ؛جیسے بالوں میں دوسرے بال ( وصل  کرنا یا کروانا)لگوانا،جسم کو گودنا یا گدوانا( وشم)، ابرؤوں کو باریک کروانا( نمص) دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا( تفلیج) ۔  انھی میں جدید دور کے بعض جمالیاتی تصرفات کو بھی شامل کیا جاتاہے ،جیسے  چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کےلیے یا اس طرح کے دوسرے مقاصد کےلیے سرجری کروانا وغیرہ ۔اس طرح کے افعال سے ممانعت کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی جسمانی ساخت میں تبدیلی ہے جسے " تغییر خلق اللہ " کہا جاتاہے ۔ حدیث کے بعض الفاظ سے  بھی اس علت کاپتا چلتاہے ،اس لیے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت میں تغییر خلق اللہ کو کس نظر سے دیکھا گیا ہے ۔ اگر تغییر خلق اللہ سے ممانعت ہے تو کیا وہ عمومی اور مطلق ہے ۔ اور کیا بذاتِ خود تغییر خلق اللہ سے منع کرنا مقصود ہے یا یہ حکم معلول بالعلۃ ہے ، یعنی اصل مقصود کسی اور برائی سے منع کرنا ہے جو تغییر خلق اللہ میں بھی پائی جا سکتی ہے  ؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم  بن جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی ایسا معاملہ ہے  جس کی بعض صورتیں تو بالکلیہ ناجائز ہیں، لیکن کچھ صورتیں ایسی بھی ہیں کہ جہاں تبدیلی کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ وہاں شریعت کا مطالبہ ہے کہ تبدیلی کی جائے ،اور شریعت اس تبدیلی کرنے پر بھی اجرو ثواب کامستحق بناتی ہے جیسا کہ ہم آگے چل کر ذکر کریں گے ۔ بہرحال سوال یہ پیدا  ہوتاہے کہ مذکورہ بالا جسمانی تصرفات  سے ممانعت کی علت اور وجہ کیا ہے  اور جہاں علت اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تبدیلی کو قرار دیا گیا ہے، تو خود اس علت کے پیچھے کیا اصول کار فرما ہے اور اگر ان میں اجازت ہے تو کیا مطلقاً اجازت ہے یا اس میں کوئی قیود و شروط ہیں ؟ آنے والے صفحات میں اسی سوال کو قرآن و سنت اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کی مختلف صورتیں

اس سے پہلے کہ ہم سوال سے متعلق بحث کی طرف آئیں ، مناسب معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کی جائز و ناجائز ہونے کے اعتبار سے  جو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں ان کو ذکر کر دیاجا  ئے۔ 

کسی چیز میں ایسے طور پر  تبدیلی کی جائے کہ  تخلیق کے مقاصد میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہ ہو بلکہ وہ عضو یا جسم کا وہ خاص حصہ اسی طرح باقی رہے   جیسے پہلے تھا محض اس میں اتنی تبدیلی کرنا کہ جس سے اس میں مزید خوب صورتی آجائے جیسے سرجری کے ذریعے سے جسم کے کسی حصہ کو سخت کروانا وغیرہ وغیرہ ، اس قسم کا شریعت میں کیا حکم ہے۔اس کا جواب آئندہ صفحات میں آئے گا ۔

دوسری صورت کہ  جہاں شریعت  کا مطالبہ یہ ہے کہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی  واقع کی جائے اور شریعت  نے  اس تبدیلی کو مستحسن و مستحب قرار دیا ہے گویا یہ تبدیلی شریعت  میں مطلوب ہے ، جیسے ختنہ کرنا،  ناخن  تراشنا، مونچھیں کاٹنا ، وغیرہ 1۔ اب یہاں شریعت ہم سے خود مطالبہ کرتی ہے کہ  یہاں تغییر کی جائے ۔

ایک اور صورت بھی ہے کہ جہاں شریعت نے اس کام کے لیے کوئی حدود وقیود مقرر نہیں  کی ہیں  بلکہ اس کو انسان پر چھوڑ دیا ہے  کہ  اس چیز کے استعمال کو اپنے لیے جیسے مناسب سمجھے ویسا ہی کرے ۔ یعنی یہاں تغییر کو انسانی منفعت کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کہ اگر اس  تبدیلی سےکسی نفع کا حصول ممکن ہے تو تبدیلی کرنے کی گنجائش ہے   جیسے:درختوں کی پیوندکاری اور گدھے اور گھوڑی کے ملاپ سے خچر پیدا کرنا  وغیرہ ۔ یہاں بھی بظاہر جنس کی تبدیلی ہو رہی ہے جو کہ ’’خلق اللہ‘‘ یعنی قدرتی ساخت میں تبدیلی ہے، لیکن شریعت نے اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں لگائی ،بلکہ  رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ کہا گیاکہ یہ تمہارے دنیا کے معاملات ہیں اس میں تم جو مناسب سمجھو ویسا کرو۔اسی طرح علاج بالکی  ّ(داغ دینا) جو کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں علاج کا ایک ذریعہ تھا کہ لوہا  یا کوئی دھات وغیرہ گرم کر کے جسم پر داغا  کر تے تھے اس سے رسول اللہ ﷺ سے منع نہیں کیا ، چہرہ کے علاوہ کے لیے اسے بھی جائز قرار دیا 2۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جسمانی ساخت میں ہر تبدیلی ممنوع نہیں ہے ، اس لیے یہ اور زیادہ ضروری ہو جاتاہے کہ تغییر خلق اللہ سے ممانعت کے تصور کو گہرائی میں جا کر سمجھا جائے ۔ اس سے نہ صرف حدیث میں ذکر کردہ افعال کی تفصیلات کو جاننا آسان ہوجائے گا بلکہ دورِ جدید میں  تجمیلی جراحات ( cosmetic surgeries) کا حکم ِ شرعی جاننا بھی آسان ہوجائے گا ۔

آنے والے صفحات میں ترتیب یہ ہوگی ، سب سے پہلے قرآن میں تغییر خلق اللہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پھر احادیث ِ مبارکہ میں ، اس کے بعد اقوالِ فقہاء کی روشنی  میں جائزہ لیا جائے گا ۔

تبدیلیٔ تخلیق سے متعلق آیتِ کریمہ کی وضاحت

بادی النظر میں اس بحث سے جس آیت کا تعلق بنتاہے وہ ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے :   

وَلَأُضِلَّنَّھُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا 3

(اور میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گااور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے )  4

اس آیت کریمہ کو مذکورہ افعال   کے عدم ِ جواز پر بطورِ دلیل کے پیش کیا جاتاہے ،اس لیے ضروری معلوم ہوتاہے کہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد "فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہ"سے متعلق سلف سے جو اقوال مروی ہیں ان کا ذکر کیا جائے، چنانچہ سلف سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق چار اقوال ملتے ہیں ۔

پہلا قول

 اس آیت میں تغییر سے’’ اللہ کے دین میں تبدیلی ‘‘مرادہے ۔ یہ قول ابن عباس  ، ابراہیم نخعی، مجاہد،حکم ، سدی، ضحاک، عطاء الخراسانی  اورقتادہ  (سے  دوسری روایت کے مطابق   )سے مروی ہے 5۔  اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے دین میں دو طرح سے تبدیلی کرتے تھے ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ امور و اشیاء کو حرام قرار دیتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کے حرام کیے ہوئے امور و اشیاء کو حلا ل گردانتے تھے ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ  نے ہر ایک کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا ہے  ، بعد میں اس کے والدین اس کو ادیانِ باطلہ کی طرف مائل کردیتے ہیں  ۔یعنی اللہ نے فطرتاً انسان کو جس دین پر پیدا کیاہے اس سے ہٹانا اللہ کی تخلیق میں تبدیلی اور فطرت کو مسخ کرناہے ۔ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے  امام رازی  کہتے ہیں  کہ اس قول کی دو طرح سے تشریح کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا  کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے عہدِالست لینے کا ارادہ فرمایا تو اس  وقت حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو ذروں کی شکل میں نکالا اور ان  سےاس بات کی  گواہی لی کہ وہ ان کا رب ہے ، سب  نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی گواہی دی  ،  اس کے بعد جس نے کفر کیا اُ س نے  اُس فطرت کو تبدیل کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تھا ۔اور رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک سے بھی اس بات کی تائید ہوتی  ہے ۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ہر پیداہونے والا بچہ فطرت(اسلام) پر پیدا کیا جاتاہے پس اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں 6 ۔

اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور و اشیاء کو حلال سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ امور و اشیاء کو حرام خیال کرے  ، جس نے ایسا کیا گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کی7۔

دوسرا قول

تغییر سے مراد’’ جانوروں کا خصی کرناہے‘‘ یہ قول ابن عباس،انس بن مالک 8، سعید  بن المسیب ، عکرمہ9 ( ایک قول کے مطابق)اور سفیان ثوری سے مروی ہے ( یہ الگ بحث ہے کہ   آیا جانوروں کا خصی کرناجائز ہے یا نہیں )

تیسرا قول

تغییر سے  ’’وشم ‘‘( جسم کا گدوانا) مراد ہے ۔ حسن بصریؒ سے اور بقول امام بغویؒ عکرمہ سمیت متعدد مفسرین کا یہی قول ہے10۔علامہ  قرطبی  لکھتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ اور حسن بصری کے نزدیک اس آیت  میں تغییر سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خوب صورتی کے لیے کیا جائے چنانچہ لکھتے ہیں :

 وقالت طائفۃ: الإشارۃ بالتغيير إلي الوشم وما جری مجراہ من التصنع للحسن، قال ابن مسعود والحسن. ومن ذلك الحديث الصحيح عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق اللہ الحديث. أخرجہ مسلم،۔11

اور ایک گروہ کہتاہے : تغییر سے وشم( جسم گودنے،گدوانے) کی طرف اشارہ ہے اور جو   بھی کام اس سے ملتا جلتاہو ( وہ بھی اس ممانعت میں داخل ہوگا ) ،خوبصورتی کےلیے کیا جائے ۔ ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور حسن کہتے ہیں یہ حدیث بھی اسی سے متعلق ہے چنانچہ عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے :  اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر ، اورپیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی عورتوں پر ،اور دانتوں کے درمیان خوبصورتی کےلیے فاصلہ کروانے والی عورتوں پر جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی ہیں ۔

چوتھا قول

 زجاج کہتے ہیں : یہ آیت اپنے عموم پر نہیں بلکہ ایک خاص تناظر میں نازل ہوئی ہے۔  وہ یہ کہ مشرکین کی عادت تھی کہ اپنے پالتو جانوروں میں سے خاص قسم کے جانوروں کو بتوں کے نام وقف کر دیتے اور ان سے حاصل شدہ گوشت اور دودھ کو اپنے اوپر حرام خیال کرتے تھے۔ حالانکہ جانوروں کے پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے دودھ اور گوشت سے منفعت حاصل کی جائے، لیکن مشرکین چونکہ اس مقصدِ تخلیق  کو نظرانداز کر رہے تھے اور مقصدِ تخلیق کو نظرانداز کرنا اللہ تعالیٰ کی  تخلیق  میں تبدیلی ہے ۔اسی پر اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کر رہے ہیں ۔زجاج مزید کہتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورج،چانداور ستاروں کو تخلیق کیا تاکہ ان کے ذریعے سے وقت کی تعیین اور ان کی روشنی سے فائدہ اٹھا کر معاش وغیرہ کا بندوبست کیا جائے ۔لیکن لوگوں نے یہ کیا کہ ان کو اپنا معبود بنالیا اور ان کی عبادت شروع کر دی اور ان کو اپنےمحل کے علاوہ میں استعمال کیاجانے لگا ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز سے منع فرما رہے ہیں کہ یہ  اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے۔ 12

مندرجہ بالا اقوال کا عمومی جائزہ

مندرجہ بالا اقوال میں سب سے معقول اور قرآن کریم کے اس سلسلۂ آیات کے سیاق سے جو قول زیادہ مطابقت رکھتاہ ہوا نظر آتا ہے وہ پہلا قول ہے چنانچہ پورا سلسہ ٔ آیات یہ ہے :

إِنَّ اللَّہ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِہ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّہ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔  إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِہ إِلَّا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَرِيدًا ۔ لَعَنَہُ اللَّہ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا ۔ وَلَأُضِلَّنَّھُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّہ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا۔ 13

بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشتا کہ  اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے ، اور اس سے کمتر ہر گناہ  کی  جس کےلیے چاہتاہے بخشش کردیتاہے۔اور  جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہے وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتاہے ۔ اللہ کو چھوڑ کر جن سے یہ دعائیں مانگ رہے ہیں وہ صرف چند زنانیاں ہیں ،اور جس کو یہ پکار رہے ہیں وہ اس سرکش شیطان کے سوا کوئی نہیں ، جس پراللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے ۔ اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھاہے کہ" میں  تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا ، اور میں انہیں راہِ راست سے بھٹکا کر رہوں گا ،اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا،اور انہیں حکم  دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے ،اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے " اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے ، اس نے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ 14

ان آیات کے  پورے سیاق کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں اصل موضوعِ بحث مشرکین کی فروعی اور عملی کوتاہی بیان کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان آیات میں شرک  اور شرک سے جڑے افعال کی مذمت فرمارہے ہیں چنانچہ ا س سلسلۂ آیات میں یہ بات بہت بعید ہے  کہ مشرکین کی  ایک جزوی اور فروعی کوتاہی ( جسم کو گدوانا، بالوں میں دوسرے بال لگواناوغیرہ ) کو ذکر کریں ۔  لہذا سیاق سے یہ بات مطابقت رکھتی ہے کہ تبدیلیٔ خلقت سے مراد انسانی فطرت مسخ کرکے دین کو بدلنا ہے15 ۔ (اگر یہ مان لیا جائے کہ یہاں چند جزوی افعال کی مذمت مقصود ہے تو  اًس دور کے اعتبار سے شرکیہ تصورات کے ساتھ ان افعال کا ربط وتعلق بھی ڈھونڈنا پڑے گا) اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کا ذکر سورہ روم میں بھی ہے ، وہاں سیاق میں توحید و شرک کا بیان ہے ۔ سورہ ٔ روم کا انداز ِ تعبیر واضح ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی سے مراد فطرت  کو مسخ کرنا اور قبول ِ حق کی فطری استعداد کو ضائع کرنا ہے ۔ سورۂ روم کی متعلقہ آیات یہ ہیں :

ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ ھَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيہ سَوَاءٌ تَخَافُونَھُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ، بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَھْوَاءَھِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَھْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّہ وَمَا لَھُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ،فَأَقِمْ وَجْھَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّہ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْھَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّہ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ، مُنِيبِينَ إِلَيْہ وَاتَّقُوہُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاۃَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ16

اللہ تعالیٰ (شرک کو مذموم و باطل ثابت کرنے کےلیے17 )   تمہارے اندر سے ایک مثال دیتاہے ۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیاہے ، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو ( اور ) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے ڈرتے ہو ؟ہم اسی طرح ان لوگوں کےلیے دلائل کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ، جو عقل سے کام لیں ۔ لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں ۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتاہے جسے اللہ نے گمراہ کر دیاہو ، اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف قائم رکھو ۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام  لوگوں کو پیدا کیا ہے ۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ، یہی بالکل سیدھا راستہ ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔(فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو)کہ تم نے اسی (اللہ ) سے لو لگا رکھی ہو ، اور اس ڈرتے رہو ، اور نماز قائم کرو ، اور ان لوگوں  کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں،18

مفتی محمد شفیع آیت کریمہ "لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّہِ" یعنی اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی سے متعلق  ایک قول نقل کرتے ہیں :

دوسرا قول یہ ہے کہ فطرت سے مراد استعداد ہے ، یعنی تخلیق ِانسانی میں اللہ تعالیٰ نے خاصیت رکھی ہے کہ ہر انسان میں اپنے خالق کو پہچاننے اور اس کو ماننے کی صلاحیت و استعداد موجود ہے ، جس کا اثر اسلام قبول کرنا ہوتاہے ، بشرطیکہ اس استعداد سے کام لے ۔ 19

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی اس فطری استعداد کو ضائع کرنے کے مترادف ہےجو اللہ تعالیٰ نے پیدائش سے قبل ودیعت کی تھی ۔گویا قرآن کریم کے ان دونوں مقامات پر فطرت کے مسخ  کرنے اور اسلام کے مقابلے میں کفرو شرک اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہوا کہ سورۂ نساء کی اس زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں پہلا قول سیاق کے سب سے زیادہ قریب ہے۔

 اس کے بعد جو قول بظاہر  اس آیت کے سیاق سے قریب  تر معلوم ہوتاہے وہ زجاج کا ہے ۔ کیوں کہ اِ ن آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی مذمت فرمارہے ہیں اور جہاں شرک کی مذمت ہو ،وہاں باطل معبودوں کا تذکرہ نہ ہو۔ یہ بات بہت بعید ہے ، اور زجاج کے قول کا بھی یہی  مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج ،چاند وغیرہ کو منفعت کے حصول کے لیے تخلیق فرمایا، لیکن مشرکین ان کے مقصدِ تخلیق  کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی عبادت کر رہے ہیں ۔

اوپر ذکر کیے گئے ان دو اقوال کے علاوہ باقی اقوال کا بادی النظر  میں اس آیت کے سیاق سے تعلق نہیں   ہے  ۔  اس لیے  انسانی جسم میں تبدیلی کرنے والے مسئلے سے آیت کا تعلق جوڑنا محل نظر ہے، إلا یہ کہ یہ ثابت ہوجائے کہ اُس دور میں ان افعال کا شعائرِ شرک سے کوئی تعلق تھا۔

تبدیلیٔ تخلیق سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات

البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند ارشادات ایسے ہیں جو براہ ِ راست اس مسئلہ سے بحث کرتے ہیں ، ذیل میں ان کواحادیث کو  نقل کیا جارہاہے  ۔اس موضوع پر کل سات صحابہ کرام ؓ سے حدیث مروی ہے :

حدیث ابن مسعودؓ

    1. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاھِيمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی» مَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، وَھُوَ فِي كِتَابِ اللَّہِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ} [الحشر: 7]20

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر ، اورپیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی عورتوں پر ،اور دانتوں کے درمیان خوبصورتی کےلیے فاصلہ کروانے والی عورتوں پر جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی ہیں ۔اور کہتے ہیں : کیوں نہ میں لعنت کروں اس شخص پر جس پر اللہ کے نبی نے لعنت کی ہے ،اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے " اور جو تمہیں رسول عطا کریں پس اس کو لے لو "۔

حدیث أبو ہریرۃؓ

    2. وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَۃَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ھُرَيْرَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّہ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ، وَالوَاشِمَۃَ وَالمُسْتَوْشِمَۃَ»21

حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے  روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت کرتے ہیں بالوں میں دوسرے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ، اور جسم کو گودنے والی پر اور گدوانے والی پر

حدیثِ عائشہ ؓ

    3. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ الحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّۃَ بِنْتِ شَيْبَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، رَضِيَ اللَّہُ عَنْھَا: أَنَّ جَارِيَۃً مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ، وَأَنَّھَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُھَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوھَا، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ» 22

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ، اس حال میں کہ وہ مریضہ تھی  پس اس کے  گر گئے تھے تو انصار نے چاہا کہ اس کے سر میں میں دوسرے بال لگوادیں ، پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ۔

حدیثِ أسماء بنت أبی بکرؓ

    4. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ امْرَأَتِہِ فَاطِمَۃَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ»23

حضرت اسماء بنت ابی بکر   نے کہا: رسول اللہﷺ نے لعنت فرمائی ہے بالوں میں دوسرے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ۔

حدیث ابن عمرؓ

    5. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّہِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّہُ عَنْھُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ، وَالوَاشِمَۃَ وَالمُسْتَوْشِمَۃَ24

حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ لعنت  کرتے ہیں  بالوں میں دوسرے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ، اور جسم کو گودنے والی پر اور گدوانے والی پر ۔

حدیث معاویۃؓ

    6. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَۃُ المَدِينَۃَ، آخِرَ قَدْمَۃٍ قَدِمَھَا، فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ كُبَّۃً مِنْ شَعَرٍ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَی أَحَدًا يَفْعَلُ ھَذَا غَيْرَ اليَھُودِ «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ سَمَّاہُ الزُّورَ.25 يَعْنِي الوَاصِلَۃَ فِي الشَّعَرِ

سعید بن المسیب  کہتے ہیں ، حضرت معاویہ ؓ جب آخری بار مدینہ آئے ، پس انہوں نے ہمیں خطبہ دیا، پس انھوں نے بالوں کا ایک گچھا نکالا،کہا: میں نے یہود کے علاوہ کسی کو یہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ،بے شک رسول اللہ ﷺ نے اس کو دھوکا قرار دیاہے ، یعنی جو عورت بالوں میں دوسرے بال لگواتی ہے ۔

حدیث ابن عباسؓ

    7. - حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، عَنْ أُسَامَۃَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاھِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لُعِنَتِ الْوَاصِلَۃُ، وَالْمُسْتَوْصِلَۃُ، وَالنَّامِصَۃُ، وَالْمُتَنَمِّصَۃُ، وَالْوَاشِمَۃُ، وَالْمُسْتَوْشِمَۃُ، مِنْ غَيْرِ دَاءٍ26

ابن عباس ؓ سے مروی ہے، فرمایا: بالوں میں دوسرے بال ملانے والی  اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی عورت پت ،اور ابروؤں کو باریک کر نے والی اور کروانے والی  عورت ، اور جسم کو گودنے والی اور گدوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے ( جب یہ افعال) بیماری کے علاوہ کیے جائیں ۔

اوپر ذکر کردہ تمام روایات میں کم و بیش تقریباً ایک جیسے الفاظ ہی استعمال ہوئے ہیں۔ اور تمام روایات میں ان عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو مذکورہ افعال میں سے کوئی ایک بھی  کرتی ہیں۔ البتہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ  کی روایت میں  ایک جملہ "المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالٰی" زائد ہے جس کا باقی روایات میں ذکر نہیں ملتا ۔ اس روایت کے طرق دیکھنے  سے اندازہ ہوا کہ  یہ کسی روای کا ادراج نہیں ہے بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ہی   مروی ہے ۔ تفصیل یوں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرنے والوں میں صرف ان کے ایک شاگرد  علقمہ ہیں ، اور ان سے روایت کرنے والوں میں ابراہیم ،اورابراہیم سے روایت کرنے والے بھی سوائے منصور کے کوئی  نہیں ۔آگے  منصور سے روایت کرنے والوں کی تعداد تقریباً چودہ ہے، ان چودہ طرق میں  سے ہر طریق میں یہ الفاظ  "المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی" مروی ہیں ۔ تمام طرق میں یہ لفظ موجود ہونے سے زیادہ رجحان یہی ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہی روایت کیے گئے ہیں،بعد کے کسی راوی کا ادراج نہیں ہے ۔  اگرچہ اس سے حتمی نفی منصور سے نیچے کسی کے ادراج کی ہوتی ہے، منصور یا اس سے اوپر کسی کا ادراج ہونے سے تمام طرق میں ہونے والے  اس امکان کی حتمی نفی نہیں ہوتی۔  تاہم آگے کی بحث اسی مفروضے کو لے کر کریں گے کہ یہ لفظ حضرت ابن مسعودؓ ہی سے مروی ہیں، نیچے کے کسی راوی کا ادراج نہیں ہیں۔

مذکورہ  تمام روایات میں ان عورتوں کے لیے لعنت جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ان الفاظ سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ان افعال  سے ممانعت کی علت وہ چیز بن سکتی ہے  جو براہِ راست کسی شرعی اصول سے ٹکرا رہی ہو اور شریعت کی نظر میں وہ بہت شنیع اور سنگین ہو۔ کیوں کہ اگر کسی روایت میں کسی ایسے عمل کی فضیلت  یا مذمت بیان کی گئی ہو جو دیکھنے میں کم اہمیت و حیثیت والا ہو اور اس روایت میں ذکر  ہونے والا ثواب یا عقاب اس عمل سے کسی طرح میل نہ کھاتاہو تو محدثین ایسی احادیث کو موضوعات میں شمار کرتے ہیں ، اور اس کو وضع کی علامت  قرار دیتے ہیں؛ چنانچہ  سیوطی ؒ اپنی معروف تصنیف "تدریب الراوی" میں راقم طراز ہیں :

 ومنھا الإفراط بالوعيد الشديد علی الأمر الصغير، أو الوعد العظيم علی الفعل الحقير، وھذا كثير في حديث القصاص، والأخير راجع إلی الركۃ.27

( اور وضع کی علامات میں سے) ایک یہ ہے کہ چھوٹے سے عمل پر سخت وعید بیان کی گئی ہو ، یا کسی چھوٹے سے نیک فعل پر بہت بڑا وعدہ کیا گیا ہو ۔ اور یہ چیز واقعات میں بہت زیادہ ہے ۔ میں کہتاہوں !اس کے قرائن میں سے یہ ہے کہ رافضی راوی اہلِ بیت کے فضائل میں حدیث بیان کرے ۔

اس سے معلوم ہوا کہ نصوص کے مطالعہ میں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ فعل اور اس پر وارد شدہ وعید میں کوئی مناسبت ہو۔ اس موقع پر ایسی احادیث کی طرف اشارہ بھی مناسب ہے جن میں  حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے بعض صحابہ کی مرویات پر  استدراکات کیے، ان میں ایسی روایتیں بھی ہیں کہ جب کسی صحابی نے ایسی حدیث بیان کی ، جس میں بیان کی گئی شدید وعید اس عمل کی شناعت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ،تو حضرت عائشہ  ایسے موقع پر یہ فرماتیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کہنے کا یہ مقصد نہیں ہوگا یا حضور ﷺ ایسا نہیں کہہ سکتے ۔ مثلا ً  حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کو جہنم کی آگ میں جھونکا گیا ، اور جہنم میں ڈالنے کی وجہ یہ بنی کہ اس عورت نے ایک بلی کو باندھ دیا ، جب اس کو بھوک ،پیاس لگی تو اس خود کھلایا نہ ہی اسے کھلا چھوڑا تاکہ وہ اپنی خوراک کا خود بندو بست کرلے ۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے جہنم میں ڈال دیا 28۔ اس حدیث کے بیان کرنے پر حضرت عائشہ ؓ نے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا : ابوہر یرہ  ؓ کیا آپ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کو اس وجہ سے جہنم کی آگ میں ڈالا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھے رکھا ، اسے کچھ کھلایا نہ پلایا ؟ تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ : جی ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ۔ تو اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ عورت کون تھی ؟ وہ ایک کافرہ عورت  تھی ، اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی ذات سے بہت بعید ہے کہ ایک بلی کی وجہ سے کسی مؤمن کوعذا ب میں مبتلا کریں۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے یہ دیکھ لیا کرو کہ کیسی حدیث بیان کررہے ہو29۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بادی النظر محض یہ افعال تنہا اس قابل نہیں لگتے کہ ان پر اتنی شدید وعید بیان کی گئی ہو، جب تک کہ ان افعال کے پیچھے کوئی اور سنگین برائی موجود نہ ہو  ۔ اس لیے ابن مسعود   سے مروی حدیث کی طرف آنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ  اس حدیث سے قطع نظر فقہا سے اِ ن مذکورہ بالا افعال  سے ممانعت کی جو علتیں  منقول ہیں ان کا ذکر کر دیا جائے ۔

(جاری)

حواشی

  1. صحیح مسلم کی روایت ہے : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ "مسلم بن الحجاج ، الصحیح لمسلم ، دارحیاء التراث العربی،بیروت ، ج۱،ص ۲۲۳،رقم الحدیث : ۲۶۱۔
  2. جامع ترمذی کی روایت ہے : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ»: وَفِي البَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ  الترمذی، محمد بن عیسی، جامع الترمذی،ج ۴، ص ۳۹۰ ،رقم الحدیث:۲۰۵۰،مکتبۃ و مطبعۃمصطفیٰ البابی،مصر،الطبعۃ الثانیۃ،۱۳۹۵ھ،۱۹۷۵ء
  3. النساء :۱۱۹
  4. تقی عثمانی ، محمد ، مفتی ، آسان ترجمہ قرآن ،ص ۲۲۰،مکتبہ معارف القرآن ،کراچی، ۲۰۱۴ء
  5. ابوالحجاج ،مجاہد بن جبر ، تفسیر مجاہد ، ص ۲۹۳، دارالفکر الاسلامی  الحدیثۃ ، مصر ، الطبعۃ الاولیٰ  ۱۹۸۹ء،  ابو حاتم  الرازی، عبدالرحمان بن محمد ، تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم ،رقم: ۵۹۸۲،مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، المملکۃ السعودیۃ، ط: الثالثۃ، ۱۴۱۹
  6. امام ابوداود نے اپنی سنن میں یہ حدیث درج کی ہے : حدَّثنا القَعْنبيُّ، عن مالكٍ، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "كل مَولودٍ يولدُ على الفِطرة، فأبواهُ يُهودانِهِ وينصّرانه، كما تَناتَجُ الإبِلُ من بهيمةٍ جمعاءَ، هل تُحِشُ من جَدْعَاءَ؟ " قالوا: يا رسول الله، أفرأيتَ مَن يموتُ وهو صغير؟ قال: "الله أعلمُ بما كانوا عامِلِين"(ابوداود، سلیمان بن اشعث، سنن لابی داود، رقم الحدیث : ۴۷۱۴ ، المکتبۃ العصریۃ ،بیروت،)
  7. رازی، أبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين  الملقب بفخرالدین الرازی، مفاتیح الغیب ، ج 11،ص 223،داراحیاء التراث العربی،بیروت، ط:الثالثۃ ، ۱۴۲۰ھ
  8. طبری، محمد بن جریربن یزید، ابوجعفر الطبری، جامع البیان  فی تاویل القرآن،رقم : ۱۰۴۴۸۔۱۰۴۴۹
  9. محولہ بالا۔ رقم: ۱۰۴۵۴
  10. بغوی، أبو محمد الحسين بن مسعود البغوي،تفسیر البغوی، ج۲، ص ۲۸۹، دارالطیبہ للنشر والتوزیع، ط: الرابعۃ ، ۱۹۹۷ء
  11. قرطبی،  محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين ،الجامع لاحکام القرآن ، ج۵،ص ۳۹۲، دارلکتب المصریہ،القاہرہ، ط: الثانیۃ،۱۳۸۴
  12. قرطبی،محمد بن أحمد بن أبي بكر  ،الجامع لاحکا م القرآن ، ، ج۵، ص ۳۹۴
  13. النساء ، آیات: ۱۱۶،۱۱۷،۱۱۸
  14. عثمانی ،محمد تقی، مفتی، آسان ترجمہ قرآن ، ص  ۲۱۹
  15. یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ قرآن کریم میں راجح قول کے مطابق تغییر سے اللہ کے دین میں تبدیلی مراد ہے ، حالانکہ یہی الفاظ حدیثِ مبارکہ میں کسی اور سیاق میں استعمال ہوئے تو یہ کیسے ہوسکتاہے کہ قرآن کریم میں انہی الفاظ کا الگ معنیٰ ہو اور حدیث میں الگ ۔؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا محمد زاہد کہتے ہیں : یہ کوئی نئی  بات نہیں  ہے ۔ متعدد مقامات پر ایسا ہوتاہے کہ ایک لفظ قرآن کریم میں کسی اور معنیٰ میں مستعمل ہوتاہے جبکہ بعینہ وہی لفظ جب حدیث میں آتاہے تو اس کامعنیٰ بالکل مختلف ہوتاہے مثلاً :قرطبی لکھتے ہیں : تبتّل کا لفظ ہے ، اس قرآن کریم میں معنیٰ یہ ہے کہ اللہ کی یاد کےلیے اپنے آپ کو لوگوں سے الگ تھلگ کرلو ۔ جبکہ اسی لفظ کا حدیث میں معنیٰ یہ ہوتاہے کہ تارک الدنیا ہونے کی بنا پر شادی نہ کرنا ۔ (قرطبی،محمد بن احمد بن ابی بکر ، الجامع لاحکام القرآن ، ج۱۹،ص۴۵)
  16. الروم ، آیات :۲۷،۲۸،۲۹،۳۰
  17. شفیع، محمد ، مفتی ، معارف القرآن ، ج ۶،ص ۷۴۱، ادارۃ المعارف، کراچی ،۲۰۰۳ء
  18. عثمانی ، تقی، محمد ، آسان ترجمہ قرآن ، ص ۸۵۷،۸۵۸
  19. شفیع ،محمد ، معارف القرآن ، ج ۶،ص ۷۴۶
  20. البخاری ، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، صحیح البخاری  ۱۶۴:۷ رقم ۵۹۳۱( درطوق النجاۃ ،الطبعۃ الثانیہ )
  21. ایضا ، رقم الحدیث:  ۵۹۳۳
  22. ایضا ،رقم الحدیث: ۵۹۳۴
  23. ایضا ، رقم الحدیث: ۵۹۳۶
  24. ایضا ،رقم الحدیث : ۵۹۳۷
  25. ایضا ،رقم الحدیث: ۵۹۳۸
  26. ابوداود، سلیمان بن اشعث الازدی، السجستانی، رقم الحدیث: ۴۱۷۰،المکتبۃ العصریۃ،بیروت ،س ن
  27. سیوطی، عبدالرحمان بن ابی بکر ، جلال الدین ، تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی،ج ۱،ص ۳۲۶، دارطیبہ ، س ن
  28. امام مسلم اپنی صحیح میں یہ روایت بیان کرتے ہیں: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: ذَلِكَ، لِئَلَّا يَتَّكِلَ رَجُلٌ، وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ (صحیح مسلم، ج۴،ص۲۱۱۰،رقم الحدیث:۲۶۱۹۔)
  29. امام ابوداود طیالسی اپنی مسند میں یہ روایت بیان کرتے ہیں : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ «امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا» فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَتَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً، إِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ ( مسند ابی داود الطیالسی ، ج۳،ص ۲۸، رقم الحدیث: ۱۵۰۳)

ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم

محمد عرفان ندیم

مصنف: ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی

ناشر: براون بک پبلیکشنز ، نیو دہلی

ضخامت: 160

عرب و ہند کے تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے، بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہندوستان کے مختلف قبائل جاٹ، مید، سیابچہ ، احامرہ، اساورہ اور بیاسرہ وغیرہ تجارت کی غرض سے بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ آیا جایا کرتے تھے۔یہ قبائل براستہ ایران عراق گئے اور وہاں سے جحاز کے مختلف خطوںمیں آ باد ہوگئے۔انہی تجارتی تعلقات اور میل جول کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش پہلی صدی ہجری میں ہی نظرآنے لگے تھے۔سن دس ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ نے ان کو دیکھ کر فرمایاتھا کہ: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں۔“ ان میں سے بعض قبائل حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے دور میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر چکے تھے۔

بعد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں عرب و ہند کے درمیان یہ مراسم بڑھتے گئے اور ان میں باہمی شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل نکلا۔اس ہم آہنگی اور رشتہ داری کی وجہ سے زمانہ قدیم میں ہی ہندوستان کی تمام مصنوعات بشمول اشیائے خوردونوش جن میں ناریل، لونگ، صندل، چاول ، گیہوں اور دیگر اشیاءشامل تھیں عرب کی منڈیوں تک پہنچ چکی تھیں۔عرب وہند کے ان قدیم تجارتی تعلقات کی بابت ایک مصری مورخ لکھتاہے:” جنوبی عرب سے آنے والے تجارتی قافلوں کی ایک منزل مکہ مکرمہ ہوا کرتی تھی، یہ قافلے ہندوستان اور یمن کا تجارتی سامان شام اور مصر لے جاتے تھے، اثنائے سفر میں یہ لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کرتے اور وہاں کے مشہور کنوئیں”زمزم“ سے سیراب ہوتے اوراگلے دن کے لیے بقدر ضرورت زمزم کا پانی ساتھ لے جاتے تھے۔“ ( الجمل فی تاریخ الادب العربی)

 بنو امیہ کے دور میں راجا داہر کی سرکشی کی وجہ سے حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو ہندوستان کی طرف روانہ کیا ، یہ خطہ ہندوستان کی طرف اسلامی خلافت کی طرف سے پہلی باقاعدہ مہم جوئی تھی،محمد بن قاسم کو ناگاہ واپس جانا پڑا، بعد میںحضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے دور اقتدار میں اہل سندھ و ہند کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے جن میں توحید و رسالت کی دعوت اور بت پرستی و بداخلاقی سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی تھی، ان خطوط کا فوری نتیجہ یہ نکلاکہ بہت سے ہندو راجہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔یہ ہندوستان میں اسلام کے اولین نقوش تھے، بعد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلم حکمرانوں اور سپہ سالار وں نے ہندوستان پر حکومت کی ، ہندوستان کی آخری اسلامی حکومت مغلیہ سلطنت تھی ۔

 ہندوستان کی تاریخ میں اسلامی عہد حکومت ایک زرین عہد تھا جس میں تمام باشندگان کو یکساں حقوق اور سہولیات میسر تھیں ۔ مسلمانوں نے اسلامی تہذیب کے دور عروج سے استفادہ کر کے اس خطہ ہندوستان کو بھی مختلف علوم وفنون کا مرکز بنا دیا تھا ۔ اسلامی عہد کا ہندوستان خوشحال او ر ترقی یافتہ تھا ، قرب و جوار کے خطوں سے لوگ حصول علم کے لیے ہندوستان کا رخ کرتے تھے اور ہندوستان کی تہذیبی ترقی کی بدولت تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے اسے فتح کرنے کی کوشش کی ۔ مسلمانوں کی یہ تمام تر ترقی اسلام کے نظریہ تعلیم کی بنیاد پر تھی۔افسوس کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی تاریخیں تو بہت لکھی گئیں مگر علمی تاریخ کی طرف ذیادہ توجہ نہیں دی گئی ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی کارناموں سے تو ایک جہاں واقف ہے مگر ان کے علمی کارناموں سے خال خال لوگ ہی واقف ہیں۔

تاریخ کی اکثر کتب میں مسلم ہندوستان کی تعلیمی درسگاہوں اور ان کے نظام تعلیم کے بارے میں بہت کم مواد ملتا ہے ۔محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان اور مصر کے درمیان تعلقات عروج پر تھے ، اسی دور کا ایک مصری سیاح اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے کہ صرف دلی میں ایک ہزار مدرسے تھے جن میں ایک شافعی اور باقی سب حنفی تھے۔ ایک یورپی سیاح کپتان الگزنڈر ہملٹن اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ ٹھٹھہ میں مختلف علوم و فنون کے چار سو سے زائد مدارس تھے۔مسلمان اپنے مذہبی ذوق کی بنا پر تعلیم و تعلم کو لازم اور درسگاہوں کے قیام اورعلماءو طلبہ کی خدمت کو سعادت سمجھتے تھے ۔ اکبر بادشاہ نے اپنے تمام صوبوں کے گورنروں کے نام ایک فرمان جا ری کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو علم وہنر کی اشاعت کرتے رہیں تاکہ اہل کمال دنیا سے معدوم نہ ہو جائیں اور ان کی یاد گار صفحہ ہستی پر باقی رہے ۔

 قدیم ہندوستان میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا اندازیہ تھا کہ تعلیم کے لیے الگ عمارتیں قائم نہیں کی جاتی تھیں بلکہ یہ کام مساجد سے لیا جاتا تھاا ور اس دور کی ہر مسجد بذات خود ایک درسگاہ ہوا کرتی تھی ۔ مسجدوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے حجرے طلبہ اور علماءکی رہائش کے کام آتے تھے ۔ ایک اہم ذریعہ تعلیم خانقاہیں ہوا کرتی تھیں ، صوفیاءکرام تزکیہ نفس کے ساتھ مختلف علوم کی محفلیں سجاتے تھے ۔ حکومتوں کی طرف سے خانقاہوں کو جو وظائف جاری کیے جاتے تھے وہ طلباءکی رہائش اور طعام پر خرچ ہوتے تھے ۔

زیر تبصرہ کتاب میں ڈاکٹر محمد شمیم قاسمی نے ہندوستان کے تاریخی تناظر میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا جائزہ لیا ہے ۔ ڈاکٹرمحمد شمیم قاسمی مغربی بنگال کے تاریخی شہر کولکتہ کی عالیہ یونیورسٹی سے منسلک ہیں ،وہ یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک تھیالوجی میں بطورا سسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ بقول ڈاکٹر صاحب جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کر رہے تھے تو دوران ریسرچ انہیں کچھ ایسے موضوعات بھی مل گئے جن کا براہ راست ان کے مقالے سے تعلق نہیں تھا ، وہ انہیں یکجا کرتے رہے اور بعد میں فرصت کے اوقات میں ان کی نوک پلک سنوار کر انہیں مختلف رسائل و جرائد میں بغرض اشاعت بھیجتے رہے۔ یہ مقالات ہند و پاک کے مو¿قر جرائد میں چھپے اور قارئین نے انہیں پذیرائی بخشی ۔ بعد میں ایک حادثاتی ملاقات میں ناشر نے اس کی اشاعت کی حامی بھر لی اور یوں یہ کتاب منصہ شہود پر آئی ۔

ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے پیش لفظ میں ہندوستان کے تناظر میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا جائزہ پیش کیا ہے ، مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھے تو انہوں نے اس کی تعمیر و ترقی میں کوئی دقیقہ فرگزاشت نہیں کیا ، انہوں نے ما قبل حملہ آوروں کی طرح اس کو کنگال اور برباد نہیں کیا بلکہ اسے اپنا وطن سمجھ کر اس کی تعمیر و ترقی میںجت گئے ۔ ہندوستان شروع سے ہی ایک تکثیریت زدہ معاشرہ رہا ہے ، گوتم بدھ کے زمانے میں ہندوو¿ں میں ذات پات کا سسٹم عروج پر تھا ، نچلی ذاتوں کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا تھا ، گوتم بدھ کا ظہور ہندومذہب میں حد سے بڑھی ہوئی طبقاتی تقسیم کا ہی رد عمل تھا ، اگرچہ گوتم کی تعلیمات سے اس میں بہتری آئی مگر کچھ ہی عرصے بعد وہی برائیاں ہندوستانی سماج میں د وبارہ لوٹ آئیں ۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے بعد ایسا ہر گز نہیں ہوا ، چھوٹی بڑی تمام ذاتوں اور برادریوں کو یکساں حقوق دیے گئے ، ریاست کے تمام شہریوں کو ہر طرح کی مذہبی و سیاسی آذادی حاصل تھی ۔کسی طبقہ و ذات پر بے جا پابندیاں نہیں لگائی گئیں ،اسلامی عہد کے ہندوستان کا سب سے خوبصورت کارنامہ یہ تھا کہ تمام شہریوں کو حصول علم کی یکساں آزادی حاصل تھی ، کسی مذہب یا فرقے پر تعلیم کے دروازے بند نہیں کیے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی عہد کے ہندوستان میں شرح خوانداگی تاریخ کے مختلف ادوار میں سب سے زیادہ رہی اور اس کی سند ہمیںتاریخ کے مختلف ادورا میں لکھے گئے ہندوستان کے سفر ناموں سے ملتی ہے ۔

جو نو مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتے تھے ا ن کی تعلیم و تربیت کا خاطر خواہ انتظام و انصرام کیا جاتا تھا ، صاحب حیثیت مسلمان اپنے طور پر لائبریریاں اور درسگاہیں قائم کرتے تھے اور لوگ دور دراز سے تحصیل علم کے لیے ان درسگاہوں کا رخ کرتے تھے ۔

مسلمانوں کے دور عروج میں پورا ہندوستان تعلیم و تعلم کا مرکز ہوا کرتا تھا ، کوئی علاقہ ایسا نہیں تھا جہاںمختلف علوم و فنون کے ماہرین موجود نہ ہوں۔ یہ اہل علم اپنے فن میں کمال رکھتے تھے اور ان کی شہرت نزدیکی بلادو امصار تک پھیلی ہوتی تھی ۔بسا اوقات قریبی ممالک سے ان اہل علم کو دعوت دی جاتی تھی کہ وہ ان علاقوں میں آ کر علوم وفنون کے چراغ روشن کریں ۔

ڈاکٹر شمیم قاسمی صاحب نے کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے ، انہوں نے پہلے باب کا عنوان اسلام کا نظریہ تعلیم رکھاہے، اس باب میں ااسلام کے نظریہ علم پر روشنی ڈالی گئی ہے ، اس کے ضمنی عنوانات میں اہل علم کی فضیلت، علم کا دائرہ کار ، تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کے علمی کارنامے ، مختلف علوم و فنون کی ترقی میں مسلمانوں کا حصہ اور جدید سائنس کے فروغ میں مسلمانوں کے کردار جیسے عنوان پر بات کی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ اسلامی تہذیب میں عورتوں کی ناقابل فراموش تعلیمی خدمات پربھی روشنی ڈالی گی ہے ۔

دوسرے باب کا عنوان مصنف نے عہد اموی و عباسی میں مسلمانوں کا نظام تعلیم رکھا ہے ۔ اس باب میں انہوں نے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش ، مختلف خلفاءعرب کے ذریعے فتوحات ہند کا آغاز ، ہندوستان میں تعلیم و تعلم کے ابتدائی مراکز ، ہندوستا ن کے بعض شہروں کی علمی مرکزیت، نامور علما ءومحدثین کا ہندوستان میں قیام، ہندوستانی علماءو محدثین کی خدمات ، ہندوستانی شہروں سے منسوب علماءو محدثین ، ہندوستانی علوم وفنون سے اہل عرب کی دلچسپی ، فقہ حنفی کی نشر و اشاعت اور ابتدئی عہد کے بعض صوفیاءکا تذکرہ کیا ہے ۔ ان تمام مباحث کا تذکرہ مصنف نے حوالہ جات اور بڑی عرق ریزی سے کیا ہے ۔

تیسرے باب کا عنوان علوم اسلامیہ کی اشاعت میں ہندوستانی مدارس کا کردار رکھا گیاہے ۔ اس باب کے ضمن میں مصنف نے جن مباحث کا احاطہ کیا ہے اس میں ہندوستان میں مدارس کے قیام کا آغاز ، عہد غوری وعہد غلاماں میں تعلیمی اداروں کا قیام ، خلجی اور تغلق عہد میں علمی سرگرمیاں اور مغلیہ سلطنت کے تعلیمی کارناموں پر روشنی ڈالی ہے ۔اس میں خصوصی طور پر عہد اکبری اور عہد اورنگزیب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ باب کے آخر میں دار العلوم دیوبند کے قیام کے اسباب و محرکات پر روشنی ڈلی گئی ہے اور اس عہد کے مشہور مدارس جن میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور، دار العلوم ندوة العلماءلکھنو، دار الحدیث رحمانیہ دہلی اور ایم اے او کالج کی خدمات و نتائج کا احاطہ کیا گیا ہے ۔

کتاب کے چوتھے باب کا عنوان مصنف نے ہندوستان کے قدیم مدارس کا نصاب تعلیم رکھا ہے ۔اس باب میں مصنف نے ہندوستان کے مختلف مدارس میں رائج نصابات پر بات کی ہے ۔ مصنف نے ہندوستان میں، تاریخ کے مختلف ادوار میں رائج نصاب کوچار حصوں میں تقسیم کیا ہے،مصنف کے مطابق پہلے دور کا نصاب غیر مرتب تھا جس میں ہندوستان میں فقہ اور علم فقہ کا رجحان پروان چڑھ رہاتھا۔ دوسرے دور کے نصاب میں معقولات کا حصہ غالب تھا، اس دورکے نصاب میں معقولات پر توجہ دی گئی اور ان کی شروحات کا رواج ہوا ۔تیسرے دور کا نصاب عہد ِ اکبری میں رائج ہوا، مصنف کے مطابق یہ عہد سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ اس میں مختلف علوم و فنون کی اشاعت ہوئی۔اس دور میں ہمیں معقولات و منقولات دونوں ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں ۔

چوتھے دور کا نصاب ملا نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ تھا جو آج بھی رائج ہے اوراس کی شہرت درس نظامی کے عنوان سے ہے ۔ہر باشعور صاحب علم کی طرح مصنف نے بھی اس نصاب پر سوالات اٹھائے ہیں کہ یہ نصاب عصر حاضر کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے یا نہیں ،یہ اپنی ذات میں مکمل ہے یا اس میں مناسب ترمیم و اضافے کی ضرورت ہے ۔ مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ موجود ہ درس نظامی کے نصاب پر نظر ثانی اور اس میں بڑی حد تک جدید علوم وفنون کو شامل کرنے کی ضرروت ہے ۔مصنف کے نزدیک یہ شمولیت دیگر علوم کی تقصیر و توہین پر نہیں بلکہ ان سے مضبوط رشتہ جوڑے رکھنے کی شرط پر ہونی چاہئے ۔ اس نئے نصاب سے گزرنے والے طلباءہی اس قابل ہو سکیں گے کہ معاشرے کی مناسب راہنمائی کر سکیں ا ور مذہب او ر اہل مذہب کے موہوم ہوتے کردار کا از سر نو احیاءکریں ۔

پانچویں اور آخری باب کا عنوان مدارس اسلامیہ اور دینی تعلیم کی افادیت رکھا گیا ہے ۔ اس باب کے ضمن میں مصنف نے مسجد و مدرسہ کی اہمیت کو وا ضح کیا ہے ، اسلام میں مرد و عورت کے لیے تعلیم کی اہمیت او ر اس تعلیم کی اشاعت میں مدرسہ کے کردار کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کے ساتھ مدارس کے ناقدین اورمستہزئین کے رویے پر بھی نقد کیا ہے ۔ مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ تمام علوم و فنون جو آج ہم تک پہنچے ہیں یہ مدارس ہی کی مرہون منت ہیں ، تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلامی تہذیب پر جب بھی مشکل وقت آیا تو مدارس نے بطور ادارہ ہمیشہ مثبت اور شاندار کردار ادا کیا۔

کتاب کے آخر میں مراجع و ماخذ کی فہرست دی گئی ہے ، حوالہ جات کا اہتمام ہر باب کے آخر میں کیا گیا ہے ۔ یہ اپنے موضوع پر بہترین کتاب ہے ، اس کے مطالعے سے خطہ ہند میں اسلام کی نشر و اشاعت اوربرصغیر کے تناظر میں مسلمانوں کے نظام تعلیم سے آگاہی ملتی ہے ۔