کورونا وائرس کی آفت اور انسانی تدابیر
محمد عمار خان ناصر
گزشتہ چند ہفتوں میں کورونا وائرس نے ایک بڑی اجتماعی انسانی ابتلا کی صورت اختیار کر لی اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق دنیا کو آئندہ کئی ماہ تک اس صورت حال کا سامنا رہے گا۔ یہ ایک ناگہانی آفت ہے جس میں عبرت وموعظت کے پہلو پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی تدابیر اختیار کرنے اور خدانخواستہ قابو سے باہر ہو جانے کے امکان کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی رویوں اور جذبات کی ضروری تربیت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تہذیبی زوال اور شناخت کے بحران کی صورت حال میں ہمارے ہاں ہر مسئلہ مختلف شناختیں رکھنے والے گروہوں کے ہاتھوں میں ایک دوسرے کو لتاڑنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں بھی اس رویے کے مظاہر سامنے آ رہے ہیں۔ مثلا ملحدین اس کو مذہب کی ضرورت وحقیقت کی نفی کرنے کا ایک سنہری موقع جانتے ہوئے اس آفت کو تنبیہ یا عذاب کے زاویے سے دیکھنے کا مذاق اڑا رہے ہیں، حالانکہ یہ موقع دلوں کو نرم کرنے اور ہمدردی وخیر خواہی کے جذبات کی آبیاری کا ہے۔ قدرت کی طاقتوں کے آگے انسان کی کم مائیگی تو عبرت کا ایسا پہلو ہے جس سے کوئی ٹھیٹھ ملحد بھی انکار نہیں کر سکتا۔ مذہبی لوگوں کا ایسی صورت حال میں رجوع الی اللہ اور استغفار کی طرف متوجہ کرنا خیر خواہی کے جذبے سے ہی ہوتا ہے۔ اسے گناہوں کی پاداش یا آزمائش یا محض مادی سطح کا ایک واقعہ، جو بھی سمجھا جائے، انسانی ہمدردی کا پہلو کسی حال میں نظری بحث وجدال میں دب نہیں جانا چاہیے۔
بعض احادیث کے حوالے سے بھی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ مذہب، بیماری کے متعدی ہونے کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا ، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ مرض کے متعدی ہونے یا نہ ہونے کی بحث اسلامی روایت میں ایک مفروغ عنہ بحث ہے۔ محدثین، فقہاء اور متکلمین کا مجموعی موقف اس حوالے سے واضح ہے۔ صرف علم حدیث میں یہ سوال بعض روایات کی توجیہ کے تناظر میں زیربحث آتا ہے جن میں بظاہر متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے، اور شارحین نے واضح کیا ہے کہ ان کا سیاق اور مقصد بالکل مختلف ہے۔اشاعرہ کے ہاں تعلیل بالأسباب کی نفی بھی بعض مابعد الطبیعیاتی سوالات کے تناظر میں کی گئی ہے، نہ کہ عمل اور تدبیر کے دائرے میں۔
ایسی صورت حال کو اجتماعی ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے اور قربانی اور تعاون کی اسپرٹ سے ہی ڈیل کیا جا سکتا ہے۔ تدابیر میں اجتہادی اختلاف بھی ہو سکتا ہے اور غلطیاں بھی، جنھیں خیر خواہی سے ہی موضوع بنانا چاہیے۔ کرونا کی پیدا کردہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہییں اور کیا نہیں، اس پر مختلف آرا موجود ہیں اور یقینا سب فریق اپنی دانست میں بہتری ہی چاہتے ہیں۔ ذمہ داری کا بہت بڑا حصہ ریاستی نظام سے اور اتنا ہی بڑا حصہ، احتیاطی تدابیر کے پہلو سے خود عوام سے متعلق ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں اس ناگہانی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں ہر سطح پر غلطیاں، بلکہ سنگین غلطیاں ہونے کا امکان موجود ہے جسے تبصروں اور تنقیدوں میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ بہتری کے لیے مشورہ، تجویز اور تنقید تو ایک اخلاقی ذمہ داری ہے، لیکن یہ ذمہ داری حکومت اور عوام، دونوں کو غلطی کی گنجائش دیتے ہوئے ادا کرنی چاہیے۔ ہم ایک ترقی پذیر ملک کے عوام اور ریاست ہیں، اس لیے انتظامی ڈسپلن، طبی انتظامات اور ذمہ دارانہ رویے کی توقعات بھی اسی کے لحاظ سے قائم کرنی چاہییں۔ خلق خدا کو کسی نقصان سے بچانا اگر انسانی ہمدردی کے جذبے سے ہے تو خلق خدا کی استطاعت اور بساط کو مدنظر رکھنا بھی اسی ہمدردی کا تقاضا ہے۔ اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہماری گفتگو اور عوامی ذہن سازی کا رخ اس طرف ہونا چاہیے کہ صورت حال کے سنگین ہونے کی صورت میں ہم سب کو کس طرح کے عملی کردار کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
وبا کیا صورت اختیار کرے گی اور نتائج کیا نکلیں گے، یہ فی الحال اللہ ہی کے علم میں ہے۔ اللہ سے عاجزانہ دعا یہی ہے کہ شدید بحران کی صورت پیدا نہ ہو اور ہمارے نیم دلانہ اور ٹوٹے پھوٹے استغفار کو ہی پروردگار قبول فرما کر اس آزمائش سے چھٹکارا عطا فرما دے۔ آمین
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۴)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۹۲) اسبغ کا ترجمہ
لفظ اسبغ قرآن مجید میں ایک جگہ آیا ہے، جب کہ اسی مادے سے ایک جگہ سابغات کا لفظ آیا ہے، اسبغ کا مطلب ہوتا ہے اتنی فراوانی جس سے ساری ضرورتیں پوری ہوجائیں۔ جس طرح درع سابغۃ کا مطلب ہوتا ہے اتنی کشادہ زرہ کہ پورے جسم پر آجائے۔ یعنی اس میں کشادگی اور فراوانی کا مفہوم ہوتا ہے، نہ کہ تمام کرنے اور پوری کرنے کا، جیسا کہ ذیل میں بعض ترجموں میں ملتا ہے۔ علامہ طاہر بن عاشور کے الفاظ میں: اسباغ النعم: اکثارہا. (تفسیر التحریر والتنویر)، یہ درست ہے کہ اہل لغت اسباغ کے معنی اتمام کے بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں منکرین سے خطاب ہے، اور اس پہلو سے اتمام کا معنی مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے۔
أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَہٗ ظَاهِرَۃً وَبَاطِنَۃ (لقمان: 20)
“کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ ” (سید مودودی)
“اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں” (فتح محمد جالندھری)
“اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی” (احمد رضا خان)
“اور تمہیں اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں” (محمد جوناگڑھی)
“اور تمھیں ہر قسم کی ظاہری وباطنی نعمتیں فراوانی سے دی ہیں ” (امانت اللہ اصلاحی)
آخر کے تینوں ترجمے موزوں تر ہیں۔
(۱۹۳) زمانہ فعل کی رعایت
درج ذیل آیت میں خبردار کیا گیا ہے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مقابلے میں اپنے آباءکی پیروی کرنے والوں کو، کہ آباءکی پیروی محفوظ عمل نہیں ہے، کیوں کہ شیطان تو ان کے پیچھے بھی لگا رہتا تھا اور انھیں بہکانے کی کوشش کیا کرتا تھا، وہ شیطان سے محفوظ تو تھے نہیں کہ ان کی پیروی کو گمراہی سے محفوظ سمجھا جائے۔ علامہ طاہر بن عاشور کے الفاظ میں: والضمیر المنصوب فی قولہ یدعوہم عائد الی الآباء، ای ایتبعون آبائہم ولو کان الشیطان یدعو الآباءالی العذاب فہم یتبعونہم الی العذاب ولا یہتدون. (تفسیر التحریر والتنویر)
اس تفسیر کی رو سے شیطان کی اس دعوت کی بات ہورہی ہے، جو وہ حاضرین کے آباءواجداد کو دیتا تھا، وہ جو کہ اب نہیں ہیں، اس لحاظ سے یدعوھم کا ترجمہ’ بلاتا رہا ہو‘، درست ہے، ’بلاتا ہو‘، اور’ بلا رہا ہو‘، حاضرین کے تعلق سے تو درست ہوسکتا ہے، ان کے گزرے ہوئے آباءکے تعلق سے درست نہیں ہوسکتا ہے۔ اس روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَإِذَا قِيلَ لَھُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْہِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوھُمْ إلٰی عَذَابِ السَّعِيرِ۔ (لقمان: 21)
“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟” (سید مودودی)
“اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو” (احمد رضا خان)
“بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)” (فتح محمد جالندھری)
“اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو ” (محمد جوناگڑھی)
“اگرچہ شیطان ان (بڑوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو؟” (محمد حسین نجفی)
پہلا ترجمہ زمانہ فعل کی رعایت کے پہلو سے موزوں تر ہے۔
(۱۹۴) سابغات کا ترجمہ
درع سابغة کا مطلب ہوتا ہے کشادہ زرہ، یعنی جوپورے جسم کو اپنے اندر لے لے۔
السابغۃ: الدرع الواسعۃ (لسان العرب)، اس حوالے سے بعض ترجمے غور طلب ہیں:
اَنِ اعمَل سَابِغَاتٍ ۔ (سبا: 11)
“اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا” (سید مودودی، اس ترجمہ پر اعتراض یہ ہے کہ سابغات کا ترجمہ صرف زرہیں نہیں بلکہ کشادہ زرہیں ہونا چاہیے)
“کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بناؤ” (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ پر اعتراض یہ ہے کہ یہاں مراد ہے بڑی زرہیں جو پورے بدن کو ڈھانپ لیں، جب کہ ڈھیلی ڈھالی کا مطلب یہ ہوگا کہ بدن پر ڈھیلی ہو، چاہے سائز کے لحاظ سے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ زرہ کا ڈھیلی ڈھالی ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے)
“کہ وسیع زِر ہیں بنا” (احمد رضا خان)
“کہ کشادہ زرہیں بناؤ” (فتح محمد جالندھری)
آخر الذکر دونوں ترجمے درست ہیں۔
(۵۹۱) مخلصین لہ الدین کا ترجمہ:
الدین کا مطلب اطاعت، عبادت اور دین ہے۔ بعض لوگوں نے کہیں کہیں اس کا ترجمہ عقیدہ یا اعتقاد کیا ہے جو لفظ کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا ہے، خود وہی مترجمین اسی اسلوب والے جملے کا دوسرے مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے دین کا ترجمہ عبادت اور بندگی کرتے ہیں۔
اسی طرح مخلصین کا ترجمہ خالص کرنا اور خاص کرنا سب کرتے ہیں، اور درست کرتے ہیں۔ تاہم صاحب تدبر بعض جگہ ترجمہ میں عہد کرنے کا مفہوم بڑھادیتے ہیں، جس کی لفظ میں گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ درج ذیل مختلف ترجمے ملاحظہ کریں:
(۱) وَادعُوہُ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (الاعراف: 29)
“اور اسی کو پکارو، اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے” (امین احسن اصلاحی) اس کو پکارو ہونا چاہیے، کیوں کہ عبارت میں حصر کا اسلوب نہیں ہے۔
“اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہوکر ” (احمد رضا خان)
“اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھو” (محمد جوناگڑھی)
(۲) دَعَوُا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (یونس: 22)
“تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں، خالص اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے” (امین احسن اصلاحی)
“ (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں ” (محمد جوناگڑھی)
“اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہوکر” (احمد رضا خان)
(۳) فاِذَا رَکِبُوا فِی الفُلکِ دَعَوُا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (العنکبوت: 65)
“پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے ” (امین احسن اصلاحی)
“پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لیے عبادت کو خالص کر کے” (محمد جوناگڑھی)
“پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر ” (احمد رضا خان)
(۴) وَاِذَا غَشِیَہُم مَوج کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (لقمان: 32)
“اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان کو ڈھانک لیتی ہیں وہ اللہ کو پکارتے ہیں، خالص اس کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے” (امین احسن اصلاحی)
“اور جب ان پر آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے” (احمد رضا خان)
“اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے” (سید مودودی)
“اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وہ (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں” (محمد جوناگڑھی)
(۵) فَادعُوا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (غافر: 14)
“تو اللہ ہی کو پکارو اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ” (امین احسن اصلاحی)
(۶) فَادعُوہُ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (غافر: 65)
“تو اسی کو پکارو، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ” (امین احسن اصلاحی)
(۷) وَمَا اُمِرُوا اِلَّا لِیَعبُدُوا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (البینة: 5)
“اور ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ” (امین احسن اصلاحی)
(۱۹۶) ویعلم مافی الارحام کا ترجمہ
رحم کے اندر پلنے والے جنین کے سلسلے میں باخبرہونے کے حوالے سے قرآن مجید پر اعتراض کیا جاتا ہے، جو دن بدن زور پکڑتا جارہا ہے، اور اس کے جو جواب عام طور سے دیئے گئے ہیں، وہ کم زور ہیں، اور دن بدن ان کی کم زوری اور زیادہ واضح ہورہی ہے۔ اس اعتراض کی بنا اس پر ہے کہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے رحم کے اندر کی صورت حال کو، کوئی اور نہیں جان سکتا ہے۔ جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ترجموں میں تو یہ بات ہے، لیکن کچھ ترجموں میں یہ بات نہیں ہے، بلکہ بغیر حصر کے ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی ’وہی جانتا ہے‘ کی بجائے ’وہ جانتا ہے‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔
(۱) إِنَّ اللَّہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّہَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔ (لقمان: 34)
“اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے” (سید مودودی)
“خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے” (فتح محمد جالندھری)
“بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے” (محمد جوگڑھی)
“بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا باخبر ہے” (محمد حسین نجفی)
“بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے” (احمد رضا خان)
اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک آیت درج ذیل ہے، اس میں بھی اہل ترجمہ کے یہاں دو طرح کے ترجمے ملتے ہیں۔ یہاں بھی حصر کا معنی دینے والی کوئی علامت عبارت کے اندر نہیں ہے۔
(۲) اللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثٰی وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ۔ (الرعد: 8)
“خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے)۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے ” (فتح محمد جالندھری)
“اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر عورت (اپنے پیٹ میں) کیا اٹھائے پھرتی ہے؟ اور اس کو بھی (جانتا ہے) جو کچھ رحموں میں کمی یا بیشی ہوتی رہتی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے” (محمد حسین نجفی)
“اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے” (سید مودودی)
“اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے” (احمد رضا خان)
“مادہ اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے” (محمد جوناگڑھی)
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱٠)
مولانا سمیع اللہ سعدی
2۔مباحث و موضوعات
اہلسنت اور اہل تشیع کے علم مصطلح الحدیث کے مباحث،موضوعات کی ترتیب اور اسماء و اصطلاحات کا جائزہ اگر لیا جائے تو حیرت انگیز حد تک مماثلت (بعض جزوی اختلافات کے باوجود ،جن کی تفصیل ہم ان شا اللہ آگے بیان کریں گے )نظر آتی ہے ،یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیعہ علم حدیث اور سنی علم حدیث اپنے اساسی مفاہیم و مصطلحات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے ،جیسا کہ بحث اول میں ہم اس کو مفصل بیان کر چکے ہیں ،تو پھر علمِ اصولِ حدیث میں موضوعاتی یکسانیت کیونکر پیدا ہوئی؟اس سوال کا جواب خود شیعہ محققین کے ہاں یہ ملتا ہے کہ یہ فن بنیادی طور پر اہلسنت کی علم مصطلح الحدیث سے ماخوذ ہے ،ماقبل کی کی اقساط میں ہم اخباری علماء کے بعض حوالہ جات اس حوالے سے نقل کر چکے ہیں ،اب اصولی علماء کی شہادت ذکر کی جاتی ہے :
گیارہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم حسین بن شہاب کرکی لکھتے ہیں :
"و اول من الف فی الدرایہ من اصحابنا الشہید الثانی اختصر درایۃ ابن الصلاح الشافعی فی رسالتہ ثم شرحہا"1
ترجمہ :ہمارے اصحاب میں سے علم الدرایہ میں سب سے پہلی تصنیف شہید ثانی کی کتاب ہے ،جس میں انہوں نے ابن صلاح کی کتاب کا اختصار کیا ،پھر خود اپنے تیار کردہ متن کی شرح لکھی ۔
معروف اصولی محقق و محدث علامہ خوئی لکھتے ہیں:
"وھو اول من صنف من الامامیہ فی درایۃ الحدیث لکنہ نقل الاصطلاحات من کتب العامۃ کما ذکرہ ولدہ و غیرہ"2
ترجمہ: شہید ثانی درایہ میں لکھنے والے پہلے امامی مصنف ہیں ،لیکن انہوں نے یہ اصطلاحات عامہ (اہلسنت) سے نقل کی ہیں ،جیسا کہ یہ اعتراف ان کے بیٹے اور دیگر شیعہ علماء کرچکے ہیں ۔
شہید ثانی کی مذکورہ کتاب البدایہ فی علم الدرایہ کے محقق غلام حسین قیصریہ اس کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
"وجدنا ان الشہید تاثر بمقدمہ ابن الصلاح"3
یعنی اثنائے تحقیق ہمیں یہ محسوس ہوا کہ شہید ثانی مقدمہ ابن الصلاح سے متاثر ہیں۔
اس پر اخباری علماء کثرت سے لکھ چکے ہیں کہ یہ فن اہلسنت سے ماخوذ ہے ،(پچھلی اقساط میں بعض حوالے آچکے ہیں )اخباری و اصولی علماء کی ان تصریحات جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اہل تشیع کا علم الدرایہ اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کا چربہ اور اسی کی نقل ہے ،یہاں تک کہ امثلہ و شواہد بھی تقریبا وہی لیے گئے ہیں ،جو اہلسنت کی کتب میں مذکور ہیں کما مر ،تو بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ فن جو اہلسنت کے حدیثی ذخیرے کو پرکھنے کے لیے وضع کیا گیا ہے ،تو اس فن سے اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ کیسے اور کیونکر پرکھا جاسکے گا،جب ہر دو علوم اپنی اساسیات و مبادیات میں کلی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،دونوں کا زمانہ تدوین الگ الگ ،معیارات نقد الگ الگ ،حدیث و سنت کا مفہوم الگ الگ ،وغیرہ۔
3۔ انواعِ حدیث
اہل تشیع کا علم الدرایہ اگرچہ بنیادی طور پر اہل سنت کے علم مصطلح الحدیث سے ماخوذ ہے ،لیکن علمائے شیعہ نے اس اخذ و التقاط کے عمل میں اپنے ذخیرہ حدیث کے اعتبار سے کچھ تبدیلیاں کیں ،اس بحث میں انہی تبدیلیوں کا موازنہ اہل سنت کے علم مصطلح الحدیث سے کریں گے تاکہ ہر دو علوم کے محاسن و مساوی کا تقابل سامنے آسکے ۔ اس عنوان میں ہر دو علوم میں احادیث کی مقبول و مردود کے اعتبار سے جو تقسیم کی گئی ہے ، نکات کی شکل میں دونوں علوم میں کی گئی تقسیم کا موازنہ پیش کیا جائے گا :
1۔حدیث کی صحت کے لیے اہل سنت محدثین نے عدمِ شذوذ اور عدمِ علت کی شرط لگائی ہے ،جبکہ اہل تشیع محدثین کے ہاں حدیث کے صحیح ہونے کے لیے اس کا شذوذ و علت سے خالی ہونا شرط نہیں ،یوں اہل سنت کا معیار بنسبت اہل تشیع کے ،زیادہ کڑا اور سخت ہے ،اس بات پر ہم پچھلی اقساط میں بحث کر چکے ہیں ۔
2۔ اہل سنت محدثین نے مقبول حدیث کی اقسام میں سے دو اقسام (صحیح لغیرہ اور حسن لغیرہ ) کی بنیاد کثرت طرق پر رکھی ہے ،کیونکہ اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں تکرار کثرت سے واقع ہوا ہے ،جیسا کہ ہم اس کی تفصیل اس سلسلے کی تعداد روایات والے عنوان کے تحت بیان کرچکے ہیں ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں مقبول حدیث کی چاروں اقسام (صحیح ،حسن ،موثق ،قوی ) میں سے کوئی بھی قسم کثرت طرق و اسناد پر مبنی نہیں ہے ،کیونکہ اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے میں تکرار نہ ہونے کے برابر ہے کما مر ،اس لیے کثرت طرق و اسناد پر مقبول خبر کی کسی قسم کی بنیاد رکھنا امر ِواقعہ کے اعتبار سے لغو اور ناممکن تھی ۔
3۔اہل سنت کے ہاں مقبول حدیث کی دو پہلی اعلی اقسام (صحیح و حسن ) میں اتصال ِسند ،عدالت ِراوی ،عدم شذو،عدم ِعلت ضروری ہے ،صحیح و حسن میں فرق صرف یہ ہے کہ صحیح کے رواۃ ضبط میں اعلی مقام پر فائز ہوتے ہیں جبکہ حسن میں رواۃ نفس ضبط کے حامل ہوتے ہوئے درجہ میں صحیح رواۃ سے ناقص ہوتے ہیں ،جبکہ اس برخلاف اگر ہم اہل تشیع کے ہاں مقبول خبر کی پہلی دو اعلی اقسام (صحیح و حسن ) کو دیکھیں ،تو ان دونوں میں فرق عدالت کے ثبوت و عدمِ ثبوت پر ہے کہ صحیح حدیث کے رواۃ سارے امامی عادل ہوتے ہیں ،جبکہ حسن حدیث کے رواۃ کی عدالت ثابت نہیں ہوتی ،بلکہ وہ مستور الحال ہوتے ہیں ،صرف ان کے حق میں مدح مطلق ثابت ہوتی ہے ،چنانچہ زین الدین عاملی حسن حدیث کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ھو ما اتصل سندہ بامامی مدوح من غیر نص علی عدالتہ فی جمیع مراتبہ او فی بعضھا ،مع کون الباقی من رجال الصحیح"4
یعنی حسن حدیث وہ ہے ،جس کی سند متصل ہو اور اس کے رواۃ سارے امامی ممدوحین ہوں ،لیکن ان کی عدالت پر کسی کی کوئی تصریح نہ ہو ،تمام طبقات میں یا بعض طبقات میں ،اور باقی رواۃ صحیح حدیث کے رواۃ ہوں ۔
اہل علم جانتے ہیں کہ حدیث کے معتبر ہونے یا نہ ہونے میں عدالت بنیادی ترین وصف ہے ،اہلسنت کے ہاں مردود حدیث کی اقسام انقطاعِ سند یا عدمِ عدالت سے بنتی ہیں ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں صحیح حدیث کی دوسری بڑی قسم کے لیے عدالت کی صراحت یا اس کے ثبوت کی ضرورت نہیں ، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جو قسم اہل سنت کے ہاں عدم ِ ثبوتِ عدالت کی وجہ سے خبر مردود میں شامل ہوتی ہے ،وہی قسم اہل تشیع کے ہاں مقبول حدیث کی دوسری بڑی قسم شمار ہوتی ہے ،اس سے اہل سنت اور اہل تشیع کے معیارات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
4۔ اہل تشیع محدثین نے مقبول حدیث کی پہلی دو اعلی اقسام (صحیح و حسن ) کے لیے ایک بنیادی شرط "امامی "ہونا بیان کیا ہے ،لہذا شیعہ اصول ِحدیث کی رو سے راوی خواہ کتنا ہی ضابط ،کتنا ہی عادل اور کتنا ہی ثقہ کیوں نہ ہو ،اگر وہ امامی نہیں ہے ،تو اس کی حدیث صحیح و حسن کی درجہ بندی میں نہیں آسکتی ، جبکہ اس کے برخلاف اہل سنت کے ہاں اس قسم کی کوئی شرط نہیں ہے ،چنانچہ اہل سنت کے ہاں صحیح و حسن حدیث کی شرائط میں راوی کا اہل سنت میں سے ہونا شرط نہیں ہے ،خود امام بخاری نے صحیح بخاری میں متعدد ایسے رواۃ کی روایت کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنی کتاب میں درج کیا ،جو اہل سنت میں سے نہیں ہیں ،ان رواۃ کی تفصیل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری کے مقدمے ہدی الساری میں دی ہے ،اس شرط سے ایک خالص علمی سرگرمی میں "مذہبی تعصب " کی واضح جھلک نظر آتی ہے ۔
5۔ اہل تشیع کے ہاں مقبول حدیث کی اقسام میں سے ایک قسم "قوی حدیث" کی ہے ، شیعہ محدثین کے ہاں اس قسم کی تعریف یوں کی گئی ہے :
"الحدیث الذی یکون جمیع رواتہ من الامامیہ و لم یرد فیھم او فی بعضھم مدحا کما ھو الحال فی الحدیث الحسن او ذما فرتبتہ بعد الحسن و قبل الموثق"5
یعنی وہ حدیث جس کے جملہ رواۃ امامی شیعہ ہوں اور ان میں سے سب کے یا بعض کے بارے میں مدح و ذم منقول نہ ہو ،تو اس کو قوی کہا جاتا ہے ،درجہ بندی میں یہ حسن کے بعد اور موثق سے پہلے ہے ۔
اس حدیث کے حوالے سے پہلی بات تو قابل بحث یہ ہے کہ اہل سنت محدثین ایسے رواۃ کی حدیث کو مجہول العین (جب اس سے ایک راوی روایت کرے ) یا مجہول الحال (جب اس سے دو یا اس سے زیادہ راوی روایت کرے) کی درجہ بندی میں لاتے ہیں اور مجہول راوی کی روایت جمہور اہل سنت کے ہاں رد ہے ،البتہ بعض محدثین اس کے قبول و عدم قبول میں توقف کرتے ہیں ۔6 یعنی وہ بھی قبول نہیں کرتے ،اسی وجہ سے اہلسنت کی کتب مصطلح الحدیث میں مجہول حدیث حدیث کی مردود اقسام میں شمار کی گئی ہے،جبکہ اہل تشیع محدثین ایسے راوی کی روایت کو مقبول حدیث کی تیسری قسم میں شمار کرتے ہیں ،اس سے اہل سنت اور اہل تشیع کے معیاراتِ نقد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
دوسری بات یہ قابل ذکر ہے کہ اہل تشیع محدثین نے قوی حدیث کو درجہ بندی میں موثق حدیث (وہ حدیث جس کے کل یا بعض رواۃ غیر امامی ہوں اور ان کی توثیق شیعہ محدثین و اہل علم کی زبانی ثابت ہوچکی ہو )سے پہلے رکھتے ہیں ،جو مذہبی تعصب(اور ساتھ غیر معقولیت ) کی ایک واضح مثال ہے ،کہ جس حدیث کے رواۃ کی ثقاہت خود شیعہ اہل علم کی زبانی ثابت ہوچکی ہو ،ان کی حدیث باوجود ثقہ ہونے کے ایسے رواۃ سے کم درجہ کی ہے ،جو امامی ہوں ،لیکن ان کی ثقاہت و عدالت کے بارے میں شیعہ تراث خاموش ہو،گویا اہل تشیع کے ہاں ایک مجہول الحال امامی ایک ثابت شدہ ثقہ(جس کی توثیق خود شیعہ اہل علم کر چکے ہوں ) غیرامامی سے روایت ِحدیث میں اعلی شمار ہوگا ۔یا للاسف
6۔مقبول حدیث کی اقسام کا تقابل کرتے ہوئے ایک اہم چیز یہ نظر آتی ہے کہ اہل سنت محدثین کے ہاں حدیث کی صحت میں ضبط یعنی حدیث کو زبانی یا تحریری یاد رکھنا خصوصی اہمیت کا حامل ہے ،چنانچہ اسی ضبط کی بنیاد پر اہل سنت کے ہاں مقبول حدیث صحیح و حسن میں بٹ جاتی ہے کہ حسن کے رواۃ ضبط میں صحیح سے ناقص ہوتے ہیں ، چونکہ ضبط کی بنیاد پر حدیث صحیح یا حسن قرار پاتی ہے ،اس لیے محدثین ِ اہل سنت نے ضبط تام اور ضبط ناقص کے معیارات مقرر کئے ہیں ،اسی طرح اہل سنت محدثین نے سییء الحفظ یعنی حافظے کے اعتبار سے کمزور رواۃ یا وہ رواۃ جن کا حافظہ کسی وجہ سے بگڑ چکا ہو، اس پر اختلاط کے عنوان سے مفصل بحث کی ہے ،الرواۃ المختلطون پر مستقل کتب لکھی گئیں ہیں اور ایسے رواۃ کے بارے میں اس بات کی تعیین کی کوشش کی گئی ہے کہ کس راوی کا حافظہ کب ،کہاں اور کس بنیاد پر کمزور پڑ گیا ؟اور اس کی کون کون سی احادیث اس زمانے کی ہیں ،7 جبکہ اس کے برخلاف جب ہم اس حوالے سے اہل تشیع کا علم الدرایہ دیکھتے ہیں ،تو ضبط کے بارے میں اہل تشیع محدثین کے ہاں وہ حساسیت اور وہ تفصیل نظر نہیں آتی ،جو اہل سنت کے ہاں موجود ہیں ،چنانچہ علم الدرایہ کی اولین کتب جیسے زین الدین عاملی کی البدایہ اور اس کی شروحات میں مقبول حدیث کی شرائط میں ضبط کا ذکر ہی مفقود ہے ،چنانچہ زین الدین عاملی البدایہ میں صحیح حدیث کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"الصحیح وھو ما اتصل سندہ الی المعصوم بنقل العدل الامامی عن مثلہ فی جمیع الطبقات و ان اعتراہ شذوذ"8
یعنی صحیح حدیث وہ ہے ،جس کی سند معصوم تک متصل ہو اور اس کے جملہ طبقات کے راوی عادل امامی ہوں خواہ اس حدیث میں شذوذ ہو ۔
بعد کے علمائے شیعہ میں ضبط کے حوالے سے بحث پیدا ہوگئی ،کہ زین الدین عاملی نے ضبط کو بیان کیوں نہیں کیا؟چنانچہ بعض محدثین کے ہاں ضبط کی شرط عدالت میں داخل ہے ،جبکہ بعض کے نزدیک ضبط کو عدالت میں داخل کرنا درست نہیں ،اسے الگ بیان کرنا چاہیئے،اس کی تفصیل علامہ مامقانی نے اپنی مفصل کتاب "مقباس الہدایہ فی علم الدرایہ"9 میں دی ہے ۔
7۔ حدیث کی صحت و حسن میں چونکہ ضبط بنیادی ترین عامل ہے ،اس لیے علمائے اہل سنت کے ہاں راوی کے ضبط کے بارے میں باقاعدہ کلمات مقرر کئے گئے ہیں ،ہم ذیل میں وہ الفاظ دیتے ہیں ،جو نفیا یا اثباتا راوی کے ضبط کے کامل ،ناقص یا فقدان پر دلالت کرتے ہیں :
متقن،اضبط الناس،ضابط،کانہ مصحف ،سیء الحفظ ،یھم،لہ اوہام ،تغیر باخرہ ،لین الحدیث ،فیہ لین ،ردیء الحفظ ،لم یکن ممن یحفظ الحدیث ،مضطرب الحدیث ،یخالف فی حدیثہ ،کثیر الخطا،ربما یخالف،لیس من اہل الحفظ
یہ سب الفاظ ضبط کےمختلف مراتب کو ظاہر کرتے ہیں ،ان الفاظ کا مرتبہ معلوم کرنے کے لیے معروف محقق عبد الماجد غوری کی کتاب "معجم الفاظ الجرح و التعدیل" اور دیگر کتب ِجرح و تعدیل کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ۔
اس کے برعکس جب شیعہ علم الدرایہ کو دیکھتے ہیں ،تو وہاں ضبط بتانے کے لیے یا اس کا کوئی درجہ بتانے کے لیے کوئی لفظ ہی موجود نہیں ہے ،چنانچہ علامہ مامقانی اس حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
"لایقال لو کان الضبط شرطا للزم اہل الرجال الاعتناء بہ و تحقیقہ والتصریح بہ کما فی العدالۃ"10
یعنی یہ سوال نہ اٹھایا جائے کہ اگر راوی کا ضبط بھی صحت حدیث کے لیے ایک لازمی شرط ہوتا ،تو علمائے رجال اس کے ساتھ ضرور اعتنا کرتے ،اور اس کی تحقیق و التصریح کرتے جیسا کہ عدالت کی صراحت کرتے ہیں ۔
علامہ مامقانی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہی سوال علامہ بہائی کو بھی پیدا ہوا کہ علمائے رجال نے راوی کے ضبط کے بارے میں کوئی صراحت نہیں کی ،تو ہم راوی کا ضبط کیسے معلوم کریں گے ؟پھر علامہ بہائی کا جواب نقل کیا ہے کہ علمائے رجال جب کسی کے بارے میں ثقۃ کے الفاظ کہتے ہیں ،تو دراصل وہ "عدل ضابط" کے الفاظ کہہ رہے ہوتے ہیں،اس لیے ثقۃ کے لفظ میں ضبط کاذکر بھی آگیا۔11
علامہ مامقانی کی یہ تاویل قبول بھی کر لی جائے ،تب بھی لفظ ثقہ صرف نفسِ ضبط بتائے گا ،ضبط میں اعلی و ادنی درجات ،ضبط میں کمی ،آخر عمر میں اختلاط ،روایت ِحدیث میں اوہام کی قلت یا کثرت جیسے امور پھر بھی تشنہ طلب رہیں گے ۔ اہل سنت کے ہاں چونکہ ضبط کے بارے میں مستقل کلمات ہیں ،اس لیے اہل سنت کو ثقہ کے مفہوم میں ضبط کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں رہی ،اس لیے جمہور محدثین ثقہ کے لفظ کو صرف عدالت کے اثبات کے لیے استعمال کرتے ہیں ،اس میں ضبط کو شامل نہیں کرتے ،چنانچہ محقق عبد الماجد غوری علامہ سخاوی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"ان تفسیر الثقۃ بمن فیہ وصف زائد علی العدالۃ وھو الضبط انما ھو اصطلاح لبعضھم"12
یعنی ثقہ کے لفظ میں عدالت کے ساتھ ضبط کو بھی شامل کرنا بعض محدثین کی اصطلاح ہے ۔
8۔اہل تشیع محدثین نے صحیح حدیث کو تین اقسام اعلی ،اوسط اور ادنی میں تقسیم کیا ہے ،ان میں صحیح ِادنی کی تعریف یوں کی گئی ہے:
"الصحیح الادنی بان تثبت عدالۃ السند بظنون اجتہادیۃ لا عن شہادۃ حسیۃ ،والمراد من الظنون الاحتمال الراجح الذی یحصل من امثال استصحاب العدالۃ او اصالۃ عدم الفسق فی کل امامی او ایۃ جھۃ اخری اوجبت الظن بعدالۃ الرجل و وثاقتہ ،و یطلق علیھا الظنون الرجالیہ"13
یعنی صحیح ادنی سے مراد یہ ہے کہ رواۃِ سند کی عدالت حسی شہادت کی بجائے اجتہادی گمان سے ثابت ہو ،اور ان ظنون سے مراد یہ ہے کہ ہر امامی میں عدالت و عدم فسق کو اصل مانا جائے ،یا کوئی اور ایسی وجہ ،جس کی وجہ سے راوی کی عدالت و وثاقت ثابت ہوجائے ،اور اس ظنی عدالت کی وجہ سے صحت کے احتمال کو ترجیح دی جائے ،ان جیسے ظنون کو ظنون رجالیہ کہتے ہیں۔
اسی سے ملتی جلتی تعریف شیخ جعفر سبحانی نے اپنی کتاب "اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ " میں کی ہے،14 اس تعریف سے جہاں حدیث کی صحت میں اہل تشیع کا انتہا درجے کا تساہل ثابت ہوتا ہے کہ محض کسی شخص کے بارےمیں ظاہری فسق نہ ہونے کی وجہ سے اسے روایت کے باب میں باقاعدہ عادل و ثقہ فرض کر کے اس کی روایت صحیح یعنی روایت ِ مقبول کی پہلی قسم قرار دی گئی ہے ، وہیں مسلکی تعصب بھی عیاں ہوتا ہے کہ ہر امامی کو غیر فاسق اور عادل مانا گیا ہے ،جب تک اس کے بارے میں ظاہری فسق کی کوئی شہادت نہ ہو ،اہل تشیع محققین عموما صحابہ کے بارے میں اہل سنت کے اصول "الصحابۃ کلھم عدول" کو غیر معقول قرار دیتے آئے ہیں کہ یوں بلا تحقیق سب صحابہ کو محض صحابہ ہونے کی بنیاد پر عادل قرار دینا ایک غیر عقلی اور عقیدت پر مبنی اصول ہے ،لیکن خود یہی اصول تمام امامی شیعوں کے بارے میں ا پنا رہے ہیں کہ کسی شخص کی عدالت و وثاقت محض اس کے امامی ہونے کی وجہ سے ثابت ہوگی ،جب تک اس کا فسق ظاہر نہ ہوا ہو ،حالانکہ صحابہ کرام کے بارے میں قرآن پاک کی نص صریح "رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ" ثابت ہے ،تو نص صریح اور بنص قرآن صحابہ کا ایمان ثابت ہونے کے باوجود انہیں عادل سمجھنا اہل تشیع کے ہاں غیر عقلی ہے ،لیکن محض کسی کے امامی ہونے کی وجہ سے اسے عادل سمجھنا اہل تشیع کے اصول ِحدیث کا ایک اصولی قاعدہ ہے ،یا للعجب و یا للاسف
حواشی
1. ہدایۃ الابرار ،حسین بن شہاب الکرکی ،ص104
2. معجم رجال الحدیث ،خوئی ،ج8،ص385
3. مقدمہ تحقیق البدایہ فی علم الدرایہ ،ص19 ،بحوالہ الجرح و التعدیل عند الشیعۃ ،عرض و نقد،سعد راشد عوض ،ص68
4. البدایہ فی علم الدرایہ ،زین الدین عاملی ،قم المقدسہ ،ص24
5. دروس فی علم الدرایہ ،سید رضا مودب،مرکز دراسات المصطفی الدولی ،قم،ص57
6. دیکھیے :نزھۃ النظر،بحث الجہالۃ و اسبابہا
7. دیکھیے:المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ،ص
8. البدایہ فی علم الدرایہ ،زین الدین عاملی ،قم المقدسہ ،ص23
9. دیکھیے:مقباس الہدایہ فی علم الدرایہ ،عبد اللہ مامقانی ،منشورات دلیل ما ،قم ،ج1،ص 334
10. ایضا:مقباس الہدایہ ،ج1،ص337
11. ایضا:ج1،ص334
12. معجم الفاظ الجرح و التعدیل،سید عبد الماجد ٖغوری،دار ابن کثیر ،ص117
13. اضواء علی علم الدرایہ و الرجال ،سید ہاشم ہاشمی ،دار التفسیر ،قم،ص138
14. اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،ص59
(جاری)
الحاد، مذہب اور اہلِ مذہب: چند اہم سوالات کا جائزہ
ڈاکٹر محمد شہباز منج
مذہب اور الحاد کی فکری پیکار یوں تو جاری ہی رہتی ہے، لیکن کرونا وائرس کے تناظر میں آج کل اس پر بحث کچھ زیادہ ہی ہو رہی ہے ،اور ہونی بھی چاہیے کہ اس نوعیت کے حالات میں مذہب کے حامی اور مخالف کیمپوں کے عمومی نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے رویوں سے جڑے چند اہم مباحث پر گفت گو خصوصی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اہم نکات و سوالات کو لے کر ملحدین کے ساتھ ساتھ اہلِ مذہب کے عمومی رویوں کا بھی تجزیہ کیا جائےتا کہ معروضی انداز سے درست نتائج تک پہنچنے میں سہولت ہو۔ایک سوال ملحدین کی طرف یہ کیا جا رہا ہے کہ دیکھیں کرونا نے کعبے اور عبادت خانوں کو ویران کر دیا ہے۔ اگر مذہب کی کوئی حقیقت ہوتی ، خدا کہیں موجود ہوتا تو عام مسجدوں کو چھوڑیں کعبے کو تو ویران ہونے سے بچا ہی لیتا؟یہ مذہبی لوگ کہتے ہیں ہر چیز خدا کے اختیار میں ہے تو کرونا کو کعبے سے دور کہیں روکے نا ، ہم بھی تو دیکھیں خدا کی طاقت!
ملحدین کا یہ اعتراض محض ایک جذباتیت اور سطحیت ہے، جس سے ایک تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ انکار ِ خدا کے معاملے میں اس سے زیادہ تعصب کا شکار ہیں جس کا الزام وہ اقرارِ خدا کے معاملے میں اہلِ مذہب پر لگاتے رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ عقل و خرد کو معیارِ استدلال ماننے والے یہ حضرات اس نوع کے سوالات کرتے ہوئے عقل و خرد کوبالکل ایک طرف رکھ کر محض شاعری سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور تیسرے یہ کہ اپنے اس دعوے میں وہ مذہب کی پوزیشن سے یا تو یکسر ناواقفیت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں یا پھر اس کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کیا مذہب نے کہیں یا دعویٰ کیا ہے کہ عبادت خانوں، مسجدوں یا کعبے کو کوئی ویران نہیں کر سکتا! یاکسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس کے گھر کو نقصان پہنچا سکے، یااس میں کوئی غلط کام کر سکے،یا اس میں کوئی وائرس داخل ہو سکے،یا اس میں داخل ہونے والا کوئی بندہ بیمار ہو سکے۔ اس طرح کا کوئی دعویٰ مذہب میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔مذہب تو اس کے برعکس واضح طور پر تسلیم کرتا ہے کہ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے، اس کے گھر کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ، کعبے کو گندا کیا جا سکتا ہے۔ بھلا اس کے گھر کو نقصان نہ پہنچایا جا سکتا ہو تو وہ یہ کیوں کہے کہ کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو لوگوں کو اس کی مسجدوں میں جانے سے روکے ، اور ان کو خراب کرنے کی کوشش کرے۔(البقرہ:114)ظاہر ہے مذمت اسی فعل کی کی جا سکتی ہے، جو یا تو لوگ کرتے ہوں یا کر سکتے ہوں ۔ اور اگر اس کے گھر کو گندا نہ کیا جاسکتا ہو تو وہ یہ کیوں کہے کہ ہم نے ابراہیم و اسماعیل سے وعدہ لیا کہ وہ ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور او رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھیں(البقرہ:125)اگر کعبے کو گندہ نہ کیا جا سکتا تو اس میں تین سو ساٹھ بت خدا کیوں رکھنے دیتا۔حضورﷺ پر کعبے کے اندر کفار کی طرف سے ظلم و زیادتی کیوں ہونے دیتا۔سو بات یہ ہے کہ یہ سوال اٹھانے والے مذہب کی اس پوزیشن کو بالکل نظر انداز کر جاتے ہیں کہ اس نے یہ کہا ہی نہیں کہ اللہ کے گھر کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا یا خراب نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اللہ ہر چیز ہر قادر ہے تو اپنے گھر کو نقصان پہنچانے ہی کیوں دیتا ہے؟ تو یہ پھر ایک انتہائی سطحی سوال ہے ،جو مذہب ، انسان ، خدا اور اس دنیا میں انسان کے کردار اور تصورِ آزمائش و امتحان کو نظر انداز کر دینے کا نتیجہ ہے۔بات یہ ہے کہ مذہب کے مطابق اللہ نے اس دنیا میں انسان کو آزمایش کے لیے بھیجا ہے اور اسے نیک و بد ہر کام کی اجازت دی ہے۔ وہ کسی بندے کو کسی برے کام سے زبردستی نہیں روکتا، اگر ایسا کرے تو آزمایش کا سارا فلسفہ ہی فضول قرار پائے گا، حالانکہ مذہب کا بنیادی مقدمہ اور مقصد و منشور ہی یہی ہے۔ ہاں یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کسی برے کی برائی سے خوش نہیں ہوتا۔مثلاً اس کے گھر کو نقصان پہنچایا تو جا سکتا ہے ، لیکن اس عمل سے وہ خوش نہیں ہوتا ،بلکہ ناراض ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو اس کے گھر کی آبادی کی کوشش کرتا ہے ،اس سے وہ خوش ہوتا ہے۔لیکن ان دونوں قسم کے لوگوں کے عمل کا نتیجہ اس کی مشیت کے مطابق وقوع پذیر ہوتا ہے، اور ایسا ہونا آزمایش کے مذکورہ بنیادی مذہبی تصور کے عین مطابق ہے۔
ملحدین اپنے زعم میں اہلِ مذہب کے خدا کو ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا وہ اپنے نافرمانوں کے خلاف برسرِ جنگ ہے۔ اس کو ہر وقت ان لوگوں پر کچیچیاں چڑھ رہی ہیں، جو اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے ،اور وہ یہ کہ خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے،وہ نافرمانوں کو بھی موقع دیتا ہے کہ واپس آجائیں۔ کسی سے کتنی غلطیاں ہو گئی ہوں، وہ اس کے حضور حاضر ہو کر معافی کو خواستگار ہو تو وہ نہ صرف معاف فرما دیتا ہے بلکہ انعام و اکرام سے بھی نوازتا ہے۔ زیادہ سرکش لوگ تو بعض اوقات اس کی مان لینے کے بعد زیادہ مطیع ہو جاتے ہیں، حتی کہ ان لوگوں سے بھی زیادہ جو پہلے سے نیکی کر رہے ہوں ۔ لہذا وہ فورا کسی برائی کرنے والے کا ہاتھ نہیں روکتا۔وہ برائی کو مٹانے سے خوش ہوتا، برے کو مٹانے سے نہیں۔برے کے حوالے سے تو وہ ہمدردی رکھتا ہے اور پیغمبروں تک کو آخری حد تک جا کر ان کے راہ راست پر آجانے کے لیے کام کرنے کی ہدایت کرتا ہے، اور پیغمبر بھی ان کے لیے اتنی ہمدردی رکھتے ہیں کہ خود خدا کو کہنا پڑتا ہے کہ آپ تو ان کے راہ راست پر نہ آنے کا تنا غم کر رہے کہ اپنی جان ہی کو ہلاک کر ڈالنے پر اتر آئے ہیں۔
تو پھر یہ کرونا وائرس یا اس طرح کی بیماریوں اور قدرتی آفات کو اللہ کی ناراضی سے کیوں تعبیر کیا جاتا ہے؟ اس سوال کے حوالے سے واضح رہے کہ اس نوع کی بیماریوں کے بارے میں مذہبی موقف یہ نہیں ہے کہ وہ ہر صورت میں کسی پر عذاب یا اس سے اللہ کی ناراضی ہی کی مظہر ہوتی ہیں۔ ان میں سارے عنصر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کسی کی آزمایش کے لیے بھی ہو سکتی ہیں، حالانکہ اللہ اس سے ناراض نہ ہو، مثلاً اللہ کے نبیوں اور بعض بڑے نیک لوگوں کو اس ذریعے سے آزمایا گیا، حالانکہ اللہ ان سے پہلے ہی راضی تھا۔ یا پھر کسی بیمار کے حوالے سے دوسروں کے رویے کے امتحان کا پہلو بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے، کہ کسی پر کوئی مصیبت اور بیماری آئے تو دوسرے اس سے متعلق کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں! کبھی یہ بطور عذاب بھی آ سکتی ہیں، جیسا کہ تاریخ میں مختلف قوموں پر عذاب آیا، اس صورت میں یہ اللہ کی ناراضی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لیکن عذاب کے لیے ہونے کے حوالے بھی ان کا ایک خاص پس منظر ہوتا ہے ، اللہ نے اپنی بسیط حکمت کے تحت ان پر عذاب لانا ہوتا ہے۔ کبھی وہ ناراض ہو تو بھی عذاب نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔ گویا مختلف حالات میں ایسی وباؤں کی نوعیت سے متعلق مذہبی نوعیت کے سوال کا جواب مختلف ہو سکتا ہے۔ اصل چیز اس میں بندے کا رویہ ہوتا ہے۔ مذہب کی رو سے بندے کاکام یہ ہے کہ اللہ سے معافی اور مدد کا طلب گار رہے اور اپنی دنیوی تدبیر ، اسباب اور کوشش میں بھی کوئی کوتاہی نہ کرے(تدبیر و دعا کے حوالے سے ذرا تفصیلی بحث آگے آتی ہے)
اب اس حوالے سے ذرا عوامی اور سطحی مذہبی رویے کو دیکھیے۔ وہ بھی ملحدین کے مذکورہ رویے کی طرح فضول اور مذہب کی درست تعبیر سے کوسوں دور ہے۔ مثلاً ان کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اللہ اپنے گھر اور اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے، لہذا مسجدوں ،خانے کعبے اور مذہبی اجتماعات پر روک لگانایا کسی بھی ضرورت کے تحت لوگوں کو اس میں عبادت سے روکنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔اس مزاج اور رویے کے حامل لوگوں کے مذہبی رہنما بھی اسی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں ، یہ جذباتی باتیں کر کے مذہب کے مقدمے کو اتنا خراب کرتے ہیں کہ ملحدین کو اعتراضات کا موقع مل جاتا ہے ( اس لیے کہ ملحدین اکثرو بیشتر اپنی ترنگ میں مذہب کی صحیح پوزیشن جانے بغیر اس کے ایسے خوش عقیدہ پیروکاروں کی بے بصیرتی کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں )مثلاً ان مذہبی خوش عقیدہ لوگوں اور مذہبی رہنماؤں میں سے کوئی کہتا ہے کہ خانہ کعبہ کو کھولو، وہاں کوئی نقصان کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی کہتا ہے میرے فلاں مذہبی اجتماع میں کسی کو کرونا نہیں ہو سکتا، ہو جائے تو مجھے پھانسی دے دینا (ابھی مولانا جلالی صاحب کا بیان آیا تھا کہ ان کی سنی کانفرنس میں کسی کو کرونا ہو جائے ،تو مجھے پھانسی دیے دیں)۔ یہ لوگ لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں۔یہ بظاہر مذہب کے سچے داعی اور اس پر کامل یقین رکھنے والے ہونے کے مدعی ہوتے ہیں، لیکن فی الواقع وہی کام کر رہے ہوتے ہیں، جو ملحدین کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ مذہب کے نام پر ایسے دعوے کر رہے ہوتے ہیں ، جو مذہب کے دعوے ہیں ہی نہیں،بلکہ مذہبی نظام ایسے دعوؤں کی دو ٹوک تردید کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ دعوی کرنا کہ فلاں اجتماع میں کسی کو کچھ نہیں ہو سکتا، مذہب کی حمایت نہیں اس کی مخالفت ہے۔اس لیے کہ مذہب کے نزدیک یہ دعوی اس کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، بلکہ یہ خود کو خدا بنانے والی بات ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جس کی مذمت یہود و نصاریٰ کے حوالے سے قرآن میں کی گئی ہے۔مثلاً کہا گیا کہ ہے وہ کہتے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں، ہمیں آگ بھی چھوئے گی تو چند دن۔ ان کو نبیوں کی اولاد اور بنی اسرائیل میں سے ہونے کا گھمنڈ تھا۔ ان کے اس نوع کے دعووں پر قرآن نے کہا تم فضول باتیں کیے جارہے ہو ،بتاؤ تو سہی اللہ نے کب اور کن لفاظ میں تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جنت تمھارے ہی لیے اور تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، اللہ تمھاری خواہشات کے مطابق ہی کرے گا؟ اللہ نے تو ایسا کوئی وعدہ کیا ہی نہیں ،تم اپنے زعم ِ پارسائی میں یہ دعوے کیے جا رہے ہو۔ یہی حال ان نام نہاد مسلم علما اور ان کے پیروکاروں کا ہے کہ اللہ نے جس چیز کا کوئی وعدہ کیا ہی نہیں اس کو خواہ مخواہ اس کے ذمے لگا رہے ہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ دیکھیں کیوں وعدہ نہیں کیا؟ اللہ نے ابرہہ سے خانے کعبے کو نہیں بچایا تھا! ابابیل نہیں بھیجے تھے! فلاں موقعے پر اپنے بندوں کی معجزانہ مدد نہیں کی تھی! اس حوالے سے درج ذیل نکات ذہن نشین کر لینے چاہییں:
1۔ ان خارق عادت اور معجزانہ تاریخی واقعات کا مخصوص سیاق و سباق ہے، ان کو اللہ کی عمومی سنت سمجھنا بالکل غلط ہے، اور یہی نافہمی دراصل ان لوگوں کے گمراہانہ نظریات کی اساس ہے۔ اس چیز میں مبالغے نے ان کو محنت و کوشش سے دور کر دیا اور معجزوں کا تمنائی بنا دیاہے۔
2۔ کسی خاص وقت میں کسی معجزے کے ظہور کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کن خاص حالات میں ظہور پذیر ہوا، اور عام مادی اسباب سے ماورا کیوں جانا پڑا؟ اس بارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔ مثلاً ابرہہ اگر کا میاب ہوجاتا تو کعبے کو ملیا میٹ کر دیتا اور یمن میں اپنے بنائے قبلے کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ یہ چیز اللہ کے اس گریٹر پلان اور بسیط حکمت و مصلحت کے خلاف تھی، جس کے تحت حق و باطل کی آویزش کا سارا نظام واضح دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اب قیامت تک کوئی کعبے کو ہٹ نہیں کر سکتا، بالکل نان سینس بات ہے ،خود مسلم حکمرانوں کے دور میں حرمین کی حرمتیں پامال ہوئیں، یزید کے دور میں مسجد نبوی کے اصطبل بننے اور کعبے میں آگ لگنے کی روایات عام بیان کی جاتی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ یہاں اللہ نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ واضح ہے کہ یہاں آزمایش اور طرح کی ہے اور کعبے کے مکمل انہدام اور مسجد نبوی کے خاتمے کا کوئی خدشہ نہیں۔ لہذا معجزانہ واقعات کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے کی ضوررت ہوتی ہے۔ مثلاً جنگ بدر میں جس طرح مسلمانوں کی معجزانہ مدد ہوئی ، احد میں کیوں نہ ہوئی ؟ جو خدا بدر میں فتح دلوا سکتا تھا اس نے احد میں شکست سے کیوں دوچار ہونے دیا ؟ گویا حقیقت یہ ہے کہ خوارق عادت خاص حالات میں اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، نہ کہ ایسے لوگوں کے متکبرانہ دعووں کے نتیجے میں۔معجزات کے باب میں خود حضور ﷺ نے واضح فرمایا کہ تم جو فلاں فلاں معجزات کے مطالبے کر رہے ہو، یہ میرا کام نہیں، اللہ کاکام ہے۔ گویا آپ نے باور کرایا کہ میرا کام اللہ کی ہدایت کے مطابق تمھیں راہ ہدایت پر لانے کی کوشش ہے ، اس میں کوئی معجزہ اس کی حکمت کے مطابق وقوع پذیر ہو سکتا ہے، میں نہ ایسے دعوے کرتا ہوں اور نہ یہ معجزات دکھانا میرا کام ہے۔اور نہ اللہ کے مطیع ہونے والوں کے شایانِ شان ہے کہ معجزات اور خوارق عادت دیکھ کر ہی ایمان لائیں۔ مختصر یہ کہ اہل ِاسلام کو عام حالات میں دنیوی اسباب کے مطابق ہی کام کرنے کا حکم ہے ، اس میں اللہ کی کہیں غیر معمولی مدد اور معجزے کا ہو جانا اس کی عنایت سمجھا جانا چاہیے نہ کہ اپنا کوئی استحقاق۔لیکن بد قسمتی سے مذکورہ نوعیت کے اہلِ مذہب اپنا حق سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی مرضی کے مطابق نتیجے نکالے۔
تو کیا پھر دعا اور عبادت نہ ہو؟ یہ سوال دو نوعیتیں رکھتا ہے: پہلی ملحدین کے اعتراض کی اور دوسری مذکورہ نوعیت کے خوش عقیدہ اہلِ مذہب کی۔ ملحدین اس پر موقف اختیار کرتے ہیں کہ جب ہر چیز تدبیر اور کوشش ہی سے ہونی ہے، تو پھر دعا اور عبادت چہ معنی دارد۔ اور خوش عقیدہ اہلِ مذہب کہتے ہیں کہ دعا اور عبادت ہی سے سب کچھ ہوگا، حتی کہ وہ اس سلسلے میں ضروری مادی اسباب کو بھی نظر انداز کر دیتے اور ترنگ میں آ کر دعوے کرتے ہیں کہ ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ فلاں بیماری فلاں موقعے پر نہیں لگ سکتی ،یا یہ کہ مثلاًفلاں دعا پڑھ لو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس ضمن میں یہاں میں وہ سوال بھی شامل کرنا چاہتا ہوں جو کسی بیمار کے لیے دعا اور دم وغیرہ کے مذہبی تصور کے بارے میں مجھ سے کئی لوگ کرتے ہیں ،اور وہ یہ کہ بعض لوگوں کے اس نظریے کی کیا حقیقت ہے کہ کچھ پڑھ کر پھونکنے اور قرآن سے شفا حاصل کرنے کا تصور جہالت کے سوا کچھ نہیں ، آدمی کو میڈیکل ٹریٹمنٹ کروانا چاہیے اور بس۔
میرے نزدیک یہ دونوں سوالات مذکورہ تناظر میں پائی جانے والی حقیقی مذہبی پوزیشن سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں ، جو مذہب کی بعض باتوں کی غلط تعبیر اور ان کو کلیت کی صورت میں نہ دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ مذہب علاج ، مادی اسباب اور دعا و عبادت دونوں کو برابر اہمیت دیتا ہے۔ ایک کی وجہ سے دوسرے کو ترک کرنے کا نہ صرف یہ کہ حامی نہیں بلکہ مخالف ہے۔ سادہ الفاظ میں وہ کہتا ہے کہ دعا اور عبادت بھی بھرپور کرو اوردوا اور مادی اسباب اختیار کرنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑو۔یہ تصور فی الواقع یہ تناظر رکھتا ہے کہ مذہب کے نقطۂ نظر سے انسان کو اپنے کاموں اور کردار کے لیے اس دینا میں تدبیر بہر حال کرنی ہے ، اور تدبیر کی صورتیں مذہب کے نقطۂ نظر سے دو ہیں : ایک دعا اور ایک دوا۔ یوں سمجھیں کہ کسی مصیبت یا بیماری میں پھنسا انسان ایسے ہی ہے جیسے دریا میں ڈوبتا کوئی شخص ، وہ ہاتھ پیر مارتا ہے کہ کہیں کوئی سہارا مل جائے اور وہ ڈوبنے سے بچ جائے، حتی کہ وہ ایک تنکے کو بھی سہارا بنا لیتا ہے (ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ایسے تو نہیں کہتے)حالانکہ تنکا اس کو بچا نہیں سکتا ، لیکن اپنے حالات کے تناظر میں وہ اس کو بھی اختیار کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیے کہ اس کی پوزیشن ہی ایسی ہے کہ کوئی امکان ہاتھ سے نہ جانے ، جس سے اس کے بچ جانے کی موہوم سی امید بھی ہو سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح ایک بیمار یا مصیبت زدہ شخص ہر وہ تدبیر کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اسے کرنی بھی چاہیے جس سے اس کے اس مصیبت اور بیماری سے نکلنے کی کوئی موہوم امید بھی لگائی جا سکتی ہے۔اور یہ امید جہاں سے لگائی جا سکتی ہے دعا سے بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اور مذہب یہی کہتا ہے کہ دونوں سے امید لگاؤ اور دونوں تدبیریں اختیار کرو۔ حضورﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اور دیگر اہل تقویٰ مسلم اسلاف کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ دوا بھی کرتے اور دعا بھی اور اسی کی اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرتے۔
ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ دعا سے بندہ ٹھیک ہوتا ہے تو فلاں کیوں نہیں ہوا؟ مجھ سے ایک جاننے والے ڈاکٹر نے یہی سوال کیا تو میں نے عرض کیا: آپ یہ بتائیں جب آپ کا کوئی مریض قریب المرگ ہوتا ہے اور اس کے لواحقین امید بھری نظروں سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں تو آپ ان کو کیا جواب دیتے ہو ؟ اس نے کہا : کہتے ہیں دعا کرو! میں نے عرض کیا دعا کیوں کرو، اس سے تو آپ کے بقول فائدہ کوئی نہیں ہوتا ، صرف دوائی سے ہوتا ہے، تو اب اس مریض کو ٹھیک کرو۔ اگر خود ٹھیک نہیں کر سکتے تو کسی اور ماہر ڈاکر سے ٹھیک کرادو ، اس سے بھی نہیں ہوتا تو امریکہ یورپ بھیج دو۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بندہ نہ آپ سے بچ سکتا ہے اور نہ یورپ اور امریکہ جا کر۔ تو آپ کے نظریے سے دیکھیں تو دوا کی حیثیت بھی دعا والی ہی ہوگی ، یعنی دوا سے بھی مسئلہ حل نہ ہوا اور بندہ مر گیا۔ کیا یہ بات سمجھانے کو کافی نہیں کہ شفا دوا میں نہیں ، اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو بندہ مرتا کیوں؟ اب رہا آپ کا یہ سوال کہ دعا سے کون سا مرنے سے بچ جاتا ہے؟ تو بھائی ہم نے کب دعوی کیا اور مذہب نے کہاں کہا کہ دعا کے نتیجے میں بندے کی ہر وقت ہر بیماری ٹھیک ہوگی اور اس کے ذریعے اس کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے! مذہب تو دور کی بات ہے ایک عام سا ان پڑھ مسلمان بھی یہ سمجھتا ہے کہ دعا ہر چیز کا ہر وقت توڑ فراہم کرنے کا نام نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مذہب کی پوزیشن یہ ہے کہ شفا نہ دوا میں ہے اور نہ دعا میں، بلکہ شفا اللہ کی مشیت میں ہے۔ اللہ چاہے تو دوا سے شفا مل جائے گی اور اگر اللہ چاہیے تو دعا سے مل جائے گی، اللہ چاہے تو دونوں سے مل جائے گی، اللہ چاہے تو کسی ایک سے مل جائے ، اللہ چاہے تو دونوں ہی سے نہ ملے گی۔ بندے کاکام یہ ہے کہ دونوں تدابیر اختیار کرے ۔ یہی اللہ کی بندگی کا فلسفہ ہے۔ ظاہری اسباب بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں اور روحانی و مابعدالطبیعی اسباب بھی اسی کے فراہم کردہ ہیں، وہ اپنی حکمت کے مطابق ان کو جہاں چاہتا ہے بروئے کار لاتا ہے۔ایک کی بنا پر دوسرے کو ترک کرنا مذہب کی مخالفت ہے۔ سو دعا کی ضرورت و اثرات کا کلی انکار کرنے والے ملحد یا مذہبی لبرل ہوں یا دنیوی اسباب کو نظر انداز کرنے والا خوش عقیدہ مولوی یا اس کے پیروکار دونوں کے رویے کا نتیجہ ایک ہی ہے ،اور وہ ہے اس معاملے میں مذہب کی پوزیشن کو غلط سمجھنا اور اس کے ذمے وہ چیز لگانا جس کا وہ روادار نہیں یا اس سے وہ امید رکھنا جو امید اس نے دلائی ہی نہیں۔
خلاصہ یہ کہ مذہب کے نقطۂ نظر سے انسان اس دنیا میں آزمایش میں ہے۔ اسے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گردو پیش کی دنیا سے بھی اچھا اور مثبت تعلق رکھے اور اس کائنات کے ان دیکھے خالق سے بھی ۔تدبیر اور مادی اسباب کو بھی اس حد تک اختیار کرے جتنی اس کی بساط ہے ،اور اللہ کی عبادت اور اس سے تعلق بھی مقدور بھر رکھے۔ دونوں کوبھر پور کام میں لانے کے بعد آخری نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے ۔ اس لیے کہ دنیا کا ہرکام اور ہر چیز آدمی کے اختیار میں نہیں، یہ ایسی حقیقت ہے، جس کاکوئی ملحد انسان بھی انکار نہیں کر سکتا۔ انسان کا کہیں نہ کہیں بے بس ہونا واضح کرتا ہے کہ اس دنیا میں اصل اختیار آدمی کا اپنا نہیں کسی اور کا ہے۔ سب اختیار آدمی کا ہوتا تو وہ کبھی کسی ارادے میں ناکام نہ ہوتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ قول بہت معنی خیز ہے کہ میں نے خدا کو اپنے ارداوں کی شکست سے پہچانا ہے۔ اور جو لوگ مذہب کے معجزاتی عناصر اور اپنے خاص بندوں پر اللہ کی نوازشات کی تاریخ کی روشنی میں یہ مفروضہ قائم کرتے ہیں کہ کسی نیک شخص اور مقدس جگہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ہر وقت معجز نمائی کے خواہاں رہتے ہیں، وہ خوش عقیدگی میں گویا اللہ کو اپنی خواہشات کا پابند کرنا چاہتے ہیں۔ مذہب دنیا اور دین دونوں کو اکٹھا لے کر چلتا ہے۔ مذکورہ دونوں نوعیت کے حضرات دو انتہاؤں پر ہیں اور مذہب کی پوزیشن دونوں کے بین بین ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کے صحیح فہم و شعور اور اپنی بندگی کی توفیق سے نوازے ۔ آمین۔
مسلم معاشروں میں جدیدیت کی تنفیذ
مولانا حافظ عبد الغنی محمدی
مسلمان ممالک میں سے مصر ، ترکی اور ایران میں جدیدیت کا عمل کیسا رہا ؟ فائد ہ مند ثابت ہوا یا نقصان دہ ، اس سے کوئی ترقی یا خوشحالی آئی یایہ تنزل کی طرف گئے ؟ جدیدیت کو اپنا نا وقت کی ضرورت بن چکا تھا یا اس کو زبردستی ان معاشروں پر تھوپا گیا ؟ ان معاشروں میں آنے والی جدیدیت میں کوئی خامی تھی یا لانے والوں کا طرز عمل اور طریق کار درست نہیں تھا ؟ ان سوالوں کو کیرم آرم سٹرانگ کی کتاب “The Battle for God “ کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔یہ کتاب ویسے تو مجموعی طور پر جدیدیت اور قدامت پسندی کی کشمکش کی تصویر کشی کرتی ہے اور ان سوالوں کو موضوع بناتی ہے کہ مختلف معاشروں اور مذاہب میں جدیدیت کے حوالے سے کیا رسپانس رہا ، اور جدیدیت نے انسانیت کے لیے کیا اچھا اور برا کیا۔ اگر چہ مصنفہ بنیاد پرستی اور مذہب اورخدا کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کی تاریخ یا ایسی کاوشوں کا ذکرکرنا چاہتی ہیں جو ان ناموں پر کی گئیں تاہم میرے خیال میں انہوں نے اس کتاب میں زیادہ ترجدیدیت اور قدامت کی کشمکش کو ہی موضوع بنایا ہے ۔
یورپ میں جدیدیت کا انقلاب یکدم نہیں آگیا تھا بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کا ارتقاء تھا جبکہ مشرقی معاشروں میں جدیدیت کی اقدار کو نافذ کرنے کی کوششوں نے منفیت کو جنم دیا ۔ ان علاقوں کے حکمرانوں نے بزور بازو جدیدیت کو نافذ کرنے کی کوششیں کیں ۔ مغرب میں جدیدیت کا سفر عوام سےحکمرانوں کی طرف ہوا جبکہ ان علاقوں میں جدیدیت کا سفر حکمرانوں سے عوام کی طرف ہورہا تھا اور صرف ہنگامی نوعیت کے چند حالات کی وجہ سے یہ سب ہورہا تھا۔
مغرب میں جدیدیت کا سفر اقداری سطح پر تھا ، علوم و فنون، ٹیکنالوجی اور سائنس میں تھا ، جبکہ ان علاقوں کو صرف فوجی اور دفاعی طور پر پرانے طور طریقوں کو بدلنے اور اپنی افواج اور اسلحہ کو مغرب کی طرح نئے طرز پر ڈھالنے کی ضرورت تھی ۔ جدید ٹیکنالوجی جس کی بدولت مغرب نے دنیا پر قبضہ پایا، ان کو تین صدیاں لگ گئیں تھیں، لیکن مسلمان علاقوں کے حکمران یکدم وہی سب تبدیلی چاہتے تھے ۔
ان علاقوں میں چونکہ لوگ جدیدیت کو قبول کرنا نہیں چاہ رہے تھے بلکہ حکمران اس کے نفاذ کی کوششوں میں تھے، اس لیے لوگوں کے لیے ان کی اصلاحات سے اجنبیت رہی ۔ جدیدیت زدہ معاشروں میں لوگوں نے خود کو اجنبی محسوس کرنا شروع کردیا تھا ۔ ابتدا اگر چہ ایسی ہی تھی تاہم بعد میں حکمرانوں نے جدیدیت کے نفاذ کے لیے ایک طبقے کی باقاعدہ تربیت کی تو معاشرہ جدیدیت اور قدامت پسندی کے حامیوں کی رزم گاہ بن گیا ۔ اس میں کچھ لوگ جدیدیت کو تمام غموں کی دوا کہتے نظر آئے اور کچھ نے جدیدیت کو اپنی تہذیب و ثقافت کے لیے زہر قاتل قرار دیا ۔
جدیدیت زدہ معاشرو ں میں لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ دوہری زندگی گزاریں، ایک جدید اور مغربی زندگی اور دوسری اپنی روایتی زندگی ۔ اس دوہرے پن اور دوہری ثقافت نے شناخت کے بحران کو جنم دیا جس سے تہذیبی ، ثقافتی اور مذہبی مسائل ان معاشروں میں پیدا ہوگئے ۔
مغرب میں بھی جدیدیت کا عمل اتنی آسانی سے نہیں رونما ہوگیا تھا ، بلکہ یہ انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا جس کے لیے خون خرابہ کے علاوہ روحانی خواری بھی اٹھانی پڑی تھی ۔ ایسا نہیں کہ وہاں کشمکش ختم ہوگئی تھی یا ہوگئی ہے بلکہ مختلف ناموں سے کشمکش موجود رہی ہے ۔
مختلف اسلامی ممالک میں جدیدیت کن تجربات سے گزری ، اور اس نے کیا نتائج و اثرات مرتب کیے، ذیل میں تین ملکوں کا اس حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں ۔
محمد علی پاشا کو جدید مصر کا بانی کہا جاتاہے ۔ پاشا مصر میں جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا ، بطور عثمانی حکومت کے نمائندے کے آیا اور بعد میں اس کا آزاد والی بن گیا ۔ محمد علی پاشا نے مصر کو جدید طرز پر ڈھالنے کے حوالے سے جو تبدیلیاں کیں، ان کو دیکھنے سے جدیدیت کا سفر سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ محمد علی پاشا ایک فوجی جرنیل تھا ، مصر میں اس کو برطانیہ اور فرانس کی فوجوں کا مقابلہ تھا اور ساتھ میں مملوکوں سے خطرہ تھا جن کی یہاں ماضی میں حکومت تھی۔ محمدعلی پاشا نے برطانیہ اور فرانس کی فوجوں ، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے ملک کو جدید خطو ط پر ڈھالنا ضروری سمجھا کیونکہ مصر اور سلطنت عثمانیہ کئی مواقع پر فرانس اور برطانیہ سے بری طرح شکست کھا چکے تھے ۔ محمد علی کا ارتکاز چونکہ فوج پر تھا اس لیے جدیدیت براستہ فوج والا معاملہ اپنایاگیا جو کہ مغرب سے بالکل مختلف تھا ۔
محمد علی ٹیکنا لوجی ، تعلیم ، دفاع اور انتطامی امور کے ان کاموں میں یورپ کی تقلید کررہا تھا جو کہ جذبہ جدید کے سکے کا سیدھا رخ تھے ۔ لیکن ان تمام معاملات میں اس کو جن افراد کی ضرورت تھی، وہ اس کے پاس نہیں تھے، جن اقدارا ور آزادیوں کی ضرورت تھی، وہ اس کے ملک میں نہیں تھیں۔ اس کے ملک کے لوگ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ، اس نے ایک طرف جبری بھرتیاں کیں تو دوسری طرف اس نے ایسے لوگ تیار کرنے کےلیے سکول و کالجز قائم کیے ۔ محمد علی نے تین صدیوں کا سفر چند سالوں میں کیا اور ایک زبردست اور مضبوط فوج بنائی ۔ اس فوج سے اس نے اردگر د کے علاقوں میں کافی تباہی مچائی اور فتوحات بھی کیں ۔ اس کی فوج ایک مضبوط فوج شمار ہوتی تھی ۔ محمدعلی نے اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا اور خون کی ہولی کھیلی ۔اس نے جدیدیت کو لانا چاہا، لیکن اس کی جمہوری اقدار ، آزادی اور مساوات کو یکسر نظر انداز کردیا ۔
محمد علی کی انتظامیہ و اداروں میں یورپین ، ترکی اور جدیدیت کے حامل اہلکار بھرتی کیے جاتے تھے ۔ اس کے تیار شدہ لوگ مخصوص ذہنیت کے تھے جو قدامت پسندوں سے مختلف تھے ۔ یوں قدیم اور جدید کی آویزش نے جنم لیا ۔ محمدعلی کاروبار میں صنعتیں چلانا چاہتا تھا ،ا ن صنعتوں کے لیے جن تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت تھی، وہ بھی یورپ کے یا محمدعلی کے قائم کردہ مخصوص اداروں کے تربیت یافتہ تھے ۔ جدید صنعت نے مقامی صنعت اور کاریگری کے نظام کو بہت متاثر کیا ۔ مصر میں دو عد د معاشرے بن چکے تھے، ایک قدامت پسندانہ سوچ جبکہ دوسرا جدیدیت کا حامل تھا ۔ اہل مغرب نے بتدریج چرچ اور ریاست کو جدا کیا تھا جبکہ مصر میں ایک ہی مرتبہ یہ کام کردیا گیا۔ان تمام اقدامات سے یہ عوام اپنے ہی ملک میں اجنبی بن گئے تھے ۔
محمد علی نے مصر میں کپاس کی صنعت کو فروغ دیا اور ملک بھر میں کسانوں کو کپاس کی کاشت پر آمادہ کیا۔ اس کے علاوہ اس نے جدید تعلیمی اداروں، سڑکوں، نہروں اور صنعتوں کا جال بچھا دیا اور اسکندریہ میں بحری جہاز ساز کارخانہ قائم کیا۔اس نے قاہرہ کو جدید بنیادوں پر استوار کیا اور اسے ایک جدید شہر بنایا۔ محمد علی پاشا کی جدیدیت پسندی سے جہاں مصر کو زراعت اور صنعت کے اعتبار سے ترقی ملی، وہیں ترقیاتی کاموں پر اندھا دھند رقم خرچ کرنے سے مصر قرضوں میں جکڑ گیا۔ دیوان مالیہ کے مطابق مصر پر 80 ملین فرانک (2،400،000 پاؤنڈ) قرضہ تھا۔
محمد علی پاشا اور اس کے بعد کے حکمرانوں نے جدیدیت کے تمام تر عمل سے نتیجہ یہی اخذ کیا کہ جدیدیت کا مطلب ہے مغرب کی غلامی ۔ یورپین جس دھوکہ دہی سے دنیا پر قابو پانے کی تگ و دو میں رہتے تھے اور وسائل کو لوٹتے رہتے تھے، اس سے یہ سخت دلبرداشتہ ہوئے ۔محمد علی کے پوتے عباس نے جب یورپ کا رویہ دیکھا تووہ یورپ کی ہر چیز سے نفرت کرتا تھا ، وہ اس نظریے کا حامل تھا کہ مغرب کا مطلب ذلت ہے۔ محمد علی چونکہ برطانیہ اور فرانس سے معاہدہ کرکے سلطنت عثمانیہ سے آزاد مصر کا حکمران بنا تھا، اس لیے مصر میں ان ملکوں کی مداخلت رہی ۔ بعد میں یہ مداخلت اس قدر بڑھی کہ یہ ملک برطانیہ کی کالونی بن کر رہ گیا ۔برطانیہ کے قبضے کے بعد اس معاشرے میں جدیدیت کا عمل اور بھی بڑھ گیا ۔ افکار و نظریات میں مصر میں جمال الدین افغانی ، شیخ عبدہ ، رشید رضا ، ڈاکٹر طہ حسین ، رفاعہ رافع الطہطاوی جیسے اساطین علم مذہب اور جدیدیت کے حوالے سے جدید سوالات کو مختلف انداز سے دیکھ رہے تھے ۔ایسا نہیں کہ یہ معاشرے کو جدیدیت کی طرف دھکیل رہے تھے بلکہ یہ جدیدیت سے پیدا شدہ سوالات اور حالات کا رسپانس دے رہے تھے ۔ سیاسی طور پر مصر میں اس کے بعد اسلامی سوشلزم اورایسی ہی جدیداصللاحات کے نام سے مختلف حکمرانوں نے نظام حکومت چلانا چاہا ۔
سلطنت ترکیہ میں بھی اسی قسم کا عمل دیکھنے میں آیا ۔ترکی میں احمد ویفک پاشا اور مصطفی رشید پاشا جویورپی افکار اور شخصیات سے آشنا تھے ، ان کا یقین تھا کہ سلطنت ترکی اس وقت تک جدید دنیا کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور جدید اقوا م میں اعلیٰ مقام حاصل نہیں کرسکتی جب تک یہ جدیدیت کی راہ پر گامزن ہوکر اپنی افواج اور نظام حکومت کو جدید خطوط پر استوار نہیں کرلیتی ۔ سلطنت میں تمام شہریوں کو برابر حیثیت حاصل ہونی چاہیے ، عیسائیوں اور یہودیوں کو اب ذمی نہیں رہنا چاہیے ۔عدالت کے طریق کار میں اصلاح کی گئی اور اس کو فرانسیسی طرز پر ڈھالا گیاا ور شریعہ پس منظر میں چلی گئی ۔ سلطان محمود دوم نے 1826ء میں نئے قوانین متعارف کروادیے ۔ علماء نے ان تمام اصلاحات کی مخالفت کی کہ اس میں تو ا ن کو اپنے اسلامی ورثے سے محروم ہونا پڑے گا ۔ سلطان سلیم ثالث اور اس کے بعد محمود دوم کا تمام تر ارتکاز جدید فوج ، اسلحہ اور ٹیکنالوجی پر تھا جس کے جلو میں دیگر چیزیں بھی آتی چلی گئیں ۔ بعد میں مصطفی کمال پا شا نے بزور بازو اسلامی نظام اور اس کے نشانا ت پر پابندی عائد کی ، خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا اور سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی ۔
ایران بھی جدیدیت کے اسی عمل سے گزرا۔ شہزادہ عباس نے ایک جدید فوج کی ضرورت محسوس کی ۔شاہ عباس نے ایرانی فوج کو جدید طرز پر مسلح کرنے میں برطانیہ سے مدد لی۔ ان انگریزوں نے ایران میں توپ سازی کی صنعت شروع کی اور ایرانی افواج کو توپ خانے سے مسلح کر دیا۔ایرانی بعد کے ادوار میں عثمانیوں کے خلاف صف آرا رہے ۔ صفوی دور علمی لحاظ سے بنجر دور نظر آتاہے، لیکن شاہ عباس کے دور میں علم و فن میں قابل قدر ترقی ہوئی ۔ صفوی سلطنت کے بعد قاچار خاندا ن کے مختلف بادشاہوں میں بھی جدیدیت اور قدامت کی کشمکش جاری رہی ۔ جنگ عظیم میں ایران کو جرمنی کا ساتھ دینے پر شکست ہوئی ۔ اس کے بعد پہلوی خاندانی کی حکومت آئی جو کہ مکمل طور پر مغرب کی منظور نظر اور امریکہ کے اشارہ ابرو پر چلنے والی تھی ۔ اس کے بعد خمینی حکومت بھی اسلامی جدیدیت کا ایک نیا ماڈل تھی جس کی شیعہ روایت میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ولایت فقیہ اور ایسے نظریات بالکل نئے تھے جن کا ماضی میں کبھی کہیں وجود نہیں رہا تھا۔
مسلم معاشروں میں کبھی مغربیت اور جدیدیت کے اثر و نفوذ اور اس کی اقدار کے لیے تشدد کی راہ اپنائی گئی اورکبھی اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اس راہ کو اپنایا گیا ۔ اسی طرح یہ دونوں طبقات بھی باہمی آویز ش میں رہے ۔ لیکن ان ممالک میں وہ طبقات جو جدیدیت کو لانا چاہتےتھے ، انہوں نے بھی اپنا مذہب اسلام ہی ظاہر کیا اور سلطنت میں بھی اسلام کو لانے کی بات اگر کی گئی تو اس سے انکار نہیں کیا ۔ ایران میں تو بعد ازاں اسلامی اسٹیٹ قائم ہوئی ، اسی طرح ترکی میں بھی اسلامسٹوں کی حکومت ہے اور مصر میں بھی ایک سروے کے ذریعے یہی بات سامنے آئی کہ وہ لوگ جو جدیدیت کی بات کرتے ہیں، وہ بھی اسلام یا اسلامی نظام کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور اسلامسٹ بہت سی جدید چیزوں کو بالکل ایسے ہی اپنائے ہوئے ہیں جیسے وہ اسلام میں منع نہیں ہیں ۔
مصر میں 1982ء میں ایک سروے میں یہ بات آئی کہ پردہ دار خواتین جو کہ قدامت پسند تھیں، ان میں سے اسی فیصد اس نقطہ نظر کی حامل تھیں کہ تعلیم عورتوں کے لیے لازمی ہے ۔ اٹھاسی فیصد پردہ دار خواتین یہ نقطہ نظر رکھتی تھیں کہ عورتوں کو گھروں سے نکل کر ملازمت اختیار کرنی چاہیے اور پردہ دار خواتین میں 77 فیصد کا ذہن تھا کہ عورتوں کو گریجویشن کرنے کے بعد ملازمت اختیار کرلینی چاہیے ۔ یہ مردو زن کے لیے ایک جیسے حقوق کی خواہاں تھیں ، عورتوں کو ریاستی عہدوں پر تعینات ہونا چاہیے ۔ ایک دلچسپ امر یہ تھا کہ پردہ دار خواتین اور مغرب زدہ خواتین دونوں اس امر پر متفق تھیں کہ ملک میں شرعی نظام نافذ ہونا چاہیے ۔
ترکی ، ایران اور مصر کے حالا ت کے مطالعہ سے یہ بات بآسانی سمجھ آجاتی ہے کہ ان علاقوں کے لوگوں نے جدیدیت کو جس حدتک قبول کرنے کی ضرورت تھی اس کو قبول کیا ، لیکن اسلام یا اپنی ثقافت سے بے تعلق نہیں ہوئے تھے ۔ قدامت پسندوں نے جدیدیت کی وہ اقدار جو زمانی تبدیلی کے تحت لازمی ہوچکی تھیں، ان کو قبول کیا اور ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے حق میں استعمال کرنا چاہا ۔ اسی طرح جدیدیت کے حامی لوگ بھی اپنی روایت ، مذہب ، ثقافت سے بے تعلق نہیں ہونا چاہتے، ان سے اگر ملک میں شریعت اور اسلام کے نفاذ کی بات کی جائے تو وہ بھی یہ چاہتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلم ریاستوں کو فلاحی ریاستیں بنانے پر تمام تر زور صرف کیاجاتا جس میں اسلامسٹ اور جدت پسند دونوں ابھی تک فیل نظر آتے ہیں ۔
یورپ اور مشرق وسطیٰ کی جدیدیت میں فرق کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں کہ جدیدیت کا تمام تر عمل مشرق وسطیٰ میں یکسر مختلف واقع ہوا تھا ۔ یہ حصول طاقت ، خود مختاری ، اور نئی اختراع کا عمل نہ تھا جیسا کہ یہ یورپ میں ظہور پذیر واقع ہوا تھا بلکہ یہ محرومیت ، خود انحصاری سے دست برداری اور غیر کامل اور غیر معیاری نقالی کا ایک عمل تھا ۔
کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
کرونا فلو طرز کی ایک وبائی بیماری کو کہا جاتا ہے جس کے وائرس کچھ دنوں قبل چائنہ میں پھیلنا شروع ہوئے اور ان کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جس نے پوری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وبائی بیماریاں دنیا میں مختلف مواقع پر رونما ہوتی آئی ہیں جن کا دائرہ اس سے قبل عام طور پر علاقائی ہوتا تھا، لیکن جوں جوں انسانی سوسائٹی گلوبل ہوتی جا رہی ہے یہ وبائیں بھی گلوبل رخ اختیار کرنے لگی ہیں۔ چنانچہ چائنہ سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے امریکہ، یورپ، مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور پاکستان میں بھی تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود اس کے کیسز میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
جہاں تک اس کے اسباب کا تعلق ہے مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ مثلاً یہ امکان بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ جراثیمی جنگ (وائرس وار) کی صورت بھی ہو سکتی ہے اور اب تک ہونے والی جنگوں کے پس منظر میں اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کے کیمیاوی ہتھیاروں کے بعض جنگوں میں استعمال اور بین الاقوامی سطح پر ان ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی کے بعد دفاعی سائنس کے ماحول میں جراثیم کے ذریعے حیاتیاتی جنگ اور وائرس وار کے امکانات کا ذکر سننے میں آرہا ہے اور اس کی تیاری کی خبریں بھی چل رہی ہیں۔ اس لیے کوئی بعید بات نہیں ہے کہ کرونا وائرس بھی اسی کے تجربہ کی کوئی صورت ہو، مگر یہ صرف امکان کے درجہ کی بات ہے جس کی نہ تو تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔
اسباب میں ایک بات موسمیاتی تبدیلی بھی ذکر کی جاتی ہے کہ موسموں کا دائرہ اور دورانیہ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے، اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں آگے بڑھ رہی ہیں اور ان کے مختلف النوع اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح خوراک میں بے احتیاطی کو بھی ایک سبب بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے جانور اور چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب انسان کے کھانے کی نہیں ہیں، اسی لیے اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں حلال و حرام اور طیب و خبیث کا فرق واضح کیا ہے۔ مگر جہاں سے اس وائرس کا آغاز ہوا ہے وہاں حلال و حرام اور طیب و خبیث کا کوئی فرق موجود نہیں ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ خوراک میں بے احتیاطی اور بے پروائی بھی کرونا وائرس کا سبب ہو سکتی ہے۔
بہرحال اسباب کچھ بھی ہوں کرونا وائرس ایک زندہ حقیقت کے طور پر انسانی معاشرہ میں اپنا وجود اور اثرات منوا رہا ہے اور کرہ ارضی کے ہر خطہ کے لوگ اس سے احتیاط کی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ ایک محفل میں موسمیاتی تبدیلیوں اور کرونا وائرس کے بارے میں مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے ازراہ تفنن عرض کیا کہ اللہ تعالٰی فرما رہے ہیں کہ ’’میری زمین میری مرضی‘‘ جس سے دوست بہت محظوظ ہوئے۔ مگر سنجیدگی کے ماحول میں قرآن و سنت کی روشنی میں دو تین باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔
ایک یہ کہ اللہ تعالٰی وقتاً فوقتاً اس قسم کی صورتحال پیدا کر کے انسانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ بے شک آپ لوگ اسباب کی دنیا میں رہتے ہیں اور ان اسباب کو اختیار بھی کرتے ہیں مگر اصل قوت یہ اسباب نہیں ہیں، ان کے پیچھے ’’مسبب الاسباب‘‘ اصل قوت ہے جو اسباب کو غیر موثر بھی کر سکتا ہے اور ان کے اثرات کو غیر محدود بھی کر سکتا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس قسم کی صورتحال کو تنبیہ کے انداز میں بیان کیا گیا ہے مثلاً ایک مقام پر بنی اسرائیل کے حوالہ سے ذکر کیا کہ ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون کو عذاب کے طور پر مسلط کر دیا جس پر وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی خدمت میں آ کر درخواست گزار ہوئے کہ دعا کریں اگر یہ عذاب ٹل جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ قرآن کریم میں ہے کہ حضرت موسٰیؑ کی دعا سے عذاب کی کیفیت تو ختم ہو گئی مگر وہ لوگ ایمان لانے کے وعدہ سے منحرف ہو گئے۔ چنانچہ ایسی صورتحال میں پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کی قدرت اور طاقت پر اپنے ایمان کو پختہ کریں اور اس کی طرف رجوع اور توبہ کریں۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں وبائی صورتحال تھی حتٰی کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ بھی بیمار پڑ گئے اور بے چینی میں وطن کو یاد کرنے لگے۔ اس پر آنحضرتؐ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ! مدینہ منورہ سے وبا کی کیفیت کو ختم فرما دے جس پر مدینہ منورہ اس وبائی صورتحال سے محفوظ ہوگیا۔ اس لیے دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کریں اور انفرادی و اجتماعی سطح پر دعا، استغفار اور توبہ کو اپنے معمولات کا حصہ بنائیں۔
جبکہ تیسری گزارش یہ ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بیت المقدس کی فتح کے موقع پر فلسطین تشریف لے گئے تو سرحد پر انہیں بتایا گیا کہ آگے علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے، آپ بہت سی اہم شخصیات کے ہمراہ وہاں جا رہے ہیں جو خطرہ اور رسک کی بات ہے۔ حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ کے مختلف طبقات کے ساتھ مشورہ کے بعد وہاں نہ جانے اور واپسی کا فیصلہ کر لیا جسے سن کر حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے فرمایا کہ میں نے جناب نبی اکرمؐ سے سنا ہے کہ جس علاقے میں کوئی وبائی مرض پھیلا ہوا ہو، باہر سے اس علاقہ میں نہ جائیں، اور نہ ہی وہاں سے باہر آئیں، اس لیے حضرت عمرؓ کا وبائی علاقہ میں نہ جانے کا فیصلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وبائی امراض سے خود بچنے اور لوگوں کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ اور سنت نبویؐ ہے جسے پوری طرح اختیار کرنا چاہیے۔
بے اصل فقہی احادیث کی فنی حیثیت اور اصحاب الحدیث کا معتدل اسلوبِ نقد
مولانا محمد عبد اللہ شارق
(زیرِ ترتیب مقالہ ”احادیثِ ہدایہ ۔۔۔ فنی حیثیت اور غیر علمی رویہ“ سے ایک انتخاب)
محدثین کی تخریجات کیا ہیں؟
کسی حدیث کی سند او رحوالہ تلاش کرنے کے عمل کو ”تخریج“ کہتے ہیں۔ اس عمل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آیا اس حدیث کی کوئی سند ہے بھی یا نہیں، اگر ہے تو وہ کس درجہ کی ہے؟ اس سے حدیث کی فنی پوزیشن واضح ہوجاتی ہے۔ محدثین نے مختلف ادوار میں کئی کتابوں پر مایہ ناز تخریجات لکھیں۔ یہ تخاریج دراصل وہ حواشی ہوتے تھے جو متعلقہ کتاب میں مذکور احادیث کی فنی حیثیت کو واضح کرتے اور مصنف سے کسی بے اصل حدیث کو نقل کرنے میں اگر تساہل ہوگیا تھا تو وہ بھی اس سے واضح ہوجاتا۔ یہ تخریجات محدثین نے خود محدثین کی کتابوں پر بھی لکھیں اور فقہ، تصوف وتفسیر کی کتابوں پر بھی لکھی گئیں۔ مثلا
(۱) ابن عبدالبر نے موطا امام مالک میں بغیر سند کے مذکور ایک سو کے قریب احادیث کی تخریج لکھی ۔
(۲) امام بغوی کی کتاب ”مصابیح السنۃ“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزی نے لکھی اور ”مشکوة المصابیح“ کے نام سے معروف ہے۔ ”مصابیح السنۃ“ احادیث کا گراں قدر مجموعہ تھا، لیکن اس میں تمام احادیث بغیر سند اور حوالہ کے مذکور تھیں۔ یہی مجموعہ حوالہ جات کے ساتھ اب ”مشکوة المصابیح“ کے نام سے مشہور ہے۔
(۳)علامہ زمخشری کی تفسیر ”الکشاف“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو امام جمال الدین ابو محمد یوسف بن محمد الزیلعی الحنفی نے لکھی۔
(۴) تصوف کے موضوع پر امام غزالی کی گراں مایہ کتاب ”احیاءالعلوم“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو حافظ ابو الفضل العراقی نے لکھی۔ اس کا نام ہے: ”المغنی عن حمل الاسفار“۔
(۵) فقہِ حنفی کی کتاب ”الہدایہ“ میں مذکور احادیث کی تخریج جو مذکور الصدر امام زیلعی نے ”نصب الرایۃ“ کے نام سے لکھی اور حافظ ابن حجر نے ”الدرایۃ“ کے نام سے اس کی تلخیص کی۔
(۶) فقہِ شافعی کی کتاب ”شرح الوجیز“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو سراج الدین ابن الملقن الشافعی نے ”البدر المنیر“ کے نام سے اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے ”التلخیص الحبیر“ کے نام سے لکھی۔
(۷)قاسم ابن قطلوبغا کی تخریج ”منیۃ الالمعی“ جو دراصل ہدایہ کی ان احادیث کی تخریج ہے جن کا ماخذ امام زیلعی کو نہ مل سکا اور ”نصب الرایۃ“ میں انہوں نے ان کے حوالہ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تاہم کچھ احادیث کے بارہ میں ابن قطلوبغا نے غالبا صرف اتنا بتایا ہے کہ ”الہدایہ“ سے پہلے یہ روایت کون کون سی کتبِ فقہ میں نظر آتی ہے۔ اگرچہ یہ علمِ حدیث کے اصولوں کی رو سے کوئی ”معیاری تخریج“ نہیں ہے، تاہم آئندہ ہونے والی گفتگو سے معلوم ہوگا کہ اس قدر تخریج بھی فائدہ سے خالی نہیں۔
الکشاف، احیاءالعلوم اور الہدایہ جیسی کتابوں میں چونکہ تمام احادیث بغیر سند کے مذکور تھیں، اس لیے ان کی تخریج کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ان تخریجات کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کسی ایک علمی موضوع کی بہت سے احادیث یکجا ہوگئیں اور ان کی فنی حیثیت بھی واضح ہوگئی۔ یوں تو فقہ وتصوف کی اور بھی بہت سی کتابوں پر تخریجات لکھی گئی ہوں گی،لیکن فقہ پر ”نصب الرایۃ“ اور تصوف پر ”المغنی“ اس لیے زیادہ مشہور ہوئیں کہ ان میں فقہ وتصوف کی بہت سی متعلقہ احادیث پر جامع گفتگو ہوگئی تھی۔ چنانچہ ”نصب الرایۃ“ کو فقہی احادیث اور ”المغنی“ کو احادیثِ تصوف کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں فقہ وتصوف کی ان بہت سی احادیث پر جامع کلام ہوگئی ہے جو عموما فقہاءاور صوفیاءکے ہاں متداول ہیں اور مذاکرہ کا موضوع بنتی ہیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ ”نصب الرایۃ“کے مصنف امام زیلعی اور ”المغنی“ کے مصنف حافظ عراقی دونوں ہم عصر ہیں، دونوں نے بیک وقت یہ کام کیا اور دونوں کو اس میں ایک دوسرے کی معاونت بھی حاصل رہی۔ (الدررالکامنۃ جلد۳، صفحہ۹۶) فقہ وتصوف کے موضوعات پر لکھی جانے والی بعد کی اکثر تخریجات میں انہی دو حضرات کی تخاریج سے مدد لی جاتی رہی اور یہ ان موضوعات پر ”نقشِ پائے دار“ اور ”نقشِ یادگار“ ثابت ہوئیں۔چنانچہ مثلا ابن الملقن اور ابن حجر باوجود خود ماہرِ فن ہونے کے اپنی مذکورہ تخریجات میں اپنے پیش رو زیلعی کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بے اصل احادیث اور محدثین کا معتدل اسلوبِ نقد
تخریج کا عمل کرنے والے محدثین کا طریقہ یہ ہے کہ جب انہیں کسی حدیث کا حوالہ نہیں ملتا تو وہ اس پر نقد کے لیے عموما اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں: (۱) لم اجدہ (مجھے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملا)، (۲) لم یوجد (اس کا کوئی حوالہ نہیں مل سکا)، (۳) لا اعرفہ (میں اس کے ماخذ سے واقف نہیں ہوسکا)، (۴) لم اظفر لہ باسناد (اس کی کوئی سند مجھے نہیں مل سکی)، (۵) لا اصل لہ، (یہ حدیث بے اصل ہے)، وغیرہ وغیرہ یہ سب الفاظ متواضعانہ ہیں اور ان کا معنی کم وبیش یہ ہے کہ مجھے اس حدیث کا کوئی ثبوت نہیں ملا یا اس حدیث کی کوئی سند میرے علم میں نہیں۔ مفہوم اور حاصلِ معنی ان جملوں کا بھی یہی ہوتا ہے کہ سند سامنے آنے تک یہ حدیث غیر مستند سمجھی جائے، مگر صاف الفاظ کی بجائے ذومعنی انداز اختیار کرنا ان کی احتیاط کا غماز ہے، ورنہ کہنے کو تو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹ اور من گھڑت ہے۔
صرف ”لا اصل لہ“ (یہ حدیث بے اصل ہے) کا ایک اسلوب ایسا ہے جس سے قطعیت کا رنگ سا جھلکتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ شاید محدث اس پہ دوٹوک فتوی عائد کررہا ہے،یہی وجہ ہے کہ بعض محدثین نے اس اسلوب پہ اعتراض بھی کیا ہے۔ علامہ کورانی امام سیوطی کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں:
”ومثل ہذا یقول فیہ الحفاظ المتاخرون: لا اصل لہ، والمتورعون یقتصرون علی قولہم: لم نقف علیہ“ (المسلک الوسط الدانی۔ صفحہ۲)
”یعنی” جن حدیثوں کی تخریج نہ ہوسکے، متاخرین ان کے بارہ میں ”بے اصل“ کا لفظ استعمال کردیتے ہیں، ورنہ محتاط محدثین ان کے بارہ میں صرف یہ کہنے پر اکتفاءکرتے ہیں کہ ہم ان کی سند سے آگاہ نہیں ہوسکے۔ (یعنی وہی ”لم اجدہ“ والا اسلوب ہی اختیار کرتے ہیں۔) “
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو متاخرین کہیں کہیں ایسی حدیثوں کے لیے ”لااصل لہ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیںتو وہ بھی در اصل اسی معنی میں ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی سند اور ”اصل“ میرے علم میں نہیں آسکی، نہ یہ کہ اس کی کوئی سند سرے سے ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جو محدثین ایسی حدیثوں کے لیے کہیں کہیں ”لا اصل لہ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، وہی محدثین ایسی حدیثوں کے لیے موقع بموقع ”لم اجدہ“ کے الفاظ بھی بکثرت استعمال کرتے نظر آتے ہیں، مثلا ابنِ حجر ہی کی تخریجات کو دیکھ لیجئے۔ ہاں، سیوطی کی عبارت سے البتہ اتنا سمجھا جاسکتا ہے کہ متاخرین کے عمومی طرزِ عمل کے برعکس، محتاط محدثین ”لا اصل لہ“ جیسے ان موہوم الفاظ سے کلی اجتناب کرتے ہیں جن سے غلط تاثر کا کوئی شائبہ بھی پیدا ہوتا ہواور ”لم اجدہ“ جیسے متواضعانہ الفاظ کی ہی وہ مکمل پابندی کرتے ہیں۔
مناظرانہ افراط وتفریط نے اس اعتدال کو کیا رنگ دیا؟
ا ٓپ نے جانا کہ مذکورہ الفاظ کے ذریعہ کس طرح محدثین بے اصل حدیث کی پوزیشن بھی واضح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تواضع اور اعتدال کا دامن بھی نہیں چھوڑتے۔ اب جن حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح فقہ وتصوف کی کتابوں میں مذکور بے سند احادیث من وعن قبول کرلی جائیں، وہ کہتے ہیں کہ صاحبِ تخریج محدث نے مذکورہ الفاظ کے ذریعہ صرف اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے، حدیث کو غلط نہیں کہا۔ ان کے مطابق یہ عین ممکن ہے کہ اصل مصنف کے پاس اس کی سند موجود ہو اور حسنِ ظن کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہی گمان رکھا جائے۔ ہمارے نزدیک یہ بات ٹھیک ہے اور ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ بھی اسی حسنِ ظن کے متقاضی ہیں۔مگر اس کا یہ نتیجہ نکالنا ٹھیک نہیں کہ محض اس امکان اور گمان کے زور پر اب وہ حدیث قبول بھی کرلی جائے، کیونکہ اگر انہی امکانات اور حسن ظن کی بناءپر حدیث کو قبول کرنا ہے تو پھر علم الاسناد کی کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے؟ محدث کی طرف سے کسی حدیث کے بارہ میں لاعلمی کا اظہار‘ ایک ذومعنی اظہار ہے اس بات کا کہ یہ حدیث باوجود تلاش کے نہیں مل سکی، تلاش جاری رکھی جائے، مگر سند نہ ملنے تک اس کو غیر ثابت ہی سمجھا جائے۔
آپ اپنے گرد وپیش کے عرف کو دیکھ لیجئے کہ اس اسلوب میں کہی جانے والی بات کا کیا مفہوم لیاجاتا ہے؟ مثلا آپ اپنے معالج سے پوچھتے ہیں کہ کیا چاول کھانے سے قبل پانی پینا نقصان دہ ہے، جس پر وہ کہتا ہے کہ میرے علم میں تو ایسی کوئی بات نہیں، ذرا سوچئے کہ اس بات کا کیا مطلب لیا جائے گا کہ اگرچہ میرے علم میں نہیں مگر تم اس کو نقصان دہ ہی سمجھو، ظاہر ہے کہ نہیں۔ مذکورہ حضرات نے ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کے اسلوب کو تو دیکھا ہے، اس کے مقصد، ما فی الضمیراور حاصلِ معنی کو نظر انداز کردیا ہے۔ امام سیوطی نے تصریح کی ہے کہ جب کوئی حافظ الحدیث کسی حدیث کی سند اور اس کے ماخذ کے بارہ میں لاعلمی کا اظہار کردے تو اس سے مقصود اس حدیث کی نفی کرنا ہوتا ہے کہ یہ لائقِ استناد نہیں ۔ (تدریب الراوی۔ صفحہ۲۶۳)اگر اس لاعلمی کے اظہار کا مطلب یہ ہے کہ تم اس حدیث کو اصل میں ثابت ہی سمجھو، خواہ اس کی سند مجھے نہیں ملی تو پھر تخریج کے لیے اس کی ساری محنت ہی لغو ہوجاتی ہے کہ جب حدیث بغیر سند کے علم میں آئے ہی مستند تھی تو اس کی سند تلاش کرنا اور تخریجات لکھنا ایک بے سود کام ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف وہ اینٹی احناف مصنف ہیں جنہوں نے ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کے حاصلِ معنی پر سارا زور صرف کیا اور ان کے اسلوب کو نظر انداز کردیا۔ چنانچہ انہوں نے پہلے تو ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کو ”موضوع“ کے ہم معنی وہم پلہ قرار دیا اور پھر ”موضوع“ کا معنی یہ متعین کیا کہ یہ سو فی صد جھوٹ ہے۔ اس لیے جس حدیث کے بارہ میں کوئی محدث ”لم اجدہ“ جیسا لفظ کہہ دے، وہ حدیث ان مصنفین کی نظر میں سو فی صد جھوٹ اور من گھڑت ہے، بلکہ ان کے نزدیک اس کے بارہ میں اس سے زیادہ یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ اس حدیث کو خود نقل کرنے والے مصنف نے خود ایجاد کیا ہے، والعیاذ باللہ۔ محدثین ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کس تواضع سے استعمال کرتے ہیں، اس کے لیے ”مشکاۃ المصابیح“ کا ایک اقتباس سنئے۔ مشکاة المصابیح کے مصنف نے ”مصابیح السنۃ“ کی تمام احادیث کی مقدور بھر تخریج کی، مگر بعض حدیثوں کی تخریج وہ نہ کرپائے، ایسی حدیثوں کے بارہ میں وہ کہتے ہیں:
”وقلیلا ما تجد اقول: ما وجدت ہذہ الروایة فی کتب الاصول او وجدت خلافہا فیہا فاذا وقفت علیہ فانسب القصور الی لقلة الدرایة ، لا الی جناب الشیخ“ (مشکاة المصابیح۔ صفحہ۱۱)
یعنی ”جب تم دیکھو کہ میں کسی حدیث کے بارہ میں لاعلمی کا اظہار کردوں کہ یہ حدیث بنیادی کتابوں میں مجھے نہیں ملی تو اس کو میرا قصور سمجھو، جنابِ شیخ کا نہیں۔“
”لم اجدہ“ اور اس جیسے دوسرے الفاظ کے مفہوم اور اسلوب کو بیک وقت ملحوظ رکھنے سے ہی اس کا صحیح اطلاق سمجھ میں آسکتا ہے۔ اصل میں یہ اطلاق اور اس میں کارفرما اسلوب ومفہوم معمولی شعور سے بھی سمجھ میں آسکتا ہے، مگر طرفین کے افراط وتفریط نے اس کے اصل اطلاق کو دھندلادیا ہے۔
کیا موضوع کا قطعی طور پر جھوٹ ہونا ضروری ہے؟
”لم اجدہ“ جیسے اطلاقات کواگر” موضوع“ کے اطلاق کے ہم پلہ بھی فرض کرلیا جائے تو ابنِ حجرنے تصریح فرمائی ہے کہ خود جو حدیث اصطلاحِ حدیث کی رو سے ”موضوع“ ہوتی ہے، اس کا سو فی صد جھوٹ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ہم اس بات کو تھوڑا وضاحت سے عرض کرتے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ جس حدیث کی سند میں کوئی ایسا راوی ہو جس کے بارہ میں احادیث کے اندر جھوٹ بولنا ثابت ہے تو ایسی حدیث اصطلاحا”موضوع“ کہلاتی ہے اور جس حدیث میں کوئی ایسا راوی ہو جس کے بارہ میں حدیثِ رسول کے اندر تو نہیں، البتہ عمومی معاملات میں جھوٹ بولنا ثابت ہے، تو ایسی حدیث ”متروک“ کہلاتی ہے۔ غور کیجئے ! ”موضوع“ اور ”متروک“ دونوں میں جو نقص آرہا ہے‘ وہ محض اس وجہ سے ہے کہ ان کا راوی جھوٹا اور غیر مستند ہے، اب چونکہ غیر مستند آدمی کی بات بھی غیر مستند ہوتی ہے‘ اس لیے حدیث موضوع اور متروک بھی غیر مستند ہیں‘ مگر یقین سے یہ دعوی کرنا کہ ہر ہر موضوع حدیث قطعی طور پر جھوٹ ہے، یہ ممکن نہیں کیونکہ غیر مستند آدمی کی بات غیر مستند ضرور ہوتی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کی ہر بات سو فی صد جھوٹ پہ مبنی بھی ہے اور وہ کبھی سچ بولتا ہی نہیں۔ ہم اسے ناقابلِ اعتماد تو کہہ سکتے ہیں ‘ سو فی صد جھوٹ نہیں کیونکہ جھوٹا آدمی بھی کبھی کبھی سچ اور صحیح بات کہہ دیتا ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے زیرِ غور حدیث میں سچ ہی بیان کیاہو۔اگر محدثین اسے من گھڑت او رجھوٹ کہتے ہیں تو وہ بھی محض غالبِ ظن کی حدتک ہوتا ہے۔چنانچہ ابنِ حجر اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”والحکم علیہ بالوضع انما ہو بطریق الظن الغالب لا بالقطع ‘ اذ قد یصدق الکذوب“ (نزہۃ النظر۔ صفحہ۸۴)
یعنی ”موضوع حدیث کوموضوع اورمن گھڑت کہنے کا معاملہ صرف ظن غالب کی حد تک ہے‘ قطعی اور یقینی طور پر نہیں‘ کیونکہ کبھی کبھی جھوٹا آدمی بھی سچ کہہ دیتا ہے۔“
تاہم چندمستثنیات کا معاملہ اور ہے کہ ان میں بعض اضافی قرائن ان کے سوفیصد جھوٹ ہونے پر دلالت کر رہے ہوتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر اور ان کے استاد حافظ عراقی اس وقت تک کسی حدیث کو ”موضوع“ نہیں کہتے جب تک کہ (اضافی قرائن کی رشنی میں) اس کا واقعتا موضوع ومن گھڑت ہونا نصف النہار کی طرح واضح نہ ہوجائے اور ایسی احادیث کو اکثر اوقات صرف ضعیف کہنے پر اکتفاءکرتے ہیں جن کی سند میں کوئی کذاب ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ حدیث اصطلاحا ”موضوع“ کہلائی جاسکتی ہے۔ شیخ عبد الفتاح ابو غدہ سمیت بعض حضرات کی نگاہ چونکہ ابنِ حجر اور عراقی کی احتیاط کے اس پسِ منظر کی طرف نہیں جاسکی، اس لیے انہیں ابنِ حجر اور حافظ عراقی کی یہ عادت قابلِ اشکال محسوس ہوئی ہے (الاجوبۃ الفاضلۃ، مولانا عبد الحی لکھنوی فرنگی محلی، تعلیق: شیخ عبد الفتاح ابو غدہ، صفحہ ۱۲۵، ۱۲۶)، مگر راقم کی رائے میں ابن حجر اور حافظ عراقی کی یہ عادت قابلِ اشکال نہیں، قابلِ تقلید ہے۔
وجہ یہ کہ جس طرح کسی بات کو آنحضور کی طرف منسوب کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے، یوں ہی کسی حدیث کی نسبت آنحضور سے بایقین قطع کرنے میں بھی احتیاط درکار ہے اور سند نہ ہونے کی وجہ سے کسی حدیث کا مشتبہ، ناقابلِ قبول اور غیر مستند ہوناایک بات ہے، جبکہ قطعی طور پر آنحضور کا قول نہ ہونا چیزے دیگر۔ بہت سے لوگ جو ”موضوع“ کی اصطلاحی تعریف سے ناواقف ہوتے ہیں اور وہ ”موضوع“ کے لغوی معنی کو دیکھتے ہوئے اس کا مطلب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ حدیث قطعی طور پر جھوٹ اور من گھڑت ہے۔
زیلعی وابن الملقن کی خاص اصطلاح
امام زیلعی اور ابن الملقن دو محدث ایسے ہیں جو اپنی تخریجات میں بے اصل احادیث کے لیے ”لم اجدہ“ وغیرہ کی بجائے ”غریب“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور یہ ان کا خاص اسلوب ہے۔ اصل میں یہ اسلوب زیلعی کا ہے اور لگتا ہے کہ ابن الملقن نے انہی کی پیروی کرتے ہوئے یہ اسلوب اختیار کیا۔ ”غریب“ کا لغوی معنی ہے: ”انجان“، ”اجنبی“۔ ایسی حدیث جو محدثین کی کتابوں میں اور ان کی روایات میں نہ ملے، یہ دو حضرات اس کو غریب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ جانی پہچانی، معلوم اورمستند احادیث میں سے نہیں۔ دیگر محدثین کے ہاں بھی غریب کا لفظ استعمال ہوتا ہے مگر وہ اس معنی میں نہیں ہوتا۔ اصولِ حدیث میں ”غریب حدیث“ کی اصطلاح اس حدیث کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کو ہر دور میں نقل کرنے والے ایک آدھ لوگ ضرور موجود رہے ہوں، محدثین کے ہاں عام طور پر ”غریب“ کی اصطلاح انہی معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔اس معنی کی رو سے لازم ہے کہ غریب حدیث بے اصل نہ ہو، بلکہ اس کی ایک مکمل سند موجود ہو اور وہ کبھی ضعیف، کبھی حسن اور کبھی صحیح بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی سند ضرور موجود ہوگی، خواہ اس کے راوی ہر دور میں ایک ایک رہے ہوں اور ایک سے زیادہ نہ ہوں۔ جبکہ زیلعی اور ابن الملقن غریب کی اصطلاح اس حدیث کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی سرے سے کوئی سند موجود نہ ہو اور نہ ہی کتبِ حدیث میں وہ روایت ملے، بلکہ وہ بے اصل ہو۔
چونکہ معروف تعریف کی رو سے ”غریب“ وہ حدیث کہلاتی ہے جس کی ایک مکمل سند بہرحال موجود ہو، اس لیے بعض حنفی علماءکو یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ زیلعی جہاں احادیثِ ہدایہ کے لیے غریب کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ان کی مراد بھی یہی ہوتی ہے کہ اس کی ایک مکمل سند موجود ہے اور یہ بے اصل نہیں، تاہم یہ بات درست نہیں۔ قاسم بن قطلوبغا نے ”منیۃ الالمعی“ (صفحہ۹، ۰۱) میں اور دیگر دسیوں علماءنے تصریح کی ہے کہ زیلعی اور ابن الملقن ”غریب“ کی اصطلاح کو ”بے اصل“ کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اس سے ان کی مراد معروف معنی بالکل نہیں ہوتا، زیلعی اور ابن الملقن جہاں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، وہاں پر سیاق وسباق کو دیکھ کر بھی بآسانی یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی مراد اس لفظ سے بے اصل ہی ہے، نہ کہ کچھ اور، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ زیلعی ”نصب الرایۃ“ کے اندر جہاں ”غریب“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، نصب الرایۃ کے تلخیص نگار حافظ ابنِ حجر عسقلانی اس حدیث کے لیے کئی جگہ ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
مقصود اس گفتگو سے یہ واضح کرنا ہے کہ بے اصل حدیث کے لیے”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کی بجائے، بعض محدثین کا ”غریب“ کا لفظ استعمال کرنا بھی باقی الفاظ کی طرح ان کی تواضع او راحتیاط کا مظہر ہے کہ وہ اس کو نامعلوم اور انجانی کہتے ہیں، جھوٹ، بہتان اور من گھڑت نہیں، تاہم دوسری طرف ڈھیلے ڈھالے انداز میں یہ لفظ اس حدیث کی استنادی حیثیت کو بھی واضح کردیتا ہے کہ بے سند، بے ثبوت اور انجان ہونے کی وجہ سے یہ قابلِ استدلال نہیں، جب تک کہ اس کی تخریج نہ ہوجائے۔
بے اصل فقہی احادیث کی فنی حیثیت
ہدایہ کی بے اصل احادیث کے حوالہ سے برصغیر کے بعض مصنفین نے مناظرانہ اسلوب میں جو لے دے کی ہے، خدا جانے انہیں اس کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی کیونکہ استاذانِ فن ”اصول الحدیث“ آج سے صدیوں قبل اپنی کتابوں میں تصریحا واضح کرچکے ہیں کہ کتبِ فقہ میں مذکور بے اصل احادیث کی فنی حیثیت کیا ہے اور ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہئے، مثلا ابن الصلاح کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:
”قلت: وقول المصنفین من الفقہاءوغیرہم: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کذا وکذا ونحو ذلک کلہ من قبیل المعضل“ (صفحہ۲۸)
یعنی ”فقہاءکا اپنی تصانیف میں کسی حدیث کو بغیر سند کے نقل کرنا اور اسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا بھی معضل ہی کے قبیل سے ہے۔“
”معضل“ ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے، اس کو نہ تو موضوع کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ ”موضوع“ کے ہم پلہ ہے، بلکہ غیر مستند اور ضعیف ہونے کے باوجود یہ بہر حال ”موضوع“ سے بہتر درجہ کی حدیث ہے۔ ”معضل“ کی اصل تعریف یہ ہے: ”وہ حدیث جس کی سند میں دو یا دو سے زیادہ راوی لگاتار غائب ہوں۔“ (نزہۃ النظر۔ صفحہ۷۸) چونکہ اب ایسی احادیث جن میں مصنفینِ فقہ اپنے اوپر کسی بھی راوی کا ذکر نہیں کرتے یا بالفاظِ دیگر کسی حدیث کو بلا سند نقل کرتے ہیں، ان پر بھی یہ تعریف صادق آتی ہے، اس لیے انہیں بھی محدثین ”معضل“ کہتے ہیں۔ امام مالک کی موطا میں ایسی احادیث موجود ہیں جو بلا سند ہیں یا نامکمل سند کے ساتھ نقل کی گئی ہیں جنہیں معضلات، مراسیل یا بلاغاتِ مالک کہا جاتا ہے، ان کا حکم بھی معضل والا ہے۔ اسی طرح امام بخاری کی ”الجامع الصحیح“ میں بھی کئی بلا سند احادیث موجود ہیں جنہیں ”تعلیقاتِ بخاری“ کہا جاتا ہے۔ ابن الصلاح نے ان کو بھی معضل کی بحث میں شامل کیا ہے، البتہ ان کے نزدیک ان کا حکم معضل والا نہیں، یعنی یہ ضعیف نہیں بلکہ بوجوہ صحیح ہیں۔ (مقدمہ ابن الصلاح۔ صفحہ ۳۱)
واضح رہے کہ ابن کثیر نے ”الباعث الحثیث“ (صفحہ۴۳) میں اور امام سیوطی نے ”تدریب الراوی“ (صفحہ۱۸۷) میں بھی فقہاءکی نقل کردہ بے اصل احادیث کے بارہ میں ابن الصلاح کا یہی قول بعینہ نقل کرکے اس کی توثیق کی ہے کہ یہ حکما معضل و ضعیف ہی ہیں اور بس۔ خدا جانے، استادانِ فن کی ان تصریحات کے بعد ہم جیسے طفلانِ مکتب کو ان احادیث کی فنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ذہنی مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟
بے اصل کا معنی ہمیشہ موضوع نہیں ہوتا
اب ”بے اصل“ کا معنی خود محدثین کی تصریح کے مطابق چونکہ ”بلا سند“ ہے (تدریب الراوی۔ صفحہ۲۶۳) اور بے سند حدیث چونکہ کبھی کبھی معضل ہوتی ہے جیساکہ ابھی بیان ہوا ہے، اس لیے محدثین بعض اوقات معضل کو بھی ”بے اصل“ لکھ دیتے ہیں کیونکہ اس کی بھی ابتدائی راوی کے علاوہ بعض اوقات پوری سند غائب ہوتی ہے۔ عام طور پر چونکہ ”بے اصل“ کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے کہ یہ موضوع کی طرح غیر مستند ہے، اس لیے جب کبھی محدثین کسی معضل کو بے اصل لکھ دیں تو بعض لوگ اس کو موضوع ہی ثابت کرنے پر مصر ہوجاتے ہیں حالانکہ وہ حدیث فی الواقع صرف معضل ہوتی ہے اور محدث محض بے سند ہونے کی وجہ سے اسے بے اصل لکھ رہا ہوتا ہے، جبکہ بعض حضرات کو خود اس محدث کا قول ہی قابلِ اعتراض محسوس ہوتا ہے جو ایک ضعیف اور معضل حدیث کو ”بے اصل“ لکھ کر گویا اسے موضوع کہہ رہا ہے، حالانکہ بے اصل کا مطلب صرف ”بے سند“ اور غیر مستند ہے، ضروری نہیں کہ وہ موضوع یا موضوع کے ہم وزن بھی ہو۔
چنانچہ اس کی ایک مثال موطا امام مالک کی وہ معضل حدیث (رقم۳۳۱) ہے جس کے بارہ میں ابنِ حجر نے ”لا اصل لہ“ (بے اصل) کا لفظ لکھا (فتح الباری۔ جلد۳، صفحہ۱۳۱) اور مولانا زکریا کاندھلوی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ ابنِ حجر ایک ضعیف حدیث کو ”موضوع“ کیوں لکھ رہے ہیں؟ (اوجز المسالک، جلد۱، صفحہ۳۱۷) مذکورہ وضاحت کی روشنی میں واضح ہے کہ مولانا کاندھلوی کا یہ اعتراض درست نہیں اور ابنِ حجر کا اسے ”بے اصل“ کہنا معضل وضعیف ہی کے معنی میں تھا، نہ کہ موضوع کے معنی میں۔
حدیث صرف تدوینِ حدیث کے زمانہ کی معتبر ہے
مذکورہ گفتگو پر یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ اگر آج کے دور میں کوئی آدمی بغیر سند کے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جو کتبِ حدیث میں مذکور نہیں ہے تو کیا اس کا حکم بھی وہی معضل والا ہوگا؟ جواب ہے کہ نہیں کیونکہ ضعیف، معضل، موضوع اور صحیح کے درجے تدوینِ حدیث کے دور میں بیان ہونے والی احادیث سے متعلق ہیں ، اُس دور کا کوئی آدمی اگر حدیث نقل کرے تو دیکھا جائے گا کہ اصولِ حدیث کی رو سے اِس کا کیا درجہ ہے؟تدوینِ حدیث کا یہ دور ابن المرابط کے بقول چوتھی صدی ہجری تک جاری رہا۔ (فتح المغیث۔ جلد۳، صفحہ۳۵۷) البتہ شیخ عبدالفتاح اپنے جلیل القدر استاد عبداللہ بن الصدیق الغماری سے نقل کرتے ہیں (جس کا خلاصہ ہے) کہ ”تدوینِ حدیث کا یہ سلسلہ پانچویں صدی ہجری کے درمیان تک جاری رہا، جوابو نعیم، ابنِ مندہ اور بیہقی کا زمانہ ہے۔ البتہ پانچویں صدی ہجری کے بعد صرف دو کتابیں ان کی نظر میں ایسی ہیں جن کو تدوینِ حدیث کے مجموعوں میں شمار کرنا چاہئے۔ ان میں ایک ابنِ عساکر کی ”تاریخِ دمشق“ ہے اور دوسری ضیاءمقدسی کی کتاب ”المختارة“ ہے۔ ان دو کتابوں میں سند کے ساتھ چند ایسی نئی روایات بھی نقل کی گئی ہیں جو حدیث کے سابقہ مجموعوں میں نظر نہیں آتیں۔اس کے بعد تدوینِ حدیث کا کام اپنے حتمی انجام کو پہنچا۔“ (حاشیة: الاجوبة الفاضلة، صفحہ۱۴۹، ۱۵٠) تو گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تدوینِ حدیث کا کام تکمیل پذیر ہونے تک کا دور تدوینِ حدیث کا دور ہے۔
تدوینِ حدیث کا یہ دور مکمل ہوجانے کے بعد اب ضعیف، معضل اور صحیح کے درجے نہیں ہیں، بلکہ بے سند تو کجا، اگر اب سند کے ساتھ بھی کوئی آدمی کوئی ایسی حدیث بیان کرے جو تدوینِ حدیث کے دور کی کتابوں میں نہیں ہے تو اس کا بس ایک ہی حکم ہے کہ وہ غیر مستند، ناقابلِ استدلال اور ناقابلِ التفات ہے۔ ابن الصلاح کی عبارت کا مفہوم ہے:
”تدوینِ حدیث مکمل ہونے کے بعد چونکہ متاخرین میں راویوں کے احوال کو ضبط کرنے اور ان پر نقد وجرح کرنے کا کام پہلے جیسی شان اور ذمہ داری کے ساتھ باقی نہیں رہا، اس لیے اب تمام تر اعتماد تدوینِ شدہ کتابوں پر ہے، اگر کوئی آدمی سند کے ساتھ کوئی ایسی حدیث نقل کرے جو تدوین شدہ کتابوں میں نہیں ملتی تو باوجود سند کے اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔“ (مقدمہ ابن الصلاح۔ صفحہ۵۸)
ہدایہ کی بے اصل احادیث معضل ہیں یا موضوع؟
الہدایہ کے مصنف علی بن ابی بکر المرغینانی چھٹی صدی ہجری کے آدمی ہیں اور یہ زمانہ تدوینِ حدیث ہی کا آخری زمانہ ہے۔ ۵۱۱ھ میں پیدا ہوکر انہوں نے ۵۹۳ھ میں وفات پائی۔ لہذا ابن الصلاح، ابنِ کثیر اور امام سیوطی کی مذکورہ تصریحات کے مطابق، اب ہدایہ (ودیگر کتبِ فقہ) میں مذکور بے اصل احادیث کی فنی حیثیت کا صحیح تناظر یہی بنتا ہے کہ وہ ”موضوع“ کے ہم پلہ نہیں، بلکہ معضل اور ضعیف ہیں اور محدثین جو ان کے بارہ میں بے اصل کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ بھی اسی معنی میں ہے، خصوصا جبکہ ان احادیث کا ذکر تیسری اور چوتھی صدی میں لکھی گئی کتبِ فقہ کے اندر بھی (خواہ بغیر سندکے) پایا جاتا ہو۔
چنانچہ الہدایہ کی ایسی بہت سی احادیث کہ جن کی تخریج عام طور محدثین نہیں کر پائے، وہ امام محمد وغیرہ کی کتب میں (خواہ بغیر سند کے) موجود ہیں جو کہ الہدایہ سے بھی پہلے لکھی گئی ہیں اور امام محمد توخود راویءحدیث بھی ہیں۔ لہذا ایسی احادیث لامحالہ صرف ضعیف ہی ہوں گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے احادیثِ ہدایہ کے بارہ میں لکھے گئے اپنے تنقیدی نوٹ میں یہ تو کہا ہے کہ صاحبِ ہدایہ ضعیف احادیث سے استدلال کرتے ہیں، مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ موضوع احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں۔
ہدایہ کے جوشیلے معتقد اور شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ
شیخِ محدث کی عبارت یہ ہے:
”در اذہانِ بعض مردم چناں آمدہ کہ مذہبِ امام شافعی موافقِ احادیث است وسلوک طریقہء اقتداء واتباع در مذہبِ ایشان بیشتر است.... وکتابِ ہدایہ کہ در دیار مشہور ومعتبر ترین کتابہا است نیز دریں وہم انداختہ ، چہ مصنفِ وی رحمہ اللہ در اکثر بنائِ کار بر دلیلِ معقول نہادہ و اگر حدیثی آوردہ نزدِ محدثین خالی از ضعفے نہ، غالبا اشتغالِ وقتِ آں استاد در علمِ حدیث کم تر بودہ است،لیکن شرح شیخ ابن الہمام جزاہ اللہ تعالی خیر الجزاءتلافئی آن نمودہ وتحقیقِ کار فرمودہ است“ (شرح سفر السعادة، شیخ عبد الحق محدث دہلوی۔صفحہ ۲۳)
”بعض ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ امام ابوحنیفہ کی نسبت امام شافعی کا مذہب حدیث وسنت سے زیادہ قریب ہے.... کتابِ ہدایہ جو فقہِ حنفی کی شہرہ آفاق اور معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اس نے بھی اس وہم میں ڈال دیا ہے (کہ شاید فقہِ حنفی کی نسبت، فقہِ شافعی حدیث سے زیادہ قریب ہے) کیونکہ اس کے مصنف رحمہ اللہ مسئلہ کو زیادہ تر عقلی دلیل کی بنیاد پر ثابت کرتے ہیں اور اگر کوئی حدیث لے بھی آتے ہیں تو وہ محدثین کے ہاں ضعف سے خالی نہیں ہوتی، غالباعلمِ حدیث سے ان کا تعلق کم رہا تھا، لیکن شیخ ابن الہمام کو اللہ جزائے خیر دے کہ ان کی شرح نے ہدایہ کی اس کمی کی تلافی کردی ہے اور تحقیقِ کار فرمادی ہے۔“
شیخ محقق نے ہدایہ کے بارہ میں جو تاثر لکھا ہے کہ اس کے اسلوبِ دلیل کی وجہ سے بعض لوگ حنفیت کی نسبت شافعیت کو اتباعِ حدیث کے قریب سمجھنے لگ جاتے ہیں، وہ غلط نہیں اور راقم خود ایک عرصہ تک عملا اس تاثر سے مغلوب رہا۔ شیخِ محقق کے اس اقتباس میں برصغیر کے جوشیلے حنفیوں کے لیے بھی سیکھنے کو کافی کچھ ہے جو ہدایہ کے بارہ میں اعتدال پر مبنی کوئی تبصرہ سن کر بر افروختہ ہوجاتے ہیں اور ان کے نزدیک ہدایہ کی تعظیم کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدایہ کو ہر قسم کی انسانی کوتاہی سے معری قرار دے کر اس کی شان میں زمین وآسمان کے قلابے نہ ملائے جائیں اور قرآن کی طرح (خواہ مجازی مفہوم ہی میں سہی) اسے ایک معجزہ نہ قرار دے دیا جائے۔ والی اللہ المشتکی!
آخری بات
ہمارے اس مقالہ کا مقصودِ اصلی ہدایہ کی بے اصل احادیث کو باوقعت ثابت کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کس طرح ہمارے اسلاف اعتدال کے دائرہ میں رہتے ہوئے علمی معاملات کا ضعف وسقم واضح کرلیتے تھے، جبکہ ہم لوگوں کے لیے یہ کام اعتدال کے دائرہ میں رہتے ہوئے کرنا مشکل وقریب از محال ہوچکا ہے۔ اگر کوئی حدیث ضعیف ہے تو اس کو ضعیف کہئے، اگر کوئی موضوع ہے تو اسے موضوع کہئے اور اگر کسی مصنف سے تساہل ہوا ہے تو اس کو تساہل کہئے، اگر حسنِ ظن کے نمبر اسے دیے جاسکتے ہیں تو اسے وہ دیجئے اور خدا را جو بات جس درجہ کی ہے، اسے اسی درجہ میں رکھتے ہوئے اسلاف کے علمی رویوں کی ترجمانی کیجئے۔ ہمارے اس مقالہ کی صدا یہ نہیں کہ بے اصل احادیث قابلِ استدلال ہیں، نہیں ہرگز نہیں! بلکہ یہ کہ ان احادیث کی پوزیشن کو علمی اسلوب میں واضح کیجئے اور مناظرانہ افراط وتفریط سے احتراز کرتے ہوئے خواہ مخواہ رائی کا پہاڑ نہ بنائیے۔
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۵)
محمد عمار خان ناصر
اسلوب عموم اور تخصیص و زیادت
غامدی صاحب، جیسا کہ واضح کیا گیا، امام شافعی کے اس موقف سے متفق ہیں کہ حدیث، قرآن کی صرف تبیین کر سکتی ہے، اس کے حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ البتہ اس اصول کے انطباق اور تفصیل میں ان کا منہج امام شافعی سے مختلف ہے اور یہ اختلاف بظاہر جزوی ہونے کے باوجود نتائج کے اعتبار سے بہت اہم اور بنیادی ہے۔
امام شافعی کے منہج میں قرآن مجید میں اسلوب عموم کو تخصیص پر محمول کرنے کی درج ذیل تین صورتیں جائز مانی جاتی ہیں:
پہلی یہ کہ کلام کے سیاق وسباق سے تخصیص واضح ہو رہی ہو۔
دوسری یہ کہ حکم کی علت اور معنوی اشارات سے تخصیص اخذ کی جا سکتی ہو یا حکم میں اس کا احتمال نمایاں ہو۔
تیسری یہ کہ ایسی کوئی تخصیص حدیث میں بیان ہوئی ہو، چاہے اس کا کوئی ظاہری قرینہ یا اساس خود قرآن کے حکم میں نہ بتائی جا سکے۔
گویا امام شافعی اس اصول کا انطباق ان صورتوں میں بھی کرتے ہیں جہاں کلام کی تخصیص کے قرائن خود کلام کے سیاق وسباق یا اشارات میں موجود ہوں اور ان صورتوں میں بھی جہاں کلام کی تخصیص احادیث میں بیان ہوئی ہو، اگرچہ خود قرآن کے سیاق وسباق میں اس کا کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو۔ غامدی صاحب ان میں سے پہلی دو صورتوں میں حدیث کے ذریعے سے قرآن کی تخصیص کو درست تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے نزدیک کلام کی تبیین ہی کی صورتیں ہیں، جب کہ تیسری صورت کو درست نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ تبیین کے دائرے سے متجاوز اور نسخ وتغییر کے زمرے میں آتی ہے۔
پہلی صورت سے متعلق غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...امام شافعی نے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں قرآن کے خاص وعام سے متعلق فرمایا ہے کہ زبان محتمل المعانی ہوتی ہے۔ اُس کے خاص وعام بھی جب کسی کلام کا جزو بن کر آتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں اُسی معنی کے لیے آئیں جس کے لیے وہ اصلاً وضع کیے گئے ہیں۔ اللہ کی کتاب اس طرح نازل ہوئی ہے کہ اُس میں لفظ عام ہوتا ہے، مگر اُس سے خاص مراد لیا جاتا ہے اور خاص ہوتا ہے، مگر اُس سے عام مرادلیا جاتا ہے۔ لہٰذا نہ خاص کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مدلول کے لیے قطعی ہے اور نہ عام کے بارے میں کہ وہ اپنے تحت تمام افراد پر لازماً دلالت کرے گا۔ ائمۂ اصول کے ایک گروہ کو اِس سے اختلاف ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ اِس معاملے میں امام شافعی کا نقطۂ نظر ہی صحیح ہے، اِس لیے کہ یہ مجرد لفظ نہیں، بلکہ اُس کا موقع استعمال ہے جو سامع یا قاری کو اُس کے مفہوم سے متعلق کسی حتمی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔‘‘ (مقامات ۱۴۱- ۱۴۲)
بعض انطباقی مثالوں کی روشنی میں اس اصول کو واضح کرتے ہوئے غامدی صاحب نے لکھا ہے:
’’...قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں، لیکن سیاق وسباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ اُن سے مراد عام نہیں ہے۔ قرآن ’النَّاس‘ کہتا ہے، لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر، بارہا اِس سے عرب کے سب لوگ بھی اُس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ وہ ’عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہ‘ کی تعبیر اختیار کرتا ہے، لیکن اِس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا۔ وہ ’الْمُشْرِكُوْن‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے، لیکن اِسے سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ وہ ’اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ‘ کے الفاظ لاتا ہے، لیکن اِس سے پورے عالم کے اہل کتاب مراد نہیں ہوتے۔ وہ ’الْاِنْسَان‘ کے لفظ سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے، لیکن اِس سے ساری اولاد آدم کا ذکر مقصود نہیں ہوتا۔ یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح ووضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اِس معاملے میں قرآن کے عرف اور اُس کے سیاق وسباق کی حکومت اُس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے۔‘‘ (میزان ۲۳- ۲۴)
دوسری اور تیسری صورت کے تعلق سے امام شافعی کے ساتھ اپنے اتفاق اور اختلاف کی وضاحت کرتے ہوئے غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’زبان کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر قرآن کے علما ومحققین تقاضا کرتے ہیں کہ متکلم کے منشا تک پہنچنا ہو تو محض ظاہر الفاظ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے باطن کو سمجھ کر حکم لگانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الہٰی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات وتضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ ومعنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم وتبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الہٰی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر وتبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہوگا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم وتبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔
امام شافعی کی اِس بات سے زیادہ سچی بات کیا ہو سکتی ہے! لیکن امام کے استدلال کی کم زوری یہ ہے کہ بیش تر موقعوں پر وہ مبرہن نہیں کر سکے کہ لفظ اور معنی کے جس تعلق کو وہ ’بیان‘سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اُن میں پیدا کس طرح ہوتا ہے؟ چنانچہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی چند ایسی روایتوں پر بھی مطمئن ہو گئے ہیں جنھیں کسی طرح بیان قرار نہیں دیا جا سکتا، دراں حالیکہ اُن کے بارے میں یہ بحث ہو سکتی تھی کہ اُن کے راویوں نے آپ کا مدعا ٹھیک طریقے سے سمجھا اور بیان بھی کیا ہے یا نہیں؟...
ہم نے ’’میزان‘‘ میں کوشش کی ہے کہ امام کے موقف کو پوری طرح مبرہن کر دیں، اِس لیے کہ اصولاً وہ بالکل صحیح ہے۔ … اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ قرآن مجید کے احکام سے متعلق روایتوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ اُس کے الفاظ کا مضمر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریحات سے ظاہر کر دیا ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو اِس سے لفظ کے باطن میں اتر کر اُس کو سمجھنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے، اِسے رد کر دینے یا اِس سے قرآن کے نسخ پر استدلال کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ (مقامات ۱۴۳- ۱۴۵)
ان توضیحات سے، امام شافعی کے نقطۂ نظر سے غامدی صاحب کا اتفاق اور اختلاف بالکل متعین ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ امام شافعی ایسی صورتوں کا امکان، بلکہ وقوع تسلیم کرتے ہیں جن میں خود قرآن میں کسی حکم کی تخصیص کے قرائن واضح نہ ہوں اور تخصیص کو صرف حدیث میں وارد ہونے کی بنا پر قرآن کی مراد قرار دیا جائے۔ غامدی صاحب کے نزدیک اگر ایسی کوئی صورت بالفرض پائی جاتی ہو تو اصولاً اسے تبیین نہیں کہا جا سکتا اور نتیجتاً قبول بھی نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی کوئی صورت عملاً پائی نہیں جاتی اور تمام مستند احادیث کا تعلق قرآن سے تبیین کے اصول پر واضح کیا جا سکتا ہے۔ اس بحث میں غامدی صاحب کا اہم ترین اضافہ یہی ہے اور اس نقطۂ نظر کے تحت انھوں نے سنت میں بیان ہونے والے تمام ایسے احکام کا ماخذ، جنھیں فقہا واصولیین قرآن کی تخصیص یا اس پر زیادت کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، خود قرآن مجید میں متعین کیا ہے۔ یہ ’’میزان‘‘ میں اختیار کردہ علمی منہج کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے اور تمام اعتقادی وفقہی نوعیت کے مباحث میں قرآن کے بیانات کے ساتھ احادیث کے تعلق کو واضح کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔
تاہم غامدی صاحب کے منہج میں تفہیم وتوجیہ کا یہ طریقہ یک طرفہ نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہر مثال میں جہاں حدیث، ظاہر کے لحاظ سے قرآن کے بیان سے متجاوز یا اس کے معارض ہو، وہاں قرآن میں اس کے موید قرائن ودلائل تلاش کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس یہ دو طرفہ تعلق ہے اور جہاں بہت سی مثالوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حدیث میں وارد تبیین یا تخصیص وزیادت کی بنیاد خود قرآن میں موجود ہے، وہاں بہت سی مثالوں میں احادیث کی تفہیم قرآن کے مدعا کی روشنی میں اس طرح کی گئی ہے کہ ان کا تجاوز یا تخالف باقی نہ رہے۔
ذیل میں ہم ’’میزان‘‘ سے ان دونوں نوعیت کی اہم مثالوں کی روشنی میں غامدی صاحب کے منہج کی وضاحت کریں گے۔
قرآن مجید میں تبیین یا تخصیص وزیادت کی اساسات
اس نوعیت کی اہم مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے وضو کرتے ہوئے پاؤں کو دھونا ثابت ہے۔ اس پر بظاہر قرآن مجید کی آیت سے اشکال ہوتا ہے جس میں ’فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَي الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ ‘ (المائدہ ۵: ۶) کے الفاظ آئے ہیں اور ’اَرْجُلَكُمْ‘ کا عطف اس سے بالکل متصل ’ رُءُوْسَكُمْ ‘ پر ہونے سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ پاؤں کا وظیفہ بھی مسح کرنا ہے۔ غامدی صاحب اس ظاہری احتمال کی نفی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’...پاؤں کا حکم، اگرچہ بظاہر خیال ہوتا ہے کہ ’وَامْسَحُوْا‘ کے تحت ہے، لیکن ’اَرْجُلَكُمْ‘ منصوب ہے اور اِس کے بعد ’اِلَي الْكَعْبَيْنِ‘ کے الفاظ ہیں جو پوری قطعیت کے ساتھ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ اِس کا عطف ’اَيْدِيَكُمْ‘ پر ہے، اِس لیے کہ یہ اگر ’بِرُءُ وْسِكُمْ‘ پر ہوتا تو اِس کے ساتھ ’اِلَي الْكَعْبَيْنِ‘ کی قید غیرضروری تھی۔ تیمم میں دیکھ لیجیے کہ جہاں مسح کا حکم دیا گیا ہے، وہاں ’اِلَي الْمَرَافِقِ‘ کی قید اِسی بنا پر ختم کر دی ہے۔ چنانچہ پاؤں لازماً دھوئے جائیں گے۔ آیت میں اِن کا ذکر محض اِس وجہ سے موخر کر دیا گیا ہے کہ وضو میں اعضا کی ترتیب سے متعلق کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو جائے۔‘‘ (البیان ۱/۵۹۹)
یہی نکتہ امام الحرمین الجوینی اور الکیا الہراسی نے بھی پیش کیا ہے (البرہان فی اصول الفقہ ۱/۵۴۹ ۔ الکیا الہراسی، احکام القرآن ۲/۴۱) اور علمی لحاظ سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ عمومی استدلال کی رو سے قرآن مجید کا زیر بحث حکم فی نفسہ ٖصریح نہ ہونے کی وجہ سے محتمل اور قابل تاویل ہے جس کی تفسیر وتفصیل سنت میں کی گئی ہے، جب کہ الجوینی اور غامدی صاحب کے استدلال کے مطابق خود قرآن مجید میں ایک واضح قرینہ موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ ’اَرْجُلَكُمْ ‘ کا تعلق کسی بھی طرح ’وَامْسَحُوْا‘ کے ساتھ نہیں ہو سکتا اور اسے ’فَاغْسِلُوْا‘ سے متعلق ماننا ہی بلاغت کلام کا مقتضی ہے۔
۲۔ وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی روایا ت میں ثابت ہے، تاہم قرآن مجید میں پاؤں کو دھونے کے حکم کے تناظر میں یہ روایات صدر اول میں خاصی بحث و نزاع کا موضوع رہی ہیں۔ خوارج نے ان روایات کو قرآن کے خلاف قرار دیتے ہوئے رد کر دیا، جب کہ فقہاے صحابہ میں سے بعض نے یہ راے اختیار کی کہ یہ طریقہ سورۂ مائدہ کی آیت نازل ہونے کے بعد منسوخ ہو چکا ہے۔ جمہور فقہا نے، البتہ اس رخصت کو قرآن کے حکم کی تبیین کے طور پر، جب کہ فقہاے احناف نے سنت مشہورہ سے قرآن کی تخصیص کی مثال کی حیثیت سے قبول کیا۔
غامدی صاحب قرآن مجید میں اس رخصت کا مبناے استنباط، تیمم کے حکم کو قرار دیتے ہیں اور ان کی راے یہ ہے کہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے اِسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے موزوں اور عمامے پر مسح کیا اور لوگوں کو اجازت دی ہے کہ اگر موزے وضو کر کے پہنے ہوں تو اُن کے مقیم ایک شب وروز اور مسافر تین شب وروز کے لیے موزے اتار کر پاؤں دھونے کے بجاے اُن پر مسح کر سکتے ہیں۔‘‘ (میزان ۲۹۰)
۳۔ سورۂ نساء (۴: ۱۰۱) میں سفر کی حالت میں دشمن کے خوف کی صورت میں نماز کو قصرکرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں حالت خوف کی قید کی معنویت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی اہل علم کی توجہ کا موضوع رہی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رخصت کو حالت خوف تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عام اسفار میں بھی اس رخصت پر عمل فرمایا۔ جمہور فقہا نے عموماً اس قید کی توجیہ یہ کی ہے کہ یہ بطور احتراز نہیں، بلکہ اس واقعاتی تناظر میں آئی ہے جس کا اس آیت کے نزول کے وقت مسلمانوں کو سامنا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اسی بات کو واضح فرمایا ہے کہ حالت خوف کی قید، اس رخصت کو صرف اس حالت تک محدود رکھنے کے لیے نہیں ہے۔
غامدی صاحب نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ ابتداء ً تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رخصت حالت خوف ہی کے تناظر میں دی گئی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیاس واستنباط سے کام لیتے ہوئے اس کی توسیع سفر کے عمومی حالات میں بھی کر دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس استنباط کی توثیق فرما دی۔ لکھتے ہیں:
’’نماز میں کمی کرنے اور اُسے چلتے ہوئے یا سواری پر پڑھ لینے کی یہ رخصتیں یہاں ’اِنْ خِفْتُمْ‘ کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے عام سفروں کی پریشانی، افراتفری اور آپادھاپی کو بھی اِس پر قیاس فرمایا اور اُن میں بالعموم قصر نماز ہی پڑھی ہے۔ اِسی طرح قافلے کو رکنے کی زحمت سے بچانے کے لیے نفل نمازیں بھی سواری پر بیٹھے ہوئے پڑھ لی ہیں۔ سیدنا عمر کا بیان ہے کہ اِس طرح بغیر کسی اندیشے کے نماز قصر کر لینے پر مجھے تعجب ہوا۔ چنانچہ میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی عنایت ہے جو اُس نے تم پر کی ہے، سو اللہ کی اِس عنایت کو قبول کرو۔ … اِس جواب سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس استنباط کی تصویب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہو گئی تھی۔‘‘ (میزان ۳۱۵)
یہی راے اس بحث میں امام طحاوی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت اسی قید کے ساتھ دی تھی، لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرتے ہوئے مطلقاً سفر میں نماز قصر کرنے کی اجازت دے دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے سیدنا عمر سے فرمایا کہ حالت امن میں قصر کرنا اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، اسے قبول کرو(تحفۃ الاخیار ۶/۳۰۴)۔
۴۔ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر سفر کی حالت میں دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے ادا فرمایا۔ غامدی صاحب کی راے میں یہ تخفیف اس رخصت ہی کی ایک توسیع ہے جو قرآن میں حالت سفر میں نماز کی رکعات کو قصر کرنے کے حوالے سے بیان کی گئی ہے، اس رخصت کا قرینہ قرآن مجید میں واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نماز میں تخفیف کی اِس اجازت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے اوقات میں تخفیف کا استنباط بھی کیا ہے اور اِس طرح کے سفروں میں ظہر وعصر، اور مغرب اور عشا کی نمازیں جمع کر کے پڑھائی ہیں۔ … اِس استنباط کا اشارہ خود قرآن میں موجود ہے۔ سورۂ نساء میں یہ حکم جس آیت پر ختم ہوا ہے، اُس میں ’اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا‘ کے الفاظ عربیت کی رو سے تقاضا کرتے ہیں کہ اِن سے پہلے ’اور وقت کی پابندی کرو‘ یا اِس طرح کا کوئی جملہ مقدر سمجھا جائے۔ اِس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوتی ہے کہ قصر کی اجازت کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ نماز کی رکعتوں کے ساتھ اُس کے اوقات میں بھی کمی کرلیں۔ چنانچہ ہدایت کی گئی کہ جب اطمینان میں ہو جاؤ تو پوری نماز پڑھو اور اِس کے لیے مقرر کردہ وقت کی پابندی کرو، اِس لیے کہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔‘‘ (میزان ۳۱۵- ۳۱۶)
یہ استنباط اس پہلو سے دل چسپ ہے کہ حنفی فقہا نے، جو حج میں یوم عرفہ کے علاوہ عام سفر میں جمع بین الصلاتین کے قائل نہیں ہیں، قرآن مجید کے مذکورہ جملے کو ہی اس ممانعت کی دلیل بنایا اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ اوقات کی پابندی قرآن مجید کی صریح نص سے ثابت ہے، اس لیے اخبار آحاد کی بنیاد پر اس میں تخصیص نہیں کی جا سکتی (جصاص، شرح مختصر الطحاوی ۲/ ۱٠۱- ۱٠۲)۔ غامدی صاحب نے ’اِنَّ الصَّلٰوۃ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا‘ کے جملے کو سیاق کلام کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اس کا ایسا محل متعین کیا ہے جس سے یہ جملہ فی نفسہٖ اوقات نماز کی پابندی کا حکم ہونے کے ساتھ ساتھ سیاق کلام میں مضمر اس رخصت پر بھی دال بن جاتا ہے کہ حالت سفر میں نماز کی رکعتوں کے ساتھ ساتھ اس کے اوقات میں بھی قصر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی نادر اور لطیف استنباط ہے جو ہمارے علم کی حد تک تفسیری وفقہی ذخیرے میں اس سے پہلے نہیں ملتا۔
۵۔ قرآن مجید میں نسبی رشتوں کے ساتھ ساتھ رضاعت کے تعلق سے بھی دو رشتوں، یعنی رضاعی ماں اور رضاعی بہن کو نکاح کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے (النساء ۴: ۲۳)۔ قرآن مجید میں انھی دو رشتوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ساتھ رضاعی پھوپھی، رضاعی خالہ، رضاعی بھانجی اور رضاعی بھتیجی وغیرہ کو بھی حرام قرار دیا۔
غامدی صاحب کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد قرآن کے حکم میں کوئی زیادت یا تبدیلی نہیں کرتا، بلکہ اسی علت کی بنیاد پر حکم کی توسیع کرتا ہے جو قرآن کے بیان کردہ دو رشتوں میں پائی جاتی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’...الفاظ وقرائن کی دلالت اور حکم کے عقلی تقاضے جس مفہوم کو آپ سے آپ واضح کر رہے ہوں، اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاتا۔ … رضاعی ماں کے ساتھ رضاعی بہن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ بات اگر رضاعی ماں ہی پر ختم ہو جاتی تو اِس میں بے شک، کسی اضافے کی گنجایش نہ تھی، لیکن رضاعت کا تعلق اگر ساتھ دودھ پینے والی کو بہن بنا دیتا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ رضاعی ماں کے دوسرے رشتوں کو بھی یہ حرمت لازماً حاصل ہو۔ دودھ پینے میں شراکت کسی عورت کو بہن بنا سکتی ہے تو رضاعی ماں کی بہن کو خالہ، اُس کے شوہر کوباپ، شوہر کی بہن کو پھوپھی اور اُس کی پوتی اور نواسی کو بھتیجی اور بھانجی کیوں نہیں بنا سکتی؟ لہٰذا یہ سب رشتے بھی یقیناً حرام ہیں۔ یہ قرآن کا منشا ہے اور ’اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃ‘ کے الفاظ اِس پر اِس طرح دلالت کرتے ہیں کہ قرآن پر تدبر کرنے والے کسی صاحب علم سے اُس کا یہ منشا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے: ...ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔‘‘ (میزان ۴۱۶)
۶۔ قرآن مجید میں حرمت رضاعت کا ذکر کرتے ہوئے مقدار رضاعت کا ذکر نہیں کیا گیا جس سے فقہا کا ایک گروہ یہ اخذ کرتا ہے کہ کم یا زیادہ، کسی بھی مقدار میں بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو دونوں کے مابین حرمت رضاعت متحقق ہو جائے گی اور اسی بنیاد پر وہ مقدار رضاعت کی تحدید بیان کرنے والی روایات کو قرآن کے معارض ہونے کی بنا پر قبول نہیں کرتا۔ غامدی صاحب اس استدلال کو درست نہیں سمجھتے اور اس ضمن میں انھوں نے مولانا امین احسن اصلاحی کا یہ استدلال نقل کیا ہے کہ ’’قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اسے بیان کیا ہے، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں، بلکہ اہتمام کے ساتھ ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اس کا اعتبار ہے۔ اول تو فرمایا ہے: ’’تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے۔‘‘ پھر اس کے لیے ’رضاعت‘ کالفظ استعمال کیا ہے: ’وَاَخَوٰ تُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃ‘۔ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ’ارضاع‘ باب افعال سے ہے جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اسی طرح رضاعت کا لفظ بھی اس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی اس کے منہ میں لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/۲۷۵)
اس استدلال کی روشنی میں غامدی صاحب ان احادیث کو قرآن ہی کے منشا کا بیان قرار دیتے ہیں جن میں حرمت رضاعت کو بچے کے دودھ پینے کی عمر تک محدود قرار دیا گیا ہے اور اتفاقاً ایک دو گھونٹ پی لینے کو حرمت کا موجب تسلیم نہیں کیا گیا، جب کہ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے منہ بولے بیٹے سالم کے واقعے کو، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سالم کی بلوغت کے بعد ابو حذیفہ کی اہلیہ سے ان کا رشتہ رضاعت قائم کرنے کی اجازت دی، ایک استثنائی واقعے پر محمول کرتے ہیں جس میں ابو حذیفہ کے گھرانے میں پیدا ہو جانے والی ایک مخصوص صورت حال کا حل تجویز کرنا مقصود تھا (میزان ۴۱۵)۔
۷۔ قرآن مجید میں دو عورتوں کو بہ یک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت کے ضمن میں صرف دو بہنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ممانعت کے دائرے میں پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو بھی شامل فرمایا ہے جو بظاہر قرآن کے حکم سے متجاوز ہے۔ غامدی صاحب اس توسیع کو بھی حکم کی علت کا تقاضا اور قرآن ہی کے منشا کا بیان قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
’’...قرآن نے ’بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ‘ ہی کہا ہے، لیکن صاف واضح ہے کہ زن وشو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اُسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ ’أن تجمعوا بين الأختين وبين المرأۃ وعمتھا وبين المرأۃ وخالتھا‘۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے، لیکن ’بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ‘ کے بعد یہ الفاظ اُس نے اِس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اِس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اُس کا کوئی طالب علم اِس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔‘‘ (میزان ۴۱۸)
۸۔ بنو اسلم کی خاتون سبیعہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر حاملہ عورت بیوہ ہو جائے تو بچے کی پیدایش کے بعد اس کی عدت مکمل ہو جائے گی، یعنی اسے نئے نکاح کے لیے چار ماہ دس دن پورے ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا (بخاری، رقم ۵۳۱۸)۔ تاہم صحابہ وتابعین کا ایک گروہ، مذکورہ روایت کے برخلاف، ظاہر قرآن کی روشنی میں ایسی صورت میں بیوہ کے لیے دونوں عدتیں گزارنے کا پابند سمجھتا تھا۔
غامدی صاحب واضح کرتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ فرمایا، وہی حکم کی علت کا تقاضا تھا ۔ ان کی راے کے مطابق عدت کی اصل علت استبراء رحم ہے۔ چونکہ بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دینے کی ہدایت کی گئی جس میں شوہر نے اس سے ہم بستری نہ کی ہو، جب کہ بیوہ کے لیے اس طرح کا کوئی ضابطہ بنانا ممکن نہیں، اس لیے قرآن مجید نے احتیاطاً اس کی عدت کی مدت میں، مطلقہ کے مقابلے میں ایک ماہ دس دن کا اضافہ کر دیا ہے۔ جب دونوں صورتوں میں عدت کی علت ایک ہی ہے تو وضع حمل کی صورت میں حکم کا مقصد بھی دونوں صورتوں میں پورا ہو جاتا ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...مطلقہ اور بیوہ کے لیے عدت کا حکم چونکہ ایک ہی مقصد سے دیا گیا ہے، اِس لیے جو مستثنیات اوپر طلاق کی بحث میں بیان ہوئے ہیں، وہ بیوہ کی عدت میں بھی اِسی طرح ملحوظ ہوں گے۔ چنانچہ بیوہ غیر مدخولہ کے لیے کوئی عدت نہیں ہوگی اور حاملہ کی عدت وضع حمل کے بعد ختم ہو جائے گی۔ بخاری اور مسلم، دونوں کی روایت (رقم ۵۳۱۸، ۳۷۲۳) ہے کہ ایک حاملہ خاتون، سبیعہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے یہی فیصلہ فرمایا۔‘‘ (میزان ۴۶۳)
۹۔ قرآن مجید میں بیوہ کی عدت کے احکام بیان کرتے ہوئے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اس سے نکاح کی خواہش رکھنے والے حضرات دوران عدت میں اشارے کنایے میں اپنی خواہش کے ابلاغ سے ہٹ کر تصریحاً اسے نکاح کا پیغام نہ بھیجیں اور اس کے لیے عدت کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔ غامدی صاحب احادیث میں بیوہ کے لیے زیب وزینت اور بناؤ سنگھار کی ممانعت کو قرآن کی اسی ہدایت کی تفریع قرار دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی ہدایت سے ’’یہ بات نکلتی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورت کا رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اگر اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں اس کے لیے عدت گزار رہی ہیں تو سوگ کی کیفیت میں گزاریں اور زیب وزینت کی کوئی چیز استعمال نہ کریں‘‘ (میزان ۴۶۴)۔
۱۰۔قرآن کے عام احکام کی تخصیص کے ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم اصول فقہ کے مباحث میں ایک نمایاں مثال کے طور پر زیر بحث رہا ہے کہ مسلمان، کافر کا اور کافر، مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ غامدی صاحب اس تخصیص کی بنیاد بھی خود قرآن کے حکم میں واضح کرتے ہیں، چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ مرنے والے کی میراث میں رشتہ داروں کو حصہ دار قرار دینا منفعت کے اصول پر مبنی ہے اور مختلف حصہ داروں کے حصوں میں باہمی فرق کا اصول بھی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں اگر کسی خاص صورت میں رشتہ داروں کے مابین منفعت ختم ہو جائے تو اس پر مبنی وراثت کے حکم کو بھی منتفی ہو جانا چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر بحث صورت میں اسی اصول کا اطلاق کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’والدین، اولاد، بھائی بہن، میاں بیوی اور دوسرے اقربا کے تعلق میں یہ منفعت بالطبع موجود ہے اور عام حالات میں یہ اِسی بنا پر بغیر کسی تردد کے وارث ٹھیراے جاتے ہیں۔ لیکن اِن میں سے کوئی اگر اپنے مورث کے لیے منفعت کے بجاے سراسر اذیت بن جائے تو حکم کی یہ علت تقاضا کرتی ہے کہ اُسے وراثت سے محروم قرار دیا جائے۔ یہ استثنا، اگر غور کیجیے تو کہیں باہر سے آ کر اِس حکم میں داخل نہیں ہوا، اِس کی ابتدا ہی سے اِس کے ساتھ لگا ہوا ہے، لہٰذا قرآن کا کوئی عالم اگر اِسے بیان کرتا ہے تو یہ ہرگز کوئی تغیر وتبدل نہیں ہے، بلکہ ٹھیک اُس مدعا کی تعبیر ہے جو قرآن کے الفاظ میں مضمر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی کے پیش نظر جزیرہ نماے عرب کے مشرکین اور یہود ونصاریٰ کے بارے میں فرمایا: … ’’نہ مسلمان اِن میں سے کسی کافر کے وارث ہوں گے اور نہ یہ کافر کسی مسلمان کے۔‘‘‘‘ (میزان ۴۰)
قرب منفعت کے اسی اصول کو غامدی صاحب اس حدیث کا بھی ماخذ قرار دیتے ہیں جس میں ترکے سے بچا ہوا مال مرنے والے کے قریب ترین مرد کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ ’’یہ رہنمائی بھی ضمناً اس آیت سے حاصل ہوتی ہے کہ ترکے کا کچھ حصہ اگر بچا ہوا رہ جائے اور مرنے والے نے کسی کو اس کا وارث نہ بنایا ہو تو اسے بھی ’أقرب نفعًا‘ کو ملنا چاہیے‘‘ (میزان ۵۲۵)۔
۱۱۔ اس ضمن کا ایک اہم مسئلہ حلال او رحرام جانوروں کی تعیین سے متعلق قرآن اور حدیث کے بیانات ہیں۔ فقہا کے سامنے یہ سوال ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات پر حرام چیزوں کو صرف چار میں محصور قرار دیا گیا ہے، یعنی مردار، دم مسفوح، خنزیر کا گوشت اور جس جانور کو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، تاہم احادیث میں ان کے علاوہ بھی بہت سے جانوروں، مثلاً درندوں اور گدھے وغیرہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف توجیہات کا ذکر سابقہ مباحث میں کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے ایک معروف توجیہ یہ ہے کہ شریعت میں حرمت کا دائرہ اصولاً وسیع تر ہے اور اس میں مذکورہ چار چیزوں کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ جہاں تک آیت میں حصر کے اسلوب کا تعلق ہے تو وہ حلت وحرمت کے عمومی تناظر میں وارد نہیں ہوا، بلکہ ایک خاص سیاق میں اختیار کیا گیا ہے اور چار کے علاوہ باقی چیزوں کی اباحت بھی اسی خاص دائرے میں مراد ہے۔ چونکہ یہاں حلت وحرمت کا عمومی دائرہ زیر بحث ہی نہیں، جب کہ احادیث میں جن جانوروں کی حرمت کا ذکر ہے، وہ اس عمومی دائرے سے متعلق ہے، اس لیے یہاں قرآن اور حدیث کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔
غامدی صاحب بھی اصولاً اسی نکتے کی روشنی میں زیر بحث تعارض کی توجیہ کرتے ہیں، البتہ آیت میں جس خاص سیاق میں حصر وارد ہوا ہے، اس کی تعیین میں ان کی راے عام فقہی توجیہ سے کسی قدر مختلف ہے۔ امام شافعی اور دیگر اصولیین آیت کا سیاق اس سوال کو قرار دیتے ہیں جو سورۂ انعام میں مشرکین عرب کی خودساختہ حرمتوں کے حوالے سے زیربحث ہے۔ اس توجیہ کے مطابق مشرکین نے اللہ کے حلال کردہ جانوروں میں سے کچھ کو اپنے مشرکانہ تصورات کے تحت اپنی طرف سے حرام قرار دے رکھا تھا اور قرآن مجید نے اسی تناظر میں مذکورہ آیت میں یہ فرمایا ہے کہ جن جانوروں کو تم حرام سمجھتے ہو، اللہ نے ان کو حرام قرار نہیں دیا اور یہ کہ اللہ کی طرف سے خور ونوش کی حرمت صرف ان چار چیزوں تک محدود ہے۔ گویا یہاں عمومی اور کلی تناظر میں حلت و حرمت زیر بحث نہیں، بلکہ چند خاص جانوروں کے حوالے سے مشرکین کی بدعات کی اصلاح اور اصل شرعی حکم کی وضاحت مقصود ہے۔
غامدی صاحب بھی آیت کے حصر کے ایک مخصوص دائرے سے متعلق قرار دیتے اور قرآن کے دائرۂ خطاب اور احادیث کے دائرۂ خطاب کے فرق کو فطرت اور شریعت کے باہمی فرق کی روشنی میں واضح کرتے ہیں۔ ان کی راے میں خور ونوش میں حلت وحرمت سے متعلق انسانوں کو جو اصول اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے، وہ طیبات اور خبائث میں امتیاز ہے۔ پاکیزہ اور طیب چیزیں انسانوں کے لیے حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھیرائی گئی ہیں اور اس کی تعیین کے لیے دو ذریعوں سے انسان کی رہنمائی کی گئی ہے؛ ایک فطرت اور دوسرا شریعت۔ فطرت کی رہنمائی کی حیثیت اصل اور اساس کی ہے، جب کہ انبیا کے ذریعے سے دی جانے والی شریعت میں اصلاً ان چیزوں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کی حلت یا حرمت کے متعلق صحیح فیصلہ کرنا انسان کے لیے محض اپنی فطرت کی بنیاد پر ممکن نہیں تھا۔ فطری ہدایت اور شرعی ہدایت کے دائرے میں اس فرق کی روشنی میں غامدی صاحب قرآن مجید کی زیر بحث آیا ت کو بیان شریعت قرار دیتے ہیں جہاں صرف مشتبہ چیزوں کی وضاحت مقصود ہے اور گویا جس معاملے میں انسانی عقل اور فطرت حتمی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، اس سے متعلق حکم الہٰی کے طور پر ایک پابندی ان پر لازم کی گئی ہے، جب کہ احادیث میں ان کے علاوہ جن بہت سی چیزوں کی حرمت کا ذکر ہوا ہے، غامدی صاحب اسے بیان فطرت کا عنوان دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ابتداء ً ایک حکم شرعی کے طور پر کوئی نئی حرمت بیان نہیں کی گئی، بلکہ بنی نوع انسان اپنی فطرت کی رو سے جن چیزوں کی نجاست اور خباثت سے عموماً واقف رہے ہیں، انھی کی تاکید وتصویب مقصود ہے۔ یوں دائرۂ خطاب کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے آیت اور احادیث میں باہم کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...انسان کی یہ فطرت بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ اُسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے۔ اُسے معلوم ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گدھ، عقاب، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ گھوڑے، گدھے، دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے بول وبراز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اُس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی اِن جانوروں کی حلت وحرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا، بلکہ صرف یہ بتا کر کہ تمام طیبات حلال اور تمام خبائث حرام ہیں، انسان کو اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ شریعت کا موضوع اِس باب میں صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل وفطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔‘‘ (میزان ۳۶- ۳۷)
مزید لکھتے ہیں:
’’بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اُسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے اِسے بیان فطرت کے بجاے بیان شریعت سمجھا، دراں حالیکہ شریعت کی اُن حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اِس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کہ اِس کی بنیاد پر حدیث سے قرآن کے نسخ یا اُس کے مدعا میں تبدیلی کا کوئی مسئلہ پیدا کیا جائے۔‘‘ (میزان ۳۸)
۱۲۔ حدیث میں مچھلی اور ٹڈی کی حلت کو بیان کرتے ہوئے ’أحلت لنا ميتتان‘ اور جگر اور تلی کی حلت کو واضح کرنے کے لیے ’دمان‘ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو بظاہر قرآن مجید کے عام حکم کی تخصیص دکھائی دیتا ہے جس میں مطلقاً خون اور مردار کو حرام کہا گیا ہے۔ تاہم غامدی صاحب واضح کرتے ہیں کہ مذکورہ حدیث کا قرآن کے ساتھ کوئی تعارض نہیں، کیونکہ قرآن نے ’مَيْتَۃ‘ اور ’دَم‘ کے الفاظ عرفی مفہوم میں استعمال کیے ہیں، جب کہ مچھلی اور ٹڈی کو اس عرفی مفہوم کے لحاظ سے ’مَيْتَۃ‘ نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح جگر اور تلی بھی عرفی مفہوم کے لحاظ سے لفظ ’دَم‘ کا مصداق نہیں سمجھے جاتے۔ چنانچہ قرآن نے جس مفہوم میں ’مَيْتَۃ‘ اور ’دَم‘ کو حرام قرار دیا ہے، حدیث میں مذکور چیزیں چونکہ اس کے دائرۂ اطلاق میں ابتداء ً ہی شامل نہیں، اس لیے حدیث میں ان کی حلت کے بیان کو قرآن کے حکم کی تخصیص نہیں کہا جا سکتا (میزان ۴۱)۔ غامدی صاحب نے یہ نکتہ زمخشری کے حوالے سے واضح کیا ہے، جب کہ شاہ ولی اللہ نے بھی اس حدیث کی تشریح اسی نکتے کی روشنی میں کی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/۴۹۲)۔
۱۳۔ قرآن مجید میں چوری کرنے والے کے لیے قطع ید کی سزا مطلق اسلوب میں بیان کی گئی ہے، تاہم احادیث میں اس کے نفاذ کے لیے کئی قسم کے شرائط اور قیود کا ذکر ملتا ہے۔ جمہور فقہا کے موقف کے مطابق، غامدی صاحب بھی ان تخصیصات کو قبول کرتے ہیں اور انھیں قرآن مجید ہی سے مستنبط قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ ’’عربی زبان کے اسالیب بلاغت سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یہ صفت کے صیغے ہیں جو وقوع فعل میں اہتمام پر دلالت کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کا اطلاق فعل سرقہ کی کسی ایسی ہی نوعیت پر کیا جا سکتا ہے جس کے ارتکاب کو چوری اور جس کے مرتکب کو چور قرار دیا جا سکے‘‘ (میزان ۶۳۰)۔ یوں وہ تمام احادیث قرآن مجید کے اسی مدعا کی توضیح وتبیین کرتی ہیں جن میں معمولی قیمت کی چیز چرانے یا درخت سے بلا اجازت پھل اتار لینے یا بغیر حفاظت کے کسی جگہ پڑا ہوا مال اٹھا لینے یا کسی مجبوری اور اضطرار کی بنا پر چوری کرنے کی صورت میں ہاتھ کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’یہ سب ناشایستہ افعال ہیں اور ان پر اسے تادیب وتنبیہ ہونی چاہیے، لیکن یہ وہ چوری نہیں ہے جس کا حکم ان آیات میں بیان ہوا ہے‘‘ (میزان ۶۳۰)۔
۱۴۔ غامدی صاحب، جمہور فقہا کے مسلک کے مطابق، اس کے قائل ہیں کہ مرنے والے کو ان وارثوں میں سے کسی کے حق میں وصیت کرنے کا حق نہیں جن کے حصے خود قرآن نے متعین کر دیے ہیں۔ اس ضمن میں وہ فقہا کے اس استدلال سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ والدین واقربین کے لیے وصیت کرنے کی جو ہدایت سورۂ بقرہ میں دی گئی تھی، سورۂ نساء میں میراث کا قانون نازل ہو جانے کے بعد وہ منسوخ ہو چکی ہے اور ’’اب کسی مرنے والے کو رشتہ داری کی بنیاد پر اللہ کے ٹھیراے ہوئے وارثوں کے حق میں وصیت کا اختیار باقی نہیں رہا ‘‘ (میزان ۵۲۴)۔ گویا وہ اصولیین کے اس گروہ کی تائید کرتے ہیں جس کے نزدیک ورثا کے لیے حق وصیت کا اصل ناسخ قانون میراث ہے، جب کہ’لا وصيۃ لوارث‘ کی حدیث محض اس کا بیان ہے۔ البتہ غامدی صاحب کا موقف اس پہلو سے جمہور سے مختلف ہے کہ وہ وصیت کی اس ممانعت کو اس صورت میں قابل اطلاق نہیں سمجھتے جب، رشتہ داری کے عمومی تعلق سے ہٹ کر، وارثوں کی کسی خاص ضرورت کے پیش نظر یا ان کی کسی خدمت کے صلے میں مرنے والا ان کو اپنے ترکے میں سے کچھ دینا چاہے (میزان ۵۲۴- ۵۲۵)۔
۱۵۔ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں قرض کے معاملات میں گواہ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو مردوں کو یا اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے۔ حنفی فقہا اس نصاب شہادت کی پابندی کو عدالت کے لیے بھی ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کی روشنی میں ان روایات کو قبول نہیں کرتے جن کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ غامدی صاحب نے اس ضمن میں مذکورہ حدیث کا تو حوالہ نہیں دیا، تاہم آیت میں مذکورہ ہدایت کی نوعیت کے حوالے سے وہ جمہور فقہا کی اس راے سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہاں عدالت کے لیے کسی ضابطے کا بیان مقصود نہیں ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...اِس میں عدالت کو مخاطب کرکے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اِس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اِس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اِس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اِس میں اُنھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اِس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اُس کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے اُن گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل، ثقہ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات ومشاغل کے لحاظ سے اِس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کرسکتے ہوں۔ … اِس کے یہ معنی، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اُسی وقت ثابت ہوگا، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اُس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں۔‘‘ (میزان ۵۱۶)
ہدایت کی اس نوعیت کے حوالے سے جمہور اہل علم کے موقف اور استدلال کو امام ابن قیم نے ’’اعلام الموقعین‘‘ اور ’’الطرق الحکمیۃ‘‘ میں تفصیل سے واضح کیا ہے۔