دسمبر ۲۰۲۰ء

ناموس رسالت اور امت مسلمہ کا موقفمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
حنفی مذہب کی تفہیم وتوجیہ میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا مسلکڈاکٹر حافظ محمد رشید 
ایک فراموش شدہ گواہ: قبۃ الصخرةسید ظفر احمد 
علامہ خادم حسین رضویؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
میکرون، اسلام اور فرانسیسی اقدارڈاکٹر امیرہ ابو الفتوح 
’’چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ‘‘مولانا وقار احمد 

ناموس رسالت اور امت مسلمہ کا موقف

محمد عمار خان ناصر

توہین رسالت اور اس پر  مسلمانوں کے دینی موقف  کا مسئلہ گزشتہ دنوں میں حکومت فرانس کے ایک اقدام کے تناظر میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث رہا۔  فرانس کے حالیہ اقدام میں بیک وقت تین عوامل کارفرما تھے۔ ایک، سیکولر قومی شناخت کا مخصوص فرانسیسی تصور۔ دوسرا، اسلامو فوبیا کی لہر جو نسل پرستی کے رجحانات کی وجہ سے یورپی ملکوں میں پھیل رہی ہے۔ اور تیسرا، پاپولسٹ سیاست کا کھیل جو دنیا میں تقریبا ہر خطے میں اس وقت اقتدار کے کھلاڑیوں کو مرغوب ہو رہا ہے۔ فرانس کے حالیہ اقدام میں ان عوامل کی اثر اندازی کی ترتیب  معکوس ہے، یعنی سب سے اہم عامل پاپولسٹ سیاست ہے، پھر اسلامو فوبیا اور سب سے آخر میں سیکولرزم بطور ایک سیاسی قدر  اس اقدام کا محرک ہے۔

گستاخانہ خاکوں سے متعلق فرانس کے سرکاری موقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک خاص کمیونٹی کے جذبات کے احترام میں آزادی اظہار پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ اس سے قومی وحدت کمزور ہوتی ہے۔ لیکن اس منافقانہ استدلال کی حقیقت اس سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ۱۹۹٠ء  کے بعد ہولوکاسٹ کا انکار فرانس میں جرم مانا جاتا ہے اور کئی معروف مصنفین اس جرم کے ارتکاب پر سزا بھگت چکے ہیں۔ ذرا غور کرنے سے سمجھ میں آ جاتا ہے کہ بدبودار نسل پرستی نے سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ یہودی، صدیوں سے یورپی شناخت کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے جذبات کا احترام ضروری ہے، لیکن مسلمان باہر سے آئے ہوئے ہیں اور ایک اجنبی ثقافت کے ساتھ یورپی معاشرے میں دخیل ہو رہے ہیں، اس لیے ان کے جذبات کا احترام قومی وحدت کو کمزور کرتا ہے۔ مزید براں   فرانسیسی حکومت نے اپنے صدر پر   ترکی کے سربراہ طیب اردوان کی طرف سے کیے گئے ایک تبصرے کو ’’ناقابل قبول“ قرار دیتے ہوئے   اپنے سفیر کو واپس بلا لیا   اور  بعض اطلاعات کے مطابق  فرانسیسی حکومت ان دنوں حکومتی عہدہ داروں کی تضحیک وتمسخر  کو  قابل تعزیر قرار دینے کے لیے قانون سازی  کرنے پر غور وفکر کر رہی ہے۔ حکومت فرانس  کے اس مبنی برتعصب رویے اور  منافقانہ طرز عمل کا عالمی سطح پر  بھی بجاطور پر ادراک کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے  اسے  رواداری اور  مفاہمت کے منافی قرار دیے جانے کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے  فرانسیسی حکومت کی جانب سے  آزادی اظہار پر قدغن  عائد کرنے کی کوششوں کو ’’بے شرم منافقت“ سے تعبیر کیا ہے۔

توہین مذہب کے، ایک ’’حق “ ہونے یا نہ ہونے کی بحث سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب کی اشاعت کے بعد گزشتہ تین دہائیوں میں بتدریج  عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک   تہذیبی سطح کا نزاع  بن گئی ہے۔  تاہم امت مسلمہ کو اس صورت حال کا سامنا پہلی دفعہ نہیں ہوا، بلکہ   اس کی تاریخ کی ابتدا  ہی اس صورت حال سے ہوئی ہے۔ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے اور عقلی ونفسی استدلالات کی بنیاد پر اپنی دعوت کو پیش کرتا ہے۔ وہ قرآن اور پیغمبر، دونوں کی حقانیت کو عقل وفطرت کے دلائل پر پرکھنے کے لیے پیش کرتا ہے اور ہر طرح کے اشکالات واعتراضات کا انھی کی روشنی میں جواب دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگوں کے مسلمہ موروثی عقائد کو چیلنج کرتا اور انھیں کفر وشرک قرار دیتے ہوئے لوگوں کو ان سے تائب ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید مخالفانہ ردعمل کا پیدا ہونا ایک فطری انسانی رویہ ہے اور اس ردعمل کو صبر وتحمل کے ساتھ گوارا کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ دعوت دین کو پیش کرتے رہنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں جو ایک دعوتی مذہب اختیار کر سکے۔ اگر اسلام اپنی پہلی ترجیح دعوت کے فروغ کے بجائے ناموس رسالت کے تحفظ کو بناتا اور مسلمان ہر گستاخ رسول کے ساتھ لڑنے بھڑنے اور مرنے مارنے کو اپنی اولین ایمانی ذمہ داری بناتے تو تاریخ میں اس کا ذکر مکے میں پیدا ہونے والے چند "شرپسندوں“ کے الفاظ میں ملتا اور بس۔ یہ ترجیحات کا حکیمانہ تعین تھا جس نے اسلام کو ایک نہایت مخاصمانہ صورت حال سے، جس میں ہمہ وقت پورا معاشرہ توہین رسالت کا مرتکب ہو رہا تھا، نبرد آزما ہونے کی طاقت بخشی اور پرامن طور پر دنیا میں پھیلنے والا عالمی مذہب بنا دیا۔

یہ حکمت عملی  حسب ذیل دو نکات پر مبنی ہے:

۱۔ جس معاشرے میں مسلمان اصلا غیر مسلموں کے سامنے دعوت دین پیش کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہوں، وہاں ایسے مخالفانہ رویوں پر صبر اور اعراض سے کام لیں اور اشتعال ظاہر کر کے دعوت کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔   قانون کو ہاتھ میں نہ لینا ایک عام انتظامی اصول ہے جس کی پابندی ہر جگہ ہی ضروری ہے۔ خاص طور پر جن ممالک میں توہین رسالت پر قانونی طور پر قتل کی سزا مقرر نہیں کی گئی، وہاں سوچ سمجھ کر ایسا اقدام کرنا زیادہ قابل اعتراض ہے۔ کسی نے وقتی اشتعال میں ایسا کر دیا ہو تو اس کا معاملہ الگ ہے، لیکن اس کو شرعی مطلوب کے طور پر پیش کرنا یا اس کو جواز دینا درست نہیں۔ ایسے ممالک میں مسلمانوں کے لیے مکی دور میں اسوہ ہے اور صبر وحکمت کے ساتھ اور قانون کے دائرے میں ہی مبنی بر توہین اظہارات پر ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور دینی حمیت سے تعلق نہیں رکھتا، دین کی دعوت اور مسلمانوں کے معاشرتی وسیاسی امیج کا ساتھ بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ کسی بھی معاشرے میں مسلمان اپنا کوئی موقف طے کرتے ہوئے ان تمام دینی مصلحتوں کو ملحوظ رکھنے کے پابند ہیں۔

۲۔  اگر مسلمانوں کے قانونی دائرہ اختیار میں  کوئی فرد یا گروہ اس جرم کا مرتکب ہو   تو اس صورت حال کے متعلق سورہ احزاب میں مسلمانوں کو    واضح راہ نمائی فراہم کی گئی ہے۔  سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس گروہ کو تفصیل سے موضوع بنایا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اہل خانہ اور عام مسلمان خواتین کو مسلسل اسکینڈلائز کرنے کی مہم میں مصروف تھا اور مسلمان سماج کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ قرآن مجید نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دنیا وآخرت میں خدا کی لعنت کے سزوار ہیں۔ انھیں چاہیے کہ اپنی روش سے باز آ جائیں، اور اگر اس تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے تو پھر اے پیغمبر، ہم آپ کو حکم دیں گے کہ ان کے خلاف آپریشن کریں، اور پھر یہ لوگ مدینے میں رہنے نہیں پائیں گے، بلکہ جہاں ملیں گے، ان کو پکڑ کر قتل کر دیا جائے گا۔

اس ہدایت میں قرآن نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے شریعت کا یعنی فقہی اصطلاح میں "حدود" کا نہیں، بلکہ سیاست شرعیہ کا معاملہ ہے۔  چنانچہ کوئی ایک یا چند افراد یا ایک  پورا گروہ توہین رسالت کو باقاعدہ ایک مہم بنا کر مسلمانوں کے درپے آزار ہو تو اسے تنبیہ کی جائے گی، زجر وتوبیخ اور دوسرے تعزیری اقدامات سے اپنی روش بدلنے پر مجبور کیا جائے گا اور پھر بھی وہ باز نہ آئے تو اس کے خلاف آخری اور انتہائی اقدام کر کے اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ توہین رسالت کے جرم کو قذف کی طرح حدود کے زمرے میں شامل نہ کرنے اور اسے سیاست شرعیہ سے متعلق قرار دینے میں گہری دینی حکمتیں مضمر ہیں جن کی کچھ تفصیل ہماری کتاب ’’براہین’’ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

قرآن مجید کی اس راہ نمائی کو پیش نظر رکھا جائے تو موجودہ صورت حال میں  توہین رسالت کے واقعات پر امت مسلمہ کی طرف سے رد عمل کے اظہار  کا  جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، اس میں کئی چیزیں  نظر ثانی اور اصلاح کا تقاضا کرتی ہیں۔  یہاں اس حوالے سے چند اہم پہلووں کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔

پہلا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ باعتبار عقیدہ، ہمارے لیے کسی بھی نبی کی توہین ناقابل قبول وناقابل تصور ہے، لیکن پوری امت، مغرب میں توہین انبیاء کے کسی واقعے پر صرف اس وقت برسر احتجاج ہوتی ہے جب توہین کا نشانہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا جائے۔ حالانکہ اس سے کہیں زیادہ توہین آمیز فلمیں اور کتابیں سیدنا موسیٰ اور سیدنا مسیح علیہما السلام کے متعلق منظر عام پر آئی ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک اور  ظاہرہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ایمان تو تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن نعت صرف آخری نبی کی کہتے ہیں۔ کبھی کسی معروف یا غیر معروف نعتیہ مجموعے میں یا محافل نعت میں حضرت آدم سے لے کر حضرت مسیح تک، علیہم السلام، کسی نبی کی نعت پڑھنے یا سننے کو نہیں ملتی۔  غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ نبی آخر الزمان علیہ السلام کے متعلق مطلق افضلیت کے عقیدے کی وجہ سے ہم ’’تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض’’ اور ’’ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض’’ جیسی آیات کو ہم صرف سابقہ انبیاء تک محدود مانتے ہیں۔ ہماری نعتوں میں نبی اکرم کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ ان کا سابقہ انبیاء کے ساتھ تقابل کیا جاتا ہے جس کی احادیث میں تصریحاً‌ ممانعت کی گئی ہے۔ ہمارے شارحین نے اس ’’اشکال’’ کے ساٹھ ساٹھ جوابات سوچنے کا اہتمام کیا ہے کہ درود ابراہیمی میں ’’کما صلیت علی ابراھیم’’ کے الفاظ سے تو حضرت ابراہیم کا افضل ہونا ثابت ہے، کیونکہ مشبہ بہ میں وجہ شبہ، مشبہ کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے۔  نعت میں بھی چونکہ منعوت کی کسی نہ کسی امتیازی صفت اور فضیلت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے اور نفسیاتی طور پر ہمیں یہ گوارا نہیں کہ کسی دوسرے نبی کی کوئی امتیازی فضیلت نمایاں ہو۔ اس لیے ہم نے غیر شعوری طور پر نعت کا دائرہ ہی خاتم الرسل تک محدود کر لیا ہے۔ انبیاء اور رسولوں کی توہین پر احتجاج کو صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود  کر دینا بھی اسی   سوچ کا ایک افسوس ناک مظہر معلوم ہوتا ہے۔

دوسرا قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے ناموس کی حفاظت جہاں کسی گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچانے سے یقینی بنتی ہے، وہاں قانون کی پاسداری سے اس سے بھی زیادہ یقینی بنتی  ہے۔ اسلام اور اہل اسلام کے لیے یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی توہین جیسے حساس ترین معاملے میں بھی قانون اور انصاف کے حدود کی پابندی کرتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے یہودیوں کے پاس فصل کا حصہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو انھوں نے یہودیوں سے کہا کہ خدا کی قسم، تم میرے لیے روئے زمین کی مبغوض ترین قوم ہو، لیکن یہ بات بھی مجھے تمھارے ساتھ ناانصافی پر آمادہ نہیں کرتی۔ اور اس کے جواب میں یہودیوں نے گواہی دی تھی کہ بخدا یہی وہ انصاف ہے جس کے سہارے زمین وآسمان قائم ہیں۔ (ابوداود)

تاہم اس نوعیت کے مقدمات میں  ہماری مذہبی قیادت نے عموما جو پوزیشن اختیار کی ہے، اس سے  معاشرے میں اس تباہ کن رجحان کو تقویت پہنچی ہے کہ توہین رسالت کا معاملہ اصلاً‌ ایمانی جذبات کا معاملہ ہے اور قانون ضابطے کی حیثیت اس ضمن میں ثانوی ہے۔  یہ پوزیشن ایک بڑے سیاق میں معاشرے میں مذہبی ڈسکورسز کے، اخلاقی جواز سے تہی دامن ہو جانے کے مرحلے کی طرف پیش رفت میں آسانی پیدا کر رہی ہے۔ توہین مذہب پر سزا کے قانون کا جواز اور معنویت اسی وقت تک ہے جب اس کی تنفیذ کے لیے عدالتی اختیار کو عملا قبول کیا جائے، چاہے نظری طور پر کسی فیصلے سے اختلاف ہی کیا جائے۔ اگر قانون کے اطلاق اور تنفیذ کا اختیار بھی مذہبی جذبات سے معمور کسی شخص  کے پاس ہے تو ظاہر ہے، قانون سازی ایک فضول کام ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات میں مسلسل یہ پوزیشن لے کر مذہبی قیادت نے معاشرے کو دراصل یہی پیغام دیا ہے۔ وقتی طور پر ممکن ہے، خوف اور دہشت کی فضا مذہبی مواقف کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک کارآمد وسیلہ بن رہی ہو، لیکن اس کے مجموعی اثرات مذہبی پوزیشن کے لیے مہلک اور تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔

تیسرے نکتے کے طور پر  یہ یاددہانی بھی اس موقع پر مناسب ہے کہ مذہبی جذبات ہر کمیونٹی کے ہوتے ہیں جن کو مجروح کرنا نہ حق بات کو واضح کرنے کا کوئی تقاضا ہے، نہ مذہبی اختلاف کا اور نہ حکمت دعوت کا۔ اس حوالے سے  والد گرامی مولانا زاہد الراشدی کی ایک تحریر سے درج ذیل اقتباس نقل کرنا یہاں نہایت برمحل ہے:

’’یہ گزشتہ صدی عیسوی کی چھٹی دہائی کا قصہ ہے کہ وہ (فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ) گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں علما اور طلبہ کو قادیانیت کے سلسلے میں تربیتی کورس کرانے کی غرض سے چند روز کے لیے تشریف لائے۔ میں ان دنوں مدرسہ نصرة العلوم میں زیر تعلیم تھا اور قادیانیت کے عقائد کے بارے میں ابتدائی تیاری میں نے انھی دنوں حضرت مولانا محمد حیات رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس تربیتی کورس میں شامل ہو کر کی۔

کورس کے دوران ایک روز ”حیات عیسیٰ علیہ السلام“ کا موضوع زیر بحث تھا۔ مولانا مرحوم نے قادیانیوں کے چند دلائل کا ذکر کیا اور ان کے جوابات سمجھائے اور مجھے کہا کہ میں اٹھ کر تقریر کی شکل میں ان کی گفتگو کا خلاصہ بیان کروں۔ میرا نوجوانی کا دور تھا اور ایک دینی مدرسے کا طالب علم تھا، اس لیے گفتگو کا انداز فطری طور پر جذباتی اور جارحانہ تھا، چنانچہ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بات کا حوالہ دینے کا موقع آیا تو میں نے اس کا ذکر ان الفاظ سے کیا کہ ”مرزا بھونکتا ہے۔“ مولانا محمد حیاتؒ نے فوراً یہ کہہ کر مجھے ٹوک دیا کہ:

”ناں  بیٹا ناں، ایسا نہیں کہتے۔ وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے، اس لیے بات یوں کرو کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں، لیکن ان کی یہ بات اس وجہ سے غلط ہے۔“

استاذ محترم کا یہ جملہ ذہن کے ساتھ کچھ اس طرح چپک گیا کہ اس نے سوچ کا زاویہ اور گفتگو کا انداز بدل کر رکھ دیا۔ اس لیے آج بھی جب اس واقعہ کی یاد ذہن میں تازہ ہوتی ہے تو مولانا محمد حیاتؒ کے لیے دل کی گہرائی سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے۔“ (روزنامہ اوصاف، ۱۲ مئی ۲۰۰۰ )

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(221)    علا یعلو کے مختلف صیغوں کا ترجمہ

علا یعلو کا مطلب ہے اوپر اٹھنا بلند ہونا، اس کا مصدر علو ہے اور اسم فاعل عال ہے۔ اس لفظ سے قابل تعریف مفہوم بھی نکلتا ہے اور قابل مذمت مفہوم بھی نکلتا ہے۔ خلیل فراہیدی کے مطابق: والعُلُوُّ العظمۃ والتجبّر. یقال: علا مَلِک فی الارض ای: طغَی وتعظّم۔ (العین)۔

اس لفظ کے استعمالات بتاتے ہیں کہ اس کا اطلاق دل کی کیفیت پر نہیں ہوتا ہے، بلکہ واقعی عمل اور حالت پر ہوتا ہے۔ یعنی کسی کے دل میں یہ احساس ہو کہ وہ سب سے اونچا ہے تو اس کے لیے علو نہیں استعمال ہوگا، اور اگر کوئی اونچا ہو، یا اونچا بننے کی کوشش کررہا ہو تو اس کے لیے علو استعمال ہوگا۔ اسی طرح غرور وتکبر پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، غلبہ وسرکشی پر اس کا اطلاق ہوگا۔

قرآنی استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ عال جس کی جمع عالون ہے وہ قابل تعریف معنی میں استعمال نہیں ہوتا ہے، جبکہ اعلی قابل تعریف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان کے لیے عالون کا لفظ نہیں آیا بلکہ اعلون کا لفظ آیا۔ جیسے:

وَاَنتُمُ الاعلَونَ اِن کُنتُم مُومِنِینَ۔ (آل عمران: 139)اور

فَلَا تَہِنُوا وَتَدعُوا اِلَی السَّلمِ وَانتُمُ الاعلَونَ۔ (محمد: 35)

اسی طرح قرآن مجید میں اس لفظ کے فعل یعنی علا اور یعلو کا استعمال بھی اچھے لوگوں کے لیے نہیں ملتا۔

تراجم قرآن کا جائزہ بتاتا ہے کہ مترجمین نے اس لفظ کے ترجمے کے لیے کوئی متعین موقف طے نہیں کیا اور الگ الگ مقامات پر مختلف ترجمے کیے۔ ذیل کی سطور میں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

(1) وَان لَا تَعلُوا عَلَی اللَّہِ۔ (الدخان: 19)

”اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو“۔(محمد جونا گڑھی)

”اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو“۔ (سید مودودی)

”اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

اس آیت میں تعلوا کا ترجمہ سب لوگوں نے سرکشی کیا ہے، سرکشی کی تعبیر اس لفظ کی صحیح ترجمانی کرتی ہے، اور وہ تقریباً ان تمام مقامات پر موزوں ہوجاتی ہے جہاں یہ لفظ مذمت کے سیاق میں آیا ہے، تاہم اگلی آیتوں میں ہم دیکھیں گے کہ اس لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کیے گئے ہیں۔

(2) اِنَّ فِرعَونَ عَلَا فِی الارضِ۔ (القصص: 4)

”واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی“۔ (سید مودودی)

”کہ فرعون نے ملک میں سر اُٹھا رکھا تھا“۔(فتح محمد جالندھری)

”یقینا فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی“۔ (محمد جونا گڑھی)

”بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا“۔ (احمد رضا خان)

گزشتہ آیت میں فرعون اور اس کے درباریوں سے کہا گیا تھا: لا تعلوا جس کا ترجمہ کیا گیا سرکشی نہ کرو، تو اس آیت میں فرعون کے بارے میں علا فی الارض کہا گیا تو اس سے مراد سرکشی ہی ہونی چاہیے، اس کا ترجمہ غلبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور اس کی خاص معنویت بھی نہیں ہے، ظاہر ہے غلبہ پانا کوئی جرم تو ہے نہیں، جبکہ بیان اس کے جرائم کا ہے۔

(3) قَالَ یا ابلِیسُ مَا مَنَعَکَ ان تَسجُدَ لِمَا خَلَقتُ بِیَدَیَّ اَستَکبَرتَ ام کُنتَ مِنَ العَالِینَ۔ (ص: 75)

”(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

 ”کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟“۔ (سید مودودی)

”تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں“۔ (احمد رضا خان)

آخری ترجمے میں مغرور ترجمہ کیا گیا ہے، اور استکبار اور علو کو ہم معنی سمجھا گیا ہے جو درست نہیں ہے، غرور کے لیے آیت میں استکبار آیا ہے، استکبار یعنی غرور ایک باطنی کیفیت ہے، جبکہ علو ظاہری کیفیت اور حالت ہے۔ اگر کوئی شخص بظاہر لوگوں کے اوپر سوار نہیں ہے مگر اس کے اندر گھمنڈ ہے تو اسے استکبار تو کہا جائے گا مگر علو نہیں کہا جائے گا۔ مزید یہ کہ جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ تکلف سے پر معلوم ہوتا ہے، یہاں یہ پوچھنے کا آخر کیا محل ہے کہ غرور ابھی ہوا ہے یا پہلے سے ہے؟

بقیہ ترجموں میں عالین کا ترجمہ اونچے درجے اور بڑے درجے کا کیا گیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، ایک تو اونچے درجے کا ہونا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی وجہ نہیں بن سکتا ہے، دوسرے یہ کہ عالین کا لفظ اونچے درجے والوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے، ان کے لیے اعلون استعمال ہوتا ہے۔ صحیح ترجمہ اس طرح ہے:

”تو تکبر کر رہا ہے یا تو سرکشی کرنے والوں میں سے ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

اس ترجمہ میں معنویت یہ ہے کہ حکم سے سرتابی کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں، یا تو غرور یا پھر سرکشی۔ غرور کا تعلق احساس کبر سے ہوتا ہے، اور سرکشی کا محرک بغاوت ونافرمانی کا جذبہ ہوتا ہے، اس میں غرور کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ درج ذیل مثال سے یہ بات اور واضح ہوجاتی ہے۔

(4) اِلَی فِرعَونَ وَمَلَئِہِ فَاستَکبَرُوا وَکَانُوا قَومًا عَالِینَ۔ (المومنون: 46)

” (یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وہ سرکش لوگ“۔ (محمد جوناگڑھی)

”فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس رسول بناکر بھیجا تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے“۔ (امین احسن اصلاحی)

” فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے غرور کیا اور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے“۔(احمد رضا خان)

یہاں بتایا گیا کہ فرعون اور اس کے درباریوں میں دو برائیاں جمع ہوگئی تھیں، استکبار اور علو۔ پہلی آیت میں جن لوگوں نے اونچے اور بڑے درجے ترجمہ کیا تھا انھوں نے یہاں نہیں کیا، کیونکہ یہ بات یہاں زیادہ واضح ہے کہ یہاں اونچے اور بڑے درجے کا کوئی محل نہیں ہے، قوما عالین کا یہاں درست ترجمہ سرکش لوگ ہے، مغرور لوگ اس لیے درست نہیں ہے کہ علو غرور سے مختلف چیز ہے، دوسرے یہ کہ استکبار کا ذکر تو ہوہی چکا ہے، جس کے معنی غرور کے ہیں۔ غلبہ پائے ہوئے لوگ بھی موزوں ترجمہ نہیں ہے، گو کہ علو میں غلبہ پانے کا مفہوم پایا جاتا ہے، لیکن استکبار کے ساتھ سرکشی کا جوڑ ہے، غلبہ پانا کوئی برائی نہیں ہے جس کا یہاں ذکر کیا جائے، دوسری بات یہ ہے کہ اس لفظ کی دوسری نظیروں میں یہ ترجمہ موزوں نہیں ہوتا ہے، جبکہ سرکش کا لفظ تقریبا ہرجگہ موزوں بیٹھتا ہے۔

(5) وَاِنَّ فِرعَونَ لَعَالٍ فِی الاَرضِ وَاِنَّہُ لَمِنَ المُسرِفِینَ۔ (یونس: 83)

”واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں“۔ (سید مودودی)

” اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا“۔ (احمد رضا خان)

”اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بے شک فرعون ملک میں نہایت سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں بھی عال کا ترجمہ سرکش سب سے موزوں ہے، زمین میں غلبہ رکھنا یا زور رکھنا کوئی برائی نہیں ہے جسے ذکر کیا جائے۔

(6) مِن فِرعَونَ اِنَّہُ کَانَ عَالِیًا مِنَ المُسرِفِینَ۔ (الدخان: 31)

”فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی تھا“۔ (سید مودودی)

”فرعون سے، بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں سے“۔ (احمد رضا خان)

” (جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فی الواقع وہ سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”(یعنی) فرعون سے۔ بےشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”بے شک وہ بڑا ہی سرکش، حدود سے نکل جانے والا تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

عالیا کا ترجمہ بڑے اونچے درجے کا آدمی درست نہیں ہے، ”حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی ہونا“ عجیب سی بات ہے۔ متکبر بھی موزوں ترجمہ نہیں ہے۔ درست ترجمہ سرکش ہی ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف صیغوں سے زیادہ تر فرعون اور اس کے درباریوں کے لیے آیا ہے، اور اگر وہ تمام مقامات ایک ساتھ سامنے رکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا بڑا جرم سرکشی تھا جس کا مختلف پیرایوں میں بار بار ذکر کیا گیا۔

(7) تِلکَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجعَلُہَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الارضِ وَلَا فَسَادًا۔ (القصص: 83)

”وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد“۔(احمد رضا خان)

”وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لیے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں“۔(محمد جوناگڑھی)

”جو زمین میں غرور اور فساد کے چاہنے والے نہیں ہیں“ (امین احسن اصلاحی)

اس آیت میں علو کے لیے سرکشی ہی مناسب لفظ ہے۔

(8) وَقَضَینَا اِلَی بَنِی اِسرَائِیلَ فِی الکِتَابِ لَتُفسِدُنَّ فِی الارضِ مَرَّتَینِ وَلَتَعلُنَّ عُلُوًّا کَبِیرًا۔ (الاسراء: 4)

”تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاو گے“۔ (سید مودودی)

”زمین میں دو دفعہ فساد مچاوگے اور بڑی سرکشی کرو گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دوبار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ضرور تم زمین میں دوبارہ فساد مچاو گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے“۔ (احمد رضا خان)

سرکشی موزوں ہے، زیادتیاں اور غرور اس لفظ کے دائرے میں نہیں آتے، اس کے علاوہ غرور کا محل بھی نہیں معلوم ہوتا ہے۔

(9) مَا اتَّخَذَ اللَّہُ مِن وَلَدٍ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِن الَہٍ اِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِلَہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعضُہُم عَلَی بَعضٍ۔  (المومنون: 91)

”اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے“۔ (سید مودودی)

”اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا“۔ (فتح محمد جالندھری)

غالب آجانا یہاں درست ترجمہ نہیں ہے، بعض خداوں کا بعض خداوں پر غالب آجانے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی خدا مغلوب کیسے ہوسکتا ہے؟ اور اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟! ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنا مناسب ترجمہ ہے جو سرکشی سے قریب مفہوم رکھتا ہے۔

حنفی مذہب کی تفہیم وتوجیہ میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا مسلک

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

برصغیر پاک و ہند میں جن شخصیات کو علمی میدان میں امتیازی مقام حاصل ہے، ان میں مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ بھی شامل ہیں ۔ ان کا بے مثال حافظہ ، وسعت مطالعہ ، مسائل کا استحضار ،  دلائل کا تجزیہ و محاکمہ کرنے کی صلاحیت اور دین متین کی حفاظت و صیانت اور ترویج و اشاعت کے لیے تڑپ  شاید اپنی مثال آپ ہے ۔ علم سے لگاو اور مطالعہ کی لگن پیدائشی طور پر ان کے وجود میں گوندھ دی گئی تھی جس کا ظہور اس جہان فانی میں ان کے آخری سانس تک ہوتا رہا ۔ اپنے عہد میں انہیں جن بڑے مسائل کا سامنا تھا، ان میں ائمہ احناف پر استخفاف حدیث کا الزام لگا کر ان کی مساعی جمیلہ کی بے قدری اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا فتنہ سب سے نمایاں تھے  اور بلا شبہ یہ دو پہلو ان کی علمی تگ و تاز کا محور و مرکز بنے رہے ۔ اس کے ساتھ علمی میدان میں طلبہ کی کم ہمتی ، استعمار کے زیر اثر علمی شغف میں کمی اور سب سے بڑھ کر  بدلتے حالات کے تناظر میں پیش آمدہ مسائل کا بھی ادراک تھا ، اس لیے ان کے علمی ورثہ میں ان تمام حوالوں سے متنوع علمی مواد ملتا ہے۔

حنفیت کا دفاع و ترجیح

شاہ صاحب ؒ کے درس حدیث کی ایک نمایاں خاصیت حنفی فقہ کو حدیث کے دلائل سے مبرہن کرنا تھا ۔ ان کے زمانے میں برصغیر میں اس موقف کا کافی شور تھا کہ حنفی فقہ حدیث کے متوازی مواقف پر قائم ہے  اور اس فقہ کی بنیاد احادیث کی بجائے امام ابو حنیفہ ؒ کی آرا پر ہے ۔ یہ موقف زور و شور سے عوام و خواص میں پھیلایا گیا جس کی وجہ سے فقہ حنفی کی پیروی کرنے والے اہل علم نے اس موقف کی غلطی واضح کرنے کو اپنی علمی تگ و تاز کا عنوان بنایا ۔ شاہ صاحب ؒ نے بھی فقہ حنفی کے مواقف کو حدیث سے ثابت کرنے کے لیے انتہائی کوشش کی ، لیکن بتکلف حدیث کو فقہ حنفی کے مطابق ڈھالنے  کی سعی نہیں کی بلکہ منصفانہ طور پر حدیث کی ایسی تشریح کی کہ اس سے خود بخود فقہ حنفی کی تائید ہو جاتی ۔  اسی کوشش میں شاہ صاحب ؒ کے علوم کا صحیح اظہار ہوا ۔  قاری محمد طیب صاحب ؒ شاہ صاحب ؒ کے درس کی اس خاصیت کے بارے اس طرح رقم طراز ہیں :

’’حضرت شاہ صاحب ؒ کے درس حدیث میں کچھ ایسی امتیازی خصوصیات نمایاں ہوئیں جو عام طور سے دروس میں نہیں تھیں اور حضرت شاہ صاحب ؒ کا انداز درس درحقیقت دنیائے درس و تدریس میں ایک انقلاب کا باعث ثابت ہوا۔ ۔۔  اولا آپ کے درس حدیث میں رنگ تحدیث غالب تھا۔ فقہ حنفی کی خدمت ، تائید و ترجیح بلا شبہ ان کی زندگی تھی لیکن رنگ محدثانہ تھا ۔ فقہی مسائل میں کافی سیر حاصل بحث فرماتے لیکن انداز بیان سے یہ کبھی مفہوم نہیں ہوتا تھا کہ آپ حدیث کو فقہی مسائل کے تابع کر رہے ہیں اور کھینچ تان کر حدیث کو فقہ حنفی کی تائید میں لانا چاہتے ہیں۔  بھلا اس کا قصد و ارادہ تو کیا ہوتا ؟ بلکہ واضح یہ ہوتا تھا کہ آپ فقہ کو بحکم حدیث قبول کر رہے ہیں ۔ حدیث فقہ کی طرف نہیں لے جائی جا رہی ہے ، بلکہ فقہ حدیث کی طرف لایا جا رہا ہے ، وہ آ رہا ہے اور کلیۃ حدیث کے موافق پڑتا جا رہا ہے۔ بالفاظ دیگر گویا حدیث کا سارا ذخیرہ فقہ حنفی کو اپنے اندر سے نکال نکال کر پیش کر رہا ہے اور اسے پیدا کرنے کے لیے نمودار ہوا ہے۔‘‘1

فقہ حنفی سے اسی لگاو کی وجہ سے شاہ صاحب ؒ کی تصنیفی و تالیفی باقیات عمومی طور پر انہی اختلافی مسائل پر ہیں جو احناف و غیر احناف علماء کے مابین متنازع رہے اور جنہیں بطور خاص عوام میں پھیلا کر اس تاثر کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی کہ فقہ حنفی حدیث کے خلاف ہے ۔ ان تصانیف میں " فصل الخطاب فی مسئلۃ ام الکتاب" " کشف الستر عن صلوۃ الوتر " " بسط الیدین فی مسئلۃ رفع الیدین " اور "نیل الفرقدین فی مسئلۃ رفع الیدین "  شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ املائی تقریریں اور امالی میں بھی حنفیت کے دفاع کا پہلو نمایاں اور غالب واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ انہوں نے حنفیت کا دفاع کیسے کیا اور اس مقصد کے حصول میں ان کا اسلوب و منہج کیا تھا، اسے سمجھنے کے لیے قاری طیب صاحب ؒ کے مضمون کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں ۔

’’ایک بار ایک مناظرہ میں جو حضرت ممدوح اور ایک عالم اہل حدیث کے مابین ہوا ، اہل حدیث عالم نے پوچھا۔ کیا آپ ابو حنیفہ ؒ کے مقلد ہیں ؟ فرمایا نہیں ، میں خود مجتہد ہوں اور اپنی تحقیق پر عمل کرتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ آپ تو ہر مسئلہ میں فقہ حنفی ہی کی تائید کر رہے ہیں ۔ پھر مجتہد کیسے ؟ فرمایا یہ حسن اتفاق ہے کہ میرا ہر اجتہاد ابو حنیفہ ؒ کے اجتہاد کے مطابق پڑتا ہے ۔ اس طرح جواب سے سمجھانا یہی منظور تھا کہ ہم فقہ حنفی کو خواہ مخواہ بنانے کے لیے حدیث کو استعمال نہیں کرتے ، بلکہ حدیث میں سے فقہ حنفی کو نکلتا ہوا دیکھ کر اس کا استخراج سمجھا دیتے ہیں اور طریق استخراج پر مطلع کر دیتے ہیں۔2

’’تفسیر الحدیث بالحدیث کے اصول پر کسی حدیث کے بارہ میں جو دعوی کرتے اسے دوسری احادیث سے موید اور مضبوط کرنے کے لیے درس ہی میں کتب پر کتب کھول کھول کر دکھاتے جاتے تھے اور جب ایک حدیث کا دوسری احادیث کی واضح تفسیر سے مفہوم متعین ہو جاتا تھا تو نتیجہ وہی فقہ حنفی کا مسئلہ نکلتا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ حدیث فقہ حنفی کو پیدا کر رہی ہے  ، یہ ہر گز مفہوم نہیں ہوتا تھا کہ فقہ حنفی کی تائید میں خواہ مخواہ توڑ مروڑ کر حدیثوں کو پیش کیا جا رہا ہے ۔ یعنی گویا اصل تو مذہب حنفی ہے محض مؤیدات کے طور پر روایات حدیث سے اسے مضبوط بنانے کے لیے یہ ساری جدوجہد کی جا رہی ہے ، نہیں بلکہ یہ کہ حدیث اصل ہے لیکن جب بھی اس کے مفہوم کو اس کے فحوی اور سیاق و سباق نیز دوسری احادیث باب کی تائید و مدد سے اسے مشخص کر دیا جائے تو اس میں سے فقہ حنفی نکلتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اس لیے طلبہ حدیث حضرت ممدوح کے درس سے یہ ذوق لے کر اٹھتے تھے کہ ہم فقہ حنفی پر عمل کرتے ہوئے حقیقتا حدیث پر عمل کر رہے ہیں اور حدیث کا جو مفہوم ابو حنیفہ ؒ نے سمجھا ہے وہی درحقیقت شارع علیہ السلام کا منشاء ہے جس کو روایت حدیث ادا کر رہی ہے ، بلکہ یہ سمجھ میں آتا تھا کہ روایت حدیث سے امام ابو حنیفہ ؒ اپنا کوئی مفہوم پیش نہیں کرتے ، بلکہ صرف پیغمبر علیہ السلام کا مفہوم پیش کر رہے ہیں اور خود اس حدیث میں محض ایک جویا اور ناقل کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘2

دفاع احناف  اور تطبیق اقوال

شاہ صاحب ؒ کا امام ابو حنیفہ ؒ کے ساتھ تعلق والہانہ تھا ۔ اختلافی مسائل میں ان کا اسلوب یہ تھا کہ فقہاء احناف کے اقوال میں سے وہ قول اختیار کرتے جو اختلاف کو کم سے کم کرنے اور تطبیق پیدا کرنے کا باعث ہوتا ۔ اس مقصد کے لیے وہ اس بات کی بھی پروا نہیں کرتے کہ اختیار کردہ قول فقہاء احناف کے ہاں مرجوح سمجھا جاتا ہے ۔ مقصد اختلافی مسائل میں کوئی متفق علیہ قول اختیار کرنے کی جستجو تھی  اور اگر کوئی ایسا قول نہ ملتا تو پھر بسا اوقات خود اجتہاد کرتے اور کوئی ایسی رائے اپناتے جس سے یا تو اختلاف ختم ہو جائے یا اس کی شدت میں کمی آ جائے ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ اس اسلوب کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

اذا تكون في مسئلۃ روايتان من الامام ابي حنيفۃ رحمہ اللہ او قولان من المشائخ الحنفيۃ، كان يختار منھما ما يوافق الحديث الصريح الصحيح من غير تكلف و تاول، و ربما كان ھو من النوادر، فان لم يكن في الباب حديث صريح، او كان الامر دائرا في البين يرجح ما يوافق مذھبا آخر من المذاھب الربعۃ، ولعلہ كان المقدم حينئذ مذھب الشافعي ثم مالك رحمھما اللہ فيما اري و اللہ اعلم ۔ فان لم يكن لذالك مساغ كان يجتھد و يسعي في تقريب المذھب اليہ ليرتفع امر الخلاف راسا، او يھون امره و يخفف وقرہ، وھذا خلاف صنيع اكثر علماء العھد الغابر والعصر الحاضر۔4

’’جب کسی مسئلہ میں امام ابو حنیفہ ؒ سے دو روایات ہوتیں  یا مشائخ حنفیہ سے دو قول مروی ہوتے ، تو آپ ان میں  سے بغیر کسی تکلف و تاویل کے وہ قول اختیار کرتے جو صحیح صریح حدیث کے موافق ہوتا ۔ کبھی یہ قول نوادر میں سے بھی ہوتا تھا، اگر اس باب میں کوئی صریح حدیث نہ ہوتی یا معاملہ بین بین ہوتا تو مذاہب اربعہ میں سے کسی دوسرے مذہب کے موافق ترجیح قائم کر لیتے ۔ شاید کہ اس وقت سب سے مقدم امام شافعی کا مذہب پھر امام مالک ؒ کا مذہب ہوتا،  میری رائے کے مطابق ، اللہ بہتر جانتا ہے ۔  اگر اس کی بھی گنجائش نہ ہوتی تو پھر وہ خود اجتہاد کرتے اور مذہب کو قریب کرنے کی کوشش کرتے تاکہ اختلاف سرے سے ہی رفع ہو جائے ، یا اختلاف کا مسئلہ ہلکا یا خفیف ہو جائے۔ یہ اسلوب ماضی و حال کے اکثر علماء کے صنیع کے خلاف ہے۔‘‘

شاہ صاحب ؒ اس بات کا بہت اہتمام کرتے تھے کہ احناف کے کسی قول  پر عمل کرنے کے لیے اس بات پر مجبور نا ہونا پڑے کہ نص کو کسی خاص مورد کے ساتھ مخصوص مانا جائے  اور اس نص کے خلاف کوئی تعبیر اختیار کی جائے ۔  ایسے مواقع پر  اگر انہیں امام ابوحنیفہ ؒ کا کوئی نادر قول یا ان کے اصحاب میں سے کسی کا کوئی ایسا قول مل جاتا جس سے ان کا موقف نص کے مطابق یا قریب ہو سکتا تو آپ اسی کو اختیار کرتے خواہ وہ قول مابین الاحناف غیر معروف یا غیر متوارث ہی کیوں نہ ہوتا ۔ وہ کسی نہ کسی مرتبہ میں اسی قول پر عمل کو ترجیح دیتے ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے۔

 مثالہ: قولہ تعالی: "فلا يقربوا المسجد الحرام " الآيۃ۔ اختلف الائمۃ في دخول الكافر المسجد علي ثلاثۃ اقوال : اجازہ الامام الشافعي في غير مسجد الحرام ، و منعہ مالك في المسجد الحرام و غيرہ سواء  بسواء ، و جوزہ الحنفيۃ فيہ و بالاولی في غيرہ اعتبارا بالتعليل، و اذا ليس فليس ۔ فقال الشيخ رحمہ اللہ تعالی: قال محمد رحمہ اللہ في "السير الكبير" : لايجوز دخول المشرك في المسجد الحرام، فليستمسك ھھنا بقول محمد رحمہ اللہ، فانہ الصق بالقرآن ، و اقرب الي مذھب مالك و اوفق مذھب الشافعي۔5

 ’’اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان : " پس وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں "  ۔ کافر کے مسجد میں دخول کے معاملے میں ائمہ کرام میں اختلاف ہے اور تین اقوال ہیں : امام شافعی ؒ نے اس کی اجازت دی ہے ، سوائے مسجد حرام کے ۔ امام مالک ؒ نے مسجد حرام اور دیگر مساجد میں داخلے سے منع کیا ہے ۔ اور احناف نے مسجد حرام میں داخلہ جائز قرار دیا ہے اور دیگر مساجد میں تو بطریق اولی اجازت ہے علہ کا اعتبار کرتے ہوئے ۔ جب یہ علۃ نہیں تو ممانعت بھی نہیں ۔ پس شیخ ؒ کہتے ہیں : امام محمد السیر الکبیر میں کہتے ہیں : " مسجد حرام میں مشرک کا داخل ہونا جائز نہیں ۔ چنانچہ اس مسئلہ میں امام محمد ؒ کے قول اس تمسک کیا ہے ، کیونکہ یہ قرآن کریم کے زیادہ قریب اور امام مالک و امام شافعی ؒ کے مذہب کے زیادہ موافق ہے۔

اس کی ایک اور مثال کتا  ب اللہ کے حکم پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی اور تخصیص کا مسئلہ ہے ۔ عام طور پر کتب احناف میں مذکور ہے کہ خبر واحد کے ذریعہ کتاب اللہ کے عام کو خاص نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن شاہ صاحب ؒ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک کتاب اللہ کے عام کو خبر واحد کے ذریعہ خاص کیا جا سکتا ہے  اور اس ضمن میں احناف کا موقف بالکل وہی ہے جو ائمہ ثلاثہ کا ہے ۔ اس باب میں انہوں نے امام کرخی ؒ کے نقل پر اعتماد کرتے ہوئے اس عام تعبیر کو چھوڑ دیا کہ خبر واحد کے ذریعہ کتاب اللہ کے عام میں تخصیص جائز نہیں ۔ امام کرخی ؒ کا قول اختیار کرنے سے ائمہ اربعہ کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں رہا ۔ شاہ صاحب ؒ فرماتے ہیں:

في كتبنا عامۃ ان عام الكتاب لا يخصص بالخبر عندنا ، والذي وضح لدي انہ يجوز ، لان كتب المذاھب الثلاثۃ صرحوا بجوازہ عندالائمۃ الاربعۃ، كما  في " المحصول" ، و " المختصر" و شرحہ للعضد ، و شرح " الاسنوي" علي " المنھاج" للقاضي بيضاوي ، و المستصفي" و غيرھا ۔ فاختلف علماؤنا و علماء المذاھب الاخر في نقل مذھبنا ، وكنت اظن اولا ان المذھب الصحيح ما نقلوہ، لان ما في كتبنا نقل المتاخرين، وقد نسب الي الكرخي منا رحمہ اللہ تعالي ان التخصيص جائز عندہ ، فاعتمدت عليہ للمذھب ، وجعلت ما اختارہ مذھب الامام ، لانہ اقدم و اثبت،  وما في كتبنا فكانہ مختارھم و ليس مذھبنا۔6

لیکن آخری عمر میں امام ابو حنیفہ ؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت کی وجہ سے انہی کے قول کو اختیار کرنے لگے۔ یہ رویہ محض عقیدت پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے وسعت مطالعہ اور عمر بھر کی تحقیقات کے نچوڑ کے طور پر یہ قلبی اطمینان تھا کہ امام صاحب ؒ کسی بھی قول میں گہرائی و گیرائی کے اعتبار سے اپنے اقران سے زیادہ ممتاز ،  مزاج شریعت و صاحب شریعت  ﷺ کے زیادہ قریب اور عصری تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ گزشتہ اسلوب پر اس انداز میں تبصرہ کیا کرتے:

’’حضرت ممدوح کا یہ جملہ کہ عمر بھر ابوحنیفہ ؒ کی نمک حرامی کی ، شاید اس طرف مشیر ہے کہ حضرت ممدوح جہاں روایات حدیث میں تظبیق و توفیق روایات کا اصول اختیار فرمائے ہوئے تھے، وہیں روایات فقہیہ میں بھی آپ کا اصول تقریبا تطبیق و توفیق ہی کا تھا ، یعنی مذاہب فقہاء کے اختلاف کی صورت میں حنفیہ کا وہ قول نقل فرماتے جس سے خروج عن الخلاف ہو جائے اور دونوں فقہ باہم جڑ جائیں ، اگرچہ یہ قول مفتی بہ بھی نہ ہو اور مسلک معروف کے مطابق بھی نہ ہو ۔ نظر صرف اس پر تھی کہ دو فقہی مذہبوں میں اختلاف جتنا کم سے کم رہ جائے وہی بہتر ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس میں بعض مواقع پر خود امام کا قول بھی چھوٹ جاتا اور صاحبین کا قول زیر اختیار آ جاتا تھا ، یعنی فقہ حنفی کے دائرے سے تو کبھی باہر نہیں جاتے تھے ، خواہ وہ بواسطہ صاحبین ابو حنیفہ ؒ ہی کا قول ہو ۔ شاید اس کو حضرت ممدوح نے ابو حنیفہ ؒ کی نمک حرامی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخر عمر میں اس توسع سے رجوع کر کے کھلے طور پر مذہب کے معروف و مفتی بہ حصے بلکہ اقوال ابی حنیفہ ؒ کے اختیار و ترجیح کی طرف طبیعت آ چکی تھی اور یہ بلا شبہ اس کی دلیل ہے کہ ابو حنیفہ ؒ کی خصوصیات کے بارہ میں حق تعالیٰ نے انہیں شرح صدر عطا فرما دیا تھا اور وہ بالآخر اسی ٹھیٹھ لکیر ہی پر جم کر چلنے لگے تھے جس پر ان کے شیوخ سرگرم رفتار رہ چکے تھے۔‘‘7

شاید یہی وجہ تھی کہ جب امام ابو حنیفہ ؒ سے اگر کسی مسئلہ میں بہت سی روایات منقول ہوں اور شاہ صاحب ؒ کے ہاں ان میں سے کوئی ایک کسی قوی دلیل و برہان کے ساتھ قابل ترجیح نہ ہو اور نہ ہی ان کے تقدم و تاخر کی کوئی اطلاع ہو  تو آپ ان سب روایات کے مابین بالکل ایسے ہی تطبیق کی کوشش کرتے جیسے متعارض نصوص کے مابین  تطبیق دی جاتی ہے۔8 فیض الباری میں اس بات کو زیادہ تفصیل سے  اس طرح بیان کیا ہے:

فائدۃ: واعلم أن الروايات إذا اختلفت عن إمامنا في مسألۃ، فعامۃ مشايخنا يسلكون فيھا مسلك الترجيح، فيأخذون بظاھر الروايۃ ويتركون نادِرَھا، وليس بسديد عندي ولا سيما إذا كانت الروايۃ النادرۃ تتأيد بالحديث، فإِني أحملہ علی تلك الروايۃ، ولا أعبأ بكونھا نادرۃ، فإِنّ الروايۃ إذا جاءت عن إمامنا رحمہ اللہ تعالی لا بد أن يكون لھا عندہ دليل من حديث أو غيرہ، فإِذا وَجَدتُ حديثًا يوافقھا أحمَلُہ عليھا. نعم، الترجيح إنما يناسب بين الأقوال المختلفۃ عن المشايخ، فإِن التضاد عند اختلاف القائلين معقول، وربما يكون التوفيق بينھما خلافَ منشئھم، وحينئذ لا سبيل إلا إلی الترجيح، بخلاف ما إذا جاء الاختلاف عن قائل واحد، فإِنّ الأَولی فيھا الجمع، فإِن الأصل في كلام متكلمٍ واحد أن لا يكون بين كلاميہ تضاد، فينبغي بينھما الجمع أوّلًا، إلا أن يترجح خلافہ، والأسف أنھم إذا مروا بأحاديث مختلفۃ يبتغون الجمع بينھا عامۃ، وإذا مروا بروايات عن الإِمام إذا ھم برجِّحون ولا يسلكون سبيل الجمع، فالأحب إليَّ الجمع بين الروايات عن الإِمام مھما أمكن، إلا أن يقوم الدليل علی خلافہ، فاعلمہ ولا تعجل.9

اختیار اقوال کا اسلوب اور احتیاط

جب کسی مسئلہ میں یہ ممکن ہوتا کہ دیگر ائمہ کرام کی موافقت میں موقف اختیار کیا جائے تو اسی موقف کو اختیار کرتے ہیں جس میں ائمہ کی موافقت ہو جائے ۔ اس کی ایک مثال ایسے اما م کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ ہے جو بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہو ۔ احناف کا موقف یہ ہے کہ امام اگرچہ بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہو مقتدی کے لیے کھڑا ہونا ہی ضروری ہے ۔ اس مسئلہ میں ایک مقام پر حافظ ابن حجر ؒ نے دلائل کی بنیاد پر یہ قول اختیار کیا ہے کہ مذکورہ صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ مستحب ہے ۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ اگر وجوب منتفی ہو گیا ہے تو پھر ہم اس معاملے میں احتیاط پر عمل کرتے ہوئے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا ہی کہیں گے ، اس میں احتیاط بھی ہے اور دو ائمہ کی موافقت بھی ۔ اور ہمارا اسلوب بھی یہ ہے کہ ہم اس عمل کو اختیار کرتے ہیں جس پر ائمہ کرام اور امت کا تعامل ہو ۔ شاہ صاحب ؒ کے الفاظ یہ ہیں:

وصرَّح ھناك الحافظ رحمہ اللہ: أن مقتضی الأدلۃ استحباب القُعُود خلف القاعد، ولا دليلَ علی الوجوب. قلتُ: وإذا انتفی الوُجُوب علی تصريح الحافظ رحمہ اللہ، فلا ريبَ أن الأحوطَ ھو القيام، لأنہ ذَھَبَ إليہ الإمامان الجليلان. وعندنا: العملُ بما عَمِلَ بہ الأئمۃ والأُمَّۃ أَوْلی.10

تطبیق بین الاقوال

شاہ صاحب ؒ کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ وہ ائمہ کرام کے مابین معمولی اختلاف میں اقوال کی ایسی تعبیر کریں کہ اختلاف یا تو ختم ہو جائے یا بالکل معمولی سا رہ جائے ۔ مثلا نماز میں مقتدی امام کے بالکل ساتھ سارے اعمال سر انجام دے گا یا امام کے کسی عمل کو پورا کرنے کے بعد عمل کی ابتداء کرے گا ۔ اس میں اختلاف ہے امام شافعی ؒ کا موقف تعقیب کا ہے ، یعنی امام کے بعد عمل شروع کرنے کا اور امام صاحب کا موقف مقارنت کا ہے ۔ یعنی امام کے ساتھ ہی عمل کو شروع کر دے ۔ شاہ صاحب ؒ نے اس مسئلہ میں یہ وضاحت کی ہے کہ احناف تعقیب کو بالکل رد نہیں کرتے بلکہ اتنی تعقیب کہ امام کوئی عمل شروع کر دے اور پھر مقتدی شروع کرے ، یہ تو عقلا بھی ثابت ہے ۔ اس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ لیکن امام شافعی ؒ  جو تعقیب زائد کے قائل ہیں وہ الفاظ سے ثابت نہیں ہوتی ۔ گویا تعقیب کی ایک خاص حد پر دونوں کا اتفاق ہے اور قدر زائد حدیث سے ثابت نہیں ، اس لیے دونوں اقوال میں کم از کم اس حد تک تو موافقت موجود ہے ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں:  

فاعلم أنہ اتَّفق كلُّھم علی أن المُبَادرۃ من الإمام مكروہ تحريمًا، مع صحۃ صلاتہ عندھم، وھذا يَدُلُّ علی اجتماع الصحۃ مع الكراھیۃ، خلافًا لابن تَيْمِيَۃ رحمہ اللہ. واختلفوا في التعقيب والمقارنۃ. فذھب الشافعيُّ رحمہ اللہ إلی الأول، وإمامُنا إلی الثاني. قلتُ: والتعقيبُ بقَدْرِ ما يعلمہ المقتدي من حال إمامہ مستثنی عقلا، والفاء لا تَدُلُّ علی التعقيب الزائد علی ذلك، فدلَّ علی أن نزاعھم في الفاء غير محرَّر، فإنھا وإن كانت للتعقيب، لكنہ يتحقَّق بالشروع بعد الشروع. ولا يَلْزَمُ لتحُّقق التعقيب أن يَشْرَعَ بعد فراغ الإمام، فنزاع الإمام إنما يكون ممن يدَّعِي الشروع بعد الفراغ، لا ممن يدَّعي الشروع بعد الشروع. فإن شروع المقتدي لا يكون إلا بعد شروع الإِمام. فھذا القَدْرُ من التعقيب يكفي للفاء، ولا يُنْكِرُہ الإِمام أيضًا وأمَّا بعد ذلك، فيقول بالمقارنۃ، ولا حُجَّۃ في الحديث علی التعقيب أزيد من ھذا.11

اس کی ایک اور مثال فاسق کے پیچھے نماز کے جواز یا عدم جواز کا مسئلہ ہے ۔ احناف کے ہاں یہ مکروہ ہے ، لیکن اس میں کراہت تنزیہی ہے یا تحریمی ؟ شاہ صاحب ؒ نے کراہت تحریمی کے قول کو پسند کیا ہے اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ قول حدیث کے زیادہ قریب ہے اور اس کے ساتھ اس کو اختیار کرنے سے امام مالک کے ساتھ موافقت بھی ہو جاتی ہے ۔ امام مالک ؒ کا موقف عدم جواز کا ہے ، اگر کراہت تحریمی کا موقف اپنایا جائے تو مکمل نہ صحیح یک گونہ ان کے ساتھ موافقت ہو ہی جاتی ہے جو کہ غنیمت ہے ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں:

مسألۃ: في "الدر المختار": أن الصلاۃ خلف الفاسق مكروھۃ كراھیۃ تنزيہ، وفي "الكبيري شرح المنيۃ": كراھیۃ تحريم، وھو المختار عندي، لأنہ يُوَافِق الحديث، وھو مختار المالكيۃ، بل المالكيۃ ذَھبوا إلی عدم الجواز.وأما عندنا، فھذا وإن كان جائزًا عند فَقْد الإمام العدل، كما في "البحر"، لكن في اختيار التحريم موافقۃ معھم في الجملۃ، ولذا اغتنمت ھذہ المُقَاربۃ، وأَفْتَيتُ بہ علی ما علمت من دأبي.12

دیگر مسالک کے موقف پر عمل کی گنجائش

عام احناف کا یہ طریق ہے کہ کسی حدیث سے کوئی ایسا عمل ثابت ہے جو ظاہر الروایۃ کے خلاف ہے ، اور ظاہر الروایۃ میں مذکور عمل کسی اور حدیث سے ثابت ہے تو وہ ظاہر الروایۃ کے خلاف حدیث پر کسی بھی لحاظ و مرتبہ پر عمل کو جائز قرار نہیں دیتے ۔ لیکن شاہ صاحب ؒ ظاہر الراوایۃ  کے خلاف روایت سے ثابت شدہ  عمل کو اختیار کرنے کی اجازت دیتے تھے لیکن خلاف الاولیٰ کی حیثیت سے۔  اس کی مثالوں میں اذان میں ترجیع ، آمین بالجہر ، سری نمازوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی تلاوت اور رکوع و قیام کے وقت رفع الیدین اور اس جیسے دیگر مسائل شامل ہیں ۔ ان تمام مسائل میں احناف کی روایت کے خلاف روایت پر عمل  کرنا بھی ان کے نزدیک جائز تھا لیکن خلاف اولیٰ کے مرتبے پر ۔ ایک موقع پر شاہ صاحب ؒ نے فرمایا:

کنت رایت فی " البدائع" ان رفع الیدین فی غیر التحریمۃ مکروہ تحریما ۔۔ کما یشہد بہ سیاقہ من غیر خفاء۔۔ فکان فی قلبی منہ شیئ ، وکنت اتمنی ان افوز بنقل من الاکابر خلافہ حتی رایت بعد خمس و عشرین حجۃ ان الامام ابابکر الرازی الجصاص صرح فی  " احکام القرآن " فی ضمن بحث استطرادا من مسائل رؤیۃ الھلال: ان الخلاف فیہ فی الاولویۃ ، فبرد غلیل صدری و سکن جاشی ۔ ۔۔ ثم رایت فی نقول آخر من الاکابر فی سائر المذکورات فی الاولویۃ۔13

حسن تعبیر کی جستجو

شاہ صاحبؒ دوران درس طلبہ کی ایسے اصول و مسائل کی طرف راہنمائی کیا کرتے تھے کہ جہاں پر سوء تعبیر کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے یا ہونے کا اندیشہ ہوتا  ۔ ایسے مقامات پر وہ سوء تعبیر کے نتائج پر تنبیہ کرتے ہوئے حسن تعبیر اختیار کرنے کی تلقین کیا کرتے ۔مثلا احناف کا یہ موقف ہے کہ جن مسائل میں کتاب اللہ اور حدیث کے مفہوم تعارض پیش آئے تو وہاں پر کتاب اللہ پر عمل کیا جائے گا اور حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا ۔ اس اصول کی تعبیر عام طور پر وہ یوں کرتے ہیں:

 ناخذ بالكتاب و نرد الخبر۔14

شاہ صاحب ؒ اس تعبیر کو پسند نہیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے:

اعلم انہ قد وقع في كتب الاصول في حذا البحث لفظ : الرد ، ان ناخذ بالكتاب و نرد الخبر، و ارادوا بہ عدم اعتدادہ في مرتبۃ الكتاب، و صدقوا ، الا انھم اساؤوا في التعبير ، فينبغي ان يحترز عن ھذا التعبير الموھم ۔۔۔ لئلا يستوحش منہ الخصوم ، فينبغي ان يوضح لفظ آخر مكانہ۔ 15

عصر حاضر سے متعلق مسائل پر تنبیہ

شاہ صاحب ؒ دوران درس عصر حاضر سے متعلقہ مسائل پر بھی تنبیہ کرتے جاتے تھے ، مثلا خواتین کے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جہاں اصل مسئلہ بیان کیا وہیں یہ بھی بتا دیا کہ موجودہ زمانے میں حیاء کی قلت ،امور دین میں سستی اور طبائع میں پیدا ہونے والے فساد کے پیش نظر فتوی یہ ہے کہ خواتین گھر پر ہی نماز پڑھ لیں ، باجماعت نماز کے لیے مسجد میں نہ جائیں ۔ نہ جمعہ کے لیے اور نہ ہی دیگر نمازوں میں ۔

وكذلك يَحْضُرْنَ عندنا أيضًا، كما في «الھدايۃ». وفي «العيني» ھكذا عن سِراج الدين البُلْقيني الشافعي، وھو تلميذ مُغَلْطَاي الحنفي. وأما الآن فالفتوى أن لا تخرج الشوابُّ لا في الجمعۃ، ولا في الجماعات، وھكذا ينبغي، لظھور الفساد في البَرَّ والبحر وقِلّۃ الحياء، والتواني في أمور الدين. 16

حاصل کلام

مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ کا درس حدیث کئی حوالوں سے ممتاز حیثیت کا حامل تھا ، اپنے عہد کے حالات کے پیش نظر ان کی زیادہ توجہ مسائل فقہ حنفی کو حدیث سے مبرہن کرنے کی طرف تھی ، لیکن اعتدال و انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔ ان کے درس میں مسلکی تعصب نہیں ہوتا تھا ۔ ان کی کوشش ہوتی کہ اختلافی مسائل میں ائمہ احناف کے اقوال میں سے وہ قول اختیار کریں جو اول درجے میں حدیث صحیح کے قریب ہو اور ثانوی درجے میں دیگر ائمہ کرام کے اقوال سے بھی موافقت رکھتا ہو۔ اس ضمن میں وہ نوادر اقوال کو اختیار کرنے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے ۔


حوالہ جات

  1. مضمون قاری محمد طیب صاحب ؒ ،  الانور ، ص: 255
  2. مضمون قاری محمد طیب صاحب ؒ ، الانور ، ص:  258
  3. مضمون قاری محمد طیب صاحب ؒ ، الانور ، ص: 256-257
  4. بنوری ، سید محمد یوسف ، (1908ء-1977ء)نفخة العنبر فی حیاۃ امام العصر الشیخ انور ، ص:  55، المجلس العلمی ، کراچی ، پاکستان، 1969ء
  5. نفخۃ العنبر ، ص: 64
  6. محمد أنور شاه بن معظم شاه الكشميري الهندي ثم الديوبندي (المتوفى: 1353هـ)، فيض الباري علي صحيح البخاري، 1/ 47  ،عدد الأجزاء: 6الناشر: دار الكتب العلمية بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1426 هـ - 2005 م
  7. حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 262
  8. نفخۃ العنبر ، ص:58
  9. فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 465)
  10. فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 275)
  11. فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 276)
  12. فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 279)
  13. نفخۃ العنبر ، ص: 58
  14. فيض الباري علي صحيح البخاري ، 1/ 46
  15. فيض الباري على صحيح البخاري 1/ 46
  16. فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 502)



ایک فراموش شدہ گواہ: قبۃ الصخرة

سید ظفر احمد

تعارف  

عظیم اور قدیم تعمیراتی شاہکار قبۃ الصخرۃ کے لیے "فراموش شدہ  گواہ" کی ترکیب  راقم نے نیویارک کی مشہورِ زمانہ کولمبیا یونیورسٹی کی  خاتون پروفیسر  ایسٹیل وھیلن  (Estelle Whelan) (م:13  ؍ اکتوبر 1997ء) سےمستعار لی ہے  [1]۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ بیسویں صدی کے آغاز میں     مستشرق الفانسو منگانا  (Alphonso Mingana)  1 نے اسلامی تاریخ  کے پورے فریم ورک کو چیلنج کرتے ہوئے    وھیلن کے الفاظ میں" واضح تعصب "کے ساتھ یہ دعویٰ  کیا  کہ قرآن کی جمع و تدوین پانچویں اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔  پھر 1970ء میں جان وانسبَرو (John Wansbrough) نے آگے بڑھ کر  "انکشاف" کیا  کہ قرآن کا کوئی معیاری یا سرکاری  (canonical) مصحف نویں صدی شمسی کے اوائل تک موجود نہ تھا ۔ وھیلن کہتی ہیں،  وانسبَرو کے تجزیہ سے متشرح ہوتا ہے  کہ پوری قرآنی تاریخ حقیقت میں ایک متقیانہ جعلسازی تھی جو اتنی مؤثر تھی کہ آزاد ذرائع سے اصل حقیقت معلوم کرسکنے کی کوئی  شہادت ہی  باقی رہنے نہ دی گئی  ۔  وھیلن کے بقول، اگر وانسبَرو صحیح ہے کہ قرآن ایک معیاری مصحف کی صورت میں آغازِ اسلام کے ڈیڑھ سو سالوں  کے بعد وجود میں آیاتو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے جو قدیم نُسَخ جو اس عرصے میں لکھے گئے تو وہ سب دراصل بعد کے دور میں نقل ہوئے تھے۔ چنانچہ  انہوں نے فیصلہ کیا  کہ وانسبَرو کی تحقیق کا جائزہ لینا چاہیے۔

وھیلن کہتی ہیں کہ اسلام کی  پہلی صدی کی اہم ترین شہادت وہ طویل  قرآنی کتبات  (inscriptions) ہیں جو یروشلم میں واقع قبۃ الصخرۃ کی تعمیر کے دوران عبدالملک بن مروان  (دورِحکومت: 65-86ھ) نے  نیلے اور سنہرے رنگ  کے شیشے کی پچی کاری  (mosaic)  کی صورت لگوائے تھے۔   عام طور سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اولین  اسلامی کتبات جن پر قرآنی اقتباسات دیکھے گئے ہیں،  وہی ہیں جو قبۃ الصخرہ  کے اندر  محرابوں کی  قطار (arcade) کے  اوپر  دونوں جانب منقش  ہیں2۔ آگے بڑھنے سے  پہلے ضروری ہے کہ کچھ تاریخی اور جغرافی پسِ منظر واضح کردیا جائے۔

یروشلم  شہرِ قدیم (Jerusalem, the Old City)

یروشلم بہت قدیم شہر ہے،  4500 ق م تک یہاں آبادی کا سراغ ملتا ہے۔ یروشلم یا اس سے  مماثل تلفظ پر مبنی نام اس شہر کیلیے زمانۂ قدیم سے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ رومی بادشاہ ہیڈرین (Hadrian)   کے دورِ حکومت (117-138ء ) میں یہود کی بغاوت 'بار کوخبا'(135-137ء)کے بعد  ہیڈرین نے  یہود کا شہر میں رہنا ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اسی نے  شہر کا نام اپنے خاندنی نام پر   ایلیاکیپیٹولینا (Alia Capitolina) رکھا تھا ۔ چونکہ امیر امؤمنین حضرت عمر ِ فاروقؓ نے 638ء میں   رومیوں ہی سے اس شہر کاقبضہ لیا تھا ، اس لیے نہ صرف مسلم  روایات و آثار بلکہ نقاشی اور کتبات وغیرہ   میں بھی اس شہر کے لیے  ایلیاء نام کا استعمال ملتا ہے۔  

 قدیم شہرِ مُسَوَّرَہ (walled city)   میں "حرم شریف"  اوراس کے آس پاس   آرمینی، عیسائی، یہودی اور مسلم محلے شامل  ہیں (دیکھیے شکل رقم 1)۔ یہ دیواریں  اوران میں داخلہ کے  دروازے سلطان سلیمان ذیشان (دورِ حکومت: 1520ء-1566ء) کی محبت کی یاد گار ہیں۔   1981ء سے 'یروشلم، شہرِ قدیم'   یونیسکو کے عالمی ورثہ قرار دیے جانے والے  مقامات میں شامل ہے۔  قدیم شہرکے ساتھ مزید مضافات ملا کرمشرقی یروشلم کہلاتا ہے  جو 1948ء کی جنگِ فلسطین کے بعد ایک معاہدے کے نتیجہ میں اردن کے حصہ میں آیا تھا اور مغربی یروشلم اسرائیل کی عملداری میں تسلیم کرلیا گیا تھا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مشرقی یروشلم اور آس پاس کے  علاقے، سب صہیونی ریاست کے قبضہ میں آگئے۔قانون بین الممالک کی رُو سے  یہ  قبضہ اور مقبوضہ علاقوں میں  بنائی گئی بستیاں    غیر قانونی تسلیم کیے جاتے ہیں۔

الحرم الشریف

جس جگہ کو اوپر "حرم شریف" لکھا گیا وہ مشرقی یروشلم   کے جنوب مشرقی کونے پر واقع زمین سے تھوڑا بلند ایک ہموار  پلیٹ فارم ہے  جو  ذوزنقہ1 کی شکل کا ایک   احاطہ ہے۔شکل نمبر 1 میں یہ احاطہ واضح ہے۔  مشرقی یروشلم میں جو علاماتِ مرور(traffic signs) ٹیلیویژن، انٹرنیٹ  اور  اخباری تصاویر وغیرہ میں نظر آتی ہیں ان میں عبرانی، انگریزی اور عربی میں بالترتیب  ہیکلِ سلیمانی،  Temple Mount اور الحرم الشریف لکھا دیکھا گیا ہے۔ غالباًیہ نام "الحرم الشریف" لغوی معنیٰ کے اعتبار سے اختیار کیا  گیاہوگا ورنہ تو اسلام میں قرآن و حدیث کی نصوص سے صرف دو ہی حرم  معلوم ہیں۔ اس تیسرے "حرم" کا ثبوت کسی نص سے نہیں ملتا  [5]۔

اصل میں35 ؍ایکڑ رقبہ پر مشتمل یہ احاطہ ہی  وہ مسجدِ اقصیٰ ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید اور احادیث ِ مبارکہ میں آیا ہے۔  مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ ہی وہ تین مساجد ہیں جن کیلیے بطورِ خاص سفر کی نیت کرکے جانا  جائز ہے اور وہاں پڑھی جانے والی نمازوں کا کئی گُنا اجرملنا  احادیث سے ثابت ہے۔شکل  نمبر1 میں ہی  احاطۂ  ذوزنقہ کے جنوب مغربی کونے میں وہ مسجد ہے جسے اہلِ فلسطین مسجد القِبلی کہتے ہیں لیکن عام طور پر  وہ  "مسجدِ اقصیٰ" کے نام سے معروف ہے۔  یہ مسجد چھٹے اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے بنوائی تھی۔ مسلمان اس سے جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں  حتیٰ کہ رباط میں  پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا قیام اسی مسجد میں آتشزدگی کے واقعہ (1969ء) کے ردِّ عمل کے طور پر آیا تھا۔حالانکہ صحیح معنوں میں یہ اصل مسجدِ اقصیٰ کا محض جنوب مغربی  کونہ ہے جس کا سیسہ کی پتریوں سے  مزیّن  سرمئی رنگ کا گنبد  تصاویر میں نظر آتا ہے اور 'گوگل ارتھ' کے ذریعہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یقیناً اس  مسجد میں نماز کا وہی اجر ہے جو احادیث میں بیان ہوا ہے لیکن اس کے باہر احاطہ پر کہیں بھی نماز پڑھی جائے وہ مسجدِ اقصیٰ ہی میں پڑھنا سمجھی جائے گی اور وہی اجر اس کیلیے بھی ثابت ہے۔

احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے مسجدِ حرام کی بناء رکھی اور پھر چالیس سال بعدارضِ مقدسہ میں جبلِ موریہ پرمسجدِ اقصیٰ کا احاطہ متعین کیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ احاطۂ اقصیٰ لمبائی کے رخ پر قبلہ  رُو ہے ۔  جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفرِ معراج میں اس جگہ تشریف لائے تھے تو اس  کا ذکر  مسجد کے عنوان سےقرآنِ عظیم کی سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں آیاہے۔ اس وقت ولید بن عبدالملک کی بنائی ہوئی "مسجدِ اقصیٰ" کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پھر ساتویں آیات میں اسی مسجد کادوبارہ  ذکر ہے:

إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَھا ۚ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاخِرَةِ لِيَسُـئُوا۟ وُجُوھکمْ وَلِيَدْخُلُوا۟ المَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوہ أَوَّلَ مَرَّۃ وَلِيُتَبِّرُوا۟ مَا عَلَوْا۟ تَتْبِيرًا۔

[ترجمہ سید مودودیؒ:  "تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اُسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں"]۔ 4

اس آیت میں بنی اسرائیل کی دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ پہلی سزابابل کے شاہ بخت نصر کے ہاتھوں 586ق م اور دوسری    سن 70ء میں جنرل طیطس   (Titus)  کی قیادت میں رومی سپاہ  کے ہاتھوں ملی۔  دونوں مواقع پر  مسجد کو تاراج کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ سے مراد  نہ صرف ایک  متعین احاطہ تھا بلکہ  اس پر عمارت بھی موجود تھی جو پہلے بخت نصر کے ہاتھوں اور پھر طیطس کے ہاتھوں برباد کی گئی  ۔    ممکن ہے ، یہ وہی مسجد  ہو جس کی تجدید و تزئین حضرت  داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے کروائی  تھی،  جس کو    عام طور پر  ہیکلِ سلیمانی کہا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے  نبی کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کیلیے مسجد یا بیت  کے ا لفاظ  ہی موزوں ہیں اوریہی تعبیر ات قرآن و احادیث میں  استعمال کی گئی ہیں۔  پیغمبران اسلام سے نسبت  کی وجہ سے  یہ احاطہ مسلمانوں ہی  کی تراث ہے۔

  احادیث کے مطابق  شبِ اسراء میں جنابِ رسول اللہ ﷺ مسجدِ حرام سے براق کے  ذریعہ  مسجدِ اقصیٰ  تشریف لے گئے، نماز پڑھی ،  پھر آپ ﷺ نے انبیاء کرامؑ کو نماز کی  امامت کرائی، اور  پھر آپ معراج پر  آسمانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔  واپسی پر پنجوقتہ نمازوں کی فرضیت کا حکم لیکر نبی ﷺ اسی جگہ  آئے اور پھر براق سے مکہ پہنچے—سوچنے کی بات ہے آخر بیت المقدس کا پڑاؤ کیوں اس مقدس سفر میں شامل کیا گیا  جبکہ اللہ تعالیٰ  تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے براہِ راست آسمانوں  پر لے جاسکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے نصوص  سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف احاطۂ مسجدِ اقصیٰ بلکہ ارضِ مقدسہ فلسطین اسلامی قلمرو کا لازمی اور مستقل حصہ ہے ۔  بیت المقدس کی طرف شدِّ رحال کی احادیث میں یہی اشارہ تھا جس کی وجہ سے  اسلامی فتوحات کے آغاز پر مسلمانوں کی پہلی ترجیح  شام و فلسطین کی سرزمین ہی تھی ۔  

اسلامی یروشلم

خلیفہ دوم حضرت عمر نے جب بِزَنطینیوں سے   شہرِ کا  قبضہ  لیا تو سب سے پہلے احاطۂ مسجدِ اقصیٰ  کے جنوب مغربی کونے میں ایک مسجد کی جگہ متعین کی ۔تقریباً پچاس سال بعد عبدالملک بن مروان نے اسلامی تہذیبی تشخص کو مزید نمایاں کیا جب شہر کے منظر پر   قبۃ الصخرہ جیسی عظیم الشان   عمارت  ابھری۔ اس کے معنی خیز کتبات کے ذریعہ واشگاف اعلان کردیا  گیا کہ یروشلم نصرانی نہیں بلکہ   اسلامی شناخت  اور دینِ حق کی عظمت اور غلبہ  کا علمبردار شہرہے اور رہے  گا۔  عبدالملک ہی نے حضرت عمر  کی مقرر کردہ جگہ پر  مسجد کی  بناء  رکھی ،  سرکاری زبان عربی مقرر کی، پہلی دفعہ اسلامی  سکہ ڈھالا جس پر قرآنی آیات نقش تھیں ، اور  اس کے علاوہ ا حاطہ اقصیٰ کے جنوبی سمت     بہت سے محلات اور   عمارتیں تعمیر کروائیں ۔  اس نے  شاہرائیں  بنوائیں جن پر سنگ ِمیل  بھی نصب کروائے۔ ڈاکٹر ہیثم الرطروط کہتے ہیں کہ  اس سلسلہ میں المَقدِسی  (م:380ھ) کی تاریخی شہادت ہی قابلِ اعتبار ہے کہ  خلیفہ عبد الملک نے دراصل  مسلم یروشلم  قائم کیا  تھا۔ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ   یروشلم میں جو سرگرمیاں عبدالملک کے زمانے میں نظر آتی ہیں، ان سے واضح ہو تا ہے کہ یہ مکہ یا مدینہ کا متبادل نہیں بلکہ ان  کا مؤید شہر بنایا جانا مقصود  تھا ۔ عبد الملک  چونکہ فقیہ بھی تھا، اس لیےاس نے  نصرانیوں اور یہودیوں پر کسی قسم کی پابندی بھی نہیں  لگائی  تھی[6]۔

قبۃ الصخرة

شکل نمبر 1میں ذُوزَنقہ شکل کی مسجدِ اقصیٰ  میں ایک اور  ذوزنقہ  دیکھا جاسکتاہے جس  کے تقریباً وسط  میں ایک مثمن  (octagon)5   عمارت ہے۔ اسی کو قبۃ الصخرۃ کہتے ہیں  اور انگریزی میں ڈوم آف راک (Dome of Rock)۔ دونوں زبانوں میں گنبد اور عمارت کو ایک  ہی  مجموعۂ الفاظ سے تعبیر کیا گیاہے۔ عاصم  الحدادؒنے سفرنامہ ارض القرآن میں گنبدِ صخرہ اور  مسجدِ صخرہ  کی الگ الگ  تعبیرات استعمال کی ہیں۔  زمینی حقیقت تو یہی ہے کہ یہ عمارت بطورِ مسجد بھی استعمال ہوتی  ہے  لیکن ابتداءً یہ بطورِ مسجد نہیں بنائی گئی  تھی ۔بلکہ  یہ اظہارِ دینِ حق اور شوکت و عظمتِ اسلام کی  علامت تھی اوراس بات کا اعلان کہ ارضِ مقدسہ بلادِ اسلام کا غیر منفک اور دائمی جزء ہے۔

قبۃ الصخرۃ کی  بیرونی  دیواریں ایک مثمن (octagon)   کے اضلاع ہیں۔ ان دیواروں کے زیریں حصہ میں  سنگِ مرمر اور بالائی حصہ میں سیرامیک کے نیلے ٹائلز  کا خوبصورت کام  عثمانی سلطان سلیمان ذیشان  (Süleymân, the Magnificent)  نے 1545-46ء میں کروایا تھا۔ اس کے کچھ باقیات ابتک موجود ہیں لیکن زیادہ تر ٹائلز 1960ء میں اٹلی میں عثمانی ٹائلز کی ہوبہو نقل کرکے بنائے گئے تھے۔ ان دیواروں پر سولہویں صدی سے پہلےشیشہ کی پچی کاری کا کام تھا  جو اولین تعمیر کا ہی حصہ تھا، جس کے کچھ آثار اب بھی موجود ہیں۔   یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ یہ پچی کاری پوری دیواروں پر تھی یا کچھ حصوں پر۔ لیکن یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ رنگین اور مرصع  کام اپنے دور میں فنِ تعمیرکا   ایک منفرد شاہکار رہا ہوگا [7]۔ عمارت میں ہر چہار سمتِ رئیسی (Cardinal Directions) سے داخلے کے دروازے ہیں جن کے اوپر پورچ بنے ہوئے ہیں۔ اندر داخل ہونے کے بعد ایک اندرونی مثمن   پر محرابوں کی ایک قطار یا آرکیڈ  (arcade) ہے ۔  اس آرکیڈ   اور چھت کو  آٹھ (8) بھاری ستونوں (piers)   نےسہار رکھا ہے جو مثمن کے ہر کونے پر واقع ہیں۔اس کے علاوہ ہر ضلع میں دو (2) یعنی کُل  16  کالم ہیں جن پر محرابیں ٹِکتی ہیں۔ اس کے بعدآگے بڑھیں تو  گنبد کا اسطوانہ (drum)ہے جو چار (4) بھاری ستونوں    پر استوار ہے۔ ان کے علاوہ 12 کالم ہیں جو ایک گول آرکیڈکو سہارنے کیلیے  ہیں۔ پلیٹ فارم سے تقریباً 30 میٹر کی بلندی تک پہنچتا ہوا گنبداصل میں  لکڑی کا بنا ہوا ہے۔  دنیا بھر میں لکڑی سے بنا ہوا  اتنا قدیم سٹرکچر جو ابتک قائم ہے، کہیں نہیں پایاجاتا ۔ 20 میٹر قطر کا گنبد سونے کی ایک بھرت (alloy) سے بناہواہے جس کی وجہ سے یہ دور سے چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔شکل نمبر 2 اور 3 میں یہ تعمیر واضح کی گئی ہے۔

مثمن آرکیڈ کی بیرونی  اور اندرونی جانب تقریباً  10 میٹرکی  بلندی پر وہ پٹی ہے جس میں نیلے اور سنہرے رنگ کے شیشہ کی  پچی کاری سے  خطِ کوفی میں وہ تحریرمنقش ہے جو اس مضمون کا موضوع ہے۔یہ تحریر اور بہت سی دوسری آرائشیں   اب تک  مکمل طور پرمحفوظ ہیں۔  کتبات میں صرف ایک تبدیلی ہوئی جب عباسی خلیفہ مامون الرشید(دورِ حکومت:  198ھ-218ھ) نے عبدالملک کے نام کے اوپر اپنا نام کندہ کروایا تھا6۔ اس نے البتہ سنِ تعمیر جو 72ھ  (691-692ء)ان کتبات میں رقم تھا اس کو ویسے ہی رہنے دیا ۔  چنانچہ یہ تاریخِ تعمیر خود ان کتبات سے ثابت ہے  اور یہ  بھی معلوم ہے کہ یہ عبدالملک بن مروان کا ہی دور تھا۔ ان کتبات میں قرآن کی آیات اور دوسری عبارات ہیں جو اللہ کی وحدانیت، اسکی شہادت، اسکی قدرت اور اس کے نبی پر درود  و سلام    اور دوسری دعاؤں پر مشتمل ہیں ۔  زیادہ تر قرآنی اقتباسات عیسائی عقائد کو چیلنج کرتے تھےایک ایسے   شہرِ کے عین مرکز میں جو عیسائیوں کی مقبول   ترین زیارت گا ہ  تھا۔

کتباتِ صخرہ

پچی کاری کے متن کی نقل  (transcription) عالمی شہرت یافتہ خاتون مؤرخ ِ فنِ اسلامی (Islamic art-historian)    کرسٹل کیسلر(Christel Kessler) کا  کارنامہ ہے جو اس نے پہلی بار 1970ء  میں پیش   کیا[8]۔  یہ اس کے اپنے ہاتھوں سے کتابت کی ہوئی تحریر ہے جس میں اس نے اصل کوفی خط سے مماثلت کی اچھی کوشش کی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ قلم کا موٹا قط جیسا کہ خطِ کوفی میں ہوتا ہے، بنانا ممکن نہ تھا۔     اردو زبان میں بھی یہ اعزاز الشریعۃہی کے حصہ میں آرہا ہے جب غالباً    پہلی بار  قبۃ الصخرۃ کے کتبات  کی کیسلر کے ہاتھ  سے کی گئی نقل کے عکوس  اور  جدید عربی خط میں  ان کی ٹرانسکرپشن  پیش کی جارہی ہے۔

موزائیک پر یہ متن اصل میں دو جدا گانہ کتبات پر مشتمل ہے۔بیرونی کتبہ  کا سامنا وہ افراد کرتے ہیں جو عمارت میں داخل ہونے کے بعد  صرف سامنے اور تھوڑا سا اطراف  کا  حصہ ہی دیکھ پاتے ہیں ۔  آرکیڈ  کے اس   بیرونی کتبہ کا آغاز اگر جنوبی ضلع سے کریں جو جانبِ قبلہ ہے اور بائیں جانب (clockwise) گھومتے جائیں تو ترتیب سے جو عبارات سامنے آتی ہیں وہ جدول نمبر 1 میں دی گئی ہیں۔ یہ متن چھے (6) حصوں میں سجاوٹی پھولوں کے ذریعے تقسیم  کیا گیا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ راہداری  (ambulatory) بہت چوڑی نہیں ہے (تقریباً 4 میٹر) جس میں اونچائی پر منقش کتبات کی عمدہ تصاویر لینا کافی مشکل کام رہا ہوگا [7-8]۔

مثمن آرکیڈ کی اندرونی جانب جو پچی کاری کی   پٹّی ہے اس میں اصل پیغام  درج ہے۔ یہاں کشادگی بھی ہے۔اندر داخل ہونے والا  زائر جب  دائیں طرف مڑ کر گھومتے ہوئے(counter clockwise)  ایک چکر پورا  کرتا ہے تو  واپسی تک  پورا مرکزی پیغام  دیکھ چکا ہوتا ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ بیرونی کتبہ کے بالعکس اندرونی جانب متن مسلسل ہے اور نقاط (diacritics) کا استعمال  بھی زیادہ کیا گیا ہے تاکہ پیغام کے ابلاغ میں کوئی کسر نہ رہے۔ جدول نمبر 2 میں  اندرونی کتبہ کی نقول اسی ترتیب پر پیش کی گئی ہیں۔عمارت کے بیچ گنبدِ صخرہ  کے عین  نیچے  وہ  چٹان (الصخرہ) ہے جو نیچے غار سے برآمد ہوتی ہے اور عمارت  کے  فرش سے تقریباً پانچ فٹ اونچائی تک جاتی ہے۔ اس چٹان پر  بقولِ یہود حضرت ابراہیم   علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحٰق علیہ السلام کی قربانی دی تھی7۔  مسلمانوں میں عام طور پر مشہور ہے کہ اسی چٹان سے جنابِ رسول اللہ ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔

نیچے دیے ہوئے دونوں  جداول میں  پہلا کالم اضلاعِ مثمن کی سَمتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسرے  کالم  میں کیسلرکی خطِ کوفی میں کی گئی  نقل  کا عکس ہے اور اس کے  نیچے  یہی متن جدید عربی خط میں پیش کیا گیا ہے۔اس میں قرآنی آیات  کو ممیز کرنے کے لیے ان کے مصحفِ مدینہ منورہ  ( www.tanzil.net )سے بعینہ لیے گئے ہیں۔ باقی عربی  عبارات حَرَکات کے بغیر ہیں۔  قدیم عربی نسخ اور کتبات کی ایک خاصیت کہ وہ خطِ ناقص (scriptio defectiva) [9] میں لکھے جاتے تھے ، وہ ان کتبات میں بھی بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں۔ کچھ غیر معمولی خواص (idiosyncrasies)   کی طرف حواشی میں اشارے کیے گئے  ہیں، وہ بھی صرف قرآنی عبارات کی حد تک ۔

وھیلن نے  لکھا ہے کہ کیسلر سے نقل میں کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں  کہ سعیدنسیبہ(Saïd Nuseibeh)  اور عالمی شہرت یافتہ مؤرخِ فنِ اسلامی اور ماہرِ اثریات  پروفیسر اولیگ گرابر (Oleg Grabar)  کی  کتاب جس میں بہترین معیار کی تصاویر شامل ہیں  [7]  سے تقابل کرکے اندازہ ہوتا ہے کہ کیسلر کی نقل میں درستگی کی ضرورت ہے۔      راقم نے  نُسیبہ اور گرابر کی تصاویر سے کیسلر کی تحریر کشائی کا  مقابلہ کیا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ اول الذکر میں طباعت کی اغلاط واقع ہوئی ہیں۔ جیسے  پانچ  اضلاع کے عنوانات  غلط طبع ہوئے ہیں یا  آلِ عمران:19 (اندرونی کتبہ، جنوب مغربی ضلع، جدول 2 کی آخری سطر)پر    یہ واضح  نہیں کہ باييات لکھا ہے یا باييت اور اس کے بعد ﷲ بھی نظر نہیں آرہا کیونکہ اس مقام پر تصویر تقسیم ہوگئی ہے ۔ اسی طرح صفحہ 93 ، شمال مغربی ضلع،  اندرونی کتبہ پر   دو تصاویر غلط لگنے کی وجہ سے جملہ کا ابتدائی حصہ مشتبہ ہوگیا ہے ۔    یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جب مسلسل تحریر آٹھ بھاری ستونوں(piers) پر سے گزرتی ہے تو ہر موقع پر  چار دفعہ 90 درجہ کا خم کھا تی ہے۔ ایسے میں ہر ستون کےاجانب اور سامنے کی تصاویر لینا، وہ بھی 10 میٹر کی بلندی پر، بہت مشکل کام ہے۔ پھران تصاویر سےکتبہ کی تحریرکشائی (deciphering)  خاصا عرق ریزی کا کام ہے۔کیسلر نے خود 1967ء کے موسمِ بہار میں ان کتبات کو دیکھا تھا اور ان کے فوٹو  مناسب روشنی اور صفائی کے بعدلیے تھے ۔ انہوں نے سوئس مؤرخ  میکس فان برشم (Max van Berchem, d. 1921) کی 1914ء میں لی گئی تصاویر جو بہت کم روشنی میں پرانے کیمرے سے لی گئی تھیں جبکہ کتبات پرگردو غبار بھی تھا، عالمی شہرت یافتہ برطانوی مؤرخ ِ تعمیرات ِ اسلامی کیسلر (K.A.C. Cresswell, d.1974) کی 1927-28ء کی تصاویر سے، اور مصر و اردن کی مشترکہ بحالی کمیٹی کی 1960ء میں بنائی گئی رنگین شفافیوں (transparencies)سے    تقابل کرکے نقول تیار کی تھیں۔ چنانچہ  صحیح یہی ہے کہ کیسلر سے تحریر کشائی میں کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ کیونکہ زیادہ تر مؤلفین بشمول وھیلن نے کتبات کامحض ترجمہ دینے پر ہی اکتفا کیا ہے، اس لیے وھیلن کے مشاہدہ کی تصدیق کا اور کوئی ذریعہ بھی نہیں  ۔

اگرچہ وھیلن نے مِنگانا کی طرف تعصب کی نسبت کی ہے  لیکن وہ اس کیلیے  ایک تاویل بھی  پیش کرتی ہیں کہ شاید  اس نے ان کتبات کو دیکھ کر  یہ رائے قائم کی ہو کہ قرآن کی تدوین عبد الملک کے عہد میں ہوئی ہوگی۔ وہ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتی ہیں کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا جب سے ان کتبات   پر مغرب میں تحقیق ہورہی ہے لیکن کسی عالم نے ان کتبات کے متن پر غور نہیں کیا ۔  بیرونی اور اندرونی پٹّی پر جو تحریر کندہ ہے اس میں قرآن کی آیات  کے علاوہ   دوسری عبارات جو اللہ کی وحدانیت، حاکمیت،اور قدرت  کا بیان اور اس کی شہادت کا اعلان ہیں،اور اس کے عالی مقام نبی  پر درود  و سلام   پر مشتمل ہیں جن کے اجزاء میں  بھی قرآنی فارمولے شامل ہوتے ہیں لیکن ان کو قرآن نہیں کہا جاسکتا۔ اس طرح کی مختلط عبارات جن کو فرد   اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے،  سے  بعض مستشرقین  نے سمجھا کہ  قرآن کا متن ارتقاء کے عمل سے گزرتا ہواڈیڑھ یا دو سو سالوں میں مستحکم ہوا ہے۔ وھیلن اپنے ناظرین کو بتاتی ہیں کہ اس طرح کی ملے جلے بیانات  اسلام میں ممنوع نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں وہ طَبَری سے دو خطبوں کی مثال بھی پیش کرتی ہیں۔  وہ کہتی ہیں کہ قرآن مسلمانوں کی توجہات کا مرکز تھا اور اس کے معیاری متن کی حفاظت  بلا کسی ادنیٰ تحریف کے پوری اسلامی تاریخ کا معلوم واقعہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ضرورت پڑنے پر کسی خاص موضوع کے پیشِ نظر قرآنی اجزاء اور دوسرے بیانات کو ملا کر پیش کرنا  کلام  کی خوبصورتی اور تاثیر کیلیے کیا جاتا تھا۔  وہ کہتی ہیں  اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں البتہ اگر مسلمان ایسا نہ کرتے تو باعثِ تعجب ہوتا۔ اس  طرح کے رواج  کا انحصار  اس پر تھا کہ  سننے یا پڑھنے والے اچھی طرح قرآن اور غیرِ قرآن کو ممیز کرسکتے ہوں۔  بہرحال، وقت کے ساتھ ساتھ یہ رواج کم ہوتا چلاگیا یہاں تک کہ بیسویں صدی  تک  بالکل ختم ہو چکا تھا[10]۔

مصحفِ مدینہ منورہ سے تقابل

    1. مریم:33 میں مصحفِ مدینہ منورہ میں آتا ہے: وَالسَّلَـٰمُ عَلَیّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا۔ اس کے برعکس، اندرونی کتبہ کے شمال مغربی ضلع پر ثبت  اس جملہ میں ضمیرمتکلم  (1st person)کے بجائےضمیر غائب (3rd person) استعمال ہوئی ہے، اس لیےہم نے اس کو بغیر اعراب کے درج کیاہے کیونکہ اب یہ کلامِ الٰہی نہ رہا۔ اس سلسلے میں وھیلن کی وضاحت کا ذکر گزر چکا۔

    2. اگلی آیت، مریم:34 میں مصحف مدینہ منورہ میں يَمْتَرُونَ آتاہے، جبکہ اندرونی کتبہ میں شمال مغربی ضلع پر'تمتروں' دیکھا جاسکتاہے،  یعنی  خطاب کا صیغہ۔یہ عین ممکن ہے کہ پچھلا بیان جس میں قرآنی آیت میں تصرف کیا گیا تھا، وہ جاری ہے اور یہاں صیغہ بدل کر گویا زائر سے خطاب ہے: "سلام ہے اس پر جب وہ پیدا ہوا اور جب وہ مرے گا اور جب زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ یہ ہے عیسٰی ابن مریم اور یہ ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں تم لوگ شک کرتے ہو"۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ آیت 34  قراءت 'تمتروں'   کے ساتھ لکھی گئی ہو (دیکھیے حاشیہ 19)، تاہم  قیاس یہی  کہتاہے کہ  پہلے سے جو بیان چلا آرہا تھا، اس کی  رعایت کرتے ہوئے کلامِ پاک میں تصرف ارادتاً کیا گیا ہے۔

    3. آلِ عمران:18 میں مصحفِ مدینہ  میں قائمًا بالقسط ہے جبکہ اندرونی کتبہ میں مغربی ضلع پر اسے قیماٮالٯسط  لکھا گیاہے ۔ کیسلر کہتی ہیں کہ یہ خطِ ناقص کی وجہ سےہے1۔

    4. النساء:171 میں مصحفِ مدینہ کی قراءت ہے: القٰھآ  جبکہ اندرونی کتبہ میں مشرقی ضلع پر لکھا ہے:  الڢیھا۔ اس لفظ میں 'ق'،  جس کا نقطہ نیچے لگایاگیا ہے، کے بعد ایک زائد شوشہ  'ی' کیلیے مع  نقاط کے نظر آرہا ہےجو بظاہر  اِمالہ کیلیے ہے ۔  یہ قراءت  بھی صحیح ہے۔ نُسَخِ قدیمہ میں  'الفِ مدہ' اور 'الفِ مقصوریٰ' کا ادل بدل دیکھا گیا ہے[5]، چنانچہ یہاں 'ی' کا شوشہ الفِ مقصوریٰ کیلیے بھی ہوسکتا ہے ۔  

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان کتبات میں مرقوم  آیاِتِ قرآنی اور   معیاری متن  میں کوئی فرق نہیں سوائےاس کے کہ اول الذکر  خطِ ناقص میں لکھے گئے ہیں۔

مسجدِ رسول ﷺ کی مثال

وھیلن مسجدِ نبوی کی جانبِ قبلہ دیوار پر  منقش  عبارتوں سے شہادت پیش کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ کتبات اب موجود نہیں ہیں لیکن تیسری/ چوتھی صدی ہجری کے ایرانی سیاح اور جغرافیہ داں    ابنِ رستہ نے 290 ھ/903ء میں  ان کو دیکھا تھا اور ان کا ذکر اپنی  کتاب الاعلاق النفیسۃ  میں کیا تھا۔  وہ کہتا ہے ، یہ کتبات مغربی دیوار میں باب دارِ مروان ( باب السلام)  سے سورۂ الفاتحہ سے شروع ہوتے ہیں۔ پھر جنوب مغربی کونے سے مڑ کرجنوبی یعنی جانبِ قبلہ  دیوار  سے ہوتے ہوئے جنوب مشرقی کونے پر مڑ کر  مشرقی دیوار پر بابِ علی ( بابِ جبرائیل) پرختم ہوتے ہیں ۔ سورۂ الفاتحہ کے بعد سور ۂ  الشمس  ہے پھر لگاتار سورتیں ہیں جن کا اختتام سور ۂ  الناس پر ہوتا ہے۔ ابنِ رستہ کہتا ہے کہ یہ کتبات اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے حکم سے اس وقت کے گورنر مدینہ حضرت عمر بن عبدالعزیز  کی زیرِ نگرانی لکھوائے گئے تھے۔ اس مشاہدے کی تائید ایک اندلسی سیاح  کی عینی شہادت سے بھی ہوتی ہے جس نے 307ھ/920ء اور 317ھ/929ء کے دوران حرمین کی زیارت کی تھی۔  اس کا ذکر الِعقد الفرید میں ہے۔  اس  سیاح کے بیان سے معلوم ہوتاہے کہ کتبات  مرمریں  لوح پر سنہرے اور نیلے  شیشے کی پچی کاری سے لکھے گئے تھے۔ یہ بالکل  وہی سٹائل ہے جو قبۃ الصخرۃ میں پایا جاتا ہے۔ اس اندازے  کو تقویت خطِ کتبہ سے بھی ملتی ہے  جو دیکھنے والوں کے بقول  خاصا موٹا خط ہے بالکل ویسا ہی جیساقبۃ الصخرۃکے کتبات میں استعمال ہوا [1]۔

 مسجدِ نبوی کے یہ کتبات ولید بن عبدالملک کے دور میں  88ھ/706ء اور 91ھ/710ء کے درمیان لکھے گئے تھے۔ اتنے قدیم کتبات سے  تین اہم امور پتہ چلتے ہیں: ایکؔ، قرآنی سُوَرکی  ترتیب  اس وقت  ایک معلوم حقیقت تھی۔  اسی سے منسلک یہ دوسریؔ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اس وقت قرآن ایک مدون کتاب کی صورت  میں موجود تھا۔ اور آخریؔ یہ کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ  (م: 32ھ/653ء)سے منسوب روایات جن کے مطابق وہ سورۂ الفاتحہ اور معوذتین کو  اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے ، کومسلم جماعت نے  تسلیم  نہیں کیا تھا۔   خود جنابِ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں ان سورتوں کا منقش ہونا اور وہ بھی ایسی ہستی، عمر بن عبد العزیزؒ،  کے ہاتھوں جن کے تقویٰ کی قسم ان کے مخالفین بھی کھایا کرتے تھے—ان روایات کو رد کرنے کیلیے کافی ہونا چاہیے ۔

وھیلن  کہتی ہیں کہ ابنِ رستہ  اور دوسرے مشاہدین  کے مطابق ولید نے مسجد کے صحن میں نماءِ جنوب  (southern facade) میں بھی قرآنی نقوش کا کام کروایا تھا جس کو خوارج نے مروان ثانی کے عہد میں   130ھ/747ء میں تباہ کردیا تھا۔ ایسی تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری مسجدِنبوی  شریف میں  حضرت عمر بن عبدالعزیز نے قرآنی آیات کی نقاشی کروائی تھی۔   اموی دور  میں قرآنی اقتباسات کتبات کی صورت  میں اتنے  زیادہ پائے جاتے ہیں  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اپنی مدون صورت میں پوری اسلامی دنیا میں ایک معروف حقیقت تھا۔ اس طرح  وانسبَرو کا یہ نظریہ کہ متنِ قرآنی نویں صدی شمسی کے اوائل  تک  قانونی معاملات میں نامعلوم تھا، بالکل بے بنیاد   ثابت ہو جاتا ہے۔

یہیں سے  ایک ضمنی معلومات ابن الندیم (م:  385 ھ)  کی الفہرست کے ذریعہ حاصل ہوتی ہےکہ خالد بن ابی الہیّاج نے مذکورہ کتبات لکھے تھے۔ خالد اموی اور عباسی ادوار کا ایک نامور خطاط تھا جس نے ولید بن عبدالملک اور عمر بن عبدالعزیز  کے زمانے میں بہت سے مصاحف  اور نُسَخ کی کتابت کی تھی۔  وھیلن خلیفہ   ولید بن عبدالملک کے ایک  کاتب سعد جو  صاحبِ المصاحف   کہلاتے تھے، کا بھی  ذکر کرتی ہیں جو کاتبِ وحی حضرت     حُوَیطِب بن عبد العزیٰ  (م 54ھ) کے مولیٰ تھے ۔ حضرت  حویطب    کے سردارِ  قبیلہ عامر بن لؤی تھے  جو اُن 16 قریشیوں میں شامل تھے جو نبی ﷺ کی بعثت کے وقت لکھنا   جانتے تھے۔  حضرت حویطب  مدینہ منورہ میں اصحاب المصاحف  کے محلہ میں رہا کرتے تھے۔ وھیلن   نے تاریخی شواہد کی بناء پر لکھا ہے کہ   ساتویں صدی شمسی (پہلی /دوسری صدی ہجری) میں مدینہ منورہ میں ایک محلہ ہوا کرتا  تھا  جہاں قرآنِ کریم کی کتابت کی جاتی تھی اور مصاحف فروخت کیے جاتے تھے۔   وہ کہتی ہیں کہ اس امر کی شہادتیں بڑھتی جارہی ہیں کہ اموی دور میں مدینہ  اہلِ علم و فکر کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ بصرہ اور کوفہ کے مراکز کے ابھرنے سے پہلے آٹھویں صدی شمسی کے نصف اول میں مدینہ منورہ میں نحویین کا  ایک مکتبِ فکربھی قائم ہوچکا تھا ۔ ان میں سے  اکثر افراد کی معاشی ضروریات قرآنِ کریم کی نقل و اشاعت کے ذریعہ پوری ہوتی تھیں۔ ان میں ایک تابعی ابو داؤد عبد الرحمٰن بن ہرمز بن کیسان الاعرج ؒ (م117 یا 119ھ) بھی تھے  جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنو ہاشم کے مولیٰ تھے اور مصحف کی کتابت کیا  کرتے تھے۔

غرض،  مدینہ میں پہلی صدی ہجری کے  ربعِ آخر اور دوسری صدی  کے اوائل میں پیشہ ورانہ  کتابت، خطاطی اور نقاشی  کرنے والوں   کا  ایک سُوق  موجود تھا۔ ظاہر ہے کہ  مساجد ، مدارس اور ذاتی استعمال کیلیے کتابِ پاک  کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلیے  ماہرین کی یہ   جماعت  وجود میں آئی ہوگی۔ قرآنی  مصاحف کی نشر و اشاعت،   تعمیراتی کتبات میں ان کااستعمال، دراہم و دینار  پر قرآنی اقتباسات کی  نقاشی اور منبرِ رسول ﷺ کی اتھاریٹی کا قیام —یہ سب اموی خلفاء  کی جانب سے ایک نئے اسلامی ورلڈ آرڈر کا  اعلان تھے، ایسا ورلڈ آرڈر جس کا مرکز و محور قرآنِ عظیم  تھا۔ وھیلن کہتی ہیں کہ ان حقائق سے بغیر کسی شک کے معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کی تدوین و اشاعت  کا کام ان  واقعات سے بہت پہلے ہوچکا تھا  نہ کہ بعدمیں،  جیسا کہ وانسبرو سمجھتا ہے۔  چنانچہ وہ نتیجہ نکالتی ہیں کہ مسلم روایات ، جن کے مطابق سرکاری اہتمام کے ساتھ  تدوین و اشاعتِ قرآن کا کام خلیفۂ راشد حضرت عثمانکے ہاتھوں ہوا تھا، قطعی طور پر قابلِ اعتماد ہیں۔

اختتامیہ

آخر میں وھیلن مسجدِ صخرہ کے کتبات کی طرف  دوبارہ ر ُخ کرتے ہوئے توجہ دلاتی  ہیں کہ  یہ طرزِ کتابت واضح طور پر ابتدائی عربی تحاریر سےممیز ہے خواہ وہ کسی بھی میڈیم میں ہو (کتبات، پارچے،  عمارتی نقوش، یاسکے وغیرہ) اور اس کو مسجدِ نبوی شریف کی  قرآنی نقاشی کے پسِ منظر میں دیکھنا چاہیے ۔ جس طرح خلیفہ ولید نےاصحاب المصاحف کے ایک  کاپی نویس کو مسجدِ رسول ﷺ میں قرآنی نقاشی کیلیے طلب کیا تھا،  یہ بالکل قرینِ قیاس ہے کہ پندرہ یا بیس سال قبل عبدالملک  نے بھی  ماہرین کے اُسی   گروہ کی طرف رجوع کیا ہوگا۔  وھیلن سوال اٹھاتی ہیں کہ تجربہ کار اور پیشہ ورانہ مہارت کے حامل  کاتبوں  کا ایسا مرکز جیسا کہ مدینہ میں اصحاب المصاحف کا تھا،    اور کہاں ہوسکتا تھا،  جہاں سے  ایسے  مشاق  خطاط  مل سکیں  جو  قبۃ الصخرۃکی حسین و جمیل   عمارت کے  شایانِ شان نقاشی کر سکتے ہوں— ایسے نفیس کتبات جو 1300 برسوں سے اپنی نُدرت اور خوب صورتی قائم رکھے ہوئے ہیں۔

 الحمد للہ،  الشریعۃ کو یہ اعزاز حاصل ہو ا کہ  عمارتِ صخرہ کے کتبات کی نقل پہلی بار اہالیانِ اردو کے لیے پیش کی گئی اورقرآنِ عظیم کے استناد کے بارے میں مستشرقین کے پیداکردہ شکوک  و شبہات کو انہی میں سے ایک فرد کے ذریعہ صاف کردیا گیا۔


حواشی

  1.  مِنگانا کے بارے میں کچھ معلومات  اشارہ [2] میں دی گئی تھیں۔
  2.   قبۃ الصخرہ  سے قبل  زمانے کا ایسا کتبہ جس پر  قرآنی آیات ثبت ہوں، کی ایک ہی مثال سامنے آئی ہے۔ یہ  قبرص سے دریافت ہونے  والا ایک قبر کا کتبہ ہے جس پر مکمل سورۂ اخلاص لکھی ہوئی ہے، جس کے بعد لکھا ہے: "یہ عروہ ابن ثابت کی قبر ہے جو رمضان  29 ھ میں فوت ہوا"۔تاہم اس  کتبہ کی کوئی تصویر اب تک شائع نہیں ہوئی ہے  [3] ۔
  3.  ذوزنقہ وہ چوکور ہوتا ہے جس کے صرف دو مقابل اضلاع متوازی لیکن غیر متساوی  ہوتے ہیں۔
  4.  مولانا مودودیؒ  اور کئی علماء نے  ترجمہ میں  مسجد  کے بعد قوسین میں بیت المَقدِس  یا بیت المُقَدّس لکھا ہے جو صحیح  ہے۔ عبرانی میں اس کا نام Beit HaMikdash ہے جس کا مطلب مقدس گھر ہے۔  یہ  نام اقصیٰ کمپاؤنڈ یا اصلی مسجدِ اقصیٰ ہی کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ بعد میں یہ نام یروشلم شہر کیلیے بھی  استعمال ہونے لگا لیکن صحیح  مراد احاطۂ مسجدِ اقصیٰ  ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی بیت المقدس اورمسجدِ اقصیٰ کے نام اسی معنیٰ میں آئے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان نے سفرنامہ سپین و فلسطین میں مسجدِ صخرہ  کو بیت المقدس سے تعبیر کیا ہے حالانکہ یہ اس کا ایک جزء ہے، کُل نہیں۔
  5.   جیومیٹری میں ایسی کثیر الاضلاع (polygon)   شکل کو کہتے ہیں  جس کے  آٹھ اضلاع  ہوں۔
  6.  المامون نے قبۃ الصخرہ کے  مدخل شرقی پر بھی لنٹل کے اوپرتانبے کی پتری پر  اپنا نام اور  قرآنی آیات  کے اجزاء نقش کروائے تھے۔ اس کی تصویر مع ترجمہ  اشارہ   [11] میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس نےشمالی دروازہ پر بھی تانبے کی ایک پتری لگوائی گئی تھی لیکن اس کی کوئی تصویر میسر نہیں البتہ ترجمہ حوالۂ مذکور میں دیا گیا ہے۔
  7.  کچھ نئی تحقیقات ،جن کوابتک یہود میں قبولِ عام نہیں حاصل ہوا ہے، کے مطابق ہیکل اور قربان گاہ وغیرہ چشمۂ گیحان  پر واقع تھے (شکل نمبر 1)۔  اس تحقیق کے مطابق دیوارِ گریہ جو احاطۂ اقصیٰ کی مغربی دیوار  کا  جنوبی حصہ ہے،  ایک بے بنیاد فسانہ ہے۔
  8.   سورۂ اخلاص۔
  9.   یہاں سے ا لاحزاب: 56 کا آغاز ہوتا ہے۔
  10.  یہاں سے سورۃ الاسراء کی آیت: 111 شروع ہوتی ہے لیکن پہلا لفظ وَقُلِ محذوف ہے۔
  11.   یہ اگرچہ  سورہ الحدید آیت: 2 کا حصہ ہے، لیکن  پورا کلمہ  جو شمالی ضلع پر لا اله الا الله وحدہ لا شريك له سے لیکر  اس ضلع  پر شَىْءٍ قَدِيرٌ  تک ہے،  حدیث میں بھی  آتا ہے۔ توحید اور اللہ تعالی کی بلا شرکتِ غیرے حاکمیت اور کامل قدرت کا یہ اعلان تحریری اور زبانی طور پر کرنا اسلامی ثقافت کا ناگزیر جزء ہے۔ اس تحدی   کو اس تناظر میں بھی اس کتبہ میں  دیکھا جانا چاہیے۔
  12.    یہ  خط کشیدہ  حصہ ترمیم شدہ ہے۔ یہ الفاظ عباسی خلیفہ   مامون الرشید نے عبد الملک کے نام   کی جگہ درج کروائے تھے لیکن اس نے تاریخِ تکمیلِ تعمیر جو معاً بعد درج ہے، سے تعرض نہیں کیا تھا۔
  13. یہاں سے الاحزاب آیت:  56 شروع ہوتی ہے۔
  14.  یہاں سے سورۂ النساء آیات171-172 شروع ہوتی ہیں جن کا اختتام   شمالی ضلع پر ہوتا ہے۔
  15.  کتبہ پر اصل میں نقش ہے:    ولاتٯولوا،  دیکھا جاسکتا ہے کہ  'ق' کے اوپر یا نیچے کوئی نقطہ نہیں۔
  16.  اصل میں لکھا ہے: الحٯ، اور یہاں بھی  'ق' کے اوپر یا نیچے کوئی نقطہ نہیں۔
  17.  یہاں' الڢيها'   میں درمیانی 'ق' کے نیچے ایک نقطہ ہے۔
  18.   شمال مغربی ضلع پر یہ جملہ سورہ مریم:33 میں ضمیر متکلم کے بجائے ضمیر غائب کے ساتھ لکھا ہے، گویا یہ انسانی کلام ہے ۔
  19.   مریم:34   میں یمترون  کی جگہ تمترون لکھا گیا ہے۔  اگرچہ قراءت لٹریچر میں یہ قراءت رپورٹ ہوئی ہے،   تاہم صحیح  یہی ہے کہ قرآنی آیت کو موقع کی مناسبت سے صیغہ بدل کر بیان (paraphrase)  کیا گیا ہے۔
  20.  اصل کتبہ  میں 'ٯول الحٯ' ہے،  دونوں 'ق' بغیر نقطہ کے ہیں۔
  21.  یہاں سے مریم:35-36 شروع ہوتی ہیں۔
  22.   آ یت 35 کے اس ٹکڑے  میں  ' إِذَا قَضَىٰٓ'  اور ' يَقُولُ' دونوں میں 'ق' پر کوئی نقطہ نہیں ، لیکن اسی ضلع پر    آیت 36 کے ٹکڑے 'صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ' میں 'ق' کے نیچے ایک نقطہ ہے۔
  23.  یہاں سے سورۂ آل عمرا ن  آیات  18-19 کا آغاز ہوتا ہے جو جنوب مغربی ضلع تک چلتا ہے۔
  24.   'ڢيما' میں 'ق' کے نیچے ایک نقطہ ہے جبکہ معاًبعد 'ٮالٯسط'  ہے جہاں  'ق' کے اوپر یا نیچے کوئی نقطہ نہیں۔
  25.  اگرچہ الزمخشری  کے مطابق یہ ابو حنیفہؒ  کی قراءت ہے [الکشاف  ،  ص 164]، تاہم کیسلر کا نکتہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔


حوالہ جات

1.    Whelan, Estelle. "Forgotten Witness: Evidence for the Early Codification of the Qur'an." Journal of the American Oriental Society, 118, (1998), pp. 1-14.

2.    احمد، سید ظفر. "جامع عمرو بن العاص: فسطاط کا ایک قدیم نسخۂ قرآن." ماہنامہ عالمی  ترجمان القرآن. جولائی  2020ء، ص 27-33

3.    "An Arabic Inscription From Cyprus, 29 AH / 650 CE," Islamic Awareness, Last Modified 05 August 2007, https://www.islamic-awareness.org/history/islam/inscriptions/urwa.html.
4.    Landay, Jerry M. Dome of the Rock. (New York: Newsweek, 1972).

5.    6b-1411- فتاویٰ الحرم المکی/الشیخ محمد بن صالح العثیمین رقم https://www.alathar.net/home/esound/index.php?op=codevi&coid=120544۔

6.    Al-Ratrout, Haithem, The Architectural Development of Al-Aqsa Mosque in Islamic Jerusalem in the Early Islamic Period, Monograph on Islamic Jerusalem Studies (no.4), (Dundee: Al-Maktoum Institute Academic Press 2004).
7.    Nuseibah, Saïd and Grabar, Oleg, The Dome of the Rock, (New York: Rizzoli International Publications, 1996).
8.    Kessler, Christel. "Abd al-Malik's Inscription in the Dome of the Rock: A Reconsideration." Journal of the Royal Asiatic Society of Great Britain and Ireland, No.1  (1970), pp. 2-14.

9.    احمد، سید ظفر. "جامع عمرو بن العاص: فسطاط کا ایک قدیم نسخۂ قرآن-2." ماہنامہ عالمی  ترجمان القرآن. اگست 2020ء،  ص61-75

10.    Blair, Sheila and Bloom, Jonathan. " Inscriptions in Art and Architecture". The Cambridge Companion to the Quran, ed. McAuliffe, Jane, D. (Cambridge: Cambridge University Press 2006), pp.163-178.
11.    The Copper Plaque Inscriptions at The Dome Of The Rock in Jerusalem, 72 AH / 692 CE. Islamic Awareness, Last modified 12 November 2005, https://www.islamic-awareness.org/history/islam/inscriptions/copper.


علامہ خادم حسین رضویؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علامہ خادم حسین رضویؒ سے کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں اور ان کے خطابات بھی مختلف حوالوں سے سننے کا موقع ملتا رہا ہے۔ وہ بریلوی مکتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے اور مدرس عالم دین تھے۔ دینی تعلیمات و معلومات کا گہرا ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور تحریکات کے ادراک سے بھی بہرہ ور تھے، اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کا نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے تھے بلکہ اپنے خطابات میں کلامِ اقبالؒ کو موقع کی مناسبت سے مہارت کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔

میں مشترکہ دینی مسائل میں ہمیشہ اجتماعی اور مشترکہ جدوجہد کا داعی رہا ہوں اور عملاً بھی مشترکہ تحریکات کا متحرک کردار رہا ہوں۔ بریلوی مکتب فکر کے جن اکابر کے ساتھ گزشتہ نصف صدی کے دوران مختلف تحریکات میں مجھے کام کرنے کا موقع ملا ہے ان میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبد الستار خان نیازیؒ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ، علامہ سید محمود احمد رضویؒ، مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ، مولانا ابوداؤد محمد صادقؒ، صاحبزادہ حاجی فضل کریمؒ، مولانا قاضی اسرار الحقؒ، اور مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مسلکی اختلافات میں اپنے موقف پر پوری طرح قائم رہتے ہوئے مشترکہ دینی معاملات بالخصوص نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ، اور دینی اقدار کی بالادستی کی جدوجہد میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے ملی ضرورت کے ہر موقع پر جس اشتراک اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ میرے نزدیک پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ نمایاں اور سنہری باب ہے، جو آئندہ بھی دینی جدوجہد کے قائدین اور کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اس پس منظر میں چند سال سے علامہ خادم حسین رضویؒ کی جدوجہد فطری طور پر میرے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے اور ہر مناسب موقع پر میں نے ان کے موقف اور تحریک کی کھلے بندوں تائید کی ہے۔ ان کی تحریک بطور خاص دو عنوانات (۱) تحفظ ختم نبوت اور (۲) تحفظ ناموس رسالتؐ پر نمایاں تھی مگر وہ نفاذ شریعت، اسلامی تہذیب و روایات کے تحفظ اور لا دینی فلسفہ و مزاج پر نقد و جرح میں بھی دوٹوک بات کرتے تھے اور ان کی گفتگو میں ملی تقاضوں اور قومی ضروریات کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔ انہوں نے فیض آباد راولپنڈی میں پہلی بار جب دھرنا دیا تو اس دھرنے کا جوش و خروش اور خطابات کا منظر متعدد بار دیکھنے کا موقع ملا جس سے علامہ رضویؒ کی اپنے مشن کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ اور اس کے لیے استقامت کے ساتھ ساتھ ایثار و قربانی کے تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا۔ ان کا لہجہ سخت اور ریمارکس تلخ ہوتے تھے مگر اس کے پیچھے ان کے خلوص اور جذبہ کی دیوار دیکھ کر اسے ان کے مزاج پر ہی محمول کرنا پڑتا تھا۔ اس پر مجھے ایک پرانی بات یاد آگئی ہے کہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ جب تحریک آزادی کی جانگسل تگ و دو اور اس کے دوران طویل عرصہ کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تو ان کے لہجے اور گفتگو میں تلخی کا رنگ پیدا ہو گیا تھا جس پر غالباً شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا تھا کہ اس تلخی کے پیچھے مولانا سندھیؒ کی استقامت، صبر، قربانی، ایثار اور حوصلہ کی طویل تاریخ پر نظر ڈال لی جائے تو اس کی وجہ سمجھنا اور اسے معذوری پر محمول کرنا مشکل نہیں ہے۔

علامہ رضویؒ نے اپنی تحریک کو مشترک ماحول میں لانے کی بجائے اپنے مسلکی ٹائٹل کے ساتھ آگے بڑھایا جو میرے نزدیک ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا کہ اس کے بغیر وہ بریلوی مسلک کے عوام کو اس درجہ میں بیدار اور منظم نہ کر پاتے جو ہماری دینی تحریکات میں ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے کہ عوام میں خاصی اکثریت رکھنے والے اس مسلک کے علماء اپنے مسلکی دائروں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے قوم و ملت کے اجتماعی مسائل کی طرف بھی اسی درجہ میں متحرک ہوں جس طرح وہ مسلکی معاملات میں جذبہ و جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھ میں ایک تحریکی کارکن کے طور پر مسلسل یہ دیکھتا رہا ہوں کہ اپنی تحریک کو مسلکی دائروں میں محدود رکھتے ہوئے بھی عوامی اجتماعات اور بیانات میں مسلکی اختلافات کو انہوں نے موضوع بحث نہیں بنایا اور دوسرے مسالک کو اگر اپنے ساتھ شامل نہیں کیا تو انہیں اپنی عمومی گفتگو کا ہدف بھی نہیں بنایا اور اس طرح انہوں نے پوری توجہ تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ ختم نبوتؐ کے اجتماعی تقاضوں پر مرکوز رکھی ہے۔ ویسے بھی نجی مجالس کی بات الگ ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی مسلک کے راہنماؤں کی نجی گفتگو کو باعث نزاع بنانا مناسب نہیں ہوتا۔

علامہ خادم حسین رضویؒ نے فیض آباد کے حالیہ دھرنے میں حکومت سے جن امور پر تحریری وعدے حاصل کیے ان کے بارے میں باہمی معاہدہ ریکارڈ پر آ چکا ہے۔ چنانچہ ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہماری خواہش ہو گی کہ حکومت کے ساتھ ان کے حالیہ معاہدہ کی فوری تکمیل کو مطالبات میں سرفہرست رکھا جائے اور اس کے لیے جدوجہد کا تسلسل قائم رکھا جائے۔

علامہ رضویؒ کے فرزند و جانشین حافظ محمد سعد حسین رضوی نے اپنی پہلی عوامی تقریر میں جن جذبات و عزائم کا اظہار کیا ہے وہ میرے جیسے تحریکی کارکن کے لیے حوصلہ اور خوشی کا باعث ہیں، ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے عزم پر قائم رہتے ہوئے اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھیں گے اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہمارا تعاون و حمایت انہیں بھی بدستور حاصل رہے گا۔


میکرون، اسلام اور فرانسیسی اقدار

ڈاکٹر امیرہ ابو الفتوح

ترجمہ: مراد علی

["مڈل ایسٹ مانیٹر" پر  ڈاکٹر  امیرہ ابو الفتوح کے "Macron's real crisis has more to do with French values than Islam" کے عنوان سے شائع ہونے  والے مضمون کا اردو ترجمہ]


اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایمانویل ماکرون کی جذباتی مہم کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ فرانسیسی نسل پرستی کی وہ پیدوار ہے جو اس کی نفسیات میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ یہ اسلام کے بجائے فرانسیسی اقدار کا بحران ہے۔ فرانس سیکولر ریاست کی حیثیت سے اسلام کو بطورِ مذہب تسلیم کرنے کےلیے تیار نہیں، اگرچہ اس نے مذہب کو ریاست سے الگ کرلیا ہے، جیسا کہ عیسائیت کے ساتھ 1905ء میں کرچکا ہے۔ فرانسیسی اپنے مسلمان شہریوں کوایک مسئلہ سمجھتے ہیں؛ فرانسیسیوں کا خیال ہے کہ مسلمان ان کے ہاں گھس آئے ہیں جو ان کے معاشرے اور ثفافت میں کبھی بھی ضم نہیں ہوسکتے۔ ریاست نے متعدد  اداروں میں مسلمانوں کی، قطع نظر قابلیت اور لیاقت کے، تقرری پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اور باوجود اس کے کہ وہاں چھے ملین شہری اسلام کا پس منظر رکھتے ہیں۔ کئی فرانسیسی مسلمان وہیں پیدا ہوئے اور پرورش پائی، ان کے بچوں اور پوتوں کو فرانس نے ملکوں کو فتح کرکے کالونیاں بنانے میں استعمال کیا، اور جنھوں نے دو بڑی عالمی جنگوں میں [فرانس کا] دفاع بھی کیا۔

پھر انھیں فرانس کے بڑے شہروں کے مضافات میں الگ تھلگ غریب بستیوں میں رکھا گیا، جب ملازمت ، صحت اور تعلیم کی بات آئی تو ان کے ساتھ نفرت انگیز نسل پرستی کا اظہار کیا گیا۔

فرانسیسی نسل پرستی اور گورے رنگ کی بالادستی معاشرے میں موجود ہے اور سیاسی بکھیڑ ے میں انتہا پسند دائیں بازور سے لے کر ترقی پسند بائیں تک میں واضح طور پر عیاں ہے۔ ان میں سر مو فرق نہیں۔ مثال کے طور پر سابق فرانسیسی سوشلسٹ صدر ژا ں چیراک کی یاد تازہ کریں۔ جس نے گوری رنگت والوں کو تسلی دی جو عرب اور افریقی مہاجرین میں رہتے تھے اور اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ کس طرح ان کی بد بو اور پریشان کن شور کو جھیلتے ہیں۔ عوامی سطح پر ان نسل پرستوں اور اشتعال انگیز الفاظ کا خیر مقدم کیا گیا؛ چیراک کے الفاظ کی تعریف کرنے والا پہلا شخص اس دور کے نسل پرست بائیں بازو کے قومی محاذ کا رہنما جین میر لی پین تھا۔

دراصل صدر کے الفاظ اس سے ذرا بھی مختلف نہیں تھے جو بائیں بازو کے وزیر داخلہ جیرالڈ موسا ڈارامنین نے کہے تھے ، جب اس نے فرانس کے اسٹورز میں حلال فوڈ کے اشیا کےلیے خصوصی سیکشن کی موجودگی پر حال ہی میں ناراضگی اور صدمے کا اظہار کیا تھا۔ لیکن کوشر فوڈ کےلیے خصوصی سیکشنز پر اس کو پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔ اس نے حالیہ برسوں میں نشان دہی کی کہ ماکرون حکومت نے مسلمانوں کے 358 ادارے بشمول مساجد کے بند کرائے اور 480 غیر ملکی ]مسلمان[ ملک بدر کردیے۔ ان کے دادا الجزائر کے تھے، اس وجہ سے نام کا درمیانی حصہ]موسیٰ[ہے۔ وزیر موصوف اتنی کامیابی کے ساتھ گھل مل گیا کہ اس کےلیے اس کے آبا و اجداد بھی کوئی معنی نہیں رکھتے۔

لہٰذا فرانس کا اسلام کے ساتھ مسئلہ انہونی نہیں اور یہ محض اس استاد کے قتل کے نتیجے میں نہیں ابھرا جس نے رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا تھا۔ ایک استاد کی حیثیت سے اس سے یہی توقع تھی کہ وہ اسباق تیار کرتے وقت اپنے نو عمر طالب علموں کے اعتقادات کا خیال رکھتا لیکن اس نے بظاہر فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ چارلی ہپڈو کے اشتعال انگریز کارٹون پر بات کرے گا۔ سننے میں یہ آیا تھا کہ اس نے اپنے مسلمان طلبا سے کہا کہ اگر ]یہ عمل[ان کو ناگوار گزرتا ہو تو وہ کلاس چھورڑ سکتے ہیں۔ ایسا کرنے میں مساوات اور یکساں تعلیم کا شائبہ تک نظر آتا ہے؟

یہ مسئلہ فرانسیسی معاشرے کی جڑوں میں پیوست ہے اور احمق استعماری نوجوان ماکرون نے اس کا اظہار اس وقت کیا جب اس نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو للکارا اور یہ بات دہرائی کہ وہ گستاخانہ خاکوں کو پھر سے شائع کیے بغیر مسلمانوں کو نہیں چھوڑے گا۔وہ اس کےلیے پر عزم ہے کہ فرانس میں، اور ممکنہ طور پر کہیں بھی، مسلمانوں کو رسوا کرنے اور ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا ماحول پیدا کررہا ہے۔ ایفل ٹاور کے قریب دو خواتین کو حجاب پہننے کی پاداش میں چھریوں سے گھونپنا اور مساجد کو جلانے کا اعلان فرانسیسی صدر کی نسل پرستی کے صر ف دو مظاہر ہیں۔

فرانسیسی حکام نے اس واقعے کو مسلمانوں کے خلاف عجیب وغریب سیکورٹی، سیاسی اور میڈیائی مہم چلاتے ہوئے اپنے فائدے کےلیے استعمال کیا۔ سول سوسائٹی گروہ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں "Collective Against Islamophobia in France" بھی شامل ہے، جو اسلام فوبیا جرائم کو ڈیل کرتا ہے۔ یہ متاثرین کو قانونی معاونت بھی فراہم کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ عام لوگوں پر حملے کم و بیش ماکرون حکومت نے سینشن لگائے ہیںاور متاثرین کے دفاع کےلیے کوئی بھی نہیں ہے۔ فرانس کے مسلمان شہریوں پر دائیں بازو کے تشدد کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ مساجد، اسکول اور دکانیں "اسلامسٹ" دہشتگردی" کا مقابلہ کرنے جیسے فریب کے نام پر بند ہیں۔ ماکرون نے اس ماہ کے آغاز میں ـــ استاد کے قتل سے قبل ــــــ "فرانسیسی اسلام" کے قانون کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کو اس نے "اسلامی علیٰحدگی پسندی" سے موسوم کیا جو انجمنوں اور شہریوں پر یہ شرائط عائد کرتی ہے کہ وہ اپنی سیکولر ازم کو یقیقی بنائے۔

سازشی نظریات پر یقین رکنے والے کہہ سکتے ہیں کہ استاد کا قتل ایک ڈراما تھا جس کو بند کمروں میں رچایا گیا تاکہ ماکرون کے اس نظریے کو ثابت کیا جا سکے کہ اسلام بحران کا شکار ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی سمجھ آسکتی ہے کہ کیا وجہ تھی کہ قتل کہ ذمہ دار شیشانی نوجوان کو موت کے گھاٹ اتارا گیا بجائے اس کے کہ اسے گرفتار کیا جاتا اور عوامی عدالت میں اس پر فرد جرم آید کی جاتی تاکہ سچائی سامنے آسکے۔ اس کے راستے سے ہٹائے جانے کے بعد اب ہمارے پاس سیکورٹی اداروں کے موقف کو حلق سے اتارنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

فرانس اور نیوزلینڈ کا واقعہ قابل موازنہ ہے، جو گذشتہ سال پیش آیا جب بریٹن ٹیرنٹ نامی ایک انتہا پسند نوجوان نے النور مسجد اور لین ووڈ اسلامک سنٹر میں نمازیوں کو نشانہ بنایا، جس میں سو سے زائد مسلمان جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ نیوزی لینڈ پولیس نے ،مجرم کو پکڑکر گرفتار کیا؛ اس کے خلاف مقدمہ چلایا اور اب وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ جبکہ فرانس میں فوری طور پر ختم کردیا گیا اور حقیقت اس کے ساتھ ہی ختم ہوگئی، جس نے سیاست دانوں کےلیے عوام کی ایک بڑے حصے کے خلاف اشتعال انگریز بیانات دینے کا بہترین ماحوال پیدا کیا۔ ماکرون بخوبی جانتا ہے کہ اس کی اندورونی اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کی وجہ سے اپنی مقبولیت کھو رہا ہے، اس لیےوہ اگلے انتخابات کےلیے انتہا کے دائیں بازو کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ہم اسی طرح ماکرون کی حماقتوں سے معاشرے میں بڑھنے والی نفرت اور عدم روادرای کا موازنہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکنڈا آرڈرن کا اپنے ملک کے بحران کو دنشمندی اور عقل مندی سے قابو میں لانے سے کرتے ہیں۔ اس نے اپنے شہریوں کی دیکھ بال اور ان کے عقیدے کے احترام کے بدلے میں پوری دنیا ، مسلمان اور غیر مسلم دنووں ، سے عزت و اکرام سمیٹ لیا۔

اسلام فوبیا کی جڑیں فرانسیسی معاشرے میں بہت گہری ہیں اور سایست دان لبرل ازم ، آزادی اظہار، نسانی حقوق، "ملکی اقدار "کے تحفظ اور سیکولر ازم کے نفاذ کے ساتھ سب سے بڑے واہمے: “Liberté, égalité, fraternité”.جیسے جعلی نعروں سے اس کی نگہداشت کررہے ہیں۔ یہ اس جہالت کی اصل ہے جو مسلمانوں اور دیگر پھسے ہوئے اقلیتوں کے خلاف نسل پرستی کے امتیازی برتاؤ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    فرانس نے جن عرب اور افریقی ممالک کو کالونی بنایا وہاں وہ فی الوقاع ایک خوف ناک خونزیری کی تاریخ رکھتا ہے۔ یہاں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں؛ فرانسیسی اس کی تردید کرسکتے ہیں اور اپنی تاریخ کو روشن ثابت کرنے کی بھی کوشش کرسکتے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ ابھی بھی زندہ ہیں جو  پہلے فرانس کی دہشت گردی کی گواہی دیں گے۔ glossy façade اور فریب دہ استدلال کے پیچھے اصل حقیقت یہ ہے کہ فرانس کبھی بھی مہذب ملک نہیں رہا، بلکہ عدم رواداری ، ناانصافی اور تاریکی کا خطہ رہا۔ فرانس کے Museum of Mankind ، الجزائریوں کی کھوپڑیوں سے مزین ہے جو فرانس نے قتل کئے تھے، کی بربریت اور جرائم کی انتہا پر شاہد ہے۔ اگر آج فرانس دہشت گردی کا رونا رو ہا ہے تو اس کی وجہ وہی ہے جو ایک بار میلکم ایکس نے امریکا کے بارے میں کہا تھا "the chickens are coming home to roost" (جیسا کروگے ویسا بھرو گے)

ترکی صدر رجب طیب اردگان نے فرانس کو اس کی شرمناک ماضی یاد کرائی۔ وہ مسلم دنیا میں واحد حکمران ہے جنھوں نے مسلمانوں کا دفاع کیا اور ماکرون کو ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے ایمان کی اہانت پر متنبہ کیا۔ اردگان نے یہ بھی کہا کہ ماکرون کا اسلام کی نئی صورت گری کرنے پر گفتگو اس کی جہالت کو ظاہر کرتی ہے اور اسے دماغی علاج کرنا چاہیے۔ اردگان کے الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس وقت لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کردیا جب ان کے اپنے حکمرانوں نے اسلام اور پیغمبرﷺ کے دفاع میں ناکام ہوکر اپنے عوام کو مایوس کردیا۔ ان کے رہنماوؤں نے اس بیوقوف کے بیانات کے جواب میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا جو ایک مذہبی جنگ چاہتا ہے۔ اسے احتیاط ہی کرنی چاہیے۔

فرانسیس مفکر مایکل اونفرے کہتا ہے کہ ہم ما بعد مسیحیت تہذیب کے دور میں جی رہے ہیں۔ لہذا، فرانس کا بحران جو ماکروں کا اصل بحران ہے، وہ یہی ہے کہ ماکرون اپنے سیکولر جمہوریہ کے مسیحی ورثہ کا احیا چاہتا ہے صرف اس لیے کہ اسلام کا مقابلہ کر سکے۔ یہ ستم ظریفی اس کی سمجھ میں نہیں آسکتی لیکن اسے یہ جان لینا چاہیے کہ اسلام غالب آتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا، ان شاء اللہ۔ جب بھی اس کے خلاف قوتیں مضبوط ہوتی ہیں، اسلام مزید پھیلتا ہے۔ ایمانویل ماکرون جیسے احمق کو آخرکار پتہ چلے گا کہ وہ بس ہوا میں تیر مار رہا ہے۔


’’چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ‘‘

مولانا وقار احمد

گذشتہ دنوں غازی علم دین کے بارے میں مختلف کتب کو پڑھتے ہوئے مجاہد ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب کی بعض کتب بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے ختم نبوت اور رد قادیانیت کے حوالے سے بیسیوں کتب تحریر کی ہیں۔  ہماری معلومات کی حد تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماوں میں سے سب سے زیادہ اس موضوع پر انہوں نے ہی لکھا ہے۔  مولانا نے جہاں مسئلہ ختم نبوت کی علمی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے متعدد کتب لکھیں ، وہیں انہوں نے برصغیر کی تحریک ختم نبوت کی تاریخ کو محفوظ کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دیا اور اس پر بھی کئی کتب لکھی ہیں۔ انہی میں سے ان کی ایک کتاب " چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ " بھی ہے۔

مولانا کی یہ کتاب 1672 صفحات اور 3 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔    اپریل 2016ء کو  عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کی ۔  اس کتاب میں مولانا نے  شخصیات کے حوالے سے لکھی گئی سابقہ تمام کتب کے مندرجات کو جمع کر دیا ہے۔ اسی طرح مولانا  نے احتساب قادیانیت کے نام سے جو مجموعہ تیار کیا ہے، اس میں شائع ہونے والی کتب ورسائل کے تعارف میں مصنفین کا بھی مختصر تعارف کروایا ہے، وہ بھی مکمل  اس کتاب میں نقل ہو گیا ہے۔  (بعض شخصیات پر مولانا کی مستقل کتب بھی موجود ہیں، جیسے حضرت خواجہ خان محمد صاحب، مولانا عبد المجید لدھیانوی صاحب ، اس کتاب میں وہ کتب نہیں بلکہ متفرق مضامین کو جمع کیا گیا ہے۔)

کتاب کے  اہم خصائص وامتیازات:

    1. کتاب میں برصغیر میں ختم نبوت اور رد قادیانیت کے حوالے سے کام کرنے والے تمام فوت شدہ  اہل علم ومجاہدین کا تذکرہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے،  گویا کہ یہ ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔  مولانا خود اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  " یہ خیال رہے کہ جو حضرات اس دنیا سے رخصت ہو گئے ان کے حالات جمع کیے ہیں۔ جو حضرات زندہ سلامت باکرامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی بہترین صحت و سلامتی کے ساتھ مزید زندہ رکھیں۔ ان کے حالات کو جمع کرنا آنے والی نسلوں کے ذمہ رکھ چھوڑا ہے۔"  ( جلد اول صفحہ 10 )

    2. کتاب کو الف بائی ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے، جس کی بدولت تلاش آسان ہے۔

    3. کتاب میں کسی مسلک یا جماعت کی ترجمانی نہیں کی گئی، بلکہ مسلمانوں کے جتنے بھی گروہ ہیں، ان سب میں ختم نبوت ورد قادیانیت پر کام کرنے والے افراد کے حالات کو جمع  کیا گیا ہے۔ مولانا  لکھتے ہیں: " --- اس میں شیعہ ، سنی ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث کی تقسیم و تفریق ، سیاسی غیر سیاسی ، کانگریسی، مسلم لیگی کا امتیاز ، مسٹر ملا کے فرق کے بغیر جس نے ختم نبوت کے لیے جو خدمت سر انجام دی ان کے تھوڑے یا زیادہ حالات جمع ہو گئے ہیں۔"( جلد اول ، ص 10)

    4. قادیانی جماعت پر نقد کے حوالے سے اگر کسی قادیانی یا عیسائی نے بھی کچھ لکھا ہے تو مولانا نے اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔  مولانا لکھتے ہیں: "  ہاں البتہ ایک وضاحت ضروری ہے کہ رد قادیانیت پر تحریری خدمات کے سلسلہ میں بعض قادیانیوں یا مسیحیوں کا تذکرہ بھی آپ کو ملے گاجو بظاہر کتاب کے نام سے میل نہیں رکھتا۔--- " (جلد اول ، ص 10  )

    5. کتاب کی جلد اول عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امراء ، نظماء اور مبلغین کے تذکرہ پر  مشتمل ہے، جبکہ جلد دوم اور جلد سوم دیگر اہل علم و مجاہدین کے تذکرہ پر  مشتمل ہیں۔

بعض تسامحات:

    1. کتاب میں حالات زندگی جمع کرنے میں کوئی خاص معیار طے نہیں کیا گیا، بلکہ جیسے اور جتنا مواد ملا دے دیا، جس کی وجہ سے بعض بزرگوں کے حالات پر تو باقاعدہ مقالے تیار ہو گئے، اور بعض دیگر معروف بزرگوں کے حالات میں صرف چند سطریں ہی لکھی جا سکیں ، اور ان میں بھی ان کا بنیادی تعارف  نہیں دیا گیاحالانکہ معمولی کاوش سے ان کا جامع تذکرہ کیا جا سکتا تھا۔

    2. حالات زندگی جمع کرنے میں تاریخ پیدائش و وفات ذکر کرنے کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا،  اور بعض  معروف بزرگوں کی تواریخ وفات بھی رہ گئی جس سے ان کے زمانے کا تعین کرنے میں قاری کو مشکل پیش آتی ہے۔  جیسے جلد سوم صفحہ 1548 پر مولانا پروفیسر نجم الدین مرحوم   جہلمی فاضل دیوبند کا تذکرہ ہے۔ مولانا  اورینٹیل کالج لاہور میں خدمات سرانجام دیتے رہے، 1952ء میں ان کی وفات ہوئی۔  اس کتاب میں  7  سطروں میں ان کا تذکرہ ہے جس میں ان کے سن پیدائش و وفات اور آبائی علاقہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔  

    3. کتاب کے شروع میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں صرف مرحومین کا تذکرہ ہے، مگر کتاب میں بہت سے زندہ حضرات کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ بعض تو بہت ہی معروف  اہل علم ہیں جن کی  حیات و موت کا معلوم ہونا نہایت سہل ہے، جیسے کہ جلد دوم ،  صفحہ 628 پر مولانا اسرار الحق شاہ، صفحہ 630 پر حکیم ڈاکٹر محمد اسحاق ، صفحہ 790 پر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، صفحہ 943 پر رفیق باجوہ ،  صفحہ 1082 پر  پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری ،  جلد سوم صفحہ 1445 پر مجیب الرحمن شامی  ، جلد سوم ص 1524 پر پروفیسر منور احمد ملک کا تذکرہ ہے۔  یہ تمام اہل زندہ ہیں، اور معروف ہیں، ممکن ہے کہ کچھ اور بھی زندہ بزرگوں کا تذکرہ موجودہ ہو۔  

    4. کتاب کی ابتدا میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں ختم نبوت کے حوالے سے کام کرنے والے اہل علم کا تذکرہ کیا جائے گا۔ آگے چل کر اس کا اہتمام نہیں کیا گیا،  اور بعض ایسے بزرگوں کا تذکرہ بھی آگیا جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں، جیسا کہ کتاب  کی جلد سوم کے صفحہ 1549 پر پیر سید نذر دین کا تذکرہ ہے۔  دو صفحوں پر مشتمل اس تذکرہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب کی ایک روایت بیان ہوئی ہے، جس  میں ان کے والد محترم پیر سید نذر دین صاحب کی آوائل عمری کی کرامت کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ موضوع پر پیر سید نذر دین صاحب کا کیا کام ہے، یہ نہیں بتایا گیا۔ نیز اس طویل روایت کے علاوہ پیر صاحب کے تعارف میں بھی بالکل بنیادی امور کا بھی تذکرہ نہیں کیا گیا۔  ( یہ واقعہ اس سے پہلے مولانا نے "ایمان پرور یادیں " ، " تذکرہ مجاہدین ختم نبوت " میں بھی بیان کیا ہے۔)

    5. بعض مواقع پر ایسی تفصیلات بیان ہوئی ہیں  جن کی تاریخ و تذکرہ کی کتاب میں خاص اہمیت نہیں، جیسا کہ جلد سوم کے صفحہ 1609 سے صفحہ  1622 تک مولانا محمد یعقوب پٹیالوی کا تذکرہ ہے۔ اس میں  مولانا کی کتاب " تحقیق لاثانی" اور " عشرہ کاملہ" کا تعارف ہے۔  اس مقالہ میں مولانا محمد یعقوب پٹیالوی کے تعارف میں صرف دو جملے لکھے ہیں، باقی تمام تر تفصیلات ان کی دونوں کتابوں کے بارے میں ہیں۔ یوں لگتا ہے  کہ کتاب " عشرہ کاملہ" کا دیباچہ پورا مضمون میں دے دیا گیا ہے۔  اسی طرح کتاب پر مولانا خلیل احمد سہارنپوری و شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کی تقریظات بھی نقل کر دی گئی ہے۔ یہ تمام چیزیں اپنی جگہ بہت اہم ہونے کے باوجود تاریخ و تذکرہ سے خاص مناسبت نہیں رکھتیں، بلکہ ان سے اہم مصنف کا تعارف تھا۔

    6. کتاب میں بعض تحریرات دوسرے اہل علم کی ہیں، مگر منسوب مولانا اللہ وسایا صاحب کی طرف ہو گئی ہیں۔ ( بسا اوقات بڑے لوگوں کے ہاں اس طرح کے اتفاقات ہو جایا کرتے  ہیں، جو کہ خود تحریر وہ صاحب تحریر کے لیے اعزاز ہوا کرتا ہے۔)

چند اغلاط

    1. کتاب میں بہت سی ایسی چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں، جو کہ تاریخی حوالے سے درست نہیں ہیں، جیسا کہ  جلد اول کے صفحہ 41 پر مولانا محمد علی جالندھری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

" جمعیت علمائے اسلام کے قیام میں آپ کی مخلصانہ کوششوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کا پہلا اجلاس جو مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں ہوا۔ اس میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے صدارتی خطبہ میں حضرت جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کا نام لے کر فرمایا کہ میرے خیال میں صدر اجلاس حضرت جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کو ہونا چاہیے تھا "

مولانا کی یہ عبارت ایک عام غلطی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کا پہلا اجلاس قاسم العلوم میں نہیں ہوا،  بلکہ یہ اجلاس 8 اکتوبر  1956ء کو  خان محمد بہرام بلڈنگ ، چوک فوارہ بالمقابل سول ہسپتال ملتان میں منعقد ہوا تھا۔  ( ماہ نامہ لولاک ،  نومبر 2016ء ص: 25 )  

اس عبارت میں مولانا نے صدارتی خطبہ کا حوالہ دیا ہے، جب کہ مولانا جالندھری کے حوالے سے مولانا احمد علی لاہوری نے خطبہ استقبالیہ میں اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا  تھا۔ مولانا احمد علی لاہوری ؒ  کے الفاظ بحوالہ " لولاک نومبر 2016ء " ملاحظہ ہوں:

" --- جب مجھے لاہور میں اس تجویز کی اطلاع دی گئی تو میں نے انکار کر دیا اور عرض کی کہ مجھ سے بہتر آدمی موجود ہیں۔ مثلا حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کا ذکر میں نے کیا کہ وہ علماء کرام کی مقدس جماعت کے بہترین صدر ہو سکتے ہیں۔"  (لولاک نومبر 2016ء ص 25 )  

اس اجلاس کی صدارت مولانا خدا بخش صاحب ملتانی کر رہے تھے۔  

    2. بعض مواقع پر محض سنی سنائی باتیں لکھی گئی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، جیسا کہ جلد سوم صفحہ 1327 سے 1329 تک غازی علم الدین کاتعارف ہے۔ اس  تعارف میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی 1927ء کو کی گئی تقریر کا  اقتباس نقل کیا اور پھر آگے چل کر لکھا :

" --- صبح ترکھان کا بیٹا غازی علم الدین رحمۃ اللہ علیہ اٹھا ، جا کر راجپال کا کام تمام کر دیا۔"

اس واقعہ  کے بیان میں تاریخی حوالے سے صریح غلطی کی گئی۔ جس جلسہ کا حوالہ دیا جاتا ہے، وہ 1927ء میں ہوا، اور اس کے بعد شاہ جی گرفتار ہوئے، جب کہ راجپال کے قتل کا واقعہ 1929ء کا ہے۔ 1929ء میں شاہ جی  اپنے آبائی شہر امرتسر اور ڈیرہ غازی خان میں مختلف تبلیغی واصلاحی دوروں پر رہے ہیں۔  (ملاحظہ ہو،  حیات امیر شریعت ، جانباز مرزا ، ص 100، 101)

مولانا اللہ وسایا صاحب نے   اپنی کتاب " ایمان پروریادیں " جون 1986ء میں شائع کی، اس کے ص 16 پر   یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ اسی طرح " تذکرہ مجاہدین ختم نبوت"  اگست 1990ء میں شائع کی، اور  " ایمان پرور یادیں" کو اس کا حصہ بنایا  اور اب اپریل 2016ء میں "  چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ " شائع کی۔ سب جگہ یہی غلطی کی ۔ حالانکہ تھوڑی سی توجہ سے اس واضح غلطی کی اصلاح کی جا سکتی تھی۔    

علم الدین  والےواقعہ میں بہت سے تذکرہ نگاروں نے شاہ جی کی تقریر اور  علم الدین کے اقدام کو اس طرح بیان کیا ہے کہ گویا یہ تمام واقعہ شاہ جی کی  تقریر کا نتیجہ ہے۔ مولانا محمد علی  جالندھری   شاہ جی کے حوالے سے روایت کرتے ہیں:

" اور شاہ جی فرماتے تھے کہ علم الدین میرا  مرید تھا ۔ جب میں تقریر کر رہا تھا وہ اسٹیج  کے قریب زمین پر بیٹھا تھا۔ میرے الفاظ سن کر چلا گیا اور جا کر شاتم رسول  راجپال کو قتل کر دیا ۔ " ( خطبات جالندھری ،  مرتب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ،  ص 139، ناشر مدرسہ تعلیم القرآن صدیقیہ ، شجاع آباد ، طبع دوم ، رمضان المبارک 1433ھ)

مجلس احرار اسلام کے سرگرم کارکن اور گوجرانوالہ کے رہنما چودھری غلام نبی  مرحوم   اپنی کتاب " تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک "  میں غازی علم الدین کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

" ---- شاہ جی فرمایا کرتے تھے کہ میری تقریر کے آخری جملے تھے کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی دروازے پر کھڑا ہے اور پوری توجہ اور انہماک سے تقریر سن رہا ہے۔ شاہ جی کی تقریر کے آخری جملے ،  "اے لوگو! تمہاری ماں ، ہم سب کی ماں ---- اماں عائشہ صدیقہ کھڑی ہیں اور پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ کوئی ہے اس گستاخ سے میرے آپ  کا دامن چھڑائے ۔ اے لوگو، یا تو راجپال نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں۔" ادا ہوتے ہی وہ نوجوان جو دروازہ میں کھڑا تھا، غائب ہو گیا۔  دوسرے روز لاہور میں شور وغل تھا کہ راجپال قتل ہوگیا تھا اور غازی علم الدین کے نام سے مسلمانوں کی عظمت کا نشاں بن گیا ۔ شاہ جی کو اس مقدمے میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی کہ انہوں نے غازی علم الدین کو اشتعال دلایا تھا جس نے راجپال کو قتل کیا۔ " (47، 48)

چودھری صاحب  مذکورہ بالا روایت سید عطاء اللہ شاہ صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔  دوسری طرف مورخ احرار جانباز مرزا اس  جلسہ کی روداد بیان کرتے ہوئے تقریر کے اہم نکات روزنامہ زمیندار کے حوالے سے نقل کرتے ہیں اور پھر ان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

" یہ تقریر اس قدر مؤثر اور جذباتی تھی کہ تمام مجمع میں حشر بپا تھا۔ شاہ صاحب کی تحریک پر لوگوں کے جتھے باغ میں جلسہ گاہ جاتے اور گرفتار ہو جاتے۔ ان پر لاٹھی چارج بھی کیا جاتا، یہ سلسلہ تھوڑی دیر جاری رہا، بعد ازاں شاہ جی نے عوام کو اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی اپیل کی اور کہا!

'ہمارا مؤقف قتل و غارت  گری نہیں۔ بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ برطانوی حکومت تعزیرات ہند میں ایک ایسی دفعہ کا اضافہ کرے جس کی رو سے بانیان مذاہب کے خلاف تقریر و تحریر کی پابندی ہو اور اس کی خلاف ورزی کرنے والا مجرم قرار پائے۔'

اس قرار داد کے بعد جلسہ برخاست کر دیا گیا لیکن عوام کو پرامن طور پر احاطہ سے باہر نکالنے کے لیے شاہ جی خود دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ ان کے سامنے مسٹر اوگلوی کھڑا تھا۔ شاہ جی اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کو پرامن رہنے کی تلقین کر رہے تھے اور ساتھ ہی مسٹر اوگلوی سے پنجابی میں کہا: ' اوگلوی! اوکھے گھرنیوندرہ پایا ای' اوگلوی! تم نے مشکل گھرانے سے ٹکر لی ہے۔"  ( حیات امیر شریعت، جانباز مرزا، ص 102)

اب یہاں اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ علم الدین نے شاہ جی کی تقریر سن کر قتل کا فیصلہ کیا اور علم الدین  کو شاہ جی جانتے تھے،  تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم الدین کی گرفتاری کے بعد شاہ جی اور ان کی جماعت نے اس نوجوان کے لیے کیا اقدامات کیے؟ شاہ جی کا مزاج تو ان کے سوانح نگار یہ بیان کرتے ہیں کہ حیدر پہلوان کے مقدمہ میں جب  حیدر پہلوان کی غربت کی بنا پر اس کے کیس ہارنے کے امکانات پیدا ہوئے تو شاہ جی نے خود اس کے لیے چندہ کیا۔ اور سر میاں محمد شفیع کو کیس لڑنے کے لیے   آمادہ کیا۔ (ملاحظہ ہو، حیات امیر شریعت ، جانباز مرزا ،  ص 108)  جس جلسہ میں یہ تقریر ہو رہی تھی، اس  میں مفتی  اعظم ہند  مفتی کفایت اللہ دہلوی صدر جمعیت علماء ہند اور سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی  ناظم اعلیٰ جمعیت علماء ہند بھی شریک تھے، ہندوستان کی سب سے بڑی جمعیت  علماء کے ان ذمہ داروں نے اس کے کیس میں کیا کردار ادا کیا؟  

ان روایات میں اس قدر تضاد ہے کہ خودحضرت شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت مشکوک ہو کر رہ گئی۔ حضرت شاہ جی سے عقیدت نہ رکھنے والا ایک غیر جانبدار قاری تو ان مختلف روایتوں کو سن کر کہے گا کہ شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ خود واقعات گھڑتے تھے، جبکہ نقل کرنے والے بھی شاہ جی  کےقریبی لوگ ہوں، خصوصا حضرت مولانا محمد علی جالندھری شاگرد رشید محدث اعظم ہند حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ جیسے اہل علم کی روایت یوں نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔

غازی علم الدین کے واقعہ میں ہی  مولانا اللہ وسایا صاحب نے قاضی  احسان  احمد صاحب  شجاع آبادی کی ایک روایت نقل کی  ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:

" بعد میں حضرت قاضی احسان احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اسی جیل میں گرفتار ہو کر گئے۔ آپ کو اسی کوٹھڑی میں بند  کیا گیا جس میں پہلے غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ وہ چکا تھا۔ جیل وارڈن نے کہا: "قاضی صاحب تم بہت خوش نصیب ہو، یہ بہت ہی برکت والی کوٹھڑی ہے۔"   قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے استفسار پر  اس نے بتایا کہ صاحب ! غازی علم  الدین رحمۃ اللہ علیہ  اس کوٹھڑی میں تھا تو ایک رات کوٹھڑی روشن ہوگئی ۔ بقعہ نور بن گئی۔ میں پہرے پر تھا۔ میں حیران وپریشان دوڑا ہوا آیا کہ کہیں ملزم اپنے آپ  کو آگ تو نہیں لگا رہا۔ مگر وہ تو بڑے اطمینان سے اس دنیا سے گم صم تشریف رکھتے تھے۔ میں حیران کھڑا رہا ، کافی دیر بعد جگایا، پوچھا تو میرے اصرار ، منت وسماجت پر غازی مرحوم نے کہا  کہ خواب میں رحمت عالم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تھے۔ فرمایا علم دین ! ڈٹ جاؤ، میں حوض کوثر پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ " ( جلد سوم ، ص 1329)

یہ روایت حد درجہ مجہول ہے۔ قاضی صاحب سے کس وارڈن نے کہا، وہ اس کا  نام وغیرہ ذکر نہیں کرتے ۔  بعض اہل علم نے اس واقعہ کے ساتھ یہ تصریح بھی کی ہے کہ قاضی صاحب 1953ء کی تحریک ختم نبوت  میں جب گرفتار ہوئے تو اس زمانے میں  یہ واقعہ پیش آیا۔  غازی علم الدین میانوالی جیل میں تھا۔ قاضی صاحب میانوالی جیل میں  کس زمانے میں رہے ہیں؟  قاضی صاحب کے سوانح نگار  قاری محمد نور الحق قریشی ایڈوکیٹ   (داماد قاضی احسان احمد شجاع آبادی) کے مطابق قاضی صاحب  تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں چھ دفعہ قید ہوئے ہیں۔  قاری محمد نور الحق قریشی صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ 40  سے 80 تک ان کی تفصیلات دی ہیں۔ تیسری گرفتاری سن 1937ء میں وہ چھ ماہ کے لیے میانوالی جیل میں رہے۔ اس کے بعد قاضی صاحب میانوالی جیل میں نہیں رہے۔     اب سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ قاضی صاحب نے اس گرفتاری کے بعد کہاں بیان کیا ہے؟ اور کتنی دفعہ بیان کیا ہے؟   

بعض واقعہ نگاروں نے (شہیدان ناموس رسالت از  متین خالد صاحب   ْ، تحفظ ختم نبوت اہمیت اور فضیلت  از  محمد متین خالد صاحب ، ص  193)اس واقعہ کے ساتھ سن 1953کی وضاحت کی ہے۔ کیا  وہ وارڈن اتنا عرصہ وہیں تعینات رہا؟     دوسری طرف  یہ مسلم ہے کہ قاضی صاحب  نے  قید کا یہ زمانہ  سنٹرل جیل ملتان اور ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں گزارا ہے۔  ( ملاحظہ ہو ،  سوانح حیات ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان  احمد شجاع آبادی ،  منصف محمد نور الحق قریشی،  ناشر مکتبہ احسان ، ملتان )  یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ قاضی  صاحب کے سوانح نگاروں میں سے کس کس نے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے؟   اور کس حوالہ سے کیا ہے؟   

بہرحال، بعض کمزوریوں کے باوجود یہ ایک انتہائی مفید کتاب ہے  جسے  حضرت مولانا نے  انتہائی  محنت وجانفشانی سے مرتب کیا ہے۔  اللہ کریم اس عظیم کاوش پر انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔