مئی ۲۰۱۸ء

جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظرمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
جدید ریاست میں فقہِ اسلامی کی تشکیلِ جدید (۱)مولانا سمیع اللہ سعدی 
حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
غامدی صاحب اور اہلِ فتویٰمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۲)مولانا عبید اختر رحمانی 
زوالِ امت میں غزالی کا کردار: تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۲)مولانا محمد عبد اللہ شارق 
مولانا مفتی تقی عثمانی کی “اسلام اینڈ پالیٹکس’’ کی تقریب رونمائیعظیم الرحمن عثمانی 

جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظر

محمد عمار خان ناصر

معاشرتی زندگی  کے مختلف دائروں میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کی طرف سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جانا دور جدید کا ایک اہم سماجی مسئلہ ہے اور ہمارے ہاں بھی وقتاً‌ فوقتاً‌ یہ بحث موضوع گفتگو بنتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کے کئی پہلو ہیں جن میں سے ہر پہلو مستقل تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس کا تعلق انسان کی جنسی جبلت سے بھی ہے، انفرادی اخلاقیات سے بھی،  مرد وزن کے اختلاط کے ضمن میں سماجی روایت سے بھی، جدید معاشی نظم سے بھی اور قانون وریاست کی ذمہ داریوں سے بھی۔ 
بلوغت کی عمر میں مرد وزن کا جنسی طور پر  ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہونا ایک معلوم حقیقت ہے۔ افراد کی سطح پر یہ کشش ضروری نہیں کہ ہمیشہ دو طرفہ ہو۔ بسا اوقات یہ یک طرفہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں  جنس مخالف تک رسائی کے لیے مرد اور عورت باہم مختلف رویوں کا اظہار کرتے ہیں۔  عورت جنسی تعلق میں چونکہ فطرتاً‌ منفعل ہے اور اس کی سماجی تربیت میں بھی یہ شامل ہے کہ وہ جنسی رغبت کا اظہار نہ کرے، اس لیے اس کا اظہار رغبت عموماً‌ بالواسطہ یعنی اشارہ وکنایہ کی زبان میں ہوتا ہے اور اس میں جارحیت شامل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس مرد حیاتیاتی اور معاشرتی، دونوں پہلووں سے غلبے کا مزاج رکھتا ہے، اس لیے اس کی طرف سے جنسی رغبت کا اظہار  اقدام اور جارحیت کا انداز لیے ہوتا ہے۔ چنانچہ مرد وزن کے مابین معاشرتی تعامل میں  جہاں مرد کسی بھی لحاظ سے  اپنی خواہش کو عورت کی مرضی کے خلاف  اس پر مسلط کرنے کی طاقت رکھتا ہے، وہاں جنسی ہراسانی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
گویا سادہ لفظوں میں جنسی ہراسانی کا مطلب یہ ہے کہ مرد، عورت کی کمزور پوزیشن یا کسی مجبوری یا خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، جس کی تکمیل اس کے تعاون پر منحصر ہے، عورت کی مرضی کے برخلاف اس سے جنسی تلذذ حاصل کرے ۔ یہ چونکہ اخلاقیات کے کسی بھی تصور کے لحاظ سے ایک غلط طرز عمل ہے،  اس لیے کسی اختلاف کے بغیر دنیا کے ہر معاشرے میں اسے جرم تصور کیا جاتا اور اس کے سدباب کے لیے تدابیر کی جاتی ہیں۔ تاہم اس بنیادی اتفاق کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کی اخلاقی نوعیت  اور اس کی روک تھام کی حکمت عملی کے حوالے سے مذہب کے نقطہ نگاہ اور جدید لبرل تصور اخلاق میں بعض جوہری فرق پائے جاتے ہیں جن کی تنقیح ضروری ہے۔ 
مذہب کے نقطہ نظر سے اس مسئلے کا تجزیہ تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے:
ایک یہ کہ صنفی تعلق کے جواز کا مدار صرف باہمی رضامندی پر نہیں، بلکہ چند اخلاقی حدود وشرائط کی پابندی سے ہے جنھیں نظر انداز کر کے باہمی رضامندی سے قائم کیا جانے والا صنفی تعلق بھی مذہب کی نظر میں غیر اخلاقی ہے۔
دوسرا یہ کہ ناجائز صنفی تعلق کے سدباب کے لیے مرد وزن کے میل جول کو کچھ آداب کا پابند بنانا ضروری ہے جن کی رعایت دونوں صنفوں کے لیے واجب ہے۔
تیسرا یہ کہ  عورت کے ساتھ جبر، زبردستی یا اس کی مجبوری یا ضرورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا استحصال ایک مزید گناہ ہے جو مستقلاً‌ قابل مذمت وقابل تعزیر ہے۔
حاصل یہ کہ مذہب اس مسئلے کو بطور ایک فرد کے، عورت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ حیا اور پاک دامنی کی قدروں کے تناظر میں بھی دیکھتا ہے اور اس کے نقطہ نظر سے صرف جنسی ہراسانی مسئلہ نہیں، بلکہ دو اور چیزیں بھی قابل اعتراض ہیں: ایک، جنسی کشش پیدا کرنے کے مختلف طریقے استعمال کرنا، اور دوسرا، “فلرٹیشن’’ کرنا جو باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔چنانچہ مذہبی تصور اخلاق اس مسئلے کو ایک کل کے طور پر دیکھتے ہوئے ان تمام پہلووں کا موضوع بناتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ خواتین جنسی کشش پیدا کرنے کے طریقوں سے اجتناب کریں، مرد وعورت باہمی رضامندی سے بھی “فلرٹیشن’’ نہ کریں، اور مرد، عورت کی کمزور پوزیشن یا مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اسے جنسی تلذذ کا ذریعہ نہ بنائے۔ انفرادی سطح پر اخلاقی تعلیم وتلقین کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے جب معاشرتی حدود وآداب متعین کیے جاتے ہیں تو  یہاں بھی مذہب یک طرفہ طور پر صرف مردوں کو “احترام خواتین’’ کا پابند نہیں کرتا، بلکہ خواتین کو بھی اخلاقی حدود وآداب کا پابند بناتا ہے جن کو نظر انداز کرنا جنسی جبلت کو اخلاقی حدود سے باہر نکلنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اسی اصول کے تحت کسی جرم کی سرزدگی کی صورت میں جب قانون حرکت میں آتا ہے تو وہ بھی صرف ہراسانی پر نہیں، بلکہ باقی دونوں پہلووں کے حوالے سے بھی آتا ہے۔
اس کے برعکس انسانی حقوق کا عصری فلسفہ اس مسئلے کو بنیادی طور پر عورت کی انفرادیت اور آزادی کے حوالے سے دیکھتا ہے  اور اسی حد تک اس کے سدباب کو موضوع بناتا ہے جس حد تک اس کی زد بطور ایک فرد کے، عورت کی آزادی اور تحفظ پر پڑتی ہے۔ جہاں تک پاک دامنی اور عفت کی اقدار کا اور صنفین کے اختلاط کو حدود وآداب کا پابند بنانے کا تعلق ہے تو  لبرل فلسفہ معاشرت کو اس سے براہ راست کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں یہ چیزیں اس تصور معاشرت میں بنیادی قدر کا درجہ رکھنے والے تصور، حریت فرد کے منافی قرار پاتی ہیں۔  یوں اس تصور اخلاق میں جنسی ہراسانی کے مسئلے کو باقی دونوں پہلووں سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ عورت کو یہ حق ہے کہ وہ جیسا چاہے، لباس پہنے اور اپنے نسوانی حسن کی داد یا صنف مخالف کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جو انداز چاہے، اختیار کرے، اور اس حوالے سے تلقین ونصیحت کے علاوہ کوئی  معاشرتی یا قانونی پابندی اس پر عائد نہیں کی جا سکتی۔  سماجی یا قانونی قدغنیں صرف وہاں شروع ہوں گی جہاں عورت کو جنسی ہراسانی جیسے رویے کا سامنا کرنا پڑے۔  یوں جنسی ہراسانی جیسے اخلاقی وسماجی مسائل میں جدید ذہن اسی بنیادی غلطی کا شکار ہے جو دوسرے کئی مسائل میں بھی ظاہر ہوتی ہے، یعنی مسئلے کے صرف اس پہلو کو موضوع بنانا جو کسی کی “آزادی’’ یا “حق’’ پر زد پڑنے سے متعلق ہو اور قانوناً‌ اس پر کوئی اقدام کیا جا سکے۔
ہمارے ہاں چونکہ ابھی روایتی معاشرتی قدریں بھی اپنا کچھ بچا کھچا وجود رکھتی ہیں اور  اباحت پسندی کی جدید تہذیبی قدریں تیزی سے، لیکن رفتہ رفتہ ہی ان کی جگہ لے رہی ہیں، اس لیے ہمارے اہل دانش جدید فلسفہ معاشرت کے تضادات اور تباہیوں کا ادراک پوری طرح نہیں کر پاتے۔ اس فلسفہ معاشرت میں  تمام اعلیٰ اخلاقی اصول، فرد کی آزادی اور حق تلذذ کے تابع مانے جاتے ہیں  اور معاشی سرگرمیوں کا اہم ترین مقصد فرد کو اس آزادی اور حق تلذذ سے متمتع ہونے کے مواقع اور ذرائع مہیا کرنا اور اس کی غیر محدود ترغیب پیدا کرتے رہنا ہے۔ اس فلسفے کی رو سے جنسی جذبات کو انگیخت کرنے اور اس کے علاوہ تشہیری مقصد کے لیے نسوانی حسن کو  سامان تجارت کے طور پر استعمال کرنے کے لیے پوری پوری صنعتوں کو منظم کرنا ایک بالکل جائز بلکہ مطلوب سرگرمی ہے، لیکن اس سارے بندوبست کے  ناگزیر نتیجے کے طور پر جب خواتین کو عدم تحفظ اور جنسی ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی قانونی روک تھام کی کوشش کی جاتی ہے جو کبھی مطلوب سطح پر موثر نہیں ہو سکتی۔ 
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسانی سے سابقہ صرف بے پردہ خواتین کو ہی پیش آتا ہے۔ مرد کے مزاج میں جنسی جارحیت اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے۔ توجہ یہ دلانا مقصود ہے کہ حریت نسواں کے نام سے اس جارحیت کو انگیخت کرنے کے جن طریقوں کا جواز مانا جاتا، لیکن ان کے لازمی نتائج ومضمرات سے نظریں چرائی جاتی ہیں، وہ سادہ فکری اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ طرز فکر اس تضاد فکری بلکہ ایک لحاظ سے منافقانہ ذہنی رویے کا ایک مظہر ہے جسے جدید فلسفہ معاشرت کی خصوصیت  شمار کیا جا سکتا ہے۔
جنسی ہراسانی کا تعلق صرف مرد کی جارحیت سے نہیں ہے، اس کو تقویت دینے والے اسباب میں بنیادی کردار عورت سے متعلق اس عمومی ذہنی واخلاقی تصور کا ہے جو کسی معاشرے میں پایا جاتا ہے۔  اگر عمومی معاشرتی ماحول اور اس میں ذہنی واخلاقی تربیت کے ذرائع عورت کے متعلق احترام، ہمدردی اور تحفظ کا رویہ پیدا کریں گے (جس کے لیے مرد وزن کے اختلاط اور نسوانی حسن کی نمائش کے حدود وآداب کی اہمیت بنیادی ہے) تو اس کے نتائج اور ہوں گے، لیکن اس پہلو کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسے ماحول میں جنسی ہراسانی اور خواتین کے عدم تحفظ جیسے مسائل مستقل طور پر حل طلب رہیں گے۔  جدید فلسفہ حیات، معیشت کے دائرے میں سرمایہ داری اور معاشرتی اقدار کے دائرے میں فرد کی مطلق حریت جیسے تصورات پر اندھے ایمان کی وجہ سے معاملے کے اس پہلو سے نظریں چرانے پر مجبور ہے اور اسی وجہ سے اس طرح کے مسائل کے حل میں ناکام بھی ہے۔
معاشرتی برائیوں کے بارے میں یہ بات بھی درست ہے کہ ان کا کماحقہ سدباب محض قانونی بندوبست سے نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی روک تھام کا میکنزم معاشرے کے روز مرہ کے چلن اور عمومی اخلاقی حساسیت میں ہونا چاہیے، اور قانون کی دخل اندازی کی نوبت انتہائی صورتوں میں ہی آنی چاہیے۔  اخلاقی حساسیت اور معاشرتی روایات کی مثال ان جسمانی اعضاء کی ہے جن کا وظیفہ بدن کی روز مرہ ضروریات کو پورا کرنا ہے، جبکہ قانون کو بیماری کی حالت میں استعمال کی جانے والی دوا کے مانندسمجھا جا سکتا ہے جسے مستقل طور پر غذا کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کسی عضو کی ناقص کارکردگی کی تلافی کے لیے دوا کو غذا کے طور پر استعمال کیا جائے تو متعلقہ عضو رفتہ رفتہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور بدن مکمل طور پر دواوں کے رحم وکرم پر چلا جاتا ہے۔ بعینہ اسی طرح معاشرے کی اخلاقی صحت کو برقرار رکھنے یا اس کی حفاظت کی اصل ذمہ داری روز مرہ کے معاشرتی آداب اور رویوں پر عائد ہوتی ہے جنھیں معطل کر کے اگر ناہموار اور غیر صحت مند رویوں کی روک تھام کا سارا کام قانون سے لیا جانے لگے تو انسانی شخصیت، اجتماعی اور انفرادی، دونوں سطح پر اپنی شناخت کے نہایت بنیادی پہلووں  سے اجنبی  ہو جاتی ہے۔
مرد وزن کے اختلاط کے حوالے سے عمومی اخلاقی تربیت اور رویہ سازی میں اس  نکتے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے کہ مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین کے لیے عزت واحترام، ہمدردی اور ترحم کے جذبات بیدار کیے جائیں۔  جدید طرز معاشرت نے خواتین کو بھی معاشی ذمہ داریوں میں  شریک کر دیا ہے اور  انھیں اپنے خاندان کا سہارا بننے کے لیے کئی طرح کی پر مشقت معاشی سرگرمیوں میں  حصہ لینا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں انھیں جنسی تلذذ کا ذریعہ تصور کرنے والی نفسیات  سے خواتین کی صورت حال کا یہ پہلو اوجھل ہوتا ہے اور وہ اس جبر کو محسوس کیے بغیر جس کا خواتین کو سامنا ہے، خود غرضی اور نفس پرستی کی کیفیت میں  انھیں صرف صنف مخالف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بار بار کی تذکیر سے لوگوں کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کا اہتمام کرنے اور خواتین کے حوالے سے کلچرل زاویہ نظر  کی تشکیل میں احترام، ترحم اور ہمدردی جیسے جذبات کو بنیادی عناصر کے طور پر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس ضمن میں خواتین سے متعلق ایک عمومی غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے جو ذہنوں میں پائی جاتی ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے خواتین بھی زیبائش کے حوالے سے اخلاقی حدود وآداب کی پابند ہیں۔ عموماً‌ ہمارے ہاں مخلوط ماحول میں ان حدود وآداب کی پابندی نہیں کی جاتی، لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ مخلوط ماحول میں بن سنور کر آنے والی ہر خاتون، صنف مخالف کو “صلائے عام’’ دینا چاہتی ہے اور کسی بھی پیش قدمی کو اس کی طرف سے اہلا وسہلا ومرحباً‌ کہا جائے گا، محض غلط فہمی ہے۔ خواتین کے اس رویے میں بنیادی کردار ماحول کا ہوتا ہے اور خاص طور پر جہاں دوسری خواتین زیب وزینت کی نمائش کا پورا اہتمام کر رہی ہوں، وہاں اس temptation سے بچ پانا خواتین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے بناو سنگھار کے اہتمام کا اصل محرک صنف محرک  کی توجہ پانے سے زیادہ اپنی ہم جولیوں میں پرکشش نظر آنا ہوتا ہے۔ سو اسے اسی نظر سے دیکھیں اور خواتین کی بات کو خواتین کے درمیان ہی رہنے دیں۔ 
مخلوط ماحول میں نگاہ اور دل کے خیالات کی حفاظت دور جدید کی آزمایشوں میں سے ایک بڑی آزمایش ہے اور اپنےاخلاق وکردار کی حفاظت کے حوالے سے غیر معمولی حساسیت رکھنے والے افراد ہی اس میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ بہرحال، طہارت اخلاق کی نیت اور ارادہ رکھنے والوں کے لیے اس ضمن میں دو تین چیزوں کا اہتمام ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگا:
ایک تو یہ کہ حتی الامکان قصداً‌ صنف مخالف پر نظریں دوڑانے سے گریز کریں۔ ابتدا میں یہ مشکل ہوتا ہے، لیکن اگر ارادہ اور نیت پختہ ہو تو رفتہ رفتہ انسان بے نگاہی پر قابو پا سکتا ہے۔
دوسری یہ کہ جب بھی بلا ارادہ یا ارادتاً‌ غلط نگاہ پڑ جائے تو فوراً‌ استغفار سے خود کو یاد دہانی کرائیں کہ غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ اگر ایسے موقع پر “اللھم جنبنی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن’’ (اے اللہ! مجھے بے حیائی کے کاموں سے دور رکھ، ظاہر بھی اور مخفی بھی) بھی پڑھ لیں تو ان شاء اللہ کچھ عرصے میں بہت افاقہ محسوس ہوگا۔
تیسری اہم چیز جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کافی موثر رہتی ہے، یہ ہے کہ آپ اس معاملے کو اپنی عزت نفس کے حوالے سے دیکھیں۔ اگر آپ کسی ذمہ دار منصب پر ہیں، خاص طور پر استاذ کا منصب آپ کے پاس ہے تو قدرتی طور پر آپ کے لیے ماحول میں عزت واحترام پایا جاتا ہے۔ آپ عمر میں تھوڑا بڑے ہوں اور کچھ بال بھی سفید ہو چکے ہوں تو طلبہ وطالبات آپ کو اپنے باپ کی جگہ، نہیں تو ایک ہمدرد اور غم خوار بڑے بھائی کی جگہ ضرور رکھتے ہیں۔برے خیالات یا بد نگاہی میں مبتلا ہونے پر یہ تصور کیا کریں کہ اگر آپ کا احترام کرنے والوں کو، خاص طور پر آپ کے طلبہ وطالبات کو آپ کے ان خیالات وعزائم کا پتہ چلے تو وہ آپ کے لیے کتنی عزت دل میں رکھ پائیں گے؟ خود کو یاد دلائیں کہ اگر انھیں اپنے بھائی یا باپ کے “نیک خیالوں’’ یا “پاکیزہ نگاہوں’’ کا کچھ اندازہ ہو جائے تو وہ کیا محسوس کریں گے اور ان کے ایسا محسوس کرنے کا اثر خود آپ کی شخصیت پر کیا ہوگا؟ گویا کسی بھی ماحول کے ذمہ داران اور خاص طور پر اساتذہ خود کو اپنے منصب کے وقار اور اس کے ساتھ وابستہ عزت واحترام کی یاد دہانی کے ذریعے سے اس آزمائش کا بڑی حد تک کامیابی سے سامنا کر سکتے ہیں۔ 
جہاں تک نوجوانوں کا تعلق ہے جنھیں اس عمر میں عموماً‌ سیلف رسپکٹ سے زیادہ صنف مخالف کی توجہ مرغوب ہوتی ہے، تو ان کے لیے وہ طریقہ زیادہ موثر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کی اصلاح کے لیے اختیار فرمایا تھا۔ جو نوجوان اس آزمایش سے دوچار ہوں، انھیں چاہیے کہ ایسی کیفیت میں وہ اپنی ماں، بہن اور بیٹی کا تصور ذہن میں لایا کریں کہ اگر کوئی ان کی طرف بد نظر سے دیکھے تو انھیں کیسا محسوس ہوگا اور یہ کہ وہ جس کو بری نظر سے دیکھ رہے ہیں، وہ بھی کسی کی ماں، بہن اور بیٹی ہی ہے۔ 
ان چند امور کا اہتمام کرنے سے، ان شاء اللہ حسب استعداد وحسب توفیق افاقہ محسوس ہوگا۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۱) القول اور کلمۃ فیصلے کے معنی میں 

قرآن مجید میں القول کا لفظ ایک خاص اسلوب میں استعمال ہوا ہے، اس اسلوب کے لیے القول کے ساتھ تین مختلف افعال استعمال ہوئے ہیں، جیسے حق علیہ القول، اور وقع علیہ القول، اور سبق علیہ القول۔ القول کی طرح کلمة کا لفظ بھی اسی خاص اسلوب میں استعمال میں ہوتا ہے، جیسے حقت علیہ کلمۃ، اور سبقت کلمۃ۔
مترجمین قرآن کے یہاں ایسے مقامات کا ترجمہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو ان کا مفہوم متعین کرنے میں دشواری ہوئی ہے، اور وہ مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کرتے ہیں، بسا اوقات ان ترجموں کو سمجھنا بھی دشوار ہوتا ہے، کہ ان کی مراد کیا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی ان تمام مقامات پر ایک ہی ترجمہ تجویز کرتے ہیں، اور وہ ہے فیصلہ ہونا۔ اس ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایسے ہر مقام پر بہت اچھی طرح موزوں ہوجاتا ہے، مزید یہ کہ اس ترجمہ سے پوری آیت کا مفہوم اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ ذیل میں مثالوں کے ذریعہ سے یہ بات اور واضح ہوگی:

(۱) وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُہْلِكَ قَرْیَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِيْہَا فَفَسَقُوا فِيہَا فَحَقَّ عَلَيْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاہَا تَدْمِيرًا۔ (الاسراء: 16)

”جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں“ (سید مودودی)
”تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے“ (احمد رضا خان)
”تو ان پر (عذاب کی) بات ثابت ہوجاتی ہے “(محمد جوناگڈھی)
”پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے “(امین احسن اصلاحی)
”پس اس کے سلسلے میں فیصلہ ہوجاتا ہے “(امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَيَوْمَ يُنَادِیْہِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ (62) قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ھٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاھُمْ كَمَا غَوَيْنَا تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ۔ (القصص: 62 - 63)

”اور (بھول نہ جائیں یہ لوگ) اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا ''کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟'' یہ قول جن پر چسپاں ہو گا وہ کہیں گے اے ہمارے رب، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے برائت کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے“ (سید مودودی)
”کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی“ (احمد رضا خان)
”(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے“ (فتح محمدجالندھری)
جن کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہوگا (امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ ھُدَاہَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔ (السجدہ: 13)

”اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا (جالندھری)
مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی“ (سید مودودی)
”مگر میری بات قرار پاچکی “(احمد رضا خان)
”مگر میرا فیصلہ ہوچکا ہے “(امانت اللہ اصلاحی)

(۴) لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰی أَكْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔ (یس: 7)

”بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے تو وہ ایمان نہ لائیں گے“ (احمد رضا خان)
”اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں “(سید مودودی)
”ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے“ (فتح محمدجالندھری)
”ان میں سے اکثر کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے“ (مطلب ان کے ایمان نہ لانے کا فیصلہ ہوچکا ہے، لہذا  
وہ ایمان نہیں لائیں گے، یعنی جو فیصلہ ہوچکا ہے اس کا نتیجہ بھی بیان کردیا) (امانت اللہ اصلاحی)

(۵) فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا إِنَّا لَذَائِقُونَ۔ (الصافات: 31)

”آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں“ (سید مودودی)
”تو ثابت ہوگئی ہم پر ہمارے رب کی بات “(احمد رضا خان)
”سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی“ (فتح محمدجالندھری)
”ہمارے خلاف ہمارے رب کا فیصلہ صادر ہوگیا“ (امانت اللہ اصلاحی، آگے فیصلہ کا بیان نہیں بلکہ فیصلہ کے نتیجہ کا بیان ہے)

(۶) أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْہِ كَلِمَۃُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ۔ (الزمر: 19)

”بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے“ (فتح محمدجالندھری)
”جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو“ (سید مودودی)
”جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی“ (احمد رضا خان)
”جس کے سلسلے میں عذاب کا فیصلہ ہوچکا “(امانت اللہ اصلاحی) (جو فیصلہ ان کے کرتوتوں کے نتیجے میں ابھی ہوا ہے وہ مراد ہے)

(۷) أُولَئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنَّہُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ۔ (الاحقاف:18)

”یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی ان گروہوں میں جو ان سے پہلے گزرے جن اور آدمی“ (احمد رضا خان)
”یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے“ (سید مودودی)
”وہ لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعدہ صادق آگیا “(محمد جوناگڈھی)
”یہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی وعید پوری ہوئی“ (امین احسن اصلاحی)

(۸) كَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَی الَّذِينَ فَسَقُوا أَنَّہُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔ (یونس: 33)

”اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے“(فتح محمدجالندھری)
”اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے رب کی بات صادق آ گئی“ (سید مودودی)
”یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر“ (احمد رضا خان)
”اس طرح نافرمانی کرنے والوں کے سلسلے میں تیرے رب کا فیصلہ صادر ہوگیا“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۹) إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْہِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ (96) وَلَوْ جَاءَتْہُمْ كُلُّ آيَۃٍ حَتّیٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ۔ (یونس: 96، 97)

”بیشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے ایمان نہ لائیں گےو اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں “(احمد رضا خان)
”جن لوگوں پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے“ (سید مودودی)
”جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے“ (فتح محمدجالندھری)
”جن کے سلسلے میں تیرے رب کا فیصلہ ہوچکا ہے“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۰) وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلیٰ جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّیٰ إِذَا جَائوہَا فُتِحَتْ أَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا بَلٰی وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْكَافِرِينَ۔ (الزمر: 71)

”اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا“(احمد رضا خان)
”مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا“ (سید مودودی)
”لیکن عذاب کا حکم کافروں پرثابت ہو گیا “(محمدجونا گڈھی)
”پر کافروں پر کلمہ عذاب پورا ہوکر رہا “(امین احسن اصلاحی)

(۱۱) وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَی الَّذِينَ كَفَرُوا أنَّہُمْ أَصْحَابُ النَّارِ ۔ (غافر:6)

”اِسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں“ (سید مودودی)
”اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں“ (احمد رضا خان)
”اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں“
 (فتح محمدجالندھری)
”اور اسی طرح تیرے رب کی بات اب لوگوں پر پوری ہوچکی جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں“ (امین احسن اصلاحی)
”اور اسی طرح تیرے رب کا فیصلہ ان لوگوں کے سلسلے میں ہوچکا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ دوزخی ہیں“(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۲) لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْكَافِرِينَ۔ (یس:70)

”تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے“ (سید مودودی)
”اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے “(احمد رضا خان)
”اور کافروں پر بات پوری ہوجائے “(فتح محمدجالندھری)
”اور کافروں پر حجت ثابت ہو جائے“ (محمدجوناگڈھی)
”اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے“ (امین احسن اصلاحی)
”اور کافروں کے سلسلے میں فیصلہ ہوجائے“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۳) وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْہِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَہُمْ لَا يَنْطِقُونَ۔ (النمل: 85)

”اور ان پر بات پوری ہوجائے گی بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، پس وہ کچھ نہ بول سکیں گے“ (امین احسن اصلاحی)
”ان پر بات جم جائے گی“ (محمدجوناگڈھی)
”عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا“ (سید مودودی)
”اور بات پڑچکی ان پر “ (احمد رضا خان)
”اور ان کے خلاف فیصلہ ہوگیا “(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۴) وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْہِمْ أخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّۃً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُہُمْ أنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ۔ (النمل: 82)

”اور جب ان پر بات پوری ہوجائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے کوئی جانور نکال کھڑا کریں گے جو ان کو بتائے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے“ (امین احسن اصلاحی، کوئی جانور نہیں بلکہ ایک جانور کہنا درست ہے)
”اور جب بات ان پر آپڑے گی “(احمد رضا خان)
”اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا“ (سید مودودی)
”اور جب ان کا فیصلہ ہوجائے گا“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۵) قُلْنَا احْمِلْ فِيہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأھْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ۔ (ھود: 40)

”ہم نے اس کو کہا کہ ہر چیز میں سے نرو مادہ دونوں کو اور اپنے اہل وعیال کو، بجز ان کے جن پر حکم نافذ ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اس کشتی میں سوار کرلو“ (امین احسن اصلاحی)
”اور جن پر بات پڑچکی ہے ان کے سوا“ (احمد رضا خان)
”سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے“ (سید مودودی)
”جن کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے “(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۶) فَاسْلُكْ فِيہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأھْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ۔ (المومنون: 27)

”تو اس میں ہر چیز کے جوڑے رکھ لو اور اپنے لوگوں کو بھی سوار کرالو، بجز ان کے جن کے بارے میں قول فیصل ہوچکا ہے“ (امین احسن اصلاحی)
”وہ جن پر بات پہلے پڑچکی “(احمد رضا خان)
”جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے “(سید مودودی)
حق القول اور وقع القول ہم معنی الفاظ ہیں، فیروزابادی کے الفاظ میں:

والاَمرُ یَحُقُّ ویَحِقُّ حَقَّۃً، بالفتح: وجَبَ ووَقَعَ بلا شَکٍ۔ (القاموس المحیط)

القول میں معنی کے لحاظ سے بڑی وسعت ہے، بات، وعدہ، حکم اور فیصلہ وغیرہ وہ سب مفہوم اس میں آسکتے ہیں، جن کا تعلق قول سے ہوتا ہے، ایسی صورت میں سیاق کلام کی مدد سے مناسب مفہوم کا تعین کیا جاتا ہے، مذکورہ بالا تمام آیتوں میں القول اور کلمة سے مراد اگر فیصلہ لیں، تو بات سیاق کلام کے مطابق ہوتی ہے، مفہوم بہت واضح ہوکر سامنے آتا ہے، اور کسی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ اس صورت میں حق القول کا مطلب ہوگا فیصلہ ہوجانا۔ یہی مطلب وقع القول کا ہوگا، جبکہ سبق القول کا مطلب ہوگا پہلے سے فیصلہ ہوجانا۔
بعض حضرات مذکورہ بالا آیتوں میں قول اور کلمة سے مراد وہ بات لیتے ہیں جو اللہ تعالی نے ابلیس سے کہی تھی۔ لیکن وہ بات تمام مقامات پر فٹ نہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ  نافرمانوں کی بدعملی کی پاداش میں اللہ کی طرف سے جو فیصلہ ہوتا ہے، وہ فیصلہ مراد ہے۔
(جاری)

جدید ریاست میں فقہِ اسلامی کی تشکیلِ جدید (۱)

بنیادی خدوخال اور طریقِ کار

مولانا سمیع اللہ سعدی

مسلم امت کا دور زوال  علوم  و فنون کا دور جمود ہے، زوال نے  علوم و فنون کے ارتقاء کا سفر روک دیا، ماضی کے ذخیرے کی تشریح، توضیح، تعلیق، اختصار اور تلخیص علمی حلقوں کا مشغلہ بن گیا ہے، فقہ اسلامی   علوم  و فنون  میں سب سے زیادہ زوال سے متاثر ہوئی، خاص طور پر ادارہ خلافت کے ٹوٹنے سے فقہ اسلامی کے  وہ شعبے یکسر منجمد ہوگئے، جن کا تعلق مسلم امت کے اجتماعی امور سے ہے، ریاستی امور، عدالتی قضایا، اقتصادی معاملات، بین الااقوامی  ایشوز  اور معاشرتی نظم و نسق سب سے زیادہ جمود کا شکار ہوئے، اور افتاء و استفتاء عبادات اور عائلی معاملات  میں منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔ اس لئے  فقہ اسلامی کی تشکیل جدید اور احیا کی   ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ  رفتار زمانہ کی تیزی اور نت  نئی تبدیلیوں کے سیلا ب نے نوازل و حوادث کا  پہاڑ کھڑا کیا، عبادات سے لے کر معاملات تک، انفرادی امور سے لے کر اجتماعی امور تک نئے مسائل کثیر تعداد میں پیدا ہوئے ہیں، جن کا حل نکالنا فقہ اسلامی کی روشنی میں  وقت کی سب بڑی ضرورت بن گیا ہے۔ ان نوازل و حوادث کو اباحیت اور  جمود سے بچتے ہوئے  تیسیر اور احتیاط کی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے، اس کام کے لئے ایسے نبض شناس فقہا  چاہئے ، جو ایک طرف ماضی کے ذخیرے پر مکمل عبور رکھتے ہوں،دوسری طرف حال کی تبدیلیوں  اور   تقاضوں  کا کامل ادراک رکھتے  ہوں ۔ ماضی سے انحراف یا حال سے اعراض پر مبنی کوششیں جمود یا اباحیت پر منتج ہو ں گی ۔
اس مقالے میں اس حساس اور اہم ترین موضوع پر بحث کی جائے گی اور جدید ریاست میں  فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے رہنما خطوط واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ مقالہ میں حسب ذیل سوالات  زیر بحث لائے جائیں گے:
۱۔ جدید ریاست کیا ہے اور جدید ریاست سے جڑے تصورات  شریعت سے کتنے ہم آہنگ ہیں؟
۲۔ فقہ اسلامی کا کون سا حصہ تشکیل ِجدید کا متقاضی ہے اور کس قسم کے مسائل و احکام میں تشکیل ِجدید  وقت  کی ضرورت ہے؟
۳۔ تشکیل جدید کے بنیادی خدوخال کیا ہیں اور اس کے اساسی مراحل کون سے  ہیں ؟
۴۔  عالم  اسلام میں فقہ اسلامی کی تشکیل ِجدید کیا  کوششیں ہوئی ہیں اور ان کوششوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے ؟
ان چار سوالات کو چار ابحاث میں بیان کیا جائے گا ۔

بحث اول: جدید ریاست اور اس کے  اجزائے ترکیبی 

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے خدوخال طے کرنے  سے پہلے جدیدریاست کے اجزائے ترکیبی اور اس کی اسلامائزیشن  کا کام اہم ہے ، اگر ریاست غیر اسلامی بنیادوں پر کھڑی ہوگی ،تو تجدید و احیا کے کام میں متنوع رکاوٹوں سمیت ایسے عناصر  اثر انداز ہو  سکتے ہیں ،جس کی وجہ سے  تجدید کے حساس کام کا  تحریف و تغیر میں  تبدیل ہو نے کا امکان ہے ۔عالم اسلام میں وقتاً‌ فوقتا ً‌ تجدد پسندی کی  اٹھنے والی لہروں کے  پیچھے متنوع عوامل  میں سے  ایک یہ عامل بھی  کارفرما ہے ۔اس  مو قع پر ریاست کے جملہ اجزائے ترکیبی (یہاں اجزائے ترکیبی  سے مراد وہ امور و ہ تصورات  ہیں ،جو ریاست کے وجود ،تنظیم اور نظم و نسق سے متعلق ہیں ، ورنہ ٹھیٹھ سیاسی فلسفہ کی رو سے ریاست آبادی ،علاقہ ،حکومت اور اقتدار اعلی  صرف چار اجزا پر مشتمل ہوتی ہے )سے بحث کی ضرورت نہیں ہے ،بلکہ ان  پہلووں پر بات کی جائے گی ،جو شرعی نقطہ نظر سے قابل غور ہیں ،اور اسلامی تعلیمات سے قطعی طور پر ٹکراتی ہیں یا  شریعت کے  مقاصد کلیہ سے ہم آہنگ نہیں  ہیں ۔اس میں درجہ ذیل تصورات پر بحث ہوگی:
۱۔ تصورریاست  (concept of state)
۲۔ سیکولرازم (secularism)
۳۔ اقتداراعلی (sovereignty)   کا تصور
۴۔ تصورقومیت  (concept of nationalism)
۵۔ آزادی ومساوات  (freedom and equality)
۶۔ فلسفہ حقوق (philosophy of rights)

۱۔  تصور ریاست (concept of state)

جدید سیاسی فلسفے میں ریاست کا تصور انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،جدیدپولیٹکل سائنس  میں ریاست کو مستقل بالذات عنصر مانا گیا ہے ،ریاست باقاعدہ ایک شخص قانونی ہوتا ہے ، اور یہ شخص قانونی  عام افراد کی طرح حقوق و فرائض کا مخاطب ہوتا ہے ،ریاست معاشرے ،حکومت اور قوم  سے الگ تھلگ  وجود رکھتا ہے، سارے افعال ریاست کی طرف منسوب ہوتے ہیں ،جو ریاست کی نیابت میں حکومت  سر انجام دیتی ہے۔ 1
ریاست کا یہ تصور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جانچنے کی ضرورت ہے ،کیا  فقہ السیاسہ کی روشنی میں یہ تصور درست ہے؟اس کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے ،  فقہ اسلامی میں  خلیفہ و امام کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے  اور خلیفہ و ا مام کو ہی احکام کا مخاطب بنایا گیا ہے ، دار کی اصطلاح بھی آئی ہے ،جسے ہم کسی نہ کسی درجے میں ریاست کے قریب قریب مفہوم دے سکتے ہیں ،لیکن اس کی نوعیت بھی امام  وسلطان اور رہنے والے افراد  کے بدلنے سے بد ل جاتی ہے ،دار الاسلام ،دار الکفر،دار الامن اور دار الحرب  وغیرہ،ان سب اصطلاحات کا مدار عوام اور حکمرانوں پر ہے ،یہی وجہ ہے کہ دار الاسلام دار الکفر میں بد ل سکتا ہے اور اس کے برعکس بھی ،اس لئے دار کی اصطلاح کو کلی طور پر جدید تصورِ ریاست کے ہم معنی قرار دینا مشکل ہے۔
یہ بات باعثِ تعجب ہے کہ جدید مسلم مفکرین کے ہاں  جدید تصور ریاست اور اسلام کے تصور ریاست  پر کوئی  تفصیلی بحث نہیں ملتی ،بلکہ  اسلامی ریاست پر لکھنے والوں  کا مرکز توجہ نظام حکومت ہے ،البتہ مو لانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ  نے اسلام کی رو سے ریاست و حکومت کا حسب ذیل الفاظ میں فرق بیان کیا ہے:
’’خلافت کی اصطلاح اسلامی اصولوں پر قائم شدہ ریاست کے لئے استعما ل ہوئی ہے اور امامت یا امارت سے مراد وہ گورنمنٹ ہوتی ہے ،جو خلافت کے اداروں کی تنفیذ کرتی اور اس کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتی ہے۔‘‘ 2
مولانا اصلاحی رحمہ اللہ  کا بیان کردہ فرق محلِ نظر ہے ۔خلافت و امامت کی اصطلاحات  مترادف ہیں۔ابن خلدون مقدمہ میں لکھتے ہیں:
واذ قد بینا حقیقہ ھذا المنصب وانہ نیابۃ عن  صاحب الشریعہ فی حفظ الدین وسیاسۃ الدنیا بہ تسمی خلافۃ و امامۃ والقائم بہ خلیفہ و امام۔ 3
ترجمہ: جب ہم اس منصب کی حقیقت بیان کر چکے  اور اس بات کا بیان بھی ہوچکا کہ یہ منصب دین کی حفاظت اور دنیاوی امور کی تدبیر میں    شارع کی نیا بت  کانام ہے ، تو اسے امامت و خلافت کہتے ہیں اور اس کو قائم کرنے والا خلیفہ و امام کہلاتا ہے۔
 جب جدید مسلم سیاسی فکر  میں جدید ریاست کی ماہیت  پر بحث نہیں ملتی تو اس کی مختلف تشریحات اور انواع پر بحث کجا ملے گی؟،جدید سیاسی فلسفے کی رو سے ریاست کی مختلف نقطہ ہائے نظر سے متنوع تشریحات ہیں مثلا  liberal-pluralist state (لبرل تکثیری ریاست ) social-democratic state (سماجی جمہوری ریاست ) Marxist analysis (ریاست کا مارکسی تجزیہ ) feminist analysis (ریاست کا تانیثی تجزیہ) self-serving state (خود مکتفی ریاست) وغیرہ 4، ان تمام  تشریحات سے ریاست کی متنوع اقسام  بنتی ہیں،اس لئے جدید ریاست کا گہرا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے   اور اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جدید ریاست اپنی ماہیت اور جدید تشریحات  کے اعتبار سے  اسلامی بن  بھی سکتی ہے  یا نہیں؟  اور اسے  اسلامی فقہی تصورات سے ہم آہنگ  کرنا  کیا ممکن  ہے؟

۲۔ سیکولرازم (secularism)

 سیکولرازم جدید ریاست کے مفہوم کا لازمی جزو ہے، یہ اصطلاح  انیسویں صدی میں جارج ہالی اوک(George Jacob holyoake) نے وضع کی تھی5، سیکولرازم  ریاست سے مذہب کی بے دخلی کا نام ہے ،اجتماعی امور سے مذہب کو نکال کر اسے محض ایک پرائیویٹ معاملہ بنانے کی تحریک ہے ،سماج سے مذہبی علامات ،تعلیمات اور شعائر کو الگ کر کے اسے خالص دنیاوی رنگ دینے کانام ہے ،انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں سیکولرازم کی درجہ ذیل تشریح کی گئی ہے:
A movement in society directed away from other worldliness  to life on earth. 6
ترجمہ: سماج میں اخرویت  سے رخ پھیر کر دنیویت پر توجہ دینے کی تحریک۔
عام طور پر اس کی شناعت کم کرنے کے لئے  اسے   مذہب  کے بارے میں ریاست کی  غیر جانبداری سے تعبیر کیا جاتا ہے ،لیکن یہ  درحقیقت الفاظ کا ہیر پھیر ہے ،ریاست  کا مذہب کے معاملے میں غیر جانبدار ہونا دراصل مذہب کو ریاستی امور سے نکالنے کا نام ہے ۔    سیکولرازم   معاصر فقہا کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ،کیونکہ آج نئے روپ اور نئی تعیبرات کے ساتھ سیکولر فکر اسلامی ممالک پر حملہ آور ہے ،خصوصا مسلم ممالک میں چلنے والی خارجیت و عسکریت کی حالیہ لہروں کے جواب میں بعض مسلم مفکرین7 کی جانب سے جو بیانیہ (narrative)سامنے آیا ہے ،وہ انجام ِکار کے اعتبار سے سیکولرازم  کی ایک" اسلامی توجیہ" ہے  ،اس کے علاوہ مسلم سماج میں ایسے دانشور اور صحافی موجود ہیں8 ، جو اپنے آ پ کو  علانیہ سیکولرازم کا علمبردار   کہتے ہیں  اور  باعثِ تعجب یہ کہ اسے اسلامی تعلیمات کے منافی بھی نہیں سمجھتے ،حالانکہ اسلامی تعلیمات   میں اجتماعی و انفرادی امور کی اس اعتبار سے کوئی تقسیم نہیں ہے ،کہ سماجی امور اور ریاستی معاملات الہی اوامر و نواہی سے  آزاد ہوں  گے،بلکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو فرد کی زندگی کی تشکیل کے ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی مکمل رہنمائی کرتا ہے اور اسے احکام و فرائض کا پابند بناتا ہے ۔

۳۔ اقتدار اعلی (sovereignty) کا تصور 

جدید سیاسی فلسفہ میں  اقتدا راعلی کا تصور کلیدی اہمیت رکھتا ہے ، حکومت  کی مختلف اقسام  اور ایک ریاست میں  مختلف سپریم ادارے اقتدار اعلی کے تصور میں تنوع کا نتیجہ ہے ،اندورنی (internal) و بیرونی  (external) اقتدار اعلی ہو   یا آئینی (legal) اور سیاسی (political) اقتدار اعلی ، فوری (immediate) اور حتمی (ultimate) اقتدار اعلی ہو ،یا عمومی (popular)، قا نونی (jure) اور حقیقی (actual) اقتدار اعلی ہو،9 ان تمام اقسام نے  متعدد سوالات کھڑے کئے  ہیں ،ان سوالات کا فقہ السیاسہ کی روشنی میں جائزہ لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،یہ بات شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ جدید سیاسی فلسفوں کے برعکس  اسلامی تعلیمات کی رو سے مقتدر اعلی صر ف اور صرف اللہ کی ذات  اور اللہ و رسول کے دئیے ہوئے احکامات ہیں ،جسے دین اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے ،لیکن اس دین کو نافذ کرنے کے لئے کس قسم کے مقتدر اعلی کی ضرورت ہے جو حقیقی مقتدر اعلی  کے تابع ہوکر    سپریم اتھار  ٹی کی حیثیت رکھتا ہو؟ وہ مقتدر اعلی خلیفہ و امام ہوتا ہے یا اہل حل  و عقد، خواص ہوتے ہیں یا عوام؟ اگرچہ قدیم فقہی تصور کے مطابق خلیفہ و امام سپریم اتھارٹی ہے ، کیا جدید دور میں یہ تصور قابلِ عمل ہے؟ جدید اسلامی ریاست میں   ایک ہی  شخص اور ادارے میں  اختیارات مرتکز کرنا زیادہ مفید ہوگا یا جدید تجربات  سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اختیارات کی تقسیم مقاصدِ شریعت سے زیادہ ہم آہنگ ہوگا؟ مسلم مفکرین نے اقتدار اعلی کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے عموماً‌ حتمی و حقیقی اقتدار اعلی پر بحث کی ہے،اور  اقتدار اعلی کے جدید تصور کو بیک جنبشِ قلم اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے ،حالانکہ اس تصور کی تحلیل  اور اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

۴۔ تصور قومیت 

قومیت  جدید سیاسی فلسفہ کا وہ نظریہ ہے ،جس سے عالم اسلام سب  سے زیادہ  متاثر ہوا  ،برصغیر میں "قوم وطن سے بنتی ہے یا مذہب سے  "کے  سوال پر لمبا عرصہ تک  بحث مباحثہ ہوتا رہا ،متحدہ  قومیت اور اسلامی قومیت  کے دو  الگ الگ نعرے ایجاد ہوئے ،اس کے علاوہ عالم عرب میں  عرب نیشنلزم  کی  لہر چلی ،جس  سے خلافت  کا ادارہ ٹو ٹ پوٹ کا شکار ہوا ،نیزمصر  وعراق میں  قدیم تہذیبوں  کے احیا کی صداوں کے پیچھےبھی یہی تصور کارفرما تھا ،بلکہ خود یورپ اس تصور سے شدید متاثر ہوا ،بیسیویں صدی کی دو عظیم جنگوں کے پیچھے بھی قومیت کا عنصر شامل تھا ،فلسفہ سیاسیات کے معاصر برطانوی مصنف Andrew Heywood  لکھتے ہیں:
Nationalism was therefore a powerful factor leading to war  in both 1914 and 1939. 10
 اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جدید ریاستیں سب کے سب  قومی ریاست (nation –state ) کے تصور پر کھڑی ہیں ،اور nationalism  ایک تسلیم شدہ نظریہ بن گیا ہے ۔
اسلامی حوالے سے لفظ قوم  مختلف معانی و مفاہیم رکھتا ہے ،ڈاکٹر مستفیض علوی صاحب نے  ایک مضمون میں قرآن پاک میں لفظ قوم کے مختلف استعمالات   جمع کئے ہیں ،ڈاکٹر صاحب  لکھتے ہیں:
"کتاب الہی میں اس کاذکر درجہ ذیل حوالوں سے آیا ہے:
۱۔کسی خاص طرز فکر و عمل رکھنے والے گروہ کے لیے جیسے ان فی ذلک لایات لقوم یومنون 11 
۲۔کسی نبی کی امت اور کسی بادشاہ کی رعایا کے لئے جیسے  من بعد قوم نوح 12، من قوم فرعون 13، اتذر موسی و قومہ14
۳۔کسی خاص علاقے میں رہنے والے گروہ کے لئے جیسے قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط 15
۴۔کسی خاص نسلی  اور نظریاتی پس منظر ،توارث اور تشخص کے حامل گروہ  کے لئے قوم کے ساتھ ملت کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے ،جیسے انی ترکت ملۃ قوم لا یومنون 16، ملۃ ابیکم ابراہیم 17
۵۔کسی عقیدے اور مسلک کے حامل گروہ  کے لئے قوم کے ساتھ امت کا لفظ بھی ساتھ آیا ہے ،جیسے  ومن  قوم موسی امۃ یھدون  بالحق وبہ یعدلون 18
تاہم امت کا لفظ ایک مقدس فریضہ  حیات کے ضمن میں  استعمال کیا گیا ہے ،جیسے کنتم خیر امۃ  19، ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر 20
معلوم  یہ ہوا  کہ  قرآن نے قوم کا لفظ یا تو ایسے انسانی گروہ کے لئے استعمال کیا ہے:
۱۔ جو ایک خاص  نقطہ نظر کا حامل ہو اور ایک خاص تہذیب یا کلچر رکھتا ہو ۔
۲۔ ایسی اجتماعیت کے لیے جو ایک  دستور اور  اقتدار و حکومت کے تحت ہو ،
۳۔ یا ایسی جامعت انسانی کے لئے  جو خاص علاقوے میں رہائش پذیر ہو ۔
اس کے ساتھ کسی ایسی قوم کے لئے جو ایک خاص نسلی توارث  اور نظریاتی تشخص کی حامل ہو ،قرآن نے ملت کا لفظ استعمال کیا ہے  اور ایسی ملت کو جو ایک اپنے سامنے ایک  فریضہ اور نظریاتی مقصدیت رکھتی ہو ، امت کے لفظ سے یاد کیا ہے۔" 21
    ڈاکٹر صاحب کی اس وقیع عبارت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے قوم کی بجائے ملت اور امت کا لفظ  استعما ل کرنا قرآنی تعبیرات سے ہم آہنگ ہے ،اس لئے اسلامی قومیت کا نعرہ  قرآنی تعبیرات کی رو سے محل نظر ہے۔
البتہ  کسی خاص نسل ،زبان یا کلچر کے اشتراک کی بنیاد پر ریاست بنانا   اسلامی  اصولوں  سے میل نہیں کھاتا ،مسلم سیاسی فقہ  میں  ریاستوں کی تقسیم نظریات کی بنیاد پر ہوئی ہے جیسے دار الاسلام ،دالحرب وغیرہ کے تصورات ،اس لئے  (nation-state)کے تصور پر از سر نو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

۵۔ آزادی و مساوات (freedom and equality)

آزادی و مساوات جدید سیاسی فلسفے کے لازمی اجزا ہیں ،پولیٹکل سائنس کی چھوٹی کتاب  سے لیکر بڑی کتب تک اور بنیادی ماخذ سے لیکر ثانوی ماخذ تک سب میں آزادی و مساوات پر بحث ملتی ہے ،  معروف برطانوی مفکر برلن آزادی کے متعلق لکھتے ہیں:
The area within which a man can act unobstructed by others. 22
یعنی آزادی سے مراد   ایسا دائرہ جس میں  ایک فرد دوسروں کی مداخلت سے مکمل طور پر  آزاد ہو کر اپنے اعمال سر انجام دے سکے ، کسی  بھی دوسری طاقت کو اسے روکنے کا اختیار نہ ہو ۔ظاہر ہے کہ انسان جب خارجی مداخلت سے مکمل  آزاد ہوگا  تو  اپنے اعمال کا انتخاب بھی  خود کرے گا ،یوں  خیر و شر   طے کرنے کا پیمانہ اس کے ہاتھ میں آجائے گا اور ہر آدمی خیر و شر خود تخلیق کرے گا ۔آزادی کے اس تصور سے خیر و شر کے جملہ خارجی معیارات بشمول مذہب کے لایعنی ہوگئے ۔
اسی طرح مساوات کے بارے میں political ideas and movements  کے مصنفین لکھتے ہیں:
whatever the actual circumstancesall human beings are ‘equal’ by virtue of being human. 23
یعنی اصل حالات جو کچھ بھی ہوں، تمام انسان بحیثیت انسان ہونے کے مساوی ہیں،گویا انسان کے جملہ  وجوہِ تعارف اور نظریات و عقائد سے  صرف ِنظر کرتے ہوئے سب  انسان برابر ہونگے،حالانکہ   روئے زمین پر  عقائد ،خیالات،نظریات اور میلانات و رجحانات سے    مجرد  کوئی انسان موجود نہیں ہے ،انسان ہمیشہ   شناخت اور مخصوصی ذہنی میلانات  کے سانچے میں ہوتا ہے خواہ وہ جو بھی ہوں۔
آزادی ومساوات کا مذکورہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے مکمل منافی ہے۔ اسلام انسان کے بارے میں آزادی کی بجائے عبدیت اور نیابت الہی   کا تصور رکھتا ہے ،جبکہ  مساوات کی بجائے انسانوں  میں فرق ِمراتب کا قائل ہے  ،مومن  کافر ،برا اچھا ،عالم جاہل وغیرہ مراتب میں تقسیم کر کے ہر ایک کو الگ خانے میں رکھ کر اس  پر حکم لگاتا ہے ۔اس لئے جدید ریاست تشکیل دیتے وقت مغربی ساسی فلسفہ کے تصور آزادی و تصور مساوات کا محاکمہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

۶۔ فلسفہ حقوق (philosophy of rights)

جدید سیاسی فلسفے  میں  حقوق کا نظریہ بنیادی فلسفہ ہے ،حقوق کا  پورا  پیراڈائم جدیدیت (modernism) کا تشکیل کردہ ہے ،جس میں عقلی بنیادوں پر انسانوں کے حقوق طے کئے گئے ہیں ،ان میں بعض  بنیادی حقوق ہیں ،جسے جدید سیاسی فلسفے میں انسانی حقوق human rights یا فطری حقوق natural rights  کا نام دیا گیا ہے ،اور باقی ثانوی حقوق ہیں ، جیسے تعلیم کا  حق،آزادی اظہار رائے کا حق،سماجی حقوق،قانونی حقوق وغیرہ 24 ان میں خاص طور پر ا نسانی حقوق  عہدِ جدید کا مقدس عقیدہ ہے ،انسانی حقوق کی یہ عمارت  مذہب کے ملبے پر تعمیر کی گئی ہے ،معروف برطانوی  ماہر سیاسیات andrew heywood  لکھتے ہیں:
By the twentieth century, the decline of religious belief had led to the secularization of natural rights theories, which were reborn in the form of ‘human’ rights. Human rights are rights to which people are entitled by virtue of being human. 25
اسلامی بنیادوں پر جدید ریاست تشکیل کرتے وقت فلسفہ حقوق کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے ، خاص طور پرفلسفہ  حقوق کا  پس منظر   گہرے مطالعے کا متقاضی ہے ،بعض مسلم  مفکرین نے انسانی حقوق کو  اسلامی اصطلاح حقوق العباد کے مترادف مانا ہے ، جسے مغالطہ کہا جاسکتا ہے 26، اس مغالطے کی تفصیل مغربی فلسفے کے معروف ناقد ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب   کی زیر نگرانی  مرتب شدہ کتاب" سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ "میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

جدید ریاست اور مسلم مفکرین 

انیسویں  صدی اور بیسویں صدی کے نصف اول میں مسلم مفکرین  کا مرغوب موضوع  ریاست و سیاست کے مباحث  تھے ،لیکن ان تمام مباحثوں میں  بنیادی طور پر دو نکات پر زیادہ زور تھا:
۱۔ اسلا م میں سیاست و ریاست کا مقام و مرتبہ 
۲۔اسلامی نظام خلافت اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ ومحاکمہ
پہلے نکتے سے  ریاست مقصود ہے یا موعود ، عبادات مقصود ہیں یا حاکمیت  الہی پر مشتمل ریاست کے قیام کے لئے وسیلہ   وغیرہ جیسی بحثوں نے جنم لیا ، بعض مسلم مفکرین 27 نے تو سرے سے ہی  اسلام کے نام پر سیاست اور اسلامی ریاست کا انکار کر دیا  اور  بعض   28 نے اسلامی ریاست کا صور کچھ اس زور سے  پھونکا کہ اسے اسلامی تعلیمات کا مقصود اعظم قرار دیا ،جبکہ دوسرے نکتے نے جمہوریت  سراسر کفر ہے  یا اس کی اسلامائزیشن ممکن ہے،جیسی ابحاث کو جنم دیا ،اور آج بھی ان آوازوں کی گونج  وقتا فوقتا سنائی دیتی ہے ۔اسے مسلم دنیا کا المیہ کہہ سکتے ہیں کہ مغربی سیاسی فلسفے سے جڑئے دیگر اہم تصورات ان ابحاث کے بوجھ تلے دبے رہے اور ان پر وہ  بحثیں نہ ہوسکیں ،جو  جدید دور  میں  مسلمانوں کا سیاسی رخ متعین کرنے کے لئے بے حدضروری تھیں ،آج عالم اسلام میں سیاسی حوالے سے افراط و تفریط  اسی اغماض کا نتیجہ ہے ،کہ  مسلم دنیا میں ایک طرف  خارجیت کی فکر زور پکڑ رہی ہے ،جس نے اسلامی ممالک میں کشت و خون کا بازار گرم  کر رکھا ہے ، دوسری طرف سیکولرازم و لبرلزم  کی  فکری لہر نے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے سحر  میں جکڑ ا ہوا ہے  اور باقاعدہ اپنے آپ کو لبرل و سیکولر کہلوانے والے گروہ پیدا ہوگئے ہیں ،جو جدید  مغربی سیاسی  فلسفے کے سامنے سر ِتسلیم خم ہیں ،اس لئے فقہ اسلامی کی  تشکیل جدید سے پہلے  جدید اسلامی ریاست کے خدوخال واضح کرنے کی ضرورت ہے اور مغربی سیاسی فلسفے کے   فکری  اور انتظامی اجزا  الگ  الگ کر کے خذ ما صفا و دع ما کدر پر عمل کرنا چاہئے اور مغرب سے در آمد شدہ پورے سیاسی ڈھانچےاور جدید سیاسی  تصورات   کا محاکمہ کرکے اس پر حکم لگانا چاہئے۔

حواشی

1. Andrew, hywood,political theory an introduction (new york 2004) P.75
2. اصلاحی ،امین احسن،اسلامی ریاست ، ص  ۱۶،دارالتذکیرلاہور ۲۰۰۴
3. ابن خلدون ،عبد الرحمن ،تاریخ ابن خلدون  ج۱،ص،۲۳۹،دار الفکر ۲۰۰۱
4. Kevin,Harrison and tony, boyd ,political ideas and movements(new York 2003) P.19
5. فرہاد ،شاہد ،ڈاکٹر ،سیکولرازم ایک تعارف ،ص ،۷۱،کتاب محل لاہور
6. بحوالہ ،فرہاد ،شاہد ،ڈاکٹر ،سیکولرازم ایک تعارف ، ص ۱۹
7. جاوید احمد غامدی صاحب کے حالیہ بیانیے کی طرف اشارہ ہے
8. سوشل میڈیا پر سینئر صحافی وجاہت مسعود صاحب کی زیر سرپرستی چلنے والا گروپ ہم سب مراد ہے
9. Heywood andrew ,political theory an introduction(new yark 2004) P .90,97
10. .heywood Andrew , political ideologies an introduction (3rd edition) P.127
11. الزمر:۵۲
12. الاعراف:۶۹
13. الاعراف:۱۲۷
14. الاعراف:۱۲۷
15. ھود:۷۰
16. یوسف:۳۷
17. الحج:۷۸
18. الاعراف:۱۵۹
19. آل عمران:۱۱۰
20. آل عمران:۱۰۴
21. علوی مستفیض ،ڈاکٹر،رائج الوقت سیاسی افکار کا تجزیہ ،فکر و نظر،شمارہ ۴،جلد ۴۵ ص ۷۰،۷۱
22. Belin, Isaiah ,tow concepts of liberty (oxford university press) P.3
23. Kevin,Harrison and tony , boyd ,political ideas and movements(new York 2003) P.119
24. Heywood , andrew ,political theory an introduction (new York 2004) P.185
25. Heywood,Andrew ,political theory an introduction (new york 2004) P.188
26. مودوی ،ابو الاعلی ،اسلامی ریاست ، ص ۵۷۰،اسلامک پبلیکیشنز ۲۰۰۰
27. جیسے مولانا وحید الدین خان صاحب
28. مولانا مودودی صاحب مراد ہیں
(جاری)

حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں جبکہ گزشتہ روز کی خبروں نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا۔ اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی، عمومی سی ملاقات تھی، میں نے عرض کیا کہ حضرت! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ خواب بس اتنا ہی ہے، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ خاندانِ قاسمی کے چشم و چراغ اور اس عظیم خانوادہ کے ماتھے کا جھومر تھے، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے فرزند و جانشینؒ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ کے پوتے اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پڑپوتے تھے۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے ساتھ میری نیازمندی اپنے شیخ و مرشد حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے وسیلہ سے تھی کہ ان بزرگوں کا باہمی قرب و تعلق مثالی تھا۔ حضرت قاری صاحبؒ جب بھی پاکستان تشریف لاتے تو شیرانوالہ لاہور میں کوئی نہ کوئی مجلس ضرور جمتی اور میرا شمار اس دور میں شیرانوالہ کے حاضر باش شرکاء میں ہوا کرتا تھا، اس لیے متعدد بار ان برکات سے فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضرت قاری صاحبؒ کے بعد حضرت مولانا قاری محمد سالم قاسمیؒ کے ساتھ بھی اسی تسلسل میں نیاز مندی کا تعلق رہا اور جب دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے ساتھ میں بھی شریک تھا، ہم تینوں کا قیام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے مکان میں رہا اور چند روز تک ہم ان کی میزبانی کا حظ اٹھاتے رہے۔ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کے چند اور دوست مولانا مفتی محمد نعیم اللہ، قاری محمد یوسف عثمانی، جناب امان اللہ قادری، عبد المتین چوہان مرحوم اور دیگر حضرات کے علاوہ بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا حکیم محمودؒ بھی اسی مکان میں ہمارے ساتھ قیام پذیر تھے۔ اس دورے میں حضرت قاری صاحبؒ کی رہائش گاہ کا قیام اور حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کی دعوتیں اور مجالس میری زندگی کے یادگار لمحات میں سے ہیں۔
مولانا محمد سالم قاسمیؒ جب پاکستان تشریف لاتے تو میری کوشش ہوتی کہ کسی جگہ ان کی زیارت و ملاقات کی کوئی صورت بن جائے جس میں اکثر کامیاب ہو جاتا۔ ایک بار گوجرانوالہ تشریف لائے تو میرے گھر کو بھی رونق بخشی اور جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں میری رہائش گاہ پر ناشتہ کے لیے قدم رنجہ فرمایا۔ لاہور، راولپنڈی اور دیگر مقامات کی بعض ملاقاتیں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں مگر ایک ملاقات بہت یادگار رہی۔ میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسٰی منصوری کے ساتھ بنگلہ دیش کے سفر پر تھا، سلہٹ میں ایک پرانے اور معروف بزرگ حضرت شاہ جلالؒ کا مزار ہے جو لوگوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ہے، میں اسے سلہٹ کا داتا دربار کہا کرتا ہوں، ہم وہاں اپنے پروگرام کے تحت گئے تو معلوم ہوا کہ دربار کے ساتھ جو دینی درسگاہ ہے وہ ہمارے ہم مسلک دوستوں کے زیر انتظام ہے اور وہاں حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی قیام گاہ پر پہنچ گئے تاکہ زیارت و ملاقات کی سعادت حاصل ہو جائے۔ میزبانوں کو ایک پاکستانی مولوی کی کسی طے شدہ پروگرام کے بغیر ان سے ملاقات کرانے میں تردد تھا اور اس تردد کی وجہ بھی سمجھ آرہی تھی۔ میں نے ڈیوٹی پر موجود ایک صاحب کو اپنا نام لکھ کر دیا کہ حضرت کو صرف یہ نام بتا دیں اگر وہ اجازت دیں تو ملاقات کرا دیں۔ حضرت مولانا مرحوم نے نام پڑھا تو بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ یہ ادھر کہاں آگئے ہیں؟ بہرحال اذن باریابی مل گیا اور کچھ دیر محفل رہی۔ ایک بار جدہ کے سفر میں دوستوں نے بتایا کہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ تشریف لائے ہوئے ہیں اور قریب ہی ایک دوست کے ہاں قیام پذیر ہیں۔ حاضری پر خوشی کا اظہار فرمایا، مختلف مسائل پر باہمی گفتگو ہوئی اور دعاؤں سے نوازا۔ اسی طرح اور بھی بعض مقامات پر ملاقات و گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔
حضرت مرحوم کے والد گرامی حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ اپنے دور کے بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے اور انہیں بجا طور پر خطیب اسلام کہا جاتا تھا۔ بلکہ میں نے ان کی پہلی زیارت اپنے طالب علمی کے دور میں ایک جلسہ میں ہی کی تھی جب لاہور کے انارکلی بازار میں بہت بڑا جلسہ تھا، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ حضرت قاری صاحبؒ کی تقریر سننے کے لیے گوجرانوالہ سے لاہور تشریف لے گئے تو مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ میرا شاید کافیہ کا سال تھا اور میں نو عمر لڑکا ہی تھا مگر اس سفر کی بہت سی باتیں اور جلسہ کا منظر ابھی تک نگاہوں کے سامنے ہے۔ حضرت قاری صاحبؒ کی باتیں تو یاد نہیں مگر ان کا سراپا اب بھی نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی خطابت اپنے والد گرامیؒ کی خطابت کا رنگ رکھتی تھی اور انہیں خطیب الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا مگر میرا طالب علمانہ ذوق حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے لیے خطیب کی بجائے “متکلم اسلام” کے تعارف کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ متکلم کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور محدثین، فقہاء، مناظرین اور مفسرین کی طرح متکلمین بھی مستقل تعارف رکھتے ہیں۔ متکلم کا کام اپنے دور کی عقلیات کے دائرے اور ماحول میں اسلامی عقائد اور ان کی تعبیرات کی تشریح و توضیح کرنا ہوتا ہے اور ہر دور میں جلیل القدر متکلمین امت مسلمہ کی راہنمائی کرتے رہے ہیں۔ جب دیوبندی مکتب فکر کی ان دائروں میں تقسیم کی بات ہوتی ہے تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارے سب سے بڑے متکلم حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تھے، ان کے بعد شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اس محاذ کو سنبھالا اور پھر حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ ان دونوں کے ترجمان بن گئے۔ مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی خطابت و تدریس میں بھی اس کی بھرپور جھلک پائی جاتی تھی اور بسا اوقات ان کی گفتگو سنتے ہوئے ہم آنکھیں بند کر کے حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کی زیارت کا حظ اٹھا لیا کرتے تھے۔
دیوبندی متکلمین کا جب تذکرہ ہوتا ہے تو ایک اور نام کا اضافہ کیے بغیر میری تسلی نہیں ہوتی اور وہ بزرگ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ہیں جو اپنے دور میں پنجابی زبان کے سب سے بڑے متکلم اسلام تھے اور عقائد کی مشکل سے مشکل تعبیر کو آسان مثالوں اور سادہ اسلوب میں عام آدمی کو سمجھا دینے کا کمال رکھتے تھے۔ مجھ سے ایک بار پوچھا گیا کہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت قاضی صاحب چوٹی کے خطیب تھے، حضرت جالندھریؒ کمال کے متکلم تھے اور حضرت لال حسین اخترؒ میدانِ مناظرہ کے شاہسوار تھے۔ تینوں کا مشن ایک ہی تھا مگر دائرہ کار اور اسلوب الگ الگ تھا اور یہ تینوں اسلوب کسی بھی دینی تحریک کی لازمی ضروریات میں شمار ہوتے ہیں۔
بہرحال حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے خانوادہ کے ساتھ ساتھ ان کے اسلوب و ذوق کے بھی ایک اور نمائندہ بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں انہیں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے تمام متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

غامدی صاحب اور اہلِ فتویٰ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رجب کے دوران ملک بھر میں بیسیوں مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا اور دینی مدارس کے مختلف النوع اجتماعات میں شرکت کے علاوہ متعدد ارباب علم و دانش کے ساتھ بعض علمی و فکری مسائل پر تبادلہ خیالات کا موقع ملا، ان میں سے ایک اہم اور نازک مسئلہ جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں بعض اہل علم کے فتویٰ کی بات بھی تھی جس کے بارے میں احباب نے میرا موقف معلوم کرنا چاہا۔ متعدد دوستوں کے ساتھ کی گئی متفرق گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں نازل فرمائے حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جانؒ کی روح اور قبر پر جن سے طویل عرصہ تک جمعیة علماءاسلام کی سرگرمیوں میں رفاقت کا تعلق رہا ہے جب وہ لکی مروت میں تھے، پھر کراچی چلے گئے اور اس کے بعد لاہور تشریف لے آئے۔ ”شریعت بل“ کی تحریک اور نفاذ شریعت کی عمومی جدوجہد میں ہمارے درمیان مشاورت و معاونت کا سلسلہ دیر تک چلتا رہا۔ ایک بار انہوں نے دریافت فرمایا کہ کچھ دوستوں نے جاوید احمد غامدی صاحب کی بعض عبارات استفتا کی صورت میں بھجوائی ہیں اس سلسلہ میں آپ کی رائے کیا ہے؟ چونکہ بات مشورہ کی تھی اور مسئلہ علمی و فقہی تھا اس لیے دیانت داری کے ساتھ جو کچھ محسوس کیا وہ ان سے عرض کر دیا۔ اسے قارئین کے سامنے پیش کرنے سے قبل یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ غامدی صاحب کے بعض افکار و آرا پر میں نے متعدد مواقع پر نقد کیا ہے اور ان سے اختلاف کیا ہے۔ اس سلسلہ میں میرے بعض مضامین کا مجموعہ ”ایک علمی و فکری مکالمہ“ کے عنوان سے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے کتابچہ کی صورت میں شائع کیا ہے اور ایک مختصر کتابچہ ”غامدی صاحب کا تصور حدیث و سنت“ کے عنوان سے الگ طور پر بھی شائع ہو چکا ہے۔جبکہ میری ویب سائیٹ zahidrashdi.org پر غامدی صاحب کے عنوان سے ایک درجن سے زائد مضامین موجود ہیں جو وہاں پڑھے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود فتویٰ کے حوالہ سے مجھے تامل رہا ہے چنانچہ حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جانؒ سے میں نے عرض کیا کہ:
حضرت مفتی صاحبؒ نے میری اس گزارش کا جو کہ تحریری صورت میں تھی کوئی جواب نہیں دیا جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں میری بات سے اتفاق نہیں تھا۔ مگر میں اس موقف پر اب بھی قائم ہوں اس لیے کہ فتویٰ اگر افکار و نظریات کے حوالہ سے ہو تو اس کی نوعیت اور ہوتی ہے کہ ایسا نظریہ اور فکر رکھنے والے شخص کے بارے میں شرعی فتویٰ یہ ہے۔ لیکن اگر فتویٰ کسی متعین شخصیت کے بارے میں ہو جو موجود و زندہ ہے تو اس سے اس کا موقف پوچھے بغیر اور اسے اپنے بارے میں اشکالات و سوالات کی وضاحت کا موقع دیے بغیر محض معترضین و ناقدین کی منتخب اور نقل کردہ عبارات کی بنیاد پر کوئی شخصی فتویٰ صادر کر دینا فقہ و شریعت کے ایک سنجیدہ طالب علم کے طور پر میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ مجھے یہ بات اس لیے بھی سمجھ میں نہیں آرہی کہ خود ہم اس طرزعمل کا شکار چلے آرہے ہیں کہ ہمارے انتہائی محترم اکابر کی چند عبارات نقل کر کے ان کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کیا گیا اور اس پر عرب و عجم کے بہت سے علماءکرام سے دستخط بھی کرا لیے گئے جبکہ ان بزرگوں سے نہ پہلے پوچھنے کی زحمت کی گئی اور نہ ہی بعد میں ان کی طرف سے کی جانے والی وضاحت کو قبول کیا گیا اور یہ سلسلہ ایک صدی سے مسلسل چل رہا ہے جو اب بھی جاری ہے۔ 
اس لیے میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ میں غامدی صاحب کے بعض افکار و نظریات سے اختلاف میں ان دوستوں کے ساتھ ہوں لیکن باقاعدہ شخصی فتویٰ کے لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ چند سنجیدہ مفتی صاحبان مبینہ اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے غامدی صاحب کے متعلقہ لٹریچر کا مطالعہ کریں اور خود سوالات و اشکالات مرتب کر کے انہیں اور ان کے معتمد رفقاءکو بھجوا کر ایک معقول متعینہ مدت کے اندر جواب و وضاحت کا تقاضا کریں، اگر وہ جواب نہ دیں یا ان کے جوابات تسلی بخش نہ ہوں تو اس کے بعد باضابطہ فتویٰ اگر ضروری ہو تو صادر کر دیا جائے۔ 
جبکہ اس سے ہٹ کر میرا یہ ذوق بھی ہے جس کی بنیاد تجربہ و مشاہدہ پر ہے کہ ماضی قریب میں انکار حدیث کے عنوان سے دو بڑی شخصیات سامنے آئیں اور پڑھے لکھے لوگوں کے ایک بڑے حلقہ کو متاثر کیا۔ ایک چودھری غلام احمد پرویز اور دوسرے ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم تھے۔ عملی تجربہ و مشاہدہ یہ ہے کہ چودھری غلام احمد پرویز پر ملک بھر کے سرکردہ علماءکرام کے اتفاق سے کفر کا فتویٰ صادر کیا گیا جس سے مجھے بھی مکمل اتفاق ہے مگر اس سے ان کی واپسی کا دروازہ بند ہوگیا۔ جبکہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کے خلاف کوئی شخصی فتویٰ نہیں دیا گیا بلکہ ان کی کتابوں کا باقاعدہ جواب دیا گیا بالخصوص حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ اور میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے برق صاحب کے حدیث نبوی پر اعتراضات اور تنقید کا مدلل رد کیا اور حجیت حدیث کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا۔ اس کے ساتھ ہی اٹک کے حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ فاضل دیوبند نے برق صاحب کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا اور سالہا سال کی باہمی گفتگو کے بعد انہیں حجیت حدیث پر نہ صرف قائل کیا بلکہ ان سے سابقہ موقف سے رجوع کا اعلان کروایا اور ”تاریخ الحدیث“ کے عنوان سے ایک مستقل کتابچہ بھی تحریر کروایا جو شائع ہو چکا ہے۔ 
حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد اور شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خلیفہ مجاز تھے اور خود بھی ایک مفسر قرآن اور روحانی شیخ کی حیثیت سے علماءکرام کی ایک بڑی تعداد کا مرجع تھے۔ ابھی چند روز قبل ۱۵ ۔اپریل کو باغبان پورہ لاہور کی مسجد امن میں ختم قرآن کریم کی ایک تقریب میں حضرت قاضی صاحبؒ کے فرزند و جانشین حضرت مولانا قاضی ارشد الحسینیؒ اس طویل مکالمہ و مباحثہ کا تذکرہ کر رہے تھے جو حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کے درمیان چلتا رہا اور جس کے نتیجے میں برق صاحب مرحوم نے انکار حدیث سے رجوع کر کے حدیث نبوی کی حجیت و تاریخ پر کتابچہ لکھا اور شاید اسی وجہ سے پرویز صاحب کی طرح ملک میں برق صاحب کا کوئی حلقہ قائم نہ ہو سکا جبکہ پرویز صاحب کا حلقہ اب بھی قائم ہے اور مسلسل مصروف عمل ہے۔ 
چنانچہ میں ذاتی طور پر تو اس قسم کے کسی بھی معاملہ میں اس دوسرے راستے کو ترجیح دیتا ہوں لیکن عمومی مصلحت اور مفاد عامہ کی ضرورت کے تحت اہل علم کی طرف سے کسی فتویٰ کی ضرورت و اہمیت سے بھی مجھے انکار نہیں ہے بشرطیکہ وہ محض معترضین کی نقل کردہ عبارات کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ متعلقہ شخصیت کو وضاحت کا موقع دے کر فتویٰ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق تحقیق و تجزیہ کی بنیاد پر ہو۔ یہ میری ذاتی رائے ہے ضروری نہیں کہ دیگر دوستوں کو بھی اس سے اتفاق ہو البتہ یہ ضرور توقع رکھتا ہوں کہ اس طالب علمانہ رائے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے گا۔ 

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۲)

ایک تنقیدی جائزہ

مولانا عبید اختر رحمانی

حضرت شاہ ولی اللہ کے دلائل کا جائزہ 

حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنے نظریہ تخریج پر  الانصاف اورحجۃ اللہ میں تفصیل سے بحث کی ہے  ، اپنے موقف کی تائید کیلئے انہوں نے تین دلیلیں پیش کی ہیں،ہم ترتیب وار ان تینوں دلیلوں کا جائزہ لیتے ہیں
(۱) حضرت شاہ صاحب کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اہل کوفہ کو اپنے مشائخ اوراساتذہ سے خصوصی لگاؤ تھااور ان کی پوری توجہات کا مرکز کوفہ کے فقہااورمشائخ تھے اوراس ضمن میں انہوں نے حضرت مسروق اورامام ابوحنیفہ کا واقعہ پیش کیاہے۔
حضرت مسروقؒ نےایک مسئلہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کرلیاتھاتوان سے علقمہ نے کہا تھا کہ کیاکوئی اہل مدینہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی زیادہ صاحب علم ہے،اس پر مسروق نے کہاکہ ایسی بات نہیں ؛لیکن حضرت زید بن ثابت کو میں نے راسخین فی العلم میں سے پایاہے۔
دوسری مثال یہ ہے کہ جب امام ابوحنیفہ اورامام اوزاعی میں رفع یدین پر مناظرہ ہوا توامام ابوحنیفہ نے فرمایا : اگر حضرت عبداللہ بن عمر کو شرف صحابیت حاصل نہ ہوتی تومیں کہتاکہ علقمہ ابن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں، ان مثالوں سے محض یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کو اپنے مشائخ اورمشائخ کے مشائخ سےدلی لگاؤتھااوران کے اقوال واجتہادات کے ساتھ خصوصی تعلق تھا؛لیکن یہ تو فطری چیز ہے،ہرشہر والے کو اپنے شہر اورملک کے عالم وشیخ سے محبت ہوتی ہے، اہل مدینہ کو فقہاء سبعہ اوران کے مشائخ حضرات صحابہ سےفطری لگاؤتھا،مکہ والوں کوحضرت عبداللہ بن عباس اوران کےشاگردوں سےخصوصی لگاؤتھا، اہل شام کوحضرت معاذ بن جبلؓ،حضرت معاویہؓ وغیرہ اوران کے شاگردوں سے خصوصی محبت تھی۔ یہ دونوں نقل کردہ اثر اس بات کو توبتاتی ہیں کہ اہل کوفہ کو اپنے مشائخ اوراساتذہ سے محبت تھی؛ لیکن اس سے نظریہ تخریج پر کوئی روشنی نہیں پڑتی اورنہ یہ نظریہ تخریج کے لیے دلیل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
(۲) حضرت شاہ ولی اللہ کی دوسری دلیل منطقی اور قیاسی ہے ،پہلی بات یہ کہ  اہل الرائے حضرات کو مسائل کاجواب بتانے اورفتویٰ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی ،دوسری بات یہ کہ اہل الرائے کے پاس احادیث وآثار کا وسیع ذخیرہ نہیں تھا، نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ایسے میں محض تخریج ہی ایک واحد طریقہ کار بچ جاتاہے ،جس سے وہ پیش آمدہ مسائل کا جواب دیتے تھے۔
گویا اس صغری کبریٰ کاملاپ نظریہ تخریج کا مولد ہے۔ صغریٰ یہ ہے کہ شہروں کی خاک چھان کر حدیث کی تلاش کرنہیں سکتےتھے،پیش آمدہ مسائل کا جواب دینے کیلئے حدیث کا سرمایہ کم تھااورکبریٰ یہ ہے کہ فقہ وفتاویٰ میں خاص دلچسپی ہے اور رائے بیان کرنے میں کوئی باک نہیں ہے نتیجہ نظریۂ تخریج کی صورت میں سامنے آگیا۔سردست ہم صرف حضرت شاہ صاحب کا موقف پیش کررہے ہیں،ہم آگے چل کر عرض کریں گے کہ یہ دونوں ہی صغری اورکبریٰ مشکوک بلکہ مخدوش ہیں لہذا جس صغری وکبریٰ کے ملانے پر نتیجہ کی بنیاد رکھی گئی، وہ بنیاد ہی غارت ہوجاتی ہے توظاہرہےاس صغریٰ وکبری سے حاصل شدہ نتیجہ کا انجام بھی بخیر نہیں ہوگا۔
ہم شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے صغری اورکبریٰ کا جائزہ لیتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ دلائل کی کسوٹی پر یہ صغریٰ اورکبریٰ کہاں تک پورے اترتے ہیں،حضرت شاہ ولی اللہ کا دعویٰ یہ رہاہے کہ اہل عراق کے پاس حدیث کا سرمایہ کم تھا،محدثین کی طرح مختلف شہروں اورملکوں میں گھوم گھوم کر احادیث کے جمع کرنے سے قاصر تھے،یہ دعویٰ صرف حضرت شاہ ولی اللہ کا ہی نہیں بلکہ ماضی کے کچھ علماء مثلاابن خلدون اورشہرستانی وغیرہ نے بھی یہ دعویٰ کیاہے،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عراق احادیث میں حجاز سےکسی اعتبار سے کم تر نہیں تھا۔

عراق احادیث کے معاملہ میں حجاز سے کمتر نہیں!

اولاًتویہ دعویٰ ہی صحیح نہیں ہے کہ اہل عراق کے پاس حدیث کا سرمایہ کم تھا،حقیقت یہ ہے کہ اگرکوئی شخص صرف تذکرۃ الحفاظ کھول کر بیٹھ جائے اور کوفی وبصری اوربغدادی محدثین کوتلاش کرے تواسے حیرت ہوگی کہ کوفہ وبصرہ کے محدثین حضرات کسی طرح مکہ اورمدینہ سے کم نہیں  ہیں، نہ معیار میں نہ مقدار میں،کون کہہ سکتاہے کہ علقمہ اوراسود سعید بن المسیب اوردیگرفقہاء سبعہ سےفروتر ہیں ؟کون کہہ سکتاہے کہ سفیان ثوری امام مالک سے کم ہیں؟ کون کہہ سکتاہے کہ سلیمان بن مہران معروف بہ اعمش زہری سے کم ہیں؟کون کہہ سکتاہے کہ شعبی کسی حجازی محدث سے کم درجہ ہیں؟کون کہہ سکتاہے کہ شعبہ کسی حجازی محدث سے کم تر ہیں ،کس کی یہ مجال ہے کہ یحیی بن سعید القطان کو امام مالک سے  فروتر قراردے،پھر اس کے بعد فوراًمتصل دیکھئے تو امام یحیی بن معین اورعلی بن مدینی ہیں ،احمد بن حنبل ہیں ،عبدالرحمن بن مہدی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال کی عراق میں حدیث کم تھی،ایک غلط خیال ہےجونقل درنقل ہوتاچلاآرہاہے؛ لیکن کسی نے اس پر رک کرغور کرنے سوچنے اورسمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ،مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب نے اپنی بیش قیمت تصنیف مقام امام ابوحنیفہ میں اس پر اچھی بحث کی ہےاور محض تذکرۃ الحفاظ جو حافظ ذہبی کی تصنیف ہے،اس میں سے سو سےز ائد محدثین کوفہ کی نشاندہی کی ہے،جوسب کے سب حافظ حدیث اوربعضےامیرالمومنین فی الحدیث تھے،اگرآپ کوفہ کے ساتھ بصرہ اوربغداد کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیں توعراق کا علم حدیث میں رتبہ بے تحاشا بڑھ جاتاہے۔ (1)
اس مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں کہ عراق میں علم حدیث کی جو گرم بازاری تھی،اس کا مفصل ذکر کیاجائے، اس پر علامہ زاہد الکوثری نے نصب الرایہ کے مقدمہ’’فقہ اہل العراق وحدیثھم’’ میں بہترین اورمحققانہ کلام کیاہے، اس کے علاوہ اس موضوع پر مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کی کتاب ’’مقام امام ابوحنیفہ ‘‘میں بھی بہترمواد موجود ہے،جس سے اس غلط خیال کی پورے طورپر تردید ہوجاتی ہے کہ کوفہ یاعراق میں علم حدیث کم تھا،جن حجازی ائمہ نے اس سلسلے میں کچھ طعن وتعریض کے کلمات کہے ہیں تو وہ معاصرانہ اورحریفانہ چشمک ورقابت کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو کوفہ وعراق میں حدیث کم ہونے کی دلیل سمجھنا غلط ہے۔

امام ابوحنیفہ اورعلم حدیث 

امام ابوحنیفہ کی پیدائش 80ہجری میں ہوئی ہے جب کہ بعض روایات اس سے پہلے بھی کی ہیں، زاہد الکوثری نےمختلف قرائن کی بنیاد پر 80سے پہلے کی روایت کو تانیب الخطیب میں ترجیح دیاہے(تانیب الخطیب، ص42/44) جوں جوں عہد رسالت سے بعد ہوتاگیا،اسناد کے وسائط یعنی راوی سے لے کر رسول اللہ تک واسطے بڑھتے گئے ،حدیث کی سندیں اورطرق میں اضافہ ہوا،اس کےبرعکس رسول پاک ﷺ سے جس قدر قرب زمانی کم ہوا،وسائط کم ہوئے اور حدیث کے طرق کم ہوئے، اس طرح رسول پاک ﷺ سے جو جتنا قریب رہا،اس کیلئے احادیث کے اسناد اورطرق اتنے ہی کم اور وسائط اتنے ہی کم رہے جس کی وجہ سے اس کیلئے احادیث کے ذخیرہ پر حاوی ہونا اور روایتوں کو محفوظ کرنا زیادہ آسان تھا۔
امام ابوحنیفہ کا عہد رسالت سے بالکل قریب کا ہے، امام ابوحنیفہ کے اساتذہ میں زیادہ تر اوساط اورکبار تابعین ہیں،امام ابوحنیفہ سے رسول پاکﷺ تک راویوں کا واسطہ بہت کم ہےجس کی بناء پر سند مختصر اور احادیث کی تعداد بھی کم تھی، امام ابوحنیفہ کے بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں :وعني بطلب الآثار، وارتحل في ذلك(سير أعلام النبلاء،الناشر : مؤسسۃ الرسالۃ،6/392)اورآثار کی طلب میں توجہ کی اور اس سلسلے میں اسفار کیے،حافظ ذہبی مزید لکھتے ہیں کہ طلب حدیث میں امام ابوحنیفہ کی یہ جدوجہد ایک ہجری کے بعد دوسری ہجری کی ابتداء میں ہوئی (سیراعلام النبلاء،6/396) امام ابوحنیفہ اموی حکومت کے داروگیر کے باعث تقریباچھ سال تک کوفہ کو چھوڑ کر  مکہ میں رہے،اس دوران دنیا بھر سے آنے والے محدثین عظام سے وہ علم حدیث حاصل کرتے رہے،پھر آپ سال بہ سال حج کرتے تھے، روایتوں میں پچاس پچپن ،ساٹھ حج کا ذکر ملتاہے، حج کے ایام میں دنیابھرکے محدثین سے استفادہ کا موقع ملتارہا۔

علم حدیث میں امام صاحب کی عظمت شان کا اعتراف

امام ابودائود فرماتے ہیں: “اللہ شافعی پر رحم کرے  وہ امام تھے، اللہ مالک پر رحم کرے وہ امام تھے اللہ ابوحنیفہ پر رحم کرے وہ امام تھے”۔ظاہر سی بات ہے کہ جس طرح امام شافعی اورامام مالک کی امامت فقہ وحدیث دونوں میں ہے،اسی طرح امام ابوحنیفہ کوبھی ان کے ساتھ ملاکر امام ابوداؤد نے بتادیاکہ امام ابوحنیفہ بھی فقہ وحدیث کے امام ہیں۔(الانتقاء 1/32) حماد بن زید جو بڑے درجہ کے محدث ہیں اورجن کو حافظ ذہبی نے گراں قدر القاب سے یاد کیاہے ،ان کے بارے میں حافظ المغرب ابن عبدالبر لکھتے ہیں، “انہوں نے امام ابوحنیفہ سے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں”(الانتقاء ص130)مشہور محدث مسعر بن کدام کہتے ہیں : “میں نے امام ابوحنیفہ کے ساتھ حدیث کی تحصیل کی لیکن وہ ہم پر غالب رہے اور زہد میں مشغول ہوئے تواس معاملہ میں بھی ہم پر غالب رہے اورہم نے ان کے ساتھ فقہ طلب کی تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ انہوں نے اس میں کیاکمال حاصل کیاہے” (مناقب الامام ابی حنیفہ وصاحبیہ ص43)
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کا خاص امتیاز یہ تھاکہ آپ ہر قسم کی واہی تباہی احادیث کا ذخیرہ جمع کرنے کے فراق میں نہیں رہتے تھے ؛بلکہ آپ ان احادیث کو جمع کرتے تھے جو ثقہ روات سے مروی ہوں اور صحیح ہوں اور جو رسول اللہﷺ کاآخری عمل رہاہو (2)۔
حفاظ حدیث میں شمار
حافظ ذہبی نے آپ کو حفاظ حدیث میں شمار کیاہے (تذکرہ الحفاظ 1/126،دار الكتب العلميۃ بيروت) اور تذکرۃ الحفاظ کے بارے میں خود حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
ہذہ تذكرۃ بأسماء مُعَدِّلِي حَمَلَۃ العِلْمِ النبوي، ومن يُرْجَعُ إلی اجتہادہم في التوثيق والتضعيف، والتصحيح والتزييف ( مقدمہ تذکرہ الحفاظ)
ترجمہ :اس کتاب میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو عادل ،علم نبوت کے حامل اور احادیث وروات کی توثیق وتضعیف اورکھرے کھوٹے الگ کرنے میں جن کی جانب رجوع کیاجاتاہے۔
حافظ ذہبی نے ہی المعین فی طبقات المحدثین میں بھی آپ کا ذکر کیاہے،(دیکھئے مذکورہ کتاب ص51،مطبع دار الفرقان - عمان–الأردن) اس کتاب  کے بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
فَہَذِهِ مُقَدّمَۃ فِي ذكر أَسمَاء أَعْلَام حَملَۃ الْآثَار النَّبَوِيَّۃ تبصر الطَّالِب النبيہ وتذكر الْمُحدث الْمُفِيد بِمن يقبح بالطلبۃ أَن يجہلوہم وَلَيْسَ ہَذَا كتاب بالمستوعب للكبار بل لمن سَار ذكره فِي الأقطار والأعصار وَبِاللَّہِ أَعْتَصِم وَإِلَيْہِ أنيب (مقدمہ المعین فی طبقات المحدثین )
حافظ ذہبی کے ہم عصر اوراونچے درجہ کے محدث وفقیہ عبدالہادی مقدسی حنبلی نےبھی مختصرطبقات علماء الحدیث میں امام ابوحنیفہ کا ذکر خیر کیاہے۔(دیکھئے مختصرطبقات علماء الحدیث جلداول ،ترجمہ امام ابوحنیفہ)،اس کتاب کے بارے میں حافظ عبدالہادی لکھتے ہیں:
فہذا كتاب مختصر يشتمل علی جملۃ من الحفاظ من أصحاب النبي صلَّی اللہ عليہ وسلّم والتابعين ومن بعدہم، لا يسع من يشتغل بعلم الحديث الجہل بہم  (طبقات علماء الحديث (1/ 77)
مشہور محدث ابن ناصرالدین دمشقی شافعی نے بھی حفاظ حدیث پر لکھے گئے اپنے منظومہ ’’بدیعۃ البیان عن موت الاعیان‘‘ میں امام ابوحنیفہ کا ذکر کیاہے ،چنانچہ لکھتے ہیں :
بَعْدَہُمَا فَتَی جُرَيْجِ الدَّانِي ... مِثْلُ أَبِي حَنِيفَۃ النُّعْمَانِي۔ (بحوالہ مکانۃ الامام ابوحنیفہ فی الحدیث ،ص60)
جمال الدين يوسف بن حسن الصالحي الحنبلي جوابن مبرد کے نام سے مشہور ہیں،انہوں نے بھی امام ابوحنیفہ کا ذکر حفاظ حدیث میں کرتے ہوئے اپنی تصنیف “طبقات الحفاظ” میں ذکر کیاہے،جس سے شیخ عبداللطیف ہاشم سندی نے اپنی تصنیف ’’ذَبُّ ذُبَابَاتِ الدراسات، عن المذاهب الأربعۃ المتناسبات" میں نقل کیاہے۔ان کے علاوہ حافظ سیوطی نے طبقات الحفاظ میں اور محدث علامہ محمد بن رستم قباد بدخشی نے تراجم الحفاظ میں امام ابوحنیفہ کا ذکر کیاہے۔
امام ابوحنیفہ حافظ حدیث ہونے کے علاوہ جرح وتعدیل کے بھی امام تھے،اس کا بھی ذکر محدثین عظام امام ترمذی بلکہ ان سے قبل سے لے کر حافظ سخاوی اورمابعد تک کرتے آئے ہیں ۔(دیکھئے ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل للذہبی اور المتکلمون فی الرجال للسخاوی)
مولانا عبدالرشید نعمانی کی ایک بہترین تصنیف مکانۃ الامام ابوحنیفہ فی علم الحدیث ہے، اس میں مولانا نے بڑی محنت اور تحقیق وتفتیش سے ثابت کیاہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ کا علم حدیث میں کیامقام اورمرتبہ تھا اورکس طرح بعد کے لوگوں نے بھی علم حدیث میں ان کی اس عظمت کو تسلیم کیاہے، یہ بات دوسری ہے کہ انہوں نے روایت حدیث کو مرکز توجہ نہیں بنایا ،اس طرح علم حدیث میں ان کی مہارت اوررسوخ دنیا کے سامنے نہیں آسکی اورنہ دنیا نے ان کو اس حیثیت سے پہچانا جیسے امام بخاری فقیہ ہونے کے باوجود دنیا کے سامنے فقیہ کی حیثیت سے نہ آسکے اور نہ کسی فقیہ نے اپنی کتاب میں ان کو جگہ دی۔اسی طرح قاسم حارثی عبدہ نے بھی اپنے دکتوراہ کا موضوع مکانۃ الامام ابی حنیفہ بین المحدثین کو بنایاہے اوراس پر ایک سیرحاصل مقالہ لکھاہے جس سے واضح ہوتاہے کہ نہ صرف امام ابوحنیفہ کا علم حدیث میں بڑامقام تھا بلکہ محدثین کے درمیان بھی انتہائی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
اگرہم اس بات کو بالفرض تسلیم بھی کرلیں کہ اہل الرای حضرات یعنی امام ابوحنیفہ وغیرہ کے پاس حدیث کا سرمایہ نہیں تھا توبھی کوفہ جہاں عظیم محدثین کی ہمیشہ ایک بڑی تعداد رہی ہے ،کیامسائل کے حل میں وہ ان محدثین سے رجوع نہ کرتے ہوں گے ؟آج کے دورمیں بھی ایک معمولی محقق بھی جب کسی مسئلہ کی تحقیق کرتاہے تو کتابوں سے مدد لیتاہے، جوبڑے عالم اس موضوع کے جانکار ہوتے ہیں، ان کی رائے حاصل کرتاہے ،ان سے مزید مواد کے سلسلے میں استفسار کرتاہے توکیا خیرالقرون کے اس دور میں امام ابوحنیفہ کسی مسئلہ کے استنباط میں کوفہ میں موجود محدثین سے اس موضوع کے تعلق سے احادیث کے تعلق سے دریافت نہ کرتے ہوں گے؟
کوفہ کی علمی اورحدیثی عظمت اورامام ابوحنیفہ کی علم حدیث میں گہرائی اورگیرائی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے جن بنیادوں پر قصر تخریج کی عمارت اٹھائی ہے، اس کی کمزوریاں واضح کی جائیں۔

حدیث کی روایت نہ کرنا عدم علم کو مستلزم نہیں

دوسری بات یہ ہے کہ حدیث کی روایت نہ کرنا علیحدہ بات ہےاورحدیث سے واقف نہ ہونا دوسری بات ہے،حضرت ابوبکر وحضرت عمررضی اللہ عنہما کی روایتیں کم ہیں توکیااس کا یہ مطلب ہے کہ ان کو کم روایتیں معلوم تھیں؟اگرامام ابوحنیفہ کی روایت سے کتب صحاح خالی ہونے کا یہ مطلب لیاجائے کہ ان کے پاس حدیث کا سرمایہ نہیں تھا توکیا کتب فقہ میں امام بخاری کی آراء نہ نقل کیے جانے سے یہ مطلب نکالنا درست ہوگاکہ وہ فقیہ نہیں تھے؟ (3)
جس طرح امام بخاری کی آراء سے کتب فقہ وخلافیات کا خالی ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ وہ فقیہ نہیں تھے،اسی طرح اہل الرائے حضرات کی روایتوں سے کتب حدیث کاخالی ہونااس کو مستلزم نہیں کہ وہ محدث نہیں تھے،یا ان کے پاس حدیث کا معتدبہ سرمایہ نہیں تھا؟؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں اہل الحدیث حضرات نے متعدد اہل الرای حضرت سے باوجود مستحق ہونے کے ان سے روایت نہیں لی ہے اور روایت نہ لینے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ اہل الرای میں سے تھے ،حضرات محدثین کے اس ظلم وتعصب کی جانب  علامہ شام جمال الدین قاسمی (4)، امام یحیی بن معین (5) اور ابن عدالبر (6) وغیرہ نے بھی اشارات کیے ہیں،خود شیخ عبدالفتاح ابوغدہ نے الرفع والتکمیل (7) میں اس کے تعلق سے متعدد نقول بہم پہنچائے ہیں،جہاں محدثین نے کسی سے محض اس کے اہل الرایٔ ہونے کی وجہ سے روایت نہیں لی۔

محدثین کے پاس لاکھوں احادیث کی حقیقت

اکثر لوگوں کو اس بات سے غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ بخاری نے چھ لاکھ سات لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے صحیح الجامع مرتب کی(تاریخ بغداد 2/9)امام مسلم نے مسلم شریف تین یاچار لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے تالیف کی(طبقات الحنابلہ1/338،دار المعرفۃ - بيروت) ،ابودائود نے پانچ لاکھ احادیث سے سنن ابی دائود مرتب کی(مختصر تاریخ دمشق 10/109، دار الفكر دمشق - سوريا)یہ محدثین ملکوں اورشہروں میں گھومے توان کے پاس احادیث کا وسیع ذخیرہ ہوگیااور اہل الرائے کوفہ تک محدود رہے ،اس لئے ان کی معلومات کچھ ہزار حدیثوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
محدثین کا خاص طرز تھا کہ وہ دنیا بھر میں گھوم پھر کر ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ سند اورطرق تلاش کرتے تھے جیساکہ یحیی بن معین کہتے ہیں کہ اگر کوئی حدیث میرے پاس سو طرق سے نہ ہو تواس کی صحت معلوم نہیں ہوتی،لَوْ لَمْ نَكْتُبِ الْحَدِيثَ مِنْ مِائَۃِ وَجْہٍ مَا وَقَعْنَا عَلَی الصَّوَابِ (الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث ،2/595، مكتبۃ الرشد - الرياض) ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں اگرمیرے پاس کسی حدیث کی سوسند نہ ہوتواس حدیث کے معاملہ میں ،میں خود کو یتیم سمجھتاہوں،كل حَدِيث لم يكن عندي من مائۃ وجہ فأَنَا فِيہِ يتيم (تاریخ بغداد 6/618، دار الغرب الإسلامي –بيروت)
پھر جیسے جیسے حدیث کے روات اور شیوخ کا دائرہ وسیع ہوتاگیا، حدیث کے طرق اور سندوں میں اضافہ ہوتاگیا، مثلاحضرت عمر ؓسے ایک حدیث مروی ہے،ان سے اس حدیث کی روایت کرنے والے چارافراد ہیں، پھر ان چاروں سے اس حدیث کو سننے والے چالیس افراد ہیں، پھر ان چالیس افراد سے روایت سننے والے چارسو افراد ہیں اوران چارسو افراد سے اس روایت کو نقل کرنے والے چارہزار افراد ہیں، اب ایک شخص ان چارہزار افراد سے یہی ایک حدیث سنتاہے توچارہزار سندوں کی وجہ سے وہ ایک حدیث چار ہزار حدیث ہوجاتی ہے، مختصر یہ سمجھئے کہ جو حال آبادی میں اضافہ کا ہے، دوسے دس،دس سے سو ،سو سے ہزار،کچھ اسی طرح کا حال حدیث کی سند کاہے،تورسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے زمانہ جتنا دورہوتاجائے گا، راویوں کی تعداد اتنی ہی بڑھتی جائے گی، حدیث کے طرق اوراسناد میں اضافہ ہوتاجائے گا،اس کی واضح مثال انماالاعمال بالنیات والی حدیث ہے، اس کو حضورپاک سے نقل کرنے والے حضرت عمر ؓ ہیں، ان سے روایت کرنے والے ایک راوی ہیں اورپھر ان سے روایت کرنے والے بڑھتے چلے گئے، یہاں تک کہ محدثین نے اس ایک حدیث کی سات سوسندیں تلاش کی ہیں۔)فتح المغیث 1/28)
اب جن محدثین کے بارے میں ہم سنتے ہیں کہ ان کے پاس سات لاکھ، دس لاکھ اورپانچ لاکھ احادیث تھیں، تو اس کو اسی اضافہ سند پر قیاس کرناچاہئے اوراسی اعتبار سے دیگر محدثین کے پاس لاکھوں کی تعداد میں احادیث تھیں،ورنہ اگر نفس حدیث کی بات کی جائے توصحیح متصل مرفوع بلاتکرار احادیث کی تعدادصرف چارسے پانچ ہزارکے درمیان ہے،اس  سے زائد نہیں ہےجیساکہ اس کی صراحت حافظ ابن حجر نے کی ہے۔ ("النكت علی ابن الصلاح"، ص992)
واضح رہے کہ اس میں ذکر کردہ ثوری،شعبہ،امام احمد بن حنبل ،ابن مہدی،یحیی بن سعید القطان سب کے سب امیرالمومنین فی الحدیث ہیں، ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ احادیث کے تقریباًتمام ذخیرہ پر ان کی نگاہ اورنظر ہے،ایسے میں ان کی یہ بات کتنی وزنی اور مستند ہے اس کا اندازہ کیاجاسکتاہے۔
یہ تو مرفوع متصل صحیح بلاتکرار حدیث کی تعداد ہوئی، اب اس میں احادیث احکام کی کیاتعداد ہے،ظاہر سی بات ہے کہ بہت ساری احادیث فضائل ،زہد اوردیگر ابواب میں مذکور ہیں،ایسے میں یہ بات ہرعاقل پر روشن ہے کہ احکام کی حدیث کی تعداد اس تعداد سے یقیناکم ہوگی۔حافظ بیہقی امام شافعی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ احادیث جن پر حلال وحرام کا مدار ہے ،ان کی تعداد پانچ سو ہے۔ (مناقب الشافعي" (1\915 تحقيق أحمد صقر)
اگرہم مان لیں کہ چلو پانچ سو نہیں حدیث حسن وغیرہ ملاکر دوہزار کے قریب حلال وحرام کی احادیث کی تعداد ہے توکیاان دوہزار احادیث کے حفظ وضبط سے بھی ائمہ احناف عاجز تھے؟امام ابویوسف کے بارے میں طبری نے لکھاہے کہ ان کا حافظہ اس غضب کاتھاکہ کسی محدث کے درس میں شریک ہوتے تھے اورسن کر ہی پچاس ساٹھ حدیثیں یاد کرلیتے تھے اورپھر اس کو بغیر کسی تغیر وتبدل کے دوہرادیتے تھے اور امام ابویوسف کثیر الحدیث تھے(الانتقاء  ص172)کیاایسوں کیلئے دوہزار تین ہزار حدیثیں یاد کرنابھی مشکل ہے؟ لہذا حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ نے اہل الرائے کے پاس احادیث کم ہونے کی وجہ سے تخریج کا جو نظریہ تراشاہے ،وہ درست معلوم نہیں پڑتا۔
درج بالا بحث سے یہ بات واضح ہے کہ احادیث کا سرمایہ یوں ہی کم ہے اورپھر جس قدر احکام میں احادیث کی ضرورت پڑتی ہے اس کا معتدبہ حصہ امام ابوحنیفہ کے پاس موجود تھا،پھر خود کوفہ میں علم حدیث کے امیرالمومنین ایک نہیں، کئی کئی موجود تھے، ان سے کسی بھی مسئلہ میں استفادہ کیاجاسکتاتھا،لہذا قلت حدیث کو تخریج کی بنیاد بنانا درست نہیں ہے۔
(۳) تیسری دلیل حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی یہ ہے کہ کتاب الآثار اورمصنف عبدالرزاق میں حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے بڑی تعداد میں حضرت ابراہیم کے فتاویٰ منقول ہیں اورانہی کے مطابق امام ابوحنیفہ کی رائے بھی ہے ،اس سے واضح ہوتاہے کہ امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی کے قول پر تخریج کرتے تھے۔ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص39)
بظاہر یہ دلیل سابقہ دونوں دلیلوں سے قوی نظرآتی ہےاورکتاب الآثار کے مطالعہ سے بھی پتہ چلتاہے کہ ابراہیم نخعی کےاجتہادی اقوال انہوں نے بکثرت بیان کئے ہیں اورزیادہ مقامات وہ ہیں،جہاں انہوں نے ابراہیم نخعی کے قول کے مطابق ہی اپنی رائےبنائی ہے؛لیکن یہ پوراسچ نہیں ہے۔
 اسی کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ کتاب الآثار میں ایسے مقامات بھی کم نہیں ہے جہاں امام ابوحنیفہ نے ابراہیم نخعی کی رائے سے اختلاف کیاہے اورابراہیم نخعی کی رائے کے مقابلہ میں مکی اورمدنی فقہائے کرام کی رائے کو پسند کیاہے،اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ کے نظریہ تخریج کے دلائل اور امام مالک

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے احناف کو اہل الرائے میں سے قراردیاہے اوراہل الحدیث اوراہل الرائے کے درمیان فرق وامتیاز ‘‘تخریج’’ کو قراردیاہے،تخریج کے نظریہ کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے دلائل ماقبل کے صفحات میں گذرچکے،حضرت شاہ صاحب جن دلائل کی بنیاد پر احناف کو یاامام ابوحنیفہ کو اہل الرائے قراردیتے ہیں بعینہ انہی دلائل کی بنیاد پر تو امام مالک کوبھی اہل الرائے قراردیاجاسکتاہے؛لیکن حضرت شاہ ولی اللہ نے کہیں بھول کربھی امام مالک کو اہل الرائے میں شمار نہیں کیاہے۔
اگرائمہ احناف اپنے کوفہ کے علماء ومشائخ سے ازحد عقیدت رکھتے تھے تویہ یہ بات امام مالک کے یہاں بھی ہے،وہ بھی اپنے فقہاء ومشائخ سے بے انتہاعقیدت رکھتے ہیں، بالخصوص عبداللہ بن عمرؓ،سعید بن المسیب،نافع  اورفقہاء سبعہ وغیرہ ،اس کی انتہایہ ہے کہ عمل اہل مدینہ کے مقابل حدیث تک کو ترک کردیتے ہیں،جب کہ امام ابوحنیفہ سے اس طرح کانہ کوئی اصول منقول ہے اورنہ کوئی فرع ،جس میں انہوں نے حدیث رسول پر اپنے مشائخ یااپنے شہر کے علماء کو ترجیح دی ہو۔
اگرکتاب الآثار میں ابراہیم نخعی کے اقوال بکثرت ملتے ہیں اور وہی فقہ حنفی کا مسلک ومذہب قرارپاتاہے  تو امام مالک کی موطابھی فقہاء سبعہ، سعید بن المسیب اورنافع وغیرہ کے اقوال سے مملو اورپُرہے،حقیقت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ جتنا ابراہیم نخعی کے اقوال سے متاثر نہیں دکھائی دیتے،اس سے کہیں زیادہ امام مالک فقہاء سبعہ کے اقوال سے متاثر نظرآتے ہیں۔ 
اب رہ گئی آخری بات کہ امام مالک کے پاس روایات کا بہت زیادہ ذخیرہ تھا اورامام ابوحنیفہ کے پاس کم تھاتوبحمداللہ ہم اولاًاس کی حقیقت واضح کرتے چلے آئے ہیں کہ امام ابوحنیفہ سے عدم روایت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بڑے محدث نہیں تھے،پھر احکام کی روایات یوں بھی کم ہیں، اگر کتاب الآثار میں موجود روایات کو ہی امام ابوحنیفہ کا سرمایہ علم قراردینے پر تل جائے تواسی منطق میں اس کو تسلیم کرنا ہوگاکہ امام مالک کا سرمایہ علم بھی موطامیں موجود روایات تک ہی محدود ہے(جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایساسوچنے والا کوئی انتہائی متعصب یاانتہائی جاہل شخص ہی ہوگا)علاوہ ازیں کمی وبیشی ایک اضافی امر ہے، اگرہم  مان لیں کہ امام مالک سےا مام ابوحنیفہ علم حدیث میں کم تر تھے تو اسی طرح امام شافعی بھی علم حدیث میں امام احمد سے کم تر تھے؛ لیکن اس سے کیا امام شافعی کی شان فقاہت میں کوئی کمی آتی ہے؟اس موقعہ پر ضروری محسوس ہوتاہے کہ ہم حافظ ذہبی کا وہ محاکمہ نقل کریں جو انہوں نے امام ابوحنیفہ اورامام مالک  کے درمیان علم حدیث کے سلسلے میں کیاہے:
وعلی الإنصاف لو قال قائل: بل ھما سواء في عِلم الكتاب. والأول (أبو‏حنيفۃ) أعلم بالقياس. والثاني (مالك) أعلم بالسنۃ. وعندہ عِلمٌ جَمٌّ من أقوال كثيرٍ من الصحابۃ. كما أن الأول أعلمُ بأقاويل علي وابن مسعود ‏وطائفۃ ممن كان بالكوفۃ من أصحاب رسول اللہ فرضي اللہ عن الإمامين، فقد صِرنا في وقتٍ لا يقدِرُ الشخص علی النطق بالإنصاف. نسأل‏اللہ السلامۃ۔ (سير أعلام النبلاء (8\112)
اور اگر انصاف کی بات کی جائے توکہنے والا کہہ سکتاہے کہ دونوں (امام مالک اورامام ابوحنیفہ)کتاب اللہ کے علم میں برابر تھے اورا مام ابوحنیفہ قیاس میں امام مالک سے بڑھ کر تھے،اورامام مالک کو حدیث کا علم زیادہ تھااورامام مالک کے پاس بہت سارے صحابہ کے اقوال کا علم تھا،جیساکہ امام ابوحنیفہ کو حضرت علیؓ اورحضرت ابن مسعودؓ اورکوفہ میں بسنے والے صحابہ کرام کا زیادہ علم تھا،اللہ دونوں امام سے راضی ہو،ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جب کسی شخص کے اندر انصاف کے ساتھ بات کرنے کا یارانہیں ہے،اللہ سے ہی سلامتی کے طلبگار ہیں۔
(حافظ ذہبی اپنے زمانہ کا شکوہ کررہے ہیں،اگروہ آج کے حالات دیکھتے اورمقبل الوادعی ،زبیر علی زئی اوران ہی جیسوں کی تصنیفات  وغیرہ پر ان کی نگاہ پڑتی تو نہ جانے وہ کیاکہتے؟)

حضرت ابراہیم نخعی کی مخالفت

حضرت شاہ ولی اللہ کاتیسرا دعویٰ یہ رہاہےکہ امام ابوحنیفہ بکثرت ابراہیم نخعی کی پیروی کرتے ہیں، اورشاذونادر ہی ان کے اقوال سے عدول کرتے ہیں، ہم ذیل میں کتاب الآثار سے کچھ ایسے آثار نقل کررہے ہیں جہاں امام ابوحنیفہ نے بصراحت ابراہیم نخعی کے اقوال سے عدول کیاہے اورایسے مقامات کم نہیں ہے، ہم نے مقالہ کی طوالت کے پیش نظر ان تمام مسائل کی نشاندہی نہیں کی ہے جہاں امام ابوحنیفہ کی راہ ابراہیم نخعی سے الگ ہوتی ہے، اگرسنجیدگی سے جائزہ لیاجائے تویہ بات واضح ہوجائے گی کہ  ابراہیم نخعی کے اقوال سے امام ابوحنیفہ کی مخالفت اس قدر کم نہیں ہے کہ وہ کسی درجہ میں قابل لحاظ ہی نہ ہو۔
سردست ہم صرف کتاب الآثار کی ورق گردانی کرتے ہیں؛ کیونکہ اس میں امام محمد نے اپنے اورامام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے قول کی وضاحت کردی ہے،جس سے تقابل بہت آسان ہوجاتاہے،اورکتاب الآثار کی ورق گردانی ہمیں بتاتی ہے کہ امام صاحب نے فقہائے کوفہ کے علاوہ مکہ اورمدینہ کے فقہاء سے بھی استفادہ کیاہے اور ان کی فقہی تفکیر میں صرف کوفہ نہیں بلکہ حجاز کا بھی اہم حصہ ہے،مقالہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتاکہ ہم کتاب الآثار کے وہ تمام  اقتباسات نقل کردیں ،جس میں فقہ نخعی سے عدول ہے ؛اختصار کے ساتھ کچھ مثالیں پیش ہیں ۔
۱۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سفر سے واپس آئے اوراس کا عورتیں بوسہ لیں ،تواگربوسہ لینے والی خواتین محارم ہیں تووضو نہیں ٹوٹتا،اگربوسہ لینے والی عورتیں غیرمحرم ہیں تو وضو ٹوٹ جائے  گاکیونکہ یہ بمنزلہ حدث کے ہیں۔ 
اس پر امام محمد کہتے ہیں:
وَہَذَا قَوْلُ إِبْرَاہيمَ، وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہذَا وَلَا نَرَی فِي الْقُبْلَۃ وُضُوءًا عَلَی حَالٍ إِلَّا أَنْ يَمْذِيَ فَيَجِبُ عَلَيْہ لِلْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (الامام محمد بن الحسن الشيباني، دار النشر: دار الكتب العلميۃ، بيروت - لبنان1/34)
یہ ابراہیم کا قول ہے اور ہماری رائے اس کے برخلاف ہے،بوسہ لینے والی عورتیں چاہے محرم ہوں یاغیرمحرم ،کسی بھی حال میں روزہ نہیں ٹوٹتا،ہاں!یہ کہ بوسہ کے خیال سے مذی نکل آئے تو مذی نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گااوریہی امام ابوحنیفہ کا بھی قول ہے۔
۲۔ مستحاضہ(جس عورت کو حیض کے بعد بھی خون آتارہے)کے بارے میں ابراہیم نخعی کی رائے ہے کہ ظہر کی نماز کا جب آخری وقت ہو تو وہ غسل کرے گی اورنماز پڑھے گی، پھر اسی غسل سے وہ عصر کی نماز پڑھے گی،پھر رکی رہے گی ،جب مغرب کاوقت بالکل آخری ہوگا تووہ غسل کرے گی اور اور مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے گی،امام محمد فرماتے ہیں:
وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہَذَا، وَلَكِنَّا نَأْخُذُ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ أَنَّہَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ وَقْتِ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّي فِي الْوَقْتِ الْآخَرَ، وَلَيْسَ عَلَيْہَا عِنْدَنَا إِلَّا غُسْلٌ [ص:89] وَاحِدٌ حَتَّی تَمْضِيَ أَيَّامُ إِقْرَائِہَا، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق1/87)
ہم ابراہیم نخعی کی اس رائے کے قائل نہیں ہیں،بلکہ ہماری رائے اس حدیث کے مطابق ہے ،جس میں حکم دیاگیاہے کہ وہ ہرنماز کے وقت وضو کرے گی اور آخروقت میں نماز پڑھے گی،اور جب اس کا خون بند ہوجائے گا تو وہ غسل کرے گی اورنماز پڑھے گی اوریہی امام ابوحنیفہؓ کا بھی قول ہے۔
۳۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں،اگرکسی شخص نے عشاء کی نماز پڑھی اور وتر نہیں پڑھا ،یہاں تک کہ صبح ہوگئی تو وترپڑھنے کا وقت ختم ہوگیا، امام محمد فرماتے ہیں:
وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہَذَا. يُوتِرُ عَلَی كُلِّ حَالٍ إِلَّا فِي سَاعَۃٍ تُكْرَهُ فِيہَا الصَّلَاۃُ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّی تَبْيَضَّ، أَوْ يَنْتَصِفَ النَّہَارُ حَتَّی تَزُولَ أَوْ عِنْدَ احْمِرَارِ الشَّمْسِ حَتَّی تَغِيبَ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق1/338)
ہم اس رائے کے قائل نہیں ہیں:وہ اس پورے دن مکروہ اوقات کے علاوہ میں وتر کی قضاء پڑھ سکتاہےاوریہی امام ابوحنیفہ کابھی قول ہے۔
۴۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں:جب کوئی مسجد میں اس حال میں داخل ہو کہ جماعت کھڑی ہوچکی ہو، اور لوگ رکوع میں ہوں توتیز چل کر رکوع میں شامل ہوجاناچاہئے۔
امام محمد ؒ فرماتے ہیں :
قَالَ مُحَمَّد: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہَذَا، وَلَكِنْ يَمْشِي عَلَی ھِينَۃِ حَتَّی يُدْرِكَ الصَّفَّ فَيُصَلِّيَ مَا أَدْرَكَ، وَيَقْضِيَ مَا فَاتَہُ (المصدرالسابق1/347)
ہماری رائے اس کے خلاف ہے،وہ آہستہ حسب سابق چلے ،یہاں تک کہ صف میں پہنچے ،جتنی نماز جماعت کے ساتھ ملے،اسے اداکرے اورجوچھوٹ گئی،اسے مکمل کرےاوریہی امام ابوحنیفہؓ کا بھی قول ہے۔
۵۔ جنازہ کے ساتھ چلنے میں ابراہیم نخعی کا طرزعمل یہ تھاکہ وہ جنازہ سے کافی آگے بڑھ جایاکرتے تھے ،ہاں !اتنی دور نہیں جایاکرتے تھے کہ نظروں سے اوجھل ہوجائیں۔
امام محمد فرماتے ہیں:
لَا نَرَی بِتَقَدُّمِ الْجَنَازَۃِ بَأْسًا إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنْہَا، وَالْمَشْيُ خَلْفَہَا أَفْضَلُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ۔
جنازہ کے آگے چلنے میں کوئی ہرج نہیں ہے ،جب کہ زیادہ دوری نہ ہو،لیکن جنازہ کے پیچھے چلناافضل ہے اور یہی امام ابوحنیفہ ؓ کا بھی قول ہے۔
۶۔ ابراہیم نخعی سے ایسے پانی کے پینے اوروضو کے بارے میں سوال کیاگیا،جس میں بلی منہ ڈال چکی ہو،ابراہیم نخعی نے جواب دیاکہ بلی گھر میں گھومتی رہتی ہے ،اس کا بچاہواپانی پینے میں کوئی حرج نہیں ہے،پھر ان سے بلی کے منہ ڈالے پانی سے وضو کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے کہاکہ اس بارے میں اللہ نے رخصت دی ہے، نہ حکم دیاہے اورنہ منع کیاہے۔
امام محمد فرماتے ہیں کہ 
قَالَ أَبُوحَنِيفَۃ: غَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْہُ، وَإِنْ تَوَضَّأ مِنْہُ أَجْزَأهُ، قَالَ، وَكَذَلِكَ شُرْبُ غَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَإِنْ شَرِبَہُ فَلَا بَأْسَ بِہٖ، قَالَ مُحَمَّدٌ [ص:13]: وَبِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَۃَ نَأْخُذُ (المصدرالسابق 1/11)
امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا:بلی نے جس پانی میں منہ ڈال دیاہو ،اگراس سے وضو کرلیاجائے تو وضو درست ہوجائے گالیکن بہتر یہ ہے کہ دوسراپانی استعمال کیاجائے،اسی طرح بلی کا بچاہواپانی پینا جائز ہے؛لیکن پسندیدہ یہ ہے کہ دوسرا پانی پیاجائے،امام محمد فرماتے ہیں :میری رائے وہی ہے جوامام ابوحنیفہ کی رائے ہے۔
۷۔ کپڑے میں شیرخوار بچے کا پیشاب لگ جائے توابراہیم نخعی کی رائے یہ ہے کہ اس پر سےپانی بہادیاجائے۔
امام محمد فرماتے ہیں:
قَالَ مُحَمَّد: وَأَعْجَبُ ذَلِكَ أَنْ تَغْسِلَہُ غَسْلًا. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق 1/53)
مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ایسے کپڑے کو باقاعدہ دھویاجائے اور یہی رائے امام ابوحنیفہ ؓ کی بھی ہے۔
۸۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ جوشخص ناخن تراشے یاپھر بال اکھاڑے یاکاٹے،توانگلیوں پر یاجہاں سے بال اکھاڑے گئے ہیں، وہاں پانی بہادے۔
امام محمد فرماتے ہیں:
وَسَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَۃَ يَقُولُ: «رُبَّمَا قَصَصْتُ أَظْفَارِي، وَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي وَلَمْ أُصِبْہُ الْمَاءَ حَتَّی أُصَلِّيَ» قَالَ مُحَمَّد: وَبِہٖ نَأْخُذُ، (المصدرالسابق1/65)
میں نے امام ابوحنیفہ کو یہ کہتے ہوئے سناہے “بسااوقات میں نے ناخن تراشیا یاپھر بال اکھاڑے ،لیکن بغیر دھوئے اورپانی بہائے میں نے نماز پڑھی ہے’’،امام محمدفرماتے ہیں:میری بھی رائے یہی ہے۔
۹۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں:عورت کیلئے وضو کے دوران محض کنپٹیوں کا مسح کرنا کافی نہیں؛بلکہ اس کو ایسے ہی مسح کرنا ضروری ہے جیسے مرد مسح کرتے ہیں۔
امام محمد فرماتے ہیں:
وَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ: إِذَا مَسَحَتْ مَوْضِعَ الشَّعْرِ فَمَسَحَتْ مِنْ ذَلِكَ مِقْدَارَ ثَلَاثِ أَصَابِعَ أَجْزَأھا وَأَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ تَمْسَحَ كَمَا يَمْسَحَ الرَّجُلُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق 1/74)
ہماری رائے یہ ہے کہ جب کسی عورت نے اس طرح مسح کیاکہ سرپر تین انگلی کے برابر مسح ہوگیا تو بس کافی ہے ؛ہاں!زیادہ بہتر اورپسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ بھی ایسے ہی مسح کرے ،جیسے مرد مسح کرتے ہیں  اوریہی قول امام ابوحنیفہ ؓ کا بھی ہے۔
۱۰۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ موذن اگر دوران اذا ن کلام (بات چیت کرے)تومیں نہ اس کی اجازت دوں گا اورنہ منع کروں گا۔
امام محمدفرماتے ہیں:
وَأَمَّا نَحْنُ فَنَرَی أَنْ لَا يَفْعَلَ، وَإِنْ فَعَلَ لَمْ يَنْقُضْ ذَلِكَ أَذَانَہُ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق 1/100)
اس بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ موذن ایسانہ کرےاوراگر وہ ایساکرتاہے تو اس سے اذان فاسد نہیں ہوگی۔
۱۱۔ ابراہیم نخعی، علقمہ اور اسود سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو ایک مرتبہ عبداللہ بن مسعودؓ نے نماز پڑھائی، تین آدمی تھے ،تینوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا،ایک کودائیں اورایک کوبائیں، اورنماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایاکہ جب تم تین آدمی ہو توایسے ہی کیاکرو،حضرت عبداللہ بن مسعود رکوع میں تطبیق فرماتے تھے(تطبیق یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ملاکر دونوں گھنٹیوں کے درمیان رکھ لیاجائے)اور وہ نماز بغیر اذان اوراقامت کے پڑھی۔
امام محمد فرماتے ہیں:
وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ فِي الثَّلَاثَۃِ، وَلَكِنَّا نَقُولُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَۃً تَقَدَّمَہُمْ إِمَامُہُمْ، وَصَلَّی الْبَاقِيَانِ خَلْفَہُ، وَلَسْنَا نَأْخُذُ أَيْضًا بِقَوْلِہِ فِي التَّطْبِيقِ كَانَ يُطَبِّقُ بَيْنَ يَدَيْہِ إِذَا رَكَعَ، ثُمَّ يَجْعَلَہُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْہ، وَلَكِنَّا نَرَی أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رَاحَتَيْہ عَلَی رُكْبَتَيْہ، وَيُفَرِّجَ بَيْنَ أَصَابِعِہ تَحْتَ الرُّكْبَتَيْنِ. وَأَمَّا صَلَاتُہُ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَۃٍ فَذَلِكَ يُجْزِئُ وَالْآذَانُ وَالْإِقَامَۃُ أَفْضَلُ. وَإِنْ أَقَامَ الصَّلَاۃ وَلَمْ يُؤَذِّنْ فَذَلِكَ أَفْضَلُ مِنَ التَّرْكِ لِلْإِقَامَۃ؛ لِأَنَّ الْقَوْمَ صَلَّوْا جَمَاعَۃ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق1/211)
ہم اس مسئلہ میں عبداللہ بن مسعودؒکے قول وفعل پر عمل نہیں کرتے،ہماری رائے یہ ہے کہ نماز پڑھنے میں اگر تین آدمی ہوں تو ایک آگے کھڑا ہو اوربقیہ دو اس کے پیچھے،اور تطبیق پربھی ہمارا عمل نہیں ہے، ہماری رائے یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھی جائے، گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے میں انگلیاں ملاکر نہیں بلکہ کشادہ اورپھیلاکررکھی جائے ،جہاں تک بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھنے کی بات ہے تو اس سے نماز ہوجاتی ہے ؛لیکن اذان واقامت کہنا افضل ہے ،اگراقامت کہی جائے لیکن اذان نہ دی گئی ہو تو وہ اذان واقامت دونوں نہ کہنے سے بہتر ہے اوریہی قول امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کابھی ہے۔
۱۲۔ ایک شخص نماز کے دوران اپنے عصو تناسل کے سرے پر کچھ تری پاتاہے تو وہ کیاکرتے،(شبہ یہ ہے کہ شاید یہ پیشاب کاقطرہ ہو)ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اگرمیرے ساتھ ایساہوتاہے تومیں وضو اورنماز دونوں کو دوہراتاہوں۔
امام محمدفرماتے ہیں:
وَأَمَّا نَحْنُ فَنَرَی أَنْ يَمْضِيَ عَلَی صَلَاتِہ، وَلَا يُعِيدَ، وَلَا يَضْرِبَ بِيَدَيْہ عَلَی الْأَرْضِ، وَلَا يَمْسَحَ بِوَجْھہ وَلَا يَدَيْہ حَتَّی يَسْتَيْقِنَ أَنَّ ذَلِكَ خَرَجَ مِنْہُ بَعْدَ الْوُضُوءِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ ذَلِكَ أَعَادَ الْوُضُوءَ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدر السابق 1/412)
ہماری رائے یہ ہے کہ مصلی نمازپڑھتارہے ،اس کو نہ وضو دوبارہ دوہرانے کی ضرورت ہے ، ہاں!اگراس کو یقین ہوجائے کہ وہ قطرہ  وضو کے بعد نکلاہے تو وہ وضو کو دوہرالے،اوریہی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
۱۳۔ حماد ،ابراہیم نخعی سے نقل کرتے ہیں کہ کسی عورت کے انتقال پر اس کا شوہر اس کو غسل دے سکتاہے۔ 
قَالَ أَبُو حَنِيفَۃ: أَكْرَهُ أَنْ يُغَسِّلَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہ قَالَ مُحَمَّد: وَبِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَۃ نَأْخُذُ، إِنَّ الرَّجُلَ لَا عِدَّۃَ عَلَيْہ؛ وَكَيْفَ يُغَسِّلُ امْرَأَتَہ، وَہُوَ يَحِلُّ لَہ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَہَا؟ وَيَتَزَوَّجَ ابْنَتَہَا إِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِأُمِّہَا؟ (المصدرالسابق2/36)
امام ابوحنیفہ ؓ فرماتے ہیں میں اسے مکروہ سمجھتاہوں کہ مرد اپنی بیوی کو غسل دے، امام محمد فرماتے ہیں ،امام ابوحنیفہ کا قول ہی ہم اس مسئلہ میں اختیار کرتے ہیں،اوراس قول کی دلیل ہے کہ بیوی کے موت کے بعد مرد پر کوئی عدت نہیں ہے(جس سے خفیف سا رشتہ نکاح باقی رہنے کا وہم ہو)وہ اس کی بہن سے شادی کرسکتاہے،اوراگرہم بسترنہ ہوا ہوتو اس کے دوسرے شوہر کی بیٹی سے بھی شادی کرسکتاہے(یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ شوہر اس میت بیوی کیلئے غیر اورنامحرم ہوچکاہے) 
۱۴۔ ابراہیم  کہتے ہیں کہ عورت نماز میں جیسے چاہے بیٹھ سکتی ہے۔
 امام محمد فرماتے ہیں :
أَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ تَجْمَعَ رِجْلَيْہَا فِي جَانِبٍ، وَلَا تَنْتَصِبَ انْتِصَابَ الرَّجُلِ (کتاب الاثارللامام محمد،ص:609]
ہمارے نزدیک بہتر یہ ہے کہ وہ مرد کی طرح نہ بیٹھے بلکہ وہ اپنے پاؤں کو ایک جانب نکال کو بیٹھے۔
(نوٹ:اس کے علاوہ مزید اس طرح کے مسائل ڈھونڈنے سے جہاں امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی کی مخالفت کرتے ہیں پچاس سے بھی زائد مثالیں محض کتاب الآثار سے مل جاتی ہیں۔ اگرابراہیم نخعی اورامام ابوحنیفہ کے اختلافات کو ازاول تاآخر کھنگالا جائے تویقیناًاس کی تعداد بہت بڑھ جائے گی اوراس میں مزید کئی گنااضافہ ہوجائے گا،اگرہم ابراہیم نخعی کے ساتھ اختلاف کرنے میں امام ابویوسف وامام محمد یاان مین سے کسی ایک کوبھی شامل کرلیں توان اختلافات کی مقدار مزیدبڑھ جائے گی۔)
ان تمام مثالوں میں یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ نہ صرف امام ابوحنیفہ بلکہ امام محمد بھی ابراہیم نخعی کے اجتہاد کے پابند نہیں ہیں؛ بلکہ وہ کھلے عام دلیل کی روشنی میں اوراپنے اجتہاد کی روشنی میں ان سےاختلاف کرتے ہیں ،جہاں ان سے اتفاق کرتے ہیں ،وہاں تخریج کی بنیاد پر نہیں اوران کے اقوال کو لازم سمجھ کر نہیں؛بلکہ ان مقامات میں دونوں کا اجتہاد ایک ہوجاتاہے،اجتہاد میں توافق کی بناء پر امام صاحب ابراہیم نخعی کے ہمنوا ہوتے ہیں نہ کہ ان کے قول کو لازم سمجھ کر۔

حواشی

29- اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ میں بیت اللہ ہے،مدینہ مھبط وحی اور رسول پاک کی قبرانور وہاں ہے اور وہیں سے سارے عالم مین اسلام پھیلا، صحابہ کرام کی بڑی تعداد وہاں محو خواب ہے،لیکن جس دور کی ہم بات کررہے ہیں یعنی امام مالک اورامام ابوحنیفہ کی، اس دور کے لحاظ سے اگر ہم دونوں جگہ کی علمی حیثیت کا جائزہ لیں تو پتہ چلتاہے کہ علم وحدیث کے میدان میں کوفہ یادوسرے لفظوں میں عراق مدینہ ومکہ سے کسی طورپیچھے نہیں تھا۔
30- سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ كَانَ أَبُو حَنِيفَۃَ شَدِيدَ الأَخْذِ لِلْعِلْمِ ذَابًّا عَنْ حَرَمِ اللَّہِ أَنْ تُسْتَحَلَّ يَأْخُذُ بِمَا صَحَّ عِنْدَہُ مِنَ الأَحَادِيثِ الَّتِي كَانَ يَحْمِلُہَا الثِّقَاتُ وَبِالآخَرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم وَبِمَا أَدْرَكَ عَلَيْہِ عُلَمَاءَ الْكُوفَۃَ (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثہ142)
31- واضح رہے کہ امام بخاری کے اخص الخواص شاگر امام ترمذی نے اپنی کتاب سنن میں دیگر فقہاء محدثین کی آراء نقل کرنے کا اہتمام تو کیاہے، مثلاًعبداللہ بن مبارک، احمد بن حنبل، یحیی بن سعید القطان ،اسحاق بن راہویہ وغیرذلک لیکن وہ کہیں پر بھی امام بخاری کی فقہی رائے کا اظہارنہیں کرتے۔
32- كالإمام أبي يوسف والإمام محمد بن الحسن فقد فقد لينہما أہل الحديث - كما تری في "ميزان الاعتدال " - ولعمري لم ينصفوہما وہما البحران الزاخران، وآثارہما تشہد بِسَعَۃِ عِلْمِہِمَا وَتَبَحُّرِہِمَا، بل بتقدُّمہما علی كثير من الحفاظ. وناہيك كتاب " الخراج" لأبي يوسف و "موطأ " الإمام محمد (الجرح والتعدیل،ص31)
33-  يَحْيَی بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: «أَصْحَابُنَا يُفْرِطُونَ فِي أَبِي حَنِيفَۃ وَأَصْحَابِہ (جامع بیان العلم وفضله 2/1081)
34- قَالَ أَبُو عُمَرَ : وَأَمَّا سَائِرُ أہلِ الْحَدِيثِ فَہْمْ كَالأَعْدَاءِ لأَبِي حَنِيفَۃَ وَأَصْحَابِہ (الانتقاء ص :173)
35- دیکھئے :الرفع والتکمیل ص70تا77
(جاری)

زوالِ امت میں غزالی کا کردار: تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

زوالِ امت میں غزالی کاکردار اور اصل حقائق: تاریخِ اندلس کے چند دلچسپ اوراق

ہم نے لکھا ہے کہ اندلس میں خلافتِ امویہ کے سقوط کے بعد جو دور شروع ہوا وہ طوائف الملوکی کا دور کہلاتا ہے، اس دور میں ریاست سات حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ضعف وافتراق اس حد تک پہنچا ہوا تھا کہ اس دور میں اندلس صلیبیوں کا باج گذار بنا ہوا تھا،  ڈیڑھ ڈیڑھ انچی ریاستوں کے امراء اہلِ صلیب کو باقاعدہ جزیہ دیتے تھے، پھر اسی پہ بس نہیں، مذکورہ  حصوں میں سے دو حصے یکے بعد دیگرے عیسائی ہتھیا کر لے گئے۔  اس وقت جس طرح مسلمان بے سمت، تفرق وتشتت کا شکار اور آپس میں گتھم گتھ تھے، اس کی بناء پر اندیشہ ہوچلا تھا کہ بقایا حصہ پر بھی عیسائی جلد قابض ہوجائیں گے، مگر صلیبیوں کی  پھرتیوں کو مزید تقریبا تین سو سال تک کے لیے بریک لگ گئی، جس کے ظاہری اسباب کچھ یوں تھے۔

تفرق، انحطاط اور اہلِ صلیب سے مغلوبیت کے اس زمانہ میں اندلس کے مسلمان اہلِ حل وعقد سر جوڑ کر بیٹھے۔ اس وقت اندلس کے پڑوس میں مراکش کے اندر امیر یوسف بن تاشفین کی حکومت تھی، یہ بغداد کی مرکزی خلافت کا ما تحت اور نہایت بارعب حکم ران تھا۔ اندلس کے علماء اور شرفاء نے قاضی قرطبہ عبد اللہ بن محمد بن ادہم کے ساتھ مل  بیٹھ کر اس سے متعلق مشاورت کی اور اس تجویز پر سب کا اتفاق ہوا کہ مراکش کے بوڑھے برگد امیر المسلمین یوسف بن تاشفین  کو خط لکھ کر اپنے احوال کی اطلاع کی جائے اور  اس سے اپنے لیے سہارا طلب کیا جائے۔ اہلِ فکر اور اہلِ دل کا یہ اجتماع قرطبہ میں ہوا جو اس وقت بنو عباد کی قلم رو میں تھا، طوائف الملوکی کے دور میں اندلس کی مختلف حکومتوں میں سے سب سے مضبوط اور بڑی حکومت بنوعباد کی تھی۔ لیکن صلیبیوں کے مقابلہ میں اس حکومت کی بھی نقاہت اور بے بسی کا یہ عالم تھا کہ جس وقت قرطبہ میں اہلِ درد کا اجتماع ہورہا تھا، اس وقت بنو عباد کا وارث المعتمد علی اللہ اس علاقہ کا تخت نشین تھا، لیکن وہ نصاری کا باج گذار تھا،  خود کو نصاری کے مقابلہ میں بے بس پاتا تھا اور جب صلیبیوں کی طرف سے اشبیلیہ کا محاصرہ کیا گیا تو اس کے پاس ان کے مقابلہ کی قوت نہیں تھی، خود اس کی اپنی ذاتی سیرت یہ تھی کہ شراب کا رسیا تھا، بعض چھوٹی چھوٹی اسلامی ریاستوں کے خلاف اس نے زور آزمائی میں صلیبیوں کا ساتھ دیا تھا، لیکن بہرحال مسلمان تھا اور اشبیلیہ کے محاصرہ کے بعد اس کی آنکھ قدرے کھل گئی تھی۔ یہ خود بھی یوسف بن تاشفین کو مدد کے لیے بلانا چاہتا تھا۔ چنانچہ جب قاضی عبداللہ نے شہر کے شرفاء کی رائے معتمد تک پہنچائی تو معتمد نے اس کی تصویب کی۔ بعض مشیروں نے اشارہ کیا کہ ممکن ہے، یوسف بن تاشفین یہاں آنے کےبعد واپس جانے کا نام نہ لے، اس پر معتمد کی رگِ اسلامی پھڑکی اور اس نے ایک تاریخ ساز جملہ کہا کہ رعی الغنم خیر من رعی الخنازیر یعنی امیر یوسف کا قیدی بن کر ریوڑ چرانا ہمارے لیےصلیبیوں کا قیدی بن کر خنزیر چرانے سے بہتر ہے۔  چنانچہ معتمد کی تصویب کےبعد پہلی بار امیر یوسف کے پاس سرکاری وفد گیا، امیر یوسف اس سے قبل بعض نجی وفود کے ذریعہ بھی اندلس کے حالات سنتے رہے تھے۔
امیر یوسف بن تاشفین مراکش کی اس اصلاحی تحریک کے ایک کارکن تھے جس کےبانی ایک نہایت خدا رسیدہ بزرگ شیخ عبد اللہ بن یسین تھے اور جن کی تحریک مرابطین کی تحریک کہلاتی تھی۔ امیر یوسف کی امارت کا قصہ یہ ہے کہ ان کے پیش رو شیخ ابو بکر بن عمر اللمتونی جو خود بھی مذکورہ اصلاحی اور دعوتی تحریک ہی کے ایک بزرگ کارکن تھے،  خدا نے ان کو دعوت وعبادت کا ایک خاص ذوق عطا فرمایا تھا، انہوں نے اپنے ماتحت علاقہ کی قلم رو یہ کہہ کر امیر یوسف بن تاشفین کے حوالہ کر دی تھی کہ امورِ ریاست کی نگہبانی میرے ذوق کے خلاف ہے، اس کو میری جگہ تم سنبھالو اور میں اپنی بقیہ زندگی اپنے ذوق کے میدان میں صرف کرنا چاہتا ہوں۔  امیر یوسف نے اپنے پیش رو کی امانت کو نہایت حسنِ تدبیر کے ساتھ سنبھالا۔ اندلس کے مسلمانوں نے جب ان کو پکارا تو انہوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور اندلس میں پہنچ کر صلیبیوں کے ساتھ ایک زبردست معرکہ لڑا جو معرکہء زلاقہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معرکہ میں نہایت گھمسان کا رن پڑا جس کی وجہ سے بعض مصنفین نے اسے حضرت عمر کے دور میں ہونے والے قادسیہ اور یرموک کے معرکوں پر قیاس کیا جاتا ہے۔ اس معرکہ میں   مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور بڑی تعداد میں غنیمتیں حاصل ہوئیں، مگر امیر یوسف نے ان غنیمتوں میں سے کوئی حصہ لینے کی بجائے وہ سب اہلِ اندلس کے حوالہ کیا، انہیں افتراق سے بچنے اور اور اتحاد سے رہنے کی تعلیم دی اور خود واپس مراکش چلے گئے۔
تاہم اندلس کےمسلمانوں میں زوال کے جو اسباب پیدا ہوچکے تھے، ان کے ہوتے ہوئے ممکن نہ تھا کہ وہ اس قدر تعلیم وتلقین سے سنبھل جاتے۔ چنانچہ امیر یوسف کی واپسی کے بعد اندلس دوبارہ اپنی پرانی روش پر آگیا،  طوائف الملوکی ویسے کی ویسے رہی،  نصاری کی چھیڑ چھاڑ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی،  بلنسیہ پر ان کا قبضہ ہوگیا جو اب تک کی ان کی کامیابیوں میں سے ایک بڑی کامیابی تھی اور چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں کے امراء آپس ہی میں لڑتے رہے، امیر یوسف کی نصیحت کسی کو یاد نہ رہی۔ امیر یوسف کی طرف سے مختلف موقعوں پر بہرحال ان کے پاس امداد آتی رہی۔  ان میں سےبعض موقعوں پر امیر یوسف کو ان امراء کی اقتدار پرستی،  صلیبیوں سے در پردہ دوستی اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں عین موقع پر چھرا گھونپنے کے بعض ایسے شدید تجربات ہوئے کہ  انہیں ان امراء سے خیر کی توقع نہ رہی۔ انہیں صاف نظر آرہا تھا کہ اندلس کو اگر ایک حکومت پر جمع نہ کیا گیا تو اس کا مستقبل تاریک ہے۔ ان کے پاس اس کی قوت موجود تھی کہ وہ چھوٹے چھوٹے امراء  کو بزور وجبر ایک طرف کرکے اندلس میں اجتماعیت پیدا کردیتے، مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں مسلم آبادیوں کے اندر خون خرابہ ہوتا اور امیر یوسف اس کی شرعی پوزیشن کے حوالہ سے اپنے اضطراب کو دور کرنے کے لیے کسی مستند علمی وفقہی حوالہ کے خواہش مند تھے،  نیز امیر یوسف اپنی تمام تر قوت کے باوجود خود کو خود مختار سمجھنے کی بجائے بغداد کی مرکزی خلافت کے ماتحت سمجھتے تھے،  اس لیے وہ اس اقدام سے قبل مرکز سے اجازت لینا بھی ضروری سمجھتے تھے۔
ان کی ان دونوں ضرورتوں کو ایک مالکی فقیہ ابو محمد العربی اور ان کے بیٹے ابو بکر (جو امام غزالی کے شاگرد تھے) نے پورا کیا۔ وہ بغداد گئے، وہاں ان دنوں امام غزالی رونق افروز تھے، ان سے ملاقات کی، اندلس کے احوال سنائے، وہاں کے حکم رانوں کی بے تدبیری، بد اندیشی اور نصرانیت نوازی  کو بے نقاب کیا اور امیر یوسف بن تاشفین کے لیے ان سے شرعی سند اور حوالہ کی استدعا کی۔ امام غزالی نے  بد اندیش حکم رانوں کےخلاف راست اقدام کے حق میں فتوی لکھ کر ان باپ بیٹے کو دیا، نیز یوسف بن تاشفین کے نام از خود ایک خط لکھ کر روانہ کیا جس میں ساری تفصیلات لکھیں کہ مجھے اندلس کے کیا کیا احوال پہنچے ہیں، نیز یہ کہ میں نے یوسف بن تاشفین کے لیے ایک فتوی لکھ کر  اپنے شاگردوں کے حوالہ کر دیا ہے،  نیز یہ کہ وہ کس طرح عالمِ اسلامی میں یوسف بن تاشفین کے حق میں فضا ہم وار کرنے کے لیے سر گرم ہیں اور یہ کہ وہ جلد ہی خلافت بغداد کے سرکاری اجازت نامہ کے ساتھ آپ کے پاس آپہنچیں گے۔  بعد ازاں فقیہ ابن العربی سال 493ھ  میں وفات پاگئے اور ان کے فرزند ابو بکر امام غزالی کا فتوی اور خلافتِ بغداد کا اجازت نامہ لے کر اسی سال اندلس میں  یوسف بن تاشفین کے پاس پہنچ گئے۔ تو یہ ہے زوالِ امت میں غزالی کے کردار کی حقیقت اور اندلس کی تاریخ کا ایک رشن ورق، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح امام غزالی اندلس کو صلیبیوں کی جھولی میں گرنے سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ 
امیر یوسف بن تاشفین کو اگر بروقت صحیح سمت راہ نمائی نہ دی جاتی اور انہیں راست اقدام کے لیے تیار نہ کیا جاتا  تو اندلس کا کلی سقوط ظاہری اسباب کے مطابق اپنے اصل وقت سے گویا تین سو سال قبل ہی ہوجاتا، جیساکہ ہاتھ سے نکلتے ہوئے اس کے مختلف علاقےاس کے  اشارے دے رہے تھے۔ تاہم امیر یوسف کے راست اقدام نے اندلس میں ایک مضبوط اور یک سو حکومت کی بنیاد رکھی جو خلافتِ امویہ کے سقوط کے بعد اندلس کی پہلی با معنی حکومت تھی۔ اس عہد میں وہ بہت سے علاقے صلیبیوں سے واپس لے لیے گئے جو ان کے قبضہ میں جاچکے تھے۔  لیکن ایک بڑا شہر طلیطلہ بدستور ان کے پاس رہا اور باوجود کوشش کے واپس نہ لیا جاسکا۔ (۱)
امیر یوسف کی وفات کے بعد ان کا بیٹا علی بن یوسف بن تاشفین تخت نشین ہوا اور ان دونوں باپ بیٹا کا دور حکومت اندلس میں مرابطین کا دورِ حکومت کہلاتا ہے۔ علی بن یوسف میں بہت سی اچھی صفات موجود تھیں، جہاد بھی ہوتا رہا اور علماء کا احترام بھی کیا جاتا تھا، مگر دوسری طرف ریاست میں  شرعی احکام کے حوالہ سے کافی کچھ تساہل بھی پایا جاتا تھا۔  شراب کی خرید وفروخت عام ہوتی تھی، سرکاری فوجی علانیہ لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے، شہریوں کی عزت وناموس کو تارتار کرتے، اور  علی بن یوسف کے خاندان میں ایک اور قبیح روایت یہ چلی آتی تھی کہ مرد نقاب پہنتے تھے، جبکہ عورتیں کھلے منہ پھرتی تھیں۔ اسی دور میں غزالی کی احیاء علوم الدین کو بھی اندلس میں جلایا گیا۔  مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کا اول وآخر ان کا دین ہے، انہوں نے جب اپنے دین سے بے وفائی کی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زوال سے نہ روک پائی اور  اسباب ووسائل کے باوجود یہ ناکام ہوکر رہے، جبکہ جب انہوں نے اپنے دین سے وفا کی، اس کے احکام کو نظروں کے سامنے رکھا اور  ظاہری اسباب ووسائل کی بجائے خدا کی ذات پر اعتماد کیا تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زوال کا شکار نہیں کرسکی، بلکہ یہ آگے سے آگے بڑھتے رہے۔  علی بن یوسف کی بعض نیک خصلتوں کے باوجود جس طرح منکرات وبدعات اس دور میں پھل پھول رہے تھے، اگر اس  خرابی کے سامنے بند نہ باندھا جاتا تو ظاہر تھا کہ اندلس میں مسلمانوں کی قوت کو ایک بار پھر زوال کا شکار ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ 
اس دور میں اندلس کے اندر محمد بن تومرت کی سربراہی میں ایک اور اصلاحی تحریک چلی، اس کا ابتدائی مقصد ریاست میں منکرات کی روک تھام ہی تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس کے نتیجہ میں اندلس کے اندر ایک اور خاندان کی حکومت کی داغ بیل پڑی جو موحدین کی حکومت کہلائی۔ محمد بن تومرت کے بارہ میں مشہور یہ ہے کہ حکومت کے خلاف اپنی تحریک سے قبل  وہ بھی امام غزالی سے ملے تھے، ان سے اپنی تحریک کے حق میں مشاورت لی اور  انہی کی تائید سے اپنا کام شروع کیا تھا۔ علامہ ابنِ خلدون نے اس ملاقات اور مشاورت کی روایت نقل کی ہے اور اردو لٹریچر میں شبلی، سید ابو الحسن علی ندوی اور سید قاسم محمود وغیرہ کے ہاں اسی روایت کے اتباع میں اس کو غزالی کا شاگرد تسلیم کرتے ہوئے اس کی تحریکِ موحدین کو نہ صرف غزالی ہی کی ایماء کا نتیجہ کہا گیا ہے، بلکہ اس انقلاب کو ایک بروقت اور صحیح اسلامی انقلاب بتایا گیا ہے اور شبلی نے لکھا ہے کہ موحدین کی ریاست امام غزالی کی منشاء اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق تھی۔ (۲)
تاہم علامہ ابنِ اثیر کی رائے میں محمد بن تومرت کی امام غزالی سے ملاقات نہیں ہوئی اور ماضی قریب کے بعض عرب محققین نے باقاعدہ اس موضوع پر داد تحقیق دی ہے کہ محمد بن تومرت کی امام غزالی سے تلمذ اور ملاقات کی بات غلط ہے۔ نیز عرب محققین میں بالعموم خود محمد بن تومرت کےحوالہ سے  بھی عموما کوئی مثبت رائے نہیں ملتی اور یہ سچ ہے کہ تاریخ میں اس کی تحریکِ اصلاح وجہاد کے بعض پہلو ایسے بیان ہوئے ہیں جو سخت ناگوار ہیں اور جن کے ہوتے ہوئے اس کی تحریک کی مجموعی تحسین کی گنجائش کم ہی نکلتی ہے۔ ابنِ تیمیہ کی بعض عبارات، ذہبی کی سیر اعلام النبلاء اور ابنِ حجر عسقلانی کی الدرر الکامنۃ کے مطابق وہ خود کو مہدی اور معصوم کہتا تھا، اپنے اس دعوی کی سچائی لوگوں کے دلوں میں مستحکم کرنے کے لیے اس نے کچھ عجیب وغریب حرکتیں بھی کی تھیں، نیز شیخ ابنِ تیمیہ کے مطابق وہ اعتزال کی طرف مائل تھا اور صفات سے متعلقہ مشہور اعتزالی موقف ہی کی بناء پر اس نے اپنی تحریک کا نام موحد رکھا ہوا تھا۔ تاہم بعض محققین کے مطابق ابنِ تومرت کے حوالہ سےمشرق کےمؤرخین نے انصاف سے کام نہیں لیا، وہ اتنا برا نہ تھا جتنا کہ کہا جاتا ہے۔ نیز سبکی نے طبقات الشافعیہ میں اس کا جو ذکر کیا ہے، اس سے اس کے کردار کا کوئی منفی پہلو سامنے نہیں آتا، ہاں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ اشعری تھا اور محض اشعری ہونا شاید کوئی اتنا بڑا "عیب" نہیں۔  مولانا ابو الحسن علی ندوی نے بھی اس کے بارہ میں سبکی کے کلمات بلانکیر نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے اور شبلی وابنِ خلدون کی عبارات سے اس کی توثیق مزید کی ہے۔ (۳)
یہاں ہمیں اس بحث میں نہیں جانا کہ محمد بن تومرت درحقیقت کیا تھا اور کیا نہیں؟ اور کیا امام غزالی سے فی الواقع اس کی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں؟ نیز ہمیں یہاں اس بحث میں بھی اپنا کوئی محاکمہ پیش نہیں کرنا کہ محمد بن تومرت کتنا صحیح تھا اور کتنا غلط اور نہ ہی غزالی اور ابنِ تیمیہ کی سلفی اور اشعری فکر کا کوئی تقابل پیش کرنا ہے۔ ہمیں تو یہاں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ امام غزالی پر زوالِ امت کا الزام کتنا غلط ہے اور امت کے زوال وانحطاط کے حوالہ سے ان کا کوئی کردار اگر تاریخ میں ملتا بھی ہے تو وہ مثبت ہے، نہ کہ منفی۔ ابن تومرت کے بارہ میں یہ پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ بعض محققین  سرے سے غزالی کے ساتھ اس کی ملاقات سے انکاری ہیں، جبکہ جو مصنفین اس ملاقات کا ذکر کرتے ہیں تو یہ وہی ہیں  جو ابنِ تومرت کے انقلاب کو ایک صحیح اسلامی انقلاب کہتے ہیں اور اسے امام غزالی  کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ شمار کرتے ہیں۔  اب ان دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے، اس  کے بارہ میں کوئی ٹھوس رائے دینا ممکن نہیں ہے۔
اگر محمد بن تومرت کے بارہ میں شبلی وغیرہ کی یہ رائے درست تسلیم کرلی جائے کہ وہ صحیح الفکر آدمی تھا، اس کی تحریک اندلس کے لیے مقتضائے حال کے مطابق تھی اور موحدین کی قائم کردہ حکومت بھی اسلامی اصولوں کے عین مطابق تھی تو انہی کے نزدیک ابنِ تومرت کی اس ساری کاوش کی بنیاد امام غزالی سے اس کی مشاورت تھی۔ پس اگر اس انقلاب کو  صحیح فرض کر لیا جائے جو تحریکِ موحدین نے برپا کیا تھا تو جو اس انقلاب کو صحیح کہتے ہیں، انہی کے بقول اس انقلاب کے خمیر میں غزالی کی مشاورت شامل تھی۔ تاہم ہمیں ذاتی طور پر اس کا ہرگز اصرار نہیں کہ ابنِ تومرت صحیح الفکر تھا اور اس کا انقلاب بھی صحیح بنیادوں پر قائم تھا، بلکہ  صورتِ حال ا س کے برعکس بھی ہوسکتی ہے، مگر اس صورت میں امام غزالی سے اس کی ملاقات کو تاریخی اعتبار سے ثابت کرنا بھی ایک مشکل کام ہوگا۔ کیونکہ جو مؤرخین ابنِ تومرت کے کردار سے متفق نہیں، انہیں اس کی امام غزالی کے ساتھ ملاقات سے بھی اتفاق نہیں، بلکہ ابنِ اثیر سے لے کر دکتور راغب السرجانی تک یہ تمام مؤرخین اور محققین  جو ابن تومرت کو بھٹکا ہوا سمجھتے ہیں، غزالی سے اس کی ملاقات  سے بھی سخت انکاری ہیں۔ (۴)
ہماری ذاتی رائے میں  ابنِ تومرت کے ہاتھوں تشکیل پانے والی موحدین کی حکومت میں یا ابنِ تومرت کی ذات میں خواہ کچھ عیب رہے ہوں، مگر موحدین کی حکومت سے بظاہر ایک بڑی خیر بھی برآمد ہوئی۔ مرابطین کے ہاتھوں مراکش اور اندلس کے باقی ماندہ علاقے جو ایک بار پھر ضعف کا شکار ہورہے تھے اور ان کے بارہ میں اندیشہ تھا کہ عیسائی اس کم زوری سے شہ پا کر کہیں ان پر بھی حملہ آور نہ ہوجائیں،  موحدین کی وجہ سے ایک بار پھر مضبوط ہاتھوں میں چلے گئےاور اس حکومت کی تشکیل میں کسی نہ کسی درجہ کے اندر غزالی کے بالواسطہ کردار کو بہرحال مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ امام غزالی کے شاگرد ابو بکر ابن العربی (جنہوں نے اپنے والد کے ساتھ اس سے قبل یوسف بن تاشفین کا اقتدار استوار کرنے میں کردار ادا کیا تھا) نے آگے بڑھ کر اس وقت عبد المومن کا اندلس کی طرف سے استقبال کیا تھا جب وہ اندلس پر حملہ آور تھا۔ عبد المومن موحدین کی حکومت کا پہلا تاج دار  اور ابنِ تومرت کا نہایت قریبی ساتھی تھا، اس کے مزاج میں اپنے پیش رو ابنِ تومرت کی طرح کچھ سختی تھی، مگر تاریخ سے ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا کہ اس نے اپنی حکومت کی بنیاد ابنِ تومرت کی معصومیت کے عقیدہ پر، توحید کے مخصوص اعتزالی تصور پر  یا اس طرح کی اور گم راہیوں پر رکھی ہو، بلکہ اس کے برعکس یہ نظر آتا ہے کہ اس حوالہ سے سکوت کی پالیسی اختیار کرکے گویا اس نے ابنِ تومرت کے اثرات کومٹنے کا موقع دیا اور ان علماء کو عزت دی جو کسی بھی لحاظ سے ابنِ تومرت کی گم راہیوں سے متفق نہیں کہلائے جاسکتے، جبکہ اسی خاندان کے تیسرے یا چوتھے حکم ران تک  باقاعدہ ریاستی سطح پر ابنِ تومرت کی گم راہیوں سے براءت کا اعلانِ عام کردیا گیاv لیکن عرفِ عام میں ان کے لیے موحدین کا نام استعمال ہوتا رہا۔
سید قاسم محمود کے الفاظ میں صلاح الدین ایوبی کے ہم عصر عبد المومن نے جتنی بڑی حکومت قائم کی، اتنی بڑی حکومت شمالی افریقہ کے کسی مسلمان نے اب تک قائم نہیں کی تھی اور نہ اس کے بعد پھر اتنی بڑی حکومت قائم ہوئی۔ نیز عہدِ موحدین کا  تیسرا حکم ران یعقوب المنصور  سب سے زیادہ مشہور ہے، اس کو ارک کے میدان میں  عیسائی حکم ران الفانسو پر فتح حاصل ہوئی، وہ نہایت علم دوست تھا اور اس کے دور میں بے شمار رفاہی کام ہوئے۔ (۵) سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ یہ نہایت مضبوط حکومت تھی، اس سے اندلس میں مسلمانوں کے قدموں کو مزید ثبات اور استحکام نصیب ہوا۔ اندلس پر اس خاندان کی حکومت تقریبا سوا صدی قائم رہی۔ بعد ازاں ایک بار پھر انحطاط شروع ہوا جو 1492ء میں مکمل سقوط پر منتج ہوا۔ یوں اندلس کا جو سقوط گیارہویں صدی میں اموی خلافت کے سقوط کے بعد شروع ہوا تھا  اور اندلس مسلسل صلیبیوں کی لپیٹ میں آتا جارہا تھا، ابن تاشفین، غزالی اور مرابطین وموحدین وغیرہ کی بر وقت مداخلت سے مکمل سقوط تک پہنچنے میں اسے تقریبا ساڑھے تین سو سال تک کی بریک لگ گئی۔
ان تاریخی حقائق کی روشنی میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ غزالی پر اس اعتراض کی قطعا کوئی حقیقت نہیں ہے کہ فلسفہ پر ان کی تنقید سے عالمِ اسلام اولا علمی اور بعد ازاں سیاسی زوال کا شکار ہوگیا جس کا یہ تسلسل ہے کہ آج عالمِ اسلام کو ذلت کے یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ تاریخی حقائق یہ ہیں کہ غزالی نے اگر علمی وفکری سطح سے ہٹ کر عملی میدان میں کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ کردار ادا کیا بھی تو وہ مسلمانوں کے وقار پر منتج ہوا، نہ کہ زوال پر۔ تاریخ میں اس کے برعکس اگر کوئی اور تصویر ملتی ہے، تو ہوائی باتیں کرنے کی بجائے اس کا ثبوت فراہم کیا جائے۔ 

غزالی اور ابنِ رشد کا تقابل؛ کیا کوئی جواز ہے؟

نیز کیا کوئی بتا سکتا ہے  کہ غزالی کے مقابلہ میں جس ابنِ رشد کو اپنا راہ نما بنانے کی تلقین دن رات مسلمانوں کو کی جاتی ہے، امت کے عروج وزوال کی کہانی میں اس نے کب اور کون سا تاریخ ساز مثبت کردار ادا کیا تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ابن رشد موحدین ہی کا ایک درباری تھا، بلکہ عبد الواحد المراکشی (مصنف المعجب) کے بقول یہیں سے اس کی شہرت ہوئی اور جو کچھ ملا، یہیں سے ملا۔ ابنِ رشد سے قبل اندلس کے ایک اور مشہور فلسفی اابنِ طفیل کا عبد المومن کے دربار میں آنا جانا تھا، وہی ابنِ رشد کو دربار میں لایا،  عبدالمومن کے بعد خلیفہ ابو یعقوب کے دربار میں اسے بہت عزت ملی، وہ خلیفہ کا مشیرِ خاص بنا،  شاہی طبیب اور قرطبہ کا قاضی بنا،  بعد ازاں تیسرے خلیفہ یعقوب المنصورکے زمانہ میں اس کی عزت وتوقیر میں مزید اضافہ ہوا،  اس کے بعد عتابِ شاہی کا شکار ہوا۔ اب اس بارہ میں کچھ کہنا ممکن نہیں کہ اس کا سبب کیا تھا۔ بعض کے بقول خلیفہ کے بعض ہم نشینوں نے خلیفہ کو اس کے خلاف ورغلایا تھا،  جبکہ بعض کے بقول اس کا سبب اس کے دینی انحرافات تھے۔ خیر، ہمیں اس بحث میں نہیں جانا کہ ان میں سے کون سی بات درست ہے، لیکن اگر وہ واقعتا ان "اعلی خیالات" کا حامل تھا جو خود ملحدین یا متفلسفین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں  اور وہ واقعتا مسلمانوں کے لیے فکری انتشار اور خلفشار کا باعث بھی بن رہا تھا تو اس صورت میں اس پر نازل ہونے والے شاہی عتاب پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
ابنِ رشد  (الحفید) خصوصا فقہ میں وسعتِ نگاہ کے حوالہ سے اپنے ہم نام دادااحمد بن رشد القرطبی (الجد)  کا صحیح جانشین تھا اور اس کے علم سے انکار نہیں، اس کی کتاب "بدایۃ المجتہد" سے علمی حلقے شروع سے استفادہ کرتے آرہے ہیں، لیکن اپنے الہیاتی نظریات میں وہ فلسفہ ہی کے ایک منحرف دبستان کا پیروکار بھی تھا۔  اس لیے اس سے دینی انحرافات کی توقع کچھ غلط نہیں۔  اگر دعوی یہ ہے کہ ابنِ رشد کے موردِ عتاب بننے سے عالمِ اسلام کا زوال اور مسیحیت کی علمی اٹھان شروع  ہوئی تو ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض ہے کہ ابنِ رشد کی تکفیر خود اس کی زندگی میں مسیحیوں کی طرف سے بھی ہوئی تھی اور اندلس پر اپنے حملہ کے بعد صلیبیوں نے اس کی کتابوں کو بھی جلادیا تھا۔ ہاں البتہ ملحدین کے ہاں اسے قبولِ عام حاصل ہوا ہے تو کیا ہمیں ابنِ رشد کو راہ نما بنانے کا جو مشورہ دیا جاتا ہے، اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم مذہب کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکیں؟ کسی ایک فلسفی کے اپنے الہیاتی نظریات کی وجہ سے زیرِ عتاب آجانے سے کوئی ریاست یا معاشرہ علمی یا سیاسی زوال کا شکار نہیں ہوسکتے، نہ ہی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اہلِ فکر جینوئن اور مفید سائنسی علوم کے حوالہ سے بھی غور وفکر کرنا چھوڑ دیں۔ چنانچہ  کتاب پروری اور اور علمی ترقی موحدین کے دور میں بھی برابر جاری رہی۔ عبد المومن نے مراکش میں ایک بڑا کتب خانہ قائم کیا تھا جس میں چار لاکھ کتابیں تھیں۔ یعقوب کا دور ہر لحاظ سے ایک زبردست دور تھا، اس دور میں مسلمانوں کو صلیبیوں کے خلاف نہایت  اہم فتوحات  حاصل ہوئیں،  سڑکیں ، ہسپتال، سرائیں اور درس گاہیں تعمیر ہوئیں اور سید قاسم محمود کے بقول اس زمانہ میں اندلس میں بڑی زبردست سائنسی ترقی ہوئی اور ایسے ایسے مصنف اور سائنس دان پیدا ہوئے کہ جو بغداد اور نیشاپور  وغیرہ کے بڑے علماء سے کسی طرح کم نہ تھے۔ (۶) 
ابنِ رشد کی بعض علمی صلاحیتیں اپنی جگہ،  مگر اس تاریخ کو سامنے رکھیں اور ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ  کیا عروج وزوال کی کہانی میں غزالی اور ابنِ رشد کا تقابل کرنے اور دن رات اس کی مالا جپنے کا کوئی جواز ہے؟ کہاں تو غزالی جو حکومتوں پر اثر انداز ہوکر مسلمانوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہورہے ہیں اور کہاں ابنِ رشد جن کی کہانی درباری نوازشات سے فیض یاب ہوکر درباری عتاب پر ختم ہوتی ہے اور جن کی شخصیت اتنی الجھی ہوئی ہے کہ آج تک ان کی فکر کے اجزاء کے تعین پر ہی کوئی اتفاق نہ ہوسکا۔ ہمارا مقصود یہاں پر نہ تو ابنِ رشد کی تکفیر وتفسیق ہے اور نہ ہی اشعری فکر کا سلفی فکر کے ساتھ کوئی محاکمہ مقصود ہے، بلکہ ہمارا مقصود صرف یہ عرض کرنا ہے کہ امت کے عروج وزوال کی کہانی میں غزالی اور ابنِ رشد کا تقابل کسی بھی حوالہ سے معقول نہیں ہے۔
اگر مغرب کی ترقی اور امتِ مسلمہ کے زوال کا راز یہی ہے کہ مغرب نے ابنِ رشد کی تقلید کی ہے تو ذرا بتائیے ناں کہ ابنِ رشد کی وہ کون سی روشن فکر ہے جس نے مغرب کی نشاتِ ثانیہ میں کردار ادا کیا ہے اور اسے وقت کی "سپر پاور" پنا دیا ہے۔ لوگوں کو دینی انحرافات کی طرف مائل کرنے کے لیے ابنِ رشد کا نام بطور حوالہ مت استعمال کیجئے۔ اگر مغرب کی ترقی کاراز اس کا الحاد اور مذہبی تقدسات سے دستکش ہوجانا ہے تو ایسی ترقی ہمیں ہر گز نہیں چاہئے اور یہ سچ ہے کہ ہم اپنے دین کے ساتھ جیسے تیسے منسلک رہنے کی وجہ سے ہزار خرابیوں کے باوجود ترقی یافتہ مغرب سے کہیں بہتر اور کہیں اچھے حال میں ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی اپنے دین کی جیسی تیسی اتباع کی برکت سے اتنا کچھ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم الحاد کے راستہ سے سپر پاور یا بین الاقوامی چودھری بن کر بھی کبھی وہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتی۔ یہ سچ ہے کہ خواہ ہم مغلوب ہی کہلاتے ہیں، مگر ہم نے ایٹم بم جیسے ہتھیار بنانے میں مجرمانہ پہل نہ کرکے کوئی غلطی نہیں کی، ہم نے عام شہری آبادیوں پہ وہ بم گراکر اگر خود کو سپر پاور نہیں کہلوایا تو ہم اس پر آج بھی خوش ہیں، ہم نے جنگہائے عظیم  میں کوئی مؤثر کردار ادا نہ کرکے اور کروڑوں انسانوں کے جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرکے اچھا ہی کیا ہے، ہم نے آزادی نسواں کے نام پر صنفِ نازک کو نہیں ورغلایا تو اس پر اللہ کے حضور شکر بجا لاتے ہیں، ہم نے دنیا کو خاندانی نظام کی بربادی کا تحفہ نہیں دیا، اخلاق اور انسانیت کے نام پر ہم نے دنیا سے کوئی مکاری نہیں کی، خود کشی کے ریکارڈ قائم نہیں کیے اور نہ ہی ہم نے انسانیت کو ملحدانہ عقلیت کے نام پر ذہنی امراض کا شکار بنایا ہے۔ شکر ہے کہ ایسی ترقی کسی اور ہی کے حصہ میں آئی ہے اور ہم اپنی ہزار خرابیوں کے باوجود "ترقی یافتہ اقوام" سے آج بھی کہیں بہتر ہیں۔ الحمد للہ!

مشرقی اسلامی دنیا میں غزالی کا کردار

ہم نے گذشتہ سطور میں اندلس کے حوالہ سےغزالی کے کردار کے چند گوشوں پر روشنی ڈالی ہے، مگر غزالی خود مشرق میں  تھے جہاں اس زمانہ میں سلجوقیوں کی حکومت تھی۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مشرق میں غزالی کا جو کردار تھا، اس کے چند روشن اور مثبت پہلوؤں پر بھی یہاںروشنی ڈالیں۔
ایک بات جو نہایت اہم اور قابلِ توجہ ہے، وہ یہ  کہ امام غزالی نے اپنی علمی وجاہت کے زمانہ میں شاہانِ سلجوقی کو کئی تربیتی اور تنبیہی خطوط لکھے جن میں شاہ سنجر سلجوقی کے نام ان کے خطوط خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جو ان کے دور میں نائب امیر کے عہدے پر فائز تھا۔ شاہ سنجر سلجوقی نے چالیس سال حکومت کی، وہ اپنی کم زوریوں کے باوجود بہرحال ایک نہایت علم دوست اور ہنر پرور آدمی تھا۔ مسلم علم وفن اور حرفت وصنعت کے بلند پایہ مؤرخ سید قاسم محمود نے اس کے لیے نہایت غیر معمولی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ان کے الفاظ میں
"اس کے دربار میں ادب، شاعری اور سائنس وفلسفہ کا ویسا ہی چرچا رہتا تھا جیسا ہارون الرشید، مامون الرشید اور محمود غزنوی کے درباروں میں رہتا تھا۔ اس کے زمانہ میں خراسان دار العلم بن گیا تھا اور وہاں کے بڑے بڑے شہر مدرسوں، کتب خانوں، علماء اور اربابِ کمال سے بھر گئے ۔۔۔۔۔ سلجوقی دور میں علوم وفنون کی خوب سرپرستی کی گئی اور اسلامی دنیا علمی حیثیت سے اس عہد میں اپنے عروج پر پہنچ گئی۔" (۷)
ان سلجوقی حکم رانوں کے نام لکھے گئے اپنے مکاتیب میں غزالی نے ان کو کئی حوالوں سے تنبیہات فرمائیں، خصوصا بیت المال کےحوالہ سے بدعنوانیاں برتنے پر انہیں ٹوکا، لیکن اپنے ان خطوط میں انہوں نے ان کی علمی وفنی سرگرمیوں پر کوئی ایک بھی تنقیدی کلمہ نہیں کہا۔  اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غزالی کو  علمی وفنی ترقی کا دشمن گرداننا ان پر کتنا بڑا اتہام ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض ہوتا تو جب وہ اپنے مکاتیب میں ان پر نکیر کی ہمت کر ہی رہے تھے تو اس حوالہ سے ان کا قلم اور ان کے لب خاموش کیوں رہتے؟
تاہم جیساکہ ہم نے لکھا، مملکت کا محض تعلیمی وصنعتی سرگرمیوں سے آباد ہونا اس کی وجاہت اور استحکام کی ضمانت نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے بعض اور لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ سلجوقی حکم رانوں میں اپنی تمام تر علم پروریوں کے باوجود جب ان لوازمات کی کمی آئی تو ریاست غیر مستحکم ہوئی۔ غزالی کے دور میں اندلس کی طرح مشرق میں بھی اسلامی دنیاکی سرحدوں پر صلیبی حملہ آور تھے۔ ان کی زندگی میں بیت المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ ہوچکا تھا۔  تاہم اس حوالہ سےمحض چند جذباتی کلمات لکھ دینے کی بجائے انہوں نے اپنے منصب کے مطابق نہایت حکیمانہ انداز میں مسلم معاشرہ کے داخلی امراض کی تشخیص وعلاج میں اپنی زندگی صرف کی اور اس حوالہ سے خود کو ایک دیرپا علاج کے لیے وقف کیا۔ وہ غالبا مشرق میں کسی ایسی پرجلال شخصیت کو نہیں دیکھ رہے تھے جو اس وقت صحیح معنوں میں  صلیبیوں کے مد مقابل آسکتی۔ مسلم معاشرہ میں اس وقت  وہ دینی روح نہایت کم زور ہوچکی تھی جو مسلمانوں کو  یک سوئی کے ساتھ صلیبیوں کے مقابلہ کے لیے کھڑا کرتی۔  عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصہ پر باطنیوں کی خود مختار حکومت قائم تھی اور وہ اپنے بارہ میں کئی سو سال سے مستقل خلافت کے دعوے دار تھے جس کا مرکز مصر تھا۔  بغداد کی عباسی خلافت برائے نام باقی رہ گئی تھی اور در اصل وہ محکومی کے دور سے گذر رہی تھی۔ سلجوقیوں کی طاقت اور حکومت  ملک شاہ کے تین بیٹوں محمد، محمود اور برکیارق (سنجر اسی کا نائب تھا) میں منقسم ہوچکی تھی، خانہ جنگی کی وجہ سے  کئی علاقے خود ان کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے۔  ملک شاہ کے وزیر نظام الملک اور اس کے بیٹے فخر الملک نے جو تعلیمی نظام مملکت کے اطراف میں قائم کر رکھا تھا، اس میں روحانیت سے زیادہ مادیت کا غلبہ تھا، علم کا حصول عہدہ، عزت اور دولت کے لیے ہوتا تھا، اخلاص کی روح نہایت کم زور تھی۔ غزالی نے اسی خلاء سے اثر لے کر اس نظام سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ جبکہ فلسفہ کے نام پر منحرف معقولی جو ظلمتیں پھیلارہے تھے، وہ ان سب پر مستزاد تھیں۔
غزالی کو خدا نے ایک سیال اور مؤثر قلم عطا کیا تھا۔  اپنی اصلاح کے لیے مجاہدے کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لیے نہایت وقیع اور عمدہ  تصنیفات تیار کیں، جن سے ایک بڑی مخلوق نے استفادہ کیا۔ وہ باوجود متکلم اور صوفی ہونے کے خود اہلِ تصوف اور اہلِ کلام پر نہایت ماہرانہ تنقید کرتے ہیں، ان کی وفاداری کا تمام تر محور دینِ اسلام ہے، وہ سلاطین پر تنقید کرتے ہیں، علماء کو فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے اکساتے ہیں، علم اور عمل کے حوالہ سے اہلِ اسلام کی حسیات کو بے دار کرتے ہیں، انہیں اللہ کے رنگ میں پھر سے نہا جانے کی دعوت دیتے ہیں، فلسفہ اور باطنیت پر نہایت نکتہ رس تنقیدات کرتے ہیں۔ ان کے اخلاص اور قلم کی برکت سے ایک بڑی مخلوق کو فائدہ ہوا۔ ان کی تنقید سے فلسفہ کا وہ دبستان جو کندی سے شروع ہوکر بنِ رشد اندلسی پر ختم ہوتا ہے اور جس کا مقصد دینِ اسلام کو فلسفہ کے چوکھٹے میں فٹ کرنا تھا، مشرق میں ایسا نیم جان ہوا کہ پھر سر نہ اٹھا سکا۔
نیز انہوں نے نظامی مدارس کے بالمقابل اپنے گھر کے ساتھ ایک خود انحصار خانقاہ اور مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں وہ کم زوریاں نہیں تھیں جو انہیں مملکت کے عمومی مدارس کی فضا میں محسوس ہوئی تھیں۔ محققین کے ایک طبقہ کے بقول یہ ایک مثال تھی جو غزالی نے قائم کی تھی، اس سے علم وعمل کے چراغ جلنا شروع ہوئے اور اصلاحی مدارس کی ایک نئی طرح قائم ہوئی۔ بقول ان محققین کے کچھ عرصہ بعد صلیبیوں کے سیلاب کے بالمقابل اتابک عماد الدین زنگی، نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کی جو نسل تیار ہوئی اورجس کے ذریعہ سے بیت المقدس کی کی بازیافت ہوئی، وہ غزالی جیسے بزرگوں کی اصلاحی مساعی کا نتیجہ تھی۔ اس سلسلہ میں دکتور ماجد عرسان الکیلانی کی کتاب "ھکذا ظہر جیل صلاح الدین وھکذا عادت القدس" مذکورہ موضوع کا متخصصانہ احاطہ کرتی ہے اور یہ بعض لوگوں کے اس سوال کا جواب ہے کہ مشرقی اسلامی دنیا جو غزالی کے زمانہ میں صلیبی حملوں کی زد میں تھی، غزالی نے اپنی کتابوں میں اس پہ کوئی تبصرہ کیوں نہیں کیا یا اس کے خلاف عملا جہاد میں حصہ کیوں نہیں لیا؟ ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر مشرق میں بھی اس وقت یوسف بن تاشفین جیسا کوئی ذی حشمت اور طاقت ور آدمی دستیاب ہوتا تو غزالی ضرور اس کی پشت پناہی کرتے، غالباً‌ ایسا کوئی آدمی سامنے نہ ہونے کی وجہ سے ہی غزالی کی نباضی اور حکیمانہ تشخیص نے انہیں وہ اصلاحی منہج اختیار کرنے پر اکسایا جس کے نتیجہ میں چند سال بعد زنگی اور ایوبی کی نسل منظر پر آئی۔ (۸)
بعض عرب محققین کی طرح ہمارا بھی خیال ہے کہ مذکورہ کتاب میں صلاح الدین کے ظہور کا جوڑ جس طرح کلی طور پر غزالی کی اصلاحی مساعی سے قائم کیا گیا ہے، اس میں کچھ مبالغہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ زنگی اور ایوبی صوفیاء کے قدردان تھے اور اس حوالہ سے تاریخ میں ایک سے زیادہ ثبوت موجود ہیں، لہذا اگر ان صف شکن مجاہدین کی تشکیل میں دکتور ماجد عرسان کیلانی کے بقول امام غزالی اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمہما اللہ جیسے اس دور کے چوٹی کے صوفیاء کی برکات شامل رہی ہوں تو اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ امام غزالی اور شیخ جیلانی جیسے بزرگوں نے جس زمانہ میں مسلم معاشرہ کے اندر رجوع الی اللہ کا صور پھونکا تھا، اس زمانہ میں واقعی امت کو اس صور کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے ان دونوں بزرگوں کی اصلاحی مساعی امت کی تاریخ دعوت وعزیمت کا ایک عظیم باب سمجھی جاتی ہیں۔ نیز غزالی کے ظہور کے کچھ ہی عرصہ بعد زنگی اور ایوبی مجاہدین نے جس طرح مصر میں باطنیوں کی تقریبا تین سو سال سے قائم حکومت کا خاتمہ کیا تھا، وہ مسلم معاشرہ کے اس حوالہ سے تحرک اور بے داری کا پتہ دیتا ہے جس کا ایک بڑا سبب اس دور میں غزالی کی طرف سے باطنیوں پر کی گئی علمی تنقید رہی ہو تو اس میں بھی ہرگز کوئی عجیب بات نہیں۔ لہذا زنگی اور ایوبی جیسے مجاہدین کی تشکیل میں غزالی کا اگر براہِ راست کوئی کردار نہ بھی رہا ہو تو بالواسطہ اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔  
اگر عملی میدان میں بھی دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ غزالی کی نظر اس زمانہ میں مغرب کے یوسف بن تاشفین پر تھی اور اس سے انہیں نیک توقعات تھیں۔ ابنِ خلکان اور سبکی کی روایت کےمطابق انہوں نے اسکندریہ سےبراستہ سمندر بذاتِ خود اس کی طرف جانے کے لیے تیاری بھی کر رکھی تھی، مگر ابھی وہ اسکندریہ کے اندر ہی تھے کہ انہیں ابنِ تاشفین کی وفات کی خبر پہنچی جس کی وجہ سے انہوں نے جانے کا ارادہ موقوف کردیا۔ (۹) روایات کے مطابق ابنِ تاشفین نے 500ھ میں وفات پائی۔ یوں جب اندلس سے ان کی وفات کی خبر اسکندریہ میں غزالی کے پاس پہنچی تو یقینا یہ بھی 500ھ یا 501ھ کا سال ہوگا۔ بیت المقدس پر صلیببیوں کا قبضہ تقریبا 492ھ میں ہوا تھا اور یہ وہی سال ہے جب غزالی کی طرف سے ان کے شاگرد ابوبکر ابن العربی یوسف بن تاشفین کے نام ان کا خط لے کر جارہے تھےجس میں انہیں اندلس کو ایک یک سو حکومت پر جمع کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس وقت ممکن نہ تھا کہ ابنِ تاشفین کو مشرق آکر یہاں کے حالات سنبھالنے کی دعوت دی جاتی۔ 
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ 500ھ کے پس وپیش زمانہ تک جب اندلس اور مغرب میں ابنِ تاشفین کے استحکام کی خبر غزالی کو پہنچی ہوگی تو یقنا مشرق میں ان کی قوت سے استفادہ کی غرض سے ہی وہ خود ان کے پاس بنفسِ نفیس چل کر جانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے، مگر ابنِ تاشفین کو اجل نے آلیا اور یہ ارادہ پورا نہ ہوسکا۔یوں غزالی نے نہ صرف مشرق میں صلیبی حملوں کے زمانہ میں مسلمانوں کی عمومی اصلاح کے گراں قدر خدمات انجام دیں، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ 500ھ کے پس وپیش زمانہ میں ابنِ تاشفین کے پاس جانے کا ان کا ارادہ مشرق کے حکم رانوں سے کسی ہنگامی درست اقدام کی توقع نہ ہونے کی بناء پر  اور ابنِ تاشفین کو عملی جہاد کے لیے تیار کرنے کی غرض سے ہی ہوگا جو ابنِ تاشفین کے پاس نہ پہنچ پانے کی وجہ سے پورا نہ ہوپایا اور اس ارادہ کے تفصیلی نقوش بھی تاریخ میں مذکور ہونے رہ گئے۔

آخری بات

ہمارا مقصود یہاں قاری کو محض غزالی کی شخصیت کی طرف دعوت دینا نہیں ہے۔ اس قضیہ کے اندر ہماری دعوت اور ہمارا موقف دراصل یہ ہے کہ امت کا ماضی، حال اور مستقبل اسلام کے ساتھ وابستہ ہے، نہ کہ دینی انحرافات کے ساتھ۔ انہیں  اگر پھر سے اپنی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنا ہےتو اس کے لیے انہیں اسلام کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا چاہئے اور اپنے پیکر کو اسلامی پیکر بنانا چاہئے۔دینی انحراف میں کامیابی کا کوئی راستہ نہیں۔ ہماری اصل تنقید دینی انحراف پر ہے، نہ کہ علم دوستی اورکتاب پروری کے رویہ پر۔ بلکہ ہم کہہ چکے ہیں کہ اپنے دفاع کے حوالہ سے چوکنا رہنا  اور ضروری لوازمات کا انتظام کرنا تو خود ان کے دینی فرائض میں شامل ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ بھی عزت ملی تھی، وہ انہیں اپنے دین کے ساتھ عہدِ وفا نباہنے کی وجہ سے ملی تھی۔ وہ اسلام کے داعی تھے، قرآن ان کا دعوی اور قرآن ہی ان کی دلیل تھا، ان کے دلوں میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کےلیے مرعوبیت وعقیدت کے ایسے جذبات تھے کہ ان کے لعابِ دہن کو اپنے چہروں پر ملنا وہ سعادت سمجھتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے انہی صفاتی خدوخال اور اسی ایمانی پیکر کے ساتھ دنیا میں بلند ہوئے تھے۔  روم وفارس اور یونان کے فلسفے، ان کی بھری ہوئی لائبریریاں اور ان کا علمی رعب ودبدبہ مدینہ کے خاک نشین مسلمانوں کے سامنے شکست کھا گیا تھا اور روم وفارس صرف سیاسی طور پر ہی ان کے ہاتھوںمغلوب نہ ہوئے تھے، بلکہ علمی، تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے بھی وہ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے تھے۔ یہ ان کے فلسفوں کی، ان کے مذہب کی اور ان کے تہذیب وتمدن کی شکست تھی۔   حق یہ تھا کہ مسلمان سلاطین اپنے اس شان دار ماضی سےرشتہ نباہتے، جن آباء کے ہاتھوں یہ فتوحات حاصل ہوئی تھیں، ان آباء کے اسوہ کو سامنے رکھتے اور ان مفتوحہ علاقوں کے حوالہ سے ان کا جو اسوہ تھا، اسے اپنے لیے آئین ودستور کی حیثیت سے پیشِ نظر رکھتے۔ مگر ان سلاطین کی سرگرمیوں کے حوالہ سے مسلمانوں کے روایتی علمی ورثہ کا شروع سے عدمِ تحسین کا رویہ ہی اس بات کی کافی وافی شہادت ہے کہ یہ سرگرمیاں اسلامی آداب اور تقاضوں کی رعایت کے حوالہ سے کس سطح کی تھیں۔
ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مفید انسانی علوم سے اسلام کو ، اہلِ اسلام کو اور علماءِ اسلام کو کبھی کوئی پرخاش نہیں رہی اور نہ ہی ان سے استفادہ کرنا کسی بھی درجہ میں ان کے ہاں کوئی قابلِ اشکال چیز تھا۔ عہدِ ملوکیت  میں علمی وعقلی سرگرمیوں کے نام پر جو کچھ ہوا، اگر وہ بھی اسی دائرہ میں رہتا یا زیادہ سے زیادہ کچھ مباح تفریحی مشاغل کی حد تک ہوتا تو حرج نہ تھا اور نہ ہی کسی کو اس پر اعتراض ہونا تھا، ہوا یہ کہ یہاں پر حلال وحرام کی تمیز تک مٹا دی گئی، انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے  مسلمانوں کو لغویات میں لگا دیا گیا، ان کے آپس کے درمیان اختلافات پھوٹ پڑے، نئے نئے فتنے اور فرقے وجود میں آئے اور اسلام کے مقتدایان کی تمام تر دہائیوں کے باوجود یہ سلسلہ پادشاہانِ اسلام کی سرپرستی میں روز افزوں رہا اور  خود اختلاف کرنے والے علماء کو بھی زبردستی ان معاملات میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اِس ساری صورتِ حال کو کوئی بھی واقفِ حال مسلمان نہ تو ماضی میں اور نہ ہی آج، بنظرِ تحسین دیکھ سکتا ہے۔
اسلامی اندلس جسے اموی خلافت کے سقوط کے بعد ہی اپنے وجود اور بقاء کے لالے پڑ گئے تھے اور طوائف الملوکی سے فائدہ اٹھاکر صلیبی اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے لپیٹتے جارہے تھے، پہلے مرابطین اور پھر موحدین کی حکومت کی وجہ سے اس کو سہارا ملا اورتقریبا تین سو سال تک یہ علاقہ مسلمانوں کے پاس باقی رہا۔ جبکہ موحدین کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ایک بار پھر سابقہ کیفیت پیدا ہوئی، اسلامی اندلس کی حدود سمٹتی چلی گئیں  اور بالآخر کہانی اندلس کے مکمل سقوط پر ختم ہوئی۔آپ جان چکے ہیں کہ تقریبا ساڑھے تین سوسال کا وہ سہارا جو اسلامی اندلس کو ملا ، اس میں غزالی کا کس قدر کلیدی حصہ شامل تھا۔ نیز خود مشرق میں دینی روح کی کم زوری کی وجہ سے اسلامی سرحدات پر جس طرح صلیبی حملہ آور تھے، اس کے تدارک کے لیے غزالی جیسے بزرگوں نے اسلامی بے داری کا جو صور پھونکا، اس کے کتنے خاطر خواہ نتائج نکلے۔ 

حواشی

۱۔ الغزالی، علامہ شبلی نعمانی، صفحہ 225، ط: اسلامی کتب خانہ لاہور
 ۲۔ تاریخ دعوت وعزیمت، جلد اول، صفحہ 191 – 193۔ ط: ۔ مجلس نشریاتِ اسلام، کراچی
۳۔  تفصیل کے لیے دیکھئے: قصۃ الاندلس، راغب السرجانی، صفحہ 537، 538۔
۴۔  دیکھئے: قصۃ الاندلس، راغب السرجانی، ص:581،
۵۔ مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 118، 119۔ ط: الفیصل لاہور
۶۔ مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 118، 119۔ ط: الفیصل لاہور
۷۔ مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 118، 119،
۸۔  مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 100،
۹۔  تفصیل کے لیے دیکھئے: ھکذا ظھر جیل صلاح الدین، دکتور ماجد عرسان الکیلانی، الباب الثالث، الفصل العاشر: دور مدرسۃ ابی حامد الغزالی فی الاصلاح والتجدید، ط: المعہد العالمی للفکر الاسلامی

مولانا مفتی تقی عثمانی کی “اسلام اینڈ پالیٹکس’’ کی تقریب رونمائی

عظیم الرحمن عثمانی

۱۷۔ اپریل ۲۰۱۸ء کو 'سو ایس یونیورسٹی آف لندن' میں ایک پروقار علمی نشست کا اہتمام ہوا جو اپنی حقیقت میں دو انگریزی کتابوں کی تقریب رونمائی تھی۔ پہلی کتاب اردن کے شہزادے اور پی ایچ ڈی اسکالر پرنس غازی بن محمد کی تصنیف تھی جو تدبر قرآن سے متعلق ہے اور دوسری کتاب "اسلام اینڈ پولیٹکس" (اسلام اور سیاست) محترم مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کردہ تھی جو اسلام کے سیاسی نظام اور اس کے نفاذ کی بات کرتی ہے۔ یہ تقریب بہترین نظم کے ساتھ ایک خوبصورت یونیورسٹی کے کشادہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ سامعین میں غیر مسلم طالب علم بھی اچھی تعداد میں موجود تھے۔ 
کئی مراحل سے گزر کر مائیک مفتی تقی عثمانی صاحب کی جانب آیا اور انہوں نے بلیغ انداز میں اپنی کتاب کو بیان کیا۔ مفتی صاحب کی گفتگو کا مختصر خلاصہ حسب ذیل ہے:
سب سے پہلے انہوں نے بیان کیا کہ آج کس طرح ساری دنیا پر سیکولرزم کا غلبہ ہے۔ انہوں نے سیکولرزم کو تھیوکریسی کا ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھیوکریسی اپنی اصل میں غلط نہیں مگر اس کی عملی شکل جو دنیا کو دکھائی گئی، وہ غلط تھی۔ عیسائیت سمیت دیگر غیر اسلامی مذاہب میں سیاست کے لیے اسلام کی طرح واضح احکامات نہیں موجود ہیں، لہذا ان مذاہب نے خدا کی حکومت یعنی تھیوروکریسی کے نام پر مذہبی رہنماوں کی حکومت قائم کردی جنہوں نے حرام کو حلال بناکر اپنی طاقت قائم رکھنا چاہی۔ اس مسلسل ظلم سے بددل ہوکر مغربی عوام نے تھیوکریسی کا تختہ الٹا اور سیکولرزم کو مقابل پیش کیا جس کے تحت الہامی ہدایات کا ملکی قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اسلام اس نظریے کو مسترد کرتا ہے اور یہ اصول دیتا ہے کہ زمین اللہ کی ہے تو اس پر قانون بھی اللہ ہی کا نافذ ہوگا۔ مسلمانوں میں وہی شخص حکمران ہوسکتا ہے جو اس اصول کو تسلیم کرتا ہو۔ خلافت راشدہ اور اس کے بعد بھی کچھ صالح خلفاء کی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے کتاب و سنت کا بہترین حکومتی اطلاق کرکے دکھایا۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی بہت سے خلیفہ ایسے گزرے جنہوں نے اس نفاز میں ذاتی مفاد کو محبوب رکھا۔ خلیفہ کو خلیفہ کہتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ اپنی مرضی نہیں چلاتا بلکہ وہ 'سب آرڈینیٹ'ہوتا ہے، 'وائسرائے' ہوتا ہے جو پوری صلاحیت سے خدائی نظم کے نفاز کا قیام کرتا ہے۔ البتہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ اسے خلیفہ کا ہی نام دیں۔ یہ آپ کی مرضی ہے کہ آج کے دور میں آپ اسے ملک کہیں، امیر کہیں یا پریذیڈینٹ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ مغالطہ ہے کہ خلیفہ ایک ڈکٹیٹر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس خلیفہ قرانی اصول شوری بینھم یعنی مشورے کو اپناتا ہے۔
آج کے مسلمانوں نے اس ضمن میں دو مختلف انتہائیں اختیار کی ہیں۔ پہلا گروہ ان ماڈرنسٹ اہل علم کا ہے جو مغربی جمہوریت اور سیکولرزم کے داعی بن بیٹھے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت یعنی ڈیموکریسی دراصل عوام کی حاکمیت کا نام ہے جو اس اصول کی نفی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی۔ اسلام میں قانون سازی کیلئے یا خلیفہ منتخب کرنے کیلئے صرف ووٹوں کا زیادہ ہونا کافی نہیں ہیں بلکہ ساتھ ہی کئی اور شرائط ہیں جن کا اس شخص میں موجود ہونا لازم ہے جو خلیفہ بنایا جائے گا۔ مسلمانوں میں دوسری انتہا ان گروہوں نے اپنائی ہے جو فقط خلافت ہی کے قیام و کوشش کو دین کا واحد مقصد سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ جس طرح تجارت کے قوانین و ہدایات اسلام کا حصہ ہیں ویسے ہی حکومت چلانے کے قوانین و احکامات بھی اسلام میں شامل ہیں۔ کسی ایک حصے کو پورا مدعا بنالینا درست نہیں۔ اس گروہ میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اسی غلو کے تحت حج کو بھی عبادت کی بجائے ایک انٹرنیشنل میٹنگ برائے خلافت کہتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے بہت سے انبیاء خلافت نہیں قائم کرپائے تو کیا وہ ناکام رہے؟ جواب میں وہ معاذ اللہ کہتے ہیں کہ وہ دین کے بنیادی مقصد کو قائم کرنے میں ناکام ہوئے۔ یہ دوسری انتہا ہے۔ انہوں نے سیاست کو اسلامی کرنے کی چاہ میں اسلام کو سیاسی بناڈالا۔ حدیث کے مطابق کوئی مسلمان خلیفہ بننے کی تگ و دو نہیں کرتا یا اس کی لالچ نہیں رکھتا جیسا کہ آج اس کے برعکس سیاسی رہنما کرسی کے لیے تحریکیں چلاتے ہیں۔ دور خلافت میں کچھ اہل دانش کا انتخاب ہوا کرتا تھا جو مل کر کسی اہل شخص کو حکومتی نظم کے لیے بطور خلیفہ نامزد یا مقرر کرتے تھے۔ آج کے دور میں ایسی مجلس کا قیام ممکن نہیں رہا۔ اپنی اس کتاب میں مفتی عثمانی صاحب نے اس کا حل پیش کیا ہے۔
انہوں نے خلافت سے متعلق غلط فہمیوں کا بھی جواب دیا جیسے انہوں نے ثابت کیا کہ خلافت میں غیر مسلم کو برابر کے شہری حقوق حاصل ہوتے ہیں ۔ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو غیر مسلم دیتے ہیں۔ اس کے مقابل زکاۃ ہے جو صرف مسلم ادا کرتے ہیں۔ جزیہ کی شرح ہمیشہ زکاۃ سے کم رکھی گئی ہے، لہذا جزیہ کو ظلم سمجھنا بلکل غلط ہے۔ آج خلافت کے قیام پر آپ جزیہ کا کوئی اور نام رکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ اسی طرح یہ بھی غلط فہمی ہے کہ خلافت غیر مسلم ممالک سے حالت جنگ میں رہتی ہے۔ انہوں نے مثالیں دے کر یہ واضح کیا کہ کس طرح خلافت دیگر ممالک سے عمومی طور پر امن معاہدہ کرکے رکھتی ہے۔ 
(نوٹ: تحریر راقم کی اپنی سمجھ اور یادداشت پر مبنی ہے، لہذا اس میں کمی بیشی کا امکان ہے۔ تفصیل کے لیے اس پروگرام کی ریکارڈنگ سنی جا سکتی ہے جو انٹر نیٹ پر بآسانی دستیاب ہے)