نومبر ۲۰۱۸ء

دینی مدارس کا نظام: بنیادی مخمصہمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
سی پیک منصوبہ : قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
گلگت بلتستان: آئینی بحران اور سیاسی محرومیاںڈاکٹر محمد حسین 
طلاق کا اسلامی تصور: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز کے تناظر میںڈاکٹر محمد شہباز منج 
قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹنا ۔ جناب جاوید احمد غامدی کے موقف پر بعض اشکالات کا جائزہمحمد حسن الیاس 
مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹنسوسید مطیع الرحمٰن 

دینی مدارس کا نظام: بنیادی مخمصہ

محمد عمار خان ناصر

تحریک انصاف کی حکومت نے بعض دوسرے اہم قومی ایشوز  کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے حوالے سے یکساں نصاب تعلیم  کی ترویج  کا  سوال بھی اٹھایا ہے۔  مدارس کے نظام کی بہتری اور اصلاح کا مسئلہ ہماری سیاسی حکومتوں کے ہاں یہ بنیادی طور دو حوالوں سے زیر غور آتا ہے: ایک، مذہبی فرقہ واریت، شدت پسندانہ رجحانات اور  امن وامان کے  تعلق سے ،اور پچھلی دو تین دہائیوں سے ریاستی زاویہ نظر پر اس رجحان کا غلبہ بتدریج بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کے ساتھ مکالمہ یا پالیسی سازی کا مرکز وزارت تعلیم کے بجائے عموما وزارت خارجہ ہوتی ہے، حالانکہ بنیادی طور پر مدارس، دینی تعلیم کے ادارے ہیں۔مدارس کے نظام کے حوالے سے ریاست کے سامنے دوسرا بڑا سوال دینی اسناد کی  سرکاری سطح پر قبولیت کا ہے، اور مدارس کے نصاب میں عصری مضامین کی شمولیت اور بعض دیگر   تعلیمی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی کا سوال  اسی حوالے سے اٹھایا جاتا ہے۔ 
ان دونوں حوالوں سے  مختلف حکومتوں کی حکمت عملی اب تک بنیادی طور پر ایک ہی رہی ہے، اور وہ یہ کہ مختلف مذہبی مکاتب فکر  کے ساتھ وابستہ مدارس کے جو امتحانی بورڈ  بنے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ گفت وشنید کر کے  کارپردازان کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ مطلوبہ اصلاحات کو اپنے نظام کا حصہ بنائیں۔ جہاں تک مطلوبہ تبدیلی کے لیے مکالمہ، گفت وشنید اور مدارس کی قیادت کو اعتماد میں لینے کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت ناقابل انکار ہے ، تاہم ایسی کوششوں کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کے پاس اپنا ایک واضح  vision اور اس کے حق میں  مضبوط استدلال ہو  اور قوت استدلال کی بنیاد پر مکالمہ کے ذریعے سے  ارباب مدارس کو مطلوبہ اصلاحات  قبول کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ چونکہ ایسا کوئی  vision حکومتوں کے پاس نہیں ہے، اور  بڑی حد تک سادہ فکری کے ساتھ  اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس لیے   کم وبیش تین  دہائیوں سے  جاری اس سلسلہ جنبانی کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے۔
ہمارے نزدیک اس پوری بحث میں بعض بہت بنیادی ابہامات پائے جاتے ہیں جن کے حوالے سے  فکری وضوح پیدا ہوئے بغیر کوئی بامعنی عملی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔  ان سطور میں ہم مسئلے کے بعض  اہم پہلووں کے حوالے سے اپنے غور وفکر کے نتائج  مختصرا پیش کریں گے۔
مدارس کے موجودہ  نظام کی بنیادی الجھن کو سمجھنے کے لیے  یہ حقیقت پیش نظر  رہنی چاہیے کہ یہ نظام اپنی بنیادی نوعیت کے لحاظ سے ۱۸۵۷ء سے پہلے کے تعلیمی سیٹ اپ کا تسلسل نہیں، بلکہ برطانوی حکومت کے جاری کردہ پبلک ایجوکیشن سسٹم کے خطوط پر استوار کیا گیا نظام ہے۔ اس سے پہلے عام دینی تعلیم کی ضروریات گھروں میں یا محلے کے مکتبوں میں پوری کی جاتی تھیں، جبکہ فرنگی محل، خیرآباد، جون پور اور دہلی وغیرہ کے علمی مراکز صرف اعلی سطحی علوم کی تدریس کے لیے خاص تھے۔ ابتداءا دار العلوم دیوبند کا آغاز بھی اسی مقصد کے لیے ہوا تھا، لیکن بہت جلد اس میں عوامی دینی تعلیم کی ترجیحات شامل ہوتی گئیں جس پر مولانا نانوتوی وغیرہ کے تحفظات بھی منقول ہیں جو صرف چند منتخب اور ذی استعداد طلبہ کو محنت اور توجہ کا مرکز بنانے کے حق میں تھے۔
مدارس کی اس پالیسی میں بلاشبہ حالات کے جبر کا گہرا دخل تھا۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے کی طرح اب اختصاصی علوم سکھانے والے علمی مراکز کو نہ تو ریاست کی سرپرستی میسر تھی اور نہ ارباب ثروت کی۔ چنانچہ عوامی چندے پر انحصار کرنے والے کسی بھی نظام کے لیے عوامی perceptions، مزاج اور توقعات کی رعایت کرنا بلکہ انھیں بنیادی ترجیح دینا، ایک عملی مجبوری کا درجہ رکھتا تھا۔ تاہم یہ مجبوری کثیر الاولاد مجبوری ثابت ہوئی اور اس کے بطن سے کئی دوسری مجبوریاں جنم لیتی گئیں۔  ان میں سب سے اہم مجبوری یہ تھی کہ مرور زمانہ کے ساتھ اس نظام تعلیم کو broad-based  بنانے اور عوام کے ایک بڑے حصے کو اس سے متعلق کرنے کی کوشش میں اس نظام کی نوعیت بتدریج “آدھے تیتر اور آدھے بٹیر” کی بلکہ سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتی چلی گئی اور اب یہ نظام تضادات کے ایک مجموعے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسے بظاہر عنوان تو دینی علوم کی تدریس کا دیا جاتا ہے اور مقصد مذہبی علماء ومتخصصین پیدا کرنا بتایا جاتا ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ تعداد کو دینی ماحول سے وابستگی فراہم کرنے کے لیے علمی استعداد اور تدریسی مواد پر مسلسل کمپرومائز نے نصاب کو تسہیل، ترمیم اور تطہیر کے عمل سے گزار کر اس کی شکل وصورت بالکل بدل دی ہے۔ جو چند افراد اب بھی اس نظام سے پیدا ہو رہے ہیں، اس میں نظام کا کوئی کمال نہیں۔ وہ ان افراد کی اپنی ذاتی استعداد اور بعض اساتذہ کا فیض ہے اور کسی تردد کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ ایسے افراد اس نظام سے وابستہ نہ ہوتے تو بھی انھیں کسی علمی محرومی کا شکار نہ ہونا پڑتا۔
چونکہ اس نظام کے دینی تشخص کو محفوظ اورنمایاں رکھنا  اس کے بقا کی بنیادی شرط تھا، اس لیے  دوسری مجبوری یہ پیدا ہوئی کہ  عصری تعلیم کے ساتھ ایک فاصلہ قائم رکھا جائے اور مدارس کے تعلیمی مقاصد  کو خالص دینی  مضامین تک محدود  رکھا جائے۔  اس اصرار کا نتیجہ بہت بڑی تعداد میں فضلاء کی پیداوار کی صورت میں نکلا جن کی مجبوری یہ تھی کہ ان کے پاس دینی تعلیم کے شعبے کے علاوہ کسی دوسرے شعبے میں کام کرنے کی کوئی مہارت نہیں، چنانچہ ان کے لیے واحد میدان عمل یہی بچا کہ وہ مدارس کی تعداد میں اضافہ کرتے چلے جائیں۔ اسی نوعیت کی ایک مجبوری یہ بھی پیدا ہوئی کہ دینی تعلیم کے مختلف پراڈکٹس بنا کر ان کی مارکیٹنگ کی جائے اور اپنی بقا اور تسلسل کے مختلف راستے نکالے جائیں۔ اس کا ایک مظہر ہمارے ہاں پچھلی نصف صدی میں قرآن مجید کو حفظ کروانے کی روایت کو عوامی سطح پر حاصل ہونے والا وہ شیوع ہے کہ اس پر بعض دفعہ الامان والحفیظ کہنا پڑتا ہے۔
اس صورت حال میں المیہ یہ ہے کہ مدارس کے نظام کی اس بنیادی الجھن اور اس سے پیدا ہونے والے تضادات کا کوئی شعور اور ادراک ارباب مدارس کے ہاں نہیں پایا جاتا۔  چنانچہ ان حضرات سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دینی علوم میں تخصص پیدا کرنے کے علاوہ عمومی تعلیم کے بعض دائروں کو بھی اپنے نظام کا حصہ بنائیں تو ان کا عمومی رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب انجینئرنگ اور قانون کی تعلیم کے اداروں سے علماء پیدا کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تو مدارس سے ایسا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے۔ تاہم معمولی غور سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک منطقی مغالطہ ہے۔ اگر تو صورت حال یہ ہو کہ مدارس کا نظام معاشرے کی ضروریات کے مطابق معیار اور تعداد کے اعتبار سے صرف دین کے ماہر علماء پیدا کر رہا ہو تو یقیناً‌ اس نظام سے اس سے ہٹ کر کوئی دوسرا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ صورت حال یہ نہیں ہے اور مدارس اپنی ترجیحات کے لحاظ سے سرے سے “دینی علماء” کے معیار اور تعداد کے سوال پر کوئی توجہ ہی نہیں دے رہے۔ انھوں نے معاشرے کے مالی وسائل کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اصل توجہ زیادہ سے زیادہ تعداد جمع کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے اور اتنی بڑی تعداد کو کسی بھی اعتبار سے معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سرے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رکھی۔ مدارس سے رجوع کرنے والے طلبہ کی اکثریت صلاحیت اور استعداد کے لحاظ سے ’’عالم دین’’ بننے کی اہلیت نہیں رکھتی، جبکہ اس کے علاوہ کوئی دوسری مہارت ان میں پیدا کرنے کا مدارس کے نظام میں کوئی اہتمام نہیں جو کل کو معاشرے کے لیے کارآمد ہو سکے۔ اس طرح یہ نظام ایک طرف معاشرے کے وسائل اور دوسری طرف اپنے فارغ التحصیل طبقے، دونوں کے ساتھ صریح اور سنگین زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
اس ذہنی رویے کو نرم سے نرم لفظوں میں بھی  شتر مرغ جیسا رویہ کہا جا سکتا ہے۔ تقاضا کیا جائے کہ اتنی مقدار میں وسائل کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں فضلاء (جن میں سے بہت کم متخصص علماء بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں) کی تعلیم وتربیت ایسے خطوط پر کی جائے جس سے وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی کارآمد ہو سکیں تو ہمارا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم تو متخصصین پیدا کر رہے ہیں، ہم سے دوسرے شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کا مطالبہ کیوں؟ لیکن داخلی طور پر تعلیمی معیار اور علمی سطح کا سوال اٹھایا جائے تو ہمیں زمینی حقائق یاد آ جاتے ہیں کہ اب طلبہ کا ذوق وشوق اور علمی استعداد وہ نہیں رہی، ہمتیں قاصر ہو گئی ہیں، ماحول کے بڑے منفی اثرات ہیں، وغیرہ وغیرہ۔  گویا ہم نہ تو اس نظام کو تخصص کی سطح تک محدود کرنے اور اس کے علمی وتعلیمی تقاضے پورے کرنے کے لیے آمادہ ہیں (اس نظام کے ساتھ وابستہ ہو جانے والی معاشی حرکیات نے اس امکان کو کم وبیش ختم کر دیا ہے) اور نہ یہ ذمہ داری لینا چاہتے ہیں کہ اگر عوام ہم پر اعتماد کر کے وسائل کا ایک معتد بہ حصہ ہمارے سپرد کر رہے ہیں تو ہم اس کا بدلہ معاشرے کو، عام تعلیم کی بعض ضروریات پورا کرنے کی صورت میں دے دیں جو اپنی جگہ دین ہی کی خدمت کا ایک کام ہوگا۔
ہمارے نزدیک اس بنیادی مخمصے سے پوری فکری اور اخلاقی جرات کے ساتھ نبرد آزما ہوئے بغیر  مدارس کے موجودہ نظام  میں بہتری اور اصلاح کی کوئی تجویز کارگر نہیں ہو سکتی۔  مدارس کو اخلاقی اور شرعی طور پر دو میں سے ایک کام کرنا لازم ہے۔ یا تو اپنے دائرے کو اتنا محدود کریں اور اسی کے لحاظ سے معاشرے سے وسائل بھی لیں جو واقعتاً‌ “دین کے جید علماء” تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اور اگر وسائل میں سے حصہ کم کرنا نہیں چاہتے تو پھر معاشرے کی عمومی تعلیمی ضروریات میں سے بھی کچھ کو اپنے نظام کا حصہ بنائیں تاکہ ان وسائل کے استعمال کا جواز پیدا ہو اور بدلے میں معاشرے کو ایسے افراد مل سکیں جو دینی علوم کے ماہر نہ بھی ہوں، لیکن کچھ دوسری ایسی مہارتیں رکھتے ہوں جن کی معاشرے کو ضرورت ہے۔
اگر درکار فکری اوراخلاقی جرات بہم پہنچانے کا اہتمام کر لیا جائے تو  اصلاح احوال کی عملی شکل زیادہ مشکل یا پیچیدہ نہیں ہے۔  اس حوالے سے سب سے بنیادی اور دوٹوک قدم یہ اٹھانے کی ضرورت ہے کہ مدرسے میں آنے والے ہر طالب علم کو، اس کی دلچسپی، صلاحیت اور رجحان طبع کا لحاظ کیے بغیر، آٹھ یا چھ سال کی دلدل میں پھینک دینے کا رجحان کلیتاً‌ ترک کر دیا جائے۔ اس رجحان کے تحت اس وقت مدارس سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی اکثریت کے صرف کردہ آٹھ سال دینی تعلیم، مدارس کے نظام اور معاشرہ، کسی کے لیے بھی کوئی افادیت نہیں رکھتے اور اس کا تسلسل محض حصول ثواب، تبرک اور بزرگوں کی نسبت سے روا رکھا جا رہا ہے۔ 
دینی تعلیم میں مہارت اور اختصاص کے لیے صلاحیت اور استعداد نیز رجحان طبع کا ایک معیار مقرر کیا جائے اور انھی طلبہ کو اس میں آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے جو ایک “عالم دین” کے طور پر معاشرے میں کردار ادا کر سکیں۔ ان کے علاوہ مدارس سے رجوع کرنے والے عام طلبہ کے لیے مختلف سطحوں پر ان کی ضرورت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف دورانیے کے متبادل نصابات تشکیل دیے جائیں جنھیں مکمل کرنے کے بعد دو سال، تین سال یا چار سال میں وہ سسٹم سے باہر جا سکیں۔ ایسے حضرات کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے ہنر لازماً‌ سکھائے جائیں جو کل کو روزگار کے سلسلے میں ان کی مدد کریں، مثلاً‌ انگریزی زبان، ریاضی، کمپیوٹر آپریٹنگ، اداراتی انتظام وغیرہ۔ پنجاب حکومت کا ادارہ TEVTA اس حوالے سے یہ سہولت دے رہا ہے کہ مختلف تکنیکی ہنر سکھانے کے لیے دینی اداروں کے اندر سرکاری اخراجات سے سیٹ اپ قائم کیے جا سکتے ہیں اور مختلف اداروں میں یہ تجربہ کامیابی سے چل رہا ہے۔ اگر مدارس سے رجوع کرنے والے تمام طلبہ کو “علماء” بنا کر فارغ التحصیل کرنے کے ہدف میں ترمیم کر لی جائے اور عام طلبہ کے لیے بھی اپنے سسٹم میں گنجائش پیدا کر لی جائے تو طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد کے لیے ایک سال، دو سال یا تین سال کے دورانیے پر مبنی دینی تعلیم کے نصاب کے ساتھ مختلف تکنیکی ہنر شامل کر کے وسیع معاشرتی افادیت رکھنے والا ایک تعلیمی نظام آسانی سے قائم کیا جا سکتا ہے۔
یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ داعی کا معاشرے کی نظر میں محترم اور باوقار ہونا دعوت دین کے موثر ہونے کے لیے بہت اہم ہے اور ذریعہ معاش کا سوال اس مسئلے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جس معاشرے میں دین کو فکری غلبہ اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہو، وہاں معاشرہ اہل دین کی ضروریات کے بندوبست کو اپنا فریضہ اور ذریعہ سعادت تصور کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں حکمران اور ارباب ثروت ہمیشہ دراہم ودنانیر نیاز مندانہ اہل علم کی خدمت میں پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم جدید معاشرے میں دین اور اہل دین کی یہ حیثیت برقرار نہیں رہی اور لازم ہے کہ معاشرتی وقار کی بحالی کے لیے حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لائی جائے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وقت کے مروجہ معیارات کے مطابق ایسی صلاحیتیں اور اہلیتیں پیدا اور ایسے ہنر حاصل کیے جائیں جو باوقار روزگار کا ذریعہ تصور کیے جاتے ہوں۔ اہل دین معاشرے کو دینے والے ہوں اور جو کچھ وہ دیں، اس میں دوسری خدمات کے ساتھ ساتھ دعوت دین کی خدمت بھی شامل ہو۔
دینی تعلیم کا مروجہ نظام ایسی مہارتیں سکھاتا ہے جن کی، عموماً‌، معاشرے کی نگاہ میں کوئی خاص قدر نہیں۔ معاشرہ حصول ثواب کی غرض سے یا مذہب کے ساتھ ایک روایتی وابستگی کے زیر اثر اس کام کے لیے صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات وغیرہ تو دے دیتا ہے، لیکن اس عمومی تاثر اور احساس کے ساتھ کہ مذہبی طبقہ لوگوں کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔ کسی عالم کو قوت لا یموت سے زیادہ کچھ مل جائے تو معاشرے کو ہضم نہیں ہوتا، کیونکہ اس طبقے کا درجہ معاشرے نے یہی متعین کیا ہے۔ اس رویے پر معاشرے کو قصور وار ٹھہرانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ جواز۔ یہ فطری انسانی رویہ ہے۔ اہل دین اگر بحیثیت طبقہ اپنے لیے وقار اور احترام چاہتے ہیں، جو دعوت دین کے لیے بے حد ضروری ہے، تو انھیں خود اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔

دینی مدارس میں عقلی علوم کی تعلیم

برصغیر میں اکبری عہد میں ملا فتح اللہ شیرازی کے زیراثر معقولات کی تعلیم کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے مقامی تعلیمی روایت پر گہرا اثر ڈالا، چنانچہ اس کے قریبی زمانے میں ملا قطب الدین اور ملا نظام الدین نے “درس نظامی” مرتب کیا تو اس میں یونانی فلسفہ، یونانی منطق اور علم الکلام کے علاوہ ریاضی اور ہیئت کے مضامین بطور خاص نصاب کا حصہ بنائے گئے۔ پورے نصاب پر معقولی رنگ بے حد غالب تھا اور معقولات کے عنوان سے کم وبیش ہر شعبہ علم میں ایسی اعلیٰ سطحی کتابیں شامل کی گئیں جن پر یونانی منطق کی اصطلاحات میں مباحث کی تنقیح کا رنگ کا غالب تھا۔ اس رجحان کے خلاف، شاہ ولی اللہ کی فکری مساعی کے زیر اثر، اصلاح نصاب کی ایک عمومی لہر پیدا ہوئی جس میں منطق وفلسفہ کے مضامین کی فی نفسہ اہمیت نیز ان کی تدریس کے لیے دقیق اور غامض متون کی افادیت پر سوالات اٹھائے گئے اور نتیجتاً نقلی علوم، بالخصوص ترجمہ وتفسیر، حدیث اور زبان وادب سے متعلق تدریسی مواد کا تناسب بڑھتا چلا گیا۔ نصاب میں مختلف مراحل پر ہونے والی تدریجی اصلاحات کے نتیجے میں موجودہ نصاب تعلیم میں معقولی علوم کا تناسب بہت کم ہو چکا ہے اور منطق، فلسفہ اور کلام کے مضامین سے متعلق نصاب سکڑتا ہوا چند مختصر کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔
اصلاح نصاب کی یہ تحریک اس زاویے سے یقینا مفید اور ضروری تھی کہ تشحیذ اذہان کے لیے دقیق اور غامض متون کے حل کی لفظی مشقیں دراصل نفس مضمون اور اس کے مباحث کی تفہیم کی قیمت پر ہوتی ہیں اور عبارتوں کو حل کر لینا ہی ساری تدریسی ریاضت کا منتہائے مقصود بن جاتا ہے۔ مزید یہ کہ کلی طور پر متن پر مبنی طریقہ تدریس میں پڑھنے والوں کا جو ذہنی سانچہ اور اس ذہنی سانچے میں کسی علم کا جو مجموعی تصور بنتا ہے، وہ بڑی حد تک جامد اور بے لچک ہو جاتا ہے جس میں فکری جدلیات اور کسی بھی علم کے دائرے میں فکر انسانی کے ارتقاءاور تغیرات کو سمجھنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ تاہم ان خامیوں کے تناظر میں اصلاح نصاب کا جو رجحان پیدا ہوا، اس کا نتیجہ سرے سے عقلی علوم اور عقلی مباحث ہی کو نظر انداز کر دینے کی صورت میں نکلا، حالانکہ اصل ضرورت اس چیز کی تھی کہ طریقہ تدریس کو متوازن بنایا جائے اور دور قدیم کے عقلی مباحث کی جگہ ان علوم ومباحث کو شامل نصاب کیا جائے جو آج کی فکری دنیا میں زیر بحث ہیں اور فکر وذہن کے سانچے بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح کسی خاص علم کے زیر عنوان چند مخصو ص متون یا نظریات پڑھا دینے کے بجائے یہ ضروری ہے کہ اس علم کے مجموعی ارتقائی سفر اور اس دائرے کے مختلف فکری رجحانات سے طلبہ کو روشناس کرایا جائے۔ مثال کے طور پر درس نظامی میں فلسفہ کے مباحث کی تعلیم وسیع تر تناظر میں دیے جانے کے بجائے ان چند مخصوص کتابوں مثلاً ہدایة الحکمة، میبذی، الشمس البازغہ اور ملا صدرا وغیرہ کا انتخاب کیا گیا جو اس دور میں مختلف وجوہ سے ایرانی درس گاہوں میں زیادہ مقبول تھیں۔ ان کتابوں کے مضامین یونانی فلسفے کے ان مباحث کے گرد گھومتے ہیں جن سے عباسی دور میں یونانی علوم کے عربی زبان میں ترجمہ کی وساطت سے مسلمان واقف ہوئے۔ ان چند مخصوص کتابوں پر انحصار اور فلسفے کی بنیادی ماہیت اور اس کی عمومی تاریخ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے ذہنوں میں عموماً فلسفہ کا جو تصور پایا جاتا ہے، وہ کچھ یوں ہے کہ فلاسفہ یا حکماءنام کی کوئی ایک جماعت ہے جس کے کچھ مخصوص ومتعین نظریات ہیں جو ان کے ہاں عقائد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان نظریات کو “فلسفہ” کہا جاتا ہے۔
فلسفہ کا یہ تصور، ظاہر ہے کہ بے حد ناقص ہے، کیونکہ فلسفہ چند متعین اور طے شدہ نظریات کا نہیں، بلکہ عقلی بنیادوں پر غور وفکر کی ایک مسلسل روایت کا نام ہے جس میں بے شمار مختلف ومتنوع بلکہ متضاد رجحانات ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ خود مسلمانوں کی فکری روایت اس تنوع اور تغیر وارتقا کی ایک رنگا رنگ داستان ہے۔ عرب ابتداءًا یقینا اس طرح کی عقلی بحثوں سے یونانی علوم کے ترجمہ کی وساطت سے واقف ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد ان تصورات ونظریات کی تنقیح، تشریح وتوضیح اور تردید واثبات کی ایک مستقل علمی روایت قائم ہو گئی جس میں اگر ایک طرف یونانی فلسفے کے ان تصورات کو اسلامی عقائد کے مطابق ڈھالنے اور انھیں اسلامی عقائد کی عقلی تفہیم کے لیے استعمال کرنے کا رجحان سامنے آیا تو دوسری طرف اس کے برعکس فلسفہ یونان کے اساسی تصورات پر نقد ومحاکمہ کا فکری رجحان بھی پیدا ہوا، چنانچہ دور متوسط میں غزالی اور بعد ازاں ابن تیمیہ وغیرہ نے یونانی منطق وفلسفہ پر جان دار تنقیدیں کیں اور ان عقلی معیارات کو چیلنج کیا جن کی بنیاد پر فلاسفہ کے خلافِ اسلام نظریات کی تائید کی کوشش کی جا رہی تھی۔
یونانیوں سے ورثے میں ملنے والے تصورات ومباحث کے علاوہ مسلمانوں میں ایسے جلیل القدر اہل فکر بھی پیدا ہوئے جنھوں نے نئے اور طبع زاد مباحث پر داد فکر دی اور مابعد الطبیعیات کے علاوہ انسانی نفسیات، علم اخلاق، عمرانیات، سیاسیات اور فلسفہ تاریخ جیسے موضوعات پر اپنے نتائج فکر پیش کیے۔ ان میں الکندی، الفارابی، ابن سینا، ابن باجہ، ابن طفیل، ابن رشد، ابن خلدون اور نصیر الدین طوسی وغیرہ کے نام نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ عقل اور شریعت کے باہمی تعلق جیسے دقیق سوالات پر علم کلام اور اصول فقہ میں معرکہ آرا بحثیں اٹھائی گئیں اور اس حوالے سے مختلف فکری رجحانات معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ وغیرہ مکاتب فکر کی صورت میں مجسم ہو کر سامنے آئے۔ مسلم صوفیہ نے اہم ترین فلسفیانہ مباحث کے حوالے سے ایک مستقل روایت کی بنیاد ڈالی جس کا بنیادی ماخذ کشف وعرفان اور روحانی سیر ومشاہدہ تھے۔
ان معروضات کا حاصل یہ ہے کہ دینی علوم کے نصاب میں عقلیات کو دوبارہ مناسب اہمیت دینے اور منتہی طلبہ کو کلاسیکی عقلی روایت کے ساتھ ساتھ معاصر فکری وفلسفیانہ بحثوں سے متعارف کروانے کی طرف سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

علوم دینیہ میں تخصص اور دور جدید کے عقلی مباحث

علوم دینیہ میں تخصص کی سطح پر جن عقلی مباحث کو بطور خاص جزو نصاب بنانے اور اعلیٰ اذہان کو ان مباحث کی تنقیح میں مشغول کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے خیال میں وہ حسب ذیل ہیں:
۱۔ فلسفہ علم (Epistemology) ، جس کے بنیادی سوالات اور مشکلات سے، اور ان کے حوالے سے مذہبی فکر کی ممکنہ پوزیشنز سے واقف ہونا ایک متخصص عالم دین کے لیے ناگزیر ہے۔ علم منطق کو اس کے ایک جزو کے طور پر پڑھانا چاہیے، کیونکہ یہ علم دراصل عقل انسانی ہی کے انداز کار  کو مختلف تصورات اور اصولوں کی صورت میں منظم انداز میں بیان کرتا ہے۔ علمیات کے بنیادی تصورات سے طلبہ کو شناسا کیے بغیر موجودہ صورت میں علم منطق کی تدریس بالکل بے فائدہ لفظی مشق کا درجہ رکھتی ہے۔
۲۔ فلسفہ مذہب (Philosophy of Religion) ، یعنی مذہب کے بنیادی تصورات اور ان پر پیدا ہونے والے سوالات کی عقلی تفہیم۔ بنیادی طور پر یہ علم الکلام کا حصہ ہے جسے ابن خلدون نے متاخرین کے علم کلام کا عنوان دیا ہے۔ متقدمین کا علم الکلام اصلاً‌ مسلمان فرقوں کے باہمی اختلافات سے بحث کرتا تھا۔ غزالی نے اس کا دائرہ وسیع کیا اور فلسفے کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کو بھی کلام کا حصہ بنا دیا۔ فلسفہ مذہب اگرچہ بظاہر جدید علوم میں ایک نیا ڈسپلن ہے، لیکن اس کے دائرے میں آنے والے مباحث نئے نہیں ہیں۔ مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے ان مباحث کو یکجا کر کے “فلسفہ مذہب” کو ایک مستقل شعبہ علم کی حیثیت دے دی گئی ہے۔
۳۔ اصول تفسیر (Hermeneutics) ، یعنی مذہبی متون کی تعبیر وتشریح کے اصول وضوابط۔ یہ بھی بنیادی طور پر نیا علم نہیں ہے۔ اسلامی روایت میں اس کے مختلف مباحث اصول تفسیر، اصول الفقہ، علم البلاغۃ اور علم الکلام میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ تعبیر متن سے متعلق جملہ سوالات کے تناظر میں ان سب مباحث کو یکجا کر کے ایک مربوط ومنتظم علم کی صورت دے دی جائے اور جدید لسانی تصورات نے متن کی تعبیر کے حوالے سے جو نئے سوالات کھڑے کیے ہیں، ان کا بھی بغور جائزہ لیا جائے۔
۴۔ فلسفہ تاریخ (Philosophy of History) ، مغربی روایت میں اس شعبہ علم میں جن سوالات پر غور کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ تاریخ کے مذہبی تصور سے پیدا ہونے والے مباحث کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کا کام اہم ہے، لیکن بہت سے دوسرے مصادر سے بھی استفادہ  کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید براں اسلامی فکری روایت کے ارتقا اور تغیرات کی تفہیم کا فریم ورک مہیا کرنا بھی اسی شعبہ علم کا وظیفہ بنتا ہے جس پر کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
۵۔ فلسفہ سائنس (Philosophy of Science) ،  سائنس کے دائرے میں نظریات وتصورات کیسے وضع کیے جاتے ہیں اور  ان میں تبدیلی وتغیر کی اساسات کیا ہوتی ہیں، اس کو علمی سطح پر سمجھنا بھی دینی علوم کے ایک متخصص کے لیے بہت اہم ہے۔ خاص طور پر یہ کہ سائنس ہمیں عالم طبیعی کے بارے میں جو عمومی تصور دیتی ہے، اس کا  ہمارے مذہبی تصورات سے کیا تعلق بنتا ہے اور سائنسی تصورات میں تبدیلی کے مذہبی عقائد وتصورات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دینی علوم کےنصاب میں ان مباحث کی شمولیت اس مفروضے پر نہیں ہونی چاہیے کہ  ان میں ہمارے کلاسیکی علم کلام کی طرح پوزیشنز طے اور سوالات کے جوابات متعین ہو چکے ہیں جن سے طلبہ کو بس واقف ہونا چاہیے۔  علم کی دنیا میں سردست صورت حال یہ نہیں ہے۔ ان مباحث کی شمولیت دراصل اس مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے  اور مذہبی فکر کو اس discourse کا حصہ بنانے کی اسپرٹ  سے ہونی چاہیےجس کے نتیجے میں  علم جدید کے سوالات کے تناظر میں بھی اسی طرح ایک گہری علمی وعقلی روایت جڑ پکڑ سکے جیسی دور قدیم میں یونانی فلسفے کے سوالات ومباحث کے حوالے سے ہمارے متکلمین نے قائم کی تھی۔ ان مباحث سے اعتنا اور ایک اعلیٰ علمی وعقلی ڈسکورس کو وجود میں لانا  دینی لحاظ سے ایک فرض کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے۔    اس عمل میں یقیناً‌ کئی طرح کے عقلی رجحانات سامنے آئیں گے اور کم وبیش اسی طرح کی ایک کلامی تقسیم پیدا ہوگی جیسی ہماری روایت میں  معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ اور سلفیہ کی صورت میں پیدا ہوئی۔ یہ تقسیم انسانی فکر کے رجحانات ومیلانات کے لحاظ سےآفاقی ہے اور ہر کلامی روایت میں ان کا ظہور ناگزیر ہے۔ ان میں سے ہر رجحان روایت کی مجموعی تشکیل میں ایک منفرد کردار ادا کرتا ہے،اس لیے ہر رجحان اپنی جگہ اہم اور ناگزیر ہے۔علم جدید کے چیلنج کا سامنا پوری فکری جرات کے ساتھ اس پر خطر راستے کا انتخاب کیے بغیر ممکن نہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۵۰) بظاہر تفضیل مگر حقیقت میں مبالغہ

قرآن مجید میں جگہ جگہ اسم تفضیل جمع مذکرسالم کی طرف مضاف ہوکر آیا ہے، جیسے خیر الرازقین اور احسن الخالقین، ایسے تمام ہی مقامات پر تفضیل مقصود نہیں ہوتی ہے، بلکہ صفت میں مبالغہ اور کمال مقصود ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق ہے۔ تفضیل کے مفہوم میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ دوسروں میں بھی وہ صفت موجود ہے، البتہ کسی میں دوسروں سے زیادہ ہے، جبکہ مبالغہ میں یہ لازم نہیں آتا ہے کہ دوسروں میں بھی وہ صفت موجود ہے، بلکہ کلام کا سارا زور موصوف پر ہوتا ہے، کہ یہ صفت موصوف میں اعلی درجے میں پائی جاتی ہے۔ خیر الرازقین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رازق بہت سے ہیں اور اللہ سب سے بہتر رازق ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ رازق ہے اور رزق کی صفت اس کے اندر اعلی درجے میں ہے، بالفاظ دیگر وہ بہترین رازق ہے۔ احسن الخالقین کا مطلب بھی یہ ہے کہ وہ بہترین خالق ہے، نہ یہ کہ وہ خالقوں میں سب سے بہتر خالق ہے۔ ان دونوں الفاظ کے حوالے سے سابق میں گفتگو ہوچکی ہے۔
ذیل میں مزید کچھ الفاظ کے حوالے سے تراجم قرآن کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

(۱) وَاَنتَ ارحَمُ الرَّاحِمِینَ۔ (الانبیاء: 83)

“اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے” (احمد رضا خان)
“اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے” (جوادی)

(۲) فَاغفِر لَنَا وَارحَمنَا وَاَنتَ خَیرُ الرَّاحِمِین۔ (المومنون: 109)

“ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے”(سید مودودی)
“ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہم پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے” (جوادی)

(۳) وَقُل رَّبِّ اغفِر وَارحَم وَاَنتَ خَیرُ الرَّاحِمِین۔ (المومنون: 118)

“اور پیغمبر علیہ السلام آپ کہئے کہ پروردگار میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم کر کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے” (جوادی)
“اے محمد، کہو، میرے رب درگزر فرما، اور رحم کر، اور تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے” (سید مودودی)

(۴) وَاَدخِلنَا فِی رَحمَتِکَ وَاَنتَ اَرحَمُ الرَّاحِمِینَ۔ (الاعراف: 151)

“اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا” (احمد رضا خان)
“اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے” (محمد جونا گڑھی)

(۵) یَغفِرُ اللہ لَکُم وَہُوَ اَرحَمُ الرَّاحِمِین۔ (یوسف: 92)

“اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے” (احمد رضا خان)
“خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے” (فتح محمد جالندھری)

(۶) وَمَکَرُوا وَمَکَرَ اللہ وَ اللہ خَیرُ المَاکِرِینَ۔ (آل عمران: 54)

“پھر بنی اسرائیل (مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے” (سید مودودی)
“اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے” (فتح محمد جالندھری)
“اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے” (محمد جوناگڑھی)

(۷) وَیَمکُرُونَ وَیَمکُرُ اللہ وَ اللہ خَیرُ المَاکِرِینَ۔ (الانفال: 30)

“وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے” (سید مودودی)
“اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر”(احمد رضا خان)

(۸) بَلِ اللہ مَولاَکُم وَہُوَ خَیرُ النَّاصِرِین۔ (آل عمران: 150)

“حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے” (سید مودودی)
“بلکہ اللہ ہی تمہارا مولی ہے اور وہی بہترین مددگار ہے” (محمد جوناگڑھی)
“بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے” (فتح محمد جالندھری)

(۹) اِنِ الحُکمُ اِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الحَقَّ وَہُوَ خَیرُ الفَاصِلِین۔ (الانعام: 57)

“فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے، وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے” (سید مودودی)
“حکم نہیں مگر اللہ کا وہ حق فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا” (احمد رضا خان)

(۱٠) رَبَّنَا افتَح بَینَنَا وَبَینَ قَومِنَا بِالحَقِّ وَاَنتَ خَیرُ الفَاتِحِین۔ (الاعراف: 89)

“اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے” (سید مودودی)
“اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے” (احمد رضا خان)
“اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے” (فتح محمد جالندھری)

(۱۱) اَنتَ وَلِیُّنَا فَاغفِر لَنَا وَارحَمنَا وَاَنتَ خَیرُ الغَافِرِین۔ (الاعراف: 155)

“ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں” (سید مودودی)
“تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیادہ اچھا ہے” (محمد جوناگڑھی)
“تو ہمارا ولی ہے -ہمیں معاف کردے اورہم پر رحم فرما کہ تو بڑا بخشنے والا ہے” (جوادی)

(۱۲) وَاصبِر حَتَّیَ یَحکُمَ اللہ وَہُوَ خَیرُ الحَاکِمِینَ۔ (یونس: 109)

“اور صبر کرتے رہیں یہاں تک کہ خدا کوئی فیصلہ کردے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے” (جوادی)
“اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے” (سید مودودی)

(۱۳) اَو یَحکُمَ اللہ لِی وَھوَ خَیرُ الحَاکِمِین۔ (یوسف: 80)

“یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے” (سید مودودی)
“یا اللہ تعالیٰ میرے معاملے کا فیصلہ کر دے، وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے” (محمد جوناگڑھی)

(۱۴) فَاصبِرُوا حَتَّی یَحکُمَ اللہ بَینَنَا وَہُوَ خَیرُ الحَاکِمِینَ۔ (الاعراف: 87)

“تو ذرا ٹھہر جا! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کیے دیتا ہے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے” (محمد جوناگڑھی)
“تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے” (سید مودودی)

(۱۵) وَِانَّ وَعدَکَ الحَقُّ وَاَنتَ اَحکَمُ الحَاکِمِین۔ (ہود: 45)

“اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے” (سید مودودی)
“اور تیرا وعدہ اہل کو بچانے کا برحق ہے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے” (جوادی)
“یقینا تیرا وعدہ بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے” (محمد جوناگڑھی)

(۱۶) اَلاَ تَرَونَ اَنِّی اُوفِی الکَیلَ وَاَنَا خَیرُ المُنزِلِین۔ (یوسف: 59)

“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں اور میں ہوں بھی بہترین میزبانی کرنے والوں میں” (محمد جوناگڑھی)
“دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں” (سید مودودی)
“کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں” (فتح محمد جالندھری)
“کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں” (احمد رضا خان)
منزل کا صحیح ترجمہ میزبان ہے ، مہمان نواز ہونا اس کا لازم ہے۔

(۱۷) وَقُل رَّبِّ اَنزِلنِی مُنزَلاً مُّبَارَکاً وَاَنتَ خَیرُ المُنزِلِینَ۔ (المومنون: 29)

“اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تُو بہترین جگہ دینے والا ہے” (سید مودودی)
“اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے” (احمد رضا خان)
“اور یہ کہنا کہ پروردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ تو بہترین اتارنے والا ہے۔” (جوادی)
“اور کہنا کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں۔” (محمد جونا گڑھی)

(۱۸) رَبِّ لَا تَذَرنِی فَرداً وَاَنتَ خَیرُ الوَارِثِینَ۔ (الانبیاء: 89)

“اے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے” (سید مودودی)
“پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے” (فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا تمام آیتوں میں سب سے زیادہ اور سب سے بہتر کے بجائے بہترین سے ترجمہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔
(جاری)

سی پیک منصوبہ : قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں۔
چین ہمارا دوست ملک ہے جس نے ہر دور میں اور ہر نازک مرحلہ پر ہمارا بھرپور ساتھ دیا ہے جبکہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی ہمیشہ مثالی رہی ہے۔ اور اب سی پیک (China–Pakistan Economic Corridor) کا پروگرام اسی دوستی کی علامت اور اس کا عملی اظہار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے نہ صرف پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا بلکہ پورے علاقے کی صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ سی پیک معاہدوں کے حوالہ سے سوالات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے کہ ان کے بارے میں قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے جس کی مناسب صورت یہ ہے کہ سردار اختر مینگل کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے صورتحال کو واضح کیا جائے اور باہمی مشاورت کے ساتھ ان معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔ ویسے بھی قومی اسمبلی کا یہ حق ہے کہ قومی اور بین الاقوامی معاملات و معاہدات میں اسے پوری طرح اعتماد میں لیا جائے۔ اس کا مطلب چین کی دوستی اور خلوص پر کسی شک کا اظہار نہیں ہے بلکہ باہمی معاملات کو زیادہ شفاف اور اعتماد کے ماحول میں تکمیل تک پہنچانا ہے۔
گزشتہ روز ایک محفل میں اس بات کا تذکرہ ہوا تو ایک دوست نے کہا کہ ’’حسابِ دوستاں در دل‘‘ یعنی دوستوں کا حساب دل میں ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ درست بات ہے مگر بسا اوقات یہ صرف ایک حرف کے اضافہ سے ’’دردِ دل‘‘ بھی بن جایا کرتا ہے اور باہمی معاملات میں شکوک و شبہات کا پیدا ہو جانا دوستی کے لیے مشکلات پیدا کر دیا کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں کراچی کے معروف تجارتی جریدہ ہفت روزہ ’’شریعہ اینڈ بزنس‘‘ کے ستمبر ۲۰۱۲ء کے آخری شمارہ کا اداریہ بھی قابل توجہ ہے جسے ہم اس کالم کا حصہ بنا رہے ہیں:
’’کہانی بہت سادہ سی ہے۔ چین دنیا کا معاشی جن ہے۔ اس کے پاس ۳ ہزار ارب ڈالر سے زائد کے ریزرو پڑے ہیں۔ دنیا بھر میں اس کی ایکسپورٹ ہو رہی ہے اور وہ تیزی سے ڈالر سمیٹ رہا ہے۔ اس نے ۲۰۱۳ء میں پاکستان کو ۴۶ ارب ڈالر سے سی پیک منصوبہ شروع کرنے کی دعوت دی۔ اتنی بڑی دولت بیٹھے بٹھائے پاکستان میں آرہی تھی۔ اتنی دولت پاکستان میں آتی دیکھ کر ہر کسی کی آنکھیں پھیل گئیں۔ حکومتیں ریجھ گئیں، صوبے للچائی نظروں سے دیکھنے لگے۔ وفاق نے ایک کمیٹی بنائی اور بالا ہی بالا سی پیک کی تفصیلات طے کر لیں۔ اتنے میں میڈیا کو اس کی بھنک پڑ گئی۔ میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور صوبوں کو باور کروایا کہ تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ صوبوں نے ایک کورس میں اس ظلم و زیادتی کا نوحہ پڑھنا شروع کر دیا۔ حکومت گھبرا گئی۔ صوبوں سے بات کی تو ہر کسی کے مطالبات تھے۔ اسی ادھیڑبن میں چین نے کہا کہ ہم سی پیک کی سرمایہ کاری ۴۶ ارب ڈالر سے بڑھا دیں گے۔ ہمارے پاس ریزروز بہت ہیں۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے کہ پاکستان میں موجود ریزروز صرف ۱۶ ارب ڈالر کے ہیں۔ چین کے پاس اتنے ریزروز ہیں کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک ملا کر بھی اتنے ریزروز کے مالک نہیں ہیں۔ چین نے اشارہ دے دیا کہ ہم سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، آپ تمام صوبوں کو اعتماد میں لیں۔ اس کے بعد حلوائی کی دکان میں ناناجی کی فاتحہ برپا ہوگئی۔ ہر صوبے نے اپنے مطالبات رکھے۔ روٹ یوں نہیں یوں ہوگا۔ فلاں فلاں مرکزی شہروں سے گزرے گا۔ وفاق اور صوبے مطمئن ہوگئے، اپنے اپنے حصے پر خوش ہوگئے۔ مگر اس کی شرائط و ضوابط اور اصول کیا ہوں گے؟ اس سے ہر کسی کی نظریں اوجھل ہوگئیں۔
چین اس ساری گیم کو دیکھتا رہا اور اپنی مرضی کی شرائط دیتا گیا۔ ہماری حکومت اور تمام صوبے اس دوران شرائط سے لاتعلق رہے۔ سی پیک پر کام شروع ہوگیا۔ چین نے ملک میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ اس دوران حکومت بدل گئی اور نئی حکومت نے آتے ہی یوں تعجب کا اظہار کیا گویا اسے آج تک کسی بات کا علم ہی نہ ہو۔ یہ تعجب غلط تھا یا نہیں، اس کا جواب تو تاریخ کے پاس امانت ہے۔ مگر ہمارے خیال میں چین سے ان شرائط پر بہت واضح بات کرنے کی ضرورت ہے۔ چین ہماری دوستی کا دعوٰی بھی کرتا ہے، ہم اس کی خاطر امریکہ سے لڑ جاتے ہیں۔ پاک چین دوستی شہد سے زیادہ میٹھی، ہمالیہ سے زیادہ بلند اور سمندر سے زیادہ گہری کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔ مگر چین جب سرمایہ کاری کرتا ہے تو بے تحاشا سود رکھتا ہے۔ شرائط ایسی کہ یقین نہیں آتا۔ خدا کرے یہ شرائط منظر عام پر آئیں تو پتہ چلے کہ اس وطن پر کتنا بڑا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
پھر چین برکس کے نام سے اتحاد بناتا ہے تو اس میں پاکستان کو نہیں بلکہ انڈیا کو شامل کر لیتا ہے۔ پھر اسی فورم سے پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سی پیک پاکستان کی نہیں دراصل چین کی مجبوری ہے۔ اگر حکومت بھرپور غور و فکر کے بعد اس منصوبے کو آگے بڑھائے گی تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ پاک چین دوستی سمندر سے زیادہ گہری ضرور ہے مگر چین کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ دوستوں سے مفادات نہیں سمیٹے جاتے۔ ایک اعلٰی عہدیدار کے بقول امریکہ ہمیں سیدھی چھری سے ذبح کرتا تھا اور اب چین الٹی چھری پھیر رہا ہے۔ ان باتوں کے حقائق منظر عام پر آنے چاہئیں کہ اس کی شرح سود ۱۷ سے ۲۲ فیصد کے درمیان کیوں ہے؟ سی پیک منصوبوں سے ملنے والی بجلی پاکستانیوں کے لیے اس قدر کیوں مہنگی ہوگی؟ تھرمل، ہائیڈل اور سولر منصوبے ہمارے لیے اتنے مہنگے کیوں؟ خدانخواستہ چین ہمارے ساتھ وہ تو نہیں کرنے جا رہا جو اس نے زیمبیا اور سری لنکا کے ساتھ کیا؟ جاگتے رہنا بھائیو!‘‘
اس پس منظر میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے مطالبہ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ان معاملات کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانا اہم ترین قومی ضرورت ہے جس کی طرف حکومت کو فوری توجہ کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر کے ارباب دانش، علمی و فکری اداروں اور سیاسی و دینی راہنماؤں سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ان تمام امور کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر رائے عامہ کی بروقت راہنمائی فرمائیں تاکہ سی پیک منصوبہ کو ملک و قوم کے لیے زیادہ سے زیادہ مؤثر، مفید اور محفوظ بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم جناب عمران خان نے گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ CPEC کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور بلوچستان کو اس کا حق دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات بلوچستان کے بعض سرکردہ حضرات کی طرف سے اس سلسلہ میں چند تحفظات کے اظہار کے پس منظر میں کہی جبکہ اس کے ساتھ حکومت پاکستان کے مشیر تجارت و صنعت جناب عبد الرزاق داؤد کا ایک روز قبل کا یہ بیان بھی قابل توجہ ہے کہ ہمیں عقل سے کام لینا ہوگا، یہ نہ ہو کہ سی پیک انڈسٹریل زون میں چینی آجائیں اور ہماری صنعتیں بند ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی حکومت سی پیک کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اس پس منظر میں پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر محترم کا یہ حالیہ بیان یقیناً اہمیت رکھتا ہے کہ سی پیک کے خلاف سازش ہو رہی ہے جس کا چین اور پاکستان کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
سی پیک کے حوالے سے ہم گزشتہ سطور میں عرض کر چکے ہیں کہ اس کی اہمیت و ضرورت، افادیت و ثمرات اور نتائج و اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے تحفظات کے اظہار کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لیے اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر نہ صرف پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ ضروری ہوگیا ہے بلکہ ملک کے سیاسی، علمی، فکری، دینی اور سماجی دائروں میں بھی اس بحث و مباحثہ کی اہمیت و ضرورت کا احساس سامنے آرہا ہے جسے نظر انداز کرنے کی بجائے صحیح رخ پر اور مثبت انداز میں ڈیل کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس سلسلہ میں چند پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جن کو پیش نظر رکھنا اس عظیم منصوبے کی کامیابی اور تکمیل کے لیے ہمارے خیال میں ناگزیر تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ ان استعماری قوتوں اور لابیوں کے لیے تو یہ منصوبہ سرے سے قابل قبول نہیں ہے جو اسے عالمی اور علاقائی صورتحال میں ’’پاورگیم‘‘ کے حوالے سے اور موجودہ معاشی و اقتصادی ترجیحات میں ’’گیم چینجر‘‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسے کسی صورت میں کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہیں پاکستان اور چین کی باہمی اعتماد اور خلوص پر مبنی دوستی گوارا نہیں ہے اور وہ مستقبل میں اس دوستی کے متوقع عالمی کردار سے خائف ہیں۔ ان قوتوں اور لابیوں کے عزائم اور سرگرمیاں اس حوالہ سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور ان کا اضطراب ہر ممکن احتیاط اور کوشش کے باوجود کسی طرح چھپ نہیں پا رہا۔ لہٰذا ان کی چالوں سے ہوشیار رہنے اور اس منصوبے کو ان کی طرف سے پھیلائے جانے والے جالوں سے بچا کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی اگر معاشی اور سیاسی صورتحال عالمی اور علاقائی سطح پر جوں کی توں رہنی ہے اور اسے بالآخر موجودہ عالمی استعماری ’’فریم ورک‘‘ میں ہی فٹ ہو جانا ہے تو پھر اس کے لیے اب تک کی جانے والی محنت خود سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ہے۔ چنانچہ اس منصوبے کا یہ اصولی، اساسی اور بنیادی پہلو ہمارے نزدیک سب سے زیادہ قابل توجہ ہے، اس لیے اہل علم و دانش کو اس کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے ہر ممکن استعمال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور پورے حوصلہ، تدبر اور کاوش کے ساتھ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے، اس کا رخ موڑ دینے یا اسے اس کے مقاصد کے حوالے سے غیر مؤثر کر دینے کی سازشوں کو ناکام بنا دینا چاہیے، کیونکہ خود پاکستان کی قومی خودمختاری، استحکام اور بہتر مستقبل کے لیے یہ ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ان تحفظات کا جائزہ لینا بھی اسی طرح ضروری ہے جو اس سلسلہ میں سامنے آرہے ہیں مگر ان کے لیے کسی محاذ آرائی، شوروغوغا اور کسی دوسرے کو دخل اندازی کی دعوت بلکہ موقع دینے کی بجائے عوامی جمہوریہ چین کی حکومت و قیادت کے ساتھ دوستانہ ماحول میں کھلے دل کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سوچ اور فکر کے ماحول میں کہ دوستوں میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، باہمی شکایات جنم لیتی ہیں اور تحفظات وجود میں آتے ہیں جن کا حل انہیں نظر انداز کر دینا نہیں بلکہ ان پر آپس میں گفتگو کرنا اور ایک دوسرے کی شکایات کو سمجھ کر پوری ہمدردی کے ساتھ انہیں دور کرنا ہوتا ہے۔ ہم کسی صورت بھی یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ عوامی جمہوریہ چین کی قیادت اور ارباب فکر و دانش اپنے قدیمی اور باوفا دوست اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی مشکلات و مسائل پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، یا سمجھ میں آجانے کے بعد ان کو حل کرنے اور پاکستانی قوم کو مطمئن کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔
اگرچہ یہ تلخ تجربہ تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد دنیا کی ایک بڑی قوت کے ساتھ دوستی کا عہد و پیمان کیا تھا اور اس کے لیے اپنا بہت کچھ قربان کر دیا تھا، مگر اپنے یکطرفہ مفادات کی تکمیل کے بعد دوستی کے دوسرے فریق پاکستان کو نہ صرف حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا بلکہ اس دوستی کو آقائی میں بدلنے کی اس حد تک کوشش کی گئی کہ پاکستان کے ایک سربراہ مملکت کو اس پر ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ کے عنوان سے اپنا احتجاج و اضطراب تاریخ میں ریکارڈ کرانا پڑا تھا ۔ ہمیں عوامی جمہوریہ چین سے ہرگز اس کی توقع نہیں ہے اور ہم اس کے ساتھ اب تک کی دوستی اور باہمی اعتماد کو مستقبل میں بھی اسی ماحول میں دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اپنے ماضی قریب کو بھول جانا اور اس کی تلخ یادوں کو ذہنوں سے محو کر دینا بھی ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔
ان گزارشات کے بعد ہم ان چند تحفظات کا سردست صرف اجمالی تذکرہ کریں گے جو اس وقت ملک بھر میں مختلف سطحوں اور دائروں میں لوگوں کی زبانوں پر عام ہیں اور یہ چاہیں گے کہ ان کے بارے میں قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔
الغرض اس منصوبہ کی تفصیلات کا سامنے آنا ضروری ہے تاکہ اس کے حوالے سے دونوں ممالک کی ذمہ داریاں معلوم ہو سکیں، اس کے نتائج و ثمرات کا اندازہ کیا جا سکے، اور ان شکوک و شبہات کا ازالہ بھی ہو سکے جو مختلف قومی و بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے سامنے آرہے ہیں۔ اس سلسلہ میں کچھ اور پہلو بھی ہیں جن پر ہم حسب موقع گزارشات پیش کرتے رہیں گے اور یہ چاہیں گے کہ ان امور پر کھلے بحث و مباحثہ کے ساتھ نہ صرف اپنی قومی سوچ کو واضح کیا جائے بلکہ ان کے بارے میں عوامی جمہوریہ چین کی قیادت و دانش کے ساتھ بھی باہمی اعتماد کے ماحول میں دوستانہ گفت و شنید کی جائے تاکہ سی پیک کے مخالفین کو ان مسائل و تحفظات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے اور ہم باہمی اعتماد کے ساتھ اس تاریخی بلکہ تاریخ ساز عمل کو تکمیل تک پہنچا سکیں۔

گلگت بلتستان: آئینی بحران اور سیاسی محرومیاں

ڈاکٹر محمد حسین

گلگت بلتستان کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیوں بدگمانیوں کا بنیادی سبب عام شہریوں خصوصا سکول کے طلبہ سے لے کر یونیورسٹیوں کے محققین و اساتذہ تک کو علاقے سے متعلق درست معلومات کی فراہمی نہ ہونا ہے کیونکہ آئین پاکستان سمیت کسی بھی سرکاری قانونی دستاویز، قومی نصاب سمیت دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کا ذکر کہیں نہیں کیا جاتا۔ نیز قومی پالیسیوں اور ذرائع ابلاغ میں بھی گلگت بلتستان کے وسائل و مسائل، اور حقوق اور احوال پر بحث نہیں ہوتی۔  مقامی صحافت درکار تعلیمی اہلیت و عملی پختگی و مہارت کے علاوہ بہت سے ریاستی قدغنوں کی شکار ہے جبکہ علاقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے سیاسی و سماجی کارکنوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عملی طور پر قومی اسمبلی، سینٹ، بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی و اقتصادی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے۔ اس لیے گلگت بلتستان سے متعلق عوام و و خواص دونوں کی عمومی آگاہی کا معاملہ ناگفتہ بہ ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان ہماری اسٹبلشمنٹ کی بے حسی، حکمرانوں کی بے حمیتی، جمہوریت پسند، ترقی پسند دانشور طبقات کی گلگت بلتستان سے متعلق کم علمی جبکہ قومی میڈیا پر کاروباری مفاد یا قومی مفاد کے چکر میں گلگت بلتستان جیسے اہم سرحدی و سٹریجک علاقے کی آواز نظر انداز ہوتی ہے۔
پاکستان کے شمال مشرق میں موجود قدرتی وسائل سے مالا علاقہ گلگت بلتستان ہے جس کی آبادی دو ملین سے زاید ہے جس میں سے ایک تہائی آبادی تعلیم اور روزگار کی خاطر کراچی، راولپنڈی اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں بستی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں علاقے کا کچھ حصہ (شقصم اور اقصائے چین) چین کو دیے جانے اور معاہدہ تاشقند کے تحت کچھ حصے بھارت کو دیے جانے نیز سن اکہتر اور اٹھانوے میں کچھ سرحدی علاقے بھارت کے قبضے میں چلے جانے کے باجود بھی گلگت بلتستان کا موجودہ رقبہ تقریباً خیبر پختونخوا کے برابر اور آزاد جموں کشمیر سے تقریباً چھ گنا بڑا یعنی تہتر ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جس کا محض دو فیصد زرعی طور پر قابل کاشت ہے باقی بڑے بنجر میدانوں، جنگلات، جھیلوں، دریا، برفانی گلیشرز اور بلند پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ موجودہ گلگت بلتستان دس انتظامی اظلاع دیامر، استور، گلگت، ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، شگر، گنگچھے اور کھرمنگ پر مشتمل ہے۔ گلگت صدر مقام اور سکردو سب سے بڑا شہر شمار ہوتے ہیں، ان دونوں شہروں میں‌ائیرپورٹس موجود ہیں جہاں‌اسلام آباد سے روزانہ پاکستان ائیرلائن کی پروازیں چلتی ہیں۔
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے، دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 چوٹیوں کے علاوہ چھ ہزار میٹر بلندی کی پچاس برف پوش اور فلک شگاف چوٹیوں، ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش کے عظیم ترین پہاڑی سلسلوں، دنیا میں گلیشئرز کا دوسرا بڑا ذخیرہ، دنیا کی سب سے زیادہ بلندی پر موجود سب سے بڑا سرسبز میدان دیوسائی (پانچ ہزار مربع کلومیٹر کا سرسبز رقبہ)، سطح مرتفع پر پہاڑی سلسلوں کے درمیان دنیا کا سب سے بلند ترین ریتلے صحرا کولڈ ڈیزرٹ بھی اسی علاقے میں موجود ہے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ سیراب کرنے والے دریائے سندھ کا آبی ذخیرہ نیز درجنوں خوب صورت جھیلیں اور آبشاریں اور قدرتی گرم و ٹھنڈے چشمے اسی علاقے میں موجود ہیں۔ نادر آبی و جنگلی حیات کے علاوہ طرح طرح کے منفرد پھولوں، پھلوں اور قدرتی معدنیات اور قیمتی پتھروں کا ذخیرہ بھی یہاں پایا جاتا ہے۔ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور شفاف پانی کے فقدان کے تناظر میں‌یہ علاقہ دنیا کے بڑے آبی ذخائر میں سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ بلند پہاڑی ندیوں سے گرنے والے پانی سے براہ راست یا ڈیم بنا کر اس سے ہزاروں میگاواٹ نہایت سستی بجلی پیدا کرنے کی پوٹینشل موجود ہے اور ہزاروں مربع کلومیٹر کے بنجر میدانوں‌ کو قابل کاشت بنائے جا سکتے ہیں۔
مختلف پہاڑی وادیوں میں آباد گلگت بلتستان تاریخی و ثقافتی طور پر مختلف تہذیبوں، مذاہب، نسلوں اور زبانوں کا مرکز رہا ہے۔ اس میں اسلام سے قبل کے مذاہب بدھ مت اور بون مت کے تہذیبی آثار آج بھی محفوظ ہیں۔ آج بھی مختلف نسلی گروہ، زبانیں، اور متنوع ثقافتی روایات سے یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی کو تہذیبی رنگوں سے رنگا رنگ کر رہا ہے۔ بلتی، شینا، بروشاسکی، واخی، کھوار سمیت ہندکو، کشمیری، پشتو زبانیں یہاں بولنے والے موجود ہیں۔ سو فیصد مسلم آبادی پر مشتمل اس علاقے میں‌ اہل تشیع، اہل سنت (دیوبندی و بریلوی و جماعت اسلامی، اہل حدیث، اسماعیلی اور نوربخشی مسالک سے وابستہ ہیں۔مختلف علاقوں‌اور اضلاع میں‌ عموما کسی ایک مسلک کی بھاری اکثریت ہے۔ تعلیمی اداروں کے فقدان کے باوجود شرح خواندگی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی شرح پاکستان کے دیگر علاقوں سے زیادہ بلند ہے، سماجی طور پر جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ جبکہ مذہبی ہم آہنگی اور امن کا گہوارہ یہ علاقہ پاکستان بھر کے لیے مثال ہے۔ ضیاء الحق دور میں‌ ریاستی ایما پر افغان مجاہدین کے ذریعے فرقہ وارانہ بنیادوں پر لشکر کشی میں‌ تین سو سے زاید لوگوں‌ کو مارے جانے کے بعد اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں‌ جاری فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہشت گردی سے متاثر ہونے کے باوجود عموما گلگت بلتستان میں شیعہ سنی، اہل حدیث، اسماعیلی اور نوربخشی سبھی بھائیوں کی طرح رہتے آ رہے ہیں۔ پاکستان کی بڑی قومی سیاسی جماعتیں یہاں کی مقامی سیاست میں حصہ لیتی ہیں جبکہ چند قوم پرست سیاسی جماعتیں بھی ہیں۔ 

گلگت کے چند بنیادی مسائل 

گلگت بلتستان کے تقریباً عمومی طور پر معاشی لحاظ سے لوگ مڈل کلاس کے ہیں جن کا ذریعہ معاش زراعت، مال مویشی، یا ملازمت پیشہ ہے۔ جبکہ تجارت و سیاحت اور معدنیات سے جڑے پیشوں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ تعلیم، صحت، صنعت و تجارت اور سیاحت کے لیے انفراسٹرکچر کا شدید فقدان ہے۔ 2002 میں قراقرم یونی انٹرنیشنل ورسٹی بننے تک علاقے میں ایک بھی اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ جبکہ ابھی بھی کوئی میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج، لا، بزنس، مینیجمٹ سمیت کوئی بھی پروفیشنل ادارہ قائم نہیں ہے۔ معدنیات، کوہ پیمائی، سیاحت، تحقیق، زراعت اور معدنیات سمیت اہم شعبوں میں کوئی قابل ذکر سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ 
آئینی طور پر یہ علاقہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا متنازعہ علاقہ شمار ہوتا ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں‌ استصواب رائے کے ذریعے ہونا باقی ہے۔  یہ متنازعہ علاقہ جعرافیائی اعتبار سے اپنے اطراف میں چار ممالک (پاکستان، چین، انڈیا اور افغانستان جن میں سے تین ایٹمی طاقتیں ہیں)  کے درمیان گھرا ہوا ہے، جبکہ ترکمانستان کے راستے روس سے بھی قریب تر ہے۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت چین کا ون بیلٹ ون روٹ منصوبے کے تحت چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری  (سی پیک)  اسی متنازعہ خطے سے گزر رہا ہے۔راہداری کے ذریعے چائنہ کو پاکستان سے ملانے کے لیے پانچ سو کلومیٹر سے زائد کا راستہ گلگت بلتستان سے ہی گزر کر بن رہا ہے۔ سنگلاخ پہاڑی سلسلے میں سی پیک کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔ مگر اس اہم منصوبے کے نہ کسی اہم بین الممالک اجلاس میں گلگت بلتستان کو سٹیک ہولڈر کے طور پر حیثیت دی گئی اور نہ ہی یہاں باقی صوبوں کی طرح یہاں منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جو لوگوں کے احساس محرومی کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔ نیز دیامر بھاشا ڈیم بھی اسی علاقے میں‌ بنے گا۔
انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ قانون و انصاف کی فراہمی کے لیے موجود نظام جس چیف کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ اور سیشن کورٹ شامل ہیں بہت ہی ناقص، سست اور ریاستی جبر سے متاثر ہے اور علاقے میں عوام کے لیے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ قانون و انصاف کے کمزور نظام کے باعث علاقے میں میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر بلا معاوضہ پاکستان کے سول و عسکری اداروں کا قبضہ کرنا، آزادی اظہار پر قدغن لگاتےہوئے سیاسی مسائل وحقوق کے لیے آواز اٹھانے والے دسیوں سماجی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل کرنا س کی چند واضح مثالیں ہیں۔ ان مسائل پر مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی سربراہی میں ہونے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی کئی رپورٹوں میں تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ 
آئین کسی بھی ملک میں‌عوام اور ریاست کے درمیان حقوق و فرائض کا ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے۔  گلگت بلتستان ایک بے آئین سرزمین ہے جس پر وہ آئین و قانون نافذ ہے جس کی تشکیل میں‌اس کا کوئی کردار نہیں‌رہا ہے جس کے نفاذ کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں‌ہے، اس لیے یہ علاوہ ایک آئینی بحران کا شکار ہے۔  کورٹس کا بنیادی کام آئین کی تشریح کرتے ہوئے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے مگر آئین پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا  آئینی حصہ تسلیم ہی نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود گلگت بلتستان میں آئین پاکستان اور تعزیرات پاکستان اور پاکستانی قوانین کے مطابق ہی فیصلے کیے جاتے ہیں اور ان کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے قانون کا استعمال ہر اس شخص کے خلاف کیا جاتا ہے جو علاقے کے حقوق کی آواز اٹھائے چنانچہ بابا جان، حسنین رمل، افتخار احمد سمیت اہم سماجی کارکنوں پر گزشتہ کئی سالوں سے قید میں رکھا ہوا ہے۔ اور علاقے کے تقریبا ڈیڑھ سو نوجوان طلبہ، اساتذہ، صحافی، وکلا پر تقریبا ایک سال سے انسداد دہشت گردی کا دفعہ چار (شیڈول فورتھ) نافذ کیا ہوا ہے، مگر اس کے برعکس گلگت بلتستان کے مفلوج کورٹس کے فیصلوں کا اطلاق پاکستان کے شہریوں پر نہیں ہوتا جس کے کئی نظائر موجود ہیں۔
چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں پبلک سروس کمیشن نہ ہونے کے باعث کلیدی عہدوں کے لیے غیر مقامی اور نچلے گریڈ کی ملازمتوں کے لیے مقامی افراد کا کوٹہ مختص کرنے کے مسائل تسلسل کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری سمیت تمام کلیدی عہدوں‌ پر وفاق براہ راست اپنے بیوروکریٹس تعینات کرتا ہے جس کی حیثیت و کردار مقامی حکومت میں‌ایک وائسرائے سے کم نہیں‌ ہوتی۔
سن اکہتر اور اٹھانوے کی جنگوں سے متاثر ہونے والے سرحدی مہاجرین کے لیے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے باعث سینکڑوں مہاجرین بے گھر ہو کر در بدر ہورہے ہیں۔ کراچی اور اسلام آباد کی کچی آبادیوں‌ میں‌ گلگت بلتستان کے ایسے سرحدی مہاجرین بڑی تعداد میں‌ مقیم ہیں۔ واہگہ بارڈر اور آزاد کشمیر بارڈر پر سرحد کی دونوں طرف تجارت بھی اور آمد و رفت بھی جاری ہے مگر بلتستان کے سرحدی علاقے شخما، چھوربٹ اور کھرمنگ بارڈر خاص طور پر صدیوں سے قائم روایتی تجارتی راستہ کھرمنگ کرگل روڈ مکمل طور پر تجارت و آمد و رفت کے لیے بند ہے جس کے باعث آزادی اور جنگوں کے دوران بچھڑنے والے خاندان کنٹرول لائن کی دونوں طرف بہت ہی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ 
داخلی خود مختاری اور مالیاتی نظام نہ ہونے کے باعث سوست بارڈر کے محصولات سمیت تمام اہم محاصل وفاق لے جاتا ہے جبکہ شاہراہ قراقرم، دریائے سندھ، دیامر بھاشا ڈیم اور سالانہ لاکھوں بین الاقوامی سیاحوں سے لیے جانے والے ریوینو سے گلگت بلتستان کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا جبکہ متنازعہ علاقے ہونے کے باعث ان سب پر اولین حق علاقے کا ہی بنتا ہے اور ان سارے وسائل کی باقاعدہ رائلٹی علاقے کو ملنی چاہیے۔ 
حالیہ احتجاج کی شدت کی بنیادی وجہ یہی سب  عوامل ہیں جو علاقے کے احساس محرومی میں اضافہ کرنے اور لوگوں کے غم و غصہ کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ وفاق کو گلگت بلتستان کی داخلی خود مختاری کے لیے فوری طور پر سیاسی اصلاحات کے عمل کو تیز کر کے اس حساس سرحدی اور تزویراتی علاقے کو مستحکم کرنے میں ستر سال گزرنے کے باوجود مزید تاخیری حربوں سے کام نہیں لینا چاہیے، کیونکہ خظے کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم ترین عنصر سمجھا جانے والی چین پاکستان اقتصادری راہداری مضبوط و مستحکم اور پُرامن گلگت بلتستان میں ہی مضمر ہے۔ ہر احتجاج اور تحریک کو سازش کے کھاتے میں ڈال کر پاکستان کے کسی بھی آئینی صوبے سے بڑھ کر اس کے لیے ہزاروں افراد کی قربانی دینے والے علاقے کی بے لوث محبت و وفاداری پر سوال اٹھانے کے بجائے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق گلگت بلتستان کے سنجیدہ مسائل کو فوری حل کرے۔ پاکستان کو گلگت بلتستان کے صرف وسائل اور خوبصورتی سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ یہاں بنیادی مسائل و حقوق پر توجہ دینی ہوگی۔

گلگت بلتستان میں آئینی بحران کس طرح ہے؟

بھارت اور پاکستان کے مابین متنازعہ کشمیر کے چار حصے ہیں۔ پہلا حصہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر ہے جس کو بھارت کے آئین میں عبوری طور پر خصوصی صوبائی خودمختاری کا درجہ حاصل ہے جس کے تحت اسے راجہ سبھا اور لوک سبھا یعنی پارلیمنٹ اور سینٹ دونوں میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت ریاست کی متنازعہ حیثیت کو محفوط بھی رکھا گیا ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام خود مختار ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے جسے داخلی خود مختاری حاصل ہے اور یہاں‌ بھی سٹیٹ سبجیٹ رول کے نفاذ کے ذریعے اس کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم اور محفوظ کیا گیا ہے۔ تیسرا حصہ شقصم اور اقصائے چین ہے جو چین کے قبضے میں‌ ہے جبکہ چوتھا اور سب سے محروم حصہ گلگت بلتستان ہے جسے نہ پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے اور نہ ہی داخلی خود مختاری بلکہ ایک غیر آئینی صوبے کا لولی پاپ دے کر علاقے کے بیس لاکھ عوام کو بے وقوف بنا کر رکھا گیا ہے۔ الغرض گلگت بلتستان ایسے تمام حقوق سے محروم ہے جو ایک متنازعہ علاقے (بھارتی زیرانتظام اور پاکستانی زیر انتظام جموں‌و کشمیر)کے لیے حاصل ہیں۔ جبکہ پاکستان ہی کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر ریاست کو دفاع، خارجہ اور کرنسی کے علاوہ تقریباً تمام دیگر ریاستی امور میں داخلی خود مختاری حاصل ہے۔ ان کا اپنا آئین، جھنڈا، صدر، وزیر اعظم، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ، پبلک سروس کمیشن وغیرہ موجود اور فعال ہیں اسی طرح سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت سرزمین کشمیر کا تحفظ کیا جاتا ہے اور کوئی بھی غیر مقامی وہاں زمینوں کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔
اگرچہ آئین پاکستان میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کا بھی ذکر موجود نہیں ہے مگر اقوام متحدہ کے مسئلہ کشمیر کے مطابق گلگت بلتستان متنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔ پاکستان کے پاس موجود دو حصوں میں سے ایک حصے یعنی آزاد کشمیر کو خود مختاری دی گئی ہے لیکن گلگت بلتستان کو یہ خود مختاری حاصل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے حل کے لیے ممکنہ آپشنز

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے مستقل کے لیے ممکنہ طور پر کئی حل موجود ہیں۔

پانچواں صوبہ

 گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ بنایا جائے۔ مگر اسے آئینی صوبہ بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق جمع قرارداد میں اپنے اصولی موقف میں تبدیلی اور پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم لانی ہوگی جس کے بعد علاقے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جانا ہے۔ پاکستان نے یہ امید بھی لگا رکھی ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہو اور پورے متنازعہ خطے میں استصواب رائے کیا جائے تو تقریبا تہتر ہزار مربع کلومیٹر رقبے کے بیس لاکھ باشندے یعنی گلگت بلتستان کا ووٹ مکمل طور پر پاکستان کے حق میں ہوگا جس سے مجموعی صورت حال پاکستان کے حق میں جائے گی۔ ایک بہانہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان جی بی کو فی الحال آئینی صوبہ نہیں بنانا چاہتا تاکہ بھارت کشمیر پر اپنا موقف مضبوط نہ کر لے۔ بھارت سے کئی جنگیں لڑنے، ہزاروں جانیں دینے اور کھربوں ڈالر کے قومی وسائل خرچ کرنے کے بعد کشمیر کی قیمت پر شاید پاکستان گلگت بلتستان کو کبھی بھی مکمل آئینی صوبہ نہ بنائے، اس کے علاوہ کشمیری قیادت بھی اس کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ چنانچہ آئینی صوبہ نہ بنانے کے عزم کا اظہار مختلف وفاقی وزراء سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں نے متعدد بار کیا ہے۔
گلگت بلتستان میں موجودہ صوبائی شکل کسی طور پر آئینی صوبہ نہیں ہے۔ موجودہ اسمبلی، گلگت بلتستان کونسل، وزیر اعلی اور گورنر خالصتاً نمائشی عنوانات ہیں۔ ان کے اختیارات دونوں ہی مقامی کونسلر سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے جس میں گلگت بلتستان کے نام کا کوئی صوبہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ کسی بھی آفیشل دستاویز، قومی نصاب سمیت دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کا صوبے کے طور پر ذکر کہیں نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح عملی طور پر قومی اسمبلی، سینٹ بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے۔ وفاق اپنے ایک وزیر اور اپنی بیوروکریسی کے ذریعے اس علاقے کو انتظامی طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ چنانچہ گلگت بلتستان کے تمام کلیدی عہدوں پر وفاق ہی اپنے بندے بھیجتے ہیں۔ علاقے کے معاملات میں وزیر اعلیٰ سے زیادہ چیف سیکٹری کی حیثیت فیصلہ کن اور اہم ہوتی ہے جسے وفاق تعینات کرتا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر طرز کی داخلی خود مختاری

 دوسرا حل داخلی خود مختاری دینے کا ہے۔ جی بی عوام زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک اب کشمیر طرز کی خود مختار ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کو داخلی ریاست کا درجہ ملنے کی صورت میں یہاں آزاد کشمیر کی طرح کرنسی، خارجہ پالیسی، دفاع اور مواصلات وغیرہ کے معاملے میں پاکستان کے زیر انتظام ہو گا جبکہ دیگر معاملات میں گلگت بلتستان خود مختار ہوگا۔ سٹیٹ سبجیٹ رول کی بحالی کے ذریعے علاقے کی متنازعہ حیثیت کا تحفظ کیا جا سکے گا جس کی صورت میں گلگت بلتستان ریاست کے باشندے کا قانونی تعریف متعین ہوگی اور صرف وہی گلگت بلتستان میں‌ اراضی کی خریدو فروخت کر سکے گا۔  گلگت بلتستان کی مقامی قوم پرست سیاسی تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ و موقف یہی رہا ہے جسے اب دیگر سیاسی جماعتوں‌ اور عوامی حلقوں میں بھی بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔ 

آزاد جموں و کشمیر ریاست میں انضمام

تیسرا ممکنہ مگر علاقے کی عوام کے نزدیک انتہائی نا مطلوب آپشن یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کو موجودہ آزاد کشمیر ریاست میں ضم کیا جائے۔ کشمیری قیادت زیادہ تر اس حل کی حامی ہے مگر ستر سالوں سے کسی طرح تعامل نہ رہنے، جعرافیائی دوری اور وسائل و اختیارات میں غیر متوازن تقسیم نیز سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کے عوام کے اس آپشن کے لیے غیر آمادگی کے باعث یہ حل قابل عمل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ

لہذا گلگت بلتستان کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے مسئلے پر حکومت پاکستان اسے مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک آزاد کشمیر کی طرز پر داخلی خود مختاری دینے کے عزم کا اظہار کرے اور علاقے میں استصواب رائے (ریفرنڈم) کرانے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کو ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کی درخواست کرے۔۔ اس حل میں مسئلہ کشمیر پر بھی فرق نہیں پڑتا اور علاقے کو اس کی خواہش کے عین مطابق سیاسی حقوق پر مبنی خود مختاری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہی آسان ترین اور ہر ایک کی جیت (win-win) حل ہے۔ پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ ستر سال سے پکتے ہوئے لاوے کو پھٹنے سے پہلے حل کرے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی اصلاحات کی کمیٹیاں بناتے رہنا اور عوام کی مرضی کے بغیر ا ن پر کوئی بھی حکم نامے تھوپنا اب کسی طرح دانشمندی نہیں ہے۔ اس کی تازہ مثال وفاق میں‌ حکمران گزشتہ حکمران پارٹی مسلم لیگ نون کی جانب سے متعارف کردہ سیاسی اصلاحات بعنوان ’’گلگت بلتستان آرڈر ۲۰۱۸ کے نفاذ پر سامنے آنے والاگلگت بلتستان کا عوامی رد عمل ہے۔ 
اس پورے تناظر میں گلگت بلتستان کے باشعور جوانوں کی جانب سے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت و حقوق سے متعلق آگہی کے لیے پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں قومی سطح کے سیمیناروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لاہور، راولپنڈی، کراچی، سکردو اور گلگت میں‌ سیمیناروں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کی مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں کا ۲۰۱۳ سے مسلسل سرگرم عوامی اتحاد ’’گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ اس آگہی مہم کو عوامی حلقوں تک پہنچا رہی ہے۔ 
مختلف تعلیمی، صحافتی، سیاسی، سماجی، مذہبی، قانونی، پالیسی ساز اور تحقیقاتی اداروں،تنظیموں اورانجمنوں سے وابستہ احباب سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ بے آئین و بے آواز گلگت بلتستان کے لیے آواز اٹھانے میں گلگت بلتستان کے مہذب و باشعور جوانوں کا ساتھ دیں اور گلگت بلتستان کو آئینی بحران اور سیاسی و معاشی محرومیوں سے نکالنے کی جدو جہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔

طلاق کا اسلامی تصور: اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

اسلامی نظریاتی کونسل  کی طرف سے ، حال ہی میں اکٹھی تین طلاقوں پر سزا کی تایید کے حوالے سے طلاق کا مسئلہ ایک دفعہ پھر علمی حلقوں میں زیرِ بحث آیا ہے۔ طلاق کے بارے میں  افراط و تفریط پر مبنی رویے بالعموم اس بنا پر سامنے آتے ہیں کہ لوگ اسلام میں طلاق کی حیثیت و مشروعیت اور اس سے متعلق فقہا کے مواقف کو اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ راقم نے کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر تفصیلی تحقیقی مطالعے کے دوران  کچھ نوٹس لیے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے زیرِ نظر فیصلے پر اپنے تاثرات سے قبل ،حوالوں کی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹس کو  یہاں سادہ انداز سے اور اس ترتیب سے  پیش کر دیا جائے کہ  جہاں عام قارئین اسلام میں طلاق کے صحیح تصور اور اس سے متعلق فقہا کے مواقف سے آگاہ ہو سکیں،وہاں بعض اہم مسائل کے حوالے سے بنیادی فقہی مآخذ کی طرف  کیے گئے  اشارات کی روشنی میں محققین میں  زیرِ نظر موضوع سے متعلق   تفصیلی تحقیقی مطالعات   کی تحریک و تشویق پیدا ہو سکے۔

طلاق کی شرعی حیثیت

 اسلام نے معاہدۂ نکاح کو نہایت اہم اور مقدس ٹھہرایا ہے۔ اس کا اپنے ماننے والوں سے تقاضا ہے کہ شادی اور نکاح کے رشتے کو کھیل نہ سمجھا جائے، میاں بیوی حتی المقدور اس کو توڑنے سے احتراز کریں۔ میاں بیوی میں باہم اختلاف یا جھگڑا وغیرہ ہو جانا فطری سی بات ہے، لیکن اس کو جدائی پر منتج نہ ہونا چاہیے۔ اگر بات بات پر طلاق ہو گی تو دو افراد ہی نہیں کئی خاندانوں حتیٰ کہ پوری سو سائٹی پر اس کے نہایت مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ چناں چہ زوجین کے متعلقین کا فریضہ ٹھہرتا ہے کہ وہ ان میں کشیدگی کی صورت میں مل کر اصلاح کی کوشش کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ  ہے:
 وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُما(النساء 35:4)
“ اگر تمھیں ان دونوں میں کشیدگی کا خوف ہو، تو ایک حکم اس (مرد) کے اہل خانہ میں سے اور ایک حکم اس (عورت) کے اہل خانہ میں  سےمقر رکرو۔ (اور اصلاح کی کوشش کرو) اگر وہ اصلاح کے خواہش مند ہوں گے، تو اللہ ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔”
اسلام عقدِ نکاح کو باقی رکھنے کا اس درجہ خواہاں ہے کہ بیوی ناپسند ہو تو بھی صبر کے ساتھ نباہ کا حکم دیتا ہے: 
فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شيئا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (النساء19:4) 
“اگر تم انھیں (یعنی اپنی بیویوں کو) ناپسند بھی کرتے ہو (تو بھی ان سے برا سلوک نہ کرو) عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو، لیکن اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔”
 اگر بیوی کو شوہر سے شکایت ہو تو اسے بھی صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ اپنے خاوند کے برے سلوک پر صبر کرنے والی بیوی فرعون کی بیوی آسیہ کا سا اجر پائے گی۔ تاہم اسلام اعتدال پسند دین ہے۔ وہ لوگوں کو مجبور و لاچار نہیں بناتا اور نہ ان پر ناقابلِ برداشت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ بعض اوقات ایسی صورت ِحال پیدا ہو جاتی ہے کہ میاں بیوی کا عقدِ نکاح میں بندھے رہنا محال ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں اسلام نے اس بات کی گنجائش رکھی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو سکیں۔ طلاق کے جائز ہونے کا ثبوت متعدد آیات قرآنی (مثلاً البقرہ 227:2 تا 232 ) اور احادیثِ نبوی سے ملتا ہے۔ تاہم یہ باور کرانے کی سعی برابر کی گئی ہے کہ طلاق کو معمول اور مشغلہ نہ بنایا جائے اور اسے نہایت مجبوری کے عالم میں آخری حل اور چارۂ کار کے طورپر استعمال کیا جائے۔ حدیث نبوی ہے:
اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَّاقُ (ابو داؤد، بیہقی،دارقطنی، مصنف ابن ابی شیبہ)
“اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔”
(بعض  لوگوں اس حدیث  کے ضعیف ہونے کا “فتویٰ” دے کر اسلام میں طلاق کی ناپسندیدگی  کے تصور کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں ہماری  گزارش ہے کہ اس حدیث کو ایک طرف رکھ دیا جائے،  تو بھی اسلام میں طلاق کا  حلال  چیزوں میں سے ناپسندیدہ ہونا واضح ہے۔میاں بیوی میں اصلاح کی کوشش اور میاں  کو ناپسندیدگی کے باوجود  بیوی سے نباہ کی ترغیب سے متعلق اوپر درج آیات اس حقیقت کو عیاں کر رہی ہیں کہ شریعت طلاق کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو  میاں بیوی کے رشتے کو ٹوٹنے سے بچانے کی ترغیب کیوں دی جاتی!)

طلاق سے متعلق الفاظ اور ان کے اثرات

 فقہِ اسلامی کی رو سےطلاق شوہر کی طرف سے صریح الفاظِ طلاق کی ادائی سے بھی ہو جاتی ہے، اور غیر صریح یا کنایہ کے الفاظ سے بھی۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو صریح الفاظ سے طلاق دے گا ،یعنی لفظ طلاق یا اس کے مشتقات استعمال کرے گا ،تو چاہے اس کی نیت طلاق کی ہو یا نہ ہو، طلاق واقع ہو جائے گی۔ مثلاً اگر وہ کہتا ہے: اَنْتِ طَالِق، “تجھے طلاق ہے”  تو آدمی کی نیت کا اعتبار نہ ہو گا، اور طلاق پڑ جائے گی۔ اگر وہ صریح الفاظ سے طلاق نہ دے، بلکہ کنایہ کرے ،یعنی ایسے الفاظ استعمال کرے، جس کے طلاق کے علاوہ اور معنی بھی ہو سکتے ہیں ، مثلاً یوں کہے: تو جدا ہے، تو آزاد ہے، تو شوہر کی نیت کا اعتبار ہو گا۔ اگر اس کی نیت طلاق کی تھی ،تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں۔ شیعہ فقہا کے نزدیک البتہ صرف صریح الفاظ ہی سے طلاق واقع ہو سکتی ہے۔

اقسامِ طلاق

 طلاق کو مختلف تناظر میں مختلف قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سنت و بدعت ہونے کے اعتبار سے یہ طلاقِ احسن، طلاقِ حسن اور طلاقِ بدعت میں منقسم ہے اور اثرات کے اعتبار سے طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن اور طلاقِ مغلظہ میں۔ ان سب اقسام کی ضروری وضاحت درجِ ذیل ہے:

طلاقِ احسن

طلاقِ احسن طلاق کا سب سے پسندیدہ اور بہترین انداز ہے۔ اس میں خاوند اپنی بیوی کو طہر (حیض سے پاک ہونے) کی حالت میں جب کہ اس نے ابھی بیوی سے مباشرت نہ کی ہو، لفظِ طلاق کی ایک ہی دفعہ ادائی سے طلاق دیتا ہے اور عدت کے دوران اس سے مباشرت نہیں کرتا۔

طلاقِ حسن

طلاقِ حسن طلاقِ احسن سے کم پسندیدہ طریقِ طلاق ہے۔ اس میں خاوند اپنی بیوی کو تین طہر تک ہر طہر میں ایک ایک طلاق دیتا ہے اور عدت کے دوران اس سے صنفی تعلق قائم نہیں کرتا۔

طلاقِ بدعت

طلاقِ بدعت خلافِ سنت اور ناپسندیدہ طلاق ہے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں یا ایسے طہر میں، جس میں اس نے بیوی سے مباشرت کی ہو، یا حالتِ حمل میں، یا ایک ہی مرتبہ ایک سے زیادہ الفاظ سے طلاق دے، تو وہ طلاقِ بدعت ہو گی۔

طلاقِ رجعی

طلاق رجعی وہ ہے، جس میں مرد کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے یعنی اس سے ازدواجی تعلقات قائم کر لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ رجعی طلاق دو طلاقوں تک ہوتی ہے۔ یعنی پہلی طلاق کے بعد بھی مرد کو واپسی کا اختیار ہوتا، اور دوسری کے بعد بھی۔عدت کے دوران رجوع کا حق ان الفاظِ قرآنی سے واضح ہے:
 وَ بُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا (البقرہ 228:2) 
“اور ان کے خاوند اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو، اس دوران ان کو واپس لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔”
 رجوع صنفی تعلق ہی سے ہو گا یا الفاظ سے بھی ہو سکتا ہے؟ اس میں فقہا کا اختلاف ہے۔ “ہدایہ”سے احناف کی یہ رائے معلوم ہوتی ہے کہ رجوع الفاظ سے بھی ہو سکتا ہے لیکن “المجموع” میں شوافع (شافعی فقہا) سے منقول ہے کہ رجوع کے باب میں محض الفاظ اور رویہ معتبر نہیں۔ مالکیہ البتہ “المدونہ الکبری” کے مطابق نیت کے ساتھ رویے کا اعتبار کرتے ہیں۔

طلاقِ بائن

پہلی اور دوسری طلاق کے بعد اگر مرد رجوع نہ کرے، اور عدت گزر جائے تو طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے۔ اب اگر عورت چاہے تو وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ قرآن حکیم میں ہے:
 وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ (البقرہ 232:2) 
“جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو، اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں (اپنے دیگر) خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔”
 تاہم اگر میاں بیوی راضی ہوں تو تحلیل (یعنی حلالہ) کے بغیر ہی دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ اگر طلاق صریح الفاظ کی بجائے کنایہ کے الفاظ سے دی جائے، تو بھی طلاقِ بائن واقع ہو گی۔ اس صورت میں بھی مرد رجوع نہیں کر سکے گا ،البتہ باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکے گا۔ اگر شوہر کنایہ کے الفاظ سے طلاق دے، لیکن بعد میں نیتِ طلاق کا انکار کرے اور معاملہ عدالت میں چلا جائے، تو عدالت آدمی کی نیت کی تحقیق کرکے فیصلہ سنائے گی۔ طلاقِ بائن کی صورت میں میاں بیوی میں مکمل علاحدگی نہیں ہوتی بلکہ واپسی کا موقع باقی ہوتا ہے۔ طلاقِ بائن کو طلاقِ بائن بینونہ صغری بھی کہا جاتا ہے۔

طلاقِ مغلّظہ

اگر دو کے بعد تیسری طلاق بھی دے دی ،تو یہ طلاقِ مغلظہ ہو جائے گی۔ اب نہ صرف یہ کہ خاوند بیوی سے رجوع نہیں کرسکتا بلکہ اس سے نکاح بھی نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے۔ ارشاد خاوندی ہے:
 فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ (البقرہ 230:2) 
“پھر اگر خاوند نے اسے (تیسری) طلاق دی ،تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہ ہو گی،یہاں تک کہ اس کے علاوہ (دوسرے) خاوند سے نکاح کرے۔”
 طلاق مغلظہ کوطلاقِ بائن بینونہ کبری بھی کہا جاتا ہے۔

حلالہ اور اس کی روا و ناروا صورتیں

اگر عورت کو تیسری طلاق بھی ہو جائے، تو اب وہ پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور اور وہ اسے طلاق نہ دے دے۔ دوسرا مرد عورت کو اپنے پاس رکھنے کے بعد اپنی آزاد مرضی سے، کسی وجہ سے طلاق دے دے ،اور عورت عدت گزار کر اپنی مرضی سے سابقہ خاوند سے نکاح کر لے، تو اسے شریعت میں حلالہ یا تحلیل کہاجاتا ہے۔ یہ حلالہ کی جائز صورت ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ (البقرہ 230:2)
“ پھر اگر وہ (دوسرا خاوند) اسے طلاق دے دے، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ باہم رجوع کر لیں۔”
 لیکن کچھ لوگ یہ کرتے ہیں کہ طلاق ہو جانے کے بعد طے شدہ پروگرام کے تحت اپنی عورت کا دوسرے مرد سے نکاح کرتے ہیں، اور پھر اس سے طلاق لے کر خود سے نکاح کر لیتے ہیں۔ حلالہ کی یہ صورت ناجائز اور بہت بڑا گناہ ہے۔ احادیث میں اس عمل سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ کوئی صاحبِ عزت اور صاحبِ شرم و حیا عورت یا مرد اس دھندے میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ ناجائز حلالے کی صورت میں نکاح درست ہوتا ہے یا نہیں؟ اس پر فقہا میں اختلاف ہے۔ “ہدایہ” اور “بدائع الصنائع” میں احناف کی یہ رائے ہے کہ نکاح منعقد تو ہو جاتا ہے، لیکن مکروہ ہوتا ہے۔ جب کہ “مغنی المحتاج” اور “الشرح الکبیر بمع حاشیہ الدسوقی” کے مطابق فقہاے مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔

ایک مجلس کی تین طلاقوں کی حیثیت

 گو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دینا بدعت ہے، اور سب علما اس کے ناپسندیدہ ہونے پر متفق ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسا کر ڈالے کہ تینوں طلاقیں اکٹھی ہی دے دے، تو ان کی کیا حیثیت ہو گی؟ ایسی طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ اگر ہو گی تو طلاق رجعی ہو گی یا بائن یا مغلظہ؟ اس پر اہلِ علم میں بڑی بحث ہے۔ احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ چاروں مذاہبِ فقہ کی عام رائے ہے کہ ایسی طلاق بدعت ہونے کے باوجود واقع ہوجائے گی، نیز یہ طلاقِ مغلظہ ہو گی اور عورت پہلے خاوند کے لیے حلالے کے بغیر حرام ہو گی۔ لیکن ابن تیمیہ، ابن قیم اور بعض دیگر اہلِ علم ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرتے ،اور خاوند کو دورانِ عدت رجوع کا حق دیتے ہیں، جب کہ شیعہ فقہا ایسی طلاق کو طلاق ہی شمار نہیں کرتے، کیونکہ شریعت میں اس سے منع کیا گیا ہے۔

مطلقہ سے حسنِ سلوک

 اسلام، جو دشمنوں سے بھی خیر خواہی کا خواہاں ہے، اس بات کوکیسے گوارا کر سکتا تھا کہ طلاق دینے والا مرد اپنی مطلقہ بیوی سے بدسلوکی کرے۔ چناں چہ اس نے حکم دیاکہ طلاق دینے والے خاوند اپنی مطلقہ بیویوں سے بھلائی اور احسان کا رویہ اپنائیں۔ اگر انھیں کوئی تحفہ دیا تھا تو وہ واپس نہ لیں، (البقرہ 229:2) ان سے رجوع کرنا ہو تو نیک نیتی سے کریں اور عزت و اکرام سے اپنے پاس رکھیں، تکلیف دینے اور زیادتی کرنے کے لیے رجوع نہ کریں۔ اگر چھوڑنا ہو تو بھلے طریقے سے چھوڑ دیں، (البقرہ 231:2) مطلقہ عورتیں حاملہ ہوں تو بچے پیدا ہونے تک اور شیر خوار بچوں کی مائیں ہوں ،تو دودھ پلانے کے زمانے تک کا ان کا خرچ اٹھائیں اور حیثیت کے مطابق اپنی رہایش ایسی رہایش فراہم کریں۔ (الطلاق 6:65)

طلاق اور اس کا اسلامی طریقہ: ایک رحمت 

طلاق اور اس کا اسلامی طریقہ بنی نوع انسان بالخصوص خواتین کے لیے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ اللہ کے اس انعام کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے، جب آدمی دیگر مذاہب اور معاشروں کے نظام ہائے نکاح و طلاق سے اس کا تقابل کر کے دیکھے۔ دیگر مذاہب اورمعاشروں میں اس حوالے سے سخت افراط و تفریط ہے۔ کہیں نکاح کا بندھن ایک کھلونا بن کر رہ گیا ہے ،اور بات بات پر طلاق ہو جاتی ہے، اور کہیں میاں بیوی کا انتہائی مجبوری و ناگواری کے عالم میں بھی ایک دوسرے سے جدا ہونا محال ہے، یہاں تک کہ بعض جگہ خاوندکے مر جانے پر بھی عورت اس کی قید سے نہیں چھوٹتی ،یا اس کے ساتھ ہی مرنے پر مجبور ہوتی ہے، اور کہیں عورت کو بار بارطلاق دینے اور بار بار واپس لے لینے کا رواج نظر آتاہے۔ نیز مطلقہ عورتوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جاتے ہیں۔ جب کہ اسلام کا طریقِ طلاق نہایت احسن اور رحمت و رافت کے نوع بنوع پہلوؤں سے مملو ہے، نہ طلاق ایک مشغلہ ہے نہ غیر ممکن، نہ عورت کو خاوند کے ساتھ مرنا ہے نہ بے بسی سے اس کے ظلم سہنا۔ خاوند کو اسے رکھنا ہے تو عزت سے، چھوڑنا ہے تو وقار کے ساتھ۔

ایک مجلس کی  تین طلاقوں پر سزا اور اسلامی نظریاتی کونسل کا حالیہ فیصلہ

 گذشتہ رمضان المبارک میں معروف صحافی اور اینکر جناب سبوخ سید کی میزبانی میں ایک ٹی وی پروگرام میں مسئلہ طلاق ِ ثلاثہ زیربحث آیا۔ جانبین نے اپنا اپنا موقف بیان کیا۔ ایک طرف تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کا موقف اور دوسری طرف جامعہ اشرفیہ کے ایک مفتی صاحب اس پر مصر کی فقہا بیک وقت تین طلاقوں کے انعقاد کے قائل ہیں، لہذا نھیں تین شمار نہ کرنے کی رائے سے ہر گز اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔  مجھ سےرائے لی گئی تو میں نے عرض کیا:
“ائمۂ فقہ جو بیک وقت تین طلاقوں کے انعقاد کے قائل ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں۔بالفاظ دیگر فقہا تین طلاقیں ہونے کے قائل ہیں، دینے کے قائل نہیں۔ ایسی   طلاق کو طلاقِ بدعت قرار دینا فقہا کی اس پر ناپسندیدگی کا اظہار ہی تو ہے۔ لہذا طلاقِ بدعت کی حوصلہ شکنی کرنا فقہا کے موقف کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے!جانبین اپنی اپنی پوزیشن پر قائم رہتےہوئے ،ایسی طلاق کی حوصلہ شکنی کی تائید کر سکتے ہیں۔ سو اگر بیک وقت تین طلاقوں کے خلاف قانون سازی کی جائے تو فریقین کو قابل قبول ہوگی۔ اس رائے کو جانبین کے نمائندوں نے نہ صرف پسند کیا، بلکہ راقم کی  اس  رائے پر اتفاق ہوا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اگر اس سلسلے میں رول ادا کرے تو بہت مفید اقدام ہو گا۔”
اس سے چند دن قبل یہ خبر سنی اور27ستمبر 2018ءکے جنگ اخبار میں پڑھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اکٹھی تین طلاقوں پر سزا کے معاملے کی تایید کی گئ ہے ،تو بہت مسرت ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ یہی موقف ہے، جو فریقین کو قابلِ قبول بھی ہے اور سوسائٹی کے بہت سے موجودہ خاندانی مسائل کے  حل  کےلئے اکسیر بھی۔ ہم اس فیصلے پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل محترم ڈاکٹر قبلہ ایاز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
بات کو ذرا کھولیں تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ  فقہا تین طلاقیں ہو جانے پر کہتے ہیں طلاق ہو جائے گی، یہ نہیں کہتے کہ طلاق یوں دینی چاہیے، یا یہ کوئی پسندیدہ طریقۂ طلاق ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک بھی طلاق کا درست طریقہ یہی ہے کہ الگ الگ طلاق دی جائے اور سب سے اچھا طریقہ، جسے طلاقِ احسن سے تعبیر کیا جا تا ہے، یہ ہے  کہ ایک ہی طلاق دی جائےاور عدت گزرنے دی جائے۔اکٹھی تین طلاقیں ان کے نزدیک واقع ہو جاتی ہیں، لیکن یہ برا طریقۂ طلاق ہے، جس کو وہ طلاقِ بدعت سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ  فقہا کی طرف سے کسی امر کے جواز کا یہی مطلب نہیں ہوتا کہ ایسا کرنا مطلوب ہے،بلکہ اس کا مطلب ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا،  بہت دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا امر واقع ہوجائے تو قانوناً موثر ہے، نہ کہ وہ ایسا کرنے کی تایید کر رہے ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر کسی فقیہ کا فتوی ٰ ہو کہ جانور کی بیٹ لگی ہو تو نماز ہو جائے گی ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیٹ لگا کر نماز پڑھیں ۔بات فقط اتنی ہے کہ اگر مجبوری میں کہیں ایسا کرنا پڑ جائے، تو نماز ٹھیک ہو جائے گی ، لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔اب ذرا زیرِ بحث مسئلے کو دیکھیے۔ فقہا کا یہ کہنا کہ تین طلاقین بیک وقت دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی ، اس کے علاوہ کیا معنی رکھتا ہے کہ طلاق منعقد ہو جائے گی! نہ یہ کہ وہ ایسے جذباتی اور احمقانہ فعل کی تایید کر رہے ہیں۔بلکہ  یہاں تو وہ خود اس کی مخالفت کر رہے، اور اسے طلاقِ بدعت قرار دے رہے ہیں۔اگر کہیں ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ لوگ نماز کے بارے میں اتنے بےپرواہ ہو جائیں کہ نماز ایسی عبادت سے متعلق طہارت و نفاست کو ملحوظ رکھنے  کی بجائے، بیٹوں وغیرہ ایسی چھوٹی نجاستوں کے ساتھ نماز پڑھنے لگیں، اور بعد کا کوئی فقیہ یا فقہی ادارہ ، بیٹ کے ساتھ نماز نہ ہونے کا فتویٰ دے یا کم ازکم ایسی نماز کو لوٹانے کا حکم دے ،تو یہ ان فقیہ کے موقف کی مخالفت کیسے ہو سکتی ہے! اس لیے کہ لوگ جو کرنے لگے ہیں یہ فقیہ کا مطلب ہی نہیں تھا۔ اسی طرح تین طلاقوں کے انعقاد کے فتوے سے ان کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ جاہل اور جذباتی  لوگ   اکٹھی تین تین طلاقین دیتے جائیں اور  چند منٹوں کے بعد حلالے کی شرم ناک صورتوں کی طرف لپک کر انسانیت کی تذلیل کا راستہ اختیار کریں۔ ایسا تو خال ہی ہوتا ہے کہ مطلقہ کہیں اور نکاح کر ے اوروہ دوسرا شخص  اتفاق سے کبھی اس کو طلاق دے دے اور وہ پہلے خاوند سے نکاح کر لے۔ جو ہو رہا ہے وہ یہی تماشا ہے ، جس میں مرد دیوسیت کی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی  بیوی کو ایک رات کے لیے دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے، اور پھر اپنے نکاح میں لے آتا ہے۔(ازراہ تفنن کہے گئے اس جملے میں کیا تفقہ  ہے کہ حلالہ تو اس بے غیرت کا ہونا چاہیے ، جس کو نہ اپنے جذبات اور شخصیت پر کچھ کنٹرول حاصل ہے اور نہ  یہ پتہ  ہے کہ شریعت طلاق کے بارے میں فی الواقع کیا چاہتی ہے!) حوّا کی بیٹی کی اس سے بڑی تذلیل کیا ہو گی  کہ ایک احمق مرد کے احمقانہ فعل پر اس کی عزت نیلام ہو۔
بعض لوگ کہتے ہیں  کہ  فقہا یا علما اس نوع کے حلالے کی کب اجازت دیتے ہیں ! یہ حرام کاری تو لوگ خود کرتے ہیں! سوال یہ ہے کہ اس کا راستہ کیسے کھلتا ہے؟ اسی سبب سے نا کہ تین طلاقوں پر کوئی روک نہیں۔ لوگ یہ بیوقوفی کرتے ہیں اور کچھ نیم ملا  انھیں اس نوع  کے حلالے سے گزارنے کا نہ صرف  فتوی دیتے ہیں، بلکہ باقاعدہ(لاجسٹک)سپورٹ  فراہم کرتے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ طلاقِ ثلاثہ پر سزا کی بجائے انھیں قانوناً غیر موثر قرار دینا چاہیے۔ ہم سرِ دست اس  بات کے درست یا نادرست ہونے کی بحث میں نہیں  پڑنا چاہتے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ فقہا کی اکثریت اور ہمارے علما کی بھی  اکثریت تین طلاقوں کو غیر موثر ماننے کی شدید مخالفت کرے گی اور عملاً کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا۔ زیرِ بحث رائے سے  اس اکثریت  کی اکثریت متفق ہو سکتی ہے۔ اسے تحفظات اسی پر ہیں کہ تین طلاقیں ہو جائیں، تو چونکہ فقہی اعتبار سے موثر ہوتی ہیں ، لہذا ان کو غیر موثر نہیں مانا جا سکتا، لیکن اگر تین واقع ہی نہ ہونے دی جائیں ، اوراس پر کوئی قانونی روک لگا دی جائے ،تو ان کے بعض لوگوں کو اگر کوئی اعتراض ہو گا تو فقط یہی کہ فقہ میں  اس پر پابندی کی روایت نہیں رہی، لیکن عموماً اور اصولاً وہ اس  پر اس لحاظ سے اتفاق کریں گے کہ طلاقِ بدعت کو وہ بھی پسند نہیں کرتے، اور اس کے سبب سوسائٹی بہت سی  نفسیاتی اور معاشرتی الجھنوں کا شکار ہوتی ہے۔
رہا یہ سوال کہ اس پر سزا کیوں رکھی جائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ غلط کام ، جو سب کے نزدیک غلط ہے،اس سے روکنے  کا  طریقہ سزا ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سزا  بہت سخت سزا نہیں ہوگی ، لیکن  اس سے سوسائٹی  میں عام ہو ئے ہوئے طلاقِ ثلاثہ کے  فقہی ، قانونی، اخلاقی  ہر اعتبار سے  مکروہ اور اس کے نتیجے میں بروئے کار آنے والے حلالہ ایسے دیوثانہ  فعل کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹنا ۔ جناب جاوید احمد غامدی کے موقف پر بعض اشکالات کا جائزہ

محمد حسن الیاس

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے مروی ایک روایت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا ارادہ رکھنے والے غیر حاجیوں کو ذی الحجہ کی ابتدا سے بال اور ناخن نہ کاٹنے کی تلقین فرمائی ہے ۔روایت کے الفاظ ہیں :
اِذَا رَایتُم ہِلالَ ذِی الحِجَّةِ وَاَرَادَ اَحَدُکُم اَن یُضَحِّیَ فَلیُمسِک عَن شَعرِہِ وَاَظفَارِہِ (مسلم ،رقم ۱۹۷۷) 
“جب تم لوگ ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتاہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔”
استاذ مکرم جناب جاوید احمد غامدی نے اِس روایت کو اپنی کتاب “میزان” میں قبول کیا ہے اور قربانی کا قانون بیان کرنے کے بعد لکھا ہے:
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے البتہ، اِس کے بارے میں چند باتوں کی وضاحت فرمائی ہے: 
اول یہ کہ قربانی کے مہینے میں قربانی کرنے والے نذر کی قدیم روایت کے مطابق قربانی سے پہلے نہ اپنے ناخن کاٹیں گے اور نہ بال کتروائیں گے۔” (ص ۴٠۸)
صاحب “میزان” کے اِس موقف پر اُنھی کے اصولوں کی روشنی میں بعض اصحاب علم نے درج ذیل سوالات اٹھائے ہیں:
اول، کسی ایسی خبر واحد کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے جو دین میں ایک نیااور مستقل حکم بیان کر رہی ہو؟
دوم،بال اور ناخن نہ کاٹنے کی پابندی حالت احرام میں مشروع ہے ،یہ روایت احرام کی بعض پابندیوں کو غیرحاجیوں تک کیوں پھیلا رہی ہے؟
سوم،روایت کے الفاظ اِس ہدایت کے وجوب کا تقاضا کر رہے ہیں ،پھرصاحب “میزان” نے اِسے لازمی ہدایت کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا ؟
چہارم،صاحب “میزان” نے نذر کی جس قدیم روایت کا حوالہ دیا ہے ،اُس قدیم روایت میں ناخن تراشنے کا ذکرکیوں موجود نہیں ہے؟
پنجم،رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تلقین صحابہ کے دورمیں شائع وذائع کیوں نظر نہیں آتی اور ایسے نادر عمل کو عبادات کے باب میں کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟
ششم، سیدنا عائشہ سے مروی ایک دوسری روایت میں یہ صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کے جانور حرم میں بھجوانے کے باوجود احرام کی کوئی پابندی اختیار نہیں کرتے تھے، جب کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت اِس کے برخلاف بعض پابندیاں عائد کر رہی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو “میزان” میں اِس روایت کو قبول کرنے پر اٹھائے جاتے ہیں۔اِس آرٹیکل میں ہم کوشش کریں گے کہ ان سوالات کا استاذ مکرم جاوید احمدغامدی صاحب کے فہم دین کے اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیں،اور “میزان” میں اِسے قبول کرنے کی وجوہات کو سمجھیں۔اِس لیے اِن سوالا ت پر غور و فکر سے پہلے ضروری ہے کہ اسلام میں عبادات سے متعلق صاحب “میزان” کے چند تصورات کو پیش نظر رکھا جائے۔
پہلا،یہ کہ ہر عبادت چند اعمال پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثلاً نماز قیام ،رکوع اور سجدے سمیت کئی اعمال کا مجموعہ ہے۔یہ اعمال اپنی ذات یا واقعیت میں محض حرکات ہیں،یعنی ،قیام صرف کھڑا ہوجانا ہے۔انسان کھڑے ہونے کا یہ عمل زندگی میں کئی مواقع پر کرتا ہے،لیکن نماز میں قیام محض کھڑے ہوجانے کا نام نہیں، بلکہ یہ خدا کے سامنے فریادکناں بن کر حاضر ہونے کی علامت ہے۔یہ علامت اپنی حقیقت سے متعلق ہو کر ایک مقصد متعین کرتی ہے ۔نماز کے یہ سب اعمال انسان کے عملی وجود کی رعایت سے پرستش اوراطاعت کی علامات ہیں۔اِن علامات کووضع کرنے کا مقصد خدا کی یاددہانی اوراُس سے تعلق کے احساس کو زندہ رکھنا ہے۔ قرآن مجیدمیں نمازکے ا ِسی مقصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:
“ سو میری ہی بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز کا اہتمام رکھو۔” (طٰہٰ ۲٠: ۱۴)
یہی معاملہ دیگر مراسم عبودیت کاہے۔وہ اپنے اجزا میں اگرچہ متعین حرکات ہیں، لیکن یہ اعمال کسی مقصد کی علامت کے طور پر وضع کیے گئے ہیں۔ 
دوسرا پہلو اِن عبادات کو ادا کرنے کی نوعیت کا ہے۔اسلام میں عبادات کی دو ہی نوعیتیں ہیں: پہلی، یہ کہ وہ اپنے حدود و شرائط کے ساتھ لازم کر دی گئی ہیں۔اوردوسری، یہ کہ اُن کی ادائیگی ہماری صواب دید پرہے۔ قرآن مجید نے اِس بات کی تصریح کردی ہے کہ تمام عبادات اپنے حدود وشرائط کی رعایت سے تطوعاً بھی ادا کی جا سکتی ہیں، یعنی نماز اگرچہ پانچ اوقات میں لازم ہے ،لیکن ہم اِن اوقات کے علاوہ اپنی خواہش سے کسی بھی وقت نفل نماز ادا کر سکتے ہیں۔ ارشادفرمایاہے:
“ اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا، اللہ اُسے قبول کرنے والا ہے ، اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔”  (البقرہ۲: ۱۵۸) 
عبادات، خواہ لازم ہوں یا نفل،اُنھیں تطوعا ًادا کرتے ہوئے اُن کے حدود و شرائط کا اہتمام ضروری ہے۔ مثلاً لازمی نمازوں میں جس طرح وضو کی پابندی ہے ،نفل نماز ادا کرتے وقت بھی یہ پابندی برقرار رہے گی۔اِسی طرح بعض عبادات جو مخصوص مقام اور اوقات میں مشروع ہیں،جیسے حج ،اُسے تطوعاً بھی صرف اُنھی اوقات اور مقامات پر ادا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذ ا عبادات کے حوالے سے جودوسرا پہلو ذہن نشین رہنا چاہیے ،وہ یہ کہ تمام عبادات اپنے حدود و شرائط کی رعایت سے تطوعاً بھی ادا کی جا سکتی ہیں۔
عبادات کے حوالے سے جو تیسرا پہلو سامنے رہنا چاہیے ،وہ یہ ہے کہ تمام مراسم عبودیت جس طرح اعمال کے مجموعوں اور متعین ترتیب کے ساتھ دین میں جاری کیے گئے ہیں، اُسی طرح یہ اعمال اپنے اجزااور انفرادی حیثیت میں بھی عبادت ہی کے مشروع اعمال ہیں۔ مثلاً قیام، جس طرح رکوع اور سجدے کے ساتھ مل کر نماز میں عبادت کا عمل بنتا ہے، اُسی طرح وقوف عرفہ کے موقع پریہی قیام اپنی انفرادی حیثیت میں بھی پوری عبادت سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے نماز کے دوسرے اجزا کو انفرادی طور پر ادا کرنے پر فرمایا ہے:
“اُن کو جب خداے رحمن کی آیتیں سنائی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے جاتے تھے۔” (مریم ۱۹: ۵۸)  
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ نماز میںقیام اور رکوع کے بعد سجدے کیے، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران بھی آپ سجدے کیا کرتے تھے۔اِسی طرح حج بہت سے اعمال کو ایک ترتیب سے ادا کرنے کی عبادت ہے۔طواف اِنھی اعمال میں سے ایک عمل ہے، لیکن جس طرح طواف، مناسک حج کا حصہ بن کر ایک عبادت ہے، اُسی طرح اپنی انفرادی حیثیت میں بھی عبادت کا مکمل عمل ہے۔ لہٰذا عبادات کے اعمال کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جس طرح اِنھیں دوسرے اعمال کے مجموعے میں ایک خاص ترتیب سے ادا کیا جاتا ہے، اُسی طرح یہ انفرادی حیثیت میں بھی عبادت ہی کے مشروع اعمال ہیں۔
عبادات کے اِ ن تینوں پہلوو ں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ہم اصل سوالات پر غور کرتے ہیں۔پہلا سوال یہ تھا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت دین میں ایک مستقل عمل اور نیا حکم بیان کر رہی ہے۔ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا ارادہ رکھنے والے لوگوں کو جس عمل کی تلقین فرمائی ہے ، عبادت کا وہ عمل اپنی ذات میں پہلے سے مشروع ہے۔ یہ مشروع عمل نہ صرف یہ کہ حج میں جاری ہے ،بلکہ حج میں بھی اصلاً نذر کی جس قدیم روایت سے اخذکیا گیا ہے، اُس کے شواہد بھی الہامی صحائف میں بکثرت موجود ہیں ۔اِن شواہدکے مطابق نذر کے اِن اعمال کا مقصد خود کو خدا کی رضا کے لیے اُس کے سپرد کردینا ہے۔قدیم الہامی تہذیب میں اِس مقصد کی علامت کے طور پر تین عبادات جاری تھیں: نذر کی پہلی عبادت ،خدا کے نا م پر جانور کو ذبح کرنا تھا۔ دوسری، اِس ذبیحے کو لے کر قربان گاہ کے پھیرے لگانااور تیسری، اپنا سر منڈوانا اور ناخن تراشنا تھا ۔عبادت کے یہ تینوں اعمال جس طرح ایک مجموعے کی صورت میں متعین ترتیب سے ادا کیے جاتے تھے، اُسی طرح اپنی انفرادی حیثیت میں بھی مشروع تھے۔ چنانچہ الہامی صحائف میں جہاں اِنھیں ایک ترتیب سے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،وہیں نذر کے یہ اجزا انفرادی طور پر ادا کرنے کی روایت کے طور پر بھی جاری تھے۔بائیبل میں نذر کے اِن منفرد اعمال کوایک مجموعے کی صورت میں ادا کرنے کی ہدایات اِس طرح نقل ہوئی ہیں:
“اور اس کی نذرات کی منت کے دنوں میں اس کے سر پر استرا نہ پھیرا جائے جب تک وہ مدت جس کے لیے وہ خداوند کا نذیر بنا ہے پوری نہ ہو تب تک وہ مقدس رہے اور اپنے سر کے بالوں کو بڑھنے دے۔”
“وہ اپنی نذرات کی مدت تک خداوند کے لیے مقدس ہے۔”
“اور اگر کوئی آدمی ناگہان اس کے پاس ہی مر جائے اور اس کی نذرات کے سر کوناپاک کردے تو وہ اپنے پاک ہونے کے د ن اپنا سر منڈوائے، یعنی ساتویں دن سرمنڈوائے۔”
“اور آٹھویں روز دو قمریا ں یا کبوتر کے دو بچے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے۔”
“اور جب نذیر اپنی نذرات کے بال منڈوا چکے تو کاہن اس کے مینڈھے کا ابالا ہوا شانہ اور ایک بے خمیری روٹی میں سے اور ایک بے خمیری کلچہ لے کر اس نذیرکے ہاتھوں پر ان کو دھرے۔”
“اور کاہن ایک خطا کی قربانی کے لیے اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لیے گذرانے اور اس کے لیے کفارہ دے، کیونکہ وہ مردہ کے سبب سے گنہگار ٹھہرا ہے اور اس کے سر کو اسی دن مقدس کرے۔”
“پھر وہ نذیر خیمہ اجتماع کے دروازہ پر اپنی نذرات کے بال منڈوائے اور نذرات کے بالوں کواس آگ میں ڈال دے جو سلامتی کی قربانی کے نیچے ہو۔”
“پھر خداوند ان کو ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور ہلائے۔ ہلانے کی قربانی کے سینہ اور اٹھانے کی قربانی کے شانہ کے ساتھ یہ بھی کاہن کے لیے مقدس ہیں اس کے بعد نذیر مے پی سکے گا۔” (گنتی۶)
گنتی کے چھٹے باب میں جس طرح نذر کی قدیم روایت کے تمام اجزا کو ایک مجموعے میں خاص ترتیب سے ادا کرنے کی ہدایات دی گئیں، اُسی طرح بائیبل کے دوسرے مقامات پر نذر کے ان اجزا پر انفرادی طور پر عمل کی روایت بھی نقل ہوئی ہے۔چنانچہ جانور کی قربانی کی صورت میں نذر کی صرف ایک عبادت ادا کرنے کے حوالے سے بائیبل میں ہے:
“اور ساتویں سبت کے دوسرے دن تک پچاس دن لینا۔تب تم خداوند کے لیے نذرکی نئی قربانی گرداننا۔” (احبار۲۳)
“اور اگر وہ منت کسی ایسے جانور کی ہے جس کی قربانی لوگ خداوند کے حضور چڑھایا کرتے ہیں تو جو جانور کوئی خداوند کی نذر کرے وہ پاک ٹھہرے گا۔” (احبار ۲۷)
“اور فرماں روا سوختنی قربانیاں اور نذر کی قربانیاں اور تپان عےدوں اور نئے چاند کے وقتو ں اور سبتو ں اور بنی اسرائیل کی تمام مقررہ عےدوں میں دے گا ۔اور خطا کی قربانی اور نذر کی قر بانی اور سوختنی قربانی اور سلامتی کی قربانیاں بنی اسرائیل کے کفارے کے لیے تیار کرے گا۔” (حزقی ایل ۴۵)
“تو اِن چیزوں کی نذر کی قربانی کاچڑھاوا خدا وند کے پاس لانا،وہ کاہن کو دیا جائے گا ،وہ اُسے مذبح کے پاس لائے۔” (احبار۲)
جانور کی قربانی کی طرح سر منڈوانا اور ناخن تراشنا بھی اپنی انفرادی حیثیت میں نذر کی عبادت کے طور پر مشروع عمل تھا۔ اِسے بائیبل میں بدن کی قربانی قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ مختلف کتابوں میں ہے:
“پَس اَے بھائِیو۔ مَیں خُدا کی رحمتیں یاد دِلا کر تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ اپنے بَدَن اَیسی قُربانی ہونے کے لِیے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندِیدہ ہو۔ یہی تُمہاری معقُول عِبادت ہے۔” (رومیوں۱۲)
“اور اس وقت خداوند رب الافواج نے رونے اور ماتم کرنے اور سر منڈوانے اور ٹاٹ سے کمر باندھنے کا حکم دیا تھا۔” (یسعیاہ ۲۲)
“وہ تیری سبب سے سر منڈائیں گے اور ٹاٹ اوڑھیں گے۔وہ تیرے لیے دل شکستہ ہو کر روئیں گے اور جاں گداز نوحہ کریں گے۔”(واعظ ۲۷)
بائیبل کی درج بالا تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ قدیم الہامی روایت میں نذرکی یہ تینوں عبادات جس طرح ایک مجموعے کی صورت میں مخصوص ترتیب سے ادا کی جاتی تھیں، اُسی طرح اِنھیں انفرادی طور پر ادا کرنے کی روایت بھی جاری تھی۔ اِن تصریحات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر جانور کو ذبح کرنے کے ساتھ ، سر منڈوانے اور ناخن تراشنے کی دوسری عبادت پر ایک ساتھ عمل پیش نظر ہو تواِس صورت میں جانور کی قربانی تک سر کے بال اور ناخن بڑھنے دیے جائیں گے اور جانورکی قربانی کے بعد ہی نذر کی اِس دوسری روایت پر عمل کیا جائے گا اور سر منڈوایا اور ناخن تراشے جائیں گے۔
دین ابراہیمی کی روایت میں حج کے موقع پر نذر کی اِنھی تینوں عبادات کو جمع کردیا گیا ہے ۔چنانچہ مناسک حج میں جہاں جانور کی قربانی اور اُسے معبد کے پھیرے لگوانے کی علامت کے طور پر طواف اور سعی جاری ہے، وہیں قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ تراشنے اور جانور ذبح کرنے کے بعد ہی سر منڈوانے کی روایت بھی موجود ہے۔اِس عمل کی حقیقت اور فلسفہ کیا ہے؟ صاحب ”میزان“ نذر کے اِن اعمال کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔ ہم اپنی جان کا نذرانہ قربانی کے جانوروں کو اُس کی علامت بنا کر بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہیں تو گویا اسلام و اخبات کی اُس ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا اظہار سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی سے کیا تھا۔” (میزان ۴٠۶)
“اِس لحاظ سے دیکھیے تو قربانی پرستش کا منتہاے کمال ہے۔ اپنا اور اپنے جانور کامنہ قبلہ کی طرف کر کے ’بِسمِ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکبَرُ‘  کہہ کر ، ہم اپنے جانوروں کو قیام یا سجدے کی حالت میں اِس احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کی نذر کر دیتے ہیں کہ یہ درحقیقت ہم اپنے آپ کو اُس کی نذر کر رہے ہیں۔” (میزان ۴۰۴)
“یہی نذر اسلام کی حقیقت ہے، اِس لیے کہ اسلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ سر اطاعت جھکا دیا جائے اور آدمی اپنی عزیز سے عزیز متاع، حتیٰ کہ اپنی جان بھی اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے۔ قربانی، اگر غور کیجیے تو اِسی حقیقت کی تصویر ہے۔” (میزان ۴۰۴)
“قربانی جان کا فدیہ ہے اور سر کے بال مونڈنا اِس بات کی علامت ہے کہ نذرپیش کردی گئی ہے اور اب بندہ اپنے خداوند کی اطاعت اور دائمی غلامی کی اِس علامت کے ساتھ اپنے گھر لوٹ سکتا ہے۔ یہ دین ابراہیمی کی ایک قدیم روایت ہے۔” (میزان ۳۷۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر کی اِس قدیم روایت کے تمام اجزا کو جس طرح حج میں جاری کیا، اُسی طرح اِس عبادت کے ایک جز، یعنی جانور کی قربانی کو عید الاضحی میں جاری فرمایا ہے۔عید الاضحی میں جانور کی قربانی کی یہ سنت اجماع اور تواتر عملی سے منتقل ہوئی ہے اور پوری امت میں جاری ہے ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج میں جس طرح نذر کی تینوں روایات پر عمل کیا جاتا ہے،کیا عید الاضحی میں جانور کی قربانی کی عبادت اداکرتے ہوئے،نذرکی کوئی دوسری عبادت کی جاسکتی ہے؟ قرآن مجید نے اِس حوالے سے تمام عبادات کے بارے میں یہ بات تصریح کردی ہے کہ وہ اپنے حدود و شرائط کی رعایت سے تطوعاً بھی ادا کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی اِس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی اِسی اجازت کے تحت حج میں جاری نذر کی اِس قدیم عبادت کو اپنے حدود و شرائط کے ساتھ تطوعاً ادا کرنے کی ترغیب دے ر ہے ہیں اورروایت میں قربانی تک بال اور ناخن نہ تراشنے کی تلقین، دونوں عبادات پر ایک ساتھ عمل کرنے کے آداب کا بیان ہے ۔حج میں چونکہ اِ ن آداب کا التزام احرام باندھنے کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے، جب کہ غیر حاجی کے لیے دین میں اِس کے لیے کوئی مخصوص دن مقرر نہیں کیا گیا،اِسی اجازت کو پیش نظر رکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند کیا ہے کہ قربانی کے مہینے کی ابتدا ہی سے اِس پر عمل کیا جائے۔ذی الحجہ کی ابتدا سے یوم النحر تک عبادات کے اِن اوقات کی حکمت پراگر غور کیا جائے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تلقین حج میں شرکت سے محروم رہ جانے والے ایک بندہ مومن میں یہ نفسیاتی احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ حج میں موجود اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اِس عبادت کو ادا کرنے میں گویا شریک ہو گیا ہے۔
اِسی ضمن میں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر نذر کی روایت کے تحت قربانی کی سنت پر عمل ممکن نہ ہو تو کیا اِس صورت میں بھی نذر کی کوئی دوسری عبادت ادا کی جاسکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک دوسری روایت اِسے واضح کرتی ہے۔چنانچہ ایک موقع پر جب آپ سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس قربانی کے لیے جانور نہیں ہے،تو آپ نے فرمایا: جاو اپنے ناخن تراشو اور بال کتروا ،یہی مکمل قربانی سمجھی جائے گی۔ روایت کے الفاظ ہیں:
عن عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لرجل: ”امرت بیوم الاضحٰی عیدًا جعلہ اللّٰہ عز وجل لہذہ الامة“، فقال الرجل: ارایت ن لم اجد لا منیحة انثی افاضح بہا؟ قال: ”لا ولکن تاخذ من شعرک وتقلم اظفارک وتقص شاربک وتحلق عانتک فذلک تمام اضحیتک عند اللّٰہ عز وجل“(نسائی، رقم ۴۳۶۵)
“ عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آدمی سے کہا: مجھے اضحی کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اِسے بطور عید مناو¶ں، جسے اللہ عزوجل نے اِس امت کے لیے خاص کیا ہے۔ ایک آدمی نے پوچھا: میرے پاس تودودھ دینے والی ایک بکری ہے جو عاریتاً لی ہوئی ہے،کیا اُسی کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ،بلکہ اپنے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو اور زیرناف کی صفائی کر لو۔ اﷲکے ہاں تمھاری یہی کامل قربانی شمار ہوگی۔”
اِس روایت سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ نذر کی قدیم روایت کے تمام اجزا اپنی ذات میں ایک مکمل عبادت ہیں۔اِن کی ادائیگی ایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ حج میں جانور کی قربانی نفل اور اختیاری عبادت ہے ،جو ایک حاجی ترک بھی کر سکتا ہے،اِس کے باوجود سر کے بال منڈوانے کی اِس لازمی عبادت پر عمل کرتا ہے۔ لہٰذا جس طرح عید الاضحی میں جانور کی قربانی اپنے آپ کو خدا کی نذر کرنے کی ایک علامت ہے،اُسی طرح خدا کی غلامی قبول کرنے کی علامت کے طور پر سر منڈوا دینا قربانی کی دوسری عبادت ہے۔اگر غور کیا جائے تو قربانی کی یہی علامات ہیں جو انسان کو اطاعت اور سرافگند گی کی منتہا تک پہنچا دیتی ہیں ۔ قربانی کی اِس حقیقت کو قرآن مجید نے تقابل کے اسلوب میں نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔ارشاد ہوا ہے:
“کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ پروردگارعالم کے لیے ہے۔” (الانعام ۶: ۱۶۲)
صاحب “البیان” اِس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
“یہ نہایت خوب صورت تقابل ہے۔ بندہ مومن جیتا ہے تو روزوشب کی ہر کروٹ پر نماز میں ہوتا ہے اور مرتا ہے تو اِسی آرزو میں کہ جان و مال کی جس قربانی کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہا، اُس کا پروردگار اُسے قبول کرلے۔ چنانچہ نماز کے مقابل میں زندگی اور قربانی کے مقابل میں موت ہے۔” (البیان ۲/ ۱۲۵)
یہی وجہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے کی اِن عبادات کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے مناسک حج کا حصہ بنا دیا ہے۔اِن تمام پہلووں پر غور کرنے سے درج ذیل حقائق واضح ہوتے ہیں :
۱۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت دین میں کوئی مستقل عمل نہیں بیان کر رہی، بلکہ نذر اور قربانی کی اُسی قدیم روایت کی ایک عبادت پر تطوعاً عمل کا بیان ہے جس عبادت کے تما م اجزا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں اور ایک جز کو عید الاضحی میں بطور سنت جاری فرما چکے ہیں۔
۲۔ جانور کی قربانی کی سنت اجماع اور تواترعملی سے منتقل ہوئی ہے۔قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹنے کی تلقین،نذر کی دونوں عبادتوں پرایک ساتھ عمل کے آداب کا بیان ہے جو حج اور قدیم الہامی روایت میں پہلے سے جاری تھے۔ 
۳۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت نذر کی عبادات ادا کرنے کی تلقین اوراُن کے آداب کی یاددہانی پر مشتمل ہے ،کوئی نیا حکم ہر گز بیان نہیں کر رہی۔
“میزان” میں اِس روایت کو قبول کرنے پردوسرا سوال یہ اٹھایا گیا تھا کہ بال اور ناخن نہ کاٹنے کی پابندی حالت احرام میں مشروع ہے ،یہ روایت احرام کی بعض پابندیوں کو غیر حاجیوں تک کیوں پھیلا رہی ہے؟
اِس سوال کا جواب جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اِس بات کا جائزہ لیں کہ حالت احرام میں موجود پابندیوں کی اصل حقیقت کیا ہے اور جن پابندیوں کی توسیع کی گئی ہے، اُن کی حکمت کیاہے؟
حالت احرام کی پابندیاں یہ ہیں:
۱۔ شکار کی ممانعت ۔
۲۔ زیب و زینت سے پرہیز۔
۳۔ زن و شو کے تعلقات سے اجتناب۔
۴۔ بال اور ناخن نہ کاٹنے کا التزام۔
اِن میں سے پہلی پابندی، یعنی شکار نہ کرنے کو قرآن مجید نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
“ایمان والو، احرام کی حالت میں شکار نہ مارو۔ (یہ ممنوع ہے)، اور (یاد رکھو کہ)تم میں سے جس نے جانتے بوجھتے اُسے مارا، اُس کا بدلہ تمھارے مواشی میں سے اُسی کے ہم پلہ کوئی جانور ہے، جیسا اُس نے مارا ہے، جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے۔ یہ نیاز کی حیثیت سے کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اِس گناہ کے کفارے میں مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا یا اِسی کے برابر روزے رکھنا ہوں گے تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہو چکا، اُسے اللہ نے معاف کر دیا ہے، لیکن اب اگر کسی نے اُسے دہرایا تو اللہ اُس سے بدلہ لے گا۔ اللہ زبردست ہے، وہ بدلہ لینے والا ہے۔” (المائدہ ۵: ۹۵)
صاحب “البیان”  اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
“یہ تنبیہ نہایت سخت ہے۔ ابتلا کے احکام چونکہ بندوں کی وفاداری کا امتحان ہوتے ہیں، اِس لیے اُن کی خلاف ورزی یا اُن سے بے پروائی کی سزا بھی نہایت سخت ہوتی ہے۔ خدا کے ماننے والوں کو اِس پر ہمیشہ متنبہ رہنا چاہیے۔” (البیان ۱/ ۶۷۹) 
اِس آیت سے صاف واضح ہے کہ شکار کی اِس پابندی کا تعلق اصلاً حالت احرام سے ہے ،اور اِس پابندی سے مقصود امتحان کا محل بھی حرم ہی کی سرزمین ہے۔
دوسری پابندی زیب و زینت سے پرہیز کی ہے ۔اِس کا تعلق بھی اصلاً احرام کی پابندیوں سے ہے۔ حالت احرام میں ایک انسان کا اپنا لباس ترک کر کے دو چادریں اوڑھ لینا اِسی زیب و زینت سے لاتعلقی کا اظہار ہے۔ قرآن مجید نے مناسک حج کو شعائر، یعنی علامت قرار دےا ہے ، ہم جانتے ہیں کہ ہر علامت اصلاً کسی حقیقت کا شعور قائم رکھنے کے لیے مقرر کی جاتی ہے۔ صاحب “میزان” کے نزدیک اِن علامات ِحج میں درحقیقت مومنین کی ابلیس کے خلاف ازل سے جاری جنگ کو ممثل کر دیا گیا ہے، اور احرام باندھنا بھی اِسی مشق کا حصہ ہے۔ وہ حج کے مناسک کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
“(حج میں) اللہ کے بندے اپنے پروردگار کی ندا پر دنیا کے مال ومتاع اوراُس کی لذتوں اورمصروفیتوں سے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ 
پھر ’لبیک لبیک‘ کہتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچتے اوربالکل مجاہدین کے طریقے پر ایک وادی میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔
اگلے دن ایک کھلے میدان میں پہنچ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے،اِس جنگ میں کامیابی کے لیے دعا و مناجات کرتے اور اپنے امام کا خطبہ سنتے ہیں۔
تمثیل کے تقاضے سے نمازیں قصر اورجمع کرکے پڑھتے اور راستے میں مختصر پڑا¶و کرتے ہوئے دوبارہ اپنے ڈیروں پرپہنچ جاتے ہیں۔
پھر شیطان پرسنگ باری کرتے، اپنے جانوروں کی قربانی پیش کرکے اپنے آپ کو خداوند کی نذر کرتے، سرمنڈاتے اور نذر کے پھیروں کے لیے اصل معبد اورقربان گاہ میں حاضر ہوجاتے ہیں۔” (میزان ۳۷۴)
اِس کے بعد احرام کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“اِس لحاظ سے دیکھیے تو حج وعمرہ میں احرام اِس بات کی علامت ہے کہ بندہ مومن نے دنیا کی لذتوں، مصروفیتوں اور مرغوبات سے ہاتھ اٹھالیا ہے اور دو اَن سلی چادروں سے اپنا بدن ڈھانپ کر وہ برہنہ سر اور کسی حد تک برہنہ پا بالکل راہبوں کی صورت بنائے ہوئے اپنے پروردگار کے حضور میں پہنچنے کے لیے گھر سے نکل کھڑا ہوا ہے۔” (میزان ۳۷۴)
اِس سے واضح ہوتا ہے کہ حج کے دوران زیب و زینت سے پرہیز جس طرح احرام کو لازم کرتا ہے،اُسی طرح حالت احرام میں خوشبو لگانایا کسی دوسری زینت سے بچنے کی پابندی بھی اِسی کا ناگزیر تقاضا ہے۔
تیسری پابندی زن و شو کے تعلقات سے اجتناب کی ہے، ہمارے نزدیک اِس پابندی کا تعلق حالت احرام میں اُس مقام مقدس پر حج ادا کرنے سے ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے : 
“حج کے متعین مہینے ہیں ۔ سو اِن میں جو شخص بھی (احرام باندھ کر) حج کا ارادہ کر لے ، اُسے پھر حج کے اِس زمانے میں نہ کوئی شہوت کی بات کرنی ہے ، نہ خدا کی نافرمانی کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی کوئی بات اُس سے سرزد ہونی چاہیے۔” (البقرہ ۲: ۱۹۷)
 گویا یہ پابندی اصلاً حج میں شرکت اوراِن مخصوص ایام میں اِس مقام مقدس میں مناسک حج ادا کرنے سے متعلق ہے۔یہی وجہ ہے کہ ۱٠ ذوالحجہ کو قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیا جاتا ہے اور احرام کی سب پابندیاں اٹھ جاتی ہیں،لیکن اِس کے باجودزن و شو کے تعلقات اُس وقت قائم نہیں کیے جا سکتے، جب تک طواف افاضہ نہ ادا کر دیا جائے۔اِس پابندی کا تعلق محض حالت احرام سے ہوتا تو احرام اتارتے ہی اِس کی اجازت ہونی چاہیے تھی ،لیکن ہم جانتے ہیں کہ حج کی شریعت میں اِس کی اجازت نہیں ہے۔
چوتھی پابندی بال اور ناخن کاٹنے سے اجتناب کی ہے،ہمارے نزدیک اِس کا تعلق بھی محض احرام سے نہیں، بلکہ حالت احرام میں انجام دینے والی قربانی یا نذر کی اُس قدیم روایت سے ہے جسے مناسک حج کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ جس طرح حج میں طواف اور سعی نذر کی قدیم روایت کے تحت جانور کومعبد کے پھیرے لگوانے کی علامت ہیں،اِسی طرح حج میں قربانی کے بعدسر منڈوانا بھی بالکل اِسی روایت کے تحت ہے۔اِس پابندی کی ابتدا یقینا احرام باندھنے کے بعد ہوتی ہے ،لیکن اصلاً یہ نذر کی قدیم روایت کی علامات ہیں،جنھیں احرام میں اپنا لیا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حج میں قربانی کے بعد ہی سر منڈوایا جاتا ہے۔
حالت احرام کی پابندیوں کی حقیقت جان لینے کے بعد اب اِس سوال پر غور کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی پابندیوںمیں سے صرف بال اور ناخن نہ کاٹنے کی تلقین کی ہے ،باقی پابندیاں کیوں نہیں بیان کیں؟ تواِس سوال کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے موقع پر جانور کی قربانی کی صورت میں نذر کی ایک عبادت جاری کی ہے،بال اور ناخن نہ تراشنے کا تعلق محض احرام کی پابندیوں سے نہیں، بلکہ نذر کی قدیم عبادت سے ہے،اِسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کی قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص کو نذر کی ایک دوسری عبادت کے اہتمام کی تلقین کی ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسک حج میں سے صرف نذر کی عبادات پرہی عمل کی تلقین کیوںکی؟ تواِس سوال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کی قربانی ،سر منڈوانے اور ناخن تراشنے اور تکبیرات تشریق کے علاوہ حج میں ادا کیے جانے والے تمام اعمال کا تعلق مقامات حج سے ہے،مثلاً طواف کا تعلق بیت اللہ سے ہے،اِسی طرح سعی کا تعلق صفا اور مروہ سے ہے،رمی کا تعلق جمرات اوروقوف کا تعلق عرفہ کے مقام سے ہے، جب کہ جانور کی قربانی،بال کتروانے اور ناخن تراشنے اور تکبیرات تشریق اپنے مقام سے مجرد ہوکر بھی اپنی حقیقت پوری طرح قائم رکھتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی میں قربانی کی توسیع کی ، نذر کی عبادت سر منڈوانے اور ناخن تراشنے کی تلقین کی اور ایام تشریق میں غیر حاجیوں میں بھی تکبیرات تشریق ادا کرنے کی روایت کو جاری فرمایا۔
تیسرا سوال یہ پیش کیا گیا تھا کہ روایت کے الفاظ اِس ہدایت کو لازم قرار دینے کا تقاضا کر رہے ہیں،لیکن صاحب “میزان” نے اِسے لازمی ہدایت کے طور پر قبول نہیں کیا۔جو اہل علم اِسے لازمی ہدایت میں شمار کرتے ہیں، اُن کا استدلال یہ ہے کہ اِس روایت میں امر کا فعل نقل ہوا ہے اور صیغہ امر اصلاً وجوب کے لیے آتاہے۔ اُن کے نزدیک اِسے کسی اور معنی میں مراد لینے کے لیے قرینہ درکار ہوتا ہے ،جو یہاں مذکور نہیں، لہٰذااِس روایت میں بھی صیغہ امر کے ساتھ جو ہدا یت دی گئی ہے،وہ ایک لازمی ہدایت سمجھی جائے گی ۔ 
ہمارے نزدیک اُن کا یہ نقطہ نظر درست نہیں ہے، اِس لیے کہ کوئی مستقل دینی حکم قرآن و سنت کی محکم بنیاد کے سوا اخذ نہیں کیا جاسکتا۔دین کی تمام ہدایات قرآن و سنت کی صورت میں صحابہ کے اجماع اور قولی اور عملی تواتر کے قطعی اور بے شبہ ذرائع سے ہم تک پہنچی ہیں، جب کہ خبر واحد کا معاملہ یہ نہیں ہے۔تمام اخبار آحاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کا تاریخی ریکارڈ ہیں، جسے لوگ ’روایت بالمعنٰی‘ کے اصول پر نقل کرتے ہیں،یعنی راویوں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی موقع کی کوئی بات پہنچی تو اُنھوں نے اِس کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں نقل کردیا۔ لہٰذا خبرواحد کے الفاظ سے کسی حکم کی فرضیت کا استدلال ہی نہیں کیاجاسکتا۔ مزید یہ کہ صیغہ امر سے فرضیت کا جو استدلال کیا جاتا ہے، وہ بھی محل نظر ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ صیغہ امر اصلاً وجوب کے لیے نہیں آتا۔ صیغہ امر وجوب، استحباب، اباحت، ندب، تہدید، تعجیز، احتقار، درخواست، تفویض، تعجب اور اِن کے علاوہ دیگر کئی معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے، صرف قرآن مجید میں دیکھ لیا جائے تو صیغہ امر اِن سب معنی میں استعمال ہوا۔ مثلاً ارشاد ہوا ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا کُلُوا مِن طَیِبٰٓتِ مَا رَزَقنٰکُم وَاشکُرُوا لِلّٰہِ اِن کُنتُم اِیَّاہُ تَعبُدُونَ  (البقرہ۲: ۱۷۲) 
“ایمان والو، (یہ اگر اپنی اِن بدعتوں کو نہیں چھوڑتے تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑو، اور) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں، اُنھیں (بغیر کسی تردد کے) کھاؤ اور اللہ ہی کے شکرگزار بنو، اگر تم اُسی کی پرستش کرنے والے ہو۔”
اِس آیت میں صیغہ امر محض اباحت کے لیے آیا ہے ، یعنی یہاں’کُلُوا‘ صیغہ امر کہہ کر ہر ایک پر طیبات کھانے کو لازم نہیں کردیا گیا، بلکہ اِس لفظ کے استعمال سے ایک غلط بات کی تردید کی گئی ہے ،اور وہ یہ ہے کہ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی جائز چیز کو دوسروں پر حرام قرار دے ،اللہ تعالیٰ نے جو طیبات پیدا کی ہیں،انھیں کھانا ہو تو بلاتردد کھایا جا سکتا ہے۔
لہٰذا یہ بات کہ امر اصلاً وجوب کے لیے آتا ہے، درست نہیں ہے۔ صیغہ امر کے معنی کی تعیین کلام کی لفظی صراحت، اُس کا سیاق، عقلی قرائن اور اسلوب ہی کرسکتا ہے۔مجرد فعل امر کو اصلاً کسی ایک معنی میں قرار دینا زبان اور بیان کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ہر صیغہ امر کا معنی کسی کلام میں اُس مقام پر ہی طے کیا جا سکتا ہے، جہاں متکلم نے اُسے استعمال کیا ہے ۔
اب ہم غور کرتے ہیں کہ اِس روایت میں صیغہ امر کس معنی میں آیا ہے۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عمل کے بارے میں صیغہ امر استعمال کیا ہے، وہ عمل حج میں ایک لازمی پابندی کے طور پر جاری ہے ،جسے امت نے اجماع اور تواتر عملی سے منتقل کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حج میں اِس کے وجوب پر کوئی اختلاف نہیں ہے،لیکن غیر حاجی کے لیے قربانی کی اِس عبادت کو قرآن و سنت نے لازم کیا ہے، نہ اِس روایت میں اِسے فرض قرار دینے کی لفظاً کوئی صراحت موجود ہے۔ لہٰذا یہاں صیغہ امروجوب کے معنی میں نہیں ہے۔اِس روایت میں شارع کا منشا بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی قربانی کی عبادت ادا کرنا چاہتا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ نذر کی ایک دوسری عبادت کا بھی اہتمام کرے۔ لہٰذا یہ ایک عبادت پر تطوعاً عمل کا بیان ہے۔چنانچہ صیغہ امر یہاں استحباب کے معنی میں ہے ۔اِسے وجوب کے معنی میں استعمال کرنے کی کوئی لفظی صراحت موجود نہیں ہے۔
بالکل یہی صورت ایک دوسری روایت میں بھی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
عَن قَیسٍ، قَالَ: سَمِعتُ اَبَا مَسعُودٍ، یَقُولُ: قَالَ النَّبِیُّ صَّلَی اللّٰہُ عَلَیِہ وَسَلَّمَ: ” اِنَّ الشَّمسَ وَالقَمَرَ لاَ یَنکَسِفَانِ لِمَوتِ اَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلٰکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِن آیَاتِ اللّٰہِ، فاذَا رَاَیتُمُوہُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا“  (بخاری، رقم ۱٠۴۱) 
“ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ اُنھوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا ۔ یہ دونوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں، اس لیے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔”
 اِس روایت میں بھی فعل امر کے ساتھ چاند اور سورج گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔اب یہاں فعل امر کو وجوب کے معنی میں مراد لینے کے لیے کلام میں کوئی لفظی صراحت موجود نہیں ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شارع نے نماز کو صرف پانچ اوقات میں لازم قرار دیاہے ۔اِس کے علاوہ ہر نماز نفل ہے۔ لہٰذا یہاں بھی صیغہ امر استحباب ہی کے معنی میں ہوگا۔ 
ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی بعض دوسرے طرق میں صیغہ امر کے بجاے نفی موکد کا اسلوب نقل ہوا ہے، روایت کے الفاظ ہیں: ’فلا یاخذن شعرًا ولا یقلمن ظفرًا‘، (مسلم، رقم ۵۲۳۳) ہمارے نزدیک یہ اسلوب بھی استحباب ہی کے لیے ہے، تاہم تاکید کا یہ اسلوب اِس ہدایت کو استحباب موکد تک لے جاتا ہے،لیکن یہاں بھی اِس تلقین کو لازم قرار دینے کی لفظاً کوئی صراحت مذکور نہیں ہے۔
چوتھا سوال یہ تھا کہ صاحب “میزان” نے نذر کی جس قدیم روایت کا حوالہ دیا ہے ،اُن صحائف میں ناخن تراشنے کا ذکر کہیں موجود نہیں ہے۔ہمارے نزدیک اِس کی وجہ الہامی صحائف کا منفرد ادبی اسلوب ہے۔ کسی بھی ادبی کلام میں زیر بحث موضوع کے تمام اجزا کو منطقی ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے، نہ ہر موقع پر جملہ حدود و شرائط ذکر کر کے کسی عمل کی مکمل تنقیح کی جاتی ہے، ایک ادبی کلام ہمیشہ اپنے مخاطبین کی رعایت سے رواں دواں اسلوب میں بات کرتا ہے اورکسی ہدایت کے تمام اجزا کو بیان کرنے کے بجاے ،بسا اوقات ایک جامع علامت کا حوالہ دے کر ہی پوری حقیقت بیان کر دی جاتی ہے۔بلاغت کی اصطلاح میں اِسے ’علی سبیل التغلیب‘ کا اسلوب کہا جاتا ہے ۔ الہامی صحائف میں بھی قانون و منطق کی کتابوں کی طرح قیود و شرائط اور حکم کی تحدید کا انداز نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک زندہ اور رواں ادبی کلام کی طرح گفتگو کرتے ہیں ،مثلاً دیکھیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو جب صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرہ ادا کیے بغیر واپس لوٹنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
“یقینا اللہ نے چاہا تو تم مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے،پورے امن کے ساتھ، اِس طرح کہ اپنے سر منڈوائیں گے اور بال کترواؤ گے، تمھیں کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔” (الفتح ۴۸: ۲۷)
اِس آیت میں صرف سر منڈوانے اور بال کتروانے کا ذکر ہے جو عمرے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا آخری فریضہ ہے، لیکن اِس ایک فریضے کو پورے عمرے کی ایک جامع تعبیر کے طور پر بیان کردیا گیا ہے ، جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ عمرے کی جس عبادت کے لیے تم جا رہے ہو، اُس کے تمام مناسک پورے کرو گے،اُس کی تکمیل کے اِس منسک سمیت۔ اِس مقام پر عمرے کے تمام مناسک بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،اِس لیے کہ مخاطبین اُن سے بخوبی واقف تھے۔ لہٰذا متکلم نے محض آخری علامت کو بیان کرکے پوری حقیقت کی جانب توجہ مبذول کروا دی ہے۔
یہی اسلوب ایک دوسرے موقع پر بھی ہے، قرآن مجید نے جب یہ بتایا کہ اگر ہدی کے جانور لے کر عمرے کی نیت سے نکلے ہو، اور حرم تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے تو قربانی ہی اِس کا قائم مقام ہے، جب تک قربانی نہ کر دی جائے ،سر نہیں منڈوایا جائے گا، ارشاد ہوا ہے:
“اور حج و عمرہ (کی راہ اگر تمھارے لیے کھول دی جائے تو اُن کے تمام مناسک کے ساتھ اُن)کو اللہ ہی کے لیے پورا کرو، لیکن راستے میں گھر جا¶ تو ہدیے کی جو قربانی بھی میسر ہو، اُسے پیش کردو ، اور اپنے سر اُس وقت تک نہ مونڈو، جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔” (البقرہ ۲: ۱۹۶)
یہاں دیکھیے ،اصلاً مقصود یہ ہے کہ قربانی کر کے سر منڈوانے تک احرام کی پابندی ختم نہیں ہو گی ،لیکن احرام کی اِن سب پابندیوں کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صرف سر منڈوانے کا کہا گیا ،کیونکہ مخاطبین جانتے تھے کہ یہی وہ آخری عمل ہے جس کے بعد احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں،چنانچہ جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس ہدایت پر عمل کیا تو جانور ذبح کرتے ہی احرام کھول دیا۔
ہمارے نزدیک یہی وجہ ہے کہ الہامی صحائف نے نذر کی اِس عبادت میں ناخن تراشنے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اِسے سر منڈوانے کی ایک جامع تعبیر سے ادا کر دیا گیا ہے ،گویا ناخن تراشنے کی ہدایت اِس میں آپ سے آپ موجود ہے۔تاہم بائیبل کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو چونکہ خدا نے بطور قوم ایک ذمہ داری کے لیے منتخب کیا تھا، اِس لیے اُن میں اگر باہر سے کوئی لونڈی بھی شامل ہوتی تو پہلے وہ خود کو علامتاً خدا کی نذر کرتی، اور نذر کی جو علامات اُس موقع پر نقل ہوئی ہیں، اُن میں سر منڈوانے کے ساتھ ناخن تراشنے کا ذکر بھی صراحتاً مذکور ہے۔چنانچہ استثنا میں ہے:
“اور اُن اسیروں میں سے کسی خوبصورت عورت کو دیکھ کر تُو اُس پر فریفتہ ہو جائے اور اُس کو بیاہ لینا چاہے۔ تو تُو اُسے اپنے گھر لے آنا اور وہ اپنا سر منڈوائے اور اپنے ناخن ترشوائے۔” (کتاب استثنا ۲۱: ۱۱- ۱۲)
لہٰذا یہاں ناخن تراشنے کے صریح ذکر کے بعد سے یہ سوال مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے کہ قدیم الہامی صحائف میں سر منڈوانے کے ساتھ ناخن تراشنے کا ذکرکہیں موجودہی نہیں ہے۔
پانچواں سوال یہ تھا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تلقین دور صحابہ میں شائع و ذائع کیوں نظر نہیں آتی؟ ہمارے نزدیک، اِس سوال کا وہی درست جواب ہے جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے تابعی سعید بن مسیب نے دیاتھا ۔صحیح مسلم میں یہ جواب اِ س پس منظر میں نقل ہوا ہے کہ عید الاضحی سے پہلے بعض لوگوں نے بال کتروا لیے تو حمام والوں نے اُنھیں بتایا کہ سعید بن مسیب اِس سے منع کرتے ہیں۔ایک راوی کہتے ہیں کہ میں سعید بن مسیب سے ملا اور پوچھا کہ یہ لوگ جنھوں نے بال کٹوالیے ہیں ،وہ اِس عمل سے بے خبرکیوں ہیں؟ تو سعید بن مسیب نے اِس کے جواب میں کہا: ’قَد نُسِیَ وَتُرِکَ‘، یعنی بھلا دیا گیا، یوں ترک کر دیا گیا(مسلم ،رقم ۱۹۷۸)۔ اگر غور کیا جائے توسعید بن مسیب کا یہ جواب چند پہلووں کو واضح کرتا ہے:
۱۔ صحابہ کی معیت میں وقت گزارنے والے مدینے کے مشہور تابعی سعید بن مسیب کی نظر میں اِس عمل کے بارے میں پہلے لوگوں کا رویہ نہیں تھا،گویا صحابہ اِس عبادت سے پوری طرح واقف تھے ،اِس لیے کہ حج میں نذر کی یہی عبادت ہے جسے صحابہ نے اجماع اور تواتر عملی سے منتقل کیا ہے اور اُس میں کوئی اختلاف نہیں۔
۲۔ عیدالاضحی سے پہلے بال کتروانے پر حمام والوں کی تنبیہ بھی اِسی جانب اشارہ کرتی ہے کہ معاملہ یوں نہیں ہوا کہ اُس عہد کے تمام لوگ اِس عبادت پر تطوعاً عمل سے بے خبر تھے، بلکہ حمام جہاں لوگوں کے بالعموم بال تراشتے ہیں، وہاں کے لوگ بھی اِس سے بخوبی واقف ہیں۔
۳۔ سعید بن مسیب کا یہ کہنا کہ “بھلا دیا گیا اوریوں ترک کر دیا گیا”، بتاتا ہے کہ نذر کی یہ عبادت غیر حاجیوں کے لیے لازم نہیں تھی،بلکہ ایک مستحب عمل تھا، اِس لیے لوگوں کواُس درجے میں مستحضر نہیں رہا اور بعض لوگوں نے اِسے چھوڑ دیا۔
سعید بن مسیب کی اِس روایت پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک نفل عبادت پر تطوعاً عمل لوگوں کی نظر سے اوجھل بھی ہو سکتا ہے۔بالکل اِسی طرح کا معاملہ آج عمرے کی قربانی میں ہوا ہے۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح حج کے مناسک میں قربانی کو شمار کیا ہے، اُسی طرح عمرے میں بھی قربانی کو جاری فرمایا ہے ،یہی وجہ ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر آپ عمرے کی نیت سے جا رہے تھے اور ہدی کے جانور آپ کے پاس تھے ،لیکن آج اگر جائزہ لیا جائے تو کم و بیش ساری امت اِسے نظر انداز اور فراموش کر کے ترک کر چکی ہے۔لہٰذا غور ہمیشہ اِس پہلو پر کرنا چاہیے کہ کسی روایت کے ترک ہونے کے اسباب کیا ہیں،نہ کہ بعض لوگوں کے نسیان اور ترک کو بنیادبنا کر کسی عمل کی نفی کر دی جائے ۔حج میں جہاںنذر کی اِ س عبادت کو لازم کردیا گیا ہے ،وہاں یہ بلا اختلاف ہر عہد میں پورے اہتمام سے جاری ہے،لیکن چونکہ غیر حاجی کے لیے یہ ایک مستحب عمل تھا ، اس لیے معاشرے میں اِس کا اہتمام اُس درجے میں نہیں تھا۔
آخری سوال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک دوسری روایت کے بارے میں تھا۔وہ روایت کچھ یوں ہے کہ ایک صاحب جو خود تو حج پر نہیں گئے، لیکن اپنے کسی ساتھی کے ہمراہ وہاں قربانی کے لیے جانور بھجوا دیا، اُنھیں یہ تردد لاحق ہوا کہ حج نہ کرنے کی صورت میں محض وہاں قربانی کرنے سے کیا احرام کی پابندیاں لازم ہو جائیں گی؟ اِس پر سیدہ عائشہ نے انھیں جواب دیا۔ روایت کے الفاظ ہیں:
عَن مَسرُوقٍ، اَنَّہُ اَتَی عَائِشَةَ، فَقَالَ لَہَا: یَا اُمَّ المُمِنِینَ، ِانَّ رَجُلاً یَبعَثُ بِالہَدی اِلَی الکَعبَةِ، وَیَجلِسُ فِی المِصرِ، فَیُوصِی اَن تُقَلَّدَ بَدَنَتُہُ، فَلاَ یَزَالُ مِن ذٰلِکَ الیَومِ مُحرِمًا حَتّٰی یَحِلَّ النَّاسُ قَالَ: فَسَمِعتُ تَصفِیقَہَا مِن وَرَاء الحِجَابِ، فَقَالَت: لَقَد کُنتُ اَفتِلُ قَلاَئِدَ ہَد¸یِ رَسُولِ اللّٰہِ صَّلَی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَیَبعَثُ ہَدیَہُ اِلَی الکَعبَةِ، فَمَا یَحرُمُ عَلَیہِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنَہ لِہِ، حَتّٰی یَرجِعَ النَّاسُ (بخاری، رقم ۵۲۴۶) 
“مسروق سے مروی ہے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام الم¶منین، اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے سے بھیجے، اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں (نشانی کے طور پر) ایک قلادہ پہنادیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا  جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المو¶منین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انھوں نے کہا: میں خودنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے، لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک آپ پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو آپ کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو ۔”
ہمارے نزدیک اِس روایت میں ایک اطلاقی سوال کا اجمالی جواب دیا گیا ہے۔ہدی کے جانور بھجوانے پر احرام کی پابندیاں اپنا لینے کی یہ غلط فہمی غالباً قرآن مجید کی اُس ہدایت سے پیدا ہوئی ہے جو حدیبیہ کے موقع پر عازمین عمرہ کودی گئی تھی کہ جب تک وہ قربانی نہ کر لی جائے، وہ سر نہیں منڈوا سکتے،یعنی وہ اپنا احرام نہیں کھولیں گے۔
سیدہ عائشہ نے اِسی غلط فہمی کا جواب دیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف حالت احرام ہی میں ہوتی ہیں، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کے جانور بھیجنے کے باوجود احرام کی پابندیاںاختیار نہیں کرتے تھے۔یہ اِس روایت کا پس منظر ہے۔اِسے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کی نفی میں پیش کرنے سے پہلے چند پہلووں پر غور کرنا چاہیے:
۱۔ سوال کرنے والے نے عید الاضحی کی قربانی کے ساتھ نذر کی دوسری عبادت پر عمل کا سوال نہیں کیا ،بلکہ روایت میں زیر بحث مسئلہ ہدی کے جانوروں سے متعلق ہے ۔
۲۔ سیدہ کا جواب اِسی پس منظر میں ہے کہ احرام کی جملہ پابندیاں ہدی کا جانور بھیجنے والوں پر نہیں ہیں۔ 
۳۔ بال اور ناخن نہ کاٹنے کا اصلاً تعلق نذر کی قدیم روایت سے ہے،محض احرام کی پابندیوں سے نہیں ۔
۴۔ سیدہ عائشہ کی روایت میں قربانی کے موقع پر نذر کی ایک دوسری عبادت ادا کرنے کی نفی نہیں کی گئی ہے۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو “میزان” میں قبول کرنے پر جو سوالات اٹھائے گئے تھے ،ہم نے استاذ مکرم جاوید احمد غامدی کے اصولوں کی روشنی میں اُن کا جائزہ لیا اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ “میزان” میں جب کسی خبر واحد کو قبول کیا جاتا ہے تو اُس کے پس منظر میں کیا فکر کار فرما ہوتی ہے۔ صاحب “میزان” کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تلقین ایک مشروع عبادت پر تطوعاً عمل کا بیان ہے ۔اورقربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹنا نذر کی قدیم عبادات کو جمع کرنے کے آداب کا تقاضا ہے جنھیں حج میں ایک سنت کی حیثیت سے جاری کردیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ روایت دین میں کوئی مستقل عمل بیان کر رہی ہے، نہ کوئی نیا حکم دے رہی ہے۔
ہمارے نزدیک یہی معاملہ “میزان” میں زیر بحث اُن بارہ سو سے زائد روایات کا ہے، جنھیں صاحب “میزان” نے قبول کیا ہے۔وہ تمام روایات بھی دین کے احکام کی تفہیم و تبیین پر مشتمل ہیں،اِس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ یا کمی نہیں کر رہیں۔اِس بحث کو دقت نظر سے دیکھنے سے یہ پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کسی خبر واحد پر غور و فکر کا صحیح علمی طریقہ کیا ہے اور صاحب “میزان” کے ہاں اِس کے رد و قبول میں کس درجہ کا تفحص اور احتیاط ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹنسو

سید مطیع الرحمٰن

مدرسہ ڈسکور سز کاسمر انٹنسو (جولائی 2018ء) نیپال میں منعقد کیا گیا ۔ یہ انٹنسو بھی گزشتہ وِنٹر انٹنسو(قطر) کی طرح علمی و فکری سر گرمیوں سے بھرپور رہا ۔ یکم جولائی تا 15 جولائی جاری رہنے والےاس پروگرام کے انعقا د کے لئے نیپال کا ایک نہایت پر فضا مقام دُلے خیل منتخب کیا گیا جو کھٹمنڈو سے تقریبا 30 کلو میٹر شما ل کی جانب واقع ہے ۔یہ نہایت حسین اور دلکش علاقہ ہے جہاں جولائی کے مہینے میں بھی گرمی کا احساس نہ ہوا۔
یہ ورکشاپ کئی لحاظ سے نہایت قیمتی تھی ۔ ایک پہلو اس کا علمی و فکری تھا جو سیمینا ر ہال کے اندرکی مختلف سرگرمیوں پر مشتمل تھا،جس میں اساتذہ کے لیکچر ز ، سوال و جواب کی نشستیں اور ڈسکشن گروپس وغیرہ شامل تھے۔دوسرا یہ کہ اس گر وپ میں کچھ امریکی اور ساؤتھ افریقی طلبہ و طالبات اور اسکالر بھی شامل تھے ، جن سے مختلف حوالوں سے گفت و شنید کے مواقع بھی میسر آتے رہے اور ان سے ان کے مذہب ، تہذیب ، سماج اور دیگر مختلف پہلوؤں سے گفتگو ہو تی رہی ۔تیسرا پہلو جو اسی قدر اہمیت کا حامل تھا، وہ ہوٹل سے باہر نیپالی سماج ، ان کے مذاہب ،ان کے رہن سہن اور ان کے طور اطوار اور روزمرہ زندگی کے مشاہدے سے متعلق تھا۔چوتھا یہ کہ ہر روز بعد از مغر ب تخلیق و ارتقا ئے کائنات سے متعلق نہایت اہم ڈاکیو مینٹری فلم Cosmos دکھائی جاتی تھی۔ 45 منٹ کےدورانیے پر مشتمل اس فلم میں کائنات کے آغاز ، حیاتِ انسانی کے ارتقا اور دیگر پہلووں سے متعلق جدید سائنسی نظریات نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ تخیلاتی طور پر ایک شخص ٹائم مشین کے ذریعے کائنات کی تخلیق کے مختلف مراحل میں کسی بھی دَور میں چلا جاتا ہے اور اس دور کی خصوصیات کو نمایاں کرتا  ہے۔پانچواں اور نہایت قیمتی پہلو جو ذاتی طورپر میرے لئے بڑاخاص تھا، وہ یہ کہ چند دوستوں نے ڈاکٹر ابراہیم موسی اور ڈاکٹر ماہان مر زا سےان کی ذاتی زندگی کے مختلف احوال وآثار اور ان کے علمی و فکری ارتقاء کے حوالےسے انٹر ویوز کا پروگرا م بنایا، جس میں خوش قسمتی سے میں بھی شامل تھا ۔(ان انٹرویوز کو ہمارے دوست مولانا وقار احمد صاحب تحریری شکل میں منتقل کررہے ہیں۔)
سیمینار ہال کے اندر کی علمی و فکری سر گرمیوں کا محور جن اہم موضوعات و مباحث کو بنایاگیا اور ان پر گفتگو کرنے کے لئے اعلیٰ ترین اساتذہ کو مدعو کیا گیا ،انہیں چار بنیاد ی موضوعات میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں پہلا موضوع "اسلامی قانون اور جنس ( ماضی کے نظائر اور معاصر تحدیات )" تھا ۔اس موضوع پر مختلف پہلوؤ ں سے روشنی ڈالنے کے لئے ولیم کالج امریکہ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ یعقوب کو مدعو کیا گیا۔ پہلے تین دن اسی موضوع کے لیے مختص تھے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نےجنس اور  قانون کے حوالے سے قدیم انسانی تاریخ ، اسلامی فقہی تراث اور اسلامی قانون کو، جوزیادہ تر قدیم فقہی ذخیرے پر مشتمل ہے ، درپیش معاصر تحدیات نیز مختلف نسائی تحریکوں ( Feminist Movements) کی طرف سے مختلف اعتراضات کا جائزہ پیش کیا اور خصو صا مسلم خواتین سکالرز ،کیشا علی ،آمنہ ودوداورحنااعظم کی طرف سے اس کے مختلف جوابات (Responses) کا علمی وفکری تجزیہ پیش کیا۔ عصمت دری کے حوالے سے قانون سازی بطور خاص زیر بحث آئی اور مرحلہ وار قدیم مشرقی تہذیبوں ، موسوی اور ربّانی قوانین ، رومی اور مسیحی قانون سازی ، قبل از اسلام عرب رسوم و رواج ، اورپھر اسلام کی آمد کے بعد فقہ ِ اسلامی میں اس جرم سے متعلق قانون سازی اور اس کی بنیاد و ں پر نہایت سیر حاصل گفتگو کی  گئی۔ فقہ اسلامی کے حوالے سے خاص طورپر جو بات زیر ِ بحث آئی، و ہ یہ کہ فقہائے کرام نے جس دور میں قانون سازی کی اور فقہ اسلامی کی تشکیل  ہوئی ، اس وقت ان کے ہاں پہلے سے موجود بہت سے مفروضات ( Assumptions) تھے جو ان اصول و قوانین کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کررہے تھے۔ آج ہمیں اگر ان قوانین میں نامانوسیت اور اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور دور جدید کے ساتھ عدم مطابقت دکھائی دیتی ہے تو  اس کی وجہ اس دور کا سماجی پس ِ منظر ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کرتے آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر موصوفہ نے فرمایا کہ یہاں ہمیں ڈاکٹر فضل الرحمان کی ( Double Movement ) والا طریقہ اپنا نا پڑے گا ۔ یعنی پہلے ہم فقہا کے سماجی اور معاشرتی پس ِ منظر میں جھانکیں گے ، اور ان کے دور میں جا کر ان کی صنفی تفریق کی بنیاد پر کی گئی قانون سازی کی تفہیم حاصل کریں گے کہ انہوں نے اپنے دور کے حالات اور ماحول کو کس قدر اہمیت دیتے ہوئے اپنی سماجی فضا سے مطابقت رکھنے والے قوانین کی تشکیل کی ۔پھر ہم انہی اصولوں کی بنیاد پر دوبار واپس اپنے دور میں آئیں گے اور آج کے سماجی و معاشرتی طورو اطوار اور حالات و واقعات کے تناظر میں جدید سماجی ڈھانچے سے موافقت رکھنے والے قوانین کو مدون و مرتب کریں گے ۔
حنفی فقہ کی مشہور کتاب المبسوط کے ایک اقتباس پر بھی بحث کی گئی اور جنسی جرائم کے حوالے سے مختلف اصطلاحات اور قوانین کا جائزہ لیاگیا ۔تفصیلی مباحث سے قطع نظر ،ایک بات بڑی غیر معمولی تھی کہ ڈاکٹر صاحبہ نے وہی فقہی قوانین جو ہم نے کئی بار پڑھے اور سنے  تھے،اس قدر گہرے تجزیاتی انداز میں پیش کیے کہ شرکاء داد دیے بغیر نہ رہ سکے ۔میں نے تو دل میں تہیہ کر لیا کہ جو متون ہم نے نہایت سر سری انداز میں نظر سے گزار دیے تھے ،انہیں اسی قدر گہرے خو ض او رعمیق نظر سے دیکھوں گا ۔ میرے خیال میں اس طرح کے مطالعے کے بغیر نہ تو ہم اپنی فقہی تراث کی حقیقی تفہیم حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی نئی تحدیات سے نبر دآزما ہونے کےلئے کوئی ٹھوس بنیاد فراہم کر سکتے ہیں ۔
انٹنسو کا دوسرا اہم موضوع "اخلاقی تصورات کے نئے آفاق کے ذریعے اخلاقی تبدیلیوں کی نظریہ سازی " تھا۔اس موضوع پر تین اساتذہ نے گفتگو فرمائی جن میں پروفیسر جیرالڈ میکینی(Gerald Mackany) ، پروفیسر محمود یونس اور اس پروگرام کے روحِ رواں ڈاکٹر ابراہیم موسی شامل تھے ۔پر وفیسر جیرالڈ میکینی نے فطرت ِ انسانی اور بائیو ٹیکنالوجی کے موضوع پر نہایت اعلیٰ گفتگو فرمائی اور جدید بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی فطرت میں جوہری تبدیلیوں کے حوالے سے حالیہ پیش رفت اور مستقبل کے عزائم کے تناظر میں ،مسیحی مذہبی فکر کے چار نمائندہ مکاتب کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا جو ایک طرف جدید حیاتیاتی سائنس کی تحدیات کے لئے مذہبی جواب تھا تو دوسری طرف ہمارے لئے غور وفکر کا سامان پیش کرتا تھا کہ مسیحیت کوہم سے قدرے پہلے ان مسائل کا سامنا کرنا پڑ ا ہے اور ان کی مذہبی روایت نے اس پر کیا رد عمل ظاہر کیا ہےاور اس کے کیا نتائج برآمد ہو ئے  ہیں۔
پروفیسرمحمود یونس نے، جو پی ایچ ڈی اسکالر ہیں اور ڈاکٹر ابراہیم موسی کی زیرِ نگرانی مقالہ لکھ رہے ہیں، فطرتِ انسانی کی فلسفیانہ تفہیم کے لیے ورکشاپ کے شرکا ء کے سامنے آٹھ مختلف سوالات رکھے ۔ خاص طورپر مذکورہ موضوع پر ملا صدراشیرازی کے فلسفے پر روشنی ڈالی ۔عالم خارج میں اشیاء کی نیچر اور نفس ِانسانی کی فطرت کا مطالعہ ملا صدرا کی توضیحات کی روشنی میں پیش کیا۔یوں فطرت ِ انسانی اور ماہیت ِ اشیاء کے حوالے سے ہماری تعقلی اور فلسفیانہ روایت کی ایک مختصر جھلک بھی ہمارے سامنے آگئی ۔
ڈاکٹر ابراہیم موسی کی گفتگو کا محور امام عبد الوہاب الشعرانی کی کتاب" ارشاد الطالبین" کے بعض صوفیانہ اور حکیمانہ مباحث تھے جن کی روشنی میں آپ نے دین کی تفہیم کے لیے لامحدود امکانات کو واضح فرمایا۔شعرانی ،ابن عربی جیسے فقید المثال صوفی کے شاگرد ہونے کے ناتے سے  چیزوں کو محدود قانونی وفقہی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کے ہاں بقول ڈاکٹر صاحب ،ایک Sensibility  Poetic موجودہے،جس سے تدبر وتفکر کے امکانات (Contingencies) لامحدود ہوجاتے ہیں ۔اسی لئے ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ :
We  need to develop aesthetic sensibility.
ایک اور اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس طرح کائنات کی ہر شے میں جمال موجودہے ،اسی طرح قرآن و سنت اور ہماری دینی روایت میں بھی یہ بدرجہ اتم موجودہے۔ جمالیاتی شعور و احساس کے بغیر کیسے ممکن ہے کہ ہم قرآن وسنت کو کماحقہ سمجھ سکیں اور اس کی وسعتوں اور ان میں موجود امکانات سے بھرپور انداز میں فائد اٹھاسکیں ۔مثلاََ الواح پر بات کرتے ہوئے شعرانی لکھتے ہیں کہ احکام کا تعلق الواح المحو و الاثبات سے ہے اور ان الواح پرلکھا ہوا مٹتا اور تبدیل ہوتا رہتا ہے اس لئے احکام قابل ِتغیر ہیں۔یوں شعرانی کی یہ بات ہمارے لئے احکام کے میدان میں نئے فکری آفاق کھول دیتی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ تمثیلی بیانیہ میں گہرائی اور گیرائی زیادہ ہوتی ہے ،اور یہی اپروچ ہمیں شعرانی کے ہاں ملتی ہے ۔ مزید یہ کہ اس طرح کی اپروچ ہماری روایت میں اجنبی نہیں ہے ۔مثلاَ ناموس کو آنحضرت ﷺ نے جبرئیل قرار دیا لیکن بعد میں اسے خیر کے حوالے سے بھی دیکھا گیا۔اسی طرح شعرانی جبریل کے پروں کو ایک اور تناظر میں دیکھتے ہیں ۔آخر میں استاد ِمعظم نے اپنی بات کو یوں سمیٹا کہ ہم جہاں فقہ، تاریخ ، تفسیر و حدیث کی پوری روایت کا مطالعہ کرتے ہیں ،وہاں ہماری روایت کا ایک صفحہ یہ بھی ہے جو میں نے آپ کے سامنےشعرانی کی صورت میں پیش کیا ۔ آپ چاہیں تو اسے پھینک دیں ،لیکن اس تناظر میں مضمر نئی ممکنات Contingences بہر حال ہمارے لئے نئی فکری دنیائیں پیداکرسکتی ہیں۔
تیسرا بڑا موضوع "عالمگیر دنیا میں جنس ،مذہب اور قیامِ امن " تھا  جس کےلئے پروفیسر اطالیہ عمیر (Atalia Umair ) اور پروفیسر جیسن اسپرنگ (Jason Spring)کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ اس اہم موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر اطالیہ عمیر نے یہودی مذہبی لٹریچر میں عورتوں کے حوالے سے قوانین کی از سر ِ نو تشکیل کی ضرورت کو واضح کیا اور یہودی مذہبی قوانین پر ترقی پسند مفکرین خصوصا ترقی پسند خواتین کے اعتراضات اور یہودی قانون میں اس کے لئے مزید گنجائشوں پر غور کرنے کے امکانات کا جائزہ پیش کیا۔جنس اور مذہبی قوانین کے حوالے سے وہ  مسائل جو ڈاکٹر سعدیہ یعقوب نے اسلام کے حوالے سے پیش کیے ،کم و بیش اسی طرح کے مسائل یہودیت کے فقہی اور قانونی  ڈھانچے میں بھی پائے جاتے ہیں ۔
دوسری اہم بات جواس سیشن میں نمایاں طور پر سامنے آئی، وہ عالمی قیام ِ امن کے حوالے سے تھی،جس کے لئے کرنے کا بنیادی کام تمام مذاہب کے درمیان مفاہمت اور مثبت مکالمے کی فضا قائم کرناہے۔ مذہبی کشمکش اور منافرت کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم صرف اپنے مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں جبکہ اس موضوع پر کسی دوسرے مذہب کا موقف نہ تو سننے کے لیے تیارہیں اور نہ اس پر آزادی سے غورو فکر کے عادی ہیں۔اس سلسلے میں چند وڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں مختلف مذاہب کے اسکالرز اور اہل علم آپس میں نہایت مثبت انداز میں اپنے اپنے مذہبی متون کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس میں تمام مذاہب کے نمائندوں کو دوسرے مذاہب کا موقف خود ان کی زبانی سننے کا موقع میسر آتا ہے۔اس مکالماتی فضا کو قائم کرنے او رقائم رکھنے کے لیے انہوں نے پانچ بنیاد ی اصول بھی بیان کیےجویہ ہیں :
1. We should develop the mutual understanding.
2. Try to release tension among the people.
3. Give  awareness of common goods and facilitate them.
4. We  can use the Methodology of Conflict Resolution Mechanisms.
5. By adopting moral values. 
چوتھا اور آخری موضوع "جنوبی ایشیا کی حالیہ مذہبی فکر میں کلامی تجدید کے راستے " تھا ۔ یہ موضوع استاد ِ محترم مولانا عمار ناصر صاحب اور محترم ڈاکٹر وارث مظہری ؔ کے حصے میں آیا ۔ڈاکٹر وارث اپنی بعض تدریسی مصروفیات کی وجہ سے ورکشا پ میں آخر تک شامل نہ رہ سکے ۔لہذا اس موضوع پر دودن استاد محترم عمارصاحب ہی نے گفتگو فرمائی ۔ 
اپنی گفتگو کے پہلے حصے میں استاد ِ گرامی قدر نے ورکشاپ کے پہلے دس دن کی پوری علمی و فکری روداد کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا اور پھر اس موضوع کو اس کے ساتھ جوڑتےہوئے جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بر صغیر پاک و ہند میں پچھلے دواڑھائی سو سال کی تجدیدی مساعی اور بیدار مغز مسلم علماو مفکرین اور اہل دانش کے چند کلامی و فکری تجدیدی کارناموں کو بحث کا موضوع بنا کر اس بات پر روشنی ڈالی کہ بر صغیر کی مذہبی روایت میں جو تبدیلیاں آئیں اوربڑے بڑے فکری سوالات سامنے آئے، ان کو اہل علم نے کیسے حل کیا۔مثلا جب ہم اس خطے یعنی بر صغیر میں سیاسی طور پر غالب تھے تو صورتحال اور تھی ،جب حکومت ختم ہو گئی تو اب نئے تصوراتِ سیاست سامنے آئے۔اب سوال یہ تھا کہ انہیں کیسے دیکھاجائے۔ ایک بڑا مسئلہ "جہاد " تھا جو کئی حوالوں سے موضوع بن گیا ۔مثلا  یہ اعتراض ہوا کہ اسلام زبردستی پر یقین رکھتا ہے ، تلوار کے ذریعے پھیلا ہے،محمد ﷺ ( معاذاللہ ) ایک تشدد پسند مذہبی  رہنما تھے، وغیرہ ۔اس کے جواب میں اسلام کے تصور جہاد کو واضح کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔نوآبادیاتی دور میں جہاد کی نوعیت پر بحث ہوئی کہ آیا اسلام میں جہاد اقدامی ہےیا دفاعی۔ پھر جب بیسویں صدی کے وسط میں مسلمان قومی ریاستیں قائم ہوناشروع ہوئیں تو اسی مسئلے کی نئی جہت سامنے آئی کہ ان مسلم ریاستوں کے غیر مسلم قوموں کے ساتھ تعلق کی نوعیت خصوصا جہاد کےتناظر میں کیا ہوگی۔اسی طرح جب نو آبادیاتی حکومت ختم ہوئی تو بر صغیر میں ایک اور بحث پیداہوئی کہ چونکہ اب مسلمان دوبارہ ماضی کی مسلم سلطنت بحال نہیں کرسکتے تو اب مستقبل کے لیے ان کا لائحہ عمل کیا ہو۔مذہبی فکر کے سامنے یہ ایک بڑا سوال یہ تھا جس کے جواب میں علماء دو نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ۔ایک طبقے نے قومیت کے جدید تصور کو اپناتے ہوئے کہاکہ ہمیں متحدہ ہندوستا ن میں رہنا چاہیے جبکہ ایک طبقے کے نزدیک متحدہ قومیت کا تصوراسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ٹھہرا۔اسی طرح دیگر متعدد مسائل پر شاہ ولی اللہ،مولانا حسین احمد مدنی ، سید انور شاہ کاشمیری ، عبید اللہ سندھی ، مناظر احسن گیلانی ، وحید الدین خان ، علامہ شبلی ، سر سید احمد خان اور جاوید احمد غامدی کی منتخب تحریرات کی روشنی میں برصغیر کی علمی و فکری روایت کو درپیش نئے چیلنچز اور ان کے ریسپانسز کاتجزیہ پیش کیا گیا۔
ورکشاپ میں چائے کے وقفوں ، کھانے کے دوران میں ، اور دیگر کئی مواقع پر اساتذہ ، نوٹرےڈیم یونیورسٹی کے طلبہ اور ساؤتھ افریقی مہمانوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کا موقع ملا۔ ایک سوال جو مجھ سےذاتی طور پر ساؤتھ افریقی مسلم سکالر زاور طلبہ نے بڑی دلچسپی سے پوچھا، وہ یہ تھا کہ آپ انگریزی لباس میں کلین شیو چہرے کے ساتھ پاکستان میں کیسے ایک اسلامی شعبے میں ایڈجسٹ ہو گئے ہیں۔کیا آپ کو شدید تنقید کا سامنا نہیں کر نا پڑتا؟ ان کے بقول ساؤتھ افریقہ کے ایک علاقے میں تواسے گوارا کر لیا جاتا ہے لیکن اسی ملک کے دوسرے علاقے میں جہاں زیادہ تر انڈین کمیونٹی کے علما ء ہیں ، یہ بالکل بھی قابل ِ قبول نہیں ۔میں نے بہرحال جواب کے مثبت پہلو کو ہی نمایاں کرنے کی پوری کوشش کی ۔ 
پروفیسر پروفیسرجیرالڈ مکینی (Gerald Mackeny) پاکستان کے نامورمسلم مفکر ڈاکٹر فضل الرحمان کے براہ راست شاگر د رہے ہیں ،لہذا ان سے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے حوالے سے کافی دلچسپ گفتگو ہوئی۔ ایک دن جب میں پروفیسر موصوف کے ساتھ کھانے کے دوران میں گفتگو کر رہا تھا تو نوٹرے ڈیم کی ایک طالبہ بھی آگئی اور ہمارے ساتھ شریک ِ گفتگو ہو گئی ۔ بات چلتے چلتے واک (Walk)کر نے کی افادیت پر پہنچی تو پروفیسر مکینی مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا آپ واک کرتے ہیں ؟میں نے کہا کہ پہلے کر تا تھا، آج کل چھوڑی ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ  You should walk . میں نے کہا، ان شاء اللہ تو اس پر ساتھ بیٹھی امریکی طالبہ قہقہہ لگا کر ہنسی اور کہا" ان شا ء اللہ "۔ میں نے سمجھا کہ شاید اسے ان شاء اللہ کے معنی معلوم نہیں۔ پوچھا تو کہنے لگی کہ جانتی ہو ں کہ اگر اللہ نے چاہا۔ خیر بات آگے بڑھ گئی ،مگر میں اس قہقہے کے بارے میں سوچتارہا جو مجھے کہہ رہا تھا کہ ایک کام جو آپ جب چاہیں کر سکتے ہیں، اس کے بارے میں بھی یہ کہنا کہ اگر اللہ چاہے تو ،یعنی اس کا م میں اللہ کی مر ضی کا کیا مطلب ؟ طالبہ کے اس قہقہے میں اس ا کا پورا Worldview جھلک رہاتھا ۔
ورکشاپ کا ایک غیرمعمولی پہلو نیپالی سماج اوران کے معاشرتی ماحول کا مشاہد ہ تھا ۔ ہر روز عصر کے بعد اتنا وقت میسر آجا تا کہ قریبی علاقوں، یہاں تک کہ گلی محلوں میں لوگوں سے ملاقات کا بھر پور مو قع ملا ۔ چند باتیں اس مشاہدے کی بھی ملاحظہ کیجئے ۔
نیپال کے ہندوانہ معاشرے میں صوفیانہ مساعی اور ان کے انداز ِ تبلیغ کی اہمیت و افا دیت کا پوری طر ح سے ادراک ہوا کہ اس طرح کے کثیر المذاہب معاشروں میں اس سے بہتر کوئی اور طریقہ یا اسلوب ِ دعوت نہیں ہو سکتا تھا۔ صو فیاکے ہاں اس قدر وسعتِ قلبی اور دیگر اہل مذاہب کے ساتھ غیر معمولی رواداری کی حکمت پوری طرح سمجھ میں آئی اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس طرح کے معاشروں میں صوفیانہ مزاج ، طر زِ تکلم اور عظیم اخلاق  ہی سے خدمت ِ اسلام کی جاسکتی ہے ۔ خاص طور پر معاصر دنیا میں اس کی افادیت اور بھی بڑھ چکی ہے ۔
نیپالی معاشرے میں عورتوں کے لباس کے حوالے سے بڑاتعجب ہوا کہ بظاہر یہ بھی ایک مذہبی معاشرہ ہے اور جگہ جگہ مذہبی شعائر اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں کے لوگ مذہب سے کس قدر متعلق ہیں، لیکن یہاں عورتوں کا لبا س وہی مغربی طرز کا ہے، یعنی جسم کے خدوخال کو پوری طرح نمایاں کرنے والا۔ ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ نیپال ہمارے ہی خطے  کا ملک ہے ،صدیوں سے مذہبی معاشرت رکھتا ہے، آخر کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے اس معاشرے نے یہ تبدیلی فورا قبول کر لی ؟ ایک جواب ذہن میں یہ آیا کہ شاید یہاں کے مذہبی رہنما اور نمائندے سوسائٹی میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکے ہیں اور اس تبدیلی کے آگے بند باندھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لیکن پھر مزید غور کرنے سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ہندو مذہب  کی Mythology میں ہی جسم کی عریانی موجود ہے اور جسم کے اعضا کی نمائش ان کی دیویوں کے مجسموں میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ شاید مذہب کی فراہم کر دہ یہی بنیاد ہے جس نے اس معاشرے کو مغربی طرز کا نیم عریاں لبا س اپنانے میں کوئی رکا وٹ پیش نہیں آنے دی ۔
نیپال میں ہندو مت اور بد ھ مذہب کی عبادت گاہوں میں بھی جانے کا موقع ملا ۔بدھ ناتھ، بد ھ مت کی ایک بڑی عبادت گاہ ہے اور لوگ اس کے گرد اسی خشو ع خضوع سے طواف کر رہےتھے جیسے بیت اللہ میں مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اس میں خاص چیز ان کی عبادت کا طریقہ تھا جو کافی حد تک ہماری نماز سے ملتا جلتا تھا ۔ ہمارے ہاں اب کئی  لوگ عبادت کے صرف ظاہری پہلو کو لے کر، اس کی جسمانی افادیت پر زور دے کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام فطری مذہب ہے اور سائنس بھی بتاتی ہے کہ اس طرح سے سجدہ اور رکو ع کر نے سے جسم کے فلاں فلاں اعضا تن درست رہتے ہیں اور فلاں فلاں بیماری سے حفاظت بھی ہوتی ہے ۔اگر عبادت، عبد و معبود کے تعلق سے ہٹا کر، ان ظاہری حرکات و سکنات کے افادی پہلوؤں کو ہی معیار بنانے کانام ہے تو معذرت کے ساتھ، مجھے بدھ مت کی عبادت میں افادیت کا یہ پہلو ہماری نماز سے کہیں زیادہ نظر آیا ۔ان کی عبادت کی بنائی ہوئی وڈیو جس کسی کو بھی دکھائی، اس کا پہلا تبصرہ یہی تھا کہ یہ اچھی ورزش ہے ۔
نیپال میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں اور بدھوں سے کافی کم ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہاں کے جتنے بھی مسلمان ہیں، ان کی اکثریت ہندوستانیوں کی ہے ۔ نیپال کے اصل باشندے بہت کم مسلمان ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر تحقیق کی جاسکتی ہے کہ مقامی آبادی کے اسلام کی طر ف بہت کم مائل ہونے میں کون کون سے عوامل کار فرما رہے ہیں ۔ یقینا  اس میں مختلف سماجی، تہذیبی، علاقائی، سیاسی ، ثقافتی ،جغرافیائی اور معاشی اسباب و علل کارفرمارہے ہوں گے جو تحقیق طلب ہیں ۔اس سے بھی دلچسپ سوال یہ ہے کہ مہاتما گوتم بد ھ کی جائے پیدائش ہونے کے باوجود یہاں خود بدھوں کی تعداد بھی بارہ پندرہ فیصد سے زیادہ کیوں نہیں ۔
نیپالی عوام کو خاص پر ٹریفک کے اصولوں کا پابندپایا اوراپنے پندرہ روزہ قیام کے دوران میں کسی بھی موٹر سائیکل سوار کو ہیلمٹ کے بغیر نہیں دیکھا ۔ایک دن کرنسی ایکسچینج کے سلسلے میں بنک جاناہوا تو وہاں گارڈ کے بیلٹ کے ساتھ لیدر کے کو ر میں پستول کی جگہ خنجر دیکھ کر کئی سوال اپنے جواب کے ساتھ ذہن میں درآئے۔
آخری دن جہاں دیگر پاکستانی اور ہندوستانی طلبا نے مدرسہ ڈسکور سز سے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کیا، وہاں مجھے بھی چند جملے کہنے کا موقع میسر آیا ۔ میں نے مختصر ا یہ کہا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی نے ایک جگہ مدارس کے طلبا اور ان کے نظام ِ تعلیم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ہمارے طلبا کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے کہ وہ مدرسے میں داخل ہوتے ہیں اور جب آٹھ دس سال کے بعد مدرسہ سے تحصیلِ علم کے بعد نکلتے ہیں تو باہر کی دنیا بالکل بدل چکی ہوتی ہے ۔سکہ رائج الوقت تبدیل ہوچکا ہوتا ہے ۔ زمانے کا اسلوب ذرا بھی ان کے اسلوب سے میل نہیں کھاتا ۔ اپنےدور کے مسائل سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں ۔میں نے کہا کہ میں اس مثال کو ذرا وسیع تناظر میں دیکھتا ہوں ۔ میرے خیال میں بحیثیت امت ہمارا حال مدرسے کے طالب علم سے زیادہ مختلف نہیں۔زرعی دور کے آخری حصے خصو صا سو لہویں سے اٹھارویں صدی میں زوال پذیرہوکر امت ِ مسلمہ تحفظات کی چادر اوڑھ کر لمبی تان کر سو گئی اور جب ہم اٹھے تو صنعتی دور کی چکا چوند سے ہماری آنکھیں چندھیانے لگیں ۔ سما ج کا بنیادی ڈھانچہ بدل چکاتھا۔ علم و فکر کے نئے نئے زوایے متعارف ہو چکےتھے ۔خاندان کے نظام میں جوہری تبدیلیاں واقع ہو رہی تھیں۔معیشت ، معاشرت، سیاست غرض ہرشعبہ ِ زندگی کی صورت کیا سے کیا ہو چکی تھی ۔ہمارا سارا فقہی ذخیرہ زرعی دورمیں مدون و مرتب ہوا تھا، اور اس کا ایک بڑا حصہ جدید صنعتی دور سےغیر متعلق ہو چکاتھا ۔ چنانچہ کئی سو سال کے اس تغیر کو بر وقت نہ سمجھنے کی وجہ سے دانشِ عصر اور ہماری علمی روایت کے مابین کافی گہرا خلا پید اہو چکا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مدرسہ ڈسکور سز اسی خلا کو پر کرنے کی ایک نہایت غیر معمولی کو شش ہے ۔یوں تو اس خلا کو پر کرنے کا احساس پوری دنیا میں مختلف علمی و فکری حلقوں میں موجود ہے اور اس سلسلے میں مختلف کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن میرے خیال میں مدرسہ ڈسکورسز اپنے قبیل کی دیگر کاوشوں سے کئی لحاظ سے بہترہے ۔ چند پہلو ملاحظہ کیجئے:
پہلا یہ کہ اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ مسلم روایت کے علمی وفکری ورثہ میں نہایت قیمتی اجزا ہیں جو نہ صرف اُس دور کے تناظرمیں مفکرین و مجتہدین کی علمی سطح سے واقفیت عطا کرتے ہیں بلکہ دور ِجدید کی تحدیات کے حوالے سے بھی نہایت ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہمیں یہ بھی سیکھنے کا موقع ملا کہ تراث کا صرف متن ہی اہمیت نہیں رکھتا، اس کے اردگرداور بین السطور بھی پوری ایک دنیا آبادہے ۔اس کے بر عکس دیگر تجددانہ مساعیا ت میں اور علمی و فکری شخصیات و تحریکا ت میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا جس سے ہماری نئی نسل کے اذہا ن میں لاشعوری طورپر روایت کے بارے میں بد اعتمادی اور نہایت غیر محسوس طریقے سے سلف سے بدگمانی پیداہوتی جارہی ہے ۔
دوسر ا یہ کہ اس کورس کی وجہ سے اپنی تراث کے کئی اہم متون نظر سے گزرے جو مدارس کے نصاب میں شامل نہیں اور نہ ہی کبھی انہیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر سمسٹر کے بعدکسی ملک کی تہذیب وتمدن کا براہ راست مشاہدہ موقع میسر آتا ہے جس سے نئے تہذیبی،دینی ، ثقافتی و سماجی مسائل اور چیلنجز کو براہ راست دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔
تیسری بات ا س باب میں نہایت اہم یہ ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں سوال تواُٹھائے جاتے ہیں لیکن ان کے طے شدہ جوابات نہیں دیے جاتے ،جس کے بارے میں کافی عرصہ غور و خوض کر تا رہاکہ آخر ایسا کیوں ہے کہ سوال تو ا ٹھایا جاتاہے، لیکن اس کا کوئی حتمی جواب نہیں دیا جاتا ۔بالآخر اس کی بنیاد ی وجہ یہ معلوم ہو ئی کہ اساتذہ ہم پر اپنا کوئی فکری ڈھانچہ مسلط نہیں کر نا چاہتے ،ان کی کوشش یہ ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ علمی و فکری آلات ( Tools) سے لیس کریں تاکہ ان سوالات کا جواب ہم بذات ِ خود تلاش کر سکیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر علمی دیانت کا مظہر اور نہیں ہو سکتا کہ کسی سوال کا حتمی جواب دے کر مزید پہلو ؤ ں پر سوچنےاو رسمجھنےکے دروازے بند نہ کر دیے جائیں۔
آخر میں پاکستانی طلبا کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد رشید صاحب کا تذکرہ کیسے نہ کیاجائے جنہوں نے نہ صرف اپنے فرائض منصبی پوری د لجمعی کے ساتھ اد اکیے بلکہ نہایت خوبصورت انداز ِ تخاطب سے مختلف سر گرمیوں میں پاکستانی شرکا ء کو پابندی وقت اور دیگر انتظامی امور کی یاد دہانی کراتے رہے اور موقع بہ موقع اپنے ر س بھرے جملوں سے محظو ظ بھی کرتے رہے ۔
نہایت لائقِ تحسین ہیں تمام اساتذہ ، تمام منتظمین جنہوں نے اس ورکشاپ کا اہتما م و انتظام کیا اور جدید علمی و فکری موضوعات پر ایک نہایت غیر معمولی اور نئے فکری آفاق سے بھر پور نشستوں کا انعقاد کیا۔اللہ تعالیٰ سب کو بھرپور اجر سے نوازے اور ہمارے اسا تذہ کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔