اگست ۲۰۲۰ء

غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اور مسلم تاریخمحمد عمار خان ناصر 
امت میں غوروفکر کی بازیافتڈاکٹر محی الدین غازی 
افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم کے نظام کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جناب احمد جاوید سے ایک ملاقاتسید مطیع الرحمٰن مشہدی 
غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہوں کی تعمیرڈاکٹر عرفان شہزاد 
صحابہ کرام کے بارے مولانا مودودی کا اصولی موقفمولانا حافظ عبد الغنی محمدی 

غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اور مسلم تاریخ

محمد عمار خان ناصر

آیا صوفیہ سے متعلق ترکی کی عدالت کے حالیہ فیصلے   کے تناظر میں مذہبی رواداری کے حوالے سے مسلمانوں کے تاریخی طرز عمل کے بارے میں بہت بنیادی نوعیت کے سوال گزشتہ دنوں زیر بحث رہے۔ آیا صوفیہ کا گرجا چونکہ قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر   نے مسلمانوں نے بطور مسجد اپنے تصرف میں لے لیا تھا، اس لیے  اہم ترین سوال جو  اس بحث میں توجہ کا مرکز رہا، وہ یہی ہے کہ ایسا کرنا اسلام کی اصولی تعلیمات کی رو سے کیسا تھا؟

ہمارے نقطہ نظر سے اس پوری بحث کی درست تفہیم کے لیے جو چند بنیادی پہلو پیش نظر رکھے جانے چاہییں، وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ کسی معاملے سے متعلق مذہبی حکم کی تعیین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ شرعی نصوص میں اس حوالے سے مسلمانوں کو کس چیز کا پابند کیا گیا ہے۔ بین المذاہب پرامن تعلقات، مذہبی رواداری یا دیگر دینی وسیاسی مصالح اس حوالے سے اصل بنیاد نہیں ہیں، بلکہ درحقیقت ان سب پہلووں کی رعایت اس لیے شرعی جواز کی حامل ہے کہ شرعی احکام وہدایات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرز عمل سے ان کی رعایت کرنا ثابت ہے۔ یہ بنیادی نکتہ ذہن میں رہے تو سیرت نبوی اور سیرت صحابہ میں مختلف معاملات میں اختیار کیے گئے مختلف طرز عمل سے پیدا ہونے والی ظاہری الجھن دور ہو سکتی ہے اور ہر معاملے کے اپنے مخصوص سیاق میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہاں شریعت کی ترجیح کیا رہی ہے۔

۲۔ اسلامی شریعت میں دوسرے مذاہب کے ساتھ معاملہ کرنے کے تعلق سے بیک وقت دو طرح کے اصولوں اور مصلحتوں کی رعایت کی گئی ہے جن کے تقاضے کئی صورتوں میں متصادم ہوتے ہیں اور ان میں ترجیح قائم کرنا پڑتی ہے۔ یہ ترجیح شرعی نصوص اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں بھی دکھائی دیتی ہے اور عہد صحابہ اور بعد کے خلفاء کے فیصلوں میں بھی، اور بہت سی صورتوں میں کسی ایک یا دوسری مصلحت کی ترجیح کے حوالے سے اجتہادی اختلاف بھی پیدا ہو سکتا ہے اور پیدا ہوتا رہا ہے۔

شرعی احکام اور اسوہ نبوی واسوہ صحابہ میں جن اصولوں کی روشنی میں غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کیا گیا ہے، ان میں سے ایک اصول تو اتمام حجت کا ہے، یعنی یہ کہ پیغمبر کے ذریعے سے کسی قوم پر حق واضح کر دیے جانے کے بعد اس کے دنیوی انجام کے متعلق خدا کی طرف سے کوئی فیصلہ صادر کر دیا جائے۔

دوسرا اصول مذہبی واعتقادی تناظر میں اسلام کو بالادست اور غالب رکھنے کا ہے، یعنی جہاں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت مذہبی بنیاد پر قائم کی گئی ہو، وہاں حق اور باطل مذاہب سماجی وسیاسی recognition کے لحاظ سے یکساں نہ ہوں، بلکہ اسلام اور اسلامی شعائر غالب اور بالادست نظر آئیں۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ اتمام حجت کے اصول کے تحت آنے والی قوم کے علاوہ، ایک عمومی اصول کے طور پر عقیدہ ومذہب کے معاملے میں جبر اور زبردستی درست نہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو بھی پورا حق حاصل ہے کہ وہ مستقل مذہبی گروہوں کی حیثیت سے دنیا میں موجود رہیں، اپنی مذہبی عبادت گاہوں کو آباد اور محفوظ رکھیں اور آزادی کے ساتھ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اپنی معاشرتی زندگی کو منظم کریں۔

اس تیسرے اصول سے مذہبی رواداری کا طرز عمل جواز حاصل کرتا ہے جس کی بنیادی روح یہ ہے کہ مذہبی اختلاف کی جو گنجائش خود اللہ نے انسانوں کو دی ہے، مسلمان اس کو پامال کر کے شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کریں۔ جو نکتہ خاص طور پر واضح رہنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ اسلامی تصور میں مذہبی رواداری نہ تو حق کے ساتھ باطل کو یکساں سطح پر recognize کرنے پر مبنی ہے اور نہ اس کا بنیادی منبع بین المذاہب تعلقات کو خوشگوار اور پرامن بنیادوں پر قائم کرنے کا اصول ہے۔ یہ چیز اثرات اور نتائج کے طور پر تو حاصل ہوتی ہے، لیکن رواداری کا بنیادی ماخذ ’’حدود اللہ کی پابندی“کا تصور اور یہ احساس ہے کہ مسلمان، خدا کی مقرر کردہ حدود سے الگ، اپنے طور پر دینی حمیت وحمایت کے معیارات وضع کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

مذکورہ اصولوں کے تناظر میں اسلامی تاریخ کے بڑے اور نمایاں واقعات کا ایک عمومی جائزہ لیا جائے تو ہمارے سامنے یہ تصویر بنتی ہے:

۱۔ جزیرہ عرب کے مشرکین، ان کی عبادت گاہوں اور بیت اللہ پر ان کے تصرف وتولیت کے متعلق پہلے دو اصولوں یعنی اتمام حجت اور اظہار دین کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ بیت اللہ سے ان کا ہر قسم کا تعلق ختم کر کے اسے مسلمانوں کی تولیت میں دے دیا جائے، مشرکین کی تمام دیگر عبادت گاہوں اور استھانوں کو منہدم کر دیا جائے، اور مشرکین کو وارننگ دے دی جائے کہ وہ یا تو کفر وشرک سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیں اور یا تہہ تیغ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ فیصلہ اتمام حجت کے اصول کا بھی تقاضا تھا اور توحید کے تصور پر کھڑی کی جانے والی نئی امت کے سیاسی ودینی مصالح کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ بیت اللہ اور اس کے اردگرد کی پوری سرزمین کو صرف مسلمانوں کے لیے خاص کر دیا جائے۔ یہاں مذہبی رواداری یا پرامن بین المذاہب تعلقات کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور نہ ایسے کسی بھی اصول پر ان تمام اقدامات کی کوئی توجیہ ممکن ہے۔ ان کی واحد نظری واعتقادی بنیاد خدا کا یہ حکم تھا کہ اس سرزمین سے شرک کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس حکم کو رو بہ عمل کرنے کا واحد ذریعہ جہاد وقتال تھا جسے اسی مقصد کے لیے مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا تھا۔

۲۔ جزیرہ عرب سے باہر مسلمانوں کی فتوحات کے نتیجے میں جو اسلامی سلطنت قائم ہوئی، اس میں مسلمان خلفاء اور فقہاء نے مذہبی رواداری کے اصول، اسلامی سلطنت کے سیاسی ودینی مصالح اور صلح وجنگ کے عرفی واخلاقی ضابطوں کی روشنی میں درج ذیل ضابطے متعین کیے اور غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے معاملے میں انھی کی پابندی کو لازم قرار دیا گیا:

پہلا یہ کہ جو علاقے صلح کے معاہدے کے تحت اسلامی سلطنت کا حصہ بنیں گے، ان کے ساتھ معاہدے میں جو بھی شرائط کی گئی ہوں، ان کی پابندی لازم ہوگی۔ اس نوعیت کے معاہدات میں معاہدین کے جان ومال، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کا تحفظ بنیادی شرائط کے طور پر شامل ہوتا تھا اور اس کی مثالیں عہد نبوی اور عہد صحابہ، دونوں کے معاہدات میں موجود ہیں۔

دوسرا یہ کہ جن علاقوں میں غیر مسلم پہلے سے آباد ہیں، وہاں انھیں معاہدے کے مطابق پہلے کی طرح مذہبی ومعاشرتی آزادیاں حاصل رہیں گی، لیکن مسلمان اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت جو نئے علاقے آباد کریں گے، وہ بنیادی طور پر انھی کے لیے خاص ہوں گے اور وہاں غیر مسلم معاہدین کو عبادت گاہیں بنانے یا مذہبی شعائر وغیرہ کے اظہار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تیسرا یہ کہ جن علاقوں کے باشندے صلح کا معاہدہ کرنے کے بجائے مزاحمت اور جنگ کا طریقہ اختیار کریں گے اور میدان جنگ میں شکست کھا کر اپنا علاقہ مفتوحہ سرزمین کے طور پر مسلمانوں کے سپرد کریں گے، جنگ کے عرفی اصول کے تحت ان کا اپنے علاقے پر کوئی حق باقی نہیں رہے گا اور مسلم فاتحین کو انھیں وہاں رہنے کی اجازت دینے یا جلا وطن کر دینے اور اس پورے علاقے کی عمارتوں کے متعلق حسب مصلحت کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا۔


اخلاقی وقانونی اصولوں کے مذکورہ فریم ورک سے واضح ہے کہ خلفاء اور فقہاء کے سامنے کوئی ایک ہی بے لچک بنیاد، یعنی مذہبی رواداری نہیں تھی جس پر وہ فقہی موقف اور سیاسی پالیسی کا مبنی ہونا لازم سمجھتے ہوں۔ ان کے پیش نظر اظہار دین اور مسلمان امت کے سیاسی ودینی مصالح کا سوال بھی تھا اور صحیح تر دینی واخلاقی موقف متعین کرتے ہوئے وہ ان سبھی پہلووں کو توازن کے ساتھ ملحوظ رکھنا، اور جہاں تعارض ہو، وہاں صورت حال کے لحاظ سے ایک یا دوسرے پہلو کو ترجیح دینا ضروری سمجھتے تھے۔

اس کے لیے مثال کے طور پر دمشق اور بیت المقدس کی فتح  کے واقعات کا جائزہ لینا مناسب ہوگا۔  یہ دونوں شہر سیدنا عمر کے عہد میں فتح ہوئے۔ دمشق زیادہ معتبر روایات کے مطابق چودہ ہجری میں، جبکہ بیت المقدس سولہ ہجری میں فتح ہوا۔ بیت المقدس صلحا فتح ہوا تھا اور سیدنا عمر کے ساتھ معاہدے معاہدے میں عبادت گاہوں کی حفاظت کی شرط تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ تسلیم کی گئی تھی۔ یہاں مذہبی رواداری کی نوعیت یہ تھی کہ مقامی مسیحی راہنما کی معیت میں شہر کا دورہ کرتے ہوئے کنیسہ قمامہ میں اتفاقا ظہر کی نماز کا وقت آ گیا تو سیدنا عمر نے گرجے کے اندر نماز ادا نہیں کی، بلکہ باہر نکل کر سیڑِھیوں پر ادا کی اور مسیحی راہنما کے استفسار پر فرمایا کہ گرجے کے اندر نماز ادا کرنے سے یہ خدشہ تھا کہ بعد میں کبھی مسلمان اس بنیاد پر گرجے پر دعوی نہ کر دیں کہ ہمارے خلیفہ نے یہاں نماز ادا کی تھی۔ پھر تاریخی روایت کے مطابق انھیں یہ تحریر بھی لکھ کر دی کہ مسلمان اس گرجے کی سیڑھیوں پر بھی نماز ادا نہیں کریں گے اور نہ یہاں اذان دیں گے۔

نہ صرف مسیحی عبادت گاہوں کے متعلق، بلکہ یہودیوں کی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی کے متعلق بھی سیدنا عمر نے جو طرز عمل اختیار کیا، اس کی حکمت یہی معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا عمر نے ہیکل کے مرکزی مقام پر (جہاں بعد میں اموی خلیفہ نے قبۃ الصخرۃ تعمیر کروایا تھا) نماز ادا نہیں کی، بلکہ احاطے کے جنوبی حصے میں ایک کونے میں نماز ادا کرنے کو ترجیح دی جہاں موجودہ مسجد اقصی ٰ موجود ہے۔ (اس بحث کی مزید تفصیل مسجد اقصی ٰ کی تولیت سے متعلق ہمارے تفصیلی مقالے میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو ’’براہین “ میں شامل ہے)۔

صلحا فتح ہونے والے شہر کی عبادت گاہوں کے معاملے میں رواداری کے اس اظہار کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ عنوۃ یعنی جنگ کے ذریعے سے مفتوح ہونے والے علاقوں میں کئی مواقع پر مسلمان فاتحین نے جنگی عرف کی روشنی میں دوسرے اصول یعنی اظہار دین کو ترجیح دینا زیادہ مناسب سمجھا۔ اس کی ایک نمایاں مثال دمشق کا کنیسہ یوحنا ہے جہاں اس وقت جامع اموی قائم ہے۔ فتح دمشق کا معاملہ اس لحاظ سے ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا تھا کہ اس پر مسلمان دو اطراف سے حملہ آور ہوئے تھے۔ ایک لشکر کے سامنے اہل شہر نے ہتھیار ڈال کر صلح کر لی تھی، جبکہ دوسرے لشکر نے جنگجووں کو شکست دے کر شہر پر قبضہ کیا تھا۔ یوں جب دونوں لشکر شہر کے وسط میں اکٹھے ہوئے تو یہ بحث پیدا ہو گئی کہ شہر پر کون سے احکام لاگو کیے جائیں۔ یہاں روایات میں اور مورخین کے تجزیے میں اختلاف ہے۔ بہت سی تاریخی  روایات کہتی ہیں کہ صحابہ نے مجموعی حیثیت سے شہر کو صلحا مفتوح قرار دیا اور جو حصہ جنگ سے فتح ہوا تھا، اس کو بھی صلح کے حکم میں شمار کر لیا، جبکہ بعض مورخین کی رائے میں آدھے شہر پر صلح کے اور آدھے پر عنوۃ کے احکام جاری کیے گئے۔

اس اختلاف سے قطع نظر، روایات سے یہ بہرحال ثابت ہے کہ شہر کے وسط میں واقع ایک مرکزی اور  تاریخی عبادت گاہ کنیسہ یوحنا کا ایک حصہ مسلمانوں نے بطور مسجد استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور علامہ ابن کثیر کا یہ تجزیہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آدھا شہر صلحا اور آدھا جنگ سے فتح ہوا تھا، اس لیے کنیسہ کا نصف حصہ بطور عبادت گاہ مسلمانوں کے تصرف میں لے لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ابن عساکر نے بھی اپنی تحقیق کا خلاصہ یہی بتایا ہے کہ کنیسہ یوحنا کا نصف حصہ فتح دمشق کے بعد مسلمانوں نے بطور مسجد اپنے تصرف میں لے لیا تھا۔ اس بندوبست کے مطابق کافی عرصہ تک دونوں گروہ اپنے اپنے زیر تصرف حصے میں عبادت کرتے رہے۔ پھر ولید بن عبد الملک نے مسجد میں توسیع کی ضرورت کے پیش نظر اپنے دور میں مسیحیوں کو پیش کش کی کہ وہ گرجے کا باقی حصہ بھی مسلمانوں کو دے دیں اور اس کی جگہ ایک دوسرے مقام پر زمین لے کر گرجا تعمیر کر لیں۔ جب مسیحی نہیں مانے تو ولید نے فتح دمشق کے موقع پر کیے گئے تحریری معاہدے کی روشنی میں مسیحیوں سے کہا کہ اس معاہدے کے مطابق فلاں اور فلاں گرجے جو اس وقت تمھارے پاس ہیں، وہ مسلمانوں کی ملکیت تسلیم کیے گئے تھے، اس لیے اگر تم کنیسہ یوحنا سے دستبردار نہیں ہوتے تو یہ گرجے تم سے واپس لے لیے جائیں گے۔ اس پر مسیحی رضامند ہو گئے اور پورے کنیسہ یوحنا کو مسجد میں شامل کر لیا گیا۔ تاہم ولید کا یہ اقدام چونکہ سیاسی دباو پر مبنی تھا، اس لیے عمر بن عبد العزیز کے دور میں مسیحیوں نے ان کے سامنے شکایت کی اور انھوں نے ولید کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسجد کا وہ حصہ مسیحیوں کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ بلاذری کی روایت کے مطابق، اس موقع پر عام مسلمانوں نے دوبارہ مسیحیوں کے ساتھ مذاکرات کر کے انھیں راضی کیا کہ وہ اس کے متبادل ایک دوسری جگہ لے لیں اور وہاں اپنا گرجا بنا لیں۔

ان دونوں مواقع پر مسیحیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں کے متعلق جو طرز عمل اختیار کیا گیا، اس کی قانونی بنیاد تو یہی فرق تھا کہ دمشق  صلح اور جنگ کے ملاپ سے فتح ہوا، جبکہ بیت المقدس مکمل طور پر صلح کے معاہدے کے تحت مسلمانوں کے قبضے میں آیا ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دونوں موقعوں پر سیاسی مصالح بھی بہت مختلف تھے۔

دمشق، شام کا ایک مرکزی شہر تھا اور اس وقت تک مختلف چھوٹے شہر فتح کر چکنے کے باوجود مسلمانوں کے پاس علاقے میں مستقل قیام کے لیے کوئی مرکزی جگہ نہیں تھی، جبکہ بدیہی طور پر یہ سلطنت کی ایک بنیادی ضرورت تھی۔ مسلمانوں کی نظر ابتدا ہی سے اس مقصد کے لیے دمشق پر تھی اور یہی وجہ ہے کہ خود مسلمانوں کی طرف سے اہل شہر کو یہ پیش کش کی گئی تھی کہ وہ ’’مشاطرہ “ کر لیں، یعنی اس شرط پر صلح کر لیں کہ آدھا شہر مسلمانوں کی ملکیت ہوگا۔ گویا اس فتح میں بنیادی ترجیح ہی سلطنت کی ایک بنیادی سیاسی ضرورت کو پورا کرنا تھا جو صلح وجنگ کے مروج عرفی قوانین کی رو سے اخلاقی طور پر بالکل جائز تھی، لہذا یہاں مذہبی رواداری کی اہمیت ثانوی اور سیاسی مصلحت کے تابع تھی۔

بیت المقدس کی نوعیت اس سے بالکل مختلف تھی۔ اس کو فتح کرنے کی اہمیت عسکری وانتظامی پہلو سے کم اور علامتی لحاظ سے زیادہ تھی۔ یہ ایک ایسا شہر تھا جو یہودیوں اور مسیحیوں کے مذہبی جذبات کا مرکز تو تھا ہی، مسلمانوں کی نظر میں بھی اس کی دینی اہمیت غیر معمولی تھی۔ چنانچہ یہاں صلح کا ایسا معاہدہ کرنا ہی بہترین سیاسی حکمت عملی تھی جس میں مذہبی رواداری اور ابراہیمی مذاہب کے باہمی احترام کا پیغام نمایاں ہو اور بازنطینی سلطنت کے اس حصے میں بسنے والے اہل کتاب کے تمام گروہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت سے متعلق ایک مثبت فضا میں اپنا رویہ متعین کر سکیں۔

جیسا کہ واضح ہے، سیاسی طاقت کا استحکام اور مذہبی رواداری، دونوں اصول اہم تھے، لیکن کون سے اقدام کے ذریعے سے کون سا مقصد حاصل کیا جائے، اس کا تعلق سیاسی بصیرت اور سیاسی حکمت عملی سے تھا۔ جو موقع جنگ کے عرفی قوانین کے تحت سیاسی مصالح کی حفاظت کا تھا، وہاں مذہبی رواداری کو ترجیح دینا غیر دانش مندی ہوتی، اور جو موقع مذہبی رواداری کے پیغام کی اشاعت کا تھا، وہاں سخت گیر رویہ اختیار کرنا اسلام اور اسلامی سلطنت کی غلط ترجمانی کا ذریعہ بن جاتا۔

ان دو مثالوں سے  بہت اچھی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تاریخ کے اس دور میں مسلمان فقہاء اور خلفاء مذہبی رواداری اور مسلمانوں کے دینی وسیاسی مصالح کو کس طرح ایک پیچیدہ معاملے کے طور پر دیکھتے تھے اور ہر طرح کی صورت حال کو ایک ہی نظر سے دیکھنے اور ایک ہی اصول کا سادگی کے ساتھ ہر جگہ اطلاق کرنے کے بجائے تمام متعلقہ اصولوں اور مصالح کو توازن کے ساتھ ملحوظ رکھنے اور حسب موقع ان کے مابین ترجیح قائم کرنے کا انداز اختیار کرتے تھے۔

یہاں صحابہ کے اس طرز عمل پر ایک اہم اشکال سامنے آتا ہے جس سے تعرض ضروری ہے۔  وہ یہ کہ خلفائے راشدین، خصوصا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے  جنگی اخلاقیات سے متعلق جو ہدایات منقول ہیں، ان  میں اہل کتاب کے معبدوں اور خانقاہوں کو گرانے  اور ان کے راہبوں اور پادریوں کو ان کی مذہبی  خدمات  سے معزول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ خود قرآن مجید میں سورۃ الحج کی آیت ۴٠  میں  اہل کتاب کی عبادت گاہوں کا ذکر  ان مقامات کے ضمن میں کیا گیا ہے جہاں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے اور  جہاد کے مشروع ہونے کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے  کہ یاد الہی کے ان مقامات کو منہدم اور مسمار نہ کر دیا جائے۔  اسی طرح سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۱۴میں  یہود ونصاری ٰ کی مذمت کی گئی ہے  جو ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کو  ویران  اور بے آباد کر دیتے تھے۔  اگر عبادت گاہوں سے متعلق اسلام کی  اخلاقی تعلیم یہ ہے تو اس کے ہوتے ہوئے  صحابہ  نے مفتوحہ علاقوں  کی بعض عبادت گاہوں کو   اہل  کتاب سے لے کر   مسجد میں کیوں تبدیل کر دیا جو  گویا انھیں وہاں عبادت سے روکنے یا   ان کی عبادت گاہ کو منہدم کر دینے کے مترادف ہے؟

ذرا غور کرنے سے واضح  ہوگا کہ یہ اشکال  درست نہیں۔  قرآن مجید میں  جس چیز کی مذمت کی گئی ہے،   وہ یہ ہے کہ ایک گروہ  مذہبی مخاصمت کی وجہ سے  دوسرے گروہ کی عبادت گاہوں کو ڈھا دے یا انھیں بے آباد اور ویران کر دینے کی سعی کرے جس کا نتیجہ  یہ نکلے کہ   وہاں اللہ کو یاد کرنے کا جو سلسلہ جاری تھا، وہ مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھ کر  ختم ہو جائے۔  جنگی اخلاقیات کے ضمن میں جو ہدایات دی گئیں، ان کا مدعا بھی یہی تھا کہ دوران جنگ  میں   ایسے مذہبی مقامات اور وہاں  خدمات انجام دینے والوں سے تعرض نہ کیا جائے جن کا جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں اور وہ   ان معاملات سے الگ رہ کر    اپنے معبدوں میں  یاد الہی میں مشغول ہیں۔  یہ دونوں ہدایات اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس صورت حال سے متعلق نہیں ہیں جب  جنگ کے نتیجے میں پورا علاقہ  مسلمانوں کے قبضے اور ملکیت میں آ جائے  اور انھیں یہ  اختیار حاصل ہو جائے کہ  وہ شہر کے باشندوں، ان کے اموال اور  اس پورے علاقے کی  زمین اور عمارتوں کے متعلق   اپنے سیاسی مصالح کے لحاظ سے  جو فیصلہ مناسب سمجھیں، کر لیں۔ 

دوسرے لفظوں میں، یہاں خاص طور پر عبادت گاہیں موضوع ہی نہیں ہیں اور نہ کسی مذہبی مخاصمت کی  بنیاد پر  کی انھیں ویران یا منہدم کر دینے  کی کوئی صورت حال پائی جاتی ہے۔  اس دور کے جنگی عرف کے مطابق فاتحین کو  پورے علاقے کی ملکیت حاصل ہو جاتی تھی جس میں ضمنا عبادت گاہیں بھی شامل ہوتی تھیں اور  ان کے متعلق  کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار، اسی عمومی اختیار کا ایک  حصہ ہوتا تھا جس کی رو سے  فاتحین   باقی تمام عمارتوں کے متعلق   حسب صوابدید کوئی فیصلہ کر سکتے تھے۔   جنگ میں شکست کھانے کے بعد قانونی لحاظ سے مفتوحین کی یہ حیثیت باقی ہی نہیں رہتی تھی  کہ وہ اس شہر  اور اس کی املاک کے مالک ہیں۔  پورے علاقے کی ملکیت  فاتحین کو منتقل ہو جاتی تھی، اس لیے  ان کی طرف سے کسی بھی عمارت کو  اپنے تصرف   میں لینے کے فیصلے کی یہ تعبیر ہی درست نہیں   کہ اس کے اصل مالکوں سے اس کی ملکیت چھین لی گئی۔ یہ ملکیت جنگ میں مفتوح ہونے کے نتیجے میں  خود بخود ختم  ہو جاتی تھی  اور فاتحین  جو بھی تصرف  کرنے کا فیصلہ کرتے، وہ جنگی قانون کی رو سے اپنی ملکیت میں کرتے تھے نہ کہ  مفتوحین کی ملکیت میں۔  اس لیے  اصل اعتراض اگر بنتا ہے تو  اس پر بنتا ہے کہ مفتوحہ علاقے کی ملکیت فاتحین  کو منتقل ہو جانے کا   اصول درست نہیں تھا،  بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اصل اعتراض  یہ بنتا ہےکہ جنگ کے ذریعے سے کسی قوم کو مفتوح کرنے  کا عمل ہی درست نہیں تھا۔  اگر جنگ کا جواز مان لیا جائے اور  اس کے لازمی نتیجے کے طور پر مفتوحہ علاقے کی ملکیت کا اصول  فاتحین کو منتقل ہو جانے کا اصول بھی  تسلیم کر لیا جائے تو پھر صرف عبادت گاہوں کے متعلق   اس اعتراض کی  کوئی قانونی یا  اخلاقی بنیاد  نہیں بنتی اور نہ اس بحث کو اس سوال کے ساتھ خلط ملط کرنا درست ہے کہ  اسلام نے تو اہل کتاب کی عبادت گاہوں کے احترام اور حفاظت کی تعلیم دی ہے۔

سابقہ سطور میں عبادت گاہوں سے متعلق مسلم فاتحین کے طرز عمل پر گفتگو قصدا عہد صحابہ کی بعض مثالوں تک محدود رکھی گئی ہے، کیونکہ مقصد صلح وجنگ کے مخصوص عرف اور اس پر مبنی ضابطوں کی وضاحت ہے جو اسلامی تاریخ کی درست تفہیم کے لیے ضروری ہے۔ اس کی اصولی وضاحت کے لیے عہد صحابہ کے فیصلے ہی زیادہ موزوں ہیں۔  اس مجموعی تناظر سے سیاسی حکمت عملی کے جو معیارات سامنے آتے ہیں، ان کی روشنی میں مورخین دیکھ سکتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں مختلف مواقع پر مسلمان فاتحین نے جو طرز عمل اختیار کیا، وہ کتنا متوازن اور سلطنت کے دینی وسیاسی مصالح کے لیے ناگزیر تھا اور کتنا بے اعتدالی یا غیر دانش مندی کا مظہر یا مابعد تاریخ میں منفی نتائج پیدا کرنے کا موجب تھا۔ دوسرے لفظوں میں عہد صحابہ میں  وضع کیے گئے  معیارات کی روشنی میں تو بعد کی تاریخ میں مسلم فاتحین کے طرز عمل کے مناسب یا نامناسب ہونے پر گفتگو ہو سکتی ہے، لیکن اس کے برعکس بعد کے واقعات کی تفصیلات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی عمومی حکم متعین کرنا اور پھر ساری اسلامی تاریخ پر اس کا اطلاق کرنا ہمارے نزدیک غیر تاریخی اور غیر منطقی طرز فکر ہے۔


کلاسیکی اسلامی قانون اور اسلامی تاریخ کی تفہیم کی آج ہمارے لیے کیا اہمیت ہے؟ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ان بحثوں میں الجھنا وقت کا ضیاع ہے اور ان کو چھوڑ کر ساری توجہ ان مسائل پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو آج مسلمانوں کو درپیش ہے۔ ہمیں اس رائے سے اتفاق نہیں، اس لیے کہ کوئی بھی قوم خود اپنی تاریخ کے بارے میں کوئی تصور رکھے بغیر نہ تو اپنا تہذیبی وجود برقرار رکھ سکتی ہے اور نہ اپنے تہذیبی کردار کا تعین کر سکتی ہے۔ اپنی تاریخ کی تفہیم کو غیر ضروری اور غیر اہم سمجھنا اگر شعوری طور پر ہو تو یہ دراصل اپنے تشخص سے دستبردار ہونے کی دعوت ہے، اور اگر غیر شعوری طور پر ہو تو تاریخ کی پیچیدگیوں کے سامنے ذہن اور فکر کے ہتھیار ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ اپنی تاریخ کی تفہیم، اس کا تجزیہ اور اس کے اچھے اور برے پہلووں پر ایک موقف رکھنا ہرزندہ قوم کی ضرورت ہے، اور مسلمان اس دور میں تاریخی شعور کے حوالے سے جس بحران کا شکار ہیں، اس میں اس نوعیت کی بحثوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

تاریخ، تہذیب اور فکر کے باہمی تعلق کی تفہیم کو اہم نہ سمجھنے کے بے شمار اثرات کا اندازہ کرنا ہو تو صرف اس ایک الجھاو کو دیکھ لینا چاہیے جس نے زیر بحث سوال کے حوالے سے ہمیں بحیثیت مجموعی گرفت میں لے رکھا ہے۔

ایک طبقے کے نزدیک اسلامی تاریخ اور اسلامی سلطنتوں کے کردار کے بارے میں کوئی موقف رکھنے کا معیار جدید دور کے مختلف قانونی اور اخلاقی تصورات ہیں۔ اس رویے کا شعوری یا غیر شعوری محرک یہ ہے کہ تاریخ کی تفہیم اس کی اپنی شرائط پر نہیں، بلکہ اس زاویے سے کی جانی چاہیے جس سے آج ہم فکری سوالات کا سامنا کرنے سے بچ سکیں یا ان میں حتی الامکان تخفیف کی جا سکے۔ دوسرے طبقے کے نزدیک اسلامی سلطنت کے سیاق میں ہمارے اسلاف نے جو تاریخی وقانونی مواقف اختیار کیے اور اپنے تاریخی حالات کے تناظر میں جو تہذیبی حل وضع کیے، ان کا بعینہ اطلاق کرنا جدید دور کے مسلمان معاشروں میں بھی ضروری ہے اور وہ جدید قومی ریاستوں کے معاملات کو بھی دار الاسلام اور دار الحرب وغیرہ کے فکری سانچے میں دیکھتے ہیں۔

پہلے گروہ کی نظر میں اگر غیر مسلموں کی عبادت گاہوں سے متعلق کلاسیکی فقہی وریاستی پالیسیوں پر جدید قانونی وسیاسی تصورات کی روشنی میں حکم لگانا ضروری ہے تو اس دوسرے گروہ کے نزدیک قومی ریاستوں میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا حکم بھی فقہاء کے بیان کردہ ضابطوں کی روشنی میں طے ہوگا کہ اہل ذمہ کو کب اور کہاں عبادت گاہیں بنانے یا ان کی مرمت اور تعمیر نو وغیرہ کی اجازت دی جا سکتی ہے اور کہاں نہیں دی جا سکتی۔ یعنی دونوں طبقے ماضی اور حال کے فرق کو ذہنی طور پر قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ ایک کا اصرار ہے کہ ہم ماضی کو حال کی عینک سے دیکھیں، اور دوسرے کی ضد ہے کہ حال کی لگام بھی ماضی کے ہاتھ میں دے دیں۔

تاریخی شعور کی افزائش اور مشکل فکری سوالات کا سامنا کیے بغیر اس نوعیت کی الجھنوں سے نکلنا ممکن نہیں ہے اور اسی وجہ سے تفہیم تاریخ کی بحثوں کو زیادہ سنجیدگی سے موضوع بنانا ہماری ایک ناگزیر تہذیبی ضرورت ہے۔ فکری سوالات کا چیلنج، اس میں شبہ نہیں کہ واقعی بہت بڑا ہے اور اقبال جیسے تہذیبی خود اعتمادی رکھنے والے مفکر کو بھی مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اسلامی تاریخ کی کسی مثبت تفہیم کی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر دے۔ لیکن یہ طرز فکر نہ تو معروضی ہے اور نہ فکری واخلاقی جرات کا غماز ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کو اس کے محاسن وقبائح کے ساتھ قبول کرنا، اس کی تفہیم اس کی اپنی شرائط پر کرنے کی ذمہ داری اٹھانا اور اس کے متعلق ایک مجموعی موقف طے کرنا لازم ہے۔ تاریخی فیصلوں اور واقعات پر، تاریخ کی شرائط کے لحاظ سے، کوئی حکم لگانا اور اس پر بحث ومباحثہ بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ اس سے گھبرانا نہیں چاہیے اور نہ عجلت میں حتمی اور قطعی مواقف طے کر لینے چاہییں۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم


امت میں غوروفکر کی بازیافت

وحی میں عقل کی خوب خوب ستائش کی جاتی ہے، اور عقل وحی سے خوب خوب حظ پاتی ہے

ڈاکٹر محی الدین غازی

وحی پر ایمان لانا اور عقل سے کام لینا

قرآن مجید میں   یعقلون اور    یومنون (عقل سے کام لینے اور ایمان لانے)کو ایک جیسے سیاق میں بار بار استعمال کیا گیا ہے،اس سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں ایک ہی قبیل کے امر ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دونوں قرآنی جملوں پر غور کریں:

انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یومِنُونَ۔ (الروم:37)

(بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے)

انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یعقِلُونَ۔ (الروم:24)

(بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے)

یہی نہیں، عقل کے جن اعمال کا قرآن مجیدمیں ذکر ہے، جیسے یفقہون، یتدبرون، یتفکرون، یتذکرون، یعلمون، وغیرہ اور ایمان کے جن اعمال کا ذکر ہے جیسے یتقون، یخشون، یوقنون، وغیرہ یہ سبھی اعما ل قرآن مجید میں اس طرح ایک ہی انداز سے اور ایک جیسے سیاق میں ذکر کیے جاتے ہیں، کہ دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ جن لوگوں کی صفت ایمان لانا ہے، انھیں لوگوں کی صفت عقل سے کام لینا ہے۔

غرض قرآن مجید میں جس انسانی گروہ کی تعریف کی گئی ہے، وہ گروہ وحی پر ایمان لانے اور عقل سے کام لینے میں ساری انسانیت کے بیچ منفرد وممتاز نظر آتا ہے۔ایمان اور عقل اس گروہ کی سب سے نمایاں صفات قرار پاتی ہیں۔

قرآن مجید میں اہل ایمان کے علاوہ کسی گروہ کو قوم یعقلون نہیں کہا، یہ امتیاز صرف قوم یومنون کے لیے خاص بتایا۔افسوس آج ایمان کا دعوی کرنے والوں کے یہاں عقل ایک قابل افتخار امتیازی صفت نہیں رہی۔ شاید ا س لیے کہ ایمان بھی شعوری نہیں رہا، موروثی اور تقلیدی ایمان رہ گیا۔موروثی ایمان ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، لیکن موروثی ایمان حاصل ہونے کے بعد غور وفکر سے بے تعلق رہنا بڑے عیب کی بات ہے۔ ایمان یا تو غور وفکر کے بطن سے جنم لے، اور اگر بغیر غور وفکر کے مل گیا ہو تو ضروری ہے کہ غور وفکرکا ساتھ رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امت میں ایمان کا احیاءاور عقل کی بازیافت ایک ہی مشن کے دو پہلو ہیں۔

عقل، بڑی نعمت اور بڑا امتحان

عقل اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور دنیا کی ہر نعمت کی طرح یہ بھی انسان کے امتحانی پرچے کا حصہ، بلکہ سب سے بنیادی حصہ ہے۔جس کے پاس عقل نہیں ہے، اس کا امتحان بھی نہیں ہے، اور وہ ہر ذمہ داری سے بری ہے، جسم اور مال سے زیادہ اہم امتحان عقل کا ہے، جسم اور مال کا تعلق اعمال سے ہے، اور عقل کا تعلق ایمان سے ہے، اور ظاہر ہے کہ ایمان عمل پر مقدم ہے، جب کہ دونوں ہی نجات وفلاح کے لیے ناگزیر ہیں۔امتحانی پرچے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اسے حل کرنے کے صحیح اور غلط دو راستے ہوتے ہیں، اور اسی کی بنا پر ناکامی اور کامیابی دونوں کے راستے اسی ایک امتحان سے نکلتے ہیں۔ اس امتحان سے مفر نہیں اور اسے صحیح طور پر انجام دینے کے سوا نجات کا کوئی راستہ نہیں۔اس لیے عقل کے استعمال کو زندگی کے بنیادی اور ناگزیر کاموں میں شامل کرنا چاہیے۔ اس کا استعمال محض دنیا کی کچھ معمولی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نہیں، بلکہ نجات اور فلاح جیسے عظیم مقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔

عقل، دراصل ذریعہ ہدایت ہے

وحی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور عقل بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے، دونوں نعمتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جان بوجھ کر گمرہی کی جستجو کرنے والوں کو ان دونوں سے گمرہی ہاتھ آتی ہے، اور ہدایت تلاش کرنے والوں کو اگر وہ عقل کا استعمال کریں تو وحی سے ہدایت مل جاتی ہے۔عقل اور وحی دونوں کا اصل مقصد تو ہدایت دینا ہی ہے، البتہ اس دار الامتحان میں اللہ کی یہ سنت بھی کارفرما رہتی ہے کہ جو لوگ خود ہدایت سے بیزار یا بے نیاز ہوں، اور ضلالت وگمرہی کو اپنا شیوہ بنالیں، انھیں نہ وحی سے کوئی فیض پہنچتا ہے، اور نہ عقل کا ہونا ان کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

وحی اور عقل میں گہرا رشتہ ہے، وحی صحیح راستے اور صحیح منزل کا پتہ دیتی ہے، عقل صحیح راستے اور صحیح منزل کی جستجو میں رہتی ہے، اور اسی وقت مطمئن ہوتی ہے، جب وہاں تک رسائی ہوجاتی ہے۔ عقل اور وحی کا ملن ہوتا ہے تو عقل کو لگتا ہے کہ گویا آنکھوں کے سامنے سے اندھیرا چھٹ گیا اور روشنی پھیل گئی۔امام فراہیؒ کہتے ہیں:”جان لو کہ ہماری راہ عقل کی راہ ہے، ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جسے عقل خالص قبول کرلے اور فطرت کی رہنمائی کو اس پر اطمینان ہو۔ وحی اور رسولوں کی آمد تو عقل کے بالکل موافق ہوئی، جیسے کہ نگاہ کے لیے روشنی۔ اس کی صراحت کتب مقدسہ میں بہت ہے، اور قرآن تو اس بارے میں سب سے زیادہ صریح ہے“۔ (حجج القرآن 185)

یہ درست ہے کہ عقل کے پاس غیب کا علم نہیں ہوتا ہے، غیب کی باتوں پر ایمان لانے کے لیے وحی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسی لیے خالق حکیم نے عقل سے نوازنے کے بعد وحی کے ذریعہ ہدایت کا انتظام کیا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ عقل کے پاس غیب کا علم تو نہیں ہوتا ہے، لیکن غیب کی طرف منسوب دعووں کو جانچنے کی صلاحیت اللہ تعالی نے ضرور دی ہے۔ توحید کا تعلق غیبیات سے ہے اور شرک کا تعلق بھی غیبیات سے جوڑا جاتا ہے، آخرت کے حساب کتاب کا تعلق بھی غیبیات سے ہے، اور آواگمن کا رشتہ بھی غیبیات سے جوڑا جاتا ہے۔ سچے نبی کے پاس غیب سے وحی آتی ہے، اور جھوٹا نبی بھی غیب سے وحی آنے کا دعوی کرتا ہے، غرض غیب کی طرف بہت سی مختلف اور متضاد باتیں منسوب کی جاتی ہیں، ایسے میں انسان کے پاس عقل ہی وہ واحدچیزہے جو غیب سے منسوب مختلف باتوں میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرتی ہے۔

غرض وحی کو وحی ماننے کے لیے بھی انسانوں کے پاس واحد ذریعہ عقل ہے۔ یہی جھوٹے نبی اور سچے نبی میں فرق کرتی ہے، یہی انسانی کلام اور خدائی کلام میں امتیاز کرتی ہے، اور یہی اس فرق وامتیاز کے سلسلے میں اصول بتاتی ہے۔وحی کی ظاہری دلالتوں کو سمجھنے اور وحی کے باطنی اسراراور حکمتوں تک پہنچنے کا کام بھی عقل کرتی ہے۔

وحی اور عقل ہم آہنگ ہوتے ہیں

وحی اور عقل میں ٹکراو نہیں ہوسکتا ہے، اگر ٹکراو محسوس ہو تو سمجھا جائے کہ یا تو وحی کے فہم میں غلطی ہوئی ہے، یا عقل کے برتنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل کو برتنا اور وحی کو سمجھنا یہ دونوں انسانی عمل ہیں، اور انسانی عمل میں غلطی کا امکان بہرحال رہتا ہے، اور اس امکان کو کم سے کم کرنے لیے، ہر انسانی عمل کی طرح اس انسانی عمل کا بھی مسلسل جائزہ لیتے رہنا اوراسے بہتر سے بہترکرنے کی کوشش کرنا ناگزیر ہے۔امام ابن تیمیہ کی یہ بات قابل توجہ ہے: ”عقل صریح سے جو بات معلوم ہو وہ شریعت سے متعارض ہوجائے اس کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔حق یہ ہے کہ عقل صریح سے ثابت بات نقل صحیح سے ثابت بات سے ہرگز ہرگز نہیں ٹکراسکتی ہے۔میں نے اس پر غور کیا ان بحثوں میں جو لوگوں کے درمیان ہو ا کرتی ہیں، میں نے پایا کہ صحیح اور صریح نصوص کی خلاف وہ فاسد شکوک ہوا کرتے ہیں جن کا باطل ہونا عقل سے ہی معلوم ہوجاتاہے، بلکہ عقل سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ بات جو ان شکوک کے خلاف ہے اور شریعت کے مطابق ہے وہی درست ہے۔اس پر میں نے بڑے اصولی مسائل میں غور کیا ہے جیسے توحید، صفات، تقدیر، نبوت اور آخرت کے مسائل۔ اسی طرح میں نے پایا کہ عقل صریح سے جو معلوم ہوتا ہے اس سے کوئی منقول دلیل کبھی نہیں ٹکراتی ہے، بلکہ وہ منقول دلیل جسے اس کا مخالف سمجھا جاتا ہے، وہ کوئی موضوع حدیث ہوتی ہے یا کوئی ضعیف دلالت ہوتی ہے، وہ اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اگر عقل صریح سے نہیں ٹکرائے تو بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے، چہ جائے کہ عقل صریح سے اس کا تعارض ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ رسول ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جو عقل کے نزدیک محال تو نہیں ہوتی ہیں پر حیران کن ضرور ہوتی ہیں۔یعنی وہ ایسی چیزوں کی خبر نہیں دیتے ہیں جن کا نہیں ہونا عقل سے معلوم ہوتا ہو، بلکہ ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جن کا معلوم کرنا عقل کے بس سے باہر ہوتا ہے“۔(درءتعارض العقل والنقل،1147)

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل اور وحی میں ٹکراو کی صورت میں ہم وحی کو ترجیح دیں گے، تو ہم غیر محتاط بیان دیتے ہیں، کیوں کہ عقل اور وحی کا حقیقی ٹکراو وحی کی پوزیشن کم زور کرتا ہے، خواہ ہم ذاتی طور پر وحی کی صف میں کھڑے ہوجائیں اور اس کو ترجیح دے دیں۔ محتاط بیان یہ ہے کہ عقل اور وحی کے بظاہر ٹکراوکی صورت میں ہم جستجو جاری رکھیں گے، تا آں کہ ٹکراو دور ہوجائے۔کیوں کہ وہ ٹکراو ہماری کسی غلطی یا کوتاہی کی وجہ سے ہی نظر آتا ہے۔

عقل کی منزل مقصود

واقعہ یہ ہے کہ وحی جس منزل پر پہنچاتی ہے عقل کی منزل مقصود بھی وہی ہوتی ہے، اوروہاں پہنچ کر عقل اطمینان سے بہرہ مند اور یقین سے سرشار ہوجاتی ہے۔

کوئی پوچھ سکتا ہے کہ پیدائشی مسلمان غور وفکر کے بغیر بھی اپنے ایمان پر مطمئن رہتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ وراثت میں انھیں جو اعتقادات ملتے ہیں،وہ حقیقت میں وحی کے بتائے ہوئے اور عقل کو مطمئن رکھنے والے ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ سے وہ موروثی طور پر اس منزل پر ہوتے ہیں جہاں عقل مطمئن رہتی ہے۔اس خوش نصیبی کے باوجود عقل کے استعمال کے بہت بڑے فائدوں سے پھر بھی وہ لوگ محروم رہتے ہیں جو عقل کے استعمال کے بغیر ایمان رکھتے ہیں۔ مختلف دروازوں سے آسانی سے در آنے والی دینی گمراہیاں اور دوسری اقوام کے مقابلے میں دنیوی پسماندگی عقل استعمال نہ کرنے کے بڑے نقصانات ہیں، جو عقل سے بے گانہ اہل ایمان کو درپیش ہوتے ہیں۔

اور پھرایک مومن کے لیے اس سے بڑی بدنصیبی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی تفکر وتدبر کی عبادت سے محروم رہے۔

عقل کی بازیافت کے لیے ضروری اقدامات

امت میں عقل کی بازیافت کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں، جیسے:

وحی اور عقل میں ٹکراوکی بحث ختم کی جائے

عقل سے انسیت اور غور وفکر کے عمل کی ہمت افزائی کے لیے ضروری ہے کہ وحی اور عقل میں ٹکراوکی بحث سے باہر نکلا جائے۔ اس بحث نے امت کے اندر عقل کے سلسلے میں بیزاری کا رویہ پیدا کیا ہے۔

وحی اور عقل میں ٹکراوکا کوئی ذکر ہمیں قرآن مجید میں نہیں ملتا ہے۔اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، جسے دینیات کا بہت بڑا مسئلہ بنالیا گیا ہے۔ٹکراوہوبھی کیسے سکتا ہے، جس رب نے وحی نازل فرمائی ہے، اسی رب نے عقل کی نعمت بھی ودیعت کی ہے، اور اسی نے دونوں کا مقصد ایک قرار دیا ہے، اور وہ ہے ہدایت۔

عقل کی مذمت کرنا بند کی جائے

امت میں عقل کو ایک مذموم اصطلاح کے طور پر مشہور کردیا گیا ہے۔ خاص طور سے تصوف کی کتابوں اور مقولوں میں۔

اس کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ اہل تصوف جب عقل کی مذمت کرتے ہیں تو وہ عقل مراد نہیں ہوتی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، بلکہ وہ عقل مراد ہوتی ہے جس کا حوالہ گمراہ کن فلسفوں میں ملتا ہے۔ امام غزالی لکھتے ہیں: ”اگر تم پوچھتے ہو کہ اہل تصوف کے ان گروہوں کا کیا معاملہ ہے، جو عقل اور معقول کی مذمت کرتے ہیں، تو سمجھ لو کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے عقل اور معقول کا نام مناقضات والزامات پر مشتمل بحث ومناظرے کے لیے استعمال کرلیا، جو کلام کی ایک صنعت ہے۔ اہل تصوف اس پر توقادر نہ تھے کہ انہیں باور کرائیں کہ نام رکھنے میں تم سے غلطی ہوگئی ہے۔ کیوں کہ دل میں بیٹھ جانے اور زبان پر چل پڑنے کے بعد وہ ان کے دلوں سے مٹنے والا نہیں تھا، تو انہوں نے عقل اور معقول کی مذمت کی اس طور سے کی کہ اس چیز کا ان کے یہاں اب یہی نام تھا“۔  (احیاءعلوم الدین ،1 89)

تاہم یہ توجیہ قابل قبول نہیں ہے۔

قابل مذمت چیز کو قابل تعریف چیز کا نام دینا، اور پھر اس نام پر مذمت کے تیروں کی بوچھار کرنا ہرگز مناسب نہیں تھا۔ خاص طور سے اگر وہ قابل تعریف چیز ایسی ہو جس کا ذکر اور تعریف پورے قرآن مجید میں نظر آتی ہو۔

جس طرح دور قدیم میں یونانی فلسفے وغیرہ میں مستعمل عقل کی اصطلاح کو کوئی اور نام دیے بغیر اس طرح نشانہ بنایا گیا کہ خود عقل بدنام ہوگئی، اور عقل کے سلسلے میں اسلام کا حقیقی موقف دھندلا سا ہوگیا، اسی طرح جدید فلسفے نے بھی عقل کے نام سے عقل کا ایک محدود اور ناقص تصور پیش کیا،جو عقل کو جدید تجریبی طریقوں کے استعمال تک محدود سمجھتا ہے، اس تصور پر تنقید کرنے کا طریقہ بھی یہ ہے کہ اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے، اور اس کے نقائص کو بیان کیا جائے، یہ درست نہیں ہوگا کہ چونکہ جدید فلسفیوں نے عقل کو محدود اور ناقص مفہوم میں استعمال کرکے اسے رواج دے دیا ہے، اس لیے ہم ان کی اصطلاح کو تسلیم کرلیں اور ان کے حق میں عقل سے اپنی دست برداری کا اعلان کردیں۔ یعنی جو غلطی قدیم فلسفے کے مقابلے میں تصوف کے مصلحین نے کی وہی غلطی جدید فلسفے کے مقابلے میں فکر اسلامی کے علم بردار نہیں کریں۔

عقل بہت بنیادی انسانی اصطلاح ہے، اور اس کے سب سے زیادہ حق دار وحی کے ماننے والے ہیں، اس لیے اس اصطلاح کی اصلیت کی حفاظت کرنا، اور اس کے صحیح استعمال کی نگرانی کرنا اہل وحی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

تفسیر بالماثور او تفسیر بالرائے ایک ہے

عقل کی مذمت کی ایک ناقابل ستائش صورت یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں ماثور کو معقول کے بالمقابل کھڑا کردیا گیا۔ اور تفسیر بالرائے کے عین مقابل تفسیر بالماثور کو ذکر کیا جانے لگا۔حالانکہ تفسیر بالماثور بھی دور اول کی تفسیر بالرائے ہی تھی۔تفسیر بالرائے کو تفسیر بالماثور کے مقابلے میں کھڑا کرنا غلط تھا۔ اس حوالے سے تفسیر بالرائے کو جس طرح مذمت کا نشانہ بنایا گیا اس نے راست عقل کی پوزیشن کو نقصان پہنچایا۔ معیوب تفسیر تو تفسیر بالھوی ہے، جو خواہشات کے سائے میں کی جائے۔ جس تفسیر میں غور وفکر کی راہ کو اپنایا جائے، اور صحیح مفہوم تک رسائی کے لیے غور وفکر کے سارے طریقے پوری دیانت داری کے ساتھ اختیار کیے جائیں، اور جب تک اطمینان نہ ہوجائے، غور وفکر جاری رکھا جائے، وہ مذموم عمل کیسے ہوسکتا ہے۔ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ قرآن مجید کی تفسیر میں غور وفکر سے کام لیتے تھے، اور اپنے نتائج فکر کو بیان کرتے تھے۔ان کے یہاں غور وفکر کی بنیاد پر رائے بنانے کا عمل عام تھا۔اور اس میں وہ کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔

روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے زید بن ثابتؓ کے پاس وراثت کے ایک مسئلے کے سلسلے میں پیغام بھیجا: کہ کیا اللہ کی کتاب میں آپ کواس کی کوئی صراحت ملتی ہے، اس پر زید بن ثابت نے جواب دیا: تم بھی ایک شخص ہو جواپنے غور وفکر سے ایک بات کہتے ہو اور میں بھی ایک شخص ہوں جو اپنے غور وفکر سے ایک بات کہتا ہوں

انما انت رجل تقول برایک، وانا رجل اقول برایی۔ (سنن دارمی، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک مسئلہ پیش ہوا تو آپ نے مسئلہ کا حل بتانے سے پہلے یہ وضاحت کی: میں اپنے غور وفکر سے کہہ رہا ہوں، اگر درست ہے تو اللہ کی توفیق ہے، اور اگر غلط ہے تو میری کوتاہی سے ہے۔”اَقُولُ بِرَایی فَاِن کَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّہِ وَاِن کَانَ خَطَاً فَمِن قِبَلِی“۔ (صحیح ابن حبان، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک اور روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: میں اس میں اپنے غور وفکر سے کہوں گا، اگر درست ہوا تو اللہ کی توفیق ہے، اور اگر غلط ہوا تو میری وجہ سے ہے، اور شیطان کی وجہ سے۔(سنن کبری، بیہقی۔ البانی نے صحیح کہا ہے)

البتہ تفسیر بالماثور میں نقل کی صحت اور تفسیر بالرائے میں عقل کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

عقل کے تعلق سے امت کی صورتحال

دینی حوالے سے:

نظریہ کی سطح پر بھی اور عملی رویہ کی سطح پر بھی دینی حوالے سے امت میں بہت سی بے عقلی کی باتوں کو رواج صرف اس لیے مل جاتا ہے کہ یہ ہمارے مذہبی ورثے میں شامل ہیں، اور مذہبی بزرگوں کے واسطے سے چلی آرہی ہیں۔

درگاہوں اورمزاروں پر ہونے والی تمام تر خرافات جو سراسر بے عقلی سے عبارت ہوتی ہیں۔

پیدائش سے لے کر مرنے تک کی بے شمار تقریبات جنھیں رد کرنے کے لیے عقل کی کسوٹی سے گزارنا کافی ہوتا۔

فروعی اور مسلکی اختلافات میں تشددجس کی عقل کے پہلو سے کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔

غیبی امور میں بہت زیادہ انہماک اور عملی ذمہ داریوں سے فرار۔

دین میں غلو، جو عسکریت پسندی کی صورت بھی اختیار کرلیتا ہے۔

ایسے تصورات کا رواج جو انسانیت کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتے ہیں۔

اندھی تقلید کا عمومی غلبہ، جو کسی اجتہادی مباحثے کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

دنیوی حوالے سے:

غیر مذہبی لوگ دنیوی معاملات میں عقل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انکشافات، تحقیقات، ایجادات، مباحثات، تجزیات، تنقیدات، تجویزات، غرض عقل کے تنے سے پھوٹنے والی تمام شاخیں غیر مذہبی لوگوں کے تصرف میں نظر آتی ہیں۔ مذہبی افراد ان سب میدانوں میں کہیں پسماندہ نظر آتے ہیں اور کہیں نظر ہی نہیں آتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مذہبی لوگوں کے پاس عقل کو استعمال کرنے کا فطری جذبہ ہوتا ہے، اور اس راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے، جب کہ مذہبی لوگوں کے سامنے ایک رکاوٹ ہوتی ہے اور وہ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ عقل گم راہی کی طرف لے جاتی ہے۔ گو کہ اس جملے کی شہرت دینی حوالے سے ہے، لیکن اس کا منفی اثر دنیوی حوالے سے بھی ہوتا ہے۔

بہت سے خالص دنیوی رسم ورواج عقل کی سطح پر بحث ومباحثے کا موضوع نہیں بن پاتے، اور اپنی تمام تر بے عقلیوں کے باوصف جاری وساری رہتے ہیں۔

امت میں عقل سے دوری کے اسباب

ذیل میں کچھ بنیادی اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:

قرآن سے دوری

قرآن مجید عقل کو فعال بنانے اور غور وفکر کے عمل کو مہمیز لگانے والی کتاب ہے۔ قرآن سے شعوری قربت جتنی زیادہ بڑھے گی، عقل اتنا ہی زیادہ اپنی ذمہ داری کومحسوس کرے گی۔ قرآن مجید کی ہر آیت دعوت غور وفکر دیتی ہے، بلکہ غور وفکر کرنے پر مجبور کرتی ہے، اور اس کی راہیں دکھاتی ہے۔

اہل اسلام کی عقل سے دوری کی سب سے بڑی وجہ ان کی قرآن سے دوری ہے۔ضعیف اور موضوع روایتوں میں انہماک اور قرآن مجید سے شعوری تعلق کے فقدان نے امت کاعقل سے رشتہ کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

ضعیف روایتوں کا فروغ

اس سب کی طرف علامہ غزالی نے اشارہ کیا، وہ لکھتے ہیں:

مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب میں سے ہے: مسلمانوں کا ضرورت سے زیادہ روایتوں میں انہماک۔ صحیح حدیثیں ہوسکتا ہے کچھ ہزار ہوں، لیکن وہ روایتیں جن میں مسلمان منہمک رہے اور ابھی بھی ہیں،وہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ اس نے مسلم عقل کو منجمد کردیا ہے، اور اسے کائنات میں جستجو کرنے والی عقل کے بجائے روایتوں اور کہی سنی باتوں والی عقل بنادیا ہے۔(کیف نتعامل مع القرآن،محمد الغزالی ص143)

اس حقیقت کوسامنے رکھنا بے شک مفید ہوگا کہ مذہبی روایتیں، چاہے وہ اسلام کی طرف منسوب کی جانے والی موضوع حدیثیں ہوں، یا پچھلے مذاہب کے حوالے سے گھڑی جانے والی روایتیں ہوں، ان روایتوں کو گھڑنے والے وہ لوگ نہیں ہوتے ہیں جو عقل کی قدروقیمت پہچانتے ہیں، اور عقل کے استعمال میں ماہر سمجھے جاتے ہیں، ظاہر ہے وہ ایسی بے عقلی کا کام نہیں کرسکتے، درحقیقت یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عقلی افلاس کا شکار ہوتے ہیں، اور شدید ترین حماقت کا ارتکاب کرنے سے بھی شرماتے نہیں ہیں۔ایسے لوگوں کی احمقانہ باتیں مذہبی روایتوں کا روپ اختیارکرلیتی ہیں،اور اس طرح مقدس ہوجانے کے باوجود وہ عقل کے معیار سے گری ہوئی ہوتی ہیں۔ایسی باتوں پر یقین کرنے کے لیے اپنی عقل کی سطح کو کتنا پست کرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اور جب پوری قوم ان کو مسلمات کا درجہ دے دے تو قوم کی ذہنی پستی اور اس کے نقصانات کا اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں ہے۔

ضعیف وموضوع روایتوں پر یقین کرنے کے بعض نقصانات:

(۱)  غور وفکر اور تحقیق کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے:

ضعیف اور موضوع حدیثوں کو شوق کے کانوں سے سنتے سنتے، عام بزرگوں سے متعلق سنی سنائی حکایتوں اور باتوں پر یقین کرنے کا مزاج بنتا ہے، اور پھر عام لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے میں کوئی تکلف نہیں رہتا ہے، اس مزاج کے غالب ہوجانے کے بعد پھر تحقیق وتنقید اور غور وفکر کی ضرورت کا احساس بھی ختم ہونے لگتا ہے۔ اس طرح ایسا انفرادی اور اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے، جس میں تحقیق وجائزہ اور غور وفکر کے لیے کوئی قابل لحاظ مقام نہیں ہوتا ہے۔

(۲ )بے عقلی سے تنفر ختم ہوجاتا ہے:

ضعیف اور موضوع روایتوں کو گھڑنے اور بیان کرنے والے جس ذہنی سطح کے ہوتے ہیں، اسی ذہنی سطح کی وہ روایتیں بھی گھڑتے اور بیان کرتے ہیں، اس لیے یہ روایتیں عام طور سے دین کے اصل مزاج سے دور اور سراسر بے عقلی کی باتوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی بے عقلی کی باتیںشوق اور عقیدت سے سنتے سنتے پھر ہوتا یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں بے عقلی سے جو تنفر اور اس کی تردید کا جو داعیہ ودیعت کیا گیا ہے، وہ کم زور پڑتا جاتا ہے۔

پھر ہوتا یہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں بے عقلی اور عقل مندی کی باتیں یکساں لگنے لگتی ہیں۔ کسی فرد یا قوم کے لیے بڑے خسارے کی بات ہوتی ہے جب بے عقلی کی باتوں اور عقل مندی کی باتوں میں امتیاز ختم ہوجائے۔اور حکمت ودانائی کی کوئی قیمت ہی نہیں رہ جائے۔

(۳) اصلاح وتجدید کے مواقع کم ہوجاتے ہیں:

جس معاشرے میں غور وفکر کی جگہ سنی سنائی باتیں لے لیں، بے عقلی سے تنفر ختم ہوجائے اور معقولیت وغیر معقولیت یکساں قرار پائے، اس معاشرے کے اندر اصلاح اور تجدید کے کاموں کے لیے راستے تنگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ اصلاح وتجدید کے لیے عقل کو آواز دینا ہوتی ہے، اور اسے سوچنے کے مقام پر لانا ہوتا ہے۔ لیکن اگر عقل بے مصرف قرار دی جاچکی ہو، تو پھر اصلاح وتجدید کی دعوت بھینس کے آگے بین بجانے سے زیادہ نہیں رہ جاتی ہے۔

(۴) گفتگو کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے:

جہاں سنی سنائی باتوں پر یقین کرلیا جاتا ہو،وہاں پروپیگنڈے کا راج اور رواج ہوتا ہے،حقیقت کی جستجو اور اس سلسلے میں گفتگو کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔اور اس طرح پریشر کوکر کی طرح ہوا بند اجتماعیت وجود میں آتی ہے۔ جہاں افکار کو نشوونما دینے کے بجائے انھیں گھونٹنے کا کام انجام پاتا ہے۔

تقلید پر حد سے بڑھا ہوا زور

تقلید اپنی اصل کے لحاظ سے عقل کی دشمن ہے۔ درج ذیل آیت پر غور کریں کس طرح تقلید اور بے عقلی کے درمیان رشتے کو واضح کیا گیا ہے۔

وَاِذَا قِیلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَل نَتَّبِعُ مَا اَلفَینَا عَلَیہِ آبَاءنَا اَوَلَوکَانَ آبَاوُہُم لَا یعقِلُونَ شَیئًا وَلَا یہتَدُونَ۔ (البقرة:170)

(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو، تو وہ کہتے ہیں ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر اپنے آباءکو پایا ہے، کیاان کے آباءکچھ سوچتے سمجھتے نہیں ہوں، اور صحیح راستے پر نہیں ہوں تو بھی)

پوری زندگی کو تقلید کے تابع کردینے کے بعد غور وفکر کی گنجائش خود ہی ختم ہوجاتی ہے۔اس لیے تقلید کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔

دین کے دو حصے ہیں، ایک حصہ وہ ہے جس میں اجتہاد کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ بنا اجتہاد کے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے۔ جیسے کلمہ توحید کی ادائیگی ہے، فرض نمازیں، فرض زکات، فرض روزے اور حج کا فریضہ ہے۔ یہ دین کا اصل حصہ ہے، اور دین پر چلنے کے لیے اس کا علم ہوناناگزیر ہوتا ہے۔ یہ حصہ ہمیں قرآن مجید اور سنت صحیحہ کے ذریعہ سے حاصل ہوا ہے۔دین کا یہ حصہ اجتہاد کے دائرے سے باہر ہے۔ اس میں کسی امام کی تقلید بھی نہیں کی جاتی ہے۔ بلکہ اسے راست قرآن وسنت سے اخذ کیا جاتا ہے۔

دین کا باقی حصہ وہ ہے جسے ہم اجتہاد کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں،اس میں غور وفکر اور بحث وتحقیق کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس حصے کا تعلق فقہ وسیاست سے بھی ہے اور فکر ونظر سے بھی ہے، یہی وہ حصہ ہے جس میں امت کے اماموں نے عظیم خدمات انجام دی ہیں، یہی وہ حصہ ہے جس میں امت کے اماموں کے درمیان فہم وتحقیق کا اختلاف ہوا، یہی وہ حصہ ہے جس کے بارے میں اماموں نے کہا کہ صحیح حدیث اگر ان کے اجتہادکے مخالف ہو تو صحیح حدیث کو اختیار کیا جائے، اور یہی وہ حصہ ہے جس میں دلائل میں تعارض کی وجہ سے امت کے اہل علم نے مختلف موقف اختیار کیے، غرض یہ دین کا وہ حصہ ہے جس میں امت کو اپنے غور وفکر اور بحث وتحقیق کو روبہ عمل لانا ہے، اور اس میں مزید خدمات پیش کرنے کا امت کے پاس موقع ہے، اور قیامت تک کے لیے ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ فکری جمود کے دور میں دین کے اس حصے پر تقلید کا کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی اس میں چلت پھرت اور سعی وکوشش پر پابندی لگادی گئی ہے۔

خلاصہ یہ کہ دین میں ایک بڑا حصہ غور وفکر کے لیے رکھا گیا ہے، جس میں امت کے سلف نے خوب آزادی سے غور وفکر کیا ہے، کسی نے کسی بھی حوالے سے انھیں روکا نہیں، سابقین کے غور وفکر کے تقدس کے حوالے سے اسے ختم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس حصے میں غور وفکر کی سرگرمی ہمیشہ جاری رہنی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ دین کے جس حصے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، اور اس گنجائش کو تقلید کا حوالہ دے کر ختم کیا گیا ہے، وہ ایسا حصہ ہے ہی نہیں جس کا تعلق ہدایت اور گمراہی کے مسئلے سے ہو، اس لیے تقلید کی پابندی گمراہی سے نہیں بچاتی ہے، جیسا کہ تقلید کے حامیوں کا کہنا ہے۔ اور نہ وہ ایسا حصہ ہے جس کا تعلق راست اتباع رسول سے ہو، کہ تقلید کی وجہ سے اتباع رسول نہیں ہوپاتی ہو، جیسا کہ تقلید کے مخالفین کا کہنا ہے۔اجتہادی مسائل میں نہ تو تقلید چھوڑ کر کوئی گمراہ ہوتا ہے، اور نہ ہی تقلید کرکے کوئی اتباع رسول سے محروم ہوتا ہے۔ اصل میں تقلید کی پابندی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ امت کی اجتماعی عقل جمود کا شکار ہوجاتی ہے، اورغور وفکر کا عمل قید وبندسے دوچارہوجاتا ہے، اور یہ بہت بڑا نقصان ہے، جس سے ان لوگوں کو ضرور محفوظ رکھنا چاہیے جو غور وفکر کی صلاحیت اور داعیہ رکھتے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ تقلید جامدکے اس کرفیو جیسے ماحول میں امت کی غور وفکر کی صلاحیت پہلے معطل ہوتی ہے اور پھر مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور انکشاف، تحقیق، تنقید اور تجزیہ وغیرہ امت کے لیے اجنبی اصطلاحات بن کر رہ جاتی ہیں۔

اجتہاد کے لیے ایسی شرطیں جن کا حصول ناممکن ہو

اجتہاد دراصل امت کے غور وفکر کے لیے ایک بہت بڑی جگہ(Space)ہے، جو اسلام نے اہل اسلام کو عطا کی ہے، اور یہ امت مسلمہ کی بہت بڑی دینی خصوصیت ہے، تاہم اس سے روکنے کے لیے بعد کے لوگوں نے اس کے لیے ایسی شرطیں رکھ دیں، جن کا ذکر کتاب وسنت اور صحابہ وتابعین کے یہاں نہیں ملتا ہے،اور جن کا حصول بے حد مشکل ہے، اور جن کی حصو لیابی کو ثابت کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

اجتہاد کرنے والے کے علم کو ناپنے کے بجائے دیکھنا یہ چاہیے کہ جس مسئلے میں اس نے اجتہاد کیا ہے، اور اپنی رائے بنائی ہے، اس میں کہاں تک کم زوری یا مضبوطی پائی جاتی ہے۔ اس کے دلائل اور طریقِ استدلال کا جائزہ لے کر جہاں کمزوری ہو اسے واضح کیا جائے، نہ کہ علمی کم مائیگی کا حوالہ دے کر اس سے غور وفکر کی آزادی سلب کرلی جائے۔

اجتہاد کی راہ میں رکاوٹیں

اجتہاد کا عمل اصولوں کی پابندی کے ساتھ غور وفکر کی آزادی چاہتا ہے، تاہم اجتہاد سے روکنے کی ایک کوشش یہ کی گئی کہ اس کے سامنے بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔

اجتہاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ (بذات خود اجماع نہیں بلکہ) اجماع کا حوالہ ہے۔یہ حوالہ اکثر فرضی اور بے بنیاد ہوتا ہے۔

اجتہادکی راہ میں ایک دوسری بڑی رکاوٹ قول جمہور کا حوالہ ہے۔ بجائے اس کے کہ کسی رائے کا دلائل کی روشنی میں محاکمہ کیا جائے، اسے یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ یہ شاذ رائے ہے، اور یہ جمہور کی رائے کے خلاف ہے۔

اجتہاد کی راہ میں ایک تیسری بڑی رکاوٹ کسی بڑے بزرگ کا حوالہ ہوتا ہے، جس کے ذریعہ غور وفکر کے عمل کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اجتہاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ اس طرح کے اندیشے بھی ہیں کہ اجتہادات کی کثرت سے امت میں اختلاف  بڑھے گا، امت کی وحدت متاثر ہوگی، دین پر سے لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے گا،وغیرہ۔

لیکن گہرا جائزہ بتاتا ہے کہ اجتہاد کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے امت کو کوئی فائدہ تو نہیں ہوا، لیکن ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ اجتہاد اور غور وفکر کی دولت سے امت قدرے محروم ہوگئی۔

شورائیت کے ادارے کی جگہ آمریت کا تسلط

جہاں شورائیت اپنی اصل روح اور آب وتاب کے ساتھ ہوتی ہے، وہاں غور وفکر کی زبردست ہمت افزائی ہوتی ہے۔ شورائیت اصل میں اجتماعی غور وفکر کا نام ہے۔ اجتماعی غور وفکر اسی وقت ظہورپذیر ہوتا ہے جب انفرادی غور وفکرکی آزادی ہوتی ہے اور اس کے لیے سازگار فضا میسر ہوتی ہے۔

امت مسلمہ جب شورائی نظام سے محروم ہوئی، اور اس کی جگہ آمرانہ نظام نے لے لی، تو دھیرے دھیرے شورائی ثقافت بھی ختم ہوتی گئی۔ آمریت کے راج میں سب سے زیادہ مار غور وفکر کے عمل پر پڑتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ غور وفکر کی آزادی سلب کرلی جاتی ہے، بلکہ غور وفکر کا ماحول بھی تہس نہس کردیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سوچنا اور سوچ کا اظہار کرناہی سب سے بڑا جرم ہوتا ہے۔

عقل کو فعال بنانے والے طاقت ور محرکات

عقل استعمال کرنا تو انسان کی فطرت میں شامل ہے، تاہم عقل کے استعمال سے روکنے والے محرکات کبھی اتنا زیادہ اثر انداز ہوجاتے ہیں، اور عقل کو اس طرح جمود وتعطل کا شکار کردیتے ہیں، کہ پھر ایسے محرکات کی ضرورت پڑتی ہے، جو عقل کو فعالیت اور حرکیت عطا کریں۔ یہاں بعض طاقت ور محرکات کا تذکرہ کرنا مفید ہوگا:

قرآن مجیدسے شعوری تعلق

قرآن مجید غور وفکر کے سلسلے میں ایک طاقت ور محرک ہے۔

قرآن مجید میں عقل اور عقل کے مختلف اعمال کا ذکر بار بار آیا ہے، لیکن کہیں بھی عقل استعمال کرنے کی مذمت نہیں ہے، ہر جگہ عقل استعمال کرنے پر ابھارا گیا ہے، عقل کے استعمال کی ستائش بہت زیادہ ہے، عقل نہیں استعمال کرنے کی ستائش کہیں نہیں ہے، بلکہ عقل استعمال نہیں کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

عقل سے انسیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید عقل کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہے اسے جانا جائے۔امت کو عقل سے قریب کرنے اور مانوس کرنے کا قرآن سے زیادہ موثر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔عقل سے قربت قرآن سے قربت کا ایک پیمانہ ہے۔ امت قرآن سے جتنا زیادہ قریب ہوگی وہ عقل سے بھی اتنی ہی زیادہ قریب ہوگی، اور قرآن سے جتنی زیادہ دور ہوگی وہ عقل سے بھی اتنی ہی زیادہ دور ہوگی۔

امام فراہی لکھتے ہیں:”آسمانی کتابوں میں قرآن وہ کتاب ہے جو سب سے بڑھ کرعقل کو مخاطب کرتی ہے، عقلی دلائل کی طرف عقل کو متوجہ کرتی ہے، عاقلوں کی تعریف اور غافلوں کی مذمت کرتی ہے، یہ ایسی محکم اور واضح قرآنی حقیقت ہے جس کے سلسلے میں کسی کو شک بھی نہیں ہوسکتا“۔( حجج القرآن 226)

عقاد لکھتے ہیں: ”قرآن کریم عقل کا ذکر صرف وہاں کرتا ہے جہاں عقل کی تعظیم مقصود ہوتی ہے، اور جہاں اس کے مطابق عمل کرنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ اور پھر یہ تذکرہ آیتوں کے سیاق میں ضمنی یا اتفاقی طور سے نہیں ہوتا، بلکہ ہر جگہ لفظ اور دلالت کی تاکید کے ساتھ ہوتا ہے۔امر اور نہی کے ہر موقعہ پر اس کی تکرار ہوتی ہے، جہاں مومن کو اپنی عقل کو حکم بنانے پر ابھارا جاتا ہے، یا منکر کو عقل کے بارے میں لاپرواہ ہونے اور اس پر پابندی قبول کرلینے پر ملامت کی جاتی ہے۔ مزید برآں جدید علوم کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والے علم نفس کے ماہرین عقل کے جتنے اطلاقات بتاتے ہیں ان میں سے کسی ایک کے بجائے عقل کے سارے ہی مختلف کاموں اور مختلف خصوصیات سے متصف پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے“۔  ( التفکیر فریضة اسلامیة لعباس محمود العقاد ص1)

عقاد مزید لکھتے ہیں؛ ”ہمیں یہ بات بار بار تازہ کرنی چاہیے، کہ قرآن مجید میں عقل کی ستائش یونہی نہیں آئی ہے، اور اس کی بار بار تکرار بلا وجہ نہیں ہے۔ بلکہ عقل کی یہ سراہنا ایک متوقع امر تھا، دین کا مغز اور اس کا جوہر اسی کا تقاضا کرتا ہے، جو اس دین کی حقیقت سے واقف ہوگا اور اس انسان کی حقیقت سے واقف ہوگاجو اس دین کا مخاطب ہے اسے اسی کی توقع ہوگی“۔)التفکیر فریضة اسلامیة ص12)

مومن کا کائنات سے رشتہ (آیات، اور خلافت دو اہم رشتے)

غور وفکر کے لیے طاقت ور محرک یہ کائنات بھی ہے، جس میں انسان کو بسایا گیا ہے، جسے انسان کے لیے امتحان گاہ بنایا گیا ہے، اور جس میں غور وفکر کرنے کے بے شمار مواقع رکھ دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید نے انسان اور کائنات میں دو بڑے رشتے بتائے ہیں، اور دونوں ہی رشتے غور وفکر کے عمل کی ہمت افزائی کرنے والے ہیں۔

ایک رشتہ آیات کا ہے، کہ کائنات کی ہر چیز میں نشانی ہے، اور یہ وہ نشانیاںہیں جو سمع وبصر اور تفکر کا تقاضا کرتی ہیں۔ جب تک سمع وبصر اور تفکر کا فعال رشتہ قائم نہیں ہوگا، نشانیوں والے پہلو تک رسائی نہیں ہوسکے گی۔

دوسرا رشتہ خلافت کا ہے، کہ کائنات انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے، ان کے لیے مسخر کی گئی ہے، اور انسان اس کے عمرانی پہلو کے لیے ذمہ دار ہیں۔انھیں اس کائنات میں کھوج لگانے کا اختیار اور اس کے وسائل دیے گئے ہیں۔ اور کائنات کی چیزوں سے منفعت حاصل کرنے اور منفعت کو بڑھانے کی تدبیریں اختیار کرنے کا موقع اور طاقت دی گئی ہے۔

غرض اس کائنات سے انسان کا صحیح رشتہ اس وقت استوار ہوسکے گا، جب وہ اپنی عقل کا بھر پور استعمال کرے گا۔

انسان کے اندر غور وفکر کا داعیہ

غور وفکر کا طاقت ور محرک انسان کے اندر تلاش وجستجو اور غور وفکر کا وہ داعیہ بھی ہے جو اللہ نے ہر انسان کے اندر ودیعت کیا ہو ا ہے۔ انسان فطری طور پر غور وفکر کرنے والا واقع ہوا ہے۔ اگرغور وفکر کے مخالف بیرونی اسباب کی وجہ سے یہ فطری جذبہ سرد نہ پڑجائے، تو انسان کو کسی خارجی محرک کی ضرورت ہی نہ پڑے، اور وہ داخلی جذبے کے تحت ہی عقل کے دوش پر بیٹھ کرحقائق کی جستجو میں پرواز کرتا رہے۔

سنت میں فقہ واجتہاد کی ترغیب

اللہ کے رسول ﷺ کے پیش نظر ایسی جماعت کی تیاری تھی جو غور وفکر اور فقہ واجتہاد کے اس مقام پر پہنچ جائے، کہ آپ ﷺ کے بعد خلافت کی ذمہ داریاں انجا م دے سکے۔ آپ اپنی امت کو دین میں گہری سمجھ حاصل کرنے کی تلقین فرماتے تھے: مَن یرِدِ اللَّہُ بِہِ خَیرًا یفَقِّہہُ فِی الدِّینِ (صحیح البخاری) (اللہ جس کے لیے خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سوجھ بوجھ عطا کرتا ہے)

اسلام میں آنے کے بعد بہترین لوگوں میں شامل ہونے کے لیے سمجھ بوجھ کی منزل سر کرنا ضروری شرط تھی۔فرمایا: فَخِیارُکُم فِی الجَاہِلِیۃ خِیارُکُم فِی الاِسلاَمِ اِذَا فَقُہُوا (صحیح البخاری) (تم میں جو جاہلیت میں بہترین ہیں، وہ اسلام میں بھی بہترین ہوں گے، اگر وہ سوجھ بوجھ پیدا کرلیں)

اللہ کے رسول ﷺ نے عبداللہ بن عباسؓ کو دعا دی: اللَّہُمَّ فَقِّہہُ فِی الدِّینِ (صحیح البخاری) (اللہ اسے دین میں سوجھ بوجھ عطا کر)

حضرت عمرؓ نے حسن بصری کے لیے یہی دعا کی۔(سیر اعلام النبلاء)

اللہ کے رسول ﷺ نے اجتہاد کی ترغیب دی، اور اس راہ کے اندیشوں کو دور کیا: عَن عَمرِو بنِ العَاصِ، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ یقُولُ: اِذَا حَکَمَ الحَاکِمُ فَاجتَہَدَ ثُمَّ اَصَابَ فَلَہُ اَجرَانِ، وَاِذَا حَکَمَ فَاجتَہَدَ ثُمَّ اَخطَاَ فَلَہُ اَجر.(صحیح البخاری) (جب حاکم فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے اجتہاد کرتا ہے، اور صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں، اور جب فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے اجتہاد کرتا ہے، اور غلط فیصلہ کرتا ہے،تو اس کے لیے ایک اجر ہے)

غور وفکر کے سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ غلطی کردینے کا خوف ہوتا ہے،اس خوف سے متاثر ہوکر انسان خود کو روک کر رکھتا ہے، اور اسی خوف کا حوالہ دے کر انسان دوسروں کو بھی روکتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس خوف کو یکسر ختم کردیا، اور غلطی کرنے والے کو بھی ایک اجر کی خوش خبری سنادی۔ یہ غور وفکر کے عمل کی بہت بڑی تائید اور نصرت ہے۔

ایک مشہور زمانہ روایت ہے (گو کہ اس کی سند پر بعض محققین کو کلام ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا، اور کہا کیسے فیصلے کرو گے؟ انھوں کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، ارشاد ہوا: تو اگر اللہ کی کتاب میں نہ ہو؟ کہا: اللہ کے رسول ﷺ کی سنت سے کروں گا، ارشاد ہوا: اگر اللہ کے رسول کی سنت میں بھی نہ ہو؟ کہا: میں محنت سے غور وفکر کروں گا، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی حمد ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادے کو صحیح راہ دکھائی۔ (سنن ترمذی)

بدلتے ہوئے زمانے کی ضرورتوں کا احساس

زمانے میں ہونے والی تبدیلیوں کا شعور جتنا زیادہ ہوتا ہے، غور وفکر کے لیے اکساہٹ بھی اتنی ہی زیادہ بڑھتی ہے۔لاعلمی اور بے خبری کے خول میں بند افراد کے اندر غور وفکر کا طاقت ور داعیہ پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ہر زمانے میں تجدید واجتہاد کے کارنامے انھوں نے انجام دیے جن کی نگاہ زمانے کی تبدیلیوں پر تھی، خواہ وہ سماجی تبدیلیاں ہوں، نئے نظریات اور نظاموں کی آمد ہو، دین کے تعلق سے نئے اعتراضات اوربحثوں کا ظہور ہو۔

امت کے اندر زمانے کی تبدیلی سے واقفیت پیدا کرکے، غور وفکر کے لیے راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

امت کی پسماندگی کے سلسلے میں فکرمندی

خوش فہمیوں سے باہر نکال کردینی اور دنیوی دونوں پہلووں سے امت کو اس کی اپنی پسماندگی سے باخبر کرنا بھی غور وفکر کی تحریک چھیڑ نے میں معاون ہوسکتاہے۔غور وفکر کی دعوت دینے والوں کے اندر ہم یہ بات مشترک پاتے ہیں کہ وہ غور وفکر کو ایک مشغلے کے طور پر اختیار کرلینے کے داعی نہیں تھے، بلکہ وہ امت کی صورت حال کو دیکھ کر سخت تشویش میں مبتلا تھے، اور امت کی پسماندگی کا علاج وہ وحی اور عقل کی طرف رجوع ہونے میں دیکھتے تھے۔

عقل کا مقام بہت بلند ہے، انسانی جسم میں اسے سب سے اونچے مقام پر رکھا گیا ہے، قوموں کو بھی اسے اتنے ہی اونچے مقام پر رکھنا چاہیے۔جو قومیں عقل کو صحیح مقام نہیں دیتی ہیں، وہ ترقی نہیں کرتی ہیں، اور ترقی کرتی بھی ہیں تو انجام کار ترقی کے نام پر تباہی کی طرف سفر کرتی ہیں۔


افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم کے نظام کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں۔

مثلاً ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ، ان پر عملداری کا انتظام و اہتمام، اور ان کے لیے ضرورت و معیار کے مطابق انتظامی و عدالتی ڈھانچہ کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی مسلمان حکومت کا شرعی فریضہ ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں قرآن و سنت کے احکام کو قوانین کی صورت میں نافذ کرے اور حکومت کے انتظامی و عدالتی نظام کو اس کے مطابق تعلیم و تربیت سے بہرہ ور رجال کار فراہم کرے۔ جو مسلمان حکومت بھی دنیا کے کسی حصے میں اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر رہی وہ عند اللہ اور عند الناس اس کوتاہی کی ذمہ دار اور مسئول ہے، اور مختلف مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کا بنیادی ہدف یہی ہے۔ لیکن اس دائرے سے ہٹ کر بھی کچھ دائرے موجود ہیں جو پرائیویٹ سطح پر حکومتی مداخلت کے بغیر کیے جا سکتے ہیں اور جن کی طرف عام طور پر ہماری توجہ نہیں ہے، مثلاً:

مگر ہم اس سلسلہ میں مروجہ معمول سے ہٹ کر کچھ تجاویز رکھتے ہیں جن کا وقتاً فوقتاً اظہار کرتا رہتا ہوں اور آج بھی ان کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ چنانچہ اس حوالہ سے مفتیان کرام سے گزارش کیا کرتا ہوں کہ فتوٰی صادر کرنے کے علاوہ بھی ایک دو صورتیں ہمارے دائرہ اختیار میں ہیں جو ہمارے استعمال میں ہونی چاہئیں:

  1. ایک یہ کہ اگر فتوٰی صادر کرنے سے پہلے اس کام کے لیے آنے والے مبتلا بہ شخص کی مشورہ کے طور پر راہنمائی کر دی جائے تو اس میں میری طالب علمانہ رائے میں زیادہ وسعت اور گنجائش ہوتی ہے۔ اس لیے کہ فتوٰی میں تو آپ جچی تلی بات کریں گے اور اصول و قواعد سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کر سکیں گے، مگر مشورہ میں اس مخمصہ سے نکلنے کے لیے کوئی راستہ دے سکتے ہیں کہ وہ جس مشکل میں پھنس گیا ہے اس سے نکل سکے۔ اس پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ بھی موجود ہے کہ حضرت بلالؓ عمدہ کھجوریں لے کر آئے اور بتایا کہ اچھی کھجوریں ایک صاع میں نے عام قسم کی دو صاع کھجوروں کے عوض خریدی ہیں۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ یہ تو سود ہے، ایسا نہیں کرو۔ حضرت بلالؓ نے عرض کیا کہ اگر ایسا کرنا مجبوری ہو تو کیا کریں، اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ پیسوں کے عوض عام کھجوریں بیچ کر انہی پیسوں سے اچھی کھجوریں خرید لو۔ یعنی یہ کام ایک سودے میں نہیں بلکہ دو سودوں کی صورت میں کر لو تو یہ سود نہیں رہے گا۔ میری طالب علمانہ رائے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلے ارشاد فتوٰی تھا جو وہی بنتا تھا، جبکہ دوسرا ارشاد مشورہ تھا جو اس مخمصے سے نکلنے کی راہ بتاتا ہے۔ موجودہ حالات میں میرے خیال میں عوام کو مشورہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اکثر لوگوں کو مسائل کا علم نہیں ہوتا اور جب وہ کسی نہ کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو انہیں اس مشکل سے نکلنے کا راستہ بتانا اور اس کا مشورہ دینا بھی شرعی طریقہ ہی ہے۔
  2. اس کے ساتھ ہی ہمارے دارالافتاء اگر تحکیم یعنی ثالثی اور کونسلنگ کو بھی اپنے دائرہ کار میں باضابطہ شامل کر لیں تو لوگوں کے بہت سے الجھے ہوئے مسائل عدالتوں کا چکر لگائے بغیر اور بے پناہ اخراجات کا بوجھ اٹھائے بغیر حل ہو سکتے ہیں، جس کی اس وقت معاشرتی طور پر بہت زیادہ ضرورت ہے بلکہ عدالتوں پر مقدمات کا ناقابل برداشت بوجھ بھی اس سے کم ہو سکتا ہے۔ یہاں بھی صورتحال اسی طرح کی ہے جسے مفتیان کرام اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ قضا کی بہ نسبت تحکیم اور ثالثی میں مسائل کو سلجھانے اور کسی ایک بات پر فریقین کو لا کر فیصلہ کرنے میں سہولتیں اور گنجائشیں زیادہ ہوتی ہیں، جو شاید موجودہ دور کی سب سے زیادہ سماجی ضرورت ہے۔ جبکہ قضا اور فیصلے کی تنفیذ بہرحال حکومتی اداروں کا کام ہے، اس میں دخل اندازی قانوناً اور شرعاً کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ مگر اس سے نیچے رہتے ہوئے باقی سارے کام دارالافتاء کی سطح پر منظم کیے جا سکتے ہیں۔

مفتیان کرام عام طور پر ان سب دائروں میں خدمات سرانجام دیتے رہتے ہیں مگر ہماری گزارش ہے کہ اگر مشورہ اور تحکیم دونوں کو دارالافتاء کے نظام و عنوان میں باضابطہ شامل کر لیا جائے تو اس کی افادیت زیادہ ہو جائے گی۔

جناب احمد جاوید سے ایک ملاقات

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

جنوری 2020 کے آخری دنوں کی بات ہے، ایک دن کلاسز سے فارغ ہونے کے بعد محترم رفیق ِ کار میاں انعام الرحمن حسب ِ معمول میرے پاس اسلامک ڈیپارٹمنٹ میں تشریف لائے اور معمول کی گپ شپ شروع ہوئی۔باتوں باتوں میں بات ملک کے معروف دانش ور ،صوفی،فلسفی اور ادیب محترم جناب احمد جاوید صاحب کے بارے میں چل پڑی ۔اسی گفتگو کے اختتام پر یہ طے پایا کہ ان سے ملاقات کی کوئی سبیل نکالی جائے ۔میاں انعام صاحب کا غائبانہ تعارف ان سے الشریعہ میں وقتا فوقتا چھپنے والے مضامین کے توسط سے ہو چکاتھا ۔چنانچہ میاں انعام صاحب کے نہایت نفیس دوست عمران مرزا صاحب سے گزارش کی گئی کہ وہ احمد جاوید صاحب سے کسی دن کاکوئی مناسب وقت لے کر مطلع فرمائیں۔ 8 فروری 2020 بروز اتوار بعداز ظہر کا وقت عنایت ہوا۔ ڈاکٹر پروفیسر محمد اکرم ور ک ، میاں انعام الرحمٰن، ڈاکٹر سلطان شمس الحق فاروقی اورراقم الحروف مقررہ وقت پر ان سے ملاقات سے شرف یاب ہوئے ۔یہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی ، اس لئے کسی متعین موضوع کی بجائے مختلف موضوعات پر ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی۔ بنیادی مقصد ان کی زیارت کرنا اور ان کی صحبت میں چند لمحے گزارناتھا۔ ڈاکٹر شمس الحق فاروقی کا نہایت شکر گزار ہوں کہ ان کی ریکارڈنگ کی بدولت یہ ملاقات صفحہ قرطا س پر منتقل کی جاسکی ۔رودادِ ملاقات ملاحظہ کیجیے۔

مطیع مشہدی: مولانا ایوب دہلوی صاحب سے آپ کی باقاعدہ ملاقات رہی ہے؟

احمد جاوید صاحب: تقریبا دوسال کے لگ بھگ میں ان کی صحبت میں رہا ۔میر ی عمر اس وقت کم تھی ۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ شاگر د تھا ۔خادم تھا ،پان لا کے دے دیا، وغیرہ ۔

میاں انعام الرحمان: ہمارا ان سے تعارف ان کی چھوٹی سی کتاب " فتنہ انکار ِ حدیث " سے ہوا۔بہت اچھا لکھا ہے، بہت مختصر اور جامع ۔ جب اس کا عنوا ن دیکھا تو میں نہیں لے رہا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو گا ،لیکن جب اس کے صفحے الٹے تو دلچسپ لگی، لے آیا۔اس سے ان کاتعارف ہوا،پھر ان کی مزید کتابیں ڈھونڈیں تو سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے بتایا کہ ان کے پاس  " مقالات دہلوی " کی فوٹو کاپی ہے،وہ اتنے ہزار کی ہے۔ خاصی مہنگی تھی۔پھر میں نےاس کی پی ڈی ایف ڈھونڈ لی ۔

احمد جاوید صاحب: اصل کام ان کا وہی ہے مقالات ِدہلوی، جو ان کی تقریریں ہیں ۔یہ جو انکار ِ حدیث ہے، یہ انہوں نے اپنے قلم سے لکھا ہے ۔حالانکہ لکھنے کی مشق بالکل نہیں تھی۔تین رسالے انہوں نے اپنے قلم سے لکھے ہیں،مسئلہ جبر و قدر ،ختم ِ نبوت اور فتنہ انکار ِ حدیث،۔جس میں انہوں نے سوال جواب قائم کر کے مدرسانہ انداز میں لکھا ہے ۔ان کو لکھنے سے بالکل مناسبت نہیں تھی ۔ بولنے پر تھی ۔ وہ عجیب عالم تھے ،ان کو دیکھنے کے بعد کوئی شخص عالم نہیں معلو م ہوتا۔ سب سطحی باتیں، ناقل ہیں، عالم نہیں ہیں ۔یہ مسئلہ یہ ہے ،یہ فلاں کتاب میں لکھاہے ۔عالم جو ہوتا ہے علم والا، مطلب تاثر ہے ،ہوں گے ظاہر ہے بڑ ے بڑے عالم ،لیکن ان کو جس نے بھی دیکھ لیا نا، وہ بیچارہ بعد میں پریشان ہی رہا ۔وہ ہر ایک میں انہیں ڈھونڈنے لگتا ہے ۔کر دار اور علم دونوں اپنی منتہی ٰ پر تھے۔اور علم متوسط نہیں، منتہی۔کر دار میں بھی اور علم میں بھی۔ان کی سپیشیلٹی معقولات میں تھی ۔ان کی للہیت کا کیا عالَم ہو گا کہ فلسفہ پڑھا رہے ہیں اور لوگ رورہے ہیں ۔

ڈاکٹر محمد اکرم ورک: شاید وہ اس لیے رو رہے ہوں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہاہوتا تھا ۔

ایک قہقہہ بلند ہو ا۔

احمد جاوید صاحب: بیچ بیچ میں کوئی فقرہ ایسا کہہ دیتے تھے ۔ اس وقت آڈیئنس (Audience)اچھی تھی۔ان کی مجلس میں زیادہ تر علما ہوتے تھے ،طالب علم یا علما۔

مطیع مشہدی: پاکستان میں آپ فارسی کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں ؟

احمد جاوید صاحب: فارسی تو ختم ہو گئی ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کبھی نصاب میں اس کو دوبارہ کوئی حیثیت مل جائے یا اس کی کوئی دنیاوی افادیت نکل آئے ،پھر شاید ہو سکے ۔

ڈاکٹر محمد اکرم ورک: آپ کی تصوف اور فلسفہ دونوں میں دلچسپی ہے ،آپ کے خیال میں ان دونوں میں فرق کیا ہے؟لگتا تو ایسے ہے کہ جیسے صوفی بھی اچھا خاصا فلسفی ہوتا ہے ۔

احمد جاوید صاحب: فلسفہ عقل کی خود مختاری ہے اور تصوف دل کی بے اختیار ی ہے ۔جو اس بات کو نہیں سمجھ پا یا، وہ ان کے مابین فرق کو نہیں سمجھ پائے گا ۔

مطیع مشہدی: کیا یہ دونوں چیزیں کسی ایک شخصیت میں اکٹھی ہو سکتی ہیں ؟

احمد جاوید صاحب: ہاں لوگوں میں ہوئی ہیں ، کم ہو سکتی ہیں کیوں کہ قلب عقل کے گر د Boundaries کھینچ دیتا ہے،اس میں عقل کی خو دمختاری مثبت ہوتی ہے ،کارآمد ہوتی ہے ۔ بے اختیاری کا دائرہ جو ہے وہ اختیار سے بہت بڑا ہے۔ ہمارا سارااختیار بے اختیاری کے دائرےمیں ہے ۔صوفی اس بات کو سمجھتا ہے۔

مطیع مشہدی: فارسی شاعری میں آپ سب سے زیادہ کس سے متاثر ہوئے ؟

احمد جاوید صاحب: دیوانِ شمس سے ،مولانا روم کی غزلوں کےمجموعے سے ،پھر حافظ شیرازی سے ،لیکن ایک ہوتا ہے شعر کو فن کے طور پر پڑھنا ، اس میں فردوسی اور نظامی ۔

مطیع مشہدی: قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ و لکل قوم ھاد اور ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ۔لیکن ہم ہندوستا ن کی تاریخ میں پانچ ہزار سال بھی پیچھے چلے جائیں، تب بھی ہمیں کوئی موہوم سا رسالت کا تصور بھی نہیں ملتا جس طرح کا تصور ہماری سامی ادیان کی روایت میں ملتا ہے ۔ پھر بر اعظم امریکہ تقریبا پانچ سو بر س پہلے دریافت ہوتاہے اور جب ہم ان کی مذہبی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں جو ہزاروں سال پرانی ہے ،تو وہاں بھی کوئی اس طرح کا رسالت کا تصور نہیں ملتا ،جبکہ جن علاقوں میں سامی ادیان کی روایت پائی جاتی ہے وہاں پے در پے پیغمبر آتے گئے تو کیا اس خطے کے انسانوں کو ہدایت کی زیادہ ضرورت تھی ؟ہندوستان یا امریکہ یا آسٹریلیا وغیرہ میں پائی جانے والی انسانیت ہدایت سے بے نیاز تھی ؟ ان کے ہاں دور دور تک پیغمبروں کا نام و نشان نظر نہیں آتا ۔

احمد جاوید صاحب:  میرے خیال میں ہندوستا ن میں جو شروتی ہوتے تھے یا اوتار ہوتے تھے ،یہ پیغمبر ہی ہوتے تھے۔ جیسےچودہ اوتار ہیں ، تیرہ اوتار ہیں ۔اس طرح بے شمار شرتی تھے۔ ـشرتی کہتے ہیں جس نے سنا ،یعنی جس پر وحی اتریـ، وہ ہوتے تھے ۔پھر حکمت والے ہوتے تھے،انہیں گیانی کہتے تھے۔ یہ زیادہ تر نظام ہندوستان میں تھا ،مطلب آپ اس سے نبوت برآمد کر سکتے ہیں بغیر کوئی تکلف کیے۔اور جو قدیم تہذیبیں دوسرے خطوں کی،یعنی غیر سامی تہذیبیں ہیں،ان میں بھی افراد مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ۔اب شامانزم ہے ،جو جنوبی امریکہ یا شمالی امریکی کی پرانی تہذیب ہے ،جو سات ہزار سال پرانی ٹریس(Trace) ہو گئی ہے ،تو اس میں شامانزم (Shamanism) یا کوئی اور، وہ سب ایک ایک فرد کے گر د بننے والے دائرے ہیں تو اس فرد کو قیا س کیا جا سکتاہے کہ وہ ہادی یا نبی ہو سکتاہے۔اسی طرح اس طرف چلے جائیں میسو پوٹیمیا(Mesopotamia) یا یونانی تہذیبیں ، یہ بھی پانچ سات ہزار سال قدیم ٹریس ہو چکی ہیں ،تو ان میں بھی یہی ملتا ہے "معلم "۔یونانیوں میں معلم اور مربی دونوں ملتے ہیں ۔اور میسوپوٹیمیا میں اللہ کی طرف بلانے والے کثرت سے ملتے ہیں ،توحید کی طرف بلانے والے ۔پھر میسوپوٹیمیا ہی کی توسیع ایرانی تہذیب ہے سینڑل ایشیین آرین وغیرہ ،ان کے ہاں بھی توحید ، توحید کی دعوت اور مربوط دعوت Text کی صورت میں ہے ۔اس میں دورجحانات ہیں ،ایک زروایسٹرین(Zoroastrianism) ہے، ایک آرین ہے جیسے ویدانتی ۔ان میں ایک میں تشبیہ کا غلبہ ہے اور دوسرے میں تنزیہ کا،لیکن ان سب کا Principal Content توحید ہے ۔ ہر تہذیب میں شر ک اور توحید کی لڑائی کا ماحول رہا ہے ۔ شرک اور وحدانیت لگتا ہے، ہم عمر ہیں ۔تو کہہ سکتے ہیں کہ نبی یا دوسری اصطلاح میں ہادی ہر قوم میں بھیجے گئے۔البتہ  اس سلسلہ نبوت کی قانونی تشکیل کا عمل یعنی نبوت کو شریعت دینے والے ادارے بنانے کی روایت، وہ سامی ہے ۔

مطیع مشہدی: صرف اس روایت میں ہے ؟

احمد جاوید صاحب: ہاں اس روایت میں ہے، لیکن ہندوں میں بھی شریعت ہے ۔

مطیع مشہدی: سائنس اور قرآن کی جو دو دنیائیں ہیں ،اور ان کا جو ایک طرح کا کلیش(Clash) دکھایا جاتا ہے، اس میں بہت ساری پوزیشنز لی جاتی ہیں ۔کچھ پوزیشنز یوں لی جاتی ہیں کہ جو جدید تحقیق سامنے آتی ہے ،اسے قرآن سے ثابت کر نے کی کوشش کی جاتی ہے ، ایک پوزیشن یہ لی جاتی ہے کہ یہ دو الگ دائرے ہیں ،ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ، ایک مابعد الطبیعاتی ہے اور دوسری مادی دنیا سے متعلق ۔آپ کس پوزیشن کو آج کے دورمیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ؟

احمد جاوید صاحب: میرے خیال میں ان میں انٹر ڈیپنڈینس(Interdependence) نہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ انسانی ذہن میں جو دو چیزیں آجائیں تو ان میں تعلق تو لازماََپیدا ہوجاتاہے ۔اگر علم کی اصطلاح میں دیکھیں تو اس میں بنیادی فرق ہے۔جس علم کا مقصود ہدایت دینا یا حاصل کرنا ہو ،وہ Falsifiable نہیں ہوتا ۔اور جس علم کا مقصد دنیا اور اس کے مکینکس ، سائنس یا کوئی اور مطالعہ ہو، ان کو Falsifiable ماننا ضروری ہے،ورنہ دنیاوی علم میں ترقی نہیں ہو سکے گی۔یہ دوبہت بنیادی فرق ہیں وہ۔ بالکل الگ Episteme ہیں، یہ بالکل مختلف Episteme میں ہے ۔اور ہمیں چاہیے یہی تھا کہ ہم Falsifiable علم میں کوئی کر دار ادا کرتے ،لیکن ہمارے ذہن اس طرح بنا دیے گئے کہ ہمارے ہاں تمام معلومات عقیدے کی طرح اٹل ہونی چاہییں۔اس سے ہم نے بڑا نقصان اٹھایا ہے ۔ دنیا کا علم صحیح ہو یا غلط، مجھے کوئی نقصان نہیں ہے ۔اور دینی علوم کو اتنی تفصیل دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ دینی علم Perspective ہے،چیزوں کو دیکھنے کا مستقل Perspective ہے ،اس علم سے صرف فقہ پیداہوتی ہے ۔صرف فقہ جائز دینی علم ہے ۔اس کو دینی علم کہیں گے Falsifiability کے ساتھ،کیوں کہ عقل جہاں بھی Active ہوگی، وہاں وہ Falsifiable ہے ۔جہاں Passive ہے، وہاں Falsifiable نہیں ہے ۔صرف خبر Falsifiable نہیں ہے نبی کی خبر،باقی تو سب Falsifiable ہے ۔ہم نے عجیب طرح سے دین کو فلسفے کی بنیاد بنانا شروع کردیا ۔اس میں پھر ہمیں بہت زیادہ جھوٹ بولنا پڑتا ہےکہ ہم فلسفہ بھی جانتے ہیں ۔بھائی ایمان کا Perspective قائم رکھ کے پرانے متقدمین کی طرح فلسفیوں سے کوئی رعایت کیے بغیر ،ایک مشترکہ منطق اور ایک مشترکہ اصطلاحات کے نظام میں گفتگو کرکے دکھاؤ۔

مطیع مشہدی: کیا عقل کی  Form  Purified کو وحی کہہ سکتے ہیں ؟

احمد جاوید صاحب: یہ کچھ لوگوں نے کہا ہے، لیکن بڑی خطر ناک بات ہے ۔وحی خارج میں ہونے والا ایک عمل ہے۔ اس کی تخلیق کا یعنی اس کے وجود میں آنے کا کوئی ایک سبب بھی عقل میں نہیں ہے ۔عقل اس کے سامنے محض Passive ہے۔اوریہ بات کہنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہے کیونکہ عقل کا مطالعہ کرنے والے کلینیکل علوم میں، ذہن کا مطالعہ کرنے والے جن لوگوں نے بہت مطالعہ کیا ہے ، کلینکل مطالعہ،تو وہ سب جانتے ہیں کہ ذہن کا بڑاحصہ جو ذہن کا گورننگ (Governing)حصہ ہوتا ہے ،وہ Passiveہوتا ہے ،وہ مسلمات کو نافذ کرتا ہے عقل کی Activity پر۔توہمیں کیا اس میں گھبر انے کی ضرورت ہے۔وحی عقل کی Passivity کا بہترین مصرف ہے اور عقل اپنے Passive مسلمات کو اپنی Activities پر حاکم رکھتی ہے ۔کوئی عقل نہیں ہے جو ٹائم اور سپیس کے آرڈر سے باہر کام کرے ۔ٹائم (Time)اور سپیس(Space) کوئی چیز نہیں ہیں، یہ عقلی تصورات ہیں۔ وحی اس آرڈ ر کو میٹا فزیکلائز(Metaphysicalize) کرتی ہے اور گاڈ سنٹرڈ(God Centered) بناتی ہے۔خداکو ماننا ہر چیزکو ڈیفاین (Define)کر دیتا ہے ۔بس یہ بات ہمیں اعتماد کے ساتھ کہنی چاہیے بغیر غصے میں آئے ۔

مطیع مشہدی: قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ اپنی صفت و قدر ت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری تصویر کشی کرتے ہیں جس طرح ہم چاہتے ہیں ۔اب جینیٹک انجینئر نگ (Genetic Engineering)میں سائنس اس پوزیش میں آچکی ہے کہ وہ خود طے کر سکتی ہے کہ کسی نئے آنے والے بچے کا قد کاٹھ کیسا ہو،رنگ و روپ کس طرح کا ہو ،وغیرہ وغیرہ ۔تو سوال کیا جاتا ہے کہ جب انسان کو ان چیزوں کا علم نہیں تھا تو وہ ایک بڑی ہستی کے ذمے لگا دیتا تھا کہ وہ یہ سب کرتی ہے۔لیکن اب تو انسان نے خود یہ کر لیا ہے ۔اب قرآن کا یہ بیانیہ کیا خدا کی قدر ت کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے ؟

احمد جاوید صاحب: جینیٹک انجینئر نگ (Genetic Engineering)علم کے طورپر بعد میں ہے ،انجینئرڈ جینیٹکس (Engineered Genetics)تو پہلے سے موجود ہے۔وہ اللہ کی بنائی ہوئی ہے ۔وجود ہمیشہ علم سے پہلے ہے ،اگر وجود ایسا تھا جو آج میں نے دریا فت کیا ہے تو یہ اللہ کے علم میں جب سے ہے،جب سے ہے ۔پھر اللہ اور بندے کے علم میں Objectسے نتائج مشترک بھی ہو ں تو علم کی ساخت کا فرق انہیں ایک کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔یعنی Object جس Consciousness میں ہے، جس Order  Conscious میں ہے،بہت زیادہ Significant ہے۔ یہ بات کہ ایک لفظ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں لیکن بہت زیادہ فرق ہو گا،آپ بہت زیادہ جانتے ہوں گے اور میں بہت کم جانتا ہوں گا۔مطلب کئی پہلو ہیں۔علم کی الوہی ساخت اپنے Contentsکو انسانی علم کے Contents حتما َمطلقا ممتاز رکھتی ہے۔یعنی معلومات ِ الٰہیہ کا بعد میں کہیں انکشاف بھی ہوتا ہے تو وہ انکشاف ہمیشہ جزوی ہوگا ۔اور وجود خالق ِ وجود کا معلوم ہے، کیا اس میں فرق نہیں پڑے گا ۔ہمار ا علم ناظرِ وجودکا علم ہے ،وہ خالقِ وجو دکا علم ہے ۔

مطیع مشہدی: جو تہذیبوں کا باہمی تعامل(Civilizational Encounter) ہوتا ہے جیسا کہ آج مغربی تہذیب اور ہم، تو اس تعامل میں ہم کن دوائر میں مجبور ِ محض ہیں کن دوائر میں ہم بااختیار ہیں ،اپنی مرضی کر سکتے ہیں ۔

احمد جاوید صاحب: ہم سے مراد اگر مسلمان ہیں ، تو ایمان اور ایمان سے بننے والے نفسیاتی Structure سے،ان دائروں میں ہم مجبور ہیں کہ ان پہ آنچ نہ آنے پائے ،باقی میں آزادی ہے ۔

مطیع مشہدی: باقی کے اثرات اس ڈھانچے پر نہیں پڑیں گے ؟

احمد جاوید صاحب: جی،بشرطیکہ ہم نے انہیں رغبت سے اختیار کیا یا مغلوبیت سے اختیار کیا ،یعنی By Choiceنہ ہوا۔

مطیع مشہدی: میرے والد صاحب علامہ اقبال کے حوالے سے اکثر فرماتے ہیں کہ یہ جو اقبال نے ایک ولی اللہ کے بارے میں کہا ہے کہ مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا ،اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اقبال یہ کیا کہنا چاہتے ہیں ۔

احمد جاوید صاحب:  یہ اتنی بڑی غلطی ہے کہ اس کے بعد یہ نہیں پو چھا جائے گا کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔بہت بڑی غلطی کی ہے۔ان کی یہ نوجوانی کی نظم ہے ۔جب انگلینڈ پڑھنے جا رہے تھے توحضرت نظام الدین اولیا کے مزارپہ گئے، وہاں انہوں نے یہ نظم پڑھی تھی،اس وقت نوجوانی ہی تھی ۔

تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا

(نعوذ باللہ )  اس زمانے میں تھوڑا سا قادیانیت کے زیر اثر یا مزاج میں قادیانیت کے اثرات بھی تھے ۔ مسیح و خضر ان کے مذہب میں تو تختہ مشق ہی بنے رہتے ہیں ۔

مطیع مشہدی: آخر وقت تک انہوں نے اسے بدلا بھی نہیں۔

احمد جاوید صاحب: میرا خیال ہے کسی نے متوجہ نہیں کر وایا، ورنہ وہ ایسے آدمی نہیں تھے ،بڑے منکسر المزا ج آدمی تھے۔لیکن یہ Poetic License ہم نے دے رکھاہے جس کی چاہے جو کرو۔اب ہمارے بڑے بڑے شاعروں نے عیسی ٰ موسیٰ اور جبریل علیہم السلام کے ساتھ جیسا سلوک رکھا ہے ۔

بگذر مسیح از سر ِ ما کشتگانِ عشق
یک زندہ کر دن ِ تو بصد جاں برابر است

اب حضرت عیسیؑ ملیں گے تو پوچھیں گے ان سے۔شاعری میں ایک طرح کی یہ نحوست آگئی ہے بعض اثرات کی وجہ سے۔کیوں کہ شاعری کا خمیر تہذیب ہوتی ہے ۔ہماری شاعری کا خمیر جس تہذیب میں ہے ،وہ تہذیب ہمارے دین نے نہیں پیدا کی۔

میاں انعا م الرحمٰن: مغرب کو آپ نے کافی سٹڈی (Study) کیا ہے، ان میں جو بڑے بڑے سکالرز ہیں جنہوں نے آپ کو متاثر کیا ہے ، سقراط ، افلاطو ن ، ارسطو وغیرہ ان میں آپ کن کو قابل مطالعہ سمجھتے ہیں؟

احمد جاوید صاحب:  Plato کے ڈائیلاگز (Dialogues) سب کو پڑھنے چاہییں۔

میاں انعام الرحمٰن: سب ڈائیلاگز؟

احمد جاوید صاحب: بہتر ہے سب ورنہ ریپبلک (Republic) اور ایک آدھ چھوڑ کے باقی پڑھ لے ،بعض دو تین ڈائیلاگ ایسے ہیں کہ اب ان کا کوئی مصرف نہیں رہا ۔مثلا ریپبلک اور اس طرح کے ایک آدھ اور۔ا س میں تصور ِ ریاست ،حکومت یہ سب بتایا ہے ۔ لیکن مثلافیڈو (Phaedo) ہے، سوفسٹ (Sophist) ہے،مینو (Mino) ہے، یہ ضرور پڑھنے چاہییں۔اور جن صاحب نے یہ ڈائیلاگ نہ پڑھے ہوں، جب وہ پڑھیں گے تو جب انہیں معلوم ہوگا کہ وہ آج بھی کتنی بڑی کمی کا شکار تھے۔

میاں انعام الرحمٰن: ری پبلک ہمارے پولیٹیکل سائنس کے نصاب کا باقاعدہ حصہ ہے اور مجھے تو آج بھی بڑی ریلیونٹ (Relevant) لگتی ہے۔

احمد جاوید صاحب:  نہیں وہ تو جو پولیٹیکل سائنس (Political Science) پڑھتا ہو وہ پڑھ لے لیکن یہ جو مجموعی انسانی شعور کی Richness ہے اس کا احساس ڈائیلا گ (Dialogues) کو پڑھے بغیر نہیں ہو سکتا۔

میاں انعام الرحمٰن: پڑھ کے ایسے لگتا ہے جیسے آج کے دور کے کسی بندے نے لکھی ہے ۔

احمد جاوید صاحب: بہت اچھی نثر ،افلاطون سے اچھی نثر بھی کسی نے نہیں لکھی۔

مطیع مشہدی: آپ سمجھتے ہیں کہ ترجمے میں وہ نثر آئی ہے؟

احمد جاوید صاحب: یہ میں نہیں کہوں گا کیوں کہ زبان آتی نہیں ، لیکن جن لوگوں نے ترجمے کیے ہیں ان میں اکثریت یونانی زبان کے ماہرین کی ہے۔ وہ ہماری طرح کے مترجمین نہیں ہیں ،انہوں نے زندگی لگا دی ہے ڈائیلاگز ترجمہ کرنے میں۔مثلا ََجوویٹ (Benjamin Jowett) کا جو ترجمہ ہے اس نے ساری زندگی یہی کام کیا ہے، یونانی کلاسیکس کا ترجمہ کرنے میں۔

مطیع مشہدی: کیا یہ بات درست ہے کہ ہماری مسلم روایت میں جینئون فلاسفر ز نہیں ہیں، مغرب میں جیسے ہیگل وغیرہ  ہیں،  بلکہ جو یونانی فلسفہ ہمارے ہاں آیا، بس اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ۔

احمد جاوید صاحب: جی ہاں ۔تھوڑی بہت اوریجنیلٹی(Originality) ہے شہاب الدین سہروردی مقتول میں ۔

مطیع مشہدی: کیاہماری روایت میں اوریجنل فلاسفر ز ہونے چاہییں تھے ؟

احمد جاوید صاحب:  بہت ضروری تھے ۔مذہب جوہے، وہ علم الکلام پیداکرسکتا ہے، فلسفہ نہیں۔فلسفہ تو عقل کی مکمل آزادی اور خو دمختاری سے پیداہوتا ہے ، free inquiry،ہر بات پہ شک کرو۔

مطیع مشہدی: ایک مسلمان کیا جینئون فلاسفر بن سکتا ہے؟

احمد جاوید صاحب:  میرے خیال میں نہیں بن سکتا۔ لیکن فلسفہ پڑھناضرور چاہیے، اس سے آدمی کے ذہن کو جِلا ملتی ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: وحی کے حوالےسے ایک سوال تھا ذہن میں کہ ابھی جو آپ نے وحی اور عقل کے حوالے سے بات کی ،تو مجھے کچھ ایسا لگتا ہے کہ اگر ہم قرآن کا مطالعہ کریں  جو وحی الٰہی ہے، خداکا آخری کلام ہے ،تو اس میں جو اجتماعی انسانی شعور ہے جسے ہم تاریخ کہہ رہے ہیں، اس کا خاصا حصہ اس پر مشتمل ہے ،تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو وحی ہے ،یہ جو انسانی شعور چلا آرہا ہے ،اس کی ایک حد تک محتاج بھی ہے ؟

احمد جاوید صاحب:  نہیں یہ تو اس طرح ہےکہ جیسے خالق کو مخلو ق کی ضرورت ہے ۔اگر اس طرح سمجھا جائے کہ متکلم کو مخاطب کی حاجت ہے، ان معنوں میں تو ٹھیک ہے لیکن وحی کی جو مین باڈی(Main body) ہے، اس میں عقل کا کوئی فاعلانہ کردار نہیں ہے، اس میں عقل محض ریسیور (Receiver)ہے ۔ہماری رائے یہ ہے کہ عقل دی ہی گئی ہے وحی کو قبول کرنے والی قوت کے طورپر ،ورنہ انسان کی عمومی فہم یعنی نان ریشنل ریفلیکشن(non rational reflection ) ،اس کی خواہشات اور اس کی Instinctsدنیاوی زندگی گزار نے کے لیے کافی ہیں ۔عقل دی ہی اس لیے گئی ہے کہ اس میں خداکی مخاطب بننے کی قابلیت ہے ،کیوں کہ عقل میں سب سے Basicچیز کیا ہے، Abstractionکی قوت۔یعنی Matter سے ٹرانسنڈ کرنے کی طاقت ،یہ طاقت بے سود اور بے بقا ہوتی اگر یہ وحی کی مخاطب نہ ہوتی ،کیوں کہ عقل میں Abstraction کا مادہ ایمان بالغیب کی اساس ہے ۔توشروع سے اگر بات کریں نا آغاز سے کہ عقل کیا ہے تو پھر باتیں زیادہ واضح ہو جائیں گی ،اور وحی کیا ہے ۔میرے خیال میں ان میں کوئی تخلیقی ربط نہیں ہے ،عقل وحی کی تشکیل میں شامل نہیں ہے۔وحی ایک واقعہ ہے جیسے ایک چیز وہاں سے چلی اور یہاں پہنچی۔

میاں انعام الرحمٰن: اگر اس بات کو بڑھایا جائے کہ اگر وحی کا یہ shade ہوتا ہے تو نبی ﷺپر وحی نازل ہوئی اور مکی زندگی میں آپ کا ایک گروپ بن گیا تو ہجرت کرتے وقت چاہیے تو یہ تھا کہ کوئی نئی کالونی بسائی جاتی ،بڑا آسان تھا یہ،بجائے مدینہ ہجرت کرنے کے ،وہاں مختلف عقلیں موجود تھیں ،اوس و خزرج تھے ان سے انٹریکشن (Interaction) ہونا تھا ،تو صحیح صورت حال تو بنتی ہے کہ وحی کے مطابق ایک نئی بستی بسائی جاتی لیکن ایسانہیں کیا گیا۔ یہ آپشن تھا ،نہیں اختیار کیا گیا ۔اس کا مطلب ہے کہ وحی کا انٹریکشن لازما ہونا ہے مختلف عقلوں کی جہتوں سے،مختلف ثقافتوں سے ۔تو یہ جو آپ وحی کو بالکل الگ رکھ رہے ہیں کہ بالکل الگ چیز ہے ،عمومی طورپر ایسا نظر نہیں آتا ۔

احمد جاوید صاحب: تھوڑا سا وحی کو ہم ڈیفائن کرلیں نا ،وحی اللہ کا کلام ہے جو اپنے ہر مخاطب کے لیے بائنڈنگ ہے جو اس میں کہاجارہا ہے ڈائیریکٹ اسے مانے میر ی عقل،اور اپنے حالات کے مطابق اس کو سمجھنے میں غلطی بھی کر دے تو کیا ہے ۔تو وحی سب سے پہلے عقل پہ حکومت کرتی ہے اور اس کے بعد عقل کا مادہ ءِ تعقل بنتی ہے ۔آپ جو بات کر رہے ہیں، وہ وحی کے سیکنڈ فیز سے متعلق ہے کہ جہاں عقل وحی کو قبو ل کرکے کلمات ِ وحی کو اپنے تعقل کی اسا س بنا لیتی ہے ،وہاں ظاہر ہے کہ عقلی تصورات اور وحی کے Contents کہیں کہیں خلط ملط ہو سکتے ہیں ،وہاں تو ایک شانِ نزول کا قصہ شروع ہو سکتا ہے ،وہاں چیزوں کو ہسٹوریسائز (Historicize)کرنے کی ضرورتیں پیش آسکتی ہیں ،اس میں وحی کے ایک سالم کل کو اجزا میں تقسیم کرنے کی ضرورتیں پیش آسکتی ہیں جو عقل کرتی ہے ، وہ سب ٹھیک ہے اگر آپ دوسرے فیز (Second phase)پہ ہیں۔اگر آپ وحی as such اور  عقل as suchکے درمیان تعلق بنائیں گے تو وحی کے وجود کی تشکیل میں ،وحی کے کلمے اور معانی کی تشکیل میں عقل کا کر دار ریسیور کے سوا کچھ نہیں ہے ۔وہ ریسیو(Receive) کر کے پھر اپنی دنیا پہ جب اسے اپلائی کرتی ہے نا،تو وہاں پہ وہ ایکٹو ہوتی ہے، وہاں اس کی مرضی ، اس کے میلانات یا اس کی کمزوریاں اس کی تشریحات و توجیحات ،وہ لگتا ہےوحی کے ساتھ اپنا امتیاز ختم کر لیتے ہیں بعض جگہوں پر ،وہاں آپ کی بات ٹھیک ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: ہمارے انسانوں کی اکثریت کے ساتھ تو یہی معاملہ پیش آتا ہے کہ جو دوسر افیز (Phase)ہے، اسی کے مخاطب ہم ہیں۔ وہی ہم نے کرنا بھی ہے ،اور جو پہلا فیز ہے، وہ بہت محدود لوگ ہوں گے جن کا یہ مسئلہ ہوگا ،لیکن انسانوں کی جو عمومی معاشرت ہے، اس میں تو دوسرا فیز(Phase) ہی ہوتا ہے۔

احمد جاوید صاحب: جی بالکل ٹھیک،عمومی کیا ،مطلب کلی معاشرت میں یہی فیز ہے۔ جیسے قرآن اور قرآن کی تفسیر،یہ ایسے ہی تعلق ہے کہ اللہ کیا اس بات پر قادر نہیں کہ اپنی بات پوری سمجھا دے ،تفسیر کی کیا ضرورت ہے یعنی تفسیر کی ہمیں ضرورت ہے، کلام اللہ کو ضرورت نہیں ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: سیرت النبی کے حوالے سے آج کے Context میں کس پہلو پر فوکس کرنا چاہیے؟

احمد جاوید صاحب: تعلق کے شعور اور جذبے کو ، اس کی تفصیل یہ کہ اللہ سےتعلق اپنی احساساتی رسوخ کے ساتھ، مخلوق سے تعلق ایثار اور انکسار سے ساتھ ۔اس کے لیے رسول اللہ ﷺ واحد ماڈل ہیں ہمارے لیے ،یعنی ہمیں اپنی ہدایت بھی وہیں سے فنکشنل(Functional) انداز میں اخذ کرنی ہےاور اپنی بشریت کی تکمیل بھی انہی سے کروانی ہے ۔یہ اجمالا  َہمارے ذہن میں آتا ہے۔ اس کی تفصیل ہے جس کا پہلا جملہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ہم مزاجی پیداکرنا ،کیوں کہ میں کنڈیشن ہوجاؤں نا رسول اللہ کی شخصیت کے ساتھ،تو بہت بڑے بڑے معجزات کا صدور ہو سکتا ہے۔چیزیں رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے میرے اندر پیداہوتے ہی تاریخی جبر کو توڑ دیتی ہیں ،نفسیاتی بندشوں کو توڑ دیتی ہیں اور پر کشش ہو جاتی ہیں۔یعنی آپ اللہ کو بھی رسو ل اللہ ﷺ کے حوالے کےبغیر دیکھیں تو محض ایک Grand concept ہے۔آپ ﷺ کا حوالہ آکر اسے معبود حئ اور معبودِ واحد بناتا ہے ،پرکشش بناتا ہے۔اور صحابہ کو بھی اگر ریفرنڈم (Referendum)کر والیا جا تا کہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر جنت میں رہو گے یا آپ ﷺ کی مصاحبت میں مدینے میں رہو گے ،ایک ووٹ بھی جنت کے حق میں نہ آتا ۔

میاں انعام الرحمٰن: اس پہلو کی جو Practical realization ہے اس میں ہمارا ادب بھی کوئی کردار ادا کر سکتا ہے ؟

احمد جاوید صاحب: بہت زیادہ ،کیوں کہ ادب نظریے کو درکا ر احساسات فراہم کر دیتا ہے ۔کیوں کہ احساسات ہمارے ذہن کو در کا رہیں اپنے تصور میں ثابت قدم رہنے کے لیے۔ادب احساسات میں رفعت پیدا کرتا ہے۔ان کی رینج بڑھا دیتا ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: ہمارا جو مذہبی طبقہ ہے اس میں ذوق تو۔

احمد جاوید صاحب:  جبھی تو یہ حال ہے۔

مطیع مشہدی : فلسفہ اور ادب کی چند ایسی کتابیں جو آپ ہمارے جیسے طالب علموں کے لیے  Recommend کریں کہ یہ تو ضرور پڑھنی چاہییں۔

احمد جاوید صاحب:  فلسفے میں میں نے ابھی بتائی ہے نا Dialoguesپڑھیں۔ادب میں اپنی روایت کی امہات الکتب ،اپنی روایت کے بڑے شاعروں کو یا ادیبوں کو پڑھنا چاہیے۔اور پھر اپنے ذوق کے مطابق،کوئی کہتا ہے کہ اردو روایت میں میر سے پڑھنا شروع کرو ،کوئی کہتا ہے غالب سے کوئی کہتا ہے اقبال سے ،لیکن بڑے لوگوں کو پڑھنا ضرور چاہیے۔کسی بھی ڈسپلن میں جانے کا یہ تقاضا ہے ،شر ط ہے کہ اس کے کم از کم ایک بڑے آدمی کو پڑھنا۔یہ جو ہمارے ہاں تن آسانی پیداہوئی نا کہ چیزو ں کو ویکیپیڈیا (Wikipedia) میں دیکھو (یہ درست نہیں )۔

میاں انعام الرحمٰن: ہمارا جو جدید ادب ہے، یہ ہمارے احساسات کی تشکیل کر رہا ہے جیسا ماضی میں تھا ؟

احمد جاوید صاحب:  ہماری تہذیب کی کوئی جمالیاتی ساخت رہ نہیں گئی ۔

میاں انعام الرحمٰن: تو پھر مسئلہ کہاں پر ہے ،ادب میں ہے یا دین کے نمائندوں میں ؟

احمد جاوید صاحب: تہذیب میں ۔

میاں انعام الرحمٰن: تہذیب کوئی Abstract چیز تو نہیں ہے ۔ اس کے کوئی نمائندے توہوں گے ۔یا ادب کے نمائندے ہوں گے یا دین کے نمائندے ہوں گے ۔

احمد جاوید صاحب: جیسے فرض کیا اساتذہ ہیں ،علما ء ہیں ،حکمران ہیں،یعنی جو نظام چلانے والی قوتیں ہیں اور ان قوتوں کے جو ہولڈرز ہیں ،ان میں جمالیاتی حس مفقود ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: مطیع صاحب سے آپ کی جو بات ہورہی تھی تو ایک چھوٹا سا سوال میرے ذہن میں آیا کہ ایک طرف تو آپ نے یہ فرمایاکہ عقل اور وحی کی ڈومین (Domain)بالکل الگ ہیں اور سائنس اور قرآن کو اسی حوالے سے دیکھنا چا ہیےاور ان کا اپنا اپنا دائرہ ہے ۔دوسری طرف آپ نے شاعر ی کے حوالے سے بھی بات کی کہ شاعری جس تہذیب سے ابھرتی ہے جیسا کہ ہماری شاعری ہے ،و ہ اگر لادینی ہو تو بڑی گڑ بڑ ہوتی ہے تو شاعری کا اور ادب کا الگ ڈومین نہیں ہوتا ؟وحی کو مد نظر کیوں رکھیں؟

احمد جاوید صاحب: الگ ڈومین ہونے کا مطلب بے نیا زہونا نہیں ہے ۔الگ ڈومین ہونے کا میرا مطلب یہ ہے کہ دین کو اس بات کی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنے بتائے ہوئے حقائق کی سائنس وغیر ہ سے تصدیق کر وائے ۔لیکن ادب اور سائنس کو اپنی معنویت میں اضافے کے لیے اس بات کی محتا جی ہے کہ وہ دین کے ایمانی سٹرکچرز (Structures)کو خیال اور حال کی سطح تک اتارکے ایکسپریس (Express)کرنے کے لائق ہوجائے ،تو یہ بات تو taken for granted ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: یہ تو بطور متکلم آپ وحی کو یا اسلام کو ڈیفنڈ (Defend) کر رہے ہیں ،ورنہ عملی طورپر دیکھا جائے تو لین دین تو دو طرفہ ہوگا ۔

احمد جاوید صاحب: نہیں ایک ہوتا ہے نفسِ دین میں (لین دین) ہوا ہو ،تعبیر ِ دین میں تو ظاہر ہے میرا ذہن جن جن علوم سے مانوس ہے ،میرے فہم ِ دین پر ان کا اثر لازما پڑے گا ۔وہ تو ہوگا ،وہ تو ایک جبری اثر ہے ،اس سے مفر نہیں ہے ۔اس میں صرف اتنا مجھے دیکھنا پڑے گا کہ میرا ایک سائنس کا ڈسکور س ہے ،ایک ادب کا ہے ،اور ایک دین کا ہے ،تو ان میں وہ بائنڈنگ ڈسکور س کون سا ہے جو میرے شعور میں Objects کے سلسلے میں انتشار نہ پیداہونے دے۔

میاں انعام الرحمٰن: اگر ہم دین کے اوریجنل ڈسکورس(Original discourse) کو دریافت کریں تو وہ کیا ہوگا ؟

احمد جاوید صاحب: میرے خیال میں اویجنل ڈسکورس ایک واہمہ ہے ۔اوریجنل ٹیکسٹ ہوتا ہے ،ڈسکورس اس کی تعبیر ہی ہوتا ہے ،کیوں کہ میں اپنے فہم ِ دین کو پانچ سو سال پہلے کے آدمی کے مطابق بنانے میں قادر نہیں ہوں۔ کنٹکسٹ (Context)بدلتے رہتے ہیں نا ،علم کنٹکسٹ(Context) ہے ،کنٹکسٹ (Context)میری مرضی سے تھوڑی بدلتے ہیں ۔

مطیع مشہدی: وحی کے آنے کی جو وجوہات تھیں ،وہ ساری کی ساری موجود ہیں،انسان کو ان ساری چیزوں کی ضرورت ہے بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی کا سلسلہ منقطع کر دیا ۔ آپ اس ختم ِ نبوت کے پیچھے کیا بڑی حکمت سمجھتے ہیں ؟

احمد جاوید صاحب: جن ضرورتوں سے وحی کا سلسلہ جاری تھا ،وہ سب ضرورتیں ایک مخصوص ٹیکسٹ کی صورت میں Addressہو گئی ہیں ،تو اس میں پھر ہمیں کسی نئی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے ۔ہمیں ہدایت کی مسلسل ضرورت ہے ،لیکن موجود ہدایت کی،کسی نئی ہدایت کی نہیں ۔تو اس وجہ سے ہم ہدایت کے Perspective سے اپنے اندر کوئی نئی ضرورت دریافت نہیں کر سکتے۔بعثت ِ رسول اللہ ﷺ سے پہلے ایک طالب ِ حق آدمی اپنی کچھ ضرورتیں ہدایت کی بیان کر سکتا تھا جو اس تک پہنچنے والی عیسائیت میں Addressنہ ہوئی ہوں ،لیکن اسلام کے بعد نہیں ۔ایک حکمت تو اقبال نے بتائی، وہ بہت قابل ِ غور ہےکہ یہ عقلِ استقرائی کا سرٹیفکیٹ ہے ،لائسنس ہے کہ اب اپنے فیصلے خود کرو۔تو ایک یہ حکمت قابلِ غور ہے چاہے سو فیصد لائق ِ اتفاق نہ ہو۔دوسری اس میں ایک بڑی عرفانی حکمت جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ نبوت ،اللہ کا اظہار ہے اس کے بندوں کو اپنے طرف متوجہ کرکے ،اس توجہ کے عملی اور اعتقادی تقاضے پورے کرنے کے لیے ۔ہر نبی حق کا مظہر ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں حق as such اپنے مظہر میں آگیا ہے ،manifest ہو گیا ہے ۔پہلے ایک ہی زمانے میں کئی انبیا علیہم السلام ہوتے تھے تو حق کا اظہار کثرت کے اصول پر ہوتا تھا ۔توحید کا اظہار کثرت کے اصول پر ہوتا تھا ۔رسول اللہ ﷺ پر پہنچ کے توحید کا اظہار اب وحدت ِ مظہر کے اصول پر ہو چکا ہے ،تو یہ ختم ِ نبوت کی ایک عر فانی معنویت ہے ۔مثلاجو اگر ذرا صوفیانہ ذہن ہو یا تھوڑی آپ کی نظر اگر (Perennial philosophy) وغیرہ کی طرف ہو، تو اس حکمت کی افادیت سمجھ آئے گی۔وہ کہتے ہیں ناکہ ہر دین برحق ہے ،اس کے جواب میں یہ دلیل ہے ۔باقی اس کی ایک نفسیاتی ضرورت ہے کہ آدمی کو یہ احساس دلا دیا گیا ہے کہ اللہ تم پر اعتماد کرتا ہے ،تم اب بڑے ہو گئے ہو ۔

مطیع مشہدی: مجھےپچھلے کچھ ماہ سے سکھ مت کو پڑھنے کا موقع ملا ، میں نے دیکھا کہ ان کے ہاں توحید کا تصور بڑا خالص ہے اور قرآن میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرک کی بخشش نہیں کر ے گا، اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش دے۔آپ ان کی توحید کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟

احمد جاوید صاحب:  سکھوں نے توحید مسلمانوں سے لی ہے ،وہی توحید ہے۔

مطیع مشہدی: گرو نانک صاحب ہر وقت قرآن اپنے ساتھ رکھتے اور مطالعہ کرتے تھے ،تو ایسالگتا ہے وہ اس سے بہت مثاثر ہوئے ہیں ۔

احمد جاوید صاحب:  جی ان کی توحید اسلامی توحید سے ملتی جلتی ہے ۔

مطیع مشہدی: تو پھر ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگرچہ یہودیت اور عیسائیت نے توحید گہنا دی تھی،اس کے باجود انہیں اہلِ کتاب قرار دے کر ان کے لیے  Exceptional چیزیں رکھی گئیں ۔تو کیا آج علماء سکھ کمیونٹی کے لیے وہ استثنائی چیزیں رکھ سکتےہیں۔

احمد جاوید صاحب: نہیں ،کیوں کہ یہ ختم ِ نبوت کے خلاف ہے ۔گرو نانک کو چاہیے تھا کہ تم نے ساری توحید مسلمانوں سے لی ہے ،تو مسلمان کیوں نہیں ہوئے ،تو کیا شوق تھا کہ الگ مذہب بناؤ۔

مطیع مشہدی: لیکن پیغمبر ہونے کا دعویٰ تو انہوں نے نہیں کیا ۔

احمد جاوید صاحب: Prophet ہونے کی پوزیشن لے لی نا۔وہ ہندو اثر ہے ۔اب وہ اوتار ہے یعنی Prophet سے بھی بڑے۔

میاں انعام الرحمٰن: قرآن مجید کامطالعہ کریں تو ہر صفحے پہ اس کا جو بنیادی پیغام ہے وہ آخرت کے حوالے سے ہے۔میرے محدود سے مطالعے کے مطابق ۔یہ جو بنیادی میسج (Massage) ہے، اسے ہم اپنی معاشرت میں نہیں لا سکے۔اس کا کیا طریقہ کار ہو سکتاہےکہ دس فیصد پندرہ فیصد ،نظر تو آئے ۔

احمد جاوید صاحب:  اس کا ایک اصولی حل ہے، ایک اطلاقی ہے۔اصولی حل یہ ہےکہ خداتعالیٰ زندہ خدا ہے ،اس سے تعلق احساسات کی تصدیق کے ساتھ ہونا چاہئے ،وہ ہمارے ہاں نظام ِ تربیت کا حصہ نہیں رہ گیا ،خصوصا گھروں میں بلکہ مدارس میں بھی ۔دوسرا یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں کوئی چیک نہیں رکھا ۔آخرت کاجو سب سے زیادہ قطعی ایفکٹ (Effect)ہےنا جس کے لئے آخرت پر اتنی تاکید کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی اور یہاں کی چکاچوند تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے یعنی دنیا تمہاری محبوب نہ بن جائے ،کبھی جہنم کے ڈر سے محبو ب نہ بنے ،کبھی جنت کی کشش سے محبوب نہ بنے ۔وہ کام اب کرنا پڑے گا اب نظام ِ تربیت میں ۔آپ دیکھیں آپ کو کتنے لوگ ایسےملتے ہیں جنہیں مرنے کی جلدی ہو ،کہ کسی طرح جنت میں پہنچ جائیں ۔

میاں انعام الرحمٰن: یہی تو سوال ہے کہ ہماری جو سورس بک (Source Book)ہے قرآن مجید ، اس میں آخرت پر اتنا فوکس(Focus) ہے اور یہی ہمارے اندر نہیں ہے ،بلکہ پوری معاشرت میں نہیں ہے ،جو بہت زیاد ہ ہونی چاہئے ۔

احمد جاوید صاحب: اس میں یہ ہے کہ تعلیم ِ قرآن فالٹی(Faulty) ہے ۔ ہم قرآن کو مفہوم بنالینا کافی سمجھتے ہیں، قرآن کا تقاضا ہے کہ سنو ،سمجھو اور اپنے آپ کو اس پہ ڈھالو ،یعنی اس کی تاثیر لو ۔ہم نے قرآن کی تاثیر کے چینلز(Channels) نہیں ڈھونڈے۔قرآن کتابِ شعور بھی ہے، کتا بِ وجود بھی ہے ۔نہ ہم نے اس کے کتابِ شعور ہونے کا حق ادا کیا ،نہ کتاب ِ وجود ہونے کا ۔کتاب ِ وجود ہونے کامطلب اس کا ہر لفظ ہمارے لئے کلمہ ءِکن کی طرح ہے۔

میاں انعام الرحمٰن: مسئلہ شاید یہ ہوآج کے دور میں جیسے آپ نے پہلے فرمایا کہ ہر دور کا ایک خاص کنٹکس(Context) ہوتا ہے ،اس کے مطابق تعبیر کرنی پڑتی ہے ۔چار پانچ سو بر س سے ہم شاید کنٹکس نہیں سمجھ پائے ،اس کے مطابق تعبیر نہیں کر پائے تو جو ٹیکسٹ(Text) ہے، وہ تو as it isنافذ نہیں ہوگا ۔اس کی تاثیر بھی نظر نہیں آئے گی جو تعبیر کی صورت میں ہی نظر آئے گی۔ تعبیر کو عمل میں لانے کے لئے ہم جدید دور کے کنٹکس (Context)کو سمجھ نہیں پائے ۔شاید یہ وجہ ہو۔

احمد جاوید صاحب: ہم نے کنٹکس(Context) کو ہسٹوریکل (Historical)رکھا ، Religious نہیں بننے دیا۔ہم نے ہر کنٹکس کو افقی (Horizontal)  رکھا،  عمودی (Vertically) نہیں دیکھا ۔یہ غلامی کے اثرات ہیں ۔لیکن صحیح ہے کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے نا ،اب اس غلطی کو درست کرناہے تو اس میں طریقہ یہی ہے کہ ان دو تین تھیمز پہ توجہ کی جائے۔قرآن پہ کبھی رونا بھی چاہئے ،کبھی ہنستے ہوئے خوشی میں بے حالی کا تجربہ بھی ہونا چاہیے۔کبھی رونگٹے کھڑے ہونے چاہییں۔یہ سب ہمارے ہاں ہے ہی نہیں۔قرآن یا تو فرفر پڑھے جاتے ہیں یا اسکالر بن کر پڑھتے ہیں ۔

مطیع مشہدی : قرآن حکیم میں ہمارے ہاں جو مفسرین نظم پیدا کرتے ہیں،آیت کا دوسری آیت سے تعلق پیداکرتےہیں ،یا صوفیا کے ہاں جس طرح مفاہیم کشید کیے جاتے ہیں ،اگر یہ طریقہ اگر ہم "وید " پر اپنائیں گے تو وہ بھی منظم نظر آئے گی ،اس میں بھی ربط نکل آئے گا اور اس میں بھی جنتے مرضی معنی چاہیں نکالتے جائیں ۔پھر قرآن میں کیا خاص چیز ہے جو اسے وید سے Differentکرے گی۔اس طریقے سےتوہم ہر مذہب کی کتاب میں ربط بھی قائم کر دیں گے، اس کے اندر ایک نظم بھی نکال لیں گے ۔ایک فلسفیانہ ذہن کا آدمی وید کو پڑھے گا تو اس میں بھی وہ ایک نظام ِ فکر قائم کرلے گا ۔تو قرآن اور ان دیگر کتب میں کیسے فرق کریں گے ؟

احمد جاوید صاحب: بہت فرق ہے۔ پچھلے صحیفوں میں ،مطلب جنہیں ہم صحیفے مان کر بات کرتے ہیں ،وید یقینا َالہامی صحیفہ ہے،بہت فرق ہے ۔ایک تو ویدوں میں یا دیگر تمام صحائف میں خداکا تعارف پورا نہیں ہے۔دوسرا یہ کہ آخرت کا Thesisبہت ہی ابتدائی صورت میں ہے ۔یعنی ان کتابوں سے کوئی آخرت اساس ورلڈ ویو (World view)بنانا ممکن نہیں ہے ۔یہ قرآن کا امتیاز ہے جس نے ہمارے خدا کے بارے میں علم کو بھی مکمل کیا ،خدا سے تعلق کی تمام جہتوں کو بھی واضح کیا اور کائنات کی حقیقت اور غایت دونوں کا شعور بخشا،ورنہ وید توکہتے ہیں کہ یہ سب نظر کا دھوکہ ہے۔ تو اب اس میں انہوں نےجو نیچرل تضادات ہیں، اس کو Readہی نہیں کر پائے ۔مایا ہےتو کھانا کیوں کھاتے ہو ؟تم کیوں ہو ؟تمہارا نام کیوں ہے ؟من و تو کا پورا نظام کیا ہے؟اب اس کی ظاہر ہے، وہ فلسفیانہ توجیہات کردیں گے، لیکن ان توجیہات اور تشریحات کا کوئی اثر میری زندگی میں نہیں پڑتا۔تو قرآن نے میٹافیزیکل ایسنس (Metaphysical essence) کو ایپمیریکل (Empirical)کی حد تک یقینی بنایا ہے ۔قرآن کا نظام ِ عقائد ایمپیریکل تیقن کی قابلیت دیتا ہے جو پہلے کہیں بھی نہیں ہے ۔

میاں انعام الرحمٰن: اس کا سب سے بڑا مظہر سیرت الرسول ﷺ ہے۔

احمد جاوید صاحب: جی رسو ل اللہ ﷺ ۔اور وہ ہسٹاریکل ٹیکسٹ (Historical text) بھی ہے، ہسٹاریکل پروفٹ (Historical prophet)بھی۔ باقی کسی دین کا ٹیکسٹ ہسٹاریکل نہیں ہے اور پروفٹ ہسٹاریکل نہیں ہے، مطلب ہسٹاریکل تفصیل نہیں ہے ۔بہت سارے فر ق ہیں ۔ہاں یہ ٹھیک ہے کہ یہ جو ہم مختلف تھیریز(Theories) اپلائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن سے نکلی ہیں ،تو وہ ہم قرآن پر اپلائی کرتے ہیں، قرآن سے ڈرائیو (Drive)تھوڑا کرتے ہیں ۔

مطیع مشہدی: اگر ہم قرآن ِحکیم کا مطلوب فرد دیکھیں جو ایک مومن ہوتا ہے یعنی متقی ہو ، سچا ہو ، جھوٹ نہ بولتا ہو،وغیرہ وغیرہ،اس طرح کے بندے تو ہر مذہب میں مل جاتے ہیں ۔ایک سکھ بھی بہت متقی انسان ہو سکتا ہے ،ایک ہندو بھی متقی ہو سکتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہو ا کہ اسلام اپنے پورے نظام کی بدولت جو ایک فرد تیارکرنا چاہ رہا تھا ،وہ آدمی تو سکھ مذہب نے بھی تیار کرلیا ،اور ہندو مذہب نے بھی تیار کرلیا ۔یہا ں پھرسوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کی خاصیت کیا رہ جاتی ہے ؟

احمد جاوید صاحب:  یہ بہت اچھا (سوال) ہے ۔ انسانی نفس کی ایک Hierarchy ہے ،جبلت ،طبیعت ، قلب اور شعور ۔تو اس کو ہم آسانی کے لیے کہہ دیتے ہیں اخلاق اور شعور ۔آدمی کو اپنے اخلاقی وجود کے تقاضے پورے کرنے کے لیے دین کی لازمی حاجت نہیں ہے ۔اخلاقیات فطری ہیں، یہ سب مظاہر اخلاق کے ہیں ۔انسان کی فطرت کی نمود کی حیثیت سے اللہ کو ماننے والوں میں بھی نظر آسکتے ہیں ،نہ ماننے والوں میں بھی نظر آسکتے ہیں۔تو اصل چیز یہ ہے کہ شعور میں کیا ہے ،شعور کا Content کیا ہے جو اختیار ی ہے ۔تو شعور میں اللہ اور خدا نہیں ہے تو اخلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے ،کیونکہ آپ نے اوپر کی منزل میں جن بھوت ٹھہرا رکھے ہیں ،نیچے فرشتے بسا رکھے ہیں ،تو اس سے کیا ہو گا۔

ڈاکٹرمحمد اکرم ورک: اس سے جو مغرب کا فلسفہ اخلاق ہے اور اسلام کا فلسفہ اخلاق ہے، ان میں جو بنیادی فرق ہے، وہ اسی تناظر میں دیکھیں گے؟

احمد جاوید صاحب: ظاہرہے۔مطلب میری ساری Definitions جوہیں، وہ اللہ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ کے امتی کی حیثیت سے ہیں ۔میرے اخلاق بھی ،میرے ریفلیکسس (Reflexes)بھی ،حتی کہ میری Instinctive drives بھی۔

میاں انعام الرحمٰن: ہماری جو روایتی اصطلاح ہے، اس کے مطابق یوں سمجھ لیں کہ جو مغرب کے لوگ ہیں، وہ تکوینی ذریعے سے پہنچتے ہیں اور ہم تشریعی ذریعے سے پہنچتے ہیں۔منزل وہی ہے، لیکن ذریعہ کا بہت زیادہ فر ق ہے ۔

احمد جاوید صاحب: ایک آدمی میں اچھائی خودرو ہے ،ایک آدمی میں اچھائی جوابدہی کےتحت ہے ،خداسے تعلق کے تقاضے کے طور پر ہے ،دونوں میں فرق ہو گا نا۔

اس کے بعد ہم نے ان سے رخصت چاہی اور وہ دروازے تک چھوڑنے آئے۔علم وفکر کی گہرائی وگیرائی کو عجز و انکساری اور عملیت کے پیکر میں دیکھ کر رشک آرہاتھا اور اقبال کا یہ شعر ان کی شخصیت کے سامنے بے وقعت دکھائی دے رہاتھا۔

افکار کے نغمہ ہائے بے صوت 
ہیں ذوق ِعمل کے واسطے موت

خدا انہیں طویل صحت مند زندگی عطا فرمائے اور ان کے سر چشمہ ءِ فیض کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔آمین

غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہوں کی تعمیر

ڈاکٹر عرفان شہزاد

حجاز کو اللہ تعالی نے توحید کا مرکز بنا کر مقدس کیا، کعبہ خدائے واحدت کے گھر اور قبلے کے حیثیت سے تعمیر ہوا۔ وہاں جب شرک نے قبضہ کر لیا تو یہ قبضہ واگزار کرایا گیا اور مشرکانہ عبادت گاہوں اور آثار کو مٹا ڈالا گیا۔ حجاز کی یہ خصوصی حیثیت ہے کہ وہاں کوئی مشرکانہ عبادت گاہ قائم رہ سکتی ہے اور نہ تعمیر کی جا سکتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کعبہ کو بیت اللہ ہونے کی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ نہ کعبہ کہیں اور تعمیر ہو سکتا ہے اور نہ حجاز جیسا  تقدس کسی اور زمین کو دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے صحابہ نے حجاز سے باہر کسی بت خانہ، کسی آتش کدہ کو نہیں گرایا اور نہ ایسی عبادت گاہوں کی نئی تعمیر کو روکا۔ البتہ اپنے مفتوحہ علاقوں میں جو  نئے شہر بسائے، اس کے مالکانہ حقوق کی بنا پر اگر چاہتے تو غیر مسلم عبادت گاہ کی نئی تعمیر سے منع کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود کوئی غیر اسلامی معبد وہاں تعمیر ہوا یا نہیں، یہ تاریخی معلومات کا موضوع ہے جس پر تحقیق درکار ہے۔

دور جدید میں بین الاقوامی سطح پر اقوام کی ایک نئی تقسیم وجود میں آئی۔ جنگوں کےذریعے سے ممالک فتح کرنے کی صدیوں پرانی طاقت کی روایت کو قانون کی بیڑیاں پہنانے کی کوشش کی گئی اور طے پایا کہ جس قوم کے لیے جوسرحدیں مقرر کر دی جائیں، کوئی دوسری قوم اس پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ (اس تقسیم میں جہاں جہاں تنازعات رہ گئے، ان میں سے کئی حل ہو چکے اور چند ابھی تک محل نزاع ہیں)۔ یہ قومی ریاستیں کہلائیں جن کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک خاص جغرافیہ میں رہنے والے بلا امتیاز مذہب و نسل برابر کے شہری ہیں۔

 اس لحاظ سے قومی ریاست ہماری فقہ کے لیے ایک نیا مظہر ہے۔ پہلے وقتوں میں جو ممالک مسلمان فاتحین فتح کرتے، اس میں غیر مسلم محکوم سمجھے جاتے تھے۔ وہ جو جزیہ اور خراج ادا کرتے تھے، وہ مسلمانوں کی ملکیت قرار پاتا تھا۔ قومی ریاستوں میں یہ حیثیت بدل گئی ۔ چنانچہ جس طرح ایک غیر مسلم اکثریت میں رہنے والے مسلمان اپنے ہم قوم غیرمسلموں کے ساتھ برابر کے حقوق  کے حق دار قرار پائے، اسی طرح مسلم اکثریت میں رہنے والے غیر مسلم، اپنے ہم قوم مسلمانوں کے ساتھ برابر کے شہری قرار پائے۔ ان کے حقوق و فرائض میں کوئی فرق نہیں۔ سب پر یکساں طور پر ٹیکس کا نفاذ کیا جاتا اور بطور شہری ان کی شہری ضروریات ان سے پوری کی جاتی ہیں۔

چنانچہ کوئی قومی ریاست آئینی طور پر اس لیے مسلم ریاست نہیں بن جاتی کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ایسے ہی جیسے کوئی ریاست آئینی طور پر اس لیے مسیحی یا ہندو ریاست نہیں بن جاتی کہ وہاں مسیحیوں یا ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ درست ہے کہ قیام پاکستان کی سیاسی تحریک کے دوران میں اسلام کا نعرہ استعمال کیا گیا تھا، لیکن ملک کی تشکیل قومی ریاست کے اصول پر ہی ہوئی تھی، جس میں مسلم اور غیر مسلم برابر کے شہری  قرار دیے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ نے جو ووٹ پاکستان کے نام پر لیا، اس میں غیر مسلم کا ووٹ بھی شامل تھا اور یہ ووٹ مسلم ووٹ کے برابر تھا۔ مسیحیوں نے اسی اصول پر مسلم لیگ کو ووٹ دیا تھا۔

پاکستان کا قومی خزانہ صرف مسلمانوں کے  پیسے سے جمع نہیں ہوتا،  اس میں غیر مسلم کا ٹیکس بھی برابری کے اصول پر شامل ہے نہ کہ جزیہ یا خراج کے نام پر محکومی کا ٹیکس۔ ٹیکس کی یہ رقم حاکم کی ملکیت نہیں، عوام کی ملکیت ہے اور حاکم اس کا مینیجر ہے۔ وہ اس میں مالکانہ تصرف نہیں کر سکتا۔ اسلام آباد سمیت کوئی شہر بھی اس وجہ سے مسلمانوں کا تعمیر کردہ شہر نہیں کہلائے گا کہ اس وقت اس کی منظوری دینے والی اتھارٹی مسلمان تھی۔ وہ ایک قومی ریاست کا سربراہ تھا اور جو پیسہ خرچ ہوا، وہ قومی خزانے کا پیسہ تھا جس میں بلا امتیاز سب کے ٹیکسوں کا پیسہ جمع تھا۔ اسی وجہ سے وزارت مذہبی امور صرف مسلم امور کو نہیں دیکھتی، سبھی مذاہب کی عبادت گاہوں کے بارے میں ایک ہی اصول پر عمل پیرا رہنے کی پابند ہے۔

ان بنیادوں پر قانونی پوزیشن یہ ہے کہ  کسی بھی کمیونٹی کو اپنی عبادت گاہ  بنانے کا حق آئینی طور پر حاصل ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تمیز نہیں کی جا سکتی۔ ضرورت اور جواز کے ثبوت پر مسجد، مندر اور گردوارہ سمیت کسی بھی دوسری عبادت گاہ کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ جب تک قومی ریاست کا اصول آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے، غیر مسلم عبادت گاہوں کے بارے میں  اصولی پوزیشن یہی رہے گی۔ کعبہ اور حجاز کی تقدیس کے خصوصی احکام کا اطلاق بیرون حجاز نہ پہلے کبھی کیا گیا اور نہ اب کیا جا سکتا ہے۔

آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے مسلم ہونے کی شرط اکثریت نے منظور کر لی ہے۔ اس استثنا کے علاوہ اور کوئی استثنا آئین میں مذکور نہیں۔ اس لیے مزید استثنا پیدا کرنے کا جواز بھی نہیں۔ یہ سب کنفیوژن پاکستان کے بارے میں ایک مثالی اسلامی ریاست کے تصور کو قومی ریاست کے تصور سے گڈ مڈ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ آئینی طور پر پاکستان  تمام تر اسلامائزیشن کے باوجود اب تک ایک قومی ریاست ہے جس پر نہ حجاز کے خصوصی احکام لاگو ہوتے ہیں اور نہ گزشتہ دور  کے استبدادی ریاستوں کے فقہی احکام۔ جو علما قومی ریاست کے اس اصول کو تسلیم نہیں کرتے،  انھیں پہلے اس  آئینی صورت حال کو بدلنے کے لیے  کوشش کرنا ہوگی، اس کے بغیر مندر یا گرودوارے کی تعمیر اور سہولت کاری پر حرمت کے فتاوی بے محل رہیں گے۔


صحابہ کرام کے بارے مولانا مودودی کا اصولی موقف

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت  اور تجدید و احیائے دین کی بعض عبارتیں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر خاص ان عبارتوں کی بجائے اس پر بات کی جاتی  کہ اصولی طور پر مولانا مودودی کس جگہ غلطی پر ہیں ۔ اصولی چیزوں کے علاوہ تاریخی چیزوں میں بعض جگہ ان کی غلطی یا بددیانتی بھی اگر ثابت ہوجاتی ہے تو دیگر بہت سی جگہوں میں اسی قسم کی چیزیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ۔

مولانا مودودی صحابہ کرام کو محترم اور مکرم مانتے ہیں۔ اپنی تفسیر میں بہت سی جگہوں پر شیعی نظریات  کا رد کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام کے حوالے سے جس قدر فضائل و مناقب ہیں، ان سب کو تسلیم کرتے ہیں ۔ صحابہ معیار حق ہیں ، سبھی صحابہ عادل ہیں ، سبھی صحابہ قابل اتباع  ہیں، ایسی جس قدر بھی روایات ہیں، مولانا مودودی ان کو مجموعی طور پر سبھی صحابہ  کے لیے مانتے ہیں، تاہم  انفرادی طور پر کسی سے غلطی سرزد  ہوسکتی ہے لیکن اس کی  وجہ سے  ان کے رتبہ صحابیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا ۔ پھر   اس میں بھی جہاں ممکن ہو، تاویل کی جائے گی، لیکن جہاں تاویل ممکن نہ ہو تو غلطی کو بحیثیت غلطی تو نہیں ذکرکریں گے  یعنی صرف ان کی غلطیوں پر کلام کرنا تو درست نہیں ہوگا، تاہم کسی بحث کے دوران اگر اس غلطی کا ذکر آجاتا ہے تو اس کو ہم غلطی  ہی کہیں گے ، یعنی صحیح اور غلط کے جو طے شدہ معیارات ہیں، ان سے نہیں ہٹیں گے ۔

صحابہ کرام کی عظمت اور احترام کے بارے مولانا کی بعض عبارات ملاحظہ ہوں :

"بلاشبہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ واجب الاحترام ہیں اور بڑا ظلم کرتا ہے وہ شخص جو ان کی کسی غلطی کی وجہ سے ان کی ساری خدمات پر پانی پھیر دیتاہے ۔ اور ان کے مرتبے کو  بھول کر گالیاں دینے پر اتر آتاہے"۔ (خلافت و ملوکیت ص 143،44)

"صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہنے والا میرے نزدیک صرف فاسق ہی نہیں بلکہ اسکا ایمان بھی مشتبہ ہے. من ابغضھم فببغضی ابغضھم"۔ (ترجمان القرآن ، اگست 1961)

"وہ  ایک دوسرے پر تلوار اٹھا کر رُحَمَاء بَيْنَھُمْ ہی رہتے تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی قدر، عزت، محبت، اسلامی حقوق کی مراعات، اس شدید خانہ جنگی کی حالت میں بھی جوں کی توں برقرار رہی۔ اس میں یک سر مو فرق نہ آیا۔ بعد کے لوگ کسی کے حامی بن کر ان میں سے کسی کو گالیاں دیں تو یہ ان کی اپنی بدتمیزی ہے، مگر وہ لوگ آپس کی عداوت میں نہیں لڑے تھے اور لڑ کر ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوئے تھے " ۔(ترجمان القرآن ،نومبر 1957)

مولانا مودودی پر سب سے بڑا الزام حضرت امیر معاویہ اور حضرت عثمان کی توہین کا عائد کیا جاتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ کے بارے میں لکھتے ہیں :

"حضرت معاویہ کے محامد و مناقب اپنی جگہ پر ہیں ۔ ان کا شرف صحابیت بھی واجب الاحترام ہے ۔ ان کی یہ خدمت بھی ناقابل انکار ہے کہ انہوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور دنیا ئے اسلام میں اسلام کے غلبے کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع کردیا ۔ ان پر جو شخص لعن طعن کرتاہے وہ بلاشبہ زیادتی کرتاہے لیکن ان کے غلط کام کو تو غلط کہنا ہی ہوگا ۔ اسے صحیح کہنے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم  اپنے صحیح و غلط کے معیار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔" (خلافت و ملوکیت ، 155)

صحابہ کرام کے بہت سے فیصلوں خاص طور پر حضرت امیر معاویہ کے فیصلوں کو اجتہادی قرار دیتے ہوئے ان کے لئے گنجائش پیدا کی جاتی ہے۔ مولانا اس کو تسلیم نہیں کرتے ہیں بلکہ صحیح و غلط کے جو معیارات ہیں ان کی روشنی میں ہی ان کو دیکھا جائے گا ، لیکن کہیں بھی مولانا توہین پر نہیں اترتے ہیں بلکہ بار بار یہ بات کہتے ہیں کہ اس خاص واقعہ یا خاص بات کے غلط ہونے کے علاوہ ان کی شخصیت کے فضائل و مناقب اسی طرح رہیں گے ۔

"یہ بھی کچھ کم زیادتی نہیں ہے کہ اگر ان "صحابہ کرام " میں سے کسی نے کوئی غلط کام کیا ہو تو ہم محض صحابیت کی رعایت سے اس کو اجتہاد قراردینے کی کوشش کریں ۔ بڑے لوگوں کے غلط کام اگر ان کی بڑائی کے سبب سے اجتہاد بن جائیں تو بعد کے لوگوں کو ہم کیا کہہ کر ایسے اجتہادات سے روک سکتے ہیں ۔ ۔۔۔۔ کوئی غلط کام محض شرف صحابیت کی وجہ سے مشرف نہیں ہوجاتا بلکہ صحابی کے مرتبہ بلند کی وجہ سے وہ غلطی اور زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے ۔ لیکن اس پر رائے زنی کرنے والے کو لازما یہ احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ غلط کو صرف غلط سمجھنے اور کہنے پر اکتفاء کرے ۔ اس سے آگے بڑھ کر صحابی کی ذات کو بحیثیت مجموعی مطعون نہ کرنے لگے ۔ حضرت عمرو بن عاص یقینا بڑے مرتبے کے بزرگ ہیں اور انہوں نے اسلام کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں ۔ البتہ ان سے یہ دو کام "قرآن کوبلند کرنا ، تحکیم میں بات بدل دینا " ایسے سرزد ہوگئے ہیں جنہیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے  ۔" (خلافت و ملوکیت ،  143، 144)

 حضرت عمرو بن عاص کے اس فعل کو اجتہادی غلطی کیسے قرار دیا جاسکتاہے ؟ حضرات صحابہ کرام سے جو غلطیاں سر زد ہوئیں  خاص طور پر باہمی جنگوں کے معاملات میں، وہ اجتہادی تھیں یا  نہیں ؟ مولانا مودودی اپنے اجتہاد سے ان کو غیر اجتہادی غلطی ثابت کرنے پر مصر ہیں۔ یہ غلطیاں اجتہادی تھیں یا نہیں  ؟ حضرات صحابہ کرام کے پاک پیغمبر کی صحبت کی  برکت ، ان کی عظمت ،  اور قرآن و حدیث میں مذکور ان کے  فضائل اور خدمات   کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط یہی ہے کہ ان کو اجتہادی غلطی قرار دیا جائے ۔ لیکن کیا صحابہ کرام سے سرزد ہونے والی ہر غلطی اجتہادی تھی ؟ قرآن کریم نے بہت سی جگہوں پر صحابہ کرام کو تنبیہ کی ہے ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے دور میں مختلف لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں ۔ وہ ایک بہترین سماج  ، رسول اللہ کی صحبت اور تربیت کے زیر اثر رہے لیکن اس معاشرے میں ہر طرح کے انسان تھےان سے کوئی سرزد ہونے والی ہر غلطی کو اجتہادی قرار دینا اس دور ، تاریخ اور نصوص کا درست مطالعہ نہیں ہے ۔

اجتہادی غلطی کی تعریف کیاہے، اس کو ذکرکرکے مولانا بتاتے ہیں  کہ حضرت علی کے خلاف جنگ کو اجتہادی غلطی نہیں قرار دیا جاسکتا ۔

"اجتہادی غلطی کے لئے شریعت میں کوئی گنجائش ہوتی ہے اور اجتہادی غلطی وہ رائے ہوتی ہے جس کے حق میں کوئی نہ کوئی شرعی استدلال تو ہو مگر وہ صحیح نہ ہو یا بے حد کمزور ہو ۔ حضرت علی کے خلاف تلوار اٹھانے کے جوا ز کی کوئی کمزور سے کمزور گنجائش بھی شریعت میں اگر تھی تو وہ کیا تھی ؟ ان کے ایسے افعال محض غلطی تھی ان کو اجتہادی غلطی قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ۔" (خلافت و ملوکیت ، ص 344)

صحابہ کرام کی صرف غلطیوں کو موضوع بحث بنانے کو مولانا مودودی بالکل درست نہیں سمجھتے ہیں۔ اس بارے ان کا اصولی موقف بہت اچھا ہے  :

"ایسے واقعات جن میں صحابہ کی غلطیوں کا بیان ہے جیسا کہ ماعز کے زنا کا واقعہ ہے محض مشغلہ کے طور پر بیان کرنا تو یقینا بہت برا ہے ، لیکن جہاں فی الواقع بیان کرنے کی ضرورت پڑے وہاں بھی اجتناب کرنا چاہیے ۔ بیان کرنے میں بات کو صرف بیان واقعہ تک محدود رکھا جائے اور کسی صحابی کی تنقیص نہ ہونے پائے" ۔(خلافت و ملوکیت ،  305)

اگر کسی صحابی کی طرف کسی ایسے کام کی نسبت کی جاتی ہے جو درست نہ ہو تو اس میں حتی الامکان تاویل کی جائے گی لیکن اس کا یہ مطلب کہ نہیں کہ ان سے غلطیاں سرزد نہیں ہوسکتیں ، اور غلطیاں سرزد ہونے کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ روافض کہتے ہیں کہ ان کی تمام تر بزرگی اور فضائل جاتے رہے ۔ مولانا کی مودودی کی عبارت ملاحظہ ہو :

"میرے نزدیک ایک غیر نبی بزرگ کا کوئی کام غلط بھی ہوسکتاہے اور اس کے باوجود  وہ بزرگ بھی رہ سکتا ہے ۔ میں  کسی بزرگ کے کسی کام کو غلط صرف اسی وقت کہتا ہوں جب وہ قابل اعتماد ذرائع سے ثابت ہو اور کسی معقول دلیل سے اس کی تاویل نہ کی جاسکتی ہو ۔ اس غلطی کی حدتک تنقید کو محدود رکھتا ہوں ، اس غلطی کی وجہ سے میری نگاہ میں نہ ان بزرگ کی  بزرگی میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کے احترام میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے ۔

صحابہ بھی ایک انسانی معاشرہ تھا ان میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے تھے اور فی الواقع تھے جن کے اندر تزکیہ نفس کی اس بہترین تربیت کے باوجود کسی نہ کسی پہلو میں کوئی کمزور باقی رہ گئی تھی ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور یہ صحابہ کرام کے ادب کا کوئی لازمی تقاضا بھی نہیں ہے کہ اس کا  انکار کیا جائے۔ تمام بزرگان دین کے معاملہ میں عموما اور صحابہ کرام کے معاملہ میں خصوصا میرا طرز عمل یہ ہے کہ جہاں تک کسی معقول تاویل سے یا کسی معتبر روایت کی مدد سے ان کے کسی قول یا عمل کی صحیح تعبیر ممکن ہو اسی کو اختیار کیاجائے اور اس کو غلط قراردینے کی جسارت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کہ اس کے سوا چارہ نہ رہے ۔ لیکن دوسری طرف میرے نزدیک معقول تاویل کی حدوں سے تجاوز کرکے اور لیپ پوت کرکے غلطی کو چھپانا یا غلط کو صحیح بنانے کی کوشش کرنا نہ صرف انصاف اور علمی تحقیق کے خلاف ہے بلکہ میں اسے نقصان دہ بھی سمجھتا ہوں  کیونکہ اس طرح کی کمزور وکالت کسی کو مطمئن نہیں کرسکتی اور اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ صحابہ اور دوسرے بزرگوں کی اصلی خوبیوں کے بارے میں جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ بھی مشکوک ہوجا تاہے ۔ غلطیاں بڑے سے بڑے انسانوں سے بھی ہوجاتی ہیں اور ان سے ان کی بڑائی میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ ان کا مرتبہ ان کے عظیم کارناموں کی بنا پر متعین ہوتاہے نہ کہ ان کی کسی ایک یا دو چار غلطیوں کی بناء پر ۔" (خلافت و ملوکیت ،  308)

محدثین کا ایک اصول ہے الصحابۃ کلہم عدول ، مولانا اس میں تاویل کرتے ہیں :

"میں الصحابۃ کلہم عدول کا مطلب یہ لیتا کہ تما م صحابہ بے خطا تھے اور ان میں ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالاتر تھا اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے۔" (خلافت و ملوکیت ، ص 303 )

حضرت عثمان کے بارے مولانا کی  جس قدر عبارات ہیں ان پر بحث ہوسکتی لیکن ان کا اصولی موقف ملاحظہ ہو۔ حضرت عثمان کی پالیسیوں کے بارے بات چیت انتہائی محتاط انداز میں کرتے ہیں ، جس میں توہین یا تنقید کا دور تک بھی اندیشہ نہیں پڑتاہےاور الفاظ کا چناؤ بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں  :

"حضرت عثمان کی پالیسیاں بلحاظ تدبیر نا مناسب تھی اور عملا سخت نقصان دہ ثابت ہوئیں ۔ ، جائز ناجائز ایک الگ معاملہ ہے لیکن سیاسی تدبیر کے لحاظ سے کسی چیز کا نامناسب ہونا ایک الگ معاملہ ہے حضرت امیر معاویہ کو ایک صوبے کی گورنری دینا  سیاسی  تدبیر کے لحاظ سے نامناسب ضرور تھا ۔" (خلافت و ملوکیت ، 322تا    325)

مولانا مودودی کی ایک عبارت پر اعتراض کیاگیا اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں  :

" دوسری طرف حضرت عثمان جن پر اس کار عظیم کا بار رکھا گیا ، ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطاء ہوئی تھیں ۔ اس لئے ان کے زمانہ خلافت میں جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا موقع مل گیا  ۔ بعض مفتیان کرام نے اس فقرے سے حضرت عثمان کی توہین کا پہلو نکالا ہے ۔ حالانکہ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ حضرت عثمان میں بعض اوصاف حکمرانی کی کمی تھی جو سیدنا ابو بکر صدیق اور سید عمر میں بدرجہ کمال پائے جاتے تھے ۔ یہ تاریخ کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں تاریخ کے طالب علم مختلف رائیں ظاہر کرسکتے ہیں ۔ یہ کوئی فقہ و کلام کا  مسئلہ نہیں ہے کہ دار الافتاؤں سے اس کے متعلق کوئی رائے بصورت فتویٰ صادر کی جائے " ۔  (تجدید و احیائے دین ، 28 )

 مولانا یہاں  کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے جس میں مختلف رائیں ہوسکتی ہیں لیکن حضرت علی  کے خلاف جنگ میں حضرت امیر معاویہ کو غلطی پر ٹھہرانا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بھی خالص ایک تاریخی معاملہ ہے جس میں فریقین کے پاس بنیادیں موجود تھیں ۔ کسی تاریخی مسئلے پر اگر مولانا مودودی فتویٰ لگائیں تو ان پر فتویٰ کیوں نہیں لگایا جاسکتا ؟ اور پھر وہ حضرت علی کے فعل کی تاویل کرسکتے ہیں تو دیگر صحابہ کے بارے ایسا کیوں نہیں کرتے ؟

صحابہ کی باہمی جنگوں میں مولانا حضرت علی کے مقابلے میں  عموما حضرت امیر معاویہ کو غلطی پر ٹھہراتے ہیں تاہم تاریخی ریکارڈ کی بنا پر وہ کہیں حضرت علی کو بھی غلطی پر کہتے ہیں ۔

"جنگ جمل کے بعد حضرت علی نے قاتلین عثمان کے بارے اپنا رویہ بدل دیا ۔ جنگ جمل تک وہ ان لوگوں سے بیزار تھے ، بادل نخواستہ ان کو برداشت کررہے تھے ، اور ان پر گرفت کرنے کے لئے موقع کے منتظر تھے ۔ مالک بن اشتر اور محمد بن ابی کو گورنری کے عہدے دیے ۔ حضرت علی کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔" (خلافت و ملوکیت ، 146)

حضرت علی مجبور ہوگئے جب صحابہ کرام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے کہ جس گروہ سے بھی ہوسکے مددلیں اور قاتلین عثمان سے لڑائی نہ چھیڑیں ۔(خلافت و ملوکیت ،  323)

اگر چہ اس معاملے میں بھی وہ حضرت علی کو سپیس دینے کی طرف مائل ہیں  ، ملاعلی قاری کی ایک عبارت ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ قاتلین عثمان  باغی تھے اور ان کے پاس قوت تھی اور وہ اپنے فعل کے جواز کی تاویل کررہے تھے  اس قسم کے باغی اگر اطاعت کی طرف آجائیں تو جو کچھ انہوں نے نقصان کیا ہو اس پر مواخذہ نہیں ہوگا ، اور جن فقہاءکی رائے ہے کہ ان کا مواخذہ واجب ہے وہ اس وقت ہے جب ان کازور ٹوٹ جائے ۔ (خلافت و ملوکیت  ص ،)342۔  حضرت عثمان کے قاتلین کے بارے میں یہ سپیس اور رویہ اور حضرت امیر معاویہ جن کےساتھ بڑے بڑے صحابہ کھڑے تھے ان کے فعل میں کسی قسم کی تاویل کرکے اس کو اجتہاد غلطی نہیں کہا جاسکتا ؟  مولانا  کی فکر میں یہ تضاد موجودہے ۔

مولانا کی مجموعی فکر کی روشنی میں بھی اس مسئلہ کو دیکھنا ضروری ہے ۔ مولانا خلافت اور اسلامی ریاست کے داعی تھے اور اس کے لئے خلفاء راشدین کے دور کو آئیڈیل قرار دیتے  ہیں ۔ اس دوران یا اس کے بعد دور کی تبدیلیوں کے زیر اثر جو کچھ ہوا، اس کو اپنے خالص اسلامی نکتہ نظر کے منافی سمجھتے ہیں ۔ مولانا کی کتابوں کو پڑھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ مولانا صرف کسی خاص حکومت مثلا بنو امیہ کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بعد بھی جتنی حکومتیں قائم ہوئیں، ان کے بارےیہی نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ درحقیقت وہ اسلامی نہیں تھیں  ، ان  کو برداشت تو کیا جاسکتا تھا لیکن ان کو قبول نہیں کیا جاسکتا تھا، ان کا خاتمہ ہر حال میں ضروری تھا ، اور آج بھی مسلم یا غیر مسلم جتنی بھی حکومتیں ان سب کے بارے مولانا مودودی کی رائے یہی ہے ۔ یہ مسئلہ صرف مولانا مودودی کا نہیں ہے بلکہ اسی مخمصے میں بہت سے اسلامسٹ  مبتلا ہیں  ۔ آئیڈیلزم اور خالص اسلام کے نعرے تلے وہ دور  کے تحت ہونے والی فطری اور ضروری تبدیلیوں کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں اوراپنے ذہن کے تحت پوری تاریخ حتی کے مقدس شخصیات جن کا اجتہاد ایک معتبر مقام رکھتا ہے، اس کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

مولانا مودودی جس کو ملوکیت قرار دے کر منفی تصور قائم کرتے  ہیں اور بعض ضعیف روایات کی روشنی میں اپنے اس تصور کو تقویت دیتے ہیں، اس میں اکیلے حضرت امیر معاویہ ہی شریک نہ تھے بلکہ اس دور کے اہل حل و عقد کی اکثریت نے اس کو قبول کرلیا تھا ۔ مابعد کے ادوار میں شخصیات کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کی بناء پر حکومتوں کے خلاف خروج اور بغاوتیں بھی ہوئیں تاہم صرف ملوکیت کی بناء پر  ہر حکومت کا تختہ الٹنا ضروری تھا اور اس حکومت کو ختم کرنا کوئی شرعی اور دینی امر تھا روایت میں ایسا تصور نہیں ہے بلکہ علماء ، فقہاء ، اھل حل وعقد ان حکومتوں کے ساتھ رہے اور  اسلامی احکامات پر عمل انہی حکومتوں کے زیر اثر ہوتار ہا ہے۔ علماء و فقہاء ان حکومتوں کے زیر اثر کام کرتے رہے ہیں ۔

 مولانا موودی پر اس حوالے سے یہ بڑا اعتراض رہا ہے کہ اگر پاک پیغمبر کے براہ راست تربیت یافتہ لوگ حکومت الہیہ کو محض پندرہ سال کے بعد ٹھیک طرح نہ چلا سکے اور تیس سال کے بعد وہ ایسی حالت میں رہی کہ  ہردم اس کا خاتمہ شرعی و دینی امر تھا تو آج حکومت الہیہ کو قائم کرنے والے لوگ کہاں  سے نازل ہوں گے ؟ مولانا مودودی اس  سوال  کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ شخصیات کی بجائے ہمیں اصولوں کی طرف دیکھنا ہے جو کسی حالت میں بھی غلط قرار نہیں پاتے ہیں ۔ لیکن اعتراض وہیں کا وہیں رہتا ہے کہ حکومت الہیہ  اور ان اصولوں کو چلانے کے  لئے خدائی فوج کہاں سے نازل ہوگی ؟ اس کا کسی دور کے ساتھ کوئی تعلق  ہوگا کہ نہیں ؟ 

حقیقت تو یہ ہے کہ دور  کے زیر اثر  ہونے والی تبدیلیوں کومولانا مودودی نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ آج اگر مولانا جمہوریت کو قبول کررہے ہیں تو ملوکیت جمہوریت سے بری تو نہیں تھی ۔ اسی طرح ایک خالص اسلامی حکومت کے تصورات میں مولانا بہت کچھ تبدیلی کرتے ہیں جیسا کہ ہم ایک مضمون میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اگر مولانا خود کو مجبور پاتے ہیں اور اسلامی نظام کی بنیاد بننے والی جماعت کو جب تک اکثریت میں نہ آجائے، اسی نظام کے زیر اثر چلنے کی ہدایت کرتے ہیں  اور اپنی اکثریت پیدا کرکے  اسلام نافذکرنے کی بات کرتے ہیں جو کہ ایک خالص جمہوری تصور ہےتو پھر  ملوکیت بھی ان کے نزدیک قابل اعتراض نہیں رہنی چاہیے تھی ۔ ملوکیت ، جمہوریت یا خلافت کسی بھی نام کے تحت واقع حکومت کو اس کے قانون اور طریقہ حکومت سے  ہی جانچنا چاہیے ۔