مسلم معاشروں سے متعلق فکری مباحث پر استشراقی اثرات
محمد عمار خان ناصر
ہمارے ہاں کم وبیش تمام اہم فکری مباحث میں مغربی فکر وتہذیب اور جدیدیت کے پیدا کردہ سوالات، قابل فہم اسباب سے اور ناگزیر طور پر، گفتگو کا بنیادی حوالہ ہیں۔ اس پورے ڈسکورس میں ایک بنیادی مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسئلے کی نوعیت بنیادی طور پر وہی ہے جس کی نشان دہی ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’’استشراق “ میں کی ہے، تاہم وہ مغربی علمی روایت کے تناظر میں ہے۔ ایڈورڈ سعید نے بتایا ہے کہ کس طرح استشراقی مطالعات میں مغربی تہذیب کو معیار مان کر دنیا کے باقی معاشروں کا مطالعہ کرنے کا زاویہ کارفرما ہے اور کیسے اس سارے علمی عمل کی تشکیل تہذیبی تعصبات کے تحت اور superiority کے ذہنی رویے کے زیر اثر ہوئی ہے۔ (حال ہی میں وائل حلاق نے خود ایڈورڈ سعید پر یہ دلچسپ تنقید کی ہے کہ انھوں نے غیر مغربی معاشروں اور روایتوں کی جو ایک ہمدردانہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، وہ بھی مغربی تہذیبی تصورات کو ہی normative ماننے پر مبنی ہے۔)
میرا احساس یہ ہے کہ جس رویے کی نشان دہی ایڈورڈ سعید نے استشراق کے حوالے سے کی ہے، ہمارے ہاں بھی وہ بدرجہ اتم موجود ہے اور زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدیدیت کے حامی اور ناقد، دونوں حلقوں کے طرز فکر میں یہ رویہ اتنی ہی گہرائی کے ساتھ سرایت کیے ہوئے ہے۔ مثلا سیاسیات میں سیکولرزم اور ادبی تنقید میں زبان سے متعلق جدید مباحث بنیادی طور پر مغربی فکر ومعاشرت کے مخصوص تاریخی تجربات سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے بہت سے اجزا یقینا مغرب کے مخصوص تاریخی تجربے سے ماورا بھی معنویت رکھتے ہیں، لیکن مجموعی حیثیت میں، ایک پیکج کے طور پر، ان کی معروضی تفہیم مغربی سیاق سے باہر نہیں ہو سکتی۔ لیکن ہمارے ہاں کے فکری مباحث میں اس فرق کو ملحوظ رکھنے بلکہ سمجھنے کی بھی کوئی خاص اہمیت محسوس نہیں کی جاتی اور غیر مغربی معاشروں کے اپنے خاص مزاج، تہذیبی پس منظر اور روایات کو ناقابل اعتنا گردانتے ہوئے مغربی فکری تصورات کو یوں منطبق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے وہ انسانی تجربے اور تاریخ کی پیداوار نہیں، بلکہ اس سے ماورا کسی مصدر سے دریافت کیے گئے ہیں اور انسانی تجربے اور تاریخ پر حکم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
جدیدیت کے ناقدین بھی غیر شعوری طور پر اسی طرز فکر کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔ مثلا مذہبی فکر میں تجدید یا توسیع کی کوششوں کو بنیادی طور پر ’’تحریک اصلاح مذہب“ کے پیراڈائم میں دیکھنا اسی کا ایک مظہر ہے جس میں اس پہلو سے کلیتا صرف نظر کر لیا جاتا ہے کہ خود اسلامی روایت میں بھی تجدید، اصلاح اور فکری توسیع کا ایک تسلسل موجود ہے اور یہ کہ مثال کے طور پر، مخصوص فقہی مذاہب کی پابندی نہ کرنے اور قرآن وسنت سے براہ استنباط کی روایت کو زندہ رکھنے کا عمل مستقل طور پر اسلامی روایت میں موجود رہا ہے۔ یوں یہاں نہ تو روایت کا کوئی monolithic تصور ہے اور نہ اس کے محافظ کے طور پر کلیسا کا کوئی ادارہ ہے جس کے خلاف ’’ریفرمیشن “ کے طریقے پر بغاوت کی ضرورت محسوس کی گئی ہو۔
جدیدیت اور سائنس نے مذہبی فکر پر یقینا گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن مذہبی رسپانس کی تفہیم کے لیے ’’ریفرمیشن “ کا پیراڈائم قطعی طور پر غیر متعلق اور ناکافی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید مذہبی تعبیرات یا قرآن وسنت کے براہ راست فہم کے ناقدین، خود یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں ’’اصلاح مذہب“ جیسی تحریکوں کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہاں کوئی چرچ موجود نہیں، لیکن پھر اگلی ہی سانس میں جدید تعبیرات کو ’’اصلاح مذہب“ سے تشبیہ دینے لگتے ہیں اور اس تضاد کو محسوس نہیں کرتے کہ جب اسلامی روایت میں وہ صورت حال ہی موجود نہیں جو ’’اصلاح مذہب“ کا جواز بن سکے تو پھر مذہبی تعبیر نو کا رجحان کیونکر مسلم معاشروں میں قبولیت عامہ حاصل کر رہا ہے؟ یہاں ایک دوسری تفہیم بعض ایسے حلقوں کی طرف سے ہمارے سامنے آتی ہے جو اس تضاد کو محسوس کرتے ہیں اور وہ اس ظاہرے کو ’’استعماری طاقت“ سے منسوب کرنے لگتے ہیں۔ یوں عدم تقلید اور تعبیر نو کے داعی تمام مفکرین استعمار کے ایجنٹ اور ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے قرار پاتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی، جمال الدین افغانی، محمد عبدہ اور شبلی وغیرہ، سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا استدلال کا منطقی تقاضا بن جاتا ہے۔ گویا اسلامی فکری روایت اب ایک ’’مردہ بدست زندہ“ ہے جس کی اپنی کوئی داخلی حرکیات نہیں ہیں اور اس کی ہر جنبش کو اسی طرح ماحول کے دباو کا اثر سمجھنا ضروری ہے جیسے نظریہ ارتقا میں حیاتیاتی آرگنزم کی ہر تبدیلی، ماحول کے تقاضوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔
وائل حلاق کا ذکر ہوا جنھوں نے اپنی تازہ کتاب Restating Orientalism: A Critique of Modern Knowledge میں ایڈورڈ سعید پر یہ تنقید کی ہے کہ وہ استشراق کے فکری مزاج کو پوری طرح سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور یہ کہ خود ایڈورڈ سعید کا کام بھی استشراقی مفروضات ہی پر مبنی اور اسی طرز فکر کا نمونہ ہے۔ حلاق کے اس دعوے کا جائزہ لینا یہاں میرا موضوع نہیں، لیکن میری رائے میں یہی تنقید خود حلاق پر بھی وارد ہوتی ہے اور ان کی سابقہ کتاب The Impossible State ایک بنیادی سطح پر مغربی ڈسکورسز ہی کو مسلمان معاشروں پر منطبق کر کے مخصوص نتائج اخذ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ حلاق اس کتاب میں ریاست کے دو ماڈلز کو ایک دوسرے کے مقابل دکھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ Paradigmatic Islamic Governance کی یہ اور یہ خصوصیات تھیں، جبکہ ماڈرن اسٹیٹ کی خصوصیات یہ اور یہ ہیں جو کلی طور پر معیاری اسلامی ریاست کی خصوصیات سے متصادم ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جدید ریاست کے ساتھ ’’اسلامی ریاست“ کا کوئی بامعنی تعلق بنانا، ناممکن ہے۔
حلاق کے اس استنتاج میں دو بنیادی مسئلے ہیں جن میں سے ایک، براہ راست استشراقی منہج مطالعہ کا نتیجہ ہے۔ وہ ماڈرن اسٹیٹ کی خصوصیات متعین کرنے کے لیے مشل فوکو اور دریدا کی تنقیدی تھیوریز پر انحصار کرتے ہیں جنھوں نے ریاست کو، جیسا کہ وہ مغرب میں ارتقا پذیر ہوئی ہے، موضوع بنایا ہے۔ یہاں اس نکتے سے صرف نظر کر لیا جائے کہ یہ ایک پوسٹ ماڈرنسٹ تنقید ہے جو بہرحال ایک خاص مکتب فکر کی ترجمانی کرتی ہے اور اسے مغربی فکر کی کوئی uncontested self-understanding قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس تنقید کو فیس ویلیو پر درست مان لیا جائے تو بھی اس سے اسلامی ریاست کے ناممکن ہونے کا نتیجہ اخذ کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ مسلم معاشروں میں بھی ریاست ارتقا پذیر ہو کر وہی صورت اختیار کر چکی ہے جو مغرب میں پائی جاتی ہے۔ حلاق دونوں معاشروں میں ریاست کی شکل وصورت اور واقعیت کے کھلے ہوئے فرق کو نظر انداز کر کے اور مغربی ریاست کو گویا جدید ریاست کی واحد معیاری صورت فرض کر کے یہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی خصوصیات اس میں کوئی جگہ نہیں پا سکتیں، اس لیے اسلامی ریاست اور جدید ریاست دو متضاد تصورات ہیں۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶٠)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۳۸۱) ارسال کا ایک مفہوم
ارسال کے ایک سے زیادہ معنی آتے ہیں، فیروزابادی لکھتے ہیں:
والارسالُ: التَّسلیطُ، والطلاقُ، والاِہمالُ، والتَّوجِیہُ۔ (القاموس المحیط)
راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
وقد یکون ذلک بالتّخلیۃ، وترک المنع۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص: 353)
گویا ارسال کے معنی بھیجنے کے تو آتے ہی ہیں، آزاد کردینے، پابندی ہٹانے اور چھوڑ دینے کے بھی آتے ہیں۔
قرآن مجید میں یہ لفظ بھیجنے کے معنی میں تو بہت استعمال ہوا ہے، عام طور سے اس وقت اس کے ساتھ الی لگتا ہے، سیاق کلام سے بھی وہ مطلب واضح ہوتا ہے۔ تاہم بعض مقامات پر سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بھیجنے کے بجائے پابندی ہٹانے اور چھوڑ دینے کا مفہوم اختیار کرنازیادہ مناسب ہے ۔ یہاں اسی حوالے سے کچھ آیتوں پر گفتگو کی جائے گی۔
ذیل کی آیتوں میں اس مطالبے کا ذکر ہے جو موسی علیہ السلام نے فرعون کے سامنے بنی اسرائیل کے تعلق سے کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ مطالبہ بنی اسرائیل کو کہیں بھیجنے کا نہیں تھا، بلکہ انہیں غلامی کے طوق سے آزاد کرنے، ان پر لگی پابندیوں کو ہٹانے، اور وہ جہاں جانا چاہیں جانے کی اجازت دینے کا تھا۔
ایک دوسرے مقام پر یہ بات دوسرے لفظوں میں کہی گئی ہے، وہاں: ان ادُّوا اِلَیَّ عِبَادَ اللَّہِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
وَلَقَدفَتَنَّا قَبلَہُم قَومَ فِرعَونَ وَجَاءہُم رَسُول کَرِیم ۔ ان ادُّوا اِلَیَّ عِبَادَ اللَّہِ اِنِّی لَکُم رَسُول امِین۔ (الدخان: 17، 18)
”ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا، اور اس نے کہا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں“۔ (سید مودودی)
اس آیت میں بہت واضح طور پر موسی علیہ السلام کے مطالبے کو بیان کردیا ہے، کہ وہ بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا تھا۔
اہل ترجمہ کے یہاں مذکورہ ذیل مقامات پر ملے جلے ترجمے ملتے ہیں۔ ایک ہی مترجم نے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کیے ہیں۔ بہرحال سیاق کلام صاف بتارہا ہے یہاں پر ارسال کا معنی آزادی دینے اور پابندی ہٹادینے کے ہیں، اس پر مزید یہ کہ ان مقامات پر الی نہیں ہے۔
فَارسِل مَعِیَ بَنِی اِسرَائِیلَ۔ (الاعراف: 105)
”پس بھیج دے ساتھ میرے بنی اسرائیل کو“۔ (شاہ رفیع الدین)
”لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے “۔(سید مودودی)
”سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے“ ۔(اشرف علی تھانوی)
”سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے “۔(محمد جوناگڑھی)
”تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے “۔(احمد رضا خان)
وَلَنُرسِلَنَّ مَعَکَ بَنِی اِسرَائِیلَ۔ (الاعراف: 134)
”اور البتہ بھیج دیں گے ہم ساتھ تیرے بنی اسرائیل کو“۔ (شاہ رفیع الدین)
”اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے“۔ (سید مودودی)
”اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کرکے آپ کے ہم راہ کردیں گے“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
فَارسِل مَعَنَا بَنِی اِسرَائِیلَ وَلَا تُعَذِّبہُم۔ (طہ: 47)
”سو بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور نہ ستا ان کو“۔ (شاہ عبدالقادر)
”تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے“۔ (سید مودودی)
”تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں تکلیف نہ دے “۔(احمد رضا خان)
ان ارسِل مَعَنَا بَنِی اِسرَائِیلَ۔ (الشعراء: 17)
”کہ بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو“۔ (شاہ عبدالقادر)
”کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے“۔ (سید مودودی)
”کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دے “۔(احمد رضا خان)
علاوہ ازیں درج ذیل آیت میں بھی ارسال بھیجنے کے معنی میں نہیں بلکہ پابندی اور رکاوٹ ہٹانے کے معنی میں ہے، کیوں کہ اس کے بالمقابل امساک یعنی روک لگانے کا ذکر ہے۔
مَا یَفتَحِ اللَّہُ لِلنَّاسِ مِن رَحمَۃ فَلَا مُمسِکَ لَہَا وَمَا یُمسِک فَلَا مُرسِلَ لَہُ مِن بَعدِہِ۔ (فاطر: 2)
”جو کچھ کھول دیوے اللہ واسطے لوگوں کے رحمت سے پس نہیں بند کرنے والا واسطے اس کے اور جو کچھ بند کر لیوے پس نہیں چھوڑ دینے والا واسطے اس کے“۔ (شاہ رفیع الدین)
”اور جو روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں “۔(سید مودودی)
”اور جس کو روک دے اس کا کوئی بھیجنے والا نہیں ہے“۔ (جوادی)
”اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں“۔ (احمد رضا خان)
(۴۸۱) ذرا کا معنی
ذرا کا ترجمہ بہت سے لوگ بہت سے مقامات پر پیدا کرنا کرتے ہیں، اور اسے خلق کا ہم معنی سمجھتے ہیں، بہت سی عربی تفسیروں سے بھی یہی خیال ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس لفظ کا جائزہ لیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب صرف پیدا کردینا نہیں بلکہ پیدا کرکے بکھیردینا اور پھیلادینا ہے۔ ابن عطیہ لکھتے ہیں:
وذَرَا معناہ خلق وانشا وبث فی الارض۔ (المحرر الوجیز)
زمخشری لکھتے ہیں:
یَذرَوکُم یکثرکم، یقال: ذرا اللہ الخلق: بثہم وکثرہم. والذر، والذرو، والذرء: اخوات۔ (الکشاف)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
ذَرَاکُم خلقکم وبثکم بالتناسل۔ (الکشاف)
ابن عاشور لکھتے ہیں:
معنی: ذراانشا شیئا وکثرہ۔ (التحریر والتنویر)
ذرا مختلف ہے خلق سے، یہ حقیقت قرآن مجید میں دونوں لفظوں کے استعمال سے بھی ملتی ہے۔
قرآن مجید میں خلق کے ساتھ کہیں بھی فی الارض نہیں آیا ہے، جب کہ ذرا کے ساتھ زیادہ تر فی الارض آیا ہے۔ فی الارض درج ذیل تین مقامات پر بث کے ساتھ بھی آیا ہے:
وَمَا بَثَّ فِیہِمَا مِن دَابَّۃ۔ (الشوری: 29)
وَبَثَّ فِیہَا مِن کُلِّ دَابَّۃ۔ (البقرة: 164)
وَبَثَّ فِیہَا مِن کُلِّ دَابَّۃ۔ (لقمان: 10)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ خلق کے مقابلے میں ذرا زیادہ قریب بثّ سے ہے، اور بثّ کے معنی تو سب کے نزدیک پھیلانے کے ہوتے ہیں۔
بہرحال ،ذیل کے ترجموں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی مترجمین نے ملا جلا رویہ اختیار کیا ہے:
وَجَعَلُوا لِلَّہِ مِمَّا ذَرَا مِنَ الحَرثِ وَالانعَامِ نَصِیبًا۔ (الانعام: 136)
”اور کیا انہوں نے واسطے اللہ کے اس چیز سے کہ پیدا کیا ہے کھیتیوں سے اور جانوروں سے ایک حصہ“۔ (شاہ رفیع الدین)
”اور ٹھیراتے ہیں اللہ کا اس کے لیے پیدا کی کھیتی اور مواشی میں ایک حصہ“ ۔(شاہ عبدالقادر)
”اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے“۔ (سید مودودی)
اس مقام پر سب نے پیدا کرنا ترجمہ کیا ہے، جب کہ لفظ کی رعایت کرتے ہوئے یہاں ذرا کا ترجمہ پھیلانا کیا جاسکتا ہے۔
”اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پھیلائی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے“۔
قُل ہُوَ الَّذِی ذَرَاکُم فِی الارضِ وَاِلَیہِ تُحشَرُونَ۔ (الملک: 24)
”کہ وہ ہی ہے جن نے پھیلایا تم کو بیچ زمین کے اور طرف اسی کے اکٹھے کیے جاؤ گے“۔ (شاہ رفیع الدین)
”تو کہ وہی ہے جس نے کہنڈایا تم کو زمین میں اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤگے “۔(شاہ عبدالقادر)
”اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے “۔(سید مودودی)
سابقہ مقام کے برعکس یہاں سب نے پھیلانا یا اس سے قریب تر لفظ سے ترجمہ کیا ہے۔
جَعَلَ لَکُم مِن انفُسِکُم ازوَاجًا وَمِنَ الانعَامِ ازوَاجًا یَذرَوکُم فِیہِ (الشوری: 11)
”پھیلاتا ہے تم کو بیچ اسی کارخانے کے“۔ (شاہ رفیع الدین)
”بکھیرتا ہے تم کو اسی طرح“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور اِس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے“ ۔(سید مودودی)
یہاں بھی سب لوگ پھیلانا یا اس سے قریب تر لفظ سے ترجمہ کرتے ہیں۔
جب کہ درج ذیل مقامات پر ملے جلے ترجمے ملتے ہیں، کبھی تو ایک ہی مترجم کے یہاں ایک جیسے دو مقامات پر الگ الگ ترجمے ملتے ہیں:
وَمَا ذَرَا لَکُم فِی الارضِ مُختَلِفًا الوَانُہُ۔ (النحل: 13)
”اور جو کچھ پھیلادیا ہے واسطے تمہارے بیچ زمین کے“۔ (شاہ رفیع الدین)
”اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں“۔ (سید مودودی)
”اور وہ جو تمہارے لیے زمین میں پیدا کیا رنگ برنگ “۔(احمد رضا خان)
”اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح کے رنگ روپ کی اس نے تمہارے لیے زمین پر پھیلا رکھی ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
وَھُوَ الَّذِی ذَرَاکُم فِی الارضِ وَاِلَیہِ تُحشَرُونَ۔ (المومنون: 79)
”اور وہ ہے جس نے پھیلایا تم کو بیچ زمین کے اور طرف اسی کے اکھٹے کیے جاؤ گے “۔(شاہ رفیع الدین)
”اور اس نے تم کو بکھیر رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہوکر جاؤ گے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع ہو کر جاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
وَلَقَد ذَرَانَا لِجَہَنَّمَ کَثِیرًا مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ۔ (الاعراف: 179)
”اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہم نے واسطے دوزخ کے بہت جنوں سے اور آدمیوں سے“۔ (شاہ رفیع الدین)
”اور ہم نے پھیلا رکھے ہیں دوزخ کے واسطے بہت جن اور آدمی “۔(شاہ عبدالقادر)
”اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے “۔(سید مودودی)
”اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی“۔ (احمد رضا خان)
”اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
دراصل ذرا کے اندر خلق سے زائد مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی پیدا کرنا اور پھر زمین میں پھیل جانے کا نظم وانتظام کرنا۔زمین میں مخلوقات کا اللہ کے انتظام کے تحت پھیلنا اللہ کی قدرت کا ایک ایمان افروز مظہر ہے، جس پر غور کرنے کی طرف ذرا کا لفظ خصوصی طور سے متوجہ کرتا ہے۔ ترجمے میں اس کا اظہار کرنا ہی مناسب ہے۔
(جاری)
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ : ایک تقابلی مطالعہ (۷)
مولانا سمیع اللہ سعدی
نقدِ حدیث کا اصولی منہج، چند سوالات
حدیث کو پرکھنے کے لئے اہل تشیع کے اصولی منہج میں ایک مہیب خلا کا ذکر ہوچکا ہے کہ متقدمین اہل تشیع نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کا جو طرز اختیار کیا تھا ،جس میں رواۃ ،قواعد ِجرح و تعدیل ،سند کا اتصال و ارسال جیسے امور کی بجائے اپنے اسلاف سے منقول ذخیرہ اصل بنیاد تھا ،اور اسی منقول ذخیرے کو "صحیح "سمجھتے ہوئے اسے اپنی کتب میں نقل کیا ،(یہی طرز اہل تشیع کے اخباریوں کا تھا )جبکہ ساتویں صدی ہجری اور بعد کے اہل تشیع محدثین نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کے سلسلے میں اہل سنت کے طرز کی پیروی اختیار کرتے ہوئے رواۃ اور ان کی جرح و تعدیل کو معیار قرار دیا ،لیکن اس جدید طرز پر اہل تشیع کی کتب اربعہ کا اکثر حصہ ضعیف ہوگیا ،جن میں خاص طور پر عقائد اور ائمہ کی عصمت و محیر العقول صلاحیتوں سے متعلق احادیث کا حصہ بھی ہے ،نقدِ حدیث کے اصولی منہج میں اہل تشیع کے متقدمین و متاخرین کے الگ الگ مناہج سے چند اہم سوال پیدا ہوتے ہیں:
پہلا سوال
پہلا سوال یہ ہے کہ اہل تشیع ان دو مناہج میں سے کس منہج کو حدیث کی تصحیح و تضعیف میں "اصل " مانتے ہیں ؟چونکہ اہل تشیع کے سنجیدہ علمی حلقوں سے سوشل میڈیا اور حقیقی دنیا میں واسطہ پڑتا رہتا ہے اور معروف شیعہ محققین کی کتب کا مطالعہ بھی وقتا فوقتا جاری رہتا ہے ،تو اس سلسلے میں اہل تشیع کا دوہرا معیار سامنے آتا ہے کہ جب کتب اربعہ یا دیگر کتب سے الزام کے طو رپر آپ اہل تشیع کے سامنے کوئی حدیث پیش کریں ،تو وہ فورا "متاخرین " کے منہج پر چلتے ہوئے اس حدیث کا ضعف ثابت کریں گے ،کیونکہ متاخرین کے طرز پر اہل تشیع کی اکثر احادیث ضعیف ہیں ،اس لئے بڑی آسانی سے اس کا ضعف ثابت ہوجاتا ہے ،لیکن جب اپنے مذہب کے مسائل و عقائد کے اثبات کا مرحلہ آتا ہے ،تو وہاں وہ متقدمین کے منہج پر چلتے ہوئے کسی بھی روایت سے بلا پرکھے بڑی آسانی سے استدلال کر جاتے ہیں ،یہاں "متاخرین " کے منہج کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ،اس دوہرے معیار کا بہترین نمونہ اہل تشیع کی ان کتب میں ملتا ہے ،جن میں شیعہ مصادر میں تحریف ِقرآن کی روایات پر رد کیا گیا ہے ،چنانچہ معاصر شیعہ محققین جیسے علامہ فتح اللہ محمدی نے اپنی کتاب "سلامۃ القرآن من التحریف" میں ،مشہور شیعہ مناظر و مولف سید مرتضی عسکری نے اپنی کتاب "القرآن فی روایات المدرستین" میں ،معروف شیعہ عالم محمد ہادی معرفہ نے "صیانۃ القرآن من التحریف" میں تحریف ِقرآن کی شیعی روایات پر "متاخرین" کے منہج کے مطابق سند و رواۃ کے اعتبار سے جرح کرتے ہوئے اکثر روایات کو ضعیف قرار دیا ،جن سے معروف شیعہ عالم مرزا حسین نوری طبرسی نے اپنی کتاب "فصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب" میں تحریف َقرآن پر استدلال کیا تھا۔ لیکن یہی مصنفین پھر اسی قسم کی احادیث سے بلا نقد علی وجہ المتاخرین استدلال کرتے ہیں ، بطور ِنمونہ صرف ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا ،علامہ فتح اللہ محمدی نے اپنی ضخیم کتاب "سلامۃ القرآن میں التحریف" میں تحریف کی روایات پر صحت و ضعف کے اعتبار سے بحث کرتے ہوئے سید مرتضی عسکری کی درجہ ذیل عبارت اپنی تائید میں لائے ہیں :
"88 روايۃ من كتاب تفسير العياشي، وروايات ھذا التفسير إما مرسلۃ أو مقطوعۃ"
یعنی تحریف کی 88 روایات تفسیر عیاشی سے ہیں ،اور تفسیر عیاشی کی روایات مرسل اور منقطع ہیں۔
لیکن جب مصحف الامام علی یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاص مصحف کے اثبات پر دلائل دیے ،تو استدلال تفسیر عیاشی کی درجہ ذیل روایت سے بھی کرتے ہیں:
فلما قبض نبي اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ كان الذي كان لما قد قضی من الاختلاف وعمد عمر فبايع أبا بكر ولم يدفن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ بعد، فلما رأی ذلك علي عليہ السلام ورأي الناس قد بايعوا أبا بكر خشي أن يفتتن الناس ففرغ إلی كتاب اللہ وأخذ يجمعہ في مصحف"1
بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تفسیر عیاشی میں تحریف کی 88 روایات سے اس وجہ سے تحریف ثابت نہیں ہوتی ،کہ اس تفسیر کی روایات مرسل و منقطع ہیں ،تو پھر ا سی کتاب کی ا یک روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مصحف خاص کو ثابت کرنے کے لئے استدلال کیونکر درست ہوگا ؟اور اس تفسیر کی روایات کو جب مرسل و منقطع کہہ کر رد کرچکے ، تو ان سے اپنے حق میں دوبارہ استدلال علم و تحقیق کی میزان میں کیسا درست ہوگا؟(ہمارا مقصد یہاں حضرت علی رضی اللہ کے مصحف کی تاریخی حیثیت پر بحث نہیں ،صرف اہل تشیع محققین کے دوہرے معیار کے لئے ایک مثال ذکر کی )
اس طرح سے بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ اہل تشیع متاخرین کے منہج کو اپنی روایات میں سے صحیح و ضعیف کی چھانٹی کرنے کی بجائے صرف اپنے مخالفین کا منہ بند رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جس شیعہ محقق نےمتاخرین کے منہج سے صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی کا کام لیا ،انہیں شیعہ حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،چنانچہ جب امام خمینی ،ابو القاسم خوئی جیسے اساطین علمائے شیعہ کے شاگرد محمد باقر بہبودی نے قواعد رجال و جرح و تعدیل کی روشنی میں الکافی کی صحیح احادیث کو الگ کیا ، اور تین جلدوں پر مشتمل صحیح الکافی لکھی ،تو ان پر شیعہ حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ،یہ رد عمل صرف علمی نہیں تھا ،بلکہ معروف شیعہ عالم جعفر سبحانی کے بقول امام خمینی کے نائب شیخ حسین علی منتظری نے مصنف کو بلا کر بازار سے ان کی کتاب کے تمام نسخے تلف کرنے کا حکم دیا تھا۔2
اسی طرح معروف شیعہ محقق محمد آصف محسنی نے علامہ باقر مجلسی کی کتاب "بحار الانوار" میں سے جب معتبر روایات کی تنقیح کی ،تو بحار لانوار کی ایک سو دس جلدوں کی روایات صرف دو جلدوں میں سماگئیں ، یہ کتاب "مشرعۃ بحار الانوار" کے نام سے چھپ گئی ہے۔ تو ان پر بھی کڑی تنقیدات ہوئیں ،اور شیعہ ویب سائٹس پر انہیں "المنحرف البتری" کے القابات سے نوازا گیا۔3
کسی مسلک کے علماء کے درمیان علمی اختلافات ہوتے رہتے ہیں ،اور بسا اوقات وہ مناقشات شدت کے مرحلے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں ،ان جیسے مناقشات سے اہلسنت کے حلقے بھی خالی نہیں ،لیکن باقر بھبودی و علامہ محسنی پر اہل تشیع کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا ،ان کے پیچھے دراصل یہ خوف چھپا تھا کہ اگر قواعد ِرجال پر شیعہ تراث حدیث میں سے صحیح احادیث کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا ،تو شیعہ تراث ِحدیث پر اعتماد و یقین ہی اٹھ جائے گا اور اہل تشیع کو اپنے تراث کے اکثر حصے سے ہاتھ دھونا پڑے گا ،چنانچہ شیعہ محقق شیخ حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی" کے آخر میں باقر بہبودی اور آصف محسنی کے ساتھ اپنے مکالمے نقل کیے ہیں ،ان میں شیعہ حلقوں کی مخالفت کی وجہ یہی بتائی گئی ہے کہ اس سے شیعہ تراث حدیث ناقابل ِاعتماد بنتا ہے۔4 حالانکہ بہبودی اور آصف محسنی جیسے حضرات کا علمی جواب یہ بنتا تھا کہ شیعہ حوزات اور شیعہ علماء ان حضرات کی تحقیقات کو رجال کی کسوٹی پر کھتے اور اپنی تراث ِحدیث کی صحت کو قواعد ِرجال کی روشنی میں ثابت کرتے اور ان حضرات کی تنقیدات کا جواب دیتے ،جیسا کہ اہل سنت کے حنفی حلقوں نے معروف محدث علامہ ناصر الدین البانی کی السلسلۃ الضعیفہ و دیگر کتب کا دیا ،کہ علامہ البانی نے جن روایات کو قواعد رجال کی روشنی میں ضعیف کا موضوع قرار دیا تھا ،اہلسنت علماء نے ان میں سے بہت سی روایات کو قواعد رجال کی روشنی میں صحیح ثابت کیا ،لیکن یہ صورتحال شیعہ تراث میں جاری نہیں ہوسکتی، کیونکہ شیعہ اہل علم بھی جانتے ہیں کہ قواعد ِرجال کی روشنی میں ہماری کتب کی صورتحال یہی بنتی ہے ، کہ اکثر حصہ ضعیف ہے ،یہ بات بارہا اخباری شیعہ کہہ چکے ہیں کہ اگر قواعد رجال پر ہم اپنی تراث کو پرکھیں گے ،تو اکثر ضعیف ثابت ہوگا ،اس لئے باقر بہبودی و محسنی جیسے حضرات کا علمی رد کرنے کی بجائے انہیں دیگر طریقوں سے زباں بندی اور ان کی کتب کو غائب کرنے کی کوشش کی گئی۔
دوسرا سوال
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شیعہ تراث ِحدیث کے بنیادی مصنفین (اصحاب کتب اربعہ ) نے اپنی کتب کے مقدمات میں یہ تصریح کر دی تھی کہ ہم نے ان کتب میں شیعہ کی معتبر روایات جمع کیں ، اور انہوں نے احادیث کی تصحیح و تضعیف کا ایک منہج بھی بنایا تھا ،تو کئی صدیوں بعد اہل تشیع متاخرین نے علم الدرایہ کے نام سے ایک الگ منہج کیوں اختیار کیا ؟
اس سوال کا جواب اہل تشیع کے اخباری علماء کے ہاں یہ ملتا ہے کہ جب شیعہ اہل علم اہلسنت کے ساتھ مناظرے کرتے تھے ،تو اہل سنت انہیں حدیث کو پرکھنے کے معیارات اور قواعد ِجرح و تعدیل کہ نہ ہونے کے طعنے دیتے تھے،اس لیے علامہ ابن حلی و ابن طاووس نے "تعییر العامہ"یعنی اہلسنت کے عار دلانے کی وجہ سے علم الدرایہ کا علم ترتیب دیا ،چنانچہ معروف اخباری شیعہ حر عاملی سند و رجال کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"ودفع تعيير العامۃ الشيعۃ بأن أحاديثھم غير معنعنۃ، بل منقولۃ من أصول قدمائھم"5
یعنی سند کے ذکر کا ایک فائدہ اہلسنت کے عار دلانے کو ختم کرنا ہے ،کہ اہلسنت شیعہ کو کہتے ہیں کہ ان کی حدیث میں عنعنہ (حدیث کو رواۃ سے نقل کرنا ) نہیں ہے ،بلکہ ان کے قدماء کی کتب سے منقول ہیں۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"والاصطلاح الجديد موافق لاعتقاد العامۃ واصطلاحھم، بل ھو مأخوذ من كتبھم كما ھو ظاھر بالتتبع"6
یعنی یہ اصطلاح جدید اہلسنت کے اعتقاد و اصطلاحات کے موافق ہے ،بلکہ ان کی کتب سے ماخوذ ہے ،جیسا کہ تتبع سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔
جبکہ اصولی شیعہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ بعد ِزمانہ سے ہماری اصل کتب و اصول مٹ گئیں ،جن میں یہ احادیث تھیں ، اب ہمارے پاس اپنی احادیث کو پرکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،اس لئے ذخیرہ حدیث سے ضعیف و موضوع روایات کی چھانٹی کے لئے ان اصطلاحات کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی ،چنانچہ شیخ حیدر حب اللہ متاخرین کاادفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ان الشیخ حسن و الشیخ البھائی حاولا الاعتذار للمتاخرین بان القرائن قد ضاعت فی العصور المتاخرہ و اندرست شواہد الیقین بالاخبار ،من ھنا سلک العلامہ و من بعدہ مسلکھم ھذا تمییزا للنصوص و ضبطا لالیات التعامل معھا بعد ظاہرۃ الانسداد المعرفی ھذا7
شیخ حسن اور شیخ بھائی نے متاخرین کی طرف سے عذر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صحتِ حدیث کے قرائن متاخرین کے زمانے میں ضائع ہوگئے ،اور روایات کے بارے میں یقین کے شواہد مٹ گئے ،اس لئے علامہ (حلی) اور ان کے بعد آنے والے اس طریقے (سند و رجال ) پر چلے تاکہ نصوص میں (صحیح و ضعیف ) کی تمیز کی جاسکے اور قرائن کی بنیاد پر نصوص کی معرفت کا راستہ بند ہونے کے بعد ان کے ساتھ تعامل کے ذرائع کو منضبط کیا جاسکے۔
لیکن یہ وجہ محلِ نظر ہے ،اس لئے شیخ حیدر حب اللہ نے بھی "وھذ ا لتبریر غیر صحیح" کہہ کر اس کو رد کر دیا ،نیز اخباریوں نے اس پر ایک مضبوط اعتراض یہ کیا ہے کہ جب متقدمین نے قرائن کی بنیاد پر صحیح احادیث کی چھانٹی کر کے کتب اربعہ تیار کیں ،تو ان کا اعتماد اور اپنی کتب میں ان کی روایت خود حدیث کے صحیح ہونے کا مضبوط قرینہ ہے ،چنانچہ شیخ حر عاملی لکھتے ہیں :
"فروايتھم لہ وشھادتھم بہ قرينۃ كافيۃ، لأنہ خبر واحد محفوف بالقرينۃ لثقۃ راويہ، وجلالتہ. واعترافھم بالقرائن: من جملۃ القرائن عندنا8
ترجمہ :متقدمین کا ان روایات کو روایت کرنا اور ان کی صحت کی گواہی دینا خود ایک ایک کافی قرینہ ہے ،کیونکہ اب خبر واحد اپنے راوی کی ثقاہت و جلالت ِشان کی وجہ سے محفوف بالقرینہ ہوگئی ،نیز متقدمین کا اعترافِ قرائن بھی ایک قرینہ صحت ہے۔
خلاصہ یہ نکلا تو متاخرین نے احادیث کو پرکھنے کا جو نیا منہج ایجاد کیا ،جو قدمائے شیعہ کے منہج کے خلاف تھا ،اس کے ایجاد کی کوئی واضح وجہ علمائے اصول نہیں دے سکے ،اور اخباریوں کا اعتراض وزنی تھا کہ یہ طریقہ محض اہل سنت کی اتباع میں اپنا یا گیا اور ان کی کتب سے ماخوذ ہے
تیسرا سوال
تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل تشیع متاخرین نے علم الدرایہ کے نام سے جو علم تیار کیا ،جو تعریفات و حدود طے کیں ،ان کا ماخذ کیا تھا؟متقدمین اہل تشیع کی کتب تو اس کا ماخذ نہیں تھیں ،کیونکہ حدیث کو پرکھنے کا منہج قدماء کا بالکل الگ تھا،لا محالہ یہی صورت بنتی ہے کہ متاخرین نے اہل سنت کے علم مصطلح الحدیث میں کچھ تبدیلیاں کر کے علم الدرایہ کے نام سے ایک فن ایجاد کیا ،جیسا کہ اخباری شیعہ کہتے ہیں۔ (اگر ماخذ کےحوالے سے تیسری کوئی صورت بنتی ہے ، تو اہل تشیع محققین ضرور مطلع فرمائیں )تو اس کے برخلاف اہل سنت کا علم المصطلح الحدیث اولین مراجع ِحدیث لکھنے والوں کے زمانے سے ہی ایک مربوط شکل اختیار کر گیا تھا ،چنانچہ امام مسلم نے اپنی کتاب کے مقدمے میں ،امام ترمذی نے اپنی کتب علل صغیر میں ،امام ابو داود و امام نسائی نے اپنی سنن میں رواۃ و روایات کے تبصروں میں ،امام طحاوی کی مشکل الاثار میں مباحث تعارض ،امام شافعی کی الرسالہ ،الغرض قدمائے اہل سنت کی کتب میں مصطلح الحدیث کے مباحث بکثرت موجود ہیں ،انہی مباحث کو بعد میں الرامھرمزی نے اپنی کتاب المحدث الفاصل میں جمع کیا ،جو تدوین کے اعتبار سے علم مصطلح الحدیث کی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے۔
چوتھا سوال
چوتھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متاخرین نے علم الدرایہ کے نام سے حدیث کو پرکھنے کا جو علم ایجاد کیا ،اس کا علمی فائدہ کیا مرتب ہوا؟ علم مصطلح الحدیث سے بنیادی طور پر تین کام لئے جاتے ہیں :
1۔علم مصطلح الحدیث کی روشنی میں مجموعات حدیث مرتب کرنا ،یہ کام تو اہل تشیع نے نہیں لیا ،کیونکہ اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ پہلے ہی قدماء مرتب کر چکے تھے۔
2۔ مرتب شدہ مجموعاتِ حدیث کو پرکھنے اور ان میں صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی کاکام ،یہ کام بھی اہل تشیع کے حلقوں میں شجر ِ ممنوعہ ہے ،کیونکہ باقر بھبودی اور آصف محسنی جیسے حضرات نے جب علم الدرایہ کی مدد سے کتب حدیث میں صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی کی ،تو انہیں اہل تشیع کے روایتی حلقوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ،جیسا کہ ما قبل میں اس پر بحث ہوچکی ہے۔
3۔ فقہی روایات میں قابلِ عمل روایات کی چھان بین ،تاکہ فقہ کے دلائل و مستدلات کا ذخیرہ تیار کیا جاسکے ،یہ کام بھی اہل تشیع کے علماء پہلے کر چکے تھے، کیونکہ کتب اربعہ کے مصنفین نے حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ کو بھی مرتب کر دیا تھا ،اور فقہی مستدلات جمع کئے تھے
جب علم الدرایہ کو کسی میدان میں استعمال میں نہیں لا یاگیا ،تو اس کو مرتب کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟َیہاں بجا طور پر اخباری مکتب کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ علامہ حلی و ابن طاووس نے علم الدرایہ کا فن اہل سنت مناظرین کے اس اعتراض کے جواب میں مرتب کیا ،کہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کو پرکھنے کا کوئی فن نہیں ہے۔
جبکہ اس کے برخلاف اگر اہل سنت کے علم مصلح الحدیث کو دیکھا جائے تو اس کی مدد سے مجموعاتِ حدیث بھی مرتب ہوئے (جیسا کہ اصحاب صحاح ستہ نے جمع کئے، اصحاب صحاح ِ ستہ میں سے ہر محدث نے اپنی خاص شرائط کے تحت کتاب تیار کی ،جیسا کہ شروط الائمہ الستہ کی کتب اور خود صحاح ستہ کے مقدمات اور اصحاب ِ صحا ح ستہ کے تبصروں سے واضح ہے ) اس فن کی مدد سے مجموعاتِ حدیث میں صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی اور کتب حدیث کی درجہ بندی بھی کی گئی ،جیسا کہ صحاح ستہ کی درجہ بندی اسی بنیاد پر کی گئی ،چنانچہ صحت میں صحیحین کو فائق قرار دیا گیا ،اس کے بعد نسائی ،پھر ابو داود، اس کے بعد جامع ترمذی اور آخر میں سنن ابن ماجہ کو قرار دیا گیا ہے ۔اور اسی فن کی مدد سے کتب حدیث سے موضوع احادیث کو الگ کیا گیا ،اسی فن کی مدد سے رواۃ کی درجہ بندی بھی کی گئی ،فقہی مستدلات بھی الگ ہوئے ، اسی فن کی مدد سے تفسیری روایات کی درجہ بندی بھی کی گئی ،الغرض تفسیر ،حدیث اور فقہ سب میادین میں اس سے کام لیا گیا ،یوں علم مصلح الحدیث کا فن بھر پور تطبیق سے گزرا اور علوم ِاسلامیہ میں اس کو خوب استعمال کیا گیا ،بلکہ تاریخی واقعات میں بھی اس سے کام لیا گیا ۔جبکہ اہل تشیع کا علم الدرایہ محض تعریفات اور خالی قواعد تک محدود ہے ،اس کی تطبیق اور اس کی مدد سے حدیثی ،تفسیری ،فقہی اور تاریخی تراث کی درجہ بندی اہل تشیع کے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی اس کی مدد سے درجہ بندی کرتا ہے ،تو اہل تشیع کے روایتی حلقے اسے تراث کا دشمن اور مخالف گردانتے ہیں ،کما مر
پانچواں سوال
اہل تشیع کی علم الدرایہ کی کتب اگر دیکھیں ،تو حدیث و رواۃ کی اقسام و انواع بیان کرتے ہوئے اکثر مثالیں اہل سنت کی روایات سے دی گئیں ہیں ،اس سے بجا طور پر اخباری مکتب کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ اصولیین نے علم الدرایہ اہل سنت کی کتب سے اخذ کیا ہے ،نیز اس سے یہ نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ اہل تشیع کے کتب ِ اربعہ کی روایات پر علم الدرایہ کی تطبیق نہ ہونے کے برابر ہے ، اس لئے حدیث کی اقسام سمجھانے کے لئے بھی مثالیں اہل سنت سے اخذ کرنی پڑیں ،ہم یہاں معروف معاصر شیعہ محقق جعفر سبحانی کی کتاب "اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ" سے چند مقامات کی ایک فہرست پیش کرتے ہیں ،جن میں اہل سنت کی روایات کو مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے :
1۔حدیث قدسی کی مثال دیتے ہوئے شیخ جعفر سبحانی لکھتے ہیں :
"مثلا اخرج مسلم فی صحیحہ عن ابی ذر عن النبی ﷺ فیما یرویہ عن اللہ عز وجل :یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی ۔۔۔9
2۔تواتر لفظی کی مثال میں معروف حدیث "انما الاعمال بالنیات" پیش کی ہے ۔10
3۔ اضطراب فی السند کی مثال میں ابو داود کی حدیث "اذا صلی احدکم فلیجعل تلقاء وجھہ شیئا" پیش کی ہے اور حاشیہ میں ابو داود کا حوالہ بھی دیا ہے ۔11
4۔ حدیث مفرد کی مثال میں اہلسنت مراجع کی معروف حدیث "نحن معاشر الانبیاء لا نورث،ما ترکناہ صدقۃ" پیش کی ہے ۔12
5۔ غرابت فی ابتداء السند کی مثال میں "انما الاعمال بالنیات" پیش کی ہے ،کہ یہ ابتداء میں حضرت عمر سے مروی ہے ۔13
6۔ تصحیف فی المتن کی مثال میں معروف حدیث "من صام رمضان و اتبعہ ستا من شوال" پیش کی ہے ۔(یہی مثال کتب اہلسنت میں بھی ہے
7۔تدلیس فی الشیوخ کی مثال میں سفیان بن عیینہ کی روایات پیش کی ہیں ۔14(یہی سفیان بن عیینہ اہل سنت کی کتب مصطلح الحدیث میں تدلیس کی مثال میں پیش کئے جاتے ہیں )
8۔ موضوع حدیث کی مثال میں وہ مشہور روایت پیش کی ہے ،جو اہل سنت کی مصطلح الحدیث میں بالعموم نقل کی گئی ہے "لا سبق الا فی خف او حافر او نصل او جناح"15
9۔وجادہ کے معتبر ہونے کے لئے تدریب الراوی میں منقول حدیث نقل کی ہے ۔اور حاشیہ میں تدریب الراوی کا حوالہ دیا ہے ۔16
10۔کتبِ حدیث کی اقسام ،جامع،سنن ۔مسند ،معجم ،مستخرج ،مستدرک کے لئے کتب اہل سنت کی مثالیں دی ہیں ،اور اسی ترتیب سے دی ہیں ،جس کا ذکر اہل سنت کی کتب مصطلح الحدیث میں مذکور ہے ،جیسا کہ جامع کے لئے بخاری و ترمذی ،سنن کے لئے ابوداود و نسائی وغیرہ ،مسند کے لئے مسند امام احمد بن حنبل ،معجم کے لئے طبرانی کی معاجم ثلاثہ ،مستخرج کے لئے مستخرج ابی عوانہ اور مستدرک کے لئے مستدرک حاکم ۔17
11۔حافظ الحدیث کی تعریف مکمل طور پر تدریب الراوی سے لفظ بہ لفظ نقل کی ہے اور حاشیہ میں تدریب کا حوالہ دیا ہے ۔18
یہ چند مقامات ایک سرسری نظر ڈالنے سے ملے ،ہم نے اہل تشیع کے معاصر مصنف کی کتاب سے یہ فہرست پیش کی ہے ، جس کے سامنے علم الدرایہ کا پورا شیعی ذخیرہ تھا ، اگر متقدمین اہل تشیع کی کتب عِلم الدرایہ کا اس حیثیت جائزہ لیا جائے تو کتب اہل سنت سے امثلہ اس سے زیادہ تعداد میں ملیں گی۔
اس موقع پر بجا طور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت کا علم ِحدیث جب اول تا آخر ایک دوسرے کے مباین ہے (جیسا کہ اس سلسلے میں اس کی بہت سی وجوہات آپ پڑھ چکے ہیں ) تو اہل تشیع محققین نے علم الدرایہ میں امثلہ کے بیان کے لئے اہل سنت کی روایات و عبارات سے کیوں کام لیا؟ اس طرز کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ علم الدرایہ کے مصنفین کو کتب ِاربعہ کی روایات سے اس کی مثالیں نہیں مل سکیں یا علم الدرایہ کو کتب ِاربعہ پر منطبق نہ کرنے کی وجہ سے امثلہ کے لئے کتب ِ اہل سنت کی طرف رجوع کرنا پڑا؟ ہر دو صورتوں سے یہ بات بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ متاخرین اہل تشیع کا مرتب کردہ علم الدرایہ تطبیقی اعتبار سے ایک ناقص فن ہے، یہاں تک کہ امثلہ میں اہل سنت کے علم مصطلح الحدیث کا محتاج ہے۔
حواشی
- تفسیر عیاشی ،محمد بن مسعود العیاشی ،ج2،ص308 بحوالہ سلامۃ القرآن من التحریف ،فتح اللہ محمدی ،ص65
- دیکھیے:
https://ar.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%87%D8%A8%D9%88%D8%AF%D9%8A
- دیکھیے :
https://www.shia-documents.com
- دیکھیے :نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی ،ص784
- وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،
- وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،
- نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی ،حیدر حب اللہ ،ص269
- وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،ج30،ص275
- اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،دار جواد الائمہ ،بیروت ،ص20
- ایضا :ص35
- ایضا:ص58
- ایضا :ص71
- ایضا :ص74
- ایضا:ص115
- ایضا:ص120
- ایضا:ص 230
- ایضا:ص230
- ایضا:ص235
(جاری)
نظریہ پاکستان اور قومی بیانیہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(’’نظریہ پاکستان اور قومی بیانیہ” کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا)
نحمدہ تبارک وتعالی ٰ ونصلی ونسلم علی ٰ رسولہ الکریم وعلی ٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین
۱۹۴۷ء میں اسلامی نظریہ اور مسلم تہذیب وثقافت کے تحفظ وفروغ کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں ’’پاکستان” کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی تو یہ تاریخی اعتبار سے ایک اعجوبہ سے کم نہیں تھی کہ اس خطے میں مسلم اقتدار کے خاتمہ کو ایک صدی گزر چکی تھی، جبکہ مغرب میں اسلام کے نام پر صدیوں سے چلی آنے والی خلافت عثمانیہ ربع صدی قبل اپنے وجود اور تشخص سے محروم ہو گئی تھی اور اقتدار اور حکومت وریاست کے حوالے سے مذہب کے کردار کی نفی اور خاتمہ کے دور نے ’’انقلاب فرانس” کے بعد ڈیڑھ صدی گزار لی تھی۔ اس ماحول میں اسلامی تہذیب کی بقا کے عنوان اور حکومت وریاست کے دائروں میں قرآن وسنت کی عمل داری کے عزم کے ساتھ ’’پاکستان ”دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اور اس کی مغرب کی تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والی قیادت نے اسلام اور مسلم امہ کی ترقی واستحکام کا نعرہ لگایا تو یہ بات آسانی کے ساتھ ہضم ہونے والی نہیں تھی اور بہت سے حلقو کو ابھی تک ہضم نہیں ہو رہی، مگر پاکستان نہ صرف وجود میں آیا بلکہ اس کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ’’قرارداد مقاصد” منظور کر کے اس نئے ملک کے نظریاتی تشخص اور اسلامی تعارف کو ہمیشہ کے لیے اس کا جزو لا ینفک بنا دیا اور پھر دستور پاکستان میں اسے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان” قرار دے کر اور ریاستی وحکومتی معاملات میں ’’قرآن وسنت” کی بالادستی کو اس کی اساس کی حیثیت دے کر لامذہبیت کی طرف اس کی واپسی کے تمام دروازے بند کر دیے جس پر بہت سے عالمی حلقے مسلسل پیچ وتاب کھا رہے ہیں، مگر پاکستان کے عوام کی اسلام کے ساتھ بے لچک محبت وعقیدت اور دینی قیادتوں کی مسلسل بیداری کے باعث پاکستان کے اس تعارف وتشخص کو مجروح کرنے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہو رہا، البتہ پاکستان کے داخلی ماحول میں اسلامی احکام وقوانین کے عملی نفاذ کو روکنے اور ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان” کی حیثیت سے اس کی عملی پیش رفت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کام بدستور جاری ہے اور یہ کشمکش ہر سطح پر بپا ہے جس میں ایک طرف پاکستان کے عوام اور ان کی نظریاتی قیادتیں ہیں اور دوسری طرف نوآبادیاتی دور سے ورثے میں ملنے والا سسٹم اور اس کے عالمی سرپرست ہیں جو اس گھسے پٹے نظام کو اس کی تمام تر خرابیوں اور ناکامیوں کے باوجود ہر صورت میں ملک پر مسلط رکھنے کے درپے ہیں کیونکہ اس کے سوا انھیں پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ بننے سے روکنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔
جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے، وہ متعدد بار اپنے اس فیصلے کا جمہوری انداز میں اعلان کر چکے ہیں کہ وہ نوآبادیاتی نظام سے خلاصی چاہتے ہیں اور قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے اصولوں کے دائرے میں اپنے ملک کو ایک اسلامی، جمہوری اور رفاہی ریاست کی حیثیت دینا چاہتے ہیں، مگر ان کا یہ سیاسی، جمہوری اور عوامی فیصلہ تسلیم نہیں کیا جا رہا اور اسے سبوتاژ کرنے کی کارروائیاں کسی تعطل کے بغیر جاری ہیں۔ اس کشمکش کے بیسیوں فکری، علمی، تہذیبی، سیاسی اور عملی پہلو ہیں جن پر بحث وتمحیص کا میدان گذشتہ سات عشروں سے گرم ہے اور دن بدن اس کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
راقم الحروف ۱۹۶۲ء کے دوران پاکستان کو اسلامی، جمہوری اور رفاہی ریاست کی منزل سے ہم کنار کرنے کی جدوجہد میں ایک شعوری کارکن کے طور پر شریک ہوا تھا اور اب تک بحمد اللہ تعالی ٰ اس کا حصہ ہوں اور اپنی بساط کی حد تک عملی کوششوں کے ساتھ ساتھ علمی اور فکری محاذ پر بھی متحرک ہوں اور اس محنت وسعی کے مختلف پہلووں پر مسلسل لکھتا آ رہا ہوں جو مختلف رسائل وجرائد اور اخبارات میں بحمد اللہ تعالی ٰ ہزاروں کی تعداد میں بکھرے ہوئے مضامین کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ ہیں اور اس پر مختلف علمی ودینی راہ نماوں اور اہل دانش کی طرف سے تحسین اور حوصلہ افزائی یقینا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ بلاشبہ میرا توشہ آخرت ہے۔
آج کی ضروریات اور تقاضوں کے حوالے سے ان مضامین کا ایک جامع انتخاب میرے فرزند عزیز ڈاکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ اور رفیق محترم مولانا محمد یونس قاسمی نے بڑی عرق ریزی اور حسن اسلوب کے ساتھ مرتب کیا ہے جو ’’نظریہ پاکستان اور قومی بیانیہ” کے عنوان سے زیر نظر کتاب کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ میں خود ایک عرصے سے اس کی ضرورت محسوس کر رہا تھا، مگر مصروفیات کے ہجوم میں اس کی کوئی عملی صورت نہیں بن رہی تھی، اس لیے یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے اور میں اس پر دونوں عزیزوں کے شکریے کے ساتھ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور اسے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان” کی نظریاتی وتہذیبی شناخت کے تحفظ اور اسے صحیح معنوں میں ’’اسلامی جمہوریہ” بنانے کی جدوجہد میں پیش رفت کا ذریعہ بنا دیں۔ آمین یا رب العالمین
عالم اسلام اور فتنہ تکفیر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(’’کلمہ گو کی تکفیر۔ اصول وضوابط، اسباب وموانع’’ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا)
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی ٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین
باہمی تکفیر اور قتال کا مسئلہ ہمارے دور کا ایک ایسا حساس اور سنگین مسئلہ بن گیا ہے کہ امت مسلمہ کی وحدت پارہ پارہ ہونے کے ساتھ ساتھ فکری وذہنی انتشار وخلفشار کا سبب اور اسلام دشمن قوتوں کے لیے مسلمانوں کے معاملات میں دخل اندازی کا ذریعہ بھی ثابت ہو رہا ہے۔ اس کا ایک پہلو تو علمی اور فقہی ہے اور دوسرا سماجی ومعاشرتی ہے۔ علمی وفقہی دائرہ تو زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کہ جمہور فقہائے امت رحمہم اللہ تعالی ٰ نے اس سلسلے میں مختلف ادوار میں جو راہ نمائی کی ہے، وہ محفوظ ہے اور امت مسلمہ کی راہ نمائی کے لیے کافی ہے، جبکہ اس حوالے سے سب سے زیادہ اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ تکفیر کا مسئلہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں ہی خوارج کی صورت میں سامنے آ گیا تھا اور اس پر جمہور صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم کا مجموعی طرز عمل ہماری راہ نمائی کر رہا ہے جو اپنے استناد وثقاہت کے معاملے میں کسی اور دلیل کا محتاج نہیں ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ورفاقت اور تعلیم وتربیت سے مسلسل بہرہ ور طبقہ سے بڑھ کر کوئی گروہ دلیل اور حجت کا درجہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
البتہ سماجی اور معاشرتی دائرے میں یہ مسئلہ ضرور سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے کہ یہ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جسے مسلمانوں کو خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی ایک بڑی سہولت اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ میں اس سلسلے میں مثال کے طور پر الجزائر کا ذکر کرنا چاہوں گا جہاں عباس مدنی کے اسلامک سالویشن فرنٹ نے ۸٠ فی صد ووٹ لے کر الجزائر کی حکومت ونظام سنبھالنے کا استحقاق حاصل کر لیا تھا، مگر وہاں عالمی طاقتوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کے ساتھ عسکری مداخلت سے ایسا ماحول پیدا کر دیا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ باہمی تکفیر اور قتال کے عنوان سے مبینہ طور پر ایک لاکھ سے زیادہ الجزائری مسلمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک عوامی اسلامی قوت پارہ پارہ ہو کر رہ گئی۔ مجھے اس دور میں لندن میں قیام کے دوران الجزائر کے مسلح اسلامی گروہوں میں سے چند ایک ذمہ دار افراد کے ساتھ ملاقات وگفتگو کا موقع ملا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسی ٰ منصوری کی رفاقت میں متعدد بار کوششوں کے باوجود اس مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی کہ ان حضرات کو آپس میں کسی ملاقات میں بٹھا کر گفتگو ہی کرا دی جائے۔
یہ صورت حال عالم اسلام کے دیگر حصوں میں بھی پائی جاتی ہے اور پوری ملت اسلامیہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے، حالانکہ تکفیر اور معاشرتی مقاطعہ وتصادم دو الگ الگ مسئلے ہیں۔ مثلا مدینہ منورہ کے جن منافقین کے بارے میں قرآن کریم نے صراحتا ’’وماھم بمومنین’’ کہا اور ان کے عقیدہ وایمان کے حوالے سے واضح طور پر فرمایا ہے کہ ’’واللہ یشھد انھم لکاذبون’’، انھیں مقاطعہ اور قتل وقتال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، بلکہ بعض نمایاں افراد کے قتل کی اجازت طلب کرنے پر بھی بارگاہ رسالت سے اس کی اجازت نہیں ملی۔ اسی طرح مسجد ضرار تعمیر کرنے والے افراد کا جن کے نام بھی حافظ ابن کثیر کی روایت کے مطابق معلوم ومتعین تھے، قرآن کریم نے ’’کفرا وتفریقا بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ’’ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے، مگر ان کے ساتھ قتال کی نوعیت کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور صرف ان کے تعمیر کردہ مرکز کو گرانے اور نذر آتش کر دینے پر اکتفا کیا گیا۔ اسی لیے میری طالب علمانہ رائے میں تکفیر ایک مستقل مسئلہ ہے جبکہ کسی بھی حوالے سے اس کی زد میں آنے والے افراد اور گروہوں کے ساتھ معاشرتی طرز عمل کا مسئلہ اپنا مستقل دائرہ رکھتا ہے جس کا سماجی ومعاشرتی عوامل واسباب اور نتائج وعواقب کے حوالے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
بہرحال تکفیر وقتال کی اس نئی عالمگیر رو نے ذہنوں میں جو شکوک وشبہات پیدا کر دیے ہیں، ان کا قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں جائزہ لینے کے لیے مختلف اہل علم نے قلم اٹھایا ہے اور اس سلسلے میں جمہور اہل سنت کے موقف کو دلائل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھی علمی مساعی میں فضیلۃ الدکتور شریف حاتم العونی حفظہ اللہ تعالی ٰ کی زیر نظر تصنیف بھی ہے جس میں انھوں نے خالصتا علمی انداز میں اہل شہادتین کی تکفیر کے اسباب اور موانع کا جائزہ لیا ہے اور قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالی ٰ کی تصریحات کی روشنی میں امت کی راہ نمائی کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ مفتی محمد بلال ابراہیم بربری صاحب نے بڑی محنت اور توجہ کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ مکمل کیا ہے اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ، کتاب محل لاہور کے اشتراک کے ساتھ اس کی اشاعت کی خدمت سرانجام دے رہی ہے۔ اللہ تعالی ٰ فاضل مصنف اور مترجم کی اس محنت کو قبولیت سے نوازیں اور امت مسلمہ کی راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین
قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۲)
محمد عمار خان ناصر
مصالح شرعیہ کی روشنی میں تشریع کی تکمیل
شاطبی کہتے ہیں کہ تشریع میں مصالح شرعیہ کے جو تین مراتب، یعنی ضروریات، حاجیات اور تحسینیات ملحوظ ہوتے ہیں، ان تینوں کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے اور سنت میں کوئی حکم اس دائرے سے باہر وارد نہیں ہوا۔ اس لحاظ سے کتاب اللہ کی حیثیت تشریع میں اصل کی ہے اور سنت اپنی تمام تر تفصیلات میں کتاب اللہ کی طرف راجع ہے۔
مثال کے طور پر ضروریات خمسہ میں سے دین کی حفاظت شریعت کا سب سے پہلا مقصد ہے۔ اس ضمن میں اسلام، ایمان اور احسان کے اصول کتاب اللہ میں اور ان کی تفصیل وتوضیح سنت میں وارد ہوئی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل دین کی طرف دعوت دینے، معاندین سے جہاد کرنے اور دین میں واقع ہونے والے خلل کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ ان تینوں مکملات کی اصل بھی قرآن میں موجود ہے، جب کہ کامل توضیح وتفصیل سنت میں ملتی ہے۔ جان کی حفاظت دوسرا مقصد ہے۔ اس کے لیے تناسل اور نکاح کی مشروعیت، انسانی زندگی کی بقا کے لیے خور ونوش اور دیگر تمدنی ضروریات کا اصولی ذکر قرآن میں اور تفصیلات کی وضاحت سنت میں کی گئی ہے۔ اس ضمن میں تکمیلی احکام کے طور پر زنا کی حرمت، نکاح اورطلاق کے اصول وضوابط، خور ونوش میں ذبیحہ اور شکار کے احکام اور حدود اور قصاص کی مشروعیت جیسے اصولی احکام قرآن مجید نے بیان کیے ہیں اور سنت نے ان کی تفصیلات واضح کی ہیں۔ یہی کیفیت مال، عقل، نسل ونسب اور آبرو وغیرہ کی حفاظت سے متعلق شرعی احکام میں بھی پائی جاتی ہے۔
ضروریات کے بعد حاجیات کا درجہ آتا ہے جس میں مقصود احکام شرعیہ کی پابندی میں توسع اور آسانی پیدا کرنا اور مشقت اور حرج کو رفع کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ حفظ دین کے باب میں حصول طہارت میں رخصتوں کا بیان، تیمم اور نماز قصر کرنے کی مشروعیت، دو نمازوں کو جمع کرنے اور سفر اور بیماری کی حالت میں روزہ چھوڑ دینے کی اجازت اور اسی طرح دیگر تمام عبادات کے حوالے سے بیان کی جانے والی رخصتیں اسی اصول کی مثالیں ہیں ۔ یہی نوعیت حفظ نفس کے دائرے میں اضطرار کی کیفیت میں مردار کا گوشت کھانے کی اجازت اور سدھائے ہوئے جانور کے ذریعے سے کیے جانے والے شکار کو حلال قرار دینے کی ہے۔ حفظ مال کے ضمن میں لین دین میں غرر یسیر کو جائز قرار دینا اور بیع سلم، قرض، شفعہ، مضاربت اور مساقاۃ جیسے معاملات کو روا قرار دینا بھی اسی اصول تیسیر پر مبنی ہے۔ ضروریات کی طرح حاجیات کے باب میں بھی قرآن کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور قرآن نے تیسیر اور رفع حرج کو شریعت کے بنیادی اصول قرار دینے کے علاوہ بہت سے معاملات میں اطلاقی سطح پر بھی رخصت اور تیسیر کے احکام بیان کیے ہیں، جب کہ سنت میں اس اصول کو تمام احکام شرعیہ کے دائرے میں اطلاق وانطباق کی سطح پر واضح کیا گیا ہے۔
شرعی مصالح کی رعایت کا تیسرا اور سب سے اعلیٰ درجہ تحسینیات کا ہے جس میں کسی بھی کام کو بہترین اور اعلیٰ ترین طریقے پر انجام دینا مقصود ہوتا ہے۔ چنانچہ لباس میں زینت اختیار کرنا، انفاق کے لیے پاکیزہ ترین مال کو منتخب کرنا، روزے کی حالت میں بے جا مشقت اختیار کرنے سے بچنا، بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، مال کو کمانے اور خرچ کرنے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا اور شراب وغیرہ کا استعمال مقصود نہ ہو تو بھی اس سے دور رہنا، یہ تمام تحسینیات کی مثالیں ہیں۔ اس درجے کی اصل بھی کتاب اللہ میں پائی جاتی ہے اور سنت نے اس کی تفصیلات کو شرح وبسط کے ساتھ واضح کیا ہے (الموافقات ۴/ ۲۳- ۲۷)۔
شاطبی کے الفاظ میں اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
أن القرآن الکریم أتی بالتعریف بمصالح الدارین جلبًا لھا والتعریف بمفاسدھما دفعًا لھا، وقد مر أن المصالح لا تعدو الثلاثۃ الأقسام، وھي الضروریات ویلحق بھا مکملاتھا، والحاجیات ویضاف إلیھا مکملاتھا، والتحسینیات ویلیھا مکملاتھا، ولا زائد علی ھذہ الثلاثۃ المقررۃ في کتاب المقاصد، وإذا نظرنا إلی السنۃ وجدناھا لا تزید علی تقریر ھذہ الأمور فالکتاب أتی بھا أصولًا یرجع إلیھا، والسنۃ أتت بھا تفریعًا علی الکتاب وبیانًا لما فیہ منھا، فلا تجد في السنۃ إلا ما ھو راجع إلی تلک الأقسام. (الموافقات ۴/ ۲۳)
’’قرآن مجید نے دنیا وآخرت کے ان مصالح کو بھی واضح کیا ہے جن کو حاصل کرنا مطلوب ہے اور ان مفاسد کو بھی جن کو دور کرنا مقصود ہے۔ یہ بات گزر چکی ہے کہ مصالح تین اقسام سے خارج نہیں ہیں۔ ایک قسم ضروریات اور ان کی تکمیل کرنے والے امور کی، دوسری قسم حاجیات اور ان کی تکمیل کرنے والے امور کی اور تیسری قسم تحسینیات اور ان کی تکمیل کرنے والے امور کی ہے۔ ’’کتاب المقاصد‘‘ میں واضح کی گئی ان تین اقسام کے علاوہ کوئی اور قسم نہیں پائی جاتی۔ اب جب ہم سنت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان امور کی تاکید وتوثیق کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ چنانچہ کتاب اللہ نے ان اقسام سے متعلق اصولی احکام وضع کیے ہیں جن کی حیثیت مرجع کی ہے اور سنت کتاب اللہ کے احکام پر تفریع کرتی اور ان کی شرح ووضاحت کرتی ہے۔ چنانچہ سنت میں تمھیں کوئی حکم ایسا نہیں ملے گا جو ان اقسام کی طرف راجع نہ ہو۔‘‘
قرآن کے جزوی احکام کی تفصیل وتوضیح
قرآن کے ساتھ سنت کے تعلق کا دوسرا نمایاں پہلو قرآن کے مجمل اور قابل تفسیر احکام کی تبیین ہے۔ شاطبی کے ہاں ’بیان مجمل‘ کی اصطلاح عام اصولیین کے مقابلے میں زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ جمہور اصولیین ’مجمل‘ کی تعبیر قرآن کے ایسے الفاظ یا تعبیرات کے لیے استعمال کرتے ہیں جن سے متکلم کی مراد فی نفسہٖ واضح نہ ہو اور وہ خود متکلم کی طرف سے تشریح وتوضیح کا تقاضا کرتی ہوں۔ شاطبی کے ہاں بھی اس نوع کے لیے ’مجمل‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے (الموافقات ۳/ ۶۸)۔ اس کے علاوہ شاطبی ان تمام احکام کے لیے بھی ’مجمل‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جن کا بنیادی اور اصولی پہلو تو قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس سے متعلق ضروری تفصیلات، مثلاً عمل کی کیفیات، اسباب، شروط، موانع اور لواحق وغیرہ سے تعرض نہیں کیا گیا اور ان کی وضاحت کو سنت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
شاطبی واضح کرتے ہیں کہ احکام شرعیہ کے بیان میں قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ وہ حکم کے بنیادی اور اصولی پہلو ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہے اور اس کی تفصیلات وجزئیات سے عموماً تعرض نہیں کرتا۔ اس خاص اسلوب کی وجہ سے قرآن مجید کی مراد کو سمجھنا بہت سی توضیح وتفصیل پر منحصر ہوتا ہے جو ہمیں سنت سے ملتی ہے۔ شاطبی اس ضمن میں ان تمام احکام کو شمار کرتے ہیں جن کا اصولی حکم تو قرآن میں وارد ہوا ہے، لیکن جزوی تفصیلات کی وضاحت سنت میں کی گئی ہے،مثلاً نمازوں کے اوقات اور ادائیگی کی کیفیات سے متعلق تفصیلات، زکوٰۃ کی مقادیر اور اوقات اور نصابات کی تعیین، روزے کے تفصیلی احکام، طہارت صغریٰ وکبریٰ کی مختلف تفصیلات، حج کا تفصیلی طریقہ، ذبائح، شکار اور حلال وحرام جانوروں کے احکام کی وضاحت، نکاح وطلاق، رجوع، ظہار اور لعان سے متعلق تفصیلات، خرید وفروخت کے احکام اور جنایات میں قصاص وغیرہ کے مسائل۔ شاطبی اس سے یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ سنت میں وارد توضیح وتبیین کو نظر انداز کر کے صرف قرآن سے احکام کا استنباط درست طریقہ نہیں، اس لیے کہ قرآن میں احکام کے صرف اصولی اور بنیادی پہلوؤں کے ذکر کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو تفصیل وتبیین کا تقاضا کرتا ہے (الموافقات ۳/ ۲۹۳- ۲۹۵۔ ۴/ ۲۲)۔
شاطبی مزید کہتے ہیں کہ سنت میں وارد یہ توضیحات وتفصیلات چونکہ کتاب اللہ ہی کی مراد کو واضح کرتی ہیں، اس لیے ان کی نسبت قرآن کے بجاے سنت کی طرف کرنا بھی اصولاً درست نہیں۔ لکھتے ہیں:
أن السنۃ بمنزلۃ التفسیر والشرح لمعاني أحکام الکتاب ودل علی ذلک قولہ ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘، فإذا حصل بیان قولہ تعالیٰ ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘ بأن القطع من الکوع وأن المسروق نصاب فأکثر من حرز مثلہ فذلک ھو المعنی المراد من الآیۃ، لا أن نقول إن السنۃ اثبتت ھذہ الأحکام دون الکتاب … فمعنی کون السنۃ قاضیۃ علی الکتاب أنھا مبینۃ لہ فلا یوقف مع إجمالہ واحتمالہ وقد بینت المقصود منہ. (الموافقات ۴/ ۱۰)
’’سنت کی حیثیت کتاب اللہ کے احکام کی تفسیر اور تشریح کی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘ کی یہ وضاحت کر دی گئی کہ ہاتھ کو گٹے سے کاٹا جائے گا اور مسروقہ مال کو نصاب کے مساوی یا اس سے زیادہ ہونا چاہیے جسے کسی محفوظ جگہ سے چرایا گیا ہو تو دراصل یہی آیت کی مراد ہے، اور اس کے متعلق یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ احکام کتاب اللہ نے نہیں، بلکہ سنت نے ثابت کیے ہیں۔ پس سنت کے، کتاب اللہ پر حاکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرتی ہے، اس لیے جب سنت قرآن کی مراد کو واضح کردے تو (اسے نظر انداز کر کے) کتاب اللہ کے مجمل اور محتمل بیان پر مدار نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘
مشتبہ فروع کا اصل کے ساتھ الحاق
سنت کے قرآن کے ساتھ تعلق کی ایک اور جہت کو واضح کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں کہ بعض صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کسی معاملے میں حلت اور حرمت کے دائرے میں آنے والی بالکل واضح صورتوں کا ذکر تو کر دیتا ہے، لیکن دونوں دائروں کے درمیان ایسی مشتبہ صورتوں کا حکم واضح نہیں کرتا جنھیں قیاساً حلت کے دائرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے اور حرمت کے دائرے میں بھی۔ چنانچہ سنت اس نوعیت کے بہت سے مسائل میں یہ واضح کر دیتی ہے کہ مشتبہ فروع کا الحاق کس جانب ہونا چاہیے۔ شاطبی نے اس نکتے کو بہت سی مثالوں سے واضح کیا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱۔ قرآن مجید نے خور ونوش کے باب میں طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے۔ ان دونوں دائروں سے تعلق رکھنے والی بہت سی چیزوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے، تاہم ان کے علاوہ بہت سی چیزوں کو طیبات یا خبائث کے ساتھ ملحق کرنا اشتباہ کا موجب ہو سکتا تھا، چنانچہ سنت میں ان مشتبہات میں سے بعض کا حکم واضح کرتے ہوئے انھیں خبائث کے زمرے میں شمار کیا گیا، جب کہ بعض دوسری چیزوں کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا شمار طیبات میں ہوتا ہے۔ پہلی صورت کی مثال درندوں، شکاری پرندوں، گدھے اور سیہی کی حرمت بیان کرنے والی، جب کہ دوسری صورت کی مثال گوہ، سرخاب اور خرگوش وغیرہ کی حلت کو بیان کرنے والی احادیث ہیں۔
۲۔ قرآن مجید نے جانور کے ذریعے سے شکار کرنے کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑا ہو، یعنی اس میں سے خود کچھ نہ کھایا ہو تو وہ حلال ہے۔ اب اگر جانور سدھایا ہوا تو ہو، لیکن وہ شکار کا گوشت کھالے تو دو اصولوں میں تعارض کی وجہ سے اس کی حلت یا حرمت میں اشتباہ پیدا ہو جاتا ہے۔ سدھایا ہوا ہونے کا مقتضی یہ بنتا ہے کہ ایسا شکار حلال سمجھا جائے، لیکن اس کے، شکار کا گوشت کھا لینے کو ملحوظ رکھا جائے تو جانور کو حرام ہونا چاہیے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اشتباہ کو دور کرتے ہوئے واضح فرما دیا کہ ایسے جانور کا گوشت نہیں کھایا جائے گا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام اور نکاح اور ملک یمین کے ذریعے سے عورت سے استمتاع کو حلال قرار دیا ہے، تاہم ایسے نکاح کا حکم بیان نہیں کیا جسے غیر مشروع طریقے سے روبہ عمل کیا گیا ہو۔ سنت میں ان میں سے بعض صورتوں کا حکم واضح کیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، مثال کے طور پر، سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کر لینے والی عورت کے متعلق فرمایا کہ اس کے نکاح کا کوئی اعتبار نہیں۔
۴۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے شکار کو حلال قرار دیا اور خشکی کے جانوروں میں سے مردار کو حرام قرار دیا ہے۔ پہلے حکم کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ سمندر کا مردار بھی حلال ہو، جب کہ دوسرے حکم پر قیاس کا مقتضی یہ ہے کہ اسے حرام سمجھا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے مردار کا الحاق طیبات کے ساتھ کرتے ہوئے اسے حلال قرار دیا۔
۵۔ قرآن مجید میں مردار کو حرام اور ذبح کیے ہوئے جانور کو حلال قرار دیا ہے۔ اب اگر مادہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے بچہ نکل آئے تو اس کے متعلق قطعیت سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اسے مردار شمار کیا جائے یا مذبوح، چنانچہ سنت میں اس کا حکم واضح کرتے ہوئے یہ قرار دیا گیا کہ اس کی ماں کا ذبح کیا جانا ہی اس کی حلت کے لیے کافی ہے اور اس کا گوشت کھایا جا سکتا ہے (الموافقات ۴/ ۲۸- ۳۲)۔
علت کی بنیاد پر قرآن کے حکم کی توسیع
سنت میں قرآن کی تبیین وتفصیل کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ قرآن نے جو حکم بیان کیا ہے، اس کی علت اور مناط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی توسیع کر دی جائے اور وہی حکم ایسی صورتوں کے لیے بھی ثابت کیا جائے جن کا قرآن نے ذکر نہیں کیا۔ شاطبی نے اس نوعیت کی کئی مثالیں ذکر کی ہیں جن میں سے درج ذیل بطورخاص قابل توجہ ہیں:
۱۔ قرآن مجید میں ربا کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس سے مراد عہد جاہلیت میں رائج ربا ہے جس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ قرض لینے والا اگر مقررہ مدت میں قرض واپس نہ کر سکتا تو اسے مزید مہلت دے دی جاتی تھی اور اس مہلت کے عوض میں قرض کی رقم میں اضافہ کر دیا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ’وربا الجاھلیۃ موضوع‘ (جاہلیت کے سود کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے) فرما کر قرآن کے حکم کے مطابق سود کی اس صورت کو ممنوع قرار دیا۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کے علاوہ سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور نمک کے باہمی تبادلہ میں بھی کمی بیشی اور ادھار کو ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص زیادہ مقدار دے گا یا مانگے گا، وہ ربا لینے یا دینے کا مرتکب ہوگا، البتہ اگر اصناف باہم مختلف ہوں تو ان کے تبادلے میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے بشرطیکہ سودا نقد ہو۔ فقہی اصطلاح میں اس کو ’ربا الفضل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
امام شافعی اس حکم کا قرآن مجید میں ربا کے حکم سے کوئی تعلق متعین نہیں کرتے اور اسے خرید وفروخت اور تجارت سے متعلق دیگر بہت سے احکام کی طرح ایک مستقل حکم شمار کرتے ہیں جو احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ فقہاے احناف کے نقطۂ نظر سے ربا الفضل قرآن مجید میں حرام قرار دیے جانے والے ’الربا‘ کے مفہوم میں اس طرح شامل ہے کہ شارع نے اس کو ’الصلاۃ‘ اور ’الزکاۃ‘ کی طرح معروف مفہوم سے نکال کر ایک نئے مفہوم میں بطور شرعی اصطلاح کے استعمال کیا ہے۔ یعنی قرآن مجید میں یہ اصطلاحات ’مجمل‘ کے طور پر وارد ہوئی ہیں جن کی تبیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔
شاطبی ربا الفضل کی ممانعت کو نہ تو قرآن کے ’الربا‘ میں شامل سمجھتے ہیں اور نہ اس سے بالکل الگ ایک مستقل حکم تصور کرتے ہیں۔ ان کی راے میں حکم میں یہ توسیع قیاس کے اصول پر کی گئی ہے۔ چونکہ جاہلیت کے معروف ربا میں کسی عوض کے بغیر قرض کی اصل رقم میں اضافہ کیا جاتا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قیاس کرتے ہوئے ربا الفضل کو بھی ممنوع قرار دیا (الموافقات ۴/ ۳۳- ۳۴)۔
۲۔ قرآن میں ایک ہی آدمی کے کسی عورت اور اس کی بیٹی سے نکاح کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دو بہنوں کو بہ یک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ احادیث میں دو بہنوں کے علاوہ پھوپھی اور بھتیجی، نیز خالہ اور بھانجی کے ساتھ بہ یک وقت نکاح کو بھی اسی دائرے میں شمار کیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک یہ زائد ممانعت، زمانی لحاظ سے مقرون ہونے کی صورت میں تخصیص کی، جب کہ مفصول ہونے کی صورت میں نسخ کی مثال ہے، جب کہ امام شافعی زمانی اتصال یا انفصال سے قطع نظر کرتے ہوئے، حدیث کی بیان کردہ حرمت کو قرآن کی بیان کردہ فہرست کا حصہ شمار کرتے ہیں۔
شاطبی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قیاس کے اصول پر قرآن کے حکم میں توسیع کی ہے، یعنی جو اخلاقی خرابی ماں اور بہن کو اور اسی طرح دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے میں پائی جاتی ہے، وہی خالہ اور بھانجی اور پھوپھی اور بھتیجی سے بہ یک وقت نکاح کرنے میں بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علت کی بنیاد پر حکم کو توسیع دیتے ہوئے اس صورت سے بھی منع فرمایا ہے اور اس کی علت بھی یہ کہہ کر واضح فرمائی ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو قطع رحمی کے موجب بنو گے (الموافقات ۲/ ۲۹۳، ۳۱۰۔ ۳/ ۹۳- ۹۴۔ ۴/ ۳۵)۔
۳۔ قرآن مجید میں محرمات کے بیان میں صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ احادیث میں دیگر رضاعی رشتوں کو بھی اسی زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک یہ بھی نسخ کی مثال ہے، جب کہ امام شافعی اسے قرآن کے ایک محتمل حکم کی تبیین قرار دیتے ہیں۔
شاطبی کا نقطۂ نظر یہاں امام شافعی سے ہم آہنگ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قیاس کی رو سے یہ رشتہ رضاعی ماں کے باقی متعلقین سے بھی قائم ہو سکتا ہے، تاہم عام مجتہدین اس کو توسیع دینے میں اس پہلو سے تردد محسوس کر سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے، یہ ایک تعبدی حکم ہو اور اسے صرف ماں اور بہن تک محدود رکھنا شارع کی منشا ہو۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ رضاعت کے رشتے سے نکاح کی حرمت نہ صرف رضاعی والدہ کے دیگر متعلقین تک متعدی ہوگی، بلکہ رضاعی والدہ کا شوہر بھی اس تعلق سے باپ کا درجہ حاصل کر لے گا (الموافقات ۴/ ۳۶)۔
۴۔ اللہ تعالیٰ نے مالی لین دین کے معاملات میں گواہ مقرر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ دو مردوں کو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ مقرر کرنا چاہیے تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ شوافع کے نزدیک یہ قرآن پر زیادت کی مثال ہے، جب کہ احناف اسے ظاہر قرآن کے معارض ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے۔
شاطبی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ قرآن کے معارض نہیں، بلکہ قرآن کے حکم پر قیاس کا نتیجہ ہے۔ قرآن کی ہدایت سے واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کی گواہی مردوں کی بہ نسبت کم زور گواہی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو ’ناقصات عقل‘ کہہ کر اس کم زوری کو واضح فرمایا ہے۔ اس ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی معاملات میں حسب ضرورت کم زور گواہی بھی قابل قبول ہے اور اس پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر قیاس کرتے ہوئے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کو بنیاد بناتے ہوئے فیصلہ فرما دیا۔ اگرچہ مدعی کی قسم اثبات دعویٰ کا ایک کم زور ذریعہ ہے، لیکن چونکہ قرآن نے ایک دوسرے کم زور ذریعے سے، یعنی عورتوں کی گواہی کو قابل قبول قرار دیا ہے، اس لیے مدعی کی قسم کو بھی اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ قیاس کی ایک بہت لطیف اور مخفی صورت ہے (الموافقات ۴/ ۳۸)۔
قرآن کے اشارات سے استنباط
امام شافعی نے بہت سی مثالوں میں یہ واضح کیا ہے کہ سنت میں قرآن سے زائد جو حکم بیان کیا گیا ہے، اس کا ماخذ قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن کے اشارات سے وہ حکم مستنبط کیا جا سکتا ہے۔ شاطبی نے بھی قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے اس پہلو کو متعدد مثالوں سے واضح کیا ہے۔
شاطبی ذکر کرتے ہیں کہ بعض مثالوں میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن میں اپنے استنباط کا ماخذ واضح فرمایا ہے۔ مثلاً آپ نے عبد اللہ بن عمر کو، جنھوں نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، ہدایت فرمائی کہ وہ رجوع کر لیں اور پھر بیوی کے پاک ہونے کے بعد حالت طہر میں اسے طلاق دیں۔ یہ ہدایت دیتے ہوئے آپ نے قرآن مجید کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ یہ طلاق کا وہ طریقہ ہے جو اللہ نے تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا ومروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کی اور قرآن مجید کی آیت ’اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ‘ پڑھ کر فرمایا کہ ہم وہاں سے شروع کرتے ہیں جس کا ذکر اللہ نے پہلے کیا ہے (الموافقات ۴/ ۴۰- ۴۱)۔ اسی کی ایک مثال کے طو رپر شاطبی مدینہ کو حرم قرار دینے کے حکم کا ذکر کرتے ہیں۔ احادیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، میں اسی طرح مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں اور اس کے حدود میں جھاڑیوں کو کاٹنے اور جانور کے شکار کو ممنوع ٹھیراتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اس حکم کی توثیق فرما دی (الموافقات ۴/ ۳۷)۔
اس کے علاوہ شاطبی نے متعدد ایسی مثالیں بھی ذکر کی ہیں جن میں سنت میں وارد احکام قرآن کے اشارات سے یا قرآن کے حکم پر قیاس کر کے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ چند مثالیں یہ ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس کو ،جنھیں تین طلاقیں دے دی گئی تھیں، عدت میں اپنے شوہر کے گھر میں رہنے کا حق نہیں دیا، حالاں کہ ایسی عورت قرآن کی رو سے رہایش کی حق دار ہوتی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ روایت میں یہ بیان ہوئی ہے کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور اپنے سسرال والوں کے ساتھ زبان درازی کیا کرتی تھیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’اِلَّا٘ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ‘ کے تحت (یا اس پر قیاس کرتے ہوئے) فاطمہ کو کسی دوسری جگہ عدت گزارنے کے لیے کہا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو، جو حاملہ ہونے کی حالت میں بیوہ ہو گئی تھیں اور شوہر کی وفات کے کچھ دن کے بعد ولادت سے فارغ ہو گئیں، اجازت دے دی کہ وہ نکاح کر سکتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ قرآن میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم غیر حاملہ کے لیے ہے، جب کہ وضع حمل کے بعد عدت کے ختم ہو جانے کی ہدایت مطلقہ اور بیوہ، دونوں طرح کی خواتین کے لیے ہے (الموافقات ۴/ ۴۰- ۴۱)۔
حدیث میں قیدیوں کو چھڑانے کی ترغیب وتاکید بیان ہوئی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی اس ہدایت سے مستنبط ہے کہ ’وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ ‘ (اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا تم پر لازم ہے)۔ گویا جب ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کے، نصرت طلب کرنے پر ان کی مدد واجب ہے تو جو مسلمان کفار کے قیدی ہوں، ان کی نصرت بدرجہ اولیٰ واجب ہونی چاہیے۔
حدیث میں مسلمان کو کافر کے قصاص میں قتل نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ بعض علما نے اس کا ماخذ قرآن مجید کی مختلف آیات کو قرار دیا ہے، مثلاً: ’وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا‘ (اللہ تعالیٰ ہرگز کافروں کے لیے مسلمانوں کے خلاف کوئی راہ پیدا نہیں کرے گا) اور ’لَا يَسْتَوِيْ٘ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ‘ (جہنم میں جانے والے اور جنت میں جانے والے برابر نہیں ہو سکتے)۔ شاطبی کہتے ہیں کہ مذکورہ نصوص کی براہ راست دلالت تو اس مسئلے پر واضح نہیں، البتہ قیاس کے طریقے پر یہ حکم قرآن سے اس طرح اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آزاد سے آزاد کا اور غلام سے غلام کا قصاص لینے کی بات فرمائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کو غلام کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ غلامی کفر کے آثار میں سے ہے، اس لیے اس سے یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان سے کافر کا قصاص نہیں لیا جائے گا (الموافقات ۴/ ۴۳- ۴۴)۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ یک وقت چار سے زائد عورتیں نکاح میں رکھنے کو ممنوع قرار دیا۔ شاطبی اس ممانعت کو قرآن مجید کے ارشاد ’ذٰلِكَ اَدْنٰ٘ي اَلَّا تَعُوْلُوْا ‘ (یہ اس کے زیادہ قرین ہے کہ تم نا انصافی کے مرتکب نہ ہو) سے مستنبط قرار دیتے اور سد ذریعہ کے اصول پر مبنی تصور کرتے ہیں (الموافقات ۲/ ۲۹۳، ۳۱۰)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شافعی کی طرح، شاطبی بھی قرآن مجید میں ’مَثْنٰي وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ‘ کے اسلوب کی دلالت کو قطعی نہیں سمجھتے اور چار سے زائد بیویوں کی ممانعت کا اصل ماخذ حدیث کو تصور کرتے ہیں۔ البتہ بعض حضرات نے ’مَثْنٰي وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ‘ کے مجموعے سے نو خواتین سے نکاح کا جواز قرآن کی نص سے ثابت کرنے کی جو کوشش کی ہے، شاطبی اسے کلام عرب کے اسالیب سے ناواقفیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں (الموافقات ۳/ ۳۱۴)۔
یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ احادیث کو قرآن سے مستنبط کرنے کے طریقے کو اصولاً درست سمجھتے ہوئے شاطبی کا موقف یہ ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے ہر ہر حکم کا ماخذ لفظی قرائن یا اشارات کی مدد سے قرآن میں متعین کرنے کا رجحان درست نہیں۔ شاطبی کے نزدیک یہ ایک غیر ضروری کام ہے اور ہر ہر حکم کے بارے میں یہ دعویٰ کر کے اس کو قرآن سے ثابت کرنا ناممکن ہے۔ لکھتے ہیں:
ولکن صاحب ھذا المأخذ یتطلب أن یجد کل معنی في السنۃ مشارًا إلیہ من حیث وضع اللغۃ لا من جھۃ أخری أو منصوصًا علیہ في القرآن … ولکن القرآن لا یفي بھذا المقصود علی النص والإشارۃ العربیۃ التي تستعملھا العرب أو نحوھا وأول شاھد في ھذا الصلاۃ والحج والزکاۃ والحیض والنفاس واللقطۃ والقراض والمساقاۃ والدیات والقسامات وأشباہ ذلک من أمور لا تحصی، فالملتزم لھذا لا یفي بما ادعاہ، إلا أن یتکلف في ذلک مآخذ لا یقبلھا کلام العرب ولا یوافق علی مثلھا السلف الصالح ولا العلماء الراسخون في العلم. (الموافقات ۴/ ۴۲)
’’اس طریقے کو اختیار کرنے والا چاہتا ہے کہ سنت میں مذکور ہر حکم کا اشارہ لغوی دلالت کے لحاظ سے، نہ کہ کسی دوسری جہت سے، قرآن میں تلاش کرے یا وہ اسے قرآن میں منصوص نظر آجائے۔ لیکن قرآن نصاً یا اہل عرب کے استعمالات کے لحاظ سے اشارتاً یا اس طرح کے کسی دوسرے طریقے سے (سنت کے ہر حکم پر دلالت کی) غرض کو پورا نہیں کرتا۔ اس کی بالکل سامنے کی مثال نماز، حج، زکوٰۃ، حیض ونفاس، لقطہ، مضاربت، مساقاۃ، دیت اور قسامت اور اس طرح کے دیگر بے شمار احکام ہیں۔ چنانچہ اس کا دعویٰ کرنے والا اپنے دعوے کو پورا نہیں کر سکتا، الّا یہ کہ استدلال کے ایسے پرتکلف طریقے اختیار کرے جن کو نہ تو کلام عرب قبول کرتا ہے اور نہ اس سے سلف صالحین اور علم میں رسوخ رکھنے والے علما اتفاق کرتے ہیں۔‘‘
مذکورہ عبارت میں ’من حیث وضع اللغۃ لا من جھۃ أخری‘ کی قید سے شاطبی نے یہ واضح کیا ہے کہ سنت کے احکام کو لفظی قرائن واشارات کی بنیاد پر قرآن سے اخذ کرنے کا طریقہ ہر مثال میں اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ گویا شاطبی قرآن کے حکم کو اس معنی میں سنت میں وارد تفصیلات کو متضمن نہیں سمجھتے کہ زائد تفصیلات کے اشارات لفظی قرائن کی صورت میں قرآن میں موجود ہوں۔ ان کے نزدیک متضمن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تفصیلات بھی شارع کی مراد کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن وہ انھیں تصریحاً اصل حکم کے ساتھ بیان نہیں کرتا، بلکہ حکم کا بنیادی حصہ بیان کر کے تفصیلات کی وضاحت کو سنت کے سپرد کر دیتا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی رہنمائی میں یا اپنے اجتہاد سے ان تفصیلات کی وضاحت فرما دیتے ہیں ۔
عمومات کی تخصیص کی بحث
سابقہ سطور میں نصوص کی دلالت کے قطعی یا ظنی ہونے کے حوالے سے شاطبی کا یہ نقطۂ نظر واضح کیا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک انفرادی نصوص کی دلالت قطعی نہیں ہو سکتی، کیونکہ نص کی قطعی مراد طے کرنے کے لیے متعدد اور متنوع احتمالات کی نفی کرنی پڑتی ہے اور یہ سارا عمل ظن پر مبنی ہوتا ہے۔ مذکورہ احتمالات کے ضمن میں شاطبی نے دلالت عموم کا بھی ذکر کیا ہے جس سے واضح ہے کہ وہ کسی نص میں عموم کے اسلوب کو اس بات کی یقینی دلیل نہیں سمجھتے کہ متکلم کی مراد حقیقتاً بھی عموم ہی ہے۔ یوں اسلوب عموم کی دلالت کے حوالے سے شاطبی کا موقف کلیتاً امام شافعی کے نقطۂ نظر سے ہم آہنگ ہے اور وہ باقاعدہ ان کا حوالہ دے کر اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔
شاطبی کہتے ہیں کہ قرآن مجید عربی زبان میں اور اہل عرب کے مخصوص اسالیب کلام میں نازل ہوا ہے اور ان میں سے ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ اہل عرب اسلوب عموم صرف ایک ہی محل میں نہیں، بلکہ مختلف مواقع میں استعمال کرتے ہیں۔ بعض مواقع میں عام کی ظاہری دلالت واقعتاً مراد ہوتی ہے، بعض مواقع پر من وجہ عموم اور من وجہ خصوص مراد ہوتا ہے اور بعض مقامات پر عام سے صرف خاص مراد ہوتا ہے۔ شاطبی ، امام شافعی کی عبارت کا تقریباً اعادہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وکل ذلک یعرف من أول الکلام أو وسطہ أو آخرہ وتتکلم بالکلام ینبئ أولہ عن آخرہ أو آخرہ عن أولہ، وتتکلم بالشيء یعرف بالمعنی کما یعرف بالإشارۃ، وتسمی الشيء الواحد بأسماء کثیرۃ والأشیاء الکثیرۃ باسم واحد، وکل ھذا معروف عندھا لا ترتاب في شيء منہ ھي ولا من تعلق بعلم کلامھا … والذي نبہ علی ھذا المأخذ في المسألۃ ھو الشافعي الامام في رسالتہ الموضوعۃ في أصول الفقہ، وکثیر ممن أتی بعدہ لم یأخذھا ھذا المأخذ فیجب التنبہ لذلک. (الموافقات ۲/ ۵۵- ۵۶۔ ۴/ ۹۴)
’’یہ سب باتیں کلام کی ابتدا سے یا درمیان سے یا آخر سے معلوم ہو جاتی ہیں۔ اہل عرب بعض دفعہ کلام کرتے ہیں تو اس کا ابتدائی حصہ آخری حصے کی یا آخری حصہ ابتدائی حصے کی وضاحت کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کے کلام میں بات کی وضاحت کبھی معنی سے ہوتی ہے اور کبھی اشارے سے۔ وہ ایک چیز کے کئی نام رکھ دیتے ہیں اور بہت سی چیزوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں ان کے ہاں معروف ہیں اور اس میں نہ ان کو اور نہ ان کے کلام سے واقفیت رکھنے والے کسی شخص کو کوئی تردد لاحق ہوتا ہے۔ اس مسئلے میں اس نکتے کی طرف امام شافعی نے اصول فقہ پر اپنے رسالے میں متوجہ کیا ہے اور ان کے بعد آنے والے بہت سے اہل علم نے اس نکتے کو اس طرح بیان نہیں کیا۔ پس اس پر دھیان رکھنا لازم ہے۔‘‘
اس کی توضیح کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں کہ الفاظ عموم کی ایک وضع لغوی ہوتی ہے اور ایک وضع استعمالی، اور ان دونوں کی دلالت میں فرق ہوتا ہے۔ وضع لغوی کے لحاظ سے الفاظ عموم کی ممکنہ دلالت ان تمام افراد کو محیط ہوتی ہے جن کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا ہے، لیکن اس لفظ کو جب کوئی متکلم اپنے کلام میں استعمال کرتا ہے تو موقع کلام کے لحاظ سے اس کی ایک نئی دلالت پیدا ہوتی ہے۔ اس نئی دلالت میں متکلم کی مراد بعض دفعہ وضع لغوی میں پائے جانے والے عموم کو برقرار رکھنا ہوتا ہے اور بعض دفعہ وہ عموم کے دائرے کو اپنے پیش نظر مقصد کے لحاظ سے کچھ مصداقات تک محدود کر دیتا ہے اور عموم سے اس کی مراد وہی خاص مصداقات ہوتے ہیں۔ یوں لفظ کی وضع لغوی سے مفہوم ہونے والے عموم کی جگہ ایک نیا اور محدود عموم لے لیتا ہے جو وضع استعمالی سے پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’جو شخص میرے گھر میں داخل ہو، میں اس کا اکرام کروں گا‘‘، اس جملے میں وضع لغوی کے لحاظ سے ہر داخل ہونے والا شخص مراد ہے، لیکن موقع کلام سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ متکلم خود اپنے آپ کو اس عموم میں داخل نہیں سمجھتا۔ اسی اسلوب کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات ’اَللّٰہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ‘ اور ’وَاللّٰہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ‘ میں کسی تردد کے بغیر واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کو مراد نہیں لے رہے، بلکہ مخلوقات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح قوم عاد پر بھیجی جانے والی آندھی کے متعلق ’تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۣ بِاَمْرِ رَبِّہَا‘ سے مراد لفظی طور پر ہر ہر چیز نہیں، بلکہ وہ چیزیں مراد ہیں جن کو تیز ہوا توڑ پھوڑ سکتی ہے، چنانچہ کوئی بھی شخص اس کا مطلب یہ نہیں سمجھتا کہ آندھی نے زمین وآسمان اور پہاڑوں اور دریاؤں کو بھی تباہ وبرباد کر دیا (الموافقات ۳/ ۲۱۴- ۲۱۶)۔
اس استدلال کی روشنی میں شاطبی کا موقف یہ ہے کہ عام اپنی دلالت میں محتمل ہوتا ہے، اس لیے جیسے سنت میں قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل قرآن کا بیان ہوتی ہے، اسی طرح مطلق کی تقیید اور عام کی تخصیص کی نوعیت بھی بیان مراد ہی کی ہوتی ہے اور قرآن کی مراد ان توضیحات کو نظر انداز کر کے متعین نہیں کی جا سکتی۔ لکھتے ہیں:
أن السنۃ کما تبین توضح المجمل وتقید المطلق وتخصص العموم فتخرج کثیرًا من الصیغ القرآنیۃ عن ظاھر مفھومھا في أصل اللغۃ وتعلم بذالک أن بیان السنۃ ھو مراد اللہ تعالیٰ من تلک الصیغ. (الموافقات ۴/ ۱۸)
’’سنت، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے، مجمل کی توضیح، مطلق کی تقیید اور عموم کی تخصیص کرتی ہے اور بہت سے قرآنی الفاظ کو لغت سے سمجھ میں آنے والے ان کے ظاہری مفہوم سے نکال دیتی ہے اور اس سے تمھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ سنت نے جو بات واضح کی ہے، قرآن کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی مراد وہی ہے۔‘‘
شاطبی مزید واضح کرتے ہیں کہ عام اور اس کی تخصیص کرنے والی نص اور مطلق اور اس کی تقیید کرنے والی نص کو الگ الگ شمار کرنا درست نہیں اور مجتہد کے لیے لازم ہے کہ عام اور مطلق کی دلالت صرف ایک نص سے متعین کرنے کے بجاے نصوص میں ان کی تخصیص وتقیید کے دلائل بھی تلاش کرے۔ شاطبی لکھتے ہیں:
ولذلک لا یقتصر ذو الاجتھاد علی التمسک بالعام مثلاً حتی یبحث عن مخصصہ وعلی المطلق حتی ینظر ھل لہ مقید أم لا، إذ کان حقیقۃ البیان مع الجمع بینھما فالعام مع خاصہ ھو الدلیل. (الموافقات ۳/ ۷۴)
’’اسی لیے مجتہد صرف عام نص کو لے لینے پر اقتصار نہیں کر سکتا، اسے عام کے مخصص کی اور مطلق نص کی تقیید کرنے والے نصوص کی تحقیق کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اصل مراد دونوں کو جمع کرنے سے ہی واضح ہوتی ہے، یعنی عام (تنہا نہیں، بلکہ) اپنے خاص کے ساتھ مل کر دلیل بنتا ہے۔‘‘
البتہ شاطبی دلالت عموم کے قطعی ہونے کی ایک صورت کو ممکن مانتے ہیں جو دلائل شرعیہ کے استقرا سے پیدا ہوتی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ کسی ایک نص میں صیغۂ عموم اختیار کیا گیا ہو تو اس کی دلالت قطعی نہیں ہوتی اور اس کے مخصصات کو تلاش کرنا مجتہد پر لازم ہے، لیکن اگر کوئی عمومی اصول شریعت کے مختلف نصوص میں بار بار اور تکرار کے ساتھ بیان ہوا ہو اور استقرا سے یہ واضح ہو رہا ہو کہ شریعت میں اسے ایک عام اور کلی قاعدے کے طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے تو ایسی صورت میں اس کو ظاہری عموم پر ہی محمول کیا جائے گا اور اس کے مخصصات تلاش کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ شاطبی نے اس کی مثال کے طور پر ’لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰي‘، ’لا ضرر ولا ضرار‘، ’من سن سنۃ حسنۃ‘ اور ’من مات مسلمًا دخل الجنۃ‘ جیسے عمومات کو پیش کیا ہے۔ شاطبی کے الفاظ یہ ہیں:
فکل أصل تکرر تقریرہ وتأکد أمرہ وفھم ذلک من مجاري الکلام فھو مأخوذ علی حسب عمومہ … فأما إن لم یکن العموم متکررًا ولا مؤکدًا ولا منتشرًا في أبواب الفقہ فالتمسک بمجردہ فیہ نظر فلا بد من البحث عما یعارضہ أو یخصصہ، وإنما حصلت التفرقۃ بین الصنفین لأن ما حصل فیہ التکرار والتأکید والانتشار صار ظاھرہ باحتفاف القرائن بہ إلی منزلۃ النص القاطع الذی لا احتمال فیہ، بخلاف ما لم یکن کذلک فإنہ معرض لاحتمالات، فیجب التوقف في القطع بمقتضاہ حتی یعرض علی غیرہ ویبحث عن وجود معارض فیہ. (الموافقات ۳/ ۲۴۴)
’’ہر وہ اصل جس کی تاکید بار بار وارد ہوئی ہو اور (مختلف پہلوؤں سے) اسے موکد کیا گیا ہو اور کلام کے اسالیب سے اس کی تاکید واضح ہو رہی ہو تو اسے اس کے عموم پر ہی محمول کیا جائے گا۔ لیکن اگر عموم تکرار سے وارد نہ ہو اور نہ اسے بار بار موکد کیا گیا ہو اور نہ وہ بہت سے فقہی احکام میں پھیلا ہوا ہو تو محض صیغہ عموم سے استدلال محل نظر ہوگا اور اس (کو عموم پر محمول کرنے سے پہلے) اس کے معارض یا مخصص کی تحقیق ضروری ہوگی۔ ان دونوں قسموں میں فرق اس وجہ سے ہے کہ جس عموم میں تکرار اور تاکید پائی جائے اور وہ مختلف احکام میں پھیلا ہوا ہو تو اس کا ظاہر ان تمام قرائن کے شامل ہونے کی وجہ سے ایک قاطع نص بن جاتا ہے جس میں دوسرا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اس کے برخلاف دوسری صورت میں احتمالات موجود رہتے ہیں، اس لیے اس کی قطعی مراد طے کرنے میں توقف ضروری ہے تاآنکہ اسے دیگر نصوص پر پیش کیا جائے اور اس کے معارض دلائل کی تحقیق کر لی جائے۔‘‘
شاطبی نے عمومات میں تخصیص کی ایک دوسری صورت پر بھی کلام کیا ہے جو اپنی نوعیت میں تبیین مراد کی مذکورہ صورت سے مختلف ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ شریعت میں جو احکام کلیہ بیان کیے گئے ہیں، بعض دفعہ کسی دوسرے کلی شرعی اصول کی رعایت سے ان میں تخصیص اور استثنا قائم کرنا پڑتا ہے اور یہ اصل حکم کے عموم اورکلیت کے منافی نہیں ہوتا۔ گویا خاص صورتوں کو مخصوص اسباب کے تحت حکم کلی سے مستثنیٰ یا مخصوص قرار دینا بذات خود ایک تشریعی اصول ہے اور اس کے تحت مختلف شرعی احکام میں تخصیص اور استثنا کی مثالیں نصوص میں موجود ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شوہروں کے لیے بیویوں کو دیا گیا مال واپس لینے کو ممنوع قرار دیا ہے، لیکن ایک خاص صورت میں اس کی اجازت دی ہے جسے فقہی اصطلاح میں ’خلع‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر بیوی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہو تو اس صورت میں بھی اس کو دیا گیا مال واپس لینے کی گنجایش دی گئی ہے (الموافقات ۱/ ۲۴۱) ۔
شاطبی سنت میں وارد بعض تخصیصات کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بصیغۂ عموم مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تخصیص ایک دوسرے شرعی اصول پر مبنی ہے (الموافقات ۱/ ۲۴۱)۔ اسی طرح قرآن مجید میں اولاد کو ماں باپ کے ترکے میں حصہ دار قرار دیا ہے۔ یہ ایک عام اور کلی شرعی حکم ہے، لیکن حدیث میں مسلمان کے کافر کا وارث بننے کی ممانعت آئی ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے شرعی اصول پر یا ایک خاص مانع کی رعایت پر ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ شریعت کے ایک کلی حکم میں کسی دوسری اصل شرعی یا کسی مانع کی وجہ سے تخصیص کی جائے تو اسے ’تعارض‘ سے تعبیر کرنا درست نہیں، کیونکہ ایسی تخصیصات خود کسی دوسرے شرعی اصول کی رعایت پر مبنی ہوتی ہیں (الموافقات ۱/ ۱۴۷)۔
قرآن کے ظاہری عموم میں تخصیص کرنے والی بعض احادیث کی توجیہ شاطبی نے سد ذریعہ کے اصول پر کی ہے جو شریعت کا ایک مستقل کلی اصول ہے اور اس لحاظ سے ان کا ذکر بھی یہاں مناسب ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے بارے میں فرمایا کہ اسے وراثت میں حصہ نہیں ملے گا اور اس کی حکمت یہ ہے کہ وراثت میں جلد حصہ پانے کے لیے مورث کو قتل کرنے کا داعیہ ختم کر دیا جائے (الموافقات ۲/ ۲۹۳، ۳۱۰)۔ شاطبی کے نقطۂ نظر سے یہ ممانعت شریعت کے ایک مستقل اور کلی اصول، یعنی سد ذریعہ کی فرع ہے اور دو جزوی نصوص کے باہمی تعلق کی نہیں، بلکہ شریعت کے ایک کلی اصول کی روشنی میں دوسرے کلی حکم کی تحدید کی مثال ہے۔
شاطبی کے نزدیک نصوص میں اس طرح کی تقییدات اور تخصیصات اگرچہ ظاہری لحاظ سے دوسرے نصوص کے حکم کو تبدیل کر رہی ہوتی ہیں اور اس پہلو سے تخصیص وتقیید اور نسخ کے مابین ایک ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے جس کی رعایت سے صحابہ وتابعین کے کلام میں ایسی صورتوں کے لیے ’نسخ‘ کی تعبیر بکثرت استعمال کی جاتی ہے، تاہم حقیقت کے اعتبار سے تخصیص وتقیید اور نسخ دو مختلف چیزیں ہیں۔ نسخ میں کسی حکم کی حقیقی مراد میں ترمیم یا تغییر کی جاتی ہے اور ناسخ ایک نیا اور مستقل حکم ہوتا ہے، جب کہ تخصیص وتقیید میں حکم کی حقیقی مراد کو واضح کیا جاتا ہے اور تخصیص یا تقیید کوئی نیا حکم بیان نہیں کرتی، بلکہ سابقہ حکم ہی کی مراد کو واضح کرتی ہے (الموافقات ۳/ ۸۹- ۹۶)۔
اصولیین کے ایک گروہ کے نزدیک نصوص میں عموم کے اسلوب سے صرف احتمالاً نہیں، بلکہ حقیقتاً عموم مراد ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ان کی طرف سے ایک دلیل یہ بھی پیش کی گئی ہے کہ بعض روایات سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ نے بعض آیات کو ظاہری عموم پر محمول کرتے ہوئے ان کا مفہوم متعین کیا، حالاں کہ آیات کے سیاق وسباق میں اس عموم کی تخصیص کے دلائل موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ظاہری عموم کو حقیقتاً شارع کی مراد سمجھتے تھے۔ مثلاً بعض صحابہ نے ’اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ٘ا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ‘ (وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں کی) کا مطلب یہ سمجھا کہ نجات کے لیے یہ شرط ہے کہ ایمان لانے کے بعد آدمی نے کسی قسم کا کوئی گناہ نہ کیا ہو، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر واضح کیا کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ اسی طرح قرآن میں ’اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ‘ (بے شک، تم اور جن کی تم پوجا کرتے ہو، جہنم کا ایندھن بننے والے ہو) کی آیت نازل ہوئی تو بعض کفار نے اعتراض کیا کہ اس کی رو سے تو فرشتے اور مسیح علیہ السلام بھی (نعوذ باللہ) جہنم میں جائیں گے، کیونکہ ان کی بھی عبادت کی جاتی ہے۔ اس پر قرآن مجید میں یہ وضاحت نازل کی گئی کہ اللہ کے نیک بندوں کو جہنم سے دور رکھا جائے گا۔
شاطبی اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ ان مثالوں میں آیات کے سیاق وسباق میں تخصیص کے واضح دلائل موجود ہیں۔ مثلاً ’اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ٘ا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‘ کی آیت سورۂ انعام میں آئی ہے جس کا مرکزی مضمون ہی شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ہے، اس لیے پوری سورہ کے نظم، نیز مذکورہ آیت کے بالکل قریبی سیاق وسباق، دونوں کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ تاہم بعض صحابہ جو حدیث الاسلام تھے اور دین وشریعت کے فہم میں ان کی حیثیت مبتدی کی تھی، وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے اور ان کے اشکال پیش کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کا اصل مفہوم ان پر واضح فرما دیا۔ اسی طرح ’اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘ میں روے سخن قریش کی طرف ہے جو فرشتوں یا مسیح علیہ السلام کی نہیں، بلکہ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے، اس لیے خطاب کے رخ سے ہی واضح ہے کہ آیت میں ان کے بتوں کا جہنم رسید کیا جانا مراد ہے۔ گویا یہاں معترضین کا اعتراض کلام کے صحیح فہم پر نہیں، بلکہ کٹ حجتی پر مبنی تھا۔ اسی نوعیت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ مروان بن الحکم کو قرآن مجید کی آیت ’يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ‘ (وہ اس کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریف کی جائے، پس تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ ایسے لوگ عذاب سے بچ جائیں گے) پر یہ اشکال ہوا کہ یہ کم زوری تو ہر انسان میں پائی جاتی ہے، اس لیے کسی کے لیے عذاب سے بچنے کا امکان نہیں۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے واضح کیا کہ یہ آیت یہود کے ایک گروہ سے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوالات کے جواب میں کتمان کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے غلط معلومات بیان کیں، لیکن ان کی خواہش یہ تھی کہ سوالات کا جواب دینے پر ان کی تعریف کی جائے۔ گویا اس بات کا ایک خاص سیاق ہے اور اس میں ایک عام انسانی کم زوری کا حکم بیان نہیں کیا گیا۔
شاطبی کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ کم فہمی یا عناد کی وجہ سے اگر بعض لوگوں نے بعض آیات کے سیاق و سباق کو نظر انداز کر کے الفاظ کے ظاہری عموم کو حقیقی مراد پر محمول کیا تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عربی زبان یا قرآن مجید کے اسلوب میں بھی الفاظ کا ظاہری عموم حقیقتاً مراد ہوتا ہے (الموافقات ۳/ ۲۱۷- ۲۲۳)۔
بحث کی توضیح مزید کے لیے شاطبی نے یہاں فقہاے صحابہ کے استنباطات سے ذرا مختلف نوعیت کی چند مثالیں بھی پیش کیں اور ان کی وضاحت کی ہے۔ مثال کے طور پر سیدنا عمر اپنے لباس اور کھانے پینے میں بہت تقشف سے کام لیتے تھے اور اس کے لیے قرآن کی آیت ’اَذْھَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا‘ (تم نے اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ہی ختم کر دیں) کا حوالہ دیتے تھے، حالاں کہ سیاق کے لحاظ سے اس آیت میں اہل ایمان کے بجاے کفار کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیدنا معاویہ نے ایک حدیث سنی جس میں قیامت کے دن ریاکاری کی نیت سے شہید ہونے، تعلیم وتعلم کرنے والے اور اعمال خیر میں انفاق کرنے والے افراد کو جہنم میں ڈالے جانے کا ذکر ہے تو اس پر قرآن کی آیت پڑھی ’مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَھَا‘ (جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا طلب گار ہو)، حالاں کہ سیاق وسباق کی رو سے یہ بھی کفار سے متعلق ہے۔
شاطبی واضح کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی مثالوں میں سلف کااستدلال دراصل نص کے ظاہری عموم سے نہیں، بلکہ معنوی پہلو سے ہوتا ہے اور وہ نص کے سیاق وسباق میں موجود تخصیص کے دلائل کے باوجود معنوی پہلو سے اس کو عموم پر محمول کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً مذکورہ مثالوں میں صحابہ نے آیات میں بیان کی گئی وعید کو عموم معنوی پر محمول کرتے ہوئے یہ سمجھا کہ اسراف اور ریاکاری جیسے رویے جس طرح اہل کفر کے لیے موجب وبال ہیں، اسی طرح اہل ایمان کے لیے بھی ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی مثالوں کا اسلوب عموم کی بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے (الموافقات ۳/ ۲۲۴- ۲۲۸)۔
قرآن، سنت سے مقدم ہے
قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے مذکورہ تمام پہلوؤں کے تناظر میں شاطبی یہ قرار دیتے ہیں کہ بطور ماخذ تشریع قرآن مجید، رتبے میں سنت سے مقدم ہے۔ اس فرق مراتب کا ایک پہلو تو معیار ثبوت سے متعلق ہے، یعنی قرآن قطعی الثبو ت ہے، جب کہ سنت ظنی الثبوت ہے اور اس میں قطعیت اگر پیدا ہوتی ہے تو وہ روایات کی مجموعی قوت سے پیدا ہوتی ہے، جب کہ انفرادی روایات فی نفسہٖ ظنی ہیں۔ اس کے مقابلے میں کتاب اللہ کی الگ الگ آیات بھی قطعی الثبوت ہیں اور اس لحاظ سے کتاب اللہ کو سنت پر تقدم حاصل ہے۔
قرآن کے مقدم ہونے کا دوسرا اور اس بحث میں زیادہ اہمیت رکھنے والا پہلو یہ ہے کہ سنت کا رتبہ بیان احکام میں بھی قرآن مجید سے متاخر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت یا تو کتاب اللہ کے احکام کی تبیین کرتی ہے اور یا اس سے زائد کچھ احکام بیان کرتی ہے۔ اگر وہ کتاب اللہ کی تبیین کرتی ہے تو شرح کا درجہ بدیہی طور پر اصل کے بعد ہوتا ہے، کیونکہ اگر اصل ہی نہ ہو تو شرح وبیان کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی، جب کہ اس کے برعکس شرح کی غیر موجودگی، اصل کی موجودگی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اگر سنت، کتاب اللہ سے زائد کچھ احکام بیان کرتی ہے تو اس کا اعتبار اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کتاب اللہ میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو، یعنی سنت کسی مستقل حکم کا ماخذ تبھی بن سکتی ہے جب قرآن نے اس سے مطلقاً کوئی تعرض نہ کیا ہو۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ سنت کا رتبہ، قرآن سے متاخر ہے (الموافقات ۴/ ۸)۔
اپنے اس موقف پر شاطبی نے بعض ممکنہ اشکالات کا بھی ذکر کیا اور ان کا جواب دیا ہے۔ مثلاً ایک اشکال یہ ہے کہ محققین کے نزدیک اگر کتاب اللہ کا حکم محتمل ہو تو اس کی تبیین میں، اور اسی طرح قرآن کے ظاہری عمومات اور اطلاقات کی تخصیص وتقیید میں سنت فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح اگر کتاب وسنت میں باہم تعارض ہو تو بھی اہل اصول کا اس میں اختلاف ہے کہ قرآن کو ترجیح دی جائے گی یا سنت کو۔ چنانچہ کتاب اللہ کو علی الاطلاق، سنت پر مقدم قرار دینے کا موقف کیونکر درست ہو سکتا ہے؟
شاطبی کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں سنت کے فیصلہ کن ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر سنت کو اس کے مقابلے میں مقدم کیا جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ سنت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کتاب اللہ ہی کی مراد کی درست وضاحت کر رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سنت، کوئی الگ حکم بیان نہیں کرتی جو قرآن سے مختلف ہو اور اسے قرآن کے مقابلے میں ترجیح حاصل ہو، بلکہ درحقیقت وہ جو بات بیان کرتی ہے، وہ کتاب اللہ ہی کی مراد ہوتی ہے اور اسے کتاب اللہ کے بجاے سنت کی طرف منسوب کرنا بہ اعتبار حقیقت درست نہیں۔ چنانچہ جیسے کوئی مفسر یا عالم کسی آیت یا حدیث کی وضاحت کرتا ہے تو ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم فلاں مفسر کی بات پر عمل کر رہے ہیں، بلکہ یہی کہتے ہیں کہ ہم اللہ یا اس کے رسول کی بات پر عمل کر رہے ہیں، اسی طرح سنت میں کتاب اللہ کے احکام کی جو بھی وضاحت کی گئی ہے، وہ دراصل کتاب اللہ ہی کے مدعا و مفہوم کا بیان ہے۔ اس لیے کتاب وسنت کے تعلق کے اس پہلو کو سنت کے مقدم ہونے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔
جہاں تک کتاب وسنت میں تعارض کا تعلق ہے تو شاطبی کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں خبر واحد تبھی قابل قبول ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد خود قرآن سے ثابت شدہ کسی قطعی اصول پر ہو۔ اگر خبر واحد کسی قطعی قاعدے پر مبنی نہ ہو تو قرآن کو اس پر مقدم رکھنا لازم ہے۔ گویا تعارض کی جس صورت میں سنت کو قرآن پر ترجیح دی جاسکتی ہے، وہاں تعارض دراصل کتاب اللہ اور خبر واحد کے مابین نہیں، بلکہ خود قرآن سے ثابت دو قطعی اصولوں کے مابین ہوتا ہے اور ان میں سے ایک اصول کو دوسرے اصول پر ترجیح دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس صورت کو بھی قرآن پر سنت کو مقدم کرنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا (الموافقات ۴/ ۹- ۱۱)۔
حاصل بحث
شاطبی کی اس پوری بحث کا موازنہ جمہور اصولیین کے فریم ورک سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ شریعت کی تفہیم میں ان کے زاویۂ نظر سے مرکزی سوال شریعت کی قطعیت کو واضح کرنا اور ظنی الثبوت نیز ظنی الدلالۃ نصوص کے مقام اور کردار کی ایسی توجیہ کرنا ہے جس سے وہ بھی ایک طرح کی قطعیت کے دائرے میں آجائیں۔ شاطبی اس کے لیے شریعت کے جزئیات وفروع کے تقابل میں کلیات واصول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور شرعی نصوص کے استقرا کی روشنی میں یہ واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ان کلیات پر مبنی ہونا بالکل قطعی ہے۔ جہاں تک جزئیات وفروع کا تعلق ہے تو وہ چونکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انفراداً ظن کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتیں، اس لیے ان کا کسی اصل کلی سے متعلق ہونا ضروری ہے۔ یوں ایک جہت سے ظنی ہونے کے باوجود ایک دوسری جہت سے ان فروع کو بھی ایک نوعیت کی قطعیت حاصل ہو جاتی ہے۔ شاطبی قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کے سوال کو بھی اس بنیادی مقدمے کی روشنی میں حل کرتے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ شریعت کے کلیات کی تبیین وتوضیح میں بنیادی کردار قرآن مجید کا ہے، اس لیے شریعت کے اصل اور اساسی ماخذ کی حیثیت قرآن ہی کو حاصل ہے۔ سنت، قرآن کی فرع کے طور پر تشریع کے عمل میں شریک ہوتی ہے اور مختلف جہتوں سے قرآن کے وضع کردہ تشریعی ڈھانچے کی تکمیل کرتی اور اس کی جزئیات وفروع کو واضح کرتی ہے۔ جمہور اصولیین کی طرح شاطبی نے بھی مجملات کی توضیح، عمومات کی تخصیص اور علت کی بنیاد پر حکم کی توسیع جیسی بحثوں سے تعرض کیا اور سنت کے، قرآن کے ساتھ متعلق ہونے کی ان صورتوں پر کلام کیا ہے، تاہم ان کے اصولی فریم ورک میں یہ بحثیں ثانوی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا مرکزی اور بنیادی سوال کلیات کی سطح پر شریعت کی قطعیت کو واضح کرنا اور ظنی نصوص سے ثابت ہونے والی فروع وجزئیات کے، ان کلیات کے ساتھ تعلق کو واضح کرنا ہے۔ اس لحاظ سے عملی نتائج میں کوئی خاص فرق نہ ہونے کے باوجود اصولی اور نظریاتی حیثیت سے شاطبی نے اس بحث کی تفہیم کا جو فریم ورک پیش کیا ہے، وہ اصول فقہ کی روایت میں بالکل منفرد حیثیت رکھتاہے۔
(جاری)
حریف جدیدیت کا فاؤسٹ اور تنقید کی گریچن
عاصم بخشی
گوئٹے کا المیہ ناٹک فاؤسٹ1 یوں تو بہت سے دل گرفتہ مناظر کی بُنت سے تخلیق کیا گیا ہے، لیکن گریچن کا قصہ یقیناً اس کا سب سے الم ناک منظر ہے۔ گریچن ایک ایسا معصوم، مخلص اور دلچسپ کردار ہےجو ایک چھوٹی سی محفوظ اور بند مذہبی دنیا سے نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہی ننھی سی دنیا ہے جس میں کبھی فاؤسٹ پلا بڑھا تھا لیکن وہ کب کا اسے کھو بیٹھا ہے۔اب وہ اس کا رخ محض ایک ایسے ناظر کی حیثیت سے کرتا ہے جسے اس پر تبصرہ و تنقید مقصود ہے۔ گریچن کی کہانی بنیادی طور پر لاحاصل محبت کے کرب کی کہانی ہے۔اس کا نسوانی حسن دراصل اس روایتی دنیا کا علامتی حسن ہے جس کی بچگانہ معصومیت فاؤسٹ کے لیے بہت جذباتی کشش رکھتی ہے۔وہ میفسٹو سے لیے گئے جواہرات کے تحفے گریچن پر نچھاور کرنا چاہتا ہے ۔اسے اپنی دنیا کی جانب کھینچنا چاہتا ہے۔گریچن کے اندر ایک کشمکش برپا ہے جس کا منبع ان تبدیلیوں کے امکانات ہیں جو اپنی ننھی سی روایتی دنیا کو چھوڑ کر فاؤسٹ کی نئی دنیا میں ہجرت سے عبارت ہیں۔وہ اپنی معصومیت اور سادہ لوحی پر ماتم کناں ہے۔اپنی داخلی بغاوت پراسے ایک جذباتی شرمساری کا سامنا ہے۔ اپنے دردناک انجام سے قبل آخری منظر میں گریچن ایک زنداں میں قید ہے۔ فاؤسٹ اسے اپنے ساتھ فرار پر آمادہ کرتا ہے تو وہ اسے اس کے سرد لہجے کی دہائی دیتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا۔یہ بات کافی حد تک سچ ہے کیوں کہ تجربہ وعمل کی اقلیم کا مسلسل مسافر ہونے کے ناطے فاؤسٹ کے لیے گریچن کو ساتھ گھسیٹتے رہنا ممکن نہیں۔گریچن وہیں پڑی پڑی بالآخر جان دے دیتی ہے۔
کیا مدرسہ ڈسکورسز کا فاؤسٹ اپنی روح کا سودا کر چکا ہے؟
اس منصوبے سے عملی تعلق نہ رکھنے کے باعث راقم اس منصوبے کے خدوخال اور اغراض ومقاصد کے بارے میں کوئی واضح اور حتمی رائے رکھنے سے قاصر ہے۔لہٰذا اس سوال کا جواب ان دستاویزات کی روشنی میں نظری طور پر ہی دیا جا سکتا ہے جو اس منصوبے سے منسلک دستی کتابچوں، بلاگز، مضامین اور عملی سرگرمیوں کی رپورتاژ کے ذریعے عوام کو دستیاب ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے توماہنامہ الشریعہ کے سابقہ شمارے میں قبلہ محمد دین جوہر صاحب کی تنقیدی کاوش اپنے اندر گریچن کی سی معصومانہ لیکن اذیت ناک خودمسماری رکھتی ہے۔ ایک ایسے یک رخی تنقیدی دھارے کا حصہ ہوتے ہوئے جو مسلسل تکرار کے باعث اب خود ایک مستقل صنف بننے کے قریب ہے، اس خودمسمار تنقیدی روایت کی سب سے دلچسپ جہت سماجی تھیوری میں’روایت‘،’تاریخیت‘ اور ’جدیدیت‘ جیسے مقولات کی دستیاب تعریفات میں سے پہلے تو من پسند چناؤ اور پھران چنیدہ تعریفات کو مقبول و معروف کہنے پر اصرار ہے۔ دراصل یہ ایک جانا مانا علتی سلسلہ ہے جس کے ذریعے چنیدہ تعریفات پھیل کر پہلے تو دوسری تمام تعریفات پر حاوی ہوتی ہیں او رپھر انہیں حاشیوں پر بھی جگہ دینے پر راضی نہیں ہوتیں۔یہ کم و بیش اسی قسم کا انتخابی تعصب (ٰselective bias) ہے جس کی معکوس صورت ہمیں کلاسیکی استشراقی منہجِ تنقید میں نظر آتی ہے۔ لہٰذا ہماری رائے میں جینیاتی اعتبار سے جوہر صاحب حریف جدیدیتوں کو جس استشراقی روایتِ فکر کا حصہ بتلا رہے ہیں ، طریقیاتی منہج میں خود اسی سے قریب تر ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی ایک ایسی تنقیدی روایت کے علم بردار ہیں جو تنقید کے ضمن میں کسی نادیدہ جزیرے پر لنگر انداز ایک ’حریف جدیدیت‘ ہی ہے۔ اس کے برعکس ڈاکٹر فضل الرحمٰن رحمہ اللہ ، ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر عمار ناصر وغیرہم خالص مذہبی روایتِ فکر یعنی ’آرتھوڈوکسی‘ کے جزیرے میں جنم لے کر ایک ایسی حریف جدیدیت کے امکانات برپا کرنے نکلے ہیں جو فکری خودمسماریت پسندی کے برعکس ہماری خالص مذہبی (یعنی آرتھوڈوکس) روایت سے قریب تر ہے۔غالباً ان متقابل علمی جینیات اور ان سے منسلک ذہنی میلانات کی بنیادی وجہ آخر الذکر تحقیقی حلقے کی روایتی مذہبی علمیات سے (کسی نہ کسی درجے میں مدرسی) وابستگی اور اوّل الذکر تنقیدی حلقے کی جدیدیت مخالف مابعدالجدید تنقیدی روایت (مثلاً فرینکفرٹ مکتب ِ فکر) سے ذہنی وابستگی ہے۔
گزارش یہ ہے کہ مطالعہ و تنقید قاری کی نفسیات میں برپا رہنے والا ایک مستقل واقعہ ہے۔ لیکن خودمسماری پر مائل مایوس تنقیدی ذہن میں یہ واقعہ ایک ایسی زمانی سرنگ میں قید ہو جاتا ہے جو لمحۂ موجود اور لمحۂ آئندہ کے امکانات پر نظر نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس لمحۂ گزشتہ کی ایک مخصوص مصنوعی تصویر ذہن کو اپنی مکمل گرفت میں رکھتی ہے۔نتیجتاً یہ خودمسمار تنقیدی ذہن خود اذیتی کے علاوہ تنقید سے کوئی ایسی لذت اٹھانے سے قاصر رہتا ہے جو تجربہ و عمل کے دنیا میں انقلاب کے امکانات رکھتی ہو۔ظاہر ہے کہ اگر گریچن کے زاویۂ نگاہ سے اُس کی محبت میں گرفتار فاؤسٹ اپنی روح کا سودا کر چکا ہے تو اس پر تنقید سے سینہ کوبی کے سوا کیا حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ زنداں میں پڑی روتی سسکتی گریچن کو کیوں کر اپنی ننھی سی روایتی جنت چھوڑنے پر مائل کیا جا سکتا ہے جس کا وجود اب ذہنی بھی نہیں بلکہ صرف جذباتی خدوخال ہی رکھتا ہے؟ غالباً یہ ایک کارِ لاحاصل ہے۔ راقم گواپنی کم سوادی کے باعث خود کوحریف جدیدیتوں کے منصوبے کے خاطر خواہ دفاع، اور برادربزرگ جوہرصاحب سے مکالمے اور جواب تنقیدکا بھاری پتھر اٹھانے کے قابل نہیں سمجھتا، لیکن بہرحال اپنے جیسے طلبا اور محققین کو ان سماجی مقولات کی تعریفات میں حائل پیچیدگیوں سے مختصراً آگاہ کرنا ضروری ہے جو اس منصوبے پر ہونے والی مخصوص مقامی تنقیدوں کے زیرِ اثر انہیں مقبول و معروف اور طے شدہ امور سمجھتے ہیں۔
منہجِ فکر یا طریقیاتی تناظرمیں تصورات کی بحث اپنی اساس میں لسانیات ہی کی بحث سے جنم لیتی ہے۔جدیدیت جیسے غیرمقامی سیاسی و سماجی تصورات دوسری زبانوں اور دوسرے معاشروں تک پہنچتے پہنچتے اپنی اصل سماجی اشتقاقیات سے کٹ جاتے ہیں۔ یوں ترجمہ صرف لسانی اعتبار سے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی نہیں بلکہ تہذیبی اور سماجی اعتبار سے بھی اپنی اصل سے ایک فاصلے پر ہٹ جانے کا مظہر ہوتا ہے۔تنقید کے وہ نابینا طریقیاتی منہج جو مقامی تہذیبوں میں ترجمے کے بعد غیرمقامی تصورات کی چنیدہ تعریفات کو ہدف بناتے ہیں دراصل اپنی تنقید کے لیے بھی انہیں غیرمقامی تہذیبوں کے علمیاتی ڈھانچوں آگے کشکول کھنکھناتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ تمام دستیاب تنقیدوں کا مبسوط احاطہ اور ان پر جاری مباحث کا فوری مطالعہ ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا مخاطبین کو عمومی طور پر یہ باور کروایا جاتا ہے کہ یہ تعریفات علمِ سیاسیات یا علم سماجیات میں ’مشہورومعروف‘ اور ’معلوم‘ ہیں۔اس کے برعکس وہ طریقیاتی منہج جو مسلسل مطالعے اور متون کے معانی پر اٹل مہر لگا دینے کے معاملے میں قدرے تشکیک سے کام لیتے ہیں، سماجی تصورات کو لسانی تاریخ یعنی اصل مقامیت میں رکھ کر ان کے معانی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ معانی بعینہٖ اجنبی تہذیبوں میں کسی تاریخی حقیقت پر منطبق نہیں ہوتے لہٰذا ان تصورات کی قدرے بدلی ہوئی اور متبادل شکلیں سامنے آتی ہیں۔ لیکن عصرِ حاضر میں اصل متون اور ان کے تراجم تک آسان رسائی کے علاوہ ایسی معطیات (data trends) بھی موجود ہیں جن کے بنیاد پر مختلف الفاظ و تصورات کا معاشروں میں استعمال، ان میں واقع ہونے والی زمانی و مکانی تبدیلیوں اور اشتقاقی جنم او راموات کے تاریخی واقعات کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے2۔
مثال کے طور پر انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں انگریزی کی لغت میں داخل ہونے والے لفظ enlightenment کو لے لیجیے جو تصورِ جدیدیت یعنی modernity کی تاریخی اساس کے طور پر مقبول و معروف مانا جاتا ہے اور مخصوص روایتی حلقوں میں کافی بدنام ہے۔ ہمارے ہاں اس کا لغوی ترجمہ روشن خیالی اورخردافروزی وغیرہ کے طور پر کیا جاتا ہے۔انگریزی لغت میں اسی لفظ سے جڑا ایک مرکبِ توصیفی Age of Enlightenment بھی مستعمل ہے جسے سترہویں صدی کی سائنس اور عقلیت پسند تحریکوں، مذہب و کلیسا کی علیحدگی، فرد کی سیاسی و سماجی آزادی اور دیگر عمرانی تبدیلیوں کے مترادف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک اور متعلقہ بلکہ کم و بیش مترادف معنوں میں استعمال ہونے والا لفظ renaissance بھی ہے جس کے لیے اردو میں یوروپی نشاۃ الثانیہ، تنویری تحریک اور یوروپی عقلیت پسندی کی تحریک وغیرہ جیسے مرکبات مستعمل ہیں۔ اگر تین چار الفاظ و مرکبات کے اس مختصر سے تناظر میں ’حریف جدیدیتوں‘ کے تصور پر مقامی تنقیدوں کا مطالعہ کیا جائے تو مذکورہ بالا اور اسی قبیل کی دوسری تنقیدوں کی تہہ میں موجود ذہنی رویوں کی عمومی خاکہ بندی کی جا سکتی ہے۔
اولاً تو یہ تنقیدی مزاج اس حد تک غیررسمی اور خطیبانہ ہے کہ اپنے بدیہی مسلمات اور مفروضوں کو عیاں کرنے سے ایک قدم پیچھے رک جاتا ہے۔ہمیں یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ تنقید کا ہدف بنے تصورات سے شدید اختلاف کیا جا رہا ہے لیکن اس اختلاف کی ٹھوس علمی و تحقیقی بنیادوں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی کہ مکالمے کو مزیدآگے بڑھایا جائے۔ثانیاً جیسا کہ پہلے ذکر ہوا یہاں تصورات کی کچھ تعریفات کو یوں محکم اور اساسی مانا جاتا ہے کہ اسی تناظر میں پیش کردہ حریف تحقیقی مطالعوں کو جواز تو کیا دینا،ان کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر modernity، enlightenment اور renaissance جیسے الفاظ کے ساتھ جڑی تصوراتی پیچیدگیوں کو یا تو عمداً یاپھر باعثِ لاعلمی مکالمے سے حذف کر دیا جاتا ہے۔بحیثیت طالبِ علم ہم گمان ہی کر سکتے ہیں کہ قبلہ جوہر صاحب غالباً کلاسیکی فرینکفرٹ مکتبِ فکر اور اس کے بعد ہیبرماس جیسے مفکرین سے جدیدیت کی تعبیر وتعریف لے کر اس کی مدد سے بلادِ مشرق بالخصوص ایشیائی معاشروں میں برپا ہونے والی عقلیت پسندی، انفرادیت پسندی اور متاثر و متعلق مذہبی اصلاحی تحریکوں کو اپنی تنقید کا تختۂ مشق بنا رہے ہیں۔مانگے کی یہ تنقید چونکہ اپنے ساتھ یوروپ کی سماجی اشتقاقیات نہیں لا سکتی لہٰذا ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسےصرف خطابت ہی سے پر کیا جا سکتا ہے۔ثالثاً اس قسم کے دعوے دہرانے کے باوجود کہ عقل ،وحی اور تاریخ کا دھارا تقدیر کے تابع ہے ،ان دعووں کی بنیادوں میں موجود زمانی و مکانی تصورات و تشکیلات کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔یوں یہ سوال بدستور تشنہ رہتا ہے کہ مسلم فکر کلاسیکی مابعدالطبیعیات میں پیدا ہونے والے پانچ سو سالہ انقلابات پر کیا رائے رکھتی ہے؟ یا کوئی رائے رکھتی بھی ہے یا نہیں! ان معاشروں میں پیدا ہونے والا فرد تجربہ و عمل کی دنیا میں وجود وشعور کو کس طرح ایک اکائی میں تبدیل کر سکتا ہے؟ کیا ہم ان معاشروں کو کسی بھی معنی میں ’جدید‘ معاشرے کہہ سکتے ہیں؟ اور اگر جواب ہاں میں ہے تو کیا حریف جدیدیت محض اس نئے فرد کی اپنے وجودی حال یعنی existential human condition سے مثبت علمیاتی یا تخلیقی سمجھوتے ہی کی ایک صورت نہیں؟
نتیجتاً اس تنقیدی صورتِ حال میں اس سوال پر مکالمہ ممکن نہیں رہتا کہ کیا ہم خالص مغربی تناظر سے ہٹ کر اپنے مخصوص تناظر میں متبادل، حریف یا غیرمغربی جدیدیت کی بابت کلام کر سکتے ہیں؟ واقعہ یہ ہے کہ خود یہ مغربی تناظر بھی ایک اٹل اکائی نہیں بلکہ کم از کم تین صد سال پر پھیلا ہوا ایک مکالماتی منظر نامہ ہے۔ہمارا ماننا ہے اس منظر نامے پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالنے سے بھی الفاظ کے مشار الیہ تصورات کی پیچیدگیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آئیے ہم مثال کے طور پراسی لفظ enlightenment کی سماجی اشتقاقیت کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ جب یہ لفظ سن ۱۸۶۵ء کے لگ بھگ جرمن لفظ Aufklärung کے ترجمے کے طور پر انگریزی لغت میں داخل ہوا تو کم و بیش ایک صدی کے سماجی و سیاسی مباحثے اور ان کا فلسفیانہ تناظر اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔اس کے فوراً بعد انیسویں صدی کے انگریزی پڑھنے والے اور تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد یعنی آج ہمارے دور کے اردو، فارسی اور عربی قارئین کے لیے یہ تناظر ایک گونہ مزید سطحیت (flatness) کا شکار یوں ہوا کہ جدیدیت جیسے تصورات پر ہونے والی تنقیدیں اور مختلف تعبیرات نے جن متون کو حوالے کے طور پر استعمال کیا وہ جرمن زبان میں ہونے کے باوجود ایک مخصوص تعبیری تحدید کا شکار ہوئے جو تسلسل سے جاری تھی۔ان متون میں ایک اہم مضمون کانٹ کا ہے جس کے جرمن عنوان میں استعمال ہونے والے لفظ Aufklärung کا ترجمہ Enlightenment کے طور پر کیا جاتا ہے3۔ کانٹ کا یہ مضمون جب دسمبر ۱۷۸۴ء میں برلن سے شائع ہونے والے مجلے Berlinische Monatsschrift میں شائع ہوا تو اس سے تین ماہ قبل یعنی ستمبر ۱۷۸۴ء میں کانٹ ہی کے ایک اور ہم عصر مفکر موسیٰ مینڈلسوہن کامضمون بالکل اسی عنوان کے ساتھ اسی مجلے میں شائع ہو چکا تھا4۔دونوں مضامین ایک ہی سوال یعنی’’Aufklärung کیا ہے؟‘‘ کا جواب پیش کرنے کی کوشش تھے۔یہ سوال ایک سال قبل یعنی اس سے پچھلے دسمبر جوہان فریڈرک زولنر نامی مذہبی عالم اور مصلح نے اسی مجلے میں شائع شدہ ایک مضمون میں ضمنی طور پر پسِ تحریر ایک حاشیے میں اٹھایا تھا۔ اور پیچھے چلیے توزولنر کی یہ تحریر ایک اور ایسے بے نامی مضمون کےجواب میں تھی جس کا بظاہر گمنام لکھاری بھی اسی مجلے کا مدیر جوہان ایرک بیسٹر تھا ۔ بیسٹر کا مختصرمضمون اس سوال پر بحث کرتا تھا کہ کیا شادی بیاہ کے موقعوں پر پادریوں کے ذریعے کلیسا کی نمائندگی ضروری ہے؟ زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ رجعت پسند یا سادہ لوح (un-enlightened) لوگ شادی بیاہ کے معاہدوں کو دوسرے تمام معاہدوں کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے ہیں کیوں کہ اول الذکر معاہدے کلیسائی اشیرباد کی وجہ سے مقدس مانے جاتےہیں۔بیسٹر کا استدلال تھا کہ شادی بیاہ کےمعاہدوں سے کلیسائی نمائندگی کی حاضری کی شرط کو ختم کر دینے سے تمام شہری معاہدے ایک جیسی اہمیت اختیار کر لیں گے۔
اس سے پہلے کہ تصورِ جدیدیت کے خلاف مذکورہ بالا مخصوص تنقیدی رجحان کے علم بردار دوست احباب فوراً ایرک بیسٹر کے استدلال میں ’’سیکولرائزیشن‘‘ کی بُو سونگھ لیں، سیاق و سباق کو کلیت میں سمجھنا ضروری ہے۔بیسٹر کے متن پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی نظر میں بنیادی مسئلہ شادی بیاہ کے معاہدوں سے مذہبی بے دخلی نہیں بلکہ اس کے برعکس تمام انفرادی و اجتماعی معاہدوں یعنی شہری ذمہ داری کو یکساں ’’مذہبی‘‘ اہمیت کا حامل سمجھنا تھا۔دوسرے لفظوں میں یہ شادی بیاہ کے معاہدوں سے کلیسائی بے دخلی نہیں بلکہ ایک نئی قسم کی’ ’شہری مذہبیت‘‘ کے امکانات کا جواز تھا، جہاں بیسٹر کے الفاظ میں ’’مذہبی عقیدہ اور شہری ذمہ داری ایک بندھن میں بندھ کر مناسب تال میل سے آگے بڑھیں‘‘۔یہ اور اس قسم کے دوسرے سماجی و سیاسی مسائل اس مخصوص ذہنی رجحان کا حصہ تھے جو اٹھارہویں صدی کی المانوی علمی معاشرت کی تشکیل کرتے تھے۔بیسٹر، زولنر ، مینڈلسوہن اور قریباً دو درجن متنوع فکری دھاروں سے تعلق رکھنے والے مفکرین اس ’بدھ وار سوسائٹی‘ کا حصہ تھے جو Berlinische Monatsschrift کے ذریعے اپنے اجلاسوں میں زیرِ بحث آنے والی آراء شائع کرتی تھی۔
قصہ مختصر،زولنر کے مضمون کے حاشیے میں اٹھائے گئے سوال کے جواب پر ’بدھ وار سوسائٹی‘ کے اندر ہی بہت سی آراء سامنے آئیں۔ کچھ مفکرین مثلاً جوہان کارل ولہلم موہسن نے Aufklärung کی تعریف پیش کرنے کی بجائے توہم پرستی اور دوسرے تعصبات کی بنیادوں کا کھوج لگانے کے رویے پر زور دیا جو بالواسطہ عوامی استدلال کے ضوابط کو ازسرِ نو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوسکتا تھا ۔اس کا سوال تھا کہ ایسا کیوں ہے کہ برلن میں تو ایک ثقافتی روشن خیالی (یعنی Aufklärung ) فروغ پا چکی ہے لیکن مضافاتی علاقوں کے عوام اب تک استدلال کے پرانے رویوں پر قائم ہیں۔ موہسن نے دبے دبے الفاظ میں بادشاہی نظام کے تحت المانوی پالیسی اور افسرشاہی کو قانونی ، کلیسائی اور علمی دائروں میں ایک مخصوص روایتی ثقافت اور اس سے منسلک استدلالی ڈھانچوں کو قائم و دائم رکھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا کیوں کہ اس کے ذریعے عوام کی سادہ لوحی کو استعمال کرنا آسان تھا۔المانوی علمی ثقافت کے اس مخصوص تناظر میں یہ جاننا اہم ہے کہ لسانی اعتبار سے روشن خیالی کے بنیادی معنی کا تعین توہم پرستی کے مقابل تھا جو روایتی یوروپی معاشرت کا اٹوٹ انگ تھی۔
یہی وہ نکتہ ہے جو کانٹ کے مشہور مضمون کی اولین عبارت میں پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے جس کی رو سے Aufklärung کا آدرش دراصل انسان کی اپنے پیروں میں خود اپنے ہاتھ سے باندھی گئی بھولپن کی زنجیروں کو توڑ دینا ہے۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ لسانی معطیات پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں Aufklärung ، Kultur اور Bildung جیسے جرمن الفاظ اٹھارہویں صدی کے بعد ایک نہایت بڑھوتری سے متون میں پھیلتے نظر آتے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ Aufklärung کا سوال محض سیاسی یا سماجی میدان میں عملی منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیلتے پھیلتے ثقافت (Kultur ) اور تہذیبی اصلاح (Bildung ) کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ دوم، اس تناظر میں کانٹ کی عوامی اور ذاتی استدلال کی تقسیم ایک مخصوص سمجھوتے کی جانب اشارہ ہے جس کی رو سے مذہبی استدلال ایک عملی عقیدے نہ کہ نظری اعتقاد کا ایک مسئلہ ٹھہرتا ہے۔ظاہر ہے کہ کلیسائی نمائندہ اپنے اعتقاد یا من مرضی سے تو شادی بیاہ کی رسوم میں مہرِ کلیسا کے کر نہیں آن ٹپکتا بلکہ کلیسا کا تفویض کردہ ایک فریضہ نبھا رہا ہوتا ہے۔
روشن خیالی، خردافروزی یا تنویری تحریک کی المانوی جہت پر یہ مختصر سی بحث پیش کرنے کا مقصد محض سماجی لسانیات ، تاریخ اور سیاست سے جڑی ان پیچیدگیوں کی جانب اشارہ ہے جو جدیدیت جیسے تصورات سے وابستہ ہیں۔ چونکہ حریف جدیدیت کے منصوبے سے متعلق مقامی مکاتبِ فکر اپنی سماجی (لہٰذا علمی اور سیاسی) خاکہ بندیوں میں ’جدیدیت‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں ، لہٰذا نہ صرف یہ ’غیرمقامی‘ تاریخی پیچیدگیاں بلکہ جدیدیت کے تصور پر ہونے والی تنقیدوں کے عصری دھارے بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔یہاں پہلا سوال ایک بار پھر اس تناظر یا پیراڈائم کا ہے جس میں یہ دھارے جنم لیتے اور متعین اور سوچی سمجھی سمت میں اپنے بہاؤ کو جاری رکھتے ہیں۔یہ تناظر یقیناً المانوی تاریخ تک محدود نہیں بلکہ انگریزی ترجمے کے ذریعے انیسویں صدی کے وسط ہی سے ایک طرف تو Aufklärung کو Enlightenment اور Enlightenment کو ’جدیدیت‘ سے جوڑ چکا ہے، دوسری طرف یہ علمی منظرنامے کو دو ایسی شاخوں میں تقسیم کر دیتا ہے جو ایک دوجے کو کبھی کبھار کاٹتی تو ضرور ہیں لیکن اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھتی ہیں۔
ان میں پہلی شاخ سیاسیات کی ہے جہاں ’جدید‘ اور ’جدیدیت ‘ میں ایک واضح فرق ہے۔جدید وہ ہے جو اب قصۂ پارینہ ہے لیکن اس کی بازگشت پس منظر میں سنائی دیتی ہے۔یہ ایک زمانی سلسلہ ہے جو قدیم، وسطی، جدید اور عصری یعنی ان چار پڑاؤ میں مسلسل ڈھلتا رہتا ہے۔جدیدیت اس زمانی سلسلے کے آخری پڑاؤ یعنی عصرِ حاضر سے متعلق ایک ایسی نفسی و سماجی حالت ہے جو اپنے داخلی اور خارجی مظاہر میں پچھلے تین زمانی پڑاؤ کے مقابلے میں انوکھی ہے۔ان مظاہر کا ایک مجموعہ علمی رجحانات، ثقافتی و سماجی مسائل پر تنقیدی غوروفکر اور انفرادیت و اجتماعیت جیسی کشمکش پر ذہنی میلانات سے متعلق ہے، جب کہ دوسرا مجموعہ ان رجحانات سے متعلقہ قوانین، افسرشاہی ، تعلیم اورمعاشیات وغیرہ کے لیے قائم کردہ اداراتی ڈھانچوں سے تعلق رکھتا ہے۔
دوسری شاخ سماجیات و بشریات کی ہے جہاں جدید اور جدیدیت کو ایک دوسرے سے الگ کرنا نسبتاً مشکل ہے۔ اس تناظر میں جدیدیت کی کہانی کا بیانیہ ایک تہذیبی و تاریخی بیانیے کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ کہانی اگر اسی طرح سنائی جائے تو بامعنی تسلیم کی جاتی ہے۔یہاں اٹھنے والے تمام سوال جیسے کہ ہم کون ہیں اور کن آدرشوں سے بندھے ہیں یا ہم کون نہیں ہیں اور کون سے آدرش ہمارے لیے کشش نہیں رکھتے، کسی نہ کسی مقامیت کو پیش قیاس کرتے ہیں یعنی ہمیں اپنی زمین اور اس زمین پر پیش آنے والے مخصوص حالات سے جوڑتے ہیں۔ گو یہ بیانیہ تاریخی خاکوں اور تشکیلات کی مدد سے بنُا جاتا ہے لیکن اس کی بنیادی حیثیت معالجاتی ہوتی ہے ۔ اب جدیدیت ایک ایسی یک طرفہ انسانی حالت بن جاتی ہے جو عصری مسائل کے حل کے لیے اپنی مظہری تعریف و تشکیل پر اصرار کرتی ہے۔ یوں زمانی سلسلے کے عصری پڑاؤ پر ’جدید ثقافت‘ ثقافتی مظاہر کے ایک ممتاز اور ممیز مجموعے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
ان دو شاخوں کو سامنے رکھنے سے تصورِجدیدیت اور اس پر ہونے والی تنقیدوں کی زمرہ بندی آسان ہو جاتی ہے5۔ مکرر عرض ہے کہ یہ زمرہ بندی نہ صرف علمی بلکہ نفسیاتی جہت بھی رکھتی ہے کیوں کہ مخصوص نفسیات انسانی ذہن کے سامنے موجود مخصوص استدلالی ڈھانچوں میں ترجیح و انتخاب پر ابھارتی ہیں۔چونکہ موضوع ان تنقیدوں کی زمرہ بندی نہیں لہٰذا طوالت سے بچتے ہوئے ان تنقیدوں کی کامیابی اور ناکامی کے امکانات کا مختصراً احاطہ کافی ہے۔
انیسویں صدی کے نصفِ آخر او ربیسویں صدی کے اوائل کے مفکرین اس نئی ثقافت کو کسی نہ کسی درجے پر ایک ایسی مستقل تبدیلی کا حصہ مانتے آئے جو استدلالی رویوں میں ایک مستقل تبدیلی کا نام ہے۔میکس ویبر کی بقول یہ فسوں ربائی (disenchantment) زمانی سلسلے کے تیسرے پڑاؤ یعنی ’دورِ جدید‘ سے ماقبل ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے لیکن کبھی ختم نہیں ہوتا6۔ لیکن سائنسی انقلاب کے بعد بھی ایسے ثقافتی مظاہر ہمیشہ موجود رہے ہیں جو سماجی سائنسی اور ٹھوس ریاضیاتی تشکیلات سے ماورا ہیں۔ویبر کے نزدیک یہ عمل یک طرفہ ہے اور اس کی یہی یک سمتی کسی بھی جدیدیت مخالف منصوبے کی ناکامی کے امکانات پر مہر ثبت کرتی ہے۔ویبر سے ربع صدی قبل کارل مارکس کا تصورِ جدیدیت پیدوار ی اشیاء کی صارفیت کے گرد گھومتی ایک ایسی نئی ثقافت کی تشکیل ہے جو شے کے سماجی تصور اور شے کی پرستش کے سماجی مظہر سے جنم لیتی ہے۔مارکسی تناظر میں ثقافتِ جدید کا تنقیدی مطالعہ اس اہم نکتے پر منتج ہوتا ہے کہ سرمایہ داریت میں طاقت کا مرکز انسان کی جگہ غیرانسانی عوامل بن جاتے ہیں۔ جدید ثقافت کی ان دونوں خاکہ بندیوں کو سامنے رکھا جائے تو اہم ترین اور بنیادی سوال کسی تیسری متبادل خاکہ بندی کا نہیں بلکہ جدیدیت نامی ایک ثقافت کے خلاف ممکنہ ردّ عمل کا ٹھہرتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خالص مظہری درجے پر زمانۂ جدید میں انسانی حالت (لہٰذا ثقافت) میں قلبِ ماہیت کا واقعہ اتنا عظیم ہے کہ اس کے خلاف کوئی قابلِ التفات شہادت پیش نہیں کی جا سکتی۔یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ویبر اور مارکس دونوں ہی اس نئی ثقافت پر طاری پراسرار پردہ چاک کر کے اس کی اصل ماہیت جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ویبر کے ہاں اس پراسرار مظہر کی تہہ میں مسلسل ارتقا سے گزرتا ایک مخصوص استدلالی ڈھانچہ کارفرما ہے جب کہ مارکس کے نزدیک جدیدیت ایک ایسا نظریہ ہے جو طاقت کے موجودہ ڈھانچوں کے لیے استدلالی کمک کا کام کرتا ہے۔اس تناظر میں یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں رہتا کہ ویبر کے نزدیک جدیدیت انفرادیت اور آزادی کا ایسا مظہر ہے جس کے خلاف کسی مخالف منصوبہ بندی کی گنجائش نہیں رہتی جب کہ مارکس کے ہاں مناسب ردّعمل نظریاتی تنقید ہے۔اڈورنو، ہوک ہائمر اور ان کے بعد ہیبرماس وغیرھم کا کام مارکس کی اسی نظریاتی تنقید کا تمام ممکنہ جہات میں پھیلاؤ ہے۔
یہ نہایت مختصر پس منظر حریف جدیدیت کی سمت میں سفر کرتے بہت سے متنوع منصوبوں کو ایک اکائی میں پرونے کے لیے ضروری ہے۔یوروپی جدیدیت پر خود بھی ایک تنقید ہوتے ہوئے حریف جدیدیت یہ مان کر ہی آگے بڑھتی ہے کہ جدیدیت سے فرار ممکن نہیں اور اس کے خاتمے کے متعلق تمام شکوک و شبہات اور پیشین گوئیاں زیادہ سے زیادہ کسی نظریاتی بند گلی میں جا کر ختم ہو جاتی ہیں۔ صرف یہ واقعہ کہ جدیدیت یوروپی تاریخ کا ایک واقعہ ہے اسے خالصتاً یوروپی نہیں بنا دیتا۔ یہ ایسے ثقافتی مظاہر اور استدلالی ڈھانچوں کا مجموعہ ہے جس کا غیرمغربی دنیا میں پھیلاؤ ایک طرف تو یوروپ اور امریکہ کے استعماری منصوبوں اور دوسری طرف مغرب اور دیارِ غیر مغرب کے باہمی اختلاط سے ممکن ہوا۔لیکن چوں کہ یہ پیچیدہ ثقافتی اختلاط خطی یا یک سمتی نہ تھے ،خود جدیدیت کی تہوں میں بھی ایک ثقافتی تکثیریت کی تلاش معقول ہے۔ لیکن اس پیش قیاسی مفروضے کے علاوہ حریف جدیدیت اوپر پیش کیے گئے دو شاخہ علمی تناظر میں جنم لینے والے دو اہم سوالوں کا ممکنہ جواب بھی ہے۔
اول یہ کہ مغربی جدیدیت کی اس دُبدھا کا کیا حل ہو جو عمرانی اور ثقافتی جدیدیت کی دو رخی تقسیم رکھتی ہے؟7 ان میں پہلی یعنی عمرانی جدیدیت ان مظاہر کا نام ہے جو ذہنی میلانات اور سماجی رویوں میں قلبِ ماہیت کی وجہ سےپیدا ہوتے ہیں مثلاً سائنسی شعور، ایک مخصوص غیر مذہبی استدلالی رویہ، نظریۂ ترقی، افادیت پسند عقلیت ، سماج کی ایک معاہداتی ساخت، منڈی کی سرمایہ دارنہ صنعتی معیشت، قومی ریاست کی افسر شاہی، قوانین کے منقسم دائرے، انسانی حرکت میں تیزی، شہری دائروں میں وسعت ، میڈیا کی صنعت اور انفرادیت پسندی وغیرہ۔یہ وہ بورژوائی جدیدیت8 ہے جس نے مغرب کے صنعتی انقلاب کے بعد ایک ایسے آدرش کی صورت اختیار کر لی جو ایک مثبت اور صحت مند سماج کی ضامن قدر کے طور پر باقی دنیا میں طاقت کے زور پر پھیلا۔اس بورژوا جدیدیت کے خلاف ایک ایسی باغی ثقافتی جدیدیت کا ظہور ہوا جس کا آغاز تو اٹھارہویں صدی کی رومانویت پسند تحریکوں سے ہوا لیکن بعد میں میڈیا ، ادب اور فنون ِ لطیفہ کے وجہ سے مکمل سماج میں نفوذ کر گئی۔ہم اسے ایک ایسی جمالیاتی جدیدیت کہہ سکتے ہیں جو بورژوائی جدیدیت سے بغاوت کے باوجود ثقافت میں اپنے نفوذ کے لیے بورژوائی جدیدیت کی تخلیق کردہ دنیا پر منحصر تھی9۔
دوم یہ کہ کیا کوئی مظہر خالصتاً جدید کہلایا جا سکتا ہے؟ یعنی کوئی ایسے متعین خدوخال موجود ہیں جن کی بنیاد پر جدید کو غیرجدید سے علیحدہ کیا جا سکے؟ اپنی اصل میں یہ سوال واپس اسی دبدھا کی طرف لوٹتا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ یہ وہ تیسرا رخ ہے جو رومانویت پسند زمانی نظریات سے برآمد ہوتا ہے اور جمالیاتی جدیدیت ہی کی ایک ایسی انوکھی جہت بن کر ابھرتا ہے جو روایت اور لمحۂ موجود میں ایک لاینحل جدلیاتی تضاد سے عبارت ہے۔ یہاں اہم مشاہدہ یہ ہے کہ لمحہ ٔ موجود یعنی حال کی کیفیت تعریفی اعتبار سے تو یقیناً نیاپن رکھتی ہے لیکن ہر ’نیا مظہر‘ بہت ہی جلد غائب ہو کر ایک تازہ متبادل کو اپنی جگہ دے دیتا ہے10۔ مارکس کے نظریاتی تنقیدی منہج سے کسی نہ کسی درجے میں منسلک مفکرین مثلاً ہیبرماس اس مسئلے کے حل کے لیے ’جدید‘ اور’ نئے پن‘ میں فرق کرتے ہیں۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ جوں کا توں رہتا ہے کہ کیا ہم ’نئے پن‘ کے خارج میں کوئی ’جدید‘ مظہر تلاش کر سکتے ہیں؟
یہ جدیدیت کے وہ دو اہم خاکے ہیں جو اپنے مخصوص خدوخال کے ساتھ خالصتاً مغربی ہیں۔عصرِ حاضر کے علمی پیراڈائم میں انہیں عمومی طور پر ویبر کی سماجی ثقافتی جدیدیت یا بادلئیر کی سماجی جمالیاتی جدیدیت کہا جا تا ہے۔اوّل الذکر خاکے میں جدیدیت ثقافت میں معنی کی کلیت کے حصے بخرے کر دیتی ہے۔ اس کے مثبت اثرات میں انسانی معاشرت کی تکنیکی عظمت، انفرادی و اجتماعی معاشی ترقی اور سیاسی حریت شامل ہیں جب کہ منفی اثرات میں اجنبیت کا وجودی حادثہ ، فرد کی یاسیت اور کسی قسم کی سرّی چھتر چھایا سے آزادی کے بعد تاریک لامعنویت کا ظہور ہے۔آخر الذکر خاکہ ان مسائل کے حل کی خاطر ثقافت کو جمالیاتی معنی عطا کرنے کی سعی پر مبنی ہے جہاں فرد تخلیقی تجربے سے مسرت پاتا ہے۔لیکن ظاہری جمالیات کی ایسی دنیا جو جمالیات اور اخلاقیات میں کسی ارفع ربط پر کوئی رائے نہ رکھتی ہو بہرحال فرد کو خودپسندی اور لذتیت کی دلدل میں بھی دھکیل سکتی ہے۔
جدیدیت کے مغربی پیراڈائم میں ہونے والی تمام تر تنقیدیں کسی نہ کسی صورت جدیدیت کی اس دو لخت نظریاتی صورتِ حال پر کوئی نہ کوئی رائے رکھتی ہیں۔مثال کے طور پر فرینکفرٹ مکتب ِ فکر میں ہیبرماس کے مطابق جدیدیت تاحال ایک ایسا نامکمل منصوبہ ہے جسے کوشش سے بچایا جا سکتا ہے11۔اڈورنو اور ہوک ہائیمر کی قنوطیت پسند تعبیرات12 کے برعکس ہیبرماس کے نزدیک ویبر کی استدلالی خاکہ بندی دراصل سرمایہ داریت کے تحت ہے اور ایک ایسا متبادل خاکہ ممکن ہے جو جدید دنیا میں کارفرما عقلیت و استدلال کو اس کا کھویا ہوا توازن واپس عطا کر دے۔دوسری طرف فوکو جیسے مفکرین استدلال کی جینیاتی خاکے بندی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ استدلال صرف ثقافتی سیاق و سباق ہی میں نہیں بلکہ علمیات اور طاقت کے ایک ایسے پیچیدہ جال میں کارفرما ہوتا ہے جو( فوکو کے بقول) ہر سماج کی اپنی اقلیمِ حق ہے13۔فوکو کے نزدیک ویبر کا آلاتی استدلال عقلیتِ محض کی تحدید نہیں، بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ عقل و استدلال، علم اور سچائی کبھی طاقت کے زیرِ اثر بننے والی پیچیدہ باہمی نسبتوں سے آزاد نہیں ہوتے۔
ہم پر یہ مشاہداتی اور تجرباتی سطح پر واضح ہے کہ حریف جدیدیت کا عمومی منصوبہ نہ صرف غیرمغربی بلکہ خود مغرب کے اندر ہی کئی متنوع ثقافتوں کی طرف سے مظاہرِ جدیدیت کا وہ فہم ہے جو ہر مقامیت کے اپنے مخصوص ثقافتی خدوخال اور مقامی سماجی اور علمیاتی ڈھانچوں سے جنم لیتا ہے۔نہ جانے ہمارے محترم نقادوں کو یہ ماننے میں کیا مشاہداتی امر مانع ہے کہ حریف جدیدیت مذکورہ بالا وسیع پس منظر کو پیشِ نظر تو ضرور رکھتی ہے لیکن ایک مخصوص اجنبیت کا شکار نہیں ہوتی کیوں کہ وہ بالتعریف یوروپ مرکز یت کی نظریاتی گرفتار نہیں۔ محترم مقامی نقادوں سے اتفاق کرتے ہوئے حریف جدیدیت کا تصور تو خود یہ تسلیم کرتا ہے کہ جدیدیت بطور ثقافت مغرب سے غیرمغرب میں وارد ہوئی لیکن یہ اس تصور کی حد نہیں۔ بہرحال وہ ایک ایسا ’ڈسکورس‘ بھی ہے جو حال کے ساتھ اور حال ہی میں ہونے والے ایک مکالمے پر مبنی ہے۔ہماری رائے میں یہ وہ نیا فکری پیراڈائم ہے جو چارلس ٹیلر کے بقول کم سے کم ایک بدیہی مفروضے کو پیش قیاس کرتا ہے14۔ وہ مفروضہ یہ ہے کہ جدیدیت کی کوئی بھی خاکہ بندی غیرثقافتی نہیں بلکہ ثقافتی ہے۔یہ مفروضہ خودبخود جدیدیت کی ان ’غیرثقافتی‘ تعریفات اور منسلک منصوبوں کو مکالمے سے باہر دھکیل دیتا ہے جو خود کو ثقافتی طور پر ’غیرجانبدار‘ کہتی ہیں،اور اس غیرجانبداری کا اعلان کرتے ہوئے خارج سے وارد ہو کر ’روایتی‘ سماج کی قلبِ ماہیت کی کوشش کرتی ہیں۔یوں مقامی تہذیبوں کا مخصوص ثقافتی ، مذہبی اور لسانی حوالہ لازم ٹھہرتا ہے۔
بطور طالبعلم ہماری رائے ہے کہ حریف جدیدیت کے ’مقامی ‘ منصوبے پر ہونے والی تنقیدیں بھی اگربراہِ راست اس مقامی تناظر کی تشکیل کے امکانات یا متبادل تناظرات کی تشکیل کو اپنا موضوع بنائیں تو وہ اس نظری شکنجے سے نکل سکیں گی جس میں وہ فی الحال گرفتار نظر آتی ہیں۔ بحث کو آگے بڑھانے کے لیے حریف جدیدیت کے منصوبے اور اس پر ہونے والی تنقیدوں کو سماج کو تجربہ گاہ کے طور تصور کرنا لازمی ہے تاکہ نظری خاکوں کی تجرباتی تشکیل کی جا سکے اور مناسب وقت گزرنے کے بعد منصوبے کی کامیابی یا ناکامی اور متعلقہ تنقیدی مطالعوں کی معقولیت یا غیرمعقولیت کا فیصلہ کرنا ممکن ہو۔ اس کے لیے پہلے پڑاؤ پر یہ جاننا لازمی ہے کہ اوپر دیے گئے تنقیدی منظرنامے میں ہمارے ہاں کا مقامی انتقادِ فکر کن مکاتب کے ساتھ کس حد تک کھڑا ہے اور اس اتفاق یا اختلاف کی نظری بنیادیں اور ہماری مقامی ثقافتوں میں ان نظری بنیادوں کو تقویت پہنچاتے ٹھوس عملی شواہد کیا ہیں؟
حواشی
(1) Von Goethe, Johann Wolfgang. Faust. Oxford University Press, USA, 1998.
(2) See for example, a quick comparative trend of three words, i.e., enlightenment, modernity and historicism from year 1800 to 2000. https://tinyurl.com/y88tnp2u
(3) Kant, Immanuel. "What is enlightenment?" On history (1963): 3-10.
(4) Schmidt, James. "The Question of Enlightenment: Kant, Mendelssohn, and the Mittwochsgesellschaft." Journal of the History of Ideas (1989): 269-291.
(5) Călinescu, Matei, and Matei Calinescu. Five faces of modernity: Modernism, avant-garde, decadence, kitsch, postmodernism. Duke University Press, 1987.
(6) Gerth, Hans Heinrich, and C. Wright Mills. From Max Weber: essays in sociology. Routledge, 2014.
(7) Bell, Daniel. "The cultural contradictions of capitalism." Journal of Aesthetic Education 6.1/2 (1972): 11-38.
(8) Berman, Marshall. All that is solid melts into air: The experience of modernity. Verso, 1983.
(9) Baudelaire, Charles, and Jonathan Mayne. The Painter of Modern Life and Other Essays (Arts & Letters). London: Phaidon Press, 1995.
(10) Baudelaire, Charles. "The salon of 1846: On the heroism of modern life." Modern Art and Modernism: A Critical Anthology (1982): 17-18.
(11) Habermas, Jürgen. "Modernity—an incomplete project." Postmodernism: A reader (1993): 98-109.
(12) Adorno, Theodor W., and Max Horkheimer. Dialectic of enlightenment. Verso, 1997.
(13) Foucault, Michel. Power/knowledge: Selected interviews and other writings, 1972-1977. Vintage, 1980.
(14) Taylor, Charles. "Two theories of modernity." Public Culture 11 (1999): 153-174.