جولائی ۲۰۲۰ء

آزمائش کا اصول اور دعوت ایمان کی اہمیتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
صنعاء پالمپسسٹ پر جدید تحقیقات کا جائزہسید ظفر احمد 
یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی لازمی تعلیممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۲)مولانا محمد اشفاق 

آزمائش کا اصول اور دعوت ایمان کی اہمیت

محمد عمار خان ناصر

جب یہ کہا جاتا ہے  کہ اللہ تعالی انسانوں سے جواب طلبی اور محاسبہ اس اصول پر کریں گے کہ کس پر حجت کتنی تمام ہوئی ہے تو بعض لوگوں کے ذہن میں  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں غیر مسلموں کو دعوت کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ جب یہ معلوم ہے کہ عموما انسانوں کے لیے اپنے ماحول کے اثرات اور معاشرتی روایت سے اوپر اٹھ کر کسی نئی بات کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے تو کیا مسلمان، لوگوں تک دعوت پہنچا کر انھیں مشکل میں ڈالنے کا موجب نہیں بنیں گے؟ کیونکہ دعوت پہنچے بغیر تو ہو سکتا ہے، لوگ اللہ کے ہاں معذور شمار کیے جائیں، لیکن دعوت پہنچ جانے کی صورت میں عذر پیش کرنے کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔

یہ اشکال اس بنیادی غلطی سے پیدا ہوتا ہے جس کو’’قلب موضوع“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس استدلال میں یہ غلطی استثنائی اصول کو بنیادی نکتے کی اور بنیادی نکتے کو ضمنی حیثیت دینے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ شریعت کی نظر میں انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اس کی آزمائش ہے اور اس مقصد کے لحاظ سے اس کا، فکر اور عمل، دونوں میں آزمائش کا سامنا کرنا اور اختیار وانتخاب کی ذمہ داری اٹھانا وہ اصل حالت ہے جو پائی جانی چاہیے۔ اسی اصول کے تحت جن گروہوں کے پاس علم وعمل میں ’’حق “ کی امانت موجود ہے، وہ اس کے مکلف ہیں کہ دوسروں تک بھی اس کو پہنچائیں اور اللہ نے جس تکلیفی آزمائش میں بنی نوع انسان کو ڈالا ہے، اس میں خدا کی اسکیم کا حصہ بن جائیں۔ لوگوں تک صحیح بات کا نہ پہنچ سکنا یا پہنچنے کی صورت میں ان کے لیے کسی عذر کی وجہ سے اس کی قبولیت کا ممکن نہ ہونا، یہ استثنائی احوال ہیں جو بنیادی اصول اور اس کے تحت دعوت کی ذمہ داری کو معطل نہیں کر سکتے۔

اگر یہ مانا جائے کہ انسان کو اصل میں تو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اوہام وظنون کی کیفیت میں جیسے تیسے زندگی گزار لے، البتہ کسی تک حق بات پہنچ گئی تو وہ قابل مواخذہ ہوگا، تب تو یہ تشویش پیدا ہونا بالکل بجا ہے کہ جب انسان دعوت حق کے بغیر ایک محفوظ صورت حال میں ہیں تو ان تک دعوت پہنچا کر کیوں انھیں خطرے سے دوچار کیا جائے۔ لیکن اگر بنیادی اصول انسانوں کا آزمائش کا سامنا کرنا اور انتخاب کی آزادی کو عمل میں لانا ہے تو پھر دعوت کا عمل اس اسکیم کے منافی نہیں، بلکہ اس کا عین منطقی تقاضا ہے۔ جب انسان کی تخلیق آزمائش کے لیے کی گئی ہے تو اس پہلو سے خلق خدا تک دعوت دین کا پہنچانا اللہ کی اسکیم کا لازمی حصہ ہے جس سے یہ سوچ کر گریز نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح تو جن انسانوں تک دعوت پہنچے گی، وہ اسے قبول نہ کر کے قابل مواخذہ ہو جائیں گے۔ جب انسان کو پیدا ہی ایک ذمہ داری اٹھانے والی مخلوق کے طور پر کیا گیا ہے اور یہی اس کا شرف اور امتیاز ہے تو پھر اس کے سارے لوازم قبول کرنے پڑیں گے۔

یہ اشکال بنیادی طور پر انسان پر ’’ذمہ داری“ ڈالے جانے کے تصور کو فکری طور پر قبول نہ کرنے یا درست طور پر نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی اصل زد مسلمانوں کی دعوت پر نہیں، بلکہ انسان کو ’’مکلف “ ٹھہرائے جانے کے تصور پر پڑتی ہے۔ مثلا جو اشکال مسلمانوں کی دعوت پر وارد کیا گیا ہے، وہ انبیاء اور رسولوں کی بعثت پر بھی وارد ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی دعوت سے کسی پر حجت تمام ہوتی ہے یا نہیں، یہ تو ایک محتمل معاملہ ہے، لیکن انبیاء کو تو بھیجا ہی حجت تمام کرنے کے لیے جاتا ہے اور یہ معلوم ہے کہ انبیاء کے ذریعے سے براہ راست اتمام حجت چند منتخب گروہوں پر ہی ہوا ہے۔ باقی تمام انسانوں پر اس اتمام حجت کے اثرات بالواسطہ اور درجہ بدرجہ مرتب ہوتے ہیں۔ پس یہ اشکال اٹھایا جا سکتا ہے کہ آخر اللہ نے کچھ گروہوں میں براہ راست نبی کو مبعوث کر کے ان کے لیے آزمائش کو باقی انسانوں کی بہ نسبت کیوں زیادہ مشکل بنا دیا؟ اگر ان کی طرف نبی کو نہ بھیجا جاتا تو، خود اللہ کے بیان کردہ اصول کے مطابق، ان کے پاس بھی یہ عذر پیش کرنے کی گنجائش باقی رہتی کہ ہم تک تو بات ہی واضح طور پر نہیں پہنچی تھی۔

اس سے آگے بڑھیں تو یہ اشکال خود اللہ کے اس فیصلے پر وارد کیا جا سکتا ہے کہ اس نے انسان کو ایک ’’مکلف “ مخلوق بنایا ہے۔ یہاں یہ سوال معتزلہ اور اشاعرہ کی اس معروف بحث سے متعلق ہو جاتا ہے کہ کیا اللہ پر واجب ہے کہ وہ انسانوں کے متعلق وہی فیصلہ کرے جو ’’الاصلح للعباد“ ہے، یعنی انسانوں کے نقطہ نظر سے ان کے لیے بہتر ہے؟ معروف عام روایت کے مطابق ابو الحسن اشعری نے اسی بحث میں اپنے استاذ جبائی کے سامنے یہ اشکال پیش کیا تھا کہ اگر اللہ پر ’’الاصلح للعباد“ واجب ہے تو پھر اس نے دو ایسے انسانوں کو کیوں پیدا کیا جن میں سے ایک کے متعلق اس کا علم اسے بتا رہا تھا کہ جب اسے اختیار دیا جائے گا تو وہ اس کے سوء استعمال سے کفر کا انتخاب کرے گا اور یوں مواخذہ کا حقدار ٹھہرے گا؟ جبائی اس کا جواب نہیں دے سکے اور یوں ابو الحسن اشعری نے اپنی راہیں مسلک اعتزال سے الگ کر لی تھیں۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(213)    لو کے بعد فعل مضارع کا ترجمہ

لو کبھی مصدریہ بن کر آتا ہے جیسے ودوا لو تدہن فیدہنون، یہ عام طور سے فعل ود کے بعد آتا ہے، یہ ابھی ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ لو کی مشہور قسم وہ ہے جسے حرف امتناع کہتے ہیں۔ لو برائے امتناع اور ان شرطیہ میں فرق یہ ہے کہ  ان مستقبل کے لیے ہوتا ہے، خواہ اس کے بعد فعل ماضی آئے یا فعل مضارع، اور لو ماضی کے لیے ہوتا ہے خواہ اس کے بعد فعل ماضی آئے یا فعل مضارع۔ ابن ہشام نے لکھا ہے:

ویتلخص علی ہذا ان یقال ان لو تدل علی ثلاثۃ امور عقد السببیۃ والمسببیۃ وکونہما فی الماضی وامتناع السبب۔ (مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب، ص: 340)

یہ درست ہے کہ بعض نحویوں نے ذکر کیا ہے کہ لو مستقبل کے لیے بھی آتا ہے، مگر ان کے نزدیک بھی ایسا بہت کم ہوتا ہے، اور انھوں نے جو شواہد ذکر کیے ہیں وہ مختلف فیہ اور قابل تاویل ہیں۔

لو کے بعد فعل ماضی بھی آتا ہے اور مضارع بھی آتا ہے، ماہرین لغت نے واضح کیا ہے کہ لو کے بعد ماضی آئے تب تو ماضی کے زمانے کا مفہوم دیتا ہی ہے، لیکن اگر لو کے بعد مضارع آئے تب بھی وہ زیادہ تر ماضی کے زمانے کا مفہوم دیتا ہے۔

قرآن مجید کے تراجم کا جائزہ بتاتا ہے کہ عام طور سے مترجمین نے لو کے بعد فعل مضارع والے جملے کے ترجمے میں کوئی ایک موقف نہیں اختیار کیا ہے، وہ کبھی ماضی کے زمانے کا ترجمہ کردیتے ہیں اور کبھی مستقبل کے زمانے کا ترجمہ کردیتے ہیں۔ جیسے لو یاخذ کا ترجمہ ’اگر وہ گرفت کرتا‘ اور ’اگر وہ گرفت کرے‘ دونوں ترجمے کیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی کی ایک منفرد رائے یہ ہے، جو کہیں اور راقم کو نہیں ملی، کہ وہ لو والے جملے کا ترجمہ ماضی سے کرنے پر زور تو دیتے ہی ہیں، ساتھ ہی وہ اس میں بھی فرق کرتے ہیں کہ لو کے بعد فعل ماضی آیا ہے یا فعل مضارع آیا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں لو شاء بھی آیا ہے اور لو یشاء بھی آیا ہے، لو شاء کا ترجمہ ’تو اگر وہ چاہتا‘ کیا جاتا ہے، لیکن لو یشاء کا ترجمہ بعض لوگ ’اگر وہ چاہے‘ کرتے ہیں، حالاں کہ یہ ان شاء اور ان یشا کا ترجمہ ہے، بعض لوگ لو شاء کی طرح لو یشاء کا ترجمہ بھی ’اگر وہ چاہتا‘ کرتے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ ’اگر وہ چاہتا ہوتا‘ کرتے ہیں۔

ابن عاشور کی ایک وضاحت سے اس کی تائید ہوتی ہے، وہ سورۃ النحل آیت نمبر61 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وشرط لو ملازم للزمن الماضی فاذا وقع بعد لو مضارع انصرف الی الماضی غالبا۔ فالمعنی: لو کان اللہ مواخذا الخلق علی شرکہم لافناہم من الارض وافنی الدواب معہم، ای ولکنہ لم یواخذہم۔ (التحریر والتنویر :14 188) یہاں لَو یُواخِذُ اللَّہُ کا مفہوم لو کان اللہ مواخذا سے ادا کیا ہے۔

اس وضاحتی تمہید کی روشنی میں درج ذیل آیتوں کا ترجمہ دیکھتے ہیں:

(۱) وَلَو یُواخِذُ اللَّہُ النَّاسَ بِظُلمِہِم مَا تَرَکَ عَلَیہَا مِن دَابَّۃ۔ (النحل: 61)

”اگر لوگوں کے گناہ پر اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا“۔(محمد جوناگڑھی)

”اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اگر اللہ لوگوں سے ان کی حق تلفی پر فورا مواخذہ کرتا ہوتا تو زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا“۔ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہ درست ہے، لیکن بس اسی جگہ یہ ترجمہ کیا ہے)

(۲) وَلَو یُوَاخِذُ اللَّہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوا مَا تَرَکَ عَلَی ظَہرِہَا مِن دَابَّۃٍ۔ (فاطر: 45)

”اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا“۔(محمد جوناگڑھی)

”اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا“۔ (فتح محمد جالندھری، مذکورہ بالا آیت کا ترجمہ مستقبل سے کیا ہے حالانکہ دونوں آیتوں کا اسلوب ومعنی تقریباً یکساں ہے۔)

”اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کی پاداش میں فوراً پکڑتا تو زمین کی پشت پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں ترجمہ ’پکڑتا‘ کیا، جبکہ اوپر والی آیت میں ’مواخذہ کرتا ہوتا‘ کیا ہے، حالانکہ دونوں آیتوں کا اسلوب ومعنی تقریباً یکساں ہے)

(۳) وَلَو نَشَاءُ لَطَمَسنَا عَلَی اَعیُنِہِم فَاستَبَقُوا الصِّرَاطَ۔ (یس: 66)

”ہم چاہیں تو اِن کی آنکھیں موند دیں، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں“۔ (سید مودودی)

”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں۔ پھر یہ رستے کو دوڑیں“۔(فتح محمد جالندھری)

”اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے پھر لپک کر رستہ کی طرف جاتے“۔(احمد رضا خان)

”اگر ہم چاہتے ہوتے تو اِن کی آنکھیں موند دیتے، پھر یہ راستے کی طرف لپکتے ہوتے“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

(۴) وَلَو نَشَاءُ لَمَسَخنَاہُم عَلَی مَکَانَتِہِم فَمَا استَطَاعُوا مُضِیًّا وَلَا یَرجِعُونَ۔ (یس: 67)

”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں“۔(فتح محمد جالندھری)

”ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں“۔(سید مودودی)

”اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھر بیٹھے ان کی صورتیں بدل دیتے نہ آگے بڑھ سکتے نہ پیچھے لوٹتے“۔(احمد رضا خان)

”اگر ہم چاہتے ہوتے تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیتے کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں“۔(محمد امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَلَو نَشَاءُ لَجَعَلنَا مِنکُم مَلَائِکَۃً فِی الاَرضِ یَخلُفُونَ۔ (الزخرف: 60)

”اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے“۔(محمد جوناگڑھی)

”ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں“۔(سید مودودی)

”ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اگر ہم چاہتے ہوتے تو تمھیں فرشتے بنادیتے جو زمین میں جانشین ہوں“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

اس مقام پر لَجَعَلنَا مِنکُم مَلَائِکَۃً  کا ترجمہ بھی زیر غور رہے۔

(۶) وَلَو یَشَاءُ اللَّہُ لَانتَصَرَ مِنہُم۔ (محمد: 4)

”اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا“۔(سید مودودی)

”اللہ چاہتا ہوتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا“۔(محمد امانت اللہ اصلاحی)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں سب نے ماضی کا ترجمہ کیا ہے۔

(۷) وَلَو نَشَاءُ لَاَرَینَاکَہُم فَلَعَرَفتَہُم بِسِیمَاہُم۔ (محمد: 30)

”اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے“۔(فتح محمد جالندھری)

”اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھادیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو“۔(احمد رضا خان)

”ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لیتے“۔ (سید مودودی)

”اگر ہم چاہتے ہوتے تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیتے اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لیتے“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

(۸) قَالُوا لَو نَعلَمُ قِتَالًا لَاتَّبَعنَاکُم۔ (آل عمران: 167)

”تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور ساتھ چلتے“۔(سید مودودی)

”تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے“۔ (محمد جوناگڑھی، صرف اسی ایک مقام پر ’ہوتے‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے)

(۹) وَاِذَا تُتلَی عَلَیہِم آیَاتُنَا قَالُوا قَد سَمِعنَا لَو نَشَاءُ لَقُلنَا مِثلَ ہَذَاَ۔ (الانفال: 31)

”جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ہاں سن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں“۔(فتح محمد جالندھری)

”اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے“۔(احمد رضا خان)

”اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں“۔(محمد جوناگڑھی)

”جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ہاں سُن لیا ہم نے، اگر ہم چاہتے ہوتے تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنادیتے“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

(۱٠) لَو یَجِدُونَ مَلجَا او مَغَارَاتٍ او مُدَّخَلًا لَوَلَّوا اِلَیہِ۔ (التوبۃ: 57)

”ان کو کوئی پناہ گاہ یا غار یا گھس بیٹھنے کی جگہ مل جائے تو اس کی طرف بے تحاشہ بھاگ جائیں گے“۔(جوادی)

”اگر وہ کوئی جائے پناہ پالیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اُس میں جا چھپیں“۔ (سید مودودی)

”اگر پائیں کوئی پناہ یا غار یا سما جانے کی جگہ تو رسیاں تڑاتے ادھر پھر جائیں گے“۔(احمد رضا خان)

”اگر یہ کوئی بچاؤ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی بھی سر گھسانے کی جگہ پالیں تو ابھی اس طرح لگام توڑ کر الٹے بھاگ چھوٹیں“۔(محمد جوناگڑھی)

(۱۱) وَرَبُّکَ الغَفُورُ ذُو الرَّحمَۃِ لَو یُوَاخِذُہُم بِمَا کَسَبُوا لَعَجَّلَ لَہُمُ العَذَابَ۔ (الکہف: 58)

”تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا“۔ (سید مودودی)

”اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تیرا پروردگار بہت ہی بخشش والا اور مہربانی والا ہے وہ اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بےشک انہیں جلد ہی عذاب کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے اگر وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑتا ہوتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

(۲۱) وَاعلَمُوا اَنَّ فِیکُم رَسُولَ اللَّہِ لَو یُطِیعُکُم فِی کَثِیرٍ مِنَ الاَمرِ لَعَنِتُّم۔ (الحجرات: 7)

”خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہو جاؤ “۔(سید مودودی)

”اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں تو تم ضرور مشقت میں پڑو“۔ (احمد رضا خان)

”اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبرﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ “۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور یاد رکھو کہ تمہارے درمیان خدا کا رسول موجود ہے یہ اگر بہت سی باتوں میں تمہاری بات مان لیتا تو تم زحمت میں پڑ جاتے“۔ (ذیشان جوادی)

”خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرتا تو تم مشکلات میں مبتلا ہوجاتے“۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

مذکورہ بالا منتخب مقامات کے ترجموں سے ایک بات یہ سامنے آتی ہے کہ عام طور پرمترجمین کا موقف واضح معلوم نہیں ہوتا اس بارے میں کہ لو کے بعد فعل مضارع آنے کی صورت میں ترجمہ زمانہ ماضی کا کرنا ہے یا زمانہ مستقبل کا کرنا ہے۔ ایک ہی مترجم ایک مقام پر ماضی تو دوسرے مقام پر مستقبل والا ترجمہ بھی کرتا ہے۔ یعنی ’اگر وہ چاہے‘ مستقبل ہے اور ’اگر وہ چاہتا‘ ماضی ہے۔

دوسری بات یہ کہ لو کے بعد فعل مضارع کا جب ماضی میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو عام طور سے سادہ سا ترجمہ کیا جاتا جیسے ’اگر وہ چاہتا‘، جب کہ بعض مترجمین نے کہیں کہیں فعل مضارع کی رعایت کرتے ہوئے ’اگر وہ چاہتا ہوتا‘ کی طرح ترجمہ کیا ہے۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی ہر مقام پر اسی ترجمہ کو تجویز کرتے ہیں۔

(جاری)

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

حدیث کی مقبول و مردود اقسام  کے اعتبار سے اہل سنت کے مصطلح الحدیث اور اہل تشیع کے علم الدرایہ کا تقابلی مطالعہ  پچھلی دو اقساط میں بالتفصیل بیان ہوا ،اس سے  یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ اہلسنت کے ہاں مقبول حدیث کے معیارات  میں کڑی شرائط بیان کی گئی ہیں ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں  اس حوالے سے کافی تساہل سے کام لیا گیا ہے ، اسی طرح  مردود  حدیث  کے سلسلے میں اہل سنت نے جن اقسام کو بیان کیا ہے ،ان کی تطبیق حدیثی ذخیرہ پر بھر پور انداز میں  عمل میں لائی گئی ،یہاں تک کہ مردود حدیث کی مختلف اقسام کے مصادر تک  کی تعیین کی گئی ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اہل سنت کی اتباع میں وہی اقسام تو بیان کی گئی ہیں  ،لیکن ان اقسام کی شرائط ،مصادر ،رواۃ اور خصوصا حدیثی ذخیرے پر  تطبیق کے حوالے سے کسی قسم کی ابحاث نہیں کی گئی ہیں ،،جس سے متنوع الجھنیں   پیدا ہوئی ہیں  ،جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا گیا ،اب ہم سنی مصطلح الحدیث اور شیعہ علم الدرایہ کا دیگر مباحث میں ایک تقابلی مطالعہ نکات کی شکل میں  پیش کریں گے :

1۔اہل سنت  محدثین نے حدیثی ذخیرے میں موجود ظاہری تعارض و اختلاف کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے ،چنانچہ اس کے لئے مصطلح الحدیث میں ایک مستقل علم و فن علم  مختلف الحدیث و مشکل  الحدیث  وضع ہوا ہے ،اس فن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام نووی لکھتے ہیں :

"ھذا فن من اہم الانواع ،و یضطر الی معرفتہ جمیع العلماء من الطوائف"1

یعنی یہ فن انواع مصطلح الحدیث میں سے اہم ترین فن ہے ،اہل علم کے جملہ گروہوں کو اس فن  کے جاننے کی اشد ضرورت ہے ۔

اس موضوع پر مصطلح الحدیث کی کتب میں  موجود مواد کے علاوہ اہل سنت محدثین نے درجہ ذیل مستقل کتب لکھی ہیں :

1۔اختلاف الحدیث ،امام محمد بن ادریس الشافعی

2۔تاویل مختلف الحدیث ،ابو محمد عبد اللہ بن مسلم قتیبہ دینوری

3۔ مشکل الاثار ،امام ابو جعفر الطحاوی

4۔مشکل الحدیث و بیانہ ،ابو بکر ابن فورک

5۔التحقیق فی اختلاف الحدیث ،ابو الفرج ابن الجوزی

6۔تاویل الاحادیث الموہمہ للتشبیہ ،جلا ل الدین السیوطی

7۔مشکلات الاحادیث النبویہ و بیانہا ،شیخ عبد اللہ النجدی

8۔دفع التعارض عن مختلف الحدیث ،حسن مظفر الزور

9۔مختلف الحدیث بین الفقہاء و المحدثین ،نافذ حسین حماد

10۔مختلف الحدیث  و موقف النقاد المحدثین منہ ،شیخ اسامہ عبد اللہ خیاط 2

ان کتب میں متعارض احادیث کے حل و تطبیق کے قواعد پر تفصیلی کلام کے ساتھ حدیثی ذخیرے میں موجود متعارض احادیث میں تطبیق ،ترجیح  پر مفصل کام ہوا ہے ،یوں نظری و عملی ہر دو اعتبار سے اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں موجود ظاہری تعارض کے حل  پر مکمل کام  ہوا ہے ،جبکہ اس کے برخلاف اہل تشیع محدثین کے ہاں اس موضوع پر مواد نہ ہونے کے برابر ہے ،چنانچہ  شیخ  جعفر سبحانی نے اپنی کتاب "اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ " میں حدیث کی اقسام میں مختلف  الحدیث کی تعریف  امام نووی سے نقل کی ،اور اس موضوع پر موجود  کتب میں ابن قتیبہ کی تاویل  مختلف الحدیث کا ذکر کیا 3،اگر شیعہ اہل علم کا کوئی قابل ِ ذکر کام اس موضوع پر ہوتا ،تو ضرور کچھ ذکر کرتے ،شاید اسی وجہ سے شیعہ محقق علی خضیر حجی نے اپنی مفصل کتاب "المبادی العامہ  لعلم  مصطلح الحدیث المقارن " میں مختلف الحدیث کا ذکر ہی نہیں کیا ،کیونکہ اس کتاب میں مصنف نے حدیث کی مختلف اقسام میں سے ہر دو فریقوں کی کتب سے امثلہ و مواد لانے کا التزام کیا ہے ،چونکہ اس موضوع پر اہل تشیع محدثین کا قابلِ ذکر کام نہیں ہے ،اس لئے مصنف نے اپنی کتاب میں اس اہم ترین قسم کے ذکر سے پہلو تہی اختیار کی ۔

2۔اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں چونکہ بکثرت تکرار موجود ہے ،جیسا کہ اس سلسلے کی تعداد ِ روایات والے عنوان میں ہم وضاحت کر چکے ہیں ،اس لئے مصطلح الحدیث میں مکرر احادیث و تعدد طرق  کو ایک لڑی میں پرونے کے لئے اعتبار ،متابعت اور  شاہد  کی اقسام وضع ہوئی ہیں ،جن میں دو یا زیادہ روایات کے لفظی  یا معنوی اشتراک  یا ایک ہی حدیث کے مختلف شیوخ و صحابہ سے روایت پر بحث ہوتی ہے ، صحاح ستہ میں امام بخاری نے متعدد مقامات پر متابعت کو بیان کیا ہے ،جبکہ  امام ترمذی  نے   وفی الباب کے تحت شواہد کی طرف اشارہ کیا ہے  اور امام مسلم نے شواہد کو بیان کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے ،مصطلح الحدیث کا یہ فن انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،اس سے ایک حدیث کے لفظی و معنوی مکررات  اور سند و شیوخ کے تکرار و طرق  کا علم ہوتا ہے ،اس کے برخلاف یہ فن شیعہ علم الدرایہ سے سرے سے  مفقود ہے ،چنانچہ متقدمین شیعہ اہل علم میں سے شہید ثانی کی البدایہ فی علم الدرایہ ہو  یا متاخرین و معاصرین شیعہ اہل علم میں سے جعفر سبحانی  کی اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ہو ،یا محقق خضیر کی المبادی العامہ  لعلم مصطلح الحدیث المقارن ہو ،ان میں سے کسی بھی کتاب میں اعتبار،متابعت اور شاہد کی تعریفات و ابحاث مذکور نہیں ہیں ،یہاں  تک کہ شیعہ علم الدرایہ کی سب سے مفصل کتاب  علامہ مامقانی کی مقباس الہدایہ فی علم الدرایہ  بھی اس کے ذکرسے خالی ہے ،جب  اصول حدیث میں  متابعات و شواہد  اور اس کے اصول و قواعد  کا ذکر ہی  مفقود ہے ،تو عملا  شواہد و اعتبارات کو جمع کرنے پر کام  کیونکر ہوگا؟یوں  شیعہ ذخیرہ حدیث میں ایک روایت کے مختلف طرق ،مکررات ،شیوخ واسناد میں مشترکات پر نظری و عملی ہر دو پہلووں سے کام نہیں ہوا ہے ،چنانچہ آج اگر اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں سے کسی بھی حدیث کے مختلف طرق و مکررات تلاش کرنے ہوں ،تو آسانی سے مل جاتے ہیں ،کس حدیث کے کتنے شواہد ہیں ؟سند میں کتنے مقامات پر متابعات ہیں ؟اور کتنے اعتبارات ہیں ؟سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں ،جبکہ شیعہ ذخیرہ حدیث میں اولا تو تکرار انتہائی کمیاب ہے ،جیسا کہ ہم اس پر بحث کر چکے ہیں ،ثانیا جن روایات میں تکرار ہیں ،ان  میں شواہد  ومتابعات کی کیا تفصیل ہیں ؟ نظری و عملی ہر دو اعتبار سے یہ پہلو  مفقود ہے۔

3۔اہل سنت محدثین نے مصطلح الحدیث میں ایک دلچسپ فن علم اسباب ورود الحدیث  وضع کیا ہے ،یہ فن قرآنی آیات کے شانِ نزول کی طرح احادیثِ نبویہ کے شان ورود ،موقع محل اور پس منظر کو بیان کرتا ہے ،اس سے حدیث  میں بیان کردہ حکم کے اسرار و حکم ،اس کے دائمی و وقتی ،عمومیت و خصوصیت ،تقیید و اطلاق ،تفصیل و اجمال اور تشریعی و ارشادی سمیت دیگر اہم امور   کا علم ہوتا ہے ،مصطلح الحدیث  کے ضمن میں بیان کرنے کے ساتھ  اہل سنت محدثین نے اس پر مستقل کتب تحریر کیں ہیں ،چند اہم کتب یہ ہیں :

1۔محاسن  الاصطلاح و تضمین کتاب ابن الصلاح ،سراج الدین بلقینی

2۔اللمع  فی سبب الحدیث ،جلا ل الدین السیوطی

3۔البیان و التعریف فی اسباب ورود الحدیث الشریف ،ابراہیم بن محمد المعروف ابن حمزہ الدمشقی

4۔علم اسباب ورود الحدیث ،طارق اسعد حلمی

5۔اسباب ورود الحدیث ،ضوابط و معالم ،محمد عصری زین العابدین

اس کے برخلاف جب شیعہ علم الدرایہ کو دیکھتے ہیں ،تو علم الاعتبار و الشاہد کی طرح یہ فن بھی سرے سے موجود ہی نہیں ہے ،ہم نے شہید ثانی کی البدایہ سے لیکر علامہ مامقانی کی مقباس الہدایہ تک اور معاصرین میں سے جعفر سبحانی کی اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ کی ورق گردانی کی ،تو ہمیں  ان کتب میں علم  اسباب ورود الحدیث پر کسی قسم کا مواد نہیں ملا ،نہ ہی ہمارے علم کی حد تک  اہل تشیع محدثین نے اس فن پر کوئی قابل ِ ذکر مستقل کتاب تحریر کی ہے ،یہ فن کتنا اہم ہے ،اور اس فن کی مدد سے اہل سنت  اہل علم نے احادیثِ مبارکہ  میں بیان کردہ احکامات کی کیسے درجہ بندی کی ہے ،اس کا نمونہ دیکھنا ہو تو محقق عبد الماجد غوری کی کتاب المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث   (ص979 تا 997)  کا مطالعہ کافی ہوگا ،طوالت کے پیشِ نظر ہم اس بحث کو نقل نہیں کر سکتے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل تشیع کے علم الدرایہ  اور حدیثی ذخیرے میں  ان مباحث کی عدم موجودگی کی وجہ سے کتنا بڑا خلا موجود ہے۔

4۔اہل سنت محدثین نے  حدیثی ذخیرے میں موجود منسوخ روایات کی چھان بین پر مفصل کام  کیا ہے ،تاکہ قرآنی آیات کی طرح منسوخ احادیث کا بھی علم ہوسکے اور احکام کے  اخذ و استنباط میں ان کو پیشِ نظر رکھا جا سکے ،چنانچہ اس سلسلے میں علم مصطلح الحدیث میں نسخ فی الحدیث کے قواعد کے ساتھ  منسوخ روایات کی تنقیح و تہذیب پر مستقل  کام ہوا ہے ، اس موضوع کی چند اہم کتب یہ ہیں :

1۔ناسخ الحدیث و منسوخہ ،ابو حفص ابن شاہین

2۔اعلام العالم بعد رسوخہ بحقائق ناسخ الحدیث و منسوخہ ،ابو الفرج ابن الجوزی

3۔الاعتبار فی بیان الناسخ والمنسوخ من الاثار (دو جلد)،ابوبکر الحازمی

4۔الناسخ و المنسوخ فی الاحادیث ،احمد بن محمد المختار الرازی

اس حوالے سے جب اہل تشیع محدثین کا کام دیکھا جاتا ہے ،تو یہاں بھی  ہمیں خلا نظر آتا ہے ،علامہ مامقانی کی مقباس الہدایہ ہو ،شہید ثانی کی البدایہ ہو یا جعفر سبحانی کی  اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،اہل سنت کی کتب جیسے مقدمہ ابن الصلاح ،امام نووی کی التقریب وغیرہ سے بالصراحت (یعنی خود ان مصنفین نے نسخ کی بحث میں اہل سنت اہل علم کا حوالہ دیا ہے ،خصوصا علامہ مامقانی و جعفر سبحانی نے )تعریفات و اقسام نقل کی گئی ہیں ،اس کے علاوہ  شیعی حدیثی ذخیرے میں منسوخ روایات کی چھان بین پر کوئی قابلِ ذکر مستقل کام نہیں ہوا ہے ۔

5۔اہل تشیع محدثین نے چونکہ علم الدرایہ بنیادی طور پر اہل سنت کی کتب خصوصا مقدمہ ابن الصلاح سے نقل کیا ہے ،جیسا کہ ماقبل میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے ،تو اس نقل میں شیعہ اہل علم نے وہ مباحث بھی نقل کئے ہیں ،جو شیعہ حدیثی ذخیرے  پر منطبق نہیں ہوسکتے ،مثلا ،اہل سنت کے ہاں ایک اہم بحث  طرقِ تحمل حدیث کی کی جاتی ہے کہ حدیث کو شیخ سے لینے کے کتنے طرق ہیں ،اس بارے میں آٹھ مشہور طرق کا ذکر کیا جاتا ہے ،پھر ان  کی ذیلی اقسام اور ان میں درجہ بندی کی جاتی ہے ،مقدمہ ابن الصلاح میں  یہ بحث النوع الرابع و العشرون کے تحت مفصلا بیان کی گئی ہے ،مقدمہ ابن الصلاح کی یہ بحث الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ شہید ثانی نے  البدایہ میں اور علامہ مامقانی نے مقباس الہدایہ میں ہو بہو کاپی کی ہے ،اس  سے قطع نظر کہ ہر دو حضرات نے امثلہ تک مقدمہ سے لی ہیں ،یہ بات  قابل ذکر ہے کہ  تحملِ حدیث والی یہ تقسیمات شیعہ حدیثی ذخیرے میں  نہیں چل سکتیں ،کیونکہ  اس تقسیم کا تعلق دورِ رسالت کے بعداور کتبِ حدیث کی تدوین سے پہلے   مجالس ِ حدیث  کے حلقہ جات کے ساتھ ہے کہ  اہل سنت میں وسیع پیمانوں پر تعلیمِ حدیث کے حلقہ جات قائم ہوچکے تھے ،ان حلقہ جات میں سینکڑوں شاگرد ہوتے تھے ،کبھی استاد حدیث  پڑھتا تھا ،شاگرد سنتے تھے ،کبھی شاگردوں میں سے کوئی ایک شاگرد حدیث پڑھتا ،جبکہ استاد و باقی شاگرد سماع کرتے ،کبھی استاد اپنی مرویات لکھی ہوئی بغیر پڑھے ہوئے شاگردوں میں بانٹ دیتا تھا ،کبھی استاد  کسی خاص شاگرد کو خط یا پیغام کے ذریعے اپنی مرویات کی اجازت دیتا ،الغرض متنوع قسم  کے طرز رائج تھے ، جس سے تحملِ حدیث کے طر    قِ ثمانیہ وجود میں آئے ،جبکہ شیعہ علم حدیث  میں یہ طرق متصور نہیں ہوسکتے ،کیونکہ  شیعہ علم حدیث کے دو مراحل ہیں :

 پہلا مرحلہ زمانہ ائمہ  کرام (معصومین ) کا تھا ،جس میں براہ ِ راست ائمہ سے  ان کے مخصوص تلامذہ نے علمِ حدیث   حاصل کیا  ،اس تعلیم و تعلم میں ائمہ کی حیثیت شارع کی جبکہ تلامذہ کی حیثیت امتی کی تھی  اور ائمہ کے یہ ارشادات وحی  پر مبنی ہو  تے تھے  ، تو جس طرح  نبی پاک ﷺ سے صحابہ کرام  وقتا فوقتا وحی  متلو و غیر متلو سن کر محفوظ کرتے تھے ،(بقول اہل تشیع) اسی طرح ائمہ کرام سے ان کے تلامذہ نے  ائمہ کے ارشاداتِ وحی محفوظ کئے ہیں ،تو اس میں  تو صرف ایک ہی صورت تھی کہ ائمہ تلامذہ کو وحی  کی تعلیم دیتے تھے ،تلامذہ اسے نقل کر کے محفوظ کر کے یاد  رکھتے تھے ،جیسا کہ زمانہ نبوت میں آپ ﷺ ارشادات فرماتے ،صحابہ کرام زبانی یا تحریر ی یاد کرتے ،لھذا اس میں  تحمل کے دیگر طرق  کیسے چل سکتے ہیں ؟  کیونکہ  ائمہ کے پاس   باقی شیوخ ِ حدیث کی طرح روایات کا ایک متعین و محدود ذخیرہ  نہیں تھا ،جو وہ انہی الفاظ کے ساتھ اسی سند کے ساتھ  اپنے تلامذہ کوسناتے ،بلکہ   روایات خود ان کے اقوال و ارشادات تھے ،جو وہ کسی نبی کی طرح موقع بموقع اور ضرورت کے وقت ارشاد فرماتے تھے ۔

دوسرا مرحلہ مابعد ائمہ کا  تھا ،اس میں محدثین ِ اہل تشیع نے ائمہ کے براہ راست تلامذہ سے منقول تحریری سرمایے ،جنہیں وہ اصول اربعمائہ کہتے ہیں ،ان سے اپنی کتبِ حدیث مرتب کیں ،ائمہ کے براہ راست تلامذہ نے ائمہ سے سنی مرویات کی کھلم کھلا درس و تدریس  اور تعلیم  نہیں کی ،کیونکہ بقول ِ محققین اہل تشیع ،کہ وہ زمانہ تقیہ کا زمانہ تھا ،اس میں مجالس حدیث نہیں لگ سکتے تھے ،اس کی تفصیل ہم اس سلسلے کی پہلی قسط میں "حدیثی سرمایہ قبل از تدوین " کے عنوان کے تحت بیان  کر چکے ہیں ، جب کتب ِ حدیث مدون ہوگئیں ،تو بعد از تدوین ِ کتب ِ حدیث  ان طرقِ ثمانیہ کی ضرورت  سنی حلقوں میں بھی ختم ہوگئی ، لھذا جب اہل تشیع کے حدیثی سرمایے پر ایسا زمانہ ہی نہیں آیا ،جن میں ائمہ کرام کی مرویات کو قبل از تدوین ِ کتب ِ حدیث تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کے مرحلے سے گزارا گیا ہو تو تحملِ حدیث کے ان طرقِ ثمانیہ کا موقع بھی نہیں آیا ،اس لئے اہل تشیع محدثین کا ان  طرق کو اہل سنت کی اتباع میں علم الدرایہ میں ذکر شیعہ حدیثی ذخیرے کے اعتبار سے درست نہیں ہے ۔

خلاصہ یہ کہ ان طرق کا تعلق بعد از زمانہ تشریع  و قبل از تدوینِ کتب کے ساتھ ہے ، جس میں حدیثی ذخیرے کی شیوخ حدیث تعلیم و تدریس  دیتے تھے ،اور شیعہ علم ِ حدیث  پر یہ زمانہ بوجوہ نہیں آسکا ،تو ان طرق  کا ذکر بے محل ہے ۔یہی وجہ ہے  متقدمین اہل تشیع کے ہاں ان طرق کے جواز و عدم جواز پر کسی قسم کی بحث نہیں ملتی ،علامہ مامقانی نے بھی زیادہ تر حوالے علمائے اہل سنت کے دئیے ہیں ،جبکہ علمائے اہل تشیع میں حوالہ شہید ثانی کا دیتے ہیں ،شہید ثانی سے پہلے  قدمائے شیعہ کے حوالے نہیں دیتے ،کیونکہ  اس وقت ان طرقِ ثمانیہ کا وجود نہیں تھا ،تو ان کے احکام پر بحث بھی نہیں تھی ،چنانچہ اجازت لغیر المعین کا حکم بیان کرتے  ہوئے علامہ مامقانی رقم طراز ہیں :

"وفیہ ایضا خلاف مرتب  فی القوۃ بحسب المرتبتین ،فجوزہ علی التقدیرین جمع من الفقہاء و المحدثین کالقاضی ابی الطیب الطبری ،وا لخطیب البغدادی  و ابی عبد اللہ  بن مندہ و ابن عتاب و ابی العلاء الحسن بن احمد العطار الھمدانی  من العامہ و الشہید من اصحابنا ۔۔۔و منعہ اخرون 4

اس عبارت میں  علمائے اہل سنت کے قدماء کی ایک لمبی فہرست ذکر کر دی ،لیکن  علمائے شیعہ میں سے صرف شہید ثانی مصنف البدایہ کا ذکر کیا ۔

6۔اہل تشیع کے علم الدرایہ  کے تراث میں سب سے اہم ترین اور مفصل کتاب علامہ مامقانی کی دو جلدوں پر مشتمل  کتاب "مقباس الہدایہ  فی علم الدرایہ " ہے ،اس کتاب کی قدر و قیمت اہل تشیع محققین کے ہاں کتنی ہے ؟اس کا اندازہ کتاب کےمحقق محمد رضا مامقانی کے درجہ ذیل اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے ،محقق  محمد رضا مامقانی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :

"و لعل من اجل ما کتب فی ھذ الفن و انفع فیما نعلم کتابنا الحاضر مقباس الہدایہ فی علم الدرایہ لشیخنا المعظم الایۃ العظمی الشیخ عبد اللہ  المامقانی طاب رمسہ ،و اقولہا لا حرصا و لا تعنتا بل شہادۃ للتاریخ انی مع کل مراجعاتی للمخطوط من ھذا الفن و المطبوع من الفریقین ندر ان وجدت من اوفی الموضوع حقہ و اعطاہ جدہ او استوفی البحث استیعابا کمصنفنا فی مصنفہ ھذا "5

یعنی اس فن کی سب سے اجل وانفع کتاب ہمارے علم کی حد تک مقباس الہدایہ ہے ،اور میں بلا تعصب کے تاریخی شہادت کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ اہل سنت و اہل تشیع کے جملہ مخطوطات و مطبوعات  میں  ہمیں اس کتاب کے سوا کوئی ایسی کتاب نہ ملی ،،جس نے اس کتاب کی طرح  موضوع کا حق ادا کیا ہو ،اور تفصیلی بحث کی ہو ۔

ہمارے اس سلسلے کا مقصد چونکہ  فریقین کے حدیثی  علوم و کتب کا تقابلی جائزہ ہے ،اس لئے  محقق مذکور کے اقتباس کے بعد ہم نے  اہل سنت میں سے مقدمہ ابن صلاح اور علامہ مامقانی کی مقباس الہدایہ کے مباحث کا تقابل کیا  اور اہم مباحث کا بالاستیعاب مقارن مطالعہ کیا ،تو ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ مذکورہ کتاب کے   بہت سے اہم مباحث الفاظ و عبارات کے معمولی اختلاف کے ساتھ مقدمہ ابن صلاح سے ماخوذ ہے ،قارئین اس کی تصدیق    کے لئے مذکورہ کتاب کے  درجہ ذیل دو مباحث مقدمہ  ابن صلاح کے ساتھ مقارن مطالعہ فرمائیں :

1۔ مقباس الہدایہ سے  فی طرق  تحمل الحدیث (ج2،ص 182 تا 251 ) کا تقابلی مطالعہ مقدمہ ابن صلاح کے النوع الرابع و العشرون  کے ساتھ  کریں ۔

2۔ مقباس الہدایہ سے  فی کتابۃ الحدیث و ضبطہ (ج2،ص 255 تا 273 ) کا تقابلی مطالعہ مقدمہ ابن صلاح کے النوع الخامس  والعشرون کے ساتھ کریں ۔

مذکورہ دو مباحث چونکہ تفصیلی ہیں ،بوجہ طوالت نقل نہیں کرسکتے ،البتہ قارئین کے لیے بطورِ نمونہ ایک بحث نقل کرنا مناسب ہوگا ،تاکہ اندازہ ہوسکے کہ علامہ مامقانی نے کس حد تک  مقدمہ ابن صلاح سے اپنی کتاب اخذ کی   ہے ،رواۃ کی ایک قسم معرفۃ الوحدان یعنی جس سے صرف ایک راوی نے روایت کی ہو ،اس کی تفصیل  بیان کرتے ہوئے مصنف مقدمہ   ابن صلاح لکھتے ہیں :

"معرفۃ من لم یرو عنہ الا راو واحد من الصحابۃ و التابعین فمن بعدھم رضی اللہ عنھم ،ولمسلم فیہ کتاب لم ارہ و مثالہ من الصحابۃ وہب بن خنبش وھو فی کتابی الحاکم و ابی نعیم الاصبھانی فی معرفۃ علوم الحدیث ہرم بن خنبش وھو روایۃ داود الاودی عن الشعبی و ذالک خطا،صحابی لم یرو عنہ  غیر الشعبی ،وکذلک  عامر بن شہر ،وعروۃ بن مضرس ،ومحمد بن صفوان الانصاری ،ومحمد بن صیفی الانصاری ،ولیسا بواحد و ان قالہ بعضہم ،صحابیون لم یرو عنہم غیر الشعبی  و انفرد قیس بن ابی حازم بالروایۃ عن ابیہ و عن دکین بن سعید المزنی و الصنابح بن الاعسر و مرداس بن مالک الاسلمی و کلہم صحابۃ6

اب یہی بحث مقباس الہدایہ سے ملاحظہ فرمائیں ،علامہ مامقانی لکھتے ہیں :

"معرفۃ الوحدان و ھو من لم یرو عنہ الاواحد ،و فائدۃ معرفتہ عدم قبول روایۃ غیر ذالک الواحد عنہ ،ومثال ذلک  فی الصحابۃ وھب بن خنبش بفتح الخاء المعجمہ و الموحدۃ بینہما نون ساکنۃ الطائی والکوفی، وعروۃ بن مضرس، محمد بن صفوان الانصاری و محمد بن صیفی الانصاری ،صحابیون لم یرو عنھم غیر الشعبی ،وفی التابعین ابو العشراء الدارمی لم یرو عنہ غیر حماد بن سلمۃ ،وتفرد الزہری علی ما قیل عن نیف وعشرین من التابعین لم یرو عنہم غیرہ منہم" 7

اب قارئین ہر دو عبارات کا تقابل کریں کہ کیا علامہ مامقانی نے مقدمہ ابن صلاح کی تحقیق پر کچھ اضافہ کیا ہے یا مقدمہ کی بحث الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کر دی ؟آخر میں ابو العشراء الدارمی ،حماد بن سلمہ اور امام زہری کا جو ذکر ہے ،ان کا ذکر بھی مقدمہ میں کچھ سطروں کے بعد مصنف نے کیا ہے ،نیز  مقدمہ سے اس بحث کو بعینہ اٹھانے میں ایک فنی غلطی یہ ہے کہ صاحبِ مقدمہ ابن صلاح تو اہل سنت رواۃ میں سے وحدان کو بیان کر رہے ہیں، علامہ مامقانی کو اہل تشیع رواۃ میں سے وحدان کی مثالیں لانی چاہئے تھیں ، لیکن علامہ مامقانی نے اہل تشیع کے وحدان کی بحث میں اہل سنت کے وحدان رواۃ ذکر کردئیے ،یا  للعجب

اس کے ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ علامہ مامقانی نے وحدان رواۃ کے بارے میں اتنا ہی لکھا ہے ،جتنی اوپر عبارت نقل ہوئی ہے ،لیکن مقدمہ ابن صلاح میں وحدان رواۃ کے بارے میں آٹھ صفحات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے ، اس سے قارئین مقدمہ  ابن صلاح اور علامہ مامقانی کی مقباس الہدایہ کے استیعابِ  مباحث کا موازنہ کر سکتے ہیں ،اس تفصیل کے بعد  محقق رضا مامقانی کے دعوے پر ایک نظر دوبارہ  ڈالئے اور فیصلہ کیجیے کہ ان کا دعوی حقائق کے اعتبار سے کتنا وزنی ہے؟بے جا طوالت کی فکر دامن گیر نہ ہوتی تو اس موقع پر مقدمہ ابن صلاح کے  ستر انواع  کی فہرست اور علامہ مامقانی کی مقباس الہدایہ کی فہرست ذکر کرتا ،تاکہ قارئین اندازہ لگا سکیں کہ استیعاب،جامعیت اور ترتیب میں کونسی کتاب فائق ہے،قارئین ہر دو کتب کی فہرست دیکھ کر خود بھی یہ  موازنہ کر سکتے ہیں ۔

7۔ اہل تشیع کے علم الدرایہ کی سب سے تفصیلی اور شیعہ محققین کے بقول سب سے اعلی کتاب کا مقدمہ ابن صلاح کے ساتھ تقابل کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  اہل تشیع  کے  علم الدرایہ کے بقیہ کتب    کے مباحث کی کیا کیفیت ہوگی؟ہر  دو مکاتب کے اصولِ حدیث کا یہ تقابلی مطالعہ  بحمدہ  تعالی اپنے اختتام کو پہنچا ،اس تقابلی مطالعے میں  علم جرح و تعدیل اور علم الرجال کا تقابل شامل نہیں ہے ،ان کی اہمیت کی وجہ سے اسے ان شا اللہ اگلی قسط میں مستقل بیان کیا جائے گا ۔


حواشی

 1.  التقریب و التیسیر ،ص90

2.  دیکھیے :المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ،1030تا 1034

3.  دیکھیے :اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،ص85

4.  مقباس الہدایہ ،ج2،ص212

5.  مقباس الہدایہ ،ج1،ص10

6.  مقدمہ ابن صلاح ،النوع السابع و الاربعون ،ص552

7. مقباس الہدایہ ،ج2،ص346

(جاری)


صنعاء پالمپسسٹ پر جدید تحقیقات کا جائزہ

سید ظفر احمد

خلاصہ: یہ ایک ریویو پیپر ہے جس میں صنعاء پالمپسسٹ رقم DAM 01-27.1  پر حالیہ یعنی گزشتہ دس سالوں میں ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو  ہرن ،  بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے  کو ایک عمل سے گزار کر  بنایا جاتا تھا۔ پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے، اس لیےان  کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا۔ پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر  پارچہ  آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا  تھا۔   پالمپسسٹ  (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں  جس میں تحریر کی دو  یا زیادہ سطحیں   ہو تی  ہیں۔ صنعاء سے1972ء میں  دریافت ہونے والے مذکورہ پالمپسسٹ میں  تحریرکی دو  تہیں ہیں اور دونوں قرآنی  مخطوطات ہیں۔ کچھ محققین کے نزدیک یہ مکمل قرآنی مصاحف کی باقیات ہیں جن میں سے زیریں نسخہ قبل ِعثمان روایتِ متن کا حامل ہے جب کہ بالائی نسخہ عثمانی روایتِ متن پر مشتمل ہے۔ زیریں نسخہ واحد قدیم ترین قرآنی  دستاویز ہے جو  غیر عثمانی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔قریب ترین عرصہ میں جو تحقیقات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ اوراق مکمل مصاحف کا کبھی حصہ نہ تھے بلکہ غیر پیشہ ورانہ انداز میں لکھے ہوئے طلبہ کے نوٹس تھے جو کسی درسی حلقہ میں استعمال ہوتے رہے تھے، اور ان کی حیثیت عارضی تھی جن کو بالآخر  ضائع کرنا مقصود تھا۔ اس جائزہ سے  معلوم ہوا کہ قرآن سے منسوب غیر معیاری مخطوطات   ناقص حافظہ  اورغیر پیشہ ور  انہ  ہاتھوں   کتابت کا  نتیجہ ہیں ۔   اور یہ بھی کہ قرآن  کی نشرواشاعت کا  اصل مدار زبانی روایات پر ہے۔ اس  مضمون کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء  ان تحقیقات سے آگاہ ہوں جو نُسَخِ قدیمہ پر مغربی دنیا میں  ہو رہی ہیں۔ بعید نہیں کہ  اس طرح بعض   مشکل موضوعات کی  عقدہ کشائی کی طرف کچھ اشارے مل سکیں۔  اس ضمن میں کچھ اشارات زیرِ نظر مضمون میں بھی دیے  گئے ہیں۔

 تعارف

پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو  ہرن،  بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے  کو ایک عمل سے گزار کر  بنایا جاتا تھا۔  اس کو عربی میں 'رَق' کہتے ہیں،  جیسا کہ قرآنِ مجید  میں سورۂ   طور میں پھیلی ہوئی جھلی پر لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھائی گئی ہے (وَالطُّورِ◌ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ◌ فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ◌)۔   پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے،  اس کا اندازہ یوں لگا یا جاسکتا ہے کہ ایک  عام  سائز  کے مصحف  کو لکھنے کیلیے کم سے کم 200 جانوروں  کی ضرورت رہتی ہوگی [1]۔   اس لیے پارچوں  کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا، پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر  پارچہ  آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا  تھا۔   پالمپسسٹ  (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں  جس میں تحریر کی دو  یا زیادہ سطحیں   ہو تی  ہیں۔ایسے پالمپسسٹ بھی پائے جاتے ہیں جن میں تین، چار اور پانچ  بار تحریر ثبت کی گئی۔  وقت گزرنے کے ساتھ پرانی تحریر  عموماً ہلکے بھورے رنگ میں نمایاں ہو جاتی ہے  جو   زنگ کی علامت ہے کیونکہ روشنائی میں دھاتی مرکبات شامل ہوتے تھے۔

صنعاء پالمپسسٹ  کی تاریخ

1965 ء میں  یمن کے  شہر صنعاء میں شدید بارش نے   تاریخی مسجد جامع الکبیر کے مغربی مکتبہ کی چھت  کو بہت نقصان پہنچا یا-  اس نقصان  کا جائزہ لینے کے دوران اندرونی چھت (false ceiling) اور بیرونی چھت (roof) کے درمیان، یعنی سندرہ یا دو چھتی (attic) میں، ایک سٹو ر روم دریافت ہوا جس  کا کوئی دروازہ نہ تھا، بس ایک کھڑکی تھی۔ معلوم ہوا کہ اس  مخزن  میں قدیم قرآنی مخطوطات کی بہت بڑی تعداد  موجود ہے۔   اس وقت ان قرآنی نسخوں پر مشتمل تقریباً پانچ  بوریاں  اوقاف کی لائبریری میں جمع کرادی گئیں۔ کچھ عرصہ بعد لائبریری کے کیوریٹر نے بوریوں کے  کچھ مشمولات کو غیر قانونی طور پر فروخت کردیا۔  1972 ء میں مسجد کی بیرونی دیوار کے شمال مغربی کونے کو مستحکم کرنے کے لئے  چھت کا کچھ حصہ ہٹایا گیا تاکہ بحالی اور تزئین و آرائش کے کاموں میں پیشرفت ہوسکے۔  چونکہ اُسی کونے میں  سٹور روم بھی واقع تھا ،   اس لیے باقی ماندہ  نسخے بھی وہاں سے نکال کر بیس بوریوں کی صورت   یمن کے قومی عجائب گھر منتقل کر دیے گئے ۔  کچھ عرصے بعد یمنی حکام کو معلوم ہوا کہ ان قیمتی قرآنی نسخوں کے چند اجزاء  کو پھر  سے سمگل کر دیا  گیا ہے۔  چنانچہ مزید بدعنوانی کی روک تھام کے لئے ، بقیہ  نسخوں کو آخر کار  جامع الکبیر میں دوبارہ منتقل کردیا گیا۔ اس اثناء میں بین الاقوامی سطح پر ان  نوادرات کو محفوظ کرنے کے لئے فوری مطالبہ شروع ہوچکا تھا۔ جولائی 1976 ء میں ، یونیسکو کے خرچ پر اور ورلڈ آف اسلام فیسٹیول ٹرسٹ کے زیر اہتمام  ایک  اجتماع  مرکزِ شرق ِ اوسط ،  فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز ، یونیورسٹی آف کیمبرج میں منعقد ہوا جس  میں مسلم اور غیر مسلم  ماہرین ِ فن نے شرکت کی۔ اس  ندوہ نے متعدد مخصوص تحقیقی سرگرمیوں کی سفارش کی تاکہ جامع الکبیرمیں دریافت ہونے والی قرآنی  نُسَخ کے  اس عظیم ذخیرہ  کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

چونکہ بری طرح سے خراب  مخطوطات کے تحفظ کے لئے مقامی طور پر کوئی تکنیکی  مہارت موجود  نہ تھی ،  اس لیے  بیرونی ماہرین کی ضرورت تھی۔  ڈنمارک نے یمنی حکومت سے اس پیش کش کے ساتھ رابطہ کیا کہ ان مخطوطات کو  ڈنمارک بھیجا  جائے  جہاں بحالی کا کام  ہوسکے گا۔ یمنی حکام  نے مخطوطات کو ملک ہی میں رہنے کو ترجیح دی  اور اس پیش کش کو  مسترد  کردیا  ۔ آخر کار ، بہت غور و فکر کے بعد ،  حکام نے مغربی جرمنی کی وزارت خارجہ کے ثقافتی  شعبے کے تعاون سے ایک خصوصی منصوبے کی اجازت دی۔  وفاقی جمہوریہ  جرمنی  اور یمن عرب جمہوریہ کی عربی نسخوں کی بحالی اور زمرہ بندی سے متعلق 'دوطرفہ' معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد 1980ء کے موسم خزاں میں   یمنی  محکمۂ آثارِ قدیمہ  کے زیرِ اہتمام  ان پارچہ جات کی بحالی کا منصوبہ شروع ہوا۔  جرمنی کی  وزارتِ  خارجہ کا ثقافتی شعبہ اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کر رہا تھا۔  یونیورسٹی آف ہیمبرگ  کے پروفیسر  البرخت نوث (Albrecht Noth) اس  کے پروجیکٹ ڈائریکٹر تھے۔ یہ پروجیکٹ  1989ء میں اختتام پذیر ہوا  جب 2.2 ملین جرمن مارک کی گرانٹ ختم ہوگئی۔ یونیورسٹی آف سارلینڈ کے پروفیسرگیرڈ-روڈیگر  پیوئین  (Gerd-Rüdiger Puin)اس پروجیکٹ کے 1981 سے مقامی ڈائریکٹر تھے ۔  1985ء میں سارلینڈ ہی کے آرٹ   ہسٹورین پروفیسر ہانس کاسپر گراف   فان   بوثمر (Hans-Caspar Graf von Bothmer) نے اس ذمہ داری کو سنبھالا۔ 1982ء سے1989ء تک معروف کنزرویشن سپیشلسٹ   اُرسُلا  ڈریبہولز (Ursula Dreibholz)اس پروجیکٹ کی  چیف کنزرویٹر رہیں اور صنعاء میں ہی مقیم رہیں۔ انہوں نے مخطوطات کی بحالی کا کام مکمل کیا ،  ان کیلیے مستقل  سٹوریج ڈیزائن کیا ،  مخطوطات  کے  منتشراجزاء کو قرآنی مصاحف میں ترتیب دیا اور یمنی عمال کو اس کام کی تربیت بھی دی۔  1985ء میں دارالاثار الاسلامیہ، کویت نیشنل میوزیم،   میں  چند مخطوطاتِ صنعاء  کی نمائش ہوئی  ۔ اس موقع پر 'مصاحف صنعاء' کے عنوان سے  ایک باتصویر  کیٹلاگ بھی شائع کیا گیا جس سے عام لوگوں کو اس منفرد تاریخی ذخیرہ  اور بحالی کے پروجیکٹ کا علم ہوا  [2] ۔   صنعاء کی دریافت کے بارے میں اندازہ لگایا گیا کہ یہ  قریب قریب  1000 قرآنی نُسَخ ہیں جو 15000 پارچوں پر مشتمل ہیں۔ غالباً پروفیسر پیوئین ہی وہ فرد ہیں جنہوں نے نے ان پارچوں کو مختلف مصاحف کی صورت تقسیم کیا تھا۔ 1996-97ء میں بوثمر نے ان  مصاحف کی مائیکروفلم بنالیں۔ یہ مصاحف اور مائیکروفلمز جامع الکبیر کے مقابل واقع  دارالمخطوطات  کے المکتبۃ الغربیۃ میں محفوظ ہیں۔   اس ذخیرہ میں   36 اوراق پر مشتمل ایک  پالمپسسٹ، کیٹلاگ نمبر DAM 01-27.11، شامل  تھا جس کی تاریخ کا اندازہ پہلی صدی ہجری (ساتویں/آٹھویں صدی شمسی)  لگایا گیا تھا  [3] ۔ اس کے علاوہ  جو قدیم حجازی اور کوفی  مصاحف  دارالمخطوطات  میں ہیں ان میں صرف  DAM 01-27.1 ہی  پالمپسسٹ ہے ۔

بحالی کے کام سے پہلے جو پارچے غیر قانونی طریقے سے سمگل کردیے گئے تھے وہ  بالآخر لندن کے  معروف نیلام گھروں میں فروخت  ہوئے۔ ان میں سے  ایک ورق یا فولیو کو سٹینفرڈ 2007 کا نام دیا جاتا ہے جو1993 میں لندن کے سوتھبی (Sotheby’s)  نیلام گھر میں فروخت ہوا تھا۔ اسی سے ملحق ایک دوسرا فولیو  1992 میں سوتھبی ہی میں فروخت ہوا تھا،   وہی دوبارہ  مئی 2001 ء میں کرسٹی (Christie’s)  نیلام گھر میں فروخت کیلیے پیش کیا گیا جہاں سے یہ لندن کے مشہور آرٹ ڈیلر— سام فوگ گیلری— سے ہوتا ہوا  بالآخر  کوپن ہیگن کے  عالمی شہرت یافتہ عجائب گھر ڈیوڈ کلیکشن  پہنچا جہاں وہ اب بھی  موجود ہے۔ ایک اور ورق 2001 ء میں بونہامس  (Bonhams) نیلام گھر میں فروخت ہوا۔ اور ایک چوتھا فولیو کرسٹی نیلام گھر میں 8 اپریل 2008 کوفروخت ہوا۔ اس کی قیمت4, 924, 279 یعنی تقریباً پانچ ملین  برطانوی پاؤنڈ  لگی تھی  جو کسی اسلامی مخطوطے کی اس وقت تک  سب سے زیادہ لگائی جانے والی قیمت تھی۔ان اوراق  کو  علی الترتیب سٹینفرڈ 2007، ڈیوڈ 86/2003 ، بونہامس 2000 اور کرسٹیز 2008   کا نام دیا جاتا ہے[3]۔

صادقی اور ساتھیوں کی تحقیق

صنعاء-1  کے مذکورہ چار اوراق پرمشتمل چرمی پالمپسسٹ  کا تحقیقی مطالعہ سٹینفرڈ یونیورسٹی   (Stanford University)کے پروفیسربہنام  صادقی (Behnam Sadeghi)2  او ر اُوے  برگمان  (Uwe Bergmann)نے 2010ء میں اپنے مونوگراف میں رپورٹ کیا [4]۔ انہوں نے مذکورہ  چار فولیوز کو  اسی مصحف کا حصہ  قرار دیا  جس  کا   کیٹلاگ نمبر DAM 01-27.1  تھا۔ چنانچہ انہوں نے پورے مجموعے کو صنعاء-1 کانام دیا۔ 2012ء میں صادقی  نے پچھلے کام کو بڑھاتے ہوئے،  ہارورڈ  یونیورسٹی  کے محسن گودارزی  (Mohsen Goudarzi) کے ساتھ129 صفحات پر مشتمل   ضخیم مونوگراف  میں   پہلی مرتبہ صنعاء  -1 کے زیریں اور بالائی مخطوطات کی تحریر  کشائی (decipher) کی اور تعدیل و تہذیب شدہ ایڈیشن  شایع کیے [5]۔ اس میں انہوں نے اسی نظریہ کا اعادہ کیا کہ 'صنعاء-1 'کی دونوں سطحیں قرآن ہیں اور دو  مختلف مصاحف کی نشاندہی کرتے ہیں ۔یہ کل 40   فولیو تھے  جن میں وہ چار فولیو شامل تھے  جو لندن کے  نیلام گھروں میں فروخت ہوئےتھے3، صادقی اور گودارزی کو  ان کی تصاویر  نیلام گھروں سے مل گئی تھیں۔  باقی   36 فولیوزکی تصاویر ایک فرانسیسی-اطالوی ٹیم نے 2007میں بنائی تھیں جوصادقی نے استعمال کیں۔ ان میں سے کچھ تصاویر عام روشنی(visible light) کے طَیف  (spectrum) میں بنائی گئی تھیں، جن میں بالائی تحریر نظر آجاتی ہے اور زیریں تحریر بھی تھوڑا بہت دِکھائی دیتی ہے خاص کر وہ متن جو دو سطور کے درمیان لکھا گیا ہو۔ دوسرےؔ، وہ تصاویر جو بالا بنفشی شعاعوں (ultra violet light) کے اندر لی گئیں تھیں، ان میں زیریں تحریر زیادہ  نمایاں ہوجاتی ہے۔ تیسرےؔ، وہ تصاویر جن کو  بعد میں پروسس کیا جاتا ہے یعنی post-processed ۔ اس طریقے میں بالائی متن کو فوٹو شاپ یا اسی طرح کے پروگرام کے ذریعے حذف کرکے  زیریں متن کو نمایاں کیا جاتا ہے۔  صادقی یا ان کے کسی ساتھی کو یمن جا کر پارچے براہِ راست دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔

صادقی اور برگمان  کے مطابق   فولیو Stanford’07 جس کی پیمائش   63.3 28.5xسم  تھی اگست 2007 میں  سٹینفورڈ سنکروٹرون ریڈی ایشن لیبارٹری  (Stanford Synchrotron Radiation Laboratory)سے ایکس رے فلورےسنس امیجنگ  (X-Ray Fluorescence Imaging)  کے لیے بھیجا گیا   [4]۔  اس تکنیک   کے ذریعے ورق پر موجود روشنائی میں پائے جانے والے کیمیائی مواد کی نشاندہی ہوسکتی ہے اور نہ صرف زیریں تحریر تک رسائی ممکن ہوجاتی ہے بلکہ  کچھ حروف، تشکیل، علاماتِ آیات اور سورتوں کو ممیز کرنے والے سجاوٹی خطوط بھی دکھائی دے جاتے ہیں جو  بصورتِ دیگر  شناخت نہیں  ہوسکتے ۔  چونکہ زیریں اور بالائی تحاریر کی روشنائی  کیمیاوی طور پر مختلف تھیں،   اس لیے دونوں کا الگ الگ جائزہ لینا ممکن ہوسکا۔ مثال کے طور پر صادقی اور برگمان  نےیہ   نتیجہ اخذ کیاکہ  ہر تہہ میں   تشکیل اور علاماتِ آیات اُسی  روشنائی سے بنائے گئے تھے جس سے متن  لکھا گیا تھا ۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon Dating)کے لیے  Stanford’07 کا ایک نمونہ یونیورسٹی آف ایریزونا  کے ایکسیلیریٹر ماس  سپیکٹرومیٹری لیبارٹری (Accelerator Mass Spectrometry (AMS) Laboratory) بھیجا گیا۔ نتائج کے مطابق 68 فیصد امکانیت  (probability)کے ساتھ پارچہ کا تعلق  614 ءسے 656 ء کے درمیانی عرصے سے ہوسکتا ہے دوسرے الفاظ میں جس جانور کی  چرم سے پارچہ بنایا گیا  اس کی موت   614 سے 656 ء کے  دوران ہوئی ہوگی۔ 95 فیصدامکانیت کے ساتھ پارچہ 578ء سے 669ء کے درمیانی عرصے کا رہا ہوگا۔ 75.1 فیصد امکانیت کے ساتھ پارچہ 646ء سے قبل  کامعلوم ہوا ۔ گویا اس بات کا دو تہائی سے زیادہ امکان ہے کہ  یہ مخطوطہ نبی ﷺ کی وفات  کے  14سال کے بعد کا نہ  رہا ہوگا۔ بلکہ یہ فرض کرنا بھی ممکن ہے کہ پارچہ نبی ﷺ کی وفات کے چار سال کے اندر لکھا گیا ہو  کیونکہ اس کی امکانیت 56.2 فیصد بنتی ہے۔

یاد رہے کہ اصولاً تو پارچہ کی عمر اور تحریر کی عمر یکساں ہونا ضروری نہیں تاہم  صادقی اور برگمان کے نزدیک پارچہ  تحریر سے  بہت پرانا نہیں ہوسکتا ۔ دوسرے الفاظ میں پارچہ کی عمر تحریر کی عمر ہی کی نشاندہی کرتی ہے۔  پارچے مہنگے ہوتے تھے اور  یہ بات قرینِ قیاس نہیں لگتی کہ قرآن کے علاوہ کسی اور تحریر کیلیے پارچے محفوظ رکھے جاتے ہوں  گے۔ صادقی  کہتے ہیں کہ عربوں کے ہاں قرآن کے علاوہ کچھ لکھنے کا داعیہ بھی نہ ہوتا ہوگا۔ اس کا ثبوت ان کے نزدیک یہ ہے کہ   خطِ  حجازی  میں قدیم ترین عربی   مخطوطات  قرآن ہی کے نُسَخ ہیں 4۔صادقی نے نتیجہ نکالا کہ صنعاء پالمپسسٹ کی  زیریں تحریر صحابہ ?کے دور سے متعلق ہے جبکہ بالائی تحریر روایتِ عثمان پرمشتمل ہے جو زیریں تحریر کے50 سال  بعد لکھی گئی  ہوگی۔

صنعاء سے قرآنِ عظیم  کے قبل از عثمان  مخطوطہ کی دریافت بہت بڑی خبر تھی کیونکہ 650 ءکے لگ بھگ جب سرکاری طور پر تیار کردہ مصاحفِ عثمان  اسلامی بلاد و امصار بھیجے گئے تو اس واقعہ کے فوری  بعدسے رسم ِعثمانی کی بڑے پیمانے پر نشر و اشاعت  شروع ہوگئی تھی اور  غیر عثمانی  مصاحف کی  ضرورت کم سے کم ہوتی چلی گئی حتیٰ کہ ایسے مصاحف معدوم ہوگئے اور ان کا ذکر صرف اسلامی  لٹریچر ہی میں رہ گیا تھا۔   اس لحاظ سے پوری اسلامی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ ہے جب صنعاء میں  قبلِ عثمان روایتِ متن  پر مشتمل  قران پاک کا نسخہ پایا گیا۔

نسخۂ صنعاء کی زیریں اور بالائی تحاریر میں کچھ فروق صادقی نے بیان کیے ہیں۔ مثلاً بالائی تحریر میں ہم شکل حروف صحیحہ (consonants) جیسے 'ب'، 'ت'، 'ث' وغیرہ کو ممیز کرنے کیلیے مختصر ڈیش کا استعمال زیریں تحریر کے مقابلے میں زیادہ فراوانی سے کیا گیا ہے۔  اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، ڈاکٹر محمد مصطفیٰ  الاعظمی ؒ نے  کتبا  ت اور دیگر شواہد کی   بناء   پر ثابت کیا ہے کہ اہلِ عرب ہم شکل حروفِ صحیحہ کو ممیز کرنے کیلیے نقاط کا استعمال کیا کرتے تھے  [7]  ۔ زیریں تحریر میں  سورتوں کی تقسیم ظاہر کرنے والےسجاوٹی خطوط نظر آتے ہیں جبکہ بالائی تحریر میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی  اسی طرح  سورہ کے اختتام پر مثلاً 'ھذہ ختمۃ سورۃ المنفقین'  جیسا نوٹ زیریں تحریر ہی میں دیکھا گیا۔ بالائی تحریر میں سورتوں کے نام کا کوئی ذکر نہیں جبکہ زیریں تحریر میں ہے۔ حیران کن طور پر  زیریں مخطوطہ میں کہیں  کہیں اعراب یا تشکیل دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ ایک مکمل نقطہ ہوتا ہے جو حرف کی حرکت کو ظاہر کرتا ہے اور بعض اوقات ہمزۃ الوصل کو بھی ظاہر کرنے کیلیے استعمال ہوا ہے۔دونوں تحریروں میں آیت کی علامت پائی جاتی ہے۔ دونوں ہی سطحوں پر 'اولی الالبب' کی جگہ 'اولاالالبب'   حالتِ  نصبی میں دیکھا گیا۔ بالائی  تحریر دو کاتبوں  کا کام ہے، ایک 'علَیَ' اور دوسرا 'عَلا'  لکھتا ہے۔  

بالائی متن

بالائی متن کی عمر کا اندازہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے نہیں معلوم ہوسکتا کیونکہ اس طریقہ سے تو صرف پارچہ کی عمر کا اندازہ ہوسکتا ہے نہ کہ تحریر کا۔  پارچہ کی عمر کا اطلاق البتہ زیریں نسخہ پر کیا جاسکتا  ہے، جیسا کہ صادقی اور برگمان نے کیا۔ بالائی متن کی تاریخ جاننے  کیلیے  تاریخِ فن (Art history)، علمِ تحاریرِ قدیمہ (paleography) اورتاریخی لسانیات (philology) کے  طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پہلی اور دوسری صدی ہجری میں لکھے جانے والے  قرآنی نُسَخ بڑی تعداد میں دنیا بھر میں عجائب گھروں، لائبریریوں، مساجد اور نجی ہاتھوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان سب کا تعلق معیاری روایتِ متن ہے جس کو رسمِ عثمانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب تیسرے خلیفۂ راشد  حضرت عثمان ? نے ایک معیاری نسخۂ قرآن تیا ر کرایا تھا اور اس کی نقول  اسلامی حکومت کے مرکزی شہروں میں بھجوادی تھیں کہ اب موجود مصاحف کو تلف کرکے صرف معیاری اور سرکاری مصاحف کی نقول   ہی سے  قرآنِ مجید کی  مزید نشر و اشاعت کی  جائے  گی۔اس واقعے کی قطعی تاریخ تو نہیں معلوم لیکن اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کام 24 تا 30 ھ (644  تا 650 ء) کے دوران ہوا ہوگا۔ صادقی کہتے ہیں،  روایات میں جو کچھ بھی تناقضات اور خلا پائے جائیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ  مسلمانوں کا اجتماعی حافظہ اس واقعہ  کی تصدیق  کرتا ہے۔ نیز یہ  بھی کسی شک کے بغیر معلوم ہے کہ  مختلف شہروں میں بھیجے جانے والے معیاری یا سرکاری مصاحف  کے متون میں جواختلافات5 تھےوہ  'مورفیمی ساختیاتی' (skeletal morphemic) نوعیت  کے تھے6 یا متن کی آیات میں تقسیم کے لحاظ سے۔ جہاں تک متن کی سورتوں میں تقسیم کا تعلق ہے، صادقی نے ثابت کیا ہے کہ یہ کام رسولِ کریم ﷺ خود کر گئے تھے۔  ان دو اقسام کے اختلافات  کا تجزیہ  کرکے   صادقی  نے  معلوم کیا  کہ  بالائی متن معیاری روایت متن   پر مشتمل ہے، جس کا آغاز حضرت عثمان کے جمع و  نشرِ قرآن سے ہوا تھا۔ یہ تحریر  ساتویں صدی  شمسی کے  نصف آخر یا آٹھویں کے اوائل میں لکھی گئی ہوگی۔ اور اس کو دمشق، حمص، کوفہ یا بصرہ  میں نہیں بلکہ مکہ، مدینہ، یمن یا مصر میں لکھا گیا   ہوگا۔

زیریں متن

پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے قلمی نسخوں  کا شجرہ ہوا کرتا تھا جس طرح نباتات اور حیوانات میں ہوتا ہے یعنی موروثیت اور تغیر یا  طَفرہ  (mutation)۔ چنانچہ ایک قلمی کتاب اس سے قبل کی تحریر کی نقل ہوا کرتی تھی اور وہ اس سے بھی  پچھلی کتا ب کی نقل ہوتی تھی وغیر ذالک۔ اس طرح نقل در نقل کے باعث متن میں تغیر در آتا ہے۔ چنانچہ  انتقادِ متن (textual criticism)   میں ماہرینِ حیاتیات کے طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔  انواع کا ماضی جاننے کے لیے ماہرینِ حیاتیات دو طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ایکؔ یہ کہ کسی فاسل کی تاریخ جاننے کیلیے بیرونی ذرائع استعمال کیے جائیں، جیسے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ  یا علم الحفریات (paleontology or fossilogy)  ۔  دوسرےؔ یہ کہ وہ  ایک جیسی خصوصیات  رکھنے والی حیاتی انواع کو گروپس  میں تقسیم کرتے ہیں ، جنہیں فینو ٹائپ کہتے ہیں،پھر ان  کی درجہ بندی کرتے ہیں۔  اس طرح حَیَوی شجرۂ  نسب وجود میں آتا ہے۔ پھر ذیلی شاخوں کا مقابلہ کر کےمعلوم کیا جاتا ہے کہ کس شاخ سے وہ متفرع ہوئیں۔  اس عمل کو بار بار  ماضی کی طرف دہراتے جائیں تو  بالآخر انواعِ قدیم اور ان کے خواص  کی نشاندہی  ہوجاتی ہے یا موجود ہ انواع کے قدیم اوصاف کا علم ہوجاتا ہے۔ یہی طریقہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مخطوطات کے مطالعے اورانتقادِ متن (textual criticism)  کیلیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ قرآنی مصاحف  بھی  مشترکہ ٹیکسٹ ٹائپ یا طرزِکتابت   یا   رسمِ کتابت  کے مجموعوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ کسی مخطوطہ کے متن پر انتقاد کا مرکزی نقطہ ٹیکسٹ ٹائپ یا  رسمِ متن ہے کیونکہ اس کے پیچھے متن کی روایت  (textual tradition)ہے۔  جو متون ایک ہی رسم  سے تعلق رکھتے ہوں، باہمی طور پر قریب ہوں گے  اور اپنے مبداء  کی طرف اشارہ کریں گے اور ان کا تعلق ایک ہی روایتِ متن  (textual tradition)سے  قرار دیا  جائے  گا۔ چنانچہ  متون کے فروق کی بنیاد پر نسخوں کی گروہ بندی  کی جاتی ہے، گویا   نسخوں کا ہر گروہ یا  مجموعہ شجرۂ نُسَخ کی ایک  شاخ کی مانند ہے ۔ پھر ذیلی شاخوں یعنی اخلاف  کا موازنہ کرکے  اسلاف  کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔  صادقی کہتے ہیں 'صنعاء-1 'کے سلسلے میں یہ طریقہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر پایا گیا۔   وہ یہ امر واضح کرتے ہیں  کہ  رسمِ عثمانی کا مطلب املاء ِ عثمانی نہیں ہے بلکہ یہ ایساٹیکسٹ ٹائپ  ہے جس کے پیچھے معیاری قرآن کی روایت ہے  جو اُن  معیاری نُسَخ سے شروع ہوئی جو عثمان  ?نے اہم شہروں میں بھجوائے تھے۔ صادقی  کی تحقیق کے مطابق صنعاء پالمپسسٹ کا زیریں   مخطوطہ  ایک مکمل مصحف کا حصہ ہے جو متنِ عثمانی کی روایت سے مختلف روایت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کو انہوں نے  غیر عثمانی روایت کہا اور'صحابی-1' یا  'ص-1 ' کا نام دیا7 ، جس کا مطلب یہ ہے  کہ اس روایت کا آغاز کسی صحابیؓ سے ہوا تھا۔  اس طریقِ تحقیق سے صادقی نے ثابت کیا  کہ  عثمان کا صحیفہ '  ص-1 ' کے مقابلے میں نہ صرف  قدیم تر  ہے بلکہ  اصل  (متنِ نبوی ﷺ)سے بھی قریب ترہے۔

زیریں نسخہ  بہت اہمیت کا حامل ہےکیونکہ اس کے متن کی روایت معیاری روایت سے مختلف ہے۔مثال کے طور پر البقرۃ- 196 میں وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ کے بجائے  اس میں صرف ' ولا ٮحلڡوا'  (ولا تحلقوا) ہے یا البقرۃ-201 میں رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃ وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَۃ   زیریں متن میں  یوں ہے: 'رٮںا اٮںا ڡى الدںىا حسںه و الاحره'  (ربنا  آتنا  فی الدنیا  حسنۃ و الآخرۃ)۔ اسی طرح اور بھی کئی فروق ہیں جو  زیریں متن  اور معیاری متن کے درمیان  پائے جاتے ہیں۔ یہ فروق ان فروق   کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو  ابن مسعود/ ابن کعب   اور  معیاری متن کے درمیان پائے جاتے ہیں۔  اسی طرح   ا بن مسعود/ ابن کعب   اور  معیاری متن کے درمیان فروق زیریں متن  میں زیادہ نہیں  پائے جاتے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ زیریں متن کا اپنا الگ ٹیکسٹ ٹائپ  ہے جو معیاری متن اورا بن مسعود/ابن کعب سے منسوب متن، دونوں سے مختلف ہے۔ بقول صادقی اور گودارزی  یہ  نسخہ  ایک  غیر عثمانی یا غیر معیاری  (Non canonical) مصحف کی  باقیات میں سے ہے   ۔

'ص-1 ' نہ صرف  عثمانی ٹیکسٹ ٹائپ سے ممیز ہے  بلکہ اس ٹیکسٹ ٹائپ سے بھی مختلف ہے جو مصاحفِ عبداللہ ا بن مسعود و ابی ابن کعب ?کے بارے میں احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے۔   ان روایاتِ متن  کا  نقطہٴ آغاز زبانی ہے جب رسولِ پاک ﷺ کی زبانِ مبارک  سے الفاظ ادا  ہوئے،  کاتبوں نے سنا اور اپنے  اپنے  طریقوں سے لکھا۔ شجرۂ نُسَخ کے طریقے سے صادقی  نے معلوم کیا کہ نبی ﷺ کے مبداءِ فیض سے تینوں روایات (عثمانؓ، 'ص-1 ' اور ابنِ مسعودؓ)  جاری ہوئیں اور ثابت کیا کہ  عثمانی متن دوسرے متون سے قدیم تر ہے۔ وہ کہتے ہیں،عثمانی اور دوسری روایاتِ متن  کی شاخیں جب  ایک دوسرے سے جدا  ہوئیں تو یہ زمانہ  نشرِ رسمِ عثمان کے بعد کا نہیں ہوسکتا۔ تاریخ و آثار میں محفوظ بیشمار عثمانی مصاحف  اور مختلف عثمانی  قراآت سے جن اختلافات  کا پتہ چلتا ہے وہ اُسی زمانے میں سامنے آئے جب عثمانی روایتِ متن پھل پھول رہی تھی۔ یہ اختلافات تعداد  اور وسعت کے اعتبار سے اتنے قلیل ہیں کہ تحریر سےنقل  کرتے وقت  یا املاء لکھتے وقت  ان کا پیدا ہوجانا بعید نہیں ۔  صادقی ، برگمان اور گودارزی کی رائے میں متن کے زیادہ تر اختلافات  کی وجہ مندرجہ ذیل  اسباب سے ہوسکتی ہے: 

  1. مماثلت  بالتوازی  (Assimilation of Parallels): قرآن میں بعض جملے اور تراکیب  الفاظ کے فرق کے ساتھ یا بعینہِ اکثر بار بار آتے ہیں ، چنانچہ بسا اوقات حفاظ بھی ان کو ایک دوسرے کی جگہ پڑھ دیتے ہیں  ۔  اسی طرح  کتابت  کے دوران  بھی ہوجاتا ہے جب  کاتب آیت لکھتے وقت  کسی ملتی جلتی  آیت کا جو قرآنِ مجید میں کسی دوسرے مقام پرآئی ہو  (یعنی متوازی  ) کا   اثر قبول کرلیتا ہے۔ نتیجتاً متن میں الفاظ کا حذف(omission)،اضافہ(addition)، تقلیب (transposition) یا  تبادلہ(substitution)  واقع ہو جاتا ہے۔ 
  2. مماثلت بالسیاق (Assimilation of Nearby Terms): املاء لکھتے وقت کوئی لفظ لمحہ قبل کاتب  نےسنا  ہوتا ہے اور غلطی سے   اصل کی جگہ   اسے لکھ دیتا ہے ۔  تحاریرِ قدیمہ (paleographers) اور تاریخی لسانیات (philologists) کے  ماہرینِ نے   تمثل بالتوازی اور تمثل بالسیاق سے وارد ہوجانے والی  اغلاط کو عہد نامۂ جدید کے قدیم نسخوں میں اکثر نوٹ کیا ہے۔ 
  3. معمولی اغلاط: ان میں حروف (عطف، جر وغیرہ)، ضمائر، سوابق و لواحق میں  غلطی ہوسکتی ہے جیسے "و" یا "فاء" کو ادل بدل کردینا۔ 
  4. حذف اکبر (Omission of Major Elements): کاتب کوئی لفظ بھول گیا یا کوئی اور لفظ اس کے حافظے سے چپکا ہوا ہے جو اس نے سُنا ہی نہیں پھر بھی لکھ دیا۔ یا اثنائے  بیان میں ایک فہرستِ الفاظ  بھی ہے اور کاتب  سے ایک لفظ چُوک گیا۔
  5. صوتی تسلسل (Phonetic Conservation):   املاء لکھتے وقت اکثر کوئی  لفظ صوتی  طور پر ہم آہنگ کسی دوسرے لفظ سے بدل جاتا ہے۔ جیسے لفظ کی ترتیب بدل گئی یا فعل کسی دوسرے فعل سے بدل گیا  جبکہ دونوں کا مادہ ایک ہی تھا۔ مثال کے طور پر 'وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ' (المائدۃ 41) بدل کر 'ص-1 'میں 'وڡى اللاحره لھم'   ہوگیا،'  اسْتَيْسَرَ' (البقرۃ 196)  'ٮىسر' (تیسر) بن گیا ۔
  6. متکررات: بعض اوقات متن میں کسی ایسے لفظ یا ترکیب  کا اضافہ ہوجاتا ہے جو بار بار استعمال ہوتے ہیں۔

ان وجوہ کو 'ص-1 'اور مصحفِ ابنِ مسعود دونوں میں پا یا گیا۔  اس طرح انتقادِ متن کے ذریعہ  معلوم ہوگیا کہ 'ص-1' کا آغاز  معیاری  متن کے پھیلنے سے پہلے ہوچکا تھا۔  معیاری عثمانی روایت پوری صحت کے ساتھ ساتویں صدی  شمسی کے وسط تک مستحکم ہوچکی تھی۔   اس سے باہر کی روایاتِ متن جیسے  زیریں مخطوطہ کی روایت' ص-1' ایک دوسرے سے اس وقت جدا  ہوگئی تھیں   جب ابھی روایتِ عثمانی پوری طرح  پھیلی نہ تھی،  یعنی 650ء سے پہلے۔ اس بناء پر  صادقی اور گودارزی کے بقول اسلامی لٹریچر میں جن مصاحفِ صحابہ کا ذکر آتا ہے وہ یقینی طور پر وجود رکھتے تھے8۔ صادقی کی تحقیق کے مطابق جہاں عثمان، 'ص-1 ' اور ابنِ مسعود  کے درمیان  اختلافات ہیں وہاں عثمانی متن  دو میں سے ایک سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے ۔ اس سے  پتہ چلتا ہے کہ عثمانی متن  دوسرے متون کے مقابلے میں اصل یعنی نبوی متن سے قریب تر ہے۔

چونکہ عثمان، ص-1 اورمصاحفِ صحابہ میں سُورتوں کے اندر ایک ہی جیسا متن ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سُورتیں   روایاتِ متن کے پھیلاؤ سے پہلے ہی قائم کردی گئی تھیں اور وہ روایات مسترد ہوجاتی ہیں جن میں سورتوں کے قیام کو حضرت عثمان کی جمع و  تدوین سے منسوب کیا جاتا ہے۔صادقی کہتے ہیں،  قرآنی سورتوں کی آخری شکل رسول اللہ ﷺ خود قائم فرما گئے تھے  یعنی سورتوں کے اندر متن کی آیات میں تقسیم  ۔ علاماتِ آیات جو'ص-1 ' میں پائی گئیں وہی نسخۂ عثمان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ان کی یہ رائے بھی ہے کہ زیریں نسخۂ  صنعاء  رسول اللہ ﷺ کی وفات سے بہت پہلے کا لکھا ہوا  نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں سورۂ  توبہ شامل ہے جس میں آخری ہدایات نازل ہوئی تھیں ۔  ایک اور نکتہ جو صادقی  نے اٹھایا ہے کہ اُن روایات سے تعرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں جن میں آتا ہے کہ  جمعِ قرآن کے موقع پر حضرت زید بن ثابت ? کو سورۂ   توبہ کی آخری دو آیات  تحریری طور پر کہیں مل نہیں رہی تھیں اور بالآخر خزیمہ یا ابو خزیمہ کے پاس سے ملی  تھیں اور چونکہ نبی کریم ﷺ نے ان کو  ذوالشہادتین قرار دیا تھا، اس لیےقبول  کرلی  گئی تھیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ  آیات قرآنِ کے قدیم ترین نسخۂ 'ص-1'  میں موجود ہیں، نسخۂ عثمان میں موجود ہیں اور  مصاحفِ صحابہ کے بارے میں بھی روایات سےکم از کم  ان کی عدم موجودگی کا  پتہ نہیں چلتا9 ، اس لیے ان روایات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔  

البتہ سورتوں کی ترتیب کے بارے  میں صادقی کی تحقیق مختلف  ہے ۔ وہ کہتے ہیں، چونکہ  ان مصاحف میں سُورتوں  کی ترتیب کہیں کہیں یکساں  ہے مگر   زیادہ تر مختلف ہے اس لیے   کچھ سورتوں کی ترتیب تو رسول اللہ ﷺ  نے خود  مقرر کردی تھی لیکن  یہ کام  آخری شکل   میں  آپ ﷺ کے بعد ہی تکمیل کو پہنچا10۔  اگرچہ وہ علامہ اعظمیؒ  کے اس نکتے کو بہت سراہتے ہیں کہ کتابچوں کی صورت میں سورتیں اکثر مصحف کی ترتیب پر نہیں ہوتیں  کیونکہ  کتابچے مختلف مقاصد کیلیے تیار کیے جاتے ہیں تاہم  زیریں نسخۂ صنعاء کے بارے میں ان کے نزدیک یہ اصول لاگو نہیں ہوتا۔ صادقی کی پختہ رائے ہے کہ  اس کا متن غیر عثمانی ہےاور اس کی ترتیبِ سُوَر  مصاحفِ صحابہ (ابنِ مسعود و ابنِ کعب?) سے مشابہ ہے ۔

عثمانی متن اور 'ص-1 'کے درمیان فروق کی تعداد اور نوعیت  سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زبانی اور تحریری دونوں طریقوں سے کلامِ پاک  کی ترسیل ہورہی تھی۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ املاء تیزی سے کرایا جارہا تھا جبکہ کاتب اس کی رفتار کا ساتھ نہ دے پارہا تھا چنانچہ متن میں فروق در آئے۔

صادقی اس پر دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ پچھلی تحریر کو مٹا کر پارچہ دوبارہ استعمال کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔  ہوسکتا ہے کہ پچھلا مصحف کئی دہائیوں پر مشتمل عرصے کے دوران زیادہ استعمال کے باعث فرسودہ ہوگیا ہویا کسی حادثے کی وجہ سےزیریں مصحف کو نقصان پہنچا ہو۔ یا عثمانی روایت کے پھیلاؤ کے باعث غیر عثمانی روایت متروک ہوتی چلی گئی چنانچہ بالائی مصحف رسمِ عثمان کے مطابق لکھا گیا۔ بالائی تحریر  زیادہ مدمج  (compact) ہے، اس میں حرفِ مد  (long vowel)' الف'  کا استعمال نسبتاً  زیادہ ہے اور حروفِ صحیحہ (consonants) کو ممیز کرنے کیلیے نقاط کا استعمال بھی  زیادہ کیا گیا ہے۔

احمد شاکر کی شرکت  (Contribution)

دکتور احمد وسام شاکر مصری نوجوان ہیں جو قرآنی نُسَخ پر اپنے زمانہ طالبعلمی ہی  سے بڑے پرجوش طریقے سے دادِ تحقیق دیتے چلے  آئے ہیں۔ نومبر 2018 ء میں  انہوں  نے اطلاع دی کہ  لُووَر میوزیم ابو ظہبی   (Louvre Abu Dhabi) میں موجود قرآن کے ایک ورق کی تصویر انہوں نے  ٹوئیٹر  پر دیکھی جس کا خط،  دسویں آیت کا نشان (تعشیر) اور دوسرے اوصاف  DAM 01-27.1کے اوراق سے مشابہ نظر آئے۔ مزید غور سے معلوم ہوا کہ کرسٹی 2008 فولیو میں  بالائی تحریرجو سورۃ   المائدہ  کی آیت 9 تک ہے 'وعدالله الدىں……واحرعطىم'   ( یعنی  وَعَدَ اللَّہ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَھمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ تک) اور اس کے بعد   DAM 01-27.1 آیت 32 کے  ٹکڑے  'اﻟﯩﺎﺱ ﺤﻤﯩﻌﺎ'  (النَّاسَ جَمِيعًا)سے شروع ہوتا ہے۔   دوسری طرف  لُوور ابو ظہبی کا ورق آیت 10  یعنی  'ىااىھاالدىں امںوا…' (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ۔۔۔) سے شروع ہوکر  آیت 32   کے ٹکڑے 'مں ٯٮل ںڡسا……ڡڪاںما ٯٮل' (مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ) تک ہے۔ گویا  لُوور ابو ظہبی کا ورق DAM 01-27.1 کے خلاء کو ٹھیک ٹھیک  پُر کردیتا ہے ۔   اس  دریافت کو محسن گودارزی اور فرانسیسی محققہ الینور سیلارڈ (Eléonore Cellard)نے بھی سراہا   [9]  اور  ویب  سائٹ www.islamicawareness.org  نے بھی ا بوظہبی کے  اس ورق کو شامل کرتے ہوئے   DAM 01-27.1 کے اوراق کی کل تعداد 81  تسلیم کی ہے یعنی   40 اوراق المکتبۃ الشرقیۃ میں، 36   المکتبۃ الغربیۃ میں، ایک لُوور ابو ظہبی میں   اور چار وہ جو سمگل ہو کر لندن کے  نیلام گھروں میں فروخت ہوئے  [3]  ۔  یہ اور بات ہے کہ انہوں نے احمد شاکر کا حوالہ نہیں دیا۔ بہرحال یہ امر مختلف فیہ ہے کہ مخطوطاتِ صنعاء مکمل مصاحف کے بقایا جات ہیں  جیسا کہ اکثر محققین کا خیال ہےیا زیریں تحریر  کی صورت میں محض منتشر اوراق جو  کسی درسی حلقے میں  کسی غیر تربیت یافتہ کاتب  نےاملاء لکھتے ہوئے رقم کیے تھے اور  بالائی تحریر کی صورت میں مختلف مدارج سے گزرتا ہوا مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا ایک  نا مکمل  کام جیسا کہ آئندہ سطور میں  آرہا   ہے۔

اسماء ہلالی کی تحقیق

لندن میں واقع  انسٹیٹیوٹ آف اسمٰعیلی سٹڈیز کی ریسرچ فیلو  ڈاکٹر اسماء ہلالی  1نے صنعاء پالمپسسٹ   کے اوپر ایک منفرد تحقیق کی ہے جو 2017ء میں کتابی صورت میں طبع ہوئی  [9]۔اس تحقیق میں ہلالی نے صنعاء پالمپسسٹ کے زیریں اور بالائی مخطوطوں کے  نئےایڈیشن  شامل کیے ہیں اور بہت سے چونکانے دینے والے نتائج  بھی پیش کیے ہیں  ۔  اس سے پہلے ان مخطوطات  پر گرڈ پیوئین، اس کی بیوی الزبتھ پیوئین اور بہنام صادقی کی تحقیقات  سے  بظاہر یہ معلوم ہوا تھا کہ  ان اوراق کا زیریں مخطوطہ ایک ایسے  مکمل مصحف   کا  جزء  ہے جو عثمان ? کے سرکاری مصحف سے پہلے لکھا گیا تھا جبکہ بالائی مخطوطہ   ایک مکمل عثمانی مصحف کا  حصہ  ہے۔دونوں مطالعات  نے قرآنی نُسَخ  کی تحقیق کا وہ منہج اختیار کیا جو انیسویں صدی  سے شروع ہوا تھا جس کا فوکس مخطوطات کی تاریخ  اورمبینہ قرآنی اختلافاتِ قراآت  تھے۔ صادقی کے برعکس ہلالی   کی تحقیق میں اصل زور متن کی نقل و ترسیل پر ہے نہ کہ اس کی ابتدا ء پر۔   زیریں تحریر اور 1924ء کے قاہرہ ایڈیشن2 میں جو فروق  پائے گئے، ان سے  اسماء ہلالی نے  یہ نتیجہ اخذ کیا کہ  قراآت کے لٹریچر میں یہ فروق مفقود ہیں بلکہ یہ فروق اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ منتشر اوراق تھے جو ایک تعلیمی حلقے میں گردش کررہے تھے جس میں متن املاء کرایا جارہا تھا۔

ہلالی نے بھی فرانسیسی-اطالوی مشن کی ان ہی  تصاویر کو استعمال کیا جو صادقی اور گودارزی نے استعمال کی تھیں ۔البتہ دسمبر 2012ء میں  یمن جا کر انہوں نے دارالمخطوطات کے المکتبۃ الغربیۃ میں اس پالمپسسٹ کو خود دیکھا تھا، جس کا موقع صادقی کو نہیں مل سکا تھا۔3

یمنیہ یونیورسٹی کی طالبہ رزان حمدون  ، جس کا ذکر اوپر گزرا ، کے ماسٹر تھیسس کی اطلاع  صادقی اور گودارزی کے مونوگراف  کی اشاعت (2012ء)  تک کسی کو نہ تھی  تاہم اسماء   ہلالی  کی کتاب کے شائع ہونے تک  اہل علم اس کام سے واقف ہوچکے تھے۔ ہلالی کہتی ہیں کہ  رزان حمدون کا مطمح ِنظر  دو انتہاؤں کے درمیان گو مگو کا سا ہے یعنی  ایک طرف تو خالص علمی تحقیق ہے تو دوسری طرف  یہ خواہش کہ  قرآن اول روز سے تا حال بغیر کسی تبدیلی کے محفوظ ہے۔ المکتبۃ الشرقیۃکے اوراق کی  بلیک اینڈ وائٹ تصاویر جو رزان  نے اپنے مطالعہ میں استعمال  کی تھیں  ان کا معیار   بقول ہلالی اس لائق نہ تھا کہ کسی محتاط تحقیق کا موضوع بن سکے ۔ چنانچہ انہوں نے طالبہ کے کام  کو علمی تنقید کے لیے موزوں  نہ سمجھا۔

زیریں متن

ہلالی نےاپنی تحقیق میں زیریں متن کی تنقیح میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔ صادقی اور گودارزی  نے جہاں تحریر پڑھنے میں دشواری محسوس کی  وہاں انہوں نے اندازے سے امکانی تحریر اخذ کی تھی۔اس کے برعکس   ہلالی  نے اپنے  ایڈیشن میں ایسے  مقامات   پر ہلکے سرمئی رنگ کی خالی جگہ چھوڑی  ہے۔ہلالی کے نزدیک یہ نامکمل اوراق   قرآن  مجید کے کچھ منتخبات کا مجموعہ ہیں  جس کی حیثیت  مذکرہ یا  معاونِ  یادداشت  (aide-mémoire) کی ہے جو کسی درسی حلقے میں لکھا گیا ہوگا اور لکھنے والا جانتا تھا کہ یہ عارضی تحریر ہے جو بالآخر مٹادی جائیگی۔ البتہ جب تقریباً پچاس سال بعد، یعنی دوسری صدی ہجری یا آٹھویں  صدی شمسی میں،   دوسرے کاتب اس ری سائیکلڈ  پارچے  پر قرآن لکھ رہے تھے تو ان کو مٹائی  گئی  زیریں تحریر کا غالباً علم نہ رہا ہوگا۔  اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ بالائی تحریر کے بارے میں یہ گمان نا قابلِ دفاع ہے کہ زیریں تحریر چونکہ غیر عثمانی روایتِ متن پر مشتمل  تھی  اس لیے خلیفۂ ثالث کے حکم کے مطابق اس کو مِٹا کر عثمانی روایتِ متن  رقم کی گئی تھی  ۔

ہلالی نے صنعاء  پالمپسسٹ کی  زیریں تحریر کے 12 اوراق پڑھے جن میں سے 3  اوراق پر متن ایک ہی طرف کا پڑھا جاسکا۔ پڑھے جانے والے اوراق میں ہلالی نے 61 مقامات پر قاہرہ ایڈیشن (دیکھیے حاشیہ 10 ) سے مختلف  پایا۔ ان فروق کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہے:

  1. اسماء، ضمائر، تراکیب اور زمانۂ   فعل  میں جزوی یا مکمل  فرق۔ ہلالی نے اس قسم کے نو (9) اوراق کا ذکر کیا ہے جن میں سے ہر ایک میں  دو سے پانچ مثالیں  پائی گئی ہیں۔ ایک مثال سورۂ توبہ کی آیت 8 کے الفاظ 'يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ' ہیں   جو 'ٮرصو ٮڪم ٮاﻟﺳﯩهم' (یرضونکم  بالسنتہم) کی صورت ظاہر  ہوئے  ہیں۔
  2. ایک ہی جملے میں الفاظ و عبارات کا  آگے پیچھے ہوجانا  (یعنی تقلیبِ مکانی) یا بدل جانا۔ اس  قسم کی امثلہ تین اوراق میں نظر آئیں، ہر ورق میں ایک مثال۔ جیسے  سورۃ النور کی آیت 26 کا ٹکڑا  'وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ' زیریں تحریر میں اس طرح آیا ہے: 'والطﯩﯩوں للطﯩﯩاٮ والطﯩﯩاٮ للطﯩﯩﯩں'   (والطیبون للطیبات والطیبات للطیبین)۔
  3. الفاظ وعبارات جو قاہرہ ایڈیشن میں ہیں لیکن زیریں مخطوطہ میں نہیں۔ اس ضمن میں ہلالی نے دو اوراق دریافت کیے، ہر ایک میں ایک مثال۔  جیسے سورۃ النور کی آیت  18  کے جزء 'يبين اللہ لكم الآيات' میں 'الآیات'  موجود نہیں یعنی صرف ' ﯩﯩﯩں اللہ لكم' (یبین اللہ لکم) پایا گیا ۔
  4. الفاظ،حروف (particles) اور  جزوی عبارتیں  جو زیریں مخطوطہ میں ہیں مگر قاہرہ ایڈیشن میں نہیں۔ اس قسم کی مثالیں کثیر ہیں۔ دس اوراق میں سے ہر ایک میں دو سے چار امثلہ دیکھی  گئیں۔ جیسے فولیو 2 سطر 11 میں البقرہ- 90  کا  جزء ۔۔۔ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّہ۔۔۔ زیریں مخطوطہ میں یوں آیا ہے: 'ٮعىا وعدوا اں ىںىرل الله' (بغيا و عدوا ان ينزل اللہ)۔
  5. ہلالی کے  مقدمہ کا ایک قوی ا ستدلال تصحیحِ قراءت کی ہدایت سے فراہم ہوتا ہے جو فولیو  5a سطر 9  میں موجود ہے۔  اس میں  سورۂ انفال کے بعد سورۂ توبہ کا آغاز بسملہ سے ہوتا ہے۔ معاً بعد لکھا  ہوا  ملتاہے: [4] مں اللہ و رسولہ 5۔  پھراگلی سطر کا آغاز اس ہدایت سے ہوتا ہے: لا ٮٯل ٮسم اللہ (لا تقل بسم اللہ)، اور پھر آگے سورہ شروع ہوتی ہے:   بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ۔۔۔ الخ—گویا صورتحال کچھ یوں  ہوگی کہ ایک تعلیمی حلقے میں استاد کے سامنے شاگرد اپنے اوراق سامنے رکھے  تلاوت کررہا ہے اور سورۂ  انفال ختم کرکے قبل اس کے کہ سورۂ  توبہ شروع کرے،  بسملہ پڑھتا  ہے  جو پارچہ پر  لکھا ہوا بھی ہے۔ استاد فوری  تصحیح کرتا ہے: "لا تقل بسم اللہ" (بسم اللہ نہ کہو) اور شاگرد اسی وقت اس ہدایت کو اپنےصفحہ  پر لکھ لیتا ہے اور پھر آگے تلاوت کرتا ہے۔ راقم کے نزدیک یوں بھی ہوسکتا ہے کہ شاگرد حافظہ سے تلاوت کررہا ہو اور دوسرا شاگرد املاء لکھتا جاتا ہو(یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سے زائد طُلاب لکھ رہے ہوں)۔ سورۂ انفال ختم  کرکے وہ  سورۂ توبہ شروع کرنے سے پہلے روانی میں بسملہ بھی بول جاتا ہے اور املاء لکھنے والا  اسے بھی لکھتاچلا جاتا ہے اتنے میں استاد تصحیح کرتا ہے: "لا تقل بسم اللہ" (بسم اللہ نہ کہو) اور املاء کرنے والا  مشینی انداز میں اس ہدایت کو بھی لکھ دیتا ہے اور پھر آگے سورہ توبہ شروع ہوتی ہے۔

زیریں متن کے زیادہ تر تغیرات  قاہرہ ایڈیشن کے مقابلے میں طویل عبارات کی شکل میں ہیں۔ ان کی تقسیم  یکساں نہیں البتہ  زیادہ تر تغیرات اس نوعیت کے ہیں جیسےمتن کے کچھ اجزاء  میں حروفِ عطف یا عام طور پر پائی جانے والی قرآنی تراکیب کے ذریعے اضافہ یا تشریح کی گئی ہو، جیسے:

ہلالی کے نزدیک یہ تغیرات کاتب کا سہو نہیں ہیں،  بلکہ یہ منتشر اوراق تھے جو درسی حلقہ میں تطویر ، تشریح اور تصحیح کے مراحل سے گزر رہے تھے یعنی یہ ایک نامکمل اور عارضی کام تھا جو  کتابت، تصحیح، املاء اور ہدایات وغیرہ کے عمل سے گزرتے ہوئے بالآخر اپنے انجام کو پہنچا اور مٹادیا گیا  ۔  وہ صادقی  کے تھیسس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان اوراق میں موجود زیریں اور بالائی متون ایسے مکمل مصاحف کے ا جزاء ہیں جن کو  بالآخرتلاوت و عبادت میں استعمال کیا جا نا  تھا۔ ان کے نزدیک:

ڈاکٹر ہلالی اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ زیریں متن  قراآتِ متعدد ہ  (multiple readings)6کے فریم ورک میں فِٹ ہوسکتا ہے، جیسا کہ صادقی کا خیال ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ  یہ متن قراآت کے سنی یا شیعہ مصادر سے مماثلت نہیں رکھتا۔  مزید برآں،  بقول انکے، قراآت کا تصور بہت بعد میں تشکیل پایا اگرچہ وہ تسلیم کرتی ہیں  کہ سبعۃ احرف کی روایت اسلام کی پہلی دو صدیوں میں معروف تھی اور مختلف لہجات میں قرآن کی  قراءت کو خود رسول اللہ ﷺ کی تائید حاصل تھی پھر بھی  اس کا  مواد، یعنی  کارپَس (corpus) ،کئی صدیوں بعد مدون ہوا7۔   زیریں متن میں کئی ایسے  تغیرات  ہیں جو اس کارپَس   میں فٹ نہیں بیٹھتے۔

 ڈاکٹر ہلالی کے نزدیک کاتب اور قاری دونوں نے زیریں متن کو ایک بے ربط تحریر  کی طرح برتا  جس کو   لکھنے کے بعد اغلاط  درست کی گئیں پھر تعلیق و تشریح کا اضافہ بھی ہوا، جیسا کہ فولیو   5a سطر 9   (سورہ التوبہ کے آغاز میں بسملہ نہ پڑھنےکی ہدایت)سے ظاہر ہوا ۔ اگرچہ تحریر مسلسل  بھی ہے  تاہم قراءت کی اصلاح  کی خاطر  انقطاع بھی  واقع ہوا  ۔ جیسے کسی لفظ کے درمیان میں  حرفِ  قاف  تھا ،  غلطی سے اسے   پہلے تو اپنی آخری شکل  میں لکھدیا، یعنی  'ࢼ'   ،پھر  تصحیح کرکے اس کو درمیانی شکل "" دی گئی ۔ متن کے فروق میں ایسی حرکیات  بھی ہیں جن کو  الفاظ و تراکیب  کو اپنی  جگہ سے ہٹا  دینے (displacement) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے،   جیسا کہ اوپر قِسم نمبر 2 میں بیان ہوا۔ اسی طرح مخصوص قرآنی  تراکیب کا اضافہ بھی ہے، جیسے اللہ کے بعد رسولہُ— یہ ساری شہادتیں بتاتی ہیں کہ یہ منتشر اجزائے  قرآن متعدد درسی  مجالس  میں گردش کرتے رہے ہوں گے۔ 

ہلالی کہتی ہیں کہ  اسلام کی پہلی صدی میں تعلیم کا طریقہ مساجد میں حلقہ  کی صورت ہوتا تھا۔  فولیو   5a سطر 9   (سورہ التوبہ کے آغاز میں بسملہ نہ پڑھنےکی ہدایت)سے معلوم ہوتا ہے کہ زبانی تلاوت ان حلقوں کا ایک مقصد ہوتا تھا۔ وہ اس خیال کی تائید کرتی نظر آتی ہیں کہ قرآن کی ترسیل زبان کے عمل سے ہوئی ہے جس میں تحریر کا دخل   مذکرہ یا  معاونِ  یادداشت  (aide-mémoire)  جیسا ہے۔   ان کے نزدیک  عرضہ  کی مجلس میں دراصل تقابل ہی کیا جاتا تھا تاکہ متن کی تصحیح ہو۔ اس سلسلے میں وہ  خطیب بغدادی کی کتاب   الکفایۃ فی العلم الروایۃ سے  یہ مکالمہ نقل کرتی ہیں کہ  ایک مرتبہ امام  مالک بن انس (م 179ھ) نے ابن ابی اویس (م6 22ھ) سے پوچھا کہ تم نے کس کی موجودگی  میں قرآن پڑھا؟  انہوں نے جواب دیا،  نافع بن ابی نعیم ۔ مالک ؒنے پھر پوچھا، انہوں نے تم کو سنایا یا تم نے ان کو سنایا؟ ابن ابی اویس نے کہا، میں نے ان کو سنایا اور جب میں نے کوئی غلطی کی تو انہوں نے میری تصحیح کی۔ اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی  ہیں کہ  صنعاء پالمپسسٹ کا زیریں متن بھی اسی طرح  زبانی تلاوت،  تصحیح ، مراجعت اور تصدیق کے مراحل سے گزرا۔ اور اس کا قرینہ  جیسا کہ اوپر گزرا متن میں غلطیوں کی درستگی اور  تصحیحِ قراءت کی ہدایت ہے   ۔ یہی وجہ ہے کہ تصحیح   برسرِ  موقع کی گئی ہے  نہ کہ حاشیہ پر۔ یعنی  اصل اور تصحیح میں فرق کرنا ممکن نہیں رہتا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صنعاء  پالمپسسٹ  کا  زیریں مخطوطہ ایک نامکمل متن ہے تو پارچہ  جیسی قیمتی شے   اس مقصد کیلیے کیوں  استعمال کی گئی؟  ہلالی کہتی ہیں کہ  یہ پارچہ  معمولی نوعیت کا تھا اور  اس میں شکست و ریخت پہلے سے ہوچکی تھی، چنانچہ اس کو درسی حلقہ میں ایک ورکنگ کاپی کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ محسوس نہ کیا گیا  ہوگا۔ کاتب کو یہ بھی معلوم تھا کہ  تحریر کو مٹا کر دوبارہ لکھا جائےگا۔ دراصل زیریں تحریر ہو یا بالائی دونوں کا مقصد ورکشاپ کی طرز کے حلقوں  میں تجرباتی استعمال تھا اور  کاتب کے  پیشِ نظر مکمل مصحف  تیار کرنا تھا ہی نہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پارچہ مسجد کی دو چھتی یا سندرہ  (attic) میں رکھا ہی اس لیے گیا ہوگا کہ  بالآخر اسے تلف کیا جانا مقصود تھا۔  ایک ایسے مخزن میں جس کا کوئی دروازہ بھی نہ تھا، نسخہ  دراصل اپنی آخری منزل یعنی  dead-end پر پہنچ چکا تھا۔ 

بالائی متن

بالائی متن کا ایڈیشن  27 اوراق کی تحریر کُشائی   پر مشتمل ہے۔ علم  تحاریرِ قدیمہ یعنی  پیلیوگرافی کے شواہد کی بناء پر ان کی رائے میں بالائی مخطوطہ کی کتابت میں کم از کم  چار افرادشریکِ کار رہے ہوں گے۔تصحیح اور تزئین کرنے والے  ان کے علاوہ تھے۔ تصحیح کرنے والے غیر واضح  یا  مخفی عبارت  کو "رِی ٹَچ (retouch) "  کیاکرتے تھے یا دوبارہ لکھتے تھے8۔ تزئین کرنے والے افراد  سورتوں کو ممیز کرنے والے رنگین سجاوٹی خطوط بنایا کرتے تھے، پانچ، دس، پچاس اور سو آیات کی نشاندہی کرنے والے ڈیزائن  کا اضافہ کرتے تھے اور ختمِ سورہ کی علامت کا بھی اضافہ کرتے تھے۔ لیکن یہ ایک منظم اور ہم آہنگ کام نہ تھا۔ اس میں بے قاعدگی تھی اور  متن کی آیات میں  تقسیم بھی قاہرہ ایڈیشن سے کہیں کہیں مختلف تھی۔ ان شواہد کی بناء پر ہلالی  بالائی متن کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتی ہیں کہ یہ منتشر اوراق ہیں جو  کسی مصحف کا حصہ نہیں ہوسکتے تھے اور یہ کہ کتابت، تصحیح اور تزئین کا کام  مختلف مراحل میں  مختلف ہاتھوں   اور مختلف اوقات میں  انجام پایا۔  جہاں تک بالائی متن اور قاہرہ ایڈیشن کے فروق کا تعلق ہے تو پانچ مقامات پر یہ قراآت کے لٹریچر سے مطابقت رکھتے  ہیں اور 13 مقامات قراآت کے لٹریچر میں نہیں  ملتے ۔ان کا نظریہ   یہی ہے کہ مخطوطہ کئی مراحل سے گزرا جن کے درمیان زمانی خلا تھے۔ سجاوٹ کے تنوعات سے  انداز ہ ہوتا ہے کہ یہ عمل متن کی تحریر کے بعد کیا گیا تھا۔ اور یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ  پالمپسسٹ ایک  عمل جاریہ (work in progress)  تھا جو ضروری نہیں کہ عبادتی مقصد کیلیے لکھا جارہا ہو۔

اختتامیہ

صنعاء پالمپسسٹ پر حالیہ یعنی  گزشتہ دس سالوں کے دوران  کی جانے والی تحقیقات  جو اس مضمون میں پیش کی گئیں  ان سےمعلوم ہوتا ہے کہ  مغرب ہی سے ایسے علماء سامنے آئے ہیں جنہوں نے  قرآن کے استناد کے بارے میں بعض   مستشرقین کی ایک  بڑی  غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔ان حضرات کے مطابق قرآن کی بھی ویسی ہی تاریخ ہے جیسی بائیبل کی رہی ہے یعنی قرآن  کا متن بہت عرصے تک سیال (fluid)  رہا، اس میں کمی بیشی ہوتی رہی اور بالآخر  ایک ارتقائی عمل کے بعد اسے استحکام نصیب ہوا۔اس جائزہ سے  معلوم ہوا کہ کہ قرآن سے منسوب غیر معیاری مخطوطات   ناقص حافظہ  اورغیر پیشہ ور  انہ  ہاتھوں   کتابت کا  نتیجہ ہیں۔ نیز یہ کہ قرآن  کی نشرواشاعت کا  اصل مدار زبانی روایات پر ہے۔ ان زبانی روایات کی غیر منقطع کڑیاں آج بھی ہزاروں کیا لاکھوں  قراء کی اسناد میں  دیکھی جاسکتی  ہیں۔ اس  مضمون کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء  ان تحقیقات سے آگاہ ہوں جو نُسَخِ قدیمہ پر مغربی دنیا میں  ہو رہی ہیں۔ اس طرح ممکن  ہےکہ  بعض   مشکل موضوعات کی  عقدہ کشائی کی طرف کچھ اشارے مل سکیں۔اس طرح کے چند اشارات اس مضمون میں بھی ہیں۔اسماء ہلالی کی تحقیق کے بعد سے ابتک   اس   پر کوئی علمی تنقید سامنے نہیں آئی ہے۔  فرانسیسی محققہ الینور سیلارڈ (Eléonore Cellard) نے اس کتاب پر اپنے تبصرہ میں ہلالی کے نظریہ پر اپنے کچھ  تحفظات کا اظہار  توکیا ہے [11] ، لیکن کسی تفصیلی نقد کا   تاحال انتظار ہے۔


حوالہ جات

    1. Hadiya Gurtmann, “A Quran written over the Quran—why making the effort?”, January 2012,  https://www.manuscript-cultures.uni-hamburg.de/mom/2012_01_mom.html.
    2. Masahif San’ā, Dar al-athar al-islamiyyah, Kuwait National Museum, 19 Mar-19 May 1985.
    3. https://www.islamic-awareness.org/quran/text/mss/soth.html, 10 Apr 2008.
    4. Behnam Sadeghi and Uwe Bergmann, “The Codex of a Companion of the Prophet and the Qurʾān of the Prophet”, Arabica 57 (2010), pp. 343-436, Brill NV, Leiden 2010.
    5. Behnam Sadeghi and Mohsen Goudarzi, “Ṣan‘ā’ 1 and the Origins of the Qur’ān”, Der Islam Bd. 87, S. 1–129, Walter de Gruyter 2012.
    6. Michael Cook, “The Stemma of the Regional Codices of the Koran”, Graeco-Arabica, 9-10 (2004), p. 89-104.
    7. Muhammad Mustafa Al-Azami, The History of the Quranic Text from Revelation to Compilation, UK Islamic Academy, Leicester 2003.

    8. علوم القرآن از دکتور صبحی صالح، اردو   ترجمہ ازپروفیسر غلام احمد حریری ، ملک سنز   پبلشرز فیصل آباد 1993-1994ء، ص 106

    9. Asma Hilali, The Sanaa Palimpsest, the Transmission of the Quran in the First Centuries AH, Oxford University Press in association with Institute of Ismaili Studies, London, 2017.
    10. https://quranmss.com/2018/10/19/louvre_palimpsest/, posted on 19 Oct 2018.
    11. Eléonore Cellard, “Asma Hilali: The Sanaa Palimpsest, the Transmission of the Quran in the First Centuries AH”, Review of Quranic Research, vol. 5, no. 9 (2019).

حواشی

    8. DAMسے مراد ہے Dar Al Makhtutat۔ ان   اوراق کو ایک کیٹلاگ نمبر دینے کی وجہ   یہی تھی کہ ان کو ایک  واحد مصحف کی باقیات سمجھا گیا تھا۔  جیسا کہ آگے آئے گا یہ امر مختلف فیہ ہے۔

    9. حال یونیورسٹی آف آکسفرڈ، برطانیہ

    10. صنعاء مخطوطات کے یہ اولین ایڈیشن نہ تھے۔ کئی سال قبل2004 ءمیں یمنیہ یونیورسٹی کی طالبہ رزان غسّان  حمدون نے اپنے ایم اے کے مقالہ  بعنوان  "المخطوطات القرآنية في صنعاء منذ القرن الأول الهجري وحفظ القرآن الكريم بالسطور" میں صنعاء مخطوطات کے  40  اوراق  کی بالائی تحریر کا ایڈیشن پیش کیا تھا ۔ یہ  اوراق  دار المخطوطات کے  المکتبۃ الشرقیہ  میں رکھے  ہوئے تھے ۔  ان کی تصاویر رز   ان کے والد  پروفیسر ڈاکٹر غسان حمدون   نے  فراہم کی تھیں،جو خود بھی مخطوطاتِ صنعاء پر کام کرچکے تھے ۔ یہ تصاویر بلیک اینڈ وائٹ تھیں اور  اچھی کوالٹی  کی نہ تھیں۔     اس غیر مطبوعہ   کام  کی اطلاع   ویب سائٹ www.islamicawareness.org کو   2012ء میں ملی  اور  وہیں سے بیرونی دنیا کو  اس تحقیق کا علم ہوا۔  مذکورہ ویب  سائٹ     نے  مزید تحقیق کے بعد اعلان کیا  کہ یہ  40   اوراق بھی دراصل DAM 01-27.1 ہی  کا حصہ ہیں  اگرچہ جسامت  میں   مقابلتاً  چھوٹے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان اوراق  کے بارے  میں مزید تحقیق کے بغیر قطعیت  کے ساتھ  ایسا  دعویٰ کرنا مشکل ہے ۔   اسی ویب سائٹ نے یہ معلومات بھی دیں کہ  وہ چار اوراق جو لندن کے نیلام گھروں میں  1992 سے 2008 کے دوران فروخت ہوئے تھے، جن کا ذکراوپر  گزر چکا ہے،  وہ بھی اسی المکتبۃ الشرقیہ سے  سمگل  ہوئے تھے [3]۔     

    11.  کتبِ روایات سے معلوم ہے کہ اشعار، دواوین، خطوط،  اقوالِ رسول، معاہدات اور لین دین کے معاملات لکھے جاتے تھے۔ سورۂ بقرہ میں قرض کی دستاویز لکھنے اور گواہیاں ثبت کرنے کا حکم صاف ظاہر کرتا ہے کہ قرآنِ عظیم کے علاوہ اور دستاویزات بھی ہوتی ہوں گی ۔ غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان  میں سے ہر ایک کا فدیہ دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانا مقرر کیا گیا تھا۔  مسلمانوں کو وصیت لکھنے کا حکم  نبی ﷺ نے دیا۔ غرض جنابِ رسول اللہﷺ کی بعثتِ  مبارکہ کے بعد سے ہی تعلیم و تعلم کا سلسلہ وسیع پیمانے پر شروع ہوچکا تھا جس میں قرآن   تو  مرکزی  حیثیت رکھتا  ہی تھا  لیکن دوسری دستاویزات بھی لکھی جاتی رہی تھیں۔ صادقی نے ایسا  غالباً اس لیے لکھا کہ روایات کے علاوہ ان دستاویز کا علم کسی  حسی مخطوطہ سے نہیں ہوتاہے۔ جن دستاویزات کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان کی اصلیت و  صداقت کے بارے   علمِ  تحاریرِ  قدیمہ (Paleography)  کے ماہرین متفق نہیں۔ دلچسپی رکھنے والے  اصحاب  ڈاکٹر سارہ زبیر مرزا  کے پی ایچ ڈی مقالہ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں [5] ۔ بہرحال صحیح اور مستند روایات کو تسلیم نہ کرنے کی روش کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ دنیا کی بیشتر تاریخ دریا برد کرنی پڑے گی۔

    12.  مختلف شہروں میں جو مصاحف بھیجے گئے تھے،  ان کے  درمیان   پائے جانے والے فروق کی تعداد 36 بتائی جاتی ہے، دیکھیے، مائیکل کوک [6] ۔ بقول صادقی،   کوک کا تعلق علمائے مغرب کے اس گروہ سے ہوتا تھا جنہیں تعدیلی یا تحریفی (revisionist) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ علماء ہیں جو روایات  سے حاصل ہونے والے علم  کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں روایت پسند (traditionalist)  اہلِ علم ہیں جو  قدرتی طور پر مسلم دنیا میں اکثریت میں ہیں۔  بعد میں کوک نے پہلا طریقہ چھوڑ کر روایات سے اعتناء شروع کردیا  بشرطیکہ روایات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ صادقی نے ان جیسے علمائے مغرب کو "نئےر وایت پسند" (neo-traditionalist) کا  خطاب دیا ہے   [5]۔

    13.       یعنی ا لفاظ  کی ساخت میں ایسی تبدیلی جس سے  ادائیگی بدلتی ہواور دوسرا لفظ بن جاتا ہو۔ روایات سے معلوم ہے کہ عثمانی مصاحف 'مورفیمی ساختیاتی'  سطح پر محفوظ ہیں ۔ پہلی اور دوسری صدی ہجری کے  دوران  اختلافاتِ  قراآت  کی باریک تفصیلات  تک بہت صحت کے ساتھ  قراآت کے  لٹریچر میں رپورٹ ہوئی ہیں۔بعض الفاظ کی ساخت میں  فرق، جیسے ہجا کا فرق، مورفیمی نہیں ہے کیونکہ ایسی صورت میں لفظ بدل جاتا ہےلیکن معنیٰ  نہیں بدلتے۔  اسی طرح حروفِ صحیحہ (consonants) کو ممیز کرنے والے نقاط میں اختلاف آجائے تو لفظ بدل سکتا ہے مگر ساخت نہیں تو یہ فرق بھی 'مورفیمی ساختیاتی 'نہیں ۔ ہاں اگر کوئی قراءت ایسی ہے کہ لفظ کی   ساخت میں بھی فرق ہے اور لفظ یا ذیلی لفظ (یعنی مورفیم)  میں بھی،  تو یہ اختلاف '  مورفیمی ساختیاتی' کہلائے گی۔ صادقی کہتے ہیں کہ  مسلم    ماہرینِ    قراءت    یہ بات صدیوں سے جانتے  رہے ہیں   [5] ۔

    14.  Companion-1 or C-1

    15.  علامہ اعظمی ؒ نے صحابہ کے مصاحف کے متعلق روایات کو ان کے باہمی تعارض کی بناء پر بالکلیہ مسترد کیا ہے  [7] اگرچہ اہلِ علم کی اکثریت ان کے وجود  کی قائل  ہے۔

    16.  چونکہ روایات میں یہ واقعہ جمعِ صدیق  ?اور جمعِ عثمان  ? دونوں کے حوالے سے بیان ہوا ہے، صادقی کی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ واقعہ جمعِ صدیق کے موقع پر ہوا  ہوگا۔ کیا عجب کہ زیریں مخطوطۂ صنعاء  اسی دور کی یادگار ہو، واللہ اعلم ۔

    17.  اس نتیجہ کی صحت کا مدار اس مفروضہ پر ہے کہ مخطوطاتِ صنعاء مکمل مصاحف کا حصہ ہیں۔ اسماء ہلالی کی تحقیق اس کے برعکس ہے، جیسا کہ آگے آتا ہے۔ ڈاکٹر صبحی صالح کہتے ہیں:  "  اس ضمن میں راجح اور مختار مذہب یہی ہے کہ  قرآنی سورتوں کی موجودہ ترتیب اسی طرح توقیفی اور غیر اجتہادی ہے جس طرح آیات کی موجودہ ترتیب"  [8] ۔

    18.   آج کل وہ فرانس کی    Université de Lille میں ایسوسی ایٹ پروفیسر آف اسلامولوجی  ہیں۔

    19.  مستشرقین مصاحفِ قدیمہ کا جب مصاحفِ زمانۂ حال سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو   قاہرہ میں  1924   میں طبع ہونے والے  ملک فؤاد ایڈیشن  کو زمانہ حال کیلیے  حوالہ کے طور پر لیتے ہیں  جو   روایتِ حفص عن  عاصم پر مشتمل  ہے۔   حالانکہ مدینہ منورہ میں مطبع  ملک فہدقائم ہونے کے بعد وہاں کا شائع شدہ مصحف ہی زیادہ موزوں حوالہ ثابت ہوسکتا ہے۔ 

    20.    شاید ان کو اس وقت تک المکتبۃ الشرقیۃ میں موجود اُن اوراق کا علم نہ  رہا ہوگا جن کا  مطالعہ رزان حمدون  نے اپنے  ماجستیر کے مقالہ میں  پیش کیا تھا۔  ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یمن جاکر وہ   دارالمخطوطات  کا   بس  المکتبۃ الغربیۃ دیکھ کر آجاتیں۔

    21.   چوکور بریکٹ سے مراد خالی جگہ یا لاکونا  (lacuna)ہے۔

    22. اس عبارت پر ہلالی نے کوئی روشنی نہیں ڈالی ہے۔ عین ممکن ہے کہ قاری بسملہ پڑھنے کے بعد    بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ  کہہ چکا ہو اور املاء لکھنے والا اسے لکھ چکا ہو،  اتنے میں  استاد کی ہدایت آئی ہو کہ "لا تقل بسم اللہ"۔ البتہ ان چند الفاظ کو صادقی اور گودارزی نے   اگلی سطر پر موجود"   لا ٮڡل" کے ساتھ  ملا کر یوں پڑھا ہے: 'ھدہ حٮمہ سورہ الاںڡل'( ھذہ ختمۃ سورۃ الانفال(۔ واضح رہے کہ مخطوطاتِ قدیمہ میں اکثر حروف  مدہ   (long vowels) کو  کم ہی لکھا  جاتاتھا، اس طرح سے مشابہت کی بناء پر لا تقل کو الانفال پڑھا گیا)۔پھر صادقی اور گودارزی کے خیال میں تصحیحِ قراءت کی ہدایت  لا تقل بسم اللہ لکھتے وقت کاتب لا       تقل لکھنا بھول گیا شاید اس وجہ سے کہ یہ لفظ وہ پہلے لکھ چکا تھا۔ مزید تفصیل کیلیے دیکھیے صادقی اور گودارزی  [5] ص 53۔

    23.  یہ اصطلاح راقم نے ڈاکٹر اعظمیؒ کی پیروی میں اختیار کی ہے۔ مستشرقین variant readings کی ترکیب استعمال کرتے ہیں اور ہمارے ہاں کے روایتی علماء اختلافاتِ قراآت کہتے ہیں ۔

    24.  مستشرقین کا یہ عام  طرزِ فکر ہے کہ و  ہ   روایات کو  اس وجہ سے   نظر انداز کر تے  ہیں کہ ان  میں  بیان کردہ  واقعات کئی صدی  قبل پیش آئے تھے۔ حالانکہ مسلمانوں نے روایات کی چھان بین کا جو علم مدون کیا ہے، اس کے بعد یہ   نقطۂ نظر رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔

    25. اس تکنیک کو جَندرہ کہا جا تا  تھا۔ واضح رہے کہ ابتدائے اسلام  ہی سے مسلمانوں نے   متون  کی پوری صحت کے ساتھ نشر و اشاعت کی خاطر قواعد بنا رکھے تھے جن کا ذکراحادیث و  تواریخ میں ملتا ہے۔  پانچویں صدی ہجری  کے مشہور عالم الخطیب البغدادی امیرالمؤمنین    حضرت عمر کے ایک حکم  کا حوالہ دیتے ہیں  کہ اگر  تمہیں   ایک کتاب ملے  جس میں ایسا علم ہو جو تم نے کسی عالم سے نہ سنا ہو تو اس کتاب کو پانی کے برتن میں رکھدو یہاں تک  کہ روشنائی پانی میں مکمل حل ہوجائے، یعنی تحریر کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے ہاں ایسا متن جو زبانی روایت سے  تصدیق شدہ  نہ ہو مکمل طور پرپھاڑ دینے (تَمزیق)  یا پارچہ کو مکمل دھودینے  (غَسل)پر  منتج ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ  عبارات کو خارج (delete)  کرنے کیلیے دوسرے طریقے بھی  رائج ہونے لگے جن میں کیمیکل یا قدرتی اشیا ء استعمال کی جاتی تھیں۔  حَک، قَل، تَقشِیر، مَسح، دَلک، اور اِزالہ  اسی طرح کی تکانیک تھیں۔ (دیکھیے ہلالی کی کتاب [9] ص 8-12)۔


یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی لازمی تعلیم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پنجاب کے گورنر محترم چودھری محمد سرور کی طرف سے یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کریم کو لازمی قرار دینے کی خبر یقیناً سب کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں کسی طالب علم کو ترجمہ قرآن کریم پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔ پنجاب حکومت اور اسمبلی کی طرف سے اس قسم کے اعلانات اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔ بلکہ ہماری یادداشت کے مطابق صوبائی اسمبلی نے ایک مرحلہ میں بل بھی منظور کیا تھا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کالجوں میں لازمی پڑھایا جائے گا مگر وہ بل شاید قانون سازی کی منزل حاصل نہیں کر سکا تھا۔ البتہ چودھری محمد سرور چونکہ اپنے منصب کے لحاظ سے ریاستی یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہیں اس لیے ان کا یہ اعلان پہلے اعلانات سے مختلف نظر آتا ہے اور اس سے یہ توقع پیدا ہو گئی ہے کہ اب عملاً ایسا ہونے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے گی۔

گورنر پنجاب کا یہ اعلان لائق تحسین و تبریک ہے بلکہ مجھے تو چودھری محمد سرور کے گورنر بننے کے بعد سے انتظار تھا کہ وہ اس قسم کا خیر کا کوئی کام ضرور کریں گے جس کا شاید انہیں موقع اب ملا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک محفل میں بات چل رہی تھی کہ پنجاب میں سرکاری سطح پر فلاں کام ہونے والا ہے اور وہ کام بظاہر خیر کا نہیں لگ رہا تھا، میں نے دوستوں کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ بزدار صاحب سے میں ذاتی طور پر واقف نہیں ہوں، مگر جب تک صوبائی سیٹ اپ میں چودھری محمد سرور اور چودھری پرویز الٰہی موجود ہیں مجھے اطمینان ہے کہ ان کے علم میں ہوتے ہوئے یہ کام نہیں ہو سکے گا۔

قرآن کریم کی تعلیم ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے، اس کی تلاوت، اس کا فہم اور اس کے احکام پر عمل ہر مسلمان مرد اور عورت کی ذمہ دری ہے، جبکہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا اور پڑھ کر سمجھنا ہمارے ان فرائض میں شامل ہے جن کی طرف قرآن کریم نے خود توجہ دلائی ہے۔ ایک جگہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ’’حتٰی تعلموا ما تقولون‘‘ قرآن کریم پڑھتے ہوئے تمہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس آیت اور جملہ کا مفہوم کیا ہے۔ ویسے بھی کامن سینس کی بات ہے کہ جب ہم قرآن کریم کو اللہ تعالٰی کا کلام و پیام مانتے ہیں اور خود کو اس کا مخاطب سمجھتے ہیں تو اللہ رب العزت کے پیغام کو سمجھنا اور اس کے مفہوم سے واقف ہونا لازمی طور پر اس کا حق اور ہماری ذمہ داری بنتا ہے۔

چنانچہ قرآن کریم نے اس کے دائرے الگ الگ بیان کیے ہیں۔ ’’یتلوا علیہم آیاتہ‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم پڑھ کر سناتے ہیں، اسی لیے قرآن کریم کی تلاوت و قراءت مستقل عبادت ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ’’یعلمہم الکتاب‘‘ بھی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں، یعنی اس کا مطلب و مفہوم بھی سمجھاتے ہیں۔ بلکہ اس سے آگے ’’یبین للناس‘‘ بھی ہے کہ اس مطلب و مفہوم کی ضرورت کے مطابق وضاحت بھی فرماتے ہیں۔

اس حوالہ سے ہم پاکستانی مسلمانوں کی ذمہ داری دہری ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت اور اسلامی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا جس کے لیے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اس میں قرآن کریم کے احکام و ہدایات کی عملداری کا نظام ہو گا۔ اس کے علاوہ ہمارے دستور میں بھی یہ صراحت ہے کہ قرآن و سنت کی ہدایات کو تمام معاملات میں بالادستی حاصل ہو گی۔ اس کا منطقی تقاضہ یہ ہے کہ ملک کا نظام چلانے والے افراد اور مختلف محکموں میں فرائض سرانجام دینے والے افسران اور اہلکار قرآن کریم اور سنت رسولؐ کی ہدایات و تعلیمات سے آگاہ ہوں۔ جبکہ عملی صورتحال یہ ہے کہ دستور کے مطابق تو قومی زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن کریم کی ہدایات کی پابندی ضروری ہے مگر قومی زندگی کے مختلف شعبوں کا نظم چلانے کے لیے جو افراد کار ریاستی تعلیمی اداروں میں تیار کیے جاتے ہیں ان کے لیے قرآن و سنت کی تعلیم لازمی نہیں ہے۔ اس معاملہ میں اصل ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے ریاستی تعلیمی نظام میں (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) فقہ و شریعت اور (۴) عربی زبان کو لازمی مضامین کا درجہ دیا جائے تاکہ کسی بھی عہدہ پر بیٹھے افسر و ملازم کو معلوم ہو کہ اس نے اپنی ڈیوٹی کس دائرے میں سرانجام دینی ہے۔ قرآن کریم کا ترجمہ تو اس کا صرف ایک ناگزیر حصہ ہے جو بطور مسلمان ہر ایک کو پڑھنا چاہیے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم گورنر پنجاب کے اس مستحسن اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس سلسلہ کے پہلے اعلانات سے ہٹ کر اس اعلان پر عملدرآمد بھی ہو گا، ان شاء اللہ تعالی۔


جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۲)

مولانا محمد اشفاق

مذکورہ بالا افعال  سے ممانعت کی علتیں  فقہاء کی نظر میں :

معروف مالکی فقیہ ''القرافی'' ابن رشد کی المقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

وسبب المنع في وصل الشعر وما معہ التدليس والغرور قال صاحب المقدمات: تنبيہ لم أر للفقھاء المالكيۃ والشافعيۃ وغيرھم في تعليل ھذا الحديث إلا أنہ تدليس علی الأزواج ليكثر الصداق، ويشكل ذلك إذا كانوا عالمين بہ ، وبالوشم فإنہ ليس فيہ تدليس ، وما في الحديث من تغيير خلق اللہ لم أفھم معناہ فإن التغيير للجمال غير منكر في الشرع كالختان وقص الظفر والشعر وصبغ الحناء وصبغ الشعر وغير ذلك۔1

 اور بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے اور اس سے ملتے جلتے دوسرے افعال سے منع کرنے کا سبب اپنی اصلی حالت کا چھپانا اور دھوکا دینا ہے ۔صاحب المقدمات کہتےہیں :  میری نظرمیں جن مالکی اور شافعی فقہا  نےاس حدیث کی علت بیان کی ہے انھوں نے صرف یہ علت یہ بیان کی ہے کہ ان افعال میں ہونے والے شوہروں کو دھوکا ہے کہ ان سے شوہر پر بیوی کی اصلی حالت چھپ جاتی ہے  ، اور عورت یہ کام اس لیے کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے مہر میں زیادتی کی جا سکے ، لیکن شوہر کو پہلے سے معلوم ہونے کی صورت میں اور جسم گدوانے میں تو ایسی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی ، اس سے منع کرنے کی وجہ میں نہیں سمجھا ہوں ۔کیوں کہ خوب صورتی کے حصول کےلیے تبدیلی کرنے پرشریعت میں تو  انکار نہیں پایا جاتاجیسے ختنہ کرنا، ناخن تراشنا،بال کاٹنا،مہندی سے ہاتھوں اور بالوں کا رنگنا اور اس کے علاوہ ۔

اس عبارت میں علامہ قرافی ؒ  عورتوں کے خوب صورتی کے لیے کیے جانے والے امور کے بارے ممانعت کی احادیث کی علت بتا رہے ہیں ، چنانچہ فرماتےہیں کہ عورتوں کو اِ ن امور ( بال اکھڑوانا، دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا ، جدید دور کی اصطلاح میں سرجری کروانے وغیرہ ) سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں اس کے ذریعے سے اپنی اصلی حالت کو چھپاتی ہیں ، اور بناوٹی خوب صورتی اختیار کرکے شوہر سے زیادہ مہر وصول کرتی ہیں ، یعنی یہاں اصل ممانعت کی وجہ دھوکا دہی ہے ، کہ اس خوب صورتی کی وجہ سے وہ شوہروں کو دھوکا میں مبتلا کر کے زیادہ مہر بٹورتی ہیں  ، اس لیے رسول اللہﷺ نے ان افعال سے منع فرمایا ہے ۔البتہ انہوں نے ایک اور بات فرمائی کہ وشم یعنی جسم گدوانے میں اور اس پر کوئی نقش وغیرہ کروانے میں تو دھوکانہیں ہے ، اس سے شریعت میں منع کرنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی ۔تاہم آنے والی سطور میں وشم کی علت پر بھی بات کی جائے گی ۔

فقہ شافعی کی معروف کتاب" الحاوی الکبیر" میں ہے :

فأما الواصلۃ والمستوصلۃ ففيہ تأويلان:أحدھما: أنھا التي تصل بين الرجال والنساء بالفاحشۃ والثاني: أنھا التي تصل شعرھا بشعر نجس فأما التي تصل شعرھا بشعر طاھر فعلی ضربين:
أحدھما: أن تكون أمۃ مبيعۃ تقصد بہ غرور المشتري أو حرۃ تخطب الأزواج تقصد بہ تدليس نفسھا عليھم، فھذا حرام لعموم النھي، ولقولہ - صلی اللہ عليہ وسلم  -: " ليس منا من غش والضرب الثاني: أن تكون ذات زوج تفعل ذلك للزينۃ عند زوجھا أو أمۃ تفعل ذلك لسيدھا، فھذا غير حرام لأن المرأۃ مأمورۃ بأخذ الزينۃ لزوجھا من الكحل والخضاب..... وأما الواشرۃ، والمستوشرۃ: ھي التي تبرد الأسنان بحديدۃ لتجديدھا وزينتھاوأما الواشمۃ: وھي التي تنقش بدنھا وتشمہ بما كانت العرب تفعلہ من الخضرۃ في غرز الإبر فيبقی لونہ علی الإبروأما الوشم بالحناء والخضاب فمباح، وليس مما تناولہ النھي فأما النامصۃ، والمتنمصۃ: فھي التي تأخذ الشعر من حول الحاجبين وأعالي الجبھۃ، والنھي في ھذا كلہ علی معنی النھي في الواصلۃ، والمستوصلۃ2

بالوں میں وصل کرنے والی اور کروانے والی عورت کے بارے میں دو تاویلیں کی گئی ہیں : پہلی یہ ہے کہ وصل کرنا بدکاری کےلیے ہو ، اور دوسرا یہ ہے کہ نجس بال ملائے جائیں ، اور اگر پاک بالوں کے ساتھ وصل کیا جائے تو اس کی دو قسمیں ہیں : ایسی باندی جو فروخت کرنے کے لیے ہے اس کے بالوں میں وصل کیا جائے تاکہ خریدنے والے کو دھوکا میں ڈالا جا سکے ، یا ایسی آزاد عورت کےبالوں میں وصل کیا جائے جس کے پاس نکاح کا پیغام آنا ہے تاکہ اس کی اصلی حالت کو چھپایا جا سکے ، ان دونوں صورتوں میں وصل کرنا حرام ہوگا ، اس لیے آپ ﷺ کا ارشاد ہے : جس نے دھوکا کیا وہ ہم میں سے نہیں،دوسری صورت یہ ہے کہ شادی شدہ عورت شوہر کے لیے یہ زینت اختیار کرتی ہے تو اس صورت میں حرام نہیں ہوگا ،اس لیے کہ اپنے شوہر کےلیے  مہندی اور کحل وغیرہ سے زینت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے(گویا وصل بھی مہندی وغیرہ کے حکم میں داخل ہے ) ۔

اور دانتوں کو ترشوانے والی اور تراشنے والی تاکہ اس کے ذریعے دانت نئے اور خوب صورت ہو جائیں ، اور جسم گدوانے والی عورت کہ جس میں سوئی کے ذریعے جسم گودا جاتاہے اور اس میں رنگ بھرا جاتاہے ( یہ حرام ہے ) البتہ خضاب اور مہندی کے ساتھ جسم گدوانا یہ مباح ہے ۔ نہی کے تحت داخل نہیں ہے ۔اور ابروؤں کو باریک کرنے والی اور کروانے والی ، ان سب سے  نہی اسی معنیٰ میں ہے جو وصل کرنے کے بارے میں ذکر ہوا ہے ۔

ماوردی نے اپنی اس عبارت میں نہایت تفصیل کے ساتھ ان تمام افعال کے حکم کے بارے میں بحث کی ہے جو مختلف احادیث میں آئے ہیں ، ان کی بات کا خلاصہ  یہ ہے کہ مردو عورت میں سے کوئی بھی اس لیے وصل کرواتا ہے تاکہ اس کے ذریعے کسی بدکاری کے کام مبتلا ہو یا وصل اس لیے کروایا جا رہاہے کہ  کسی کو دھوکا میں ڈالا جا سکے تو ان دونوں صورتوں میں وصل کرنا حرام ہوگا ۔

اور اگر محض زینت کے حصول کےلیے ایسا کیا جا رہاہے تو نہ صرف یہ کہ یہ فعل جائز ہے بلکہ عورت کو اس چیز کا حکم ہے کہ وہ اپنے شوہر کےلیے زینت اختیار کرے ۔  آگے پھر باقی افعال کی تعریف کے بعد لکھتے ہیں کہ ان تمام افعال میں بھی یہ دیکھا جائے گا کہ ان کے کرنے سے مقصود کیا ہے اگر محض زینت کےلیے ہے تو جائز ہوگا ، اور اگر زینت کے ساتھ کسی کو دھوکا دینا ہے یا بدکاری کے کاموں میں پڑنے کےلیے ایسا کیا جارہاہے تو حرام ہوگا ۔

فقہ حنفی کی معروف کتاب رد المحتار میں علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں :

(قولہ سواء كان شعرھا أو شعر غيرھا) لما فيہ من التزوير كما يظھر مما يأتي وفي شعر غيرھا انتفاع بجزء الآدمي أيضا: لكن في التتارخانيۃ، وإذا وصلت المرأۃ شعر غيرھا بشعرھا فھو مكروہ،3

اس کاقول ( وصل کرنا حرام ہے) چاہے اپنے بالوں سے ہو یا  کسی اورکے بالوں سے۔ اس لیے کہ اس میں دھوکا دہی ہے ، جیسا کہ آگے واضح ہوگا  ۔ نیز اس میں  دوسرے کے بال لگانے سے کسی انسان کے جزء سے نفع اٹھانا بھی لازم آ رہاہے ۔لیکن تاتارخانیہ میں ہے : اور جب کوئی عورت اپنے بالوں سے کسی اور کے بال ملائے تو وہ مکروہ ہے ۔

علامہ شامی ؒ کی اس عبار ت سے بھی واضح ہے کہ وصل وغیرہ سے ممانعت دھوکا دہی کی وجہ سے ہے ۔ عورتیں اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو جوان اور خوبرو دکھا کر مہر زیادہ کرواتی ہیں  وغیرہ وغیرہ ۔ مندرجہ بالا عبارت میں وصل کے بارے میں ان کا موقف سامنے آیاہے ، عورت کے اپنے چہرے سے بال اکھڑوانا جس کا ذکر حدیث میں " وَالمُتَنَمِّصَاتِ"کے الفاظ سے آیاہے اس کے بارے میں علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں:

النمص: نتف الشعر ومنہ المنماص المنقاش ولعلہ محمول علی ما إذا فعلتہ لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجھھا شعر ينفر زوجھا عنھا بسببہ، ففي تحريم إزالتہ بعد، لأن الزينۃ للنساء مطلوبۃ للتحسين4

نمص: بالوں کا اکھاڑنا ہے ،اور اسی سے ہے المنماص المنقاش اور شاید کہ (اس سے منع کرنا) محمول ہے کہ جب اجنبیوں کے لیے  خوب صورتی اختیار کی جائے وگرنہ عورت کے چہرے پر بال آجائیں جن  کی وجہ سے شوہر اپنی بیوی سے کراہت محسوس کرے تو اس کے حرام ہونا بعیدہے ،اس لیے کہ زینت عورتوں کے لیے  مطلوب ہے ۔

مجموعی طور پر علامہ شامی ؒ کی عبارات سے معلوم ہورہاہے کہ عورت جب یہ اوپر ذکر کردہ افعال کرے تو اس میں دو  چیزیں ملحوظ خاطر ہوں  ، ایک یہ کہ اس میں دھوکا دہی مقصود نہ ہو ، اگر کسی کو دھوکا دینا مقصود ہے تو یہ امور حرام ہوں گے ، اور دوسرے یہ  کہ زینت اجنبی مردوں کو مائل کرنے  کے لیے اختیار نہ کی جائے ، اگر یہ دونوں شرطیں پائی جائیں گی تو شرعاً ان  افعال کے کرنے  میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔

اسی طرح حافظ ابن حجر نے امام نووی سے نمص سے متعلق جو رائے ذکر کی ہے وہ بھی علامہ شامی کی رائے سے ملتی جلتی ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :

قال النووي: یستثنی من النماص ما  اذا نبت للمرأۃ لحيۃ أو شارب أو  عنفقۃ فلایحرم عليھا ازالتھا،بل یستحب ۔ قلت: واطلاقہ مقید باذن الزوج و علمہ ، والافمتی خلا عن ذلک منع للتدلیس 5

نووی نے کہا: بالوں کے اکھاڑنے ( کے حرام ہونے والے حکم) سے استثنا حاصل ہوگا جب  عورت کی ڈاڑھی،مونچھیں یا ڈاڑھی کا بچہ اگ آئے ، پس ان کا ختم کرنا اس عورت  کےلیے حرام نہیں ہوگا ۔ میں کہتا ہوں : اور اس ( بالوں کے اکھاڑنے کے جواز ) کا اطلاق مقید ہوگا شوہر کی اجازت اور اس کے علم کے ساتھ ۔ وگرنہ پس کب خالی ہوگا  یہ حکم اس( حرام )سے ۔ اس سے منع کیا گیا اصلی حالت کے چھپ جانے کی وجہ سے ۔

اوپر ذکر کردہ عبارت سے نووی کی رائے یہ سمجھ  آر ہی ہے کہ ان کے ہاں بہت محدود دائرے میں بالوں کے اکھاڑنے کی اجازت ہے ، یعنی انتہائی ناگزیر صورتِ حال میں کہ جب عورت کی ڈاڑھی یا مونچھیں وغیرہ نکل آئیں تو اس صورت میں اس کےلیے ان کو ختم کرنے کی اجازت حاصل ہوگی ۔ جبکہ حافظ کی رائے یہ ہے کہ  جب شوہر اجازت دے دے ، یا شوہر کے علم میں ہو تو مطلقاً بالوں کا اکھاڑنا جائز ہوگا ، گویا ان کے ہاں اصل مدار تدلیس والی علت پر ہے ۔

معروف مالکی فقیہ شہاب الدین نفراوی اپنی تصنیف " الفواکہ الدوانی " میں رقم طراز ہیں :

(وينھی النساء عن وصل الشعر) والنھي للحرمۃ عند مالك لخبر: «لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ» وحرمۃ الوصل لا تتقيد بالنساء لما فيہ من تغيير خلق اللہ، وإنما خص النساء لأنھن اللاتي يغلب منھن ذلك عند قصر أو عدم شعرھن يصلن شعر غيرھن بشعرھن، أو عند شيب شعرھن يصلن الشعر الأسود بالأبيض ليظھر الأسود لتغريہ الزوج....
والوشر نشر الأسنان أي بردھا حتی يحصل الفلج وتحسن الأسنان بذلك، ومثلہ لو كانت طويلۃ فتنشر حتی يحصل لھا القصر، والتنميص ھو نتف شعر الحاجب حتی يصير دقيقا حسنا، ولكن روي عن عائشۃ - رضي اللہ عنھا - جواز إزالۃ الشعر من الحاجب والوجہ وھو الموافق لما مر من أن المعتمد جواز حلق جميع شعر المرأۃ ما عدا شعر رأسھا، وعليہ فيحمل ما في الحديث علی المرأۃ المنھيۃ عن استعمال ما ھو زينۃ لھا كالمتوفی عنھا والمفقود زوجھا.6

اور منع کیا گیا عورتوں کو بالوں میں دوسرے بال ملانے سے ، اور اس سے نہی امام مالک کے ہاں اس خبر کی وجہ سے ہے:  لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ اور بالوں میں وصل کی حرمت صرف عورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے ، اس لیے کہ  اس میں اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی ہے ، اس کو عورتوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر بالوں کے چھوٹا ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں عورتیں ہی دوسرے بال اپنے بالوں میں ملاتی ہیں ، یا بڑھاپے میں اپنے بالوں کے سفید ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ دوسرے بال ملاتی ہیں  تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے شوہر کو دھوکا میں مبتلا کریں ۔ اور وشر دانتوں کے ترشوانے کو کہتے ہیں ، اس کے ذریعے دانتوں کے درمیان خلا پیدا ہوتاہے اور اس سے دانت خوب صورت لگتے ہیں اور اسی طرح اگر دانت لمبے ہوں اور ان کو ترشوایا جائے تو وہ چھوٹے ہو جاتے ہیں ، اور نمص ابرو کے بالوں کا اکھاڑنا ہے تاکہ خوب صورت باریک ہو جائیں ،  لیکن حضرت عائشہ سے ابروؤں اور چہرے سے بالوں کے ختم کرنے پر جواز وارد ہے ۔

اور یہ موافق ہے اس  بات کے جو پیچھے گزر چکی ہے کہ  معتمد قول یہ ہے کہ عورت کے سر کے علاوہ تمام بالوں کا حلق جائز ہے ، اور اسی پر محمول کیا جائے گا اس ممانعت کو جو حدیث میں مذکور ہے  کہ عورت کےلیے زینت اختیار کرنا ممنوع ہے ، اس سے مراد وہ عورت ہے  جس کا شوہر فوت ہوچکا ہو،اور وہ عورت جس کا شوہر گم ہو چکا ہو ۔ 

اسی طرح ایک اور شافعی فقیہ سلیمان بن عمر الجمل اپنی معروف کتاب "حاشیۃ الجمل علی شرح المنهج" میں تحریر فرماتے ہیں :

ويحرم أيضا تجعيد شعرھا ونشر أسنانھا وھو تحديدھا وترقيقھا والخضاب بالسواد وتحمير الوجنۃ بالحناء ونحوہ وتطريف الأصابع مع السواد والتنميص وھو الأخذ من شعر الوجہ والحاجب المحسن فإن أذن لھا زوجھا أو سيدھا في ذلك جاز لھا؛ لأن لہ غرضا في تزينھا لہ كما في الروضۃ وأصلھا وھو الأوجہ7

اسی طرح حرام ہے بالوں کا گھنگھریالا بنانا، اور دانتوں کا نشر کروانا اور وہ ان کا باندھنا ہے ، اور باریک کرنا ہے ۔ اور کالی مہندی اور رخساروں کی ابھری ہوئی جگہ کو مہندی سے رنگنااور اس جیسے دوسرے افعال۔اور انگلیوں کے پوروں کا کالا کرنا، اور نمص کرنا ،وہ چہرے اور ابرؤوں کے بالوں کا اکھاڑنا ہے  خوب صورتی  کےلیے ، پس اگر اس کےلیے شوہر  یا آقا اجازت دے تو یہ جائز ہے ، اس لیے کہ اس( شوہر یا آقا) کے لیے زینت اختیار کرنا مقصد ہے ،جیسا کہ روضہ میں ہے ، اور یہی بہتر توجیہ ہے ۔

یہ عبارت بھی یہ اصول بیان کررہی ہے کہ اگر ان کاموں کے پیچھے کوئی جائز مقصد ہوتو ممانعت باقی نہیں رہے گی۔

اسی طرح علامہ طاہر ابن عاشورؒ اپنی تفسیر " التحریر والتنویر " میں لکھتے ہیں :

وأما ما ورد في السنۃ من لعن الواصلات والمتنمصات والمتفلجات للحسن فمما أشكل تأويلہ. وأحسب تأويلہ أن الغرض منہ النھي عن سمات كانت تعد من سمات العواھر في ذلك العھد، أو من سمات المشركات، وإلا فلو فرضنا ھذہ منھيا عنھا لما بلغ النھي إلی حد لعن فاعلات ذلك. وملاك الأمر أن تغييرخلق اللہ إنما يكون إنما إذا كان فيہ حظ من طاعۃ الشيطان، بأن يجعل علامۃ لنحلۃ شيطانيۃ، كما ھو سياق الآيۃ واتصال الحديث بھا.8

اور حدیث میں  بال جوڑنے  والی عورتوں ، بال اکھڑوانے والی عورتوں اور دانتوں کے درمیان  خوبصورتی کے لیے فاصلہ کروانے والی عورتوں کے لیے جو حکم آیاہے ، اس سے   منع کرنے کی جو علت میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل میں ان علامات سے روکنا  مقصود ہے جو اُس زمانے کی بدکار عورتوں کی علامات تھیں یا مشرکات عورتوں کی علامات تھیں ، اور اگر اصلاً  منع کرنا فرض کر لیا جائے تو  یہ افعال اتنے شنیع نہیں ہیں کہ ان افعال کا ارتکاب کرنے والی عورتوں پر لعنت کی جائے ، بہرحال  خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی اس وقت گناہ ہوگی  جب اس میں شیطان کی اطاعت کا پہلو پایا جا ئے گا بایں طور کہ  ان کاموں کو شیطان کو شیطان کو خوش کرنے کےلیے کیا جائے جیسا کہ آیت کا سیاق ہے اور اس کے ساتھ حدیث کو ملایا جائے

علامہ  ابن عاشور ؒ کی اس عبارت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ وہ ان افعال سے روکنے کو کس علت پر محمو ل کر رہے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ عورتوں کو ان افعال سے اس لیے منع کیا گیا کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زانیہ اور فاحشہ عورتوں کا یہ شعار اور علامت ہوتی تھی کہ وہ اپنے جسم پر نشانات لگوایا کرتی تھیں ،ابرووں کو ترشواتی تھیں ،  اور اس طرح کے دوسرے افعال کرتی تھیں ۔ جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے مسلمان عورتوں کو ان افعال سے سختی سے منع کردیا تاکہ  ان پاک دامن عورتوں کی معاشرے کی بری اور غلیظ عورتوں سے کسی قسم کی مشابہت نہ ہو۔اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ابن عاشور فرماتے ہیں کہ اگر یہ افعال اُ ن بری عورتوں کے نہ ہوتے تو بظاہر  اِن میں اتنی برائی نہیں ہے کہ ایسی عورتوں پر لعنت کی جائے ،کیوں کہ لعنت تو کسی ایسے فعل پر کی جاتی ہے جو انتہائی براہو۔ ابن عاشور کی اس علت اور وجہ کو امام رازی ؒ کی اس عبارت سے بھی تائید حاصل ہو رہی ہے ،امام رازی  سورۃ النساء کی آیت  وَلَأُضِلَّنَّھُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ الخ کے ذیل  میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : قَالَ وَذَلِكَ لِأَنَّ الْمَرْأَۃَ تَتَوَصَّلُ بِھَذِہِ الْأَفْعَالِ إِلَی الزِّنَا9. کہ رسول اللہ ﷺ کے ان افعال سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اِن افعال کے کرنے سے عورت زنا کی طرف راغبضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کا قول نقل  ہوتی ہے اس لیے ان سے منع کردیاگیا ۔

اس کے ساتھ اگر اوپر  ذکر گئی عبارتوں کو ملایا جائے تو بات ذرا اور واضح ہو جاتی ہے کہ دو وجہ سے رسول اللہ ﷺنے اِ ن افعال  سے  سختی کے ساتھ  منع فرمایا : ایک تو اس وجہ سے  کہ  اس طرح کے افعال کرنے سے عورت کی اصلی ہیئت اور حالت چھپ جاتی ہے اور جعلی حسن سامنے آ جاتاہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ دھوکا ہو تاہے ، اور دھوکا دینے والا اللہ کو سخت ناپسند ہے ۔ دوسرا اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یہ افعال معاشرے کی گندی عورتوں کا شعار بن چکے تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرما دیا ۔

علامہ قرافی کی عبارت کی وضاحت

علامہ ابن  عاشور کی مذکورہ عبارت سے علامہ قرافی کی بات کا جواب بھی سامنے آگیا کہ وشم یعنی جسم کو گدوانے سے تو کسی قسم کا دھوکا اور تلبیس نہیں ہو رہی اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع کیوں فرمایا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ چونکہ دورِ رسالت مآب ﷺ میں یہ کام سماج کی بے راہ رو عورتوں کا شعار بن چکا تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ۔

اسی طرح ابن عاشور  اپنی ایک اور تالیف " مقاصد الشریعۃ " میں لکھتے ہیں :

"ووجھہ عندي الذي لم أر من أفصح عنہ أن تلك الأحوال كانت في العرب أمارات علی ضعف حصانۃ المرأۃ. فالنھي عنھا نھي عن الباعث عليھا أو عن التعرض لھتك العرض بسببھا 10"

"اور میرے نزدیک ان افعال سے روکنے کی وجہ جو میری نظر کے مطابق کسی اور  نے صراحتاً بیان نہیں کی یہ ہے   کہ اس طرح کے احوال  کی وجہ سے عورت کی پاک دامنی کو (قدیم زمانے میں )کمزور (مشکوک)سمجھا جاتاتھا، پس ان سے منع کرنا ان ( افعال) کے خلاف ابھارنا ہے یا ان سے اعراض کروانا ہے تاکہ یہ بے آبروئی کا سبب نہ بنیں"

علامہ ابن عاشور کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ عرب کے معاشرے میں یہ افعال بدکار اور مشرکہ عورتو ں کی علامت سمجھے جاتے تھے ، اور ایسی عورتیں ہی  یہ افعال کیاکرتی تھیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان افعال سے منع کردیا تاکہ پاک دامن اور اللہ کی مقرب بندیوں کی اُن بدکار عورتوں سےکسی قسم کی مشابہت لازم نہ آئے ۔تو ان افعال  سے سختی کے ساتھ منع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان عورتیں ان افعال قبیحہ سے حد درجہ احتراز برتیں ۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا امام رازی نے بھی اسی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کاموں کو زنا کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔

فقہاء  کی ان مذکورہ بالا تصریحات سے  سے میں  یہ واضح ہوتاہے کہ  جن وجوہات  کی بنا پر  رسول اللہ ﷺ  نے عورتوں  کو ان افعال سے منع فرمایا اور  کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی، وہ وجوہات کل تین ہیں :

ان مذکورہ علتوں کی بنیاد پر  یہ کہا جاسکتاہے کہ ان افعال  میں اگر دو چیزوں کی رعایت  رکھ لی جائے تو بظاہر ان افعال میں کوئی قباحت نہیں :

"المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی" کو علت نہ بنانے کی وجہ

بعض حضرات نے  تغییر خلق اللہ کو بطور ِ علت کے بیان کیا ہے،  ان کا کہنا یہ ہے کہ   رسول اللہ ﷺ کے ان افعال سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ  یہ افعال اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں ، چونکہ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی درست نہیں لہذا یہ افعال بھی درست نہیں ہیں ۔ مولانا محمد زاہد  کا یہاں کہنا یہ ہے کہ  "المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی" کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے، ان کے خیال میں اہلِ علم کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا  ہے تغییر خلق اللہ کو قابلِ لعنت کاموں کی علت تب بنایا جا سکتا ہے جبکہ وہ عمومی نوعیت کی برائی ہو اور اپنی ذات میں برائی ہو۔جبکہ ہم دیکھتے ہیں  اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی ایسا معاملہ ہے جس میں ہر جگہ کے لحاظ سے حکم مختلف ہے ،بعض جگہوں پر تبدیلی جائز ، بعض جگہوں پر ناجائز اور کچھ ایسے مقامات ہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کرنا مستحب اور افضل عمل ہے ، اور علت ایسی چیز کو بنایا جا سکتاہے جس میں ہر جگہ حکم یکساں ہو ۔ چونکہ تغییر خلق اللہ ایسا عمل نہیں ہے کہ ہر جگہ حکم ایک ہی ہو، اس لیے اسے لعنت کی علت کی بنانے پر غور ضرور ہوسکتا  ہے ۔11

پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حدیث ِ ابن مسعود میں تغییر کو علت کے طور پر نہ لیا جائے تو اس کے لانے کا مقصد کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا محمد زاہد کہتے ہیں :

یہاں تغییر خلقِ اللہ کا ذکر بطورِ علت کے نہیں بلکہ حدیث میں بیان کیے گئے حکم کا دائرہ وسیع کرنے کےلیے ہے۔ وہ یوں کہ اس حدیثِ  شریف میں رسول اللہ ﷺ نے بعض جسمانی تبدیلیوں کا ذکر فرمایا ، ظاہر ہے کہ سب تبدیلیوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتاتھا ، تو اس لیے اس طرح کی تمام تبدیلیوں کو شامل کرنے کےلیے تغییر خلق اللہ کا عنوان قائم فرمایا کہ جن تبدیلیوں میں بھی معنی پایا جائے وہ اسی حکم میں داخل ہیں ۔12

بہر حال حدیث کی تشریح کا یہ پہلو بھی قابلِ غور ہوسکتا ہےلیکن بعض افعال کے لیے تغییر خلق اللہ ہی کو علت قرار دیا جائے تو بھی خاص قسم کی تغییر کو علت قرار دیا جائے گا، یعنی جس میں مذکورہ بالا مفاسد پائے جائیں۔

حدیث ِ ابن مسعودؓ  کی وضاحت

عورتوں کو ان افعال سے روکنے اور منع کرنے کی اصل علتیں تو وہی ہیں جن کا اوپر کی چند عبارتوں میں ذکر موجودہے کہ چونکہ ان افعال میں تدلیس و تزویر ہے نیز بدکار اور فاحشہ عورتوں کا شعار ہے اس لیے منع کر دیاگیا ۔ ان عبارتوں کی روشنی میں یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی  تھی کہ کہ اگر ان افعال سے تدلیس و تزویر یعنی کسی کو دھوکا دینا مقصود نہیں ہے اور چونکہ آج کے زمانہ میں یہ افعال بدکار عورتوں کا شعار بھی نہیں کہ ان سے  مشابہت کی بنا پر منع کیا جائے ،لہذا ان افعال کے کرنے میں اباحت ہے ۔

لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث کی بنا پر  اس اباحت میں وہ تعمیم نہیں رہے گی جو اوپر ذکر کی گئی علتوں سے مترشح ہو رہی تھی ۔ اس روایت نے  ان افعال کی اباحت  کو تو اگرچہ برقرار رکھا ہے لیکن اس کا دائرہ محدود کر دیاہے ۔ وہ یوں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ  کی روایت کے الفاظ ہیں " وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ" کہ  جن عورتوں پر لعنت کی گئی ہے ان میں  وہ عورتیں بھی ہیں جو دانتوں کے درمیان خوبصورتی کےلیے فاصلہ کرواتی ہیں ، لِلْحُسْنِ  کی قید سے دیکھنے میں لگتاہے کہ  ممانعت ان تمام صورتوں میں ہے جب خوبصورتی کے لیے یہ افعال کیے جائیں 13۔

لیکن ذرا گہرائی کے ساتھ دیکھیں تو ایسا نہیں ہے ، اس لیے کہ حُسن و جمال کوئی ایسی برائی کی  چیز نہیں ہے کہ محض اس کے حصول پر لعنت کی جائے۔ اس لیے کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور فطرت حسن و خوب صورتی کو پسند کرتی ہے۔ اسلام نے خوب صورت نظر آنے کی تعلیم دی ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :  إِنَّ اللَّہَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ  14 کہ اللہ تعالیٰ خود بھی جمال والے ہیں اور جمال کو پسند کرتے ہیں ۔ نیز عورتو ں کے بارے میں تاکید کے ساتھ آیا ہے کہ وہ زینت اختیار کیا کریں ،چنانچہ امام نسائی اپنی سنن میں ایک  کتاب الزینۃ کے تحت ایک روایت  نقل کرتے ہیں :

عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّ امْرَأَۃً، مَدَّتْ يَدَھَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ فَقَبَضَ يَدَہُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّہِ، مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ فَلَمْ تَأْخُذْہُ، فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَۃٍ ھِيَ أَوْ رَجُلٍ» قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَۃٍ، قَالَ: «لَوْ كُنْتِ امْرَأَۃً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ»15

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ایک کاغذ نبی ﷺ کی طرف بڑھایا  ، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، تو اس نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! میں نے آپ کی طرف کا غذ بڑھایا ہے ،آپ نے وہ نہیں لیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پتا نہیں کہ یہ ہاتھ عورت کا ہے یا مرد کا ، تو اس نے کہا :  یہ عورت کا ہاتھ ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی کا رنگ لگاتی۔

چونکہ حسن بذاتِ خود کوئی قابلِ لعنت کام نہیں ہے اس لیے حضرت ابن مسعود کی روایت میں حُسن سے مراد وہ حُسن ہے جس کے ذریعے دھوکا دہی مقصود ہو یا اجنبی مردوں کو مائل کرکے آوارہ عورتوں کی صف میں شامل ہونا مقصود ہو۔


خلاصۂ کلام

اب تک کی ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ :


حواشی

  1. القرافی ،ابوالعباس، شہاب الدین ،احمد بن ادریس بن عبدالرحمان المالکی ، الذخیرۃ للقرافی،ج ۱۳،ص ۳۱۵مکتبہ دارالغرب الاسلامی  ،بیروت،ط:اول ۱۹۹۴
  2. الماوردی ، ابوالحسن علی بن محمد البصری ، البغدادی ،الحاوی الکبیر  ج۲،ص۲۵۷،دارالکتب العلمیہ ،بیروت،لبنان، ۱۴۱۹ھ
  3. ابن عابدین ، محمد امین بن عمر بن عبدالعزیزالدمشقی الحنفی، ردالمحتارعلی الدرالمختار،ج ۳،ص ۳۷۳،دارالفکر،بیروت ،ط:  الثانیۃ، ۱۴۱۲ھ
  4. محولہ بالا
  5. العسقلانی، ابن حجر، حافظ، احمد بن علی ، ج۱۰، ص۳۷۸،دارنشرالکتب الاسلامیۃ ، ۱۴۰۱ھ
  6. نفراوی، احمد بن غانم ، شہاب الدین ، الازہری، المالکی، الفواکہ الدوانی علی رسالۃ ابن ابی زید القیراوانی، ج ۲، ص ۳۱۴،دارالفکر، ۱۹۹۵ء
  7. الجمل ، سلیمان بن عمر، الشافعی، حاشیۃ الجمل   علی شرح المنہج  ج ۱ ، ص۴۱۸،دارالفکر،س ن
  8. ابن عاشور ، محمد طاہر بن محمد بن محمد طاہر ،التحریر والتنویر ، ج۵،ص ۲۰۶، دارالتونسیۃ ، تونس،۱۹۸۴ء
  9. رازی ، فخرالدین ، مفاتیح الغیب ، ج ۱۱،ص۲۲۳
  10. ابن عاشور ، محمد طاہر بن محمد ، المقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ ، المحقق: محمد حبیب ابن الخوجۃ ،ج۱،ص ۴۹۱،وزارت الاوقاف والشئون الاسلامیۃ،قطر،۲۰۰۴ء
  11. زاہد، محمد، مولانا ، شیخ الحدیث، جامعہ اسلامیہ امدادیہ ، فیصل آباد، بالمشافہ گفتگو میں انہوں نے اپنی مندرجہ بالا رائے کا اظہار کیا
  12. محولہ بالا
  13. لِلْحُسْنِ: اس قید کا تعلق کون سے الفاظ کے ساتھ ہے ، اس بارے  علا مہ عینی نے دو احتمال نقل کیے ہیں  ایک یہ کہ اس کا تعلق پچھلے تمام افعال سے ہے ، دوسرا یہ کہ اس کا تعلق صرف آخری لفظ سے ہے (  عمدۃ القاری، ج۲۲،ص ۶۳)
  14. ابن حبان ،محمد بن حبان بن احمد بن حبان ،ابوحاتم الدارمی ، البستی ، صحیح ابن حبان ،ج ۱۲، ص ۲۸۰، رقم الحدیث: ۵۴۶۶،موسسۃ الرسالۃ ،بیروت ، الطبعۃ الثانیۃ ، ۱۹۹۳ء
  15. النسائی، ابو عبدالرحمان ، احمد بن شعیب ، سنن ، ج۸،ص ۱۴۲، رقم الحدیث: ۵۰۸۹،مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ، حلب، الطبعۃ الثانیۃ ، ۱۹۸۶ء