اپریل ۲۰۱۹ء

نسل پرستانہ دہشت گردی اور مغربی معاشرےمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
”سورۃ البینۃ“ ۔ اصحابِ تشکیک کے لیے نسخہ شفاءمولانا محمد عبد اللہ شارق 
نیشنل جوڈیشل پالیسی پر پنجاب بار کونسل کا رد عملچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام پر مسلم مغربی رویے: جورام کلاورین کے قبولِ اسلام کے تناظر میںڈاکٹر محمد شہباز منج 
سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴)محمد عمار خان ناصر 

نسل پرستانہ دہشت گردی اور مغربی معاشرے

محمد عمار خان ناصر

(نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے واقعے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر چند مختصر تبصرے لکھے گئے  تھے جنھیں ایک مناسب ترتیب سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے)

سفید فام قوموں میں نسل پرستی جڑ سے ختم نہیں ہوئی، اسے زنجیریں پہنائی گئی ہیں۔ مسیحیت کی انسان دوست تعلیمات پر مبنی طویل جدوجہد بھی نازی ازم جیسے فلسفوں کو ابھرنے سے نہیں روک سکیں۔ ہٹلر کوئی ملحد نہیں تھا، کٹڑ نسل پرست ہونے کے ساتھ مسیحی بھی تھا اور دونوں کے امتزاج سے اس نے یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا جواز تیار کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم دنیا میں بھی سامی دشمن رجحان مغرب ہی کی وساطت سے متعارف ہوا ہے، اس پر مطالعات موجود ہیں کہ بیسیویں صدی سے پہلے یہودیوں کو ایک نسل کے طور پر خطرہ سمجھنے کے کوئی قابل ذکر آثار اسلامی دنیا میں نہیں پائے جاتے تھے۔ جدید مغرب میں سے براعظم آسٹریلیا میں سفید نسل پرستی غالبا سب سے مضبوط ہے، لیکن یورپی ممالک اور امریکا میں بھی اس کی قابل لحاظ موجودگی ہے۔ اسلامو فوبیا کے مظہر کا منبع بنیادی طور یہی حلقے ہیں۔ امریکا میں اس کا حالیہ ظہور ٹرمپ کی کامیابی کی صورت میں ہوا ہے جو مقامی سفید فام آبادی کی طرف سے وسائل میں امیگرنٹس کی بڑھتی ہوئی شرکت پر ناراضی کا اظہار ہے۔ 
مذہب کے عنوان سے  کی جانے والی دہشت گردی اور نسل پرستانہ دہشت گردی، دونوں کو ایک ہی مظہر کا تنوع سمجھنا درست نہیں، اس سے تشخیص اور علاج میں بہت بنیادی غلطی پیدا ہو سکتی ہے۔ کمزور قوموں میں دہشت گردی کا مظہر، مغرب کی سیاسی طاقت اور جدیدیت کے خلاف رد عمل ہے، اور سفید فام قوموں میں، یہ نسلی احساس برتری کا اور اپنے وسائل میں غیروں کی شرکت پر غم وغصہ کا اظہار ہے۔ دونوں کی نوعیت، محرکات، قوت وتائید کے مصادر، بالکل الگ الگ ہیں۔ دونوں کا مقابلہ بھی ایک ہی عنوان سے نہیں ہو سکتا۔  یہ سوچ کسی ایک مذہب کی نہیں، بحیثیت مجموعی انسانیت کی دشمن ہے۔ اسے مذہبی تقسیم کا رنگ دینے سے، جو بلاشبہ اس میں ایک عنصر کے طور پر موجود ہے، اس کی مزاحمت کا اخلاقی مقدمہ اور سیاسی تائید، دونوں کمزور ہوں گے۔ اس پہلو کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے کردار سے شاہ حبشہ نجاشی یاد آ گئے۔ اس سے پہلے جرمنی کی خاتون وزیر اعظم نے شامی مہاجرین کے لیے جس طرح دروازے کھولے، اس سے بھی یہی یاد تازہ ہوئی تھی۔ اللہ تعالی ٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
’’نجاشی ” حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا، یعنی یہ ان کا نام نہیں تھا۔ تاریخی معلومات کے مطابق عہد نبوی میں حبشہ میں دو نجاشی حکمران ہوئے۔ ایک وہ جنھوں نے مکی دور میں مہاجرین کو پناہ دی اور ایمان کو مخفی رکھتے ہوئے مسلمان بھی ہو گئے۔ ان کا نام اصحمہ بن الابجر تھا۔ انھوں نے ہی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ، جو اس وقت حبشہ میں مہاجر تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کروایا اور آپ کی طرف سے اپنی جیب سے چار ہزار درہم کا مہر ادا کیا تھا۔ ان کا انتقال عہد نبوی میں ہی ہو گیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں، بذریعہ وحی اطلاع ملنے پر ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔ غالبا انھی کے دور میں کسی دوسرے مدعی اقتدار نے نجاشی پر حملہ کر کے حکومت چھیننے کی کوشش کی تو سیدنا زبیر اور دوسرے مسلمانوں نے نجاشی کی فوج میں شامل ہو کر اس کے خلاف جنگ کی اور ان کا دفاع کیا تھا۔
ان کے انتقال کے بعد ایک دوسرے نجاشی برسراقتدار آئے جن کا نام تاریخی مآخذ میں مذکور نہیں۔ ان کا برتاو بھی مسلمانوں کے ساتھ عادلانہ رہا، لیکن وہ مسلمان نہیں ہوئے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مختلف بادشاہوں کو قبول اسلام کی دعوت کا خط لکھا، ان میں یہ نجاشی بھی شامل تھے جو اسلام نہیں لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حبشہ کے اسی حسن سلوک کے تناظر میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ وہ آپ کے بعد جب فتوحات کے لیے نکلیں تو اہل حبشہ کے خلاف کوئی اقدام نہ کریں، الا یہ کہ خود اہل حبشہ مسلمانوں کے لیے جنگ کی ابتدا کریں۔

نیوزی لینڈ میں حکومت اور سوسائٹی کے ردعمل سے یہ بھی یاد آیا کہ اسلامی تاریخ میں بعینہ اس طرح کا ذمہ دارانہ کردار مسلمان علماء وفقہاء ادا کیا کرتے تھے جس کی کچھ جھلک الشریعہ کے مئی ۲٠۱۷ء کے شمارے میں ’’اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء وفقہاء کا عملی کردار”کے عنوان سے  پیش کی گئی تھی۔ اے کاش، ہم اپنے ظلم وجبر کی آماج گاہ معاشروں میں اس کردار کا احیاء کر سکیں۔ 
ہمارے ہاں اقلیتوں کے مسائل دیگر کئی مسائل کی طرح مذہبی اور لبرل پالیٹکس میں شٹل کاک بنے ہوئے ہیں۔ اصل مسئلہ وہیں رہتا ہے، اور مذہبی اور لبرل سیاست کے لیے ایندھن فراہم کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنائے جانے کی رپورٹس ایک عرصے سے گردش کر رہی ہیں۔ لبرلز ان رپورٹس کو فیس ویلیو پر لے کر اپنا کام چلاتے ہیں، اور اسلام پسند اپنی جگہ بیٹھے ہوئے انھیں پروپیگنڈا کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی کو توفیق نہیں کہ واقعات کی تصدیق کے لیے کوئی اقدام کرے اور واقعی صورت حال کو سامنے لائے۔ قومی سطح پر جتنی مجرمانہ غفلت ہمارے ہاں اقلیتوں کے حوالے سے ہوئی ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں۔ کم سے کم ایک تہائی آبادی مختصر ہو کر دو تین فیصد رہ گئی ہے اور وہ بھی دہشت کی فضا میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ پاور پالیٹکس کا ایشو نہیں ہے، ایک قومی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے سامنے جواب دہ نہ بھی ہوں، روز قیامت کو خود اللہ کے پیغمبر جب اقلیتوں کی طرف سے مدعی بن کر کھڑے ہوں گے تو یہ سیادت وقیادت کس کام آئے گی؟

سچی بات ہے کہ انسانی رویوں میں اتنے واضح فرق کی اہمیت اور انسانی نفسیات پر اس کے اثرات کو جھٹلانے کے لیے یہ ’’اعتقادی ”قضیہ قطعا ناکافی ہے کہ عمل جتنا بھی اچھا ہو، ایمان کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایک خاص سیاق میں اور کئی قیود کے ساتھ یہ بات علم الکلام میں درست ہو سکتی ہے، لیکن انسانی سطح پر اخلاقی رویوں کے تقابل کی بحث میں یہ مقدمہ پیش کر کے ہم خدا کے تصور کو بھی مجروح کر رہے ہیں اور ایمان کو بھی مزید مشکل بنا رہے ہیں، اور اس کا نفسیاتی محرک صرف یہ ہے کہ ہم اپنی اجتماعی بدعملی پر خود کو شرمندگی سے بچا سکیں۔ یقین جانیے، ہمیں ڈرنا چاہیے کہ جس نام کے ’’ایمان ” پر ہم خود کو ’’خیر امت”باور کیے بیٹھے ہیں، اس کی اس ناقدری پر خدا نے یہ نعمت بھی دنیا کی طاقت ور اور انسانی اخلاقیات کے لحاظ سے ہم سے بہتر قوموں کو دے دینے کا فیصلہ کر لیا تو ہماری جگہ دنیا اور آخرت میں کہاں ہوگی؟
وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

استکبر عن“ کا ترجمہ

لفظ استکبر کا اصل استعمال عن کے بغیر ہوتا ہے، اس کے ساتھ عن آنے سے اعراض کے مفہوم کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دو مفہوم جمع ہوجاتے ہیں، ایک تکبر کرنا اور دوسرا اعراض کرنا۔ تکبر کرنے اور اعراض کرنے میں باہمی تعلق یہ ہے کہ تکبر کرنے کی وجہ سے انسان کسی چیز سے اعراض کرتا ہے، یعنی تکبر اعراض کا سبب ہوتا ہے۔ غرض استکبر عن کا مکمل ترجمہ وہ ہے جس میں یہ دونوں مفہوم ادا ہورہے ہوں۔اس کی روشنی میں جب ہم درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ترجمے اس لفظ کا مکمل مفہوم ادا نہیں کررہے ہیں۔

(۱) وَکُنتُم عَن آیَاتِہِ تَستَکبِرُون۔ (الانعام: 93)

“ اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے” (سید مودودی)
“اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے ” (احمد رضا خان)
“اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے” (فتح محمد جالندھری)
“اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے” (محمد جوناگڑھی)
“اور تم متکبرانہ اس کی آیات سے اعراض کرتے تھے” (امین احسن اصلاحی)
صرف آخری ترجمہ میں زیر نظر لفظ کامکمل ترجمہ کیا گیا۔

(۲) وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاستَکبَرُوا عَنہَا اولَئِکَ اَصحَابُ النَّار۔ (الاعراف: 36)

“اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے” (سید مودودی)
“اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہ لوگ دوزخ والے ہوں گے” (محمد جوناگڑھی)
“اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں” (احمد رضا خاں)
“اور جو میری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کرکے ان سے اعراض کریں گے وہی دوزخ والے ہیں” (امین احسن اصلاحی)
صرف آخری ترجمہ میں استکبروا عنھا کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔
ایک توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ آیت مذکورہ کے آخر حصے کا جن لوگوں نے ترجمہ“وہی دوزخ والے ”کیا ہے، درست نہیں کیا ہے، کیوں کہ یہاں اس حصر کے لئے کوئی علامت نہیں ہے، صحیح ترجمہ ووہ دوزخ والے ”ہے۔

(۳) اِنَّ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاستَکبَرُوا عَنہَا لاَ تُفَتَّحُ لَہُم اَبوَابُ السَّمَاء۔ (الاعراف: 40)

“وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے” (احمد رضا خاں)
“یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے” (سید مودودی)
“جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے” (فتح محمد جالندھری)
“جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے” (محمد جوناگڑھی)
“بے شک جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے منھ موڑا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے” (امین احسن اصلاحی)
صرف آخری ترجمہ میں استکبروا عنھا کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

(۴)  ِانَّ الَّذِینَ عِندَ رَبِّکَ لاَ یَستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِہ۔ (الاعراف: 206)

“بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے” (احمد رضا خان)
“جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے” (فتح محمد جالندھری)
“یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے” (محمد جوناگڑھی)
“بے شک جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی کرنے سے نہیں اکڑتے” (امین احسن اصلاحی)
“جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے” (سید مودودی)
آخر الذکر ترجمہ میں زیر نظرلفظ کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

(۵) وَمَن عِندَہُ لَا یَستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِہِ وَلَا یَستَحسِرُون۔ (الانبیاء: 19)

“اور جو اس کے نزدیک رہتے ہیں بڑائی نہیں کرتے اس کی عبادت سے، اور نہیں کرتے کاہلی” (شاہ عبدالقادر)
“اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں” (احمد رضا خان)
“اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں” (فتح محمد جالندھری)
“اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں” (محمد جوناگڑھی)
“اور جو اس کے پاس ہیں۔ وہ اس کی بندگی سے نہ سرتابی کرتے اور نہ تھکتے” (امین احسن اصلاحی)
“اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں” (سید مودودی)
“اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ تو اپنے کو بڑا سمجھ کر اس کی عبادت سے منھ موڑتے ہیں ، اور نہ وہ تھکتے ہیں” (محمد فاروق خاں)
صرف آخر الذکر دو ترجموں میں زیر نظرلفظ کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔
اس آیت کے آخر میں ولا یستحسرون آیا ہے- استحسار کا ترجمہ کچھ لوگوں نے تھکنا کیا ہے اور کچھ لوگوں نے اکتانا کیاہے، شاہ عبدالقادر نے ترجمہ کیا ہے: “اور نہیں کرتے کاہلی” ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں: “وہ سست یا ڈھیلے نہیں پڑتے”

(۶) ِانَّ الَّذِینَ یَستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِی سَیَدخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ۔ (غافر: 60)

“بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر”  (احمد رضا خان)
“یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے” (محمد جوناگڑھی)
“جو لوگ میری بندگی سے سرتابی کررہے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پڑیں گے”  (امین احسن اصلاحی)
“جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے”  (فتح محمد جالندھری، صرف اس ایک مقام پر اس طرح لفظ کی مکمل رعایت کے ساتھ ترجمہ کیا ہے)
“جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے”  (سید مودودی)
صرف آخر الذکر دونوں ترجموں میں زیر نظرلفظ کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔
اس آیت کے آخر میں داخرین آیا ہے جو ترکیب نحوی کے لحاظ سے حال ہے، اور اس کا ترجمہ عام طور سے ذلیل ہوکرکیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ وہ حال ہے جو فعل کی انجام دہی کے وقت نہیں بلکہ فعل کی انجام دہی کے بعد والے زمانے میں واقع ہوتا ہے، ۔اس کے مطابق ترجمہ ہوگا: “جہنم میں داخل ہوکر ذلیل وخوار ہورہے ہوں گے” ۔ قرآن مجید میں اس طرح کے حال کی متعدد مثالیں ہیں: جیسے: ولوا الی قومھم منذرین کا صحیح ترجمہ ہے“وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر انذار کرنے لگے” 
 ”استکبر عن“ کے سلسلے میں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ تین مرتبہ یہ تعبیر آیات کے سلسلے میں آئی ہے، اور تین ہی مرتبہ یہ تعبیر عبادت کے سلسلے میں آئی ہے۔ اس کے ساتھ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں  آیات کے سلسلے میں آیا ہے، وہاں صاحب تدبر نے ترجمہ کرتے ہوئے لفظ کی مکمل رعایت کی ہے، اور جہاں  ”استکبر عن“ عبادت کے سلسلے میں آیا ہے وہاں صاحب تفہیم نے ترجمہ کرتے ہوئے لفظ کی مکمل رعایت کی ہے۔
مذکورہ بالا تمام ترجموں میں دو حضرات (فتح محمد جالندھری، محمد فاروق خاں) نے صرف ایک ایک بار لفظ مذکور کا مکمل ترجمہ کیا، باقی پانچ مقامات پر انہوں نے بھی عام مترجمین کی راہ اپنائی۔

ماکنتم تستکبرون“ کا ترجمہ

قرآن مجید میں لفظ استکبار مختلف صیغوں کے ساتھ متعدد مقامات آیا ہے۔ اس کا ترجمہ ہر جگہ سب لوگوں نے گھمنڈ اور تکبر کیا ہے، صرف درج ذیل ایک مقام پر اس کا ترجمہ صاحب تفہیم نے عام لوگوں سے مختلف کردیا ہے:

مَا اَغنَی عَنکُم جَمعُکُم وَمَا کُنتُم تَستَکبِرُون۔ (الاعراف: 48)

“آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے” (سید مودودی)
اس ترجمہ میں ما کو مصدریہ ماننے کے بجائے موصولہ مانا گیا ہے۔ استکبر کا مفہوم تکبر کرنے کے بجائے بڑا سمجھنا لیا گیا ہے۔ لغت کے لحاظ سے اس ترجمہ کی گنجائش موجود ہے، بعض عربی تفسیروں میں بھی اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے۔ تاہم قرآن مجید میں اس مفہوم میں یہ لفظ کہیں اور استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس لیے موزوں ترجمہ وہی لگتا ہے جو عام طور سے کیا گیا ہے، جیسے: 
“تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے ” (احمد رضا خان)
شاہ عبدالقادر کا ترجمہ ہے: “کیا کام آیا تم کو جمع کرنا اور جو تم تکبر کرتے تھے ” اس ترجمے میں جمعکم کا ترجمہ جمع کرنا کیا ہے۔ تفاسیر میں یہ مفہوم بھی ملتا ہے، گوکہ شاہ عبدالقادر کے بعد عام طورسے اس ترجمہ کو اختیار نہیں کیا گیا ہے، اور تمہاری جمعیت یا اس جیسا ترجمہ کیا گیا ہے، اور یہی زیادہ مناسب لگتا ہے ۔

رعد کا ترجمہ

رعد کا لفظ قرآن میں دو جگہ آیا ہے، موخر الذکر مقام پر تو تمام لوگوں نے اس کا ترجمہ گرج کیا ہے، لیکن اول الذکر مقام پر بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ کڑک کردیا ہے۔ لغت کی رو سے رعد کا صحیح ترجمہ گرج ہی ہے۔ جن لوگوں نے پہلے مقام پر اس کا ترجمہ کڑک کیا ہے انہوں نے بھی دوسرے مقام پر گرج ہی کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مقام پر ان سے لغزش ہوگئی۔ دونوں مقامات کے ترجمے ملاحظہ ہوں:

(۱) اَو کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِیہِ ظُلُمَات وَرَعد وَبَرق۔ (البقرة: 19)

“یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے” (سید مودودی)
“یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو۔ اس میں تاریکی ہو، کڑک اور چمک ہو” (امین احسن اصلاحی)
“یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ ان میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک” (احمد رضا خان)
“یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو” (محمد جوناگڑھی، صیب کا ترجمہ برسات درست نہیں ہے، بارش ہونا چاہئے)

(۲) وَیُسَبِّحُ الرَّعدُ بِحَمدِہِ۔ (الرعد: 13)

“بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے” (سید مودودی)
“اور بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے” (امین احسن اصلاحی)
“اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے ” (احمد رضا خان)
“گرج اس کی تسبیح وتعریف کرتی ہے” (محمد جوناگڑھی،“تسبیح وتعریف کرتی ہے ”ترجمہ کرنا درست نہیں ہے، یہاں دو مستقل فعل نہیں ہیں، مستقل فعل یسبح ہے اور بحمدہ اس سے متعلق ہے، صحیح ترجمہ ہے “حمد کے ساتھ تعریف کرتی ہے”)۔
(جاری)

”سورۃ البینۃ“ ۔ اصحابِ تشکیک کے لیے نسخہ شفاء

مولانا محمد عبد اللہ شارق

“سورۃ البینہ” کی تفسیری مشکلات

متاخرین اہلِ تفسیر میں سے بعض حضرات کو “سورۃ البینہ” کی ابتدائی چند آیات کے ایک “منظم ومربوط معنی” کا تعین کرنے میں کچھ ابہامات اور اشکالات پیدا ہوئے ہیں اور علامہ آلوسی نے امام واحدی سے نقل کیا ہے کہ یہ مقام قرآن کے “اصعب” (نسبتا مشکل) مقامات میں سے ایک ہے (1)، نیز خود راقم کو بھی اس مقام پر کسی منظم، بے تکلف اوربے ساختہ مفہوم ومراد کا تعین کرنے اور اس کی سبق آموزی کو سمجھنے میں دقت پیش آتی رہی۔امام رازی سے لے کر اردو کے معاصر مفسرین تک بعض حضرات نے گو خود ابہامات کا اظہار کرنے والوں پر حیرت کا اظہار کیا اور  لکھا کہ یہاں کوئی ابہام نہیں ہے)2(، لیکن راقم کو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تشفی جس کتاب سے حاصل ہوئی، وہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تفسیر “فتح العزیز” ہےجس میں کوئی نیا قول اختیار کرنے کی بجائے ماضی کے اہلِ علم کا ہی ایک قول اختیار کیا گیا اور مثال کے ذریعہ اس کی توضیح کا حق ادا کیا گیا جسے پڑھ کر بے اختیار علامہ انور شاہ کشمیری کا قول یاد آیا کہ اگر تفسیرِ عزیزی مکمل ہوجاتی تو سب تفاسیر سے بے نیاز کردیتی۔
قرآنی مشکلات کی نوعیت وحقیقت بہت دفعہ“آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل” کی طرح ہوتی ہے یعنی اپنے علم وتجربہ کی کمی کی وجہ سے آدمی ایک پہاڑ جیسے نکتہ کو فراموش کر رہا ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے ذہنی اختلال پیدا ہوتا ہے، پھر جیسے ہی وہ نکتہ سامنے آتا ہے، ساری الجھن دور ہوجاتی ہے۔ “سورۃ البینہ” کی ابتدائی آیات کا معاملہ بھی یہی ہے، ان میں سے سب سے پہلی آیت کا مفہوم سمجھنے میں عموما ابہام پیدا ہوتا ہے اور پھر وہی ابہام باقی آیات کے ربطِ معانی کو سمجھنے میں بھی مخل ہوتا ہے۔ ہم یہاں دیگر مفسرین کی توضیحات کے “مالہ وماعلیہ” کی طرف جانے کی بجائے ابہامات سے معری صرف اس مفہوم کی توضیح پر اکتفاء کریں گے جو تفسیرِ عزیز کی مدد سے سمجھ میں آیا ہے۔ واضح رہے کہ تفسیرِ عزیزی میں “سورۃ البینہ” کی توضیح کے ضمن میں جو قول اختیار کیا گیا ہے، وہ کوئی نیا قول نہیں، بلکہ صرف تعبیر میں تازہ اور سہل محسوس ہوتا ہے۔ نیز یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہاں جو کچھ عرض کیا گیا ہے، وہ سب کا سب تفسیرِ عزیزی سے ماخوذ نہیں، بلکہ تفسیرِ عزیزی کا کردار صرف یہ ہے کہ اس سے اس بنیادی ابہام کو دور کرنے میں مدد ملی ہے جو یہاں خلجان کا باعث بنتا ہے، باقی جو کچھ یہاں عرض کیا گیا ہے، وہ راقم کی طرف سے ہے۔

ایک حدیث

حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ “مجھے اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے “سورۃ البینہ” پڑھوں، انہوں نے عرض کیا کہ کیا میرا نام لیا ہے؟ فرمایا: جی ہاں، یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اپنی اس عزت افزائی پر وفورِ جذبات کی وجہ سے رونے لگے۔” (3) آئیے اس عظیم الشان سورہ کے معانی ومفاہیم اور متعلقات پر کچھ غور کرتے ہیں۔

ابتدائی تین آیات

ارشاد ہے:
”لمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَھلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّی تَأْتِيَھمُ الْبَيِّنَۃ ° رَسُولٌ مِّنَ اللَّہِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَھرَةً ° فِيھا كُتُبٌ قَيِّمَۃ °“
یعنی “مشرکین اور اہلِ کتاب میں سے جو مرتکبینِ کفر ہیں، یہ اپنی روش سے باز آنے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس کوئی بینہ (یعنی دلیلِ روشن اور حجتِ واضحہ) نہ آجائے، سو (یہ دلیل آچکی ہے) یہ اللہ کا رسول موجود ہے جو ان پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے جن میں نہایت مستقیم باتیں تحریر ہیں۔”
مفسرین کی ایک جماعت کے مطابق اولین آیت کا مفہوم اور پسِ منظر یہ ہے کہ نزولِ قرآن سے قبل ماضی قریب کے زمانہ میں اہلِ کتاب (یہود ونصاری) اور مشرکین کی کٹ حجتی اپنی اتنہاء کو پہنچ چکی تھی، نصیحت وموعظت کی باتیں ان کے لیے بے اثر ہوچکی تھیں اور کسی بھی مصلحانہ آواز کے جواب میں ان کی ایک ہی رٹ ہوتی تھی کہ جب تک حجتِ واضحہ اور کوئی رسول نہ آجائے ہم اپنی ڈگر سے باز آنے والے نہیں، نیز اپنے ضمیر کو بھی وہ یہی سمجھا کر مطمئن کر لیا کرتے تھے کہ چونکہ ہمارے پاس کوئی نبی موجود نہیں جو ہماری صحیح راہ نمائی کرے، اس لیے ہم کسی حکم کے مکلف اور پابند نہیں۔ سو اولین آیت میں اہلِ کفر کو اپنی اسی سابقہ کیفیت کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ کس طرح نبی کی غیر موجودگی کا بہانہ بناکر اپنی گم راہی کو جواز دیا کرتےتھے۔

بعثتِ محمدی سے قبل طالبین کے لیے سامانِ ہدایت موجود

واضح رہے کہ بعثتِ محمدی سے قبل اہلِ کتاب سب کے سب گم راہ نہیں ہوگئے تھے، بلکہ ان میں دینِ حنیف کی اتباع  کرنے والے اکادکا صالح نمونے موجود رہےجس کی تصریح قرآن میں بھی موجود ہے، جبکہ خود مشرکین میں بھی ایسی مثالیں اخیر دور تک موجود رہی تھیں، مثلا زید بن عمرو بن نفیل جن کے بارہ میں حضرت ابو بکر صدیق کی دختر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نقل کرتی ہیں کہ میں نے زید کو خود دیکھا کہ وہ کعبہ کی دیوار سے پشت لگا کر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ “اے جماعتِ قریش! میرے سوا تم میں سے کوئی شخص دینِ ابراہیم پر نہیں”، یہ موحد تھے، خدا ترس تھے اور ان بچیوں کی کفالت اپنے ذمہ لے لیا کرتے تھے جنہیں ان کے باپ قتل کرنے کے درپے ہوتے، لیکن بلوغت کے بعد ان کے باپوں کو اجازت ہوتی کہ چاہیں تو اپنے پاس لے جائیں ورنہ یہیں رہنے دیں(4)، نیز بتوں کے نام پر جان ور ذبح کرنے پہ نکیر کرتے تھے اور خود ان کا گوشت کھانے سے پرہیز کرتے تھے،(5)، نیز بنو اسماعیل سے ظاہر ہونے والے نبی کے انتظار میں رہتے تھے۔(6)  تاہم یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل وفات پاگئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از بعثت ان کے جنتی ہونے کی بشارت دی(7)۔ ان کے بیٹے سعید بن زید نے اسلام قبول کیا اور وہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔
ہم یہاں عرض یہ کرنا چاہ رہے ہیں کہ ان جیسے صالحین اخیر دور تک اہل کتاب میں بھی رہے اور مشرکین میں بھی، لیکن ان جیسوں کی مصلحانہ آوازیں اپنی قوم کے اندر کوئی خاص اثر نہیں رکھتی تھیں اور قوم کی طرف سے ان کے جواب میں مختلف حیلے بہانے بنائے جاتے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب تک ان کے پاس حجتِ واضحہ اور دلیلِ روشن نہیں آجاتی یا وہ رسول نہیں آجاتا جس کا ذکر اہلِ کتاب کے ہاں  موجود ہے، ہم کسی صورت اپنی روش سے باز آنے والے نہیں۔ وہ یہ بھول رہے تھے کہ ہر دور میں ہر علاقہ کے اندر کسی رسول کا موجود ہونا اور اس کا ہر ہر آدمی کے دروازہ پر بار بار خود چل کے جانا ضروری نہیں، بلکہ انسان کے پاس کسی بھی طریقہ سے نبی کی دعوت کا پہنچ جانا، حق کا منکشف ہوجانا  اور اس حوالہ سے سوچنے کا داعیہ دل میں پیدا ہوجانا خود اس کو بھی ذمہ دار بناتا ہے کہ وہ حق کے لیے پیش قدمی کرے۔ سو یہ دعوت اہلِ کتاب کے پاس بھی موجود تھی اور مشرکین کے اندر بھی آخر تک ایسے افراد موجود رہے جو یا تو بنی اسرائیل ہی کے انبیاء پر ایمان لے آکر اپنی اصلاح کرتے رہے جس کی ایک واضح مثال مکہ ہی میں موجود ورقہ بن نوفل ہیں جو صحیح العقیدہ مسیحی تھے یا پھر  اصل دینِ ابراہیمی کی پیروری کرکے اپنی اصلاح کرتے رہے جس کی واضح مثال زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔  واضح رہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوتے تھے، اگر اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی  فرد نے انبیاءِ بنی اسرائیل کے زیرِ سایہ اپنی اصلاح کی تو یقینا یہ بھی جنتی ہے لیکن وہ اس کا مکلف نہیں، بلکہ زید بن عمرو بن نفیل جیسے لوگ بھی از روئے حدیث جنت ہی میں جائیں گے جنہوں نے دینِ ابراہیمی کے معلوم اجزاء کی پیروی کی۔

اہلِ کفر کی حیلہ سازی

یہ حیلہ سازی کہ ہم کسی حجتِ واضحہ اور رسول کو دیکھے بغیر ایمان نہ لائیں گے، اپنی نوعیت کی کوئی منفرد حیلہ سازی نہیں جو اس دور کے اہلِ کفر نے اختیار کی تھی، بلکہ موجودہ دور کے منحرفین میں بھی اس کی مثالیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“وہمہ ایں فرقہ ہا در بدعاتِ قبیحہ ورسومِ فاسدہ وعقائدِ باطلہ  قسمی منہمک  وفرو رفتہ بودند کہ بہ پند ونصیحت ووعظ وارشاد واقامتِ دلائلِ عقلی وفہمانیدنِ قرائن وامارات اصلا صلاح پذیر نمی شدند وہمہ گفتند  کہ بااوضاعِ قدیمہ خود را نمی گذرانیم تا حجتِ ظاہرہ ومعجزہ قاہرہ نہ بینیم وپیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کہ نعتِ او را از کتب آسمانی بتواتر دریافتہ بودیم واز انبیائے پیشین شنیدہ مبعوث نشود، مارا بر حقیقتِ کار ما آگہی ندہد ما از وضع وآئینِ خود در نمی گذریم”(8)‬‬‬‬‬‬‬‬
یعنی “مشرکین اور اہلِ کتاب کے یہ مختلف گروہ  قبیح بدعات، رسومِ فاسدہ  اور عقائدِ باطلہ میں اس حد تک منہمک اور غرق تھے کہ وعظ ونصیحت ، عقلی دلائل اور قرائن شواہد سے بالکل نفع نہیں اٹھاتے تھے اور یہی کہتے تھے کہ ہم اپنی قدیم روش کو ہرگز نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ کوئی واضح اور مسکت دلیل ہم نہ دیکھ لیں اور وہ پیغمبرِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم آکر ہمیں ہدایت کی راہ نہ بتائیں جن کی بشارت کتبِ آسمانی کے ذریعہ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے اور انبیاء سابقین کے حوالہ سے ہم نے ان کے بارہ میں سنا۔”
نیز فرماتے ہیں:
“وایں حالتِ ایشاں مثل حالتِ فرقہ ہائے  مختلف از امتِ پیغمبرِ ما است دریں زمانہ کہ طائفہ خود را صوفی قرار دادہ در بدعات منہمک گشتہ اند ۔۔۔ وبرخی خود را  از علماء دانستہ  بتزویر ومکر وحیلہ ہائے شرعی برمی آرند وروایاتِ نادرہ غریبہ مخالفِ اصول برائے طمعِ دنیا بمردم نشان میدہند ، ہمہ ایں طوائف را چند بادلہء عقلیہ ونقلیہ فہمانیدہ شود کہ بر جادہء مستقیمہ محمدی استوار شوند وبدعاتِ موروثہ خود را ترک نمایند اصلا ممکن نیست جواب ایں ہمہ طوائف ضالہ در مقابلہ وعظ ونصیحت ہمگی یک حرف است کہ ایں وضع وآئینِ قدیم خود را بدون دیدنِ حجتِ ظاہر وخروجِ حضرت امام مہدی علیہ السلام وبیانِ شافیء ایشاں ترک نمی کنیم پس مثل ایں حالت کہ قبل از بعثتِ پیغمبرِ ما صلی اللہ علیہ وسلم در عالم بود حکمتِ الہی تقاضا نمود کہ پیغمبرے بیاید کہ خودش حجتِ ظاہر باشد واز مرضِ جہالت ہمگناں را نجات بخشد” (9)
یعنی  “ان گم راہ فرقوں کی حالت خود اس امت کے مختلف فرقوں کی طرح تھی جو اس زمانہ میں موجود ہیں کہ ایک جماعت خود کو صوفی قرار دے کر بدعات میں منہمک ہے یا کچھ لوگ جو خود کو علماء سمجھتےہیں، مکر وتلبیس  اور مختلف حیلوں کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور دنیا کے لالچ میں دین کی بنیادی تعلیمات کے برخلاف شاذ وعجیب وغریب قسم کی روایات لوگوں کو سناتے ہیں، یہ سب فرقے خواہ ان کو کتنا ہی دلائلِ عقلیہ ونقلیہ کے ساتھ سمجھایا جائےکہ راہِ محمدی پر مستقیم ہوجائیں اور اپنی موروثی بدعات کو ترک کردیں،  نہیں مانتے اور تمام تر وعظ ونصیحت کے جواب میں ان گم راہ فرقوں  کا جواب یہی ہوتا ہے کہ  اپنی پرانی طرز کو ہم نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ  کوئی بلیغ حجت دیکھ لیں اور امام مہدی علیہ السلام کا بیانِ شافی نہ سن لیں، پس اسی طرح کی حالت ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی عالم میں تھی اور حکمتِ الہی نے تقاضا کیا کہ ایک ایسا پیغمبر آجائے  جو اپنے وجود میں آپ حجت ہو اور سب کو جہالت کے مرض سے نجات دے۔”
سو پہلی آیت میں جو کچھ مذکورہ ہے، وہ اہلِ کفر کے ایک بہانے کی حیثیت سے مذکور ہے اور ہماری ناقص سی نظر کے مطابق اس کی طرف اشارہ قرآنی لفظ ”مُنفَكِّينَ“ سے بھی ملتا ہےجو ”انفکاک“ سے ماخوذ ہے، ”انفکاک“ کے معنی کسی چپکی اور چمٹی ہوئی چیز کے جدا ہونے کے ہیں(10)، اس لفظ میں ایک لطیف سا اشارہ محسوس ہوتا ہے کہ اہلِ کفر کسی علمی جواز کی بناء پر کفر کو صحیح نہیں سمجھتے تھے، بلکہ محض اپنی عصبیت کی وجہ سے اس کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے اور اس سے جدا ہونے کے لیے تیار نہ تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پارسائی اور حق کے لیے اپنی فکر مندی کا اظہار بھی کرتے تھے کہ اگر کوئی نبی آکر ہمیں سمجھائے تو ہم اپنی اس روش کو فورا چھوڑا دیں۔ پہلی آیت کے اس مفہوم وپسِ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اب آئیے دوسری آیت کی طرف۔

رسول کی آمد،  بہانوں کا جواب!

دوسری آیت میں کفار کو جواب دیا گیا ہے کہ تم اب تک تو اپنے کفر کا بہانہ یہ پیش کیا کرتے تھے کہ ہمارے سامنے کوئی رسول موجود نہیں کہ اس کی بات سن کر دین کے نام پر بولی جانے والی مختلف بولیوں میں سے ہم صحیح بات کا انتخاب کرلیتے، مگر اب یہ بہانہ چلنے والا نہیں، تمہارا یہ عذر ختم ہوچکا ہے۔ یہ دیکھو، یہ خدا کا رسول تمہارے سامنے موجود ہے جو پاک آسمانی صحیفوں کی تلاوت کررہا  ہے، سو جو حجت تم مانگا کرتے تھے، وہ آچکی ہے۔
اس آیت میں جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں، قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کو بذاتِ خود ایک “بینہ“ یعنی دلیل وحجت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بنیادی دعوت چند ایسے عام فہم اور نیم بدیہی امور پر مشتمل ہےجن میں خود ہی دعوی اور خود ہی دلیل کی شان پائی جاتی ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ قرآن کے بعض جزوی مقامات پر گو انسان کو تفسیر میں قدرے مشکل پیش آئے، مگر قرآنی دعوت کے بنیادی اجزاء بالکل عام فہم ہیں اور ان کو ماننے کے لیے انسان کو عقلی بوکاٹے لڑانے سے زیادہ محض حقیقت پسند بننے اور اور تصدیقِ حق کا جذبہ خود میں ابھارنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ کی تیسری آیت میں  یہی نہایت اہم بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ نبی جن صحیفوں کو پڑھ کر سنا رہا ہے،ان صحیفوں کا پیغام چند نہایت سیدھی سیدھی اور مستقیم باتوں پر مشتمل ہے۔ یہ بات بطورِ خاص ان لوگوں کے سمجھنے کی ہے جن کی “مسئلہ تکفیر واتمامِ حجت” کے نام سے کی گئی گفتگو سے بعض اوقات دین کے ایک “پہیلی” ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ایک حجت ہے اور یہ حجت اس وقت تک کے لیے دنیا میں موجود ہے جب تک قرآن دنیا میں موجود ہے اور صاحبِ قرآن  صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثین دنیا میں موجود ہیں۔
نیز رسول کی آمد میں کس طرح حجیت کی ایک شان پائی جاتی ہے، اس کے لیے ایک اور پہلو پر غور کیجئے۔ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل انبیاءِ سابقین کی دعوت دنیا سے مٹ نہیں چکی تھی، بلکہ وہ موجود تھی اور اس کی پیروی کرنے والے عملی نمونے بھی موجود تھے، چنانچہ نمونہ کے طور صرف مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تھوڑا سا قبل زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل جیسے لوگ دیکھے جاسکتے ہیں۔ پس اس وقت انسانوں میں سے جو شخص ہدایت کی طلب کرتا، اسے بھی بفضلِ الہی مایوسی نہیں ہوتی تھی۔مگر ایک نئے رسول کا آنا اور ایک بے عیب ،بے ریب، مدلل ومکمل کتاب کے ساتھ آنا ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے ایک رحمت ہے، کیونکہ رسول آکر جس طرح آسمانی پیغام کے زمینی وجود میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے، وہ جس طرح طالبین کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی دوسروں کو سمجھانے کی ایک محدود سی کوشش کرکے بیٹھ جاتا ہے، بلکہ ایک منظم انداز میں بھر پور قوت کے ساتھ اپنی دعوت کو اٹھاتا ہے، بے طلبوں میں طلب جگاتا ہے، خود چل پھر کر  لوگوں تک پیغامِ ہدایت پہنچاتا ہے اور پدرانہ شفقت کے ساتھ ترغیب وتحریص اور تدبیر وتنظیم کے ذریعہ ہدایت کا ایک عمومی ماحول قائم کرنے کی زبردست محنت کرتا ہے، اس راہ کی ہر مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے اور یہی کام اس کا مشن ومقصدِ زندگی ہوتا ہے، نیز جس طرح خصوصا صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں کو اس حوالہ سے خدا نے  بار آور کیا اور توحید وخداپرستی کے سورج کو سوانیزے پر لاکھڑا کیا، یہ سب کچھ اپنے وجود میں ایک مستقل حجت اور رحمت کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ بھی ایک وجہ ہے قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو “بینہ” قرار دینے کی۔

ایک نحوی بحث

مفسرین عام طور پر یہاں نحوی اعتبار سے لفظِ “رسول” کو “البینہ“ کا “بدل” بناتے ہیں،  جبکہ ایک قول اسے بدل کی بجائے مبتداء محذوف کی خبر بنانے کا بھی ہے(11)،  لیکن دونوں کے حاصلِ معنی میں کوئی فرق نہیں۔ اگر اسے “ہذا محذوف”کی خبر بنائیں تو بات واضح ہے کہ اولین آیت میں ان کے اس بہانہ کا ذکر ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اپنی گم راہی کو جواز دینے کے لیے اختیار کیا کرتے تھے اور باقی دونوں آیات میں بتایا گیا ہے کہ وہ بہانہ اب ایکساپئر ہوچکا ہے کیونکہ رسول کی آمد ہوچکی ہے۔ جبکہ اگر اس کو “بدل” بنائیں تو دوسری اور تیسری آیت تفسیر ہوگی کفار کے مطالبہ کی کہ وہ کس قسم کی “بینہ“ کا مطالبہ کیا کرتے تھے  اور  مفہوم ہوگا کہ “بینہ” سے ان کی مراد ایک ایسا رسول تھا جو آسمانی صحیفہ لے کر آئے اور دین کی باتوں کو سیدھے سیدھے انداز میں واضح کرے۔ اس صورت میں ابتدائی تینوں آیات کے اندر کفار کے “بہانہ“ کا ذکر ہے، جبکہ اس کا کوئی جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے کیونکہ یہ سب کو نظر آرہا ہے کہ جس رسول کا مطالبہ وہ کر رہے تھے، وہ آچکا ہے اور یہ بھی کہ رسول اللہ کی غیر موجودگی کا بہانہ بنانے والوں نے رسول اللہ کی آمد کے بعد عمومی طور پر اس کے ساتھ کیا سلوک اختیار کیا۔ سو “بدل” کی رو سے ان تینوں آیات میں بہانہ کا ذکر ہے اور بہانہ کو ذکر کرنے کا انداز ایسا ہے کہ وہ اہلِ کتاب اور مشرکین کو اپنے سابقہ قول کی یاد دلا کر دعوتِ فکر بھی دیتاہے اور ایک عام قاری کے سامنے ان کے انکار کی حقیقت کو بھی واضح کرتاہے، گویا  بہانہ کے ذکر میں بہانہ کا جواب ایک حسین طریقہ سے مضمر کر دیا گیا ہے۔

سبق آموزی کا پہلو

ہمارے لیے ان آیاتِ مبارکہ میں سبق آموزی کا پہلو یہ ہے کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو لوگ آج دین بے زار ہوئے بیٹھے ہیں یا اپنے اپنے آبائی مسالک سے چمٹ کر انہی پہ اکتفاء کیے بیٹھے ہیں اور حق کو تلاش کرنے  کے لیے ذرا بھی ہاتھ پیر ہلانے کو آمادہ نہیں، بلکہ یہ کہہ کر خود کو معذور ٹھہرا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی نبی چونکہ نہیں اس لیے ہم اپنی اصلاح کیسے کریں، یا یہ کہتے ہیں کہ کاش محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے ہوتے تو ہم ان سے پوچھ سکتے کہ صحیح فرقہ کون سا ہے یا یہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ امام مہدی علیہ السلام کون سے فرقہ سے ظاہر ہوتے ہیں تاکہ صحیح فرقہ کی پہچان حاصل ہو تو یہ سب بہانے ہیں اور صحیح نہیں،  اگر ہم  واقعتا حق کی پیروی کے لیے فکر مند ہیں تو ہمیں چاہئے کہ قدم بڑھائیں،  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم گو ہمارے سامنے نہیں،  مگر آپ کی دعوت، آپ کا قرآن اور آپ کے ورثاء دنیا میں موجود ہیں۔
خدا کے رسول جو خدا کی رحمت کا مظہر بن کر آتے ہیں، وہ جتنے وقت اور علاقے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں، اس کے لیے ہدایت کا پورا سامان لے کر آتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب سارا کام بس رسول نے ہی کرنا ہے اور اسی نے ہر آدمی کے دروازے پر پہنچ کر اس کی ہدایت کے لیے جان توڑ کوشش کرنی ہے، جبکہ جس کے دروازہ پر وہ نہ پہنچ سکے تو وہ معذور ہو، ایسا نہیں۔ جب ایک آدمی کے سامنے رسول کی دعوت بالواسطہ یا بلا واسطہ پہنچے اور اس حوالہ سے سوچنے ودریافت کرنے کا داعیہ بھی دل میں پیدا ہوجائے تو اس کے بعد آگے بڑھ کر کوشش کرنا خود اس آدمی کی ذمہ داری بھی ہے، ا س حوالہ سے صحابہ کی اور خود آج کے دور میں نومسلموں کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
رسولِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ قیامت تک کے لیے نبی ہیں، اس لیے قیامت تک کے لیے حق کے زبردست نشان چھوڑ کر گئے ہیں، دنیا میں ان کے ورثاء موجود ہیں،قرآن وحدیث کی صورت میں ان کی دعوت کا خزینہ ہمارے پاس محفوظ ہے اور طالبینِ حق کی دستگیری کے لیے خدا بھی اپنی پوری پوری شانِ رحمت کے ساتھ موجود ہے، بس کمی ہے تو ہماری طرف سے۔ اگر ہم ہدایت کے طلب گار بنیں، خدا کی مدد کو پکاریں اور ہدایت کے لیے مشقت اٹھانے  وکوشش کرنے کو تیار ہوں تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ہدایت ضرور دے گا اور جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرلے تو کوئی رکاوٹ اس کے لیے رکاوٹ نہیں۔  خدا کو پکارنے والے اگر گندگی کے ڈھیر میں دبے پڑے ہوں تو تب بھی انہیں ہدایت ضرور ملتی ہے اور بعض اوقات ایسے عجیب راستوں سے ملتی ہے کہ سننے والا متحیر ہوجاتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: جب کوئی آدمی میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں ایک گز خود اس کی طرف بڑھ آتا ہوں، جب کوئی شخص ایک گز میری طرف بڑھتا ہے تو اڑھائی گز میں خود اس کی طرف بڑھ آتا ہوں اور جب کوئی میری طرف چل کر آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آجاتا ہوں۔(12)
 ہمیں اپنی اصلاح کے لیے آئے دن ظاہر ہونے والے مختلف فرقوں کے ”مہدیوں” پر نظر رکھنے کی بجائے قرآن وحدیث پر نظر رکھنی چاہئے، نبی علیہ السلام کی اتباع کو آنکھوں کا سرمہ بنانا چاہئے اور آپ کے پیغامِ دعوت کو پورے شرحِ صدر سے قبول کرنا چاہئے، بس یہی حق ہے اور یہی صحیح فرقہ ہے، خواہ کوئی کچھ کہتا رہے۔ امام مہدی علیہ السلام اپنے وقت پر ظاہر ضرور ہوں گے، مگر ہدایت کے لیے قرآن وحدیث کافی شافی ہیں۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی کے بہانے میں فرض کیجئے کہ اگر  کوئی جان تھی بھی تو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں دعوتِ دین کی ذمہ داری نبھاہنے والوں نےاس کے غبارے سے ہوا بالکل نکال دی جو خود آگے بڑھ کر عجز وانکسار کے ساتھ لوگوں تک پیغامِ دعوت پہنچانے اور  لوگوں کی ناقدری کے باوجود ان میں تعلق مع اللہ پیدا کرنے کی فکر وکوشش کرنے کے لیے ہردور میں سرگرم رہے۔ دین کی دعوت غیر مسلموں تک پہنچانا اور ان کی ہدایت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر فکر وکوشش کرنا امتِ محمدیہ کی ذمہ داری ہے، مگر بات پھر وہی کہ ساری ذمہ داری صرف داعی کی نہیں، بلکہ کچھ ذمہ داری مدعو کی بھی ہے۔  

چوتھی اور پانچویں آیت

اس کے بعد اگلی آیات کو دیکھئے:
”وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ° وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ° “
یعنی “اہلِ کتاب میں سے پہلے جو لوگ تفرق وتشتت کا شکار ہوکر گم راہ ہوئے، وہ “بینہ” آجانے کے بعد یعنی “بینہ” کی موجودگی میں ہی گم راہ ہوئے تھے، جبکہ  انہیں ماسوائے اس کے کوئی حکم نہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اللہ کے لیے خالص کرلیں، اس کی طرف یکسو ویک رخ ہوجائیں، نماز صحیح صحیح پڑھیں، زکوۃ ادا کریں اور سیدھی سیدھی مستقیم باتوں والا دین (دین القیمہ) یہی ہے۔”

آیتِ تفرق کی معنویت

مذکورہ دو آیتوں میں سے پہلی آیت کو لیجئے، اس میں ارشاد ہے کہ اہلِ کتاب کے پاس “بینہ” یعنی روشن دلائل اور واضح شواہد  پہلے بھی آچکے تھے اور فرقوں میں بٹ کر ان کا گم راہ ہونا “بینہ” کی موجودگی میں ہی تھا، مثلا یہودیت ومسیحیت کے اختلاف کو لے لیجئے،  کیا مسیح علیہ السلام کے پاس صداقت کے دلائل کی کوئی کمی تھی جو اہلِ کتاب ان پر ایمان لانے کے معاملہ میں تقسیم ہوئے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اسی طرح  یہود ونصاری کے داخلی اختلافات کو لے لیجئے، اگر یہ افتراق وتشتت کا شکار ہوکر گم راہ ہوئے تو کیا اس کا سبب یہی تھا کہ انبیاء ہی کی تعلیمات میں کوئی سقم رہ گیا تھا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ یہ ارشاد یہاں پر دو لطیف اشارے اپنے اندر رکھتا ہے ، ایک اہلِ کتاب سے متعلق اور دوسرا غیر اہلِ کتاب کے متعلق، ان کو سمجھنے سے قبل ایک تمہید سمجھ لیجئے۔
اشکال کیا جاتا ہے کہ اولین آیت میں مشرکین واہلِ کتاب کا ذکر آیا تھا، جبکہ یہاں چوتھی آیت میں افتراق کے حوالہ سے صرف  اہلِ کتاب کا ذکر کیا گیا ہے، علماء اس کے مختلف جواب دیتے ہیں، راقم کی نظر میں اس کا نہایت سہل، بے تکلف اور واضح جواب یہ ہے کہ افتراق کا سوال وہیں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک طبقہ اہلِ حق کا بھی موجود ہو اور یہ کیفیت اہلِ کتاب میں تو موجود تھی، مشرکین میں نہیں۔ یعنی اہلِ کتاب میں تو اہلِ کتاب کی حیثیت سے کچھ ایسے صالح نمونے موجود تھے جو قابلِ رشک اور قابلِ تقلید تھے چنانچہ یہی لوگ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد آپ پر ایمان بھی لائے، مثلا یہود میں سے عبد اللہ بن سلام وزید بن سعنہ جیسے نمایاں لوگ اور مسیحیوں میں سے ورقہ بن نوفل، نجران کے چند نمایاں لوگ  اور نجاشی (شاہِ حبشہ) وغیرہ۔ جبکہ مشرکین میں مشرک کی حیثیت سے کوئی صالح طبقہ موجود نہ تھا جو قابلِ اتباع ہوتا اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ارتکابِ شرک کے بعد کسی کی پارسائی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ ہاں،  اگر کچھ لوگ ان میں دینِ ابراہیمی کے پیروکار تھے تو وہ خود کو مشرک کی بجائے حنیف وموحد کہتے تھے،مثلا زید بن عمرو بن نفیل وغیرہ، لہذا ان کی حیثیت مشرک کی نہیں تھی۔ سو مشرکین کا ذکر یہاں آیتِ افتراق میں نہ ہونا بالکل ظاہر سی بات ہے اور اس کا الگ سے کوئی جواب دینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔
باقی رہی یہ بات کہ اہلِ کتاب کا افتراق کی صورت میں گم راہ ہونا اگر “بینہ“ آجانے کے بعد تھا تو مشرکین کا گم راہ ہونا کیا اس وجہ سے تھا کہ ان کے پاس “بینہ” نہیں آئے تھے؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں! مشرکینِ مکہ میں بے شک ایک عرصہ سے کوئی نبی نہیں آیا تھا، مگر وہ بھی بالکل اندھیرے میں نہ تھے، ان میں سے جو لوگ طالبِ حق اور طالبِ خیر تھے، ان کے لیے زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل جیسوں کی صورت میں بہتر نمونے آخر تک موجود رہے۔ زید بن عمرو بن نفیل جیسوں کی اتباع کرکے وہ اپنے آباء کے اصل دینِ حنیف کی اتباع کسی نہ کسی درجہ میں کرسکتے تھے اور خود کو شرک کی لعنت سے بچا سکتے تھے، جبکہ ورقہ بن نوفل  جیسوں کی صورت میں بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت مسیح علیہ السلام کے صالح پیروکار بھی ان کے درمیان موجود تھے۔ سو یہ سمجھنا کسی بھی طرح درست نہیں کہ مشرکین اگر گم راہ تھے تو اس وجہ سے تھے کہ اللہ نے ہی ان کو اندھیرے میں رکھا ہوا تھا، ایسا نہیں، ان میں جو طالبِ حق تھے، وہ اس وقت بھی دینِ حنیف پر مستقیم رہ کر دکھا رہے تھے۔
اب آئیے ان لطیف اشاروں کی طرف کہ  اہلِ کتاب کے تفرق کی یہ بات یہاں کیوں ذکر کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ اہلِ کتاب اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود بہرحال مشرکین سے بہتر تھے اور اپنے علمی وکتابی حوالہ کی وجہ سے دوسری قومیں بھی ان پر نگاہ رکھتی تھیں۔ اب اسلام کی آمد کے بعد خدشہ تھا کہ کہیں لوگ اسلام کے بارہ میں اہلِ کتاب ہی کے رویہ کو نہ دیکھنے لگیں کہ وہ اس نو وارد دین کے بارہ میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، سو آیتِ افتراق میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ یہ اہلِ کتاب معیارِ حق نہیں کہ اگر یہ کسی بات کو قبول کرلیں تو وہ حق ہو اور کسی بات کو مسترد کردیں تو وہ ضرور غلط ہو، ایسا ہر گز نہیں، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اہلِ کتاب کے اندر ماضی میں افتراق برپا ہوا تو وہ بھی “بینہ” کی موجودگی میں تھا اور خواہش پرستی کا نتیجہ تھا، سو اگر اب یہ اہلِ کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے گریز کریں تو اس سے “بیناتِ محمدی” ساقط الاعتبار نہیں ہوجائیں گے، جیساکہ “بیناتِ سابقہ” سے ان کے اعراض نے ان بینات کو ساقط الاعتبار نہیں کردیا تھا۔ سو اسلام قبول کرنے سے پہلے انسانیت کو اہلِ کتاب کی طرف دیکھنے کی قطعا ضرورت نہیں کہ یہ اسلام کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔
نیز خود اہلِ کتاب ومشرکین کو اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم پہلے اپنی روش بدلنے کے لیے “بینہ”  یعنی دلیلِ روشن کا مطالبہ کیا کرتے تھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب واقعی “بینہ” آجانے کے بعد تم حق کے حواری بن جاؤگے، بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ تم اب بھی بہانہ سازیوں میں مشغول رہو جیساکہ اہلِ کتاب نے“بینہ” کے موجود ہونے کے باوجود افتراق  کی شکل میں ضلالت وگم راہی کی نئی نئی صورتیں اختیار کر لی تھیں۔ سو جنہوں نے حق پر چلنا تھا، وہ رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل بھی حق پر چل رہےتھے اور جن کا ارادہ حق کی پیروی کا نہیں، وہ پہلے بھی بہانہ سازیوں میں مشغول تھے اور “بینہ” آجانے کے بعد  بھی انہی میں مشغول رہیں گے، مگر ان کی بہانہ سازیوں سے “بینہ” کی قدر وقیمت میں کوئی کمی نہیں آجائے گی۔
ہمیں چاہئے کہ فرقہ وارانہ بحثوں سے بلند ہوجائیں، قرآن کو قرآن کی حیثیت سے اور نبوی دعوت کو نبوی دعوت کی حیثیت سے سینے سے لگائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو آنکھوں کا سرمہ بنائیں،بس یہی صحیح فرقہ ہے۔ فرقے جو گم راہ ہوتے ہیں، وہ اپنی ہی من مانیوں کی وجہ سے گم راہ ہوتے ہیں جسے قرآن میں ایک جگہ“بغیا بینہم“ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ صحیفہء آسمانی اور بیانِ پیغمبر میں کوئی سقم ہوتا ہے، ایسا نہ تو کبھی ہوا اور نہ ہی اب ہے۔ پیغمبروں کی دعوت ہمیشہ سے چند سیدھی سیدھی مستقیم باتوں پر  مشتمل رہی ہے جنہیں ماننے کے لیے عقلی پیچ وتاب کی کم اور حقیقت پسند بننے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

دین کا اجمالی خاکہ

ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ  سیدھی سیدھی مستقیم باتیں کون سی ہیں جن کو اس سورہ میں کہیں “بَيِّنَۃ“ اور کہیں “قَيِّمَۃ “ کہا گیا ہے، جن کے اندر “آفتاب آمد دلیلِ آفتاب” کی شان پائی جاتی ہے، جن کے انکار کا  نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کوئی جواز تھا اور نہ ہی بعد میں، جن میں افتراق  وتشتت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور جو ان لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں چھوڑتیں جو اپنی بے دینی کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ہم اتنے سارے فرقوں میں سے کس فرقہ کی بات کو صحیح  مانیں۔  آیت نمبر پانچ  میں پھر انہی سوالات کا جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ سیدھی سیدھی مستقیم باتوں والا دین کون سا ہے۔ اس آیت میں “سورۃ البینہ” کا علمی بیان اپنے عروج پر پہنچا ہوا نظر آتا ہے۔  اس آیت میں روئے سخن گو اہلِ  کتاب کی طرف ہے، مگر موجودہ دور میں ہم سب اس کے پورے پورے مخاطب ہیں۔
ارشاد ہے کہ “بینہ” کی موجودگی میں فرقہ واریت کا شکار ہوکر جادہء حق سے منحرف ہوجانے والے اہلِ کتاب کو کوئی بہت مشکل تعلیمات نہیں دی گئی تھیں جن کا سمجھنا ان کے لیے مشکل ہو اور اسی وجہ سے وہ فرقوں میں بٹ گئے ہوں، بلکہ انہیں چند صاف صاف مستقیم باتوں کا حکم دیا گیا تھا اور وہ یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اس کے لیے خالص کرلیں، اس کی طرف یک سو ویک رخ ہوجائیں، نماز کو صحیح صحیح ادا کریں، مال کا صدقہ نکال کر اسے پاک کرتے رہیں اور یہی ہے مستقیم باتوں والا سیدھا سیدھا دین جسے آیت میں”دِينُ الْقَيِّمَۃ“  کہا گیا ہے۔
اس آیت میں جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں، دینِ انبیاء کے چند بنیادی ترین نکات کا ذکر کیا گیا ہے، یہ نکات سارے دین کی جان اور بنیاد ہیں، ان امور کی حفاظت کرکے کوئی آدمی نجاتِ اخروی  سے محروم نہیں رہ سکتا اور ان کو ضائع کرکے کسی آدمی کا دین سلامت رہ نہیں سکتا۔ ذرا سوچئے کہ جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، اس عبادت کا رنگ اپنے اوپر طاری کرے، شکر وصبر، توکل وتبتل، رجوع وانابت، عجز وانکسار، خدا طلبی وخدا مستی جیسی عابدانہ صفات اپنے اندر پیدا کرے، نیز دین کو اللہ کے لیے خالص کرلے، یعنی اللہ کے حلال کو حلال اور اس کےحرام کو حرام سمجھے، اپنی طرف کی  آمیزشوں سے دین کو محفوظ رکھے، اللہ  کی رضاء کے لیے اس کے احکام پر عمل کرے اور  حنیف بن جائے یعنی اپنی قلبی وعملی زندگی کا محور ومدار خدا کی ذات کو بنا لے، کائنات کے ہر رنگ میں اس کے دستِ تصرف کو محسوس کرے، اسی کو کارسازِ حقیقی سمجھے اور اس کے غیر کو مجبور ومخلوق سمجھنے کا یقین دل میں جمائے، اسی کے نام میں لذت پائے، اسی کے نام میں راحت، فرحت اور سکینت پائے اور خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ کے یقین، اللہ کے دھیان اور اللہ کو راضی کرنے کے جذبہ سے نماز ادا کرے، نماز میں اپنے جسم کو تھکائے، نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور اپنے مال کو اللہ کی رضا میں خرچ کرنے کے لیے تیار رہے تو اس کے ولی اللہ ہونے میں کیا کوئی شک ہے؟ کیا دین کے باقی احکام کی تعمیل میں یہ شخص کوئی کوتاہی کرسکتا ہے؟  یوں اس آیت میں اجمال کے ساتھ دین کے سارے خلاصہ کو سمودیا گیا ہے۔

سبق آموزی کا پہلو

ذرا سوچئے کہ اگر دین کی بعض فروعی جزئیات میں علماء کا اختلاف ہو، قرآن کے کسی بیان کی توضیح میں ان کے ہاں کوئی ضمنی سا اختلاف رائے پیدا ہوجائے، سائنس دان سیاروں اور ستاروں کا سفر ختم کرکے ابھی تک آسمان تک نہ پہنچے ہوں  یا کائنات کے طبیعی مشاہدات میں انسان کے ہاں تبدیلی آتی رہی ہو، یعنی بعض لوگ ماضی میں زمین کو ساکن کہتے ہوں اور اب متحرک کہنے لگے ہوں تو کیا ان اختلافات کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم خدا کو پوجنا چھوڑ دیں، اس سے محبت نہ کریں، اس کے عظمت وجلال کا نقش اپنے دل میں نہ بٹھائیں، اس کی ذات سے بے خوف ہوکر اس کے باغی بن جائیں، نماز وزکوۃ ادا کرنے کی بجائے اس کی ذات کو للکارنا شروع کردیں؟ ذرا بتائیے کہ اس رویہ میں کیا معقولیت پائی جاتی ہے؟ آیت نمبر پانچ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام لوگوں کو تعلق مع اللہ کے قرینے اور   غریب پروری کے سلیقے سکھانے آیا ہے اور یہی وہ سیدھی سیدھی باتیں ہیں جن کا لوگوں نے بتنگڑ بنا رکھا ہے، اسلام لوگوں سے یہ منوانے کے لیے ہرگز نہیں آیا کہ وہ زمین کو متحرک، ساکن، بیضوی یا چپٹی سمجھیں، اس پر لوگوں کے ساتھ مناظرے لڑیں اور اختلاف کرنے والوں کو دائرہء اسلام سے خارج قرار دیں، یہ محض خود ساختہ بات ہے، اسلام کے مطالبات وہی ہیں جو کہ ہیں، نہ کہ کچھ اور۔
نیز اگر کوئی شخص تعددِ ازواج، غلامی وقصاص اور حدود وتعزیرات جیسی اسلامی فروعات کو اپنی خود ساختہ کسوٹیوں پر تولتے رہنے کو علمی کمال سمجھتا ہے اور اسلامی دعوت کے بنیادی نکات پر بات نہیں کرتا، مبادا کہ انہیں ماننا پڑ جائے، تو ظاہر ہے کہ یہ اپنی ہدایت سے محرومی کا ذمہ دار خود ہے، نہ کہ کوئی اور۔ آئیے، اسلام کی دعوت کو سنئے، کسی الٹی سیدھی نیت کے ساتھ نہیں بلکہ طالبِ حق بن کر، پھر دیکھئے کہ ان میں سے کون سی بات ہے جسے ماننے میں تامل ہو۔ ضابطہ یہی ہے کہ اصولوں میں اختلاف کے ہوتے ہوئے فروعات میں جھگڑنے کا کوئی جواز نہیں، سو اسلامی دعوت کوسنئے اور اس کے حوالہ سے بات کیجئے، اگر آپ اس دعوت کو مان لیتے ہیں تو فروعات کے حوالہ سے آپ کا ذہن خود بخود صاف ہوجائے گا، لیکن اگر اس دعوت کو ماننے میں تامل ہے تو پھر  فروعات میں کس بات کا جھگڑا۔ ذرا سوچئے کہ اللہ  جس نے مجھے پیدا کیا اور سارا جہان پیدا کیا، اس کی عبادت کرنے میں، اس کی مان کر چلنے میں، اس کو سب سے بڑا سمجھنے، سمجھ کر اس کے مطابق اپنا رویہ درست کرنے اور اسی کو کائنات کے سارے امور واحوال کا متصرفِ حقیقی سمجھنے میں، نیز اس کی رضا میں کامیابی اور اس کی ناراضی میں ناکامی سمجھنے جیسے موٹے موٹے امور میں آخر کس بات کا اعتراض ہوسکتا ہے اور اس کے کسی رسول کی سچائی اگر روزِ روشن کی طرح مبرہن ہوجائے تو اس کی صداقت پر ایمان لے آکراس کی اتباع کرنے اور اس کی نقل میں اپنے اوپر خدا کا رنگ طاری کرنے کی کوشش ومحنت کرنےمیں آخر کس بات کا اعتراض ہے؟  ان بنیادی امور پر بات کرنے کی بجائے ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارنا  اور فروعات یا زوائد ہی میں الجھتے چلے جانا اپنے ہدایت کے سفر کو خود مشکل بنانے کے مترادف ہے۔
اسلام کے مذکورہ بنیادی دعوتی امور کا عقلی اثبات بھی قرآن میں مختلف جگہوں پر موجود ہے، مگر کبھی کبھی قرآن ان باتوں کو نیم بدیہی کی حیثیت سے بھی پیش کرتا ہے اور ایسی جگہ پر ان کے عقلی اثبات میں زیادہ مشغول نہیں ہوتا، یہاں اس مختصر سورۃ میں یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان باتوں کو سیدھی سیدھی مستقیم باتیں بتلا کر ان کی اسی شان کر طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ باتیں گویا ایسی باتیں ہیں جنہیں ماننے کے لیے انسان کو عقلیات کی بساط بچھانے سے زیادہ سلیم الفطرت اور حقیقت پسند ہونے کی ضرورت ہے، گو ان کی مزید وضاحت کے لیے قرآنی صحائف اور رسول اللہ کے نائبین کی طرف رجوع کرنے کا اشارہ بھی آیت نمبر دو میں کردیا گیا ہے۔آخر میں ایک سادہ سا پیغام دے کر اس سورہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سورہ کا اختتامی پیغام

“سورہ البینہ“ کی مذکورہ پانچ ابتدائی آیات میں جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں، معانی کا ایک دریا بند کر دیا گیا ہے اور”دِينُ الْقَيِّمَۃ“ کے بنیادی نکات کو بیان کرکے اس گفتگو کو مکمل بنا دیا گیا ہے۔  بعد کی تین آیات میں سادہ سا مضمون مذکور ہے کہ جو لوگ دینِ انبیاء کی اس سادہ سی دعوت کا انکار کریں اور خدا کے انکار یا اس سے بغاوت کی روش  پر مصر رہیں، وہ خواہ اہلِ کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ خدا کی رحمت سے محرومی کے ذمہ دار خود ہیں، سو یہ سب جہنم کی آگ میں جائیں گے، یعنی ایسی جگہ جائیں گے جہاں واقعی خدا کی کوئی رحمت نہیں ہوگی، پھر ہمیشہ وہاں رہیں گے اور یہ لوگ اپنی دنیاوی حیثیتوں میں خواہ کچھ بھی ہوں، لیکن چونکہ یہ خدا کی بے توقیری کے مرتکب ہوئے اور انکار وبغاوت کی ایسی جسارت کی جس کی مثال خدا کی مخلوق میں کہیں نظر نہیں آتی، لہذا خدا کی نظر میں  بدترینِ خلائق ہیں۔ جبکہ جو لوگ انبیاء کی دعوت پر ایمان لائیں گے، نیک اعمال کریں گے، انبیاء کی اتباع میں ان کی بتائی ہوئی راہ پر چل کر  خود پر خدا کا رنگ  اور عبدیت کی شان طاری کریں گے، خدا کا حق ماننے  اور امتحان کی گھاٹی میں بھی بندگی کا ڈھنگ اپنائے رکھنے کی وجہ سے یہ لوگ خدا کی نظر میں افضل ترین مخلوق ہیں، ان کی جزاء اپنے رب کے ہاں عدن کی وہ جنات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کے اندر وہ ابد الآباد تک رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور یہ اپنے رب سے راضی ہوئے، یہ جزاءِ عالی شان اس شخص کے لیے ہے جس کے دل میں خدا کی عظمت وہیبت اور اس کے  خوف وخشیت کا نقش موجود  ہو اور وہ دنیا کی زندگی بے خوف ہوکر نہ جی رہا ہو۔

چند باتیں

آخر میں چند ضروری باتیں عرض ہیں:
ہدایت کے اصول متعین اور عام فہم ہونے کے باوجود خدا کا اصول کسی کو فورا پکڑنے کا نہیں ہے، بلکہ اس نے انسان کو بہت لمبی زندگی دی ہے جس میں اسے سوچنے اور سمجھنے کے ہزارہا مواقع ملتے ہیں۔ یہ خدا کی رحمت ہے کہ وہ بغاوت اور انکار جیسے رویوں پر بھی فورا گرفت نہیں فرماتا۔
ہدایت کی بنیادی باتیں بالکل سادہ اور عام فہم ہونے کے باوجود ، انسان کے باطن میں بعض اوقات کچھ نفسیاتی الجھنیں ہوتی ہیں جنہیں دور ہونے کے لیے بعض اوقات کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ ہدایت کی بنیادی باتوں پر فوکس کرتے ہوئے اگر آدمی چلتا رہے تو وقت آنے پر ذیلی الجھنیں بھی دور ہوجاتی ہیں، لیکن ضرورت ہے کہ بنیادی توجہ مرکزی باتوں  پر رہے۔
ہدایت کی بنیادیں متعین اور عام فہم ہونے کے باوجود انسان کو ہدایت سے ہم کنار ہونے کے لیے جراءتِ ارادہ کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض اوقات اپنے گرد وپیش سے بھی نمٹنا پڑتا ہے، ان امتحانات میں اگر خدا نخواستہ کوئی آدمی کامیاب ہونے سے رہ جائے اور  ہدایت کو قبول نہ کرسکے تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ خود ہدایت کے اصولوں میں کوئی سقم ہے۔
ہدایت صرف اللہ پاک دیتے ہیں اور ان کے سوا کوئی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا، بلکہ کسی اور کو  کچھ دینا تو درکنار خود اپنے آپ کو بھی کوئی کچھ نہیں دے سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر خطبات میں یہ بات شروع سے ہی بیان کردی جاتی تھی۔  اس لیے گم راہی سے حفاظت اور ہدایت کے حصول کی خاطر مطالعہ ومشاہدہ کو تیز کرنے کے ساتھ اپنے خالق رب کو بھی دل ہی دل میں پکارنے کی عادت بنانا چاہئے، ایسا کرنے والوں کو ہدایت ضرور ملتی ہے، اللہ اس کے لیے خود راہیں کھولتے ہیں اور ابلیس اپنا تمام تر زور لگا کر بھی اس شخص کو گم راہ نہیں کر سکتا۔ 
دعا ہے کہ اگر توضیح وتفصیل میں کوئی علمی خطاء ہوئی ہے یا کوئی بڑا بول نکل گیا ہے تو اللہ تعالی معاف فرمائیں اور اپنی رحمت کے صدقے راہِ ہدایت پر مستقیم فرمائیں۔ آمین! واللہ سبحانہ وتعالی اعلم!

حواشی

(۱) روح المعانی، علامہ آلوسی، جلد 15، صفحہ 592۔ ط: دار احیاء التراث العربی۔
(۲) مثلا دیکھئے: تفسیرِ ماجدی۔
(۳) اللؤلؤ والمرجان فی ما اتفق علیہ الشیخان، محمد فؤاد عبد الباقی، حدیث نمبر 1602۔ ط: دار المؤید، الریاض۔
(۴) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3828۔
(۵) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3826۔
(۶) فتح الباری، حافظ ابنِ حجر عسقلانی، جلد 7، صفحہ 181۔ ط: قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۷) رجال ونساء حول الرسول، شعبان احمد بن دیاب، صفحہ 143، ط: المکتب الثقافی، القاہرۃ ۔۔۔ بحوالہ ابنِ عساکر۔
(۸) فتح العزیز المعروف بہ تفسیر عزیزی، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ، پارہ عم، صفحہ 262۔ ط: مطبع گلزارِ محمدی لاہور (1308ھ)
(۹) حوالہ مذکور، صفحہ 263۔
(۱۰) دیکھئے: تفسیر الکشاف لجار اللہ الزمخشری۔
(۱۱) مثلا دیکھئے: تفسیر الزحیلی۔
(۱۲) اللؤلؤ والمرجان فی ما اتفق علیہ الشیخان، محمد فؤاد عبد الباقی، حدیث نمبر 1713۔ ط: دار المؤید، الریاض۔

نیشنل جوڈیشل پالیسی پر پنجاب بار کونسل کا رد عمل

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پالیسی کے بارے میں کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس کے بعد دو فیصلے سامنے آئے ہیں- ایک قتل کیس کا چار دن میں فیصلہ اور دوسرے ۲۲- الف ب کی درخواستوں کی عدالتوں سے پولیس کے شکایت سیل منتقلی- پہلے فیصلے پر پنجاب بار کونسل کا ردِ عمل یہ آیا ہے کہ یہ دستور کے تحت منصفانہ فیئر ٹرائیل کے حق کی نفی ہے اور احتجاج کے طور پر جمعہ ہڑتال منائی جائے گی- 
نیشنل جوڈیشل پالیسی کی شروعات جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فرمائیں- اس پر مفصل تبصرہ ہم حقیر سی کاوش “انصاف کرو گے ؟”میں کر چکے ہیں- بعد کی جاری کردہ پالیسی اقدامات پر بار کونسل کا ردِ عمل اوپر ذکر ہو چکا ہے- مزید کے طور پر کونسل کا جاری کردہ سرکلر درج ذیل ہے:
نیشنل جوڈیشل پالیسی 2009ء کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نئی جوڈیشل پالیسی قانون اور آئین سے متصادم ہے جس کے مطابق قتل کے مقدمہ کا 4دن میں فیصلہ آئین کے آرٹیکل 10-Aاور ضابطہ فوجداری میں خضر حیات کیس (PLD2005-LHR-470) اور یونس عباسی کیس (PLD2016-SC-581) کی موجودگی میں بلاترمیم ان قوانین کے خلاف کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جاسکتی اور اسی طرح قانون جانشینی کی موجودگی میں ان کے خلاف کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی جاسکتی۔ مزید یہ کہ مذکورہ نئی پالیسی بناتے وقت صوبائی بار کونسلز اور سینئر وکلاءکو اعتماد میں نہ لیا گیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی تجاویز لی گئیں۔ پالیسی مذکورہ بالا سے نہ صرف آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہوگی ، بلکہ وکلاءکا معاشی استحصال ہوگا اور سائیلان کے لیے انصاف کی حصول کو پیچیدہ ، مشکل اور ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ لہذا چیف جسٹس آف پاکستان سے گذارش ہے کہ موجودہ مرتب کردہ نئی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور از سر نو جائزہ لینے کے لیے سینئر وکلاء، بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز سے تجاویز طلب کی جائیں تاکہ بینچ اور بار کا رشتہ جڑار ہے اور انصاف کی فراہمی کا تسلسل بطریق احسن اور موثر انداز میں جاری رہے۔ پنجاب بار کونسل نئی جوڈیشل پالیسی کے نفاذ کی مکمل نفی کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ 
بار کونسل کے سرکلر کے ایک ایک لفظ کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے مگر یہاں اس کی گنجائش نہیں- صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ الفاظ اور تراکیب کا گورکھ دھندا کے سوا کچھ اہمیت نہیں- اسے“قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا” بھی کہاجا سکتا ہے- بینچوں کا مطالبہ بے حد جائز ہے مگر ہائیکورٹ بار کے مفادات کے خلاف ہونے کی وجہ سے حل طلب چلا آرہا ہے اور شاید بڑا عرصہ یہی صورت حال رہے گی- تفصیل میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ہائیکورٹ میں پریکٹس کرنے والے ڈویژنل بار ز سے متعلقہ وکلا بھی عملی طور پر مطالبے کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ ہی حمایت کرتے ہیں- متعلقہ عدالتی اور انتظامی حکام بظاہر ہائیکورٹ بار کے ہاتھوں یرغمال ہیں- ڈویژنز میں جا کر بنچوں کی صورت میں کام کرنے کی صورت میں ہائیکورٹ عملی صورت میں انصاف کی فراہمی کے چیلنج کو زیادہ شدت سے سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے- لاہور کی طرح بڑے شہروں کی سہولیات قربان کر کے گوجرانوالہ،فیصل آباد اور ڈیرہ غازی جیسے شہروں میں رہ کر عدالت کرنے میں فروتری محسوس کی جاتی ہے۔ 
چلئے بنچوں کا مسئلہ تو سال ہا سال سے چل رہا ہے- چار دن میں قتل کی سماعت اور فیصلہ بھی کوئی نئی بات نہیں- جب سیشن جج ۲۲- الف اور ب کی درخواستوں کے اسیر ہو کر ناکارگی پر قانع نہیں ہوئے تھے تو کم و بیش قتل کے فیصلے چار دن ہی میں کئے جاتے تھے- سیشن سپردگی کے بعد باری پر کیس لگتا تھا- فرد جرم کے بعد ایک ہفتے کے لئے شہادت کے لئے کیس مقرر ہوتاتھا- پہلے روز رسمی گواہ اور دوسرے اور تیسرے دن چشم دید ، پھر بحث اور فیصلہ- سیشن جج سے التوا مانگنے کی روایت تھی اور نہ ہی ہڑتال منانے کو رواج حاصل ہوا تھا- بعد ازاں تو پیشی پریکٹس ہی اصل پریکٹس ہو گئی تو کام کئے بغیر ٹھگی کو وکالت کی معراج سمجھ لیا گیا- اس طرح اب چار دن کے بجائے چار سال میں بھی اگر قتل کیس طے ہو جائے تو اسے کارنامہ خیال کیا جائے گا- بار کونسل کا ادارہ مملکت کے ہر ادارے کی طرح اپنی مقصدیت اور افادیت کھو کر بربادی اور پستی کا شکار ہو چکا ہے- حالات کا رخ یہی رہا تو عدالتیں یا تو سپر انداز ہو کر انصاف کے عمل سے اور بھی پیچھے ہٹ جائیں گی یا فریقین کو سن کر فیصلے پر مجبور ہو جائیں گی- شہادت اور جرح کے مراحل کو مختصر کر کے سماعت کی تکمیل کرنا پڑے گی- وکلا ٹھگی پر گذر اوقات کر کے اپنی شاہینی پر ناز کرتے رہیں گے- ایک بڑے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر ہر روز کم و بیش دس ہزار افراد انصاف کے لئے آتے ہیں اور آئے دن ہڑتال کی خبر سن کرخیر سے ”انصاف“ حاصل کر کے گھر کو “لوٹ”جاتے ہیں-
۲۲-الف اور ب کی درخواستوں کی منتقلی کا فیصلہ اہم ہے- اس کے نتائج کیا ہوں گے، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے- نئے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ سے اچھی امیدیں رکھی جا سکتی ہیں- ۲۲-الف اور ب کی درخواستوں کی سابقہ بھر مار پہلے بھی بلا جواز تھی- اس میں ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں کا طرز عمل سخت غیر ذمہ دارانہ رہا-ضابطہ فوجداری کے تحت انچارج تھانہ قابل دست اندازی جرم کی اطلاع پر مقدمہ درج کرنے کا پابند ہے- وہ مقدمہ درج کرنے سے فرار اختیار کر کے قانون پر عمل سے اجتناب کرتا ہے- اس طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ۱۶۶کے تحت جرم کا ارتکاب کرنے کے علاوہ اپنے قواعدِ ملازمت کی تضحیک بھی کرتے ہے- عدالتیں ایس ایچ اوز کے اس طرز عمل پر اندرونی طور پر خوش رہتی ہیں- انہوں نے اندراج مقدمہ کے بارے میں واضح اور مہمل احکامات کو معمول بنائے رکھا- اس کے نتیجہ میں پولیس گردی میں شدت تو آنا تھی- اگر عدالتیں واقعتا انصاف چاہتیں تو ایک ہی راستہ تھا کہ مقدمہ درج نہ کرنے والے چند افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت موثر کاروائی کروائی ہوتی تو پولیس اندراج مقدمہ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی اور عدالتوں میں ۲۲-الف اور ب کا بازار نہ لگتا- 
اب یہ بازار سی پی او کی سربراہی میں قائم شکایت میں سیل لگے گا یا نہیں لگے گا- چیف صاحب یہی چاہتے ہیں- اس طرح خبروں کے مطابق ساٹھ لاکھ کی پنڈینسی کا خاتمہ ہو گیا- 
عملی کیفیت یہ ہے کہ سی پی اوز پہلے ہی حکمرانوں کی الٹی سیدھی خدمت سے فارغ نہیں ہوتے- شکایت سیل میں گھس کر یا سیل سی پی او میں گھس کر کیا کر لے گا، وہی بات جیسے ایک بڑے لیڈر کہتے ہیں کہ “وہ کرپشن کے قریب گئے اور نہ کرپشن ان کے قریب آئی ہے- ”کھوسہ صاحب بتائیں گے یا نہیں، مہینے دو میں صورت حال واضح ہو جائے گی- کاش ایس ایچ اوز کو قانون کا پابند بنانے کی کوئی صورت پیدا کر لی جاتی اور سیل کو واسطہ بنائے بغیر ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۵۴ کو موثر طور پر نافذ کرنے کا اہتمام کر لیا جاتا تو بہتر ہوتا- 
چیف جسٹس صاحب کی زیر التوا کام نپٹانے کی عظیم شہرت تلے ایک درخواست ہم بھی پیش کر دیتے ہیں- کورٹ فیس سے متعلقہ قوانین کو وفاقی شرعی عدالت خلاف شریعت قرار دے چکی ہے- اس کے خلاف اپیل کم و بیش تین عشروں سے معرض التوا میں ہے- اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے کرنا ہے- اس التوا اور فیصلہ سے لاکھوں کروڑوں لوگ متاثرہوتے آرہے ہیں- بظاہر فیصلے میں کوئی بہت بڑے قانونی اور آئینی نکات اور پیچیدگیاں بھی نہیں ہیں- مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ یہ متواتر عمل دستور، قانون اور انصاف کے ہر تقاضے سے مجرمانہ فرار سے کسی طور کم نہیں- میری چیف صاحب سے استدعا ہے کہ اس اپیل کا فیصلہ فرصت نکال کر ارشاد فرمائیں-یہ بنیادی اہمیت کا فیصلہ ہے وگرنہ انصاف کے دعوں کی حقیقت وعدہِ محبوب کی طرح ہو گی اور عاشق کہرام بپا رہے گا۔
دنیا کی عدلیہ میں جو سچ کے ترجماں ہیں
امن و سلامتی کے وہ دیوتا کیوں چپ ہیں
انصاف کی دہائی ، دیتی ہے بے نوائی
روتی ہیں آرزوئیں ارمان جل رہا ہے

مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام پر مسلم مغربی رویے: جورام کلاورین کے قبولِ اسلام کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

ہالینڈ کے معروف اسلام  مخالف  ڈچ سیاست دان  جورام جیرون وان کلاورین (Joram Jaron van Klaveren) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس کے قبولِ اسلام پر الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں آ رہی ہیں۔ راقم کو کلاورین کے حوالے سے کچھ سٹدی کا موقع ملا تو اس پر کچھ لکھنے کا سوچا۔ اس دوران مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام کے بارے میں  مسلم اور مغربی رویوں سے متعلق اپنے مشاہدے اور احساس کو شیئر کرنے کا بھی داعیہ پیدا ہوا۔ سو اہلِ علم و تحقیق کی خدمت میں کلاورین  کے قبولِ اسلام اور اس کے سابقہ و موجودہ نظریات و افکار سے متعلق کچھ سطور سپرد قلم کیں تو مذکورہ تناظر میں سامنے آنے والے مسلم اور مغربی رویے پر بھی مختصر تبصرہ شامل کر دیا:

کلاورین کون ہے؟

کلورین  محض ایک عام سا سیاست دان نہیں، ہالینڈ کی ایک  اہم اور نمایاں شخصیت ہے۔ اس نے وی یو یونی ورسٹی ایمسٹرڈیم (VU University Amsterdam) کے شعبۂ علوم مذاہب سے تعلیم حاصل کی۔ 2006ء سے 2009ء تک وہ  پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیماکریسی یا وی وی ڈی(People's Party for Freedom and Democracy or Volkspartij voor Vrijheid en Democratie, VVD) کی طرف  سے المرے میونسپل کونسل (Muncipal Council of Almere) کا ممبررہا۔2010ء  کے عام انتخابات میں گیرٹ ولڈرز(Geert Wilders) کی پارٹی دی پارٹی فار فریڈم یا پی وی وی (The Party for Freedom Partij voor de Vrijheid, PVV)کی جانب سے ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا ایوان ِنمائندگان(House of Representatives) کا رکن منتخب ہوا۔2011ء کے صوبائی انتخابات میں وہ سٹیٹس آف فلیوولینڈ(Flevoland) کا  رکن بنا۔مارچ 2014ء میں اس نے پارٹی فار فریڈم کو چھوڑ کر لوئیس بونٹس(Louis Bontes)سے مل کر  اپنی الگ پولیٹیکل پارٹی فار دی نیدر لینڈیا یا وی این ایل (For the Netheland or VoorNederland, VNL  ) کی بنیاد رکھی، تاہم 2017ءکے الیکشن میں ناکامی کے بعد اس نے سیاست چھوڑ دی۔
کلاورین کے قبول اسلام میں خبریت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ  ہالینڈ کے مشہور اسلام مخالف سیاست دان  اور فریڈم پارٹی کے لیڈر گیرٹ ولڈرز(جی ہاں وہی شخص جس نے  گذشتہ برس حضورﷺ کے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کیا تھا اور بعد میں مسلم ردعمل پر اسے کینسل  کرنے پر مجبور ہوا تھا) کا دست راست تھا اور اس کا ولی عہد (Crown Prince) کہلاتا تھا۔ کلورین اپنے لیڈر گیرٹ ولڈرز(Geert Wilders) کی طرح بڑھ چڑھ کر اسلام کی مخالفت کیا کرتا تھا۔اس تناظر کو دیکھتے ہوئے کلاورین کے قبولِ اسلام پر اقبال کے الفاظ میں کیا جا سکتا ہے کہ ع  پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

کلاورین کا قبولِ اسلام اور اس  کا پس منظر 

 کلاورین کا قبولِ اسلام ، اس کے اپنے بیان کے مطابق اس کی  اسلام سے متعلق اُس تحقیق کا نتیجہ ہے ، جو اس نے اسلام مخالف کتاب لکھتے ہوئے کی۔امرِ واقعہ  یہ تھا کہ  کلورین  رسول اللہ ﷺ کو نعوذ باللہ  کروک (میں اس انگریزی لفظ  کا رادو ترجمہ نہیں کر رہا، اس کے ذریعے ہر قسم کی گندگی اور برائی حضورﷺ کی ذات پاک  سےمنسوب کی جاتی ہے۔)، اسلام کو کذب و افترا اورقرآن کو زہر قرار دیتا تھا؛ اسلام پر پابندی، قرآن کو پارلیمنٹ سے نکالنے ،مسجدوں کو بند کرنے اور مسلم خواتین کوحجاب  سے منع کرنے وغیرہ   ایسے مطالبات کیا کرتا تھا۔
ایک مسیحی کی حیثیت سے اپنے  مذکورہ نوعیت کے اسلام مخالف افکار و خیالات کو تقویت پہنچانے کے لیے اس نے اسلام پر ایک  تنقیدی کتاب لکھنا شروع کی۔اپنی تحقیق کے دوران اس پر ایسی چیزیں منکشف ہوئیں ، جنھوں نے اسلام سے متعلق اس کے نظریے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے  الفاظ ہیں:
 اس تحریر کے دوران میرا مسلسل ایسی چیزوں سے سابقہ پیش آتا رہا، جو اسلام سے متعلق میرے گذشتہ تصور کو غلط ثابت کرتی رہیں۔
(Pascal Davis, Dutch former far-right politician converts to Islam, Accessed February 6, 2019. https://www.euronews.com/2019/02/05/dutch-former-far-right-politician-converts-to-islam )
 اپنی کتاب De afvallige (The renegade: From Christianity to Islam in times of secularization and terror)  میں کلاورین نے  اپنے اس ذاتی اور مذہبی تجربے کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے اس ارتقا کو نمایاں کیا ہے، جو اس مطالعے اور تحقیق کے دواران اس کے روایتی نظریات میں وقوع پذیر ہوا۔اپنے اس سفرِِ تحقیق میں اس نے جن سوالات کو ایڈریس کیا ہے، وہ کچھ اس طرح کے ہیں:
کیا خدا کا وجود ہے؟ کیا قرآن کا خدا وہی ہے ، جو بائبل کا خدا ہے؟ کیا اسلام کفار کو برداشت نہ کرنے کا درس دیتا ہے؟ کیا  اسلام عورتوں پر ظلم کو روا رکھتا ہے؟ ،جورام کلاورین  تک اسلام کا منفی تصور کیسے پہنچا؟ اس نمٹنے کے لیے اسے  کس کس نوعیت کی جذباتی اور معاشرتی کوششیں کرنا پڑیں؟ اس سفرِ تحقیق نے جورام کو کہاں پہنچایا؟
 ( See: Afvallige – Joram van Klaveren: Van christendom naar islam in tijden van secularisatie en terreur. Accessed February 6, 2019-02-06 https://kennishuys.com/product/afvallige-joram-klaveren/)

اسلام سے متعلق جدید  مغربی رویے پر کلاورین کے  کا ردعمل

قبول ِ اسلام کے بعد  کلاورین نے  اسلام سے متعلق مغرب کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں   لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی  اسلام کی غلط تصویر ہے، وہاں لوگ اسلام کے حوالےسے خوف ، پروپیگنڈے اور میڈیا کی گمراہ کن معلومات  کے زیر اثر ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں میرا خیال تھا، وہ لوگ  قرآن کو زہر اور  محمدﷺ کو (نعوذ باللہ ) جھوٹا اور دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ لیکن فی الوقع قرآن ایک مثالی روحانی زندگی کا منشور ہے، اور محمدﷺ انسانیت کی آزادی کے بانی ہیں۔ان خیالات کا اظہار Joram Van Klaver کے نام سے موجود اپنے فیس بک پیج پر انھوں نے ان الفاظ میں کیا ہے:
Still people of Europe and America have been suffering from not only phobia and propaganda but also misleading information of Media. They think Qur'an is a poison like how I used to think and Prophet Muhammad pbuh is a terrorist or lier like what I thought. But the reality is Qur’an is a manifesto for leading an ideal spiritual life while Prophet Muhammad pbuh was a pioneer of freedom for the humanity. (Joram Van Klaver, February 6, 2019)
کلاورین جرمن سیاست دان آرتھر ویگنر (Arthur Wagner) سے بہت متاثر ہیں، جو پہلے انھی کی طرح اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کرتے تھے، لیکن اب مسلمان ہو چکے ہیں،اپنے پیج پرویگنر کی تصویر لگا کر کلاورین نے لکھا ہے:
I was a highly influenced by this man Arthur Wagner from Germany who was a Protestant like me before converting to Islam. He converted in 2018 and changed his name to 'Ahmad'. He was an anti-Muslim and anti-Islam like me. But Allah changed both of our heart. (Joram Van Klaver, February 7, 2019)
میں جرمنی کے اس شخص آرتھر ویگنر  سے بہت متاثر ہوں ، جو اسلام لانے سے قبل میری طرح پروٹسٹنٹ تھا۔ اس نے 2018ء میں اسلام قبول کیا اور احمد نام اختیار کیا۔ وہ میری طرح اسلام اور مسلم مخالف تھا، لیکن اللہ نے ہم دونوں کے دل بدل دیے۔
مغرب میں اسلام متعلق عام  غلط فہمیوں  کو کیسے دور کیا جائے؟اس سلسلے میں   کلاورین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ  وہ اب اسلام اور قرآن کو زیادہ گہرائی  سے پڑھیں گے اور اس کے روحانی پیغام کو لوگوں میں پھیلائیں گے:
Right now my plan is learn the Islam & Qur'an more deeply and spread the spiritual message of Almighty Lord among the people. (Joram Van Klaver, February 6, 2019)

مغربی شخصیات کے قبول ِاسلام پر اہلِ مغرب کا رویہ

میرے فہم اور مشاہدے کے مطابق کسی مغربی شخصیت کے قبول اسلام  پرعمومی طور پر دو طرح کے مغربی رویے سامنے آتے ہیں؛ ایک  کومثبت  رویہ قرار دیا جا سکتاہے اور دوسرے کو منفی :
پہلا رویہ  ہے کہ موجودہ ا اہلِ مغرب کے یہاں غیر جانب دار انہ  علمی تحقیق اور اس کے نتائج کے مطابق اپنے رائے قائم کرنے اور اس کا اظہار کرنے  کے حوالے سے جو توسع اور کھلا پن ہے، وہ مسلم مشرق ، بالخصوص عرب اور برصغیر پاک و ہند میں دکھائی نہیں دیتا ۔ یہاں اور تو اور روایتی مسلم  فکر سے ہٹ کر بات کرنے پر لوگوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔محقق کو بہت دفعہ  اپنی تحقیق کو شائع کرنے ہی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے مطابق اپنے رویے کی استواری  تو دور کی بات ہے۔کچھ فطری سی معاشرتی مشکلات تو ظاہر ہے مذہب کی تبدیلی سے ہر جگہ  پیش آتی ہی ہیں ، لیکن مغرب میں  معاشرتی اور مذہبی سطح پرکوئی سخت قسم کا جبر بہر حال دکھائی نہیں دیتا۔ آدمی کھلے عام اپنے قبول ِاسلام کا اعلان کرتا ہے؛ معاشرہ اس کو قبول کرتا ہے ؛ میڈیا اس کی خواہش کے احترام میں اس پر خبریں نشر کرتا ہے۔ 
دوسرا رویہ  اسلام قبول کرنے والی مغربی شخصیت سے متعلق مغرب کے انکار اور اس معاملے میں  شکوک و شبہات کے اظہار سے عبارت ہے۔ راقم کی تحقیق کے مطابق اہم شخصیات کے قبولِ اسلام پر مغرب میں ایک  روایت  سی  ہے کہ وہاں یا تو اس بات کا  انکار ہی کر دیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص  نے اسلام قبول کر لیا ہے،  یا پھر اس پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جاتے اور اسلام قبول کرنے والے کی نیت پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ آج سے برسوں پہلے فرنچ میڈیکل ڈاکٹر اور سائنس دان اور دی بائبل دی قرآن اینڈ سائنس(The Bible, the Quran and Science) ایسی شہرہ آفاق کتاب کے مصنف موریس بکائی  کے قبولِ اسلام سے متعلق مغربی آرا کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی اس طرح کی چیزیں میری نظر سے گزری تھیں۔ ان میں کہا گیا تھا کہ بکائی نے محض شہرت اور اپنی مذکورہ کتاب کی مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر اشاعت  کی غرض سے قبولِ اسلام کا دعوی کیا ہے، ورنہ فی الوقع وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ 
بکائی کے بارے میں شہرت اور کتاب بیچنے کی غرض سے اسلام کی حمایت کے نظریے کے ساتھ یہ دلیل  بھی  دی گئی  کہ اس کی کتابوں میں اسلام کی بعض باتوں کی حمایت ہوسکتی ہے، لیکن اس نے کہیں بھی یہ الفاظ نہیں کہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ اس نے کئی مقامات پر اس کا اقرار کیا کہ وہ   دل کی گہرائی سے جناب رسول اکرمﷺ کو اللہ کے رسول اور قرآن کو وحیِ الہی سمجھتا ہے۔نام ور محقق ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم نے بھی اس کے قبولِ اسلام کی تصدیق کی تھی ۔بعض جگہ بکائی  نے البتہ یہ ضرور کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ اسے ایک   اکیڈیمشن کے طور پر ٹریٹ کیا جائے نہ کہ ایک تھیالوجین کے طور پر۔مثلاً ایک انٹرویو میں اس نے کہا:
میں اس حقیقت کو واضح  کر دینا چاہتا ہوں کہ بہت ابتدا میں ، جب کہ میں نے لفظ بسم اللہ سیکھا تھا، میں قائل ہو گیا تھا کہ  خدا بے  مثل اور تمام قوتوں کا مالک ہے ، اور جب خدا نے مجھے مطالعۂ قرآن کی توفیق دی ،  تومیری روح پکار اٹھی کہ قرآن خدا کا کلام ہے، جو اس   کے آخری پیغمبر محمد ﷺ پر نازل ہوا۔ اپنی کتاب" قرآن ، بائبل اور سائنس " میں میں نے ان حقائق کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب کو عالمِ عیسائیت میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کتاب میں میں نے  تمام مسائل کو علمی نقطۂ نظر سے دیکھا ہے نہ کہ ایمان  و اسلام کے نقطۂ نظر سے، جو کہ  میرا ذاتی معاملہ ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے دنیا ایک اکڈیمشن کی حیثیت سے دیکھے نہ کہ ایک تھیالوجین کی حیثیت سے۔
http://www.islamicbulletin.org/newsletters/issue_6/embraced.aspx 
اس طرح کی بات سے اس کا عدمِ اسلام اخذ کرنا اس لیے زیادتی ہے کہ اسلام کے دل سے قائل  بہت سے مغربی اکیڈیمشنز اس طرح کی بات اسی بنا پر کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی گروپ سے خود کو منسوب کر لیں تو لوگ سمجھیں گے ان کے نظریات و افکار واقعی تحقیق  کا نتیجہ نہیں  بلکہ محض  اپنے قبول کردہ مذہب یا عقیدے کے حق میں تعصب پر مبنی فکر و خیالات ہیں۔یہ بات ایسی شخصیات کے قبولِ اسلام کا انکار کرنے والے مغربی حلقوں  یا ان بعض راسخ العقیدہ مسلمانوں کے لیے بھی عجیب یا غیر مقبول ہو سکتی ہے کہ جب وہ کھل کر یہ نہیں کَہ رہا کہ I am a Muslimتو اس کے اسلام کا اعتبار کیوں کر کیا جا سکتا ہے؟ مگر مغربی ماحول میں عیسائیت وغیرہ مذاہب سے اسلام کی طرف آنے والے عالمی سطح کے بڑے بڑے محققین کی پوزیشن سمجھنے والے اہلِ علم کے نزدیک یہ بات ایک مقبول عذر ہے اور قطعاً غیر مناسب نہیں، نہ ہی اس سے  متعلقہ شخصیت کے اقرار باللسان میں کوئی  حرج واقع ہوتا ہے۔مغربی ماحول میں ایک اکڈیمشن کے ذاتی سطح پر قبولِ اسلام لیکن  اپنی تحقیق کے وزن کے کم ہوجانے کے احساس سے کسی روایتی طریقِ اظہار ِاسلام سے گریز کے  تناظر  میں موریس بکائی کا حسبِ ذیل بیان بالکل قابلِ فہم ہے:
جہاں تک میرے ایمان کا تعلق ہے، خدا آدمی کے دل کو بہتر جانتا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اگر میں اپنی پہچان اپنے عقیدے سے کراؤں ، تو لوگ میری باتوں اور اعمال پر کہیں گے کہ یہ فلاں فلاں باتیں فلاں فلاں گروپ سے تعلق کی بنا پر کَہ یا کر رہا ہے۔ میں اپنے لوگوں اور ماحول کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں ، اور ان کی ذہنیت مجھ سے پوشیدہ نہیں۔میں ان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میرے تمام بیانات سائنسی علمی پر مبنی ہیں نہ کسی مذہبی عقیدے پر۔
(See: The Islamic Bulletin, referred above.)
مغربی میڈیا میں کلورین کے قبول اسلام پر بھی  شک کا اظہار کیا گیاہے کہ اس نے فلاں فلاں مقاصد کے پیش نظر اسلام قبول کیا ہے۔تاہم کلاورین کا معاملہ  بکائی وغیرہ ایسے اکڈیمیشنز سے مختلف دکھائی دیتا  ہے۔اس  نے میڈیا پر اپنے انٹرویوز میں قبولِ اسلام کا نہ صرف باقاعدہ  اعلان کیا ہے۔(مثلا دیکھیےڈچ اخبار de Volkskrant  کی  4 فروری 2019ء کی اشاعت اور یوٹیوب پر اس کے مختلف ویڈیو انٹرویوز) بلکہ ایسے شکوک کا اظہار کرنے والوں کے مسکت جوابات بھی دیے ہیں۔ اپنے فیس بک پیج پر6 جنوری کے ایک سٹیٹس میں اپنے مسلمان ہونے کو واضح کرتے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے  کلاورین نے لکھا:
میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے حق اور شاندار مذہب اسلام  کی راہ دکھائی۔ میں صاحب عزت و عظمت رسولِ خدا محمد بن عبداللہ ﷺ سے متعلق اپنے گذشتہ تبصروں پر شرمندہ ہوں۔اب میں اپنے آپ کو  اسلام اور  پیغمبرِ خدا کے پیغامِ عالی شان کی تبلیغ کے لیے وقف کروں گا۔ 
(Joram Van Klaver, February 6, 2019. )
ایک شخص جوئی لا (Joey Law)نے جب اس پر مختلف مادی و جنسی خواہشات کے لیے قبولِ اسلام کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ :
جورام  تمھارے قبولِ اسلام کا سبب یہ دکھائی دیتا ہے کہ تمھاری کوئی مسلم گرل فرینڈ ہو گی!تم کسی کم عمر لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو گے! تم چار بیویوں کے  خواہش مند ہو گے! کوئی مسلم بزنس ،مسلم سپورٹر چاہتے ہو گے! سعودی بادشاہ سے کوئی انعام ملا ہوگا! یا کسی دہشت گردنے دھمکی دی ہوگی!
(See: Joram Van Klaver, February 12, 2019. )
تو جورام کلاورین نے اپنے پیج پر جوئی لا کے یہ  خیالات نقل  کرنے کے بعد لکھا:
انتہا پسندوں کے عام خیالات ملاحظہ کیجیے! حالانکہ میرا قبولِ اسلام  فقط میری تحقیق اور مطالعۂ قرآن کا نتیجہ ہے۔ اس کے پیچھے میرا کوئی بھی مادی مقصد نہیں ۔ میں روحانیت کی تلاش میں تھا، اور مجھے وہ اسلام میں مل گئی۔ اس سے واضح ہے کہ اہلِ مغرب کی کیسے ذہن سازی کی جاتی ہے اور پروپیگنڈہ اور چرچ ان کو کیسے گمراہ کرتے ہیں! شرم کا مقام ہے ایسے لوگوں کے لیے! نوٹ فرما لیجیے کہ میں سعودی عرب صرف مذہبی مقصد کے لیے گیا تھا، اسلامی حج کوئی اچنبھے کی بات نہیں! میں الحمد للہ مسلمان ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ مجھے چار شادیوں کی کوئی خواہش نہیں ۔  مسلمانوں کو دہشت گردکہا جاتا ہے ،حالانکہ وہ خود دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ اسلام تو  امن ، رواداری ، بھائی چارے اور محبت کا پیغام ہے۔
(Joram Van Klaver, February 12, 2019)
بہر حال مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام کے خواہ مخواہ انکار یا اس ضمن میں شکوک و شبہات  اور اسلام قبول کرنے والوں کی نیت پر شک کے اظہار کا مغربی رویہ ہر گز مناسب رویہ نہیں کہا جا سکتا۔ اگربالفرض  مان بھی لیا جائے کہ  کہیں واقعی کسی کے قبولِ اسلام کے پیچھے مادی مقاصد ہوں گے ،تو بھی  ایسا رویہ کسی بھی مذہبی نقطۂ نظر سے قابلِ تعریف نہیں ۔ ایمان کے معاملے میں ظاہر ہی کو دیکھنا چاہیے، اور اسی کے مطابق لوگوں کو ٹریٹ کیا جانا چاہیے۔مادی مقاصد ہی پر بات کرنی ہو تو اہلِ مغرب کو چاہیے کہ اسلام کے حوالے سے ایسے الزامات سے پہلے مسیحیت کی مشنری سرگرمیوں کی تاریخ بھی دیکھ لیں کہ کس وسیع پیمانے پر لوگوں کو مادی لالچ دے دے کر عیسائیت میں داخل کیا گیا! 
جیسا کہ جورام کلارین کے اوپر درج الفاظ سے واضح ہے، مذکورہ نوعیت کے مغربی شکوک شبہات فی الواقع پروپیگنڈے کی قبیل سے ہیں، جن کے ذریعے اہلِ مغرب کو اسلام کے حوالے سے گمراہ کیا جاتا ہے۔ راقم کے خیال میں بادی النظر میں اس پروپیگنڈے  کا مقصد کسی معروف مغربی شخصیت کے قبولِ اسلام سے مغربی لوگوں میں قبولِ اسلام کی متوقع تحریک کو روکنا  اور اسے ایک مشکوک سا عمل دکھا کر رفتہ رفتہ اس سے توجہ ہٹانا دکھائی دیتا ہے۔

مغربی شخصیات کے قبول ِ اسلام پر اہلِ اسلام کا رویہ 

جہاں تک مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام سے متعلق اہلِ اسلام کے رویے کا تعلق ہے ،تو ان کے یہاں ایک رویہ  اس طرح کی خبر پر خوشی کا اظہار اور اپنے مسلمان ہونے پر  ذرا اطمینان بلکہ فخر  ہے، جو کافی حد تک فطری ہے ۔ لیکن اس میں جو چیز سبق حاصل کرنے والی ہوتی ہے، اس کو یہ اکثر نظر انداز کر جاتے ہیں، کہ بھائی ہم اس نعمتِ ایمان کی کیا قدر کر رہے ہیں، جو پروردگار نے  ہمیں ورثے میں عطا کردی ہے! نیز یہ کہ ہمیں اپنے اعمال اور رویوں کی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ وہ نومسلم جس کی اسلام میں آمد پر وہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ،بے چارہ  ہمارے اعمال سے مایوس  ہی نہ ہوجائے، اور کہیں یہ نہ سوچنے لگے کہ کس  قوم کے مذہب میں آگیا ہوں!
اہلِ اسلام کا جو منفی رویہ اس ضمن میں دیکھنے کو ملتا ہے وہ  نومسلم کے بارے میں یہ تجسس ہے کہ اس کا تعلق کس فرقے کے ساتھ ہو سکتا ہے !اور پھر اس کو اپنے اپنے فرقے کی طرف دعوت دینا۔ یہ نہایت ہی گھناؤنا اور خطرناک رویہ ہے ، جس کے تباہ کن نتائج محسوس و مشاہد ہیں؛ کئی  نو مسلم مسلمانوں کی اس فرقہ وارانہ رسہ کشی سے تنگ آ کر اپنے پرانے مذہب میں واپس جا چکے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ دل کھلا رکھیں اور نو مسلم کا رجحان جدھر بھی ہو، سب مسالک اسے عزت دیں اور اون کریں۔
کلاورین اور اس نوع کی جدید تعلیم یافتہ مغربی شخصیات کے قبولِ اسلام کے تناظر میں یہاں میں  اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ  اسلام کو ، ہمیں کم ازکم فی زمانہ ،اپنی  سطحیت سے بچا کر  اس کی داخلی سچائی اور تعلیمات کی معقولیت کے حوالے کر دینا چاہیے۔ جو اس کو غیر جانب داری سے پڑھے گا خود بخود اس کی طرف کھنچے گا۔ لوگوں کو اس سے دور کرنے اور رکھنے  میں ہمارے  آج کل کے  اہلِ مذہب کا کردار نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ مغرب میں  عام آدمی اسلام کو مسلمانوں کے رویوں ہی کی عینک سے دیکھتا ہے، اور عمومی نقطۂ نظر سے یہ بات غلط بھی نہیں ، کہ   وہ دیکھتا ہے کہ اگر اسلام ایسا ہی اچھا اور معقول مذہب ہے ، تو اکثر و بیشتر مسلمان  حتی کہ معروف معنی میں مذہبی لوگ بھی اتنے ناکارہ اور غیر معقول کیوں ہیں؟ کس چیز نے ان کو اسلام کی اچھی اور معقول تعلیمات پر عمل کر کے کامیابی کے حصول سے روک رکھا ہے؟ لہذا اسلام کی تبلیغ کا واحد بہترین آپشن اپنے عمل اور رویوں کی حقیقی اسلامائزیشن ہے۔ تاہم جب تک متعد بہ مسلمان  عملیت کے اس پہلو کی طرف نہیں آ جاتے ،ان کو چاہیے کہ کم ازکم  اسلامی تعلیمات کو صحیح صحیح اور معقول انداز سے پیش کریں اور باقی کام خود اسلام اور صاحبِ اسلام کے حوالے کر دیں۔ اہلِ اسلام کو وہ سبق  کبھی نہیں بھلانا چاہیے، جو اللہ نے اپنی آخری کتاب میں اپنے آخری نبی کو دیا تھا کہ: إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ۔ لَّسْتَ عَلَيْھم بِمُصَيْطِرٍ۔ (الغاشیہ:21-22)" آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں،ان پر داروغے نہیں۔"، یعنی آپ کا کام اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے ، منوانا نہیں۔ ماننے میں وہ آزاد ہیں: فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (الکھف: 29)" جو چاہے ایمان لائے، اور جو چاہے انکار کرے۔"اسلام مسلمانوں  خواہش کے مطابق نہیں ، اللہ کی اسکیم کے مطابق پھیلے گا: إِنَّكَ لَا تَھدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّہ يَھدِي مَن يَشَاءُ۔ (القصص: 56)

سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ 
بل کے محرک جناب سراج الحق نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ سود بہت بڑی لعنت ہے اور اس نے خاندانوں کے خاندان سودی قرضوں میں جکڑ رکھے ہیں، میں نے کوشش کی ہے کہ نجی قرضوں کے لین دین کی صورت میں سود پر پابندی لگائی جائے، مگر ہمیں اس ملک میں سود کے مکمل خاتمہ کی طرف بڑھنا ہوگا، اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ جبکہ منظور ہونے والے مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ قرآن و سنت میں وضع کردہ اسلامی احکامات واضح طور پر قرضوں پر سود لاگو کرنے کے مخالف ہیں اور سود کا خاتمہ نہ کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کی ہدایات دیتے ہیں۔ قانون کے مطابق کوئی بھی قرض فراہم کرنے والا کسی فرد یا افراد کو گروپ کی صورت میں سود کی غرض سے قرضہ یا ایڈوانس لون فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی دارالحکومت اسلام آباد میں سود پر مبنی کاروبار کرے گا۔ جو کوئی ان احکامات کی خلاف ورزی کرے گا اسے تین سے دس سال تک قید یا دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جائے گی اور اس سلسلہ میں معاونت کرنے والا بھی سزا کا مستحق ہوگا۔ 
ہمارے خیال میں سینٹ آف پاکستان کے اس فیصلہ نے ان حلقوں کو خوشی کے اظہار کا ایک موقع فراہم کیا ہے جو طویل عرصہ سے پاکستان کے معاشی نظام و قوانین کو سود کی نحوست سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، اور اس سے قیام پاکستان کے اصل مقصد کی طرف پیشرفت ہوئی ہے جس کی ایک جھلک بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے اس خطاب میں دیکھی جا سکتی ہے جو انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا اور اس میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام کو مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اسی لیے دستور پاکستان نے سود سے پاک معیشت کو پاکستان کی معاشی منزل قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ قومی معیشت کو جلد از جلد سودی اصول و قوانین سے نجات دلائے۔ 
سود کے خاتمہ کی جدوجہد کی داستان بہت طویل ہے جو پارلیمنٹ اور عدالت عظمٰی کے ساتھ ساتھ عوامی محاذ پر بھی قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔ مگر ہر سطح پر واضح فیصلوں اور اعلانات کے باوجود ابھی تک سودی قوانین و نظام سے چھٹکارے کی کوئی عملی صورت سامنے نہیں آرہی اور سودی نظام و قوانین کے خاتمہ کی ہر جدوجہد کو بین الاقوامی اور قومی ماحول میں ناقابل عبور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ عدالت عظمٰی نے ایک موقع پر واضح طور پر تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر ان کے خاتمہ کی ہدایت کی تھی جس پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اسے نظرثانی کے چکر میں ڈال دیا گیا اور سالہا سال گزر جانے کے باوجود وہ اب بھی وفاقی شرعی عدالت کی بھول بھلیوں میں گم ہے۔ 
اس پس منظر میں سینٹ آف پاکستان کا منظور کردہ یہ قانون جو اگرچہ صرف نجی قرضوں کے حوالہ سے ہے اور وفاقی دارالحکومت کے دائرہ میں محدود ہے، مگر سودی نظام کے خاتمہ کی طرف عملی سفر کا آغاز محسوس ہوتا ہے اور یہ امید نظر آنے لگی ہے کہ اگر ارکان پارلیمنٹ اسی جذبہ کے تحت آگے بڑھتے رہے تو ملک کو سودی نظام کی لعنت و نحوست سے پاک کرنے کی مرحلہ وار کوئی نہ کوئی صورت شاید نکل آئے۔ 
ان گزارشات کے ساتھ میں تحریک انسداد سود پاکستان کی طرف سے جناب سراج الحق اور سینٹ آف پاکستان کے تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو اس مہم میں کامیابی سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

نفاذ اسلام میں دستوری اداروں کے کردار کا جائزہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فروری کے آخری عشرہ کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اکادمی کے تحت ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اقدامات کا مرحلہ وار جائزہ لیا گیا اور کانفرنس کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئیں۔ شریعہ اکادمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء اس وقیع علمی و تحقیقی کاوش پر شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے علمی و فکری سطح پر ایک سنجیدہ کام دیکھنے میں آیا، خدا کرے کہ متعلقہ ادارے اس کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد میں بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، آمین یا رب العالمین۔ کانفرنس کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ اور سفارشات درج ذیل ہیں:
شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے سہ روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد ۲۶ تا ۲۸ فروری ۲۰۱۹ء علامہ اقبال آڈیٹوریم فیصل مسجد کیمپس میں ہوا۔ کانفرنس میں اعلٰی عدلیہ اور دستوری اداروں سے وابستہ افراد کی شرکت ایک نمایاں وصف رہا۔ عزت مآب جسٹس جواد ایس خواجہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے افتتاحی تقریب کی صدارت فرمائی، جبکہ عزت مآب جسٹس قاضی فائز عیسٰی جج سپریم کورٹ آف پاکستان، عزت مآب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان جج فیڈرل شریعت کورٹ، جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، اور علامہ زاہد الراشدی نے مختلف مجالس کی صدارت کر کے فاضلانہ صدارتی خطبے ارشاد فرمائے۔ مقالہ جات، علمی گفتگو اور سوالات و جوابات کی روشنی میں کانفرنس درج ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔ 
  1. قیام پاکستان کے بعد آئینی اور ادارہ جاتی سطح پر قوانین کو اسلامیانے کی قابل قدر کاوشیں ہوئی ہیں جنہیں یہ کانفرنس خراج تحسین پیش کرتی ہے اور اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ اس ضمن میں ہمارا دامن خالی ہے۔
  2. کانفرنس میں پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، عدلیہ بالخصوص وفاقی شرعی عدالت، بین الاقوامی یونیورسٹی، ادارہ تحقیقات اسلامی اور شریعہ اکیڈمی کی اسلامائزیشن کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، جس سے ہمیں یہ جائزہ لینے کا موقع ملا کہ اسلامی نقطہ نظر سے قانون سازی کے اس عمل میں ہم کیا حاصل کر سکے ہیں اور کیا کچھ کرنا باقی ہے۔
  3. ان اداروں کی کاوشوں کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ۲۸۸۰ قوانین اور وفاقی شرعی عدالت تقریباً ۱۸۰۰ قوانین کا جائزہ لے چکی ہے، جبکہ شریعہ اکیڈمی طویل دورانیے کے ساٹھ کورسز عدلیہ کے ارکان کے لیے اور اتنے ہی تربیتی کورسز وکلاء کے لیے منعقد کر چکی ہے۔
  4. بلاشبہ پاکستان میں قوانین کو اسلامیانے میں تمام آئینی اداروں کا کردار ہے، بالخصوص عدلیہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار ناقابل فراموش ہے، لیکن ان اداروں میں باہم ہم آہنگی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کانفرنس ان کاوشوں کو باہم مربوط کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے ایک رابطہ کمیٹی کے قیام کی سفارش کرتی ہے۔
  5. مقالہ نگار حضرات نے دستوری اداروں، بالخصوص وفاقی شرعی عدالت میں قوانین کے اسلامیانے کے عمل کے طریق کار، منہج اور اسلوب (اپروچز) پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس کے مثبت و منفی پہلووں کا ناقدانہ جائزہ بھی لیا اور اس بات پر زور دیا کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے طریق کار کو مزید بہتر اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
  6. کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاست کا آئینی اور دستوری لحاظ سے یہ فرض ہے کہ وہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالے جیسا کہ قرارداد مقاصد اور دیگر دفعات میں مذکور ہے۔
  7. کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلامی قوانین محض سزاؤں کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی تبدیلی کا عنوان ہے۔ اس لیے ان دیگر شعبوں کو بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی قوانین کا موثر نفاذ ہو سکے۔
  8. ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اور سستا انصاف فراہم کرے، جبکہ موجودہ قوانین اور نظام عدل فوری انصاف کی فراہمی میں سست روی کا شکار ہے جس کا اعتراف عدلیہ سے وابستہ افراد بھی کرتے ہیں۔ اس لیے متبادل راستہ اسلامی قوانین کا ہی ہے جن کی مدد سے فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہے۔
  9. قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے عمل میں عدلیہ کی توجہ زیادہ تر اس پہلو پر رہی ہے کہ ان قوانین میں کونسے امور اسلامی احکام سے متصادم ہیں، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتیں قوانین کی تعبیر و تشریح کا عمل بھی اسلامی اصولوں کی روشنی میں کریں۔
  10. کانفرنس نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ قوانین کو اسلامیانے کے عمل میں چند اہم رکاوٹیں رہی ہیں۔ مثلاً بین الاقوامی معاہدات، قرآن و سنت کی تعلیمات سے عدم آگہی، نظام تعلیم بالخصوص قانون کی تعلیم میں اسلامی تعلیمات کی کمی، انتظامیہ کی عدم استعداد وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور دیگر اداروں سے وابستہ افراد کی اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر تربیت کی جائے۔

قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴)

محمد عمار خان ناصر

اب دوسری قسم سے تعلق رکھنے والی بعض مثالیں ملاحظہ کیجیے:
۹۔ قرآن مجید میں مال کی زکوٰة کا ذکر اسلوب عموم میں کیا گیا ہے: خذ من اموالھم صدقۃ (التوبہ ۱٠۳:۹)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰة عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰة ساقط ہو جائے گی ، زکوٰة کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰة وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ گویا آپ نے بتایا کہ زکوٰة ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ اگر سنت کی دلالت نہ ہوتی تو ظاہر قرآن سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ تمام اموال یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان سب میں زکوٰة عائد ہوتی ہے۔ (الام ۱/ ۸۵-۸٠، ۳/۷)
امام شافعی اس سے یہ اہم نکتہ اخذ کرتے ہیں کہ جب اس مثال میں سب کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ قرآن کے حکم کے عموم یا خصوص کی تعیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کی روشنی میں کی جائے گی تو پھر اصولی طور پر ایسی ہر مثال کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ لکھتے ہیں:
وکان فی ما ابان من ھذا مع غیرہ ابانۃ الموضع الذی وضع اللہ بہ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم من دینہ وکتابہ، والدلیل علی ان سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ما للہ عزوجل فیہ حکم، والدلیل علی ما اراد اللہ تبارک وتعالیٰ بحکمہ اخاصا اراد ام عاما وکم قدر ما اراد منہ، واذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھذا الموضع من کتاب اللہ عزوجل ودینہ فی موضع کان کذلک فی کل موضع، وسنتہ لا تکون الا بالابانۃ عن اللہ تبارک وتعالیٰ واتباع امرہ (الام ۳/۷)
“اس مثال سے اور باتوں کے علاوہ اس مقام کی بھی وضاحت ہوتی ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دین اور اپنی کتاب کے حوالے سے دیا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس معاملے میں اللہ عزوجل کا کوئی حکم ہو، اس میں سنت یہ راہ نمائی کرتی ہے کہ اللہ نے اپنے حکم سے خصوص کا ارادہ کیا ہے یا عموم کا اور (مثلاً مال کی وصولی کے حکم میں) کتنی مقدار اللہ کی مراد ہے۔ جب ایک مثال میں اللہ کی کتاب کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت ہے تو ہر مثال میں اس کی یہی حیثیت ہونی چاہیے اور (یہ ماننا چاہیے کہ) آپ کی سنت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کی توضیح اور اللہ کے حکم کی اتباع ہوتی ہے۔”
۱٠۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وامسحوا برووسکم وارجلکم الی الکعبین (المائدہ ۶:۵) کے الفاظ میں پاوں کا حکم بیان کیا ہے۔ یہاں اسلوب عموم کی نوعیت کے لحاظ سے، یہ احتمال بھی ہے کہ ہر طرح کے وضو کرنے والے پاوؤں کو دھونے یا مسح کرنے کے پابند ہوں (۱) اور یہ بھی احتمال ہے کہ سب نہیں، بلکہ بعض وضو کرنے والے مراد ہوں۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور یہ ہدایت دی کہ پورے وضو کی حالت میں جس آدمی نے پاووں پر موزے پہنے ہوں، وہ مسح کر سکتا ہے تو اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد سب وضو کرنے والے نہیں، بلکہ بعض ہیں ،یعنی بعض حالتوں میں وضو کرنے والے پاوں کو دھوئیں گے اور بعض میں مسح کریں گے۔ (الام ۱/۲۹، ۳٠)
۱۱۔ اللہ تعالیٰ نے چوری کرنے والے مرد اور عورت کی سزا صیغہ عموم کے ساتھ یہ بیان کی ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ (المائدہ ۵: ۳۸) یہاں اسلوب عموم کی رو سے ہر قسم کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹنا ثابت ہوتا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ درخت سے پھل توڑ لینے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چوری کسی غیر محفوظ جگہ سے کی گئی ہو یا اس کی قیمت ایک چوتھائی دینار سے کم ہو تو بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر طرح کی چوری پر ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے۔ (الام، ۱/۳٠، ۷/۳۱۹)
۱۲۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ زانی مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ (النور ۲:۲۴) یہاں بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شادی شدہ زانی کو کوڑے لگوانے کے بجائے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں سو کوڑوں کی سزا جن زانیوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر شادی شدہ زانی ہیں۔ (الام ۱/۳٠، ۵۶)
اسی طرح احادیث میں کنوارے زانی کے لیے قرآن کی بیان کردہ سزا کے ساتھ ایک سال کے لیے علاقہ بدر کیے جانے کی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی ان روایات کی بنیاد پر کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کو بھی زنا کی شرعی حد کا حصہ شمار کرتے ہیں۔ (الام ۷/۳۳۷، ۳۳۸) اس حوالے سے ان کا اصولی استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی حکم کے بعض حصے قرآن میں بیان کر دیتا ہے اور بعض حصے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے واضح فرماتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ اللہ ہی کا حکم ہے جسے قبول کرنا ضروری ہے۔ (الام ۱/۸۸، ۱٠٠، ۶/۱۲، ۳۹٠)
۱۳۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں سے خمس کا حقدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذوی القربیٰ، یتامی ، مساکین ا ور مسافروں کو قرار دیا گیا ہے (الانفال ۴۱:۹) یہاں ذوی القربی کے الفاظ عام ہیں اور بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قرابت دار اس کے تحت داخل ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بنو ہاشم اور بنو المطلب کو خمس میں سے حصہ دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ذوی القربیٰ سے تمام اقرباءنہیں، بلکہ بعض مراد ہیں۔ (الام ۱/۳۱)
۱۴۔ اسی طرح قرآن مجید میں مال غنیمت کے خمس کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی مال کو اسلوب عموم میں مجاہدین کا مشترک حق قرار دیا ہے (الانفال ۴۱:۹) ، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت اقدام میں دشمن کو قتل کر کے اس سے چھینے ہوئے مال کو خاص طور پر قاتل کا حق قرار دیا جس سے واضح ہو گیا کہ قرآن کی مراد پورا مال غنیمت نہیں، بلکہ وہ مال ہے جو مذکورہ صورت سے ہٹ کر دشمن سے چھینا گیا ہو۔ (الام ۱/۳۲)
۱۵۔ قرآن مجید میں ترکے میں ورثاءکے حصے بیان کرتے ہوئے بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس کی رو سے ظاہراً تمام والدین، بہن بھائی اور میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ (النسا ء ۴: ۱٠،۱۱) تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ایسے رشتہ دار ہیں جن کا دین ایک ہی ہو اور مرنے والا اور اس کے ورثا دار الاسلام کے باشندے ہوں۔ اسی طرح دونوں کا آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اسی طرح سنت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غلام کو ملکیت کا حق حاصل نہیں ہوتا اور اس کا مال دراصل اس کے مالک ہی کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نہ تو غلام کسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ بھی واضح فرمایا کہ اگر وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو بھی اسے اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ (الام ۱/۲۹)
۱۶۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال نہیں کھانا چاہیے، جب تک کہ وہ باہمی رضامندی پر مبنی تجارت نہ ہو۔ (النساء۲۹:۴) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے واحل اللہ البیع (البقرة ۲: ۲۷۵) فرمایا جس سے بظاہر بیع کی ساری صورتیں جائز قرار پاتی ہیں۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید وفروخت کے بعض ایسے طریقوں کو بھی ممنوع قرار دیا جن پر فریقین رضامند ہوتے ہیں اور ان میں نہ تو غرر پایا جاتا ہے اور نہ بائع اور مشتری میں سے کوئی، کسی بات سے ناواقف ہوتا ہے، مثلاً سونے کے ساتھ سونے کے تبادلے میں کمی بیشی یا سونے اور چاندی کے باہمی تبادلے میں ادھار سے کام لینا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کی تمام صورتوں کو حلال قرار نہیں دیا بلکہ وہ صورتیں اس جواز سے خارج ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ (الام ۱/۷۳، ۷۴؛ ۴/۵) (۲)
مذکورہ دوسری قسم کی مثالوں میں امام شافعی کے موقف کا محوری نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے کچھ بیانات ایسے ہو سکتے ہیں جو بظاہر عام ہوں اور ان کے خصوص کا کوئی لفظی یا عقلی قرینہ بظاہر قرآن کے حکم میں موجود نہ ہو، اور اگر صرف ظاہر قرآن پر اعتبار کیا جائے تو ان میں کسی قسم کی تخصیص کی گنجائش دکھائی نہ دیتی ہو، لیکن سنت میں اس بات کی وضاحت کی جائے کہ ان کا ظاہری عموم مراد نہیں، بلکہ وہ خصوص پر محمول ہیں۔ امام صاحب لکھتے ہیں:
ولولا الاستدلال بالسنۃ وحکمنا بالظاھر قطعنا من لزمہ اسم سرقۃ، وضربنا مائۃ کل من زنی حرا ثیبا، واعطینا سھم ذی القربی کل من بینہ وبین النبی قرابۃ ثم خلص ذلک الی طوائف من العرب لان لہ فیھم وشایج ارحام، وخمسنا السلب لانہ من المغنم مع ما سواہ من الغنیمۃ (الام ۱/۳۲)
“اگر سنت سے استدلال نہ کیا جائے اور ہم قرآن کے ظاہر پر فیصلہ کریں تو ہمیں ہر اس شخص کا ہاتھ کاٹنا ہوگا جس نے چوری کی ہو اور آزاد شادی شدہ زانی کو بھی سو کوڑنے لگانے پڑیں گے اور ذی القربیٰ کا حصہ ان سب لوگوں کو دینا ہوگا جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری ہے اور پھر یہ عرب کے کئی اور قبیلوں کو بھی شامل ہو جائے گا کیونکہ مختلف قبائل کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ اسی طرح جو شخص میدان جنگ میں دشمن کو قتل کر کے اس کا سامان حاصل کر لے، اس سے بھی اس سامان کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینا ہوگا جیسے باقی سارے مال غنیمت سے لیا جاتا ہے۔”
تاہم امام شافعی کو اصرار ہے کہ چونکہ عام الفاظ استعمال کر کے خاص صورتیں مراد لینا عربی زبان کا معروف اور مسلم اسلوب ہے اور قرآن کے یہ تمام بیانات اپنی اصل میں تخصیص کا احتمال رکھتے ہیں، اس لیے سنت میں وارد تخصیصات کو قرآن کے خلاف نہیں کہا جا سکتا اور نہ سنت، قرآن کے خلاف ہو سکتی ہے۔ لکھتے ہیں:
قال: افیعد ھذا خلافا للقرآن؟ قلت: لا تخالف سنۃ لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ بحال، قال: فما معنی ھذا عندک؟ قلت: معناہ ان یکون قصد بفرض امساس القدمین الماء من لا خفی علیہ لبسھما کامل الطھارة، قال: او یجوز ھذا فی اللسان؟ قلت: نعم، کما جاز ان یقوم الی الصلاۃ من ھو علی وضوئ، فلا یکون المراد بالوضوئ، استدلالا بان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی صلاتین وصلوات بوضوء واحد، وقال اللہ عزوجل: ”والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما جزاء بما کسبا نکالا من اللہ، واللہ عزیز حکیم“، فدلت السنۃ علی ان اللہ عزوجل لم یرد بالقطع کل السارقین (الام ۱/۲۵۳)
“مخاطب نے کہا کہ کیا اس کو قرآن کی مخالفت شمار کیا جائے گا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت کسی حال میں کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اس نے کہا کہ پھر تمھارے نزدیک اس کا (یعنی آیت میں پاوؤں کو دھونے کے حکم کا) کیا مطلب ہوگا؟ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاوؤں کو دھونے کے حکم میں اللہ تعالیٰ کی مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مکمل طہارت کی حالت میں پاوؤں پرموزے نہ پہنے ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا ازروئے زبان اس طرح کلام کرنا درست ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، ایسے ہی جیسے کوئی شخص پہلے سے باوضو ہو اور نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ وضو کے حکم کا مخاطب نہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو اور بعض مواقع پر کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دو، اور سنت نے اس پر دلالت کی کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر ہر چور کا ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے۔”

متعارض روایات میں سے اوفق بالقرآن کو ترجیح

امام شافعی کے نقطہ نظر کے مطابق صحیح اور مستند اخبار آحاد اور قرآن مجید کے مابین تعارض ممکن نہیں اور ظاہری تعارض کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کو مراد الٰہی قرار دینا لازم ہے۔ البتہ اگر کسی ایک معاملے سے مختلف اخبار آحاد میں تعارض ہو تو ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے لیے قرآن مجید کے ساتھ موافقت کا اصول امام شافعی کو بھی تسلیم ہے۔ فرماتے ہیں:
ان اصل ما نبنی نحن وانتم علیہ ان الاحادیث اذا اختلفت لم نذھب الی احد منھا دون غیرہ الا .... ان یکون احد الحدیثین اشبہ بکتاب اللہ، فاذا کان اشبہ کتاب اللہ تبارک وتعالیٰ کانت فیہ الحجۃ (الام ۱/۱۲۷)
“ہمارے اور تمھارے مابین یہ اصول مسلم ہے کہ جب احادیث باہم مختلف ہوں تو ان میں سے کسی کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیں گے، الا یہ کہ ترجیح کی کوئی وجہ موجود ہو، مثلاً ان میں سے ایک حدیث کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہو۔ جب وہ کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہوگی تو وہی حجت ہوگی۔”
اس اصول کا استعمال امام شافعی کے ہاں درج ذیل مثالوں میں ملتا ہے:
روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، نماز فجر ادا کرنے کے مختلف اوقات کا ذکر ملتا ہے۔ بعض کے مطابق آپ اندھیرے کی حالت میں نماز ادا فرما لیتے تھے، جبکہ بعض میں روشنی میں ادا کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اندھیرے میں نماز ادا کرنے کی روایت کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی محافظت کا حکم دیا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ نماز کا وقت داخل ہونے پر جلد سے جلد نماز ادا کر لی جائے۔ (الام ۱/۱۲۷)
روایات میں صلاة الخوف مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ امام شافعی ان میں سے اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ذکر ہے کہ ایک فریق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک رکعت ادا کرنے کے بعد آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے اپنی باقی ماندہ نماز پوری کر لی اور پھر دشمن کے مقابلے میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس عرصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے فریق کے انتظار میں کھڑے رہے اور اس کے آنے پر دوسری رکعت ادا فرمائی۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ مختلف روایات میں سے یہ روایت کتاب اللہ کے ظاہر کے زیادہ مطابق ہے، اس لیے ہم نے اس کو اختیار کیا ہے۔ (الام ۲/۴۴٠؛ ۱٠/۱۷۶)
بعض روایات میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے کتے، گدھے اور عورت کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے، جبکہ دیگر بہت سی احادیث سے اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت ان سب احادیث کے بھی خلاف ہے جو سنداً بھی اس سے زیادہ صحیح ہیں اور ظاہر قرآن کے بھی مطابق ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: لا تزر وازرة وزر اخریٰ، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی کا عمل دوسرے آدمی کے عمل کو باطل نہیں کر سکتا، چنانچہ ایک انسان کا نماز کی حالت میں دوسرے انسان کے آگے سے گزرنا اس کی نماز کو باطل نہیں کرتا۔ (الام ۱٠/۱۲۶، ۱۲۷)
فاطمہ بنت قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے، جو کہیں سفر پر گئے ہوئے تھیں، انہیں تیسری طلاق بھیج دی تو ان کے سسرال والوں نے عدت کے دوران میں انھیں اپنے ہاں رہائش اور نفقہ دینے سے انکار کر دیا۔ فاطمہ اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ نے ان کے سسرال والوں کی توثیق کی اور فرمایا کہ فاطمہ کا نفقہ ان کے ذمے نہیں ہے۔ پھر آپ نے فاطمہ کو عدت گزارنے کے لیے عبد اللہ بن ام مکتوم کے گھر میں رہائش کرنے کی ہدایت فرمائی۔ (ابو داود، کتاب الطلاق، باب فی نفقة المبتوتة، باب من انکر ذلک علی فاطمة، رقم ۲۲۹۱) اس روایت کے بعض طرق میں ہے کہ آپ نے فاطمہ سے کہا کہ تم نہ نفقے کی حق دار ہو اور نہ رہائش کی، جبکہ بعض طرق میں صرف نفقہ نہ ملنے کا ذکر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مطلقہ مبتوتہ کو دوران عدت میں رہائش سے محروم کرنے کی بات قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة الطلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت دی ہے اور یہ حکم عام ہے، اس لیے درست روایت وہی ہے جس میں ایسی مطلقہ کے لیے صرف نفقہ کے حق کی نفی کی گئی ہے۔ البتہ مذکورہ واقعہ میں فاطمہ کو آپ اس وجہ سے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم اس لیے دیا کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروئے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہائش مہیا کی جائے گی۔ (الام، ۶/۲۸۱)
امام شافعی نے عبد اللہ بن عمر کی روایت ذکر کی ہے جس میں وہ سیدنا عمر سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ نے یہ بات سنی تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں، بلکہ یہ کہا کہ کافر کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کومزید عذاب دیتے ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ نے کہا کہ تمھیں قرآن کافی ہے اور یہ آیت پڑھی: لا تزر وازرة وزر اخری۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کی روایت کتاب اللہ اور سنت کے مطابق ہونے کی وجہ سے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں کہا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے ہی عمل کا بدلہ پائے گا اور کوئی جان کسی دوسرے جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (الام ۰۱/۸۱۲)

قرآن اور سنت میں نسخ کا تعلق

امام شافعی کا موقف یہ ہے کہ سنت، کتاب اللہ کے احکام کو منسوخ نہیں کر سکتی، بلکہ وہ کتاب اللہ کے تابع ہے اور اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ کلام الٰہی کی مراد کی تفصیل وتشریح کرے۔ امام شافعی نے اس کے لیے درج ذیل آیت سے استدلال کیا ہے:
قَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَـآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْـرِ ھذَآ اَوْ بَدِّلْـہ ۚ قُلْ مَا يَكُـوْنُ لِی اَنْ اُبَدِّلَـہ مِنْ تِلْـقَآءِ نَفْسِی ۖ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓی اِلَی ۖ اِنِّـی اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّی عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (یونس ۱۵:۱٠) 
“جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ تم اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے کر آؤ یا اسی کو بدل ڈالو۔ تم کہہ دو کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کو بدل ڈالوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔”
اسی طرح یَمحُو اللّٰہُ مَا یَشَاءُ وَیُثبِتُ (الرعد ۳۹:۱۳)، مَا نَنسَخ مِن آیَۃ او نُنسِہَا نَاتِ بِخَیرٍ مِّنہَا او مِثلِہَا (البقرة ۱٠۶:۲ ) اور وَِذَا بَدَّلنَا آیَۃ مَّکَانَ آیَۃ (النحل ۱٠۱:۱۶) جیسی آیات بھی اسی مدعا کو واضح کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں بیان ہونے والے کسی حکم کو قرآن ہی کی کوئی دوسری آیت منسوخ یا تبدیل کر سکتی ہے۔
امام صاحب کا کہنا ہے کہ سنت سے واضح ہونے والے خصوص کو نسخ یا تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہر حال میں قرآن کے حکم کی وضاحت اور اس کی تبیین ہی ہوگی۔ لکھتے ہیں:
فان قال قائل: حیث وجدت القرآن ظاھرا عاما ووجدت سنۃ تحتمل ان تبین عن القرآن وتحتمل ان تکون بخلاف ظاھرہ علمت ان السنۃ منسوخۃ بالقرآن؟ قلت لہ: لا یقول ھذا عالم، فاذا کان اللہ عزوجل فرض علی نبیہ اتباع ما انزل الیہ وشھد لہ بالھدی وفرض علی الناس طاعتہ وکان اللسان کما وصفت قبل ھذا محتملا للمعانی وان یکون کتاب اللہ ینزل عاما یراد بہ الخاص وخاصا یراد بہ العام وفرضا جملۃ بینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقامت السنۃ مع کتاب اللہ ھذا المقام، لم تکن السنۃ لتخالف کتاب اللہ ولا تکون السنۃ الا تبعا لکتاب اللہ بمثل تنزیلہ او مبینۃ معنی ما اراد اللہ تعالیٰ، فھی بکل حال متبعۃ کتاب اللہ (الام ۱/۹۷)
“اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جہاں مجھے قرآن کا حکم ظاہراً عام ملے اور ایسی سنت بھی ملے جس کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ قرآن کی وضاحت کر رہی ہے اور یہ بھی کہ وہ قرآن کے ظاہر کے خلاف ہے تو کیا اس سے مجھے یہ سمجھنا چاہیے کہ اس سنت کو قرآن نے منسوخ کر دیا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، یہ بات کوئی صاحب علم نہیں کہہ سکتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کو فرض ٹھہرایا اور اس کے ہدایت ہونے کی گواہی دی ہے اور اپنے بندوں پر بھی اس کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے، اور عربی زبان بھی، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا، مختلف معانی کا احتمال رکھتی ہے، مثلاً یہ کہ کتاب اللہ میں عام الفاظ نازل ہوئے ہوں لیکن مراد خاص ہو، یا الفاظ خاص اور مراد عام ہو، یا کتاب اللہ میں حکم اصولی اور اجمالی ہو جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور سنت کی حیثیت اللہ کی کتاب کے ساتھ یہ ہو، تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ سنت، کتاب اللہ کی مخالفت کرے۔ سنت ہمیشہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہی ہوگی، چاہے اس میں اسی حکم کو بیان کیا جائے جو کتاب اللہ میں اترا ہے یا اللہ کی مراد کو واضح کیا جائے۔ بہرحال سنت، کتاب اللہ کے تابع ہی ہوتی ہے۔”
امام شافعی کا کہنا ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے کسی حکم کو بھی کوئی دوسری سنت ہی منسوخ کر سکتی ہے، اور اگر کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے سنت کے کسی حکم کو منسوخ کیا ہو تو اس کی بنیاد پر سنت ہی میں ناسخ حکم کی وضاحت کا وارد ہونا ضروری ہے۔ امام شافعی اس کی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا کرنا استنباط احکام میں الجھن پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔ مثلاً اگر منسوخ حکم قرآن میں اور ناسخ سنت میں ہو، یا اس کے برعکس سنت کے کسی حکم کا ناسخ حکم قرآن میں آ جائے تو یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ ان میں سے مقدم کون سا ہے اور موخر کون سا، یعنی ان میں سے کسی کو بھی ناسخ اور دوسرے کو منسوخ تصور کرنا ممکن ہوگا۔ مثلاً سنت میں بیع کی جن صورتوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب بیانات واحل اللہ البیع وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرة ۲۷۵:۲) کے نازل ہونے سے پہلے کے ہیں اور اس آیت نے ان سب کو منسوخ کر دیا۔ اسی طرح شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کا حکم پہلے دور کا ہے جسے قرآن میں الزَّانِیَۃ وَالزَّانِیۃ (النور ۲: ۲۴) کے نزول نے منسوخ کر دیا۔ اسی طریقے سے موزوں پر مسح کرنے کا عمل قرآن میں آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا جو اس کے بعد منسوخ قرار پایا اور سنت میں چوری کی جن جن صورتوں کو قطع ید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، مثلاً حرز کے بغیر پڑے ہوئے مال کی چوری یا چوتھائی دینار سے کم مالیت کی چوری وغیرہ، وہ سب استثناءات وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃ فَاقطَعُوا ایدِیَہُمَا (المائدہ ۳۸:۵) کے نزول سے منسوخ ہو چکے ہیں۔ الغرض ایسی تمام احادیث کو رد کر دینا ممکن ہوگا جن میں بیان ہونے والا حکم کسی بھی پہلو سے قرآن کے ظاہر سے مختلف ہے یا حکم کے کچھ ایسے پہلووں کو بیان کرتا ہے جو قرآن سے زائد ہیں۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ قرآن میں وارد کسی حکم کا نسخ بھی قرآن کی آیت ہی کے ذریعے سے کیا جائے اور اسی طرح سنت کے کسی حکم کی تنسیخ بھی سنت ہی کے ذریعے سے کی جائے۔ (الام ۱ /۴۶، ۴۷)
امام شافعی نے اس کی مثال یہ ذکر کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ یہ اختیار فرمایا تھا کہ اگر وقت پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو اسے عذر کی بنا پر موخر کر دیا جائے اور بعد میں قضا کر لیا جائے۔ چنانچہ غزوہ خندق کے موقع پر آپ نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو مغرب کے بعد باجماعت قضا کیا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حالت خوف میں نماز کی ادائیگی کا طریقہ نازل کیا اور نماز کو وقت سے موخر کرنے کے طریقے کو منسوخ کر دیا۔ یہ حکم نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات میں قرآن کے طریقے کے مطابق صلاة الخوف ادا کر کے اپنی سنت کے ذریعے سے بھی سابقہ طریقے کے منسوخ ہونے کو واضح کر دیا تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور ان پر واضح ہو جائے کہ وہ ایک سنت کو چھوڑ کر ایک دوسری سنت ہی کو اختیار کر رہے ہیں۔ (الام ۱/۷۹)

قطعی اور ظنی دلائل کا تقابل

کتاب الام کے آخر میں ’کتاب جماع العلم‘ کے زیر عنوان امام شافعی نے اس بحث کے بعض مزید اور بہت اہم پہلووں پر کلام کیا ہے۔ امام صاحب نے یہاں احادیث کی قبولیت یا عدم قبولیت، اجماع کی حقیقت اور قیاس کی حجیت وغیرہ مباحث کے حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے گروہوں کے ساتھ ہونے والی بحثوں کی روداد بیان کی ہے۔ ان میں سے ایک اہم بحث قطعیت اور ظنیت کے حوالے سے کتاب اللہ اور احادیث کے باہمی تقابل سے متعلق ہے۔
معترض کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ کے جو احکام نازل کیے گئے ہیں، وہ قطعی ہیں اور اگر کوئی شخص ان میں سے ایک حرف کے ثبوت میں بھی شک کرے تو اسے مرتد سمجھ کر توبہ کے لیے کہا جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اب ایسے قطعی حکم کے عام یا خاص ہونے یا فرض یا مباح ہونے کا فیصلہ احادیث کی بنیاد پر کیونکر کیا جا سکتا ہے جبکہ ان کا ثبوت یقینی نہیں اور ان کو نقل کرنے والے راویوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں کے متعلق علمائے حدیث کے مابین اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ کسی روایت کو درست سمجھ کر قبول کرنے والے، اس کا انکار کرنے والے کو کبھی یہ نہیں کہتے کہ وہ توبہ کرے، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ اس کی رائے غلط ہے۔ جب کتاب اللہ اور احادیث کے درمیان ثبوت کے لحاظ سے اتنا بنیادی فرق ہے تو پھر احادیث کو کتاب اللہ کے درجے میں رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر کتاب اللہ کے کسی حکم کے عموم وخصوص یا درجے کو طے کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ (الام ۹/۵، ۶)
اس اشکال کے جواب میں امام شافعی نے درج ذیل نکات بیان کیے ہیں:
۱۔ یہ اعتراض صرف قرآن کے عام احکامات کی تخصیص تک محدود نہیں، بلکہ قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل وتشریح پر بھی وارد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز، زکوٰة اور حج کے بارے میں قرآن مجید میں جو اصولی اور اجمالی حکم دیا ہے، اس کی تفصیل وتبیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے کی گئی ہے اور اس کا علم ہم تک نقل العامة اور خبر الخاصة، دونوں طریقوں سے پہنچا ہے۔ گویا نماز کے پورے احکام بھی اخبار آحاد کو قبول کیے بغیر نہیں جانے جا سکتے۔ یہی معاملہ حج اور زکوٰة کا ہے۔ جب کتاب اللہ کے مجمل احکام کی بہت سی تفصیلات کا علم اخبار آحاد پر منحصر ہے اور وہ قابل قبول ہیں تو اسی اصول پر کتاب اللہ کے عام احکام سے اللہ کی مراد کو جاننے کے لیے بھی اخبار آحاد کو قبول کرنا درست ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بھی حکم الٰہی کی توضیح وتبیین ہی کا ایک پہلو ہے۔ (الام ۹/۷، ۸)
۲۔ بعض مثالوں میں کتاب اللہ کے ناسخ اور منسوخ احکام کا حتمی تعین بھی اخبار آحاد کو قبول کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔ مثلاً سورة البقرة میں والدین اور اقرباءکے لیے وصیت کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے، (البقرة۲  :۱۸٠) جبکہ سورة النساءمیں انھی رشتہ داروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ترکے میں متعین حصے بھی بیان کیے ہیں۔ (النساء۴  :۱٠، ۱۱) قرآن مجید میں ایسی کوئی فیصلہ کن دلیل موجود نہیں جو یہ بتائے کہ ان میں سے منسوخ حکم کون سا ہے اور ناسخ کون سا۔ چنانچہ یہ قیاس کرنا بھی ممکن ہے کہ وصیت کے حکم کو متعین حصے مقرر کرنے کے حکم نے منسوخ کر دیا ہے اور اس کے برعکس یہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے کہ وصیت کے حکم نے متعین حصوں کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس کا حتمی تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ہوتا ہے، جو خبر واحد ہے، کہ ہر حق دار کا حصہ طے ہو جانے کے بعد اب وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔ (الام ۹/۱٠، ۱۱)
دوسرے مقام پر امام شافعی نے اس کی ایک دوسری مثال ذکر کی ہے۔ وہ یہ کہ سورة المزمل کے آغاز میں نماز تہجد کو فرض قرار دیا گیا ہے، لیکن آخری آیت کی رو سے کچھ عرصے کے بعد اس حکم میں تبدیلی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو، پڑھ لیا کرو۔ (المزمل ۲٠: ۷۳) اس رخصت کو نماز تہجد کی فرضیت کے سرے سے منسوخ ہونے پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے اور اس پر بھی کہ فرضیت تو برقرار ہے، لیکن اس کے متعین دورانیے کی پابندی منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس کی وضاحت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ہوتیہے، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ (الام، ۱/۴۸، ۴۹)
۳۔ عام قانونی معاملا ت میں بھی ہم اس اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک یقینی حکم میں کسی ایسی بنیاد پر تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں جو یقینی نہیں ہوتی اور اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال کسی آدمی کو قصاص میں قتل کرنا ہے۔ کوئی شخص جس پر یہ الزام لگایا جائے کہ اس نے کسی کو قتل کر کے اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہے، اس سے پہلے اس کی جان اور مال دونوں کو قطعی اور یقینی حرمت حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر قاضی کے سامنے دو عادل گواہ یہ گواہی دے دیں کہ اس نے قتل کیا ہے تو اس کی بنیاد پر اسے قصاص میں قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، حالانکہ ان گواہوں کی گواہی کے یقینی طور پر درست ہونے کی کوئی ضمانت موجود نہیں اور ان کا جھوٹ بولنا یا گواہی میں غلطی کا مرتکب ہونا بھی عین ممکن ہے۔ (الام ۹/۱۳)
اس پوری بحث کا خلاصہ امام صاحب کے نزدیک یہ ہے کہ کسی چیز کے ثبوت کے ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں اور ان میں قطعیت یا ظنیت کے اعتبار سے درجے کا واضح فرق ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی ذریعہ فی نفسہ ایک قابل وثوق ذریعہ ہے تو اس پر فیصلے کا مدار رکھنا اور اسی نوعیت کا نتیجہ مرتب کرنا جو کسی قطعی اور یقینی ذریعے سے ثابت چیز پر رکھا جاتا ہے، علمی وعقلی طور پر بالکل درست ہے۔ لکھتے ہیں:
قلت: انما نعطی من وجہ الاحاطۃ او من جھۃ الخبر الصادق وجھۃ القیاس، واسبابھا عندنا مختلفۃ، وان اعطینا بھا کلھا فبعضھا اثبت من بعض، قال ومثل ماذا؟ قلت: اعطائی من الرجل باقرارہ وبالبینۃ وابائہ الیمین وحلف صاحبہ، والاقرار اقوی من البینۃ والبینۃ اقوی من اباء الیمین ویمین صاحبہ، ونحن وان اعطینا بھا عطاء واحدا فاسبابھا مختلفۃ (الام ۹/۶، ۷)
“میں نے کہا کہ ہم (عام معاملات زندگی میں بھی) کسی بات کے ثبوت کا فیصلہ قطعی اور شک سے پاک علم کی بنیاد پر بھی کرتے ہیں، سچی خبر کی بنیاد پر بھی اور قیاس کی بنیاد پر بھی۔ ہمارے نزدیک ثبوت کے ذرائع مختلف ہیں اور اگرچہ ہم ان سب کو فیصلے کی بنیاد بناتے ہیں، لیکن ان میں سے بعض ثبوت کے اعتبار سے بعض سے زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دو۔ میں نے کہا کہ جیسے میں (بطور قاضی) ایک شخص کے خلاف اس کے اپنے اقرار کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہوں، گواہ کی گواہی کی بنیاد پر بھی، ملزم کے قسم کھانے سے انکار کی بنیاد پر بھی اور مدعی کے قسم کھانے کی بنیاد پر بھی۔ اب ان میں سے ملزم کا اقرار، گواہ کی گواہی کے مقابلے میں، اور گواہی ملزم کے قسم کھانے سے انکار یا مدعی کے قسم کھانے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ اور ہم اگرچہ ان سب بنیادوں پر ایک ہی طرح کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ثبوت کے ذرائع درجے میں باہم متفاوت ہوتے ہیں۔”

ظاہر قرآن میں جواز تخصیص کی بنیادیں

قرآن کے ظاہری عموم میں سنت کی بیان کردہ تخصیصات کو نسخ اور تغییر کے بجائے توضیح مراد اور تبیین پر محمول کرنے کے لیے امام شافعی نے جو استدلال پیش کیا، اس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے عموم کا اسلوب بجائے خود ایک ایسا اسلوب ہے جو متعدد احتمالات رکھتا ہے اور جب تک قرائن سے یہ واضح نہ ہو کہ متکلم کی مراد کیا ہے، الفاظ کے عموم سے حتمی طور پر یہ سمجھنا کہ عموم مراد بھی ہے، درست نہیں۔ امام صاحب نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سنت میں وارد تخصیصات کی نوعیت بھی قرآن کی مراد کی توضیح وتبیین ہی کی ہے اور انھیں تبدیلی یا نسخ سمجھنا درست نہیں۔ تاہم اس نتیجے کو مانتے ہی ایک دوسرا سوال یہ سامنے آجاتا ہے کہ اگر کلام کا عموم اپنی دلالت میں قطعی نہیں اور ہر کلام تخصیص کا محتمل ہوتا ہے تو پھر کلام کے عموم سے استدلال کی اصولی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ کوئی معنویت اور اہمیت نہیں رکھتا اور کسی بھی بنیاد پر حکم میں تخصیص پیداکی جا سکتی ہے؟
یہ سوال امام شافعی کے پیش نظر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ ان کے لیے قابل قبول نہیں، چنانچہ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ کلام کے ظاہری عموم میں خصوص کا احتمال اسی وقت قابل توجہ ہوگا جب اس کے حق میں خود قرآن یا سنت میں دلیل موجود ہو۔ اگر خود قرآن کے اندر یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں تخصیص کا کوئی قرینہ نہ ہو تو ایسے عموم کو محض امکانی احتمال کی بنیاد پر ظاہر سے صرف کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کلام سرے سے اپنی دلالت سے ہی محروم ہو جائے گا۔ 
لکھتے ہیں:
وما کان ھکذا فھو الذی یقول لہ اظھر المعانی واعمھا واغلبھا والذی لو احتملت الآیۃ معانی سواہ کان ھو المعنی الذی یلزم اھل العلم القول بہ، الا ان تاتی سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام تدل علی معنی غیرہ مما تحتملہ الآیۃ فیقول ھذا معنی ما اراد اللہ تبارک وتعالی۔ قال الشافعی رحمۃ اللہ علیہ: ولا یقال بخاص فی کتاب اللہ تعالیٰ ولا سنۃ الا بدلالۃ فیھما او فی واحد منھما، ولا یقال بخاص حتی تکون الآیۃ تحتمل ان یکون ارید بھا ذلک الخاص، فاما ما لم تکن محتملۃ لہ فلا یقال فیھا بما لا تحتملہ الآیۃ (الام ۱/۸۹)
“جس حکم کی نوعیت یہ ہو، اسی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت کا سب سے واضح، عام اور غالب معنی ہے اور اگر آیت اس کے علاوہ کچھ اور معنوں کا احتمال رکھتی ہو تو بھی اسے اسی (واضح اور غالب) معنی پر محمول کرنا اہل علم پر لازم ہے، الا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے علاوہ دوسرے معنی پر، جس کا آیت احتمال رکھتی ہے، دلالت کرے اور یہ بتائے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ معنی ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب یا رسول اللہ کی سنت میں کسی حکم کو خصوص پر محمول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس کی دلیل ان دونوں میں یا کسی ایک میں نہ پائی جائے۔ اسی طرح آیت کے حکم کو خصوص پر محمول نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ خود آیت اس کا احتمال نہ رکھتی ہو کہ اس کی مراد خاص ہے۔ اگر آیت خصوص کا احتمال نہ رکھتی ہو تو غیر محتمل معنی پر آیت کو محمول نہیں کیا جائے گا۔”
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
القرآن عربی کما وصفت والاحکام فیہ علی ظاھرھا وعمومھا، لیس لاحد ان یحیل منھا ظاھرا الی باطن ولا عاما الی خاص الا بدلالۃ من کتاب اللہ، فان لم تکن فسنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدل علی انہ خاص دون عام او باطن دون ظاھر، او اجماع من عامۃ العلماءالذین لا یجھلون کلھم کتابا ولا سنۃ، وھکذا السنۃ۔ ولو جاز فی الحدیث ان یحال شیء منہ علی ظاھرہ الی معنی باطن یحتملہ کان اکثر الحدیث یحتمل عددا من المعانی، ولا یکون لاحد ذھب الی معنی منھا حجۃ علی احد ذھب الی معنی غیرہ، ولکن الحق فیھا واحد لانھا علی ظاھرھا وعمومھا، الا بدلالۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او قول عامۃ اھل العلم بانھا علی خاص دون عام وباطن دون ظاھر، اذا کانت اذا صرفت الیہ عن ظاھرھا محتملۃ للدخول فی معناہ (الام ۱٠/۲۱، ۲۲)
“قرآن، جیسا کہ میں نے بیان کیا، عربی ہے اور اس کے احکام ظاہری معنی پر اور عموم پر محمول ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کے ظاہری معنی میں تاویل کرے یا عام حکم کو خاص قرار دے، جب تک کہ اس پر اللہ کی کتاب میں دلیل موجود نہ ہو۔ اگر کتاب اللہ میں دلیل نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس پر دلالت کرتی ہو کہ یہ حکم خاص ہے، عام نہیں یا اس کے ظاہری معنی کے علاوہ دوسرا معنی مراد ہے۔ یا پھر اکثر اہل علم کا اس پر اتفاق ہو جو سب کے سب کتاب اور سنت کی مراد سے ناواقف نہیں ہو سکتے۔ یہی حکم سنت میں وارد احکام کا ہے۔ اگر کسی حدیث کو ظاہری معنی سے ہٹا کر کسی دوسرے معنی پر محمول کرنا،جس کا وہ احتمال رکھتی ہو، جائز ہو تو اکثر احادیث متعدد معانی کا احتمال رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جو شخص ان میں سے جو بھی معنی اختیار کرے گا، اس کے پاس دوسرے کے مقابلے میں، جس نے کوئی دوسرا معنی اختیار کیا ہے، کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ لیکن حدیث کا صحیح مفہوم ایک ہی ہے، کیونکہ احادیث اپنے ظاہری معنی اور عموم پر ہی محمول ہیں، الا یہ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کسی دوسری حدیث میں) یا اکثر اہل علم کی رائے سے اس کی وضاحت ہوتی ہو کہ وہ عام نہیں، بلکہ خاص ہے اور اس کا ظاہری معنی نہیں، بلکہ کوئی دوسرا معنی مراد ہے۔ اس میں یہ شرط ہے کہ اگر حدیث کو ظاہری معنی سے ہٹا کر جس معنی پر محمول کیا جائے، حدیث اس کا احتمال رکھتی ہو۔”
ایک اور بحث میں لکھتے ہیں:
قال الشافعی : فاذا لم تکن سنۃ وکان القرآن محتملا فوجدنا قول اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم واجماع اھل العلم یدل علی بعض المعانی دون بعض قلنا: ھم اعلم بکتاب اللہ عزوجل وقولھم غیر مخالف ان شاءاللہ کتاب اللہ، وما لم یکن فیہ سنۃ ولا قول اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا اجماع یدل منہ علی ما وصفت من بعض المعانی دون بعض فھو علی ظھورہ وعمومہ لا یخص منہ شیء دون شیئ، وما اختلف فیہ بعض اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اخذنا منہ باشبھہ بظاھر القرآن (الام ۸/۵۵)
“اگر کسی مسئلے میں سنت تو نہ ہو اور قرآن (تخصیص کا) احتمال رکھتا ہو، اور ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا قول یا اہل علم کی اجماعی رائے مل جائے جو مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتی ہو تو ہم کہیں گے کہ یہ لوگ اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان کی بات اللہ نے چاہا تو کتاب اللہ کے خلاف نہیں۔ لیکن اگر کسی مسئلے میں سنت بھی نہ ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا قول اور اجماع بھی نہ ہو جو مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتا ہو تو ایسا حکم اپنے ظاہری معنی اور اپنے عموم پر برقرار رہے گا اور اس میں کسی چیز کی تخصیص نہیں کی جائے گی۔ اور جس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا اختلاف ہو تو اس میں ہم وہ بات قبول کریں گے جو ظاہر قرآن کے زیادہ مطابق ہو۔”
مذکورہ اقتباسات اوران کے علاوہ متعلقہ مثالوں میں امام شافعی کی توجیہات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے نقطہ نظر سے آیت یا حدیث کے ظاہری عموم میں تخصیص کی درج ذیل بنیادیں متعین کی جا سکتی ہیں:
۱۔ قرآن مجید یا حدیث میں حکم کے سیاق سے مخاطب کی تحدید واضح ہو۔
مثلاً یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی (البقرة ۲: ۱۷۸) میں ابتدائے خطاب ہی سے واضح ہے کہ اس کے مخاطب مسلمان ہیں، چنانچہ اسے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے مابین قصاص کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
۲۔ حکم کے داخلی قرائن، جو لفظی بھی ہو سکتے ہیں اور عقلی بھی، اس کے دائرہ اطلاق کی تحدید کو واضح کر رہے ہوں۔ 
مثلاً وَحُرِّمَ عَلَیکم صید البر ما دمتم حُرُماً (المائدہ ۹۶:۵) کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہاں ان جانوروں کی حرمت بیان کرنا مقصود ہے جو احرام سے پہلے خوراک کے لیے حلال تھے، اور وہ جانور زیر بحث نہیں جو ویسے بھی حرام ہیں، کیونکہ ان کی حرمت کے لیے سابقہ حکم ہی کافی تھا۔ (الام ۳/۴۶۴، ۴۶۵) چونکہ درندوں اور دیگر موذی جانوروں کو قتل کرنے سے روکنا آیت کی مراد نہیں ہے، اس لیے حدیث میں پانچ موذی جانوروںکو حدود حرم کے اندر اور باہر قتل کرنے کی جو اباحت بیان کی گئی ہے، اس سے قرآن کی ممانعت میں کوئی استثناءیا تخصیص بھی واقع نہیں ہوتی۔ 
اسی طرح قرآن مجید میں چار عورتوں سے نکاح کے جواز (النساء۴: ۳) کے مخاطب آزاد مرد ہیں نہ کہ غلام، کیونکہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا اختیار آزاد مردوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی دوسری دلیل سے غلام کے لیے بیویوں کی تحدید چار سے کم ثابت ہو تو اسے قرآن کی تخصیص نہیں کہا جا سکتا۔
۳۔ نصوص میں مذکور دیگر احکام پر قیاس سے واضح ہو رہا ہو کہ کسی حکم میں عموم سے خصوص مراد ہے۔ 
اس کی مثال غلام اور باندی کی طلاق اور عدت کے مسائل ہیں۔ قرآن مجید میں مردوں کے لیے تین تک طلاقوں کا اختیار بیان کیا، (البقرة ۲: ۲۲۸، ۲۲۹) جبکہ عورتوں کو تین قروء(البقرة ۲: ۲۲۷) یا تین مہینوں تک (الطلاق ۶۵:۴) عدت گزارنے کی ہدایت کی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ احکام اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں کہ ان سے مراد عموم ہو اور آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ غلاموں اور باندیوں کے لیے بھی یہی حکم ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا اطلاق صرف آزاد مرد وعورت پر مقصود ہو۔ اب ہم نے بعض دیگر احکام میں دیکھا کہ شریعت نے آزاد اور غلام میں فرق کیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے غلاموں کے لیے زنا کی سزا آزاد مرد وعورت سے نصف مقرر کی ہے۔ (النساء۴: ۲۵) اسی طرح بعض اجماعی مسائل سے بھی یہ فرق ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً غلاموں کی گواہی قابل قبول نہیں اور وہ ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت کے حق دار بھی نہیں۔ اسی طرح اس پر اجماع ہے کہ شادی شدہ غلام کو بدکاری کرنے پر سنگسار نہیں کیا جائے گا۔ 
ان تمام دلائل پر قیاس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باندی کے لیے طلاق اور عدت کے احکام بھی آزاد عورت سے مختلف ہونے چاہییں۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کے لیے استبراءرحم کا طریقہ ایک ماہواری گزارنے کو قرار دیا ہے (جو اس لحاظ سے آزاد عورت سے مختلف ہے کہ امام شافعی کے نزدیک آزاد عورت کی عدت ماہواری کے لحاظ سے نہیں، بلکہ طہر کے لحاظ سے ہوتی ہے) ، اس لیے مذکورہ احکام پر قیاس کرتے ہوئے اہل علم کا اجماع ہے کہ باندی کی طلاقوں کی تعداد اور عدت کا دورانیہ بھی آزاد عورت سے نصف یعنی دو طلاقیں اور دو ماہواریاں ہے۔ (الام ۶/۵۵٠، ۵۵۱) 
۳۔ ایک ہی مسئلے سے متعلق وارد مختلف احکام، جو قرآن میں بھی ہو سکتے ہیں اور سنت میں بھی، باہم ایک دوسرے کے ظاہری عموم کی تخصیص کر رہے ہوں۔ 
مثلاً زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا کو آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ مخصوص کرنے کی دلیل قرآن مجید میں ہی موجودہے، جبکہ شادی شدہ زانی کے لیے کوڑوں کے بجائے رجم کی سزا سنت میں بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح ’النفس بالنفس‘ (المائدہ ۴۵:۵) میں قصاص کا حکم بظاہر عام ہے، تاہم حدیث کی رو سے مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ’النفس بالنفس‘  سے مراد ایسے دو افراد کے مابین قصاص ہے جن کی جانیں حرمت کے اعتبار سے مساوی ہوں۔
۴۔ صحابہ کے اقوال سے ظاہری عموم کو خصوص پر محمول کرنا ثابت ہو یا اہل علم کا اجماعی فہم یہ بتاتا ہو کہ قرآن کا ظاہری معنی یا ظاہری عموم مراد نہیں۔ 
مثال کے طور پر قرآن مجید کے حکم: وان کن اولات حمل فانفقوا علیھم حتی یضعن حملھن (الطلاق ۶:۶۵) کی دلالت اس پر واضح ہے کہ حاملہ مطلقہ کے علاوہ کوئی دوسری مطلقہ دوران عدت میں نفقہ کی حق دار نہیں۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق فاطمہ کو، جنھیں ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں، نفقہ کا حق دار تسلیم نہیں کیا۔ یہی حکم ایسی مطلقہ کا بھی ہونا چاہیے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو، تاہم اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مطلقہ رجعیہ کا شوہر دوران عدت میں اسے نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اگر یہاں مطلقہ رجعیہ کو نفقہ دیے جانے پر اہل علم کا اجماع نہ ہو تو قرآن کے ظاہر کی رو سے وہ نفقے کی حق دا رنہیں بنتی۔ (الام، ۶/۲۸٠)
اسی طرح قصاص کی آیت میں الحر بالحر والعبد بالعبد والانثی بالانثی (البقرة ۲: ۱۷۸) کے الفاظ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ عورت کو عورت ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے، یعنی اگر عورت کسی مرد کو یا مرد کسی عورت کو قتل کر دے تو ان کے مابین قصاص نہیں ہوگا۔ تاہم چونکہ امت کے اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کو مرد کے اور مرد کو عورت کے قصاص میں قتل کیا جائے گا، اس لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا یہ ظاہری معنی مراد نہیں۔ امام شافعی نے شان نزول کی روایات کی روشنی میں آیت کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں عورت کو عورت کے بدلے میں قتل کرنے کی تخصیص اس واقعاتی تناظر میں کی گئی ہے جس میں یہ آیت نازل ہوئی تھی، کیونکہ عرب کے بعض قبائل خود کو دوسروں سے افضل تصور کرتے تھے اور اگر کسی دوسرے قبیلے کی عورت ان کے کسی فرد کو قتل کر دیتی تو وہ بدلے میں اس عورت کے بجائے اسی قبیلے کے کسی مرد کو قتل کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے افضلیت کے اس تصور کی نفی کی ہے اور فرمایا ہے کہ جس عورت نے قتل کیا ہے، اسی عورت کو قتل کیا جائے گا۔ (الام ۷/۱۶٠، ۱۶۱)
تاہم صحابہ یا دیگر اہل علم کے مابین اختلاف کی صورت میں امام شافعی صحابی کی رائے کی بنیاد پر حدیث کی تخصیص کے جواز کے قائل نہیں۔ چنانچہ معاذ بن جبل اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ حدیث میں مسلمان کے، کافر کا وارث بننے کی جو ممانعت آئی ہے، وہ صرف مشرکین سے متعلق ہے، جبکہ اہل کتاب کی وراثت مسلمان کو مل سکتی ہے۔ امام شافعی اس مسئلے میں اور ایسی تمام مثالوں میں متعلقہ آیات واحادیث کو ان کے عموم پر برقرار رکھتے ہیں اور بعض صحابہ کی رائے کی وجہ سے ان کی تخصیص کو درست نہیں سمجھتے۔ (الام ۷/۴۲۴؛ ۹/۱۳۶)
۵۔ اگر حدیث کو نقل کرنے والا راوی یہ تصریح کرے کہ اس حکم کا تعلق فلاں مخصوص صورت سے ہے تو امام شافعی، حدیث کی حد تک، اسے جواز تخصیص کا ایک قرینہ تسلیم کرتے ہیں۔ (الام ۱٠/۴٠) مثلاً قضاءبالیمین مع الشاہد کی روایت میں حدیث کے ایک راوی، عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ مالی امور سے متعلق مقدمے میں فرمایا تھا۔ چونکہ فیصلے کا اصل طریقہ دو گواہ ہی ہے، جبکہ قضاءبالیمین مع الشاہد کی نوعیت استثنائی حکم کی ہے، اس لیے اسے اسی نوعیت کے مقدمے میں اختیار کیا جائے گا جس میں آپ نے اختیار فرمایا۔ (الام ۸/۱۶)

خلاصہ مباحث

کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو امام شافعی نے جس طرح متعین کیا ہے، اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:
۱۔ بیان احکام میں کتاب اللہ کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور سنت کا وظیفہ قرآن کے احکام کی تفصیل وتوضیح اور ان سے مزید احکام کا استنباط ہے۔ 
۲۔ سنت میں بیان ہونے والے ایسے احکام جو قرآن سے زائد ہیں، یا تو وحی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو بتائے گئے اور یا کتاب اللہ سے ہی مستنبط ہیں۔
۳۔ قرآن مجید میں عموم کے اسلوب میں بیان کیے جانے والے احکام کی نوعیتیں مختلف ہیں۔ بعض جگہ یقینا عموم مراد ہوتا ہے، لیکن بہت سے مقامات پر سیاق وسباق اور عقلی قرائن سے واضح ہو رہا ہوتا ہے کہ فلاں اور فلاں صورتیں عموم کے تحت داخل نہیں۔ اسی طرح بعض جگہ قرائن اور دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ دراصل کچھ مخصوص افراد کا ذکر عموم کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ 
۴۔ چونکہ عموم کا اسلوب ارادئہ عموم میں قطعی نہیں، بلکہ محتمل ہوتا ہے، اس لیے جب خود متکلم کی طرف سے کسی مستند دلیل سے کلام کی تخصیص ثابت ہو جائے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عموم، متکلم کی مراد نہیں تھا۔ چنانچہ ایسی تخصیص کو مراد ِ متکلم میں تبدیلی یا تغییر نہیں کہا جائے گا، بلکہ اس کی نوعیت متکلم کی مراد کی وضاحت کی ہوگی۔یوں سنت میں وارد تمام تخصیصات قرآن کی مراد کی وضاحت اور بیان ہی کا درجہ رکھتی ہیں۔ 
۵۔ کتاب اللہ اور سنت،دونوں کا منبع ایک ہی چیز یعنی وحی الٰہی ہے، اس لیے اطاعت واتباع کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ جیسے قرآن میں الفاظ عموم میں بیان ہونے والے حکم میں تخصیص کی وضاحت قرآن مجید کی کوئی دوسری آیت کر سکتی ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کوئی حدیث بھی کر سکتی ہے۔ 
۶۔ عموم پر مبنی اصل حکم کا قطعیت سے ثابت ہونا اور تخصیص کا کسی ظنی دلیل یعنی خبر واحد سے ثابت ہونا درست ہے، اس لیے کہ انسان کو عملی زندگی میں قطع ویقین کے ساتھ ساتھ ظن غالب کا بھی مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ چنانچہ ظنی درجے میں ہی سہی، کسی حدیث کی صحت ثابت ہو جائے تو اس کے ذریعے سے قرآن کے عام حکم کی تخصیص کرنا جائز ہے۔
۷۔ سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم کی، اور اسی طرح قرآن کے ذریعے سے سنت کے کسی حکم کی تنسیخ نہیں کی جا سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ کتاب اللہ میں وارد حکم کا ناسخ بھی کتاب اللہ میں ہی ہو اور سنت کے کسی حکم کا ناسخ بھی سنت میں ہی بیان ہوا ہو۔
۸۔ ارادہ عموم کے خلاف کوئی دلیل یا قرینہ نہ ہونے کی صورت میں اسے اپنے ظاہری عموم پر برقرار رکھنا ضروری ہے، چنانچہ خود قرآن یا حدیث میں جب تک کسی حکم کی تخصیص کی دلیل موجود نہ ہو، محض رائے سے کسی منصوص حکم کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔

حواشی

(۱) امام شافعی کہتے ہیں کہ ہم وارجلکم کو نصب کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاوؤں کا حکم بھی وہی ہے جو چہرے اور بازوؤں کا ہے۔ تاہم امام شافعی کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھتے ہیں کہ اَرجُلَکُم کا تعلق وَامسَحُوا کے ساتھ ہو۔ یوں پاوؤں کا حکم غسل بھی ہو سکتا ہے اور مسح بھی۔ (الام ۱/۲۹، ۳٠)
(۲) یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ امام شافعی ربا الفضل یعنی ہم جنس چیزوں کے باہمی تبادلے میں کمی بیشی اور ادھار کی ممانعت کو قرآن مجید میں ممنوع ’الربا‘ میں داخل یا اس کی توسیع تصور نہیں کرتے۔ یعنی یہ ممانعت ان کے فہم کے مطابق نہ الربا کے براہ راست مصداق میں شامل ہے اور نہ اس کی قیاسی توسیع کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے الربا کو وہ قرض ہی سے متعلق سمجھتے ہیں، جبکہ سنت میں مذکور ربا الفضل ان کے نزدیک بیع کی مختلف ممنوعہ صورتوں میں سے ایک صورت ہے جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے۔