جولائی ۲۰۱۹ء

جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے حوالے سے داعش کا استدلالمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
پرامن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیماتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۷)محمد عمار خان ناصر 
رشتوں كا معيار انتخاب اور سیرت پاک کی صحیح تصویرڈاکٹر محی الدین غازی 
مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۳)مراد علوی 

جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے حوالے سے داعش کا استدلال

محمد عمار خان ناصر

دولت اسلامیہ (داعش) کے ترجمان جریدے ’دابق‘ کے ایک حالیہ شمارے میں جنگی قیدیوں کو غلام اور باندی بنانے کے حق میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ جس چیز کا جواز اللہ کی شریعت سے ثابت ہے، اس کو انسان تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

اس طرز استدلال کے حوالے سے معاصر اہل علم کے ہاں مختلف زاویہ ہائے نگاہ دکھائی دیتے ہیں جن پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا:

جدید دور میں جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی ممانعت سے اتفاق کرنے والے مسلم فقہاءعموماً اس پابندی کا جواز “معاہدے” کے اصول پر ثابت کرتے ہیں۔ اس موقف کی رو سے غلامی اصلاً اخلاقی جواز رکھتی ہے اور چونکہ یہ جواز شریعت سے ثابت ہے، اس لیے ابدی ہے۔ البتہ غلام بنانا چونکہ واجب نہیں، بلکہ مباح ہے اور مباحات میں مصلحت یا دیگر اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر قدغن لگائی جا سکتی ہے، اس لیے موجودہ دور میں بین الاقوامی معاہدے کے تحت اس پابندی کو قبول کرنا بھی شرعی طور پر درست ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر کسی وقت بین الاقوامی معاہدات کا موجودہ نظام موثر نہ رہے تو اصولی اور اخلاقی طور پر جائز ہونے کی وجہ سے دوبارہ غلام لونڈی بنانا درست ہوگا، چاہے اس کے متعلق بین الاقوامی اخلاقی عرف اسے ناجائز سمجھنے کا ہی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے موجودہ معاہدات کو ان کی اخلاقی بنیاد سے اتفاق کی وجہ سے، یعنی غلامی کو شرف انسانی کے منافی مان کر اس پر پابندی کو قبول نہیں کیا، بلکہ صرف معاہدے کی پابندی کے اصول پر تسلیم کیا ہے۔ جب معاہدات غیر موثر ہو جائیں گے تو مسلمان بھی پابند نہیں رہیں گے۔

اس اصول کی رو سے اگر موجودہ معاہداتی نظام قائم ہوتے ہوئے کوئی مسلمان گروہ معاہدات کا حصہ نہ ہو اور وہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانا چاہے تو اس پر کوئی اصولی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً داعش اور القاعدہ جیسے گروہ جو جدید بین الاقوامی قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ انھوں نے معاہدات پر دستخط کیے ہیں، اگر وہ اس پابندی پر عمل نہ کریں تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہیں بنتا۔ اسی طرح عالم اسلام میں عمومی طور پر بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ موجودہ معاہداتی نظام میں غیر مشروط شمولیت کی موجودصورتحال پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اگر اس تناظر میں کوئی مسلمان حکومت غلامی پر پابندی کے معاہدے سے الگ ہونا چاہے تو مذکورہ موقف کی رو سے ایسا کرنا اس کے لیے اصولاً بالکل درست ہوگا۔

اس نقطہ نظر کی ترجمانی جناب ڈاکٹر مشتاق احمد نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں کی ہے۔ چنانچہ قیدیوں کو غلام بنانے سے متعلق داعش کے طرز عمل سے متعلق ایک استفسار کے جواب میں لکھتے ہیں کہ “جنگی قیدیوں کو غلام بنایا جاسکتا ہے، اگر ایسا کرنا مسلمانوں کے مصلحت میں ہو اور اس سے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ معاہدے کی پابندی مسلمانوں کے اسی گروہ پر لازم ہوگی جو معاہدے میں شامل ہو۔ یہ پابندی دوطرفہ ہوگی۔ چنانچہ اگر دوسرا فریق اس معاہدے کی پابندی نہ کرتا ہوتو مسلمانوں پر بھی اس معاہدے کی پابندی لازم نہیں ہوگی۔ اسی طرح معاہدے کی خلاف ورزی مسلمانوں کے کسی گروہ کی جانب سے ہو تو ذمہ داری اسی گروہ پر ہوگی اور دوسرے مسلمانوں سے اس سلسلے میں نہیں پوچھا جاسکتا۔ البتہ اگر عالمی طور پر مسلمان ایک سیاسی وحدت بن جائیں اور پھر اس سیاسی وحدت کی جانب سے معاہدہ ہو تو اس کی پابندی سب مسلمانوں پر لازم ہوگی، سوائے ان کے جو اس سیاسی وحدت سے الگ مستقل حیثیت رکھتے ہوں۔ غلام بناچکنے کے بعد ان غلاموں کو وہ سارے حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت نے ان کو دیے ہیں۔”

اس ضمن میں ایک دوسرا موقف یہ ہے کہ قیدیوں کو غلام بنانے کا قانون کوئی مطلوب یا مستحب شرعی حکم نہیں، بلکہ اس کی حیثیت ایک آپشن کی ہے جس پر عمل کرنے کے لیے کسی خاص دور کے عالمی اور بین الاقوامی عرف کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ چنانچہ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں کہ “اسلام نے غلام اور لونڈی بنانے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس دور کے عالمی عرف کے مطابق اسے جنگی قیدیوں کے لیے ایک آپشن کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے احکام وقوانین کا ایک پورا نظام فراہم کر دیا جیسا کہ آج کے عالمی عرف کے مطابق جنگی قیدیوں کے بارے میں جنیوا کنونشن کو عالم اسلام نے بھی قبول کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان وفلسطین سمیت جن مقامات پر جہاد کے عنوان سے جنگیں ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں، وہاں مجاہدین نے کسی قیدی کو غلام یا لونڈی کا درجہ نہیں دیا اور انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دیے جانے والے مجاہدین نے بھی جنگی قیدیوں کے بارے میں عالمی عرف اور قوانین کا عملاً احترام کیا ہے۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر کسی دور میں یہ عالمی عرف بھی تبدیل ہو گیا اور پہلے کی طرح کے حالات دوبارہ پیدا ہو گئے تو اسلام کا یہ آپشن بطور آپشن کے باقی رہے گا اور اس سلسلے میں قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے احکام دوبارہ نافذ العمل ہو جائیں گے۔”  (ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر ۲٠٠۶ء)

اس بحث میں ایک تیسرے نقطہ نظر کی ترجمانی سید قطب شہید اور بعض دیگر اہل فکر نے کی ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ غلامی اسلام کے مطلوب اور لازمی احکام کا حصہ نہیں تھی، بلکہ اسے عالمی سطح پر جنگوں کی عمومی صورت حال اور جنگی قیدیوں کے حوالے سے تمام قوموں کے مشترکہ طرز عمل کے تناظر میں بامر مجبوری قانونی جواز دینا پڑا تھا، تاہم اسلام نے اپنی اخلاقی تعلیمات کے ذریعے سے اس کے ناپسندیدہ ہونے کو واضح کیا اور مختلف اخلاقی اور قانونی اقدامات کر کے تاریخی طور پر اس عمل کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں کئی صدیوں کے بعد عالمی سطح پر انسانی ضمیر کا اس عمل کے مکروہ ہونے اور قانونی طور پر ناجائز ہونے پر متفق ہو جانا ممکن ہوا۔ سید قطب کے الفاظ میں “وقتی طور پر اسلام نے اس کے وجود کو برداشت کیا بھی تو محض اس لیے کہ اس کے سامنے اس کے سوا اور کوئی متبادل راہ موجود نہ تھی، کیونکہ اس کے قطعی انسداد کے لیے صرف مسلمانوں کی رضامندی ہی کافی نہ تھی، بلکہ غیر مسلموں کی حمایت اور تعاون بھی ضروری تھا۔ اسلام اس وقت تک غلامی کا قطعی انسداد نہیں کر سکتا تھا جب تک باقی دنیا بھی جنگی قیدیوں کو غلام بنانے سے اجتناب کرنے کا قطعی فیصلہ نہ کر لیتی۔ بعد میں جب اقوام عالم اس سلسلے میں ایک قطعی اور مشترک حل پر رضامند ہو گئیں تو اسلام نے اس کا خیر مقدم کیا، کیونکہ یہ فیصلہ اس کے نظام زیست کے اس بنیادی اور اٹل اصول کا عین منطقی نتیجہ تھا کہ آزادی اور مساوات تمام انسانوں کا بنیادی حق ہے۔” (سید قطب، “اسلام اور جدید ذہن کے شبہات” ، اردو ترجمہ : محمد سلیم کیانی، ص ۴۹، ۵۹)

اس استدلال کے بعض پہلووں پر یقینا سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، بہرحال اس طرز استدلال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب غلامی کا خاتمہ خود اسلام کا مطلوب تھا اور عالم انسانیت کا موجودہ اتفاق اسلام کی مقرر کردہ ترجیحات سے ہم آہنگ ہے تو پھر داعش وغیرہ کا یہ استدلال درست نہیں ہو سکتا کہ چونکہ اسلام نے غلامی کو جواز دیا ہے، اس لیے انسانوں کے پاس اس جواز کو ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

بعض حضرات کو اس استدلال کو درست کرنے میں تامل محسوس ہوتا ہے کہ غلامی کی تحدید اسلام کی ترجیحات میں سے تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات تاریخی طور پر درست نہیں، کیونکہ اسلامی شریعت میں جنگوں کی صورت میں قیدیوں کو غلام بنانے کی گنجائش برقرار رکھی گئی اور اسلامی تاریخ میں فتوحات کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر غلاموں کی تعداد میں اضافے کا عمل جاری رہا۔ البتہ بعد میں جب فتوحات کا سلسلہ محدود ہو گیا تو یقینا اس کے نتیجے میں غلاموں کی تعداد کم ہو گئی ہو، لیکن اسے اسلام یا اسلامی تہذیب کی “ترجیحات” کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا۔

ہماری رائے میں یہ تنقید درست نہیں ہے اور تاریخی صورت حال کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ اسلامی شریعت میں غلام بنانے کے جواز کی صورتوں کی تحدید، غلاموں اور باندیوں کو آزاد کرنے کی ترغیب، مختلف گناہوں کے کفارے کے طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کی ہدایات، زکوٰة کے مصارف میں غلاموں کو آزاد کرنے کی ایک مستقل مد کے طور پر شمولیت اور حصول آزادی کے لیے مکاتبت وغیرہ جیسے قانونی طریقوں کی تشریع ایک معلوم ومعروف حقیقت ہے اور اس کی کوئی توجیہ اس کے علاوہ نہیں ہو سکتی کہ شریعت اس کی تحدید کرنا چاہتی ہے۔ یہ درست ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں غلاموں کی تعداد میں اضافے کا راستہ مسدود نہیں کیا گیا جس کے اپنے تاریخی، عرفی اور قانونی اسباب تھے، لیکن یہ یک طرفہ عمل نہیں تھا، بلکہ اس کے بالکل متوازی غلاموں کی آزادی کا سماجی عمل بھی برابر جاری رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین صدیوں میں غلام باندیوں کا وجود، جو پہلے ہر ہر گھر کا حصہ ہوتا تھا، عام معاشرت میں بہت کم ہو کر عموماً شاہی خاندانوں، امراءاور اشرافیہ تک محدود ہوتا چلا گیا اور ایک مستقل معاشرتی طبقے کے طور پر ان کا وجود بتدریج ناپیدا ہوتا چلا گیا۔

اس تناظر میں خود قرآن مجید کی بعض ہدایات جو غلامی کے عمومی شیوع کے تناظر میں نازل ہوئی تھیں، بعد کے دور کے فقہاءکے لیے اشکال کا باعث بنیں۔ مثلا سورة النساءکی آیت ۲۵  میں اللہ تعالیٰ نے باندیوں سے نکاح کا آپشن اختیار کرنے کو ترجیحاً اس صورت کے ساتھ مخصوص کیا ہے جب آزاد عورت سے نکاح کے مالی وسائل آدمی کو میسر نہ ہوں اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ جس شخص کو گناہ میں مبتلا ہو جانے کا خدشہ ہو، وہی ایسا کرے، ورنہ صبر کرنا بہتر ہے۔ آیت میں اس ہدایت کی اخلاقی وجہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ باندیاں تربیت اور خاندانی حفاظت سے محروم ہونے کی وجہ سے کردار میں عفت جیسے وصف سے عموماً محروم ہوتی تھیں، جبکہ قرآن کی تلقین یہ ہے کہ انسان کو پاک دامن اور باکردار عورت سے ہی نکاح کرنا چاہیے۔ تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے ممتاز متکلم اور فقیہ امام ابو منصور ماتریدی اپنی تفسیر ”تاویلات اھل السنة“ میں اس آیت کے تحت شافعی فقہاءکے موقف پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں جو باندی سے نکاح کو، آیت کے ظاہر کے مطابق، اس شرط سے مشروط کرتے ہیں کہ آزاد عورت سے نکاح کی مالی استطاعت انسان کو میسر نہ ہو۔ ماتریدی کہتے ہیں کہ نزول قرآن کے زمانے میں تو یہ پابندی برمحل ہو سکتی ہے جب باندیاں بکثرت اور عام دستیاب تھیں اور ان سے نکاح کے اخراجات بہت کم تھے، لیکن آج کے دور میں تو باندیاں بہت نادر ہو گئی ہیں اور جتنے خرچے میں آدمی ایک آزاد عورت سے بآسانی نکاح کر سکتا ہے، باندی کی فراہمی پر اس سے کہیں زیادہ خرچ اٹھ جاتا ہے۔

 اسلامی معاشروں میں غلامی کے ادارے کے تدریجی خاتمے کے عمل کو سمجھنے کے لیے اوپر سے نیچے تک پوری تاریخ کا مطالعہ بھی اہم ہے، لیکن اگر نچلے دور کی صورت حال کو ہی دیکھ لیا جائے تو اسلامی معاشروں میں تاریخی عمل کا رخ بہت واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے جدید مغربی ڈسکورس کی ابتدا کے موقع پر پورے عالم اسلام میں کہیں بھی غلامی اس طرح معاشرے کا ناگزیر حصہ نہیں تھی کہ اس کے خاتمے کے لیے کوئی بڑی تحریک چلانی پڑی ہو یا حکومتوں کو غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے ہوں۔ بیسویں صدی میں غلامی کے خاتمے کے بین الاقوامی معاہدات میں تمام مسلمان ممالک کسی تحفظ یا عملی الجھن کے بغیر آسانی سے شریک ہوتے گئے، کیونکہ کسی بیرونی دباو کے بغیر اپنے داخلی حرکیات کے تحت یہ معاشرے بہت پہلے سے اسی رخ پر سفر کرتے چلے آ رہے تھے۔ یوں دور جدید میں غلامی کے، غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہونے پر انسانی ضمیر کا عمومی اتفاق ہو چکا ہے جس کی پابندی فقہی وشرعی اصول کی رو سے بھی ضروری ہے اور اس کو تسلیم نہ کرنے کے لیے یہ استدلال کافی نہیں کہ مخصوص تاریخی حالات میں انسانی معاشروں کے عمومی رواج کے تناظر میں شریعت نے اس کو جائز قرار دیا تھا۔

یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جدید بین الاقوامی عرف میں اگرچہ غلامی کو غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے، لیکن جس چیز کو شریعت میں اخلاقی طور پر جائز مانا گیا ہو، کیا اس کے متعلق انسانی سماج کے اخلاقی تصورات میں تبدیلی شریعت کے عطا کردہ اخلاقی جواز کو ختم کر سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں اس پہلو پر غور کرنا مناسب ہوگا کہ کیا شریعت نے غلامی کو اخلاقی جواز انسانی پرسپشنز سے ماورا ہو کر دیا یا اس بنیاد پر دیا کہ چونکہ انسان اسے اخلاقی طور پر جائز مان رہے ہیں، اس لیے یہ جائز ہے؟ دوسرے لفظوں میں، اگر شریعت میں غلامی کے اخلاقی جواز کی تنقیح مناط کی جائے تو کیا اس میں اس دور کے عالمی انسانی عرف اور انسانیت کے اجتماعی اخلاقی احساسات کا کوئی عمل دخل تھا یا نہیں؟ اگر تھا تو پھر کسی وقت اجتماعی اخلاقی شعور اسے غیر اخلاقی قرار دینے پر متفق ہو جائے تو اس اتفاق میں شریک ہونے کو حلال کو حرام کرنے کے زمرے میں شمار کرنا درست نہیں ہوگا بلکہ اس کی تکییف اس سے مختلف ہوگی۔

شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ نے انبیاءکی شریعتوں کے مختلف ہونے کا ایک بنیادی اصول یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کی مالوف عادات اور اخلاقی تصورات سے بالکل ہٹے ہوئے احکام وقوانین کا پابند نہیں بناتا جنہیں قبول کرنا لوگوں کے لیے ذہنی طور پر ممکن نہ ہو۔ اس لیے ہر پیغمبر اپنی قوم کے رسوم ورواجات اور عادات ومالوفات کو ہی مادہ تشریع بناتے ہوئے ان میں صرف ضروری اصلاحات کرتا اور رسوم وقوانین کے پہلے سے موجود ڈھانچے کو ہی اپنی تائید اور مناسب اضافوں کے ساتھ بطور شریعت جاری کر دیتا ہے۔

جدید دور میں  ساری دنیا کا نقشہ بدل دینے کے بعد مذہبی علمی روایت نے عمومی طور پر اس حقیقت واقعہ کو قبول کرتے ہوئے دینی تعبیرات اور فقہی احکام کو نئی صورت حال کے مطابق اور نئے ذہنی سانچے میں قابل قبول بنانے کا طریقہ اختیار کیا۔ تاہم بعض حلقوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا اور انھوں نے روح عصر کے خلاف لڑنے کا راستہ اختیار کر لیا۔ انھوں نے زبان حال سے یہ موقف اختیار کر لیا کہ یہ دنیا غلط بن گئی ہے، اس کو ٹھیک کر کے دوبارہ ویسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں قدیم تعبیرات اور فقہی احکام قابل فہم اور قابل عمل بن سکیں۔ گویا فقہ اور قانون کا کام نہیں کہ صورت حال کے مطابق ہو، بلکہ صورت حال کی ذمہ داری ہے کہ فقہ اور قانون کے مطابق خود کو ڈھالے۔ یہ بات شریعت کے بیان کردہ مامورات اور واجبات کے دائرے میں تو اصولی طور پر درست ہے، لیکن مباحات اور اجتہادی امور کے دائرے میں اس کی پابندی تکلیف مالا یطاق کے زمرے میں آتی ہے جو اللہ تعالیٰ شرائع میں بھی نہیں دیتے، چہ جائیکہ اجتہادی دائرے میں اسے مقصود بنایا جائے ۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(165) جواب امر پر عطف یا مستقل جملہ؟

درج ذیل دونوں آیتوں پر غور کریں،

قَاتِلُوہُم یُعَذِّبہُمُ اللَّہُ بِایدِیکُم وَیُخزِھِم وَیَنصُرکُم عَلَیھم وَیَشفِ صُدُورَ قَومٍ مُومِنِینَ۔ وَیُذہِب غَیظَ قُلُوبِہِم وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء وَاللَّہُ عَلِیم حَکِیم۔(التوبة: 14، 15)

قَاتِلُوھُم کے بعد جواب امر ہے، اور اس کے بعد چار جملے ہیں جو جواب امر پر معطوف ہیں، ان کی ہیئت ان کی اعرابی حالت پر واضح دلالت کررہی ہے۔ ان پانچ جملوں کے بعد ایک اور جملہ آتا ہے، وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء، اس کے ساتھ بھی واو لگا ہوا ہے، لیکن اس کی ہیئت ایسی نہیں ہے کہ اسے جواب امر مانا جائے۔ یہاں یتوب فعل مضارع اصلی ہے۔ جواب امر ہوتا تو یتب ہوتا، مزید برآں اس جملے میں اللہ کے نام کا ذکر ہے ، اس سے پہلے چار جملوں میں ضمیر کا استعمال ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے کہ یہ مستقل جملہ معلوم ہو۔ چونکہ یہ مستقل جملہ ہے، اس لیے اس کے فعل مضارع کا ترجمہ بنا قرینے کے مستقبل والا کرنا مناسب نہیں ہے۔ جملے کی ہیئت اور معنی کی وسعت دونوں کا تقاضا ہے کہ یتوب کا ترجمہ “مہربانی کرے گا“ کے بجائے “مہربانی کرتا ہے” کیا جائے۔جب فعل اپنی اصلی حالت میں ہے اور تمام زمانوں کا احاطہ کررہاہے تو اسے صرف مستقبل میں محدود کیوں کیا جائے؟

نیچے چھ ترجمے ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے پہلے تینوں میں یہ غلطی موجود ہے، اور بعد کے تین ترجمے اس غلطی سے خالی ہیں۔

“ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا”۔(سید مودودی)

“ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“ان سے لڑو، اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ ان کو تمھارے ہاتھوں سزا دے گا اور ان کو ذلیل (وخوار) کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور بہت سے (ایسے) مسلمانوں کے قلوب کو شفا دے گا اور ان کے قلوب کے غیظ (وغضب) کو دور کرے گا اور جس پر منظور ہوگا اللہ تعالی توجہ بھی فرمادے گا” (اشرف علی تھانوی)

“لڑو ان سے تاعذاب کرے اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں اور رسوا کرے اور تم کو ان پر غالب کرے اور ٹھنڈے کرے دل کتنے مسلمان لوگوں کے اور نکالے ان کے دل کی جلن اور اللہ توبہ دے گا جس کو چاہے گا” (شاہ عبدالقادر، اس میں زیر بحث غلطی تو نہیں ہے البتہ آخری جملے کا مستقبل کا ترجمہ زیادہ مناسب نہیں لگتاہے)

“ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا اور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا، اور وہ جس کی طرف چاہتا ہے رحمت سے توجہ فرماتا ہے”۔ (محمد جوناگڑھی، ترجمہ درست ہے مگر اللہ کی جگہ وہ ضمیرذکر کرنا درست نہیں ہے)

“تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا،اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے”۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل ترجموں میں اول الذکرتین ترجموں میں ایسا لگتا ہے کہ آخری جملہ بھی جواب امر ہی ہے۔ جبکہ آخر الذکرتینوں ترجموں میں آخری جملے کا ترجمہ الگ طرح سے کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری جملہ جواب امر نہیں بلکہ اللہ کی مستقل سنت کا بیان ہے۔

درج ذیل دونوں انگریزی ترجموں میں اول الذکر ترجمے میں الفاظ کی بھرپور رعایت کی گئی ہے۔

Fight them! Allah will chastise them at your hands, and He will lay them low and give you victory over them, and He will heal the breasts of folk who are believers. And He will remove the anger of their hearts. Allah relenteth toward whom He will.(Pickthall)
Make war on them. Allah will chastise them through you and will humiliate them. He will grant you victory over them, and will soothe the bosoms of those who believe, and will remove rage from their hearts, and will enable whomsoever He wills to repent. (Maududi)

توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ زیر نظر مقام پرجملے کے معطوف ہونے کا احساس ایسا غالب رہا کہ لوگوں نے ترجمے میں لفظ اللہ کی جگہ اس کی ضمیراستعمال کی۔ حالانکہ چار معطوف جملوں میں ضمیر ہے اور پانچویں مستقل جملے میں ضمیر کے بجائے اللہ کا لفظ مذکور ہے، ترجمے میں بھی اس کی رعایت ضروری تھی جو بعض مترجمین سے نہیں ہوسکی۔

یہ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے کہ تاب علی کا بہتر ترجمہ مہربانی اور رحمت کرنا ہے، نہ کہ توبہ کی توفیق دینا اور معاف کرنا۔

(166) ذو العرش المجید کا ترجمہ

درج ذیل تینوں مقامات پر الکریم اور العظیم، العرش کی صفتیں ہیں، ان پر اعراب کی علامت وہی ہے جو العرش پر ہے، اور اسی لحاظ سے ان کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔

(1) رَبُّ العَرشِ الکَرِیمِ۔ (المومنون: 116)

“عزت والے عرش کا مالک”۔ (احمد رضا خان)

(2) رَبُّ العَرشِ العَظِیمِ۔ (النمل: 26)

“وہ بڑے عرش کا مالک ہے”۔ (احمد رضا خان)

(3) وَرَبُّ العَرشِ العَظِیمِ۔ (المومنون: 86)

“اور مالک بڑے عرش کا”۔(احمد رضا خان)

لیکن درج ذیل آیت میں المجید عرش کی صفت نہیں ہے، دونوں کی اعرابی حالت مختلف ہے، المجید حالت رفع میں ہے، اس لیے عرش کی صفت نہیں ہوسکتا ، بلکہ ذو العرش یعنی اللہ کی صفت ہے۔ لگتا ہے بعض مترجمین کو اول الذکر تینوں آیتوں سے یہ مغالطہ ہوگیا کہ یہاں بھی عرش کی صفت مذکورہے۔

ذُو العَرشِ المَجِیدُ۔ (البروج: 15)

“مالک تخت کا بڑی شان والا ” (شاہ عبدالقادر)

“عرش کا مالک ہے، بزرگ و برتر ہے”۔ (سید مودودی)

“عرش کا مالک بڑی شان والا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“عرش کا مالک عظمت والاہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“عزت والے عرش کا مالک”۔ (احمد رضا خان)

“عرش بریں کا مالک ” (وحید الدین خان)

آخری دونوں ترجمے غلط ہیں۔

انگریزی تراجم میں بھی بہت سے ترجمے اسی غلطی کا شکار ہوئے، بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ سید مودودی کے ترجمہ کے انگریزی ترجمے میں بھی یہ غلطی آگئی۔

Master of the Honourable Throne.(Ahmad Raza Khan)
- the Lord of the Glorious Throne,(Maududi)
Lord of the Throne of Glory(pickthall)
The Lord of the Glorious Throne,(Wahiduddin Khan)
Lord of the Throne of Glory,(Yusuf Ali)
Lord of the Throne, the Glorious,(Daryabadi)

مذکورہ بالا انگریزی تراجم میں آخری ترجمہ درست ہے۔

فارسی ترجموں میں بھی یہ غلطی کثرت سے نظر آتی ہے۔ ذیل کے ترجمے ملاحظہ کریں:

“صاحب ارجمند عرش”۔ (بہرام پور، خرمشاہی، فولادوند)

“خداوند بزرگوار عرش”۔ (مجتبوی)

“صاحب عرش و دارای مجد و عظمت است”۔ (مکارم شیرازی)

“او خداوند عرش است گرامی قدر” (شاہ ولی اللہ)

آخری دونوں ترجمے درست ہیں۔

ترجمہ کی مذکورہ غلطی کے حق میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایک قراءت المجید میں دال پر زیر کی بھی ہے، کیونکہ یہ تمام ترجمے امت میں رائج مصحف کو سامنے رکھ کر کیے گئے ہیں جس میں دال پر پیش کے ساتھ المجید ہے۔

(167) شقاق بعید کا ترجمہ

قرآن مجید میں ضلال بعید کی تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے، اور سلسلے میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ ضلال بعید کا ترجمہ“ دور کی گمراہی” درست نہیں ہے بلکہ “گمراہی میں دور نکل جانا” درست ترجمہ ہے۔ اسی طرح شقاق بعید کی تعبیر بھی قرآن مجید میں تین جگہ آئی ہے، اور اس کے مختلف طرح سے ترجمے کیے گئے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک اس کا صحیح ترجمہ مخالفت میں دور نکل جانا ہے۔ذیل کے ترجموں کو دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ ایک ہی مترجم نے اس تعبیر کا الگ الگ مقام پر مختلف طرح سے ترجمہ کیا ہے۔

(1) وَانَّ الَّذِینَ اختَلَفُوا فِی الکِتَابِ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ۔ (البقرة: 176)

“اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملے میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے”۔ (سید مودودی، دوسرے دونوں مقامات پر اس سے بہتر ترجمہ کیا ہے)

“وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“یقینا دور کے خلاف میں ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

(2) وَانَّ الظَّالِمِینَ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ۔ (الحج: 53)

“اور بے شک یہ ظالم اپنی مخاصمت میں بہت دور نکل گئے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی، یہ تلخیص میں ہے ، تدبر میں اس طرح ہے: بہت دور کے جھگڑے میں پڑچکے ہیں)

“بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“اور بیشک ستمگار دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“بےشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں” (فتح محمد جالندھری)

(3) مَن اَضَلُّ مِمَّن ھُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ۔ (فصلت: 52)

“تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون ٹھہرے گا جو ایک نہایت دور رس مخالفت میں جاپڑا”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟” (سید مودودی)

“تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے”۔ (احمد رضا خان)

“تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو”۔ (فتح محمد جالندھری)

“بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے”۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی تینوں آیتوں میں فی شقاق بعید کا ترجمہ کرتے ہیں : “مخالفت میں دور نکل گئے”

(168) نُزُل کا ترجمہ

نُزُل  کا لفظ قرآن مجید میں جنت کے لیے بھی آیا ہے اور جہنم کے لیے بھی آیا ہے۔لغت کی کتابوں میں یہ لفظ مطلق مہمانوں کے لیے پیش کردہ سامان ضیافت کے معنی میں ذکر کیا جاتا ہے، کلام عرب کے شواہد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ابو الشعر الضبی، موسی بن سحیم کہتا ہے:

وکنا اذا الجبار بالجیش ضافنا
جعلنا القنا والمرھفات لہ نزلا

 مولانا امین احسن اصلاحی کا عام مترجمین سے جدا خیال یہ ہے کہ نزل اس پہلے سامان ضیافت کے لیے ہوتا ہے جو مہمان کی آمد پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس خیال کی تائید میں وہ کلام عرب سے کوئی تائید نہیں پیش کرتے ہیں۔ خود قرآن مجید میں اس لفظ کے استعمالات کو جمع کرکے دیکھیں تو اس خیال کی تردید ہوتی ہے، کیوں کہ جنت اور جہنم کو نزل کہا گیا ہے، اور ان دونوں کو ہمیشہ رہنے کی جگہ بھی بتایا گیا ہے، پھراسے پہلی میزبانی کیسے کہا جائے، اگر جنت یا جہنم کے بعد بھی کہیں اور جانا ہوتا تو جنت یا جہنم کو پہلی میزبانی کہا جاتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود مولانا اصلاحی نے قرآن کے ایسے آٹھ مقامات میں سے اگر تین مقامات پر پہلی میزبانی ترجمہ کیا ہے تو پانچ مقامات پر صرف میزبانی ترجمہ کیا ہے۔

(1) لَکِنِ الَّذِینَ اتَّقَوا رَبَّہُم لَہُم جَنَّات تَجرِی مِن تَحتِہَا الانہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا نُزُلًا مِن عِندِ اللَّہِ وَمَا عِندَ اللَّہِ خَیر لِلابرَارِ ۔ (آل عمران: 198)

“البتہ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے پہلی میزبانی ہوگی”۔ (امین احسن اصلاحی)

“لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور نیک کاروں کے لیے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

(2) انَّا اَعتَدنَا جَہَنَّمَ لِلکَافِرِینَ نُزُلًا ۔ (الکہف: 102)

“ہم نے کافروں کے لیے جہنم بطور ضیافت تیار کر رکھی ہے”۔ (امین احسن اصلاحی، جہنم کی ضیافت زیادہ مناسب ہے)

(3) انَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَت لَہُم جَنَّاتُ الفِردَوسِ نُزُلًا۔ (الکہف: 107)

“بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے”۔ (امین احسن اصلاحی)

(4) امَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَہُم جَنَّاتُ المَاوَی نُزُلًا بِمَا کَانُوا یَعمَلُونَ۔ (السجدة: 19)

“جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے راحت کے باغ ہیں، جو ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں، اولین سامان ضیافت کے طور پر، حاصل ہوں”۔ (امین احسن اصلاحی،الماوی کا ترجمہ راحت نہیں ہوگا،ٹھیرنے کے باغات درست ترجمہ ہے)

“جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لیے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے”۔ (محمد جوناگڑھی، الماوی کا ترجمہ ہمیشگی کرنا درست نہیں ہے)

“جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری”۔ (احمد رضا خان)

(5) اَذَلِکَ خَیر نُزُلًا اَم شَجَرَةُ الزَّقُّومِ۔ (الصافات: 62)

“ضیافت کے لیے یہ بہتر ہے یا درخت زقوم؟ ”۔(امین احسن اصلاحی)

“ یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟ ”۔(سید مودودی، دونوں میں یہ دوسرا ترجمہ زیادہ فصیح ہے)

(6) نُزُلًا مِن غَفُورٍ رَحِیمٍ۔ (فصلت: 32)

“رب غفور رحیم کی طرف سے سامان ضیافت کے طور پر”۔ (امین احسن اصلاحی)

(7) ثُمَّ انَّکُم اَیُّہَا الضَّالُّونَ المُکَذِّبُونَ۔ لَآکِلُونَ مِن شَجَرٍ مِن زَقُّومٍ۔ فَمَالِئُونَ مِنہَا البُطُونَ۔ فَشَارِبُونَ عَلَیہِ مِنَ الحَمِیمِ۔ فَشَارِبُونَ شُربَ الہِیمِ۔ ہَذَا نُزُلُہُم یَومَ الدِّینِ۔ (الواقعة: 51 - 56)

“پھر تم لوگ، اے گمراہو اور جھٹلانے والو زقوم کے درخت میں سے کھاؤ گے اور اسی سے اپنے پیٹ بھروگے پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تونسے ہوئے اونٹوں کی طرح پیو گے۔ یہ جزا کے دن ان کی پہلی ضیافت ہوگی۔” (امین احسن اصلاحی)

“جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی۔” (فتح محمد جالندھری)

(8) فَنُزُل مِّن حَمِیمٍ۔ وَتَصلِیَةُ جَحِیمٍ۔ (الواقعة:94-93)

“تو اس کے لیے گرم پانی کی ضیافت اور جہنم کا داخلہ ہے” (امین احسن اصلاحی)


اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

 شیعہ حدیثی ذخیرہ قبل از تدوین (تحریری سرمایہ )

دوسری طرف قبل از تدوین اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی تحریری شکل و صورت کا مسئلہ بھی (تقریری و تدریسی  صورت کی طرح )خفا   کے دبیز پردوں میں لپٹا  ہے ،یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ  تین صدیوں تک ان ہزارہا روایات(صرف کتب اربعہ کی روایات چالیس ہزار سے زائد ہیں) کا مجموعہ کس  طرح  اور کس شکل میں محفوظ رہا ؟کتب ِاربعہ کے مصنفین نے جمع روایات میں کن ماخذ و مصادر   پر اعتماد کیا ؟ اہل سنت میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات ِحدیث  مرتب ہوتے ہیں ،تو اہل تشیع کے ہاں تین صدیوں میں کتنے مجموعے مرتب ہوئے ،جنہوں نے   بنیادی مصادر کے لیے خام مال کا کردار ادا کیا ؟اس سوال کا  اہل تشیع محققین نے دو طرح سے جواب دیا ہے ،جنہیں ہم  تقریب ِفہم  کے لیے "اجمالی جواب " اور "تفصیلی جواب "کا نام دیں گے۔

1۔ اجمالی جواب 

علمائے شیعہ کی ایک بڑی جماعت نے  اس سوال کا اجمالی جواب یہ دیا ہے کہ کتب اربعہ سے پہلے  حدیث کے چار سو متعمد نسخے رائج تھے ،جو ائمہ کے براہ راست تلامذہ نے بڑی جانفشانی اور محنت سے تیا ر کیے تھے ،ان چار سو مجموعوں کو "الاصول الاربعمائۃ"کا نام دیا گیا ،انہی چارسو اصولوں  کو کتب ِاربعہ کے مصنفین  نے ماخذ ومصدر بنایا اور ان کی مدد سے اپنی کتب میں ائمہ کی روایات کو مدون کیا ،دسویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم زین الدین  عاملی المعروف بالشہید الثانی   لکھتے ہیں:

كان قد استقر أمر الإماميۃ علی أربعمائۃ مصنف سموھا أصولاً فكان عليھا اعتمادھم، وتداعت الحال إلی أن ذھب معظم تلك الأصول ولخصھا جماعۃ في كتب خاصۃ تقريبا علی المتناول، وأحسن ما جمع منھا (الكافي) و(التھذيب) و(الاستبصار) و(من لا يحضرھ الفقيہ)

امامیہ کے ہاں روایت کا معاملہ چار سو مصنفین کی لکھی ہوئی چار سو اصولوں پر جا ٹھرتا ہے ،انہی کتب پر امامیہ کا اعتماد تھا ،پھر مرور زمانہ سے ان اصولوں کا اکثر حصہ ختم ہوگیا اور ان کی تلخیص   شیعہ محدثین کی ایک جماعت نے اپنی کتب میں کیں ،جن میں سے سب سے بہترین کتب الکافی ،تہذیب ،استبصار اور من لایحضرہ الفقیہ یعنی کتب اربعہ ہیں۔

شیعہ کتب کی سب سے وسیع ڈائریکٹری لکھنے والے محقق آغا بزرگ طہرانی اپنی کتاب "الذریعہ الی تصانیف الشیعہ "میں لکھتے ہیں:

ھذہ الأصول كلھا موجودۃ جملۃ منھا بالھيئۃ التركيبيۃ الأوليۃ التي وجدت موادھا بھا والبقيۃ باقيۃ بموادھا الأصليۃ بلا زيادۃ حرف ولا نقيصۃ حرف ضمن المجاميع القديمۃ التي جمعت فيھا مواد تلك الأصول مرتبۃ مبوبۃ منقحۃ مھذبۃ1

یعنی  سب  کے سب موجود ہیں ،ان میں سے بعض اپنی اصلی ترتیب کے ساتھ بمع مواد کے موجود ہیں ،جبکہ باقی کا مواد بغیر کسی حرف کی زیادتی و کمی کے ان قدیم مجموعات ِحدیث کے ضمن میں موجود ہیں ،جن میں ان  اصولوں کا مواد مرتب ،مبوب،منقح اور مہذب شدہ انداز میں  جمع کیا گیا ہے۔

 اصول اربعمائۃ   کی تحقیق و استناد اور   پس منظر  سے متعلق چند  باتیں پیش خدمت ہیں:

اصل کا  اصطلاحی معنی و مفہوم

اصول اربعمائۃ کو سمجھنے  کے لیے سب سے پہلے لفظ اصل کا پس منظر اور معنی و مفہوم سمجھنے کی ضرورت ہے ،شیخ طوسی و نجاشی نے کتب شیعہ کی فہارس تیار کیں ہیں ،ان فہارس میں  تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے  بعض رجال کے ساتھ "لہ کتاب" کا لفظ اور بعض کے ساتھ "لہ اصل"کا لفظ لکھا ہے ،چنانچہ   ابراہیم بن عبد الحمید کے تذکرے میں لکھتے ہیں:

ابراھيم بن عبد الحميد، ثقۃ. لہ اصل، اخبرنا بہ أبو عبد اللہ محمد بن محمد بن النعمان المفيد والحسين بن عبيداللہ، عن ابي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويہ، عن محمد بن الحسن بن الوليد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن يعقوب ابن يزيد ومحمد بن الحسين بن ابي الخطاب وابراھيم بن ھاشم2

جبکہ اس  ابراہیم  بن محمد الاشعری کے تذکرے میں لکھتے ہیں:

ابراھيم بن محمد الاشعري. لہ كتاب، بينہ وبين اخيہ الفضل بن محمد، اخبرنا بہ ابن ابي جيد، عن محمد بن الحسن بن الوليد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن محمد بن الحسين، عن الحسن بن علي بن فضال، عنھما.3

 شیخ طوسی و نجاشی نے اپنی کتب میں  اصل و کتاب میں فرق یا مفاہیم بیان نہیں کئے ،اس لیے علمائے شیعہ نے اصل کے مختلف مفاہیم بیان کئے ،چند اقوال درج کئے جاتے ہیں:

محمد مہدی طباطبائی بحر العلوم اصل کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

الاصل في اصطلاح المحدثين من اصحابنا بمعنی الكتاب المعتمد الذي لم ينتزع من کتاب آخر 4

یعنی اصل محدثین اہل تشیع کی اصطلاح میں اس کتاب کو  کہتے ہیں ،جو معتمد ہو اور دوسری کتاب سے منقول نہ ہو۔

مجمع الرجال کے مصنف لکھتے ہیں:

الاصل: مجمع عبارات الحجۃ، و الكتاب يشتمل عليہ و علی الاستدلالات و الاستنباطات شرعاً و عقلاً 5

یعنی کہ اصل امام معصوم کی عبارات کے مجموعے کا نام ہے ،جبکہ کتاب امام معصوم کی عبارات کے ساتھ مصنف کے شرعی و عقلی استدلالات و استنباطات پر مشتمل ہوتی ہے۔

علامہ تستری قاموس الرجال میں لکھتے ہیں:

الظاھر أن الاصل ماكان مجرد روايۃ أخبار بدون نقض و أبرام و جمع بين المتعارضين و بدون حكم بصحۃ خبر او شذوذ خبر6.

یعنی اصل محض روایات و آثار کی روایت کا نام ہے ،ان آثار  پر صحت ،ضعف ،یقین کا حکم اور متعارض روایات  میں تطبیق دیے بغیر ،

 یہ تعریف پچھلی تعاریف کے برعکس ہے ،کیونکہ اس سے اصل کے مفہوم میں متعمد و غیر متعمد دونوں قسم کی کتب آگئیں۔

اس کے علاوہ بھی اصل کی متعدد تعریفیں کی گئیں ،ان کی تفصیل کے لیے  محمد حسین جلالی کی کتاب "دراسۃ حول الاصول الاربعمائۃ "ص 7 تا 9  ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

ان سب تعاریف کے بارے میں معروف شیعہ محقق  سید محسن الامین  اپنی ضخیم کتاب "اعیان الشیعہ "میں لکھتے ہیں:

وكل ذلك حدس وتخمين7

یہ سب تعریفات ظن و اندازوں پر مبنی ہیں۔

اسی طرح محقق جلالی نے بھی ان تعریفات کو ظن و تخمین قرار دینے پر سید محسن الامین کی موافقت کی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

"و من ھنا نجد ان التعاریف مستندۃ  الی الظن و التخمین  بل یحق ان نقول انہم اصطلحوا لمفہوم الاصل  اصطلاحا جدیدا 8

ان تعاریف سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب تعاریف ظن پر مبنی ہیں ،بلکہ حق بات یہ ہے کہ اصل  کا ایک خاص مفہوم بیان کرنا   جدید اصطلاح ہے۔

لہذ طوسی و نجاشی نے جو لفظ اصل ذکر کیا ،اس کا  واقعی مفہوم کیا ہے؟وہ کس  قسم کی کتاب کو کہتے ہیں ؟اس کے بارے میں بعد کے علمائے شیعہ نے ظن و تخمین پر مختلف تعریفیں کی ہیں ،جن میں سے بعض ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

اسی طرح محقق فاضل جبوری اپنے پی ایچ ڈی مقالے "تراجم الاصول الاربعمائۃ "میں اصل کی آٹھ کے قریب تعریفات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

ھذہ التعاريف لاتخلوا من الاشكالات لأنھا لم تحدد ظابطۃ دقيقۃ لمعنی الاصل9

یہ سب تعریفات اشکالات سے خالی نہیں ہیں ،کیونکہ ان میں  اصل کے مفہوم کی باریک و منضبط تحدید نہیں کی گئی ہے۔

اصول اربعمائہ کی اصطلاح اور زمانہ تدوین

 اصول اربعمائۃ کی اصطلاح کا تاریخی جائزہ لینے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ اصطلاح   چھٹی صدی ہجری یا  علی الاقل پانچویں صدی ہجری  (الکافی کی تصنیف کے  تقریبا ڈھائی سو  سال بعد )اور اس کے بعد کی پیداوار ہے، متقدمین  اہل تشیع بشمول اصحاب کتب اربعہ و طوسی و نجاشی  کے ہاں چار سو اصولوں کی  اصطلاح کا  کوئی تصور نہیں تھا، چار سو اصولوں کا سب سے پہلے ذکر  ابن شہر آشوب   مازندرانی (588ھ) نے اپنی کتاب  "معالم العلماء "میں  بیان کیا ہے ،چنانچہ لکھتے ہیں:

"صّنفت الإماميۃ من  عھدِأمير المؤمنين إلی عصرِ أبي محمد الحسن العسكري أربعمائۃ كتاب، تسمی الأصول وھذا معنی قولھم: لہ أصلٌ10

کہ امامیہ نے حضرت علی رضی اللہ کے زمانے سے لے کر امام عسکری تک چار سو کتب لکھی ہیں ،جنہیں اصول کہا جاتا ہے ،لہ اصل کا یہی مفہوم ہے۔

لیکن مازندرانی کے برعکس  دیگر علماء نے ان چار سو اصولوں کو خاص امام جعفر صادق کے تلامذہ کی تصنیف قرار دیا ہے ،چنانچہ امام طبرسی   اپنی کتاب اعلام الوراء باعلام الھدی  میں لکھتے ہیں:

روی عن الإمامِ الصادق من مشھوري أھل العلم أربعۃ آلاف إنسان و صنف من جواباتہ في المسائل أربعمائۃ كتاب تسمی الأصول رواھاأصحابہ وأصحاب ابنہ موسی الكاظم"11

یعنی امام جعفر صادق سے چار ہزار معروف اشخاص نے روایات لی ہیں ،انہوں نے آپ کے جوابات کو چار سو کتب میں جمع کیا ہے ،جنہیں اصول کہا جاتا ہے ،یہ کتب آپ کے شاگردوں اور آپ کے صاحبزادے امام موسی کاظم  کے شاگردوں نے روایت کی ہیں۔

یہی بات علامہ حلی اور شہید ثانی نے لکھی ہے۔12

یہاں پر بجا طور پر سوال پید اہوتا ہے کہ چار سو اصول ،جو شیعہ تراث حدیث کا بنیادی ماخذ و مصدر بنے ،ان کے زمانہ تدوین کے بارے میں علمائے شیعہ میں اتنا بڑا اختلاف  کیسے اور کیوں پیدا ہوا  کہ بعض اسے صرف امام جعفر صادق  کے تلامذہ کی تصنیف قرار دیتے ہیں  اور بعض حضرت علی کے زمانے سے لے کر امام عسکری  کے ائمہ شیعہ کی تصنیف قرار دیتے ہیں ؟ شیعہ محقق حسین جلالی لکھتے ہیں:

تکاد الاراء فی عصر  التالیف تختلف اشد الاختلاف 13

یعنی ان اصولوں کی تالیف کے زمانے میں آراء کا شدید ترین اختلاف ہے۔

الاصول الاربعمائہ   کی تعیین اور  مصنفین

چار سو اصولوں کے زمانہ تدوین کی طرح ان کے مصنفین بھی پردہ خفا میں ہیں ،شیعہ کی موجود علمی تراث میں تلاش ،جستجو ، ضعیف و صحیح روایات و عبارات  اور ثقہ و ضعیف رواۃ کو ملا کر ایک سو سے کچھ اوپر رواۃ کے بارے میں "لہ اصل " کا لفظ ملتا ہے ،چنانچہ شیخ طہرانی نے اپنی ضخیم کتاب "الذریعہ الی تصانیف الشیعہ " میں تلاش و جستجو کے بعد 117 اصولوں کا ذکر کیا ہے،14 محقق شیخ فاضل جبوری  اپنے ضخیم مقالے "تراجم  رواۃ الاصول الاربعمائہ " میں اس پر صرف پانچ کا اضافہ کر سکے ،باقی278  اصولوں    کے مصنفین کا ضعف ،ثقاہت ،تعارف و احوال تو کجا  نام ہی نا معلوم ہیں ،یعنی  دو سو اٹھتر اصول ایسے ہیں ،جو صرف عالم ِخیال میں موجود ہیں ،ان کا زمانہ ،تدوین ، موضوع،مصنفین کے نام و تعارف  میں سے کوئی بھی چیز معلوم نہیں ہے ،ان میں سے بھی شیخ طوسی و نجاشی، جنہوں نے  لفظ اصل کو رواج دیا ،انہوں نے صرف 60 اصولوں کا ذکر کیا ہے ،جبکہ طوسی نے اپنی کتاب  الفہرست کے مقدمے میں تصریح کی ہے کہ میں نے اپنے اصحاب کی اکثر تصانیف و اصولوں  کا اس میں ذکر کیا ہے ،  نیز یہ بات بھی کسی علمی لطیفے سے کم نہ ہوگی کہ طوسی کتب اربعہ میں سے دو کے مصنف ہیں ،اگر کتب اربعہ چار سو اصولوں سے ماخوذ ہیں ،تو یقینا شیخ طوسی کو ان کا خصوصی علم ہوگا ،لیکن شیخ طوسی  کتب شیعہ کی فہارس مرتب کرتے وقت صرف 60 کا ذکر کرتے ہیں ،علمی دنیا میں اسے شاید کوئی بڑا عجوبہ ہوگا کہ جس نے  بقول اہل تشیع محققین "چار سو اصولوں "سے کتاب تیار کی ،انہیں تو صرف ساٹھ کا علم ہوا ،جبکہ بعد میں آنے والے سب اصولوں کے بارے میں جان گئے۔

اگر اس جواب کو مان لیا جائے کہ کتب اربعہ چار سو اصولوں سے اخذ کی گئی  ہیں ،تو اس سے کتب اربعہ کا استناد،صحت ،وثوق اور  علمی وزن  بڑھنے کی بجائے شدید گھٹ جاتا ہے کہ کتب اربعہ میں 278 ایسی کتب بھی ہیں ،جو تاریخی اعتبار سے محض فرضی ہیں ،ان کا زمانہ تدوین ،اخذ و نقل ،مصنفین  میں سے کوئی بھی چیز معلوم نہیں ہے۔ شیعہ محقق حسین جلالی نے بجا طور پر لکھا ہے:

لو کانت الاصول اربعمائۃ کما ھو المشہور  فلما ذا لم یذکراھما وھما قد ضمنا الاستیفاء، و لو کانت اقل، فمن این جاء  التحدید بالاربعمائۃ کما ھو المشہور؟ 15

یعنی اگر اصول واقعی چار سو ہیں ،تو شیخ طوسی و نجاشی نے کیوں  ذکر نہیں کئے ،جبکہ  ان دونوں نے شیعہ کتب کا احاطہ کرنے کا بیڑا اٹھایا  اور اگر چار سو سے کم ہیں ،تو چار سو کی تحدید کیوں اور کس بنا پر  کی گئی؟

 278 اصولوں کے  محض فرضی ہونے (فرضی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان پر کوئی بھی تاریخی  دلیل نہیں ہے ،خواہ مصنف کے نام کی صورت میں ہی ہو ) کے باوجود علمائے شیعہ ان اصول اربعمائہ کو کس طرح مشہور باور کراتے ہیں ،اس کا نمونہ  شیخ علی النمازی کی کتاب "الاعلام  الھادیۃ الرفیعہ فی اعتبار الکتب الاربعۃ المنیفہ " میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ،مصنف لکھتے ہیں:

لا نحتاج الی الطریق نحو الاصول الاربعمائہ  التی صنفھا  الثقات الاجلاء  المعروفہ  المشہورہ  الثابتہ نسبتہا  الی مصنفیھا"16

ہم اصول اربعمائہ کی طرف کسی بھی سند کے محتاج نہیں ہیں ،کیونکہ ان اصولوں کو ثقہ ،اجل ،معروف و مشہور رواۃ نے لکھا ہے اور ان رواۃ کی طرف ان کتب کی نسبت  بھی مشہور ہے۔

 کیا شیخ نمازی   یا کوئی بھی اہل تشیع  محقق ان "ثقہ ،معروف ،اجل و مشہور "چار سو مصنفین کے صرف  نام   ہی مکمل کر کے دکھا سکتے ہیں ؟

یہ ساری بحث اس صورت میں ہے جب ہم اہل تشیع محققین کے بیان کردہ جملہ مفروضات کو من و عن قبول کریں ،لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ   طوسی و نجاشی  نے جو لہ اصل کا لفظ بولا ہے ،کیا وہ واقعی حدیث کی کتاب کے لیے بولا ہے؟ یہ بات محتاج ثبوت ہے ، اگر  اصل کا لفظ  حدیث کی کتاب کے لیے  ہے ،تو شیخ طوسی و نجاشی نے جو "لہ کتاب "کا لفظ بولا ہے ،اس کا مصداق کیا ہوگا ؟ اس لیے  محض کتاب یا اصل کہنے  کو حدیثی مجموعے پر محمول کرنا قیاس و تخمین ہے،کیونکہ شیخ طوسی و نجاشی نے   اپنے اسلاف کے جملہ تصنیفی ذخیرے کی فہرست مرتب کی ہے ،جس میں تفسیر، حدیث، فقہ ،سوانح اور دیگر اصناف شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے  کہ اس میں تفسیر ،حدیث ،فقہ،تاریخ  جملہ قسم کی تصانیف کا ذکر ہے ،اس لیے  کتب اربعہ سے پہلے کے حدیثی ذخیرے کو ثابت کرنے کے لیے حدیثی کتب و مجموعات  کی تصریح  کی ضرورت ہوگی ،محض اصل یا کتاب کا لفظ دیکھ کر اسے حدیثی کتاب قرار دینا تحکم اور دعوی بلا دلیل ہے ، اور  تحقیقی میزان میں ظن ،تخمین اور احتمالات کی بنیاد پر کیے گئے دعاوی ثابت   شمار نہیں  ہوتے ۔،نیز کتب اربعہ کے مصنفین نے بھی اپنی کتب کے مقدمات یا کسی اور مقام   پر  اپنی کتب کو اصول اربعمائہ سے ماخوذ و منقول  قرار نہیں دیا ،بلکہ کتب اربعہ کے مصنفین کی جملہ کتب میں ہمیں  اصطلاح(الاصول الاربعمائۃ) کا نام و نشان نہیں ملتا۔

2۔تفصیلی جواب

کتب ِ اربعہ سے پہلے حدیثی ذخیرے کو ثابت کرنے کے لیے معاصر شیعہ مصنفین نے ایک اور طریقہ اختیار کیا ہے ،جسے ہم نے آسانی کے لیے "تفصیلی جواب "کانام دیا ہے ،اہل تشیع کی  تاریخ حدیث لکھنے والے  معاصر مصنفین نے  ہر امام کے دور میں حدیثی مجموعات کی ایک فہرست مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ،ان  کتب میں ڈاکٹر محمد مہدوی کی ضخیم کتاب " تدوین الحدیث عند الشیعۃ الامامیہ "محمد رضا المودب کی کتاب " تاریخ الحدیث "سید محمد علی الحلو کی کتاب "تاریخ الحدیث بین  سلطۃ النص و نص السلطۃ "الحاج حسین الشاکری کی کتاب "تدوین الحدیث و تدوین الفقہ " علی شہرستانی کی "تاریخ الحدیث النبوی " جبکہ فارسی کتب میں  ڈاکٹر مجید معارف کی "پژو ھشی  در تاریخ حدیث شیعہ "مدیر کاظم کی "تاریخ حدیث "سید احمد میرخانی کی "سیر حدیث در اسلام "اہم کتب ہیں ،ان مصنفین نے اصول اربعمائۃ پر بحث کے ساتھ شیعہ حدیثی ذخیرے کے مختلف مراحل بیان کئے ہیں ،جن میں عمومی طور پر ہر امام  کے دور کو ایک مرحلہ قرار دیا گیا ہے ،ان میں سے ایک دو کتب کو چھوڑ کر باقی سب کتب  کا  ہم نے تفصیلی جائزہ لیا ،تاکہ اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی قبل از تدوین کی  صورتحال سامنے آجائے ،ان کتب کے تفصیلی مطالعے سے جو نکات ہمارے سامنے آئے ،انہیں  ترتیب وار پیش کیا جاتا ہے:

1۔ان سب کتب  میں ایک مشترک خصوصیت یہ ہے کہ ان میں صرف حدیثی مجموعوں کا ذکر نہیں ہے ،بلکہ مواد کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے دیگر فنون کی کتب کا بھی ساتھ ذکر کیا گیا ہے ،مثلا محمد رضا المودب نے "الاثار الروائیہ  الاخری فی القرن الاول"کا عنوان باندھ کر درجہ ذیل کتب کا ذکر کیا ہے:

1۔السنن والقضایا و الاحکام لابی رافع 

2۔کتاب علی بن رافع

3۔نصاب زکاۃ الانعام الثلاثۃ لربیعۃ بن سلیمان

4۔کتاب الاصبغ بن نباتہ الذی روی عہد مالک الاشتر

5۔کتاب زید بن  وہب المشتمل علی خطب علی

6۔کتاب ابی ذر الغفاری حول ما وقع بعد وفاۃ النبی ﷺ

7۔کتاب عبد اللہ بن الحر الجعفی

8۔کتاب نعمان بن سعید

9۔کتاب عبد اللہ بن بلال المشتمل علی روایات عن بلال

10۔کتاب سلمان الفارسی الذی روی حدیث الجاثلق

11۔کتاب میثم  التمار فی تفسیر القرآن

12۔کتاب ابی مقدام من روایات علی بن الحسین

13۔کتاب بریر بن خضیر الہمدانی

14۔کتاب الحارث بن  اعور الہمدانی من روایات الامام علی

15۔کتاب سلیم بن قیس فی شرح وقائع الاسلام

16۔کتاب محمد بن قیس البجلی

17۔کتاب یعلی بن مرۃ الثقفی  17

پہلی صدی ہجری میں مصنف  نے تلاش و جستجو کے بعد سترہ کتب کا ذکر کیا ،ان  کی درجہ بندی یوں کی جاسکتی ہے:

الف: چار کتب ایسی ہیں ،جو براہ راست حدیثی روایات کی بجائے دیگر موضوعات پر بھی  مشتمل  ہیں :1۔کتاب الاصبغ بن نباتہ الذی روی عہد مالک الاشتر 2۔ کتاب ابی ذر الغفاری حول ما بعد وفات النبی ﷺ 3۔کتاب میثم التمار فی تفسیر القران 4۔کتاب سلیم بن قیس فی شرح وقائع الاسلام

ب:ائمہ کی روایات پر صراحتا مشتمل صرف تین کتب ہیں :1۔کتاب زید بن وھب المشتمل علی خطب علی 2۔کتاب ابی مقدام من روایات  من روایات علی بن  الحسین 3۔کتاب الحارث بن اعور الہمدانی من رویات الامام علی

اگر ہم فقہ کی دو  کتب "السنن ولقضایا و الاحکام لابی رافع" اور  "کتاب زکاۃ الانعام الثلاثہ" کو بھی حدیثی کتب شمار کریں ،تو ان سترہ کتب میں صرف پانچ کتب حدیث کی ہیں۔

ج ۔بقیہ آٹھ کتب ایسی ہیں ،جن میں مطلقا کتاب کا ذکر ہے ،جس میں اس کی  کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ حدیثی ذخیرہ ہے یا کسی اور فن کی کتاب ہے ؟ان کو حدیثی ذخیرہ کی فہرست میں شمار کرنا   دعوی بلا دلیل ہے۔

یہی روش تاریخ حدیث کی  بقیہ کتب میں بھی ہے ،یہاں تک کہ   مصاحف کا بھی ذکر کیا گیا ہے 18،حدیثی ذخیرے کی فہارس مرتب کرنے والی کتب میں مصاحف کا ذکر کس قدر علمی و تحقیقی  وزن رکھتا ہے ،اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔

2۔  حدیث و غیر حدیث کے مجموعات کے باوجود تعداد انتہائی کم بنتی ہے ،مثلا محمد مہدوی نے جو ذخیرہ ذکر کیا ہے ، وہ کچھ یوں ہے:

 الف:حضرت علی کے دور میں حدیث و غیر حدیث کو ملا کر  تیرہ اشخاص کی تصانیف کا ذکر کیا ہے۔

ب:حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے دور میں کسی کتاب  کا ذکر نہیں کیا ،صرف ان کے اقوال ذکر کئے ،جو روایات کی کتابت کی ترغیب پر مشتمل ہیں۔

ج:امام زین العابدین کے دور میں حدیث و غیر حدیث کو ملا کر  کل گیارہ مجموعات کا ذکر کیا۔

د:امام باقر کے دور میں  حدیثی و غیر حدیثی کل  سولہ  مجموعات کا ذکر کیا۔

ر:امام جعفر صادق کے دور میں کل تیس مجموعات کا ذکر کیا۔

ذ:امام موسی کے دور میں تیرہ مجموعات کا ذکر کیا۔

س:امام رضا کے دور میں  بائیس مجموعات کا ذکر کیا۔

ش:امام محمد ہادی کے دور میں کسی کتاب  کا ذکر نہیں کیا ،اور امام علی و امام حسن عسکری کے ادوار کو ملا کر کل پندرہ مجموعات کا ذکر کیا۔

یہ تقریبا کل ملا کر 133 مجموعات ہوگئے۔ حدیثی و غیر حدیثی مجموعات کو ملا کر یہ تعداد بنتی ہے ،محض حدیثی مجموعات اس سے کہیں کم بنتی ہیں ،یوں  امام حسن عسکری (260ھ)  تک ڈھائی  سو سال میں اہل تشیع کے مجموعات حدیث سو تک بھی نہیں پہنچتے ،لیکن پھر کتب اربعہ کی صورت میں  ایک صدی کے اندر چالیس ہزار سے زائد روایات منظر عام پر آجاتی ہیں۔

3۔ بعض کتب میں جیسے محمد رضا   المودب کی تاریخ الحدیث اور سید  احمد میرخانی کی کتب میں  ہر مرحلے کے مجموعات کی تعداد  سینکڑوں  میں بتائی گئی ہے ،مثلا صرف امام رضا کے دور میں دو سو سے اوپر کتب  کا ذکر کیا گیا ہے ،لیکن ان میں نام و مصنف کی تفاصیل نہیں دی گئی ،صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس دور میں ان کتب سمیت دوسو افراد نے بھی کتب لکھی ہیں ،مثلا رضا المودب لکھتے ہیں:

وکان لثمانین تلمیذا من تلامذتہ مولفات فی الحدیث بلغ عددھا 207 کتاب 19

آپ کے اسی شاگردوں  نے حدیث کی کتب لکھی ہیں ،جن کی تعداد 207 تک پہنچتی ہے۔

اب یہ کتب  کن کی تصانیف ہیں ؟کیا واقعی یہ حدیث کی کتب ہیں ،یا دیگر فنون و مطلق کتاب  کے عنوان پر مشتمل کتب بھی اس میں شامل ہی،نیز یہ تعداد کہاں سے  ثابت ہے ؟اس طرح  کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

دراصل تفصیلی فہارس مرتب کرنے والے  معاصر اہل تشیع مصنفین نے دو مفروضات پر یہ عمارت کھڑی کی ہے:

1۔ ائمہ کا ہر شاگرد شیعی امامی ہے ،حالانکہ ائمہ سے خصوصا امام جعفر صادق سے بہت سے اہل سنت حضرات نے بھی استفادہ کیا۔

2۔ ائمہ  کے تلامیذ کے ساتھ کتاب  کے عنوان کا مطلب یہ ہے کہ  وہ کتاب ضرور ائمہ سے منقول رویات و احادیث پر مشتمل ہوگی۔

کیا کسی کے شاگرد بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ  عالم اب جو بھی کتاب ،جس موضوع پر بھی لکھے گا ،وہ اسی استاد کی روایات پر مشتمل متصور ہوگی؟امام شافعی نے امام محمد سے استفادہ کیا ،اب کیا امام شافعی کی ہر کتاب کو امام محمد کی  روایات کا مجموعہ کہا جائے؟اور یہ کہا جائے کہ امام محمد کی روایات کو امام شافعی نے الام  جیسی ضخیم کتاب میں جمع کیا ؟ اگر یہ نتیجہ غلط ہے اور یقینا غلط ہے تو محض ائمہ کے شاگردوں کے تذکرے میں لفظ "کتاب "دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا کہ  یہ کتاب حدیث کی ہی ہے اور اس میں ائمہ کی ہی احادیث جمع ہوئی ہیں ،نتیجہ نکالنا بھی  تحقیق کے میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتا ۔جبکہ اس کے برخلاف ڈاکٹر مصطفی اعظمی صاحب نے جو مجموعات حدیث کی فہرست دی ہے، وہ مختلف محدثین کی اپنے اساتذہ سے سنی ہوئی روایات پر مشتمل ہیں ،ان میں اس طرح کے  غیر  ثابت مفروضوں سے  کام نہیں لیا گیا ،چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

1۔ذکوان ابو صالح السمان کی احادیث کا تذکرہ یوں کیا ہے :

من کانت عندہ احادیث مکتوبۃ :
الاعمش ،قال الاعمش کتبت عند ابی صالح الف  حدیث ۔۔۔۔
سہیل بن ابی صالح ،کانت لدیہ صحیفۃ عن ابیہ 20

2۔سالم ابن ابی الجعد کا مجموعہ حدیث یوں ذکر کیا :

قال منصور  قلت لابراہیم النخعی ،ما لسالم ابن ابی الجعد اتم  حدیثا منک؟قال لانہ کان یکتب 21

3۔ شہر بن حوشب الاشعری کا مجموعہ یوں ذکر کیا :

و روی  عبد الحمید بن بہرام عن شہر نسخۃ 22

اس طرح سے ڈاکٹر صاحب نے مختلف شیوخ اور ان کے تلامذہ کے مرتب کردہ 456 مجموعات   ِ حدیث کی فہرست مرتب کی ہے ، الغرض  اہل تشیع کی تفصیلی فہارس اولا تو انتہائی کم تعداد میں ہیں ،ثانیا انہیں بلا دلیل مجموعات ِحدیث  اور ائمہ کی روایات پر مشتمل صحائف باور کرایا گیا ہے ۔

   اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کی کتب اربعہ سے پہلے حدیثی ذخیر ہ    خواہ تحریری صورت ہو یا تقریری یعنی درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کی صورت ہو ،ا خفا کے دبیز پردوں میں مستور ہے ،اس  کا تاریخی ثبوت    دستیاب مواد کی مدد سے از حد مشکل ،بلکہ ناممکن ہے ۔

حواشی


    1.  الذریعہ الی تصانیف الشیعہ 134/2

    2.  الفہرست ،ص35

    3.  ایضا ،ص36

    4.  الفوائد الرجالیہ ،ص367/2

    5.  مجمع الرجال ،9/1

    6.  مقدمہ قاموس الرجال ،ص 7

    7.   اعیان الشیعہ ،140/1

    8.  دراسۃ حول الاصول الاربعمائۃ ،ص8

    9.  تراجم رواۃ الاصول الاربعمائۃ ،ص15

    10.  معالم العلماء ،ص 39 (یہ بات مازندرانی نے شیخ مفید سے نقل کی ہے ،لیکن شیخ مفید کی کتب میں  چار سو اصولوں کا کوئی ذکر نہیں ہے فافہم )

    11.  اعلام الوراء باعلام الھدی ص 166

    12.  المعتبر شرح المختصر للحلی ،26/1 ،ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ للعاملی ،ص6

    13.  دراسۃ حول الاصول الاربعمائۃ ص22

    14.  الذریعہ 135-168/2

    15.  دراسۃ حول الاصول الاربعمائۃ ،ص 27

    16.  الاعلام  الھادیۃ الرفیعہ فی اعتبار الکتب الاربعۃ المنیفہ،ص 108

    17.  تاریخ الحدیث ،ص 53

    18.  تدوین الحدیث عند الشیعۃ الامامیہ ،ص419 ( مصحف علی کا ذکر کیا گیا ہے )

    19.  تاریخ الحدیث ،ص71

    20.  دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ ،ص 147

    21.  ایضا ،ص148

    22.  ایضا،ص151

(جاری)

پرامن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جامعہ تہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ کے زیر اہتمام ۲۶ جون ۲٠۱۹ء کو  منعقدہ  الموتمر العالمی للقدرات الاستجراتیجیۃ لتعالیم الاسلامی فی تحقیق التعایش السلمی  کے لیے لکھا گیا۔)


الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ و السلام علی سید المرسلین وعلی آلہ و اصحابہ واتباعہ اجمعین۔

میں سب سے پہلے جامعہ طہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ اور اس کے رئیس فضلیۃ الشیخ الدکتور مصطفی ذوالفقار طلب حفظہ اللہ تعالی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ارباب ِ علم و دانش کی اس موقر محفل میں مجھے شرکت کا اعزاز بخشا اور عالم ِ اسلام کے سر کردہ علماء کرام اور دانش وران کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع دیا ۔اللہ تعالی ٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ہمارے اس مل بیٹھنے کو انسانی سوسائٹی ، عالمِ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں،آمین یارب العالمین ۔

ہم اس وقت اس عنوان پر غور و خوض اور تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہیں کہ امت مسلمہ کو پر امن معاشرت اور اجتماعی زندگی کے لیے اسلامی تعلیمات کے کن پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینے اور کون سی حکمت عملی اور اقدار و روایات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے علمی و فکری حلقوں بالخصوص جامعات کو کیا طریق ِ کار اختیار کرنا  چاہیے ۔جہاں تک پر امن معاشرت اور سلامتی پر مبنی سوسائٹی کا تعلق ہے، یہ نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پوری نسل ِ انسانی کی ہمیشہ سے ضرورت چلی آ رہی ہے اور جب تک اس زمین پر انسان آباد ہیں اس کی ضرورت رہے گی، لیکن اس کے لیے مختلف اقوام اور ادوار میں الگ الگ فلسفہ اور طریقِ کار رہا ہے اور آج بھی یہ اختلاف و تنوع انسانی سوسائٹی میں امن و سلامتی کے مجموعی اہتمام میں رکاوٹ ہے۔ظاہر ہے کہ اسی ماحول میں سے ہم نے اپنے لیے امن و سلامتی کا راستہ نکالنا ہے اور فساد و بدامنی کی موجودہ دلدل سے نکلنے کی صورتیں پیدا کرنی ہیں جو اہل ِ علم و دانش کے فطری و شرعی فرائض میں داخل ہے ۔

اسلام تو عبارت ہی سلامتی سے ہے اور اس کا مادہ "سلم " ہے۔سلم اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی کہ خود بھی سلامتی سے رہنا ہے اور دوسروں کو بھی سلامتی کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کرنا ہے اور یہ بات کسی اصول و ضابطہ اور اجتماعی اخلاقیات و اقدار کی تشکیل و تعین کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسلام نے اس کا فطری راستہ بتایا ہے کہ نسلِ انسانی خود کو اپنے پیدا کرنے اور زندگی کے ہر قسم کے اسباب فراہم کرنے والی ذات کے حوالے کر دے اور اس کی ہدایات کی پابندی قبول کرے جو اس نے اپنے مقدس پیغمبروں صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ذریعہ بھجوائی ہیں اور جن کی نشاندہی اللہ تعالی نے زمین پر حضرت آدم  و حوا علیہما السلام  کو اتارتے وقت اس طرح کر دی تھی کہ :

فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 

جب کہ آسمانی تعلیمات کی پابندی قبول نہ کرنے والی اقوام و طبقات او رگروہوں نے باہمی امن و سلامتی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے عقل و خواہش کو بنیاد بنایا اور یہ طے کر لیا کہ انسانی سوسائٹی اپنے نفع و نقصان کو خود ہی بہتر سمجھتی ہے، اس لیے وہ اجتماعی سوچ اور تقاضوں کی بنیاد پر جو طے کر لے، وہی اس کے لیے امن و سلامتی کا راستہ ہے۔قرآن کریم نے اسے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ :

إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ

آج بھی فکری اور تہذیبی ماحول میں یہی کشمکش پوری نسل ِ انسانی کا احاطہ کیے ہوئےہےاور اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے ہماری اولین ذمہ داری یہ ہے کہ ہم نسل ِ انسانی کو اسلامی تعلیمات اور "وَلَقَدْ جَاءَھُم مِّن رَّبِّھِمُ الْھُدَى" کی طرف متوجہ کریں اور اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ انسانی سوسائٹی اگر سارے معاملات خود طے کرنے لگے گی تو افراد و طبقات اور اقوام و ممالک کے درمیان خواہشات و مفادات کا ہمہ گیر تنوع اسے کبھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچنے دے گا اور باہمی تصادم و کشمکش سے اسے نکلنا کبھی نصیب نہیں ہوگا ۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے معاملات طے کرنے کے لیے کسی بالاتر ذات و قوت کی طرف رجوع کرے اور وہ اللہ تعالی کی ذاتِ گرامی ہے جس کی ہدایات حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی صورت میں اس کے پاس موجود ہیں ۔

اس اصولی گزارش کے ساتھ ساتھ گفتگو کو طوالت سے بچانے کے لیے موجودہ معروضی صورتِ حال میں چند معروضات تجاویز کی صورت میں اس موقر مؤتمر کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔اگر انہیں بھی غور وفکر کے دائرہ میں شامل کر لیا جائے تو اس عمل میں شرکت کے حوالہ سے مجھ جیسے طالب علم کا بھی کوئی حصہ پڑ جائے گا ۔

  1. اس وقت دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کے جس نیٹ ورک نے اقوام و ممالک کو حصار میں لے رکھا ہے، اس سے آگاہی کا ماحول پیدا کرنا اربابِ فکر  و دانش اور جامعات کی ذمہ داری ہے اور میرے خیال میں بڑی جامعات کو بین الاقوامی معاہدات اور نسل ِ انسانی کے ساتھ ساتھ عالم ِ اسلام پر ان کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق و مطالعہ کے دائرہ کو وسعت دینی چاہیے۔
  2. بین الاقوامی معاہدات میں جو امور ملت اسلامیہ اور مسلم ممالک کے لیے پوری طرح قابلِ قبول نہیں ہیں، ان کے لیے بین الاقوامی اداروں اور عالمی فورموں پر مذاکرہ و مباحثہ اور امت مسلمہ کا موقف صحیح طور پر ان تک پہنچانا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے ۔
  3. امت مسلمہ اور مسلم ممالک کے باہمی تنازعات و اختلافات کو قابلِ برداشت حد میں رکھنے کے لیے کوئی اجتماعی ضابطۂ اخلاق طے کرنے پر کام ہونا چاہیے اور وحدت و اجتماعیت کے زیادہ سے زیادہ اہتمام کے لیے سنجیدہ اور اجتماعی ورک کی ضرورت ہے۔
  4. عالمی استعمار اور استبدادی قوتوں کے دباؤ  اور جبر کا شکا رہونے والے مسلمانوں بلکہ دیگر ایسے گروہوں کے حق میں آواز اٹھانا اور جبر و دباؤ  کو کم کرنے کی تدابیر کرنا بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
  5. کشمیر ، فلسطین ،اردن اور دیگر مظلوم خطوں کے مسلمانوں کو ظلم و تشدد سے نجات دلانا اور ان کے قومی و ملی حقوق کی پاسداری کےلیے عالم ِ اسلام کو مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔
  6. مسلم امہ کے بین الاقوامی اداروں بالخصوص او،آئی ،سی ، سے درخواست کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ عالم ِ اسلام کے معروضی حالات اور مشکلات و مسائل کے تناظر میں باہمی بحث و مباحثہ اور بالادست اقوام و ممالک کے ساتھ مذاکرہ و مکالمہ کے راستے نکالیں ۔
  7. جامعات اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی اجتماعی و معاشرتی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کا اہتمام کریں ۔

امید  ہے کہ میری ان معروضات پر مؤتمر کے معزز شرکاء غور و خوض کی زحمت فرمائیں گے ۔اللہ تعالی مؤتمر کو کامیابی سے نوازیں ،منتظمین کو جزائے خیر سے نوازیں اور پورے عالم ِ اسلام کے لئےہمارے اس اجتماع کو بہتر رہنمائی اور خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں ،آمین یا رب العالمین ۔


کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟

ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پہلی منتخب دستور ساز اسمبلی نے ’’قرار داد مقاصد‘‘ کی صورت میں یہ اصول طے کر دیا کہ دستوری طور پر:

  1. حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہو گی۔
  2. حکمرانی کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہو گا۔
  3. حکومت و ریاست اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے پابند ہوں گے۔

اس میں جہاں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان کر کے عوام کی حاکمیت کے مغربی تصور کو مسترد کیا گیا ہے، وہاں حکمرانی کے حق کے لیے عوام کی مرضی کو بنیاد بنا کر طاقت کی حکومت اور خاندانی حکمرانی کے سسٹم کی بھی نفی کر دی گئی۔ اور اس طرح اسلام اور اس کے ساتھ جمہوریت کے اسلام ہی سے لیے ہوئے قابل قبول تصور کے دو اصولوں کو پاکستان کی دستوری اساس تسلیم کیا گیا۔ حکومتوں کے طرز عمل اور عملدرآمد کی صورتحال کے مختلف ہونے کے باوجود یہ قرارداد مقاصد اب تک نافذ ہونے والے تمام دستوروں کا حصہ چلی آرہی ہے۔ اور رائج الوقت دستور، جسے ۱۹۷۳ء کا دستور کہا جاتا ہے، اس کا بھی حصہ ہے اور اس کی روشنی میں اسلام کو ملک کا ریاستی مذہب قرار دینے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے دائرے میں قانون سازی کا پابند کیا گیا ہے، جو آج کے دور میں کسی بھی اسلامی ریاست کی صحیح اور متوازن دستوری بنیاد ہو سکتی ہے۔

اس اصول اور دستور کے مطابق ملک اب تک انتخابات کے بہت سے مراحل سے گزر چکا ہے، بہت سی حکومتیں اس ذریعے اقتدار میں آچکی ہیں، درمیان میں مارشل لاء کے ادوار بھی آئے ہیں جسے طاقت کے بل پر حکمرانی کا حق استعمال کرنے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، لیکن سات عشروں سے زیادہ عرصہ کے اس دورانیہ میں اسلام اور جمہوریت دونوں کے ساتھ جو نا انصافی اور ظلم روا رکھا گیا ہے وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ نوآبادیاتی دور کی یادگار اسٹیبلشمنٹ نے، جس میں بیوروکریسی، جاگیردار، صنعتکار اور فوجی حکمران سب ہی درجہ بدرجہ شامل چلے آ رہے ہیں، اپنی حکومتوں کے دور میں ملک کو اسلام کی بالادستی اور جمہوری حکمرانی سے بہرہ ور کرنے کی بجائے ہمیشہ اپنے طبقاتی مفادات اور عالمی قوتوں کے ایجنڈے کے لیے کام کرنے کو ترجیح دی ہے۔ جس کے نتیجے میں آج ملک نہ صرف معاشی طور پر تباہ حالی کا شکار ہے بلکہ اس کی سرحدوں کا احترام، قومی مختاری اور ملکی سالمیت بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔

اسلام کے ساتھ اکثر حکومتوں کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ دستور میں قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کی واضح ممانعت کے باوجود قرآن و سنت کے منافی قوانین اور پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے، اور جمہوریت کے بارے میں ان کا یہ طرز عمل ہمارے سامنے ہے کہ اکثر مواقع پر انتخابات میں عوام نے ووٹ کے ذریعے جن حکومتی پالیسیوں کو واضح طور پر مسترد کیا، اس ووٹ کے ذریعے برسر اقتدار آنے والی حکومت نے انہی پالیسیوں کو مسلسل جاری رکھا، حتٰی کہ منتخب پارلیمنٹ کے بعض متفقہ فیصلوں کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ اس ملک میں اسلام اور جمہوریت کے دونوں نعرے صرف اور صرف دکھاوے اور اقتدار کے حصول و بقا کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ اصل پالیسیاں وہی جاری رہتی ہیں جو اسٹیبلشمنٹ اور عالمی قوتوں کے درمیان طے پا جاتی ہیں۔

اس لیے ہمارے خیال میں عوام کے لیے سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ پاکستان کی اسلامی شناخت، قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور ملکی سالمیت کو ترجیح دیتے ہوئے ایسی قیادت کو سامنے لانے کی کوشش کریں جو ملک پر عالمی استعمار اور ملکی حکمران طبقات کے گٹھ جوڑ کے شکنجے کو ڈھیلا کر سکے، کیونکہ اس کے سوا پاکستان کے مستقبل کو محفوظ اور بہتر بنانے کا اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، خدا کرے کہ ہم اس سمت صحیح پیشرفت کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔


قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۷)

محمد عمار خان ناصر

امام شافعیؒ کے موقف کی الجھنیں اور اصولی فکر کا ارتقا

امام شافعی کے موقف کی وضاحت میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ ان سے پہلے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جمہور اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث میں ایک نہایت اہم نکتے کا اضافہ کیا کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت کو قطعی طور پر شامل ہونے کا مفروضہ ہی عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے درست نہیں اور قرآن کا اسلوبِ عموم خود ایک قابل احتمال اور محتاج تفسیر چیز ہے، اس لیے کسی حدیث میں، ظاہر قرآن پر کسی اضافے یا کسی تخصیص وتقیید کو قرآن کے معارض سمجھنے کے بجائے اسے شارع کی طرف سے اصل حکم ہی کی تفصیل اور تشریح تصور کرنا ضروری ہے۔

اسلوب عموم کی نوعیت پر گفتگو کرتے ہوئے امام شافعی نے قرآن مجید کی بہت سی مثالوں کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ عموم کا اسلوب بذات خود قطعی طور پر یہ طے نہیں کرتا کہ متکلم کی مراد عموم ہی ہے، بلکہ اس میں دونوں احتمال ہوتے ہیں اور متکلم کی مراد متعین کرنے کے لیے اضافی دلائل وقرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض جگہ عموم کے اسلوب سے فی الواقع عموم ہی مراد ہوتا ہے، یعنی الفاظ کی ظاہری دلالت جن مصداقات کو شامل ہے، وہ سب متکلم کی مراد ہوتے ہیں، بعض جگہ عموم کے اسلوب سے عموم مراد تو ہوتا ہے، لیکن قرائن ودلائل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس عموم سے فلاں اور فلاں صورتیں خارج ہیں، اور بعض مقامات پر عموم کے اسلوب سے سرے سے عموم مراد ہی نہیں ہوتا، بلکہ کچھ خاص مصداقات کا ذکر عموم کے الفاظ سے کر دیا جاتا ہے۔

اس بنیادی نکتے سے امام شافعی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب اسلوب عموم سے واقعتا عموم کا مراد ہونا قطعی نہیں، بلکہ اس کا تعین اضافی دلائل وقرائن کی روشنی میں کیا جا تا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نمائندے اور ترجمان کی حیثیت سے قرآن کی مراد کی جو وضاحت فرمائی ہے، وہ مراد الٰہی کی تعیین میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے ۔ چنانچہ سنت میں تخصیص وارد ہونے کے بعد قرآن کے حکم کو اس کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے گا اور دونوں کے مجموعے سے اللہ تعالیٰ کی مراد طے کی جائے گی، نہ کہ سنت کے حکم کو کتاب اللہ سے اختلاف پر محمول کر کے حدیث کو رد کر دینے یا منسوخ تصور کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

یہ طرز استدلال اختیار کر کے امام شافعی نے بنیادی طور پر جمہور اہل علم کے موقف، جو اس وقت تک عموماً اطاعت رسول کے اعتقادی مقدمے پر مبنی تھا، دلالت کلام کے تناظر میں ایک علمی وعقلی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی اور بہت سی مثالوں میں سنت میں وارد تخصیصات کے لفظی یا عقلی قرائن کی نشان دہی خود قرآن مجید میں کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ سنت نے قرآن کے حکم میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ اسی میں موجود اشارات، علل اور قرائن کی روشنی میں مراد الٰہی کی وضاحت کی ہے۔ اس حد تک امام شافعی کا استدلال بہت وزنی اور مضبوط معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ قبول کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں پاتے کہ جہاں بہت سی مثالوں میں تخصیص کی بنیاد خود قرآن میں واضح کی جا سکتی ہے، وہاں کم وبیش اتنی ہی مثالوں میں حکم کی تخصیص کا کوئی قرینہ بظاہر قرآن میں دکھائی نہیں دیتا، البتہ امام صاحب کے نزدیک چونکہ اصولی طور پر یہ بات طے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ ہی کی مراد کو واضح کرتے ہیں، اس لیے انھیں اصرار ہے کہ ایسی مثالوں کو بھی نسخ اور تغییر نہیں، بلکہ تبیین وتوضیح ہی تصور کرنا لازم ہے۔ یوں کم سے کم اس دوسری نوعیت کی مثالوں کی حد تک ان کا استدلال دلالت کلام کے نکتے سے ہٹ کر دوبارہ ایک طرح کی اعتقادی بنیاد پر استوار ہو جاتا ہے۔

مزید برآں امام صاحب اس الجھن کا بھی کوئی واضح جواب نہیں دیتے کہ کتاب اللہ کے جن احکام میں ظاہراً ایک سے زیادہ احتمالات نہیں پائے جاتے اور تخصیص کا بھی کوئی قرینہ موجود نہیں، ان میں اگر سنت، کتاب اللہ سے مختلف کوئی بات بیان کرے تو اسے اصل حکم میں ترمیم یا اضافہ سمجھنے کے بجائے اس کی تبیین ماننے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ قرآن کا جو حکم پہلے بالکل واضح اور غیر محتمل تھا، سنت کا بیان سامنے آنے کے بعد اب اسے محتمل اور محتاج بیان تصور کیا جائے گا۔ یعنی کسی حکم کے واضح اور غیر محتمل ہونے کا معیار خود اس کا اپنا اسلوب اور اس کی داخلی دلالت نہیں، بلکہ اس کا تعین کسی دوسری امکانی وضاحت کے وارد ہونے یا نہ ہونے پر منحصر ہے۔ ایسی کوئی ممکنہ وضاحت سامنے نہ آنے تک حکم کو عبوری طور پر واضح اور غیر محتمل مانا جا سکتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی وضاحت وارد ہوگی، یہ فرض کر لیا جائے گا کہ اصل حکم محتمل الدلالة اور غیر قطعی تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امام شافعی باصرار یہ کہتے ہیں کہ اصل کلام کو اس تخصیص کے لیے قابل احتمال ہونا چاہیے جو بعد میں بیان کی گئی ہے، لیکن وہ یہ واضح نہیں کرتے کہ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے تناظر میں اس قید کا عملی فائدہ کیا ہے، کیونکہ وہ کوئی ایسی مثال بیان نہیں کرتے جس میں سنت کی بیان کردہ تخصیص اصل کلام کے لیے قابل احتمال نہ ہو۔ ان کے فریم ورک میں قرآن کے بیان کا تخصیص کے لیے قابل احتمال ہونے یا نہ ہونے کا سوال سنت سے قطع نظر کرتے ہوئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا، کیونکہ سنت میں وارد تخصیص ہی دراصل یہ طے کرتی ہے کہ قرآن کا بیان محتمل ہے یا نہیں۔ ایسی صور ت میں اصل کلام کے کسی تخصیص کے لیے قابل احتمال ہونے یا نہ ہونے کا نکتہ کیا فرق پیدا کرتا ہے، اس کی کوئی وضاحت امام شافعی نہیں کرتے۔

امام شافعی اس سوال سے بھی کوئی تعرض نہیں کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حکم کے مبنی بر خصوص ہونے کا علم کیسے ہوا؟ آیا اس کا علم آپ کو مستقل وحی کے ذریعے سے دیا گیا یا سابقہ حکم ہی میں اس کے دلائل وقرائن موجود تھے؟ اگر حکم کے خاص ہونے کے لسانی یا عقلی قرائن خود قرآن میں موجود تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی قرائن وشواہد سے یہ بات اخذ کی تو زبان کی ابانت وبلاغت یہ تقاضا کرتی ہے کہ تخصیص کے ان قرائن کا فہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص نہ ہو، بلکہ زبان کا معیاری اور عمدہ ذوق رکھنے والے اصحاب علم بھی ان قرائن کی مدد سے اسی نتیجے تک پہنچ سکیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں تو اس تخصیص کے قرائن نہیں رکھے تھے، لیکن حکم کے مبنی بر خصوص ہونے کی وضاحت کسی الگ وحی کے ذریعے سے کی گئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلام کے مدعا و مفہوم کے ابلاغ کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ کیا قرآن کی زبان اس کی متحمل نہیں تھی کہ اس تخصیص کے قرائن یا اشارات کو اپنے اندر سمو سکتی؟ اس معروف اور مانوس طریقے کو چھوڑ کر ایک ایسا انداز اختیار کرنے کی حکمت کیا ہو سکتی ہے جو الجھن پیدا کرنے کا موجب ہو؟

امام شافعی کے استدلال کے یہ وہ خلا تھے جن کے پیش نظر ان کے بعد ان کے موقف سے اصولی اتفاق کرنے والے مکتب فکر، یعنی جمہور اصولیین میں اس حوالے سے دو مختلف رجحانات سامنے آئے۔ ان میں سے ایک رجحان کا نمائندہ پانچویں صدی ہجری کے ممتاز ظاہری فقیہ علامہ ابن حزم الاندلسی کو قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے رجحان کی نمائندگی جمہور اصولیین کے مواقف میں ہوئی ہے۔ ان دونوں رجحانات میں امام شافعی کے پیش کردہ موقف اور استدلال میں بعض اہم تنقیحات اور اضافے شامل ہوئے ہیں جنھیں پیش نظر رکھنا بحث کے تاریخی ارتقا کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

(جاری)

رشتوں كا معيار انتخاب اور سیرت پاک کی صحیح تصویر

ڈاکٹر محی الدین غازی

رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو؟ اس مسئلہ کی معاشرتی اہمیت ہمیشہ بہت زیادہ رہی ہے، اور اس دور میں تو یہ مسئلہ نہایت سنگین ہوگیا ہے، مادہ پرستی، ظاہر پسندی اور خود ساختہ مثالیت پسندی کے بے تحاشا بڑھتے ہوئے رجحانات نے پورے معاشرے کو اپنے چنگل میں لے لیا ہے، اس صورت حال میں ہر ايک پریشان ہے، اور ہرشخص ایک بے مقصد دوڑ میں شریک ہونے اور اپنی پوری زندگی کو بھاگتے اور ہانپتے ہوئے گزارنے کے لیے مجبور نظر آتا ہے۔

مادہ پرستی اور ظاہر پسندی کی اس دوڑ میں رشتوں کے رائج الوقت انتخابی معیارات کا اہم رول ہوتا ہے، اور ان معیارات کے حصول کے لیے عام طور سے لوگ خواہی نہ خواہی پریشان اور بدحواس رہتے ہیں۔

ایسی صورت میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ رشتوں کے انتخاب کے تعلق سے وہ اعلی نبوی معیارات لوگوں کے سامنے لائے جائیں جن کو االلہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ كرام کے مثالی معاشرے میں فروغ دیا تھا۔ اور جن کی برکتوں کو اس زمانے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ سیرت کے لٹریچر میں اس سلسلے کی اگر کوئی نامناسب بات کسی طرف سے در آئی ہو اور سیرت پاک کی عظمت وشوكت کو متاثر کررہی ہو تو اس کی نشاندہی کی جائے، اور اس کے بارے میں  صحيح موقف اختیار کیا جائے۔

اس بات پر تو ساری امت کا اتفاق ہونا چاہئے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک خاص مقصد افراد کے اندر اعلی اخلاق اور معاشرے میں بلند اقدار کا فروغ تھا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نمایاں رنگ یہی تھا، اور یہ رنگ آپ کی تعلیمات کو دنيا كي ساری تعلیمات کے مقابلے میں ایک زبردست امتیازعطا کرتا ہے۔

شادی بیاہ کے معاملات اور بطور خاص شریک حیات کے انتخاب کے تعلق سے بھی آپ کی تعلیمات اور ہدایات کا عمود اور محور یہی تھا۔

رشتوں کے تعلق سے آپ کی اصل توجہ اس پر مرکوز تھی کہ دینداری، صالحیت اور حسن اخلاق کو انتخاب میں ترجیح اول حاصل رہے، چنانچہ مردوں کے تعلق سے آپ کی عام ہدایت تھی، کہ اگر کوئی ایسا شخص پیش قدمی کرتا ہے جو دینداری اور اخلاق وکردار کے لحاظ سے اطمینان بخش ہے تو اس کی شادی کردو، ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہوجائے گا۔

عن أبي ھريرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «إذا خطب إليكم من ترضون دينہ وخلقہ فزوجوہ، إلا تفعلوا تكن فتنۃ في الأرض، وفساد عريض» سنن الترمذي (3/ 386)

خواتین کے تعلق سے آپ کی عام ہدایت تھی کہ شادی کرتے ہوئے عام طور سےعورت کی مالداری، حسب ونسب، جمال اور دینداری کا خیال کیا جاتا ہے، تم اگر خوش بختی چاہتے ہو تو دیندار خاتون کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

عن أبي ھريرۃ رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ عليہ وسلم قال: " تنكح المرأۃ لأربع: لمالھا ولحسبھا وجمالھا ولدينھا، فاظفر بذات الدين، تربت يداك " (متفق علیہ)

آپ نے اس معیار کو دوسرے معیاروں پر ترجیح دینے کی مسلسل تربیت بھی کی، ذیل کی روایت سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے:

عن سھل، قال: مر رجل علی رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، فقال: «ما تقولون في ھذا؟» قالوا: حري إن خطب أن ينكح، وإن شفع أن يشفع، وإن قال أن يستمع، قال: ثم سكت، فمر رجل من فقراء المسلمين، فقال: «ما تقولون في ھذا؟» قالوا: حري إن خطب أن لا ينكح، وإن شفع أن لا يشفع، وإن قال أن لا يستمع، فقال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «ھذا خير من ملء الأرض مثل ھذا» صحيح البخاري (7/ 8)

سہل کہتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ نے کہا تم لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ اس لائق ہے کہ رشتہ مانگے تو نکاح کردیا جائے، سفارش کرے تو سفارش مان لی جائے، اور بات کہے تو سنی جائے، آپ خاموش رہے۔ پھر ایک نادار مسلمان گزرا، آپ نے کہا اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ ایسا ہے کہ رشتہ مانگے تو نکاح نہ کیا جائے، سفارش کرے تو مانی نہ جائے، اور بات کہے تو سنی نہ جائے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: یہ اس جیسے زمین بھر لوگوں سے زیادہ بہتر ہے۔(صحیح بخاری)

ان عظیم تعلیمات کا اس وقت کے اسلامی معاشرے پر غیر معمولی اثر واقع ہوا، یقینی طور پر دینداری اور حسن اخلاق کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی، لوگوں پر بخوبی واضح ہوگیا کہ جس معاشرتی معیار کے لیے مسابقت ہونی چاہئے وہ بس یہی ہے، لوگ اپنے بچوں اور بچیوں کے رشتے کے سلسلے میں دینداری اور صالحیت کو سب سے زیادہ ترجیح دینے لگے، اور صالحیت ہی کو بچوں کی تربیت اور نشوونما میں اولیت کا درجہ حاصل ہوا، بچیوں کے والدین بھی اسی انمول گوہر سے ان کو آراستہ کرنے کی فکر کرتے، اور بچوں کے والدین بھی ان کی ایسی ہی اٹھان کے لیے کوشاں رہتے۔ تمام نوجوان مرد وخواتین پر یہ بات بخوبی واضح ہوگئی تھی کہ اب رشتوں کے انتخاب میں وزن دار چیز اگر ہے تو اخلاق وکردار کی دولت ہے۔ اور یہ نہیں ہے تو باقی سب کچھ بے وزن اور بے اعتبار ہے۔

ایک طرف لوگوں کی توجہ صالحیت اور دینداری پر مرکوز ہوگئی تھی، تو دوسری طرف ان دلفريب چیزوں کی طرف سے ان کی توجہ اور فکرمندی کم ہوگئی جو عارضی ہیں، دنیا کی اس عارضی زندگی تک محدود ہیں، اور ہر ایک کے حصے میں اس کے نصیب کے بقدر آتی ہیں۔

دیگر اوصاف ومعیارات کے مقابلے میں دینداری کا خصوصی امتیاز یہ ہے اسے آدمی اپنی پاک نیت، بلندارادہ، پیہم کوشش اور مسلسل توجہ سے حاصل کرتا ہے، جو حاصل کرلیتا ہے وہ تعریف وتحسین کا سزاوار ہوتا ہے، اور جو حاصل نہیں کرتا ہے وہ اپنی کوتاہی کے لیے خود قصور وار قرار پاتا ہے، اور اسی لیے مستحق ملامت بھی ہوتا ہے۔ دنیا میں تعریف وملامت کے سلسلے میں بھی اصل معیار حسن سیرت وکردار ہے، اور آخرت میں جزا وسزا کے لیے بھی وہی حقیقی معیار ہے۔ اس لیے حکمت کا یہ عین تقاضا تھا کہ رشتوں کے انتخاب کے سلسلے میں بھی صالحیت کو تنہا معیار بنایا جائے۔

اگر کوئی مرد غریب اور تنگ حال ہے، یا اس کے اندر کوئی جسمانی خامی ہے، یا کسی خاص خاندان اور خاص علاقے میں پیدا ہوا ہے، یا کسب معاش کے لیے کسی مخصوص پیشے سے وابستہ ہوا ہے، یا اس کے حصے میں کوئی خاص رنگ اور زبان آئے ہیں، تو یہ سارے احوال انتخاب کے سلسلے میں رد وقبول کا معیار قرار نہیں دیے جاسکتے۔

اسی طرح کسی لڑکی میں کسی جسمانی عیب کا ہونا، یا اس کا خوب صورت نہ ہونا، یا بیوہ اور طلاق یافتہ ہوجانا اس کے نوشتہ قسمت کا حصہ تو ہوسکتا ہے، نوشتہ اعمال کا حصہ نہیں ہوتا ہے، اس لیے ایسی کسی چیز کو رد وقبول کی اخلاقی بنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اگر کوئی فرد اپنے انفرادی فیصلے میں دینداری کے علاوہ بھی کسی پہلو کی رعایت کرتا ہے، تو وہ اس کی انفرادی پسند ہوسکتی ہے، اس فرد کے ذاتی حالات کا اس کے فیصلے میں دخل ہوسکتا ہے، اور ذاتی حالات کے پیش نظر اس کا خصوصی جواز بھی نکل سکتا ہے، لیکن معاشرے کو جو معیاری تعلیمات دی جائیں گی، ان میں ان اعتبارات کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ اور اگر کسی نبی کی طرف سے رشتوں کے انتخاب کے بارے میں عمومی معیار صادر ہورہا ہو، تب تو اس میں صالحیت اور دینداری کے سوا کسی اور محرک کا دور دور تک گزر نہیں ہوسکتا ہے۔

افسوس اس بات پر ہے کہ امت مسلمہ میں رشتوں کے انتخاب ميں ان معیاروں کو زیادہ چرچا حاصل ہوگیا جو حقیقی نہیں تھے، اور ان کے مقابلے میں صالحیت کا حقیقی معیاربہت حد تک پس پشت چلاگیا، یا پھر غیر حقیقی معیاروں كي صف میں آکر بے وزن اور غیراہم ہوگیا۔

کسی درجے میں اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ اس حوالے سے سیرت کی بالکل صحیح اور خالص تصویر سامنے نہیں آسکی، بلکہ سیرت پاک کے تذکروں میں بہت سی ایسی چیزيں درآئی ہیں، جو سیرت پاک كي عظمت وشوكت سےكوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔

ایک عام آدمی جب سیرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے سامنے کچھ عجیب وغریب سی تصویر آتی ہے، اور بے حد مشکل سوالات کا اسے سامنا هوتا هے، وہ دیکھتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ کنواری عورت سے شادی کرو، اور پھر وہ تلاش کرتا ہے کہ آخر بیوہ اور مطلقہ عورتوں کی شادی کے مشکل مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں آپ کی کیا تعلیمات ہیں، تو اسے حیرانی کے سوا كچھ ہاته نهيں آتا۔

وہ دیکھتا ہے کہ آپ لوگوں کو ابھار رہے ہیں کہ زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، پھر وہ سوچتا ہے کہ بانجھ عورتوں کی شادی کے مشکل مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں آپ کی تعلیمات کیا ہیں، تو اسے حیرانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

وہ دیکھتا ہے کہ آپ لوگوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ شادی سے پہلے عورت کو دیکھ لو، اس میں کوئی عیب نہ ہو، پھر وہ جاننا چاہتا ہے کہ جو عورتیں کسی جسمانی عیب کا شکار ہیں، ان کی شادی کے سلسلے میں آپ کی تعلیمات کیا ہیں، تو اسے حیرانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

سیرت طیبہ کی یہ تصویر یقینا بڑی الجھنوں کي باعث اور گہری فکرمندی کي موجب ہے، اس میں سیرت پاک بر نکتہ چینی کرنے والوں کے لیے بڑا مسالہ موجود ہے۔

اس کے بالمقابل جب ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی زندگی اور شخصیت کو دیکھتے ہیں، تو بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے، وہاں ہم کو نہ کنواری لڑکیوں کی تلاش ملتی ہے، نہ زیادہ بچے جننے والیوں کی جستجو نظر آتی ہے، نہ جسمانی لحاظ سے کسی کمی اور عیب سے گریز ملتا ہے، اور نہ حسن وجمال کی تلاش نظر آتی ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی بیویاں کنواری تھیں؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی بیویاں بچے جننے والی تھیں؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن وجمال کی فراوانی پر کتنی توجہ دی تھی؟

پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خیر امت تیار کی تھی، اس میں رشتوں کے انتخاب کے تعلق سے کیا معیارات رائج تھے؟

کیا لوگ کنواری لڑکیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے، اور کیا وہ حسن وجمال کے متلاشی ہوا کرتے تھے؟

کیا اس معاشرے میں کوئی بیوہ یا مطلقہ اس وجہ سے ازدواجی رشتے کی نعمت سے محروم رہی کہ وہ کنواری نہیں رہی تھی؟

کیا کوئی خاتون اس وجہ سے بیاہی نہیں جاتی تھی کہ اس میں کوئی جسمانی عیب تھا؟

کیا اس زمانے میں بانجھ عورتوں کی شادیاں آسانی سے نہیں ہوا کرتی تھیں؟

واقعہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں کسی بھی خاتون کو اور کسی بھی مرد کو رشتے کے سلسلے میں نہ کسی پریشانی کا شکار ہونا پڑتا تھا، اور نہ کسی تاخیر سے دوچار ہونا پڑتا تھا، ہر عورت کو زوجیت کے سائے بان میں بروقت اور بڑی آسانی سے جگہ مل جایا کرتی تھی۔ یہ سیرت طیبہ اور تاریخ صحابہ کا زبردست امتیاز ہے، اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں مل سکتی ہے۔

درحقیقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، اور صحابہ کرام کا مثالی اور بابرکت معاشرہ ہمارے لیے باعث رشک وتقلید ہے، وہاں رشتوں کے انتخاب کے سلسلے میں صرف ایک ہی معتبر اور باوزن معیار تھا اور وہ تھا صالحیت، دینداری اور اعلی اخلاق وکردار، اور اس معیار نے رشتوں کے  تعلق سے بے شمار معاشرتی مسائل کو جڑ سے ختم کردیا تھا۔

یہاں اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ ان روایتوں کے بارے میں ہمارا موقف کیا ہونا چاہئے، جن میں دینداری صالحیت اور حسن اخلاق کے علاوہ بھی مختلف چیزوں کی رعایت کرنے کی تعلیم ملتی ہے؟

یہ سوال بہت اہم ہے اور بہت نازک بھی ہے، سیرت پاک کے شیدائیوں کو اس کا جواب ضرور تلاش کرنا چاہئے، تاہم سیرت پاک کے خوشہ چینوں کے غور وفکر کے لیے بہت خاص بات یہ ہے کہ رشتوں کے معیار کے حوالے سے صالحیت اور دینداری کے علاوہ اوصاف کے بارے میں جو کچھ ہمیں روایتوں میں ملتا ہے، وہ صرف روایتوں میں ملتا ہے، نہ تو وہ نمایاں طور پر اللہ کے رسول کی زندگی میں ملتا ہے، اور نہ ہی صحابہ کرام کی سوسائٹی میں ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کا مسلم معاشرہ غیر اسلامی معاشروں کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا، اور مسلم معاشرے میں بھی وہی معیارات رواج پاگئے جو غیر مسلم معاشروں میں رائج تھے، ان رواجوں کو جب بعض روایتوں کی تائید بھی حاصل ہوگئی تو ان کی جڑیں معاشرے میں اور گہری ہوگئیں، اور ان کو ختم کرنا بہت دشوار ہوگیا۔

اس مختصر مقالے میں ہر روایت پر بہت تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گنجائش تو نہیں ہے البتہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اس طرح کی کچھ مشہور ومعروف روایتوں بر غور كرليا جائے.

پہلی روایت

اس روایت کا تعلق ایک واقعہ سے ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی جابر بن عبداللہ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے، انہوں نے کہا ہاں، تو آپ نے پوچھا بکر سے یا ثیب سے؟ انہوں نے کہا ثیب سے، اس پر آپ نے کہا: تم نے بکر سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟؟ اس پر انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ احد کے موقعہ پر ان کے والد شہید ہوگئے تھے، اور نو لڑکیاں چھوڑی تھیں، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ایک ناتجربہ کار الہڑ لڑکی کو ان کے ساتھ رہنے کے لیے لاؤں، اس لیے ایسی خاتون کو بیاہ کر لایا جو ان کے کام آسکے۔

یہ روایت مختلف تفصیلات کے ساتھ متعدد کتابوں میں مذکور ہے، اس کا ایک متن یہاں نقل کیا جارہا ہے:

قال عمرو: سمعت جابرا، يقول: قال لي رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «ھل نكحت؟» ، قلت: نعم، قال: «أبكرا أم ثيبا؟» ، قلت: ثيبا، قال: «فھلا بكرا تلاعبھا، وتلاعبك» ، قلت: يا رسول اللہ، قتل أبي يوم أحد، وترك تسع بنات، فكرھت أن أجمع إليھن خرقاء مثلھن، ولكن امرأۃ تمشطھن، وتقوم عليھن، قال: «أصبت» مسند أحمد (22/ 208)

جابر کہتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے کہا: کیا تم نے نکاح کرلیا، میں نے کہا ہاں، پوچھا: کنواری یا غیر کنواری؟ میں نے کہا غیر کنواری۔ کہا: کنواری سے کیوں شادی نہیں کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول میرے باپ احد کے موقع پر کام آگئے، اور نو لڑکیاں چھوڑیں، میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ ان میں ایک ان جیسی ناتجربہ کار لڑکی کا اضافہ کردوں، مناسب یہ لگا کہ ایک عورت لاؤں جو ان کے بالوں میں کنگھی کرے، اور ان کی نگہداشت کرے، آپ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔ (مسند احمد)

امام مسلم اس روایت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ متعلقہ باب کا نام ہی باب استحباب نكاح البكر رکھ دیا، روایت کے تمام طرق کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کئی حصوں کے تعلق سے مختلف روایتوں میں شدید تعارض پایا جاتا ہے، شارحین حدیث نے اس کی شرح کرتے ہوئے متعدد اشکالات ذکر کئے ہیں، تاہم اس کا سب سے زیادہ توجہ طلب حصہ فھلا بكرا تلاعبھا وتلاعبك والا جملہ ہے، اس جملے کو مختلف راویوں نے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، ظاہر ہے کہ اللہ کے رسول نے ایک ہی واقعہ میں اور ایک ہی مجلس میں ایک ہی فرد سے یہ سارے الفاظ نہیں کہے ہوں گے، اس سے ابتدائی طور پر راویوں کا تصرف تو ثابت ہوجاتا ہے۔

وہ مختلف الفاظ حسب ذیل ہیں:

فَمَا لَكَ وَالْعَذَارَی وَلَعِبَھُن مسند أبي داود الطيالسي (3/ 292)
ألا تزوجتھا بكرا تلاعبك، وتلاعبھا، وتضاحكك، وتضاحكھا مسند أحمد ط الرسالۃ (23/ 258)
«أفلا جاريۃ تلاعبھا وتلاعبك»  صحيح البخاري (3/ 62)
قال: «فھلا جاريۃ تلاعبھا وتلاعبك، وتضاحكھا وتضاحكك» صحيح البخاري (7/ 66)
فھلا بكرا تعضھا وتعضك۔ المعجم الكبير للطبراني (19/ 149)

الفاظ کے اختلاف کا مسئلہ خود راویوں کے درمیان زیر بحث رہا، جیسا کہ ذیل کی روایت سے معلوم ہوتا ہے:

عن جابر بن عبد اللہ، قال: تزوجت امرأۃ، فقال لي رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «ھل تزوجت؟» قلت: نعم، قال: «أبكرا، أم ثيبا؟» قلت: ثيبا، قال: «فأين أنت من العذاری، ولعابھا»، قال شعبۃ: فذكرتہ لعمرو بن دينار، فقال: قد سمعتہ من جابر، وإنما قال: «فھلا جاريۃ تلاعبھا وتلاعبك» صحيح مسلم (2/ 1087)

اس روایت میں ایک بڑا اشکال تو یہ ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ متضاد تفصیلات کے ساتھ وارد ہوا ہے، دوسرا اس سے زیادہ غور طلب پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ میں اللہ کے رسول کی طرف منسوب الفاظ انبیائی شان سے کس قدر میل کھاتے ہیں۔

اس تعلق سے چند اشکالات یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:

یہ بات بھلا کیسے باور کی جاسکتی ہے، کہ ایک شخص نے کسی بیوہ یا مطلقہ عورت سے شادی کرلی ہو، اور تفصیلی روایتوں کے مطابق وہ ایک جنگی مہم سے لوٹتے ہوئے اپنی بیوی سے ملنے کے لیے بیتاب ہو، اور اللہ کے رسول اس کے شوق کو سرد کردینے اور اس کو افسوس سے دوچار کردینے والی بات کہیں، اور اس بات کے لیے ایسی تعبیر اختیار کریں کہ وہ اپنی موجودہ بیوی کی طرف رغبت کھودے، اور کنواری کی حسرت میں ہاتھ ملے۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ملاعبت ومضاحکت کا تعلق عورت کے کنوارپن سے ہے، یا اس کی طبیعت اور مزاج اور کسی قدر اس کی عمر سے ہے، ایک عورت جو شادی کے کچھ ہی عرصے بعد طلاق یافتہ یا بیوہ ہوجائے، کیا وہ ملاعبت اور مضاحکت کی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتی ہے؟؟ یہ بات کوئی ایسا شخص تو کہہ سکتا ہے جو شادی کے تجربے سے ابھی نہیں گزرا ہو، ایک تجربہ کار اور حکیم شخص ایسی بات کہہ ہی نہیں سکتا ہے۔

اللہ کے رسول کی ایک كے علاوه تمام بیویاں ثیب تھیں، ایسی صورت میں اس طرح کی تعلیمات خود ان ازواج مطہرات کی دل شکنی کا سبب ہوسکتی تھیں۔

پھر جب ایک شخص کی شادی ثيب كے ساتھ ہوچکی، تو اس طرح کی بات اس سے کہنے کا کیا فائدہ ہوسکتا تھا؟

یہاں یہ بتانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ صحیح بخاری اور سنن نسائی کی بعض روایتوں میں یہ واقعہ اس جملے کے بغیر مذکور ہے، اگر ان روایتوں کو درست مان لیا جائے، اور زیر بحث جملے کو غیر محفوظ اضافہ مان لیا جائے تو یہ پورا واقعہ شان رسالت کے مطابق ہوجاتا ہے، یہ بات حسب ذیل دونوں روایتوں میں دیکھی جاسکتی ہے:

عن جابر رضي اللہ عنہ، قال: أصيب عبد اللہ، وترك عيالا ودينا، فطلبت إلی أصحاب الدين أن يضعوا بعضا من دينہ فأبوا، فأتيت النبي صلی اللہ عليہ وسلم، فاستشفعت بہ عليھم، فأبوا، فقال: «صنف تمرك كل شيء منہ علی حدتہ، عذق ابن زيد علی حدۃ، واللين علی حدۃ، والعجوۃ علی حدۃ، ثم أحضرھم حتی آتيك»، ففعلت، ثم جاء صلی اللہ عليہ وسلم فقعد عليہ، وكال لكل رجل حتی استوفی، وبقي التمر كما ھو، كأنہ لم يمس، وغزوت مع النبي صلی اللہ عليہ وسلم علی ناضح لنا، فأزحف الجمل، فتخلف علي، فوكزہ النبي صلی اللہ عليہ وسلم من خلفہ، قال: «بعنيہ ولك ظھرہ إلی المدينۃ»، فلما دنونا استأذنت، قلت: يا رسول اللہ، إني حديث عھد بعرس، قال صلی اللہ عليہ وسلم: " فما تزوجت: بكرا أم ثيبا "، قلت: ثيبا، أصيب عبد اللہ، وترك جواري صغارا، فتزوجت ثيبا تعلمہن وتؤدبھن، ثم قال: «ائت أھلك»، فقدمت، فأخبرت خالي ببيع الجمل، فلامني، فأخبرتہ بإعياء الجمل، وبالذي كان من النبي صلی اللہ عليہ وسلم ووكزہ إياہ، فلما قدم النبي صلی اللہ عليہ وسلم غدوت إليہ بالجمل، فأعطاني ثمن الجمل والجمل، وسھمي مع القوم. صحيح البخاري (3/ 119) باب الشفاعۃ فی وضع الدین
فلما قضينا غزاتنا ودنونا استأذنتہ بالتعجيل، فقلت: يا رسول اللہ، إني حديث عھد بعرس، قال: «أبكرا تزوجت أم ثيبا؟»، قلت: بل ثيبا يا رسول اللہ، إن عبد اللہ بن عمرو أصيب، وترك جواري أبكارا، فكرھت أن آتيھن بمثلھن، فتزوجت ثيبا تعلمھن وتؤدبھن، فأذن لي، وقال لي: «ائت أھلك عشاء». فلما قدمت، أخبرت خالي ببيعي الجمل فلامني، فلما قدم رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم غدوت بالجمل، فأعطاني ثمن الجمل والجمل، وسہما مع الناس. سنن النسائي (7/ 298)

دوسری روایت

مذکورہ بالا روایت تو ایک خاص واقعہ کو بیان کرتی ہے،  البتہ اس کے علاوہ ایک اور روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے عمومی ہدایت دی تھی کہ لوگ کنواری لڑکیوں سے شادی کریں، روایت میں کنواری لڑکیوں سے شادی کے فائدے بھی مذکور ہیں، یہ روایت مختلف طرق سے آئی ہے اور ان میں مختلف طرح کے فائدے وارد ہوئے ہیں۔ سند کے لحاظ سے روایت بمشکل حسن کے درجے تک پہونچ پاتی ہے، جب کہ متن کے الفاظ میں خاصا اختلاف ہے۔

ذیل میں اس روایت کے مختلف الفاظ ذکر کیے جارہے ہیں:

«عليكم بالأبكار، فإنھن أعذب أفواھا، وأنتق أرحاما، وأرضی باليسير» سنن ابن ماجہ (1/ 598)
عليكم بالأبكار فانكحوھن، فإنھن أفتح أرحاما، وأعذب أفواھا، وأغر غرۃ. مصنف عبد الرزاق الصنعاني (6/ 159)
عليكم بالأبكار، فإنھن أنتق أرحاما، وأعذب أفواھا، وأقل خبا، وأرضی باليسير. المعجم الأوسط (7/ 344)
عليكم بأبكار النساء؛ فإنھن أعذب أفواھا، وأسخن جلودا. سنن سعيد بن منصور (1/ 170)
عليكم بالجواري الشباب؛ فإنھن أطيب أفواھا، وأغر أخلاقا، وأفتح أرحاما، ألم تعلموا أني مكاثر. سنن سعيد بن منصور (1/ 170)
عليكم بالأبكار فإنھن أعذب أفواھا وأنتق أرحاما وأسخن إقبالا وأرضی باليسير من العمل. الطب النبوي لأبي نعيم الأصفھاني (2/ 472)

بعض روایتوں میں یہ قول کسی صحابی کی طرف منسوب کیا گیا ہے جیسے:

قال عمر بن الخطاب: «عليكم بالأبكار من النساء، فإنھن أعذب أفواھا، وأصح أرحاما، وأرضی باليسير» مصنف ابن أبي شيبۃ (4/ 52)
قال عبداللہ بن مسعود: عليكم بالأبكار، فإنھن أشد ودا وأقل خبا. المخلصيات (4/ 112)

ان روایتوں کے سلسلے میں علامہ البانی کا يه تبصرہ دلچسپ ہے:

کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث ان تمام طرق کے مجموع کی بنا پر حسن ہے، کیونکہ بعض طرق زیادہ ضعیف نہیں ہیں۔

من الممكن أن يقال: بأن الحديث حسن بمجموع ھذہ الطرق، فإن بعضھا ليس شديد الضعف. سلسلۃ الأحاديث الصحيحۃ وشيء من فقھھا وفوائدھا (2/ 195)

ان بیانات کو پڑھنے کے بعد ایک شخص کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا واقعی مذکورہ روایتوں میں کنواری عورت کی جو خصوصیات مذکور ہیں، ان کا تعلق کنوارپن سے ہے؟ اور کیا ایسا ہے کہ غیر کنواری ہونے یا شوہر سے محروم ہوجانے سے یہ اوصاف ختم ہوجاتے ہیں یا کم ہوجاتے ہیں؟؟

یا ایسا ہے کہ ان اوصاف کا تعلق عورت کے مزاج وطبیعت اور کسی حد تک اس کی عمر سے ہے؟

بعض لوگوں نے تو کنوارپن کی قصیدہ خوانی میں خیالات کی دنیا میں دور تک سیر کی ہے، البتہ اتنا کرم کیا ہے کہ اپنی دلچسپ دریافتوں کو اللہ کے رسول کی طرف منسوب نہیں کیا، اس کی ایک مثال درج ذیل ہے:

وقال بعض أھل العلم: عليكم بالأبكار، فإنھن ألين أبشارا، وأعذب أفواھا، وأسخن أقبالا، وأفتح أرحاما، وأكثر أولادا، وأعز أخلاقا، وأكثر ودا، وأقل خلافا، وأبعدہ غشا، وأحناہ علی بعل، وأعطفہ علی ولد، وألطفہ بأھل، وھي خير الدنيا والآخرۃ، أما الدنيا لذاتھن ، وأما الآخرۃ فلأولادھن. المخلصيات (4/ 112)

تیسری روایت

بانجھ خاتون سے شادی کی ممانعت بھی اسلامی لٹریچر میں بہت مشہور ہوئی ہے، سنن نسائی میں تو ایک باب کا عنوان ہی ہے كراهيۃ تزويج العقيم، جس کے تحت انہوں نے درج ذيل روایت ذکر کی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر پوچھا کہ میرے پیش نظر ایک عورت ہے جو حسب ونسب اور رتبے والی ہے، لیکن وہ بچے نہیں جنتی ہے، کیا میں اس سے شادی کرلوں، اس نے تین بار پوچھا آپ نے ہر بار منع فرمایا اور پھر کہا: زیادہ بچے جننے والی اور زیادہ محبت کرنے والی سے شادی کرو، کیونکہ میں تم کو دوسری امتوں سے زیادہ تعداد میں دیکھنا چاہتا ہوں۔

عن معقل بن يسار، قال: جاء رجل إلی رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، فقال: إني أصبت امرأۃ ذات حسب ومنصب، إلا أنھا لا تلد، أفأتزوجھا؟ فنھاہ، ثم أتاہ الثانيۃ، فنھاہ، ثم أتاہ الثالثۃ، فنھاہ، فقال: «تزوجوا الولود الودود، فإني مكاثر بكم» سنن النسائي (6/ 65)

مصنف عبدالرزاق کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

ایک شخص نے کہا ایک اللہ کے نبی میری چچا زاد بہن ہے، وہ بانجھ ہے اور میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا اس سے نکاح مت کرو، مختلف مجلسوں میں اس نے دوسری اور تیسری بار پوچھا، اور ہر بار آپ یہی فرماتے رہے، اس سے نکاح مت کرو۔ پھر نبی ﷺ نے کہا: بچے نہیں جننے والی حسین وجمیل عورت سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ بچے جننے والی سیاہ فام عورت سے شادی کرلو۔

قال: أخبرت أن رجلا قال: يا نبي اللہ، إن لي ابنۃ عم عاقرا، فأردت أن أنكحھا قال: «لا تنكحھا»، ثم عاد الثانيۃ والثالثۃ في مجالس شتی، فكل ذلك يقول النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «لا تنكحھا»، ثم قال النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «أن تنكح سوداء ولودا، خير من أن تنكحھا حسناء جملاء لا تلد» مصنف عبد الرزاق الصنعاني (6/ 161)

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گياره ازواج میں سےصرف حضرت خدیجہ اور حضرت ماریہ سے اولاد ہوئی تھی، دوسری طرف یہ بھی یاد رہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت زکریا کی بیویوں کے بانجھ ہونے کا ذکرصاف صاف قرآن مجید میں موجود ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ کیا کسی عورت کا بانجھ ہونا ایسی بات ہے کہ شریعت میں اس سے نکاح کو مکروہ قرار دے دیا جائے۔

اس سلسلے میں بعض لوگوں نے ایک واقعہ حضرت عمر کی طرف منسوب کیا ہے، دل يہ قبول کرنے کو ہرگز تیار نہیں کہ حضرت عمر جیسی عظیم شخصیت سے اس طرح کے رویہ کا صدور ہوسکتا ہے۔

تزوج عمر بن الخطاب - رَضِيَ اللَّہُ عَنْہ - امرأۃ ثم دخل علی حفصۃ ابنتہ فرفتہ ودعت لہ بالبركۃ وقالت: أما إنھا لا ولد فيھا، فقال: ما نكحت إلا للولد، ثم خرج من عند حفصۃ فأرسل إليھا بالطلاق من ساعتہ، ولم يكن دخل بھا.  البيان والتحصيل (4/ 363)

عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، پھر اپنی بیٹی حفصہ کے پاس گئے، انہوں نے خیر وبرکت کی دعا کی، اور کہا البتہ وہ عورت بانجھ ہے، انہوں نے کہا میں نے تو بس اولاد کے لیے شادی کی، پھر وہ حفصہ کے یہاں سے نکلے اور فورا اس کے پاس طلاق بھیج دی۔ اس وقت تک انہوں نے اس کے ساتھ ہم بستری نہیں کی تھی۔

چوتھی روایت

ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتوں کے انتخاب میں نسب اور پیشے کا لحاظ بھی مطلوب ہے۔ روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عرب ایک دوسرے کے برابر ہیں، قبیلہ قبیلے کے اور آدمی آدمی کے برابر ہے۔ اور غیر عرب ایک دوسرے کے برابر ہیں، قبیلہ قبیلے کے اور آدمی آدمی کے۔ سوائے بنکر اور نائی کے۔

عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: " العرب بعضھم أكفاء لبعض قبيلۃ بقبيلۃ، ورجل برجل والموالي بعضھم أكفاء لبعض قبيلۃ بقبيلۃ، ورجل برجل، إلا حائك أو حجام۔ السنن الكبری للبيھقي (7/ 217)

محققین نے اس روایت پر عام طور سے کلام کیا ہے، اس کے سلسلے میں علامہ البانی کا رجحان یہ ہے کہ اس روایت کو موضوع مانا جائے، ان کے الفاظ ہیں:

وجملۃ القول أن طرق الحديث أكثرھا شديدۃ الضعف , فلا يطمئن القلب لتقويتہ بھا , لاسيما وقد حكم عليہ بعض الحفاظ بوضعہ كابن عبد البر وغيرہ , وأما ضعفہ فھو فی حكم المتفق عليہ , والقلب إلی وضعہ أميل , لبعد معناہ عن كثير من النصوص الثابتۃ.  إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (6/ 270)

علامہ ابن قدامہ کا درج ذیل اقتباس کچھ غور طلب پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے، وہ پیشے میں کفاءت کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امام احمد سے اس بارے میں دو روایتیں منقول ہیں، ایک یہ کہ اس کا اعتبار شرط ہے، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سلسلے میں جو حدیث ہے اسے تو آپ ضعیف مانتے ہیں، پھر آپ کیسے اس میں مذکور بات کو اختیار کرتے ہیں، انہون نے کہا عمل اسی پر ہے، یعنی یہ روایت رواج کے مطابق ہے۔

فأما الصناعۃ، ففيھا روايتان أيضا؛ إحداھما، أنھا شرط، فمن كان من أھل الصنائع الدنيئۃ، كالحائك، والحجام، والحارس، والكساح، والدباغ، والقيم، والحمامي، والزبال، فليس بكفء لبنات ذوي المروءات، أو أصحاب الصنائع الجليلۃ، كالتجارۃ، والبنايۃ؛ لأن ذلك نقص في عرف الناس، فأشبہ نقص النسب، وقد جاء في الحديث: «العرب بعضھم لبعض أكفاء، إلا حائكا، أو حجاما» . قيل لأحمد - رحمہ اللہ -: وكيف تأخذ بہ وأنت تضعفہ؟ قال: العمل عليہ. يعني أنہ ورد موافقا لأھل العرف. وروي أن ذلك ليس بنقص، ويروی نحو ذلك عن أبي حنيفۃ لأن ذلك ليس بنقص في الدين، ولا ھو لازم، فأشبہ الضعف والمرض.المغني لابن قدامۃ (7/ 38)

امام احمد سے منسوب مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہوا کہ اونچ نیچ کے جن جاہلانہ تصورات کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کرنے کی سعی کی تھی، وہ جلد ہی ایک معاشرتی عرف ورواج بن کر دوبارہ لوگوں پر مسلط ہوگئے، صرف سیاسی سطح پر خلافت ملوکیت میں تبدیل نہیں ہوئی، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی زوال اور پستی سے امت دوچار ہوئی۔عہد رسالت میں جو مسلمہ ضابطے تھے، وہی بعد کے ادوار میں اجنبیت کا سامنا کرنے لگے، یہاں تک کہ فقہاء بھی معاشرتی زوال کے اس نئے عرف کا لحاظ کرنے پر مجبور ہوگئے۔

نسب اور پیشے میں کفاءت کے تعلق سے جو روایت ہے وہ تو نہایت ضعیف درجے کی ہے،  اس کے برعکس ایک روایت ہے جس میں سب کے برابر ہونے کا ذکر ہے، وہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے حوالے سے معجم ابن الاعرابی میں مذکور ہے، اور مزاج شریعت کے عین مطابق ہے۔

روایت کے مطابق نبی ﷺ نے فرمایا:

عن عائشۃ، أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم قال: الناس أكفاء , العرب والموالي أكفاء, القبيل بالقبيل، والرجل بالرجل. معجم ابن الأعرابي (3/ 953)

لوگ ایک دوسرے کے کفو ہیں، عرب اور غیر عرب ایک دوسرے کے کفو ہیں، قبیلے قبیلے برابر اور آدمی آدمی برابر۔

پانچویں روایت

کسی خاتون سے رشتہ کرتے وقت یہ اطمینان کرلینا بہتر بتایا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی جسمانی کمی یا عیب نہ ہو، اس سلسلے میں ایک روایت ذکر کی جاتی ہے جس میں مذکور واقعہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ معمولی سے معمولی عیب کو بھی اپنے علم میں لاکر انتخاب کا فیصلہ کرنا چاہئے، اس واقعہ میں ایک بہت ہی معمولی عیب کے سلسلے میں ہوشیار کیا گیا ہے، یہ واقعہ تین طرح سے بیان کیا جاتا ہے، سند کے لحاظ سے تینوں روایتیں مضبوط بتائی جاتی ہیں، لیکن ان کے متن ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہیں، ہم یہاں تینوں طرح کے متن ذکر کریں گے:

پہلا متن: ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا، ایک آدمی آیا اور آپ کو بتایا کہ اس نے نے انصار کی ایک خاتون سے شادی کرلی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے پوچھا، کیا تم نے اسے دیکھا؟ اس نے کہا نہیں، آپ نے کہا: جاؤ اور اسے دیکھو، کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔

عن أبي ھريرۃ، قال: كنت عند النبي صلی اللہ عليہ وسلم، فأتاہ رجل فأخبرہ أنہ تزوج امرأۃ من الأنصار، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «أنظرت إليھا؟»، قال: لا، قال: «فاذھب فانظر إليھا، فإن في أعين الأنصار شيئا» صحيح مسلم (2/ 1040)

دوسرا متن: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے انصار کی ایک خاتون سے شادی کی ہے، نبی ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا؟ کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے، اس نے کہا میں دیکھ چکا ہوں۔ 

عن أبي ھريرۃ، قال: جاء رجل إلی النبي صلی اللہ عليہ وسلم، فقال: إني تزوجت امرأۃ من الأنصار، فقال لہ النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «ھل نظرت إليھا؟ فإن في عيون الأنصار شيئا» قال: قد نظرت إليھا...الحديث صحيح مسلم (2/ 1040)

تیسرا متن: ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا، نبی ﷺ نے کہا، اسے دیکھ لو، کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔

عن أبي ھريرۃ، أن رجلا أراد أن يتزوج امرأۃ، فقال النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «انظر إليھا، فإن في أعين الأنصار شيئا» سنن النسائي (6/ 77)

پہلی اور دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص نے شادی کرلی تھی، جبکہ تیسری روایت کہتی ہے کہ شادی کرنے کا ارادہ تھا، پہلی روایت بتاتی ہے کہ اس نے بغیر دیکھے شادی کی تھی، دوسری روایت بتاتی ہے کہ اس نے دیکھ کر شادی کی تھی۔ پہلی اور تیسری روایت میں ’’انظر الیھا‘‘ ہے، جبکہ دوسری روایت میں صرف ’’ھل نظرت الیھا‘‘ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تینوں روایتیں ایک ہی صحابی حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔

تینوں روایتوں میں جب اتنا زیادہ تضاد آمیز اختلاف ہو، تو یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ واقعہ محفوظ طریقے سے ہم تک نہیں پہونچا ہے۔ تینوں روایتوں کا اس پر اتفاق ضرور ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے، فإن في عيون الأنصار شيئا۔ روایت میں آنکھوں کی کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ اس کے بارے میں امام نووی کہتے ہیں: اس سے مراد آنکھوں کا چھوٹا ہونا، اور ایک قول کے مطابق اس میں نیلا پن ہونا ہے: الْمُرَادُ صِغَرٌ وَقِيلَ زُرْقَۃ۔ شرح النووي علی مسلم (9/210)

سوال یہ ہے کہ انصار کا اطلاق تو مدینے کے تمام خاندانوں پر ہوتا ہے، وہاں اوس اور خزرج دو بڑے قبیلے تھے، اور ان قبیلوں میں بہت سارے خاندان تھے، ایسے میں آنکھوں کا وہ عیب کسی ایک خاندان کی آنکھ میں تھا، یا انصار کی تمام خواتین میں وہ بات تھی؟  پھر کیا یہ انصار کے لیے دل شکنی کی بات نہیں تھی، کہ آپ مردوں کے اتنے زیادہ خیرخواہ ہوجائیں کہ مدینے کے تمام انصار کی خواتین کے سلسلے میں لوگوں کو متنبہ کردیں۔ اور ہر کوئی اس بارے میں محتاط ہوجائے؟ جبکہ دوسری طرف آپ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نے قریش کی خواتین کی بھرپور تعریف کی تھی، ذیل کی روایت ملاحظہ ہو:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ پر سوار ہونے والی بہترین عورتیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، چھوٹے بچے کو سب سے زیادہ دلار کرنے والیاں، اور شوہر کی چیزوں کی سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والیاں۔

عن أبي ھريرۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «خير نساء ركبن الإبل، صالح نساء قريش أحناہ علی ولد في صغرہ، وأرعاہ علی زوج في ذات يدہ» صحيح البخاري (4/ 164) صحيح مسلم (4/ 1959)

سوچیں، یہ کیسے باور کیا جائے کہ مکہ سے ہجرت کرکے آپ مدینہ میں انصار کے ساتھ رہ رہے ہوں، اور انصار کی خواتین کے عیب کو دوسروں کے سامنے ذکر فرمائیں، اور دوسری طرف قریش کی خواتین کی خوبیوں کے بیان میں دریادلی کا مظاہرہ کریں۔

اس سب کے علاوہ غور طلب امر یہ بھی ہے کہ اگر انصار کی خواتین کی آنکھ میں کچھ تھا، تو ان کی اس جسمانی خامی کے باوجود ان کی شادی کیسے آسانی سے ہو، اس کے سلسلے میں بھی تو آپ کو فکرمند ہونا تھا، اور اس کا بہتر انتظام کرنا تھا۔

یہاں یہ بات بھی غورطلب ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو شادی کے سیاق میں لڑکی کو دیکھنے کی ترغیب دیتے تھے تو اس کا مقصد کیا ہوتا تھا؟

بعض روایتوں کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کے اندر شادی کی رغبت بڑھے اور شادی کے لیے فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا ہو، کیونکہ اللہ تعالی نے عام طور سے عورتوں کے اندر مردوں کے لیے جاذبیت کے بہت سارے پہلو رکھے ہیں، اور جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھتا ہے تو جاذبیت کا کوئی نہ کوئی پہلو اس کو متاثر کردیتا ہے، اور اس کے لیے شادی کا فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

سنن ابوداود کی درج ذیل روایت کو علامہ البانی نے حسن قرار دیا ہے، اس کے الفاظ اسی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں کے اندر شادی کے سلسلے میں ایک خوف اور تردد کی کیفیت ہوتی ہے، اور ان کے خوف اور تردد کو دور کرنے کی یہ ایک مناسب شکل ہوسکتی ہے۔

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص خاتون کو پیغام دے، تو اگر وہ اس میں کچھ ایسا دیکھ سکے جس سے اس سے شادی کی رغبت بڑھ جائے، تو وہ ایسا ضرور کرے۔ جابر کہتے ہیں: میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا، پھر چھپ کر اسے دیکھنے لگا، تو اس میں ایسی چیز دیکھ لی جس سے اس سے شادی کرنے میں رغبت بڑھ گئی، تو میں نے اس سے شادی کرلی۔

عن جابر بن عبد اللہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «إذا خطب أحدكم المرأۃ، فإن استطاع أن ينظر إلی ما يدعوہ إلی نكاحھا فليفعل»، قال: فخطبت جاريۃ فكنت أتخبأ لھا حتی رأيت منھا ما دعاني إلی نكاحھا وتزوجھا فتزوجتھا۔ سنن أبي داود (2/ 229)

تعلیمات نبوی کی رو سے شادی سے پہلے لڑکی کو دیکھنے کا مقصد لڑکی مں کیڑے نکالنا اور خوب صورتی کو یقینی بنانا نہیں ہے، نہ یہ تحقیق کرنا ہے کہ لڑکی کے اندر وہ کیا  کمیاں ہیں، جن کی بنیاد پر اس کو رد کیا جائے، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس کے اندر وہ کون سا پرکشش پہلو ہے جس کی بنیاد پر اس سے رشتہ کرنے کی ترغیب مل سکے۔ اس روایت کو سامنے رکھنے کے بعد خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے، اوپر کی روایت میں فإن في أعين الأنصار شيئا سے مراد بھی انصار کی آنکھوں کی کسی خوبی کی طرف اشارہ مقصود ہو، جسے دیکھ کر ان سے شادی کرنے کی رغبت بڑھ جائے۔خود روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے دیکھنے کے بعد بھی شادی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

رشتوں کے انتخاب کا معیار ہمارے فقہی لٹریچر میں

اگر بات کچھ روایتوں تک محدود رہتی تو بھی غنیمت تھا، لیکن اس سے آگے فقہاء کے یہاں جاکر وہ شریعت کا ایک ضابطہ بنادی گئی، چانچہ مختلف مسالک کے فقہاء نے ان روایتوں میں مذکور جملہ امور کی رعایت کو شرعا مطلوب ومستحب قرار دیا، اور فقہ کی کتابوں میں یہ درج کیا گیا کہ مطلوب ومستحب یہ ہے کہ لڑکی دیندار ہو، کنواری ہو، زیادہ بچے جننے کے لیے معروف ہو، خوبصورت ہو، ذہین ہو، حسب ونسب والی ہو، اور اجنبی ہو قریبی رشتے دار نہ ہو۔ علامہ ابن قدامہ کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو اس عبارت میں ہر جزئیہ کی دلیل اختصار کی غرض سے حذف کردی گئی ہے:

ويستحب لمن أراد التزوج أن يختار ذات الدين... ويختار البكر ... ويستحب أن تكون من نساء يعرفن بكثرۃ الولادۃ ... ويختار الجميلۃ... ويختار ذات العقل، ويجتنب الحمقاء... ويختار الحسيبۃ ... ويختار الأجنبيۃ... المغني لابن قدامۃ (7/ 108)

فقہاء کرام نے اس پر بھی توجہ دی کہ اگر ان مطلوبہ اوصاف میں تعارض ہو جائے تو ترجیحی ترتیب کیا ہونا چاہئے، اس سلسلے میں علامہ سلیمان بجیرمی لکھتے ہیں:

مذکورہ صفات میں تعارض کی صورت میں زیادہ مناسب ہے کہ دیندار کو مطلق ترجیح دی جائے، پھر عقل اور حسن اخلاق کو، پھر نسب کو، پھر کنوارے پن کو، پھر بچے جننے کو، پھر اس کے اجتہاد کے مطابق جس امر میں مصلحت زیادہ نمایاں ہو۔

ولو تعارضت تلك الصفات فالأوجہ تقديم ذات الدين مطلقا ثم العقل وحسن الخلق ثم النسب ثم البكارۃ ثم الولادۃ ثم الجمال ثم ما المصلحۃ فيہ أظھر بحسب اجتھادہ. حاشيۃ البجيرمي علی الخطيب (3/ 363)

امام احمد کی طرف اس سلسلے میں ایک عجيب بات منسوب ہے، علامہ منصور بہوتی لکھتے ہیں:

قال أحمد إذا خطب رجل امرأخ سأل عن جمالھا أولا فإن حمد سأل عن دينھا فإن حمد تزوج وإن لم يحمد يكون ردا لأجل الدين ولا يسأل أولا عن الدين فإن حمد سأل عن الجمال فإن لم يحمد ردھا للجمال لا للدين. شرح منتھی الإرادات (2/ 623)

احمد نے کہا: جب آدمی عورت کو پیغام دے، تو سب سے پہلے اس کی خوب صورتی کے بارے میں معلوم کرے، تو اگر جمال کی تعریف سنے تو اس کی دینداری کے بارے میں پوچھے، تو اگر اس کی بھی تعریف ہو تو شادی کرلے، اور اگر تعریف نہ ہو تو اس کا رد کرنا دینداری کی خاطر ہوگا۔ اور وہ پہلے دینداری کے بارے میں نہ پوچھے، کیونکہ اس کی تعریف ہوگئی تو وہ خوب صورتی کے بارے میں پوچھے گا، اور تعریف نہیں ہونے کی صورت اگر رد کرے گا، تو وہ رد کرنا خوب صورتی کی خاطر ہوگا نہ کہ دینداری کی خاطر۔ (اور یہ گویا مناسب بات نہیں ہوگی)

حنفی فقیہ علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:

ويتزوج امرأۃ صالحۃ معروفۃ النسب والحسب والديانۃ فإن العرق نزاع ويجتنب المرأۃ الحسناء في منبت السوء، ولا يتزوج امرأۃ لحسبھا، وعزھا، ومالھا وجمالھا فإن تزوجھا لذلك لا يزاد بہ إلا ذلا، وفقرا ودناءۃ ويتزوج من ھي فوقہ في الخلق والأدب والورع والجمال ودونہ في العز والحرفۃ والحسب والمال والسن والقامۃ فإن ذلك أيسر من الحقارۃ والفتنۃ، ويختار أيسر النساء خطبۃ، ومؤنۃ۔ ونكاح البكر أحسن للحديث «عليكم بالأبكار فإنھن أعذب أفواھا، وأنقی أرحاما، وأرضی باليسير» ، ولا يتزوج طويلۃ مھزولۃ، ولا قصيرۃ ذميمۃ، ولا مكثرۃ، ولا سيئۃ الخلق، ولا ذات الولد، ولا مسنۃ للحديث «سوداء ولود خير من حسناء عقيم» ، ولا يتزوج الأمۃ مع طول الحرۃ، ولا حرۃ بغير إذن وليھا لعدم الجواز عند البعض، ولا زانيۃ. البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 86)

نیک عورت اور حسب ونسب اور دینداری میں معروف عورت سے شادی کرے، کیونکہ نسل کا اثر آتا ہے، اور برے خاندان کی خوب صورت عورت سے بچے، اور کسی عورت سے اس کے حسب، اس کی شوکت، اس کے مال اور اس کے جمال کی خاطر شادی نہ کرے، اگر ایسا کیا تو ایسی شادی سے اس کی ذلت محتاجی اور ذلت ہی میں اضافہ ہوگا، اور اس عورت سے شادی کرے جو اخلاق ادب پرہیزگاری اور حسن میں اس سے بڑھ کر ہو، اور شوکت اور پیشہ اور حسب اور مال اور عمر اور قد میں اس سے کم تر ہو، یہ بے عزتی اور فتنے میں پڑنے سے بہتر ہے۔۔ اور وہ عورت منتخب کرے جس سے شادی کرنا اور اس کا خرچ اٹھانا آسان ہو۔ اور کنواری سے نکاح کرنا زیادہ اچھا ہے، اس حدیث کی بنا پر کہ : (کنواریوں سے شادی کرو، وہ شیریں دہن، پاکیزہ رحم، اور کم پر قناعت گزار ہونے میں آگے ہوتی ہیں)۔ اس سے شادی نہ کرے جو لمبی اور نحیف ہو، یا پستہ قد اور بدنما ہو، یا زیادہ خرچ کرنے والی ہو، یا بد اخلاق ہو، یا اولاد والی ہو، یا بوڑھی ہو، کیوں کہ حدیث ہے: (بچے جننے والی کالی بانجھ حسینہ سے بہتر ہے) اور آزاد عورت کی استطاعت رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کرے، اور ولی کی اجازت کے بنا آزاد سے شادی نہ کرے، کیوں کہ بعض لوگوں کے یہاں یہ جائز نہیں ہے، اور نہ زانیہ سے نکاح کرے۔

صورت حال تشویش ناک اور توجہ طلب ہے

اگر کوئی فرد اپنے ذوق کی بنا پر کنواری کو غیر کنواری پر ترجیح دیتا ہے، یا اولاد کے شوق میں بانجھ کے مقابلے میں جننے والی کو پسند کرتا ہے، یا انتخاب میں رنگ اور اور شکل کے کسی خاص زاوئے کا لحاظ کرتا ہے، یا کسی خاص تعلق کی بنا پر کسی خاص خاندان یا قوم کی لڑکی کو اولیت دیتا ہے تو یہ کوئی ناپسندیدہ بات نہیں ہے، اور اس میں کوئی معاشرتی مضرت بھی نہیں ہے۔ تاہم اگر ان امور کا اشتہار شروع ہوجائے، اور وہ معاشرے میں انتخاب کے پسندیدہ پیمانے قرار دئے جانے لگیں، تو اس کے منفی اثرات معاشرے پر پڑیں گے، اور ان خواتین کی صریح حق تلفی ہوگی جن کے دامن نصیب ان اوصاف سے خالی رہ گئے، یا وہ دوسروں سے پیچھے رہ گئیں۔

لیکن  مسلم معاشرے کے لیے سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس طرح کے اوصاف کو شریعت کا لباس حاصل ہوجائے، اور ان اوصاف کی رعایت کو شرعی طور پر مطلوب ومستحب قرار دے دیا جائے۔ ایسی صورت میں جو کسی بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرے گا، اس کو یہ احساس ستائے گا کہ اس نے شرعا مستحب کام نہیں کیا۔ جس کے حصے میں کوئی ایسی عورت آجائے گی جس میں بچے جننے کے تعلق سے کوئی کمی ہو، تو وہ زندگی بھر اس کسک کو محسوس کرے گا کہ اس نے ایک مکروہ عمل کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ اگر معاشرے کے مصلحین یہ محسوس کریں کہ مثال کے طور پر معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ عورتوں کی شادی کا مسئلہ سنگين هوتا جارہا ہو، اور وہ اس سلسلے میں کوئی تحریک چلانا چاہیں تو ان کو شرعی اداروں کی طرف سے کوئی مدد ملنے کے بجائے الٹا حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسلامی لٹریچر اور فقہی مراجع سے بھی انہیں مدد ملنے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

قرآن مجید کی رہنمائی

رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو، اس بارے میں قرآن مجید کی ایک آیت سے ہمیں بہت واضح اور فیصلہ کن رہنمائی ملتی ہے، سورہ تحریم میں اللہ تعالی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اگر نبی تم کو طلاق دے دیں توبهت ممكن هي کہ اللہ تمہاری جگہ انہیں تم سے بہتر بیویاں عطا کردے، جو مسلمہ ہوں، مومنہ ہوں، قانتہ ہوں، تائبہ ہوں، عابدہ ہوں، سائحہ ہوں، اور غیر کنواری بھی ہوں اور کنواری بھی ہوں۔

{ عَسَی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا } [التحريم: 5]

مفسرین کو اس مقام پر سخت حیرانی ہوئی، کہ جب موجودہ بیویوں کی نعم البدل بیویوں کی بات کی جارہی ہے تو ثیبات کا ذکر کیوں کیا گیا، صرف کنواری کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا، مردوں کی رغبت تو کنواری عورت کی طرف زیادہ ہوتی ہے، اور کسی کا ثیب ہونا تو ایک عیب قرار پاتا ہے، اس حیرانی کو دور کرنے کے لیے امام رازی نے عجیب وغریب بات کہی:

ذكر الثيبات في مقام المدح وھي من جملۃ ما يقلل رغبۃ الرجال إليھن. نقول: يمكن أن يكون البعض من الثيب خيرا بالنسبۃ إلی البعض من الأبكار عند الرسول لاختصاصھن بالمال والجمال، أو النسب، أو المجموع مثلا، وإذا كان كذلك فلا يقدح ذكر الثيب في المدح لجواز أن يكون المراد مثل ما ذكرناہ من الثيب. تفسير الرازي (30/ 571)

ثیبات کو مدح کے مقام میں ذکر کیا گیا، حالانکہ ان کی طرف تو مردوں کی رغبت کم ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں: ہوسکتا ہے کہ بعض ثیبات رسول پاک کے نزدیک بعض کنواریوں سے بہتر ہوں مال یا جمال یا نسب یا ان سب کے مجموعے میں خصوصی مقام رکھنے کی وجہ سے، اور اگر ایسا ہے تو ثیبات کو مدح کے مقام پر ذکر کرنے میں کوئی عیب کی بات نہیں ہے، کیوں کہ ہوسکتا ہے ثیبات سے مراد ویسی ثیبات ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا۔

گویا امام صاحب کے لیے یہ ماننا ممکن نہیں تھا، کہ ثیب ہونا ایک خوبی بھی ہوسکتی ہے، یا کم از کم بکر کے درجے کی صفت تو ہوہی سکتی ہے۔

امام ابن کثیر نے اس مشكل کو دوسرے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

وقولہ تعالی: ثيبات وأبكارا أي منھن ثيبات ومنھن أبكارا ليكون ذلك أشھی إلی النفس، فإن التنوع يبسط النفس، ولھذا قال: ثيبات وأبكارا۔ تفسير ابن كثير ط العلميۃ (8/ 188)

کچھ ثیبات اور کچھ کنواریاں ہوں گی کہ یہ نفس کے لیے زیادہ لذت بخش ہے، کیونکہ تنوع سے نفس کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔

امام ابن عاشور نے آیت کی روح  برقرار رکھتے ہوئے دونوں کی خوبیوں پر گفتگو کی ہے، اور واضح کیا ہے کہ دونوں کیفیتیں اپنی اپنی جگہ خوبی قرار پاسکتی ہیں، وہ رقم کرتے ہیں:

ووجہ ھذا التفصيل في الزوجات المقدرات لأن كلتا الصفتين محاسنھا عند الرجال فالثيب أرعی لواجبات الزوج وأميل مع أھوائہ وأقوم علی بيتہ وأحسن لعابا وأبھی زينۃ وأحلی غنجا. والبكر أشد حياء وأكثر غرارۃ ودلا وفي ذلك مجلبۃ للنفس، والبكر لا تعرف رجلا قبل زوجھا ففي نفوس الرجال خلق من التنافس في المرأۃ التي لم يسبق إليھا غيرھم. فما اعتزت واحدۃ من أزواج النبيء صلی اللہ عليہ وسلم بمزيۃ إلا وقد أنبأھا اللہ بأن سيبدلہ خيرا منھا في تلك المزيۃ أيضا. التحرير والتنوير (28/ 362)

آیت مذکورہ سے یہ بات تو بہت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ قابل ترجیح وانتخاب خاتون دراصل وہ ہے جو دینی اوصاف سے مالا مال ہو، اس کے علاوہ وہ ثیب ہو یا بکر ہو، دونوں ہی موزوں اور لائق انتخاب ہوتی ہیں، شریعت کی نظر میں بھی اور عقل وخرد کی رو سے بھی دونوں میں کسی کو کسی پر ترجیح اور فوقیت حاصل نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے ثیبات کا تذکرہ کرکے بکر کو ثیب پر ترجیح دینے کا ایک ممکنہ راستہ بھی بند کردیا، ورنہ اگر ابکار پہلے ہوتا تو اس کے مقدم ہونے کو اس کی افضلیت پر محمول کیا جاسکتا تھا۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر((36 کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ قرطبی بڑی قیمتی اور اہم حقیقت پر سے پردہ اٹھاتے ہیں:

في ھذہ الآيۃ دليل بل نص في أن الكفاءۃ لا تعتبر في الأحساب وإنما تعتبر في الأديان، خلافا لمالك والشافعي والمغيرۃ وسحنون. وذلك أن الموالي تزوجت في قريش، تزوج زيد زينب بنت جحش. وتزوج المقداد بن الأسود ضباعۃ بنت الزبير. وزوج أبو حذيفۃ سالما من فاطمۃ بنت الوليد بن عتبۃ. وتزوج بلال أخت عبد الرحمن بن عوف. تفسير القرطبي (14/ 187)

اس آیت میں صریح دلیل ہے کہ حسب ونسب میں کفاءت معتبر نہیں ہے، بلکہ دین میں کفاءت معتبر ہے، برخلاف مالک شافعی مغیرہ اور سحنون کے۔ اس لیے کہ موالی نے قریش میں شادیاں کیں، زید نے زینب بنت جحش سے، مقداد بن أسود نے ضباعۃ بنت زبیر سے، ابوحذیفہ نے سالم کی شادی فاطمہ بنت ولید بن عقبہ سے کرادی، اور بلال نے عبد الرحمن بن عوف کی بہن سے شادی کی۔

یہی وہ بڑی تبدیلی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی اصلاحی جدوجہد کے نتیجے میں ظاہر ہوئی تھی۔ اس روشن تاریخی حقیقت کو بے غبار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

حرف آخر

رشتوں کے معیار انتخاب کے تعلق سے اسلامی لٹریچر میں بہت ساری باتیں ملتی ہیں، فقہاء نے روایات وآثار کی روشنی میں قواعد وضوابط اور آداب ومندوبات پر بھی گفتگو کی ہے، اس باب میں متعدد روایات وآثار ہیں، جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس بات پر ہمیں پورا اطمینان ہونا چاہئے کہ صالحیت اور دینداری کو معیار بنانے کا جن روایتوں میں تذکرہ ہے، وہی اس باب میں اصل الاصول کی حیثییت رکھتی ہیں، اور ان کے علاوہ جو روایتیں ہیں، وہ چونکہ اپنے مکمل سیاق کے ساتھ ہم تک نہیں پہونچی ہیں، اس لیے ان کے سلسلے میں توقف کرنا ہی محتاط رویہ ہے۔ ہم روایات کی تصحیح وتضعیف، اور ان کی توجیہ وتاویل سے متعلق جو رویہ بھی اختیار کریں، ہماری نظر سے یہ حقیقت اوجھل نہیں ہونا چاہئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پوری امت کے خیرخواہ اور ہمدرد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی انسانوں سے ہمدردی کی تصویر تھی، اور آپ نے ایسے افراد تیار کئے تھے جو ذاتی مصالح سے زیادہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار تھے، انسانی ہمدردی سیرت طیبہ کا بہت نمایاں امتیاز ہے۔ اس امتیاز پر کوئی آنچ نہیں آئے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

رشتوں کے انتخاب کا معیار ذکر کرتے ہوئے اخلاقی سطح پر دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اول، معیار وہ ہو جو ہر کسی کے لیے قابل حصول ہو، اور اس کے حصول کی سعی کرنا اور اس کے لیے مسابقت کرنا مطلوب اور پسندیدہ بھی ہو۔

دوم، معیار ایسا ہو کہ اس کو طے کرنا، اس کو رواج دینا اور اس کا اشتہار کرنا پورے معاشرے کے لیے خیر وبرکت کا باعث ہو، اور اس میں سب کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کا تصور موجود ہو۔

ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے نبی کے امتی ہیں جس کی سیرت پاک میں ہمیں معیار انتخاب کے ان دونوں تقاضوں کا بھرپور خیال اور زبردست لحاظ نظر آتا ہے۔


مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۳)

مراد علوی

مولانا مودودی کا نظریۂ جہاد بنیادی طور پر آپ  کی سیاسی فکر سے ماخوذ ہے ۔ اس وجہ سے اس  پر سیاسی فکر کا گہرا ثر ہے۔ بالخصوص آپ  کا تصورِ ''مصلحانہ جنگ'' اسی سے وجود پذیر ہوا ہے۔   ہمارا خیال تھا  کہ مولانا کی فکر کا جائزہ تاریخی اعتبار  سے لیا جانا چاہیے، یعنی یہ کہ مولانا کی آرا میں میں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی آئی  ہے۔  زیرِ بحث موضوع میں ہمارے پیشِ نظر  سب سے اہم تحریر مولانا کی کتاب''سود'' کا تیسرا ضمیمہ ہے جسے انھوں نے نومبر 1936ء میں لکھا تھا۔ اس  میں مولانا نے جہاد کے حوالے سے اپنی قانونی پوزیشن کو واضح کیا ہے، لیکن اس کے بعد لکھی گئی تحریروں میں بعض جگہوں پر وہی موقف پایا جاتا ہے جو ''الجہاد فی الاسلام'' میں  مذکور ہے۔  اس وجہ سےاب ہم مولانا کی فکر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں : اولا، َ جہاد کی عقلی اور اخلاقی توجیہ، ثانیاَ، قانونی حیثیت۔ تاہم مولانا نے "الجہاد فی اسلام"  اور اپنی تحریکی لٹریچر  میں اصلاَ جہاد کی اخلاقی تشریح بیان کی ہے۔ 1  اس کے ساتھ ہی ساتھ بعض مقامات پر خالص قانونی تناظر میں بھی تعرض کیا ہے۔   ہماری فقہی روایت میں بھی دونوں زاویوں سے بحث موجود ہے ۔  مولانا نے   عقلی زاویۂ نظر سے  یہ تعبیر اختیار کی  ہے کہ اخلاقی طور پر  کفر کو دنیا پر حکومت کی قطعاَ اجازت نہیں ہے۔ مگر دوسری جانب انھوں نے اس موضوع سے قانونی پہلو سے بھی تعرض کیا ہے۔ چنانچہ دونوں کو اپنے در و بست میں دیکھنا چاہیے۔  اسی طرح فقہا کے ہاں جہاد کی اخلاقی توجیہ یہ ہے کہ جہاد کی غایت اعزاز دین  اللہ اور دفع  شر الکفر  اور فتنہ ہیں، لیکن ان کے ہاں قانونی تناظر میں علت القتال کی بحث  2 نے پورے مسئلہ کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ 3 تاہم مولانا کے ڈسکورس میں قانونی نقطۂ نظر کے بجائے اس  دوسرے نقطۂ نگاہ کا غلبہ ہے، اس لیے ان کے ہاں بعض ایسے مسائل در آئے ہیں  جس کی وجہ سے آپ کا موقف سمجھنے میں بیشتر اوقات دقتیں پیش آتی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فقہا کے ہاں بھی یہ بحث اخلاقی اور قانونی دونوں تناظر میں موجود  رہی ہے، اس لیے مولانا مودودی کی فکر کی طرح   اس میں بھی  بعض اہلِ علم  ''ارتقا'' یا تضاد محسوس کرتے ہیں۔4  حالانکہ  فقہی روایت میں کوئی تضاد پایا جاتا ہے اور نہ مولانا مودودی کے نظریہ میں، اصل مسئلہ دونوں پہلوؤں کو اپنے  موقع و محل پر نہ دیکھنے کا ہے ۔ البتہ مولانا نے جہاں اخلاقی توجیہ بیان کی اس میں بعض ایسے مسائل موجود ہیں ، جن کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔  آگے "مصلحانہ جنگ" میں اس کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

جہاد کی اخلاقی توجیہ

اس ضمن میں سب سے اہم دستاویز"الجہاد فی الاسلام " ہے۔ اس کتاب میں مولانا نے علت القتال (jus ad bellum) میں قانونی پہلو  سے بہت کم تعرض کیا ہے۔ علاوہ ازیں  مولانا کا ایک اور مضمون بہت اہمیت کا حامل ہے،5  جو    اب "جہاد فی سبیل اللہ" کے نام سے مطبوع ہے، اس میں بھی انھوں نے  قانونی نقطۂ نظر  کو زیادہ قابلِ اعتنا نہیں سمجھا ۔ مولانا  نے جہاد کے وجہ جواز  کے لیے مسلمانوں  کو  '' بین الاقوامی انقلابی جماعت  (International Revolutionary Party)اور جہاد کو انقلابی جدوجہد(Revolutionary Struggle) کا نام دیا ہے۔ اس جماعت کا اصل مقصدِ وجود دنیا میں عالم گیر انقلاب برپا کرنا ہے۔ تاہم مولانا نے عقلی اور اخلاقی توجیہ تفصیل کے ساتھ ''الجہاد فی الاسلام'' میں بیان کی  ہے۔ یہاں مولانا  کے الفاظ میں اس کا خلاصہ  پیش خدمت ہے:

انسانی تمدن  کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے، اس  کی سب سے پہلی دفعہ یہ ہے کہ انسان کی جان محترم ہے۔ انسان کے تمدنی حقوق میں  اولیں حق زندہ رہنے کا حق ہے۔ دنیا کی جتنی شریعتیں اور مہذب قوانین  ہیں، ان سب میں احترام نفس کا یہ اخلاقی اصول مانا گیا ہے۔دنیا کے سیاسی قوانین اس احترام حیات انسانی کو صرف سزا کے خوف اور قوت کے زور سے قائم کرتے ہیں، مگر اسلام نے اس کے ساتھ احترام ِ نفس کی اعلیٰ تعلیم بھی دی ہے۔ قرآن نے ناحق جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔  مگر یہ حرمت  مطلق نہیں بلکہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہےکہ   انسان دوسروں کے حقوق پر دست درازی نہ کرے ۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ کسی جان کو کسی حال میں قتل نہ کرو، اس کی حرمت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک وہ  مقرر حدود سے تجاوز اور  دوسروں کے مادی یا روحانی امن میں خلل برپا نہ کرے۔ اگر کسی نے ان حدود کو پامال کیا تو اس کی جان کی حرمت معطل کی جائے گی اور اس کے برپا کردہ فتنہ و فساد کو ہر صورت میں ختم کردیا جائے گا۔ قصاص کا قانون اسی سے وجود میں آیا ہے۔ا س کے بغیر دنیا میں امن کا قائم نہیں ہوسکتا نہ شر و فساد کی جڑ کٹ سکتی  ہے۔  یہ قصاص کا قانون جس طرح افراد کے لیے ہے اسی طرح جماعتوں کے لیے بھی ہے جس طرح افراد سرکش ہوتے ہیں اسی طرح جماعتیں اور قومیں بھی سرکش ہوتی ہیں۔اس لیے جس طرح افراد کو قابو میں رکھنے کے لیے خون ریزی ناگزیر ہوتی ہے اسی طرح جماعتوں اور قوموں کی بڑھتی ہوئی بدکاری کو روکنے کے لیے بھی جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے۔ نوعیت کے اعتبار سے انفرادی اور اجتماعی فتنہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔    جماعتیں اور قومیں جب سرکشی پر آتی ہیں تو وہ غریب قوموں پر  ڈاکے ڈالتے ہیں، ان کی تجارت پر قبضہ کرتے ہیں ان کی صنعتوں کو برباد  کرتے ہیں۔ بعض ان میں ہوائے نفسانی کے بندے  ہوتے ہیں تو وہ اپنے جیسے انسانوں  کے خدا بن بیٹھتے ہیں، اپنی خواہشات پر کمزوروں کے حقوق برباد کرتے ہیں، عدل و انصاف کو مٹاکر ظلم و جفا کے عَلَم بلند کرتے ہیں، شریفوں  اور نیکوکاروں کو دبا کر سفیہوں اور کمینوں کو سربلند کرتے ہیں۔ ان کے ناپاک اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں، فضائل کے چشمے سوکھ جاتے ہیں اور ان کی جگہ خیانت بدکاری بے حیائی سنگدلی بے انصافی اور بے شمار دوسرے مفاسد کے گندے نالے جاری ہوجاتےہیں۔ پھر ان میں سے بعض وہ  ہیں جن پر جہانگیری  و کشورستانی کا بھوت سوار ہوتا ہے تو وہ بے بس اور کمزور قوموں کی آزادیاں سلب کرتے ہیں، خدا کے بے گناہ بندوں کے خون بہاتے ہیں، اپنی خواہشِ اقتدار کو پورا کرنے کے لیے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور آزاد انسانوں کو اس غلامی کا طوق پہناتے ہیں جو تمام مفاسد کی جڑ ہے۔ ان شیطانی کاموں کے ساتھ جب اکراہ فی الدین بھی شامل ہوجاتا ہے اور ان ظالم جماعتوں میں سے کوئی جماعت اپنی اغراض کے لیے مذہب کواستعمال کرکے بندگانِ خدا کو  مذہبی آزادی سے محروم کردیتی ہے تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہوجاتی ہے۔    اس اجتماعی فتنہ کو دور کرنے کے لیے شریعت نے دو صورتوں میں جنگ کو مشروع قرار دیا ہے: مدافعانہ جنگ  اور مصلحانہ جنگ ۔ نیکی کے قیام کے لیے اپنی حفاظت بہت ضروری ہے،  یہ حفاظت اندرونی اور بیرونی دونوں قسم  کے فتنوں سے کرنی ہے۔

یہاں تک مولانا کا موقف واضح ہوگیا، اس سے آگے وہ ''مصلحانہ جنگ'' کا تصور پیش کرتے ہیں جس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔  (اگلی قسط میں ''مصلحانہ جہاد '' کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔)

حواشی

  1. دیکھیے: سید ابو الاعلیٰ مودودی، جہاد فی سبیل اللہ۔
  2. علت القتال پر تفصیلی بحث آگے آرہی ہے۔
  3. علاء الدین ابی بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (بیروت: دارالکتب علمیہ، 2003ء)، کتاب السیر ،فصل في بيان كيفية فرض الجهاد، ج 9، ص 380-81؛ برھان الدین ابی الحسن علی ابن ابی بکر المرغینانی، شرح بداية المبتدى مع شرح عبد الحئ اللکنوي(کراچی: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، 1418ھ)،ج4، ص 217-18۔  فقہاے کرام  کے اس موقف کی تفصیل کےلیے دیکھیے: محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی، بداية المجتهد ونهاية المقتصد،  (قاہرہ: مکتبہ ابن تیمیہ)،  ج 2،  ص٣48-39۔
  4. جہاد ایک مطالعہ، ص 273-288
  5. جہاد فی سبیل اللہ، ماہنامہ "ترجما ن القرآن"، لاہور (مئی، 1939ء)، ص 14-33، مشمولہ: تفہیمات، ج 1، ص 74-97۔ اس سے قبل ہم یہ  بھی واضح کرچکے کہ جب بھی مولانا کی کسی ایسی تحریر سے کوئی نتیجہ اخذ کیا  گیا تو انھوں نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ آپ نے میرا مدعا ٹھیک طرح سے نہیں سمجھا اور فوراَ اس میں قانونی پوزیشن اختیار کی۔ اسی مضمون ـــجہاد فی سبیل اللہ ــــ کے بنیادی مقدمہ پر کسی نے مولانا سے سوال کیا تو  مولانا نے جو  جواب دیا ہے، وہ اگرچہ محلِ نظر ہے لیکن جواب کے آخر میں لکھے ہوئے الفاظ بہت اہم ہیں۔  لکھتے ہیں: "یہاں اس بات کی صراحت بھی مناسب ہوگی کہ آپ جس عبارت کے متعلق سوال کررہے ہیں اس میں اسلامی دعوت و تبلیغ اور قانون صلح و جنگ کا کوئی مکمل اور جامع ضابطہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ وہ تو ایک بڑے مسئلے کی طرف محض ایک سرسری اشارہ ہے۔ میں نے خاص اسی موضوع پر اپنی کتابوں میں جو مفصل بحثیں کی ہیں ان سب کو چھوڑ کر ایک ضمنی بحث کے چند فقرات چھانٹ لینا کسی آئین انصاف و تحقیق کی رو سے بھی صحیح نہیں ہے''۔( رسائل و مسائل، ج 4، ص 192)۔ اس عبارت سے بھی اخلاقی اور قانونی توجیہات کی تقسیم کو  تقویت ملتی ہے۔ تاہم مغربی دنیا میں ہونی والی تحقیقات میں بھی اس امر کو محلوظ نہیں رکھا جاتا کہ مولانا  کا قانونی موقف کیا ہے۔ مثال کے طور پر اوسلو یونی ورسٹی ناورے کی ایک محققہ نے اپنے تحقیقی مقالے میں جہاد اور ذمیوں کے متعلق بنیادی انحصار اسی مضمون پر کیا ہے۔ دیکھیے:
Anne-Liv Gamlem, Islamic Discourse of Difference: A Critical Analysis of Maulana Mawdudi's. Texts on Kafirs and Dhimmis (MA Thesis, Masteroppgave: University of Oslo, Norway 2008) pp. 32-36

(جاری)