ستمبر ۲۰۱۹ء

فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہجمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۴)مولانا سمیع اللہ سعدی 
مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور معاصر دنیا کا فہممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مدرسہ ڈسکورسز کا فکری وتہذیبی جائزہمحمد دین جوہر 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۹)محمد عمار خان ناصر 
مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۴)مراد علوی 

فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج

محمد عمار خان ناصر

(زیر طبع کتاب کے دیباچے سے اقتباس)

حدیث وسنت سے متعلق اسلامی فقہی روایت میں جو مباحث پیدا ہوئے، ان کے تناظر میں کسی بھی فقیہ یا فقہی مکتب فکر کے زاویہ نظر کو سمجھنے کے لیے تین بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے:

ایک یہ کہ سنت کی تشریعی حیثیت اور خاص طور پر اخبار آحاد سے متعلق اس کا موقف کیا ہے؟

دوسرا یہ کہ اس مکتب فکر میں اخبار آحاد کی تحقیق وتنقید کے لیے کون سے اصول اور معیارات برتے گئے ہیں؟

اور تیسرا یہ کہ حدیث سے احکام کے استنباط اور ان کی تعبیر وتشریح کے ضمن اس کا منہج کیا ہے اور یہ علمی سرگرمی اس کے ہاں کون سے اصولی تصورات اور کن علمی قواعد کی روشنی میں انجام دی جاتی ہے۔

میری سابقہ کتاب “فقہائے احناف اور فہم حدیث: اصولی مباحث” میں ان تینوں سوالات کے حوالے سے ایک بنیادی سطح پر حنفی اہل علم کے انداز فکر کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بحمد اللہ حنفی منہج کی خصوصیات اور خط وخال کے ابتدائی یا متوسط تعارف کے لیے کافی حد تک کفایت کرتی ہے۔ اسی وجہ سے خیال تھا اور مذکورہ کتاب کے دیباچے میں وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ اگلے مرحلے پر ان اصولوں کی روشنی میں فقہی روایت کے اہم اختلافی مباحث کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا تاکہ اطلاق وانطباق کی سطح پر بھی حنفی فقہاءکا انداز فکر منقح ہو کر سامنے آ سکے۔ یہ کام، جیسا کہ اسی دیباچے میں عرض کیا گیا، کافی حد تک کیا بھی جا چکا ہے اور اسے حتمی شکل دے کر ان شاءاللہ جلد شائع کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی موجود تھا کہ مذکورہ کتاب میں ایک تو کئی اہم اور بنیادی سوالات، مثلاً قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور تعارض کی صور ت میں تطبیق یا ترجیح وغیرہ کے حوالے سے حنفی منہج پر سرے سے کلام ہی نہیں کیا جا سکا اور دوسرے یہ کہ جن اصول وقواعد کا ذکر ہوا ہے، وہ بہرحال تمہیدی اور ابتدائی نوعیت ہی کا ہے جن کی مزید تفصیل کی ضرورت ہے۔

اس تناظر میں جب شیخ زاید اسلامک سنٹر (جامعہ پنجاب، لاہور) میں پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے موضوع کے انتخاب کا مرحلہ پیش آیا تو قدرتی طور پر اسی عنوان کی طرف توجہ مبذول ہو گئی اور اساتذہ کے مشورے اور راہ نمائی سے “فقہ الحدیث میں ائمہ احناف کا اصولی منہج: اہم اختلافی مباحث کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ” کا عنوان تحقیق کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ تین سال کے عرصے میں جناب پروفیسر ڈاکٹر ابو الوفا محمود کی نگرانی میں مقالہ کی تسوید مکمل ہوئی اور بحمد اللہ ۱۵/ فروری ۲٠۱۹ءکو زبانی امتحان کے بعد ۲۲/ فروری کو جامعہ پنجاب کی طرف سے مقالہ نگار کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

زیر نظر کتاب میرے پی ایچ ڈی کے اسی مقالے کے بعض ابواب پر مشتمل ہے جس میں بعض فصول (مثلاً “پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیار کی نوعیت” ، “تشریعی احکام اور امور عادیہ میں امتیاز” اور “حدیث کی تشریح میں صحابہ کے فہم کی حیثیت”) کا اضافہ کیا گیا ہے جو بعض وجوہ سے مقالے میں شامل نہیں کی جا سکی تھیں۔ کتابی صورت میں اشاعت کے لیے مسودے پر تفصیلی نظر ثانی کی گئی ہے اور حسب ضرورت مضامین کی ترتیب نو کے علاوہ ضروری حک واضافہ بھی کیا گیا ہے۔ طوالت نیز موضوعات کے کسی قدر مختلف ہونے کے باعث مقالے کے تمام مباحث کو یکجا شائع کرنا مناسب محسوس نہیں ہوا اور دیگر ابواب کو اپنے موضوع پر مستقل تصانیف کا حصہ بنانا زیادہ مفید معلوم ہوا جو ان شاءاللہ اپنے وقت پر منظر عام پر آجائیں گی۔

موضوع کے انتخاب اور اس کی تحدید وتعیین سے لے کر مقالہ کی تکمیل تک مقالہ نگار کو جن شخصیات اور اساتذہ کی راہ نمائی اور سرپرستی حاصل رہی، ان سب کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر محمد اعجاز اور دیگر اساتذہ (ڈاکٹر محمد عبد اللہ، ڈاکٹر حافظ مفتی عبد الباسط، ڈاکٹر حافظ عبد القیوم اور ڈاکٹر اشتیاق احمد گوندل) نے اس موضوع کے انتخاب کے حوالے سے بھرپور حوصلہ افزائی کی، خاص طور پر ڈاکٹر حافظ محمد عبد اللہ صاحب نے موضوع کی تحدید وتعیین کے ضمن میں قیمتی راہ نمائی کی۔ مقالہ کے نگران جناب پروفیسر ڈاکٹر ابو الوفا محمود نے بڑی محبت اور توجہ سے مقالہ کے مندرجات کو ملاحظہ فرمایا اور اصلاحی تجاویز سے اس کی خامیوں کو کسی قدر کم کرنے میں مدد کی۔ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے بطور خاص اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر پورے مسودے پر ناقدانہ نظر ڈالی اور قابل اصلاح امور کی طرف توجہ دلائی۔ مقالے کے ممتحنین جناب ڈاکٹر خالد عرفان ڈھلوں اور جناب ڈاکٹر محمد اکرم رانا نے مقالے کے علمی معیار پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے مصنف کی علمی حوصلہ افزائی بھی کی اور بعض اہم تجاویز سے بھی نوازا۔ میں ان سب حضرات کا تہہ دل سے ممنون اور ان کے علم وعمل میں برکت کے لیے دعا گو ہوں۔

میں نگران مقالہ جناب ڈاکٹر ابو الوفا محمود اور شیخ زاید اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر محمد اعجاز صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس مقالے کی اشاعت کی اجازت عنایت کی۔ یہاں یہ وضاحت برمحل ہوگی کہ مقالہ کے مندرجات، معروف علمی اصول کے مطابق، مقالہ نگار کے ذاتی نتائج فکر پر مبنی ہیں۔ نگران مقالہ یا شیخ زاید اسلامک سنٹر کے ذمہ داران کا ان سے کلی اتفاق ضروری نہیں اور ان کی طرف سے مقالہ کی اشاعت کی اجازت علمی دنیا کے اسی معروف پر مبنی ہے۔

کتاب محل کے منتظم برادرم محمد فہد دلی شکریے کے حق دار ہیں کہ پورے مقالے کی تسوید کے دوران میں حسب سابق مسلسل اس کی تکمیل کے متعلق دریافت کرتے رہے اور اس کی اشاعت کی پرجوش خواہش کے اظہار سے مصنف کو بھی تحریک دیتے رہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو جن کا اس کتاب کی تکمیل اور اشاعت میں کسی بھی درجے میں اور کسی بھی نوعیت کا کوئی حصہ ہے، اپنی شان کے مطابق بہترین اجر عطا فرمائے اور اسے مصنف کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے۔ آمین۔ مجھے امید ہے کہ اسلامی علمی روایت سے عموماً اور فقہ حنفی سے خصوصاً دلچسپی رکھنے والے اہل علم اس ناچیز کاوش کو کسی قدر فائدہ مند پائیں گے اور یہ، ان مباحث میں سنجیدہ دلچسپی کو کماً وکیفاً بڑھانے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا سکے گی۔ وما توفیقی الا باللہ۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۷۶)   ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا  کا ترجمہ:

قرآن مجید میں سورة المجادلة میں ایک جگہ ظہار کے بیان میں ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا آیا ہے، اور اسی سورت میں ایک دوسری جگہ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُھُوا عَنْہُ  آیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ دونوں باتیں ایک ہی اسلوب کلام میں کہی گئی ہیں، اور اس کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو دونوں کا ایک ہی طرح سے مفہوم سمجھا جائے۔

ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین میں بہت زیادہ اختلاف ہوا ہے، جب کہ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ کا مفہوم متعین کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہوا ہے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ اول الذکر مقام کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین نہ تو دوسرے مقام کا حوالہ دیتے ہیں، اور نہ ہی اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ کا مطلب اگر یہ ہے کہ جس بات سے روکا گیا تھا وہی بات دوبارہ کریں، تو ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا کا صاف مطلب ہے کہ جس بات کو وہ کہتے ہیں، یا کہتے رہے ہیں اسے دوبارہ کہیں۔

دور قدیم میں بعض لوگوں نے دوبارہ کہنے کا بالکل حرفی مفہوم اختیار کیا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اگر کسی نے ایک بار کہا تو اس پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا، اور یہ حکم ہمیشہ دوسری بار کہنے کی صورت میں ہی لاگو ہوگا۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے، اور نہ اس طرح کی تعلیم کی کوئی اور نظیر قرآن مجید میں ہے کہ ایک بار کرنے پر کچھ نہیں اور دوبارہ کرنے پر سزا یا کفارہ۔

 دراصل اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اب تک اس حرکت کا ارتکاب کرتے رہے ہیں، اب وہ اللہ کی طرف سے ممانعت سن کر باز آجائیں، اور اگر اس ممانعت کے بعد بھی انہوں نے ظہار کی وہ بات کہی جو اب تک کہتے رہے ہیں، تو پھر ان پر یہ حکم لاگو ہوگا۔ گویا اس آیت کے نزول کے بعد جو بھی ظہار کا مرتکب ہوگا، وہ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا  کے دائرے میں آجائے گا، اور اس پر مذکورہ کفارہ واجب ہوجائے گا۔ خواہ یہ کہنا پہلی بار ہو یا دوسری بار۔

مفسرین ومترجمین نے زیر نظر جملے کا مفہوم دو طرح سے بیان کیا ہے، ایک یہ کہ ظہار کرنے کے بعد اپنے ظہار سے رجوع کریں، اور دوسرے یہ کہ ظہار کرنے کے بعد اس کام کی طرف پلٹیں جسے انہوں نے ظہار کے ذریعہ خود پر حرام کیا ہے، یعنی بیوی سے تعلق۔ دونوں کا مقصود ایک ہے اور وہ یہ کہ ظہار کا کفارہ اس وقت لازم آتا ہے جب وہ ظہار کرنے کے بعد ظہار سے رجوع کرکے اپنی بیوی سے تعلق بحال کرنا چاہیں۔

اس مشہور رائے میں ایک اشکال تو لفظی ہے اور وہ یہ کہ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا کی ظاہری عبارت سے یہ مفہوم نہیں نکلتا ہے ، اور اس کے لیے پرتکلف تاویلیں کرنی پڑتی ہیں۔ مثلا یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں فعل ارادہ فعل کے معنی میں ہے، یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ یہاں لام عن کے معنی میں ہے، یا یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں لِمَا قَالُوا کا مطلب لما حرموا ہے۔

 جب کہ اگر تاویل کا یہ بلا سبب تکلف نہ کیا جائے، تو مفہوم بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے، یعنی ظہار والی بات کو دوبارہ کہنا۔ ظہار ایک قول ہے، اور یہاں اسی قول کو دوبارہ کہنے کی بات ہے۔

مشہور رائے میں ایک دوسرا معنوی اشکال بھی ہے اور وہ یہ کہ کفارہ تو اصل ظہار والی حرکت پر ہونا چاہیے، نہ کہ ظہار سے رجوع کرنے پر۔ اللہ تعالی نے ظہار سے رجوع کرنے کی مذمت نہیں کی ہے، بلکہ ظہار کرنے ہی کو منکر اور زور قرار دیا ہے، اور اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔اس لیے سزا توہر اس شخص کو ملنی چاہیے جس نے اپنی ماں والے رشتے کی بے حرمتی کی ، نہ کہ صرف اسے سزا ملے جو اس حرکت کو کرنے کے بعد اس سے توبہ کرے اور رجوع کرے۔

اس تمہیدی وضاحت کے بعد ظہار سے متعلق دونوں آیتوں کا معروف ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

الَّذِينَ يُظَاھِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِھِم مَّا ھُنَّ أُمَّھَاتِھِمْ ، إِنْ أُمَّھَاتُھُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَھُمْ ، وَإِنَّھُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ، وَإِنَّ اللَّـہَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ۔ وَالَّذِينَ يُظَاھِرُونَ مِن نِّسَائِھِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَۃٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا، ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِہ ، وَاللَّـہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (المجادلة: 2، 3)

’’ میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے، جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اُس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اِس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔” (سید مودودی)

زیر بحث مقام کے مزید ترجمے ملاحظہ ہوں:

“اور جو ماں کہہ بیٹھیں اپنی عورتوں کو پھر وہی کام چاہیں جس کو کہا ہے۔” (شاہ عبدالقادر)

“اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے ۔” (احمد رضا خان)

“اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں ۔” (فتح محمد جالندھری)

“جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں۔” (محمد جوناگڑھی)

“اور جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔” (اشرف علی تھانوی)

جب کہ مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا حسب ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

“جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے رہے ہیں، پھر وہی بات کہیں۔”

یہ ترجمہ ویسا ہی ہے جیسا ترجمہ درج ذیل آیت کا کیا گیا ہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِينَ نُھُوا عَنِ النَّجْوَی ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُھُوا عَنْہُ۔ (المجادلة: 8)

“کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وہ پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوبارہ کرتے ہیں۔” (محمد جوناگڑھی)

“کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں جس کی ممانعت ہوئی تھی ۔” (احمد رضا خان)

“کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کر دیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا؟” (سید مودودی)

اس آیت کے علاوہ دو مقامات اور ہیں جہاں عاد لام کے صلے کے ساتھ آیا ہے، اور ان دونوں مقامات پر بھی کسی کام کوپھر سے کرنے کا مفہوم ہے۔

وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُھُوا عَنْہُ  (الانعام: 28)

“اور اگر یہ لوٹائے جائیں گے تو وہی کریں گے جس سے روکے گئے۔” (امین احسن اصلاحی)

يَعِظُكُمُ اللَّـہُ أَن تَعُودُوا لِمِثْلِہ أَبَدًا (النور: 17)

“اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو ایسی بات تم سے پھر کبھی صادر نہ ہو۔” (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا حوالوں کے علاوہ مزید یہ بات بھی ہے کہ قرآن مجید میں فعل عاد کا استعمال مختلف صیغوں سے کئی مقامات پر ہوا ہے، اور کہیں بھی کسی کام سے رجوع کرنے کے مفہوم میں نہیں ہے۔

اس مفہوم کی رو سے ظہار کا کفارہ صرف ظہار کے بعد بیوی کی طرف پلٹنے سے واجب نہیں ہوتا ہے، بلکہ ظہار کرنے سے ہی کفارہ واجب ہوجاتا ہے، البتہ اس کی انجام دہی موخر نہیں کی جاسکتی ہے، اس کی انجام دہی جلد ضروری ہے، اس لیے شوہر اور بیوی کے باہمی تعلق سے پہلے اسے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ظہار کی وجہ سے شوہر اور بیوی علیحدہ نہیں ہوجاتے۔ یعنی اگر ظہار کے بعد شوہر مرگیا تو شوہر کے ترکے میں بیوی کا حصہ رہے گا۔

مزید برآں، اس مفہوم کی رو سے اگر ظہار کے بعد کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو بھی ظہار کا کفارہ اس پر واجب رہے گا، اور وہ طلاق دے کر کفارے سے بری الذمہ نہیں ہوجائے گا۔

یہ وضاحت بھی مفید ہوگی کہ ظہار او ر ایلاءکا حکم اس معنی میں ایک ہے کہ ظہار کے بعد عورت ہمیشہ کے لیے معلق نہیں رہے گی، بلکہ اگر چار ماہ کے اندر شوہر نے رجوع نہیں کیا تو وہ اس سے از خود الگ ہوجائے گی۔

البتہ ظہار کی صورت میں شوہر پر وہ کفارہ لازم آئے گا، جو ایلاءکی صورت میں لازم نہیں آئے گا۔

ممکن ہے مفسرین نے یہ مفہوم اس لیے نہیں اختیار کیا ہو کہ کفارہ کے ساتھ من قبل ا#¿ن یتماسا کی شرط لگی ہوئی ہے،( جیسا کہ بعض مفسرین نے ذکر بھی کیا ہے) اور اس کا تعلق تو صرف رجوع کی صورت سے ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفارے کا وجوب تو ظہار ہی کی وجہ سے ہوجاتا ہے، مگر اس کی انجام دہی جلدی ہو، اور ایسا نہ ہو کہ کفارے کی انجام دہی کے بغیر ازدواجی زندگی معمول کے مطابق گزرنے لگے، اس کے لیے یہ شرط لگادی گئی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ کفارہ رجوع کو مشکل بنانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ ظہار کے غلط طریقے پر روک لگانے کے لیے ہے۔

(جاری)

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی

5۔مخطوطات و نسخ

اہل تشیع و اہل سنت کے حدیثی ذخیرے  کے فروق میں سے ایک بڑا فرق  کتب ِحدیث کے مخطوطات و نسخ کی تعداد و قدامت کا فرق ہے ،اہل تشیع کے اکثر  کتب ِحدیث کے  قدیم معتمد نسخ معدوم ہیں ،اسی کمیابی  کی وجہ سے ان میں بڑے پیمانے پر تحریفات بھی ہوئی ہیں ،ذیل میں اس حوالے سے چند جید اہل تشیع محققین و علماء کی آرا ذکر کی جاتی ہیں :

1۔معروف شیعہ پیشوا و معتبر عالم سید علی خامنائی  اہل تشیع کے کتب رجال کے نسخ و مخطوطات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"بناء علی ما ذکر الکثیر من خبراء ھذا الفن ان نسخ کتاب الفہرست کاثر الکتب الرجالیۃ القدیمۃ المعتبرۃ الاخری مثل کتاب الکشی  النجاشی  والبرقی والغضائری  قد ابتلیت جمیعا بالتحریف و التصحیف  ولحقت بھا الاضرار الفادحۃ ،ولم تصل منھا لابناء ھذا العصر نسخۃ صحیحۃ"1

ترجمہ :اس فن کے بہت سے ماہرین نے یہ بات ذکر کی ہے کہ کتاب  فہرست اور دیگر  معتبر کتب رجالیہ جیسے کتاب کشی ،نجاشی ،برقی غضائری میں تحریف و تصحیف ہوچکی ہے ،اور  حفاظت کے نقطہ نظر سے بعض سخت عوارض لاحق ہو چکے ہیں ،اور ہمارے زمانے تک ان کتب کا کوئی صحیح نسخہ نہیں پہنچ سکا ۔

2۔معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ  ،جنہوں نے  شیعہ علم حدیث پر  بہترین کتب لکھی ہیں ، لکھتے ہیں :

"فقدت الامامیہ اعدادا ھائلۃ من الکتب التی سجل علماء التراجم و الرجال والفہارس اسماءھا ،ولم نجد صعودا لھذ الموضوع عند الشیعہ الا فی العصر الصفوی، لان السلطۃ وفرت لھم الامن والامان والدعم المالی الکبیر لاستنساخ کتبھم و ترویجھا بنسخ کبیرۃ و کثیرۃ "2

ترجمہ:امامیہ کے ہاں  کتب رجال ،تراجم ،فہارس  کی بہت بڑی تعداد صفوی دور سے قبل  پردہ خفا میں تھی ،اور صفوی دور میں حکومت ہونے،مالی وسائل ہونے اور امن و امان میں ہونے کی وجہ سے امامیہ کو موقع ملا کہ  وہ اپنی کتب تراث کے بڑے اور کثیر نسخے لکھیں اور انہیں  ترویج دے ۔

شیخ حیدر حب اللہ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ شیعہ کتب تراث کے نسخوں کا اصل زمانہ صفوی دور  (907ھ تا 11035ھ) تھا۔

یہی وجہ ہے کہ کتب اربعہ کے علاوہ  بہت سی کتب شیعہ ایسی ہیں ،جن کا ظہور پہلی مرتبہ صفوی دور سلطنت میں ہوا ،اور شیعہ کی ضخیم کتب  بحار الانوار ،وسائل الشیعہ  وغیرہ صفوی سلطنت کے بعد کی پیداوار ہیں ،شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں :

"نحن نقبل  ان الکثیر من الکتب التی ظھرت نسخھا  فی العصر الصفوی ،ولا نملک طریقا الیھا یصحح نسختھا الواصلۃ الینا الاان تحتاج الی تدقیق، و بعض ھذہ الکتب لم یثبت لہ طریق معتبر"3

ترجمہ:ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ بہت سی ایسی کتب ،جن کے نسخے صفوی دور میں  پردہ ظہور میں آئے ،ہم ایسا کوئی راستہ نہیں پاتے ،جو ہم تک پہنچے اس کتاب کے نسخوں کی تصحیح کر سکیں ،یہ کام  مزید تحقیق و تدقیق کا محتاج ہے ،ان میں سے بعض کتب کا کوئی معتبر  طریق ثابت نہیں ہے ۔

یہاں بجا طو رپر سوال پید اہوتا ہے کہ شیعہ کی آخری تین مراجع حدیث ،وسائل الشیعہ ،بحار الانوار اور مستدرک الوسائل   کا بڑا حصہ انہی کتب پر مبنی ہیں ،جن کا ظہور صفوی دور میں ہوا ،تو یہ مراجع  کیسے معتبر مراجع میں شامل ہیں ؟

3۔شیعہ کی معتبر ترین کتاب کافی کا بھی معتمد نسخہ وہی ہے ،جو صفوی دور میں لکھا گیا ،  خاص طور پر وہ نسخہ جو  صفوی دور کے معروف شیعہ محدث باقر مجلسی کے سامنے پڑھا گیا ،اس نسخے کے علاوہ  صفوی دور کے دیگر  مکمل  مخطوطات کو سامنے رکھ کر کافی کی موجودہ طبعات تیار ہوئی ہیں ، ( صفوی دور میں عالم ِظہور میں آنے والے  نسخوں کا حال ابھی حیدر حب اللہ کی زبانی آپ پڑھ چکے ہیں ) صفوی دور سے پہلے کافی کا مکمل اور تصحیح شدہ نسخہ موجود نہیں ہے،  اگرچہ صفوی دور سے پہلے الکافی کے نامکمل  مخطوطات ہیں ،معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ الکافی پر مخالفین کے اعتراضات کی وجو ہات میں سے ایک اہم وجہ کا ذکر کرتے ہوئے  لکھتے ہیں :

لا نجد لھذا الکتاب نسخۃ قدیمۃ ترقی الی ما قبل القرن السابع الھجری، حتی بحسب اعتراف آخر الطبعات المحققۃ المصححۃ عند الامامیہ، وھی طبعۃ دار الحدیث فی ایران، والتی استقصت نسخہ ولم تعثر فی اقدم النسخ الا علی القرن السابع الھجری فی نسخۃ غیر کاملۃ ایضا "4

 ترجمہ :اس کتاب الکافی کا کوئی ایسا قدیم نسخہ نہیں ہے ،جو ساتویں صدی ہجری سے پہلے کا ہو ،یہاں تک کہ امامیہ کے ہاں  الکافی کی سب سے آخری محقق  و مصحح طبع  دار الحدیث ایران  کے محققین کا بھی یہی اعتراف ہے ،جنہوں نے الکافی کے نسخوں کا  احاطہ کرنے کی کوشش کی  ،تو انہیں الکافی کا ساتویں صدی ہجری سے پہلے کا کوئی قدیم نسخہ نہ مل سکا ،اور ساتویں صدی ہجری کا نسخہ بھی نامکمل نسخہ ہے ۔

 یہی وجہ ہے کہ  الکافی کی سب سے معروف اشاعت ،جو معروف محقق علی اکبر الغفاری کی تحقیق سے شائع ہوئی ہے ،اس میں مخطوطات کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلا نسخہ یوں بیان کیا ہے :

نسخۃ مصححۃ مخطوطۃ فی سنۃ 1067ھ5

مصنف نے تقریبا سات کے قریب مخطوطات ونسخ بیان کئے ہیں ،وہ سب دسویں صدی  کے بعد  یعنی صفوی دور  کے نسخے و مخطوطات ہیں ۔

الکافی کی  یہ سب سے پہلی محقق اشاعت ہے ، حال ہی میں قم  ایران سے الکافی کی ایک محقق اشاعت سامنے آئی ہے ،جو بیس سے زیادہ محققین اور سو کے قریب مخطوطات کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے ،اس اشاعت میں بھی اصل اصیل علی اکبر غفاری کی اشاعت کو قرار دیا گیا ہے ،چنانچہ کتاب کے محققین لکھتے ہیں :

"عاملنا متن الکافی المطبوع بتحقیق المرحوم الغفاری و طبع دار الکتب الاسلامیہ معاملۃ نسخۃ معتبرۃ "6

ترجمہ :ہم نے مرحوم غفاری  کی تحقیق سے طبع شدہ متن کافی کو ایک نسخہ معتبرہ کے طور پر لیا ۔

اس کے برعکس اگر ہم صحیح بخاری کے نسخوں کو دیکھیں ،تو    ان میں انتخاب مشکل ہوجاتا ہے کہ کس نسخہ کا ذکر کیا جائے ؟کیونکہ سب ہی اتقان و صحت میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے ہیں ،بطور ِمثال صرف ایک نسخے کا ذکر کرنا چاہوں گا ،کہ صحیح بخاری کا ایک معروف نسخہ حافظ یونینی کا نسخہ ہے ،یہ نسخہ چار جید محدثین  ابو محمد الاصیلی ،ابو ذر الہروی ،ابو الوقت السجزی ،ابو القاسم ابن عساکر  کے سامنے پڑھے گئے نسخہ جات  کے ساتھ تقابل کر کے تیار کیا گیا ،یہ چاروں حضرات  صحیح بخاری کے معروف رواۃ  سے روایت کرنے والے ہیں ،مثلا ابو ذر الہروی نےصحیح بخاری کے تین براہ راست رواۃ المستملی ،الحموی اور الکھشمیھنی   سے صحیح بخاری کو روایت کیا ہے 7۔یہ صرف ایک نسخہ ہے ،ورنہ صحیح بخاری  کو صرف امام بخاری سے نوے ہزار سے زائد شاگردوں نے براہ راست پڑھا ہے ۔

 معروف شیعہ محقق  شیخ حیدر حب اللہ   الکافی و دیگر کتب حدیث  کے نسخ و مخطوطات کی کمیابی کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"و اذا کان الذین سمعوا من الامام البخاری کما یقول الفربری تسعین الف رجل، وان آخر من سمع من ببغداد حسین المحاملی ،فان عدد الامامیۃ کلھم فی ذلک الزمان قد لایجاوزون عدد من سمع من البخاری من طلاب العلم"8

ترجمہ :فربری کے بقول امام بخاری سے بخاری شریف نوے ہزار شاگردوں نے براہ راست پڑھی ہے ،اور امام بخاری سے آخر میں سما ع کرنے والے حسین محاملی ہیں ،جبکہ اس زمانے میں اہل تشیع کی کل تعداد  صحیح بخاری کا سماع کرنے والوں کے  بمشکل برابر تھی ۔

وجہ جو بھی ہو ، اہلسنت و اہل تشیع کی کتب حدیث کے نسخہ جات و مخطوطات کا جب تقابل کیا جائے تو  اہلسنت کی کتب کے نسخے و مخطوطات   اہل تشیع کی تراث ِحدیث کے نسخہ جات و مخطوطات سے   کئی درجے  زیادہ نظر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ  تراث ِحدیث کی استنادی حیثیت کو ثابت کرنے والے معروف شامی محقق حیدر حب اللہ نے شیعہ تراث حدیث  میں تشکیک کی جن وجوہات پر بحث کی ہے ،ان میں نسخ و مخطوطات کا مسئلہ بھی  اٹھایا ہے۔9

ایک اشکال اور اس کا جواب

اہل تشیع کی تراث حدیث کے مخطوطات و نسخ کی کمیابی چونکہ  شیعہ   ذخیرہ حدیث کو  مشکوک بنانے کے لئے اہم ترین عامل ہے ،اس لئے بعض اہل تشیع اہل علم نے بجواب آن غزل   صحیح بخاری کی قدیم مخطوطات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ،چنانچہ معروف  شیعہ محقق حیدر حب اللہ لکھتے ہیں :

"فلو نظرنا  فی کتاب البخاری الذی اشتغل علیہ اھل السنۃ بشکل ھائل عبر التاریخ، وبلغت مواضع نسخہ فی العالم ما بین نسخۃ کاملۃ واجزاء او قطع زھاء 2327 موضعا، وعلمنا ان مکتبۃ الملک عبد العزیز بالمدینۃ المنورۃ لوحدھا  علی 226 نسخۃ اصلیۃ من  ھذا الکتاب، بعضھا  کاملۃ واخری اجزاء، تعود لفترات  مختلفۃ و علیھا خطوط مشاھیر العلماء، لتوقعنا ان نملک نسخۃ بخط المولف او الذی املی علیہ المولف کالفربری، لکن  اقدم نسخۃ مخطوطۃ فی العالم لھذا لکتاب  ھی علی ما یبدو القطعۃ التی نشرھا المستشرق منجانا فی کمبردج 1936، وقد کتب عام 370 براویۃ المروزی عن الفربری، ای بعد حوالی 115 عاما من وفاۃ البخاری، واما سائر النسخ الھامۃ والمعتمدۃ لھذا الکتاب فتعود الی نسخۃ الحافظ ابی علی الصدفی (514ھ) ونسخۃ الحافظ ابن سعادۃ الاندلسی (566ھ ) و نسخۃ  عبد اللہ بن سالم البصری المکی (1134ھ) وأمثالھا من النسخ والمخطوطات القديمۃ التي يقع اختلاف بينھا وبعضھا ناقص وبعضھا كامل، وھذا ھو حال النسخ في العادۃ، فلا يضرّ أن تتوفرأقدم نسخۃ لكتاب الكافي في القرن السابع الھجري10

ترجمہ : اگر ہم صحیح بخاری کو دیکھیں ،جس کے ساتھ  اہلسنت   کی بڑی تعداد  کا مسلسل  علمی اشتغال رہا ، دنیا میں صحیح بخاری کے کامل ،ناقص ،مخطوطات 2327 کے قریب ہیں ، صرف مکتبۃ الملک عبد العزیز میں اس کتاب کے کامل ناقص 226 مخطوطات ہیں ،جو مختلف زمانوں کے ہیں ،اور ان پر مختلف مشاہیر کے دستخط ہیں ۔ہم یہ توقع رکھتے تھے کہ  ہمیں مولف کا براہ راست مخطوطہ یا مولف نے جن تلامذہ پر کتاب کی املاء کرائی ،جیسے فربری ،ان کا براہ راست مخطوطہ مل جائے گا ،لیکن  اس کتاب کا دنیا میں قدیم ترین نسخہ ،جو ایک مستشرق نے کیمبرج میں نشر کیا ،وہ  امام بخاری کی وفات کے 115 سال بعد کا نسخہ ہے ،جو  370 میں امام مروزی نے فربری سے نقل کیا ،جبکہ باقی نسخوں کا مرجع چھٹی صدی ہجری کے ابو علی صدفی ،چھٹی صدی ہجری کے ابن سعادۃ اور بارہویں صدی ہجری کے ابن سالم المکی  اور دیگر اہل علم کے کامل و ناقص مخطوطات ہیں ، جن میں اختلافات بھی ہیں ،اور نسخوں کا حال یہی ہوتا ہے ،لھذا اگر الکافی کا ساتویں صدی ہجری سے پہلے کوئی نسخہ نہیں ہے ،تو اسے اس کی استنادی حیثیت کو کوئی ضرور لاحق نہیں ہوتا ۔

شیعہ محقق نے صحیح بخاری کے نسخوں پر اعتراض کر کے الکافی  کی مشکوک استنادی حیثیت کو ڈھانپنے کی  کوشش کی ہے ،لیکن علمی میزان میں یہ اعتراض  کوئی خاص وزن نہیں رکھتا ،ہم چند نکات کی شکل میں اس مغالطے کا جواب دیتے ہیں :

1۔اگر اس اعتراض کو جوں کا توں ما نا جائے ،تب بھی صحیح بخاری نسخ و مخطوطات کے حوالے سے الکافی سے کہیں زیادہ فائق نظر آتی ہے ،کیونکہ  صحیح بخاری کا قدیم ترین نسخہ امام بخاری کی وفات کے صرف 115 سال بعد کا ہے ،اور یہ نسخہ بھی کسی غیر معروف ناسخ کا نہیں ،بلکہ ایک معروف محدث امام مروزی نے امام بخاری کے براہ راست شاگرد اور صحیح بخاری کی کتابت کے مرکزی راوی امام فربری سے  نقل کیا ہے ،کیا شیعہ محققین الکافی کا کوئی ایسا نسخہ دکھا سکتے ہیں ، جو امام کلینی کے براہ راست شاگرد  سے نقل کیا گیا ہو ؟یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ  اما م کلینی کے چار سو سال بعد ساتویں صدی ہجری کا جو  نسخہ ہے ،اس کی بھی کوئی سند نہیں ہے کہ ناسخ نے یہ نسخہ کس نسخے سے نقل کیا ،اور منقول  عنہ نسخہ کس درجے کا تھا؟

2۔مخطوطات و نسخ کے محققین جانتے ہیں کہ کسی کتاب کی  استنادی حیثیت کو قوی ثابت کرنے کے لئے  اس کتاب کے مخطوطے کی قدامت زیادہ اہم عامل نہیں ،بلکہ مخطوطے کی سند ،مخطوطے کو لکھنے والا ،اور اس مخطوطے کو کہاں سے لیا گیا ہے ؟یہ عوامل زیادہ اہم ہوتے ہیں ،صحیح بخاری کے جو بھی  اہم نسخے ہیں  ،اس میں  مذکورہ امور کی وضاحت بالتفصیل ہوتی ہے ،اوپر حافظ یونینی کے نسخے کے حوالے سے تفصیل آچکی ہے کہ کس طرح چار جید محدثین کے سامنے پڑھے گئے نسخہ جات  سے نقل کیا گیا ،اور وہ محدثین براہ راست صحیح بخاری کی کتابت والے راویوں سے ناقل ہیں ،اسی طرح ابو علی الصدفی کے جس  نسخے کا ذکر شیعہ محقق نے کیا ہے ،وہ بظاہر تو چھٹی صدی ہجری کا ہے ،لیکن اس  پر جو عبارت لکھی ہے ،اس سے اس مخطوطے کی استنادی حیثیت خوب واضح ہوتی ہے ، اس مخطوطہ پر درجہ ذیل عبارت لکھی ہے:

"کتبہ حسین بن محمد الصدفی من نسخۃ بخط محمد بن علی بن محمود  مقروءۃ  علی ابی ذر رحمہ اللہ وعلیھا خطہ "11

ترجمہ :یہ نسخہ حسین بن محمد صدفی نے محمد بن علی بن محمود کے لکھے گئے نسخے سے نقل کیا ،جو ابو ذر پر پڑھا گیا تھا ،اور ا س نسخے پر ابو ذر کی کتابت بھی ہے ۔

یہ ابو ذر الھروی وہی محدث ہیں ،جنہوں نے صحیح بخاری کے تین معروف رواۃ ،المستملی ، الحموی  اور الکھشمہینی  سے براہ راست  صحیح بخاری  کو نقل کیا ہے ۔

اسی طرح جس نسخے کو شیعہ محقق  امام بخاری کے 115 سال والا نسخہ کہہ کر بظاہر عدم ِ قدامت سے اس کی استنادی حیثیت کو مشکوک بنا رہے ہیں ،یہ  نسخہ  امام مروزی نے براہ راست صحیح بخاری کے کاتب و راوی امام فربری سے نقل کیا ہے ۔

الکافی پر بنیادی اعتراض اس کے مخطوطات کی قدامت کا نہیں ،بلکہ موجود نسخوں کی استنادی حیثیت ،موجود نسخوں کا ماخذ نسخہ اور ان  ماخذ نسخوں  کی مصنف یا مصنف کے براہ راست تلامذہ تک سند متصل   جیسے امور کا فقدان ہے ۔

 شاید  مکمل و معتمد نسخہ جات کے فقدان کی وجہ ہے کہ الکافی کی موجودہ شروحات سب نویں صدی ہجری  (دور صفوی )اور اس کے بعد کے ادورا  کی ہیں ،یعنی ان ادوار کی ہیں ،جب الکافی کے مکمل نسخے منظر عام پر آنا شروع ہوئے  ،الکافی کی کوئی ایسی شرح اب تک سامنے نہیں آئی ہے ،جو موجود ہو اور وہ ساتویں صدی ہجری سے پہلے  لکھی گئی  ہو۔چنانچہ   الکافی کے معروف محقق شیخ عبد المحسن عبد الغفار نے اپنی تفصیلی کتاب "الکلینی و الکافی  " میں الکافی کے ستر کے قریب شروح و حواشی کا ذکر کیا ہے ،ان میں سب سے قدیم ترین شرح (جس کا بھی وجود نہیں ،صرف فہارس کی کتب میں ہے )ساتویں صدی ہجری کے عالم نصیر الدین طوسی کی شرح ہے۔12 باقی سب شروحات و تعلیقات ساتویں صدی کے بعد کے ادوار کی ہیں ۔یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ الکافی کا قدیم ترین  نامکمل نسخہ ساتویں صدی ہجری کا ہے اور اس کی اولین شرح بھی اسی زمانے کی ہے ۔


حواشی

    1. الاصول الاربعۃ فی علم الرجال ،علی خامنائی ،دار الثقلین ،بیروت ،ص50

    2. المدخل الی موسعۃ الحدیث عند الامامیہ ،حیدر حب اللہ ،ص455

    3. ایضا :ص461

    4. ایضا :ص439

    5. الکافی للکلینی ،تحقیق علی اکبر غفاری ،دار الکتب الاسلامیہ طہران ،ج1،ص44

    6. الکافی للکلینی ،تحقیق قسم احیاء التراث ،قم ،ج1،ص120

    7. دیکھیں : مقدمہ ،صحیح بخاری ،دار طوق النجاۃ ، بیروت

    8. المدخل الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص455

    9. دیکھیے :المدخلی الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص 453 تا 460

    10. المدخل الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص454

    11. روایات و نسخ الجامع الصحیح ،محمد بن عبد الکریم بن عبید،دار امام الدعوۃ ،ریاض ،ص43

    12. الکلینی و الکافی ،عبد المحسن عبد الغفار ،موسسۃ النشر الاسلامی ،قم ،ص443

(جاری)

مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور معاصر دنیا کا فہم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(  ۱۸ ۔اگست ۲۰۱۹ء کو پریس کلب ایبٹ آباد میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ پر منعقدہ سیمینار میں گفتگو)


بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سیمینار کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے حضرت سندھیؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے ذوق کے مطابق اظہار خیال کیا ہے اور مجھے بھی چند معروضات آپ حضرات کے گوش گزار کرنی ہیں۔

مولانا سندھیؒ کا بنیادی تعارف یہ ہے کہ وہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے قافلہ کے اہم ترین فرد تھے، شیخ کے معتمد تھے اور بہت سے معاملات میں ان کے ترجمان تھے، ان کے بارے میں گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں جن میں ایک پہلو پر کچھ عرض کروں گا کہ وہ جب کم و بیش ربع صدی کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو انہوں نے اپنی جدوجہد اور تگ و تاز کے کچھ تجربات و مشاہدات بتائے، ان میں سے تین باتیں بطور خاص میری آج کی گفتگو کا عنوان ہوں گی۔

پہلی بات یہ کہ اس سفر میں انہیں بین الاقوامی ماحول اور نظاموں کے مطالعہ اور اقوام عالم کی باہمی کشمکش کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ مولانا سندھیؒ نے افغانستان اور برطانیہ کی جنگ کا مشاہدہ کابل میں بیٹھ کر کیا، روس کے کمیونسٹ انقلاب کو ماسکو میں رہ کر دیکھا، ترک میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور جدید ترکی کے قیام کو استنبول میں رہ کر ملاحظہ کیا، اور برلن میں وقت گزار کر مغربی یورپ اور جرمنی کی کشمکش کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ وہ دنیا کی صورتحال کو ان قوموں کے درمیان رہ کر اور ان لوگوں سے براہ راست مل کر صحیح طور پر سمجھ پائے۔ میں اس حوالہ سے عرض کروں گا کہ بین الاقوامی نظام اور ماحول کو سمجھنے اور اس میں اپنے لیے راستہ نکالنے کے لیے دوسری قوموں کے اہل دانش کے ساتھ اسی طرح ملنے ملانے کی آج بھی ضرورت ہے اور یہ کام ’’لامساس‘‘ کے دائرے میں بند رہتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔

میں اس سے قبل کا ایک حوالہ دینا چاہوں گا کہ یونانی فلسفہ کے فروغ کے دور میں جب اسلامی عقائد و احکام پر عقلی و فکری یلغار ہوئی اور شکوک و شبہات کا طوفان کھڑا کر دیا گیا تو اس کا مقابلہ کرنے والے امام ابوالحسن اشعریؒ، امام ابو منصور ماتریدیؒ اور دیگر ائمہ نے یونانی فلسفہ کو سیکھ کر بلکہ اس پر عبور اور گرفت حاصل کر کے اسی کی زبان میں شکوک و شبہات کا جواب دیتے ہوئے اسلامی عقائد و احکام کا تحفظ کیا تھا، اور انہیں یہ فلسفہ سیکھنے کے لیے انہی سے رجوع کرنا پڑا تھا ورنہ اپنے داخلی ماحول میں محدود رہ کر وہ یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔

اسی طرح مولانا سندھیؒ اور ان کے رفقاء کو اپنے دور کے عالمی نظام اور ماحول کو سمجھنے کے لیے انہی کے ماحول میں جانا پڑا اور سالہا سال وہاں رہ کر انہوں نے اس مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ میں اس کے ثمرات میں سے صرف ایک کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ مولانا سندھیؒ کے دست راست مولانا محمد میاں انصاریؒ جو حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے اور جلاوطنی سمیت اکثر معاملات میں مولانا سندھیؒ کے سرگرم رفیق کار تھے، انہوں نے اپنے علمی مشاہدات و تجربات کے نچوڑ کو دو رسالوں میں سمیٹ دیا ہے۔ ایک رسالے کا نام ’’انواع الدول‘‘ ہے جس میں دنیا کے مختلف حکومتی نظاموں کا تعارف اور تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے، اور دوسرا رسالہ ’’دستور اساسی ملت‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں ایک اسلامی حکومت کے اصول و قوانین کو واضح کیا گیا ہے، یہ دونوں رسالے فارسی میں ہیں۔ اور انہی کے فرزند مولانا حامد الانصاری نے ’’اسلام کا نظام حکومت‘‘ کے نام سے جو ضخیم کتاب لکھی ہے وہ میرے خیال میں ان دو رسالوں کی آزادانہ تشریح کی حیثیت رکھتی ہے۔

حضرت شیخ الہندؒ کے تربیت یافتہ علماء کرام اور اس حلقہ کے ارباب فکر و دانش نے اس دور کے علمی و فکری تقاضوں اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے علم و فکر اور تحقیق و مطالعہ کے محاذ پر اور بھی بہت سے وقیع کام کیے تھے جس میں مذکورہ بالا کتاب کے علاوہ مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ کی تصنیف ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘، مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ کی کتاب ’’اسلام اور غلامی‘‘ اور مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی ’’اسلامی معاشیات‘‘ کے ساتھ ساتھ نظام امن، نظام اخلاقیات، نظام معاشرت اور دیگر عنوانات پر مختلف بزرگوں کی متعدد تصنیفات شامل ہیں۔ مگر یہ علمی و فکری کام اب جاری دکھائی نہیں دیتا اور ہم بزرگوں کی عبارات نقل کر دینے کے سوا خود کوئی کام نہیں کر پا رہے، جبکہ علمی و فکری ہوم ورک کے بغیر کسی تحریک کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں شیخ الہندؒ اور ان کی جماعت کے حوالہ سے کام کی خواہش رکھنے والوں کو سب سے زیادہ اس کی فکر ہونی چاہیے اور آج کے دور کے، علمی، فکری اور تہذیبی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیق و مطالعہ اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ بحال کرنا چاہیے ورنہ وہ محض نعرہ بازی کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔

بہرحال مولانا سندھیؒ کا یہ ارشاد ہم سب کے لیے قابل توجہ ہے کہ وہ عالمی ماحول، مختلف نظاموں اور بین الاقوامی کشمکش کو کابل، ماسکو، برلن، مکہ مکرمہ اور استنبول میں جا کر اور ان سب سے مکالمہ و مباحثہ کے بعد سمجھ پائے تھے، اس لیے ہمیں بھی آج ’’چھوئی موئی‘‘ کے ماحول سے نکل کر موافق و مخالف سب کے پاس جانا ہوگا اور سب سے مکالمہ و مباحثہ کا اہتمام کرنا ہوگا، ورنہ آج کے دور کی ضروریات کا صحیح طور پر ادراک ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا، جبکہ عملی جدوجہد تو اس سے اگلے درجہ میں ہوتی ہے۔

مولانا سندھیؒ کی دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، ان کا یہ ارشاد ہے کہ وہ اس ماحول میں جا کر اور ان لوگوں میں وقت گزار کر اپنا ایمان و یقین محفوظ رکھنے میں اس لیے کامیاب ہو سکے تھے کہ ان کی اپنی علمی اور روحانی اساس مضبوط تھی۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت سے گہری وابستگی، حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ تلمذ و رفاقت کے رشتہ اور بھرچونڈی شریف کی روحانی تربیت نے ان کے لیے حصار کا کام دیا اور وہ اپنے دینی ذوق و ماحول کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔

یہ بات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ عالمی تہذیبی و فکری کشمکش کو سمجھنے اور اس ماحول میں اسلام کے احکام و قوانین کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے جہاں مشترکہ ماحول میں جانا اور وسیع تر مکالمہ و مباحثہ ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا کرنے والوں کی اپنی علمی، دینی اور روحانی اساس مضبوط ہو، کیونکہ کمزور دینی و روحانی تعلیم و تربیت رکھنے والے لوگ تو خود کو اس ماحول کے حوالے کر دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ ذمہ داری ہمارے دینی مدارس اور روحانی خانقاہوں کی ہے کہ وہ دینی تعلیم اور روحانی تربیت کے نظام کو اس حوالہ سے بھی دیکھیں اور اسے اتنا مضبوط بنائیں کہ ان کے پاس چند سال گزار کر کہیں بھی جانے والا شخص وہاں کے ماحول سے منفی اثرات نہ لے۔

حضرت سندھیؒ کی تیسری بات اس سے بھی زیادہ قابل توجہ ہے کہ میں سارے نظاموں اور عالمی کشمکش کے وسیع تر مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مستقبل میں دنیا کے پاس قرآن کریم کے فطری نظام کو اپنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت کے فطری احکام و قوانین سے دنیا کو متعارف کرانے کے لیے امام ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت اور اسلوب کو اختیار کیا جائے جو قرآن فہمی کے لیے آج کے ماحول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس حوالہ سے میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کا مطالعہ ہمیں آج کی سماجی ضروریات اور معاشرتی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا چاہیے، اور محض بزرگوں کی عبارات نقل کرتے چلے جانے کی بجائے ان کے اسلوب اور ان کے قائم کردہ اصولوں کو اختیار کر کے آج کے علمی ماحول اور سماجی تقاضوں کے دائرے میں علمی و تحقیقی کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اور یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ حضرت شیخ الہندؒ اور ان کی جماعت کی علمی و فکری جدوجہد کو بھی پوری صدی گزر چکی ہے اور ایک سو سال کے دوران رونما ہونے والے تغیرات اور جدید تقاضوں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں یہ کام انہی بزرگوں کے اسلوب کے مطابق آج کے ماحول میں کرنا ہوگا اور ان تغیرات اور تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہوگا جو گزشتہ ایک صدی کے دوران رونما ہوئے ہیں۔

اس موقع پر میں ایک اور سوال کا بھی جائزہ لینا چاہتا ہوں جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بعض تفردات کے حوالہ سے سامنے آتا ہے اور ان پر بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ جو شخص بھی علم و فکر اور تحقیق و مطالعہ کے وسیع ماحول میں جائے گا وہ دو چار نئی باتیں ضرور کرے گا، یہ فطری بات ہے، علم ایک سمندر ہے اور سمندر میں جتنی بار بھی غوطہ لگائیں گے کوئی نہ کوئی نئی چیز ضرور ہاتھ آئے گی۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی نئی بات قابل قبول ہوگی اور کونسی رد کر دی جائے گی۔ یہ سوال مجھ سے ایک اور انداز میں کیا گیا تھا کہ تجدید اور تجدد میں کیا فرق ہے؟ کیونکہ نئی باتیں مجدد بھی کرتا ہے اور متجدد بھی کرتا ہے، دونوں میں حد فاصل کیا ہوگی؟ میں نے گزارش کی کہ تفردات تو تحقیق و مطالعہ کا فطری اور لازمی نتیجہ ہوتے ہیں ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، آپ اگر ماضی کے ارباب علم و دانش اور اصحاب فضل و کمال کے تفردات شمار کرنا چاہیں تو تھک جائیں گے مگر ان کا احاطہ نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے تجدید اور تجدد کے فرق کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم ’’ارتقاء‘‘ کے مفہوم کو سمجھیں کیونکہ تجدید فقہی ارتقاء کا نام ہے۔

علم و فن کے کسی بھی شعبہ اور دائرہ میں آپ اب تک ہونے والے کام کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی بنیاد پر کام کو آگے بڑھائیں اور اسی کے تسلسل کو جاری رکھیں تو یہ ارتقاء کہلائے گا۔ لیکن اگر اب تک ہونے والے کام کی نفی کرتے ہوئے الٹی زقند لگا کر زیرو پوائنٹ پر واپس جا کھڑے ہوں گے تو یہ ارتقاء نہیں رجعت قہقرٰی ہوگی، کیونکہ ارتقاء آگے بڑھنے کو کہتے ہیں، ریورس گیئر لگا دینا ارتقاء نہیں ہوتا۔ اسی طرح فقہ و شریعت میں اب تک ہونے والے کام کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کا احترام کرتے ہوئے آج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر آپ اس کے تسلسل کو آگے بڑھائیں تو یہ تجدید کا کام ہوگا، لیکن اگر ماضی کے کام کی نفی اور تحقیر کر کے زیرو پوائنٹ سے کام دوبارہ شروع کرنا چاہیں تو یہ تجدد ہوگا، اس فرق کو سامنے رکھ لیا جائے تو میرے خیال میں تجدید اور تجدد کے درمیان حد بندی کی جا سکتی ہے۔

بہرحال مجھے خوشی ہے کہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے علمی و فکری کام اور حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد کو سمجھنے کی ضرورت نوجوان علماء محسوس کر رہے ہیں جو آج کے دور کا ایک اہم علمی و فکری تقاضہ ہے، اللہ تعالٰی ان علماء کی جدوجہد کو ترقی و برکات اور ثمرات و قبولیت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مدرسہ ڈسکورسز کا فکری وتہذیبی جائزہ

محمد دین جوہر

آج کل مدرسہ ڈسکورسز کا پھر سے چرچا ہے، اور مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں اسے سازش بھی قرار دیا گیا ہے جو مضحکہ خیز ہے، اور صورتحال کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی خطیر فنڈنگ کو موضوع بنا کر بھی کچھ غیرمفید نتائج اخذ کیے گئے۔ فنڈنگ کی بنیاد پر ڈسکورسز کے منتطمین کی نیتوں اور ’خفیہ‘ عزائم پر اشاروں کنایوں سے بات کی گئی۔ چند مذہبی لوگوں نے ’اظہار خیال کی آزادی‘ اور ’فکری مکالمے کی ضرورت‘ کے حوالے سے اپنی کشادہ قلبی اور بے دماغی بھی ارزانی فرمائی۔ ان غیراہم یا کم اہم پہلوؤں پر گفتگو سے مدرسہ ڈسکورسز کے تعلیمی اور علمی منصوبے کا اصل کام اور اس کے مضمرات اور عواقب زیر بحث نہ لائے جا سکے۔ جیسا ظاہر ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز ایک منصوبہ اور واقعہ ہے، اور اس کے مقاصد اور طریقۂ کار مشتہر ہے۔ عصر حاضر کے ’واقعات‘ کی تفہیم ہم جس سطح پر اور جس اسلوب میں سامنے لاتے ہیں، اس سے یہ اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے کہ ہم جدید افکار و نظریات کو سمجھنے اور ان سے تعرض کرنے کی کیا استعداد رکھتے ہیں۔ واقعات کو سازشی تناظر اور افکار کو اخلاقی اسالیب میں زیربحث لانا ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے، اور یہ دو ایسے پٹ بن گئے ہیں جن سے بابِ علم اب مستقل بند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز کو خود اس کے اپنے بیان کردہ مقاصد کے حوالے سے زیربحث لاتے ہوئے بنیادی سوالات اٹھائے جائیں اور بیان کردہ موقف کو رد و قبول کی بنیاد بنایا جائے۔ اس کا سرکاری (آفیشل) بیانیہ اپنی منہج، کلام اور خاموشی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز پر ناقدین کی زیادہ تر گفتگو نہ صرف بے سود ہے بلکہ اس کے مقاصد کی تفہیم میں مانع ہے۔ ذیل میں ہم مدرسہ ڈسکورسز کے اپنے بیان کردہ منصوبے کی حدود میں رہتے ہوئے گفتگو کرنے کی کوشش کریں گے، اور جہاں ضروری ہوا اس پر کسی کام کے تبصرے کو بھی زیر بحث لائیں گے۔

گزارش ہے کہ شکست خوردہ تہذیبوں کا ملبہ لوٹ کا مال ہوتا ہے جس پر صلائے عام مستقل ہوتی ہے۔ ایسے میں پوپ کی طرف سے رواداری کا کوئی مطالباتی بیان ہو، یا سابق فرانسیسی صدر سارکوزی کی طرح کوئی مغربی سیاست دان یا ریاستی عہدیدار قرآن مجید کی تدوین نو کی بات کرے، یا غالب تہذیب کے فنکار و مصور ہماری شخصیات و شعائر کو کارٹونوں میں کھپا دیں، یا مغرب کے اہل دانش اس تمسخر کو ہمارا علم بنا دیں اور ہمارے خانہ ساز اہل علم و دانش اسے ہماری تہذیبی اور مذہبی تقدیر کے طور پر پیش کریں، تو اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ حیرت تو ان پسماندہ ذرائع تفہیم، فکری افلاس، اخلاقی مکاری اور بے حمیتی پر ہوتی ہے جو ایسے مواقع پر ہم سامنے لاتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہر پہلو سے دنیا کے حالات مسلمانوں کے لیے بہت مشکل ہو چکے ہیں۔ ان حالات کے روبرو تہذیبی مزاحمت تو ایک فراموش شدہ آدرش ہے، لیکن محض بات کرنا اور جہاں بات ہو رہی ہے وہاں اپنی بات رکھنا بھی شدید مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورت حال کے لیے صرف مغرب کو الزام دینا درست نہیں۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ مذہبی تناظر میں علمی اور فکری گفتگو حالات میں کسی طرح کی تبدیلی کا باعث نہیں بنتی، اور خود فکری سرگرمی کے جواز کے خاتمے اور مایوسی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہ امر فراموش کر دیا جاتا ہے کہ افکارِ تازہ سے جہان تازہ کی نمود ہے، اور تہذیبی مزاحمت کا پہلا قدم علمی اور فکری ہے۔ افکار، امید کو روشن رکھنے اور امکانِ عمل کو تلاش کرنے اور باقی رکھنے کا واحد اولین ذریعہ ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کا موضوع اور مقاصد

مدرسہ ڈسکورسز کے اغراض و مقاصد اور اس کے علمی و تعلیمی موضوعات اس کے خود بیان کردہ سرنامے کے تحت آتے ہیں، اور جو Contending Modernities ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مدرسہ ڈسکورسز کا منصوبہ گزشتہ دو سو سالہ استعماری تاریخ کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ اس کا شجرۂ نسب یا اس کی genealogy براہ راست استشراقی ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کے تحت میں کی جانے والی علمی سرگرمی کے مقاصد مشتہر ہیں اور ان میں سے زیادہ تر علمی اور تہذیبی نتائج حاصل شدہ ہیں۔ لیکن ان نتائج میں مسئلہ یہ ہے کہ ہر بار ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے اور اس کسر کو پورا کرنے کے لیے خطیر وسائل سے ایسے منصوبے بار بار سامنے لائے جاتے ہیں۔ مسلمان بھی بیچارے بلک بلک کر تھک گئے ہیں، نہ کوئی ان کی سنتا ہے، نہ وہ کسی کی سنتے ہیں، اور سن لیں تو سمجھ کچھ نہیں آتی، اس لیے نالی سے دوائی پلانے کے مدرسہ ڈسکورسز جیسے منصوبوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ چونکہ دوا کی ضرورت پر طبیب ومریض اور ’اہلیان‘ سب کا اتفاق ہے، اس لیے اب ٹھوس نتائج کی امید باندھی جا سکتی ہے۔ ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جدیدیت کے وہ پہلو جو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر فائدہ مند، ضروری اور ’عملی‘ ہیں، وہ بلا چون و چرا فوراً اپنا لیے جاتے ہیں، اور ان کی جواز سازی میں پورا دین بھی کھپائے بیٹھے ہیں۔ جدیدیت کے جن پہلوؤں کو ’غارت گر‘ ایمان سمجھتے ہیں، ان کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ اس کے پیدا کردہ نظری اور فلسفیانہ علوم ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لیے دولے شاہ کی آہنی تراکیب سے ہم تمام دماغی مسائل بھی حل کیے بیٹھے ہیں۔ لیکن نوٹرے ڈیم والے زیرک و مہرباں ایسے ہیں کہ انہیں یہ سب ’راز‘ معلوم ہیں، اور وہ علم کے ساتھ ساتھ ضروری اسباب لے کر اب ادھر ہی اٹھ آئے ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کے منصوبے کا بنیادی نقطہ یا حقیقی دُھرا بطور ورلڈ ویو جدیدیت کے تہذیبی اور علمی مطالبات ہیں۔ جدیدیت کا بنیادی ترین مطالبہ یہ ہے کہ اسے انسانی شعور، تاریخ اور نیچر میں واحد معرف (definer) کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ مذہب اسی نوع کے مطالبے کو اپنے واحد حاملِ حق ہونے کی صورت میں سامنے لاتا ہے، اور اس دعوے کا بنیادی دائرہ انسانی شعور ہے۔ جدیدیت اور مذہب/مذاہب کے مابین کشمکش کا منبع یہی ناقابل تطبیق و ناقابل تسویہ موقف ہے۔ لیکن اگر مذہب اپنے واحد حاملِ حق ہونے کے دعوے سے دستبردار ہو جائے تو جدیدیت سے توافق اور تسویہ ممکن ہے۔ اسلام کے برعکس دنیا کے باقی تمام مذاہب جدیدیت کے روبرو اپنے اساسی موقف سے دستبردار ہو کر اس کے سائبان میں پناہ لے چکے ہیں۔ یہ مقصد عیسائی اور یہودی جدیدیت وغیرہ کے ذریعے حاصل کیا گیا، اور ان مذہبی جدیدیتوں نے استعمار و استشراق کا بھی خوب خوب ہاتھ بٹایا۔ لیکن اسلامی جدیدیت ابھی مکمل نہیں ہو سکی اور یہ ایک جاری منصوبہ ہے، اور اس پر کام کبھی رکتا نہیں ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز اسی منصوبے کی تکمیل کو ایک قدم آگے بڑھاتا ہے۔

اسلام بطور ایک حریف جدیدیت (Contending Modernity)

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ورلڈ ویو اپنے سائبان تلے ایسی بڑی اور جامع تعبیرات کی گنجائش رکھتا ہے جو باہم متضاد، مخاصم اور متصادم ہوں جیسا کہ اسلامی ورلڈ ویو میں شیعہ سنی صورتحال ہے۔ جدیدیت ایک مکمل ورلڈ ویو ہے اور جو ایک تہذیب کا خالق بھی ہے۔ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام اس ورلڈ ویو کے تحت میں پیدا ہونے والے باہم متضاد اور مخاصم مظاہر رہے ہیں۔ اشتراکیت اور سرمایہ داری اپنے وجودی موقف میں ایک ہی ہیں، لیکن تہذیبی مظہر میں باہم متضاد و مخاصم ہیں۔ یعنی اشتراکیت اور سرمایہ داری باہم کل کی کل سے مخاصمت نہیں رکھتے، بلکہ کچھ اساسات پر اتفاق کے بعد تہذیبی مظاہر میں تضاد اور مخاصمت کو سامنے لاتے ہیں۔ عین اسی نکتے کو مدرسہ ڈسکورسز کے منصوبے اور اس کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ نکتہ جو ہم پر منصوبہ بن کر مسلط ہوا ہے، Contending Modernities کا تصور ہے اور جو جناب ابراہیم موسیٰ کی زیر نگرانی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ عیسائیت اور یہودیت کا جدیدیت سے اختلاف کل کا کل سے اختلاف تھا، اور مسیحی جدیدیت اور یہودی جدیدیت کی تشکیل کے بعد یہ کل کا کل سے اختلاف نہ رہا بلکہ جدیدیت کے سائبان تلے ان مذاہب کی حیثیت بھی حریف جدیدیتوں (Contending Modernities) کی ہو گئی۔ یہ مذاہب اپنے واحد حاملِ حق ہونے کے دعوے سے دستبردار ہونے اور جدیدیت کے بنیادی وجودی اور تہذیبی قضایا سے اتفاق کے بعد، اظہارِ اختلاف کو جدیدیت کی شرائط پر سامنے لاتے ہیں۔ ایک کلی ورلڈ ویو اگر ایک Contending Modernity پر فائز المرام ہو جائے تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ کل یہ Consenting Modernity بن جائے گا، اور یہی جدیدیت کی فتح ہے۔ اسلام کے حوالے سے جدیدیت کو کئی ایک مسائل کا سامنا ہے، جو علم اور مغربی سیاست میں معلوم ہیں۔

اگر جناب ابراہیم موسیٰ کی دردمندانہ ’مساعی علمیہ‘ سے اسلام بھی ایک Contending Modernity کا شرف حاصل کر لے تو اسلام کو بھی عیسائیت اور یہودیت کی طرح جدیدیت کا pet (پالتو) بنایا جا سکتا ہے، اور اس کے حاملِ حق ہونے کے دعوے سے رستگاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی ہینڈ بک اسلامی جدیدیت کے لیے جناب ابراہیم موسیٰ کی جن خدمات کا تذکرہ کرتی ہے، ان کا اول و آخر یہی مقصد ہے۔ استعماری جدیدیت کے سائبان تلے اسلامی جدیدیت کا سفر آقائے سرسید کی نگرانی اور رہنمائی میں شروع ہوا تھا اور مدرسہ ڈسکورسز ہماری شکستِ تہذیب کے سفر کا ایک اگلا پڑاؤ ہے۔ لیکن اس پڑاؤ سے منزل نظر آنا شروع ہو گئی ہے کیونکہ اب سائبان امریکی ہے اور علمی، ثقافتی اور تہذیبی وسائل بے پایاں ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کی کبریت احمر یہی اسلامی جدیدیت ہے، اور جس کے حصول کو جناب ابراہیم موسیٰ نے خانہ زاد پیادوں اور سواروں کی بڑی تعداد کے تعاون سے زیادہ منظم اور نتیجہ خیز بنا دیا ہے۔ اسلامی جدیدیت کی تشکیل کے بعد اس کو بھی مسیحی اور یہودی جدیدیتوں کے پہلو بہ پہلو، اور مغربی جدیدیت کے سائبان تلے، حریف (Contending) جدیدیتوں میں شمولیت کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ جدیدیت اور اسلام میں جو حق و باطل کا تضاد و اختلاف ہے، اس کا خاتمہ ایک قابلِ حصول مقصد کے طور پر یقینی ہو جائے گا۔ اس کا سادہ مذہبی مطلب یہ ہے کہ نعوذ باللہ حصرِ حق صرف ہدایت میں نہیں ہے، بلکہ ابوجہل کو ابوالحکم ماننے کے دلائل بھی یکساں مذہبی سچائی رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سے وہ خواب شاید پورا ہو جائے جو مغربی جدیدیت نے دو صدیاں قبل دیکھا تھا، اور جس کے حصول میں ہمارے کئی جدید اساطین بھی بدل و جاں معاون رہے ہیں۔

ڈاکٹر فضل الرحمن کی آمدِ ثانی

مدرسہ ڈسکورسز کی ہینڈ بک کے مطابق جناب ابراہیم موسیٰ کے ساتھ کچھ دیگر احباب بھی ڈاکٹر فضل الرحمٰن سے براہ راست شاگردانہ تعلق رکھتے ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کے علمی ایجنڈے کو دیکھنے کے بعد یہ کہنا قرین انصاف ہے کہ اپنے استاد محترم کی طرح یہ پروفیسر صاحبان بھی عملاً مغربی جدیدیت کو اسلام کا واحد معرف (Sole Definer) بنانے کی تگ و دو میں زندگی کھپائے ہوئے ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز پاکستان میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی فاتحانہ آمدِ ثانی ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن کو اگر اسلامی جدیدیت کا “عالمِ اعظم” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کیونکہ وہ اسلامی جدیدیت کی تشکیل کے منصوبے کی سب سے بڑی علمی شخصیت ہیں۔ اسلامی جدیدیت کے علمبردار دیگر مفکرین کی حیثیت محض بےمغز کودکانِ جدیدیت کی ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز دراصل ڈاکٹر فضل الرحمٰن ہی کی پیش کردہ اسلامی جدیدیت کو مسلم معاشروں میں فروغ دینے اور واحد اسلامی معروف (norm) کے طور پر قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی پوری تعبیرِ دین اسلامی جدیدیت کا نہایت ریڈیکل منصوبہ ہے، اور مدرسہ ڈسکورسز جدید سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی وسائل سے مسلم معاشروں میں عین اسی اسلامی جدیدیت کی normalization کی عملی کاوش ہے۔ مغربی جدیدیت اپنے ’عملی پہلوؤں‘ میں ایک خودکار normalization کا طویل تاریخی پراسیث رہی ہے اور جو بےمثل عالمگیر کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ عملی جدیدیت کے اس غیرمعمولی بہاؤ میں اسلامی جدیدیت کے فکری منصوبے کی کامیابی کے امکانات وقت کےساتھ قوی ہوتے جا رہے ہیں، اور مدرسہ ڈسکورسز کا اگر کوئی ’پیغام‘ ہے تو یہی ہے۔

اس میں یہ دیکھنا اہم ہے کہ جب ڈاکٹر فضل الرحمٰن اپنی زندگی میں اسلامی جدیدیت کا منصوبہ لے کر اس کے نفوذ و نفاذ کے لیے پاکستان تشریف لائے تھے تو مزاحمت کی نوعیت کیا تھی، اور اب کیا صورت حال ہے؟ اس سے کم از کم دو نتائج ضرور اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ روایت کو سربلند رکھنے اور مغربی جدیدیت کے زیر سایہ پیدا شدہ اسلامی جدیدیت کو چیلنج کرنے والی مذہبی قوتیں فی زمانہ قریب المرگ ہیں۔ گزشتہ صدیوں میں جدیدیت کے روبرو ہمارے علما نے جو جعلی علمی موقف اختیار کیے رکھے وہ اب گوالے کے ملاوٹی پانی کی طرح سیلاب کے ساتھ ہیں یا خس و خاشاک ہیں۔ فی الوقت ہمارے مذہبی علما کا اخلاقی دامن اور علمی ذہن دونوں خالی ہیں، اور انہیں آرام کا مشورہ دینا چاہیے اور دیندار نوجوانوں کو جانکاہ محنت کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ اب مسلم ذہن اسلامی جدیدیت کو تقدیری سمجھ کر اس کے آگے سپرانداز ہو چکا ہے، اور ترکِ اسلام کے علمی اسالیب سے سمجھوتہ کر چکا ہے۔ روایتی مذہبی حلقوں کی طرف سے مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں جس طرح کے خیالات کا اظہار کیا گیا وہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ شرمناک ذہنی پسماندگی اور علمی فلاکت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اقبالؒ نے تو تہذیبی ’مے خانوں‘ کے بند ہونے کا نوحہ کیا تھا، اب ایسا لگتا ہے کہ ان ’مے خانوں‘ کی کوئی اینٹ بھی باقی نہیں رہی۔

روایت اور تاریخ

وٹگنسٹائن کے منشورِ فکر کے تتبع میں مدرسہ ڈسکورسز کی طرف سے روایت کو متفرق، سب رنگ اور مکسر ریشوں سے بنی رسی قرار دینا اس وقت آسان ہو جاتا ہے جب یہ گردن پہ لپٹ چکی ہو اور اس سے گلو خلاصی کے لیے استعماری سرجری ضروری ہو گئی ہو۔ اللہ کی رسی ہاتھ سے چھوٹ جائے تو روایت ایناکونڈا (Anaconda) بن جاتی ہے، اور مدرسہ ڈسکورسز جیسے منصوبے اس سے رستگاری کے لیے SOS کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز بنیادی طور پر تاریخ کی شرائط پر ہدایت میں قطع و برید کا منصوبہ ہے۔ ’تاریخ کی شرائط‘ سے مراد تاریخیت Historicism ہے، اور یہ نظریہ سماجی سائنسز کی بنیاد پر نہ صرف اصالتِ دین کا قطعی مختلف ادراک رکھتا ہے، بلکہ عصر حاضر میں اس کی معنویت و اطلاق کو بھی جڑبنیاد میں تبدیل کر دیتا ہے۔ تاریخیت کو علمی اصول مان لینے کے بعد دین کو ماننا محض تکلف ہے۔ یاد رہے کہ تاریخیت کا مطلب تاریخ میں ہرلحظہ ظاہر ہونے والی تبدیلی نہیں ہے یا مطالعہ تاریخ میں دلچسپی نہیں ہے جس کی طرف مدرسہ ڈسکورسز کے کچھ شرکا نے اشارہ کیا ہے، بلکہ یہ ایک علمی اور تعبیری اصول ہے، جس کو دیکھنا ضروری ہے۔ بہت مختصراً عرض ہے کہ تاریخ کے بارے میں بست (closed) و کشاد (open) کے دو بنیادی موقف ہیں۔ مذہبی آدمی عقیدے کی بنا پر ماورا کا ایسا دھیان رکھتا ہے کہ وہ بستِ تاریخ کو قبول نہیں کر سکتا۔ مغرب میں مذہب کی ہزیمت کے بعد عینیت پسندی کے نظریات اور جدیدیت کے مہا بیانیوں نے کشادِ تاریخ کے تصورات کو زندہ رکھنے کی کوشش کی، لیکن بیسیوں صدی کے آغاز تک وہ متزلزل ہو گئے اور اسی صدی کے اواخر تک مابعد جدیدیت کی طرف سے کشادِ تاریخ کے تصور کو باقی رکھنا ممکن نہ رہا۔ مذہب/ وحی کے انکار کے بعد تاریخ اور معاشرے کے بارے میں grand theories کشادِ تاریخ کو باقی رکھنے کی ناکام کوششیں رہی ہیں۔ ایسی تاریخ کا تصور جو کسی جانب کوئی روزن نہیں رکھتی، خود مختار عقل اور اس کے حامل انسان کی فطری تقدیر ہے۔ تاریخیت historicism کے تمام تصورات post-metaphysical history کے ادراک سے پیدا ہوئے ہیں، اور جو اصلاً بستِ تاریخ ہے۔ بستِ تاریخ کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ سے ماورا کوئی آئیڈیا، حقیقت یا ہستی ایسی نہیں ہے جو تاریخ اور اس میں محبوس انسان سے متعلق ہو یا اس پر اثر انداز ہو سکتی ہو۔ اگر بستِ تاریخ کو قبول کر لیا جائے، تو انسان اور دنیا کو دیکھنے کا انداز بدیہی طور پر بدل جاتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ عینیت پسند نظریات اور جدیدیت کے مہا بیانیے بستِ تاریخ کے تسلط اور شعور کے انہدام کے روبرو مزاحمت کی غیرمعمولی داستان ہے جو مغربی انسان نے رقم کی ہے۔ مہا بیانیوں کا خاتمہ اصلاً بستِ تاریخ کی آمد کا اعلان ہے، یعنی post-metaphysical history کی آمد کا منظر ہے۔ بستِ تاریخ (history as closed entity) کا تصور غیر عقلی، ارادی اور وجودی ہے، اور فی زمانہ اسے ایک اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ سادہ لفظوں میں اس کا مطلب انسانی شعور کا حتمی انہدام اور عمل کا کلی غلبہ ہے۔ انسانی شعور کے انہدام کے ساتھ ہی عینیت پسندی کے نظریات اور مہابیانیے سب غیر اہم ہو جاتے ہیں، اور مابعد جدیدیت اسی صورت حال کو ظاہر کرتی ہے۔ بستِ تاریخ کا تصور مذہبی عقیدے سے براہ راست متصادم اور historicism کی بنیاد ہے۔ اسلامی جدیدیت، historicism (تاریخیت) کو قبول کیے بغیر ممکن نہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کے حاملین پر تاریخیت کے غلبے کی وجہ سے یہ بعید نہیں کہ چند سالوں تک “ابو الحکم کے اسلامی کارنامے” جیسے ماڈیولز (modules) بھی اسلامی جدیدیت کے بنیادی نصاب کے طور پر متعارف کرا دیے جائیں۔ العیاذ باللہ۔ یہ امر کہ ہیومن کنڈیشن یا احوالِ ہستی مستقل ہیں، اور تاریخ مسلسل بدل رہی ہے، دو مختلف چیزیں ہیں۔ انسانی معاشرے اور تاریخ میں تبدیلی کا انکار غیر انسانی ہے اور اس کے شعور پر مترتب اثرات سے انکار ہٹ دھرمی ہے۔ لیکن تاریخ کو انسانی ہستی کے اصل الاصول کے طور پر قبول یا تسلیم کرنا مذہبی عقیدے کی نفی ہے۔ اسلامی جدیدیت تاریخ کے بارے میں بنیادی ادراک کی تبدیلی کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ ہدایت راکب ایام ہے مرکب ایام نہیں۔ اگر تاریخ کو ہدایت کی تعبیر میں اصل الاصول کے طور پر تسلیم کر لیا جائے تو معاشرے سے مذہب کا خاتمہ ایک یقینی ہدف کے طور پر زیرعمل لایا جا سکتا ہے، اور جدیدیت کے انسانی زندگی کے واحد معرف بن جانے کے حقیقی امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جناب ابراہیم موسیٰ اور دیگر متجددین تاریخ کی پیدا کردہ تبدیلیوں کو اصل الاصول قرار دے کر مذہب کے تعبیری مؤثرات میں مرکزی جگہ دے چکے ہیں، اگرچہ ہینڈبک میں اس کی سریں ابھی دھیمی ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کا توشۂ سوالات اور کشکولِ جوابات

زیرِ جدیدیت انسانی تاریخ میں غیر معمولی علم کا ظہور اور غیر معمولی واقعاتی تبدیلیاں ایک بدیہی امر ہے۔ ان جدید مظاہر کی درست یا جائز تفہیم کی عدم فراہمی اور ہدایت سے ان کی نسبتوں میں فکری خلفشار کی وجہ سے ہمیں موجودہ صورتحال کا سامنا ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی ہینڈ بک میں دیے گئے سوالات اسلامی جدیدیت کی تہہ میں پوری قوت سے کارفرما تاریخیت زدہ شعور کے عکاس ہیں۔ یہ شعور مکمل طور پر کولونائزڈ (مستعمَر) ہے اور جدیدیت کے پیدا کردہ افکار و احوال اور اس کی پیداکردہ دنیا پر سوال اٹھانے کی کوئی انسانی استعداد، فکری صلاحیت اور اخلاقی حمیت نہیں رکھتا۔ مدرسہ ڈسکورسز میں سرمائے اور طاقت کی حرکیات چونکہ فیصلہ کن عامل کے طور پر داخل ہے، اس لیے سوالوں کی لوکال (locale) کٹہرا ہے اور ان کی نوعیت تفتیشی ہے۔ سوالات صرف اسلام پر، دینی روایت پر اور مسلم معاشروں کے بچے کچے اداروں پر اٹھائے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات صرف جدیدیت کے تناظر اور اس کے پیدا کردہ فکری وسائل میں رہتے ہوئے دیے جا سکتے ہیں۔ یعنی “اسلام کا محاسبہ اور یورپ سے درگزر” کوئی شاعرانہ بات نہیں، جدید مغربی جامعات کا علمی طریقہ کار اور مدرسہ ڈسکورسز کی اساسی منہج ہے۔ اسلامی جدیدیت، استشراق کی دروں کاری ہے، اور اس کے سوالات کی نوعیت علمی سے زیادہ ہمیشہ تفتیشی رہی ہے۔ سوالات کی تفتیشی نوعیت ہی کی وجہ سے apologetica پیدا ہوتی ہے، جو محکوموں کے علمی ڈسکورس کا نام ہے۔ apologetica سیاسی غلبے کی صورت حال میں، اس غلبے کی شرائط پر محکوم معاشرے کے علم کی تشکیل نو ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز اصلاً انہیں معذرت خواہانہ علوم کو ہمارے اصل علوم کے طور پر پیش کرنے کے نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ اس کام کے لیے ڈاکٹر فضل الرحمٰن سے بہتر بھلا کون آدمی ہو سکتا ہے؟ وہ اس پورے منصوبے کے patron saint ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کی ہینڈبک میں سوالات کی تین فہرستیں دی گئی ہیں جن کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان سوالات کی حیثیت ’امتحانی‘ تیاری کا منہج متعین کرنے جیسی ہے۔ ایک فہرست ’مرکزی‘ سوالات کی ہے، دوسری سائنسی سوالات کی ہے، اور بیچارے علم الکلام پر صرف ایک ہی سوال ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان سوالات کی اہمیت سے انکار نہیں، اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ وہی سوالات ہیں جو استعماری جدیدیت کی آمد کے بعد سے اسلامی روایت اور تہذیب پر مسلسل اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان سوالات کے اہم، بنیادی اور جواب طلب ہونے سے انکار ہٹ دھرمی ہو گی۔ لیکن ان سوالات کے تہذیبی سیاق و سباق کو منہا کرنا استشراقی تتبع میں مدرسہ ڈسکورسز کی بنیادی پالیسی ہے۔ ان سوالات کو دیکھ کر یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی حیثیت ٹانگے میں جتے گھوڑے کی آنکھوں پر چڑھے نیم کھوپوں جیسی ہے جو گھوڑے کے احاطۂ بصارت (field of vision) اور مقصدِ بصارت کو متعین کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ گھوڑے کی بصارت کام نہیں کر رہی، اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی بصارت پورا کام کر رہی ہے۔ ان نیم کھوپوں کا مقصد یہ ہے کہ گھوڑے کی بصارت اس کے اپنے لیے نہیں بلکہ تانگے کے لیے کام کرے۔ مدرسہ ڈسکورسز کے شرکا کے تجرباتی مکشوفات پڑھ کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ محدد بصارت کیسے کام کرتی ہے، اور نوٹرے ڈیم والوں کی بصیرت کس قدر گہری ہے۔ ڈسکورس کا مطلب حریت شعور میں کی گئی علمی سرگرمی نہیں ہوتا۔ ڈسکورس کا مطلب طاقت اور سرمائے کی تحدیدات اور اہداف پر کی گئی علمی سرگرمی ہے۔ ڈسکورس اصلاً ایسے ہی مبحث اور مکالمے کا نام ہے جو سیاسی طاقت کی فوری ضروریات کے تحت، اسی کے معاشی وسائل سے، اسی کے طے کردہ یک طرفہ تفتیشی سوالات پر، اسی کی زیر نگاہ واقع ہوتا ہے اور شام کو رپورٹ داخل کرانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جناب ابراہیم موسیٰ نے جو رپورٹ داخل کرائی ہے، وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ لیکن کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ جناب ابراہیم موسیٰ کے لیے رپورٹ داخل کرانا کیوں ضروری ہے؟ اس لیے کہ علم ’دفتری‘ کام بن جائے تو رپورٹ داخل کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ’دفتر‘ جدید طاقت کی تشکیل ہی کا ایک نام ہے، اور ہر ’دفتری‘ چیز طاقت اور سرمائے کی حرکیات کا حصہ ہوتی ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز کے سوالات جس تہذیبی interface پر اٹھائے گئے ہیں، اس پر دو امور پہلے سے طے شدہ ہیں۔ ایک یہ کہ سوالات کی نوعیت ایسی ہو جو مباحث یا ڈسکورسز میں ڈھلتے ہی طالب علم کی انفرادی، فکری اور تہذیبی صورت حال کی normalization کو ممکن بنا دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مغربی تہذیب، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو متداول اور غالب فکری موقف رکھتی ہے، اس کو علمی طور پر نہ صرف مسلمانوں کے لیے قابل قبول بنا دیا جائے اور اسلام کی تعبیر میں بھی فیصلہ کن عامل کی حیثیت دے دی جائے، بلکہ مسلمان اسے واحد علم سمجھ کر اس کے فروغ کا کام بھی اپنے ذمہ لے لیں۔ دوم یہ کہ سوالات کی نوعیت ایسی ہو جس میں جدیدیت کی حیثیت normative ہو، اور وہ خود مرکزی تو خیر کیا، ضمنی سوالات کا موضوع بھی نہ ہو۔ چونکہ مقصود اسلامی جدیدیت کی تشکیل ہے، اس لیے جدیدیت کو علمی معروف اور حق کا معرف تسلیم کرنے کے بعد سوالات اسلام پر ہی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ غلبے کا مطلب یہ ہے کہ جدیدیت، عمل میں مستحکم ہے لیکن غلبے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جدیدیت اپنے عملی استحکام کی طرح کوئی فکری استحکام بھی رکھتی ہے۔ جدیدیت اور اس کی پیدا کردہ تہذیب پر سوالات کو مدرسہ ڈسکورسز میں شامل نہ کرنا ایجنڈے کے تحت ہے۔ اس صورت حال کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے متجددین کے ہاتھوں میں اب کوئی کشکول بھی نہیں رہا تھا، اس لیے “مدرسہ ڈسکورسز”  کا درآمد شدہ کشکول بھی ان کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا ہے۔

جدیدیت اور اسلام: چند گزارشات

مدرسہ ڈسکورسز کے تہذیبی پس منظر کے حوالے سے ایک دو باتیں عرض کرنا ضروری ہے۔ گزارش ہے کہ ہمارے لیے اٹھارھویں صدی کایاکلپ کی صدی ہے جس میں زوال، تہذیبی خلفشار اور استعمار نے مسلم معاشروں کو اپنی گرفت میں لینا شروع کیا۔ یہ ایک طویل عمل تھا جس کے بیسیوں پہلوؤں کو دیکھنا ضروری ہے، لیکن اس میں تین پہلو زیادہ اہم ہیں:

(الف) مخاصمانہ بدلتے ہوئے حالات کے دباؤ میں دینی روایت اور ہدایت کی معنویت ازسر نو “سمجھنے” کا آغاز ہوا، اور اس میں داخلی اور خارجی دونوں طرح کے اہلِ علم شامل تھے۔ داخلی طور پر اس سرگرمی کے سب سے بڑے اور اولین نمائندے حضرت شاہ ولی اللہؒ ہیں۔ دین کو “سمجھنے” کی علمی سرگرمی کا فوری نتیجہ ہمارے ہاں حنفی وہابی کے شدید مناقشے کی صورت میں سامنے آیا، اور سنہ ۱۸۵۷۸ء کی جنگ آزادی کے بعد دین کو “سمجھنے” کا عمل مناقشے اور فرقہ واریت کا ایک مستقل سیلاب بن کر مسلم شعور اور معاشرے پر مسلط ہو گیا۔ انیسیویں صدی کے اوائل سے اہلِ استعمار بھی استشراق اور دیگر کئی عنوانات سے اس سرگرمی میں شریک ہو گئے۔ اس داخلی اور خارجی علمی سرگرمی کا بنیادی سوال یہ تھا کہ “اسلام کیا ہے؟” مسلم معاشرہ “سمجھنے” کے کام میں ایسا جتا کہ ہدایت کی بدیہی معلومیت اور اس کے دوٹوک مطالبات طاق نسیاں میں پڑے گرد ہو گئے۔ “سمجھنے” کے عمل نے دینی اور دنیوی طور پر ہمیں جہاں پہنچا دیا ہے اب تو ہمیں اس کی بھی کوئی “سمجھ” نہیں آتی۔ ہماری موجودہ صورت حال میں گزشتہ دو سو سالہ حاصلاتِ فہم کا براہ راست دخل ہے، اور یہ عجیب تر ہے کہ ہم شرمندہ ہونے کی بجائے ان پر فخر کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ “سمجھنے (understanding) ” کی سرگرمی میں فیصلہ کن عامل تاریخ ہوتی ہے، اور “سمجھنے” کے عمل میں ماورائے تاریخ کوئی عنصر باقی نہیں رہ سکتا۔ “سمجھنے” کی سرگرمی ایمانی محتویات کو historicize اور positivize کرنے اور انسانی شعور کی شرائطِ تاریخ پر تشکیل کا نام ہے۔ ہمارے ہاں “سمجھنے” کی سرگرمی زیادہ تر ایمانیات اور سیاسیات کے دو موضوعات پر مرتکز رہی ہے۔ داخلی اور خارجی طور پر “سمجھنے” کی اس سرگرمی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سوائے عبادات کے کسی بھی شعبے میں اسلام کی کوئی تہذیبی معنویت باقی نہیں رہی، اور یہ ایک ذاتی اور موضوعی (subjective) فہم کے طور پر یقیناً باقی ہے۔ انتشار کی اس صورت حال میں مدرسہ ڈسکورسز اسلام کی مغرب پسند کسری تفہیمات کو ایک تہذیبی معنویت دینے کا منصوبہ ہے۔

(ب) ہماری گزشتہ دو سو سالہ علمی تاریخ میں ایک سوال غیر حاضر ہے کہ جن داخلی اور خارجی تاریخی حالات میں “اسلام کیا ہے؟” کا سوال پیدا ہوا ہے، وہ کیا ہیں؟ داخلی حالات میں زوال کی “فہم” ضروری تھی، اور وہ “فہم” آج تک چند ایک تقدیری اور اخلاقی بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ زوال سے پیدا شدہ اختلالِ حواس میں ہم نے یہ بھی فرض کر لیا تھا کہ دین کا درست “فہم” کھو گیا ہے، اور اسی باعث دین سے وابستگی میں کمزوری در آئی ہے، اور دین سے کمزور وابستگی ہمارے زوال کا سبب ہے۔ “فہم دین” کے کارخانے ایسے چلے کہ اب ان کا خام مال ہی نایاب ہو گیا ہے۔ ہر چیز “فہم” کی چھاننی سے گزر کر دھول بن چکی۔ “فہم” کی گرم بازاری کے باوجود ہم یہ نہ “سمجھ” سکے کہ زوال کوئی مذہبی مسئلہ نہیں، بلکہ تہذیبی اور تاریخی مسئلہ ہے اور دنیا کی ہر تہذیب کو درپیش رہا ہے، اور اسے انہی شرائط پر دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

خارجی حالات میں اہم سوال یہ تھا کہ “جدیدیت اپنی فکر میں اور اپنے عمل میں کیا ہے؟”  “جدید علوم” کے زیرعنوان کسی حد تک اس موضوع پر گفتگو کی کوشش ہوئی ہے، لیکن وہ محض مضحکہ خیز ہے، اور یہ صورت حال آج تک چلی آتی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اکبر الہ آبادیؒ نے “جدیدیت بطور استعماری کلچر” کو اور اقبالؒ نے “مغرب بطور تہذیبی فکر” کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور دونوں اصلاً جدیدیت ہی کے سوال کو ایڈریس کر رہے ہیں۔ لیکن دونوں نے ثقہ علمی روایت کی عدم موجودگی میں شاعری کو بطور ٹول استعمال کیا۔ افسوس کہ اپنی روایت کو “سمجھنے” کے عمل میں جو علوم پیدا ہوئے، وہ اس قدر ردی اور جعلی تھے کہ ان میں مدرسہ ڈسکورسز کی طرح کوئی نیوٹرل علمی سوال جگہ ہی نہیں پا سکتا تھا، اور سوالات صرف اسلام پر اٹھائے جا سکتے تھے۔ سیاسی غلامی میں پیدا ہونے والے ہمارے داخلی علوم جدیدیت کے کسی بھی نظری اور عملی پہلو پر سوالات کی ذرہ بھر گنجائش بھی پیدا نہ کر سکے۔ حیرت ہے کہ تاریخی تجربے کی بدیہیات بھی ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ مدرسہ ڈسکورسز ہمارے تہذیبی انتشار کی اس صورت حال میں مغرب کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانےکا نیا عنوان ہے۔ مضمون وہی پرانا ہے۔

(ج) جدید علوم تاریخ کو صرف سلسلۂ واقعات کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اس کی ایک نظری اور تعبیری معنویت کو سامنے لاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں گزشتہ دو سو سال میں تاریخ کی تبدیلی کا ادراک بدیہی اور چند ایک پست اور زیادہ تر غیرمتعلق اخلاقی قضایا تک محدود ہے۔ تاریخ کا بدیہی اور پست اخلاقی ادراک ہمارے مذہبی متون کی تعبیر میں اصول اول کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز اس صورت حال کو منضبط کرنے اور مذہبی متون کو جدید تاریخی مؤثرات کے تابع کر دینے کا منصوبہ ہے تاکہ ہدایت کی خودمختار حیثیت کو عملاً ختم کیا جا سکے۔

جدیدیت اور اسلام: کچھ فراموش سوالات

گزارش ہے کہ جدیدیت اور اسلام کے حوالے سے مندرجہ ذیل سوالات کو زیربحث لانا ضروری ہے:

۱۔ کیا اسلام اور جدیدیت اپنے اساسی بیانات میں باہم متفق ہیں؟ اگر ’’ہاں‘‘ تو اس اتفاق کی تفصیل کیا ہے؟ اور اگر ’’نہیں‘‘ تو تضاد اور تخالف کی نوعیت کیا ہے؟

۲۔ شعورِ انسانی، حیاتِ انسانی اور کائنات کے آغاز و انجام کے انتہائی اساسی موقف میں جدیدیت اور اسلام بالکل متضاد اور باہم یک نگر (mutually exclusive) موقف رکھتے ہیں۔ اسلامی جدیدیت کی تشکیل میں ان کو نظر انداز کرنے کے مقاصد کیا ہیں؟

۳۔ تہذیبوں اور معاشروں میں تعامل اور لین دین تاریخی معمول رہا ہے۔ لیکن کوئی تہذیب اپنے اساسی تصورات دوسری تہذیب سے مستعار نہیں لیتی۔ موجودہ صورت حال میں جدیدیت ایک عالمگیر تہذیب بن چکی ہے، اور روایتی تہذیبیں اپنی بچی کچی فکر اور ہیئتوں کے ساتھ جدیدیت کی بنائی ہوئی دنیا میں بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ جدیدیت کی عالمگیریت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اب کوئی تہذیب اپنے اساسی اصولوں پر بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ اس کی بڑی مثال جدید چین ہے جس کے اساسی تہذیبی اصول بھی جدیدیت سے حاصل ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے اسلام کو اپنی اساسِ تہذیب کے طور پر باقی رکھنا ہے یا جدیدیت کو اپنی مکمل تہذیبی اساس کے طور پر اختیار کرنا ہے؟ مدرسہ ڈسکورسز کے زیراہتمام اسلامی جدیدیت کا منصوبہ اسلام کو تہذیبی اساس کے طور پر ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ کیا ہم اسلام سے رستگاری (emancipation) کا شعوری فیصلہ کر چکے ہیں؟

۴۔ اس بات کا امکان ہے کہ متجددین مغربی جدیدیت کے ہمارے بیان کو نادرست سمجھتے ہوں اور یہ الزام رکھتے ہوں کہ ہم جدیدیت کی طرف غلط موقف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن رستگاری (emancipation) اور عقلِ خود مختار مغربی جدیدیت کے لاینفک اجزا ہیں۔ ان دو تصورات کو اسلامی جدیدیت میں کن اصولوں کے تحت شامل کیا گیا ہے اور وہ اصول کیا ہیں؟

۵۔ جدیدیت اور تحریک تنویر کی رستگاری (emancipation) ارادی ہے، اور یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ یہ رستگاری کس چیز سے ہے۔ ارادی ہونے سے ظاہر ہے کہ یہ اپنے موقف کے علمی دلائل نہیں رکھتی، اور تمام علمی تشکیلات اور استدلالات اس بنیادی مفروضے تک پہنچاتے نہیں ہیں، اس سے پھوٹتے ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کی اسلامی جدیدیت ان مبادیات کو problematize کرنے کے کیا فکری وسائل رکھتی ہے؟

۶۔ جدیدیت کی پوری نظری اور عملی تشکیل میں حق نامعلوم ہے، اور اعمال صالحہ غیرمطلوب ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کی اسلامی جدیدیت کا فکری شجرہ نسب کیا ہے؟

۷۔ مدرسہ ڈسکورسز کے شرکا استعمار اور استشراق پر بھی کوئی موقف رکھتے ہیں یا نہیں، اور اس کے منابع کیا ہیں؟

۸۔ جیسا کہ معلوم و معروف ہے، مسیحی اور یہودی مذاہب کی نئی تشکیلات جدیدیت کی شرائط پر سامنے لائی گئی ہیں، اور عین وہی مقاصد اسلامی جدیدیت کے ذریعے حاصل کرنا مقصود ہے۔ اسلامی جدیدیت کی تشکیل پر روانہ ہونے سے پہلے، کیا مدرسہ ڈسکورسز کے شرکا ان مذہبی جدیدیتوں کے نتائج مسلمانوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں؟

۹۔ اگر مدرسہ ڈسکورسز ایک علمی سرگرمی ہے اور سیاسی منصوبہ نہیں ہے تو سوالات صرف اسلام پر ہی کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟ اور جدیدیت کو ایک norm کے طور پر کیوں متعارف کرایا جا رہا ہے؟ جدیدیت کو ایک historical norm سے ترفع دے کر ایک ontological norm کا درجہ دینا علمی دیانت کے منافی ہے۔

سوالات کی یہ فہرست ظاہر ہے کہ غیر حتمی ہے، اور مدرسہ ڈسکورسز کی اسلامی جدیدیت کی علمی منہج اور تہذیبی مقصد پر علمی ضرورت کے تحت مزید جائز سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

“جدید“ علم الکلام اور جدید علوم

گزارش ہے کہ مذہب اور جدیدیت کے مابین مباحث میں علم الکلام کا ذکر اکثر کیا جاتا ہے۔ کئی حلقوں میں جدید علم الکلام کی تشکیل کی ضرورت اور نئے کلامی منصوبوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ معتزلہ، اشاعرہ وغیرہ کے اکا دکا غیر سیاقی حوالے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ متجددین اسلامی جدیدیت کی تشکیل، مذہب کو دی جانے والی رنگ برنگی تعبیری لگاموں اور مذہب کے محاصرے کے لیے نظری اور سائنسی علوم کی deployment کو بھی “جدید علم الکلام” قرار دیتے ہیں۔ اکثر مخلص اہل مذہب بھی اس شوق میں ہیں کہ موجودہ صورت حال میں ایک نئے علم الکلام کی ضرورت ہے، اور ان کی طرف سے جو نئی تعبیرات سامنے آتی ہیں وہ مسائل کو سمجھنے میں نہ صرف یہ کہ معاون نہیں ہوتیں بلکہ خلجان ذہنی میں اضافہ کرتی ہیں۔ “جدید” علم الکلام کی بات کرتے ہوئے ہمیں اپنی مطلق علمی زبوں حالی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر کسی ٹھیٹھ علمی معیار پر مذہب کا دفاع کیا جائے تو تعلیم یافتہ مذہبی آدمی کو بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ بات مذہب کے خلاف ہو رہی ہے یا مذہب کے حق میں؟ ایسی صورت حال میں مدرسہ ڈسکورسز نے چند ایک بنیادی باتوں کے ارادی اغماض سے، اور علم الکلام کی مجرد ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے نہایت چالاکی سے اس تصور کو appropriate کیا ہے تاکہ داخلی وسائل کو بھی مذہب اور روایت کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ “جدید” علم الکلام کی بحث میں مندرجہ ذیل پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے:

(۱) کلاسیکل اور جدید علم الکلام کے تہذیبی پس منظر کو نظرانداز کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ سیاسی طاقت کی حاضر و موجود صورتِ حال علمی سرگرمی پر لازماً اثرانداز ہوتی ہے۔ کلاسیکل علم الکلام دورِ عروج میں سامنے آنے والے ایک بڑے چیلنج کا جواب (response) تھا۔ دورِ زوال میں شکست خورہ معاشرہ جواب (response) کے امکانات سے خالی ہوتا ہے کیونکہ علم اور عمل کی صرف دو صورتیں، یعنی مداہنت یا مزاحمت ہی ممکن ہوتی ہیں۔ جدید علم الکلام دورِ زوال میں سامنے آنے والی مداہنت ہے، اور شکست کی علمی تشکیل ہے۔

(۲) جدید علم الکلام میں ’تاریخ‘ ایک تعبیری ترکیب ( hermeneutical device) ہے جس کا براہ راست مقصد مذہب اور روایت کو ادھیڑنا ہے، اور زمانی مؤثرات کے تابع کرنا ہے۔

(۳) کلاسیکل علم الکلام مذہب کی روایتی شناخت اور ساخت کو باقی رکھنے کی مستقل اور بھرپور کوشش تھی۔ کلاسیکل علم الکلام، یونانی فلسفیانہ علوم میں مذہب مخالف عناصر کا بہت گہرا تہذیبی شعور سامنے لایا تھا، مثلاً علم اور وحی کے مابین وحی کی اولیت و حاکمیت، عقل کے مواقف، شعور اور وجود کی فکری نسبتیں، عقیدے کو نظری بنانے کا رد اور اس کے جوابات (responses)، یونانی علوم کی تعبیری تزویرات کا رد، یونانی تہذیب اور اس کے فلسفیانہ علوم کو norm تسلیم کرنے سے انکار وغیرہ۔ جدید علم الکلام تہذیبی سطح پر علمی مکالمے کی بنیادی شرائط ہی سے ناواقف ہے، اور استعماری جدیدیت کے علمی معروفات کو مذہب پر لادتے چلے جانے کا نام ہے۔ مثلاً تاریخیت (historicism) ہی کو لیجیے۔ جدید علم الکلام اس پر کوئی سوال اٹھانے کی حمیت اور سکت نہیں رکھتا، بلکہ یہ اس کے معروفات کو تعبیری عجلت میں مذہب پر وارد کرنے کو ہی علمی سرگرمی خیال کرتا ہے۔

(۴) زوال تہذیبی ادراک کے دھندلانے اور اجتماعی عمل کے غیرنتیجہ خیز ہونے کی حالت ہے، یعنی زوال اجتماعی شعور اور اجتماعی عمل کی ایک خاص صورت حال کا نام ہے، اور جو ناگزیر طور پر شکست میں ظاہر ہوتی ہے۔ زوال بیک آن تاریخ کا سیاسی کھلونا بننے اور اپنے بنیادی متون کو تعبیری بازیچہ بنانے کی حالت ہے۔ ایسی تہذیبی فضا میں شعور ایک نابینا کی طرح غیر تہذیب سے عینیت کا راستہ ٹٹولتا ہے، اور اجتماعی عمل تطبیق کی ڈگمگاہٹ اختیار کرتا ہے۔ ہماری گزشتہ دو سو سالہ تاریخ کے یہ بنیادی مظاہر ہیں۔ جدید علم الکلام کی علمی منہج عینیت کی شرط پر تشکیل پائی ہے اور عملی منہج تطبیق کے اصول پر۔ مدرسہ ڈسکورسز اسی صورت حال کی formalization ہے۔ جدید علم الکلام کی کل رسومیات عینیت اور تطبیق ہے۔

(۵) ہمارے ہاں احیا اور نشاۃ الثانیہ وغیرہ کی تمام تر لغویات تہذیبی شکست کے عدم ادراک سے پیدا ہوئی ہیں۔ شکست کا تہذیبی ادراک مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ دور زوال میں ہمارے ہاں تاریخ کا ادراک صرف “عروج کے کھو جانے” کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ “عروج چلا گیا”، ہم یہ نہیں کہتے کہ “شکست ہو گئی”۔ ہمارے ہاں “عروج کے خاتمے” کا معنی “تہذیبی شکست” نہیں ہے۔ اس کھوٹے ادراک سے ایک تہذیبی ناسٹیلجیا (nostalgia) پیدا ہوا جس نے ہمارے شعور و عمل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہم جلد ہی احیا و نشاۃ الثانیہ کی لغویات کے طومار میں ڈوب گئے۔ تہذیبی ناسٹیلجیا جمالیاتی تخیل کے اظہار کا جائز دائرہ ہے، لیکن یہ کسی علمی تشکیل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ہمارے متداول علوم کے جعلی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہی یہ ہے کہ وہ اس ناسٹیلجیا سے پیدا ہوئے ہیں، اور تاریخ کو دیکھنے کی آنکھوں سے ہی محروم ہیں۔ ہمارے اختلال کی اس سے بڑی کوئی مثال نہیں ہو سکتی کہ تہذیبی ناسٹیلجیا کے جمالیاتی مظاہر کو قابل مذمت سمجھتے ہیں، اور ان احوال میں پیداشدہ ہفواتِ علم پر فخر کرتے ہیں۔ شکست کا تہذیبی ادراک حمیتِ شعور اور مزاحمتِ عمل کو باقی رکھتا ہے۔ جدید علم الکلام اسی ناسٹیلجیا کا اظہار ہے اور علمی فریب کاری سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ شکست کا سامنا کرنے کا مذہبی اصول جہاد ہے، جسے علم اور عمل میں ایک ایسی تہذیبی مزاحمت کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے جس میں معاشرہ اور حکومت دونوں ایک ساتھ شریک ہوں۔

(۶) متجددین اور اسلامی جدیدیت کی منہجِ علم نے استشراق سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ دنیا کی کوئی علمی روایت داخلی تضادات سے خالی نہیں ہوتی، اور یہ کبھی اساسی نہیں ہوتے۔ یعنی جدلیات علم اور فکر میں جاری ہوتی ہے، ہدایت/اساسی ورلڈ ویو میں نہیں۔ تہذیب اور روایت کی داخلی جدلیات کا اصلی مقصود متفق علیہ ہدایت/ورلڈ ویو کو علم میں سامنے لانا ہوتا ہے۔ استشراق نے اسلامی تہذیب کی داخلی علمی اور نظری جدلیات کو ہدایت تک توسیع دینے کا کام کیا ہے، اور اسلامی جدیدیت نے اسی علمی اصول اور منہج کو اختیار کیا ہے۔ اسلامی جدیدیت نظری علم کی جدلیات کو ہدایت تک پھیلا کر اس میں نقب لگانے کا کام کرتی ہے، اور اس وقت بیسیوں اہل علم اسی کام میں جتے ہوئے ہیں۔ ”جدید علم الکلام“ استشراق کے بدترین چربے کے علاوہ کچھ نہیں۔

(۷) ہمارے نزدیک جدیدیت یا مغرب کی درست تفہیم ایک جائز اور ضروری تہذیبی مقصد ہے، اور اس میں جدیدیت یا مغرب کی ’حقیقت‘ اور ’واقعیت‘ دونوں شامل ہیں۔ یہ ایک علمی مقصد ہے جو عمل کے لیے یقینی مضمرات رکھتا ہے، اور شعور کی حریت کے بغیر ناقابل حصول ہے۔ اس علمی کوشش کے ذرائع و آلات (tools) معروف ہیں اور بآسانی دستیاب ہیں، اور جو فراہم نہیں ہیں انہیں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں مغرب یا جدیدیت سے غلط باتیں منسوب کرنا حصولِ مقصد میں رکاوٹ اور نہایت قابل مذمت ہے۔ یہ اپروچ خود ہمارے لیے مہلک ہے، اور مغرب کے غلبے اور مذہب کے خاتمے کو ایک امر واقعہ بنا دیتی ہے۔

یہ واضح رہے کہ جدیدیت شعور میں ارادی ہے، اور عمل میں تقدیری ہے۔ اور جدیدیت کو دیکھنے کے مذہبی تناظر دو ہیں: ایمان اور عمل صالح۔ جدیدیت کے حق و باطل ہونے کا فیصلہ ایمانی تناظر سے مشروط ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ جدیدیت اپنے کل اور جزو میں باطل ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایمانی تناظر میں جدیدیت کا اساسی ورلڈ ویو قطعی باطل ہے۔ اور جزو میں باطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جدیدیت عمل کی ایک غیرمعمولی تقویم کی حامل ہے، لیکن وہ قطعی عمل صالح نہیں ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے احباب فوراً مغربی معاشرے میں خیر کے مظاہر کی ہچکیانہ دلیل لائیں گے۔ یہ محض التباس ہے کیونکہ وہ اس ’عمل خیر‘ کی وجودیات سے بےخبر ہیں۔ عصر حاضر میں عمل صالح کی بازیافت جدیدیت کے تقدیری پہلوؤں کی تنقیح کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے، اور اس پر گفتگو کا یہ محل نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہم نے علم و عمل کا جو توشہ عصر حاضر کے سامنے پیش کیا ہے، وہ محض شرمناک ہے۔ اقبالؒ نے شاید ایسے ہی کسی لمحے کی برافروختگی میں فرمایا ہو گا:

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
تیرا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی

نوٹ:  افسوس کہ بوجوہ مدرسہ ڈسکورسز کے کئی اہم پہلوؤں پر گفتگو نہ کر سکا۔ اس میں بہت اہم مدرسہ ڈسکورسز کی ہینڈ بک میں دیے گئے ’دیسی‘ اور ’غیردیسی‘ شرکا کے تاثرات کا تجزیہ ہے۔ دیانتدارانہ متنی تجزیہ اس میں آباد جہانِ معنی کو کھول سکتا ہے۔ یہ تاثرات علمی سرگرمی میں اکثر کارفرما dissonance of perceptions کو سمجھنے کا وقیع ذریعہ ہیں۔ پھر تاریخیت کو ایک تعبیری ترکیب (hermeneutical device) کے طور جس طرح مدرسہ ڈسکورسز میں سامنے لایا گیا ہے، اس کا تجزیہ وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے متجددین نہایت نادان اور ادرک کی ایک گانٹھ کے پنساری ہیں۔ اصل پنساری ڈاکٹر فضل الرحمٰن ہیں، اور وہ ہمارے متجددین کی مانند جعلساز نہیں ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے فکری منصوبے کے طور پر مدرسہ ڈسکورسز کا تجزیہ تفصیل سے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ مدرسہ ڈسکورسز روایت کے جس تصور پر کھڑا ہے اس کا تجزیہ اپنی جگہ اہم ہے۔ مجھے امید ہے کہ اہل علم ان اہم علمی پہلوؤں کی طرف ضرور التفات فرمائیں گے۔و اللہ اعلم بالصواب


قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۹)

محمد عمار خان ناصر

نصوص کی ظاہری دلالت کے حوالے سے ابن حزم کا رجحان

اس بحث میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کی دلالت کے حوالے سے ابن حزم کے رجحان کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔ امام طحاوی کے زاویۂ نگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ان کا یہ رجحان واضح کیا ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہیں کرتے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہیں، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیتے یا اگر ناگزیر ہو تو نسخ پر محمول کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا رجحان ابن حزم کے ہاں بھی بہت نمایاں طورپر دکھائی دیتا ہے، چنانچہ وہ اصولاً یہ ماننے کے باوجود کہ کسی دوسری نص یا یقینی اجماع سے یہ واضح ہو جانے پر کہ نص کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، اسے ترک کیا جا سکتا ہے، عملاًبہت سی مثالوں میں نص کے ظاہری مفہوم کے مراد ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور تاویل کے ذریعے سے اسے ظاہری مفہوم سے صرف کرنے یا اس کی غیر متبادر توجیہ کرنے کو درست نہیں سمجھتے، حالانکہ دوسری نص کی صورت میں اس کی بنیاد موجود ہوتی ہے۔ (احکام الاحکام ۳/۴۱)

اس رجحان کے تحت ابن حزم نے کئی اہم مثالوں میں قرآن کو اس کے ظاہری مفہوم سے صرف کر کے حدیث میں وارد حکم پر محمول کر نے کے نکتے پر امام شافعی اور جمہور فقہا سے اختلاف کیا ہے۔ مثلاً وہ امام شافعی اور بعض اصولیین کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں ’اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ ‘ (النور  ۲۴ : ۲) سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی ہیں، اور الفاظ کے بظاہر عام ہونے کے باوجود ان کی حقیقی مراد حدیث سے واضح ہوتی ہے جس میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا بیان کی گئی ہے۔ ابن حزم اس راے پر سخت تنقید کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں زانی کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی، اس لیے یہ حکم تمام زانیوں کے لیے عام ہے اور شادی شدہ زانی بھی کوڑوں کی سزا کے حق دار ہیں۔ (احکام الاحکام ۴/۱۱۲) جہاں تک شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا تعلق ہے تو وہ ایک الگ اور زائد حکم ہے جس کی وضاحت دوسری نص میں کی گئی ہے اور یوں ایسے زانی کا حکم، ابن حزم کے اصول کے مطابق، دونوں نصوص کو ملا کر متعین کیا جائے گا۔ گویا اس کی سزا کا ایک حصہ، جو ہر طرح کے زانیوں کی مشترک سزا ہے، قرآن نے بیان کیا ہے، جب کہ اس کے علاوہ رجم کی زائد سزا حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

اسی طرح وہ امام شافعی کی اس رائے سے متفق نہیں کہ قرآن مجید میں اگرچہ ’ذِي الْقُرْبٰي ‘ (الانفال ۸:  ۴۱) کی تعبیر عام ہے، لیکن حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب ہیں۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ ذی القربیٰ کے مفہوم میں یہ تخصیص قرآن کو اس کے ظاہر سے صرف کرنا ہے جو درست نہیں، اس لیے ذی القربیٰ سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری تھی اور آیت کے الفاظ اپنے ظاہری عموم کے لحاظ سے ان سب کو شامل ہیں (احکام الاحکام ۳/۱۲۸)۔

نص کے ظاہری مفہوم میں تاویل نہ کرنے کے اصول کے تحت ابن حزم آیت وضو کی تفسیر میں بھی جمہور فقہا سے اختلاف اور اس پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ جمہور فقہا ’وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ ‘ (المائدہ  ۵ : ۶) کو قریبی عامل یعنی ’وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ ‘  کا معمول ماننے کے بجاے ’فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ ‘ سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ ابن حزم کے نزدیک یہ تاویل جملے کی ترکیب اور الفاظ کی ظاہری دلالت کے بالکل خلاف ہے، چنانچہ وہ سنت میں پاؤں کو دھونے کے حکم کو اس آیت کی تفسیر کے بجاے اس کا ناسخ قرار دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں :

ومما نسخت فیہ السنۃ القرآن قولہ عزوجل: ’’وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ‘‘، فان القراءۃ بخفض ارجلکم وبفتحھا کلاھما لا یجوز الا ان یکون معطوفا علی الرؤس فی المسح ولا بد، لانہ لا یجوز البتۃ ان یحال بین المعطوف والمعطوف علیہ بخبر غیر الخبر عن المعطوف علیہ، لانہ اشکال وتلبیس واضلال لا بیان، لا تقول: ضربت محمدا وزیدا ومررت بخالد وعمرا وانت ترید انک ضربت عمرا اصلا، فلما جاءت السنۃ بغسل الرجلین صح ان المسح منسوخ عنھما. (احکام الاحکام ۴/۱۱۲- ۱۱۳)

’’سنت نے قرآن کے جو احکام منسوخ کیے ہیں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ اپنے سروں پر اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں پر مسح کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ’اَرْجُلَكُمْ‘کو زیر کے ساتھ پڑھا  جائے یا زبر کے ساتھ، دونوں صورتوں میں وہ بہرحال سر کا مسح کرنے کے حکم پر ہی معطوف ہو سکتا ہے، کیونکہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان ایک ایسا جملہ لانا جس سے معطوف علیہ کا تعلق نہ ہو، جائز نہیں، بلکہ بات کو الجھانے، تلبیس پیدا کرنے اور بھٹکانے کا طریقہ ہے نہ کہ بات کو واضح کرنے کا۔ تم ہرگز یوں نہیں کہہ سکتے کہ ’ضربت محمدا وزیدا ومررت بخالد وعمرا‘جب کہ تمھاری مراد یہ ہو کہ تم نے (محمد اور زید کے ساتھ) عمرو کو بھی مارا۔ چنانچہ جب سنت میں پاؤں کو دھونے کا حکم وارد ہوا تو معلوم ہو گیا کہ پاؤں پر مسح کرنے کا حکم منسوخ کر دیا گیا ہے۔‘‘

صفا ومروہ کی سعی کے وجوب کے شرعی ماخذ کی تعیین میں ابن حزم کا نقطۂ نظر امام طحاوی سے ہم آہنگ ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت ’فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِھِمَا‘  (البقرہ  ۲:  ۱۵۸) سے اس کا وجوب ثابت نہیں ہوتا اور الفاظ اس استدلال کے ہرگز متحمل نہیں ہیں۔ سعی کے وجوب کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو ابو موسیٰ اشعری نے روایت کی ہے اور اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو حج یا عمرے میں سعی کو فرض قرار دینا ممکن نہ ہوتا (احکام الاحکام ۳/۳۸)۔

حالت امن میں نماز قصر کرنے کی رخصت کی توجیہ میں بھی ابن حزم کی راے امام طحاوی کی راے سے متفق ہے۔ چنانچہ وہ قرآن میں ’اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ‘ (النساء  ۴ :  ۱۰۱) کی قید کو اتفاقی قرار نہیں دیتے، بلکہ مقصود سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ رخصت واقعتاً اسی شرط کے ساتھ دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں ایک مستقل حکم کے ذریعے سے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے علاوہ نازل ہونے والی وحی میں بتایا گیا، اس شرط کو ختم کر کے رخصت کی توسیع ہر طرح کے سفر تک کر دی گئی۔ سیدنا عمر کو چونکہ اس نئے حکم کا علم نہیں تھا، اس لیے انھیں اشکال ہوا اور ان کے دریافت کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، اسے قبول کرو (احکام الاحکام ۷/۱۹) ۔

حاملہ بیوہ کی عدت کے مسئلے میں بھی ابن حزم نے اسی رجحان کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ جمہور فقہا کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کرتے کہ سورۂ طلاق میں ’وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ‘ (۶۵:  ۴) کی آیت ہر طرح کی حاملہ کے لیے عام ہے اور اس نے سورۂ بقرہ  (۲: ۲۳۴ ) میں بیوہ کے لیے بیان کی گئی چار ماہ دس دن کی عدت کو حاملہ کے حق میں منسوخ کر دیا ہے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ سورۂ طلاق میں ابتدا سے آخر تک صرف مطلقہ خواتین کے احکام زیر بحث ہیں اور سورہ کی ابتدا میں ’اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ ‘ اور آیت ۶ میں ’اَسْكِنُوْھُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ ‘ کے علاوہ زیر بحث حکم سے بالکل متصل سابقہ جملے ’وَالّٰٓـِٔيْ يَئِسْنَ  مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ ‘ سے یہ بالکل واضح ہے، اس  لیے اس آیت سے حاملہ کے لیے کوئی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ابن حزم کے نزدیک حاملہ بیوہ کی عدت کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے جو آپ نے سبیعہ اسلمیہ کے واقعے میں فرمایا اور بچے کی پیدایش کو عدت کا خاتمہ قرار دیا ۔ (المحلی ۱۰/۲۹)  گویا ابن حزم اسے قرآن سے زائد ایک مستقل حکم تصور کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے بتایا گیا۔

قرآن کے ظاہر سے غلط استدلال پر تنقید

تاہم ابن حزم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بعض مثالوں میں اہل علم آیت کے ظاہر سے ایسا مفہوم مراد لے لیتے ہیں جو حقیقتاً مراد نہیں ہوتا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے احادیث کو قرآن کے معارض سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں۔

مثلاً بعض فقہا نے ’وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْھَا وَزِيْنَۃ ‘ (النحل  ۱۶:  ۸) سے یہ اخذ کیا ہے کہ ان جانوروں پر صرف سواری جائز ہے اور ان کا گوشت حلال نہیں، جب کہ اس آیت میں سرے سے ان کے گوشت کے حلال ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعرض ہی نہیں کیا گیا، کیونکہ یہاں ان جانوروں کے کچھ خاص فوائد کے ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے کچھ دوسرے فوائد نہیں ہو سکتے جن کا ذکر کسی دوسری نص میں کیا گیا ہو (احکام الاحکام ۲/ ۲۴-  ۲۵)۔

اسی طرح بعض فقہا قرآن مجید کی ان آیات کی بنیاد پر جن میں نکاح، طلاق یا مالی لین دین کے معاملے میں دو گواہ مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، (البقرہ ۲: ۲۸۲۔  الطلاق   ۶۵:  ۲) اس روایت کو رد کر دیتے ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم پر فیصلہ کرنا بیان ہوا ہے، حالانکہ مذکورہ آیات میں اہل ایمان کو اپنے معاملات میں دو گواہ مقرر کرنے کا کہا گیا ہے، نہ کہ ان معاملات میں قاضی کے لیے فیصلہ کرنے کا کوئی طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ گویا یہ آیات عدالت سے متعلق نہیں ہیں اور نہ ہی حاکم کو پابند کرتی ہیں کہ وہ لازماً دو گواہوں کی گواہی پر ہی فیصلہ کرے (احکام الاحکام ۸/۱۴۳)۔

قرآن مجید کی آیت ’وَاٰتُوْا حَقَّہ يَوْمَ حَصَادِہ ‘ (الانعام   ۶:  ۱۴۱) سے زکوٰۃ، یعنی عشر کے وجوب پر استدلال بھی ابن حزم کی راے میں اسی نوعیت کا ہے، کیونکہ اس آیت میں زکوٰۃ کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ عین فصل کی کٹائی کے دن تمام متعلقہ تفصیلات کو ملحوظ رکھتے ہوئے زکوٰۃ ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا اور دوسری دلیل یہ ہے کہ عشر کے احکام مدنی دور میں بیان کیے گئے تھے، جب کہ زیربحث آیت مکی ہے (احکام الاحکام ۸/۱۴۳)۔

ابن حزم قصاص کے قانون میں مسلمان اور غیر مسلم کے مابین مساوات کے حق میں قرآن مجید کی آیات ’النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ‘(المائدہ  ۵:  ۴۵) اور ’وَالْحُرُمٰتُ قِصَاص ‘(البقرہ  ۲:  ۱۹۴) سے استدلال کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آیات میں مسلمانوں کے باہمی قصاص کا حکم بیان کیا گیا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ ’النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ‘ کی آیت میں قصاص کا حکم بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قصاص کے معاف کر دینے کی ترغیب دی اور اسے گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح ’وَالْحُرُمٰتُ قِصَاص ‘ جس سلسلۂ بیان میں آئی ہے، اس میں بھی اہل ایمان ہی مخاطب ہیں، چنانچہ ان آیات کو عموم پر محمول کر کے ان سے غیر مسلم کے قصاص کا حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا (المحلی ۱۰ /۳۵۱)۔

مدت رضاعت کی تحدید کے مسئلے میں بھی ابن حزم نے یہ انداز استدلال اختیار کیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں بچے کو دودھ پلانے کی مدت دو سال بیان کی گئی ہے (البقرہ  ۲:  ۲۳۳۔ لقمان  ۳۱:  ۱۴)۔ جمہور فقہا اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہی رضاعت موجب حرمت ہے جو بچے کی دودھ پینے کی عمر میں یعنی دو سال کے اندر ہو، اور اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں بیان ہوا ہے کہ دودھ چھڑوا دینے کے بعد، یعنی مدت رضاعت گزر جانے کے بعد بچے کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ پہلے ہماری راے بھی یہی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے رضاعت کو موجب حرمت قرار دیا اور اس کے ساتھ ماؤں کو دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے کی ترغیب دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی رضاعت حرمت کی موجب ہے جو اس مدت کے اندر ہو۔ تاہم غور کرنے سے واضح ہوا کہ جن نصوص میں اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی مدت دو سال بیان کی ہے، وہاں مقصود حرمت رضاعت کا مسئلہ بیان کرنا نہیں، بلکہ ماؤں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے کا اہتمام کریں۔ اس کا حرمت رضاعت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں اور اسی لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے حرمت رضاعت کا ذکر فرمایا ہے، وہاں دو سال کی قید مذکور نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم کسی زمانی قید کے ساتھ مقید نہیں (المحلی ۱۰/۲۲۔ احکام الاحکام ۳/ ۱۳۳۔ ۴/۸۷-  ۸۸۔ ۷/۱۱-  ۱۲)۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے جن میں دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت کو غیر معتبر کہا گیا ہے تو ابن حزم کے نزدیک ان میں سے بعض احادیث سنداً ضعیف ہیں، جب کہ ایک حدیث یعنی ’انما الرضاعۃ من المجاعۃ‘ (دودھ پینا وہ معتبر ہے جو بھوک مٹانے کے لیے ہو) کے الفاظ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا، کیونکہ بالغ مرد بھی اسی طرح دودھ پینے سے بھوک مٹا سکتا ہے جیسے بچہ مٹا سکتا ہے، اس لیے یہ حدیث اپنے عموم کے لحاظ سے اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بھی عمر میں پانچ دفعہ عورت کا دودھ پینے سے رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے (المحلی ۱۰/ ۲۳-   ۲۴)۔

ظاہری مفہوم میں تاویل کا رجحان

ابن حزم کا خود اپنا بیان کردہ اصول، جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ظاہری دلالت کو برقرار رکھنے کا ہے اور بیان کردہ متعدد مثالوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ امام شافعی کے اس رجحان سے اختلاف رکھتے ہیں کہ اگر احادیث میں قرآن کے ظاہری مفہوم سے مختلف کوئی بات بیان ہوئی ہو تو قرآن کی آیت کو بھی اسی مفہوم پر محمول کر لیا جائے جو حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ اس کے بجاے ابن حزم تطبیق کا ایسا طریقہ اختیا رکرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں قرآن کا ظاہری مفہوم اپنی جگہ برقرار رہے، جیسا کہ ’اَلزَّانِيَۃ وَالزَّانِيْ ‘،’ذِي الْقُرْبٰي‘، ’فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِھمَا ‘ اور ’اِنْ خِفْتُمْ‘کی مثالوں سے واضح ہے۔ تاہم بعض مثالوں میں ابن حزم کے ہاں ایسا زاویۂ نظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو امام شافعی کے قریب تر ہے، یعنی قرآن کے الفاظ کی ایسی تفسیر کرنا جو اس کی ظاہری دلالت پر نہیں، بلکہ اصلاً احادیث پر مبنی ہے۔ اس کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں :

ابن حزم لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ظاہر کے لحاظ سے جہاد خواتین پر بھی فرض ہے، کیونکہ وہ بھی قرآن کے جملہ احکام کی مخاطب ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ان پر فرض نہیں، بلکہ مستحب ہے (احکام الاحکام ۳/۸۱)۔

سورۂ طلاق میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو پابند کیا ہے کہ وہ دوران عدت میں اپنی مطلقہ بیویوں کو سکنیٰ اور نفقہ مہیا کریں (الطلاق  ۶۵ :  ۶)۔ یہ حکم جس سلسلہ بیان میں آیا ہے، اس میں عموم کا اسلوب بظاہر کسی فرق کے بغیر عدت کے ان احکام کو ہر قسم کی بیویوں سے متعلق قرار دیتا ہے، چاہے انھیں طلاق رجعی دی گئی ہو یا طلاق مغلظہ۔ تاہم فاطمہ بنت قیس کے واقعے میں، جنھیں ان کے شوہر نے تیسری طلاق دے دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نفقہ اور رہایش کا حق دار تسلیم نہیں کیا۔ ابن حزم یہاں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مذکورہ سلسلۂ بیان میں ذکر کیے گئے عدت کے احکام مطلقہ رجعیہ اور مبتوتہ دونوں کے لیے ہیں، تاہم فاطمہ بنت قیس کی حدیث اس کے معارض ہے۔ یہاں تعارض کی نوعیت ایسی نہیں کہ حدیث کے حکم کو آیت کے ساتھ ملا لیا جائے، کیونکہ دونوں بظاہر متضاد ہیں۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حدیث کو آیت کے لیے ناسخ قرار دیا جائے، تاہم ابن حزم اس صورت کو بھی یہاں قبول نہیں کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں تطبیق کی ایک صورت ممکن ہے، اور وہ یہ کہ آیت کو صرف مطلقہ رجعیہ سے متعلق قرار دیا جائے۔ لکھتے ہیں :

ومعاذ اللہ ان یحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخلاف القرآن الا ان یکون نسخا او مضافا الی ما فی القرآن، ولیس ھذا مضافا الی ما فی الآیۃ، ولا یحل ان یقال ھذا نسخ الا بیقین لا بالدعوی فبطل ھذا القول، فان قالوا: اراد اللہ عزوجل الرجعیات فقط قلنا: صدقتم وھذا قولنا وبرھاننا علی ذلک خبر فاطمۃ بنت قیس. (المحلی ۱۰/ ۲۹۳؛ نیز دیکھیے المحلی ۱۰/۳۳۷)

’’اس بات سے خدا کی پناہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے خلاف  فیصلہ کریں۔  حدیث یا تو قرآن کی ناسخ ہو سکتی ہے یا اس کے حکم کو قرآن کے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔ یہ حکم آیت کے ساتھ شامل نہیں کیا جا سکتا اور کسی یقینی دلیل کے بغیر محض دعوے سے  اسے نسخ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے یہ قول باطل ہے۔  اگر یہ حضرات کہیں کہ اللہ کی مراد صرف مطلقہ رجعیہ کا حکم بیان کرنا  ہے تو ہم کہیں گے کہ تم بالکل درست کہتے ہو، ہمارا بھی یہی قول ہے اور ہماری دلیل فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے۔‘‘

اس مثال میں واضح طور پر ابن حزم آیت کے ظاہری عموم کو اس لیے مطلقہ رجعیہ تک محدود کر رہے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس کی روایت کا تقاضا یہی ہے۔ یہاں ابن حزم کا حدیث کو آیت کے لیے ناسخ قرار دینے سے گریز قابل فہم ہے، کیونکہ یقینی طو رپر معلوم نہیں کہ فاطمہ کا واقعہ مذکورہ آیت کے نزول سے پہلے کا ہے یا بعد کا۔ یوں آیت اور حدیث میں تطبیق کی یہی صورت بچتی ہے کہ آیت کو صرف مطلقہ رجعیہ سے متعلق مانتے ہوئے مطلقہ مبتوتہ کے حکم کا ماخذ حدیث کو قرار دیا جائے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر یوم النحر کو مختلف لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ انھوں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ کوئی تنگی نہیں۔ ابن حزم اس حدیث کی روشنی میں قرآن مجید کی ہدایت ’وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰي يَبْلُغَ الْھَدْيُ مَحِلَّہ‘   (البقرہ  ۲:  ۱۹۶) کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ یہاں جانور کے اپنی قربان گاہ تک پہنچنے کا مطلب اس کا ذبح ہو جانا نہیں، بلکہ ’مَحِلّ‘ یہاں ظرف زمان ہے اور مراد یہ ہے کہ جب تک جانور کی قربانی کا وقت نہ آ جائے، اپنے سر نہ منڈواؤ۔ گویا یوم النحر کے داخل ہونے سے ہی  سر منڈوانا مباح ہو جاتا ہے، چاہے ابھی جانور کی قربانی نہ کی گئی ہو۔ (احکام الاحکام ۳/۳۷)

آیت حج میں ’وَلِلّٰہ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا‘ (آل عمران  ۳:  ۹۷) میں استطاعت کی تفسیر ابن حزم کے نزدیک یہ ہے کہ ہر وہ وسیلہ جس سے انسان حج ادا کر سکے، استطاعت میں داخل ہے۔ چنانچہ جس شخص کے پاس زاد سفر اور سواری نہ ہو، لیکن وہ جسمانی طور پر طاقت ور ہو، اس پر اور جو شخص اپاہج اور اندھا ہو، لیکن مال دار ہو اور کسی کو اپنی طرف سے حج پر بھیج سکتا ہو، اس پر یکساں حج فرض ہے اور آیت کے الفاظ کے عموم کے علاوہ بنو خثعم کی خاتون کے سوال کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (احکام الاحکام ۷/۴۰)۔ اس مثال میں ابن حزم نے امام شافعی ہی کی تفسیر کو قبول کیا ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ امام شافعی نیابتاً حج کی استطاعت کو آیت کے متبادر مفہوم کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے حدیث میں وارد تبیین کا نتیجہ تصور کرتے ہیں، جب کہ ابن حزم کے خیال میں آیت اپنی ظاہری دلالت ہی کے لحاظ سے استطاعت کی مذکورہ دونوں صورت کو شامل ہے اور حدیث محض اس ظاہری دلالت کی موید ہے۔

وراثت کی آیات میں ’مِنْۣ بَعْدِ وَصِيَّۃ يُّوْصِيْ بِھَا٘ اَوْ دَيْنٍ ‘ (النساء   ۴:  ۱۱) کی تفسیر ابن حزم نے یوں کی ہے کہ یہاں قرض سے مراد ہر قسم کا قرض ہے، چاہے وہ مالی قرض کی صورت میں ہو یا مرنے والے کے ذمے فرض عبادات کی صورت میں۔ یہاں ابن حزم کے پیش نظر بنیادی طور پر وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرنے والے کی طرف سے حج کرنے یا روزہ رکھنے کو یہ فرما کر درست قرار دیا کہ اگر میت کی طرف سے بندوں کا قرض چکایا جا سکتا ہے تو اللہ کا قرض اس کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے (احکام الاحکام ۷/۱۰۵)۔

یہاں بھی ابن حزم آیت کی تفسیر کا طریقہ تو وہی اختیار کرتے ہیں جو امام شافعی کا ہے، لیکن اصولی طور پر امام شافعی کے انداز استدلال کو قبول نہیں کرتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ آیت کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے، لیکن احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی مراد یہ ہے۔ ابن حزم کو اصرار ہے کہ مذکورہ مثالوں میں انھوں نے آیات کا جو مفہوم بیان کیا ہے، وہی ان کا ظاہری مفہوم ہے اور کسی قسم کی تاویل پر مبنی نہیں ہے۔

آیت کو اس کے ظاہری مفہوم سے ہٹانے کی نسبتاً زیادہ دلچسپ مثال ابن حزم نے ’يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ‘ (النور  ۲۴ :  ۴) کی تفسیر میں پیش کی ہے۔ ابن حزم چونکہ شرعی احکام کے مبنی بر علت ہونے اور نتیجتاً قیاس کے ذریعے سے قابل تعدیہ ہونے کے قائل نہیں، اس لیے قذف کی سزا کے حوالے سے انھیں یہ الجھن درپیش ہے کہ قرآن نے اس کا ذکر صرف پاک دامن خواتین کے حوالے سے کیا ہے۔ اتفاق سے مرفوع احادیث میں بھی ایسا کوئی واقعہ روایت نہیں ہوا جس میں کسی مرد پر بدکاری کا الزام لگانے والے کو قذف کی سزا دی گئی ہو۔ چنانچہ ابن حزم کے اصول کے مطابق قذف کی سزا کا نفاذ صرف خواتین پر الزام کی صورت میں ہونا چاہیے اور چونکہ قیاس درست نہیں، اس لیے علت کی روشنی میں کسی مرد پر الزام لگائے جانے کی صورت میں یہ سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ نتیجہ چونکہ بدیہی طور پر غیر معقول ہے، اس لیے ابن حزم لفظ کے ظاہری مفہوم میں اس طرح تاویل کرتے ہیں کہ اس حکم کے دائرۂ اطلاق میں مرد بھی شامل ہو جائیں، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ’المحصنات‘  کا موصوف ’النساء‘ نہیں، بلکہ ’الفروج‘ ہے، کیونکہ اصل میں تو شرم گاہ ہی قابل حفاظت ہوتی ہے اور بدکاری کا الزام بھی شرم گاہ کے حوالے سے ہی عائد کیا جاتا ہے۔ یوں اگر ’المحصنات‘ سے مراد ’’پاک دامن عورتیں ‘‘ کے بجاے ’’پاک دامن شرم گاہیں ‘‘ ہو تو اس میں مرد بھی شامل ہو جاتے ہیں اور قیاس کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہاں بھی ابن حزم اس پرتکلف تاویل کے باوجود اصرار کرتے ہیں کہ انھوں نے آیت کا بالکل واضح اور ظاہر مفہوم مراد لیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں کی (احکام الاحکام ۷/۸۷۔ المحلی ۱۱/۲۷۰)۔

حاصل بحث

قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں علامہ ابن حزم جمہور فقہا کے اس موقف سے پوری طرح متفق ہیں کہ قرآن کے ساتھ سنت میں وارد احکام کو غیر مشروط طور پر قبول کرنا لازم ہے اور ان دونوں مآخذ کا باہمی تعلق کسی بھی صور ت میں حقیقی تعارض سے عبارت نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس موقف کے حق میں امام شافعی نے قرآن اور سنت کی باہمی درجہ بندی کرنے اور قرآن کی مراد کو تبیین کے اصول پر سنت کی روشنی میں طے کرنے کا جو طرز استدلال اختیار کیا، ابن حزم اس پر مطمئن نہیں ہوئے، اور اس کے بجاے انھوں نے یہ نقطۂ نظر اختیار کیا کہ نصوص کے مابین کسی بھی حوالے سے درجہ بندی کرنا درست نہیں، بلکہ تمام شرعی نصوص کو وحی پر مبنی ہونے کی وجہ سے حکم کے اثبات اور اس کے متعلقات کی وضاحت میں یکساں درجہ دینا ضروری ہے۔ ابن حزم کا استدلال یہ ہے کہ جب ان تمام احکام کی حیثیت ایک ہی مصدر، یعنی شارع کی طرف سے دیے جانے والے احکام کی ہے تو پھر کسی بھی شرعی حکم سے متعلق وارد نصوص میں سے، چاہے وہ قرآن میں وارد ہوں یا حدیث میں، کسی خاص نص کو بنیادی اور اصل قرار دے کر یہ سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کہ اس کے علاوہ دیگر نصوص میں حکم کے جن اضافی پہلوؤں کا ذکر ہوا ہے، وہ غیر اہم یا ثانوی ہیں یا ان سے سابقہ حکم میں کوئی تبدیلی لازم آتی ہے۔ اس بنیاد پر ابن حزم سنت سے قرآن کے اور قرآن سے سنت کے نسخ  کو بھی جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ نسخ بھی ایک شرعی حکم ہے اور جب وحی ہونے میں قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں تو کسی بھی حکم کے اثبات میں قرآن یا خبر متواتر یا خبر واحد میں کسی بھی لحاظ سے فرق کرنا درست نہیں۔

چونکہ ابن حزم قرآن اور سنت کے احکام کو ایک یک جان مجموعے کے طور پر دیکھتے اور ان کے باہمی تعلق کی تفہیم کے لیے دلالت کلام اور تخصیص کے قرائن وغیرہ کی بحث کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، اس لیے کتاب اللہ کی آیات کے ظاہری مفہوم میں احادیث کی روشنی میں تاویل کے حوالے سے بھی ان کا رجحان بہت حد تک امام شافعی سے مختلف ہے اور وہ بیش تر صورتوں میں آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھنے، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دینے کو ترجیح دیتے ہیں، البتہ بعض مثالوں میں ان کے ہاں قرآن کی آیت کا مفہوم الفاظ کی ظاہری دلالت کے بجاے احادیث کی روشنی میں متعین کرنے کا رجحان بھی ملتا ہے۔

ابن حزم کا یہ زاویۂ نظر اصول فقہ کی روایت میں کافی منفرد ہے اور انھوں نے جو منہج استدلال اختیار کیا ہے، وہ ان کی غیر معمولی ذہانت اور عبقریت کا عکاس ہے، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کے منہج میں معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ کر کے دیکھنے کا پہلو نمایاں ہے اور طرز استدلال میں بنیادی کم زوریاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ’قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا ‘ (الانعام  ۶:  ۱۴۵)میں وہ ظاہری حصر کے مراد ہونے پر یہ الزامی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر اس آیت کو تمام حرام چیزوں کا بیان قرار دیا جائے تو پھر پیشاب، پاخانہ اور شراب وغیرہ کو بھی حلال ماننا پڑے گا، حالانکہ سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں صرف وہ جانور زیر بحث ہیں جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے۔

ااسی مثال میں، ابن حزم کے اصول کے مطابق نصوص کے زمانی تقدم یا تاخر کے سوال کو نظر انداز کر کے ان کو ایک ہی مجموعہ تصور کرنا چاہیے اور حکم کو یوں سمجھنا چاہیے کہ آیت میں مذکور چیزیں بھی حرام ہیں اور ان کے علاوہ احادیث میں جن جانوروں کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے، وہ بھی حرام ہیں۔ لیکن وہ اس سامنے کے سوال سے کوئی تعرض نہیں کرتے کہ اگر احادیث میں مذکور جانور بھی عین اسی وقت حرمت کا حصہ تھے تو پھر آیت میں حصر کا اسلوب کیوں اختیار کیا گیا اور اگر انھیں بعد میں حرمت کے دائرے میں شامل کیا گیا تو آیت میں مذکورہ حصر کے ساتھ اس اضافے کا کیا تعلق بنتا ہے؟

اس مشکل کاغیر شعوری احساس ابن حزم کو بھی ہے کہ نصوص کے باہمی تعلق میں زمانی تقدم یا تاخر کے سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ جب وہ ایک نص کے عموم میں دوسری نص سے تخصیص کی نوعیت واضح کرتے ہیں تو یہ بتاتے ہیں کہ تخصیص کی یہ صورتیں ابتدا ہی سے متکلم کے ارادے میں حکم کے دائرۂ اطلاق میں شامل نہیں ہوتیں، البتہ اس بات کی وضاحت اسی نص کے بجاے دوسری نص میں کی جاتی ہے۔ یہاں ابن حزم واضح طور پر حنفی اصولیین کے اس استدلال کا وزن قبول کرتے ہوئے کہ کسی نص میں مذکور حکم پر زیادت یا اس میں تخصیص کو ’بیان‘ قرار دینے کے لیے اس کا زمانی لحاظ سے اصل حکم کے مقارن ہونا ضروری ہے، یہ قرار دیتے ہیں کہ احادیث میں آیات کی جو تخصیصات وارد ہوئی ہیں، ان کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات کے نازل ہونے کے ساتھ ہی متصلاً فرما دی تھی۔

دونوں نصوص کے زمانی طور پر مقارن ہونے کی صورت میں بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ آخر حکم کا ایک حصہ وحی متلو میں اور دوسرا غیر متلو میں نازل کرنے میں کیا حکمت تھی؟ ابن حزم کو اس مفروضہ صورت کی ناموزونیت کا بھی احساس ہے، چنانچہ وہ زانی کی سزا کے بارے میں عبادہ بن صامت کی حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جس وحی کا حوالہ دیا ہے، وہ سورۂ نور کی آیت ہے، کیونکہ سورۂ نور کی آیت میں ان تفصیلات، یعنی شادی شدہ کو رجم کرنے اور غیر شادی شدہ کو جلا وطن کرنے کا ذکر موجود نہیں جو حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ اس مثال میں ابن حزم کے بیان کردہ اصول کے مطابق بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم کا ایک حصہ قرآن میں اور دوسرا حصہ وحی غیر متلو میں نازل کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی روشنی میں پورا حکم عبادہ بن صامت کی حدیث میں لوگوں کے سامنے واضح فرما دیا، لیکن ابن حزم اس توجیہ کو قبول نہیں کرتے جس سے واضح ہے کہ ایک ہی وقت میں نازل ہونے والے حکم کے اجزا کو اس طرح تقسیم کرنے کی کوئی حکمت ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی۔

ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ تمام نصوص کو ایک ہی درجے کا حامل فرض کر کے اور ان کے باہمی تعلق میں زمانی تقدم وتاخر کے نکتے کو غیر اہم قرار دے کر ابن حزم جس الجھن سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ان کے منہج میں بھی جوں کی توں باقی رہتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ان کا زاویۂ نگاہ اصول فقہ کی مرکزی روایت میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا اور جمہور اصولیین نے، جیسا کہ ہم آیندہ بحث میں واضح کریں گے، امام شافعی کے طرز استدلال کی الجھنوں کو اس سے بہت مختلف انداز میں حل کرنے کو ترجیح دی جو ابن حزم نے اختیار کیا ہے۔

(جاری)

مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۴)

مراد علوی

مولانا مودودی نے "مدافعانہ جنگ"پر تفصیلی بحث  کے بعد اس  کے مصرف پر بحث اٹھائی ہےکہ کیا  یہ مقصود بالذات ہے  یا  کسی اور مقصد  کے لیے کیا جاتا ہے۔  آپ کے نزدیک  دفاع  بے مصرف نہیں  بلکہ ایک اہم فریضہ کے لیے ناگزیر وسیلہ ہے۔ اس فریضے کو انھوں نے  ''اصلی خدمت" سے موسوم کیا ہے۔ چناں چہ مولانا کے نزدیک ''مدافعانہ جنگ'' مقصود بالذات نہیں بلکہ مسلمانوں کو ''اصلی خدمت''جیسے اہم فریضہ  ادا کرنے  اور   اجتماعی  قوت  مٹنے سے   بچانے کے لیے  ناگزیر ہے تاکہ اس کے ذریعے مسلمان اندرونی اور بیرونی فتنوں سے  محفوظ رہ کر اصلی خدمت کی ادائیگی  کے قابل ہوسکے۔ اگر اجتماعی قوت باقی   نہ رہی تو مسلمان اس خدمت کی انجام دہی کے قابل نہیں رہ سکتے۔1

مولانا کے ڈسکورس میں"اصلی خدمت " کو اساس کی حیثیت حاصل ہے،  یہ  notion  آپ کی پوری فکر کو محیط ہونے کے ساتھ آپ  کی مجموعی فکر اور تعبیرِ دین  کا ایک اہم رخ سامنے لاتا ہے۔ علاوہ ازیں"اصلی خدمت"  کا ایک تفصیلی بیان ''خطبات'' میں بھی مذکور ہےجس میں انھوں نے تمام عبادات کو  ''اصلی خدمت'' کے لیے تربیت قرار دیا ہے۔  مولانا کی نظر میں تمام عبادات کی علتِ غائی ''اصلی خدمت'' ہے جو اسی کتاب کے آخری حصے  میں ''جہاد'' میں سمیٹ دیا گیا  ہے۔2  جہاد کی تفصیلی بحث سے انھوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے  کہ جہاد  دراصل  انسان  پر سے انسان کی حکومت ختم کرکے الٰہی حکومت  کے قیام کے لیے کی   جانے والی کوشش کا نام ہے  اور  عبادات اسی تیاری کے لئے ایک تربیتی کورس ہے۔مولانا  نے عبادت کا مفہوم یوں  بیان کرتے ہیں کہ عبادت صرف صوم و صلاۃ کا نام نہیں بلکہ کاروبارِ زندگی کے تمام اطراف و اکناف میں اللہ کی اطاعت کرنے کو عبادت کہتے ہیں۔ اللہ کو معبودِ برحق ماننے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ احساسِ بندگی اور  اللہ کی یاد سے خالی نہ ہو۔ بندگی کے اس معراج تک پہنچنے کے لیے زبردست تربیت کی ضرورت ہے اور  اسلام عبادات کے ذریعہ اس تربیت کو ممکن بناتا ہے۔    ''عبادت کے غلط مفہوم'' کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"آپ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑے ہونا، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکنا، زمین پر ہاتھ ٹیک کر سجدہ کرنا اور چند مقرر الفاظ زبان سے ادا کرنا، بس یہی چند افعال اور حرکات عبادت ہیں۔آپ سمجھتے ہیں کہ  رمضان کی پہلی تاریخ سے شوال کا چاند نکلنے تک روزانہ صبح سے شام تک بُھوکے پیاسے رہنے کا نام عبادت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے چند رکوع زبان سے پڑھ دینے کا نام عبادت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ مکہ معظمہ جاکر کعبے کے گرد طواف کرنے کا نام عبادت ہے۔ غرض آپ نے چند افعال کی ظاہری شکلوں کا نام عبادت رکھ کر چھوڑا ہے، اور جب کوئی شخص ان شکلوں کے ساتھ ان افعال کو ادا کردیتا ہے تو آپ خیال کرتے ہیں کہ اس نے خدا کی عبادت کردی اور  وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون کا مقصد پورا ہوگیا۔ اب وہ اپنی زندگی میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔"3

آگے ''عبادت ـــــ پوری زندگی میں بندگی'' کے زیرِ عنوان  لکھتے ہیں:

"لیکن اصلی حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جس عبادت کے لیے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا آپ کو حکم دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہوجائیں جو قانون الہی کے خلاف ہو۔"4

"خطبات'' میں تمام عبادات کو اسی نظر سے دیکھا گیا ہے۔نماز ، روزہ ، زکاۃ اور حج کو ''اصلی خدمت'' کے لیے"ٹریننگ" اور ''تربیتی کورس'' قرار دیتے ہیں:

"پچھلے خطبوں میں باربار میں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ نماز روزہ اور حج اور زکاۃ جنھیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا ہے، اور اسلام کا رکن قرار دیا ہے، یہ ساری چیزیں دوسرے مذہبوں کی عبادات کی طرح پوجا پاٹ اور نذر و نیاز اور جاترا کی رسمیں نہیں ہیں کہ بس آپ ان کو ادا کردیں اور اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہوجائے۔ بلکہ دراصل یہ ایک بڑے مقصد کے لیے آپ کو تیار کرنے اور ایک بڑے کام کے لیے آپ کی تربیت کرنے کی خاطر فرض کی گئی ہیں۔ "5

اس ''بڑے مقصد''  کومزید  واضح  کرتے ہیں:

"مختصر الفاظ میں تو صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ وہ مقصد انسان پر سے انسان کی حکومت مٹاکر خدائے واحد کی حکومت قائم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے اور جان توڑ کوشش کرنے کا نام جہاد ہے، اور نماز، روزہ، حج، زکواۃ سب کے سب اسی کام کی تیاری کے لیے ہیں۔"6

مولانا  ''خطبات ''میں بھی جہاد کی اخلاقی توجیہ پیش کرتے ہیں، جس کی تفصیل اوپر بیان ہوچکی۔ اس میں انھوں  یہ نتیجہ اخذ کیا ہے  کہ تمام برائیوں کی اصل  جڑ حکومت ہے اور  اسی سے  تمام فساد پھیلتا ہے۔7  اصلاح کا پہلا قدم حکومت کی اصلاح  سے رکھا جائے  گا اور   اصلاح  تبھی ممکن ہے جب انسان پر سے انسان کی حکومت  ختم کرکے اللہ کی حکومت قائم کی جائے۔ یہ ایک مشکل اور کھٹن راستہ ہے کیوں کہ حکومت حاصل ہونے سے انسان کے اندر  لالچ خواہشاتِ نفسانی  کے طوفان اٹھتے ہیں۔ اسی خود غرضی اور نفسانیت سے  بچنے کے لیے  عبادات ایک "تربیتی کورس" ہے۔8   تاہم  مولانا  کے ہاں ''اصلی خدمت'' اور  '' اصلی عبادت''  دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔   اس لحاظ سے ''خطبات'' اور ''الجہاد فی الاسلام'' میں  قائم کیے گئے مقدمہ (Thesis) میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔  وہ بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ دنیا سے منکر ختم کرنے  کے لیے  تمام غیر  الہٰی  حکومتوں کو مٹا کر ''حکومت ِ الہٰیہ " قائم  کر دی  جائے۔   بہ ایں وجہ  وہ "مصلحانہ جنگ'' کو ''مدافعانہ جنگ'' کا مصرف قرار دیتے ہیں۔  ''مصلحانہ جنگ'' پر انھوں نے ساری بحث نہی عن المنکر کے  تنا ظر میں کی ہے لیکن  دونوں مقامات پر مولانا   کا اسلوبِ بیان rhetorical  رہا ہے۔ جب خطبات پر بعض اعتراضات ہوئے، جن کا حاصل یہ تھا کہ مولانا کے ہاں عبادات مقصود بالذات نہیں ہیں اور  آپ کی عبارتوں سے تکفیر لازم آتی ہے۔ لیکن اس بحث میں مولاناکےحوالےسےایک بہت ہی اہم بات بیشتر نظر انداز کی جاتی ہےکہ دین کے بارے میں ان کا مجموعی زاویۂ نگاہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ  اس تاریخی حقیقت کو جان لینا بھی ضروری ہے جس کا سابقہ  مسلمانوں کو  نو آبادیاتی دور میں پیش آیا۔  اس دور میں دین کو ہر اجتماعی سرگرمی سے نکال دینے کے ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے ذہنوں میں اسلام کا اجتماعی پیغام کمزور کردیا گیا۔  یہ حملہ اس قدر زور دار اور موثر تھا کہ مسلمان اہل علم کا ایک بہت بڑا  اور با اثر طبقہ  قوم پرستی  کی طرف چلا گیا جو یقیناََ ایک غیر اسلامی طرزِ فکر ہے۔ اس وجہ سے اسلام کا اجتماعی پیغام سامنے لانا آسان نہ تھا،  اس لیے مولانا نے اپنی تمام توانائیاں دین کی پوری تصویر سامنے لانے میں صرف کردیں کیوں کہ کسی فکر کو ذہنوں میں دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اسی قسم کی غیر معمولی تاکید ناگزیر ہوتی ہے۔9     

چناں چہ مولانا کی فکر کی ندرت دین کے تمام اجزا کو ملا ایک کلی تصویر بنانے میں ہے۔ اس  وجہ سے وہ توحید کو نقطۂ آغاز سمجھ کر کائنات کی ہر شے کے اندر اس کے ظہور کو دین کا اصل مطالبہ سمجھتے ہیں۔ اس تعبیر کی رو سے عبادات کی حیثیت فروع کی نہیں بلکہ اس کلی تصویر ہی کا حصہ بنتی ہیں۔ مزید برآں مولانا دین کے کسی جز کو اپنی ذات میں اکیلا تصور نہیں کرتے بلکہ ہر جزو کو کلی تصویر کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ مزید یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ مولانا کی یہی تعبیر قانونی تناظر (Legal Sence)میں نہیں ہے، جس سے یہ نتیجہ نکال لیا جائے کہ مولانا  مرتکب گناہ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے  ہیں یا  عبادات کو مقصود بالذات نہیں مانتے   بلکہ یہ تمام باتیں نظری تناظر میں ہیں، جس کا مقصد صرف مسلمانوں پر نہایت تاکید کے ساتھ  دین کا مطالبہ واضح کرنا ہے۔ جب مذکورہ دو اعتراضات کیے گئے تو مولانا نے لکھا:

"یہ کتاب فقہ یا علمِ کلام کے موضوع پر نہیں ہے۔ یہ فتوے کی زبان میں نہیں لکھی گئ ہے۔ اس میں مسئلہ زیرِ بحث یہ نہیں ہے کہ دائرۂ اسلام کی آخری سرحدیں کیا ہیں اور کن حالات میں ایک شخص مرتد یا خرج از ملت قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب ہے جس کا مقصد خدا کے بندوں کو فرماں براداری پر اکسانا، نا فرمانی سے روکنا اور اخلاص فی الطاعۃ کی تلقین کرنا ہے۔ کیا مفتی صاحبان یہ چاہتے تھے کہ میں اس طرح کی ایک کتاب میں مسلمانوں کو یہ یقین دلاتا کہ نماز، روزہ، حج، زکاۃ، سب زوائد ہیں تم ان اس کو چھوڑ کر بھی مسلمان رہ سکتے ہو؟ "10

ان اعتراضات میں ایک معروف اعتراض حج کی بحث میں ایک عبارت سے متعلق تھا۔ مولانا نے اس  مزید وضاحت بیان کی ہے ۔زیرِ نظر عبارت  پر اعتراض کیا گیا:

" جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کرکر کے سال پر سال یو نہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمہ ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں۔ کعبہ یورپ کو آتے جاتے ہیں حجاز کے ساحل سے بھی قریب گزرجاتے ہیں، جہاں سے مکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دل میں نہیں گزرتا، وہ قطعا مسلمان نہیں ہیں، جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور قرآن سے جاہل ہے جو انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔"11

اس عبارت پر یہ  اعتراض ہوا کہ مولانا  کا عقیدہ اہلِ سنت  والجماعت کے خلاف ہے اور یہ خوارج اور معتزلہ کا عقیدہ ہے جو اعمال کو ایما ن کا جزو مقوم نہیں بلکہ جزومتمم  مانتے  ہیں۔ مولانا نے اس کا تفصیلی  جواب دیا ہے:

"خطبات کی جن عبارات پر مولانا]سیدحسین احمد مدنی[ نے مجھے خارجی و معتزلی بنایا ہے، اُن پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ یہ کتاب فقہ علمِ کلام کی کتاب نہیں ہے، نہ فتوے کی زبان میں لکھی گئ ہے، بلکہ یہ ایک وعظ و نصیحت کی کتاب ہے جس سے مقصود بندگانِ خدا کو فرماں برادرای پر اُکسانا اور نافرمانی سے روکنا ہے۔ اس میں بحث یہ نہیں ہے کہ اسلام کے آخری حدود کیا  ہیں جن سے تجاوز کیے بغیر آدمی خارج از ملت قرار نہ پاسکتا ہو، بلکہ اس میں عام مسلمانوں کو دین کا اصل مقصد سمجھانے اور اخلاص فی الطاعت پر ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا اس نوعیت کی کتاب میں مجھے عوام سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ خواہ تم نماز، روزہ حج، زکاۃ ادا نہ کرو، پھر بھی تم مسلمان ہی رہوں گے۔"12

مولانا مودودی نے ''الجہاد فی اسلام ''کے مقدمے میں  اگر چہ یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ جہاد کے متعلق اسلامی شریعت کے احکام قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں دیے گئے احکام بلا کم و کاست   پیش کروں گا تاکہ کہ مذکورہ مصادر سے ماخوذ احکام بڑھانے اور گھٹانے سے اسلام کا اصلی منشا تبدیل نہ ہوجائے۔13 لیکن "مصلحانہ جنگ " میں کتب فقہیہ کے چند حوالوں کے علاوہ اس  سے خاطر خواہ    استفادہ نظر نہیں آتا۔  بالخصوص نہی  عن المنکر  کی بحث  میں  بھی یہی اسلوب نظر آتا ہے۔  "خطبات'' کے ضمن میں مذکور ہوا کہ وہاں مولانا  خود یہ عذر پیش کررہے  ہیں  کہ  میرا  اسلوب بیان خطیبانہ ہے ۔ ''اصلی خدمت " کی بحث سے یہ واضح کرنا مقصود ہے  کہ  ''مصلحانہ جنگ'' اسی کی توسیع ہے اور دونوں کا اندازِ بیان خطیبانہ ہے۔ اس کے وہ قانونی نتائج نکالنا درست نہیں ہے جو اس باب میں مولانا سے اختلاف رکھنے والنے اخذ کرتے ہیں۔

مصلحانہ جنگ کا  تحقیقی تجزیہ

مولانا نے ''مصلحانہ جنگ'' بنیادی طور پر نہی المنکر  کے تصور پر بنا کیا ہے، جس کی انھوں نے ایک انوکھی تشریح بیان کی ہے۔ "اصلی خدمت'' کےلیے سورۃ آل عمران کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں :

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّۃ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ (سورۃ آل عمران، آیت 110)

’’ تم ایک بہترین امت ہو جسے لوگوں کی خدمت و ہدایت کے لیے برپا کیا گیا ہے، تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور بدی کو روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ’’

أخرجت سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اللہ کے دین کا پیغام آفاقی ہے، یہ کسی خاص خطے یا قومیت تک محدود نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔"خیر امت'' کے ذمہ یہ فریضہ  عائد کیا گیا ہے کہ  تمام  انسانوں  کو نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے ۔ علاوہ ازیں جبلی خواہشات کی رو سے انسان اور حیوان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ حیوان کی زندگی کا منتہائے کمال ان خواہشات کی تکمیل ہے اگر انسان کی زندگی کا مقصد بھی یہی بن جائے تو دونوں میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا۔ دونوں کو  ایک دوسرے سے ممیز کرنے والی چیز مقصدِ حیات ہے۔ انسان کی زندگی کا مقصد ایک ''بلند  نصب العین'' کا حصول ہے، نہ کہ  بالذات ان خوہشات کا حصول ۔ یہ خواہشات اس بلند مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایک لازمی وسیلہ ہے۔ بقائے حیات کے لیے کمانا نہایت ضروری ہے نہ کمائے تو فاقے سے مر جائے گا۔اسی طرح انسان  دشمن سے حفاظت پر مجبور ہے اگر حفاظت نہ کرے تو مارا جائے گا۔  اسی طرح  دفاع  اپنی ذات میں مقصد نہیں ہے  بلکہ  بلند نصب العین حاصل کرنے  کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی کو   انسانیت کا بلند اخلاقی معیار مانا گیا ہے کہ انسان  اپنے خالق کی طرف سے  عائد کے گئے فرائض کی بجا آور کرے۔ جس طرح انسان اپنے لیے ان فرائض کی تکمیل ایک اہم  اور ضروری امرسمجھتا  ہے، اسی طرح اس پر  دوسروں کے بھی حقوق ہیں۔  جب افراد کے لیے  انسانیت کا اعلیٰ معیار یہی ہے تو اجتماعیت کے لیے بھی یہ معیار کیوں نہ ہو۔  جب  فرد کی زندگی کا مقصد تن پروری اور خواہشات کے حصول کے سوا کچھ نہ ہو تو اس کا حیوان کے ساتھ فرق مٹ جاتا ہے۔  اسی طرح ایسی انسانی جماعت حیوانوں سے کم نہیں جس کی زندگی اپنی اصلاح و فلاح اور ترقی و بہبود سے عبارت ہو۔ یہ امت وسط ہےجسے خالقِ کائنات نے ایک بڑے  فریضے اور عالم گیر خدمت کے لیے مبعوث کیا ہے۔ اگر کسی فرد کو شیطانی قوتیں مادی اور روحانی طور پر تباہ کررہی ہوں تو انسانیت کے مذکورہ معیار کےمطابق "خیر امت'' کا فرض ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے تاکہ اپنے رب کی صحیح  بندگی کر سکے۔ بعینہ یہی معیار اقوام کے لیے بھی ہے۔ اگر قوموں کی اخلاقی، مادی اور روحانی زندگی بردباد ہورہی ہو تو   خالق کی طرف سے عائد کے گئے فرائض کی ادائیگی کے لیے ان کی حفاظت اہم فریضہ ہے۔  

اس مقدمہ کو بڑھاتے ہوئے ایک اور آیت سے استدلال کرتے ہیں:

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاھُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّكَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنكَرِ  (سورۃ الحج، آیت 41)

[یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں طاقت بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکواۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔]

یہاں الناس کے بجائے الارض کا لفظ استعمال کیا اور مسلمانوں کو طاقت وقوت کا فائدہ یہ بتایا کہ وہ زمین میں خدا کی بندگی کو فروغ دیں گے، نیکی کا پرچار کریں گے اور بدی کو مٹائیں گے۔ اس سےبھی یہی بتانا مقصود ہے کہ مسلمانوں کا کام صرف عرب یا صرف عجم یا صرف ایشیا یا صرف مشرق کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کے لیے ہے۔ انہیں زمین کے چپہ چپہ اور گوشہ گوشہ میں پہنچنا چاہیے، معمورہ ارضی کے ہر دشت و جبل اور بحر و بر میں نیکی کا جھنڈا لیے ہوئے بدی کے لشکروں کا تعاقب کرنا چاہیے، اور اگر دنیا کا کوئی ایک کونہ بھی ایسا باقی رہ گیا ہو جہاں منکر (یعنی برائی) موجود ہو تو وہاں پہنچ کر اس کو مٹانا اور معروف (نیکی) کو اس کی جگہ قائم کرنا چاہیے۔ اللہ کا کسی خاص ملک یا خاص نسل سے رشتہ نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام مخلوق کا یکساں خالق ہے سب سے یکساں خالقیت کا تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے وہ کسی خاص ملک میں فتنہ و فساد پھیلنے کو برا نہیں سمجھتا بلکہ زمین میں خواہ کسی جگہ بھی فساد ہو اس کے لیے یکساں ناراضی کا موجب ہوتا ہے، چناچہ قرآن مجید میں  فساد فی العرب یا  فتنہ فی العجم کہیں نہیں آیا بلکہ ہر جگہ ارض کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، لفسدت الارض ، یسعون فی الارض فسادا، تکن فی الارض پس وہ اپنے لشکر حق یعنی امت مسلمہ کی خدمت کو قومیت و نسل کی حدود میں مقید نہیں کرتا بلکہ اس رحمت کو تمام روئے زمین کے بسنے والوں کے لیے عام ہے کرتا ہے۔"14

ان تصریحات سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ  امت مسلمہ یہ فریضہ  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے ادا کرے گا۔ "خیر امت'' کے لقب سے نوازنے کا یہی مطلب ہے کہ یہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہے گی  بلکہ پوری  انسانیت کی خدمت اس کی ذمہ داری ہے۔ انسانیت کے ساتھ اس سے بڑی کوئی ہمدردی نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی  آدمی ایک  برائی  اپنے  لیے پسند نہیں کرتا تو اسلام اسی کا متقاضی ہے  کہ وہ دوسروں کے لیے پسند نہ کرے۔ انسانیت سے ہمدردی کا  لازمی نتیجہ ہے کہ  امت  دوسروں کو بدی سے بچانے  کو اصل مقصد بنا دے۔یہاں  بھی مولانا  کا سارا زور ''نظام تمدن'' کو بدی سے پاک کرنے پر ہے ۔   اس بحث کو سمیٹے ہوئے لکھتے ہیں:

" پس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی حقیقت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ فی نفسہ ایک اچھی چیز ہے اور وہ ہمدردی بنی نوع کا ایک پاکیزہ جذبہ ہے، بلکہ در حقیقت وہ نظامِ تمدن کو فساد سے محفوظ رکھنے کی ایک بہترین اور ناگزیر تدبیر ہے اور ایک خدمت ہے جو دنیا میں امن قائم کرنے، دنیا کو شریف انسانوں کی بستی کے قبال بنانے اور دنیا والوں کو حیوانیت کے درجہ سے انسانیت کاملہ کے درجہ تک پہنچانے کے لیے اللہ نے ایک بین الاقوامی گروہ کے سپرد کی ہے، اور یقینا انسانیت کی اس بڑی خدمت اور کوئی نہیں ہوسکتی۔"15

نہی عن المنکر کا طریقہ

مولانا کی تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا اصل  فریضہ اجتماعی فتنہ و فساد کو روکنا ہے۔ اور غیر مسلم دنیا اس میں مبتلا ہے، اب غیر مسلم دنیا کو معروف کی تلقین کے لیے دعوت و تبلیغ کا طریقہ بتایا لیکن منکر سے روکنے کی کوئی قید نہیں رکھی۔ چناں چہ لکھتے  ہیں:

"اسلام نے غیر مسلم دنیا کو معروف کی تلقین کرنے کے لیے تو صرف دعوت و تبلیغ کا طریقہ بتایا ہے، لیکن منکر سے روکنے کے لیے اس کی قید نہیں رکھی بلکہ اس کی مختلف انواع کے لیے مختلف طریقے تجویز کیے ہیں۔ قلب و ذہن کی گندگی اور خیال و رائے کو ناپاکی کو دور کرنے کی ہداہت کی"16

مولانا  نے  برائی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: اولاََ ذہن و قلب کی گندگی، ثانیا فعل اور عمل کی برائی۔ مقدم الذکر کو دور کرنے کا طریقہ وعظ و تلقین ہے اور ثانی الذکر  بہ زورِ طاقت و قوت  مٹا دی جائے گی ۔   لکھتے ہیں:

"فعل و عمل کی برائی کو طاقت و قوت کے زور سے روکنے کا حکم دیا۔ چانچہ اوپر وہ حدیث گزرچکی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ولتَأْخُذُنَّ عَلَی يَدِ الظَّالِمِ، ولَتَأْطرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا ''َ۔ تم پر لازم ہے کہ بدکار کا ہاتھ پکڑ لو اور اس کو حق کی طرف موڑ دو۔ اس کے علاوہ اور بہت سی احادیث ہیں جن میں منکر کو  روکنے کے لیے قوت کے استعمال کا حکم ہے۔"17

مولانا نے اگر چہ استطاعت پر بحث کی ہے  لیکن کیا مسلمان غیر مسلم دنیا ــــ جو قانونی اعتبار سے مسلمانوں کی عمل داری  سے باہر ہے ــــ میں ہونے  والی گناہوں  کو روکنے کے مکلف ہیں؟  تاہم نہی عن المنکر کی حد تک تو بات درست ہے لیکن کیا اس سے غیر مسلموں حکومتوں کو ختم کرنے کا جواز فراہم  ہوسکتا ہے؟ آئندہ سطور میں اس کی توضیح کی جائے گی کہ یہ خیال درست نہیں ہے۔

فتنہ و فساد کے خلاف جنگ

مولانا کے نزدیک فعل و عمل کی برائی کو اللہ نے فتنہ و فساد سے تعبیر کیا ہے۔ نیز فعل و عمل کی برائی کی ہر قسم کو فتنہ و فساد کے تحت لاتے ہیں اور اس کا تلوار  ہی حل پیش کرتے ہیں۔ مولانا لکھتے ہیں:

"ان تمام آیات میں اسی منکر کو فتنہ اور فساد کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ تمام منکرات میں یہ فتنہ و فساد ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا استیصال بغیر تلواز کے نہیں ہوسکتا۔"18

فتنہ کی تحقیق

مولانا فتنہ پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے   ثابت کرتے ہیں کہ  فتنہ  کا اصل معنی آزمائش اور امتحان کے  ہیں۔ اگر یہ اللہ کی جانب سے ہو تو برحق ہے کیوں کہ اللہ انسان کا خالق ہے اور وہ اپنے بندوں کا امتحان لینے کا پورا حق رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہی آزمائش انسان کی طرف سے ہو تو ظلم اور زیادتی ہے کیوں کہ کسی انسان کےلئے دوسرے انسان  کو آزمائش میں ڈالنا قطعاََ ناجائز ہے۔  کسی دوسرے انسان کو آزمائش میں ڈالنا  دراصل اس کی آزادی سلب کرکے اپنی بندگی پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ 19  بعد ازیں فتنہ کےسات اقسام ذکر  کی ہیں، ان تمام قسموں کے تحت قرآن کی وہ آیتیں نقل کرتے ہیں جن میں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے قبل  مولانا   یہ  واضح کرچکے ہیں کہ  فعل اور عمل کی برائی  کو قرآن نے فتنہ و فساد سے تعبیر کیا ہے۔

فتنہ کی مذکورہ تشریح کے مطابق  ان تمام آیات کا فعل اور عمل کی برائی کے ساتھ کوئی تعلق  نظر نہیں آتا  بہ جز  جبر و استبداد کے، اور   نہ فتنہ کی  مذکورہ بالا تعریف کے ساتھ وہ اعمال لگا کھاتے ہیں جو فتنہ اور فساد دونوں کے تحت مذکور ہیں۔ مثال کے طور پر  اسلامی  شریعت  کی روشنی  غیر مسلموں کا آپس میں دارالاسلام کے اندر بھی شراب پینے اور خنزیر کا گوشت کھانے اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت  ہے۔ بعض ذمی محرمات کے ساتھ نکاح کو جائز سمجھتے ہیں، جو نہایت قبیح عمل ہے لیکن دارالاسلام کے اندر میں  مسلمانوں کا حاکم ان کو اس عمل سے نہیں روک سکتا۔ اس قسم کی دیگر عملی برائیاں بھی  ہیں جن کو اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد  نہیں روکا جاسکتا ۔ فتنہ اور فساد کے تحت انھوں نے جتنی قسمیں ذکر کی ہیں، اگر ان کو الگ الگ کرکے دیکھا جائے تو سب اسی قبیل کی برائیاں ہیں جس کا منبع اس تعبیر کی رو سے حکومت ہے۔ "مصلحانہ جنگ'' کی عمارت اٹھاتے ہوئے مولانا  یہ ثابت کررہے تھے  کہ اس کا مقصد  انسانوں کو اخلاقی اور روحانی تباہیوں سے بچانا ہے۔  اگر حکومت کو مٹا کر بھی ایسی برائیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں تو  "مصلحانہ جنگ'' کا کیا کوئی  مقصد نظر نہیں آتا۔ تاہم  مولانا نے فتنہ و فساد کو مٹانے کے لیے صرف  جہاد اور قتال حل تجویز کیا ہے،  اس حوالے سے  جو پہلی آیت  (سورۃ البقرہ، آیت 90)  نقل کی گئی ہے ، اس کا تعلق اس جبر و اسبتداد سے ہے جو مکہ میں مسلمانوں پر مسلط تھا،  مولانا نے  اس کا ذکر اسی سیاق میں کیا  ہے20  اور  ''تفہیم القرآن'' میں بھی اس  آیات کا   یہی تناظر بیان کرتے ہیں۔

اب اگر ان تمام آیات کے  سیاق پر غائر نظر ڈالی جائے  تو  معلوم ہوتا ہے  کہ ان میں اصل بحث مکہ کے حالات سے  ہورہی ہے، اور فتنہ صد عن سبیل اللہ کے مفہوم میں مستعمل ہے۔  فتنہ کی ان قسموں  پر ایک سرسری نگاہ ڈالییے:

یقیناََ یہ تمام اقسام فتنہ کی اقسام ہے ۔ لیکن فتنہ کی وہ تعریف محلِ نظر ہے جو مولانا نے کی ہے، جس کی رو سے تمام عملی برائیاں فتنہ ہے۔ اس کے برعکس ان اقسام سے فتنہ کی یہ تعریف   متعین ہوتی ہے کہ کسی کو حق سے منع کرنا اوران پر ظلم وجبر مسلط کرنا فتنہ کہلاتا ہے۔  مولانا کے پیش کردہ  مفہوم کو ہر عملی گمراہی تک پھیلانے کے وہ نتائج نہیں نکلتے جو ان کے پیشِ نظر   ہیں۔ کیوں کہ رسول اللہﷺ اور ان کے ساتھیوں پر جاری ظلم کے متعلق  قرآن میں 'فتنہ 'پر پہلی آیت سورۃ  بقرہ میں بہ طور علت القتال نازل ہوئی ہے۔  قتال کے لیے وجۂ جواز فتنہ کی تعریف اسی آیت سے اخذ کی جائے گی ۔ ظاہر اس آیت میں فتنہ کے معنی مذہبی جبر کے ہیں۔ تاہم حکمِ جہاد کا نزول  تدریجاََ ہوا ، جس مرحلے پر  اللہ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا، وہ اسی آیت میں تھا  ۔  اس تدریجی عمل کو امام سرخسی نے  یوں بیان  کیا ہے:

"وقد كان رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم مأمورا في الابتداء بالصفح والاعراض عن المشركين قا ل اللہ تعالی فاصفح اصفح الجميل وقال تعالی وأعرض عن المشركين ثم أمر بالدعاء إلی الدين بالوعظ والمجادلۃ بالاحسن فقال تعالی ادع إلی سبيل ربك بالحكمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتئ ھي أحسن ثم أمر بالقتال إذا كانت البدايۃ منھم فقال تعالی اذن للذين يقاتلون بانھم ظلموا أي اذن لھم في الدفع وقال تعالی فان قاتلوكم فاقتلوھم وقال تعالی وان جنحوا للسلم فاجنح لھا ثم أمر بالبدايۃ بالقتال فقال تعالی وقاتلوھم حتی لا تكون فتنۃ وقال تعالی فاقتلوا المشركين حيث وجدتموھم."23

رسول اللہ ﷺ کو آغازِ اسلام میں مشرکین سےاعراض کرنے کا حکم دیا گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان سے درگز کیجیے۔ مزید فرمایا: اور مشرکین سے اعراض کریں۔ بعد ازاں نصیحت اور سلیقہ  مندی سے دعوت دینے کا حکم نازل ہوا، ارشاد ہوا: اے نبیﷺ! اپنے رب کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے عمدہ اور بہترین طریقے سے مباحثہ کرو۔ پھر قتال کا حکم نازل ہوا بشرطیکہ ابتدا کفار کی جانب سے ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے؛ کیوں کہ وہ مظلوم ہیں۔ یہ اجازت ان کو دفاع کے لیے دی گئی۔ مزید فرمایا: اگر دشمن صلح کی طرح مائل ہوں تو تم بھی آمادہ ہوجاؤ۔ اس کے بعد لڑائی میں ابتدا کرنے کا حکم نازل ہوا۔ چنانچہ ارشاد ہوا: اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ مزید فرمایا: مشرکین کوجہاں پاؤ انھیں قتل کرو۔

فقہا  اس آیت کو علت القتال پر قرآنی نص قرار دیتے ہیں۔ اصولین کے ہاں  علت کے لیے ضروری ہے کہ وہ  زیادہ  وسیع اور مبہم (Equivocal) نہ ہو بلکہ واضح اور متعین (Definite)  ہو کیوں کہ مقدم الذکر صورت میں وہ اپنا اصل کھو دیتی ہے۔ فتنہ کا  یہ  مفہوم تو صحیح ہے کہ اس کے معنی ظلم اور اسبتداد کے ہیں، یہ بات کسی حد تک منطقی ہے کہ بالواسطہ  تمام  برائیاں  فتنہ کی ذیل میں آتی  ہیں لیکن قتال کے لیے کسی بھی صورت میں وجۂ جواز نہیں بن سکتیں۔ قتال کے ضمن میں اصل بحث اس کی علت سے کی جاتی ہے اور قتال کے جواز کے لیے فتنہ کی غیر مبہم تعریف ناگزیز ہے بہ خلافِ ہر عملی برائی کو اس میں داخل کرنے کے۔ گزشتہ سطور میں فتنہ کی جو  اقسام ذکر کی گئیں  وہ تمام فقہا کی قانونی تعبیر ، صد عن سبیل اللہ، سے مطابقت رکھتی ہیں ، یہاں تک تو مولانا کی تشریح سے اتفاق ممکن ہے لیکن  قتال کے جواز کے لیے ہر عملی برائی پر فتنہ کا اطلاق  کرنا  علی الاطلاق غلط ہے۔  بہرحال  اقسامِ فتنہ کے تحت جو آیتیں مولانا نے نقل کی ہیں ،ا پنے وسیع مفہوم میں  صد عن سبیل اللہ سے  متعلق ہیں۔ مزید برآں ان تمام آیات کا تعلق  ماقبلِ  ہجرت زمانے کے مذہبی جبر  کے ساتھ ہیں۔24  اس کی  مجموعی تشریح سے  واضح ہوتا ہے کہ  فتنہ سے مراد  وہ محاربہ تھا   جو اہلِ مکہ کی جانب سے مسلمانوں پر ہو رہا تھا۔  قرآن میں اسی محاربے کو علت القتال قرار دیا گیا ہے۔ اگر تفہیم القرآن میں ان آیات کی تفسیر  پر  ایک سرسری نگاہ ڈالی  جائے تو اس میں بھی  فتنہ  اسی مفہوم میں  مذکور  ہے۔25

اس سے یہ تنقیح تو ہوگئی کہ مولانا  کے ہاں بھی  فتنہ مذہبی جبر کو کہتے ہیں۔ ''فتنہ کی تحقیق'' کے تحت   انھوں نے  اس کا  یہ خلاصہ بیان کیا ہے کہ فتنہ' ظلم اور جبر کو کہتے ہیں جو persecution  کا ہم معنی ہے لیکن  آگے تمام ''عملی برائیوں'' کو  بھی اس میں داخل کرتے ہیں۔ اگر  ان تعریفوں میں  سے کسی  کو بھی اصل مان لیا جائے تو دونوں کا تصادم ہر صورت میں ضروری ٹھہرتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک تعبیر کو لیا جائے گا۔ اگر فتنہ مذہبی جبر ہے تو افعال کی برائیوں تک اس کی توسیع نہیں جاسکتی۔   قتال کی بحث میں فتنہ ایک خاص اصطلاح (Specific Term) ہے اور  ہر عملی برائی پر  اس کا اطلاق کرکے قتال کے لیے جواز ثابت کرنا درست نہیں ہے۔


حواشی

    1.  الجہاد فی الاسلام، ص 85

    2.   تصور عبادت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی عبادات پر ایک نظر (لاہور:ا سلامک پبلی کیشنز،  2002ء)

    3.    سید ابوالاعلیٰ مودودی، خطبات (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، اگست، 1996ء) ص 135ـ36

    4.   ایضاََ، ص 136

    5.   ایضاََ، ص 307۔ مولانا تصورِ عبادت میں مذکورہ "تربیتی کورس" پر بہت زور یتے ہیں   لیکن ''مصلحانہ جنگ'' کی تشریح  کرتے ہوئے بعض بہت ہی کمزور دلائل کا سہارا لیا ہے۔ جس طرح یہاں بھی  وہ  انفرادی اصلاح  کے لیے عبادات کو ''تربیتی کورس'' قرار دیتے ہیں لیکن "الجہاد فی الاسلام" میں اپنے تھیسس کو قوی بنانے کے لیے اس کی  برعکس  تعبیر پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: " ]امر بالمعروف اور نہی عن المنکر[ میں خود نیک بننا اور بدی سے پرہیز کرنا مقدم رکھا گیا ہے اور نیک بنانا اور بدی سے روکنا موخر، جیسا  کہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر سے پہلے اقاموا الصلوٰۃ و اٰتوا الزکوٰۃ کا ذکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ نیک بنانے سے پہلے نیک بننا ضروری ہے۔ لیکن جس طرح اپنا پیٹ بھرنے سے دوسرے کا پیٹ بھرنا  زیادہ  افضل ہے اسی طرح فضیلت کے اعتبار سے نیکی کو پھیلانے اور بدی کو روکنے کا درجہ بھی نیک بننے اور بدی کو ترک کرنے سے زیادہ افضل ہے "۔ ( الجہاد فی الاسلام، ص 93)۔ مولانا نے ''تفہیم القرآن'' میں اسی رائے پر نقد کی ہے۔ دیکھیے: تفہیم القرآن، ج 5، ص 454۔ انفرادی اصلاح پر انھوں نے اپنی فکر  سے وابستہ  لوگوں  کے لیے باقاعدہ لٹریچر بھی تیار کیا ہے۔  مثال کے طور پر دیکھیے: ہدایات (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، 2001ء)؛  تحریکِ اسلامی کامیابی کے شرائط(لاہور: ادارہ مطبوعاتِ طلبہ، 2001ء) ؛ تصوف اور تعمیرِ سیرت: مولانا مودودی کی تحریروں کی روشنی میں، مرتب: عاصم نعمانی (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ، 1985ء)؛ تحریک اور کارکن، مرتب: خلیل احمد حامدی (لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، 2016ء(۔ تاہم یہاں صرف اس امر کی وضاحت مقصود ہے جس کی جانب پہلے اشارہ  ہوچکا ہےکہ  مولانا نے جہاد کی اخلاقی توجیہہ میں بعض کمزور دلائل کا سہارا  لیا ہے۔

    6.   ایضاََ۔ عبادت کے تصور پر مولانا یہی بحث اپنی دوسری کتاب ''دینیات '' میں بھی کی ہے۔ جس تربیت سے "خطبات'' میں عبادات کا ذکر ہوچکا، وہی ''دینیات'' میں بھی مذکور  ہے۔  البتہ ثانی الذکر کتاب میں عبادات کی غایت ''حمایت اسلام'' سے تعبیر کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: سید ابو الاعلیٰ مودودی، دینیات (لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، 2009ء)، ص 120-137

    7.   دیکھیے: خطبات، ص 308-10؛  سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی ریاست ( لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، 2013ء)، ص 92-93

    8.   خطبات، ص 307-18؛ تحریک اور کارکن، ص112-13ش

    9.   مولانا مودودی کی فکر کا یہ پہلو  سیدنا مسیح علیہ السلام کی تعلیمات جیسا ہے۔جس وقت  بنی اسرائیل  کا اجتماع اخلاقی  نظام بگاڑ میں حد سے تجاوز کرگیا  اور ان کی زندگیوں سے دین کی اصل  روح نکل گئ  تو  سیدنا مسیح علیہ السلام ان  کو راہ راست پر لانے کے لیے   ایسی باتیں ارشاد فرمائیں،  جو  بہ ظاہر شریعت موسوی کے خلاف لگتی ہیں۔ اس موضوع پر مسلسل بحثیں ہوتی رہی ہیں کہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے شریعت موسوی کو منسوخ کیا ہے کہ نہیں۔ تاہم مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کا بنیادی مقصد  یہود کو راہ راست پر لانے کے لیے تھیں جن  میں ایک غیر معمولی تاکید  موجود تھی۔ یہاں   اس  بحث کو موضوع بنانے سے بات دور چلی جائے گی  لیکن اتنا واضح کرنا مقصود ہے  کہ مولانا مودودی اس وقت خاص حالات میں دین کا اجتماعی پیغام سامنے لارہے تھے اگر اس وجہ سے مولانا کے ڈسکورس میں دوسرے پہلوؤں کمزور پڑ گئے یا بہ ظاہر کمزور لگتے ہیں  تو اب اس کو متواز ن بنانا از حد ضروری ہے ، جیسا کہ خود مولانا کی فکر ہی میں سے  جناب خرم مراد اس دوسرے پہلو ، تہذیب نفس، پر بہت زیادہ زور دیتے رہے ہیں، انھیں اس کا ادراک بھی تھا کہ بعض چیزیں غیر متوازن ہیں۔

    10.   خطبات، ص 26

    11.  خطبات۔ 281

    12.   رسائل ومسائل، ج 2، ص 534

    13.  الجہاد فی اسلام، 14

    14. الجہاد فی اسلام، ص 88ـ87

    15.   ایضاََ، ص99

    16.   ایضاََ، 102

    17.  ایضاََ، 103

    18.   ایضاََ، 105

    19.   الجہاد فی الاسلام، ص 106

    20.   الجہاد فی الاسلام، ص 55-56

    21.   اس کی ذیل میں مولانا مودودی نے دو آیتیں نقل کی ہیں، سورۃ نحل، آیت 110 اور سورۃ بقرہ، آیت 217، مولانا نے تفہیم القرآن میں دونوں کا سیاق واضح کیا ہے۔مقدم  الذکر میں اشارہ مہاجرینِ حبشہ کی طرف ہے (تفہیم القرآن، 2، ص 576) ثانی الذکر بھی ان مظالم کے متعلق ہے جو مکہ میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے تھے۔ (تفہیم القرآن، ج 1، ص 165(۔ سورۃ   بقرہ، آیت 217 میں قریش کے مظالم کا ذکر ہے۔ سورۃ  یونس ،آیت 83 بھی فرعون جبر و اسبتداد سے متعلق ہے۔( تفہیم القرآن، ج 2، ص 301)۔ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت کا تعلق بھی قریش مکہ کے دس سالہ مظالم سے ہے۔ (تفہیم القرآن، ج2، ص 632-633)۔  باقی آیتیں بھی کم و بیش اسی سیاق میں بیان ہوئے ہیں۔

    22.   الجہاد فی الاسلام، ص 106-108

    23.   ابوبکر محمد بن احمد ابی سہل السرخسی،  کتاب المبسوط ( بیروت: دار المعرفة للطباعة والنشر، ١٩٧٨ء)، ج ١٠، ص 2

    24.  سورۃ  بقرہ، آیت 251  کا تناظر بھی یہی  ہے کہ عمالقہ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم  کرتے تھے۔ تفہم القرآن، ج 2 ص 191-19

    25.   تفہیم القرآن، ج 1، ص 149-151۔ سورۃ انفال آیت: 73 کا تعلق بھی انھی حالات کے ساتھ ہے۔ تفہیم القرآن، ج2، ص 163-64