اگست ۲۰۱۹ء

مسلم معاشروں پر جدیدیت کے اثرات اور اہل فکر کا رد عملمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۳)مولانا سمیع اللہ سعدی 
’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مرابحہ مؤجلہ: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز اور غیر سودی بینکوں میں رائج طریقہ کارڈاکٹر انعام اللہ 
قرآن وسنت کا باہمی تعلق اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۸)محمد عمار خان ناصر 

مسلم معاشروں پر جدیدیت کے اثرات اور اہل فکر کا رد عمل

محمد عمار خان ناصر

(وقتا فوقتا سوشل میڈیا پر لکھی گئی تحریروں سے منتخب اقتباسات)

’’جدیدیت‘‘ چند سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری تبدیلیوں کا ایک جامع عنوان ہے جو مغربی تہذیب کے زیر اثر دنیا میں رونما ہوئیں۔  مسلم معاشروں کا جدیدیت سے پہلا اور براہ راست تعارف استعمار کے توسط سے ہوا۔  استعمار نے  مسلم معاشروں کے اجتماعی شعور پر  جو سب سے پہلا اور سب سے نمایاں   تاثر مرتب کیا، وہ سیاسی طاقت اور آزادی سے  محرومی کا تھا اور  اس صورت حال کا مسلم شعور سے سب بنیادی نفسیاتی اور فکری مطالبہ  یہ تھا کہ وہ  اقتدار سے محرومی اور حاکمیت  کی حالت سے محکومیت کی  حالت میں منتقل ہونے  کے حوالے سے اپنا  رد عمل متعین کرے۔    اقتدار چھینے جانے پر مزاحمت کا جذبہ فطری اور عقلی بھی تھا اور دینی اساسات بھی رکھتا تھا،  چنانچہ پورے عالم اسلام میں استعمار کے خلاف مزاحمتی  تحریکیں پیدا ہوئیں ، مقدور بھر وسائل کے ساتھ  استعمار کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن  جیسا کہ معلوم ہے،  ہر جگہ  شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  شکست کے بعد فوری اور بظاہر حیرت انگیز منظر یہ دکھائی دیتا ہے کہ کم وبیش ہر جگہ  جہاں مزاحمت  کا علم دینی علماء نے بلند کیا تھا، وہاں بعد از شکست ہمیں ان کے موقف اور حکمت عملی میں     ایک سو اسی ڈگری کی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔  یہاں مثال کے طور پر صرف  الجزائر میں  امیر عبد القادر الجزائری،  وسط ایشیا میں امام شامل اور ہندوستان میں  علمائے دیوبند کی قبل از شکست اور بعد از شکست  پوزیشنز کو  سامنے رکھا جا سکتا ہے۔  تاہم حکمت عملی کی سطح ؒپر  مسلمان قیادت کی طرف سے حقیقت پسندی اور عملیت کی روش اختیار کیے جانے کے باوجود  مسلم شعور اور اسلامی فکر میں  سیاسی اقتدار  کے زوال کا سوال ایک بنیادی مسئلے کے طور پر پوری قوت اور شدت کے ساتھ موجود ہے ۔


اقتدار سے محرومی کا صدمہ جھیلنا فرد کے لیے بھی جانکاہ ہوتا ہے اور قوموں کے لیے تو کئی گنا بڑھ کر۔ بنی اسرائیل ایک چھوٹی سی سلطنت سے محروم ہوئے تھے، لیکن اس حقیقت کو ذہنی طور پر قبول کرنے میں صدیاں لگ گئیں۔ ہم نے تو خیر ایک دنیا کھوئی ہے اور ابھی کل کی بات ہے۔ وقت تو لگے گا۔ لیکن بات یہ ہے کہ جب تبدیلی آ جائے تو مذہب کے نقطہ نظر سے ایسی صورت حال میں کرنے کے کام دو ہوتے ہیں:

ایک وہ جو سیدنا مسیح نے کیا، یعنی اقتدار اور سیادت کی محبت میں ڈوبی ہوئی قوم کو معرفت ربانی کا اصل پیغام سنانا اور عبدیت کے اس جوہر کو زندہ کرنے کی کوشش کرنا جس کا تعلق کسی فصل گل ولالہ سے نہیں۔ وہ ہر حالت میں انسانوں کو اپنے رب کے قریب کر دیتا ہے۔

دوسرا وہ جو مادی صورت حال کے بارے میں ذہنوں کو حقیقت پسند بنانے کے حوالے سے مثال کے طور ہمارے ہاں سید احمد خان نے کیا۔ اس کے انداز اور اسلوب سے اختلاف ہو سکتا ہے اور یہی کام ہمارے ہاں کافی مختلف انداز میں دیوبندی مکتبہ فکر کے بعض اکابر نے بھی کیا، لیکن مرکزی نکتہ ایک ہی ہے۔

ایسا نہیں کہ جدیدیت کی مزاحمت کے رویے کی دینی وأخلاقی یا نفسیاتی لحاظ سے کوئی اہمیت یا افادیت نہیں۔ بالکل ہے اور یہ رویہ بھی بہت قابل قدر ہے، تاہم ہر گزرنے والی آن کے ساتھ یہ تاریخ کا حصہ بنتا چلا جا رہا ہے۔ جدیدیت سے نبرد آزما ہونے کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ اس کی عملی شرائط بظاہر دستیاب نظر نہیں آ رہیں، لیکن اس نبرد آزمائی کے وسائل بھی جدیدیت ہی سے لینے پڑیں گے۔ روایت سے اجزا لینا ممکن ہے، لیکن وہ اس وقت فریم ورک نہیں دے سکتی۔ اسلامزم کا سارا پراجیکٹ اسی فارمولے سے عبارت ہے، یعنی روایت سے مختلف اجزا لے کر ان کو ایک نئی ترتیب سے مرتب کرنا۔ اس کے علاوہ بھی روایت کی بازیابی کا کوئی بیانیہ میرے علم میں نہیں جو اس فارمولے پر انحصار نہ کرتا ہو۔


استعماری تجربے نے ہماری قومی نفسیات اور رویوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک جائزہ لینے کی ابھی تک کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی۔ ان اثرات کو "شناخت کے بحران" کا جامع عنوان دیا جا سکتا ہے۔ اپنی تہذیبی شناخت ختم ہو جانے کے بعد استعمار زدہ معاشرے کرچیوں میں بکھر گئے ہیں اور ہر کرچی اپنی شناخت متعین کرنے کے وجودی سوال سے نبرد آزما ہے۔ مذہبی فرقہ واریت، روایت اور جدیدیت، مشرقیت اور مغربیت، اسلام پسندی اور سیکولرازم، قومیت پرستی اور پان اسلام ازم کے سارے تنازعات اسی بحران کے مختلف مظاہر ہیں۔ ستم یہ ہے کہ یہ ساری کرچیاں باہم اس طرح برسرپیکار ہیں جیسے ان کا اصل حریف ان کی مخالف کرچیاں ہوں، حالانکہ وہ بھی انھی کی طرح ستم زدہ اور شناخت کی تلاش میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی اختلاف کو محض فکر ونظر کے اختلاف کے طور پر دیکھنا ہمارے لیے ممکن نہیں رہا، کیونکہ بظاہر معمولی سے اختلاف کے ساتھ بھی شناخت کی تعیین کا تحت الشعوری احساس جڑا ہوا ہے جسے انسانی شعور زندگی اور موت کے مسئلے کی طرح دیکھتا ہے۔ یوں فکری اختلاف کم وبیش ذاتی اختلاف بن جاتا ہے اور اس جبر کو محسوس کیے بغیر بڑے بڑے سنجیدہ اہل فکر اسی زاویے سے اظہار اختلاف پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔

اس رویے کی ایک خاص شکل یہ بھی سامنے آئی کہ اسلامی تاریخ کی مختلف شخصیات کو ساری آفات وبلیات کا ذمہ دار ٹھہرا کر کسی طرح ان کا ذکر اپنی کتاب تاریخ سے محو کر دیا جائے یا کم سے کم لوگوں کو باور کرا دیا جائے کہ یہ یہ لوگ نہ ہوتے تو آج بھی ہم دنیا میں سرخ رو وسرفراز ہوتے۔ چنانچہ کسی نے محدثین کے طبقے کو ساری گمراہیوں کا ذمہ دار قرار دیا، کسی نے ’’فقہی جمود‘‘ کے عنوان سے فقہاء کو اور کسی نے کچھ دوسری وجوہ سے بعض دوسرے طبقات کو مورد الزام ٹھہرایا۔ اساتذہ مغرب سے سن کر بعض سادہ دلوں نے تو سائنسی ترقی کے خاتمے کا واحد ذمہ دار امام غزالی کو متعین کر دیا، جیسے یہ ایک بندہ نہ ہوتا تو گلیلیو، نیوٹن اور آئن سٹائن مسلمانوں میں ہی پیدا ہوتے۔ جدیدیت کے خلاف سامنے آنے والے رد عمل میں  یہی اسلوب بعض فکری حلقوں کی طرف سے  برصغیر کی بعض محترم شخصیات نیز عالم اسلام کی کچھ معاصر شخصیات کے حوالے سے اختیار کیا گیا اور’’انہدام شخصیات‘‘ کی ایک مہم چلائی گئی، یہ سمجھے بغیر کہ تاریخ جن شخصیات کا کوئی مقام طے کرتی ہے، بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہے اور آسانی سے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی  کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔ سو آپ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں اور دسیوں پراپیگنڈا مہمیں چلا لیں، سرسید، شبلی، اقبال وغیرہ تاریخ میں وہیں کھڑے رہیں گے جہاں انھیں تاریخ نے کھڑا کیا ہے۔ یوسف القرضاوی اور مولانا تقی عثمانی کا جو مقام عالم اسلام کی علمی دنیا مانتی ہے، وہی مانتی رہے گی۔ کیونکہ ایسی شخصیات سے اختلاف کیا جاتا ہے اور تاریخ اسے فراخ دلی سے قبول کرتی ہے، لیکن ’’انہدام شخصیات‘‘ کی کوششوں پر تاریخ ’’اونہہ ‘‘ کہنا بھی گوارا نہیں کرتی۔


ہمارے خیال میں امت مسلمہ کی ایک مربوط فکری تاریخ مرتب کرنا بہت ضروری ہے اور اس کے ضمن میں ایسے اہل علم ومفکرین کی contributions زیر بحث آنی چاہییں جنھوں نے درپیش سوالات ومباحث کے حوالے سے قابل توجہ یا قابل بحث نتائج فکر پیش کیے ہوں۔ اس کے بغیر محض انفرادی طو رپر کسی بھی صاحب فکر کی فکری کاوشوں کا نہ تو درست تناظر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ یہی متعین کیا جا سکتا ہے کہ وہ روایت کے ساتھ کتنا وابستہ ہیں اور کتنا اس میں اضافہ کیا یا اس سے منحرف ہوئے ہیں۔

ہمارے ہاں تنقید کے دو تین عمومی مناہج رائج ہیں۔

ایک منہج مولویانہ ومفتیانہ ہے جس کا بنیادی محرک اور ہدف روایتی حلقے سے باہر علمی ودینی حوالے سے نتائج فکر پیش کرنے والی ہر اس شخصیت کو مجروح ثابت کرنا ہوتا ہے جو روایتی فکری حلقوں کا ’’متبادل‘‘ بننے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہو۔ اس طبقے کے لیے کسی فکر کی علمی قدر وقیمت یا روایت کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کو سمجھنا یا اس سے استفادے کی محتاط اور محفوظ صورتوں پر غور کرنا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ الا ما شاء اللہ

ایک دوسرا منہج نسبتاً فکری مزاج کا حامل ہے اور فکری واصولی حوالے سے نئے افکار کا جائزہ لینے کا رجحان رکھتا ہے، لیکن عموماً اس کے ہاں محرکات تنقید academic سے زیادہ ’’تحفظاتی‘‘ یا reactionary ہیں۔ اس کے ہاں کسی مخصوص فکری stream کو اصل اور مستند مان کر روایت کے باقی تمام رجحانات کو اس انداز سے deal  کرنے کا رجحان نمایاں ہے جیسے وہ راست فکر سے دوری کے مختلف مظاہر ہیں۔ اس رجحان کے حامل بعض حلقوں کے نزدیک اسلامی روایت کے بعض ممتاز اہل فکر مثلاً شاطبی اور شاہ ولی اللہ بھی اصلاً کسی نہ کسی انداز میں ’’جدیدیت‘‘ سے ہی متاثر ہوئے تھے۔

ایک تیسرا منہج تنقید وہ ہے جس کا بنیادی مسلمہ یہ ہے کہ جدیدیت اپنی تمام تر شکلوں، مظاہر اور نتائج کے لحاظ سے قابل رد ہے ، سو صحیح اور غلط کا بنیادی معیار ’’جدیدیت‘‘ سے موافقت یا مخالفت ہے۔

ان میں سے ہر منہج تنقید اپنی اپنی بنائے استدلال رکھتا ہے اور دنیائے فکر میں ظاہر ہے کہ اس طرح کے تنوع اور رنگا رنگی سے ہی حسن پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ان تینوں مناہج تنقید میں عموماً، الا ما شاء اللہ، توجہ ’’مسئلے‘‘ سے زیادہ ’’صاحب مسئلہ‘‘ پر مرکوز کی جاتی ہے۔ میرے نزدیک ان کے پہلو بہ پہلو ایک متبادل منہج کو وجود میں لانے کی ضرورت ہے جس میں حتی الامکان توجہ اور بحث کا مرکز ’’سوال‘‘ یا ’’مسئلہ‘‘ کو بنایا جائے اور کسی بھی نقطہ نظر کو روایت سے مربوط کرکے اور مسلم فکر کے اجتماعی ارتقا کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس منہج کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی نقطہ نظر سے اختلاف کی پوری گنجائش کے باوجود اس کی فکری placement اور علمی اساسات کا فہم اور تجزیہ زیادہ بامعنی ہو جاتا ہے۔

ہمارے خیال کسی بھی معاصر فکر کا صحیح تجزیہ اس وقت تک نقد ونظر کی محکم اساسات پر استوار نہیں ہوسکتا جب تک کہ امت کی فکری تاریخ کا ارتقا اور مسائل ومباحث کا ربط بحیثیت مجموعی ہمارے سامنے نہ ہو۔ اس کے بعد ہی یہ سمجھنا صحیح معنوں میں ممکن ہوگا کہ دور جدیدیت میں پرانے یا نئے سوالات پر غور وفکر کرنے والے اہل فکر نے کیا راہیں اختیار کی ہیں، ان کے نتائج فکر کی کیا قدر وقیمت ہے اور ان میں استفادہ اور مزید ترقی کے امکانات کتنے ہیں۔


مولانا سید ابو الاعلی مودودی دور جدید کے ذہین ترین مذہبی علماء میں سے تھے جن کی فکر کے مختلف اور متنوع پہلوؤں میں سے اسلامی سیاست کا پہلو اتنا نمایاں ہو گیا کہ باقی سب پہلو بالکل دب کر رہ گئے۔ یہ المیہ صرف مولانا مودودی کے ساتھ خاص نہیں، شیخ احمد سرہندی کے بعد اب تک اس خطے میں پیدا ہونے والی غیر معمولی مذہبی شخصیات کی پوری کہکشاں کے متعلق بھی یہ بات سچ ہے۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے خانوادے سے لے کر عبد الحی لکھنوی، عبد العزیز پرہاروی، نواب صدیق حسن، بحر العلوم، سرسید، شبلی، عبد الحق حقانی، فراہی، انور شاہ کشمیری، اشرف علی تھانوی، احمد رضا خان بریلوی، محمد حسین بٹالوی، ثناءاللہ امرتسری، پیر مہر علی شاہ گولڑوی، سید سلیمان ندوی، مناظر احسن گیلانی، مولانا ایوب دہلوی، علامہ اقبال، مولانا اصلاحی، عبید اللہ سندھی میں سے ہر ایک کا مذہبی فکر میں اتنا اوریجنل اور منفرد کنٹری بیوشن ہے کہ اتنے محدود زمانی عرصے میں، سیاسی وتہذیبی حالات کی دگرگونی میں، علم وفکر کی ایسی گہرائی، تنوع اور جسارت (عربی مفہوم میں) کی مثال شاید عالم اسلام کا کوئی دوسرا خطہ پیش نہیں کر سکتا۔

سیاسی اقتدار کے زوال اور تہذیبی عظمت رفتہ کے غم نے، کیا مذہبی اور کیا غیر مذہبی، فکر ودانش کو ایسا لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ ہر طرف ماتم کی کیفیت ہے۔ فرسٹریشن کی نفسیاتی کیفیت نے علوم وافکار کی قدر پیمائی کے ایسے محدود رخ متعین اور ایسے سطحی معیارات وضع کر دیے ہیں کہ ہم علمی افکار کے حسن اور کمال کو ان کے اپنے دائرہ علمی کے تناظر میں appreciate کرنے کی صلاحیت سے بحیثیت مجموعی محروم ہو چکے ہیں۔ اور مدرسہ، یونیورسٹی، دینی تحریکات یا فکر سے منسوب کسی بھی ادارے کو اس صورت حال کا احساس تک نہیں۔ ان افکار کے مطالعہ کی اہمیت کا کچھ احساس اگر نظر آتا ہے تو مغربی جامعات میں مصروف فکر چند اساتذہ ومحققین کے ہاں آتا ہے، لیکن ظاہر ہے ان کی ترجیحات وتحدیدات عموما ان کے اپنے ماحول سے طے ہوتی ہیں۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ فکری خود اعتمادی اور خود شناسی کے بغیر کسی بھی نوعیت کی قومی بحالی کا خواب تشنہ تعبیر نہیں ہو سکتا، اور اس کا واحد راستہ اپنی روایت کے اہل فکر اور ان کے نتائج فکر کو اس طرح نچوڑنا ہے کہ ان میں چھپا کوئی علمی امکان حیطہ ادراک سے باہر نہ رہ جائے۔ فکری امور میں quick fixes کا رویہ دراصل عطائیانہ رجحان ہے جسے ہم طرح طرح کے تشہیری بینروں کے ساتھ اپنے ارد گرد ہر طرف پنپتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔


’جدیدیت کے جواب میں مسلمان اہل فکر نے جو حکمت عملی اختیار کی، کئی پہلووں سے اس کی افادیت تسلیم کرتے ہوئے دو سوال بہرحال اٹھائے جا سکتے ہیں :

ایک،مزاحمت کے لیے اہداف اور ترجیحات کا غیر حقیقت پسندانہ تعین یا دوسرے لفظوں میں میدان جنگ میں محاذ کا غلط انتخاب۔ جب سرحد پر دشمن کی یلغار شروع ہوتی ہے تو دفاع میں سمجھ دار جرنیل کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ حملہ آور طاقت کا کہاں تک آگے بڑھ آنا ناگزیر ہے اور کہاں اس کے خلاف موثر مزاحمت کی جا سکتی ہے۔ اگر اس کے بجائے ایک ایک انچ کے دفاع کی حکمت عملی اپنائی جائے گی تو وہ محاذ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے جہاں مناسب تیاری سے مزاحمت کامیاب ہو سکتی تھی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے دریا کے کنارے واقع بستی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو اور سارے اندازے بتا رہے ہوں کہ پانی کا بستی میں داخل ہونا اور ایک خاص سطح تک پہنچ کر رہنا طے ہے۔ اس کے باوجود بستی والے اپنے گھروں کے سامان اور مواشی وغیرہ کو کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے کے بجائے پانی کو روکنے کے لیے دریا کے کنارے پر کچی اینٹیں چننا شروع کر دیں۔

دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماجی اسٹرکچر میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو کئی مراحل سے گزر کر آتی ہے اور پہلے ہی دن حتمی طور پر یہ طے نہیں ہوتا کہ وہ مآل کار فلاں اور فلاں شکل اختیار کرے گی۔ اس تشکیلی مرحلے میں کئی عوامل مل کر اسے کوئی خاص رخ دیتے ہیں اور اس میں ان لوگوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جو ہاتھ بڑھا کر جام ومینا اٹھا لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اس کے برخلاف اس مرحلے میں اس سے الگ تھلگ ہو کر یا کلی طور پر اس کے مزاحم بن کر کھڑے رہنے والے مثبت طور پر اس سارے عمل میں کوئی حصہ نہیں ڈال پاتے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے اسٹرکچر میں ان کا شمار پچھڑے ہووں اور پس ماندہ رہ جانے والوں میں ہو اور نئے ماحول سے شکایت اور گریز مستقل طو رپر ان کی نفسیات کا حصہ بن جائے۔

ان دونوں غلطیوں کا باعث لمحہ موجود کی اسیری ہے، جو ایک طرف تو یہ صلاحیت سلب کر لیتی ہے کہ حالات کے رخ سے اس حقیقت کا پیشگی ادراک کیا جائے کہ کچھ تبدیلیوں کا عملاً رونما ہو کر رہنا سلسلہ اسباب وعلل کی رو سے طے ہے اور دوسری طرف نئی آنے والی تبدیلیوں کے ناپسندیدہ نتائج سے خوف زدہ کر کے ان مواقع اور امکانات سے بھی توجہ ہٹا دیتی ہے جن سے ممکنہ حد تک تبدیلی کا رخ کسی بہتر سمت میں موڑا جا سکتا تھا۔

مسلم معاشروں میں جدیدیت کی penetration کا عمل ابھی جاری ہے۔ بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور بہت سی آنے والی ہیں۔ اگرہمارے اہل فکر سابقہ حکمت عملی کے مذکورہ پہلووں سے کچھ سیکھ کر آئندہ کی حکمت عملی وضع کریں تو شاید ہم بحیثیت مجموعی کچھ بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

 (169)    فتحا قریبا سے مراد

سورة الفتح میں ایک بار فتحا مبینا اور دو بار فتحا قریبا آیا ہے، عام طور سے لوگوں نے اس فتح سے صلح حدیبیہ کو مراد لیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تینوں جگہ فتح مکہ مراد ہے۔ فتحا قریبا کا مطلب وہ فتح نہیں ہے جو حاصل ہوگئی ہے، بلکہ وہ فتح ہے جو قریب ہے یعنی جلد ہی حاصل ہوگی۔ رہی صلح حدیبیہ تو وہ فتح نہیں بلکہ فتح مکہ کا پیش خیمہ تھی۔ اس وضاحت کی رو سے آیت نمبر (1)، آیت نمبر (18) اور آیت نمبر (27) تینوں آیتوں میں فتح مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔

واثابھم فتحا قریبا (18) کا ایک ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

“اور ان کو ایک لگے ہاتھ فتح دے دی” (اشرف علی تھانوی)

جب کہ دوسرا ترجمہ یہ ہے:

“اور ان کو فتح دی جو قریب ہے” (امانت اللہ اصلاحی)

دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے ترجمے کے مطابق صلح حدیبیہ ہی فتح ہے جو مل چکی ہے، دوسرے ترجمے کے مطابق فتح کی بشارت صلح حدیبیہ کے موقع پر مل گئی ہے، لیکن فتح جلد ہی ملنے والی ہے۔ یعنی صلح حدیبیہ فتح مکہ کا پیش خیمہ ہے، اور فتح مکہ اب قریب ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اہل ایمان کو سب سے زیادہ انتظار فتح مکہ کا تھا، باقی تو سب درمیانی مرحلے تھے۔

(170)  ھذہ اور اخری کا ترجمہ

وَعَدَکُمُ اللَّہُ مَغَانِمَ کَثِیرَةً تَاخُذُونَہَا فَعَجَّلَ لَکُم ہَذِہِ وَکَفَّ اَیدِیَ النَّاسِ عَنکُم وَلِتَکُونَ آیَةً لِلمُومِنِینَ وَیَہدِیَکُم صِرَاطًا مُستَقِیمًا۔ وَاُخرَی لَم تَقدِرُوا عَلَیہَا قَد اَحَاطَ اللَّہُ بِہَا وَکَانَ اللَّہُ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرًا۔ (الفتح:20۔21)

آیت نمبر (20) میں فعجل لکم ھذہ کا ترجمہ کرتے ہوئے لوگوں نے ھذہ کا ترجمہ فتح یا غنیمت کیا ہے، جبکہ یہ دونوں باتیں مراد لینا درست نہیں ہے، فتح اس وقت تک ہوئی نہیں تھی، اور غنیمت کا بھی وعدہ ہوا تھا، ابھی ملی نہیں تھی۔ ھذہ کا ترجمہ تو “یہ” ہوگا، اور اس سے مراد صلح ہے۔ آیت نمبر (21) میں اخری کا ترجمہ بہت سے لوگوں نے غنیمتیں کیا ہے، یہ بھی درست نہیں ہے، اس کا ترجمہ “دوسری چیز” ہوگا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ کیونکہ جس سیاق میں اور جس اہتمام سے اس کا تذکرہ ہے اس سے فتح مکہ مراد لینا زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔

اس تمہیدی وضاحت کے بعد درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

“اللہ تم سے بکثرت اموال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے فوری طور پر تو یہ فتح اس نے تمہیں عطا کر دی اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے، تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے۔ اِس کے علاوہ دوسری اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوئے ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے ” (سید مودودی)

“خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا کہ تم ان کو حاصل کرو گے سو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے۔ غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لیے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہو اور وہ تم کو سیدھے رستے پر چلائے،اور اَور (غنیمتیں دیں) جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے” (فتح محمد جالندھری)

“اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ تو تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے، تاکہ مومنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے اور (تاکہ) وہ تمہیں سیدھی راہ چلائے۔ اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے” (محمد جوناگڑھی)

“وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے۔ اور ایک اور جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔” (احمد رضا خان)

آخری ترجمے میں مذکورہ غلطیاں نہیں ہیں۔

شاہ عبدالقادر نے درج ذیل ترجمے میں  آخری سے فتح مراد لیا ہے، اور یہ درست ہے۔

“اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہ آئی، وہ اللہ کے قابو میں ہے”

(171) اظفرکم علیھم کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں اظفرکم علیھم کا ترجمہ عام طور سے فتح یاب کرنا اور غلبہ عطا کرنا کیا گیا ہے، اس سے آیت کا مفہوم سمجھنے میں کافی دشواری پیش آتی ہے، بعض لوگ اس غلبے سے ایک چھوٹی سی مہم کی طرف اشارہ مراد لیتے ہیں، اور بعض لوگ فتح مکہ مراد لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی۔ لیکن ان دونوں ہی تاویلوں سے آیت کا مفہوم واضح ہوکر سامنے نہیں آتا ہے، اور آیت اپنے سیاق سے ہم آہنگ بھی نہیں لگتی ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں اظفرکم علیھم کا ترجمہ ہے انہیں تمہارے بس میں کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے بس میں اور تمہاری زد میں تھے، اگر جنگ ہوتی تو دشمن بھاگ کھڑا ہوتا اور تمہاری فتح یقینی تھی، اس کے باوجود اللہ نے جنگ سے دونوں کو روک دیا۔ ظفر کا اصل مطلب ناخن ہے، اور جب شکاری پرندہ اپنے ناخنوں سے شکار کو گرفت میں لے لیتا ہے، تو اس کے لئے اس تعبیر کا استعمال ہوتا ہے۔ گویا اس لفظ میں گرفت میں لینا اور قابو میں کرلینا شامل ہے۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والظفر، الفوز۔ واصلہ من ظفر علیہ انشب ظفرہ فیہ۔ (المفردات، راغب اصفہانی)

اس مفہوم کو اختیار کرنے سے آیت پورے سیاق سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے، اور آیت کا مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے، کسی طرح کا تکلف نہیں رہ جاتا ہے۔ اس وضاحت کی رو سے ذیل کے ترجموں میں آخری ترجمہ درست ہے۔

وَھُوَ الَّذِی کَفَّ اَیدِیَہُم عَنکُم وَایدِیَکُم عَنہُم بِبَطنِ مَکَّةَ مِن بَعدِ ان اظفَرَکُم عَلَیہِم۔ (الفتح: 24)

“وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ اُن سے روک دیے، حالانکہ وہ اُن پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا ۔” (سید مودودی)

“اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے۔”  (فتح محمد جالندھری)

“وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا” (محمد جوناگڑھی)

“اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا ” (احمد رضا خان)

“اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے ) اور تمہارے ہاتھ ان (کے قتل سے) عین مکہ (کے قریب) میں روک دئے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا” (اشرف علی تھانوی)

آخری دونوں ترجموں میں اظفرکم علیھم کا مناسب ترجمہ کیا گیا ہے۔

(172) لم تعلموھم کا تعلق کس سے؟

ذیل کی آیت میں لم تعلموھم کا تعلق رجال سے ہے، یعنی مکہ میں موجود مومن مرد اور مومن عورتوں کو تم لوگ نہیں جانتے ہو۔ نہ کہ اَن تَطَئُوہُم سے۔ اور بغیر علم کا تعلق فتصیبکم سے ہے۔ اس لیے یہ ترجمہ کرنا کہ تم لاعلمی میں ان کو کچل دو گے، درست نہیں ہے۔ کچلنے کا عمل لاعلمی میں نہیں ہوگا، البتہ اس کچلنے کے عمل سے جو عار لاحق ہوگا وہ لاعلمی میں لاحق ہوگا، کیوں کہ اہل ایمان ان مومن مردوں اور مومن عورتوں سے واقف نہیں تھے جو دل میں ایمان لائے ہوئے تھے۔

حاصل کلام یہ ہے اَن تَطَئُوھُم یعنی کچلنے کے عمل کا تعلق لاعلمی سے نہیں ہے۔

 اس روشنی میں ذیل میں درج ترجمے دیکھیں:

وَلَولَا رِجَال مُومِنُونَ وَنِسَاء مومِنَات لَم تَعلَمُوہُم اَن تَطَئُوہُم فَتُصِیبَکُم مِنہُم مَعَرَّۃ بِغَیرِ عِلمٍ لِیُدخِلَ اللَّہُ فِی رَحمَتِہِ مَن یَشَاء لَو تَزَیَّلُوا لَعَذَّبنَا الَّذِینَ کَفَرُوا مِنھُم عَذَابًا الِیمًا۔ (الفتح: 25)

“اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے وہ مومن الگ ہو گئے ہوتے تو (اہل مکہ میں سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے ” (سید مودودی)

“اور اگر ایسے مومن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتے جن کو تم لاعلمی میں روند ڈالتے، پس ان کے باعث تم پر لاعلمی میں الزام آتا (تو ہم جنگ کی اجازت دے دیتے۔ لیکن اللہ نے یہ اجازت اس لئے نہ دی) کہ جن کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے۔ اور اگر وہ لوگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ان لوگوں کو ان میں سے دردناک عذاب دیتے جنھوں نے کفر کیا” (امین احسن اصلاحی)

“اور اگر صاحبِ ایمان مرد اور باایمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نادانستگی میں انہیں بھی پامال کر ڈالنے کا خطرہ تھا اور اس طرح تمہیں لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچ جاتا تو تمہیں روکا بھی نہ جاتا - روکا اس لئے تاکہ خدا جسے چاہے اسے اپنی رحمت میں داخل کرلے کہ یہ لوگ الگ ہوجاتے تو ہم کفّار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے” (جوادی)

اوپر کے تینوں ترجموں میں مذکورہ غلطی پائی جاتی ہے۔ جب کہ ذیل کے ترجموں میں یہ غلطی نہیں ہے۔

“اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے ” (فتح محمد جالندھری)

“اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے ” ۔(محمد جوناگڑھی)

“اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں جن کی تمہیں خبر نہیں کہیں تم انہیں روند ڈالو تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے ۔” (احمد رضا خان)

(173) معرۃ کا ترجمہ

مذکورہ بالا ترجموں میں لفظ معرۃ کا ترجمہ زیادہ تر نقصان، ضرر اور مکروہ کیا گیا ہے، معرۃ دراصل عرة سے ہے جس کے معنی خارش کے ہیں۔ لفظ کی اصل اور قرآن میں اس لفظ کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ معرۃ کا مطلب وہ ضرر یا نقصان ہے جو عزت کو داغ دار کرنے والا ہو۔

ماہر لغت علامہ جوہری لکھتے ہیں: وفلان عُرَّة وعَارور وعَارورة، ای قَذِر۔ وہو یّعُرُّ قومہ، ای یدخل علیہم مکروہاً یلطخہم بہ۔ (الصحاح) گویا اس لفظ کے اندر گندگی کا اور دامن کو داغ دار کرنے کا مفہوم ہے۔

 اس لیے یہاں عار پہونچنے کا ترجمہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔ زیر نظر آیت کا درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

“اور اگر ایسے مومن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتے جن کو تم نہیں جانتے تھے، تم انہیں روند ڈالتے تو تم کو لاعلمی میں عار لاحق ہوجاتا ان کی وجہ سے، اللہ کو اپنی رحمت میں داخل کرنا تھا جسے وہ چاہے، اگر وہ لوگ الگ ہوتے تو ہم ان لوگوں کو دردناک عذاب دیتے جنھوں نے کفر کیا”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

آیت (27) کا ترجمہ

لَقَد صَدَقَ اللَّہُ رَسُولَہُ الرُّویَا بِالحَقِّ لَتَدخُلُنَّ المَسجِدَ الحَرَامَ اِن شَاء اللَّہُ آمِنِینَ مُحَلِّقِینَ رُءوسَکُم وَمُقَصِّرِینَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَم تَعلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَلِکَ فَتحًا قَرِیبًا۔ (الفتح: 27)

(174) بالحق کا ترجمہ

اس آیت میں پہلا قابل غور مقام ہے:

لقد صدق اللہ رسولہ الرویا بالحق

اس کا ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے:

“اللہ نے سچ دکھایا اپنے رسول کو خواب” (شاہ عبد القادر)

“تحقیق سچ دکھلایا اللہ نے رسول اپنے کو خواب ساتھ سچ کے” (شاہ رفیع الدین)

“فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا” (سید مودودی)

“بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب ” (احمد رضا خان)

“بے شک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا” (فتح محمد جالندھری)

“اللہ نے اپنے رسول کو مبنی برحقیقت رو یا دکھائی” (امین احسن اصلاحی)

اس جملے میں صدق بھی ہے اور بالحق بھی ہے، عام طور سے ایساترجمہ نہیں کیا جاسکا، جس سے دونوں لفظوں کا حق ادا ہوسکے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں بالحق کا مطلب ہے خاص مقصد سے، قرآن کے اور بہت سے مقامات پر یہ لفظ اس مفہوم میں بہت واضح طور سے آیا ہے، جیسے:

مَا خَلَقنَا السَّمَاوَاتِ وَالاَرضَ وَمَا بَینَہُمَا اِلَّا بِالحَق۔ (الاحقاف: 3)

“ہم نے آسمانوں اور زمین کو نہیں پیدا کیا ہے مگر ایک خاص مقصد سے۔”

اس طرح زیر غور مقام کا ترجمہ ہوگا: “اللہ نے اپنے رسول کو ایک خاص مقصد سے سچا خواب دکھایا”۔ اس ترجمے کی خوبی یہ ہے کہ صدق کا ترجمہ بھی ہوگیا اور بالحق کا ترجمہ بھی ہوگیا، دونوں کی الگ الگ معنویت بھی واضح ہوگئی، اور کسی قسم کا اشکال باقی نہیں رہا، اس طرح آیت کی بھرپور ترجمانی ہوگئی۔

(175) فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَلِکَ فَتحًا قَرِیبًا کا ترجمہ

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جعل کا ترجمہ کیا ہو۔ عام طور سے لوگوں نے عطا کرنے اور نوازنے کا ترجمہ کیا گیا ہے، جعل کا مطلب رکھنا اور مقرر کردینا لفظ سے زیادہ قریب ہے۔

اس سلسلے میں غور طلب امر یہ ہے کہ اس خواب سے مراد مکہ میں کون سا داخلہ مراد ہے۔ اگر صلح حدیبیہ کے بعد والا عمرہ مراد لیا جائے تو اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمرے میں تو مسجد حرام میں داخل ہونے اور عمرہ کرنے کے بعد گویا وہاں سے نکل کر بال کٹوائے جاتے ہیں، ناکہ سر منڈائے اور بال ترشوائے داخل ہوتے ہیں، ایسا تو حج میں ہوتا ہے، کہ حج کے بعد قربانی کرکے اور سر منڈواکر مسجد حرام میں طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں۔ اس بنا پر مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ خواب کا یہ وعدہ حجة الوداع میں پورا ہوا۔

وہ مذکورہ جملے کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں: “اس سے پہلے ایک فتح رکھ دی جو قریب ہے” ۔ یعنی خواب کی تعبیر سامنے آنے سے پہلے یعنی حجة الوداع سے پہلے ہی فتح مکہ کا ہونا مقرر فرمادیا۔

درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:

“اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی” (سید مودودی، خواب پورا ہونے سے پہلے کیسے ؟)

“تو اس سے پہلے اس نے تمہیں ایک فتح قریب سے نوازا” (امین احسن اصلاحی)

“سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی ” (فتح محمد جالندھری)

“پھر اس سے پہلے لگتے ہاتھ ایک فتح دے دی” (اشرف علی تھانوی)

“پھر ٹھیرادی اس سے پرے ایک فتح نزدیک ” (شاہ عبدالقادر)

“تو اس سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی” (احمد رضا خان)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔دراصل فتح قریب سے صلح حدیبیہ مراد لینے کی وجہ سے لوگوں کو اس سیاق کی آیتوں کو سمجھنے میں دشواری ہوئی ہے۔


اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی

 تعداد ِروایات

اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے  کا ایک بڑا فرق فریقین کے مجموعات ِحدیث  میں مدون روایات کی تعداد کا   مسئلہ ہے ، اس فرق سے متنوع سوالات جنم لیتے ہیں ،اولا فریقین کے مصادر ِحدیث میں موجود روایات کا ذکر کیا جاتا ہے ، ثانیا اس فرق سے پیدا شدہ بعض اہم نتائج کو سوالات کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے :

اہل سنت کے اساسی مصادر کی مرویات

اہل سنت کے بنیادی مصادر حدیث صحاح ستہ اور مسند احمد و موطا ہیں ،ان آٹھ کتب کی مجموعی  مرویات مکررات سمیت یوں ہیں:

تعداد مرویات بلا تکرار تعداد مرویات مع التکرار کتاب کا نام
2362
7008
بخاری
2846
5362
مسلم
2515
5662نسائی
3784
4590
ابو داود
3367
3891
ترمذی
3978
4332
ابن ماجہ
9339
26363
مسند احمد
745
2081
موطا (بروایاتہ الثمانیہ) 
30604
62169
مجموعہ روایات








ان آٹھ کتب کی روایات     انہی میں سے  دوسری کتب  میں بھی مذکور ہیں ،اگر ہم آٹھ کتب کی انفرادی زوائد مرویات کو  الگ کر کے دیکھیں ،تو تعداد اسے کہیں کم بنتی ہے ،ذیل میں ان  کی انفرادی زوائد روایات کا ذکر کیا جاتا ہے :

بخاری کے زوائد : 430

بخاری پر  مسلم کے زوائد : 578

صحیحین پر ابو داود کے زوائد :1337

صحیحین و ابو داود پر ترمذی کے زوائد :561

صحیحین ابوداود و ترمذی پر نسائی کے زوائد :163

کتب خمسہ پر ابن ماجہ کے زوائد :184

صحاح ستہ پر موطا کے زوائد :138

صحاح ستہ و موطا پر مسند احمد کے زوائد :548

مجموعہ روایات :3939

نسخ و طبعات  کے فروق  کو شامل کرتے ہوئے ہم اس تعداد کو 4000  شمار کر سکتے ہیں ،یوں اہل سنت کی آٹھ کتب میں موجود بلا تکرار و مشترکات کے کل روایات تقریبا  4000 ہیں ،یہی   چار ہزار روایات    اسانید و تکرار کے ساٹھ  باسٹھ ہزار مرویات میں ڈھل جاتی ہیں ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  اہلسنت کی ایک ایک  حدیث کتنی  کثیر طرق کے ساتھ نقل ہوئی  ہے کہ صرف چار ہزار روایات  کے  طرق و  رواۃ اتنے زیادہ ہیں ،جس سے چار ہزار روایات  باسٹھ ہزار روایات میں تبدیل ہوگئی ہیں۔1

اہل تشیع کے اساسی مصادر کی مرویات

اہل تشیع کے اساسی مصادر بھی آٹھ ہیں ،جن میں چار کتب متقدمین اور چار کتب متاخرین کی ہیں ،معروف شیعہ عالم محمد صالح الحائری لکھتے ہیں :

و اما صحاح الامامیہ فھی ثمانیۃ ،اربعۃ  منھا للمحمدین الثلاثۃ الاوائل ،و ثلاثۃ بعدھا  للمحمدین الثلاثۃ  الاواخر ،و ثامنھا لمحمد حسین المعاصر النوری 2

ان آٹھ کتب میں متقدمین کی چار کتب یہ ہیں :

1۔ الکافی  ،ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی

2۔من لا یحضرہ الفقیہ ،ابن بابویہ القمی

3۔تہذیب الاحکام ،ابو جعفر الطوسی

4۔الاستبصار فیما اختلف  فیہ من الاخبار ،ابو جعفر الطوسی

جبکہ متاخرین کی مرتب کردہ چار کتب یہ ہیں :

1۔بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی

2۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ ،محمد بن حسن حر عاملی

3۔الوافی ،محسن کاشانی

4۔مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،محمد حسین نوری الطبرسی

ان کتب کی روایات مکررات سمیت کچھ یوں ہیں :

کتب اربعہ متقدمہ:

1۔ الکافی   :16000

من لا یحضرہ الفقیہ :5963

تہذیب الاحکام :13590

الاستبصار :5511

مجموعہ روایات :41064

کتب اربعہ متاخرہ:

1۔بحار الانوار (شبکہ اہل المدینہ ):72000

2۔وسائل الشیعہ(موسسہ اہل  البیت لاحیاء التراث ) :35844

3۔الوافی (مکتبہ امیر المومنین  ، اصفہان )25703

4۔ مستدرک الوسائل (موسسہ اہل البیت ،بیروت )23129

مجموعہ روایات :156676

یوں آٹھ کتب کی مجموعی روایات مع مکررات: 41064+ 156676= 197740

اب ان میں کتب اربعہ متقدمہ کی کل روایات کو مکررات و مشترکات کے حذف کے ساتھ محسن کاشانی نے الوافی میں جمع کیا ،جس کی روایات 25703 ہیں ،اس طرح سے کتب اربعہ سے مکررات و مشترکات کو نکال کر کل روایات 25703 بنتی ہیں ،اب بحار الانوار اور وسائل الشیعہ  میں  کتب اربعہ کی  جملہ روایات کو اگر فرض کیا جائے ،تو  اہل تشیع کی احادیث بلا تکرار و مشترکات کچھ یوں بنتی ہیں :

کتب اربعہ کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات :25703

بحار الانوار کی روایات(کتب اربعہ کی روایات نکال کر ) :72000-25703=   46297

وسائل الشیعہ کی روایات (کتب اربعہ کی روایات نکال کر ):35844-25703= 10141

مستدرک الوسائل کی روایات:23129

مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکا ت:105270

(  یاد رہے ،مستدرک الوسائل   سے کتب اربعہ کی روایات منفی نہ ہونگی ،کیونکہ یہ  کتاب متقدمین کے جملہ ذخیرے سے الگ جو روایات بچی ہیں ،ان پر مشتمل ہے )

اس ساری تفصیل کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے :

اہل سنت کی آٹھ بنیادی کتب کی  مجموعی روایات مع مکررات و مشترکات :62129(باسٹھ ہزار ایک سو انتیس)

اہل تشیع کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات مع مکررات و مشترکات :197740(ایک لاکھ ستانوے ہزار سات سو چالیس )

اہل سنت کی آٹھ مصادر کی بنیادی کتب کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات :4000(چار ہزار )

اہل تشیع کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات :105270(ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو ستر)

تعداد ِمرویات کا عظیم فرق اور اس کے نتائج

اہل سنت و اہل تشیع کی بنیادی کتب میں موجود روایات کی تعداد میں اس عظیم الشان فرق  سے متعدد سوالات جنم لیتے ہیں :

1۔اہل سنت کا ذخیرہ مرویات  تکرار  کی بھٹی سے گزرا ہے ،چار ہزار روایات تعدد طرق و اسناد سے باسٹھ ہزار مرویات  کی شکل میں ہم تک پہنچا ہے ،اس طرح سے ہر روایت اوسطا پندرہ بار  سے زائد  مختلف کتب  میں مکرر آئی ہے ،جبکہ اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے میں تکرار تقریبا ناپید ہے ،کیونکہ ایک لاکھ ستانوے ہزار روایات  میں سے مکررات نکال کر بقیہ ایک لاکھ پانچ ہزار بچتی ہیں ،یوں  تکرار کا تناسب دو کو بھی نہیں پہنچتا ،اہل علم جانتے ہیں کہ تکرار و شواہد  روایت کی قوت و استنادی حیثیت میں  بنیادی عامل ہے ،خاص طور پر جب ایک روایت مختلف خطوں کے افراد و مصنفین ذکر کرتے ہیں ،تو اس سے  وضع و کذب کا عنصر تقریبا ختم ہوجاتا ہے ،یہی صورتحال اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں ہے ،جبکہ اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ جب تکرار و شواہد سے خالی ہے ،تو یقینا اس میں کذب و وضع کا احتمال قوی تر ہوجاتا ہے ۔

2۔اہل سنت کی چار ہزار روایات قبل از تدوین تحریرو تقریر کی صورت میں محفوظ رہا ،تحریری ثبوت ڈاکٹر مصطفی اعظمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ میں دی ہے ،جن میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات ِحدیث مرتب ہوئے ،جبکہ تقریری  ثبوت الرحلہ فی طلب الحدیث اور اسفار ِمحدثین کی کتب میں  مذکور ہے کہ  حجاز ،یمن ،بغداد ،بصرہ ،کوفہ اور شام کی علمی درسگاہوں میں یہ احادیث تعلیم و تعلم کی بھٹی سے گزریں ہیں ،  جب صرف  چار ہزار مرویات کی حفاظت کے لئے بڑے پیمانے پر جتن کئے گئے ،تو  یقینا ایک لاکھ سے زائد روایات کو محفوظ کرنے کے لئے اس سے بڑی کاوشیں و کوششیں درکار ہونگی ،لیکن  باعث صد تعجب  ہے کہ اہل تشیع کی ایک لاکھ مرویات کی حفاظت کے لئے قبل از تدوین تحریری و تقریری کوششیں تقریبا  عنقا ہیں ،تحریری ثبوت کے لئے الاصول  الاربعمائہ کی اصطلاح مشہور کی گئی ،جس کے تاریخی استناد پر ہم بحث کر چکے ہیں ،کہ دو سو اٹھتر اصول کے مصنفین ہی نامعلوم ہیں ،چہ جائیکہ دیگر تفاصیل موجود ہوں ،جبکہ تقریری  طور پر  خود اہل تشیع  محققین  اور ائمہ کرام کی شہادتیں  ہم پیش کر چکے ہیں کہ تقیہ کی وجہ سے  ائمہ  معصومین نے اہل تشیع  کی مرویات کے لئے کھلم کھلا دروس  اور تعلیمی مجالس کا انعقاد نہیں کیا ،یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک لاکھ مرویات کی حفاظت کے لئے جس  بڑے پیمانے پر تحریری و تقریری کوششوں کی ضرورت تھی ،وہ  ناپید کیوں ہیں ؟اور  کوششوں کی عدم موجودگی سے  ایک لاکھ روایات کا یہ ذخیرہ  استناد و ثبوت کی کس  درجہ بندی میں آتا ہے ؟ غیر جانبدار محققین پر یہ بات مخفی نہیں ۔

3۔اہل تشیع کے مصادر ِحدیث میں اکثر روایات امام جعفر صادق اور ان کے والد امام باقر کی ہیں ،معروف شیعہ محقق ڈاکٹر محمد حسین الصغیر اپنی کتاب "الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت " میں لکھتے ہیں :

کتب الاحادیث الاربعۃ و مستدرکاتہا  و ما جری مجراہا  تعد المصدر الرئیس لحادیث اہل البیت عامۃ و احادیث الامام الصادق و ابیہ الامام باقر خاصۃ  3

یعنی کتب اربعہ اور اس کے مستدرکات اور دیگر کتب ِحدیث عمومی طو رپر اہل  بیت  کی احادیث کا مصدر ہیں، لیکن   اہل بیت میں سے خاص طور پر امام جعفر صادق اور ان کے والد امام باقر کی روایات کا ماخذ ہیں ۔

اگر ایک لاکھ روایات کا نصف حصہ بھی دونوں ائمہ کرام کا مان لیں (اگرچہ فی الواقع یہ تعداد دو تہائی تک پہنچتی ہے )تو پچاس ہزار روایات ہر دو حضرات کی بنیں گی ،یوں ہر ایک امام کی پچیس ہزار مرویات بنتی ہیں ،تو سوال یہ بنتا ہے کہ پچیس ہزار مرویات لینے کے لئے کتنے تلامذہ چاہیئے ،آپ علیہ السلام کی چار ہزار   احادیث کو روایت کرنے والے رواۃ صحابہ کی تعداد ایک ہزار یا پندرہ سو  تک پہنچتی ہے ،تو پچیس ہزار روایات کو لینے کے لئے کم از کم چھ ہزار تلامذہ کی ضرورت ہوگی ،لیکن امام باقر کے تلامذہ  استقصا کے بعد 482 تک پہنچتے ہیں ،یہ تعداد  معروف شیعہ عالم باقر قریشی نے اپنی ضخیم کتاب "حیاۃ الامام  الباقر "کی دوسری جلد(ص 189 تا 383) میں ذکر کی ہے ،جبکہ امام جعفر صادق کے تلامذہ کی تعداد  بقول ڈاکٹر محمد حسین الصغیر   ساڑھے تین ہزار تک پہنچتی ہے،4 یہاں بجا طور پر سوال بنتا ہے کہ چار سو بیاسی حضرات نے پچیس ہزار روایات کیسے  محفوظ کیں ؟جبکہ صرف چار ہزار مرویات کو ایک ہزار حضرات  جان توڑ کوششوں کے بعد ہی محفوظ  کر سکے ؟اس پر مستزاد یہ کہ آپ علیہ السلام نے پوری زندگی ابلاغ و تبلیغ پر مبنی تھی ،ہر لحظہ اور ہر  گھڑی آپ اللہ کا پیغام صحابہ کرام تک پہنچاتے رہے ،تئیس سالہ دور ِنبوت  کی  بھر پور تبلیغی زندگی کے بعد بھی  آپ کے ارشادات چار  ہزار بنتے ہیں ،تو امامین کریمین  نے کیسے پچاس ہزار ارشادات اپنی زندگی میں صادر کئے ؟اگر تئیس سال  کی انتھک محنت و ابلاغ کے بعد بھی اقوال چار ہزار بنتے ہیں ،تو پچیس ہزار اقوال کے لئے  کم از کم  ایک سو اڑتیس (138) سال (تئیس کو چھ گنا کر کے )درکار  ہیں ،جبکہ امام باقر  کی عمر 57 سال اور امام جعفر صادق کی عمر شریف 65 یا 68 سال تھی ؟ان میں بھی بلوغ اور حصول تعلیم کا کم ترین عرصہ بیس سال نکال کے امام باقر کی زندگی 37 اور امام جعفر صادق کی 48 سال بچتی ہے ۔کیا ایک سو اڑتیس سال میں بولے جاسکنے والے کلمات محض 37  یا 48 سال میں کہنا عقلا ممکن ہے ؟

4۔ اہل سنت کے ہاں چونکہ ذخیرہ روایات کم ہیں ،اس لئے بنیادی کتب میں موجود روایات میں مکررات، شواہد ،مشترکات اور ایک روایت کے مختلف طرق و اسانید پر بے تحاشا کام ہوا ہے ،مثلا بخاری شریف کی روایات میں کتنی روایات مکرر ہیں ؟بخاری شریف  میں کتنی ایسی روایات ہیں ،جو بقیہ ساتوں کتب میں نہیں ہیں ؟بخاری شریف کی روایت اگر دیگر کتب میں آئی ہے ،تو سند میں کتنے رواۃ کا اضافہ ہے؟متن میں کس قسم کی تبدیلیاں ہیں ؟اس روایت کے ہم معنی روایت اور کن کن کتب میں کس کس صحابی سے مروی ہے ؟الغرض ہر  کتاب پر اس طرح کا تفصیلی کام موجود ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس قسم کا مواد معدوم ہے ،کیونکہ دو لاکھ  کے قریب روایات  کے انبار میں اس طرح کی چھان بین بے حد مشکل کام ہے ،اہل تشیع کی سب سے صحیح و مقبول ترین کتاب الکافی پر بھی اس طرح کا کام نہیں ہوا ،چہ جائیکہ بقیہ کتب پر ہوا ہو ،البتہ الکافی کی  تازہ طبعات میں اس کی روایات کی دیگر کتب سے تخریج کی گئی ہے ،یہی وجہ ہے کہ کتب اربعہ میں مکرر  و مشترک روایات کتنی ہیں ،اس پر کافی تلاش و جستجو کے بعد بھی  کسی شیعہ محقق کی تحقیق نظر سے نہیں گزری ،معروف شیعہ محقق  شیخ عبد الرسول عبد الحسن الغفار  نے کافی کے تعارف پر ایک ضخیم کتاب "الکلینی و الکافی "لکھی ہے ،اس میں کافی کی روایات کی تعداد پر تو بحث ہے ،لیکن مکررات یا دیگر کتب میں مشترکات پر کوئی  تحقیق موجود نہیں ہے ،حالانکہ یہ کتاب کافی کے تعارف پر سب سے تفصیلی کتاب شمار ہوتی ہے ،اس مضمون میں  کتب اربعہ کی مکرر و مشترک روایات جاننے  کے لئے  کتب اربعہ کی روایات کو یکجا کرنے والے محسن کاشانی کی کتاب الوافی سے  اندازہ لگایا گیا، بعد کے  ادوار میں لکھنے جانی والی  ضخیم کتب جیسے بحار و وسائل الشیعہ وغیرہ   پر  بھی اس قسم کا کوئی مواد موجود نہیں ہے ۔

4۔زمانہ روایت

اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی مفاہیم و اصطلاحات کا ایک بڑا فرق زمانہ روایت کا فرق ہے ،زمانہ روایت سے مراد  وہ زمانہ ہے ،جس میں محدثین اپنی سند کے ساتھ احادیث و روایات جمع کرتے ہیں  ، زمانہ روایت کی لکھی گئی کتبِ احادیث عمومی طور پر اصلی  مصادر  و ماخذ شمار ہوتی ہیں ،بعد والے  انہی مصادر پر اعتماد کرتے ہیں  اور کسی حدیث کا حوالہ دیتے وقت عموما  انہی کتب کے مصنفین کی تخریج کا حوالہ دیتے ہیں ، اہلسنت کے حدیثی ذخیرے میں زمانہ روایت ایک قول کے مطابق تیسری صدی ہجری اور دوسرے قول کے مطابق پانچویں صدی ہجری تک ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمان الاعظمی رواۃ کی تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

إن هذا التقسيم الذي ذكره الحافظ ابن حجر من أنسب التقاسيم للرواة؛ حيث ينتهي عصر الرواية بآخر المئة الثالثة على رأي بعض العلم ، وهو عصر الأئمة الستة ومن معهم، كبقي ابن مخلد (ت 276هـ)، والإسماعلي القاضي (ت 282هـ)، والإسماعيلي أبو بكر محمد بن إسماعيل (ت 289هـ)، والبزار (ت292هـ)، ومحمد بن نصر المروزي (ت294هـ)، وغيرهم ، لذا يرى الذهبي عام ثلاثمائة حدّاً فاصلاًبين المتقدم والمتأخر.إلا أن عصر الرواية استمر إلى نهاية القرن الخامس؛ لأنه توجد روايات مخرجة في مصنفات البيهقي، والخطيب، وابن عبد البر، وابن حزم، وغيرهم من الحفاظ5

ترجمہ :حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے رواۃ کے طبقات کی جو تقسیم کی ہے ،وہ مناسب تقسیم ہے ،کیونکہ بعض اہل علم کے نزدیک تیسری صدی ہجری کے اختتا م پر زمانہ روایت ختم ہوجاتا ہے ،تیسری صدی ہجری  صحاح ستہ اور دیگر جیسے بقی بن مخلد ،اسماعیل قاضی ،محمد بن اسماعیل ،امام بزار ،امام مروزی وغیرہ کا زمانہ ہے ،اسی وجہ سے علامہ ذہبی نے متقدمین و متاخیرین کے درمیان حد فاصل تیسری صدی ہجری کو قرار دیا ہے۔ البتہ صحیح بات یہ ہے کہ زمانہ روایت پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک جاتا ہے ،کیونکہ  امام بیہقی ،خطیب بغدادی ،ابن عبد البر اور بن حزم جیسے حفاظ حدیث  کی تصانیف میں ایسی روایات ملتی ہیں ،جن کی تخریج انہی حضرات نے کی ہے ۔

اہل سنت میں پانچویں صدی ہجری  کے بعد حدیث کی مستقل  کتاب نہیں لکھی گئی ،بلکہ پانچویں صدی کے بعد پچھلی کتب کی شرح ،جمع ،تلخیص ،تخریج  و غیرہ پر کام ہوا ہے ۔

اہل  سنت کے برعکس اہل تشیع اس معاملے میں  الگ زاویہ نظر کے حامل ہیں ،اہل تشیع کے ہاں زمانہ روایت  کی کوئی تحدید نہیں ہے ،بلکہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کی مستقل کتب  زمانہ حال یعنی تیرہویں    اور چودہویں صدی  میں بھی لکھی گئیں ہیں ،چنانچہ مرزا حسین نوری طبرسی کی کتاب مستدرک الوسائل  اہل تشیع کے آٹھ مصادر اصلیہ میں سے  ایک اہم کتاب ہے اور اس کتاب کے مصنف   علامہ طبرسی 1320ھ میں وفات پاگئے ، یعنی  چودہویں صدی ہجری کے مصنف کی لکھی گئی کتاب بھی اصلی حدیثی مصادر میں شمار ہوتی ہے ،یا للعجب۔

اس کتاب کے بارے میں معروف شیعہ محقق آغا بزرگ طہرانی لکھتےہیں :

"وھو رابع المجامیع الثلاثۃ  الاخیرۃ المعتمدۃالمعول علیھا فی ھذہ الاعصاراعنی الوافی ،والوسائل والبحار"6

مستدرک الوسائل آخری زمانے میں لکھی گئی تین معتمد کتب(وافی ،وسائل الشیعہ ،بحار الانوار )  کے بعد چوتھی کتاب ہے ،جن پر اس  زمانےمیں  حدیث کے معاملے میں اعتماد کیا جاتا ہے ۔

مرزا حسین نوری طبرسی نے اس کتاب میں جتنی احادیث نقل کی ہیں ،کتاب کے خاتمے میں ان تمام  مصادر تک اپنی سند ذکر کی ہیں ،یوں یہ کتاب مرزا نوری طبرسی کی سند و تخریج  کے ساتھ حدیث کی مستقل کتاب ہے ،یہی وجہ ہے  کہ اسے شیعہ کے آٹھ مصادر ِحدیث میں شمار کیا جاتا ہے ۔

اب یہاں بجا طو رپر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہلسنت کے ہاں تیسری یا  پانچویں صدی ہجری میں زمانہ روایت و تخریج کا اختتام ہوتا ہے ،کیونکہ بعد ِزمانہ کے ساتھ سند کی تصحیح و اتصال کا احتمال کم سے کم ہوتا جاتا ہے ،بلکہ کثرت ِوسائط کی وجہ سے باجود اتصال ِ سند کے روایت میں ضعف کا عنصر قوی ہوجاتا ہے ،تو  اہل تشیع کے ہاں جو کتاب ائمہ معصومین کے  بارہ سو سال بعد لکھی گئی ہے ،اس کتاب میں موجود احادیث کی سند کی کیا وقعت ہوگی؟

نیز مولف کتاب علامہ  طبرسی نے کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں :

"وقد عثرنا  علی جملۃ وافرۃ من الاخبار ،لم یحوھا کتاب الوسائل ،و لم تکن مجتمعۃ فی مولفات الاواخر و الاوائل "7

ہم  احادیث کے ایسے بڑے حصے پر مطلع ہوچکے ہیں ،جن کا ذکر کتاب الوسائل میں نہیں ہے ،نہ ہی وہ روایات اولین و آخرین شیعہ مصنفین کی کتب میں اکٹھی  تھیں "

مصنف نے کتاب  کے خاتمے میں ان کتب میں سے    پینسٹھ اہم مصادر کا ذکر کیا ہے ،مولف کے بقول ان کتب تک رسائل پچھلے مصنفین کی نہ ہوسکی ہے ،میری دستر س میں  یہ کتب آچکی ہیں ،اس لئے میں نے  ان سے  روایات لی ہیں ،تو سوال یہ ہے کہ ایسی کتب جو اتنی نایاب اور پردہ خفا میں تھیں ، جن تک  ایک ہزار سالہ شیعہ محدثین کی رسائی نہ ہوسکی ، ان کتب  تک صدیوں بعد صرف  علامہ طبرسی کی رسائی ہوئی ،تو  صدیوں تک پردہ خفا میں رہنے والی   کتب کی استنادی ،ثبوتی ،خطی ،نسبت الی المصنف ،و حفاظت من الاخطاء و الاغلاط  وغیرہ  کا معیار  کیا ہوگا ؟اہل علم و اہل تحقیق پر اس کا جواب مخفی نہیں ۔ اتنی غیر معروف مصنفین یا کتب سے  جس کتاب میں احادیث نقل ہوئی ہیں ،وہ کتاب پھر بھی اصلی و معتمد مصادر میں شمار ہو ،جیسا کہ اوپر علامہ طہرانی کا قول گزر چکا ہے ،تو اس سے اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی استنادی  حیثیت اور صحت  و ضعف  کے معیارات کا پتا چلتا ہے ۔

حواشی

    1.  احصائیۃ حدیثۃ تبین العلاقۃ بین الکتب التسعۃ و حجم التوافق فی الاحآدیث ،عبد اللہ بن مبارک ،المجلس الالوکہ

http://www.alukah.net/sharia/0/79936/

    2.   الوحدۃ الاسلامیہ بحوالہ علم الحدیث بین اصالۃ اہل السنہ و انتحال الشیعہ ،ص107

    3.  الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت ،ص 386

    4.  ایضا ،ص 303

    5.  معجم مصطلحات الحدیث و لطائف الاسانید ،ضیاء الرحمان الاعظمی ،دار ابن حزم ،بیروت ،ص246

    6.  الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ طہرانی ،دار الاضواء ،بیروت ،ج21،ص7

    7.  مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،مرزا حسین نوری طبرسی ،موسسہ ال البیت لاحیاء التراث ،قم،ج1،ص60

 (جاری)

’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، اس پر ایک نظر ڈال لیں، اس کے بعد میری معروضات پر غور فرمائیں۔

’’دینی مدارس کے موجودہ نظام کی بنیاد امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کے ایک مسلسل عمل پر ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد اس جذبہ کے ساتھ ہوا تھا کہ اس معرکۂ حریت کو مکمل طور پر کچل کر فتح کی سرمستی سے دوچار ہوجانے والی فرنگی حکومت سیاسی، ثقافتی، نظریاتی اور تعلیمی محاذوں پر جو یلغار کرنے والی ہے اس سے مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ اور تہذیب و تعلیم کو بچانے کی کوئی اجتماعی صورت نکالی جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے دیوبند میں مدرسہ عربیہ (دارالعلوم دیوبند)، سہارنپور میں مظاہر العلوم اور مراد آباد میں مدرسہ شاہی کا آغاز ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور افغانستان کے طول و عرض میں ان مدارس کا جال بچھ گیا۔ ان مدارس کے لیے بنیادی اصول کے طور پر یہ بات طے کر لی گئی کہ ان کا نظام کسی قسم کی سرکاری یا نیم سرکاری امداد کے بغیر عام مسلمانوں کے چندہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہائی سادگی اور قناعت کے ساتھ ان مدارس نے برصغیر کے مسلمانوں کی بے پناہ دینی و علمی خدمات سرانجام دیں۔

ان مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ایسے مردانِ باصفا کی تھی جو وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کا ارادہ کر لیتے تو دنیاوی زندگی کی سہولتیں اور آسائشیں بے دام غلام کی طرح ان کے دروازے پر قطار باندھے کھڑی نظر آتیں، لیکن غیور و جسور فقراء کے اس گروہ نے مسلمان کو مسلمان باقی رکھنے کے عظیم مشن کی خاطر نہ صرف ان آسائشوں اور سہولتوں کو تج دیا بلکہ اپنی ذاتی انا اور عزتِ نفس کی قیمت پر صدقات، زکوٰۃ و عشر اور ایک ایک دروازے سے ایک ایک روٹی مانگنے کے لیے اپنی ہتھیلیاں اور جھولیاں قوم کے سامنے پھیلا دیں۔ اور ہر قسم کے طعن و تشنیع اور تمسخر و استہزاء کا خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے انتہائی صبر و ثبات کے ساتھ ایک ایسے نظام تعلیم کی بنیاد رکھی جس نے برصغیر میں اسپین کی تاریخ دہرانے کی فرنگی خواہش اور سازش کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ اور برطانوی حکمران بالآخر یہی حسرت دل میں لیے ۱۹۴۷ء میں یہاں سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہوگئے۔

دینی مدارس کی جدوجہد کے نتائج و ثمرات کے حوالہ سے اگر معاشرے میں ان مدارس کے اجتماعی کردار کا تجزیہ کیا جائے تو تمام تر خامیوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود اس کی شکل کچھ اس طرح سامنے آتی ہے کہ:

  • لارڈ میکالے نے مسلمانوں کی نئی نسل کو ذہنی لحاظ سے انگریز کا غلام بنانے اور نوآبادیاتی فرنگی نظام کے کل پرزوں کی شکل میں ڈھالنے کے لیے جس نظامِ تعلیم کی بنیاد رکھی تھی اس کے مقابلے میں دینی مدارس ایک مستحکم اور ناقابل شکست متوازی نظام تعلیم کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اور اس طرح فرنگی تعلیم و ثقافت سے محفوظ رہنے کی خواہش رکھنے والے غیور مسلمانوں کو ایک مضبوط نظریاتی اور تہذیبی حصار میسر آگیا۔
  • جدید عقل پرستی کی بنیاد پر دینی عقائد و روایات سے انحراف، انکارِ ختم نبوت، انکارِ حدیث اور اس قسم کے دیگر اعتقادی اور مذہبی فتنوں نے سر اٹھایا تو یہ دینی مدارس پوری قوت کے ساتھ ان کے سامنے صف آرا ہوگئے اور ملت اسلامیہ کی راسخ الاعتقادی کا تحفظ کیا۔
  • فرنگی تہذیب اور یورپی ثقافت کی طوفانی یلغار کا سامنا کرتے ہوئے دینی مسلم ثقافت کو ایک حد تک بچانے اور بطور نمونہ باقی رکھنے میں ان مدارس نے کامیابی حاصل کی۔
  • قرآن و سنت کے علوم، عربی زبان اور دینی لٹریچر کو نہ صرف زمانہ کی دستبرد سے بچا کر رکھا بلکہ ملک میں ان علوم کے حاملین اور مستفیدین کی ایک بڑی تعداد پیدا کر کے اگلی نسلوں تک انہیں من و عن پہنچانے کا اہتمام کیا۔
  • دینی مدارس کے اس نظام نے تحریک آزادی کو شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حسین احمدؒ مدنی، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا عبد الرحیم پوپلزئیؒ، مولانا تاج محمودؒ امروٹی، مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ، مولانا عبد القادر قصوریؒ اور صاحبزادہ سید فیض الحسن، جبکہ تحریک پاکستان کو علامہ شبیر احمدؒ عثمانی، مولانا ظفر احمدؒ عثمانی، مولانا اطہر علیؒ، مولانا عبد الحامدؒ بدایونی، اور مولانا محمد ابراہیمؒ سیالکوٹی جیسے بے باک، مخلص اور جری راہنماؤں کی صورت میں ایک مضبوط نظریاتی قیادت مہیا کی جن کے ایثار، قربانی اور جدوجہد نے تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کو کامیابی کی منزل سے ہمکنار کیا۔
  • اور اب افغانستان کی سنگلاخ وادیوں میں کمیونزم کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا جائزہ لے لیا جائے جس نے روسی افواج کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کرنے کے علاوہ وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں دینی بیداری کی لہر دوڑا دی ہے اور روسی استعمار کے آہنی پنجے کو ڈھیلا کر کے مشرقی یورپ پر کمیونزم کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ افغانستان کے غیور مسلمانوں کے اس عظیم جہاد کی قیادت کا ایک بڑا اور فیصلہ کن حصہ انہی دینی مدارس کا تربیت یافتہ ہے۔ اور اس طرح افغانستان کو روسی کمیونزم کے لیے ’’پانی پت‘‘ کا میدان بنا دینے کا کریڈٹ دینی مدارس کے اسی نظام کے حصہ میں آتا ہے۔

الغرض دینی مدارس کی یہ عظیم جدوجہد اور اس کے نتائج و ثمرات تاریخ کے صفحات پر اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ کوئی ذی شعور اور منصف مزاج شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ فرنگی اقتدار کے تسلط، مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار اور صلیبی عقائد و تعلیم کی ترویج کے دور میں یہ مدارس ملی غیرت اور دینی حمیت کا عنوان بن کر سامنے آئے اور انہوں نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں سیاست، تعلیم، معاشرت، عقائد اور تہذیب و ثقافت کے محاذوں پر فرنگی سازشوں کا جرأت مندانہ مقابلہ کر کے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کو اسپین بننے سے بچا لیا ۔ اور یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آج اس خطہ زمین میں مذہب کے ساتھ وابستگی اور اسلام کے ساتھ وفاداری کے جن مظاہر نے کفر کی پوری دنیا کو لرزہ براندام کر رکھا ہے، عالم اسباب میں اس کا باعث صرف اور صرف یہ دینی مدارس ہیں۔ لیکن مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے اور ارباب فہم و دانش کی ان توقعات اور امیدوں کا مرثیہ بھی پڑھ لیا جائے جن کا خون ناحق ہمارے دینی مدارس کی اجتماعی قیادت کی گردن پر ہے۔

تفصیلات و فروعات تک گفتگو کا دائرہ وسیع کرنے کی بجائے ہم اپنی گزارشات کو صرف دو اصولی باتوں کے حوالے سے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے:

  1. جدید مغربی فلسفہ حیات کے اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کردار کیا ہے؟
  2. مسلم معاشرے میں نفاذ اسلام کے ناگزیر علمی و فکری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان دینی مدارس کا نظام کار اور حکمت عملی کیا ہے؟

ایک دور تھا جب یونانی فلسفہ نے عالم اسلام پر یلغار کی تھی اور عقائد و افکار کی دنیا میں بحث و تمحیص کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اگر اس وقت عالمِ اسلام کے تعلیمی مراکز اور اہلِ علم یونانی فلسفہ کی اس یلغار کو وقتی طوفان سمجھ کر نظرانداز کر دیتے اور اپنے کان اور منہ لپیٹ کر اس کے گزر جانے کا انتظار کرتے رہتے تو اسلامی علوم و عقائد کا پورا ڈھانچہ فلسفۂ یونان کی حشر سامانیوں کی نذر ہو جاتا۔ لیکن علمائے اسلام نے اس دور میں ایسا نہیں کیا بلکہ یونانی فلسفہ کے اس چیلنج کو قبول کر کے خود اس کی زبان میں اسلامی عقائد و افکار کو اس انداز سے پیش کیا کہ یونانی فلسفہ کے لیے پسپائی کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہا اور اس کے بپا کیے ہوئے فکری اور نظریاتی معرکوں کے تذکرے آج ابوالحسن اشعریؒ، ابو منصور ماتریدیؒ، رازیؒ، غزالیؒ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ کی تصنیفات میں یادگار کے طور پر باقی رہ گئے ہیں۔

یورپ کے جدید فلسفۂ حیات کی یلغار بھی یونانی فلسفہ کے حملہ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہ فلسفۂ حیات جس نے انقلابِ فرانس کے ساتھ اپنا وجود تسلیم کرایا اور پھر یورپ کے سائنسی و صنعتی انقلاب کے زیر سایہ اپنا دائرہ وسیع کرتے ہوئے آج دنیا کے اکثر و بیشتر حصہ کو لپیٹ میں لے چکا ہے، خود کو انسانی زندگی کے ایک ہمہ گیر فلسفہ کے طور پر پیش کرتا ہے اور انسان کی پیدائش کے مقصد سے لے کر انسانی معاشرت کے تقاضوں اور مابعد الطبعیات کی وسعتوں تک کو زیر بحث لاتا ہے۔ ڈارون، فرائیڈ، نطشے اور دیگر مغربی فلاسفروں اور سائنس دانوں کی گزشتہ دو صدیوں پر محیط فکری کاوشوں اور نظریاتی مباحث کا خلاصہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ کلیسا کی بدکرداریوں اور مظالم کے ردعمل کے طور پر جنم لینے والے اس فلسفہ کو یورپ نے ایک مکمل فلسفۂ حیات کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے ذریعے وہ دنیا میں موجود اسلام سمیت تمام فلسفہ ہائے حیات کو مکمل شکست سے دوچار کر کے فنا کے گھاٹ اتارنے کے درپے ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے یورپ کی اس فکری یلغار کی ماہیت اور مقاصد کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اسے محض اقتصادی اور سیاسی بالادستی کا جنون سمجھ کر اسی انداز میں اس کا سامنا کرتے رہے اور اس کی فکری اور اعتقادی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ یونانی فلسفہ کے در آنے سے ہمارے ہاں عقائد کے نئے مباحث چھڑ گئے تھے جنہیں علمائے اسلام نے اپنے فکری اور علمی مباحث میں سمو دیا اور ہمارے عقائد کی بیشتر کتابیں ان مباحث سے بھرپور ہیں۔ حتیٰ کہ دینی مدارس کے نصاب میں آج کے طلبہ کو بھی عقائد کے حوالے سے انہی مباحث سے روشناس کرایا جاتا ہے جو یونانی فلسفہ کی پیداوار ہیں اور جن میں سے زیادہ تر کا آج کے نئے فکری اور اعتقادی تقاضوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن جو اعتقادی اور فکری و تہذیبی مباحث یورپ کے فلسفۂ حیات نے چھیڑے ہیں، نہ ہماری عقائد کی کتابوں میں ان کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہم طلبہ کو ان مباحث کی ہوا ہی لگنے دیتے ہیں۔

ڈارون کا نظریۂ ارتقا، انسان کے مقصدِ وجود میں کششِ جنسی کی محوری حیثیت کے بارے میں فرائیڈ کے تصورات، اجتماعی زندگی سے مذہب کی مکمل لاتعلقی اور غیر محدود فکری آزادی کا نعرہ آخر اعتقادی مباحث نہیں تو اور کیا ہیں؟ اور کیا انہی افکار و نظریات کا شکار ہو کر مسلمان کہلانے والوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے اجتماعی کردار سے منکر یا کم از کم مذبذب نہیں ہو چکی ہے؟ اس اعتقادی فتنہ کی روک تھام کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کیا کردار ہے؟ ہمارے نصاب میں تفسیر، حدیث، فقہ اور عقائد کی کون سی کتاب میں یہ مباحث شامل ہیں اور ہم اپنے طلبہ کو ان مباحث سے روشناس کرانے اور انہیں ان کے جواب کی خاطر تیار کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

یہ وقت کا ایک اہم سوال اور دینی مدارس کی اجتماعی قیادت پر مسلم معاشرہ اور نئی نسل کا ایک قرض ہے جس کا سامنا کیے بغیر ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ فروعی اور جزوی مسائل ہمارے ہاں بنیادی اور کلیدی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور جو امور فکر و اعتقاد کی دنیا میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی ہماری نظر میں کوئی وقعت ہی باقی نہیں رہی۔ ہماری پسند و ناپسند اور وابستگی و لاتعلقی کا معیار جزوی مسائل اور گروہی تعصبات ہیں۔ ایک مثال بظاہر معمولی سی ہے لیکن اس سے ہماری فکری ترجیحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ ہمارے ایک دوست نے جنہوں نے ہمارے دینی ماحول میں تربیت حاصل کی ہے گزشتہ دنوں ایک بڑے سیاسی لیڈر کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا کہ وہ بہت اچھا اور صحیح العقیدہ لیڈر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں برسیوں اور عرسوں میں شریک ہونے کا قائل نہیں ہوں۔ ان سے عرض کیا گیا کہ وہ سیاسی لیڈر تو سیکولر نظریات کا قائل ہے اور اجتماعی زندگی میں نفاذ اسلام کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں ہمارے دوست کا کہنا یہ تھا کہ یہ تو سیاسی باتیں ہیں، اصل بات یہ ہے کہ وہ عرسوں اور برسیوں کا مخالف ہے اس لیے وہ ہمارے مسلک کا ہے اور صحیح العقیدہ ہے۔ یعنی اسلام کے اجتماعی زندگی میں نفاذ کا مسئلہ ’’سیاسی‘‘ ہے اور عرسوں میں شریک ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ اعتقادی ہے۔ آخر یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ کیا یہ ہمارے دینی مدارس کی غلط فکری ترجیحات کا ثمرہ نہیں ہے؟

اب آئیے دوسرے نکتہ کی طرف کہ نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کردار کیا ہے؟ جہاں تک نفاذ اسلام کی اہمیت کا تعلق ہے کوئی مسلمان اس سے انکار نہیں کر سکتا اور علمائے اہلِ سنت نے اسے اہم ترین فرائض میں شمار کیا ہے۔ بلکہ ابن حجر مکیؒ اور دیگر ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ نظام اسلام کے نفاذ کے لیے خلافت کا قیام ’’اہم الواجبات‘‘ ہے جسے حضرات صحابہ کرامؓ نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین پر ترجیح دی اور آنحضرتؐ کے جنازہ اور تدفین سے قبل حضرت ابوبکرؓ کا بطور خلیفہ انتخاب کیا۔ پھر برصغیر میں ہمارے اکابر کی جنگِ آزادی کا بنیادی مقصد بھی حصولِ آزادی کے بعد نظامِ اسلام کا غلبہ و نفاذ رہا ہے اور پاکستان کا قیام بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نعرہ پر شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کے لیے عمل میں آیا۔ لیکن اسلام کو ایک اجتماعی نظام کے طور پر ہمارے دینی مدارس میں نہ پڑھایا جا رہا ہے اور نہ طلبہ کی اس انداز میں ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ ایک نظام کے طور پر کریں۔ حالانکہ حدیث اور فقہ کی بیشتر کتابیں محدثین اور فقہاء نے اس انداز سے لکھی ہیں کہ ان میں اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں کا الگ عنوان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق کے علاوہ تجارت، خلافت، جہاد، دوسری اقوام سے تعلقات، صنعت، زمینداری، حدود و تعزیرات، نظامِ عمل، نظامِ عدالت، معاشرت اور دیگر اجتماعی شعبوں کے بارے میں حدیث اور فقہ کی کتابوں میں مفصل اور جامع ابواب موجود ہیں جن کے تحت محدثین اور فقہاء نے احکام و ہدایات کا بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ لیکن ان ابواب کی تعلیم میں ہمارے اساتذہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں ہمارے اساتذہ کے علم اور بیان کا سارا زور کتاب الطہارت اور صلوٰۃ کے جزوی مباحث میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ خلافت و امارت، تجارت و صنعت، جہاد، حدود و تعزیرات اور اجتماعی زندگی سے متعلق دیگر مباحث سے یوں کان لپیٹ کر گزر جاتے ہیں جیسے ان ابواب کا ہماری زندگی سے کوئی واسطہ نہ ہو یا جیسے ان ابواب کی احادیث اور فقہی جزئیات منسوخ ہو چکی ہوں اور اب صرف تبرک کے طور پر انہیں دیکھ لینا کافی ہو۔

حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اجتماعی زندگی سے متعلق ابواب کو زیادہ اہتمام سے پڑھایا جاتا۔ قانون، سیاست، خارجہ پالیسی، جنگ اور معاشرت کے مروجہ افکار و نظریات سے اسلامی تعلیمات کا تقابل کر کے اسلامی احکام کی برتری طلبہ کے ذہنوں میں بٹھائی جاتی اور انہیں اسلامی افکار و نظریات کے دفاع اور اس کی عملی ترویج کے لیے تیار کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس اہم ترین دینی و قومی ضرورت سے مسلسل صرف نظر کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کی پچانوے فیصد اکثریت خود اسلامی نظام سے ناواقف اور جدید افکار و نظریات کو سمجھنے اور اسلامی احکام کے ساتھ ان کا تقابل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کے اعتراف میں کسی حجاب سے کام نہیں لینا چاہیے اور اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تلافی صورت نکالنی چاہیے۔

آج نفاذ اسلام کی راہ میں ایک بڑی عملی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اس نظام کو چلانے کے لیے رجال کار کا فقدان ہے۔ اسلامی نظام کو سمجھنے والے اور اسے چلانے کی صلاحیت سے بہرہ ور افراد کا تناسب ضرورت سے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اور یہ خلا آخر کس نے پر کرنا ہے؟ جس نظامِ تعلیم کو ہم لارڈ میکالے کا نظامِ تعلیم کہتے ہیں اس سے تو یہ توقع ہی عبث ہے کہ وہ اسلامی نظام کے لیے کل پرزے فراہم کرے گا۔ اور اگر دینی نظامِ تعلیم اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کردار ادا نہیں کر رہا تو اسلامی نظام کے لیے رجالِ کار کیا آسمان سے اتریں گے؟

دینی مدارس کے اجتماعی کردار کے منفی پہلوؤں کے بارے میں بہت کچھ کہنے کی گنجائش موجود ہے بلکہ بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف مذکورہ دو اصولی مباحث کے حوالے سے توجہ دلاتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، دینی مدارس کی اجتماعی قیادت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اور وفاق المدارس السلفیہ کے ارباب حل و عقد سے گزارش کریں گے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور یورپ کے لادینی فلسفۂ حیات کو فکری محاذ پر شکست دینے اور نفاذِ اسلام کے لیے رجال کار کی فراہمی کے حوالہ سے اپنے کردار کا ازسرنو تعین کریں۔ ورنہ وہ اپنی موجودہ کارکردگی اور کردار کے حوالہ سے نہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں گے اور نہ ہی مؤرخ کا قلم ہی ان کے اس طرز عمل کے بارے میں کسی رعایت اور نرمی سے کام لے گا۔‘‘

یہ معروضات ربع صدی قبل کی ہیں جنہیں اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے مختلف صورتوں میں مسلسل دہرا رہا ہوں مگر ابھی تک یہ ایک توجہ طلب سوال کا دائرہ کراس نہیں کر پائیں۔ جبکہ اس کے بارے میں جو عملی صورتیں ہو سکتی ہیں ان کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے:

  1. انہیں یکسر نظر انداز کر دیا جائے اور سارے معاملات کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے کسی قسم کی تگ و دو کی ضرورت محسوس نہ کی جائے۔ اس وقت ہمارے دینی مدارس کے عمومی ماحول کا غیر اعلانیہ موقف اور طرز عمل یہی ہے۔
  2. دینی تعلیم کے نظام میں ان ضروریات کو شامل کیا جائے جس کے لیے وفاقوں اور ان بڑے جامعات کو، جو اس کے وسائل رکھتے ہیں، مغربی نظام و فلسفہ اور مروجہ عالمی احکام و قوانین سے اساتذہ و طلبہ کی آگاہی بلکہ تربیت کا ماحول قائم کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک اس سلسلہ میں کرنے کا اصل کام یہی ہے۔
  3. دینی مدارس کے جو فضلاء اس ذوق اور صلاحیت سے بہرہ ور ہیں انہیں اپنے نظم اور تربیت کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک اور یونیورسٹیوں میں اس کے مواقع مہیا کرنے چاہئیں اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ سب کچھ مشترکہ ماحول میں صحیح طور پر ہو سکے گا۔ جیسا کہ امام ابوالحسن اشعریؒ اور امام ابو منصور ماتریدیؒ نے یونانی فلسفہ و منطق پر عبور انہی کے ماحول میں حاصل کیا تھا اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے اپنے دور کے عالمی نظاموں کو سمجھنے کے لیے انہی کے ماحول میں جانے کو ضروری سمجھا تھا۔
  4. جبکہ آخری اور ’’اضعف الایمان‘‘ درجہ کا دائرہ یہ ہے کہ جو باصلاحیت اور باذوق فضلاء اپنے شوق و محنت کے ساتھ اس طرف جاتے ہیں اور اپنے ذرائع سے اس کے مواقع تلاش کرتے ہیں انہیں روکنے اور ان کے ہاتھ میں بے اعتمادی کا سرٹیفکیٹ تھما دینے کی بجائے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا جائے، انہیں راہنمائی اور رابطہ کا ماحول فراہم کیا جائے اور انہیں جو سوالات و اشکالات درپیش ہوں ان پر ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے دلیل و منطق کے ساتھ انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ جن نوجوانوں کو کسی حد تک ’’کان نمک‘‘ میں نمک بننے سے بچایا جا سکتا ہے بچا لیا جائے۔ میں بحمد اللہ تعالٰی گزشتہ ربع صدی سے اس دائرہ میں پورے شرح صدر کے ساتھ اپنی بساط کی حد تک مصروف کار ہوں اور اسی کو موجودہ حالات میں مناسب تصور کرتا ہوں۔


مرابحہ مؤجلہ: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز اور غیر سودی بینکوں میں رائج طریقہ کار

ڈاکٹر انعام اللہ

ایک اسلامی ریاست کا مالی معاملات کا نظام اور خرید و فروخت کے طریقوں کے بارے میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ارشادات عالیہ اور اپنی عملی زندگی کے ذریعے واضح تعلیمات امت کو دی ہیں۔ امت کے اعلیٰ ترین دماغوں، جنہیں فقہاء کرام کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، نے انہی تعلیمات نبوی کی بنیاد پر ایک بہترین ذخیرہ تیار کیا، جس سے ہر دور میں افراد امت رہنمائی لے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک کڑی ’’بیع مؤجل‘‘کی وہ صورت ہے جسے اسلامی نظریاتی کونسل نے ۱۹۸۰ء کے عرصہ میں سود کی لعنت سے چھٹکارے کے متبادل طریقوں میں سے ایک طریقہ کے طورپر ذکر کیا اور ساتھ واضح کیا کہ اس کا تعلق ان متبادل طریقوں سے ہے جو ثانونی درجہ کے ہیں اور انہیں استثنائی حالات میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اس تجویز کی ترقی یافتہ شکل آج جدید غیر سود بینکوں میں رائج ہے جیسے ’’مرابحہ مؤجلہ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ زیرنظر مقالہ میں کونسل کی تجویز کردہ صورت کی بنیادیں سیرت نبویؐ اور فقہی اقوال سے پیش کرنے کے بعد مرابحہ مؤجلہ سے اس کا ایک تقابل پیش کیا گیا ہے۔

بیع مؤجل کی پیش کردہ صورت

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے آئینی فرائض منصبی کے تحت صدر پاکستان کے استفسار پر مالی معاملات سے سود کے خاتمہ کے لیے ۱۹۸۰ء میں ایک رپورٹ پیش کی، جس میں سود کی حرمت کو واضح دلائل کے ساتھ آشکار کیا گیا اور اس کے متبادل کے طورپر اسلامی طریقے تجویز کیے، ان میں سے کچھ طریقے ایسے تھے جن کا تعلق مثالی اسلامی نظام سے تھا، جبکہ سہولت کی خاطر کچھ ایسے طریقے بھی ذکر کیے گئے جو اگرچہ مثالی نہیں ہے لیکن ان کے ذریعے ربا کی حرمت سے چھٹکارا نصیب ہو جاتا ہے اور معاملہ جواز کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ انہی ثانوی طریقوں میں سے ایک طریقہ ’’بیع مؤجل‘‘ہے۔ اس کی جو صورت کونسل نے تجویز کی اس کا حاصل حسب ذیل ہے:

اس کی مثال دے کر بات اس طرح واضح کی کہ بینک کو کھاد کی ایک بوری پچاس روپے میں پڑی ہے تو وہ آگے ادھار پر پچپن کی فروخت کرے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کو اپنا ایجنٹ مقرر کر دے جو کسانوں کو یہ کھاد بینک کی طرف سے مہیا کرے، جب یہ مہیا کر چکے تو بینک اسے فی بوری کے حساب سے پچاس روپے ادا کر دے اور اپنے کلائنٹ سے ادھار پچپن روپے حاصل کر لے۔

مثال سے وضاحت کرنے کے بعد کونسل نے اس طریقہ کار کو مختلف مالی معاملات میں استعمال کرنے کی اجازت دی اور پھر اس کی شرائط کی تفصیل ذکر کی، اس کے لیے کونسل کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

’’اس کے لیے شرط ہے کہ خرید کردہ شے متعلقہ ادارے کے حوالے کیے جانے سے پہلے بینک کے قبضے میں آئے، تاہم اس شرط کی تکمیل کے لیے یہی کافی ہے کہ بینک نے جس ادارے سے مال خریدار ہو وہ اس مال کو بینک کے نام پر علیحدہ کر دے اور پھر اس شخص کو دے دے جسے بینک نے اس سلسلے میں مجاز و مختار قرار دیا ہو اور اس میں وہ شخص بھی شامل ہوگا جس کے لیے مال خریدا گیا ہو(2)۔‘‘

تعلیمات نبوی کی روشنی میں تجزیہ

کونسل کی طرف سے بیع مؤجل کی تجویز کردہ صورت اور شرائط کا تجزیہ پیش کرنے کے لیے حسب ذیل امور پر بحث ضروری ہے:

۱-    ادھار بیع کے بارے میں تعلیمات نبوی

۲-    ادھار بیع کی صورت میں قیمت میں اضافہ کے بارے میں تعلیمات نبوی

۳-    آگے فروخت کرنے سے قبل بینک کے قبضے کی شرط تعلیمات نبوی کی روشنی میں

۴-    بینک کے ایجنٹ کا قبضہ یا خریدار ہی کو ایجنٹ مقرر کرنے کا حکم

ان امور پر بالترتیب تعلیمات نبوی سے استفادہ کر کے نتائج سامنے لانے سے معلوم ہو سکے گا کہ خرید و فروخت کی مذکورہ صورت سیرت نبوی کے کس قدر موافق ہے۔

پہلا امر: ادھار بیع کا حکم

ادھار خرید و فروخت کا معاملہ شریعت کے ان عمومی احکام میں داخل ہے جن کی اجازت ہے، اور اس کی اجازت دو آیات کریمہ اور متعدد احادیث نبوی سے اخذ کی جا سکتی ہے۔ آیات میں سے ایک آیت حسب ذیل ہے:

‘‘اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ’’۔ (البقرہ: ۲۷۵)

اس آیت کریمہ میں بیع یعنی خرید و فروخت کو حلال قرار دیا گیا ہے اور بیع مؤجل یعنی ادھار خرید و فروخت اسی زمرے میں داخل ہے لہٰذا یہ بھی حلال ہے۔

آیت کریمہ سے عموم ہی مراد ہے، مفسرین بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ آیت کریمہ میں عموم مراد ہے، البتہ کچھ بیوعات مستثنیٰ ہیں جن کی حرمت الگ نصوص میں وارد ہے، چنانچہ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں لکھتے ہیں:

‘‘و ھذا من عموم القرآن، والألف واللام للجنس لا للعھد إذلم یتقدم بیع مذکور یرجع إلیہ۔۔۔ و إذا ثبت أن البیع عام فھو مخصوص بما ذکرناہ من الربا و غیر ذالک مما نھی عنہ و منع العقد علیہ، کالخمر و المیتۃ و حبل الحبلۃ و غیرذالک مما ھو ثابت فی السنۃ و إجماع الأمۃ النھی عنہ(3)۔

(یہ آیت کریمہ قرآن کریم کے عمومی احکام میں سے ہے، اس میں الف لام جنسی ہے عہدی نہیں ہے، کیونکہ اس سے ماقبل کوئی (مخصوص) بیع مذکور نہیں ہے کہ وہ ہی مراد ہو، جب ثابت ہوگیا کہ بیع عام ہے تو اس سے مذکورہ ربا وغیرہ کی صورتیں مخصوص ہوں گی جن کی ممانعت ہے، اسی طرح شراب، مردار اور حمل کے حمل وغیرہ کی بیع کا عقد کرنا ممنوع ہے جن کی ممانعت کا ثبوت سنت اور اجماع امت سے ہے)۔

علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس توجیہ کو پسندیدہ قرار دیا ہے کہ بیع کے لفظ میں عموم ہے اور اس میں تمام بیوعات کی حلت کا اشارہ ہے الا یہ کہ ان کی حرمت و ممانعت کا کوئی الگ سے حکم نہ آ جائے، چنانچہ اس توجیہ کے مخالف دوسرا قول ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں ‘‘والأول أصح’’ کہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔

اسی طرح دوسری آیت کریمہ ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۣوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا (النساء: ۲۹)

(اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طورپر مت کھاؤ لیکن اگر کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو تو مضائقہ نہیں)

اس آیت کریمہ میں بھی تجارت کے بغیر باہم ایک دوسرے کے مال سے انتفاع کو ممنوع کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تجارت کی جائز شکلیں اختیار کرنے کی اجازت ہے، اور ’’بیع مؤجل‘‘تجارت ہی کی ایک جائز صورت ہے لہٰذا اس کے جواز میں کو ئی تردد باقی نہیں رہتا۔

سیرت نبوی اور ذخیرہ احادیث کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صراحت کے ساتھ اس بیع کی اجازت ہے اور خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عملی طورپر یہ بیع کی ہے یعنی سیرت نبوی کے عملی نمونہ سے اس کی اجازت ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ محدثین کتب حدیث میں اس بیع کی اجازت و جواز کے لیے مستقل باب قائم کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب البیوع میں باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے ‘‘باب شراء الطعام إلی أجل’’ اور اس کے تحت حسب ذیل روایت ذکر کی ہے:

عن عائشہ رضی اللہ عنھا: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم إشتری طعاماً من یھودی إلی أجل فرھنہ درعہ(4)

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک یہودی سے ایک مدت تک (مہلت) کے لیے کھانا خریدا اور اپنی زرہ بطور رہن رکھی)۔

اسی طرح امام ترمذی رحمۃ اللہ نے ’’بیع مؤجل‘‘ کے جواز کا باب قائم کر کے اس کے تحت ایک سے زائد احادیث روایت کی ہیں(5)۔

ان روایات سے صراحتاً معلوم ہوگیا کہ تعلیمات نبوی سے بیع مؤجل کی نہ صرف اجازت معلوم ہوتی ہے بلکہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے اور یہ سیرت نبوی کا حصہ ہے۔ اسی لیے معروف تمام فقہاء کرام اس بیع کی اجازت کے قائل ہیں۔

دوسرا امر: ادھار بیع کی صورت میں قیمت میں اضافہ کرنے کا حکم

کونسل کی طرف سے تجویز کردہ ‘‘بیع مؤجل’’ کی صورت میں جو مثال ذکر کی گئی ہے کہ اس میں ادھار دینے کی صورت میں قیمت میں اضافہ بھی ذکر کیا گیا ہے اس لیے تعلیمات نبوی سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا اس اضافے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اور اس سلسلے میں نبوی تعلیمات سے فقہاء امت نے کیا معانی اخذ کیے ہیں اور ان میں راجح مؤقف کون سا ہےجس سے معاشرہ میں آسانی اور رائج عرف کے لیے راستہ ہموار ہوتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں نبوی تعلیمات میں سے حسب ذیل روایت ہے:

‘‘عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن بیعتین فی بیعۃ’’(6)

(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بیع میں دو عقد کرنے سے منع فرمایا ہے)

اس حدیث کی توضیح و تشریح میں شراح حدیث نے مختلف توجیہات و تفسیرات ذکر کی ہیں، ان میں سے ایک تفسیر جوکہ راجح ہے، زیربحث مسئلہ سے متعلق ہے کہ اس روایت میں نقد کے مقابلے میں ادھار کی صورت میں زیادہ قیمت لینے کی بات مذکور ہے اور جمہور فقہاء و محدثین کی رائے میں یہ صورت اس وقت ممنوع ہے کہ جب بوقت عقد ادھار کے لیے الگ قیمت اور نقد کے لیے الگ قیمت ذکر کی جائے، لیکن کوئی ایک قیمت طے کیے بغیر عاقدین الگ ہو جائیں لیکن اگر کوئی ایک قیمت طے کر دیں تو پھر یہ صورت جائز ہے چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تفسیر حسب ذیل عبارت میں کی ہے۔

‘‘و قد فسر بعض أھل العلم قالو بیعتین فی بیعۃ أن یقول أبیعک ھذا الثوب بنقد بعشرۃ و بنسیئۃ بعشرین و لا یفارقہ علی أحد البیعتین فاذا فارقہ علی أحدھما فلا بأس إذا کانت العقدۃ علی واحد منھما’’(7)۔

اس عبارت میں وہی تفصیل مذکور ہے جو پہلے ذکر کر دی گئی ہے، البتہ دیگر کچھ توضیحات کی بنیاد پر کچھ فقہاء کرام نے ادھا کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کو جائز قرار نہیں دیا، ان فقہاء کرام میں امام علی زید العابدین وغیرہ حضرات شامل ہیں۔ چنانچہ ان کا مؤقف علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے حسب ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے:

‘‘أما التفسیر الذی ذکرہ أحمد عن سماک و ذکرہ الشافعی ففیہ متمسک لمن قال: یحرم بیع الشئی بأکثر من سعر یومہ لأجل النساء و قد ذھب إلیٰ ذالک زین العابدین علی بن الحسین والناصر و المنصور باللہ والھادویۃ والإمام یحی’’(8)۔

جو تفسیر أحمد نے سماک کے حوالے سے اور امام شافعی نے ذکر کی ہے، اس میں ان حضرات کے لیے دلیل ہے جو ادھار کی وجہ سے کوئی چیز زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کو حرام قرار دیتے ہیں، یہ مذہب زین العابدین علی بن الحسین، ناصر و منصور باللہ، ھادویہ اور امام یحیی رحمھم اللہ کا ہے)۔

ان کامؤقف ذکر کرنے کے بعد جمہور فقہاء کا فہم اور مؤقف ذکر کیا ہے:

‘‘وقالت الشافعیہ والحنفیۃ و زید بن علی المؤید باللہ والجمہور: إنہ یجوز لعموم الأدلۃ القاضیۃ بجوازہ و ھو الظاہر’’(9)۔

(شافعیہ، حنفیہ، زید بن علی، مؤید باللہ اور جمہور نے کہا ہے کہ  یہ صورت جائز ہے کیونکہ جواز کے مقتضی دلائل بکثرت ہیں اور یہی ظاہر ہے)۔

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی توضیح اور علامہ شوکانی کی تصریح کے مطابق جمہور فقہاء جن میں فقہائے اربعہ شامل ہیں، بیع مؤجل کی وجہ سے قیمت میں اضافہ جائز ہے۔ دور جدید کے ایسے فقہی ماہرین جو جدید مالی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں، انہوں نے بھی ادھار بیع کی صورت میں قیمت میں اضافہ درست قرار دیا ہے لیکن ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ بوقت عقد ان میں سے کسی ایک قیمت کا تعین ہو جانا چاہیے، اگر بوقت عقد دونوں قیمتیں ذکر کے معاملہ طے کیے بغیر ادھورا چھوڑ دیا گیا ہو تو یہ بیع بالاتفاق جائز نہیں ہوگی، یہی بات جناب مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں:

‘‘والظاہر أن البائع لو ذکر أثمانًا مختلفۃ لآجال مختلفۃ، ثم جزما علی واحد من الآجال فانہ جائز أیضًا، و حاصلہ أن ذالک یجوز عند المساومۃ فقط، و أما عقد البیع، فلا یصح إلا بجزم الفریقین علی أجل معلوم و ثمن معلوم فان لم یجزم العاقدان علی ما وقع علیہ البیع لم یجز’’(10)۔

(ظاہر یہی ہے کہ اگر بائع نے مختلف مدتوں کے بدلے الگ الگ ثمن ذکر کیے، پھر ان میں سے کسی ایک پر عقد پکا کر دیا تو یہ بھی جائز ہے، خلاصہ یہ ہے کہ بھاؤ تاؤ کرتے وقت تو یہ جائز ہے لیکن عقد بیع صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ جب عاقدین کسی ایک متعین مدت اور متعین ثمن کو طے کر لیں، اگر عاقدین نے وہ (مدت اور ثمن) جن پر بیع ہوگی، طے نہ کیا تو بیع جائز نہیں ہے)۔

لہٰذا کونسل کی طرف سے تجویز کردہ بیع مؤجل میں نقد کے مقابلہ میں ادھار کی وجہ سے قیمت میں اضافہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک تفسیر اور جمہور فقہاء کے قول کے موافق درست ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تیسرا امر: بینک کے قبضہ کی شرط کا حکم

کونسل نے اپنی تجویز کردہ بیع مؤجل کے لیے جن شرائط کا ذکر کیا ہے، اس میں یہ شرط رکھی ہے کہ بینک اپنے کلائنٹ کے ساتھ بیع مؤجل تب کر سکتا ہے کہ جب اس کے اپنے قبضہ میں آ جائے۔ قبضہ میں آنے کی اس شرط کے بارے میں نبوی تعلیمات کو دیکھنا ہے کہ وہ کیا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سلسلے میں کیا ہدایات ارشاد فرمائی ہیں، چنانچہ ذخیرہ حدیث پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ حدیث میں کھانے پینے کی چیزوں میں قبضہ کرنے سے قبل آگے فروخت کرنا منع ہے، لیکن خود روایان حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عن ہم نے اس سے عموم مراد لیتے ہوئے تمام اشیاء میں قبضہ سے قبل آگے بیع کرنے کو ممنوع حکم میں شامل رکھا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں روایات اسی انداز سے موجود ہیں:

‘‘عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من ابتاع طعامًا فلا یبیعہ حتی یقبضہ، قال ابن عباس: و أحسب کل شئی بمنزلۃ الطعام’’(11)۔

(حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بھی کھانے کی کوئی چیز خریدی تو وہ اسے قبضہ کرنے سے قبل آگے فروخت نہ کرے۔ عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں ہر چیز کھانے کی چیزوں کے حکم میں ہے)۔

یہی روایت دیگر کتب حدیث جیسا کہ صحیح بخاری اور جامع ترمذی میں اسی انداز اور اسی توضیح کے ساتھ مروی ہے اور یہی جمہور فقہاء کا مؤقف ہے۔ البتہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض أھل علم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کھانے کی امور میں ہی یہ سختی ملحوظ ہے اور بقیہ چیزوں میں اجازت ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

‘‘والعمل علی ہذا عند أکثر أھل العلم کر ھوا بیع الطعام حتی یقبضہ المشتری و قد رخص بعض أھل العلم فی من ابتاع شیئاً مما لا یکال ولا یوزن من مالا یوکل ولا یثرب أن یبیعہ قبل أن یستوفیہ، و إنما التشدید عند أھل العلم فی الطعام و ھو قول أحمد و اسحٰق’’(12)۔

اس میں بعض اہل علم جیسا کہ امام أحمد اور امام اسحٰق رحمۃ اللہ علیہما کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ دیگر چیزوں میں قبل القبض بیع کی اجازت ہے، البتہ جمہور فقہاء و محدثین کےعہاں حضرت عبداللہ بن عباس کی وضاحت کے پیش نظر اس ممانعت کا تعلق تمام چیزوں کے ساتھ ہے کہ ہر چیز میں قبضہ سے قبل آگے فروخت کرنا ممنوع ہے۔

اس سلسلے میں فقہی مذاہب کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

امام عثمان البتی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں قبضہ شرط نہیں ہے، اس سے قبل بھی آگے بیع کرنا درست ہے، لیکن اس مؤقف کے بارے میں علامہ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ یہ درست نہیں ہے بلکہ اسے مردود کہا ہے اور لکھا ہے کہ شاید انہیں یہ روایت نہیں پہنچی۔

ھذا قول مردود بالسنۃ والحجۃ المجتمعۃ علی الطعام، و أظنہ لم یبلغہ ھذا الحدیث، و مثل ھذا لایلتفت إلیہ (13)

دوسرا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کی اشیاء چاہے ان کا تعلق مطعومات سے ہو، غیر مطعومات سے یا پھر منقولہ ہو یا غیر منقولہ جائیداد میں قبضہ سے قبل آگے فروخت کرنا درست نہیں ہے۔ یہ مؤقف امام شافعی، امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیھما و دیگر فقہاء کا ہے۔

تیسرا مؤقف وہ ہی ہے جو امام ترمذی کی عبارت میں امام احمد کے حوالے سے مذکور ہوا۔

چوتھا مؤقف یہ ہے کہ تمام منقولہ اشیاء میں قبضہ سے قبل آگے بیع کرنا درست نہیں ہے، البتہ ایسی غیر منقولہ جائیداد میں قبضہ سے قبل بھی آگے فروخت کرنا جائز ہے، جس کی ہلاکت کا اندیشہ نہ ہو، یہ مؤقف امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیھما کا ہے اور اسی کے مطابق خلاف عثمانیہ میں قانون سازی بھی ہوئی تھی مجلۃ الاأحکام العدلیہ میں ہے:

‘‘(مادۃ ۳۵۲) للشتمری أن یبیع المبیع لآخر قبل قبضہ إن کان عقارًا و إلا فلا’’(14)

(دفعہ: ۳۵۲) مشتری مبیع کو قبضہ سے قبل آگے فروخت کر سکتا ہے، اگر مبیع زمین ہو، بصورت دیگر قبضہ سے قبل آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے’’۔

 اس ساری تفصیل سے واضح ہوا کہ کونسل کی تجویز کردہ صورت میں ذکر کی گئی شرط ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے موافق ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کونسل غیر منقولہ جائیداد کے بارے میں جو گنجائش موجود ہے، اس کی بھی تصریح کر دیتی تو زیادہ بہتر ہوتا جیسا کہ مجلۃ الأحکام العدلیہ میں بھی اس گنجائش کا تذکرہ موجود ہے۔

چوتھا امر: بذریعہ ایجنٹ قبضہ اور کلائنٹ کو ہی ایجنٹ مقرر کرنا

کونسل نے قبضہ کی شرط ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا کہ ‘‘اس شرط کی تکمیل کے لیےیہی کافی ہے کہ بینک نے جس ادارے سے مال خریدا ہو وہ اس مال کو بینک کے نام پر علیحدہ کر دے اور پھر اس شخص کو دے دے جسے بینک نے اس سلسلے میں مجاز و مختار قرار دیا ہو اور اس میں وہ شخص بھی شامل ہوگا جس کے لیے مال خریدا گیا ہو’’۔

اس میں دو صورتیں بیان ہوئی ہیں، یہ دونوں الگ الگ قابل بحث ہیں: (۱)کسی وکیل کے ذریعے قبضہ (۲) اسی شخص کو قبضہ کا وکیل بنانا جس کے لیے مال خریدا گیا ہو۔

پہلی صورت: وکیل کا قبضہ:

کسی تیسرے آدمی کو وکیل بنا کر قبضہ حاصل کرنے سے شرعاً بینک کا قبضہ شمار ہونا ایک بدیہی امر ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ وکیل کا قبضہ مؤکل ہی کا قبضہ تصور ہوتا ہے جیسا کہ فقہ اسلامی کے ماہرین جابجا یہ اصول ذکر کیا کرتے ہیں: قبض الوکیل کقبض المؤکل’’(15)

لہٰذا اگر بینک اپنے خریدار کے علاوہ کسی تیسرے شخص کو وکیل مقرر کرے اور وہ ہی قبضہ حاصل کر لے تو نہ صرف اس میں کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ یہی بہتر طریقہ ہے۔ جدید غیر سودی بینکاری کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خریدار کو وکیل مقرر کرنے کے بجائے ازخود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعے خریداری کریں، چنانچہ جناب مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں:

‘‘غیر سودی بینکوں کے شریعہ بورڈ بکثرت اپنے اپنے اداروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ جہاں تک ہو سکے براہ راست خریداری کریں، گاہک کو وکیل نہ بتائیں، اور اب رفتہ رفتہ یہ رجحان پیدا بھی ہوتا رہا ہے(16)۔

لہٰذا اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں ہے، البتہ دوسری صورت پر کچھ مزید بحث کی ضرورت ہے۔

دوسری صورت: خریدار ہی کو وکیل مقرر کرنا:

کونسل چونکہ اختصار کے ساتھ متبادل صورتیں ذکر کر رہی تھی اس لیے اس نے صرف اتنا ہی درج کیا کہ جو شخص خرید رہا ہے، اس کے ذریعے بھی بینک قبضہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن حقیقت اس میں مزید تفصیل ملحوظ رکھنا ضروری ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر بینک خریدار ہی کو وکیل مقرر کرتا ہے تو پھر اس کی طرف سے قبضہ ہو جانے کے بعد بیع کا الگ سے نیا معاہدہ کرنا ہوگا، اس سے قبل وکالت کا معاہدہ ہوگا۔ اس صورت میں دیگر تفصیلات کے ساتھ ایک اہم بحث یہ ہے کہ وکیل کا قبضہ قبضہ امانت ہوتا ہے اور خرید و فروخت میں قبضہ قبضہ ضمان ہوتا ہے اور قبضۂ امانت قبضہ ضمان کے لیے کافی نہیں ہوتا اس کے لیے الگ سے نیا قبضہ ضروری ہوتا ہے لہٰذا اس کی کوئی معقول و مناسب فقہی توجیہ ہونی چاہیے۔ چنانچہ اصولی مسئلہ تو علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح واضح کیا ہے:

‘‘و إن کان یدالمشتری ید أمانۃ کید الودیعۃ والعاریۃ لا یصیر قابضًا’’ (17)

اس میں یہی واضح کیا گیا ہے کہ اگر مشتری کے پاس مبیع پہلے سے موجود ہے اور وہ قبضہ امانت کا ہے ‘جیسا کہ زیربحث صورت میں ہے’ تو یہ قبضہ شمار نہیں ہوگا۔

لیکن اگر بحیثیت وکیل قبضہ کرنے کے بعد نیا قبضہ نہ کیا گیا ہو۔ سابقہ قبضہ پر ہی اکتفا کر لیا گیا ہو تو شرعاً کافی ہوگا یا نہیں۔ اس کا جواب اس پر موقوف ہے کہ قبضہ کی حقیقت کیا ہے؟ فقہائے احناف کے ہاں اس کی جو حقیقت ہے وہ پیش نظر رکھی جائے تو اس کا جواب باآسانی معلوم ہوتا ہے، احناف کے ہاں قبضہ کی حقیقت کو علامہ کاسانی اس انداز سے واضح کرتے ہیں:

‘‘فالتسلیم والقبض عندنا ھو التخلیۃ، والتخلی ھو أن یخلی البائع بین المبیع و بین المشری برفع الحائل بینھما علی وجہ یتمکن المشتری من التصرف فیہ’’(18)۔

اس میں کہا گیا ہے کہ قبضہ کا مفہوم یہ ہے کہ بائع مبیع اور مشتری کے مابین اس انداز سے تخلیہ کر دے کہ مشتری کے لیے اس میں تصرف کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ اس تفسیر کو پیش نظر رکھا جائے تو وکیل کے طورپر قبضہ کرنے کے بعد بحیثیت خریدار حکمی و معنوی طورپر نیا قبضہ بصورت تخلیہ موجود ہے، لہٰذا یہ اشکال فقہاء احناف کی تشریح کے مطابق رفع ہو جاتا ہے، البتہ فقہائے شافعیہ کی قبضہ کی تفسیر پر یہ اشکال بدستور باقی رہتا ہے کیونکہ ان کے ہاں حکمی و معنوی قبضہ بصورت تخلیہ کافی نہیں ہوتا بلکہ حسی اور صوری قبضہ ضروری ہوتا ہے۔

کونسل کی طرف سے ذکر کردہ بیع مؤجل کی صورت اور پھر بینک کے قبضہ میں یہ تفصیل ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

بیع مؤجل کی اس صورت پر بینکوں میں عمل شروع کیا گیا لیکن اس کا حلیہ بگاڑ کر کیا گیا جس پر تحفظات کا اظہار کونسل نے ۱۹۸۴ء میں ہی ذکر کر دیا تھا چنانچہ یکم، ۲؍ جنوری ۱۹۸۴ء میں کونسل نے اس سلسلے میں حسب ذیل خدشات کا اظہار کیا:

’’ کونسل کی سفارش یہ تھی کہ بیع مؤجل کا طریقہ بڑی احتیاط کے ساتھ صرف استثنائی صورتوں میں استعمال کیا جانا چاہیے جہاں اس کے سوا چارہ نہ ہو لیکن ’’نفع نقصان میں شرکت‘‘کے لین دین میں اسے پالیسی کے ایک بنیادی عمل کی حیثیت سے اپنا لیا گیا ہے۔۔۔ اگر نفع نقصان میں شرکت کے لین دین میں سود کے بجائے مارک اپ کے طریقے کا وسیع پیمانے پر استعمال جاری رہا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سود کو حقیقی معنوں میں ختم کرنے کے بجائے صرف اس کا نام بدل دیا گیا ہے(19)۔‘‘

اسی خدشہ اور حلیہ بگاڑنے کا تذکرہ جناب مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی کیا جو کونسل کی رپورٹ کی تیاری میں بھی شامل تھے:

’’جب میں نے ان کے طریق کار کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز کو حلیہ بگاڑ کر نافذ کیا گیا ہے۔ اس میں مرابحہ یا بیع مؤجل کا نام تو ضرور تھا لیکن اس کا طریق کار محض فرضی اور صرف کاغذوں کی حد تک محدود تھا، اور حقیقت میں نقد رقم ہی کا تبادلہ ہوتا تھا جو سود ہی کی ایک شکل تھی‘‘ (20)

اس سے واضح ہوا کہ کونسل کی طرف سے ذکر کردہ تجویز فی نفسہٖ شرعی اصولوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ تھی لیکن عملی طورپر جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ درست نہیں تھا۔

اس کے بعد جدید غیر سودی یا اسلامی بینکوں کا آغاز ہوا، اس میں بھی بیع مؤجل کی سی صورت اختیار کی گئی اس کا نام مرابحہ مؤجلہ رکھا گیا۔

مرابحہ مؤجلہ اور کونسل کی تجویز میں فرق:

مرابحہ مؤجلہ بھی درحقیقت ایک بیع ہی ہے جس میں مدت کا ذکر ہوتا ہے لیکن بینک واضح طورپر خریدار کو اپنا متعین نفع بتاتا ہے، جس وجہ سے اس کو مرابحہ کہا جاتا ہے۔ اس عمل کی تفصیل متعدد کتب میں موجود ہے۔ زیرنظر مقالہ میں اس کی تفصیل ذکر کرنا پیش نظر نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب اسلامی بینکاری کی بنیادیں۔(21)

زیرنظر مقالہ میں بیع مؤجل، جو کونسل نے تجویز کی تھی، اس پر کچھ مزید کیے گئے اضافوں یا فرق کو واضح کرنا پیش نظر ہے، ان میں سے چند ایک فرق ہیں۔

پہلا فرق یا اضافہ:

مرابحہ مؤجلہ کرتے وقت جدید غیر سودی بینک مشتری سے ایک ماسٹر ایگریمنٹ کرتے ہیں جس میں آئندہ کے لیے کیے جانے والے عقود کی تفصیل ہوتی ہے، اور مشتری کی طرف سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ میں یہ عقد مرابحہ کروں گا۔ اس وعدہ میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ اگر مبیع نہ خریدی تو بینک کو جو حقیقی نقصان ہوگا اس کا مشتری ذمہ دار نہ ہوگا جبکہ کونسل نے ایسی کوئی تجویز ذکر نہیں کی، لیکن کونسل کی ذمہ کردہ صورت کے یہ منافی بھی نہیں ہے، انتظامی ضروریات کے پیش نظر ایسا معاہدہ یا وعدہ کیا جا سکتا ہے، البتہ اس میں فقہی لحاظ سے یہ بحث ہو سکتی ہے اور کی بھی گئی ہے کہ آیا ایسا وعدہ شرعاً لازم ہو سکتا ہے یا نہیں؟ دونوں نقطہ ہائے نظر اس میں موجود ہیں۔

دوسرا فرق یا اضافہ:

دوسرا فرق یا اضافہ یہ ہے کہ بینک مشتری سے یہ وعدہ بھی لیتا ہے کہ اگر اس نے قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی تو ایک مخصوص مقدار کی رقم صدقہ کرے گا، جسے التزام بالتصدق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ مستقل معاملہ ہے، جو کونسل میں زیربحث نہیں آیا، اس کے جواز و عدم جواز پر بھی دونوں نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔ جناب مفتی محمد تقی عثمانی نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے(22)۔

اور اس کے خلاف بھی تحریرات سامنے آئی ہیں جیسا کہ جامعۃ العلوم الإسلامیہ بنوری ٹاؤن کی طرف سے جاری کردہ کتاب میں لکھا گیا ہے (23)

یہی دو بنیادی فرق ہیں، ان کے علاوہ بھی مزید کچھ معمولی فرق نہیں، تاہم اتنی بات واضح ہے کہ کونسل کی طرف سے تجویز کردہ صورت ہی کی نئی اور ترقی یافتہ شکل مرابحہ مؤجلہ کی ہے جو آج کل جدید غیر سودی بینکوں میں رائج ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ  کونسل کی طرف سے تجویز کردہ بیع مؤجل کی صورت تعلیمات نبویؐ سے اخذ کردہ ہے، اس میں کوئی چیز خلاف شریعت نہیں ہے، اسی کی جدید شکل مرابحہ مؤجلہ ہے جو آج کل غیر سودی بینکوں میں رائج ہے۔

ایک اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ وہ مالی معاملات کو سود سے پاک کرے اور ایسے قوانین ختم کرے جو سود کی بنیاد پر ہیں، ان قوانین کے خاتمہ کے لیے کونسل کی طرف سے پیش کردہ متبادل تجاویز اور بیع مؤجل کی تجویز مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔


حواشی

    8. اسلامی نظریاتی کونسل، رپورٹ بلاسود بینکاری، طبع سوم،ادارہ تحقیقات اسلامی، پریس، اسلام آباد ۲۰۰۲ء، ص: ۲۴

    9. حوالہ بالا: ص: ۲۵

    10. أبو عبداللہ محمد بن أحمد القرطبی، الجامع لأحکام القرآن، دار احیاء التراث العربی ۱۹۹۵ء۔: ۳/ ۳۵۶

    11. محمد بن اسماعیل البخاری، صحیح بخاری، ‘‘موسوعۃ الکتب الحدیث’’ باب شراء الطعام إلی أجل، دارالسلام للنشر و التوزیع، الطبعۃ الثالثہ ، ۲۰۰۰ء، حدیث: ۲۲۰۰

    12. محمد بن عیسی الترمذی، جامع الترمذی، باب ما جاء فی الرخصۃ فی الشراء إلی أجل، مکتبہ حقانیہ، پشاور، ۱/ ۲۳۰

    13. جامع الترمذی، باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ، ۱/ ۲۳۳

    14. حوالہ بالا: ۱/ ۲۳۳

    15. محمد بن علی بن محمد الشوکانی، نیل الأوطار شرح منتقی الأخیار، باب بیعتین فی بیعۃ: ۵/ ۱۶۲

    16. حوالہ بالا: ۵/ ۱۶۲

    17. مفتی محمد تقی عثمانی، فقہ البیوع، مکتبہ معارف القرآن کراچی، ۲۰۱۵، ۱/ ۵۴۵

    18. أبو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری، صحیح مسلم از موسوعۃ الکتب الحدیث، باب بطلان البیع قبل القبض، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، ۲۰۰۰ء حدیث: ۳۸۳۸

    19. أبو عیسیٰ الترمذی الترمذی، جامع الترمذی،ؒ باب ما جاء فی کراھیۃ بیع الطعام حتی یستوفیہ، ۱/ ۲۴۲

    20. المغنی لابن قدامہ: ۴/ ۲۲۰

    21. مجلۃ الأحکام العدلیۃ، نور محمد کا رخانہ تجارت، کراچی: ۵۲

    22. علی حیدر خواجہ أمین آفندی، دارالحکام فی شرح مجلۃ الأحکام، دارالحیل، بیروت ۱۹۹۱: ۱/ ۵۴۵

    23. مفتی محمد تقی عثمانی، غیر سودی بینکاری :متعلقہ فقہی مسائل کی تحقیق اور اشکالات کا جائزہ، مکتبہ معارف القرآن کراچی، طبع دوم، ۲۰۰۹، ص: ۲۱۰

    24. علاؤ الدین أبو بکر بن مسعود الکاسانی، بدائع الصنائع: ۵/ ۲۴۸

    25. حوالہ بالا: ۵/ ۲۴۴

    26. بلاسود بینکاری: ص ۱۴۵

    27. غیر سودی بینکاری: متعلقہ فقہی مسائل کی تحقیق اور اشکالات کا جائزہ، ص ۳۶

    28. اسلامی بینکاری کی بنیادیں، ص ۹۷ تا ۱۶۲

    29. غیر سودی بینکاری ص: ۲۷۷

    30. ملاحظہ ہو، مروجہ اسلامی بینکاری، ص: ۲۶۴- ۲۶۸


قرآن وسنت کا باہمی تعلق اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۸)

محمد عمار خان ناصر

امام ابن حزم الاندلسی کا زاویۂ نظر

ابن حزم کے انداز فکر اور اصولی آرا کے بغور مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے قرآن کے عموم میں سنت کے ذریعے سے تخصیص یا زیادت کی توجیہ کے لیے دلالت کلام کے محتمل ہونے کے نکتے کو ناکافی اور غیرتشفی بخش پا کر استدلال کو دوبارہ کلیتاً اعتقادی مقدمے پر استوار کرنے اور یوں اس الجھن کو دور کرنے کی کوشش کی جو امام شافعی کے طرز استدلال میں پائی جاتی تھی۔ اس حوالے سے ابن حزم کے اصولی نقطۂ نظر کے اہم نکات حسب ذیل ہیں :

نصوص میں درجہ بندی کے تصور کی نفی

۱۔ قرآن اور سنت میں بیان کیے جانے والے تمام شرعی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پر مبنی ہیں اور کوئی بھی حکم شرعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے بغیر مقرر نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حکم شرعی کے بیان میں اجتہاد کے مجاز نہیں تھے، بلکہ کوئی سوال درپیش ہونے پر وحی کا ہی انتظار کیا کرتے تھے:

فان قال قائل: ایجوز للانبیاء علیھم السلام الاجتھاد؟ فالجواب وباللہ تعالیٰ التوفیق ان من ظن ان الاجتھاد یجوز لھم فی شرع شریعۃ لم یوح الیھم فیھا فھو کفر عظیم، ویکفی من ابطال ذلک امرہ تعالیٰ نبیہ علیہ السلام ان یقول ’’اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰ٘ي اِلَيَّ‘‘ وقولہ ’’وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰي. اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰي‘‘ وقولہ تعالیٰ ’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ. لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِ. ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَ‘‘، وانہ علیہ السلام کان یسال عن الشیء فینتظر الوحی، ویقول ’’ما انزل علی فی ھذا شیئ‘‘، ذکر ذلک فی حدیث فی زکاة الحمیر ومیراث البنتین مع العم والزوجۃ وفی احادیث جمۃ. (احکام الاحکام ۵/۱۳۲)

’’اگرکوئی شخص یہ کہے کہ کیا انبیا کے لیے اجتہاد کرنا روا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ انبیا کے لیے شریعت کا کوئی ایسا حکم اپنے اجتہاد سے وضع کرنا جائز ہے جس کے متعلق ان پر وحی نازل نہ ہوئی ہو تو یہ کفر عظیم ہے اور اس کے باطل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی سے یہ اعلان کروانا کافی ہے کہ ’’میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’پیغمبر اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتا، یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘ مزید فرمایا کہ ’’اگر پیغمبر اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرنا چاہے تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیں گے اور پھر اس کی شہ رگ کو کاٹ کر رکھ دیں گے۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کسی بات کے متعلق سوال کیا جاتا تھا تو آپ وحی کا انتظار کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’اس کے متعلق مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں کی گئی‘‘ جیسا کہ گدھوں کی زکوٰۃ سے متعلق سوال پر اور چچا اور بیوی کی موجودگی میں دو بیٹیوں کی وراثت کے مسئلے میں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے واقعات میں آپ نے یہ بات فرمائی۔‘‘

۲۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ مکمل وحی کی حفاظت کا اہتمام کیا ہے، چاہے وہ قرآن کی صورت میں ہو یا حدیث کی صورت میں۔ قرآن مجید میں جس ’الذِّكْر‘ کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا ہے (الحجر ۱۵ : ۹)، ابن حزم کے نزدیک اس سے مراد صرف قرآن نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جانے والی ہر طرح کی وحی ہے اور قرآن کی طرح حدیث کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی طرح تکوینی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو بھی مکمل طور پر محفوظ رکھنے اور حفاظت کے ساتھ امت تک منتقل کرنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں :

ان کلام نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم کلہ وحی، والوحی بلا خلاف ذکر، والذکر محفوظ بنص القرآن، فصح بذلک ان کلامہ صلی اللہ علیہ وسلم کلہ محفوظ بحفظ اللہ عزوجل مضمون لنا انہ لا یضیع منہ شیئ، اذ ما حفظ اللہ تعالیٰ فھو بالیقین لا سبیل الی ان یضیع منہ شیء فھو منقول الینا کلہ. (الاحکام ۱/۹۸)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سب کا سب وحی ہے، اور وحی بالاتفاق ذکر ہے، اور ذکر قرآن کی نص کی رو سے محفوظ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا کلام بھی اللہ کی طرف سے حفاظت کے بندوبست کی وجہ سے محفوظ ہے اور اللہ نے اس کی ضمانت دی ہے کہ اس میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی، کیونکہ جس چیز کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے، اس کے بارے میں یہ یقینی ہے کہ اس میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آپ کی تمام احادیث نقل ہو کر ہم تک پہنچی ہیں۔‘‘

اسی وعدۂ حفاظت کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ شریعت کا کوئی حکم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہو، کسی ایسے سند سے منقول نہیں ہو سکتا جس کے راویوں کے بیان پر حجت قائم نہ ہو سکتی ہو،کیونکہ ا س سے شریعت کا ایک مستند حکم ضائع ہو جائے گا۔ اسی اصول پر اگر کسی ثقہ راوی سے کسی حدیث کے بیان میں غلطی ہوئی ہو تو لازم ہے کہ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس غلطی کی وضاحت کا بھی بندوبست کیا ہو، تاکہ امت ایک غیرمستند حکم کو شریعت کا حصہ سمجھنے کی غلطی میں مبتلا نہ ہو جائے (الاحکام ۱/۱۳۶)۔

۳۔ تمام شرعی نصوص وحی پر مبنی ہونے کی وجہ سے حکم کے اثبات اور اس کے متعلقات کی وضاحت میں یکساں درجے کی حامل ہیں اور ان میں کسی قسم کا امتیاز قائم کرنا درست نہیں۔ چنانچہ جیسے قرآن میں ایک ہی مسئلے سے متعلق مختلف مقامات پر بیان ہونے والی تفصیلات ایک جیسی اہمیت رکھتی ہیں، اسی طرح سنت میں وارد احکام کو اسی طرح کی حیثیت واہمیت دینا ضروری ہے جیسے وہ قرآن ہی میں وارد ہوئی ہوں، کیونکہ جب دونوں حکموں میں، وحی پر مبنی اور واجب الاتباع ہونے میں کسی بھی اعتبار سے کوئی فرق نہیں تو ان میں بیان ہونے والے احکام کے باہمی تعلق کو متعین کرتے ہوئے بھی کسی قسم کا فرق روا نہیں ہو سکتا۔ ان تمام احکام کی حیثیت ایک ہی مصدر، یعنی شارع کی طرف سے دیے جانے والے احکام کی ہے، چنانچہ جس طرح قرآن میں بیان ہونے والے مختلف احکام کو ایک مکمل مجموعے کا حصہ سمجھتے ہوئے ان کا باہمی تعلق متعین کیا جاتا ہے، اسی طرح سنت کے احکام کو بھی بالکل قرآن ہی کی سطح پر رکھتے ہوئے دونوں کے مجموعے کی روشنی میں حکم کی تعبیر کرنی چاہیے (الاحکام ۱/۹۸) ۔

۴۔ اپنے اسی نقطۂ نظر کے تسلسل میں ابن حزم قرآن مجید کی آیت ’وَاَنْزَلْنَا٘ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْھِمْ‘ (النحل ۱۶ : ۴۴) کی تشریح بھی جمہور اہل علم سے مختلف بیان کرتے ہیں۔ ابن حزم کا کہنا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جس تبیین کی نسبت کی گئی ہے، اس سے مراد صرف حدیث کے ذریعے سے قرآن کی وضاحت کرنا نہیں ہے، بلکہ قرآن کے کسی حکم کی وضاحت قرآن میں یا حدیث میں کرنے اور اسی طرح سنت کے کسی حکم کی وضاحت قرآن میں کرنے کی تمام صورتیں بھی شامل ہیں۔ گویا آیت کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل کی ہے، آپ وحی کے ذریعے سے ہی رہنمائی پا کر اس کی ضروری تفصیل وتوضیح لوگوں کے سامنے بیان کر دیتے ہیں۔ اس کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قرآن کے کسی حکم کی وضاحت قرآن ہی میں نازل ہو اور آپ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں اور یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قرآن کے علاوہ کسی وحی میں حکم کی تبیین کی جائے اور آپ اسے لوگوں کے سامنے بیان کر دیں۔ یہی معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی حکم بیان فرمائیں اور اس کی توضیح وتبیین ہمیں قرآن سے مل جائے (الاحکام ۱/۸۱ - ۸۳)۔

۵۔ اس بنیادی رجحان کے تحت ابن حزم یہ اصولی ضابطہ بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی شرعی حکم سے متعلق تمام نصوص کو، چاہے وہ قرآن میں وارد ہوں یا حدیث میں، ملا کر ان کے مجموعے سے حکم اخذ کیا جائے گا اور کسی خاص نص کو بنیادی اور اصل قرار دے کر یہ سوال نہیں اٹھایا جائے گا کہ اس کے علاوہ دیگر نصوص میں حکم کے جن اضافی پہلوؤں کا ذکر ہوا ہے، وہ غیر اہم یا ثانوی ہیں یا ان سے سابقہ حکم میں کوئی تبدیلی لازم آتی ہے، کیونکہ ایک ہی آیت یا حدیث میں تمام تر اجزا اور تفصیلات کے بیان کیے جانے کی توقع یا مطالبہ بالکل غیر معقول ہے (احکام الاحکام ۲/ ۳۴)۔

ابن حزم نصوص کے ظاہری تعارض کی صورت میں بعض کو بعض پر ترجیح دینے کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ کسی بھی آیت یا حدیث کو دوسری آیت یا حدیث کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتے ہوئے ترجیح کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ تمام نصوص پر عمل کرتے ہوئے ان کے مابین تطبیق پیدا کی جائے گی۔ لکھتے ہیں :

اذا تعارض الحدیثان او الآیتان او الآیۃ والحدیث فی ما یظن من لا یعلم ففرض علی کل مسلم استعمال کل ذلک، لانہ لیس بعض ذلک اولی بالاستعمال من بعض، ولا حدیث باوجب من حدیث آخر مثلہ، ولا آیۃ اولی بالطاعۃ لھا من آیۃ اخری مثلھا، وکل من عند اللہ عزوجل وکل سواء فی باب وجوب الطاعۃ والاستعمال ولا فرق. (احکام الاحکام ۲/ ۲۱)

’’جب دو حدیثیں یا دو آیتیں یا آیت اور حدیث کسی علم نہ رکھنے والے کو باہم متعارض دکھائی دیں تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ان سب آیتوں یا حدیثوں کو عمل میں لائے، کیونکہ ان میں سے کوئی بھی دوسری سے زیادہ عمل میں لائے جانے کا حق نہیں رکھتی، اور نہ کوئی حدیث کسی دوسری حدیث سے زیادہ واجب الاتباع ہے، اور نہ کوئی آیت کسی دوسری آیت سے بڑھ کر اطاعت کیے جانے کے لائق ہے۔ یہ سب اللہ عز وجل کی طرف سے ہیں اور اطاعت اور عمل کے واجب ہونے کے لحاظ سے سب برابر ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں۔‘‘

اسی بنیاد پر ابن حزم اس طریقے کو درست نہیں سمجھتے کہ بعض روایات کو قرآن کی کسی آیت یا دوسری احادیث کے ساتھ موافقت کی وجہ سے دوسری روایات پر ترجیح دی جائے۔ لکھتے ہیں:

وقال بعض اھل القیاس: ناخذ باشبہ الخبرین بالکتاب والسنۃ، قال علی: وھذا باطل لانہ لیس الذی ردوا الیہ حکم ھذین الخبرین اولی بان یوخذ بہ من الخبرین المردودین الیہ، بل النصوص کلھا سواء فی وجوب الاخذ بھا والطاعۃ لھا، فاذ قد صح ذلک بیقین فما الذی جعل بعضھا مردودا وبعضھا مردودا الیہ؟ وما الذی اوجب ان یکون بعضھا اصلا وبعضھا فرعا وبعضھا حاکما وبعضھا محکوما فیہ؟ … واذا کانت النصوص کلھا سواء فی باب وجوب الاخذ بھا فلا یجوز تقویۃ احدھا بالآخر، وانما ذلک من باب طیب النفس وھذا ھو الاستحسان الباطل. (احکام الاحکام ۲/ ۳۹- ۴۰)

’’بعض اہل قیاس یہ کہتے ہیں کہ ہم دو متعارض حدیثوں میں سے اس حدیث کو قبول کریں گے جو کتاب اور سنت کے زیادہ موافق ہو۔ یہ بات باطل ہے، کیونکہ انھوں نے جس آیت کو ان دو حدیثوں کے مابین فیصلے کے لیے معیار بنایا ہے، وہ ان دو حدیثوں سے زیادہ اس کا حق نہیں رکھتی کہ اسے قبول کیا جائے۔ تمام نصوص اس لحاظ سے برابر ہیں کہ انھیں قبول کرنا اور ان کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ جب یہ بات یقینی طور پر درست ہے تو پھر ان میں سے بعض کو معیار بنانا اور بعض کو ان کی طرف لوٹانا کیونکر ہو سکتا ہے؟ اور ان میں سے بعض کو اصل اور بعض کو فرع یا بعض کو حاکم اور بعض کو محکوم فیہ بنانے کی کیا بنیاد ہے؟ جب تمام نصوص واجب الاتباع ہیں تو ایک کے ذریعے سے دوسری کی تائید کرنا درست نہیں ہو سکتا۔ یہ تو بس ذاتی پسند اور ناپسند کی بات ہوگی جو استحسان کی ایک صورت ہے جو کہ باطل ہے۔‘‘

سنت میں قرآن پر زیادت کا حکم

۶۔ ابن حزم کے نزدیک مذکورہ ضابطے کی روشنی میں نصوص کی دلالت میں کسی بھی نوعیت کے تفاوت کی صورت میں آسانی کے ساتھ شارع کی مراد متعین کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ سنت کے ذریعے سے قرآن پر زیادت یا اس کی تخصیص یا نسخ جیسے سوالات کے حوالے سے وہ اپنا منہج اسی نکتے کی روشنی میں متعین کرتے ہیں اور تمام نصوص کے بالکل مساوی حیثیت کے حامل ہونے کے تناظر میں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی مذکورہ تینوں صورتوں کو درست قرار دیتے ہیں۔

سنت کے ذریعے سے قرآن پر زیادت کی چند نمایاں مثالیں یہ ہیں :

ابن حزم کہتے ہیں کہ قرآن مجید نے بطور اصول تمام خبیث چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے، شکاری پرندوں اور درندوں کی حرمت کا جو حکم بیان فرمایا، وہ قرآن کے اسی اصول کا اطلاق اور اس کی تشریح ہے۔ ابن حزم ’قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا‘ (الانعام ۶:  ۱۴۵) میں بیان کردہ چیزوں کو بھی بعض خبائث کا بیان قرار دیتے ہیں اور اس سے ان چار کے علاوہ باقی چیزوں کی اباحت کا حکم اخذ کرنے کو درست نہیں سمجھتے۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر تمام حرام چیزوں کا بیان اسی آیت میں کر دیا گیا ہے تو پھر پیشاب، پاخانہ اور شراب وغیرہ کو بھی حلال ماننا پڑے گا، کیونکہ آیت میں ان کی حرمت کا کوئی ذکر نہیں (احکام الاحکام ۲/ ۳۳- ۳۴، ۸۰- ۸۱)۔

اسی طرح قرآن مجید نے نکاح کے باب میں بعض محرمات کا ذکر کرنے کے بعد ’وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ‘ (النساء  ۴:  ۲۴) کی جو تصریح کی ہے، اس سے بھی یہ اخذ کرنا کہ ان کے علاوہ تمام خواتین سے نکاح حلال ہے، ابن حزم کے نزدیک درست نہیں، بلکہ اس آیت کے ساتھ احادیث میں بیان کی جانے والی تمام حرمتوں کو شامل کرنا اور ان سب کے مجموعے سے شرعی حکم متعین کرنا ضروری ہے (احکام الاحکام ۲/۳۳- ۳۴، ۸۰- ۸۱)۔ لکھتے ہیں :

وقد سالت بعض من یذھب ھذا المذھب عن قول اللہ تعالیٰ وقد ذکر النساء المحرمات فی القرآن، ثم قال تعالیٰ ’’وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ‘‘، ثم روی ابو ھریرۃ وابو سعید انہ علیہ السلام حرم الجمع بین المراۃ وعمتھا والمراۃ وخالتھا … فقال لی: لیس ھذا الحدیث خلافا للآیۃ لکنہ مضاف الیھا، فقلت لہ: فعلی ھذا لا سبیل الی وجود حدیث مخالف لما فی القرآن اصلا، وکل حدیث اتی فھو مضاف الی ما فی القرآن ولا فرق. (احکام الاحکام ۲/ ۸۲)

’’میں نے یہ مذہب رکھنے والے بعض حضرات سے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حرام خواتین کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ باقی خواتین تمھارے لیے حلال ہیں، لیکن پھر ابوہریرہ اور ابو سعید نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح کرنے کو بھی حرام قرار دیا۔ اس نے کہا کہ یہ حدیث آیت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اسے آیت کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔ میں نے اس سے کہا کہ پھر اس اصول کی روشنی میں کوئی ایسی حدیث سرے سے پائی ہی نہیں جا سکتی جو قرآن کے خلاف ہو، کیونکہ جو بھی حدیث وارد ہوگی، اسے قرآن کے ساتھ ملانا لازم ہوگا اور دونوں میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔‘‘

قرآن مجید میں رضاعت کے رشتے سے ماں اور بہن کو حرام قرار دیا گیا ہے، تاہم ابو القعیس کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے فرمایا کہ ان کی رضاعی والدہ کے شوہر کا بھائی ان کا چچا لگتا ہے، اس لیے اس سے حجاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رضاعت سے صرف دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ حرمت کا رشتہ قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا شوہر بھی بچے کا رضاعی باپ بن جاتاہے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ یہ حدیث بھی قرآن سے زائد ایک حکم کا اثبات کر رہی ہے اور اسے قبول کرنا واجب ہے (المحلی ۱۰/۵)۔

رضاعت ہی کے مسئلے میں قرآن مجید کے بیان پر سنت نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک یا دو دفعہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، بلکہ کم سے کم پانچ دفعہ جس عورت نے بچے کو دودھ پلایا ہو، وہی اس کی رضاعی ماں شمار کی جائے گی (المحلی ۱۰/۱۶)۔

قرآن مجید میں تین طلاقوں کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کی اجازت کو اس سے مشروط کیا گیا ہے کہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو وہ پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔ رفاعہ قرظی کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے بعد ہم بستری کی شرط بھی بیان کی جو قرآن سے زائد ایک حکم ہے۔ چنانچہ اسی اصول کے تحت مذکورہ آیت او رحدیث دونوں کو ملا کر حکم شرعی متعین ہوگا (احکام الاحکام ۷/ ۷۲)۔

زیادت ہی کی ایک مثال یہ ہے کہ کتاب اللہ میں زانی کو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کو کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لیے جلا وطن کرنے کا بھی حکم دیا اور فرمایا کہ میں نے یہ فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیا ہے۔ کتاب اللہ سے مراد یہاں اللہ کی وحی ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اللہ کے علاوہ الگ وحی سے یہ بتایا گیا کہ کوڑے لگانے کے ساتھ غیر شادی شدہ زانی کو جلا وطن بھی کیا جائے (المحلی ۱۱/۱۸۶)۔

زیادت کی بحث میں ابن حزم نصوص کے زمانی تقدم وتاخر کے سوال کو اہم نہیں سمجھتے، یعنی ان کے نقطۂ نظر سے اس تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ جس نص میں حکم میں زیادت وارد ہوئی ہے، وہ دوسری نص سے پہلے وارد ہوئی تھی یا بعد میں۔ دونوں میں سے جو بھی صورت ہو، ابن حزم کے نزدیک دونوں نصوص کو باہم ملا کر حکم شرعی متعین کرنا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر زانی کو کوڑے لگانے کے ساتھ جلاوطن کرنے کی مذکورہ مثال میں ابن حزم حنفی فقہا کے اس استدلال کو درست نہیں سمجھتے کہ چونکہ عبادہ بن صامت کی حدیث، جس میں جلاوطنی کی سزا بیان ہوئی ہے، سورۂ نورسے پہلے وارد ہوئی تھی، جب کہ سورۂ نورمیں جلاوطنی کا کوئی ذکر نہیں، اس لیے یہ سزا سورۂ نورکی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ اول تو حدیث عبادہ کے سورۂ نور سے مقدم یا موخر ہونے کی کوئی قطعی دلیل موجود نہیں۔ تاہم اسے مقدم مانا جائے یا موخر، بہر صورت اس میں بیان کردہ سزا کو حکم کا حصہ ماننا لازم ہے۔ اگر حدیث عبادہ کو سورۂ نورسے مقدم سمجھا جائے تو آیت اور حدیث کی تطبیق یوں ہوگی کہ حدیث عبادہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے حکم کی وضاحت فرمائی، جب کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک جزو کا ذکر کر کے مکمل حکم کے لیے حدیث عبادہ کی طرف refer کر دیا۔ اس سے یہ اخذ کرنا کہ جلاوطنی کا حکم منسوخ ہو گیا ہے، درست نہیں اور خود حنفی فقہا بھی اس آیت میں رجم کا ذکر نہ ہونے کے باوجود اسے بدستور برقرار مانتے ہیں۔ اور اگر حدیث عبادہ سورۂ نورکے بعد نازل ہوئی ہو تو اس میں بیان ہونے والی اضافی سزائیں زیادت کے اصول پر قرآن کے حکم کے ساتھ شامل ہو جائیں گی اور تمام نصوص کے مجموعے سے حکم شرعی متعین کیا جائے گا (المحلی ۱۱/۱۸۷)۔

سنت میں قرآن کے عموم کی تخصیص

۷۔ شرعی نصوص جس طرح دیگر نصوص میں بیان کردہ احکام میں اضافہ کر سکتی ہیں، اسی طرح تفسیر، استثنا یا تخصیص کے اصول پر بھی باہم متعلق ہو سکتی ہیں۔ تفسیر یہ ہے کہ ایک نص دوسری نص میں وارد حکم کی عملی کیفیت یا تفصیلات کی وضاحت کرے، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’آتوا الزكوٰة‘ کی تفسیر کرتے ہوئے مختلف احکام بیان فرمائے۔ استثنا یہ ہے کہ ایک عمومی حکم بیان کر کے کسی خاص صورت کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، جیسے آپ نے اندازے سے کھجوروں کا باہمی مبادلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے اس میں سے ایک خاص صورت، یعنی عرایا کو مستثنیٰ قرار دیا۔ تخصیص یہ ہے کہ ایک نص میں کوئی حکم عموم کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہو، اور دوسری نص میں کچھ افراد سے متعلق اس سے مختلف حکم بیان کر دیا جائے جس سے معلوم ہو جائے کہ ان خاص افراد کا حکم، عام ضابطے سے مختلف ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں تمام مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت فرمائی، لیکن دوسری آیت میں اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کی اباحت ذکر کر کے واضح کر دیا کہ وہ مشرک عورتوں سے نکاح کے عمومی حکم کے دائرۂ اطلاق سے خارج ہیں (الاحکام فی اصول الاحکام ۱/۸۰)۔

مذکورہ اصولوں کے تحت شرعی احکام کے باہم متعلق ہونے میں قرآن، سنت اور اجماع میں کوئی فرق نہیں اور ان میں سے کسی بھی ماخذ سے ثابت حکم کسی بھی دوسرے ماخذ میں بیان ہونے والے حکم کے ساتھ تفسیر، استثنا یا تخصیص کے اصول پر متعلق ہو سکتا ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں :

فاما وجوہ البیان التی ذکرنا من التفسیر والاستثناء والتخصیص فقد یکون بالقرآن للقرآن، وبالحدیث للقرآن، وبالاجماع للقرآن، وقد یکون بالقرآن للحدیث، وبالحدیث للحدیث وبالاجماع المنقول للحدیث.  (الاحکام ۱/۸۱)

’’ہم نے تفسیر، استثنا اور تخصیص کی صورت میں (ایک نص کے دوسری نص کی) وضاحت کرنے کے جو طریقے ذکر کیے ہیں، وہ کبھی قرآن کے ذریعے سے قرآن کی ہو سکتی ہے، کبھی حدیث کے ذریعے سے قرآن کی، کبھی اجماع کے ذریعے سے قرآن کی، کبھی قرآن کے ذریعے سے حدیث کی، کبھی حدیث کے ذریعے سے حدیث کی اور کبھی اجماع کے ذریعے سے حدیث کی۔‘‘

۸۔ ایک نص کے ذریعے سے دوسری نص کی تخصیص کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک نص میں کوئی حکم عام بیان ہوا ہو، جب کہ دوسری نص میں اس کی کچھ خاص صورتوں کا حکم اس سے مختلف بیان کیا جائے۔ اس صورت میں، مذکورہ اصولی ضابطے کی روشنی میں، لازم ہے کہ دونوں طرح کی نصوص پر عمل کیا جائے جس کا طریقہ یہ ہے کہ عام حکم سے ان صورتوں کو مستثنیٰ سمجھا جائے جن کا حکم دوسری نص میں مختلف بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً بیویوں کو انسان کے لیے حلال قرار دیا ہے، لیکن دوسری بہت سی آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا یا ماں کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا یا کسی مشرک عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔ یہ قرآن سے قرآن کی تخصیص کی مثال ہے۔ اسی حکم میں چند تخصیصات حدیث اور اجماع میں بھی بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعی رشتہ رکھنے والی تمام خواتین سے نکاح کو حرام ٹھیرایا، جب کہ اجماع سے یہ ثابت ہے کہ مردوں اور چوپایوں اور مشرک باندی سے جماع کو شریعت میں حرام تصور کیا گیا ہے (الاحکام ۱/۸۱)۔

قرآن اور حدیث میں ا س طرح کے تعلق کی چند مزید مثالیں یہ ہیں :

اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ یہ اصول بیان کیا ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے عمل کا ذمہ دار نہیں اور ہر انسان صرف اپنے ہی عمل کے لیے جواب دہ ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی صورت میں عاقلہ، یعنی قاتل کی برادری کو مشترکہ طور پر دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار قرار دیاہے (المحلی ۱۱/۴۶) ۔

اللہ تعالیٰ نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم علی الاطلاق بیان کیا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چوتھائی دینار سے کم مالیت کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اسی طرح قرآن مجید نے رضاعی ماؤں کی حرمت کا حکم عموم کے اسلوب میں ذکر کیا ہے، جب کہ احادیث میں حرمت کے ثبوت کے لیے پانچ دفعہ دودھ پلانے کی ایک زائد قید بیان کی گئی ہے (احکام الاحکام ۲/ ۲۳) ۔

قرآن مجید میں اولاد کے، وارث بننے کا حکم عموم کے اسلوب میں بیان ہونا، جب کہ احادیث میں غلام کو وارث بننے کے لیے نااہل قرار دینا اور اسی طرح مسلمان اور کافر کے لیے ایک دوسرے کا وارث بننے کی ممانعت بھی اسی نوعیت کی مثالیں ہیں اور ان میں بھی احادیث میں بیان کردہ صورتوں کو قرآن کے عام حکم سے مستثنیٰ ماننا واجب ہے (احکام الاحکام ۳/ ۱۵۲)۔

ابن حزم کے نزدیک زیادت کی طرح، تخصیص کی بحث میں بھی ایک نص کے قرآن میں اور دوسری نص کے حدیث میں ہونے سے یا کسی کے زمانی لحاظ سے مقدم یا موخر ہونے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ان میں سے کوئی بھی صورت ہو، کسی بھی نص کو ترک کیے بغیر دونوں پر عمل کرنا واجب ہے۔ لکھتے ہیں :

فقد ارینا فی ھذہ المسائل استثناء الاقل معانی من الاکثر معانی، وارینا فی ذلک اباحۃ من حظر وحظرا من اباحۃ، وحدیثا من آیۃ وآیۃ من حدیث، وآیۃ من آیۃ وحدیثا من حدیث، ولا نبالی فی ھذا الوجہ کنا نعلم ای النصین ورد اولا او لم نعلم ذلک، وسواء کان الاکثر معانی ورد اولا او ورد آخرا، کل ذلک سواء، ولا یترک واحد منھما للآخر لکن یستعملان معا کما ذکرنا. (احکام الاحکام ۲/ ۲۳)

’’ہم نے دکھایا کہ ان مسائل میں خاص نص، عام نص کے حکم میں استثنا کرتی ہے، اور کبھی حرمت کے حکم سے کسی مباح چیز کو اور کبھی اباحت کے حکم سے کسی ممنوع چیز کو مستثنیٰ کر دیتی ہے۔ یہ تخصیص آیت، حدیث میں اور حدیث، آیت میں اور اسی طرح ایک آیت دوسری آیت میں اور ایک حدیث دوسری حدیث میں کر سکتی ہے۔ اس صورت میں اس تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں کہ کون سی نص پہلے وارد ہوئی اور کون سی بعد میں۔ چاہے عام نص پہلے وارد ہوئی ہو یا بعد میں، دونوں صورتیں یکسا ں ہیں اور ان میں سے کسی نص کو ترک نہیں کیا جائے گا، بلکہ دونوں پر عمل کیا جائے گا جیسا کہ ہم نے واضح کیا۔‘‘

ابن حزم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ تخصیص کی یہ صورتیں ابتدا ہی سے اصل حکم سے مستثنیٰ ہوتی ہیں اور متکلم کے ارادے میں حکم کے دائرۂ اطلاق میں شامل نہیں ہوتیں، البتہ اس مراد کی وضاحت اسی نص میں کرنے کے بجاے اسی وقت میں ایک مستقل نص سے کی جاتی ہے۔ لکھتے ہیں :

فالآیات التی ذکروا والاحادیث المبینۃ لھا مضموم کل ذلک بعضہ الی بعض، غیر مفصول منہ شیء عن آخر، بل ھو کلہ کآیۃ واحدۃ او کلمۃ واحدۃ، ولا یجوز لاحد ان یاخذ ببعض النص الوارد دون بعض، وھذہ النصوص وان فرقت فی التلاوۃ فالتلاوۃ غیر الحکم، ولم یفرق فی الحکم قط، بل بین النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذلک مع ورود الآی معا. (احکام الاحکام ۳/۱۰۹)

’’پس جن آیات کا اور ان کی تبیین کرنے والی جن احادیث کا انھوں نے ذکر کیا، ان سب کو باہم ملایا جائے گا اور کسی کو بھی دوسرے سے جدا نہیں کیا جائے گا۔ یہ سب مل کر گویا ایک ہی آیت یا ایک ہی کلام کی حیثیت رکھتی ہیں اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ نص کے ایک حصے کو لے لے اور دوسرے حصے کو چھوڑ دے۔ یہ نصوص اگرچہ تلاوت میں الگ الگ ہیں، لیکن تلاوت حکم سے مختلف چیز ہے۔ یہ حکم کے اعتبار سے الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ آیات کے نازل ہونے کے ساتھ ہی ان کی وضاحت فرما دی تھی (جو احادیث میں منقول ہے)۔‘‘

مذکورہ اقتباس کا آخری جملہ ’بین النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذلک مع ورود الآی معا‘ قابل توجہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حزم حنفی اصولیین کے اس استدلال سے متاثر ہیں کہ کسی نص میں مذکور حکم پر زیادت یا اس میں تخصیص کو ’بیان‘ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمانی لحاظ سے اصل حکم کے مقارن ہو۔ بعض دیگر مثالوں سے بھی ابن حزم کا یہ رجحان واضح ہوتا ہے۔ مثلاً ’قُلْ هُوَ اَذًي فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ ‘ (البقرہ  ۲:  ۲۲۲)کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہاں دور رہنے سے مراد ہم بستری سے اجتناب ہے، نہ کہ بیوی سے بالکل الگ تھلگ ہو جانا۔ اس کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے ابن حزم لکھتے ہیں :

وھو بیان للآیۃ، بین علیہ الصلاۃ والسلام اثر نزولھا مراد ربہ تعالیٰ فیھا.  (المحلی ۱۰/۷۹)

’’یہ آیت کی تفسیر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے نزول کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی مراد کو واضح فرما دیا۔‘‘

۹۔ تخصیص کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک نص میں کوئی حکم عموم کے اسلوب میں بیان کیا جائے، اور دوسری نص میں کوئی دوسرا حکم اسی طرح عموم کے اسلوب میں بیان کیا جائے، یعنی دونوں نصوص دو مستقل اور باہم غیر متعلق احکام کو بیان کرتی ہوں، لیکن بعض صورتیں ایسی پائی جائیں جو دونوں حکموں کے دائرۂ اطلاق میں آ سکتی ہوں۔ ایسی صورت میں غور وفکر سے یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ اس خاص صورت میں شارع کی منشا مذکورہ دونوں عام احکام میں سے کس حکم کا اطلاق کرنا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سفر کی استطاعت رکھنے والوں پر بیت اللہ کے حج کو فرض قرار دیا ہے (النساء ۴:  ۹۷ )۔ یہ ایک عام حکم ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ سفر کی استطاعت رکھنے والے ہر فرد پر، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، حج کرنا فرض ہو۔ اس کے مقابلے میں ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے لیے ایک الگ اور مستقل حکم یہ بیان فرمایا ہے کہ ان کے لیے اپنے شوہر یا کسی محرم کے بغیر سفر پر نکلنا جائز نہیں۔ ظاہری عموم کے لحاظ سے اس کا تقاضا یہ ہے کہ خواتین کے لیے کسی بھی سفر پر، چاہے وہ بیت اللہ کے حج کے لیے ہو، محرم کے بغیر نکلنا جائز نہیں۔ یہاں حل طلب سوال یہ ہے کہ آیا شارع کے نزدیک جو خواتین سفر کی استطاعت رکھتی ہیں، لیکن انھیں محرم کی رفاقت میسر نہیں، وہ آیت کی رو سے فرضیت حج کے حکم کی مخاطب ہیں یا حدیث کی رو سے سفر کی ممانعت کی؟ دوسرے لفظوں میں کیا فرضیت حج کے عام حکم سے محرم کے میسر نہ ہونے کی صورت مستثنیٰ ہے یا اس کے برعکس، محرم کے بغیر سفر کی ممانعت کے عام حکم سے حج کا سفر مستثنیٰ ہے؟

ابن حزم کے نزدیک یہ صورت نصوص کے مابین تطبیق کے حوالے سے اہل علم کو پیش آنے والی سب سے مشکل، دقیق اور غامض صورت ہوتی ہے (من ادق ما یمکن ان یعترض اھل العلم من تالیف النصوص واغمضہ واصعبہ)، کیونکہ دونوں نصوص میں تطبیق مذکورہ دونوں طریقوں سے ممکن ہے اور ان میں سے کسی طریقے کو بھی فی نفسہٖ دوسرے سے بہتر نہیں کہا جا سکتا۔ چنانچہ ایسی صورت میں دلائل وقرائن پر مزید غور وفکر سے کسی ایک پہلو کو ترجیح دینا ضروری ہے اور مجتہدین اس میں اپنی اپنی ترجیحات قائم کر سکتے ہیں۔  ابن حزم کے نزدیک ایسی صورت میں مختلف مجتہدین کی ترجیحات میں خطا اور صواب کا تعین بہت مشکل ہے اور کسی بھی ترجیح کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ وہ عند اللہ غلط ہے (احکام الاحکام ۲/ ۲۶- ۲۷۔  ۸/۱۴۷- ۱۴۸)۔

قرآن اور سنت میں نسخ کا تعلق

۱۰۔ ابن حزم کے منہج میں چونکہ ہر قسم کی نص کے بالکل مساوی ہونے اور تعیین حکم میں یکساں اہم ہونے کا تصور بنیادی ہے، اس لیے زیادت اور تخصیص کے مباحث میں ان کا موقف نتیجے کے لحاظ سے امام شافعی اور جمہور فقہا کے نقطۂ نظر سے ہم آہنگ ہونے کے باوجود بناے استدلال کے لحاظ سے جوہری طور پر مختلف ہے۔ امام شافعی قرآن کو بیان احکام میں اصل اور سنت کو اس کی تبیین قرار دیتے ہوئے اسے گویا قرآن کی فرع اور اس پر مبنی توضیح وتشریح قرار دیتے ہیں اور اسی پہلو سے جہاں ممکن ہو، سنت میں وارد تخصیص وتبیین کی بنیاد قرآن میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ابن حزم کے زاویۂ نظر سے قرآن اور سنت کے احکام کا تعلق اصل اور فرع کے طور پر متعین کرنے اور ان کے باہمی تعلق کی تفہیم کے لیے دلالت کلام اور تخصیص کے قرائن وغیرہ کی بحث غیر ضروری ہے۔ اس نکتے کا اصل ثمرۂ اختلاف ان کے اور امام شافعی کے مابین نسخ کی بحث میں سامنے آتا ہے۔ چنانچہ وہ قرآن اور حدیث کے، شرعی حیثیت کے اعتبار سے بالکل یکساں ہونے کے تناظر میں سنت سے قرآن کے اور قرآن سے سنت کے نسخ کے جواز کے قائل ہیں اور ان کا استدلال وہی ہے کہ جب وحی ہونے میں قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں تو اثبات حکم میں بھی قرآن یا خبر متواتر یا خبر واحد میں کسی بھی لحاظ سے فرق کرنا درست نہیں۔

اس ضمن میں قرآن مجید کی آیت: ’قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْ٘ اَنْ اُبَدِّلَہ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ ‘ (یونس ۱۰:  ۱۵) سے امام شافعی کے استدلال پر ابن حزم نے بھی وہی تنقید کی ہے جو حنفی اصولیین کی طرف سے کی گئی ہے، یعنی اس آیت میں جس چیز کی نفی کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنی خواہش سے قرآن کے کسی حکم کو بدل دے۔ اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ اگر آپ کو قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعے سے کوئی حکم دیا جائے تو وہ بھی قرآن کے کسی حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے کسی بھی حکم میں تبدیلی کا فیصلہ وحی ہی کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ وحی قرآن ہی کی صورت میں ہو؛ وہ سنت کی صورت میں بھی نازل کی جا سکتی ہے (احکام الاحکام ۴/۱۰۷- ۱۰۸) ۔

ابن حزم امام شافعی کے اس موقف پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی حکم کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کو منسوخ کریں تو ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سابقہ سنت کے مقابلے میں نئی سنت بیان کریں جو سابقہ سنت کے لیے ناسخ ہو۔ ابن حزم کا اعتراض، جو انھوں نے شوافع میں سے ہی بعض اہل علم سے نقل کیا ہے، یہ ہے کہ اگر سنت میں تبدیلی کا اصل موجب اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نئے حکم پر عمل کیا ہے تو اصولی طو رپر نسخ  کی نسبت اللہ کے حکم کی طرف کرنی چاہیے نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی طرف۔ یہ ایسے ہی ہوگا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سنت سے کسی سابقہ سنت کو منسوخ کریں اور لوگ اس نئی سنت پر عمل کرنے لگیں تو نسخ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنے کے بجاے یہ کہا جائے کہ لوگوں کے عمل نے آپ کی سنت کو منسوخ کر دیا ہے (احکام الاحکام ۴/۱۱۰- ۱۱۱) ۔

۱۱۔ سنت سے قرآن کے نسخ  کی مثال کے طور پر ابن حزم رجم کی سزا کو پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں ابتداءً ا زانی عورتوں کو گھروں میں محبوس کرنے کی جو ہدایت دی گئی تھی، وہ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کے ذریعے سے، جس کا ذکر عبادہ بن صامت کی حدیث میں ہے، منسوخ کر دی گئی اور اس کی جگہ غیر شادی شدہ کے لیے کوڑوں اور جلا وطنی کی، جب کہ شادی شدہ کے لیے کوڑوں اور رجم کی سزا مقرر کر دی گئی۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ اس حکم کا ناسخ مذکورہ حدیث کے بجاے سورۂ نور کی آیت کو قرار دینا درست نہیں، کیونکہ حدیث میں ’خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا‘ کے الفاظ سے بالکل واضح ہے کہ سورۂ نساء کی عبوری ہدایت کے بعد دیا جانے والا پہلا حکم یہی ہے اور اس کا زمانۂ نزول سورۂ نور کی آیت سے پہلے ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث میں جس وحی کا حوالہ دیا ہے، وہ سورۂ نور ہی کی آیت ہے، کیونکہ سورۂ نور کی آیت میں وہ تفصیل موجود نہیں جو حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ ابن حزم اس راے کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ، بعض روایات کے مطابق، سورۂ نساء کے حکم کا ناسخ حدیث نہیں، بلکہ قرآن میں نازل ہونے والی ایک آیت تھی۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ اگر اس موقف کو قبول کیا جائے تو چونکہ محولہ آیت کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، اس لیے نتیجے کے اعتبار سے اس سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے کہ قرآن کے حکم کی تنسیخ وحی غیر متلو کے ذریعے سے کی جا سکتی ہے (احکام الاحکام ۴/۱۱۱- ۱۱۲) ۔

 قرآن سے سنت کے حکم کے نسخ کی مثال صلح حدیبیہ ہے جسے سورۂ توبہ میں کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ حکم دیا گیا کہ کسی مشرک کے ساتھ صلح کا معاہدہ جائز نہیں، سواے اس کے کہ وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے (احکام الاحکام ۴/۱۱۴)۔ اسی طرح روزے کے مہینے میں رات کے وقت کھانے پینے اور بیوی سے ہم بستری کرنے کی ممانعت کو، جو قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی، منسوخ کرتے ہوئے سورۂ بقرہ میں اس کو مباح قرار دیا گیا (احکام الاحکام ۷/۲۴)۔ ابن حزم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’انت ومالک لابیک‘  کو بھی قرآن میں احکام میراث سے منسوخ سمجھتے ہیں۔ گویا ان کی راے میں پہلے باپ کو مطلقاً بیٹے کے مال کا مالک قرار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں بیٹے کے ترکے میں دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ باپ کا بھی ایک مخصوص حصہ مقرر کر کے اس کے مطلق اختیار کو ختم کر دیا گیا (المحلی ۱۱/۳۴۵)۔

قرآن کے حکم سے سنت کے نسخ کی مثالوں میں ابن حزم نے ان تمام واقعات کو بھی شمار کیا ہے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ گستاخی کرنے یا آپ کو نقصان پہنچانے والے مختلف کافروں کو معاف کر دیا اور ان کے خلاف داروگیر نہیں کی۔ مثلاً ایک موقع پر ایک یہودی عورت نے آپ کو کھانے میں زہر ملا کر دے دیا۔ ایک اور موقع پر ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا جس کے اثرات آپ کے روز مرہ معمولات پر مرتب ہونے لگے۔ اسی طرح یہودیوں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ جب آپ کی مجلس میں آتے تو شرارت سے ’السلام علیک‘کے بجاے ’السام علیک‘ کے الفاظ کہہ کر آپ کو بددعا دیتے تھے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ کافروں سے درگزر کرنے اور انھیں معاف کرنے کا یہ حکم سورۂ توبہ میں کفار سے جزیہ وصول کرنے اور انھیں ذلیل کر کے مسلمانوں کا محکوم بنانے کے حکم سے منسوخ ہو چکا ہے (المحلی ۱۱/۴۱۷)۔

۱۲۔ سنت سے قرآن اور قرآن سے سنت کے نسخ کے جواز کا قائل ہونے کے باوجود ابن حزم اس پر اصرار کرتے ہیں کہ دو حکموں میں نسخ کا تعلق قائم کرنا اسی صورت میں درست ہے جب ایسا کرنا ناگزیر ہو، یعنی دونوں کا باہمی تعارض ناقابل حل ہو اور یقینی دلائل کی روشنی میں ایک کو ناسخ مانے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔

مثال کے طور پر قرآن مجید میں زانی مرد اور عورت کو سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن حزم کے نزدیک یہ حکم تمام زانیوں کے لیے عام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں زانی کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی۔ اس کے علاوہ عبادہ بن صامت کی روایت میں بھی دونوں طرح کے زانیوں کی سزا میں سو کوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ امام شافعی ماعز اسلمی کے واقعے کی روشنی میں شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ تاہم ابن حزم کو اس سے اتفاق نہیں۔ ان کی راے میں ماعزکے واقعے میں کوڑوں کا ذکر نہ ہونا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ اسے واقعتاً  کوڑے نہیں لگائے گئے تھے۔ گویا ابن حزم اسے عدم ذکر کی مثال سمجھتے ہیں جس سے عدم ثبوت اخذ نہیں کیا جا سکتا، جب کہ جس روایت میں کوڑے نہ لگائے جانے کی تصریح ہے، ابن حزم کے نزدیک وہ ساقط الاعتبار روایت ہے۔ برسبیل تنزل ابن حزم کہتے ہیں کہ اگر ماعز کو واقعتاً  کوڑے نہ لگائے گئے ہوں تو پھر ممکن ہے کہ یہ واقعہ سورۂ نورکے نزول سے پہلے کا ہو، جب کہ اس کے بعد سورۂ نورمیں کسی فرق کے بغیر ہر زانی کو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ہو (احکام الاحکام ۲/ ۶۷- ۶۸)۔

رشتہ داروں کے حق میں وصیت کے مسئلے میں ابن حزم نے اس اصول کا انطباق یوں کیا ہے کہ یہ بات معلوم ہے کہ ابتداے اسلام میں والدین اور اقربا کے متعلق ترکے میں وصیت کرنا واجب نہیں تھا۔ پھر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اقربا کے لیے وصیت کرنے کو فرض قرار دیا۔ اس کے بعد سورۂ نساء میں وراثت میں والدین اور بعض اقربا کے حصے مقرر کر دیے گئے، جب کہ آیت وصیت کے تحت ان کے حق میں ایک تہائی مال میں سے وصیت کرنے کا حکم بھی باقی رہا۔ ابن حزم، احکام میراث کو آیت وصیت کے لیے ناسخ نہیں سمجھتے اور ان کا کہنا ہے کہ ازروے میراث ترکے میں حصہ ملنے اور ازروے وصیت مال کا حق دار ہونے میں کوئی تضاد نہیں اور یہ دونوں بیک وقت قابل عمل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد جن اقربا (یعنی والدین، اولاد اور زوجین وغیرہ) کے باقاعدہ حصے شریعت میں طے کر دیے گئے ہیں، ان کے حق میں وصیت کی اجازت سنت کے ذریعے سے منسوخ کر دی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’لا وصیۃ لوارث‘ کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرما دی۔ البتہ یہ تنسیخ چونکہ صرف وارث بننے والے اقربا کے حوالے سے ہے، اس لیے ایسے اقربا جن کا ترکے میں کوئی متعین حصہ مقرر نہیں کیا گیا، ان کے لیے وصیت کرنا سابقہ حکم کے تحت اب بھی فرض ہے اور اس میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا (احکام الاحکام ۴/۹۲، ۱۱۳- ۱۱۴) ۔

۱۳۔ کسی حکم کے نسخ کی تحقیق کا ایک اہم اصول ابن حزم کے نزدیک یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ اباحت اصلیہ کے معارض ہے یا اس کے مطابق۔ چنانچہ اگر نصوص میں دو متعارض احکام وارد ہوں اور ان میں سے ایک اباحت اصلیہ کے مطابق اور دوسرا اس کے خلاف ہو تو دوسرے حکم کا ناسخ ہونا یقینی ہے اور اس ضمن میں نصوص کے زمانی تقدم وتاخر کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ اس اصول کے اطلاق میں بھی ابن حزم، اپنے بنیادی تصور کے مطابق، آیت، حدیث مشہور اور خبر واحد کو ایک ہی درجے میں رکھتے ہوئے بعض مثالوں میں اخبار آحاد کو قرآن کے حکم کا ناسخ قرار دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر مختلف احادیث میں بیان ہوا ہے کہ دودھ چھڑوا دینے کے بعد، یعنی مدت رضاعت گزر جانے کے بعد بچے کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ تاہم ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ حذیفہ کے منہ بولے بیٹے سالم کو، جو بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے، دودھ پلا دیں اور ایسا کرنے سے سالم ان کا رضاعی بیٹا بن جائے گا اور اس سے غیر محرم کی طرح پردہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جمہور فقہا مذکورہ نصوص کی روشنی میں اس واقعے کو سالم کی خصوصیت پر محمول کرتے ہوئے رضاعت سے متعلق شریعت کا اصل حکم اسی کو قرار دیتے ہیں کہ وہ بچے کی دودھ پینے کی عمر میں، یعنی دو سال کے اندر پلایا گیا ہو، لیکن ابن حزم کی راے یہاں جمہور سے مختلف ہے اور وہ سالم کے واقعے کی روشنی میں بلوغت کی عمر میں دودھ پینے کو بھی حرمت رضاعت کے ثبوت کا موجب مانتے ہیں۔

اس بحث میں بعض اہل علم نے مدت رضاعت کی تحدید بیان کرنے والی احادیث کو سالم کے مذکورہ واقعہ کے لیے ناسخ قرار دیا ہے۔ ابن حزم اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ اگر نسخ کے اصول پر متعلقہ نصوص کی تشریح کی جائے تو مذکورہ احادیث نہیں، بلکہ سالم کا واقعہ ان احادیث کے لیے ناسخ ہے، کیونکہ اباحت اصلیہ کے معارض ہونے کے لحاظ سے یہ حکم سب سے آخری حکم بنتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اصولاً رضاعت، کسی قسم کی حرمت کا موجب نہیں ہو سکتی، لیکن شریعت نے اباحت اصلیہ کے اس حکم کو تبدیل کر کے رضاعت کو موجب حرمت قرار دیا اور رضاعت کی مدت دو سال مقرر کی۔ یوں اباحت اصلیہ کا دائرہ ایک درجے تک محدود کر دیا گیا۔ اگر اس مسئلے سے متعلق صرف یہی نصوص ہوتے تو حرمت رضاعت کو دو سال تک محدود قرار دینا ہی آخری حکم ہوتا۔ تاہم سالم کے واقعے میں بلوغت کی عمر میں دودھ پلانے سے حرمت رضاعت کا اثبات، اباحت اصلیہ کے دائرے کو مزید محدود کر دیتا ہے اور کسی بھی عمر میں دودھ پینے کو موجب حرمت قرار دیتا ہے۔ یوں اباحت اصلیہ کے خلاف ہونے کے پہلو سے یہی حکم زمانی ترتیب کے لحاظ سے آخری حکم بنتا ہے، اس لیے یہ مدت رضاعت کی تحدید کا ناسخ ہے (احکام الاحکام ۳/ ۱۳۳۔ ۴/۸۷- ۸۸۔ ۷/۱۱- ۱۲)۔

ابن حزم، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، ازروے میراث ترکے میں حصہ نہ پانے والے اقربا کے حق میں وصیت کی فرضیت کے علیٰ حالہ قائم ہونے کے قائل ہیں۔ تاہم عمران بن حصین کی ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک شخص نے والدین واقربا کے متعلق وصیت کیے بغیر اپنے چھ غلاموں کو مرنے کے بعد آزاد قرار دے دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وصیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک تہائی تک محدود کر دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین واقربا کے حق میں وصیت کرنا واجب نہیں۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ چونکہ یہ حدیث اباحت اصلیہ کے حکم کے مطابق ہے، اس لیے اسے قرآن میں وصیت کی فرضیت سے زمانی طور پر متقدم اور منسوخ تصور کیا جائے گا، الاّ یہ کہ کوئی واضح اور صریح دلیل مل جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ وصیت کی فرضیت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ تھا (احکام الاحکام ۴/۸۶)۔

(جاری)