فروری ۲۰۱۸ء

انسانی شعور، ایمان اور قرآن مجید کا اسلوب استدلالمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۰)ڈاکٹر محی الدین غازی 
جدید سائنس کے مباحث اور علم الکلاممولانا محمد رفیق شنواری 
تبلیغی جماعت کا بحرانمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۲)محمد عمار خان ناصر 
حضرت مولانا حمد اللہ آف ڈاگئیؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مدینۃ العلم قطر میں چھ دن ۔ (مدرسہ ڈسکورسز کے ونٹر انٹنسو ۲٠۱۹ء کی روداد)ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 

انسانی شعور، ایمان اور قرآن مجید کا اسلوب استدلال

محمد عمار خان ناصر

ایمان والحاد اور فلسفہ ومذہب کی باہمی گفتگو میں عام طور پر ایمان کا تقابل عقل سے کیا جاتا ہے، اور یہ دونوں فریقوں کی جانب سے ہوتا ہے۔ تاہم ذرا غور سے واضح ہو جاتا ہے کہ عقل اور ایمان کے تقابل کا مفروضہ منطقی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ یہ دونوں انسانی شعور کے دو الگ الگ مراتب سے تعلق رکھتے ہیں۔ الحاد یا ایمان کا تعلق انسانی شعور کے اولین مرتبے یعنی اپنی وجودی حالت کے تصور سے ہے، جبکہ عقل کی فعلیت اس کے بعد شروع ہوتی ہے اور سرتاسر وجودی مفروضات کے تابع ہوتی ہے۔ وجودی مفروضات کے لحاظ سے ایمان یا الحاد میں سے کوئی بھی پوزیشن عقلی سطح پر قابل توجیہ ہو سکتی ہے۔
مذہبی ایمان کا مفروضہ انسان کا وجودی لحاظ سے لاچار اور محتاج ہونا، جبکہ جدید تصور انسان کا وجودی مفروضہ انسان کا خود مختار اور ہر لحاظ سے خود کفیل ہونا ہے۔ جدید انسان کو انسانی معاملات میں دخل نہ دینے والے خدا سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن فعال ومرید اور مطالبات رکھنے والا خدا اسے قبول نہیں۔
انسان کے محتاج یا مختار ہونے میں سے کوئی بھی مفروضہ عقلی قضیہ نہیں، بلکہ ایک نفسی حالت کا بیان ہے۔ نفسی حالت، احوال وجود کے عمومی اور ان کے تعلق سے ہیومن کنڈیشن کے خصوصی مشاہدے سے بننے والے تاثر سے تشکیل پاتی ہے۔ اس نفسی حالت میں طاقت کا احساس، چاہے وہ علم کی ہو یا تصرف کی، غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ماقبل جدید انسان کو چونکہ طبیعی کائنات کے قوانین سے متعلق زیادہ علم حاصل نہیں تھا، اس لیے انسان کا اپنے متعلق عمومی وجودی مفروضہ احتیاج اور انحصار تھا جو ایمان کے لیے زیادہ سازگار تھا۔ اس کے مقابل وجودی مفروضے، یعنی انسان کی خود مختاری کا امکان بھی یقینا موجود تھا اور الحاد کی پوزیشن بھی بہت قدیم ہے، لیکن یہ عمومی انسانی شعور کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ جدید انسان چونکہ احوال وجود کے علم اور ان میں تصرف کی بے پناہ طاقت سے لیس ہے، اس لیے خود مختاری کے وجودی مفروضے کو مختلف عقلی علوم کی مدد سے جدید تصور انسان پر غالب بنا دیے جانے کا امکان پوری طرح قابل فہم ہے۔
اس تجزیے سے واضح ہے کہ عقل کی فعلیت کے دائرے میں ایمان یا الحاد میں کسی کو بھی غیر عقلی کہنا غیر منطقی بات ہے۔ جدید تصور انسان میں انسانی فہم وشعور کو تاریخی ارتقا کے لحاظ سے ایمان اور عقل کے ادوار میں تقسیم کرنا محض ایک منطقی مغالطہ اور خود فریبی ہے، کیونکہ یہ دو مختلف مراتب سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے مابین تقابل ہے۔ تقابل ایمان اور عقل کا نہیں، بلکہ انسان کے وجودی لحاظ سے محتاج ہونے یا خود مختار ہونے کے مفروضوں کے مابین بنتا ہے جو عقل سے مقدم ہیں۔ ایمان اور الحاد، دو عقلی پوزیشنیں ہیں جو ان میں ایک یا دوسرے وجودی مفروضے پر مبنی ہیں۔ اصل بحث اس سوال پر بنتی ہے کہ کون سا وجودی مفروضہ انسان کے شعوری وسائل، اس کی وجودی حالت اور اس کے نفسیاتی تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔

انسانی عقل اپنی فعلیت میں کچھ وجودی مفروضات کی محتاج ہوتی ہے، یہ فلسفہ علم کی ایک پیش پا افتادہ بات ہے۔ فلسفہ، سائنس اور مذہب، تینوں میں سلسلہ استدلال کسی ایسے مفروضے پر جا رک جاتا ہے جس کو انسان بس مانتا ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں دے سکتا اور اس پر شک بھی نہیں کر سکتا۔ یہ انسانی شعور کی بے چارگی اور محدودیت ہے جس سے اسے کسی بھی حال میں کوئی مفر نہیں۔ سارا استدلالی عمل اس بے دلیل ماننے کے تابع ہوتا ہے، اس سے ماورا ہو ہی نہیں سکتا:
Wittgenstein argued that questioning and doubting can only take place within a ‘frame of reference’, which he also terms a ‘world picture’ or even ‘mythology’, which is not itself questioned or doubted; that is a ‘system’ which is ‘the element in which arguments have their life’, which ‘stands fast’, and is the ‘substratum of all my enquiring and asserting’, the ‘hinge …. on which the questions we raise and our doubts depend. (Burn, Philosophies of History, page 11)
یہ پیش قیاسی مفروضات صرف عقل کی فعلیت کی بنیاد فراہم نہیں کرتے، بلکہ معلومات کی تنظیم اور ان کی باہمی نسبتوں کی تعیین میں پیش آنے والی مشکلات میں بھی عقل کی راہ نمائی کرتے ہیں۔ گویا یہ منطق کی shortcomings کی بھی تلافی کرتے ہیں۔ استدلال کی صحت کو قبول کرنے کے لیے منطق کا سب سے بنیادی مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ تمام مقدمات باہم اس طرح مربوط ہوں جیسے کسی مشین کے مختلف پرزے ہوتے ہیں کہ ایک کی حرکت سے دوسرا اور پھر تیسرا پرزہ خود بخود حرکت میں آ جاتا ہے۔ اگر کوئی ایک مقدمہ بھی مابعد مقدمے کو مستلزم نہ ہو تو پورا استدلال بے کار ہو جاتا ہے۔ تاہم کسی بھی عقلی استدلال کے لیے، وجودی مفروضات کی معاونت کے بغیر اس کڑے منطقی معیار پر پورا اترنا ناممکن ہے۔ اس کے تین پہلو یہاں قابل ذکر ہیں۔
۱۔ دو مظاہر کو باہم مربوط کرنے کے کئی مختلف امکان ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ امکانات کو خارج از قیاس قرار دینا یعنی exclusion منطقی عمل کا بنیادی حصہ ہے اور یہ بیشتر حالات میں پیش قیاسی مفروضات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
۲۔ مقدمات کے باہمی تلازم کے لیے قطعیت کے بجائے عموما probability سے کام چلانا پڑتا ہے اور غالب امکان کو فیصلے کی بنیاد بنانے کی جرات صرف پیش قیاسی مفروضات کی مدد سے ممکن ہوتی ہے۔
۳۔ کسی نظریے کے حق میں دستیاب شواہد میں کہیں خلا پایا جاتا ہو تو اس کو پر کرنے، یعنی gap filling کی ذمہ داری بھی پیش قیاسی مفروضات کی ہوتی ہے۔
حیاتیاتی ارتقا کی مروج تعبیر اس کی خوب صورت مثال ہے۔ اس میں ارتقا کی توضیح کے لیے ارادی تخلیق کے امکان کو خارج از قیاس سمجھنا بنیادی ہے۔ یعنی یہ پہلے سے طے ہے کہ ارتقا کی توضیح کے لیے خدا کا فعل ہونے کا امکان زیرغور نہیں لایا جائے گا۔ پھر انواع میں عمومی طور پر ارتقا پائے جانے سے یہ نتیجہ کہ ہر ہر نوع ارتقا کی پیداوار ہے، بدیہی طور پر قطعی نہیں بلکہ probable ہے، لیکن تخلیق کو خارج از قیاس سمجھنے کا پیش قیاسی مفروضہ اسے، ماہرین حیاتیات کی نظر میں، ایک سائنسی حقیقت قرار دینے کا جواز مہیا کرتا ہے۔ ارتقا کے حق میں دستیاب شواہد میں جو خلا پایا جاتا ہے، اس کی تلافی بھی اسی پیش قیاسی مفروضے سے کی جاتی ہے۔ گویا اس پورے نظریے کو منطقی طور پر مدلل بنانا exclusion, probability and gap filling کے بغیر ممکن نہیں اور یہ سارے وظائف ایک وجودی اور پیش قیاسی مفروضہ انجام دے رہا ہے۔
یہاں نظریہ ارتقا کے متعلق کوئی رائے دینا مقصود نہیں، صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جس چیز کو عقلی استدلال کہا جاتا ہے، اس کی مکمل توضیح صرف منطق کے اصولوں سے نہیں ہوتی اور نہ منطق، پورے انسانی شعور کی توضیح کی استعداد ہی رکھتی ہے۔ عقل اپنی فعلیت کی ابتدا اور استمرار، دونوں کے لیے وجودی مفروضات کی محتاج ہوتی ہے اور وہی ایک زیادہ بنیادی سطح پر انسانی شعور کی حالت کو واضح کرتے ہیں۔

منطقی استدلال کی نوعیت اور اس کی یہ محدودیتیں پیش نظر رہیں تو  یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ قرآن مجید نے  اپنے طرز استدلال کو منطقی  اسلوب پر کیوں استوار نہیں کیا۔  امام حمید الدین فراہیؒ اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ترکیب منطقی کی بنیاد تجزیہ پر ہے۔ یہ اس طریقے کے خلاف ہے جس کے مطابق ذہن اور خطاب عام طور پر کام کرتا ہے۔ فطرت تمام امور کو مرکب صورت میں سامنے لاتی ہے اور نفس انسانی اسی مرکب صورت ہی میں ان کا احساس اور ادراک کرتا ہے۔ پھر وہ ان میں سے بعض امور کو اسی طرح سے لیتا ہے اور بعض کو دوسرے امور کے ساتھ ترکیب دے لیتا ہے۔ رہا تجزیہ تو یہ دوسری نگاہ میں (یعنی اگلے مرحلے پر) وجود میں آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل بھی کسی منطقی تجزیہ کے بغیر ہی معانی اخذ کرتی اور حق اور باطل میں امتیاز کرتی ہے۔ لیکن جب کوئی معاملہ گڈمڈ ہو جاتا ہے اور عقل دلائل میں کسی خلل کا احساس کرتی ہے تو اس وقت وہ منطق کے اصولوں کو استعمال کر کے کلام کے تجزیہ کی طرف مائل ہوتی ہے تاکہ بات کے مختلف اجزا پر غور کرے۔ یہ اسی طرح کا عمل ہوتا ہے جس کا استعمال ہم نظم میں علم عروض کی صورت میں کرتے ہیں۔ شاعر اگر عروض کی صنعت کا عالم بھی ہو تو وہ شعر کہتے وقت ان کو استعمال نہیں کرتا۔ یہی حال سامع کا بھی ہوتا ہے۔ وہ شعر سنتے وقت اس علم کو استعمال نہیں کرتا۔ اس کے استعمال کی نوبت اس وقت آتی ہے جب شعر میں کسی خلل کا احساس ہو یا ایک وزن دوسرے وزن میں گڈمڈ ہو رہا ہو۔ تب شعر کے اجزا کو الگ کر کے اس کو علم عروض کی کسوٹی پر پرکھ لیا جاتا ہے۔ ٹھیک یہی مصرف منطق کا بھی ہے۔ یہ حجت کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے یہ متعین کرتی ہے کہ کون سی چیز دلیل میں سے حذف ہو گئی ہے۔ اگر کوئی چیز زائد ہو تو منطق اس کو دور کر دیتی ہے۔ ..............
اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ترکیب منطقی خلاف فطرت ہے۔ یہ صنعت کلام کو سہل نہیں رہنے دیتی، اس لیے اس کے ماہر خود بھی اس کا لحاظ نہیں رکھ سکتے اور خطابیانہ انداز اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب وہ لطیف مطالب پر کلام کر رہے ہوں جن کو تصور میں لانا لوگوں کے لیے مشکل ہو جیسے الٰہیات کے مسائل، یا بیان ایسے موضوع کا ہو جس کو قبول کرنا لوگوں کو مشکل نظر آتا ہے جیسے اخلاق اور شرائع کے مضامین یا ایک مسئلہ کے دلائل مختلف ہو رہے ہوں اور کوئی شخص ان کو گڈمڈ کرنے کی نیت رکھتا ہو تو وہ منطقی استدلال سے پہلو تہی کرتا ہے تاکہ اس کی دلیل کی کمزوری واضح نہ ہونے پائے۔ “(توضیحات فکر فراہی، از علامہ خالد مسعود، جلد دوم، ص ۶۴)
قرآن کا موضوع دعوت ایمان ہے، اور ایمان کا مخاطب عقل نہیں، بلکہ دل ہے جو جذبات واحساسات اور فطری تصورات کا مرکز ہے۔ اعتراف نعمت اور تشکر ان فطری احساسات میں سے ایک بنیادی احساس ہے۔ ایمان اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ بالعموم ایمان سے گریز یا اس میں تردد کا رویہ پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ یہ فطری احساس کسی دوسری منفی کیفیت سے مغلوب نہ ہو جائے۔ تب عقل اس خاص کیفیت میں وہ دلائل ڈھونڈھنے لگتی ہے جو ناشکری اور عدم اعتراف کی اس کیفیت کو جواز فراہم کر سکیں۔ اس کیفیت کا علاج بھی بالعموم کسی عقلی بحث یا منطقی استدلال سے نہیں ہو سکتا، بلکہ بیشتر اوقات بحث ومباحثہ انا اور ضد کو مزید مستحکم کرنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
قرآن کی نظر میں مذہب اور ایمان کی بحث، دینی معتقدات کے عقلی اثبات سے زیادہ نفس انسانی کو آلائشوں سے پاک کرنے کی بحث ہے۔ کسی ایمانی حقیقت کو سمجھنے میں ناکامی کی وجہ قرآن یہ بتاتا ہے کہ نفس کسی ایسی کیفیت میں مبتلا ہے جو اسے اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونے یا اسے قبول کرنے سے مانع ہے۔ یہ موانع عموماً‌ یہ ہوتے ہیں:
۱۔ اپنے علم اور مشاہدہ پر بے جا ناز
۲۔ تکبر، یعنی اپنی بڑائی کا جھوٹا احساس
۳۔ تعصب، یعنی گروہی یا طبقاتی وابستگی
۴۔ حب عاجلہ، یعنی دنیا کی وقتی اور عارضی آسائشوں کی محبت
۵۔ بغیا بینہم، یعنی گروہوں کی ایک دوسرے کے مقابلے میں تفوق اور سرکشی کی جبلت۔ 
دور جدید میں انسان کو اپنی ’’آزادی “ اور ’’مرکزیت “ کا جو واہمہ لاحق ہوا ہے، اس کا ازالہ منطقی استدلال کے بس کی بات نہیں۔  یہ شعور کی نہایت بنیادی سطح پر لاحق ہونے والا ایک عارضہ ہے جس کے علاج کے لیے  انسانی آزادی اور عظمت کے فلسفے کو قرآن مجید کے اسلوب میں  موضوع بنانے کی ضرورت ہے:
قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ۔ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۔ مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ۔ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ۔ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ  ۔ ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ (سورہ عبس، آیت ۱۷ تا ۲۳)
’’ہلاک ہو انسان، کیسا نا شکرا ہے۔ اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا فرمایا ہے؟ نطفہ سے اس کو پیدا فرمایا، پھر ساتھ ہی اس کا تعین فرما دیا۔ پھر راہ اس کے لیے آسان فرما دی۔ پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں (دفن) کر دیا۔ پھر جب وہ چاہے گا، اسے (دوبارہ زندہ کر کے) کھڑا کرے گا۔ یقیناً اس (نافرمان انسان) نے وہ (حق) پورا نہ کیا جس کا اسے (اللہ نے) حکم دیا تھا۔“

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۰)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

ایک جملہ یا دو جملے؟

شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّینِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِی اوحَینَا اِلَیکَ وَمَا وَصَّینَا بِہِ ابرَاہِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی ان اَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیہِ۔ (الشوری: 13)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے گویا کہ یہ ایک ہی جملہ ہے جس میں والذی اوحینا الیک معطوف ہے ما وصی بہ نوحا پر جو مفعول بہ ہے۔ اور ان اقیموا الدین بیان یا تفسیر ہے۔اس ترجمے میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ شرع لکم کہنے کے بعد والذی اوحینا الیک کہنے کی کیا ضرورت تھی، ذیل میں مذکور ترجمے ملاحظہ ہوں:
’’اسی نے تمہارے لیے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔“ (فتح محمد جالندھری)
”اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمد) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسی اور عیسی کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہو جاو ۔“ (سید مودودی)
’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔“ (محمد جونا گڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا اس سلسلے میں خیال یہ ہے کہ والذی اوحینا الیک سے دوسرا مستقل جملہ شروع ہوتا ہے۔ اس دوسرے جملے میں والذی اوحینا الیک مبتدا ہے، اس کے بعد جو ہے وہ اس پر معطوف ہے اور ان اقیموا الدین خبر ہے۔ ترجمہ دیکھیں:
’’اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی۔ اور تمہاری طرف جو وحی کی ہے اور جس کی وصیت ابراہیم اور موسی اور عیسی کو کی وہ یہ ہے کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ میں نہ پڑو۔“ (امانت اللہ اصلاحی)
اس طرح اس میں دو باتیں بتائی گئیں، ایک یہ کہ جو دین آپ کو دیا گیا ہے وہ وہی ہے جو نوح کو دیا گیا تھا، اور دوسرے یہ کہ دین کے تعلق سے جو ذمہ داری آپ پر عائد کی گئی ہے وہ وہی ہے جو ابراہیم اور موسی اور عیسی پر عائد کی گئی تھی۔
اسلوب کی باریکی یہ ہے کہ لفظ والذی قرآن مجید میں عام طور سے نئے جملے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ما کے بجائے والذی لانے سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ نیا جملہ ہے۔
اس مفہوم کے بعد وہ اشکالات دور ہوجاتے ہیں، جو آیت کو ایک جملہ ماننے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان تشریحات کی بھی ضرورت نہیں رہتی ہے جو ان دونوں جملوں کوایک جملہ مان کر کی جاتی ہیں۔
آیت مذکورہ کے ترجمے میں ایک امر اور توجہ طلب ہے وہ یہ کہ بہت سے مترجمین نے ”لا تتفرقوا فیہ“ کا ترجمہ’’پھوٹ نہ ڈالنا“ کیا ہے جو درست نہیں ہے، کیونکہ یہ فعل لازم ہے، اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ خود تفرقے میں نہ پڑو نہ یہ کہ پھوٹ نہ ڈالو۔ پھوٹ ڈالنے کے لیے باب تفعیل سے تفریق کا لفظ استعمال ہوتا ہے، یہاں بات تفعل سے تفرق کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب خود تفرقہ میں پڑجانا ہوتا ہے۔

"بما عھد عندک" کا ترجمہ

عہد کا لفظ عربی میں وعدے کے مفہوم کو ادا کرتا ہے، اس کے علاوہ لفظ عہد کسی چیز سے مسلسل تعلق کو بھی ظاہر کرتا ہے، شاعر کہتا ہے: 
فلیسَ کَعَھدِ الدارِ یا امَّ مالکٍ
ولکن احاطَت بالرِقابِ السَلاسِلُ
اسی طرح حدیث میں ہے: 

لولا قومک حدیثوا العھد بکفر۔۔۔الخ 

نیچے ذکر کی گئی دونوں آیتوں میں بما عھد عندک سے عام طور سے وعدہ اور عہد مراد لیا گیا، ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں وہ معمول مراد ہے ، جو اللہ تعالی کا حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ تھا، اور یہ معمول آخری عذاب سے پہلے آنے والی نشانیوں کے سلسلے میں خود فرعون کی قوم کے سامنے واضح طور سے آچکا تھا۔
مشہور مفہوم کے تعلق سے یہ بات غور طلب ہے کہ عذاب ٹالنے اور دعا قبول کرنے کا کوئی عہد اللہ نے حضرت موسی سے کیا ہو، اس کا ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے، اور نہ ایسے عہد کی حضرت موسی نے قوم فرعون کو خبر دی تھی۔ 
اس تمہید کے بعد دونوں آیتوں کے مذکورہ ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

(۱) وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیھِمُ الرِّجزُ قَالُوا یَا مُوسَی ادعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ۔ (الاعراف: 134)

’’جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر۔“ (سید مودودی)
’’اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے۔“ (احمد رضا خان)
’’اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے۔“ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا ان تینوں ترجموں میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ ماضی استمراری کا ترجمہ کیا ہے، حالانکہ یہاں کلما نہیں بلکہ لما ہے، اور جملہ میں استمرار یعنی بار بار کا مفہوم نہیں ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’اور جب آیا ان پر عذاب تو درخواست کی کہ اے موسی تم اپنے رب سے اس معمول کے واسطے سے جو اس کا تمہارے ساتھ رہا ہے ، ہمارے لیے دعا کرو۔“ 

(۲) وَقَالُوا یَا اَیُّہَا السَّاحِرُ ادعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ۔ (الزخرف: 49)

’’ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر“۔ (سید مودودی، یہاں ’’ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے“ درست نہیں ہے، ہر عذاب کی بات نہیں ہے اور نہ ہی جملے میں استمرار کا مفہوم ہے۔ بلکہ ایک عذاب کی بات ہے)
’’اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے۔“ (احمد رضا خان)
’’اور انہوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے۔“ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا دونوں آیتوں کے آخری ترجمے میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ قوم فرعون کی طرف سے مطالبہ کسی ایسی بات کی دعاکرنا نہیں تھا جس کا عہد کیا گیا ہو، بلکہ عہد کے واسطے سے عذاب کو ہٹانے کی دعا کرنے کا مطالبہ تھا۔ یعنی ”جس کا عہد کیا تھا وہ دعا کریں“ یہ مراد نہیں ہے، مراد یہ ہے کہ جو عہد ہے اس عہد کے واسطے سے دعا کریں۔
 عہد سے مراد اللہ کا حضرت موسی سے کیا ہوا کوئی وعدہ ہے، یا اللہ کا حضرت موسی کے ساتھ معمول مرادہے؟ ، یہ بحث مذکورہ غلطی کے علاوہ ہے۔
مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’اور انہوں نے کہا اے ساحر تیرے رب کا تیرے ساتھ جو معمول ہے اس کے واسطے سے ہمارے لیے دعا کر۔“ 

"الکلم الطیب" کا ترجمہ

کلم کلمہ کی جمع ہے، اس لفظ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جمع ہونے کی وجہ سے مونث تو استعمال ہوتا ہی ہے مذکر بھی استعمال ہوتا ہے۔ 

(ج: کَلِمۃ) بِحَذفِ الھَاءِ، تُذَکَّرُ وتُوَنَّثُ، یُقال: ھُوَ الکَلِم، وھِیَ الکَلِم۔ (تاج العروس)

اس لغوی وضاحت کی روشنی میں درج ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

الَیہِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالعَمَلُ الصَّالِحُ یَرفَعُہُ۔ (فاطر: 10)

’’تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے۔“ (محمد جونا گڑھی)
’’اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے۔“ (سید مودودی، اس ترجمہ میں حصر اپنے محل سے ہٹ گیا ہے، قاعدے کی رو سے حصر کا مفہوم مبتدا موخر میں نہیں ہے بلکہ خبر مقدم میں ہے، صحیح ترجمہ یوں ہوگا: ”اسی کے یہاں اوپر چڑھتا ہے پاکیزہ قول“)
’’اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے۔“ (احمد رضا خان)
’’اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں۔“ (فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا ترجمے لفظ کے مطابق ہیں، البتہ درج ذیل ترجمہ درست نہیں ہے اس میں کلم کا ترجمہ کلمہ یعنی واحد کردیا گیا ہے:
’’اس کی طرف صعود کرتا ہے پاکیزہ کلمہ اور عمل صالح اس کلمہ کو سہارا دیتا ہے۔“ (امین احسن اصلاحی)
(جاری)

جدید سائنس کے مباحث اور علم الکلام

مولانا محمد رفیق شنواری

(پروفیسر نضال قسوم (امیریکن یونیورسٹی، شارجہ) کے مقالہ Kalam’s Necessary Engagement with Modern Science سے مستفاد)

خالص عقیدے سے متعلق قدیم مباحث پر مشتمل علم کلام سائنسی مباحث پر کیوں مشتمل ہو؟ سائنس کی تعریف پر غور و فکر کسی حد تک اس سوال کا جواب سمجھنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ سائنس کی تکنیکی اعتبار سے جو بھی تعریف کی جائے، ان میں پائے جانے والی فنی اور دقیق فروق سےہٹ کر بنیادی عناصر تقریبا سب میں یکساں پائے جاتے ہیں اور وہ ہیں اس علم کی معروضیت، آفاقیت ، تجربیت اور معیاریت کے دعوے۔ یعنی جدید علم جو معلومات فراہم کرتا ہے، وہ معروضی حقائق ہیں ، یہ علم مذہب اور کلچر وغیرہ تمام بندھنوں سے آزاد ہو کر ایک آفاقی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ علم نرے نظریات کا مجموعہ اور محض عقلی و فکری عیاشی نہیں بلکہ تجربے اور مشاہدے پر مبنی مطمئن کر دینے والا علم ہے۔ نیز یہ علم دیگر تمام علوم اوران کی صحت کے لیے کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اس بات کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ سائنس خود کو اس کائنات کے واقعات کی توجیہ اورنظام اسباب کی معرفت تک محدود رکھتی ہے، یعنی سائنس "کیسے " کا جواب تلاش کرنے کی محنت کا نام ہے۔ جہاں تک غایات یعنی اس پورے نظام کے مقصد اور رونما ہونے والے ہر واقعے کے پیچھے غرض و غایت (Teleological Considerations) کا تعلق ہے تو سائنس اس سے پہلو تہی کیے ہوئے ہے۔ یہ پورا نظام کیوں وجود میں آیا ، کیوں یہ تمام واقعات جنم لیتے ہیں اور آخر انجام اس پورے نظام کا کیا ہے ؟ ایسے سوالات سائنس کا موضوع نہیں ہیں۔ 

کیا سائنس اور مذہب کے درمیان تصادم ہے؟ 

کائنات اور اس دنیا میں آئے دن رونما ہونے والے واقعات کی توجیہ کے سلسلے میں بحث و تحقیق کے دوران اس علم کا طریقہ کار ان اسباب کی نشاندہی اور ان میں پائے جانے والے تعلق کی وضاحت ہے جوان واقعات کے رونما ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ سائنس اس دوران کسی بھی واقعے کا سبب بتانے یا توجیہ پیش کرنے میں خدا ، فرشتہ یا کسی بھی ہماری عقل کے دائرے سے باہر ذات کا حوالہ معتبر نہیں سمجھتی۔ سائنس کے اس ماورائے عقل (metaphysical)  ذات کے حوالے کے بغیر کائنات کے حوادث کی توجیہ اور اسباب معلوم کرنے کے طریقہ کار کو methodological naturalism کہا جاتا ہے۔ یہی طریقہ کار توحید پر مبنی نظریہ علم اور مشرکانہ تصورِ علم کے درمیان نکتۂ نزاع ہے۔ یہ طریقہ کار آخر جدید سائنس کی بنیادی خاصیت کیوں اور کیسے بنی ؟ فلسفۂ سائنس کے ماہرین کے مطابق اس کی وجہ Pragmatism ہے۔ یعنی اس علم نے کائنات اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کی توجیہ پیش کرتے ہوئے عملی اطلاقات اور تجربات و مشاہدات کی مدد سے اپنے نظریات اور اعتقادات کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ سائنس دانوں کی نظر میں اس کائنات کی ہر شے دوسری سے ایسے جڑی ہوئی ہے کہ ان کا یہ باہمی تعلق ہمیں کم سے کم چیزوں کا سہارا لے کر ان واقعات کی توجیہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اب ایسے میں کسی ماورائے عقل ذات (مثلا فرشتے یا خدا) کے حوالے کی ضرورت کیوں کر پیش آ سکتی ہے۔ ایسا حوالہ بظاہر کائنات کے بارے میں مزید معلومات کی فراہمی کے پراسس کو کم رفتار بلکہ غیر بار آور بنا دیتا ہے؛ کیوں کہ اس حوالے کے بعد تجسس اور مزید تحقیق کی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔ 
حصولِ علم کے اس طریقہ کار کا مذہبی عقائد سے واضح تصادم پایا جاتا ہے بالخصوص اس رائے کے مطابق کہ نظامِ اسباب کے ہوتے ہوئے بھی خدائے تعالی براہ راست اس جہان میں بعض اوقات کچھ افعال کردیتے ہیں۔ مثلا معجزات ، سیلاب ، زلزلے ، لاوا پھٹ جانا، بظاہر اسباب کارآمد نہ دِکھتے ہوئے کسی بندے کی دعا قبول کرلینا ، یا اس کا برعکس کہ اسباب کی مساعدت کے باوجود کسی کام کا نہ ہو پانا، ادویات نہ ہونے کی صورت میں صحت دینا ، یا اس کے برعکس صورت وغیرہ ۔ ان تمام صورتوں میں مذہب کی تعلیم کا سارا استناد ما ورائے عقل ہستی پر ہے جب کہ سائنس اس سے مخالف سمت میں جا کر ایسی ماورائے عقل ذات کا حوالہ تسلیم کر کے خود کو مطمئن نہیں کر رہی۔ ایسے مسائل مذہب اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کے واضح مظاہر ہیں۔ لہذا نئی ایجادات کے استعمال کے فقہی جواز کی بنیاد پر اس اساسی اور عقائدی تضاد کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔ اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کائنات کے طبیعیاتی حقائق یا مشاہداتی مطالعے کے نتائج اور خدا کے وجود سے لے کرنظامِ کائنات کے اندر اس کے براہِ راست عمل دخل تک مذہبی اعتقادات کےدرمیان تضاد کے سوال پر غور و فکر کیا جائے۔ غور و فکرکا یہ عمل اپنے عقائد پر غیر متزلزل ایمان کے علاوہ سائنس ، فلسفہ اور دیگر کئی پہلوؤں سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ اس دوران کائنات کے سائنسی مطالعے سے متعلق مواد Natural Theology سے ملے گا۔ Natural Theology ،آسان لفظوں میں ، کائنات کے مشاہدے ، علم و فہم اور عقل و تعلیل پر مبنی مطالعے کانام ہے۔ تھیولوجی کی یہ قسم Revealed Theology سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں غور و فکر کا سارا عمل صرف مذہبی معتقدات پر مبنی ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نیچرل تھیولوجی میں خدا کے وجود کا اثبات معروضی حقائق یعنی کائنات، اسباب اور عقل کی مدد سے ہوتا ہے جب کہ ریویلڈ تھیولوجی کے اندر اس مدعا کو مذہبی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ 
خدا کے وجود ، طاقت اور صفات پر ایک اہم دلیل جو نیچرل تھیولوجی سے دی جاتی ہے، وہ انگریزی لٹریچر میں Argument from Design یا Teleological Argument یا دیگر مختلف ناموں سے یاد کی جاتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم مصنوع ہے اور ہر مصنوع کے لیے صانع کا ہونا ضروری ہے، لہذا اس عالم کا ایک صانع ہے جو کہ خدائے عز وجل ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات کائنات میں غور وفکر کی دعوت دیتی ہے۔ گویا یہ طرزِ استدلال ان تمام آیات کے موافق ہے۔ یہ دلیل فلاسفۂ یونان سے لے کر آج تک دی جاتی رہی ہے۔ اس دلیل کے حق اور نقد دونوں میں بہت کچھ بسط و تفصیل کے ساتھ لکھا جا چکا ہے۔ اس دلیل کے حق میں انگریزی زبان میں ایک مشہور کتاب ولیم پے لے کی Natural Theology or Evidence of the Existence and Attributes of the Deity Collected from the Appearances of Natureہے   جو انیسویں صدی کے اوائل میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب نے انیسویں صدی میں عیسائی دنیا میں اس دلیل کی مقبولیت میں کافی کردار ادا کیا تھا۔ چنانچہ اس وقت رائج سائنسی نظریات کو درست ماننے کے باوجود اس طرزِ استدلال کے مطابق خدا کے وجود پر دلائل و شواہد پر مشتمل “Bridgewater Treatises” کے نام سے آٹھ جلدوں کا ایک مجموعہ تیار کرایا گیا جو ۱۸۳۳ سے ۱۸۴۰ کے درمیان چھپ گیا تھااور حال ہی میں مشہور طباعتی ادارے کیمبرج یونیورسٹی پریس نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ نیچرل تھیولوجی کی یہ کتاب انسان ، جانور اور کائنات کی دیگر اشیا کا مختلف پہلووں سے مطالعہ کر کے اس کائنات کے صانع کے وجود پر استشہاد و استدلال کرتی ہے۔ اس دلیل کا فلسفیانہ بنیادوں پر تنقیدی جائزہ ڈیوڈ ہیوم نے اپنی کتاب “Dialogue Concerning Nature” میں جب کہ سائنسی بنیاد پر ڈارون نے اپنے مشہور نظریۂ ارتقا میں لیا ہے۔ بہر حال یہ دلیل ، جو خدا کے وجود سے باغی سائنسی نظریات کا توڑ پیش کرنے معاون ہو سکتی ہے، ایک اہم بحث کے طور پر ہمیشہ سے ہمارے علم الکلام کے نصاب میں شامل رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری گفتگو اب تک اس بحث میں ہونے والی پیش رفت اور رائج تصورات سے ہی متعلق ہو۔ 
دوسراا ہم سوال ’قوانینِ فطرت‘ یا — خدا کو ماننے والوں کی تعبیر کے مطابق— ‘Laws of God’ یعنی ’اللہ کی سنتوں‘ سے متعلق ہے۔ ایک اشکال اس بارے میں یہ ہے کہ کیا یہ ’قوانینِ فطرت‘ ازلی و ابدی ہیں؟ یعنی کیا ہمیشہ سے ایسے قوانین موجود رہے ہیں جن کے مطابق یہ کارخانۂ عالم چل رہا ہے اور ہم صرف ان قوانین کو دریافت ہی کر نے کی کوشش میں لگے ہیں۔ یا ہم اس نظا م کو چلتے ہوئے دیکھ کر اپنے مشاہدے کی مدد سے کچھ قوانین تشکیل دے رہے ہیں جو ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ، مزید تحقیق کے نتیجے میں ، نئی شکل میں مرتب ہوں۔ کیا اس دنیا میں ایسی دوسری کوئی ہستی بھی ہے جن کے نزدیک اس کائنات اور نظام کی توجیہ کا عمل ہم سے مختلف ایک دوسرے طریقے سےیا بالکل ہمارے جیسے ہو رہا ہو؟ دوسرا سوال یہ کہ کیا یہ ’قوانینِ فطرت‘ یا ’اللہ کی سنتیں‘ زمان و مکان کے اعتبار سے متعین یعنی ناقابل منسوخ اور آفاقی ہیں، جن کا اطلاق ہر وقت اور ہر جگہ رد وبدل کی گنجائش کے بغیر ایک جیسا ہوتا رہا ہے اور ہوتے رہنا ضروری اور لازمی ہے؟ اسلامی نقطہ نظر سے ایک رائے تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت ﴿وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا﴾(الأحزاب ۶۲) کے مطابق خدا کی سنتیں ناقابل تبدیلی ہیں؛ لہذا اس کائنات کا نظام ایسے قوانین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جو کبھی بھی تبدیلی کی گنجائش نہیں رکھتے، سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ان قوانین کو صرف دریافت اور سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں سے دروازہ ایک اور بحث کی طرف کھلتا ہے کہ کیا انسانی فہم اور علم معروضی ہے یعنی کائنات اور اس نظام کو اور ان قوانین کو انسان جیسے سمجھ رہا ہے، درحقیقت بھی ایسا ہی ہے؟ یا انسانی فہم و علم ایک اضافی حیثیت رکھتے ہیں جو ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں مزید تحقیق اور اصلاحات کے نتیجے میں بالکل ایک نئی اور مختلف صورت میں سامنے آئے۔ اس پر بھی سائنس دانوں اور فلاسفہ کی طویل بحثیں ہوئی ہیں۔ بہر حال ایسے کئی مسائل ہیں جو سائنس اور فلسفے کے مباحث سے جنم لے چکے ہیں اور مسلمان اہل علم سے ان کا جواب طلب کیا جا رہا ہے۔ ذیل میں کئی ایک ایسے سوالات یا مباحث کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کو نصاب میں رائج علم الکلام کےنصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ 

اولا: کائنات کی تخلیق کب اور کیسے ہوئی؟

پہلا اور اہم سوال اس کائنات کی تخلیق اور اس تخلیق کے طریقۂ کار اور ارتقائی مراحل سے متعلق ہے کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی ، تخلیق کے مراحل کب اور کیسے طے ہوتے رہے اور کائنات جب تخلیق ہوئی تو کیسے تھی اور اب کیا اس میں تبدیلی آ رہی ہے؟ اگر تبدیلی آ رہی ہے تو کیسے اور کن اسباب کے تحت تبدیلی کا یہ عمل انجام پاتا ہے؟  اس سوال کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خود قرآن کی کئی آیات اس بابت آئی ہیں۔ قرآن کریم اللہ تعالی کو مختلف ناموں خالق، فاطر، مصور وغیرہ سے یاد کر کے خدا کے وجود ، طاقت اور دیگر صفات کے اقرار کو ایمان کی اولین سیڑھی قرار دیتا ہے۔ امام بخاری نے آج سے سیکڑوں سے سال قبل اس موضوع سے متعلق صحیح اور مستند حدیثیں اکٹھی کرکے اپنی کتاب میں ”كتاب بدء الخلق“ کے عنوان سے بحث کی ہے۔ مسلمان اہل علم احداث ، ابداع ، خلق اور تکوین جیسی اصطلاحات کی مدد سے اپنا بیانیہ تشکیل اور اس کی تفصیل دیتے آ رہے ہیں۔ اس کے بالمقابل سائنسدان بگ بینگ کا نظریہ پیش کرتے ہیں  جس کے مطابق کائنات کی پیدائش ایک انتہائی کثیف اور آتشی حالت میں ایک زبردست دھماکے کے نتیجے میں ہوئی تھی، اور اب حالت یہ ہے کہ کائنات Dark energy کی بدولت روز بروز پھیلتی جا رہی ہے۔ کائنات کی تخلیق سے متعلق اس نظریے کا سارا دار ومدار انرجی اور نظامِ اسباب کے باہمی تفاعل پر ہےجس میں خدا کے وجود اور طاقت و قدرت کا بالکل بھی اعتراف نہیں۔ اس لحاظ سے یہ مسئلہ محض نیچرل سائنسز کی دنیا کی تفریح نہیں بلکہ ایمان کا جز بنتا ہے اور معاصر سائنسی نظریات مثلا بِگ بینگ تھیوری ، نظریۂ ارتقا وغیرہ کا تنقیدی جائزہ اور معقول جواب وقت کی اہم ضرورت بنتا ہے۔

ثانیا: نظریۂ تسخیر یا کائنات میں انسان کا مقام کیا ہے؟

اسلامی فلسفے کی ایک دلچسپ بحث اس کائنات کی معنویت اور اس نظام کو کھڑا کر نے کے پیچھے اغراض و مقاصد سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ امام غزالی نے ”الحكمة في مخلوقات الله“ میں اسی پہلو سے بحث کی ہے۔ امام غزالی نے اس کائنات کی توضیح کرنے کے بعد اس نظام کے اندر انسانی زندگی کے لیے پنہاں خوبیاں بتلائی ہے۔ اس کے مقدمے میں امام غزالی لکھتے ہیں: اگر اس کائنات پر غور کریں تو یہ ایک گھر کی مانند ہے۔ آسمان اس کی چھت ، زمین اس کا فرش ، سورج چاند ستارے اس میں لٹکائے گئے چراغوں کی طرح ہیں، اور انسان کو اس گھر کا ’مالک‘ بنایا گیا ہے   جہاں اس کی ضروریات کی ہر چیز مہیا کی گئی ہے۔ امام غزالی مزید یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس کائنات کے اندر اس کے بنانے والے کے وجود پر دلالت کرنے کے لیے واضح نشانیاں ہیں۔ جس خوب صورتی کے ساتھ اس کو ڈیزائن کیا گیا ہے اور جس کمال دقت سے اس کی ہر شے مرتب کی گئی ہے، یہ سب اس کے بنانے والے اور اس کمال ترتیب سے شکل و صورت دینے والے ایک ذات پر ہی دلالت کر رہے ہیں۔  قرآنی آیات کی تصریحات کے مطابق یہ کائنات پوری کی پوری محض انسان کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے۔
امام غزالی کی یہ کتاب گویااسی نوع کی آیات کی ایک تفسیر ہے۔ ان آیات کے مطابق کائنات کو انسانوں کے لیے مسخر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ کروڑوں کے حساب سے ستارے ، سیاروں میں کشش ثقل ، ان کے درمیان فاصلے، ہر سیارے کا اپنے مدار اور دائرے میں حرکت اور سورج اور زمین کے اندر کی گرمی ، انوع و اقسام کے گیسوں کا مختلف جگہوں پر مخصوص تناسب سے پایا جانا وغیرہ یہ سب انسانی زندگی کو ممکن بلکہ آسان بنانے کے لیے ہی کیا گیاہے۔ کائنات کی چھوٹی سی چھوٹی چیز سے لےکر بڑی سے بڑی چیز تک ہر شے کو اس کمال دقت و باریک بینی اور انسانی زندگی کے لیے اسی موجودہ حالت میں مفید ہونے کو دیکھ کر فزکس کے ایک مشہور عالم فریمن ڈائسن نے کہا تھا کہ کائنات یوں بنی ہے گویا یہ جانتی تھی کہ اس میں رہنے کے لیے ہم انسان آنے والے ہیں۔ اس کو Anthropic Principle یا Fine-tuned آئیڈیا کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات تسخیر کے علاوہ وہ آیتیں بھی Fine-tuned آئیڈیا کے لیے بنیاد بن سکتی ہے جس میں اس دنیا کی مخلوقات کے لیے ’تقدیر‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مثلا ’’جس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کو ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے” (الفرقان ۲)، یا ”ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔ ” (الرعد: ۸) 
مذہبی حدود و قیود سے آزاد سائنس کئی سوالات سامنے رکھتی ہے۔ کیا واقعی ایسی کوئی ہستی موجود ہے جس نے اتنی بڑی اور روز بروز وسیع سے وسیع تر ہونے والی کائنات کوایک انسانی زندگی کی خاطر بنایا ہے، یا یہ سب کچھ “فطرت کے قوانین” کے تحت چل رہا ہے؟ کیا خدا ان قوانین سے ما ورا ہوکر بھی کائنات میں عمل دخل رکھتا ہے؟ اگر خدا موجود ہے تو کیا وہ قوانین فطرت کے ہاتھوں مجبور تھا کہ کائنات کو اسی انداز سے بنایا یا وہ اس سے مختلف صورت میں بھی بنانے پر قدرت رکھتا تھا؟ اس کے علاوہ کچھ سائنس دان یہ خیال رکھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ کائنات صرف یہی ہو جس میں ہم بستے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ایک دوسری بلکہ متعدد کائناتیں ہوں جہاں مرکزی و محوری شے انسان یا انسانی زندگی نہ ہو۔ اس کو “Idea of Multiverse” کہتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق ضروری نہیں کہ قوانین فطرت سے آزاد ایک ذات نے پوری کی پوری کائنات انسان کے لیے ہی مسخر کردی ،بلکہ یہ کائنات ، جس کا اب تک مشاہدہ کیا جا چکا ہے، قوانین فطرت کے تحت اپنے تئیں چل رہی ہے  جس کے ساتھ یہ امکان ہے کہ اس کے علاوہ بھی مزید کائناتیں ہوں جہاں کی ہر شے انسانی زندگی کی خاطر نہ سجی ہو۔ قرآن کریم یا Revealed Theology خدا کی ذات کے حوالے سے “موجود، حی ، قدیر ، علیم ، مالک، رب، کلمۂ کن”  وغیرہ اصطلاحات استعمال کر کے خدا کے وجود ، لامحدود قدرت، بے انتہا علم سے متعلق اپنا موقف واضح انداز میں دے رہی ہیں۔ 

ثالثا:  انسان اور نظریۂ ارتقا

نظریۂ ارتقا کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کی ابتدا ایک دوسرے مخلوق سے ہوئی تھی ، ارتقا اور مختلف تبدیلیوں کے عمل سے گذر تے ہوئے موجودہ ، اور ترقی یافتہ ، صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ نظریۂ ارتقا انیسویں صدی کے نصف اخیر میں متعارف ہوا تھا جب Charles Darwin نے ۱۸۵۹ میں اپنی کتاب On the Origins of Species لکھ کردنیا کے سامنے پیش کی۔ ارتقا کا یہ تصور بظاہر واضح طور پر قرآن کریم کی ان آیات سے متصادم ہے جن میں انسانی زندگی کی پیدائش اور ارتقا کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم کی تفصیلات کے مطابق انسانی زندگی کی ابتدا حضرت آدم سے ہوئی۔ ابتدا میں انسانی قد موجوہ انسانوں کے قد سے لمبے تھے، اسی طرح اور بھی جسمانی تبدیلیاں شاید واقع ہوئی ہوں، مگر انسان کی ابتدا انسان سے ہی ہوئی ، کسی دوسری مخلوق سے نہیں۔ قرآن کریم کی اس قدر واضح تصریحات کے باوجود بھی عام ، بالخصوص تعلیم یافتہ ، لوگوں کا نظریۂ ارتقا سے متاثر ہونا  ’معاصر متکلم‘ کے لیے ہرگز ایک چیلنج سے کم نہیں۔ یہاں ہر گز یہ نہیں عرض کیا جا رہا کہ قرآنی عقیدے کی اساس نیچرل تھیولوجی یا بیا لوجی پر رکھنا ضروری ہے، بلکہ قرآنی عقیدے کے لیے یہ بالکل کافی ہے کہ انسانی زندگی سے متعلق یہ تفصیلات خود انسانوں کے خالق نے بتائی ہیں، جو اپنی صحت و استناد میں ہر گز نیچر اور کائنات سے متعلق تغیر پذیر انسانی تحقیق کی محتاج نہیں۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ نیچرل تھیولوجی کے مفروضات و مسلمات کی مدد سے ہی ’جینیاتی تبدیلیوں‘ پر مبنی اس تصورِ ارتقا کا تنقیدی جائزہ لیا جا ئے، جیسا کہ امام غزالی نے فلسفے کے اصول و مسلمات کی بنیادپر ہی فلسفیانہ معتقدات کا تنقیدی جائزہ لیا تھا۔
قرآن کے ظاہر کے مطابق صرف حضرت آدم کو اولین انسان ماننا، ان سے پہلے کسی انسان کا موجود نہ ہونا اور ’جینیاتی تبدیلی‘ کو صرف نوع کی سطح تک تسلیم کر کے جنس کی سطح پر مؤثر نہ ماننا یعنی ’جینیاتی تبدیلیوں‘ سے ایک نوع کے افراد مثلا انسانوں کے قد وغیرہ تو متاثر ہو سکتے ہیں، اس کو ایک جنس سے دوسری جنس مثلا جانور سے انسان یا اس کا عکس میں مؤثر ہونا تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کو معاصر زبان میں Creationism Idea سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان تصورات کی بنیاد پر انسان کو کائنات کی ایک ممتاز مخلوق ، جس کی ابتدا کسی دوسری مخلوق سے نہیں ہوئی ، سمجھ کر اور اسی کو کائنات کا محور و مرکز ماننے کو Human Exceptionalism کی اصطلاح سے یاد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے واضح الفاظ میں انسان کو خدا کا ’خلیفہ‘ قرار دیا ہے۔ یہاں ’شیطان‘ کے حوالے سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ انسان کو اتنے بڑے مرتبے پر فائز کر کے اس پر ’شیطان‘ نامی مخلوق کو کیوں مسلط کر دیا گیا جس کے بہلاوے میں آکر انسان خداکی طرف سے عذاب کا نشانہ بن جاتا ہے؟ اس دنیا کو دار الامتحان بنانے میں آخر کار کیا حکمت تھی؟ اس جیسے اور بھی اعتراضات ہیں جو اہمیت کے اعتبار سے موجودہ علم الکلام کے نصاب کا حصہ ہونا ضروری ہےاور جدید ذہن وفکر کو عقل و نظر کی درست سمت پر ڈالتے ہوئے انجام کار و نتائج سے آگاہ کر کے ایسے دعاوی سے متاثر نہ ہونے دینا چاہیے جو  سرسری تجربے اور مشاہدے پرمبنی ہمیشہ بدلتے رہنے والے ہوں اور اس کی صحت کچھ ہی وقت بعد واضح ہونےوالی ہو۔ 

رابعا: معجزات کا مسئلہ 

معجزات کی فنی اعتبار سے جو بھی تعریف کی جائے، اس کی اساس میں یہ عنصر شامل ہے کہ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں قوانین فطرت کی واضح خلاف ورزی پائی جاتی ہے اور سائنسی ذہن کا ماننا یہ ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں۔ مثلا سائنس کا عام اصول یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ہاتھ سے کچھ کنکریاں گرنے دیں گے تو کشش ثقل کے اصول کے مطابق ان کنکریوں نے زمین پر گرنا ہے، لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ   کسی نبی کے ہاتھ سے، معجزاتی طور پر، یہ کنکریاں زمین پر گرنے کی بجائے ہوا میں ہی معلق رہیں؟ مذہبی تعلیمات کے مطابق ایسا بالکل ممکن ہے جب کی سائنس اپنے اصولوں کی واضح خلاف ورزی دیکھ کر اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قوانین فطرت اور معجزات کے مسئلے کو معاصر محققین نے اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا ہے۔ مثلا Zygon: Journal of Religion and Science کے عنوان سے شائع ہونے والے مجلے کا دسمبر ۲۰۰۴ کا شمارہ اسی مسئلے کے لیے مختص کیاگیا۔ (مقالات کی فہرست اور ملخصات کے لیے اس ویب سائٹ کو وزٹ کیجئے:
http://www.zygonjournal.org/issue2004_4.html)
 اس کے علاوہ بھی یورپ اور مغرب سے مشہور مجلات کے خصوصی شمارے شائع کیے گئے ہیں بلکہ مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایسی کتابوں میں سائنسی مباحث کے مقابلے مذہب کا مقد مہ عیسائیت کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہوتا ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے سائنس اور معجزات کے مسئلے کو ابصار احمد بھی اپنے ایک مقالے میں زیر بحث لائے ہیں۔ ان کا یہ مقالہ پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے کے مشہور مجلہ ’ الحکمت‘ کے ۲۰۰۳ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس کی الیکٹرانک کاپی اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:
http://pu.edu.pk/home/journal/11/v_23_2003.html
ان چار مسائل کے علاوہ بھی ایسے حساس موضوعات کا پایا جانا ممکن ہے جو براہ راست مذہبی عقائد سے متصادم ہوں۔ایسے مسائل عام تعلیم یافتہ آدمی کے ذہن کو، جو اگر اسلام کے اصولوں سے واقف نہ ہو ،  ضرور متاثر کر سکتے ہیں۔ اس تاثر کے عام ہونے اور ایک ناقابل تبدیل اصول کی صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی ضروری ہے کہ اس کا تدارک کیا جائے اور علمی اور تحقیقی نوعیت کا مواد فراہم کر کے غور وفکر کے عمل کو جاری اور آسان بنایا جائے۔ 

تبلیغی جماعت کا بحران

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام کراچی میں گزارنے کا معمول ایک عرصہ سے چلا آرہا ہے۔ اس سال بھی گزشتہ ہفتہ چار پانچ روز کراچی میں رہ کر گیا ہوں جس میں میرا بڑا پوتا حافظ محمد طلال خان بھی ہمراہ تھا۔ اس سفر کی تفصیلات ابھی قلمبند نہیں کر سکا کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ارشاد پر دوبارہ کراچی حاضری ہوئی ہے۔
گزشتہ سفر میں حضرت مدظلہ کے بھانجے مولانا رشید اشرف سیفی کی وفات پر تعزیت کے لیے جامعہ دارالعلوم حاضری ہوئی تو حضرت نے فرمایا کہ اتوار کو تبلیغی جماعت کے موجودہ خلفشار کے حوالہ سے انہوں نے ایک اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں مجھے بھی شریک ہونا چاہیے۔ اس اجلاس کی دعوت اس سے قبل جامعۃ الرشید کے مولانا مفتی محمد کے ذریعہ موصول ہو چکی تھی اس لیے وعدہ کر لیا اور اجلاس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوگئی۔ یہ اجلاس انتہائی ضرورت اور بروقت تھا جس سے نہ صرف ملک بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کو حوصلہ ملا ہے بلکہ پوری دنیا کے اہل دین کے لیے یہ خبر اطمینان کا باعث بنی ہے کہ دین کی عمومی دعوت کی اس عالمی محنت کو جو خطرات درپیش ہیں، ان کی طرف اہل علم کی سنجیدہ توجہ ہے اور وہ اسے مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فکرمند ہیں۔
مجھے اس موقع پر برطانوی اخبار ’’دی انڈی پینڈنٹ‘‘ کی وہ معروف رپورٹ یاد آرہی ہے جس پر پہلے بھی اس کالم میں اظہار خیال کر چکا ہوں کہ اہل مغرب کے نزدیک آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کی دعوت اور وحی الٰہی پر مبنی علوم کی تدریس و تعلیم ان کے فلسفہ و تہذیب کی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اسے وہ ’’شر‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ دی انڈی پینڈنٹ نے جنوبی ایشیا کے دینی مدارس اور عمومی دینی ماحول کو اس ’’شر‘‘ کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اس کے دو بڑے سرچشمے ہیں۔ ایک دارالعلوم دیوبند کا دارالحدیث اور دوسرا بستی نظام الدین کا تبلیغی مرکز۔ اس وقت سے ہمیں یہ بات کھٹک گئی تھی کہ عمومی دینی دعوت کا عالمی عمل و محنت اور قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کا وسیع تر نیٹ ورک اب آئندہ اسلام مخالف قوتوں کا بڑا ہدف ہوں گے۔ چنانچہ دین کی دعوت اور تعلیم کے یہ دو بڑے دائرے اس وقت عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر مسلسل سازشوں کے حصار میں ہیں اور سب سے زیادہ محنت اس بات پر ہو رہی ہے کہ یہ دونوں دائرے اپنے موجودہ کردار اور محنت سے محروم ہو جائیں۔ ایسی محنت کبھی سامنے سے نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کے لیے درپردہ سازشیں اور دام ہمرنگ زمین ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہوا کرتے ہیں، اس لیے اس حوالہ سے انتہائی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات کے موقع پر ہم نے عرض کیا تھا کہ بڑوں کی وفات کے بعد اس قسم کے جال پھیلانے کا موقع ایسے لوگوں کو عام طور پر مل جایا کرتا ہے، اس لیے خطرہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے اس ہمہ گیر عمل کو کسی امتحان اور آزمائش سے دوچار کر دیا جائے۔ اس کے بعد سے مختلف ملکوں بالخصوص بھارت اور بنگلہ دیش سے جو افسوسناک خبریں آرہی ہیں، وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔ مگر یہ بات بہرحال اطمینان کی ہے کہ پاکستان کا داخلی ماحول اس کشمکش سے ظاہری طور پر محفوظ ہے۔ اس تناظر میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم نے اس اجتماع کا اہتمام کر کے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس عمل میں پورے خلوص اور توجہ کے ساتھ شریک ہوں اور اپنا اپنا کردار ادا کریں، بالخصوص:
انتہائی مبارک و متوازن فیصلے ہیں۔ خدا کرے کہ ہم اس عمل کو پورے اخلاص اور محنت کے ساتھ آگے بڑھا سکیں، آمین یا رب العالمین۔

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۲)

محمد عمار خان ناصر

منحرف گروہوں کے فکری رجحانات اور فقہائے صحابہ 

قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور قرآن مجید کے عمومات سے استدلال کے ضمن میں بحث ومباحثہ کا دوسرا دائرہ وہ تھا جس میں فقہائے صحابہ کا سامنا بعض منحرف گروہوں کے اس فکری رجحان سے تھا کہ دینی احکام اور پابندیوں کا ماخذ قرآن مجید میں تلاش کرنے پر اصرار کیا جائے اور اصولاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل تشریعی حیثیت پر سوال نہ اٹھاتے ہوئے بھی عملاً احادیث میں منقول احکام وہدایات کو زیادہ اہم نہ سمجھا جائے۔ اس رجحان کی پیشین گوئی اور اس کے حوالے سے تنبیہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر فرمائی تھی، جیسا کہ ماسبق میں نقل کی گئی بعض احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ 
عہد صحابہ میں یہ انداز فکر خوارج اور بعض دیگر منحرف گروہوں کی طرف سے سامنے آیا۔ نصوص کے فہم اور ان سے استدلال کے ضمن میں خوارج کا بنیادی رجحان حرفیت، یعنی کلام کے بالکل ظاہری اور لفظی معنی پر اصرار سے عبارت تھا۔ اس رجحان کے تحت انھوں نے جنگ صفین میں حکمین کی تقرری کو قبول کرنے پر ’ان الحکم الا للہ‘ سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا علی اور ان کے ساتھیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا (تاریخ الامم والملوک، ۱/۱۱٠۴، ۱۱٠۷، ۱۱۱۳) اور اسی نقطہ نظر کی توسیع کرتے ہوئے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے مسلمانوں کی تکفیر اور جہنم سے نکالے جانے کے امکان کو کلیتاً مسترد کرنے کا موقف اختیار کیا۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۴۳۹؛ طرح التثریب، ۸/۲۷۸؛ شرح مشکل الآثار ۱۴/۳۴۶)
خوارج کے ہاں حرفیت کے رجحان کا ایک ظہور بہت سی ایسی احادیث کے انکار کی صورت میں بھی ہوا جو بظاہر قرآن مجید کی کسی آیت سے ٹکراتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ خوارج نے اس نوعیت کی احادیث کو رد کرنے کے لیے قرآن مجید کے ظاہر کو اپنا بنیادی مستدل قرار دیا۔ مثال کے طور پر وہ قیامت کے دن نیک لوگوں کی سفارش پر گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے جانے کے متعلق احادیث کو یہ کہہ کر رد کرتے تھے کہ یہ قرآن مجید کے خلاف ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ دوزخی جب دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو انہیں دوبارہ آگ میں دھکیل دیا جائے گا (الحج ۲۲:۲۲)۔ اسی طرح قرآن کریم میں مومنوں کو دعا سکھائی گئی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ اے ہمارے رب! تو نے جس کو آگ میں داخل کیا تو اسے رسوا کر دیا اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (آل عمران ۱۹۳:۳) (مسلم، کتاب الایمان، باب باب ادنی اہل الجنۃ منزلة فیہا، رقم ۴۷۳) ان آیات سے خوارج یہ استدلال کرتے تھے کہ جس شخص کو بھی، چاہے وہ کافر ہو یا مومن، جہنم میں داخل کیا جائے گا، اسے کسی بھی حال میں اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا۔ 
حرفیت ہی کے رجحان کے تحت خوارج نے بہت سے امور میں ایسے شرعی احکام کو قبول کرنے سے بھی انکار کیا جو مشہور ومعروف احادیث سے تو ثابت تھے، لیکن قرآن مجید میں مذکور نہیں تھے یا قرآن کے ظاہری حکم میں تحدید وتخصیص کا تقاضا کرتے تھے۔ ابن حجر نے اس ضمن میں خوارج کے رجحان کا بنیادی نکتہ یوں واضح کیا ہے:
ھم فرق کثیرۃ، لکن من اصولھم المتفق علیھا بینھم الاخذ بما دل علیہ القرآن ورد ما زاد علیہ من الحدیث مطلقا (فتح الباری، ۱/۳۹۶)
“خوارج کے مختلف فرقے ہیں، لیکن ان کے متفقہ اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جتنا حکم قرآن نے بیان کیا ہے، اسے لے لیا جائے اور حدیث میں اس سے متعلق جو اضافے وارد ہوئے ہیں، انھیں مطلقاً رد کر دیا جائے۔”
اس رجحان کے حوالے سے خوارج کے مختلف گروہوں سے منقول بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ماہواری کی حالت میں فوت شدہ نمازوں کی قضا سے مستثنیٰ قرار دیا۔ خوارج اس استثناءکو نماز کی فرضیت اور فوت ہو جانے کی صورت میں نماز کی قضا کے حکم کے منافی سمجھتے تھے اور ماہواری سے پاک ہونے پر ان دنوں کی نمازوں کی قضا کو بھی خواتین پر لازم قرار دیتے تھے۔ (بخاری، کتاب الحیض، باب لا تقضی الحائض الصلاة، رقم ۳۱۷)
۲۔ مشہور ومعروف احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے مکمل وضو کے بعد موزے پہننے کی صورت میں وضو کی تجدید کرتے ہوئے پاﺅوں کو دھونے کے بجائے موزوں پر مسح فرمایا اور اس سے متعلق مختلف ہدایات دیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب المسح علی الخفین، رقم ۶۳۲-۶۲۲؛ باب التوقیت فی المسح علی الخفین، رقم ۶۴۱-۶۳۹) تاہم خوارج وضو میں موزوں پر مسح کرنے کے منکر تھے اور ان کا استدلال یہ تھا کہ قرآن مجید میں وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے پاوں کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے موزوں پر مسح کرنا قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔ (نیل الاوطار، ۱/۲۲۴)
۳۔ تیسری طلاق کے بعد قرآن نے یہ پابندی عائد کی ہے کہ عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور اگر وہ بھی اسے طلاق دے دے تو پھر باہمی رضامندی سے وہ اور اس کا سابقہ شوہر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ (البقرة ۲:۲۳٠) بظاہر الفاظ کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ دوسرے شوہر سے صرف عقد نکاح ہو جانا کافی ہے، تاہم ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک دوسرا شوہر بیوی سے ہم بستری نہ کر لے، وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔ (بخاری، کتاب الطلاق، باب اذا طلقہا ثلاثا ثم تزوجت بعد العدة زوجا غیرہ فلم یمسہا ، رقم ۵٠۳۱) خوارج کے بعض گروہ اس کو قبول نہیں کرتے تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ اگر دوسرا شوہر محض ایجاب وقبول کے بعد بھی عورت کو طلاق دے دے تو وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔ (ابن قدامہ، المغنی، ۷/۳۹۸) (۱)
۴۔ خوارج نے عموماً شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کرنے اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو قبول کرنے سے انکار کیا، کیونکہ قرآن مجید میں ایسا کوئی فرق نہیں کیا گیا اور زانی مرد وعورت کے لیے مطلقاً سو کوڑے کی سزا بیان کی ہے۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۱٠۸، ۳/۲۶۳)
۵۔ اسی طرح انھوں نے پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے کو جائز قرار دیا اور اس ضمن میں احادیث میں وارد ممانعت کو قبول نہیں کیا، کیونکہ قرآن مجید میں ظاہراً صرف دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی پابندی بیان کی گئی ہے۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۱۳۴، ۱۳۵)
۶۔ قرآن مجید میں چوری کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹنے کی سزا بیان کی گئی ہے اور اس ضمن میں کوئی مزید قید یا تحدید بیان نہیں کی گئی۔ خوارج نے اس سے یہ اخذ کیا کہ ہاتھ کا لفظ چونکہ پورے بازو کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے چور کا ہاتھ کندھے کاٹ کر الگ کیا جائے گا۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۴۲۱) اسی طرح انھوں نے اس پر اصرار کیا کہ ہاتھ کاٹنے کے لیے مسروقہ مال کی قیمت کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا اور معمولی سے معمولی چیز کی چوری پر بھی یہ سزا نافذ کی جائے گی۔ (طرح التثریب، ۸/۲۳،۲۴) یوں انھوں نے ان احادیث کو رد کر دیا جن میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ گٹے سے کاٹا اور ہاتھ کاٹنے کے لیے یہ شرط بیان کی کہ چور نے اتنی مالیت کی چیز چرائی ہو جس کی قیمت کم سے کم ایک ڈھال کے برابر ہو۔ 
۷۔ قرآن مجید میں قتل خطا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی مومن کو قتل کر دے تو وہ مقتول کے ورثاءکو دیت کرے۔ (النساء۹۲:۴) ظاہراً دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری قاتل پر ہی عائد ہوتی ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قاتل کی عاقلہ یعنی قبیلے کو بھی شریک قرار دیا۔ خوارج قرآن کے ظاہری الفاظ کی بنا پر اس حدیث کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری سرتاسر قاتل پر ہی عائد کرتے تھے۔ (نیل الاوطار، ۷/۹۸)
۸۔ قرآن مجید میں والدین اور اولاد نیز میاں بیوی اور بہن بھائیوں کے ایک دوسرے کے وارث بننے کے احکام بیان کیے گئے ہیں اور بظاہر ان میں کوئی قید مذکور نہیں، (النساء۴:۱٠، ۱۱) تاہم احادیث اور صحابہ کے تعامل سے ثابت ہے کہ وارث اگر اپنے مورث کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اسے وراثت سے حصہ نہیں دیا جائے گا۔ اس تخصیص کے، بظاہر قرآن کے عموم کے خلاف ہونے کی وجہ سے خوارج نے اسے قبول نہیں کیا اور ان کی رائے یہ تھی کہ عمداً مورث کو قتل کرنے والا بھی وراثت میں حصہ دار ہوگا۔ (المغنی، ۹/۱۵٠)

فقہائے صحابہ کا اسلوب استدلال

اخذ ہدایت میں قرآن کریم پر انحصار کرنے یا قرآن کے ظاہر سے استدلال کرتے ہوئے احادیث کو ترک کر دینے کے اس رجحان کے مقابلے میں فقہائے صحابہ وتابعین کے موقف کا بنیادی اور اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ کتاب اللہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی واجب الاتباع ہے اور ہدایت کا ماخذ ہونے میں قرآن اور سنت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ 
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے جسم کو گدوانے والی، ابروؤں کو باریک کرنے والی اور دانتوں میں مصنوعی طور پر فاصلہ پیدا کرنے والی خواتین پر لعنت کی تو ام یعقوب نے اس پر تعجب ظاہر کیا۔ ابن مسعود نے کہا کہ جس پر اللہ کے رسول نے لعنت کی ہو، اور وہ بات اللہ کی کتاب میں بھی ہو، میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں؟ ام یعقوب نے کہا کہ بخدا، میں نے پورا قرآن پڑھا ہے، لیکن یہ بات مجھے اس میں نہیں ملی۔ ابن مسعود نے کہا کہ اگر تم نے صحیح معنوں میں پڑھا ہوتا تو مل جاتا۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُم عَنہُ فَانتَہُوا (بخاری، کتاب اللباس، باب المتنمصات، رقم ۵۶۱۸)
ابو البختری الطائی کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سلم کے متعلق پوچھا اور کہا کہ 
انا ندع اشیاءلا نجد لھا فی کتاب اللہ عز وجل تحریما، قال انا نفعل ذلک، نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع النخل حتی یوکل (شرح معانی الآثار، کتاب البیوع، رقم ۳۶۴۵)
“ہم بہت سی ایسی چیزیں بھی ترک کر دیتے ہیں جن کے متعلق اللہ کی کتاب میں حرمت کا حکم ہمیں نہیں ملتا۔ ابن عباس نے کہا کہ ہاں، ہم ایسے ہی کرتے ہیں (کیونکہ اللہ کے رسول کی بیان کردہ حرمت کا حکم بھی وہی ہے جو قرآن کا ہے، اور) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔”
عبد اللہ بن ابی بکر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہمیں کتاب اللہ میں خوف کی حالت میں تو نماز قصر کرنے کا ذکر ملتا ہے، لیکن سفر میں نماز قصر کا ذکر نہیں ملتا؟ ابن عمر نے جواب میں فرمایا کہ
ان اللہ بعث الینا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم ولا نعلم شیئا، فانما نفعل کما راینا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم یفعل (ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب تقصیر الصلاۃ فی السفر، رقم ۱٠۶۹)
’’اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ہمیں کسی بات کا علم نہیں تھا (یعنی ہم نے جو کچھ سیکھا، آپ سے ہی سیکھا)، اس لیے ہم تو ویسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا۔”
ایک خاتون نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ کو ماہواری کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازیں قضا کرنی چاہییں؟ سیدہ عائشہ نے کہا کہ:
احروریۃ انت؟ کنا نحیض مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلا یامرنا بہ (بخاری، کتاب الحیض، باب لا تقضی الحائض الصلاۃ، رقم ۳۱۷)
’’کیا تو حروری (یعنی خارجی) ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں ماہواری آتی تھی تو آپ نے ہمیں (بعد میں) نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیتے تھے۔”
قرآن کے بیان کردہ احکام پر اکتفا کرنے اور احادیث میں وارد احکام کو نظر انداز کرنے کے زاویہ نظر کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے صحابہ وتابعین کے ہاں یہ استدلال بہت عام ملتا ہے کہ خوارج وغیرہ بھی سنت کو ماخذ استدلال مانے بغیر، صرف قرآن پر انحصار کرتے ہوئے بہت سے بنیادی دینی احکام حاصل نہیں کر سکتے۔
ابو نضرة بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث بیان کی تو ایک شخص نے کہا کہ لوگو، اللہ کی کتاب کی بات بیان کیا کرو اور اس کے علاوہ کسی اور کی بات نہ بیان کیا کرو۔ عمران بن حصین نے اس سے کہا کہ تم ایک احمق آدمی ہو۔ کیا تمھیں کتاب اللہ میں یہ بات ملتی ہے کہ ظہر کی نماز کی چار رکعتیں ہیں جن میں جہری قراءت نہ کی جائے؟ پھر انھوں نے نمازوں کی رکعات اور زکوٰة کے نصابات کا ذکر کیا اور کہا کہ :
اتجد ھذا مفسرا فی کتاب اللہ؟ ان اللہ قد احکم ذلک والسنۃ تفسر ذلک (مسند عبد اللہ بن المبارک، رقم ۲۳۴۔ الشریعۃ للآجری، رقم ۹۶)
’’کیا تمھیں یہ ساری تفصیل کتاب اللہ میں ملتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو اصولی طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ سنت ان کی تشریح وتفصیل کرتی ہے۔”
ایک دوسری روایت کے مطابق عمران بن حصین نے فرمایا:
من این تجدون فی کتاب اللہ الصلاۃ الخمس وفی کل مائتین خمسۃ دراھم وفی کل اربعین دینارا دینار وفی کل عشرین نصف دینار؟ اشیاء من ھذا عددھا، ولکن خذوا کما اخذنا (مسند البزار، باب اول حدیث عمران بن حصین، رقم ۳٠۲۱)
’’تمھیں کتاب اللہ میں پانچ نمازوں کا، اور ہر دو سو درہم میں پانچ درہم اور ہر چار دینار میں ایک دینار اور ہر بیس دینار میں نصف دینار زکوٰة لینے کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ عمران بن حصین نے اس نوعیت کی اور باتوں کا بھی ذکر کیا (اور کہا کہ) جیسے ہم نے یہ احکام (سنت سے) لیے ہیں، اسی طرح تم بھی لو۔”
خوارج میں سے دو آدمی عمر بن عبد العزیز کے پاس آئے اور زانیوں کو رجم کرنے اور پھوپھی کے ساتھ بھتیجی یا خالہ کے ساتھ بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی حرمت پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ باتیں قرآن مجید میں نہیں ہیں۔ عمر بن عبد العزیز نے ان سے کہا کہ اللہ نے تم پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ عمر بن عبد العزیز نے ان سے نمازوں کی رکعتوں کی تعداد پوچھی جو انھوں نے بتائی۔ انھوں نے زکوٰة کی مقدار اور نصابات سے متعلق دریافت کیا اور انھوں نے وہ بھی بتا دیے۔ عمر بن عبد العزیز نے پوچھا کہ یہ باتیں تمھیں کتاب اللہ میں کس جگہ ملتی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ کتاب اللہ میں تو نہیں ملتیں۔ عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ پھر تم نے یہ کیسے قبول کی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا ہے اور آپ کے بعد مسلمانوں نے بھی۔ عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ پھر جو باتیں تم پوچھ رہے ہو، ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ (المغنی، ۹/۵۲۳)
جہاں تک قرآن مجید کے ظاہری عمومات سے استدلال کرنے کے رجحان کا تعلق ہے، جس کا ایک نتیجہ بعض صورتوں میں احادیث کو رد کرنے کی صورت میں نکلتا تھا، تو فقہائے صحابہ وتابعین نے اس کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے۔ 
مثال کے طور پر ایک اسلوب یہ تھا کہ جن آیات سے کوئی خاص نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے، ان کے سیاق وسباق اور داخلی دلالتوں یا دیگر آیات کی روشنی میں فہم کی غلطی کو واضح کیا جائے۔ 
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ میں شفاعت کے سخت ترین منکروں میں سے تھا۔ میری ملاقات جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کے سامنے قرآن مجید کی وہ تمام آیات پڑھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ہمیشہ کے لیے آگ میں ڈالے جانے کا ذکر کیا ہے۔ جابر بن عبد اللہ نے کہا کہ اگر میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہو تو یہ بہرے ہو جائیں، آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ جہنم سے نکل آئیں گے۔ جابر نے کہا کہ جو آیات تم پڑھتے ہو، وہ ہم بھی پڑھتے ہیں، لیکن ان سے مراد مشرکین ہیں۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب ادنی اہل الجنة منزلة فیہا، رقم ۴۷۳؛ شرح مشکل الآثار ۱۴/۳۴۹)
خوارج کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مباحثے میں بھی اس اسلوب کی مثال ملتی ہے۔ خوارج کا کہنا تھا کہ اللہ کے علاوہ کسی کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں، اس لیے جنگ صفین میں علی، اپنے اور معاویہ کے مابین ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن العاص کو حکم تسلیم کر کے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ابن عباس نے ان کے سامنے قرآن مجید کی دوہدایات کا حوالہ پیش کیا جن میں فیصلے کے لیے انسانوں کو حکم بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ ابن عباس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں جانور کو شکار کرنے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جیسا جانور کفارے کے طور پر قربان کرے اور اس کا فیصلہ مسلمانوں میں سے دو عادل آدمی کریں گے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے مابین ناچاقی کی صورت میں دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک حکم مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے جو دونوں کے مابین تصفیہ کروانے کی کوشش کریں۔ ابن عباس نے کہا کہ مذکورہ دو معاملات زیادہ اہم ہیں یا ہزاروں مسلمانوں کے خون کی زیادہ اہمیت ہے؟ اس لیے اگر مسلمانوں کی باہمی خونریزی سے بچنے کے لیے کسی کو حکم بنایا گیا ہے تو یہ ان الحکم الا للہ کے خلاف نہیں ہے۔ (نسائی، السنن الکبری، کتاب الخصائص، ذکر مناظرہ عبد اللہ بن عباس الحروریة، رقم ۷۳۴۶)
ایک اسلوب استدلال یہ تھا کہ اختیار کردہ انداز استدلال کے بعض ایسے منطقی نتائج کی طرف توجہ دلائی جائے جو خود مخاطب کو بھی تسلیم نہیں اور اس طرح یہ واضح کیا جائے کہ یہ انداز استدلال درست نہیں۔
مثال کے طور پر خوارج کا سیدنا علی پر یہ اعتراض تھا کہ انھوں نے جنگ صفین میں مدمقابل فریق کے فوجیوں کو قیدی کیوں نہیں بنایا؟ خوارج کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف لڑی جانے والی جنگ شرعاً جائز تھی تو جنگ کے احکام کے مطابق انھیں قیدی بنایا جانا چاہیے تھا۔ فقہائے صحابہ اپنی فقہی بصیرت کی بنا پر اس سے واقف تھے کہ جنگ میں قیدی وغیرہ بنانے کے عمومی احکام کفار کے ساتھ لڑائی کے تناظر میں دیے گئے ہیں، جبکہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں اللہ تعالیٰ کی منشا یہ نہیں ہے، کیونکہ کفار کے خلاف قتال اور شکست خوردہ کفار کی توہین وتذلیل ایک مطلوب امر ہے، جبکہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی سرے سے مطلوب ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اس لیے جنگ میں ہارنے والے مسلمانوں پر قیدی بنانے جیسے احکام نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی منشا نہیں ہو سکتی۔ تاہم خوارج کے ظاہر پرست اور حرفیت پسند ذہن کو اس استدلال پر مطمئن کرنا مشکل تھا، چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں ان کی غلطی اس طرح سمجھائی کہ یہ بتاو¶ کہ کیا جنگ جمل میں ام المومنین سیدہ عائشہ کو جنگ کے نتیجے میں قیدی بنانا اور ان پر باندی کے احکام جاری کرنا درست ہوتا؟ اگر تم کہو کہ ہاں تو قرآن مجید نے امہات المومنین کے بارے میں جو احکام دیے ہیں، یہ بات ان کے خلاف ہوگی اور اگر یہ کہو کہ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیدی بنانے کے احکام عمومی اور ہر لڑائی پر قابل اطلاق نہیں ہیں۔ (نسائی، السنن الکبری، کتاب الخصائص، ذکر مناظرہ عبد اللہ بن عباس الحروریة، رقم ۷۳۴۶)
ایک اور اسلوب یہ تھا کہ زیر بحث مسئلے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد یا عمل کے حوالے سے یہ واضح کیا جائے کہ قرآن سے جو مدعا سمجھا جا رہا ہے، وہ غلط ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعبیر وتشریح فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے بعض اکابر صحابہ کے ہاں سے یہ خاص انداز فکر ملتا ہے کہ وہ قرآن مجید کے متشابہ اور ذو الوجوہ بیانات سے گمراہ گروہوں کے استدلالات کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے جوابی استدلال قرآن کے بجائے سنت سے کرنے کو بہتر اور زیادہ موثر طریقہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ عمر بن الاشج روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے کہا کہ:
انہ سیاتی ناس یجادلونکم بشبھات القرآن، فخذوھم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللہ عزوجل (سنن الدارمی، المقدمۃ، باب التورع عن الجواب فی ما لیس فیہ کتاب ولا سنۃ، رقم ۱۲۱، ۱/۲۴۱)
’’عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمھارے ساتھ قرآن کی متشابہ آیات کی بنیاد پر بحث کریں گے۔ تم ان پر سنن کے ذریعے سے گرفت کرنا، کیونکہ سنن کو جاننے والے اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے ہیں۔”
یہی قول سیدنا علی سے بھی مروی ہے۔ (اللالکائی، شرح اصول اعتقاد اہل السنة والجماعة، رقم ۵۷۱)
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے جب عبد اللہ بن عباسؓ کو خوارج کے ساتھ گفتگو کے لیے بھیجا تو ان سے فرمایا:
اذھب الیہم فخاصمھم وادعھم الی الکتاب والسنۃ، ولا تحاجھم بالقرآن فانہ ذو وجوہ، ولکن خاصمھم بالسنۃ .... فقال ابن عباس یا امیر المومنین فانا اعلم بکتاب اللہ منھم، فی بیوتنا نزل، فقال علی: صدقت، ولکن القرآن حمال ذو وجوہ، تقول ویقولون، ولکن حاجہم بالسنن فانہم لن یجدوا عنہا محیصا (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ۶/۳۳۹)
’’ان کے پاس جاؤ اور ان سے بحث کرو اور انھیں کتاب اور سنت کی طرف دعوت دو، لیکن ان کے سامنے قرآن کریم سے استدلال نہ کرنا، اس لیے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں مختلف معانی کا احتمال ہوتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ سنت کے حوالے سے گفتگو کرنا۔ عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا اے امیر المومنین، میں قرآن کریم کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں، یہ تو ہمارے گھروں میں اترا ہے۔ سیدنا علی نے فرمایا کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن قرآن کریم احتمالات کا حامل ہے۔ تم ایک مطلب بیان کرو گے تو وہ دوسرا مطلب نکال لیں گے۔ تم ان کے ساتھ سنن کی بنیاد پر بحث کرنا، کیونکہ ان سے بھاگنے کی راہ انھیں نہیں مل سکے گی۔”
زبیر بن العوام سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن زبیر کو ہدایت کی کہ 
لا تجادل الناس بالقرآن، فانک لا تستطیعھم، ولکن علیک بالسنۃ (خطیب بغدادی، الفقیہ والمتفقہ ۱/۵۶۱)
’’لوگوں کے ساتھ قرآن کی بنیاد پر بحث نہ کیا کرو کیونکہ اس میں تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، بلکہ سنت سے استدلال کیا کرو۔”

امام شافعیؒ کا نقطہ نظر

فکری ودینی پس منظر

امام محمد بن ادریس شافعی ؒ کی ولادت  ۱۵٠ہجری میں فلسطین کے شہر غزہ میں قریش کے خاندان میں ہوئی۔ یہ وہی سال ہے جس میں ان کے جلیل القدر پیش رَو امام ابوحنیفہ کا بغدادمیں انتقال ہوا۔ ان کے سلسلہ نسب کی نویں کڑی میں مطلب بن عبد مناف کا نام آتا ہے۔ یہ وہی عبد مناف ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے۔ اس مناسبت سے امام شافعی کو ’الامام المطلبی‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ کم عمری میں ہی وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں منتقل ہو گئے اور یہاں انھیں عرب کے مشہور قبیلہ بنو ہذیل کے ساتھ میل جول اور اختلاط کے وسیع مواقع میسر آئے جس نے امام شافعی کو عربی زبان وادب اور بنو ہذیل کے اشعار میں کمال ومہارت پیدا کرنے میں غیر معمولی مدد دی۔
مکہ مکرمہ میں تحصیل علم کی ابتدا کرنے کے بعد ان تک امام مالک کا شہرہ پہنچا جو مدینہ منورہ میں علمی مرجع کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی تصنیف ’الموطا‘ اطراف واکناف میں غیر معمولی شہرت حاصل کر چکی تھی۔ امام شافعی نے اس کا نسخہ حاصل کر کے بغور مطالعہ کیا اور پھر امام مالک سے براہ راست استفادہ کے لیے مدینہ منورہ کی طرف رخت سفر باندھا۔ مدینہ میں انھوں نے امام مالک کے حلقہ تلمذ میں شمولیت اختیار کی اور ۹۷۱ءمیں امام مالک کی وفات تک ان کے حلقہ نشین رہے۔ 
۱۸۴ءمیں بغداد کے ایک سفر میں خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں امام شافعی کا تعارف، امام محمد بن الحسن الشیبانی سے ہوا اور یہیں سے وہ ان کے حلقہ شاگردی میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے طویل عرصے تک امام محمد کی مصاحبت اختیار کی، ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور علمی مسائل پر ان کے ساتھ ان گنت مکالمے اور مباحثے کیے۔ یوں انھیں اپنے دور کے دو بڑے فقہی مراکز، یعنی حجاز اور عراق کے علمی اصولوں اور انداز فکر کو براہ راست ان کے اعلیٰ ترین علمی نمائندوں سے سمجھنے کا موقع ملا اور اہل حجاز اور اہل عراق کی فقہ پر انھیں دسترس حاصل ہو گئی۔
۱۹۵ءمیں امام شافعی دوسری مرتبہ بغداد آئے تو ان کے مستفیدین کی طرف سے ان سے کتاب وسنت سے استدلال واستنباط کے اصول وضوابط سے متعلق ایک تصنیف سپرد قلم کیے جانے کی فرمائش ہوئی۔ چنانچہ معروف محدث عبد الرحمن بن مہدی کی گزارش پر امام شافعی نے کتاب الرسالہ کا پہلا مسودہ تصنیف کیا۔ عمر کے آخری حصے میں، ۱۹۹ھ میں امام شافعی بغداد سے مصر منتقل ہو گئے اور چھ سال تک تصنیف وتالیف اور تدریس سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ۲٠۵ھ میں وفات پائی۔ اس عرصے میں انھوں نے کتاب الرسالہ کا نیا مسودہ تصنیف کرنے کے علاوہ اپنی فقہی تحقیقات اور مناظرات پر مبنی مبسوط کتاب ’’الام ”سپرد قلم کی۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی بہت سی فقہی آراءپر بھی نظر ثانی کی اور نئے غور وفکر کی روشنی میں اپنی قدیم آرا سے رجوع کیا۔ فقہ شافعی میں امام صاحب کی ان دونوں طرح کی آرا کو قول قدیم اور قول جدید کے عنوان سے ذکر کیا جاتا ہے۔ 
اہل عراق اور اہل حجاز سے حصول علم کے اس طویل سفر میں امام شافعی اس نتیجے تک پہنچے کہ ان دونوں مکاتب کے منہج فکر اور آرا میں جہاں اخذ واستفادہ کے غیر معمولی مواقع اور علم وتفقہ کے شاندار مظاہر پائے جاتے ہیں، وہاں بہت سی آرا اور نتائج فکر قابل نقد بھی ہیں۔ ان نزاعی موضوعات کا تعلق زیادہ تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات واخبار کے رد وقبول سے تھا اور امام شافعی کے نقطہ نظر سے اہل عراق اور اہل حجاز، دونوں جہاں بہت سی ایسی روایات کو اپنے اجتہادات کی بنیاد بنا رہے تھے جن کا ثبوت علمی طور پر قابل اطمینان نہیں تھا، وہاں بہت سی صحیح اور ثابت شدہ احادیث کو بعض قیاسی وعقلی اصولوں کی بنیاد پر رد بھی کر رہے تھے۔ امام شافعی نے محسوس کیا کہ ان قابل نقد نتائج فکر کے پیچھے احادیث کے رد وقبول کے حوالے سے عراقی اور حجازی ائمہ کے کچھ اصولی رجحانات کارفرما ہیں اور ان کی غلطی واضح کرنے کے لیے علمی طور پر چند بنیادی اصولی مباحث سے تعرض کرنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے متعدد معاصر اہل علم کی جزوی فقہی آرا پر تنقیدی تحریریں لکھنے کے علاوہ مختلف اصولی مباحث کو بھی اپنا موضوع بنایا اور اصول فقہ کے بنیادی ترین اور اہم ترین مباحث کے حوالے سے اپنے نتائج فکر کو مختلف تصانیف میں بہت واضح اور منضبط انداز میں پیش کیا۔
مورخین میں اس حوالے سے بحث پائی جاتی ہے کہ کیا امام شافعیؒ کو علم اصول کا اولین واضع قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ امام شافعی سے پہلے فقہاءاپنے اجتہادات میں متعین اصول وضوابط کے بجائے شریعت کے عمومی مقاصد کے فہم اور نصوص کے اشارات پر انحصار کرتے تھے اور علمی سرگرمی کی نوعیت ایسی ہوتی تھی جیسے کوئی طبع موزوں رکھنے والا شاعر، علم عروض کے اصول وضوابط کو پیش نظر رکھے بغیر، اپنے طبعی ذوق کی مدد سے شعر گوئی کر لیتا ہے۔ (ابو زہرہ، الشافعی، حیاتہ وعصرہ، ص ۱۸۵) تاہم یہ بات کلی طور پر درست معلوم نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ واجتہاد کے باب میں اصولی نوعیت کے سوالات ومباحث کی روایت امام شافعی ؒ سے پہلے بھی موجود تھی اور امام شافعیؒ نے دراصل اپنے ماحول میں موجود مختلف اصولی مواقف کے تناظر میں ہی اپنی دینی وفقہی فکر کی تشکیل کی اور درپیش سوالات کے حوالے سے اپنا علمی نقطہ نظر پیش کیا تھا۔ اس لیے اگر علم اصول فقہ کے واضع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اصولی سوالات اٹھانے کا کام سب سے پہلے انھوں نے کیا تو یہ بات تاریخی طور پر درست نہیں، البتہ اصول فقہ سے متعلق مختلف مباحث کو مستقلاً موضوع بحث بنانے اور ان پر تصانیف کی ابتدا کے حوالے سے یقینا امام شافعی کو سبقت وفضیلت حاصل ہے اور مثال کے طور پر سنت کی نقل وروایت کی مختلف صورتوں، ان کی درجہ بندی، قبول روایت کے معیارات وضوابط، کتاب اور سنت کے باہمی تعلق، ناسخ ومنسوخ احادیث کی تعیین اور اس طرح کے دیگر سوالات پر مستقل اصولی بحث ہمیں سب سے پہلے امام شافعی کے ہاں ہی دکھائی دیتی ہے۔ 
ان سوالات کے حوالے سے مختلف اصولی نقطہ ہائے نظر یقینا موجود تھے اور فقہی مباحث کے ضمن میں متفرق اور منتشر انداز میں ان کا ذکر بھی اہل علم کی تصانیف میں کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے حجازی روایت میں امام مالک کی الموطا اور عراقی روایت میں امام ابویوسف اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کی تصانیف بطور خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم دستیاب تاریخی مواد کی حد تک امام شافعی سے پہلے اصول فقہ پر کسی مستقل اور باقاعدہ تصنیف کا وجود تاریخ میں نہیں ملتا۔ یوں ایک لحاظ سے اصول فقہ میں امام شافعی کی حیثیت وہی ہے جو فلسفے میں افلاطون کی ہے۔ ان مباحث کا آغاز ان سے پہلے ہو چکا تھا، لیکن انھیں مرتب کر کے پیش کرنے اور ان کا تجزیہ ومحاکمہ کرنے کی روایت کا آغاز امام شافعی سے ہوتا ہے۔ 
قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے ضمن میں امام صاحب نے اپنے موقف کی شرح وبسط کے ساتھ وضاحت الرسالہ میں کی ہے اور عموماً اس حوالے سے الرسالہ ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جو بہت بنیادی اور مفصل ماخذ ہے، لیکن الرسالہ کے علاوہ امام صاحب کی دیگر تصانیف او رخاص طور پر کتاب الام کے مختلف مباحث کے ضمن میں بھی نے اس بحث سے متعلق اہم نکات بیان کیے گئے ہیں جنھیں پیش نظر رکھنا ان کے نقطہ نظر کے جامع فہم کے لیے ضروری ہے۔

قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث

امام شافعی کو قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے ضمن میں جس بنیادی سوال کا سامنا تھا، وہ یہ تھا کہ ان کے ماحول میں مختلف اہل علم اور مذہبی گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض ایسی احادیث کو جن کا استناد علمائے حدیث کے ہاں عموماً ثابت تھا، اس بنیاد پر قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے کہ وہ قرآن کے ظاہری عموم کے خلاف ہیں۔ یہ رجحان، جیسا کہ ہم نے پچھلی فصل میں دیکھا، بعض فقہائے صحابہ سے بھی منقول تھا اور خوارج نے بھی اس اصول کو بہت سی احادیث کے رد کر دینے کے لیے بنیاد بنایا تھا، چنانچہ وہ مثال کے طور پر ہر قسم کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کے قائل اور رجم اور مسح علی الخفین کے جواز کے منکر تھے۔ اس کے علاوہ حجاز میں امام مالک جبکہ عراق میں امام ابوحنیفہ کا مکتب فکر بھی بعض احادیث کی عدم قبولیت کے حوالے سے اس بحث میں فریق تھا۔ ائمہ احناف نے اس اصول کے تحت قضاءبالیمین مع الشاہد کی روایات کو رد کر دیا تھا اور وہ بطور ایک علمی اصول یہ موقف رکھتے تھے کہ قرآن مجید کے ساتھ موافقت، حدیث کی قبولیت کی ایک بنیادی شرط ہے اور کسی ایسی روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست نہیں مانی جا سکتی جو قرآن مجید کے ساتھ ٹکراتی ہو۔ (العالم والمتعلم، ص ۲۵؛ ابو یوسف، الرد علی سیر الاوزاعی، ص ۳۱) 
امام مالک کے ہاں بھی بعض مثالوں میں یہ رجحان دکھائی دے رہا تھا۔ مثلاً روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضر کی حالت میں موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ثابت ہے۔ (سنن ابی داﺅد، کتاب الطہارة، باب التوقیت فی المسح، رقم ۱۵۷) لیکن امام مالکؒ، ایک روایت کے مطابق، ان کی صحت پر مطمئن نہیں تھے۔ چنانچہ ابن القاسم بیان کرتے ہیں کہ ان سے حضر میں موزوں پر مسح کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ “اس کے حق میں تو بس یہ حدیثیں ہی ہیں، کتاب اللہ کا حکم اس کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔”  (ابن عبد البر، اختلاف اقوال مالک واصحابہ، ۱/۶۶)
امام شافعی نے اس موضوع پر امام محمد بن الحسن الشیبانی کے ساتھ اپنے مناظرے کا احوال بیان کرتے ہوئے ان سبھی گروہوں کا حوالہ دیا ہے، چنانچہ مذکورہ مختلف مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
حجتنا حجتک علی من رد الاحادیث واستعمل ظاھر القرآن فقطع السارق فی کل شیء لان اسم السرقۃ یلزمہ، وابطل الرجم لان اللہ عزوجل یقول: الزَّانِیَۃ وَالزَّانِی فَاجلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا مِائَۃ جَلدَۃ، وعلی من استعمل بعض الحدیث مع ھولاء وقال لا یمسح علی الخفین لان اللہ قید القدمین بغسل او مسح، وعلی آخرین من اھل الفقہ احلوا کل ذی روح لم ینزل تحریمہ فی القرآن لقول اللہ تبارک وتعالی: قُل لاَّ اَجِدُ فِی مَا اُوحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطعَمُہُ الاَّ اَن یَکُونَ مَیتَۃ اَو دَماً مَّسفُوحاً اَو لَحمَ خِنزِیرٍ (الام ۱٠/۳۳)
’’ہماری دلیل بھی وہی ہے جو تم ان لوگوں کے خلاف پیش کرتے ہو جو احادیث کو سرے سے ہی رد کر دیتے ہیں اور قرآن کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں کیونکہ اس پر بھی چوری کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ رجم کو نہیں مانتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زانی مرد اور عورت کو بس سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے۔ (تم ان کے خلاف جو دلیل دیتے ہو، وہی دلیل) ان کے خلاف بھی دیتے ہو جو بعض احادیث کو قبول کرتے ہیں (لیکن بعض کو نہیں کرتے)۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ موزوں پر مسح کرنا درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پا¶وں کو دھونے یا ان پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح کچھ اور اہل فقہ ہیں جو ہر اس جانور کا گوشت کھانے کو حلال سمجھتے ہیں جس کی حرمت قرآن مجید میں واردنہیں ہوئی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر، تم کہہ دو کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے، اس میں، میں کسی چیز کو کسی کھانے والے کے لیے حرام نہیں پاتا، سوائے اس کے کہ وہ مردار جانور ہو یا بہنے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔”
قلنا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضی بالیمین مع الشاھد فرددتھا .... ونسبت من قال بھا الی خلاف القرآن (الام ۱٠/۳۷، ۳۸)
“ہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ (مدعی سے) قسم لے کر فیصلہ فرمایا ہے تو تم نے اس کو رد کر دیا اور کہا کہ جو لوگ یہ بات کہتے ہیں، ان کی بات قرآن کے خلاف ہے۔”
اس نوعیت کی مثالوں میں روایات کو رد کرنے کا موقف اختیار کرنے والے حلقے اگرچہ مختلف مذہبی وکلامی پس منظر رکھتے تھے، تاہم روایات کو رد کرنے کی علمی بنیاد عموماً مشترک تھی، یعنی ان کا ظاہر قرآن کے خلاف ہونا۔ یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ خوارج سمیت مذکورہ مکاتب فکر میں سے کوئی بھی نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کامنکر تھا اور نہ قرآن کے مدعا ومنشا کی توضیح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم کو حتمی تسلیم کرنے میں اسے کوئی تردد تھا۔ متعلقہ روایات کو رد کرنے کے لیے ان کے پاس علمی بنیاد یہ تھی یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کسی حدیث کا قرآن کے خلاف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یا تو آپ کی طرف اس کی نسبت ہی درست نہیں، یا اس میں بیان کردہ حکم کو قرآن نے منسوخ کر دیا ہے یا کم سے کم یہ کہ قرآن کے قطعی الثبوت حکم میں ایک ظنی الثبوت حدیث کی بنیاد پر، جس میں غلطی کا پورا امکان ہے، ترمیم یا تبدیلی قبول کرنا علمی طور پر ایک غیر محتاط طریقہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جمہور فقہاءومحدثین کا انداز فکر یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کے کسی حکم سے متعلق کوئی توضیح موجود ہونے کی صورت میں، اس سے صرف نظر کرتے ہوئے قرآن کی ہدایت کا مفہوم مستقلاً متعین کرنا ہی درست نہیں اور آپ کی بیان کردہ توضیح کو قرآن کی مراد کے طور پر قبول کرنا لازم ہے۔
یہ پس منظر تھا جس میں امام شافعی نے اسلامی روایت میں ایک نہایت بنیادی اور مہتم بالشان علمی بحث کی بنیاد رکھی اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی اساسات اور مختلف صورتوں کے حوالے سے اپنے گہرے غور وفکر کو ایک مرتب اور منظم اصولی نقطہ نظرکے طور پر پیش کیا۔ 
زیرنظر سطور میں اسی حوالے سے امام صاحب کے نتائج فکر کا ایک تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

سنت میں وارد احکام کا ماخذ

بحث کی ابتدا میں قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں یہ بنیادی نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کی کتاب کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مستقلاً مطاع کی حیثیت دی گئی تھی اور آپ کی طرف سے، قرآن مجید کے علاوہ بیان کردہ احکام وہدایات کی اتباع کو بھی کتاب الٰہی کی طرح لازم قرار دیا گیا تھا۔ امام شافعی نے بھی متعلقہ آیات واحادیث کی روشنی میں اس بنیادی اعتقادی مقدمے کی وضاحت کی ہے۔ البتہ اس حوالے سے انھوں نے ایک اہم یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی حکم بیان فرماتے تھے، وہ وہ براہ راست وحی پر مبنی ہوتا تھا یا بیان احکام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اجتہاد اور صواب دید کا بھی کوئی دخل تھا؟ دوسرے لفظوں میں کیا سنت محض وحی الٰہی کے ابلاغ کا ایک دوسرا اور متبادل طریقہ ہے اور وحی کے بغیر پیغمبر ازخود کوئی تشریع نہیں کر سکتا یا، اس کے برعکس، پیغمبر کو خداداد اجتہادی بصیرت سے بہرہ ور کر کے تشریع وتقنین کا مستقل اختیار عطا کیا گیا ہے؟
امام شافعیؒ نے اس ضمن میں تین آرا نقل کی ہیں: 
ایک رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب رسول اللہ کی اطاعت کو مسلمانوں پر فرض قرار دیا تو گویا آپ کو یہ اختیار عطا کر دیا کہ جہاں کتاب اللہ کی کوئی نص موجود نہ ہو، وہاں آپ مسلمانوں کے لیے احکام وضع کر سکتے ہیں۔ یوں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضع احکام کا مستقل اختیار حاصل تھا جس کے تحت آپ نے قرآن سے زائد احکام مقرر فرمائے۔
امام شافعی نے اس رائے کے حق میں بعض اہل علم کا یہ استدلال بھی نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا ہے کہ پیغمبر کو اپنی طرف سے قرآن مجید میں کوئی تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں۔ (یونس ۱۵:۱٠) اس کے مفہوم مخالف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی معاملے میں کوئی حکم نازل نہ کیا گیا ہو تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رائے سے کوئی حکم دے سکتے ہیں۔ امام شافعی لکھتے ہیں:
وقال بعض اھل العلم: فی ھذہ الآیۃ، واللہ اعلم، دلالۃ علی ان اللہ عزوجل جعل لرسولہ ان یقول من تلقاء نفسہ بتوفیقہ فی ما لم ینزل بہ کتابا، واللہ اعلم (الام، ۱/۴۴)
’’بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس آیت میں اس بات پر دلالت ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ اختیار دیا ہے کہ جس معاملے میں اللہ نے کتاب میں کوئی حکم نہ اتارا ہو، وہ اس میں اپنی طرف سے کوئی حکم دے سکتا ہے۔”
دوسری رائے یہ ہے کہ سنت میں اس نوعیت کے تمام احکام کی اصل خود قرآن میں موجود ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی بنیادی احکام کی تفصیل وتوسیع کی ہے۔ گویا یہ زائد پہلو اصل حکم کے اندر ہی شامل اور اس میں مضمر تھے ، جن کی وضاحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کروائی گئی۔ چنانچہ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی ان تفصیلات کی وضاحت فرمائی جو قرآن کے اجمالی حکم کا حصہ تھیں، اسی طرح خرید وفروخت کے ضمن میں بہت سے احکام بیان فرمائے جو کوئی الگ اور نئے احکام نہیں، بلکہ قرآن مجید ہی کی اصولی ہدایات: لاَ تَاکُلُوا اَموَالَکُم بَینَکُم بِالبَاطِلِ (البقرة ۲: ۱۸۸) اور وَاَحَلَّ اللّٰہُ البَیعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرة ۲: ۲۷۵) پر مبنی اور انھی کی تفصیل وتوضیح ہیں۔
تیسری رائے یہ ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے تمام احکام درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے القا کیے گئے ہیں اور ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی رائے یا اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔ مثلاً ابن طاوس کہتے ہیں کہ:
عند ابی کتاب من العقول نزل بہ الوحی، وما فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من العقول او الصدقۃ فانما نزل بہ الوحی (الام ۱۱/۳)
’’میرے والد کے پاس دیات کی مقدار پر مشتمل ایک تحریر ہے جو وحی کے ذریعے سے نازل ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت یا زکوٰة کی جو مقداریں مقرر فرمائیں، وہ وحی میں نازل ہوئی تھیں۔”
امام شافعی کہتے ہیں کہ اس گروہ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پیغمبر پر کتاب اور حکمت نازل کرنے کا ذکر کیا ہے (النساء۱۱۳:۴؛ الاحزاب ۳۴:۳۳) اور الحکمة سے مراد ایسی وحی ہے جو کتاب اللہ کے علاوہ آپ کی راہ نمائی کے لیے نازل کی جاتی تھی۔ مزید برآں بعض واقعات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی قضیہ پیش آنے کی صورت میں آپ وحی کا انتظار کرتے تھے اور وحی کے بغیر ازخود کوئی فیصلہ نہیں فرماتے تھے۔ اس کی مثال کے طور پر امام شافعی نے لعان کے حکم کو پیش کیا ہے۔ زنا کے جرم کے اثبات کے لیے چار گواہوں کی شرط قرآن مجید میں نازل ہوئی تو اس کے بعد عویمر عجلانی یہ سوال لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتا ہوا پائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر چار گواہ ڈھونڈنے چلا جائے؟ اور اگر وہ اس کے بغیر اس کے خلاف دعویٰ کرتا ہے تو آپ الٹا شوہر پر قذف کی حد جاری کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ سوال کو ناپسند کیا اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے مابین لعان کی آیات نازل کیں تو عویمر کو بلا کر اسے بتایا کہ اللہ نے تمھارے متعلق یہ حکم دیا ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اس واقعے سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آپ دیگر معاملات میں بھی کوئی فیصلہ کرنے کے لیے وحی کا انتظار کرتے اور اسی کی روشنی میں احکام شرعیہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے۔ (الام ۱/۴۱، ۴۲، ۶/۳۲۹)
امام شافعی مذکورہ علمی اور دینی لحاظ سے مذکورہ تینوں امکانات کا جواز مانتے ہیں اور ایسے احکام کی نوعیت کی تعیین میں ان سب احتمالات کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ بیوہ کے لیے زیب وزینت کی ممانعت کا ذکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
واحتملت السنۃ فی ھذا الموضع ما احتملت فی غیرہ من ان تکون السنۃ بینت عن اللہ تعالیٰ کیف امساکھا کما بینت الصلاۃ والزکاۃ والحج، واحتملت ان یکون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن فی ما لیس فیہ نص حکم اللہ عزوجل (الام ۱/۹۱)
“اس حکم میں اور اس جیسے دیگر احکام میں یہ بھی ممکن ہے کہ سنت نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (وحی پا کر) یہ واضح کیا ہو کہ عدت گزارنے کے آداب وشرائط کیا ہیں، جیسا کہ اس نے نماز، زکوٰة اور حج کے طریقے کی وضاحت کی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ کے دیے ہوئے اختیار سے) ایسے معاملے میں خود ایک طریقہ مقرر فرما دیا ہو جس میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔”
تاہم امام شافعی کا ذاتی رجحان دوسری رائے کے حق میں معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ دین کے معاملے میں مسلمانوں کو جو بھی مشکل یا سوال پیش آ سکتا ہے، کتاب اللہ میں اصولی طورپر اس کے متعلق راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ امام صاحب نے اس بات کی تائید میں قرآن مجید کی متعدد آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں کتاب الٰہی کو ہدایت کے لیے کافی ووافی قرار دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی تبیین اور وضاحت کریں۔ یہ آیات حسب ذیل ہیں:
کِتَاب اَنزَلنَاہُ الَیکَ لِتُخرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّورِ باذنِ رَبِّہِم الَی صِرَاطِ العَزِیزِ الحَمِیدِ (ابراہیم ۱:۱۴)
’’یہ کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے، اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف یعنی اس ہستی کے بتائے ہوئے راستے کی طرف لاﺅ جو غالب اور ستودہ صفات ہے۔”
وَاَنزَلنَا الَیکَ الذِّکرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ الَیہِم وَلَعَلَّہُم یَتَفَکَّرُونَ (النحل ۴۴:۱۶)
’’اور ہم نے تمھاری طرف یاد دہانی کرانے والی کتاب نازل کی تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرو جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ غور وفکر کریں۔”
وَنَزَّلنَا عَلَیکَ الکِتَابَ تِبیَاناً لِّکُلِّ شَیئٍ وَہُدًی وَرَحمَۃ وَبُشرَی لِلمُسلِمِینَ (النحل ۸۹:۱۶) 
’’اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو خوب کھول کر بیان کرنے والی ہے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے۔”
مَا کُنتَ تَدرِی مَا الکِتَابُ وَلَا الایمَانُ وَلَکِن جَعَلنَاہُ نُوراً نَّہدِی بِہِ مَن نَّشَاء مِن عِبَادِنَا وَانَّکَ لَتَہدِی الَی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ (الشوریٰ ۲۵:۲۴) 
’’تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب الٰہی کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس کو نور بنایا جس کے ذریعے سے ہم اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں اور بے شک تم سیدھے راستے کی طرف (لوگوں کی) راہ نمائی کر رہے ہو۔”
ان آیات سے امام صاحب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ: 
فلیست تنزل باحد من اھل دین اللہ نازلۃ الا وفی کتاب اللہ جل ثناوہ الدلیل علی سبیل الھدی فیھا (الام ۱/۶)
’’اللہ کے دین کو ماننے والوں کو جس کسی مسئلے سے بھی سابقہ پیش آ سکتا ہے، اللہ کی کتاب میں اس کے متعلق راہ نمائی موجود ہے۔”
مزید فرماتے ہیں:
وما فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئا قط الا بوحی اللہ، فمن الوحی ما یتلی ومنہ ما یکون وحیا الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیستن بہ (الام ۹/۷٠)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم اللہ کی وحی کے بغیر مقرر نہیں کیا۔ وحی کی ایک قسم وہ ہے جس کی تلاوت کی جاتی ہے اور ایک قسم وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جاتی تھی اور اس کی روشنی میں آپ احکام مقرر فرماتے تھے۔”

سنت کا وظیفہ: قرآن مجید کی تبیین 

امام شافعی کے نزدیک سنت کا بنیادی وظیفہ کتاب اللہ کی تبیین وتوضیح ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کی روشنی میں مستقل احکام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن میں نازل کردہ احکام کی تشریح وتفصیل بھی کرتی ہے۔ یہ توضیحات اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہ نمائی پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنی مراد کی وضاحت کی ہو۔
نوعیت کے اعتبار سے سنت کے ذریعے سے قرآن کی تبیین کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں:

قرآن کے مجمل احکام کی تبیین

سنت کے ذریعے سے قرآن کی تبیین کی سب سے بنیادی اور واضح ترین صورت قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں دین کے بہت سے بنیادی فرائض سے متعلق اصولی حکم تو بیان کر دیا گیا ہے، لیکن ان کو عملاً بجا لانے کے لیے جن تفصیلات کی ضرورت ہے، وہ بیان نہیں کی گئیں، بلکہ ان کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے کی گئی ہے۔ اس کی معروف ترین مثالوں میں نماز اور زکوٰة کے احکام شامل ہیں۔ (الام ۱/۷) اسی طرح حج اور عمرہ کی ادائیگی کی پوری تفصیلات کا ذکر بھی ہمیں سنت میں ہی ملتا ہے۔ (الام ۱/۱۲)
چنانچہ آپ نے واضح فرمایا کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ ہے اور یہ کہ حضر میں ظہر، عصر اور عشاءکی رکعتیں چار، مغرب کی تین اور فجر کی دو ہیں۔ اسی طرح آپ نے ہر نماز میں قراءت کا طریقہ مقرر کیا اور مغرب، عشاءاور فجر میں جہری قراءت کو جبکہ ظہر اور عصر میں سری قراءت کو مشروع کیا۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ نماز میں داخل ہونے کا طریقہ اللہ اکبر کہنا اور نماز سے نکلنے کا طریقہ السلام علیکم کہنا ہے۔ نیز یہ کہ نماز میں تکبیر کے بعد قراءت کی جائے گی، پھر رکوع ہوگا اور رکوع کے بعد دو سجدے کیے جائیں گے۔ پھر آپ نے سفر کی حالت میں مسافر کو اختیار دیا کہ وہ تمام چہارگانہ نمازوں کی دو رکعتیں ادا کر سکتا ہے، جبکہ فجر اور مغرب کی رکعتیں اتنی ہی رہیں گی۔ آپ نے یہ ضابطہ بھی مقرر کیا کہ حالت خوف کے علاوہ ہر حالت میں سفر وحضر میں تمام نمازیں قبلہ رخ ہو کر ادا کی جائیں گی۔ اسی طرح آپ نے بتایا کہ نفل نماز باقی تمام تفصیلات وشرائط میں فرض نماز کی طرح ہے، البتہ اگر کوئی شخص سواری پر سوار ہو تو وہ نفل نماز اسی رخ پر ادا کر سکتا ہے جس طرف سواری آگے بڑھ رہی ہو۔ (الام ۱ /۷۵)
یہی معاملہ حج کا ہے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں پر حج کو فرض قرار دیا گیا ہے جو سفر کی استطاعت رکھتے ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سفر کی استطاعت سے مراد زاد راہ اور سواری کی دستیابی ہے۔ اسی طرح آپ نے حج کے مواقیت، تلبیہ کا طریقہ، محرم کے لیے سلے ہوئے لباس اور خوشبو کی ممانعت اور اس کے علاوہ عرفات ومزدلفہ میں ادا کیے جانے والے مناسک ، رمی، حلق اور طواف وغیرہ کی وضاحت فرمائی ہے۔ (الام ۱/۸۵، ۸۶)

محتمل احکام کی تفصیل

قرآن کے ساتھ سنت کے تعلق کی دوسری اہم جہت قرآن کے حکم میں موجود مختلف احتمالات میں سے کسی ایک احتمال کی تعیین ہے۔ امام شافعی نے درج ذیل مختلف مثالوں کی مدد سے اس جہت کو واضح کیا ہے:
وضو کی آیت میں بازووں کے ساتھ کہنیوں اور پاوں کے ساتھ ٹخنوں کا ذکر ہے۔ قرآن کے الفاظ اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں کہ کہنیاں اور ٹخنے دھونے کے حکم میں شامل ہوں اور اس کا بھی کہ وہ اس سے خارج ہوں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے واضح فرمایا کہ وضو کرتے ہوئے ان دو اعضا کو بھی دھویا جائے گا۔ (الام ۱/۱۱، ۷٠، ۱٠/۱۵۹)
سورة المرمل میں نماز تہجد کی فرضیت سے متعلق سابقہ ہدایت میں تبدیلی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: فَاقرءُوا مَا تَیَسَّرَ مِنہُ (المزمل ۷۳ :۲٠)، یعنی اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو، پڑھ لیا کرو۔ یہاں بظاہر یہ امکان بھی ہو سکتا ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت کو ہی سرے سے منسوخ کر دیا گیا ہو اور یہ بھی کہ فرضیت برقرار ہو، لیکن اس کے متعین دورانیے کی پابندی کو ختم کر دیا گیا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں اور اسی سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت ہی فی نفسہ منسوخ کر دی گئی ہے۔ (الام، ۱/۴۸، ۴۹)
قرآن مجید میں حج کے فرض ہونے کے لیے سفر کی استطاعت کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ (آل عمران ۹۷:۳) بظاہر استطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی خود سفر کر کے حج کے مناسک ادا کر سکتا ہو۔ تاہم ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو خثعم کی ایک خاتون سے، جس نے بتایا کہ اس کے والد پر حج فرض ہے لیکن وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا، کہا کہ وہ اپنے والد کی طرف سے حج کر لے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ استطاعت کی صورت صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سفر کر سکے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنی طرف سے نیابتاً حج کے لیے بھیج سکے۔ چنانچہ اس دوسری صورت میں بھی حج فرض ہوگا، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت سے کہتے کہ تمھارا والد چونکہ خود سفر نہیں کر سکتا، اس لیے اس پر حج فرض نہیں ہے۔ (الام ۳/۳٠۲)
قرآن مجید میں بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو بچے کی ماں کا درجہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ماں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بچے کی رضاعی بہن کو بھی حرمت کے دائرے میں شمار کیا ہے۔ (النساء۴: ۳۲) امام شافعی لکھتے ہیں کہ یہاں ان دو رشتوں کا ذکر کرنے سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رضاعت کے تعلق سے صرف ان دو رشتوں کی حرمت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ نسب کے مقابلے میں رضاعت، حرمت کا سبب ضعیف ہے، چنانچہ جیسے نسبی رشتوں میں سے صرف وہی حرام ہیں جو آیت میں مذکور ہیں، اسی طرح رضاعی رشتوں میں سے صرف ماں اور بہن کو ہی حرام ہونا چاہیے۔ دوسرا احتمال یہ ہو سکتا ہے کہ رضاعی بہن کو رضاعی ماں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے محرمات میں شامل کر کے اس طرف اشارہ مقصود ہو کہ ماں کے ساتھ رضاعی رشتہ اس تک محدود نہیں، بلکہ متعدی ہے۔ اس صورت میں رضاعی ماں کے رشتے سے وہ وہ تمام خواتین بھی حرام قرار پائیں گی جو نسبی رشتے سے ہوتی ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دوسرا احتمال اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ آپ نے فرمایا کہ رضاعت کے تعلق سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی رشتے سے حرام ہیں۔ (الام، ۶/۶۳، ۶۸، ۳۸۷، ۳۳۸)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کی حرمتوں کے بیان میں بچے کو دودھ پلانے والی عورتوں کا ذکر وَاُمَّہَاتُکُمُ اللاَّتِی اَرضَعنَکُم (النساء۴: ۲۳) کے الفاظ سے کیا ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیںکہ رضاع کا اطلاق ایک چسکی لگانے سے لے کر کئی بار دودھ پینے تک اور دو سال کی مدت پوری کرنے بلکہ اس کے بعد بھی دودھ پینے پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ان مختلف احتمالات میں سے کسی ایک کو متعین کرنے کے لیے مستقل دلیل کی ضرورت ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے کسی عورت اور بچے کے مابین حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ (الام ۶/۷۲، ۷۷)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بیان کیا ہے کہ شوہر کی طرف سے بیوی کو تیسری طلاق دیے جانے کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کر لے۔ اگر دوسرا خاوند بھی اسے طلاق دے دے تو پھر باہمی رضامندی سے وہ پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔ (البقرة ۲۳٠:۲) یہاں دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کے لیے حَتَّیَ تَنکِحَ زَوجاً غَیرَہُ کے الفاظ آئے ہیں جو دو معنوں کا احتمال رکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ عورت دوسرے شوہر کے ساتھ عقد نکاح کر لے اور دوسرا یہ کہ دوسرا شوہر اس کے ساتھ میاں بیوی کا تعلق بھی قائم کرے، کیونکہ نکاح کا لفظ عقد نکاح اور ہم بستری دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قضیے میں ایک عورت کو، جسے اس کے پہلے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں، یہ کہا کہ جب تک دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہم بستری نہ کر لے، وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی تو اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہی ہے۔ (الام ۱/۶۶، ۶/۶۲۹)
قرآن مجید میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن (البقرة ۲: ۲۳۴)، طلاق یافتہ خواتین کی عدت تین ماہواریاں (البقرة ۲: ۲۲۸) اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بیان کی گئی ہے۔ (الطلاق ۴:۶۵) اب اگر کوئی خاتون حاملہ ہو اور اس کے شوہر کی وفات ہو جائے تو یہ احتمال بھی ہے کہ اس پر بیوہ اور حاملہ کی دونوں عدتیں پوری کرنا لازم ہو جیسا کہ بعض اہل علم کا قول ہے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ وہ صرف حاملہ کی عدت گزارے۔ اسی طرح اگر عورت حاملہ ہو اور اسے طلاق دے دی جائے تو اس کے لیے دونوں عدتیں گزارنا بھی مطلوب ہو سکتا ہے اور صرف وضع حمل بھی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ بنت الحارث کے متعلق جو فیصلہ فرمایا، اس سے واضح ہو گیا کہ طلاق اور وفات کی صورت میں جن خواتین کی عدت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر حاملہ خواتین ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کی عدت، چاہے انھیں طلاق دی گئی ہو یا وہ بیوہ ہو جائیں، یہی ہے کہ وہ بچے کو جنم دے دیں۔ (الام ۱/۸۷، ۲۶۵)
معاہدہ حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو قرآن میں ہدایت کی گئی کہ ان کے نکاح میں جو مشرک عورتیں ہیں، وہ انھیں نکاح سے آزاد کر دیں اور اگر کوئی خاتون مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ آ جائے تو وہ اپنے مشرک شوہر کے لیے حلال نہیں رہے گی۔ (الممتحنہ ۶٠:۱٠) حکم میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں کے مابین نکاح، ایک فریق کے مسلمان ہوتے ہی کالعدم تصور کیا جائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد نکاح کے فسخ ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایسے مقدمات میں علی الفور فسخ نکاح کا فیصلہ کرنے کے بجائے کچھ مدت تک دوسرے فریق کو یہ موقع دیا کہ وہ بھی اسلام قبول کر لے اور پھر اسلام قبول کرنے کے بعد دونوں کے سابقہ نکاح کو برقرار رکھا۔ (الام، ۶/۱۲٠، ۱۲۱)
قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو امت کی مائیں قرار دیا گیا ہے۔ (الاحزاب ۶:۳۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں ماں صرف اس معنی میں کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ نکاح کرنا امت کے لیے حلال نہیں، یہ مراد نہیں کہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جیسے اپنی صلبی ماو¶ں کی بیٹیوں سے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کا نکاح بھی لوگوں سے کیا اور آپ کی ازواج کی بہنوں سے بھی لوگوں نے نکاح کیا۔ اسی طرح ازواج اور امت کے مابین وراثت کا تعلق بھی قائم نہیں کیا گیا۔ (الام، ۶/۳۶۴، ۳۶۵)
قرآن مجید میں ابتداءاً مرنے والے پر لازم کیا گیا تھا کہ وہ اپنے والدین اور اقرباءکے حق میں اور اسی طرح اپنی بیوہ کے لیے اپنے ترکے میں سے وصیت کر کے جائے۔ (البقرة ۲ :۱۸٠، ۲۴٠) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ترکے میں والدین، اولاد، بہن بھائی اور میاں بیوی کے حصوں کے متعلق اپنے احکام نازل فرمائے۔ (النساء۱۱:۴، ۱۲) وراثت سے متعلق احکام کے نزول کے بعد وصیت کی ہدایت کے متعلق دو احتمال سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ ترکے میں متعین حصے مقرر کیے جانے کے بعد وارثوں کے حق میں وصیت کی ہدایت منسوخ کر دی گئی ہو، اور دوسرا یہ کہ وصیت کا حکم بھی اپنی جگہ برقرار ہو اور ورثاءازروئے وصیت بھی ترکے میں سے حصہ لینے کے حق دار ہوں۔ ان دونوں احتمالات سے پہلے احتمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں متعین کر دیا گیا ہے، چنانچہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر یہ واضح فرمایا کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔ (الام ۱/۵۹، ۶٠)
سورة المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے: وَحُرِّمَ عَلَیکُم صَیدُ البَرِّ مَا دُمتُم حُرُماً (المائدہ ۹۶:۵)۔ قرآن کے ظاہر کے لحاظ سے زیادہ واضح مفہوم یہ ہے کہ محرم کے لیے خود جانور کو شکار کرنا ممنوع ہے، (تاہم ایک احتمال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شکار کیے ہوئے جانور کو مطلقاً ممنوع قرار دیا گیا ہو)۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ معلوم ہوا کہ محرم کے لیے خود شکار کرنے کے علاوہ ایسے جانور کا گوشت کھانا بھی ممنوع ہے جسے خاص طور اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔ پس قرآن کی ممانعت کو اسی مفہوم پر محمول کرنا درست ہے جو سنت سے واضح ہوتا ہے۔ (الام ۱٠/۲۴۴)
قرآن مجید میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ حج کے ارادے سے نکلنے والے اپنے ساتھ قربانی کے لیے جو جانور لے کر جائیں، انھیں بیت اللہ کے قریب یعنی حدود حرم میں لے جا کر ذبح کیا جائے: ثُمَّ مَحِلُّہَا الَی البَیتِ العَتِیقِ (الحج ۳۳:۲۲) دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر دشمن کی طرف سے رکاوٹ پیش آنے کی وجہ سے آدمی حرم تک نہ پہنچ سکے اور راستے میں اسے روک دیا جائے تو وہ قربانی کا ایک جانور بھیج دے اور جب تک جانور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ جائے، آدمی اپنا سر نہ منڈوائے۔ (البقرة ۱۹۶:۲) یہاں حَتَّی یَبلُغَ الہَدیُ مَحِلَّہُ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ احصار کی صورت میں بھی جانور کو حدود حرم میں ہی ذبح کرنا ضروری ہے، لیکن صلح حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ حدود حرم سے باہر جہاں آپ مقیم تھے، وہیں جانوروں کو ذبح کر دیا تھا۔ امام شافعی اس سے استدلال کرتے ہیں کہ احصار کی صورت میں یَبلُغَ مَحِلَّہُ سے مراد حرم میں پہنچنا نہیں، بلکہ جہاں بھی آدمی رک جائے، وہ جانور کو وہیں ذبح کر سکتا ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ عربی زبان کے اسالیب میں بڑی وسعت ہے، اس لیے یَبلُغَ مَحِلَّہُ کی تعبیر اسی مقام پر جانور کو ذبح کرنے پر بھی صادق آ سکتی ہے جہاں آدمی کو روکا گیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ احتمال موکد ہو جاتا ہے۔ (الام ۳/۴٠٠، ۴٠۱) (۲)
سورہ نساءکی آیت ۳ میں ایک سے زائد خواتین سے نکاح کی ہدایت دیتے ہوئے چار تک کی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ امام شافعی کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو صریح اور ناطق نہیں سمجھتے، اور اسے چار کی تحدید پر محمول کرنے میں فیصلہ کن حیثیت حدیث کو دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
فدلت سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی ان انتھاءاللہ عزوجل فی العدد بالنکاح الی اربع تحریم ان یجمع رجل بنکاح بین اکثر من اربع (الام ۶/۱۳۱)
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح میں صرف چار تک عورتوں کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ ایک آدمی کے لیے بیک وقت چار سے زائد عورتوں سے نکاح حرام ہے۔”
گویا اس مسئلے سے متعلق وارد احادیث سے حتمی طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی مراد چار سے زائد عورتوں سے نکاح کی ممانعت ہے۔ (الام ۶/۳۷۷، ۳۸۷، ۱۱۳، ۱۳٠)

قرآن کے ظاہری عموم کی تخصیص

قرآن مجید کی تبیین کی ایک اہم صورت یہ ہے کہ قرآن میں کوئی حکم بظاہر عام بیان ہوا ہو، لیکن سنت میں یہ واضح کیا جائے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد بعض مخصوص افراد یا مخصوص صورتیں ہیں۔ 
مثلاً قرآن مجید میں مسلمانوں کے اموال سے زکوٰة وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے (التوبہ ۱٠۳:۹) جس سے بظاہر ہر مال کا قابل زکوٰة ہونا معلوم ہوتا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰة عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰة ساقط ہو جائے گی ، زکوٰة کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰة وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ یوں سنت نے واضح کیا کہ زکوٰة ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ (الام ۱/ ۸۵-۸٠، ۳/۷)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضو کرتے ہوئے پا¶وں کو دھونے کا حکم دیا ہے۔ (المائدہ ۶:۵) تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور یہ ہدایت دی کہ پورے وضو کی حالت میں جس آدمی نے پاووں پر موزے پہنے ہوں، وہ مسح کر سکتا ہے۔ یوں سنت سے یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد سب وضو کرنے والے نہیں، بلکہ بعض ہیں،یعنی بعض حالتوں میں وضو کرنے والے پاوں کو دھوئیں گے اور بعض میں مسح کریں گے۔ (الام ۱/۲۹، ۳٠)
اللہ تعالیٰ نے چوری کرنے والے مرد اور عورت کی سزا یہ بیان کی ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ (المائدہ ۳۸:۵) بظاہر الفاظ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کسی بھی قسم کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ درخت سے پھل توڑ لینے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چوری کسی غیر محفوظ جگہ سے کی گئی ہو یا اس کی قیمت ایک چوتھائی دینار سے کم ہو تو بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر طرح کی چوری پر ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے۔ (الام، ۱/۳٠، ۷/۳۱۹)
اللہ تعالیٰ نے زنا کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ زانی مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ (النور ۲۴:۲) بظاہر یہ حکم ہر طرح کے زانی کے لیے بیان ہوا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ زانی کو کوڑے لگوانے کے بجائے سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں سو کوڑوں کی سزا جن زانیوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر شادی شدہ زانی ہیں۔ (الام ۱/۳٠، ۵۶)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں سے خمس کا حقدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذوی القربیٰ، یتامی ، مساکین ا ور مسافروں کو قرار دیا گیا ہے (الانفال ۱۴:۸) یہاں ذوی القربی کے الفاظ عام ہیں اور بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قرابت دار اس کے تحت داخل ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بنو ہاشم اور بنو المطلب کو خمس میں سے حصہ دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ذوی القربیٰ سے تمام اقرباءنہیں، بلکہ بعض مراد ہیں۔ (الام ۱/۳۱)
قرآن مجید میں ترکے میں ورثاءکے حصے بیان کرتے ہوئے بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس کی رو سے ظاہراً تمام والدین، بہن بھائی اور میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ (النساء۴: ۱۱،۱٠) تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ایسے رشتہ دار ہیں جن کا دین ایک ہی ہو۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ بھی واضح فرمایا کہ اگر وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو بھی اسے اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ (الام ۱/۲۹)

قرآن کے احکام کی تکمیل

سنت میں احکام وہدایات کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو قرآن میں بیان ہونے والے احکام کی تکمیل کرتا ہے، یعنی ان کے ساتھ جڑے ہوئے چند مزید سوالات کی وضاحت کرتا ہے جن کا قرآن نے ذکر نہیں کیا۔ 
مثلاً قرآن میں وضو کا طریقہ تو بیان کیا گیا ہے، (المائدہ ۶:۵) لیکن رفع حاجت کے بعد استنجا اور جنابت کے بعد غسل کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح وضو میں اعضاءکو کتنی مرتبہ دھویا جائے، اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی۔ نیز جن چیزوں سے وضو اور غسل ٹوٹ جاتے ہیں، ان کی کوئی جامع فہرست قرآن میں مذکور نہیں۔ ان سب چیزوں کی وضاحت ہمیں سنت میں ملتی ہے۔ (الام ۱/۱۱)
قرآن مجید میں وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے چہرے، بازو¶وں اور پا¶وں کو دھونے اور سر پر مسح کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ (المائدہ ۶:۵) تاہم احادیث میں منہ دھوتے ہوئے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بھی ذکر ہے۔ (الام ۲/۲۵۳، ۲۲۵)
قرآن مجید میں نماز کے اعمال میں رکوع اور سجود کا ذکر کیا گیا ہے (الحج ۲۲:۷۷) لیکن اس حالت میں پڑھے جانے والے مخصوص اذکار کا ذکر قرآن میں نہیں، بلکہ ان کی تفصیل ہمیں سنت میں ملتی ہے۔ (الام ۲/۲۵۳، ۲۲۵)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سفر میں دشمن سے خوف کی کیفیت میں مسلمانوں کو نماز، قصر کر کے پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ (النساء۱٠۱:۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رخصت سے ایسی کیفیت میں بھی فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جب خوف کی کیفیت نہ ہو اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ ہے جسے اہل ایمان کو قبول کرنا چاہیے۔ (الام، ۱٠/۵٠)
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے شوہر کی طرف سے بیوی پر بدکاری کا الزام عائد کیے جانے کی صورت میں دونوں کے مابین لعان کا حکم دیا ہے۔ (النور ۲۴: ۶- ۹) تاہم قرآن میں یہ ذکر نہیں کہ لعان کے بعد کیا معاملہ کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں یہ واضح فرمایا کہ لعان ہو جانے کے بعد میاں بیوی میں تفریق کر دی جائے گی اور بچے کا نسب، عورت کے شوہر سے ثابت نہیں مانا جائے گا۔ (الام ۱/۶۴، ۶/۷۳۳)
قرآن مجید میں بیوہ کے لیے عدت کا حکم بیان کیا گیا ہے اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اس عرصے میں وہ نیا نکاح کرنے سے رکی رہے۔ (البقرة ۲: ۲۳۴) قرآن کے ظاہر سے اس پابندی کا مطلب اتنا ہی نکلتا ہے کہ عورت نیا نکاح نہ کرے اور اپنے گھر میں ٹھہری رہے۔ تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ رکے رہنے کے مفہوم میں کچھ اور پابندیاں بھی شامل ہوں جو عدت سے پہلے عائد نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کو زیب وزینت اور خوشبو وغیرہ لگانے سے بھی منع فرما دیا۔ (الام، ۱/۹۱، ۶/۵۸۳)

قرآن مجید سے استنباط 

امام شافعی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شارع کی حیثیت سے قرآن مجید کی ہدایات سے زائد جو احکام بیان فرمائے ہیں، وہ بھی درحقیقت قرآن مجید ہی کی فراہم کردہ رہنمائی پر مبنی ہیں، یعنی کتاب اللہ میں جو احکام نازل ہوئے ہیں، آپ نے ان کی تہہ تک پہنچ کر اور ان کی حکمت ومعنویت کو پا کر ان سے مزید جزئیات وفروع اخذ کی ہیں۔ اس ضمن میں امام شافعی نے سنت کے احکام کا ماخذ قرآن میں واضح کرنے کے لیے کئی لطیف استنباطات کا ذکر کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضو میں اعضاءکو دھونے کا حکم دیا ہے۔ (المائدہ ۶:۵) یہاں لفظ غسل کا کم سے کم مصداق ایک مرتبہ دھونا ہے اور اس کی فرضیت قرآن سے واضح ہے، جبکہ اس سے زیادہ مرتبہ دھونا محتمل ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر صرف ایک دفعہ اعضاءکو دھو کر واضح کر دیا کہ قرآن کے ظاہر کے مطابق ایک ہی مرتبہ دھونا فرض ہے، جبکہ دوسرے مواقع پر دو دو یا تین تین مرتبہ دھو کر واضح فرمایا کہ یہ واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ (الام ۱/۱۱، ۶۹)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حالت خوف میں اجازت دی ہے کہ مسلمان سواری پر سوار ہو کر یا پیدل چلتے ہوئے، کسی بھی حالت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ (البقرة ۲: ۲۳۶) یہاں اللہ تعالیٰ نے قبلہ رخ ہونے کی پابندی بیان نہیں کی (اور عقلاً بھی سواری پر سوارہو کر استقبال قبلہ کا التزام ممکن نہیں)۔ یوں اس رخصت سے ہی واضح ہے کہ ایسی صورت میں قبلہ رخ ہونے کی پابندی ضروری نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر حالت خوف میں سواری پر یا چلتے ہوئے نماز پڑھنے کی نوبت آ جائے تو ایسی صورت میں قبلہ رخ ہوتے ہوئے یا اس کے بغیر، دونوں حالتوں میں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ (الام، ۱/۵۴)
مشرکین اہل عرب فقر یا عار کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کر دیتے تھے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا (الانعام ۱۵۱:۶) تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حالت جنگ میں مشرکین کے بچوں کو قتل کرنا ممنوع ہے، جبکہ کسی بھی جان کو ناحق قتل کرنے کی ممانعت کا مستقل اخلاقی اصول بھی قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔ (الام، ۷/۶)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے مہر کی مقدار طے کرنے کی نسبت شوہروں کی طرف کی ہے۔ (البقرة ۲: ۲۳۵، ۲۳۶) چونکہ مہر عورت کا حق ہے جو شوہر پر لازم ہوتا ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ اس کی مقدار طے کرنے میں عورت کی رضامندی بھی شامل ہونی چاہیے۔ یوں قرآن سے واضح ہے کہ مہر کی مقدار فریقین کی باہمی رضامندی سے طے کی جائے گی اور اس کی کوئی تحدید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں کی گئی۔ چنانچہ اس کی حیثیت وہی ہے جو بیع میں کسی چیز کی قیمت طے کرنے کی ہے، یعنی جیسے مبیع کی قیمت فریقین کی رضامندی سے طے کی جاتی ہے، اسی طرح مہر بھی میاں بیوی کے باہمی اتفاق سے کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سنت میں اسی کی وضاحت فرمائی ہے کہ جس چیز پر دونوں اہل خانہ رضامند ہو جائیں، وہی مہر ہے۔ (الام، ۶/۱۵۳)
قرآن مجید میں بیویوں سے استمتاع کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ: فَاتُوا حَرثَکُم اَنَّی شِئتُم (البقرة ۲: ۲۲۳)۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ یہ آیت بظاہر دو معنوں کی محتمل ہے۔ ایک یہ کہ بیوی سے کسی بھی طریقے سے استمتاع کرنا یعنی وطی فی الدبر (anal sex) بھی مباح ہے، اور دوسرا یہ کہ ایسی جگہ استمتاع مراد ہے جو کھیتی بن سکتی ہو، یعنی اس سے اولاد پیدا ہو سکتی ہو۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کے مابین اسی وجہ سے اختلاف ہے۔ بعض وطی فی الدبر کو حلال کہتے ہیں اور بعض حرام۔ تاہم احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی سے دبر میں استمتاع کو حرام قرار دیا۔ امام شافعی قرآن مجید سے اس کے حق میں دو شواہد پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حالت حیض میں خواتین سے الگ رہنے کی ہدایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں، ان کے قریب نہ جاﺅ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی سے استمتاع صرف قبل میں کیا جا سکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بیوی کے لیے کھیتی کی تعبیر اختیار کی ہے اور اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بیوی سے استمتاع اسی جگہ ہو سکتا ہے جہاں سے بچے کی پیدائش ہو سکتی ہو۔ (الام ۶/۲۴۲، ۲۴۴، ۴۴۳) 
مذکورہ آیت میں ہی حالت حیض میں بیوی کے پاس جانے کی ممانعت سے امام شافعی استدلال کرتے ہیں کہ شرم گاہ کے علاوہ جسم کے کسی دوسرے حصے سے استمتاع حرام نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ شوہر کے لیے مافوق الازار بیوی سے استمتاع درست ہے۔ (الام، ۶/۲۴۳، ۴۴۲)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ایسے افراد کو جن کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں، اسلام قبول کرنے پر یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی بیویوں میں سے جن چار کو نکاح میں رکھنا چاہیں، ان کو رکھ کر باقی سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ (سنن ابی داود، کتاب الطلاق، باب من اسلم وعندہ نساءاکثر من اربع او اختان، رقم ۱۹۵۲) امام شافعی اس استنباط کے حق میں قرآن سے یہ استشہاد پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ربا کو ممنوع قرار دیتے ہوئے مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا (البقرة ۲: ۲۷۸) کو چھوڑ دینے کی ہدایت کی ہے، لیکن اس سے پہلے دور جاہلیت میں جو ربا لوگ لے چکے تھے، اس سے تعرض نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت کفر میں لوگوں نے جو خلاف شریعت اعمال کیے، ان سے شریعت میں صرف نظر کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس حالت میں کیے گئے عقود کو معتبر مانا جائے گا اور شوہر کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی چار پسندیدہ بیویوں کو چن لے۔ (الام ۶/ ۱۳۲)
قرآن مجید میں اہل ایمان کو حالت احرام میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے : وَحُرِّمَ عَلَیکُم صَیدُ البَرِّ مَا دُمتُم حُرُماً (المائدہ ۹۶:۵) الفاظ سے واضح ہے کہ یہاں ان جانوروں کی حرمت بیان کرنا مقصود ہے جو احرام سے پہلے خوراک کے لیے حلال تھے، اور وہ جانور زیر بحث نہیں جو ویسے بھی حرام ہیں، کیونکہ ان کی حرمت کے لیے سابقہ حکم ہی کافی تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرام جانوروں، مثلاً درندوں کو ان کے حملے یا ضرر سے بچنے کے لیے قتل کرنے سے روکنا آیت کی مراد نہیں ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بات واضح کی اور فرمایا کہ پانچ جانوروں کو حدود حرم کے اندر اور باہر، کسی بھی جگہ قتل کرنا مباح ہے۔ (الام ۳/۴۶۴، ۴۶۵) 
احادیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن پر شب خون مارنے یعنی رات کے وقت بے خبری میں حملہ کرنے کی اجازت دی اور جب یہ پوچھا گیا کہ اس کی زد میں ان کی عورتیں اور بچے بھی آئیں گے تو فرمایا کہ ان کا شمار بھی انھی میں ہوتا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ان کو قصداً قتل نہ کیا جائے اور وہ بلا قصد حملے کی زد میں آ جائیں تو اس کی وجہ سے حملہ کرنے والوں کو کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ کوئی کفارہ یا دیت لازم آئے گی۔ امام شافعی اس کے حق میں سورة النساءکی آیت سے استشہاد کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی دوسرا مسلمان، جس کا تعلق کسی کافر غیر معاہد قوم سے ہو، بلا ارادہ قتل ہو جائے تو اس پر قاتل کو صرف کفارہ ادا کرنا ہوگا، یعنی دیت اس پر لازم نہیں ہوگی۔ (النساء۹۲:۴)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ایسی خواتین اور بچے جو نہ تو مومن ہیں اور نہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا معاہدہ ہے، اگر لڑائی میں مارے جائیں تو بدرجہ اولیٰ اس پر گناہ، کفارہ، قصاص یا دیت لازم نہیں آئے گی۔ (الام، ۱/۱۳۵)

حواشی


(۱) یہ نقطہ نظر جلیل القدر تابعی سعید بن المسیب سے بھی منقول ہے، تاہم ابن کثیر نے اس کے ثبوت کو محل نظر قرار دیا ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم، ۲/۳۵۶)
(۲) امام صاحب کی یہ توجیہ کمزور معلوم ہوتی ہے اور قرآن مجید کے الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تک ہدی اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ جائے، اپنے سرووں کو مت منڈواﺅ۔ (البقرة ۱۹۶:۲) اگر جانور کو اسی جگہ ذبح کرنا جائز ہو تو اس کے لیے اس کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ جانور اپنے محل تک پہنچ جائے۔ اس لیے درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ احصار کی کیفیت میں بھی قربانی کے جانور کو حرم تک پہنچانا ضروری ہے۔ البتہ اگر دشمن کی طرف سے رکاوٹ کی نوعیت ایسی ہو کہ قربانی کے جانور کو بھی بھیجنا ممکن نہ ہو تو پھر عذر کے اصول پر اسے حدود حرم کے باہر ذبح کرنا بھی جائز ہو سکتا ہے اور حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی نوعیت بھی یہی تھی۔ قرآن مجید نے بھی سورة الفتح میں اس صورت حال کا ذکر اسی حوالے سے کیا ہے کہ وَصَدُّوکُم عَنِ المَسجِدِ الحَرَامِ وَالہَدیَ مَعکُوفاً اَن یَبلُغَ مَحِلَّہُ (الفتح ۲۵:۴۸) یعنی مشرکین نے مسلمانوں کو بھی روک دیا تھا اور قربانی کے جانوروں کو بھی حرم تک پہنچنے کی اجازت دینے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ گویا عذر اور مجبوری کی صورت میں تو ایسا کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر احصار کے باوجود جانور کو حرم تک بھیجنا ممکن ہو تو پھر قرآن کی ہدایت یہی ہے کہ اسے حدود حرم میں ہی ذبح کیا جائے۔ واللہ اعلم

حضرت مولانا حمد اللہ آف ڈاگئیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

استاذ العلماء حضرت مولانا حمد اللہ صاحب آف ڈاگئی کی وفات حسرت آیات کی خبر مجھے کراچی کے سفر کے دوران ملی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے ان پرانے بزرگوں میں ایک اہم شخصیت تھے جنہیں عوام کے ساتھ ساتھ اہل علم میں بھی مرجع اور راہنما کی حیثیت حاصل تھی اور بہت سے مشکل معاملات و مسائل میں ان سے رجوع کر کے اطمینان ہو جاتا تھا کہ متعلقہ مسئلہ و معاملہ کا صحیح رخ کیا ہے۔ مجھے ان کی خدمت میں ڈاگئی حاضری کی سعادت ہوئی اور مختلف علمی و دینی محافل میں ان کے ساتھ استفادہ اور دعاؤں کا تعلق رہا۔
ایک موقع پر جب جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمان گروپ میں تقسیم تھی، حضرت مرحوم کے ساتھ درخواستی گروپ کے ایک وفد میں بلوچستان کے چند روزہ دورے کی رفاقت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اسی موقع کی بات ہے کہ چمن میں سینکڑوں علماء کرام کے ایک اجتماع میں اسلامی معاشیات کے حوالہ سے ان کی وقیع علمی گفتگو سن کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے بعد وہ پہلی شخصیت ہیں جن سے اسلامی معاشیات کے موضوع پر اس قدر جاندار علمی گفتگو سننے کو ملی ہے۔ میں نے حضرتؒ سے اس کا تذکرہ بھی کیا کہ آپ کا عمومی تعارف تو اس سے مختلف مسائل کے حوالہ سے ہے مگر آپ تو ہماری لائن کے بزرگ ہیں اور ہمیں ایسے سرپرستوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مسکرا کر اپنے ایک معاصر بزرگ کا نام لیا اور فرمایا کہ ان کی وجہ سے مجھے بعض مسائل میں الجھنا پڑا ورنہ میرا ذوق بھی یہی ہے۔
حضرت مولانا حمد اللہؒ نے سو سال سے زیادہ عمر پائی اور زندگی بھر درس و تدریس میں مصروف رہے۔ صوابی کے علاقہ میں پنج پیر، ڈاگئی اور شاہ منصور کے تین علمی مراکز دورۂ تفسیر قرآن کریم کے عنوان سے قرآن کریم کے علم و معارف کی تدریس و فروغ کے باب میں عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ کے اس علمی مرکز میں ہزاروں علماء کرام نے ان سے فیض حاصل کیا جو اب دنیا کے مختلف حصوں میں دینی خدمات میں مصروف ہیں اور حضرتؒ کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔ اللہ تعالٰی کا حضرت مرحوم کے درجات جنت میں بلند فرمائیں اور تمام تلامذہ، متعلقین اور اہل خاندان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مدینۃ العلم قطر میں چھ دن ۔ (مدرسہ ڈسکورسز کے ونٹر انٹنسو ۲٠۱۹ء کی روداد)

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

گزشتہ سال بھی مدرسہ ڈسکورسز کا ونٹرانٹینسِو (winter intensive) قطرمیں رکھا گیا تھا اور جامعہ حمدبن خلیفہ ہی نے اس کی میزبانی کی تھی، اس میں راقم شریک نہ تھا۔اب کی باربھی ہمارے انٹینسِوکی ضیافت جامعہ حمدبن خلیفہ نے قبول کی تاہم اِس بارپروگرام کی نوعیت تھوڑی مختلف یوں تھی کہ بجائے مختلف موضوعات پر باہرسے ماہرین کو بلانے کے، اس سال یہ نظم کیاگیاتھاکہ مدرسہ ڈسکورسز کے سال سوم (تحقیق ورسرچ)کے طلبہ اپنے اپنے رسرچ پیپیرزکی پرزینٹیشن دیں گے۔ان کے پیپرزیاان کے خلاصے تمام شرکاءکوپہلے ہی بھیج دیے گئے تھے تاکہ وہ ان کوپڑھ کر،سمجھ کر اور تیارہوکرآئیں اوران موضوعات پر بحث ومباحثہ کی محفل جمے ۔ اس سے تحقیق کاروںکوفیڈبیک ملے گااورشرکاءان پربحث وتحقیق کے نئے گوشوں سے آشنائی حاصل کرسکیں گے ۔
مدرسہ ڈسکورسزنوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں اسلامیات کے استاداور بین الاقوامی شہرت کے حامل معروف اسکالرپروفیسرابراہیم موسیٰ کی قیادت میں ایک تین سالہ آن لائن کورس ہے جومدارس کے فارغین کے لیے جاری کیاگیاہے۔ پہلے سال میں اسلامی علمی ورثہ سے منتخب متون پڑھائے جاتے ہیں، دوسرے سال میں سائنس لٹریسی پر فوکس کیاجاتاہے اورتیسرے سال کے طلبہ کسی ایک موضوع پر رسرچ کرتے ہیں۔سال میں دوبارسردی اورگرمی کی چھٹیوں میں اس کے ہفت روزہ یاپندر ہ روزہ تربیتی پروگرام ہوتے ہیں جوزیادہ تربیرون ملک رکھے جاتے ہیں۔ہمارایہ انٹینسوبھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔ ہم لوگ مقامی ٹائم کے مطابق ۳ بجے دن میں دوحہ کے اپنے مستقرپہنچ گئے تھے ۔ ہماراقیام الفندق، الغرافہ (ہوٹل پریمئر ان ) میں تھاجوقطرایجوکیشن سٹی میں ہی واقع ہے۔
پروگرام کا نظم یوں تھاکہ مدرسہ ڈسکورسز کے چاروں لیڈفیکلٹی پروفیسرابراہیم موسی ٰ،مہان مرزا، مولانا عمارخان ناصر اور ڈاکٹروارث مظہری کے رسرچ گروپوںمیں سے ہرایک کوایک ایک دن دیاگیا۔پہلے چار مقالے پیش ہوتے۔ہرمقالہ پر خاصاڈسکشن ہوتا۔اس کے بعددوپہرکی نشستوں میں تمام شرکاءکوچارگروپوںمیں تقسیم کر دیا  جاتا اور صبح کے مباحثہ میں سامنے آئے سوالات پر مزیدتنقید،تنقیح اوربحث ہوتی ۔چاربجے تک پروگرام ختم ہو جاتا۔ اس کے بعدرات میں دوسرے دن کی ریڈنگ کی تیاری کی جاتی۔ سیمینارکی شکل یہ تھی کہ پہلے مقالہ نگار سلائڈ اور پروجیکٹرکی مددسے دس سے پندرہ منٹ میں اپنے پیپرکا خلاصہ بیان کرتااوراہم نکات شرکاءکے سامنے رکھتا۔ پھر تقریبا ۲٠ منٹ اس پر شرکاءسوال جواب کرتے اورکھلامباحثہ ہوتا۔ڈسکشن کی زبان اردواورانگریزی تھی۔شرکاءہندوپاکستان کے علاوہ نوٹرے ڈیم سے آئے تھے جوکل ملاکرپچاس  طلبہ وطالبات سے زایدتھے۔
سب سے پہلے مولاناعمارخان ناصر کے رسرچ گروپ نے پرزینٹیشن دی۔اس میں حافظ عبدالرحمان نے کلامی مسائل میں مختلف مکاتب فکر کے تاویل کے اصول ومناہج پرروشنی ڈالی ۔انہوں نے بتایاکہ تاویل کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کہ زبان کے معانی مختلف ہوتے ہیں۔ لفظ کا ایک معنی لفظی اورظاہری ہوتاہے اورایک معنوی ومجازی۔ پھرمتن خبریاانشادوطرح کاہوتاہے۔ انشاءیعنی احکام میں چونکہ عمل کا مطالبہ ہے، اس لےے اس میں تاویل جائز ہے، مگرخبرمیں تاویل جائز نہیں۔ یہ محدثین کا مسلک ہے ۔اس کے مقابلہ میں متکلمین کا مسلک تاویل کا ہے ،پھرمتکلمین کے کئی گروپ ہوجاتے ہیں مثلاً معتزلہ ،اشاعرہ ماتریدیہ وغیرہ ۔یہ توماضی کا قصہ ہوا،آج اِن کلامی مباحث سے ہمیں کیامددمل سکتی ہے، اصل سوال یہ ہے۔اس پر ابھی شایدحافظ صاحب آگے کام کریں گے ۔
زیدحسن کے مقالہ “شریعت وتمدن کا باہمی تعلق ،شاہ ولی اللہ کے افکارکی روشنی میں” میں یہ بات کہی گئی کہ شرائع کی اساس تمدن پر رکھی جاتی ہے۔ یہ شاہ ولی اللہ کا نظریہ ہے اوراس بات پر فوکس کرکے ان سے پہلے شایدکسی نے اس چیزکوبیان نہیں کیا۔شاہ صاحب اپنے فلسفیانہ ذہن سے خدا، انسان اورمعاشرہ ان تینوںکو دیکھتے ہیں اوراپنے نظریہ کی بنیادرکھتے ہیں۔شاہ صاحب کے مطابق انسان عام حیوانوںکی طرح کام نہیں کرتابلکہ کسی کام کے کرنے کے عام اصول رکھتاہے۔ مثلاًوہ مستقبل کے بارے میںسوچتا ہے، عام حیوان نہیں سوچتے ۔اس کے کام میں لطافت وحسن ہوتاہے ۔ ان سب کے مجموعہ کورائے کلی کہتے ہیں اوررائے کلی پر مبنی عملی اصولوںکوشاہ صاحب سنت راشدہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک مذکورہ اصولوںکی حفاظت کے لیے اللہ نے شریعت نازل کی ہے۔دین وشریعت میں فرق عام وخاص کا ہے۔البتہ مابعدالطبیعا ت اورامورتعبدیہ ارتفاقات (تمدنی امور)سے الگ ہیں۔
شاہ صاحب کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ شریعتوںکی تشکیل انسانی عادا ت ومالوفات پر ہوتی ہے۔اب اس پر سوال اٹھتاہے کہ شریعت کولوگوں کے مزاج وطبیعت پر مبنی مان لیاجائے تواگرمزا ج وطبیعت بدل جائے توکیااحکام بدل جائیں گے ؟اگرایساہے توپھراسلام آخری شریعت کیسے ہوا؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اصول توشاہ صاحب نے یہ بنادیامگروہ خودبھی جزوی احکام کی تشریح روایتی طورپر (اسلام کوابدی مان کر)ہی کرتے ہیں۔ اس کی توجیہ کیاہے ؟
مولاناوقاراحمدنے حدودوتعزیرات کی ابدیت اوربدلتے حالات میں عملی صورتیں کے عنوان سے مولانا عبیداللہ سندھی کے افکارکا مطالعہ پیش کیا۔ مولاناسندھی نے روایت سے ہٹ کرلیکن روایت کے اندررہتے ہوئے کام  کیااورشاہ ولی اللہ کے فکرکی تشریح کی۔تجدیدکے حاملین میں وہ یوںمختلف ہیں کہ وہ حدیث کوردنہیں کرتے بلکہ اس کی نئی توجیہ پیش کرتے ہیں۔مولاناکی رائے یہ ہے کہ موطااہل مدینہ کا قانون ہے اوربخاری ومسلم وغیرہ اس کی شرحیں اوراس پر اضافے ہیں۔مولاناسندھی کا کہناہے کہ بنیادی قانون قرآن میں دے دیاگیاہے، تفصیلی قانون انسان خودمرتب کرے گا اوراس میں غلطیوں کا امکان ہے جس کواللہ معاف کردے گا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حدودعادی مجرموں کے لیے ہیں۔ان میں حالات کی تبدیلی سے تبدیلی کی جاسکتی ہے اوراسی طرح زکوة کے نصابات میں بھی ۔مختلف سوال وجواب کی روشنی میں بظاہرایسامحسوس ہواکہ مولاناسندھی کے خیالات منضبط اصولوں پر مبنی نہیں ہیں۔لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ علما مصلحین کے طبقہ میں مولاناسندھی جیسے اوریجنل فکررکھنے والے اورزمانہ سے آگے دیکھنے والے مفکرین شاذونادرہیں۔المیہ یہ ہواکہ روایتی علمانے ان کی فکرکوبالکل مستردکردیا۔اب پاکستان میں ان پر کام ہورہاہے۔
مولانا عمار خان ناصر کے مقالہ“مسلم قومی ریاستوں میں غیرمسلموں کے آئینی حقوق” میں جوچنداہم باتیں سامنے آئیں، وہ یہ ہیں : غیرمسلموںکی حیثیت کے بارے میں مسلمان جوکچھ لکھ رہے ہیں، وہ زیادہ ترفقہی اسلو ب میں لکھتے ہیں۔ماڈل ہم جدیددورکا لیتے ہیں اور جزئیات فقہی نظائرسے لے لیتے ہیں۔حالانکہ سسٹم کوسسٹم کے سامنے رکھ کردیکھیں تو اسلامی نظام اورغیراسلامی نظام دونوںمیں(جزئیات کے اعتبارسے )کچھ مماثلت کے باوجودکلی طورپر بنیادی سطح کا اختلاف ہے۔ ذمہ کا معاہدہ اورشہریت یہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، دونوں کو الگ رکھناچاہیے۔ فیملی لازاورحدودکے مسائل (روایتی فکرمیں )قطعی اصولوں پر مبنی بتائے جاتے ہیں۔ البتہ سیاسیات کے بارے میں بہت سے علمایہ کہتے ہیں کہ ہمیں اسلام نے کسی ماڈل کا پابندنہیں کیا۔ کچھ ضروری اصول دے دیے ہیں، باقی سب چیزیں اجتہادی ہیں۔یعنی اس ضمن ہمیں جوماڈل ملاہے، اس کا ابدی ہونامطلوب نہیں۔ ایک اخلاقی سوال یہ بھی ابھرتاہے کہ چالیس فیصدمسلمان آج غیرمسلم ملکوںمیں رہتے ہیں۔ اگرمسلم ممالک میں غیرمسلموں کواہل الذمہ قراردیاجاتاہے تو آج مسلمان کس منہ سے سیکولرملکوںمیں اپنے لیے انسانی حقو ق طلب کریں گے؟ مقالہ سے ایک اہم نکتہ یہ نکل کرسامنے آیاکہ تاریخی طورپر غیرمسلموں کو مناصب دینے اوران سے کام لینے کے مسئلہ میں مسلمان حکمرانوں اورفقہاءکے مابین ایک کشمکش اور نزاع نظرآتی ہے۔مولاناعمارصاحب نے رائے دی کہ حکمرانوں کے تعامل کوبھی نظائر میں شمار کیا جانا چاہیے۔ راقم اس رائے سے کلی طورپر متفق ہے کیونکہ یہ عملی مسئلہ ہے اورعملی مسائل میں اہل حل وعقداورحکمران علماءکے مقابل کہیں زیادہ صائب الرائے واقع ہوئے ہیں۔فقہاءاورعلما فقہی جزئیات میں پھنس کرجاتے ہیں جبکہ ارباب حل وعقدعملی مسائل ومصالح کی بنیادپر فیصلہ کرتے ہیں۔جزئیات سے چمٹے رہنے کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلاہے کہ اسلام کی مبنی برنصوص سیاسی فکرمیں کوئی ارتقاءنہیں ہوااورماوردی وابن خلدون سے آگے بڑھ کرانسانی تجربات پر مبنی کوئی سیاسی فکرسامنے نہیں آسکی ہے۔
دوسرے دن پروفیسرماہان مرزاکے رسرچ گروپ نے میدان میں مورچہ لیا۔ اس کے سورماﺅںمیں شہزاد حسین نے نظریہ ارتقاءکے سلسلہ میں علماءدیوبندکاموقف بتایااوراس پرسخت تنقیدکی ۔اس سلسلہ میں انہوں نے فتاوی کی کتابوں سے جومواداستعمال کیا، وہ بڑاخام قسم کا تھا۔اس سلسلہ میں اصل کام مولاناوحیدالدین خاں کا ہے جن کی کتاب’ مذہب اورجدیدچیلنج،‘مذہب اورسائنس‘ اور’اظہاردین ‘میں سائنسی موضوعات پر وسیع مطالعہ کی روشنی میں اظہارخیال ملتاہے اورانہوں نے ریشنل بنیادوں پر ارتقاءکومستردکرنے کی کوشش کی ہے۔روایتی علما اورمفتیان نے سائنس کے بارے میں چندمفروضات سنی سنائی باتوں پر قائم کرلیے ہیں، اس لےے ان کی کتابوں یافتاوی میں اس کے بارے میں کوئی کام کی بات موجودنہیں ۔شہزاد حسین نے البتہ عالم عرب کے بارے میں بتایاکہ وہاں ارتقاءوغیرہ کے بارے میں اتناتوحش یابے خبری نہیں پائی جاتی جتنی برصغیرمیں پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹرمحمدحمیداللہ نے ارتقاءکے بارے میں مثبت رائے دی تھی اوراپنے خطبات بہاولپورمیں ایک جگہ بتایاہے کہ مسلم فلاسفراورصوفیاءکے ہاں یہ تصورکسی نہ کسی شکل میں پایاجاتاہے، اس کے لیے انہوں نے ابن مسکویہ کا حوالہ دیاہے۔
دوسرے انقلابی تحقیق کاروقاص احمدنے تاریخ عظیم The Big History کا تعارف کرایااوربتایاکہ کس طرح اس سے پورا ورلڈویو تبدیل ہوکررہ جاتا ہے اورمذہب کے سامنے کیساشدیدچیلنج پیداہوجاتاہے۔ ان کے مطابق تاریخ عظیم، ارتقاسے بھی آگے کی چیز ہے اوراس سے مذہب کی جڑبنیادہی ختم ہوکررہ جاتی ہے۔تاہم اس پر راقم کا سوال یہ ہے کہ تاریخ عظیم کی بنیاد Big Bang  تھیوری ہے ۔سائنس کے نزدیک کائنا ت کی پیداپش بگ بینگ کے ذریعہ تقریبا 13بلین سال پہلے ہوئی ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ انفجارعظیم کس نے کیا، یہ کیوںکرہوا، یہ اسی وقت کیوں ہوا، اس سے پہلے یابعدمیں کیوں نہیں ہوا؟سائنس کہتی ہے کہ اندھے قوانین فطرت کے مطابق خودبخودہوا۔ مذہب کہے گاکہ خدانے کیا۔اسی طرح سائنس اس سوال کا جواب بھی نہیں دیتی کہ قوانین فطرت کس نے بنائے اوران کوکون حرکت دیتاہے؟سائنس کہے گی کہ یہ قوانین خودنیچرکے اندرسے برآمدہوئے، مذہب کہے گاکہ خدانے بنائے۔ اس لیے مجھے ایسالگتاہے کہ تاریخ عظیم وغیرہ سے متوحش یاخوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
محمد تہامی بشرعلوی نے اپنے معنی خیز پیپر“سائنسی دوراورمذہبی بیانیے” میں اب تک پیش کیے گئے مذہبی بیانیوں اوران پر واردہونے والے اشکالات کا جائزہ لیا۔ان کے مطابق مذہبی متون کی تعبیرمیں جومناہج اختیار کیے گئے، ان میں ایک یہ ہے کہ متن کوکثیرالمعانی جان کرلغت کے اشتقاقات کی بنیادپر معنی متعین کیاجائے ۔یہ منہج غلام احمدپرویزنے اختیارکیااوراس پر سب سے بڑااعتراض تویہی واردہوتاہے کہ اس میں بغیرکسی دلیل کے لغت کے واضح اورمتبادرمعنی کوچھوڑکرغیرمتبادرمعنی کی طرف جایاجاتاہے جس کی کوئی بنیادنہیں ہے۔دوسرامنہج سرسیدکا ہے کہ معنی تک رسائی  میں انسانی علم کا ارتقا تسلیم کیاجائے اورجس زمانہ میں رائج علم کے مطابق جو معنی فٹ بیٹھے، اس کوقبول کرلیاجائے ۔انسانی علم وتجربہ بڑھے گاتوواحددرست معنی بھی سمجھ میں آجائے گا۔یہ منہج پہلے سے بہترہے، مگراشکالات سے خالی نہیں۔اس میں فرض کیاجاتاہے کہ ورک آف گاڈاورورڈ آف گاڈ میں تضادنہیں ہوسکتا، اس لیے ورڈ آف گاڈکوورک آف گاڈ کے مطابق سمجھاجائے گا۔سوال یہ ہے کہ اس کے الٹ کیوں نہیں ہوسکتاکہ ورک آف گاڈکو ورڈ آف گاڈ کے مطابق سمجھاجائے جیساکہ روایتی علماءکہتے ہیں؟ 
ایک منہج یہ ہے کہ صریح عقل اورصریح نقل میں تعارض نہیں ہوگا۔ یہ مولاناتھانوی کا نقطہ نظرہے۔ انہوں نے اس کی چارصورتیں بیان کی ہیں۔البتہ آج تاریخ عظیم اورارتقاءکوتسلیم کرلینے کے بعدعقل ونقل میں تعارض پایاجا رہا ہے تو اس کوکیسے دورکیاجائے گا؟اس سوال کا کوئی جواب اس نقطہ نظرکے پاس نہیں ہے۔ایک بیانیہ یہ ہے کہ سائنس اورمذہب دونوںکا مقصداوردائرہ کارالگ الگ مان لیاجائے ۔یہ مولاناانورشاہ کشمیری کی رائے ہے۔ ایک بیانیہ ڈاکٹرفضل الرحمن کا ہے کہ سامعین کے شعورکی جوسطح تھی، اس کوسامنے رکھ کرایک بات مذہبی متن میں کہہ دی گئی ۔اس تعبیرکومان لینے کے نتیجہ میں کائنات کی تفہیم سائنس سے ہوگی، مذہب سے نہیں ہوگی ۔بلاشبہ فضل الرحمن کے ہاں جدیددورکا گہراادراک پایاجاتاہے مگریہ سارے بیانیے اشکالات سے خالی نہیں۔ ان پر غوروفکرکا سلسلہ جاری رہناچاہیے۔البتہ راقم کا رجحان ابھی تک مولاناانورشاہ کشمیری کی رائے کی طرف ہے، بلکہ کشمیری اورفضل الرحمن کی رایوںمیں مطابقت دی جاسکتی ہے۔
اگلی مقالہ نگارمریم مدثرکی غیرموجودگی میں سمیراربیعہ نے ان کامقالہ پیش کیاجس میں بتایا گیا تھا کہ علاج اور enhancement میں فرق یہ ہے کہ موخرالذکرمیں انسان کی صلاحیت کوفطری حدسے بڑھا دیا جاتا ہے۔ مثلاً اس کی نیند میں کمی لائی جاسکتی ہے، اس کی اغلاط کی شرح میں کمی آئے گی ،اس کے فہم میں اضافہ ہوگا، جنین کی بیماریوں کو ختم کیا جا  سکے گا، بولنے اور یاد رکھنے کی صلاحیتیں بڑھیں گی، نیوروسائنس میں اس سے کام لیاجاسکتاہے۔ مثلا 3 D پرنٹنگ ترکیب سے انسانی دماغ میں مطلوبہ تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پہلے صحت ومرض کا تصوریہ تھاکہ اگر کوئی بیمارنہیں ہے تووہ صحت مند سمجھاجاتا تھا، مگر آج انسان صحت مندتب سمجھاجائے گا جب بیماربھی نہ ہواوروہ اپنے معاشر ہ میں فٹ ہوجائے اورخوش رہ سکے ۔مقالہ بڑامعلوماتی تھااوراس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ سائنس اور خصوصاً میڈیکل سائنس اب کس رخ پر جانے والی ہے اور اس سے انسان کے مستقبل پر کیا مثبت ومنفی اثرات پڑیں گے۔
پروفیسر مہان مرزا کا مقالہ Egalitarian Turn as Copernican Revolution: Theorizing Continuity and Change in Islamic Theology and Law کے موضوع پر تھا۔  اس اہم مقالہ میں کہاگیاکہ ہمیں اپنی روایت کومحبت کے ساتھ لینے کے ساتھ ہی اس پر تنقیدکا عمل بھی جاری رکھنا چاہیے۔ان کا سوال تھاکہ کیااسلامی قانون میں تبدیلی اورcontiniuty برابرجاری رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے بتایا  کہ ارسطوکے ورلڈویومیں نالج کی تشریح الگ تھی، آج اس کا تصوربالکل بدل چکاہے۔ماہان صاحب کے مقالہ کا خلاصہ یہ تھاکہ کسی قوم کی تھیولوجی موجودہ دورکی Cosmology کے مطابق ہی ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ارسطوکے ورلڈویوکے مطابق فقہاءنے معاشرت وغیرہ کے جواحکام مرتب کیے، ان کے جوجوازہم دیتے آئے ہیں، وہ اب کام نہیں کریں گے کیونکہ اب ورلڈویوتبدیل ہوچکاہے۔ انہوں نے بتایاکہ کیشا علی کے مطابق خود قرآن سے ایسے اصول مل سکتے ہیں جن سے جدیدیت کے مسائل حل کیے جاسکیں۔سائنس کے مفکر تھامس کہن ( Kuhn)کہتے ہیں کہ جب روایت سے مختلف آراءاتنی زیادہ ہوجائیں کہ ان کونظراندازکرنامشکل ہوجائے تو پھر بحران پیداہوجاتاہے اوربحران سے نکلنے کے لیے ایک کلی تبدیلی( paradigme shift)کی ضرورت ہوتی ہے۔
مہان صاحب کہتے ہیں کہ آج ہماری روایت بھی بحران سے گزررہی ہے، اس لیے پیراڈائم شفٹ کی ضرورت ہے۔تاہم اس پوزیشن پر سوال یہ بنتاہے کہ سائنسی حقائق اوردینی حقائق دونوں یکساں کیسے ہوسکتے ہیں اوردونوںمیں ایک ہی طرح کے tools کیسے استعمال کیے جاسکتے ہیں؟زیادہ صحیح پوزیشن یہ معلوم ہوتی ہے کہ سائنس کی بنیادپر مذہب کوثابت نہیں کیاجاسکتااورنصوص کی سائنٹیفک اصولوں پر تاویل سے مذہب اورسائنس دونوں کے ساتھ انصاف نہ ہوسکے گا۔کیونکہ جیساکہ غامدی صاحب کہتے ہیں، سائنسی حقائق مذہب کا مسئلہ ہے ہی نہیں۔مذہب کا مسئلہ انسان کا تزکیہ نفس،آخرت کی تذکیراوراخلاق کی تطہیرہے۔ہاں، جب مذہب کوساری زندگی پر پھیلایا جاتا ہے جیساکہ دین کی سیاسی تعبیرکے حاملین کرتے ہیں تواس میں عقل کے کردار کی نفی ہوجاتی ہے اور لاینحل مسائل پیداہوتے ہیں۔
انٹینسِوکے تیسرے دن ڈاکٹروارث مظہری اوران کی ٹیم نے اپنے مقالے پیش کیے۔ وارث مظہری صاحب کے ریسرچ پیپرکا عنوان تھا: ’’قرآنی نصوص کی تاویل کا مسئلہ ابن رشدکے حوالہ سے“۔ انہوں نے تاویل کے قدیم مناہج سے یکسرمختلف جدید منہج کا جائزہ لیاجو آج کے ماڈرنسٹوں کا ہے۔اس کے نمائندہ نام ہیں: نصر حامد ابوزید،حسن حنفی،محمدشحرور وغیرہ۔یہ منہج اس کا قائل ہے کہ قرآن کی ازسرنوقراءت عہدجدیدکے ذہن کوسامنے رکھ کرکی جائے۔یہ منہج قدیم روایت کوپوری طرح مسترد کرتا ہے۔ ڈاکٹر وارث کا کہنا تھاکہ ماڈرنسٹوں کی یہ مستردکرنے والی فکرتوصحیح نہیں البتہ قدیم وجدیدکے درمیان ایک درمیانی منہج ابن رشدکا ہوسکتاہے۔ اس کے بعدانہوں نے ابن رشدکے منہج کا تفصیل سے جائزہ لیا۔راقم کا اس پر سوال یہ ہے کہ ابن رشدبنیادی طورپر ارسطوکے مقلداورشارح ہیں۔آج جبکہ ارسطوکا ورلڈویومستردہوچکاہے توہم ان کے منہج کوکس طرح follow کرسکتے یااس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟
محمدفرقان نے اپنے پیپرمیں احترام انسانی Human Dignity  کے تصورکا جائزہ لیا۔انہوں نے بتایاکہ تھامس اکویناس کے خیال میں گنا ہ کی وجہ سے انسان کا احترام جاتارہتاہے۔بدھ ازم میں احترام انسان ،حیوان اورشجروحجرسب کوحاصل ہے ۔اسلام میں امام شافعی اس کواسلام سے جوڑتے ہیں اورغیرمسلم کے لیے احترام نہیں مانتے، جبکہ آلوسی اورامام ابوحنیفہ اس کوعام رکھتے ہیں،ان کے ہاں یہ نیک وبدمسلمان غیرمسلم سبھی کوشامل ہے۔اسلامی تاریخ اورفقہ میں احترام انسانی کی خلاف ورزیوں کی جومثالیں ملتی ہیں، ان کے بارے میں تحقیق کا رکا کہنا تھا کہ یہ ہوئی ہیں اوران کا اعتراف کرناچاہیے، مگراس کا ذمہ داراسلام نہیں، خودمسلمان ہیں۔
غلام رسول دہلوی نے حنفی فقہ کے پس منظرمیں بلاسفیمی لایااہانت رسالت کے قانون (پاکستا ن )کا جائزہ لیا۔ حقیقت میں یہ بڑا حساس اورنازک ایشوہے جس کوپاکستان کے علما ،دائیں بازوکے دانشوروں اورسستی مذہبی صحافت نے ایک متشدد مسئلہ میں بدل دیاہے۔پاکستان کی بلااستثناءتمام مذہبی ودینی جماعتیں اورادارے کسی نہ کسی حیثیت میں اس حوالہ سے قوم کی صحیح تربیت کرنے میں بالکل ناکام رہے اوربہت سے تواس ایشوکواپنے مذموم سیاسی مقاصدکے لیے استعمال بھی کرتے رہے ۔انہوں نے یہ valid سوال اٹھایاکہ ہرہرجزئیے میں فقہ حنفی کا حوالہ دینے والے پاکستانی علما اس معاملہ میں اصل حنفی موقف سے روگردانی کرکے کیوں ابن تیمیہ ؒ کے موقف کواختیارکیے ہوئے ہیں؟ سوال اپنی جگہ درست ہے ،تاہم میرااحساس ہے کہ اس سلسلہ میں صرف فقہ حنفی یامقاصدشریعت کے حوالہ سے بات بننے والی نہیں بلکہ اس سلسلہ میں جتنی روایات آئی ہیں اورجوواقعات سیرت کی کتابوںمیں ملتے ہیں، ان کی تحقیق وتجزیہ درکارہے جوتحقیق کار نے نہیں کیا۔
 ریسرچ اسکالرمحمدعلی نے مشہوربریلوی عالم مولانااحمدرضاخاںبریلوی کا ایک اچھوتے زاویے سے مطالعہ پیش کیا۔ان کے پیپرکا حاصل یہ تھاکہ عشق رسول کا غلوآمیز تصورتوصوفیاءکے ہاںہمیشہ پایاگیا، مگروہ ان کاذاتی رجحان ہوتاتھا۔اس پر تنقیدبھی ہوتی تھی اوراس کے حامل بھی پائے جاتے تھے مگراس کومسلک بناکراس کا پرچار نہیں کیاجاتاتھا ۔مولانااحمدرضانے اس تصورکوفقہی اسلو ب میں ڈھال دیااوراب وہ دین وایمان کا اورعقیدہ کا مسئلہ بن گیا اور جو اس کونہ مانے، وہ کافرمتصورہوا۔
ونٹرانٹینسوکے پانچویں دن پروفیسرابراہیم موسیٰ کے گروپ نے اپنی جولانی طبع کا مظاہرہ کیا۔عادل عفان نے مختصراً ارتدادکی سزاپرنئے سرے سے غوروفکرکی ضرورت پر اپنے نتائج فکر پیش کیے۔ان کا خلاصہ تھاکہ قرآن کے مطابق ارتدادکی کوئی سزانہیں ہے۔تاہم بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہ توایشوسے نہایت ظاہری اور سرسری سا گزرناہوا۔معاملہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں متعددروایات ثابت ہیں۔اکثرفقہاءکا اس پر اجماع ہے۔یعنی دوسرے لفظوںمیں کہاجاسکتاہے کہ اس میں تعارض ادلہ ہوگیاہے، کیونکہ قرآن تواس معاملہ میں واضح ہے اور تبدیلی مذہب کی کوئی سزانہیں بتاتا ہے مگرآثاروروایات میں نیزفقہاءکے اقوال اسلام کوچھوڑکرکوئی اورعقیدہ قبول کرنے کی سزاقتل قراردیتے ہیں ۔اگرحدیث کوبھی دین کا اساسی مصدرماناجاتاہے تواب ان تمام روایات واحادیث کوبھی address کرناپڑے گاجن میں مرتدکی سزاقتل بتائی گئی ہے۔
محمدبلال نے شان نزول کی روایتوں کا سہارا لے کر فہم قرآن میں تاریخ کے تناظرکے کردارپربات کی۔ ڈاکٹرفضل الرحمن ،آمنہ ودود اور نصر حامد ابوزیدنے تاریخ کے تناظرکی بات کہی ہے، مگرشان نزول کی روایتوں سے شایداس پر استدلال کرناخلط مبحث ہوگا۔
اس کے بعدمنظرامام نے“اسلام اور انسانی حریت ”پر ترکی میں Young Turks کے مخصوص عہدکے پس منظرمیں بڑی خوبی سے گفتگوکی۔ گفتگوزیادہ ترتھیوریٹیکل رہی۔ تھیوری کی حدتک بات نبھ جاتی ہے اورہم اسلام کے اس ضمن میں فضائل بیان کرلے جاتے ہیں،  مگرمسئلہ اصلاً عملی ہے۔سوال یہ ہے کہ اسلام غلامی کوختم کرنے آیا تھا(جیساکہ دعوی کیاجاتاہے )توپوری مسلم تاریخ میں غلامی کیوں جاری رہی؟ فقہاءنے اس کے احکام کیوں مرتب کیے؟مسلمانوں کے ادوارحکومت میں غلاموں کے باقاعدہ بازارلگتے تھے۔ نوجوان باندیوں کے چہرے، سینے اور پستان کھول کھول کردیکھے جاتے تھے تویہ کس قسم کا انسانی احترام تھااورکیسی حریت تھی ؟ اس کے علاوہ تمام فقہا اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ مرتدکوقتل کیاجائے گااورو ہ اس معاملہ میں محارب وغیرمحارب کا کوئی فرق نہیں کرتے۔ پھر یہ کہنے کی کیاتک بنتی ہے کہ اسلام حریت فکراورحریت اعتقادکا محافظ ہے؟ بہرحال یہ مسائل نہایت  غوروفکر اور جرات وہمت کاتقاضاکرتے ہیں۔
آخرمیں میر کارواں پروفیسرابراہیم موسی ٰنے اپنا پیپر پیش کیاجس کا عنوان تھا: Being and Knowing in an age of Contingency ۔ یہ پیپرفلسفہ وکلام کا آمیزہ تھااورروح ،دل ودماغ کے بارے میں جدیدمیڈیکل تحقیقات اوران کے اطلاقات کے فکری وفقہی نتائج سے بحث کرتا تھا۔ انہوں نے ابن عربی کے حوالے سے کہاکہ انسان کا وجودبھی کہیں نہ کہیں Divinity سے وابستہ ہے اوردونوںکوالگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ پیپرکا خلاصہ یہ تھا کہ وحی پر ایمان کی وجہ سے ہم کسی نہ کسی طرح تقلیدپرمجبورہیں مگرہماری تقلید تغیرپذیر ہونی چاہیے۔ہم یہ تحقیق وجستجو کریں کہ موجوددورمیں کس طرح اپنی تھیولوجی کوموجودہ دورکی علمیات کے مطابق بنائیں۔ ہمیں دینیات میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سوشل سائنسزنیزنیچرل سائنسزکے tools استعمال کرنے ہوں گے ۔
پروگرام کے تمام دنوںمیں چائے کے وقفوںمیں، کھانے کی میزپر اورچلتے پھرتے پروفیسرابراہیم موسیٰ شرکاء سے گھلے ملے رہتے ،ان کے سوال پوری توجہ سے سنتے اوران کی علمی رہنمائی کرتے ،بس میں بیٹھے ہیں اور علمی ضوفشانی کا سلسلہ جاری ہوگیا!  
چھٹادن کالج آف اسلامک اسٹڈیز کے اساتذہ سے استفادہ اورانٹرایکشن کے لیے اورشرکاءکے تاثرات کے لیے رکھاگیا۔ اس میں معاصرقرآنی اسٹڈیز کے ماہر پروفیسرجوزف لمبارڈ ،مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے ماہرپاکستان کے ڈاکٹرمدثرعلی اورسری لنکا کے پروفیسردین محمدنے مختصراًخطاب کیااورشرکاءنے ان سے سوالات کیے۔ جوزف لمبارڈ نے جاپانی مفکرتوشیکوہیکو کے حوالے سے بتایاکہ قرآن کی اپنی خاص زبان ہے جس کی مثال دنیاکی کسی زبان میں نہیں۔ اس نے بعض الفاظ کومخصوص معانی دیے۔ مثال کے طورپر کفر جاہلی دورمیں اخفاء(چھپانے )کے معنی میں استعمال ہوتا تھا، مگرقرآن نے اس کوعدم ایمان باللہ کے معنی میں استعمال کیا۔ انہوں نے کہاکہ قدیم تفاسیرکے ساتھ ایک خاص مشکل یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی مکتب فکرکی وکالت میں لکھی گئی ہیں۔ڈاکٹرمدثرعلی نے مولانامناظراحسن گیلانی اوران کی کتاب الدین القیم پر روشنی ڈالی اوران کے تعلیمی نظریات سے آگا ہ کیا۔مولاناگیلانی کے مطابق تعلیم حصول معاش میں مددگارہونی چاہیے۔گیلانی نے اسلامی یونیورسٹی کا تخیل بھی پیش کیا تھا۔ پروفیسردین محمدنے ابن عربی کے حوالہ سے بتایاکہ ہماری روایت میں دینیات کے اندرخداکا تجربہ شخصی طورپر ہوتاتھا۔انہوں نے آیت کریمہ: افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فہو علی نور من ربہ (وہ شخص جس کے سینہ کو اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا، اسے اپنے رب کی طرف سے ایک نورحاصل ہے(زمر : ۲۲) کے حوالہ سے بتایاکہ ہماری روایت میں صوفی اس علی نور من ربہ کوبہت اہمیت دیتے ہیں۔
اس سیشن کے بعد ہندوپاک اورنوٹرے ڈیم کے تقریبا بیس  شرکاءنے مختصراً مدرسہ ڈسکورسز کے پروگرام کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے اورچاروں اساتذہ نے بھی مختصرکلمات اداکیے۔ اپنے اختتامی کلمات میں پروفیسرابراہیم موسیٰ نے کہاکہ مدرسہ ڈسکورسز میں سوالوں کا جواب نہیں دیاجاتا بلکہ ذہن کوسوال کرنے اورخودجواب ڈھونڈنے کے لائق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ سوال کوسمجھنازیادہ اہم ہے۔اگرہم انفرادی سوالوں کا جواب دے کر بات ختم کر دیں تو مقصد فوت ہوجائے گا۔زیادہ اہم یہ ہے کہ انفرادی سوالوں کا جواب نہیں بلکہ جوتہذیبی چیلنج درپیش ہے، اس کے جواب کی تیاری کی جائے۔ کیونکہ آج مغربی انٹیلیکچول روایت کے مقابلے میں کوئی انٹیلیکچول روایت سامنے نہیں آرہی ہے۔ ہماری روایت میں بہت تنوع اور Diversity رہی ہے اورمدرسہ ڈسکورسزاسی روایت کے احیاءکی ایک کوشش ہے۔