لبرل ازم اور جمہوریت کی ناکامی کی بحث
محمد عمار خان ناصر
اسرائیلی مصنف یوول نوآہ حراری کی کتاب Twenty one Lessons for the 21st Century کا بنیادی موضوع فری مارکیٹ اکانومی اور لبرل ڈیموکریسی کو درپیش انتظامی واخلاقی چیلنجز کی وضاحت ہے۔ حراری کے خیال میں یہ نظام جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے قطعا ناکافی ہیں۔ اختتام تاریخ کا مرحلہ مزید موخر ہو گیا ہے اور انسانی تہذیب ایک بارپھر ’’اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو” جیسی صورت حال سے دوچار ہے۔
کتاب کے انٹروڈکشن میں، حراری نے اس کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں وہ اس تنقید کو سپرد قلم کرنے کے حوالے سے مبتلا رہے۔ حراری لکھتے ہیں:
’’بدقسمتی سے، موجودہ سیاسی فضا میں لبرل ازم اور جمہوریت کے متعلق کسی بھی تنقیدی فکر کے متعلق غالب امکان ہے کہ استبداد پسند عناصر اور مختلف غیر لبرل تحریکات اس تنقید کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کریں گی جن کا مفاد صرف اس میں ہے کہ لبرل ڈیموکریسی کو بے وقعت ثابت کیا جائے، جبکہ انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے کسی کھلے مباحثہ میں شریک نہ ہوا جائے۔ یہ طبقے لبرل ڈیموکریسی کے مسائل کے بارے میں تو بہت خوشی سے بحث کرتے ہیں، لیکن خود اپنے نظریات پر کسی قسم کی تنقید کو گوارا کرنے کا حوصلہ بالکل نہیں رکھتے۔
بطور ایک مصنف کے، مجھے ایک مشکل انتخاب کرنا تھا۔ کیا مجھے اپنے خیالات کا اظہار کھل کر کر دینا چاہیے اور یہ خطرہ مول لینا چاہیے کہ میرے الفاظ کو سیاق وسباق سے کاٹ کر دن بدن قوت پاتے ہوئے استبداد پسند نظریات کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے؟ یا پھر یہ کہ میں خود پر سنسر عائد کروں؟ یہ تو غیر لبرل حکومتوں کی نشانی ہے کہ وہ آزادی اظہار کو اپنے حدود اقتدار سے باہر اور بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ اس طرح کی حکومتوں کی وسعت پذیری کی وجہ سے ہمارے لیے نوع انسانی کے مستقبل کے متعلق تنقیدی فکر سے کام لینا دن بدن زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔
اپنے احساسات وکیفیات کا کچھ جائزہ لینے کے بعد میں نے خود پر سنسر عائد کرنے کے مقابلے میں کھلی بحث کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لبرل ماڈل پر تنقید کے بغیر ہم نہ اس کی غلطیوں کی تصحیح کر سکتے ہیں اور نہ اس سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔” (21 Lessons, xiv, xv)
حراری کا یہ تبصرہ، اسلامی فکر کے وابستگان کے لیے بھی غور وفکر کا سامان مہیا کرتا ہے۔ انسانی تہذیب اور تمدن کے ارتقا کی تفہیم کے ضمن میں روایتی مسلم فکر کے پاس بنیادی حوالہ ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کے تاریخی وعمرانی نظریات ہیں۔ یہ دونوں مفکرین سلطنتوں کے زمانے سے تعلق رکھتے تھے اور اسی تناظر میں بادشاہت اور سلطنت کو سیاسی واقتصادی بندوبست کا نقطہ عروج تصور کرتے تھے۔ ان کے لیے اختتام تاریخ خلافت تھی، جیسے فوکویاما وغیرہ مغربی مفکرین کے لیے لبرل ڈیموکریسی ہے۔ شاہ صاحب کے فریم ورک میں تمدن کا ارتقا چار مراحل سے عبارت ہے جسے وہ ارتفاقات سے تعبیر کرتے ہیں۔ چوتھا ارتفاق خلافت وامامت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اس مرحلے میں آخری نبوت کا ظہور، شاہ صاحب کے فریم ورک میں، گویا خلافت کے سسٹم کو مذہبی لحاظ سے اختتام تاریخ بنا دیتا ہے۔
یہ فریم ورک، جیسا کہ ظاہر ہے، صنعتی انقلاب کے بعد کی تاریخی وتہذیبی تبدیلیوں کی تفہیم کے لیے اپنے اندر کوئی بنیاد نہیں رکھتے۔ مسلم تصور تہذیب میں ایمپائر (یعنی خلافت) اور اسلام کا کفر پر سیاسی غلبہ (یعنی دار الاسلام بمقابلہ دار الحرب) بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کے فریم ورک انھی پر مبنی ہیں۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مغربی اقوام کے عالمی تسلط نے دنیا کے سیاسی ومعاشی نظام کو جو صورت دی ہے، اس میں خلافت اور دار الاسلام کے کلاسیکی تصورات عملا غیر متعلق ہو گئے ہیں، تاہم روایتی مسلم فکر چونکہ عموما چوتھے ارتفاق کے بعد کسی پانچویں یا چھٹے ارتفاق کا تصور ہی نہیں رکھتی، (اس میں متحدہ ہندوستان کے قوم پرست مفکرین، خصوصا مولانا عبید اللہ سندھی ایک استثنا ہیں) اس لیے ان تبدیلیوں کی تفہیم بنیادی طورپر رد عمل، انکار اور تردید کے ذہنی رویے میں کی جاتی ہے اور گویا انھیں ارتقا کے اگلے مرحلے کے بجائے غلط سمت میں انحراف کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان سارے سسٹمز کی تشکیل، ترمیم وتغییر اور اصلاح کی پوری بحث میں مسلم فکر کا کوئی کردار نہیں، اور وہ صرف ایک شکست خوردہ حریف کے طور پر ان کی ان خرابیوں اور ناکامیوں کو گنوانے پر ہی مطمئن ہے جو خود اس کی اپنی تحقیق کا نتیجہ نہیں، بلکہ مغربی ڈسکورسز سے ہی مستعار ہے۔
حراری کا تبصرہ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ کیا مروج سیاسی ومعاشی نظاموں کی خرابیوں اور کمزوریوں پر، جو بلاشبہ حقیقتا موجود ہیں، خوش ہونے سے آگے بڑھ کر کیا مسلم فکر ایک ایسی دنیا کی تشکیل میں کوئی تعمیری حصہ ڈال سکتی ہے جو چوتھے ارتفاق سے آگے بڑھ چکی ہے؟
غزوہ ہند کی پیشین گوئی
بھارتی حکومت کی طرف سے ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے تناظر میں گزشتہ دنوں بعض ٹاک شوز میں غزوہ ہند پھر زیربحث رہا اور حسب معمول یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ پیشین گوئی گویا تاریخ میں ابھی تک تشنہ تعبیر ہے اور اسے حقیقت میں بدلنے کا وقت گویا آ پہنچا ہے۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ جب حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی تو مسلمان ابھی عرب کی حدود سے باہر نہیں نکلے تھے۔ اس وقت انھیں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ روم، فارس، مصر وغیرہ کے علاوہ مسلمان ’’ہند ” کے علاقے پر بھی حملہ کریں گے۔ اس وقت کی جغرافیائی اصطلاح کے لحاظ موجودہ افغانستان کا کچھ حصہ، پاکستان اور ہندوستان کا سارا علاقہ ’’ہند ” کہلاتا تھا۔ یہ پیشین گوئی تاریخ اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں پوری ہو چکی ہے، چنانچہ علامہ ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ” (طبع دار ہجر، ۱۴۱۸ھ بتحقیق الدکتور عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی) کی نویں جلد میں ’’دلائل النبوۃ” کے تحت جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر متعدد پیشین گوئیوں کا ذکر کیا ہے جو تاریخ میں سچی ثابت ہوئیں اور یوں آپ کی نبوت کی دلیل ہیں، اسی طرح غزوۃ الہند کی حدیث کا بھی ذکر کیا اور اس کی صداقت کے طور پر سیدنا معاویہ کے دور میں ہندوستان کی طرف بھیجے جانے والے لشکر اور اس کے بعد خاص طور پر محمود غزنوی کے حملوں کا حوالہ دیا ہے۔
غزوۃ الہند سے متعلق مروی احادیث کا اسنادی جائزہ لیا جائے تو ان میں سے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سندا صحیح ہے، جبکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کے طرق کمزور ہیں۔ خاص طور پر ایک طریق جس میں ذکر ہے کہ ہندوستان سے کامیاب لوٹنے والا لشکر وہاں سے شام جائے گا اور اس کی ملاقات حضرت مسیح علیہ السلام سے ہوگی، محدثانہ معیار کے لحاظ سے بالکل ناقابل اعتبار ہے، کیونکہ اس میں حضرت ابو ہریرہ سے اس کو نقل کرنے والا ایک ’’شیخ ” مجہول ہے، یعنی اس کے نام اور اوصاف کا کچھ پتہ نہیں۔ بعض اہل علم نے اسی طریق کی روشنی میں یہ لکھا ہے کہ ’’اگر یہ حدیث صحیح ہو” (ان صح الحدیث بذالک) تو پھر یہ پیشین گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی، بلکہ نزول مسیح کے زمانے میں پوری ہوگی۔ ہمارے ہاں بعض قصہ گو حضرات اس واہی روایت کی محدثانہ حیثیت اور ’’اگر صحیح ہو” کو نظر انداز کر کے اس پر ایک نئے جہادی بیانیے کی عمارت کھڑی کرنا چاہ رہے ہیں۔
عبایہ کی بحث
گزشتہ دنوں خیبر پختون خوا کی ایک ضلعی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات میں اسکول کی طالبات کے لیے عبایا پہننے کو لازم قرار دیا گیا، لیکن عملی تنفیذ کے بغیر ہی عوامی رد عمل پر اس حکم کو واپس لے لیا گیا۔ اس پر حسب توقع وحسب معمول لبرل اور مذہبی حلقوں کے مابین سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ لبرل حضرات نے اسے سماجی آزادیوں کے منافی اقدام قرار دیا اور حکومت کے لیے انفرادی آزادیوں میں مداخلت کو غیر جمہوری طریقہ قرار دیا، جبکہ مذہب پسند حلقوں کی طرف سے پردہ سے متعلق مروج فقہی تصورات کے تناظر میں اس کا خیر مقدم اور ہدایات کی منسوخی کو قابل افسوس قرار دیا گیا۔
اہل مذہب کا موقف بنیادی طور پر لبرل حضرات کے عمومی رویے کا ایک رد عمل تھا جو فرانس کی حکومت کی طرف سے حجاب پر پابندی کو تو بالکل درست سمجھتے ہیں، کیونکہ فرانسیسی معاشرے کو اپنا سیکولر تشخص محفوظ رکھنے کا حق ہے، لیکن کوئی مسلمان حکومت اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے عبایا وغیرہ کو لازم کرنا چاہے تو یہ ان کے نزدیک درست نہیں، کیونکہ یہ سماجی آزادیوں کے منافی ہے۔ یہ عمومی رویہ اس التباس کی قلعی کھول دیتا ہے کہ سیکولرزم یا لبرل ازم ایک ’’نیوٹرل ” پوزیشن رکھتے ہیں اور فرد کو مطلقا سماج کے جبر سے محفوظ رکھنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم اور لبرل ازم بذات خود اقداری تصورات ہیں اور لبرل اہل دانش اقداری بنیادوں پر ہی کسی اقدام کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
تاریخی لحاظ سے بھی سیکولرزم صرف ایک ’’انتظامی ” بندوبست نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں عموما سیکولر دانش ور سمجھتے یا باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک ’’اقداری ” مسئلہ ہے۔ سماجی اور سیاسی تصورات تاریخ میں مختلف تبدیلیوں سے گزرتے ہیں اور فکری بحث میں ان تبدیلیوں کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ مغرب میں کلیسا اور ریاست کی علیحدگی کا آغاز یقینا ایک انتظامی بندوبست کے طور پر، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی طویل باہمی قتل وغارت کے تناظر میں، ہوا تھا، لیکن مغرب میں تاریخ سترھویں صدی میں کھڑی نہیں ہے۔ مغربی فکر میں جوہری نوعیت کی تبدیلیاں روشن خیالی کی تحریک نے پیدا کی ہیں اور اس سے پہلے چار پانچ سو سال میں آنے والی تمام فکری، مذہبی، تمدنی اور سیاسی تبدیلیوں کو ایک نیا فکری قالب دیا ہے۔ مغربی سیاسی فکر میں سیکولرزم کی بحث اپنی موجودہ وضع میں ’’چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی” کے سوال سے بہت آگے بڑھ چکی ہے اور مذہب کے بارے میں باقاعدہ ایک فکری پوزیشن پر مبنی ہے۔اس حوالے سے معاصر جرمن سوشیالوجسٹ ہیبرماس کے بعض نظریات کے حوالے سے جو رد وقدح اس وقت مغربی اکیڈمی میں ہو رہی ہے، وہ بہت قابل توجہ ہے۔ ہیبرماس نے نائن الیون کے بعد صورت حال کا نیا جائزہ لیتے ہوئے اپنے بعض پرانے خیالات پر نظر ثانی کی ہے اور public sphere میں، کئی طرح کی تحدیدات وشرائط کے ساتھ، مذہبی مواقف کی گنجائش تسلیم کرنے کی ضرورت واضح کی ہے۔ اس پر مغرب میں سیکولر فکر جو سوالات اٹھا رہی ہے، وہ ہمارے ہاں کے حضرات کے لیے بہت چشم کشا ہے۔
اس تناظر میں مذہبی طبقات نے عموما جو پوزیشن اختیار کی، وہ قابل فہم ہے اور جناب مولانا محمد تقی عثمانی جیسے صاحب علم کی طرف سے اس مسئلے پر ایک ’’عوامی ” انداز کی ٹویٹ کی بھی ہمارے ذہن میں یہی توجیہ آتی ہے۔ البتہ اس مسئلے کو خود دینی نظام فکر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جو اصل ہے۔ ضروری نہیں کہ لبرل حضرات اپنے تصورات کے تحت کسی بات پر تنقید کریں تو ان کے رد عمل میں اس بات کی تائید کرنا ہی دین کا تقاضا ہو۔ دینی فریم ورک میں چیزوں کو دیکھنے کا اپنا ایک مستقل طریقہ ہے، اسے ردعمل میں چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔
ہمارے خیال میں اس انداز سے عبایا وغیرہ کو قانونا لازم قرار دینا بہت سے دینی اصولوں کی عدم رعایت پر مبنی اقدام تھا اور اسے واپس ہی لیا جانا چاہیے تھا۔ بعض اہل قلم نے اس کو یونیفارم وغیرہ پر قیاس کیا جس کی پابندی حکومت یا کوئی بھی ادارہ اپنے دائرے میں لازم کر سکتا ہے۔ لیکن یہ قیاس اس لیے درست نہیں کہ یونیفارم محض ایک انتظامی نوعیت کی پابندی ہے جس میں دینی پہلو شامل نہیں ہے اور اسی لیے اسے قبول کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ عبایا کا تعلق ایک دینی وفقہی حکم سے بنتا ہے اور اس میں اجتہادی وثقافتی اختلافات کی رعایت خود دینی لحاظ سے ضروری ہے۔ ویسے بھی اس نوعیت کے مسائل میں عمومی معاشرتی قبولیت کا ماحول پیدا کیے بغیر محض قانونی اقدامات سے سماجی تشخص پیدا نہیں کیا جا سکتا اور ایسی کوششیں معکوس نتائج کا موجب بنتی ہیں۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۷۷) لعل برائے علت
لعل عام طور سے توقع یعنی اچھی امید یا ناخواہی اندیشے کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ کیا وہ تعلیل کے مفہوم میں بھی ہوتا ہے؟ اس امر میں اختلاف ہے ۔ ابن ھشام کے الفاظ ہیں: الثانی التعلیل اثبتہ جماعۃ منہم الاخفش والکسائی وحملوا علیہ (فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی) ومن لم یثبت ذلک یحملہ علی الرجاء ویصرفہ للمخاطبین ای اذھبا علی رجائکما. (مغنی اللبیب)
تاہم قرآن مجید کے بعض مواقع پر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں لعل تعلیل کے لیے ہی ہے، اور اگر تعلیل کے بجائے توقع کا ترجمہ کریں، تو بات غیر موزوں سی لگتی ہے، اور اس کی پرتکلف تاویل کرنی پڑتی ہے۔ ذیل کی کچھ مثالوں میں یہ بات دیکھی جاسکتی ہے۔
(۱) یُوسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیقُ اَفتِنَا فِی سَبعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاکُلُہُنَّ سَبع عِجَاف وَسَبعِ سُنبُلَاتٍ خُضرٍ وَاُخَرَ یَابِسَاتٍ لَعَلِّی اَرجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُم یَعلَمُونَ (یوسف: 46)
“اس نے جاکر کہا: یوسف، اے سراپا راستی مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں، اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی، شاید کہ میں ان لوگوں کے پاس جاوں اور شاید کہ وہ جان لیں” ۔ (سید مودودی)
“شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں ”۔(احمد رضا خان)
“شاید میں لوگوں کے پاس باخبر واپس جاؤں تو شاید انہیں بھی علم ہوجائے”۔ (جوادی)
“کہ میں لے جاوو¿ں لوگوں پاس شاید ان کو معلوم ہو”۔ (شاہ عبدالقادر)
“توکہ پھر جاووں میں طرف لوگوں کے تو کہ وہ جانیں”۔ (شاہ رفیع الدین)
“تاکہ میں لوگوں کے پاس جاؤں تاکہ وہ بھی جانیں ”۔(امین احسن اصلاحی)
آخری دونوں ترجمے تعلیل کے اعتبار سے کیے گئے ہیں، اور وہی موزوں لگتے ہیں۔ یہاں شاید کے ترجمہ کا کوئی محل نہیں ہے۔ وہ شخص تو آیا ہی اسی لیے تھا کہ خواب کی تعبیر معلوم کرے اور لوگوں کو واپس جاکر بتائے، تاکہ وہ لوگ تعبیر جان لیں۔ یہاں دونوں ہی لعل تعلیل کے لیے ہیں، توقع اور شاید کا کوئی محل ہی نہیں ہے۔ مفسرین نے یہاں توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسے اپنی واپسی کا یقین نہیں تھا، لیکن یہ پرتکلف بات ہے۔
(۲) حَتَّی اذَا جَاء اَحَدَہُمُ المَوتُ قَالَ رَبِّ ارجِعُونِ۔ لَعَلِّی اَعمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکتُ۔ (المومنون: 99، 100)
“ (یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ''اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا ”۔(سید مودودی)
“یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھر دیجئے، شاید اب میں کچھ بھلائی کماو¶ں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں”۔ (احمد رضا خان)
“ (یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے، تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں”۔ (فتح محمد جالندھری)
“یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے، کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں”۔ (محمد جوناگڑھی)
آخری دونوں ترجمہ تعلیل کے اعتبار سے کیے گئے ہیں، یہاں بھی امید اور شاید کا محل نہیں ہے، کیونکہ جب کوئی اس دنیا میں واپسی کے لیے دعا کرے گا، تاکہ ملی ہوئی مہلت میں نیک اعمال کرے، تو وہ پختہ وعدے کی زبان استعمال کرے گا، نہ کہ توقع اور امید والے الفاظ استعمال کرے گا۔ شاید کا لفظ تو وعدے کو بے وزن کردیتا ہے۔
ایک دوسری بات یہ ہے کہ فِیمَا تَرَکتُ کا تعلق اَعمَلُ صَالِحًا سے ہے نہ کہ ارجِعُونِ سے ہے۔ یعنی جو میں نے چھوڑا ہے اس میں نیک عمل کروں، نہ یہ کہ مجھے وہاں (اس دنیا میں) لوٹادیں جو میں چھوڑ آیا ہوں۔
مذکورہ بالا تمام پہلووں کے اعتبار سے درج ذیل ترجمہ موزوں ہے:
“یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ اے رب مجھے پھر واپس بھیج کہ جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں نیکی کماو¶ں”۔ (امین احسن اصلاحی)
(۳) فَاصبِر عَلَی مَا یَقُولُونَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّکَ قَبلَ طُلُوعِ الشَّمسِ وَقَبلَ غُرُوبِہَا وَمِن آنَاء اللَّیلِ فَسَبِّح وَاَطرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرضَی۔ (طہ: 130)
“پس اے محمد، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہوجاو¶ ”۔(سید مودودی)
“اس امید پر کہ تم راضی ہو ”۔(احمد رضا خان)
“ بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے”۔ (محمد جوناگڑھی)
“تاکہ تم خوش ہوجاؤ”۔ (فتح محمد جالندھری)
“تاکہ تم نہال ہوجاؤ”۔(امین احسن اصلاحی)
یہاں بھی توقع اور امید کے بجائے تعلیل کا محل ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے خوشی اور رضا کے حصول کا یقینی طریقہ بتایا گیا ہے۔
(۱۷۸) یا صاحبی السّجن کا ترجمہ
درج ذیل آیت کے ٹکڑے میں متکلم کی ضمیر نہیں ہے، صاحبین مضاف ہے سجن کی طرف ، یہ اضافت یا تو ظرف کے مفہوم میں ہے ، یا مفعول بہ کے مفہوم میں، ظرف کی صورت میں ترجمہ ہوگا : “جیل کے دونوںساتھیو”، اور مفعول بہ کی صورت میں ترجمہ ہوگا: “دونوںجیل والو”۔اردو زبان کا لحاظ کرکے ، جیل کے ساتھیو، یا جیل والو کہا جاسکتا ہے۔اس جملے میں لفظ “میرے ”تفسیری اضافہ تو ہوسکتا ہے ، جیسا کہ ہمیں اکثر تفاسیر میں ملتا ہے، لیکن عبارت میں یہ بات موجود نہیں ہے۔ عام طور سے مترجمین نے“میرے” کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔
(۱) یَا صَاحِبَیِ السِّجنِ۔ (یوسف: 39)
“اے میرے زنداں کے دونوں ساتھیو ”۔(امین احسن اصلاحی)
“اے میرے قید خانے کے ساتھیو! ”۔(محمد جوناگڑھی)
“اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! ”۔ (احمد رضا خان)
“اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو”۔ (محمد حسین نجفی)
“میرے جیل خانے کے رفیقو! ”۔ (فتح محمد جالندھری)
“اے دو یارو قید خانے کے” ۔(شاہ رفیع الدین)
“اے رفیقو بندی خانے کے” ۔(شاہ عبدالقادر)
“اے زنداں کے ساتھیو”۔ (سید مودودی)
(۲) یَا صَاحِبَیِ السِّجنِ۔ (یوسف: 41)
“اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ”۔(امین احسن اصلاحی)
“اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو! ”۔ (محمد حسین نجفی)
“اے میرے قیدخانے کے رفیقو! ”۔ (محمد جوناگڑھی)
“اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! ”۔ (احمد رضا خان)
“میرے جیل خانے کے رفیقو! ”۔(فتح محمد جالندھری)
“اے دو یارو قید خانے کے”۔ (شاہ رفیع الدین)
“اے رفیقو بندی خانے کے”۔ (شاہ عبدالقادر)
“اے زنداں کے ساتھیو”۔ (سید مودودی)
(۱۷۹) انکار کا ترجمہ
عربی کے انکار اور اردو کے انکار میں فرق ہوتا ہے۔ اردو کے انکار کے لیے قرآن مجید میں عام طور سے کفر اور جحود کی تعبیریں آئی ہیں۔
عربی میں انکار کا مطلب ہوتا ہے نہیں پہچاننا، انجان ہوجانا، انجان بن جانا، بیگانگی کا رویہ اختیار کرنا۔
راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الانکَارُ: ضِدُّ العِرفَانِ۔ (المفردات فی غریب القرآن)
فیروزابادی لکھتے ہیں: وانکَرَہُ واستَنکَرَہُ وتَناکَرَہُ: جَہِلَہُ۔ (القاموس المحیط)
جوہری لکھتے ہیں: النُکِرة: ضد المعرفة. وقد نَکِرتُ الرجلَ بالکسر نُکراً ونُکوراً، واَنکَرتُہُ واستَنکَرتُہُ بمعنًی۔ (الصحاح تاج اللغة وصحاح العربیة)
قرآن مجید میں لفظ انکار کے مشتقات کئی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ جہاں نہیں پہچاننے کا مفہوم بالکل واضح اور متعین ہے وہاں تو سبھی لوگوں نے نہیں پہچاننے کا ترجمہ کیا ہے، لیکن جہاں انکار کرنے کا مفہوم بھی نکل سکتا ہے وہاں بہت سے لوگوں نے انکار کرنا اور منکر ہونا ترجمہ کردیا ہے۔ اس طرح کے مقامات پر انگریزی میں بھی deny اور reject ترجمہ کیا گیا ہے۔
کسی چیز کو نہیں پہچاننے سے اس کا انکار بطور نتیجہ سامنے آسکتا ہے، اس لیے کبھی کبھی اس پر بھی اس کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اصل اطلاق نہیں ہے۔
درج ذیل دونوں آیتوں میں منکرون کاف پر زبر کے ساتھ مجہول استعمال ہوا ہے، اور دونوں جگہ انجانے لوگ مراد ہے۔
قَالَ اِنَّکُم قَوم مُنکَرُونَ۔ (الحجر: 62)
“اس نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)
قَوم مُنکَرُونَ۔ (الذاریات: 25)
“ (اور دل میں کہا کہ) یہ تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہیں لَم یَعرِفُوا رَسُولَہُم۔ (امین احسن اصلاحی)
درج ذیل آیت میں منکرون کاف پر زیر کے ساتھ معروف استعمال ہوا ہے، اور اس کا مفہوم نہیں پہچاننے والے کا ہے۔
وَجَاء اِخوَةُ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیہِ فَعَرَفَہُم وَہُم لَہُ مُنکِرُونَ۔ (یوسف: 58)
“اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے” ۔(فتح محمد جالندھری)
اس کے علاوہ درج ذیل آیت میں منکرون کا لفظ آیا ہے ، اور اس سے قبل لَم یَعرِفُوا رَسُولَہُم آیا ہے، اس لیے کچھ لوگوں نے یہاں بھی لفظ کی اصل کے مطابق ترجمہ کیا ہے:
اَم لَم یَعرِفُوا رَسُولَہُم فَہُم لَہُ مُنکِرُونَ۔ (المومنون: 69)
“یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں”۔(احمد رضا خان)
“یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اُس سے بدکتے ہیں؟” (سید مودودی)
“یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہنچانتے نہیں، اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے”۔ (فتح محمد جالندھری)
“یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں؟”(محمد جوناگڑھی)
“یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں اس وجہ سے اس کے منکر بنے ہوئے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)
پہلے دونوں ترجموں میں لفظ کا لحاظ موجود ہے۔اسی طرح دیگر انگریزی ترجموں کے مقابلے میں درج ذیل دونوں ترجمے لفظ کے مطابق ہیں:
Or is it, perchance, that they have not recognized their Apostle, and so they disavow him? (Asad)
Or did they not know their Messenger, so they are toward him disacknowledging? (Saheeh International)
البتہ لفظ انکار سے مشتق ہونے والے الفاظ ذیل کی آیتوں میں بھی آئے ہیں، البتہ یہاں ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے لوگوں نے انکار کرنا ترجمہ کردیا ہے۔اور اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں انکار کا ترجمہ کرنے میں کوئی معنوی رکاوٹ نہیں ہے۔ تاہم مناسب تو یہی ہے کہ لفظ کی اصل کا لحاظ کرتے ہوئے ترجمہ کیا جائے، اگر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو۔
(۱) وَہَذَا ذِکر مُبَارَک اَنزَلنَاہُ اَفَاَنتُم لَہُ مُنکِرُونَ (لانبیاء: 50)
“اور اب یہ بابرکت ''ذکر'' ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟ ” (سید مودودی)
“اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا تو کیا تم اس کے منکر ہو”۔(احمد رضا خان)
And this [Qur'an] is a blessed message which We have sent down. Then are you with it unacquainted? (Saheeh International)
And [like those earlier revelations,] this one, too, is a blessed reminder which We have bestowed from on high: will you, then, disavow it? (Asad)
This is a blessed Reminder that we have revealed: Will ye then reject it? (Pichthall)
موزوں ترجمہ ہوگا:
“اور اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس سے بیگانہ رہو گے؟” ۔
(۲) اِلَہُکُمِ الَہ وَاحِد فَالَّذِینَ لَا یُومِنُونَ بِالآخِرَةِ قُلُوبُہُم مُنکِرَة وَہُم مُستَکبِرُونَ۔ (النحل: 22)
“تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں ”۔(فتح محمد جالندھری)
موزوں ترجمہ ہوگا:
“تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل بیگانہ بنے ہوئے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں”۔
خاص اس مقام پر فارسی کے دو معروف ترجموں میں بھی لفظ کا حق ادا کیا گیا ہے:
“دلہائے اینہا ناشناسندہ اند”۔ (سعدی شیرازی)
“دل ایشاں ناشناس است ”۔(شاہ ولی اللہ )
(۳) یَعرِفُونَ نِعمَتَ اللَّہِ ثُمَّ یُنکِرُونَہَا وَاَکثَرُہُمُ الکَافِرُونَ۔ (النحل: 83)
“یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور اِن میں بیش تر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں”۔ (سید مودودی)
“اللہ کی نعمت پہچانتے ہیں پھر اس سے منکر ہوتے ہیں اور ان میں اکثر کافر ہیں”۔(احمد رضا خان)
“یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)
They [who turn away from it] are fully aware of God's blessings, but none the less they refuse to acknowledge them [as such], since most of them are given to denying the truth. (Asad)
They recognize the favor of Allah; then they deny it. And most of them are disbelievers. (Saheeh International)
موزوں ترجمہ ہوگا:
“یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں، پھر اس سے انجان بنتے ہیں، اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں ”۔(امین احسن اصلاحی)
اس آیت میں انکار کا لفظ بھی آیا ہے اور کفر کا بھی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انکار کفر سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔
(۴) وَیُرِیکُم آیَاتِہِ فَاَیَّ آیَاتِ اللَّہِ تُنکِرُونَ۔ (غافر: 81)
“اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے، آخر تم اُس کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے ”۔(سید مودودی)
“اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو اللہ کی کون سی نشانی کا انکار کرو گے ”۔(احمد رضا خان)
“اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جارہا ہے، پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کے منکر بنتے رہو گے” ۔(محمد جوناگڑھی)
And He shows you His signs. So which of the signs of Allah do you deny? (Saheeh International)
And [thus] He displays His wonders before you: which, then, of God's wonders can you still deny? (Asad)
موزوں ترجمہ ہوگا:
“اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے، آخر تم اُس کی کن کن نشانیوں سے انجان بنے رہو گے” ۔
“اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ، آخر تم اللہ کی کون سی نشانی کو نہیں پہچانتے”۔ (محمد فاروق خان)
(۵) وَالَّذِینَ آتَینَاھُمُ الکِتَابَ یَفرَحُونَ بِمَا اُنزِلَ ِلَیکَ وَمِنَ الاَحزَابِ مَن یُنکِرُ بَعضَہُ۔ (الرعد: 36)
“اے نبی، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ”۔(سید مودودی)
“جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو جو کچھ آپ پر اتارا جاتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں اور دوسرے فرقے اس کی بعض باتوں کے منکر ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)
موزوں ترجمہ ہوگا:
“اے نبی، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں سے انجان بن رہے ہیں ”۔
(۱۸٠) نکّروا لہا عرشہا کا ترجمہ
قَالَ نَکِّرُوا لَہَا عَرشَہَا۔ (النمل: 41)
“سلیمانؑ نے کہا انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو”۔(سید مودودی)
“اس نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی شکل بدل دو”۔(امین احسن اصلاحی)
“سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو”۔ (فتح محمد جالندھری)
“حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کردو”۔ (محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا عام ترجموں سے مختلف اس طرح ترجمہ کرتے ہیں:
“اس نے کہا: انجان بن کر اس کے تخت کا اس کے سامنے ذکر کرو۔”
ان کے نزدیک اس کے بعد فلما جاءت قیل اھکذا عرشک “پس جب وہ آئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے” دراصل نَکِّرُوا لَہَا عَرشَہَا والے حکم کی تعمیل ہے۔
(جاری)
اہلِ سُنت اور اہلِ تشیع کا حدیثی ذخیرہ: ایک تقابلی مطالعہ (۵)
مولانا سمیع اللہ سعدی
۷۔ فریقین کے معیاراتِ نقدِ حدیث
اہل تشیع و اہلسنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا فرق معیارات ِنقد حدیث کا فرق ہے، اہلسنت کے ہاں مصطلح الحدیث کا ایک منظم و مرتب فن موجود ہے، جس میں نقد حدیث کے تفصیلی قواعد مذکور ہیں، حدیث کی اقسام، راوی کی جرح و تعدیل کے ضوابط، حدیث سے استدلال کی شرائط، راویوں کی انواع و اقسام سے متعلق تفصیلات ذکر ہیں، چنانچہ معروف محقق ڈاکٹر نور الدین عتر نے مصطلح الحدیث کے جملہ فنون کو چھ انواع میں تقسیم کیا ہے:
1۔علوم رواۃ الحدیث یعنی وہ ضوابط جن کا تعلق رواۃ حدیث سے ہیں۔
2۔ علوم روایۃ الحدیث، یعنی وہ فنون و علوم جو حدیث کے تحمل، ادا وغیرہ سے متعلق ہیں۔
3۔علوم الحدیث من حیث القبول او الرد یعنی وہ علوم و ضوابط جو حدیث کے قبول و رد سے تعلق رکھتے ہیں۔
4۔علوم المتن یعنی وہ ضوابط جو حدیث کے متن سے متعلق ہیں۔
5۔علوم السند یعنی فنون و ضوابط جن کا تعلق حدیث کی سند سے ہیں۔
6۔العلوم المشترکہ بین السند و المتن یعنی وہ فنون جن کا تعلق متن و سند دونوں کے ساتھ ہیں۔1
ان علوم و فنون اور قواعد و ضوابط کے انطباق میں تو علمائے اہلسنت کا اختلاف رہا ہے کہ کونسی احادیث علوم الحدیث کی رو سے کس قسم میں داخل ہیں ؟جس کی وجہ سے حدیث کے ضعف و صحت، ارسال و اتصال، موقوف و مرفوع، راوی کی عدالت و جرح، توثیق و تضعیف، کسی کتاب یا محدث کے معتمد و غیر معتمد ہونے میں بڑے پیمانے پر اختلاف رہا ہے، لیکن حدیث کو جانچنے کے پیمانے کم و بیش جملہ محدثین کے ہاں یکساں رہے ہیں۔ ان قواعد و ضوابط پر اہلسنت کے ذخیرہ حدیث کی ایک ایک روایت کو پرکھا جاچکا ہے، ہزاروں رواۃ کی جرح و تعدیل کے حوالے سے ضخیم کتب لکھی جاچکی ہیں۔2
اس کے برخلاف جب ہم اہل تشیع کے معیارات ِنقد حدیث کو دیکھتے ہیں، تو ان پر معیار کا اطلاق مشکل ہوجاتا ہے، حدیث و رواۃ کو پرکھنے سے اہل تشیع روزِاول سے آج تک دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہیں:
پہلا گروہ اخباریوں کا ہے، جبکہ دوسرا گروہ اصولیوں کا ہے، ہم نقد ِحدیث کے حوالے سے دونوں کا نقطہ نظر ذکر کرتے ہیں:
نقدِ حدیث کا اخباری منہج
اہل تشیع کا اخباری طبقہ، جن میں اہل تشیع کے نامی گرامی اہل علم آتے ہیں، ان کے نزدیک حدیثی ذخیرے کو کسی بھی معیار پر پرکھنا جائز نہیں ہے، سار ا حدیثی ذخیرہ نہ صرف یقینی طور پر صحیح ہے، بلکہ بعض اخباریوں کے نزدیک سارا ذخیرہ متواتر ہے، معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ اخباری نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ذھب فریق من الاخباریین الی القول بقطعیۃ الکتب الاربعۃ، و تعدی بعضھم الی ما ھو ازید منھا"3
ترجمہ: اخباریوں کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ کتب اربعہ کی جملہ احادیث قطعی ہیں، اور ان میں سے بعض اس سے بھی آگے کی طرف گئے ہیں۔ (یعنی انہوں نے تواتر کا قول اختیار کیا ہے )
اخباریوں کے نزدیک علوم مصطلح الحدیث سے احادیث کی جانچ پڑتا ل کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ یہ علوم اصلا اہلسنت کے علوم ہیں، شیعی علوم نہیں ہیں، حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:
" رفض الإخباريون الترحيب بعلم الرجال والجرح والتعديل والحديث والدرايۃ بحجّۃ أنّ ھذہ العلوم علومٌ سنيّۃ وليست شيعيّۃ"4
ترجمہ: اخباریوں نے علم رجال، جرح و تعدیل اور حدیث کو پرکھنے کے درایتی معیارات کو ترک کیا ہے، کیونکہ اخباریوں کے نزدیک یہ علوم اہلسنت سے ماخوذ علوم ہیں، شیعی علوم نہیں ہیں۔
اخباری مکتب کے نزدیک علوم مصطلح الحدیث پر اگر احادیث شیعہ کو پرکھیں گے، تو اکثر یا سب کے سب احادیث ضعیف و موضوع نکلیں گی، معروف اخباری عالم محمد بن حسن حر عاملی لکھتے ہیں:
أنہ يستلزم ضعف أكثر الأحاديث، التي قد علم نقلھا من الأصول المجمع عليھا، لأجل ضعف بعض رواتھا، أو جھالتھم، أو عدم توثيقھم، فيكون تدوينھا عبثا، بل محرّما، وشھادتھم بصحتھا زورا وكذبا ويلزم بطلان الإجماع، الذي علم دخول المعصوم فيہ ـ أيضا ـ كما تقدم .واللوازم باطلۃ، وكذا الملزوم .بل يستلزم ضعف الأحاديث كلھا، عند التحقيق، لأن الصحيح ـ عندھم ـ: « ما رواہ العدل، الإماميّ، الضابط، في جميع الطبقات . ولم ينصوا علی عدالۃ أحد من الرواۃ، إلا نادراً، وإنما نصوا علی التوثيق، وھو لايستلزم العدالۃ، قطعا5
ترجمہ: اصولی اصطلاح سے اکثر احادیث کا ضعف لازم آتا ہے، جو معتبر مجمع علیہ کتب میں منقول ہیں، کیونکہ بعض راوی ضعیف، بعض مجہول اور بعض کی توثیق ثابت نہیں ہے، تو ان احادیث کی تدوین نہ صرف عبث بلکہ حرام ہوگی، اور ان احادیث کی صحت کی گواہی جھوٹ شمار ہوگی، بلکہ اجماع ِشیعہ کا بطلان لازم آئے گا، جن میں ائمہ معصومین بھی داخل ہیں، یہ سارے لوازم باطل ہیں، تو ملزوم یعنی اصولی اصطلاح سے احادیث کو پرکھنا بھی باطل ہوگا۔ بلکہ تحقیقی نگاہ سے دیکھیں، تو ساری احادیث ِشیعہ کا ضعف لازم آئے گا، کیونکہ صحیح کی تعریف یہ ہے کہ جو ایسے راوی سے مروی ہو، جو عادل ہو، امامی ہو، جملہ طبقات میں ضابط ہو، اور محدثین نے کسی راوی کی عدالت کی صراحت نہیں کی ہے، محدثین نے صرف توثیق منقول ہے، جو عدالت کو مستلزم نہیں۔
چونکہ شیعہ کتب حدیث کے نسخ و مخطوطات میں ناقابل ِحل اختلاف موجود ہے، جیسا کہ ماقبل میں تفصیل سے گزر چکا ہے، اس لئے یہ مسئلہ بھی اخباری مکتب کو کھٹکا، لیکن اس کی توجیہ اخباری مکتب نے جو کی ہے، وہ قارئین بھی سن لیں، حر عاملی لکھتے ہیں:
" ان اختلاف النسخ المعتمدۃ نظير اختلاف القراءات في القرآن، فما يقال ھُنا يُقالُ ھنا، 6
ترجمہ: ایک کتاب کے معتمد نسخوں کا اختلاف قرآن پاک کی مختلف قراءتوں کے اختلاف کی طرح ہے، جو توجیہ وہاں کی جاتی ہے، وہی توجیہ یہاں کی جائے گی۔
بلکہ شیعہ محدث کے نزدیک شیعہ کتب کے نسخوں و مخطوطات کا اختلاف قرآن پاک کی قراءتوں سے بھی بڑھ کر معتمد ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
علی إن اختلاف النسخ لايتغير بہ المعنی، غالبا، بخلاف اختلاف القراءآت . ومع ذلك فاختلاف النسخ، والروايات، لايستلزم التناقض، لجواز كونھما حديثين متعددين وقعا في مجلسين أو في مجلسٍ واحد، لحكمۃ أخری، من تقيۃ ونحوھا، بخلاف اختلاف القراءآت۔7
ترجمہ:اختلاف نسخ سے معنی تبدیل نہیں ہوتا، بخلاف اختلاف قراءت کے، کہ اختلاف ِقراءت سے معنی مختلف ہوجاتا ہے، نیز اختلاف نسخ و اختلاف روایات سے تناقض لازم نہیں آتا، کیونکہ وہ دو متعدد احادیث ہیں، جو دو یا ایک مجلس میں تقیہ یا کسی اور وجہ سے ائمہ سے صار ہوئی ہیں، جبکہ اختلاف قراءت اس طرح نہیں ہے (یعنی اختلاف روایات و اختلاف نسخ سے تو تناقض لازم نہیں آتا جبکہ اختلاف ِقراءت سے بسا اوقات تناقض لازم آتا ہے۔ معاذ اللہ )
ان عبارات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اخباری مکتب کے ہاں شیعہ ذخیرہ حدیث کی صحت و قطعیت کس درجہ کی ہے ؟اخباری مکتب فکر نے احادیث کے حوالے سے جو نقطہ نظر اختیار کیا ہے، وہ انتہائی غیر علمی، غیر تحقیقی اور اندھے اعتقاد پر مبنی ہے، علم و تحقیق کے میدان میں اسے محض خواہش اور دعوی بلا دلیل کہا جاسکتا ہے، کیونکہ اس نقطہ نظر کا مطلب یہ ہے کہ کتب اربعہ کی چالیس ہزار احادیث، ان احادیث کو روایت کرنے والے ہزاروں راوی، ان کتب کو نسلا بعد نسل لکھنے والے ہزاروں نساخ سب کے سب ہی غلطی، تسامح اور ہر قسم کی بھول چوک سے مکمل طور پر معصوم اور پاک ہیں، اس لئے ان کی روایتوں کو کسی بھی پیمانے پر پرکھنا ناجائز ہے۔ علم و تحقیق کے میدان میں کسی ایک فرد کا اس طرح کا دعوی مضحکہ خیز ہے لیکن اگر سینکڑوں سال سے ایک پورا طبقہ نسل در نسل اس طرح کا غیر منطقی دعوی کرے، تو اس کے لئے مضحکہ خیز سے آگے کوئی تعبیر ہوگی۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
اخباری مکتب فکر نے شیعہ حدیثی ذخیرے سے متعلق جو موقف اختیار کیا ہے، چونکہ وہ نہایت غیر علمی ہے، اس لئے اس کی شناعت کم کرنے کے لئے بعض شیعہ محققین نے اسی سے ملتے جلتے موقف کی نسبت اہلسنت کی طرف بھی کی ہے، تاکہ بجواب آن غزل اہل سنت بھی اسی غیر منطقی دائرے میں آسکیں، چناچہ شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:
"لا تقتصر نزعۃ اليقين علی الوسط الشيعي الإمامي، بل ھي موجودۃ في الوسط السنّي أيضاً، فبعض أھل السنّۃ يذھبون إلی ما يشبہ مطابقۃ كلّ حرف من صحيحي مسلم والبخاري للواقع، ويرون أنھما أصحّ الكتب بعد القرآن الكريم"8
ترجمہ: ذخیرہ حدیث سے متعلق یقین کا موقف صرف امامی حلقوں کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ سنی حلقے میں اسی موقف کے حامل لوگ موجود ہیں، چنانچہ بعض اہل سنت اسی قسم کے موقف کی طرف گئے ہیں کہ صحیح بخاری و مسلم کی ہر حدیث صحیح ہے، اور واقع کے مطابق ہے، نیز اہل سنت صحیحین کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہتے ہیں۔
یہ بہت بڑا مغالطہ ہے، جو شیعہ محقق نے کمال ہوشیاری سے مکتب اخباری کے غیر منطقی دعوے کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اٹھایا ہے، اس مغالطے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب شرح نخبۃ الفکر میں صحیح احادیث کے درجات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"و تفاوت رتبہ ای الصحیح بسبب تفاوت ھذہ الاوصاف المقتضیۃ للتصحیح فی القوۃ، فانھا لما کانت مفیدۃ لغلبۃ الظن الذی علیہ مدار الصحۃ اقتضت ان یکون لھا درجات، بعضھا فوق بعض، بحسب الامور المقویۃ، و اذا کان کذالک فما تکون رواتہ فی الدرجۃ العلیا من العدالۃ و الضبط و سائر الصفات التی توجب الترجیح کان اصح مما دونہ"9
ترجمہ: صحیح کے درجات میں صحیح کے مقتضی اوصاف میں فرق کی وجہ سے تفاوت ہے، کیونکہ جب یہ صفات، جن پر صحت کا مدار ہے، جب غلبہ ظن کا فائدہ دیتی ہیں، تو اس کا تقاضا ہے کہ ان امور تقویت کی وجہ سے بعض درجات بعض سے اوپر ہو، لھذا جن احادیث کے رواۃ عدالت، ضبط اور دیگر اوصاف صحت میں اعلی درجے کے ہوں، تو وہ احادیث ان احادیث سے درجہ صحت میں اعلی درجہ پر فائز ہونگی، جن کے رواۃ اس درجے کو نہیں پہنچتے۔
اس کے بعد امام عسقلانی نے ان احادیث کی نشاندہی کی ہے، جو اپنی رواۃ کی عدالت، ضبط و دیگر اوصاف کی برتری کی وجہ سے دیگر احادیث سے صحت میں برتر ہیں، ان میں سب سے اعلی درجہ صحیحین کا ہے، کیونکہ صحیحین کے رواۃ کی عدالت، ضبط، اتصال وغیرہ بنسبت دیگر کتب کی رواۃ سے اعلی درجہ کی ہیں، پھر خود صحیحین میں موازنہ کرتے ہوئے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر درجہ ذیل وجوہ سے فوقیت دی ہے:
- صحیح بخاری کی احادیث اتصال میں بنسبت صحیح مسلم کے زیادہ قوی ہیں، کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے راوی و مروی عنہ میں معاصرت کی بجائے لقاء کی شرط لگائی ہے۔
- صحیح بخاری کے رواۃ صحیح مسلم کے رواۃ سے عدالت و ضبط میں فائق ہیں، کیونکہ صحیح بخاری میں متکلم فیہ رواۃ کی تعداد صحیح مسلم سے کم ہے۔
- صحیح بخاری کی احادیث عدم شذوز و عدم اعلال میں صحیح مسلم سے فائق ہیں، کیونکہ صحیح بخاری کی قابل ِنقد احادیث صحیح مسلم کی احادیث سے کم ہیں۔10
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر نے بقیہ کتب کی بنسبت صحیحین کی احادیث کی اولویت پھر صحیحین میں صحیح بخاری کے ارجح و اصح ہونے کی جو بات کی ہے، وہ مکتب اخباری کی طرح محض اعتقاد اور دعوی بلا دلیل پر مبنی نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ صحیحین کی احادیث مصطلح الحدیث کے قواعد و ضوابط پر پرکھنے کے بعد صحت میں بقیہ کتب سے فائق ثابت ہوئی ہیں۔ کسی کتاب کو محض اعتقادی بنیاد پر یقینی قرار دینا اور بات ہے، جبکہ کسی کتاب کو قواعد و ضوابط پر پرکھنے کے بعد یقینی قرار دینا بالکل الگ بحث ہے، چنانچہ حافظ بن حجر اس بحث کے اختتام پر کہتے ہیں:
"فالصفات التی تدور علیھا الصحۃ فی کتاب البخاری اتم منھا فی کتاب مسلم و اشد"11
ترجمہ: پس و ہ صفات، جو حدیث کی صحت کے لئے معیار ہیں، وہ صحیح بخاری میں بنسبت صحیح مسلم کے زیادہ اتم و اشد درجے میں پائی جاتی ہیں۔
خلاصہ یہ نکلا کہ اہلسنت کے ہاں صحیحین کی بقیہ کتب ِحدیث پر ارجحیت کا جو قول ہے، وہ صحیحین کی احادیث میں شرائط ِصحت کے پائے جانے کی وجہ سے ہیں، جبکہ اخباری مکتب نے کتب اربعہ کی صحت کا جو دعوی کیا ہے وہ کسی معیار پر پرکھنے، شیعہ علوم الحدیث میں شرائط صحت پر جانچنے کے بغیر محض کتب اربعہ کے مصنفین سے حسن ظن و فرط اعتقاد کی بنیاد پر کیا ہے۔ ورنہ تو پیچھے حر عاملی کا قول گزر چکا ہے کہ اگر مصطلح الحدیث کے قواعد صحت پر کتب اربعہ کو پرکھا جائے، تو اکثر یا تمام احادیث کو ضعیف کہنا پڑے گا۔ تحقیق کے بعد یقین کا قول اپنانا (جیسا کہ صحیحن کی احادیث کو قواعد پر پرکھنے کے بعد یقینی کہنا) اور بلا تحقیق یقین کا قول اختیار کرنے (جیسا کہ اخباری مکتب نے کتب اربعہ کے بارے میں کہا ہے) میں بعد المشرقین ہے۔ چنانچہ معروف شیعہ عالم مازندرانی شرح اصول کافی کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
أكثر أحاديث الأصول في الكافي غير صحيحۃ الإسناد ومع ذلك أوردہ الكليني - رحمہ اللہ - معتمدا عليھا لاعتبار متونھا وموافقتھا للعقائد الحقۃ ولا ينظر في مثلھا إلی الإسناد12
ترجمہ: کافی کی اکثر احادیث باعتبار سند کے صحیح نہیں ہیں، اس کے باوجود امام کلینی نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، کیونکہ ان کے متون عقائد حقہ کے موافق ہونے کی بنا پر معتبر ہیں، اور ان جیسی روایات میں اسناد کو نہیں دیکھا جاتا۔
کیا علمائے اہلسنت نے صحیحین کے بارے میں اسی قسم کا دعوی کیا ہے ؟کہ اسناد صحیح نہ ہونے کے باوجود صحیحین کی احادیث صحیح شما رہونگی؟یا علمائے اہلسنت نے صحیحین کی ایک ایک حدیث اور ایک ایک راوی کو قواعد علوم الحدیث پر پرکھنے کے بعد ان کی صحت کا نظریہ اپنایا ہے؟
حواشی
1. دیکھیے: منہج النقد فی علوم الحدیث، نور الدین عتر،دار الفکر، دمشق
2. اس موقع پر اس کی وضاحت ضروری ہے کہ فقہاء جب حدیث پر بحث کرتے ہیں، تو اس کے قابل ِعمل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بحث کرتے ہیں،ورنہ حدیث کے جانچنے کے معیارات فقہاء کے ہاں بھی مصطلح الحدیث کے قواعدو ضوابط ہیں، یہی وجہ ہے فقہاء و مجتہدین کے مباحث ِ نقد ِ حدیث میں مصطلح الحدیث کے قواعد کا استعمال ہی نظر آتا ہے۔
3. نظریۃ السنہ فی الفکر الامامی الشیعی،التکون و الصیرورۃ، حیدر حب اللہ، الانتشار العربی، بیروت، ص 225
4. المدخل الی درایۃ الحدیث، حیدر حب اللہ، ص 470
5. وسائل الشیعہ، محمد بن حسن حر عاملی، موسسۃ آل البیت، قم، ج 30،ص259
6. ایضا: ج30،ص،273
7. ایضا:ج30،ص273
8. المدخل الی موسوعۃ الحدیث، حیدر حب اللہ، ص314
9. شرح نخبۃ الفکر، ابن حجر عسقلانی، ص72
10. دیکھیے: ایضا: ص75
11. ایضا:ص75
12. شرح اصول کافی، صالح مازندرانی، ج1،ص10
(جاری)
مدارس میں تحقیقاتی معیار پر سوالیہ نشان
مولانا نفیس الحسن
بات ہو رہی تھی جدید تحقیقاتی دور میں مدارس کے کردار کے حوالے سے، ایک ساتھی نے اپنے ایک استاد محترم کے کسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مضمون میں جدید فقہی ذخیرے میں کتابوں اور مقالات کی اس لمبی فہرست میں مدرسے کے کسی فاضل کی کوئی قابل ذکر کاوش نہیں ۔ سب عرب جامعات کے فضلاء اور ان کے پی ایچ ڈی یا ایم فل مقالات ہیں۔ ہمارے پاس میدان تحقیق میں چند گنے چنے نام ہیں جن کا صر ف ہم تذکرہ ہی کر سکتے ہیں۔ ان کے نہج پر چل کر تحقیق کےتقاضے پورے کرتے ہوئے کوئی قابل ذکر خدمت انجام دینا اب تک صرف ایک آرزو ہی ہے۔اس بات میں مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے لیکن علمی انحطاط کو دیکھ کر یہ بات کچھ مستبعد بھی نہیں۔
حقیقت حال تو یہ ہے کہ جو طالب علم بغیر بین السطور یا حاشیے کی مدد سے کتا ب حل کر سکتا تھا آج اس کو بغیر اردو شروحات کے کتاب کا حل کرنا محال تصور ہونے لگا ہے۔ بلکہ اب تو اردو شروحات کے مطالعے کی توفیق بھی چھن گئی ہے اور امتحان کی راتوں میں دس سالوں پر اکتفا ہونے لگا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ کتاب سے رہا سہا تعلق بھی ختم ہو گیا، اور انٹرنیٹ نے اس بے توفیقی اورکم ہمتی میں اور بھی اضافہ کر دیا۔ استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث میں توقبض علم کا ذکر آیا ہے جبکہ دیکھنے میں آ رہا کہ علماء کی بہتات ہو گئی ہے۔ علماء طلبہ کی تعداد آئے روز بڑھ رہی ہے۔اور زمانہ بھی قرب قیامت کا ہے، تو پھر قبض علم ہوگا کیسے؟ استاجی فرمانے لگے کہ قبض علم کی یہی صورت ہوگیِ، علمی انحطاط، انحطاط اس درجے کا ہو جائے گا کہ عالم و جاہل کے درمیان بجز ظاہری علامات کے فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ استادجی پھر ایک واقعہ سنانے لگے کہ ایک مرتبہ ہمارے والد صاحب کے ایک استادمولانا رسول خان صاحب دارالعلوم کراچی تشریف لائے تھے، انہوں نے طلبہ کے مجمعے میں تقریر کی، وہ اردو بھی ٹھیک طرح سے بول نہیں سکتے تھے لیکن چند لمحوں کی تقریر میں انہوں نے علم و حکمت کے ایسے دریا بہہ رہے تھے کہ ہم ششدر رہ گئے۔ والد ماجد رحمہ اللہ نے ہماری حالت کا اندازہ لگا کر پوچھا ؛ " کیسے رہے میرے استاد؟" استادجی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ایک وہ حضرات تھے جو ہم سے کچھ پہلے گزر گئے، ہمارے اکابر، جو علمی استعداد ان کی تھی وہ ہماری ہر گز نہیں۔ اب رفتہ رفتہ اسی استعداد میں بھی کمی آ رہی ہے۔ اب تو طالب علم سے عبارت بھی ٹھیک طرح سے نہیں پڑھی جاتی۔ یہ ہے در اصل قبض علم۔
ہر استاد، ادارے کے ہر منتظم کو اس بات کی فکر ہے،اور اپنے بس کے مطابق طلبہ کی استعداد میں بہتری کیلئے اقدامات بھی کر رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ اقدامات نا کافی لگتے ہیں۔ تو پھر عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہم کونسے ایسے اقدامات کر سکتے ہیں کہ علوم دینیہ اور ان میں اچھی استعداد کی اولوی حیثیت بھی برقرار رہے، اکابر کی روایات پر حرف بھی نہ آئے اور ہم جدید تحقیقاتی دور میں ایک تحقیقی ذہنیت کی نمائندگی کرتے ہوئے سر اٹھانے کے قابل بھی ہو سکیں؟
پچھلے سال دارالعلوم زاہدان کے سادسہ کے ایک طالب علم کا مقالہ پڑھا۔ لگ نہیں رہا تھا کہ یہ کسی مدرسے کے ایک طالب علم کی کاوش ہے۔ ایم فل کا مقالہ لگ رہا تھا۔ غالبا کتاب النکاح میں جن فقہی قواعد کا صراحۃ یا ضمنا تذکرہ آگیا ہے ، انکی خارجی تطبیقات پر تھا۔ کئی ایسی کتابوں کا حوالہ دیا گیا تھا جن کا شاید سادسہ کا طالب علم نام بھی نہ جانتا ہو۔ جس ساتھی نے مقالہ دکھایا تھا، انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم زاہدان کے ہر طالب علم نے اپنے تعلیمی درجے کے مستوی کے مطابق عربی زبان میں مقالہ لکھنا ہوتا ہے۔عشاء کا وقت جو عموما ہمارے مدارس میں تکرار کا وقت ہوتا ہے، وہاں کی نظم کے مطابق طلبہ نے لائبریری میں گزارنا ہوتا ہے۔ طالب علم جس کتاب کا، جس فن میں چاہے مطالعہ کر سکتا ہے۔ آخر میں مقالہ اپنے نگران استاذ سے منظور کروانا ہوتا ہے۔ہر درجے کا اپنا ایک مستوی ہوتا ہے اور اسی کے مطابق موضوع اور مقدار کی تعیین کر دی جاتی ہے۔ دارالعلوم زاہدان کے کئی ساتھی بڑے درجات کے لیے دارالعلوم کراچی آتے ہیں۔ ان کے مقالات پڑھنے کو ملے، ان سے گفتگو ہوئی۔ ان کے مطالعہ کی وسعت اور عربیت قابل رشک ہے۔ دارالعلوم کراچی میں دورے کے سال طالب علم نے لازمی طور پر 50 صفحے کا مقالہ لکھنا ہوتا ہے لیکن اساتذہ اپنی بے پناہ مصوفیات کی وجہ سے ہر طالب علم کا مقالہ پڑھ نہیں سکتے، طالب علم کے پاس مطالعے کے لیے اتنا وقت بھی نہیں ہوتا۔ کوئی نگران بھی نہیں ہوتا ۔ جس نے جو لکھ دیا اور جیسے لکھ دیا، مقررہ تاریخ کو بند کاپیاں دفتر میں پہنچا دی جاتی ہیں، پھر اللہ جانے ان مقالات کا کیا ہوتا ہے۔
ہمارے مدارس میں طلبہ کودرسی کتابوں کے مطالعے کے لیے اجتماعی نظم کے مطابق مطالعے کا اچھا خاصہ وقت دیا جاتا ہے۔ جس میں طلبہ کل کے درس کے لیے کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ معلومات اور مجہولات کی تمییز ہو جاتی ہے، کل کے سبق میں معلومات کا تکرار اور مجہولات معلومات میں بدل جاتے ہیں۔ طالب علم فن کی حد تک کتاب سے اچھی طرح واقفیت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن خارج از کتاب تطبیق میں طالب علم بے بس ہو جاتا ہے۔بلکہ کبھی کبھی احساس کمتری کا شکار ہو جاتاہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر افتاد یہ ہوتی ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ غیر نصابی کتاب کے علاوہ بھی کوئی ایسی کتاب ہو سکتی ہے جہاں سے اس کی بے بسی قدرے دور ہو سکتی ہے۔ اگر اسے کسی کتاب کا پتہ ہوتا ہے تو نا دانستہ طور پر وہ خود کو اس اہل نہیں سمجھتا کہ اس کتاب کو پڑھ سمجھ سکے۔ شامیہ یا بحر الرائق کو دورے تک کے طلبہ مفتی ہی کیساتھ خاص کتاب سمجھ کر دیکھنا گوارا نہیں کریں گے۔ایسی ذہنیت کے ساتھ تحقیقی مزاج کا پیدا ہونا ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہر مدرسے میں مکتبہ ہوتا تو ضرور ہے لیکن اکثر طور پر وہ صرف نمائش کی حد تک ہوتا ہے۔مکتبے میں مطالعے کے لیے طالب علم کو عموما وہ وقت عنایت ہوتا ہے جو آرام یا کھیل کود کا ہوتا ہے۔ اس بابت ارباب مدارس کے سامنے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں۔ امید ہے کہ اپنے طویل تعلیمی و تربیتی تجربے کی بنیاد پر ان کو زیر غور لے آئیں گے۔ اور اگر گنجائش ہوئی تو کوئی مناسب اقدام بھی ضرور اٹھائیں گے۔
ہر طالب علم سے مقالہ لکھوانا اگر چہ مشکل ہے۔ مدارس میں آنے والے طلبہ ایک جیسی استعداد کے نہیں ہوتے۔ لیکن ان کو ان کی استعداد اور مستوی کے مطابق مطالعے اور اپنے مطالعے کا خلاصہ پیش کرنے کا مکلف بنایا جا سکتا ہے۔پہلے مرحلے میں وہ سناتے ہوئےجھجک بھی محسوس کرے گا۔ مطالعے میں دشواری پیش آنے کا شکوہ بھی کرے گا۔ لیکن مطالعے سے وہ کسی طرح مانوس ہو جائے تو پھر اس کو فن سے متعلق خارج از نصاب کتاب سے کوئی جگہ مطالعے کرنے کا مکلف بنا یا جائے۔ مثلا نحو میں تقدیم خبر کی بحث جب وہ ہدایۃ النحو میں اپنے مطالعے سے کسی قدر سمجھ جائے اور استاد کو اطمینان ہو، تو اس کو جدید قدیم نحو کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا کہہ کر اس بحث کو مزید نکھار کر لکھنے اور اگر یہ صلاحیت نہ ہو تو کم از کم اپنے الفاظ میں خلاصہ سنانے کا مکلف بنایا جائے۔ قدوری کیساتھ اللباب اور الجوہرۃ النیرۃ ،کنز کیساتھ تبیین الحقائق اور البحر الرائق، شرح الوقایہ کیساتھ بدائع الصنائع، مبسوط للسرخسی اور بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ اور ہدایہ کے ساتھ فتح القدیر اور جدید مسائل پر لکھے گئے مقالات و رسائل سے طالب علم کی مناسبت ضرور ہونی چاہیے، کم سے کم کتاب کے انداز اور اسلوب اور مصنف کے مزاج سے اتنی واقفیت ہو کہ کل کو کسی مسئلے میں آسانی سے اس کتاب کی مراجعت کر سکتا ہو۔
فقہ کا ذکر بطور مثال ہوا۔ ہر فن میں استاذ طالب علم کے ذوق کو دیکھتے ہوئے متعلقہ کتابوں کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ طالب علم سے ان کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کرایا جائے، بلکہ ہفتے میں ایک سوال ایسا پوچھا جائے جس کا جواب انہی کتابوں سے ملے یا ان کتابوں میں سے کسی کتاب سے کوئی بحث پڑھنے کو اور اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھنے کا کہا جائے ۔پھر دو سالوں میں طالب علم کے مستوی کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کا ادارے کی طرف سے مکلف بنایا جائے۔ مثلا ثانیہ کا طالب علم بیس صفحے، رابعہ کا تیس سے پینتیس سادسہ کا پچاس اور دورے کا ساٹھ صفحےپر مشتمل عربی مقالہ جس بھی فن میں لکھنا چاہیے، موضوع ادارے کی طرف سے مقرر اپنے نگران استاد سے منظور کرا کر لکھ لے۔ ساٹھ صفحات لکھ کر تحقیق کا کوئی معرکہ سر ہوسکے، مشکل ہے۔ لیکن جس طالب علم نے آٹھ سال پڑھنے کے بعد تحقیقی مقالہ لکھنے کا فن ٹھوکریں کھا کھا کے یونیورسٹی میں جا کر سیکھنا ہوتا ہے وہ مدرسےمیں ہی سیکھ جائےگا۔ مدرسے میں رہ کر وہ اس اہل ہوگا کہ کسی مجمع کے لیے کوئی تحقیقی مقالہ لکھ سکے یا کسی علمی مجلس میں شرکت کر سکے۔
اس کے لیے بنیادی ضرورت اس بات کی ہےکہ طالب علم کو تفریح اور آرام کے علاوہ کے اوقات میں کم از کم دو گھنٹے لائبریری میں بیٹھنے کا مکلف بنایا جائے اور اگر اس سے زیادہ کی اس کو ضرورت ہو تو ادارے کی طرف سے اس کا بھی انتظام کیا جائے۔مطالعہ میں اردو شروحات پر سخت پابندی لگائی جائے اور طالب علم کے مطالعے میں کسی طرح خلل پڑنے نہ پائے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر اس کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اگر ضرورت ہو تو آدھا گھنٹہ سے زیادہ کی اجازت نہ دی جائے، اور بھی کسی بڑے استاذ کے زیر نگرانی۔ جن اداروں نے طلبہ کو انٹرنیٹ کے استعمال کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے وہاں سرچ اور ریسرچ کے نام پر علم کا جنازہ نکل رہا ہے۔لائبریری میں ہر وہ کتاب مہیا ہو جس سے طالب علم اپنے مستوی کے مطابق استفادہ کر سکتا ہے۔ ہر وہ کتاب یا رسالہ جس سے اس کے وقت کا ضیاع ہوتا ہو جیسے اردو ڈائجسٹ، اخبار وغیرہ ہر گز نہ رکھے جائیں۔ مطالعے میں طالب علم کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔دارالعلوم کراچی جا کر جو پہلا احساس ہوا تھا وہ یہی تھا کہ مطالعے میں طالب علم پر کوئی قدغن نہ تھا۔ ایسے بھی طلبہ دیکھے جنہوں نے سادسہ تک بینکنک پر لکھی گئی شیخ الاسلام صاحب کی تقریبا سب کتابوں کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ ایسے بھی ساتھی ملے جنہوں نے منفلوطی اور طنطاوی کی کئی کتابیں چاٹ ڈالی تھیں، جبکہ ہم نے ان کا صرف نام ہی سنا تھا۔جغرافیہ، طب، قانون کا مطالعہ کرنے والے ساتھی بھی ملے ۔
زمانہ طالب علمی ہی میں علمی مزاج تشکیل پاتا ہے۔ اگر ایک طالب علم درسی کتابوں کے علاوہ کوئی کتاب اٹھانے میں جھجکتا ہو، تو وہ انہی کتابوں میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے جو اس نے پڑھی ہوئی ہیں۔حالانکہ ایسے بھی طلبہ ہوتے ہیں جو درسی کتابیں بغیر کسی شرح کی مدد سے امتحان کی راتوں میں حاشیےسمیت حل کر لیتے ہیں۔ایسے ایک طالب علم سے میں واقف ہوں جو مطالعہ امتحان کی راتوں پہ چھوڑ جاتا اور مطالعے کے مقررہ وقت میں خارجی مطالعہ یا پھر شاعری اور مقالہ نگاری میں وقت صرف کرتا تھا۔ ایسے طلبہ کی تعداد کسی بھی ادارے میں کوئی کم نہیں ہوتی۔ ان کو درسی کتابوں میں محدود رکھنا ان کی صلاحیتیں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ان کو مطالعہ میں تنوع اور وسعت پیدا کرنے کا موقع بہر صورت دینا چاہیے۔ایک کتاب میں کہیں پڑھا تھا کہ ذہن ایسی چیز ہے کہ جو ہر وقت مصروف عمل ہوتا ہے، یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی ذہن کسی نہ کسی درجے میں مصروف رہتا ہے۔ ذہن سستانے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ہے تفنن۔ اگر ایک کتاب پڑھتے ہوئے اکتاہٹ محسوس ہو تو دوسری کتاب دیکھی جائے۔ایسے طلبہ کی رہنمائی کی اور بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ کئی ایسے تشنہ مواضیع ہیں جن پر ابھی کام باقی ہے۔ کئی ایسے مباحث ہیں جن کو جدید اسلوب سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ غزو فکری اور تقابل ادیان جیسا اہم موضوع ہے، اصول حدیث، فقہی قواعد، تفسیر پر کئی پہلو سے کام ہو سکتا ہے، ترجمہ و تعریب کا فن نا گزیر ہے۔ ایسے طلبہ کی صلاحیتوں کو ان جیسے کئی عظیم کاموں میں لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح اکابر سے مناسبت اور ان کےساتھ وابستگی جو اس زمانے کے فتنوں کے سامنے ایک ڈھال ہے، صرف عقیدت کی حد تک رہ گئی ہے۔ ان کے علمی کام سے واقفیت بھی سنی سنائی باتوں کی حد تک ہے۔ علماء دیوبند کی پہچان جو باہر دنیا میں علم حدیث کی مناسبت سے ہوئی تھی، آج ان کے نام لیوا حدیث کو صرف فقہی مباحث کی حد تک ہی جانتے ہیں۔ بہت ہی کم طلبہ ہوں گے جو کشمیری صاحب کا علمی مقام فیض الباری یا حضرت بنوری صاحب کی معارف السنن پڑھ کر جانتے ہوں۔ حضرت سہارنپوری کی بذل المجہود، حضرت شیخ الحدیث صاحب کی اوجز المسالک،اور حضرت الاستاذ شیخ الاسلام صاحب کا تکملہ فتح الملہم پڑھ کر روایت و درایت اور ان سے متعلقہ علوم میں ان کی امامت سے واقف ہوں۔ کشمیری صاحب کے متعلق علامہ کوثری صاحب نے فرمایا تھا کہ ابن ہمام کا کوئی ثانی ہے تو وہ علامہ کشمیری ہیں۔ علامہ ابو غدہ ان کو امام العصر لکھتے ہیں اور چھ بڑے فقہاء میں سے ان کا بڑا جامع تذکرہ کیا ہے۔ معارف السنن میں حضرت بنوری نے جس طرح اپنے استاذ کے علوم کو جمع کیا اگر اس کا کوئی ایک باب بھی مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ حدیث نبوی کے مزاج سے علامہ کشمیری کتنی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ فقہ، رجال اور اصول میں ان کی مجتہدانہ بصیرت تھی۔ ایک طالب علم اپنے ایسے اکابر سے علمی مناسبت پیدا نہ کر سکے تو اس کو کیا حق بنتا ہےکہ وہ آٹھ سال گزار کر انہی اکابر سے عقیدت کے نرے دعوے کرتا رہے۔
آخری بات کہ طالب علم کو تجزیوں اور تبصروں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے علمی اور تحقیقی مزاج میں پختہ تر کر دیا جائے۔البتہ فقہ السیرۃ ، تاریخ ، لغۃ الاعلام ، معاصر علوم جیسے طب وغیرہ کی اصطلاحات اور ان کا تعارف،جغرافیہ ، اور الغزو الفکری ثانوی حیثیت میں اس کو ضرور پڑھائے جائیں۔ عربی میں جتنی بھی جدید تحقیقات لکھی جاتی ہیں ان کی زبان ہماری روایتی کتابوں سے مختلف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے طالب علم کو کافی دشواری ہوتی ہے۔ اسی طرح الحاد اورفتنوں کے ہرکارے مختف روپ دھارے پھیلے ہوئے ہیں۔ ان فتنوں کی سرکوبی اہل مدارس جو عظیم روایات کے امین ہیں، ہی بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ قائدانہ کردار اگر کسی نے خوش اسلوبی سے ادا کرنا ہے تو وہ یہی بوریاں نشین ہی ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ مواد اس بابت کافی حد تک ممد ثابت ہو سکتا ہے۔
مدارس کےمحدود وسائل میں ان تجاویز پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں، نہ ہی ان میں کوئی ایسی بات ہے کہ اکابر اور روایات کے ٹوٹنے کا عذر پیش کر کے ٹالی جا سکے۔ ارباب مدارس کو سنجیدگی سے ان تجاویز پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مدارس کے روشن علمی مستقبل کے لیے سنجیدہ کوشش ہی "علم اور اپنے اسلاف" سے اصل وفاداری ہے۔
اسلامی فکر و تہذیبی روایت کے احیاء کی ضرورت
ڈاکٹر ابراہیم موسٰی
(مدرسہ ڈسکورسز پاکستان کے زیر اہتمام ۱۸ جولائی ۲۰۱۹ء کو اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد میں’’علم الکلام کے جدید مباحث‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار میں گفتگو)
میں سب سے پہلے مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس سال مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسیو پروگرام (Summer Intensive ) پاکستان میں منعقد کیا ، اس سے بھی بڑھ کر ان کا شکریہ اس بات پر کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بحیثیت استاد اور پاکستان میں لیڈ فیکلٹی کے طور پر نہایت اہم اور فعال کردار ادا کیا۔ان کے ساتھ میں ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب کا بھی شکر گزار ہوں کہ جو اس پروگرام میں شروع دن سے میرے ساتھ ہیں اور اس کو چلانے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کیا۔اگرچہ اس سال ڈاکٹر ماہان مرزا کی خدمات نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے انصاری انسٹیٹیوٹ نے حاصل کر لیں لیکن مجھے امید ہے کہ وہ آئندہ بھی اپنے وقیع علم اور وسیع تجربہ کی روشنی میں ہماری راہنمائی کرتے رہیں گے ۔ اس کے ساتھ ہی میں ہندوستان میں مدرسہ ڈسکورسز کے استاد اور لیڈ فیکلٹی ڈاکٹر وارث مظہری کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا ۔ میرا ان سے قریبی تعلق اس وقت سے ہے، جب میں نے اپنی کتاب "مدرسہ کیا ہے؟" (What is a Madrasa?)کی تحقیق کے سلسلے میں 2005 میں ہندستان کا دورہ کیا ۔ اس کتاب کا ترجمہ انھوں نے "دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے" کے عنوان سے کیا ہے جو ہندوپاک سے شائع ہوچکا ہے۔ اس موقع پر میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری جناب مولانا امین عثمانی صاحب کا بھی شکر یہ ادا کرنا چاہوں گاکہ ان کی باعظمت شخصیت نے ہی مجھے پاک و ہند میں نوجوان علماکی اگلی نسل کی رہنمائی پر ابھارا اور اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچنے کے لئے آمادہ کیا۔ مجھے نہیں معلوم آپ میں سے کتنے لوگ مولانا عثمانی کو مکتوب نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ وہ اچھے مکتوب نگار ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ نہایت پابندی کے ساتھ خط لکھنے کے عادی ہیں ۔ یہاں یہ اعتراف بجا ہے کہ ان کے متواتر خطوط نے ہی میرےضمیر کو جھنجھوڑا۔ انھوں نے ہمیشہ مجھے یہ یاد دلایا کہ دیوبند اور ندوہ جیسے عالمی اداروں سے عالمیت کی سند حاصل کرنے کے باوجود بھی طلبہ کو ہمیشہ اضافی کورس کرنےکی ضرورت رہتی ہے۔ انہوں نے مجھ پر پورے بھروسے اور اعتماد کا اظہار کیا کہ میں قدیم و جدید علو م کے امتزاج سے طلبہ مدارس کی جدید نسل کی رہنمائی کرسکتا ہوں اور روایت و جدت کا یہ دلچسپ امتزاج نہ صرف ہندستان بلکہ دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لئے بھی بیحد سودمند ثابت ہوگا ۔
مولانا عثمانی کے ان خطوط سے الگ اور آزاد ہو کر ، میں خود بھی فکر اسلامی کی تشکیل وتجدید کے حوالے سے ہمیشہ فکرمند رہا ہوں۔ جنوبی افریقہ میں کئی سالوں کے قیام اور مسلم برادری اور تعلیمی ادارے کے ایک فعال رکن کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ہمارے بیشتر علما عہد جدید کے فکری چیلنجز سے کما حقہ واقف نہیں ہیں۔ اس دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے متنوع واقعات مجھے مسلسل پریشان کرتے رہے ہیں اور یقیناً آپ کو بھی پریشان کرتے رہے ہوں گے۔ نو سامراجی حملوں اور متعدد مقامات میں خانہ جنگیوں کے سبب مسلم دنیا کے بیشتر حصوں میں سیاسی انتشار کی صورتحال سے مسلم نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک اور دھندلا نظر آ رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ہمارے علما کی بہت بڑی تعداد اس پیچیدہ دنیا کے سامنے مستقبل کے روشن امکانات پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان میں عزم و ارادے کا فقدان ہے بلکہ وہ ان سماجی حقیقتوں کو سمجھنے پر قادر اور ان سے نپٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔
امریکہ میں جب تک میرا قیام ڈیوک یونیورسٹی میں رہا، میں مولانا امین عثمانی صاحب کے مشوروں پر عمل نہیں کر سکا۔ جب میں یونی ورسٹی آف نوٹرے ڈیم پہنچا تبھی مدرسہ ڈسکورسز کے نام سے یہ پروگرام ممکن ہو سکا۔ ایک کیتھولک یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے نوٹرے ڈیم یونیورسٹی مذہبی اور دینیاتی معاملوں میں بیحد دلچسپی لیتی ہے۔ امریکی یونیورسیٹیوں میں مذہبی علوم پر بحث و مباحثہ بہت حد تک قابل قبول ہے۔ لیکن دینیات (theology) پر یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ وہ اقراری (confessional)ہے جو کسی کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی یونیورسٹی میں تفریق و انتشار کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ وہ لوگ ’دینیاتی جہاد‘ سے خائف ہیں۔ لیکن نوٹرے ڈیم میں دینیات پر گفتگو کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے میں اس جانب توجہ دلاتا رہا ہوں کہ اچھی دینیات کا مطلب کسی شخص کا معلومات کے وسیع دائرے میں شامل ہونا اور غیرعلمی سوچ پر مبنی مذہبی دعوؤں کے سلسلے میں تنقیدی رویہ اختیار کرنا ہے۔
مدرسہ ڈسکورسز کی شروعات کا مقصد اپنی اس علمی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جس کے ہم سب نام لیوا اور جس کے دوبارہ احیاء کے خواہاں ہیں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ مجھ میں اس کام کے لیے کوئی خاص صلاحیت ہے لیکن میں اس کام کو پورا کرنے کا عزم بہر حال رکھتا ہوں ۔ اس سلسلے میں مفتی صدر الدین آزردہ کا یہ شعر خوب ہے۔
کامل اس فرقہ زہاد میں ہوا نا کوئی
کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے
اس پروگرام میں ہم سائنس اور علم کلام پر توجہ دیتے ہیں۔ سائنس ہمیں وجود اور موجودات کی فطرت اور حقیقت کی صورت سے واقف کراتی ہے۔ خلا میں ہوائی جہاز کیسے پروازکرتا ہے، سیل فون کے ذریعے آواز کی ترسیل کیوں کرممکن ہے اور کیسے مادہ کو توانائی میں بدل کر ایم آر آئی اسکین اور ایکس ریز کے استعمال کو ممکن بنایا جاتا ہے؟ اگر ہم ان حقائق کو نہ سمجھ سکیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان حقائق کو نہ جاننا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ، انہیں جانے اور سمجھے بغیر بھی ہم اچھے مسلمان ہو سکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ پھر کیسے ہم انسانی مساوات کے اس تصورکو سمجھ پائیں گے جو ان حقائق کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آیا ہے اور انہیں حقائق کی بنیاد پرپچھلے تین سو سالوں میں ہم ایک نئی دنیا(new cosmos)کے وارث ہوئے ہیں۔ یہ وہ درجہ وار دنیا(hierarchical cosmos)نہیں ہے جس کے ہم عادی تھے اور زمین جس کامرکز تھی، اس دنیا کو سمجھے بغیر جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering)اور مصنوعی انٹیلی جینس (artificial intelligence)سے متعلق کیسے ہم بامعنی فتویٰ یا رائے دے سکتے ہیں؟کیسے ہم میکانکی اور کیمیائی طریقہ علاج سے نپٹ سکتے ہیں؟ کیمیائی علاج اگرچہ کچھ نیا نہیں ، تاہم تجدیدی علاج (regenerative therapies) اور میڈیکل سائنس میں جینیات پر مبنی مداخلت (genetically-based interventions)میں دن بہ دن ترقی ہو رہی ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ اس وقت عام صورت اختیار کر لیں جب یہ طبی علاج معاشی عوامل کے اختلاط سے اپنے بامقصد استعمال کو آسان بنائے۔
(اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مختلف مسلم و غیر مسلم مفکرین کے اقتباسات کی روشنی میں علم کلام ، فلسفہ ، مابعد الطبیعات کے مطالعہ میں ان دونوں کی اہمیت ، خود مابعد الطبیعات کے مطالعہ کی اہمیت ، سائنس کے وجود و موجودات کی فطرت و ماہیت بیان کرنے میں کردار کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اسلامی علمی روایت کے بعض واقعات کی مدد سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ماضی میں مسلم دانشور جرات مند اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ انہیں اپنے گرد موجود علمی اور فلسفیانہ روایات کی مدد سے ایک نیا فکری نظام تیار کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں ہوا۔)
آج ہمیں موجودہ چیلنج کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنی روایت کی تجدید کریں اور ایک نئی تہذیب کی تعمیر کریں۔ کسی بھی تہذیب کی بنیاد انسانوں کی قوت، شخصیت، صلاحیت اوراخلاق پر ہوتی ہے نہ کہ بندوق اور اسلحہ کی قوت پر۔ ہماری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم اسلام کے ابتدائی اور درمیانی عہد میں ہونے والے تاریخی عمل میں واقع تنوع کا خالص تاریخی شعور نہیں رکھتے۔ ہم اس زمانے کے مسلم معاشرے میں متداول اختلاف آراء و نظریات سے بھی صحیح طور پر واقف نہیں ہیں۔ ماضی کے علمی تراث کے متعلق ہمارے دعووں میں حقیقت کا عنصر بہت تھوڑا ہے، بلکہ وہ زیادہ تر مفروضات پر مبنی ہیں۔
ایک مثال سے اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مغرب میں یونانی اور رومی علمی وراثت، مغرب کی تہذیب اور عیسائیت کی ترقی کے لئے ایک بنیادی عنصر تسلیم کی جاتی ہے۔ مغرب کی ہر چھوٹی بڑی یونیورسٹی اور کالج میں ،روم و یونان کی کلاسیکی ادبیات کی تعلیم کے لئے باقاعدہ ماہر اساتذہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یونانی و رومی روایت و تہذیب تو دور ، اسلامی ثقافت و تاریخ کی تعلیم کا اس پیمانے و معیار پر مہیا ہونا بھی نادر و نایاب ہی ہے۔ پوری مسلم دنیا میں ایسی مثال شاذ و نادر ہی ملے گی۔ہماری دوسری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہماری مذہبی اور دینیاتی فکر میں ادب و فنون کا فقدان ہے۔ اگر کبھی کوئی شعر یا نظم پڑھی جائے تو وہ صرف ’صرف و نحو‘ کے مسائل میں استشہاد کے لئے ہی پڑھی جاتی ہے، انسانی وجود ،معاشرہ اور فطر ت کے باب میں شاعری کو ہم غیرمستند ہی تصور کرتے ہیں۔ادب میں پوشیدہ معانی سے ہماری دوری نے وسعت و کشادہ ظرفی کے ساتھ سوچنے کی ہماری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ ہم میں وہ جمالیاتی شعور باقی نہیں رہا جو فن تعمیر اور فنون لطیفہ میں نظر آتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ایک ایسی تہذیب، ایک ایسی ثقافت اور ایک ایسی تاریخ کی ہیں جن کے معمار فکری طور پر دلسوز اور دل گداز ہوتے ہیں۔
مدرسہ ڈسکورسز میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم طلبہ کو اپنی تراث کے ان پہلووں سے واقف کرائیں اور ساتھ ہی ساتھ ان میں تاریخی اور فلسفیانہ شعور پیدا کریں۔ فلسفیانہ طرز استدلال کے فقدان نے اسلامی فکر کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میں یہاں موجود تمام حضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ مدارس اسلامیہ کے فکری سرمایےکے احیا میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارا مقصد ان مدارس کی عظمت رفتہ کو ایک بار پھر سے واپس لانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہمیں اختلاف رائے کا احترام کرنا ہوگا، اور ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ بحث و مباحثہ اور غور و فکر کی روایت کو پروان چڑھاسکیں۔ اور جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ اجتہاد کی شکل میں تفکیر و تحقیق ہماری روایت کا حصہ رہے ہیں ۔ ایک نئی طرز کا غوروفکر ہی اس امت کے مستقبل کا ضامن ہوسکتاہے۔
وما علینا الا البلاغ
(ترتیب و تدوین : حافظ محمد رشید)
فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد (IPS) نے ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی (ICRC) کے اشتراک سے ۲۷ و ۲۸ اگست ۲۰۱۹ء کو ’’اسلام اور اصول انسانیت‘‘ کے عنوان پر دو روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی مختلف نشستوں میں سرکردہ اصحاب فکر و دانش نے انسانیت اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات و احکام کے متعدد پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ مجھے ۲۸ اگست کو کانفرنس کے تیسرے اجلاس میں معروضات پیش کرنے کے لیے کہا گیا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی جبکہ معاون صدر دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل حسن تھے اور ان کے علاوہ اظہار خیال کرنے والوں میں مولانا محمد یاسین ظفر، ڈاکٹر شمس الحق حنیف، ڈاکٹر محمد اقبال خلیل، جناب خالد رحمان، ڈاکٹر عطاء الرحمان اور ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی شامل ہیں۔ میری گزارشات کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میری گفتگو کا عنوان ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور اصول انسانیت‘‘ ہے اور مجھے انسانی معاشرہ کی مختلف حوالوں سے تفریق کے متنوع دائروں میں انسانی اصول و اخلاق کی پاسداری کے تقاضوں پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ انسانی سماج میں تفریق کئی حوالوں سے ہمیشہ سے موجود چلی آرہی ہے۔ یہ نسل کے عنوان سے بھی ہے، رنگ اور زبان کے حوالہ سے بھی ہے، مذہب بھی اس کا ایک دائرہ ہے اور وطن، قومیت، علاقہ اور دیگر بہت سے امور اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ مگر میں ان میں سے مذہب کے حوالہ سے پائی جانے والی تفریق کی بات کروں گا۔
مذہبی تفریق کا ایک دائرہ اسلام اور کفر کا ہے اور دوسرا دائرہ امت مسلمہ کے داخلی ماحول میں باہمی اختلافات کا ہے، ان میں سے ہر ایک کے بہت سے پہلو ہیں جن کا مختصر وقت میں تذکرہ تو کجا ان کی فہرست پیش کرنا بھی مشکل ہے، اس لیے ہر دائرہ کے دو بڑے پہلوؤں کا ذکر کروں گا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ اسلام اور کفر کا دائرہ سب سے نمایاں ہے ہے کہ انسانی معاشرہ میں مسلمانوں کے ساتھ مسیحی، یہودی، ہندو، بدھ مت، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور سب کے آپس میں معاملات چلتے رہتے ہیں۔ کافر قوموں کے ساتھ انسانی تعلقات اور اخلاقیات کے حوالہ سے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے چند واقعات کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔
- بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ تشریف فرما تھے، آپ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ جنازہ گزر جانے کے بعد ساتھیوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو یہودی کا جنازہ تھا، تو آنحضرتؐ نے فرمایا ’’الیست نفساً؟‘‘ کیا وہ انسان نہیں ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان یا کافر ہونا اپنے مقام پر مگر بطور انسان احترام کا حق کافر کو بھی اسی طرح حاصل ہے جس طرح کسی مسلمان کا حق ہے۔
- جناب رسول اکرمؐ پر جب طائف کے اوباش لڑکوں نے پتھراؤ کیا اور آپ زخمی حالت میں اپنے خادم حضرت زید بن حارثہؓ کے ہمراہ مکہ مکرمہ کی طرف اس کیفیت میں واپس آرہے تھے کہ زخمی تھے اور لڑکے بدستور پیچھا کر رہے تھے، راستہ میں ایک سردار مطعم بن عدی نے یہ منظر دیکھ کر اپنے ڈیرے کا گیٹ کھول دیا اور حضورؐ کو ان لڑکوں کے تعاقب سے محفوظ کیا۔ آپؐ نے وہاں کچھ دیر آرام کیا، زخم وغیرہ دھوئے، کچھ کھایا پیا اور مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے۔ جناب نبی اکرمؐ کو مطعم بن عدی کا یہ احسان یاد تھا، چنانچہ جنگ بدر کے بعد قیدیوں کی رہائی کے فیصلہ کے موقع پر آپؐ نے فرمایا، اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور ان قیدیوں کے بارے میں مجھ سے بات کرتے تو میں ان کی سفارش پر ان قیدیوں کو ویسے ہی چھوڑ دیتا۔ مطعم بن عدی کافر سردار تھے اور اسی حالت میں انتقال ہوا تھا مگر آنحضرتؐ نے ان کے احسان کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ ایک اہم موقع پر اس کا اظہار بھی فرمایا۔
- جاہلیت کے دور میں کچھ قبائل نے مظلوموں کی حمایت اور ظلم و جبر کے خاتمہ، نیز ناداروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ’’حلف الفضول‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ جناب نبی اکرمؐ اس کا تذکرہ فرماتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے اور ایک موقع پر فرمایا کہ اگر آج بھی اس قسم کا کوئی معاہدہ ہو تو میں اس میں شریک ہوں گا۔
- اس حوالہ سے میں ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ بین الاقوامی معاہدات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ہوتے تھے اور آج بھی دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کا دور دورہ ہے، بلکہ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ آج کی دنیا میں اکثر ملکوں پر حکومتوں کی نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدات کی حکومت ہے، ان معاہدات کی تعداد تیس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جنہوں نے پوری دنیا کو اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے اور دنیا کا ہر ملک ان کا پابند سمجھا جا رہا ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ جس ملک و قوم کے پاس طاقت زیادہ ہے یا جس کے پاس دولت زیادہ ہے وہ ان معاہدات کی جکڑبندی سے اپنے لیے راستہ نکال لیتا ہے، مگر جو ہماری طرح طاقت و دولت میں کمزور ہے اسے بہرصورت ان معاہدات کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ اس پس منظر میں اصحاب فکر و دانش سے میری ہمیشہ یہ گزارش رہتی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دور کے بین الاقوامی معاہدات اور آج کے دور کے بین الاقوامی معاہدات پر تحقیق و مطالعہ کا کام ہونا چاہیے اور آنحضرتؐ کی سیرت و اسوہ کی روشنی میں ہمیں آج کے بین الاقوامی معاہدات کے ماحول میں اپنا طرز عمل طے کرنا چاہیے۔
- جناب رسول اکرمؐ نے جنگ کے ماحول میں جو ہدایات دی ہیں وہ انسانی احترام اور اخلاقیات کی اعلٰی ترین مثال ہیں اور میری گزارش ہے کہ جنگی اخلاقیات کا جو معیار اسلام اور جناب نبی کریمؐ نے پیش کیا تھا اسے دوبارہ دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، صرف اسی پر ہتھیار اٹھاؤ جو جنگ میں شریک ہے، اور املاک کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ مگر آج کے جدید ہتھیاروں نے یہ سارے دائرے توڑ دیے ہیں اور حالت جنگ میں انسانی اخلاقیات کے اصولوں کو قصہ پارینہ بنا دیا ہے۔ اصحاب دانش سے میری گزارش ہے کہ اگرچہ ہم بھی مجبورًا آج کے ہتھیاروں کو استعمال کر رہے ہیں جو جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد کردہ جنگی اصولوں اور اخلاقیات کے منافی ہیں، مگر ہمیں اسلام کے ان اعلٰی اخلاقی اصولوں کا تذکرہ تو نہیں چھوڑ دینا چاہیے اور دنیا کو بتاتے رہنا چاہیے کہ اسلام کے جنگی اصول کیا ہیں اور جناب رسول اکرمؐ نے کن جنگی اخلاقیات کی تعلیم دی ہے۔
مذہبی تفریق کا دوسرا دائرہ وہ ہے جو امت کے داخلی ماحول میں پایا جاتا ہے اور اس کے بھی بہت سے پہلو ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو کافر کہہ دیتے ہیں اور گمراہ قرار دے دیتے ہیں جس کی بنیاد پر فرقہ واریت کا وسیع ماحول بن جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے اس لیے صرف ایک پہلو پر عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جن لوگوں کو ان کے کلمہ پڑھنے کے باوجود قرآن کریم نے ’’وما ہم بمومنین‘‘ کہا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ’’واللہ یشہد انہم لکاذبون‘‘ اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ایمان کے دعوے میں جھوٹے ہیں اور جن کو مدینہ منورہ میں ایک متوازی مرکز ’’مسجد ضرار‘‘ تعمیر کرنے کی کوشش پر قرآن کریم نے ’’کفرًا و تفریقاً بین المومنین وارصادًا لمن حارب اللہ ورسولہ‘‘ کا مصداق قرار دیا، ان کے بارے میں آنحضرتؐ کا معاشرتی طرز عمل یہ تھا کہ ان کا مرکز تو قائم نہیں ہونے دیا گیا بلکہ اسے گرا کر نذر آتش کر دیا گیا، لیکن ان کے ساتھ معاشرتی تفریق کا ماحول قائم نہیں ہونے دیا۔
میرا یک طالب علمانہ سا سوال ہے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں حضور نبی اکرمؐ سے فرمایا کہ ’’جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم‘‘ کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان کے ساتھ سختی کریں، آنحضرتؐ نے دس سالہ مدنی دور میں مختلف کافر قوموں کے ساتھ تو بعض روایات کے مطابق ستائیس جنگیں لڑی ہیں مگر منافقوں کے ساتھ ایک لڑائی بھی نہیں کی، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ نے اس آیت کریمہ پر عمل نہیں کیا؟ نعوذ باللہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ معاملہ یوں ہے کہ کافروں کے ساتھ تو آپ نے تلوار کا جہاد کیا مگر منافقین کے خلاف حکمت عملی کا جہاد کیا کہ نہ انہیں اپنے ملی معاملات میں دخل انداز ہونے دیا اور نہ ہی اپنے خلاف مدینہ منورہ میں کوئی محاذ قائم کرنے دیا۔ ایسے منافقین کا تناسب جنگ احد کے موقع پر ہزار میں تین سو تھا، مگر صرف آٹھ سال میں جناب نبی اکرمؐ کی وفات پر ان کی تعداد چند افراد تک محدود ہو کر رہ گئی تھی جن کے ناموں کا صرف حضرت حذیفہؓ کو علم تھا اور ان پر بھی پابندی تھی کہ وہ ان میں سے کسی کا نام ظاہر نہیں کریں گے، یہ جناب نبی اکرمؐ کی معاشرتی حکمت عملی اور تدبر کا شاہکار تھا۔
میں نے کلمہ پڑھنے والوں کے درمیان داخلی تفریق کا صرف ایک دائرہ بیان کیا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے دائرے ہیں جن کے بارے میں فقہاء کرام نے مستقل احکام و قوانین بیان فرمائے ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام اور کفر کے دائرے مختلف حوالوں سے موجود ہیں مگر میری طالب علمانہ رائے ہے کہ معاشرتی تعلقات اور سماجی معاملات کی بنیاد انسانی اخلاقیات اور تقاضوں پر ہوتی ہے، ان دونوں امور کو اپنے اپنے دائرے میں رکھ کر ہی ہم معاملات کو صحیح رخ پر رکھ سکتے ہیں۔
یہاں مجھ سے میری گفتگو کے حوالہ سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا قادیانیوں کو بھی ان انسانی اصولوں اور اخلاقیات کے حوالہ سے گنجائش دی جا سکتی ہے؟ میری گزارش ہے کہ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ تنازعہ ان کے معاشرتی اور شہری حقوق کے دائرہ میں نہیں ہے بلکہ ان کی طرف سے سماج اور معاشرہ کے متفقہ موقف کو مسترد کرنے کے باعث ہے، اس لیے ان کے ساتھ وہی معاملہ رکھا جا سکتا ہے جو پوری قوم اور سماج کے اتفاقی طرز عمل کی نفی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر آج قادیانی جماعت سماج کی اجتماعیت کو قبول کر لے اور معاشرہ کے متفقہ موقف کو تسلیم کر لے تو جیسے باقی غیر مسلم سوسائٹیاں پاکستان میں باعزت شہری کے طور پر رہ رہی ہیں، قادیانیوں کا بھی یہ جائز حق ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پوری قوم اور سماج کے متوازی کھڑے رہنے کی بجائے قومی فیصلوں اور دستور کی بالادستی کو قبول کریں ، اس کے سوا یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، اللہ تعالٰی ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔
اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں، ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، اور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے۔ چنانچہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ خطہ کو بھارت میں شامل کیے جانے کے اعلان پر عالمی قوتوں، بین الاقوامی اداروں اور حلقوں کے ڈھیلے ڈھالے ردعمل کو دیکھ کر اسرائیلی وزیراعظم کو بھی حوصلہ ہوا ہے اور انہوں نے یہ مبینہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بحث کو بھی ہمارے ہاں وقفہ وقفہ سے زندہ رکھنے کی کوشش سوشل میڈیا پر دکھائی دے رہی ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ شاید کسی وقت ’’داؤ لگ جائے‘‘۔
اس ضمن میں اب سے سولہ سال قبل ایک محترم دانشور کی طرف سے یہ سوال سامنے آیا تھا کہ اگر مسیحی ریاستوں کے ساتھ تعلقات درست ہیں تو یہودی بھی تو اہل کتاب ہیں، ان کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ راقم الحروف نے اس پر چند گزارشات پیش کی تھیں جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی ستمبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں شائع ہوئی تھیں، ان کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
مسیحی اور دیگر غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ خلافت اسلامیہ اور مسلم حکومتوں کے سفارتی تعلقات ابتدائے اسلام سے چلے آرہے ہیں اور ان سے کبھی اختلاف نہیں کیا گیا۔ البتہ دو ہزار سال بعد ازسرنو قائم ہونے والی یہودی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ سفارتی تعلقات اور اسے تسلیم کرنے کا معاملہ اس سے مختلف ہے اور اس کی الگ وجوہ و اسباب ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
- مثلاً سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری وہاں کی صدیوں سے چلی آنے والی آبادی یعنی فلسطینیوں کی رضامندی کے ساتھ نہیں ہوئی، بلکہ پہلے برطانیہ نے اس خطہ پر ۱۹۱۷ء میں باقاعدہ قبضہ کر کے فوجی طاقت کے بل پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کیا ، اور اب امریکہ اور اس کے اتحادی پوری فوجی قوت استعمال کر کے فلسطینیوں کو یہودیوں کی اس جبری آباد کاری کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں جس پر فلسطینی راضی نہیں ہیں کیونکہ یہ دھونس اور جبر کا راستہ ہے جسے دنیا کی کوئی مہذب اور متمدن قوم قبول نہیں کر سکتی۔
ہمارا خیال ہے کہ جس طرح ہم کشمیر کے بارے میں اصولی موقف رکھتے ہیں کہ بھارتی فوج وہاں سے چلی جائے اور کشمیریوں کو کسی دباؤ کے بغیر اقوام متحدہ کے نظم کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے، اسی طرح فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے بارے میں ہمارا اصولی موقف یہ ہونا چاہیے کہ امریکہ اپنی فوجیں اس خطہ سے نکالے اور نہ صرف فلسطین بلکہ خلیج کے دیگر ممالک کو بھی فوجی دباؤ سے آزاد کر کے وہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کرے۔ انصاف اور مسلمہ اصولوں کا تقاضا تو بہرحال یہی ہے اور اگر بالادست قوتیں طاقت کے نشے میں اس اصول پر نہیں آتیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں اور بے اصولی اور دھونس کو اصول و قانون کے طور پر تسلیم کر لیں۔ - پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے میں ایک عملی رکاوٹ یہ بھی ہے جسے دور کیے بغیر اسے تسلیم کرنا قطعی طور پر نا انصافی کی بات ہوگی۔ وہ یہ کہ اسرائیل کی سرحدی حدود اربعہ کیا ہیں؟ یہ بات ابھی تک طے نہیں ہو سکی۔ بہت سے عرب ممالک اور فلسطینی عوام کی اکثریت سرے سے فلسطین کی تقسیم کو قبول نہیں کر رہی۔ جبکہ اقوام متحدہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو سرحدات اپنی قراردادوں میں طے کر رکھی ہیں، انہیں اسرائیل تسلیم نہیں کر رہا۔
- اسرائیل کی اقوام متحدہ کی طرف سے طے کردہ سرحدات اور ہیں،
- اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقے کی حدود اربعہ اور ہیں،
- کسی اصول اور قانون کی پروا کیے بغیر پورے فلسطین میں دندناتے پھرنے سے اس کی سرحدوں کا نقشہ بالکل دوسرا دکھائی دیتا ہے،
- اور اسرائیلی حکمرانوں کے عزائم پر مشتمل ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کا جو نقشہ ریکارڈ پر موجود ہے، وہ ان سب سے مختلف ہے۔
- اس کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کا یہ اعلان کئی بار سامنے آ چکا ہے کہ وہ فلسطین کی مجوزہ ریاست کو صرف اس شرط پر تسلیم کریں گے کہ اس کی سرحدات کا تعین نہیں ہوگا اور اس کی الگ فوج نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ اسرائیل پورے فلسطین پر حکمرانی کے حق کا اعلان کر رہا ہے اور فلسطینیوں کو سرحدات کے تعین کے ساتھ کوئی چھوٹی سی برائے نام ریاست دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔
- اس کے علاوہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل آپ کو بیت المقدس کے بارے میں بھی اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو اسرائیل کو بیت المقدس سے دستبرداری پر آمادہ کر لیں اور یا خود ’’یو ٹرن‘‘ لے کر بیت المقدس سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیں۔
یہ تینوں رکاوٹیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے، عملی اور معروضی ہیں، ان کا کوئی باوقار اور قابل عمل حل نکال لیں اور بے شک اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر اسی طرح تسلیم کر لیں جس طرح ہم بہت سے مسیحی ممالک کو تسلیم کرتے آ رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس حوالے سے بات عملی مسائل اور معروضی حقائق پر ہونی چاہیے، نظری اور فکری مباحث میں الجھا کر اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے۔
مولانا وحید الدین خان کا اسلوب تنقید اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اعتراضات
صدیق احمد شاہ
خورشید احمد ندیم ایک معتدل مزاج اور فکری گہرائی رکھنے والے کالم نگار ہیں ۔اُن کی تحریر میں ایک مخصوص ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ ہوتا ہے جسے میں ذاتی طور پر بہت پسند کرتا ہوں۔ ادبی خیال آفرینی سے اپنی تحریر کو مزین کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس وقت اُن کی کتاب "جنوبی ایشیا کے تناظر میں بیسویں صدی کا فہم اسلام" میرے سامنے ہے جس میں اُنہوں نے جنوبی ایشیا کے تناظر میں مختلف فکری شخصیتوں کے احوال اور واقعات کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔ اسی کتاب میں ان کا ایک مضمون "مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید" شامل ہے اور میرے اس آرٹیکل کا مقصد اسی مضمون کا ایک تجزیاتی محاکمہ ہے ۔ اس پورے مضمون کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہے کہ وحید الدین خان صاحب کا تنقیدی اسلوب بہت منفی اور غیر ایجابی ہے اور اُمت کے اکابر واصاغر اُن کی جادہ اعتدال سے ہٹی ہوئی تنقید کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس بات کے اثبات کے لیے اُنہوں نے مولانا مودودی اور دیگر اکابرین کے نام دیے ہیں کہ کس طرح خان صاحب کی توہین آمیز تنقید سے ان شخصیات کی تخفیف ہورہی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر مولانا مودودی کے حوالے سے مثال دے کر لکھا ہے کہ خان صاحب نے ان کی نیت پر حملہ کیا ہے جبکہ بعض صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم پر بھی خان صاحب نے بڑے نامناسب انداز میں تنقید کی ہے۔
فی الحال راقم کا ارتکاز خورشید احمد ندیم صاحب کے اس دعویٰ کی گرہ کشائی پر رہے گا کہ خان صاحب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اُس مثال کی تجزیاتی تحلیل خان صاحب کے اپنے الفاظ میں کی جائے گی جو خورشید صاحب نے ثبوت کے طور پر پیش کی ہے ۔ (جہاں تک مولانا مودودی اور دیگر اکابرین پر تنقید کی بات ہے تو وہ سردست ہماری بحث سے خارج ہے)۔ خورشید صاحب لکھتے ہیں:
"حضرت عبداللہ بن زبیر نے یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہم کے عہد میں جو طرز عمل اختیار کیا، وہ مولانا کے تصور دین کے مطابق چونکہ درست نہیں تھا، اس لیے دیکھئے کہ وہ ان کا اور ان کی والدہ کا ذکر کیسے کرتے ہیں" (خورشید احمد ندیم، جنوبی ایشیا کے تناظر میں بیسوی صدی کا فہم اسلام، صفحہ 182)
پھر خان صاحب کا درج ذیل اقتباس نقل کرتے ہیں:
"میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کہ کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن کر رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں (اسماء) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر اُبھارا چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لئے آمادہ ہوگیا۔ شہنشاہ اکبر کی ماں (مریم مکانی) نے اکبر کو ملا عبدالنبی کے خلاف کار روائی سے روکا چنانچہ اکبر ان کے خلاف سخت کار روائی سے باز رہا وغیرہ وغیرہ ۔ راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہوجاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اُکساتی رہتی تو یقینی طور پر میری زندگی کا رُخ دوسرا ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنایا ۔ "(وحید الدین خان ، خاتون اسلام ، صفحہ 204) (حوالہ مذکورہ بالا)
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے خورشید صاحب لکھتے ہیں:
"مولانا وحید الدین کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم پر تنقید کرنا جائز نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عبداللہ ابن زبیر پر تنقید نہیں ؟ کیا یہ حضرت اسماء بنت ابی بکر پر تنقید نہیں ؟ ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت اسماء کا ذکر اس اسلوب میں اور اس تقابل کے ساتھ ، کیا تنقید کا کوئی قابل تحسین اسلوب ہے؟"
راقم کا یہ ماننا ہے کہ حق کو پانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ تلاش ہے۔ میری احقاق حق کی سعی جس میں تلاش اور وجدان دونوں شامل ہیں، مجھے خورشید صاحب کے فکری حاصل کی بالکل متضاد پر سمت لے گئی ہے ۔ میں تقریبا ایک دہائی سے وحید الدین خان صاحب اور اُن کے ناقدین کے درمیان جاری فکری کشا کش سے حقیقت کشید کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔ بہرحال اس بحث سے قطع نظر، دیکھتے ہیں کہ خود مولانا اپنے خلاف اس تنقید کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ مولانا صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:
"پاکستانی ماہنامہ کے مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بلاشبہ غیر علمی بھی ہے اور غیر ذمہ دارانہ بھی ۔ یہ اعتراض راقم الحروف کی کتاب خاتون اسلام سے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص اس باب کو غیر جانبدارانہ انداز سے پڑھے گا تو یقیناً وہ جان لے گا کہ اس باب کا موضوع صحابہ یا صحابیہ کی روش پر تبصرہ نہیں ہے جس کی ایک مثال "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب ہے ۔ میری کتاب کا موضوع اس کے برعکس صرف ایک مغربی پروپیگنڈے کا جواب ہے۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے خانہ نشین عورت بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے جس کو مغربی لوگ صرف غیر خانہ نشین خاتون کے لئے ممکن سمجھتے ہیں۔ اس نکتہ کو ثابت کرنے کے لئے میں نے کتاب میں تین خواتین کی مثالیں دی ہیں۔ حضرت اسماء، مریم زمانی، زیب النساء ۔ میری کتاب کی مذکورہ عبارت میں نعوذ باللہ کسی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہر گز نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ اس میں سادہ طور پر تین خواتین کا ،خاتون کی حیثیت سے رول بتایا گیا ہے۔ عبارت کے مدعا کے مطابق اس مثال میں مذکورہ خاتون کا صحابیہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔ بلاغت کا مسلمہ اُصول ہے کہ تمثیل کے طریقہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیش نظر مثال کا متعلق پہلو ہی مقصود ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر پہلو وہاں غیر متعلق قرار پاتے ہیں۔
"In employing the method of anology it should always be possible to show that the resemblances noted bear relevance on the point to establish whereas the difference are irrelevant (1/337)"
خان صاحب اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
"مذکورہ تنقید میں دو واضح غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ناقد نے اس علمی نکتہ کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس مثال میں حضرت اسماء کا نام صحابیہ کی حیثیت سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری دو خواتین کی طرح ان کا نام بھی یہاں ایک خانہ نشین خاتون کی حیثیت کے مراد ہے ۔ دوسری بات یہ کہ میری کتاب میں ان خواتین کا نام تنقید کے مقصد سے نہیں لایا گیا بلکہ ان کے تعریفی کارنامہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے۔ مذکورہ ناقد نے اپنے ایک ذہنی تخیل کو شامل کرکے غیر ضروری طور پر اس کو قابل اعتراض بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح اُنہوں نے ایک تعریفی حوالہ کو خلاف واقعہ طور پر تنقیدی حوالہ بنادیا ہے ۔" (الرسالہ ، اپریل 2002ء، صفحہ 40-39)
خورشید صاحب کا موجودہ تنقیدی مضمون ماہنامہ اشراق کے شمارہ ستمبر 2001ء میں بھی شائع ہوا تھا۔ خان صاحب "پاکستانی ماہنامہ" کا ذکر کر کے در اصل اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ خان صاحب کے ذاتی خیالات ہیں اور اس تنقید کا جواب ہے جو خورشید احمد ندیم نے صاحب پر کی ہے۔
کچھ ایسی قسم کی ہی تنقید کا مظاہرہ دیگر ناقدین نے بھی کیا ہے جس میں محسن عثمانی ندوی کی کتاب "وحید الدین خان: علماء اور دانشوروں کی نظر میں"، محمد متین خالد کی "وحید الدین خان: اسلام دشمن شخصیت" اور مولانا عتیق احمد قاسمی کی "فکر کی غلطی" خاص طور پر شامل ہیں۔ تا ہم ان تمام تنقیدی کتب میں ایک جوہری اور اساس فرق یہ پایا جاتا ہے کہ خورشید احمد ندیم صاحب کی زبان علمی ہے اور انھوں نے پوری کوشش کی ہے کہ غیر علمی یا غیر اخلاقی زبان کا استعمال نہ کیا جائے جو بدقسمتی سے دیگر کتابوں میں پایا جاتا ہے ۔
ایک دوسری جگہ پر خان صاحب صحابہ کرام پر تنقید کے حوالے سے اپنا مسلک یوں بیان کرتے ہیں:
"ایک صاحب نے کہا کہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل لغو بات ہے۔ صحابہ اور علماء کے درمیان کاما نہیں ہے، بلکہ فل سٹاپ ہے ۔ علماء پر تنقید کا ہر شخص کو حق حاصل ہے مگر صحابہ رضی اللہ عنہم پر تنقید کا کسی کو حق نہیں ۔ اصحاب رسول ﷺ کا معاملہ ایک مخصوص معاملہ ہے، اس لئے صحابہ رضی اللہ عنہم مطلق طور پر تنقید سے مستثنیٰ ہیں" (حکمت اسلام ، صفحہ 308)
پھر اسی بات کو بڑے جزم و وثوق کے ساتھ دہراتے ہوئے لکھتے ہیں:
"میں نے کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید نہیں کی اور نہ بقید ہوش و حواس ایسا کر سکتا ہوں ۔" (حکمت اسلام ، صفحہ 308)
خورشید صاحب کی تنقید کے جواب میں خان صاحب کا جواب ملا حظہ کیجئے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کے معاملے میں خان صاحب کا جزم اور ان کی فکری حساسیت بھی دیکھ لیجئے جو اُن کے الفاظ سے چھلک رہی ہے ۔
خورشید صاحب کو اس چیز پر بہت پریشانی ہے کہ خان صاحب نے مولانا مودودی سمیت دیگر ملی رہنماؤں پر جس اسلوب میں تنقید کی ہے، وہ ہر شخص کی دل آزاری کا باعث ہےہ جو ان سے محبت رکھتا ہے۔ خورشید صاحب اسی کتاب میں لکھتے ہیں:
"غور کیجئے تو یہ بات خود ان کے فلسفہ دین سے متصادم ہے۔ اگر جنوبی ایشیا کے مسلمان ان کے مدعو ہیں تو کیا ان پر یہ الزام نہیں تھا کہ وہ ان کو اپنی بات کا مخاطب بناتے وقت ان کے جذبات کو بیش نظر رکھے۔ آج اس خطے کا کون سا مسلمان ایسا ہے جو شاہ ولی اللہ شیخ احمد سر ہندی ،سید احمد شہید، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، ٹیپو سلطان، محمد علی جناح جیسی تمام شخصیات یا ان میں بہت سے لوگوں سے تعلق خاطر نہیں رکھتا یا ان کی فکر اور اخلاص کا مداح نہیں ہے؟ جب آپ ان سب پر ایسے اسلوب میں تنقید کریں گے جس سے ان کو جذبات کو ٹھیس پہنچے تو پھر یہ لوگ آپ کے مخاطب کیسے بن سکتے ہیں۔" (صفحہ نمبر 181)
خورشید صاحب مزید لکھتے ہیں:
"کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ مولانا وحید الدین کی تحریروں میں ایجابی پہلو غالب رہے " (صفحہ 83)
ہم دوبارہ خان صاحب کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ خورشید صاحب اس سارے مسئلے کو جس زاویے سے دیکھ رہے ہیں، خود خان صاحب اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ اُن سے اسی قسم کا ایک سوال ایک قاری نے کیا۔ یہ سوال و جواب ملاحظہ کیجئے:
" ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ مسلم اکابر کو ہدف تنقید کیوں بناتے ہیں؟ آپ اس کے بغیر بھی اپنی بات کہہ سکتے ہیں آپ جب مسلم اکابر کا نام لےکر ان کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو اس سےقاری کے دل پر چوٹ لگتی ہے ، اس قسم کی تنقید کا فائدہ سمجھ میں نہیں آتا " (مولانا وحید الدین خان ،سوال و جواب، صٖفحہ ، 11)
خان صاحب اپنی رائے یوں بیان کرتے ہیں:
"آپ کی یہ شکایت در اصل غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ اس قسم کی تحریروں کی بابت یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں کچھ شخصیتوں کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے ۔ حالانکہ اصل بات یہ نہیں ہے اصل یہ ہے کہ میرا مقصد 20 ویں صدی کے ایک انوکھے ظاہرہ (Phenomenon) کی توجیہ ہوتا ہے۔ اس ظاہرہ کے ساتھ چونکہ بہت سی شخصیتوں کے نام وابستہ ہیں، اس لئے ان کے نام حوالہ بھی ضمنا ان تحریروں میں آجاتا ہے۔ وہ انوکھا ظاہرہ یہ ہے کہ 20 وی صدی میں اسلام کے نام پر بہت بڑی بڑی کوششیں اور قربانیاں سامنے آئیں مگر ان کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ میں تاریخ اسلام کے اس انوکھے ظاہرہ کی توجیہ کرنا چاہتا ہوں ۔ اس میں ضمنی طور پر شخصیتوں کے نام بھی آجاتے ہیں۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو الزام دینا نہیں ہوتا بلکہ ایک تاریخی ظاہرہ کی توجیہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ اگر اس فرق کو سامنے رکھ کر مطالعہ کریں تو آپ کو میری ان تحریروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی" (سوال و جواب ، صفحہ 11)
خان صاحب کے درج بالا الفاظ سے ان کا زاویہ نظر کُھل کر سامنے آ جاتا ہے، بشرطیکہ پڑھنے والی آنکھ بے تعصب ہو۔ خان صاحب بسیار نویس مصنف ہیں۔ ایک ہی موضوع پر مختلف پہلوؤں سے آراء کا اظہار کرتے ہیں، مختلف زاویوں سے ایک ہی موضوع کی فکری و تجزیاتی تحلیل کرتے ہیں۔ جب تک کسی موضوع سے متعلق خان صاحب کے مختلف پہلوؤں، زاویوں اور Vintage Points کو نہ سمجھا جائے اور ان سب کو یکجا کرکے یک رنگی تصویر میں نہ ڈھالا جائے، اُس وقت تک ان کا پورا موقف واضح نہیں ہو سکتا۔
خورشید صاحب کے اس مضمون میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنھیں میں جاروبی بیانات (Sweeping Statement) پر محمول کرتا ہوں جس پر بہت کچھ کہنے اور لکھنے کی مزید ضرورت ہے۔ اختتام پر خان صاحب کے کچھ اور جملے بھی دیکھ لیجئے اور ان میں پنہاں خان صاحب کا پیغام بھی سمجھ لیجئے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
"میں نے کہا کہ گائے کی خوراک گھاس ہے اور شیر کی خوراک گوشت، یہی معاملہ انسانوں کا ہے انسانوں میں بھی مختلف قسم کے لوگ ہیں اور الرسالہ بہرحال ہر ایک کی غذا نہیں بن سکتا ۔ الرسالہ صرف سنجیدہ اور حقیقت پسند لوگوں کی غذا ہے اور ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں اگر غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسند لوگ الرسالہ میں اپنی غذا نہ پائیں۔" (ڈائری 84-1983، صفحہ 378)
قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱٠)
محمد عمار خان ناصر
نسخ القرآن بالسنۃ کے حوالے سے جمہور اصولیین کا موقف
امام شافعی کے موقف کا محوری نکتہ یہ تھا کہ سنت کا وظیفہ چونکہ قرآن مجید کی تبیین ہے اور اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی راہ نمائی میسر تھی، اس لیے مراد الٰہی کے فہم میں سنت میں وارد توضیحات نہ صرف حتمی اور فیصلہ کن ہیں، بلکہ قرآن اور سنت کی دلالت میں کسی ظاہری تفاوت کی صور ت میں انھیں قرآن کی تبیین ہی تصور کرنا ضروری ہے، یعنی انھیں اصل حکم میں تغییر یا اس کا نسخ نہیں مانا جائے گا، بلکہ قرآن کی ظاہری دلالت کو اسی مفہوم پر محمول کرنا ضروری ہوگا جو احادیث میں بیان کی گئی تفصیل وتوضیح سے ہم آہنگ ہو۔
حنفی اصولیین نے اس پر یہ تنقید کی کہ اس نقطہ نظر میں قرآن کے ظاہراً واضح اور غیر محتمل احکام میں اور محتمل وقابل تفصیل احکام میں فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا اور دونوں طرح کے احکام کو ایک ہی درجے میں رکھ کر، سنت میں وارد تخصیص کو ’بیان‘ شمار کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں قرآن کی اپنی دلالت ثانوی، غیر اہم اور مطلقاً خارجی توضیح وتشریح پر منحصر قرار پاتی ہے۔ چنانچہ حنفی اصولیین نے بیان کی مختلف صورتوں، تخصیص اور نسخ کا مفہوم اور ان کا باہمی امتیاز واضح کرنے پر بطور خاص توجہ دی اور اس اس بنیادی موقف کو محکم بنانے کی کوشش کی کہ خود قرآن کے اپنے متن کی داخلی قطعیت اور وضوح یا ظنیت واحتمال کو نظر انداز کرتے ہوئے مطلقاً ہر طرح کے عمومات کو ’محتمل البیان‘ قرار دینا درست نہیں اور یہ کہ احادیث میں وارد تمام تخصیصات کوبھی سادہ طور پر محض ’بیان‘ اور ’وضاحت‘ قرار دینا علمی وعقلی طور پر ایک کمزور بات ہے۔
امام طحاوی اور ابن حزم کے نقطہ نظر کے مطالعہ کے ضمن میں ہم نے دیکھا کہ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے اتنی سادہ نہیں ہے کہ امام شافعی اور حنفی اصولیین میں سے کسی ایک کے رجحان کے مقابلے میں دوسرے رجحان کو فیصلہ کن اور قطعی انداز میں ترجیح دی جا سکے۔ دونوں زاویوں میں ایک منطقی وزن موجود ہے جو علمی وعقلی طور پر متاثر کرتا ہے اور بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرنے والے اکابر اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے امام طحاو ی اور ابن حزم، دونوں نے امام شافعی کے اصولی نقطہ نظر سے ہمدردی رکھتے ہوئے بھی، ان کے اس موقف کی کمزوری کو محسوس کیا کہ حدیث کو قرآن کا ’بیان‘ قرار دے کر قرآن کے ظاہری مفہوم کو ہر ہر مثال میں حدیث میں وارد حکم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے متعدد مثالوں میں امام شافعی کے اس زاویہ نظر سے اختلاف کیا اور اس کے بجائے قرآن کی ظاہری دلالت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مختلف توجیہ کے ذریعے سے حدیث کو قرآن کے ساتھ متعلق کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ابن حزم نے سنت کے ذریعے سے قرآن کے نسخ کے جواز کے حوالے سے احناف سے اتفاق کرتے ہوئے امام شافعی کے موقف پر سخت تنقید کی اور حنفی اصولیین کے اس استدلال کا وزن تسلیم کیا کہ نصوص کے باہمی تعلق میں زمانی تقدم یا تاخر کے سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی نص میں مذکور حکم پر زیادت یا اس میں تخصیص کو ’بیان‘ قرار دینے کے لیے اس کا زمانی لحاظ سے اصل حکم کے مقارن ہونا ضروری ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر ابن حزم کے ہاں اس الجھن کا بھی واضح احساس دکھائی دیتا ہے کہ دونوں نصوص کے زمانی طور پر مقارن ہونے کی صورت میں حکم کا ایک حصہ وحی متلو میں اور دوسرا غیر متلو میں نازل کرنے کی کوئی معقول توجیہ نہیں کی جا سکتی۔
دونوں طرف کے زاویہ نظر اور استدلال میں وزن محسوس کرنے کا یہی رجحان ہمیں بعض شافعی اہل علم کے ہاں بھی دکھائی دیتا ہے جس کی کچھ توضیح ان سطور میں پیش کی جا رہی ہے۔
احناف کا استدلال یہ تھا کہ قرآن کے جن بیانات کی اپنی دلالت قطعی اور حتمی نہیں، بلکہ وہ توضیح وتفصیل کا احتمال رکھتے ہیں، ان سے متعلق تو سنت میں وارد توضیح کو تبیین قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن جو احکام اپنے مفہوم اور دلالت میں بالکل واضح ہیں اور مزید کسی تشریح وتبیین کا احتمال نہیں رکھتے اور بظاہر کوئی ایسا قرینہ بھی موجود نہیں جو ان کے ظاہری مفہوم کے مراد نہ ہونے پر دلالت کرتا ہو تو ان سے متعلق سنت میں وارد تفصیلات کو علی الاطلاق تبیین نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی صورت میں ضروری ہوگا کہ متعلقہ احادیث کے، زمانی لحاظ سے قرآن میں نازل ہونے والے حکم کے مقارن ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق کی جائے اور اگر دلائل وقرائن سے دونوں حکموں کا مقارن ہونا ثابت ہو جائے تو درست، ورنہ اسے لامحالہ “تغییر” اور “نسخ” قرار دیا جائے گا اورایسی احادیث کو اسی صورت میں قبول کیا جائے گا جب وہ شہرت واستفاضہ سے ثابت ہوں یا انھیں امت کے اہل علم کے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہو۔ تبیین اور تغییر میں فرق کے لیے اصل حکم اور تخصیص کے مقارن ہونے کی بحث اس نکتے پر مبنی تھی کہ آیا تاخیر البیان من وقت الحاجة جائز ہے یا نہیں؟ حنفی اصولیین کا موقف یہ تھا کہ کلام میں اگر کوئی استثناءیا تخصیص متکلم کی مراد ہے تو اسے اصل کلام کے ساتھ ہی بیان ہونا چاہیے، کیونکہ پورا مدعا اس کے ساتھ ہی واضح ہوتا ہے۔ چنانچہ مدعا کے کچھ حصے کی وضاحت کو موخر کر دینا عقلاً درست نہیں۔ اگر متکلم ایسا کرے تو موخر کلام کے ذریعے سے بیان کیے جانے والے استثناءیا تخصیص کی نوعیت بیان کی نہیں، بلکہ تغییر اور نسخ کی ہوگی۔
جمہور اصولیین نے اس کے جواب میں یہ استدلال پیش کیا کہ کلام میں جو استثناءیا تخصیص متکلم کی مراد ہے، اسے وقت حاجت سے موخر کرنا تو درست نہیں، لیکن ضروری نہیں کہ اسے لازماً اصل کلام میں ہی بیان کیا جائے۔ اس کے بجائے اگر اس وضاحت کو اس وقت تک موخر کیا جائے جب حکم پر عمل کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس میں عقلاً کوئی مانع نہیں۔ جمہور اصولیین نے کہا کہ بعض دفعہ حکمت کا تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ کسی حکم کو اصولی اور عمومی انداز میں ہی بیان کیا جائے اور متکلم کا مقصود ہی یہ ہو کہ سننے والے اسے صرف اصولی طور پر ذہن نشین کر لیں، کیونکہ اس سے متعلق تفصیلات کو پہلے مرحلے پربیان کرنا خلاف مصلحت ہو سکتا ہے۔ (الجوینی، البرہان، ص ۱۶۷)
ابن حزم لکھتے ہیں کہ شریعت میں اس کی کئی نمایاں مثالیں موجود ہیں کہ ایک وقت تک کسی حکم کے اصولی بیان پر اکتفا کی گئی اور پھر حسب مصلحت مناسب اوقات میں اس کی جزئیات وتفصیلات بیان کی جاتی رہیں۔ مثلاً شراب سے متعلق ابتداءاً قرآن میں ناپسندیدگی کے اشارات نازل کیے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اشارے کو سمجھیں اور جس کے پاس شراب ہو، وہ اسے بیچ دے۔ پھر جب وہ وقت آیا جس میں شراب سے کلی اجتناب کا حکم دینا مقصود تھا تو اصل حکم بیان کر دیا گیا۔ اسی طرح حج کی فرضیت کا حکم بہت پہلے نازل کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے مناسک کی حتمی تفصیل وتوضیح کو موخر رکھا گیا تاآنکہ حجة الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے اس کی وضاحت فرما دی۔ (الاحکام فی اصول الاحکام ۱/۸۹، ۹٠)
جمہور اصولیین نے یہ بھی کہا کہ ایک مسئلے کی جملہ تفصیلات کو ایک ہی نص میں بیان کرنا عقلاً لازم نہیں۔ حکم کے مختلف پہلوو¶ں اور جزئیات وتفصیلات کو حسب ضرورت مختلف مواقع پر بیان کیا جا سکتا ہے، اس لیے اگر متاخر اورمنفصل کلام کے ذریعے سے کسی حکم کی بعض قیود وشرائط یا استثناءوتخصیص کو واضح کیا جائے تو اس سے بیان کی حقیقت پر کوئی زد نہیں پڑتی اور اسے نسخ سے تعبیر کرنا غیر ضروری ہے۔ امام الحرمین الجوینی اس نوعیت کی تخصیصات کے حوالے سے سنت کے عمومی اسلوب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
انا علی اضطرار من عقولنا نعلم ان الاحکام التی اقتضتھا الصیغ مطلقۃ ثم فصلتھا سنن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم علی ممر الزمان عند اعتقاب الوقائع کثیرۃ، ومن انکر ذلک وادعی انہ لم یرد خطاب مقتضاہ عموم فی الکتاب الا فصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی اثر موردہ فقد ادعی امرا منکرا وقال بھتانا وزورا، ومما نضربہ مثالا آیۃ السرقۃ، فانھا اذ وردت لم یبتدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تفصیل احکامھا فی الاقدار والاحراز ونصاب المسروق فی مجلس واحد، بل کان لا یعتنی بالاکباب علی البیان اعتناءہ بوظائف النقل فضلا عن المفترضات، وکان اذا وقعت واقعۃ روجع فیھا فیبین قدر الغرض ویقتصد، وجاحد ذلک مباھت معاند (البرہان، ص ۴٠۵، ۴٠۶)
“ہم بدیہی طور پر جانتے ہیں کہ ایسے احکام جن کا (قرآن میں) صرف اصولی طور پر ذکر کیا گیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف واقعات پیش آنے پر ان کی تفصیلات بیان کیں، بہت سے ہیں۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ قرآن میں کوئی ایسا حکم وارد نہیں ہوا جو (بظاہر) عموم کا مقتضی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے وارد ہونے کے فوراً بعد اس (میں موجود تخصیصات کی) وضاحت نہ کی ہو تو اس کا دعویٰ بہت ہی عجیب ہے اور وہ ایک بالکل جھوٹی اور بے بنیاد بات کہتا ہے۔ اس کی مثال کے طور پر ہم آیت سرقہ کا ذکر کر سکتے ہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال مسروقہ کی مقدار، حرز اور نصاب وغیرہ کی تفصیلات اس کے نزول کے متصل بعد ایک ہی مجلس میں بیان نہیں فرما دیں۔ آپ جتنی توجہ (احکام شرعیہ کو امت تک) منتقل کرنے پر دیتے تھے، اتنی توجہ ان کی (جزئیات وتفصیلات) وضاحت پر نہیں دیتے تھے، چہ جائیکہ فرضی تفصیلات کے درپے ہوں، بلکہ جب کوئی واقعہ پیش آتا جس میں آپ سے رجوع کیا جاتا تو آپ بقدر ضرورت اس کی مناسب وضاحت فرما دیتے تھے۔ اس کا انکار کرنے والا کوئی ضدی اور معاند ہی ہو سکتا ہے۔”
دوسرے مقام پر مزید مثالوں کے حوالے سے لکھتے ہیں:
ان الرب تعالیٰ ذکر الرقبۃ مطلقۃ وذکر الطعام والکسوۃ علی الاطلاق، ولم یتعرض لتفصیلھا وانما استاقھا استیاقا لا یشتمل علی التزام البیان والتفصیل، کما جری ذلک فی قولہ تعالی ”والسارق والسارقۃ“ وقولہ تعالیٰ ”الزانیۃ والزانی“ وقولہ تعالی ”فاقتلوا المشرکین“، فھذہ الآی لتاصیل الاصول ولا یمتنع ان یقع البیان فی التفاصیل بعد استفادۃ التاصیل (البرہان، ص ۴۳۸)
“اللہ تعالیٰ نے (قسم کے کفارے میں) غلام کا اور اسی طرح (مسکینوں کو) کھانا کھلانے اور کپڑے پہنانے کا ذکر مطلقاً فرمایا ہے اور تفصیلات سے تعرض نہیں کیا، کیونکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے ذکر ہی ایسے زاویے سے کیا ہے جس میں تفصیلات اور جزئیات کا بیان ضروری نہیں۔ یہی اسلوب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’والسارق والسارقة‘ اور ’الزانیة والزانی‘ اور ’فاقتلوا المشرکین‘ میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ یہ آیات ایک اصولی حکم کے بیان کے لیے ہیں اور اصول کے واضح ہو جانے کے بعد تفصیلات کی وضاحت (اگلے مرحلے پر کیے جانے) میں کوئی رکاوٹ نہیں۔”
تاہم شافعی فقہاءاور اصولیین کے ہاں اس نکتے کا بھی گہرا ادراک دکھائی دیتا ہے کہ اصولی حکم کے بیان پر اکتفا اور جزوی تفصیلات سے عدم تعرض کے مذکورہ ضابطے کا اطلاق بعض مثالوں میں (جیسا کہ سرقہ کی مقدار، حرز اور نصاب وغیرہ کی بحث میں) اگرچہ بہت معقول اور موثر دکھائی دیتا ہے، لیکن بہت سی دیگر مثالوں کی توجیہ اس اصول کی روشنی میں نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے سے خاص طور پر حسب ذیل تین مثالوں کا مطالعہ مفید ہوگا:
۱۔ سورة النساءکی آیت ۴۲ میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے حرام خواتین کی ایک فہرست ذکر کرنے کے بعد آخر میں وَاحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاءَ ذَلِکُم سے باقی تمام خواتین کے ساتھ نکاح کی اباحت بیان فرمائی ہے، جبکہ احادیث میں جمع بین الاختین کے علاوہ پھوپھی اور خالہ کے ساتھ بھتیجی اور بھانجی کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ امام شافعی نے یہاں یہ استدلال پیش کیا کہ کسی نص میں اگر کسی امر کی اباحت بیان کی گئی ہو تو وہ عقلاً اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ شارع نے دوسری نصوص میں اس اباحت پر جو قدغنیں عائد کی ہیں، وہ بھی مراد ہیں اور انھیں ملحوظ رکھتے ہوئے ہی حکم کی تعبیر کی جائے گی۔ مثلاً زیر بحث اباحت چار بیویوں کی تحدید کے ساتھ مشروط ہے جو یہاں مذکور نہیں، بلکہ دوسری نصوص میں بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ حدیث میں پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے کی جو ممانعت بیان کی گئی ہے، اس کی نوعیت بھی یہی ہے اور گویا وَاحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاءَ ذَلِکُم میں ہی اصولی طور پر یہ مضمر ہے کہ یہ صورت بھی محرمات نکاح میں داخل ہے ۔ (الام ۱/۸۸، ۱٠٠، ۶/۱۲، ۳۹٠)
اس استدلال میں بہت بنیادی نوعیت کی کمزوری پائی جاتی ہے۔ امام صاحب یہاں یہ نظر انداز کر رہے ہیں کہ کسی بھی نص میں حکم کے ایک خاص پہلو کا بیان اصلاً مقصود ہوتا ہے جسے علمائے اصول ’ما سیق لہ الکلام‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ حکم کے کچھ دوسرے پہلو دیگر نصوص کا موضوع ہو سکتے ہیں، لیکن وہ خاص پہلو جس کا بیان کسی نص میں مقصود ہے، اسے مکمل اور غیر محتمل ہونا چاہیے، چاہے دوسرے پہلووں کا سرے سے ذکر ہی نہ کیا جائے۔ مثلاً زیربحث آیت کا اصل موضوع ان رشتوں کی وضاحت ہے جن کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ آیت میں اس کی ایک پوری فہرست ذکر کر کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ان عورتوں کے علاوہ باقی سب عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ اگر یہ فہرست مکمل نہیں اور اس قید کے ساتھ مقید ہے کہ ان کے علاوہ کچھ مزید رشتے بھی محرمات کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر دیگر نصوص میں تلاش کرنا چاہیے تو سرے سے وَاحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاءَ ذَلِکُم کی تصریح کی کوئی معنویت ہی نہیں باقی رہتی۔ امام صاحب نے اس اجازت کے چار بیویوں کی تحدید سے مشروط ہونے کی جو مثال پیش کی ہے، وہ بالکل غیر متعلق ہے، کیونکہ بیویوں کی تعداد ایک الگ اور مستقل مسئلہ ہے جو اس آیت میں سرے سے زیر بحث ہی نہیں۔ اس لیے اس کے یہاں مذکور نہ ہونے سے یہ اخذ کرنا منطقی طور پر درست نہیں کہ اسلوب کلام اپنی ظاہری دلالت کے لحاظ سے محرمات کی مذکورہ فہرست میں بھی کسی اضافے سے مانع نہیں۔
امام شافعی کا پیدا کردہ یہ خلط مبحث شافعی اصولیین پر مخفی نہیں رہ سکا، چنانچہ امام الکیا الہراسی کو اس بحث میں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ پھوپھی اور خالہ کے ساتھ بھتیجی اور بھانجی کو جمع کرنے کی حرمت اگر اس آیت سے موخر ہے تو اسے نسخ پر ہی محمول کرنا ممکن ہے، اسے تخصیص نہیں کہا جا سکتا۔ لکھتے ہیں:
واعلم ان المنصوص علی تحریمہ فی کتاب اللہ تعالیٰ ھو الجمع بین الاختین، وقد وردت آثار متواترۃ فی النھی عن الجمع بین المراۃ وعمتھا او خالتھا .... والاخبار فی تحریم الجمع بین العمتین والخالتین ان کانت مقرونۃ فی بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ببیان الآیۃ فتخصیص، وان تقدم الخبر فقولہ ”واحل لکم ما وراءذلکم“ منزل علی موجب الخصوص، وان تراخی فنسخ وللناس فی الکتاب باخبار الآحاد کلام والصحیح جوازہ (احکام القرآن ۱/۴۰۴، ۴٠۵)
“جان لو کہ کتاب اللہ میں نصاً جس بات کی تحریم آئی ہے، وہ دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنا ہے، تاہم متواتر احادیث میں پھوپھی اور خالہ کے ساتھ بھتیجی اور بھانجی کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث میں کتاب اللہ کی آیت کے ساتھ متصلاً اس حرمت کو بیان کر دیا گیا ہو تو یہ تخصیص ہوگی، لیکن اگر احادیث اس آیت سے مقدم ہوں تو پھر ’واحل لکم ماوراءذلکم‘ کی اباحت اس سابقہ ممانعت پر مبنی ہوگی (یعنی یہ ممانعت اس اباحت سے مستثنیٰ سمجھی جائے گی)۔ اسی طرح اگر یہ احادیث اس آیت سے موخر ہوں تو پھر یہ نسخ ہوگا۔ اہل علم کا اخبار آحاد کے ذریعے سے کتاب اللہ کے نسخ میں کافی اختلاف ہے، لیکن درست بات یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔”
۲۔ سورة النور میں زانی مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ (النور ۲:۲۴) امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہاں بظاہر اگرچہ عموم کا اسلوب ہے جو ہر طرح کے زانیوں کو شامل ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں سو کوڑوں کی سزا جن زانیوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی ہیں۔ (الام ۱/۳٠، ۵۶)
اس مثال میں بھی امام شافعی کے طرز استدلال پر، ان کے اصولی نقطہ نظر سے ہمدردی یا اتفاق رکھنے والے بہت سے اہل علم نے اطمینان محسوس نہیں کیا۔ چنانچہ ابن حزم نے اس رائے پر سخت تنقید کی اور لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں زانی کے شادی شدہ یا غیر شادی ہونے کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی، اس لیے یہ حکم تمام زانیوں کے لیے عام ہے اور شادی شدہ زانی بھی کوڑوں کی سزا کے حق دار ہیں۔ (احکام الاحکام ۴/۱۱۲)
جلیل القدر شافعی فقیہ امام الکیا الہراسی نے بھی آیت نور کے دائرہ اطلاق کو غیر شادی شدہ تک محدود ماننے کی توجیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ الہراسی لکھتے ہیں کہ کسی حکم کے ظاہری عموم میں بعض جزوی اور استثنائی صورتوں کو شامل نہ سمجھنا تو درست ہو سکتا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ نص دراصل انھی صورتوں سے تعرض کرتی ہے جو عموما ً پیش آتی ہیں، چنانچہ کسی استثنائی اور نادر صورت کا حکم اگر اس سے مختلف ہو تو اس کا ذکر نہ کرنے سے نص کی دلالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن اگر کسی مسئلے کی عام الوقوع اور عمومی صورتیں ایک سے زیادہ اور مختلف ہوں اور ان میں سے صرف ایک صورت کا حکم بیان کرنا مقصود ہو تو پھر نص میں اس کی تصریح ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور حکم، کسی توضیح کے بغیر، عموم کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہو تو اس صورت میں عدم تعرض کی مذکورہ توجیہ کارگر نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ وہ صرف استثنائی اور نادر صورتوں سے متعلق درست ہو سکتی ہے۔ الہراسی لکھتے ہیں کہ زانی جیسے کنوارے ہو سکتے ہیں، اسی طرح شادی شدہ بھی ہو سکتے ہیں، بلکہ شادی شدہ لوگوں میں زنا کے ارتکاب کی مثالیں زیادہ پیش آتی ہیں، اس لیے یہ بات معقول نہیں ہو سکتی کہ الزانیۃ والزانی سے مراد تو صرف کنوارے زانی ہوں، لیکن حکم کو عموم کے اسلوب میں بیان کر دیا جائے۔ اس ساری بحث سے الکیا الہراسی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ مذکورہ آیت میں لازماً ہر طرح کے زانی مراد ہیں اور اگر احادیث میں شادی شدہ زانی کے لیے اس سے مختلف کوئی حکم بیان ہوا ہے تو اسے تخصیص یعنی آیت کا بیان قرار دینا ممکن نہیں اور یہ کہ نسخ کے اصول کے علاوہ اس کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔ (احکام القرآن، ۲/۲۹٠، ۲۹۱)
۳۔ قرآن مجید میں حرام جانوروں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حرمت کو صرف چار چیزوں یعنی مردار، دم مسفوح، خنزیر اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے جانے والے جانور میں محصور قرار دیا گیا ہے۔ (البقرة ۱۷۳:۲؛ الانعام ۱۴۵) تاہم احادیث میں ان چار کے علاوہ بھی بہت سے جانوروں کی حرمت کا حکم بیان ہوا ہے۔
اس کی توجیہ میں فقہاءکے ایک گروہ کی طرف سے یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ حدیث میں بیان ہونے والے احکام کو قرآن کے حکم کی تنسیخ یا اس میں ترمیم نہیں کہا جا سکتا، اس لیے کہ شریعت کے ورود سے قبل تمام اشیا اباحت اصلیہ کے اصول پر حلال تھیں۔ قرآن مجید نے ان میں سے چار چیزوں کو تو حرام قرار دیا ہے، لیکن باقی چیزوں کے بارے میں نفیاً یا اثباتاً کچھ نہیں فرمایا۔ گویا باقی اشیا مسکوت عنہ تھیں اور اباحت اصلیہ کے اصول پر ان سے استمتاع جائز تھا۔ پھر احادیث میں اسی اباحت اصلیہ کے دائرے میں آنے والے بعض جانوروں کو حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ قرآن ان کے بارے میں خاموش تھا، اس لیے حدیث کے احکام کو قرآن کے حکم کی تنسیخ یا ترمیم نہیں کہا جا سکتا۔
امام رازی اس استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
انہ لما ثبت بمقتضی ھاتین الآیتین حصر المحرمات فی ھذہ الاربعۃ کان ھذا اعترافا بحل ما سواھا، فالقول بتحریم شیء خامس یکون نسخا (تفسیر الرازی ۱۳/۲۳۳)
“جب ان دو آیتوں سے ثابت ہو گیا کہ حرام چیزیں صرف یہی چار ہیں تو یہ اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ ان کے علاوہ باقی چیزیں حلال ہیں، اس لیے چار کے علاوہ کسی پانچویں چیز کو حرام قرار دینا لازماً نسخ ہے۔”
اسی طرح بعض فقہاءنے حدیث میں وارد محرمات کو تخصیص کے اصول پر قرآن کے حکم کے ساتھ ملحق کرنے کی کوشش کی ہے۔ امام رازی نے اس استدلال کی کمزوری بھی واضح کی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
نقول : لیس ھذا من باب التخصیص بل ھو صریح النسخ لان قولہ تعالی ”قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ“ مبالغۃ فی انہ لا یحرم سوی ھذہ الاربعۃ .... فالقول بانہ لیس الامر کذلک یکون دفعا لھذا الذی ثبت بمقتضی ھاتین الآیتین (ایضاً، ۱۳/۲۳۳)
“ہم کہتے ہیں کہ یہ تخصیص کی قبیل سے نہیں ہے بلکہ صریح نسخ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ“ نہایت موکد اسلوب میں یہ بیان کر رہا ہے کہ ان چار چیزوں کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں، اس لیے یہ کہناکہ ایسا نہیں ہے (اور ان کے علاوہ اور چیزیں بھی حرام ہیں) ان دونوں آیتوں سے ثابت ہونے والے حکم کو رد کرنا ہے۔”
اس نوعیت کی مشکلات کے تناظر میں جمہور اصولیین، جن کی اکثریت فقہ شافعی کی طرف انتساب رکھتی ہے، نسخ کی بحث میں بتدریج اس نقطہ نظر سے متفق ہوتے چلے گئے کہ سنت کے ذریعے جیسے قرآن کے احکام کی تبیین وتخصیص کی جا سکتی ہے، اسی طرح حکم کا نسخ بھی ثابت ہو سکتا ہے اور یہ کہ تخصیص وزیادت کی تمام صورتوں کو تکلفاً تبیین پر محمول کرنے کے بجائے مسئلے کی نوعیت کے لحاظ سے بعض صورتوں کو نسخ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
امام الحرمین اس بحث کا محاکمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے تو حتمی طور پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سنت کے ذریعے سے قرآن کا حکم منسوخ نہیں کیا جا سکتا، لیکن متکلمین نے یہ قرار دیا ہے کہ اس میں کوئی مانع نہیں اور یہی بات واضح طور پر درست ہے۔ امام الحرمین کہتے ہیں کہ اصل نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے کسی حکم کو پیغمبر ازخود منسوخ نہیں کر سکتا اور نسخ کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دوسرا حکم آئے، لیکن نئے حکم کا ابلاغ ضروری نہیں کہ قرآن ہی میں کیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی بھی صورت میں اس کا ابلاغ فرما سکتے ہیں۔ (البرہان ۲/۷۰۳۱) امام الحرمین کے بعد جمہور متکلمین کے طریقے پر لکھی گئی اصول فقہ کی امہات میں بالعموم یہی موقف اختیار کیا گیا ہے اور آمدی، غزالی، رازی اور زرکشی جیسے محققین نے بھی اسی کی تصویب کی ہے۔ (الاحکام فی اصول الاحکام ۳/۱۹۷-۱۸۵؛ المستصفی من علم الاصول ۲/۱٠۷، ۱٠۸؛ المحصول فی علم اصول الفقہ ۳/۴۵۳-۴۳۷؛ البحر المحیط ۴/۱٠۹، ۱۱٠)*
حواشی
* زرکشی نے اس بحث میں تفصیل سے اس اختلاف کو بھی واضح کیا ہے جو امام شافعی کے موقف کی توضیح وتعیین کے حوالے سے شافعی فقہاءکے مابین پایا جاتا ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک امام شافعی فی الواقع سنت کے ذریعے سے قرآن کے نسخ کے جواز کے قائل نہیں، جبکہ دوسرے گروہ کے نزدیک امام شافعی کے نقطہ نظر کو اس کے درست سیاق وسباق میں سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ (دیکھیے البحر المحیط ۴/۱۱٠-۱۱۶)
(جاری)
امام طحاوی کا مقدمہ احکام القرآن
مولانا محمد رفیق شنواری
امام ابو جعفر الطحاوی /مترجم: محمد رفیق شنواری
شریعت کے احکام کا ماخذ و مصدر قرآن و سنت ہیں۔ عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ قرآنِ کریم احکام کا سب سے اعلی و برتر اور تنہاماخذ ہے۔ پھر اس مفروضے کا تمام مسائل پر یکساں اطلاق کردیاجاتا ہے۔ حالانکہ فقہا اور اصولیین اس بارے میں مختلف رجحانات رکھتے ہیں۔ اور ہر ایک کے یہاں ایک مستقل موقف ، جو فروع اور احکامِ شریعت پر دور رس فقہی و قانونی اثرات مرتب کرتا ہے، پایاجاتاہے۔ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر گذشتہ کئی ماہ سے قارئین کی خدمت میں قرآن و سنت کے درمیان تعلق کے حوالے سے اس مؤقر جریدہ کے ایڈیٹر مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر ایک مکمل پروجیکٹ کے تیار کردہ نتائجِ فکر پیش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کئی اقساط آ چکی ہیں،او رمکمل ہونے کے بعد مستقل کتابی صورت میں بھی ان شاء اللہ پیش کی جائیں گی۔ حنفی موقف کی بہترین ترجمانی اصول کی کتابوں کے علاوہ اور مختصر انداز میں امام طحاوی کی ’’احكام القرآن‘‘کے مقدمہ بھی میں کی گئی ہے۔ اس کی اہمیت، اختصٓر اور جامعیت کے پیش نظر راقم نے استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ، ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے حکم کی تعمیل میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ امید ہے زیر بحث مسئلے پر غور وخوض کے دوران یہ شذرہ بھی معان ثابت ہو۔ (مترجم)
تمام تعریفیں اس خدا کےلیے جس نے ہمارے لیے اپنا برہان واضح کیا ، اپنا فرقان بیان کیا، اپنے نبی ﷺپرعربی مبین میں نازل کردہ کتاب قرآن کریم کے نور کی ہدایت نصیب کیاور اسی کو صراطِ مستقیم بتلایا، جس ذات نے اس کتاب کو دیگر انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی گذشتہ آسمانی کتب کےلیے نگہبان (معیار) قرار دیا۔
قرآن کے ساتھ ساتھ سنت کی اتباع بھی لازم ہے؛ قرآن سے استشہاد
اللہ تعالی نے نبی ﷺ پر اپنی نازل کردہ کتاب میں فرمایا ہے:
﴿ھوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ ھنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِھاتٌ ۖ﴾
ترجمہ: ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے۔ جس کی کچھ آیتیں محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے ، اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔‘‘1
اس آیت کے اندر اللہ تعالی نے ہمیں یہ بات ارشادفرمائی ہے کہ اس کتاب کے اندر کچھ آیتیں محکم ہیں جن کو نزول کی حکمت کے ساتھ ساتھ تاویل کے ذریعے بھی محکم بنا دیا، اور انہی آیتوں پر اس کتاب کی اصل قائم ہے۔ اسی طرح اس کتاب کے اندر کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے متشابہ آیات کے پیچھے پڑنے والوں کی مذمت کی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
﴿فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِھمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہ مِنْہ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَۃ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِہ﴾
ترجمہ: ’’جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہےوہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریںاور ان آیتوں کی تاویلات تلاش کریں۔‘‘2
کیوں کہ متشابہ آیتوں کا حکم قرآن کریم کی اصل ،یعنی محکم آیتوں، سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر زبانِ رسالت پر جاری ہونے والے کچھ احکام ایسے بھی ہیں جو قرآنِ کریم کی متشابہات کی توضیح و تبیین ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم یہ ہے کہ ان کو ایسے ہی قبول کیا جائے گا جیسے قرآنِ کریم قبول کو کرنے کا حکم ہے۔ چناں چہ فرمایا:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہ وَمَا نَھاكُمْ عَنْہ فَانتَھوا ۚ وَاتَّقُوااللَّہ ۖإِنَّ اللَّہ شَدِيدُالْعِقَابِ﴾
ترجمہ: ’’اور رسول جو کچھ تمہیں دے اس کو لے لواور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔‘‘3
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّہ﴾
ترجمہ: ’’اور ہم نے کسی رسول کو اس کے سوا کسی اور مقصد کےلیے نہیں بھیجا کہ اللہ کےحکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘4
ایک اور جگہ فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہ لِيُبَيِّنَ لَھمْ﴾
ترجمہ: ’’اور جب بھی ہم نے کوئی رسول بھیجا، خود اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ، تاکہ وہ ان کے سامنےحق کو اچھی طرح واضح کرے۔‘‘5
ان آیات کی روشنی میں ہم پرزبانِ رسالت سے ادا ہونے والے احکام کی اطاعت ایسی ہی واجب ہے جیسے اس زبانِ مبارک پر تلاوت کیا جانے والا قرآن تسلیم کرنا واجب ہے۔
قرآن کے ساتھ ساتھ اتباع سنت کے التزام احادیث کی تصریحات
1. نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میں تم میں سے ہرگز کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرےاحکام میں سے کوئی حکم آئے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا میں نے جن سے روکا ہے ، اور وہ کہے کہ میں یہ نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو پایا بس اسی کی پیروی کی ہے‘‘۔
2. عبیداللہ بن ابی رافع نےرسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میرا کوئی فیصلہ آئے گا جس میں مَیں نے کسی چیز کا حکم دیا ہوگا یا میں نے کسی چیز سے منع کیا ہوگا۔ وہ کہے گا کہ ہم اس کو نہیں جانتے، ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب ہے اور اس کے اندر اس فیصلے کا ذکر نہیں‘‘۔
3. ایک دوسری سند کے ذریعے، الفاظ کے اختلاف کے ساتھ، ابورافع سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کچھ یوں منقول ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میرا کوئی فیصلہ آئے گا جس میں میں نے کسی چیز کا حکم دیا ہوگا یا میں نے کسی چیز سے منع کیا ہوگا۔ وہ کہے گا کہ ہم جو چیز اللہ کی کتاب میں دیکھیں گے اس پر عمل کریں گے ورنہ نہیں‘‘۔
4. نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میرا کوئی فیصلہ آئے گا ، جس میں یا تو میں نے کوئی حکم دیا ہوگا یا میں نے کسی چیز سے روگا ہوگا، اور وہ کہے گا کہ ہمارے اور آپ کے بیچ میں اللہ کی کتاب موجود ہے ۔ ہم اس کے اندر جس چیز کو حرام پائیں گے صرف اسی کو حرام سمجھیں گے ۔ خبردار! رسول اللہ ﷺ کی حرام کردہ اشیا ایسی ہی حرام ہیں جیسے خود اللہ جل شانہ کی حرام کردہ‘‘۔
5. مقدام بن معدی کرب کندی رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’سنو! مجھے کتاب بھی دی گئی ہے ، اور ایک اور چیز بھی جو اس کے قریب ہے۔ ایک آسودہ حال شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے کہے گا کہ ہمارے اور آپ کے بیچ میں یہ اللہ کی کتاب ہے، جو چیز اس کے اندر حرام ہے صرف اسی کو حرام اور جو اس چیز اس کے اندر حلال کی گئی ہے صرف اسی کو حلال سمجھیں گے۔ خبردار! ایسا نہیں ہے،تمہارے لیے نوکیلے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ پالتو گدھے کا گوشت حلال ہے‘‘۔
ان احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے یہی تعلیم دی ہے کہ جس طرح ہم آپ سے قرآن کریم کو خدا کی کتاب کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں ، اسی طرح آپ کا ہر فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ خواہ وہ ہمیں کسی چیز کاحکم دینے کی صورت میں ہو،یا ہمیں کسی چیز سے روکنے کی صورت میں، اگرچہ وہ کتاب للہ کے اندر نہ ہو۔ ہمیں اسلام کے اندر کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جو اسلام میں فرض تو تھی مگر قرآن کے اندر ان کا ذکر نہیں تھا۔ مثلا؛
اولا: ہجرت کی بنیاد پر میراث میں حصہ دار ہونا جواسلام کے اندر(کسی زمانے میں) تھا، بعد میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کرکے منسوخ کردیا کہ: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُھم أَوْلَی بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُھَاجِرِينَ﴾ ترجمہ: ’’پیٹ کے رشتے دار دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں زیادہ حق رکھتے ہیں‘‘6۔ نیز اس بارے میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے، ان شاء اللہ اس کتاب میں اپنے مقام پرسند سمیت ذکر کریں گے؛
ثانیا: بیت المقدس کی جانب نماز پڑھنا، یہی رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا، جس کو بعد میں اللہ تعالی نے قرآن کے اندر منسوخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْھِک فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضَاھَاۚ فَوَلِّ وَجْھكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوھَكُمْ شَطْرَہ﴾ ترجمہ: ’’ہم تمہارا چہرہ بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چناں چہ ہم تمہارا رخ ضرور اس طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے، لو! اب اپنا رخ مسجد حرام کی سمت کرلو۔ اور(آئندہ) جہاں کہیں تم ہو اپنے چہروں کا رخ (نماز پڑھتے ہوئے ) اسی کی طرف رکھا کرو‘‘۔7
ہم (احادیث و آثارکی) مزید تفصیلات کا ذکر اسانید سمیت اس کتاب کے اندر آگے اپنے مقام پر کریں گے، ان شاء اللہ تعالی۔
ثالثا: واجب الادا قرضہ جات میں آزاد انسانوں کی خرید و فروخت کا رواج ، جس کے بارے میں بعد میں قرآنی آیت نازل ہوئی جس میں ارشاد فرمایا کہ:﴿وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃ إِلَی مَيْسَرَۃ﴾ ترجمہ: ’’ اگر کوئی تنگ دست(قرض دار) ہوتو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے‘‘۔8
نزولِ احکام سے قبل مسلمانوں کا طرزِ عمل اور کتاب وسنت میں نئے احکام
قرآن ِ کریم نے (کئی موقعوں پر) ان احکام کو منسوخ کردیا جن کا ذکر قرآن میں نہیں تھا، حالانکہ وہ مسلمانوں پر فرض تھے، اور ان کےلیے نئے احکام دئے۔ قرآن کریم کے اندرناسخ آیات کے نازل ہونے سے پہلےجومعاملات طے پائے تھے مثلا آزاد انسانوں کی خرید و فروخت یا رشتوں کے برعکس ہجرت کی اساس پر میراث میں حقدار ہونا وغیرہ، نئے احکام دیتے وقت قرآنِ کریم نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اگر ان آیات میں نازل شدہ احکام کا اطلاق پہلے سےوقوع پذیر ہونے والے معاملات پر بھی ضروری ہوتا تو ان تمام امور کا تصفیہ ان آیات کے مطابق ہی کیا گیا ہوتا۔ نیز ان تمام امور کے فیصلوں کو ان آیات کے احکام کے برعکس کبھی بھی نافذ نہیں ہونے دیا جاتا۔ (جب اس قسم کی آیات کے نزول کے بعد بھی پہلے سے طے شدہ امور اور فیصلوں کو اسی حال پہ رہنے دیا گیا تو) اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ ناسخ آیات کے نزول سے پہلے تک اللہ تعالی کے فرض (اور مرضی) کے مطابق ہی تھا۔ لہذا اسلام میں قرآنِ کریم کے نزول سے پہلے کے ان امور کو اسی حال پہ رہنے دیا جائے گا۔ پھر قرآنِ کریم کا اس کے برعکس احکام لے کر نازل ہونے کامقصد یہ نہیں ہوگا کہ قرآن ان فیصلوں کو توڑنا چاہتا ہے،بلکہ مقصد یہی ہوگا کہ ان امور کے بارے میں اب کے بعد پہلے کے احکام کو منسوخ ہوکر قرآن نئے احکام دے رہا ہے اور وہ بھی نزول سے پہلے تک کے امور سے کوئی تعرض کئے بغیر۔ اس کو مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث (متواتر یا مشہور)کے ذریعے ہمیں معلوم ہو کہ قرآن کی فلاں آیت منسوخ ہے۔ اب اگر اس ناسخ حدیث کے حکم کا اطلاق اس سے پہلے قرآنی آیت میں مذکور حکم کے مطابق طے شدہ معاملات پر بھی ہونا ضروری قرار پائے تو اس ناسخ حدیث سے پہلے قرآن اس کے برعکس حکم نازل ہی نہ کرتا۔ اگر چہ اس مسئلے میں کچھ لوگوں کا اختلاف ہے جن کی رائے یہ ہے کہ قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے ہی منسوخ قرار دیا جا سکتا ہے۔9ہماری رائے اس مسئلے میں وہی ہے جو ابھی ہم نے ذکر کی۔ اس کی ایک وجہ تو مخالف موقف کی کمزوریاں اور دوسری جانب خود قرآنِ کریم کے میں ہمارے موقف کی تائید میں دلائل ہیں۔
زنا کی سزا: قرآنی آیات و احادیث
مثلا زنا کا ارتکاب کرنے والی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:
﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَۃ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْھدُوا عَلَيْھنَّ أَرْبَعَۃ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَھدُوا فَأَمْسِكُوھنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّی يَتَوَفَّاھنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّہ لَھُنَّ سَبِيلًا﴾
ترجمہ: ’’تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔ چناں چہ اگر وہ گواہی دیںتو ان عورتوں کو گھروں کے اندر روک رکھویہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کر لے جائے، یا اللہ تعالی ان کےلیے کوئی اور راستہ پیدا کردے۔‘‘10
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’کہ لیجیے اللہ تعالی نے ان کےلیے راستہ پیدا کر لیا ۔ غیر شادی شدہ مرد اور خاتون کی زنا کی صورت میں سو کوڑے اور ایک سال تک کےلیے جلا وطنی، جب کہ شادی شدہ مرد اور خاتون کی زنا کی صورت میں سو کوڑے اور سنگسار کرکے مارڈالنا‘‘۔ اس کتاب میں ہی اپنے مقام پر اس حدیث کو سند سمیت ہم ذکر کریں گے، ان شاء اللہ۔ قرآن میں جس راستے کاذکر آیا ہے اس کا بیان بعد میں نازل ہونے والی قرآنی آیات میں نہیں بلکہ لسانِ رسالت ﷺ سے ہی آیا ہے۔ جس نے بدکاری کی مرتکب خواتین کے بارے میں سابقہ حکم کو منسوخ کردیا۔
اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس آیت میں مذکور راستے کا بیان تو سورہ نور میں آیا ہےجس میں ارشاد فرمایا کہ : ﴿الزَّانِيَۃ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃ جَلْدَۃ﴾ ترجمہ: ’’زناکار خاتون اور زناکار مرد دونوں سو کوڑے لگادو۔‘‘11 اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے جس حدیث کا حوالہ اوپر دیا ہے اس کا اس سے کوئی تضاد نہیں؛ کیوں اس میں ارشاد ہے کہ ’’ کہ لیجیے اللہ تعالی نے ان کےلیے راستہ پیدا کر لیا‘‘۔ یعنی وہ راستہ کیا ہے؛ اس حدیث کے اندر اس کا بیان ہے۔ حالانکہ قرآن میں اس راستے کا بیان نہیں آیا تھا۔ مزید یہ کہ یہاں دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ حدیث رسالت مآب ﷺ نے سورہ نور کی آیت سے پہلے ارشا فرمائی ہوگی یا اس کے بعد۔ اگر یہ حدیث سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے آپ نے ارشاد فرمائی ہو(تو کوئی تضاد اس لیے نہیں ) کہ قرآن نے سورہ نور کے نزول سے وہی راستہ بتلادیا جو اس سے پہلے زبانِ رسالت پر اللہ تعالی نے حدیث کی صورت میں بھی جاری فرمایا تھا۔ اس کے بعد سورہ نور کی آیت بھی (مزید تائید) کےلیے اتری۔ اور اگر آپ کا فرمان سورہ نور کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے تو بھی کوئی تضاد اس لیے نہیں کہ قرآنی آیت سے مراد صرف غیر شادی شدہ بدکار مرد اور عورتیں ہیں، جب کہ حدیث نے غیر شادی شدہ بدکار مردوں اور عورتوں کے قرآنی حکم کے ساتھ ساتھ شادی شدہ بدکار مردو اور عورتوں کا حکم بھی بیان کردیا۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سورہ نور کی آیت شادی شدہ و غیر شادی شدہ سب کےلیے ہو مگر شادی شدہ بدکار وں کا حکم بعد میں حدیث نبوی سے منسوخ ہوگیا ہو۔جس کی تفصیلات ہم نے کہیں اور ذکر کی ہیں۔ اس سے یہ بات بخوبی معلوم ہوئی کہ بدکار مردوں اور عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی کا جو حکم رسالت مآب ﷺ کی حدیث میں مذکور ہوا اس نے تب تک کے احکامات منسوخ کردیے۔
وصیت کا مسئلہ
اللہ تعالی نے اپنی کتاب کے اندر والدین اور رشتے داروں کےلیے وصیت فرض کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّۃ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ترجمہ: ’’تم پر فرض کیا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے پیچھے مال چھوڑ کر جانے والا ہو تو جب اس کی موت کا وقت قریب آئے، وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کےلیے وصیت کرے‘‘۔12 پھر یہ حکم نبی کریم ﷺ کی اس حدیث سے منسوخ ہوا جس میں ارشاد ہے کہ ’’وارث کےلیے وصیت جائز نہیں‘‘۔اگر کوئی یہ سوال اٹھائے کہ وصیت کا حکم حدیث سے نہیں بلکہ خود قرآن کی ایک دوسری آیت ،آیت مواریث، سے منسوخ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت مواریث وصیت کے حکم کےلیے ناسخ نہیں؛ کیوں کہ آیت مواریث کے مطابق اگر کوئی وصیت یا قرض ہو تو اس کے بعد ہی میراث فرض ہے جب کہ خود قرآن کے مطابق والدین اورقریبی رشتہ داروں کےلیے وصیت ضروری ہے۔ [یعنی آیت وصیت نے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت فرض کردی اور آیت مواریث نے وصیت اور قرضوں کے بعد میراث کے احکام دیے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ]آیت مواریث کو والدین کے حق میں وصیت کے حکم کےلیے ناسخ قرار دینے پر کوئی قرینہ نہیں۔ کیوں کہ ایسا ممکن ہے کہ والدین کے حق میں دونوں آیتوں کی روشنی میں وصیت اور میراث ضروری ہو۔ ہمارے علم کے مطابق والدین کے حق میں وصیت کی فرضیت کاحکم حدیث نبوی ، کہ’’وارث کےلیے وصیت جائز نہیں‘‘،ہی سےمنسوخ ہوا۔ لہذا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سنت بھی قرآ ن کو منسوخ کرسکتی ہے جیسا کہ قرآن سنت کےلیے ناسخ ہوسکتا ہے۔
قرآنی آیت کی تاویل
اگر کوئی یہ سوال اٹھائے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے کہ﴿قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَہ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي﴾ ترجمہ: ’’ان سے کہہ دو کہ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے تبدیلی کر دوں‘‘۔13 یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ تبدیلئ احکام کا حق صرف اللہ تعالی کے پاس ہے اور اس کی صورت یہی ہے کہ قرآن ہی اپنا حکم منسوخ کرے (نہ یہ کہ حدیث قرآن کو منسوخ کردے)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کون یہ کہتا ہے کہ قرآن کے حکم کو جس چیز نے منسوخ کردیا وہ اللہ تعالی کی جانب سے نہیں ہے، یا (زیادہ واضح لفظوں میں) سنت اللہ تعالی کی جانب سے نہیں۔ قرآن و سنت دونوں اللہ تعالی ہی کی جانب سے ہیں ، ان میں جس کا حکم جس سے چاہے منسوخ کرسکتا ہے۔
سحری کے وقت سے متعلق سیاہ و سفید دھاری میں امتیازاور فہمِ صحابہ
دوسرا یہ کہ قرآن کے اندر ایسی آیتیں پائی جاتی ہیں جن کا ظاہری مفہوم باطن یا معنوی مفہوم سے مختلف ہوتا ہے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ظاہری مفہوم پر ہی عمل کریں، اگرچہ باطن اورمعنوی مفہوم اس سے مخالف کیوں نہ ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالی کی جانب سے ہمیں خطاب ہے جس کا مقصد احکام کی تبیین و توضیح ہے (جس کا نتیجہ یہی ہے کہ قرآن نے ہر چیز واضح کرکے رکھ دی ہے اوراب ہمارے لیے ظاہر پر ہی عمل ضروری ہو گیا ہے۔ غور و فکرکر کے اس کے باطن یا کسی ایسے معنوی مفہوم تک پہنچنا جو اس کے ظاہر سے متصادم ہو، ضروری نہیں)۔ اگرچہ یہ مسئلہ بھی اختلافی ہے اور کئی لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کے باطن پر اس کے ظاہر کو ترجیح دینا درست نہیں۔ ہمارے پاس اپنے موقف کی کئی دلیلیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب قرآن کی آیت ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ﴾ ترجمہ: اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک سفید دھاری سیاہ دھاری سے سے الگ ہو کر واضح ہو۔14 نازل ہوئی اور رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے تلاوت کی تو عدی بن حاتم طائی سمیت متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سفید اور سیاہ دو دھاریاں لیں اور آیت کے مفہوم کو انہی کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کی۔ پھر اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے بھی کیا۔ آپ ﷺ نے ان پر نکیر نہیں فرمائی، نہ کوئی سختی سے پیش آ کر یہ فرمایا کہ جو مطلب آپ کوگوں نے آیت کی لی ہے وہ غلط ہے۔ بلکہ صرف یوں فرمایا کہ ’’آپ کا تکیہ تو بڑا وسیع ہے! اس کا مطلب رات کی سیاہی اور دن کا اجالا ہے‘‘۔ غورجائے تو بنی اکرم ﷺ نے قرآن کے ظاہری معنی کو مراد لینے پر کوئی عیب جوئی نہیں کی۔ اس سےمتعلق سندوں سمیت احادیث کا ذکر ان شاء اللہ اس کتاب کے اندر اپنے مقام پر آئے گا۔ نبی کریم ﷺ کی تفہیم سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معانی اخذ کرنے کے اسلوب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ حق پہنچتا تھا کہ جب تک خود قرآن کی نص کے نزول کی طرح دوسری نص کے ذریعے اس کی تاویل کے بارے میں ابھی تک تعلیم نہ دی گئی ہو تو وہ قرآن کے ظاہری معنی کو مراد لے سکتے ہیں۔ اور آیت کی تاویل کر کے باطنی و معنوی مفہوم کے مقابلے میں ظاہری مفہوم راجح ہے۔
اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالی نے شراب کو حرام قرار دیا اور استعمال کیے گئے لفظ ’خمر‘ کا مفہوم اور اس کی جنس وغیرہ تفصیلات ابھی نہیں بتائی گئی تھی، تو ابوعبیدہبن جراح، ابوطلحہ، ابی بن کعب، سہیل بن بیضاء اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شراب بھی ضائع کردی اور بعض نے تو شراب کے برتن بھی توڑ ڈالے۔ اسی طرح بعض حضرات نے کھجور کا شیرہ بھی ضائع کردیا ، انہوں نے سمجھا کہ یہی تو وہ شراب ہے جس کی حرمت کا حکم آیا ہے یا کم از کم شراب کی ایک قسم ہے۔ شیرہ کو شراب سمجھنے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے مختلف تھی۔ ان کے خیال میں شراب حرام تھی اورحرمت کے بعد مدینہ میں ناپید تھی۔ وہ شیرہ کو شراب سے ہٹ کر ایک اور چیز سجھتے تھے جو اس وقت مدینہ منورہ میں موجود تھی۔ عبداللہ بن عباس کے مطابق ’خمر‘ اور ’فضیخ/شیرہ‘ ایک ہی چیز تھی اور دونوں حرام تھے۔ سیدنا عمر فاروق کی رائے یہ تھی کہ کہ شراب حرام ہے اور پانچ چیزوں سے بنتی ہے۔ انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو۔ قلب و دماغ لگا کر صحابہ کرام نے اس آیت کا جو مفہوم سمجھا اس سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ انہوں نے آیت کا ظاہری مفہوم لیا ہے، اور یہی ان کی ذمہ داری تھی ۔پھر نبی اکرم ﷺ نے آیت کا معنی اخذ کرنے پر نہ ان پر نکیر فرمائی اور نہ یہ فرمایا کہ جو چیزحرام کی گئی ہے واضح اور کسی دوسرے معنی کے احتمال سے بالکل عاری انداز و اسلوب میں اس کا مفہوم سمجھنے سے پہلےاپنے اموال ضائع کرنے میں کیوں جلدی سے کام لیا۔ہم اقوال و آثار کو اسانید سمیت اس کتاب کے اندر اپنے اپنے مقامات پر ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
ان نصوص کے ظاہری معانی مراد لینے سے لازم آتا ہے کہ ان آیتوں کا اطلاق بھی عام ہوگا۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ کتاب و سنت یا اجماع سے کسی دلیل کے بنا خاص کے مقابلے میں عام کو کوئی ترجیح حاصل نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں عام کو خاص پر ترجیح حاصل ہے؛ کیوں کہ ان آیات کو اگر دیکھا جائے تو عام یا دونوں طرح کے معنی مرادلینے کی گنجائش موجود تھی۔ اور نبی کریم ﷺ کی تفہیم و تعلیم سے قبل صحابہ کرام نے ظاہری معنی ہی مراد لیا، خاص معنی مراد لینے کی گنجائش صرف قرآنی آیت یا حدیثِ رسول ﷺ سے نص کی صورت میں ہی ممکن تھی آیات کا ظاہر خاص معنی پر دلالت نہیں کر رہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کا فرض یہی تھا کہ وہ ان آیات (کے ظاہری مفہوم کے مطابق) عام معنی ہی مراد لیں؛ الّا یہ کہ نص کی مدد سے معلوم ہو کہ خاص معنی مراد ہے۔
ہم نے یہ کتاب تالیف کی ہے جس سے ہمارا مقصد صرف اللہ تعالی کے احکام کی تشریح، فرائض و واجبات کا بیان، متشابہ آیات کی محکم آیات ، احادیثِ نبویہ، عربی لغت، خلفائے راشدین ودیگر صحابہ کرام کے آثار اور تابعین کے اقوال کی روشنی میں وضاحت ہے۔ حق تعالی کے دربار میں توفیق و امداد کےلیے دست بدعا ہیں۔
حواشی
- سورہ آل عمران: آیت 7
- ایضا،
- سورہ حشر : آیت 7
- سورہ النسا آیت 64
- سورہ ابراہیم آیت 4
- سورہ احزاب: آیت 6
- سورہ بقرہ: آیت 144
- سورہ بقرہ: آیت 280
- یہ سفیانِ ثوری اور امام شافعی کا مذہب ہے۔ دیکھیے: امام شافعی، الرسالة، (مصر: مطبع مصطفی بابی حلبی، ۱۳۵۸ھ/۱۹۴۰م)، تحقیق: احمد شاکر، ص۱۰۶–۱۱۰، ابن حزم، الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار، (حمص: مطبعہ اندلس،۱۳۸۶ھ/۱۹۴۰م)، ص۲۸–۲۹، ابن الجوزی،نواسخ القرآن، (مدینہ منورہ: منشورات مجلس علمی، إحياء التراث الإسلامي بالجامعة الإسلامية، ۱۳۰۴ھ/۱۹۸۴م)، تحقیق: محمد اشرف علی الملباری، ص ۹۸۔
- سورہ النساء، آیت نمبر 15
- سورہ النور، آیت نمبر 2
- سورہ بقرہ، آیت نمبر 180
- سورہ یونس، آیت نمبر 15
- سورہ بقرہ، آیت نمبر ۱۸۷