جنوری ۲۰۲۰ء

بھارتی شہریت کا متنازعہ قانون اور دو قومی نظریے کی بحثمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہلِ سُنت اور اہلِ تشیع کا حدیثی ذخیرہ: ایک تقابلی مطالعہ (۸)مولانا سمیع اللہ سعدی 
امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی اصول پرستیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
کوالالمپور سمٹ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کا افتتاحی خطابطاہر شاہین 
قرآن جلانے کا حق؟ڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۳)محمد عمار خان ناصر 
ہدایہ کی بے اصل احادیث اور مناظرانہ افراط وتفریطمولانا محمد عبد اللہ شارق 
الشریعہ اکادمی میں ختم خواجگان کا آغازمولانا حافظ عبد الغنی محمدی 

بھارتی شہریت کا متنازعہ قانون اور دو قومی نظریے کی بحث

محمد عمار خان ناصر

بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون کے تناظر میں  ہمارے ہاں  یہ سوال ان دنوں دوبارہ اٹھا یا جا رہا ہے کہ آیا  دو قومی نظریے کی بنیاد پر  تقسیم ہند کا عمل درست تھا یا نہیں اور  یہ کہ کیا متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی پوزیشن آج کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہ ہوتی؟   یہ سوال وقتا فوقتا  موضوع بحث بنتا رہتا ہے  اور امر واقعہ یہ ہے کہ ایک بڑا حلقہ اس بحث کے دائرے سے ابھی تک باہر نہیں آ سکا کہ تقسیم ہند درست تھی یا غلط اور یہ کانگریس کا منفی رویہ تھا یا انگریز کی سازش۔ چنانچہ کچھ حضرات اب تاریخ کے اس دور کا تجزیہ اس نظر سے کر رہے ہیں کہ سب کچھ کا ذمہ دار بس جناح صاحب کی شخصیت اور ان کی غلطیوں یا ضد بازیوں کو قرار دیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ تقسیم نہ ہوتی تو یہ سارے مسائل بھی نہ ہوتے۔ گویا ان حضرات کے نزدیک تحریک پاکستان اصلا محمد علی جناح کی شخصیت کے بعض غیر معتدل پہلووں اور برطانوی حکومت کی ’’ڈیوائڈ اینڈ رول“ کی پالیسی کا نتیجہ تھی، ورنہ حقیقتا اس کا کوئی سیاسی جواز نہیں تھا۔

تقسیم کے مسئلے پر حتی الامکان معروضیت سے غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ  متحدہ ہندوستان کے حامیوں  کے موقف میں اس اعتبار سے وزن تھا کہ تقسیم کے سنگین مضمرات ونتائج کا یہ خطہ متحمل نہیں اور اکٹھے رہنا نہ صرف ممکن بلکہ بہتر ہے،  چنانچہ قوم پرست علماء نے معاصر تبدیلیوں کے اپنے فہم کی بنیاد پر علی ٰ وجہ البصیرت تقسیم ہند کے مطالبے سے اختلاف کیا اور باقاعدہ یہ مذہبی پوزیشن لی کہ اسلامی ریاست کا قیام ہر طرح کے حالات میں شریعت کا مطالبہ نہیں۔ اس کے بجائے مسلمانوں کے عمومی سیاسی وقومی مفادات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی روشنی میں، ان کے نقطہ نظر سے، یہی بہتر تھا کہ مسلمان متحدہ قومیت کا راستہ اختیار کریں۔

تاہم مسلم لیگ کے اس موقف کے وزن کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ کانگریسی لیڈروں کا رویہ مدبرانہ اور accommodative نہیں، بلکہ مسلم لیگی قیادت کو نیچا دکھانے کا تھا۔ خود کانگریس میں شریک علماء اس پالیسی کو بحیثیت مجموعی خطے کے مفاد میں سمجھتے ہوئے بھی کانگریسی قیادت کے رویے سے شاکی تھے، جیسا کہ گاندھی وغیرہ کے نام رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے (غیر مطبوعہ) خطوط سے واضح ہے۔ (یہ غیر معمولی تاریخی اہمیت کا حامل ذخیرہ فیصل آباد کے مولانا انیس الرحمن لدھیانوی نے مرتب کیا ہے، لیکن  غالبا ابھی تک زیور طباعت سے آراستہ نہیں ہو سکا)۔ مولانا ابو الکلام آزاد ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ میں خود لکھتے ہیں کہ میں نے گاندھی کو بہت اصرار سے کہا تھاکہ فلاں فلاں سیاسی مواقع پر آپ نے جناح کو خواہ مخواہ اہمیت دے کر غلطی کی۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو مسلم لیگ اپنی موت آپ مر جاتی۔ اب اس سطح کے اکابر کے ہاں اس طرح کے رویے کے بعد یک طرفہ طور پر مسلم لیگ سے شکایت کرنا منصفانہ نہیں لگتا۔

سیاست میں یقیناًغلطیاں بھی ہوتی ہیں اور سیاسی ضرورتوں کے تحت مبالغہ اور بے اعتدالی بھی در آتی ہے جس کی بہت سی مثالیں مسلم لیگی سیاست میں یقیناًملیں گی، لیکن ہندو اکثریت کے غلبے سے مسلم اقلیت کو محسوس ہونے والے خطرات بالکل ہی بے بنیاد اور تخیل کی پیداوار نہیں تھے۔ ان کا وزن تسلیم کیا جانا چاہیے تھا، جیسا کہ کانگریس نے ’’میثاق لکھنو‘‘ کی صورت میں کیا بھی۔ اس کے باوجود مولانا مدنی اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی جیسے حضرات اپنے مضامین میں صاف صاف یہ فرماتے رہے کہ اقبال اور جناح اور ’’مسلم سیاست‘‘ کے دوسرے راہ نماؤں کے فکر والہام کا ماخذ حکومت برطانیہ ہے جو انھیں ڈیوائیڈ اینڈ رول کی پالیسی کے تحت استعمال کر رہی ہے۔

قائد اعظم کے ہاں اگر کئی حوالوں سے مبینہ طور پر ’’ضد‘‘ اور ’’انا‘‘ کا رویہ دکھائی دیتا ہے تو سیاسی موقف میں لچک کے بہت نمایاں شواہد بھی شروع سے آخر تک ملتے ہیں۔ ۱۹۲۷ء میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں انھوں نے ’’تجاویز دہلی‘‘ پیش کیں جس میں اب تک کے اپنے بنیادی مطالبے یعنی جداگانہ انتخابات سے دست برداری اختیار کر لی۔ پھر نہرو رپورٹ سامنے آنے کے بعد ابتداء اً تین ترامیم پیش کر کے مفاہمت چاہی تو اس میں بھی جداگانہ انتخابات کا مطالبہ شامل نہیں تھا۔ الگ وطن کا تصور اور مطالبہ سامنے آنے کے بعد سالہا سال تک جناح نے خود کو اس موقف سے بالکل الگ رکھا، حتی کہ ۱۹۴۰ء سے غالباً ایک آدھ سال قبل اقبال کے اس خیال کو ’’غیر عملی‘‘ تک قرار دیا، اور سب سے آخر میں کابینہ مشن پلان سے اتفاق کر کے تو لچک اور مفاہمت کی آخری انتہا تک چلے گئے۔ اس لیے ہماری رائے میں  تحریک پاکستان  جیسی قبولیت عامہ حاصل کرنے والی  سیاسی جدوجہد  کی تاریخی تفہیم کلیتا قائد اعظم کے شخصی مزاج  کے حوالے سے کرنا   ایک غیر حقیقی انداز فکر ہے۔ سیاسی تحریکوں کے تشکیلی عناصر میں تاریخی وسماجی سیاق، سیاسی گروہوں کی تنظیم سے پیدا ہونے والی کشمکش اور سیاسی قائدین کی شخصیت ومزاج، یہ تینوں پہلو شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کون سا پہلو غلبہ حاصل کر لیتا ہے، یہ چیز البتہ مختلف تحریکوں میں مختلف ہو سکتی ہے، لیکن کسی بھی مقبول عام سیاسی جدوجہد کی توجیہ صرف لیڈر شپ کے شخصی اوصاف کے حوالے سے کرنے اور سیاسی عصبیتوں کی کشمکش نیز تاریخی صورت حال سے پیدا ہونے والے تقاضوں کو نظر انداز کر دینے کو کسی بھی طرح معروضی انداز نظر نہیں کہا جا سکتا۔

بھارتی شہریت کے متنازعہ قانون کے سیاق میں ہمارے ہاں بعض حضرات کی طرف سے یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا  کہ جب اکثریت کی رائے کی بنیاد پر پاکستان میں صدر کے عہدے کو مسلمانوں کے لیے مخصوص قرار دینے یا مثال کے طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور مختلف قانونی پابندیاں عائد کرنے کا جواز ہے تو بھارت میں شہریت کے حق کو مذہبی بنیاد پر طے کرنے پر کیسے اعتراض کیا جا سکتا ہے؟ اس سے ان دوستوں کا مقصد بھارت کی حالیہ قانون سازی کی تائید کرنا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ جیسے وہ فیصلہ غلط ہے، اسی طرح ہمارے ہاں کیے گئے اس نوعیت کے فیصلے بھی درست نہیں۔

ہماری گزارش یہ ہے کہ یہ استدلال واقعاتی اور تاریخی سیاق سے ہٹا ہوا ہے۔ بنیادی نکتہ جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے، یہ ہے کہ آزادی کے بعد ان دونوں ریاستوں نے اپنی نظریاتی نوعیت متعین کرنی تھی، اور اپنی اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق وہ دونوں نے کی۔ انڈیا نے سیکولر جمہوریت کا انتخاب کیا اور پاکستان نے اسلامی جمہوریہ بننے کا فیصلہ کیا۔ جمہوری اصولوں کے مطابق دونوں ریاستیں اس فیصلے کو تبدیل کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہیں، لیکن جب تک اس اساسی فیصلے کو تبدیل نہیں کرتیں، دونوں اسی کے تحت قانون سازی کرنے کی پابند ہیں۔ اس لیے کسی بھی فیصلے پر سوال اس بنیادی تناظر سے ماورا ہو کر نہیں اٹھایا جا سکتا۔

ہمارے ہاں صدر کے مسلمان ہونے کی شرط اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ ’’اسلامی جمہوریہ“ کی اساس کے تحت کیا گیا ہے اور اس سے بنیادی طور پر ہم آہنگ ہے (گو بعض قانونی تفصیلات پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں)، جبکہ بھارت میں شہریت کے حق کو مذہب کی بنیاد پر محدود کرنے کا فیصلہ سیکولرزم کی اساس سے متصادم ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار مذاہب اور قومیتوں کے ملک کو ایک ’’قومی وطن“ بنانے کا سیاسی جواز ہی سیکولرزم کی بنیاد پر پیش کیا گیا تھا۔ اگر ہندوستان کی کچھ طاقتیں اس بنیاد کو ختم کرنا چاہتی ہیں تو وہ ساتھ ہی اس کے ایک وطن ہونے کا جواز بھی ختم کر دیں گی۔ اس کے بعد صرف طاقت اور زبردستی ہی ہوگی جس کا کوئی سیاسی یا اخلاقی جواز نہیں۔  اس لیے پاکستان میں کیے گئے قانونی فیصلوں اور بھارت کے حالیہ متنازعہ قانون کی نوعیت ایک جیسی نہیں، بلکہ بالکل مختلف ہے۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ آئین کی جو اساسات طے کی گئی ہیں، ان کے خلاف قانون نہیں بنانا چاہیے اور اساسات کے مطابق جو قانون بنایا جائے، اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ اس اصول پر کسی بھی ملک میں جو قانون آئینی اساسات سے متصادم بنایا جائے، اس پر اعتراض کا حق معقول اور آئینی حق ہے۔

جہاں تک ہندوستانی سیاست میں   ہندو جارحیت کی  تازہ لہر کا تعلق ہے تو تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ’’ہندتوا“ فیکٹر ہندوستانی سیاست کا رخ پیچھے کی جانب موڑنے کے بجائے تنگ نظر ہندو ذہنیت کی گرفت کو مزید کمزور کرنے کا موجب بنے گا۔ ممکن ہے، اس اندازے میں خواہش اور جذبات  بھی کارفرما ہوں، لیکن تاریخ کا اب تک کا سفر عمومی طور پر اسی جانب دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستانی معاشرہ پچھلے دو ہزار سال سے برہمنیت کے چنگل سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہے اور ہر قدم آگے کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بدھ مت، جین مت، سکھ مت کا ظہور اور خود ہندو مذہب کے اندر اصلاحی تحریکوں کی پیدائش اسی عمل کے مظاہر ہیں۔ داخلی حرکیات کے علاوہ مسلمانوں کی اور پھر استعمار کی آمد نے بھی اس کی رفتار کو مہمیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

معاشرتی سطح پر انڈیا کی ماڈرنائزیشن اور معاشی سطح پر عالمی سرمایہ داری نظام میں integration بھی اسی سمت میں دباو بڑھانے والے عوامل ہیں۔ سیاسی سطح پر جمہوریت اور سیکولرزم، نظریے اور تصور کی سطح پر عوامی شعور کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔ حالیہ متنازعہ قانون سازی پر بھارتی معاشرے کا عمومی ردعمل اس کا واضح اظہار ہے۔ عالمی رائے عامہ بھی دوٹوک انداز میں اپنا موقف دے رہی ہے۔ اس سارے تناظر میں، مجھے یہ امکان بہت کمزور دکھائی دیتا ہے کہ کوئی طبقہ، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور ہو، محض دھونس اور غنڈہ گردی کے زور پر تاریخ کے سفر کو معکوس کر کے دوبارہ ’’برہمنیت “ کے دور کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو سکے گا۔ دوبارہ عرض ہے کہ ہو سکتا ہے، اس تجزیے میں خواہشات بھی اثرانداز ہو رہی ہوں، لیکن تاریخی شواہد بظاہر اسی کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’ہندتوا “ قوتوں کے جارحانہ ظہور میں شاید کوئی نیا جنم رونما نہیں ہوا، بلکہ یہ تاریخی برہمنیت کی ’’حرکت مذبوحی“ کا نظارہ ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

 (۱۸۵)    استجاب کا ترجمہ

قرآن مجید میں استجاب کا لفظ مختلف صیغوں کے ساتھ آیا ہے، جہاں یہ بندوں کے لیے آیا ہے، وہاں اس لفظ سے مراد ہوتی ہے پکار پر لبیک کہنا، اور جہاں یہ اللہ کے لیے آیا ہے، وہاں مراد ہوتی ہے دعا قبول کرنا، مراد بر لانا اور داد رسی کرنا۔ جھوٹے معبودوں کے سلسلے یہ لفظ یہ بتانے کے لیے آتا ہے کہ یہ معبودان باطل پکارنے والوں کی کچھ بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔

پہلے مفہوم کی وضاحت علامہ ابن عاشور اس طرح کرتے ہیں:

والاستجابۃ: مبالغۃ فی الاجابۃ، وخصت الاستجابۃ فی الاستعمال بامتثال الدعوۃ او الامر۔ (التحریر والتنویر: 25/ 90)

دوسرے معنی کی وضاحت علامہ ابن عاشور اس طرح کرتے ہیں:

والاستجابۃ: الاجابۃ، والسین والتاءفیہ للتاکید وھی مستعملۃ فی المعاونۃ والمظاھرۃ علی الامر المستعان فیہ۔ (التحریر والتنویر: 12/21)

والاستجابۃ تطلق علی اعطاءالمسؤول لمن سالہ وھو اشہر اطلاقہا۔ (التحریر والتنویر:24/182)

استجاب کا استعمال جواب دینے کے لیے نہیں آتا ہے، بطور خاص قرآن مجید میں تو یہ کہیں بھی استفسار کے سیاق میں نہیں آیا ہے، جہاں بھی آیا ہے طلب کے سیاق میں آیا ہے، طلب اگر اوپر سے آئے تو منشا یہ ہوتی ہے کہ اس کی تعمیل کی جائے اور اس پر لبیک کہا جائے۔ اور اگر طلب کسی حاجت مند کی طرف سے ہو، تو وہ طلب داد رسی اور قبولیت کا انتظار کرتی ہے، نہ کہ محض جواب کا۔

ہم نیچے قرآن مجید کے کچھ ایسے مقامات ذکر کریں گے، جہاں مختلف صیغوں سے استجاب آیا ہے، اکثر مترجمین نے تو قبول کرنے کا ترجمہ کیا ہے، لیکن بعض مترجمین نے بعض مقامات پر جواب دینا ترجمہ کردیا ہے، جو مناسب نہیں ہے۔

(1) اِنَّ الَّذِینَ تَدعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ عِبَاد امثَالُکُم فَادعُوہُم فَلیَستَجِیبُوا لَکُم ان کُنتُم صَادِقِینَ۔ (الاعراف: 194)

”تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں “۔(سید مودودی)

”وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو “۔(احمد رضا خان)

”اگر سچے ہو تو چاہیے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پھر ان کو چاہیے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو “۔(محمد جوناگڑھی)

(2) فَاستَجَابَ لَہُم رَبُّہُم انِّی لَا اضِیعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنکُم من ذکر او انثی (آل عمران: 195)

”جواب میں ان کے رب نے فرمایا، ”میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت“۔(سید مودودی)

”تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(3)  اذ تَستَغِیثُونَ رَبَّکُم فَاستَجَابَ لَکُم انِّی مُمِدُّکُم بِالفٍ مِنَ المَلَائِکَۃِ مُردِفِینَ (الانفال: 9)

”اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں“۔ (سید مودودی)

”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(4) فَاستَجَابَ لَہُ رَبُّہُ فَصَرَفَ عَنہُ کَیدَہُنَ (یوسف: 34)

”اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں“۔ (سید مودودی)

(5) اِن تَدعُوہُم لَا یَسمَعُوا دُعَائَکُم وَلَو سَمِعُوا مَا استَجَابُوا لَکُم (فاطر: 14)

”انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے“۔ (سید مودودی)

”تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں “۔(احمد رضا خان)

”تم انہیں پکارو گے تو تمہاری آواز کو نہ سوُ سکیں گے اور صَن لیں گے تو تمہیں جواب نہ دے سکیں گے“۔(جوادی)

(6) وَنُوحًا اِذ نَادَی مِن قَبلُ فَاستَجَبنَا لَہُ (الانبیاء: 76)

”اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا تھا ہم نے اس کی دعا قبول کی“۔(سید مودودی)

(7) فَاستَجَبنَا لَہُ فَکَشَفنَا مَا بِہِ مِن ضُرٍّ (الانبیاء: 84)

”ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا“۔ (سید مودودی)

(8) فَاستَجَبنَا لَہُ وَوَہَبنَا لَہُ یَحیی (الانبیاء: 90)

”پس ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا“۔ (سید مودودی)

(9) وَیَومَ یَقُولُ نَادُوا شُرَکَائِیَ الَّذِینَ زَعَمتُم فَدَعَوہُم فَلَم یَستَجِیبُوا لَہُم (الکہف: 52)

”اس روز جب کہ ان کا رب ان سے کہے گا کہ پکارو اب ان ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے، یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ ان کی مدد کو نہیں آئیں گے“۔ (سید مودودی)

”تو وہ ان کو بلائیں گے لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہیں دیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(10) وَالَّذِینَ یَدعُونَ مِن دُونِہِ لَا یَستَجِیبُونَ لَہُم بِشَیئٍ (الرعد: 14)

” رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں“۔ (سید مودودی)

”جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”رہے وہ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں تو وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کرسکتے“۔ (امین احسن اصلاحی)

” اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(11) وَقِیلَ ادعُوا شُرَکَائَکُم فَدَعَوہُم فَلَم یَستَجِیبُوا لَہُم (القصص: 64)

”تو وہ ان کو پکاریں گے لیکن وہ ان کو جواب نہ دیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے“۔ (سید مودودی)

”کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ، وہ بلائیں گے لیکن انہیں وہ جواب تک نہ دیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو کہا جائے گا کہ اچھا اپنے شرکاءکو پکارو تو وہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے“۔ (ذیشان جوادی)

”اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ ان کو پکاریں گے لیکن وہ ان کو جواب نہ دیں گے“۔(امین احسن اصلاحی)

”اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے “۔(احمد رضا خان)

مذکورہ بالا اس آیت میں اکثر لوگوں نے جواب دینے کا ترجمہ کیا ہے، حالانکہ سیاق کلام میں جواب دینے کا کوئی محل ہی نہیں ہے، شریکوں سے جواب مانگنے کی بات نہیں ہے بلکہ بات یہ کہی جارہی ہے کہ انہیں مدد کے لیے پکارو گے تو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکیں گے۔

(۱۸۶) یفقھون کا ترجمہ

فقہ یفقہ کا مطلب سمجھنا ہوتا ہے، عام طور سے یہی ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن بعض مقامات پر بعضے مترجمین نے سوچنا یا جاننا کردیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

(1) لَہُم قُلُوب لَا یَفقَہُونَ بِہَا (االاعراف: 179)

”ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں“۔ (سید مودودی)

”ان کے دل و دماغ ہیں مگر سوچتے نہیں ہیں“۔ (محمد حسین نجفی)

”ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(2) وَلَکِنَّ المُنَافِقِینَ لَا یَفقَہُونَ (المنافقون: 7)

”لیکن یہ منافقین نہیں جانتے “۔(امین احسن اصلاحی)

”مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں “۔(سید مودودی)

(3) قَد فَصَّلنَا الآیَاتِ لِقَومٍ یَفقَہُونَ (الانعام: 98)

”یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں “۔(سید مودودی)

(4) وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِہِم فَہُم لَا یَفقَہُونَ (التوبۃ: 87)

”اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا“۔ (سید مودودی)

(5) بِانَّہُم قَوم لَا یَفقَہُونَ (الانفال: 65)

”کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے“۔ (سید مودودی)

(6) بِانَّہُم قَوم لَا یَفقَہُونَ (التوبۃ: 127)

”کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں“۔ (سید مودودی)

(7) بِانَّہُم قَوم لَا یَفقَہُونَ (الحشر: 13)

”اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے“۔ (سید مودودی)

(۱۸۷) جیب کا ترجمہ جیب نہیں

درج ذیل آیتوں کے ترجمے دیکھیں:

(1) وَنَزَعَ یَدَہُ فَاِذَا ھِیَ بَیضَاءُ لِلنَّاظِرِین (الاعراف: 108)

”اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا “۔(سید مودودی)

(2)  وَنَزَعَ یَدَہُ فَاذَا ھِیَ بَیضَاءُ لِلنَّاظِرِینَ (الشعراء: 33)

”پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا“۔ (سید مودودی)

(3) وَادخِل یَدَکَ فِی جَیبِکَ (النمل: 12)

”اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو“۔ (سید مودودی)

(4) اسلُک یَدَکَ فِی جَیبِک (القصص: 32)

”اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال “۔(سید مودودی)

 پہلی آیت میں جیب کا ذکر ہے، حالانکہ وہاں کوئی لفظ نہیں ہے جس کا ترجمہ جیب کیا جائے۔ بالکل اسی طرح کی دوسرے نمبر والی آیت میں قوسین میں جیب کی بجائے بغل ہے۔ تیسرے اور چوتھے جملوں میں جیب کا لفظ آیا ہے، تاہم اس کا ترجمہ گریبان کیا ہے۔ جیب کا ترجمہ گریبان اور بغل تو درست ہے، تاہم جیب کا ترجمہ جیب درست نہیں ہے۔ اور لفظی لحاظ سے تو وہاں صرف ہاتھ نکالنے کا ذکر ہے، کسی چیز کا ذکر ہی نہیں ہے کہ ترجمے میں اسے ذکر کیا جائے۔

اس طرح پہلی آیت کا درست ترجمہ حسب ذیل ہے:

”اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)“ ۔(فتح محمد جالندھری)

(جاری)

اہلِ سُنت اور اہلِ تشیع کا حدیثی ذخیرہ: ایک تقابلی مطالعہ (۸)

مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث

ان تمام سوالات و ملاحظات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اہل تشیع کے متاخرین نے اہلسنت کے طرز پر مصطلح الحدیث کا جو فن ایجاد کیا،جو شیعی حلقوں میں علم الدرایۃ کے نام سے موسوم ہے،وہ متعدد وجوہ سے اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث سے فروتر اور تساہل پر مبنی ہے،اللہ تعالی اس سلسلے کو مکمل کرنے کی توفیق دے،اس سلسلے کی ایک بحث میں ہم اہلسنت کے علوم مصطلح الحدیث اور شیعہ متاخرین کے علم درایۃ کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے، جب تساہل پر مبنی علم الدرایہ کی رو سے الکافی کے دو ثلث ضعیف ہیں،اگر اہلسنت کے کڑے معیارات پر الکافی کو پرکھا جائے،تو الکافی میں صحیح احادیث کی تعداد چند سو رہ جائے گی۔

بطور ِنمونہ صرف ایک معیار کا فرق بتانا چاہوں گا تاکہ اندازہ ہوجائے کہ اہلسنت کے علوم مصطلح الحدیث کا معیار کتنا سخت اور اہل تشیع متاخرین کے علم الدرایۃ کا معیار کتنا تساہل پر مبنی ہے۔ (دیگر امور میں تقابل ایک مستقل بحث میں ان شا اللہ ذکرکریں گے)

اہل سنت کے نزدیک صحیح حدیث کونسی کہلائے گی ؟اس سلسلے میں حافظ ابن حجر شرح نخبۃ الفکر میں لکھتے ہیں:

"وخبر الاحاد بنقل عدل،تام الضبط،متصل السند،غیر معلل و لاشاذ ھو الصحیح لذاتہ"1

یعنی روایت کے صحیح بننے کے لئے پانچ شرائط ہیں:

1۔تمام راوی عادل ہوں۔

2۔ضبط میں تام ہوں۔

3۔سند اول تا آخر متصل ہو۔

4۔معلل نہ ہو۔

5۔شاذ نہ ہو۔

جبکہ اس کے برخلاف اگر ہم شیعہ علم الدرایہ میں صحیح کا معیار دیکھیں،تو ہمیں اہلسنت کے معیار سے تساہل پر مبنی نظر آئے گا،چنانچہ معروف شیعہ محدث زین الدین عاملی المعروف بالشہید الثانی اپنی کتاب "البدایہ فی علم الدرایۃ " میں صحیح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"الصحیح وھو ما اتصل سندہ الی المعصوم بنقل العدل الامامی عن مثلہ،فی جمیع الطبقات وان اعتراہ شذوذ،"2

یعنی صحیح حدیث وہ ہے،جس کی سند متصل ہو اور تمام رواۃ عادل اور امامی شیعہ ہو،خواہ اس حدیث میں شذوذ ہوں، یوں اہل تشیع کے معیار کے مطابق صحیح حدیث وہ ہوگی،جس میں یہ تین شرائط ہوں: ( اہلسنت کے ہاں صحت حدیث کے لئے پانچ شرائط ضروری ہیں کما مر)

1۔ تمام رواۃ عادل ہوں۔

2۔تمام رواۃ امامی شیعہ ہوں۔

3۔اس حدیث کی سند متصل ہو۔

حدیث کے صحیح ہونے کے لئے اس کا شذوز اور علت سے سالم ہونا اہل تشیع کے نزدیک ضروری نہیں،چنانچہ شہید ثانی اپنی اسی کتاب کی شرح میں لکھتے ہیں:

ونبہ بقولہ "و ان اعتراہ شذوذ" علی خلاف ما اصطلح علیہ العامہ من تعریفہ ،حیث اعتبرو سلامتہ من الشذوذ۔۔۔و ارادو بالعلۃ ما فیہ من اسباب خفیۃ قادحۃ یستخرجھا الماہر فی الفن،و اصحابنا لم یعتبروا فی حد الصحیح ذلک"3

اور ماتن نے و ان اعتراہ شذوذ کے قول سے عامہ (اہلسنت ) سے اختلاف کیا،جن کے نزدیک صحیح کی تعریف میں سلامت عن الشذوذ ضروری ہے،نیز اہل سنت کے نزدیک علت فی الحدیث سے مراد وہ خفی خرابی ہے،جس پر ماہر فن ہی مطلع ہوسکتا ہے،ہمارے اصحاب(شیعی محدثین ) نے صحیح کی تعریف میں علت سے حفاظت کی شرط نہیں لگائی ہے۔

اس کے علاوہ الشہید الثانی کی عبارت میں ضبط کا بھی ذکر نہیں ہے،جبکہ ضبط یعنی حدیث کو یاد رکھنے کے لئے حافظہ یا اس کی کامل کتابت ایک ضروری شرط ہے،اس لئے بعض شیعہ علماء کو یہ بات کھٹکی اور انہوں نے لکھا کہ عدالت کی شرط میں ضبط کا ذکر بھی ضمنا آگیا،چنانچہ علامہ مامقانی لکھتے ہیں:

"وانت خبیر بان قید العدل یغنی عن ذلک لان المغفل المستحق للترک لا یعدلہ احد"4

آپ کو پتا ہے کہ عدل کی قید ضبط سے مستغنی کر دیتی ہے،کیونکہ ایسا غافل آدمی،جو ترک کا مستحق ہو،اس کی تعدیل کوئی بھی نہیں کرتا۔

ہم اس پر مزید تبصرہ نہیں کرتے،کیونکہ اس سلسلہ مضامین میں ہم نے کوشش کی ہے کہ وہی بات ذکر کریں،جو خود اہل تشیع علماء نے لکھی اور کہی ہے،ورنہ یہ بات بدیہی ہے کہ عدالت ایک اختیاری وصف ہے،جو انسان کی دینداری کو ظاہر کرتی ہے،جبکہ ضبط دینداری سے الگ ایک وصف ہے،جو پڑھی ہوئی چیز کو یاد رکھنے اور اس کو محفوظ رکھنے کے اہتمام کو ظاہر کرتا ہے،اسی وجہ سے شیخ جعفر سبحانی نے ضبط کو عدالت کے مفہوم میں داخل کرنے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے:

"المقصود من السلامۃ من غلبۃ السہو و الغفلۃ الموجبۃ لوقوع الخلل علی سبیل الخطا کما حقق فی الاصول ،وحینئذ فلا بد من ذکرہ"5

ضبط سے مقصود غلبہ سہو اور ایسی غفلت سے سلامتی ہے،جو روایت میں خطا کیو جہ سے خلل کے وقوع کا سبب ہو،جیسا کہ اصول میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے،اس لئے ضبط کا ذکر تعریف میں ضروری ہے۔

ضبط سے متعلق ہم اہل تشیع کی تاویل قبول بھی کر لیں کہ وہ عدالت کے مفہوم میں داخل ہے،تب بھی اہل سنت و اہل تشیع کے ہاں صحیح کے معیار میں فرق یہ ہے کہ اہل سنت نے معیار سخت کرتے ہوئے پانچ شرائط کا ذکر کیا ہے،جبکہ اہل تشیع نے تساہل سے کام لیتے ہوئے صحیح کے لئے صرف تین شرائط کو کافی قرار دیا ہے۔ اس لئے اگر ہم اہل سنت کے معیار پر الکافی کو پرکھیں گے،تو الکافی میں صحیح احادیث کی تعداد اس سے کہیں کم رہ جائے گی،جو صحیح روایات اب اہل تشیع نے الگ کی ہیں۔

۸۔ فریقین کی تراثِ حدیث میں موضوع روایات اور اس کی تنقیح

اہلسنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کے بنیادی فروق میں سے ایک اہم ترین فرق فریقین کے حدیثی تراث میں موضوع روایات کی چھان بین و تنقیح کا فرق ہے،علمائے اہل سنت نے حدیث کی تدوین کے ساتھ ہی حدیثی ذخیرے میں مختلف طرق و اسباب سے وارد شدہ موضوع احادیث کی چھان بین کا کام شروع کیا، علمائے اہل سنت نے دو طرح سے اس موضوع پر کام کیا:

1۔ پہلا کام حدیث ِموضوع پر اصولی مباحث کی صورت میں کام کیا،وضع حدیث کا معنی و مفہوم،وضع ِحدیث کی اقسام،وضع ِحدیث کے اسباب،متھم بالکذب اور وضع حدیث کے عادی رواۃ کا تعین وغیرہ جیسے امور پر تفصیلی مباحث کتب رجال اور کتب مصطلح الحدیث میں ملتے ہیں۔

2۔وضع ِحدیث پر علمی کام کے ساتھ عملی طور پر موضوع احادیث کو حدیثی ذخیرے سے الگ کرنے کاکام بھی کیا اور الموضوعات کے نام سے بکثرت کتب لکھی گئیں،جن میں حدیثی تراث میں موجود موضوع اور جھوٹی روایات کو الگ جمع کیا گیا ہے،تاکہ ان کی طرف مراجعت کر کے موضوع حدیث کی پہچان ہوسکے۔ چنانچہ اس سلسلے کی اہم کتب یہ ہیں:

1۔کتاب الموضوعات محمد بن عمرو العقلی، م ۳۲۲ھ

2۔تذکرۃ الموضوعات محمد بن طاہر مقدسی م ۵۰۷ھ

3۔ الاباطیل والمناکیر حسین بن ابرہیم الجوزقانی، م ۵۴۳ھ

4۔ کتاب الموضوعات عبدالرحمٰن بن الجوزی، م ۵۹۷ھ

5۔ المغنی عن الحفظ والکتاب عمر بن بد موصلی، م ۶۲۳ھ

6۔الدر الملتقط فی تبیین الغلط حسن بن محمد صاعانی، م ۶۵۰ھ

7۔اللألی المنشورۃ فی الاحادیث المشہورۃ حافظ ابن حجر عسقلانی، م ۸۵۲ھ

8۔الکشف الخبیث عمن رمی بوضع الحدیث حافظ ابراہیم الحلبی، م ۸۴۱ھ

9۔المقاصد الحسنۃ عبدالرحمن سخاوی، م ۹۰۲ھ

10۔اللألی المضوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ جلال الدین السیوطی، م ۹۱۱ھ

11۔الذیل علی الموضوعات جلال الدین السیوطی

12۔ تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص جلال الدین السیوطی

13۔الغماز علی اللماز نور الدین ابو الحسن سمہودی، م ۹۱۱ھ

14۔الدرۃ اللامعۃ فی بیان کثیر من الاحادیث الشائۃ شہاب الدین احمد، م ۹۳۱ھ

15۔تنزیہ الشریعۃ عن الاحادیث الموضوعۃ ابوا لحسن علی بن محمد عراق، م ۹۶۳ھ

16۔تذکرۃ الموضوعات محمد طاہر بن علی پٹنی، م ۹۸۶ھ

17۔قانون الموضوعات محد طاہر بن علی پٹنی

18۔موضوعات کبیر علی بن سلطان القاری، م ۱۰۱۴ھ

19۔ المصنوع فی احادیث الموضوع علی بن سلطان ……………

20۔الفوائد الموضوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ مرعی بن یوسف الکرمی، م ۱۰۳۳ھ

21۔کشف الالتباس فیما خفی علی کثیر من الناس غرس الدین خلیلی، م ۱۰۵۷ھ

22۔ الاتقان ما یحسن من الاحادیث الدائۃ علی اللسن نجم الدین محمد بن الغزی، م ۱۰۶۱ھ

23۔ کشف الخفا و مزیل الالباس اسماعیل بن محمد عجلونی، م ۱۱۶۲ھ

24۔کشف الالہی عن شدید الضعف والموضوع الواہی محمد حسینی سندروسی، م ۱۱۷۷ھ

25۔ الفوائد المجموعۃ فی ا لاحادیث الموضوعۃ محمد بن علی شوکانی، م ۱۲۵۰ھ

26۔ الاثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ عبدالحئ لکھنوی، م ۱۳۰۴ھ

اس فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ چوتھی صدی سے لیکر عصر حاضر تک بلا تعطل اہل سنت میں موضوع احادیث و روایات کی تنقیح کا کام جاری رہا ،ان کتب کی بدولت اہل سنت کا حدیثی تراث موضوع احادیث سے بلا شبہ کافی حد تک پاک ہے،نیز عہد بہ عہد گھڑی جانے والی روایات اور ان کے رواۃ کا بھی ایک واضح تعارف ان کتب سے ملتا ہے،یوں اہل سنت کے حدیثی تراث میں موضوع روایت کا تعین با آسانی ہوسکتا ہے۔

اس کے برخلاف جب شیعی تراث ِحدیث کو دیکھا جاتا ہے تو وہاں اس قسم کی کوئی سر گرمی نظر نہیں آتی، اس کا اقرار اہل تشیع محققین نے بھی کیا ہے،چنانچہ معروف شیعہ محقق ہاشم معروف بحرانی اپنی کتاب "الموضوعات فی الاثار و الاخبار" میں لکھتے ہیں:

"والذی لا یجوز لہ التنکیر لہ ان محدثی السنۃ من اوساط القرن الخامس کانو اکثر وعیا و ادراکا للاخطار التی احاطت بالحدیث الشریف من محدثی الشیعۃ فالفوا با لاضافۃ لی کتب الروایہ و احوال الرجال عشرات الکتب خلال القرنین من الزمن حول الموضوعات و بعضہا یجعل ھذا الاسم بالذات"6

ترجمہ:اس بات کا انکار ممکن نہیں کہ پانچویں صدی ہجری کے وسط سے ہی محدثین اہل سنت بنسبت اہل تشیع محدثین کے،حدیث شریف کو لاحق خطرات سے زیادہ آگاہ اور باخبر تھے،چنانچہ اہل سنت محدثین نے رجال و حدیث کی کتب کے ساتھ ساتھ دو صدیوں تک بیسیوں کتب موضوعات سے متعلق لکھیں،اور بعض کتب موضوعات ہی کے نام سے موسوم کر دی گئیں۔

آگے شیخ ہاشم بحرانی موضوعات سے متعلق اہل تشیع محدثین پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اما الشیعہ فقد تجاہلوا ھذا الموضوع و کانہ لا یعنیہم من امرہ شیئ فی حین ان الموضوعات بین مرویاتہم لا تقل عددھا و اخطارھا عن الموضوعات السنیہ۔۔۔۔لکنھم لم یحاولوا خلال ھذا لقرون الطوال ان یضعوا ولو کتابا واحدا یشتمل ولو علی نماذج من الموضوعات فی مختلف المواضیع"7

ترجمہ:بہرحال شیعہ اس موضوع سے بے خبر رہے،ایسا لگتا ہے کہ ان کے نزدیک اس موضوع کی کوئی اہمیت نہیں تھی،حالانکہ شیعہ مرویات میں موضوع احادیث اور ان مرویات کے متنوع نقصانات سنی موضوع روایات سے ہر گز کم درجہ کی نہیں ہیں۔ ۔۔لیکن شیعہ محدثین نے ان صدیوں میں بطورِ نمونہ بھی ایک ایسی کتاب نہیں لکھی،جو مختلف موضوعات سے متعلق موضوع روایات پر مشتمل ہو۔

چونکہ موضوع روایات کی تنقیح اور ذخیرہ حدیث سے اس کی علیحدگی تراث ِحدیث کو تشکیک و وضع سے بچانے کے لئے اہم ترین عامل ہے،اس لئے بعض معاصر شیعہ محققین نے شیعی تراث میں موضوعات سے متعلق کتب نہ ہونے کی کچھ توجیہات کی ہیں،ہم بغرض افادہ ان توجیہات پر بھی ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

معاصر شیعہ محقق شیخ حیدر حب اللہ نے شیعی تراث کی اس خامی پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:

لكن الملاحظ ھنا أنّ الإماميۃ لم يتركوا كتاباً في الأحاديث الموضوعۃ، ولعلّ أول كتاب ـ كما يری بعض الباحثين المعاصرينـ ھو كتاب الأخبار الدخيلۃ الذي أنھی مؤلّفہ الشيخ محمد تقي التستري المجلّد الأول منہ عام 1369ھ، فيما أنھی المجلّد الرابع والأخير منہ عام 1401ھ،يطرح ھذا الأمر تساؤلاً: لماذا لم تشتغل الإماميۃ علی التصنيف في الموضوعات كما اشتغل سائر المسلمين؟8

ترجمہ: ملاحظہ کرنے کی بات یہ ہے کہ امامیہ نے احادیث موضوعہ پر کوئی کتاب نہیں لکھی،شاید اولین کتاب بعض محققین کے بقول محمد تقی تستری کی الاخبار الدخیلہ (یاد رہے یہ کتاب اصلا موضوعات پر نہیں لکھی گئی،بلکہ یہ کتاب شیعی تراثِ حدیث میں موجود اغلاط و اخطاء کے تعین پر مشتمل ہے، کتاب کی چار جلدوں میں موضوع روایات پر صرف ایک باب باندھا گیا ہے )ہے،جس کی پہلی جلد 1369ھ اور آخری چوتھی جلد 1401ھ میں لکھی گئی،یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ امامیہ نے دیگر مسلمانوں طرح موضوع روایات پر مستقل کتب کیوں نہیں لکھیں؟

شیخ حیدر حب اللہ نے اس سوال کے جواب پر لمبی بحث کی ہے،نکات کی شکل میں موصوف کی توجیہات کاخلاصہ پیش کیا جاتا ہے:

1۔پہلی توجیہ موصوف نے یہ کی ہے کہ دور اموی میں خلافت پر قبضہ جمانے کے لئے سنی تراث میں وضع ِحدیث کی وبا چل پڑی، جبکہ شیعی تراث کو اس قسم کی صورتحال سے واسطہ نہیں پڑا،اس لئے شیعہ محدثین کو موضوعات الگ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ اس توجیہ پر خود موصوف نے رد کیا ہے کہ کسی ایک کا سبب کا نہ ہونا دلیل نہیں ہے کہ وضع ِحدیث کے دیگر اسباب بھی منتفی ہوئے۔

2۔دوسری توجیہ موصوف نے شیعہ معاصر شیخ رضا سے نقل کی ہے کہ شیعہ تراث چونکہ چھانٹی کے دو مراحل سے گزرا،پہلا مرحلہ کتبِ اربعہ سے پہلے اصول اربعمائہ کی صورت میں،دوسرا مرحلہ کتب اربعہ کی صورت میں،اس لئے شیعہ محدثین کو موضوع روایات الگ کرنے ضرورت پیش نہ آئی ( اصول اربعمائہ پر ہم اس سلسلے میں مفصلا بحث کر چکے ہیں کہ کیسے دو تہائی اصول محض فرضی ہیں،نیز کتب اربعہ نے صحت حدیث کا جو معیار مقرر کیا تھا،اس پر بھی ہم اس سلسلے میں نقدِ حدیث کے اصولی معیار کے تحت مفصلا بحث کر چکے ہیں،اس لئے ہر دو مراحل ہی تراث ِ حدیث میں موضوع روایات کا سبب بنی ہیں،کما مر)

3۔ تیسری توجیہ موصوف نے یہ پیش کی ہے کہ پانچویں صدی میں بعض شیعہ محدثین وضع حدیث کو روکنے کی اہم ترین کوششیں کیں،جیسے قم کے ایک محدث احمد بن محمد اشعری نے بعض کبار رواۃِ حدیث کو قم سے اس لئے نکالا کہ وہ وضاعین سے روایت کرتے تھے،اس لئے بھی شیعہ محدثین کو الگ سے موضوع روایات مرتب کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ (یہ توجیہ علمی اعتبار سے لطیفہ ہی کہلائی جاسکتی ہے،اس لئے کہ کسی ایک یا زیادہ محدثین کا وضاعین و ضعاف رواۃ سے روایت نہ لینا یا اس بارے میں تشدد سے کام لینا اس بات کی دلیل کیسے بن سکتی ہے کہ اب ان وضاعین یا دوسرے وضاعین کی موضوع روایات کو الگ سے مرتب کرنے کی ضرورت نہیں ہے فافہم)

4۔ ایک توجیہ موصوف نے یہ بھی پیش کی کہ چونکہ شیعہ حلقوں میں روایت من باب التقیہ بھی ایک جہت ہے،اس لئے بہت سی روایات کو موضوع سمجھنے کی بجائے اسے تقیہ پر مبنی روایات کہا جاسکتا ہے۔ (یہ توجیہ بھی موضوعات کے باب میں غیر متعلق ہے،اس لئے کہ تقیہ کا تعلق روایت کے معنی و مفہوم اور مدلول سے ہے،جبکہ وضع ِروایت کا تعلق روایت کے سندی و رجالی اعتبار سے ثبوت و تیقن سے ہے، مدلولی اعتبار سے روایت کا تقیہ پر مبنی ہونا اس کے سندی اعتبار سے ثبوت یا عدم ِ ثبوت میں کیونکر موثر ہوگا؟یا للعجب)9

ان توجیہات کی کمزوری بلکہ غیر متعلق ہونا چونکہ کافی واضح ہے،اس لئے شیخ حیدر موصوف بھی بحث کے آخر میں یہ لکھنے پر مجبور ہوئے:

المھم أننا نميل إلی رأي السيد ھاشم معروف الحسني، ونری أنّہ آن الأوان لعلماء الحديث الشيعۃ أن يفتحوا ھذا البحث، ويضبطوا قواعدہ. ولا يكتفوا بجھود السلف، مھما كانت الموضوعات قليلۃ، شرط أن لا يفرطوا في ذلك خارج إطار الدليل والحجّۃ10

ترجمہ: ہم اس بارے میں ہاشم معروف بحرانی کی رائے کی طرف میلان رکھتے ہیں اور ہماری رائے یہ ہے کہ اب وہ وقت آگیا کہ شیعہ محدثین موضوع مرویات کی چھانٹی کا بند دروازہ کھولیں،اس کے قواعد منضبط کریں،اور اس سلسلے میں سلف کی کوششوں پر اکتفاء نہ کریں (سلف کی کونسی کوششیں اس با ب میں ہوئی ہیں،جن کی طرف موصوف اشار ہ کر رہے ہیں،ایک طرف خود شیعہ حلقوں میں اس دروازے کے بند ہونے کی بات کر رہے ہیں،دوسری طرف سلف کی کوششیں بھی مان رہے ہیں،یا للعجب)خواہ موضوع مرویات کتنی بھی قلیل ہوں،بشرطیکہ اس باب میں دلیل و حجت کے دائرے سے خارج کوئی کام نہ کیا جائے۔

ان موضوع روایات کی چھانٹی نہ ہونے کی وجہ سے شیعی حلقے اپنے عقائد و مذہب کے بارے میں مختلف مشاکل کا شکار رہے ہیں،اہل تشیع اہل علم کو بھی اس کا ادراک ہے،چنانچہ شیخ ہاشم بحرانی لکھتے ہیں:

"انھم لا یزالون یعانون مما ترکتہ تلک الموضوعات من اثار سیئۃ علی المذہب الشیعی"11

اہل تشیع مسلسل ان برے نتائج و آثار کو جھیل رہے ہیں،جو ان موضوع روایات کی وجہ سے مذہب شیعہ پر پڑ رہے ہیں۔

حواشی

1. نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر، حافظ ابن حجر،ص 67

2. البدایہ فی علم الدرایہ،شہید ثانی،انتشارات ِمحلاتی،قم،ص23

3. شرح البدایہ فی علم الدرایہ،منشورات ضیاء الفیروز آبادی،قم،ص22

4. مقباس الھدایہ،عبد اللہ مامقانی،منشورات دلیل ما،قم،ص124

5. اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ،جعفر سبحانی،ص51

6. الموضوعات فی الاثار و الاخبار،ہاشم بحرانی، دار التعارف للمطبوعات،بیروت،ص88

7. ایضا:ص89

8. ظاہرۃ الوضع فی الحدیث الشریف،حیدر حب اللہ،ص62

9. ایضا:ص63 تا 69

10. ایضا:ص 68

11. الموضوعات فی الاثار و الاخبار،ہاشم بحرانی،ص89

(جاری)

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی اصول پرستی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک قومی اخبار کی خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں۔ یاد رہے کہ یہ پٹیشن ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے جب پومیو نے سال ہا سال سے چلی آنے والی امریکی پالیسی کے برعکس بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اب فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو خلاف قانون نہیں سمجھتا۔ اس بیان پر عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ۱۹۷۸ء میں امریکہ نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف اصولی موقف اختیار کیا تھا جس میں ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں امریکی موقف میں یہ یوٹرن ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہے اس لیے کہ فلسطین میں برطانوی نوآبادیاتی دور سے اب تک اسرائیل کے قیام، یہودی آبادکاری میں مسلسل توسیع، فلسطینیوں کو ان کے وطن اور شہری و انسانی حقوق سے بتدریج محروم کرتے چلے جانے، اور عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک کو مختلف قسم کے تزویری حربوں کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت سے دست کش یا کم از کم خاموش کر دینے کا جو عمل گزشتہ ایک سو سال کی تاریخ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے، وہ اسی قسم کی پالیسیوں سے عبارت ہے، اور کوئی ایک مرحلہ بھی اس دوران ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہو کہ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ نے خود اپنے طے کردہ اصولوں کا کوئی دائرہ بھی قائم رہنے دیا ہو۔

اصول اور اصولی موقف کی گزشتہ تاریخ سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ دنیا کے کسی خطہ میں اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے مرحلہ وار پالیسیوں کو ’’اصول‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے، ایک مرحلہ مکمل ہونے پر وہ اصول تکمیل تک پہنچ جاتا ہے، اور دوسرا مرحلہ شروع ہونے کے بعد اس کے اختتام پذیر ہونے تک نئی پالیسی اور حکمت عملی کو ’’اصول‘‘ کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کھیل کا دائرہ صرف مشرق وسطٰی تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی اصولوں کے نام سے یہی ’’ناٹک‘‘ جاری ہے۔ مثال کے طور پر مسئلہ کشمیر کا حال بھی اس سے مختلف نہیں:

عالم اسلام کے یہ دونوں مسئلے یعنی فلسطین اور کشمیر مغربی ممالک کی اس مرحلہ وار ’’اصول پرستی‘‘ کا شاہکار ہیں، اور نہ صرف امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس میں پیش پیش ہیں بلکہ عالم اسلام میں ان کے حواری بھی اسی نام نہاد اصول پرستی کے پیچھے تالیاں پیٹتے نظر آرہے ہیں۔ چنانچہ امریکی کانگریس کے ۱۳۵ ارکان نے اس پر جو احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اس کی حیثیت اور افادیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ان قراردادوں سے زیادہ دکھائی نہیں دیتی جو گزشتہ پون صدی سے امت مسلمہ کے مسائل پر منظور کی جا رہی ہیں۔ جبکہ ہمارے خیال میں یہ مسئلہ ان کا نہیں ہے بلکہ مسلم حکمرانوں اور حکومتوں کا ہے کہ جب تک ان کی غیرت نہیں جاگتی، یہ ڈرامے اسی طرح جاری رہیں گے۔

کوالالمپور سمٹ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کا افتتاحی خطاب

طاہر شاہین

  1. سب سے پہلے ، میں مسلم قائدین اور اسکالرز اور ان کے پیروکاروں کی اس سمٹ میٹنگ میں آپ کی موجودگی کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
  2. میں اس سربراہی اجلاس کے مقاصد کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم یہاں مذہب کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس کی بجائے مسلم دنیا میں امور کی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔
  3. ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمان ، ان کے مذہب اور ان کے ممالک بحران کی حالت میں ہیں۔ ہم جہاں بھی مسلمان ممالک کو تباہ ہوتے دیکھتے ہیں ، ان کے شہری اپنے ممالک سے بھاگنے پر مجبور ، غیر مسلم ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بہت سے ہزاروں ، اپنی لڑائی کے دوران ہی مر جاتے ہیں اور بہت سے افراد کو سیاسی پناہ دینے سے انکار کردیا جاتا ہے۔
  4. دوسری طرف ، ہم مسلمان متشدد کارروائیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے ، بے گناہ متاثرین ، مرد ، خواتین ، بچوں ، بیماروں اور معذور افراد کو ہلاک کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ کام اس لیے کیا ہے کہ ان کے اپنے ممالک ان کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا دوسروں کے قبضے والی اراضی پر قبضہ کرنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ مایوس اور ناراض ، وہ اپنے مقاصد کے حصول کے بغیر کسی بھی طرح سے پُرتشدد رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
  5. وہ بدلہ لیتے ہیں لیکن وہ جو بھی کام کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہی مذہب اسلام کو بدنام کریں۔ انہوں نے اپنے عمل سے خوف پیدا کیا ہے اور اب اس اسلامو فوبیا ، اسلام کے اس بلا جواز خوف نے ہمارے مذہب کو دنیا کی نظر میں بدنام کردیا ہے۔
  6. لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ خوف کس طرح پیدا ہوتا ہے ، چاہے یہ سچ ہے یا محض ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈا ہے یا دونوں کا مجموعہ۔
  7. پھر ہمیں جنگی جنگوں ، خانہ جنگیوں ، ناکام حکومتوں اور بہت ساری تباہیوں سے نمٹنا ہے جنہوں نے امت مسلمہ اور اسلام کو دوچار کیا ہے اور ان کو ختم کرنے یا کم کرنے یا مذہب کی بحالی کے لئے بغیر کسی سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔
  8. ہاں ، اسلام ، مسلمان اور ان کے ممالک بحران کی حالت میں ہیں ، بے بس اور اس عظیم مذہب سے ناواقف ہیں جس کا مقصد بنی نوع انسان کے لئے بھلائی ہے۔
  9. ان وجوہات کی بناء پر سمٹ میٹنگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بہت کم سے کم ، اپنی گفتگو کے ذریعے ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ کیا غلط ہوا ہے۔ اگرچہ کم از کم عالم اسلام کو بیدار کرنے کے لئے ان تباہیوں کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ہم اس کے حل بھی ڈھونڈ سکتے ہیں ، امت کو مسائل اور ان کے اسباب کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ مسائل اور ان کے اسباب کو سمجھنا امت کو درپیش آفات سے نمٹنے یا اس کے خاتمے کے راستے پر روشنی ڈال سکتا ہے۔
  10. ہم نے دیکھا ہے کہ دوسری عالمی جنگ سے تباہ حال دیگر ممالک نہ صرف تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں بلکہ ترقی پذیر ہونے کے لئے مضبوطی سے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن کچھ مسلمان ممالک اچھی طرح سے حکمرانی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ، ترقی یافتہ اور خوشحالی کے امکانات کم ہیں۔
  11. کیا یہ ہمارا مذہب ہے جو چل رہا ہے؟ کیا اسلام دنیاوی کامیابی اور ترقی یافتہ ملک بننے کے خلاف ہے؟ یا یہ خود مسلمان ہے جو اپنے ممالک کو ترقی یافتہ ہونے سے اچھی طرح سے چلنے سے روکتا ہے۔
  12. ان امور پر ریاست کے اعلی سطح پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن اس کے لیے صرف چند ممالک ہی شامل ہوں گے۔ پوری دنیا کے مسلم ممالک کو سنبھالنا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ ناجائز ہوگا اور فیصلے کیے جاتے ہیں اور تجویز کردہ حل قابل عمل نہیں ہوسکتے ہیں۔
  13. ہم کسی کو امتیازی سلوک یا الگ تھلگ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر یہ نظریات ، تجاویز اور حل، قابل قبول ہیں اور قابل عمل ثابت ہوتے ہیں ، تو ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر غور و فکر کے لئے بڑے پلیٹ فارم تک لے جائیں۔
  14. اس کے باوجود ، ہم نے تقریبا تمام مسلم اقوام کو بھی مختلف سطح پر اس سمٹ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
  15. ہم ممتاز شرکاء کے خیالات اور دانشمندی کو سننے کے منتظر ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اس سربراہی اجلاس کے ذریعے ہم اپنے مسائل حل کرنے کی طرف تھوڑا آگے بڑھیں۔
  16. اللہ تعالیٰ اس شان کو بحال کرنے کی اس چھوٹی سی کوشش میں ہمیں کامیابی سے نوازے جو ایک بار ہمارے دین اسلام کی حیثیت سے پیش کی جاتی تھی۔ آمین

ترجمہ۔ طاہر شاہین

قرآن جلانے کا حق؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ناروے میں ہونے والے واقعے پر مختلف اطراف سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ دیارِ مغرب میں، بالخصوص ناروے میں رہنے والوں کا زاویۂ نظر کچھ اور ہے، دیارِ مشرق، بالخصوص پاکستان میں رہنے والے کچھ اور انداز میں سوچتے ہیں۔ کسی کی توجہ ناجائز پر صبر و تحمل اور لغو سے اعراض والی آیات و احادیث پر ہے تو کوئی جہاد و قتال یا کم سے کم بائیکاٹ کی ضرورت پر زور دیتا ہے؛ جبکہ کسی نے اپنے ہاں کے بعض جذباتی لوگوں کو شرمندہ کرنا زیادہ ضروری سمجھا جو بعض اوقات غیرمسلموں کی مذہبی شخصیات یا شعائر کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ کل سے جاری اس ساری بحث میں وہ سوال کہیں دب گیا ہے جس پر اس طرح کے واقعات کے تناظر میں بحث سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔

وہ سوال یہ ہے کہ کیا اظہار راے کی آزادی کے حق پر یہ قید لگائی جاسکتی ہے کہ اس حق کے ذریعے آپ کسی کے مذہبی عقیدے کی توہین نہیں کریں گے اور اگر آپ ایسا کریں گے تو یہ جرم ہوگا؟

واضح رہے کہ ناروے میں پولیس کی جس کارروائی کا ذکر کیا جارہا ہے ، اس کا تعلق "توہینِ مذہب" سے نہیں بلکہ "نفرت انگیز" تحریر و تقریر یا حرکات سے ہے اور دونوں باتوں میں اصولی طور پر بہت بڑا فرق ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کےلیے صرف اس بات پر توجہ کریں کہ اگر ایسی تحریر و تقریر یا حرکات کو آپ ٹھنڈے پیٹوں قبول کرلیں ، یعنی ان پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے اعراض کا رویہ اختیار کرلیں، تو یہ معاشرے میں فساد پھیلانے کا باعث نہیں رہیں گی اور اس وجہ سے ان کو "نفرت انگیز" نہیں مانا جائے گا اور قانون ان کو تحفظ فراہم کرے گا۔

اس لحاظ سے دیکھیں تو شامی نوجوان عمر نے جو کچھ کیا اس کا کم سے کم فائدہ یہ ہے کہ ایسی تحری و تقریر و حرکات کو  بدستور نفرت انگیز اور معاشرے میں فساد پھیلانے کا باعث سمجھا جاتا رہے گا اور اس وجہ سے پولیس ان کو روکنے پر خود کو مجبور پائے گی۔

"توہینِ مذہب کے حق "کے متعلق استدلال کو سمجھنے کےلیے زیادہ نہیں تو دو صفحات کا ایک مضمون پڑھنے کی تجویز دوں گا جو مشہور امریکی فلسفیِ قانون رونالڈ ڈوورکن نے The Right to Ridicule کے عنوان سے نیو یارک ٹائمز کےلیے لکھا تھا اور 23 جون 2006ء کو شائع ہوا تھا۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ رونالڈ ڈوورکن میرے پسندیدہ ترین فلسفیِ قانون ہیں۔ قانونی اصولوں کی وضاحت جس طریقے سے وہ کرتے ہیں ، وہ انھی کا خاصہ ہے۔ ان کے فلسفیانہ نظام کا ایک اہم جزو حقوق کے متعلق ان کے تصورات ہیں جن کی وضاحت کےلیے انھوں نے کئی مقالات لکھے جو بعد میں Taking Rights Seriously کے عنوان سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ ان کی ایک قابلِ قدر کاوش ، جوقانون کے متعلق نظریات میں اساسی تبدیلی کا باعث بنی، یہ تھی کہ انھوں نے دکھایا کہ  قانونی احکام (rules) جو جزئیات پر لاگو ہوتی ہیں، جج کےلیےان سے بھی زیادہ اہمیت قانون کے قواعدِ عامہ (general principles of law) کی ہوتی ہے اور یہ کہ وہ امور جہاں عام طورپر فرض کیا جاتا ہے کہ قانون خاموش ہے کیونکہ اس کے متعلق قانون میں کوئی جزئیہ نہیں پایا جاتا، وہاں بھی قانون خاموش نہیں ہوتا بلکہ اپنے قواعدِ عامہ کے ذریعے ان امور کے جواز  و عدم جواز کا فیصلہ کرتا ہے اور جج کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی پر فیصلہ کرنے کے بجاے قانون کے متعلقہ عام قواعد مستخرج کرکے ان کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کرے۔ جنھیں اصولی مباحث سے دلچسپی ہے وہ جانتے ہیں کہ ڈوورکن کا یہ منہج فقہاے احناف کے منہج سے بے حد قریب ہے ۔

تو آئیے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ ممتاز امریکی فلسفیِ قانون اس مسئلے کا تجزیہ اصولی بنیادوں پر کیسے کرتا ہے؟

ڈوورکن کے مضمون کا پس منظر یہ ہے کہ 2006ء میں ڈنمارک کے بعض اخبارات نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے جس پر مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوا تھا۔ بعد میں بعض برطانوی اور امریکی اخبارات نے بھی یہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم مسلمانوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ فیصلہ منسوخ کردیا اور یہ خاکے شائع نہیں کیے۔ اس تناظر میں ڈوورکن نے نیو یارک ٹائمز کےلیے یہ مضمون لکھا جسے اس نے عنوان دیا : The Right to Ridicule، یعنی تضحیک کا حق۔

ڈوورکن آغاز یوں کرتے ہیں کہ  برطانوی اور امریکی اخبارات کا یہ فیصلہ کہ وہ یہ کارٹون شائع نہیں کریں گے، عملی نتائج کے اعتبار سے اچھا فیصلہ ہے کیونکہ ان کے شائع ہونے کے نتیجے میں قوی اندیشہ تھا کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی جانب سے اسی طرح شدید ردعمل سامنے آتا اور مختلف ممالک میں مزید لوگوں کی جانیں ضائع ہوتیں اور مزید املاک کو نقصان پہنچتا۔ مزید یہ کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سے برطانوی اور امریکی مسلمانوں کو بھی مزید اذیت ہوتی کیونکہ انھیں دیگر مسلمانوں کی جانب سے یہ کہا جاتا کہ ان کارٹونوں کی وجہ سے ان کے مذہب کی توہین ہوئی ہے۔

کیا برطانوی اور امریکی مسلمان خود یہ توہین محسوس نہ کرتے جب تک غیربرطانوی اور غیر امریکی مسلمان انھیں نہ بتاتے؟ ڈوورکن اس سوال سے تعرض نہیں کرتا لیکن بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک برطانوی اور امریکی مسلمان اتنے عقل مند ہیں کہ وہ توہینِ مذہب پر جذباتی ردعمل ظاہر نہ کرتے ، یا اسے اتنی اہمیت نہ دیتے لیکن برطانیہ اور امریکا سے باہر کے مسلمانوں کی وجہ سے انھیں بھی اذیت محسوس ہوتی۔ اس بحث میں یہ پہلو بہت اہمیت کا حامل ہے اور دیارِ مغرب میں مقیم صبر و تحمل کے داعی مسلمانوں کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

ڈوورکن دوسرا اہم پہلو یہ سامنے لاتا ہے کہ عام قارئین کا یہ حق تھا کہ وہ خود دیکھ لیتے کہ کیا یہ کارٹون واقعی توہین آمیز تھےیا نہیں ؟مزاح کی سطح کیا تھی؟ان کا اثر کیا تھا؟ وغیرہ۔ وہ کہتا ہے کہ اس لحاظ سے شاید پریس کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ یہ کارٹون شائع کرتا۔ تاہم ساتھ ہی ڈوورکن کہتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ جو مرضی دیکھیں یا پڑھیں ، خواہ اس کا نقصان کتنا ہی زیادہ ہو۔ بہ الفاظِ دیگر نقصان کے پہلو سے قدغن کے جواز کو وہ مجبوراً مانتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ قدغن کب اور کس حد تک لگائی جاسکتی ہے؟

پریس اگر اس طرح خود پر قدغن لگاتا رہے تو اس کے نتیجے میں کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟ ڈوورکن اس سلسلے میں معلومات، دلیل ، ادب ، آرٹ کے ضیاع کے خدشات ذکر کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پر تشدد ردعمل دکھانے والوں کو شہ ملتی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اس ردعمل کی وجہ سے وہ ان چیزوں کی شاعت روک پائے ہیں۔ وہ اس سے یہ استدلال کرتا ہے کہ گویا پریس ان لوگوں کا دباو مان کر انھیں آئندہ کےلیے مزید دباو ڈالنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم ڈوورکن متوقع نقصان کا ایک اور پہلو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کارٹونوں کے خلاف مشرق وسطی اور دیگر ممالک میں ہونے والے مظاہرے سیاسی مقاصد کےلیے تھے اور اب اگر یہ کارٹون دوبارہ شائع کیے جاتے تو سیاسی مقاصد کے حصول کےلیے لوگ مزید مظاہرے کرتے جس کے نتیجے میں زیادہ توڑ پھوڑ ہوتی۔ یوں ڈوورکن کی راے میں کارٹونوں کی اشاعت کا فیصلہ واپس لے کر پریس نے عملاً بہتر راستہ اختیار کیا۔

اس مقام پر ڈوورکن یہ اہم سوال اٹھاتا ہے کہ خواہ عملی نتائج کے اعتبار سے کارٹونوں کی اشاعت کا فیصلہ حکیمانہ نظر آتا ہو ، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اظہار راے کی آزادی کے حق پر بالخصوص "کثیر الثقافتی معاشرے" کے تناظر میں قدغن لگائی جاسکتی ہے؟  کیا کسی مذہب کےلیے جو بات توہین آمیز یا مضحکہ خیز ہو ، اسے جرم قرار دیا جانا چاہیے؟ یہاں پہنچ کر ڈوورکن اصل قانونی اور اصولی مباحث کی طرف آتا ہے۔

وہ پوری صراحت کے ساتھ یہ دعوی کرتا ہے کہ اظہار راے کی آزادی مغربی ثقافت کی کوئی امتیازی خصوصیت نہیں ہے جسے دوسری ثقافتوں کی خاطر، جو اسے نہیں مانتیں، محدود کیا جاسکے، بالکل اسی طرح جیسے مسیحی علامات کے ساتھ ہلال یا منارے کےلیے گنجائش پیدا کی جائے۔ اس کے برعکس اس کا کہنا ہے کہ اظہار راے کی آزادی حکومت کے جواز کی شرط ہے! (Free speech is a condition of legitimate government.)کوئی قانون اور کوئی پالیسی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اسے جمہوری طریقے سے نہ بنایا جائے اور جب کسی کو کسی قانون یا پالیسی کے متعلق اپنی راے کے اظہار سے روکا جائےتو جمہوریت بے معنی ہوجاتی ہے۔

وہ مزید کہتا ہے کہ تضحیک اظہار کا ایک خاص پیرایہ ہے اور اگر اس کی نوک پلک درست کرنے یا اصلاح کی کوشش کی جائے تو وہ پیرایہ غیرمؤثر ہوجاتا ہےاور اسی وجہ سے صدیوں سے اچھے یا برے ہر طرح کے مقاصد کےلیے کارٹون اور تضحیک کے ہتھیار استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس بنیاد پر ڈوورکن یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ جمہوریت میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور یا کتنا ہی کمزور ہو، کہ اس کی توہین یا تضحیک نہیں کی جائے گی۔

یہاں ڈوورکن اس بات کی وضاحت کےلیے ، کہ کیوں جمہوریت میں اظہار راے کے حق پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی، کہتا ہے کہ اگر کمزور اور غیرمقبول اقلیتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو اور اکثریت محض اپنی اکثریت کی وجہ سے ان کے حقوق سلب نہ کرسکے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اظہار راے کے حق پر کوئی قدغن نہ مانیں خواہ اس کے نتیجے میں خود انھیں بھی تضحیک کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ اقلیت میں ہونے اور کمزور ہونے کے باوجود اظہار راے کے حق کے ذریعے وہ کسی بھی قانون یا پالیسی کے خلاف کھل کر بات کرسکیں گے۔

اسی استدلال پر وہ مسلمانوں سے کہتا ہے کہ اظہار راے پر قدغن سے ان کو نقصان ہوگا ۔ اس ضمن میں وہ اس بات پر بھی بحث کرتا ہے جس کی طرف مسلمان عام طور پر توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ کئی یورپی ممالک میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام سے انکار کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اظہار راے پر اس قدغن کو عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مسلمان بالعموم اسے دوغلی پالیسی اور منافقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ڈوورکن کہتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ اعتراض بالکل درست ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اظہار راے پر ایک اور قدغن بھی مان لیں۔ اس کے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ مذکور قدغن بھی دور کردی جائے۔

ڈوورکن مزید یہ کہتا ہے کہ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ایسے قوانین اور پالیسیاں ختم کی جائیں جو مسلمانوں کی پروفائلنگ کو جواز دیں یا جن کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے سے دکھائی دینے والے لوگوں کی نگرانی کی جائے کیونکہ ان پر دہشت گردی کا شبہ ہوتا ہے ، تو پھر مسلمانوں کو اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی راے کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جو انھیں دہشت گردی سے منسلک کرتے ہیں اور کارٹونوں کے ذریعے ان کی تضحیک کرتے ہیں، خواہ ان لوگوں کی یہ بات کتنی ہی بے بنیاد اور بذات خود مضحکہ خیز ہو !

آخر میں وہ ساری بحث کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کرتا ہے :

Religion must observe the principles of democracy, not the other way around. No religion can be permitted to legislate for everyone about what can or cannot be drawn any more than it can legislate about what may or may not be eaten. No one’s religious convictions can be thought to trump the freedom that makes democracy possible.

(مذہب پر لازم ہے کہ وہ جمہوریت کے اصولوں کی پابندی کرے ، نہ کہ الٹا جمہوریت کو مذہب کا پابند بنایا جائے۔ کسی مذہب کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ سب کےلیےیہ قانون بناسکے کہ وہ کیسا خاکہ بناسکتے ہیں اور کیسا نہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ ہر کسی کےلیے یہ قانون نہیں بناسکتی کہ وہ کیا کھاسکتے ہیں اور کیا نہیں ۔ کسی کے مذہبی اعتقادات کے متعلق یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ اس آزادی کو فتح کرلیں گے جو جمہوریت نے ممکن بنادی ہے ۔ )

ڈوررکن کے اس اقتباس کو بار بار پڑھیے اور اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا مذہب کو جمہوریت کے اصولوں کی پابندی اختیار کرنی چاہیے یا جمہوریت کو مذہبی قیود کی پابندی تسلیم کرنی چاہیے؟ جب تک اس بنیادی مسئلے پر بحث نہیں کی جائے گی، ضمنی سوالات پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی سوال پر بحث سے ناروے یا دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی مجبوریاں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کیوں وہ صبر و تحمل اور اعراض کا رویہ اپنانے کی تلقین کرتے ہیں؟ یادرکھیے کہ ناروے ، یاکہیں اور ، پولیس یا دیگر ادارے اگر اس طرح کی حرکتیں روکنے کی کوشش کریں تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے قانون کی رو سے "توہینِ مذہب" جرم یا ان کے اخلاقی پیمانے پر یہ برا کام ہے۔ ان کےلیے اصل معیار "جمہوریت" اور "حقوقِ انسانی" کا معیار ہے اور اس معیار پر اس کام کو وہ برا نہیں سمجھتے۔ یہ کام صرف تب برا بنتا ہے جب اس کی وجہ سے "خوفِ فسادِ خلق" پیدا ہو۔ چنانچہ مکرر عرض ہے کہ اگر عمر کی طرح کے "جنونی " اور "جذباتی" مسلمان مفقود ہوجائیں تو پھر ناروے کی پولیس یا دیگر ادارے کبھی اس کام میں مداخلت نہیں کریں گے بلکہ اس کام میں مداخلت کرنے والوں کو مجرم اور برا سمجھیں گے۔

یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ٹیکنولوجی کی ترقی کی وجہ سے کوئی ملک الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ اس وجہ سے ناروے یا دیگر ممالک یہ موقف نہیں اختیار کرسکتے کہ ہمارے معاملات پر دیگر ممالک کے مسلمانوں کو رد عمل دکھانے کا حق نہیں ہے، اور ہمارے مسلمانوں کو تو صبر و تحمل کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ دنیا اگر واقعی گلوبل ویلج بن چکی ہے تو پھر معاملہ صرف ناروے کی مسلم اقلیت کا نہیں بلکہ دنیا میں سوا ارب سے زائد مسلمانوں کا ہے۔

آخر میں پاکستان کے قانونی نظام کے متعلق بھی اہم بات نوٹ کرلیں کیونکہ اگر ناروے یا امریکا میں مذہب پر لازم ہے کہ وہ جمہوریت کے اصولوں کی پابندی کرے تو پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔

چنانچہ ہم نے اپنے اساسی قانون، یعنی دستورِ پاکستان ، کے دیباچے میں پہلے جملے میں ہی اقرار کیا ہے کہ پوری کائنات پر حکم صرف اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے اور یہ کہ ہم قانون سازی اور حکومت کے تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہی استعمال کریں گے۔ اسی دیباچے میں ہم نے مزید یہ اقرار کیا ہے کہ  ہمارا قانونی نظام ان اصولوں پر قائم ہے جو جمہوریت، آزادی، مساوات، برداشت اور معاشی انصاف کے متعلق اسلام نے دیے ہیں (The principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice, as enunciated by Islam, shall be fully observed)۔

جی ہاں، ہمارے ہاں جمہوریت اور حقوق کو مذہب کی پابندی کرنی ہوگی، خواہ ڈوورکن کو کتنا ہی برا لگے ۔


قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۳)

محمد عمار خان ناصر

شاہ ولی اللہ کا زاویۂ  نظر

سابقہ فصل میں ہم نے امام شاطبی کے نظریے کا تفصیلی مطالعہ کیا جس کے مطابق تشریع میں مخصوص مقاصد اور مصالح کی رعایت کی گئی ہے جن کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے۔ شاطبی نے تشریع کے عمل کو ایک منضبط اور مربوط پراسس کے طور پر دیکھتے ہوئے، جس کے واضح مقاصد اور متعین اصول کلیہ اپنی جگہ ثابت ہیں ، قرآن اور سنت، دونوں کا کردار اس طرح واضح کیا ہے کہ یہ دونوں مآخذ ایک ہی طرح کے مقاصد کے لیے اور ایک جیسے اصولوں کے تحت تشریع کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

شاطبی نے مقاصد شرعیہ اور اصول تشریع کی بحث کو جو شکل دی تھی، بارھویں صدی ہجری میں برصغیر کے مایہ ناز عالم شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات:  ۱۱۷۶ھ) نے کئی اہم ترمیمات اور اضافوں کے ساتھ اسے ایک نیا فریم ورک دیا، جس کے اثرات قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کے سوال پر بھی پڑتے ہیں ۔ شاہ ولی اللہ نے حنفی اصولیین کے ہاں معروف فریم ورک میں بھی قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث کے بعض گوشوں سے تعرض کیا ہے جس کی کچھ مثالیں آیندہ سطور میں پیش کی جائیں گی، لیکن انھوں نے اس پوری بحث کو بنیادی طور پر ایک مختلف زاویے سے دیکھا ہے جس کا بنیادی نکتہ عمل تشریع کے بنیادی اصولوں کی وضاحت اور اس عمل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت، یعنی آپ کے تشریعی اختیار کی نوعیت کی تفہیم ہے۔ مقاصد شرعیہ اور مصالح کلیہ کی روشنی میں تشر یعی عمل کی تکمیل کا تصور، جیسا کہ واضح کیا گیا، امام شاطبی کے ہاں بھی موجود ہے اور اس حد تک شاہ صاحب کے فریم ورک کی اساسات کو امام شاطبی کے ساتھ مشترک قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ان اساسات کے تحت قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو متعین کرنے کا منہج اپنی تفصیلات میں شاہ صاحب کے ہاں شاطبی سے کافی مختلف ہے۔

ذیل میں شاہ صاحب کے زاویۂ نظر کے بنیادی پہلوؤں کی توضیح پیش کی جائے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیار کی نوعیت

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ تشریع بنیادی طور پر مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے اور احکام وقوانین کو وضع کرنے سے مقصود ان مصالح کی حفاظت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بنیادی سطح پر تشریع کے عمل میں شریک فرمایا تھا اور آپ کو شریعت کے مقاصد اور قانون سازی کے اصول اور ضابطے سکھا دیے تھے جن کی روشنی میں آپ احکام وشرائع وضع کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے۔

شاہ صاحب لکھتے ہیں:

ولیس یجب أن یکون اجتھادہ استنباطاً من المنصوص کما یظن، بل أکثرہ أن یکون علمہ اللہ تعالیٰ مقاصد الشرع وقانون التشریع والتیسیر والأحکام، فبین المقاصد المتلقاۃ بالوحي بذلک القانون.(حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۳۷۱-  ۳۷۲)

’’یہ ضروری نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد،  منصوص احکام سے استنباط تک محدود ہو، جیسا کہ گمان کیا جاتا ہے، بلکہ عموماً اس کی صورت یہ تھی کہ اللہ نے آپ کو شریعت کے مقاصد اور قانون سازی، تیسیر اور وضع احکام کے اصول سکھا دیے تھے اور آپ نے وحی کے ذریعے سے بتائے جانے والے ان مقاصد کو احکام کی صورت میں متشکل فرما دیا۔‘‘

اسی نکتے کی روشنی میں شاہ صاحب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد اور امت کے مجتہدین کے اجتہاد کی نوعیت کا فرق واضح کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ امت کے قیاس کی نوعیت یہ ہے کہ وہ منصوص حکم کی علت کو پہچانیں اور حکم کو علت کے ساتھ وابستہ کر دیں ، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب وحی کے ذریعے سے شریعت کا کوئی حکم بتا دیا جاتا اور آپ اس کی حکمت اور سبب سے واقف ہو جاتے تو آپ کو یہ اختیار تھا کہ اس مصلحت کو سامنے رکھ کر اس کی کوئی ظاہری علت مقرر فرمائیں اور اس علت پر حکم کا مدار رکھ دیں۔ اس کی ایک مثال وہ اذکار ہیں جو آپ نے صبح اورشام کے اوقات اور سونے کے وقت کے لیے مقرر فرمائے۔ جب آپ نے نمازوں کی مشروعیت کی حکمت کو سمجھ لیا تو اس کی روشنی میں اللہ کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے مزید محنت اور سعی فرمائی (ایضاً ۱/ ۳۱۱)۔

اس اختیار کے تحت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر کلام الہٰی کے بعض اشارات سے آپ کا فہم کسی پہلو کی طرف منتقل ہو تو اس کو بھی ایک باقاعدہ تشریعی ضابطے کی شکل دے کر امت پر اس کی پابندی لازم کر دیں۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  ’اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ‘ (البقرہ  ۲: ۱۵۸) میں صفا کا ذکر مقدم ہونے سے یہ استنباط کیا کہ سعی کا آغاز صفا سے ہونا چاہیے اور اسی کو امت کے لیے مشروع فرما دیا۔ آپ نے سورج اور چاند تاروں کو سجدہ کی ممانعت سے یہ اخذ کیا کہ اگر سورج یا چاند کو گرہن لگے تو ان کو معبود سمجھنے والوں پر اتمام حجت کے لیے ایسے وقت میں اللہ کی عبادت کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح ’لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ‘  (البقرہ ۲: ۱۱۵) سے یہ استنباط فرمایا کہ عذر کی حالت میں استقبال قبلہ کی شرط ساقط ہو سکتی ہے، اس لیے اندھیری رات میں اگر کوئی غلط سمت میں منہ کر کے نماز ادا کر لے تو نماز ادا ہو جائے گی اور حالت سفر میں بھی قبلہ رخ ہوئے بغیر سواری پر نماز ادا کرنا جائز ہے (ایضاً ۱/ ۳۱۲)۔

اسی طرح کسی مطلوب حکم کی ترغیب پیدا کرنے کے لیے اس کے دواعی ومقدمات کو مطلوب اور کسی غیرمطلوب چیز سے روکنے کے لیے اس تک پہنچانے والے اسباب وذرائع کو ممنوع قرار دینا بھی پیغمبر کے دائرۂ اختیار میں شامل تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، مثال کے طو رپر بت پرستی کے سد ذریعہ کے طور پر تصویر سازی سے، شراب نوشی سے روکنے کے لیے انگور کا شیرہ تیار کرنے اور ایسے دستر خوان پر جانے سے منع فرمایا جہاں شراب موجود ہو اور اسی طرح فتنے کی کیفیت میں قتال کے سدباب کے لیے ایسے حالات میں ہتھیار بیچنے کو ممنوع قرار دیا (ایضاً ۱/ ۳۱۳)۔

شاہ صاحب اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے کہ تشریع میں پیغمبر کے اجتہاد کو پورا دخل ہوتا ہے، ان احادیث کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے امت کے لیے کوئی شرعی حکم مقرر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن پھر رفع حرج کے اصول کے تحت اس کو عملی جامہ پہنانے سے گریز فرمایا۔ مثلاً  آپ کی خواہش تھی کہ ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کو فرض قرار دیا جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کا کم سے کم ایک تہائی وقت گزرنے پر مقرر کیا جائے۔ اس نوعیت کی احادیث سے شاہ صاحب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ:

وقد ورد بھذا الأسلوب أحادیث کثیرۃ جدًا وھي دلائل واضحۃ علی أن لاجتھاد النبي صلی اللہ علیہ وسلم مدخلًا في الحدود الشرعیۃ، وأنھا منوطۃ بالمقاصد، وأن رفع الحرج من الأصول التي بنی علیھا الشرائع. (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۱۹)

’’اس اسلوب میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شرعی احکام وحدود کو وضع کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کا بھی دخل ہے اور یہ کہ احکام، مقاصد سے وابستہ ہیں اور یہ کہ رفع حرج ان اصولوں میں سے ایک ہے جن پر شرائع کی بنیاد رکھی گئی ہے۔‘‘

شاہ صاحب اس نکتے کی تفہیم کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ایسے اجتہادات کا حوالہ بھی دیتے ہیں جن میں آپ نے نئی صورت حال میں شرعی مصالح اور اصول تشریع کی روشنی میں سابقہ حکم کی جگہ نیا طریقہ اختیار کرنے کو مناسب سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اجتہاد کی تصویب فرمائی۔ مثال کے طور پر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا فیصلہ شاہ صاحب کی راے میں ایک اجتہادی فیصلہ تھا جونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نئی صورت حال کے تناظر میں کیا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں دین کی نصرت کی ذمہ داری اوس وخزرج نے قبول کی تھی جو اس وقت علمی ودینی طور پر یہود سے بہت متاثر تھے، چنانچہ ان کی اور ان کے حلیف یہودیوں کی تالیف قلب کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اجتہاد فرمایا کہ مسجد حرام کی جگہ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا جائے (ایضاً ۱/ ۳۵۷)۔

شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ شریعت کے مبنی بر مصالح ہونے کی وجہ سے اس میں اس قوم کے اجتہاد کا بھی پورا دخل ہوتا ہے جن کے لیے شریعت وضع کی جا رہی ہو اور پیغمبر، تشریع میں اپنی قوم کے اہل الراے کے مشورے اور راے کو بھی پورا وزن دیتا ہے۔ چنانچہ صحابہ نے نماز باجماعت کے مطلوب اور موکد ہونے کے تناظر میں ازخود اس بات پر غور کرنا شروع کر دیا کہ چونکہ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر جمع ہونا اطلاع واعلان کے بغیر ممکن نہیں ، اس لیے نماز کی اطلاع دینے کا کوئی طریقہ وضع کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مختلف مذاہب کے ہاں مروج طریقے زیر بحث آئے اور آخر میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کہنے کے طریقے کی تصویب فرما دی۔ اس واقعے سے استنباط کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں :

وھذہ القصۃ دلیل واضح علی أن الأحکام إنما شرعت لأجل المصالح، وأن للاجتھاد فیھا مدخلًا، وأن التیسیر أصل أصیل. (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۳۸)

’’یہ قصہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ احکام صرف مصالح کی حفاظت کے لیے وضع کیے گئے ہیں اور یہ کہ ان کے وضع کرنے میں اجتہاد کا دخل ہے اور یہ کہ (تشریع میں ) آسانی پیدا کرنا ایک نہایت بنیادی اصول ہے۔‘‘

تشریعی مصالح کی روشنی میں عمومات کی تخصیص

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیار سے متعلق اس اصولی زاو یۂ نظر سے شاہ صاحب نے قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کی توضیح بھی کی ہے اور ان کا فریم ورک اپنی مجموعی شکل میں شافعی اور حنفی اصولیین کے وضع کردہ فریم ورک سے مختلف اور شاطبی کے فریم ورک کے قریب تر ہے۔ شافعی اور حنفی فقہا باہمی اختلافات کے باوجود اس بحث کو بنیادی طور پر، جزوی اور انفرادی نصوص کے باہمی تعلق کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور ایک نص کو اصل اور محور قرار دے کر اس کے ساتھ متعلق ہونے والے اضافی نصوص کے ربط وتعلق کی نوعیت کو متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر قرآن کے کسی حکم میں سنت نے تخصیص یا اس پر زیادت کی ہو تو حنفی نقطۂ نظر سے یہ سوال بنیادی ہوگا کہ اصل حکم اپنی دلالت کے لحاظ سے اس تخصیص کا محتمل تھا یا نہیں۔ اگر محتمل تھا یا اس تخصیص کی بنیاد اسی متعین حکم میں موجود تھی تو پھر یہ قرآن کے حکم ہی کی تفصیل وتبیین ہوگی، لیکن اگر اصل حکم محتمل نہیں تھا اور اس میں جواز تخصیص کے لیے کوئی قرینہ بھی موجود نہیں تو یہ سابقہ حکم میں تبدیلی سمجھی جائے گی اور اسے نسخ کا عنوان دیا جائے گا۔ امام شافعی نے اس کے برعکس یہ موقف اختیار کیا کہ عموم کا اسلوب کلام عرب میں اپنی نوعیت کے لحاظ سے ہی تخصیص کا محتمل ہوتا ہے جس کی وضاحت متکلم اسی کلام میں یا کسی دوسرے موقع پر کر سکتا ہے۔ امام شافعی نے بہت سی مثالوں میں تخصیص کے ان قرائن کو بھی واضح کیا جو کلام کے سیاق وسباق سے اخذ کیے جا سکتے ہیں ، تاہم انھوں نے اصل حکم میں تخصیص کے لفظی یا عقلی قرائن کے موجود ہونے کو ایک لازمی شرط کا درجہ نہیں دیا اور یہ کہا کہ قرآن کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد تھی، وہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح فرمائی اور آپ نے اسے حدیث کی صورت میں بیان کر دیا۔ چنانچہ جب سنت کا ماخذ بھی وحی ہے تو وحی کا ایک حصہ بدیہی طور پر دوسرے حصے کی توضیح وتبیین کر سکتا ہے اور اسے نسخ یا تبدیلی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔

شاطبی نے اس بحث میں اصولی طور پر امام شافعی کے نقطۂ  نظر سے اتفاق کیا اور قرائن تخصیص کی بحث کو وسعت دیتے ہوئے یہ قرار دیا کہ سنت کے جن احکام میں قرآن کی تخصیص یا اس پر زیادت وارد ہوئی ہے، ان کی تفہیم مختلف علمی اصولوں، مثلاً مشتبہ فروع کا کسی اصل کے ساتھ الحاق، علت کی بنیاد پر حکم کی توسیع اور قرآن کے لفظی و معنوی اشارات سے استنباط کے تحت کی جا سکتی ہے۔ اسی ضمن میں شاطبی نے عمومات کی تخصیص ایک بہت اہم پہلو یہ واضح کیا کہ شریعت میں جو احکام کلیہ بیان کیے گئے ہیں ، بعض دفعہ کسی دوسرے کلی شرعی اصول کی رعایت سے ان میں تخصیص اور استثنا قائم کرنا پڑتا ہے اور یہ اصل حکم کے عموم اورکلیت کے منافی نہیں ہوتا۔ گویا خاص صورتوں کو مخصوص اسباب کے تحت حکم کلی سے مستثنیٰ یا مخصوص قرار دینا بذات خود ایک تشریعی اصول ہے اور اس کے تحت مختلف شرعی احکام میں تخصیص اور استثنا کی مثالیں نصوص میں موجود ہیں  (الموافقات ۱/ ۱۴۷، ۲۴۱)۔

شاطبی کے فریم ورک میں مسئلے کی نوعیت، جمہور اصولیین کے موقف سے بہت مختلف ہو جاتی ہے۔ اگر جزوی نصوص میں بیان ہونے والے احکام کو تشریع کے ایک کلی فریم ورک کا حصہ سمجھا جائے جس میں واضح اصول وقواعد اور مصالح ومقاصد کے تحت وضع احکام کا عمل کیا جا رہا ہے تو پھر کسی جزوی حکم کی قیود وشرائط یا اس میں تخصیص واستثنا کی وضاحت میں بھی اصل اور بنیادی اہمیت دلالت الفاظ کو نہیں ، بلکہ انھی تشریعی اصولوں اور مقاصد کو حاصل ہو جاتی ہے جن کی روشنی میں کسی حکم کاتعین ہوا ہے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تشریع کے عمل میں شریک تھے اور آپ کا تشریعی اختیار جزوی نصوص اور ان میں موجود لفظی دلائل وقرائن سے استنباط تک محدود نہیں تھا، اس لیے تشریعی اصول ومقاصد کے تحت آپ کا کسی بھی حکم میں قیود وشرائط کا اضافہ یا تخصیص واستثنا کی گنجایش واضح کرنا کسی تردد کے بغیر قابل فہم بن جاتا ہے اور تخصیص کے لفظی قرائن کی بحث غیرمتعلق ہو جاتی ہے۔

شاہ صاحب نے اس بحث میں یہی نقطۂ نظر اختیار کیا اور سنت میں وارد تمام زیادات اور تخصیصات کی توجیہ اسی پہلو سے کی ہے جس کی چند نمایاں مثالیں حسب ذیل ہیں:

ماں اور بچے کے مابین حرمت رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے احادیث میں پانچ دفعہ دودھ پینے کی قید مذکور ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک یا دو دفعہ دودھ پینے یا ایک یا دو دفعہ پستان چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، جب کہ قرآن میں بظاہر دودھ پلانے کا ذکر کسی تحدید کے بغیر کیا گیا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ شریعت میں عورت کا دودھ پینے کو اس پہلو سے حرمت کا موجب قرار دیا گیا ہے کہ اس عمل سے دودھ پلانے والی گویا بچے کی جسمانی نشوونما کا حصہ بن جاتی اور یوں اس کی حقیقی ماں کے مشابہ ہو جاتی ہے۔ اس پہلو سے رضاعت کی مقدار کی تحدید ضروری ہے، کیونکہ بالکل معمولی مقدار میں دودھ پینے میں مذکورہ پہلو نہیں پایا جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اسی پہلو کی وضاحت کی گئی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۵۱)۔

ترکے میں وصیت سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قیود وشرائط بیان فرمائیں ، شاہ صاحب نے ان کی توضیح بھی اسی اصول کی روشنی میں کی ہے۔ قرآن مجید میں وصیت کے حق کا ذکر کسی قید اور شرط کے بغیر کیا گیا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث کے حق میں وصیت کرنے کو ممنوع اور وصیت کے حق کو ترکے کے ایک تہائی تک محدود قرار دیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل جاہلیت عموماً وصیت میں عدل وانصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے تھے اور ان کی ناانصافی اہل قرابت کے مابین نفرت وکدورت اور تنازع کا موجب بنتی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترکے میں میت کے قریبی رشتہ داروں کے حصے خود متعین فرما دیے اور چونکہ اس اقدام کا مقصد ہی باہمی تنازعات کو ختم کرنا تھا، اس لیے ازروے شرع وارث بننے والے کے حق میں وصیت کو ممنوع قرار دینا اس بندوبست کا لازمی تقاضا تھا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۰۹)۔

اسی طرح مرنے والے کے مال میں اولو الارحام کے حق اور ان کے علاوہ اس کے دیگر متعلقین کے حق میں ، جنھیں وہ اپنے مال میں سے کوئی حصہ دینا چاہے، توازن قائم کرنا ضروری تھا تاکہ نہ تو صاحب ترکہ کی جانب داری یا میلان اس کے اولو الارحام کے حق پر اثر انداز ہو سکے اور اولو الارحام کے حق کی وجہ سے خود صاحب ترکہ کا اپنے مال میں اختیار بالکل ختم ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کے حق کو ایک تہائی تک محدود فرما دیا تاکہ ترکے کا زیادہ حصہ اولو الارحام کو اور کم تر حصہ دیگر متعلقین کو دیا جا سکے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۰۸- ۳۰۹)۔

یہی اصول ہمیں حق وراثت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عائد کردہ بعض تحدیدات میں کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً  آپ نے مسلمان کے، کافر کا اور کافر کے، مسلمان کا وارث بننے کی نفی فرمائی۔ اسی طرح فرمایا کہ قاتل کو اس کے مورث کے ترکے میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان میں سے پہلی ممانعت ایک دینی مصلحت پر مبنی ہے اور شارع کی منشا یہ ہے کہ معاشرتی معاملا ت میں مسلمان اور کافر کے مابین اختلاط چونکہ دین میں بعض خرابیوں کا موجب ہو سکتا ہے، اس لیے اسے ممنوع یا محدود کر دیا جائے۔ اسی وجہ سے شریعت میں مشرکین کے ساتھ نکاح کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک قاتل کو وراثت سے محروم کرنے کا تعلق ہے تو اس کا باعث ایک تو سد ذریعہ ہے تاکہ متوقع وارث، مال حاصل کرنے کے لیے اپنے مورثوں کو قتل نہ کرنے لگیں اور دوسرے یہ اس کے لیے سبق بھی ہے کہ حرام طریقے سے مال کے حصول کی کوشش کا نتیجہ اس سے محرومی ہی ہو سکتا ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۲۳)۔

والد کو بیٹے کے قصاص میں قتل نہ کرنے کی توجیہ شاہ صاحب کے نزدیک یہ ہے کہ اولاد کے ساتھ باپ کی محبت اور شفقت کی وجہ سے عام حالات میں غالب گمان یہی ہے کہ اس نے جان بوجھ کر، یعنی بیٹے کی جان لینے کی نیت سے یہ اقدام نہیں کیا ہوگا، بلکہ بے احتیاطی میں اس سے قتل سرزد ہو گیا ہوگا۔ گویا باپ، بیٹے کے قصاص سے اصولاً مستثنیٰ نہیں ہے، بلکہ اسے شبہے کا فائدہ دیتے ہوئے اس سے قصاص کو ٹالا گیا ہے، لیکن اگر قرائن ودلائل سے واضح ہو جائے کہ اس نے عمداً بیٹے کو قتل کیا ہے تو مذکورہ حدیث اس سے متعلق نہیں اور ایسی صور ت میں باپ سے قصاص لیا جائے گا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۰۶)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض معذور اور اپاہج مجرموں پر زنا کی سزا نافذ کرنے کے بجاے علامتی طور پر انھیں ایک ہی دفعہ ٹہنیوں کا ایک گٹھا مارنے کا حکم دیا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ معذور اصول تشریع کی رو سے سزا کے نفاذ کا محل نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بالکل چھوڑ دینے کے بجاے علامتی طور پر سزا دینا ضروری سمجھا تاکہ حدود کے نفاذ کے لازم ہونے کا تصور برقرار رہے اور جس حد تک بھی تکلیف، مجرم کے لیے قابل برداشت ہے، وہ اسے دی جائے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۳۰)۔

حکم کے مقصد اور اس کے ساتھ وابستہ مصالح ہی کے تناظر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ساتھ جنگ کے دوران میں چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا۔ شاہ صاحب سیدنا عمر کے قول کی روشنی میں اس کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں کہ ایسی کیفیت میں شیطان اس آدمی کی حمیت کو انگیخت کر کے اسے اس پر آمادہ کرسکتا ہے کہ وہ دشمن کی صف میں جا شامل ہو او ر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۵ -  ۴۶۸)۔

قرآن مجید میں مال غنیمت کے پانچویں حصے کو بعض اجتماعی ضروریات کے لیے خاص کرتے ہوئے باقی مال کو جنگ لڑنے والوں کا حق قرار دیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ خمس نکالنے کے بعد باقی مال میں ، مجاہدین کی رضامندی کے بغیر کوئی اور تصرف نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں اس پابندی کا لحاظ دکھائی نہیں دیتا اور مختلف مواقع پر آپ سے، سارا مال غنیمت عام مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجاے اس کا کچھ حصہ اپنی صواب دید کے مطابق بعض خاص افراد یا گروہوں کو دینا ثابت ہے۔ فقہا کے ہاں ان اقدامات کی توجیہ عموم کی تخصیص وغیرہ فقہی اصولوں کے تحت کی جاتی ہے، لیکن شاہ ولی اللہ کا زاو یۂ  نظر یہ ہے کہ خمس نکالنے کے بعد باقی مال کی مجاہدین میں تقسیم کی ہدایت مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت کی رعایت سے مشروط ہے، جس کا فیصلہ مسلمانوں کا امام حسب صواب دید کر سکتا ہے۔ چنانچہ اگر دار الحرب میں داخل ہونے کے بعد امام ایک مخصوص جماعت کو کسی خاص بستی پر حملے کے لیے بھیجے تو حاصل شدہ مال غنیمت کا کچھ حصہ، عام مجاہدین میں تقسیم سے پہلے خاص طور پر اس جماعت کو دیا جا سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اصول پر دشمن سے انفرادی طور پر چھینے جانے والے ساز وسامان کو اس کے قاتل کا حق قرار دیا اور بعض غزوات میں کچھ مجاہدین کو، جنھوں نے غیر معمولی داد شجاعت دی تھی، عام مجاہدین سے زیادہ حصہ عطا کیا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۷۲-  ۴۷۳)۔

شریعت کے کسی حکم میں دی گئی کسی بھی نوعیت کی تخفیف کو ، چاہے وہ قرآن میں بیان کی گئی ہو یا سنت میں ، شاہ صاحب تیسیر وتخفیف کے اسی اصول کی مثال کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ عذر کی حالت میں حکم کی رخصتوں کی وضاحت، تشریع کی تکمیل اور اتمام کا حصہ ہے اور اس پہلو سے شریعت میں رخصتوں کے بیان کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ مثلاً سفر ایک عذر کی حالت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مختلف رخصتیں مشروع فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک رخصت، نماز کو قصر کرنے کی ہے جو قرآن مجید میں حالت خوف کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ خوف کا ذکر صرف اس رخصت کی حکمت کو بیان کرنے کے لیے ہوا ہے، رخصت کو اس تک محدود قرار دینے کے لیے نہیں ہوا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۵۷-  ۵۸)۔ اسی اصول کے تحت آپ نے سفر میں نمازوں کو تقدیم وتاخیر کے ساتھ بیک وقت ادا کرنے کی اجازت دی، لیکن اسے لازم نہیں کیا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۶۰)۔

مسح علی الخفین سے متعلق شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ وضو دراصل ایسے اعضا کو دھونے کا نام ہے جو ظاہر ہوں اور ان پر میل کچیل جمع ہو سکتی ہو۔ چونکہ موزے پہنے ہونے کی صورت میں پاؤں ایک لحاظ سے ظاہری اعضا کا حصہ نہیں رہتے اور اہل عرب کے ہاں موزے پہننے کا عام رواج ہونے کے باعث ہر نماز کے لیے موزے اتارنا مشقت کا موجب ہو سکتا تھا، اس لیے اس کیفیت میں فی الجملہ پاؤں کو دھونے کا حکم ساقط ہو گیا اور اس کی جگہ علامت کے طور پر پاؤں پر مسح کرنے کا حکم دے دیا گیا (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۰۴-  ۵۰۵)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید سے زائد جو احکام بیان فرمائے، شاہ صاحب ان کا ماخذ بھی اصل احکام کی علت اور حکمت ومصلحت کو قرار دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کے ترکے میں سے اصحاب الفروض کو دینے کے بعد اگر کچھ مال بچ جائے تو وہ اس کے قریب ترین مرد رشتہ دار کو دے دیا جائے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ہدایت انھی اصولوں کی ایک فرع ہے جس پر وراثت کا پورا قانون مبنی ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ دو اصول ہیں : ایک، باہمی مودت اور محبت جو قریبی رشتہ داروں کے مابین ہوتا ہے ، اور دوسرا باہمی تعاون وتناصر جو کسی آدمی اور اس کی قوم اور برادری کے مابین ہوتا ہے۔ اس اصول کی رو سے اگر ترکہ اہل قرابت کے حصوں سے زائد ہو تو بدیہی طور پر اس کا حق دار، الاقرب فالاقرب کے اصول پر، میت کے اہل تناصر کو ہونا چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ ہدایت میں اسی اصول کا اطلاق فرمایا ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۲۳)۔

قرآن مجید میں دو بہنوں کو بیک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس حکم کی مصلحت قریبی رشتہ داروں کے مابین قطع رحمی کا سد باب کرنا ہے، کیونکہ سوکنوں کے مابین فطری طور پر حسد اور بغض کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی علت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو بہنوں کے ساتھ ساتھ پھوپھی اور بھتیجی نیز خالہ اور بھانجی کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے سے منع فرما دیا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۵۱-  ۳۵۲)۔

قرآن مجید میں نکاح میں مہر کے تقرر کی ہدایت ’اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ‘ کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں بیان ہو ا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر شوہر کی طرف سے بیوی کو قرآن مجید کی ایک سورت سکھانے کو اس کا مہر قرار دیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ فیصلہ قرآن کی ہدایت کی اصل روح اور حکمت کے مطابق ہے، کیونکہ شارع کی نظر میں قرآن کی سورت کی تعلیم بھی ایک بہت اہم اور قدر وقیمت رکھنے والی چیز ہے جو اسی طرح مرغوب اور مطلوب ہے، جیسے مال مرغوب اور مطلوب ہوتا ہے، اس لیے (خاص حالات میں ) اپنی اس اہمیت کے اعتبار سے قرآن کی تعلیم بھی مال کے قائم مقام ہو سکتی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۴۵)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مالی لین دین کے معاملات میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ طریقہ بھی حکم کے اصل مقصد کے لحاظ سے درست اور تشریعی اصول کے مطابق ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک عادل گواہ کے ساتھ اگر قسم شامل ہو جائے تو بھی مدعی کا دعویٰ موکد ہو جاتا ہے اور شہادات کے باب میں اس طرح کی توسیع ناگزیر ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۴۸)۔ شاہ صاحب کی مراد یہ ہے کہ ایک کے بجاے دو گواہ طلب کرنے کا مقصد بھی مدعی کے دعوے کو موکد بنانا ہے، پس اگر کسی مقدمے میں دو گواہ موجود نہ ہوں ، لیکن ایک عادل گواہ کے ساتھ قرائن سے قاضی کو مدعی کا سچا ہونا معلوم ہو رہا ہو تو دوسرے گواہ کی جگہ اس سے قسم لے کر اس کے دعوے کو موکد کر سکتا ہے اور اس قسم کے توسع سے کام لینا شریعت کے اصول تیسیر کا تقاضا بھی ہے۔

اسی کی ایک مثال تین طلاقوں کے بعدبیوی کو شوہر کے لیے حرام قرار دینے کا حکم ہے، تا آنکہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرنے کے بعد اسے وہاں سے طلاق مل جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ دوسرے شوہر کے ساتھ محض عقد نکاح کافی نہیں ، بلکہ دونوں کے مابین زن وشو کا تعلق قائم ہونا بھی ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں کہ یہ شر ط ا س پابندی کو موثر اور حقیقی بنانے کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہے، کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو لوگوں کے لیے یہ حیلہ اختیار کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے کہ دوسرے شوہر سے نکاح کو ایک رسمی کارروائی بنا لیا اور عقد کے بعد اسی مجلس میں دوسرے شوہر سے طلاق لے لی جائے، جب کہ یہ طریقہ شریعت کی عائد کردہ تحدید کے مقصد کے خلاف ہے، کیونکہ شارع کی منشا یہ ہے کہ وہ عورت اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ حقیقتا میاں بیوی کے طور پر زندگی بسر کرنا شروع کر دے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۷۰)۔

بیوہ پر دوران عدت میں زیب وزینت سے اجتناب کی پابندی کا ماخذ بھی یہی تشریعی اصول ہے۔ چونکہ بیوہ کے لیے عدت مکمل ہونے تک انتظار کرنا لازم اور نکاح کی خواہش رکھنے والوں کو اس دوران میں اسے نکاح کا پیغام بھیجنا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل مقصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیوہ کو زیب وزینت اختیار کرنے سے منع فرما دیا، کیونکہ زیب وزینت فریقین میں شہوت کو تحریک دینے کا موجب بنتی ہے، جب کہ عدت کے دوران میں اس کیفیت سے بچنا شریعت کا مقصودہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۷۸)۔

جزوی نصوص کی دلالت سے تعرض

شاہ صاحب کا منہج اس بحث میں ، جیسا کہ واضح کیا گیا، احکام شرعیہ کے مختلف اجزا کی تفہیم مصالح اورمقاصد کے کلی اور عمومی فریم ورک میں کرنے کا ہے اور وہ اسے قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کے سوال کے بجاے تشریعی اصولوں اور مقاصد اور فروعی احکام اور نصوص کی باہمی مطابقت کے عمومی سوال کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ تاہم بعض مثالوں میں شاہ صاحب نے جزوی نصوص کی دلالت اور ان کے باہمی تعلق سے بھی کسی حد تک تعرض کیا ہے جس سے واقفیت اس بحث کے تناظر میں دل چسپی سے خالی نہیں ہوگی۔

مثال کے طور پر شاہ صاحب کے نزدیک سرقہ پر قطع ید سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بھی قیود و شرائط بیان فرمائی ہیں ، ان کی نوعیت عمل سرقہ کی توضیح وتنقیح کی اور اسے دوسرے کا مال ناحق لینے کی ان صورتوں سے ممتاز کرنے کی ہے جو اپنے اوصاف وخصائص کی بنیاد پر چوری سے مختلف ہیں۔ لکھتے ہیں :

ومعلوم أن أخذ مال الغیر أقسام: منھا السرقۃ، ومنھا قطع الطریق، ومنھا الاختلاس، ومنھا الخیانۃ، ومنھا الالتقاط، ومنھا الغصب، ومنھا قلۃ المبالاۃ، وفي مثل ذلک ربما یسال النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن صورتہ ھل ھي من السرقۃ سوال مقال أو سوال حال، فیجب علیہ أن یبین حقیقۃ السرقۃ متمیزۃ عما یشارکھا بحیث یتضح حال کل فرد فرد … والسرقۃ تنبئ عن الأخذ خفیۃ، فضبط النبي صلی اللہ علیہ وسلم السرقۃ بربع دینار وثلاثۃ دراھم لیتمیز عن التافہ، وقال: ’’لیس علی خائن ولا منتھب ولا مختلس قطع‘‘، وقال: ’’لا قطع في ثمر معلق ولا في حریسۃ الجبل‘‘ لیشیر إلی اشتراط الحرز. (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۳۱۶- ۳۱۷)

’’یہ معلوم ہے کہ دوسرے کا مال لینے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں ، مثلاً چوری، راہ زنی، سامان اچک لینا، خیانت کرنا، کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا، غصب کرنا اور (دوسرے کی چیز استعمال کرنے میں)  بے پروائی سے کام لینا۔ اس قسم کے معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زبان قال یا زبان حال سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ کیا فلاں صورت چوری کے زمرے میں آتی ہے؟ چنانچہ آپ پر لازم تھا کہ آپ چوری کی حقیقت کو دوسرے کا مال لینے کی ملتی جلتی صورتوں سے اس طرح ممیز کر کے بیان فرمائیں کہ ہر ہر صورت کا حکم بالکل واضح ہو جائے۔ چوری دراصل کسی کا مال خفیہ طور پر اڑانے کو کہتے ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی چیز سے ممیز کرنے کے لیے یہ ضابطہ متعین فرمایا کہ چوری وہ شمار ہوگی جو چوتھائی دینار یا تین درہم کے برابر ہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خیانت کرنے والے یا مال لوٹنے والے یا اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مزید فرمایا کہ درخت کے ساتھ لگے ہوئے پھل یا رسی کے ساتھ بندھا ہوا جانور لے جانے پر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس سے مقصود اس شرط کو واضح کرنا تھا کہ (قطع ید کے لیے) مال کو کسی محفوظ جگہ سے چرایا جانا ضروری ہے۔ ‘‘

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي‘ کے ظاہری عموم سے فقہاے احناف یہ استدلال کرتے ہیں کہ مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص بھی لیا جائے گا، جب کہ جمہور فقہا آیت کے سیاق وسباق یا احادیث کی روشنی میں اس حکم کو غیر مسلم کے قتل سے غیر متعلق قرار دیتے ہیں۔ شاہ صاحب اس آیت کی تعبیر عام راے سے مختلف انداز میں کرتے ہیں جس کے نتیجے میں احادیث میں وارد تخصیص قرآن کے ظاہر سے متعارض نہیں رہتی، بلکہ اس کا تقاضا بن جاتی ہے۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ آیت میں ’كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ‘ کا مطلب یہ نہیں کہ مقتولوں کے بدلے میں قاتلوں کو قتل کرنا فرض ہے، بلکہ قصاص کا لفظ یہاں مقتولوں اور قاتلوں کے مابین برابری کو ملحوظ رکھنے کے معنی میں آیا ہے اور اس کے تحت آزاد آدمی کو صرف آزاد آدمی کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سنت میں اسی اصول کی رعایت سے قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کو کافر کے قصاص میں اور آزاد آدمی کو غلام کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ شاہ صاحب کی راے میں مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص نہ لینا شریعت کے ایک دوسرے اصول اور مقصد کا تقاضا ہے اور وہ یہ ہے کہ دین حق کی شان کو بلند رکھا جائے جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کہ مسلمان کو کافر پر فضیلت حاصل ہو اور دونوں کے ساتھ مساوی برتاؤ نہ کیا جائے۔ چونکہ کافر اصل میں مباح الدم ہے، اس لیے اس کو قتل کرنے کا گناہ بھی کم تر درجے کا ہے، اس لیے شریعت میں مسلمان پر اس کا قصاص بھی مشروع نہیں کیا گیا اور اس کی دیت بھی مسلمان سے نصف مقرر کی گئی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۰۵، ۴۱۱-  ۴۱۲)۔

حلال وحرام کے دائرے میں شاہ صاحب کے نزدیک شریعت نے پاکیزہ اور انسانی فطرت سے موافقت رکھنے والی چیزوں کو حلال اور فطرت انسانی کے منافی اوصاف رکھنے والی چیزوں کو حرام قرار دینے کا اصول اختیار کیا ہے اور طیبات وخبائث کی تعیین کے لیے دنیا کی متمدن اقوام کی عادات اور انبیا کی شریعتوں میں متفقہ طور پر چلے آنے والے قوانین کو بنیاد بنایا ہے۔ چنانچہ بندر، خنزیر، چوہے، درندے، چیل کوے، سانپ بچھو، حشرات الارض اور گدھے جیسے جانوروں کا گوشت شریعت میں حرام ٹھیرایا گیا ہے اور حلال جانوروں میں سے مردار کا گوشت کھانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۸۳ -  ۴۹۴)۔ اس بحث میں قرآن مجید کی آیت ’قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ‘ سے اشکال پیدا ہوتا ہے اور شاہ صاحب نے اس کی توجیہ یہ ذکر کی ہے کہ یہ اباحت علی الاطلاق ہر طرح کے جانوروں کے حوالے سے نہیں ، بلکہ ان خاص جانوروں کے تعلق سے بیان کی گئی ہے جنھیں اہل عرب حرام سمجھتے تھے، جب کہ شارع کی حکمت کے مطابق ان میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی تھی (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۲۳)۔ گویا اس آیت کا موضوع حلت وحرمت کے باب میں کسی اصولی ضابطے کا یا حرام اشیا کی کسی حتمی فہرست کا بیان نہیں ، بلکہ بعض جانوروں کے حوالے سے اہل عرب میں رائج توہمات کا ازالہ ہے۔

أحلت لنا میتتان ودمان‘  کی حدیث بظاہر قرآن مجید میں خون اور مردار کی حرمت کے عام حکم کے معارض دکھائی دیتی ہے۔ تاہم شاہ صاحب واضح کرتے ہیں کہ مچھلی اور ٹڈی پر مردار کا اور جگر اور تلی پر خون کا اطلاق محض ظاہر کے لحاظ سے، یعنی مجازاً کیا گیا ہے، ورنہ حقیقت میں ان کو وہ خون اور وہ مردار نہیں کہا جا سکتا جس کی حرمت قرآن نے بیان کی ہے۔ جگر اور تلی دراصل حیوان کے جسم کے دو اعضا ہیں جو دیکھنے میں خون کے مشابہ لگتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے ان کو خون کہہ دیا ہے، ورنہ حقیقت میں یہ گوشت کی قسم ہیں۔ اسی طرح مردار اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کو ذبح کر کے اس کا دم مسفوح نکالا جا سکتا ہو، جب کہ مچھلی اور ٹڈی میں دم مسفوح نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ذبح کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے جب مچھلی کو پانی سے نکال کر اور ٹڈی کو ضرب وغیرہ لگا کر مار دیا جائے تو ظاہری لحاظ سے ان پر مردار کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ اطلاق محض مجازی ہے، کیونکہ ان کو ذبح کر کے ان کا خون نکالنا ممکن ہی نہیں  (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۹۲)۔

احادیث میں ذبح کیے جانے والے مادہ جانور کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچے کو حلال اور ماں کے ذبح کرنے کو بچے کی حلت کے لیے بھی کافی قرار دیا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ اس کے ’میتہ‘ ہونے کی وجہ سے اس کی حلت تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم شاہ ولی اللہ کی راے جمہور فقہا سے ہم آہنگ ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۹۸)۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاہ صاحب ایسے جنین پر ’میتہ‘ کے اطلاق کو قطعی نہیں سمجھتے، کیونکہ ماں کے پیٹ میں ہونے کی وجہ سے اس کی اپنی الگ کوئی حیثیت نہیں تھی۔ گویا اسے ماں ہی کے جسم کا ایک حصہ تصور کرنے میں عقلی وقیاسی طور پر کوئی مانع نہیں اور یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ہدایت کو قرآن کے معارض کہنا بھی ممکن نہیں۔

زنا کی سزا سے متعلق شاہ صاحب کی راے کا حاصل یہ ہے کہ کوڑے لگانے اور رجم کرنے، دونوں کا ماخذ قرآن مجید ہے۔ ہر قسم کے زانی کو سو کوڑے لگانے کی سزا سورۂ نور میں مذکور ہے، جب کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا حکم بھی سیدنا عمر کی روایت کے مطابق قرآن مجید میں نازل کیا گیا تھا۔ عبادہ بن صامت کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ غیر شادی شدہ زانی کو کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کیا جائے گا، جب کہ شادی شدہ زانی کو (آیت نو رکے مطابق) کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ (آیت رجم کے مطابق) رجم بھی کیا جائے گا۔ شاہ صاحب کی راے میں شادی شدہ زانی اصولاً ان دونوں سزاؤں کا حق دار ہے، تاہم چونکہ رجم کی سزا سنگین تر ہے اور اس کے نفاذ کی صورت میں کوڑے لگانے کی ضرورت نہیں رہتی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا ًایسے مقدمات میں صرف رجم کرنے پر اکتفا فرمائی۔ لیکن اصولی طورپر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں او ر سیدنا علی نے بعض مقدمات میں اس پر عمل بھی کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ہر مجرم کے ساتھ یہ معاملہ کیا جا سکتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا لازم اور کوڑوں کی سزا اختیاری ہے، البتہ غیر شادی شدہ کو کوڑے لگانا تو ضروری ہے، لیکن جلا وطن کرنے کی سزا معاف کی جا سکتی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۵ -  ۴۲۸)۔

زنا میں چار گواہوں کی شرط کے لیے شاہ صاحب بنیادی ماخذ قرآن مجید کی آیت کو قرار دیتے ہیں ، تاہم زہری کی روایت کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ عہد نبوی سے تعامل یہ چلا آ رہا ہے کہ حدود میں خواتین کی گواہی قبول نہ کی جائے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۴۷)۔ شاہ صاحب نے قرآن مجید کے مطلق حکم میں اس تقیید کی کوئی حکمت یا توجیہ بیان نہیں کی، لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ آیت کو صرف گواہوں کی تعداد کے حوالے سے ناطق سمجھتے ہیں ، جب کہ گواہوں کے دیگر اوصاف وشرائط سے ان کے خیال میں آیت میں تعرض نہیں کیا گیا۔

مختلف انفرادی احکام کی توجیہ کے علاوہ اسلوب عموم کی نوعیت اور تخصیص کے جواز کے حوالے سے شاہ صاحب کا اصولی موقف امام شافعی سے ہم آہنگ ہے اور وہ عموم کے اسلوب کو محتمل اور قابل تخصیص قرار دیتے ہوئے حنفی اصولیین کے موقف پر تنقید کرتے ہیں جو عام کی دلالت کو قطعیت کے اعتبار سے خاص کے مساوی قرار دیتے ہیں۔  شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ کوئی عام حکم ایسا نہیں جس میں کسی نہ کسی پہلو سے تخصیص نہ ہوئی ہو اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عام کے اسلوب سے حقیقتا عموم مراد نہیں ہوتا۔ چنانچہ شاہ صاحب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ ہر عام حکم کی تعبیر مناسب تخصیصات ہی کی روشنی میں  کرنی چاہیے (الأصل في العمومات التخصیص بما یناسب)   اور شافعی اصولیین سے اتفاق کرتے ہوئے وہ دلیل تخصیص کے، اصل حکم کے ساتھ مقارن ہونے کو بھی ضروری تصور نہیں کرتے۔ اسی طرح وہ خاص کو قطعی اور غیر محتمل البیان قرار دے کر بعض احادیث کو قبول نہ کرنے نیز خبر واحد سے کتاب اللہ پر زیادت کو قبول نہ کرنے کے حوالے سے بھی احناف کے موقف کو درست نہیں سمجھتے۔1

حاصل بحث

اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ شاہ صاحب کے فریم ورک میں احکام وضع کرنے، ان کی قیود وشرائط متعین کرنے اور ان میں تخصیص واستثنا میں جزوی نصوص کا کردار اصل اور بنیادی نہیں ہوتا، بلکہ یہ عمل شریعت کے مقاصدو مصالح اور ان پر مبنی قواعد کے ایک کلی اور مجموعی تناظر میں ہوتا ہے اور جزوی نصوص، چاہے وہ قرآن میں وارد ہوں یا حدیث میں ، کسی مخصوص معاملے سے متعلق ان کلی مصالح کے مقتضا ہی کو اطلاق وانطباق کی سطح پر واضح کر رہی ہوتی ہیں۔ اس زاویۂنظر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نصوص کے مابین تخصیص وتقیید کے تعلق کو سمجھنے کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔ شافعی اور حنفی نقطۂ نظر کے مطابق جزوی نصوص کو تعیین حکم میں اصل اور محور سمجھا جائے تو دلالت عموم کی نوعیت اور ا س میں کسی دوسری لفظی دلیل سے تخصیص کے جواز یا عدم جواز کا مسئلہ بہت اہم بن جاتا ہے، اس لیے کہ حکم کی تعیین اگر اصلاً کسی نص کے الفاظ سے ہوئی ہے اور اس میں عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے تو پھر تخصیص یا تقیید میں دلالت الفاظ سے متعلق بنیادی سوالات سے تعرض کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے فریم ورک میں سوال کی نوعیت بالکل بدل جاتی ہے۔ اس کے مطابق بنیادی اہمیت اس کی نہیں کہ اصل حکم میں تخصیص کا قرینہ موجود ہے یا نہیں ، بلکہ اس کی ہے کہ شریعت کے مجموعی نظام میں کسی بھی حکم میں قیود عائد کرنے اور تخصیص یا استثنا پیدا کرنے کا جو ایک عمومی منہج ہے، آیا اس کی رو سے اس خاص حکم میں وہ تخصیص وتقیید بامعنی ہے یا نہیں جو حدیث میں بیان کی گئی ہے؟ اگر بامعنی ہے تو وہ پوری طرح قابل قبول ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو واضح کرنے کے لیے اصولاً سابقہ حکم میں موجود کسی قرینے یا کسی مستقل وحی کے محتاج نہیں تھے، بلکہ شریعت کے کلی مقاصد اور مصالح کا فہم حاصل ہونے کی وجہ سے خود اپنے اجتہاد سے یہ فیصلہ فرما سکتے تھے کہ فلاں حکم میں فلاں نوعیت کی تقییدات یا تخصیصات کو شامل کرنا شارع عزوجل کی منشا ہے۔

حواشی

۱۔ (اس حوالے سے شاہ صاحب کے موقف کی تفصیلی توضیح کے لیے دیکھیے: حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۴۲۱، ۴۵۹-  ۴۶۰۔ اصول فقہ اور شاہ ولی اللہ، ڈاکٹر مظہر بقا،  ۳۴۸- ۳۵۹، بقا پبلی کیشنز کراچی، اشاعت دوم ۱۹۸۶ء)

(جاری)

ہدایہ کی بے اصل احادیث اور مناظرانہ افراط وتفریط

مولانا محمد عبد اللہ شارق

( زیرِ ترتیب مقالہ ”احادیثِ ہدایہ ۔ فنی حیثیت اور غیر علمی رویے“ سے انتخاب)

تسامحات کی اقسام

  حدیث وروایت کے معاملہ میں الہدایہ کے مصنف مرغینانی سے جو تسامحات ہوئے ہیں، وہ کئی طرح کے ہیں اور ہمارے علم کے مطابق یہ تسامحات زیادہ نہیں، محض اکا دکا مقامات پر ہوئے:

(۱) بعض احادیث کے مضمون میں اضافہ ہوگیا۔ جیسے”ایما صبی حج عشر حج ثم بلغ فعلیہ حجۃ الاسلام“ یہ حدیث کتبِ حدیث میں موجود ہے، مگر اس میں ”عشر“ کا لفظ نہیں ہے، جس کے ہونے نہ ہونے سے بہرحال معنی اور مفہوم میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔(الدرایۃ۔ رقم۳۹۱)

(۲)حدیثِ مو قوف کو مرفوع لکھ دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک حدیث ”من ام قوما ....“ کو مرفوع لکھا جوکہ محدثین کے علم کے مطابق موقوف ہے اور ان کے ہاں یہ مرفوعا ثابت نہیں۔ (الدرایۃ۔ رقم ۲۱۴)

(۳) راوی کا نام درج کرنے میں چوک ہوگئی۔ (الدرایۃ۔ رقم ۱۶۶)

(۴) کہیں کہیں روایت بالمعنی کا ”ارتکاب“ کردیا۔

(۵) محدثین کے حوالہ سے کوئی بات نقل کرنے میں مغالطہ ہوگیا۔ مثلا انہوں نے ایک حدیث کے بارہ میں ابوداود کے حوالہ سے نقل کیا کہ انہوں نے اس کو ضیعف قرار دیا ہے، جبکہ بعد والوں کو سنن ابوداود میں ایسی کوئی بات کہیں نہیں مل پائی۔(الدرایۃ۔ رقم ۴۵)

(۶) بعض جگہ ضعیف حدیث سے استدلال کیا، ورنہ صحیح احادیث موجود تھیں۔

(۷) بعض ایسی احادیث سے انکار کردیا جو ان کے علم میں نہ تھیں یا پھر مستحضر نہ تھیں۔ (الدرایۃ۔ رقم۱٠۲۷)

(۸) بعض ایسی بے اصل احادیث بیان ہوگئیں جن کی کوئی سند محدثین کو نہ مل سکی اور نہ ہی کتبِ حدیث میں ان کا کوئی اتا پتہ ہے۔

بے اصل احادیث کی امثال

  یہاں چونکہ ہم بے اصل احادیث پر بطورِ خاص بات کررہے ہیں اور افراط وتفریط سے دوچار ہونے والے فریقین کے درمیان زیادہ موضوعِ بحث بھی الہدایہ کی ایسی ہی احادیث بنتی ہیں، اس لئے آخری نکتہ پر ہی ہم تفصیل سے بات کریں گے، جبکہ باقی نکات کے بارہ میں اتنا بتاتے چلیں کہ ایسے تسامحات کی مثالیں محدثین کے ہاں بھی اتنی مل جائیں گی کہ شاید ان کا احصاءمشکل ہوگا۔ سو اگر ان تسامحات کی بنیاد پر صاحبِ ہدایہ کی تحقیر وتذلیل درست ہے تو پھر محدثین کو کس ضابطہ کی رو سے ریلیف دیا جاسکے گا؟ افراط وتفریط کے رویوں پر بات کرنے سے قبل مناسب ہوگا کہ ہم یہاں پر ہدایہ میں مذکور بے اصل احادیث کی چند مثالیں بھی آپ کے سامنے رکھتے چلیں۔ الہدایہ کی کئی بے اصل احادیث ایسی ہیں جن کی کسی مکمل یا ادھوری سند کا کوئی اتہ پتہ اور کوئی سرا محدثین کو نہیں ملا، نہ تو روایت باللفظ کے درجہ میں اور نہ ہی روایت بالمعنی کے درجہ میں اور انہی کو ”بے اصل احادیث“ کہتے ہیں۔ ایسی دس ”احادیث“ بطورِ مثال ہم یہاں ذکر کرتے ہیں:

(۱)من صلی خلف عالم تقی فکانما صلی خلف نبی (الدرایۃ۔ رقم۲٠۱)

(۲) من ترک الاربع قبل الظہرلم تنلہ شفاعتی (الدرایۃ۔ رقم۲۶٠)

(۳) اخروہن (ای: النساء) من حیث اخرہن اللہ (الدرایۃ۔ رقم۲٠۹)

(۴) الرفع محمول علی الابتداء۔ کذا نقل عن ابن الزبیر (الدرایۃ۔ رقم۱۸٠)

(۵) لاترفع الایدی الا فی سبعۃ مواطن۔۔۔۔۔۔ (الدرایۃ۔ رقم۱۸٠)

(۶) فاوضوا فانہ اعظم للبرکۃ (الدرایۃ۔ رقم۷۵۵)

(۷) ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم جلس علی مرفقۃ حریر (الدرایۃ۔رقم۹۴۲)

(۸) صلوۃ النہار عجماء (الدرایۃ۔ رقم ۱۹۳)

(۹) ثلاث جدہن جد، النکاح والطلاق والیمین (الدرایۃ۔ رقم۶۲۷)

(۱۰) قال فی خبیب: سید الشہداءورفیقی فی الجنۃ (الدرایۃ۔ رقم ۸۸٠)

اینٹی احناف مصنفین کا رویہ

  بر صغیر کے جوشیلے انیٹی احناف مصفنین صاحبِ ہدایہ کے ان تسامحات کو کیا رنگ دیتے ہیں، کیسے ان تسامحات کی بنیاد پر صاحبِ ہدایہ کی شخصیت کا مثلہ تک کردیتے ہیں اور کس طرح مناظرانہ حاشیہ آرائی کے جوش میں علمی آداب وقرائن کو یکسر نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں، اس کا اندازہ کرنے کے لیے اپنے حلقہ کے ایک ذمہ دار مصنف مولانا محمد جوناگڑھی کے جملوں کا ایک انتخاب ملاحظہ کیجئے جو ان کی کتاب ”درایتِ محمدی“ سے اخذ کیا گیا ہے، واضح رہے کہ یہ سب جملے من وعن انہی کے الفاظ پر مشتمل ہیں:

 ”صاحبِ ہدایہ نے بڑی دلیری کی ہے کہ اپنا مذہب ثابت کرنے کے لئے حدیثِ رسول میں اضافہ کردیا۔(درایتِ محمدی۔ صفحہ۳۵) یہ اضافہ ان کا گھریلو جملہ ہے جو کسی حدیث کی کتاب میں نہیں۔ (صفحہ۳۴)حنفی مذہب ثابت کرنے کے لئے ٹھیکیدار مذہبِ حنفی صاحبِ ہدایہ بڑا زور لگاتے ہیں، ضعیف احادیث پیش کرتے ہیں اور پھر ان میں بھی اضافے کرتے ہیں(۳۵، ۳۶)محبانِ رسول اس تہمت کو قطعا برداشت نہیں کرسکتے۔ (صفحہ۳۶)علامہ موصوف نے ایک حدیث میں ایک ایسا لفظ بڑھا دیاکہ دونوں مطلب نکل آئے۔ شافعی مذہب اڑ گیا، حنفی مذہب جم گیا۔ اور فتح مندی کا سہرا سر پر بندھ گیا۔ گو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا بڑا جرم ہے، لیکن مذہب کی پاسداری بھی عجیب چیز ہے جو انسان کے دل میں سوائے اس کی وقعت کے جس کا مذہب مانتا ہے، کسی اور کو باوقعت رہنے ہی نہیں دیتی۔ (۳۶)یہ مصنف صاحب کا کارخانہ ساز لفظ ہے۔ (۳۸) انہوں نے اپنے قول کو قولِ پیغمبر کہا ہے۔ (۳۸)ضرورت تھی کہ شافعی مذہب کی جڑیں کھودی جائیں، اس لیے ایک حدیث میں یہ جملہ بڑھا دیا۔ (۴٠) سوائے ہدایہ شریف کے حدیث کی کسی اور کتاب میں تو یہ الفاظ نہیں ہیں، ہاں اگر مصنف ہدایہ ہی کو نبی مان لیا جائے پھر تو سارا ہدایہ ہی حدیث ہے۔ (۳۹) پوری کی پوری حدیث گھڑ لی (۴۲) یہ خاص مصنف کے گھریلو اور من گھڑت الفاظ ہیں (۵۲) کسی کے بیٹے کو دوسرے کا بیٹا کہنا بڑا پاپ ہے، اسی طرح ایک کی بات کو دوسرے کی طرف منسوب کرنا بھی ایک شرمناک علمی غلطی ہے۔ پھر غیر نبی کی باتو ں کو نبی کی باتیں کہنا صریح ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن علامہ مصنف نے بے کھٹکے موقوف روایت کو مرفوع حدیث کہہ دیا (۵۹) ابراہیم نخعی کے قول کو رسول اللہ کا قول کہنا یا تو یہ معنی رکھتا ہے کہ ابراہیم نخعی بھی رسول اللہ تھے یا یہ کہ امام ابو حنیفہ کی رائے کے ثبوت کے لئے یہ جائز ہے کہ رسول اللہ کی نہ کہی بات کو ہم رسول اللہ کی بات کہہ دیں(۶٠) مصنف صاحب جانتے ہیں کہ میری یہ کتاب مقلد پڑھیں گے جنہیں قرآن وحدیث ٹٹولنا کہاں نصیب ہوگا۔ جو ہم کہیں گے وہ پتھی کی لکیر ہوگی، بس اس ہمت پر جو چاہتے ہیں لکھ دیتے ہیں اور جس کا چاہتے ہیں نام لے دیتے ہیں۔ (۴۱)“

مقلدین کو قرآن وحدیث ٹٹولنا نصیب ہوا؟

  مصنف کہتے ہیں کہ مقلدین کو قرآن وحدیث ٹٹولنا کہاں نصیب ہوگا، سو اطلاعا عرض ہے کہ مقلدین کو قرآن وحدیث ٹٹولنا نصیب ہوا ہے۔ چنانچہ کئی حنفی مقلدین نے ہی ”الہدایہ“ کی احادیث کی تخریج لکھی ، علم الاسناد کے اصولوں پر ان کو پرکھا، تسامحات کی توضیح کی، نیز تنقیح وتخریج کا یہ سارا کام خود مرغینانی ہی کے منہج فکر کے مطابق اور گویا ایک معنی میں انہی کی رضامندی سے ہوا کیونکہ ہم جان چکے ہیں کہ وہ خود بھی اپنے پیش روﺅں کی احادیث کو اسی اصول پر پرکھتے رہے ہیں اور وہ اس معاملہ میں افراط وتفریط کا شکار نہ تھے۔ پچھلے ہمیشہ پہلوں کے علمی تسامحات کو نشان زد کرتے رہے ہیں، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں غیر ضروری عقیدت یا مخالفانہ عصبیت کو ہوا دینے کی ضرورت ہے۔ احناف کے محدثین نے جس طرح الہدایہ کی احادیث کی تخریجات لکھی ہیں اور جس طرح بے اصل احادیث کو نشان زد کیا، جوشیلے اینٹی احناف مصنفین کو بھی اس کی اچھی طرح خبر ہے۔ چنانچہ مرغینانی کے مختلف تسامحات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ خود ہی حنفی علماءکے حوالے بھی دیتے رہتے ہیں کہ دیکھئے ، کیسے ایک حنفی عالم ہی احادیثِ ہدایہ پر (علمی انداز میں)ناقدانہ کلام کررہا ہے، لیکن افسوس کہ خود اسی پہلو پر غور کرتے ہوئے اپنے افراط کو اعتدال میں بدلنے کے لئے کوئی محنت نہیں کرتے۔

کیا تساہل اور افتراءہم معنی ہیں؟

  ”درایتِ محمدی“ سے لیے گئے گذشتہ اقتباس کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ مصنف مذکور کے نزدیک مرغینانی مفتری، کذاب اور واضع الحدیث ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹی احادیث اپنے دل میں بیٹھ کر جوڑتے تھے، جبکہ ثبوت اس کا صرف یہی ہے کہ ان کی کتاب میں چند بے اصل احادیث آگئی ہیں۔ چنانچہ یہ خیالات صرف ایک محمد جوناگڑھی صاحب کے نہیں، اسی طبقہ  فکر کے مولانا وحید الزمان خان نے ”تنقید الہدایہ“ میں اور محمد یوسف جے پوری نے ”حقیقۃ الفقہ“ میں بھی چند بے اصل احادیث کی بناءپر صاحبِ ہدایہ کے لئے ”افتراء“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے معاصر حافظ ارشاد الحق اثری تک یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ (دیکھئے ان کی کتاب: احادیثِ ہدایہ کی فنی وتحقیقی حیثیت۔ صفحہ۱۸)

  یہاں میں ایک سادہ سا سوال ان حضرات کے سامنے رکھتا ہوں کہ کیا محض اس بنیاد پر کسی کومکمل وثوق کے ساتھ ”واضع الحدیث“  کہا جاسکتا ہے کہ اس کی کتاب میں چند غیر معتبر اور بے اصل احادیث بغیر تصریح کے آگئی ہیں؟ (واضح رہے کہ کسی کو مکمل وثوق کے ساتھ ”واضع الحدیث“  کہنا تقریبا اس کو دائرہ ایمان سے خارج کرنے کے مترادف ہے) اگر ان کا جواب اثبات میں ہے تو پھر کیا وہ ابنِ قیم، ابنِ جوزی، شوکانی، ذہبی، امام شافعی، ابن عبدالبر اور سیوطی کو بھی کذاب اور ”واضع الحدیث“ کہیں گے جن کی کتابوں میں موضوع، بے اصل اور غیر معتبر احادیث بغیر کسی سند اور صراحت کے موجود ہیں،جیساکہ ہم مقالہ کی ابتداءمیں اس کی تفصیل عرض کرچکے ہیں۔

اینٹی احناف مصنف اور مولانا عبد الحی لکھنوی

  اہلِ علم کے تسامح کو تسامح اور تساہل پر محمول کرنے کی بجائے اسے ان کی ”دین دشمنی“ پر محمول کرنا اور یہ سمجھنا کہ وہ دین کے حلیہ کو جان بوجھ کر بگاڑنا چاہتے تھے، شاید اِس حلقہ کے جوشیلے مصنفین کا یہی وہ رویہ ہے جسے دیکھتے ہوئے مولانا عبد الحی لکھنوی فرنگی محلی جیسے نہایت معتدل حنفی نے بھی ان کے لیے بہت سخت الفاظ استعمال کیے ہیں، واضح رہے کہ مولانا عبد الحی لکھنوی ایک جید حنفی عالم ہیں، وہ تقلیدِ جامد کے سخت خلاف ہیں اور حنفی ہونے وکہلانے کے باوجود انہوں نے بے شمار مسائل میں اپنے ہی امام سے برملا اختلاف کیا ہے اور ان کے انہی اختلافات کو لے کر اینٹی احناف مصنفین عمومی حنفیوں کو چھیڑتے بھی رہتے ہیں، نیز مولانا ارشاد الحق اثری نے ایک کتابچہ ”مسلکِ احناف اور مولانا عبد الحی لکھنوی“ میں ان تمام اختلافات کو بڑی عرق ریزی سے جمع کردیا ہے جس پہ وہ بجا طور پر مستحقِ تبریک ہیں، مگر کیا وہ جانتے ہیں کہ مولانا فرنگی محلی نے خود ان کے طبقہ کے غیر عالمانہ رویوں کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے کتنے شدید الفاظ استعمال کیے ہیں، اگر نہیں تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں، مگر اس وضاحت کے ساتھ کہ ہماری حیثیت یہاں پر صرف ناقل کی ہے اور ذاتی طور پر ہم خود اتنے شدید تبصرہ کے حق میں نہیں۔ مولانا لکھنوی لکھتے ہیں کہ یہ نیچریوں کے چھوٹے بھائی اور نیچریت کے بعد مسلمانانِ ہند کے لیے دوسرا بڑا فتنہ ہیں، ان کے الفاظ ہیں:

”واخوانہم (ای: النیاشرہ) الاصاغر المشہورین بغیر المقلدین الذین سموا انفسہم باہل الحدیث وشتان مابینہم وبین اہل الحدیث شاع فی جمیع بلاد الہند وبعض بلاد غیر الہند فخربت بہ البلاد ووقع النزاع والعناد“ (الآثار المرفوعۃ۔ صفحہ۶)

نیز اس سے ملتی جلتی ایک عبارت ان کی کتاب ”امام الکلام فی القراءۃ خلف الامام“ کے آغاز میں بھی موجود ہے۔

  واللہ ہم خود حیران ہیں کہ مولانا لکھنوی نے یہ اتنی غیر معمولی اور مبالغہ آمیز بات کیسے لکھ دی، جبکہ ان کا اعتدال ضرب المثل ہے؟ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ اینٹی احناف حضرات کچھ فروعی مسائل میں احناف سے اختلاف کرتے ہیں؟ نہیں، حنفیوں سے اختلاف تو خود فرنگی محلی نے بھی بہت سے مسائل میں کیا ہے، پھر دوسروں سے کیا شکوہ؟ ہمارا خیال ہے کہ مولانا کی حسیات میں یہ تیزی فقط ان رویوں کو دیکھ کر پیدا ہوئی کہ اینٹی احناف حضرات کے یہاں محض دوسروں سے اختلاف ہی نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ فروعی مسائل میں مختلف رائے رکھنے والوں کے بارہ میں یوں تاثر دیا جاتا ہے کہ شاید وہ دین کے دشمن ہیں اور قصدا وعمدا غیر صحیح آراءاختیار کرکے دین کا حلیہ بگاڑنا چاہتے ہیں، ظاہر ہے کہ فروعی مسائل میں ہونے والے اختلاف کو اگر یہ رنگ دیا جائے تو پھر احناف کو چھوڑیے، کیا سلف وخلف میں سے کوئی بھی آدمی ہماری بدگمانی کی تلوار سے بچ سکے گا اور کیا یہ بدگمانی امت کی دینی صحت کے لیے درست ہے؟ تقلیدِ جامد کے رویوں پر تنقید ہونی چاہئے اور اس حوالہ سے لوگوں کی ذہن سازی کے لیے اینٹی احناف طبقہ کے بھی کسی قدر مثبت کردار کا اعتراف کرنا چاہئے، مگر دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ فروعی اختلافات اور اہلِ علم کے تسامحات کو لے کر طعن وتشنیع کا توپ خانہ کھول لینا قطعا درست نہیں اور یہ اسلاف ومحدثین کے نہج کے خلاف ہے۔

خوش گمانی کے غلو پر مبنی رویہ

  پہلا رویہ اگر مخالفانہ عصبیت پرمبنی تھا تو یہ دوسرا رویہ غیر ضروری حد تک بڑھے ہوئے جوشِ عقیدت کا نتیجہ ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیساکہ بعض لوگ جوشِ عقیدت میں اور اپنی کم علمی کی بناءپر غزالی کی احیاءالعلوم وغیرہ میں مذکور احادیث کو صرف اس وجہ سے سندِ قبولیت دینا چاہتے ہیں کہ غزالی بہت بڑے عالم تھے اور یقینا چھانٹ پھٹک کرکے ہی انہوں نے یہ احادیث نقل کی ہوں گی۔ چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ احادیثِ ہدایہ کے معاملہ میں ہمارے ہاں کے بہت سے احناف خاصی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، انہیں محض حسنِ ظن کی بناءپر بغیر سند کے سندِ قبولیت عطا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے عجیب وغریب تاویلات بیان کی جاتی ہیں۔ حالانکہ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ احادیثِ ہدایہ علمی نقد ونظر سے بالا تر نہیں اور یہ کہ جن علماءنے ہدایہ میں مذکور روایات کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ علم الاسناد کی کسوٹی پر تولا ہے، ان میں اکثریت خود حنفی علماءاور شارحین کی ہے، مثلا علامہ زیلعی، عینی، ابن الہمام، عبدالقادر القرشی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، قاسم بن قطلوبغا اور مولانا عبدالحی لکھنوی وغیرہ کے ناموں پر آپ غور کرسکتے ہیں، جن کی عبارات وتخریجات کا ایک مفصل تعارفی اشاریہ ہم سابقہ سطور میں عرض کرچکے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ خصوصا ہندوستانی احناف حدیث کے باب میں عمومی طور پر دوسروں کی تو کیا، خود اپنے محدثین کی بھی ٹھیک طرح قدر نہیں کرپائے۔

  مولانا عبدالحی نے اپنی کتابوں میں جہاں احادیثِ ہدایہ پر کلام کیا ہے، وہاں بعض حنفیوں کی اس حساسیت کا بھی ذکر کیا ہے اور ان کی اس طرح کی عبارات کا ایک اشاریہ گذشتہ سطور میں گذر چکا ہے۔ اسی طرح شیخ عبد الفتاح ابوغدۃ نے جو اپنی تصانیف میں مذکورہ رویہ پر بار بار تنقید کی ہے، وہ بھی غالبا اسی تناظر میں ہے۔ پہلے مذکور غیر علمی رویہ کی طرح یہ رویہ بھی اپنے حلقہ کے بعض ذمہ دار مصنفین کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے اور اسی وجہ سے اِس رویہ کو بھی زیرِ بحث لانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ استدلال کی کم زوری کے باوجود اس حلقہ کے لب ولہجہ میں ہمیں فریقِ اول کی طرح کی کوئی ناشائستگی بہرحال نظر نہیں آئی۔ لہجہ کی شائستگی کا اندازہ کرنے کے لیے ایک معروف حنفی مصنف مولانا عبد القیوم حقانی کا اقتباس ملاحظہ کیجئے، وہ لکھتے ہیں:

”صاحبِ ہدایہ نے متقدمین ائمہ پر اعتماد کرتے ہوئے ا ن کی روایات کو اپنی تصنیف میں جگہ دی ہے۔ بعد میں فتنہ  تاتار میں متقدمین کا علمی سرمایہ بہت کچھ ضائع ہوگیا اور بہت سی کتابیں جو پہلے متداول تھیں، اب فتنہ میں بالکل معدوم ہوگئیں۔ اب اربابِ تخریج نے ان روایات کو متقدمین ائمہ کی تصانیف میں تلاش کرنے کی بجائے ان کتابوں میں تلاش کیا ہے جو ان کے عہد میں تھیں،  اسی لیے ان کو متعدد روایات کے متعلق یہ کہنا پڑا کہ یہ روایت حافظ زیلعی اور حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہ مخرجینِ احادیث ہدایہ بصراحت لکھتے ہیں کہ ہم کو نہ مل سکیں، حالانکہ وہ روایات کتاب الآثار اور مبسوط امام محمد وغیرہ میں موجود ہیں اور یہ کچھ ہدایہ ہی کی خصوصیت نہیں، خود صحیح البخاری کی تعلیقات میں بھی بہت سی ایسی روایتیں موجود ہیں جن کے بارہ میں حافظ ابنِ حجر نے یہی تصریح کی ہے جس کی اصل وجہ وہی متقدمین کی کتابوں کا فقدان ہے، ورنہ امام بخاری یا صاحبِ ہدایہ کی شان اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ ان کے متعلق کسی نے بے اصل روایت بیان کرنے کا شبہ بھی ظاہرکیا ہو۔“ (ہدایہ اور صاحبِ ہدایہ۔ صفحہ۵۷، ۵۸)

عبارت میں ابہام

  واضح رہے کہ ہم نے مولانا حقانی کا یہ اقتباس صرف لہجہ کی شائستگی کو واضح کرنے کے لیے دیا ہے، ورنہ مولانا حقانی کی عبارت مبہم ہے کہ آیا وہ امکانات اور حسنِ ظن کی بنیاد پر صاحبِ ہدایہ کا حقِ احترام محفوظ رکھوانا چاہتے ہیں یا پھر ان امکانات کے زور پر ہدایہ کی بے اصل احادیث کو نقد ونظر سے ماوراءبھی ٹھہرانا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے جس طرح ہدایہ کی بے اصل احادیث کو تعلیقاتِ بخاری پر قیاس کیا ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف صاحبِ ہدایہ کے ساتھ حسنِ ظن کا تقاضا ہی نہیں کر رہے، بلکہ ان کی نقل کردہ بے اصل روایات کو بے اصل کہنا بھی درست نہیں سمجھتے ہیں اور ہم مولانا حقانی کا تمام تر احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اس معاملہ میں ان سے اختلاف کی جسارت کرتے ہیں۔ ہم اپنے مقالہ میں اہلِ علم کے حوالہ سے بہت تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں کہ بعض بے اصل احادیث کا کسی کی کتاب میں مذکور ہوجانا جیسے اسے تہمت زدہ نہیں بنا دیتا کہ اس نے خود یہ احادیث وضع کی ہیں، اسی طرح یہ تساہل اس کی علمی ثقاہت کے خلاف بھی نہیں ہے۔ چنانچہ ایسا صرف مرغینانی کے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ ابن قیم، ابن ِ جوزی اور شافعی جیسی قد آور شخصیات کے ہاں بھی اس طرح کے تساہل کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ لہذا تساہل کی ایسی کوئی مثال سامنے آنے پر مصنف کے معتقدین کو پریشان نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کی علمی ثقاہت کو تحفظ دینے کے لیے کوئی غیر علمی رویہ اپنانا چاہئے کیونکہ اس نوعیت کے تساہل سے اگر کسی کی ثقاہت متاثر ہونے لگے تو پھر ہمیں سب سے پہلے ان محدثین سے ہاتھ دھونے پڑیں گے جن سے یہ تساہل ہوا اور جن کی تفصیل گذشتہ سطور میں گذر چکی ہے۔ خصوصا مرغینانی کی احادیث کو محض حسنِ ظن کی بناءپر قبول کرنا تو خود ان کے اپنے منہج سے انحراف ہے جسے قبل ازیں بیان کیا جاچکا ہے۔

  مختصرا دوبارہ کہہ دیتے ہیں کہ بے اصل روایات میں دو امکانات ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ مصنف سے تساہل ہوا ہو اور وہ ان روایات کی اسنادی پوزیشن پر کماحقہ نظر نہ ڈال سکا ہو یا پھر یہ کہ وہ روایات کسی ایسی کتاب اور سند کے ذریعہ اس تک پہنچی ہوں جو حوادثِ زمانہ کی نذر ہوگئی ہو، سو اصحاب الحدیث اور سنجیدہ علماءکا مزاج یہ رہا ہے کہ وہ ایسی روایات پر کلام کرتے ہوئے ان دونوں امکانات کو مدِ نظر رکھتے ہیں، وہ ایک طرف ناقل مصنف کا احترام ملحوظ رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ان روایات کو علم الاسناد کی کسوٹی پر تولنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اگر روایات کو محض حسنِ ظن کے زور پر قبول کرنا شروع کردیا جائے اور حسنِ ظن ہی کو اساس ٹھہرایاجائے تو پھر علم الاسناد کی کوئی وجہِ جواز باقی نہیں رہتی۔ جس طرح سلف حسنِ ظن کی بجائے علم الاسناد کی کسوٹی پر روایات کو تولتے رہے، اسی طرح خلف نے سلف کی روایات کو بھی تولا ہے اور کسی روایت کی صحت وضعف کا واحد دائمی معیار علم الاسناد ہی رہا ہے۔ اسلاف کی علمی روایت کے مداح اور ترجمان معاصرین میں اب یہ اعتدال کی شان نظر نہیں آتی، وہ یا تو حسنِ ظن کی بناءپر بے اصل احادیث کو مقبول ٹھہرادیتے ہیں اور بشری تساہل کے امکان کو نظر انداز کردیتے ہیں، یا پھر بدگمانی کے زور پر بات کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ جس مصنف کی کتاب میں یہ بشری تساہل ہوا، وہ خود ہی مفتری اور کذاب ہے، جبکہ حسنِ ظن کے پہلو کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔

تعلیقاتِ بخاری اور بلاغاتِ مالک وغیرہ پر قیاس

  رہی بات احادیثِ ہدایہ کو ”تعلیقاتِ بخاری“ پر قیاس کرنے کی تو تعلیقاتِ بخاری کے ساتھ ہم یہاں ”بلاغاتِ مالک“ اور ترمذی کے ”وفی الباب“ کوبھی شامل کرلیتے ہیں کیونکہ بعض لوگوں کے لئے یہ بھی مغالطہ کا باعث بنتے ہیں اور احادیثِ ہدایہ کو وہ ان پر بھی قیاس کرتے ہیں۔صحیح البخاری میں بعض روایات بغیر سند کے یا نامکمل سند کے ساتھ موجود ہیں جنہیں ”تعلیقاتِ بخاری“ کہا جاتاہے، اسی طرح موطا امام مالک میں بھی کچھ روایات بغیر سند کے موجود ہیں جنہیں ”بلاغاتِ مالک“ کہا جاتا ہے، نیز جامع الترمذی میں بھی اکثر وبیشتر ”وفی الباب“ کے تحت کسی ایسی روایت کی دیگر سندوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جس کی ایک مکمل سند خود امام ترمذی چند سطور قبل درج کرچکے ہوتے ہیں، تاہم ”وفی الباب“کے تحت وہ اس روایت کی باقی سندوں میں سے صرف صحابہ کے نام ذکر کرتے ہیں اور طوالت سے بچنے کے لیے پوری اسناد ذکر نہیں کرتے۔ان میں سے کسی کے بارہ میں بھی یہ سمجھنا کہ یہ سب بغیر سند کے ایسے ہی مقبول ہیں جیساکہ مکمل سند والی احادیث ہوتی ہیں اور پھر ہدایہ کی بے اصل احادیث کو بھی ان پر قیاس کرنا، ناواقفیت ہے۔ ذیل میں ترتیب وار ان کی تفصیل دی گئی ہے:

  امام بخاری نے التزام کیا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف صحیح احادیث درج کریں گے۔ نیز سند کے ساتھ انہوں نے جو احادیث بیان کی ہیں، وہ گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے اپنا یہ التزام اور وعدہ مکمل طور پر نبھایا بھی ہے۔ نیز ان کی بہت ساری تعلیقات ایسی ہیں جنہیں وہ خود دوسرے مقام پر مکمل سند کے ساتھ بیان کردیتے ہیں یا پھر کسی اور کتاب میں اس کی مکمل سند مل جاتی ہے اور وہ بھی صحیح ہوتی ہے۔ امام بخاری کی احتیاط، ایفائے عہد اور ان مذکور قرائن کو دیکھتے ہوئے بعض علماءنے ان کی ”تعلیقات“ کو بھی مجموعی طور پر”صحیح“ فرض کیا ہے، لیکن اس کے باوجود ان حضرات کے نزدیک بھی ان کا وہ درجہ نہیں جو صحیح البخاری کی سند والی یعنی ”مسند“ احادیث کا ہے۔ جبکہ بعض علماءتو ان سب تعلیقات کو مجموعی طور پر ”صحیح“ ہی نہیں سمجھتے، بلکہ کچھ اضافی قرائن کی روشنی میں ان کی تعلیقات کی صحت کو جانچتے ہیں۔ (کوثر النبی، مولانا عبدالعزیز پرہاروی۔ صفحہ۲۲) لہذا یہ بات واضح ہوگئی کہ ”صحیح البخاری“ اپنی تمام تر قدرومنزلت کے باوجود بھی علم الاسناد کی نقد وپرکھ سے مستثنی نہیں۔ اس کی تعلیقات کو مطلقا قبول کرنے کے اضافی شواہد وقرائن موجود ہیں، مگر اس کے باوجود بعض محدثین ان کو مطلقا قبول نہیں کرتے اور ان کا یہ اختلاف ریکارڈ پر ہے، جبکہ جو کرتے ہیں تو وہ بھی ان کو خود بخاری ہی کی ”مسند احادیث“ کے برابر نہیں سمجھتے۔ اب ”الہدایہ“ کی بے سند احادیث کے لئے بھی اگر کچھ قرائنِ قبولیت کسی بھی درجہ میں موجود ہوتے تو کم ازکم حنفی ناقدین ومحدثین میں سے ہی کوئی نہ کوئی ان کا ضرور ذکر کرتا اور وہ متفقہ طور پر انہیں نقد وجرح کا موضوع نہ بنا رہے ہوتے۔

  بلاغاتِ مالک کے لیے بھی قرائنِ قبولیت موجود ہیں، مثلا سفیان ثوری کا قول ہے کہ امام مالک جب کسی حدیث کے ساتھ ”بلغنی“ (بلاغت) کا اسلوب اختیار کریں تو فی الواقع اس کی صحیح سند موجود ہوتی ہے۔ (اوجزالمسالک۔ جلد۱، صفحہ۳۱۷)لیکن اس کے باوجودامام مالک کے ہی پیروکار ابن عبدالبر نے ضرورت محسوس کرتے ہوئے”بلاغاتِ مالک“ کی تخریج کی ہے جن کی تعداد اکسٹھ (۶۱) تک پہنچتی ہے۔ ستاون (۵۷) بلاغات کی تخریج میں وہ کامیاب ہوگئے، جبکہ چار احادیث کے بارہ میں انہوں نے برملا لاعلمی کا اظہار کیاجن کے نمبر ہیں: ۳۳۱، ۴۵۶، ۱۱۴۵، ۳۳۵٠۔پھر ان میں سے بھی تیسری روایت کے ساتھ امام مالک کے صریح الفاظ موجود ہیں کہ مجھے یہ روایت ثقہ اور معتبر راویوں کے ذریعہ پہنچی ہے، خواہ انہوں نے ان کے نام ذکر نہیں کئے، جبکہ دوسری حدیث کی تخریج بھی ابنِ عبدالبر کے علاوہ بعض دیگر حضرات نے کسی درجہ میں کردی ہے۔(اوجزالمسالک۔ جلد۲، صفحہ ۳۲۳) باقی رہ گئی چوتھی اور پہلی حدیث تو اگرچہ بلفظہ ان کی تخریج نہیں ہوسکی، مگر روایت بالمعنی کے درجہ میں ان کی سند بھی موجود ہے۔ (اوجزالمسالک۔ جلد۶، صفحہ ۱۷٠، ۱۷۱۔ جلد۱، صفحہ ۳۱۷) اب الہدایہ کی احادیث کا معاملہ بھی یہ ہے کہ اگر کسی حدیث کی تخریج میں محدثین کسی بھی درجہ میں کامیاب ہوگئے تو اسے قبول کیا گیا ہے لیکن جو سراسر بے اصل ہیں تو انہیں آخر ”موطا“ کی کون سی احادیث پر قیاس کرتے ہوئے سندِ قبولیت بخشی جاسکتی ہے؟

  باقی رہا ”جامع الترمذی“ کے ”وفی الباب“ کامعاملہ تو اس کی نوعیت یہ ہے کہ امام ترمذی ہر باب میں کم از کم ایک روایت مقدور بھر مکمل سند کے ساتھ لکھتے ہیں، بعد ازاں اسی باب میں ”وفی الباب“ کے عنوان کے تحت ان تمام صحابہ کے نام جمع کرتے ہیں جن سے وہ حدیث مروی ہوتی ہے ، لیکن طوالت سے بچنے کے لئے ہر صحابی تک اپنی مکمل سند ذکر نہیں کرتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ”نفسِ حدیث“ پر کوئی ضعیف اثر نہیں پڑتا، بلکہ کسی درجہ میں اس کی مزید تائید ہی ہوجاتی ہے۔ ترمذی نہ تو کسی روایت کو بغیر سند کے نقل کرتے ہیں اور نہ ہی کسی نے ان کی روایات کو بغیر سند کے قبول کرنے کی بات کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہدایہ کی بے اصل احادیث کو ان کے ساتھ جوڑتے ہوئے سندِ قبولیت عطا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

حسنِ ظن کا دائرہ کار اور محدثین کا اعتدال

  باقی اس میں شک نہیں کہ ہم ہدایہ کی جن احادیث کو تساہل پر محمول کررہے ہیں، ضروری نہیں کہ ان میں واقعی مصنف سے ہی تساہل ہوا ہو، بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کی صحیح سند کا کوئی حوالہ موجود رہا ہو اور تخریج کرنے والے اصحابِ علم سے ہی تحقیق وتفتیش میں کوئی کمی رہ گئی ہو، چنانچہ ہدایہ کی ایسی کئی احادیث ہیں جن کو بعض اصحابِ تخریج نے بے اصل قرار دیا، مگر قاسم بن قطلوبغا نے اپنی تصنیف ”منیۃ الالمعی“ میں ان کی تخریج کردی۔ ہم اس امکان اور حسنِ ظن کے قائل ہیں اور یہ خود محدثین ہی کے منہج کے عین مطابق ہے۔ علامہ ابراہیم بن حسن الکورانی الشافعی نے المسلک الوسط الدانی الی الدرر الملتقط للصنعانی کے ابتدائی دو صفحوں میں اس پہلو پر بڑی نفیس گفتگو کی ہے۔ وہ امام سیوطی کے توسط سے نقل کرتے ہیں کہ سے ان احادیث کے بارہ میں سوال کیا گیا جن کو شوافع کے ائمہ اور احناف کے ائمہ اپنی فقہ کی کتابوں میں نقل کرتے ہیں اور کتبِ حدیث میں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملتاتو انہوں نے جواب دیا کہ عین ممکن ہے کہ ان ائمہ کے پاس ان احادیث کی کچھ اسناد موجود رہی ہوں جو ہم تک نہ پہنچ سکی ہوں۔“ (صفحہ۲)

  تاہم یہ محض ایک امکان ہے اور محض اس امکان کے زور پر کسی حدیث کی توثیق نہیں کی جاسکتی چنانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خود ابنِ حجر، سیوطی اور کورانی نے ہی حسنِ ظن اختیار رکھنے کے ساتھ ساتھ، دوسری طرف کئی ایسی احادیث کو اپنی کتابوں میں نشان زد بھی کیا ہے جن کی تخریج وہ نہیں کرپائے تاکہ لوگوں کو ان پر متنبہ کیا جاسکے، لیکن ان کو صاف صاف جھوٹ ومن گھڑت قرار دینے کی بجائے وہ ذومعنی الفاظ اختیار کرتے ہیں جو اعتدال کا مرقع ہوتے ہیں اور جو حدیث کی اسنادی پوزیشن کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ناقل مصنف کے بارہ میں حسنِ ظن کی گنجائش بھی باقی چھوڑتے ہیں۔اس کی تفصیل مقالہ میں ذکر کردی گئی ہے۔


الشریعہ اکادمی میں ختم خواجگان کا آغاز

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

الشریعہ اکادمی میں ہر ماہ فکری نشست ہوتی ہے جس میں استاد محترم  مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم   سال کے آغاز میں  طے کر دہ عنوانات پر ترتیب وار گفتگو کرتے ہیں جو کہ بہت  جامع ، پر مغز اور مفید ہوتی ہے  ۔ اس ماہ 19 دسمبر کو نشست ہوئی جس کا عنوان " 1953 کی تحریک ختم نبوت " تھا ۔ اس نشست میں خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین  حضرت  مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے جانشین حضرت  خواجہ خلیل احمد  دامت برکاتہم تشریف لائے  جس کا مقصد یہ تھا کہ نشست کے ساتھ ختم خواجگان شروع کیا جائے ۔ الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام جامع مسجد خورشید کوروٹانہ میں ہر ہفتے مجلس ذکر ہوتی ہے اورکچھ عرصہ قبل  "سالانہ روحانی اجتماع " کے عنوان سے جامع مسجد  خورشید کوروٹانہ میں ایک پروگرام ہوا ، جس میں خواجہ صاحب تشریف لائے تھے ۔ استاد محترم مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ وہ امام اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ  کے متوسلین کے لیے اس نشست کا اہتمام کرتے ہیں اورمیں اپنے فکری اور طبعی میلان کی وجہ سے چاہتا ہوں کہ  یہ مجلس ذکر آپ کی سرپرستی میں نقشبندی سلسلہ کے مطابق  کی جائے  ۔ خواجہ صاحب نے اس درخواست کو قبول فرمایا  چنانچہ مجلس ذکر کے ساتھ ختم خواجگان کو شروع کرنے کے لیے اب  دوبارہ تشریف لائے ۔

نشست کے آغاز میں استاد محترم مولانا زاہد الراشدی نے نقشبندی سلسلہ ، خانقاہ سراجیہ  اور حضرت خواجہ خان محمد ؒ سے اپنی قلبی   و فکری مناسبت  اور  میلان کا ذکر کیا ۔خانقاہ سراجیہ شریف ہمارے قومی سطح کے روحانی، دینی اور تحریکی مراکز میں سے ہے۔ حضرت خواجہ خان محمد ؒ  ہمارے بڑے بزرگوں  میں سے تھے ، خانقاہ سراجیہ کے مسند نشین تھے ،  والد محترم امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر کے دورہ حدیث  ساتھیوں میں سے تھے  ، دونوں دار العلوم دیوبند کے فضلاء اور  شیخ العرب و العجم حضرت  مولانا حسین احمد مدنیؒ    کے شاگر دتھے ۔ 1953 ء  کی تحریک ختم نبوت میں والد محترم 10 ماہ جیل میں رہے اور خواجہ صاحب سات ماہ جیل میں رہے  جبکہ حضرت خواجہ صاحب نے 84ء  کی تحریک ختم نبوت کی قیادت کی ۔ اور اس کے بعد بھی تا عمر وہ ختم نبوت کی تمام تحریکوں اور پروگراموں کی قیادت وسرپرستی فرماتے رہے ۔ ان کا ذوق و مزاج تقریر نہ کرنے کا تھا لیکن ان کی خاموشی میں ہی سب کچھ ہوتا تھا۔  وہ گھنٹوں ختم نبوت کے پروگراموں میں بیٹھے رہتے اور آخر میں دعا فرمادیا کرتے تھے ۔ وہ تمام مسالک کی مسلمہ و محترم  شخصیات میں سے تھے ۔ ان کے کہنے پر سبھی آجاتے تھے  ، کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔ سبھی کے ہاں ان کا یکساں احترام تھا ۔ مسلمانوں  کی باہمی فرقہ واریت میں اتحاد امت  کے حوالے سے ان کا مؤثر کردار رہا ۔ بہت بڑ ے اللہ والے تھے،   نقشبندی سلسلہ کے بڑے بزرگوں میں سے تھے ۔  ان کے ساتھ جماعتی اور تحریکی زندگی کا طویل عرصہ ایک کارکن کے طور پر گزارنے کی سعادت مجھے حاصل رہی ہے۔

استاد محترم کے  بعد  نشست کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمدصاحب نے خانقاہ سراجیہ کی تاریخ پر کچھ روشنی ڈالی ۔بزرگوں کی خواہش تھی کہ اردو  ، پنجابی اور پشتو بولنے والوں کے سنگم پر ہو ،  اسی سوچ کے مطابق اس کو بنایا گیا ۔ ختم خواجگان کی تاریخ و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری خانقاہ میں 1920 ء سے اس ختم کا اہتمام ہورہا ہے اور اس میں کسی صورت بھی ناغہ نہیں ہوتا۔کبھی کوئی ایسا مسئلہ ہوجائے جس کی وجہ سے یہ نہ ہوسکے تو الگ بات ہے، ورنہ اس میں ایک تسلسل ہے اور ایک صدی سے جاری ہے ۔ خانقاہ سراجیہ میں ختم خواجگان صبح و شام ہوتاہے ۔ اس کوا جتماع یا مجمع میں لوگوں کے ساتھ مل کر بھی پڑھ سکتے ہیں اور  اکیلے بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ اس ختم کے ذریعہ  مصیبتیں و مشکلات حل ہوتی ہیں ، ہر قسم کی حاجات و ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ، امراض سے شفاء ملتی ہے  ،  دعائیں قبول ہوتی ہیں اور برکت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔

ختم خواجگان کا طریقہ یہ ہے کہ اول ہاتھ اٹھا کر سورۃ فاتحہ شریف ایک مرتبہ پڑھ کر دعا مانگے کہ یا اﷲ اس ختم خواجگان کو قبول فرما لے اور جن بزرگوں کی طرف یہ ختم منسوب ہے، ان کو اس کا ثواب پہنچا دے۔ اس کے بعدسات بار الحمد شریف، اس کے بعد  ۷۹ بار سورہٴ الم نشرح، پھر  ۱۰۰بار درود شریف، اس کے بعد ایک ہزار بار سورہٴ اخلاص، پھر ۷ بار الحمد شریف، پھر ۱۰۰ بار درود شریف، پھر  ۱۰۰ بار یا قاضيَ الحاجات ویَا کافيَ المہمات، یا دافعَ البلیّاتِ، یا حلّ المشکلات، یا رافعَ الدرجات، یَا شافيَ الأمراض، یا مجیب الدعوات، یا أرحم الراحمین پڑھا جاتا ہے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے لوگوں کو دائرے کی شکل میں بیٹھا کر گٹھلیوں پر اس ختم کا ورد کروایا اور پھر دعا کے ساتھ اس روحانی و فکری مجلس کا اختتام ہوا ۔