سانحہ کربلا اور اس کا درست تاریخی تناظر
محمد عمار خان ناصر
سانحہ کربلا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے موقف اور کردار سے متعلق بنیادی طور پر تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:
پہلا نقطہ نظر یہ ہے کہ سیدنا حسین کو دین کی اساسات کے مٹا دیے جانے جیسی صورت حال کا سامنا تھا جو ان سے، ایک دینی فریضے کے طور پر، جہاد کا تقاضا کر رہی تھی۔ انھوں نے، اور صرف انھوں نے، عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس دینی تقاضے پر لبیک کہا اور اپنی اور اپنے خانوادے کی قربانی پیش کر دی۔ باقی تمام امت، بشمول اکابر صحابہ، پست ہمتی، رخصت اور مصلحت وغیرہ کے تحت ان کا ساتھ نہ دے سکی اور یوں ایک عظیم کوتاہی کی مرتکب ہوئی۔
یہ اصولاً اہل تشیع کا موقف ہے اور تعبیرات والفاظ کی کسی قدر احتیاط کے ساتھ ہمارے ہاں مولانا مودودی وغیرہ نے اسی کی ترجمانی کی ہے۔ چنانچہ مولانا سے منسوب ایک روایت کے مطابق ان سے پوچھا گیا کہ جب جمہور صحابہ نے خروج نہیں کیا تو سیدنا حسین نے کیوں کیا؟ مولانا نے فرمایا کہ یہ غلط سوال ہے۔ درست سوال یہ ہے کہ جب سیدنا حسین نے خروج کیا تو باقی صحابہ نے کیوں ان کا ساتھ نہیں دیا؟
ہمارے نزدیک یہ موقف واقعاتی اعتبار سے بھی غلط ہے اور اس میں جمہور صحابہ کے نقطہ نظر کی بھی بالکل غلط توجیہ کی گئی ہے، بلکہ سرے سے اس کو سمجھنے ہی کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ اہل تشیع کے تاریخی بیانیے میں تو بالکل فٹ بیٹھتا ہے، لیکن اہل سنت کے مجموعی موقف اور مزاج سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔
دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ سیدنا حسین نے خروج کا راستہ اختیار کر کے ایک غلط اقدام کیا جو دین وشریعت کی ہدایات کے برعکس تھا اور نتیجے کے اعتبار سے امت میں خوں ریزی، فساد اور تفرقے کو بڑھانے کا موجب بنا۔ اسی وجہ سے جمہور صحابہ نے ان کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ انھیں روکنے کی کوشش کی۔
اس موقف کے قائل بعض حضرات سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو اصولاً ان شرعی وعیدات کا محل قرار دیتے ہیں جو احادیث میں خروج کے حوالے سے بیان ہوئی ہیں اور صرف ان کی شخصیت اور نسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک “اجتہادی” گنجائش تسلیم کرتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے حضرات کے ہاں اس پہلو کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔
ہمارے نزدیک یہ تجزیہ بھی اس دور کی تاریخی صورت حال کے یک رخے مطالعے پر مبنی ہے اور اس میں شرعی اصولوں کا بھی زیادہ گہرا فہم نہیں پایا جاتا۔ اس کا بنیادی مفروضہ یزید کے اقتدار کو بالکل برحق اور اختلاف ونزاع سے ماورا اور شرعی وسیاسی اعتبار سے گویا طے شدہ ماننا ہے، جبکہ سیدنا حسین کے موقف کی تکییف کرتے ہوئے صورت حال کی پیچیدگی اور پس منظر کے واقعات کو اس موقف میں کلی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ فکری محرک کے لحاظ سے اس موقف میں اہل تشیع کےموقف کا رد عمل نمایاں ہے، اور جمہور صحابہ کے موقف کی بنیادوں کو پورا وزن دیتے ہوئے معاملے کے ان پہلووں کو وقعت نہیں دی گئی جو سیدنا حسین کے موقف اور اس کی بنیاد کی تفہیم میں مدد دیتے ہیں۔
تیسرے موقف کی وضاحت کے لیے، جو ہماری رائے میں مبنی بر اعتدال اور درست موقف ہے، ضروری ہے کہ اس معاملے کے تینوں فریقوں کی پوزیشن کو ان کے اپنے زاویہ نظر سے سمجھا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کی بات میں کتنا وزن تھا اور اس پورے تناظر میں، سیدنا حسین کے اقدام کی تکییف کیا بنتی ہے ۔ یہ تین فریق حسب ذیل ہیں:
جمہور صحابہ وتابعین، جو بنو امیہ کے خلاف خروج کے حامی نہیں تھے،
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، جنھوں نے خروج کا فیصلہ کیا،
اور بنو امیہ، جو اس وقت حکمران تھے۔
آئیے، اسی ترتیب سے ان تینوں کی پوزیشن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمہور صحابہ وتابعین کا موقف
جمہور صحابہ وتابعین نے سیدنا حسین کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ انھیں اس سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی پوزیشن کسی خوف یا مداہنت یا مصلحت کوشی پر نہیں، بلکہ سیاسی صورت حال کے ایک بڑے واضح اور گہرے ادراک پر مبنی تھی۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ امت مسلمہ یعنی ’الجماعۃ’ کی سیاسی قیادت کے لیے قریش کے دو بڑے خاندانوں یعنی بنو ہاشم اور بنو امیہ میں جو کشمکش سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوئی تھی، اس میں اس وقت تک (یعنی سیدنا معاویہ کی وفات کے بعد تک) کی پیش رفت میں سیاسی طاقت کا پلڑا بنو امیہ کے حق میں فیصلہ کن انداز میں جھک چکا ہے۔ الجماعۃ کی قیادت اور امت کی اجتماعی وحدت اور استحکام کے لیے حکمران طبقے میں جو سیاسی عصبیت اور انتظامی صلاحیت بنیادی شرط کی حیثیت رکھتی ہے، وہ بنو امیہ نہ صرف بہم پہنچا چکے ہیں بلکہ عملاً اس کا ثبوت بھی دے چکے ہیں اور سیدنا حسن کا، سیدنا معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جانا اس پر آخری مہر تصدیق ثبت کر چکا ہے۔ یہاں سیدنا علی اور سیدنا معاویہ کے طرز سیاست کا تقابل کسی بھی رنگ میں زیر بحث نہیں اور نہ دونوں کو میسر موافق یا مخالف عوامل کا تجزیہ مقصود ہے۔ مقصد اس واقعی صورت حال کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اس سارے تاریخی عمل کے نتیجے میں بالفعل پیدا ہو چکی تھی۔ مزید یہ کہ سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد اٹھنے والے دور فتن کے اثرات ابھی تک مسلمان جماعت کے ذہنوں اور نفسیات میں تازہ تھے۔ ہماری رائے میں یہ دو بنیادی عوامل (یعنی بنو امیہ کو حاصل سیاسی عصبیت اور خروج کی صورت میں امت میں دوبارہ افتراق کا خوف) تھے جن کی روشنی میں جمہور صحابہ وتابعین نے ایک بڑا واضح اور دوٹوک سیاسی موقف اختیار کیا اور بنو امیہ کے طرز سیاست سے متعلق ہر قسم کے تحفظات کے باجود سیاسی اصولوں، شرعی مصالح اور امت کے اجتماعی مفاد کی بنیاد پر بنو امیہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے کے فیصلے سے خود کو بالکل الگ رکھا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا موقف
سیدنا حسین اس تنازع کے اہم ترین فریق ہیں اور دراصل انھی کا موقف ہے جس کی درست تفہیم کے لیے حد سے زیادہ احتیاط اور باریک ترین نزاکتوں کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے جن پر توجہ نہ دینے سے ان کے موقف کی تکییف میں عموماً افراط یا تفریط کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
اس ضمن میں سب سے اہم پہلو جسے کسی بھی وجہ سے، عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے، یہ ہے کہ ان کے موقف کا باعث استخلاف یزید کے وقت یا سیدنا معاویہ کی وفات کے بعد پیدا ہونے والی، صورت حال کی کوئی تبدیلی (مثلاً یزید کا فسق وفجور یا غیرشرعی انداز حکومت وغیرہ) نہیں تھی، بلکہ وہ بہت پیچھے سے چلی آنے والی ایک غیر حل شدہ کشاکش کا تسلسل تھا۔ اس کا سبب وقتی نوعیت کی کسی وجہ کو قرار دینا تاریخی لحاظ سے بھی ان کے موقف کی غلط ترجمانی ہے اور ازروئے عقل ومنطق بھی، ان کے موقف کا وزن واضح کرنے کے بجائے اسے کمزور بناتا ہے، خاص طور پر اہل سنت کے زاویہ نظر سے جمہور صحابہ کی اس پہلو سے بے خبری یا بے توجہی فرض کرنا بہت مشکل ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا داعیہ اور خواہش رکھنے والوں میں جہاں مہاجرین کے علاوہ انصار شامل تھے، وہاں خود مہاجرین میں اہل بیت بھی اپنے لیے سیاست واقتدار میں ایک خصوصی کردار اور استحقاق کا تصور رکھتے تھے۔ (سردست اس بحث سے صرف نظر کر لیجیے کہ وہ اسے شرعی طور پر کوئی منصوص حق سمجھتے تھے یا اس کی بنیاد اہلیت وصلاحیت، اسلام کے لیے قربانیوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت جیسے اوصاف پر تھی)۔ خلفائے ثلاثہ، اور خاص طور پر خلیفہ اول وثانی کے مقابلے میں، اہل بیت نے اپنا حق نہیں جتلایا، بلکہ ان کے شخصی احترام اور مقام ومرتبہ کے اعتراف کے ساتھ ہر اعتبار سے ان کی موافقت ومعاونت کا طریقہ اختیار کیا، لیکن سیدنا عثمان کے بعد امیر معاویہ کے مقابلے میں سیدنا علی کے سیاسی موقف میں اس کا بالکل واضح اظہار ملتا ہے، اور وہ خاص طور پر عہد نبوی میں اسلام اور کفر کی کشمکش میں بنو امیہ کے تاریخی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے مقابلے میں اپنے ’احق بالامر’ (یعنی حکومت کا زیادہ حق دار) ہونے کا بار بار حوالہ دیتے ہیں۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس کشمکش کے سارے مرحلے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اور گو سیدنا علی اور سیدنا حسن کی موجودگی میں وہ کوئی بنیادی کردار ادا نہیں کر سکتے تھے، لیکن بنو امیہ کے اقتدار سے متعلق ان کی بے لچک پوزیشن ہر ہر مرحلے پر تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا معاویہ کے مقابلے میں خلافت سے دستبرداری کے فیصلے پر بھی انھوں نے سیدنا حسن کے سامنے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور سیدنا حسن نے اس فیصلے کو ان کی ناراضی مول لے کر بلکہ بڑے بھائی کی حیثیت سے انھیں سخت سست کہہ کر عملی جامہ پہنایا تھا۔
اس کے ساتھ اس مزید پیش رفت کو سامنے رکھیے جو استخلاف یزید کی صورت میں ہوئی۔ سیدنا حسن کے ساتھ معاہدہ صلح میں واضح طور پر فریقین میں یہ طے پایا تھا کہ سیدنا معاویہ کے حق میں دستبرداری صرف ان کی شخصیت تک اور ان کی زندگی تک محدود ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ازسرنو یہ طے کرنے کا اختیار ہوگا کہ وہ کس کو اپنا حکمران بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم سیدنا معاویہ نے آخری عمر میں، یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا محرک پدری محبت کو مانا جائے، یا خاندانی اقتدار کا تسلسل قائم رکھنے کی خواہش کو یا امت کی وحدت کو محفوظ رکھنے کے جذبے کو یا ان تینوں کو، اہل بیت کے نقطہ نظر سے یہ بہرحال معاہدے سے انحراف تھا اور اس کے لیے پیدا کیے جانے والے سیاسی اتفاق رائے کو، امت کے مستند اتفاق رائے کے طور پر تسلیم کرنا ان کے لیے ناممکن تھا۔ چنانچہ چند دیگر سرکردہ افراد کے علاوہ سیدنا حسین نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور یزید کی بیعت نہیں کی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اس سارے عمل کے شرعی، اخلاقی یا قانونی جواز کو قبول نہیں کرتے تھے۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں ہمارے نزدیک سیدنا حسین کے اس طرز فکر کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کا اظہار ان کے ہاں سیدنا معاویہ کی وفات کے بعد ہوتا ہے۔ ان کے زاویہ نظر سے ان کا سامنا ایک ایسی حکومت سے تھا جو سیاسی معاہدے سے انحراف کے بعد جبر کے زور پر قائم تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حکومت واقتدار کی شرعی اخلاقیات کی بھی پابند نہیں تھی۔ مزید یہ کہ حکومت کی طرف سے سیدنا حسین پر مسلسل دباو ڈالا جا رہا تھا کہ وہ یزید کی بیعت کر لیں، ورنہ داروگیر کے لیے تیار رہیں۔ گویا انھیں اپنے سیاسی اختلاف کو برقرار رکھتے ہوئے پرسکون زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ اس سب کے ساتھ جب سیدنا حسین کو اہل کوفہ کی طرف سے مسلسل اور پراصرار دعوت ملنے لگی کہ وہ وہاں جا کر اپنی حکومت قائم کر لیں تو ان کا اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جانا عین فطری تھا۔ معلوم نہیں کہ حکومت کی طرف سے بیعت کا دباو نہ ڈالے جانے پر یا اہل کوفہ کی طرف سے دعوت نہ ملنے پر وہ کیا روش اختیار کرتے، لیکن تاریخی واقعہ یہی ہے کہ انھوں نے خروج کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا۔ گویا حالات وواقعات کی عملی صورت نے ان کے برسوں سے چلے آنے والے سیاسی موقف کے ساتھ مل کر وہ ماحول پیدا کر دیا جس میں انھیں ایک طرح سے حالات کے جبر کے تحت یہ قدم اٹھانا پڑا اور اس کے نتیجے میں وہ سانحہ رونما ہو گیا جو آج تک امت کی فکر، نفسیات اور جذبات کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔
اموی حکومت کی پوزیشن
حکمران اموی خاندان اس بحث کا تیسرا بنیادی فریق ہے اور اس کی پوزیشن پر بات کیے بغیر، بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ہمارے نزدیک زیر بحث صورت حال میں ان کی بنیادی غلطیاں دو ہیں: ایک، سیدنا حسین کی نسبت کے احترام کو ملحوظ نہ رکھنا، اور دوسرے، سیاسی لچک اور حکمت کو بالائے طاق رکھ دینا جو اس سے پہلے سیدنا معاویہ کے طرز حکومت کا طرہ امتیاز تصور کی جاتی تھی۔
حق حکومت سے متعلق اصولی ونظریاتی بحثوں اور اقتدار کی کشمکش میں گزشتہ تاریخی مراحل سے صرف نظر کر لیا جائے تو بطور ایک واقعی حقیقت کے، یہ بات ناقابل انکار ہے کہ بنو امیہ مضبوط سیاسی عصبیت کو منظم کر لینے کی بدولت اقتدار کی کشمکش میں سب سے طاقتور فریق بن چکے تھے اور سیدنا معاویہ نے اپنے طویل دور اقتدار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام ممکنہ مخالفین کو عملاً میدان سے باہر کر دیا تھا۔ یزید کی ولی عہدی کے لیے بھی سیاسی عملیت کے اصولوں کے تحت پورا جواز نکلتا ہے، بلکہ ابن خلدون جیسا مورخ اس سارے معاملے کو بجا طور پر سیاسی عصبیت کی تشکیل وحفاظت ہی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ مضبوط سیاسی عصبیت رکھنے والا حکمران طبقہ خود امت کی ضرورت تھا، اس لیے استخلاف یزید میں سیدنا معاویہ کی پدری محبت کو کارفرما مانتے ہوئے بھی اسے اجتماعی سیاسی مصلحت سے ہم آہنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اتنے بڑے حجم کی سلطنت میں سیاسی استحکام کا تسلسل قائم رکھنے کی کوئی اور صورت اس تمدن میں، ملوکیت کے علاوہ متصور نہیں تھی اور خلافت سے ملوکیت کی طرف انتقال اصلاً کسی سیاسی انحراف کا ظہور نہیں تھا (جیسا کہ مولانا مودودی کا انتہائی کمزور اور خطیبانہ قسم کا تجزیہ ہے) بلکہ اس دور کی تمدنی وسیاسی حرکیات کا رو بہ عمل ہونا تھا اور جلد یا بدیر حالات کو اسی رخ پر جانا تھا۔ سیدنا حسن کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی ایک تاویل بنو امیہ کے حق میں کی جا سکتی ہے کہ وہ اس معاہدے کو سیدنا حسن کی ذات تک محدود سمجھتے تھے، اور ان کی وفات کے بعد ایک فریق کے موجود نہ رہنے کی وجہ سے معاہدے کو کالعدم تصور کرتے تھے۔
ان سب باتوں کا اپنی جگہ وزن ہے، لیکن یہ پہلو کسی حال میں نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھا کہ مدمقابل فریق کون ہے اور اس کی شخصی وجاہت اور خاندانی نسبت کس درجے کی ہے۔ سیدنا حسین کو بیعت کے لیے مجبور کرنے کی سیاسی طور پر کوئی ضرورت نہیں تھی، اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کر دینا اور اہل کوفہ کے ساتھ روابط پر نظر رکھنا کافی تھا۔ یہ محض حکمران خاندان کی نفسیاتی کمزوری کا اظہار تھا کہ سیدنا حسین کی شخصیت سے خوف محسوس کیا گیا اور انھیں عدم تحفظ کا احساس دلا کر ایک طرح سے مجبور کر دیا گیا کہ وہ لازمی طور پر کسی غیر معمولی اقدام کے بارے میں سوچیں۔ پھر کوفے کی صورت حال واضح ہونے پر جب انھوں نے اپنے اقدام سے رجوع کا ارادہ کر لیا تو اب تو ایک فی صد بھی اس سخت گیر پالیسی کا جواز نہیں تھا جو موقع پر موجود کارپردازان نے اختیار کی اور سنگ دلی اور بے رحمی کے اس آخری درجے کا اظہار کر دیا جو انسانی تصور میں آ سکتی ہے۔ تف ہے ان بدبختوں کی نام نہاد طاقت پر، اور کروڑوں سلام خانوادہ نبوت کی ناتوانی پر جس نے اپنے سیاسی موقف میں جائز حد تک لچک دکھانے کے بعد شخصی وخاندانی تذلیل قبول نہیں کی اور اپنی آبرو پر اپنی جانیں قربان کر دینے کو ترجیح دی۔
اللھم صل علی محمد النبی الامی وعلی آلہ واھل بیتہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
مذکورہ تحریر پر جناب ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب نے جو اضافہ کیا، وہ انھی کے الفاظ میں یہاں پیش کیا جا رہا ہے:
“ایک توضیح اور دو تحفظات کے ساتھ اتفاق ہے۔
توضیح یہ ہے کہ خلافت، ملوکیت اور جمہوریت کی بحث الگ تفصیل کی متقاضی ہے اور اس سیاق میں اس پر بحث غیر متعلق تفاصیل میں جانے کا خدشہ ہے۔
تحفظ یہ ہے کہ یزید سے ایک تیسری غلطی بھی ہوئی جو آپ کی ذکر کردہ دونوں غلطیوں پر بھاری تھی ۔ جس طرح کا وحشیانہ سلوک اس کی فوج نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا، وہ حکومت کے کسی عام مخالف ، حتی کہ باغی، کے ساتھ بھی ناجائز ہوتا (اور عام قواعد کی رو سے اسے سیاسۃ ظالمۃ ہی کہا جاتا) لیکن بالخصوص جب یہ سارا کچھ رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہوا، تو یہ ظلم کی بدترین مثال بن گئی۔ یزید کی فوج یزید کی شہ کے بغیر اس حد تک نہیں جاسکتی تھی (ان السفیہ اذا لم یُنہَ مامور)، اور اگر گئی تو اس کے بعد اس کے خلاف جس طرح کی کارروائی ضروری تھی، اس کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا، بلکہ ان کو ایک طرح کی blanket immunity حاصل رہی۔ اسی لیے وہ ردعمل پیدا ہوا جس کے نتیجے میں یزید سمیت بعد کے خلفاے بنی امیہ کبھی چین سے بیٹھ نہیں سکے اور آج تک امت اس ظلم عظیم کے نتائج بھگت رہی ہے۔
یہیں سے دوسرے تحفظ پر بات آسان ہوجاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ نے ما شاء اللہ بہت عمدہ تجزیہ کیا ہے جس سے تقریباً مکمل اتفاق کیا ہے، لیکن یہ تجزیہ ادھورا ہے جب تک اس کے نتیجے میں یہ ذکر نہ کیا جائے کہ کربلا میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ظلم عظیم تھا اور اس ظلم کےلیے صرف مباشرین ہی تنہا ذمہ دار نہیں تھے بلکہ superior responsibility کے اصول کے تحت یزید بھی کلی طور پر ذمہ دار تھا۔
آپ شاید یہ کہیں کہ یہ تو قانونی مباحث ہیں اور صرف تاریخی تجزیہ کرنا چاہتے تھے، لیکن اس موضوع کا ہر تاریخی تجزیہ بالآخر قانونی نتائج پر ہی منتج ہوتا ہے اور یہاں بھی کمنٹس میں دیکھیے تو سبھی کو ان قانونی نتائج ہی کی فکر ہے۔و اللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر دے۔ آمین”
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۶)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۴۹) کن فیکون کا ترجمہ
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں ’’کن فکان‘‘ نہیں آیا ہے، جبکہ آٹھ مقامات پر کن فیکون کی تعبیر آئی ہے۔ یہ تعبیر ایک بار زمانہ ماضی کے سلسلے میں آئی ہے، ایک بار زمانہ مستقبل کے سلسلے میں اور باقی مقامات پر ہر زمانے پر محیط عام اصول بتانے کے لیے آئی ہے۔
عام طور سے کن فیکون کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے:’’ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے‘‘ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ کن فیکون کا مناسب ترجمہ نہیں ہے، بلکہ دراصل ’’کن فکان‘‘ کا ترجمہ ہے۔ کن فیکون کا ترجمہ ہوگا ’’ہوجا تو وہ ہونے لگتی ہے یا ہورہی ہوتی ہے‘‘۔ترجمے کے باب میں یہ ان کا خاص تفرد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ راقم السطور کو کسی اور کا ترجمہ اس طرح کا نہیں ملا۔
درحقیقت فکان کے مقابلے میں فیکون میں معنی کی بہت زیادہ وسعت ہے۔ کچھ امر ایسے ہیں جنہیں ایک بار ہوجانا نہیں بلکہ زمانہ دراز تک ہوتے رہنا ہے، جیسے سورج اور چاند کا گردش میں رہنا۔ کچھ امر ایسے ہیں جنہیں ایک متعین وقت کے بعد ہونا ہے، جیسے دعا کی قبولیت کا ایک عرصے کے بعد ظاہر ہونا۔ جب کہ کچھ امر ایسے ہیں جو حکم دیتے ہی وجود میں آجاتے ہیں۔ فیکون میں نفاذ امر کے ایسے تمام احوال کا احاطہ ہوجاتا ہے۔ یہ قرآنی اسلوب کی بلاغت ہے کہ ایسی تعبیر اختیار کی گئی جو تمام ابعاد پر دلالت کرے۔
ذیل میں ایسی آیتوں کے ترجمے پیش کیے جاتے ہیں۔
(۱) بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَی أَمْراً فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُن فَیَکُون۔ (البقرۃ: ۱۱۷)
’’وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ’’ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے‘‘(سید مودودی)
’’وہ زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے والا ہے، وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وہ وہیں ہوجاتا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’بس یہ حکم دیتا ہے کہ ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہونے لگتی ہے، یا ہورہی ہوتی ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۲) قَالَ کَذَلِکِ اللّہُ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ إِذَا قَضَی أَمْراً فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُن فَیَکُونُ۔ (آل عمران: ۴۷)
’’فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے‘‘ (احمد رضا خان)
’’جواب ملا، ’’ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہونے لگتا ہے، یا ہورہا ہوتا ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۳) إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْْءٍ إِذَا أَرَدْنَاہُ أَن نَّقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ۔ (النحل: ۴٠)
’’جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے‘‘ (احمد رضا خان)
(رہا اس کا امکان تو) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں ’’ہو جا‘‘ اور بس وہ ہو جاتی ہے۔ (سید مودودی)
’’تو وہ ہونے لگتی ہے، یا ہورہی ہوتی ہے‘‘(امانت اللہ اصلاحی)
(۴) مَا کَانَ لِلَّہِ أَن یَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَہُ إِذَا قَضَی أَمْراً فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُن فَیَکُون۔ (مریم: ۳۵)
’’اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراً ہوجاتا ہے‘‘ (احمد رضا خان)
’’اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ہونا لائق نہیں، وہ تو بالکل پاک ذات ہے، وہ تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتا ہے’’ (فتح محمد جالندھری)
’’تو وہ ہونے لگتا ہے، یا ہورہا ہوتا ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۵) إِنَّمَا أَمْرُہُ إِذَا أَرَادَ شَیْْئاً أَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُون۔ (یس: ۸۲)
’’وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتی ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔(احمد رضا خان)
’’وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے‘‘ (سید مودودی)
اس آخر الذکر ترجمہ میں ایک اور خامی ہے، وہ یہ انما أمرہ کا ترجمہ کیا ہے’’اس کا کام بس یہ ہے‘‘ یہ ترجمہ لفظ کے لحاظ سے بھی اور شان خداوندی کے لحاظ سے بھی مناسب نہیں ہے، اس کے بجائے ہونا چاہئے ’’اسے بس یہ حکم دینا ہوتا ہے‘‘
’’تو وہ ہونے لگتی ہے، یا ہورہی ہوتی ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۶) ہُوَ الَّذِیْ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ فَإِذَا قَضَی أَمْراً فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُن فَیَکُونُ۔ (غافر: ۶۸)
’’وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے‘‘ (احمد رضا خان)
’’وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے، پھر جب وہ کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’تو وہ ہونے لگتا ہے، یا ہورہا ہوتا ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۷) إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَہُ کُن فَیَکُونُ۔ (آل عمران: ۵۹)
’’عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے‘‘ (احمد رضا خان)
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہو بہو آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہو جا! پس وہ ہو گیا!‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے‘‘ (فتح محمد جالندھری)
توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ ماضی کی روداد ہے، اس کے پیش نظر پہلا ترجمہ اس لیے درست نہیں ہے کہ ماضی میں ہونے کا لحاظ نہیں کیا گیا اور جو ترجمہ ہر جگہ کیا وہی یہاں بھی کردیا۔ موخر الذکر دونوں ترجمے واضح طور سے فیکون کے بجائے فکان کے ہیں۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی حسب ذیل ترجمہ کرتے ہیں:
’’پھر اس سے کہا ہوجا تو وہ ہونے لگا، یا ہورہا تھا‘‘
(۸) وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ وَیَوْمَ یَقُولُ کُن فَیَکُونُ۔ (الانعام: ۷۳)
’’اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی‘‘ (احمد رضا خان)
’’وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا‘‘۔(سید مودودی)
یہ آیت زمانہ مستقبل سے تعلق رکھتی ہے، اس کا ترجمہ مولانا امانت اللہ اصلاحی حسب ذیل کرتے ہیں:
’’اور جس دن وہ کہے گا ہوجا تو وہ ہونے لگے گا، یا ہورہا ہوگا‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
مفسرین کا عام طور سے خیال یہ ہے کہ کن فیکون کی تعبیر یہ بتانے کے لئے آئی ہے کہ اللہ جسے ہونے کا حکم دیتا ہے وہ فورا ہوجاتا ہے۔ جب کہ فیکون کا انتخاب یہ بتاتا ہے کہ اس تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے ہونے کے لئے اللہ کا حکم دینا کافی ہوتا ہے۔
(جاری)
ناموس رسالت کا مسئلہ اور مغرب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ نیدرلینڈز پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر اور پارٹی فار فریڈم کے سربراہ گرٹ ولڈرز (Geert Wilders) کی طرف سے اس مجوزہ نمائش کی منسوخی کی اطلاع سے یہ وقتی مسئلہ تو ختم ہو گیا ہے جس پر اس کے خلاف احتجاجی مہم میں حصہ لینے والے تمام شخصیات، ادارے، حکومتیں اور جماعتیں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مگر اصل مسئلہ ابھی باقی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دلوانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے جو ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے ماحول میں ہی ہوگی اور اس کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن) کو اساسی کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا پیار ہے، انہیں نہیں پتا کہ وہ ہمیں کس قدر تکلیف دیتے ہیں، اور وہ آزادیٔ اظہار کے نام پر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دنیا کو بتانا چاہیے کہ جیسے ہولوکاسٹ سے ان کو تکلیف ہوتی ہے، گستاخانہ خاکوں سے وہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اس معاشرے میں فتنہ اور جذبات بھڑکانا بہت آسان ہے، مغرب میں وہ لوگ جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بہت آسان بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں یہ کوشش کریں گے کہ او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن) کو اس پر متفق کریں، اس چیز کا بار بار ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک ہونا ہوگا اور اور اسے اس معاملے میں کوئی پالیسی بنانی چاہیے۔ یہ دنیا کی ناکامی ہے، مغرب میں لوگوں کو اس معاملہ کی حساسیت کا اندازہ نہیں، لہٰذا مسلم دنیا ایک چیز پر اکٹھی ہو اور پھر مغرب کو بتائیں کہ ایسی حرکتوں سے ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔
جہاں تک ایمانی جذبات کے اظہار کا تعلق ہے وہ تو بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل بڑھ رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ہالینڈ کے بعض ناعاقبت اندیشوں کی اس مذموم حرکت پر ناراضگی اور شدید غصے کی لہر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر ہمارے خیال میں محض جذبات اور غم و غصہ کا اظہار کافی نہیں ہے بلکہ اصل فورم پر یہ جنگ لڑنے کی ضرورت ہے جس کا وزیر اعظم عمران خان نے تذکرہ کیا ہے، جبکہ ہم ایک عرصہ سے مسلسل گزارش کر رہے ہیں کہ (۱) ناموس رسالتؐ (۲) تحفظ ختم نبوت (۳) اور پاکستان کی اسلامی شناخت کے معاملات پر حقیقی معرکہ آرائی بین الاقوامی اداروں اور لابیوں میں ہو رہی ہے مگر وہاں ہمارا یعنی دینی حلقوں کا کوئی مورچہ موجود نہیں ہے۔ سیکولر حلقے اور منکرین ختم نبوت بین الاقوامی معاہدات کے ہتھیاروں کے ساتھ عالمی اداروں اور حلقوں میں دین، اہل دین اور پاکستان کے خلاف محاذ گرم کیے ہوئے ہیں مگر ہم سوشل میڈیا، مساجد اور سڑکوں پر اپنے جذبات کا اظہار کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا ہے۔ مجھے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس مہم کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں ہے بلکہ میں خود اپنی استطاعت کے مطابق اس میں شریک رہتا ہوں لیکن بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کا وسیع تر اور مؤثر محاذ ہماری نمائندگی سے خالی ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔
ہمارے ہاں کی عمومی صورتحال یہ ہے کہ سیکولر حلقوں نے ابھی تک پاکستان کے دستور کو سنجیدگی سے نہیں لیا جبکہ دینی حلقوں کی بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں یہی صورتحال ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی معاہدات اور دستور پاکستان دونوں زندہ حقیقتیں ہیں جن سے صرفِ نظر کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ سیکولر حلقوں کا خیال ہے کہ دستور پاکستان محض ایک نمائشی اور کاغذی دستاویز ہے جسے پس پشت ڈال کر پاکستان میں وہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتے ہیں جبکہ دینی حلقوں کے نزدیک بین الاقوامی معاہدات کی کم و بیش یہی حیثیت ہے۔ دونوں کو اپنے اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا ورنہ قوم اسی طرح ذہنی اور فکری خلفشار کا شکار رہے گی اور دونوں طرف کے مہم جو گروہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
ہمارے نزدیک اس کا حل وہی ہے جو وزیراعظم عمران خان نے بتایا ہے بلکہ اس سے قبل ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر، جبکہ وہ خود او آئی سی کے صدر تھے، یہ تجویز دے چکے ہیں کہ مسلم امہ کو متحد ہو کر اقوام متحدہ سے دو مسئلوں پر بات کرنا ہوگی۔ ایک یہ کہ بین الاقوامی معاہدات پر مسلم امہ کے دینی و تہذیبی تحفظات کے حوالہ سے نظرثانی کی ضرورت ہے اور دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کے پالیسی ساز ادارہ سلامتی کونسل میں مسلم امہ کی نمائندگی متوازن نہیں ہے اور وہ ویٹو پاور کی فیصلہ کن اتھارٹی کے دائرہ سے باہر ہے۔ مغربی دنیا اور عالم اسلام کے درمیان موجودہ بے اعتمادی بلکہ کشمکش کی بڑی وجہ یہی ہے اس لیے اقوام متحدہ کے ساتھ اجتماعی طور پر دوٹوک بات کرنا ان کے نزدیک ضروری ہے۔ ہمارے خیال میں حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بھی مشاورت کا اہتمام کرنا چاہیے، بلکہ مسلم دنیا کے ان مشترکہ مسائل کے حل کے لیے اگر سعودی عرب کے شاہ سلیمان، ترکی کے رجب اردگان، ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر محمد، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ایران کے صدر حسن روحانی باہمی مشاورت کے ساتھ پیشرفت کریں تو وہ یقیناً بے نتیجہ نہیں ہوگی۔ خدا کرے کہ ایسا ہو جائے، آمین یا رب العالمین۔
احمدی مسئلے پر تازہ بحث: نمایاں سوالات پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج
عمران خان صاحب کی نئی حکومت میں احمدی ماہرِاقتصادیات عاطف میاں کے اقتصادی مشاورتی کونسل کے مشیر مقرر کیے جانے اور پھر مسلم مذہبی حلقوں کی طرف سے اس پر ردِّعمل کے نتیجے میں مذکورہ عہدے سے ہٹائے جانے کے تناظر میں علمی حلقوں میں احمدی مسئلے کے حوالے سے ایک دفعہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔اس بحث سے جڑے اہم سوال یہ ہیں:
- احمدیوں سے عام اقلیتوں سے مختلف رویہ اپنایا جانا چاہیے یا عام اقلیتوں جیسا؟ اسی سوال سے جڑا ایک اور سوال یہ ہے کہ اقلیت کی حیثیت سےاحمدیوں کو اہم اعلی عہدوں پر فائز کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
- حمدی خود کو غیر مسلم اقلیت نہ مان کر آئین سےبغاوت کر رہے ہیں یا نہیں؟
- آئینی اعتبار سے کسی کے مذہب کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟
- کیا احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا لینا کافی تھا یا ان کے حوالے سے مزید سخت آئینی اقدامات کی ضرورت ہے؟
ذیل میں ہم ہر سوال سے متعلق پائے جانے والے نمایاں نقطہ ہائے نظر (بشمول عمومی مسلم و قادیانی موقف) کا خلاصہ عرض کرنے کے بعد ان پر اپنی کچھ گزارشات پیش کریں گے۔ ان سوالات پر اپنی گزارشات کے بعد ہم ایک ایسے مسئلے پر مختصر گفتگو کریں گے، جس کی طرف احمدی اور مسلمان دونوں ہی بالعموم توجہ نہیں دیتے:
پہلے سوال سے متعلق صورت ِ حال یہ ہے کہ پاکستانی سماج اور علما کی اکثریت اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ احمدیوں کے ساتھ عام اقلیتوں جیساسلوک روا رکھا جائے۔اس کا عمومی موقف یہ ہے کہ دیگر اقلیتیں خود کو غیر مسلم تسلیم کرتی ہیں ، جس کی بنا پر ان کے ساتھ رویے میں سماج اور علما کی اس اکثریت کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔مثلاً کسی ہندو کے چیف جسٹس آف پاکستان بننے پر کبھی اس طرح کا ردعمل سامنے نہیں آیا، جیسا عاطف میاں کے اقتصادی مشاورتی کونسل کے مشیر بننے پر آیا! اس موقف کے حاملین کا خیال ہے کہ احمدی غدار ِ دین و طن وآئین ہیں، ان سے عام اقلیتوں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے اسلام ، مسلمانوں
اور پاکستانیوں کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اور آیندہ بھی پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں؛ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے غداری کی؛ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچائی ،یہی کا م اس کے پیروکار اسے نبی مان کر کررہے ہیں؛وہ اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے مختلف طریقوں سے اہم عہدوں پر فائز ہو کر احمدیت پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔وہ پاکستان میں وہی کردار حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو یہودیوں نے امریکہ میں حاصل کر رکھا ہے۔ اس طرح کے کوئی عزائم و جرائم دیگر اقلیتوں کے حوالے سے محسوس و مشاہد نہیں ،لہذا دینی و قومی ہر دو اعتبار سے احمدیوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں سے مختلف سلوک ہونا چاہیے۔ دوسری طرف بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ احمدی بھی چونکہ ایک اقلیت ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ عام اقلیتوں جیسا معاملہ ہونا چاہیے۔آئین اس حوالے سے اقلیتوں میں کوئی تفریق نہیں کرتا کہ ان کا تعلق کس مذہب سے ہے! وہ بس تمام اقلیتوں کے حقوق اقلیتوں کے حقوق کی حیثیت سے متعین کرتا ہے۔ زیرِ بحث تناظر میں عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل کا مشیر بنائے جانے میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہے۔چنانچہ اس حوالے سے مسلم مذہبی طبقوں کا ردِّعمل اور حکومت پر دباؤ بے جا ، غیر آئینی اور پاکستان میں مذہبی طبقوں کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کی کوششوں کا عکاس ہے، جس سے عالمی برادری میں اقلیتوں سے سلوک کے ضمن میں پاکستان کا پہلے سے خراب شدہ امیج اور خراب ہو گا۔ اس حوالے سے بعض لوگوں کی طرف سے یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ قادیانی خود کو غیر مسلم مانیں یا نہ مانیں انھیں اقلیت ہی سمجھا جانا چاہیے، کیوں کہ آئین نے انھیں اقلیت قرار دیا، اور آئین نے بطور خاص ان کو اقلیت قرار ہی اس لیے دیا کہ وہ خود کو مسلم کہتے ہیں ، ورنہ تو آئینی طور پر اقلیت قرار دینے کی ضرورت ہی نہ تھی کہ آئین نے باقی اقلیتوں کے بارے میں ایسا کچھ بھی قرار نہیں دیا۔
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے ، اس سے متعلق بھی اکثریت کی رائے یہی ہے کہ احمدی خود کو غیر مسلم اقلیت نہ مان کر آئین سے بغاوت کر رہے ہیں۔ جب کوئی گروہ آئین کو نہیں مانتا، اور دھڑلے سے اس کے مخالف پروپگنڈہ کرتا ہے، اسے کیسے ریاست اور آئین کا وفادار قرار دیا جا سکتا ہے! دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ احمدی خود کو مسلمان ظاہر کر کے آئین سے بغاوت نہیں کر رہے، بلکہ آئین کی اس شق سے اختلاف کر رہے ہیں، جو احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتی ہے ،اور آئین کی کسی شق سے اختلاف کرنا اور اس میں ترمیم کی کوشش کرنا بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا۔
تیسرے سوال سے متعلق بھی اکثریت کی رائے مثبت ہے ۔ اس کا موقف ہے کہ اصولی اعتبار سے ظاہر ی عقائد و اعمال کی روشنی میں اہلِ علم یہ طے کر سکتے ہیں کہ کوئی مخصوص شخص یا گروہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے۔ احمدیوں سے متعلق مسلم اہلِ علم نے محکم دلائل سے ثابت کیا تھا کہ احمدی اسلام کے دائرے سے نکل چکے ہیں۔ جب کہ دوسرا موقف یہ ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے پیچھے کوئی مضبوط مذہبی بنیاد نہیں ہے،بات فقط اتنی ہے کہ بھٹو حکومت نے ملاؤں کے دباؤ میں آکر یہ اقدام کیا۔
آخر ی سوال کے حوالے سے مسلم مذہبی حلقوں کے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ احمدیوں کو صرف غیر مسلم قرار دلوانا کافی نہیں تھا۔ یہ اس وقت کے حالات میں ایک کمپرومائز تھا ، جس پر علما زیادہ بڑے مفاسد سے بچنے کی حکمتِ عملی کے تحت رضا مند ہو گئے تھے۔ ان سے متعلق صحیح بات یہ ہے کہ یہ مرتد ہیں ، انھیں توبہ کر کے اسلام میں واپس آنے کا کہا جائے اور واپس نہ آئیں تو قتل کر دیا جائے۔ دوسری رائے جس میں مذکورہ سوال کے تناظر میں نرمی اختیار کی گئی ہے ، یہ ہے کہ انھیں آئینی طور پر دیگر اقلیتوں سے الگ قرار دلوا کر کلیدی عہدوں وغیرہ پر فائز نہ کرنے سے متعلق قانون سازی کی جائے ۔
اب آتے ہیں ان سوالات پر بحث کے ضمن میں ہمارے زاویۂ نظر کی طرف :
پہلے سوال سے متعلق ہماری گزارش یہ ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق احمدیوں سے کلیدی عہدوں کے حوالے سے عام اقلیتوں جیسا معاملہ روا رکھنا محال ہے۔یہ دلیل کہ آئین نے انھیں اقلیت قرار ہی اس لیے دیا کہ وہ خود کو غیر مسلم نہیں مانتے، لہٰذا وہ خود کو جو بھی کہیں ، دوسری اقلیتوں جیسے ہی سمجھے جانے چاہییں ، الٹا اس نظریے کے حق میں جاتی ہے ، کہ ان سے دیگر اقلیتوں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا، اور وہ اس طرح کہ قادیانیوں کا چونکہ معاملہ ہی دیگر اقلیتوں سے مختلف ہے ، اس لیے ان کو دیگر اقلیتوں کی طرح سمجھا بھی نہیں جانا چاہیے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جس طرح انھیں غیر مسلم قرار دلوانے کا موجب یہ بنا کہ ان کے حوالے سے علما اور عوام کی اکثریت نے اس پر صاد کیا، اسی طرح آج علما اور عوام کی اکثریت کا فیصلہ یہی ہے کہ انھیں اعلی عہدوں پر فائز نہ کیا جائے۔(بعض لوگ اس حوالے سے موقف اختیار کرتے ہیں کہ آپ علما اور عوام کی اکثریت کی بات کرتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نزدیک شرعاً ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، یہ دلیل اس وجہ سے بے محل ہے کہ جب ہم اس کو درست قرار دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہمارے نزدیک اس معاملے میں تقاضاے وقت کی رو سے شرعی و فقہی موقف یہی بنتا ہے، نہ یہ کہ محض علما کے دباؤ کی وجہ سے ایسا موقف اختیار کیا جانا ضروری ہے، اگر ہمارا نقطۂ نظر مختلف ہو تو اس کے اظہار میں ہمیں کوئی باک نہیں ہے) اپنے طور پر اس کو کوئی پسند کرے یا نہ کرے ، امر واقعہ یہی ہے کہ ان کے ساتھ عام اقلیتوں جیسا سلوک علما اور عوام کو سرِدست قبول نہیں، ہو سکتا ہے کل کلاں وہ اپنے رویوں سے علما اور عوام کو قائل کر لیں کہ ان سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے والا، تو ان کے حوالے سے موجودہ رویہ تبدیل ہو جائے۔(اور قادیانیوں کے مذہبی موقف کے تناظر میں فی الواقع یہ امرِ محال ہے) اس معاملے کو اسی حساسیت کے تناظر میں دیکھنا پڑے گا،جس تناظر میں تحریکِ ختم نبوت کے دوران ان کی مذہبی پوزیشن کو دیکھا گیا تھا۔
میرے خیال میں اس معاملے میں کوئی آئینی بندوبست کیے بغیر کوئی غیر سرکاری و غیر تحریری انتظام ایسا ہو کہ قادیانیوں کو جو اعلی عہدہ دینے کے حوالے سے مذکورہ نوعیت کی حساسیت پائی جائے ، وہ انھیں سپرد نہ کیا جائے ، یہ چیز حکمرانوں ، عوام، اور سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ خود قادیانیوں کے لیے بھی فائدے مند ہے، اور سوسائٹی کے امن کی ضامن ہے۔ اس ضمن میں زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے کوئی فلسفہ بگھارنا ہر گز دانش مندی نہیں۔ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ قادیانیوں کو کلیدی عہدے نہ دینے کے مخالفین اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ہمیشہ اسی بات کو سامنے رکھتے ہیں کہ مسلم مذہبی طبقے انتہا پسندی سے کام لے رہے ہیں؛ ایک اقلیت کو اس کے حقوق سے جبراً محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ اس معاملے میں( مسلم مذہبی طبقے کو انتہا پسند قرار دیا جائے تو بھی ) فریقِ مخالف میں انتہا پسندی زیادہ پائی جاتی ہے۔وہ (شناختی کارڈ وغیرہ کے خانے کے علاوہ )عملی طور پر یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ وہ اقلیت ہیں ، اور ان سے اقلیتوں جیسا سلوک روا رکھا جائے۔ وہ مسلسل اس کوشش میں رہتے ہیں کہ انھیں سوسائٹی میں اسی طرح قبول کیا جائے، جیسے عام مسلمانوں کو کیا جاتا ہے،بلکہ احمدیت کے رہنماؤں کے بیانات پر جایا جائے، تو ان کے نزدیک صرف احمدی ہی مسلمان ہیں ، باقی مسلمان مرزا قادیانی کو نہ مان کر کافر ہیں یا بعض ("تجدد پسندقادیانیوں") کی تاویل کے مطابق فاسق و فاجر ہیں۔ان کے رہنما باقاعدہ مسلمانوں کو احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ (بزعم خویش نام نہاد) مسلمانوں کو اپنے "سچے " مذہب پر لا سکیں۔بیرون ممالک (بالخصوص یورپ اور امریکہ ) میں ان کی سرگرمیاں جس قدر پھیلی ہوئی ہیں، ان سے ہر صاحب ِعلم واقف ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کاوشوں کا اندازہ اسی سے کر لیجیے کہ (اطلاعات کے مطابق )عاطف میاں بھی ان کے مبلغین کی تبلیغ ہی سے دائرہ احمدیت میں داخل ہوئے تھے،اور اب وہ ان کے مذہبی پروپیگیٹر (Propagator)بھی ہیں۔مزید برآں ایک سادہ سے سادہ اور ان پڑھ مسلمان بھی دیگر مذاہب کے حوالے سے اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ یہ مذہب ہمارے مذہب سے مختلف ہے،اور اس کو ماننا اپنے مذہب سے نکل جانا ہے، لیکن احمدیوں کے حوالے سے بہت سے مسلمانوں (بطورخاص مغربی اور غیر مسلم ممالک میں موجود مسلمانوں ) کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ غیر مسلم ہیں، اور ان کے مذہب کو قبول کر کے وہ دائرۂ اسلام سے نکل جائیں گے۔ قادیانی مبلغین انھیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ حقیقی مسلمان ہیں ہی وہی ، باقی کافر یہ کم ازکم گمراہ اور فاسق و فاجر ہیں۔
دوسرے سوال سے متعلق ہماری رائے میں دوسرا موقف درست ہے، بشرطیکہ جمہوری طریقے سے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر آئین کی متعلقہ شق سے اختلاف کیا جائے۔اگرچہ اس حوالے سے یہ بات بھی وزن رکھتی ہے کہ ایک شرعی و آئینی تقاضے پورے کر کے غیر مسلم قرار دی گئی، ایک اقلیت خود کو مسلمان ظاہر کر کے اس بات کی تبلیغ کا حق شرعاً اور اخلاقا ً نہیں رکھتی کہ وہ اپنے مسلم ہونے کا ببانگِ دہل اعلان کرتے ہوئے ،لوگوں کو اپنے مذہب کی دعوت دے۔ تاہم اصولی طور پر ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جیسے بہت سے اہلِ علم وفہم آئین کی کسی ایک شق یا کئی شقوں سے اختلاف کرتے ہیں ، احمدی بھی اپنے متعلق شق سے اختلاف کر سکتے ہیں۔آئین میں ترمیم ہوتی رہتی ہے اور یہ اسی بنیاد پر ممکن ہوتی ہے کہ آئین کی کسی شق پر رائے عامہ ہموار ہو جاتی ہے کہ یہ مناسب نہیں ،اس میں ترمیم کرنی چاہیے۔سواحمدی بھی جمہوری و ائینی حدود کے اندر رہتے ہوئےاس شق سے اختلاف کریں اورہو سکے تو رائے عامہ کو ہموار کر کےاسمبلی سے اس شق کو ختم کرا لیں یا اس میں ترمیم کرا لیں۔( ختم ِنبوت سے متعلق اسلامی تعلیمات اتنی واضح ہیں کہ اس حوالے سے علما اور امت کا قادیانیوں کے مواقف کو تسلیم کر لینا محال ہے،تاہم ، جیسا کے اوپر واضح کیا گیا، انھیں اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے ،بشرطیکہ کے وہ آئین قانون کے دائرئے میں رہتے ہوئے اور جمہوری طریقے سے ایسا کریں ،مگر حقیقت اس معاملے میں اس کے برعکس ہے) احمدیوں کا یہ اعتراض بالکلیہ بے بنیاد ہے کہ وہ کیا کریں! ان کو بات کہنے ہی نہیں دی جاتی ! آج سوشل میڈیا کا دور ہے ، ہر آدمی اپنی رائے کے اظہار میں آزاد ہے۔ہم سوشل میڈیا پر عام دیکھتے ہیں کہ احمد ی لوگ اپنے موقف کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مخالف لکھی جانے والی تحریروں پرسخت تنقید اور اپنا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔(اگر کسی کو یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر ان کے مذہب کی تردید میں کوئی تحریر ڈال کر دیکھ لے،یہ اس کی "گوشمالی " کے لیے دوڑتے ہوئے آئیں گے) یہی نہیں بلکہ بہت دفعہ کئی مسلم اہلِ مذہب وصحافت بھی ایک خاص تناظر میں ان کے بعض مواقف کی حمایت میں بول رہے ہوتے ہیں۔ کیا عاطف میاں کی تقرری کے دفاع میں صرف قادیانیوں نے لکھا؟ ہر گز نہیں! بہت سے مسلمانوں نے بھی لکھا کہ انھیں اس عہدے پر برقرار رہنا چاہیے، اگرچہ اکثریت کی رائے اس کے خلاف تھی ، اور اکثریتی رائے پر ہی انھیں عہدے سے ہٹایا گیا۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ انھیں خود یا دیگر لوگوں کو ان کے موقف کے حق میں کچھ کہنے یا لکھنے کی آزادی نہیں۔سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں یہ دعویٰ باطل ہی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے۔
جہاں تک تیسرے سوال کا تعلق ہے، ہماری رائے میں یہ بات درست ہے کہ معتبر علما اور رائے عامہ کسی شخص یا گروہ کے واضح عقائد و اعمال کی روشنی میں ان کے دائرہ اسلام سے خروج کا فیصلہ کرے ، چاہے وہ خود کو مسلما ن ہی کہتا ہو۔آں جناب ﷺ کے خاتم النبیّٖن ہونے کے حوالے سے کتاب وسنت کی نصوص اتنی واضح ہیں کہ کوئی دوسرا موقف اختیار ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ ختم ِنبوت کے ہر منکر یا اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے اس کی طرف دعوت دینے والے کو امت نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ۔پھر اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قادیانیوں کو علامہ اقبال کی تجویز پر علما نے اقلیت مان لیا، ورنہ عمومی فقہی رائے کی رو سے یہ ارتداد تھا، جس کی بنا پر انھیں توبہ کا کہا جاتا اور توبہ نہ کرنے پر قتل کیا جاتا۔ یہ شق احمدیوں کے لیے نقصان کی بجائے فائدے مند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شق نہ ہوتی تو ان کا جینا دوبھر ہوتا۔ پھر جب آئین نے ایک فیصلہ کر دیا تو، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، اس کو آئینی اعتبار سے درست نہ ماننے والوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں کہ وہ اس کو آئینی فریم ورک کے مطابق ہی ایڈریس کریں۔ ان کو چاہیےکہ وہ آئینی و جمہوری طریقے سے اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کر کے آئین میں ترمیم کرا لیں۔آئین اور رائے عامہ ہی کی رو سے مذکورہ فیصلہ معرضِ ظہور میں آیااور یہی یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ کسی کے مذہب کا فیصلہ آئین یا عوام کر سکتےہیں یا نہیں، ابھی تک کی پوزیشن تو یہی ہے کہ اس کا فیصلہ عوام اور آئین کر سکتے ہیں۔اس موضوع پر طویل بحث مباحثہ اور مکالمہ ہوا تھا اور اسمبلی میں احمدیوں کو اپنے موقف کو واضح کرنے کا پورا موقع دیا گیا تھا، مگر وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تھے کہ وہ مسلمان ہی ہیں ، اور فلاں فلاں دلائل کی بنا پران کا موقف ان کا موقف درست ہے۔یہ میدان ان کے لیے اب بھی کھلا ہے ، وہ اپنا موقف منوا سکتے ہیں ، لیکن وہ جمہوری و آئینی راہ اختیار کرنے کی بجائے دھاندلی کے درپے ہیں۔
آخری سوال سے متعلق ہماری رائے یہ ہے کہ احمدیوں کے کلیدی عہدوں پر فائز نہ ہو سکنے سے متعلق آئینی ترمیم یا قانون سازی غیر ضروری بھی ہے اور کم ازکم موجودہ عالمی تناظر میں خلافِ حکمت بھی ۔قادیانیوں سے متعلق جب تک مقبولِ عام تصور (Popular narrative) ویسا ہے ، جیسا ہمیں آج کل نظر آتا ہے، ان کا کلیدی عہدوں پر آنا ویسے ہی محال ہے۔ مجھے ایک ایسے ملک میں جس کی 95 فی صد سے بھی زیادہ آبادی مسلمان ہو، یہ آئینی بندوبست بھی غیر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ مثلاً اس ملک کا وزیر اعظم مسلمان ہونا چاہیے۔ اس صورت حال میں ویسے ہی کسی غیر مسلم کے وزیر اعظم بننے کا امکان نہیں ہوتا۔ تاہم اگر اس نوعیت کی ائینی ترمیم کی بعض لوگ ضرورت محسوس کرتے ہوں، تو بھی ، ہماری گزارش اس ضمن میں یہی ہو گی ،کہ موجودہ حالات میں یہ اقدام مناسب نہیں ۔ جدید دنیا میں عالمِ اسلام ، مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان کا بوجوہ ایک ایسا امیج بنا دیا گیا ہے کہ ان کے یہاں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ (عالمی برادری کو سرِ دست یہ سمجھانا آسان نہیں کہ قادیانیوں کا معاملہ عام اقلیتوں سے مختلف ہے۔) نتیجتاً پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی و سیاسی نقصان کا اندیشہ ہے۔
مذکورہ سوالات کے مختصر جوابات کے بعد مجھے یہاں اس سوال پر بحث کرنا ہے، جو عمومی طور پر زیر بحث نہیں آتا۔ میں نے "الشریعہ " اور دیگر مقامات پر شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون بعنوان"احمدی اور تصورِ ختم ِنبوت : ایک احمدی جوڑے سے گفت گو"میں اس تناظر کو واضح کرنے کی کوشش کی تھی ۔یہ بڑا ہی بنیادی اور اہم سوال ہے ،جس کی طرف احمدی بھی کوئی خاص توجہ نہیں دیتے اور مسلمان بھی۔ وہ یہ کے بھئی احمدیوں کا مرزا قادیانی کے بارے میں عقیدہ اصلاً کیا ہے؟ وہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں یا نہیں ؟ بظاہر یہ سوال عام سا ہے، لیکن اسی کے درست جواب میں مسئلے کاحقیقی حل مضمر ہے:
اگراحمدی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں تو انھیں اس پر اصرار کیوں ہے کہ وہ مسلمان ہیں ؟ کیا وہ دنیا کے مذاہب اور ان کی تاریخ و مزاج سے واقف نہیں ہیں! ہر نبی کی امت الگ ہے، اور وہ دوسروں سے اپنی پہچان الگ ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ یہودی ، عیسائی ، سکھ، بدھ، ہندو وغیرہ سب مذہبی گروہ نہ صرف اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں، بلکہ کسی صورت دوسروں میں مدغم نہیں ہونا چاہتے۔(اس حوالے سے احمدی دلیل دیتے ہیں کہ حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ االسلام کے لیے معاون بنا کر بھیجا گیا تھا، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعلق ایک ہی قوم و نسل سے تھا،لیکن یہ دلیل مرزا صاحب کے حوالے سے کام آنے والی نہیں ،اس ضمن میں واضح رہے کہ ایک تو اسلام سے پہلے کے مذاہب میں نبوت کا تصور اسلام سے کافی مختلف ہے،ان کے یہاں بھائی اور باپ بیٹے کی نبوت کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے، یہاں نبوت کا وہ تصور ہے اور نہ ہی مرزا صاحب کا حضور ﷺ کی ذات ِ گرامی سے اس نوعیت کا رشتہ۔ان بزرگوں کو مدد درکار تھی، اور مددگاروں نے واقعی مدد کی،یہاں حال یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اسلام اور مسلمانوں میں خلفشار میں مدد کی۔ یہ دلیل دینے والے ذرا بتائیں تو حضورﷺ کی نبوت میں کون سی کمی رہ گئی تھی اور آپﷺ کو کس نوع کی مدد کی ضرورت تھی ، جس کے لئے مرزا صاحب کو بھیجے بغیر چارا نہ تھا۔یوں بلاضرورت ، بلا تعلق اور بے سبب مرزا صاحب کو چودہ سو سال کے بعد حضورﷺ کے مددگار کے طور پر پیش کر کے ان کی "نبوت " کا جواز تراشنا مضحکہ خیز ہے۔لہذا انھیں مرزا کو الگ نبی ہی ماننا پڑے گا ، جیسا کہ ان کے "راسخ العقیدہ" پیروکاروں کے عقائد وبیانات سے اس کی تصدیق ہوتی بھی ہے، جس کا کچھ تذکرہ آگے چل کر ہو گا۔) پھر احمدیوں کا عجیب مسئلہ ہے کہ الگ نبی بھی مانتے ہیں اور خود کو مسلمان بھی کہلانے پر اصرار کیے ہوئے ہیں! ان کو تو خود اپنی الگ پہچان پر اصرار کرنا چاہیے تھا، چہ جائیکہ مسلمان جدو جہد کر کے ان کو آئینی طور پر الگ پہچان دلواتے۔ مسلمانوں کا انھیں آئینی طور پر الگ گروہ قرار دلوانا ان پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں، بلکہ ان پر احسان ہے۔ جو کام ان کو اپنی کوشش سے خودکرنا چاہیے تھا ، وہ مسلمانوں نے اپنی کوشش سے انھیں کر دیا۔اگر پھر بھی ان کا اصرار یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں ، تو اس اصرار کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بقیہ سارے مسلمان در حقیقت مسلمان نہیں (جیسا کہ مرزا قادیانی اور دیگر احمدی رہنماؤں کے غیر احمدیوں کے بارے میں بیانات اور تحریروں سے واضح ہے۔) اس صورت میں ہمت کر کے انھیں بقیہ سارے مسلمانوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دلوانا ہو گا ،اور اس کے لیے ان کے راستے میں کسی نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہوئی ۔ خود احمدی عقیدے کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مسلمان اور احمدی ایک ہی گروہ شمار ہوں۔اگر وہ ایک ہی گروہ شمار ہونا چاہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کسی نئے مدعی ِ نبوت کےماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس کو ماننے والا بھی مسلمان ہے، اور نہ ماننے والا بھی۔ مسلمانوں کی بات چھوڑیں ، خود احمدیوں سے پوچھ لیں ، انھیں یہ نظریہ قابلِ قبول ہے؟ سچ یہ ہے کہ انھیں خود یہ نظریہ قبول نہیں!
اور اگر حقیقت یہ ہے کہ احمدیوں کے نزدیک مرزا قادیانی نبی نہیں، تو پھر انھوں نے امت کو فتنے میں کیوں ڈال رکھا ہے! اگر مرزا کو نبی مانے بغیر بھی کوئی آدمی یا گروہ مسلمان رہ سکتا ہے ،تومرزا قادیانی کو نبی ماننے کی ضرورت کیا ہے! کون سی ایسی دینی یا دنیوی مصلحت و مفاد ہے، جو آں جناب ﷺ کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے وابستہ ہے۔دینی مصالح اور مفادات تو الٹا مرزا کو نبی نہ ماننے سے وابستہ ہیں ۔مرزا کے دعویِٰ نبوت کے سبب امتِ مسلمہ ایک بہت بڑے بحران اور خلفشار کا شکار ہوئی ہے ۔ بنا بریں احمدیوں کو چاہیے کہ وہ مرزا کو نبی ماننے نہ ماننے کے مخمصے سے نکل کر دائرۂاسلام میں واپس آجائیں۔(یہاں میں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے اگر جدید زمانے میں نبوت کا جواز ہی بنانا تھا تو کچھ نیا تو پیش کرتے ، جو روایتی اسلام سے مختلف ہوتا، لیکن انھوں نے نزول ِ عیسی ٰ وغیرہ چند مختلف تعبیرات کو چھوڑ کر،سواے دعویِ نبوت کے روایتی اسلام میں کسی نئی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ اگر نئے زمانے کے حالات میں دین کونیا بنانا ہی اس "نبوت " کا جواز تھا، تو مرزا صاحب کی بجائے سرسید احمد خاں اس کے زیادہ مستحق تھے کہ انھوں نے اسلام کو جدید زمانے کے مطابق ڈھالنے میں مرزا صاحب سے کہیں بڑھ کر نیا سوچا اور اسلام کی نئی تعبیرات پیش کیں۔) راقم الحروف نے اپنے محولہ مضمون میں ایک احمدی جوڑے سے گفت گو کے حوالے سے عرض کیا تھا کہ مرزا قادیانی کے نبی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے خود احمدیوں میں عجیب تذبذب ہے۔ان کے بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ مرزا قادیانی نے خود کو کہیں اس طرح نبی نہیں کہا، جیسے مسلمان عموماً سمجھتے یا قرار دیتے ہیں ! بعض احمدی اس کا انکار کرتے ہیں ، لیکن اگر یہ حقیقت نہ ہوتی تو احمدیوں میں مرزا کے سٹیٹس کے حوالے سے اختلاف پیدا نہ ہوتا، لاہوری گروہ کا وجود احمدیوں کے اسی تذبذب کا عکاس ہے،جس کا دعوی ٰ ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں بلکہ مجدد تھے۔یہ گروہ ظاہر ہے کہ مرزا کی تحریروں اور بیانات ہی سے ان کے مجدد ہونے کا نظریہ اخذ کرتا ہے۔اگر مرزا صاحب کی تحریروں میں تاویل نہ ہو سکتی، تو یہ گروہ اور اس کا مذکورہ دعویٰ سامنے آنا غیر ممکن تھا۔(میری یہ دلیل شائع ہوئی تو احمدیوں کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا کہ لاہوری تو قادیانیوں کا محض چار پانچ فی صد ہیں۔ آپ اندازہ کریں کتنی بودی دلیل ہے؟ بندہ پوچھے کہ کم یا زیادہ کی تو بات ہی نہیں ہو رہی ، بات تو یہ ہو رہی ہے کہ قادیانیت میں سے ایک گروہ نے مرزا صاحب کے دعووں کی تعبیر یہ کی وہ نبی نہیں بلکہ مجدد تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس گروہ نے مرزا کے دعووں کی مین سٹریم قادیانیت سے مختلف تعبیر کی یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ کی! تو اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ان کے دعووں میں یہ گنجائش موجود تھی، اس گروہ کو تھوڑا کَہ کر بے وقعت قرار دینا اس لیے بھی غلط ہے کہ اس میں قادیانیت کا سب سے ذہین اور فاضل شخص محمد علی لاہوری بھی پایا جاتا ہے۔) میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ احمدیوں میں گو مگو کی یہ کیفیت فی الواقع اس بنا پر پیدا ہوئی کہ خود مرزا صاحب اس معاملے میں کنفیوز تھے۔ احمدی جوڑے کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے جو الفاظ اپنے مذکورہ مضمون میں عرض کیے تھے، یہاں ان کو بعینہٖ پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
دیکھیے:مرزا صاحب کا خود کو کھل کر نبی نہ کہنا یا اپنی نبوت کو حضورﷺ کی نبوت کے تابع قراردینا یا اپنی نبوت کی تعبیریں ظلی و بروزی نبوت وغیرہ سے کرنا، اور آپ لوگوں کا کھل کر مرزا صاحب کو نبی نہ کہنا اور اس کی مختلف تعبیریں کرنا، اس حقیقت کا عکاس ہے کہ مرزا صاحب کو اس بات کا یقینی علم تھا کہ اسلام کے اندر نئی نبوت کی کوئی گنجایش نہیں ، اگر انھوں نے کھل کر خود کو نبی کہا، تو وہ مسلمان ہوکر نہیں رہ سکیں گے، اور نہ اس معاملے میں ان کو کوئی مقبولیت مل سکتی ہے۔یعنی وہ مسلمانوں میں ختم ِنبوت کے واضح سٹیٹس کو جانتے تھے، جبھی تو وہ اس کی تاویلیں کرتے تھے، اور جبھی آپ لوگ اس کی تاویلیں کر رہے ہیں! مزید یہ کہ یہ جو بات کی گئی کہ خاتم النبیین کے قرآنی الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے خاتم الاولیا یا خاتم المفسرین وغیرہ کے الفاظ ، تو اس سے ثابت تو یہ کیا جاتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی اور آپ ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے، جیسا کہ خاتم الاولیا یا خاتم المفسرین کے بعد بھی ولی یا مفسر ہو سکتے ہیں ، لیکن دوسری طرف مرزاصاحب خود کو کھل کر نبی بھی نہیں کَہ رہے۔سوال یہ ہے کہ جب شرعاً نیا نبی آ سکتا ہے، تو اس میں شرمانے اور کان کو اِدھر اُدھر سے پکڑنے کی ضرورت کیا ہے! بلا کسی تاویل اور خوف و جھجک کے مرزا صاحب کو بھی کہنا چاہیے تھا کہ وہ نبی ہیں اور آپ لوگوں یا ان کے پیروکاروں کو بھی ڈنکے کی چوٹ پر کہنا چاہیے کہ وہ نبی ہیں! بہ الفاظِ دیگر مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں کا رویہ خود بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک خاتم النبیین کی مذکورہ تعبیر درست نہیں اوروہ جانتے ہیں کہ اسلام میں کسی نئے نبی کی کوئی گنجایش نہیں ، ورنہ نہ مرزا صاحب اپنے سٹیٹس کو یوں کنفیوز رکھتے اور نہ ان کے پیروکار ہمیشہ کے لیے کنفیوژن میں پڑے رہتے۔ (ماہنامہ "الشریعہ" فروری 2017ء)
جب راقم کا مذکورہ مضمون سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس اور رسائل میں شائع ہوا، تو متعدد احمدی حضرات نے نہ صرف اس پر کھل کرتنقید کی بلکہ مجھے جی بھر کر گالیاں بھی دیں ، نیز کئی طرح کے منفی خطابات سے "نوازا"۔(میرا محولہ مضمون ریکارڈ پر ہے، اور اس پر احمدی حضرات کی تنقیدیں اور کمنٹس بھی، میں نے کہیں بھی سخت اور ناشائستہ زبان استعمال نہیں کی۔اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ "مظلومی " اور خود ترحمی میں اپنے اوپر ایک شائستہ تنقید پرجن لوگوں کا رویہ یہ ہے، انھیں اگر کھل کھیلنے کا موقع ملے، تو سوسائٹی کا امن غارت کرنے میں کیسے کوئی کسر اٹھا رکھیں گے!) بعض حضرات (جن میں مغربی ممالک میں بسنے والے احمدی حضرات نمایاں تھے) نے اس موقف کا اظہار کیا کہ ہم اس معاملے میں بالکل کنفیوز نہیں ہیں، بلکہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کیوں اتنے ستم سہتے! کیوں خود کو اقلیت قرار دلواتے !وغیرہ وغیرہ۔ میرے خیال میں پکے احمدی یہی لوگ ہیں ، جو بلا کسی کنفیوژن کے مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں ۔اگر ان کے موقف کو درست مان لیا جائے (اور اصلاً انھی کے موقف کو درست مانا جانا چاہیے) تو ہمارا موقف ان کے حوالے سے یہی ہو گا کہ پھر ان کو الگ گروہ یا امت کہلوانے میں کون سا امر مانع ہے! ان کی سچائی کا تو امتحان ہی یہ ہے کہ وہ خود کو ایک الگ امت سمجھیں ،اور اسی حیثیت سےاپنی پہچان کروائیں۔ اس کے بعد بھی ان کا مسلمان کہلوانے پر اصرار خود احمدیت سے غداری ہے۔
قادیانی مسئلے میں مختلف بیانیے
محمد زاہد صدیق مغل
حکومت کی طرف سے عاطف میاں قادیانی کے بطور مشیر تقرر کولے کر قادیانی مسئلے پر ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے بحث ہوئی جس میں مختلف فکری رجحانات کے احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس مختصر تحریر میں ان متعدد آراء کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں چار مواقف سامنے آئے ہیں اور چاروں سے الگ قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
(۱) سیکولر بیانیہ: مسلم و قادیانیت کی مساوات
لبرل سیکولر فکر چونکہ فرد کی آزادی کے عقیدے پر ایمان کی دعوت دیتی ہےجس کے مطابق حقوق کا ماخذ انسان خود ہے، لہذا اس فکر کے مطابق ریاست کو حق نہیں کہ وہ آزادی کے سواء کسی دوسرے عقیدے کی بنیاد پر یا اس کے فروغ کے لئے افراد کی زندگیوں میں تصرف کرے۔ اس فکر کے مطابق ہیومن رائیٹس وہ قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو فرد کی جدوجہد آزادی (سرمایہ) کے فروغ کے لئے سب سے زیادہ مفید ہے۔ لہذا اس فکر کے حامل حضرات کے نزدیک کسی بھی ارادے، چاہے وہ ارادہ خدا کا ہو، فرد کا اور یا کسی گروہ کا (مثلا سو فیصد عوام کا) یہ حق نہیں کہ وہ ان حقوق کو معطل کرسکے۔ ہر ارادے پر لازم ہے کہ وہ تنویری مفکرین (enlightenment philosophers) کے وضع کردہ نظریات سے برآمد ہونے والے ان حقوق کی پابندی کرے، ان سے متصادم ہر ارادہ و رائے ظلم و قابل تنسیخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظریاتی فریم ورک کی رو سے کسی ریاست کا غیر ہیومن رائٹس فریم ورک کی بنیاد پر کسی شخص کو کافر قرار دے کر اسے چند ہیومن رائٹس سے محروم کرنا زیادتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق مسلمان و قادیانی ہونا چونکہ مساوی طور پر لغو بات ہے لہذا کسی بھی قانونی و انتظامی عہدے کے لیے ان کی بنیاد پر افراد کے مابین فرق کرنا ظلم ہے۔ چنانچہ پاکستان کے سیکولر طبقات قادیانی مسئلے کو اس بنیاد پر ایڈریس نہیں کرتے کہ انہیں قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دئیے جانے سے کوئی علمی مسئلہ لاحق ہے یا وہ انہیں مسلمان قرار دینا چاہتے ہیں، ان کی فکر کی رو سے بھلے سب ہی مسلمان کافر ہوجائیں، تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کافر یا مسلمان ہونا مساوی طور پر لغو بات ہے۔ ان کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے کسی ایسی فکر کی بنیاد پر فیصلہ ہی کیوں کیا جو ان کی شریعت یعنی ہیومن رائٹس سے متصادم ہے؟
ان حضرات کے بیانئے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ بیانیہ بعینہ اسی نوعیت کا ایک مذہبی بیانیہ ہے کہ "ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ اسلامی شریعت کے خلاف کوئی قانون وضع کرے، اس پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی پابندی کرے"۔ دوسری بات یہ کہ اسلام تو یہ مطالبہ اصولا اسی نظم اجتماعی سے کرتا ہے جو اس کے ماننے والوں کی رائے سے تعمیر ہوا ہو، اس کے برعکس شریعت ہیومن رائٹس والوں کے مطابق اس دنیا کے سب انسانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کی پابندی کریں، چاہے وہ اسے مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شریعت ہیومن رائٹس والوں کے نزدیک ہیومن رائٹس کی شریعت پر عمل نہ کرنے والی ریاست فاشسٹ ریاست ہوتی ہے! شاعر نے اسی کے لئے کہا تھا کہ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا نام خرد۔ اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بلکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس ملک کے مذہبی سیکولر طبقات ان حضرات کی گفتگو پر "واہ واہ" کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سیکولر فکر کی بنیادوں پر گفتگو کا یہ موقع نہیں، مختصرا یہ یاد رکھنا چاہئے :
- یہ سمجھنا کہ حقوق کا ماخذ خود انسان ہے دراصل انسان کو خود اپنا خدا قرار دینا ہے
- یہ سمجھنا کہ “انسانی حقوق” از خود واضح ہیں، ایک ایسا ایمان بالغیب ہے جس کی کوئی دلیل موجود نہیں
- یہ سمجھنا کہ “انسانی حقوق” ان معنی میں کوئی واقعاتی امر ہے کہ یہ سب انسانوں کی اجتماعی رائے سے وجود میں آئے ایک نظریاتی غلط فہمی ہے کیونکہ ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ نیز اگر یہ واقعی واقعاتی ہوں تو کسی دوسرے واقعاتی اجماع سے انہیں رد کرنا بھی جائز ہو جو مفکرین انسانی حقوق کے نزدیک کسی صورت جائز نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعاتی شہادت پر نہیں بلکہ نظریاتی الل ٹپ پر مبنی ہیں۔ درحقیقت ان حقوق کو کسی واقعاتی شہادت کی ضرورت ہی نہیں، اس کے قائل مفکرین انہیں بس “بدیہی مانتے” ہیں جن کے لئے کوئی دلیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ رالز ان کے لئے کوئی دلیل پیش نہیں کرتا کیونکہ دلیل پیش کرنے کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ بدیہی نہیں۔ اس کا شارح ڈربن کہتا ہے کہ ان کا انکار کرنے والوں کو تو بس قتل ہی کیا جاسکتا ہے۔
(۲) ترجیحی بیانیہ: غیر مسلموں میں سے قادیانیوں کی اولیت
اس بیانیے کی رو سے کسی مسلمان کا نبوت کا اعلان کرنا اور دیگر کا اسے قبول کرنا کفر کو تو مستلزم ہے مگر اس کے قائل کے قتل کو مستلزم نہیں۔ لہذا ایسا دعوی کرنے والے لوگ اسی طرح کے کافر ہیں جیسے اہل کتاب وغیرہ۔ البتہ جس طرح اہل کتاب کو مشرکین کے مقابلے میں اس بنیاد پر ترجیح حاصل ہے کہ وہ تاریخ، عقائد و مسائل کے معاملے میں مسلمانوں سے قریب تر ہیں، اسی طرح قادیانیوںکو دیگر غیر مسلموں پر اخلاقی ترجیح حاصل ہوگی۔ اس بیانیے کے مطابق مختلف گروہوں کی ترتیب کچھ یوں ہے: مسلمان، قادیانی، اہل کتاب و دیگر غیر مسلم۔ چنانچہ اس سے یہ منطقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ قانونی و انتظامی عہدوں کی تقسیم کے باب میں بھی اس ترتیب کو مد نظر رکھنا لازم ہے۔ البتہ یہ بیانیہ امت کی مجموعی علمی تاریخ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں اور چند ایسے مفروضات (قانون اتمام حجت مع متعلقات) پر مبنی ہے جو ثابت شدہ نہیں۔ چونکہ یہ بیانیہ نفس مسئلہ کی درست تشخیص نہیں کرتا، لہذا اس سے برآمد شدہ نتائج اس مسئلے پر امت کی ترجمانی نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر یہ سمجھنا ممکن ہے کہ آخر مسلمان اس مسئلے پر اس قدر حساسیت کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں۔ اس بیانئے کے مطابق مسلمانوں کا یہ طرز عمل غیر عقلی و غیر شرعی ہے۔
(۳) عدم ترجیحی بیانیہ: غیر مسلموں کے مابین مساوات
یہ بیانیہ بھی ثانی الذکر بیانیے کی طرح اعلان نبوت کو قابل قتل جرم تصور نہیں کرتا، ہاں یہ کفر کو مستلزم ہے۔ البتہ اس خیال کےمطابق ثانی الذکر کے برعکس قادیانیوں کو دیگر غیر مسلموں پر ترجیح دینے کی ضرورت نہیں۔ اس تصور کے حامل افراد کے خیال میں مسلمانوں کو قادیانیوں کے ساتھ اسی طرز کا معاملہ کرنا چاہیے جو دیگر غیر مسلموں کے ساتھ مشروع ہے اور اس معاملے میں اس سے زیادہ حساسیت اعتدال سے ہٹ جانا ہے۔ یہ ایک عمومی نوعیت کا بیانیہ ہے جو عام لوگوں (یا چند اخباری کالم نویسوں وغیرہ) میں مشہور ہے۔
(۴) فقہی بیانیہ
اس بیانیے کے مطابق اعلان نبوت نہ صرف کفر کو مستلزم ہے بلکہ اس کا دعوی کرنے والے کے لیے موجب قتل بھی ہے۔ امت مسلمہ کی تاریخ میں اسی رائے کو معتبر سمجھا گیا ہے۔ کسی مسلمان کا اعلان نبوت کرنا اور دوسروں کا اسے قبول کرنا دراصل امت کے اندر امت کھڑی کرنے کے مترادف ہے ۔ اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایک متوازی امت کاچیلنج کبھی پیدا نہیں ہو سکا جسکی وجہ یہ تھی کہ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو اتنی مہلت ہی نہ دی گئی کہ وہ کوئی متوازی امت کھڑی کرسکے، اس سے قبل ہی اسے ٹھکانے لگا دیا گیا۔ نجانے کیوں مسلمانوں نے مرزا قادیان کو یہ موقع دیا، مسئلے کی ابتداء یہاں سے ہوئی۔ یہ بات اگر واضح ہو تو دوسرے بیانئے کی غلطی از خود واضح ہوجاتی ہے جو دعوی نبوت کرنے والے کو دیگر غیر مسلموں کی طرح تصور کرتا ہے کیونکہ دیگر غیر مسلموں کے ساتھ قتال کی بنیاد ان کا غیر مسلم ہونا نہیں جبکہ دعوی نبوت کرنے والے اور اس کے ماننے والے مرتدین کے ساتھ اس کی بنیاد عین ان کا یہ دعوی کرنا ہے۔ لہذا اصل حکم کو معطل کرکے پھر انھیں کسی دوسرے غیر مسلم گروہ پر قیاس کرکے ان سے زیادہ رعایت دینا باطل قیاس ہے۔
قیام پاکستان کے بعد جب مسئلہ قادیانی اٹھا تو اس گروہ کی شرعی حیثیت متعین کرتے ہوئے ایک ایسی نسل کا معاملہ بھی شامل بحث ہوچکا تھا جو پیدائشی طور پر قادیانی تھی۔ ایسے لوگ جو پیدائشی طور پر قادیانی ہوں، چونکہ ان کا حکم عام کفار کی طرح ہوا کرتا ہے لہذا پوری بحث و تمحیص اور فریق مخالف کا مقدمہ سن چکنے اور اسے وضاحت کا پورا موقع دیے جانے کے بعد آئین پاکستان میں قادیانیوں کی اصولا یہی حیثیت متعین کی گئی کہ یہ لوگ دیگر غیر مسلموں کی طرح سمجھے جائیں گے۔ البتہ آئین پاکستان اس بارے میں خاموش ہے کہ اگر کوئی مسلمان اب قادیانیت کو اختیار کرے گا تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اس ابہام کو شاید مستقبل میں کبھی دور کرنے کی ضرورت آپہنچے۔ مگر یہاں یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ پاکستانی قانون کی یہ خاموشی صرف قادیانیوں کے معاملے میں نہیں ہے بلکہ ارتداد کے معاملے پر ہے، یعنی اگر کوئی مسلمان ہندو یا عیسائی بھی ہوجائے تو بھی پاکستانی قانون کی رو سے وہ واجب القتل نہیں ہوتا (ہاں اس کی زوجہ کو عدالت کے ذریعے فسخ نکاح کا حق میسر ہے۔(پاکستانی قانون میں ارتداد کی صرف ایک صورت پر قتل کی سزا ہے اور وہ ہے توہین رسالتﷺ۔
اس قانونی پوزیشن کو اختیار کئے جانے کا یہ منطقی تقاضا تھا کہ قادیانی پر نظر رکھی جائے کہ کہیں یہ مسلمانوں کا بھیس اختیار کرکے عوام کو دھوکہ تو نہیں دیتے، یعنی اس قانون کا یہ تقاضا تھا کہ یہ لوگ خود کو مسلمان نہ کہیں۔ لیکن چونکہ یہ لوگ اس سے باز نہیں آتے بلکہ الٹا نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور ان کے شعائر اختیار کرکے عوام الناس کو دھوکے و تلبیس کے ذریعے اپنے دین کی طرف مائل کرتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ہر طرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے سازش کرتے ہیں لہذا 1984 پاکستان کے فوجداری قانون میں 298 بی اور سی کی شقیں شامل کی گئیں جن کی رو سے جو قادیانی خود کو مسلمان کہے نیز اس کی تبلیغ کرے اسے دھوکہ دہی کے جرم میں تین سال قید کی سزا دی جائےگی۔ پھر 1993 میں سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ یہ فوجداری سزائیں آئین میں دینا شدہ حقوق سے متصادم نہیں ہیں۔ جس طرح ہر معاشرے میں لوگ دھوکہ باز گروہوں سے خوب خبردار رہتے ہیں، اسی طرح مسلمان بھی اس دھوکہ باز گروہ سے خبردار رہتا ہے کیونکہ یہ اپنی دھوکہ دہی سے نہ صرف یہ کہ بازنہیں آتا بلکہ اس دھوکے ہی کے حق ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی قادیانی کو کوئی انتظامی نوعیت ہی کا عہدہ دینے کا معاملہ درپیش ہو تو مسلمان اس پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور انہیں ہر طرح سے معاشرتی اخراج کا شکار کرکے پینپنے کے مواقع نہیں دیتے۔ عاطف میاں کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہ پیدائشی نہیں بلکہ کنورٹڈ قادیانی ہے اور باقاعدہ اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ ایسا شخص پاکستانی قانون کی رو سے سزا کا مستحق ہے نہ کہ کسی عہدے کا۔ اگر قادیانی چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے آئینی حقوق میسر ہوں تو پہلے انہیں جرم کرنے سے باز آنا ہوگا۔
چنانچہ مسئلہ قادیانیت کو امت کے تاریخی، فقہی و سماجی پس منظر سے کاٹ کر اسے کوئی فوری واقعاتی معاملہ سمجھ کر تجزیہ کرنے سے یہ کبھی واضح نہیں ہوسکتا کہ مسلمانان پاکستان قادیانیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرتے ہیں۔ امت کا یہ مزاج نہیں کہ وہ ایک متوازی امت کو قبول کرلے۔
احمدیوں اور دیگر غیر مسلموں کے مابین فرق پر ایک مکالمہ
محمد عمار خان ناصر
احمدیوں کی مذہبی وشرعی حیثیت کے ضمن میں ایک سوال اہل علم اور خاص طور اہل فقہ وافتاء کی توجہ متقاضی ہے، اور وہ یہ کہ احمدیوں کو ہم نے ایک آئینی فیصلے کے تحت غیر مسلم تو قرار دے دیا ہے، تاہم یہ معلوم ہے کہ ان کی حیثیت مسلمانوں ہی کے (اور ان سے نکلنے یا نکالے جانے والے) ایک مذہبی فرقے کی ہے۔ ہم ایک بنیادی عقیدے میں اختلاف کی بنیاد پر ان پر مسلمانوں کے احکام جاری نہیں کرتے، لیکن مذاہب کی تقسیم کے عام اصول کے تحت، کم سے کم غیر مسلموں کے نقطہ نظر سے وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ شمار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ گروہ بھی اسلام کے ساتھ اپنی نسبت اور پیغمبر اسلام کا امتی ہونے کے دعوے سے دستبردار نہیں ہوا، بلکہ اپنی نئی نبوت کو اسی کا تسلسل شمار کرتا ہے۔
اس سے ایک فقہی سوال پیدا ہوتا ہے، جس کے سیاسی وعملی مضمرات بہت اہم ہیں، کہ مسلمانوں اور احمدیوں کے باہمی تعلق میں انھیں غیر مسلم شمار کرتے ہوئے، اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے جس میں احمدیوں اور دیگر غیر مسلموں کا تقابل ہو رہا ہو تو ہمارا زاویہ نظر کیا ہوگا؟ مثال کے طور پر کسی جگہ احمدیوں اور ہندووں یا کسی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں جنگ ہو رہی ہو اور مسلمانوں کو مذہبی ہمدردی کے اصول پر کسی کی تائید کرنی ہو تو انھیں کس کی تائید کرنی چاہیے؟ اسی طرح مثلا غیر مسلم ممالک میں کسی مسئلے میں احمدی کمیونٹی کو کسی مذہبی مشکل کا سامنا ہو تو کیا مسلمانوں کو ان کی سپورٹ کرنی چاہیے یا غیر جانب دار رہنا چاہیے؟ یا یہ کہ مسلمانوں کی کسی مشکل میں احمدی، مذہبی تعلق کے ناتے سے ان کو سپورٹ کرنا چاہیں تو انھیں اپنی صفوں میں شامل کرنا چاہیے یا نہیں؟
سوال پر فقہ وشریعت کے اصولوں اور نظائر کی روشنی میں غور کے ساتھ ساتھ دو جید علماء کے رجحان پر بھی اگر گفتگو ہو جائے تو تنقیح مسئلہ میں آسانی ہوگی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی علیہ الرحمہ نے جب مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو جمعیۃ علماء ہند کے راہ نماوں کی طرف سے ان کے سامنے ایک اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ مسلم لیگ میں تو قادیانی بھی شامل ہیں جو مرتد ہیں، اس لیے ایسی جماعت کو کیسے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھا جا سکتا ہے؟
مولانا عثمانی نے اس کے جواب میں ایک تو یہ کہا کہ مسلم لیگ کی تشکیل میں ہم بنیادی طور پر شامل نہیں تھے، اور یہ پالیسی ہم سے پہلے بن چکی تھی۔ دوسرے یہ کہ مسلم لیگ میں قادیانیوں اور کمیونسٹوں وغیرہ کی تعداد اور اثر بہت کم ہے اور وہ فیصلہ کن حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کے بعد انھوں نے قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کے حوالے سے جو نکتہ اٹھایا ہے، وہ بہت اہم اور قابل توجہ ہے۔ مولانا فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالی ٰ کی ہزاراں ہزار رحمت امام محمد بن الحسن الشیبانی پر کہ انھوں نے یہ مشکل میں ڈالنے والا مسئلہ پہلے سے صاف کر دیا اور تصریح کر دی کہ اہل حق مسلمان خوارج کے ساتھ ہو کر مشرکین سے لڑیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ جنگ دفع فتنہ کفر اور اظہار اسلام کے لیے ہوگی اور اس میں اعلاء کلمۃ اللہ اور اثبات اصل طریق ہے۔ (دیکھو شرح السیر الکبیر للسرخسی ج ۳ ص ۲۴۱)
اس سے شیعہ اور دوسرے فرق باطلہ کا قصہ تو صاف ہو گیا، کیونکہ کسی فرقے کے متعلق اتنی واضح اور اس قدر کثرت سے نصوص صریحہ موجود نہیں جس قدر خوارج کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، جن کے متعلق یہ ارشاد ہوا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’میں نے ان کو پایا تو عاد وثمود کی طرح ان کو تباہ کر دوں گا۔’’
اب رہ گیا کلمہ گو مرتدین کا معاملہ، ان کی تعداد لیگ میں لا یعبا بہ (کسی شمار میں نہیں) ہے جن کے غلبہ کی کوئی صورت نہیں اور خدا نکردہ آئندہ ایسا ہو تو اس وقت جو حکم ہوگا، اس پر عمل کیا جائے گا۔ اب الیکشن کے موقع پر اگر مرزا محمود وغیرہ نے بدون لیگ میں شرکت کے، لیگ کی تائید کا اعلان کر دیا تو یہ ان کا فعل ہے جو ہمارے لیے مضر نہیں اور لیگ کی کامیابی کو احمدیت کی کامیابی بتلانا اس کا سودائے خام ہے۔
ایک چیز اور بھی ملحوظ خاطر رہے کہ یہ مرتدین وملحدین اس طرح کے نہیں جو نفس کلمہ اسلام ہی سے اعلانیہ بیزار ہوں۔ وہ بھی بزعم خود مشرکین سے اسی نام پر لڑتے ہیں کہ مشرکین کے غلبہ وتسلط سے مسلم قوم کو بچایا جائے اور کلمہ اسلام کو ان کے مقابلے میں پست نہ ہونے دیا جائے اور مسلمانوں کے قومی وملی استقلال کی حفاظت ہو، گو حقیقۃ وباطنا وہ کلمہ اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہوں، جیسا کہ بہت سے علماء نے خوارج کے متعلق بھی ظواہر احادیث کی شہادت کی بناء پر یہ حکم لگایا ہے۔ اس اعتبار سے جو علت خوارج اور مشرکین کے مسئلے میں اوپر بیان ہوئی، وہ یہاں بھی موجود ہے جو قدرے توسیع مسئلہ مبحوث عنہا میں پیدا کر دیتی ہے۔ شاید ۱۹۳۶ء میں ہمارے بعض اکابر علماء جمعیت نے شد ومد کے ساتھ مسلم لیگ میں شرکت کرتے وقت اس نکتے پر نظر کی ہو، ورنہ سر ظفر اللہ قادیانی کی رکنیت کے باوجود اس میں ایک لمحے کے لیے بھی کیسے شرکت گوارا کی!’’(خطبات عثمانی، مرتبہ پروفیسر انوار الحسن شیر کوٹی، صفحہ ۱۴۳، ۱۴۴، نذر سنز لاہور، اشاعت اول ۱۹۷۲)
اس پر حاشیے میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمہ نے جو مختصر نوٹ لکھا ہے، وہ بھی انتہائی اہم ہے۔ مفتی صاحب لکھتے ہیں:
’’مرتدین کی اس قسم کو فقہا کی اصطلاح میں زنادقہ یا ملاحدہ یا باطنیہ وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کا ارتداد گو بعض حیثیات سے اشد ہو، لیکن اگر یہ لوگ کفار مجاہرین سے بزعم خود اعلاء کلمہ اسلام کے لیے قتال کریں تو ان کے مقابلے میں کفار مجاہرین کی اعانت گوارا نہیں کی جا سکتی۔’’ (صفحہ ۱۴۴)
جناب زاہد صدیق مغل کے ساتھ مکالمہ
زاہد صدیق مغل: آپ کے نزدیک قادیانی "مسلمانوں" کا ایک فرقہ ہے؟ یعنی یہ سمجھا جائے کہ مسیلمہ کذاب اور اس کا گروہ بھی مسلمانوں سے نکالا گیا ایک فرقہ تھا؟
عمار ناصر: مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حق اقتدار کو چیلنج کر کے متوازی نبوت کا اعلان کیا تھا اور اسی پر جنگ چھیڑی تھی۔ وہ آپ کا امتی اور مطیع ہونے کا دعوی نہیں رکھتا تھا۔ مذہبی خطابت نے مسیلمہ کے واقعے سے استدلال کو اتنا عام کر دیا ہے کہ فہیم لوگ بھی اس کی نوعیت پر توجہ نہیں دے پاتے۔ دو جید علماء اگر قادیانیوں کے لیے مسیلمہ کے بجائے خوارج کے حکم سے استدلال کر رہے ہیں تو کوئی تو بات ہے۔ غور فرمانے کی ضرورت ہے۔
زاہد صدیق مغل: سوال یہ ہے کہ جھگڑے کی بنیاد اقتدار پر دعوے کا اعلان تھا یا اعلان نبوت؟
عمار ناصر: دونوں۔ صرف اعلان نبوت ہوتا تو بھی ارتداد کا قانون جاری ہوتا۔ یہ زیر بحث نہیں۔ عرض یہ کیا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو مرتد قرار دینے کے باوجود مولانا عثمانی اور مفتی محمد شفیع انھیں دیگر کفار سے الگ دیکھ رہے ہیں اور اس کی وجہ ان کے دعوائے اسلام کو قرار دے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں مسیلمہ کے واقعے سے استدلال نہیں بنتا۔ یہ سیاق بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ بات مسلمانوں اور قادیانیوں کے باہمی معاملے کی نہیں، بلکہ قادیانیوں اور دیگر کفار کے تقابل کی ہو رہی ہے۔
زاہد صدیق مغل: اولا تو میں ان دونوں علماء کے اس بیان کی توجیہ بیان کرنے کا پابند نہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ بیان ایک ایسی سیاسی جدوجہد کے اخلاقی جواز کے لئے لکھا گیا تھا جس میں قادیانی وغیرہ بطور آلہ استعمال ہورہے تھے۔ تحریک پاکستان کی تاریخ میں شاید سکھوں نے بھی ساتھ دیا ہوگا اور اگر مولانا سے یہ سوال پوچھا جاتا تو وہ اس کے لئے بھی ایسی کوئی توجیہ بیان کردیتے کہ اگر کفار مسلمانوں کی مدد کررہے ہوں تو وہ لڑنے والوں سے اولی ہوں گے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک پاکستان میں شامل قادیانیوں سے متعلق ان علماء کو کوئی خوش فہمی ہو۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد ظفر اللہ خان کے رویے اور قادیانیوں کے فلسطین کے مسئلے میں خود کو مسلمانوں سے الگ کرنے سے شاید سب کی آنکھیں کھل گئیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اس مسئلے کو تاریخی عمل میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کو یونہی کسی جذباتی رو میں بہہ کر کافر نہیں کہا گیا تھا بلکہ ہر طرح کی فکری و قانونی تسلی کی گئی تھی۔
عمار ناصر: آپ توجیہ کے پابند نہیں، اس کی غلطی تو بتا سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو توجیہ آپ ان کے موقف کی کر رہے ہیں، وہ بنتی نہیں۔ مسلم لیگ کا ساتھ دینے کے جواز کے لیے پہلے دو نکتے کافی تھے۔ پھر بھی وہ ایک مذہبی وفقہی اصول کا حوالہ دے رہے ہیں۔ اور انھیں کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔ مولانا عثمانی قادیانیوں کے مرتد اور واجب القتل ہونے پر مستقل کتاب لکھ چکے تھے۔
زاہد صدیق مغل: حاشیہ خود بتا رہا ہے کہ یہ توجیہ سیاسی نوعیت کی ہے، ان کے الفاظ دیکھ لیجئے۔
عمار ناصر: صرف سیاسی نہیں، سیاست شرعیہ کے اصول پر مبنی ہے۔ مفتی صاحب کہہ رہے ہیں کہ کھلے کافروں کی مدد ان کے خلاف گوارا نہیں کی جا سکتی جو کسی گمراہی کا شکار ہو کر دائرہ اسلام سے باہر جا پڑے ہیں۔
زاہد صدیق مغل: یہ ایک سٹریٹیجک چیز ہے۔ میرے حساب سے تو قادیانیوں کے معاملے میں اس کا برعکس ہی بہتر ہے۔ جنہیں ہم ختم نہ کرسکے، اگر کسی اور کے ہاتھوں یہ ہوجائے تو کیا ہی خوب!
عمار ناصر: بس یہ واضح موقف ہے۔ دیکھتے ہیں دیگر اہل علم کی کیا رائے بنتی ہے۔ اتنا تو بہرحال ماننا چاہیے کہ معاملہ ذو الوجہین ہے۔ مجھے ذاتی طور پر مولانا عثمانی کے زاویہ نظر میں بہت وزن دکھائی دیتا ہے۔ واللہ اعلم
زاہد صدیق مغل: ذو الوجہین نہیں ہے، بڑا سیدھا ہے۔ قادیانیوں کی اصل حیثیت تو خود مولانا نے لکھ دی کہ وہ واجب القتل ہیں۔ اس کے بعد دوسرا پہلو کیا رہا؟ ہر مسئلے میں قدم بقدم تنزیل ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اصولا الف صورت میں حکم کیا ہے، اگر الف ممکن نہ ہو تو ب میں کیا ہے وغیرہ۔ اب یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ میں د کیفیت پر پوچھے جانے والے سوال کے جواب کو لے کر "اصل" مسئلے میں تین چار اور پانچ پہلو نکال لوں۔ تو آپ کو بھی اس مسئلے پر اسی منطقی ترتیب سے اپنی رائے دینی چاہیے کہ اصولا آپ کے نزدیک قادیانیوں کی شرعی حیثیت کیا ہے، اس کے بعد پھر بالترتیب چلئے۔
عمار ناصر: اس وضاحت کی اگرچہ ضرورت نہیں ، لیکن میں بیان کر دیتا ہوں۔
اولا، ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے ساتھ معاملات میں غیر مسلموں کے احکام جاری ہوں گے۔
ثانیا، ان کے دعوائے اسلام کا فی الجملہ اثر باقی رہے گا جو اس صورت میں ظاہر ہوگا جب ان کا تقابل دوسرے غیر مسلم گروہوں سے کیا جائے۔
زاہد صدیق مغل: ان دو باتوں کے درمیان اس سوال کا جواب بھی دے دیجئے کہ آپ نے نزدیک "اصولا" وہ واجب القتل ہیں یا نہیں؟
عمار ناصر: میں ارتداد کی سزا کو ایک تو اتمام حجت کے اصول سے متعلق سمجھتا ہوں جس کے تحقق میں عہد نبوت کے قرب اور بعد سے بہت جوہری فرق واقع ہوتا ہے۔ پھر جو گروہ یا افراد کھلے ارتداد کے بجائے کسی عقیدہ یا عمل کی وجہ سے خارج از اسلام شمار کیے جائیں، انھیں اتمام حجت والے اصول کی زیادہ رعایت ملنی چاہیے۔ پس ایسے گروہ میری رائے میں واجب القتل، بلکہ مباح القتل نہیں ہیں۔ ان پر دنیوی احکام میں غیر مسلموں کے احکام جاری کر کے آخرت کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔
زاہد صدیق مغل: تو اس رائے کے بعد پھر اس مسئلے میں ذوالوجہین کی بنیاد وہ قاعدہ نہیں جو آپ نے ان علماء کی تحریر سے نکال کر لگایا ہے بلکہ آپ کی یہ منفرد رائے ہے جس کے تحت آپ روایتی علماء کی تحریروں سے سپورٹنگ evidence اکٹھے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
عمار ناصر: جی، یہ نکتہ الگ ہے۔ لیکن کفار مجاہرین اور اسلام سے خارج شمار کیے گئے گروہوں میں فرق کا نکتہ مشترک ہے۔
زاہد صدیق مغل: ممکن ہے یہ اشتراک ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اشتراک نفس مسئلہ کو حل کیسے کرتا ہے؟ نیز کیا اس وقت کسی ملک میں کہیں کوئی ایسی جنگ لگی ہوئی ہے جس میں قادیانی "اسلام کی سربلندی" کے لئے کفار سے لڑ رہے ہوں کہ ہمیں اس مسئلے سے استدلال کی ضرورت ہو؟
عمار ناصر: اس وقت نہ ہو، یہ کوئی غیر ممکن مفروضہ تو نہیں۔ موجودہ بحث میں اس کا یہ اصولی پہلو واضح ہونا بھی بہت اہم ہے کہ کھلے کافروں اور گمراہ گروہوں کی حیثیت مختلف ہے۔ اور جنگ کی مثال تو صرف توضیح کے لیے ہے۔ عام سیاسی معاملات پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہوگا، جیسا کہ ان علماء نے قیام پاکستان کی جدوجہد پر کیا ہے۔
زاہد صدیق مغل: قیام پاکستان کی جدوجہد کے لئے وضع کردہ علم کلام کو اسلامی کلام کا معیار بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔
عمار ناصر: اصل میں یہ کلاسیکی علم کلام ہی کا اصول ہے جس کا ان علماء نے انطباق کیا ہے۔
زاہد صدیق مغل: اس قسم کی ذیلی تقسیم تو ان کے درمیان بھی موجود ہے جنہیں آپ "کھلے کافر"کہہ رہے اور اس کا بیان تو قرآن میں بھی ہے جب صحابہ کو اہل کتاب کی شکست پر غم ہوا تھا۔ اس چیز کو "مخالف کا تبدیل ہوجانا" کہتے ہیں۔ لیکن میرا سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ اس سے مسئلہ حل کیسے ہوا کیونکہ فی الوقت بحث قادیانی اور کھلے کافر کی نہیں بلکہ مسلمان اور قادیانی کی ہے۔
عمار ناصر: مسلمان اور قادیانی کی بحث تو اپنی جگہ حل شدہ ہے۔ یہ پہلو تو معاملے کی مجموعی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اور جس کو آپ مخالف کا تبدیل ہونا کہہ رہے ہیں، وہ بھی اس اصول کے بغیر قابل فہم نہیں ہو سکتا۔ اگر اہل کتاب اور مجوس کے کفر کی نوعیت میں فرق نہ ہوتا تو مسلمان کیوں اہل کتاب سے ہمدردی محسوس کرتے؟ یہ "اصل میں اشتراک" کی رعایت کا اصول ہے۔ اگر مسلمان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے انکار کے باوجود سلسلہ انبیاء سے وابستگی کی وجہ سے ایسا کر سکتے ہیں تو نبوت محمدی سے نسبت کو ماننے والوں کے ساتھ کیوں نہیں کر سکتے؟
زاہد صدیق مغل: اس لئے کہ شارع نے موخر الذکر کےلئے قتل کی سزا لازم قرار دی ہے، اب میں خلاف نص اپنی طرف سے اسے کسی دوسرے گروہ پر قیاس کرکے ان کے لئے زیادہ رعایت کیسے نکال لوں؟
عمار ناصر: لیکن قتال کا حکم تو اہل کتاب کے بارے میں بھی ہے، پھر بھی ان کے ساتھ ہم دوسروں کے تقابل میں ہمدردی رکھتے ہیں۔ سوال فریق ثانی کا ہے کہ وہ کون ہے۔ اگر مسلمان ہیں تو حکم الگ ہے، اگر دوسرے غیر مسلم ہیں تو الگ۔
زاہد صدیق مغل: اگر میں بات کو مختصر رکھتے ہوئے کہوں تو معاملہ یوں ہے کہ ہمارے حساب سے قادیانی مملکت پاکستان میں چپکے چپکے مسلمانوں کے خلاف واردات کی کوشش کرتے ہیں لہذا ایسی صورت میں ان پر اس قدر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا جس قدر کسی عیسائی یا ہندو پر، کیونکہ اس کا کفر واضح ہے اور ہم اس سے ہوشیار ہیں جبکہ یہ چھپی ہوئی دشمنی کی صورت واردات کرتے ہیں۔ میرے حساب سے تو قادیانیوں کو "حقوق کے نام پر" ہر سطح پر پنپنے دینے کی رعایت دینا ان کے واجب القتل ہونے کے مقدمے ہی کے خلاف ہے۔
قادیانیوں کے ساتھ قتال کی بنیاد ہی یہ ہے کہ یہ "قادیانی" ہے۔ یہی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تو کوئی شخص اسلام کے باہر کسی نئے خدا کو تخلیق کرکے اس کی پوجا کرنا چاہتا ہے یا کسی کو نبی کہہ کر اس کی اتباع کرنا چاہتا ہے اور اپنے مذہب کا نام مثلا "چمچم یا گلاب جامن" رکھتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن کوئی شخص اسلام کے اندر سے اٹھ کر محمدﷺ کے بعد کسی کو نبی بنا کر اسے اسلام کا نمائندہ بتاتا ہے، تو یہ عام کفر نہیں بلکہ "اسلام کے متوازی" ایک امت کھڑی کرنے کا دعوی ہے۔ یہ شخص کسی بھی طرح قابل معافی نہیں۔
عمار ناصر: شاید مواقف کی کافی اور مناسب تنقیح ہو گئی ہے۔ جو بات زیادہ درست ہے، اللہ ہمیں اس کا فہم اور اتباع نصیب فرمائے، آمین۔
دہشت گرد تنظیموں کی فکری بنیادیں: نقائص و نتائج
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی
(دہشت گرد تنظیموں کی فکری بنیادیں: نقائص و نتائج ’’الحق المبین فی الرد علی من تلاعب بالدین‘‘ کے حوالے سے۔)
جتنے بھی مسلم فرقے ہیں سب اپنا رشتہ قرآن و سنت سے جوڑتے ہیں اور سب کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا عقیدہ و منہج قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ لیکن احقاق حق او ر ابطال باطل کی غرض سے اسلاف کے فراہم کردہ اصول و معیارپرایسے تمام فرقوں کے افکار و مفاہیم کا تجزیہ کرنا ایک دینی ذمے داری ہے اور علمی امانت داری بھی۔
جامعہ ازہر عالم اسلام کی وہ عظیم دانش گاہ ہے جس نے دین و ملت کی خدمت میں اپنی زندگی کے پورے ایک ہزار سال گزارے ہیں۔اس نے ہر زمانے میں باطل افکار وخیالات کو اسلاف کے عطا کردہ اصولوں پر پرکھ کر گمراہ فرقوں کو آئینہ دکھایاہے اور قرآن وسنت سے ان کے گہرے رشتوں کے دعوے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔اسی دانش کدے کے پروردہ شیخ اسامہ السید محمود ازہری (ولادت:۱۹۷۶ء) بھی ہیں، جن کا لائف ٹائم مشن ہی یہ ہے کہ ازہرکے علمی منہج کا احیا کیاجائے،اسلام کی صحیح، معتدل، متوازن اور پُرامن متوارث تفہیم کو عام کیاجائے اور ہر اس تفہیم کو مسترد کر دیاجائے جس میں دین اسلام کو ایک پُر تشدد، غیر معتدل اورناموس عقل و فطرت سے بر سر پیکار دین کے طور پر پیش کیاگیاہو۔
شیخ موصوف کی کتاب ’’الحق المبین فی الرد علی من تلاعب بالدین‘‘ ایسی ہی ایک علمی وتجزیاتی کاوش ہے، جس میں اخوان المسلمین سے لے کر داعش تک دین کے نام پرجذبات کا استحصال کرنے والی دہشت و خوں ریزی کی سودا گر تنظیموں کو اسلاف کے رہنما اصول اور علمی معیار کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا گیا ہے اور دین اسلام جو اپنے نصوص و مفاہیم کے ساتھ متوارث و متواتر ہے ،اس کی عدالت میں ان کے افکار کامقدمہ رکھ کر انصاف کی فریاد کی گئی ہے۔
اس کتاب میں اسلاف کے جن اصول ومعیار پران منحرف تنظیموں کے افکار کوپرکھاگیا ہے اس کے نمائندے کے طور پر ازہر کے اس علمی منہج کو پیش کیاگیاہے جس میں ہزار سالہ تجربہ اور ہزار ہا علمائے ربانیین کا توارث شامل ہے۔
مؤلف نے تشدد کی علم برداراُن جماعتوں کی فکری اساس کی تلاش و جستجو میں جن افکار کو محوری قراردیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
(۱)غیراللہ کی حاکمیت قبول کرنے کا مسئلہ (۲)جاہلیت کامفہوم(۳)دارالاسلام اور دارالکفر کا مفہوم (۴)فتح ونصرت کے وعدے صرف جہادیوں کے لیے (۵) جہاد کا مفہوم (۶)تمکین کا مفہوم (۷) وطن کا مفہوم (۸) اسلامی غلبے کے پروجیکٹ کا مفہوم۔
ان افکار کے صحیح و غلط پہلو اور پھر ان کے سنگین نتائج پر شریعت اسلامی اور منہج اسلاف یعنی منہج ازہری کی روشنی میں تفصیلی بحث کے بعد ان قواعدکا تذکرہ کیا گیا ہے جن کو بروئے کار نہ لانے کی وجہ سے مذکورہ بالا عناوین کے صحیح و متوارث مفاہیم تک ان تحریکوں کی رسائی نہیں ہو سکی۔
آنے والی سطور میں درج بالاعناوین کے مفاہیم پر مؤلف کی گفتگو کا خلاصہ پیش کیا جاتاہے:
[۱]حاکمیت
متشددجماعتوں کا نظریہ ہے کہ مسلمانوں نے ربانی نظام کی حاکمیت کو چھوڑ کردوسرے قوانین کی حاکمیت قبول کرلی ہے اور یہ شرک ہے۔ مؤلف کے مطابق یہ سب سے اساسی فکر ہے اور اسی پر دوسرے تمام غلط افکار کا دارومدار ہے۔اس فکر سے سید قطب اور ان کے بھائی کے یہاں شرک حاکمیت اور توحید حاکمیت کی فکر پیدا ہوئی اور پھر یہیں سے مومنانہ جہادی گروہ کی ضرورت اورپھر ان کے لیے نصرت و تمکین کے وعدۂ الٰہی کی فکرکاظہور ہوا اور اسی فکر کی بناپر عام مسلمانوں کی حالت کو جاہلیت کی حالت قرار دیا گیااور ان مسلمانوں کی تکفیرکی گئی ۔یہیں سے یہ فکر سامنے آئی کہ ان کے مزعومہ ،مومنانہ جہادی گروہ کو جاہلیت میں مبتلا مسلمانوں پر غلبہ ہوناچاہیے اور یہ خیال بھی عام ہوا کہ ایسے مسلمانوں سے ٹکراؤ ضروری ہے تاکہ خلافت الٰہیہ قائم کی جاسکے- حاکمیت کی فکر کہاں سے پیدا ہوئی اور پھر اس فکر سے دوسری فکری کج رویاں کیسے سامنے آئیں؟ اس حوالے سے مؤلف کا یہ کہنا ہے کہ اس طرح کے تمام افکار و خیالات کا سرچشمہ سید قطب کی کتاب ’’فی ظلال القرآن‘‘ ہے اور اُن کی جودوسری کتابیں ہیں، دراصل وہ فی ’’ظلال القرآن‘‘ میں مندرج افکار و خیالات کا ہی چربہ ہیں۔
ڈاکٹریوسف قرضاوی اپنے مذکرات میں لکھتے ہیں:موجودہ مسلمانوں کی تکفیر کی فکر صرف ’’معالم فی الطریق‘‘ میں نہیں ہے، بلکہ اس کی اصل ’’فی ظلال القرآن‘‘ اور’’ العدا لۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام‘‘ ہے۔ (ابن القریۃ والکتاب،ملامح وسیرۃ،۳/۶۹، دار الشروق، قاہرہ، ۲۰۰۸ء)
سید قطب نے یہ فکر اصلاًابوالاعلیٰ مودود ی سے لے کر اس کو مزید ترقی دی اور اپنی زوربیانی سے اسے ایک مکمل نظریہ بنادیا اور پھر یہ نظریہ ایسا ناسور بن گیا جس سے تکفیر کا مواد رسنے لگا- ابوالاعلیٰ اور سید قطب نے اس فکر کی بنا قرآن کریم کی اس آیت کریمہ پر رکھی جس میں اللہ تعالی ٰکا ارشاد ہے:
وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ۔ (المائدۃ:۴۴) (جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کو اپنا حاکم نہ بنائیں وہ کافر ہیں۔ )
اس آیت کریمہ سے سید قطب نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر کوئی شخص شرعی احکام کا نفاذ نہیں کرتا تو وہ ان احکام کی حقانیت کا عقیدہ رکھنے والا ہی کیوں نہ ہو اور ان احکام کے عدم نفاذ کی وجہ کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو، پھربھی وہ کافر ہے۔
اس فکر اور نظریے میں بڑی شدت اور بڑی تنگی ہے ،اس میں تکفیرکے لیے عجلت پسندی اور توسیع ہے ، اس فکر کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ حاکمیت کو اصول ایمان سے سمجھ لیا گیا، اس طرح عقیدے کے باب میں ایک امر کا اضافہ ہوا اور پھر اس کے فقدان کی صورت میں مسلمانوں کی تکفیر کر دی گئی۔ یہی بعینہ خوارج کا مذہب ہے،جب کہ صحابہ کے زمانے سے لے کر بعد کے ادوار تک مسلم علما کا مذہب اس کے خلاف ہے اورمذکورہ بالاآیت کریمہ کی توجیہ و تفہیم میں متعدد اقوال ذکر کیے گئے ہیں ۔ان میں راجح ترین قول یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی حاکمیت کو اس طور پر قبول نہیں کیاکہ وہ وحی الٰہی ہے اور برحق ہے تو بلا شبہ یہ کفر ہے ،لیکن اگراس کا نفاذکسی وجہ سے مشکل ہو تو وہ شخص کافر نہیں ہے۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں:
قال عکرمۃ : وقولہ تعالیٰ: ومن لم یحکم بما انزل اللہ إنما یتناول من انکر بقلبہ و جحد بلسانہ، اما من عرف بقلبہ کونہ حکم اللہ واقر بلسانہ کونہ حکم اللہ إلا انہ اتی بما یضادہ فھو حاکم بما انزل اللہ ولکنہ تارک لہ، فلا یلزم دخولہ تحت ھذہ الآیۃ وھذا ھوالجواب الصحیح۔(تفسیر کبیر، ۶/۳۵، دار الغد العربی، قاہرہ، ۱۴۱۲ھ)
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ کافر ہونے کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے نازل کردہ احکام کی حاکمیت کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار نہ کریں، چناں چہ جو شخص حکم الٰہی کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرتاہو لیکن اس کا عمل اس کے بر خلاف ہو تو وہ احکام الٰہی کی حاکمیت قبول کرنے والا ہے اگرچہ ترک عمل میں گرفتار ہے ،ترک عمل کی بنا پر وہ اس کے حکم کے تحت یقیناًداخل نہیں ہوگا، یہی صحیح جواب ہے۔
آیت کریمہ کی یہی توضیح امام غزالی نے ’’المستصفی‘‘ میں اور امام ابن عطیہ اندلسی نے ’’المحرر الوجیز‘‘میں کی ہے۔ کلام ائمہ کی چھان بین سے معلوم ہوتاہے کہ ابن مسعود ،ابن عباس ،براء بن عازب ،حذیفہ بن الیمان، ابراہیم نخعی،سدی، ضحاک، ابو صالح، عکرمہ، قتادہ، عامر ، شعبی، عطاء، طاؤوس ، طبری، قرطبی، ابن جوزی، ابو حیان، ابن کثیر ، آلوسی، طاہر بن عاشور اور شیخ شعراوی جیسے تمام ائمہ اعلام نے آیت کریمہ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
ان تمام ائمہ کے بالمقابل سید قطب ہیں، جنھوں نے بیک جنبش قلم ان تمام ائمہ کی تفہیم کوتحریف قرار دے دیا۔ اس فکر میں خوارج کے سوا ان کا کوئی پیش رو نہیں ہے، چناں چہ حضرت سعید بن جبیر سے آیت کریمہ ’’وَاُخَرُمُتَشٰبِھٰت‘‘ کے تحت مروی ہے کہ خوارج کے لیے آیت کریمہ ’’وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ‘‘ متشابہ ہوگئی ہے کیوں کہ وہ لوگ جب کسی امام کو غیر حق کے مطابق فیصلہ کرتے دیکھتے ہیں تو وہ اسے کافر قرار دے دیتے ہیں اور کفر کرنے والے کو رب کا مقابل وحریف قرر دے کرپوری اُمت کو مشرک قرار دے دیتے ہیں۔
سید قطب اس طرح کی فاش غلطی کا شکار اسی بنا پر ہوئے کہ انھوں نے فہم وحی کے سلسلے میں علمائے اسلام کے تجربے سے روگردانی کی اور ان کے مناہج فہم کی پیروی نہیں کی، بلکہ ملت اسلامیہ کے پورے فکری سرمایے کو جاہلی ثقافت قرار دے دیا اور فہم وحی کے سلسلے میں خود اپنے حس و حدس اور اپنے تصورات پر بھروسہ کیا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے علمائے اسلام کے استنباطات کی صحت کی گواہی دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَوْ رَدُّوہُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلٰی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِینَ یَسْتَنْبِطُوْنَہُ مِنْہُمْ.(النساء: ۸۳)
ہرزمانے کے خوارج کا یہ طریقہ رہا ہے کہ انھوں نے مذکورہ بالا آیت کریمہ کی فاسد تاویل پر اصرار کیا اور علمائے اسلا م کی تاویل کو تحریف قرار دیا، چناں چہ اس سلسلے میں خطیب بغدادی نے ’’تاریخ بغداد‘‘ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک خارجی کو مامون کے پاس لایا گیا، اس سے مامون نے کہا کہ تم نے ہماری مخالفت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ قرآن کریم کی آیت کی وجہ سے۔ مامون نے اس سے پوچھا: کیا تم کواس بات کا یقین ہے کہ یہ وحی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں! یقین ہے۔ مامون نے پوچھا: اس پر کیا دلیل ہے؟ اس نے کہا: اجماع امت ہے۔ مامون نے کہا کہ جب قرآن کے مُنزل ہونے کے سلسلے میں اجماع کو مانتے ہو تو پھر آیت کریمہ کی تاویل کے سلسلے میں جو ان کا اجماع ہے اس کو بھی مانو۔ (تاریخ بغداد، ۱۰ ؍ ۱۸۶، دار الفکر، بیروت، ۱۹۹۵ء)
ان خوارج نے مسلمانوں پر کفر و شرک کی تہمت لگائی، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو شرک کے خوف سے مامون قرار دیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: وَإِنِّی لَسْتُ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا اَنْ تَنَافَسُوہَا. (بخاری،باب غزوۃ احد،حدیث:۴۰۴۲)
ابن عبدالبر نے تمہید میں فرمایا کہ جو امت محمدیہ پر ایسے اندیشے کا اظہار کرے جس کا ان کے نبی نے اظہار نہیں کیا تو یہ سراسر تشدد ہے۔ (۲؍۱۲۱)
اس گفتگو سے واضح ہو گیا کہ فہم قرآن میں ان لوگوں کی عقلیں انحراف و ضلالت کا شکار ہوگئیں اور اس کی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے فہم وحی کے سلسلے میں اسلاف کرام کے منہج کی پیروی نہیں کی۔
تکفیری گروہ کی پہچان اور حدیث رسول اللہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس تکفیری منہج سے اپنی امت کو ڈرایاہے، چناں چہ حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن ما اتخوف علیکم رجل قرا القرآن حتی رئیت بھجتہ علیہ وکان ردئا للاسلام، غیّرہ إلی ما شاء اللہ، فانسلخ منہ و نبذہ وراء ظھرہ، و سعی علی جارہ بالسیف ورماہ بالشرک، قال: قلت یانبی اللہ! ایھما اولی بالشرک المرمی او الرامی قال بل الرامی ۔(صحیح ابن حبان، ابن کثیر نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سب سے زیادہ اس شخص سے خوف ہے جو قرآن پڑھنے والا ہو گا، قرآن کا نور بھی اس کوحاصل ہوگا، اسلام کا حامی اور اس کا دفاع کرنے والا ہو گا ،مگر وہ قرآن کو بدل دے گا۔ایسا کر کے وہ قرآن سے جدا ہوجائے گا اور اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار اٹھائے گا ،اوراس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ! ان دونوں میں شرک سے کون زیادہ قریب ہوگا؟ شرک کی تہمت جس پر لگائی گئی ہے وہ یا جس نے تہمت لگائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ تہمت لگانے والا۔
اس حدیث کی روشنی میں تکفیری متشدد گروہ کی درج ذیل علامتیں سامنے آتی ہیں:
یہ گروہ قرآن سے گہرا تعلق رکھنے والا اور اس کی خدمت کرنے والا ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کو ان سے حسن ظن ہوگا۔
اس کو قرآن کی نورانیت سے کچھ حصہ حاصل ہوگا، اس کی وجہ سے لوگوں کو اور زیادہ ان سے خوش گمانی ہوگی۔
دین کے لیے بڑا جوش وجذبہ رکھنے والا، اس کی حمایت اور دفاع کرنے والا ہوگا۔
(۴) ان سب کے باوجود اس کے اندر ایک عجیب وغریب تبدیلی رونما ہوگی جس کی وجہ سے لوگوں میں ایک اضطراب پیدا ہو جائے گا، وہ تبدیلی یہ ہوگی وہ قرآن کے متوارث معانی سے منحرف ہو کر جداگانہ باطل تاویل کرے گا؛ کیوں کہ وہ طرق استنباط سے ناواقف ہوگا۔
(۵) چناں چہ وہ اپنے پڑوسی کو کافرو مشرک قرار دے گا۔
(۶) صرف اسی پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ وہ اس کے خلاف قتال کے لیے ہتھیار اٹھائے گا اور خوں ریزی کرے گا۔
شدت مردود ہے
مذکورہ بالا حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین دار نظر آنے والے شخص کی دین کے نام پر جس شدت اور اس کی جن تباہ کاریوں پر خوف کا اظہار کیا ہے وہ بالکل بجا ہے؛ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عام صورت حال میں شدت بالکل ہی پسند نہیں فرماتے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل نے جوش عبادت میں اپنی امامت کے وقت فجر کی نماز میں طویل قراء ت شروع کردی، یہ صحابہ پر شاق گزرا جس کی وجہ سے لوگ جماعت سے دور رہنے لگے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی سخت الفاظ میں تادیب فرمائی اور تین مرتبہ فرمایا: فتّان، فتّان، فتّان ۔ (یعنی کیاتم لوگوں کو آزمائش میں ڈال دینا چاہتے ہو) (بخاری،باب اذا طول الامام،حدیث:۷۰۱)
اس واقعے سے پتا چلتا ہے کہ عبادت میں تھوڑی شدت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس قدر فکرمند ہوگئے تو آپ کو اس تکفیری شخص کے فتنے سے کتنا زیادہ اپنی امت پر خوف محسوس ہوا ہوگا۔
بدعملی کی بنا پر تکفیر نہیں
ایسا دینی جوش جس میں بدعملی کی بنا پر تکفیر کی جائے، خصوصا امرا وحکام کے خلاف ہتھیار اٹھالیا جائے، یہ درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
کچھ ایسے امرا وحکام ہوں گے تم ان کو پہچان جاؤ گے اور ان پر انکار کروگے، جو ان کو پہچان لے وہ بری ہے اور جو ان پر انکار کرے وہ سلامتی میں ہے، سوائے اس شخص کے جو ان سے راضی ہو اور ان کی پیروی کرے، صحابہ نے عرض کیا: یارسو ل اللہ! ہم ان سے قتال نہیں کریں گے، آپ نے فرمایا کہ جب تک وہ نماز پڑھ رہے ہیں ان سے قتال نہیں کریں گے ۔ (مسلم،کتاب الامارۃ،باب وجوب الانکار علی الامراء)
اس کے علاوہ امام باقلانی، ابن حزم، ابوالفتح قشیری، غزالی، ابن وزیر یمنی اور جمہور علمائے اسلام کا مذہب یہی ہے کہ جہاں تک ہوسکے تکفیر سے گریز کیا جائے اور جب تک اجماع نہ ہوجائے اس وقت تک تکفیر نہ کی جائے؛ کیوں کہ توحید کا اقرار کرنے والوں کے خون کو مباح قرار دینا خطا ہے، اور ایک ہزار کافر کو چھوڑنے کی خطا ایک مسلم کی خون ریزی کی غلطی سے چھوٹی ہے۔
حضرت ابن عباس کا خوارج سے مناظرہ اور اس کی عصری معنویت
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ تقریباً چھ ہزار خوارج اپنے ٹھکانے پر جمع تھے، میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے عرض کی کہ اے امیر المومنین! جلدی سے ظہر کی نماز ادا کرلیں تاکہ میں ان خوارج سے جاکر ملاقات کروں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ مجھے تمہاری جان کا خوف ہے۔ میں نے کہا کہ بالکل خوف نہ کریں۔ چناں چہ میں خوب صورت ترین یمنی لباس پہن کر نکلا، ان کے پاس پہنچا۔ جب ان لوگوں نے مجھے دیکھا تو مجھے مرحبا کہا، پھر کہا: اے ابن عباس! یہ کیسا لباس ہے؟ میں نے کہا کہ تمھیں اس لباس پر کیا اعتراض ہے؟ میں نے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر عمدہ ترین لباس دیکھے ہیں، پھر میں نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَۃَ اللَّہِ الَّتِی اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ۔ (الاعراف:۳۲) یعنی آپ فرمادیں کہ جو زینت اللہ نے اپنے بندوں کے لیے رکھی اسے کس نے حرام کردیا ہے!
دریافت کیا: کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا کہ میں امیر المومنین، اصحاب رسول، مہاجرین وانصار کے پاس سے آرہا ہوں، لیکن ایسے لوگ تمہاری جماعت میں نظر نہیں آرہے ہیں، جب کہ انھی کی موجودگی میں قرآن کریم نازل ہوااور وہ قرآن کریم کے مفہوم کو تم سے زیادہ جاننے والے ہیں، ایسے لوگ تمہاری صف میں نہیں ہیں۔ تم لوگوں کو رسول اللہ کے ابن عم اور ان کے داماد سے کیا شکوہ ہے؟
یہ سن کر وہ لوگ کہنے لگے کہ ان سے بحث نہ کرو، ان لوگوں کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے: بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ۔ (زخرف:۵۸) بعض لوگوں نے کہا کہ ہمیں گفتگو کرنے میں کیا پریشانی ہے؟ ابن عباس رسول اللہ کے چچا زاد ہیں اور ہمیں کتاب اللہ کی دعوت بھی دے رہے ہیں۔ پھر خوارج نے کہا: حضرت علی سے ہمیں تین شکایتیں ہیں:
انھوں نے اللہ کے معاملے میں انسان کو حَکَم بنالیا۔
(۲) انھوں نے قتال کیا تو مخالفین کی عورتوں کو باندیاں نہیں بنایا اور غنیمت نہیں لوٹا، اگر ان سے قتال حلال تھا تو ان کی عورتوں کو باندی بنانا بھی حلال تھا اور اگر باندی بنانا حلال نہیں تھا تو گویا ان سے قتال بھی درست نہیں تھا۔
(۳) انھوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کیوں ہٹادیا، اگر وہ امیر المومنین نہیں ہیں تو امیر المشرکین ہیں۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: میں نے ان سے کہا کہ کوئی اور شکایت؟ کہا: نہیں! میں نے ان سے کہا: اگر میں تمہارے یہ شکوے کتاب وسنت سے دور کردوں تو رجوع کرلو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ تب میں نے کہا کہ جہاں تک حکم بنانے کا معاملہ ہے تو اللہ نے خود فرمایا ہے: یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ (المائدہ:۹۵) (دو عادل لوگ حَکم بن جائیں) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِنْ اَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلَاحًا یُوَفِّقِ اللَّہُ بَیْنَہُمَا. (النساء: ۳۵) (تمھیں آپس میں اختلاف کا خوف ہو تو ایک حکم مرد کی طرف سے اور ایک حکم عورت کی طرف سے بھیجو، اگر تم دونوں اصلاح چاہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تم دونوں کے مابین اتفاق واتحاد قائم فرمادے گا) پھر میں نے کہا: بتاؤ میں کتاب اللہ سے باہر نکلا؟ جواب آیا: نہیں!
میں نے کہا کہ جہاں تک جنگ کے بعد عورتوں کو باندی بنانے کی بات ہے تو حضرت علی نے ام المومنین حضرت عائشہ سے جنگ کی تھی اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَاَزْوَاجُہُ اُمَّہَاتُہُمْ. (الاحزاب: ۶) (نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں) اگر تم ان کو اپنی ماں نہیں مانتے توکافر ہوجاؤ گے اور اگر ماں مانتے ہو تو ان کو باندی بنانا کیسے درست ہوگا؟ تم دو گمراہیوں میں گرفتار ہو، بتاؤ کیا میں قرآن کریم سے باہر ہوگیا؟ جواب آیا: نہیں!
میں نے کہا کہ جہاں تک اپنے نام سے امیر المومنین ہٹانے کی بات ہے تو تم کو معلوم نہیں ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام سے لفظ ’’رسول اللہ‘‘ ہٹا دیا تھا، اس کی وجہ سے آپ کی رسالت ختم نہیں ہوئی تو علی کی امارت کیسے ختم ہوجائے گی؟ بتاؤ کیا میں سنت سے باہر نکلا؟ جواب آیا: نہیں!(مستدرک حاکم، ۴؍۲۰۲، دارالکتب العلمیہ،بیروت،۱۴۱۱ھ)
اس مناظرے کے کچھ اہم نکتوں پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت ابن عباس خود ان کے پاس گئے اور بطور سائل ان کے آنے کا انتظار نہیں کیا۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اہل حق میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں جو باطل افکار کے تجزیے میں پیش قدمی کرنے والے ہوں اور پھر یہ تجزیے ان تک پہنچائے بھی جائیں۔
(۲) آپ شاندار لباس پہن کرگئے۔ یہ ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور جذبہ سوال کو مہمیز کرنے کے لیے تھا۔
(۳) آپ نے گفتگو کی شروعات میں ہی اپنے منہج کی خوبی اور ان کے منہج کا نقص واضح کردیا کہ میرے پاس تو اصحاب رسول کی مختلف جماعتیں ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایسی کوئی جماعت نہیں، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ ہی دین کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔
(۴) سب سے پہلے آپ نے ان کے تمام اعتراضات کو سناتا کہ گفتگو میں آسانی ہو۔
(۵) وہاں بھی سب سے پہلا مسئلہ حاکمیت کا تھا اور آج بھی دہشت پسند جماعتوں کا سب سے اہم مسئلہ یہی ہے۔
(۶) وہ جس طرح کے دلائل سے قائل ہوسکتے تھے انھی کو ان کے سامنے پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ ترجمان قرآن حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے کہ انھوں نے آئندہ نسلوں کے لیے باطل گمراہ فرقوں سے گفتگو کے رہنما خطوط پیش فرمادیے ہیں اور آج اسی منہج کے مطابق مناقشے کی حاجت ہے۔
جاہلیت کا مفہوم
متشدد جماعتوں کا نظریہ ہے کہ موجودہ مسلم معاشرہ بھی عہد نبوی سے قبل والا جاہلی معاشرہ ہے اور اس معاشرے کے خاتمے اور نئے اسلامی (مزعومہ) معاشرے کی تشکیل کے لیے موجودہ جاہلی معاشرے اور ایسی حکومتوں سے ٹکر لینا، ان کے خلاف بغاوت کرنا اور ہتھیار اٹھانا ناگزیر ہے۔
موجودہ دور کی تکفیری جماعتوں تک یہ نظریہ بھی سید قطب کے ذریعے پہنچا ہے۔ انھوں نے اس نظریے پر بڑا زور دیا ہے اور اس کو اتنا دہرایا ہے کہ ان کی کتاب ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں یہ لفظ۱۷۴۰؍ مرتبہ آیا ہے۔ در اصل جاہلیت کے مفہوم کو سمجھنے میں سید قطب نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ اعتقاد کہ اللہ تعالیٰ ہی بندوں کا حاکم ہے اور اسی کا حکم نافذ ہونا چاہیے اور پھر عملی طور پر اس کے نفاذ اور اس میں ہونے والی عملی کوتاہی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی اور نفاذ احکام کی کوتاہی کو عقیدے کا مسئلہ بنا کر ایسے لوگوں کی تکفیر کردی جب کہ اجرائے احکام کے لیے کچھ اسباب، شروط اور موانع ہیں جن کی بنا پر احکام کا نفاذ متاثر ہوسکتا ہے۔
اس طرح وہ اصول ایمان میں فروع کو داخل کرکے خوارج کی ڈگر پر چل پڑے، جنھوں نے عمل کو ایمان کا جز قرار دے دیا، اسے عقیدے کا مرتبہ عطا کردیا اور پھر گناہوں کی بنا پر لوگوں کی تکفیر کی۔
سید قطب کے اس خارجی منہج کی بنا پر بہت سے غلط مفاہیم سامنے آئے:
اعتقاد و فروع میں اختلاط
’’فی ظلال القرآن‘‘ میں انھوں نے ایک مقام پر لکھا کہ عقیدے کا دائرہ زندگی کے ہر گوشے کو محیط ہے، حاکمیت کا مسئلہ اپنے تمام فروع کے ساتھ عقیدے کا مسئلہ ہے، یوں ہی اخلاق کا تعلق بھی عقیدے سے ہے۔ (جلد: ۴، ص: ۲۱۱۴، دار الشروق، قاہرہ، ۱۴۳۴ھ)
اصول دین میں اضافہ
’’فی ظلال القرآن‘‘ میں انھوں نے اس بات کو بار بار دہرایا ہے کہ فقہ و عمل کا تعلق بھی عقیدے سے ہے۔ عمل کے ہر شعبے کا تعلق عقیدے سے ایسے ہی ہے جیسے خود اصول کا عقائد سے ہے، اور ان میں کسی سے بھی انحراف درحقیقت دین سے انحراف ہے بلکہ ایسے لوگ بت پرستوں کے برابر ہیں۔ (دیکھیے: جلد:۳ کے مختلف مقامات)
جاہلیت کا نظریہ
سید قطب کے نزدیک زمانہ جاہلیت کوئی گزرا ہوا زمانہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک منہج حیات ہے جو قبل اسلام سے تاہنوز جاری ہے، اس کا ماحصل یہ ہے کہ آج مسلمانان عالم اسلام کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی جاہلیت اولیٰ جس میں کفرو شرک سب شامل ہے، کی طرف پلٹ چکے ہیں، جب کہ عام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اہل اسلام کبھی بھی کفر کی طرف نہیں پلٹیں گے اور ان کے طرز وعمل میں جو شریعت کی مخالفت پائی جاتی ہے اس کا تعلق معصیت و گناہ سے ہے کفر وارتداد سے نہیں ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماسبق کی ایک حدیث میں اس کی صراحت کردی ہے۔
سید قطب کا یہ موقف ہے کہ ملت اسلامیہ کفر وشرک اور زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ چکی ہے، ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں انہوں نے اس نظریے کا بار بار اعادہ کیا ہے۔ ان کے اس نظریے کا حاصل یہ ہے کہ دنیا سے دین اسلام ختم ہوچکا ہے اور اللہ کی روئے زمین پرصرف شرک وکفر پھیلا ہوا ہے، اس بات کا ذکر بھی انھوں نے ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں متعدد مقامات پر کیا ہے۔ (جلد:۲،ص: ۹۰۴۔ ۹۹۰، اور متعدد مقامات)
دین ختم ہوچکا
جاہلیت کا غلط مفہوم ومعنی سمجھنے کی وجہ سے وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ روئے زمین پر دین اسلام نام کی کوئی شئی باقی نہیں ہے، پوری امت مرتد ہوچکی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’فی ظلال القرآن‘‘، ’’العدالۃ الاجتماعیہ فی الاسلام‘‘ اور ’’معالم فی الطریق‘‘ میں اس کی صراحت کی ہے۔ (جلد: ۲، ص:۱۰۱۷، اور دوسرے مقامات)
دنیا سے ٹکراؤ ناگزیر
چوں کہ سید قطب یہ نظریہ قائم کرچکے تھے کہ امت اسلامیہ مرتد ہوچکی ہے تو اس سے انھوں نے ایک دوسرا نظریہ بنالیا کہ پوری دنیا کے لوگوں سے ٹکراؤ ناگزیر ہے؛ کیوں کہ ہر طرف جاہلی لیڈر شپ کا دور دورہ ہے اس کو کسی بھی طور پر قبول کرنا شرک ہے، لہٰذا الٰہ واحد کی ربوبیت و حاکمیت کے اعلان اور اس کے قیام کی جدو جہد کے لیے دنیا والوں سے ٹکراؤ حتمی ہے۔ (جلد:۲، ص:۱۰۶۱)
کافروں سے رواداری اور مسلمانوں سے قتال
بڑے تعجب کی بات ہے کہ سید قطب اختلاف ادیان رکھنے والوں سے تو عفو و در گذر کی بات کرتے ہیں، لیکن مسلمانو ں سے رواداری کو درست نہیں سمجھتے؛ کیوں کہ یہ مرتد ہیں اور مرتد کافر سے بھی بُرا ہے۔ (جلد: ۲، ص: ۷۳۲)
یہی نظریہ داعش تک پہنچتے پہنچتے یہاں تک پہنچ گیا کہ کافر ہو یا مومن سب کی گردن مارنا ضروری ہے۔
یہ سارے مفاہیم دین کے متوارث مفاہیم کے مطابق سراسر غلط ہیں، بلکہ اس خیر امت پر تہمت اورخود اسلام اور پیغمبر اسلام کی دینی وتبلیغی کاوشوں کی تحقیر وتذلیل ہے۔ یہ دین آخری دین ہے اور یہ امت آخری امت ہے، شرک وکفر پر کبھی جمع نہیں ہوسکتی۔
دارالکفر اور دارالاسلام کا مفہوم:
قدیم مسلم فقہانے احکام شرعیہ کے اجرا اور اس کے استثنائی احکام کے لحاظ سے دنیا کودو حصوں میں تقسیم کیا:
(۱)دار الاسلام (۲) دار الکفر۔
اس تقسیم کا مقصد یہ تھا کہ ایک مسلمان مختلف علاقوں کا سفر کرے گا تو کن احوال میں اس پر عمومی احکام جاری ہوں گے اور کن احوال میں استثنائی احکام نافذ ہوں گے اس کا فیصلہ کیا جاسکے، غیر مسلم علاقوں میں خرید و فروخت، نکاح و میراث کے احکام کیا ہوں گے، اس کو متعین کیا جاسکے، اس تقسیم کا مطلوب یہ تھا کہ مختلف احوال میں زندگی کیسے گزاری جائے اس کے طرق و احکام کو تلاش کیا جاسکے، اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ دنیا کے ایک خطے کو دار الکفر کہہ کر ان سے جنگ وقتال اور خون ریزی کا بازار گرم کیا جائے، لیکن بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مسئلے کو مثبت پہلو سے جدا کر کے ایک منفی پہلو دے دیا گیا اور اس کی بنا پر یہ مسئلہ دنیامیں مسلمانوں اور انسانوں کی تباہی و بربادی کا ذریعہ بن گیا اور لوگ مسلم فقہا اور خود مسلمانوں سے بدگمان ہوگئے۔ سید قطب اور ان سے متاثر افراد مثلا صالح سریہ ،شکری مصطفی، محمد عبد السلام فرج اور پھر داعش کے نزدیک یہ ایک جداگانہ اور خون ریز فکر بن کر رہ گئی ہے۔
سید قطب اپنی کتاب فی ’’ظلال القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں دنیا کی دو قسمیں ہیں : پہلا دار الاسلام اور دوسرا دار الحرب، تیسری کوئی قسم نہیں۔ دار الاسلام سے مراد وہ ملک اور وہ علاقہ ہے جہاں اسلامی احکام نافذ ہوں خواہ وہاں کے باشندے سارے مسلمان ہوں یا کچھ مسلمان اور کچھ ذمی، یا سب ذمی ہوں لیکن حکام مسلمان ہوں جنھوں نے وہاں شرعی احکام نافذ کر رکھا ہو، گویا دار الاسلام ہونے کا دار ومدار احکام شریعت کے نفاذ پر ہے۔
دار الحرب سے مراد وہ تمام ممالک اور علاقے ہیں جہاں اسلامی احکام نافذ نہ ہوں خواہ وہاں کے باشندے مسلمان ہوں یا کتابی یا کافر، گویا ہر وہ علاقہ دار الحرب ہے جہاں اسلامی احکام نافذ نہیں اگرچہ وہاں کے حکام وعوام مسلمان ہوں، چناں چہ جہاں اسلامی احکام نافذ ہوں گے وہاں کے لوگوں کا جان و مال محفوظ ہوگا لیکن جہاں ایسا نہیں ہوگا اُن کے جان و مال مباح ہوں گے، ان کے جان ومال کی اسلام کی نظر میں کوئی قیمت نہیں ہوگی، وہ احکام شریعت کو نافذ کرنے والے حاکم سے صلح و معاہدہ کریں ورنہ ان سے قتال کیا جائے گا۔ (فی ظلال القرآن، ۲؍۸۷۳)
گویا سید قطب کے نزدیک دنیا کی تیسری کوئی حالت نہیں ہے، جس میں احکام شرعیہ کے عدم نفاذ کے باوجود ان سے جنگ و قتال کی صورت حال نہ پیدا ہو، بلکہ انسانی بنیادوں پر ایک معاہدے کے تحت امن و شانتی کی زندگی گزاری جائے، یوں ہی ان کی اس گفتگو سے اور ماسبق میں مذکور نظریات سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ موجودہ عہد کے عام مسلم ممالک ان کے نزدیک دار الکفر میں شامل ہیں؛ کیوں کہ جمہوری نظام قائم کر کے اور اسلامی احکام کو پس پشت ڈال کر وہ سب مرتد ہوگئے اور ان سب کا حکم زمانہ جاہلیت کے لوگوں کا ہے۔
دار الاسلام اور دار الکفر کا یہ مفہوم جس میں مسلم ممالک اور خود مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے کی نوبت آجائے، احادیث رسول کے خلاف ہے۔ فرمان نبوی ہے:
ومن خرج علی امتی یضرب برھا وفاجرھا ولایتحاشی من مومنھا ولایفی لذی عہد عہدہ فلیس منی ولست منہ۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب الامر بلزوم الجماعۃ۔۔۔)
جو شخص میری امت کے خلاف کھڑا ہو کر ہرنیک و بد کی گردن زنی میں لگ جائے، مومنوں کوقتل کرنے سے گریز نہ کرے اور کسی عہد والے کا عہد نہ پورا کرے تو نہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔
جب مومنوں کو قتل کرنے پر اتنی وعید ہے تو جو مومنوں کی تکفیر و تشریک میں لگ جائے، اس کے لیے کتنی وعیدیں ہوں گی؟
سید قطب اوراُن کے ہمنواوں نے ’’فی ظلال القرآن‘‘ اور ’’الفریضۃ الغائبۃ‘‘ جیسی دوسری مختلف کتابوں میں دار الاسلام، دار الکفر اور ان کے احکام کے حوالے سے انہی باتوں کا اعادہ کیا ہے جن کا ذکر گزر چکا ہے ۔
سید قطب کی اس فکر میں اور ہمارے اسلاف کے بتائے ہوئے اس مفہوم میں جس سے اسلام کے رافت و رحمت کاپہلو سامنے آتا ہے، جو فکر مقاصد شریعت پر مبنی ہے، دونوں میں ذرا سی بھی ہم آہنگی نہیں۔
فقہائے اسلام کی جانب سے پیش کی گئی دار الاسلام اور دار الکفر کی تعبیر کی حیثیت اُس زمانے کے لحاظ سے وہی ہے جو آج بین الاقوامی تعلقات کے قوانین کی ہے اور جس کے نتیجے میں آج انٹرنیشنل لا سامنے آیا ہے۔ امام محمد شیبانی کی ’’کتاب السیر الکبیر‘‘ کے مطالعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ کتاب بین الاقوامی تعلقات کے اصول وضوابط کو بیان کرنے والی قانون کی پہلی کتاب ہے۔ قدیم فقہا سے استفادہ کرتے ہوئے اور دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاح سے ان فقہاکی مراد کی گہرائی تک پہنچنے کے بعد ’’المعہد العالمی للفکر الاسلامی‘‘ نے ایک انسائیکلو پیڈیا شائع کیا ہے، جسے ’’موسوعۃ العلاقات الدولیۃ فی الاسلام‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آج دار الاسلام اور دار الکفر کی اصطلاح میں ایک تکملے کی حاجت ہے اور ان دونوں اصطلاحوں کے علاوہ ایک اور اصطلاح دار العہد کے اضافے کی ضرورت ہے تاکہ دین اسلام کی آفاقیت و وسعت واضح ہو، لوگوں کو محاسن اسلام کا ادراک ہو اور ہدایت و اخلاق عام ہو۔
ابن تیمیہ کا ایک فتویٰ اور اس کا غلط استعمال
شیخ ابن تیمیہ نے اپنے عہد میں اس امکان پر غور وفکر کیا کہ دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاح سے ہٹ کر ایک ایسے دارکا بھی امکان موجود ہے جسے دار مختلطہ یا دار مشتبہ کا نام دیا جائے اور جس پر نہ دار الاسلام کی تعریف صادق آتی ہو اور نہ دار الحرب کی مثلا کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں لوگ مسلمان ہوں لیکن حاکم غیر مسلم ہو مثلا تاتاری حکومت جو ملک شام پر مسلط ہوگئی تھی۔
اس فتوے میں ایسے ممالک یا علاقے کے بارے میں یہ کہا گیا کہ:
یعامل فیھا المسلم بما یستحقّہ ویقاتل فیھا الخارج عن الشریعۃ بما یستحقہ.
ایسے ممالک میں مسلمانوں سے ان کے استحقاق کے مطابق معاملہ کیا جائے گا اور شریعت سے خارج لوگوں کے ساتھ قتال کیاجائے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔
اس عبارت میں لفظ ’’یقاتل‘‘ سے جہادی تکفیری گروہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ جو بھی خارج شریعت ہوخواہ دین کا انکار کرکے اور خواہ دین پر عمل سے دور رہ کر، دونوں سے قتال کیا جائے گا۔ محمد عبد السلام فرج نے اپنی کتاب ’’الفریضۃ الغائبۃ‘‘ میں اپنے اسی تکفیری دہشت گردانہ موقف کا اظہار کیا، اور پھر شیخ عطیہ صقر مصری نے اس کا عالمانہ رد لکھا، بعد میں علمائے زمانہ خود اس فتوی کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے اس فتوے کی اصل تلاش کرنے میں لگ گئے، تحقیق کے بعد پتا چلا کہ ابن مفلح جو مذہب حنبلی کے معتبر و ثقہ ناقل ہیں انھوں نے بھی اس فتویٰ کو نقل کیا ہے لیکن اس میں کلمہ ’’یقاتل‘‘ کے بجائے ’’یعامل‘‘ ہے اور ظاہر ہے کہ دونوں کے مفہوم میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہ فتوی مجلہ ’’المنار‘‘ میں بھی کلمہ ’’یعامل‘‘ کے ساتھ شائع ہوا تھا۔ در اصل یہ تحریف پہلی بار ۱۳۲۷ھ میں فتاوی ابن تیمیہ کی پہلی طباعت میں ہوئی، جس کے محقق فرج اللہ کردی تھے، پھر عبد الرحمن القاسم نے بھی اسی طباعت کی تقلید کی اور پھر یہی فتوی مشہور و متداول ہو ا اور اسی نسخے کے انگریزی اور فرانسیسی زبان میں ترجمے بھی ہوئے، ایک بارپھر شیخ عبد اللہ بن بیہ نے مکتبہ ظاہریہ دمشق میں موجود اس فتوے کے مخطوطے تک رسائی حاصل کی اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی ’’یقاتل‘‘ کے بجائے اصل لفظ ’’یعامل‘‘ ہی ہے اور اس طرح تحریف کاروں کی تحریف کا پردہ فاش ہوا۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دار الکفر اور دار الاسلام کا وہ مفہوم نہیں، جو سید قطب اور ان کے ہم نواؤں نے سمجھا ہے بلکہ اس مفہوم کا تعلق دنیا کے مختلف خطوں سے رشتوں کی نوعیتوں کی وضاحت، ثقافتی تبادلے، علم و معرفت کے لین دین اور حیاتیاتی اختلاط وامتزاج سے ہے جس میں کبھی کبھی جنگیں بھی ہوتی ہیں، لیکن عمومی طور پر اس میں صرف جنگ کا معنی نہیں بلکہ اس کے ذریعے، تعارف وشناسائی اور استفادے کی راہ کھولی گئی ہے تاکہ لوگ اسلام کے پیغام کو سمجھ کر اسے اختیار کرسکیں۔
ربانی فتح و نصرت صرف جہادیوں کے لیے
مسئلہ حاکمیت کی بنا پر پوری سوسائٹی کی تکفیر و تشریک اور ان کو جاہلی قرار دینے سے ایک اور عجیب و غریب نظریہ سامنے آیا کہ سب لوگ کافر ہیں، صرف یہ جہادی گروہ ہی مومن ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی فتح و نصرت اور روئے زمین پر غلبہ و قدرت عطا کرنے کی بات کی ہے ان کا تعلق صرف جہادیوں سے ہے اور اس کے مخاطب وہی لوگ ہیں۔ اس نظریے کی بنا پر ان کے اندر اور سرکشی پیدا ہوگئی اور پھر اس کے نتیجے میں انھوں نے پورے زور وشور کے ساتھ پوری انسانیت خواہ مسلمان ہو یا کافر، کے خلاف ظلم وستم میں مصروف ہوگئے، شریعت اور اس کے مقاصد سے پوری طرح دور ہوگئے اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کا نام دے دیا گیا۔ سید قطب نے اس نظریے کا اعادہ بار بار ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں کیا ہے۔ (جلد: ۱، ص: ۲۵۲، اور متعدد مقامات)
جہاد کا مفہوم
دہشت پسند جماعتوں کے نزدیک جہاد کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا کے لوگ چوں کہ غیر اللہ کی حاکمیت قبول کرچکے ہیں، مسلمان پھر سے زمانۂ جاہلیت کی جانب پلٹ چکے ہیں، اس طرح لوگ کفر وشرک کے مرتکب ہوگئے ہیں اور ایک طویل زمانے سے دنیا میں دین مٹ چکا ہے، ہر طرف کفری قوانین اور مشرکانہ دساتیر رائج ہیں، اس لیے ان تحریکوں نے مسلم حکام کی معزولی پھر ان کے اور مسلمانوں کے بے رحمانہ کشت وخون کا سلسلہ شروع کیا اور اپنا ٹارگیٹ صرف یہ بنالیا کہ کسی بھی طرح جہاں بھی ممکن ہو حکومت کی کمان چھینی جائے، متبادل سیاسی ڈھانچہ تیار کیا جائے؛ کیوں کہ دنیا کے لوگوں سے ٹکراؤ ضروری ہوگیا ہے، اسی کو انھوں نے جہاد کا نام دے دیا۔
صحیح بات یہ ہے کہ جہاد مشروع صرف قتال میں محدود نہیں بلکہ در حقیقت اسلام میں جہاد ایک وسیع ترقی یافتہ عمل ہے، جس کے مختلف مراحل ہیں اور اس کے عمدہ انسانی مقاصد ہیں، اور قتال تو جہاد کی صرف ایک صورت ہے اور اس قتال کا بھی مقصد یہ ہے کہ جرائم پسند اور فسادی عناصر کو ختم کرکے امن و شانتی کو لوگوں کے مابین عام کیا جائے، ہدایت ربانی سے لوگوں کو آشنا کیا جائے اور لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب زندگی سے ہم کنار کیا جائے، یہ مقصد نہیں کہ زندگی کا گلا دبا دیا جائے، پھر یہ جہاد بھی کسی حاکم کے زیر نگرانی اور گورننگ پاور کی ماتحتی میں انجام پائے گا، جس میں جہاد کرنے والوں پر یہ واجب ہوگا کہ وہ کسی درخت کو نہ کاٹیں، کسی بکری کو نہ ماریں، کسی راہب کو خوف زدہ نہ کریں وغیرہ، پھر اس جہاد کے بھی کچھ حدود وقوانین ہوں گے، اگر ان حدود وشروط کی رعایت نہیں ہوگی تو پھر یہ جہاد نہیں رہ جائے گا بلکہ ناانصافی، ظلم اور سرکشی میں تبدیل ہوجائے گا۔
دہشت گردوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے یہاں متعدد قسم کے مظالم پائے جاتے ہیں۔ قرآن وحدیث اور شریعت پر ظلم کہ انہوں نے پوری سوسائٹی کی تکفیر کردی، شریعت کی مختلف اصطلاحات، معانی ومفاہیم میں تحریف کی اور دین اسلام کو ظلم وبربریت اور شقاوت وقساوت کا دین بناکر رکھ دیا۔
جہاد کی اس تعبیر کا بھی ذکر سید قطب اور ان کے ہم نواؤں کے یہاں کھلے لفظوں میں ملتا ہے، صالح سریہ نے اپنی کتاب ’’الایمان‘‘ میں اپنے مزعومہ جہاد کو فرض عین قرار دیا ہے ۔ گویا جہاد کے مفہوم کے حوالے سے دنیا ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف تو جہاد کا متوارث اور وسیع شرعی مفہوم ہے اور دوسری طرف دہشت پسند تحریکوں کا اختراعی پُرتشدد مفہوم ہے اور دونوں مفاہیم کے کچھ بنیادی امتیازی نقطے یہ ہیں:
(۱) علمائے امت کے مطابق جہاد مشروع کا مفہوم وسیع ہے یہ ایک عمدہ اور پُر نور عمل ہے جس کی متعدد صورتیں ہیں، چناں چہ جہاد قلب سے بھی ہوتا ہے، دعوت دین، اقامت حجت، بیان وتبیین، رائے وتدبیر کے ذریعے بھی جہاد ہوتا ہے، البتہ! کبھی ایسی ایمرجنسی کی صورت حال ہوتی ہے کہ جب شر وفساد کے خاتمے کے لیے قتال اور جنگ ناگزیر ہوتی ہے، ان کی تفصیلات کے لیے کتب فقہا کی جانب رجوع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دہشت پسندوں کے نزدیک جہاد کا مفہوم قتال میں محدود ہے۔
(۲)اہل حق کے نزدیک جہاد ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے، مقصود لذاتہٖ نہیں اور شریعت میں وسائل ان اعمال کو کہا جاتا ہے جن کا مقصود دوسرے کسی غرض کی تحصیل ہو، گویا جہاد کو ہمیشہ قتال سے جوڑکر دیکھنا ضروری نہیں بلکہ مقصود ان اغراض کی تکمیل ہے جو قتال کے پس پشت ہیں، اسی وجہ سے کبھی کبھی مقاصد کی تحصیل کے لیے قتال نہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی لیے امام رملی فرماتے ہیں کہ جہاد کبھی تو صرف قلعے اور خندقیں بنوانے سے بھی ہوجاتا ہے اور کبھی قتال کی ضرورت پڑتی ہے ۔ (نہایۃ المحتاج، ج:۸، ص:۴۶)
دہشت پسندوں کے نزدیک قتال مقصود لذاتہٖ ہے، چناں چہ قرضاوی نے ذکر کیا ہے کہ سید قطب نے جہاد کے حوالے سے سب سے تنگ اور پر تشدد رائے قائم کر رکھی ہے اور وہ رائے بڑے بڑے فقہا ودعاۃ کے موقف کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں (ان کے ماننے والوں) کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری دنیا سے جنگ کرنے کے لیے تیار کریں۔ (ابن القریۃ والکتاب، جلد: ۳، ص:۵۹)
(۳) علمائے حق کے مطابق جہاد کا سب سے بڑا مقصد ہدایت ہے؛ کیوں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خیبر کی طرف بھیجا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لان یھدی اللہ بک رجلا واحد اخیر من حمر النعم. (صحیح بخاری، باب فضل من اسلم علی یدیہ رجل) (اللہ تمہاری ذات سے کسی ایک انسان کو بھی ہدایت عطا فرمائے تو یہ سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے )
میدان جنگ میں بھیجتے وقت حضور علیہ السلام کے اس فرمان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قتال کا مقصود بھی ہدایت ہے، چناں چہ اگر یہ مقصود علم ومناظرہ اورازالہ شبہات کی کوششوں سے حاصل ہوجائے تو یہ افضل ہے اور اسی وجہ سے علما نے یہ فرمایا ہے کہ علما کے قلم کی روشنائی شہدا کے خون سے افضل ہے اور اگر یہ مقصود قتال کے علاوہ کسی اور طریقے سے حاصل نہ ہو تو اس وقت تک قتال کریں گے، جب تک کہ ان اہداف میں سے کوئی ہدف نہ حاصل ہوجائے یا تو ان کی ہدایت ہوجائے اور یہی سب سے اعلی مرتبہ ہے یا ان کے مقابلے میں شہادت ہوجائے یہ پہلے والے سے کمتر درجہ ہے، لیکن یہ ایک عمدہ مقصد ہے اورا س کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اپنی سب سے عزیز چیز کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا ہے، لیکن یہ بھی مقصد حقیقی نہیں ہے بلکہ مقصود اعلائے کلمۃ الحق ہے ۔ امام عز الدین بن عبد السلام قواعد الاحکام (جلد: ،ص:۱۲۵)میں فرماتے ہیں کہ مقاصد کے سقوط کی صورت میں وسائل بھی ساقط ہوجاتے ہیں۔ دہشت پسندوں کے نزدیک ہدایت کی تحصیل میں جہاد وقتال کا کوئی کردار نہیں۔
(۴) علمائے حق کے مطابق جہاد ایک حکم شرعی ہے، صرف جوش اور جذباتیت کا نام نہیں ہے، لہٰذا یہ بھی احوال کے لحاظ سے کبھی واجب ہوگا کبھی مستحب اور کبھی حرام، یوں ہی کبھی صورتا تو جہاد صحیح ہوتا ہے لیکن حقیقتاً باطل ہوتا ہے؛ کیوں کہ وہ جہاد اپنے محل میں نہیں ہوتا اورا س میں شروط وضوابط کی پابندی نہیں ہوتی اور جب حدود وشروط کی پابندی نہیں ہوگی تو صورتا صحیح ہونے کے باوجود یہ سراسر ظلم وسرکشی ہوگا ۔
دہشت پسندوں کے نزدیک جہاد کا جو مفہوم ہے اس میں صرف ظلم وتعدی ہے اور دین ودانش کے خلاف ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ دین اسلام سے بدظن ہوتے ہیں اور خود مسلمانوں میں دین بیزاری کا ماحول عام ہوجاتا ہے ۔
سید قطب اور ان کے ہم نواؤں کے مطابق جہاد پوری دنیا سے جنگ کا نام ہے یوں ہی وہ لوگ جہاد کے مسئلے میں اپنے زمانے کے جمہور علما پر ایک تو یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ لوگ احمق، غافل، کم علم اور کم فہم ہیں۔ دوسرا یہ کہ نفسیاتی اور اخلاقی طور پر یہ لوگ کمزور ہیں کیوں کہ ان کے اندر بزدلی اور موجودہ مغربی دنیا سے مرعوبیت پائی جاتی ہے ۔ (ابن القریۃ والکتاب، جلد:۳،ص:۶۱)
’’تمکین فی الارض‘‘ کا مفہوم
اخوان اور ان سے نکلی ہوئی ہر تنظیم کی یہ محوری فکر ہے۔ تمکین کا مفہوم ان کے نزدیک یہ ہے کہ روئے زمین کفر وارتداد کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ہے، اس لیے ان کے خلاف مسلح جد وجہد ضروری ہے، یوں ہی حکومت واقتدار پانے کے لیے مختلف قسم کی تدابیر، کوششوں اور اقدامات کی ضرورت ہے اور اقامت دین کا یہی واحد راستہ ہے۔ حکومت واقتدار کے حصول کی انہی کوششوں کو وہ تمکین فی الارض کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا نقل کرتے ہوئے ارشاد فرما یا : رَبِّ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَاءِنِ الْاَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیْمٌ. (یوسف: ۵۵) (اے مولی! مجھے زمین کے خزانوں کا مالک بنادے، میں حفاظت کرنے والا اور علم والا ہوں )
ان کے مطابق یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ حکومت وامارت کے حصول اور قیام کی کوشش ہونی چاہیے۔ سید قطب نے اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ در اصل حضرت یوسف علیہ السلام ایک جاہلی معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے، اس لیے انھوں نے امارت وحکومت کی کوشش کی اور چوں کہ آج ہمارے زمانے میں بھی یہی صورت حال ہے اس لیے آج بھی تمکین فی الارض (غلبہ واقتدار) کے حصول کے لیے جد وجہد کی ضرورت ہے ۔
(فی ظلال القرآن، ۴؍۲۰۱۳، العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام۔ ص: ۱۸۳، دار الشروق، قاہرہ، ۱۴۱۵ھ)
ان کی یہ ساری گفتگو بڑی خطرناک ہے؛ کیوں کہ اس گفتگو سے انھوں نے گویا یہ اعلان کردیا کہ اب دین منقطع ہوچکا ہے، احکام شریعت کا کہیں وجود نہیں رہ گیا اور یہ امت کفر وشرک کی علم بردار ہوگئی ہے جب کہ دین محمدی قیامت تک کے لیے ہے اور یہ دین قیامت تک بالکلیہ کبھی ختم نہیں ہوگا یوں ہی یہ خیر امت ہے جو شر پر جمع نہیں ہوگی ۔
دوسری بات یہ کہ مسلمانوں نے مکے میں تیرہ سال تک بالکلیہ مختلف ماحول میں زندگی گزاری۔ حبشہ میں الگ صورت حال سے نبرد آزما ہوئے اور مدینے میں مختلف ادوار میں الگ الگ حالات رہے تو کیا مغلوبیت واقلیت کے زمانے میں وہ دین پر قائم نہیں تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ انہی مختلف احوال سے تو مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ کیسے مختلف احوال میں مسلم رہتے ہوئے اور دین وشریعت پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزاری جائے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جاہلی زمانے میں تھے، یہ ان کے مقام نبوت پر دست درازی ہے؛ کیوں کہ زمانہ جاہلیت تو کفر وشرک سے بھرا وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں کوئی نبی نہ ہو، اس زمانے میں تو وہ خود بطور نبی موجود تھے۔ یوں ہی حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ کہنا کہ انھوں نے امارت وحکومت کی طلب کی تویہ سراسر غلط ہے اور قرآن کے سیاق وسباق اور اس زمانے کے حالات کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ۔
در اصل بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر علم کی صفت سے ذکر کیا ہے اور ہوا یہ کہ جب زراعت کی باریکیوں اور اقتصادی مسائل وبحران کے حل کے سلسلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے علم کا اظہار مصری قوم جو خود بھی علم زراعت میں بہت ماہر تھی، کے سامنے قحط سالی کے دوران ہوا تو یوسف علیہ السلام کے پاس بار بار قاصد بھیجا گیا، لیکن آپ نہیں آئے یہاں تک کہ بادشاہ نے خود درخواست کی کہ آپ وزیر یا اقتصادی مشیر بن جائیں تو آپ نے اس کے اصرار پر یہ منصب قبول کرلیا، یہاں آپ نے خود سے امارت وحکومت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ آپ کو بہ اصرار یہ ذمے داری سونپی گئی۔
دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں تمکین یااس کے مادے سے مشتق الفاظ مختلف مقامات پر مذکور ہیں، اور جن کو تمکین کی صفت حاصل ہوئی ان میں مسلم اور غیر مسلم دونوں تھے، لیکن ہر جگہ تمکین عطا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب کی گئی ہے، کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ انھوں نے تمکین خود سے حاصل کرلی۔ گویا تمکین فی الارض کا معاملہ محبت کی طرح ہے کہ کوئی بھی انسان خود سے محبت دلوں میں نہیں ڈال سکتا، محبوبیت ومقبولیت اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، انسان صرف محبت کے اسباب ووسائل کو اختیار کرتا ہے۔
تمکین سے تعلق رکھنے والی آیات اور خصوصا سورۂ یوسف اور واقعۂ ذوالقرنین سے تمکین کا جو مفہوم سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو جدید معاشرتی و ثقافتی امور، تہذیب وتعمیر اور ماڈرن سائنسی علوم میں اتنا ترقی یافتہ بنائے کہ اس کی علمی تحقیقات سامنے آئیں جس کے نتیجے میں بے روز گاری ختم ہو، فقر ومفلسی کی شرح کم ہو، بے گھر اور بے سہارا مردو عورت اور بچے نظر نہ آئیں، ہر طرف خوش حالی ہو اور انسانی سماج کی ترقی ہو۔ تمکین کا وہ معنی نہیں جو دہشت پسند تنظیموں نے سمجھا کہ پوری دنیا کو کافر ومشرک جان کر کسی بھی طرح ان سے زمامِ حکومت چھین لی جائے اور اس مقصد کے لیے جتنی بھی خون ریزیاں ہوں سب کو روا سمجھا جائے بلکہ اسے جہاد کا نام دے کر تقدس کا جامہ پہنادیا جائے۔ یہ دین وشریعت پر ظلم اور قرآن کے معانی ومفاہیم میں تحریف ہے ۔
وطن کا مفہوم
(۱) دہشت پسند تنظیموں کا وطن کے حوالے سے یہ نظریہ ہے کہ وطن صرف ایک مشت خاک ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔
وطن سے محبت کا جذبہ ایک بے وقعت انسانی جذبہ ہے جس کو دور کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے گناہوں کی جانب میلانات کو، وطن اور اس سے محبت کی فکر جاہلی اور مردود ہے؛ کیوں کہ یہ خلافت اور امت کے نظریے کے خلاف ہے، وطن استعماری طاقتوں کے بنائے ہوئے جغرافیائی حدود کا نام ہے، اس لیے ہمیں اس سے کوئی محبت نہیں، وطن تو اس مقام کو کہتے ہیں جہاں انسان رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی ہے۔ (فی ظلال القرآن، ۳؍۱۴۴۱)
(۲)حب الوطنی پر کوئی آیت یا حدیث رسول موجود نہیں ہے۔
(۳)جن احادیث میں مکہ مکرمہ سے حضور نے اپنی محبت کا اظہار فرمایا ہے یہ مکہ کی خصوصیت ہے، دوسرے وطن کو اس پر ہم قیاس نہیں کریں گے۔
سید قطب نے ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں متعدد مقامات پر وطن کے حوالے سے انہی مفاہیم کا اعادہ کیا ہے اور حب الوطنی کے تمام تصورات کو جاہلی قرار دیا ہے۔ (دیکھیے: ج:۲، ص:۷۰۸)
یہ ساری باتیں جو سید قطب کی جانب سے کہی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ وطن کا جو تصور سید قطب نے پیش کیا ہے وہ مخدوش تصور ہے؛ کیوں کہ وطن صرف ایک مشت خاک کا نام نہیں، بلکہ وطن ایک قوم، تہذیب وتمدن، تاریخ، مسائل، سیاست، فکری رجحانات، تنظیمیں، جغرافیائی حدود اورا س میں پیدا ہونے والی عبقری شخصیات سے عبارت ہے ۔
وطن کی جانب قلب کے میلان کو گناہوں سے تشبیہ دینا طیب وخبیث کوباہم خلط ملط کرنے کے مترادف ہے؛ کیوں کہ وطن کی محبت ہر قلب سلیم میں موجود ہوتی ہے، جب کہ گناہوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔
وطنیت ایسی کوئی فکر نہیں جو خلافت وامت کے نظریے کے بالمقابل ہو، بلکہ دین سے پورا تعلق برقرار رکھتے ہوئے کسی جغرافیائی علاقے سے نسبت کو اسلام نے مذموم نہیں قرار دیا ہے، ہاں! اگر یہ محبت دین وایمان پر غالب آجائے اور حق سے روک دے اور تعصب کا سبب بن جائے تب یہ مذموم ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن مکہ مکرمہ کی جانب اپنے اشتیاق کا اظہار فرمایا کرتے تھے ۔
وطن کو انگریزوں کے بنائے ہوئے جغرافیائی حدود سے تعبیر کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ یہ ہزاروں سال سے چلے آنے والے جغرافیائی حدود کانام ہے، وطن کی تعبیر انسان کی پسندیدہ جائے سکونت سے کرنا اور پھر یہ کہنا کہ اللہ تعالی نے اس کی مذمت کی ہے، یہ درست نہیں ہے؛ کیوں کہ آیت کریمہ ’’وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا‘‘ (التوبۃ: ۲۴) میں رہائشی مکانات مراد ہیں اور ان سے ذاتی عیش وعشرت کی طرف اشارہ ہے، مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور جہاد فی سبیل اللہ یعنی خیر وسعادت کی نشر واشاعت اور سماجی فلاح وبہبود کی محبت ذاتی فلاح وبہبود پر غالب نہیں آنی چاہیے۔
ان دہشت پسند تنظیموں پر وطن کا مفہوم اس لیے واضح نہیں ہوسکا کہ فہم قرآن کے صحیح ذرائع و وسائل کا انھوں نے استعمال نہیں کیا، حب الوطنی کے اشارات قرآن کریم اور مفسرین کے کلام میں موجود ہیں، امام رازی، ملا علی قاری اور دوسرے بے شمار علما ومفسرین کے یہاں اس کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، یوں ہی احادیث نبویہ اور شارحین کے کلام میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ آپ جب سفر سے لوٹتے تو مدینہ کے در ودیوار کو بغور دیکھتے، اس حدیث کی شرح میں امام عسقلانی، عینی وغیرہم نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے حب الوطنی کی مشروعیت کا پتہ چلتا ہے، ان کے علاوہ دوسرے بہت سے محدثین وشارحین نے ایسی روایات اور مفاہیم ذکر کیے ہیں جن سے حب الوطنی کا درست ہونا معلوم ہوتا ہے ۔
ان کے علاوہ فقہا، اولیا، حکما، شعرا، ادبا، سب کے یہاں حب الوطنی کے جذبات کا اظہار ملتا ہے، یوں ہی حب الوطنی کے موضوع پر بہت سے علما نے کتابیں بھی لکھیں ہیں، جاحظ نے ’’حب الوطن‘‘ نامی کتاب لکھی، یوں ہی ابو حاتم سجستانی، سمعانی، ابوحیان توحیدی وغیرہم کی بالترتیب ’’الشوق الی الاوطان، النزوع الی الاوطان اور الحنین الی الاوطان‘‘ نامی کتابیں ہیں ۔
اسلامی غلبے کے پروجیکٹ کی حقیقت
بعض لوگوں نے اسلامی غلبے کے پروجیکٹ کے حوالے سے بڑا واویلا مچا رکھا ہے، جو اس کی حمایت کرتا ہے اس کو اللہ اور اس کے دین کا حامی سمجھا جاتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے اسے اللہ اور اس کے رسول کا دشمن قرار دیا جاتا ہے، لیکن کوئی بھی اس اسلامی پروجیکٹ کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے پیش نہیں کرتا تاکہ اس کے تعلق سے وہ اپنی صحیح رائے قائم کرسکیں، خدمت دین متین میں ازہر کی ہزار سالہ تاریخ کی روشنی میں اسلامی غلبے کے پروگرام کے اہم خصائص یہ ہونے چاہیے:
(۱) اسلامی پروگرام میں موجودہ عہد کے ڈیپلومیٹک، ادارتی، سیاسی، اقتصادی، سماجی، فلسفیانہ اور سائنسی سوالات ومشکلات کا تفصیلی اور جزئی جواب موجود ہو۔
(۲) اس جواب کا مبدا نصوص شرع، اس کے مقاصد، اجماعات، احکام وتشریعات، اخلاق واقدار، اصولی وفقہی قواعد، سنن الٰہیہ اور اس کے آداب وفنون ہوں۔
(۳) اس کی صورت یہ ہو کہ پہلے علوم ومناہج اور اس کی تنظیرات کو وجود میں لایا جائے، پھر اس کے ایسے عملی پروگرام ہوں جو تنظیمات اور ادارے کی شکل میں تبدیل ہوجائیں ۔
(۴) اس اسلامی پروجیکٹ کا مقصود یہ ہو کہ علوم ومعارف اور خدمات کے ایسے عملی ادارے قائم ہوں، جن میں مقاصد شریعت کی روح دوڑ رہی ہو، جن کے ذریعے نفس، عقل، عزت، دین، مال، احترام انسانیت کے اقدار کی حفاظت اور اخلاقی اساس کی تعظیم ہو، عالمی افادے اور استفادے کے لیے دروازے کھلے ہوں، جس کے ذریعے بچوں، عورتوں کی اہمیت وقیمت واضح ہو، ماحولیات اور حقوق کائنات، انسان وحیوان، نباتات وجمادات کی حفاظت ہو اور ہر جگہ نوارانی وربانی تاثیرات موجود ہوں، اور بہر صورت انسان کا تعلق اپنے خالق ومالک سے مضبوط ہو، تہذیب ایسی ہو جس میں مسلم، عیسائی، یہودی، بدھشٹ، اشتراکیت پسند، سیکولر، لیبرل، دایاں محاذ، بایاں محاذ، ملحد وبے دین اور سارے مذاہب کے لیے وسعت ہو، اس میں کسی کو اس کے معاملات میں مجبور نہ کیا جائے بلکہ سب کے ساتھ اسلامی رحمت ورافت اورعدل وانصاف کا مظاہرہ ہو۔
(۵) اسلامی پروگرام کا محور ومقصد اخلاق، مکارم انسانیت، بلند اخلاقی اقدار، احترام انسانیت اور دنیا اور آخرت میں لوگوں کو سعادت مندی سے بہرہ مند کرنا ہو۔
ان مقاصد سے ہٹ کر جو بھی اسلامی پروگرام ترتیب دیا جائے گا وہ باطل وبے معنی ہوگا۔ اس طرح کے پروگرام تیار کرنا عام آدمی کا کام نہیں ہے بلکہ یہ مجتہدین فقہائے شریعت اور ماہرین دین کی ایک ٹیم کا کام ہے ۔
ان باتوں کو سامنے رکھے بغیر دہشت پسند تنظیموں کی جانب سے آج جس اسلامی پروگرام کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، جس میں تکفیر وتشریک، تہمت، قتل وغارت گری، انسانی اقدار کی پامالی اور مقاصد وآداب شریعت کی بے حرمتی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور اس کے ذریعے تو لوگ اسلام سے بدگمان ہوکر اسلام سے دور ہی ہورہے ہیں ۔
دہشت پسندوں کے فکری نقائص کی بنیادیں
کسی بھی مسئلے پر تفکر وتدبر اور قرآن وسنت سے استفادے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا ضروری ہے اور ان ہی مراحل سے نہ گزرنے کی بنا پر یہ تحریکات غلط افکار کے دلدل میں پھنس گئیں۔
فکری استنباط کا جن علمی مراحل سے گزرنا ضروری ہے، وہ درج ذیل ہیں
(۱) استنباط کے وقت مسئلے سے تعلق رکھنے والی تمام آیات واحادیث پیش نظر ہوں، صرف فقہی آیات پر نظر نہ ہو بلکہ قصص، اخبار سب پر نگاہ ہو۔ طوفی شرح مختصر الروضۃ (جلد: ۳، ص:۵۷۷) میں کہتے ہیں کہ احکام شرع جس طرح اوامر ونواہی سے مستنبط ہوتے ہیں اسی طرح قصص ومواعظ سے بھی ان کا استخراج ہوتا ہے، قرآن کی شاید ہی کوئی آیت ہو جس سے کوئی حکم مستنبط نہ ہوتا ہو، اور استنباط بھی علما کے قرائح واذہان اور روحانی فتوحات کے اختلاف سے مختلف ہوا کرتے ہیں۔ یوں ہی درجات استنباط بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔
(۲) شرعی نصوص کو صحیح طور پر سمجھ کر ایک دوسرے سے ربط جوڑا جائے تاکہ تقدیم وتاخیر، عام وخاص اور مطلق ومقید کے خصائص تک رسائی ہوسکے۔
(۳) دلالتوں کی مختلف جہات پر اچھی نظر، مدلولات کی صحیح معرفت، عربی زبان کی وسعتوں سے مکمل آگہی اور علوم عربیہ کا کامل ادراک ہو، تمام علمائے اصولیین نے ان مباحث کا ذکر اصول استنباط کے ذیل میں کیا ہے ۔
استنباط کے وقت پہلے سے کوئی نظریہ نہ بنا ہوا ہو اور قرآن کو اپنے اس سابقہ نظریے کے اثبات کے لیے آلہ نہ بنایا جائے، بلکہ قرآن جس نتیجے تک اصول استنباط کی روشنی میں لے جائے اس کو اختیار کیا جائے ۔
(۴) قرآن اور نصوص شریعت سے ایسے مفاہیم نہ مستنبط کیے جائیں، جو مقاصد شرع سے مزاحم اور مسلمات دین سے متصادم ہوں۔
(۵) سابقہ اسلامی میراث کو قدر کی نگاہوں سے دیکھا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے ۔
(۶) ان اصول ومناہج سے ہوشیار رہا جائے، جن کے بھنور میں سابقہ گمراہ جماعتیں پھنس چکی ہوں۔
ان کے علاوہ فکری استنباط کے وقت یہ باتیں بھی قابل توجہ ہیں :
(۱) معرفت وحی، اس کے مناہج فہم کا علم اور صورت حال کا صحیح ادراک، ان تینوں ارکان کے بغیر کبھی بھی صحیح فہم کی تکوین نہیں ہوسکتی۔
(۲)وہ فکریں اور وہ استنباطات جو نفسیاتی اور جذباتی دباؤ کے تحت وجود میں آتے ہیں ان میں عمیق تفکر اور صحیح مناہج کا فقدان ہوتا ہے، اس لیے حالت غضب میں فیصلے صادر کرنے کی احادیث کریمہ میں ممانعت آئی ہے ۔
(۳)مصالح ومفاسد کے باب میں اجتہاد کا حق صرف اس شخص کو ہے جس کو تفصیلی طور پر مقاصد شرع کی معرفت ہو ۔
(۴)مقاصد شریعت کی عدم معرفت اور سنن الٰہیہ سے بے خبری سے فہم میں خلل واقع ہوتا ہے ۔
فکری نقائص کے اثرات
بہت سی اسلامی اصطلاحوں کا صحیح مفہوم نہ سمجھ پانے کی وجہ سے پوری دنیا خصوصاً عالم اسلام، امت مسلمہ اور مذہب اسلام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے، چناں چہ حاکمیت کا غلط مفہوم سمجھنے اور سمجھانے کا اثر یہ ہوا کہ دوسرے وہ تمام افکار سامنے آئے جن کا تذکرہ مسئلہ حاکمیت کے بعد کیا گیا ہے، یوں ہی سید قطب کی اس فکر سے تمام دہشت پسند تنظیمیں نکلیں، اخوان، القاعدہ، التکفیر والہجرۃ اور اس جیسی دوسری تنظیمیں سامنے آئیں جس کی انتہا موجودہ عہد میں داعش پر ہوئی۔ صالح سریہ، شکری مصطفی، محمد عبد السلام فرج جیسے بے شمار افراد نکلے اور ان کے قلم سے اسی فکر کا نمائندہ لٹریچر بھی ظاہر ہوا۔
نظریۂ جاہلیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا سے دین کو منعدم قرار دے کر شریعت اسلامیہ کے قیام کے نام پرکشت وخون کا بازار گرم کردیا گیا، ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا، مسلم حکام کے خلاف بغاوت کی گئی اور پوری دنیا کا عموما اور مسلم دنیا کا خصوصاً امن وامان غارت کردیا گیا ۔
یہ نظریہ قائم کرکے کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر مومنین کے غلبے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مستحق صرف یہی لوگ ہیں، سارے مسلمانوں کی تکفیر کردی گئی اور ان سے زمام مملکت چھیننے کی کوشش شروع ہوگئی، جہاد کے مفہوم کو قتال میں منحصر کرکے احادیث وقرآن کی تکذیب کی گئی، سارے علمائے شریعت کی مخالفت کی گئی اور پوری امت سے ہٹ کر ایسا نظریہ قائم کیا گیا جس سے انسانی جانوں کی پامالی اور ناقدری کی راہ ہموار ہوگئی اور نوجوانوں کا استحصال کرکے ان کے ذہن میں ہدایت ربانی، اخلاق نبوی، اسلامی عدل وانصاف اور رافت ورحمت کی عظمت کو راسخ کرنے کے بجائے قتل وخون کا زہر گھول دیا گیا۔نظریۂ تمکین کی آڑ میں جاہ وریاست کی طلب اور حصول اقتدار کی راہ ہموار کی گئی۔ قرآنی آیات کا غلط معنی پیش کرکے تحریف کے جرم کاا رتکاب کیا گیا، وطن کی غلط تعبیر وتشریح کرکے ایک پاکیزہ انسانی جذبے کی ناقدری کی گئی بلکہ اس کو سراپا معصیت بنادیا گیا، اس طرح انبیا، صحابہ اور ہزاروں ان علما کی بے عزتی کی گئی جن کے یہاں وطن کے حوالے سے محبت کے پاکیزہ احساسات پائے جاتے ہیں ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سید قطب کے عہد سے لے کر اب تک جتنی بھی دہشت پسند جماعتیں وجود میں آئی ہیں، سب کی فکری بنیادیں انہی بیان کردہ افکار وآرا پر ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ ان میں آپس میں کس قدر فکری مماثلتیں پائی جاتی ہیں ۔
مقالہ نگار کے خیال میں مؤلف کتاب نے بڑی گہرائی سے سید قطب اور ان کے کوکھ سے پیدا ہونے والی تمام تنظیموں اور ان کے افکار کا مطالعہ کیا ہے اور بہت سلیقے سے علمی انداز میں ان پر تنقید کی ہے۔
مؤلف نے یوں تو اپنی کتاب میں عرب دنیا سے تعلق رکھنے والے دہشت پسند افراد، ان کے لٹریچر اور ان کی تنظیموں کا تجزیہ کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا تجزیہ برصغیر ہند وپاک اور دنیا بھر کی دہشت پسند تنظیموں پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے اور یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کتاب کو بنیاد بناکر پوری دنیا کی عموماً اور برصغیر ہندو پاک کی تمام بنام اسلام دہشت گرد تنظیموں کی خصوصا فکری تاریخ لکھی جاسکتی ہے اور ان کے دہشت گردانہ اقدامات کی روشنی میں ان کے افکار وخیالات کی عملی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
اللہ کریم امت مسلمہ کو صراط مستقیم پر قائم فرمائے اور افراط وتفریط اور تشدد وارہاب کی لعنت سے نکال کر ارشاد وہدایت اور دعوت وتبلیغ کے فریضے پر مامور فرمائے! آمین!
مولانا جلال الدین حقانیؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا جلال الدین حقانیؒ کی وفات کی خبر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اس کے ساتھ ہی جہادِ افغانستان کے مختلف مراحل نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ جہاد افغانستان کے ان معماروں میں سے تھے جنہوں نے انتہائی صبر و حوصلہ اور عزم و استقامت کے ساتھ نہ صرف افغان قوم کو سوویت یونین کی مسلح جارحیت کے خلاف صف آرا کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے افغان جہاد میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں اور مجاہدین کی سرپرستی کی اور انہیں تربیت و حوصلہ کے ساتھ بہرہ ور کر کے عالم اسلام میں جذبۂ جہاد کی نئی روح پھونک دی۔ ان کا وہ دور ہمیں یاد ہے جب وہ انتہائی بے سروسامانی اور کسمپرسی کے عالم میں سوویت یونین کی مسلح فوجوں کے خلاف نبرد آزما تھے اور سوویت یونین کے مخالفین ابھی صرف تماشہ ہی دیکھ رہے تھے، انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ خدا مست لوگ آخر کس طرح دنیا کی ایک بڑی فوجی قوت کے خلاف اپنی مزاحمت کو جاری رکھ سکیں گے۔ مگر مولوی جلال الدین حقانی، پروفیسر صبغت اللہ مجددی، سید احمد گیلانی، مولوی محمد نبی محمدی ، مولوی محمد یونس خالص، مولوی ارسلان رحمانی، کمانڈر احمد شاہ مسعود، انجینئر حکمت یار رحمہم اللہ تعالٰی اور ان جیسے دیگر باہمت لوگوں نے صبر و استقامت اور ایثار و قربانی کی وہ روایات زندہ کر دیں جن کے تذکرے ہم اسلامی تاریخ کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے۔
سالہا سال تک یہ کیفیت رہی کہ پرانے ہتھیاروں اور خود ساختہ دیسی بموں کے ساتھ وہ روسی فوجوں کا مقابلہ کرتے رہے، بوتلوں میں خاص قسم کے محلول بھر کر انہیں بموں کے طور پر روسی ٹینکوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا اور گوریلا جنگ میں ان مجاہدین نے افغانستان کے دیہی علاقوں میں روسی افواج کو بے بس کر کے رکھ دیا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ شیرانوالہ لاہور میں ہمارے ایک بزرگ مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا مستقل کام یہ تھا کہ اصحابِ خیر کو توجہ دلا کر ان مجاہدین کے لیے خوراک اور دیگر ضروریات جمع کرتے رہتے اور جب ایک ٹرک کے لگ بھگ سامان جمع ہو جاتا تو خوست کے محاذ پر سپلائی کر دیا کرتے تھے، اسی طرح پاکستان کے بہت سے شہروں کے علماء اور مخیر حضرات مجاہدینِ افغانستان کی امداد کیا کرتے تھے۔ اس دور میں خوست کے محاذ پر جانے والے چند نوجوانوں نے ہمیں بتایا کہ کئی کئی روز تک سادہ روٹی گڑ اور پیاز کے ساتھ کھانے کو ملتی تھی اور فقر و فاقہ کے ماحول میں وہ مصروف جہاد رہتے تھے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں یہ دیکھ کر بہت بعد میں اس طرف متوجہ ہوئیں کہ افغانستان کا ایک بڑا حصہ ان مجاہدین کے مختلف گروپوں کے زیر تسلط آگیا ہے اور روسی فوجوں کی پشت پناہی کے باوجود کابل حکومت کا کنٹرول چند بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ جب مغربی ملکوں کو ان مجاہدین کی مسلح مزاحمت کی سنجیدگی کا اندازہ ہوا تو وہ اس میں اپنا حصہ ڈالنے بلکہ ہمارے خیال میں اپنا ’’لچ‘‘ تلنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ پھر اسلحہ، دولت اور وسائل کی ریل پیل ہوگئی اور اسی گہماگہمی میں امریکی کیمپ نے افغان جہاد کو ہائی جیک کر کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ ہم نے دونوں دور آنکھوں سے دیکھے ہیں، وہ دور بھی جب فقر و فاقہ اور خدا مستی کا ماحول تھا اور وہ دور بھی جب وسائل اور اسباب کی فراوانی تھی، دونوں میں بڑا فرق تھا مگر خدا شاہد ہے کہ جن حضرات نے اس فرق سے ذرہ بھر اثر نہیں لیا اور جن کے خلوص و جذبہ میں دولت و اسباب کی فراوانی کوئی تبدیلی نہ لا سکی ان میں مولانا جلال الدین حقانیؒ سرفہرست تھے۔
جہاد افغانستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب تک اس کا رخ سوویت یونین کی طرف تھا اور یہ لوگ امریکہ بہادر کے عالمی حریف کے خلاف نبرد آزما تھے، وہ مجاہدین کہلاتے تھے، وائٹ ہاؤس ان کا خیرمقدم کرتا تھا اور امریکی کیمپ کے مسلم ممالک بھی ان کی راہوں میں دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے تھے۔ لیکن جونہی انہوں نے سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان کے دینی تشخص کی بحالی اور نظامِ شریعت کے نفاذ کو اپنی منزل قرار دیا تو وہ دہشت گرد قرار پائے اور ان کا سب سے بڑا جرم یہ بتایا گیا کہ وہ افغانستان کو ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت سے پاک ایک خودمختار ریاست بنانے کی بات کر رہے ہیں، افغانستان کی قومی و تہذیبی روایات کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں اور اپنے ملک میں شریعت کے نظام کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ تینوں باتیں آج کی دنیا میں کسی بھی مسلمان ملک کے لیے جرائم کا درجہ رکھتی ہیں، خود ہمارے ہاں پاکستان میں ان تینوں باتوں پر اصرار کرنے والے لوگ دہشت گرد یا کم از کم شدت پسند کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔
مولانا جلال الدین حقانیؒ کا یہ بھی ’’قصور‘‘ تھا کہ انہوں نے جس طرح افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی جارحیت کو افغانستان کی آزادی پر حملہ تصور کر کے اس کے خلاف مزاحمت کی اور روسی کمیونزم کے نفوذ کو افغانستان کے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے منافی قرار دے کر اسے مسترد کر دیا، اسی طرح وہ افغانستان میں امریکی اتحاد کی افواج کی موجودگی اور مغربی فلسفہ و نظام کے تسلط کو بھی افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف سمجھتے تھے، اس لیے وہ سوویت یونین کی فوجوں کی طرح امریکی اتحاد کی فوجوں کے خلاف بھی صف آرا ہو گئے اور اپنے اس موقف پر آخر دم تک قائم رہے۔ انہوں نے امارت اسلامی افغانستان کا ساتھ دیا اور اس کے لیے مسلسل محنت کی، آج ان کی محنت اور جدوجہد کا ثمرہ ہے کہ امریکہ افغان طالبان سے مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس کے لیے ہر جتن کر رہا ہے مگر افغان طالبان جن کے پاس خود امریکی حلقوں کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول ہے، مذاکرات کی میز سجانے سے پہلے افغانستان سے امریکہ کے مکمل انخلا کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ افغانستان کی آج کی معروضی صورتحال اور زمینی حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ افغانستان کی مکمل خودمختاری، غیر ملکی مداخلت سے نجات اور نفاذ شریعت کی جنگ لڑنے والے اس جنگ کی طوالت سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ جنگیں ان لوگوں کی سرشت میں داخل ہیں، البتہ اس فیصلہ کن مرحلہ میں مولانا جلال الدین حقانیؒ ان سے جدا ہو گئے ہیں جو بلاشبہ بہت بڑا صدمہ ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور افغان قوم کو ان کے مشن اور جذبات کے مطابق مکمل خودمختاری سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
اس کے ساتھ ایک اور خبر ہمارے خاندان اور متعلقہ دینی حلقوں کے لیے صدمہ کا باعث بنی ہے کہ جمیعۃ علماء برطانیہ کے راہنما اور جامع مسجد برنلی مانچسٹر کے خطیب مولانا عزیز الحق ہزاروی گزشتہ روز راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہماری بڑی ہمشیرہ کے داماد اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل تھے۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور اہل خاندان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم وفکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات وفرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو اور اشیائے صرف کے معیار کو خراب نہ کرو، کیونکہ یہ بات سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بنتی ہے اور اس پر اس قوم کا یہ طنز بھی قرآن کریم نے ذکر کیا ہے کہ اے شعیب! کیا تمھاری نمازیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی کے ساتھ تصرف نہ کریں؟ یعنی یہ تصور اس قوم میں بھی موجود تھا کہ چونکہ مال ہمارا ہے، اس لیے ہم اس میں تصرف کے لیے کسی کی اجازت کے محتاج نہیں ہیں۔ چنانچہ ’’فری اکانومی” کا آج کا مروجہ فلسفہ بھی اپنے پس منظر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی یہ بنیاد رکھتا ہے، جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے ہر دور میں اپنی اپنی قوموں کو یہ بتایا ہے کہ مال ودولت اور اسباب معیشت اللہ تعالی ٰ کی طرف سے عطا کردہ ہیں جن میں تصرف اللہ تعالی ٰ کے احکام کے مطابق ہی درست ہوگا اور اس کا اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حساب بھی دینا ہوگا۔
قرآن کریم چونکہ اللہ تعالی ٰ کی نازل کردہ آخری، مکمل اور جامع کتاب ہے، اس لیے اس میں معیشت کے تمام ضروری پہلووں کے حوالے سے ہدایات موجود ہیں۔ حکمت وفلسفہ بھی ہے، اصول وضوابط بھی ہیں اور احکام وقوانین بھی ہیں جن کی بنیاد پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرہ کو تمام ایسی جاہلی روایات واقدار سے پاک کیا جو اللہ تعالی ٰ کے احکام کی خلاف ورزی اور انسانی معاشرہ میں خرابی اور فساد کا باعث تھیں۔ اللہ تعالی ٰ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کم وبیش ربع صدی کی محنت اور جدوجہد کے ساتھ عرب معاشرہ میں جو سماجی انقلاب بپا کیا اور جس کے مثبت ثمرات سے نسل انسانی صدیوں تک فیض یاب ہوتی رہی ہے، اس کا بڑا حصہ معاشی اصلاحات پر مشتمل ہے اور آج بھی منصف مزاج انسانی دانش ان کی ضرورت وافادیت کا اعتراف کرنے پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ چند سال قبل مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کی قائم کردہ ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دنیا کے معاشی نظام کو توازن اور انصاف کے ٹریک پر لانے کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصولوں کو اپنانا ضروری ہو گیا ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس اور روس جیسے ممالک میں اسلام کے معاشی اصولوں کی انسانی سماج میں واپسی کی ضرورت پر سنجیدہ علمی حلقوں میں بحث وتمحیص کا آغاز ہو چکا ہے اور غیر سودی بینکاری کا رجحان بھی عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔
اس پس منظر میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصول وقوانین کو آج کے حالات وضروریات کے تناظر میں ازسرنو سامنے لایا جائے کیونکہ اللہ تعالی ٰ کی اس آخری کتاب کے دائرہ کار میں آج کا دور بھی شامل ہے اور اس کے احکام وقوانین کا اطلاق آج بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ چودہ سو برس قبل ہوا تھا اور جیسا کہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔
ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا مجاہد الحسینی دامت برکاتہم نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کی معاشی تعلیمات کو آسان اور عام فہم انداز میں زیر نظر کتاب کی صورت مرتب کیا ہے جو علماء کرام، مدرسین، خطباء اور دینی کارکنوں کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ حضرات کےلیے بھی یکساں افادیت کی حامل ہے۔ حضرت مولانا محترم کے بارے میں اس تذکرہ کے بعد اور کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ وہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کے ارشد تلامذہ میں سے ہے اور ان کا شمار شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور اس دور کے دیگر اکابر علماء کرام کے رفقاء میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسِو ۔ ایک علمی ورکشاپ کا آنکھوں دیکھا احوال
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
مدرسہ ڈسکورس کا یہ سمر انٹینسِو (intensive) اپنی نوعیت کا بڑا غیر معمولی پروگرام تھا۔ اس کا موضوع تھا:
Theology and contingency: Morals, History and Imagination
یعنی دینیات کو درپیش نئے مسائل : اخلاق، تاریخ اور تخییل کے حوالہ سے۔
اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے 9:40 پر روانہ ہو کر ہم ہندوستانی طلبہ تیس جون کی سہ پہر کو اپنی قیام گاہ ڈھولی خیل رزارٹ پہنچ گئے، پاکستانی طلبہ رات کو آئے جبکہ دوسری جگہوں سے طلبہ اور منتظمین پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔
سفر پر روانہ ہونے سے پہلے دماغ پر تھوڑا stress تھا جس کی وجہ سے رات بھر نیند نہیں آئی تھی، راستہ کی تکان، الگ لہذا سہ پہر سے کمرے میں لیٹ کرسونے کی کوشش کی مگرنیندپھربھی نہیں آئی۔ رات کو۱۲بجے کے قریب دوپاکستانی ساتھی کمرے میں آگئے کچھ دیرتوان سے بات چیت ہوئی پھروہ سوگئے اورذراسی دیرمیں کمرہ ان کے خراٹوں سے گونجنے لگا۔کسی مشین کی آوازہویاخراٹے مجھے ان سے ایسی الرجی ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے نیندکے آنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔یوںیہ دوسری را ت بھی نہایت بے آرامی میں گزری ۔چاربجے مظفرنگرکے سلیم احمد کے ساتھ فجرکی نمازپڑھی اورپھرہم تین ساتھی میں،مفتی سعدمشتاق صاحب اورسلیم بھائی سیرکے لیے نکل کھڑے ہوئے پھرتوہفتہ بھریہی معمول رہاکہ سلیم بھائی کے ساتھ فجرکی نمازکے بعدصبوحی چائے پی جاتی جس میں کبھی کبھاردوسرے احباب بھی شریک ہوجاتے ۔خوش قسمتی سے مفتی سعدمشتاق صاحب طبیب ہیں ،ان سے نیندنہ آنے کا بتایاتو انہوں نے اپنابنایاہواایک تیل سرمیں لگانے کے لیے دیا۔اس کولگانے اورسرپر مالش کرنے سے واقعی تیسری رات نیندآگئی اورپھرورکشاپ کے آخری دن کوچھوڑکرٹھیک ٹھاک آتی رہی ۔
اس سمرکیمپ میں حسب روایت پروفیسرابراہیم موسیٰ (مدرسہ ڈسکورس کے بانی )اورپروفیسرماہان مرزا(لیڈفیکلٹی مدرسہ ڈسکورس) جدید دنیاکی جانب سے مذہبی فکرکودرپیش چیلنجوں کی تفہیم کرانے والے مختلف پیچیدہ اورمشکل سوال لے کرآئے جن کوپوری Intensity اورشدت کے ساتھ مسلم روایتی ذہن کے سامنے رکھنے میں ڈاکٹرسعدیہ یعقوب،پروفیسرجیرالڈمکینی ،ڈاکٹرمحمدیونس،پروفیسراطالیہ عمیر،پروفیسرجیسن اے اسپرنگ اورمولاناعمارخان ناصرنے مختلف اسلوب واندازمیں حصہ ڈالا۔ان حضرات نے اسلامک فیمنزم اور روایتی فقہی فکرکے حوالہ سے اسلام میں حقوقِ نسواں کی بحث ،بایوسائنس اورجدیدٹیکنالوجی کے پیداکردہ مسائل اورابراہیمی مذاہب ؛یہودیت ،مسیحیت اوراسلام کا موقف،آزادئ نسواں اوریہودی روایتی موقف کی تفہیم کرائی نیزاسلامی فلسفیانہ فکر(شعرانی اورملاصدراکے حوالہ سے)اورجدیدذہن کے اشکالات کا جائزہ لیا ۔پاکستان کے مولانا محمد عمار خاں ناصرنے بھی مسائل کی تفہیم میں وقتاًفوقتاًحصہ لیااوراخیرکے دودنوں میں جنوب ایشیاکی اسلامی فکر ،شاہ ولی اللہ اورانورشاہ کشمیری وغیرہم کے خیالات وافکارکے جائزہ پر مبنی انہیں کے ساتھ خاص رہے ۔ان کے ساتھ ہی ہندوستانی مدرسہ ڈسکورس کے استادو گائڈ مولاناڈاکٹروارث مظہری کوبھی لیکچردیناتھے مگربعض ضروری مجبوریوں کے تحت وہ ایک ہفتہ کی شمولیت کے بعدہندوستان واپس ہوگئے اس لیے ان سے استفادہ سے شرکاء محروم رہے۔
اس انٹینسِومیں تقریبا۲۵طلبہ پاکستان سے، ۱۹،انڈیاسے ،۵جنوبی افریقہ سے تھے جبکہ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی امریکہ سے سات طالبات شریک تھیں۔انٹینسِوکا شیڈول بہت ٹائٹ تھا۔صبح نوبجے سے لیکچرز شروع ہوتے توشام پانچ بجے تک چلتے ،بیچ نمازاورکھانے کا وقفہ ہوتا۔بعدمغرب کے Cosmos دکھائی جاتی اوراس کے بعدڈنر۔ساڑھے نوبجے رات کودوسرے دن کی ریڈنگ کی تیاری کی جاتی۔یادرہے کہ اس انٹینسِو کی تقریبا400صفحات پر مشتمل reading pack تمام شرکاء کوکوئی ایک ماہ پہلے سے فراہم کردیا گیا تھا جسے سب کوپڑھ کرآناتھا۔
طلبہ اورفیکلٹی کے قیام کا نظم ڈھولی خیل رزارٹ میں رکھاگیاتھاجوکاٹھمنڈوشہرسے ۴۰کلومیٹردورپہاڑی خطہ میں نہایت سرسبزوشاداب اورپُرفضامقام ہے ۔ نیپال پہاڑوں،وادیوں،جھرنوں اورقدرتی خوبصورت مناظرکے علاوہ ماؤنٹ ایورسٹ نیز دنیاکی کئی اوربڑی پہاڑی چوٹیوں کا دیس ہے، ڈھولی خیل بھی انہیں خاص مقاموں میں سے ایک ہے ۔دہلی کی شدیدگرمی سے پندرہ دن تک کے لیے راحت مل گئی بلکہ مجھے تویہاں قدرسے سردی سی محسوس ہوتی ۔روزانہ رات کوبارش شروع ہوکردن کے دوپہرتک ہوتی رہتی ۔موسم کے لحاظ سے سب لوگ گرم کپڑے وغیرہ لے کرآئے تھے۔قیام کا نظام بہتربنانے کی کوشش کی گئی تھی مگرایک ہی کمرہ میں تین تین طلبہ کورکھنامناسب نہ تھاکہ اکثرمزاجوں کی ناموافقت اذیت کا باعث بن جایاکرتی ہے۔ریفریشمنٹ اورکھانے کا انتظام بہت اچھاتھااورامریکن طرزطعام اورمشرقی کھانوں کا امتزاج تھا۔
یوں توپورے انٹینسِومیں زیادہ ترانگریزی ہی لیکچراورسوال وجواب کی زبان رہی تاہم اردومیں بھی سوال وجواب کی گنجائش تھی جس کا علی الفورانگریزی ترجمہ پروفیسرماہان مرزاورکبھی کبھارپروفیسرابراہیم موسی ٰ کر دیا کرتے۔ البتہ اخیرکے دودنوں میں مولاناعمارناصرکی گفتگواورسوال وجواب کی نششتوں میں اردوہی اظہارمافی الضمیرکا وسیلہ بنی رہی ۔
سمرانٹینسِوکے پہلے تین دن ولیم کالج میں مذہب کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹرسعدیہ یعقوب نے فقہی متون (امام سرخسی)قدیم فقہی فتاوی اورفیصلوں کا تذکر ہ کیااورتقابل میں بتایاکہ مغربی دنیامیں متحرک اسلامی فیمنزم کی نمائیندہ لکھنے والیاں کیشیاعلی ،آمنہ ودوداور حنا اعظم وغیرہ scriptural reasoning کوکس طرح برتتی ہیں یعنی وہ خواتین کے تعلق سے مذہبی متون کی ریڈنگ اورتشریح کیسے کرتی ہیں۔اسلامی فیمنزم کا موقف اصل میں یہ ہے کہ مسلم معاشرہ بنیادی طورپر پدرسری معاشرہ ہے جس میں اسلامی دینیات کے مراجع قرآن ،حدیث اورفقہی متون مردکوعورت پر ملکیت کا حق (تملیک )دیتے ہیں۔اس فیمنزم (جس کی ایک نمائندہ خودموصوفہ بھی تھیں)کا کہناہے کہ آج حالات بدل چکے ہیں اورنیشن اسٹیٹ کے اِس زمانہ میں جبکہ مردوعورت دونوں کماتے ہیں ہم معاشرتی طورپرزرعی دورکے اس معاشرہ کی طرح نہیں سوچ سکتے جس میں مردعورت پر ایک طرح کی ملکیت رکھتاتھا۔ان کے مطابق فقہاکا مردوعورت کے بارے میں بنیادی تصورارسطاطالیسی ہے کہ عورت صنف نازک،ناقص العقل اورمردصنف قوی ہے ۔آج یہ تصورہی بنیادی طورپر تبدیل ہوچکاہے اس لیے اس مفروضہ( Assumption) پر مبنی احکام پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔فقہ اسلامی کا غالب رجحان یہ ہے کہ عورت کا بنیادی وظیفہ شوہر کی جنسی خواہش کی تکمیل ہے اوربس ۔مگرپروگریسومسلمان ان فقہی تصورات سے بیزاری کا اظہارکرتے ہیں اوروہ ایسی نئی فقہ ڈیولپ کرنے کے حق میں ہیں جومردوعورت کے درمیان مساویانہ رویہ رکھے۔
یہاں تملیک سے خودفقہاء کیامرادلیتے ہیں اوراس تعبیرکی وہ خودکیاتشریح کرتے ہیں اس سے زیادہ بحث نہیں بلکہ مسلم معاشرہ عملاًنظریۂ تملیک کے نتیجہ میں جورویہ خواتین کے ساتھ روارکھتاآیاہے اصلاًوہی مرکزتوجہ بن گیاہے۔اس ضمن میں جدیدمسلم مصنفین مثلامولانامودودی وغیرہ جس طرح مردوعورت کی اس عدم مساوات کوJustify کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کوفیمنزم کے علمبرداربددیانتی Apologeticاورفقہ کی غلط ترجمانی سے تعبیرکرتے ہیں۔اس پر بجاطورپر یہ سوال پیداہوتاہے کہ وللرجال علیہن درجۃ اورالرجال قوامون علی النساء جیسے قرآنی نصوص کی تفہیم پھرکس طرح ہوگی ؟فیمنزم والے کہتے ہیں کہ یہ دراصل قرآن کا کوئی ابدی حکم نہیں بلکہ نزول قرآن کے وقت انسانی معاشرے عورت کے بارے میں جوتصورات رکھتے تھے (خاص کرعرب پس منظرمیں )قرآن نے اس کوبس ویسے ہی بیان کردیاہے ۔آج ان نصوص کی نئی تفہیم درکارہے ۔یادپڑتاہے کہ معجزات کی بحث اورعیسی ٰبن مریم علیہ السلام کی پیدائش وموت وغیرہ بحثوں پر گفتگوکرتے ہوئے سرسیداحمدخان نے بھی اپنی تفسیرمیں جابجااِس طرف اشارے کیے ہیں۔
میرے کمرے کے ایک پاکستانی ساتھی بہت سوتے تھے۔ میں نے مزاحاًان کوکہاکہ اتناکیوں سوتے ہیں؟کہنے لگے کہ دنیامیں نیندسے زیادہ مرغوب چیز کوئی نہیں۔ اگر۱۲گھنٹے نہ سوؤں تومزہ نہیں آتا۔راقم کے منہ سے برجستہ نکل گیا، جب اتناہی سوناتھاتوپاکستان کیوں بنایاتھا!وہ بھی کہاں چوکنے والے تھے ۔بولے، پاکستان توبقول شخضے علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی۔ان کے بے ساختہ جواب پر قہقہہ پڑا۔راقم آج کل علی گڑھ میں برسرکار ہے، اس لیے تلمیح کاٹ دارتھی۔
اگلے دودن پروفیسرابراہیم موسیٰ اوران کے شاگرددکتورمحمدیونس کی گفتگوئیں رہیں جن کا موضوع امام عبدالوہاب شعرانی کی ارشادالطالبین اورملاصدراکا فلسفہ رہا۔شعرانی محی الدین ابن عربی کے شاگردہیں۔ان کی کتاب میں القلم الاعلی ،الواح المحووالاثبات ،اسبا ب الخیر،سعادت کا حصول حقیقیت محمدیہ جیسی پیچیدہ بحثوں پر بات ہوئی ۔شعرانی کا خیال ہے کہ القلم الاعلی جولکھدیتاہے اس میں کوئی تغیروتبدل نہیں ہوسکتامگراس کے علاوہ 360اقلام ہیں جوالواح المحووالاثبات میں لکھتے رہتے ہیں۔ان میں کمی زیادتی اورحذف واضافہ ممکن ہے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کوسفرمعراج میں ان ہی اقلام کی آواز (صریف الاقلام یاصریرالاقلام )سنائی دی تھی۔ظاہرہے کہ یہ شعرانی کی imaginationہے۔تاہم میرے خیال میں شعرانی یہ جوکہتے ہیں کہ علم کا حتمی اورUltimate سورس اللہ تعالی ٰہے جودوذریعوں سے انسانوں کوعلم دیتاہے :وحی کے ذریعہ اوربذریعہ الہام والقاء ۔پہلے ذریعہ علم سے سیاست شرعیہ وجودمیں آتی ہے جبکہ الہام والقاء کے ذریعہ سیاست حکمیہ ۔سیاست حکمیہ پہلے ہوتی ہے سیاست شرعیہ اس میں اصلاح پیداکرتی ہے ۔اس سے یہ نتیجہ نکالاجاسکتاہے کہ انسانی تجربا ت ،تہذیبی اقداراورمبنی برعقل نظریات وآراء اورمحسوسات بھی خداہی کی طرف سے ہوتے ہیں لہذاسیکولرعلوم ونظریات سے بھی بایں طوراستفادہ کرناچاہیے کہ وہ بھی خداکی طرف سے ہیں۔شعرانی کایہ تصورعلم قدیم وجدیدکے قصہ کا خاتمہ کردیتاہے اوران کی باہمی معرکہ آرائی کوقصۂ کوتاہ قراردیتاہے ۔اس سے مذہب وسائنس یاعقل ونقل کے مابین تصادم کی ساری تھیوری بے معنی ہوکررہ جاتی ہے۔تصوف اورReasonسے ہم آمیزشعرانی کے خیالات آج مذہب وسائنس کے تصادم کی بحث میں کام دیتے ہیں اوران خیالات وافکارکوبھی معنی خیزبنا دیتے ہیں جوانسان نے اپنی عقل ،حس ،مشاہدہ اورتجربات سے اخذکیے ہیں۔بیسویں صدی کے سیاسی اسلام کے بعض علمبرداریاروایتی علما جس شدت سے سیکولرعلوم کی مخالفت کرتے رہے ہیں ان کے بالمقابل شعرانی کے یہ خیالات حیرت انگیز تھے۔شاہ ولی اللہ نے بھی حجۃ اللہ البالغہ میں مفہمون یااہل عقل ونظرکی اصطلاح استعمال کی ہے جس کا سب سے اعلی طبقہ وہ انبیاء کوقراردیتے ہیں۔اورفلاسفہ کوبھی مفہمون میں گردانتے ہیں۔شعرانی اورشاہ ولی اللہ ان خیالات سے استفادہ کرکے سائنس ومذہب یاعقل ونقل کے مابین مفروضہ کشمکش کے خاتمہ یاکم ازکم اس کی شدت میں کمی لانے کا کام کیاجاسکتاہے ۔
غالباًانٹینسِو کے چوتھے دن کی شام راقم نے اپنے ساتھی مفتی سعدمشتاق صاحب کوساتھ لیکرپاکستان کے ابھرتے نوجوان عالم و مفکر مولاناعمارخاں ناصرمدیرالشریعہ سے قریباً ایک گھنٹہ کی ملاقات کی اس ملاقات میں مختلف موضوعات زیربحث آئے اورعمارخاں صاحب سے بہت سے سوالات بھی ہم لوگوں نے کیے اوراستفادہ کیا۔
بایوسائنس ،نئی ٹیکنالوجی اوردینیات:بایوسائنس ،جینیٹک انجینرنگ اورنئی ٹیکنالوجی نے جوایجادات کی ہیں انہوں نے دینیاتی فکرکے لیے نئے چیلنج پیداکردیے ہیں۔آج ارتقاء کوایک سائنسی مسلمہ ماناجاتاہے ۔انسانی کلوننگ کے عمل کے ذریعہ جیتاجاگتامصنوعی انسان (Post human)یاNew Humanپیداکرنے کی طرف آج کی سائنس بڑھ رہی ہے۔مغرب میں کوشش ہورہی ہے کہ انسان کوابدی بنادیاجائے ۔اُسے موت نہ آئے یاوہ ہمیشہ جوان رہے، یاکم ازکم ا س کی زندگی کا دورانیہ بے حدطویل کردیاجائے ۔ ایسی دوائیں بنائی جارہی ہیں جن سے اس کے جذبا ت پر کنٹرول ہوجائے ۔مثلاوہ جب چاہے خوش ہوجائے ۔وہ ناراض نہ ہو،اُسے اشتعال نہ آئے نہ کوئی رنج وغم محسوس ہو،وہ کبھی نہ اکتائے کبھی تکان محسوس نہ کرے۔ایسے روبوٹ بنائے جارہے ہیں جن میں ارادہ وشعورانسان کی طرح ہو۔روبوٹک بیویوں کا تصورکبھی فکشن کی کتابوں میں ملتاتھا اب پوراہونے جارہاہے۔جینیٹک انجینرنگ کے ذریعہ اپنی مرضی کے انسان پیداکیے جانے کی بات ہورہی ہے۔جن کی ذہانت اورعقل وشعورڈرگس اورمشینوں کے تابع ہوں گے ۔سوچیے کیاہوگاجب آپ کا امام وخطیب کوئی روبوٹ ہوگا۔امامت اورمؤذنی،لیکچراورتعلیم کے اعمال روبوٹ انجام دیاکریں گے!!اس میں تعجب کی بات نہیں کہ جرمنی میں کئی سال سے روبوٹ چرچ میں پادری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔جاپان میں مرد ہ کی آخری رسومات ایک روبوٹک پروہت انجام دے رہاہے !!
بایوسائنس سے پیداشدہ ان سوالوں اورچیلنجوں سے زیادہ سابقہ یہودی اورعیسائی دینیات کوپڑرہاہے۔مسلمان علما اوراہل فقہ بوجوہ ابھی اس سے دورہیں لیکن بہرحال یہ اشکالات ان کے سامنے بھی آئیں گے ۔یہودی اورعیسائی مذہبی روایات نے ان چیلنجوں کا سامناکس طرح کیااس کی ایک جھلک مورل تھیولوجی کے ماہر پروفیسرمکینی اورپروفیسرجیسن اسپرنگ کی گفتگوؤں میں دکھائی دی ۔پروفیسرجیرالڈمکینی پاکستان کے مشہوراسلامی اسکالرفضل الرحمان کے شاگردبھی رہے ہیں۔مغربی دنیامیں اسلام پر سب سے قابل اعتباراورسب سے زیادہ پڑھے جانے والے اسکالرفضل الرحمان ہیں جوصدرایوب کے زمانہ میں پاکستان میں ایک کلیدی عہدہ پرفائزکیے گئے تھے مگرقدامت پسندوں کی شدیدمخالفت کی وجہ سے پھروہ ملک چھوڑگئے اورامریکہ چلے گئے تھے وہیں ان کی وفات ہوئی ۔راقم نے ادھرفضل الرحمان کی کئی کتابیں پڑھی ہیں۔
پروفیسرمکینی نے سائنس وٹیکنالوجی کے ذریعہ آرہے ان چیلنجوں کی تین تقسمیں کیں۔
(۱) سائنسی عقلیت پسندی evidentialism جس میں ہرچیز کا محسوس ثبوت مانگاجاتاہے اورتجربہ وتصدیق کے تجزیہ کاحق بھی لوگوں کودیاجاتاہے ۔
(۲) انفرادیت پسندیIndividualism یعنی فردخوداپنی عقل کا استعمال کرکے معاشرتی حدودوقیودسے آزادہوخودفیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہووہ دوسروں پر انحصارنہ کرے۔وہ خوداپنی پسندناپسندکا معیارطے کرے۔
(۳) مذہبی تکثیریت
مقررنے بتایاکہ بائبل کے علمانے اس چیلنج کے جواب میں تین طرح کے رویوں کوڈیولپ کیا: ۱۔معذرت خواہانہ رویہ کہ بائبل کوجدیددورکے مطابق سمجھاجائے اوراس کی تعبیرکی جائے۔ ۲:بائبل کا تاریخیت پر مبنی مطالعہ یعنی تاریخی شہادت اوردرایت کوکام میں لاتے ہوئے بائبل کے ان نصوص کومستردکردیاجائے جن کوتاریخ ثابت نہیں کرتی ،اوربقیہ نصوص کی درایت پر مبنی تعبیرکرنا۔ ۳:یہ موقف کہ بائبل کی کہانیاں اصل میں تمثیل واستعارہ کی زبان میں انسانی تجربات کا بیان ہیں اس لیے ان کوAs it isمانناچاہیے،اس میں تاریخی ثبوت ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ۔مؤخرالذکررویہ کی ترجمانی پروفیسرہنس فرائے اورپروفیسرمیکنٹائرکرتے ہیں۔
جدید سائنس سے قبل پوری دنیامیں انسان کے نیچرکا وہی تصوررائج تھاجوارسطونے دیاتھایہاں تک کہ مسلمان حکماء وفلاسفہ نے بھی اسی کی پیروی کی ۔اس لیے کہاجاتاہے کہ وحی کے مقابلہ میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑاآدمی ارسطوہے۔آج کا مسئلہ یہ ہے کہ بایوسائنس کے ذریعہ کیافطرت انسانی میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ؟اس بارے میں مذہبی مسلمہ روایت (کیتھولک ،اسلام اوریہودیت )یہ ہے کہ کائنات کا نیچرایک بار بنادیاگیاہے (ارسطواورسینٹ آگسٹائن یہی کہتے ہیں)اس لیے فطرت میں کوئی بھی تبدیلی تغییرخلق اللہ ہوگی ۔دوسراموقف یہ ہے کہ تخلیق کا کام مکمل نہیں ہوااوروہ جاری ہے اورانسان بھی اس میں حصہ لے رہاہے اس لیے کائنات کے نیچرکوتبدیل کیاجاسکتاہے اوراس پر تغییرخلق اللہ کی وعیدکا اطلاق نہ ہوگا۔(خیال رہے کہ بائبل کے بعض نصوص سے بھی اس کی تائیدہوتی ہے اورقرآن بھی اسی کا قائل ہے جس کواقبال نے یوں تعبیرکیاہے۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں
لیکچرمیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نان ہیومن agents کے ذریعہ بھی انسانی فطرت تبدیلی کوقبول کرتی ہے تاہم اگرانسانی فطرت میں ایسی تبدیلی لادی جائے کہ تمییزخوب وناخوب کا معیارہی بدل جائے توکیاایساکرناچاہیے ؟اس سوال پر دینیات کے علما کو سوچناچاہیے۔
سمرکیمپ میں کھیل کی اورصحت سے متعلق سہولیات فراہم کی گئی تھیں بعض طلبہ کھیلتے بھی تھے مگرماحول اتنامسحورکن تھاکہ زیادہ ترشام میں گھومنے اورٹہلنے کوترجیح دیتے ۔پاکستانی احباب فوٹوکھینچنے کے بڑے شائق نظرآئے حالانکہ ہندوپاک میں تصویراورفوٹوکے معاملہ میں علما کے مابین جوازوعدم جواز کی بحث ابھی بھی چھڑی ہوئی ہے ،تاہم فوٹوکلچرکے جنون نے کیاعلماکیاغیرعلماسب کوبری طرح متاثر کرڈالا ہے ۔
پروفیسراطالیہ عمیر(اسرائیل )نے اپنے لیکچرمیں وضاحت کی کہ ابراہیمی مذاہب یہودیت ،مسیحیت اوراسلام کے درمیان مذاکرات کے کیاامکانات ہیں۔انہوں نے بتایاکہ امریکہ میں عرب ،مسلمان اوریہودی حقوق انسانی کے کارکنان کس طرح مل جل کرکام کرتے ہیں۔اورخوداسرائیل کے مظالم کے خلاف یہودی گروپ فلسطینیوں کے ساتھ مل کرکام کرتے ہیں۔اسرائیل کے خلاف مظاہرے کرتے ،لٹریچرتقسیم کرتے اوررائے عامہ کوبیدارکرتے ہیں۔یہودیوں،عربوں اورمسلمانوں کے مابین گہری ہوتی خلیج کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ تاریخ میں دونوں قوموں کے مابین خوش گوارتعلقات رہے ہیں اورموجودہ کشیدگی ایک نیاظاہرہ ہے جس کواسرائیل کے قیام اورصہیونی تحریک سے زیادہ بڑھاواملاہے۔انہوں نے تحریک استشراق کا ذکرکرتے ہوئے معروف عرب اسکالرایڈورڈ سعیدکی استشراق پر تنقیدکے حوالہ سے مستشرقین کے رجحانات اورمغربی استعمارکے لیے ان کی خدمات کا تذکرہ کیا۔
انٹینسِوکے آخری دودنوں میں مولاناعمارخاں ناصرنے اپنے مخصوص اسلو ب میں پورے sense of humor کوکام میں لاتے ہوئے شاطبی ،شاہ ولی اللہ اورشعرانی کی فکرکے حوالہ سے گفتگوکی جس کا عنوان تھاکہ انبیائی دعوت اورغیرانبیائی خطاب میں فرق ۔نئے مسائل کے جواب میں اس سلسلہ میں انہوں نے فکراسلامی کی دوپوزیشنوں کا ذکرکیا۔پہلی پوزیشن فقہاء کی ہے جواسلام کے لیگل فریم ورک میں رہ کرکام کرتے ہیں اوراس کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔دوسری پوزیشن Historicism والوں کی ہے جن کے نمائندہ کے طورپرمولانانے مولاناشاہ جعفرپھلواروی ندوی کی ایک کتاب مقام سنت کا حوالہ دیا۔مقام سنت میں ندوی صاحب نے اس خیال کا اظہارکیاہے کہ عبادات میں تعبدمطلوب ہے مگرمعاملات میں تعبداصل نہیں اس لیے اشکال بدل سکتی ہیں۔مولاناعمارخاں نے فرمایاکہ تاریخیت کی اس پوزیشن پرکئی اشکالا ت پیداہوتے ہیں جن کا جواب یہ لوگ لیگل فریم ورک میں نہیں دیتے۔یہ سوال بھی زیربحث آیاکہ موجودہ زمانہ تھیوری آف اجتہادکیاہوگی ؟عملی اصول پر مبنی علمیات کیاہیں؟شریعت اورمتغیرات کے مابین کیارشتہ ہے ؟ مولانا عمار خاں صاحب نے جہاداوراس کی نئی تفسیرات پر بحث کرتے ہوئے بتایاکہ جہادکی جدیدتشریحات نئے زمانہ اورجدیدذہن کوتوایڈریس کرتی ہیں مگروہ فقہاء اورکلاسیکل جہادکی تعبیرکا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیتیں مثال کے طورپرکہاجاتاہے کہ اسلام میں جہادصرف دفاعی ہے۔پھران مہموں کا کیاجوازہوگاجونبی اکرم ﷺ نے یاخلافت راشدہ کے عہدمیں روم وشام مصراورایران وعراق کے خلاف چھیڑی گئیں ان کوجہادِدفاع کس اصول کے تحت ثابت کیاجائے گا؟
ایک مسئلہ یہ زیربحث آیاکہ قرآن میں جوسائنسی معلومات ہیں وہ ضروری نہیں کہ Exact سمجھی جائیں بلکہ اس زمانہ کے ذہن کوسامنے رکھ کرقرآن نے اس انداز میں بات کہ دی کہ اس وقت کے مخاطب بات سمجھ جائیں۔اسی طرح خرق عادت جوامورہیں وہ شریعت کا موضوع نہیں بلکہ شریعت کا موضوع امورمعتادہ ہیں ۔شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ تفصیلات میں عرب کلچرکوگرچہ لیڈنگ کرداردیاگیاہے مگریہ مطلوب نہیں کہ دوسرے معاشروں کے فروق ،اعراف ومالوفات کوختم کردیاجائے ۔
ایک سوال یہ اٹھاکہ اگرعلل واسباب اورمصالح وحکم کے حوالہ سے اصول ہی بدل جائیں توشریعت universal کیسے رہ پائے گی ؟یہ بھی پوچھاگیاکہ جب اس سے قبل کی شریعتیں مختلف رہی ہیں توآج شریعت اسلامیہ کوفائنل کیوں کہاجاتاہے؟ ایک سوال یہ آیاکہ اصل دین اوردین کے Contingent حصہ میں فرق کرنے کی وجہ وعلت کیاہے ؟ اقبال ؒ نے اپنے خطبات میں اس رائے کا اظہارکیاہے کہ روایت کا احترام کرتے ہوئے ہرنئی generation کوخداکی منشاء جاننے اوراس کے لیے کوشش کرنے کا حق ہے۔جہاداورغلبۂ دین اورآخری زمانہ کے بارے میں ظہورِمہدی ویاجوج وماجوج کے حوالہ سے مولاناعمارناصرصاحب نے علامہ انورشاہ کشمیری کی اس رائے کا ذکرکیاکہ اس سلسلہ کی احادیث سے جوکچھ معلوم ہوتاہے وہ پوری دنیاپر اسلام کا غلبہ نہیں بلکہ ملک شام اوراطراف کا علاقہ مرادہے۔اسی طرح یاجوج وماجوج کا خروج ایک لمبازمانی مرحلہ ہے۔آج ترک(مسلمان) اورمغربی قومیں یاجوج وماجوج کی اولادہیں اورہم انہیں کے زمانہ میں جی رہے ہیں۔
سمرانٹینسِومیں ۱۲جولائی کواسلامی فقہ اکیڈمی کے روح رواں مولاناامین عثمانی ندوی کا خطاب بھی ہواجس میں انہوں نے ہندوستان میں فقہ ،نئے مسائل اوراجتہادکے سلسلہ میں اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے کیے گئے اپنے تجربات سے شرکاء کوآگاہ کیا۔حالات کی نزاکت ،نئے مسائل اورتحدیات کا ذکرکیااورشرکاء کواکیسویN صدی کا عالم کیساہوناچاہیے اس پر غوروفکراورتیاری کے لیے مہمیز کیا۔ان کی گفتگوفکرانگیز،معلوماتی اورمؤثررہی۔
سمرانٹینسِوکا مقصدصرف متعینہ موضوعات پر شرکاء کولیکچرپلانانہ تھابلکہ مشرق کی عام روایت سے ہٹ کرہرلیکچرکے بعداورلیکچرکے دوران بھی طلبہ کوسوال وجواب کرنے کی بھرپورآزادی تھی۔ا س کے علاوہ روزانہ دوپہرکی نششت میں طلبہ کوایک متعین سوال دیاجاتا،بعدازاں شرکاء کے کئی گروپ بنادیے جاتے، ہرگروپ میں ہندوستانی پاکستانی جنوبی افریقہ اورنوٹرے ڈیم ہرجگہ کے طلبہ کورکھاجاتا۔گروپ اس سوال پرباہمی ڈسکشن کے بعدکسی رائے تک پہنچتایااختلافِ رائے بھی رہتاپھرہرگروپ سے ایک ایک نمائندہ انگریزی یااردومیں گروپ کی بات پیش کرتا۔پھراس کے بعدلیکچرراس پر تبصرہ کرتا۔ہرروزاس کا بھی التزام کیاجاتاکہ طلبہ اپناگروپ بدلتے رہیں تاکہ ہرطالب علم بحث ومباحثہ اوراظہارخیال کے اس عمل کاحصہ بن جائے۔نیز کھانے کی میز اورچائے کے وقفوں میں بھی گفتگواورسوال وجواب کا سلسلہ جاری رہتا۔کہیں طلبہ پروفیسرابراہیم موسیٰ کوگھیرے ہوتے کہیں وہ عمارناصرصاحب سے بحث کررہے ہوتے اورکہیں ڈاکٹرسعدیہ ،جیسون اسپرینگ اورمحمدیونس وغیرہم سے بات ہورہی ہوتی۔
صبح میں توباہرنکلنے کا موقع کم ملتاچونکہ صبح کے وقت اکثربارش ہورہی ہوتی۔مگرشام کوروزانہ بعض رفقاء کے ساتھ گھومنے کے لیے ضرورنکلتے ،جن میں مفتی سعدمشتاق توضرورہی ہوتے ۔کبھی پہاڑوں پر چڑھتے کبھی گہری کھاہیوں میں اترتے۔نہایت گہری کھائیوں اوراونچی چوٹیوں پرہرکہیں لوگوں نے گھربنارکھے ہیں۔ان میں سے کئی لوگوں سے ملاقات اوربات چیت بھی ہوئی ۔نیپال میں عام طورپر ہندی بولی اورسمجی جاتی ہے بعض نیپالی ہندوہونے کے باوجودانڈیاسے ناراض نظرآئے کیونکہ ان کے بقول انڈیاکی پالیسیاں بڑے بھائی والی فراخدلانہ نہیں بلکہ بنیاگردی پرمبنی ہیں۔بالمقابل انڈیاکے نیپالیوں کا جھکاؤچین اورجاپان کی طرف زیادہ ہے۔نیپالیوں میں مذہب کی طرف رجحان بہت کم ہے ،مندرتوچھوٹے بڑے بہت ہیں اوربعض تاریخی بھی ہیں مگراکثرغیرآبادہیں۔نیپال میں کئی سال پہلے جوزلزلہ آیاتھااس نے کاٹھمانڈواوراس کے مضافات کوزبردست نقصان پہنچایاتھا۔بعض تاریخی عمارات اورمنادرومحلات وغیرہ کوpreserve اورRehabilitate کرنے کا کام اب جاپان اورچین کی بعض تنظیمیں یونیسکوکے ساتھ مل کرکررہی ہیں۔نیپالی زبان ،لب ولہجہ اوررویہ میں بڑے نرم خواورنرم مزاج ہیں۔صحت اچھی ،قداکثرچھوٹااورناک چپٹی ہوتی ہے۔فی الحال مغرب زدگی بہت ہے اس لیے بے پردگی عام ہے۔غربت درودیوارسے ٹپکتی ہے کیونکہ ملک قدرتی وسائل سے تقریباتہی دست ہے اورزراعت بھی اس لیے نہیں ہے کہ پہاڑی ملک ہے۔لے دے کرکاٹھمانڈواوربعض دوسرے مقامات سیاحتی زمرہ میں آتے ہیں جوآمدن کا بڑاذریعہ ہیں ۔ کاٹھمانڈو اورمضافات میں گندگی نظرآئی ،روشنی اوربجلی کا معقول نظم نہیں تھاٹرانسپورٹ بھی اچھانہیں۔لیکن ایک چیز نیپال میں بہت خاص نظرآئی کہ کہیں مردوںیاعورتوں میں لڑائی جھگڑاتوتومیں حالت نہیں دکھائی دی نہ ہی کوئی آدمی کھلے میں کہیں پیشاب کرتاہواملا۔
انٹینسِوکے درمیان دوجمعے پڑے تھے ۔پہلاجمعہ کاٹھمنڈوکی جامع مسجدمیں پڑھاگیاجوایک بڑی اورکشادہ مسجدہے اس کے پا س ہی ایک کشمیری مسجدبھی ہے جس میں مزارات ہیں ان کوخاصاپررونق بناکررکھاگیاہے۔یہ بریلوی حضرات کے زیرانتظام ہے۔جامع مسجدجس میں ہم نے نماز پڑھی ا س کے امام ایک ندوی فاضل ہیں انہوں نے عربی خطبے سے پہلے ایک چھوڑدودوتقریریں اردومیں کیں،بات توعجیب سی لگی مگرحکمت شایدیہ تھی کہ بعدمیں آنے والے نمازی بھی اردوخطاب سے مستفیدہوسکیں۔نماز جمعہ کے بعدتاریخی منادراورعمارتیں دیکھی گئیں اورپھرشاپنگ کی گئی ۔ڈنرایک ہوٹل میں تھاجہاں سے قریبانوبجے رات کوڈھولی خیل رزارٹ کو واپسی ہوئی۔
کنواری دیوی :شہرکے شیومندرمیں ایک پرانی رسم یہ چلی آرہی ہے کہ کسی منتخب خاندان کی کمسن لڑکی کومندرکے لیے خاص کرلیاجاتاہے ،اُس سے کوئی مل نہیں سکتا،کوئی بات نہیں کرسکتا،والدین بھی سال میں ایک آدہ بارہی اس سے ملاقا ت کرسکتے ہیں۔اس کوتعلیم بھی وہیں دلائی جاتی ہے۔جیساکہ قدیم ہندمیں دیوداسی ہواکرتی تھیں۔مگرفرق یہ ہے کہ یہ کنواری دیوی بلوغت تک ہی دیوی رہتی ہے ،بالغ ہوتے ہی اس کا یہ منصب بھی ختم ہوجاتاہے اوراس کوسرکاری اخراجات پر بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیے بھیج دیاجاتاہے اوراس کی جگہ کسی دوسری کم سن لڑکی کومنتخب کرلیاجاتاہے۔کنواری دیوی ہفتہ میں ایک دن ۴ بجے دن کوآنے والوں کوبالاخانہ سے ایک جھلک دکھلاتی ہے جس میں فوٹولیناممنوع ہوتاہے۔روزانہ اُسے دیکھنے کے لیے آنے والوں کا ہجوم ہوتاہے،وہ کھڑکی میں کھڑی ہوکرہجوم کی طرف جھانکتی اورپھرفوراً غائب ہوجاتی ہے۔جس دن دن ہم وہاں پہنچے تھے اس کے نظرآنے کا وقت ہواچاہتاتھا۔لوگ دم بخودتھے اچانک ایک چھوٹی سی لڑکی کنگورہ میں نمودارہوئی ،اُسے دیکھ کرلوگوں میں ہلاگلاہوااوروہ فوراًہی واپس ہوگئی۔ لوگوں کے ہجوم اوران کے اشتیاق کودیکھ کریقین ساآگیاکہ عام لوگوں کے لیے مذہب واقعی افیون ہی ہوتاہے جس کی بنیادپر ان سے کچھ بھی کروایاجاسکتاہے۔
دوسرے جمعہ کونماز کلاس ہال میں ہی پڑھی گئی ۔خطبہ اورامامت کے فرائض پروفیسرماہان مرزانے انجام دیے جوایک نہایت متحرک ،فعال اورپُرمزاح وشگفتہ انسان ہیں۔ان کی باڈی لنگنویج اورپُرمزاح اسلوب تقریرنہایت دل کش ہوتاہے ۔ساتھ ہی وہ گہرے روحانی آدمی بھی ہیں۔روزانہ شرکاء کوبڑی محبت سے Cosmos دکھاتے اورکلاسوں میں بھی اپنےinterventions سے رہنمائی کرتے رہتے ۔جمعہ کی نماز کے بعدسیرکے لیے کاٹھمنڈوشہرکی طرف نکلے ۔پہلے پشوپتی ناتھ مندرگئے جس کے Sanctum Sanctorum کے دروازے غیرہندوؤں کے لیے بندہیں۔باقی وسیع وعریض احاطہ میں گھوم پھرسکتے ہیں۔اس کے کنارے چھوٹی سی ندی بہتی ہے جس کا نام بھاگ متی ہے۔جگہ جگہ شمشان گھاٹ بنے ہوئے ہیں جن میں سے بعض پر لوگ چتاجلارہے تھے۔احاطہ میں چھوٹے چھوٹے بیسیوں مندروں کا سلسلہ دورتک چلاگیاہے ۔مین مندرکوچھوڑکربقیہ بوسیدہ اورغیرآراستہ ہے مگردیکھنے والوں کا تانتالگاہواتھا۔
وہاں سے نکل کربودھ استوپابودھاناتھ گئے جہاں پر ایک وسیع چبوترااورگنبدبناہواتھااس کے احاطہ کا بودھ بھکشواورشردھالورات دن طواف کرتے ہیں۔ساتھ ہی منتروں کا جاپ کرتے اورتسبیح پڑھتے جاتے ہیں۔ساتھ کے کمرے میں بڑے بڑے گول ڈمروبنے ہوئے تھے جن کولوگ گھماتے ہیںیہ بھی ان دعاکاایک حصہ ہے۔استوپادیکھنے کے بعدشاپنگ کی گئی اورمغرب بعداسی بودھ استوپاکے ایک ریستوراں میں ڈنرکا اہتمام تھا۔نوبجے رات کوواپسی ہوئی۔
ذہنوں میں مختلف نئے سوالوں کواٹھاتاہوااورازسرنوغوروفکرپر آمادہ کرتاہوا یہ انٹینسِو۱۵دن بعدخیروخوبی سے ختم ہوا۔آخری دن تما م شرکا ء کے تاثرات سنے گئے ۔جس میں پہلے انڈیاکی ٹیم نے اظہارخیال کیا،اس کے بعدپاک شرکاء نے پھرجنوبی افریقہ اورپھرنوٹرے ڈیم کی طالبات نے ۔آخری ڈنرمیں کلمات تشکراداکیے گئے اوراس کے بعدپروفیسرابراہیم موسیٰ کا الوداعی خطاب ہوا۔
سمرانٹینسِوکی کامیابی دراصل اسی میں مضمرتھی کہ اس نے ذہنوں کونئے انداز سے سوچنے پر مجبورکردیااورنئے نئے سوال مختلف حوالوں سے اٹھادیے۔نئے سوال اٹھانااوران پر غوروفکرکرناہی دراصل کسی قوم کے ارتقاء کا پہلاقدم ہوتاہے۔مدرسہ ڈسکورس اپنے طلبہ کوسوال کرنے ،نئے مباحث پر سوچنے اوران کا جواب ڈھونڈنے کا فن سکھارہاہے یہی اس کورس کی خوبصورتی اورکامیابی ہے۔