جون ۲۰۱۹ء

اتمام حجت میں انبیاء کی دعوت کی اہمیتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۱)مولانا سمیع اللہ سعدی 
اسلام میں میانہ روی اور اعتدال کی قدریںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۶)محمد عمار خان ناصر 
مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۲)مراد علوی 
“مولانا وحید الدین خان: افکار ونظریات” پر ایک تبصرہصدیق احمد شاہ 

اتمام حجت میں انبیاء کی دعوت کی اہمیت

محمد عمار خان ناصر

علامہ محمد اقبال نے کہیں کسی سوال کے جواب میں کہا ہے کہ وہ خدا کو اس لیے مانتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ خدا موجود ہے۔ ہمارے محترم دوست طالب محسن صاحب نے کافی سال پہلے اس پر ماہنامہ ’’اشراق” لاہور میں شذرہ لکھا تھا کہ اقبال کا یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ قرآن مجید نے وجود باری اور توحید وغیرہ پر آفاق وانفس کے دلائل سے استدلال کیا ہے۔ بظاہر اقبال کی بات منطقی طور پر بھی الٹ لگتی ہے، کیونکہ محمد رسول اللہ پر ایمان بذات خود، خدا پر ایمان کی فرع ہے اور اس کے بعد ہی اس کا مرحلہ آ سکتا ہے۔  شاید اقبال نے یہ بات کسی عقلی استدلال کے طور پر کہی بھی نہیں ہوگی، اور غالبا اس کی نوعیت ایک ذاتی تاثر کے اظہار کی ہے۔ تاہم ہمارے خیال میں اپنے محل میں اور اپنے درست سیاق میں بطور ایک عقلی استدلال کے بھی، اقبال کی بات کمزور نہیں ہے، بلکہ بہت مضبوط بات ہے۔

خدا کے وجود کو عقلی غور وفکر سے ماننا اور اس غور وفکر کا واجب ہونا ہمارے متکلمین کے ہاں بھی ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ علم کلام میں اس کو ’’وجوب النظر” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ معتزلہ اور ماتریدیہ عموما اس کے قائل ہیں کہ کم سے کم خدا کے وجود تک عقلی استدلال سے پہنچنا ہر فرد بشر پر واجب ہے اور وحی کی راہ نمائی نہ بھی ہو تو محض عقلی صلاحیت کی بنا پر انسان اس کا مکلف ہے اور اس تک نہ پہنچ پانے والا خدا کی نظر میں قصوروار ہے۔ لیکن حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مکتوب میں ماتریدیہ کے اس موقف پر نقد کیا ہے اور اسے عقل انسانی کی صلاحیت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد اور اس کی محدودیتوں اور کمزوریوں سے صرف نظر کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مجدد صاحب اس پر فلاسفہ کے طبقے کو بطور مثال پیش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے ذہین وفطین ہونے اور سنجیدگی سے امور کائنات میں غور وفکر کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے باوجود تاریخ میں کوئی مثال موجود نہیں کہ کوئی فلسفی تنہا عقلی غور وفکر کے نتیجے میں خدا کی ویسی معرفت تک پہنچ سکا ہو جو انبیاء کے دین میں بیان کی جاتی ہے۔

ہماری رائے میں علمائے کلام کے اس مکتب فکر کی رائے زیادہ صائب ہے جو وجود باری اور توحید کے باب میں بھی اتمام حجت کی بنیاد پیغمبر کی دعوت ہی کو قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید نے بھی ’’لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل” اور ’’وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا” کے الفاظ میں انبیاء کی دعوت ہی کو اس حوالے سے فیصلہ کن قرار دیا ہے۔

اس سے اس سوال کا جواب بھی ملتا ہے جو ایمان کے عقلی یا غیر عقلی ہونے کی بحث سے  فوری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ ہمارا فہم یہ ہے کہ خالصتا عقلی سطح پر ایمان یا الحاد مساوی امکانات کی حیثیت رکھتے ہیں اور شعور انسانی ایک خاص طرح کی کیفیت میں ایمان کی طرف بھی مائل ہو سکتا ہے اور الحاد کی طرف بھی۔ دونوں کے حق میں عقلی دلائل کا مرحلہ اس بنیادی رجحان کے بعد آتا ہے اور ہر رجحان اپنی تائید کے لیے ایسے عقلی دلائل پیش کر سکتا ہے جو خود اسے مطمئن کرتے اور بنیادی رجحان کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر یہ لازم نہیں آتا کہ الحاد کے رجحان کو اخلاقی اعتراض سے ماورا سمجھا جائے، یعنی  اسے اخلاقی لحاظ سے کوئی قابل اعتراض  رویہ نہ تصور کیا جائے؟ ہماری رائے میں اگر انبیاء کی دعوت سے صرف نظر کر لیا جائے تو انفس وآفاق کے دلائل کی حد تک یہ بات درست ہے۔ چونکہ یہ دلائل فی نفسہ فیصلہ کن نہیں ہو سکتے، اس لیے صرف ان کی بنیاد پر کوئی اخلاقی ججمنٹ بھی صادر نہیں کی جا سکتی۔

تاہم اس بحث میں انبیاء کے شامل ہونے کے بعد صورت حال یہ نہیں رہتی۔  یہ نکتہ مستقل تفصیل کا متقاضی ہے۔ مختصرا یہ کہ  انبیاء خدا کے وجود اور توحید کو محض ایک عقلی امکانی مفروضے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک دعوے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ایسے شواہد ودلائل کے ساتھ انسانی شعور کو متوجہ کرتے ہیں کہ انسان کے لیے غیر جانبداری کا امکان باقی نہیں رہتا۔ اسے یا تو ایمان کی طرف آنا پڑتا ہے اور یا نبی کی دعوت کے مدمقابل ایک پوزیشن لینی پڑتی ہے، یعنی نبی کی تکذیب کرنی پڑتی ہے اور یا کم سے کم اس سے اعراض اور بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور یوں سادہ عقلی  قیاس آرائی سے آگے بڑھ کر وہ بنیاد فراہم ہوتی ہے جس پر انسان کو اس کے فیصلے کے لیے اخلاقی طور پر ماخوذ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ پس انسان جو، نبی کی دعوت کی غیر موجودگی کے مفروضہ ماحول میں، کسی اخلاقی ذمہ داری کے بغیر کوئی ایک یا دوسرا رجحان اختیار کرنے کے لیے آزاد تھا، نبی کی دعوت ماحول میں موجود ہونے کی صورت میں اپنے فیصلے کے لیے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرتا ہے اور اعراض یا تکذیب، ہر دو صورتوں میں خدا کے سامنے اخلاقی بنیاد پر جواب دہ بن جاتا ہے۔ کسی کو شبہات لاحق ہونے یا بات کا مکمل ابلاغ نہ ہونے کی وجہ سے معذور سمجھے جانے کا امکان اپنی جگہ درست ہے جس کا فیصلہ خدا ہی کر سکتا ہے، لیکن ایک عمومی اصول کے طورپر صورت حال وہی بنتی ہے جس کی مختصرا وضاحت کی گئی۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۶۲) یعظکم بہ کا اسلوب

یہ جملہ ملتے جلتے اسلوب اور سیاق کلام میں دو مرتبہ آیا ہے، دونوں مرتبہ اللہ کی نصیحت ہے ، اور نصیحت کے اختتام پر اس جملے کا تذکرہ ہے، ایک جگہ صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے، اور دوسری جگہ ان اللہ نعما یعظکم بہ ہے۔
درج ذیل آیت میں صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے:
وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَۃ یَعِظُکُم بِہِ۔ (البقرة: 231)
اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے مترجمین نے یَعِظُکُم بِہِ کو صفت یا علت مان کر ترجمہ کیا ہے، اور بہ میں ضمیر کا مرجع وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَۃ یعنی کتاب اور حکمت کو بنایا ہے۔
“اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی”۔ (محمد جوناگڑھی)
“اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو”۔ (فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا ترجموں میں یَعِظُکُم بِہِ کو صفت بنایا گیا ہے۔
“اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو ”۔(احمد رضا خان)
“اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب وحکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے اتاری” ۔(امین احسن اصلاحی، یہاں علیکم کا ترجمہ نہیں ہوا ہے)
مذکورہ بالا ترجموں میں یَعِظُکُم بِہِ کو علت بنایا گیا ہے۔
“بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو”۔ (سید مودودی)
اس ترجمے میں بھی زبان کے اسلوب کی رو سے تکلف پایا جاتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک یہ ایک مستقل جملہ ہے، اور بہ میں ضمیر کا مرجع گذشتہ نصیحت ہے یعنی وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَۃ۔ گویا پہلے ایک نصیحت کی اور پھر کہا: وہ تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ترجمہ ہوگا:

“ اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب وحکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہارے لیے اتاری، وہ تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہے”۔

 اس اسلوب کی دوسری آیت سے بھی اس ترجمے کی تائید ہوتی ہے:

انَّ اللّہَ یَامُرُکُم اَن تُودُّوا الامَانَاتِ الَی اہلِہَا واذَا حَکَمتُم بَینَ النَّاسِ ان تَحکُمُوا بِالعَدلِ انَّ اللّہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہ۔ (النساء: 58)

“مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے ”۔ (سید مودودی)

اول الذکر آیت کی طرح یہاں بھی پہلے نصیحتیں کیں، اور اس کے بعد کہا اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے۔

 ذیل کی آیت میں ”بہ“ کے بغیر یعظکم بالکل اسی اسلوب میں ہے، یعنی نصیحتوں کا بیان ہے، اس کے بعد یعظکم وہ تمہیں اس کی نصیحتیں کرتا ہے۔

انَّ اللّہَ یَامُرُ بِالعَدلِ وَالاحسَانِ وَایتَاء ذِی القُربَی وَیَنہَی عَنِ الفَحشَاء وَالمُنکَرِ وَالبَغیِ یَعِظُکُم لَعَلَّکُم تَذَکَّرُون (سورة النحل:90 )

لفظ وعظ کے اس استعمال کی قرآن مجید میں اور کئی نظیریں ہیں۔ سورہ مجادلہ کے آغاز میں ظہار کے احکام سنانے کے بعد فرمایا ذلکم توعظون بہ “ تمہیں اس کی نصیحت کی جاتی ہے۔ ”  قرآن مجید میں دو مقامات پر ذلک یوعظ بہ “اس کی نصیحت کی جاتی ہے” اسی انداز سے کچھ احکام دینے کے بعد آیا ہے ۔

(۱۶۳) ولا تعثوا فی الارض مفسدین

تعثوا باب ضرب  سے ہے، اس کا مطلب ہے بہت زیادہ فساد برپا کرنا، امام زمخشری لکھتے ہیں:

والعثی: اشدّ الفساد، فقیل لہم: لا تتمادوا فی الفساد فی حال فسادکم لانہم کانوا متمادین فیہ.

تراجم پر نظر ڈالیں تو بہت سے مترجمین “پھرو” کا اضافہ کرتے ہیں، یہ اضافہ غیر ضروری ہے، اسی طرح صاحب تدبر نے “بڑھو”، “ابھرو” اور “پھیلو” جیسے اضافے کیے ہیں، وہ سب بھی لفظ کے مدلول پر غیر ضروری اضافہ ہیں۔

آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ کرتے ہوئے ایسی تعبیر تلاش کرنا چاہیے جس سے زیادہ فساد کرنے کا مفہوم پیدا ہوجائے جیسے: “اور زمین میں فساد نہ مچاو¶” اس جملے میں فساد نہ کرو سے زیادہ زور ہے۔

اس گفتگو کی روشنی میں درج ذیل ترجمے دیکھیں:

(۱) وَلاَ تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِینَ۔ (البقرة: 60)

“اور نہ بڑھو زمین میں فساد مچانے والے بن کر”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”۔ (سید مودودی)

“اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو”۔ (احمد رضا خان)

“اور زمین میں فساد نہ مچاؤ ”۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَلاَ تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین۔ (الاعراف: 74)

“اور ملک میں اودھم مچاتے نہ پھرو”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد برپا نہ کرو”۔ (سید مودودی)

“اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو”۔ (احمد رضا خان)

“اور زمین میں فساد نہ مچاؤ”۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَلاَ تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین ۔ (ہود: 85)

“اور زمین میں فساد پھیلانے والے بن کر نہ ابھرو”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”۔ (سید مودودی)

“اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاو”۔ (محمد جوناگڑھی)

(۴) وَلَا تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین۔ (الشعراء: 183)

“اور زمین میں مفسد بن کر نہ پھیلو”۔ (امین احسن اصلاحی)

“زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”۔(سید مودودی)

“اور زمین میں فساد نہ مچاؤ ”۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَلَا تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین۔ (العنکبوت: 36)

“اور زمین میں فساد مچانے والے بن کر نہ بڑھو”۔(امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور ملک میں فساد نہ مچاؤ”۔(فتح محمد جالندھری)

(۱۶۴) لمعزولون کا ترجمہ

انَّہُم عَنِ السَّمعِ لَمَعزُولُونَ۔ (الشعراء: 212)

“وہ سن گن لینے سے معزول کیے جاچکے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ تو اس (وحی) کے سننے سے بھی معزول کیے جا چکے ہیں”۔ (محمد حسین نجفی)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویا وہ پہلے سنتے تھے، اور اب وہ معزول کردیے گئے ہیں، جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے وہ سن گن لینے سے معزول ہی ہیں۔ درست ترجمہ ہوگا: “وہ سن گن لینے سے معزول ہیں۔” ( امانت اللہ اصلاحی)

(جاری)

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل تشیع (خاص طور پر اثنا عشریہ )اسلامی تاریخ کا واحد گروہ ہے ،جنہوں نے  اہل سنت کے مقابلے میں  جداگانہ، ممتاز اور  لاکھوں روایات  پر مشتمل  اپنا علم حدیث ترتیب دیا ہے ،جو  بعض اعتبارات سے اہل سنت کے حدیثی ذخیرے سے  بالکل الگ تھلگ  ہے ، اہل تشیع نے احادیث ،موضوعات ، کتب کی ابواب بندی ،مضامین ،مفاہیم، اصطلاحات ،رواۃ  ،اصول  و قواعد    سب اپنے  ترتیب دیے۔اس مقالے میں اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک تقابلی جائزہ  پیش کیا جائے گا ، اس جائزے کا مقصد  فریقین کے حدیثی ذخیرے کے فروق و  مشترکات  کا تعارف ہے،   یہ  ایک علمی و تحقیقی  سرگرمی  ہے ، اس لئے اسے مناظرانہ پس منظر کی بجائے خالص تحقیقی  نظر سے دیکھا جائے۔   

بحث اول :اصطلاحات و مفاہیم

اہل سنت اور اہل تشیع کے علم حدیث کا بنیادی فرق اصطلاحات و مفاہیم کا الگ الگ تصور ہے ، ان  علیحدہ مفاہیم کی وجہ سے فریقین کا علم ِحدیث ایک دوسرے سے کلی طور پر  مختلف ہوجاتا ہے ، ذیل میں چند اہم  اساسی امور کے متعلق   فریقین کا نظریہ بیان کیا جاتا ہے :

1۔حدیث و سنت کا مفہوم اور مصداق

اہل سنت کے ہاں حدیث و سنت  کا مصداق1 آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا قول ،عمل اور تقریر ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں  حدیث و سنت کا اطلاق آپ علیہ الصلاۃ و السلام کے اقوال ،افعال و تقریرات سمیت بارہ ائمہ معصومین کے اقوال ،افعال اور تقریرات پر بھی ہوتا ہے  اور بارہ ائمہ کے اقوال و فرامین بھی تشریع کا مستقل ماخذ اور حدیث و سنت  کا مصداق ہیں ،معروف شیعہ عالم حید رحب اللہ اپنی کتاب "نظریۃ السنۃ فی  الفکر الامامی الشیعی "میں لکھتے ہیں :

"و اما فی الاصطلاح الخاص بعلوم الدرایۃ و الحدیث  و المتعارف فی العلوم الدینیہ عادۃ، فتعنی بالسنۃ قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم  او المعصوم علیہ السلام او فعلہ او تقریرہ" 2

یعنی علم حدیث و علم درایہ اور علوم دینیہ میں لفظ سنت سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا معصوم (علیہ السلام ) کا قول، فعل اور تقریر ہے ۔

معروف  شیعہ عالم شیخ رضا المظفر لکھتے ہیں :

و اما فقہاء الامامیہ  بالخصوص فلما  ثبت لدیہم ان المعصوم من ال البیت یجری قولہ مجری قول النبی من کونہ حجۃ علی العباد واجب الاتباع ،فقد توسعوا فی اصطلاح السنہ الی ما یشمل قول کل واحد  من المعصومین او فعلہ او تقریرہ 3

یعنی  شیعہ کے ہاں چونکہ ائمہ معصومین کے اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی طرح بندوں پر حجت اور واجب الاتباع ہیں ،اس لئے فقہائے امامیہ  نے سنت کی اصطلاح میں توسیع کرتے ہوئے ائمہ معصومین کے اقوال،افعال اور تقریرات کو بھی سنت شمار کیا ہے ۔

  سنت و حدیث کی اصطلاح کا یہ فرق بنیادی ترین  اختلافی نکتہ ہے ،اسی نکتے پر دونوں  حدیثی ذخیرے ممتاز اور ایک دوسرے سے سے بالکلیہ جدا ہوجاتے ہیں ، اہل سنت کے ہاں جب حدیث کا محور آپ علیہ السلام کی ذات ِگرامی ہے ،تو  تمام حدیثی سرگرمیاں آپ علیہ السلام کے گرد گھومتی ہیں ،محدثین کی تالیفات کا بنیادی مقصد آپ علیہ السلام کے فرامین کی جمع و تدوین ہے،فقہاء و اصولیین کے حدیثی مستدلات  کا منبع آپ علیہ السلام کی ذات اقدس  ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں حدیثی سرگرمی میں بارہ ائمہ معصومین کے  اقوال بھی شامل ہیں  اور ائمہ معصومین کے اقوال  بوجہ ماخذ تشریع ہونے کے حفاظت و تدوین میں اسی  اہتمام کی متقاضی  ہیں  ،جو اہتمام   اقوال ِرسول علیہ السلام  کی حفاظت میں کیا جاتا ہے ۔ اہتمام اور توجہ کی اس دوئی کی وجہ سے سنت کی جمع وتدوین  اور اس کی حفاظت  و نقل  میں بہت سے مسائل پیدا ہوجاتے  ہیں ،جس کا بیان آگے آئے گا ۔

2۔عدالت صحابہ کا مسئلہ اور اس کے نتائج

مفاہیم و تصورات میں دوسرا بنیادی مسئلہ صحابہ کرام کی عدالت اور ان سے مروی روایات کا حکم ہے ،اہل سنت کے ہاں تمام وہ حضرات ،جن کی صحابیت ثابت ہے ،ان کی روایت قابل ِقبول ہے ،"الصحابۃ کلہم عدول" والا اصول  اہل سنت  کا متفقہ موقف ہے ،لہذا  اہل سنت کے نزدیک صحابہ کے بعد رواۃ کی جانچ پڑتال ہوگی ،خود صحابہ میں اگرچہ درجات  میں تفاضل ہے ،لیکن روایت کے اعتبار سے جملہ صحابہ عادل کے مقام پر فائز ہیں ،جبکہ اس کے بر خلاف اہل تشیع صحابہ کے ساتھ بھی بقیہ رواۃ جیسا معاملہ کرتے ہیں  اور ان کے ہاں صحابہ میں بھی عادل ، فاسق ، منافق ،بدعتی اور دیگر اقسام موجود ہیں ،اس لئے  اہل تشیع صرف عادل صحابہ کی روایات قبول کرتے ہیں  اور عادل صحابہ سے مراد وہ صحابہ ہیں ،جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے رہے ،چنانچہ معروف شیعہ عالم  احمد حسین یعقوب "نظریۃ عدالۃ الصحابہ " میں لکھتے ہیں :

"کل الذین وقفوا مع  علی و والوہ ھم صحابۃ عدول" 4

 اب سوال یہ ہے وہ کتنے صحابہ ہیں ،جن کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ   موالات ثابت ہیں ،تو معروف شیعہ محدث  شیخ جعفر سبحانی لکھتے ہیں :

و قد قمنا بتالیف کتاب حول صحابۃ النبی الذین شایعوا علیا فی حیاۃ النبی و بعد رحلتہ الی ان لفظوا اخر نفس من حیاتہم فبلغ عددھم 250 شخصا" 5

یعنی ہم نے ان صحابہ کے حالات پر ایک کتاب لکھی ہے ،جو زمانہ نبوت اور اس کے بعد آخر وقت تک حضرت علی کے ساتھی رہے ،تو ان کی تعداد 250 تک جا پہنچی ۔

ویسے تو  صحابہ کرام کی تعداد  ایک لاکھ سے زائد کتب  تاریخ میں منقول ہے ،لیکن جن صحابہ کے احوال (خواہ قلیل ہو یا کثیر ) محفوظ ہیں،ان کی تعداد بارہ ہزار سے  اوپر ہے ،حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب "الاصابہ فی تمییز الصحابہ "جو احوال صحابہ میں مفصل کتاب شمار ہوتی ہے، اس میں 12446 تراجم مذکور ہیں6،   اب سوال یہ ہے کہ  ان میں سے کتنے صحابہ کرام سے روایات منقول ہیں ،تو اس بارے میں مختلف اقوال ہیں ،امام ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں امام  حاکم ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں  کہ راویان ِحدیث صحابہ کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے۔7 لیکن اس پر خود اشکال وارد کر کے کہتے ہیں کہ مسند احمد ،جو موجود دواوین میں حدیث کی سب سے بڑی مسند ہے ،اس میں  987 صحابہ کی مروایات  ہیں ،تو بقیہ کتب،جو مسند احمد سے کم حجم کی حامل ہیں ،ان میں اس سے بھی کم صحابہ کی مرویات ہونگی  ؟اسی طرح امام ابن حزم    نے راویان صحابہ کے اسماء اور ان کی مرویات پر ایک  کتاب "اسماء الصحابہ و ما لکل  واحد منھم من العدد "لکھی ہے جس میں 999 نام جمع کئے ہیں ،لیکن اس کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب مسند بقی بن مخلد    میں مذکور رواۃ صحابہ کے نام پر مشتمل ہے ۔

الغرض رواۃ صحابہ کی تعداد  قطعی طور پر تو کسی نے استیعاب کے ساتھ بیان نہیں کی ،لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق جمیع کتب حدیث کے رواۃ صحابہ  کی تعداد دو ہزار کے قریب قریب بنتی ہے ،اگر اس میں  مزید کمی کریں ،تو پندرہ سو  کے لگ بھگ رواۃ صحابہ بنتے ہیں ،ان میں سے اہل تشیع کے ہاں صرف ڈھائی سو کی روایات قابل قبول ہیں، یوں اہل تشیع  رواۃ صحابہ میں سے صرف  پندرہ فیصد صحابہ کی روایات لیتے ہیں ،اور پچھتر فیصد  رواۃ صحابہ کو غیر عادل قرار دے کر ان کی روایات رد کرتے ہیں ،جن میں مکثرین صحابہ حضرت ابو ہریرہ  اور حضرت عائشہ جیسی شخصیات بھی شامل ہیں ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدالت ِصحابہ کے نظریے کو نہ ماننے کی صورت میں کتنی احادیث  کو رد کرنا پڑیں گی ،یہی وجہ  ہے کہ شیعہ کتب احادیث میں مرفوع روایات انتہائی قلیل ہیں ہم نے کتب ِاربعہ کی پہلی جلدوں کا با الاستیعاب  صفحہ بہ صفحہ جائزہ لیا   اور مرفوع روایات کو الگ کیا  ،تو تعداد کچھ یوں بنی   :

  1. الکافی(دار الحدیث للنشر و الطباعۃ ،قم ) کی پہلی جلد میں758 روایات ہیں ،جن میں مرفوع ،خواہ قولی ہو یا فعلی ،یا دور ِنبوت کا کوئی بھی واقعہ ،اس کی تعداد 45 ہیں، احتیاطا 50  فرض کر لیتے ہیں ، جو اس جلد کی  کل روایات کا صرف 7 فیصد ہے ۔
  2. من لا یحضرہ الفقیہ (موسسہ الاعلمی للمطبوعات ) کی پہلی جلد میں 1573  روایات ہیں ،جن میں مرفوع (قولی و فعلی ) 141 روایات ہیں ،اسے ہم احتیاطا 150 فرض کر لیتے ہیں ،یوں یہ پہلی جلد کی روایات کا  تقریبا دس فیصد ہے ۔
  3. تہذیب الااحکام (دار الکتب الاسلامیہ ،تہران ) کی پہلی جلد میں 1541 روایات ہیں ،جن میں مرفوع (قولی و فعلی )95 روایات ہیں ،ہم احتیاطا 100 شمار کر لیتے ہیں ،جو پہلی جلد کی روایات کا  تقریبا سات فیصد ہے۔
  4. الاستبصار فیما اختلف من الاخبار (دار الاضواء ،بیروت ) کی پہلی جلد میں  کل 1885 روایات ہیں ،جن میں مرفوع روایات (قولی و فعلی )55 ہیں ،احتیاطا 60 شمار کر لیتے ہیں ،جو اس جلد کی کل روایات کا  صرف 3 فیصد ہے ۔

یوں کتب اربعہ کی پہلی چار جلدوں کی کل روایات 5757 ہیں ،جن میں مرفوع روایات (قولی ،فعلی  ) صرف 360 ہیں ،جو  5757 روایات کا تقریبا ساڑھے چھ فیصد بنتا ہے ،ان میں اگر مکررات کو نکال لیا جائے تو تعداد اس سے کہیں کم بنے گی ۔8

مرفوع روایات کی قلت کا اشکال عمومی طور پر اہل تشیع محققین یہ جواب دیتے ہیں کہ  ائمہ معصومین کے اقوال بھی دراصل آپ علیہ السلام کے فرمودات ہیں کیونکہ  کتب شیعہ میں مذکورہ سب روایات ہی مرفوع کے حکم میں ہیں،لیکن   یہ جواب  اصل سوال کو حل نہیں کرتا ،کیونکہ ائمہ معصومین کے فرمودات اس لئے مرفوع کے حکم میں ہیں کہ وہ خود اہل تشیع کے ہاں  عصمت کے مقام پر فائز  ہیں، منصوص من اللہ ہیں  اور ان کے اقوال خود حجت ہیں ، تو  بارہ ائمہ کے اقوال مرفوع کے حکم میں ہونے کے باوجود اقوال ِائمہ ہیں ،نا کہ اقوال ِرسول ،سوال یہ  تھا کہ آپ علیہ السلام کے ارشادات ،فرامین اور آپ کی عملی زندگی سے متعلق کتب شیعہ میں مواد اتنا کم کیوں ہے ؟ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں  کہ ائمہ  کے اقوال بے شک اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق حجت  اور تشریع کا ماخذ ہیں ،لیکن  براہ راست آپ علیہ السلام کے  اقوال و افعال کا حجم کتب شیعہ میں  اقوال ِائمہ کی بنسبت آٹے میں نمک کے برابر کیوں ہے ؟ائمہ کے اقوال سے تو تشریع کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے ،لیکن ائمہ کے اقوال و فرامین  سے آپ علیہ السلام  کی حیات مبارکہ کی قولی و عملی زندگی کی تصویر سامنے نہیں آتی ،زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ائمہ کے اقوال حکم و اطاعت میں اقوال رسول کی طرح ہیں ۔    خلاصہ یہ کہ  یہ بات بدیہی ہے  کہ قول ِامام حکما قول ِرسول ہے نا کہ حقیقتا قول رسول ،سوال  دوسرے نکتے سے متعلق ہے نا کہ پہلے نکتے سے ۔

الغرض اہل سنت و اہل تشیع  کے علم حدیث کے مفاہیم و تصورات میں دوسرا بڑا فرق عدالت ِصحابہ کا مسئلہ ہے ،اوپر ذکرکردہ تفصیل سے اس مسئلے کے نتائج بخوبی واضح ہوتے ہیں ۔

 3۔حدیثی ذخیرہ قبل از تدوین

مفاہیم و تصورات میں تیسرا بڑا مسئلہ زمانہ قبل از تدوین میں احادیث  و روایات کی صورتحال کا تعین ہے ، پہلی صدی ہجری کے اختتام کے ساتھ ہی اہل سنت کے مجموعات ِحدیث منظر عام پر آنا شروع ہوئے ،امام مالک کی موطا، امام ابو یوسف و امام محمد کی کتاب الاثار  اور دیگر مجموعات یکے بعد دیگرے  مرتب ہونا شروع ہوئے ،ان مجموعات سے پہلے صحابہ و تابعین   اور تبع تابعین نے اپنی ذاتی نسخے ترتیب دیئے تھے اور اپنے شیوخ سے سنی حدیثیں ان میں جمع کی تھیں ،ڈاکٹر مصطفی اعظمی رحمہ اللہ نے اپنی قابل قدر کتاب "دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ " میں  صحابہ  کے 52 صحائف و مجموعات ،کبار تابعین کے  53 مجموعات ِحدیث ،صغار تابعین کے 99 مجموعات  اور تبع تابعین کے 252 مجموعات حدیث  کی فہرست مرتب کی ہے ،یوں حدیث کی اولین تصنیفات سے پہلے 456 مجموعات حدیث  اہل علم کے حلقوں میں رائج رہے ،اس کے علاوہ  حرمین شریفین ، عراق ،شام ،مصر  اور یمن میں حدیث کے معروف شیوخ کی درسگاہیں قائم تھیں ،جن میں ہزاروں طالبان ِعلم  مختلف شیوخ سے روایات لیتے رہے ،محدث خطیب بغدادی نے اپنی کتاب "الرحلہ فی طلب الحدیث " میں ان اسفار و درسگاہوں کی تفصیل دی ہے، ان تفاصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت کا ذخیرہ حدیث تدوین سے پہلے تحریری شکل میں بھی موجود تھا اور   اکابر شیوخ   کی مجالس ِحدیث کی  صورت میں  تعلیم و تعلم کی شکل میں بھی موجود تھا۔

اہل تشیع کا زمانہ تدوین تیسری صدی کا آخر اور چوتھی صدی ہجری کا شروع ہے ،کیونکہ شیعہ کتب ِحدیث کے اولین مصادر  جیسے بصائر الدرجات  (ابو الحسن الصفار قمی متوفی 290ھ) اور الکافی ( محمد بن یعقوب الکلینی متوفی 329 ھ) اسی دور کی تصانیف میں سے ہیں ،اب سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے کی  تین صدیوں میں اہل تشیع کے  حدیثی ذخیرے کی تحریری و تدریسی شکل کیا تھی؟جہاں تک تعلیم و تعلم کا   تعلق ہے ،تو اہل سنت کی طرح اہل تشیع  میں شیوخ الحدیث کی   وسیع مجا لس درس اور درسگاہوں کی کوئی  روایت نہیں رہی ہے ،کیونکہ  یہ تین صدیاں اہل تشیع کے نزدیک "دور ِ تقیہ " میں آتی ہیں ،جن میں اہل تشیع علانیۃ اپنی احادیث کو نشر نہ کر سکتے تھے ،شیعہ رجال حدیث  پر سب سے ضخیم کتاب لکھنے والے معروف  عراقی شیعہ محدث امام خوئی لکھتے ہیں :

إن أصحاب الائمۃ عليھم السلام وإن بذلوا غايۃ جھدھم واھتمامھم في أمر الحديث وحفظہ من الضياع والاندراس حسبما أمرھم بہ الائمۃ عليھم السلام ، إلا أنھم عاشوا في دور التقيۃ ، ولم يتمكنوا من نشر الاحاديث علنا

کہ ائمہ کے تلامذہ نے اگرچہ  حدیث کی حفاظت اور اس کو ضیاع سے بچانے کے لئے ائمہ کے حکم کے مطابق اپنی پوری کوششیں صرف کیں ،لیکن وہ تقیہ کے زمانے میں تھے ،جس کی وجہ سے احادیث کو علانیہ نشر کرنے پر قدرت نہ رکھتے تھے ۔

امام خوئی کی اس بات پر الکافی و دیگر کتب کی روایات بھی دلالت کرتی ہیں ،چنانچہ الکافی میں امام جواد کی روایت ہے کہ ان سے  ان کے ایک شاگرد   محمد بن حسن نے پوچھا:

قلت لأبي جعفر الثاني : جُعلت فداك؛ إن مشايخنا رووا عن أبي جعفر وأبي عبد اللہ عليھما السلام وكانت التقيۃ شديدۃ، فكتموا كتبھم ولم يرووا عنھم، فلما ماتوا صارت الكتب إلينا. فقال : حدّثوا بھا فإنھا حق9

کہ میں  نے امام جواد سے پو چھا کہ ہمارے مشائخ نے امام باقر و امام جعفر صادق سے روایات  لیں ،جبکہ  سخت تقیہ کا زمانہ تھا ، تو انہوں نے اپنی کتب چھپائیں اور انہیں سر عام روایت نہیں کیا ،جب وہ مشائخ مرگئے ،اب وہ کتب ہمارے پاس ہیں ،تو امام نے کہا کہ ان کتب کی روایات بیان کرو ،کیونکہ وہ  سچی ہیں ۔

لہذا دور ِتدوین سے قبل اہل تشیع کا حدیثی ذخیرے اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کی طرح کھلم کھلا تدریس،تعلیم ،مجالس حدیث اور درسگاہوں کی بھٹی سے نہیں گزرا۔

یہی وجہ ہے کہ شیعہ کی اولین کتاب الکافی ،جو اہل تشیع میں  اسی مقام کی حامل ہے ،جو  صحیح بخاری کو اہلسنت میں حاصل ہے ،الکافی کے مصنف محمد بن  یعقوب الکلینی کی اولین زندگی کی تاریخ مجہول ہے ،چنانچہ  معروف شیعہ محقق شیخ عبد الرسول عبد الحسن الغفار اپنی ضخیم کتاب "الکلینی و الکافی  "میں لکھتے ہیں :

"اطبقت المصادر القدیمہ و الحدیثہ  علی عدم ذکر سنۃ و لادتہ و مکان تولدہ و کم ھو عمرہ ،حیث ان حیاتہ و نشاتہ الاولی مجہولۃ10

 یعنی قدیم و جدید مصادر  متفقہ طور پر کلینی کا سن ولادت ،مکان ولادت اور عمر کے ذکر سے خالی ہیں ،کیونکہ آپ کی زندگی  کا اولین دور اور نشو ونما    نامعلوم ہے ۔

سن ولادت کا معلوم نہ ہونا  قابل تعجب نہیں ،کہ کئی کبار علماء کے سنین ولادت بوجوہ  نا معلوم ہوتے ہیں ، لیکن  جائے ولادت  اور زندگی کی اولین نشو و نما کا نامعلوم ہونا حد درجہ  باعث استعجاب ہے ،کہ  اپنے دور کے سب سے بڑے محدث ،جنہوں نے سولہ ہزار شیعی روایات کو مدون کیا ،ان کی زندگی کی اولین تاریخ ہی نامعلوم ہے ۔

 یہ معاملہ صرف شیخ کلینی تک محدود نہیں ہے ،بلکہ ان کے والد (جو اہل تشیع کے نزدیک اکابر علمائے شیعہ میں سے تھے ) ان کے احوال بھی غیر معلوم ہیں ،چنانچہ   مصنف آگے جاکر لکھتے ہیں :

"و الشیخ الکلینی ہو احد  اولئک العلماء التی ضاعت اخبارہ، و لم تصل الینا عن نشاتہ و حیاتہ العلمیہ فی مراحلہا الاولی الا النزر القلیل، بل و حتی والدہ یعقوب بن  اسحاق الکلینی  الذی حالیا لہ مقبرۃ و مزار عام فھو الاخر لم یحدثنا التاریخ عن سیرتہ بالتفصیل 11

یعنی صرف شیخ کلینی کے ہی  اولین احوال نامعلوم  نہیں ہیں ،بلکہ ان کے والد  یعقوب بن اسحاق ،جن کا مقبرہ آج کل مزار عام ہے ،ان کی سیرت کے بارے میں تاریخ ہمیں زیادہ تفصیلات نہیں بتاتی ۔

یہاں بجا طور پر سوال ہوتا ہے کہ جن کے والد و خاندان کے احوال نامعلوم ہیں ،اور خود ان کی ابتدائی زندگی پردہ خفا میں رہی ، ان کی لکھی ہوئی کتاب کا  علمی و تحقیقی اعتبار سے کتنا وزن ہوگا ؟یہ قضیہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے، جبکہ اس کے برخلاف  امام بخاری ،امام بخاری کے والد اسماعیل  کے نہ صرف اپنے احوال روز ِروشن کی  طرح معلوم ہیں ،بلکہ ان کے آباء و اجداد   میں سے اولین اسلام لانے والے   کے احوال بھی معلوم ہیں ۔

امام کلینی کی اولین زندگی  ہی مجہول نہیں ،بلکہ ان کے اسفار علمیہ کابھی کوئی تذکرہ کتب تاریخ میں نہیں ملتا، چنانچہ      شیخ عبد الحسن عبد الغفار  شیخ کلینی کے اسفار کے بارے میں علمائے شیعہ کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

"اما متی جاء الی بغداد و متی رحل الی غیرہا و الی ای مدینۃ سافر ،کل ذلک یبقی فی طی الغموض 12

یعنی کلینی کب بغداد آئے ،کب  اور کس شہر کی طرف اسفار کئے ،یہ سب امور پردہ خفا میں ہیں ۔

اس موقع پر ایک وضاحت کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اہل تشیع کے معاصر محققین  الکلینی  کو اپنے زمانے کے ایک معروف شیخ ثابت کرنے کے لئے  اہل سنت کے کتب تراجم میں سے کلینی کے احوال نقل کر کے لکھتے ہیں کہ اگر شیخ کلینی  اپنے زمانے کے ابتداء ہی سے ایک معروف  شخصیت نہ ہوتی تو مخالف فرقہ کے اہل علم میں ان کی شہرت کیسے پہنچتی ؟لیکن اس کا جواب  یہ ہے کہ شیخ کلینی کا تذکرہ  ان کے ہم عصر اہل سنت علماء کی کتب میں نہیں  ملتا ،چنانچہ شیخ عبد الحسن الغفار لکھتے ہیں :

و بعض من عاصر الکلینی فی بغداد او فی غیرہا قد اھملوا ترجمتہ کالخطیب البغدادی، و السمعانی و یاقوت و ابن الجوزی و امثالہم 13

کہ کلینی کے بعض معاصرین جیسے خطیب بغدادی ،علامہ سمعانی ،یاقوت حموی اور ابن جوزی جیسے حضرات نے کلینی کا ترجمہ تحریر نہیں کیا ۔

اس لئے محقق مذکور کی رائے یہ ہے کہ کلینی اہل سنت کے علماء میں اسی وقت معروف ہوئے ،جب وہ اہل تشیع میں مشہور ہوئے ،لکھتے ہیں :

ان الکلینی ما اشتہر عند المذاہب الاسلامیہ الاخری الا بعد ما  ا شتہر عند الطائفۃ المحقہ 14

یہی وجہ ہے شیخ کلینی کا  تذکرہ ہمیں  چھٹی صدی ہجری کے ابن عساکر ،ساتویں صدی ہجری کے ابن اثیر اور آٹھویں صدی ہجری کے علامہ ذہبی کے ہاں ذرا تفصیل سے ملتا ہے۔

 احوال کے خفا کا معاملہ صرف شیخ کلینی کے ساتھ خاص  نہیں ہے ،بلکہ اولین دور کے شیعہ محدثین میں تقریبا سب کا یہی معاملہ ہے ،کہ ان کی علمی زندگی کی زیادہ تفاصیل نہیں ملتیں ،چنانچہ  مرکز بحوث قم سے الکافی کا محقق شدہ نسخہ ،جو محققین کی ایک جماعت کی تحقیق کے ساتھ چھپا ہے ،اس کے ضخیم مقدمے میں کتاب کے محققین لکھتے ہیں :

"ھنا الکثیر من الا مور الغامضہ فی الحیاۃ الشخصیہ لعباقرہ الشیعہ ،لم تزل طرق البحث موصدۃ امام اکتشافہا، لعدم وجود ما یدل علی تفاصیل تلک الحیاۃ خصوصا بعد حرق مکتبات الشیعہ  فی القرن الخامس الہجری 15

یعنی شیعہ کے اکابر ین کی زندگیاں بوجوہ پردہ خفا میں ہیں ،اس راز کو کھولنے میں ابھی تک بحث و تحقیق کے دروازے بند ہیں ،کیونکہ ان زندگیوں پر دلالت کرنے والا مواد موجود نہیں ہے ،خصوصا پانچویں صدی میں شیعہ مکتبات کو جلانے کے بعد یہ مواد ختم ہوگیا ۔

وجہ جو بھی ہو ،کم از  کم اتنی بات ثابت ہے کہ پانچویں صدی سے پہلے کے  اکابر محدثین کے احوال پردہ خفا میں ہیں ،جن میں سر فہرست ا ولین  اور سب سے معتمد مصد ر کے مصنف الکلینی کے احوال  ہیں ۔

اس ساری تفصیل سے  معلوم ہوا  کہ اہل تشیع کے ہاں  حدیث کی تعلیم و تعلم ،حلقات  درس ِحدیث اور مجالس   حدیث کی اس روایت کا نام و نشاں نہیں ملتا ،جو اہل سنت کے قبل از مانہ تدوین  کا خا صہ رہا ہے ،جس میں محدثین کے اسفار اور ان کی علمی درسگاہوں  کا بالتفصیل   تذکرہ موجود ہے ۔اسی وجہ سے اہل تشیع کے اکابر محدثین کی علمی نشو نما اور اسفار کے احوال  نامعلوم ہیں کما مر ۔


حواشی


(۱)  یہاں سنت کا لفظ  مستقل تشریعی ماخذ کے پس منظر میں بولا جارہا ہے ، ورنہ توسعا اہل سنت کے ہاں حدیث و اثر یا سنت کا اطلاق خلفائے راشدین کے اقوال پر بھی ہوجاتا ہے ۔لیکن یہ اطلاق محض مجازی اور قول الرسول کے تابع ہے ۔تشریع کا مستقل  اور واجب الاتباع ماخذ سنت بمعنی قول ،فعل او تقریر الرسول ہی ہے ،فافہم

(۲)  نظریۃ  السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی ،ص 24

(۳)  اصول الفقہ للمظفر ،55/2

(۴)  نظریۃ عدالۃ الصحابہ،ص77

(۵)  کلیات فی علم الرجال ،ص494

(۶)  ان میں سے اگر ان صحابہ کو نکال لیا جائے ،جن کی صحبت مختلف فیہا ہے  ،تو تعداد اس سے کم بنتی ہے ۔

(۷)  البدایہ و النھایہ ،دار ھجر للطباعہ و النشر ،قاہرہ ،360/8

(۸)  مذکورہ تعداد مقالہ نگار نے خود ان کتب کی پہلی جلدوں کے تمام صفحات کا بالا ستیعاب جائزہ لینے کے بعد   نکالی ہے ۔

(۹)  الکافی ،1/53

(۱۰)  الکلینی و الکافی ،ص123

(۱۱)   الکلینی و الکافی ،ص 159،160

(۱۲)  ایضآ ،ص 162

(۱۳)  ایضآ ،ص165

(۱۴)  ایضا،ص 164

(۱۵)  الکافی ،31/1

(جاری)

اسلام میں میانہ روی اور اعتدال کی قدریں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(رابطۃ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام ’’قیم الوسطیۃ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنۃ‘‘ کے زیر عنوان ۲۲ تا ۲۴  رمضان ۱۴۴٠ھ کو مکہ مکرمہ میں منعقدہ کانفرنس کے لیے لکھا گیا)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علٰی جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علٰی سید الرسل و خاتم النبیین وعلٰی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین اما بعد۔ فقد قال اللہ تبارک و تعالٰی فی کلامہ المجید اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعالمین فیہ اٰیات بینات مقام ابراہیم ومن دخلہ کان اٰمنا۔ صدق اللہ العظیم۔

قابل صد احترام صدر مجلس و الامین العام لرابطۃ العالم الاسلامی و عزت مآب علماء کرام، مشائخ عظام و راہنمایانِ ملت اسلامیہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

میرے لیے یہ سعادت و برکت اور فخر و اعزاز کی بات ہے کہ عالم اسلام کے اس مؤقر و محترم فورم پر امت مسلمہ کے راہنماؤں کے ساتھ گفتگو کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی ملت اسلامیہ کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملت اسلامیہ کی وحدت و اجتماعیت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری راہنمائی کا مرکز بھی ہے، اور اس حوالہ سے پوری امت کی امیدوں کا محور ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فورم کو یہ ذمہ داری بطریق احسن ہمیشہ سرانجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

حضرات گرامی قدر! ہماری اس کانفرنس کا عنوان ہے ’’قیم الوسطیۃ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنۃ‘‘۔ اور اس میں ہم اس لیے جمع ہیں کہ امت مسلمہ بلکہ نسل انسانی کو اعتدال و توازن کی ان اقدار و روایات کی طرف توجہ دلائیں جن سے ہمیں رشد و ہدایت کے دو عظیم سرچشموں قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعارف کرایا ہے۔ اور جو رہتی دنیا تک نسل انسانی کے لیے راہنما ہونے کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں بھی نجات و فلاح کا ذریعہ ہیں۔

ہم اس وقت  مکۃ المکرمۃ میں بیت اللہ المعظم کے جوار میں بیٹھے ہیں اس لیے میں نے گفتگو کا آغاز قرآن کریم کی اس آیت مقدسہ سے کیا ہے جس میں اللہ رب العزت نے بیت اللہ المعظم اور حرم شریف کے مقام و مرتبہ کا تذکرہ فرمایا ہے، اور اس آیت مبارکہ کے اہم نکات کو اپنی گزارشات کا عنوان بنانا چاہ رہا ہوں۔

(۱) یہ ’’اول بیت وضع للناس‘‘ ہے یعنی روئے زمین پر انسانی آبادی کا نقطۂ آغاز ہے۔ جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کے مطابق نسل انسانی کے اختتام کا نقطہ بھی یہی ہوگا کہ اس پر ایک ظالم حکمران کے حملہ کے ساتھ ہی قیامت کا بگل بجا دیا جائے گا۔

(۲) ’’فیہ اٰیات بینات‘‘  کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مقام مبارک ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و حاکمیت کی کھلی نشانیاں ہیں۔

(۳) اس میں ’’مقام ابراہیم‘‘ ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی فطرت سلیمہ، استقامت و عزیمت اور جہد و استقلال کی علامت ہے۔

(۴) ’’من دخلہ کان اٰمنا‘‘ کا مظہر ہے کہ امن و سلامتی کا ماحول دنیا کے سامنے پیش کر کے پوری نسل انسانی کو امن اور باہمی سلامتی کے ساتھ رہنے کی تلقین کر رہا ہے۔

(۵) اور یہ ’’مبارکاً وھدی‘‘ ہے کہ ہدایت و رشد کے ساتھ ساتھ برکات کا بھی سرچشمہ ہے۔

میرے خیال میں آج کی انسانی سوسائٹی کو انہی نکات کی طرف متوجہ کرنے اور اس فطری مرکزیت پر مجتمع کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

بزرگان محترم! اسلام اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کے سامنے جھک جانے کی دعوت دیتا ہے اور خالق و مالک کی ان ہدایات کے مطابق تمام انسانوں کو زندگی گزارنے کا پیغام دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبروں نے وحی الٰہی اور اپنے اپنے اسوۂ حسنہ کی صورت میں پیش کیا۔ ان آسمانی تعلیمات کا آخری، مکمل، محفوظ اور جامع ذخیرہ ہمارے پاس قرآن کریم اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و اسوہ کی صورت میں  موجود ہے۔ اور یہ اسلام کے اعجاز و تفوق کا زندہ ثبوت ہے کہ قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دنیا کے پاس آسمانی تعلیمات اور انبیاء کرام علیہم السلام کے اسوہ و سنت کا کوئی اور محفوظ و مستند ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کو اگر آسمانی تعلیمات اور انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہدایات کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے اور اپنے مالک و خالق کو راضی کرنا ہے تو اس کے پاس قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اور ہم مسلمانوں کے لیے یہ اعزاز و افتخار کی بات ہے کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور بد اعمالیوں کے باوجود ہم نہ صرف اس سرچشمہ ہدایت کی طرف دعوت دینے والے ہیں بلکہ اس کی حفاظت، تعلیم و تدریس اور فروغ و اشاعت کی خدمات میں بھی بحمد اللہ تعالٰی کسی نہ کسی درجہ میں مصروف رہتے ہیں۔

اسلام نے نسل انسانی کو جس وسطیت، اعتدال اور توازن سے متعارف کرایا ہے وہ اعتقادی بھی ہے کہ ایک طرف ’’کالذین نسوا اللہ‘‘ اور دوسری طرف ’’رہبانیت‘‘ کے دو انتہاؤں کو رد کرتے ہوئے اس دین فطرت نے نسل انسانی کو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا سبق دیا ہے۔ اور ’’ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاٰخرۃ حسنۃ‘‘ کے پیغام کے ساتھ دین و دنیا میں توازن و اعتدال کا راستہ دکھایا ہے۔

یہ اعتدال و توازن عمل اور عبادت میں بھی ہے کہ سینکڑوں مصنوعی خداؤں کی عبادت اور وحدہٗ لا شریک کی بندگی سے انکار کی دو انتہاؤں میں صرف اللہ تعالٰی کی بندگی اور عقیدۂ توحید کا درس دیا ہے۔

یہ اعتدال و وسطیت معاشرتی بھی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرہ کی جاہلانہ رسوم و خرافات کا خاتمہ کر کے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ’’کل امر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ کا تاریخی اعلان فرمایا اور جاہلانہ اقدار و روایات کے ذریعے پھیلنے والی باہمی نفرتوں اور عداوتوں کا خاتمہ کر کے ’’والف بین قلوبہم‘‘ کی نوید سنا دی۔

یہ اعتدال و وسطیت خاندانی نظام میں بھی ہے کہ زنا کی اباحیت، محارم سے نکاح کی شناعت اور عورت کو مجبور محض بنا لینے کی انتہاپسندانہ جاہلی روایات کو ختم کر کے نکاح، رشتوں اور خاندان کا ایک منظم اور باوقار نظام دیا جو آج بھی دنیا بھر کے لیے قابل رشک ہے۔

یہ اعتدال و وسطیت معیشت و اقتصاد میں بھی ہے کہ سوسائٹی میں دولت کی گردش کو ’’کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم‘‘ اور ’’تؤخذ من اغنیاءھم وترد الیٰ فقراءھم‘‘ کے دو سنہری اصولوں کے دائرے میں محصور کیا۔ اور ’’بیت المال‘‘ کے ذریعے معاشرتی کفالت کا وہ نظام دیا جو رہتی دنیا تک ویلفیئر سوسائٹی اور رفاہی نظام کے لیے مثالی اور معیار رہے گا۔

یہ اعتدال سیاست و حکومت میں بھی ہے کہ انسان پر انسان کی حکمرانی کی نفی کرتے ہوئے حکومت و ریاست کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کا پابند بنا کر قانون کی حکمرانی کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

اور یہ اعتدال و وسطیت جنگ و امن کے ماحول میں بھی ہے کہ انسانوں کو باہمی شخصی، نسلی طبقاتی اور علاقائی مفادات کے لیے ایک دوسرے سے جنگ کرنے سے منع کر کے جنگ و جہاد کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے مخصوص کر دیا۔

غرضیکہ زندگی کے جس شعبہ میں بھی دیکھیں اسلامی تعلیمات انسانی عقل و خواہش کی کوکھ سے جنم لینے والی انتہاؤں کے درمیان اعتدال و توازن کا سبق دیتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔

معزز راہنمایان قوم! آج نسل انسانی بلکہ امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ ’’ان یتبعون الا الظن وما تہوی الانفس‘‘  کا دور دورہ ہے۔ اور ’’ولقد جاءھم من ربہم الہدٰی‘‘  کو انسانی پالیسیوں، معاملات، رویوں اور طرز معاشرت میں اس کا وہ صحیح مقام و حیثیت حاصل نہیں ہے جو نظام و معاملات کو صحیح رخ پر لانے کا واحد راستہ ہے۔

آج امت مسلمہ ہمہ نوع خلفشار و تشتت کا شکار ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنے معاملات و امور کو قرآن و سنت اور خیر القرون کی اقدار و روایات کے دائرے میں رکھنے کی بجائے خود اپنی عقل و خواہش کے مطابق حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں انسانی سوسائٹی کی دیگر معاصر اقوام اور قوتیں اپنے وسائل اور قوت و طاقت کے باعث ہم پر غالب ہو جاتی ہیں اور ہم ’’مذبذبین بین ذٰلک‘‘  کی تصویر بنے رہتے ہیں۔

جہاد کے مقدس شرعی فریضہ کے حوالہ سے بھی ہمارے ساتھ یہی ہوا ہے کہ ایک عرصہ تک جہاد اور خلافت کی اصطلاحات کو ہمارے ماحول میں اجنبی بنانے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ اس کے لیے بہت سے داعی حتٰی کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے مدعیان نبوت بھی کھڑے کیے گئے، مگر جب اس کے ردعمل میں مختلف علاقوں میں استعماری غلبوں کے خاتمہ کے لیے جہاد کی تحریکات شروع ہوئیں تو امت مسلمہ میں وحدت و مرکزیت کا کوئی نظام و ماحول موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ مقدس عمل تشتت و افتراق کا عنوان بن کر رہ گیا ۔ہر گروہ نے ’’جہاد‘‘ کے اپنے اپنے اہداف اور اصول و قواعد وضع کر لیے اور اس کے تلخ نتائج کو ہمارے دشمنوں نے اسلام کی شناخت مسخ کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بنا لیا۔ حالانکہ جہاد اسلام کا ایک مقدس فریضہ ہے جس کے حدود و قواعد قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود ہیں۔ اور فقہاء اسلام نے اس کی دائرہ بندی اور درجہ بندی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لیکن جب ان تمام اصول و قواعد اور احکامات و ہدایات کو نظر انداز کر کے قرن اول کے خوارج کی طرح ہر گروہ اپنی اپنی تعبیر و تشریح کو ہی حتمی قرار دے گا تو اس کا نتیجہ وہی ہوگا جس سے ہم آج دوچار ہیں، اور جس کے نتیجہ میں جہاد کے مقدس عنوان کو ہمارے لیے عزت و سربلندی کی بجائے کردارکشی کا عنوان بنا دیا گیا ہے۔

عزت مآب مشائخ عظام! آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اس خلفشار اور تشتت کے ماحول سے امت کو نکالنے کے لیے اپنی اپنی خود ساختہ تعبیرات و تشریحات پر اصرار کو ترک کر کے اجتماعی مشاورت و تفاہم کے ماحول میں قرآن و سنت اور خیر القرون کے تعامل کی طرف واپس لوٹ جائیں، اس کے سوا کوئی اور راستہ عالم اسباب میں دکھائی نہیں دیتا۔

رابطہ عالم اسلامی اس سلسلہ میں صحیح سمت راہنمائی کا موجودہ حالات میں سب سے مؤثر فورم اور ادارہ ہے، میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت رابطہ کو اس ذمہ داری سے بخیر و خوبی عہدہ برآ ہونے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔


قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۶)

محمد عمار خان ناصر

امام ابو جعفر الطحاوی کا زاویہ نظر

ائمہ احناف کے رجحانات کو باقاعدہ ایک اصولی منہج کے طور پر متعین قواعد کی صورت میں منضبط کرنے کی کوشش کا آغاز امام محمد بن الحسن کے شاگرد عیسیٰ بن ابان سے شروع ہوتا ہے۔ عیسیٰ بن ابان کی اصولی فکر ابو الحسن کرخی سے ہوتی ہوئی چوتھی صدی میں ابوبکر الجصاص تک پہنچی اور جصاص کے قلم سے ہمیں حنفی اصول فقہ پر پہلی مرتب اور مفصل کتاب ملتی ہے۔ البتہ عیسیٰ بن ابان اور جصاص کے درمیان حنفی روایت میں ایک اور شخصیت جو اس حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، امام ابو جعفر الطحاوی کی ہے جو ابوبکر الجصاص کے استاذ بھی تھے۔ اصولی مباحث پر امام طحاوی نے کوئی مستقل تصنیف تو سپرد قلم نہیں کی، لیکن ان کی تصانیف یعنی احکام القرآن، شرح معانی الآثار، شرح مشکل الآثار اور مختصر اختلاف العلماءمیں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث سے جڑی ہوئی متعدد مثالوں پر کلام کیا گیا ہے جس سے ان کے اصولی رجحانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ امام طحاوی کے نقطہ نظر کا مطالعہ اس بحث میں اس لحاظ سے اہم ہے کہ اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں شافعی اور حنفی، دونوں روایتوں سے وابستگی کی وجہ سے ان کا اصولی منہج کئی اہم اعتبارات سے حنفی اصولیین کے منہج سے مختلف ہے اور خاص طور پر احادیث وآثار کی تعبیر وتشریح اور ان سے استنباط احکام میں ان کے طرز فکر کے اپنے خاص امتیازات ہیں۔ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں بھی یہ امتیاز نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور یہاں امام طحاوی کے ہاں امام شافعی کی فکر اور حنفی اصولیین کے منہج، دونوں کے امتزاج یا جزوی طور پر دونوں کی طرف جھکاو کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ امام صاحب نے اپنے تخلیقی انداز فکر کی بدولت کئی اہم پہلووں سے اس بحث میں کچھ اضافے بھی کیے ہیں جو بحث کے اہم جوانب کی تنقیح میں بہت مددگار ہیں۔ اس تناظر میں آئندہ سطور میں امام طحاوی کی تصانیف کی روشنی میں اس بحث کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کا ایک تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

پہلا رجحان : کتاب اللہ کے عموم کا محتمل الدلالۃ ہونا

کتاب وسنت کے باہمی تعلق کے ضمن میں امام طحاوی کے ہاں ایک نمایاں رجحان یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کی مراد کی تفسیر، اس کے عموم یا خصوص کی تعیین اور کتاب اللہ کے حکم پر زیادت کے حوالے سے روایات وآثار کو بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت دیتے ہیں۔

کتاب اللہ کی تفسیر کے ضمن میں امام طحاوی کے ہاں یہ رجحان اتنا قوی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے علاوہ بعض مثالوں میں شان نزول کی روایات کی روشنی میں بھی آیت کو اس کے ظاہری مفہوم سے، جو اس کے الفاظ اور داخلی قرائن سے بالکل واضح ہو، صرف کرنے کو درست بلکہ ضروری تصور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لاَ تَقرَبُوا الصَّلاَۃ وَانتُم سُکَارَی (النساء۴: ۴۳) کے متعلق لکھتے ہیں کہ قرآن کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں الصلاة سے مراد نماز کے مقامات یعنی مساجد ہیں، کیونکہ اس کے بعد وَلاَ جُنُبا اِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ اس کا واضح قرینہ ہے۔ ظاہر ہے، اس سے حالت جنابت میں نماز کے اندر سے گزرنا مراد نہیں، بلکہ مسجد کے اندر سے گزرنا ہی مراد ہے۔ تاہم آیت کی شان نزول کی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ لاَ تَقرَبُوا الصَّلاَۃ سے نشے کی حالت میں مسجد کے اندر آنے کی نہیں، بلکہ نماز ادا کرنے کی ممانعت مراد ہے۔ امام طحاوی لکھتے ہیں کہ اگر یہ آثار نہ ہوتے تو آیت کا ظاہر اور واضح مفہوم یہی تھا کہ نشے کی حالت میں مسجدوں کے قریب نہ آﺅ۔ (احکام القرآن ۱/۱۱۶) (۱)

اسی طرح ثُمَّ اَفِیضُوا مِن حَیثُ افَاضَ النَّاسُ (البقرة ۱۹۹:۲) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم تو یہی بنتا ہے کہ اس سے مراد مزدلفہ سے کوچ کرنا ہے، کیونکہ اس سے پہلے عرفات سے روانگی کا ذکر فَاذَا اَفَضتُم مِّن عَرَفَاتٍ (البقرة ۱۹۸:۲) سے ہو چکا ہے، تاہم اہل علم نے آیت کی شان نزول کی روشنی میں یہ قرار دیا ہے کہ ثُمَّ اَفِیضُوا میں بھی عرفات ہی سے نکلنا مراد ہے۔ شان نزول کی روایات کے مطابق قریش اور بنو خزاعہ کے لوگ عام حاجیوں کے ساتھ عرفات میں نہیں جاتے تھے، بلکہ مزدلفہ میں ہی ٹھہرے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انھی کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ بھی سب لوگوں کی طرح عرفات میں جائیں اور وہاں سے واپس روانہ ہوں۔ (احکام القرآن ۲/۱۷۲)

اس تناظر میں کتاب اللہ کے ظاہری عمومات کے حوالے سے بھی امام طحاوی کے ہاں ایک رجحان امام شافعی کے اصولی موقف سے ہم آہنگ ہے، اور وہ ایسی مثالوں میں عموم کے یقینی طور پر مراد ہونے کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اس کی دلالت کو محتمل اور قابل تفسیر قرار دیتے اور اس حوالے سے سنت میں وارد تبیین کو فیصلہ کن حیثیت دیتے ہیں۔ چنانچہ آیت سرقہ سے متعلق لکھتے ہیں کہ اس کا ظاہری عموم بالاجماع مراد نہیں، بلکہ مخصوص شرائط کے ساتھ چوری کرنے والے مراد ہیں جن کی وضاحت احادیث میں کی گئی ہے۔ لکھتے ہیں:

ان اللہ عزوجل قال فی کتابہ ”وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃ فَاقطَعُوا ایدِیَہُمَا جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ“ فاجمعوا ان اللہ عزوجل لم یعن بذلک کل سارق وانہ انما عنی بہ خاصا من السراق لمقدار من المال معلوم (شرح معانی الآثار ۳/۱۶۷)

”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو، یہ ان کے کیے کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے (لوگوں کے لیے) عبرت ہے۔ لیکن اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر ہر چوری کرنے والا نہیں، بلکہ چوری کرنے والے کچھ خاص افراد مراد ہیں جنھوں نے ایک متعین مقدار میں مال چرایا ہو۔“

ایک دوسری بحث میں اس نوعیت کی دو مزید مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

ولا فی ظاھرھا ما قد دل علی ذلک، ان القدمین قد یجوز ان یکون ما امر بہ فیھما فی سورة المائدۃ اذا کانتا بادیتین لا اذا کانتا معنیتین فی الخفین، کما قال عزوجل ”وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃ فَاقطَعُوا ایدِیَہُمَا“ فلم یکن ذلک علی ایدی کل السراق وانما کان ذلک علی خاص منھا علی ما بینتہ السنۃ فی ذلک، وکما قال عزوجل ”الزَّانِیَۃ وَالزَّانِی فَاجلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا مِائَۃ جَلدَةٍ“، فلم یکن ذلک علی کل الزناۃ وانما کان علی الزناۃ الذین بینت فیھم السنۃ ما بینت (احکام القرآن ۱/۱۱۲)

”کتاب اللہ کے ظاہر میں ایسی کوئی دلیل نہیں جو وضو میں موزوں پر مسح کرنے سے مانع ہو، کیونکہ سورة المائدہ میں جو پاو¶ں کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ صورت ہو جب پاوں ننگے ہوں، نہ کہ جب وہ موزوں میں ملبوس ہوں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو،لیکن اس سے مراد ہر ہر چوری کرنے والا نہیں، بلکہ چوری کی کچھ خاص صورتیں مراد ہیں جن کی وضاحت سنت نے کی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زناکرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں کو سو سو کوڑے لگاو، لیکن اس سے مراد بھی ہر ہر زانی نہیں، بلکہ وہ زانی مراد ہیں جن کی وضاحت سنت نے کی ہے۔“

اسی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے امام طحاوی لکھتے ہیں کہ قرآن میں نماز جمعہ کے لیے حاضر ہونے کا حکم بظاہر تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے دیا گیا ہے جس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ جمعہ کی نماز تمام مکلفین پر فرض ہے، لیکن سنت نے یہ واضح کیا ہے کہ اس سے مراد تمام نہیں بلکہ بعض مسلمان ہیں اور خواتین، غلام، مسافر ، اپاہج اور بیمار لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ (احکام القرآن ۱/۱۴۷)

قرآن مجید میں نماز کے لیے قبلہ رخ ہونے کا حکم بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ چنانچہ وَحَیثُ مَا کُنتُم فَوَلُّوا وُجُوہَکُم شَطرَہُ (البقرة ۱۴۴:۲) کے عام الفاظ سے نماز میں قبلہ رخ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ سفر میں سواری پر نفل نماز ادا کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونے کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ سفر میں سواری پر نفل نماز ادا کرنے والا اس حکم کا مخاطب نہیں ہے۔ (احکام القرآن ۱/۱۶۳)

ظاہری او رمحتمل عموم سے آگے بڑھ کر اگر احادیث کتاب اللہ کے کسی ایسے حکم میں جس میں تصریحاً عموم کی وضاحت کی گئی ہو، کوئی تخصیص یا استثنا بیان کرتی ہوں تو امام طحاوی اس صورت میں بھی دونوں حکموں کی دلالت کو متعارض تصور کرنے کے بجائے دونوں کو ملا کر دیکھنے اور کتاب اللہ کی مراد کو احادیث کی بیان کردہ تخصیص واستثنا کی روشنی میں متعین کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔

قرآن مجید میں کھانے پینے کی اشیا میں صرف چار چیزیں حرام کی گئی ہیں، یعنی مردار، خون، خنزیر کا گوشت، اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ (الانعام ۱۴۵:۶) آیت اپنی ظاہری دلالت کے لحاظ سے بالکل واضح ہے کہ ان چار کے علاوہ کھانے کی ہر چیز مباح ہے۔تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے گھریلوگدھوں، چنگال والے پرندوں اور کچلی والے درندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الذبائح والصید، باب لحوم الحمر الانسیة، رقم ۵۵۲۷؛ صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح وما یوکل من الحیوان، رقم ۱۹۳۴)

امام طحاوی کے نزدیک احادیث میں بیان کی جانے والی حرمتوں کی نوعیت قرآن کی اباحت میں استثناءکی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا قرآن کے بیان کردہ دائرے میں توسیع کرتے ہوئے چند مزید چیزوں کو اس میں شامل فرما دیا۔ (مشکل الآثار ۹/۱٠۸) ان دونوں بیانات کو باہم متعارض تصور کرنے کے بجائے، قرآن کی مراد کو احادیث کی روشنی میں طے کرنا ضروری ہے۔ طحاوی لکھتے ہیں :

وما قالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذلک فھو مستثنی من الآیۃ، علی ھذا ینبغی ان یحمل ما جاءعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھذہ المجیءالمتواتر فی الشیءالمقصود الیہ بعینہ مما قد انزل اللہ عزوجل فی کتابہ آیۃ مطلقۃ عن ذلک الجنس، فیجعل ما جاءعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ذلک مستثنی من الآیۃ غیر مخالف لھا، حتی لا یضاد القرآن السنۃ ولا السنۃ القرآن (شرح معانی الآثار ۴/۲۱٠)

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کی حرمت بیان کی ہے، وہ آیت کی اباحت سے مستثنیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کسی استثناءکے بغیر ایک عام حکم نازل کیا ہو، جبکہ اسی حکم سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ کوئی استثنا ثابت ہو تو اس کو اسی مفہوم پر (جو ہم نے بیان کیا ہے) محمول کرنا مناسب ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن چیزوں کی ممانعت منقول ہے، انھیں آیت سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا نہ کہ ان کے خلاف، تاکہ نہ قرآن، سنت کے معارض ہو اور نہ سنت، قرآن کے۔”

مذکورہ مثال میں طحاوی کی توجیہ کا، حنفی وشافعی فقہاءکے عمومی رجحان سے اختلاف قابل توجہ ہے۔ فقہاءقرآن کی بیان کردہ اباحت اور احادیث میں وارد تحریم کو حرمتوں کی موقع بہ موقع یا تدریجی وضاحت پرمحمول کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں کھانے پینے کے معاملے میں اباحت اصلیہ کا اصول جاری تھا جس میں سے کچھ چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر کے حرام قرار دیا اور فرمایا کہ اس مرحلے پر ان کے علاوہ کوئی اور چیز حرام نہیں ہے۔ اس حکم کے نازل ہونے سے باقی اشیاءحسب سابق اباحت کے اصول پر قائم رہیں، لیکن مثبت طور پر ان کی حلت کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ ان کی حیثیت گویا مسکوت عنہ امر کی تھی۔ بعد میں احادیث کے ذریعے سے اباحت کے عمومی اصول میں چند مزید مستثنیات کو شامل کر دیا گیا اور چونکہ یہ مسکوت عنہ امر سے متعلق حکم کی وضاحت تھی، اس لیے اسے قرآن کے بیان کردہ حصر کے معارض یا منافی نہیں کہا جا سکتا۔ (جصاص، احکام القرآن، ۳/۱۹؛ ابن العربی، احکام القرآن، ۲/۲۹۱) گویا جمہور اہل علم سنت کی بیان کردہ حرمتوں کو قرآن کے حکم پر ایک اضافہ قرار دے کر قرآن کے ظاہری حصر کی دلالت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امام طحاوی کی توجیہ اس سے مختلف ہے اور وہ قرآن کے ظاہری حصر کا کوئی محل واضح کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے بجائے وہ سنت کے بیانات کو ابتدا ہی سے حکم کا حصہ تصور کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ حرمتوں سے متعلق پورا حکم گویا یوں تھا کہ ان چار چیزوں کے علاوہ باقی تمام اشیاءمباح ہیں، البتہ اس اباحت سے فلاں اور فلاں چیزیں مستثنیٰ ہیں۔ بظاہر اس تاویل میں حکم کا دوسرا حصہ پہلے حصے کی عمومی اباحت کو بے معنی بنا دیتا ہے، لیکن امام طحاوی اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ یوں اس مثال کو ان کے ہاں کتاب اللہ کی ظاہری دلالت کو احادیث وآثار کے تابع بنانے کے رجحان کی نمایاں ترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ (البتہ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی مثال میں ایک دوسرے پہلو سے کتاب اللہ کے ظاہری عموم میں تاویل نہ کرنے کے رجحان کا بھی امام طحاوی کے ہاں اظہار ہوا ہے جس کی وضاحت آئندہ صفحات میں اپنے موقع پر کی جائے گی)۔

کتاب اللہ کے عموم میں تخصیص کے ساتھ کتاب اللہ کے حکم پر زیادت کی بحث میں بھی امام طحاوی اپنے اس رجحان کو برقرار رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں حرمات نکاح کے بیان میں رضاعی رشتوں میں سے ماں اور بہن کا ذکر کیا گیا ہے۔ (النساء۲۳:۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعمیم کرتے ہوئے دوسرے رضاعی رشتوں کو بھی نکاح کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ ان روایات کو فقہاءکے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ تاہم سیدہ عائشہ کی نقل کردہ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پلانے والی عورت کے شوہر کو بھی حرمت کے دائرے میں شمار فرمایا اور سیدہ عائشہ سے کہا کہ ان کی رضاعی والدہ کا شوہر ان کا چچا لگتا ہے، اس لیے وہ اس سے حجاب نہ کریں۔ (صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ ان تبدوا شیئا او تخفوہ، رقم ۴۷۹۶)

جمہور فقہاءکی طرح حنفی فقہاءبھی اس روایت کی روشنی میں لبن الفحل کو موجب حرمت قرار دیتے ہیں، حالانکہ اس روایت کو قبول کرنا بظاہر حنفی فقہاءکے اصول کے خلاف ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اگر حدیث کے راوی کا اپنا عمل حدیث کے خلاف ہو تو وہ اس بات کی دلیل تصور کیا جاتا ہے کہ راوی کے علم کے مطابق وہ حدیث منسوخ ہو چکی ہے۔ اس مثال میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فتویٰ مذکورہ روایت کے برعکس تھا اور وہ لبن الفحل کو موجب حرمت قرار نہیں دیتی تھیں۔ چنانچہ قاسم بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ا م المومنین ایسے لڑکوں سے تو حجاب نہیں کرتی تھیں جنھیں ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہو، لیکن جن لڑکوں نے ام المومنین کے بھائیوں کی بیویوں کا دودھ پیا ہوتا، انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔ (الموطا، کتاب الرضاع، رضاعة الصغیر، رقم ۱۲۸٠) یعنی وہ یہ سمجھتی تھیں کہ ان لڑکوں کے ان کے بھائی کی بیوی کا دودھ پینے سے وہ ان کے بھائی کے رضاعی بیٹے نہیں بن گئے اور نتیجتاً ام المومنین کے ساتھ بھی ان کا بھتیجے کا رشتہ قائم نہیں ہوا۔ تاہم اس مثال میں حنفی فقہاءنے حدیث کو قبول کرتے ہوئے سیدہ عائشہ کے عمل کی تاویل کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ امام طحاوی اس کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کے، اپنے بعض رشتہ داروں کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ حرمت رضاعت کو ثابت نہ ماننا نہیں، بلکہ وہ کسی اور وجہ سے بھی کسی کو اپنے پاس آنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق رکھتی تھیں۔ اس لیے ان کے اس عمل کو ان کی روایت کردہ حدیث کے خلاف قرار دینا درست نہیں۔ (مختصر اختلاف العلماء۲/۳۱۹)

بعض مثالوں میں امام طحاوی صحابہ سے منقول آثار کی بنا پر بھی قرآن مجید کے حکم پر زیادت کو درست قرار دیتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ اگر آدمی سفر یا بیماری کی وجہ سے رمضان میں روزہ نہ رکھ سکے تو دوسرے دنوں میں ان کی قضا کر لے۔ (البقرة ۱۸۴:۲) یہاں روزوں کی قضا کے لیے مدت کی کوئی قید بیان نہیں کی گئی۔ تاہم بعض صحابہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص ایک رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے استطاعت کے باوجود اگلے رمضان تک قضا نہ کرے تو اس کے بعد قضا کے ساتھ ساتھ اسے ہر روزے کے بدلے میں کفارے کے طور پر ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا پڑے گا۔ طحاوی لکھتے ہیں کہ یہ حکم نہ کتاب اللہ میں ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اور نہ قیاس سے اس کی تائید ہوتی ہے، بلکہ کتاب اللہ کے ظاہر کے لحاظ سے قضاءکے ساتھ کفارے کا اضافہ کرنے کی بھی گنجائش نہیں، لیکن چونکہ صحابہ کی ایک جماعت سے یہ منقول ہے اور کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا، جبکہ بظاہر معقول نہ ہونے کی وجہ سے یہ امکان بھی غالب ہے کہ انھوں نے یہ بات اجتہاداً نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر کہی ہوگی، اس لیے ہم اس مسئلے میں ائمہ احناف سے اختلاف کرتے ہوئے قضا کے ساتھ ساتھ کفارے کو بھی واجب قرار دیتے ہیں۔ (احکام القرآن ۱/۴۱۶؛ مختصر اختلاف العلماء۲/۲۲)

کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال پر تنقید

کتاب اللہ کے ظاہری عموم کے قطعی نہ ہونے اور محتمل الدلالة ہونے کے اصول کے تناظر میں امام طحاوی نے متعدد مسائل میں، جن میں احادیث میں کتاب اللہ کے حکم میں کوئی تخصیص یا استثناءبیان کیا گیا ہے، کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال کرتے ہوئے احادیث کو نظر انداز کرنے کے موقف پر تنقید کی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

۱۔ طحاوی عبد اللہ ابن عباس کے اس استدلال کا ذکر کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا عمل سورہ مائدہ کے نازل ہونے یعنی قرآن میں وضو کے احکام بیان ہونے سے پہلے کا تھا جس سے ان کی مراد ظاہراً یہ تھی کہ قرآن نے اس رخصت کو منسوخ کر دیا ہے۔ طحاوی کہتے ہیں کہ اگر اس عمل کو آیت کے نزول سے مقدم فرض کیا جائے تو بھی قرآن کی آیت کو اس کا ناسخ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت نازل ہونے کے بعد لوگوں سے یہ نہیں فرمایا کہ اب تم موزوں پر مسح نہ کیا کرو، کیونکہ اللہ نے پاو¶ں کو دھونے کا حکم نازل کر کے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ (شرح مشکل الآثار ۶/۲۸۹؛ احکام القرآن ۱/۱۱۱، ۱۱۲) طحاوی کی مراد یہ ہے کہ یہ دونوں حکم چونکہ الگ الگ حالتوں سے متعلق ہیں، اس لیے دونوں کا اپنا اپنا محل ہے اور دونوں اپنی اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں، اس لیے ان کے مابین کوئی ایسا تعارض نہیں کہ ایک کو لازماً دوسرے کے لیے ناسخ تسلیم کیا جائے اور اگر واقعی غسل کا حکم مسح کے لیے ناسخ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی باقاعدہ وضاحت فرمانی چاہیے تھی۔ جب آپ نے یہ وضاحت نہیں کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے جو رخصت موجود تھی، وہ اس کے بعد بھی برقرار رہی۔

۲۔ عبد اللہ بن عباس کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ وہ تلبیہ پڑھتے وقت یہ شرط لگا لیں کہ جہاں بیماری کی وجہ سے ان کے لیے حج کا سفر جاری رکھنا ممکن نہ ہوا، وہ اسی جگہ احرام سے آزاد ہو جائیں گی۔ (مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عباس، رقم ۳۳٠۲) ائمہ احناف ایسی شرط لگانے کو غیر موثر سمجھتے ہیں، تاہم امام طحاوی نے اس مسئلے میں ائمہ احناف کے اجماعی موقف سے اختلاف کیا اور حج کا احرام باندھتے ہوئے شرط لگانے کو جائز قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ بات صحیح احادیث اور صحابہ کے آثار سے ثابت ہے، اس لیے اس کو چھوڑ کر کوئی دوسری رائے قائم کرنے کی گنجائش نہیں۔ یہاں طحاوی نے مذکورہ روایت کے، قرآن کے خلاف ہونے کا سوال بھی اٹھایا ہے۔ لکھتے ہیں:

فان قیل: قال اللہ تعالیٰ: وَاتِمُّوا الحَجَّ وَالعُمرَۃَ لِلّٰہِ فَان اُحصِرتُم .... الآیۃ، فقد بین حکم المحصر، فغیر جائز ترک ھذا الحکم بخبر الواحد، قیل لہ: ھذا فی من لم یشترط فی احرامہ، فاما من اشترط فحکمہ ما وصفنا، فلا یدفع احدھما بصاحبہ (مختصر اختلاف العلماء۲ /۹۷، ۹۸)

“اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ کو مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اور کسی عذر کی صورت میں حج سے روک دیے جانے والے کا حکم بھی باقاعدہ واضح کیا ہے (جس میں احرام کو فسخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں)، اس لیے اس حکم کو خبر واحد کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ قرآن کا حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جنھوں نے احرام باندھتے وقت کوئی شرط نہ لگائی ہو۔ جس نے شرط عائد کی ہو تو اس کا حکم (حدیث کے مطابق) وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے، چنانچہ (دونوں حکموں کا اپنا اپنا محل ہے اور) ایک حکم کو دوسرے کی وجہ سے رد نہیں کیا جا سکتا۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ امام شافعی نے مذکورہ حدیث کی صحت کے متعلق تردد ظاہر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر یہ حدیث ثابت ہوتی تو میں اسی کے مطابق رائے قائم کرتا۔ (الام، ۳ /۳۹۷) امام طحاوی لکھتے ہیں کہ امام شافعی اس حدیث کے کسی متصل طریق سے واقف نہیں تھے، اس لیے انھیں تردد تھا، لیکن اگر وہ ان طرق سے واقف ہوتے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے تو وہ بھی یہی رائے قائم کرتے۔ (مختصر اختلاف العلماء۲/۹۸)

۳۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک گھوڑے کا گوشت کھانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور ان کا استدلال سورة النحل کی آیات سے ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کا ذکر کرکے ان کے فوائد ومنافع میں ان کے گوشت کے استعمال کا ذکر کیاہے جبکہ اس کے مقابلے میں گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کے ذکر میں ان کا فائدہ یہ بتایا ہے کہ لِتَرکَبُوہَا وَزِینَۃ (النحل ۸:۱۶) “تاکہ تم ان پر سواری کرسکو اور ان سے زینت حاصل کرو” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جانور گوشت کھانے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ استدلال عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الاطعمة، رقم ۲۴۸٠۳، ۲۴۸٠۵) اور امام ابو حنیفہ نے بھی اپنی ایک روایت میں ابن عباس سے اسے نقل کیا ہے۔ (ابو یوسف، الآثار، رقم ۱٠۵۱) امام مالک سے بھی یہی استدلال منقول ہے۔ (ابو الولید الباجی، المنتقی، ۳/۱۳۲، ۱۳۳) تاہم امام ابویوسف اور امام محمد نے گھوڑے کے گوشت کی حلت سے متعلق مروی روایات کی روشنی میں اس موقف کو قبول نہیں کیا۔ (الشیبانی، الآثار، کتاب الاطعمة، رقم ۸۲۸)

امام طحاوی نے اس مسئلے میں امام ابو حنیفہ اور امام مالکؒ اور ان کے مقابلے میں امام ابویوسف اور امام محمد کے موقف کا محاکمہ کرتے ہوئے موخر الذکر کی رائے سے اتفاق کیا ہے، چنانچہ آیت سے استدلال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس میں گھوڑے کے ساتھ سواری اور زینت کے ذکر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور مصرف نہیں ہو سکتا۔ طحاوی اس کو بعض دیگر آیات کی مثال سے واضح کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مابین اعتقادی ومذہبی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وَلِذَلِکَ خَلَقَہُم (ہود ۱۱: ۱۱۹)، یعنی اللہ نے ان کو اسی لیے پیدا کیا ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اختلاف کے علاوہ انسانوں کی تخلیق کا کوئی اور مقصد نہیں۔ اسی طرح وَمَا خَلَقتُ الجِنَّ والاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونِ (الذاریات ۵۶:۵۱) سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عبادت کے علاوہ انسان کا اور کوئی مقصد نہیں۔ ان مثالوں کی روشنی میں گھوڑے کے ذکر میں لِتَرکَبُوہَا وَزِینَۃ کے الفاظ سے بھی یہ استدلال درست نہیں کہ اس کا گوشت کھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ (شرح مشکل الآثار ۸/۷۵)

۴۔ ذکاة الجنین (یعنی مادہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچے) سے متعلق روایات کے حوالے سے امام طحاوی لکھتے ہیں کہ یہ سنداً کمزور ہیں۔ اس بحث میں امام طحاوی نے امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے اختلاف کے حوالے سے اپنا موقف تصریحاً بیان نہیں کیا، تاہم اسلوب کلام سے ان کا رجحان یہی معلوم ہوتا ہے کہ، احادیث کے مطابق، جنین کی حلت کے لیے اس کی ماں کے ذبح کیے جانے کو کافی ہونا چاہیے۔ (مختصر اختلاف العلماء۳/۲۲۶ تا ۲۲۹)

دوسرا رجحان: کتاب اللہ کے ظاہر میں تاویل سے گریز

مذکورہ رجحان کے مقابلے میں امام طحاوی کے ہاں ایک دوسرا اور بہت نمایاں رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہ کی جائے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجائے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھا جائے، جبکہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیا جائے۔

مثال کے طور پر قرآن مجید میں نماز کے لیے اٹھتے ہوئے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔ (المائدہ ۶:۵) اس حوالے سے فقہاءکے ہاں یہ بحث ہے کہ وضو کا حکم کیا ہر نماز کے لیے ہے، چاہے سابقہ وضو برقرار ہو یا نہ ہو، یا اس کا وجوب صرف حدث کی حالت میں ہے؟ طحاوی جمہور کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کا پہلے سے وضو نہ ہو، اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ اسی آیت میں آگے اللہ تعالیٰ نے حالت سفر میں بعض صورتوں میں تیمم کی رخصت دی ہے اور اس کے متعلق اجماع ہے کہ وہ ناپاکی کی صورت میں ہی فرض ہے، اس لیے مقیم ہونے کی حالت میں وضو کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے۔ (شرح معانی الآثار ۱/۴۵) تاہم اس کے ساتھ طحاوی اس امکان کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ کتاب اللہ میں تو، ظاہری الفاظ کے مطابق، ہر نماز کے لیے مستقل وضو کا حکم دیا گیا تھا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں تخفیف کر کے صرف حالت حدث میں وضو کو واجب قرار دیا اور حکم میں یہ تبدیلی سنت کے ذریعے سے واضح کی گئی۔ (احکام القرآن ۱/۶۸، ۶۹)

لاَ یَمَسُّہُ الَّا المُطَہَّرُونَ (الواقعہ ۷۹:۵۶) کے حوالے سے طحاوی نے صحابہ سے دو تفسیریں نقل کی ہیں۔ ایک کے مطابق یہ نہی ہے اور اس میں وضو نہ ہونے کی حالت میں قرآن کو چھونے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ دوسری تفسیر کے مطابق یہ خبر ہے جس میں فرشتوں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کو ان جیسی پاکیزہ مخلوق ہی چھوتی ہے۔ طحاوی لکھتے ہیں کہ آیت میں چونکہ نہی کے بجائے خبر کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اس لیے دوسری تفسیر ہی درست ہے اور اس آیت سے مس مصحف کے لیے طہارت کی شرط اخذ کرنا درست نہیں۔ اس کے بجائے اس حکم کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس میں آپ نے عمرو بن حزم کو ہدایت فرمائی کہ وہ قرآن کو ناپاکی کی حالت میں نہ چھوئیں۔ (احکام القرآن ۱/۱۱۸)

قرآن مجید میں سفر کی حالت میں قصر نماز کی اجازت ان خِفتُم (اگر تمھیں خوف ہو) کی قید کے ساتھ بیان ہوئی ہے (النساء۱٠۱:۴)، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت امن میں بھی قصر نماز ادا کی۔ قرآن میں خوف کی قید کی توجیہ جمہور فقہاءکی طرف سے عموماً یہ کی گئی ہے کہ یہ اس رخصت کو حالت خوف تک محدود کرنے کے لیے نہیں ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے، اسے قبول کرو۔ امام شافعی کی توجیہ کا حاصل بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ (الام ۱٠/۵٠، ۵۱) تاہم اس تفسیر کے غیر متبادر ہونے کی وجہ سے امام طحاوی نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کی رائے یہ ہے کہ ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت واقعتا اسی قید کے ساتھ دی تھی، لیکن بعد میں اپنے بندوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مطلقاً سفر میں نماز قصر کرنے کی اجازت دے دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے سیدنا عمر سے فرمایا کہ حالت امن میں قصر کرنا اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، اسے قبول کرو۔ (تحفة الاخیار ۶/۳٠۴) گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یا مذکورہ ارشاد قرآن میں ان خفتم کی تفسیر نہیں ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ یہ قید اتفاقی ہے، بلکہ اس رخصت میں، اصل حکم کے بعد کی جانے والی توسیع کا بیان ہے۔

قرآن میں حج کے فرض ہونے کے لیے استطاعت سبیل کی شرط بیان کی گئی ہے۔ (آل عمران ۹۷:۳) بظاہر اس کا مفہوم یہی بنتا ہے کہ جس شخص کو مالی وسائل دستیاب ہوں اور وہ تندرستی کی حالت میں سفر کر سکتا ہو، اس پر حج فرض ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیمار اور بوڑھے شخص پر بھی، جو سواری پر نہ بیٹھ سکتا ہو، حج فرض ہے اور اگر وہ خود ادا نہ کر سکتا ہو تو اس کا نائب بن کر کوئی دوسرا اس کی طرف سے فرض ادا کر سکتا ہے۔ امام شافعی اس حدیث کو قرآن مجید کی تبیین قرار دیتے ہوئے اس کی روشنی میں استطاعت کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ آدمی یا تو خود سفر کر سکے اور یا کسی دوسرے کو اپنی طرف سے نیابتاً حج کے لیے بھیج سکے۔ (الام ۳/۳۰۲) گویا حدیث نے قرآن کی اصل مراد کو واضح کیا جو بظاہر اس کے الفاظ سے مفہوم نہیں ہو رہی تھی۔ امام طحاوی نے امام شافعی کی اس توجیہ سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کی رائے میں قرآن میں استَطَاعَ الَیہِ سَبِیلاً کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ سے واضح ہے، یعنی سفر کر کے بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنا۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے تو اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ قرآن کی تبیین نہیں، بلکہ اس پر زائد ایک الگ حکم کا بیان ہے۔ لکھتے ہیں:

لما استدللنا فی کتابنا ھذا ان السبیل الی الحج ھی الوصول الیہ کان من کان غیر واصل الی الحج ممن لم تلحقہ فریضۃ الحج بالکتاب ولکن لحقتہ بالسنۃ فکان حکمہ فی حج غیرہ عنہ کحکمہ فی حجہ عن نفسہ لو کان قادرا علی ذلک، وثبت بما فی کتاب اللہ عزوجل الحج علی الواصلین، وثبت بسنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الحج علی العاجزین الواجدین من یحج عنھم (احکام القرآن ۲/۱۵)

“جب ہم نے اپنی اس کتاب میں دلائل سے واضح کر دیا کہ حج کی راہ کا مطلب بیت اللہ تک پہنچنا ہے تو جو شخص (بیماری یا معذوری کی وجہ سے) حج کے لیے نہ پہنچ سکتا ہو، کتاب اللہ کی رو سے اس پر حج کا فریضہ عائد نہیں ہوتا، البتہ سنت کی رو سے ہوتا ہے، چنانچہ ایسے شخص پر کسی دوسرے کو اپنی طرف سے حج پر مامور کرنا ایسے ہی لازم ہوگا جیسے قدرت کی صورت میں خود حج کرنا لازم ہوتا۔ یوں کتاب اللہ سے حج کی فرضیت ان لوگوں کے لیے ثابت ہوتی ہے جو خود سفر کر کے پہنچ سکتے ہوں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ایسے معذوروں پر حج کی فرضیت ثابت ہوتی ہے جنھیں کوئی ایسا شخص میسر ہو جسے وہ اپنی طرف سے حج پر مامور کر سکیں۔”

اسی نوعیت کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن مجید میں صفا ومروہ کو اللہ کے شعائر قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا ہے کہ حج یا عمرے کے لیے آنے والوں کے لیے ان کا طواف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (البقرة ۱۵۸:۲) آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صفا ومروہ کا طواف محض مباح ہے، یعنی اگر کوئی نہ بھی کرے تو کوئی حرج نہیں۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ حج یا عمرے میں طواف کے بعد صفا ومروہ کی سعی بھی باقاعدہ مناسک میں سے ہے۔ یوں ایک مطلوب ومامور بہ عمل کے متعلق قرآن مجید کا یہ اسلوب (فَلاَ جُنَاحَ عَلَیہِ اَن یَطَّوَّفَ بِہِمَا) باعث اشکال بن جاتا ہے جو بعض تابعین نے بھی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کیا۔ (صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب ان الصفا والمروة من شعائر اللہ، رقم ۴۴۹۵)

امام طحاوی نے اس اشکال کو یوں حل کیا ہے کہ قرآن مجید میں نفی حرج کا پس منظر تو، روایات کے مطابق، صفا ومروہ سے متعلق اہل عرب کے ہاں پایا جانے والا ایک تصور تھا جس کی وجہ سے بعض صحابہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد صفا ومروہ کی سعی کو غیر مشروع سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ اس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل کی کہ صفا ومروہ خدا نخواستہ کوئی غیر اسلامی مقامات نہیں، بلکہ اللہ کے شعائر میں سے ہی ہیں، اس لیے ان کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ گویا آیت کا مقصود فقہی پہلو سے ان کے طواف کا حکم بیان کرنا نہیں، بلکہ دینی واعتقادی تناظر میں لوگوں کے ایک وہم کا ازالہ کرنا تھا۔ جہاں تک سعی کی فقہی وشرعی حیثیت کا تعلق ہے تو اس کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور آپ نے اللہ کی طرف سے صفا ومروہ کو شعائر اللہ قرار دیے جانے اور ان کے طواف میں کوئی مضائقہ نہ ہونے کی وضاحت کے بعد ایک مستقل تشریع کے طور پر انھیں مناسک حج کا ایک لازمی حصہ قرار دیا جس کو ترک کرنا کسی کے لیے جائز نہیں۔ (احکام القرآن ۲/۹۷)

قرآن مجید میں ہدی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے کعبہ تک پہنچنے کی شرط عائد کی گئی ہے (المائدہ ۵۹:۵) اور حالت احصار میں بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر آدمی کے لیے خود حرم تک پہنچنا ناممکن ہو جائے تو بھی ہدی کے اپنے حلال ہونے کی جگہ پر پہنچنے یعنی اس کی قربانی تک وہ بال نہ منڈوائے۔ (البقرہ ۱۹۶:۲) تاہم حدیبیہ کے موقع پر روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہی جانوروں کو ذبح کر دیا جو بظاہر قرآن مجید کی مذکورہ ہدایت کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ امام شافعی نے روایت کی روشنی میں آیت کی تاویل یہ کی کہ یَبلُغَ الہَدیُ مَحِلَّہُ سے مراد یہ ہے کہ اگر حرم تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو پھر وہی جگہ جانور کی قربانی کی جگہ ہوگی جہاں آدمی کو روک دیا گیا ہو۔ امام طحاوی اس تاویل سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کی رائے یہ ہے کہ یَبلُغَ مَحِلَّہُ سے مراد حرم تک پہنچنا ہی ہے اور اسی کو دوسری جگہ ہَدیاً بَالِغَ الکَعبَةِ (المائدہ ۵۹:۵) اور ثُمَّ مَحِلُّہَا الَی البَیتِ العَتِیقِ (الحج ۳۳:۲۲) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ طحاوی روایات کی روشنی میں واضح کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں اس طرح ٹھہرے ہوئے تھے کہ آپ کا قیام تو حدود حرم سے باہر تھا، لیکن نماز آپ حدود حرم کے اندر جا کر ادا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین نے آپ کو بیت اللہ تک جانے سے تو روکا تھا، لیکن حدود حرم میں داخل ہونا ممکن تھا اور ایسی صورت میں یہ نہیں مانا جا سکتا کہ آپ نے حدود حرم میں قربانی ممکن ہونے کے باوجود اس سے باہر جانور ذبح کیے ہوں گے، بلکہ ناجیہ بن جندب اسلمی کی روایت میں تصریح ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ ہدی کے اونٹ ان کے حوالے کر دیں، وہ ایسے راستوں سے ان کو حرم میں لے جا کر ذبح کر دیں گے کہ مشرکین انھیں پکڑ نہیں سکیں گے۔ چنانچہ آپ نے اونٹ ان کے سپرد کر دیے اور انھوں نے حرم میں لے جا کر انھیں ذبح کیا۔ (احکام القرآن ۲/۲۵۲، ۲۵۳؛ شرح معانی الآثار ۲ /۲۴۱، ۲۴۲؛ مختصر اختلاف العلماء۲/۱۹٠)

مذکورہ تمام مثالوں میں امام طحاوی کا یہ رجحان بہت واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے الفاظ کی دلالت کو احادیث کے تابع کرتے ہوئے آیات کی مراد کو احادیث پر محمول کرنے (یعنی انھیں co-extensive قرار دینے) سے گریز کرتے ہیں اور اس کے بجائے کتاب اللہ کے مفہوم کو اس حد تک محدود رکھتے ہوئے جس پر خود اس کے الفاظ دلالت کرتے ہیں، احادیث کو ایک مستقل اور زائد حکم کے طور پر کتاب اللہ سے متعلق کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہی رجحان امام صاحب کے ہاں ایسی مثالوں میں بھی دکھائی دیتا ہے جن میں احادیث، کتاب اللہ کے ظاہری عموم میں تحدید وتخصیص پیدا کرتی ہیں۔

مثلاً قرآن مجید میں اہل ایمان کو حالت احرام میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے : وَحُرِّمَ عَلَیکُم صَیدُ البَرِّ مَا دُمتُم حُرُماً (المائدہ ۹۶:۵) آیت کے الفاظ بظاہر عام ہیں، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ جانوروں کو حدود حرم کے اندر اور باہر، کسی بھی جگہ قتل کرنا مباح ہے۔ امام شافعی نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ آیت اور حدیث میں دو بالکل الگ الگ حکموں کی وضاحت کی گئی ہے۔ آیت میں ان جانوروں کی حرمت بیان کرنا مقصود ہے جو احرام سے پہلے خوراک کے لیے حلال تھے، جبکہ ایسے جانور جو عام حالات میں بھی حرام ہیں، وہ آیت میں زیر بحث ہی نہیں، کیونکہ ان کی حرمت کے لیے سابقہ حکم ہی کافی تھا۔ (الام ۳/۴۶۴، ۴۶۵) امام شافعی کا مدعا یہ ہے کہ چونکہ حرام جانوروں، مثلاً درندوں کو ان کے حملے یا ضرر سے بچنے کے لیے قتل کرنے سے روکنا سرے سے آیت کی مراد ہی نہیں، اس لیے مذکورہ حدیث قرآن کے حکم میں کوئی تخصیص بیان نہیں کر رہی، بلکہ ایک مستقل حکم کی وضاحت کر رہی ہے۔

امام شافعی کی یہ توجیہ قرآن کے الفاظ کی حد تک بظاہر قوی معلوم ہوتی ہے، لیکن امام طحاوی کو اس پر اطمینان نہیں جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس توجیہ کے مطابق حالت احرام میں صرف حلال جانوروں کا شکار ممنوع قرار پاتا ہے، جبکہ دیگر موذی جانوروں کو ان کی طرف سے کسی خطرے کے بغیر بھی قتل کرنے کی اباحت ثابت ہوتی ہے، جبکہ احرام کی روح کا تقاضا یہ ہے کہ محرم سے کسی ناگزیر ضرورت اور مجبوری کے بغیر کسی جان دار کو نقصان نہ پہنچے۔ چنانچہ امام طحاوی، امام شافعی کی اس توجیہ کے مقابلے میں ایک دوسری تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں جس کی رو سے آیت کا مدعا ہر طرح کے جانوروں کے شکار کی ممانعت بیان کرنا ہے، چاہے وہ حلال ہوں اور ذبح کیے جاتے ہوں یا ان کا شکار کیا جاتا ہو یا وہ سرے سے حرام ہوں۔ طحاوی کہتے ہیں کہ حالت احرام میں تحریم کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اس سے پہلے مباح تھا، بلکہ جو چیز پہلے سے ممنوع ہو، کسی خاص حالت میں مزید تاکید کے طور پر اس کی حرمت دوبارہ بھی بیان کی جا سکتی ہے۔ (احکام القرآن ۲/۵۴، ۵۶) اس تفسیر کی روشنی میں امام طحاوی حدیث میں وارد اباحت کو قرآن کے عموم میں تخصیص قرار دیتے ہیں، البتہ ان کے نزدیک یہ اباحت صرف ان پانچ جانوروں تک محدود نہیں، بلکہ اس طرح کے دیگر جانوروں کو بھی قتل کرنا جائز ہوگا ۔ (شرح مشکل الآثار، ۹/۱۱٠، ۱۱۱، ۱۱۲) مراد یہ ہے کہ یہ تخصیص ایک علت پر مبنی ہے، یعنی کسی درندے کا حملہ آور ہونا یا اس سے ضرر پہنچنے کا خوف اسے قتل کرنے کو جائز بنا دیتا ہے۔ چنانچہ یہ اباحت صرف ان پانچ جانوروں تک محدود نہیں، بلکہ علت کی روشنی میں دیگر جانوروں کو بھی قتل کرنا جائز ہوگا جن سے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

قرآن مجید میں غنیمت اور فے کے اموال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذوی القربیٰ کے حق کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ (الانفال ۴۱:۸؛ الحشر ۷:۵۹) اس حکم میں مختلف احتمالات موجود ہونے کی وجہ سے اہل علم کے مابین اس حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ذوی القربی میں آپ کے قبیلے یعنی قریش کے سب خاندان شامل ہیں یا یہ صرف بعض مخصوص خاندانوں مثلاً بنو ہاشم او ربنو عبد المطلب تک محدود ہے۔ پھر یہ کہ آیا غنیمت اور فے میں یہ ان قرابت داروں کا کوئی لازم اور واجب شرعی حق تھا جس سے انھیں محروم رکھنے کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواختیار نہیں تھا یا اس کا تعلق آپ کی صواب دید سے تھا۔ اسی طرح یہ کہ ان کے حق دار ہونے کی وجہ آپ کے ساتھ ان کی قرابت تھی یا وہ بھی یتامی ومساکین اور مسافروں کی طرح حاجت اور فقر کی صورت میں ہی غنیمت یا فے میں سے کوئی حصہ وصول کرنے کا حق رکھتے تھے۔

امام شافعی نے اس حوالے سے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ذوی القربی کے الفاظ اگرچہ عام ہیں اور بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قرابت دار اس کے تحت داخل ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کو خمس میں سے حصہ دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ذوی القربیٰ سے تمام اقرباءنہیں، بلکہ بعض مراد ہیں۔ (الام ۱/۳۱)تاہم امام طحاوی اس سے اختلاف کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث، صحابہ کے آثار اور مختلف قیاسی دلائل کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ذوی القربی میں قریش کے سب خاندان شامل تھے اور غنیمت یا فے میں ان کا حق فقر یا حاجت کی وجہ سے نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری کی وجہ سے مقرر کیا گیا تھا، تاہم یہ کوئی لازم وواجب شرعی حق نہیں تھا، بلکہ حسب مصلحت انھیں اس میں سے کچھ دینا یا نہ دینا اور بعض خاندانوں کو دینا اور بعض کو نہ دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صواب دید پر منحصر تھا۔ امام طحاوی کا استدلال یہ ہے کہ ذوی القربیٰ کی تعبیر عام ہے اور اسے بعض خاندانوں تک محدود کرنے کی کوئی نقلی یا عقلی دلیل موجود نہیں، اس لیے اصولاً قریش کے تمام خاندان اس مد میں سے حصہ پانے کا حق رکھتے تھے۔ جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کو حصہ دینے اور باقی خاندانوں مثلاً بنو امیہ اور بنو نوفل کو محروم رکھنے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ذوی القربی میں شامل نہیں تھے، بلکہ یہ تھی کہ آپ نے اپنے صواب دیدی اختیار کے تحت زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام میں بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی طرف سے حاصل نصرت ومعاونت کی روشنی میں انھی کو ترجیح دینا مناسب خیال فرمایا۔ (شرح معانی الآثار ۳/۲۸۱ تا ۳۱۱)

قرآن مجید کی آیت قُل لاَّ اَجِدُ فِی مَا اُوحِیَ الَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطعَمُہُ میں حرام اشیاءکو صرف چار چیزوں یعنی مردار، خون، خنزیر کے گوشت، غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے جانے والے جانور میں محصور قرار دیا گیا ہے۔ (الانعام ۱۴۵:۶) تاہم احادیث میں گھریلوگدھوں، چنگال والے پرندوں اور کچلی والے درندوں کی حرمت بھی وارد ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الذبائح والصید، باب لحوم الحمر الانسیة، رقم ۵۵۲۷؛ صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح وما یوکل من الحیوان، رقم ۱۹۳۴) امام شافعی نے اس تعارض کو اس طرح رفع کیا ہے کہ آیت کے الفاظ اگرچہ بظاہر عام ہیں، لیکن وہ ایک مخصوص تناظر میں وارد ہوئے ہیں، یعنی یہاں صرف وہ جانور زیر بحث ہیں جنھیں اہل عرب حلال سمجھتے تھے۔ امام شافعی اس کا پس منظر یوں واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرام اور حلال کے ضمن میں چیزوں کے پاکیزہ اور ناپاک ہونے کو معیار قرار دیا ہے۔ چونکہ حکم کے مخاطب اہل عرب ہیں، اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کو اہل عرب طیب سمجھتے ہیں، وہ حلال اور جن کو وہ خبیث سمجھتے ہیں، وہ حرام ہیں۔ البتہ بعض چیزوں کے معاملے میں وہ غلطی میں مبتلا تھے اور چار ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے جو درحقیقت خبیث تھیں۔ قرآن مجید نے زیر بحث آیت میں دراصل اس کی اصلاح کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ یہ چار چیزیں طیبات میں داخل نہیں ہیں۔ (الام ۳/۶۲۷، ۶۲۸)

یہ توجیہ بظاہر اشکال کو رفع کر دیتی ہے، تاہم امام طحاوی اس پر مطمئن دکھائی نہیں دیتے اور اس کے بجائے آیت کو چار اشیاءکے علاوہ باقی چیزوں کی اباحت کے عمومی حکم کا بیان قرار دیتے ہوئے احادیث میں وارد محرمات کو اس اباحت میں استثناءکی حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔ (شرح مشکل الآثار ۹/۱٠۸؛ شرح معانی الآثار ۴/۲۱٠) اس حوالے سے ان کی رائے کی وضاحت سابقہ سطو رمیں کی جا چکی ہے۔ اس ضمن میں امام شافعی کی توجیہ پر انھیں کیا اشکال ہے، اس کی کوئی وضاحت تو امام طحاوی نے نہیں کی، لیکن بہرحال ان کی رائے سے یہ رجحان بالکل واضح ہے کہ وہ کتاب اللہ کی ظاہری دلالت کو برقرار رکھتے ہوئے ہی کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو متعین کرنا چاہتے ہیں۔

کتاب اللہ کے معارض روایات کی تاویل یا تنقید

کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو اس کی مستقل حیثیت میں برقرار رکھنے اور اسے احادیث کے تابع نہ کرنے کے اسی رجحان کا اظہار امام طحاوی کے ہاں ان مثالوں میں بھی ہوتا ہے جہاں وہ کتاب اللہ کے ظاہر سے متعارض روایات کی ایسی توجیہ پر اصرارکرتے ہیں جس سے کتاب اللہ کی دلالت مجروح نہ ہو، جبکہ بعض صورتوں میں وہ ایسی روایات کو کلیتاً رد بھی کر دیتے ہیں۔ امام طحاوی کی آرا میں اس کی متعدد مثالیں پائی جاتی ہیں:

۱۔ فاطمہ بنت قیس کی روایت کے متعلق امام شافعی نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ اس کا مستند طریق وہ ہے جس میں مطلقہ ثلاثہ کے لیے دوران عدت میں صرف نفقہ کی نفی کی گئی ہے، اور یہ حکم قرآن مجید کے عین مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة الطلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت تو سب عورتوں کے متعلق دی ہے اور یہ حکم عام ہے، لیکن نفقہ ادا کرنے کی پابندی صرف حاملہ عورتوں کے حوالے سے لازم کی ہے۔ جہاں تک آپ کے فاطمہ کو شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم دینے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروئے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہائش مہیا کی جائے گی۔ (الام، ۶/۲۸٠، ۲۸۱)

امام طحاوی نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کی رائے میں اس توجیہ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ سیدنا عمر، سیدہ عائشہ اور دیگر فقہائے صحابہ وتابعین جنھوں نے فاطمہ کی روایت کو رد کیا، درحقیقت ان کی روایت کو سمجھ نہیں سکے، ورنہ وہ اس کا انکار نہ کرتے۔ ان حضرات کے انکار کا مطلب یہی بنتا ہے کہ فاطمہ کی روایت کا ظاہری مفہوم وہی تھا جو وہ خود سمجھ رہی تھیں، یعنی یہ کہ ایسی حالت میں عورت سرے سے نفقہ اور سکنی کی حق دار ہی نہیں، اور یہ بات بہرحال قرآن اور سنت کے خلاف ہے اور سیدنا عمر اور دیگر صحابہ کا اسے قبول نہ کرنے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ طحاوی لکھتے ہیں:

خالفت بذلک کتاب اللہ نصا، لان کتاب اللہ تعالی قد جعل السکنی لمن لا رجعۃ لھا، وخالفت سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان عمر رضی اللہ عنہ قد روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاف ما روت، فخرج المعنی الذی منہ انکر علیھا عمر رضی اللہ عنہ ما انکر خروجا صحیحا، وبطل حدیث فاطمۃ فلم یجب العمل بہ اصلا (شرح معانی الآثار ۳/۷٠)

“فاطمہ نے اس روایت میں کتاب اللہ کے صریح حکم کی مخالفت کی ہے، کیونکہ اللہ کی کتاب نے ان عورتوں کو بھی رہائش کا حق دیا ہے جن سے رجوع کی گنجائش نہ ہو۔ فاطمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی بھی مخالفت کی ہے، کیونکہ سیدنا عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فاطمہ کی روایت کے خلاف حکم نقل کیا ہے۔ چنانچہ جس بنیاد پر سیدنا عمر نے فاطمہ کی روایت پر اعتراض کیا، وہ بالکل درست ہے اور فاطمہ کی روایت باطل ہے جس پر عمل کرنا اصلاً واجب نہیں ہے۔”

البتہ امام طحاوی اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ فاطمہ کی روایت کی ایک احتمالی توجیہ ایسی کی جا سکتی ہے جس سے قرآن کے ساتھ اس کا تعارض ختم ہو جائے۔ اس ضمن میں وہ امام شافعی ہی کی بیان کردہ توجیہ کو وسعت دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جس طرح اس بات کا امکان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو شوہر کے گھر میں رہائش نہ دلوانے کا فیصلہ اس کی تیز مزاجی اور زبان درازی کی وجہ سے فرمایا ہو، اسی طرح اسے نفقہ نہ دلوائے جانے کی وجہ بھی اسی چیز کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی چونکہ وہ ناشزہ تھی اور اپنے رویے کی وجہ سے اسے رہائش کی سہولت سے محروم کیا جا رہا تھا، اس لیے اسی اصول کے تحت اس کے شوہر کو اسے نفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سے بھی بری کیا جا سکتا تھا۔ یوں یہ پورا واقعہ ایک خاص استثنائی نوعیت کا حامل بن جاتا ہے جس سے مطلقہ ثلاثہ کے لیے نفقہ وسکنی کا عمومی شرعی حکم تو اخذ نہیں کیا جا سکتا، البتہ ایک تعزیری نوعیت کے فیصلے کے طور پر اس کی توجیہ کی جا سکتی ہے۔ (شرح معانی الآثار ۳/۷۱)

۲۔ قرآن مجید میں ’وَاُمَّھَاتُکُمُ اللاَّتِی اَرضَعنَکُم  (النساء۲۳:۴) کے الفاظ میں بظاہر کسی تفصیل کے بغیر بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو اس پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ تاہم احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا گیا ہے کہ ایک یا دو مرتبہ (عورت کا پستان) چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ (صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب فی المصة والمصتان، رقم ۱۴۵٠)

امام طحاوی کے نزدیک اس روایت کی توجیہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق ابتدا میں قرآن مجید میں حرمت رضاعت کے لیے دس دفعہ دودھ پلائے جانے کی قید نازل کی گئی تھی، پھر بعد میں اسے منسوخ کر کے پانچ دفعہ دودھ پلائے جانے کو حرمت کی بنیاد قرار دیا گیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب التحریم بخمس رضعات، رقم ۳۵۹۷) امام طحاوی کی رائے میں اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ (چونکہ موجودہ قرآن میں ایسی کوئی قید مذکور نہیں، اس لیے) پانچ دفعہ کی قید بھی بعد میں منسوخ کر دی گئی اور مطلقاً کسی بھی مقدار میں بچے کو دودھ پلانے کو حرمت رضاعت ثابت ہونے کا موجب قرار دیا گیا۔ طحاوی اس قیاس کی تائید میں یہ نکتہ بھی پیش کرتے ہیں کہ لا تحرم المصة ولا المصتان کی روایت کے ایک راوی عروہ بن زبیر بھی ہیں، لیکن ان کا اپنا فتویٰ یہ تھا کہ بچے کے ایک قطرہ دودھ پینے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ عروہ کا اپنی ہی نقل کردہ روایت کے خلاف فتویٰ دینا اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ان کے علم میں اس روایت کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ہو۔ (شرح مشکل الآثار، ۱۱ /۴۸۵، ۴۸۶) ایک دوسری جگہ طحاوی نے سیدہ عائشہ کی روایت کے اس جملے کو کہ ’فتوفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہی فی ما یقرا من القرآن‘ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ الفاظ قرآن میں پڑھے جاتے تھے) کو منکر قرار دیا ہے، کیونکہ اگر یہ بات درست ہو کہ کوئی آیت قرآن مجید کا حصہ ہے، لیکن موجودہ مصحف میں شامل نہیں تو کسی بھی حکم کے بارے میں یہ امکان ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایسی آیت سے منسوخ ہو چکا ہے جو مصحف میں شامل نہیں۔ (مختصر اختلاف العلماء۲/۳۱۶، ۳۱۷)

۳۔ سورہ محمد میں اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدیوں کے متعلق ہدایت دی ہے کہ فَامَّا مَنّاً بَعدُ وَامَّا فِدَاءً (محمد ۴:۴۷) یعنی گرفتار کرنے کے بعد یا تو انھیں احسان کے طور پر بلا معاوضہ چھوڑ دیا جائے اور یا ان سے رہائی کے عوض فدیہ وصول کیا جائے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ آیت اپنے ظاہر کے اعتبار سے قیدیوں کو قتل کرنے سے منع کرتی ہے اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے ایک جنگی قیدی کو اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے قتل کرنے سے انکار کر دیا۔ امام طحاوی اس آیت کی روشنی میں جمہور فقہاءکے موقف سے اختلاف کرتے ہیں جو قیدی کو قتل کرنے کے جواز کے قائل ہیں اور اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے استدلال کرتے ہیں کہ آپ نے، مثال کے طور پر، جنگ بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کر دیا تھا۔ طحاوی لکھتے ہیں کہ :

وھذا لا یخلو اما ان تکون منسوخۃ فلا یعمل بھا او ثابتۃ فلا یتعداھا (مختصر اختلاف العلماء۳/۴۷۹)

“اس کے متعلق یا تو یہ امکان ہے کہ یہ اجازت منسوخ ہو چکی ہے، اس لیے اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا، اور یا یہ کہ منسوخ تو نہیں ہوئی، لیکن اس خاص واقعے تک محدود ہے۔”

طحاوی کی مراد یہ ہے کہ یہ عمل یا تو منسوخ ہو چکا ہے یا ایک خصوصی واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص وجہ سے ان قیدیوں کو قتل کیا، لیکن یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے۔

۴۔ قضاءبالیمین مع الشاہد کی بحث میں امام طحاوی کا موقف، ائمہ احناف کی رائے کے مطابق، یہ ہے کہ اس ضمن میں ابن عباس کی روایت باعتبار سند قابل استدلال نہیں۔ نیز یہ ’البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر‘ کے عمومی اصول کے علاوہ قرآن مجید کی اس ہدایت کے بھی معارض ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے قاضی کو مدعی سے دو مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں طلب کرنی چاہییں۔ (مختصر اختلاف العلماء۳/۲۴۲، ۲۴۳)

۵۔ بعض احادیث میں بیوی کو اپنے مال میں سے کسی کو تحفہ دینے کے لیے شوہر سے اجازت لینے کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ (سنن ابی داود، کتاب البیوع، ابواب الاجارة، رقم ۳۱۴۶)امام طحاوی فرماتے ہیں کہ قرآن مجید اور متعدد احادیث کی روشنی میں عاقل بالغ عورت کو اپنے مال پر مکمل مالکانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں اور وہ اس میں کسی بھی قسم کے تصرف کے لیے شوہر سے اجازت لینے کی پابند نہیں ہے۔ اس لیے مذکورہ روایت ایک شاذ روایت ہے جس کی وجہ سے واضح آیات اور سنت ثابتہ کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ لکھتے ہیں :

فکیف یجوز لاحد ترک آیتین من کتاب اللہ عزوجل وسنن ثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متفق علی صحۃ مجیئھا الی حدیث شاذ لا یثبت مثلہ؟ (شرح معانی الآثار ۴ /۳۵۳)

“کسی کے لیے کیسے روا ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن مجید کی دو آیتوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متفقہ طور پر صحت کے ساتھ ثابت سنت کو ایک شاذ حدیث کی وجہ سے ترک کر دے جو ثابت ہی نہیں ہے؟”

امام طحاوی نے قرآن مجید کے ساتھ موافقت کے اصول کو متعارض روایات کے مابین ترجیح قائم کرنے کے لیے بھی برتا ہے۔ مثلا

۶۔ صلاة الخوف سے متعلق بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی امامت کرتے ہوئے دو رکعتیں جبکہ صحابہ کی دونوں جماعتوں نے آپ کے پیچھے صرف ایک ایک رکعت ادا کی۔ (سنن ابی داود، کتاب صلاة السفر، باب من قال یصلی بکل طائفة رکعة ولا یقضون، رقم ۱۲۴۶، ۱۲۴۷) چونکہ قرآن مجید کی رو سے حالت خوف میں نماز کو قصر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے مطابق ہر شخص کے لیے دو دو رکعتیں ادا کرنا لازم ہے، اس لیے امام طحاوی لکھتے ہیں کہ جس حدیث کو کتاب اللہ کی نص رد کرتی ہو، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ (شرح معانی الآثار، ۱/۳٠۹)

۷۔ صلاة الخوف ہی کی بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز کی امامت کروائی کہ صحابہ کی ایک جماعت دشمن کے سامنے اور ایک آپ کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور اور دونوں جماعتیں اپنی اپنی جگہ پر تکبیر کہہ کر ابتدا ہی سے آپ کی اقتدا میں نماز میں شامل ہو گئیں، البتہ جو جماعت آپ کے پیچھے کھڑی تھی، وہ پہلی رکعت میں رکوع اور سجدے میں آپ کی اقتدا کرتی رہی، جبکہ دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ (سنن ابی داود، کتاب صلاة السفر، باب من قال یکبرون، رقم ۱۲۴٠) امام طحاوی لکھتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ طریقے کے مطابق دوسری جماعت کو شروع سے نہیں، بلکہ ایک رکعت ادا ہو جانے کے بعد امام کے ساتھ شریک ہونا چاہیے (النساء، ۴: ۱٠۲) جبکہ مذکورہ حدیث کے مطابق دونوں گروہ آغاز ہی سے جماعت میں شریک تھے۔ (شرح معانی الآثار، ۱/۳۱۵)

۸۔ اگر کوئی شخص حالت احرام میں ہو اور وہ کسی ایسے شخص کے شکار کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا چاہے جو محرم نہ ہو تو بعض احادیث میں اس کی ممانعت کی گئی ہے (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب تحریم الصید للمحرم، رقم ۱۱۹۳) جبکہ بعض میں اسے مباح قرار دیا گیا ہے۔ (سنن ابی داود، کتاب المناسک، باب لحم الصید للمحرم، رقم ۱۸۵۱) امام طحاوی ان میں سے دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قرآن مجید سے حالت احرام میں آدمی کے لیے جس چیز کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، وہ جانور کو شکار کرنا ہی ہے نہ کہ شکار کا گوشت کھانا، (المائدہ ۵: ۹۵ ، ۹۶) اس لیے اگر کسی دوسرے شخص نے شکار کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا گوشت کھانے کی ممانعت نہیں ہے۔ (شرح معانی الآثار ۲ /۱۷۵)

حاصل بحث

سابقہ صفحات میں کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں فقہ وحدیث کے جلیل القدر امام، ابوجعفر الطحاویؒ کے اصولی رجحانات کا جائزہ اور متعدد مثالوں کی روشنی میں ان کی توضیح پیش کی گئی ہے۔ اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب وسنت کے باہمی تعلق کے سوال کے حوالے سے امام شافعی اور حنفی اصولیین نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر کے حق میں جو استدلال پیش کیا، امام طحاوی ان دونوں کے وزن کو محسوس کرتے تھے جس کا اظہار ان کے ہاں بہت سی مثالوں میں امام شافعی کے اصولی موقف کی طرف، جبکہ بہت سی دوسری مثالوں میں حنفی اصولیین کے موقف کی طرف جھکاؤ کی صورت میں ہوتا ہے۔

امام طحاوی کے ہاں ان دو متخالف رجحانات کی توجیہ دونوں زاویوں سے ممکن ہے۔ اس کی یہ تعبیر بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ سنت کی تشریعی حجیت کے تناظر میں اصولی طور پر قرآن کی مراد کی تبیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دینا چاہتے ہیں، چاہے اس کے ظاہری قرائن قرآن میں موجود ہوں یا نہ ہوں، لیکن بہت سی مثالوں میں جب آیات کی ظاہری دلالت اور متعلقہ احادیث کی دلالت کو دیکھتے ہیں تو دونوں کے ظاہری تفاوت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں پاتے۔ اس مشکل کے حل کے لیے وہ ترجیحاً یہ کوشش کرتے ہیں کہ آیات اور احادیث کے باہمی تعلق کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ آیات کی ظاہری دلالت بھی برقرار رہے اور احادیث میں وارد زیادت وتخصیص کو بھی قرآن کے حکم میں تبدیلی یا نسخ کا مظہر قرار دیے بغیر اسے حکم کا حصہ بنایا جا سکے۔ یہاں تک ان کے زاویہ نظر پر امام شافعی کا رجحان غالب رہتا ہے۔ تاہم بعض مثالوں میں وہ تطبیق وتوجیہ کے مذکورہ طریقے کو موثر نہ پاتے ہوئے کتاب وسنت کے احکام کے باہمی تعلق کی توجیہ نسخ کے اصول پر کرنے کی گنجائش بھی باقی رکھتے ہیں اور بعض مثالوں میں کتاب اللہ کے معارض ہونے کی بنا پر اخبار آحاد کو بالکل رد کر دینے کا موقف بھی اختیار کر لیتے ہیں اور یوں اپنے اصولی منہج کے اختتام پر ان کا زاویہ نظر حنفی اصولیین کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

اس کے بالکل برعکس ان کے زاویہ نظر کی یہ توجیہ بھی بالکل ممکن ہے کہ وہ بنیادی اصول کے طور پر حنفی فقہاءکے اس موقف کو مبنی بر صواب سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید اپنی مراد کی وضاحت میں خود مستقل حیثیت رکھتا ہے اور سنت میں وارد کسی وضاحت کو قرآن کی تبیین قرار دینا اسی صورت میں درست ہے جب خود قرآن کا بیان فی نفسہ ذو الوجوہ اور محتمل ہو۔ اگر قرآن کا بیان بذات خود واضح ہو اور کسی پہلو سے محتاج وضاحت نہ ہو تو سنت میں وارد کسی بھی زیادت یا تخصیص کو، اگر وہ قابل اطمینان درجے میں ثابت ہو، قرآن کا بیان نہیں کہا جائے گا،بلکہ اسے نسخ اور تغییر کے اصول پر قبول کیا جائے گا۔ حنفی فقہاءکے موقف سے اس اصولی اتفاق کے بعد وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف حنفی فقہاءبہت سی مثالوں میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کو بالکل قطعی سمجھ رہے ہیں، حالانکہ وہ اتنا قطعی نہیں اور دوسری طرف کئی مثالوں میں امام شافعی قرآن کے داخلی قرائن واشارات پر زیادہ توجہ دیے بغیر سادہ طور پر احادیث کو قرآن کا بیان قرار دینے کے اصول کا اطلاق کر رہے ہیں جس سے قرآن کی اپنی دلالت کی حیثیت ثانوی دکھائی دینے لگتی ہے، جبکہ ان مثالوں میں قرآن کی ظاہری دلالت میں اس گنجائش کو واضح کیا جا سکتا ہے جس سے احادیث میں وارد اضافے ظاہر قرآن کے منافی نہ رہیں۔ اس مرحلے پر ان کا جھکاؤ اصولی طور پر امام شافعی کے موقف کی طرف ہو جاتا ہے، تاہم ان کی اختیار کردہ پوزیشن میں حنفی اصولیین کے نقطہ نظر سے بھی کوئی اصولی اختلاف رونما نہیں ہوتا۔ البتہ اس سے اگلے مرحلے پر وہ بعض مثالوں میں قرآن کے بیان میں تخصیص کے داخلی قرائن کی وضاحت یا، متبادل امکان کے طور پر، سنت کے احکام کو قرآن کے ساتھ نسخ کے اصول پر متعلق کیے بغیر بالکل سادہ طور پر یہ قرار دیتے ہیں کہ قرآن کے ظاہری عموم سے اصل مراد وہی ہے جو سنت سے واضح ہوتی ہے۔ یوں ان کا اصولی موقف آخری نتیجے کے لحاظ سے امام شافعی کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

دونوں میں سے جو بھی تعبیر زیادہ درست ہو، یہ حقیقت بہرحال واضح ہوتی ہے کہ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے اتنی سادہ نہیں ہے کہ کسی ایک رجحان کے مقابلے میں دوسرے رجحان کو فیصلہ کن اور قطعی انداز میں ترجیح دی جا سکے۔ دونوں زاویوں میں ایک منطقی وزن موجود ہے جو علمی وعقلی طور پر متاثر کرتا ہے اور بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرنے والے اکابر اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرتے ہیں۔ اس بحث سے حنفی اصولیین کے زاویہ نظر کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے جنھوں نے امام شافعی کے، کتاب اللہ کے بیانات کو مطلقاً محتمل الدلالة قرار دے کر ان کی مراد کی تعیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دینے کے موقف کے مقابلے میں قرآن کے بیانات کو، ان کی داخلی دلالت کے لحاظ سے محتمل الدلالة اور غیر محتمل الدلالة میں تقسیم کرنے اور کتاب اللہ کے ساتھ سنت کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے تبیین کے ساتھ ساتھ نسخ کے اصول کو بھی بروئے کار لانے کا موقف پیش کیا جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کتاب اللہ کی دلالت کو اس کی مستقل حیثیت میں برقرار رکھا جائے اور کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو متعین کرتے ہوئے ایسا اصولی موقف اختیار نہ کیا جائے جس میں کتاب اللہ کی ظاہری دلالت کی قدر وقیمت کو کم یا غیر اہم تصور کرنے کا پہلو مضمر ہو اور جس کا نتیجہ کتاب اللہ کی مراد متعین کرنے کے سوال کو سادگی کے ساتھ احادیث کے سپرد کر دینے کی صورت میں نکلتا ہو۔ حنفی اصولیین کے اس مضبوط علمی وعقلی موقف کے وزن کو محسوس کرتے ہوئے امام طحاو ی نے اصولی طور پر امام شافعی کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے بھی، اپنے دوسرے رجحان کے تحت بہت سی مثالوں میں کتاب وسنت کے تعلق کو زیادہ گہرے غور وخوض کے ساتھ اور اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے متعین کرنے کی کوشش کی کہ کتاب اللہ کی ظاہری دلالت مجروح نہ ہو اور اس میں غیر متبادر تاویلات سے کام نہ لیا جائے۔ یہ اس بحث میں امام طحاوی کا بہت اہم حصہ (contribution) ہے جو بجا طورپر انھیں بڑے اصولی نظریہ سازوں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔


حواشی


(۱) غالباً طحاوی اس طرف متوجہ نہیں ہو سکے کہ آیت کو ظاہری مفہوم پر رکھتے ہوئے بھی شان نزول کی روایات کو درست مانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر نشے کی حالت میں سرے سے مسجد میں آنے ہی کی ممانعت کی گئی ہو تو اس سے نماز کی ممانعت بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔


مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۲)

مراد علوی

جاوید احمد غامدی  کاموقف:

عمار خان ناصر صاحب نے ” جہاد ایک مطالعہ“ میں مولانا کی فکرِ جہاد کے بارے میں اگر چہ لکھا ہے  کہ مولانا کی فکرِ جہاد  میں ارتقا  پایا جاتا ہے،1  لیکن  آگے انھوں  نے ” الجہاد فی الاسلام“ اور ” تفہیم القرآن“ کی  تعبیرات  کو تضاد اور پریشان  خیالی سے موسوم کیا  ہے۔2  مولانا نے  ”الجہاد فی الاسلام“ میں ”مصلحانہ جہاد“  کے تصور کو جس اساس کھڑا  کیا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  جو حکومتیں غیر الٰہی بنیادوں پر کھڑی ہیں، ان  کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اس نظریے اور مولانا کی بعد کی تحریروں  میں  عمار صاحب کو  توافق اور یکسوئی نظر نہیں آرہی۔  مولانا کی تحریروں میں قانونی بحث موجود ہے، اس وجہ سے  شوکت ِ کفر  کو مولانا مودودی کا تخیل قرار دے کر ہدفِ تنقید بنا نا  انصاف کے منافی ہے۔ علت القتال کی بحث عموماََتین آرا  میں تقسیم کی جاتی ہے: شوکتِ کفر ، کفر، اور محاربہ ۔ موجودہ دور میں بیشتر لوگ مولانا کو مقدم الذکر رائے کا بانی باور کراتے ہیں۔ فقہ اسلامی میں داراالاسلام کا تصور مسلمانوں کی political theory اورpower theory  کے طور پر موجود ہے لیکن اس کا دوسرا اہم پہلو قانونی ہے، جس کے بغیر  دارالاسلام کا تصور ادھورا   رہ جاتا ہے ۔ مزید برآں اگر قانونی پہلو کو نظر انداز کردیا جائے تو الجھنوں کا  نہ ختم ہونے والا باب کھل جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث اپنے مقام پر آرہی ہے، یہاں صرف یہ واضح  کرنا ہے کہ نظری اور قانونی پہلوؤں کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔ مولانا مودودی کے ہاں  بھی جہاں غایت القتال شوکتِ کفر ہے، وہ نظری تناظر میں ہی ہے۔ علاوہ ازیں پچھلی بحث میں واضح کیا گیا تھا کہ بعض دوسرے  علما میں کی بھی یہی رائے ہے۔  اس کی وجہ سے زیرِ نظر حصہ جناب جاوید احمد غامدی (پ: ١٩٥١ء) کی آرا پر مشتمل ہے۔ غامدی صاحب  بھی ایک دور میں اسی نظریے کے حامل رہے ہیں۔ عمار صاحب نے اپنی  فاضلانہ تحقیق میں غامدی صاحب کی رائے نقل کرتے ہوئے ان کی ابتدائی دور کی آرا  کو بالکل نظر انداز کردیا، جب کہ  مولانا  مودودی  کے ابتدائی دور  کو پیشِ نظر  رکھ کر آخر میں اس کو تضاد اور پریشان خیالی سے تعبیر کیا ہے۔ 3

چنانچہ ” جہاد ایک مطالعہ“ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غامدی صاحب روزِ  اول  سے اسی فکر کے حامل ہیں۔   مولانا مودودی پر جو تحقیق کی گئی ہے ، اسی طرح غامدی صاحب پر ایک تحقیقی مطالعہ کی ضرورت  ہے۔  یہ تحریر اس کا  ایک کا آغاز سمجھا جائے، لیکن ایک مشکل در پیش ہے کہ   غامدی صاحب کے دونوں ادوار کی آرا  میں  واضح تضادات کو ان کے ہاں فکر ی ارتقا  سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس ” ارتقا“ کے اصول ابھی تک معلوم نہ ہوسکے کہ کس طرح فکر یکسر تبدیل ہوسکتی ہے4 ۔ مزید یہ کہ غامدی صاحب دونوں ادوار میں  قطعیت کے ساتھ کہتے رہے ہیں کہ  ” میں ہمیشہ سے یہی کہتا آرہا ہوں“۔5  فکر میں اتنی بڑی تبدیلی کے ہوتے ہوئے  یہ اصرار فی الواقع پریشان خیالی ہے۔ تاہم  ”اشراق“ کی پرانی فائلوں سے غامدی صاحب کے بعض اقتباسات پیش کیے جائیں گے، جس میں انھوں نے اسی فکر کا اظہار کیا ہے جو مولانا مودودی نے “الجہاد فی الاسلام“ میں پیش کی ہے۔  غامدی صاحب کے اس دور کی فکر اصلا مولانا مودودی ہی سے  ماخوذ نظر آتی ہے۔6   زیرِ نظر تحریر میں ہمارے پیشِ نظر صرف غامدی صاحب کی فکرِ جہاد  اورتصورِ غلبۂ دین  ہیں، اس لیے بحث  انہی   مباحث تک محدود رکھی جائے گی۔

غلبۂ دین:

غامدی  صاحب کے تصورِ غلبۂ دین اور بیسویں صدی کی اسلامی تحریکوں کے تصور میں  سرِ مو فرق نہیں، البتہ نصوص سے استدلال  اور بعض نصوص  کی تعبیر اور تشریح میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن بنیاد ی نظریہ کے ساتھ متفق ہیں۔ یعنی غامدی صاحب کو دین غالب کرنے کی تعبیر سے کوئی  اختلاف نہیں لیکن اپنی ہم عصر مسلم فکر کے ساتھ اس بات میں مختلف الخیال نظر آتے ہیں کہ غلبۂ دین کے لیے جن نصوص سے وہ  استدلال کرتے ہیں، وہ درست نہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک اس کے برعکس غلبۂ دین کے لیے دوسری قرآنی آیتیں ہیں، جو غلبۂ دین کا قرآنی مستدل ہے۔ غامدی صاحب نے اس کا اظہار ڈاکٹر اسرار احمد (٢٠١٠ء-١٩٣٢ء) کے تصورِ غلبۂ دین  پر نقد کرتے ہوئے کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

” غلبۂ دین  کے معنی، قرآن مجید کی رو سے یہی ہیں کہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار دینِ خداوندی کی حاکمیت کو پورے شعور اور کامل ارادے کے ساتھ تسلیم کرلے۔ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت کی بالادستی قائم ہوجائے۔ دین کے جو احکام اجتماعی زندگی میں نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ فی الواقع نافذ ہوں۔ قرآن و سنت کے خلاف ہر چیز کالعدم قرار پائے۔ نظامِ اجتماعی، اصول و فروع، ہر چیز میں نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع بن جائے اور مسلمان حکومت  اس جہاد و قتال کے لیے تیار ہوجائے جس کی غایت قرآنِ مجید میں یہ بیان کی گئ ہے کہ وہ قومیں جو دینِ حق کو اختیار کرنے سے گریزاں اور فتنہ ور فساد کے درپے ہوں، انھیں منصبِ امامت سے معزول کردیا جائے، ان کی خود مختاری ختم ہوجائے اور وہ اسلام کے پیروکاروں کے زیرِ دست بن کر رہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کے اس غلبہ کی جدوجہد، قرآن و سنت کی رو سے، ہر مسلمان پر اس کی استطاعت کے مطابق اور اس کی صلاحیت کے لحاظ سے بہرحال واجب ہے۔ اس حکم  کا  پہلا مرحلہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، خود مسلمان معاشرے میں دین کے نفاذ اور دوسرا مرحلہ دنیا کی قوموں پر اس کا سیاسی غلبہ کا ہے۔ پہلے مرحلے کا حکم سورۃ آلِ عمران میں بیان ہوا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

وَلْتَكُن مِنكُمْ أُمَۃ يَدْعُونَ إِلَی الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (سورۃ آل عمران،آیت ١٠٤)

[اور تمہارے اندر ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے۔]

اس آیت میں جیسا کہ اس کے ترجمہ سے واضح ہے، مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام کے لیے مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، برائی سے روکے اور بھلائی کا حکم دے۔ آیت میں اس کے لیے 'امر' اور 'نھی' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اگر 'یدعون الی الخیر'  پر معطوف نہ ہوتے تو عربیت کی رو سے ان کے معنی محض وعظ و نصیحت کے بھی ہوسکتے تھے۔ لیکن  'یدعون الی الخیر ' کے  بعد 'امر بالمعروف' اور 'نھی عن المنکر' کا منشا یہی ہے کہ یہ کام اختیار و قوت کے ساتھ کیا جائے، جو ظاہر ہے، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ گروہ  امت کی طرف سے سیاسی اقتدار کا حامل ہو۔ چنانچہ نبیﷺ کے بعد مسلمانوں نے اسی ارشاد کی تعمیل میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ  کا  نظام قائم کیا۔  بعد میں جب یہ خلافت منہاجِ نبوت سے ہٹ گئ تو ہمارے علما و صلحا مسلسل اسے اس راستے پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس وقت دنیا کے دسیوں ممالک میں اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ان ممالک میں ان کی خلافت قائم ہے، لیکن بد قسمتی سے منہاجِ نبوت کہیں پر  بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے، قرآنِ مجید کے اس حکم کی رو سے، ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ انفرادی یا اجتماعی مساعی کے ذریعے سے اسے اس راستے پر لانے کی جدوجہد کرے۔ دوسرے مرحلے کا حکم سورۃ توبہ میں آیا، قرآن کا ارشاد ہے:

قَاتِلُوا الذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللہ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرمُونَ مَا حَرمَ اللہ وَرَسُولُہ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَق مِنَ الذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتی يُعْطُوا الْجِزْيَۃ عَن يَدٍ وَھمْ صَاغِرُونَ (سورۃ توبہ،آیت  ٢٩)

[لڑو ان اہلِ کتاب سے جو نہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے، اسے حرام ٹھہراتے اور نہ دینِ حق کی پیروی کرتے ہیں۔ ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہوکر جزیہ ادا کریں اور زیرِ دست بن کر رہیں۔]

یہ آیت اپنے مدعا میں بالکل صریح ہے۔ اس میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ دینِ خداوندی کو اپنا دین بنانے اور اس کے قوانین کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اس کا قطعا کوئی حق نہیں رکھتے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ بھی زمامِ اقتدار ان کے ہاتھ میں ہو۔ اہلِ ایمان، اگر اقتدار کی طاقت اور جہاد کی استطاعت رکھتے ہوں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اتمامِ حجت کے بعد ان کے خلاف جنگ کریں اور زمین کے ہر حصے  میں ان کی خود مختاری و بالادستی ختم کرکے انھیں مجبور کردیں کہ وہ نظامِ صالح کے تابع بن کر زندگی بسر کریں۔ یہی آیت ہے، جس کے حکم کی پیروی میں نبیﷺ اور صحابہ کرام نے عرب کے اہلِ کتاب اور روم و ایران کی حکومتوں کے خلاف جہاد کیا اور دینِ خداوندی کو ان کے بحر و بر اور دشت و جبل پر غالب کردیا۔ اس کا حکم، لاریب، آج بھی باقی اور قیامت تک باقی رہے گا۔ مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ہر وقت اس جہاد کے لیے تیار رہے اور اصحابِ امر جب اس کے لیے پکاریں تو زمین کے ذرے ذرے پر دینِ حق کی فرماں روائی قائم کرنے کے لیے نکل کھڑا ہو۔“7 

یہ مقدمہ دراصل غامدی صاحب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے طریقہ کار پر نقد کرتے ہوئے لکھا ہے۔ غامدی صاحب غلبۂ دین کے لیے مذکورہ دو  آیات کو اساس قرار دیتے ہیں جب کہ ڈاکٹر اسرار صاحب دیگر آیات (سورۃ صف: ٩ ، سورۃ شوریٰ: ١٣)  سے استدلال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جن آیات سے استدال کرتے ہیں، ان  کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کے مشن  کے ساتھ خاص تھیں، جب کہ سطورِ بالا میں مذکور ہوا کہ غامدی صاحب کے بیان کردہ استدلال کے مطابق یہ حکم  قیامت تک باقی رہے گا۔ مذکورہ دو مراحل  کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

” غلبۂ دین کا جو مفہوم ہم نے اوپر اس بحث کے ابتداء میں آلِ عمران آیت ١٠٤ اور توبہ ٢٩ کی رو سے بیان کیا ہے، اس میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ کوئی مطلق حکم نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق مسلمانوں کی اس جماعت سے ہے جو اپنے دائرہ عمل میں سیاسی خود مختاری رکھتی ہو۔“8 

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

”[دین کو غالب کرنے کا] فرض ہونا، بے شک قرآن و سنت کی صریح نصوص سے ثابت ہے۔ دین کی رو سے اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ انھیں اگر معاشرے میں سیاسی اقتدار حاصل ہو تو وہ نہ صرف یہ  کہ ساری دنیا میں میں دینِ حق کو غالب رکھیں، بلکہ پوری دنیا میں اسے غالب کرنے کی جدوجہد کریں۔“ 9

یہاں پر اصل زور جہاد میں حکمران کی اجازت پر دیا جارہا ہے ، لیکن یہ واضح ہوچکا ہے کہ  غامدی صاحب کو غلبۂ دین  کے اس بنیادی تصور کے ساتھ اتفاق ہے۔مزید برآں غامدی صاحب کو صرف غلبۂ دین کو نصب العین بنانے سے اختلاف ہے۔ غلبۂ دین  کی جدوجہد کو وہ فرض مانتے ہیں، اس کو نصب العین نہیں مانتے، لیکن یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے۔  غامدی صاحب پر  ایک سوال میں یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے  کہ آپ حکومت ِالہٰیہ کے قیام کو دین کا نصب العین نہیں سمجھتے اور اس  کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلامی حکومت قائم کرنا10  آپ نے نزدیک ضروری نہیں ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:

” آپ نے میرے موقف کو بالکل غلط سمجھا۔ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد میرے نزدیک، مسلمان معاشرے کے ہر فرد پر واجب ہے اور ہر اسلامی حکومت کے لیے، میرے نزدیک، ضروری ہے کہ اگر اس کے پاس طاقت ہو تو ساری دنیا پر دین غالب کرنے کی سعی کرے۔11  میں نے صرف اس کے نصب العین ہونے کا انکار کیا ہے۔ واجاب اور نصب العین کا فرق ایسی چیز نہیں، جسے سمجھنے میں کسی کو دقت ہو۔“12 

آگے فلسفہ ہجرت کو یو ں واضح کرتے ہیں:

” قرآن و حدیث کی رو سے ہجرت یہ ہے کہ مسلمان اس مقام کو چھوڑ کر جہاں اس کے لیے دین پر قائم رہنا جان جو کھوں کا کام  بن گیا ہو، ایک ایسے مقام کی طرف منتقل ہوجائے جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل پیرا ہوسکے۔ اس حکم کی رو سے اہلِ ایمان کی جماعت کا اقتدار اگر کسی خطہ ارض میں قائم اور اس کی طرف جانے کی راہ کھلی ہو یا کسی علاقے میں آزاد مسلمان ریاست کا قیام ممکن ہو تو کافر حکومتوں کی عمل داری میں رہنا جائز نہیں ہے۔ کوئی شدید مجبوری  اور کوئی غیر معمولی عذر مانع نہ ہو تو اس صورت میں اہلِ ایمان کے لیے اللہ کا حکم یہی ہے کہ وہ دارالکفر سے ہجرت کر جائیں۔“13

غامدی صاحب نے  جہاد کو تین صورتوں میں جائز قرار دیا ہے: اولا، غیر مسلم حکومتوں کے خلاف، دفاع، انتقام، مسلمانوں کی حفاظت یا  غلبۂ  دین کی غرض سے، ثانیا، باغیوں کی سرکوبی کے لیے، اگر وہ مصالحت کے لیے تیار نہ ہو، ثالثاَ اس مسلمان حکمران کے خلاف جس نے کھلے کفر کا ارتکاب کیا ہو۔ یہاں غامدی صاحب صاحبِ اقتدار امیر کی سرپرستی میں جہاد پر بہت زور دیتے  ہیں۔ اور ان کی یہ تاکید لوگوں کو انوکھی  لگتی ہے، حالانکہ غامدی صاحب نے اسی مضمون میں ڈاکٹر اسرار صاحب پر تنقید کرتے ہوئے فقہاے کرام  ہی کے حوالے پر یہ شرط بیان کی کہ ان کے ہاں جہاد امیر کی اطاعت میں ہی کیا جاسکتا ہے۔14

کافر حکومتوں سے غامدی صاحب کی مراد:

اوپر کے سطور میں غامدی صاحب نے کافر حکومتوں کے خلاف جہاد کو جائز قرار دے چکے ہیں۔ تاہم ان کی تحریروں سے واضح ہے کہ کافر حکومتوں سے مراد کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

” سوال: جو مسلمان یورپ، امریکہ اور دوسرے غیر مسلم ممالک میں مقیم ہیں ان کو اپنے دین کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اس سوال میں یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ مسلمان کے لیے بغیر کسی عذر کے دارالکفر میں رہنا جائز ہے، میں یہ بات واضح کردینا  چاہتا  ہوں کہ دارالاسلام قائم ہو اور اس کی طرف ہجرت کی راہ کھلی ہو، تو قرآن مجید کی رو سے کسی مسلمان کے لیے دارالکفر میں رہنا جائز نہیں ہے۔ قرآن نے بالصراحت فرمایا ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی سزا جہنم ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ نساء کی آیت ٩٧۔ دارالمسلمین کا حکم بھی، ہمارے نزدیک یہی ہے۔ چنانچہ ہم تو ان مسلمانوں سے یہی کہیں گے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وطن واپس آئیں۔ جہاں وہ  رہ  رہے ہیں، وہاں ان کی زندگی کا ہر لمحہ  معصیت ہے۔ جو دینی رہنما ہر دوسرے ماہ تبلیغی دورے کے لیے یورپ اور امریکہ جاتے ہیں، ان کی بے خبری پر افسوس ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کو اللہ کا یہ حکم بتانے کے بجائے انھیں دارالکفر میں اسلامی زندگی بسر کرنے کے آداب بتاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی مسلمان کے لیے غیر مسلم ممالک میں دین کی حفاظت، بالخصوص اپنی آئندہ نسل کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ یہ بات اب وہ لوگ بھی مانتے ہیں جو پہلے اپنے قیام کو تبلیغی مشن قرار دیتے تھے۔“15

ان کے ہاں یہ بالکل واضح ہے کہ موجودہ دور میں غیر مسلم ممالک کی حیثیت دارالکفر ہی  کی ہے۔  اور اس میں رہنا گناہ اور مستوجبِ جہنم ہے۔

پاکستان کی اصولی حیثیت اور غلبۂ  دین کی  جدوجہد:

یہ واضح کیا گیا کہ غامدی صاحب غلبۂ دین کے دو مراحل میں تقسیم کرتے ہیں: دین کا غلبہ مسلم معاشرے میں اور پر پوری دنیا میں ۔ غیر مسلم ممالک میں تبلیغِ دین  کے حوالے سے غامدی صاحب کی رائے میں کافی شدت پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ پوری دنیا میں  غلبۂ دین کا ذریعہ جہادہی  کو قرار دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

”  سوال: بعض لوگ غیر مسلموں کو دین کی تبلیغ کے لیے ان ممالک کا سفر کرتے ہیں، ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ پہلے دارالمسلمین کو جو ان کا وطن ہے دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کریں اور اس میں دینِ حق کا ہر شعبہ زندگی پر غالب کردیں۔ اس کے بعد صحابہ کرام کی طرح کفر کے خلاف جہاد کریں اور دنیا سے اس کا سیاسی غلبہ ختم کردیں۔ پھر دارالکفر میں رہنے والے غیر مسلموں کو اللہ کا دین پہنچائیں۔ وہ دیکھیں گے کہ ید خلون فی دین اللہ افواجا،  کا منظر ایک مرتبہ پھر ان کی نگاہوں میں پھر جائے گا ان شاءاللہ۔ دین کی تبلیغ کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ نبیﷺ اور صحابہ کرام نے اسے ہی اختیار کیا اور عرب و عجم پر دین کو غالب کردیا۔ ہم مسلمانوں کو اسی طریقے پر قائم رہنا چاہیے۔“16

جہاں مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہوجائے، پہلے مرحلے میں وہاں دین نافذ کریں اور اس کے بعد پوری میں اس کی تنفیذ کریں۔ اس  شرط کے مطابق پاکستان کی اصولی حیثیت واضح کرنے کے لیےذیل میں ایک تحریر نقل کی جارہی ہے جس سے اور بھی مسائل کی تنقیح ہوجاتی ہے۔غلبۂ دین  کے لیے  خطہ زمین پر اقتدار کی شرط پاکستان سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس کے اطلاقات  اور  نکلنے والے نتائج پر مزید غور کی ضرورت ہے۔   لکھتےہیں:

”  پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا یا اسے بنانے والے یہاں ایک لادینی جمہوری ریاست قائم کرنا چاہتے تھے؟ ہم نہیں سمجھتے کہ اس بحث کے جاری رہنے سے اب کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ان رہنماؤں کے شکر گزار ہوں جنھوں نے یہ ملک ہمیں لے کردیا۔  ١٩٤٧ء  کے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک خود مختار ریاست کا قیام خود اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ اس کے مخالفوں کی سب کاوشوں  کے باوجود مؤرخ  کا قلم  اسے  ہمیشہ خراجِ تحسین پیش کرتا رہے گا۔ رہی یہ بات کہ پھر اس ملک میں نفاذِ دین کا مطالبہ ہم کس بنا پر کریں گے؟ تو اس کے بارے میں ہمارا  نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کے لیے یہ مقدمہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ملک چوں کہ اسلام کے نام پر بنا تھا، اس لیے یہاں اسلام نافذ ہونا چاہیے۔ ہمارا مقدمہ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ہونا چاہیے کہ ہم چوں کہ مسلمان ہیں اور ہمیں اس ملک میں اللہ کی عنایت اس سیاسی خود مختاری حاصل ہے، اور چوں کہ دین کا قطعی حکم ہے کہ مسلمان اگر کسی سرزمین میں سیاسی طور پر خود مختار ہوں تو وہ وہاں اسلامی قانون نافذ کریں اور اپنی حیاتِ اجتماعی کے ہر شعبہ میں احکامِ دین کو بالاتر رکھیں، اس لیے یہاں اللہ کا دین نافذ ہونا چاہیے۔ اس ملک کے اربابِ اقتدار اور سیاسی زعما  سے ہمارے  مطالبے کی بنیاد درحقیقت یہ ہے۔ ہمارے اس مطالبے کے  جواب میں ہمارے مخاطبین کے سامنے صرف تین راستے رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا انکار کردیں۔ دوسرا یہ کہ وہ قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ اسلام ان سے اس بات کا تقاضا نہیں کرتا۔ تیسرا یہ کہ وہ عملا اس تقاضے کو پورا کرنے سے گریز کرتے رہیں۔ پہلی صورت میں ان کی قیادت و سیادت، ان شاءاللہ، لمحوں میں ختم ہوجائے گی۔ دوسری صورت میں ان کی ہزیمت اور بے بسی کا تماشا، اگر اللہ نے چاہا، تو زمین و آسمان دیکھیں گے۔ تیسری صورت میں ہم انہیں بتائیں گے کہ وہ اس طرح، درحقیقت، کفر کا ارتکاب کررہے ہیں۔ ان کا اسلام قیامت میں قبول نہ کیا جائے گا۔ وہ اپنے آپ کو اس آگ سے بچانے کی کوشش کریں جو دلوں تک پہنچے گی اور جس میں مجرم ستونوں کے ساتھ بندھے ہوں گے۔ وہاں ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ وہ اس سے نکلنا چاہیں گے، لیکن کوئی راہ نہ پائیں گے۔ وہ اس دن سے ڈریں، جس دن گریز کے سارے راستے بند اور فرار کی سب راہیں مسدود ہوجائیں گی اور قرآن اپنی اس حجت کے ساتھ ان کے سامنے آئے گا کہ:

وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَہ فَأُوْلَئِكَ ھمُ الْكَافِرُونَ (سورۃ المائدہ، آیت 44)

[اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی کافر ہیں۔“] 17

        پاکستان کی حیثیت کو مزید واضح کرتے ہیں، جس سے  غلبۂ دین   کی جدوجہد کے لیے بیا ن کی گئی شرط کا اطلاق مزید آسان ہوجاتا ہے کہ اگر کسی خطے پر مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہوجائے تو ان  کا فرض ہے کہ ساری دنیا پر دین غالب کردیں۔ یہاں پر بھی ” شہادتِ حق“ کا اعادہ کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاستِ پاکستان میں سیاسی خود مختاری حاصل کرلینے کے بعد یہ بہ حیثیتِ قوم ہمارا فرض ہے کہ ہم یہاں اپنے نظام پر دینِ حق کی بالادستی قائم کریں۔ اس ملک میں ہر فیصلہ جو کیا جائے اور ہر حکم دیا جائے۔ اس کے بارے میں یہ بات پہلے طے ہونی چاہیے کہ وہ قرآن  و سنت کے مطابق ہے یا نہیں اور ہر وہ فیصلہ اور ہر وہ حکم جو ہمارے لیے قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے، اسے یہاں بہرحال نافذ قرار پانا چاہیے۔ اس قوم کی معاشرت، اس کی سیاست، اس کا قانون، اس کی تہذیب، اس کی ثقافت غرض ہر چیز کو لازما ان اصول و ضوابط کا تابع ہونا چاہیے جو اس کے لیے اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے رسول محمدﷺ کی سنت میں بیان ہوئے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اس سرزمین میں اگر کبھی حاصل ہوگئی تو یہاں وہ انقلاب برپا ہوجائے گا، جسے اس زمانے میں بعض اہلِ علم نے ” اسلامی انقلاب“ کی اصطلاح سے تعبیر کیا ہے۔ یہ انقلاب اس ملک میں بھی برپا ہونا چاہیے اور اس کے بعد اس پوری امت میں بھی جسے ہم امتِ مسلمہ کہتے ہیں تاکہ شہادتِ حق کی جو ذمہ داری بہ حیثیت امت ہم پر عائد کی گئی ہے، وہ فی الواقع پوری ہوجائے اور قیامت  کے دن یہ امت اپنے پرودگار  کے حضور میں سرخ رو قرار پائے۔“18 

” میزان“ کے سلسلہ میں ”دینِ حق“ کے عنوان سے مضمون میں مسلمانوں سے دین کے تقاضوں کو  انفرادی اور اجتماعی کے مابین تقسیم کرتے ہیں۔  ثانی الذکر  تقاضوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

”دوسری قسم کی تقاضے یہ ہیں: ١ التزامِ جماعت ٢ سمع و طاعت ٣ ہجرت ٤ جہاد۔ دین کے یہ تقاضے اہلِ ایمان کی اس حالت سے متعلق ہیں، جب انھیں کسی سر زمین میں سیاسی خود مختاری حاصل ہوجائے۔ اس صورت میں جو پہلا حکم انھیں دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ منتشر بھیڑ کی صورت میں نہ رہیں، بلکہ ایک منظم جماعت کی حیثیت سے اپنی ریاست کا ایک باقاعدہ نطام قائم کریں جو انھیں ہمہ وقت معروف پر قائم رکھے اور منکر سے روکنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا ارشاد ہے:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّۃ يَدْعُونَ إِلَی الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنكَر (سورۃ آل عمران، آیت 104)

[اور تمارے اندر ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو تمھیں خیر کی دعوت دے، معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے۔]

اس طرح کی حکومت اگر قائم ہوجائے تو اہلِ ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے ساتھ وابستہ رہیں اور اس سے کسی حال میں الگ نہ ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جسے اسلامی اصطلاح میں التزامِ جماعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔“19

آخری تقاضے، جہاد، کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

” نبیﷺ کے بعد اب ہمارے لیے اس شہادت کا طریقہ یہ ہے کہ اہلِ ایمان پہلے اپنی ریاست میں ایک نظامِ حق عملا قائم کریں تاکہ اس کے ذریعے سے یہ حقیقت دنیا کی ہر قوم پر واضح ہوجائے کہ اسلام کیا ہے اور وہ بنی آدم سے ان کی انفرادی ور اجتماعی زندگی میں کن باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے عقائد و اعمال اور اس کی معاشرت و سیاست ہر چیز اس طرح لوگوں کے سامنے آجائے کہ وہ اسے آنکھوں سے دیکھ کر یہ معلوم کرلیں کہ اسلام کا باطن و ظاہر کیا ہے اور اسے  یہ حق کیوں حاصل ہے کہ صرف  وہی اس زمین پر دینِ حق قرار پائے۔ اس شہادت کے بعد اگر اہلِ کفر اس دین کو ماننے یا کم سے کم اس کی سیاسی بالادستی قبول کرلینے کے لیے تیار نہ ہوں تو حکم ہے کہ اہلِ ایمان اگر طاقت رکھتے ہوں تو ان کے خلاف جہاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

قَاتِلُوا الذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللہ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرمُونَ مَا حَرمَ اللہ وَرَسُولُہ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَق مِنَ الذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتی يُعْطُوا الْجِزْيَۃ عَن يَدٍ وَھُمْ صَاغِرُونَ (سورۃ توبہ، آیت 29)

[لڑو ان اہلِ کتاب سے جو نہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے، اسے حرام ٹھہراتے اور نہ دینِ حق کی پیروی کرتے ہیں۔ ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہوکر جزیہ ادا کریں اور زیرِ دست بن کر رہیں۔]

رسول اللہﷺ کے بعد آپ کے صحابہ نے یہ ذمہ داری اسی طرح ادا کی اور دینِ خداوندی کو اس وقت متمدن دنیا کے  ایک بڑے حصے پر غالب کردیا۔“ 20

             اُس دور کے حالات کے مطابق غامدی صاحب کی پوزیشن واضح ہے۔ اس میں اور مولانا مودودی کی  ”الجہاد فی الاسلام“میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آتا۔ تاہم یہ واضح کردیا گیا  ہے کہ بعض حضرات کے خیال میں موجودہ دور میں  شوکتِ کفر کو علت القتال قرار دینے کے بانی مولانا مودودی ہیں، ان میں غامدی صاحب کے تلامذہ  بھی  کسی سے پیچھے نہیں۔ یہ حضرات  اپنے استاد گرامی کو مولانا مودودی کے ساتھ موازنہ میں پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ  آپ  کی فکر  درست نہیں ہے،  لیکن غامدی صاحب کو  اس باب میں مکمل طور پر  نظر انداز کردیتے ہیں کہ  کبھی وہ بھی اس فکر کے حامل رہے ہیں۔ 21  ؎

اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی


حواشی


(۱)   جہاد ایک مطالعہ، محمد عمار خان ناصر  لاہور: المورد ادارہ علم و تحقیق، نومبر ۲۰۱۳ء ص ٣٣٤

(۲)   ایضا، 392

(۳)   عمار صاحب کے علاوہ غامدی صاحب کے دیگر تلامذہ بھی غامدی صاحب کو اس معاملے میں نظر انداز کرتے ہیں کہ پچھلے دور میں ان کی کیا رائے رہی ہے۔ مولانا مودودی کی فکر کا مجموعی قانونی تجزیہ کے بجائے چند تحریروں پر انحصار کرتے ہوئے رائے قائم کی جاتی ہے، جب کہ اپنے استاد گرامی کو اس سے مستثنی قرار دیتے  ہیں۔ مثال کے طور پر آصف افتخار کا غیر مطبوعہ مقالہ  دیکھیے:

Jihad and the Establishment of Islamic Global Order: A Comparative Study of the Worldviews and Interpretative Approaches of Abu al-A'la Mawdudi and Javed Ahmad Ghamidi (MA thesis, Institute of Islamic Studies, McGill University, Montreal, 2004)

نیز دیکھیے:

Abdul Rauf, “Jihadist Ideology in Pakistan and Javed Ahmad Ghamidi’s Counter Narrative”, FWU Journal of Social Sciences, Summer 2017, Vol.11, No.1, 27-33, pp 27-33

(۴)  اگر غامدی صاحب "فکری ارتقا" کے اصول پیش کریں تو بہت ساری الجھنیں دور ہوجائیں گی۔ کسی صاحبِ علم کی آرا  میں تبدیلی آنا انہونی بات نہیں ،  لیکن جو تبدیلی غامدی صاحب کے یہاں پائی جاتی ہے، اس کواصولوں کے تحت واضح کرنا ضروری ہے۔

(۵)  اس کےلیے کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ غامدی صاحب کی تقریبا ہر گفتگو میں یہ بات ہوتی ہے۔ افغان جہاد کے بارے میں غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں  کا موقف بالکل واضح تھا۔ دیکھیے: ماہنامہ ''اشراق'' لاہور،  (مئی  ١٩٨٦ء)، ص٣١-٣٢۔ جہادِ افغانستان میں  جنرل ضیاءالحق  کی  پالیسی پر ان کی مدح  میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں: ''اشراق''( ستمبر ١٩٨٨ء)، ص ٦-٨؛  خورشید احمد ندیم، آج کا افغانستان، ''اشراق'' (ستمبر ١٩٨٩ء)، ص ٧-١٠۔ اب غامدی صاحب اس کو فساد قرار  دے کر کہتے ہیں کہ اس وقت افغان جہاد کے خلاف تنہا آواز میری تھی۔  اس میں پریشان خیالی یہ ہے کہ ایک جانب ان کے ہاں  فکر میں اتنی بڑی تبدیلی  کو  ارتقا سے موسوم کیا جاتا ہے  لیکن اس کا  اقرار  کرنے کے  بجائے  بالعکس مسلسل اصرار کررہے ہیں کہ جہادِ افغانستان فساد تھا اور  ''میری ہمیشہ سے یہ رائے رہی ہے"۔ سماء ٹی وی، غامدی کے ساتھ، ٢٨ فروری، ٢٠١٤، بہ حوالہ: نادر عقیل انصاری، صدر ضیاء الحق، افغان جہاد، اور غامدی صاحب کا ''بیانیہ، :مشمولہ سہ ماہی ''جی'' لاہور جولائی اکتوبر ٢٠١٣ء ص ١١٧؛ Islam, Jihad and Taliban، یوٹیوب پر دیکھیے، اس میں غامدی صاحب نے یہ جملہ کئی بار دہرایا ہے۔

(۶)   تقریباََ چوبیس سال کی عمر ] ١٩٧٥ء میں [میں غامدی صاحب نے ڈاکٹر ممتاز احمدکو انٹرویو د یتے ہوئے کہا  تھا کہ میں نے  تعبیرِ دین مولانا مودودی سے سیکھی نہیں ہے، لیکن مجھے اس سے اتفاق ہے۔ اگر وہ بعد میں مولانا سے الگ بھی ہوگئے لیکن شعور ی یا غیر شعوری طور پر مولانا مودودی کی فکر ہی کے زیرِ اثر رہے۔  لکھتے ہیں:

” مجھے مولانا مودودی کی تعبیرِ دین سے اتفاق ہے لیکن یہ تعبیرِ دین میں نے مولانا مودودی سے نہیں سیکھی بلکہ قرآن و حدیث کے آزادانہ مطالعہ سے براہِ راست حاصل کی ہے۔ بعد میں مولانا مودودی کی تصنیفات پڑھیں تو معلوم ہوا کہ مولانا بھی تو اسی طرح سمجھتے ہیں جیسا کہ میں نے سمجھا  ہے۔ پھر جب ان میں بھی وہی بات  دیکھی جو میں نے سمجھی تھی تو ان کے ساتھ شامل ہوگیا لیکن بعص مسائل پر مجھے مودودی صاحب سے اختلاف بھی ہے اگر چہ وہ بنیادی مسائل نہیں ہیں۔“

ممتاز احمد، دینی مدارس: روایت اور تجدید علما کی نظر میں (اسلام آباد: ایمل مطبوعات، ٢٠١٢ء) ص ٧٣

(۷)   جاوید احمد غامدی، غلبہ دین کی جدّوجہدـــ اہم مباحث، ماہنامہ اشراق لاہور، ستمبر ١٩٨٥ء، ص ٨-٩

(۸)   ایضا، ٢٣ 

(۹)   اشراق، جنوری 1988، ص 55

(۱۰)   یہ بات ذہن نشین کریں کہ غامدی صاحب جن چیزوں کو آج شریعت کہتے ہیں اس دور میں ایسا نہیں تھا، ان کی تحریروں سے واضح ہے کہ دین کے بارے میں ان کا نقطۂنظر شعوری یا غیر شعوری طور پر مولانا مودودی کے زیر اثر رہا۔

(۱۱)   استطاعت کی یہ بحث مولانا مودودی نے بالکل اسی تناظر میں اٹھائی ہے۔ دیکھیے:

سیّد ابولاعلیٰ مودودی، الجہاد فی الاسلام لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، جون ١٩٩٦ء، ص ١٠٤

(۱۲)   ماہنامہ "اشراق " لاہورجولائی ١٩٨٦ء، ص ١٤-٢٣

(۱۳)   ماہنامہ "اشراق" لاہور ستمبر ١٩٨٥ء، ص ٢٩-٣٠

(۱۴)   ایضا، ٣٢-٣٥

(۱۵)   ماہنامہ "اشراق " لاہور  جون ١٩٨٦ء، ص ٣٢

(۱۶)   ماہنامہ اشراق، جون 1986، ص 32-33

(۱۷)  جاوید احمد غامدی، اسلام اور پاکستان،  مشمولہ       ماہنامہ اشراق لاہور اکتوبر، ١٩٨٧ء، ص ٨-٩

(۱۸)   ماہنامہ اشراق  لاہور، دسمبر ١٩٨٨ء، ص ٤

(۱۹)   جاوید احمد غامدی " حقیقتِ دین" ''مشمولہ اشراق، اکتوبر ١٩٨٨، ص ٣٠-٣١

(۲۰)   ایضاََ  ص،  ٣٤-٣٥

(۲۱)   ارتقا پر کیے گئے سوالات اپنی جگہ قائم ہیں، اگر غامدی صاحب ان کے  جوابات پیش کریں تو ان کے لیے بھی کافی آسانی ہوجائے گی، لوگ "ارتقا" کو تضاد یا پریشان خیالی کا نام نہیں دیں گے۔


“مولانا وحید الدین خان: افکار ونظریات” پر ایک تبصرہ

صدیق احمد شاہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کا شمار جدید مذہبی سکالرز میں ہوتا ہے۔ ان کی عمرکم ہے، لیکن فکری و علمی کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس علم بھی ہے اور قاری بھی۔ بہت Prolificلکھاری ہیں، لکھتے ہیں تو خوب لکھتے ہیں۔ یہ خود بھی میرے ممد و حین میں سے ہیں اور ان کی کتابیں اور تحقیقی اور فکری مضامین ہمہ وقت میرے مطالعہ میں رہتی ہیں۔ جب بھی کسی موضوع پر قلم اُٹھاتے ہیں تو موضوع کی کھائیوں اور گہرائیوں کو آشکارا کرنے کا فن خوب سر انجام دیتے ہیں۔ میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ چونکہ مولانا وحیدالدین خان کے افکار و نظریات پر ہے تو اس حوالے سے ڈاکٹر زبیر کی کتاب بھی زیرِ مطالعہ رہی ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں وحیدالدین خان کے افکار پر لکھی جانے والی کتابوں میں غالبایہ واحد کتاب ہے جس کی زبان علمی ہے اور مواد تحقیقی و فکری۔ ورنہ اب تک وحیدالدین خان کے بارے میں جو تنقیدی کتب منظر عام پر آئی ہیں، جس کی نمائندہ مثال محسن عثمانی ندوی کی "وحیدالدین خان علماءاور دانشوروں کی نظر میں" اور خالد متین کی "وحیدالدین خان: ایک اسلام دشمن شخصیت" جیسی کتابیں ہیں، ان میں آ پ کو جس چیز سے واسطہ پڑے گا، وہ تحقیق کم اور "ادبی گالیاں" زیادہ ہیں۔

تعصب، جماعتی عصبیت اور تنقیص کی جاری مار دھاڑ میں ڈاکٹر حافظ زبیر کی یہ کتاب علمی انتقاد اور تحقیقی ذوق کی ڈکار محسوس ہوتی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود کتاب میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو راقم کے نزدیک قابلِ گرفت ہیں۔ اور وہ مصنف ہی کیا جس کی تحریر میں مسئلے نہ ہوں۔ میری اس مختصر تحریر کا مقصدبھی وحید الدین خان پر ڈاکٹر زبیر کی علمی تنقید کا محاکمہ کرنا ہے۔ فی الحال میں اپنا مقدمہ اس کتاب کے ماحصل اور حاصل پر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر زبیر کے اس کتاب کا اگر ماحصل دیکھا جائے تو وہ ایک ہی چیز بنتی ہے کہ وحیدالدین ایک خود پسند، برخود غلط اور اپنے زعم میں ایک یکتا شخصیت ہیں، ساتھ میں نفسیاتی عوارض کا بھی شکار ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

"بلکہ صحیح تر تجزیہ یہ ہے کہ اُن کے ساتھ کچھ نفسیاتی پرابلم ہیں جنہوں نے اُنہیں تخیلات کی اس دنیا تک پہنچایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا میں نہیں بلکہ دنیا کی ہزار سالہ تاریخ میں ایک شمار کر رہے ہیں" (مولانا وحیدالدین خان: افکار و نظریات (لاہور: مکتبہ العالمین ۴۱۰۲) ۷۶۱۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مولانا وحید  الدین خان کی تحریروں سے یہ چیزیں ثابت ہوتی ہیں جیسا کہ ڈاکٹر زبیر صاحب کا دعویٰ ہے؟

اقلیم تجزیہ و تحلیل کے پُر خار راستوں کا میرے جیسا نا بلد مسافر کم سے کم اتنا ضرور کہہ سکتا ہے کہ مولانا وحیدالدین خان کو پڑھنے کے بعد میرا مطالعہ مجھے بالکل اس سمت کے مختلف لے گیا ہے جس سمت پر ڈاکٹر زبیر صاحب رواں ہیں، بلکہ مجھے تو یہ تک محسوس ہوتا ہے کہ وحیدالدین خان صاحب قربانی کا وہ بکرا ہے جس کی کوئی ماں نہیں جو اس کی خیر منا سکے ۔ وجہ یہ ہے کہ جب سکالر نہ کسی مخصوص مسلک سے تعلق رکھتا ہو اور نہ کسی مخصوص جماعت سے ، تو پھر وہی ہوتا ہے جو وحیدالدین کے ساتھ ہو رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بعض موضوعات بہت ادق ہوتے ہیں اس میں سیاق و سباق اور ربط و ترتیب کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ وحیدالدین خان زیادہ لکھنے والے ہیں۔ ایک ہی موضوع پر اس کے خیالات اُس کے رسائل، کتابوں، آرٹیکلز اور ویب سائیٹ پر بکھرے ہوتے ہیں۔ اُن کے ہاں خیالات و افکار کی رنگا رنگی اور تنوع ہے اس کی فکری بنت اور ذہنی بیخ و بن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی موضوع پر اُن کے چیدہ چیدہ اور بکھرے خیالات کو ایک مخصوص تسلسل و اتصال دیا جائے، اس کے بعد اُن کا اصل نقطہ نظر سامنے آجاتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں ڈاکٹر زبیر صاحب کو یہی سہو ہوا ہے ۔ اس کتاب میں کئی غلطیاں ہیں، جہاں پر ڈاکٹر صاحب نے سیاق و سباق کا خیال نہیں رکھا۔ خان صاحب کی کئی ایسی تحریریں ہیں کہ اگر ڈاکٹر صاحب اس کو دریافت کر پاتے تو اُن کا نتیجہ مختلف ہوتا ۔ خان صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:

"اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں امت مسلمہ کے احیاءکی تحریک باہمی سطح پر چل رہی ہے۔ اس میں امت کے تمام درد مند افراد شریک ہیں۔ میں نے اپنے مطالعے میں پایا کہ احیاءملت کی یہ تحریکیں ننانوے فیصد کی حد تک اسی پہلو پر چل رہی ہے جس کو آپ اسلام کا عملی پہلو کہہ رہے ہیں۔ آپ دیکھیں تو ان میں سے کوئی نماز اور روزہ اور حج جیسے اسلامی اعمال کا نظام قائم کرنے میں مصروف ہے۔ کسی نے اسلام کی سماجی پہلووں پر اپنی توجہ لگا رکھی ہے، کوئی اسلام کے سیاسی ڈھانچے کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی مسجد اور مدرسے کے نظام کو قائم کرنے میں مصروف ہے ، کوئی مسلمانوں کے خاندانی نظام کو اسلامی احکام پر تشکیل دینا چاہتا ہے۔ کوئی ملی مسائل، یا کمیونٹی ورک کے میدان میں محنت کر رہا ہے وغیرہ۔ لیکن میں نے اپنے تجربہ میں پایا کہ عصری اسلوب میں اسلام کی اسپرٹ کو جگانے کا کام کوئی نہیں کررہا ۔ اس لئے ہم نے اپنے آپ کو اس چھوٹے ہوئے کام میں لگا دیا ہے۔ گویا کہ ہمارا مشن احیاءملت کے مجموعی کام میں ایک تتمّہ (Supplement) کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہی چیز ممکن اور قابل عمل ہے۔ احیاءملت کا موجودہ کام جو عالمی سطح پر انجام پا رہا ہے۔ اس کی حیثیت ایک پراسس (Process) کی ہے، اس پر اسس میں ساری تحریکیں اور سارے اجزائے ملی شریک ہیں۔ ہمارا مشن بھی اس پراسس کا ایک حصہ ہے ، یہ پراسس گویا کہ ایک بلا اعلان تقسیم کار کا معاملہ ہے۔ اس پراسس کے مختلف اجزاءمیں کوئی ایک بھی ساری ملی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا اور نہ کر رہا ہے۔ ہر ایک کسی ایک پہلو سے ملت کی خدمت انجام دے رہا ہے، ہر ایک کو اپنی نیت اور اپنے اخلاص کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے یہاں انعام ملے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملت کے اندر تنقید نہیں ہونی چاہیئے، حقیقت یہ ہے کہ دوسری ضرورتوں کی طرح تنقید بھی ملت کی ایک ناگزیر پر ضرورت ہے، تنقید حدیث کے الفاظ میں (المومن مرآة المومن) ایک مومن دوسرے مومن کے لئے آئینہ ہے کے اصول کی تکمیل ہے علمی تنقید ہمیشہ ذہنی ارتقاءکا ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر علمی تنقید کا طریقہ ختم کیا جائے تو اس کے نتیجے میں صرف یہی نہیں ہو گا کہ علمی تنقید باقی نہیں رہے گی، بلکہ ذہنی ارتقاءکا عمل رُک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ذہنی جمود پید اہو جائے گا جو کسی گروہ کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔" (بحوالہ الرسالہ مارچ 2007، 142-3)۔

ذرا سریع الفہمی کے ساتھ دیکھا جائے تو جو شخص اپنے مشن کو امت کے احیائی پر اجیکٹ میں محض ایک تتّمہ (Supplement) سمجھتا ہو کیا یہ شخص اس خوش بینی میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا کی ہزار سالہ تاریخ میں ایک ہی منفرد شخصیت کا حامل ہے؟ کیا یہ ایسا شخص بر خود غلط اور احساس برتری کا شکار ہو سکتا ہے جیسا کہ ڈاکٹر زبیر صاحب کا موقف ہے؟

ایک دوسری مثال لیجئے- یو ٹیوب پر خان صاحب کی ویڈیو موجود ہے جس میں بڑی وسیع الصدری کے ساتھ جاوید احمد غامدی کو اپنا استاد قرار دیتے ہیں اور اپنے آپ کو جاوید احمد غامدی کا شاگرد بتاتے ہیں۔ بھلا ہم عصری اور خصوصا ہمسری کے حسد سے ڈاکٹر زبیر بھی خوب واقف ہوں گے کہ یہ کس طرح سر چڑھ کے نہیں بلکہ قطب مینار چڑھ کے بولتا ہے، لیکن مولانا وحیدالدین خان حسد اور تعصب کے اس سیم و تھور کو گورکن کے حوالے کر کے اپنے ہی ہمعصر اور ہمسرکو اپنا استاد قرار دیتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر کتاب کے اس ماحصل سے بصد احترام بہت اختلاف ہے۔ ذرا خان صاحب کے فکری اہرام کی کشادگی اور کھلا پن دیکھئے کہ ا پنے سب سے بڑے مبینہ مخالف مولانا ابوالحسن علی ندوی کی وفات پر اُن کو "صدی کی شخصیت" قرار دیتے ہیں۔ اور الرسالہ کے کئی صفحات اُن کی تعریف و توصیف میں سیا ہ کر دیتے ہیں (بحوالہ الرسالہ ، مارچ 23-24, 2000) ۔ میرے ناتواں فہم میں جو شخص اپنے مشن اور اپنی پوری فکری حاصل کو امت کے حق میں ایک تتّمہ سمجھتاہو، اپنے ساتھیوں اور علمی رفیق کو اپنا استاد سمجھتا ہو، اور جو اپنے علمی مخالف کو صدی کی شخصیت قرار دیتا ہو، اُس پر ایسے الفاظ کا اطلاق کچھ زیادہ جچتا نہیں جو ڈاکٹر زبیر صاحب نے اُن کے لئے استعمال کئے ہیں۔