نومبر ۲۰۱۹ء

پاکستانی سیاست، ہیئت مقتدرہ اور تحریک انصافمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۹)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۶)مولانا سمیع اللہ سعدی 
فکرِاسلامی کی تشکیلِ جدیدخورشید احمد ندیم 
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی وتحقیقی سرگرمیاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۱)محمد عمار خان ناصر 
الشریعہ اکادمی کی ماہانہ فکری نشستڈاکٹر حافظ محمد رشید 
’’مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت: ایک تعارف‘‘محمد سہیل قاسمی 
پشاور ہائی کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہڈاکٹر محمد مشتاق احمد 

پاکستانی سیاست، ہیئت مقتدرہ اور تحریک انصاف

محمد عمار خان ناصر

(گزشتہ دنوں میں ملکی سیاسی صورت حال کے حوالے سے جو مختلف شذرات سوشل میڈیا  کے لیے لکھے گئے، وہ ایک مناسب ترتیب سے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں)

سیاست، مثالی تصور کے لحاظ سے، قومی زندگی کا رخ متعین کرنے اور اجتماعی قومی مفاد کو بڑھانے کے عمل میں کردار ادا کرنے کا نام ہے۔ تاہم اس کردار کی ادائیگی سے دلچسپی رکھنے والوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ بے غرضی اور للہیت کا مجسم نمونہ ہوں، قطعی طور پر غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ انسانی نفسیات اور معاشرے کی ساخت کے لحاظ سے سیاسی کردار ادا کرنے کے داعیے کو طاقت اور طاقت سے وابستہ مفادات سے الگ کرنا یا الگ رکھتے ہوئے سمجھنا ناممکن ہے۔ یوں کسی بھی فرد یا جماعت یا طبقے کے متعلق یہ فرض کرنا کہ وہ صرف قومی مفاد کے جذبے سے متحرک ہے، احمقانہ بات ہوگی۔ پس سیاسی تجزیے اور سیاسی مواقف کی تائید وحمایت کے لیے یہ بنیاد سرے سے بے معنی ہے۔ مختلف طبقے اور جماعتیں اپنے موقف کی پیش کاری اس پہلو سے کر سکتی ہیں اور کرتی رہتی ہیں، لیکن سیاسی عمل کے معروضی تجزیے میں اس کو سنجیدگی سے لینے والے اہل قلم، جن کا ہمارے ہاں سیلاب آیا ہوا ہے، میری نظر میں سیاسی تجزیے کی سرے سے اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ لازما سیاسی تجزیے یا سیاسی تائید ومخالفت کی بنیاد یہی ہو سکتی ہے کہ کسی خاص صورت حال میں کس موقف کی تائید یا حمایت نتائج کے لحاظ سے (نہ کہ سیاسی کرداروں کے حسن عمل یا عزائم وغیرہ کے لحاظ سے) قومی زندگی کی بہتر تنظیم پیدا کر سکے گی۔ ظاہر ہے، اس تجزیے میں اختلاف رائے نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہے، اور اسی سے سیاسی عمل جمہوری اصولوں پر آگے بڑھتا ہے۔

موجودہ سیاسی منظرنامے میں بنیادی طور پر اقتدار کی کشمکش کے فریق تین طبقوں میں تقسیم ہیں اور شطرنج کی بساط پر تینوں کی پوزیشن کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

کشمکش کا سب سے طاقتور فریق عسکری ادارہ ہے اور بنیادی طور پر سیاسی کھیل کے اصول وضوابط اور شرائط وقیود وہی طے کرتا ہے۔ ملکی تاریخ کے ابتدائی زمانے سے ہی، معلوم اسباب وواقعات کی وجہ سے، اس ادارے کو قومی سیاسی عمل پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے اپنی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھانے کے مواقع حاصل رہے ہیں اور قومی سیاست میں اس کا مسلسل کردار اس سوچ کا غماز ہے کہ قوم سازی کی اہلیت دراصل اسی کے پاس ہے۔ آئین سازی، انتخابات، جمہوری عمل اور داخلی وخارجی سطح پر پالیسی سازی اگر عسکری ادرے کے طے کردہ فریم ورک کے اندر اور اس کی self-understanding کو طوعا یا کرہا مانتے ہوئے ہو تو قابل قبول ہے، لیکن قوم سازی کا دعوی رکھنے والا کوئی دوسرا مرکز طاقت ناقابل برداشت ہے۔ یہ طرز فکر طاقت کی نفسیات اور مزاج کے عین مطابق ہے اور سیاسی طاقت کے اصولوں کے لحاظ سے اس پر کوئی خاص اعتراض وغیرہ نہیں بنتا۔ یہ طاقت کا کھیل ہے اور اس میں طاقت کے مقابلے میں جوابی طاقت ہی کسی بھی موقف کی عملی قدروقیمت متعین کرتی ہے۔

سیاسی عمل اور قوم سازی پر اپنے اختیار کو مستحکم رکھنے کے لیے عسکری ادارے کی حکمت عملی بنیادی طور پر دو نکاتی ہی رہی ہے۔ پہلا یہ کہ جب تک جمہوری سیاسی قوتوں کی باہمی تقسیم اور اختلافات کی manipulation ممکن ہو، اسی کو بروئے کار لایا جائے۔ دوسرا یہ کہ جہاں جمہوری سیاسی عمل کے نتیجے میں سیاسی قوتوں میں خود اختیاری کا شعور ایسی صورت اختیار کرنے لگے جو عسکری ادارے کے لیے قابل قبول نہ ہو تو معمول کے سیاسی عمل کو معطل کر کے فوجی اقتدار کے تحت کھیل کے ضوابط اور سیاسی مہروں کی پوزیشن وغیرہ ازسرنو متعین کر دی جائے۔

اس صورت حال سے ایک بنیادی نکتہ تو یہ سامنے آتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی عمل کے لیے ہموار زمین موجود نہیں۔ مثالی مفہوم میں ہموار زمین دنیا میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی، اس لیے ظاہر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں ناہمواری نسبتا بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ جو جماعتیں اقتدار میں حصہ چاہتی ہیں، ان کے لیے ہیئت مقتدرہ کے ساتھ ایک مثبت مساوات قائم کرنا ناگزیر ہے۔ پچھلی تین دہائیوں میں، حصہ داری کا ہر معاملہ جو کسی اڑچھن کے بغیر  آگے بڑھا ہے، اسی اصول پر ممکن ہوا ہے اور جہاں یہ مساوات قائم نہیں ہو سکی، وہاں سیاسی عمل کو انقطاع یا اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہونا پڑا ہے۔ جنرل مشرف کے دور کی حکومتیں (بشمول ایم ایم اے کی حکومت کے) پہلی صورت کی، جبکہ نوے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر کی اور اسی طرح ۲٠۱۳ء میں مسلم لیگ نون کی حکومتیں دوسری صورت کی مثالیں ہیں۔ لمبی چوڑی تفصیل اور تجزیے کے بغیر، صرف اس انجام کو دیکھ لینا اس حقیقت کے اثبات کے لیے کافی ہے جس سے، ملک کی سیاسی تاریخ میں قومی سطح پر ابھرنے والے تین بڑے سیاسی لیڈروں (بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف) کو دوچار ہونا پڑا ہے۔

ہیئت مقتدرہ کو سیاسی طاقت کے میدان جو برتری حاصل ہے، اس کی وجہ سے اس کے پاس آپشنز بھی زیادہ ہیں۔ وہ جہاں کسی حریف سیاسی طاقت کو، حسب موقع، manhandle کر سکتی ہے، وہاں سیاسی جدلیات سے ازخود ابھرنے والے سیاسی کرداروں کے ساتھ معاملہ بندی کے علاوہ نئے سیاسی کردار تخلیق بھی کر سکتی ہے۔ تینوں صورتوں میں نتیجہ بہرحال ایک ہی رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو، بھٹو کی پھانسی کے بعد مزاحمت کے ایک لمبے مرحلے سے گزر کر آخر جناب زرداری کی وساطت سے معاملہ بندی تک ہی پہنچنا پڑا۔ نواز شریف نے سیاسی کیریئر کا آغاز ہیئت مقتدرہ کی آشیرواد کے ساتھ کیا، لیکن بعد کے مراحل میں خود اختیاری کے شعور کی وجہ سے اسی انجام کے قریب قریب آ پہنچے ہیں جو اس سے پہلے بھٹو کے لیے طے کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف اگر اقتدار میں حصہ دار بنی ہے تو طاہر ہے، اس کے لیے کوئی نیا template نہیں بنایا گیا، اس کے کردار کو بھی اسی چلے آنے والے پیٹرن کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔


کاروباری برادری کا، شکایات کے ازالے کے لیے آرمی چیف سے رجوع کرنا میری نظر میں سیاسی شعور کی بہتری اور حقیقت پسندی کی علامت ہے، چاہے جمہوریت پسندوں کے احساسات اس سے کتنے ہی مجروح ہوئے ہوں۔ موجودہ سیٹ اپ سرتاسر منافقت پر مبنی ہے، جس میں سب جانتے ہیں کہ اختیارات کا مرکز کہاں ہے اور پھر بھی توقعات اور مطالبات کا رخ سیاسی حکومتوں کی طرف رکھ کر جمہوریت کی لاج رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی طاقت کی یہ بالکل سادہ اور عام فہم اخلاقیات ہے کہ جس کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار ہو، ذمہ داری اور جواب دہی بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ ہم نے قومی طور پر ایک جمہوری خود فریبی اختیار کرتے ہوئے کم وبیش اس طرح کی تقسیم کار کی ہوئی ہے جیسی ایک معروف لطیفے میں دو بھائیوں نے کی تھی کہ آو مل کر گائے خریدتے ہیں اور تقسیم کار یوں ہوگی کہ گائے کا اگلا حصہ ایک بھائی کا ہوگا جو چارہ وغیرہ ڈالنے کا ذمہ دار ہوگا، اور پچھلا حصہ دوسرے بھائی کا جو دودھ دوہ لیا کرے گا۔

موجودہ سیٹ اپ میں گائے کا پچھلا حصہ ہیئت مقتدرہ کا ہے، اور ذمہ داری، جواب دہی، وسائل کی فراہمی، معیشت کا بندوبست، عوامی لعن طعن کا سامنا کرنا وغیرہ سیاسی حکومتوں کے سپرد ہے۔ اس قومی منافقت کو تسلیم کیے بغیر ہم مزید ستر سال بھی کولہو کے بیل کی طرح اسی طرح دائرے میں چکر لگاتے رہیں گے۔ سیاست دانوں میں تھوڑی سی اخلاقی جرات اور عقل مندی ہو تو انھیں ایسا سیاسی سیٹ اپ تجویز کرنا چاہیے جس میں ہیئت مقتدرہ قومی امور کے انتظام وانصرام میں جواب دہی میں بھی حصہ دار بنے۔ دودھ تو وہ دوہ رہی ہے، کچھ چارے کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری بھی اس پر ہو۔ یہ یک طرفہ محبت آخر کب تک چلے گی کہ

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو

ہیئت مقتدرہ کو قومی فیصلہ سازی اور نتیجتا جواب دہی میں باقاعدہ شریک کرنے کی بات الزامی نوعیت کی نہیں، ایک سنجیدہ بات ہے۔ قومی فیصلہ سازی کے چار بنیادی دائرے ایسے ہیں جن میں حتمی اور فیصلہ کن اختیار ہیئت مقتدرہ کو حاصل ہے اور وہ جو پالیسیاں طے کرتی ہے، ان کی پابندی سیاسی حکومتوں پر واجب ٹھہرتی ہے:

۱۔ داخلی قومی سلامتی سے متعلق مسائل۔ اس دائرے میں مثال کے طور پر دہشت گردی، وفاق گریز جماعتوں سے معاملہ اور گم شدہ افراد جیسے مسائل نمایاں ہیں۔

۲۔ خارجہ پالیسی کی ترجیحات

۳۔ سیاسی اقتدار میں حصہ داری کا مسئلہ

۴۔ اور قومی معاشی وسائل کی تنظیم

ان دائروں میں ہیئت مقتدرہ کو جواب دہی میں شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے علانیہ میکنزم میں یہ بات واضح اور معلوم ہونی چاہیے کہ فیصلے کی اتھارٹی کون ہے، اور اس کے لازمی نتیجے کے طور پر پارلیمنٹ میں اور رائے عامہ کے سامنے اپنی طے کردہ پالیسیوں اور ترجیحات کی وضاحت، تائیدی استدلال پیش کرنے اور تنقید کا سامنا کرنے وغیرہ کی ذمہ داری بھی ہیئت مقتدرہ کے نمائندوں پر ہی ہونی چاہیے۔ جو فیصلے عوامی منتخب نمائندے کر ہی نہیں رہے، ان کی وضاحت، توجیہ اور دفاع وغیرہ کی ذمہ داری ان بے چاروں پر ڈال دینا سیاسی اخلاقیات کے قطعی منافی اور سرتاسر منافقت پر مبنی بندوبست ہے جو ہم نے قومی طور پر قبول کیا ہوا ہے۔


روف کلاسرا صاحب نے اپنے  کالم میں حکومت کے خلاف موجودہ سیاسی فضا پیدا ہونے کے اسباب کے طور پر ناقص حکومتی کارکردگی اور قبل از اقتدار وبعد از اقتدار عمران خان کے رویوں کے فرق کا ذکر کیا ہے۔ ہماری رائے میں  کارکردگی کے سوال کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ صادر کرنا منصفانہ نہیں ہوگا اور یہ نکتہ کم سے کم اس وقت اپوزیشن کے جارحانہ رویے کا اصل محرک بھی نہیں ہے۔ البتہ بعد از اقتدار رویوں کا نکتہ بہت اہم ہے اور میں اس تعلق سے عمران خان کو دو سنگین سیاسی ’’جرائم’’ کا مرتکب تصور کرتا ہوں جس پر ان کا بے رحم محاسبہ ہونا چاہیے۔

ایک یہ کہ انھوں نے حصول اقتدار کی منہ زور خواہش میں عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ایک ایسا سیاسی بیانیہ متعارف کروایا جس کی بنیاد سرتاسر نفرت پر اور مخالف سیاسی جماعتوں کو demonize کرنے پر ہے۔ خوش فہمی میں یا دانستہ انھوں نے امیدوں کا ایسا تاج محل کھڑا کیا جس کی تعمیر خود ان کے لیے بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ مشکلات بہت پیچیدہ اور گہری ہیں جن کا کوئی سیدھا، صاف اور فوری حل دستیاب نہیں ہے۔ ان کی ساری اچھل کود کا نتیجہ تبدیلی کی توقع رکھنے والوں کی مایوسی میں اضافے اور قومی سطح پر سیاسی منافرت کو آسمان تک پہنچا دینے کے علاوہ ابھی تک کچھ نہیں ہے۔

عمران خان کا دوسرا جرم یہ ہے کہ اقتدار کی کشاکش میں حصہ دار بننے کے لیے انھوں نے اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری قوتوں کے مابین سیاسی طاقت کے توازن میں دانستہ اور پورے شعور کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے لے پالک کا کردار قبول کیا ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد خاص طور پر اس ہدف کی طرف پیش رفت کی کوشش کی ہے کہ سیاسی طاقت پر اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو مستحکم سے مستحکم تر کیا جائے، حریف سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی عمل کے امکانات محدود سے محدود کیے جائیں، اور عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے میں فعال یا کم سے کم خاموش شریک جرم کا کردار اختیار کیا جائے۔

حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات پر ابتدائی اتفاق پیدا ہونا خوش آئند ہے اور میرے خیال میں یہ خود تحریک انصاف کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ سیاست اور اقتدار کے حوالے سے پختگی کی طرف بڑھے۔ اس سفر میں مذکورہ دونوں نکات کے حوالے سے خود تنقیدی کا رویہ اپنانا خود عمران خان کے لیے مفید ہوگا، اگر وہ پاکستانی سیاست میں کوئی دیرپا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔


برادرم خاکوانی صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’یہ پوزیشن لینے کا وقت ہے’’۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب حکومت کو پورا وقت ملنا چاہیے تاکہ عوام ان کا احتساب کر سکیں، ورنہ کوئی بھی حکومت ایک دو سال سے زیادہ کام نہیں کر سکے گی۔

اس پر ان سے عرض کیا ہے کہ کاش معروضی سیاسی صورت حال ایسی ہوتی کہ اس جمہوری اصول کی مطلق اور غیر مشروط طور پر تائید کی جا سکتی۔ بدقسمتی سے یہاں بنیادی سوال منتخب حکومت کے جمہوری حق سے زیادہ، سیاسی حرکیات کے بڑے فریم ورک سے متعلق ہے۔ تحریک انصاف کی، اقتدار میں شمولیت معمول کے حالات میں نہیں ہوئی، جیسا کہ خود خاکوانی صاحب نے بھی واضح کیا ہے۔ وہ ایک نیا فریق ہے جو اقتدار کی کشمکش میں شریک ہوا ہے اور اپنے بل بوتے پر نہیں ہوا، سب سے طاقتور فریق کی مدد سے ہوا ہے اور سیاسی طاقت کے پلڑے کو اس طرح ہیئت مقتدرہ کے حق میں جھکا کر ہوا ہے کہ خود تحریک انصاف کے لیے وہ جتنا بھی ضروری یا مفید ہو، مجموعی حیثیت سے اس عدم توازن کو ملکی سیاست کے لیے مثبت اور تعمیری نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے اپنی اپنی رائے اور ضمیر کے مطابق پوزیشن ضرور لینی چاہیے، لیکن یہ پوزیشن لازم نہیں کہ ایک ہی ہو اور حکومت کے حق میں ہو۔

مجھے بطور ایک سیاسی حکومت کے پی ٹی آئی سے ہمدردی ہے اور معمول کے سیاسی اختلاف کی صورت حال ہوتی تو میں بھی اسی کی تائید کرتا کہ اسے پانچ سال پورے کرنے اور اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ملنا چاہیے۔ اب بھی میری خواہش یہی ہے، لیکن افسوس، اسے رجحان متعین کرنے کی واحد بنیاد قرار دینا بہت مشکل ہے۔ اللہ کرے کہ تحریک انصاف سیاسی پختگی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سیاسی طریقے سے چیلنج سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب ہو سکے۔ لیکن اگر اسے صرف اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کردار ادا کرنا اور مخالف سیاسی طاقتوں کو میدان سے کلیتا خارج کر کے اسٹیبلشمنٹ کو مطلق العنان بنانا ہے تو معذرت کے ساتھ، اس کردار کی تائید یا حمایت نہیں کی جا سکتی۔


اپوزیشن (جو تدریجا متحدہ اپوزیشن بنتی جا رہی ہے) کے حقیقی عزائم اور اہداف کیا ہیں، مجھے کچھ اندازہ نہیں۔ ہو سکتا ہے، حکومت کو گرانا ہی طے ہوا ہو اور ممکن ہے، اس سے کم تر کوئی ہدف ہو۔ کافی حد تک اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ خود حکومت کیا رویہ اپناتی ہے۔ ذمہ دار حکومتی عہدیداروں کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کے  فورا بعد وزیر اعظم نے ایک  غیر ذمہ دارانہ بیان دینا ضروری سمجھا۔ بہرحال، اگر اپوزیشن اور حکومت میں اس پر موافقت کی کوئی صورت نکل سکتی ہو کہ حکومت کو کام کرنے دیا جائے تو میری ناقص رائے میں سیاسی مک مکا کے علاوہ بھی (جو بظاہر موجودہ تناظر میں اصل مقصد نہیں لگتا) ایک سنجیدہ سیاسی ایجنڈا ایسا ہو سکتا ہے جو ٹیبل پر رکھا جا سکے۔ میری رائے میں اپوزیشن کو کم سے کم ان تین نکات کے حوالے سے ایک نئے میکنزم پر اصرار اور پھر اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔

۱۔ میڈیا پر عائد کی گئی کھلی اور چھپی قدغنوں کا ازالہ

۲۔ حکومت کے سیاسی مخالفین پر قائم کیے گئے مقدمات کے غیر جانب دارانہ جائزے کے لیے کسی عدالتی کمیشن کا قیام اور اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقدمات کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کا معاہدہ (کیونکہ نیب وغیرہ اپنا اعتماد کھو چکے ہیں)

۳۔ اہم قومی امور (مثلا پی ٹی ایم کے ساتھ معاملہ اور مدارس کی رجسٹریشن وغیرہ) میں فیصلہ سازی کی سیاسی حکومت کی طرف منتقلی

اپوزیشن کی طرف سے استعفے کا مطالبہ بارگیننگ پوزیشن کو مضبوط بنانے کی حد تک ٹھیک ہے، لیکن اس پر ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم مکرر عرض ہے کہ اس میں زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اور لب ولہجہ اختیار کرنے کی ضرورت جتنی حکومت کو ہے، اتنی اپوزیشن کو نہیں ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۹)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۸۱)    انذار کا ترجمہ

قرآن مجید میں نذر کے مادے سے انذار منذر اور نذیر کا کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ انذار تبشیر کے ساتھ اور منذر مبشر کے ساتھ کئی مقامات پر آیا ہے۔ جب کہ نذیر کا ذکر کئی جگہ بشیر کے ساتھ ہوا ہے۔ انذار اور تبشیر میں قدر مشترک خبر دینا ہے، جس طرح تبشیر کا مطلب ایسی خبر دینا ہے جس میں خوشی موجود ہو، اسی طرح انذار کا مطلب بھی خبر دینا ہے، لیکن ایسی خبر جس میں ڈراوا موجود ہو۔ گویا دونوں الفاظ اصل میں خبر دینے کے لیے آتے ہیں، البتہ دونوں خبروں کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے۔

عربی لغت کی مستند ترین کتابوں کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

ونَذَر القومُ بالعَدُوِّ ای عَلِموا بمسیرہم. (العین)

الاِنذَارُ: الاِبلَاغُ ; وَلَا یَکَادُ یَکُونُ اِلَّا فِی التَّخوِیفِ. (مقاییس اللغة)

وَالانذارُ: اخبار فیہ تخویف، کما انّ التّبشیر اخبار فیہ سرور. (المفردات فی غریب القرآن)

الانذار: الابلاغ، ولایکون الا فی التخویف. (الصحاح تاج اللغة وصحاح العربیة)

وانذَرَہُ بالاَمر اِنذاراً ونَذراً، ویُضَمُّ وبضمتینِ ونَذِیراً: اعلَمَہُ، وحَذَّرَہُ، وخَوَّفَہُ فی بلاغِہِ. (القاموس المحیط)

بہت سے اردو تراجم میں انذار کا ترجمہ ڈرانا کیا گیا ہے، انذار میں ڈرانے کا مفہوم موجود ہے، لیکن صرف ڈرانا نہیں، بلکہ ڈرانے والی خبر دینا ہے۔

ڈرانے اور خبردار کرنے میں فرق ہے، جس طرح خوش خبری دینے اور خوش کرنے میں فرق ہے۔ برے انجام سے خبردار کرنے کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، جس میں برے انجام کے اسباب اور اس سے بچنے کے طریقوں کی خبر دینا بھی شامل ہوتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی تخویف کے لفظ کو (جس کا مطلب ڈرانا ہوتا ہے) رسولوں کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے، خلاصہ یہ کہ انذار کا صحیح ترجمہ ڈرانا نہیں بلکہ خبردار کرنا ہے۔ ذیل میں قرآن مجید کی کچھ آیتوں کے ترجمے پیش کیے جائیں گے، جہاں انذار، منذر اور نذیر جیسے الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔

(۱) إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَی قَوْمِہ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَھُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ۔ (نوح:1،2)

”تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف قوم اس کی کے یہ کہ ڈرا قوم اپنی کو پہلے اس سے کہ آوے ان کو عذاب درد دینے والا۔ کہا اے قوم میری تحقیق میں واسطے تمہارے ڈرانے والا ہوں ظاہر“۔ (شاہ رفیع الدین)

”ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف کہ ڈرا اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ پہنچے ان پر دکھ والی آفت، بولا اے قوم میری میں تم کو ڈر سنانے والا ہوں کھول کر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے، ا س نے کہا ''اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں“۔ (سید مودودی)

(۲) فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاہٗ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِہ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِہ قَوْمًا لُدًّا۔ (مریم:97)

”پس سوا اس کے نہیں کہ آسان کیا ہے ہم نے اس قرآن کو ساتھ زبان تیری کے تو کہ بشارت دے ساتھ اس کے پرہیزگاروں کواور ڈراوے ساتھ اس کے قوم جھگڑنے والوں کو“۔(شاہ رفیع الدین)

”سو ہم نے آسان کیا یہ قرآن تیری زبان میں اسی واسطے کہ خوشی سنادے تو ڈر والوں کو اور ڈرادے جھگڑالو لوگوں کو“۔ (شاہ عبدالقادر)

”تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناو“۔ (احمد رضا خان)

”پس ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں اس لیے سہل وسازگار بنایا کہ تم خدا ترسوں کو بشارت پہنچادو اور جھگڑالو قوم کو آگاہی سنادو“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۳) رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ۔ (النساء: 165)

”بھیجے ہم نے پیغمبر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والے “۔(شاہ رفیع الدین)

”کتنے رسول خوشی اور ڈر سنانے والے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے “۔(سید مودودی)

”اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ہوشیار کرنے والے بناکر بھیجا “۔(امین احسن اصلاحی)

(۴) فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ۔ (البقرة: 213)

”پس بھیجا اللہ نے پیغمبروں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”پھر بھیجے اللہ نے نبی خوشی اور ڈر سناتے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے“۔ (سید مودودی)

”تو اللہ نے اپنے انبیاءبھیجے جو خوش خبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے تھے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں حال کا ترجمہ اس طرح ہوگا: ”جنھوں نے آکر خوش خبری سنائی اور خبردار کیا“۔ امانت اللہ اصلاحی)

(۵) قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّہ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ (الاعراف: 188)

”میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں“۔ (سید مودودی)

”میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں “۔(محمد جوناگڑھی)

(۶) وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْہ آَيَاتٌ مِنْ رَبِّہ قُلْ إِنَّمَا الْآَيَاتُ عِنْدَ اللَّہ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ۔ (العنکبوت: 50)

”اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”میں تو صرف کھلم کھلا آگاہ کر دینے والا ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر“۔ (سید مودودی)

(۷) لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أَتَاھمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّھمْ يَھتَدُونَ۔ (السجدة: 3)

”تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا “۔(سید مودودی)

”تاکہ تم ان لوگوں کو ہوشیار کردو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا “۔(امین احسن اصلاحی)

(۸) وَأَنْذِرْھمْ يَوْمَ الْآَزِفَۃ۔ (غافر: 18)

”اور ڈرا ان کو دن قیامت سے“۔(شاہ رفیع الدین)

”اور خبر سنادے ان کو اس نزدیک آنے والے دن کی“۔ (شاہ عبدالقادر)

(۹) وَأَنْذِرْھمْ يَوْمَ الْحَسْرَۃ۔ (مریم: 39)

”اور ڈرا ان کو دن پچتانے کے سے “۔(شاہ رفیع الدین)

”اور ڈر سنادے ان کو اس پچتاوے کے دن کا“ ۔(شاہ عبدالقادر)

(۱٠) إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّھمْ بِالْغَيْبِ۔ (فاطر: 18)

”تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بے دیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو صرف ان ہی کو آگاہ کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں“ ۔(محمد جوناگڑھی)

(۱۱) إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ (الاعراف: 188)

”میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں “۔(محمد جوناگڑھی)

”میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں“۔ (سید مودودی)

”میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲۱) ھذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَی۔ (النجم: 56)

”یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے“۔(سید مودودی)

”یہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں کو دیکھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شاہ رفیع الدین ایسی ہر جگہ ڈرانا ترجمہ کرتے ہیں، جب کہ ان کے علاوہ کسی بھی مترجم نے مختلف مقامات پر انذار اور اس کے مشتقات کا ترجمہ کرتے ہوئے ایک موقف نہیں اختیار کیا ہے۔ کہیں ڈرانا کیا ہے تو کہیں ڈر سنانا، آگاہ کرنا، خبردار کرنا، متنبہ کرنا،ہوشیار کرنا کیا ہے۔ جب وہ ڈر سنانا ترجمہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ لفظ کی رعایت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ڈر سنانا اگر کبھی اردو محاورہ رہا ہو تو اب نہیں رہا۔

لفظ کی مکمل رعایت کریں تو سب سے مناسب ترجمہ خبردار کرنا لگتا ہے۔

(۱۸۲)    جزی عنہ کا ترجمہ

جزاہ کا مطلب ہوتا ہے بدلہ دینا، اور جزی عنہ کا مطلب ہوتا ہے کسی کے کام آنا، اس کی ضرورت پوری کردینا، یا اس کا بدل بن جانا یعنی سزا وغیرہ کے لیے دوسرے کی جگہ خود کو پیش کردینا۔ قرآن مجید میں یہ تعبیر تین مقامات پر آئی ہے، پہلے دو مقامات پر تو سب نے لفظ کی رعایت کرتے ہوئے مناسب ترجمہ کیا ہے۔البتہ تیسری آیت کے ترجمے میں کچھ لوگوں نے بدلہ دینا ترجمہ کردیا ہے۔ لگتا ہے کہ انہیں صرف اس مقام پر جزاہ اور  جزی عنہ کے درمیان اشتباہ ہوگیا۔

(۱) وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا۔ (البقرة: 48)

”اور بچو اس دن سے کہ نہ کام آوے کوئی شخص کسی کے ایک ذرہ بھر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا “۔(سید مودودی)

”اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی “۔(احمد رضا خان)

 (۲) وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا۔ (البقرة: 123)

”اور بچو اس دن سے کہ نا کام آوے کوئی شخص کسی شخص کے ایک ذرہ “۔(شاہ عبدالقادر)

”اور ڈرو اُس دن سے، جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا“۔ (سید مودودی)

”اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی“۔ (احمد رضا خان)

(۳) وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِہ وَلَا مَوْلُودٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِہ شَيْئًا۔ (لقمان: 33)

”اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آوے کوئی باپ اپنے بیٹے کے بدلے، اور نہ کوئی بیٹا ہو جو کام آوے اپنے باپ کی جگہ کچھ “۔(شاہ عبدالقادر)

”اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے“۔ (احمد رضا خان، مولود کا عجیب ترجمہ کیا ہے)

”اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا “۔(سید مودودی)

”اور اس روز سے ڈرو جب نہ کوئی باپ اپنی اولاد کی طرف سے بدلہ دے گا، اور نہ کوئی اولاد ہی اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والی ہوگی“۔ (محمد فاروق خان)

اس تیسری آیت کے آخری دونوں ترجموں میں مذکورہ غلطی دیکھی جاسکتی ہے، جب کہ پہلی دونوں آیتوں کے ترجموں میں ان دونوںحضرات کے یہاں یہ غلطی نہیں ہے۔

تیسری آیت کے سلسلے میں اس وضاحت کا اعادہ مناسب ہوگا کہ والد کا صحیح ترجمہ صرف باپ نہیں بلکہ ماں باپ، اور مولود کا صحیح ترجمہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اولاد ہے، جس میں بیٹا بیٹی دونوں شامل ہیں۔

(جاری)

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۶)

مولانا سمیع اللہ سعدی

نقد احادیث کا اصولی منہج

اخباری شیعہ کا نقطہ نظر سامنے آنے کے بعد نقدحدیث کے اصولی منہج پر ایک نظر ڈالتے ہیں،اہل تشیع سے جب اخباری شیعہ کے غیر علمی ،غیر منطقی اور محض اعتقاد پر مبنی غیر عقلی موقف کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو سنجیدہ اہل تشیع اصولی منہج کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر اخباری شیعہ نے حدیثی ذخیرے سے متعلق قطعیت کا قول اپنایا ہے،تو اصولیین نے کتب اربعہ سمیت جملہ حدیثی ذخیرے کو قواعد ِجرح و تعدیل پر پرکھنے کی روش اپنائی ہے، اور اس حوالے سے اپنی کتب رجال اور علم درایۃ کی کتب کا ذکر کرتے ہیں ،یوں اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کی طرح حدیث کو پرکھنے کا باقاعدہ فن پیش کرتے ہیں،لیکن اصولی منہج میں بھی بعض ایسے مہیب خلا موجود ہیں ،جن کی وجہ سے یہ منہج بعض جہات سے شیعہ ذخیرہ حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے بے فائدہ بن جاتا ہے۔ ہم ان میں سے صرف ایک بات کا ذکر کرنا چاہیں گے اور اس سے جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ،اس کا ذکر کرتے ہیں ،دیگر امور ایک مستقل بحث میں ذکر کریں گے ۔

سب سے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ حدیث کی تصحیح اور حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے(یعنی اصولی منہج میں ( اہل تشیع کے قدماء محدثین)جن میں خاص طو رپر کتب اربعہ کے مصنفین شامل ہیں ( اور متاخرین(ساتویں صدی ہجری کے علامہ حلی و ابن طاووس (کے منہج میں اصولی و بنیادی فرق ہے ،ہم پہلے اس فرق پر شیعہ محققین کی عبارات ذکر کرتے ہیں ،پھر دونوں مناہج کے درمیان اصولی فرق سے پیدا شدہ نتائج و سوالات کا ذکر کریں گے :

معروف شیعہ محقق ومحدث جعفر سبحانی متاخرین کے منہج کا متقدمین کے منہج سے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"المعروف انہ لم یکن من تلک المصطلحات اثر بین اصحابنا ،و انما حدثت فی اثناء القرن السابع ،وقد عرفت حقیقۃ الحال ،واللازم بیان ما ھو الدافع الی اصطناعھا ، فقد اشبع بہاء الدین العاملی الکلام فی ذلک فنحن ناتی بہ برمتہ ،یقول : ھذا لاصطلاح لم یک معروفا بین قدمائنا قدس اللہ ارواحہم کما ھو الظاہر لمن مارس کلامہم ،بل کان المتعارف بینہم اطلاق الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتمادھم علیہ ،او اقترن بما یوجب الوثوق بہ ،الرکون الیہ "1

ترجمہ :معروف یہ ہے کہ یہ اصطلاحات ہمارے متقدمین کے درمیان معروف نہ تھیں ،بلکہ ساتویں صدی ہجری میں ظہور پذیر ہوئیں ،اس کی حقیقت حال ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں ،اب ضروری یہ ہے کہ ان اسباب کا ذکر کیا جائے ،جس کی وجہ سے ان اصطلاحات کے وضع کی ضرورت پیش آئی ،تو بہاء الدین عاملی نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اصطلاح ہمارے قدماء کے درمیان معروف نہ تھی ، ہر وہ آدمی جو قدماء کی کتب سے ممارست رکھتا ہو ،اس پر یہ بات ظاہر ہے ،بلکہ ان کے درمیان ہر اس حدیث کو صحیح کہا جاتا تھا ،جس کی تائید میں ایسے اسباب ہوتے تھے ،جن پر ان علماء کا اعتماد ہوتا ،یا اس حدیث کے ساتھ ایسی مویدات مل جاتیں ،جن کی وجہ سے اس پر وثوق اور اس کی طرف میلان ہوجاتا۔

شیعہ عالم حسن زین الدین عاملی متاخرین کے اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"فان القدماء لا علم لھم بھذا الاصطلاح قطعا ۔۔ولا یکاد یعلم وجود ھذا لاصطلاح قبل زمان العلامہ"2

ترجمہ :قدماء کو متاخرین کی اصطلاح کا علم بالکل نہیں تھا ،نہ ہی علامہ (ابن حلی) کے زمانے سے پہلے اس اصطلاح کا وجود تھا۔

محمد جواد کاظم لکھتے ہیں:

اختلفت انظار المتاخرین للحدیث الصحیح عن القدماء "3

یعنی حدیث صحیح سے متعلق متاخرین کے نظریات قدماء سے مختلف ہیں ۔

قدما و متاخرین کے طریقہ تصحیح میں فرق

شیعہ کے بنیادی مصادر ِحدیث کے مولفین اور دیگر قدما محدثین نے حدیث کی تصحیح کا جو طریقہ اختیار کیا تھا ،وہ قریب قریب اخباریوں کی طرح تھا ،کیونکہ اس میں اسناد ،رواۃ ،اتصال و ارسال ، قواعد ِجرح و تعدیل وغیرہ کی بجائے متن ِحدیث پر کسی بھی وجہ سے دلی اطمینان و میلان کو معیار بنایا جاتا تھا ،جبکہ متاخرین یعنی ابن طاووس و علامہ حلی نے احادیث کو پرکھنے کا جو منہج اپنایا تھا ،اس میں رجال و اسناد کی بحث مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔  معروف محقق علامہ کلباسی لکھتے ہیں :

"ان الصحیح عند القدماء لیس المراد بہ ما یرویہ الامامی بل معناہ ما ثبت بالاصل الماخوذ منہ بای کان من انواع الثبوت "4

ترجمہ : قدماء کے نزدیک صحیح اس صرف روایت کا نام نہیں ہے ،جو امامی شیعہ سے مروی ہو ،بلکہ صحیح کا مطلب یہ ہے کہ جو کسی ا صل ماخوذ منہ میں کسی بھی طریقہ ثبوت سے ثابت ہو ۔

عبد النبی جزائری لکھتے ہیں :

اما القدماء من اصحابنا فالذی یظہر من عباراتھم و تصفح کلامھم انھم یریدون بالصحیح غالبا المعمول بہ و المفتی بمضمونہ او احتف بالقرائن و غیر ذلک مما یوجب العمل "5

ہمارے قدماء اصحاب کی عبارات اور ان کی کلام کی چھان بین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک صحیح سے مراد وہ روایت ہے ،جس پر عمل ہو ،اس کے مضمون پر فتوی دیا گیا ہو یا وہ ایسے قرائن سے مزین ہو ،جو اس پر عمل کو واجب کرے۔

معروف شیعہ محقق عبد اللہ مامقانی لکھتے ہیں:

"ان الصحیح و الضعیف کان مستعملا فی السنۃ القدما ء ایضا،غایۃ ما ھناک انھم کانوا یطلقون الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتمادھم علیہ "6

یقینا صحیح اور ضعیف کا لفظ قدماء میں بھی مستعمل تھا ،زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ قدما ء صحیح حدیث کا اطلا ق ہر اس روایت پر کرتے تھے ،جو ایسے قرائن سے موید ہو ،جن کی وجہ سے وہ ان کے نزدیک معتمد بن جاتا۔

معروف شیعہ ویب سائٹ "مرکز الابحاث العقائدیہ"پر قدماء و متاخرین کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

"أن للتضعيف والتصحيح معنيان عند الإماميۃ ـ أحدھما عند المتقدمين ـ ويمثلھم الشيخ الكليني ومن في طبقتہ ـ والثاني عند المتأخرين ـ ويمثلھم العلامۃ الحلي ومن في طبقتہ ـ ومعنی الصحيح عند المتقدمين ھو القبول بالحديث والعمل بہ لاحتفائہ بقرائن تدل علی صحۃ صدورہ، وھذا عندھم بغض النظر عن وثاقۃ رواۃ السند.أما المتأخرون فھم لا يرون الحديث صحيحاً إلا إذا ثبت عندھم وثاقۃ رواتہ بالخصوص7

امامیہ کے ہاں تصحیح و تضعیف کے دو مطلب ہیں ،پہلا مطلب متقدمین ،جیسے شیخ کلینی اور ان کے ہم عصر و ہم طبقہ محدثین کے ہاں ہے ،دوسرا مفہوم متاخرین یعنی علامہ حلی اور ان کے ہم طبق محدثین کے ہاں ہے ،متقدمین کے نزدیک صحیح کا مطلب حدیث کو قبول کرنا اور اس پر ایسے قرائن کی وجہ سے عمل کرنا ،جو اس کے صدور کی صحت پر دلالت کرے ،اور متقدمین رواۃ کی توثیق سے صرف نظر کرتے تھے ،جبکہ متاخرین رواۃ کی توثیق کے بغیر کسی روایت کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسے قرائن ہیں ،جن کی بنیاد پر قدماء محدثین کسی حدیث کو صحیح قرار دیتے تھے ،تو معروف شیعہ محقق محمد بن حسین بہائی نے اپنی کتاب "مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین " میں درجہ ذیل قرائن لکھے ہیں:

1۔حدیث کا اصول اربعمائۃ میں پایا جانا (اصول اربعمائۃ کی حقیقت و استنادی حیثیت و ثبوت پر ہم ماقبل میں مفصلا بحث کرچکے ہیں )۔

2۔حدیث کا ایک یا ایک سے زیادہ اصول میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہونا (یہ وجہ مستقل وجہ نہیں ،بلکہ پچھلی وجہ ہی کی توسیع ہے۔فافہم(

3۔حدیث کا ان حضرات کی کتب میں پایا جانا ،جن کی تصدیق پر اجماع ہے ،جیسے زرارۃ،محمد بن مسلم فضل بن یسار وغیرہ

4۔حدیث کا ان کتب میں سے کسی کتاب میں پایا جانا ،جو ائمہ معصومین پر پیش کئے جاچکے ہیں ،جیسے عبید اللہ حلبی کی کتاب ،جو امام صادق پر پیش کی جاچکی ہے ،یونس بن عبد الرحمان کی کتاب ،جو امام عسکری پر پیش کی جاچکی ہے ۔

5۔حدیث کا ان کتب میں پایا جانا ،جو سلف میں معروف تھیں خواہ اس کے مصنفین امامی شیعہ ہوں جیسے حریز بن عبد اللہ اور علی بن مھزیار کی کتب یا ان کے مصنفین امامی شیعہ نہ ہوں ،جیسےحفص بن غیا ث اور حسین بن عبد اللہ کی کتب 8

اسی قسم کے قرائن معروف شیعہ محقق محمد جواد کاظم نے اپنی کتاب"المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ "میں ذکر کی ہیں ۔9

ان قرائن سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کے متقدمین اور بنیادی حدیثی ذخیرے (الکافی،من لا یحضرہ الفقیہ، الاستبصار اور تہذیب الاحکام ) کے مصنفین کے نزدیک حدیث کی صحت میں رجال ،اسناد ،قواعد ِجرح و تعدیل، اتصال و ارسال کی بجائے اصل بنیاد حدیث کا اصول اربعمائۃ یا ان سے پہلے علمائے شیعہ کی لکھی گئی کسی بھی کتاب میں پایا جا نا،اب ان کتب سے ائمہ معصومین تک حدیث میں کتنے رواۃ کا واسطہ آتا ہے ؟واسطے متصل ہیں یا منقطع ؟ یہ رواۃ قواعد جرح و تعدیل کے اعتبار سے کس معیار پر تھے ؟ان کتب کے مخطوطات کتب اربعہ کے مصنفین تک کیسے پہنچے ؟ ان سب علمی مباحث سے اہل تشیع کے قدماء نے صرف ِنظر کرتے ہوئے ایک ہی بنیاد کو معیار مانا کہ چونکہ یہ حدیث معتبر اصول و کتب میں منقول ہے ،اس لئے یہ حدیث کی صحت کے لئے مضبوط قرینہ ہے،یوں ان احادیث کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے مصادر میں انہیں جگہ دی ۔

اب سوال یہ ہے کہ قدماء کے نزدیک جو احادیث صحیح تھیں اور انہوں نے ان احادیث کو اپنی کتب خاص طور پر کتب اربعہ میں جگہ دی ،ان احادیث کا سندو رجال کے اعتبار سے کیا مقام ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں قدماء کے منہج کے مطابق صحیح روایات کا متاخرین کے منہج کے مطابق صحت کا کیا مقام ہے ؟ تو اہل تشیع کے بقول اگر قدماء کی نظر میں صحیح احادیث کو متاخرین کی اصطلاح کے مطابق رجال و اسناد(یعنی متاخرین کے علم الدرایہ ) کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو کتب اربعہ کی اکثر احادیث ضعیف ثابت ہونگی۔

شیخ جعفر سبحانی لکھتے ہیں :

"وقد جری رئیس المحدثین محمد بن بابویہ قدس سرہ علی متعارف المتقدمین فی اطلاق الصحیح علی ما یرکن الیہ و یعتمد فحکم بصحۃ جمیع ما اوردہ من الاحادیث فی کتاب من لایحضرہ الفقیہ ،و ذکر انہ استخرجھا من کتب مشہورۃ علیھا المعول و الیھا المرجع ،وکثیر من تلک الاحادیث بمعزل عن الاندراج فی الصحیح علی اصطلاح المتاخرین ،ومنخرط فی سلک الحسان و الموثقات بل الضعاف "10

رئیس المحدثین ابن بابویہ قمی نے متقدمین کےعرف کے مطابق انہی احادیث کو صحیح سمجھا ،جن کی طرف دلی میلان ہو اور وہ کسی بھی وجہ سے معتمد ہوں ،اس لئے اپنی کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں مذکور جملہ احادیث کو صحیح قرار دیا کہ انہوں نے یہ احادیث ان کتب سے لی ہیں ،جو معتمد و مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں ،لیکن من لا یحضرہ الفقیہ کی اکثر احادیث متاخرین کی اصطلاح کے مطابق صحیح کی درجہ بندی میں نہیں آتیں ، حسن موثق بلکہ ضعیف کی درجہ بندی میں آتی ہیں ۔

شیعہ محقق رضا ہمدانی شیعہ کتب اربعہ میں مذکور روایات کے رواۃ سے متعلق لکھتے ہیں :

"فلا یکاد توجد روایۃ یمکننا اثبات عدالۃ رواتھا علی التحقیق ۔۔۔۔۔و لاجل ما تقدمت الاشارۃ الیہ جرت سیرتی علی ترک الفحص عن حال الرجال ،والاکتفاء فی توصیف الروایۃ بالصحۃ کونھا موصوفۃ بھا فی السنۃ مشائخنا المتقدمین "11

ترجمہ :کوئی ایسی روایت بڑی مشکل سے ملے گی ،جس کے رواۃ کی عدالت تحقیقی طور پر ثابت ہو ۔۔۔اسی وجہ سے میرا طرز یہ ہے کہ رجال کے احوال سے متعلق چھان بین نہیں کرتا ،صرف مشائخ متقدمین کی زبان ان کو صحیح کہنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔

ماقبل میں ہم معروف شیعہ محدث حر عاملی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ علوم مصطلح الحدیث کے قواعد پر اگر کتب اربعہ کی روایات کو پرکھا جائے تو اکثر یا سب کی سب احادیث ضعیف ثابت ہونگی ۔

اسی وجہ سے اخباریوں نے متاخرین کے منہج کو "ہدم الدین "یعنی دین کی بنیادوں کو مٹا دینے اور گرادینے کے مترادف قرار دیا ،چنانچہ معروف اخباری شیعہ عالم محمد امین استرابادی لکھتے ہیں :

"و بالجملۃ، وقع تخريب الدين مرتين مرۃ يوم توفي النبي صلی اللہ عليہ وآلہ و مرۃ يوم أجريت القواعد الأصوليۃ –العامۃ- و الاصطلاحات التي ذكرتھا العامۃ في الكتب الأصوليۃ و في كتب درايۃ الحديث في أحكامنا و أحاديثنا"12

ترجمہ :خلاصہ یہ کہ دین کی تخریب دو موقعوں پر ہوئی ،ایک اس دن جب نبی پاک ﷺ کی وفات ہوئی (اور خلافت حضرت علی کی بجائے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی) دوسرا اس دن ،جب اہلسنت کی اصطلاحات اور ان کے قواعد اصولیہ کو ہمارے احکام و احادیث میں جاری کرنے کا عمل شروع ہوا۔

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جن اہل تشیع اہل علم نے متاخرین کے منہج کے مطابق الکافی کی صحیح و ضعیف احادیث کی تنقیح کی ہے ،تو الکافی کے دو ثلث ضعیف ثابت ہوئے ہیں ،معروف شیعہ عالم مرتضی عسکری اپنی کتاب "معالم المدرستین " میں لکھتے ہیں:

وان اقدم الكتب الأربعۃ زماناً، وأنبھھا ذكراً، وأكثرھا شھرۃ ھوكتاب الكافي للشيخ الكليني وقد ذكر المحدثون بمدرسۃ أھل البيت فيھا (9485) حديثاً ضعيفاً من مجموع (16121) حديثاً13

ترجمہ :کتب اربعہ میں زمانے کے اعتبار سے قدیم ترین کے کتاب ،زیادہ آہنگ کے ساتھ علمی حلقوں میں مذکور کتاب اور سب سے مشہور ترین کتاب الکافی ہے ،اور مدرسہ اہل بیت کے محدثین (شیعی محدثین (نے اس کتاب کی 16121 احادیث میں سے 9485 احادیث (یعنی دو ثلث ) کو ضعیف قرار دیا ہے۔

معاصر شیعہ محقق باقر بہبودی نے جب الکافی کی صحیح احادیث پر تحقیق کی تو ضعیف احادیث کی تعداد اس سے کہیں زیادہ نکلی ،چنانچہ مرتضی عسکری لکھتے ہیں:

" وقد ألف أحد الباحثين – وھو محمد باقر البھبودي - في عصرنا صحيح الكافي واعتبر من مجموع (16121) حديثاً من أحاديث الكافي (4428) صحيحاً، وترك (11693) حديثاً منھا لم يرھا حسب اجتھادہ صحيحۃ 14

’’ایک معاصر محقق محمد باقر بھبودی نے صحیح الکافی لکھی ہے ،اور انہوں نے 16121 احادیث میں سے صرف 4428 احادیث کو صحیح قرار دیا ،اور 11963 احادیث کو اپنے اجتہاد کے مطابق ضعیف قرار دیا۔

جب سب سے صحیح ،سب سے مشہور اور سب سے زیادہ مرجعیت کی حامل کتاب الکافی کے دو ثلث ضعیف احادیث پر مشتمل ہیں ،تو بقیہ کتب کا صحت و ضعف کے اعتبار سے کیا حال ہوگا ؟اہل علم پر مخفی نہیں ۔


حوالہ جات

    1. اصول الحدیث و احکامہ فی درایۃ الحدیث ،جعفر سبحانی ،ص 43

    2. زین الدین حسن عاملی ،منتقی الجمان،ج1،ص14،15

    3. المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،محمد جواد کاظم ،ص46

    4. الرسائل الرجالیہ ،محمد بن محمد کلباسی ،ج1،ص250،

    5. حاوی الاقوال ،عبد النبی جزائری ،ج1،ص100

    6. مقباس الھدایہ ،عبد اللہ مامقانی ،ج1،ص139

    7. http://www.aqaed.com/faq/3442

    8. مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین ، بہاء الدین محمد بن حسین عاملی ،مجمع البحوث الاسلامیہ ،مشہد ،ص26 تا 30

    9. المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،دار الرافدین ،بیروت ،ص 79 تا 84

    10.  ایضا:ص45

    11.  مصباح الفقیہ ،رضا ہمدانی ،ج1،ص12

    12.  الفوائد المدنیہ ،محمد امین استرابادی ،قم مقدسہ ،ص 368

    13.  معالم المدرستین ،مرتضی عسکری ،مرکز الطباعۃ والنشر للمجمع العالمی لاہل البیت ،ج3،ص343

    14.  ایضا :ج3،ص344

(جاری)

فکرِاسلامی کی تشکیلِ جدید

خورشید احمد ندیم

  (یہ مضمون میرے کالموں کے مجموعے ”متبادل بیانیہ “ کے نئے ایڈیشن میں بطور مقدمہ شامل ہے۔مقصودیہ تھاکہ کالموں کی صورت  میں لکھی گئی متفرق تحریوں میں موجودفکری وحدت اور نظم کو واضح کیا جائے۔تاہم اس تحریر کی اپنی منفرد حیثیت بھی ہے،اس لیے اس  کی الگ سے اشاعت ومطالعہ،میرے نزدیک فائدے سے خالی نہیں۔)

فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید اب ناگزیر ہو چکی۔

یہ مقدمہ چند علمی، فکری اور تاریخی اساسات پرقائم ہے۔

قبائلی معاشرت سے انسان نے جس اجتماعی زندگی کا آغاز کیا تھا، ارتقائی مراحل سے گزرتی ہوئی، اب وہ اکیسویںصدی میں داخل ہو چکی۔یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کسی لمحے مصنوعی ذھانت،انسانی ذھانت کو چیلنج کر سکتی ہے۔کھیل دلچسپ مرحلے میں ہے جو حتمی بھی ہو سکتاہے۔انسان کی خطر پسند طبیعت نے اس چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔ساتھ ہی انسان یہ بھی چاہتاہے کہ آخری فیصلے کا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے۔درپیش چیلنج وجودی بھی ہے اور تہذیبی بھی۔مسلم معاشرے اس سفر میں ترقی یافتہ معاشروں کے ہم سفر دکھائی نہیں دیتے۔

یہ مرحلہ انسان کی علمی و فکری جد وجہد کا ایک پڑاؤہے۔ یوں اس کایہ سفر عمرِرائیگاں کا نوحہ نہیں ہے۔ انسان نے اس دوران میں بہت کچھ سیکھا۔تجربات کی ناکامیوں اورکامیابیوں نے اسے ایک راہ دکھائی۔ فکر و نظر کی دنیا میں ایک ہنگامہ ہمہ وقت جاری ہے۔نئے افکار وجود میں آتے اور ایک زمانے کی صورت گری کررہے ہیں۔اس کا تازہ ترین مظہر عالمگیریت ہے۔ یہ معیشت، سیاست، معاشرت، سب کو محیط ہے۔

 ارتقا کے اس سفر میں انسان کو دیکھنے کے لیے دو آنکھیں میسر رہیں۔ ایک الہام اور دوسری ا انسانی عقل۔ یہ دو آنکھیں دو روایات کی صورت میں آگے بڑھیں۔ ایک کو ہم مذہبی روایت کہتے ہیں اور دوسری کو عقلی۔ ان دو روایات نے دو مختلف تصوراتِ زندگی (world views) کو جنم دیا۔ ایک روایت اس مقدمے پر کھڑی ہے کہ ہمیں راہنمائی کے لیے آسمان کی طرف دیکھنا ہے۔خدا کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت ہمارے لیے مشعل ِراہ ہے۔ دوسری روایت یہ کہتی ہے کہ عقل ہی چراغِ راہ ہے۔ اسی کی روشنی میںطے ہو گا کہ ہمارا اگلا قدم کیا ہو گا۔ فلسفہ اور علم کی سطح پر دونوں نے اپنے اپنے دلائل مرتب کیے۔ کہنے کویہ دونوں ایک دوسرے سے بے نیاز ہیںلیکن عملا ً یہ بے نیازی ممکن نہیں ہو سکی۔

مذہبی روایت پر یہ حکم لگانا کہ وہ عقل و خرد سے بے گانہ ہو کر آگے بڑھتی رہی ہے،درست نہیں ہے۔ اسی طرح عقلی روایت کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے مذہبی روایت سے کوئی اثر قبول نہیںکیا۔ مذہب کی روایت کو اہلِ علم کے ایک طبقے نے عقل کے قائم کردہ معیارات سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی۔ اسی طرح عقل نے جس سماجی تجربے کو اساس مانا، اس کے اجزائے ترکیبی میں مذہب شامل رہا ہے۔ یہ معلوم ہے کہ مذہب ہر دور کی ایک اہم سماجی حقیقت رہی ہے۔عقلی منہج سماجی تجربے کو موضوعی(subjective) مانتا ہے۔گویا اس کے مقدمات آفاقی نہیں ہیں۔دوسری طرف مذہبی روایت، الہامی ہدایت کو آفاقی مانتی ہے لیکن اس کی تفہیم کوموضوعی۔ اب اگردونوں میں کوئی فرق ہے تو بس اتنا کہ جہاں الہام اور عقل کے فیصلے میںتضاد محسوس ہوا، اہلِ مذہب نے الہام کو ترجیح دی اور غیر مذہبی روایت نے عقل کو۔

 اس ارتقائی سفر میں ، انسان نے جو آر اختیار کیں،ان میں اس کے تجربات کی حیثیت بنیادی تھی اور یہ فطری ہے۔ الہام و عقل کی اس کشمکش میں، تاریخی حوالے سے آخری فیصلہ کن موڑ ،رسالت مآب سیدنا محمدﷺکی بعثت ہے۔ آپ کی تشریف آوری سے مذہب کی روایت حتمی صورت میں متشکل ہو گئی۔ ابتدا میںسر زمین عرب اس کا مرکزبنی۔ تدریجاً اس نے عالمگیر حیثیت اختیار کر لی۔

وہ علاقے جنہیں ہم جدید یورپ کہتے ہیں، ان کے پاس عقلی روایت موجود تھی اور ساتھ الہامی بھی۔ تاہم اس الہامی روایت نے خود کو اس مذہبی تجربے سے الگ رکھا جو عرب میں مشہود ہو چکا تھا۔یورپ کی الہامی ہدایت مسیحی تھی۔ سیدنا مسیحؑ کا تعلق اگرچہ سرزمینِ فلسطین سے تھا لیکن آپ سے منسوب مذہبی روایت کو عالمگیر حیثیت اُس وقت ملی جب سلطنتِ روم نے مسیحیت کو قبول کر لیا۔ یہ واقعہ حضرت مسیحؑ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد پیش آیا۔بائیبل آپ کا ورثہ ہے مگرمسیحیت اُن عقائد و افکار کا نام قرار پائی جسے سینٹ پال نے اپنی سند سے مسیحیت قرار دیا۔  مسیحیت نے کلیسا کے ایک ادارے کو جنم دیا، جس نے خدا اور بندے کے درمیان ایک واسطے کی حیثیت اختیار کر لی۔ مذہب کی یہ تفہیم خود مذہب کی روح سے ہم آہنگ نہیں تھی جوبندے اور خدا کے درمیان موجود حجابات اور واسطوںکو ختم کر دیتا ہے۔پیغمبر،خدا اور بندے کے مابین واسطہ نہیں، بلکہ راہِ حق کے مسافر کا راہنما ہے۔بائیبل اس باب میں پوری طرح واضح ہے۔

یورپ میں جب مذہب کے معاملات کلیسا کے ہاتھ میں مرتکزہو گئے اور بندے اور خدا کا براہ راست تعلق ختم ہو گیا تو الہام پر کلیسا کی حکمرانی قائم ہو گئی۔الہامی روایت انسان کی فکری حکمرانی کوقبول نہیں کرتی۔اس روایت میں پیغمبر اپنی شخصی حیثیت میں نہیں ،خدا کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کلام کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی شخصی وجاہت بھی مسلم ہوتی ہے۔ وہ لوگوں پر پوری دیانت سے یہ واضح کرتا ہے کہ یہ بات میں خدا کی طرف سے کہہ رہا ہوں اور یہ میں اپنی طرف سے ۔ تم اُس کے پابند ہو جو میں خدا کی طرف سے پیش کروں۔ یورپ میں جب اہلِ کلیسا نے اس روایت سے منحرف ہوتے ہوئے،اصرار کیا کہ مذہب کے نام پر انسان اپنے جیسے لوگوں کی حاکمیت کو تسلیم کر لیں تو انسانی فطرت نے اس سے ِابا کیا ۔ ایک بڑے طبقے نے بندے اور خدا کے مابین انسانی واسطے کو قبول کرنے سے انکار کر  دیا۔

الہام کا متبادل ظاہر ہے انسانی عقل ہی ہو سکتی ہے۔عقل پر مبنی ایک علمی روایت ، یونان سے یورپی تجربے کا حصہ بنی جو افلاطون و ارسطو وغیرہ سے منسوب ہے۔ اب ایک طرف کلیسا کی حاکمیت کو چیلنج کرتے ہوئے ،خدا اور بندے کے براہِ راست تعلق کو زندہ کرنے کی بات کی جانے لگی اور دوسری طرف ،کم ازکم اجتماعی معاملات میں،الہام ہی کو ماخذ علم ماننے سے انکار کا علم بلند ہو گیا۔ اعلان کیا گیا کہ عقل جیسے چراغِ راہ کی موجودگی میں انسان کو کسی الہام کی حاجت نہیں۔ یورپ میں جاری یہ کشمکش اس اتفاقِ رائے پر منتج ہوئی کہ اگر کوئی مذہب کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو انفرادی زندگی میں وہ اس پر عمل کرنے میں پوری طرح آزاد اور خود مختار ہے۔ رہے سیاست و معاشرت کے معاملات تو انہیں انسانی عقل پر چھوڑ دیا جائے۔ کلیسا نے بھی اس مقدمے سے اتفاق کرلیا۔

کلیسا کی اس سرافگندگی کاایک سبب اور بھی تھا۔عقل کی حاکمیت قائم ہوئی توطبیعات، مابعد الطبیعات سے الگ ہوگئی۔انسان نے کائنات میں کارفرما قوانین کو دریافت کرنا شروع کیا۔انسان کے تجربی علم(Empirical Knowledge) نے جن حقائق کی طرف اس کی راہنمائی کی،وہ کلیسا کے قائم کردہ تصورات سے مختلف بلکہ ان سے متضاد تھے۔اب اہلِ مذہب نے سائنسی اندازِ نظر پر اپنی برتری کو جبر سے قائم کر نا چاہا۔جبر کی حاکمیت چو نکہ غیر فطری ہے،اس لیے اس معاملے میں مذہب کو شکست کا سامنا کرناپڑا۔ یہاں یورپ کی تاریخ کے ایک اور پہلو کوبھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔وہاں سیاسی قوت کی ایک تثلیث سامنے آئی جس میں کلیسا،بادشاہ اور جاگیردار شامل تھے۔اس میں حاکمیت کلیسا کے ہاتھ میں تھی جہاں سے بادشاہ کی تعیناتی کے فرمان جاری ہوتے تھے۔یوں معاشرہ بحیثیت مجموعی کلیسا کی گرفت میں تھا۔جب اس تثلیث کے خلاف عوامی اضطراب پیدا ہوا تو کلیسا اس کا اصل ہدف بن گیا۔

 یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس دوران میں،یورپ کے اہل مذہب نے اُس مذہبی تجربے سے استفادے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جو جزیرہ نمائے عرب میں ،کامیابی کے ساتھ انسانی زندگی کی صورت گری کرنے کے چند عشروں بعد ،یورپ کے دروازوں پر دستک دے چکا تھا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ نے مسلم سلطنت کو ایک نئی ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کے طور پر دیکھا اور اسلام کو ایک متحارب مذہبی قوت سمجھا ۔ یہ رویہ اسلام کی بطورمذہب تفہیم کے راستے میں حائل ہو گیا۔ یہی سبب ہے کہ یورپ کی مذہبی روایت کو یہودی و مسیحی تہذیبی ورثے (Judeo-Christian Civilization) تک محدود کردیا گیا اور یوں وہ دروازہ بند ہو گیا جواسلام کی شمولیت کے ساتھ، مذہبی روایت میں ایک تاریخی تسلسل کو برقرار رکھ سکتا تھا۔

دوسری طرف مسلم معاشرے میں،الہام کی بنیاد پرفروغ پانے والی علمی روایت نے دوسرے افکار کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کیے۔ اس کا ایک سبب فتوحات کاتسلسل اور اہل اسلام کے سیاسی تسلط کی توسیع بھی تھا۔ اس تاریخی عمل نے مسلمانوں کو یونان کی عقلی روایت سے بھی متعارف کرایا۔ یوں مسلم معاشرے میں ماخذِ علم کی بحث ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔ یہ بحث دو دائروں میں آگے بڑھی۔ ایک دائرے میں الہام کو اصل الاصول مانا گیا اور عقل کو ایک ثانوی ماخذ کے طور پر قبول کیا گیا۔ دوسرے دائرے میں عقل اور وحی کو یکساں درجہ دیتے ہوئے ، وحی کو عقل کی روشنی میں سمجھا گیا۔ اب اس بحث میں جس ذہنی سطح کے لوگ شامل ہوئے، اس کا علمی معیار بھی اسی طرح متعین ہوا۔ معاملہ جب غزالی اور ابن رشد جیسی شخصیات کے مابین تھا تو اس کی علمی سطح بلند رہی۔ جب یہ کم درجے کے افراد کے ہاتھوں میں آئی تو ظاہر ہے اس کا معیار برقرار نہیں رہا۔

علومِ اسلامی کے باب میں جو روایت آگے بڑھی ، اس پر بھی ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے اثرات ہیں۔ تفسیر میں ایک طرف تفسیرِ ماثور کی روایت ہے اور دوسری طرف ہمیں کلامی تفاسیر بھی ملتی ہیں۔ یہی معاملہ علمِ حدیث اور اجتہاد و فقہ کے ساتھ بھی ہوا۔ علمِ حدیث میں روایت ہی نہیں، درایت کو بھی اہمیت ملی۔ فقہ میں جہاں اصحاب الحدیث سامنے آئے وہاں اصحاب الرائے نے ایک مستقل بالذات فقہی مکتب کو جنم دیا۔

 اسی دوران میں مسلم سلطنت ایک بڑی سیاسی تبدیلی سے دوچار ہوئی۔ داخلی اور خارجی مسائل نے اس کی سیاسی وحدت کو منتشر کیا تو اس کے تمام سماجی ادارے زوال کا شکار ہوئے۔ اس کے نتیجے میں علمی روایت جمود کا شکار ہوئی۔مسلم سپین میں اگر چہ ہمیں زندگی کے آثار دکھائی دیتے ہیں لیکن ایک محدود وقت تک۔دوسری طرف سیاسی شکست و ریخت کا یہ عمل غیر مسلم دنیا میں بھی جاری تھا۔جب مسلم دنیا میں زوال آیا تو یورپ وغیرہ میں عروج ہوا۔ مسلم دنیا کا بڑا حصہ اہل مغرب کے سیاسی تسلط کی نذر ہو گیا۔ مغرب جس تہذیبی روایت کو لے کر آگے بڑھ رہا تھا، اس میں امورِ دنیا پر عقل کی حاکمیت کو تسلیم کیا جا چکا تھا اور مذہب کو انفرادی دائرے تک محدود کر دیا گیاتھا۔

بیسویں صدی میں انسانی تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔ دنیا سلطنتوں کے عہد سے نکل کر قومی ریاستوں کے دور میں داخل ہو گئی۔ سلطنتیں ٹوٹنا شروع ہوئیں تو ان کے زیر تسلط علاقے آزاد ہونے لگے۔ ان میں مسلم اکثریتی علاقے بھی شامل تھے۔ مسلم علاقوں میں اٹھنے والی آزادی کی تحریکیں دو فکری دھاروں کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ایک وہ جو قومیت کے مروجہ تصور کی حامی تھیں اور جغرافی یا نسلی اساس پر منظم تھیں۔ دوسری وہ جنہیں ہم اسلامی تحریکیں کہتے ہیں۔جنہوں نے قومیت کو اساس مانا انہوں نے سیکولر بنیادوں پر سیاسی تحریکیں اٹھائیں۔ اسلامی تحریکوں نے خود کو امتِ مسلمہ کے تصور کا نقیب بنایا اور امت کی نشاةِثانیہ کا عَلم بلند کیا۔ ان تحریکوں نے خود کو ماضی کے تسلسل میں پیش کیا اور یہ تاثر دیا کہ وہ اُس جنت گم گشتہ کی بازیافت چاہتے ہیں جو کبھی خلافت کے عنوان سے اس زمین پرآباد تھی۔

  اس تصور کو عصری سیاسی حقائق سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت تھی۔ خلافت کا تصور ایک عالمگیر سلطنت کے تناظر میں پیدا ہوا اور جدید دور قومی ریاستوںکا دور تھا۔ ان تحریکوں نے خلافت کے تصور کو جدید قومی ریاست کا پیرہن دیتے ہوئے اسلامی ریاست کا تصور دیا۔ اِنہوں نے اگرچہ ایک عالمگیر ریاست ہی کو آخری منزل قرار دیا لیکن اس کا آغاز ایک قومی ریاست کی اسلامی تشکیل سے کیا۔ اسی دور میں چونکہ اشتراکیت بھی ایک عالمگیرنظریاتی ریاست ہی کا تصور پیش کر رہی تھی، اس لیے جو نظریاتی کشمکش برپا ہوئی وہ اسلامی تصور ِریاست اور اشتراکی تصور ریاست ہی میں ہوئی۔ مسلم دنیا میں بھی چونکہ اشتراکی تحریکیں کام کر رہی تھیں، اس لیے مسلمان معاشروں میں بھی ایک نظریاتی کشمکش برپا ہو گئی۔  اس نئی صورت حال نے مسلم دنیا میں ایک فکری انتشار کو جنم دیا۔ مسلمان جس نفسیاتی کیفیت میں زندہ تھے وہ عظمتِ رفتہ کے احساس سے عبارت تھی ۔ مشرقِ وسطیٰ سے برصغیر تک، کہیں خلافت عثمانیہ کا ماتم تھا اور کہیں مغل سلطنت کا۔ مسلمانوں کے قومی لٹریچر میں اسی کا رونا تھا اور مسلمانوں میں بیداری کے لیے شاندار ماضی کو مہمیز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں اسلام مذہب سے زیادہ ایک سیاسی قوت کا حوالہ تھا جو اہل ِاسلام سے چھن گئی تھی۔ اسلامی تحریکوں کی فکری قیادت نے بھی جو تعبیر دین پیش کی ، اس میں بتایا گیا کہ اسلام مذہب نہیں، دین ہے اور دین سٹیٹ کے ہم معنی ہے۔ اس تصور کے مطابق اسلامی ریاست کا مقام اور اس کے لیے جد و جہد دینی فریضہ قرار پایا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسلمان معاشرے کی غالب فکر بن گئی۔

مغرب میں تجربات کے بعد فی الجملہ فکری یک سوئی پیدا ہو گئی۔مذہب کو فرد تک محدود کر دینے کے بعد دنیاوی معاملات کو انسانی عقل پر چھوڑ دیا گیا اور اجتماعی دانش کے ہاتھ میں انسان کی باگ تھما دی گئی۔اس دانش نے سرمایہ دارانہ نظام کو قبول کر لیا، جس کی اساس لبرل ازم پر تھی۔ اس میں انسان کو ایک آزاد فرد مان کر، اسے صرف ان حدود کا پابند بنایا گیا جن کا تعین انسانی عقل کرے گی۔ لبرل جمہوریت، کھلی منڈی کی معیشت وغیرہ اسی کے مظاہر ہیں۔  مسلم دنیا میں فکری یک سوئی پید ا نہ ہو سکی۔ مغرب نے مذہب کے سماجی کردار کو جس آسانی سے متعین کر دیا، مسلمان معاشرہ نہ کر سکا۔ اس کا ایک تاریخی سبب ہے جو بہت اہم ہے۔ مغرب میں جو مذہبی روایت موجود تھی ، اس کا آخری مظہر سیدنا مسیحؑ کی شخصیت ہے۔ سیدنا مسیحؑ کا ورثہ سیاسی اقتدار نہیں، اخلاقی تعلیمات تھیں۔ حضرت مسیحؑ کی حیثیت بنی اسرائیل کے مجدد کی ہے۔بنی اسرائیل کو سیاسی اقتدار تو مل گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ،مذہب کا جوہر ان سے کھو گیا تھا۔ یہ انسان کے اخلاقی وجود کے تزکیے کا پیغام تھا جو انسانوں کو ”خدا کی بادشاہی“ کا مستحق بناتا ہے۔ انبیاءکے بعد بنی اسرائیل کی قیادت جب علما اور فریسیوں کے ہاتھ میں آئی تو انہوں نے مذہب کے ظاہری لبادے پر اصرار کیا اور مذہب کے فقہی یا قانونی پہلو ہی کو بطور دین پیش کیا۔ بنی اسرائیل کو اب اس بات کی ضرورت تھی کہ کوئی انہیں مذہب کے جوہر کی طرف متوجہ کرے۔ سیدنا مسیحؑ اصلاً اسی لیے تشریف لائے ۔ حضرت مسیح ؑنے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف آئے ہیں۔ وہ تورات کو منسوخ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ اسی کو برقرار رکھتے ہوئے ، جس میں قانونِ الٰہی اور شریعت کا بیان تھا، اخلاقی پہلو کو نمایاں کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے جو دین میں اصلاً مطلوب ہے۔ انجیل جسے عہد نامہ جدید کہتے ہیں،اسی لیے تمام تر اخلاقی تعلیمات پر مبنی ہے۔ یہ معلوم ہے کہ سیدنا مسیحؑ کو یہود نے بزعم خویش جوانی میں مصلوب کر دیا اور اس وقت چندافرادہی ان پر ایمان لائے تھے۔ بعد کے ادوار میں سینٹ پال کو مسیحیت کا نمائندہ اور مجتہد مان لیا گیا اور انہوں نے شریعت کی پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ گویا مسیحیت کے ورثے میں وہ کچھ موجود ہی نہیں تھا، جو قانون یا نظمِ اجتماعی کا ماخذ بنتا۔ دوسرا یہ کہ مسیحی نفسیات میں مذہبی اعتبار سے کسی ”نشاةِثانیہ“ کا کوئی تصور بھی موجود نہیں تھا۔ یوں مذہب کو نجی زندگی تک محدود کرنا، مغرب کے لیے ایک بڑا مسئلہ نہیں بنا۔ مذہب ایک اخلاقی روایت کے طور پر ان کے پاس موجود تھا اور موجود رہا۔       

اس فکری یک سوئی نے مغرب میں ایک علمی انقلاب کی بنیاد رکھ دی۔کلیسا کے اثرات سے نکل کر،مغرب میں طبعی اور سماجی علوم میں ایک انقلابِ عظیم بر پا ہوا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے بعد انسان نے کائنات کے ان اسرار ورموز کو جانا جو صدیوں سے پردہ اخفا میں تھے۔اس نے انسانی تہذیب کی کایا پلٹ دی اور سماجی علوم کی ایک نئی اور حیران کن دنیا وجود میں آئی۔یہ انقلاب اتنا ہمہ گیر ہے کہ اس کے اثرات سے بچنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔

 مسلمان معاشروں میں یہ یک سوئی اس لیے پیدا نہیں ہو ئی کہ ان کے لیے مذہب اور اقتدار کو الگ کرنا ممکن نہ ہوسکا۔اس کی وجہ مسلمانوںکا تاریخی تجربہ ہے ۔وہ جس مذہبی ورثے کے حامل ہیں، اس میں دونوںیک جا ہیں۔ اﷲ کے آخری رسولﷺ حاکمِ وقت بھی تھے اور ان کا ورثہ محض مذہب نہیں، ایک ریاست بھی ہے۔ چونکہ یہ ریاست ان کی حیاتِ طیبہ میں وجود میں آ چکی تھی، اس لیے مذہب کی تعلیمات ریاست کے معاملات کو بھی محیط تھیں۔ مسلم نفسیات کے لیے یہ آسان نہیں ہے کہ وہ سیدنا محمدﷺ کی حیثیت بطور رسول اور بطور حکمران الگ کر سکے۔ گویا ریاست و سیاست کے معاملات دینی ورثے کا حصہ تھے اور تاریخی ورثے کا بھی۔

تاریخ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہب وسیاست کی یہ یک جائی،مسلمانوں میں فرقہ واریت کی بنیاد بن گئی۔مسلمانوں میں پہلا اختلاف رسالت مآبﷺ کی سیاسی جانشینی پر ہوا۔دوسرا بڑا اختلاف سیدنا عثمانؓ کے عہد میں ہو جب ان کے خلاف ایک بڑی شورش برپا ہوگئی۔تیسرااختلاف سیدنا عثمانؓ کی جانشینی کے مسئلے پر سامنے آیا۔ ان حادثات نے مسلمانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا،جنہیں بعد میں اہل سنت الجماعت،شیعہ اور خوارج کہا گیا۔ ابتدا میں ان مسائل کوسیاسی ہی سمجھا گیا۔بعد کے ادوار میں، جب باقاعدہ گروہ وجود میں آئے توہر گروہ نے ،مسلم نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے،پنے سیاسی موقف کے حق میں ایک دینی استدلال اختیار کر لیا۔

سیاست چونکہ مسلمانوں کے مذہبی تجربے کا حصہ تھی،اس لیے ہر گروہ کو صدرِ اوّل سے ایسا مواد میسر آگیا جسے،اُس نے اپنے حق میں مذہبی استدلال کے طور پر پیش کیا۔مثال کے طورپر اللہ کے رسولﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں سیدنا ابوبکرصدیقؓ کو نماز کی امامت کے لیے کہا ۔اہلِ سنت والجماعت نے اسے خلافتِ ابوبکرؓ کے حق میں مذہبی دلیل بنا کر پیش کیا کیونکہ یہ ایک پیغمبر کا ارشاد تھا اور قولِ پیغمبرایک دینی حجت ہے۔دوسری طرف اہلِ تشیع نے اس روایت کو اختیار کر لیاکہ غدیر میں اللہ کے رسولﷺ نے سیدنا علیؓ کو ’مولیٰ‘ کہا اور یہ ان کی خلافت کے حق میں نصِ قطعی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی دنوں میں جب یہ اختلاف پیدا ہوا،کسی نے اپنے حق میں ان نصوص کو پیش نہیں کیا۔یہ واقعات اُس وقت دینی استدلال کی بنیاد بنے جب باقاعدہ فرقہ سازی ہوئی۔  اسی تاریخی تجربے کے زیرِ اثر،مسلم دنیامیں تفہیمِ دین اور علم کی جو روایت وجود میں آئی،وہ یہی سیاسی غلبے کی نفسیات ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار کھونے کے بعد،عظمتِ گم گشتہ کی بازیافت مسلمانوں کا اجتماعی نصب العین بن گیا۔ شاعروں نے اس کی بنیاد پر جذبات میں طوفان برپا کیا اور علما نے اس کے لیے عقلی اور فقہی استدلال پیش کیا۔

اس فکر کا ناگزیر نتیجہ یہ تھا کہ ایک اسلامی ریاست کی تشکیل اہلِ اسلام کی سعی وجہد کا مرکزبن جائے۔ایسا ہی ہوا۔ اس نفسیات کے ساتھ دین کو سمجھا گیا۔ تاریخ کا تجزیہ کیا گیا اور غیر مسلم دنیا کے بارے میں رائے قائم کی گئی۔مثال کے طور پر ابتدا میں دنیا کو’ دارالاسلام‘ اور’ دارالحرب‘ میں تقسیم کیا گیا۔بیسویں صدی میں اسی تقسیم کو اسلام اور جاہلیت کے عنوانات کے ساتھ بیان کیا گیا۔خود مسلم سماج کے اندر سیاست اور قیادت کی تبدیلی دین کا مقصد قرار پائی۔ یہ تعبیر اختیار کی گئی کہ اسلام دراصل ایک ریاست کا نام ہے۔ اس ریاست کاقیام مقصدِ حیات ہے۔ اقامتِ دین سے یہی مراد ہے۔ یہ بات کہ دین اس کے علاوہ بھی کچھ ہے، پسِ منظر میں چلی گئی۔ مثال کے طور پراسلام کوئی علمی مقدمہ بھی ہے جسے دورِ حاضر کے معیارات پر پورا اترنا، یا پھر انہیں چیلنج کرنا ہے، غیر اہم ہوگئی۔ اسے وقت کا ضیاع یا استعمار کی چال سمجھا گیا۔سرسید احمد خان اور محمد عبدہ‘ سے دورِ جدید تک، جنہوں نے اس کی کوشش کی، ان کے کام کو اسی زاویہ سے دیکھا گیا۔

مسلمان معاشروں میں جب دین کا سیاسی غلبہ مطمحِ نظر ٹھہرا تو پھر باہمی اختلاف، فکرکے بجائے حکمتِ عملی کے باب میں ہوا۔ کسی نے سیاسی جدجہد کا راستہ اختیار کیا اور کسی نے مسلح جدوجہد کا۔ جن کے پاس دنیا کا اقتدار ہے، انہیں دشمن اور طاغوت سمجھا گیا۔ اس نفسیات نے مسلمانوں کو ایک مسلسل تصادم کی راہ پر ڈال دیا۔ مسلمان معاشرے فتنہ اور فساد سے بھر گئے۔ انتہا پسندی، ہیجان اورفرقہ واریت، جیسے عوارض نے مسلم سماج کو گھیر لیا۔

 اس کا ردِ عمل بھی ہوا۔ ایک لبرل طبقہ سامنے آیا جس نے مذہب کے وجو دہی کو چیلنج کر دیا۔ اس کے نزدیک کم از کم اجتماعی دنیا سے مذہب کو الگ کرنا ناگزیر ہے۔اس طبقے کا خیال ہے کہ مذہب کا وجود ہی فتنے کا باعث ہے۔ اس سے نجات ضروری ہے۔اس کو اگر گوارا کیا جا سکتا ہے تومحض انفرادی سطح پر ۔ یوں مسلم معاشرہ ایک تقسیم کا شکار ہوگیا۔اہلِ مذہب بمقابلہ لبرل۔ یہ فرقہ واریت کی تشکیلِ جدید ہے۔سیاست کو دینی تجربے کا حصہ قراردینے کے نتیجے میں،ابتدا میں مسلم سماج، سنی،شیعہ اور خوارج میںمنقسم ہوااوراکیسویں صدی میں مذہبی اور لبرل میں۔یہ دلچسپ بات یہ کہ قدیم فرقہ بندی آج بھی موجود ہیں لیکن اس مسئلے پر لبرل طبقے کے مقابلے میں یہ فرقے یک جا ہیں۔

نصب العین کی سیاسی تشکیل کے کچھ اورنتائج بھی سامنے آئے۔ایک تو یہ کہ ایسا ہر کام بے معنی قرارپایا جس کا کوئی تعلق سیاسی غلبے سے نہیں تھا۔مثال کے طور پر سماجی علوم میں پیش رفت یا عصری مسائل پر اجتہادی بصیرت کے ساتھ غور۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی تحریکوں نے امتِ مسلمہ کی جس نشاةِثانیہ کا بیڑااٹھایا،انہوں نے ابتداءً اس مقصد کے لیے تجدید ِ دین کو ضروری قرار دیا۔ اسلامی تحریکوں کی ابتدائی قیادت کا نقطہ نظر یہی تھی کہ دین کی قدیم تفہیم،نئی مسلم ریاستوں کے قیام کے لیے زیادہ مفید نہیں۔اس لیے اسلامی فکر اور فقہ کی تشکیلِ جدید ناگزیر ہے۔اس ضمن میں علامہ اقبال اور مولانا سید ابواعلیٰ مودودی کے علمی کام کو بطور حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے۔تدریجاً تجدیدِدین کا یہ کام پس منظر میں چلا گیا اور ساری توجہ سیاسی غلبے پر مرتکز ہوگئی۔اگر کبھی کسی نے اس کی اہمیت کو واضح کرنا چاہا تو اسے قبل ازوقت قرار دے دیا گیا۔اوّلیت اسلامی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی جدو جہد کو دی گئی(۱)۔یوں مسلم معاشروں میں کوئی علمی روایت مستحکم نہیں ہو سکی۔

اگر اس باب میں کوئی قابلِ ذکر کام ہوا تو غیرمسلم دنیا میں۔مسلم معاشروں کا معاملہ تو یہ ہوا کہ ان لوگوں کے لیے آزادی کے ساتھ کام کرنا محال ہوگیا جنہوں نے تجدید کا عَلم بلند کرنا چاہا۔انہیں ہجرت کرنا پڑی یا انہوں نے اس کام سے رجوع کر لیا۔علمی ارتقا کی معاصر روایت سے مسلم معاشرے کاارتباط باقی نہیں رہا جو مسلم دنیا کا ورثہ تھا اور جس نے ایک دور  میں مسلم روایتِ علم کو توانا بنایا تھا۔ماضی میں غیر مسلم علمی روایت سے یہ ربط دو مواقع پر بطورِ خاص سامنے آیا۔ایک اس وقت جب مسلمانوں کا واسطہ یونان کی فلسفیانہ روایت سے پڑا۔دوسرا موقع بیسویں صدی میں پیدا ہواجب مغرب نے مسلم علاقوں پر قبضہ کیا اور مسلمانوں کو سیاسی تسلط کے ساتھ ،غالب قوت کی علمی روایت کے اثرات کا بھی سامناتھا۔دونوں مواقع پر ارتباط کا عمل،علمی سطح پر اقلیت تک محدود ررہا۔یہ الگ بات کہ مسلم معاشروں کا تہذیبی وجود معاصر علم کے سماجی،سیاسی اور اقتصادی اثرات سے خود کو محفوظ نہ رکھ سکا۔

آج مسلمان معاشروں کے سیاسی،سماجی اور معاشی ادارے ان ہی خطوط پرقائم ہیں جو مغرب کی علمی روایت کے زیرِ اثر قائم ہوئے۔جس بات کو مسلم معاشروں نے تاریخ کے جبر کے طور پر قبول کیا،وہ شعوری سطح پران کی روایت کا حصہ نہیں بن سکی۔یوں سوچ اور عمل میں ایک تضاد پیدا ہوا۔مسلم معاشروں کی فکری قیادت نے اس تضادکو ختم کرنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی اور خود فریبی کا شکار ہوئی۔ اس کا لازمی نتیجہ فکری انتشار کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مثال کے طور پر خلافت اور جمہوریت کاتعلق۔اسلام میں فنونِ لطیفہ کی حیثیت۔صنفی اختلاط اوراسلام۔بنیادی انسانی حقوق اور اسلام۔ آج مسلم معاشرے میں موسیقی سنی جارہی ہے،تصاویرسے گریز ناممکن ہو چکا لیکن ان معاملات میں فکری یک سوئی موجودنہیں ہے۔مسلمان معاشرے اس طرح کے بہت سے تضادات کے ساتھ جی رہے ہیں۔

اس تضاد کے پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان معاشرے جدیدیت(Modernity)کے دور میں پوری طرح داخل ہونے سے پہلے ہی ،بعد از جدیدیت(Post Modernism)کے عہد میں داخل ہونے پر مجبور ہوگئے۔یہ تاریخ کا جبر اوراس کے سفر سے بچھڑناکا فطری نتیجہ ہے۔جب ترقی یافتہ معاشرے جدیدیت کے دور میںداخل ہوچکے تھے، مسلم معاشروں میں اس کے رد وقبولیت کی بحث جاری تھی ۔اس بحث کا نتیجہ فکری ابہام کی صورت میں سامنے آیا۔اس دروان میںترقی یافتی دنیا ارتقا کا ایک اور مرحلہ طے کر کے ما بعد از جدیدیت کے دور میں داخل ہو گئی۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ علم کی دنیا میں کچھ مطلق نہیں ہے۔’سچائی‘(Truth) سماجی تشکیل (Social Construct)کا نام ہے جو موضوعی ہے۔موضوعی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سچائی کی ایک سے زیادہ صورتیں ممکن ہیں۔ اسی کے ساتھ علم کوافادیت کے پہلو سے پرکھنے کی تحریک بھی اٹھی۔ عالمگیریت نے سرحدوں کو ختم کیا تو معلومات اور ٹیکنالوجی کا سیلاب دنیا بھر میں پھیل گیا۔مسلمان خود کو محفوظ نہ رکھ سکے۔وہ، جدیدیت کاتجربہ کیے بغیر ،مابعد ازجدیدیت کے دور میں داخل ہو نے پر مجبور ہوگئے۔

اس سارے معاملہ کا ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھنابھی ضروری ہے جس کے لیے زندگی فکری سے زیادہ ایک عملی تجربہ ہے۔اسے معاشی مسائل کا سامنا ہے۔وہ بچوں کی تعلیم چاہتا ہے۔اسے پینے کے لیے صاف پانی چاہیے۔صحت کی سہولتیں اس کی ضرورت ہیں۔ اسے اپنے بڑھاپے کی فکر ہے۔اسے امتِ مسلمہ کا دکھ محسوس ہوتا ہے لیکن جو دکھ اس کے گھر بسیرا کیے ہوئے ہیں،وہ ان سے روزانہ آنکھیں چار کرنے پر مجبور ہے۔اسے ان مسائل کا حل چاہیے۔  اب زندگی کے اکثرمسائل اپنی نوعیت میں سیکولر ہیں۔ریاست سیکولر ہو یا اسلامی،عام آدمی کو دلچسپی اس سوال سے ہے کہ کون سی ریاست یہ مسائل حل کر نے پر قادر ہے۔ ساتھ ہی ٹیکنالوجی نے ہر آدمی کے ہاتھ میں سمارٹ فون دے دیا۔اب اس کی رسائی ساری دنیا سے ہے۔ٹیکنالوجی اس کے لیے محض فون نہیں ایک کلچر لے کر آئی۔عام آدمی غیر محسوس طور پر عالمی سماج کا فرد بن چکا ہے۔اس کی ایک مقامی تہذیبی شناخت ہے لیکن اس کے ساتھ اب وہ عالمی گاوں کا باسی بھی ہے۔فکری مسائل پر مستزاد عملی مسائل ہیں جو فوری حل چاہتے ہیں۔  کم و پیش تمام مسلم معاشروں کو اس وقت اسی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ایک انتشارِ فکر ہے جو روز افزوں ہے۔عالمگیریت کے دور میں، مسلمان معاشروں کے لیے تنہائی میں جینا ممکن نہیں رہا۔معاشی اسباب سے ہونے والی نقلِ مکانی نے مسلمانوں پر سوچ کے نئے دروازے وا کیے ہیں۔ انہیں ترقی یافتہ دنیا میں رہنے اور وہاں جانے کے مواقع ملے ہیں۔ بدیہی طور پر ان میں سوچ پیدا ہوئی ہے کہ مسلم معاشرے ترقی یافتہ کیوں نہیں ہو سکتے۔ اس کے جلو میں اور بہت سے سوالات بھی چلے آتے ہیں۔مثال کے طور پر، کیامغرب کی اس ترقی کا سبب مذہب کو اجتماعی دنیا سے دیس نکالا دینا ہے؟ یہ سوال سامنے آتا ہے تومسلمانوں کی مذہبی حساسیت بروئے کارآتی ہے۔ ان کی نفسیاتی تشکیل چونکہ مذہبی ہے، اس لیے وہ مذہب سے دور بھی نہیں ہونا چاہتے۔ مذہب کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر فتنہ اور فساد کیوں ہے؟

مسلم معاشرے کے داخل میں بھی یہ بحث جاری ہے۔ ایک فکری پراگندگی ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشرہ تیزی کے ساتھ دو دائروں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ مسلم معاشروں کی نفسیاتی ساخت مذہبی ہے لیکن مذہب کے نام پر جاری سرگرمیوں سے انہیں اطمینان نصیب نہیں ہو رہا۔دوسری طرف وہ مذہب سے قطع تعلق کے لیے بھی آمادہ نہیں، جس کی دعوت لبرل طبقہ دے رہا ہے۔ یہ فکری پراگندگی کئی عشروں سے موجود ہے مگر ۱۱/۹ کے بعد اس میں بہت شدت آگئی ہے۔ عالمی سطح پر برپا ہونے والے سیاسی واقعات نے اسے پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس سارے خلفشار میں یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ مسلم معاشروں میں ایسے لوگ موجود ہیں، اگرچہ کم تعداد میں، جو مسلم معاشرت کے اس مخمصے کو محسوس کرتے اور اس کا حل بھی تلاش کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میںشیخ محمد غزالی، شیخ یوسف القرضاوی، راشد غنوشی، جنوب مشرقی ایشیا میں نور خالص مجید، برِصغیر پاک و ہند میں مولانا وحیدالدین خان اور جاوید احمد غامدی سمیت، بہت سی شخصیات ہیں جنہوں نے مسلم معاشرے کے اس فکری خلفشارکو موضوع بنایا اور انہیں ایک سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا میں نہضة العلما، اور محمدیہ، تیونس میں النہضہ، ترکی میں اے کے پارٹی سمیت اجتماعی تجربات بھی ہو رہے ہیں، جو دورِ حاضر کے فکری و سماجی چیلنج کا اپنے تئیں حل پیش کر رہے ہیں۔ ہم ان سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس بات کا اعتراف، ہم پر لازم ہے کہ ان شخصیات اور جماعتوں نے غورو فکر کے نئے دروازے وا کیے ہیں۔

مسلم سماج اور تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر، میں جب ان مسائل پر غور کرتا ہوں تو میرے نزدیک فکر اور حکمتِ عملی، دونوں میدانوں میں، ہمیں تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ فکر کے دائرے میں تشکیلِ نو سے میری مراد اس علمی روایت پر نظر ثانی ہے جس کے زیرِ اثر علومِ اسلامی مرتب ہوئے ہیں اور بعض اہلِ علم نے دین کو ایک وحدت کے طور پرسمجھا ہے۔یعنی جس کی روشنی میں علمِ تفسیر، علمِ حدیث، فقہ اور کلام کے ساتھ ساتھ ،دین کے اجتماعی نصب العین کا تعین کیا گیا ہے۔

فکری سطح پرپہلا کام، اسلام کو بطور مذہب اور تاریخ الگ کرناہے۔ بحیثیت مذہب، اسلام وہ آفاقی ہدایت ہے جس کی تذکیر سیدنا آدمؑ سے لے کر سیّدنا محمدﷺ تک، تمام انبیاءکرتے آئے ہیں۔ تاہم پیغمبروں کے سماجی حالات یکساں نہیں تھے۔ہرنبی کو اپنی زندگی میں مختلف تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک کا تجربہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اس زمین پر اقتدار عطا کردیا۔ایک تجربہ یہ ہے کہ چند حواری ہی میسر آ سکے۔ اقتدار دین کا لازمی مطالبہ نہیں ہے۔ ایسا ہوتا تو ہر پیغمبر کی زندگی میں یہ مرحلہ ضرور آتا یا وہ اس کے لیے لازماً جدوجہد کرتے۔ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ کی شہادت یہ نہیں ہے۔اﷲ کے بہت سے پیغمبر دعوت ہی کے مرحلے میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ تاہم آخری رسول سیّدنا محمدﷺ کو اپنی زندگی میں سیاسی غلبہ حاصل ہوا۔ اس طرح آپ ﷺپیغمبر ہی نہیں حکمرانِ وقت بھی تھے اور آپ کا ورثہ دین ہی نہیں ایک ریاست بھی ہے۔ریاست کا قیام اگر مذہبی تعلیم کا لازمی حصہ نہیں ہے تو پھر آپﷺ کے اس ورثے کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟

اس سوال کو فہمِ دین کے باب میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔مسلم معاشروں میں اسلام اور سیکولرزم کی بحث کا تعلق بھی اسی سوال کے ساتھ ہے۔میرا کہنا یہ ہے کہ اس بات کو سمجھنے کے لیے مذہب اور تاریخ کو الگ کرنا ضروری ہے۔ ایک ریاست اگر آخری پیغمبرﷺ کے ورثے کا حصہ ہے تو یہ واقعہ تاریخی عوامل کے تحت ہوا۔ اس تاریخی عمل کو دو طرح سے سمجھنا چاہیے۔

اس کا ایک پہلو تو وہ ہے جسے مکتب فراہی نے پہلی بار صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔امام حمید الدین فراہی نے فہم قرآن کے جس مکتب کی بنیاد رکھی اور تدبر قرآن کے جو اصول متعارف کرائے، ان سے نبی اور رسول کے منصب کی ایک نئی تفہیم سامنے آئی ہے۔ مسلم علمی روایت میں نبی اور رسول کے فرق کو ہمیشہ تسلیم کیا گیا ہے، لیکن قرآنی نظائر کی بنیاد پر اس فرق کو جس طرح مکتبِ ِفراہی میں بیان کیا گیا ہے،اس کی نوعیت جداگانہ ہے۔یہ تفہیم رسالت مآب ﷺ کی قیادت میں قائم ہونے والے سیاسی غلبے کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھتی ہے۔ اس تفہیم کے مطابق ، رسول کی بعثت ایک غیرمعمولی تاریخی واقعہ ہے۔رسول اس زمین پر اﷲ کی عدالت بن کر مبعوث ہوتا ہے۔ رسول کی مخاطب قوم کے لیے اﷲ تعالیٰ کی عدالت، اس دنیا میں اُسی طرح لگادی جاتی ہے، جس طرح وہ پورے عالمِ انسانیت کے لیے قیامت کے دن لگائی جائے گی۔ رسول کی مخاطب قوم کے لیے جزا و سزا کا فیصلہ اِسی دنیا میں کر دیا جاتا ہے، جس طرح آخرت میں ساری انسانیت کے لیے کیا جائے گا۔ رسول کی مخاطب قوم اگراپنے رسول پر ایمان لے آتی ہے تو اسے اس دنیا کے اقتدار اور انعامات سے نوازا جاتا ہے جس طرح آخرت میں اہلِ ایمان کو نوازا جائے گا۔ اور اگر انکار کر دیتی ہے تو اس پر اسی طرح دنیا ہی میں عذاب نازل ہو جاتا ہے جس طرح آخرت میں منکرین کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔  یہ اﷲ تعالیٰ کا قانون اتمام حجت ہے، جو قرآن مجید میں بیان ہوا اور رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔اس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں جن کا عمومی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔ مثال کے طور پر رسول کی براہ راست قوم اگررسول پرایمان لانے سے انکار کر دے تو اس پرلازماً عذاب نازل ہوتا ہے لیکن کسی غیر رسول داعی،کی مخاطب قوم پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ چاہے تو انکار کر دے اور چاہے تو قبول کر ے۔ اس کی جزا و سزا کا معاملہ آخرت تک موخر کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح نصرتِ الہی کا معاملہ ہے جو رسولوں کو بطورِ خاص حاصل ہوتی ہے۔

 اس پہلو سے دیکھیں تو جزیرہ نما عرب پر رسول اﷲ ﷺکا سیاسی غلبہ ، ایک تاریخی واقعہ ہے۔ضروری ہے کہ اسے عمومی احکامِ دین سے الگ کر کے سمجھا جائے۔اس واقعے پر اس حوالے سے غور کیا جائے کہ یہ شریعت کا مستقل ماخذ نہیں بلکہ اﷲ کے ایک خصوصی قانون کا ظہور اورقیامت کے لیے ایک برہانِ قاطع ہے۔مسلم تاریخ میں جب دینی علوم وجود میں آئے اور فہمِ دین کی علمی روایت مستحکم ہوئی تواس تاریخی واقعے کو ’سنت‘ کا حصہ سمجھتے ہوئے،ایک مستقل ماخذ دین کے طور پر قبول کیا گیا۔بیسویں صدی میں دین کی جو تعبیر اختیار کی گئی، اس میں،اسی تفہیم کو آگے بڑھاتے ہوئے،یہ سمجھا گیا کہ ایک ریاست کا قیام دین کا مستقل حکم اور فریضہ ہے جیسے نماز اور روزہ ہیں۔ یوں ایک ایسی بات مقصدِ حیات قرار پائی جو دراصل دین کے مستقل مطالبات ہی میں شامل نہیں تھی۔

اس سے یہ اخذ کرنا بھی درست نہیں ہوگاکہ تفہیمِ دین کی مسلم روایت میں رسول اللہﷺ کے برپا کردہ سیاسی انقلاب کو،ہر پہلو سے ،عمومی شریعت کا حصہ سمجھا گیا۔بہت سے معاملات میں اس کے تاریخی پہلو کا ادراک کیا گیا۔جیسے ہمارے قدیم مفسرین نے سورہ توبہ میں مشرکین کے باب میں دی گئی ہدایات کو مشرکینِ مکہ کے ساتھ خاص قراردیا۔ان کے نزدیک،ان ہدایات یا احکام کاا طلاق دیگر مشرکین پرنہیں ہو سکتا۔اسی طرح سورہ توبہ میں جس غلبہ دین کا ذکر ہے،اسے شرعی اصول کے بجائے خبر اورجزیرہ نمائے عرب کے ساتھ خاص سمجھا گیا۔اس طرح کے کئی شواہد کے باوجود ،اس علمی روایت سے یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہوتی کہ مشرکینِ عرب اور دیگر مشرکین میں یہ فرق کیوں ہے اوراظہارِ دین کی آیات عرب کے ساتھ خاص کیوں ہیں۔مکتبِ فراہی میں پہلی بار یہ بات اس طرح مبرہن ہو کر سامنے آئی ہے کہ اس باب میں کوئی اشکال باقی نہیں رہا۔اس سے اسلام کی بطور دین آفاقیت اور بطورسلطنت ایک تاریخی واقعہ ہونے کا فرق بھی پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔       

اس تاریخی واقعہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔اس کاتعلق ختمِ نبوت کے ساتھ ہے۔انبیا میں نبی ﷺ کا ایک امتیازیہ بھی ہے کہ آپ اﷲ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔آپ دنیا سے رخصت ہوئے تو وحی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ اب قیامت تک آسمان سے کوئی ہدایت نازل نہیں ہوگی۔ خود قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے دین کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ آنے والے وقت کی تمام امکانی صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دین کے باب میں عمومی ہدایات دے دی جائیں۔  ان میں شامل ایک امکان یہ بھی ہے کہ دین کے ماننے والوں کو اس زمین پر اقتدار مل جائے۔ رسالت مآبﷺ کو اقتدار دے کرگویا یہ بتا دیا گیا ہے کہ اس صورت میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری کیا ہو گی۔یہ قانونِ اتمام ِحجت سے الگ عمومی شریعت کا بیان ہے۔اب شریعت کے ہر حکم کی طرح،سیاسی ہدایات کااطلاق ،سماجی حالات کے تحت ہوگا۔یہ ایسے ہی ہے کہ قرآن مجید میں زکوة کے احکامات دے دیے گئے۔ اس سے یہ لازم نہیں کہ ہر صاحبِ ایمان کو لازماً صاحبِ نصاب بھی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ اسے مال و اسباب سے نواز دے تو پھر دین اس سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔پھر وسائل کی نوعیت کے ساتھ احکام بھی تبدیل ہوتے ہیں،جیسے زکوہ ہی کے معاملے میں بارانی اور چاہی زمینوں کا فرق ہے۔ریاست کے معاملات میں بھی شرعی احکام کا اطلاق کرتے وقت،اس نوعیت کے سب پہلو پیشِ نظر رہیں گے۔

میں جب اس تفہیم کو سامنے رکھتے ہوئے ، دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ اصلاً فرد سے متعلق اور اس کے تزکیے کے لیے آیا ہے۔ انسان لیکن انفرادی حیثیت میں نہیں جیتا، اسے ایک سماج کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سماج اس کے انفرادی کردار پر چونکہ اثر انداز ہوتا اور ایک فطری وجود رکھتا ہے، اس لیے دین اجتماعی طور پر سماج کو بھی مخاطب بناتا ہے۔انسان سے مذہب کا خطاب براہ راست اور سماج سے بالواسطہ ہے۔ریاست سے اس کا خطاب حسبِ ضرورت ہے۔

سماج انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ ہے جبکہ ریاست تاریخی عوامل سے وجود میں آنے والا ادارہ ہے۔ہر سماج لازم نہیں ہر دور میں،جدید مفہوم میں، سیاسی تجسیم بھی رکھتا ہو۔پھر یہ کہ ریاست کی صورتیں بدلتی رہی ہیں لیکن سماج جوہری طور پر ایک ہی رہا ہے۔ انسان ریاست کے بغیر زندہ رہا ہے اور رہ سکتا ہے ، سماج کے بغیر نہیں۔ ریاست دراصل سماج کے سیاسی نظم کا نام ہے۔گویا سماج کا ذیلی ادارہ( By product ) ہے۔ مسلم معاشروں میں، بالخصوص بیسویں صدی میں، اسلام کو فرد کے مذہب کے طور پر پیش کیا گیا ہے یا ریاست کے دین کے طور پر۔ یہ بات کہ اسلام سماج کا دین ہے، پسِ منظر میں چلی گئی۔  آج ضرورت ہے کہ دین کو سماج کے تناظرمیں سمجھاجائے۔ جب ہم اسلام کو ریاست کے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں تو دین ایک قانون کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست قانون سے قائم ہوتی اور قوتِ نافذہ رکھتی ہے۔اس کے بر خلاف جب ہم اسلام کو سماج کے حوالے سے سمجھتے ہیں تو وہ قانون سے زیادہ نظامِ اقدار سے وابستہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ سماج ایک نظامِ اقدار سے قائم ہوتا ہے اور اس کی تمام تر قوت اخلاقی ہوتی ہے۔

اسلام جب سماج سے متعلق ہوتا ہے تو وہ ایک توانا علمی اور تہذیبی قوت کے طور پر ظہورکرتا ہے۔ پھر یہ سماجی اداروں کی تشکیل میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔یہ فنونِ لطیفہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ انسانی شاکلہ کومتاثر کرتا ہے۔ یہ پھر ایک تصورِ انسان پیش کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سماج جس نظامِ اقدار پر کھڑا ہوتا ہے، وہ اس کے تصورِ انسان سے وجود میں آتا ہے۔جب ہم اسلام کو ایک سماجی اور اخلاقی قوت سمجھتے ہوئے، روزمرہ کے سیاسی اور سماجی واقعات پر غور کرتے ہیں تو پھر ہماری سوچ کا زاویہ بدل جاتا ہے۔پھرہم ایک واقعے کے جو نتائج مرتب کرتے ہیں،وہ ان نتائج سے مختلف ہوتے ہیں جو اسلام کو ریاست سمجھنے والااخذ کرتا ہے۔

یہ تجزیہ اگر درست ہے تو پھر فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدیدناگزیر ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ فکری سطح پراسلام کو بطوردین اورعرب میں سیاسی غلبے کوبطورتاریخی واقعہ الگ الگ سمجھا جائے۔حکمتِ عملی کے باب میں ہماری توجہ کا مرکز اب ریاست کے بجائے فرد اور سماج ہو۔اگر ہم اپنے تصورِ حیات کو ان خطوط پر مرتب کریں تونہ صرف دین کے جوہر،فکرِ آخرت کی مرکزیت کو بر قرار رکھ سکتے ہیںبلکہ اس کے ساتھ اسلام کو ایک توانا تہذیبی قوت کے طور پر بھی پیش کر سکتے ہیں جو الہامی ہدایت کی روشنی میں نوعِ انسانی کو ایک متبادل بیانیہ فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ روز مرہ پیش آنے والے واقعات کو ایک نئے زاویہ نظر سے دیکھ جائے۔یہ ایک مسلسل عمل ہے جو استمرار کا متقاضی ہے۔جو اہلِ دانش اس سے اتفاق رکھتے ہیں،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خطوط پر معاشرہ سازی کریں۔ میری خواہش اورکوشش ہے کہ مسلم سماج اس فکری تبدیلی کو قبول کرے۔

تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزوپوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے

حواشی

(۱)  ۱۹۷٠ءمیں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ایک مضمون ”معاصر اسلامی فکر۔۔چند توجہ طلب مسائل“،مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی کی ادارت میں شائع ہونے والے جریدے”ترجمان القرآن“ میں اشاعت کے لیے ارسال کیا۔مولانا اس پر آمادہ نہ ہوئے۔انہوں نے نجات اللہ صدیقی صاحب کے نام خط میں اس کی وجہ بیان کی۔مو لانا مودودی نے لکھا؛”آپ کا مقالہ میں نے دیکھ لیا ہے۔اس میں بہت سے ایسے مسائل چھیڑ دئے گئے ہیں ،جنہیں اس وقت پاکستان میں چھیڑدینا ہمارے لیے مزید مشکلات کا موجب ہوجائے گا۔اس لیے یہاں تو اس کی اشاعت ممکن نہیں ہے۔آپ چاہیں توہندوستان میں اسے شائع کردیں،کیونکہ وہاں اس کی حیثیت محض علمی بحث کی سی ہوگی“(”اسلام،معاشیات اور ادب۔۔۔خطوط کے آئینے میں“علی گڑھ،ایجوکیشنل بک ہاوس،اگست۲٠٠٠ء)

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی وتحقیقی سرگرمیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۷۔ اکتوبر کو الشریعہ اکادمی کی ماہانہ فکری نشست میں گفتگو)

میرے بڑے بیٹے اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے ڈاکٹریٹ کی ہے اور پنجاب یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کر دی ہے ۔ یہ خوشی کا موقع ہے اور اس خوشی میں ہم نے آپ کو دعوت دی ہے اور چائے کا انتظام کیا ہے ۔ میں اس موقع پر تین حوالوں سے اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا تاکہ یہ ریکارڈ میں آ جائے ۔ پہلا ایک باپ کی حیثیت سے ۔ ایسے موقع پر  باپ سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی ۔ عمارخان عالم دین بھی ہے ، مدرس بھی ہے ، پی ایچ ڈی بھی ہوگیا ہے اور کام بھی کر رہا ہے ۔ اس لیے ایسے بیٹے پر ایک باپ سے زیادہ کس کو خوشی ہوگی ۔ اس لیے مجھے خوشی ہے اور بہت خوشی ہے ۔ میری خوشی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ  حافظ عمارخان نے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ میری مرضی کا تھا ۔ ہر پی ایچ ڈی کرنے والا اپنے مقالے کے لیے موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ جو لائن میں چاہتا تھا، اس نے اسی لائن پر کام کیا ہے ۔ میں اس کی تھوڑی سی تفصیل عرض کرنا چاہوں گا ۔

ہمارے والد بزرگوار حضرت مولانامحمد  سرفراز خان صفدر ؒ کا بڑا علمی کام ہے ، چالیس سے زیادہ کتابیں ہیں، پوری دنیا میں لوگ ان سے استفادہ کر رہے ہیں اور یہ کتابیں بہت بڑا علمی ذخیرہ ہیں ۔ لیکن یہ علمی ذخیرہ ہمارے فقہی و کلامی مباحث کے حوالے سے ہے جن میں دیوبندی بریلوی اختلافات ہیں ، اہل حدیث دیوبندی اختلافات ہیں۔ یہ مباحث بھی ایک حد تک ہماری ضروریات میں سے ہیں ۔ اس حوالے سے وہ پوری دنیا میں متعارف ہیں کہ انہوں نے عقائد کی تعبیرات کے اختلافات اور فقہی اختلافات کے حوالے سے بڑی ضخیم کتابیں تحریر کی ہیں ۔ ان کتب کی ایک بہت بڑی خاصیت و خوبی تحریر کا اسلوب بیان اور علمی ثقاہت ہے ،  ان کے اسلوب بیان اور علمی ثقاہت پر ان کے مخالفین نے بھی داد دی ہے ۔ الفضل ما شہدت بہ الاعداء۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے لکھا کہ میرے خلاف کتاب لکھی گئی  ہے جس سے میں نے بھی استفادہ کیا ہے ۔ لیکن یہ تصانیف ان کلامی و مناظرانہ مباحث سے ہٹ کر بھی بہت بڑا علمی ذخیرہ ہیں ۔ میں ان کا بیٹا  ہوں ، ان کا شاگرد بھی ہوں اور ان کی جگہ کام بھی کر رہا ہوں ، اس لیے میری یہ خواہش تھی کہ ان کے کام کو مناظرانہ ماحول سے ہٹ کر مثبت انداز میں بھی  چھانٹی کر کے سامنے لایا جائے تاکہ وہ اہل علم جو مناظرہ کے مزاج کے نہیں ہیں وہ بھی اس سے استفادہ کر سکیں ۔ میں اس حوالے سے اپنے دیگر ساتھیوں اور حافظ عمار خان کو بھی کہتا رہا ہوں کہ دادا جی کی کتابوں پر کام کرو ۔ الحمدللہ میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ اس نے مولانا محمد  سرفراز خان صفدر ؒ کی کتابوں سے اصولی مواد کا انتخاب نہ صرف خود کیا ہے بلکہ الشریعہ  اکادمی کے بھی چار پانچ ساتھیوں سے بھی یہ کام کروایا ہے ۔

الحمد للہ الشریعہ  اکادمی کے زیر اہتمام تقریبا چار پانچ ساتھی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں ۔ آٹھ دس ایم فل مکمل کر چکے ہیں اور کچھ کر رہے ہیں ۔ میں مزاحا یہ کہا کرتا ہوں کہ اس اکادمی کا نام الشریعہ اکادمی کی بجائے ایم فل اکادمی رکھ دینا چاہیے ۔ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کے کام کو اس انداز میں پیش کرنا جیسے میں نے وضاحت کی ، اس حوالے سے ایک کام اکادمی کے سابقہ ناظم مولانا وقار احمد نے ایم فل کی سطح پر کیا ۔ انہوں نے ایم فل انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے کیا اور ایم فل کا مقالہ عربی میں صوفی صاحب ؒ کی تفسیری خدمات پر لکھا ۔ ہماری اکادمی کے ساتھی حافظ محمد رشید نے " مولانا محمد  سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں اصول فقہ کے مباحث " کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ لکھا ۔ حضرت شیخ ؒ کی تصانیف کے علوم القرآن کے مباحث کے عنوان سے اکادمی کے سابقہ استاد مولانا عبد الغنی نے ایم فل کا مقالہ لکھا ہے اور اکادمی کے ہی ایک اور رفیق حافظ محمد عامر جاوید نے مولانا محمد  سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں علم الکلام کے مباحث کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ لکھا ۔خود عمار خان ناصر نے یہ کام کیا کہ مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے اپنی کتابوں میں اصول حدیث کیسے بیان کیے ہیں ، ان کو منتخب کیا ہے جو کتابی شکل میں چھپا بھی ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بھی حدیث سے فقہاء احناف کے استدلال کے منہج کو عنوان بنایا ہے ، اس کی ایک کتاب اس سلسلے میں شائع ہو چکی ہے اور جو اس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، وہ شائع ہو رہا ہے اور بلاشبہ اس موضوع پر ایک وقیع مقالہ ہے ۔یہ سارے احباب عمار کی ٹیم ہیں  اور وہی ان سب دوستوں سے یہ کام کروا رہا ہے  ۔ ہماری طرف سے مولانا محمد  سرفراز صاحب ؒ کے علمی کام میں یہ شرکت  میرے لیے خوشی کا دوسرا پہلو ہے ۔ مجھے اس کی بھی خوشی ہے کہ حافظ عمار خان نے پی ایچ ڈی کر لی ہے ، اس بات کی بھی خوشی ہے کہ وہ میری خواہش کے مطابق ہی کام کر رہا ہے اور اس کی بھی خوشی ہے کہ وہ اپنی ٹیم سے بھی کام لے رہا ہے ۔

تیسری خوشی الشریعہ اکادمی کے حوالے سے ہے ۔الشریعہ  اکادمی کے قیام کا  مقصد  بھی یہی تھا کہ علمی و فکری سطح پر کام کیا جائے ۔ یہ کام  عام طور پر عام آدمی کو محسوس نہیں ہوتا ۔ الحمد للہ میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں کہ روزانہ ملک کے کسی نہ کسی کونے سے ، کبھی کراچی ، کبھی ملتان اور کبھی کسی اور شہر سے کسی طالب یا طالبہ کا فون آتا ہے کہ ہم ایم فل یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ہمیں اپنے موضوع کے حوالے سے راہنمائی درکار ہے ۔ راہنمائی کیجئے یا کوئی استاد مہیا کر دیں ۔ میں خود بتا سکتا ہوں تو خود بتا دیتا ہوں، ورنہ انہیں میں سے کسی نہ کسی کے حوالے کر دیتا ہوں ۔ ابھی پرسوں ایک پی ایچ ڈی کا طالب علم آیا تھا تو میں نے مولانا فضل الہادی کے حوالے کر دیا کہ ان سے بات کرو ، تمہارا مسئلہ یہ ہی حل کریں گے ۔ بعد میں فائنل مشورہ مجھ سے کر لینا ۔ گویا اکادمی کے حوالے سے بھی میرے ذہن میں جو خاکہ تھا ، میں مطمئن ہوں کہ اسی رخ پر کام چل پڑا ہے ۔ میرا شروع سے یقین ہے کہ اگر کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسباب و وسائل بھی فراہم کر دیتا ہے ۔ جب اکادمی قائم کی تو ہم  سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کیا ہو گا ۔ اب الحمد للہ یہاں بھی کام ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک ایکڑ جگہ کوروٹانہ میں بھی دی ہے جہاں بلڈنگ بن کر کام شروع ہوچکا ہے ۔ الحمد للہ میں اب اس حوالے سے مطمئن ہوں کہ اگر میں چلا بھی گیا  اور ہر شخص نے اپنے وقت پر چلے ہی جانا ہے ، تو میں اکادمی کے کام پر بھی اور حافظ عمار خان ناصر کے کام پر بھی مطمئن جاوں گا ۔ انشاء اللہ العزیز۔ آپ حضرات سے درخواست ہے کہ میرے لیے ، اکادمی کے لیے، اکادمی کے متعلقین و معاونین کے لیے  اور حافظ عمار خان ناصر کے لیے دعا کریں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ جزاکم اللہ خیرا ۔

(ترتیب وتدوین: حافظ محمد رشید)


قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۱)

محمد عمار خان ناصر

امام شاطبی کا نظریہ

اب تک کی بحث کی روشنی میں ہمارے سامنے سنت کی تشریعی حیثیت اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے علمائے اصول کے اتفاقات اور اختلافات کی ایک واضح تصویر آ چکی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سنت کا ایک مستقل ماخذ تشریع ہونا فقہاءواصولیین کے ہاں ایک مسلم اصول ہے اور وہ ماخذ تشریع کو صرف قرآن تک محدود رکھنے کو ایمان بالرسالة کے منافی تصور کرتے ہیں۔ اس ساری بحث میں ایک بہت بنیادی مفروضہ جو جمہور علمائے اصول کے ہاں مسلم ہے، یہ ہے کہ شرعی احکام کا ماخذ بننے والے نصوص کو قطعی اور ظنی میں تقسیم کرنا لازم ہے، کیونکہ ایک مستقل ماخذ تشریع ہونے کے باوجود سنت کا بیشتر حصہ اخبار آحاد سے نقل ہوا ہے جو تاریخی ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہیں۔ جمہور اصولیین اور فقہاءنے اس کو ایک حقیقت واقعہ کے طور پر قبول کیا اوریہ قرار دیا کہ دین کے جزوی اور تفصیلی احکام کو ظنی الثبوت ماخذ یعنی اخبار آحاد سے اخذ کرنا درست ہے۔ البتہ اس ظنی ماخذ سے ثابت کوئی حکم کسی پہلو سے قطعی الثبوت حکم کے معارض ہو یا مثلاً اس کی تخصیص وتقیید یا اس پر زیادت کر رہا ہو تو اس کی قبولیت کی شرائط وقیود کے حوالے سے ان کے مابین بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔

جمہور فقہاءومحدثین کے نزدیک کسی حدیث کو ماخذ حکم بنانے اور اس پر عمل کرنے کے لیے محض اس کا سنداً صحیح ہونا کافی ہے اور دین کے دیگر اصولوں یعنی قرآن، سنت اور ان سے مستنبط اصول کلیہ پر اس کو پرکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ روایت جب سنداً ثابت ہو تو وہ بذات خود ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے دوسرے اصولوں پر پرکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ (ابن حجر، فتح الباری ۴/۳۶۶) اس کے مقابلے میں فقہائے حنفیہ اور مالکیہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ خبر واحد کا حجت ہونا اس سے مشروط ہے کہ وہ اپنے سے قوی تر کسی دلیل کے ساتھ نہ ٹکراتی ہو۔ اگر خبر واحد قرآن کی نص، سنت مشہورہ یا امت کے اجماع میں سے کسی کے ساتھ ٹکراتی ہو تو معارضہ کے عام عقلی اصول کے مطابق خبر واحد کو رد کر دیا جائے گا یا اس کے ظاہری مفہوم کو چھوڑ کر مناسب تاویل کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

اس جزوی اختلاف سے قطع نظر، خبر واحد کے معتبر ہونے کے باب میں جمہور اصولیین متفق الرائے ہیں اور اس کی عقلی وشرعی توجیہ کے حوالے سے ان کا عمومی استدلال یہی ہے کہ تکلیف شرعی کا مدار علی الاطلاق قطعی دلائل پر رکھنا ناممکن ہے اور اسی وجہ سے شارع نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ظن کو بھی ایک درجے میں معتبر قرار دیا ہے۔ ابن حزم نے اس ضمن میں ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا اور تاریخی ثبوت کے اعتبار سے قرآن مجید اور اخبار آحاد کے مابین پائے جانے والے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مذہبی اور دینیاتی استدلال سے قطعی اور ظنی کی تقسیم کو غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ابن حزم نے کہا کہ قرآن مجید میں ’الذِّكر‘ کی حفاظت کا جو وعدہ کیا گیا ہے، اس سے مراد صرف قرآن نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جانے والی ہر طرح کی وحی ہے۔ دوسرے لفظوں میں قرآن کی طرح حدیث بھی اس وعدئہ حفاظت میں شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر احادیث کو بھی مکمل طور پر محفوظ رکھنے اور حفاظت کے ساتھ امت تک منتقل کرنے کا اہتمام فرمایا ہے ۔ (الاحکام فی اصول الاحکام ۱/۹۸) اس وعدئہ حفاظت سے ابن حزم یہ اخذ کرتے ہیں کہ شریعت کا کوئی حکم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہو، کسی ایسے سند سے منقول نہیں ہو سکتا جس کے راویوں کے بیان پر حجت قائم نہ ہو سکتی ہو،کیونکہ ا س سے شریعت کا ایک مستند حکم ضائع ہو جائے گا۔ اسی اصول پر اگر کسی ثقہ راوی سے کسی حدیث کے بیان میں غلطی ہوئی ہو تو لازم ہے کہ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس غلطی کی وضاحت کا بھی بندوبست کیا ہو، تاکہ امت ایک غیر مستند حکم کو شریعت کا حصہ سمجھنے کی غلطی میں مبتلا نہ ہو جائے۔ (الاحکام ۱/۱۳۶)

اس پس منظر میں آٹھویں صدی ہجری میں غرناطہ کے جلیل القدر مالکی عالم امام ابو اسحاق الشاطبی نے اپنی کتاب ”الموافقات“ میں ایک مربوط عقلی نظام کے طور پر شریعت کی تفہیم کو موضوع بنایا تو قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے تناظر میں قطعیت اور ظنیت کا سوال ازسرنو اٹھایا اور ایک نئے زاویے سے اس بحث کے مختلف پہلووں کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ زیر نظر سطور میں ہم اس حوالے سے شاطبی کے اصولی نظریے کی وضاحت کریں گے۔

تشریع کا اصل الاصول: انسانی مصالح

شاطبی کے نظریے میں تشریع کے مقاصد اور احکام شرعیہ میں ملحوظ انسانی مصالح کا تصور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاطبی اسی کی روشنی میں شریعت کی تفہیم ایک مربوط اور منضبط نظام کے طور پر کرتے اور شریعت میں قطعیت یا ظنیت کے سوال کو حل کرتے ہیں اور اسی فریم ورک میں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو بھی واضح کرتے ہیں۔ احکام شرعیہ کی بنیاد میں مخصوص مقاصد ومصالح کے کارفرما ہونے کے تصور کو ایک باقاعدہ نظریے کے طور پر پیش کرنے کی نسبت عموماً امام الحرمین الجوینی کی طرف کی جاتی ہے۔ الجوینی کے زیراثر شافعی روایت میں امام غزالی اور پھر عز الدین بن عبد السلام نے اس تصور کے مختلف پہلوؤ¶ں کو واضح کیا۔ دوسرے فقہی مکاتب فکر سے منتسب بعض اہل علم مثلاً شہاب الدین القرافی، نجم الدین الطوفی، ابن تیمیہ اور ابن القیم کے ہاں بھی اس بحث سے خصوصی اعتنا ملتا ہے۔ شاطبی اسی اصولی روایت سے منسلک ہیں اور ان کے ہاں تشریع کے تصور، مقاصد اور عمل تشریع کے بنیادی اصولوں کی توضیح جس طرح کی گئی ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ شارع کی تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاءکے ذریعے سے انسانوں کی راہ نمائی سے انسانوں ہی کی بھلائی او رمصلحت مقصود ہے۔ شارع کا مطالبہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں ایسے اصولوں اور ضابطوں کی پابندی کریں جن سے ان مخصوص مصالح کی حفاظت ممکن ہو جو شارع کا مقصود ہیں۔ یہ مصالح حسب ذیل ہیں:

۱۔ دین، ۲۔ انسانی زندگی، ۳۔ نسل، ۴۔ مال، اور ۵۔ عقل

احکام شرعیہ کے استقرا سے واضح ہوتا ہے کہ تشریع کے پورے عمل میں انھی مخصوص انسانی مصالح کی حفاظت کو موضوع بنایا گیا ہے اور انھی پر بنی نوع انسان کی دنیوی واخروی فلاح کا مدار ہے۔

۲۔ شاطبی حفظ دین کو عبادات (ایمان، نماز، زکوٰة، روزہ اور حج) کے ساتھ، نفس اور عقل کی حفاظت کو عادات (خور ونوش، لباس اور رہائش وغیرہ) کے ساتھ اور حفظ نسل اور حفظ مال کو اور بعض پہلووں سے حفظ نفس اور حفظ عقل کو معاملات (بیع وشرا، نکاح، قصاص ودیت اور جنایات وغیرہ) کے ساتھ متعلق کرتے ہیں۔ شارع کی طرف سے دی گئی ہدایات تین مختلف سطحوں پر مذکورہ مصالح کی حفاظت کو موضوع بناتی ہیں۔ غزالی کی پیروی میں، شاطبی ان سطحوں کو ضروریات، حاجیات اور تحسینیات سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عبادات، عادات اور معاملات، تمام دائروں میں ان تینوں درجات کی حفاظت شریعت کا مقصود ہے۔

ضروریات کا درجہ ان مصالح کو محفوظ رکھنے کا وہ کم سے کم درجہ ہے جس کے بغیر انسانی زندگی صحیح ڈگر پر قائم نہیں رہ سکتی اور اس کا نتیجہ فساد، انتشار اور زندگی کے کلی خاتمے کی صورت میں نکلنا یقینی ہے۔ ان کی حفاظت جانب وجود اور جانب عدم، دونوں طرف سے ہونی چاہیے، یعنی ایسا بندوبست بھی ہونا چاہیے کہ یہ مصالح مثبت طور پر قائم رہیں اور ایسا انتظام بھی درکار ہے کہ ان مصالح میں خلل ڈالنے والے امور کا سدباب کیا جا سکے۔ شریعت میں بیان کیے گئے بنیادی فرائض اور ممنوعات مثلاً عبادات میں نماز اور زکوٰة، معاملات میں خرید وفروخت کی اباحت اور قتل، زنا اور چوری وغیرہ کی حرمت اس کی مثالیں ہیں۔ ضروریات کے ساتھ ملحق تکمیلی امور کی مثال کے طور پر شاطبی باجماعت نماز کا اہتمام کرنے، خرید وفروخت کے وقت گواہ مقرر کرنے، نشہ آور اشیاءکی معمولی مقدار سے بھی گریز کرنے، اجنبی عورت کو دیکھنے اور سود کی ممانعت وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں۔

حاجیات کے درجے میں مقصود یہ ہوتا ہے کہ مکلفین کے لیے احکام شریعت کی پابندی میں وسعت اور سہولت پیدا کی جائے اور انھیں مشقت اور تنگی میں پڑنے سے بچایا جائے۔ اس درجے میں وہ تمام رخصتیں آ جاتی ہیں جو شریعت میں کسی بھی دائرے میں اصل حکم سے لاحق ہونے والی مشقت کو دور کرنے کے لیے بیان کی گئی ہیں، مثلاً بیماری اور سفر میں روزہ ترک کرنے کی رخصت، جانو رکو ذبح کرنا ممکن نہ ہونے کی صورت میں شکار کی اجازت اور مالی لین دین کے دائرے میں مضاربت، مساقاة اور سلم کی اباحت اور دیت کی ادائیگی کو عاقلہ کی اجتماعی ذمہ داری قرار دینا وغیرہ۔ حاجیات کے ساتھ بھی کچھ تکمیلی احکام ملحق ہوتے ہیں جس کی مثال نکاح میں کفو کی رعایت کرنے اور سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے جیسی ہدایات ہیں جن کی رعایت نہ کرنے سے ضروریات تو متاثر نہیں ہوتیں، لیکن تخفیف اور تیسیر کے اصول پر زد پڑتی ہے۔

تحسینیات سے مراد یہ ہے کہ انسان محاسن عادات اور مکارم اخلاق کو اختیار کرے اور عقل سلیم جن چیزوں سے نفو رمحسوس کرتی ہے، ان سے اجتناب کرے۔ تحسینیات، اصل ضروری اور حاجی مصالح سے زائد ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا فقدان کسی ضروری یا حاجی مصلحت میں خلل انداز نہیں ہوتا اور ان کی نوعیت محض تحسین اور تزیین کی ہوتی ہے۔ شاطبی نے اس کی مثال کے طور پر عبادت کرتے ہوئے طہارت، ستر عورت اور زینت کا اہتمام کرنے، کھانے پینے کے آداب کا لحاظ رکھنے، غلام اور عورت کو حکمرانی کے منصب کے لیے نااہل قرار دینے اور جنگ میں عورتوں، بچوں اور راہبوں وغیرہ کے قتل سے ممانعت کا ذکر کیا ہے۔ ضروریات اور حاجیات کی طرح تحسینیات کے ساتھ بھی کچھ مکملات ملحق ہوتے ہیں اور اس کی مثال کے طور پر شاطبی پیشاب پاخانہ کے آداب اور قربانی کے لیے اچھے جانور کے انتخاب کا ذکر کرتے ہیں۔ (الموافقات ۲/۱۳-۹)

۳۔ یہ مصالح ناقابل تنسیخ ہیں اور ان مصالح کی رعایت وحفاظت صرف شریعت محمدی کا خاصہ نہیں، بلکہ یہ تمام شرائع میں مقصود رہی ہے، اگرچہ ان کی حفاظت کے لیے وضع کی جانے والے عملی صورت مختلف اوقات میں مختلف رہی ہے ۔ مختلف شرائع میں دیے گئے جن احکام میں نسخ واقع ہوا ہے، وہ بھی فروع اور جزئیات میں ہوا ہے، اصول وکلیات میں نہیں ہوا۔ تمام شرائع ضروریات، حاجیات اور تحسینیات کی رعایت اور حفاظت پر مبنی رہی ہیں، اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان میں سے کسی کلی مصلحت کو سرے سے منسوخ کر دیا گیا ہو۔ نسخ صرف اس پہلو سے واقع ہوا ہے کہ کسی مصلحت کی رعایت اور حفاظت کے ایک طریقے کو دوسرے طریقے سے تبدیل کر دیا گیا۔ (الموافقات ۲ /۲۳؛ ۳/۹۶، ۹۷)

تشریع کے عمل میں مصالح کی بنیادی اور مرکزی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں:

ان الشارع قد قصد بالتشریع اقامۃ المصالح الاخرویۃ والدنیویۃ وذلک علی وجہ لا یختل لھا بہ نظام، لا بحسب الکل ولا بحسب الجزئ، وسواءفی ذلک ما کان من قبیل الضروریات او الحاجیات او التحسینیات، فانھا لو کانت موضوعۃ بحیث یمکن ان یختل نظامھا او تخل احکامھا لم یکن التشریع موضوعا لھا، اذ لیس کونھا مصالح اذ ذاک باولی من کونھا مفاسد، لکن الشارع قاصد بھا ان تکون مصالح علی الاطلاق، فلابد ان یکون وضعھا علی ذلک الوجہ ابدیا وکلیا وعاما فی جمیع انواع التکلیف والمکلفین وجمیع الاحوال وکذلک وجدنا الامر فیھا والحمد للہ (الموافقات ۲ /۳۳)

”تشریع سے شارع کا مقصد اخروی اور دنیوی مصالح کو اس طرح قائم کرنا ہے کہ (شریعت کے وضع کردہ) نظام میں کل یا جزءکسی بھی اعتبار سے خلل واقع نہ ہو۔ اس میں ضروریات، حاجیات اور تحسینیات سب برابر ہیں، کیونکہ اگر ان کی وضع اس طرح کی گئی ہو کہ نظام میں خلل کا واقع ہونا یا احکام کا خلل پذیر ہونا ممکن ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تشریع، مصالح کے لیے نہیں کی گئی، کیونکہ خلل ممکن ہونے کی صورت میں ان کو مصالح کے بجائے مفاسد کہنے کا بھی پورا جواز ہے۔ لیکن چونکہ شارع کا مقصود یہ ہے کہ احکام سے علی الاطلاق مصالح کی حفاظت کی جائے، اس لیے لازم ہے کہ ان کے مصالح ہونے کی نوعیت ابدی ہو اور تکلیف کی تمام انواع اور جملہ مکلفین اور تمام احوال کے لیے عام ہو، اور بحمد اللہ ہم نے شریعت کو اسی طرح پایا ہے۔“

شریعت کے قطعی ہونے کی نوعیت

شاطبی کے نزدیک شریعت کا قطعی ہونا تکلیف شرعی میں بنیادی نکتے کی حیثیت رکھتا ہے اور شارع کی طرف سے انسان کو ہدایت مہیا کرنا اور اسے اس کا مکلف ٹھہرانا قطعیت کے بغیر ناقابل فہم ہے۔ تاہم شاطبی کے سامنے سوال یہ ہے کہ جب شرعی نصوص اپنے ثبوت اور دلالت، دونوں اعتبارات سے قطعی اور ظنی میں منقسم ہیں اور خاص طور پر شریعت کے تفصیلی اور فروعی احکام کا ثبوت زیادہ تر اخبار آحاد کی صورت میں ظنی دلائل پر منحصر ہے تو پھر بحیثیت مجموعی شریعت کے قطعی ہونے کا دعویٰ کیونکر اور کس معنی میں کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں شاطبی مقاصد ومصالح کے مذکورہ نظریے سے مدد لیتے ہیں۔ شاطبی کہتے ہیں کہ شریعت، کلیات واصول اور جزئیات وفروع پر مشتمل ہے اور ان میں سے کلیات، جو اصل اور اساس کی حیثیت رکھتے ہیں، قطعی جبکہ جزئیات وفروع ظنی ہیں۔ کلیات سے ان کی مراد وہی اجتماعی انسانی مصالح ہیں جن کی توضیح انھوں نے ضروریات، حاجیات اور تحسینیات کے عنوان سے کی ہے۔ شاطبی کا کہنا ہے کہ شریعت میں ظن کا تعلق صرف جزئیات وفروع سے ہے، جبکہ کسی کلی اصول کا ثبوت ظنی دلائل پر منحصر نہیں۔ شریعت کی تشکیل جن قواعد کلیہ کی روشنی میں کی گئی ہے، وہ باعتبار ثبوت بھی قطعی اور یقینی ہیں اور باعتبار دلالت بھی واضح اور محکم ہیں اور شریعت کا حجت ہونا دراصل انھی کے قطعی اور محکم ہونے پر منحصر ہے۔ ظن، شریعت کی جزئیات کو تو لاحق ہو سکتا ہے، لیکن اگر کلیات کا بھی ظن کے دائرے میں آنا ممکن مانا جائے تو اس سے خود شریعت معرض شک میں آ جاتی ہے جو اس کے محفوظ ہونے کے منافی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ (الموافقات ۱/۲۴) اسی طرح دلالت کے اعتبار سے فروع اور جزئیات میں تو تشابہ واقع ہو سکتا ہے، لیکن اصول وقواعد کے متشابہ اور غیر واضح ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ شریعت کا اکثر حصہ متشابہ ہو جائے اور یہ اس کے ’ہدایت‘ ہونے کے منافی ہے۔ (الموافقات ۳/۷۹)

شریعت کے کلیات کا قطعی ہونا کیسے ثابت ہوتا ہے؟ اس سوال کے حوالے سے شاطبی کا منہج عام اصولیین سے مختلف ہے اور وہ اس کے لیے کسی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ نص سے انفرادی سطح پر استدلال کا طریقہ اختیار نہیں کرتے۔ شاطبی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی انفرادی دلیل شرعی سے قطعیت مستفاد کرنا ناممکن ہے، کیونکہ انفرادی دلیل یا تو ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہوگی جیسا کہ اخبار آحاد ہیں اور یا اگر وہ باعتبار ثبوت قطعی ہو تو بھی اس کی دلالت گوناگوں عوارض کی وجہ سے قطعی نہیں ہو سکتی۔ شاطبی نے اس ضمن میں معتزلی اور اشعری متکلمین کے اس معروف استدلال کا حوالہ دیا ہے جو وہ دلالت نصوص کی بحث میں پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

وجود القطع فیھا علی الاستعمال المشھور معدوم او فی غایۃ الندور اعنی فی آحاد الادلۃ، فانھا ان کانت من اخبار الآحاد فعدم افادتھا القطع ظاھر، وان کانت متواترۃ فافادتھا القطع موقوفۃ علی مقدمات جمیعھا او غالبھا ظنی، والموقوف علی الظنی لابد ان یکون ظنیا، فانھا تتوقف علی نقل اللغات وآراءالنحو وعدم الاشتراک وعدم المجاز والنقل الشرعی او العادی والاضمار والتخصیص للعموم والتقیید للمطلق وعدم الناسخ والتقدیم والتاخیر والمعارض العقلی، وافادۃ القطع مع اعتبار ھذہ الامور متعذر، وقد اعتصم من قال بوجودھا بانھا ظنیۃ فی انفسھا، لکن اذا اقترنت بھا قرائن مشاھدۃ او منقولۃ فقد تفید الیقین، وھذا کلہ نادر او متعذر  (الموافقات ۱/ ۲۸)

”معروف معنی کے لحاظ سے انفرادی دلائل میں قطعیت کا پایا جانا معدوم یا بے حد نادر ہے، کیونکہ انفرادی دلائل اگر اخبار آحاد ہوں تو ان سے قطعیت کا ثابت نہ ہونا واضح ہے، اور اگر انفرادی دلائل متواتر ہوں تو ان سے قطعیت کا اثبات بہت سے مقدمات پر موقوف ہے جو سب کے سب یا ان میں سے بیشتر ظنی ہیں اور ظنی مقدمات پر موقوف استدلال بھی لازماً ظنی ہوتا ہے۔ قطعی الثبوت دلیل سے قطعیت کا اثبات اس پر موقوف ہے کہ لغات اور نحوی مسائل نقل کیے جائیں، لفظ مشترک نہ ہو اور اس سے مجازی مفہوم مراد نہ ہو، لفظ اپنے اصل معنی سے کسی شرعی یا عرفی مفہوم کی طرف منتقل نہ ہوا ہو، کلام میں حذف اور اضمار نہ ہو، عموم کی تخصیص اور مطلق کی تقیید نہ ہوئی ہو، حکم منسوخ نہ ہو چکا ہو، کلام میں تقدیم وتاخیر نہ ہو اور اس کے معارض کوئی عقلی دلیل بھی موجود نہ ہو۔ ان تمام پہلووں کا لحاظ کرتے ہوئے کسی نص کی قطعی مراد طے کرنا، ناممکن ہے۔ جو حضرات اس کے قائل ہیں، انھوں نے اس نکتے کا سہارا لیا ہے کہ انفرادی دلائل فی نفسہ تو ظنی ہوتے ہیں، لیکن اگر ان کے ساتھ کچھ مشاہد یا منقول قرائن شامل ہو جائیں تو وہ یقین کا فائدہ دے سکتے ہیں، لیکن ایسی صورتیں بھی بالکل نادر یا ناپید ہیں۔“

اب اگر شرعی نصوص کی اکثریت ثبوت کے اعتبار سے بھی ظنی ہے اور انفرادی نصوص کی دلالت بھی، چاہے وہ قطعی الثبوت ہوں یا ظنی الثبوت، اپنی مراد پر قطعی نہیں ہو سکتی تو سوال یہ ہے کہ شریعت کے کلیات کی قطعیت کیسے ثابت ہوگی؟ شاطبی کا جواب یہ ہے کہ اس کا طریقہ شرعی دلائل کا استقرا ہے اور یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کی مدد سے جزئی اور انفرادی ادلہ کے مجموعے سے قطعیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ شریعت میں جتنے بھی احکام قطعی اور یقینی مانے جاتے ہیں، ان کا مدار کسی جزوی نص کی قطعی دلالت پر نہیں، بلکہ ان کی قطعیت شریعت میں وارد متعدد نصوص کی مجموعی دلالت سے ثابت ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر نماز کی فرضیت کے اثبات کے لیے صرف ’اقیموا الصلوۃ‘ کی نص کافی نہیں، کیونکہ انفرادی سطح پر اس نص کو مختلف مفاہیم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ نماز کا فرض ہونا درحقیقت ان تمام نصوص کے مجموعے سے مستفاد ہے جن میں مختلف پہلووں سے نماز کی تاکید وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ کہیں نماز ادا کرنے کی مدح وتوصیف کی گئی ہے، کہیں نماز ترک کرنے والوں کی مذمت وارد ہوئی ہے، کہیں مکلفین کو ہر ہر حالت میں نماز ادا کرنے کا پابند ٹھہرایا گیا ہے، اور کہیں تارکین نماز کے ساتھ قتال کی بات بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح انسانی جان کی حرمت کا قطعی ہونا کسی ایک آیت یا حدیث پر منحصر نہیں، بلکہ یہ بات اس باب میں وارد جملہ نصوص کی دلالت سے ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً کسی نص میں انسان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، کسی میں قاتل کو قصاص کا سزاوار قرار دیا گیا ہے، کہیں قتل کا ذکر شرک کے ساتھ کبیرہ گناہوں کے زمرے میں کیا گیا ہے، کہیں حالت اضطرار میں جان بچانے کے لیے حرام کو مباح قرار دیا گیا ہے، اور کہیں انسانی جان کی حرمت کا احترام نہ کرنے والوں کے خلاف قتال کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان مثالوں کی روشنی میں شاطبی واضح کرتے ہیں کہ شریعت کے تمام قطعی احکام اور اصولی قواعد اسی طرح شرعی نصوص کے استقرا سے اخذ کیے گئے ہیں اور ثبوت کے پہلو سے ان کلی قواعد اور جزئی مسائل میں یہی چیز فارق ہے کہ فروعی احکام اور مسائل کا ماخذ جزئی نصوص ہوتے ہیں اور وہ ظنی الدلالۃ کے دائرے میں رہتے ہیں، جبکہ اصول اور کلیات متفرق ومتعدد نصوص کی مجموعی دلالت سے اخذ کیے جاتے ہیں اور استقرا کے اصول کے تحت ان میں قطعیت پیدا ہو جاتی ہے۔ (الموافقات ۱ /۳۱-۲۸)

اخبار آحاد کی ظنیت کا مسئلہ

شاطبی کے نظریے کے مطابق شریعت بطور ایک کلی نظام کے قطعیت سے متصف ہے، جبکہ ظن صرف جزئیات اور فروع کی سطح پر پایا جاتا ہے۔ اسی نکتے کی روشنی میں شاطبی یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ’الذکر‘ کی حفاظت اور ’الدین‘ کی تکمیل سے متعلق جو بیانات وارد ہوئے ہیں، وہ بھی شریعت کے کلیات کے حوالے سے ہیں، کیونکہ استقرا سے واضح ہے کہ جزئیات کے متعلق یہ بات درست نہیں ہو سکتی۔ لکھتے ہیں:

ان الحفظ المضمون فی قولہ تعالی ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ انما المراد بہ حفظ اصولہ الکلیۃ المنصوصۃ، وھو المراد بقولہ تعالی ”الیوم اکملت لکم دینکم“ ایضا، لا ان المراد المسائل الجزئیۃ اذ لو کان کذلک لم یتخلف عن الحفظ جزئی من جزئیات الشریعۃ، ولیس کذلک لانا نقطع بالجواز ویویدہ الوقوع لتفاوت الظنون وتطرق الاحتمالات فی النصوص الجزئیۃ، ووقوع الخطا فیھا قطعا، فقد وجد الخطا فی اخبار الآحاد وفی معانی الآیات، فدل علی ان المراد بالذکر المحفوظ ما کان منہ کلیا (الموافقات ۱/۲۵، ۲۶)

”اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ میں جس حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، اس سے مرا د دین کے کلی اور منصوص اصولوں کی حفاظت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”الیوم اکملت لکم دینکم“ سے بھی یہی مراد ہے، جزئی مسائل کی حفاظت مراد نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شریعت کاکوئی جزئی حکم حفاظت کے دائرے سے باہر نہ ہوتا (یعنی تمام اخبار آحاد صحت اور حفاظت سے منقول ہوتیں اور ان میں کسی غلطی کا امکان نہ ہوتا)، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہم قطعی طور پر اس کے امکان کو جانتے ہیں جس کی تائید عملاً اس کے وقوع سے ہوتی ہے۔ (نص کو سمجھنے میں) خیالات مختلف ہوتے ہیں، جزئی نصوص میں کئی طرح کے احتمالات بھی در آتے ہیں اور اس میں غلطی کا واقع ہونا یقینی ہے، چنانچہ اخبار آحاد (کی روایت) میں اور مختلف آیات کا مفہو م سمجھنے میں (اہل علم سے) غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر کی حفاظت سے مراد اس کے کلیات کی حفاظت ہے۔“

تاہم شاطبی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کلیات کے قطعی ہونے کی صورت میں جزئیات کے ظنی ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس سطح پر ظنی دلائل کی قبولیت سے شریعت کی اصولی اور کلی قطعیت مجروح نہیں ہوتی۔ چنانچہ شاطبی جمہور علمائے اصول کی موافقت میں جزوی اور فروعی مسائل کے دائرے میں اخبار آحاد کے حجت ہونے کے قائل ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ اخبار آحاد کو قبول کرنا کوئی رعایتی موقف نہیں، بلکہ بذات خود ایک کلی مصلحت پر مبنی ہے۔ اس مصلحت کی رو سے قطعیت کلیات ہی میں مطلوب ہے اور جزئیات میں یہ شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔ کلیات اور جزئیات، دونوں میں قطعیت کی شرط عائد کرنا دونوں کا درجہ یکساں کر دینے کے مترادف ہے جو شارع کو مطلوب نہیں۔ شاطبی لکھتے ہیں :

ان الشارع وضع الشریعۃ علی اعتبار المصالح باتفاق وتقرر فی ھذہ المسائل ان المصالح المعتبرۃ ھی الکلیات دون الجزئیات، اذ مجاری العادات کذلک جرت الاحکام فیھا، ولولا ان الجزئیات اضعف شانا فی الاعتبار لما صح ذلک، بل لولا ذلک لم تجر الکلیات علی حکم الاطراد، کالحکم بالشھادۃ وقبول خبر الواحد مع وقوع الغلط والنسیان فی الآحاد، لکن الغالب الصدق، فاجریت الاحکام الکلیۃ علی ما ھو الغالب حفظا علی الکلیات، ولو اعتبرت الجزئیات لم یکن بینھما فرق ولامتنع الحکم الا بما ھو معلوم ولاطرح الظن باطلاق، ولیس کذلک (الموافقات ۱/۱٠۸)

”شارع نے بالاتفاق شریعت کو مصالح کی رعایت سے وضع کیا ہے اور سابقہ مباحث میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جو مصالح معتبر ہیں، وہ کلیات ہیں نہ کہ جزئیات، کیونکہ انسانی زندگی کے معمول وعادت میں احکام اسی طرح جاری ہوتے ہیں، اور اگر جزئیات کے معتبر ہونے کا نسبتاً کمزور معیار قبول نہ کیا جائے تو ایسا کرنا درست نہیں ہو سکتا، بلکہ اگر ظن کو قبول نہ کیا جائے تو بعض کلیات بھی برقرار نہیں رہ سکتیں، مثلاً گواہی پر فیصلہ کرنا اور افراد کی خبر کو قبول کرنا، حالانکہ افراد سے غلطی اور بھول چوک ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ عموماً وہ سچ ہی بیان کرتے ہیں، اس لیے کلیات کو محفوظ رکھنے کے لیے احکام کلیہ کا مدار غالب اور عمومی حالات پر رکھا گیا ہے۔ اگر جزئیات کے اعتبار میں بھی یہی شرط (یعنی یقینی ہونا) عائد کی جائے تو کلیات اور جزئیات میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور یقینی معلومات کے علاوہ کسی بھی بنیاد پر فیصلہ کرنا ممتنع ہو جائے گا اور ظن کو کلیتاً ترک کر دینا مطلوب قرار پائے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔“

البتہ شاطبی کا زاویہ نظر اس پہلو سے جمہور اصولیین سے مختلف ہے کہ وہ فروع وجزئیات کے لیے اخبار آحاد کو علی الاطلاق ماخذ تسلیم نہیں کرتے، بلکہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اخبار آحاد میں بیان کردہ حکم کا کسی کلی اور قطعی شرعی اصول کے تحت اور اس کے ساتھ متعلق ہونا ضروری ہے یا نہیں۔ جیسا کہ واضح کیا گیا، اصولیین کا ایک گروہ اخبار آحاد کی قبولیت کو اس شرط سے مشروط کرتا ہے کہ وہ کسی قوی تر دلیل کے معارض نہ ہوں۔ شاطبی کا سوال اس سے مختلف ہے۔ وہ سوال کو اس صورت تک محدود تک نہیں رکھتے جب خبر واحد کسی قوی تر دلیل کے معارض ہو۔ ان کا سوال یہ ہے کہ تعارض کے بغیر بھی، کیا اصولی طور پر یہ متعین کرنا ضروری ہے یا نہیں کہ خبر واحد میں جو حکم بیان کیا گیا ہے، وہ شریعت کے کون سے قطعی اور کلی اصول کی فرع ہے؟

شاطبی کا جواب یہ ہے کہ ظنی دلیل اگر کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہو تو اس کا قابل قبول ہونا واضح ہے اور اخبار آحاد کی اکثریت یہی نوعیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اخبار آحاد میں یا تو قرآن میں مذکور کسی اصولی حکم کی تفصیل بیان کی جاتی ہے، جیسے طہارت صغریٰ وکبریٰ، نماز اور حج وغیرہ سے متعلق سنت میں وارد تفصیلی احکام، یا قرآن میں بیان کیے گئے کسی اصولی ضابطے کی فروع وجزئیات واضح کی جاتی ہیں، جیسے ’لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘ کی تفصیل کے طور پر سنت میں وارد خرید وفروخت کی مختلف صورتوں اور ربا وغیرہ کی ممانعت، اور یا شریعت کے احکام میں ملحوظ کسی قطعی اصول کی وضاحت کی جاتی ہے، جیسے مثلاً ’لا ضرر ولا ضرار‘ اور اس نوعیت کی دیگر اخبار آحاد۔ شاطبی کے نزدیک اس نوعیت کی تمام اخبار آحاد معتبر ہیں، لیکن اگر اخبار آحاد شریعت کے کسی قطعی اور اصولی حکم کی طرف راجع نہ ہوں تو انھیں علی الاطلاق قبول کرنا درست نہیں، بلکہ ان کے متعلق غور وفکر اور تحقیق کرنا واجب ہے۔ شاطبی لکھتے ہیں:

وان کان ظنیا فاما ان یرجع الی اصل قطعی او لا، فان رجع الی قطعی فھو معتبر ایضا، وان لم یرجع وجب التثبت فیہ ولم یصح اطلاق القول بقبولہ (الموافقات ۳/۱۶)

”اگر دلیل شرعی ظنی ہو تو یا تو وہ کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہوگی یا نہیں۔ اگر اصل قطعی کی راجع ہو تو وہ بھی معتبر ہے، لیکن اگر راجع نہ ہو تو اس کے متعلق تحقیق اور غور وفکر کرنا واجب ہے اور اس کے مطلقاً قبول ہونے کی بات درست نہیں۔“

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

لا بد فی کل مسالۃ یراد تحصیل علمھا علی اکمل الوجوہ ان یلتفت الی اصلھا فی القرآن، فان وجدت منصوصا علی عینھا او ذکر نوعھا او جنسھا فذاک والا فمراتب النظر فیھا متعددۃ .... اما اذا لم یرد من المسالۃ الا العمل خاصۃ فیکفی الرجوع فیھا الی السنۃ المنقولۃ بالآحاد کما یکفی الرجوع فیھا الی قول المجتھد وھو اضعف، وانما یرجع فیھا الی اصلھا فی الکتاب لافتقارہ الی ذلک فی جعلھا اصلا یرجع الیہ او دینا یدان اللہ بہ، فلا یکتفی بمجرد تلقیھا من اخبار الآحاد  (الموافقات ۳/۳٠٠)

”ہر وہ مسئلہ جس میں علم کا حصول کامل ترین طریقے پر مطلوب ہو، اس میں قرآن میں اس کی اصل کی طرف متوجہ ہونا لازم ہے۔ اگر وہ قرآن میں بعینہ منصوص مل جائے یا اس کی نوع یا جنس کا وہاں ذکر ہو تو درست، ورنہ اس کے متعلق مختلف درجوں میں غور وفکر مطلوب ہوگا۔ .... البتہ اگر کسی مسئلے میں صرف عمل مقصود ہو تو اس میں آحاد کے ذریعے سے منقول سنت کی طرف رجوع بھی کافی ہوگا، جیسا کہ مجتہد کے قول کی طرف رجوع کافی ہوتا ہے حالانکہ وہ اس سے بھی کمزور ہے۔ البتہ اخبار آحاد کو کتاب اللہ میں ان کی اصل کی طرف لوٹایا جائے گا کیونکہ یہ کتاب اللہ کے بنیادی ماخذ اور اللہ کے دین کا مصدر ہونے کا تقاضا ہے، چنانچہ ایسے احکام کو صرف اخبار آحاد سے لینے پر اکتفا نہیں کی جا سکتی۔“

یہ شاطبی کا موقف ہے، تاہم وہ یہاں اجتہادی اختلاف کی گنجائش کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خبر واحد اگر کسی قطعی اصول کی طرف راجع نہ ہو، لیکن کسی قطعی اصول کے ساتھ متعارض بھی نہ ہو تو اس صورت کی یہ تعبیر بھی کی جا سکتی ہے کہ کسی اصل قطعی کے ساتھ تعلق نہ ہونا گویا اس کے اصول شرعیہ کے معارض ہونے کے ہم معنی ہے، اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی قطعی اصول کے ساتھ تعلق نہ ہونے کے باوجود وہ ایک ظنی دلیل کی حیثیت بہرحال رکھتی ہے اور کسی قطعی دلیل کے معارض نہ ہونے کی صورت میں ظنی دلیل بھی شریعت میں معتبر ہوتی ہے۔ (الموافقات ۳/۲۳)

بہرحال شاطبی کے نزدیک اخبار آحاد کا کسی اصل قطعی پر مبنی ہونا ضروری ہے اور ان کے زاویہ نظر سے اس شرط کے التزام سے گویا شریعت کے فروع وجزئیات کا باعتبار ثبوت ظنی ہونا شریعت کے بحیثیت مجموعی محفوظ ہونے کے منافی نہیں رہتا، کیونکہ یہ فروع وجزئیات کسی نہ کسی اصل قطعی سے پیدا ہوئی ہیں اور اس پر مبنی ہونے کی وجہ سے یہ بھی بالواسطہ قطعی ہیں۔ یوں شریعت بحیثیت مجموعی اپنے اصول کلیہ اور فروع، دونوں کے لحاظ سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ شاطبی لکھتے ہیں:

القسم الاول ھو الاصل والمعتمد والذی علیہ مدار الطلب والیہ تنتھی مقاصد الراسخین وذلک ما کان قطعیا او راجعا الی اصل قطعی، والشریعۃ المبارکۃ المحمدیۃ منزلۃ علی ھذا الوجہ ولذلک کانت محفوظۃ فی اصولھا وفروعھا کما قال اللہ تعالی ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“، لانھا ترجع الی حفظ المقاصد التی بھا یکون صلاح الدارین، وھی الضروریات والحاجیات والتحسینیات وما ھو مکمل لھا ومتمم لاطرافھا، وھی اصول الشریعۃ وقد قام البرھان القطعی علی اعتبارھا، وسائر الفروع مستندۃ الیھا (الموافقات ۱/۵۸)

”علم کی پہلی قسم اصل اور معتمد ہے اور اسی پر طلب علم کا مدار ہے اور علم میں پختگی رکھنے والوں کے مقاصد اسی کی طرف منتہی ہوتے ہیں، اور یہ وہ ہے جو خود قطعی ہو یا کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہو۔ بابرکت شریعت محمدیہ اسی درجے کا علم ہے اور اسی لیے وہ اپنے اصول اور فروع، دونوں میں محفوظ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شریعت ان مقاصد کی حفاظت پر مبنی ہے جو دارین کی کامیابی کا ذریعہ ہیں، یعنی ضروریات، حاجیات اور تحسینیات اور ان کی تکمیل واتمام کرنے والے احکام۔ یہی شریعت کے اصول ہیں اور ان کے معتبر ہونے پر برہان قطعی قائم ہو چکی ہے، جبکہ تمام فروع انھی اصولوں پر مبنی ہیں۔“

یہ ساری بحث تو اس صورت میں ہے جب ظنی دلیل کسی اصل قطعی کے معارض نہ ہو۔ اگر ظنی دلیل اور اصل قطعی کے مابین تعارض بھی پایا جائے تو شاطبی کے نزدیک اس کی دو مزید صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ جو ظنی دلیل کسی قطعی دلیل کے معارض ہے، کیا وہ کسی دوسرے قطعی شرعی اصول کے تحت آتی ہے؟ اگر زیر بحث ظنی دلیل بذات خود کسی قطعی شرعی اصول کی فرع ہو تو اسے رد نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس کی تائید میں خود شریعت کا ایک دوسرا قطعی اصول موجود ہے، اگرچہ اس صورت میں اجتہادی اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ مثال کے طو رپر سیدہ عائشہ نے اسراءکے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے قول کو رد کر دیا کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ انسانی نگاہیں اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں پا سکتیں، تاہم دیگر اہل علم نے اس کو اس بنیاد پر قبول کیا کہ خود شریعت کے دیگر قطعی دلائل سے آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ثابت ہے اور اس کی روشنی میں دنیا میں بھی اس کا امکان ثابت ہوتا ہے۔ (الموافقات ۳/۹۱) یوں یہ ظنی اور قطعی دلیل کے تعارض کی نہیں، بلکہ دو قطعی دلیلوں کے تعارض کی صورت بن جاتی ہے۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اصل قطعی کے معارض ظنی دلیل بذات خود کسی دوسری اصل قطعی سے موید نہ ہو۔ ایسی صورت میں اسے رد کرنا واجب ہے۔ شاطبی اس کی مثال کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور امام مالک کی آرا کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے بعض احادیث کو اس وجہ سے رد کر دیا کہ وہ قرآن مجید کی آیت أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃ وِزْرَ أُخْرَی وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَی (کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور انسان کے کام وہی عمل آئے گا جو اس نے خود کیا ہو) کے خلاف ہیں۔ چنانچہ سیدہ عائشہ نے اس بنیاد پر سیدنا عمر کی روایت کردہ اس حدیث کو قبول نہیں کیا کہ مرنے والے پر اگر اس کے اہل خانہ آہ وبکا کریں تو اس کی وجہ سے مردے کو عذاب دیا جاتا ہے۔ اسی طرح امام مالک نے اسی قاعدے کے تحت اس حدیث کو قبول نہیں کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مرنے والے کے ذمے روزے ہوں تو اس کے وارث کو اس کی طرف سے روزے قضا کرنے چاہییں۔ (الموافقات ۳/۱۹، ۲۱) شاطبی کے نقطہ نظر سے یہ خبر واحد کے ایک انفرادی آیت کے ساتھ تعارض کی نہیں، بلکہ شریعت کے ایک قطعی اور کلی اصول کے ساتھ تعارض کی مثال ہے جو اس خاص آیت پر منحصر نہیں، بلکہ استقرا کے طریقے پر بے شمار شرعی دلائل سے ماخوذ ہے۔ (الموافقات ۲/۱۹۵)

اس بحث کا بنیادی نکتہ شاطبی نے ان الفاظ میں واضح کیا ہے کہ:

وھذا القسم علی ضربین: احدھما ان تکون مخالفتہ للاصل قطعیۃ فلا بد من ردہ۔ والآخر ان تکون ظنیۃ، اما بان یتطرق الظن من جھۃ الدلیل الظنی واما من جھۃ کون الاصل لم یتحقق کونہ قطعیا، وفی ھذا الموضع مجال للمجتھدین ولکن الثابت فی الجملۃ ان مخالفۃ الظنی لاصل قطعی یسقط اعتبار الظنی علی الاطلاق وھو مما لا یختلف فیہ (الموافقات ۳/ ۱۷، ۱۸)

”ظنی دلیل اگر قطعی دلیل کے مخالف ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اس کا اصل کے مخالف ہونا قطعی ہو ، اس صورت میں اس کو رد کرنا لازم ہے۔ دوسری یہ کہ اس کا اصل کے خلاف ہونا ظنی ہو، یاتو اس لیے کہ اصل کے ساتھ اس کی مخالفت ظنی ہے اور یا اس لیے کہ اصل کا قطعی ہونا متحقق نہیں ہوا۔ اس دوسری صورت میں مجتہدین کے لیے اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ظنی کا قطعی کے مخالف ہونا ظنی کو ساقط الاعتبار کر دیتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

تشریع میں سنت، قرآن کی فرع ہے

تشریعی اصولوں اور مقاصد ومصالح نیز دلائل شرعیہ کی قطعیت وظنیت کی اس بحث کے تناظر میں شاطبی نے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو بھی موضوع بنایا ہے۔ شاطبی کتاب اور سنت کے باہمی تعلق کو اصل اور فرع کے طور پر متعین کرتے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ تشریع میں اصل اور بنیادی کردار قرآن مجیدکا ہے جبکہ سنت، کتاب اللہ کے تابع اور اس پر مبنی ہے اور اس کا وظیفہ قرآن کی توضیح وتبیین اور اس کی تفریع وتفصیل ہے۔

یہ تصور اصولی طور پر جمہور علمائے اصول کا متفق علیہ تصور ہے۔ اس باب میں استثنائی موقف غالباً صرف ابن حزم کا ہے جو قرآن اور سنت، دونوں کو بالکل یکساں اور مساوی نوعیت کا ماخذ قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک دونوں میں فرق صرف اس ظاہری صورت کے لحاظ سے ہے جو وحی کے ابلاغ کے لیے اختیار کی گئی۔ قرآن کے اصل اور سنت کے تابع ہونے کے تصور کو واضح انداز میں سب سے پہلے امام شافعی نے پیش کیا اور اس کی توضیح یوں کی ہے کہ سنت میں قرآن سے زائد جو احکام وارد ہیں، وہ یا تو کتاب اللہ سے ہی مستنبط ہیں اور یا اگر مستقل وحی یا اجتہاد پر مبنی ہیں تو بھی کتاب اللہ ہی میں مذکور کسی اصولی اور بنیادی حکم کی تفصیلات وفروع بیان کرتے ہیں۔ جصاص اور دیگر اصولیین نے اس حوالے سے یہ نکتہ بھی شامل کیا کہ قرآن کے علاوہ جن دیگر مآخذ مثلاً سنت، اجماع اور قیاس وغیرہ سے شرعی احکام اخذ کیے جاتے ہیں، ان کا ماخذ ہونا بھی بنیادی طور پر قرآن مجید سے ثابت ہوا ہے۔ گویا قرآن نے بہت سے امور میں متعین اور جزئی احکام بیان کرنے کے علاوہ تشریع کے ان دیگر مآخذ اور اصولوں کی بھی تعیین کر دی ہے جن سے مزید احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ (احکام القرآن ۳/۹۸۱، ۰۹۱)

شاطبی بھی اس بحث میں جمہور اصولیین سے اتفاق رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سنت میں جو بھی حکم بیان کیا جاتا ہے، وہ اصولاً قرآن ہی کے حکم میں مضمر ہوتا ہے، بلکہ شاطبی کو اصرار ہے کہ سنت میں کوئی حکم ایسا نہیں جو قرآن سے اس معنی میں زائد ہو کہ قرآن کا حکم کسی بھی مفہوم میں اس کو متضمن نہ ہو اور سنت ایک بالکل نئے اور مستقل بالذات حکم کے طور پر اس کا اثبات کرتی ہو۔ لکھتے ہیں:

السنۃ راجعۃ فی معناھا الی الکتاب، فھی تفصیل مجملہ، وبیان مشکلہ وبسط مختصرہ، وذلک لانھا بیان لہ وھو الذی دل علیہ قولہ تعالی ”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم“، فلا تجد فی السنۃ امرا الا والقرآن قد دل علی معناہ دلالۃ اجمالیۃ او تفصیلیۃ، وایضا فکل ما دل علی ان القرآن ھو کلیۃ الشریعۃ وینبوع لھا فھو دلیل علی ذلک .... ولان اللہ جعل القرآن تبیانا لکل شیءفیلزم من ذلک ان تکون السنۃ حاصلۃ فیہ فی الجملۃ، لان الامر والنھی اول ما فی الکتاب، ومثلہ قولہ ”ما فرطنا فی الکتاب من شیئ“ وقولہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ وھو یرید بانزال القرآن، فالسنۃ اذا فی محصول الامر بیان لما فیہ وذلک معنی کونھا راجعۃ الیہ  (الموافقات ۴/۱۲، ۱۳)

”سنت اپنے معنی کے اعتبار سے کتاب کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کے مجمل کی تفصیل کرتی، باعث اشتباہ امور کی وضاحت کرتی اور مختصر احکام کو کھولتی ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ قرآن کا بیان ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ ”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم“ (اور نے تمھاری طرف یہ ذکر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس چیز کو کھول کر بیان کرو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے)۔ پس تمھیں سنت میں کوئی بات ایسی نہیں ملے گی جس کے مفہوم پر قرآن میں اجمالی یا تفصیلی دلالت موجود نہ ہو۔ مزید یہ کہ ہر وہ دلیل جس سے قرآن کا، شریعت کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ ہونا معلوم ہوتا ہے، وہ بھی اس بات کی دلیل ہے۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہر بات کی وضاحت پر مشتمل قرار دیا ہے جس سے یہ لازم آتا ہے کہ سنت بھی اصولی طور پر قرآن ہی میں موجود ہو، کیونکہ اوامر ونواہی سب سے پہلے کتاب ہی میں آئے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”ما فرطنا فی الکتاب من شیئ“ (ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان میں کوئی کسر نہیں چھوڑی) ۔ نیز فرمایا ہے کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ (آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے) اور اس سے مراد قرآن کے نزول کے ذریعے سے دین کی تکمیل کرنا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سنت قرآن ہی کے مضامین کی تشریح کرتی ہے اور یہی اس کے، قرآن کی طرف راجع ہونے کا مطلب ہے۔“

مزید لکھتے ہیں:

”وقولہ فی السوال ”فلا بد ان یکون زائدا علیہ“ مسلم، ولکن ھذا الزائد ھل ھو زیادۃ الشرح علی المشروح اذ کان للشرح بیان لیس فی المشروح والا لم یکن شرحا ام ھو زیادۃ معنی آخر لا یوجد فی الکتاب؟ ھذا محل النزاع (الموافقات ۴/۷۱، ۸۱)

”معترض کا یہ کہنا کہ سنت کا قرآن سے زائد ہونا لازم ہے، مسلم ہے، لیکن اس زائد کی نوعیت کیا ایسی ہے جیسے شرح، مشروح پر زائد ہوتی ہے؟ کیونکہ شرح میں بہرحال ایسی توضیح ہوتی ہے جو مشروح میں نہیں ہوتی، ورنہ اسے شرح ہی نہ کہا جائے۔ یا زائد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سنت کوئی ایسی بات بیان کرتی ہے جو کتاب میں موجود ہی نہیں؟ ہمارا اختلاف اس دوسری بات میں ہے۔“

شاطبی نے اس نکتے کو جمہور اصولیین کی بہ نسبت کہیں زیادہ وسعت اور تحقیق وتدقیق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کے فریم ورک میں سنت کے، کتاب اللہ پر مبنی اور اس کی طرف راجع ہونے کے جو پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں، ذیل میں ان کی کچھ تفصیل پیش کی جائے گی۔

(جاری)

الشریعہ اکادمی کی ماہانہ فکری نشست

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی ہفتہ وار یا ماہانہ فکری نشستوں میں استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دام ظلہ عصر کی نماز کے بعد سے مغرب تک ایک پون گھنٹہ کسی متعین موضوع پر بیان فرماتے ہیں۔ اس سال دو نشستیں طے کی گئیں ۔ ایک ہفتہ وار نقشبندی اصلاحی نشست جو کہ الشریعہ اکادمی کے نئے کیمپس جامعہ طیبہ اسلامیہ ، باقر کوٹ کوروٹانہ میں بروز سوموار عصر تا مغرب منعقد ہوتی ہے اور دوسری ماہانہ  نشست اکادمی کے مین کیمپس کنگنی والہ گوجرانوالہ میں ہر ماہ کی تیسری جمعرات کو منعقد کی جاتی ہے ۔ اس نشست کا موضوع " پاکستان کی دینی تحریکات کا تعارف " ہے۔ اس سے پہلے جن موضوعات  پر فکری نشستیں ہوتی رہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

1۔ امام شاہ ولی اللہ اور ان کے خانوادے کا علمی تعارف ،  2۔ برصغیر پاک و ہند کی دینی تحریکات کا تعارف ، 3۔اکابر علماء دیوبند کا علمی و فکری تعارف ، 4۔ تحریک پاکستان اور اس میں علماء کا کردار، 5۔ اصطلاحات تصوف و سلاسل تصوف کا تعارف ، 6۔ میرے اساتذہ و مشائخ (اس میں استاد گرامی نے اپنے سب اساتذہ کا بھرپور تعارف کروایا)،  7۔ پاکستان میں نفاذ اسلام کی آئینی جدوجہد

ان نشستوں میں شہر کے علماء و طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے ،  نشست کے آخر میں سوالات کے سیشن ہوتا ہے جس میں موضوع  سے متعلقہ سوالات کو زیر بحث لایا جاتا ہے ۔

اس سال استاد گرامی کے لائق فرزند مولانا حافظ محمد  عمار خان ناصر نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی اور یونیورسٹی کی طرف سے ان کو ڈگری ایوارڈ کر دی گئی ۔ سترہ اکتوبر کی نشست اس حیثیت سے بھی خاص تھی کہ اس میں استاد گرامی نے مولانا عمار خان ناصر کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنے کی خوشی میں شہر بھر سے اپنے متعلقین کو اس خوشی میں شریک کرنے کے لیے چائے کی دعوت دی تھی ۔ شہر بھر سے تقریبا سو کے قریب احباب نے اس دعوت میں شرکت کی جن کی چائے و دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی ۔

الشریعہ اکادمی کے قیام کے مقاصد میں ایک مقصد علماء و طلبہ کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی تھا جس سے ان کو علمی میدان میں راہنمائی مل سکے ۔ اس مقصد کے لیے اکادمی میں ایک  وقیع لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا وہیں علماء و طلبہ کو علمی راہنمائی کے لیے افراد بھی مہیا کیے گئے جن سے وہ اپنے موضوعات تحقیق پر گفتگو کر کے منہج تحقیق و مواد سے متعلقہ معلومات حاصل کر سکیں ۔ اس کے علاوہ مدارس کے قابل ، محنتی اور علمی میدان میں آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنے والے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے یہ سہولت فراہم کی گئی کہ وہ کسی  یونیورسٹی میں ایم فل و پی ایچ ڈی کے شعبہ میں داخلہ لیں تو ان کی رہائش اور دیگر  اخراجات کے بندوبست میں حتی المقدور اکادمی کی طرف سے تعاون کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ سلسلہ ابھی کافی محدود سطح پر ہے لیکن اس کے باوجود کافی طلبہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور کچھ اٹھا رہے ہیں ۔ ملک بھر سے ایم فل و پی ایچ ڈی اسلامیات کے طلبہ استاد گرامی اور مولانا عمار خان ناصر سے اپنے تحقیقی موضوعات کے بارے مشاورت کرنے کے لیے رابطہ کرتے ہیں اور حتی الامکان، ان کی راہنمائی کی کوشش کی جاتی ہے ۔ الشریعہ اکادمی کے متعلقین میں سے بہت سے  لوگ ایم فل و پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مکمل کر چکے ہیں اور کچھ کے مقالات جاری ہیں ۔  ان میں سے چیدہ چیدہ احباب کے نام و موضوعات تحقیق حسب ذیل ہیں ۔

1۔ ڈاکٹر حافظ محمد سرور خان ، پی ایچ ڈی ۔ موضوع: اوجز المسالک الی مؤطا امام مالک ، مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ  (اسلوب و خصائص )

2۔ مولانا وقار احمد ، پی ایچ ڈی ، موضوع : مولانا عبید اللہ سندھی ؒ کے تفسیری افادات : تحقیقی مطالعہ  (مقالہ جمع ہو چکا ہے )

3۔ مولانا عبد الغنی ، ایم فل ، موضوع: مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں علوم القرآن کے مباحث

4۔ حافظ محمد رشید ، ایم فل ، موضوع: مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی تصانیف میں اصول فقہ کے مباحث

5۔ حافظ عامر جاوید ، ایم فل ، موضوع : مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تصانیف میں علم الکلام کے مباحث

6۔ حافظ عثمان حیدر ، ایم فل ، موضوع : امام ابن تیمیہ ؒ کی عبادات سے متعلق منفرد فقہی آراء ۔ تحقیقی مطالعہ

7۔ حافظ محمد بلال، ایم فل ، موضوع : امیر عبد القادر الجزائری ؒ ۔ حیات و خدمات

8۔ محمد شہزاد حسین ، ایم فل موضوع : تکفیر کے اصول و ضوابط : امام غزالی ؒ کے افکار کی روشنی میں ۔

9۔ حافظ محمد طفیل کوہاٹی ، ایم فل ، موضوع : مذہبی شدت پسندی کے سد باب میں ممتاز علماء کرام کا کردار، خیبر پختونخواہ کے تناظر میں

10۔ مولانا محمد تہامی بشر، ایم فل ۔ موضوع : برصغیر میں مذہبی سیاسی جدوجہد: فکری اساسات کا تجزیاتی مطالعہ 

11۔ حافظ محمد رشید ، پی ایچ ڈی ، موضوع : فقہ الحدیث میں مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ کا مقام و منہج۔ (زیر ترتیب)

12۔ مولانا وقاص احمد ، ایم فل ۔ موضوع :    اسلامی تاریخ  سے متعلق مولانا سندھی کے افکار (زیر ترتیب)

’’مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت: ایک تعارف‘‘

محمد سہیل قاسمی

مصنف : پروفیسر سعود عالم قاسمی      (شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

 مطالعہ مذاہب اورتقابل ادیان سماجی علوم میں مستقل ایک موضوع ہے ۔ دورحاضرمیں دینی ومذہبی جامعات کے ساتھ عصری تعلیم گاہوں اوریونیورسٹیز میں بھی تقابل ادیان پر توجہ مبذول کی گئی ۔ پچھلے چندصدیوںمیں مغربی ممالک میں دیگر علوم کی طرح اس فن میں بھی اختصاص حاصل کرنے کا رجحان بڑھا، جس میں میکس مولر کو تقابل ادیان کاباباآدم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ آکسفورڈ اورہارورڈ جیسے اداروں نے اس غلط فہمی کی تشہیر میں تعاون کیا۔   مغربی ممالک نے سائنسی علوم کے ساتھ ہر علوم وفنون کی ابتداءکا سہرااپنے ہی سر باندھنے کی ایک کوشش کی ، جس میں تقابل ادیان اور تاریخ مذاہب بھی ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس فن پہ سب سے پہلے مسلمانوں نے توجہ دی ۔مسلمانوں نے دوسرے مذاہب کامطالعہ دیانت داری سے کیا، پھر ان کے ماننے والوں سے مکالمے کیے اورحسب ضرورت مناظرے بھی کیے۔قرآن کریم نے سابقہ اقوام کے درست حالات وواقعات کو بیان کرکے اس علمی روایت کی ابتداءکی ۔

مذاہب عالم کے تعارف کے سلسلہ میں قرآن وسنت کی تعلیمات اورمسلمانوں کی خدمات کو علمی اورتجزیاتی پیرایہ میں پیش کرنے کی ضرورت تھی ۔ اس ضرورت کی تکمیل کیلئے اورتاریخی حوالوں و واقعات کی روشنی میں اپنی بات ثابت کرنے کیلئے اے ایم یو کے دینیات فیکلٹی کے سابق ڈین وسابق صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر سعود عالم قاسمی نے”مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت “کے نام سے مستقل ایک کتاب تالیف کی ۔

یہ کتاب ایک مقدمہ ، ایک پیش لفظ اوردس ابواب پر مشتمل ہے ۔ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی ، ڈائرکٹر شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ نے فاضلانہ مقدمہ لکھاجبکہ پیش لفظ صاحب کتاب نے ، جس میں مطالعہ مذاہب کے محرکات ومناہج پر خصوصیت سے روشنی ڈالی ۔کتاب کے پہلے باب میں عہد نبوی اورعہد صحابہؓ میں مکالمہ بین المذاہب پر تفصیلا بحث ہے ۔ تہذیب وشائستگی اورباہمی احترام کو قرآن کریم کے بین المذاہب مکالمہ میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ، آپ لکھتے ہیں :

” قرآن پاک بین المذاہب مکالمہ میں تہذیب وشائستگی اورباہمی احترام کو غیرمعمولی اہمیت دیتاہے ۔۔۔۔ اسی لئے قرآن نے مومنوں کو ہدایت کی ہے:

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آَمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (۱لعنکبوت: ۶۴)

 ترجمہ : اوراہل کتاب سے بحث نہ کرومگر عمدہ طریقہ سے ، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں ظالم ہیں اورکہوکہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اورہمارااورتمہارامعبود ایک ہی ہے اورہم اسی کے فرماں بردار ہیں “ (ص: ۱۲)

اس باب میں دورنبوی اوردور صحابہ میں یہودیت وعیسائیت اورفارس سے آنے والے وفود سے ایک دوسرے کے درمیان مذہبی امور پر ہونے والے مکالمات کوذکر کیاگیا ، جس میں مشہور سردارمکہ عتبہ بن ربیعہ ، یہودی علمااورعیسائی وفد سے آپ ﷺ کی ہونے والی گفتگو کا بیان ہے ۔ اس کے بعد صحابہ کرام کے شاہان روم وفارس اورنجاشی بادشاہ کے مکالمات کا تذکرہ ہے ۔ ان مکالمات سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے مصنف نے دو قیمتی باتیں بیان کی ، وہ لکھتے ہیں :

” اول یہ کہ دین اسلام کے عقائد ، احکام اورتعلیمات کو سمجھنے کے ساتھ مسلمانوں نے معاصرمذاہب کی حقیقت اورتعلیم کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ۔ ان کی خوبیوں اورخامیوں پر نظر رکھی ۔۔۔۔۔۔۔ دوم یہ کہ مسلمانوں نے اپنے عقیدے اوراصول زندگی کا اظہاردوسروں کے سامنے نہایت معقولیت اورحکمت کے ساتھ کیا“ ( ص: ۵۴)

درج بالا دوباتوںمیں سے ایک بات سے دیگر مذاہب پر صحابہ کرام کی معلومات کاپتہ چلتا ہے ، جس سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ ہر دورمیں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو تاریخ مذاہب میں درک رکھتی ہو۔ اوردوسری بات سے مکالمہ بین المذاہب کے اصول بھی واضح ہوگئے ۔ کہ دیگر ادیان ومذاہب سے تقابل کا طریقہ کیسا ہو ۔ آج تحقیقی مقالات کی تحریر میں بنیادی شرط ” غیرجانب داری“ ہے ، جس کا سرادورصحابہ سے ہی ملتاہے ۔

دوسراباب مسلم سلاطین اوربین المذاہب مکالمہ ہے ، اس باب میں اموی اورعباسی عہد سلطنت میں مسلم اسکالرس کے دیگر مذاہب سے ہونے والے مکالموں کا بیان ہے ۔ جیسے امام ابوحنیفہ اوررومی سفیر، ابن حزم اورعیسائی جج ، ابن قیم کاایک یہودی عالم اورابن تیمیہ کاعیسائیوں سے ہونے والے مکالمات کی مکمل روداد کاتذکرہ ہے ۔ اس کے بعد ہندوستان میں مکالمہ بین المذاہب کی تاریخ کاتذکرہ ہے ، جس کی شروعات دورعباسی سے ہوتی ہے اس وقت بودھ مذہب کے پروہتوں نے بصرہ پہنچ کر مکالمہ کیا اورتشفی بخش جواب پاکر دین اسلام سے مشرف ہوئے ۔ مصنف نے اسی ضمن میں ایک واقعہ اکبر شاہ نجیب آبادی کی کتاب ’ آئینہ حقیقت نما‘کے حوالہ سے لکھی ہے کہ سندھ کے راجہ نے ہارون رشید سے ایک ایسے عالم کو بھیجنے کی درخواست کی جو پنڈتوں کے سوالوں کا جواب دے کر اسلام کی حقانیت ثابت کرسکے ، تو ہارون رشید نے ایک محدث کو بھیجا جو علم کلام سے ناواقف تھے، اس لئے وہ تشفی بخش جواب نہ دے سکے۔ چنانچہ ہارون رشید نے دوبارہ معمریا ابوخلدہ نامی ایک متکلم کو بھیجا ، جس کے علمی لیاقت کا اندازہ ہندوستانی پنڈتوں کو پہلے سے ہوگیا ، اس لئے اس عالم کو دربارپہنچنےسے پہلے ہی زہر دے کرمرواڈالا ( ص: ۵۵) ۔

مذکورہ واقعہ سے پتہ چلتاہے کہ پہلے آنے والا عالم محدث تھا، جبکہ علامہ شبلی نے ’علم الکلام‘ صفحہ اکتالیس پر اس واقعہ کو مرتضی زیدی کی کتاب ’ملل ونحل‘ کے حوالے سے اس طرح بیان کیاکہ ہارون رشید نے پہلے ایک فقیہ کو بھیجا ، پھرمشہور متکلم معمر بن عباد کوبھیجا ۔ یعنی علامہ شبلی کے مطابق پہلے آنے والا عالم فقیہ تھااوراس فقیہ کے بعد آنے والا متکلم کی بھی تعیین ہوگئی کہ معمر بن عباد تھا۔

 ابوریحان البیرونی کے بارے میں مصنف نے لکھا کہ ہندوستان میں رہ کر ہندومذہب ،ہندوسماج ، سنسکرت زبان اورثقافت کا گہرامطالعہ کیا اوردوسرے مذاہب بالخصوص اسلام کے تعلق سے ہندووں کی دوری بلکہ دشمنی کے متعدد اسباب اپنی کتاب ’فی تحقیق ما للہند‘ میں لکھے۔ ابوریحان البیرونی کے بعد اکبر ، جہانگیر اورانگریز وں کے دورحکومت میں ہونے والے مباحثوں ومناظروں کا مفصل ذکرباب کے اخیر میں ماضی قریب کے عالمی سطح پہ مکالمہ بین المذاہب کے ایک بڑے اسکالر شیخ احمد دیدات کی خدمات کابھی تذکرہ ہے۔

تین ابواب کے بعد بقیہ سات ابواب میں اسلامی اسکالرز کے ان کتب پر تفصیلی تبصرہ ہے جو مطالعہ مذاہب سے متعلق ہیں۔ تیسرے باب میں البیرونی کی مشہور کتاب ’فی تحقیق ماللہند‘ ، چوتھے باب میں علامہ ابن حزم ظاہری اندلسی کی مشہورکتاب ’الفصل فی الملل والنحل‘ ، پانچویں باب میں عبدالکریم شہرستانی کی کتاب ’الملل والنحل‘ ، چھٹے باب میں علامہ ابن تیمیہ کی کتاب ’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘ ، ساتویں باب میں علامہ ابن قیم کی کتاب ’ھدایة الحیاری فی اجوبة الیھود والنصاری‘ ، آٹھویں باب میں نامعلوم فارسی مصنف کی کتاب ’دبستان مذاہب‘، نویں باب میں سرسید احمد خاں کی کتاب ’تبیین الکلام فی تفسیر التوراة والانجیل‘ اوردسویں باب میں مولانا عنایت رسول چریاکوٹی کی کتاب ’بشری‘  کا مکمل تعارف ہے ۔

ان سات ابواب میں آپ کا طرز تحریریہ ہے کہ آپ سب سے پہلے صاحب کتاب کے مختصر حالات اورعلمی خدمات کو ذکر کرتے ہیں ، پھر کتاب لکھے جانے کا مقصد، اس کے مشمولات ،زبان ،انداز تحریر اورعوام پر اس کے اثرات کو بیا ن کرتے ہیں ۔ان میں اکثر کتابیں عیسائیت اوراسلام سے متعلق ہیں ۔

پروفیسر سعود عالم قاسمی صاحب کی اس کتاب میں ابتداءاسلام سے برطانوی عہد تک مطالعہ مذاہب کی جوروایت رہی ہے ، اس کا تذکرہ ہے ۔ بعد میں ملک وبیرون ملک انفرادی اورتعلیم گاہوں کی شکل میں مکالمہ بین المذاہب کا جو سلسلہ شروع ہوااس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ اتنی ہی باتوں سے مصنف کا مقصد( مطالعہ مذاہب کی ابتداءکی حقیقی تاریخ پیش کرنا) حاصل ہوگیا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جدید دورمیں مطالعہ مذاہب کی روایت کاذکرایک الگ موضوع ہے ،جس کیلئے مستقل ایک کتاب کی ضرورت ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ تقابل ادیان وتاریخ مذاہب پر ریسرچ وتحقیق کرنے والوں کیلئے اس کتاب کو رہنما کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کے ذریعہ ہم مطالعہ مذاہب کی صحیح اوردرست تاریخ سے واقف ہوکر مسلم مورخین اوراسکالرس کے علمی تحقیقات سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔اپنے موضوع پر اردومیں یہ واحد کتاب ہے جس نے علمی دنیامیں ایک نئے موضوع کا تعارف کرایا۔ ۳۰۳ صفحات کی یہ کتاب علم وتحقیق کے عظیم ادارہ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ سے ۲٠۱۹ءمیں عمدہ کاغذ اوردیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع ہوئی ، جس کی قیمت ۳٠٠ روپیہ ہے۔اس کتاب کی علمی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ پروفیسر سعود عالم قاسمی صاحب کی یہ گرانقدر علمی تحقیق دارالمصنفین کے سلسلہ مطبوعات میں شامل ہے۔


پشاور ہائی کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اس مقدمے میں درخواست گزار کی جانب سے بنیادی طور پر یہ استدعا کی گئی تھی کہ عدالت 2018ء اور 2019ء میں نافذ کیے گئے ان دو قوانین کو دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دے جن کے ذریعے سابقہ پاٹا (سوات، دیر چترال وغیرہ) اور فاٹا (وزیرستان، خیبر، کرم وغیرہ) میں پہلے سے رائج قوانین کے متعلق قرار دیا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا سے انضمام کے بعد بھی ان علاقوں میں یہ قوانین نافذ رہیں گے۔ مزید یہ استدعا کی گئی تھی کہ ان قوانین کے تحت جو ذیلی قوانین ، ریگولیشنز اور قواعد وغیرہ وضع کیے گئے انھیں بھی کالعدم قرار دیا جائے۔ان ذیلی قوانین میں اہم ترین وہ ریگولیشنز تھے جنھوں نے  "سول اتھارٹی کی مدد " کےلیے مسلح افواج کو بہت وسیع اختیارات دیے تھے اور جو ان علاقوں میں 2011ء سے نافذ تھے۔ اس کے علاوہ یہ خصوصی استدعا بھی کی گئی کہ مؤخر الذکر ریگولیشنز کے ذریعے ان علاقوں میں قائم کیے گئے مسلح افواج کے زیر کنٹرول قید خانوں (انٹرنمنٹ سینٹرز) کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور ان میں قید افراد کے مقدمات کی سماعت ان عدالتوں میں کی جائے جن کو ان مقدمات پر قانوناً اختیارِ سماعت حاصل ہے۔ نیز ہر ایسے قانون، قاعدے، ضابطے یا نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے جس کی رو سے ان علاقوں کے باشندوں کے ساتھ امتیاز پر مبنی سلوک کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس دوران میں اندازہ ہوگیا تھا کہ عدالت ان قوانین کے خلاف فیصلہ دینے جارہی ہے تو اس نے جلدی میں 5 اگست 2019ء کو گورنر کے ذریعے ایک آرڈی نینس جاری کروایا جس کے تحت "سول اتھارٹی کی مدد" کے لیے مسلح افواج کے اختیارات کو پورے صوبے تک وسعت دے دی گئی، یعنی بجاے اس کے کہ اس ظالمانہ قانون کو ختم کردیا جاتا، انھوں نے اسے پورے صوبے پر نافذ کیا تاکہ عدالت سے کہا جائے کہ ہم ان علاقوں کے لوگوں سے امتیازی سلوک نہیں کررہے، اور ، بہ الفاظِ دیگر ، سب کے ساتھ ظلم کررہے ہیں! چنانچہ درخواست گزار نے ایک اور درخواست کے ذریعے اس آرڈی نینس کو بھی چیلنج کیا اور استدعا کی کہ اسے بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید پس منظر میں جائیں تو درخواست گزار کے بیٹے کو فورسز نے 2012ء میں تحویل میں لے لیا تھا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل ان کی تحویل میں ہی ہے۔ درخواست گزار نے اس کی رہائی کےلیے مختلف مواقع پر دو درخواستیں دیں جن پر عدالت نے مناسب احکامات بھی جاری کیے لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں نکلا۔ چنانچہ اب کے درخواست گزار نے ان ریگولیشنز کو ہی چیلنج کرلیا جن کے تحت اس کے بیٹے کو تحویل میں لیا گیا تھا اور اس نے اپنے بیٹے کے علاوہ ان سب قیدیوں کی رہائی کی استدعا کی جن کو اسی طرح قید کیا گیا ہے۔


اس ساری کہانی میں چونکہ پچیسیوں دستوری ترمیم کا اہم کردار ہے جس کی رو سے پاٹا اور فاٹا کا صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کیا گیا ، اس لیے اس دستوری ترمیم کے چند پہلوؤں پر بھی گفتگو ضروری ہے۔

اس دستوری ترمیم کے ذریعے ، جو صدر کے دستخطوں کے بعد، 31 مئی 2018ء سے نافذ ہوئی ، دستور کی دفعہ 246 میں ترمیم کرکے پاٹا اور فاٹا کے علاقوں کو باقاعدہ طور پر صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنادیا گیا؛ نیز دستور کی دفعہ 247 کو ، جس کے تحت ان علاقوں میں خصوصی قوانین نافذ کیے گئے تھے، حذف کیا گیا ۔ گویا دستوری پوزیشن یہ ہوئی کہ پچیسویں دستوری ترمیم کے بعد ان علاقوں کو قانوناً وہی حیثیت حاصل ہوگئی جو صوبے کے دیگر علاقوں ، جیسے پشاور، مردان، صوابی، چارسدہ وغیرہ، کو حاصل ہے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ترمیم کے مؤثر ہونے سے دو دن قبل ، 29 مئی 2018ء کو ، دستور کی دفعہ 247 کے تحت صدر کی جانب سے فاٹا میں عبوری قانونی نظام کےلیے خصوصی ریگولیشنز جاری کیے گئے ۔ اب سوال یہ تھا کہ جب دو دن بعد  صدر نے پچیسویں دستوری ترمیم پر دستخط کیے اور دفعہ 247 ہی دستور سے حذف ہوگئی تو اس دفعہ کے تحت بنائے گئے ان ریگولیشنز کی کیا قانونی حیثیت باقی رہ گئی؟ ہمارے ایک نوجوان شاگرد رشید علی عظیم آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ کے سامنے یہی سوال پیش کیا اور اس بنیاد پر ان ریگولیشنز کی دستوری و قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے پچھلے سال اس مقدمے کے فیصلے میں ان ریگولیشنز کے ایک بڑے حصے کو دستور سے متصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا۔ وفاقی حکومت اس کے خلاف اپیل میں سپریم کورٹ گئی جس نے جنوری 2019ء میں اپیل کا فیصلہ سنا تے ہوئے صوبائی حکومت کو بعض ہدایات جاری کیں اور ان پر عمل کےلیے چھے مہینے کا وقت دیا۔ اس دوران میں صوبائی ان ہدایات پر کیا عمل کرتی ، الٹا اس نے سابقہ فاٹا کےلیے سابقہ پاٹا کے طرز پر قانون بنایا جس کا ذکر شروع میں ہوچکا۔ پھر جب فاٹا اور پاٹا کےلیے ان قوانین کو ہائی کورٹ میں موجودہ مقدمے کے درخواست گزار نے ہمارے محبوب دوست بیرسٹر ڈاکٹر عدنان خان کے ذریعے چیلنج کیا تو حکومت نے مزید آگے جاکر گورنر کے ذریعے وہ آرڈی نینس بھی جاری کروایا جس کا ذکر اوپر گزر چکا۔ چنانچہ درخواست گزار کو اس آرڈی نینس کو بھی چیلنج کرنا پڑا۔


ہائی کورٹ کے سامنے ایک اہم سوال یہ تھا کہ جن ریگولیشنز کو وفاقی حکومت نے وضع کرکے قبائلی علاقوں میں نافذ کیا تھا، انھیں صوبے میں شامل علاقوں میں کیسے جاری رکھا جاسکتا ہے؟ یہ سوال پاکستانی دستور کی وفاقیت کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مذکورہ ریگولیشنز کو مذکورہ صوبائی قوانین کے ذریعے تسلسل دینا قانونی لحاظ سے انتہائی غلط تھا۔

دوسرا اہم مسئلہ جس پر ہائی کورٹ نے بحث کی یہ تھا کہ سابقہ پاٹا کے لیے مذکورہ قانون جنوی 2019ء میں اور سابقہ فاٹا کےلیے مذکورہ قانون مئی 2019ء میں نافذ کیا گیا جبکہ پچیسیویں دستوری ترمیم کا نفاذ مئی 2018ء سے ہی ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مئی 2018ء سے جنوری 2019ء تک سابقہ پاٹا میں اور مئی 2019ء تک سابقہ فاٹا میں لوگوں کو فورسز اور ایجنسیوں نے کس قانون کے تحت قید کیا تھا ؟ اس قید اور دیگر فیصلوں کا قانونی جواز کیا تھا؟ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری وکیل کے پاس ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔

واضح رہے کہ یہ دونوں قوانین بھی حکومت نے تب منظور کیے جب لاپتہ افراد کے مقدمات میں یہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پھر جب ان قوانین کو چیلنج کیا گیا اور چیلنج کیے جانے کا ایک سبب ان کا امتیازی ہونا بھی تھا تو حکومت اگست 2019ء میں وہ آرڈی نینس لے آئی جس کے ذریعے ان کھوکھلے قوانین کو پورے صوبے پر وسعت دی گئی! اس آرڈی نینس پر دیگر اعتراضات کے علاوہ ایک اہم اعتراض یہ اٹھا کہ اگر اس کا اجرا اس بنا پر ضروری تھا کہ مسئلہ پاکستان کے دفاع اور تحفظ کا تھا تو وفاقی فہرست میں شامل ہونے کی بنا پر اس مسئلے پر آرڈی نینس صدر کی جانب سے جاری ہونا چاہیے تھا، نہ کہ گورنر کی جانب سے۔ ہائی کورٹ نے یہ اعتراض تسلیم کیا اور قرار دیا کہ گورنر کے پاس یہ آرڈی نینس جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

سرکاری وکیل کی جانب سے بنیادی دلیل یہ تھی کہ ہائی کورٹ کو قانون کو کالعدم قرار دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں دستور اور قانون کے بنیادی اصول واضح کرکے قرار دیا ہے کہ قانون کے متعلق عدالت کا بنیادی مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ وہ دستور سے متصادم نہیں لیکن دو مواقع پر اس پر لازم ہے کہ وہ قانون کو کالعدم قرار دے:

ایک، اس وقت جب قانون بنانے والے ادارے کے پاس وہ قانون بنانے کا اختیار ہی نہ ہو؛ اور

دوم ، جب یہ دستور کی کسی شق ، بالخصوص جب دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق ، کی واضح خلاف ورزی ہوتی ہو۔

ہائی کورٹ نے تصریح کی کہ ان دونوں معیارات پر مذکورہ قوانین کالعدم ٹھہرتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ قوانین وفاق کو بنانے چاہیے تھے نہ کہ صوبے کو اور دوسرے ان سے دستور میں مذکور تقریباً تمام حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔


یہاں تک پہنچ کر ہائی کورٹ نے "سول اتھارٹی کی مدد" کےلیے فوج کو وسیع اختیارات دینے والے ریگولیشنز  کا جائزہ لیا ہے ہم نے ان ریگولیشنز اور ان کے علاوہ "تحفظ پاکستان ایکٹ" کے متعلق بارہا مختلف فورمز پر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ان نام نہاد قوانین کےلیے ہمیشہ سندِ جواز یہ پیش کیا جاتا رہا کہ کہ ملک میں رائج عام قوانین اور بالخصوص قانونِ شہادت کی موجودگی میں "دہشت گردوں" کو سزا نہیں دی جاسکتی اور یہ کہ اس کےلیے خصوصی قوانین کی ضرورت تھی لیکن جب یہ قوانین لائے گئےتو ان میں جرم کے متعلق شہادت یا ثبوت کے متعلق کچھ بھی نہیں تھا بلکہ سارا زور صرف اور صرف "تحویل " (custody) پر تھا  اور ان قوانین کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ فورسز اور ایجنسیوں سے یہ نہ پوچھا جائے کہ کس کو کیوں اور کہاں قید رکھا گیا ہے ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے بھی سب سے پہلے یہی بات کہی ہے کہ ان میں "مقدمہ" (trial) کا کوئی تصور ہے ہی نہیں بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں کو سالہاسال تک عدالت میں پیش کیے بغیر قید رکھا جائے۔ اس سے آگے ہائی کورٹ کے الفاظ انتہائی اہم ہیں اور اس لیے ہم انھیں جوں کا توں نقل کرنا پسند کریں گے:

We have witnessed in number of missing persons cases that they detained detenues for years and years without ever providing the record to this effect. During the missing persons cases, about 15-20% cases suddenly detenue appears before the Court and informs that he has been released by the agencies and on the assurance of non-disclosing anything. These proceedings are not recorded in any of the order sheets for the last so many years for the reason not to expose the conduct of the agencies to the world.

(ہم نے لاپتہ افراد کے مقدمات میں دیکھا کہ یہ لوگ قیدیوں کو سالہا سال قید رکھتے ہیں اور اس بارے میں کبھی کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کرتے۔ لاپتہ افراد کے مقدمات میں ، تقریباً 15 سے 20 فی صد مقدمات میں ایسا ہوتا ہے کہ قیدی اچانک عدالت کے سامنے نمودار ہوکر کہتا ہے کہ ایجنسیوں نے اسے اس شرط پر رہا کیا ہے کہ وہ کوئی معلومات نہیں دے گا۔ مقدمات کی کارروائی میں ان باتوں کو کسی حکم نامے میں ریکارڈ نہیں کیا جاتا صرف اس وجہ سے کہ ایجنسیوں کا کردار دنیا کے سامنے آشکارا نہ ہو۔ )

ہائی کورٹ نے اس زاویے سے ان قوانین پر شدید تنقید کی ہے اور انھیں نہ صرف دستور اور ضابطۂ فوجداری بلکہ آرمی ایکٹ کے بھی خلاف قرار دیا ہے اور کہا کہ ان نام نہاد انٹرنمنٹ سینٹرز میں قید لوگوں کو سالہا سال مقدمہ چلائے بغیر قید رکھا جاتا ہے ، انھیں نہ رشتہ داروں سے ملنے دیا جاتا ہے ، نہ ہی وکیل کرنے دیا جاتا ہے ، نہ ہی انھیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے خلاف الزام ہے کیا؟


اس کے بعد ہائی کورٹ نے اس امر کا جائزہ پیش کیا ہے کہ کیا واقعی یہاں افواج اس مقصد سے آئی ہیں کہ وہ سول اتھارٹی کی مدد کریں، جیسا کہ اس قانون کا عنوان بتاتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہائی کورٹ نے سب سے پہلے اس حقیقت کو ریکارڈ کیا ہے جو ہر جاننے والا جانتا ہے لیکن اس طرح ریکارڈ کا حصہ بنانے کی جرات ہر کوئی نہیں کرتا۔

ہائی کورٹ نے تصریح کی ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمے میں عدالت کے سامنے جواب دینے کی ذمہ داری ہوم سیکرٹری کی ہوتی ہے لیکن ہوم سیکرٹری بے چارہ خود نہیں جانتا کہ مذکور قیدی کہاں اور کس حال میں ہے؟ ! وہ اس معاملے میں چھے سات ایجنسیوں سے معلومات لینے کی کوشش کرتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ انٹرنمنٹ سینٹرز سول انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں بلکہ فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ ہائی کورٹ نے مزید قرار دیا ہے کہ سول اتھارٹی کی مدد والے ریگولیشنز اور آرڈی نینس کی موجودگی میں بھی عدالت کے سامنے ان انٹرنمنٹ سینٹرز کی تفصیلات نہیں پیش کی جاتیں اور یوں فوج اور سول انتظامیہ دونوں بدنیتی کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں اور دستور کی خلاف ورزی کی مرتکب بھی ہوتی ہیں ۔ آگے ہائی کورٹ نے ان علاقوں کے لوگوں کی حالتِ زار کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

It has come to the knowledge of this court during different proceedings that under the camouflage activities and protection of the above mentioned regulations and law, the entire erstwhile tribal area citizens are treated inhumanely and unconstitutionally, as it they are not the citizens of this Country.

(مختلف مقدمات میں اس عدالت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مذکور ریگولیشنز اور قانون کے تحفظ کا جامہ اوڑھ کر تمام سابقہ قبائلی علاقہ جات کے باشندوں کے ساتھ غیرانسانی اور غیردستوری سلوک کیا جاتا ہے، گویا وہ اس ملک کے شہری ہی نہ ہوں ۔ )

نہ صرف یہ بلکہ اس کے آگے کے الفاظ ایسے ہیں جو ان علاقوں کے رہنے والے بہت سے لوگ نجی محفلوں میں تو کہتے ہیں لیکن عدالتی فیصلے میں پہلی دفعہ وہ الفاظ ریکارڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کا کہنا ہے:

The conduct of the Armed Forces is that of conqueror particularly in reference to the erstwhile tribal area.

(مسلح افواج کا رویہ بالخصوص سابقہ قبائلی علاقوں میں فاتح کا سا ہوتا ہے۔ )

ہائی کورٹ نے مزید قرار دیا ہے کہ مذکورہ قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے تحت تمام اختیارات فوج کو دیے گئے ہیں جبکہ کسی قانون کی رو سے فوج کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ سول لوگوں پر مقدمہ چلاسکے۔ یوں دیگر کئی پہلوؤں کے علاوہ اس پہلو سے بھی  یہ قوانین ناجائز ٹھہرتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلح افواج کی ذمہ داری ملک کے بیرونی سرحدات کے تحفظ کے علاوہ یہ بھی ہے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ دستور اور قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سول اتھارٹی کی مدد کرے لیکن جس طرح ان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غیرمعینہ مدت تک لوگوں کو قید رکھے، ان سے تفتیش کرے یا ان پر مقدمہ چلائے تو اس کی ملک کے قانونی نظام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔


ہائی کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایسی کیا ایمرجنسی پیدا ہوگئی تھی کہ اس قانون کو ایک آرڈی نینس کے ذریعے جلدی میں پورے صوبے میں نافذ کیا گیا اور اس کو مقننہ کے سامنے پیش بھی نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری وکیل سے خصوصاً یہ سوال پوچھنے کے باوجود وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکے۔

ہائی کورٹ نے اس بات کی بھی نشان دہی کی ہے کہ مذکورہ ریگولیشنز کا اجرا جون 2011ء میں کیا گیا لیکن انھیں مؤثر بہ ماضی کرکے فروری 2008ء سے نافذ کیا گیا  اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2008ء سے 2011ء تک ان کی قید میں لوگ موجود تھے جس کے لیے ان کے پاس کسی قسم کا قانونی اختیار نہیں تھا۔

ہائی کورٹ نے ایک اور اہم بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اب جبکہ یہ آرڈی نینس جاری کیا گیا ہے تو دو مہینے گزرنے کے باوجود اس آرڈی نینس کو کسی ویب سائٹ پر نہیں ڈالا گیا ، نہ ہی اس کی تشہیر کی گئی کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اس کے ذریعے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

اس کے بعد ہائی کورٹ نے اس قانون پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید کا بھی حوالہ دیا ہے اور یہ بھی قرار دیا ہے کہ یہ قوانین انسانی حقوق سے متعلق ان بین الاقوامی معاہدات کے بھی خلاف ہیں جن کی پاکستان نے توثیق کی ہے۔ ہم فیصلے کے اس حصے میں اختیار کیے گئے طرزِ استدلال پر تحفظات رکھتے ہیں لیکن فی الحال اس پر بحث کے بجاے فیصلے کے آخری حصے کی طرف جانا چاہیں گے جس میں عدالت نے ان قوانین کو کالعدم قرار دینے کے بعد حکومت کو بعض نہایت اہم احکامات جاری کیے ہیں۔


چنانچہ ہائی کورٹ نے ان قوانین کے خلاف درخواستیں قبول کرتے ہوئے ان تمام قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے ذیلی قوانین، قواعد، ضوابط اور نوٹیفیکیشنز کو کالعدم قرار د یا  اور اس کے بعد درج ذیل احکامات جاری کیے ہیں:

1۔ ہوم سیکرٹری کو حکم دیا گیا کہ وہ اس فیصلے کے موصول ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر تمام انٹرنمنٹ سینٹرز کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کریں۔

2۔ آئی جی جیل خانہ جات کو حکم دیا گیا کہ وہ ان تمام انٹرنمنٹ سینٹرز کو سب جیل قرار دیے جانے کے بعد تین دن کے اندر ان کو اپنے کنٹرول میں لے لیں۔

3۔ آئی جی جیل خانہ جات کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ جن قیدیوں کے خلاف ابھی تک کوئی چارج نہیں لگایا گیا اور انھیں قید ہوئے 90  دن سے زائد ہوچکے ہیں، انھیں رہا کردیا جائےاور جن قیدیوں کے خلاف چارج لگایا گیا ہے انھیں قانون کے تحت اختیار رکھنے والی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔

4۔ ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات کو یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ ان احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اگر کسی قیدی کی زندگی یا آزادی کے حق کو نقصان پہنچا تو اس کےلیے یہ دونوں ذمہ دار ہوں گے۔

5۔ ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ تمام قیدیوں کی جامع فہرست تیار کرکے سات دنوں کے اندر اسے ان عدالتوں کے سامنے پیش کریں جہاں لاپتہ افراد کے مقدمات سنے جارہے ہیں۔

6۔ ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات کویہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ قیدیوں سے رشتہ داروں کی ملاقات کا بھی بندوبست کریں۔ 

ان احکامات سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ کےلیے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے وہاں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر ان احکامات پر عمل کےلیے زیادہ وقت دیا جائے گا تو اس دوران میں حکومت اپیل میں سپریم کورٹ جائے گی اور وہاں سے قانون کے تقاضے پورے کرنے کےلیے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ عدالت نے کم سے کم وقت دیا تاکہ حکم امتناعی کے حصول سے قبل ہی ان احکامات پر عمل لازم ہوجائے اور یوں اگر ان پر عمل نہ ہوتو ان افسران کے خلاف توہینِ عدالت کا امکان بھی ہوگا اور ان کے خلاف متاثرین کے پاس دیگر قانونی حقوق بھی میسر ہوں گے۔

اس فیصلے پر قومی سطح پر تفصیلی گفتگو اور مباحثے کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا ۔  ہم نے ٹھہرے پانیوں میں پتھر پھینک کر فرض کفائی ادا کرنے کی سعی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول کرلے ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس وقار سیٹھ صاحب، مقدمے کے درخواست گزار جناب شبیر حسین گگیانی اور ان کے وکیل جناب بیرسٹر ڈاکٹر عدنان خان کو ان کی کاوشوں کا بہترین اجر دے ، اس فیصلے کو ان کے میزانِ حسنات میں قبول فرمائے، اور اسے ملک میں قانون کی حکمرانی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔


پس نوشت: یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ قبائلی علاقوں کا صوبے کے ساتھ انضمام درست فیصلہ تھا کیونکہ ، جیسا کہ سال بھر پہلے ہم نے لکھا تھا ، اس کی وجہ سے ہائی کورٹ کو ان علاقوں پر اختیارِ سماعت حاصل ہوگیا ہے اور اب یہ سرزمینِ بے آئین نہیں ہے۔