مقدس شخصیات کی توہین اور جدید قانونی تصورات
محمد عمار خان ناصر
یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں آسٹریا کی عدالتوں میں ۲٠۱٠ء سے ۲٠۱۴ء تک چلنے والے ایک مقدمے کے متعلق یہ قرار دیا ہے کہ آسٹروی عدالتوں نے ملزم کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت انگیز القاب استعمال کرنے پر جو سزا دی ہے، وہ قانون کے مطابق ہے اور آزادی اظہار کے حق کے منافی نہیں ہے۔ ۲٠٠۹ء میں ایک خاتون نے آسٹریا میں ایک عمومی اجتماع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں طفل پرست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محمد اخلاقی طور پر کوئی رول ماڈل نہیں ہیں، جیسا کہ مسلمان ایمان رکھتے ہیں۔ اجتماع میں موجود ایک خفیہ صحافی نے اس کے خلاف ویانا کی علاقائی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس نے متعدد سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ ملزمہ نے محمد پر ایک بے بنیاد الزام عائد کر کے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کوئی قابل احترام شخصیت نہیں ہیں اور یوں وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔ عدالت نے سزا کے طور پر ملزمہ کو جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے خلاف ویانا کورٹ آف اپیل اور پھر اس کے بعد آسٹریا کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، تاہم دونوں عدالتوں نے علاقائی عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھا۔ آخری چارے کے طور پر اس فیصلے کے خلاف یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں اپیل دائر کی گئی جس کا فیصلہ عدالت کے آٹھ رکنی بنچ نے ۲ اکتوبر ۲٠۱۸ء کو کیا اور متفقہ طور پر آسٹریا کی عدالتوں کو انسانی حقوق کے اصولوں اور جمہوری قوانین کے مطابق قرار دیا۔ یہ فیصلہ E.S. v. Austria کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا انگریزی متن عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
https://hudoc.echr.coe.int/eng#{%22itemid%22:[%22001-187188%22]}
یورپی عدالت کے اس فیصلے پر مغرب کے لبرل اور سیکولر حلقوں کی طرف سے سخت تنقید سامنے آئی ہے جو آزادی اظہار کے حق کو غیر محدود سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کی رائے کی آزادی کو پابندیوں میں جکڑنے کے بجائے ان لوگوں کو جن کے مذہبی جذبات کو کسی تنقید سے یا طنز واستہزا سے ٹھیس پہنچتی ہے، اپنا رویہ بدلنا چاہیے اور تنقید، طنز اور تضحیک وغیرہ کو آزادی اظہار کی ایک جائز صورت کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ لبرل حلقوں کا یہ نقطہ نظر ، مغربی تاریخ کے تناظر میں، قرون وسطی میں کلیسا کے سرکاری موقف کےمقابلے میں دوسری انتہا کی نمائندگی کرتا ہے۔ قرون وسطی میں مسیحیت کو یورپ میں سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل تھی اور مسیحی عقائد وتعلیمات اور مقدس شخصیات پر تنقید کرنا، چہ جائیکہ ان کا مذاق اڑانا، ریاست کے خلاف جرم سمجھا جاتا تھا۔ اس تناظر میں مسیحی مذہب کی توہین کے حوالے سے تعزیری قوانین مغربی قانونی روایت کا حصہ رہے ہیں، اور پیو ریسرچ سنٹر کی رپورٹ کے مطابق ۲٠۱۴ء تک براعظم امریکا کے ۲۹ فیصد ممالک جبکہ یورپ کے ۱۶ فی صد ممالک میں توہین مذہب کے خلاف قوانین موجود تھے ، تاہم بنیادی نوعیت کے سماجی وسیاسی تغیرات اور آزادی فکر کی تحریکوں کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں سیاست اور قانون کے دائرے میں مذہب کا اثر مسلسل کم ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس کی جگہ سیکولر اقدار نے قانون سازی اور ریاستی پالیسیوں میں بنیادی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ ان جدید اقدار میں آزادی اظہار ایک بنیادی قدر ہے جسے مذہبی جذبات واحساسات کے مقابلےمیں بالاتر قدر سمجھا جاتا ہے اور اس کے زیر اثر، مغربی ملکوں میں توہین مذہب پر سزا کے قوانین کو ایک تدریج کے ساتھ کتاب قانون سے حذف کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا میں وفاقی سطح پر ایسی کوئی قانون سازی موجود نہیں، لیکن بہت سی امریکی ریاستوں کو چونکہ برطانوی کامن لاء ورثے میں ملا تھا، اس لیے بعض ریاستوں مثلا میساچوسٹس اور مشی گن میں اب تک ایسے قوانین موجود ہیں۔ البتہ انھیں امریکی دستور کی پہلی ترمیم کے منافی ہونے کے باعث، جس میں آزادی اظہار کو بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا ہے، عملا کالعدم سمجھا جاتا ہے اور امریکی سپریم کورٹ ۱۹۵۲ء میں ایسے قوانین کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
یورپی ممالک میں بلاسفیمی کے خلاف قانون کے خاتمے کا آغاز ۱۷۸۹ء میں فرانس سے ہوا ۔ فرانس کے بعض علاقوں میں جو کچھ عرصے کے لیے جرمنی کا حصہ بن گئے تھے، یہ قانون نافذ العمل تھا ، لیکن وہاں بھی ۲٠۱۶ء میں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ سویڈن میں اسے ۱۹۷٠ء میں اور برطانیہ میں ۲٠٠۸ء میں منسوخ کیا گیا، جبکہ انسانی حقوق کے علمبردار حلقوں کی طرف سے شدید تنقید اور دباو کے نتیجے میں نیدر لینڈز، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، مالٹا اور ناروے نے بھی گزشتہ چار سال کے دوران میں ایسے قوانین کو منسوخ کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں ان قوانین کی تنسیخ کے حوالے سے بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جا چکے ہیں۔ آئر لینڈ میں ، جہاں چند ہی سال پہلے ۲٠٠۹ء میں کسی بھی مذہب کے خلاف بلاسفیمی کو جرم قرار دینے کے حوالے سے قانون سازی کی گئی تھی، حال ہی میں ایک عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں یہ قانون غیر موثر قرار پا چکا ہے۔
البتہ بعض یورپی ممالک میں ابھی تک یہ قانون موجود ہے اور اس کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ مثلا حال ہی میں اسپین میں ولی ٹولیڈو نامی اداکار کو خدا اور مقدسہ مریم کے بارے میں توہین پر مبنی پوسٹ لکھنے پر گرفتار کیا گیا اور اس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس پر پورے مغرب کے سیکولر حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا اور اسے اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ (دی گارڈین، ۱۲ و ۲٠ ستمبر ۲٠۱۸) اسپین کے علاوہ جرمنی، روس، یونان اور پولینڈ وغیرہ میں بھی توہین مذہب کے خلاف قوانین موجود ہیں۔
ان تعزیری قوانین پر، آزادی اظہار کے حق کے منافی ہونے کے علاوہ ایک اہم اعتراض یہ بھی ہے کہ یہ مذہبی امتیاز پر مبنی ہیں اور خاص طور پر مسیحی مذہب کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر توہین مذہب کے خلاف قوانین بنیادی طور پر مغربی معاشروں میں مسیحی مذہب کی حیثیت اور کردار کو محفوظ ومستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے اور مسیحی مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب، خاص طور پر اسلام ان کے دائرہ اطلاق میں شامل نہیں ہیں۔ چنانچہ ۹٠ء میں جب مسلمانوں کی طرف سے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے برطانوی عدالتوں سے رجوع کیا گیا تو جواب یہ دیا گیا کہ یہ قوانین صرف مسیحی مذہب کو بلاسفیمی کے خلاف تحفظ دیتے ہیں، دوسرے کسی مذہب کو ایسا تحفظ دینا قانون کا حصہ نہیں ہے۔ مقامی برطانوی عدالتوں کے ان فیصلوں کو جب یورپی کمیشن آن ہیومن رائٹس میں مذہبی امتیاز کے نکتے کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تو کمیشن کا جواب بھی یہی تھا کہ چونکہ برطانوی قانون، برطانوی حکومت کو پابند نہیں کرتا کہ وہ تمام مذاہب کے مقدس احساسات کا تحفظ کرے، اس لیے برطانوی حکومت کا رشدی اور کتاب کے ناشر کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا مذہبی امتیاز کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں، اسی عرصے میں یورپی کمیشن نے متعدد مقدمات میں مختلف مغربی حکومتوں کے ایسے فیصلوں کو جائز اور درست قرار دیا جن میں مسیحیوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے اقدامات کے خلاف پابندی عائد کی گئی تھی۔
Peter G. Danchin, Islam in the Secular Nomos of the European Court of Human Rights, 32 Mich. J. Int'l L. 663 (2011). Available at: http://repository.law.umich.edu/mjil/vol32/iss4/2
ان اعتراضات کی بنیاد پر مغرب کے سیکولر اور لبرل حلقوں کا، جو معاشرتی اقدار اور حکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں مذہبی عقائد یا احساسات کا کسی درجے میں کوئی کردار قبول نہیں کرنا چاہتے، یہ مطالبہ ہے کہ مذہبی حساسیتوں کو قابل تحفظ سمجھنے اور اس کے لیے قانونی تحفظات فراہم کرنے کا زاویہ نظر بالکل ترک کر دیا جائے اور کسی بھی انداز میں کسی بھی مذہب یا اس کی مقدس شخصیات پر تنقید یا تضحیک کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر قبول کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں مغربی حکومتوں، قانون ساز اداروں اور عدالتوں کا زاویہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کو اعتراض یا تنقید سے تحفظ مانگنے کا حق نہیں اور آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو کسی بھی عقیدے یا نظریے پر، جسے وہ غلط سمجھتا ہے، تنقید یا اعتراض کرنے کا حق حاصل ہو، تاہم اس کے ساتھ معاشرتی امن وامان کو برقرار رکھنا اور کسی بھی گروہ کو نفرت یا تحقیر کا نشانہ بننے سے بچانا بھی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر قانونی نظام اپنے باشندوں کو نہ صرف جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ ان کی عزت اور آبرو کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے اور ہتک عزت اور ازالۂ حیثیت عرفی وغیرہ سے متعلق تادیبی سزائیں اسی اصول پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ راسخ العقیدہ اہل مذہب اپنے مذہبی شعائر ، شخصیات اور جذبات کو جان ومال اور آبرو سے زیادہ محترم سمجھتے ہیں اور ان میں سے کسی بھی چیز کی توہین لازماً مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور نتیجتاً اشتعال انگیزی کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی مذہبی عقیدے یا عمل پر تنقید کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار کیا جائے جس کا مقصد کسی مذہبی گروہ کو محض طعن وتشنیع اور نفرت کا نشانہ بنانا نہیں، بلکہ مفاد عامہ کو بڑھانا اور بحث ومباحثہ سے درست تر نتیجے تک پہنچنا ہو۔ چنانچہ اگر کوئی بھی تنقید اس حد سے متجاوز ہو تو اسے ’جرم‘ قرار دے کر اس کے سدباب کے لیے سزا مقرر کرنا ہر لحاظ سے جمہوری اصولوں اور تصورات کے مطابق ہے۔
زیر بحث مقدمے میں بھی آسٹریا کی عدالتوں اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے فیصلوں میں یہی موقف اختیار کیا گیا ہے۔ چنانچہ یورپی عدالت کے فیصلے میں آسٹریا کی علاقائی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ
The Regional Court further stated that anyone who wished to exercise their rights under Article 10 of the Convention was subject to duties and responsibilities, such as refraining from making statements which hurt others without reason and therefore did not contribute to a debate of public interest. A balancing exercise between the rights under Article 9 on the one hand and those under Article 10 on the other needed to be carried out. The court considered that the applicant’s statements were not statements of fact, but derogatory value judgments which exceeded the permissible limits. It held that the applicant had not intended to approach the topic in an objective manner, but had directly aimed to degrade Muhammad. The court stated that child marriages were not the same as paedophilia, and were not only a phenomenon of Islam, but also used to be widespread among the European ruling dynasties. Furthermore, the court argued that freedom of religion as protected by Article 9 of the Convention was one of the foundations of a democratic society. Those who invoked their freedom of religion could not expect to be exempt from criticism, and even had to accept the negation of their beliefs. However, the manner in which religious views were attacked could invoke the State’s responsibility in order to guarantee the peaceful exercise of the rights under Article 9. Presenting objects of religious worship in a provocative way capable of hurting the feelings of the followers of that religion could be conceived as a malicious violation of the spirit of tolerance, which was one of the bases of a democratic society. The court concluded that the interference with the applicant’s freedom of expression in the form of a criminal conviction had been justified as it had been based in law and had been necessary in a democratic society, namely in order to protect religious peace in Austria.
’’علاقائی عدالت نے مزید کہا ہے کہ کوئی بھی شخص جو کنونشن کے آرٹیکل ۱٠ کے تحت (آزادی اظہار سے متعلق) اپنے حقوق استعمال کرنا چاہتا ہو، اس پر فرائض اور ذمہ داریوں کی پابندی بھی لازم ہے، مثلا ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا جو کسی معقول جواز کے بغیر دوسروں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوں اور مفاد عامہ سے متعلق کسی بحث میں کوئی (مفید) حصہ نہ ڈالتے ہوں۔ آرٹیکل ۹ اور آرٹیکل ۱٠ میں دیے گئے حقوق کے مابین ایک توازن کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ علاقائی عدالت نے ملاحظہ کیا کہ مدعی (یعنی ملزمہ) کے بیانات واقعاتی حقائق کو بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ تحقیر پر مبنی اقداری حکم لگا رہے تھے جو جائز حدود سے متجاوز تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ کی نیت مسئلے پر معروضی انداز میں غور کرنے کی نہیں بلکہ براہ راست محمد کی شخصیت کو مجروح کرنے کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ نابالغ لڑکی کے ساتھ شادی کرنا اور طفل پرست ہونا ، ایک جیسے عمل نہیں ہیں اور صغر سنی کی شادیاں صرف اسلام میں نہیں تھیں، بلکہ یورپ کے حکمران خاندانوں میں بھی ان کا عام رواج رہا ہے۔ مزید برآں عدالت نے یہ دلیل بھی دی کہ کنونشن کے آرٹیکل ۹ میں آزادی مذہب کا جو حق بیان کیا گیا ہے، وہ ایک جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ وہ لوگ جو آزادی مذہب کے اصول کا حوالہ دیتے ہیں، یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ تنقید سے مستثنی ہیں اور اگر کوئی ان کے عقائد کی نفی کرے تو انھیں اس کو بھی گوارا کرنا ہوگا۔ تاہم جس انداز میں مذہبی خیالات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، وہ ریاست کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی دعوت دے سکتا ہے تاکہ وہ آرٹیکل ۹ کے تحت دیے گئے حقوق کے پرامن استعمال کو یقینی بنا سکے۔ ایسی چیزیں جو مذہبی عقیدت کا مرکز ہوں، انھیں اگر ایسے اشتعال انگیز انداز میں پیش کیا جائے جس سے اس مذہب کے پیروکاروں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں تو اسے بد نیتی کے ساتھ رواداری کی روح کو ، جو کہ جمہوری معاشرے کی اساسات میں سے ایک ہے، پامال کرنے والا عمل تصور کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزمہ کو جرم کا مرتکب قرار دے کر اس کی آزادی اظہار پر قدغن لگانے کا پورا جواز ہے اور اس کی بنیاد قانون میں موجود ہے بلکہ جمہوری معاشرے میں ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ آسٹریا میں مذہبی امن کو محفوظ رکھا جا سکے۔”
ہماری رائے میں عدالت نے ایک بہت اہم اصول کی وضاحت کی ہے جس کی، گلوبلائزیشن کے اس دور میں غیر معمولی عملی اہمیت ہے اور وہ عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک بنیادی تہذیبی واقداری اختلاف میں مفاہمت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مغرب اور اسلام کے باہمی تعلقات کے تناظر میں اس بحث کا نقطہ آغاز سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات” بنی تھی جو ۱۹۸۸ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کی اشاعت وتشہیر اور اس پر سامنے آنے والے بین الاقوامی رد عمل نے عالم اسلام اور مغرب کے باہمی تعلقات کی بحث میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا جس کی اہمیت اور اثرات کئی لحاظ سے افغانستان میں سوویت افواج کے داخلے، خلیج میں امریکی افواج کی آمد اور نائن الیون جیسے تہلکہ خیز سیاسی وعسکری واقعات سے بڑھ کر ہیں۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ دو مختلف نظام ہائے اقدار اور سماجی آزادیوں کے دو متخالف تصورات کا باہمی تصادم ہے، اور یہ بحث اس فالٹ لائن کو نمایاں کرتی ہے جو اقدار کی سطح پر مسلم معاشروں اور جدید مغربی تہذیب کے مابین پائی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ ایک نئی صورت حال تھی جس سے دور جدید سے پہلے ان دونوں تہذیبوں کو واسطہ پیش نہیں آیا تھا۔
دور جدید سے پہلے قانون بین الاقوام کی نوعیت بہت مختلف تھی اور اس نوعیت کے واقعات ریاستوں اور حکومتوں کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی قانونی روایت میں یہ مسئلہ اس تناظر میں زیر بحث آتا ہے جب اسلامی ریاست میں مقیم کسی غیر مسلم نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا ہو ۔ اگر مسلم ریاست کے دائرۂ اختیار سے باہر کسی فرد نے ایسا کیا ہو تو کلاسیکی اسلامی قانون اس صورت سے تصریحاً کوئی تعرض نہیں کرتا اور چونکہ فقہی دور میں رائج قانون بین الاقوام کے تصور کے تحت کسی محارب قوم کے قانونی دائرۂ اختیار میں رونما ہونے والے اس طرح کے واقعات سے زیادہ سروکار نہیں رکھا جاتا تھا، اس لیے اس سے کوئی عملی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا، تاہم دنیا کے سیاسی وتہذیبی ارتقا اور قانون بین الاقوام میں پیدا ہونے والے تغیرات کے نتیجے میں اس صورت حال میں ایک جوہری تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اب دنیا کی کم وبیش تمام اقوام ایک بین الاقوامی معاہدے کی فریق اور اس کی پاس داری کی پابند ہیں اور اس کے نتیجے میں اقوام عالم ایک دوسرے سے جذبات واحساسات کے باہمی احترام کی توقع بھی رکھتی ہیں اور اگر ان کو پامال کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات براہ راست قانون بین الاقوام اور عالمی سیاست کے پورے ڈھانچے پرمرتب ہوتے ہیں۔ مزید برآں معاصر مغربی معاشروں میں مسلمانوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جس کے مذہبی جذبات مسلم معاشروں میں مقیم مسلمانوں سے کسی طرح کم نہیں، بلکہ مغرب کے اندر رہنے والی ایک کمیونٹی کے طور پر وہ اس بحث کے بنیادی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس صورت حال میں توہین رسالت کی بحث نے، جو اس سے پہلے اسلامی قانون کی ایک داخلی بحث تھی، عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک نہایت حساس اور نازک نزاعی مسئلے کی صورت اختیار کر لی ہے۔
عالم اسلام کی مذہبی وسیاسی قیادت نے ، مغربی معاشروں کی داخلی صورت حال سے براہ راست واقف نہ ہونے نیز ٹھنڈے دل ودماغ سے معاملات کا جائزہ نہ لینے کی وجہ سے اس پر جو بالکل ابتدائی رد عمل ظاہر کیا، اس کی عالمی ترجمانی آیت اللہ خمینی کے فتوے کی صورت میں ہوئی جس میں رشدی کو واجب القتل قرار دے کر گویا اس بات کو مسلمانوں پر فرض کفایہ قرار دیا گیا کہ ان میں سے جس کو بھی موقع ملے، وہ سلمان رشدی کو قتل کر دے۔ یوں رشدی کی کتاب سے جو کشیدگی اور تناو پیدا ہوا تھا، اس فتوے نے اسے مزید بڑھا دیا اور عملا اس کا نتیجہ عالم اسلام کی توقعات اور خواہشات کے برعکس نکلا۔ رشدی نے یہ کتاب اپنی ذاتی حیثیت میں لکھی تھی اور برطانوی حکومت ابتداءا اس میں کسی بھی حوالے سے فریق نہیں تھی، لیکن قتل کے فتوے نے اسے ایک حکومتی اور سیاسی مسئلہ بنا دیا اور حکومت برطانیہ نے نہ صرف رشدی کو سرکاری طور پر تحفظ فراہم کیا، بلکہ فتوے کے رد عمل میں اسے مغرب کے لبرل حلقوں میں آزادی اظہار کے ہیرو کا درجہ حاصل ہو گیا۔ یوں بین الاقوامی قانون اور سیاسی حکمت عملی، دونوں اعتبار سے فتوائے قتل کی اپروچ غلط اور ناکام ثابت ہوئی۔
اس کے بعد اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے ۱۹۹۸ء میں اس حوالے سے سیاسی وسفارتی جدوجہد شروع کی اور اسلامی قانونی ومذہبی تصورات کے پس منظر میں اس کی کوششوں کا ہدف یہ رہا کہ مذہبی مفہوم میں بلاسفیمی کو ایک جرم قرار دلوایا جائے۔ مغربی معاشرے کے فکری ارتقا اور قانونی وسیاسی تصورات کے موجودہ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں تھا کہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی، تاہم او آئی سی کو اس نتیجے تک پہنچنے میں کم وبیش پندرہ سال لگے اور بالآخر ۲٠۱۲ء میں تنظیم کی طرف سے باقاعدہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا۔
رویٹرز کی رپورٹ (۱۵ ۔اکتوبر ۲٠۱۲ء ) کے مطابق او آئی سی کے سیکرٹری جنرل احسان الدین اوغلو نے بتایا کہ او آئی سی کی طرف سے ۱۹۹۸ سے ۲٠۱۱ء تک اس بات کی ان تھک کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی تائید سے عالمی سطح پر توہین مذہب پر قانونی پابندی عائد کی جائے، لیکن ہم اقوام متحدہ کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، کیونکہ مغربی حکومتوں کے ہاں ایک عجیب تصور ہے جو دوسروں کے احساسات کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے کو بھی آزادی اظہار میں شمار کرتا ہے اور وہ اس کے خلاف قانون سازی کو آزادی رائے کے خلاف سمجھتے ہیں۔ احسان الدین اوغلو نے کہا کہ اس لیے اب ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اس عنوان سے عالمی قانون سازی کے لیے مزید کوئی کوشش نہیں کریں گے، اور اس کے بجائے مغربی ممالک سے اپیل کریں گے کہ ان کے ہاں مقامی طور پر توہین مذہب یا نفرت انگیزی کے خلاف جو قوانین موجود ہیں، ان کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو مجروح کرنے والے اقدامات کا قانونی سد باب کریں۔ اوغلو نے کہا کہ اس کے سدباب کے لیے مغربی ممالک میں مناسب قوانین اور اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی قراردادیں پہلے ہی موجود ہیں اور ان کو بس لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔
رویٹرز کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ۱۹۹۸ء کے بعد سے او آئی سی کی طرف سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مختلف کمیٹیوں اور جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں ہر سال پیش کردہ قرادادوں کو اکثریت کی تائید حاصل ہوتی رہی جن میں مذاہب کو بدنام کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا، لیکن مغربی حکومتوں کی طرف سے ایسی قراردادوں کو آزادی اظہار کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور یوں یورپی وامریکی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے ۲٠۱٠ء تک ان کو حاصل تائید ۵٠ فی صد تک رہ گئی۔
(https://www.reuters.com/article/us-islam-blasphemy/wests-free-speech-stand-bars-blasphemy-ban-oic-idUSBRE89E18U20121015)
حاصل کلام یہ کہ مذہبی قانونی روایتوں میں، چاہے وہ اسلام ہو یا مسیحیت، توہین مذہب پر سزا کی بنیاد تقدس کی پامالی کے مذہبی تصور پر تھی۔ جدید مغربی معاشروں میں یہ تصور اپنی تاثیر کھو چکا ہے اور ہیومن ازم کے فلسفے کے زیر اثر اس کی جگہ آزادی رائے کے تقدس نے حاصل کر لی ہے۔ تاہم ہیومن ازم ہی کا فلسفہ ایک دوسرے اصول یعنی انسانی جذبات واحساسات کے احترام کو بھی تقدس دیتا ہے۔ یوں مذہبی تقدس کے تصور کے تحت نہ سہی، انسان دوستی کے تصور کے تحت آزادی اظہار کے ایسے اسالیب پر قدغن عائد کرنے کی فلسفیانہ وقانونی بنیاد موجود ہے جو ایک ہی دنیا میں رہنے والے مختلف گروہوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے اور نتیجتا بدامنی اور فساد کو جنم دیتے ہوں۔ چنانچہ پچھلی تین دہائیوں پر محیط اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ تہذیبوں، معاشروں اور قانونی وسیاسی تصورات کے باہمی تعامل میں ، تصادم سے بچنے اور پرامن بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکات کو دریافت کرنا اور یہ سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ ایک عالمی ماحول میں قانونی ضابطے یک طرفہ طور پر کسی ایک تہذیبی روایت یا قانونی نظام پر مبنی نہیں ہو سکتے۔ یہاں عملیت کا زاویہ نظر اختیار کرنا ناگزیر ہے اور کوشش کا ہدف کسی ناگوار صورت حال کے مکمل خاتمے کے بجائے اسے کم سے کم کرنے کو ہی بنایا جا سکتا ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
تعجیل اور استعجال میں فرق
وَلَو یُعَجِّلُ اللّہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ استِعجَالَہُم بِالخَیرِ لَقُضِیَ الَییہِم اَجَلُہُم۔ (یونس: 11)
’’اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی”۔ (امین احسن اصلاحی)
آیت مذکورہ کے اس ترجمے میں صاحب تدبر نے تعجیل اور استعجال دونوں کا ایک ہی ترجمہ کردیا ہے۔ جبکہ قرآن مجید کے دیگر تمام مقامات پر انہوں نے دونوں کے درمیان فرق کا پورا لحاظ کیا ہے۔ قرآنی استعمالات کے مطابق تعجیل کا مطلب کام کو جلدی کرنا اور استعجال کا مطلب ہے کام کی جلدی کرنا، جلدی مچانا، اور کام جلد ہوجانے کی طلب کرنا۔ اس فرق کو سامنے رکھیں تو مذکورہ بالا ترجمہ درست نہیں رہ جاتا ہے۔
اس ترجمے کے غلط ہونے کی ایک اور بڑی وجہ ہے، اور وہ یہ کہ اس میں استعجالھم میں ھم ضمیر کو فاعل کی ضمیر ماننے کے بجائے مفعول کی ضمیر مانا گیا ہے، جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جس شخص سے جلدی کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ استعجال کا مفعول بہ ہوتا ہے، یا جس چیز کا استعجال کیا جاتا ہے وہ مفعول بہ ہوتا ہے یا اس پر باءداخل ہوتا ہے جو مذکورہ بالا آیت میں الخیر پر داخل ہے۔ جیسے اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ اور ویستعجلونک بالعذاب پہلی مثال میں مفعول بہ وہ ہے جس کی جلدی کی جارہی ہے اور دوسری مثال میں مفعول بہ وہ ہے جس سے جلدی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، اور جس چیز کی جلدی کی جارہی ہے اس پر باءداخل ہے، الغرض جس کے سلسلے میں استعجال کیا جاتا ہے وہ مفعول بہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس پر لام داخل ہوتا ہے، یعنی یہ کہنے کے لیے کہ زید نے عمرو کے لیے خیر کی جلدی کی، استعجل زید عمروا الخیر یا بالخیر کہنا درست نہیں ہوگا ،اس کے بجائے استعجل زید لعمرو بالخیر کہا جائے گا۔ یہاں صاحب ترجمہ نے عام ترجموں سے ہٹ کر استعجال کو فاعل کے بجائے مفعول کی طرف مضاف مانتے ہوئے ترجمہ کیا ہے، تاہم یہ بات وہ ملحوظ نہیں رکھ سکے کہ استعجال کا فعل اس مفہوم کے ساتھ اپنے مفعول کی طرف مضاف ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ غرض صحیح توجیہ یہی ہے کہ استعجال کو فاعل کی ضمیر کی طرف مضاف مانا جائے، اور اس طرح درست ترجمہ وہی ہے جو عام طور سے لوگ کرتے ہیں، ازراہِ مثال کچھ ترجمے ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں:
’’اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی”۔ (سید مودودی)
’’اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا”۔(احمد رضا خان)
’’اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی”۔ (فتح محمد جالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس آیت کے معروف ترجمے میں ایک اور اہم اضافہ کرتے ہیں، ان کا تجویز کردہ ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی جلدی کرتا جس طرح یہ اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں جیسے خیر کے لیے مچارہے ہوں تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی”۔ (امانت اللہ اصلاحی)
گویا اس میں ایک تشبیہ مضمر ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں ان کی خیر کے لیے جلدی مچانے کی بات نہیں ہے بلکہ اس جلدی کی بات ہے جو وہ لوگ شر یعنی عذاب کے لیے اس طرح کررہے ہیں جیسے کہ وہ خیر کے لیے جلدی کررہے ہوں، جسے ایک دوسرے مقام پر کہا گیا:
ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر۔ (سورة الاسراء: ۱۱)
تشبیہ مرکب کا ترجمہ
تشبیہ مرکب کو تشبیہ تمثیل بھی کہتے ہیں، اس میں مشبہ بہ کوئی ایک چیز نہیں بلکہ مذکور تمام چیزوں سے مل کر ایک مکمل صورت حال ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اس تشبیہ کا استعمال کئی جگہ ہوا ہے، ایسے مقامات پر بعض لوگوں سے ترجمہ کرتے ہوئے کبھی کبھی تشبیہ مرکب کے بجائے تشبیہ بسیط کا ترجمہ ہوجاتا ہے۔ درج ذیل مثالوں سے بات واضح ہوجائے گی۔
(۱) انَّمَا مَثَلُ الحَیَاۃ الدُّنیَا کَمَاء اَنزَلنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاختَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الاَرضِ مِمَّا یَاکُلُ النَّاسُ وَالاَنعَامُ حَتَّیَ اذَا اَخَذَتِ الاَرضُ زُخرُفَہَا وَازَّیَّنَت وَظَنَّ اَہلُہَا اَنَّہُم قَادِرُونَ عَلَیَا اَتَاہَا اَمرُنَا لَیلاً اَو نَہَاراً فَجَعَلنَاہَا حَصِیداً کَاَن لَّم تَغنَ بِالاَمسِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَومٍ یَتَفَکَّرُونَ۔ (یونس: 24)
زمخشری اس تشبیہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
ھذا من التشبیہ المرکب، شبہت حال الدنیا فی سرعۃ تقضیھا وانقراض نعیمھا بعد الاقبال، بحال نبات الارض فی جفافہ وذھابہ حطاماً بعد ما التف ونکائف، وزین الارض بخضرتہ ورفیفہ فَاختَلَطَ بہِ فاشتبک بسببہ حتی خالط بعضہ بعضاً۔ (تفسیر الزمخشری)
آیت مذکورہ کے ترجمے ملاحظہ کریں؛
’’دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں”۔ (سید مودودی)
’’پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا۔۔۔” (محمد جوناگڑھی)
یہ دونوں ترجمے تشبیہ مرکب کے مطابق کیے گئے ہیں، جبکہ ذیل کے ترجموں میں یہ رعایت نہیں محسوس ہوتی ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے دنیا کی زندگی کو پانی یا بارش سے تشبیہ دی گئی ہے، حالانکہ دنیا کی زندگی پانی سے مشابہ نہیں ہے بلکہ اس پوری مرحلہ وار صورت حال سے مشابہ ہے جس کے کئی مراحل ہیں، اور جس کا صرف پہلا ایک مرحلہ بارش کا ہونا ہے۔
’’دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا”۔ (احمد رضا خان)
’’دنیا کی زندگی کی مثال مینھ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا”۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اس دنیا کی زندگی کی تمثیل یوں ہے جیسے بارش کہ ہم نے اسے آسمان سے برسایا۔” (امین احسن اصلاحی)
یہ تینوں ترجمے تشبیہ مرکب کی ترجمانی نہیں کرتے ہیں۔
(۲) وَاضرِب لَہُم مَّثَلَ الحَیَاۃ الدُّنیَا کَمَاء اَنزَلنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاختَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الاَرضِ فَاَصبَحَ ہَشِیماً تَذرُوہُ الرِّیَاحُ وَکَانَ اللَّہُ عَلَی کُلِّ شَیءٍ مُّقتَدِراً۔ (الکہف: 45)
’’اور اے نبی! اِنہیں حیات دنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے”۔ (سید مودودی)
’’اور ان کو اس دنیوی زندگی کی تمثیل سناو کہ اس کو یوں سمجھو کہ بارش ہو جس کو ہم نے آسمان سے اتارا، پس زمین کی نباتات اس سے خوب اپجیں، پھر وہ چورا ہوجائیں، جس کو ہوائیں اڑائے لیے پھریں”۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)
’’ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزہ ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وہ چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا چار ترجموں میں پہلے دو ترجمے تشبیہ تمثیل کے مطابق ہیں، جبکہ بعد کے دونوں ترجموں میں تشبیہ تمثیل کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔
(۳) مَثَلُہُم کَمَثَلِ الَّذِی استَوقَدَ نَاراً فَلَمَّا اَضَاءت مَا حَولَہُ ذَہَبَ اللّہُ بِنُورِہِم وَتَرَکَہُم فِی ظُلُمَاتٍ لاَّ یُبصِرُونَ۔ (البقرة: 17)
’’اِن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے اِن کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا”۔ (سید مودودی)
’’ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے لوگوں کے لیے آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے ارد گرد کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایسی تاریکی میں چھوڑ دیا جس میں ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے” ۔(امین احسن اصلاحی) ( اس ترجمہ میں ’’لوگوں کے لیے” زائد ہے، ’’ایسی تاریکی” کی جگہ بس تاریکیوں ہونا چاہیے، اور ’’سجھائی نہیں دیتا” ہونا چاہیے)
’’ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے” ۔(فتح محمد جالندھری)
’’ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے”۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا چاروں ترجموں میں پہلے دونوں میں تشبیہ مرکب کی رعایت ہے، جبکہ بعد والے دونوں ترجموں میں تشبیہ مرکب کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔
(۴) اَو کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِیہِ ظُلُمَات وَرَعد وَبَرق یَجعَلُونَ اَصابِعَہُم فِی آذَانِہِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ المَوتِ واللّہُ مُحِیط بِالکافِرِینَ۔ (البقرة: 19)
’’یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو، اس میں تاریکی ہو، کڑک ہو، اور چمک ہو۔ یہ کڑکے کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونسے لے رہے ہوں”۔ (امین احسن اصلاحی، ا س ترجمے میں تاریکی کی جگہ تاریکیاں اور کڑک کی جگہ گرج ہونا چاہیے)
’’یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھو نسے لیتے ہیں”۔(سید مودودی)
’’یا ان کی مثال مینھ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں” ۔(فتح محمد جالندھری)
’’یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں بھی بعد والے دونوں ترجموں میں تشبیہ مرکب کی رعایت نہیں ہوسکی۔
آخر الذکر دونوں تمثیلوں کے بارے میں زمخشری لکھتے ہیں:
والصحیح الذی علیہ علماء البیان لا یتخطونہ: انّ التمثیلین جمیعا من جملۃ التمثیلات المرکبة دون المفرّقۃ، لا یتکلف الواحد واحد شیء یقدر شبھہ بہ، وھو القول الفحل والمذھب الجزل ... ومما ھو بین فی ھذا قول لبید:
وما النَّاسُ الّا کالدِّیَارِ واھلُھَا
بِھَا یَومَ حَلّوھَا وغَدواً بَلَاقِعُ
لم یشبہ الناس بالدیار، وانما شبہ وجودھم فی الدنیا وسرعۃ زوالھم وفنائھم، بحلول اھل الدیار فیھا ووشک نھوضھم عنھا، وترکھا خلاء خاویۃ.
(جاری)
اے خانہ بر انداز چمن ! کچھ تو ادھر بھی
محمد اظہار الحق
چار دن سے مولوی صاحب نظر نہیں آ رہے تھے۔ ایک اور صاحب نمازیں پڑھا رہے تھے۔ پانچویں دن مؤذن صاحب سے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ مولانا کہاں ہیں؟ کیا چُھٹی پر ہیں؟ مؤذن صاحب نے بتایا کہ اُن کا تبادلہ ایک اور مسجد میں ہو گیا ہے۔ یہاں اُن کی مدت (Tenure) پوری ہو چکی تھی! اُس دن جمعہ تھا۔ نئے مولوی صاحب ہی نے خطبہ دیا۔ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا چودہ سال سے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی سے وابستہ ہیں اور کچھ دیگر مساجد میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں!
اس وقت ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی اور بحریہ، دونوں کی رہائشی آبادیوں میں یہی سسٹم کارفرما ہے۔ کسی مسجد میں چندہ لیا جاتا ہے نہ محلے والوں کی کمیٹی ہے، مولانا جس کے ماتحت ہوں۔ تنخواہ انتظامیہ دیتی ہے۔ معقول رہائش مہیا کی جاتی ہے۔ ڈیفنس ہاوسنگ میں خطیب اور مؤذن کو تین وقت کا تیار پکا پکایا کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے بحریہ میں بھی کھانے کا یہی انتظام ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان دو رہائشی تنظیموں کے علاوہ بھی کچھ سیٹ اپ ایسے ہوں جہاں ایسا ہی یا اس سے ملتا جلتا انتظام چل رہا ہو!
آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کا بیٹا آٹھ دس سال لگا کر تعلیم سے فارغ ہوا ہو، امتحانات میں کامیابی حاصل کر چکا ہو، قرآن و حدیث اور فقہ پر اسے دسترس حاصل ہو اور پھر اسے روزگار ایسی جگہ ملے جہاں اس کا اور اس کے اہل و عیال کا انحصار محلے والوں کے چندے اور ملاقات و خیرات پر ہو؟ ایک مسجد کمیٹی ہو جس کے ارکان میں دو تین دکاندار ہوں، ایک دو افسر ٹائپ اشخاص ہوں، دو تین چٹے ان پڑھ ہوں، ایک دو جھگڑالو قسم کے بزرگ ہوں، یہ کمیٹی عملی طور پر آپ کے عالم فاضل صاحبزادے کی نگران ہو اور صاحبزادے کو ہر وقت یہ فکر لاحق ہو کہ ان میں سے کوئی ناراض نہ ہو جائے، تو کیا یہ بندوبست آپ کے لیے قابل قبول ہو گا؟
معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جو علمائے دین مساجد اور مدارس میں کام کر رہے ہیں، انہیں دو خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ اکثریت خدا ترس اشخاص پر مشتمل ہے جو سیاست میں پڑنا چاہتے ہیں نہ کسی کا محتاج ہونا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ اسباق کی تیاری کرتے ہیں۔ پڑھانے میں خلوص اور درد مندی کو بروئے کار لاتے ہیں۔ ان حضرات کو یہ بندوبست قطعاً اچھا نہیں لگتا کہ وہ اپنی تنخواہ کے لیے اہل محلہ پر اور مسجد کمیٹی پر انحصار کریں۔ مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کی اکثریت بہت کم مشاہروں پر گزر بسر کر رہی ہے۔ قال اللہ اور قال الرسول کی صدائوں کو زندہ رکھنے والوں کی زیادہ تعداد تنگ دستی اور عُسرت کا سامنا کر رہی ہے۔ چٹائیوں پر بیٹھتے ہیں اور لوہے کی بنی چارپائیوں پر سوتے ہیں۔ پنشن ہے نہ ہی جی پی فنڈ، علاج معالجہ کی سہولیات ہیں نہ رہائش کا معقول بندوبست! سالہا سال اسی طرح گزر جاتے ہیں ؎
گُھٹ گُھٹ کے رہے میرِؔ سے جب مرتے جہاں میں
تب جا کے یہاں واقفِ اسرار ہوئے ہم!
دوسری کیٹگری اُس قلیل تعداد کی ہے جو سیاست اور پی آر میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کچھ تو غیر معمولی صلاحیت کے مالک ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ قابل رشک تنظیمی قابلیت رکھتے ہیں۔ حکومت سے اور مخیر حضرات سے تعلقات پیدا کرنے اور نبھانے کا فن جانتے ہیں۔ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کا مستقبل بھی’’محفوظ‘‘ کر جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو او لیول اور اے لیول قسم کے انگریزی سکول کالج بھی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ کچھ جو بہت اوپر تک نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں، ہر سال یا سال میں ایک سے زیادہ بار امریکہ یورپ اور دوسرے ممالک کے دورے کرتے ہیں۔ ان دوروں کو تنظیمی اور تبلیغی دورے کہا جاتا ہے۔ کچھ خوش قسمت ایسے ہیں جنہیں امریکہ کے ارباب اقتدار و اختیار مدعو کرتے ہیں اور دوران سفر ہر قسم کی سہولیات مہیا کرتے ہیں!
ہم ہرگز یہ نہیں کہنا چاہتے کہ مساجد سو فیصد ریاست کی تحویل میں آنی چاہئیں (اگر ایسا کرنا بھی ہو تو بتدریج کرنا چاہیے) مگر ہم یہ ضرور تجویز کریں گے کہ مساجد میں خدمات سرانجام دینے والے علمائے کرام سے حکومت یہ ضرور پوچھے کہ اگر ان کی مساجد کو حکومت کی تحویل میں لے لیا جائے، انہیں تنخواہ، پینشن، علاج معالجہ اور رہائش کی سہولیات دیگر سرکاری ملازموں کی طرح دی جائیں، جیسا کہ مسلح افواج میں ہو رہا ہے، تو کیا وہ اسے پسند کریں گے؟ یہ پیش گوئی کرنا مشکل نہیں کہ اکثریت کی رائے اس انتظام کے حق میں ہو گی!
جن علمائے کرام کو قدرت نے تنظیمی اور سیاسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، ان کے لیے بھی میدان حاضر رہنا چاہیے۔ وہ مدارس اور تعلیمی ادارے ضرور چلاتے رہیں؛ تاہم حکومت کو یہ ضرور کرنا چاہیے کہ مدارس کے اساتذہ کے سکیل حقیقت پسندانہ بنوائے، منتظم اور مہتمم حضرات کو یا دوسرے الفاظ میں مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ سالانہ ترقی دیں گے، پنشن کا نظام وضع کریں گے، رہائش یا اس کے بدلے رہائشی الاونس دیں گے۔ اساتذہ اور ان کے اہل و عیال کے علاج کی ذمہ داری مدرسہ کی انتظامیہ پر ہو گی۔ ملازمت سے نکالے جانے کی صورت میں وہ ’’سروسز ٹربیونل‘‘ قسم کے کسی ادارے میں اپیل کرنے کا حق رکھیں گے! مدارس مالکان اگر اساتذہ کو یہ سب جائز حقوق دیتے ہیں تو ان مالکان کو پورا حق ہے کہ نجی شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور کرتے رہیں!
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مدارس میں پڑھانے والے علمائے کرام اور مساجد کے خطیب، امام اور مؤذن حضرات، عزت نفس رکھتے ہیں! انہیں دین کا علم سیکھنے اور سکھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ایک قابل رشک ذمہ داری ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ مساجد اور مدارس کے وسیع و عریض نجی شعبے کو Regulate کرے۔ جو فرائض سرانجام دے رہے ہیں، ان کے حقوق بھی ادا کیے جائیں! عوام کی غالب اکثریت ان علمائے کرام کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتی ہے۔ ان علمائے کرام کا اور ان کے اہل و عیال کا حق ہے کہ وہ معاشی اعتبار سے اطمینان بخش زندگی گزاریں، ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور انہیں کمیٹیوں اور مقتدیوں کا مرہون احسان نہ ہونا پڑے۔
اگر مسلح افواج میں، ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیوں میں اور بحریہ کی ملک گیر رہائشی بستیوں میں مساجد کا انتظام قابل رشک انداز میں چلایا جا سکتا ہے تو اس انتظام کا اطلاق بتدریج پورے ملک پر کیا جائے!
مدارس میں تعلیم پانے والے لاکھوں طلبہ کے بھی حقوق ہیں جو کچھ حکومت نے ادا کرنے ہیں، کچھ مدارس کے مالکان نے اور کچھ معاشرے نے مگر یہ موضوع کسی آئندہ نشست میں۔
سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں۔ ایک عرصہ سے ایسی رپورٹیں چل رہی تھیں مگر ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ چین کے خلاف پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے اور چین مخالف عناصر یہ خبریں پھیلا رہے ہیں، لیکن اب اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کی کمیٹی کی باقاعدہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دس لاکھ مسلمان حراستی کیمپوں میں ہیں جو اپنے مذہبی اور شہری حقوق سے محروم ہیں اور ان کے ساتھ ریاستی جبر کا معاملہ کیا جا رہا ہے۔ اس پر ترکی کے وزیر خارجہ کا یہ احتجاج بھی سامنے آیا ہے کہ یہ صورتحال افسوسناک اور شرمناک ہے اور انہوں نے چین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی جبر کو ختم کیا جائے اور وہاں کے دس لاکھ مسلمان جو حراستی کیمپوں میں ہیں انہیں آزاد کر کے ان کے انسانی حقوق بحال کیے جائیں۔
ہمارے ہاں یہ عمومی رجحان پایا جاتا ہے کہ جہاں ایسی بات سامنے آئے اسے مخالفانہ پراپیگنڈا کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ نصف صدی قبل وسطی ایشیا کی ریاستوں میں سوویت یونین کے ریاستی جبر اور مذہبی و شہری حقوق کی پامالی پر جب آواز اٹھائی جاتی تھی تو بہت سے لوگ یہ کہہ دیتے تھے کہ یہ سوویت یونین کے خلاف امریکی پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، حتٰی کہ خود میں یہ کہنے والوں میں شامل تھا کہ یہ سامراج کا پراپیگنڈا ہے اور وسطی ایشیا کے مسلمانوں پر کوئی ریاستی جبر نہیں ہو رہا۔ لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ جب سوویت یونین کی چھتری وہاں سے ہٹی تو میں نے خود علماء کے ایک وفد کے ساتھ تاشقند، سمرقند، ازبکستان میں ریاستی، مذہبی اور انسانی جبر کے ایسے مظاہر دیکھے جو وہاں پون صدی تک جاری رہے۔ اس لیے یہ بات کہہ کر معاملہ کو نظر انداز کر دینا درست نہیں ہے کہ یہ مخالفانہ پراپیگنڈا ہے، بلکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ اور ترک وزیر خارجہ کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ واقعتاً انتہائی سنجیدگی اختیار کر گیا ہے۔ اور میں پاکستان کی حکومت سے، قومی اداروں سے، سیاسی پارٹیوں سے، مذہبی راہنماؤں سے، دانشوروں سے اور دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں سے یہ درخواست کروں گا کہ اس معاملہ پر غور فرمائیں۔ میں اس پر دو تین حوالوں سے بات کرنا چاہوں گا۔
- پہلی بات تو انسانی حقوق کے حوالے سے ہے کہ وہ ہمارے انسان بھائی ہیں جن کے شہری حقوق پامال ہو رہے ہیں اور اقوام متحدہ نے بھی اسی حوالے سے بات کی ہے لیکن اقوام متحدہ کا طرزعمل ہمارے سامنے ہے۔ اقوام متحدہ اور اس نوعیت کے عالمی ادارے بس اتنی مہربانی کر دیتے ہیں کہ رسائی حاصل کر کے رپورٹ جاری کر دیتے ہیں لیکن اس سے زیادہ آج تک ان سے کسی مسئلہ پر کوئی توقع پوری نہیں ہوئی، نہ روہنگیا (برما) کے مسئلہ پر اور نہ کسی اور مسئلہ پر ان کا کوئی کردار سامنے آیا ہے۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی اس مہربانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ انہوں نے ایک رپورٹ کے ذریعے دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ وہاں یہ صورتحال ہے،اس سے آگے اقوام متحدہ یا عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مزید کسی پیشرفت کی توقع کم از کم مجھے تو نہیں ہے۔
- دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا دو تین حوالوں سے بات کرنا بنتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ چین کے ساتھ کوئی مخاصمت مول لی جائے، چین ہمارا دوست ملک ہے، ہر موقع پر اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور ہم پاک چین دوستی کا احترام کرتے ہیں۔ البتہ دوستانہ ماحول میں چین کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے اور کی جانی چاہیے۔ ایک اس حوالہ سے کہ وہ ہمارا پڑوسی ملک ہے، دوسرا مسلمان ہونے کے حوالے سے تو اس سے کہیں زیادہ، اور انسانی حقوق کی بحالی کے حوالے سے بھی، چنانچہ ہماری تہری ذمہ داری بنتی ہے۔ میں چین کے ساتھ کسی مورچہ بندی کی بات نہیں کر رہا لیکن ایک دوست کے ساتھ دوستانہ ماحول میں ذرا مضبوط لہجے میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور یہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے، علاقائی ذمہ داری بھی ہے اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔
- تیسری بات یہ ہے کہ اگر ہم بات نہیں کریں گے تو یہ معاملہ کن لوگوں کے سپرد ہوگا؟ اس لیے کہ پہلے بارہا اس کا تجربہ ہو چکا ہے کہ اعتدال اور توازن کے ساتھ بات کرنے والے لوگ جب خاموش رہتے ہیں تو پھر معاملہ انتہاپسندوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو چکتا ہے اور انتہاپسند اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر ہم شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ انتہاپسند کیا کر رہے ہیں، حالانکہ معاملہ ان کے ہاتھ جانے کے ہم خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ میں یہاں مثال کے طور پر بہت سے مسائل کا ذکر کر سکتا ہوں کہ ہم نے خاموشی اختیار کر کے اور اپنا کردار ادا نہ کر کے معاملات انتہاپسندوں کے حوالے کیے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں ایسا ہو چکا ہے کہ اعتدال پسند قوتوں نے اسباب و عوامل کو کنٹرول کرنے پر توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں انتہاپسند آگے آئے اور پھر ہم نے چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ انتہاپسند یہ کر گئے۔ چنانچہ میری گزارش ہے کہ اس مسئلہ کو انتہاپسندوں کے حوالے نہ کیا جائے اور اسے معتدل اور متوازن موقف رکھنے والے حلقوں کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو، ریاستی اداروں کو، حکومت پاکستان کو، بالخصوص اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا نوٹس لیں اور اس میں اپنا کردار ادا کریں۔
- چوتھی بات میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہم چین کے ساتھ ایک معاشی منصوبہ ’’سی پیک‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں اور مستقبل میں اس اشتراک عمل میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے، اللہ کرے کہ ہم اسے مثبت انداز میں آگے بڑھا سکیں۔ لیکن میں دانشوروں کے سامنے یہ سوال پیش کرنا چاہوں گا کہ کیا سنکیانگ کے مسلمانوں کا معاملہ ہمارے مستقبل کا آئینہ تو نہیں بن جائے گا؟ میں یہ بات چین کی عوام دوست حکومت سے بھی کہنا چاہوں گا کہ جناب اس معاشی منصوبہ میں ہمارے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں یہ منظر نہ دکھایا جائے کہ چین کے صوبہ اور ہمارے پڑوس میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو رہا ہے۔ اور میں اپنے پاکستانی دوستوں سے بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ ہم سی پیک کو دوستانہ دائرے میں دیکھ رہے ہیں، کہیں خدانخواستہ یہ ہمارے لیے ایک نئی ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ نہ بن جائے۔ میں ایک بار پھر خدانخواستہ کہوں گا لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہ سب جانتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا اور اس کے جواب میں ہم نے کیا طرز عمل اختیار کیا تھا۔
میں یہ چاہوں گا کہ ہمارے ادارے، سیاسی جماعتیں، مذہبی راہنما اور دانشور اِن حوالوں سے اس معاملہ پر غور کریں اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں کہ یہ نہ صرف ہماری شرعی بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔
پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے آخری صفحہ پر مختصر سی خبر نظر سے گزری کہ افغانستان کے سابق صدر پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ ۹۳ برس کی عمر میں کابل میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس خبر نے ذہن میں ماضی کے بہت سے یادگار مناظر ایک ایک کر کے تازہ کر دیے اور دل سے بے ساختہ مجددی صاحب مرحوم کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا نکلی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
پروفیسر صاحب مرحوم کا تعلق کابل کے معروف روحانی خانوادہ سے تھا اور وہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کی بزرگ شخصیات میں سے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف افغان عوام کے جہاد آزادی میں مجاہدین کے ایک مستقل گروہ کے سربراہ تھے اور جہاد افغانستان کے دوران ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل متحرک رہے۔ میری ان سے ذاتی نیازمندی تھی اور باہمی رابطہ و تعلق بھی رہا۔ وہ ایک بار ہماری دعوت پر گوجرانوالہ تشریف لائے، مرکزی جامع مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا اور ایک میڈیکل کلینک کا افتتاح کرنے کے علاوہ اپنے اعزاز میں دیے گئے بھرپور استقبالیہ میں جہاد افغانستان کے مقاصد اور مجاہدین کی سرگرمیوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی۔
یہ ایک بزرگ شخصیت کے طور پر پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ کا اعزاز تھا کہ افغانستان سے سوویت یونین کے انخلا کے بعد ملک کا نظم و نسق چلانے کے لیے جو عبوری حکومت متفقہ طور پر قائم ہوئی اس کا سربراہ انہیں چنا گیا اور انہوں نے صدر کی حیثیت سے افغانستان کا اقتدار سنبھالا۔ یہ عبوری حکومت چھ ماہ کے لیے ایک معاہدہ کے تحت قائم ہوئی تھی، اس دوران کچھ حضرات نے ان کے ذہن میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ ایک اسلامی ریاست کے امیر منتخب ہوگئے ہیں اس لیے انہیں اب اس منصب پر فائز رہنا چاہیے اور مدت گزرنے کے بعد اقتدار کسی اور کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان سے اپنے دوست اور بہی خواہ سرکردہ علماء کرام کو مشاورت کے لیے کابل بلایا جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا، ایوان صدر میں ان کی زیر صدارت طویل مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ان سے یہ کہا گیا کہ امیر زندگی بھر کے لیے ہوتا ہے اس لیے وہ خود کو چھ ماہ کی مدت تک محدود نہ رکھیں۔ جبکہ ہم چند دوستوں نے یہ عرض کیا کہ انہیں معاہدہ کی پابندی کرنی چاہیے اور مدت پوری ہوتے ہی اقتدار اس حکومت کے لیے چھوڑ دینا چاہیے جو باہمی اتفاق سے قائم ہو جائے۔ میں نے اس مجلس میں ان سے گزارش کی کہ ایک بزرگ اور محترم شخصیت کے طور پر ان کے لیے تاریخ میں یہ اعزاز کچھ کم نہیں ہے کہ سوویت یونین کی فوجوں کے انخلا کے بعد متفقہ آزاد حکومت کا سربراہ انہیں چنا گیا ہے اور انہیں اپنے اعزاز کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے ہمارے اس مشورہ کو قبول فرمایا اور مدت گزرتے ہی اقتدار نئے فیصلے کے مطابق پروفیسر برہان الدین ربانیؒ کے حوالے کر دیا۔
پروفیسر صاحب مرحوم کی دعوت پر کابل کے اس دورہ میں دیگر بہت سے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی شامل تھے اور ہم دونوں نے اس وقت کے وزیر دفاع احمد شاہ مسعود شہیدؒ کی فرمائش پر چند دن کابل میں رکنے کا پروگرام بنا لیا۔ اس دوران ہماری ملاقاتیں حرکت انقلاب اسلامی کے سربراہ مولانا محمد نبی محمدیؒ کے علاوہ مولانا نصر اللہ منصور شہیدؒ سے بھی رہیں جو میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ احمد شاہ مسعود مرحوم کا کہنا تھا کہ وہ حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد ہیں اور اپنے استاذ زادہ مولانا فداء الرحمان درخواستی کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال یہ دورہ ہم نے پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ کی دعوت پر کیا تھا اور ان کے ساتھ ایک یادگار مشاورت ہوئی تھی۔ مجددی صاحب ایک باوقار اور محترم بزرگ تھے جن کے سب خیالات اور پالیسیوں سے اتفاق ضروری نہیں مگر افغانستان کی ایک بزرگ شخصیت کی وفات ہم سب کے لیے صدمہ کا باعث بنی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا سید واضح رشید ندویؒ
محمد عثمان فاروق
۱۶ جنوری بروز بدھ کی صبح مولانا سید واضح رشید ندوی اپنے رفیق اعلی ٰ سے جا ملے۔ مولانا واضح رشید ندوی ۱۹۳۲ میں تکیہ کلاں، رائے بریلی (اتر پردیش، ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدمحترم سید رشید حسنیؒ درویش منش انسان تھے اور والدہ محترمہ سیدہ امۃ العزیز، خدا ترس خاتون تھیں اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے بیعت تھیں۔ مولانا واضح، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے حقیقی بھانجے تھے۔ آپ کو بچپن سے ہی مولانا علی میاں ندوی کے زیر تربیت رہنے اور کئی علمی ودعوتی سفروں میں رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔
آپ نے دینی تعلیم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے حاصل کی اور تقریبا بیس برس کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ گئے جہاں انگریزی زبان وادب میں گریجویشن کیا۔ یوں قدیم دینی روایتی نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید نظام تعلیم کے مزاج، ماحول اور ترجیحات کودیکھنے کا موقع ملا۔
آپ نے عملی زندگی کا آغاز آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن دہلی میں براڈ کاسٹر اور مترجم کی حیثیت سے کیا۔ یہاں آپ کا کام مقامی وبین الاقوامی انگریزی اور عربی مجلات واخبارات کا ترجمہ ہوتا تھا۔ یہ آپ کی عملی زندگی کا ابتدائی مگر نہایت اہم دور تھا، کیونکہ اس سے آپ کو عالمی منظر نامے سے واقفیت حاصل ہوئی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمائندہ سیاسی وسماجی شخصیات کو دیکھنے سننے کا موقع ملا جس سے آپ کی سوچ کا کینوس مزید وسیع ہو گیا۔ ریڈیو اسٹیشن میں ملازمت کا یہ عرصہ تقریبا بیس سال کو محیط ہے۔ اس کے بعد آپ مولانا ابو الحسن علی ندوی کے ایما پر عربی زبان وادب کے استاد کی حیثیت سے اپنی مادر علمی ندوۃ العلماء لکھنو آ گئے اور آخر وقت تک یہیں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آپ عربی زبان وادب کے ماہر، کہنہ مشق صحافی، مشفق اور محنتی استاد تھے۔
مولانا ہمہ جہت شخصیت تھے، لیکن عربی زبان وادب اور صحافت سے آپ کو خاص شغف تھا اور عربی انشا پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ آپ کی تحریریں، بالخصوص عربی تحریریں علمیت وادبیت کا شاہکار ہیں۔ ندوہ کے فضلاء میں عربی نویسی اور انشاء پردازی کا ذوق اور ممارست پیدا کرنے میں آپ کا بہت حصہ ہے۔ آپ ندوہ سے جاری ہونے والے دو عربی مجلات ’’الرائد”اور ’’البعث الاسلامی” کے مدیر تھے۔
مولانا کی کتابوں، مضامین اور بیانات سے استفادہ کرنے کے بعد ان کے مزاج، فکر اور دینی دعوت کی بڑی جامع اور متوازن تصویر سامنے آتی ہے۔ مولانا ہماری دینی روایت کے نمائندہ تھے۔ ندوہ کے زریں اصول الجمع بین القدیم الصالح والجدید النافع کا مصداق تھے۔ ذہانت، وسعت مطالعہ اور وسیع تجربہ ومشاہدہ کے باوجود آپ کی گفتگو اور تحریروں میں ادعائیت کا نام ونشان نہیں ہے۔ مولانا نے گوشہ خمول میں رہ کر درس وتدریس اور تصنیف وتالیف کی خدمات سرانجام دی ہیں۔
مولانا کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کی کتابوں اور مضامین میں جابجا سلف صالحین اور اکابر کی کتابوں سے اقتباسات ملتے ہیں۔ یوں پڑھنے والوں کو دینی علم کی روایت سے واقفیت حاصل ہوتی ہے اور اس پر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ مفتی محمد شفیعؒ نے تفسیر معارف القرآن میں سورۃ الفاتحہ کی آیت صراط الذین انعمت علیھم کی تشریح میں بڑا ایمان افروز اور فکر انگیز نکتہ بیان کیا ہے کہ رشد وہدایت کے دو سلسلے ہیں۔ ایک کتاب اللہ اور دوسرا رجال اللہ (علماء وصالحین)۔ پھر مفتی صاحبؒ نے لسان العصر اکبر الہ آبادی کا شعر نقل کیا ہے
کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں
مولانا واضح ندویؒ تصوف وسلوک (تزکیہ واحسان) کی روایت پر عامل اور کاربند تھے۔ اپنے برادر اکبر مولانا سید محمد رابع حسن ندویؒ (جو بحمد اللہ بقید حیات ہیں) سے بیعت تھے اور ان کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔ مولانا نے تصوف کی صحیح تصویر پیش کی اور اس چشمہ صافی کو گدلا ہونے سے بچانے کے لیے جدوجہد کی۔ تصوف واہل تصوف کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات مولانا کی عربی کتاب ادب اھل القلوب کا مطالعہ کریں۔
مولانا کی دینی دعوت وافکار میں تزکیہ نفس، تعلق مع اللہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ومحبت، فکر آخرت، عبدیت کاملہ اور حسن معاشرت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آپ امت مسلمہ کی زبوں حالی اور افتراق وانتشار پر بہت کڑھتے تھے اور وحدت فکر وعمل کی دعوت دیتے تھے۔ آپ کے نزدیک امت کے زوال کی بنیادی وجہ خدا کے دین سے بے اعتنائی اور باہمی افتراق وانتشار ہے۔ آپ کی دینی فکر میں مقاصد اور وسائل کے تعین کے فرق کو خوب ملحوظ رکھا گیا ہے۔
عالمی صحافت پر بھی مولانا کی بڑی گہری اور حکیمانہ نظر تھی۔ ایک بالغ نظر صحافی ہونے کے ناتے سے عالمی سیاسی، معاشی حالات اور رجحانات پر ناقدانہ نظر رکھتے تھے۔ غالب مغربی تہذیب وثقافت، سرمایہ دارانہ نظام، استعمار، استشراق، شدت پسند اسلامی تحریکات کی حکمت عملی، صہیونیت اور سامراج آپ کی صحافیانہ تحریروں کے مرکزی موضوعات تھے جنھیں پڑھ کر مولانا کی دینی بصیرت اور حکیمانہ تجزیہ وتحلیل کی صلاحیتیں سامنے آتی ہیں۔ مولانا اپنی تحریروں کے ذریعے سے اسلامی تہذیب کی بالادستی اور اسلامی نظام زندگی کی معقولیت، حقانیت اور حجیت کو بڑے دل نشیں اور عصری اسلوب میں پیش کرتے تھے۔ تفصیل کے لیے مولانا کی کتاب الی نظام عالمی جدید دیکھی جا سکتی ہے جو اصلا مولانا کے مضامین کا مجموعہ ہے جو الرائد اور البعث الاسلامی میں شائع ہوتے رہے۔
مولانا کی دینی فکر کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے انتہا پسندی اور اباحیت پسندی کی دو انتہاوں کے مابین اعتدال کی راہ اپنائی اور تحریک ندوہ کے راہ نما اصول التصلب فی الاصول والغایات والتوسع فی الفروع والآلات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا۔
مولانا کی عربی کتابوں میں اعلام الادب العربی فی العصر الحدیث، مصادر الادب العربی، ادب الصحوۃ الاسلامیۃ، ادب اھل القلوب، تاریخ الثقافۃ الاسلامیۃ، الدعوۃ الاسلامیۃ ومناھجھا فی الھند، الامام احمد بن عرفان الشھید، الشیخ ابو الحسن علی الندوی قائدا حکیما، المسحۃ الادبیۃ فی کتابات الشیخ ابی الحسن علی الندوی، حرکۃ التعلیم الاسلامی فی الھند وتطور المنھج، منھج علماء الھند فی التربیۃ الاسلامیۃ، لمحات من السیرۃ النبویۃ والادب النبوی، مختصر الشمائل النبوی، الرحلات الحجازیۃ، حرکۃ رسالۃ انسانیۃ ودورھا فی مکافحۃ الطائفیۃ والعنف اور من صناعۃ الموت الی صناعۃ القرارات جبکہ اردو کتابوں میں اسلام مکمل نظام زندگی، محسن انسانیت، نظام تعلیم: اندیشے، تقاضے اور حل، ندوۃ العلماء: ایک راہ نما تعلیمی مرکز اور تحریک دعوت واصلاح، مسئلہ فلسطین، سامراج اور عالم اسلام، سلطان ٹیپو: ایک تاریخ ساز قائد شخصیت شامل ہیں۔
مولانا کے ویسے تو سیکڑوں شاگرد ہیں، لیکن راقم جن کی تحریروں سے ابھی تک استفادہ کر سکا ہے، ان میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، مولانا وثیق ندوی او رمولانا جعفر مسعود ندوی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
مولانا کی نماز جنازہ مولانا سعید الرحمن اعظمی نے پڑھائی اور تدفین آبائی گاوں دائرہ شاہ علم اللہ، تکیہ کلاں، رائے بریلی میں ہوئی۔
اللہ تعالی مولانا کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت میں اعلی ٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
ہم نام و ہم لقب علماء
مفتی شاد محمد شاد
علم الرجال اور تراجم پر کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں،جن میں مختلف علاقوں اور زمانوں کی شخصیات اور علماء کا مختصر اور تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ دیگر کتابوں میں جب کسی شخصیت یا عالم کا تذکرہ کرنا مقصود ہوتا ہے تو مصنف عموما مکمل نام ذکر کرنے کے بجائے صرف کنیت،نسبت یا لقب لکھنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے،لیکن بسااوقات ایک کنیت،نسبت یا لقب سے ایک سے زیادہ علماء وشخصیات مشہور ہوتی ہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر ایک نام سے بھی کئی شخصیات مشہور ہیں، تو ایسی صورتحال میں اگر مصنف محض کنیت،یا نسبت یا لقب ذکر کرتا ہے تو قاری کو تشویش ہوجاتی ہے کہ اس سے کونسی شخصیت مراد ہے۔ہم نے اس مضمون میں مختلف کتب سے ایسے ہی چند ہم نام وہم لقب علماء وشخصیات کا مختصر تعارف اور ان کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔اگرچہ ان علماء کے علاوہ دیگر بھی کئی شخصیات کے نام اس طرح متشابہ اور ایک جیسے ہوسکتے ہیں،لیکن زیادہ مشہور شخصیات یہی ہیں۔اس مضمون کے لیے زیادہ تر علامہ زرکلی ؒ کی "الاعلام" اور دیگر طبقات کی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔
ابن عربی اور ابن اعرابی:
یہ دو الگ الگ کنیات ہیں،اور ہر کنیت کے ساتھ دو ،دو شخصیات مشہور ہیں:
ابن عربی:
1۔ابوبکر ابن عربی، محمد بن عبد اللہ المعافری،اشبیلی، مالکیؒ (468ھ، 543ھ)۔آپ قاضی اور حفاظ ِ حدیث میں سے تھے۔اشبیلیہ میں قاضی بھی رہے ۔آپ نے حدیث، فقہ،اصول،تفسیر،ادب اور تاریخ میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔آپ کی مشہور کتابوں میں "العواصم من القواصم" ، "عارضۃ الاحوذی فی شرح الترمذی" ، "احكام القرآن" ، "القبس فی شرح موطا ابن انس" ، "الانصاف فی مسائل الخلاف" ، "قانون التاويل" وغیرہ شامل ہیں۔
2۔محی الدین ابن عربی، ابوبکر،محمد بن علی بن عربی،حاتمی ،طائی،اندلسی (560ھ، 638ھ)آپ مرسیہ ، اندلس میں پیدا ہوئے اور پھر اشبیلیہ منتقل ہوئے۔آپ عظیم متکلم اور فلسفی تھے۔آپ کے بعض تفردات پر علماء نے سخت رد کیا ہے،بلکہ بعض علماء نے آپ پر کفر کا فتوی لگاکر مباح الدم قرار دیا تھا۔آپ نے چار سو سے زائد کتابیں لکھی ہیں۔ان میں سے چند مشہور یہ ہیں: "الفتوحات المكيۃ" ، "محاضرة الابرار ومسامرة الاخيار"، "مفاتيح الغيب" ، "انشاء الدوائر" وغیرہ۔
ابن الاعرابی:
1۔ابوعبد اللہ،محمد بن زیاد،المعروف بابن الاعرابی (150ھ،231ھ)مؤرخ،ادیب اور لغت کے بڑے عالم تھے۔آپ احول(بھینگے)تھے۔آپ کی مشہور کتابوں میں "تاريخ القبائل" ، "تفسير الامثال" اور "الفاضل" وغیرہ شامل ہیں۔
2۔ابوسعید ابن الاعرابی، احمد بن محمد بن زیادؒ (246ھ، 340ھ) آپ مشہور مؤرخ اور حدیث کے عالم تھے۔شیخ جنید بغدادیؒ کی صحبت میں بھی رہے ہیں اور حرم مکہ کے شیخ بھی،اور مکہ میں ہی آپ کی وفات ہوئی ۔آپ کی کتابوں میں "المعجم" ، "طبقات النساك"، "الاخلاص ومعانی علم الباطن" وغیرہ شامل ہیں۔
ابن رشد: دادا ،اور پوتا:
ابن رشد کی کنیت سے دو شخصیات مشہور ہیں،ایک دادا ہے اور دوسرا اس کا پوتا،ذیل میں دونوں کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے:
1۔ابو الولید، محمد بن احمد بن رشدؒ (450ھ، 520ھ)۔آپ کی پیدائش اور وفات قرطبہ میں ہوئی۔ آپ فقہاء مالکیہ کے بڑے علماء میں سے تھے۔آپ کے پوتے بھی اسی کنیت سے مشہور ہے،اس لیے آپ کو ابن رشد الجد یا ابن رشد الاکبر یا ابن رشد الفقیہ کے لقب کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ مالکیہ کی کتابوں میں جہاں "ابن رشد" لکھا جاتا ہے ،اس سے عموما یہی مراد ہوتے ہیں۔آپ کی کتابوں میں "المقدمات الممہدات" ، "البیان والتحصیل" ، "مختصر شرح معانی الآثار للطحاوی"، "الفتاوی" ، "اختصار المبسوطۃ" اور "المسائل"شامل ہیں۔
2۔ابو الولید، ابن رشد اندلسی،محمد بن احمدؒ (520ھ،595ھ)۔آپ بھی مالکی فقیہ اور عظیم فلسفی تھے۔آپ نے ارسطو کی کتابوں کو عربی میں منتقل کیا اور اس پر بہت کچھ اضافہ بھی کردیا۔آپ کو اپنے دادا سے ممتاز کرنے کے لیے"الحفید" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ نے پچاس سے زائد کتابیں لکھیں۔ان میں سے چند مشہور یہ ہیں: "منہاج الأدلۃ" ، "تهافت التہافت" ، "بدايۃ المجتہد ونہايۃ المقتصد" ، "فصل المقال فيما بين الحكمۃ والشريعۃمن الاتصال" ، "فلسفۃ ابن رشد" اور "التحصيل" وغیرہ۔
ابن ابی شیبہ: تین شخصیات:
ابو شیبہ کے دو بیٹے بڑے علماء اور عظیم محدثین میں شمار ہوتے ہیں،اور دونوں "ابن ابی شیبہ" کی کنیت سے مشہور ہیں۔ان کے علاوہ ابوشیبہ کے ایک پوتے بھی اسی کنیت سے مشہور ہیں۔تینوں کا مختصر تعارف ذیل میں دیا جاتا ہے:
1۔ابوبکر، عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ، عبسی،کوفی (159ھ، 235ھ)۔آپ حافظ الحدیث تھے اور حدیث میں آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں، مثلا "المسند"، "الایمان"، "الزکوۃ" وغیرہ، لیکن آپ کی سب سے مشہور کتاب "المصنف فی الاحاديث والآثار" ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ کے نام سے مشہور ہے۔
2۔ابوالحسن، عثمان بن محمد بن ابی شیبہ، عبسی،کوفی ؒ (156ھ، 239ھ)۔آپ ابوبکر بن ابی شیبہ کے بڑے بھائی ہیں۔آپ بھی حافظ الحدیث تھے۔محدثین نے آپ کو حدیث کے باب میں ثقہ اور مامون لکھا ہے۔آپ کی کتابوں میں "المسند" اور "التفسیر" شامل ہے۔
3۔ابوجعفر، محمد بن عثمان بن محمد بن ابی شیبہ، عبسی، کوفی ؒ (متوفی 297ھ)۔آپ ابوالحسن،عثمان بن محمد بن ابی شیبہ کے بیٹے اور ابوبکر بن ابی شیبہ کے بھتیجے ہیں۔آپ علم الرجال اور تاریخ کے بڑے علماء میں سے تھے۔آپ کی کتابوں میں "التاریخ الکبیر" کا نام ملتا ہے اور بعض علماء نے "مسائل بن ابی شیبہ" کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
شیخین/شیخان: فقہ میں:
عموما کتابوں میں اسماء کے بجائے "شیخین" یا "شیخان" کا لقب استعمال ہوتا ہے،حدیث سے متعلق کتابوں میں اس لقب سے امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ مراد ہوتے ہیں،جبکہ فقہی کتب میں ہر مسلک کی کتابوں میں یہ لقب الگ الگ شخصیات کے لیے استعمال ہوتا ہے:
فقہ حنفی:
فقہاء حنفیہ جب اپنی کتابوں میں یہ لقب استعمال کرتے ہیں تو اس سے امام ابوحنیفہ،نعمان بن ثابت(80ھ،150ھ)اور امام ابویوسف،یعقوب بن ابراہیم (113ھ، 182ھ)مراد ہوتے ہیں۔
فقہ مالکی:
مالکیہ کی کتابوں میں اس لقب سے امام قیروانی،عبداللہ بن ابی زید(386ھ)اور امام ابن القابسی،علی بن محمد بن خلف (324ھ، 403ھ)مراد ہوتے ہیں۔
البتہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ مالکیہ کی کتابوں میں اس لقب سے امام قیروانی اور ابوبکر الابہری،محمد بن عبداللہ بن محمد(289ھ 375ھ)کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
فقہ شافعی:
فقہاء شافعیہ کی کتابوں میں یہ لقب شیخ رافعی،ابو القاسم،عبدالکریم بن محمد قزوینی (557ھ،623ھ) اور امام نووی،ابوزکریا،یحیٰ بن شرف بن مری،محی الدین (631ھ،676ھ) مراد ہوتے ہیں۔اگر "شیوخ" کا لقب استعمال کیا جائے تو ان دونوں حضرات کے ساتھ شیخ ابونصر، تاج الدین سبکی، عبدالوہاب بن علی (727ھ، 771ھ)بھی شامل ہوجاتے ہیں۔
فقہ حنبلی:
فقہ حنبلی کی کتابوں میں اس لقب سے"المحرر" کے مصنف شیخ مجد الدین،ابن تیمیہ، عبد السلام بن عبداللہ (590ھ 652ھ) اور شیخ موفق الدین،ابن قدامہ عبد اللہ بن محمد المقدسی (541ھ620ھ)کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
الفالی اور القالی:
یہ دو مختلف شخصیات کے الگ الگ القاب ہے۔پہلا لقب "فاء "کے ساتھ ہے اور دوسرا "قاف" کے ساتھ۔
الفالی:
اس سےقطب الدین،ابو الفتح، محمد بن مسعود بن محمود الفالی،الشقار،السیرافی(684ھ، 712ھ) مراد ہے۔آپ سیرافی کے لقب سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔بڑے مفسر اور نحو کے عالم گزرے ہیں۔علامہ اسفرائینی کی "اللباب فی علم الاعراب" کی شرح آپ نے لکھی ہے ،اس کے علاوہ تفسیر"الکشاف" کی تلخیص بنام "تقریب التفسیر" بھی آپ کی لکھی ہوئی ہے۔
القالی:
یہ لقب ابو علی ، اسماعیل بن قاسم بن عیذون (288ھ، 356ھ) کا ہے۔آپ لغت،شعر و ادب کے حافظ سمجھے جاتے تھے۔آپ بغداد میں پیدا ہوئےاور ابتدائی تعلیم کے بعدمغربی ممالک کی طرف سفر کرکے قرطبہ میں انتقال کرگئے۔آپ کی کتابوں میں شعر وادب میں "النوادر" جوامالی القالی کے نام سے مشہور ہے ،اور لغت میں "البارع" مشہور ہے۔
قاضی :مسالک اربعہ میں:
کئی علماء ایسے گزرے ہیں جن کو قاضی کا لقب دیا گیا،بلکہ مسالک اربعہ کی کتابوں میں ان شخصیات کے نام کے بجائےصرف قاضی لکھ لیا جاتا ہے۔ایسے علماء جو اس لقب سے مشہور ہوئے ہیں،درج ذیل ہیں:
(1)۔حنفیہ کی کتابوں میں جب "قاضی" لکھا جاتا ہے تو اس سے امام ابویوسف رحمہ اللہ(113ھ،182ھ) مراد ہوتے ہیں۔آپ کا مکمل نام یعقوب بن ابراہیم بن حبیب انصاری،کوفی،بغدادی ہے۔
(2)۔مالکیہ کی کتابوں میں لفظِ "قاضی" سے قاضی عبد الوہابؒ (362ھ، 422ھ)مراد ہوتے ہیں۔آپ کا مکمل نام ابو محمد،عبدالوہاب بن علی بن نصر ثعلبی بغدادی ہے۔
(3)۔شافعیہ کی کتابوں میں قاضی کے لقب سے قاضی شیخ المروذیؒ (462ھ)مراد ہوتے ہیں۔آپ کا مکمل نام حسین بن محمد بن احمد المروذی ہے۔
(4)۔حنابلہ کی کتابوں میں اس لقب سے قاضی ابویعلی الفراء ؒ (380ھ، 458ھ) کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ آپ کا مکمل نام محمدبن حسین بن محمد بن خلف بن الفراء ہے۔
طبری لقب سے متصف شخصیات:
"طبری"لقب سے کئی علماء متصف ہیں۔بعض علماء "طبرستان" نامی علاقے کی طرف منسوب ہے،جبکہ بعض علماء کی طرف یہ نسبت ان کےآباء واجداد میں سے کسی کے اس لقب سے متصف ہونے کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ان میں سے چند مشہور علماء درج ذیل ہیں:
(1)۔ابن جریر طبری (ولادت:224ھ، وفات:310ھ)اس لقب سے سب سے مشہور شخصیت یہی ہے۔آپ کا مکمل نام ابوجعفر، محمد بن جریر بن یزید طبری ہے۔مشہور مؤرخ ومفسر گزرے ہیں۔ طبرستان کے علاقے آمل میں پیدا ہوئے اور پھر بغداد منتقل ہوکر وہی پر وفات پائی۔آپ ثقہ مؤرخین میں سے ہیں۔ابن اثیر فرماتے ہیں کہ نقل تاریخ میں ابوجعفر اوثق تھے اور آپ کی تفسیر میں گہرا علم اور تحقیق نظر آتی ہے۔آپ کی مشہور کتابوں میں "اخبار الرسل والملوک" جو تاریخ طبری کے نام سے مشہور ہے،"جامع البیان فی تفسیر القرآن" جو تفسیر طبری کے نام سے مشہو رہے،"اختلاف الفقہاء"، "المسترشد"،"جزء فی الاعتقاد"، "القراءات"وغیرہ شامل ہے۔
(2)۔ ابن قاسم طبری (ولادت:263ھ، وفات:350ھ)آپ کا نام ابو علی،حسین بن قاسم ہے۔آپ شافعی فقیہ تھے۔آپ کی پیدائش طبرستان میں ہوئی اور وفات بغداد میں ۔آپ ابن ابی ہریرۃ کے شاگرد رہے ہیں۔فقہ،اصول فقہ اور علم کلام میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آپ نے سب سے پہلے علم خلاف میں کتاب لکھی ہے۔آپ کی کتابوں میں "المحرر"،"الایضاح" اور "العدۃ"شامل ہے۔
(3)۔ابو طیب طبری (ولادت:348ھ،وفات:450ھ )آپ کا نام طاہر بن عبد اللہ طبری ہے۔فقہاء شافعیہ میں سے تھے ۔طبرستان کے علاقے آمل میں پیدا ہوئے اور پھر بغداد آئے، وفات بھی وہی ہوئی۔کرخ کے علاقے میں قاضی بھی رہے ہیں۔ آپ کی کتابوں میں فقہ شافعی کی "شرح مختصر المزنی" گیارہ جلدوں میں،"جواب فی السماع والغناء" اور فروع فقہ شافعی میں "التعلیقۃ الکبری"شامل ہے۔
(4)۔رضی الدین طبری۔(ولادت:636ھ،وفات:722ھ)آپ کا پورا نام ابو احمد ،ابراہیم بن محمد ہے۔اپنے زمانے میں مکہ کے بڑے شیوخ میں سے تھے اور شافعی تھے۔علامہ ذہبی ؒ نے لکھا ہے کہ آپ پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک حدیث پڑھاتے رہے ہیں۔آپ کی کتابوں میں "المنتخب فی علم الحدیث"،"تساعیات" اور "اختصار شرح السنۃ للبغوی"شامل ہے۔
(5)۔محب الدین طبری (ولادت:615ھ، وفات:694ھ)آپ کا نام ابو العباس،احمد بن عبد اللہ طبری ہے۔آپ حافظ الحدیث اور شافعی فقیہ تھے۔آپ کی پیدائش اور وفات مکہ میں ہوئی اور آپ شیخ الحرم رہے ہیں۔آپ کی کتابوں میں "السمط الثمین فی مناقب امھات المؤمنین"،"الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ"،"القری لقاصد ام القری"،"ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی" اور "الاحکام"شامل ہے۔
(6)۔ابن المحب طبری (ولادت:1100ھ، وفات 1173ھ)آپ کا پورا نام محمد بن علی ابن المحب ہے۔آپ حسینی شافعی تھے۔مؤرخ تھے اور "الجمال الاخیر"کے لقب سے متصف تھے۔پیدائش اور انتقال مکہ میں ہوئی۔آپ کی کتابوں میں "عقود الجمان فی سلطنۃ آل عثمان"،"إتحاف فضلاء الزمن بتاريخ ولايۃ بنی الحسن"، "الحجۃ الناهضۃ فی إبطال مذهب الرافضۃ"، "إمتاع البصر والقلب والسمع فی شرح المعلقات السبع" شامل ہے۔
سرخسی لقب سے متصف علماء:
اس لقب کے ساتھ کئی شخصیات متصف ہیں،ان میں سرفہرست صاحبِ مبسوط ہیں۔یہاں ایسے علماء کا مختصر تعارف مقصود ہے۔لیکن اس سے پہلے لفظ"سرخس"کے تلفظ کے بارے کچھ وضاحت مقصود ہے۔الجواہر المضیہ میں اس لفظ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ "سین" اور "راء"کے فتح اور "خا"کے سکون کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔یہی زیادہ مشہور ہے،البتہ بعض نے "راء"کے سکون اور "خا"کے فتح کے ساتھ بھی پڑھا ہے اور کہا ہے کہ یہ لفظ عربی میں منتقل ہوکر اسی طرح استعمال ہوتا ہے،جبکہ فارسی میں "راء"پر فتح اور "خا"کے سکون کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔
(1)۔شمس الائمہ،قاضی ابوبکر سرخسی۔(متوفی483ھ)آپ کا پورا نام محمد بن احمد بن سہل ہے۔خراسان کے علاقے"سرخس" میں پیدا ہوئے ۔آپ کا شمار فقہاء حنفیہ کی عظیم شخصیات اور مجتہدین میں ہوتا ہے۔آپ کی سب سے مشہور کتاب "المبسوط" ہے جو تیس جلدوں پر مشتمل ہے،یہ کتاب آپ نے اوزجند کے جیل سے شاگردوں کو املاء کروائی ہے۔دیگر کتابوں میں "شرح الجامع الکبیر" ، "شرح السیر الکبیر" ، "شرح مختصر الطحاوی"اور اصول فقہ میں "الاصول" شامل ہے۔
(2)۔ابو العباس ابن طیب سرخسی۔(متوفی 286ھ)آپ کا مکمل نام احمد بن محمد بن مروان بن طیب ہے۔آپ کو فلسفہ میں خاص مہارت حاصل تھی،اس کے علاوہ تاریخ،سیاست،ادب اور فنون کے بھی عالم تھے۔آپ کی پیدائش بھی "سرخس"میں ہوئی ۔آپ مشہور فلسفی کندی کے شاگرد رہے ہیں اور خلیفہ عباسی معتضد باللہ کے استاد رہے ہیں۔آپ کتابوں میں "کتاب السیاسۃ"، "المدخل الی صناعۃ النجوم"، "کتاب الموسیقی"، "المسالک والممالک" ،"الجلساء والمجالسۃ" اور کتاب النفس، کتاب الشطرنج، وغیرہ کا تذکرہ ملتا ہے۔
(3)۔اسماعیل بن ابراہیم بن محمد سرخسی۔(متوفی 414ھ)۔آپ حافظ اسحاق القراب کے بھائی تھے۔فقیہ اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور قاری اور قراءات میں امام تھے۔آپ نے مناقب امام شافعیؒ میں ایک کتاب بھی لکھی ہے۔
(4)۔ابوبکر،عبدالرحمن بن محمد سرخسی۔(متوفی 439ھ) آپ حنفی فقیہ تھے۔آپ کی پیدائش بھی سرخس میں ہوئی اور بعد میں خوزستان منتقل ہوگئے۔بصرہ میں دو بار قاضی مقرر ہوئے ۔آپ کی کتابوں میں مشہور کتاب "تکملۃ التجرید للکرمانی" ہے۔
(5)۔عبید اللہ سرخسی۔(متوفی 241)آپ کا پورا نام عبید اللہ بن سعید بن یحیٰ ہے۔آپ حفاظِ حدیث میں سے تھے۔امام بخاریؒ نے بھی آپ سے روایات لی ہیں۔
(6)۔رضی الدین سرخسی (متوفی 571ھ)آپ کا نام محمد بن محمد ہے۔عظیم حنفی فقیہ تھے۔حلب میں رہتے تھے اور پھر دمشق منتقل ہوئے،وہیں پر وفات پائی۔آپ کی کتابوں میں "المحیط الرضوی" ، "المحیط" ،"الطریقۃ الرضویۃ"، "الوسیط" اور "الوجیز" شامل ہے۔
زیلعی: چارشخصیات کا لقب:
علماء میں کئی شخصیات "زیلعی"کے لقب سے منسوب ہیں۔درج ذیل چار میں سے پہلےدو علماء اس لقب سے زیادہ مشہور ہیں:
(1)۔فخرالدین زیلعی(متوفی743ھ)۔آپ کا پورا نام ابوعمرو،عثمان بن علی بن محجن البارعی ہے۔آپ زیلع کی طرف منسوب ہے جو آج کل صومالیہ میں واقع ہے۔عظیم فقیہ اور مفتی تھے۔705ہجری میں قاہرہ گئے اور وہی پر وفات بھی ہوئی۔آپ کی مشہور کتابوں میں چند یہ ہیں: تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، ترکۃ الکلام علی احادیث الاحکام اور شرح الجامع الکبیر۔
(2)۔جمال الدین زیلعی(ولادت:وفات:762ھ)آپ کا مکمل نام ابومحمد،عبداللہ بن یوسف بن محمد ہے۔آپ فخرالدین زیلعی کے شاگرد ہیں۔آپ بھی فقیہ اور محدث تھے۔آپ کی مشہور کتابوں میں نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ اور تخریج احادیث الکشاف شامل ہے۔
(3)۔زیلعی عقیلی (متوفی 707ھ)آپ کا نام احمد بن عمر ہے۔عقیل بن ابی طالب کی اولاد میں سے ہیں۔آپ فقیہ اور صوفی تھے۔آپ کا انتقال لُحیہ نامی علاقے میں ہوا۔آپ نے تصوف میں ایک کتاب بنام ثمرۃ الحقیقۃ ومرشد السالکین الی اوضح طریقۃ لکھی ہے۔
(4)۔زیلعی جبرتی (متوفی 1188ھ)ان کا نام حسین بن ابراہیم بن حسن جبرتی عقیلی حنفی ہے۔آپ فقیہ بھی تھے،لیکن علم فلکیات میں آپ زیادہ ماہر تھے۔آپ کے چند رسائل کا تذکرہ ملتا ہے جیسے حوض کے پانی سے متعلق ایک رسالہ " رفع الاشکال"اور اوقات ِ نماز سے متعلق ایک رسالہ "حقائق الدقائق" اور "العقد الثمین فیما یتعلق بالموازین"وغیرہ۔
ابن کثیر: دو شخصیات کی کنیت:
علامہ ابن کثیر ایک معروف شخصیت اور بڑے مفسر گزرے ہیں،لیکن یہ کنیت ان کے علاوہ ایک اور شخصیت کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ذیل میں دونوں کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے:
(1)۔۔۔ابن کثیر المُقری۔(ولادت:45ھ، وفات:120ھ)آپ کا پورا نام ابومعبد عبداللہ بن کثیر بن عمرو ہے۔آپ کی نسبت کنانی،داری ،مکی ہے۔آپ کو "عطار"بھی کہاجاتا تھا،کیونکہ آپ عطر وخوشبو کا کاروبار کرتے تھے۔آپ کی پیدائش اور وفات مکہ میں ہوئی۔آپ بڑے عالم تھے اور سات مشہور قاریوں(قراء سبعہ)میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔
(2)۔۔۔ابن کثیر مفسر۔(ولادت:701ھ، وفات:774ھ)آپ کا پورا نام حافظ عماد الدین ،ابوالفداء،اسماعیل بن عمر بن کثیر،قرشی بصروی،دمشقی شافعی ہے۔آپ کی پیدائش شام میں ہوئی ،لیکن دو سال کی عمر میں والد کی وفات ہوئی اور آپ گھر والوں کے ساتھ دمشق منتقل ہوگئے اور وفات بھی دمشق ہی میں ہوئی۔آپ حافظ الحدیث،مؤرخ اور عظیم مفسر ہیں۔آپ کی کتابوں میں چند مشہور یہ ہیں:تاریخ میں "البدایہ والنہایہ"، تفسیر میں "تفسیر القرآن العظیم" جو تفسیر ابن کثیر کے نام سے مشہور ہے۔"طبقات الفقہاء الشافعیین"، "الاجتہاد فی طلب الجہاد"، "جامع المسانید" ، "اختصار علوم الحدیث" ، "الفصول فی اختصار سیرۃ الرسول" اور "التکمیل فی معرفۃ الثقات والضعفاء والمجاہیل"۔
ابن حجر: دو شخصیات کی کنیت:
ابن حجر کی کنیت سے حدیث کا کوئی طالب علم ناواقف نہ ہوگا،لیکن اس کنیت سے دو بڑی شخصیات مشہور ہیں:
(1)۔حافظ ابن حجرعسقلانی شافعی۔(متوفی 852ھ)آپ کا اصل نام ابوالفضل شہاب الدین احمدبن علی بن محمد کنانی ہے۔آپ کو حافظ الاسلام کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ابن حجر آپ کے آباء واجداد میں کسی کا لقب تھا،اسی سے آپ بھی مشہور ہوگئے۔آپ کی پیدائش اور وفات قاہرہ میں ہوئی۔آپ پہلے پہل تاریخ،عربی ادب واشعار میں مشغول تھے پھر علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں ایسی مہارت حاصل کی کہ حافظ الحدیث کہلائے۔ علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر "حافظ"کو مطلقا بولاجائے تو اس سے بالاجماع آپ ہی مراد ہوتے ہیں۔ آپ کئی بار مصر میں قاضی بنے۔علامہ سخاویؒ لکھتے ہیں کہ آپ کی تصنیفات ایک سو پچاس سے زائد ہیں۔آپ کی مشہور کتابوں میں بخاری کی معرکۃ الآراء شرح"فتح الباری" ، "الدرر الكامنۃ فی اعيان المائۃالثامنۃ " ، " لسان الميزان " ، " الاحكام لبيان ما فی القرآن من الاحكام" ، " الكافی الشاف فی تخريج احاديث الكشاف" ، " تقريب التهذيب" ، " الاصابۃ فی تمييز اسماء الصحابۃ" ، " تہذيب التہذيب" ، " بلوغ المرام من ادلۃ الاحكام" ، " نزہۃ النظر فی توضيح نخبۃ الفكر" ، " التلخيص الحبير فی تخريج احاديث الرافعی الكبير" وغیرہ شامل ہے۔
(2) ابن حجر سعدی ہیتمی۔(متوفی 974ھ) اصل نام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن محمدانصاری ہے۔ شافعی ہیں اور آپ کا شمار بڑے فقہاء میں ہوتا ہے۔مصر کی ایک بستی ہیتم کی طرف آپ کی نسبت کی جاتی ہے جہاں پر آپ کی پیدائش ہوئی ۔آپ کی وفات مکہ میں ہوئی۔آپ کی مشہور کتابوں میں " مبلغ الارب فی فضائل العرب" ، " الصواعق المحرقۃ على اهل البدع والضلال والزندقۃ" ، " تحفۃ المحتاج لشرح المنهاج" ، " الخيرات الحسان فی مناقب ابی حنيفۃ النعمان" ، " الفتاوی الهيتميۃ" ، " الزواجر عن اقتراف الكبائر" وغیرہ شامل ہیں۔
ہیتمی اور ہیثمی:
بعض دوستوں کو"ہیتمی" اور "ہیثمی"میں شبہ ہوتا ہے،بعض اسے ایک سمجھتے ہیں اور بعض سمجھتے ہیں کہ ہیتمی کے بجائے ہیثمی ٹھیک نسبت ہے،لیکن یہ دونوں الگ الگ شخصیات ہیں۔
ہیتمی(تاءکے ساتھ)ابن حجر سعدی ہے،جن کا تذکرہ اوپر ہوچکا،اور ہیثمی (ثاء کے ساتھ)سےدو شخصیات مشہور ہیں:
(1)۔ نورالدین مصری ہیثمی۔آپ کا مکمل نام ابوالحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان ہے۔ ۔آپ کی ولادت 735ھ میں ہوئی اور وفات 807ھ میں ہوئی۔آپ عظیم محدث تھے۔آپ کی تصانیف میں "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"، "ترتیب الثقات " ، "تقریب البغیۃ فی ترتیب احادیث الحلیۃ"،"مجمع البحرین فی زوائد المعجمین"، " المقصد العلى، فی زوائد ابی يعلى الموصلی " ، " زوائد ابن ماجۃ على الكتب الخمسۃ "، " موارد الظمآن الى زوائد ابن حبان"، " غايۃ المقصد فی زوائد احمد "۔
(2)۔محمد بن ہیثم ہیثمی(متوفی 351ھ)آپ فقیہ تھے اوریمن کے بادشاہ رہے ہیں۔یمن میں بنی الہیثم کی امارت آپ ہی سے شروع ہوئی تھی جو 85سال تک جاری رہی۔(الاعلام للزرکلی)
النسفی: تین شخصیات کا لقب:
نسفی تین بڑے علماء کا لقب ہے اور تینوں فقہاء حنفیہ میں سے ہیں:
(1)۔ابوالمعین نسفی حنفی، جن کا اصل نام میمون بن محمد بن محمد ہے۔(متوفی 508ھ )اصول دین اور علم کلام کے بڑے عالم تھے۔سمرقند اور بخارا میں رہے ہیں۔آپ کی کتابوں میں مشہور یہ ہیں: "بحر الکلام"،"تبصرۃ الادلہ"،"التمهيد لقواعد التوحيد" ، " العمدة فی اصول الدين " ، " العالم والمتعلم " ، " ايضاح المحجۃ لكون العقل حجۃ " ، " شرح الجامع الكبير للشيبانی " ، " مناهج الائمۃ " ۔
(2)۔ابوحفص،نجم الدین نسفی۔(متوفی 537ھ)آپ کا اصل نام عمربن محمد بن احمد ہے۔آپ فقہاء حنفیہ میں سے ہیں اور تفسیر،عربی ادب اور تاریخ کے عالم تھے۔آپ کو "مفتی ثقلین"کہتے ہیں۔نسف میں پیدا ہوئے اور سمرقند میں وفات پائی۔کہتے ہیں کہ آپ نے تقریبا سو(100)کتابیں لکھی ہیں۔ان میں سے چند یہ ہیں: "الاكمل الاطوال"، " التيسير فی التفسير " ، " المواقيت " ، " تعداد شيوخ عمر " ، " الاشعار بالمختار من الاشعار " ، " نظم الجامع الصغير " ، " قيد الاوابد " ، " منظومۃ الخلافيات " ، " القند فی علماء سمرقند " ، " تاريخ بخارى " ، " طلبۃ الطلبۃ " ، " العقائد "۔
(3)۔ابوالبرکات،حافظ الدین نسفی۔آپ کا نام عبداللہ بن احمد بن محمود ہے۔(متوفی 710ھ)ازبکستان کے شہر نسف میں پیدا ہوئے۔تفسیر،فقہ اور اصول فقہ میں خاص مہارت رکھتے تھے۔تینوں شخصیات میں سب سے مشہور"نسفی"یہی ہیں۔آپ کی مشہور کتابوں میں تفسیر" مدارك التنزيل وحقائق التاويل " ، فقہ میں "کنز الدقائق" اصول فقہ میں "المنار"(نورالانوار کا متن) اور منار کی شرح"کشف الاسرار"، فروعات میں "الوافی"اور "الکافی" ،جبکہ عقائد میں "عمدۃ العقائد"مشہور ہے۔ابوحفص نسفی کی کتاب "منظومۃ الخلاف"کی شرح بھی آپ نے "المصفی"کے نام سے لکھی ہے۔
کمال، ابن کمال اور اکمل:
یہ تین القاب ہیں جو فقہی کتب میں سامنے آتے ہیں۔بعض دوستوں کو ان میں شبہ ہوجاتا ہے کہ کس لقب سے کون سی شخصیت مراد ہیں۔یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ یہ تینوں الگ الگ شخصیات کے القاب ہیں:
(1)۔کمال: اس سے علامہ ابن الہمام مراد ہوتے ہیں۔جن کا اصل نام کمال الدین محمد بن عبدالواحد سیواسی اسکندری (متوفی 861ھ)ہے۔نویں صدی کے مشہور حنفی فقیہ ہیں اور فقہ واصول میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ان کی مشہور کتاب"فتح القدیر"ہے جو ہدایہ کی تفصیلی شرح ہےاور اصول فقہ میں ان کی معرکۃ الآراء کتاب "التحریر"ہے۔
(2)۔ابن کمال: اس سے قاضی شمس الدین احمد بن سلیمان بن کمال پاشاؒ (متوفی 940ھ)مراد ہوتے ہیں۔مشہور حنفی فقیہ اور محدث ہیں۔آپ کی مشہور کتابوں میں طبقات الفقہاء، طبقات المجتہدین، الاصلاح والایضاح اور تغییر التنقیح(اصول فقہ کا متن)شامل ہے۔
(3)۔اکمل یا الاکمل: اس سے علامہ اکمل الدین محمد بن محمدرومی بابرتیؒ (متوفی 786ھ)مراد ہوتے ہیں۔آٹھویں صدی کے بلند پایہ حنفی فقیہ ہیں۔آپ کی مشہور کتابوں میں ہدایہ کی بہترین شرح "عنایہ"ہے،اس کے علاوہآپ کی چند کتابیں یہ ہیں: شرح مشارق الانوار، التقریر علی اصول البزدوی، شرح المنار اور الارشاد فی شرح فقہ الاکبر وغیرہ۔
دو ابن نجیمؒ:
فقہاء حنفیہ میں "ابن نجیم" کے نام سے شاید ہی کوئی واقف نہ ہو،لیکن اس کنیت سے دو شخصیتیں مشہور ہیں،دونوں بھائی ہیں اور ان کا شمار بڑے فقہاء میں ہوتا ہے:
(1)۔علامہ زین الدین بن ابراہیم مصری رحمہ اللہ(متوفی 970ھ)۔مشہور فقیہ ہیں۔ابن نجیم مصری اور زین بن نجیم کی کنیت سے مشہور ہیں۔ان کی کتابوں میں "البحر الرائق" مشہور ہے جو "کنز الدقائق"کی مفصل شرح ہے،البتہ اس کی تکمیل نہ کرسکے، انہوں نے "باب الاجارۃ الفاسدۃ"تک ہی لکھی تھی ۔اس کا تکملہ شیخ محمد بن حسین طوری نے لکھا ہے۔اس کے علاوہ آپ کی مشہور کتابو ں میں الاشباہ والنظائر، فتاوی زینیہ، اور مجموعہ رسائل زینیہ وغیرہ شامل ہیں۔ جب مطلق ابن نجیم بولا جاتا ہے تو اس سے یہی مراد ہوتے ہیں۔
(2)۔علامہ عمر بن ابراہیم سراج الدین ابن نجیم مصری رحمہ اللہ(متوفی 1005)۔یہ زین الدین بن نجیم کے چھوٹے بھائی ہیں۔عمربن نجیم کے نام سے مشہور ہیں۔آپ نے کنز الدقائق کی ایک شرح لکھی ہے جس کا نام "النہر الفائق "ہے۔یہ بھی مکمل نہیں ہے،بلکہ انہوں نے کتاب القضاء تک ہی لکھی تھی۔ان کی فقہ میں ایک اور کتاب کا ذکر بھی ملتا ہے جس کا نام"اجابۃ السائل باختصار انفع الوسائل"ہے۔
قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۳)
محمد عمار خان ناصر
قرآن اور اخبار آحاد میں تعارض کی بحث
قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اہم ترین سوال جس پر امام شافعی نے داد تحقیق دی ہے، بعض احادیث کے، بظاہر قرآن کے حکم سے متعارض یا اس سے متجاوز ہونے کا سوال ہے۔ اس ضمن میں عہد صحابہ وتابعین میں جو مختلف زاویہ ہائے نظر پائے جاتے تھے، ان کی وضاحت پچھلی فصل میں کی جا چکی ہے۔ جمہور فقہاءومحدثین ایسی صورت میں قرآن مجید کی مراد کی تعیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دیتے تھے اور ظاہری تعارض کو، کسی قابل اعتماد روایت کو رد کرنے کی درست بنیاد تصور نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی نے بھی اس بحث میں جمہور اہل علم کے موقف کی تائید کی، البتہ امام شافعی سے پہلے اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث کو جس رخ پر آگے بڑھایا، اس میں یہ نکتہ تو بدیہی طور پر موجود ہی تھا، لیکن انھوں نے اس میں ایک نہایت بنیادی پہلو کا اضافہ کر کے اسلامی روایت میں گویا تفسیر متن کے اصولوں (Hermeneutics) کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی ۔
امام شافعی نے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جس نکتے کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور جسے پورے زور استدلال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کلام عرب میں اسلوب عموم کی نوعیت ہے۔ یہ نکتہ امام شافعی کے زیربحث تصور میں محوری حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر ان کے اس بنیادی دعوے کا انحصار ہے کہ قرآن کے ساتھ سنت کا تعلق، محض تبیین ووضاحت تک محدود ہے اور وہ قرآن کے مدعا ومفہوم میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرتی۔
امام شافعی کا اٹھایا ہوا سوال یہ تھا کہ اگر قرآن نے کوئی حکم کسی قسم کی قیود وشرائط کے بغیر عموم کے اسلوب میں بیان کیا ہو تو فہم کلام کے اصولوں کی رو سے یہ فرض کرنے کا جواز کس حد تک ہے کہ فی الواقع شارع کی مراد اس حکم کو، کسی قسم کے خصوص یا استثناءکے بغیر، ہر ہر فرد پر اور ہر ہر صورت میں واجب العمل قرار دینا ہے؟ اگر تو واقعی یہ فرض کرنا ممکن ہو کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت کو شامل ہونا قطعی طور پر مراد ہے تو پھر کسی حدیث کے، ظاہر قرآن کے خلاف ہونے کی صورت میں اسے قبول کرنے کی نوعیت دو متعارض دلیلوں میں سے ایک کو ترجیح دینے کی ہوگی، لیکن اگر یہ فرض کرنے ہی کی معقول بنیاد موجود نہ ہو اور قرآن کا سلوب عموم خود ایک قابل احتمال اور محتاج تفسیر چیز ہو تو یہاں سرے سے کسی قسم کا تعارض پایا ہی نہیں جاتا جسے دور کرنے کی ضرورت ہو، چنانچہ متکلم کی طرف سے بیان کی جانے والی کوئی بھی تخصیص یا تقیید دراصل سابقہ حکم کی تفصیل اور تشریح ہی تصور کی جائے گی۔
امام شافعی کہتے ہیں کہ قرآن کے بیانات کے استقرا سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عموم کا اسلوب بذات خود قطعی طور پر یہ طے نہیں کرتا کہ متکلم کی مراد عموم ہی ہے، بلکہ اس میں دونوں احتمال ہوتے ہیں اور متکلم کی مراد متعین کرنے کے لیے اضافی دلائل وقرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض جگہ عموم کے اسلوب سے فی الواقع عموم ہی مراد ہوتا ہے، یعنی الفاظ کی ظاہری دلالت جن مصداقات کو شامل ہے، وہ سب متکلم کی مراد ہوتے ہیں، بعض جگہ عموم کے اسلوب سے عموم مراد تو ہوتا ہے، لیکن قرائن ودلائل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس عموم سے فلاں اور فلاں صورتیں خارج ہیں، اور بعض مقامات پر عموم کے اسلوب سے سرے سے عموم مراد ہی نہیں ہوتا، بلکہ کچھ خاص مصداقات کا ذکر عموم کے الفاظ سے کر دیا جاتا ہے۔
ان تینوں طرح کے مواقع کی مثالیں حسب ذیل ہیں:
پہلی نوعیت کی مثال خَالِقُ کُلِّ شَیئٍ فَاعبُدُوہُ (الانعام ۱٠۲:۶)، وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِی الاَرضِ الاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزقُہَا (ہود ۶:۱۱) اور یَا اَیُّہَا النَّاسُ انَّا خَلَقنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَاُنثَی وَجَعَلنَاکُم شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا (الحجرات ۱۳:۴۹) جیسی آیات ہیں۔ ان مثالوں میں عموم کے اسلوب سے حقیقتاً عموم ہی مراد ہے، کیونکہ عقلی ونقلی دلائل کی رو سے ہر چیز کا خدا کی مخلوق ہونا اور ہر جاندار کے رزق کا بندوبست اللہ کے ذمے ہونا قطعی طور پر واضح ہے۔ اسی طرح انسانوں کا مرد وعورت سے پیدا ہونا اور قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم ہونا ہر دور اور ہر علاقے کے انسانوں کے حق میں درست ہے اور کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ فلاں یا فلاں مصداقات اس دلالت سے خارج ہیں۔
دوسری نوعیت (کہ عموم کے اسلوب سے عموم ہی مراد ہو، لیکن قرائن سے بعض صورتوں کا اس سے خارج ہونا بھی واضح ہو) کی ایک مثال یہ آیت ہے:
مَا کَانَ لِاَہلِ المَدِینَۃِ وَمَن حَولَہُم مِّنَ الاَعرَابِ اَن یَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللّٰہِ وَلاَ یَرغَبُوا بِاَنفُسِہِم عَن نَّفسِہِ (التوبہ ۹:۱۲٠)
’’مدینہ میں رہنے والوں اور اس کے گرد بسنے والے دیہاتیوں کے لیے یہ روا نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ انھیں پیغمبر سے زیادہ اپنی جانوں کو بچانے کی رغبت ہو۔“
یہاں عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، لیکن عقلی دلیل سے واضح ہے کہ اس حکم کے مخاطب تمام اہل مدینہ نہیں، بلکہ وہ عاقل وبالغ مرد ہیں جو جہاد کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی طرح حَتَّی اذَا اَتَیَا اَہلَ قَریَۃٍ استَطعَمَا اَہلَہَا (الکہف ۷۷:۱۸) اور رَبَّنَا اَخرِجنَا مِن ہَذِہِ القَریَۃِ الظَّالِمِ اَہلُہَا (النساء۷۵:۴) میں یہ واضح ہے کہ بستی کے سارے لوگ نہیں، بلکہ بعض لوگ مراد ہیں۔ یہی اصول انَّ اَکرَمَکُم عِندَ اللّٰہِ اَتقَاکُم (الحجرات ۱۳:۴۹) کے عموم کو بھی عاقل اوربالغ انسانوں تک محدود کرتا ہے۔ نماز اور روزہ کے احکام کے مخاطب بھی اسی اصول کی رو سے عاقل اور بالغ مرد اور عورتیں قرار پاتے ہیں، جبکہ بچے، پاگل اور ماہواری کے ایام میں خواتین اس کے مخاطب نہیں ہیں۔
تیسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ عموم کے اسلوب میں دراصل کچھ خاص افراد یا حالات کا ذکر کیا گیا ہو اور یہ تخصیص کلام کے سیاق وسباق سے واضح ہو۔ مثلاً: الَّذِینَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَد جَمَعُوا لَکُم فَاخشَوہُم (آل عمران ۱۷۳:۳) میں قرینے سے واضح ہے کہ اطلاع دینے والے الناس سے بھی چند لوگ مراد ہیں اور جن کے متعلق اطلاع دی گئی ہے، وہ بھی چند ہی لوگ تھے۔ اسی طرح ثُمَّ اَفِیضُوا مِن حَیثُ اَفَاضَ النَّاسُ (البقرة ۱۹۹:۲) میں بداہتاً واضح ہے کہ الناس سے سب لوگ نہیں، بلکہ صرف وہ لوگ مراد ہیں جو حج کے لیے جمع ہوئے ہوں۔ اسی کی ایک مثال وَقُودُہَا النَّاسُ وَالحِجَارَۃ (البقرة ۲: ۲۴) کی آیت ہے جس میں بالبداہت الناس سے بعض انسان مراد ہیں۔
مذکورہ تمام مثالوں میں عموم سے متعلق متکلم کا ارادہ خود کلام کے ساتھ جڑے ہوئے عقلی یا داخلی قرائن سے واضح ہے اور اس کے سمجھنے میں کسی صاحب فہم کو دقت نہیں ہو سکتی۔ امام شافعی لکھتے ہیں:
وانما خاطب اللہ بکتابہ العرب بلسانھا علی ما تعرف من معانیھا وکان مما تعرف من معانیھا اتساع لسانھا وان فطرتہ ان یخاطب بالشیءمنہ عاما ظاھرا یراد بہ العام الظاھر ویستغنی باول ھذا منہ عن آخرہ، وعاما ظاھرا یراد بہ العام ویدخلہ الخاص فیستدل علی ھذا ببعض ما خوطب بہ فیہ، وعاما ظاھرا یراد بہ الخاص وظاھرا یعرف فی سیاقہ انہ یراد بہ غیر ظاھرہ، وکل ھذا موجودہ علمہ فی اول الکلام او اوسطہ او آخرہ، ویبتدی الشیءمن کلامھا یبین اول لفظھا فیہ عن آخرہ، ویبتدی الشیءیبین آخر لفظھا فیہ عن اولہ، وتکلم بالشیءتعرفہ بالمعنی دون الایضاح باللفظ کما تعرف الاشارة، ثم یکون ھذا عندھا من اعلی کلامھا لانفراد اھل علمھا بہ دون اھل جھالتھا (الام ۱/۲۲)
’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اہل عرب کو ان کی زبان میں ان اسالیب کے مطابق مخاطب کیا ہے جن کو وہ جانتے تھے۔ ان اسالیب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زبان کے استعمال میں وسعت ہے اور زبان کا یہ فطری طریقہ ہے کہ کسی چیز کا ذکر بظاہر عام الفاظ میں کیا جائے اور مراد بھی عام ہی ہو اور اس میں کلام کے ابتدائی حصے کو سمجھنے کے لیے آخری حصے کو دیکھنے کی ضرورت نہ ہو۔ زبان کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ کسی چیز کا ذکر بظاہر عام الفاظ میں کیا جائے اور مراد بھی عام ہو، لیکن اس میں سے کچھ افراد یا صورتیں مستثنیٰ ہوں جس کا پتہ اس دلیل سے چلے گا جس میں ان مخصوص افراد کا حکم بتایا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی زبان کا ایک اسلوب ہے کہ کسی چیز کا ذکر بظاہر عام الفاظ میں کیا جائے، لیکن اس سے مراد مخصوص افراد ہوں اور کلام کے سیاق سے ہی واضح ہو رہا ہو کہ اس کا ظاہری عموم مراد نہیں۔ یہ سب قرائن کلام کے آغاز میں یا درمیان میں یا آخر میں موجود ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ کلام کے آغاز ایک بات سے کیا جاتا ہے اور کلام کا پہلا حصہ اس کے آخری حصے کی وضاحت کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ کلام کا آخری حصہ، ابتدائی حصے کی مراد کو واضح کر رہا ہوتا ہے۔ کلام کرتے ہوئے آپ کسی بات کا ابلاغ، الفاظ میں وضاحت کیے بغیر، معنی ومفہوم کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں، جیسا کہ اشارے کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ پھر یہ سب اسالیب اہل عرب کے ہاں کلام کی بلند ترین صورت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کا فہم ان میں سے اہل علم ہی کو حاصل ہوتا ہے، نہ کہ جاہلوں کو۔“
امام شافعی نے اسی اصول کے تحت شرعی احکام میں، بعض قیاسی ونقلی تخصیصات کی بھی وضاحت کی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں مردوں سے خطاب کر کے انھیں چار تک عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے۔ (النساء۴: ۳) امام شافعی کہتے ہیں کہ یہاں حکم کی نوعیت سے ہی واضح ہے کہ اس کے مخاطب آزاد مرد ہیں، نہ کہ غلام، اس لیے کہ یہاں ان سے خطاب کیا گیا ہے جو خود نکاح کر سکتے ہیں اور باندیوں کے مالک ہو سکتے ہیں، جبکہ غلام کے متعلق معلوم ہے کہ وہ نہ تو خود اپنا نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی باندی کا مالک ہو سکتا ہے۔ (الام، ۶/۳۷۹) گویا یہ اجازت چونکہ براہ راست اور اصلاً صرف آزاد مردوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس لیے اگر کسی دوسری دلیل سے غلاموں کے لیے منکوحہ عورتوں کی تعداد اس سے کم مقرر کی جائے تو وہ مذکورہ آیت کے خلاف نہیں ہوگا۔
اسی طرح قرآن مجید میں اہل ایمان کو خطاب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ مقتولوں کا قصاص لینا ان پر فرض ہے۔ (البقرة ۲: ۱۷۸) یہاں ایک تو اہل ایمان کو مخاطب کرنے سے ہی واضح ہے کہ قصاص کا حکم اصلاً مسلمانوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ پھر اسی حکم میں اللہ تعالیٰ نے مقتول کے وارث کی طرف سے قاتل کو قصاص معاف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ’فَمَن عُفِیَ لَہُ مِن اَخِیہِ شَیئ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جو اہل ایمان کے باہمی رشتے کو بیان کرتے ہیں اور اس سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین قصاص کا معاملہ زیر بحث نہیں۔ (الام ۷/۹۷) امام شافعی اس وضاحت سے گویا اس طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث میں اگر یہ کہا گیا ہے کہ مسلمان کو غیر مسلم کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے تو اسے قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ یہ آیت سرے سے اس صورت سے بحث ہی نہیں کر رہی۔
یہ امام شافعی کے استدلال کا پہلا مقدمہ ہے، یعنی اسلوب عموم سے متکلم کی مراد ہمیشہ اور لازمی طور پر عموم نہیں ہوتی، بلکہ اس عموم کا مبنی بر خصوص ہونا بھی عین ممکن ہے جسے خود کلام کے اندر موجود قرائن سے سمجھا جا سکتا ہے۔
استدلال کا دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ اسلوب عموم میں ارادئہ تخصیص کی وضاحت اگر ازخود کلام کے داخلی قرائن سے واضح نہ ہو تو بھی متکلم یہ حق رکھتا ہے کہ وہ مستقل وضاحت کے ذریعے سے ارادہ تخصیص کو واضح کر دے۔ ایسی صورت میں بعض دفعہ متکلم یہ وضاحت اسی سیاق کلام میں کر دیتا ہے اور بعض دفعہ کسی دوسرے مقام پر اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ پہلی صورت کی مثال سورة النور میں قذف سے متعلق آیات ہیں۔ چنانچہ آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ نے پاک دامن عورتوں پر بدکاری کا الزام لگانے والوں کو چار گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں ۸٠ کوڑے لگانے کی ہدایت کی ہے، تاہم اس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگائیں تو ان سے چار گواہ نہیں، بلکہ اپنے الزام کے سچا ہونے پر پانچ قسمیں کھانا مطلوب ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے دوسری آیت نے پہلی آیت کے حکم کو منسوخ نہیں کیا، بلکہ یہ واضح کیا ہے کہ ا س کے عموم سے شوہر خارج ہیں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے الگ حکم بیان فرمایا ہے۔ (الام ۱/۶۳، ۶۴)
امام شافعی لکھتے ہیں:
وفی ھذا الدلیل علی ما وصفت من ان القرآن عربی، یکون منہ ظاھرہ عاما وھو یراد بہ الخاص، لا ان واحدة من الآیتین نسخت الاخری، ولکن کل واحدة منھما علی ما حکم اللہ عزوجل بہ (الام ۱/۶۴)
’’یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن، عربی زبان کے اسالیب میں کلام کرتا ہے جس میں بعض اوقات ظاہراً الفاظ عام ہوتے ہیں لیکن مراد خاص ہوتی ہے۔ چنانچہ دونوں آیتوں میں سے کسی نے دوسری کو منسوخ نہیں کیا، بلکہ ہر آیت اس حکم کو بیان کر رہی ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔“
دوسری صورت کی مثال سورة النور میں ہی زنا کی سزا کا حکم ہے جہاں بظاہر الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی کے الفاظ عام ہیں، اور ان کی سزا یہ بیان کی گئی ہے کہ زانی مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ (النور ۲:۲۴) یہاں بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، تاہم دوسری جگہ خود قرآن نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر باندیاں زنا کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد عورتوں سے نصف ہوگی۔ (النساء۲۵:۴) اس سے معلوم ہو گیا کہ سورہ نور میں اسلوب عموم میں جو حکم بیان کیا گیا ہے، اس میں عموم مراد نہیں، بلکہ وہ سزا صرف آزاد مرد اور عورت کے لیے ہے۔ یہ ہدایت بھی سورة النور کے حکم میں نسخ یا تبدیلی واقع نہیں کر رہی، بلکہ صرف متکلم کے ارادے کو واضح کر رہی ہے کہ الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی سے مراد آزاد مرد اور عورت ہیں۔ (الام ۱/۳٠، ۵۷)
اسی نوعیت کی ایک مثال وہ آیات ہیں جن میں جہاد کی فرضیت کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ (التوبہ ۳۹:۹ و ۴۱) یہ آیات بظاہر تمام مسلمانوں کو مخاطب کر رہی ہیں اور ان کا ظاہری مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ نماز، زکوٰة اور حج کی طرح تمام مسلمانوں پر جہاد کے لیے نکلنا فرض ہو۔ تاہم دوسری آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ یہ حکم فرض کفایہ کی نوعیت کا ہے اور سب مسلمانوں کے لیے نکلنا لازم نہیں۔ (النساء۹۵:۴، التوبہ ۱۲۲:۹)۔ (الام ۱/۱۶۷، ۱۶۸) یعنی ان دونوں طرح کی آیات کا باہمی تعلق بھی نسخ کا نہیں، بلکہ توضیح وتبیین کا ہے اور دوسرے مفہوم کی آیات پہلی آیات میں کوئی تبدیلی نہیں کر رہیں، بلکہ انھی میں مضمر مراد الٰہی کو بیان کر رہی ہیں۔
مذکورہ دو مقدمات کے بعد امام شافعی اپنے استدلال کے اصل اور اہم ترین مقدمے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ اسلوب عموم سے واقعتا عموم کا مراد ہونا قطعی نہیں، بلکہ اس کا تعین اضافی دلائل وقرائن کی روشنی میں کیا جا تا ہے اور خود متکلم بھی مستقل کلام کے ذریعے سے اس کی تخصیص کو واضح کر سکتا ہے تو اب یہ بات سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے کہ قرآن میں عموم کے اسلوب میں وارد بعض احکام کی تخصیص سنت کے ذریعے سے بھی واضح کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے نمائندے اور ترجمان کی حیثیت سے اور وحی وحکمت کی راہ نمائی سے بہرہ ور ہونے کی بنیاد پر قرآن کی مراد کی وضاحت فرماتے ہیں اور یہ وضاحت مراد الٰہی کی تعیین میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے ۔ بالفاظ دیگر امام شافعی کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کئی دلائل وقرائن، مثلاً عقلی اقتضاءات اور سیاق وسباق وغیرہ، متکلم کی مراد کو واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں، اسی طرح سنت بھی یہ بات طے کرنے میں مدد دیتی ہے کہ کہاں اسلوب عموم سے قرآن کی مراد واقعتا عموم ہے اور کہاں عموم کی دلالت سے بعض خاص صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ پس قرآن میں وارد حکم عام کو اسی وقت تک اس کے عموم پر سمجھا جائے گا جب تک اس سے متعلق سنت میں کوئی تخصیص بیان نہ ہوئی ہو۔ سنت میں تخصیص وارد ہونے کے بعد قرآن کے حکم کو اس کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے گا اور دونوں کے مجموعے سے اللہ تعالیٰ کی مراد طے کی جائے گی۔ اس تخصیص کی نوعیت ایسی ہی ہوگی جیسے متکلم نے ایک مقام پر ایک حکم بیان کرنے کے بعد دوسرے مقام پر یہ واضح کیا ہو کہ فلاں صورت میں حکم یہ نہیں، بلکہ یہ ہوگا۔ اس صورت میں سنت کے حکم کو کتاب اللہ سے اختلاف پر محمول کر کے حدیث کو رد کر دینے یا منسوخ تصور کرنے کا طریقہ غلط اور غیر علمی طریقہ ہوگا۔
امام شافعی لکھتے ہیں:
فوجب علی کل عالم الا یشک ان سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قامت ھذا المقام مع کتاب اللہ تعالیٰ فی ان اللہ احکم فرضہ بکتابہ وبین کیف ما فرض علی لسان نبیہ وابان علی لسانہ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم ما اراد بہ العام والخاص کانت کذالک سنتہ فی کل موضع لا تختلف، وان قول من قال: تعرض السنۃ علی القرآن فان وافقت ظاھرہ والا استعملنا ظاھر القرآن وترکنا الحدیث جھل لما وصفت (الام، ۱٠/۳۲)
’’چنانچہ ہر عالم پر واجب ہے کہ وہ اس میں شک نہ کرے کہ جب (ان مثالوں میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حیثیت، اللہ کی کتاب کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے مقرر کردہ فرائض کو اجمالاً قرآن میں بیان کیا ہے جبکہ ان پر عمل کی کیفیت کو اپنے نبی کی زبان سے واضح کیا ہے اور اسی طرح نبی کی زبان سے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ کی مراد عام ہے یا خاص، تو پھر رسول کی سنت کو کسی فرق کے بغیر ہر مسئلے میں یہی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ چنانچہ ان لوگوں کا یہ قول کہ سنت کو قرآن پر پرکھا جائے گا، اگر وہ اس کے ظاہر کے ساتھ موافق ہو تو ٹھیک ورنہ ہم قرآن کے ظاہر پر عمل کریں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے، اس اصول سے ناواقفیت پر مبنی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔“
’الرسالہ‘ میں عربی زبان میں اسلوب عموم کی نوعیت کی اصولی وضاحت کے ساتھ ساتھ ’الام‘ میں بعض متعلقہ مثالوں پر کلام کرتے ہوئے امام شافعی نے کلام میں تخصیص کے دو عقلی اصولوں کا بھی حوالہ دیا ہے جنھیں اگر اس استدلال میں شامل کر لیا جائے تو امام صاحب کا زاویہ نظر زیادہ وضاحت سے سمجھا جا سکتا ہے:
ایک یہ کہ کسی نص میں اگر کسی امر کی اباحت بیان کی گئی ہو تو وہ عقلاً اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ شارع نے دوسری نصوص میں اس اباحت پر جو قدغنیں عائد کی ہیں، وہ اپنی جگہ برقرار ہیں اور انھیں ملحوظ رکھتے ہوئے ہی حکم اباحت کی تعبیر کی جائے گی۔ مثلاً سورة النساءمیں محرمات کی ایک فہرست ذکر کرنے کے بعد وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم (النساء۴: ۴۲) کی اباحت بیان کی گئی ہے، تاہم یہ اباحت چار بیویوں کی تحدید کے ساتھ مشروط ہے جو دوسری نصوص میں بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی اسی مضمر شرط کی روشنی میں اس ممانعت کی بھی توجیہ کرتے ہیں جو حدیث میں پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے کے حوالے سے بیان کی گئی ہے۔ (الام ۱/۸۸، ۱٠٠، ۶/۱۲، ۳۹٠) ایک اور مثال الاَّ اَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُم (النساء۴:۹۲) کی اباحت ہے جو بظاہر باہمی رضامندی سے کی جانے والی ہر بیع کو مباح قرار دیتی ہے، لیکن یہ بھی درحقیقت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ایسی کسی بیع کو شارع نے دیگر نصوص میں ممنوع قرار نہ دیا ہو۔ چنانچہ احادیث میں مختلف بیوع سے متعلق جو ممانعت وارد ہوئی ہے، وہ اسی شرط کی وجہ سے اصل اباحت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے اندر مضمر ہے۔ (الام ۱/۷۳، ۷۴؛ ۴/۵)
دوسرا اصول جس کا امام صاحب نے ذکر کیا ہے، یہ ہے کہ جب متکلم کوئی عمومی حکم بیان کرے تو عقلی طور پر اس میں یہ قید شامل ہوتی ہے کہ وہ بعض خاص صورتوں کو، ان کی مخصوص نوعیت کی وجہ سے، اس عمومی حکم سے مستثنیٰ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور ایسے کسی استثناءکا بیان، ابتداءاً ہی حکم کی قیود میں شامل ہونے کی وجہ سے، اصل عمومی حکم کے منافی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ استثناءسامنے آنے کے بعد اسے اصل حکم کے ساتھ ملا کر مجموعی تعبیر کی جائے گی۔ نصوص میں متعدد مثالوں کی روشنی میں اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے امام شافعی لکھتے ہیں:
ان العرایا لیست مما نھی عنہ غنی ولا فقیر، ولکن کان کلامہ فیھا جملۃ عام المخرج یرید بہ الخاص، وکما نھی عن الصلاۃ بعد الصبح والعصر وکان عام المخرج، ولما اذان فی الصلاۃ للطواف فی ساعات اللیل والنھار وامر من نسی صلاۃ ان یصلیھا اذا ذکرھا فاستدللنا علی ان نھیہ ذلک العام انما ھو علی الخاص، والخاص ان یکون نھی عن ان یتطوع الرجل، فاما کل صلاۃ لزمتہ فلم ینہ عنھا، وکما قال البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، وقضی بالقسامۃ وقضی بالیمین مع الشاھد، والقسامۃ استثناء مما اراد لان المدعی فی القسامۃ یحلف بلا بینۃ والمدعی مع الشاھد یحلف ویستوجبان حقوقھما (الام ۴/۱۱۵)
’’عرایا سے کسی مال دار یا فقیر کو منع نہیں کیا گیا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزابنہ سے ممانعت کا) حکم مجموعی لحاظ سے عموم کے اسلوب میں بیان فرمایا جس سے مراد (سب نہیں بلکہ) خاص صورتیں تھیں۔ اسی طرح جب آپ نے فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، لیکن طواف کی دو رکعتیں دن اور رات کی تمام ساعات میں ادا کرنے کی اجازت دی اور بھول کر نماز قضا کر دینے والے کو کہا کہ جب بھی اسے یاد آئے، وہ نماز ادا کر لے تو اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ نے جو عمومی ممانعت بیان کی تھی، وہ خاص تھی اور وہ یہ کہ ان اوقات میں آدمی نفل نماز نہ پڑھے۔ جو نمازیں (کسی وجہ سے) آدمی پر لازم ہوں، ان سے روکنا مقصود نہیں تھا۔ اسی طرح آپ نے یہ فرمایا کہ گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے اور قسم کھانا مدعا علیہ کے ذمے ہے، لیکن پھر آپ نے قسامت کے طریقے پر فیصلہ کیا اور ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم لے کر بھی فیصلہ فرما دیا۔ یہاں قسامت کا طریقہ آپ کے اس حکم سے مستثنیٰ ہے (کہ مدعی کے ذمے گواہ پیش کرنا ہے)، کیونکہ قسامت میں تو مدعی گواہ پیش کرنے کے بجائے قسمیں کھاتا ہے اور اسی طرح قضاءبالیمین میں بھی مدعی ایک گواہ پیش کر کے (دوسرے کی جگہ) قسم کھاتا ہے اور یہ دونوں (قسم کھا کر) اپنا حق ثابت کر لیتے ہیں۔“
مذکورہ بحث کی روشنی میں امام شافعی کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مفروضہ کہ کتاب الٰہی میں عموم کا ظاہری اسلوب لازماً حکم اور مراد کے عموم پر ہی دلالت کرتا ہے، درست نہیں، بلکہ کلام کی حقیقی مراد کو سمجھنے کے لیے اضافی قرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قرائن عقلی بھی ہو سکتے ہیں، کلام کا سیاق وسباق اور کلام کے اند رموجود اشارات بھی اور اسی موضوع سے متعلق خود متکلم کی طرف سے کسی دوسری جگہ کی گئی وضاحت بھی۔ کتاب اللہ کی مراد بیان کرنے کے معاملے میں چونکہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر کی یہ ذمہ داری مقرر کی گئی ہے اور اس کے لیے آپ کو وحی کی صورت میں اللہ کی راہ نمائی بھی حاصل ہے، اس لیے سنت میں اگر کتاب اللہ کے کسی عام حکم کا خصوص بیان کیا گیا ہو تو اس کی حیثیت بعینہ وہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ کی اپنی وضاحت کی ہے۔ چنانچہ کسی قابل اعتماد حدیث کو کتاب اللہ کے ظاہری عموم کے خلاف ہونے کی بنا پر رد کرنا درست نہیں، بلکہ اسے خود اللہ کی طرف سے کی گئی تبیین اور وضاحت کے طور پر قبول کرنا اہل ایمان پر لازم ہے۔
یوں امام شافعی نے بحث میں دلالت کلام کے نہایت اہم سوال کا اضافہ کر کے نوعیت کے لحاظ سے جمہور اہل علم کے استدلال کو ایک اعتقادی مقدمے سے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کے نکتے کو بنیادی دلیل کی حیثیت حاصل تھی، ایک علمی وعقلی مقدمے میں تبدیل کر دیا جس میں کلام کے اسلوب عموم کی حقیقی مراد کے تعین کو اصل توجہ طلب علمی سوال کا درجہ حاصل تھا۔ امام صاحب کا یہ اضافہ ان کی غیر معمولی ذہانت کا مظہر تو تھا ہی، اس نے اسلامی علمیات میں ایک ایسی بحث کی بنیاد رکھ دی جو اس کے بعد سے آج تک علم اصول فقہ کی ایک مہتم بالشان اور اساسی بحث کا درجہ رکھتی ہے۔
سنت میں قرآن کی تخصیص کی مثالیں
مذکورہ بنیادی مقدمے کی روشنی میں امام شافعی نے ان تمام اہم مثالوں پر کلام کیا ہے جو قرآن میں وارد عام احکام کی سنت کے ذریعے سے تخصیص وتحدید کی بحث سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان مثالوں کو ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک قسم ایسی مثالوں کی ہے جن میں امام شافعی سنت میں وارد تخصیصات کے لفظی یا عقلی قرائن خود قرآن مجید سے بیان کرتے ہیں اور یوں واضح کرتے ہیں کہ سنت نے قرآن کے حکم میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ اسی میں موجود اشارات، علل اور قرائن کی روشنی میں مراد الٰہی کی وضاحت کی ہے۔ دوسری قسم کی مثالوں سے متعلق امام شافعی کا کہنا یہ ہے کہ ان میں حکم کی تخصیص کا کوئی قرینہ بظاہر قرآن میں دکھائی نہیں دیتا، تاہم چونکہ اصولی طور پر یہ بات طے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ ہی کی مراد کو واضح کرتے ہیں، اس لیے ان مثالوں کو بھی نسخ اور تغییر کی نہیں، بلکہ تبیین وتوضیح ہی کی مثالیں تسلیم کرنا لازم ہے۔
پہلی نوعیت کی مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حالت حیض میں خواتین سے دور رہنے کا حکم دیا ہے: وَلاَ تَقرَبُوہُنَّ حَتَّیَ یَطہُرنَ (البقرة ۲: ۲۲۲) امام شافعی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ماہواری کی حالت میں خواتین نماز ادا نہیں کر سکتیں، کیونکہ نماز کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ نے وضو اور غسل کے ذریعے سے طہارت حاصل کرنے کو فرض قرار دیا ہے، جبکہ مذکورہ آیت کی رو سے ماہواری کی حالت میں خواتین کے لیے پاک ہونا ممکن نہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ نماز کی فرضیت کا حکم ایسے لوگوں کے لیے ہو جو اگر وضو اور غسل کر کے پاک ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں، جبکہ حائضہ خواتین کا معاملہ یہ نہیں۔ پھر یہ کہ ماہواری چونکہ کوئی اختیاری چیز نہیں جس کی وجہ سے عورت ترک نماز کی وجہ سے گناہ گار ہو، اس لیے ماہواری کے ایام میں وہ نماز کی ادائیگی کی مکلف ہی نہیں، چنانچہ ان ایام کی نمازوں کی قضا بھی اس پر واجب نہیں۔ روزے کا معاملہ نماز سے مختلف ہے۔ شریعت میں انسان کو حالت سفر میں روزہ چھوڑ دینے اور رمضان کے بعد تک موخر کر دینے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ نماز کے معاملے میں ایسی رخصت نہیں دی گئی۔ مزید یہ کہ نماز ہر روز پانچ اوقات میں فرض کی گئی ہے، جبکہ روزہ صرف ایک مہینے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ گویا خود قرآن مجید کے احکام میں وہ بنیادیں موجود ہیں جن کی روشنی میں اور جن سے استنباط کر کے سنت میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ایام حیض میں فوت شدہ نمازوں کی قضا تو خواتین کے ذمے نہیں، لیکن روزوں کی قضا لازم ہے۔ (الام ۱/۵٠، ۵۱، ۲/۱۳۱)
۲۔ قرآن مجید میں قصاص کا حکم بیان کرتے ہوئے بعض مقامات پر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، مثلاً: اَنَّ النَّفسَ بِالنَّفسِ (المائدہ ۴۵:۵) اور وَمَن قُتِلَ مَظلُوماً فَقَد جَعَلنَا لِوَلِیِّہِ سُلطَاناً فَلاَ یُسرِف فِّی القَتلِ (بنی اسرائیل ۳۳:۱۷)۔ اس کا بظاہر یہ مطلب بنتا ہے کہ قصاص کے معاملے میں تمام انسانوں کا حکم یکساں ہے اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کرے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ تاہم اس عموم کو خصوص پر محمول کرنے کا احتمال بھی موجود ہے، یعنی یہ کہ اس سے مراد ایسے دو آدمیوں کے مابین قصاص ہو جو مکافی· الدم ہوں یعنی جن کی جان یکساں حیثیت رکھتی ہو۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دوسرا معنی ہی مرادہے، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان کو کسی کافر کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (الام ۷/ ۶۱، ۶۲، ۲۵۹)
امام شافعی اس تخصیص کے حق میں قرآن مجید سے یہ قیاسی استشہاد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ (۲۸:۹) میں اہل ذمہ پر ’جزیہ‘ عائد کرنے کا حکم دیا ہے جو ان کی محکومانہ حیثیت کی ایک علامت ہے اور اس کی رو سے وہ قانونی ومعاشرتی امور میں مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تو اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن مسلمان خواتین کے لیے کسی کافر سے نکاح کو جائز قرار نہیں دیا۔ (الام ۹/۱۳۴) گویا شریعت کے احکام کا عمومی منشا یہی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں کے برابر اور ہم پلہ تصور نہ کیا جائے، اس لیے قصاص کے معاملے میں یہ تفریق روا رکھنا خود قرآن مجید کے منشا کے مطابق ہے۔
۳۔ خور ونوش میں حلت وحرمت کے احکام کے سیاق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ يَطْعَمُہ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَۃً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّہ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُھلَّ لِغَيْرِ اللَّہ بِہ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - (الانعام ۱۴۵:۶)
’’کہہ دو کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے، اس میں، میں کسی کھانے والے کے لیے کسی چیز کو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا جانے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے یا گناہ کا کام، یعنی ایسا جانور ہو جسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے، دراں حالیکہ نہ تو خواہش رکھنے والا ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا تو بے شک تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔“
قرآن مجید کے اس بیان کے برعکس احادیث میں ان چار کے علاوہ بھی کئی جانوروں مثلاً گدھے اور درندوں وغیرہ کا شمار محرمات میں کیا گیا ہے۔ چونکہ قرآن میں تصریحاً یہ کہا گیا ہے کہ ان چار کے علاوہ کوئی چیز اللہ کی شریعت میں حرام نہیں، اس لیے بظاہر ان جانوروں کی تحریم آیت میں بیان ہونے والی عمومی اباحت کے منافی معلوم ہوتی ہے۔
اس اشکال کے جواب میں امام شافعی واضح کرتے ہیں کہ مذکورہ آیت کا تناظر عام نہیں بلکہ خاص ہے، یعنی اس میں دنیا کے تمام جانور اور اشیائے خور ونوش زیر بحث نہیں، بلکہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ خاص اشیاءسے متعلق سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ مراد یہ ہوئی کہ جن چیزوں سے متعلق پوچھا گیا ہے، ان میں سے ان چار کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ (الام، ۱/۹٠، ۱۰۱) آیت کے مخصوص تناظر کے حوالے سے امام صاحب نے دوسری توجیہ یہ ذکر کی ہے کہ یہاں صرف وہ جانور زیر بحث ہیں جنھیں اہل عرب حلال سمجھتے تھے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام اور حلال کے ضمن میں چیزوں کے پاکیزہ اور ناپاک ہونے کو معیار قرار دیا ہے۔ چونکہ حکم کے مخاطب اہل عرب ہیں، اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کو اہل عرب طیب سمجھتے ہیں، وہ حلال اور جن کو وہ خبیث سمجھتے ہیں، وہ حرام ہیں۔ البتہ بعض چیزوں کے معاملے میں وہ غلطی میں مبتلا تھے اور چار ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے جو درحقیقت خبیث تھیں۔ قرآن مجید نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ یہ چار چیزیں دراصل طیبات میں داخل نہیں ہیں۔ (الام ۳/۶۲۷، ۶۲۸)
گویا اس توجیہ کے مطابق قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا میں علی الاطلاق تمام جانور زیر بحث نہیں، بلکہ صرف ان جانوروں کی طرف اشارہ ہے جن کو اہل عرب حلال سمجھ کر ان کا گوشت کھاتے تھے۔ باقی رہے وہ جانور جن کو وہ پہلے ہی ناپاک اور خبیث تصور کرتے اور ان کا گوشت نہیں کھاتے تھے تو ان سے اس آیت میں کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ ان کی حرمت کا ذکر اجمالی طور پر وَیُحَرِّمُ عَلَیہِمُ الخَبَآئِثَ (الاعراف ۱۷۵:۷) میں کیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے اور درندوں وغیرہ کی حرمت بیان کر کے اسی اجمالی حکم کی تفصیل فرمائی ہے اور یوں ان جانوروں کو حرام قرار دینا قرآن مجید کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی تصریحات کے بالکل مطابق ہے۔
۴۔ سورہ نساءمیں اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کی ایک فہرست ذکر کی ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ اس فہرست میں ایک شق یہ بھی ہے کہ دو بہنوں کو بیک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنا ممنوع ہے۔ اس کے بعد فرمایا ہے:
وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم (النساء۴: ۲۴)
’’اور ان کے علاوہ جو بھی عورتیں ہیں، وہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔“
یہاں صرف دو بہنوں کو جمع کرنے کی حرمت پر اکتفا کرنے اور اس کے بعد وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم کی تصریح کا مقتضا یہ بنتا ہے کہ دو بہنوں کے علاوہ کوئی بھی دو ایسی عورتیں جن کے ساتھ انفراداً نکاح کرنا جائز ہو، انھیں ایک آدمی اپنے نکاح میں جمع بھی کر سکتا ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بہنوں کے ساتھ ساتھ خالہ اور بھانجی کو اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت بیان فرمائی ہے۔ امام شافعی نے اس اشکال کے جواب میں قرآن مجید کے داخلی قرائن واشارات کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ حدیث میں بیان کی جانے والی ممانعت، قرآن مجید کی دلالت کے خلاف نہیں۔
پہلے اشکال یعنی قرآن میں جمع کے حوالے سے صرف دو بہنوں کے ذکرپر اقتصار کیے جانے سے متعلق امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کے علاوہ اور کسی بھی دو خواتین کو جمع کرنا ممنوع نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی مسئلے کی بعض جزئیات اپنی کتاب میں اور بعض دیگر جزئیات اپنے پیغمبر کی زبان سے بیان فرماتے ہیں۔ گویا پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع کرنا قرآن میں مسکوت عنہ ہے، یعنی اس کا نفیاً یا اثباتاً کوئی ذکر نہیں اور حدیث میں وارد ممانعت ایک مسکوت عنہ امر کے بارے میں شریعت کے حکم کا بیان ہے۔
جہاں تک دوسرے اشکال یعنی وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم کا تعلق ہے تو اس ضمن میں امام شافعی کا استدلال دو نکات پر مبنی ہے :
ایک یہ کہ اس جملے کا روئے سخن وَاَن تَجمَعُوا بَینَ الاُختَینِ کی طرف نہیں، بلکہ آیت میں مذکورہ باقی محرمات کی طرف ہے۔ اس فرق کی وجہ ان دونوں طرح کی حرمتوں میں نوعیت کا مختلف ہونا ہے۔ باقی تمام محرمات جیسے ماں، بہن، خالہ اور پھوپھی وغیرہ ہمیشہ او رہر حال میں حرام ہیں، جبکہ دو بہنوں میں سے کوئی بھی فی الاصل حرام نہیں، بلکہ انھیں صرف بیک وقت ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم کا تعلق ان محرمات سے ہے جو فی الاصل اور ابدی طور پر حرام ہیں اور اس جملے کا مدعا یہ ہے کہ مذکورہ خواتین کے علاوہ کوئی بھی خاتون ابدی اور مطلق حرمت کا حکم نہیں رکھتی۔ باقی رہا عارضی اور وقتی حرمت کا حکم جو دو بہنوں کے حوالے سے بیان ہوا ہے تو یہ جملہ اس سے کوئی تعرض نہیں کر رہا، چنانچہ اس سے اخذ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ دو بہنوں کے علاوہ باقی کوئی بھی رشتہ رکھنے والی خواتین کے ساتھ بیک وقت نکاح کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم ایک اور بدیہی شرط کے ساتھ مشروط ہے، اور وہ یہ کہ ابدی محرمات کے علاوہ باقی عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے جب تک کہ شریعت میں بیان کردہ کسی دوسری پابندی کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ گویا یہ اباحت ان تمام پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے جو قرآن وسنت میں اپنے اپنے مقامات پر بیان کی گئی ہیں اور ان سے قطع نظر کر کے مطلقاً ان سب عورتوں سے نکاح کی اجازت دینا یہاں مراد نہیں ہے۔ مثلاً شریعت میں چار سے زائد عورتوں سے نکاح کی ممانعت کی گئی ہے، اس لیے وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم میں بیان کردہ اجازت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ اسی طرح دوسرے مقام پر قرآن نے تین طلاقوں کے بعد اسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے جب تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔ (البقرة ۲: ۲۳٠) یہی معاملہ لعان کی صورت میں میاں بیوی کے مابین تفریق کا ہے جس کے بعد وہ کبھی نکاح نہیں کر سکتے۔ چنانچہ جیسے یہ صورتیں وَاُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُم کی اباحت سے مستثنیٰ ہیں، اسی طرح ایک پابندی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ آدمی پھوپھی اور بھتیجی کو اور اسی طرح خالہ اور بھانجی کو اپنے نکاح میں جمع نہ کرے، چنانچہ زیر بحث اباحت میں یہ شرط بھی ملحوظ ہوگی۔ (الام ۱/۸۸، ۱٠٠، ۶/۱۲، ۳۹٠)
امام شافعی کے استدلال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ چونکہ یہ اباحت ابتداءاً ہی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے اس سے پہلے یا اس کے بعد جن جن صورتوں کو بھی شارع نے اس اباحت سے مستثنیٰ کیا ہے، وہ اس کے معارض نہیں ہیں۔
۵۔ سورة الطلاق میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اگر اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو فوراً انھیں ان کے گھروں سے نکال نہ دیں، بلکہ دوران عدت میں انھیں اپنی استطاعت کے مطابق رہائش مہیا کریں۔ (الطلاق ۱:۶۵، ۶)
اسلوب سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عام ہدایت ہے اور عدت گزارنے والی تمام خواتین اس عرصے میں رہائش کی، اور چونکہ رہائش کے ساتھ نفقہ بھی عادتاً لازم ہوتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ نفقہ کی بھی حق دار ہیں۔ تاہم فاطمہ بنت قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ عدت کے دوران میں ان کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ آپ نے فاطمہ سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے بجائے عبد اللہ بن ام مکتوم کے گھر میں عدت مکمل کریں۔ (ابو داود، کتاب الطلاق، باب فی نفقة المبتوتة، باب من انکر ذلک علی فاطمة، رقم ۲۲۹۱) فاطمہ بنت قیس کی یہ روایت فقہائے صحابہ وتابعین کے مابین خاصے اختلاف کا باعث رہی ہے۔ مثلاً سیدنا عمرؓ نے سورة الطلاق کی مذکورہ آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اس روایت کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ہم کتاب اللہ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتہ نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں۔ ایسی عورت کو رہائش بھی ملے گی اور نفقہ بھی۔ (مسلم، کتاب الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لہا، رقم ۳۷۱٠) یہی موقف صحابہ وتابعین کی ایک جماعت نے بھی اختیار کیا۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ فاطمہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے عین مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة الطلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت تو سب عورتوں کے متعلق دی ہے اور یہ حکم عام ہے، لیکن نفقہ ادا کرنے کی پابندی صرف حاملہ عورتوں کے حوالے سے لازم کی ہے۔ پہلا حکم سورة کی ابتدا میں لَا تُخرِجُوہُنَّ مِن بُیُوتِہِنَّ کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد حاملہ اور غیر حاملہ، دونوں طرح کی خواتین کے لیے عدت کے احکام بیان فرمائے ہیں اور شوہروں کو پابند کیا ہے کہ وہ دونوں کو دوران عدت میں رہائش فراہم کریں، لیکن نفقہ کی ہدایت دیتے ہوئے صرف حاملہ عورتوں کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
أَسْكِنُوھُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوھُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْھِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْھِنَّ حَتَّی يَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوھُنَّ أُجُورَھُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہ أُخْرَىٰ (الطلاق ۶:۶۵)
’’جیسی جگہ پر تم ٹھہرے ہو، اپنی گنجائش کے مطابق ان کو بھی ٹھہراﺅ اور انھیں تنگی میں ڈالنے کے لیے ان کو ضرر پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو جب تک بچے کو جنم نہ دے دیں، ان پر (اپنا مال بھی) خرچ کرو۔“
یوں قرآن مجید کی دلالت اس پر واضح ہے کہ حاملہ مطلقہ کے علاوہ کوئی دوسری مطلقہ دوران عدت میں نفقہ کی حق دار نہیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو نفقہ کا حق دار تسلیم نہ کرنا قرآن مجید کے عین مطابق ہے۔ البتہ آپ نے اس کو شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم اس لیے دیا کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروئے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہائش مہیا کی جائے گی۔ (الام، ۶/۲۸٠، ۲۸۱)
۶۔ روایات میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میںایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیة، باب القضاءبالیمین والشاہد، رقم ۱۷۱۲) فقہائے احناف نے اس روایت کو قرآن مجید کے اس حکم کے منافی قرار دیتے ہوئے قبول نہیں جس میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ (البقرہ ۲: ۲۸۲) احناف کے نزدیک آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دو مردوں یا ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرے، جبکہ زیر بحث حدیث میں اس کے برخلاف ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے ایک قسم لے کر فیصلہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ فقہائے احناف اس معاملے میں اپنی رائے کے درست ہونے پر ایسا اذعان رکھتے ہیں کہ امام محمد سے منقول ہے کہ انھوںنے کہا کہ اگرکوئی قاضی اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرے تو اس کے فیصلے کو فسخ کر دیا جائے، کیونکہ یہ طریقہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ (الام، ۸/۱۵؛ ابن عبد البر، الاستذکار، ۲۲/۵۳)
امام شافعی نے متعدد مقامات پر اس مسئلے پر کلام کیا ہے اور اس ضمن میں امام محمد بن الحسن کے ساتھ اپنے مجادلے کی روداد بھی نقل کی ہے۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ اس آیت میں شہادت کا کوئی ایسا نصاب بیان نہیں کیا گیا جس کی پابندی ہر ہر مقدمے میں ضروری ہو، بلکہ یہاں موضوع بحث قرض کے لین دین کا مسئلہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اس کے علاوہ دوسرے متنوع قسم کے معاملات میں کئی دوسرے طریقوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا جواز بھی قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ ان میں سے ہر طریقہ معاملے کی نوعیت کے لحاظ سے اپنی جگہ درست ہے اور کسی بھی آیت یا حدیث کو دوسری آیت یا حدیث کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امام شافعی لکھتے ہیں:
ارایت اذا حکم اللہ عز وجل فی الزنا باربعۃ شھود وجاءت بذلک السنۃ وقال اللہ عز وجل واستشھدوا شھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان اما صار اھل العلم الی اجازۃ اربعۃ فی الزنا واثنین فی غیر الزنا ولم یقولوا ان واحدا منھما نسخ الآخر ولا خالفہ وامضوا کل واحد منھما علی ما جاءفیہ، قال بلی (الام ۸/۲۷)
’’بتاﺅ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زنا میں چار گواہوں کی گواہی پر فیصلے کا حکم دیا ہے اور سنت میں بھی یہی آیا ہے، جبکہ (قرض کے معاملے میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو مرد گواہ مقرر کرو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہئیں، تو (ان دونوں الگ الگ حکموں کے بارے میں) کیا اہل علم کا یہ موقف نہیں ہے کہ زنا میں چار اور باقی معاملات میں دو گواہوں پر فیصلہ کیا جائے گا اور یہ نہیں کہا کہ ان میں سے ایک حکم دوسرے کے خلاف ہے اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ہے، بلکہ اہل علم نے ہر حکم کو اس دائرے میں واجب العمل مانا ہے جس میں وہ دیا گیا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔“
اسی بحث میں الزامی استدلال سے کام لیتے ہوئے امام شافعی لکھتے ہیں:
فکان مما رد بہ الیمین مع الشاھد ان قال قال اللہ تبارک وتعالی شھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان، فقلت لہ لست اعلم فی ھذہ الآیۃ تحریم ان یجوز اقل من شاھدین بحال، قال فان قلت فیھا دلالۃ علی الا یجوز اقل من شاھدین؟ قلت فقلہ، قال فقد قلتہ، قلت فمن الشاھدان اللذان امر اللہ جل ثناوہ بھما؟ قال عدلان حران مسلمان، فقلت فلم اجزت شھادۃ اھل الذمۃ؟ وقلت لم اجزت شھادة القابلة وحدھا؟ قال لان علیا اجازھا، قلت فخلاف ھی للقرآن؟ قال لا، قلت فقد زعمت ان من حکم باقل من شاھدین خالف القرآن (الام ۱٠/۲۹٠)
’’مخالف نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلے کے طریقے کو جن دلائل کی وجہ سے رد کیا، ان میں سے ایک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو مرد گواہ ہونے چاہئیں اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس آیت میں اس بات کی کوئی ممانعت نظر نہیں آتی کہ کسی بھی حال میں دو سے کم گواہوں پر فیصلہ نہ کیا جائے۔ اس نے کہا کہ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اس میں اس پر دلالت موجود ہے کہ دو سے کم گواہوں پر فیصلہ جائز نہیں؟ میں نے کہا کہ کہو۔ اس نے کہا کہ میں یہی کہتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ دو گواہ جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے، کس قسم کے ہونے چاہئیں؟ اس نے کہا کہ عادل، آزاد اور مسلمان ہونے چاہئیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر تم (بعض امور میں) اہل ذمہ کی گواہی کیوں قبول کرتے ہو اور اکیلی دایہ کی گواہی پر کیوں فیصلہ کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس لیے کہ سیدنا علی نے اس کو (یعنی دایہ کی گواہی کو) درست قرار دیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ قرآن کے خلاف ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ جو شخص (کسی بھی صورت میں) دو سے کم گواہوں پر فیصلہ کرتا ہے، اس کی بات قرآن کے خلاف ہے۔“
مذکورہ مثالوں کے علاوہ بعض دیگر احادیث میں بیان ہونے والی تخصیصات بھی بظاہر قرآن کے عا م حکم کے معارض محسوس ہوتی ہیں۔ امام شافعی نے ان کا ذکر اس بحث کے تناظر میں تو نہیں کیا، لیکن ان کی توجیہ بھی اس انداز سے کی ہے کہ ان تخصیصات کا خود اصل حکم میں مضمر ہونا واضح ہو جاتا ہے۔
۷۔ مثال کے طور پر روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اپاہج شخص کو، جس نے بدکاری کی تھی اور معذور اور کمزور ہونے کی وجہ سے کوڑوں کی سزا کا متحمل نہیں تھا، اس طرح سزا دی کہ سو تنکے جمع کر کے ایک ہی دفعہ اس کے جسم پر مارنے کا حکم دیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ اور سنت سے یہ واضح ہے کہ کوڑے لگوانے سے مقصود انسان کی جان لینا نہیں ہے، بلکہ لوگوں کو حرام کاموں کے ارتکاب سے باز رکھنا ہے اور اس سے مجرم کا گناہ بخشے جانے کی توقع ہے۔ چونکہ معذور یا نہایت بیمار آدمی کو کوڑے لگانے سے اس کی جان جا سکتی ہے، اس لیے ایسے شخص کو کوڑے لگوانا شریعت کا مقصود نہیں ہو سکتا۔ (الام ۷/۳۴۴) گویا امام صاحب یہ واضح کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں سزا کا عام طریقہ چھوڑ کر خصوصی طریقہ اختیار کرنا خود حکم کے مقصد اور شریعت کے عمومی مزاج کی رعایت سے ضروری تھا۔
۸۔ اسی طرح بعض احادیث میں کہا گیا ہے کہ دو مردار کھانا ہمارے لیے حلال ہے، ایک مچھلی اور دوسرا ٹڈی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ دراصل حلال جانوروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کے حلال ہونے کے لیے ان کو ذبح کرنا ضروری ہے اور دوسری وہ جنھیں ذبح کرنا ضروری نہیں۔ اس دوسری قسم کی مثال کے طور پر امام شافعی ٹڈی اور مچھلی کا ذکر کرتے ہیں۔ (الام ۳/۶٠۳، ۶۰۶) امام شافعی کی مراد یہ ہے کہ ذبح کرنے کی شرط ایسے جانوروں کے لیے ہے جن کے جسم میں خون ہوتا ہے اور اسے ذبح کے ذریعے سے بہا دیا جاتا ہے۔ چونکہ مچھلی اور ٹڈی میں خون ہی نہیں ہوتا جسے بہایا جا سکے، اس لیے ان کو ذبح کرنا بھی ضروری نہیں۔ گویا امام صاحب یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن میں جس مردار کو حرام کہا گیا ہے، وہ خون رکھنے والے جانور ہیں اور اس میں مچھلی اور ٹڈی سرے سے شامل ہی نہیں، بلکہ ان کا حکم اصولی طور پر ہی ایسے جانوروں سے مختلف ہے۔
قرآنی اُسلوب دعوت کی باز یافت
سید مطیع الرحمٰن مشہدی
عزیز دوست محترم میاں انعام الرحمٰن کو جب بھی بتا یا کہ میں آج کل فلاں کتاب یا فلاں موضوع کا مطالعہ کر رہاہوں تو ایک بات وہ ہمیشہ دہراتے ہیں کہ جب کتاب یا مذکورہ مضمون کامطالعہ مکمل کرلیں تو اس کے حاصلِ مطالعہ پر ایک ڈیڑھ صفحہ ضرور لکھ دیا کریں کہ اس سے نثر نگار ی شستہ ،رواں اور بہترین ہو گی ۔پھر جب کبھی آپ اس کتاب یا موضوع پر برسوں بعد بھی کوئی تبصرہ یا کوئی تحقیقی کام کر نا چاہیں گے تو بجائے پوری کتاب پڑھنے کے یہ ایک ڈیڑھ صفحہ کفایت کرے گا ۔ آپ کے حاصل مطالعہ سے کئی اور لوگ بھی مستفید ہو ں گے ،کچھ عرصہ بعد اس طرح کے شذرات سے ایک کتاب بھی بن سکتی ہے اور اس کے علاوہ کئی ایک فوائد گنواتے ہیں ۔
گزشتہ دنوں میاں صاحب نے اپنے دادا جان مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی ؒ کی کتا ب’’ انسان ، مادہ پرستی اور اسلام“ مطالعہ اور پروف ریڈنگ کی غرض سے عنایت کی تو مذکورہ بالا نصیحت دہراتے ہوئے اس بات کا اضافہ فرمایا کہ اس کتاب کا حاصل ِ مطالعہ کتاب میں شامل کیا جائے گا ۔میں نے ہزار منت سماجت کی کہ میں کہاں اور مفتی صاحب کی شخصیت کہاں ،نہیں مانے ۔ پھر فارسی زبان میں بھی گذارش کی کہ من آنم کہ من دانم ،مگر مسلسل اصرار فرمایا جسے ان کی محبت اور ذرہ نوازی نہ کہیے تو کیا کہیے ۔سو مطالعہ کے دوران میں چند اہم پہلو جو مجھے محسوس ہو ئے، سپر د ِقلم کیے ہیں۔
یہ بات عموما دیکھنے میں آئی ہے کہ ہمارے ہا ں جب بھی مغربی تہذیب و تمدن پر نقد کیا جاتا ہے تو ہمار ےنقاد اپنی تنقید کا سارا مقدمہ مغرب سے متعلق سنی سنائی باتوں ، مشہور مفروضات اور چند غلط فہمیوں کی بنیاد پر قائم کرتے ہیں ۔ نہ ان کے پاس مستند ذرائع سے معلومات ہوتی ہیں اور نہ انہیں براہ ِراست مشاہدے کا موقع ملا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ان کا استدلال جگہ جگہ اپنی کمزور ی ظاہر کرتا ہے۔ ایسی کمزور بنیادوں پر یقینا کوئی بلند وبالا عمارت قائم نہیں کی جاسکتی ۔ کتابِ ہذا میں دوران ِمطالعہ جہاں جہاں مغربی تہذیب و تمدن، نظریہ حیات اور دیگر مغربی افکار پر تنقید کا موقع آیا ، میں فورا چوکنا ہو گیا کہ یہاں مذکورہ بالا مصنفین کی طرح مفتی صاحب موصوف بھی مغربی معاشرے اور ممالک سے متعلق بہت سارے مفروضات او ر سنی سنائی باتوں پر اپنا مقدمہ قائم کریں گے اور اپنی نقد کی پوری عمار ت انہی Myths پر کھڑی کریں گے۔ لیکن ہر دفعہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس معاملے میں بھی ان کی معلومات حقیقت کے قریب، مبنی بر دیانت ،اور افراط و تفریط سے پاک ہیں ،حالانکہ یہ ساٹھ سال قبل کی تحریر ہے جبکہ معلومات کے ذرائع آج کے ذرائع کے عشر ِ عشیر بھی نہ تھے ۔
فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کی ایک بنیادی وجہ مخالفین کے ساتھ بحث و مباحثہ،مثبت مکالمہ اور علمی و فکری اختلاف کےآداب سے نابلد ہونا ہے ۔ بد قسمتی سے مدارس کے طلبا کے ہاں اس کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ مخالفین کی توہین ، غیر شائستہ اندازِ تخاطب ، مخالف کے مثبت پہلوؤں کو نہ صرف نظر اندازکرنا بلکہ انہیں الٹا منفی بناکر پیش کرنا اور دیگر غیر علمی رویےمذہبی طبقات کی اکثریت میں پائے جاتے ہیں ۔ یہی وہ اسا لیب ہیں جو مخالف کو حق کے قریب لانے کے بجائے الٹا مانع بنتے ہیں ۔ مجھے آ ج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مناظرین کے ہاں پائے جانے والے اسلوبِ مخاصمت کی اصل کیا ہے ۔ غیر مسلم تو ایک طرف رہے، خود مسلمانوں کے اپنے فر قوں اور مسالک کے مابین گفتگو اور بحث و تمحیص کا جو رویہ پایا جاتاہے،نہایت غیر شائستہ اور ناگفتہ بہ ہے ۔مباحثے و مناقشے کا یہ انداز نہ قرآن نے اختیار کیا ہے نہ پیغمبر انہ اسلوب ِ دعوت سے اسے کوئی نسبت ہے ۔اس کے برعکس مفتی صاحب ؒ کا اسلوب ایسا عمدہ ،حکیمانہ ، مخلصانہ ،ہمدردانہ ، شائستہ ، دلکش ، دانش افروز، قرآنی اصول وجادلھم بالتی ھی احسن کا عملی نمونہ اور انبیاءکے دعوتی منہج کے عین مطابق ہے ۔مخالف کی مثبت باتوں اور نظریات و خیالات کو نہ صرف مد نظر رکھا گیا ہے بلکہ اسے دعوتی مقاصد کے لئے استعمال بھی کیا گیا ہےجو ایک داعی کی وسیع الظرفی اور وسعتِ قلبی کے ساتھ ساتھ حکمت کا تقاضا بھی ہے میرے خیال میں مفتی صاحبؒ کی یہ کتاب خصوصی طورپر مدارس کے طلبا کے نصاب میں شامل ہونی چاہیے تا کہ ان کے ہاں مخالفین کے ساتھ گفتگو اور مکالمے کی ایک شائستہ اور قرآنی روایت قائم ہوسکے ۔
مخالف کے دلائل کے مقابلے میں جب آپ مضبوط علمی پوزیشن میں ہوں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ایک طرح کی علمی رعونت زبا ن وبیان میں دَ ر آتی ہے ۔ مخالف کے دلائل کا ، یہاں تک کہ اس کی ذات کا تمسخر اڑانااور اس کی کج فہمی کا ڈھنڈوراپیٹنا، اسی فکری تکبر کا شاخسانہ ہے ۔ ایک داعی کو ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ مخالف کے کمزور دلائل پر اس طرح جھپٹے جیسے شیر ہرن پر جھپٹتا ہے ،بلکہ الفاظ کے انتہائی محتا ط چناؤ اور نہایت باوقار لہجے میں مخالف کو کمتر اور کم علم ثا بت کیے بغیر اس کے علمی استدلال کی کمزور ی کو واضح کرنا ہی درست رویہ ہے ۔ اس پوری کتاب میں کہیں بھی، کسی در جے میں بھی علمی رعونت سے مغلوب ہوکر مخالف کا تمسخر نہیں اڑایا گیا اور نہ ہی تہذیب و شائستگی سے عاری کسی لفظ کا چنا ؤ کیا گیا ہے ۔
دعوتی لٹریچر میں عام طور پر اس بات کا خیال کم رکھا جاتا ہے کہ دلیل کس قدر مضبو ط بنیاد وں پر استوار ہے ۔ ضعیف و کمزور روایات اور بے سند قصص بلا ججھک بیان کر دیے جاتےہیں اور اس بارے میں نقطہ نظر یہ رکھا جاتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں اس قدر چھان پھٹک اور تحقیق وتفتیش کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ میرے خیال میں یہ رویہ کئی لحاظ سے درست نہیں ۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحیح روایات اور مستند حکایات و قصص اس قدر موجود ہی نہیں کہ دعوت ِدین کے لئے کا فی و شافی ہوسکیں ۔ دوسرا یہ کہ ایسی کمزور اور ضعیف الاسناد باتوں پر جب آپ مخالفین سے بات کریں گے تو ایک طرف یہ دلائل اس کے لئے متا ثر کن ثا بت نہیں ہوں گے اگر وقتی طور پر مان بھی لیے گئے تو جب کبھی انہیں ان دلائل کے بودے پن کا علم ہو گا تو آپ کی ساری بحث ہی مشکو ک ٹھہرے گی اور آپ کی ساری محنت غا رت جائے گی ۔مفتی صاحب ؒ نے یہ کتاب اگرچہ خالصتا دعوتی نقطہ نظر سے لکھی ہے لیکن ان کے ہاں اس بات کا پورا خیا ل رکھا گیا ہے کہ کوئی بات بلا دلیل اور بے اصل نہ ہو۔
ایک داعی کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مخالف کی علمی و عملی کمزوریوں کا پورا ادارک رکھتا ہو بلکہ خود اس طبقے کی جملہ کمزوریوں سے بھی با خبر ہوجس کا وہ خود ایک فرد ہے ۔ مفتی صاحب ؒ کے ہاں اس بات کا بھی پورا اہتمام نظر آتا ہے ۔خود تنقیدی و خود نگری کا جرت مندانہ انداز بھی کئی مواقع پر سامنے آتا ہے ۔ اس معاملے میں جہاں مسلمانوں سے تفہیم ِ دین یا اس کے اطلاقی پہلوؤں سے ٖغلطیاں سر زد ہوئی ہیں، انہیں نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کی پرزور مذمت بھی کرتے ہیں ۔یہ بات داعی کی دیانت و صیانت کے ساتھ ساتھ مخالفین کے ہاں ا س کی تنقیدکی وقعت اور بات میں وز ن بھی پیداکرتی ہے اور اس کے علمی مرتبے پر اعتماد پیداکرتی ہے ۔
اس کتاب میں انسان ، مادہ پرستی اور اسلام کی مثلث کے تینوں زاویوں کا علمی و عقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب ِ نگارش نہایت فکر انگیز اور مربوط، اور نثر اس قدر شستہ اور رواں ہے کہ قاری علمی و فکری غذ ا کے ساتھ ساتھ ادب و سخن کی چاشنی سے بھی محظوظ ہو تا چلا جاتا ہے ۔ یہ کتاب جدید مادیت پرستی کے پرشور دور میں انسان کی روحانی بازیافت کے ساتھ ساتھ قرآنی اسلوب ِ دعوت کی بازیافت کی طرف بھی ایک مثبت قدم ہے ۔ ایسے کئی قدم اٹھیں گے تو اس عظیم منزل کی راہ ہموار ہو گی اور نئی نسل ان راستوں پر آگے بڑھ سکے گی۔ الحاد اور مادہ پرستی کی جدید لہر اس بات کی متقاضی ہے کہ زیرِ نظر کتاب کا انگریزی ترجمہ منظر عام پر لایا جائے تا کہ اس سے استفا دے کا دائرہ مزید وسیع ہو سکے ۔اللہ رب العزت مفتی صاحب کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے پوتے محترم میاں انعام الرحمٰن کے علم و عمل میں مزید ترقی و اضافہ فرمائے کہ ان کی کاوش و محنت کی بدولت تقریبا چھ عشروں کے بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن منظر عام پر آسکا۔
عزیزم محمد عمار خان ناصر کا اعزاز
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۵ فروری ۲۰۱۹ء میرے لیے
ذاتی اور خاندانی طور پر انتہائی خوشی کا دن تھا کہ اس روز میرے بڑے فرزند
حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا مقالہ
مکمل کر کے آخری زبانی امتحان (Viva voce) میں سرخروئی حاصل کی، فالحمد للہ
علیٰ ذٰلک۔عمار خان ناصر نے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کی تعلیم مدرسہ
انوار العلوم اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے حاصل کی اور اپنے دادا
محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے دورۂ حدیث میں بخاری شریف
پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں
ایم اے کیا، اس کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تقریباً دس سال تک
درس نظامی کی تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔
عمار خان ناصر کو
تحقیق و مطالعہ اور علمی جستجو کا ذوق خاندانی طور پر ورثہ میں ملا ہے اور
حدیث و فقہ اس کے مطالعہ و تحقیق کی خصوصی جولانگاہ ہے، جبکہ اصول تفسیر،
اصول حدیث اور اصول فقہ کو اس کی تحقیقی اور تدریسی محنت میں ترجیحی مضامین
کی حیثیت حاصل ہے۔ پی ایچ ڈی کے لیے اس کے مقالہ کا عنوان بھی ’’فقہ
الحدیث میں ائمہ احناف کا اصولی منہج‘‘ تھا جس پر گزشتہ روز زبانی امتحان
کا اہتمام کیا گیا جس میں عمار ناصر نے منتخب اور سینئر اساتذہ کے سامنے
اپنے مقالہ کا خلاصہ پیش کر کے ان کے سوالات کے جوابات دیے اور اس میں
کامیابی حاصل کی۔
میں بھی اس محفل میں موجود تھا اور میں نے
اپنے تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے اس موقع پر کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ خوشی
کی بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں علم و تحقیق اور مطالعہ و جستجو کا جو
ذوق والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا
صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے ذریعے شامل ہوا تھا، اس کا تسلسل تیسری نسل
میں بھی جاری ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ عزیزم عمار خان کے لیے دعا
فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے ان عظیم بزرگوں کی علمی و تحقیقی روایات
کا امین بنائے اور اس خدمت کو جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب
العالمین۔