کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک مختصر تبصرے میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ بقا وارتقا اور تنازع للبقاء کی حرکیات کے بغور مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برصغیر کی مذہبی فکر کے افق پر مستقبل دیدہ کی حد تک قائدانہ کردار دیوبندی طبقے کا ہی ہے۔ یہ بات پیروکاروں کی تعداد میں اضافے یا معاشرتی سطح پر وجود ونفوذ کے دیگر مظاہر کے حوالے سے نہیں، بلکہ مذہبی فکر کی سطح پر مرجعیت اور عمومی اعتماد کے حوالے سے عرض کی گئی تھی جو کسی طبقے کو سوسائٹی میں علی العموم حاصل ہوتا ہے اور اس کے مخالف اور حریف طبقوں کے لیے بھی عملاً اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اس پہلو سے دیوبندی فکر کی تاریخ ایک تفصیلی تجزیے کی متقاضی ہے، تاہم اختصاراً یہ چند نمایاں خصوصیات ہیں جو اس طبقے کو زیر بحث خصوصی کردار کا اہل بناتی ہیں:
۱۔ روایت کے ساتھ گہری وابستگی، علمی وتدریسی سطح پر تراث کے ساتھ زندہ تعلق، اور روایت کے معروف متخالف رجحانات کے حوالے سے حتی الامکان تطبیق اور شمولیت (inclusivity) کا رویہ۔
۲۔ بڑے کینوس پر زمانی اور فکری تبدیلیوں کا شعور اور طرز فکر، اسلوب استدلال اور حکمت عملی میں لچک کی صلاحیت، یعنی adaptability ۔
۳۔ مذہبی شعور کی مختلف سطحوں (عقلی، روحانی، رسمی وتقلیدی) اور تنوعات کو سمجھنے اور انھیں مخاطب بنانے کی صلاحیت اور کسی ایک خاص رجحان کو مزاج یا شناخت کا بنیادی اور مطلق عنصر بنانے سے اجتناب۔
۴۔ اپنے مخصوص علمی حلقے سے باہر ہونے والی علمی وفکری کاوشوں سے خاموش اور بھرپور استفادہ کرنے اور مفید اور قابل قبول علمی دریافتوں کو اپنے نظام فکر میں سمو لینے کی صلاحیت۔
۵۔ فکری وعملی صلاحیتوں میں میدان کی ضرورتوں کے لحاظ سے تنوع پیدا کرنے اور ایسی تقسیم کار پیدا کرنے کی صلاحیت جس سے مختلف دائروں کے مختلف اور بعض اوقات متضاد تقاضوں کو بیک وقت نبھایا جا سکے۔
۶۔ حریف طبقات کے ساتھ تعامل کی ایسی حکمت عملی اپنانے کی صلاحیت جس سے ایک طرف اپنے امتیازی تشخص کی حفاظت اور دوسری طرف اجتماعی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے تقاضے بیک وقت پورے کیے جا سکیں۔
یہ خصوصیات ظاہر ہے کہ بحیثیت مجموعی پورے طبقے کے طرز فکر کو سامنے رکھ کر شمار کی گئی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر ہر سطح پر اور طبقے سے واہستہ ہر ہر گروہ میں ان میں سے ہر خصوصیت یکساں پائی جاتی ہو۔ متضاد رویے اور انداز فکر یقینا موجود ہیں، لیکن جب یہ ایک دوسرے کو cancel out کرتے ہیں تو نتیجے کے لحاظ سے مذکورہ خصوصیات کو بلاشبہ پورے طبقے کی مجموعی خصوصیات قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس تمہید کی روشنی میں، زیر نظر سطور میں ، ہم تاریخی تناظر میں مذکورہ فہرست میں سے آخری دو خصوصیات کی کچھ واقعاتی تفصیل بیان کرنا چاہتے ہیں۔
استعماری دور میں برصغیر کے مسلمان معاشرے کی، روایت پسند اور جدت پسند کی بنیاد پر جو تقسیم کی گئی تھی، اس میں روایت پسندی کی نمائندگی بنیادی طور پر مذہبی طبقوں کے حصے میں آئی۔ اس تقسیم نے مختلف عنوانات (مثلا ملا اور مسٹر، قدامت پسند اور جدت پسند، مذہبی اور غیر مذہبی وغیرہ) کے تحت دو طبقوں کو ایک دوسرے کا حریف اور مدمقابل بنا دیا اور غیر سازی (otherization )کے جو بھی اسالیب اور رویے بروئے کار لائے جا سکتے تھے، دونوں طرف سے لائے گئے۔ یہ صورت حال اب بھی برقرار ہے۔ اس پورے دور میں، دیوبندی فکری روایت کا ایک خاص پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ اس روایت میں علماء کا ایک طبقہ ہمیشہ ایسا رہا ہے جس نے اس خلیج کو پاٹنے اور غیر سازی کی تلخیوں کو کم کرنے کی کوشش کی، مختلف مذہبی، سیاسی اور قومی ضروریات کے لحاظ سے متضاد فکری رجحانات رکھنے والے طبقات کے باہم شریک کار بننے کی راہ ہموار کی، اور خاص طور پر معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین مذہبی وغیر مذہبی یا دین دوست اور دین دشمن کی قطعی اور حتمی صف بندی کو روکنے میں ایک ذمہ دارانہ اور موثر کردار ادا کیا۔
ذرا ماضی قریب کی تاریخ پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالیے:
۱۔ جدید تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں سرسید احمد خان کی مساعی سے جو جدید تعلیم یافتہ طبقہ پیدا ہوا، وہ اس تقسیم کا سب سے پہلامظہر تھا۔ سرسید احمد خان کی نسبت سے یہ طبقہ، مذہبی علماء کی نظر میں عموما مطعون تھا، تاہم شیخ الہند مولانا محمود حسن نے اس خلیج کو کم کرنے کے لیے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند اور علی گڑھ کے محمڈن اورئنٹل کالج کے مابین فضلاء کے تبادلے کی تجویز پیش کی، اور ۱۹۲٠ء میں کالج کے، یونیورسٹی بنائے جانے کے موقع پر تاسیسی اجلاس میں خطبہ صدارت بھی پیش کیا۔ شیخ الہند نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس میں بھی بنیادی کردار ادا کیا اور شدید علالت کے باوجود مجلس تاسیس میں شرکت کےلیے چارپائی پر تشریف لے گئے۔ شیخ الہند کے صحبت یافتگان میں سے بہت سے حضرات نے مذہبی وسیاسی قیادت کے میدان میں اپنا کردار ادا کیا جو قدیم وجدید کی تفریق کو ایک حد میں رکھنے کے حوالے سے موثر ثابت ہوا۔
۲۔ ۱۹۳٠ء کی دہائی میں مسلم سیاست نے ایک اور کروٹ لی تو مذہبی وغیر مذہبی کی تقسیم ایک نئے رنگ میں نمایاں ہو گئی۔ یہاں اختلافی رجحانات کا عنوان بظاہر متحدہ قومیت یا جداگانہ مسلم سیاسی تشخص تھا، لیکن صف بندی کچھ اس طرح ہو گئی کہ مذہبی علماء بحیثیت مجموعی ایک طرف اور جداگانہ سیاسی تشخص کے حامی دوسری طرف کھڑے نظر آنے لگے۔ اس نزاع میں بھی غیر سازی کے رویے فریقین کے ہاں اپنی انتہا پر نظر آئے، اور خاص طور پر جمعیۃ علمائے ہند اور جماعت اسلامی کی طرف سے مسلم لیگ اور اس کے قائدین سے متعلق دینی اعتبار سے کسی حسن ظن کو خارج از امکان قرار دے دیا، تاہم مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور چند دوسری نامور مذہبی شخصیات نے اپنا سیاسی وزن مسلم لیگ کے پلڑے میں ڈال کر اس بحث کو خالصتا ایک سیاسی بحث کا رنگ دے دیا اور جمعیۃ علمائے ہند کی طرف سے مسلم لیگ کو لادینی سیاست کا نمائندہ قرار دے کر غیر سازی کا جو بنیادی مقدمہ قائم کیا گیا تھا، اسے غیر موثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
۳۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان کے ساتھ چند دیگر جید دیوبندی اکابر نے جب تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو جمعیۃ علماء ہند کے راہ نماوں کی طرف سے، جو ہندو مسلم متحدہ قومیت کے حامی اور ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کے مخالف تھے، ان کے سامنے ایک اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ مسلم لیگ میں تو کمیونسٹ اور قادیانی بھی شامل ہیں جو مرتد ہیں، جبکہ مسلم لیگ میں ان کی شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ انھیں مسلمان تسلیم کیا جا رہا ہے، اس لیے ایسی جماعت کو کیسے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں مذہبی علماء کا فتوی ٰ اور مسلمانوں کی ایک سیاسی جماعت کا زاویہ نظر اور پوزیشن مختلف ہو سکتی ہے۔ علماء، شرعی حیثیت سے یہ واضح کر رہے ہیں کہ قادیانیوں کا عقیدہ اسلام کے خلاف ہے اور وہ درحقیقت مسلمان نہیں ہیں، جبکہ سیاسی قائدین نے اپنی ضروریات کے لحاظ سے یہ طے کیا ہے کہ جو بھی گروہ خود کو مسلمان شمار کرتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ مذہبی علماء کے فتوے کی رو سے ان کی حیثیت کیا ہے، انھیں مسلم لیگ میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ گویا ان دونوں باتوں کا اپنا اپنا محل ہے اور اپنے اپنے دائرے میں یہ دونوں موقف بیک وقت برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔ مولانا عثمانی اور مفتی محمد شفیع نے یہ بھی کہا کہ قادیانی اگرچہ اپنے خلاف اسلام عقیدے کی وجہ سے حقیقتا اسلام سے دور جا پڑے ہیں، لیکن اپنے زعم کے مطابق وہ اسلام ہی کے پیروکار ہیں اور نفس کلمہ اسلام سے دستبردار نہیں ہوئے، اس لیے ان سے متعلق فقہی احکام بعض پہلووں سے اگرچہ زیادہ سخت ہیں، لیکن جہاں کھلے کفار کے ساتھ مقابلہ ہو اور ایسے منحرف گروہ بھی بزعم خود اسلام اور مسلمانوں کی تائید کے لیے ان کے ساتھ جدوجہد میں شریک ہونا چاہیں تو شرعی وفقہی طور پر اس کی گنجائش موجود ہے۔
۴۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں کے فکری منظر نامے پر ابھرنے والی نظریاتی بحثوں میں سرمایہ داری اور سوشلزم کی بحث ، مذہبی یا سیکولر ریاست کی بحث کے بعد، دوسری بڑی بحث تھی۔ اس بحث میں بھی غیر سازی کا رویہ اپنی پوری شدت کے ساتھ نمودار ہوا اور جہاں سوشلسٹوں نے مذہبی اور مذہبی طبقات کی کردار کشی کو اپنا بنیادی ہدف قرار دیا، وہاں مولانا مودودی کے لٹریچر اور تنظیمی جدوجہد نے بھی سوشلزم کے بیانیے کو لازمی طور پر ایک مذہب مخالف بیانیہ اور سوشلسٹوں کو مذہب دشمن طبقہ باور کرانے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیا۔ اس صورت حال میں جمعیۃ علمائے اسلام کی قیادت نے راہ اعتدال اختیار کی اور معاشی نظام کی ترجیحات کے حوالے سے نہ صرف سوشلسٹوں کے بنیادی مطالبات کی تائید کی، بلکہ اس بیانیے کو مذہبی استدلال بھی فراہم کیا اور اس کی پاداش میں ’’سوشلسٹ ملا“ جیسے القابات سے نوازے گئے۔ جمعیۃ کی قیادت نے سوشلزم کو کفر قرار دینے کے حوالے سے جید علماء کی طرف سے جاری کردہ فتوے سے بھی اختلاف کیا اور اپنے مذہبی وعلمی پس منظر کی بدولت اس فتوے کو مذہبی اعتبار سے غیر موثر بنا دیا۔
۵۔ اسلام اور سوشلزم کی بحث کے زمانے میں جمعیۃ علماء کی قیادت مولانا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی کے ہاتھ میں تھی۔ ان کی قیادت میں جمعیۃ علماء نے غیر سازی کے ایک او رمحاذ پر بھی مثبت کردار ادا کیا۔ یہ محاذ، ریاستی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مشرقی پاکستان اور اس کے علاوہ سرحد اور بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ملک دشمن باور کرانے کا محاذ تھا۔ جمعیۃ علماء نے اس بیانیے کو مسترد کیا اور نہ صرف قوم پرستوں کے جائز سیاسی مطالبات کی حمایت کی، بلکہ ان کے ساتھ مل کر قومی سیاست میں مشترکہ کردار ادا کرنے کو اپنی بنیادی ترجیح بنایا۔ جمعیۃ علماء نے شیخ مجیب الرحمن کو ملک دشمن ماننے سے انکار کیا، بلوچستان میں فوجی ایکشن کی مخالفت کی، سرحد میں قوم پرست سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور ۷۳ء کی دستور سازی میں ان تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دستور میں واضح اور فیصلہ کن اسلامی دفعات کی شمولیت کی راہ ہموار کی۔
۶۔ غیر سازی کے اور ایک محاذ پر خود جمعیۃ علماء کی مذکورہ قیادت کے مابین اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہ محاذ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے حوالے سے تھا۔ مولانا مودودی کی دینی فکر اور جماعت اسلامی کے کردار پر جارحانہ تنقید میں مولانا ہزاروی کا اسلوب پورے مذہبی طبقے میں منفرد تھا اور وہ جماعت اسلامی کی مکمل غیر سازی کے نظریے کے علمبردار تھے، یہاں تک کہ وہ کسی مشترکہ اور متفقہ مذہبی یا سیاسی مسئلے میں بھی جماعت اسلامی کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ مولانا ہزاروی کی مہم کے نتیجے میں روایتی مذہبی حلقوں میں جماعت اسلامی کی مکمل غیر سازی کا یہ نظریہ بڑے پیمانے پر مقبول ہو چکا تھا اور ’’سو یہودی، ایک مودودی“ کا نعرہ ایک مقبول عام نعرے کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ اس صورت حال میں مولانا مفتی محمود نے جماعت اسلامی کو نہ صرف قومی نمائندگی کا حصہ تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، بلکہ مولانا مودودی کی وفات پر ان کی دینی خدمات کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔ جمعیۃ علماء کی، مفتی گروپ اور ہزاروی گروپ میں تقسیم کے اسباب میں ایک بنیادی سبب یہ اختلاف بھی تھا۔ دو عشروں کے بعد مولانا فضل الرحمن نے بھی متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی شراکت کا راستہ اختیار کر کے غیر سازی کے اس انتہا پسندانہ رویے کی نفی کی جس کے مولانا ہزاروی علمبردار تھے۔ یوں جماعت اسلامی اور روایتی مذہبی حلقوں کے مابین ۶٠ء اور ۷٠ء کی دہائیوں کی تلخی کو بڑی حد تک قصہ ماضی بنانے میں مولانا مفتی محمود اور مولانا فضل الرحمن کا بنیادی کردار ہے۔
۷۔ بھٹو حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کے حوالے سے جو طرز عمل اختیار کیا، اس کے نتیجے میں تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں پیپلز پارٹی کے خلاف متحد ہو گئیں اور مقتدرہ کی تائید سے ایک بھرپور سیاسی تحریک چلا کر پیپلز پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس دور میں جب فوجی حکومت کی طرف سے پیپلز پارٹی کو ایک ملک دشمن جماعت باور کرایا جا رہا تھا اور مذہبی طبقات اسے ایک دین بیزار اور لبرل سیاسی عناصر کا پلیٹ فارم تصور کر رہے تھے، مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیۃ علمائے اسلام کے ایک دھڑے نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں تحریک بحالی جمہوریت میں فعال کردار ادا کیا اور اس موقف پر خود ٹھیٹھ دیوبندی حلقے اور اس کے اکابر کی سخت ناراضی مول لی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے مذہبی حلقوں کے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول تھیں اور اسلامی حدود کے متعلق ان کے اس طرح کے بیانات منظر عام پر آ چکے تھے کہ یہ (نعوذ باللہ) وحشیانہ اور غیر انسانی سزائیں ہیں۔ چنانچہ جب وہ ۸۸ء میں پہلی مرتبہ برسر اقتدار آئیں تو تمام مذہبی قوتوں نے بیک زبان اسے کم وبیش کفر اور اسلام کی بحث قرار دیا اور قوم کو باور کرانے کی کوشش کی کہ عورت کی حکمرانی کی صورت میں فی الواقع خدا کا عذاب قوم پر مسلط ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں بھی مولانا فضل الرحمن بالفعل بے نظیر حکومت کے ساتھ کھڑے تھے اور ان کا یہ تبصرہ اخبارات میں شہ سرخیوں میں شائع ہوا تھا کہ عورت کی حکمرانی کے مسئلے میں مخالفین کی ’’سوئی ایک جگہ پر اٹک گئی ہے۔“
۸۔ ۸٠ء کی دہائی میں ہی ایران کے شیعہ مذہبی انقلاب کے رد عمل میں ہمارے ہاں شیعہ سنی کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی اور دیوبندی مکتب فکر کے اعلی ٰ ترین اداروں اور شخصیات کی طرف سے اثنا عشری اہل تشیع کی تکفیر کے فتوے کے ساتھ ’’کافر کافر شیعہ کافر“ کے نعرے کو گلی گلی میں گونجنے والی صدا کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس دور میں اس نعرے سے اختلاف یا اس پر تنقید، انتہا پسند اور جذباتی عناصر کی طرف سے گردن زدنی قرار دیے جانے کے لیے کافی تھی، تاہم مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیۃ علمائے اسلام نے سیاسی محاذ پر یہاں بھی تکفیر وتفریق اور غیر سازی کی اس خوفناک لہر کا سامنا کیا ۔ جمعیۃ علماء نے نہ صرف اس تکفیری مہم کا حصہ بننے سے گریز کیا، بلکہ اس کی واضح مخالفت کی۔ پھر جنرل مشرف کے دور میں، سیاسی محاذ پر متحدہ مجلس عمل میں اور دینی مدارس کی سطح پر اتحاد تنظیمات مدارس میں اہل تشیع کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا اور یوں ذمہ دارانہ اور جرات مندانہ کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی معاشرے اور سیاست کو شیعہ سنی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچا لیا۔
۹۔ ۲٠٠۱ء کے بعد پاکستان کے علمی ودینی حلقوں میں جناب جاوید احمد غامدی کے غیر روایتی افکار وخیالات ایک خاص تناظر میں بحث ومباحثہ کا موضوع بننا شروع ہوئے۔ گفتگو نے بہت جلد تضلیل وتفسیق، بلکہ بعض حلقوں کی طرف سے تکفیر کے فتووں کی صورت اختیار کر لی۔ غامدی صاحب کو منکر حدیث اور امت کے اجماعی عقائد ومسلمات سے منحرف متجدد قرار دیا گیا اور تھوڑے ہی عرصے میں نہ صرف روایتی مذہبی گروہ، بلکہ جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی جیسے حلقے اور خود غامدی صاحب سے فکری یا غیر فکری بنیادوں پر الگ ہونے والے حضرات غامدی صاحب اور ان کے متبعین کو امت سے بالکل کٹا ہوا ایک فرقہ قرار دے کر ان کی مکمل غیر سازی کے معاملے میں یک زبان ہو گئے۔ اس ماحول میں والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے بعض اہم علمی مسائل کے حوالے سے غامدی صاحب کے حلقہ فکر کے ساتھ علمی مکالمے کا ڈول ڈالا اور واضح علمی اختلاف کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنا یہ اصولی موقف بیان کیا کہ ان حضرات کی جو بات جمہور اہل علم کے ہاں قابل قبول نہیں، اس سے اختلاف کے باوجود ’’دیگر اصحاب علم کے تفردات کی طرف ہم ان کا احترام کریں گے“ اور یہ کہ ہم ’’یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مختلف پیش آمدہ دینی وملی مسائل پر دیگر مکاتب فکر کی طرح ان کے نقطہ نظر سے بھی آگاہی حاصل کی جائے اور علمی بحث ومباحثہ اور مکالمہ کی صورت میں بحث وتمحیص کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے۔“ والد گرامی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے، غامدی صاحب کے الگ ہونے کی خبر پر افسوس اور رنج ظاہر کیا اور لکھا کہ ’’غامدی صاحب علوم عربیہ کے ممتاز ماہرین میں شمار ہوتے ہیں اور دینی لٹریچر پر بھی ان کی گہری اور وسیع نظر ہے۔ اسلامی نظریہ کونسل میں ایسے فاضلین کی موجود گی بہت سے معاملات میں راہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔“ اس موقف پر والد گرامی کو خود اپنے حلقے کے اکابر کی طرف سے فتووں، یہاں تک کہ سماجی مقاطعہ تک کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انھوں نے پوری استقامت سے اس صورت حال کا سامنا کیا اور غیر سازی کے انتہا پسندانہ رویے کی نفی کرتے ہوئے دیوبندی روایت کے تسلسل کو قائم رکھا۔
۱٠۔ حالیہ دنوں میں تبلیغی جماعت کے ممتاز قائد، مولانا طارق جمیل صاحب نے طرز حکومت کو ریاست مدینہ کے نمونے پر استوار کرنے کے عزم کے حوالے سے جناب عمران خان کے متعلق اچھی توقعات کا اظہار کیا، جبکہ دیوبندی حلقے کا عمومی موقف تحریک انصاف کے حوالے سے بالکل مختلف ہے۔ خاص طور پر جمعیۃ علمائے اسلام کی قیادت ایک عرصے سے تحریک انصاف کو ایک اسلام دشمن اور یہودی لابی کے زیر اثر قائم کی گئی جماعت قرار دیتی چلی آ رہی ہے اور اس کی مخالفت کو ملک میں اسلامی ایجنڈے کے ساتھ وفاداری کا ایک تقاضا باور کرتی ہے۔ کئی حساس مذہبی ایشوز، مثلا حکومتی مناصب پر احمدیوں کی تقرری، آسیہ مسیح کیس میں ملزمہ کو عدالت عظمی کی طرف سے بری کیے جانے اور شراب کی خرید وفروخت پر قانونی پابندی عائد کرنے جیسے مسائل میں حکومتی موقف نے مذہبی جماعتوں کے نقطہ نظر سے اس تاثر پر مزید مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ اس صورت حال میں مولانا طارق جمیل نے تحریک انصاف کے متعلق جو گفتگو کی اور اسے اہتمام کے ساتھ سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا ، وہ ہمارے نقطہ نظر سے دیوبندی مزاج کی اسی خصوصیت کا ایک اظہار ہے جس کی مختلف مثالیں سابقہ سطور میں پیش کی گئی ہیں۔
کسی بھی طبقے کے لیے، معاشرے میں قائدانہ نوعیت کا کوئی کردار ادا کرنے کے لیے جن فکری وعملی اور مزاجی خصوصیات کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے، ان میں دوسرے طبقوں کے ساتھ ، اختلاف کے باوجود، کسی نہ کسی سطح پر تعلق کو قائم رکھنے اور باہمی تعامل کے لیے ممکنہ مشترک بنیادوں کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی خصوصیت غالبا سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ دیوبندی مزاج میں یہ خصوصیت، جیسا کہ بیان کی گئی مثالوں سے واضح ہوتا ہے، بدرجہ اتم موجود ہے اور دیوبندی روایت کو مذہبی فکر وعمل کے میدان میں حاصل امتیاز کے ایک بنیادی سبب کا درجہ رکھتی ہے۔
اھتدی کا ترجمہ
اھتدی کا لفظ مختلف صیغوں کے ساتھ قرآن مجید میں بار بار آیا ہے، ماہرین لغت کی تشریح کے مطابق اس لفظ میں ہدایت کو طلب کرنا، ہدایت کو اختیار کرنا، اور ہدایت پر قائم رہنا شامل ہے۔ اس لفظ کے مفہوم میں ارادے اور اقدام کا ہونا موجود ہے۔ لفظ اھتدی کی اس روح اور اس کی اس معنوی خصوصیت کا سامنے رہنا بہت اہم اور ضروری ہے۔ یہ لفظ یاد دلاتا ہے کہ اس امتحان گاہ میں ہدایت از خود حاصل ہوجانے کے بجائے اختیار کی جانے والی چیز ہے۔
ہدایت اختیار کرنے کا یہ مفہوم ان مقامات پر اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے ، جہاں ایسا کرنے پر ایسا کرنے کے نتائج مرتب ہونے کی بات کہی گئی ہے، یا اس عمل پر اللہ کی طرف سے کسی انعام کا وعدہ کیا گیا ہے، جیسے مزید ہدایت دینے کا وعدہ ۔ غرض یہ کہ اھتداء دراصل ہدایت پانا نہیں بلکہ ہدایت اختیار کرنا ہے۔
قرآنی الفاظ کے ماہر امام راغب اصفہانی نے اس لفظ کی اس خصوصیت پر متعدد قرآنی مثالوں کے ساتھ تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، وہ لکھتے ہیں:
الاِھتدَاء یختصّ بما یتحرّاہ الانسان علی طریق الاختیار، امّا فی الامور الدّنیویۃ، او الاخرویۃ۔ قال تعالی: وھُوَ الَّذِی جَعَلَ لکُمُ النُّجُومَ لِتَھتَدُوا بھا (الانعام/۹۷) (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: المفردات فی غریب القرآن)
قرآن مجید کے مختلف تراجم کا جائزہ لیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ مترجمین نے کہیں تو اس لفظ کا اس طرح ترجمہ کیا ہے کہ اس کی یہ روح نمایاں ہوکر سامنے آجاتی ہے، لیکن کہیں کہیں ان سے اس پہلو کی رعایت نہیں ہوسکی ہے، اور انہوں نے ترجمہ کرتے ہوئے ایسی تعبیر اختیار کی ہے، جس سے ہدایت اپنے ارادے طلب اور کوشش سے اختیار کرنے والی چیز کے بجائے از خود حاصل ہونے والی چیز محسوس ہوتی ہے۔ ذیل میں بطور مثال کچھ آیتوں کے ترجمے پیش ہیں:
(۱) قُل یَا اَیُّہَا النَّاسُ قَد جَاءکُمُ الحَقُّ مِن رَّبِّکُم فَمَنِ اھتَدَی فاِنَّمَا یَہتَدِی لِنَفسِہِ وَمَن ضَلَّ فاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیہَا۔ (یونس: ۱٠۸)
“اے محمد، کہہ دو کہ“لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آ چکا ہے اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے، اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے“ (سید مودودی)
“تم فرماؤ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا۔“ (احمد رضا خان)
“کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے۔ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے“ (فتح محمد جالندھری)
“آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے، اس لیے جو شخص راہِ راست پر آجائے سو وہ اپنے واسطے راہِ راست پر آئے گا اور جو شخص بے راہ رہے گا تو اس کا بے راہ ہونا اسی پر پڑے گا“ (محمد جوناگڑھی)
(۲) مَّنِ اہتَدَی فاِنَّمَا یَہتَدی لِنَفسِہِ وَمَن ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیہَا۔ (الاسراء:۱۵)
“جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے“ (سید مودودی)
“جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا“ (احمد رضا خان)
“جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا“ (فتح محمد جالندھری)
“جو راہِ راست حاصل کرلے وہ خود اپنے ہی بھلے کے لیے راہ یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے“ (محمد جوناگڑھی)
(۳) وَانِّی لَغَفَّار لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اہتَدَی۔ (طہ: ۸۲)
“البتہ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔“ (سید مودودی)
“اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔“ (احمد رضا خان)
“اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں۔“ (فتح محمد جالندھری)
“ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں ایمان لائیں نیک عمل کریں اور راہِ راست پر بھی رہیں۔“ (محمد جوناگڑھی)
(۴) وَان اتلُوَ القُرآنَ فَمَنِ اہتَدَی فَانَّمَا یَہتَدِی لِنَفسِہِ۔ (النمل: ۹۲)
“اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں، اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا“ (سید مودودی)
“اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی “ (احمد رضا خان) (راہ پائی، موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے“ (فتح محمد جاندھری)
“اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، جو راہِ راست پر آجائے وہ اپنے نفع کے لیے راہِ راست پر آئے گا“ (محمد جوناگڑھی)
(۵) انَّا اَنزَلنَا عَلَیکَ الکِتَابَ لِلنَّاسِ بِالحَقِّ فَمَنِ اہتَدَی فَلِنَفسِہِ۔ (الزمر: ۴۱)
“ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا“ (سید مودودی)
“بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو“ (احمد رضا خان) (راہ پائی، موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لیے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لیے“ (فتح محمد جالندھری) (ہدایت پاتا ہے،موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راہِ راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے“ (محمد جوناگڑھی)
(۶) فانَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیلِہِ وَہُوَ اَعلَمُ بِمَنِ اہتَدَی۔ (النجم: ۳٠)
“یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے“ (سید مودودی)
“ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا“ (فتح محمد جالندھری، رستے پر چلا نہیں بلکہ صحیح راستے پر چلا کہنا درست ہوگا)
“یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی“ (احمد رضا خان) (راہ پائی،موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہے اس سے بھی جو راہ یافتہ ہے“ (محمد جوناگڑھی، راہ یافتہ موزوں ترجمہ نہیں ہے)
(۷) وَیَزِیدُ اللَّہُ الَّذِینَ اہتَدَوا ہُدًی۔ (مریم: ۷۶)
“اس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے“ (سید مودودی)
“اور جنہوں نے ہدایت پائی اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا“ (احمد رضا خان) (ہدایت پائی موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے“ (فتح محمد جالندھری) (ہدایت یاب بھی موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے“ (محمد جوناگڑھی)(ہدایت یافتہ بھی موزوں ترجمہ نہیں ہے)
(۸) وَالَّذِینَ اہتَدَوا زَادَہُم ہُدًی۔ (محمد: ۱۷)
“رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ اُن کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے“ (سید مودودی) (ہدایت پائی، موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور جنہوں نے راہ پائی اللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمائی“ (احمد رضا خان) (راہ پائی،موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا“ (فتح محمد جالندھری) (ہدایت یافتہ موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے“ (محمد جوناگڑھی)(ہدایت یافتہ موزوں ترجمہ نہیں ہے)
بات بہت واضح ہے کہ یہاں اللہ کی طرف سے اور زیادہ ہدایت دینے کا وعدہ ان لوگوں سے ہے جو اقدام کرکے ہدایت کو اختیار کریں، نہ کہ جو ہدایت پائیں۔
(۹) وَان تَدعُہُم الَی الہُدَی فَلَن یَہتَدُوا اذاً اَبَداً۔ (الکہف: ۵۷)
“تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلاو، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے“ (سید مودودی) (ہدایت نہ پائیں گے، موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“تم انہیں ہدایت کی طرف بلاو تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے“ (احمد رضا خان) (راہ نہ پائیں گے، موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاو تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے“ (فتح محمد جالندھری، یہ ترجمہ مناسب ہے)
(۱٠) وَرَاَوُا العَذَابَ لَو اَنَّہُم کَانُوا یَہتَدُونَ۔ (القصص: ۶۴)
“اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے“ (سید مودودی)
“اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے“ (احمد رضا خان) (راہ پاتے، موزوں ترجمہ نہیں ہے)
“اور سب عذاب دیکھ لیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے“۔ (محمد جوناگڑھی) (پالیتے موزوں ترجمہ نہیں ہے)
(۱۱) وَقَالُوا یَا اَیُّہَا السَّاحِرُ ادعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ انَّنَا لَمُہتَدُون۔ (الزخرف:۴۹)
“ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے“ (سید مودودی،’’وہ کہتے کے“ بجائے ’’انہوں نے کہا“، اور یہ ہر عذاب کی بات نہیں بلکہ آخری عذاب کی بات ہے)
“اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے“ (احمد رضا خان)
“اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے“ (فتح محمد جالندھری)
“اور انہوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے، یقین مان کہ ہم راہ پر لگ جائیں گے“ (محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ انَّنَا لَمُہتَدُون کا ترجمہ مستقبل سے کرنے کے بجائے حال سے کرنا چاہئے، مطلب: ”ہم نے راہ راست کو اختیار کرلیا ہے“ ۔ کیوں کہ عذاب مسلط ہونے کے بعد موقع کا تقاضا ہے کہ راہ راست پر آنے کا اعلان کیا جائے، نہ کہ مستقبل میں راہ راست پر آنے کا وعدہ۔
(۱۲) قَالُوا ادعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّن لَّنَا مَا ہِیَ انَّ البَقَرَ تَشَابَہَ عَلَینَا وَانَّا ان شَاء اللَّہُ لَمُہتَدُون۔ (البقرة: ۷٠)
“پھر بولے اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاو کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے اللہ نے چاہا، تو ہم اس کا پتہ پالیں گے“ (سید مودودی)
لَمُہتَدُون کے مزید ترجمے
“ہم راہ پا جائیں گے“ (احمد رضا خان) (موزوں نہیں ہے)
“ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی“ (فتح محمد جالندھری) (موزوں نہیں ہے)
“ہم پتا لگالیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں یہ ترجمہ تجویز کرتے ہیں: ”ہم صحیح بات پر عمل کرلیں گے“، کیونکہ یہاں معلوم کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ حکم پر عمل کرنے کا مسئلہ ہے۔
(جاری)
ترجمان القرآن مولانا ابو الکلام آزاد کی تصنیف لطیف ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد ۱۸۸۸ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام محی الدین احمد تھا۔ آپ کے والد ہندوستا ن کے معروف عالم اور پیر مولانا خیر الدین ہیں، جب کہ والدہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا۔ مولانا کا انتقال ۲۲ فروری ۱۹۵۸ء کو ہوا۔
مولانا ابو الکلام برصغیر کے سب سے بڑے مذہبی اور سیاسی لیڈر تھے۔ مولانا تقسیم ملک کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے، اور ہندوستان کے نظام تعلیم کو منظم کرنے میں ان کا اہم کردار ہے۔آپ ایک بے مثل عالم تھے، ہندوستان کی سیاسیات میں متحرک کردار ادا کیا، اس کے ساتھ ہندوستان کی صحافت کو بھی ایک نئی جہت عطا کی۔ ان تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ نے منفرد علمی کتب اور مقالات تحریر کیے ہیں۔
مولانا آزاد کا فہم قرآن
قرآن حکیم مولانا کے غور و فکر کا سب سے اہم ماخذ تھا، انہیں قرآن حکیم سے ایک طویل رفاقت حاصل تھی۔ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں: ’’میں نے قریب قریب تیئیس سال قرآن کو اپنا موضوعِ فکر بنایا۔ میں نے ہر پارے، ہر سورۃ اور ہر آیت اور ہر لفظ کو گہرے فکر و نظر سے دیکھا۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کی موجودہ تفاسیر مطبوعہ یا غیر مطبوعہ کا بہت بڑا حصہ میری نظر سے گزرا ہے، میں نے فلسفۂ قرآن کے سلسلے میں ہر مسئلے کی تحقیق کی ہے۔“
شورش کاشمیری نے مولانا کے ترجمہ و تفسیر اور قرآن دانی سے متعلق جو سوال و جواب مولانا ظفر علی خان سے کیا، اسے شورش اپنی کتاب میں یوں نقل کرتے ہیں:
عرض کیا ، ’’کیا مولانا ابوالکلام تفسیرِ قرآن میں اسلاف کے پیرو اور اس عہد کے مجتہد ہیں؟“
فرمایا: ’’بالکل، اللہ تعالیٰ نے قرآن فہمی کے باب میں انہیں خاص ملکہ عطا کیا ہے ، وہ زمانہ کی فکری تحریکوں کو بخوبی سمجھتے اور قرآن کو ہر زمانے کی پیچیدگیوں کا حل قرار دے کر انسانی معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ۔ وہ قرآن کی ابدی دعوت پر نظامِ کائنات کی اساس رکھتے ہیں۔ ان پر بفضلِ ایزدی علم القرآن کے اس طرح کھلے ہیں کہ ان کے لیے کوئی سی راہ مسدود و منقطع نہیں۔ اُن کی آواز قرآن کی آواز ہے۔“
راقم: ’’مولانا کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی خوبی کیا ہے؟ اور کونسا پہلو ہے جو دوسرے تراجم اور تفاسیر کے مقابلے میں منفرد ہے؟“
مولانا : ’’اُن کے ترجمہ و تفسیر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن ہی کی زبان میں خطاب کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ان کے الفاظ الوہیت اور نبوت کا جامہ پہنے ہوئے ہیں اور یہ صرف اللہ کی دین ہے۔ دوسرے تراجم جو اب تک ہندوستان میں ہوئے ہیں، وہ قرآن کے الفاظ میں لغوی ترجمہ ہیں، ان میں قرآن کے شکوہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ عربی الفاظ کا ترجمہ اردو الفاظ میں کیا گیا ہے ، مطالب کی طاقت و پہنائی اوجھل ہو گئی ہے۔ آزادؔ کی تفسیر محض مقامی و محض اسلامی نہیں، بین الاقوامی و بین الملی ہے۔ وہ الہیاتی زبان میں کائنات کو خطاب کرتے ہیں۔“ (ابو الکلام آزاد، ص ۴۸۲)
خورشید احمد صدیقی مولانا کے فہم قرآن کے حوالے سے کہتے ہیں: ’’مولانا پہلے اور آخری شخص ہیں جنہوں نے براہ راست قرآن کو اپنے اسلوب کا سر چشمہ بنایا “ (مولانا آزاد کی قرآنی بصیرت، مولانا اخلاق حسین قاسمی، صفحہ۵۵)
ڈاکٹر ذاکر حسین کہتے ہیں: ’’مولانا روح تفسیر کے محرم ہیں اور کلام الہی کے مطالب کو اس حکیمانہ انداز میں سمجھاتے ہیں جن سے نئے زمانے کے تنقیدی ذہن کو بھی تسکین ہو جاتی ہے۔“ (ابوالکلام آزاد ، شورش کاشمیری، صفحہ ۳۱۴)
مولانا آزاد قرآن حکیم کے حوالے سے تین کام کرنا چاہتے تھے:
۱۔ مقدمہ تفسیر البصائر: اس کتاب میں مولانا قرآن کریم کے مطالب و مقاصد پر اصولی مباحث لکھنا چاہتے تھے جس کا ایک حصہ انہوں نے لکھا اور وہ شائع بھی ہوا، مگر وہ نامکمل ہے۔
۲۔ البیان فی مقاصد القرآن: اس کتاب میں مولانا کے پیش نظر ایک مکمل و مفصل تفسیر تھی جس کو مولانا اپنی سیاسی مصروفیات کی بنا پر مکمل نہ کر سکے اور لکھا ہوا حصہ بھی ضائع ہو گیا۔
۳۔ ترجمان القرآن: قرآن حکیم کے حوالے سے مولانا کی یہی کتاب معروف ہوئی ہے۔ اس کا تعارف کراتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں
’’ترجمان القرآن کی ترتیب سے مقصود یہ تھا کہ قرآن کے عام مطالعہ و تعلیم کے لیے ایک درمیانی ضخامت کی کتاب مہیا ہو جائے، مجرد ترجمے سے وضاحت میں زیادہ، مطول تفاسیر سے مقدار میں کم۔ چنانچہ اس غرض سے یہ اسلوب اختیار کیا گیا کہ پہلے ترجمہ میں زیادہ سے زیادہ وضاحت کی کوشش کی جائے، پھر جابجا نوٹ بڑھا دیے جائیں۔ اس سے زیادہ بحث و تفصیل کو دخل نہ دیا جائے۔ باقی رہا اصول اور تفسیری مباحث کا معاملہ تو اس کے لیے دو الگ الگ کتابیں ’’مقدمہ“ اور ’’ البیان“ زیر ترتیب ہیں۔“ (ترجمان القرآن ، ابو الکلام آزاد ، جلد۳)
مولانا کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی، چنانچہ انہیں تفسیر قرآن لکھنے کے زمانے میں سیاسی مسائل کی وجہ سے متعدد بار جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی، چنانچہ اس دوران ان کے مسودات تفسیر ضائع ہوئے، متعدد دفعہ تفتیش کے نام پر حکام نے ضبط کیے، مگر مولانا نے ہمت نہ ہاری۔ مولانا کی زندگی میں تفسیر کا مقدمہ ، تفسیر سورہ فاتحہ اور پہلی دو جلدیں شائع ہو گئی تھی، جب کہ تیسری جلد ان کی وفات کے بعد ان کے مسودات سے مرتب کی گئی ہے۔
ترجمان القرآن کا انتساب
علما کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اپنی علمی کاوش کو کسی نامور شخصیت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مولانا آزاد نے بھی اپنی کتاب کا انتساب لکھا ہے، مگر وہ کسی نامور شخصیت کے بجائے ایک گمنام شخص کی طرف ہے۔ مولانا اس کے ذوق سے متاثر ہوئے تھے، چنانچہ اس کے ذوق کی قدر دانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’انتساب
غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک شخص بکل اوڑھے کھڑا تھا۔
آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔
کہاں سے؟
سرحد پار سے۔
یہاں کب پہنچے؟
آج شام کو پہنچا۔ میں بہت غریب آدمی ہوں۔ قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا۔ وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔
افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟
اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔
یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔
مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔
۱۲ ستمبر سنہ ۱۹۳۱ء، کلکتہ“
ترجمان القرآن اہل علم کی نظر میں
ترجمان القرآن کی علمی حیثیت کو سید سلیمان ندوی واضح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’میں نے قرآن کریم کی جتنی تفاسیر پڑھی ہیں، ان میں ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی تفاسیر سے بہتر کوئی تفسیر نہیں، ’’ترجمان القرآن ’’ کا مصنف قابل مبارک باد ہے کہ اس نے یورپی سامراج کے زمانے میں بڑی ہمت اور دلیری سے ابن تیمیہ اور ابن قیم کی اس صورت سے پیروی کی ہے جس طرح انہوں نے منگولی فاتحوں کی مزاحمت کے سلسلے میں کی تھی۔“ (ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ ، اخلاق حسین قاسمی، ص ۱۶)
مفسر قرآن مولانا احمد سعید دہلوی ترجمان القرآن پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’قرآن کریم کی عربی مبین مولانا آزاد کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ آ کر اسے اردوئے مبین کے قالب میں ڈھالیں۔ ترجمان القرآن مولانا آزاد کا غیر فانی کارنامہ ہے۔“ (نقش آزاد، غلام رسول مہر، صفحہ۸۷)
مولانا سعید احمد اکبر آبادی کہتے ہیں: ’’(سید رشید رضا مصری کی) تفسیر المنار اور مولانا کا ترجمان القرآن مطالب و معانی کے اعتبار سے ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ زبانیں دو ہیں، مقصد ایک۔ مولانا، علامہ ابن تیمیہ ، جاحظ اور ابن قیم کے شانہ بشانہ ہیں۔“ (ابوالکلام آزاد ، شورش کاشمیری، صفحہ ۳۳۴)
خصوصیات ترجمان القرآن
۱۔ ادیبانہ ترجمہ
مولانا کی تفسیر ترجمان القرآن اور اس کا ترجمہ ایک اہم علمی تحفہ ہے۔ خاص کر ترجمہ تو بہت ہی عمدہ چیز ہے ، اور اس ترجمہ پر خود مولانا کو بھی فخر تھا۔ فرماتے ہیں : ’’ترجمان القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کی تمام خصوصیات کا اصل محل اس کا ترجمہ اور ترجمہ کا اسلوب ہے۔ اگر اس پر نظر رہے گی تو پوری کتاب پر نظر رہے گی۔ وہ اوجھل ہو گئی تو پوری کتاب نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔“ (ترجمان القرآن، جلد ۳) ڈاکٹر ذاکر حسین لکھتے ہیں: ’’مولانا کی زبان میں غضب کی وہ دلکشی ہے جس نے ان کے ترجمے اور تفسیری اشارات میں اردو ادب کے ایک شاہکار کی شان پیدا کر دی ہے۔“ (ابوالکلام آزاد ، شورش کاشمیری، صفحہ ۳۳۴)
۲۔ زبان و بیان کی سادگی
مولانا نے ترجمہ میں عام قاری کے ذہن کو ملحوظ نظر رکھا ہے، اور مطالب قرآنی بالکل سادہ مگر اعلیٰ زبان میں پیش کر دیے ہیں۔ ترجمان میں مولانا نے الہلال اور البلاغ کی سی ثقیل زبان استعمال نہیں کی، نہ ہی اپنی عادت کے مطابق عربی و فارسی کی ثقیل عبارات اور استعارات استعمال کیے ہیں۔ خود مولانا کہتے ہیں: ’’ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کر دیا ہے جو قرآن کے بیان و مطالب کا طریقہ ہے۔“ (ترجمان القرآن ج ۲ ،صفحہ ۴۳)
۳۔ داعیانہ سوز
مولانا کی کتاب میں ایک داعیانہ سوز پایا جاتا ہے، پوری کتاب کا اسلوب ایسا رکھا کہ قاری کا جذبہ عمل بیدار ہو اور اسے قرآن پر عمل کرنا آسان لگے۔
۴۔ فکری اعتدال
مولانا معتدل فکر رکھتے تھے۔ انہوں نے عقل و نقل دونوں سے برابر رہنمائی حاصل کی۔ ان کے لیے رہنما شاہ ولی اللہ دہلوی کا منہج فکر تھا۔ مولانا اخلاق حسین قاسمی لکھتے ہیں: ’’مولانا آزاد کے سامنے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا طرز فکر واضح تھا جس میں درایت و روایت اور تعقل اور اتباع سلف دونوں باتیں اعتدال کے ساتھ موجود تھیں۔“ (ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ ، ص ۲۸)
۵۔ منہج سلف کی پیروی
مولانا آزاد نے تفسیر میں اسلاف کے منہج کی مجتہدانہ پیروی کی ہے، اس کو رہنما بنا کر اپنے زمانے کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا قاسمی لکھتے ہیں: ’’ مولانا آزاد نے دینی افکار کی تشریح محدثین سلف کے طریقہ کے مطابق کر کے اسلام کے بنیادی افکار وحی و نبوت اور نبوت کے حقائق اور وحدت دین کی تشریح ولی اللہی فکر کے مطابق ، حضرات صحابہ کے دینی مقام و مرتبہ اور تفسیر قرآن میں سلف کرام کے اصولی دائرہ کی پابندی وغیرہ ، دین کے مباحث پر روشنی ڈالی ۔ ترجمان القرآن کے فکری مباحث کی روح اسی منظر میں واضح ہوتی ہے۔“ (ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ ، ص ۲۹)
۶۔ فکر مغرب سے مرعوب مفکرین کا رد
مولانا نے اپنی تفسیر میں بغیر نام لیے سرسید احمد خان اور ان کے ہمنوا دیگر مفکرین کا عمدہ طریقے سے رد کیا ہے۔ مولانا کا یہ رد خالص علمی اور مثبت انداز میں ہے، اس میں تفسیر حقانی کی طرح طنز نہیں پائی جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ تفسیر حقانی کے بجائے مولانا کی تفسیر زیادہ مقبول ہوئی اور اس نے جدید ذہن کے اشکالات کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مولانا قاسمی لکھتے ہیں: ’’مولانا آزاد مناظرانہ انداز گفتگو کو پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے سنجیدہ اور مثبت انداز میں سید احمد خان کے تصورات کی ترجمان القرآن میں مکمل تردید ملتی ہے۔“ (ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ ، ص ۲۹)
۷۔ جامعیت
مولانا کی تفسیر مختصر مگر جامع ہے، بسا اوقات ایک حاشیہ پورے مقالے کے قائم مقام ہے۔ مولانا خود اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اکثر مقامات میں ایسا ہوا کہ معارف ومباحث کا ایک پورا دفتر دماغ میں پھیل رہا تھا ، مگر نوک قلم پر آیا تو ایک سطر یا ایک جملہ بن گیا۔“ (ترجمان القرآن ، جلد ۲ ،صفحہ ۴۴)
مولانا کی کتاب سے بعد کے مصنفین نے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ مولانا آزادکی تفسیر پر مختلف حضرات نے بعض پہلوؤں سے اعتراضات بھی کیے ہیں جن کے مختلف علمی و فکری پس منظر ہیں۔ مولانا اخلاق حسین قاسمی ؒ نے اپنے علمی مقالہ ’’ ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ ’’ میں ان اعتراضات کا جواب دیا ہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کی فراہمی کا جو طریقہ اختیار کیا گیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب کے ساتھ ساتھ اللہ کے رسول بھی اپنے قول وعمل کے ذریعے سے اہل ایمان کی راہ نمائی فرما رہے تھے۔ اپنی اس منصبی حیثیت میں آپ کو اہل ایمان کے لیے دینی ہدایات واحکام مقرر کرنے کا مستقل اختیار حاصل تھا اور اہل ایمان سے کتاب الٰہی اور پیغمبر، دونوں کی اطاعت کسی امتیاز کے بغیر یکساں مطلوب تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اَطِیعُوا اللّٰہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاُولِی الاَمرِ مِنکُم فَإِن تَنَازَعتُم فِی شَیئٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُولِ إِن کُنتُم تُؤمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیر وَاَحسَنُ تَاوِیلاً (النساء۵۹:۴)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی بھی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول اور ان لوگوں کی بھی اطاعت کرو جو تم میں سے صاحب اختیار ہوں۔ پھر اگر تمھارا کسی معاملے میں باہم تنازع ہو جائے تو اسے (فیصلے کے لیے) اللہ اور رسول کے پاس لے جاﺅ ، اگر تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر بھی ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا بھی۔“
مَّن یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَن تَوَلَّی فَمَا اَرسَلنَاکَ عَلَیہِم حَفِیظاً (النساء۴: ۸٠)
”جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمھیں ایسے لوگوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجا۔“
اس کے ساتھ قرآن مجید میں یہ بات بھی اتنی ہی وضاحت کے ساتھ بتا دی گئی تھی کہ پیغمبر کو حاصل تشریعی اختیار، کتاب اللہ کے مدمقابل یا اس کے متوازی نہیں ہے، بلکہ اس کے تابع ہے۔ یعنی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، کتاب الٰہی میں دی گئی ہدایت کے پابند اور پیروکار تھے اور اس میں کسی قسم کی ترمیم وتغییر کے مجاز نہیں تھے۔ چنانچہ کفار کی طرف سے قرآن میں تبدیلی کے مطالبے کے جواب میں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:
قُل مَا یَکُونُ لِی اَن اُبَدِّلَہُ مِن تِلقَائ نَفسِی إِن اَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ إِنِّی اَخَافُ إن عَصَیتُ رَبِّی عَذَابَ یَومٍ عَظِیمٍ (یونس ۱۵:۱٠)
”تم کہہ دو کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کو تبدیل کر دوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“
ایک موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلال چیز کو ذاتی طور پر اپنے لیے ممنوع قرار دیا تو قرآن مجید میں آپ کو اس پر تنبیہ کی گئی۔ فرمایا:
یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبتَغِی مَرضَاتَ اَزوَاجِکَ وَاللّٰہُ غَفُور رَّحِیم (التحریم ۱:۶۶)
”اے نبی، تم کیوں اپنی بیویوں کی خوشنودی پانے کے لیے اس چیز کو حرام ٹھہراتے ہو جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہے؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
اس بات کی وضاحت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مواقع پر صاف لفظوں میں فرمائی۔ چنانچہ ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے خطبہ میں فرمایا:
ان مکۃ حرمھا اللہ ولم یحرمھا الناس، فلا یحل لامرئہ یومن باللہ والیوم الآخر ان یسفک بھا دما ولا یعضد بھا شجرۃ، فان احد ترخص لقتال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقولوا لہ: ان اللہ اذن لرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یاذن لکم، وانما اذن لی ساعۃ من نھار، وقد عادت حرمتھا الیوم کحرمتھا بالامس، ولیبلغ الشاھد الغائب (سنن ابی داود، کتاب جزاءالصید، باب لا یعضد شجر الحرم، رقم ۱۸۳۲)
”مکہ کو لوگوں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے، پس کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، حلال نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے یا کسی درخت کو کاٹے۔ اور اگر کوئی شخص اس بات سے رخصت نکالنا چاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قتال کیا ہے تو اس سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمھیں اس کی اجازت نہیں دی۔ اور مجھے بھی اس میں قتال کرنے کی اجازت بس دن کے ایک مختصر سے حصے میں دی گئی، پھر اس کی حرمت اسی طرح دوبارہ قائم ہو گئی جیسے گزشتہ روز تھی۔ اور جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ بات ان تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔“
ایک موقع پر سیدنا علی نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس کی اجازت نہ دی۔ اس موقع پر آپ نے اپنی بات کی وضاحت میں فرمایا:
وانی لست احرم حلالا ولا احل حراما ولکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ و بنت عدو اللہ مکانا واحدا ابدا (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل فاطمة بنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، رقم ۲۴۴۹)
”میں کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر رہا، لیکن بخدا اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک جگہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“
اسی طرح ایک موقع پر آپ نے لوگوں کو لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا۔ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ شاید لہسن کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت کی اور فرمایا:
ایھا الناس انہ لیس لی تحریم ما احل اللہ لی ولکنھا شجرة اکرہ ریحھا (صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب نہی من اکل ثوما او بصلا او کراثا او نحوہا، رقم ۵۶۵)
”اے لوگو! مجھے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بس مجھے اس پودے کی بو پسند نہیں۔“
ان نصوص کی روشنی میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے اتارے ہوئے کسی حکم میں تبدیلی یا ترمیم کے مجاز نہیں تھے، تاہم منصب رسالت کے تحت اس کے علاوہ مستقل احکام وشرائع وضع کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے اور اہل ایمان پر ان کی پابندی قبول کرنا بھی کتاب اللہ ہی کی طرح لازم تھا۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا الفین احدکم متکئا علی اریکتہ یاتیہ الامر من امری مما امرت بہ او نھیت عنہ فیقول لا ندری ما وجدنا فی کتاب اللہ اتبعناہ (سنن ابی داود، کتاب السنة، باب فی لزوم السنة، رقم ۴۶٠۵)
”میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاوں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور میرا کوئی حکم اس تک پہنچے جس میں، میں نے کسی بات کا حکم دیا یا کسی بات سے منع کیا ہو اور وہ کہہ دے کہ ہم نہیں جانتے، ہمیں تو بس کتاب اللہ میں جو بات ملے گی، اسی کی پیروی کریں گے۔“
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الا انی اوتیت الکتاب ومثلہ معہ، الا یوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن، فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ، الا لا یحل لکم لحم الحمار الاھلی ولا کل ذی ناب من السباع ولا لقطة معاھد الا ان یستغنی عنھا صاحبھا (سنن ابی داود، کتاب السنة، باب فی لزوم السنة، رقم ۴۶٠۴)
”آگاہ رہو کہ مجھے اللہ کی کتاب بھی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی جیسی ایک اور چیز بھی (جس کی پیروی تم پر لازم ہے)۔ آگاہ رہو، قریب ہے کہ کوئی شخص خوب سیر ہو کر اپنے تکیے پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور تم سے کہے کہ بس اس قرآن کو اختیار کر لو اور اس میں تمھیں جو چیز حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جو حرام ملے، اسے حرام مانو۔ آگاہ رہو کہ تمھارے لیے گھریلو گدھے کا گوشت کھانا بھی حلال نہیں ہے اور کسی کچلی والے درندے کا بھی ، اور کسی معاہد کی گری ہوئی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں، الا یہ کہ (وہ ایسی معمولی ہو کہ) اس کا مالک اس سے بے نیاز ہو۔“
ایک زاویے سے دیکھا جائے تو اگرچہ اس وقت اللہ کی کتاب بھی براہ راست نازل ہو رہی تھی، لیکن چونکہ اہل ایمان کو قرآن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مل رہا تھا اور اس کے علاوہ مستقل احکام وشرائع وضع کرنے کے اختیار کے تحت ہدایت الٰہی کی تفصیل وتکمیل کا عمل بھی آپ ہی کے ہاتھوں سے انجام پا رہا تھا، اس لیے آپ کے حین حیات میں اصل مرکز اطاعت آپ ہی کی شخصیت تھی۔ ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنی اس حیثیت کو واضح فرمایا ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گویا الوداعی گفتگو کرنے کے لیے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ
فاسمعوا واطیعوا ما دمت فیکم، فاذا ذھب بی فعلیکم بکتاب اللہ، احلوا حلالہ وحرموا حرامہ (مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، رقم ۶۶٠۶)
”جب تک میں زندہ ہوں، میری اطاعت کرو، اور جب میں رخصت ہو جاوں تو اللہ کی کتاب کو لازم پکڑنا، اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام ماننا۔“
چنانچہ یہ بدیہی بات تھی کہ کتاب اللہ کے معنی ومراد کو سمجھنے اور اس کی تشریح وتوضیح میں آپ ہی کے ارشاد یا عمل کو صحابہ کی نظر میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ:
ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اظھرنا، علیہ ینزل القرآن وھو یعرف تاویلہ، وما عمل بہ من شیءعملنا بہ (مسند احمد، مسند جابر بن عبد اللہ، رقم ۱۴۴۴٠)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ آپ پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ ہی اس کی مراد کو (سب سے بہتر) جانتے تھے، چنانچہ آپ جو بھی عمل کرتے، ہم بھی وہی کرتے تھے۔“
تاہم ذخیرہ حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ فقہائے صحابہ قرآن کے معنی ومفہوم پر مستقلاً بھی غور کرتے تھے اور ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں اہل علم صحابہ کو قرآن کی کسی آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد یا عمل کے مابین تفاوت محسوس ہوا اور انھوں نے اس حوالے سے اپنا اشکال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اس کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔ ام مبشر بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے سامنے فرمایا: ”اللہ نے چاہا تو (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔“ام المومنین حفصہ نے کہا کہ یا رسول اللہ، بالکل جائے گا۔ اس پر آپ نے انھیں ڈانٹ دیا تو ام المومنین نے قرآن مجید کی اس آیت کا حوالہ دیا:
وَاِن مِّنکُم اِلَّا وَارِدُھَا، کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتمًا مَّقضِیًّا (مریم ۱۹: ۷۱، ۷۲)
”تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہوگا۔ یہ تمہارے رب کا اٹل فیصلہ ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں اس سے اگلی آیت پڑھی :
ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِینَ فِیھَا جِثِیًّا
”پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ظالموں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔“ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل اصحاب الشجرة، رقم ۲۴۹۶)
علامہ ابن القیمؒ لکھتے ہیں کہ سیدہ حفصہ کو آیت اور حدیث کے مابین تعارض محسوس ہوا اور انھوں نے سمجھا کہ قرآن میں ورود سے مراد آگ میں داخل ہونا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اہل ایمان اور اہل کفر کے ورود کی نوعیت مختلف ہوگی۔ متقین کا ورود ایسا ہوگا کہ وہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے، جبکہ ظالموں کا ورود انھیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں رکھنے کے لیے ہوگا۔ (الصواعق المرسلة ۳/۱٠۵۴)
۲۔ ام المومنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے حساب لیا گیا، اسے لازماً عذاب ہوگا۔ میں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہل ایمان کے بارے میں نہیں فرمایا کہ :
فَسَوفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیرًا (الانشقاق ۸:۴۸)
”ان سے آسان حساب لیا جائے گا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو محض سرسری پوچھ گچھ ہوگی۔ لیکن جس سے حساب لیتے ہوئے چھان بین کی گئی، وہ مارا گیا۔“ (صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من سمع شیئا فراجعہ حتی یعرفہ، رقم ۱٠۳)
۳۔ سورة النساءکی آیت ۱۰۱ میں نماز کو قصر کرنے کا حکم اصلاً جہاد کے احکام کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا کو دشمن قبائل کے علاقے سے گزر کر جانا ہوتا تھا اور خدشہ ہوتا تھا کہ اگر کسی جگہ زیادہ دیر قیام کیا تو دشمن کو خبر ہو جائے گی اور وہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ قرآن مجید میں نماز کو قصر کرنے کی ہدایت اسی تناظر میں آئی ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رخصت کو اس خاص صورت تک محدود رکھنے کے بجائے اس کو عمومی طو رپر ہر طرح کے سفر سے متعلق قرار دیا جس پر بعض صحابہ کو اشکال ہوا اور انھوں نے یہ اشکال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔
یعلی بن امیۃ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے سوال کیا کہ سورة النساء(۴: ۱۰۱) میں تو نماز کو قصر کرنے کی اجازت کفار کی طرف سے اندیشے اور خوف کی حالت میں دی گئی تھی تو اب جبکہ اہل ایمان کو امن حاصل ہو گیا ہے، اس رخصت پر عمل کیوں برقرار ہے؟ سیدنا عمر نے فرمایا:
عجبت مما عجبت منہ فسالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ذلک فقال صدقة تصدق اللہ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب صلاة المسافرین وقصرہا، رقم ۶۸۶)
”جس بات پر تم حیران ہوئے ہو، وہ میرے لیے بھی باعث حیرانی بنی تھی، چنانچہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مہربانی ہے جو اس نے تم پر کی ہے، اس لیے اللہ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرو۔“
گویا آپ نے واضح فرمایا کہ آیت میں إِن خِفتُم اَن یَفتِنَکُمَ الَّذِینَ کَفَرُوا (اگر تمھیں خوف ہو کہ اہل کفر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے) کی قید کسی شرط کے طور پر نہیں، بلکہ قصر کی رخصت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک خاص وجہ کے طور پر ترغیب کے پہلو سے بیان کی گئی ہے۔
۴۔ قرآن مجید میں ایسی خواتین کی فہرست بیان کرتے ہوئے جن سے نکاح کرنا حرام ہے، مختلف نسبی اور رضاعی رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم نسبی رشتوں میں ماں اور بہن کے علاوہ خالہ، پھوپھی، بھتیجی اور بھانجی کو بھی شامل کرتے ہوئے رضاعی رشتوں کے ذکر میں صرف رضاعی والدہ اور رضاعی بہن کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (النساء۴: ۲۳)
اس تناظر میں، ام المومنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ان کی رضاعی والدہ کے شوہر ابو القعیس کے بھائی افلح ان کے پاس آئے جب کہ امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ ام المومنین نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر انھیں اپنے پاس نہیں آنے دوں گی کیونکہ میرا رضاعی رشتہ ابو القعیس کی بیوی سے تو بنتا ہے، لیکن ابو القعیس سے نہیں، اس لیے ان کا بھائی میرے لیے غیر محرم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ام المومنین نے آپ سے یہ سوال پوچھا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے چچا کو اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دیتیں؟ میں نے کہا یا رسول اللہ، مجھے ابو القعیس نے تو دودھ نہیں پلایا، بلکہ اس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تمھارے ہاتھ خاک آلود ہوں، اس کو اجازت دے دو کیونکہ وہ تمھارا چچا ہے۔“ (صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ ان تبدوا شیئا او تخفوہ، رقم ۴۷۹۶)
ایک دوسری ر وایت میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے تھے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے باہر سے کسی آدمی کی آواز سنائی دی جو اندر جانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا کہ غالباً یہ فلاں شخص ہے۔ یہ شخص حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر فلاں شخص، جو سیدہ عائشہ کا رضاعی چچا تھا، زندہ ہوتا تو وہ بھی میرے پاس آ سکتا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادة علی الانساب والرضاع المستفیض والموت القدیم، رقم ۲۶۴۶)
دلچسپ امر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وضاحت کے بعد بھی سیدہ عائشہ اس پر مطمئن نہیں ہوئیں کہ کسی عورت کا دودھ پینے سے اس کے شوہر کے ساتھ بھی بچے کا حرمت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے، چنانچہ قاسم بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ا م المومنین ایسے لڑکوں سے تو حجاب نہیں کرتی تھیں جنھیں ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہو، لیکن جن لڑکوں نے ام المومنین کے بھائیوں کی بیویوں کا دودھ پیا ہوتا، انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔ (الموطا، کتاب الرضاع، رضاعة الصغیر، رقم ۱۲۸٠) یعنی وہ یہ سمجھتی تھیں کہ ان لڑکوں نے ان کے بھائی کی بیوی کا دودھ پینے سے وہ ان کے بھائی کے رضاعی بیٹے نہیں بن گئے اور نتیجتاً ام المومنین کے ساتھ بھی ان کا بھتیجے کا رشتہ قائم نہیں ہوا۔ چنانچہ جمہور فقہاءومحدثین کی طرف سے ابو القعیس کی مذکورہ روایت کو اس اصول کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کسی راوی کا عمل خود اپنی نقل کردہ روایت کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں اس کے عمل کا نہیں، بلکہ روایت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (فتح الباری، ۹/۵۶؛ بدایة المجتہد ۲/۳۹)
۵۔ سورة التوبہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے طرز عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے نفاق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے حق میں اللہ کے رسول کی دعائے مغفرت بھی قبول نہیں کرے گا، اس لیے اے پیغمبر، آپ ان کے لیے دعا کریں یا نہ کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں تو اللہ ان کی بخشش نہیں کرے گا۔ (التوبہ ۹: ۸٠)
قرآن کے اس تبصرے سے واضح تھا کہ اللہ تعالیٰ کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منافقین کے حق میں استغفار کرنا پسند نہیں، تاہم جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی فرمائش پر اس کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیص عطا کی اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر سیدنا عمرؓ نے آپ کو کھینچا اور کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقوں کی نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے اس معاملے میں اختیار دیا گیا ہے، اور پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب الکفن فی القمیص الذی یکف او لا یکف، رقم ۱۲۶۹)
اس واقعے سے فہم نص میں اجتہادی اختلاف کی گنجائش کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے کو واضح کرتے ہوئے مولانا ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں:
وحاصل اجتھادہ انہ فھم من الآیة اباحة الاستغفار لھم، وخالفہ فی ذلک عمر وفھم منھا النھی عن الاستغفار ومنع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الصلاة علی عبد اللہ بن ابی، ولم ینکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذلک منہ ولکن لم یرجع من اجتھادہ، واقرھما اللہ تعالی علی اجتھادھما حیث لم یعاتب واحدا منھما ولا بین المخطئ· من المصیب۔
وبہ تبین ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد کان یجتھد فی تاویل النص ویخالفہ اصحابہ فی تاویلہ ولا ینکرہ علیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویقرھم اللہ تعالی علیہ، لان اللہ تعالیٰ لم ینکرہ فی ھذہ القصة علی احد بین الفریقین، لا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا علی عمر، بل انزل قولہ تعالیٰ ”ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ“ ]التوبة ۸۴[ وھو یحتمل ان یکون نسخا لتخییرہ السابق ویحتمل ان یکون بیانا لقولہ ”استغفر لھم او لا تستغفر لھم“ انہ لم یکن للتخییر، بل للنھی عن الاستغفار علی وجہ الکنایة (اعلاء السنن ۱۹/۹۳۱۶)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کا حاصل یہ تھا کہ آپ نے آیت سے منافقین کے حق میں استغفار کا مباح ہونا سمجھا، جبکہ عمر نے اس میں آپ سے اختلاف کیا اور آیت سے استغفار کا ممنوع ہونا اخذ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ آپ نے یہ اختلاف کرنے پر سیدنا عمر پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن اپنے اجتہاد سے بھی رجوع نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان دونوں کو ان کے اجتہاد پر برقرار رکھا، کیونکہ نہ تو دونوں میں سے کسی کو عتاب کیا اور نہ یہ واضح کیا کہ کس کا اجتہاد غلط تھا اور کس کا صحیح۔ اس واقعے سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات قرآن کی آیت کی مراد سمجھنے میں اجتہاد سے کام لیتے تھے اور آپ کے صحابہ آپ کی سمجھی ہوئی مراد سے اختلاف کرتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی وجہ سے ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بھی انھیں اس پر برقرار رکھتے تھے۔ کیونکہ مذکورہ قصے میں اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر میں سے کسی پر بھی انکار نہیں کیا، بلکہ اپنا یہ ارشاد نازل کر دیا کہ ”(اے پیغمبر، ان میں سے جو کوئی بھی مرے، تم کبھی نہ تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کرنا اور نہ (دعا کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہونا“۔ یہ ارشاد اس کا بھی محتمل ہے کہ اسے سابقہ تخییر کا ناسخ سمجھا جائے اور اس کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ اسے ’استغفر لہم او لا تستغفر لہم‘ کی تفسیر قرار دیا جائے کہ اس سے مراد اختیار دینا نہیں، بلکہ کنایے کے اسلوب میں استغفار سے منع کرنا تھا۔“
مذکورہ تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو واجب الاتباع اور قرآن مجید کی تعبیر وتشریح میں حتمی سند تسلیم کرتے ہوئے بھی فقہائے صحابہ قرآن کے بیانات کو اپنے مدعا پر دلالت کے لحاظ سے کلیتاً حدیث نبوی پر منحصر نہیں سمجھتے تھے، بلکہ قرآن کو اپنی جگہ ایک واضح کلام تصور کرتے ہوئے اس کے معنی ومفہوم پر مستقلاً بھی غور کرتے تھے اور جہاں انھیں قرآن کی کسی آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد یا عمل کے مابین تفاوت محسوس ہوتا، وہ نہ صرف اپنا اشکال آپ کی خدمت میں پیش کرتے تھے، بلکہ بعض اوقات اپنے فہم پر اصرار بھی کرتے تھے۔
فقہائے صحابہ کے رجحانات
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں تو خود آپ کی وضاحت یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی روشنی میں اس کا قطعی فیصلہ ممکن تھا کہ زیر بحث سوال کے حوالے سے مراد الٰہی کیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صورت حال میں باعتبار نوعیت ایک بنیادی فرق یہ واقع ہو گیا کہ اب وضاحت یا تفصیے کے لیے خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ ایک بنیادی سوال پیدا ہوا جس نے آگے چل کر علم اصول فقہ کی ایک مہتم بالشان بحث کی صورت اختیار کر لی کہ اگر کتاب اللہ میں کسی معاملے سے متعلق کوئی ہدایت ایسے اسلوب میں بیان کی گئی ہو جو فی نفسہ واضح ہو اور بظاہر محتمل اور توضیح طلب نہ ہو، جبکہ اسی معاملے سے متعلق کوئی ایسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی جائے جو قرآن مجید کے بیان سے ٹکرا رہی ہو تو ایسی صورت میں کیا موقف اختیار کیا جائے؟
عہد نبوی کے بعد کی صورت حال میں قرآن اور حدیث میں بظاہر دکھائی دینے والے تفاوت کی توجیہ کے حوالے سے علمی وعقلی طور پر دو مساوی امکانات کی گنجائش پیدا ہو گئی تھی:
ایک یہ کہ قرآن مجید سے بظاہر جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے، اسے اپنے علم وفہم کا قصور تصور کیا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ارشاد کو مراد الٰہی کی زیادہ قابل اعتماد تفسیر سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔
دوسرا یہ کہ قرآن مجید کی ظاہری دلالت کو برقرار رکھا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا عمل قرآن مجید کے برعکس یا اس سے متجاوز دکھائی دے تو اس کی بنیاد قرآن مجید ہی میں تلاش کی جائے یا توجیہ وتاویل کے ذریعے سے حتی الامکان اس کے صحیح محل کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو آپ کی نسبت سے منقول بات کو راویوں کی غلط فہمی اور سوءسماع پر محمول کیا جائے۔
فقہائے صحابہ کی آرا میں اس نوعیت کی مثالیں محدود تعداد میں نقل ہوئی ہیں، تاہم ان سے ان کے مختلف ومتخالف رجحانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ سطور میں اس ضمن کی بنیادی بحثوں کا ایک جائزہ پیش کیا جائے گا۔
۱۔ وضو میں پاﺅں کا دھونا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور جمہور صحابہ واہل علم کے تعامل سے وضو کا طریقہ یہی ثابت ہے کہ چہرے اور بازووں کے ساتھ ساتھ پا¶وں کو بھی دھویا جائے۔ تاہم قرآن مجید میں وضو کا حکم بیان کرتے ہوئے سورہ مائدہ کی آیت ۶ میں ’فَاغسِلُوا وُجُوہَکُم وَایدِیَکُم إلَی المَرَافِقِ وَامسَحُوا بِرُءوسِکُم وَاَرجُلَکُم إلَی الکَعبَینِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں بادی النظر میں پاو¶ں کا ذکر سر کے مسح کے ساتھ ہوا ہے جس سے ذہن کا اس طرف جانا ممکن ہے کہ پاوں کا حکم بھی وہی ہے جو سر کا ہے۔ اس تناظر میں صحابہ وتابعین کی ایک جماعت کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ وضو میں اصل حکم اس کو سمجھتے تھے کہ پاوں پر صرف مسح کر لیا جائے۔ چنانچہ ربیع بیان کرتی ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا جس میں ربیع نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے پاووں کو دھویا۔ ابن عباس نے کہا کہ :
ان الناس ابوا الا الغسل ولا اجد فی کتاب اللہ الا المسح (سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارة وسننہا، باب ما جاءفی غسل القدمین، رقم ۲۶۴)
”لوگ پاووں کے دھوئے بغیر نہیں رہتے، لیکن مجھے کتاب اللہ میں صرف مسح کرنے کا حکم ملتا ہے۔“
اسی طرح شعبی کہتے تھے کہ جبریل پاو¶ں پر مسح کرنے کا حکم لے کر اترے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۴۸۱، ۵۸۱) شعبی اس کے حق میں ایک قیاسی دلیل بھی پیش کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ : پاوں پر مسح ہی کرنے کا حکم ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ (وضو میں) جن اعضا کو دھونے کا حکم ہے، تیمم میں صرف انھی (پر مسح کرنے) کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ (وضو میں) جن اعضا پر مسح کا حکم ہے، انھیں چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کا تیمم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا! (ایضاً، رقم ۱۸۱) یہی نقطہ نظر عکرمہ اور حسن بصری سے بھی مروی ہے۔ (ایضاً، رقم ۸۷۱، ۹۷۱) تاہم جمہور صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر سنت کی روشنی میں پاوں دھونے ہی کو وضو کے مشروع کے طریقے کے طور پر قبول کیا اور اسی کی روشنی میں قرآن کی آیت میں ’وارجلکم‘ کو حکم کے اعتبار سے ’وامسحوا‘ کے بجائے ’فاغسلوا‘ کے ساتھ متعلق قرار دیا۔
۲۔ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت:
سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت میں ، جمہور صحابہ کے فہم کے مطابق، پاوں کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے وضو کی حالت میں پاوں پر موزے پہنے ہونے کی صورت میں پاوں کو دھونے کے بجائے صرف موزوں پرمسح کرنے پر اکتفا فرمایا اور صحابہ کو بھی اس کی اجازت دی۔ (بخاری، کتاب الوضوء، باب المسح علی الخفین، رقم ۳۰۲؛ مسلم، کتاب الطہارة، باب التوقیت فی المسح علی الخفین، رقم ۹۳۶)
بظاہر قرآن کی ہدایت سے مختلف ہونے کی وجہ سے یہ رخصت بعض صحابہ کے لیے باعث اشکال بنی۔ مثلاً ایک موقع پر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا تو کہا کہ یا رسول اللہ، کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں نہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو۔ مجھے میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب المسح علی الخفین، رقم ۱۴٠)
صحابہ وتابعین کے مابین اس حوالے سے خاصی بحث بھی موجود رہی ہے۔ جن حضرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اس رخصت پر عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، انھیں اس حوالے سے دوسرے صحابہ کی روایت قبول کرنے میں تردد اور مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مثلاً عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سفر میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ ابن عمر کو اس پر اطمینان نہ ہوا اور انھوں نے اس کی تحقیق کے لیے سیدنا عمر سے رجوع کیا۔ سیدنا عمر نے ان سے کہا کہ جب سعد تمھیں کوئی بات بیان کریں تو اسے رد نہ کیا کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واقعتا موزوں پر مسح فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب الوضوء، باب المسح علی الخفین، رقم ۱۹۸)
تاہم عبد اللہ بن عباس کے بیان کے مطابق اس موقع پر وہ بھی وہاں موجود تھے۔ جب سیدنا عمر نے سعد بن ابی وقاص کی تائید کی تو ابن عباس نے کہا کہ:
یا سعد، قد علمنا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسح علی خفیہ ولکن اقبل المائدة ام بعدھا؟ قال: لا یخبرک احد ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسح علیھما بعدما انزلت المائدة، فسکت عمر (مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عباس، رقم ۳۳۶۶)
”اے سعد، ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تھا، لیکن کیا یہ سورہ مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے تھا یا بعد میں؟ کوئی شخص تمھیں یہ خبر نہیں دے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ نازل ہونے کے بعد موزوں پر مسح کیا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ میری یہ بات سن کر سیدنا عمر خاموش ہو گئے۔“
گویا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس عمل کو کتاب اللہ میں وضو کی آیت نازل ہونے کے بعد منسوخ سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں صحرا میں کسی راہ گیر کی پشت پر ہاتھ پھیر لوں، یہ مجھے موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عباس، رقم ۲۸۹٠)
تاہم عطاءابن رباح کے سامنے ذکر کیا گیا کہ عکرمہ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ کی کتاب کا حکم موزوں پر مسح کے خلاف ہے تو عطاءنے کہا کہ عکرمہ نے غلط کہا ہے۔ میں نے عبد اللہ بن عباس کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۹۶۳) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی غالباً صحیح صورت حال واضح ہونے کے بعد موزوں پر مسح کی رخصت پرعمل کرنے لگے تھے۔
بہرحال ابن عباس کے مذکورہ استدلال کے تناظر میں تابعین کے دور میں مسح علی الخفین سے متعلق جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی، (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۸۶۸) کیونکہ جب ان کے موزوں پر مسح کرنے پر اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ رخصت سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے تھی تو انھوں نے جواب میں کہا کہ میں نے تو اسلام ہی سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد قبول کیا تھا۔ (سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب المسح علی الخفین، رقم ۱۳۸؛ ترمذی، ابواب الطہارة، باب المسح علی الخفین، رقم ۹۳) ان کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ سورہ مائدہ میں وضو کا حکم نازل ہونے کی وجہ سے موزوں پر مسح کرنے کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔
بعض دیگر صحابہ نے بھی ابتداءا ان روایات کو درست ماننے سے انکار کیا، مثلاً ام المومنین عائشہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ وہ مسح کرنے کے مقابلے میں پاوں کو کٹوا دینا پسند کرتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۹۶۴، ۱۹۶۵)(۱) تاہم سیدہ عائشہ کو غالباً بعد میں مستند روایات سے اس کی اطلاع ملی اور وہ قائل ہو گئیں۔ چنانچہ شریح بن ہانی نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے کہا کہ اس کے بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھو، کیونکہ وہ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جایا کرتے تھے اور اس کے متعلق مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ (مسلم، باب التوقیت فی المسح علی الخفین، رقم ۴۴۷؛ ابن ماجہ، باب ماجاءفی التوقیت فی المسح للمقیم والمسافر، رقم ۵۵۶)
تابعین کے ہاں بھی اس حوالے سے تردد کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ مثلاً زر بن حبیش ، صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کھٹک ہے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں تو کیا آپ نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنی ہے؟ صفوان نے کہا کہ ہاں، آپ ہمیں ہدایت فرماتے تھے کہ سفر کی حالت میں ہم تین دن اور تین راتوں تک موزے نہ اتارا کریں۔ (مسند احمد، حدیث صفوان بن عسال المرادی، رقم ۱۷۸۳۲) اسی طرح یحیی بن ابی اسحاق کا بیان ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے موزوں پر مسح کے جواز کا فتویٰ دیا تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں، لیکن میں نے اپنے معتمد ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ موزوں پر مسح کرنا درست ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۸۹۵)
۳۔ بیوگی کی صورت میں حاملہ خاتون کی عدت:
قرآن مجید میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن (البقرہ ۲: ۲۳۴) اور حاملہ عورت کی عدت، جسے طلاق دے دی جائے، وضع حمل بیان کی گئی ہے۔ (الطلاق ۴:۶۵) لیکن اگر کوئی خاتون حاملہ ہونے کی حالت میں بیوہ ہو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہوگا؟ آیا وہ بچہ جنم دینے کے بعد عدت سے فارغ ہو جائے گی یا اسے چار ماہ دس دن پورے ہونے تک مزید انتظار کرنا ہوگا؟ فقہائے صحابہ وتابعین کے مابین اس حوالے سے اختلاف رائے پیدا ہو گیا۔ ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ ایسی عورت کی عدت، وضع حمل ہے اور اس کے فوراً بعد وہ نکاح کر سکتی ہے، جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا یہ تھا کہ چونکہ وہ حاملہ بھی تھی اور بیوہ بھی، اس لیے اس کے لیے دونوں عدتیں پوری کرنا لازم ہے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پہلے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا استدلال یہ تھا کہ سورة الطلاق میں حاملہ کے لیے وضع حمل کو عدت مقرر کرنے کی ہدایت، سورة البقرة کے بعد نازل ہوئی ہے اور اس نے بیوہ کے لیے چار ماہ دس دن کی عدت کے حکم میں جزوی ترمیم کر دی ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة الطلاق، رقم ۴۹۱٠) گویا ان کے فہم کے مطابق سورة البقرة میں اللہ نے بیوہ کے لیے کسی تفصیل کے بغیر مطلقاً یہ حکم بیان کیا تھا، لیکن سورة الطلاق میں حاملہ کی عدت بیان کر کے یہ واضح کر دیا کہ حاملہ کا حکم سابقہ ہدایت سے مختلف ہے۔
اس بحث کا اہم نکتہ یہ تھا کہ بعض روایات میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وضاحت منقول ہے جو مذکورہ رائے کی تائید کرتی ہے اور متعدد صحابہ نے، جن کی رائے پہلے بیوہ حاملہ کو دو عدتوں کا پابند قرار دینے کی تھی، یہ روایات سامنے آنے کے بعد اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔ مثلاً عبد الکریم بن ابی المخارق کی روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدنا عمر سے استفسار کیا کہ میں حاملہ تھی اور شوہر کی وفات کے بعد عدت پوری ہونے سے پہلے میں نے بچے کو جنم دے دیا تو اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ سیدنا عمر نے کہا کہ تمھیں دونوں عدتوںمیں سے دوسری عدت بھی پوری کرنی ہوگی۔ وہ عورت ابی بن کعب کے پاس گئی اور انھیں یہ واقعہ بتایا۔ ابی بن کعب نے کہا کہ واپس جاﺅ اور عمر کو بتاﺅ کہ ابی بن کعب نے کہا کہ تمھاری عدت پوری ہو چکی ہے۔ سیدنا عمر نے یہ سن کر ابی بن کعب کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟ ابی بن کعب نے کہا کہ ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ کے متعلق پوچھا تھا کہ کیا بیوہ کی عدت بھی یہی ہوگی؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ سیدنا عمر نے اس عورت سے کہا کہ یہ بات سن لو (اور اس کے مطابق عمل کرو)۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، باب المطلقة یموت عنہا زوجہا وہی فی عدتہا، رقم ۱۱۷۱۷) (۲)
اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ وہ حاملہ عورت کے بارے میں جو بیوہ ہو جائے، یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر وہ چار ماہ دس دن سے پہلے ولادت سے فارغ ہو جائے تو بھی اسے چار ماہ دس دن کی مدت پوری کرنی ہوگی۔ ایک موقع پر ایک خاتون نے ان سے استفسار کیا تو انھوں نے اس کو یہی جواب دیا۔ اس پر ان کے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے مابین اس مسئلے پر بحث ہو گئی تو ابن عباس نے مسئلے کی تحقیق کے لیے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا ۔ انھوں نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ حالت حمل میں بیوہ ہو گئی تھیں اور اس کے چالیس دن کے بعد انھوں نے بچے کو جنم دے دیا۔ پھر انھیں نکاح کا پیغام ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چار ماہ دس دن گزرنے کا انتظار کیے بغیر) ان کا نکاح کر دیا تھا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة الطلاق، رقم ۴۹٠۹) چنانچہ ابن عباس نے اس عورت سے کہا کہ یہ بات سن لو۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، باب المطلقة یموت عنہا زوجہا وہی فی عدتہا، رقم ۱۱۷۲۵)(۳)
تاہم صحابہ وتابعین کی ایک جماعت ایسی عورت کے لیے دونوں عدتیں لازم ہونے کے موقف پر قائم رہی۔ روایات میں اس کی تفصیل منقول نہیں کہ یہ حضرات سبیعہ اسلمیہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی کیا توجیہ کرتے تھے، تاہم بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس روایت کی صحت کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کرتے تھے۔ چنانچہ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا جس میں عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ حاملہ اگر بیوہ ہو جائے تو وہ دونوں عدتیں پوری کرنے کے بعد حلال ہوگی۔ میں نے سبیعہ اسلمیہ کی حدیث کا ذکر کیا جو عبد اللہ بن عتبہ نے نقل کی ہے تو ابن ابی لیلیٰ کے اصحاب نے مجھے ٹہوکا دیا۔ میں سمجھ گیا (کہ وہ اس روایت کی صحت کے متعلق تحفظات رکھتے ہیں) چنانچہ میں نے کہا کہ عبد اللہ بن عتبہ مسجد کے ایک کونے میں موجود ہیں اور اگر میں ان کی طرف جھوٹ منسوب کروں تو پھر تو میں بڑا ہی جسارت مند ہوں۔ اس پر عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ جھینپ گئے اور کہا کہ لیکن عبد اللہ بن عتبہ کے چچا (یعنی ابن مسعود) یہ بات نہیں کہتے تھے۔ ابن سیرین کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں مالک بن عامر سے ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس مسئلے میں ابن مسعودسے کچھ سنا ہے؟ انھوں نے بتایا کہ ابن مسعود کہتے تھے کہ تم ایسی عورت کو تنگی میں ڈالتے ہو اور آسانی پیدا نہیں کرتے؟ سورة الطلاق، سورة البقرة کے بعد نازل ہوئی تھی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة الطلاق، رقم ۴۹۱٠)
۴۔ طلاق مغلظہ کی صورت میں دوران عدت نفقہ ورہائش کا حکم:
سورة الطلاق میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اگر اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو فوراً انھیں ان کے گھروں سے نکال نہ دیں، بلکہ دوران عدت میں انھیں اپنی استطاعت کے مطابق رہائش مہیا کریں۔ (الطلاق ۱:۶۵)
اسلوب سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ طلاق کی نوعیت سے قطع نظر، عدت کے حوالے سے دی گئی ایک ہدایت ہے اور عدت گزارنے والی تمام خواتین اس عرصے میں رہائش اور نفقہ کی حق دار ہیں۔ فقہائے صحابہ کے ایک گروہ کی، جن میں سیدنا عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما شامل ہیں، یہی رائے تھی اور وہ شوہر کو، طلاق مغلظہ کے بعد عدت گزارنے والی بیوی کو بھی رہائش اور نفقہ فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے تھے۔ تاہم سیدنا عمر کے دور میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو ایک خاتون صحابیہ، فاطمہ بنت قیسؓ نے یہ روایت بیان کی کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ عدت کے دوران میں ان کا نفقہ یا رہائش خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ آپ نے انھیں عدت گزارنے کے لیے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ کر ایک دوسرے گھر میں منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔ (مسلم، کتاب الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لہا، رقم ۳۶۹۷،۳۶۹۸ )
فاطمہ بنت قیس کی اس روایت کے حوالے سے فقہائے صحابہ وتابعین میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا۔ سیدنا عمرؓ نے اس روایت کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ہم کتاب اللہ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتہ نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں۔ (۴) اس کو رہائش بھی ملے گی اور نفقہ بھی۔ سیدنا عمر نے سورة الطلاق کی یہ آیت پڑھی: لا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ (مسلم، کتاب الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لہا، رقم ۳۷۱٠) سیدہ عائشہ نے فاطمہ کی روایت کو رد تو نہیں کیا، لیکن یہ فرمایا کہ اس واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو اپنے شوہر کے گھر سے منتقل ہونے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ وہ زبان کی تیز تھی اور اس کے سسرال والے اس سے تنگ تھے، اس لیے آپ نے اسے ایک دوسرے گھر میں عدت گزارنے کے لیے کہا۔
مروان بن الحکم کی امارت کے دور میں ان کے سامنے فاطمہ بنت قیس کا یہی واقعہ پیش کیا گیا تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حدیث ہم نے صرف ایک عورت سے سنی ہے، اس لیے ہم اس کے مقابلے میں اسی بات پر قائم رہنا پسند کرتے ہیں جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ جب فاطمہ بنت قیس کو مروان کے اس تبصرے کی خبر پہنچی تو انھوں نے کہا کہ میرے اور تمھارے مابین قرآن، حاکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیوی کو گھر سے نہ نکالنے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ممکن ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بعد دونوں کے مابین موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔ یہ بات رجعی طلاق کے بارے میں تو درست ہے، لیکن تین طلاق کے بعد موافقت کی کون سی صورت نکل سکتی ہے؟ (مسلم، کتاب الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لہا، رقم ۳۷٠۴) یوں فاطمہ نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان کی بیان کردہ روایت قرآن کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے مطابق ہے۔
۵۔ ہم بستری سے پہلے طلاق کی صورت میں مہر مثل کا مسئلہ:
معقل بن سنان الاشجعیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبیلے کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں، جس کا خاوند فوت ہو گیا تھا اور نکاح میں اس کے مہر کی مقدار طے نہیں کی گئی تھی، یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کو اتنا ہی مہر دیا جائے جتنا اس کے خاندان کی عورتوں کو عام طور پر دیا جاتا ہے۔ (ابو داﺅد، کتاب النکاح، باب فی من تزوج ولم یسم صداقا حتی مات، رقم ۲۱۱۶)
صحابہ کے دور میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو مذکورہ حدیث کے بارے میں ان کے مابین اختلاف پیدا ہو گیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا گیا جس کا شوہر نکاح کے بعد ہم بستری سے پہلے فوت ہو گیا ہے اور اس کے مہر کی مقدار طے نہ کی گئی ہو۔ ابن مسعود نے ایک مہینے تک جواب دینے سے معذرت کی، لیکن پھر اس کے اصرار پر وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور پھر کہا کہ میرے خیال میں اسے اس جیسی کسی عورت کے مہر کے برابر مہر ملنا چاہیے، وہ شوہر کی وراثت میں بھی حصہ دار ہے اور اس پر عدت گزارنا بھی لازم ہے۔ یہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قبیلے کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں فرمایا تھا جو ہلال بن امیہ کے نکاح میں تھی۔ ابن مسعود نے پوچھا کہ کیا تمھارے علاوہ کسی اور نے بھی آپ کا یہ فیصلہ سنا؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ اپنی قوم کے کچھ لوگوں کو لے کر آیا جنھوں نے اس بات کی گواہی دی۔ شعبی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن مسعود کو کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا وہ اس موقع پر ہوئے جب ان کا فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موافق نکلا۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، باب الرجل یتزوج فلا یفرض صداقا حتی یموت، رقم ۱۱۳۶۷)
تاہم سیدنا علیؓ نے اس روایت کو قبول نہیں کیا بلکہ فرمایا: ”کتاب اللہ کے خلاف قبیلہ اشجع کے ایک بدو کی بات قبول نہیں کی جا سکتی۔ “ (بیہقی، السنن الکبریٰ، کتاب الصداق، باب من قال لا صداق لہا، رقم ۱۴۴۲۴) جب انھیں بتایا گیا کہ ابن مسعود نے اس روایت کو قبول کیا ہے تو سیدنا علی نے کہا کہ بدوو¶ں کی روایت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب نہیں کی جا سکتی۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱٠۹۳۶)
روایات میں اس کی تفصیل منقول نہیں کہ سیدنا علی اسے کس بنیاد پر کتاب اللہ کے خلاف سمجھتے تھے، تاہم قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ان کے پیش نظر غالباً درج ذیل آیات تھیں:
لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ -وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُ (البقرة ۲: ۲۳۶، ۲۳۷)
”اگر تم اپنی بیویوں کو ایسی حالت میں طلاق دینا چاہو کہ تم نے ان سے ہم بستری نہ کی ہو یا ان کے لیے مہر کی رقم مقرر نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں (بوقت رخصت) کچھ سامان دے دو۔ فراخی رکھنے والے پر اس کی استطاعت کے بقدر اور تنگ دست پر اس کی گنجائش کے مطابق۔ دستور کے مطابق سامان دینا چاہیے اور یہ اچھا برتاو¶ کرنے والوں پر لازم ہے۔ اور اگر تم ان کے ساتھ ہم بستری سے پہلے انھیں طلاق دے دو جب کہ تم نے ان کے مہر کی رقم مقرر کی ہوئی ہو تو پھر جو رقم تم نے طے کی ہے، اس کا نصف ادا کیا جائے۔“
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر بوقت نکاح مہر کی مقدار طے نہ کی گئی ہو یا مجامعت سے پہلے طلاق دینے کی نوبت آ جائے تو دونوں صورتوں میں مطلقہ کو حسب استطاعت بوقت رخصت کچھ سامان دے دیا جائے۔ یہاں مہر کی ادائیگی کا ذکر نہیں اور اس سے یہ سمجھنا بظاہر بہت قرین قیاس ہے کہ ایسی صورت میں صرف سامان رخصت دینا ہی کافی ہے، مہر ادا کرنا لازم نہیں۔ دوسری آیت میں فرمایا ہے کہ اگر قبل از مجامعت طلاق دی جائے، جبکہ بوقت نکاح مہر کی مقدار مقرر کر لی گئی تھی تو ایسی صورت میں نصف مہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔ یہاں وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً کی قید سے مزید یہ مفہوم ہوتا ہے کہ مہر کی مقدارطے ہونے کی صورت میں تو نصف مہر کی ادائیگی لازم ہے، لیکن اگر مقدار طے نہ کی گئی ہو تو، جیسا کہ پہلی آیت میں کہا گیا، سامان رخصت دے دینا کافی ہوگا۔
۶۔ بوقت ضروری عارضی نکاح کی اجازت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف غزوات کے موقع پر صحابہ کی درخواست پر انھیں محدود مدت کے لیے مقامی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی تھی۔ (مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعة، رقم ۱۴٠۴ تا ۱۴۱۶) صحابہ آپ کے زمانے میں اور آپ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک اس رخصت سے فائدہ اٹھاتے رہے، تاہم جب سیدنا عمر کا عہد خلافت آیا تو انھوں نے اس رخصت کو ختم کر دینے کا فیصلہ کیا اور اعلان کر دیا کہ دو متعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیے جاتے تھے، لیکن میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں اور جو شخص ایسا کرے گا، اس کو سزا دوں گا: ایک متعة الحج اور دوسرا متعة النساء۔ (ابو عوانة، المسند الصحیح المخرج علیٰ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب ذکر الخبر المبین بان فسخ الحج والمتعة خاص، رقم ۳۸٠۹) اس فیصلے کے تناظر میں صحابہ کے مابین دو رجحان سامنے آئے۔ جمہور صحابہ نے سیدنا عمر کے فیصلے سے اتفاق کیا اور یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ متعہ کی اجازت ان خاص مواقع کے لیے تھی جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی، لیکن جب آپ نے اس سے منع کر دیا تو اس کے بعد یہ اباحت باقی نہیں رہی۔ یہ موقف رکھنے والے صحابہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ہے۔ (مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعة، رقم ۱۴٠۶، ۱۴٠۷)تاہم بعض صحابہ، جن میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام زیادہ معروف ہے، مخصوص شرائط کے ساتھ عارضی نکاح کی اجازت کے باقی ہونے کے قائل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آدمی سفر میں شدید اضطرار کی حالت میں اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آدمی کے لیے سخت اضطرار کی کیفیت میں مردار کھانا حلال ہو جاتا ہے۔ (مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعة، رقم ۱۴٠۴ تا ۱۴۱۶؛ الطبرانی، المعجم الکبیر، احادیث عبد اللہ بن عباس، رقم ۱۰۶۰۱) ابن عباس اس رخصت کو ایک سماجی ضرورت کے طور پر بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کا یہ تبصرہ تھا کہ متعہ کی رخصت اللہ کی طرف سے اس امت پر ایک رحمت تھی، اگر عمر بن الخطاب اس سے منع نہ کر دیتے تو کوئی بد بخت ہی زنا کا ارتکاب کرتا۔ (طحاوی، شرح معانی الآثار، رقم ۲۷۷۷)
دلچسپ امر یہ ہے کہ ابن عباس اس ضمن میں ممانعت کی روایات سے بھی واقف تھے۔ امام ابن القیم لکھتے ہیں کہ ابن عباس کا زاویہ نظر یہ تھا کہ یہ کوئی ابدی ممانعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی ضرورت پوری ہو جانے کے بعد رخصت سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کر دی جائے۔ یعنی جیسے حالت اضطرار میں ضرورت کے بقدر خنزیر کا گوشت کھا لینے کے بعد اس کی اباحت ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر متعہ کی اجازت دی اور پھر ضرورت پوری ہو جانے کے بعد اس سے منع کر دیا، لیکن ہمیشہ کے لیے اس رخصت کو منسوخ نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی اضطراری صورت حال اب بھی کسی کو پیش آجائے تو وہ اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ (زاد المعاد، ص ۴۹۵ و۷۸۱، طبع موسسة الرسالة)
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ متعہ کی اجازت کا ماخذ صرف احادیث کو نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کے نزدیک یہ قرآن مجید میں منصوص تھی اور غالباً یہی نکتہ ان کے لیے متعہ سے ممانعت کو ابدی تحریم پر محمول کرنے سے مانع تھا۔ چنانچہ ان سے منقول ہے کہ وہ سورة النساءکی آیت ۲۴ میں فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہ مِنْہنَّ فَآتُوہنَّ أُجُورَہنَّ فَرِيضَۃ میں جملہ شرطیہ کے بعد إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى کا اضافہ کر کے یوں پڑھتے تھے:
فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہ مِنْہنَّ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی فَآتُوہنَّ أُجُورَہنَّ فَرِيضَۃ
”پھر تم ایک مقررہ مدت تک ان میں سے جس سے فائدہ اٹھاﺅ، انھیں ان کے مقررہ مہر ادا کر دو۔“
ابن عباس کہتے تھے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ایسے ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو ایسے ہی نازل فرمایا ہے۔ (تفسیر الطبری ۸/۱۷۷، تحقیق محمود محمد شاکر/ احمد محمد شاکر، مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ) تابعین میں سے سدی، مجاہد، قتادہ، حکم اور سعید بن جبیر بھی اس آیت کی قراءت اسی طرح کرتے اور اسے متعہ کے جواز کی دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے۔ (ایضاً، ص ۱۷۶، ۱۷۸)
قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے مذکورہ حضرات کے بارے میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ قرآن مجید میں کسی چیز کا جواز منصوص ہونے کی صورت میں سنت سے اس کے نسخ کو قرین قیاس تصور نہیں کرتے تھے اور اس کے بجائے قرآن کی اباحت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہوئے حدیث میں وارد ممانعت کی تاویل وتوجیہ کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے۔ (۵)
۷۔ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا:
سنت کے ایسے احکام جن میں قرآن پر زیادت پائی جاتی ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ رجم کی سزا کا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن مجید میں بدکاری کی سزا کسی تفصیل وامتیاز کے بغیر سو کوڑے بیان کی گئی ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً وفعلاً شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا ثابت ہے۔ اس حوالے سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ قولی حدیث میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثیب کے لیے سو کوڑے اور رجم، دونوں سزائیں بیان کی ہیں، لیکن اس نوعیت کے سبھی مقدمات میں عملاً آپ سے مجرم کو صرف سنگسار کرنا منقول ہے۔ قرآن کی ہدایت اور سنت سے ثابت حکم کے باہمی تعلق کے حوالے سے فقہائے صحابہ سے بنیادی طور پر دو زاویہ ہائے نظر منقول ہیں۔
سیدنا عمر سے یہ منقول ہے کہ وہ رجم کی سزا کا ماخذ خود قرآن ہی میں نازل ہونے والے ایک حکم کو قرار دیتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے کہا کہ یہ آیت قرآن میں نازل ہوئی تھی جسے ہم نے پڑھا اور اچھی طرح سمجھا اور اس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی یہ سزا نافذ کی ہے۔ انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم اللہ کی کتاب میں رجم کی آیت کو موجود نہیں پاتے اور یوں اللہ کے نازل کردہ ایک فریضے کو ترک کر دیں۔ (بخاری، کتاب الحدود، باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت، رقم ۶۴۷۳) بعض روایات کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگوں کے اس الزام کا ڈر نہ ہوتا کہ عمر نے کتاب اللہ میں اضافہ کر دیا ہے تو میں رجم کی آیت کو اللہ کی کتاب میں لکھ دیتا۔ (سنن ابی داود، کتاب الحدود، باب فی الرجم، رقم ۳۸۹۷) ایک روایت کے مطابق سیدنا عمر نے کہا کہ یہ آیت اللہ کی کتاب میں نازل ہوئی تھی اور ہم نے اسے پڑھا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا جو بہت سا حصہ چلا گیا، اس میں یہ آیت بھی چلی گئی، لیکن اس (کے حکم الٰہی ہونے) کی نشانی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کیا، ابوبکر نے بھی رجم کیا اور ان دونوں کے بعد میں نے بھی رجم کی سزا دی ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، باب الرجم والاحصان، رقم ۱۲۹۳۷)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے کہ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اس وقت سورة الاحزاب کی ستر سے زائد کچھ آیات کی تلاوت کرتے ہو، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورت سیکھی تھی جو سورة البقرة کے برابر یا اس سے بھی کچھ بڑی تھی اور اس میں رجم کی آیت بھی تھی۔ (مسند احمد، حدیث زر بن حبیش عن ابی بن کعب، رقم ۲٠۷۶۲)
اسی طرح زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر مروان کی مجلس میں یہ کہا کہ ہم ’الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ‘ کی آیت پڑھا کرتے تھے۔ مروان نے کہا کہ کیا ہم اسے مصحف میں درج نہ کر لیں؟ زید نے کہا کہ نہیں، دیکھتے نہیں کہ جوان شادی شدہ مردو عورت بھی اگر زنا کریں تو انھیں رجم کیا جاتا ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں صحابہ کے مابین زیر بحث آئی تو سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ، مجھے رجم کی آیت لکھوا دیجیے، لیکن آپ نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ ( بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۰۹۶۶۱۔ نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۱۴۸)
اس کے برخلاف سیدنا علی سے یہ مروی ہے کہ وہ رجم کی سزا کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کے سامنے شراحہ ہمدانیہ کا مقدمہ پیش کیا گیا جو ایک شادی شدہ خاتون تھی اور بدکاری کی مرتکب ہوئی تھی تو انھوں نے جمعرات کے روز اسے سو کوڑے لگوائے اور پھر جمعہ کے روز اسے سنگسار کر دیا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ نے اس کو دو سزائیں کیوں دیں؟ تو سیدنا علی نے جواب میں فرمایا کہ:
جلدتھا بکتاب اللہ ورجمتھا بسنۃ رسول اللہ (مسند احمد، مسند علی بن ابی طالب، رقم ۱۲۸۵)
”میں نے اس کو اللہ کی کتاب کے مطابق کوڑے لگوائے اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق رجم کیا ہے۔“
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’اَلزَّانِیَةُ وَالزَّانِی‘ کی آیت نازل کی ہے، جبکہ مرد وعورت اگر محصن ہوں تو ان کے لیے حکم یہ ہے کہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی رو سے رجم کر دیا جائے۔ (طبری، جامع البیان ۴/۲۹۷؛ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۶۹۱) تاہم ایک دوسری روایت میں ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ جو شخص رجم کا انکار کرتا ہے، وہ غیر شعوری طور پر قرآن کا انکار کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ يَا أَہلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ (اے اہل کتاب، تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو تمھارے لیے تورات کی ان بہت سی باتوں کو ظاہر کرتا ہے جنھیں تم چھپاتے تھے) اور رجم کا حکم بھی انھی امور میں سے ہے جنھیں اہل کتاب چھپاتے تھے)۔ (نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۱۶۲)
گویا ابن عباس قرآن مجید میں واضح طور پر رجم کا حکم نازل ہونے کے قائل نہیں تھے اور اس کے بجائے اسے اشارتاً قرآن میں مذکور مانتے اور اس کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو قرار دیتے تھے۔
یہ سوال بھی بعض حضرات کے ذہنوں میں پیدا ہوا کہ رجم کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل قرآن میں زنا کی سزا نازل ہونے سے پہلے کا تو نہیں، چنانچہ ابواسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انھوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا کہ سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے یا اس کے بعد؟ انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ (بخاری، کتاب الحدود، باب رجم المحصن، رقم ۶۴۶٠)
۸۔ حلال اور حرام جانوروں کی تفصیل:
قرآن مجید میں کھانے پینے کی اشیا میں صرف چار چیزیں حرام کی گئی ہیں، یعنی مردار، خون، خنزیر کا گوشت، غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ يَطْعَمُہ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَۃً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّہ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُھِلَّ لِغَيْرِ اللَّہ بِہ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الانعام ۱۴۵:۶)
”کہہ دو کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے، اس میں، میں کسی کھانے والے کے لیے کسی چیز کو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا جانے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے یا گناہ کا کام، یعنی ایسا جانور ہو جسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے، دراں حالیکہ نہ تو خواہش رکھنے والا ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا تو بے شک تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔“
تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے گھریلوگدھوں، چنگال والے پرندوں اور کچلی والے درندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الذبائح والصید، باب لحوم الحمر الانسیة، رقم ۵۵۲۷ ؛ صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح وما یوکل من الحیوان، رقم ۱۹۳۴)
مذکورہ آیت میں حصر کے اسلوب کے تناظر میں ان کے علاوہ دوسرے جانوروں کی تحریم کا حکم بعض فقہائے صحابہ کے لیے باعث اشکال بنا اور اس ضمن میں ظاہر قرآن کو ترجیح دینے کا رجحان پیدا ہوا۔
عیسیٰ بن نمیلہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خارپشت (کانٹے دار جنگلی چوہے) کا گوشت کھانے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے جواب میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی: قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا ۔ مراد یہ تھی کہ اس کا گوشت کھانا حلال ہے۔ اس پر وہاں موجود ایک شخص نے انھیں بتایا کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خارپشت کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ناپاک جانوروں میں سے ایک جانور ہے۔ ابن عمر نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے تو آپ ہی کی بات درست ہے۔ (ابو داﺅد، کتاب الاطعمة، باب فی اکل حشرات الارض، رقم ۳۷۸۱)
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے کہ وہ درندوں کے گوشت کی حرمت کی قائل نہیں تھیں۔ قاسم کابیان ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب ہر کچلی والے درندے اور ہر چنگال والے پرندے کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہ آیت پڑھتی تھیں: قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصید، باب ما ینہی عن اکلہ من الطیر والسباع، رقم ۲٠۲۳۵؛ ابن حجر، المطالب العالیة، کتاب التفسیر، باب سورة المائدة، رقم ۳۶۸۷)
اس آیت کی روشنی میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف بھی یہ تھا کہ قرآن مجید نے حصر کے ساتھ جن چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، ان کے علاوہ باقی سب چیزیں مباح ہیں:
قال کان اھل الجاھلیۃ یاکلون اشیاء ویترکون اشیاء تقذرا فبعث اللہ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم وانزل کتابہ واحل حلالہ وحرم حرامہ فما احل فھو حلال وما حرم فھو حرام وما سکت عنہ فھو عفو وتلا: قُل لاَّ اَجِدُ فِی مَا اُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطعَمُہُ الی آخر الآیۃ (سنن ابی داود، کتاب الاطعمۃ، باب ما لم یذکر تحریمہ، رقم ۳۷۸۲)
”ابن عباس نے کہا کہ اہل جاہلیت بہت سی چیزیں کھاتے تھے اور بہت سی چیزوں سے گھن کھاتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ، اپنی کتاب نازل کی اور حلال اور حرام چیزوں کی وضاحت فرمائی۔ پس جن چیزوں کو اللہ نے حلال بتایا ہے، وہ حلال ہیں اور جن کو حرام کہا ہے، وہ حلال ہیں اور جن سے خاموشی اختیار کی ہے، ان پر کوئی مواخذہ نہیں (یعنی وہ مباح ہیں)۔ ابن عباس نے یہ آیت تلاوت کی: قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ يَطْعَمُہ۔“
اس بنیاد پر عبد اللہ ابن عباس گھریلو گدھے کے گوشت کو حرام نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ جابر نے کہا کہ ہاں، حکم بن عمرو الغفاری ہمیں بصرہ میں یہی بتاتے تھے، لیکن ابن عباس جیسے بڑے عالم نے یہ بات تسلیم نہیں کی، اوریہ آیت پڑھی کہ: قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا۔ (بخاری، کتاب الذبائح والصید، باب لحوم الحمر الاہلیة، رقم ۹۲۵۵) حدیث میں وارد ممانعت کے متعلق ابن عباس نے یہ خیا ل ظاہر کیا کہ چونکہ گدھے چونکہ سواری اور باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ممکن ہے، آپ نے سواری کے لیے جانور کم پڑ جانے کے خدشے سے ان کے کھانے سے منع کیا ہو۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خیبر، رقم ۷۲۲۴)گویا ابن عباس کی رائے میں گدھے کے گوشت کی ممانعت فی نفسہ حرام او ر ناپاک ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک دوسری معاشرتی ضرورت کے پیش نظر کی گئی۔
اس دوسرے پہلو سے گدھے، گھوڑے اور خچر وغیرہ کا گوشت نہ کھانے کے حق میں ابن عباس قرآن مجید کی ایک دوسری آیت سے استدلال کرتے تھے۔ چنانچہ ان سے منقول ہے کہ وہ گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَالأَنْعَامَ خَلَقَہَا لَكُمْ فِيہَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْہَا تَأْكُلُونَ (النحل ۱۶: ۵) (اللہ نے تمھارے لیے چوپایوں کو پیدا کیا ہے جن میں تمھارے لیے گرمائش حاصل کرنے کا سامان اور دوسرے فائدے ہیں اور ان میں سے کچھ جانوروں کا تم گوشت کھاتے ہو)۔ سو یہ جانور کھانے کے لیے ہیں۔ (اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:) وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوھَا (النحل ۱۶: ۸) (اور گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا ہے تاکہ تم ان پر سواری کرو)۔ سو یہ جانور سواری کے لیے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الاطعمة، رقم ۲۴۸٠۳، ۲۴۸٠۵)
بعض دیگر صحابہ سے بھی اس نوعیت کی توجیہات منقول ہیں۔ مثلاً ایک توجیہ یہ کی گئی کہ چونکہ یہ گدھے مال غنیمت کے تھے اور ان میں سے ابھی بیت المال کا حق یعنی خمس نہیں نکالا گیا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گوشت کو کھانے سے منع فرما دیا۔ اسی طرح ایک رائے یہ تھی کہ یہ گدھے گندگی کھاتے تھے، اس لیے آپ نے ان کے گوشت کوممنوع قرار دے دیا۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خیبر، رقم ۴۲۲٠)
کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کے گوشت کی ممانعت کی روایت عبد اللہ بن عباس نے بھی روایت کی ہے۔ (مسلم، رقم ۳۵۷۴) تاہم جب ان سے کوے اور چیل کے گوشت کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اللہ نے حلال چیزوں کو حلال ٹھہرایاہے اور حرام کو حرام ، جبکہ کئی چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا ہے۔ سو جن چیزوں سے اس نے سکوت کیا ہے، وہ اس کی طرف سے رخصت ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصید، رقم ۲٠۲۳۹)
ابو مکین نے نقل کیا ہے کہ عکرمہ نے کہا کہ جو چیز تم پر قرآن میں حرام نہیں کی گئی، وہ تمھارے لیے حلال ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصید، رقم ۲٠۲۴۳)
حواشی
(۱) ابن ابی شیبہ کی نقل کردہ بعض روایات میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی بات منقول ہے، لیکن بظاہر وہ درست معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسح علی الخفین کی روایات خود ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نقل کی ہیں۔ (ابن ماجہ، باب ماجاءفی التوقیت فی المسح للمقیم والمسافر، رقم ۵۵۹)
(۲) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ سوال وجواب کی روایت طبری اور ابن ابی حاتم نے بھی متعدد سندوں سے نقل کی ہے۔ (تفسیر الطبری، تفسیر ابن ابی حاتم) ابن کثیر نے اس روایت کی مختلف سندوں کو ضعیف قرار دیا ہے (تفسیر ابن کثیر ۱۴/۳۹) تاہم ابن حجر لکھتے ہیں کہ اس روایت کی سندوں میں کلام ہے، لیکن کثرت طرق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل ثابت ہے۔ (فتح الباری ۲/۸۹٠)
(۳) ابن کثیر، ابن عبد البر سے نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس نے حدیث سبیعہ سامنے آنے پر اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر ۲ /۳۷۹۔ تفسیر القرطبی ۴/۱۲۷)
(۴) فقہائے صحابہ میں سے خاص طور پر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں یہ رجحان سب سے نمایاں ہے کہ وہ کسی بھی روایت کے قرآن مجید کے خلاف ہونے کو اس کے غلط ہونے کی دلیل سمجھتی تھیں اور اسے قبول نہیں کرتی تھیں۔ مثلاً انھوں نے فرمایا کہ ”جو شخص تم سے یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی بات چھپائی ہے تو اس کی بات نہ مانو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر، جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے، وہ (لوگوں تک) پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔“ (بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک، رقم ۷۱۳۳) اسی طرح انھوں نے کہا کہ ”جو شخص تمھیں یہ بتائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں۔ اور جو تمھیں یہ بتائے کہ آپ غیب جانتے تھے تو وہ بھی غلط کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ غیب صرف اللہ جانتا ہے۔“ (بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا، رقم ۶۹۸۶) اسی طرح جب ان کے سامنے سیدنا عمرؓ کی نقل کردہ یہ روایت بیان کی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرنے والے کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو ام المومنین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے، بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں۔ آپ نے تو کافر کے متعلق فرمایا کہ اس کے پس ماندگان کے رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ ام المومنین نے کہا کہ تمہیں قرآن کی یہ آیت کافی ہے کہ کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: یعذب ا لمیت ببعض بکاءاہلہ علیہ، رقم ۱۲۸۷، ۱۲۸۸) انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ اس روایت پر بھی تعجب ظاہر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین کی لاشوں کو، جنھیں بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا تھا، مخاطب کیا اور صحابہ کے، مردوں کو خطاب کرنے پر تعجب ظاہر کرنے پر فرمایا: ”تم لوگ ان سے زیادہ سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے، البتہ یہ لوگ جواب نہیں دے سکتے۔“ ام المومنین نے مردوں کے سننے کی بات کو قرآن مجید کے منافی قرار دیا اور فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ہوگا کہ یہ لوگ اب جان گئے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: تم مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ ( بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاءفی عذاب القبر، رقم ۱۳۷٠، ۱۳۷۱) ام المومنین، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث پر بھی سخت ناراض ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ”نحوست عورت میں، سواری کے جانور میں اور گھر میں ہوتی ہے،“ اور فرمایا کہ: ”اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں فرماتے تھے ۔ آپ تو اہلِ جاہلیت کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ نحوست عورت، گھر اور سواری میں ہوتی ہے۔ پھر ام المومنین نے قرآن کی یہ آیت پڑھی : مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الأَرْضِ وَلا فِي أَنفُسِكُمْ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا (تمہیں زمین میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں)۔“ (مسند احمد، مسند عائشۃ رضی اللہ عنہا، رقم ۲۵۵۵۷)
(۵) بعض اہل علم نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ابن عباس نے متعہ کے جواز کے حوالے سے اپنی اس رائے سے رجوع کر لیا تھا۔ (ابن الہمام، شرح فتح القدیر، ۳/۲۳۹؛ ملا علی القاری، مرقاة المفاتیح، ۶/۲۸۱) اس ضمن میں محمد بن کعب کی روایت سے استدلال کیا گیا ہے کہ ابن عباس نے کہا کہ متعہ کی اجازت ابتدائے اسلام میں تھی، لیکن پھر بعد میں اسے حرام قرار دے دیا گیا۔ (سنن الترمذی، کتاب النکاح، باب ما جاءفی تحریم نکاح المتعۃ، رقم ۱۱۲۲) تاہم ابن حجر لکھتے ہیں کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے اور یہ معناً بھی شاذ ہے۔ (فتح الباری، ۹/۷۷) چنانچہ ابن کثیراور ابن بطال وغیرہ نے اس دعوے کو قبول نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ابن عباس آخر وقت اپنے اسی موقف پر قائم رہے۔ (البدایہ والنہایہ، ۶/۲۸۴؛ فتح الباری، ۹/۷۸) البتہ روایات میں اتنی بات نقل ہوئی ہے کہ جب ابن عباس کے اس فتوے سے لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا تو پھر وہ جواز کا فتویٰ دینے سے گریز کرنے لگے۔ چنانچہ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا کہ آپ کو اندازہ ہے کہ آپ نے کیسا فتویٰ دیا ہے؟ آپ کا فتویٰ مسافر قافلوں کی زبانوں پر ہے اور شاعر، اس کے متعلق شعر کہہ رہے ہیں۔ ابن عباس نے سنا تو کہا:
”انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بخدا، میں نے نہ اس کا فتویٰ دیا اور نہ میری یہ مراد ہے۔ میں تو اسے اسی (اضطرار کی) حالت میں جائز کہتا ہوں جس میں اللہ نے مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے۔“ (طبرانی، المعجم الکبیر، احادیث عبد اللہ بن عباس، رقم ۱۰۶۰۱)
(۶) یہ نقطہ نظر جلیل القدر تابعی سعید بن المسیب سے بھی منقول ہے، تاہم ابن کثیر نے اس کے ثبوت کو محل نظر قرار دیا ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم، ۲/۳۵۶)